Unforgettable Moments: A Highlight of the Heroine’s Journey inPhurteeli Heroin Episode 5

پھرتیلی ہیروئن “

جہنمیلا نے “جھنڈے “کا “ڈنڈا “ نکال کر اس میں ابا کی دھوتی پھنسائی ( ابا کو نئی دھوتی سی کر پہنا دی تھی) اور پورے گھر کے جالے پلک جھپکتے صاف کردئیے جالوں میں بسی “مکڑیوں “کو اکٹھا کیا اور انھیں چھت پہ بنے اسٹور میں نئے جالے لگا کر “آباد “کیا ( رحمدل جو تھی) پورے گھر کی صفائی نپٹا کر ، صوفہ کور ، پردے ، بیڈ شیٹس فلور کشن کور سب تبدیل کردئیے میلے کپڑے دھو کر سکھانے ڈالے اور “دس منٹ “کے اندر ان سب کاموں سے فارغ ہوکر پہاڑ کی طرف دوڑ لگادی۔۔

پہاڑ سے اُس نے اپنے ہاتھوں سے لگائے پودینہ کے پودے سے ہرا دھنیا توڑا، ٹماٹر کے پودے سے مٹر جمع کئے اور آلو کی فصل کھود کے مرچیں نکالیں، پودوں کو “آبِ حیا “دیا

اب اس کے پاس دوڑنے کا وقت نہیں تھا مریخی کزن کسی بھی وقت پنہچ سکتا تھا اسلئیے” لُڑھکتی “ ہوئی زمین کی طرف آئی نیچے پنہچ کے مسکراتی ہوئی اٹھی کپڑے جھاڑے اور دوسرے پہاڑ کی طرف دوڑ لگادی جہاں جہنمیلا نے اپنے باپ سے چُھپ کے جانور پالے ہوئے تھے اسکی لاڈلی مرغی جہنمیلا کو چھری کے ساتھ دیکھ کے مسکراتی ہوئی اسکی طرف آئی اور اسکے ہاتھوں ذبح ہونے کے لئے ٹانگیں اٹھا کے لیٹ گئی

“جہنمیلا” کیا تم میری آخری خواہش نہیں پوچھو گی ؟ مرغی نے کہا ۔۔

کیوں نہیں میری جان سے پیاری ، ؟؟

جہنمیلا ، میں چاہتی ہوں کہ مجھے ذبح کرکے میری رانیں بھون کے اس مریخی شہزادے کو پیش کی جائیں جس کی آمد کی اطلاع تمہارے خاندانی کُتے نے جنگل کی آگ کی طرح پھیلائی ہے اور وہ میری ٹانگیں چبا چبا کے مجھے تباہ و برباد کردے ، لیکن ہوں “ بریسٹ پیس “ پہ شہزادے کی نظر نا پڑے اسُ پہ تمہارے “ تاڑو باپ کا ہی “حق “ہے اور میرے اندر پلنے والےمیرے محبوب کی نشانی ، میرے “انڈے “کو احتیاط سے نکال کر کسی اور مرغی کی “تشریف” کے نیچے رکھ کر سینچا جائے اور جب اسُ انڈے سے میرا چوزہ نکلے تو میں اس چوزے کے آنکھوں سے میں تمہارا اور تمہارے شہزادے کا دیدار کروں ۔۔۔😭😭

کیوں نہیں میری پیاری ۔۔۔ جہنمیلا نے ہچکیوں اور آنسوؤں کے بیچ ہامی بھری اور آنکھیں بند کر کے مرغی کی گردن پہ چھری چلادی ۔۔۔( عیدِ قرباں پہ قربانیاں کرکر کے ماہر قصائی بھی بن چکی تھی)

گوشت جمع کرکے ایک مرتبہ پھر لڑھکتی ہوئی نیچے پنہچی ( دوڑنے کا ٹائم جو نہیں تھا) کچن میں داخل ہوکر اس نے گھڑی کی طرف دیکھااسے ان سب کاموں کو سمیٹتے دو گھنٹے ہوگئے تھے اور ابھی عید کی نماز میں پورا “ آدھا” گھنٹہ باقی تھا ۔۔۔

وہ فوراً طبیلے کی طرف دوڑی اور شیر خُرمہ بنانے کے لئے بھینس کا دودھ نکالا بدودھ نکال کے بھینس کے چوڑے سینے پہ تنگ “ چولی” پہنائی (لنگوٹ وہ پہلے ہی پہنا چکی تھی)لیکن ان پُر مشقت دو گھنٹوں اور تھکا دینے والے معمولی کاموں کے دوران بھی وہ اپنے محبوب کی یادوں سے غافل نا ہوئی ۔۔۔ دھیمے دھیمے مسکراتی وہ اپنے محبوب کا برقی پیغام “ جہنمیلا ، میں تمہاری یاد میں مریخ کے کنارے خلا میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھ جاتا ہوں اور میری نظریں دور کہیں زمین پہ تمہاری تلاش میں سرگرداں رہتی ہیں ، میں اوپر سے پان کی پچکاری سے زمیں پہ تمہارے گھر کی چھت پہ تمہارے لہراتے آنچل کا نشانہ لیتا ہوں اور تمہیں اپنی محبت کے لال رنگ سے رنگ دیتا ہوں تو تم مجھے اپنی پانچ انگلیاں ہتھیلی سمیت دکھاتی ، شرماتی نیچے کی طرف کیوں دوڑ جاتی ہو؟ کے بارے میں سوچتی ہوئی لال گُلال ہوتی ، سل بٹّا نکالنے لگتی ہے آخر کو محبوب کی پسند کے پکوان جو تیار کرنے تھے۔۔۔۔

Kesi lagi apko phurteeli heroin ki yeh qist? Rate us below

Rating

The Impactful Journey of the Heroine in Urdu Novel Phurteeli Heroin Episode 4

پھرتیلی ہیروئن
جہنمیلا نے جھٹ پٹ قورمے کا پلاؤ تیار کیا ساتھ شامی کباب کا مصالحہ چولہے پہ رکھا دوسرے چولہے پہ دودھ چڑھا کے قورمہ تیار کیا اور فوراً ہی کوفتوں کے لئے بوٹیوں کو پیس کے قیمہ کیا اور پھر قیمہ جوڑ کے کوفتے نامی گول بوٹیاں بنائیں (جنھیں اسکے کزن نے کھا کے پھر قیمہ کر کے نکال دینا تھا)کوفتے بھی چڑھادئیےگئے جتنی دیر میں شیرخرمہ ٹھنڈا ہو کوفتے پلاؤ ،کباب کا مصالحہ تیار تھا اس نے سل کے ایک حصے پہ پودینے کی چٹنی، املی کی چٹنی ، ہرے دھنیے کی چٹنی اور رائتے کا مصالحہ پیسا اور دوسرے حصے پہ اسُی بٹّے کی مدد سے کبابوں کا مصالحہ پیسا ہرا مصالحہ (جواسُکی پھرتیلی ماں نے کاٹنے سے منع کردیا )تو وہ بھی خود کاٹا اور کباب بغیر ڈھکن والی ٹِرک کے محض ہتھیلی پہ گول کرکے بنائے اور فرائی کرکے ہاٹ پاٹ میں رکھ دئیے ٹائم دیکھا تو عید کی نماز میں ابھی بھی پندرہ منٹ باقی تھے اس نے جلدی سے مٹر ایسے سلیقے سے چھیلے کہ سارے مٹر کے دانے گول گول نکلے ۔۔۔ ان دانوں سے آلو مٹر کی سبزی تیار کی اور باقی بچے مٹر کے پیکٹ بنا کے فریز کئے چکن تکہ کڑاہی اور چکن جنجر وہ کاموں کے بیچ رات ہی بنا کے رکھ چکی تھی۔۔ اور اس بیچ اپنی چہیتی مُرغی کے انڈے کو اپنی ماں کے مرغے کی مرغی کی تشریف کے نیچے رکھنا نہیں بھولی تھی( وصیت جو پوری کرنی تھی) اوفففففففوووواس افراتفری خوشی و دکھ میں وہ بھول ہی گئی کہ اسُ کے کزن کو سوکھے دودھ کا حلوہ بہت پسند ہے اب وہ پھر طبیلے بھاگی ، بھینس کے آگے اپنا دوپٹہ ڈال دیا ، اس کے ہاتھ پاؤں جوڑ منت سماجت کرکے اسُ سے “سوکھا دودھ “نکلوایا بھینس کی بے وقت مدد اور اسکی “ایکسٹرا ایفرٹ “پہ اسکا شکریہ ادا کیا اور جلدی سے سوکھے دودھ کا حلوہ تیار کرکے اوپر بادام پستے کی ہوائیاں چھڑک کے چاندی کے ورق ( جو اس نے اپنی ماں کے جہیز کے چاندی کے سیٹ سے بنائے تھے ) سجادئیے۔۔۔ اوہ خُدا۔۔۔
عید کی نماز میں ابھی پانچ منٹ باقی تھے اور وہ بھُلکڑ ویلکم “ ڈرنک “ تیار کرنا تو بھول ہی گئی ۔۔۔
وہ برف لینے جلدی سے دوڑی دوڑی پڑوس میں پنہچی اور جُمن خالہ کو آوازیں دینے لگی ، خالہ جو بیچاری گھُٹنوں کے درد سے تڑپ رہی تھیں جہنمیلا کو دیکھ کر رونے لگیں اور جہنمیلا پلک جھپکتے میں سمجھ گئی کہ ان کی میسنی بہو نے پھر خالہ کے دماغ یعنی گھٹنوں کی مالش نہیں کی اس نے فٹا فٹ انجیر کے درخت سے زیتون توڑے ، کولہو میں زیتون ڈال کے ، سانڈے کا تیل نکالا اور اس تیل سے خالہ کے گھٹنوں کی مالش کرکے ان سے جھولی بھر دعائیں سمیٹیں ، اور خالہ کی اجازت سے برف لیکر گھر لوٹی تو مسجدوں سے عید کی نماز کی اللّہ اکبر سنائی دینے لگی اس نے جلدی سے اپنے ہاتھوں سے اگائے امرود کے درخت سے سیب توڑ کے “لیمن سوڈا “ خوب ساری برف ڈال کے تیار کیا تاکہ ٹھنڈا پی کے اسکے محبوب کے معدے میں اور اسکے معدے کی ٹھنڈ سے جہنمیلا کے کلیجے میں ٹھنڈ ا ٹھنڈا کُول کُول ہوجائے، اس نے خدا کے حضور سجدہ شُکر ادا کیا کہ اسکے پاس تیار ہونے کے لئے ابھی بھی بہت وقت باقی تھا۔۔۔


تحریر : جیا علی

Kesi lagi apko Phurteeli Heroin ki yeh qist? Rate us below

Rating
Home » 2023 » 08

Discover the Inspiring Traits of the Heroine in Urdu Novel Phurteeli Heroin Episode 3

رومانٹک ناول “پھرتیلی ہیروئن پارٹ ۳”

کُتے نے “رفع حاجت “سے فارغ ہوکہ ٹانگ “نیچی “اور منہ “اوپر”کر کے دیکھا تو دیکھتا رہ گیا ،کُتے کی زبان مزید باہر نکل آئی اور (وہ مزید “کُتا “لگنے لگا )وہ کھمبا نہیں قدرت کا ایک شاہکار تھا چھ فٹ سے نکلتا دراز قد ، گھنگریالے سنہری بال جو پسینے کے باعث ماتھے پہ سلیقے سے چپکے تھے، انڈے سے بڑی آنکھیں اور دھوپ میں جھلسا ہوا سنہرا گلابی رنگ ، پیروں میں جمی چُو کے چمکتے جوتے، جن پہ جہنمیلا کے ہاتھوں کی تیار کردہ پالش چمک رہی تھی ، جہنمیلا کا ڈیزائن کردہ گُوچی کا ٹریک سوٹ اور کاندھے پہ لٹکتا جہنمیلا ایڈیڈاس کا تیار کردہ ایڈیڈاس بیگ ( پارٹ ٹائم برانڈ ڈیزائنر بھی تھی) ، وہ خود سے لاپرواہ و بیگانہ شخص ،

دراصل کتے نے “کھمبا “سمجھ کے جس پہ “مُوتا “تھاوہ تو مریخی شہزادہ تھاکتے نے شہزادے کو دیکھ کے “بھاؤ بھاؤ “ اور شہزادے نے کُتے کو دیکھ کے “موتی چھُو “کیا اور کتا ٹیاؤں ٹیاؤں کرتا گاؤں میں انجانے شہزادے کی آمد کا اعلان کرنے روانہ ہوگیا اور شہزادہ کھوجتی نظروں سے اپنی “ جہنمیلا” کے گھر کی تلاش میں یہاں وہاں نظریں دوڑانے لگا ، عید کی بھرپور گہما گہمی میں بھی لوگ رک رک شہزادے کو ٹکٹکی باندھے اور انگلیاں کلائی سمیت منہ میں دبائے دیکھ رہے تھے آخر کو مریخی کزن نے ہمت کرکے ایک پریشان خاتون سے پوچھا “ ماں جی، میری ماں کی سگی بہن اور جہنمیلا کی ماں کے شوہر یعنی میرے “خالو “جُمّن چچا کا گھر بتا سکتی ہیں ؟ اماں جو مریخی شہزادے کے حسن کی شوخی سے مرعوب ہوکے اپنی “ لیلیٰ” کے لئے اسُے داماد منتخب کرچکی تھیں، کے “ماں “کہنے پہ اور مچل گئیں ۔۔۔ ہاں بیٹا کیوں نہیں ، وہ جو گاؤں کا سب سے چمکتا گھر ہے جہاں گاؤں کا سب سے اونچا امرود کا درخت ، جس پہ لال ہرے سیب لٹکے ہیں “ وہ ہی جہنمیلا کا گھر ہے ۔۔ جانتے ہو اس گھر کی رنگائی پُتائی بھلے جہنمیلا نے کی لیکن وہ رنگ میری “ لیلی “ نے جنگل کے پچھواڑے بھٹی لگا کے تیار کئے ہیں مریخی شہزادے نے ایک لاکھ روپے نقد ، دو سنے کے کنگن اور ایک سو بیس گز کا مریخی پلاٹ ماں جی کو بطور شکریہ پیش کیا اور شرماتا ،مسکراتا جہنمیلا کے رنگین سپنے اپنی آنکھوں میں سجائے ، اس کے “خالی مگر رومانس سے بھرپور میسجز “، “شرارت سے پُر مہندی لگی ٹنڈ “اور “بنا کچھ کئے، شرم و حیا سے لال رُخسار “اپنی نظروں میں بسائے اپنے متوقع سسرال کی جانب روانہ ہوگیا اسکے نتھنوں میں دور سے ہی جہنمیلا کے ہاتھوں لگے امرود کے درخت پہ لٹکے سیبوں کی خوشبو گُھسنے لگی اور وہ ان سیبوں کا مینگو شیک بناکر پینے کے لئے مچلتا ، بھِنکتا تیز تیز دوڑنے لگا۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔

Kesi lagi apko Phurteeli Heroin ki yeh qist? Rate us below

Rating

Home » 2023 » 08

#پھرتیلی_ہیروئن_ناول

Delve into the Life and Choices of the Heroine in Urdu Novel Phurteeli Heroin Episode 2

رومانٹک ناول “ پھرتیلی ہیروئن پارٹ ۲”
اسی پاکیزہ محبت کی “تیز دھوپ “جیسی “برستی بارشوں” میں “سُوکھتے “کب عید آگئی پتا ہی نہیں چلا ، ہوش تو جہنمیلا کو جب آیا جب اسکی خالی کی سگی بہن اور اسکے باپ کی بیوی یعنی اسکی “ماں “نے اسُے بتایا کہ آج چاند رات ہے اور مریخ پہ اسکے کزن کا “ مریخ پہ درخت لگاؤ مُلک بچاؤ پراجیکٹ “ مکمل ہوگیا ہے اوراس نے وہاں سے روانگی “پکڑ “لی اور وہ کل صبح بعد نماز عید ہمارے ساتھ ہوگا جہنمیلا پہلےمُسکرائی پھر شرمائی، اور پھر گھبرائی ،جہنمیلا کے مخروطی انگلیوں والے ہاتھ حرکت میں آئے اور وہ کل عید کی تیاریوں میں جُتنے کے لئے روانہ ہوئی
اسے نا صرف اپنا گھر ، بلکہ اپنا آپ اور اپنا گاؤں بھی اپنے مریخی کزن اور عید کی خوشی میں سجانا تھا۔۔۔ اس نے سب سے پہلے “چاند “(جو اسکے کزن نے تحفے میں بھیجا تھا)کو اپنی مانگ سے نکال کے “آسمان” پہ ٹانگا تاکہ سب کو “چاند رات “کی خبر ہو سکے اسکے بعد گاؤں کے ہر گھر میں جاکر چاند مبارک کا سلام پیش کیا،
سلامتی پنہچانے کے بعد اپنے گھر والوں کے کپڑے رنگائی کرنے بیٹھ گئی ، (کپڑے رنگے گیں تو سئیے گی نا )پچھلی اگست کی طرح جنگل سے پتے لا کے مہندی تیار کی ابا کی ٹنڈ چمکائی، اماں کو مہندی لگا کے پلنگ پہ بٹھایا ، بھائیوں کی حجامت کی ،پائپ لگا کے پورا گھر بہن بھائیوں اور بھینسوں سمیت “دھویا” ابا کی بھینسوں🐂🐂 سے دودھ نکال کے انکا دہی جمایا اور لنگوٹ سی کے بھینسوں کو پہنائے شرمیلی جو تھی منگیتر کے سامنے ننگی بھینسیں کیسے آنے دیتی ؟ ☺️☺️بہنوں کی ٹوٹی ہوئی سینڈلوں کی ٹُوٹی ہوئی ہیلز کو اپنی فیوی کول جیسی کارآمد تُھوک سے جوڑا پھر گرم موسم کی مناسبت سے اپنا مخملی پنک کلرکا گہرا لال سوٹ ، ہلکے سرمئی رنگے کے گہرے ہرے دوپٹے کے ساتھ جس پہ ہلکے گہرے نیلے اودے پھول چھپے تھے استری کرکے واش روم میں لٹکایا ، اس دوران وہ اپنے کزن کی حسین یادوں اور مدہوش سرگوشیوں میں کھوئی رہی جو میسج کی صورت وقتاً فوقتاً اسکا کزن کرتا تھا “میری جہنمیلا، “کتنا حسین سما ہوگا جب “!!! بس یہیں تک سوچ کی اسکے رخسار شرم وحیا کی لالی سے ہرےہوجاتے ہیں کہ اسے اچانک آگے کا میسج” جب میں تمہارا محرمِ زار بن جاؤنگا اور تمیں میت خانے لے جانے اور کفنانے دفنانے کا حق صرف مجھے حاصل ہوگا “ یاد آجاتا ہے وہ مزید کھلکھلاتی ، اٹھلاتی ، کچن کی طرف صبح کی تیاریوں کے لئے چل دیتی ہے ۔۔۔
جاری ہے

Kesi lagi apko Phurteeli Heroin ki yeh qist ? Rate us below

Rating
Home » 2023 » 08

The Captivating Persona of the Heroine in Urdu NovelPhurteeli Heroin Episode 1

s

آپ سب کے بے حد اصرار پہ ایک نئی رومانٹک کہانی۔۔۔۔



‎اچانک سے لڑکی کے اپنے ایجاد کردہ فون پہ روشنی جگمگائی، اس نے دیکھا تو اس کے مریخ والے کزن کا میسج تھا، دل میں یکایک ایک انجانی خوشی و مسرت کا احساس ابھرا، اس نے میسج دیکھا “چاند سے پیاری لڑکی کو جشنِ آزادی مبارک”، میسج پڑھ وہ بے اختیار مسکرا اٹھی، اس کے مسکرانے سے ہونٹوں کے درمیان سے اس کے دانتوں کی جھلک نظر آئی، اس جھلک سے اس قدر روشنی پھوٹی کہ یکدم سے اس روشنی سے پورا گاوں جگمگا اٹھا، گاوں کے لوگ سمجھ گئے کہ “جہنمیلا ” مسکرا رہی ہے،

‎ اس نے موبائل جونہی رکھا تو بیٹری لو کی وارننگ آئی، “افففوہ گاوں کا ٹرانسفارمر تو پچھلے چھ دن سے خراب ہے، اب کل چودہ اگست ہے، کس طرح ہوگا سب کچھ”، وہ بہت حساس مزاج کی مالکہ تھی اسے خود سے زیادہ دوسروں کی فکر رہتی تھی، اسی کشمکش میں وہ جمپ لگا کر اٹھی اور بجلی کے مخملی پول پر چڑھ گئی۔
‎دو گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد اس نے ٹرانسفارمر ٹھیک کر دیا۔
‎ گاوں کی بجلی بحال ہوگئی
‎اس نے گھر آکر شکرانے کے طور پہ 20 منٹ میں 200نفل ادا کئے۔۔
‎پھر جاکر اس نے اپنا موبائل چارجنگ پہ لگایا، جب تک موبائل چارج ہوتا اس نے سب بہن بھائیوں اور اپنے ابا کے ہرے اور سفید کپڑے سلائی کیے، ۔
‎ اس کی لمبی لمبی مخروطی انگلیوں پہ سلائی جچتی بھی بہت تھی، جونہی سب کے کپڑے اور گاؤں کے ہر گھر کی چھت پہ لہرانے کے لئے جھنڈے سلائی کرکے فارغ ہوئی تو اسے یاد آیا کہ اسے ابا کے سنگ مرمر جیسی ٹنڈ پر مہندی بھی لگانی ہے 😄وہ ایک چھلانگ لگاکر دوڑی اور گاؤں کے پیچھے جنگل سے مہندی کے پتے توڑ کے لائی پتے پراسس سے گُذار کے مہندی تیار کی اور پندرہ منٹ کے اندر
‎پہلے اس نے اپنے ہاتھوں پہ مہندی لگائی، ابا کی ٹنڈ رنگی اور مہندی لگا نے کے بعد اس نے اپنے چھوٹے بھائیوں کے بال کاٹے، وہ پارٹ ٹائم موچی جو تھی، اتنی دیر میں موبائل بھی چارج ہوچکا تھا، اس نے میسج کمپوز میں اپنے مریخ والے کزن کا نمبر لگایا، نمبر دیکھتے ہی اس کے رخساروں پہ حیا کی سرخی دوڑ گئی، میسج کمپوز کرتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔ پھیپھڑے پھولنے لگے۔۔۔، اس نے اپنے کزن کو “خالی میسج” کیا کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ پاکیزہ جذبات کے اظہار میں الفاظ کی کھرچن ضروری نہیں ہوتی۔۔۔۔
اور اسی لئے اپنے مہندی لگے ہاتھوں کی جگہ ابا کی مہندی لگی ٹنڈ کی تصویر کزن کو روانہ کردی کیونکہ کے اسے کامل یقین تھا کہ اسکا دیوانہ اسکے ہاتھوں کی چُمی لیکر اسکی پاکیزہ محبت کو ناپاک کرنے کی کوشش ضرور کریگا
جاری ہے۔۔۔۔۔۔


Kesi lagi apko phurteeli heroin ki pehli qist? Rate us below

Rating


#پھرتیلی_ہیروئن_ناول

Home » 2023 » 08

Pathar say Insan urdu udaas shayari

پتھر سے انسان۔۔۔
کبھی چلتے چلتےپتھر سے ٹھوکر کھائی؟
کیا کیا پھر؟
جس پتھر سے ٹھوکر کھائی
اس سے نفرت کی؟
اس سے دور ہوئے؟
اسے ٹھوکر لگادی؟
یا سنبھل کر آگے بڑھ لیئے؟
میں بتائوں میں نے کیا کیا؟
پتھر اٹھایا۔۔
دل سے لگایا۔۔
اب بھی پاس ہے میرے۔۔
یاد دہانی کیلئے۔۔
راستے میں پتھر ہوتے ہیں۔۔
پتھروں سے بچ کر چلنا چاہیئے۔۔
اور پتھر جیسے انسانوں سے بھی۔۔

۔
۔
۔

از قلم ہجوم تنہائی۔۔

Rate us below

Rating
Home » 2023 » 08

Zehar lagtay hain mujhay hunstay chehre

زہر لگتے ہیں مجھے ہنستے چہرے۔۔
بس چلے تو ان پر میں لگا دوں پہرے۔۔
کس بات کی خوشی ہے انکو؟
زندگی کیسی ملی ہے انکو؟
جو گزرے سب دکھ سب بھول گئے؟
ماضی پر کیسی ڈال یہ دھول گئے؟
ایسابھی کیا ملا ہے اب ہمیں بتائو
کیا کبھی نہ تم سےکچھ چھنا؟ ہمیں بتائو
مسکراتے ہوئے دیکھے ہیں ہم نے کہاں لوگ
ہمارے گرد تو ہم جیسے ہیں تہی داماں لوگ
تنہائی میں ملتی ہیں کالی ناگن سی پھنکارتی سوچیں
اپنے سود و زیاں پر کلبلاتی ماضی کو پکارتی سوچیں
یاسیت و اداسی سے بھرے صبح شام سےہیں
چند پل بھی خوشی کے بس نام کے ہیں
اب ان کو بھی یاد کریں تو دل دکھتا ہے
گزرے لمحوں میں رہنے سے کہاں کچھ ملتا ہے۔
ہم جیسے لوگوں کو تو بس قسمت کا لکھا کھا گیا
ہمارے دل میں جانے کیا تھا
جو دکھوں کے موسم کو بھا گیا۔۔
اب کس دل سے دیکھوں میں اس دل میں بستے چہرے؟
تبھی تو زہر لگتے ہیں مجھے اب ہنستے چہرے۔۔

از قلم ہجوم تنہائی