زہر لگتے ہیں مجھے ہنستے چہرے۔۔
بس چلے تو ان پر میں لگا دوں پہرے۔۔
کس بات کی خوشی ہے انکو؟
زندگی کیسی ملی ہے انکو؟
جو گزرے سب دکھ سب بھول گئے؟
ماضی پر کیسی ڈال یہ دھول گئے؟
ایسابھی کیا ملا ہے اب ہمیں بتائو
کیا کبھی نہ تم سےکچھ چھنا؟ ہمیں بتائو
مسکراتے ہوئے دیکھے ہیں ہم نے کہاں لوگ
ہمارے گرد تو ہم جیسے ہیں تہی داماں لوگ
تنہائی میں ملتی ہیں کالی ناگن سی پھنکارتی سوچیں
اپنے سود و زیاں پر کلبلاتی ماضی کو پکارتی سوچیں
یاسیت و اداسی سے بھرے صبح شام سےہیں
چند پل بھی خوشی کے بس نام کے ہیں
اب ان کو بھی یاد کریں تو دل دکھتا ہے
گزرے لمحوں میں رہنے سے کہاں کچھ ملتا ہے۔
ہم جیسے لوگوں کو تو بس قسمت کا لکھا کھا گیا
ہمارے دل میں جانے کیا تھا
جو دکھوں کے موسم کو بھا گیا۔۔
اب کس دل سے دیکھوں میں اس دل میں بستے چہرے؟
تبھی تو زہر لگتے ہیں مجھے اب ہنستے چہرے۔۔

از قلم ہجوم تنہائی

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *