کرونا اور قطرینہ کہانی قسط 2

قرنطینہ کے بوجھل دن 

صبح سے گھر میں اٹھا پٹخ مچی تھی  ماہانہ صفائی ہو رہی تھی کہ کیا بس چیزوں کا شور۔۔ امی نے دو بار تو کمرے میں آکر ان دونوں کو جگایا مگر ڈھٹائی عروج پر تھی دونوں کی۔ ایک بجے تو امی کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا۔ دروازہ دھاڑ سے کھول کر دھاڑیں

اٹھ جائو بہت ہوگئ بس سارا دن نحوست پھیلائے رکھتے ہیں دونوں بھائی یہ نہیں کہ وبا پھوٹی ہے تو نہا دھو کر نماز پڑھ لو کوئی اللہ کا نام لے لو بس شیطان کی طرح اوندھے پڑے ہیں۔ 

انہوں نے آگے بڑھ کر اوندھے پڑے دانش کی کمر پر دھموکا ہی جڑ دیا۔ 

آئی امی۔۔ کیا کرتی ہیں۔۔ وہ تڑپ کر سیدھا ہوا

کتنی دفعہ کہا ہے اوندھے مت لیٹا کرو ایسے شیطان سوتا ہے ہر اوندھی عادت اپنا رکھی ہے تم نے ۔ 

امی شیطان کہاں سوتا ہر وقت تو کہیں نہ کہیں مصروف ہوتا دنیا میں فساد پھیلانے۔ 

کاشی کا برا وقت آیا ہوا تھا سے خبر ہی نہیں اچھا بھلا جو دھموکے سے بچ گیا تھا اس بات پر امی نے آگے بڑھ کر اسکے بھی ایک لگا دی

ہر وقت کا ٹھٹھا ۔ مزاق بناتے ہو ہر چیز کا ۔ اسلامی شعائر تک کو نہیں چھوڑتے بس لمبی زبان ہوتی جارہی ہے سب کی۔ 

کاشی کی درگت بنتے دیکھ کر دانی نے منہ چھپا کر ہنسی روکی

کاشی منہ بسورتا اٹھ بیٹھا۔

چلو ثانیہ نے کھانا بنا دیا ہے بس آج سے کوئی ناشتہ نہیں ہوا کرے گا بس بارہ بجے کے بعد کھانا کھالیا کرو تم لوگ اٹھ کر۔۔ 

امی انکے کمبل سمیٹتی جیسے ناک تک عاجز آئی ہوئی تھیں۔ دونوں نے شرافت کے سب ریکارڈ توڑ دیئے۔ دانی ملحقہ غسل خانے کی جانب لپکا تو کاشی نے اس سے الجھنے کی بجائے سیدھا امی ابو کے کمرے کا رخ کیا انکا غسل خانہ استعمال کرنے کو۔ 

دروازہ کھولتے ہی ابو پر نگاہ پڑی۔ کونے میں جائے نماز پر بیٹھے قرآن کھولے پڑھ رہے تھے ساتھ ایک بوتل پانی بھی رکھا ہوا تھا۔ 

اسلام و علیکم ابو جی۔ اس نے گڑ بڑا کر سلام کیا جوابا ابو نے تنبیہی سی نگاہ ڈالی جسکا مطلب مجھ سے مخاطب مت ہوں وظیفہ چل رہا ہے  اس نے صحیح صحیح سمجھا اور سیدھا غسل خانے میں گھس گیا۔ منہ ہاتھ دھوکر بال ہاتھوں سے سنوارتا باہر نکلا تو ابو اپنا وظیفہ ختم کر چکے تھے پانی پر پھونکا اور  بوتل اسکی جانب بڑھا دی۔ 

یہ لو پی لو۔ 

رات بھر کی پیاس تھئ اس نے منہ لگایا تو دو گلاس پی گیا ابو ہائیں ہائیں کرتے رہ گئے۔ 

بس کرو  سارا مت ختم کرو سب گھر والوں نے پینا تھا یہ۔

ابو اس سے ذیادہ گھبرا گئے۔۔ اس نے بوتل منہ سے ہٹائی تو انکی جان میں جان آئی۔  شکر تھا لیٹر بوتل تھی ورنہ کرونا سے کاشی کو کچھ ہوتا نہ ہوتا ابو کو صدمے سے کچھ ہو جاتا۔ 

عجیب خرافاتئ اولادیں ہیں میری۔ 

وہ گھور کر رہ گئے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثانیہ لائونج میں حسب عادت آلتی پالتی مارے بیٹھی فل والیم میں جیو نیوز لگائے شملہ مرچیں کاٹ رہی تھی۔ 

27 مارچ کو تمام پیرا میڈیکل اسٹاف کی قربانیوں کا احساس کرتے ہوئے انکو خراچ تحسین پیش کیجئے اپنے گھر پر سفید جھنڈا لہرائیے جیو کے ساتھ منائیں ۔۔۔۔۔۔ 

امی۔ امی۔ وہ چھری رکھ کر وہیں سے چلانے لگی۔ 

امی جو منہ پر کپڑا باندھے سارے گھر کے جالے اتارتی پھر رہی تھیں اسکے گھبرا کر آوازیں دینے پر دوڑتی چلی آئیں۔ 

کیا ہوا ہاتھ کٹ گیا۔ 

انکو پہلا خیال اس پھوہڑ اولاد کا یہی آیا تھا کہ پہلی یا حد سے حد دوسری دفعہ سبزی کاٹنے بیٹھی ہے ہو تو ہاتھ بھی کٹوا لیا ہوگا۔۔ 

نہیں امی۔ سفید جھنڈا ہے کوئی گھر پر؟ کل لگانا ہے چھت پر؟

وہ دنیا جہان کا شوق آنکھوں میں سمائے پوچھ رہی تھی

نہیں  سفید کیوں؟ اتنا بڑا چودہ اگست پر لایا تو تھا کاشی پاکستان کا ۔۔ امی ںے اسے ایک حصے میں دیکھ کر سکھ کا سانس لیا

اوہو نہیں۔ جیو والے میڈیکل اسٹاف کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں کہ چھت پر سفید جھنڈا لگائیں۔

میں نے بھی لگانا ہے۔ 

وہ بچوں کی طرح ٹھنک کر بولی تو امی چڑ گئیں۔ 

ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا صوفے سے ٹکاتی اسے گھور کر بولیں

کیوں سب کے سب عیسائی ہیں جو سفید جھنڈا ہی بس لگا سکتے انکے لیئے،؟۔ اپنا ملک ہے اپنے ملک کا جھںڈا لگائو۔ سفید تو ہار کا اظہار کرنے کیلئے جنگ میں لگاتے فوجی۔ 

خدا نہ کر ے جو اس وبا سے ہم ہاریں۔ 

ارے نہیں امی سفید جھنڈا امن کا اظہار کرتا ہے ہار کا نہیں۔جنگ میں سفید جھنڈا فوجی اسلیئے لہراتے ہیں کہ ہم اب مزید نہیں لڑنا چاہتے جنگ بند کی جائے امن کا پیغام ہوتا ہے سفید جھنڈا۔ 

دانی نے لائو نج میں داخل ہوتے ہوئے بحث کا سرا پکڑا

بھائی سفید جھنڈا لا دو مجھے کل چھت پر لہرانا ہے۔ 

ثانیہ نے روئے سخن بھائی کی جانب موڑ دیا۔  بڑی بڑی آنکھیں پھیلا کر معصوم سی شکل بنا کر لاڈ سے بولی۔ 

دانی کا دل موم ہوا شائد پہلی بار اٹھ جاتا کہ امی نے ڈانٹ ہی تو دیا اسے

کوئی ضرورت نہیں فالتو کے کام کرنے کی گھر بیٹھو آرام سےسب  کوئی باہر نہیں جائے گا گھر پر رہو اور تم کب سے سبزیاں ہی کاٹے جا رہی ہو کب کٹے گا کب پکے گا کھانا ایک بج گیا۔۔ 

امی نے جھاڑا تو اس نے کھسیا کر ٹرے کی جانب توجہ کی۔ 

تھوڑی سی گاجر تھوڑی سی ہری پیاز ، شملہ مرچیں پتلی پتلی کٹنے کے لئے سجی رکھیں تھیں جتنا ڈھیر تھا اور جو ثانیہ کی رفتار تھئ تقریبا دو گھنٹے اسکو کٹنے میں لگنے تھے۔ ۔ ٹرے کے ایک سائیڈ میں  موبائل بھی سجا تھا ۔یو ٹیوب ویڈیو روکی ہوئی تھی۔ اسکو کٹنا نہیں تھا اس نے گھر والوں کے معدے کا امتحان لینے کا سارا طریقہ کار بتانا تھا بس۔

کیا۔ دانی صدمے سے دل پکڑ گیا۔ 

یہ یہ وہ کھانا ہے جو ثانیہ پکا رہی ہے۔؟ مطلب پکنے کا ابھی دور دور تک نام و نشان نہیں ۔امئ رات کا کھایا ہوا ہے رحم کریں۔۔ 

اسکا  جملہ چپل گھسیٹ کرڈھیلے قدم اٹھاتا کاشی کو بھی صدمے سے دوچار کر گیا۔ ابو کے پھکے پانی کی بوتل اسکے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچی 

ہاں تو ۔ مدد کرادو بہن کی جلدی پک جائے گا۔ امی بے نیازی سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔

امی ایک ۔۔ دانی نے ہمت کرکے فرمائیش کرنی چاہی جو امی کی ایک تیکھی نگاہ سے منہ میں ہی رہ گئ۔ 

ناشتے کا وقت حد سے حد دس بجے تک ہے اسکے بعد بس کھانا کھائو گے جب بھئ پکے۔ غضب خدا کا سارے گھر کا نظام ہی بگاڑ دیا ہے چھٹیوں نے ۔۔ 

امی بڑ بڑاتی جالے صاف کرنے والا ڈنڈا اٹھا کر پھر کسی کمرے کو آڑے ہاتھوں لینے نکل گئیں۔ 

پانی پلا یار میرا دل بیٹھ رہا۔ 

دانی نے کاشی کے ہاتھوں سے بوتل کھینچ کر منہ سے لگا لی۔

بس یہ سبزیاں کٹ جائیں تو پکنے میں تو ٹائم نہیں لگے گا چار منٹ کی ویڈیو ہے بس۔ 

ثانیہ نے تسلی دینی چاہی۔ کاشی اسکی عقل کو سلام کرکے رہ گیا۔

ویڈیو 4 منٹ کی ہوگی مگر پکایا تو انہوں نے وقت لے کر ہی ہوگا فاسٹ فارورڈ کرکے بس اہم اہم طریقہ کار بتایا ہوگا۔ احمق پکانے میں تو تمہیں وہ پورا وقت لگے گا۔ 

کاشی نے کہا تو ثانیہ نے قائل ہوکر اپنا کدو ہلایا۔ 

 یہ تو بہت ذیادہ سبزیاں ہیں ابھی۔ مجھے پانی تو پلا دیں دانی بھائی۔ 

ثانیہ کو پھیلا وا دیکھ کر خفقان سا ہوا۔ 

کاشی کرنٹ کھا کر مڑا۔ بوتل تقریبا خالی ہونے کو تھی آخری دو گھونٹ اور دانی کا منہ۔ 

نہیں ۔ وہ دونوں ہاتھوں سے نہیں کا اشارہ کرتا ہوا دانی پر لپکا۔ دانی صورت حال کے لیئے تیار نہیں تھا کاشی اس پر کودا تو بوتل پیتے اسکے ہاتھ سے چھوٹی ہوا میں لہرائی۔ اسے گرنے سے بچانے کو کاشی نے ہاتھ بڑھایا دونوں ایک دوسرے سے الجھے دھماکے سے صوفے سے رڑھتے ہوئے نیچے آرہے۔تاہم بوتل کاشی کے ہاتھ میں آگئ تھی۔۔ 

دونوں بے ہنگم انداز میں ایک دوسرے پر الجھے کارپٹ پر گرے پڑے تھے ثانیہ بھونچکا سی دیکھ رہی تھی

اف بچا لیا۔ 

کاشی کہنی سہلاتا بوتل میں ایک گھونٹ کے قریب پانی بچا لیا تھا اسے ہی فاتحانہ انداز میں لہرا کر سیدھا ہو بیٹھا۔

کمر سہلتا دانی دانت کچکچانے لگا

صحرا میں بیٹھا ہے؟ آخری کنواں تھا یہ جس کے پانی پر مر رہا ہے۔ کمر توڑ دی میری کمینہ سانڈ کود گیا مجھ پر جیسے پھول سا وزن ہے اسکا۔ 

اس نے بلا لحاظ دو تین لاتیں مار دیں کاشی کو۔۔ 

کاشی اسکے وار سے بچتا بوتل پر ڈھکن لگاتا پیچھے ہوا

اوئے یہ پھونکا ہوا پانی ہے ابو نے نجانے کون کون سی سورت پڑھ کر دم کیا ہے اس پر اسکو فریج کی ہر بوتل میں تھوڑا تھوڑا ملانا تھا۔ ختم ہوجاتا تو ابو نے مار ڈالنا تھا مجھے۔ 

کاشی نے کہا تو دانی کو تھوڑا سکون ہوا

یعنی میں اندر تک پاک صاف ہوگیا اب مجھے اندر باہر کسی کرونا وائرس کیا کسی قطرینہ چڑیل سے بھی کوئی خطرہ نہیں۔  

وہ جوش خطابت میں یقینا حد پار کر گیا۔۔ ثانیہ نے جہاں کھی کھی کی وہیں کاشی دانی کی گردن دبوچنے بھاگا تھا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

 لائونج میں لگے گھڑیال نے دو کا گھنٹہ بجایا تو امی خاموشی سے کچن میں گئیں دو کپ چائے بنائی  توس لیئے اور اپنے کمرے میں اسے ابو کے ساتھ سہارے کو  تناول فرمانے گھس گئیں۔ ثانیہ تندہی ہی ایک ایک گاجر کو باریک کاٹنے کی کوشش کر رہی تھی۔ 

دانی اور کاشی  صبر سے اسکو ایک ٹک دیکھ رہے تھے۔ 

آپ دونوں ایسے دیکھ کر مجھے اور کنفیوز کر رہے ہیں۔ 

ثانیہ نے بے چارگی سے سر اٹھایا۔  

لائو میں مدد کروائوں۔ کاشی سے رہا نہ گیا اسکے ہاتھ سے چھری لیکر خود اسکے سامنے بیٹھ گیا

آپ کاٹیں گے؟ ثانیہ حیران ہوئی۔ 

ہاں اور تم جا کر اس سنگا پورین چاولوں کو ترکیب کے مطابق ایک کنی ابال لو اور اس میں کیا ڈالنا وہ بھی دیکھ لو۔ میں ان سبزیوں سے نمٹتا ہوں۔ 

وہ مصروف سے انداز میں اسکی حیرت کی پروا نہ کرتے ہوئے بولا تو وہ خوشی خوشی اٹھ کر باورچی خانے بھاگی۔ 

اس میں میکرونی بھئ ابال کر ڈالنی میں ابالتی ہوں۔ 

یار مجھے لگ رہا میرئ آنکھوں کے سامنے اندھیرا آرہا ہے۔ 

دانی صوفے پر نیم دراز انگڑائی لیکر بولا۔ 

ثانی ایک پراٹھا ڈال دو مجھے۔ ثانیہ کو باورچی خانے میں جاتے دیکھ کر جھٹ فرمائیش ڈال دی۔ ثانیہ کے قدم سست پڑے بھائی کو شکایتی نگاہ سے دیکھنے لگی۔ 

کوئی نہیں ثانیہ تم اپناکام کرو بس آج کھانا ہی کھائیں گے سب مل کر۔ 

کاشی نے مشکل آسان کی تو وہ غڑاپ سے باورچی خانے میں گھس گئ دانی نے صوفے سے کشن اٹھا کر اسکے سر پر دے مارا

بڑا بھائی میں ہوں کہ تو ہے۔

توہے بد قسمتی سے مگر بڑا پن نام کو نہیں تجھ میں۔ 

کاشی جوابا کشن اپنی کمر کے پیچھے ٹکا کر مزید آرام سے بیٹھ کر گاجریں کاٹنے لگا۔ 

کتنے شوق سے وہ بنا رہی ہے بجائے اسکے کہ مدد کر اسکی الٹا فرمائیشیں جھاڑ رہا ہے۔ 

ہاں تو کیا تیری طرح سبزیاں کاٹ کے دوں ؟ کاشی باجی۔۔۔ 

اس نے طنز کیا تو کاشی نے گہری سانس لیکر اسے دیکھا۔ 

کیا حرج ہے۔ ؟ بچی ہے وہ سب اکیلے کیسے کر سکتی ہے کیا ہوا جو ذرا دی مدد کروادوں میں۔۔ 

ہاں تو بچی ہے۔ اسی کا کام ہے کھانا پکانا سسرال میں میں اور تم تھوڑی مدد کرائیں گے اسکی۔۔ 

دانی کج بحثی پر اتر آیا 

اگر سسرال میں بھئ مدد کرانی پڑی تو جا کر مدد کروانے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ چھوٹی بہن ہے میری۔ 

کاشی نے آرام سے کہا تو وہ حیران ہوتا باقائدہ اٹھ بیٹھا۔

اوئے فیمنسٹ نکلا تو۔ وہ تیری قطرینہ یہ اسی نے دماغ میں ڈالا نا تیرے ؟ بڑے بلاگ لکھ رہئ تھی میرا جسم میری مرضی پر اسکے بلاگ کا لنک واٹس ایپ اسٹیٹس لگاتا رہا تو دیکھا تھا۔ ہائے امی آپکا بیٹا گیا ہاتھ سے ۔۔ 

وہ مسخرے پن سے کہتا مزاق اڑا رہا تھا۔  کاشی نے ناپسندیدہ نگاہ ڈالی اس پر۔

دیکھا ہی تو نہیں دیکھا ہوتا اسکا بلاگ تو ایسے نہ کہتا۔ اسکے بلاگ نے ہی مجھے سوچنے پر مجبور کیا۔ اگر گھر میں بیوی بہن ماں کا ہاتھ بٹانا فیمنزم ہے تو اسکی شروعات چودہ سو سال پہلے رسول خدا ص کے اپنے گھر سے ہوئی جب وہ اپنا ہر کام خود کرتے تھے اور اکثر گھرکے کاموں میں اپنی زوجہ کی مدد کرواتے تھے، جب حضرت علی علیہ السلام بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہہ کو چکی پیستا دیکھ کر انکی مدد کروانے بیٹھ جاتے تھے ، جب بی بی زینب سلام اللہ علیہہ اپنے نانا جان کی قبر کی زیارت کو جاتئ تھیں تو بھائی انکا سایہ بن کر انکے ساتھ جاتے تھے۔ اپنا کھانا خود گرم کرنے میں مجھے کوئی قباحت نظر نہیں آتی اگر میری خدمت کیلئے میری ماں اٹھنے لگتی ہے۔ بہن کو سبزی کاٹ کر دیتے ہوئے مجھے صرف ایک احساس ہے کہ کل اس نے میرے اٹھنے پر بارہ بجے اپنا ہر کام چھوڑ کر مجھے تازہ ناشتہ بنا کر دیا تھا۔ اگر اسکی مدد کروادوں گا تو میں اچھا بھائی کہلائوں گا بہن نہیں بن جائوں گا نہ ہی میری مردانگی میں کمی آجائے گی۔ 

دانی کو اندازہ نہیں تھا وہ اتنا سنجیدہ ہو کر لیکچر جھاڑ دے گا۔ 

بھوک لگی ہوئی تھی اس لیئے کہہ دیا تھا۔ اتنا برا بھی نہیں ہوں میں کل اس نے مجھے بھی تو پراٹھا بنا کر دیا تھا آج میں اسے سبزیاں کاٹ کے دوں گا۔ جزباتی ہی کردیا تو نے  اب میں بنائوں گا کھانا ہٹ پیچھے ۔۔ 

دانی پر ڈرامہ بازی ختم تھئ یوں اٹھا جیسے اسکی تقریر نے جزباتی ہی تو کر ڈالا ہے۔ کاشی کے ہاتھ سے چھری لیکر خود کاٹنے بیٹھ گیا۔ کاشی اپنا ہاتھ دبانے لگا جو سبزیاں کاٹنے سے دکھنے سی لگی تھیں۔ 

کمرے کے دروازے پر کھڑے ابو نے دونوں کی گفتگو سنی تھی۔بچوں کی باتوں نے انکو بھی متاثر کر دیا تھا ۔  

کیا ہوا یہاں کیوں کھڑے ہیں 

امی کمرے سے ٹرے لیکر نکلیں تو انکو دروازے کے آگے حائل پایا۔ 

لائو دو میں رکھ آتا ہوں باورچی خانے میں ہی جا رہا ہوں۔ 

ابو نے امی کے ہاتھ سے خالی کپ اور پلیٹ والی ٹرے لے لی۔بظاہر نارمل سا انداز تھا پر امی بےہوش ہوتے ہوتے بچیں۔ ہل کر پانی نہ پینے والے شوہر کا یہ روپ انکیلئے انوکھا تھا۔ ابو کو انکی حیرت کا اندازہ تھا سو بے نیازی سے ایسے ظاہر کرتے ہوئے جیسے کچھ نئی بات ہی نہیں ہوئی وہ ٹرے اٹھا کر کچن کی۔جانب بڑھ گئے۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انکی شادی شدہ 23 سالہ زندگی کا پہلا دن تھا جو وہ آرام سے کھانے کی میز پر بیٹھی تھیں کسی مہارانی کی طرح انکے بیٹے میز سجا رہے تھے۔ شوہر سلاد کی پلیٹ لیکر آئے تو ساتھ ہی بڑے فخر سے بتایا کہ سلاد میں نے بنائی ہے۔ 

امی رائتہ میں نے بنایاہے۔ 

دانئ نے بھی جھٹ کار گزاری جتائی

ثانیہ گرم گرم چاول لیکر آئی تو سب نے اسکے بھی اطمینان سے بیٹھ جانے کا انتظار کیا ۔ 

یہ ہے کیا؟ امی کو ڈش دیکھ کر سمجھ نہ آیا 

امی سنگاپورین رائیس ہیں۔ ثانیہ نے خوش ہو کر بتایا 

اس میں مخرونی کیوں ڈال دی؟ 

وہ حیرانی سے چمچ اٹھا کر دیکھ رہی تھیں۔ 

امی اس میں سب ڈلتا ہے۔ کاشی نے انکو معلومات دیں۔  امی نے چمچ بھر کر منہ میں رکھا۔ تھوڑا مختلف سا مگر اچھا ذائقہ ۔۔بیٹی اتنی بڑی ہوگئ تھی کہ کھانا بھی بنانے لگی انہوں نے پیار بھری نگاہ سے اسے دیکھا۔ 

بہت ذائقے دار ہے میری بیٹی کا۔تجربہ کامیاب رہا۔  

یہ میں نے تو صرف نہیں بنایا کاشی اور دانی بھائی بھی برابر سے ساتھ لگے رہے ہیں سب مصالحے کاشی بھائی کو یاد تھے تو دانی بھائی نے تو آج گوشت بھی دھویا

وہ بھی ثانیہ تھی کیسے نا انصافی سے سارا کریڈٹ لے جاتی اسکی بات پر سب قہقہہ لگا کر ہنسے

کیا ہوا میں نے کچھ غلط کہا؟ وہ شرمندہ سی ہو کر پوچھنے لگی۔ 

ہاں سارے مصالحے کاشی سے منگواتی ہوں اسے تو ایک ایک چیز کا پتہ ہے۔ امی نے پیار سے کاشی کو دیکھا تووہ جھینپ کر مسکرادیا

اور میں جب جب امی چکن دھو رہی ہوتی تھیں تو میں انکے سر پر سوار کوئی فرمائش کر رہا ہوتا تھا تو مجھے پتہ چکن کیسے دھلتا 

دانئ نے بھی بتانا ضروری سمجھا۔  

اور یہ ہمیشہ سلاد کمرے میں پھیری والوں کی شکایتیں لگاتے ہوئے کاٹتی تھیں تو مجھے بھی پتہ کیسے سلاد بنتی ہے ۔۔ 

ابو کے کہنے پر امی جھینپ کر ہنس پڑیں۔ 

ویسے یار مزے کا بنا ہے پلائو ۔ کاشی نے فیاضی سے تعریف کی۔ سب سے ذیادہ نخرے اسی کے تھے سبزیاں نہیں کھانی وغیرہ مگر پلائو میں شملہ مرچ بھی چٹخارے لیکر کھا رہا تھا

کل بھی کوئی نئی چیز بنائیں؟ ثانی پرجوش ہوئی

 مزا آیا وقت بھئ گزر گیا اور امی کو آرام بھی مل گیا۔امی اب جب تک ہماری چھٹیاں ہیں نا ہم روز کوئی نئی کانٹینٹل ڈش بنائیں گے یو ٹیوب سے دیکھ کر ۔۔ 

ثانی کے جوش پر کاشی اور دانئ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی

مگر کل ناشتہ کروا کر محنت کروانا مجھ سے آج تو میرے پیٹ کے چوہے بھی بھوک سے بلک بلک کر مرچلے تھے۔۔ 

کاشی نے دہائی دی۔ 

مگر اب کوئی سبزی بنائو دیکھ کر ہر وقت کا گوشت کھانا بھی ٹھیک بات نہیں۔ ابو نے کہا تو تینوں کل کا مینو ڈیسائڈ کرنے لگ گئے۔

میزپر آج امی کے ہاتھ لگایے بنا بھی ہر چیز موجود تھی مگر ایک چیز کم تھی۔ ظاہر ہے برسوں سے میز لگانے والی کا مقابلہ نہیں ہو سکتا تھا۔ پانی رکھنا ہی بھول گئے بچے۔ انہیں ہنستا بولتا دیکھ کر خوش ہوتی امی چپکے سے پانی لینے اٹھ گئیں۔۔

۔۔۔۔اختتام قسط 2

جاری ہے۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *