Category: Urdu Novels

اردو ناول از قلم ہجوم تنہائی فیم واعظہ زیدی
Salam Korea and Desi Kimchi urdu web travel novels featuring seoul korea by vaiza zaidi

  • Salam Korea Episode 1

    Salam KOREA

    by vaiza zaidi

    قسط ایک

    اونچے اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں کے بیچ اس گہری گھاٹی میں  تاحد نگاہ برف کا طوفان تھا جس میں راستہ

    ڈھونڈتا وہ چھے سال کا بچہ بلک بلک کر روتے ہوئے پکار رہا تھا۔

    سن۔۔ سن۔۔ 

    اسے اسکی ماں کی آواز بہت دور سے سنائی دی تھی۔ 

    ماما۔۔ وہ حلق کے بل چلایا۔ مگر تند و تیز ہوائوں میں اسے اپنی آواز خود بھی نہ سنائی دے سکی۔۔ 

    سن۔۔ سن۔۔ 

    اسکی ماں بے تابئ سے پکار رہی تھی۔ 

    ماما۔۔ ماتوشکا۔۔۔ 

    وہ طوفان کی پروا کیئے بنا بھاگا۔ اسکے ننھے پائوں برف میں پھنس گئے وہ منہ کے بل گرا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1 جنوری 2017

    اسکو سوتے ہوئے ذور کا جھٹکا لگا تھا جس سے اسکی آنکھ کھل گئ تھئ۔ وہ اپنے نرم گرم بستر میں کمفرٹر میں ملفوف تھا۔ اس نے حیرت سے اپنے اوپر پڑے اس موٹے کمفرٹر کو گھورا۔اتنئ تمیز سے نیو ائیر پارٹی کرنے کے بعد جب وہ مکمل ہوش کھو چکا تھا اسے شک تھا کہ وہ خود کو ڈھانپ کے یوں سو سکتا ہے۔ اس کے سر میں دھماکے ہورہے تھے۔ اس نے سر تھامتے رات کا منظر یاد کرنے کی کوشش کی۔ 

    اسے ٹیکسئ ڈرائور کندھے سے لگائے سہارا دیئے لایا تھا گھر تک۔ اس نے گھر کے اندرونی داخلی راستے کے دروازے پر اسے شکریہ کہہ کر واپس بھیجا تھا۔ نہیں بلکہ اسے کرائے کیلئے ایک بڑا نوٹ نکال کر دیا تھا۔ جوابا وہ اپنی جیبیں ٹٹولتےہوئے اسکو یقینا بقیہ رقم واپس کرنے والا تھا۔ 

    آنیا۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر روکا۔ 

    رکھ لو بقیہ۔ 

    اسکے یوں فراخدلی سے نوٹ وارنے پر وہ سانولا سا جنوبی ایشیائئ نقوش کا نوجوان ایکدم خوش ہوگیا تھا۔ اسکے چہرے پر چھاتئ خوشی اسے بھی خوش کر گئ تھئ۔ 

    گھمسامنیدہ۔ خالص کوریائی انداز میں آدھا جھک جھک کر اس نے شکریہ ادا کیا تھا۔ جوابا وہ حسب عادت مسکرایا۔

    اسکی مسکراہٹ بہت خوبصورت تھی۔ چندی آنکھوں کھڑی ناک چھوٹا سا دہانہ جس میں قطار سے برابر موتیوں جیسے چھوٹے چھوٹے دانت جن میں کسی قسم کی سرجری کا کوئی کمال نہ تھا۔ شائد روسی جینیات کا تحفہ تھا۔ بھورے بال اور کھڑے کھڑے نقش کورین نقوش کے امتزاج کے ساتھ۔سفیدبرف سی شفاف رنگت اونچا لمبا قد چھے فٹ سے بھی دو انچ اوپر۔ وہ بے حد وجیہہ تھا اس پرسونے پر سہاگہ ایک مکمل مسکراہٹ۔جس پر اسکول کے زمانے سے اس پر لڑکیاں کرش رکھنے پر مجبور ہوجاتی تھیں۔۔۔ اس مسکراہٹ کے اسکے چہرے پر بکھر آنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ وہ یونہی راہ چلتے بھی کسی کو اپنی جانب حیرت سے تکتے پا کر مسکرا دیا کرتا تھا۔ ابھئ بھی مسکرا کر اندر کا رخ کیا۔ حسب معمول گھر بھائئیں بھائیں کر رہا تھا۔ بڑی سی راہداری کے بعد لائونج اوپن کچن  دائیں  جانب لونگ روم تھا ۔۔پرتعیش سامان سے سجا بلکہ تنا ہوا۔۔دوسری جانب اوپر جانے کی سیڑھیاں جنہیں وہ لڑکھڑاتے قدموں سے گزارتا اوپر اپنے کمرے میں آیا تھا۔ نہیں سیڑھیوں کے پاس آرائشی اسٹول پر رکھا وہ بت جس پر چینی ڈریگن بنا ہوا تھا۔پھن نکال کر آگ برسانے کو تیار منہ کھولے سرخ سا  جسکی آنکھیں میں شرارے تھے۔۔ 

    اس نے اٹھا کر دیکھا۔۔ 

    تم یہاں کیسے آئے ؟ 

    اس نے سنجیدگئ سے پوچھا تھا مگر جواب نہ ملا۔ وہ ڈریگن یونہی شعلہ اگلتی نگاہوں سے گھورتا رہا۔

    اسے احتیاط سے واپس رکھ کر وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ سست روی سے ۔۔۔ وہ مکمل مدہوش نہیں تھا۔ پھر بھی اپنے کمرے میں آتے ہی وہ دھپ سے بیڈ پر گر کر ہوش و خرد سے بیگانہ ہوگیا تھا۔ تبھئ کسی نے اس پر کمفرٹر ڈال کر اسکے جوتے اتارے اور اسکی ٹانگیں احتیاط سے بیڈ پر درست کیں۔ 

    آنیا۔ مجھے ٹیڑھا ہی سونا ہے۔ 

    اس نے احتجاج کرنا چاہا مگر بڑبڑا کر رہ گیا۔۔ جوابا اسےنسوانی ہنسی سنائی دی تھی۔ 

    پھابو۔ 

    کون ہو سکتا۔۔ اس نے سوچنا چاہا۔

    نونا۔ وہ چونک کے اٹھ بیٹھا۔۔۔ 

    اس وقت کمرے میں پردے برابر تھے باہر یقینا کہرا تھا جبھئ کمرے تاریک شام کا منظر پیش کر رہا تھا۔اس نے سائیڈ لیمپ جلایا۔سائیڈ ٹیبل پر رکھی ڈریگن کی شکل کی ہی گھڑی پانچ بجے کا وقت دکھا رہی تھئ۔ 

    پانچ۔ اسے کرنٹ سا لگا۔ 

    یہ یقینا شام کے پانچ تھے۔صبح کے پانچ بجے کا وقت اسکے نائٹ کلب میں صوفے پر اوندھے پڑے گزرا تھا۔ اسکا موبائل چارجنگ پر لگا تھا اس نے نکال کر دیکھا۔ 

    نیا سال مبارک۔۔

    مبارکبادوں سے اسکا کاکائوچیٹ انباکس بھرا پڑا تھا۔ سب پیغام گزار کر اس نے سب سے پہلے 12 بجنے سے بھی ایک منٹ پہلے والا پیغام پڑھا۔

    نیا سال اور ہر آنے والا سال تمہیں  ہمیشہ پچھلے سے ذیادہ خوش اورمطمئن کرے آمین۔ 

    نوناکا پیغام اسکے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا تھا۔ سونگیون کا پیغام تھا۔۔ رات کے کھانے پر ریستوران آنے کی یاددہانی تھئ۔ 

    اسے یاد تھا مگر آج ٹن ہوکے ساری دوپہر گزرگئ تھی سوتے۔ سو تازہ دم ہونے کیلئے وہ بستر چھوڑتا سیدھا نہانے گھس گیا تھا۔ نہا دھو کر تازہ دم ہو کر وہ نیچے چلا آیا۔ اوپن کچن میں ملازمہ اسکی جانب پشت کیئے اسٹو پر کچھ گرم کر رہی تھی۔ اس نے اس پر توجہ دیئے بنا فریج کھولا۔ اورنج جوس نکال کر اوپن کچن کے داخلی حصے پر بنی دلکش سنگئ میز پر لا رکھا۔ گلاس اس پر سجے ہوئے تھے۔ 

    اس نے گلاس اٹھا کر اس میں جوس کا گلاس بھرا۔۔ کنپٹی میں درد کی شدید لہر اٹھی تھئ۔ اس نے آنکھیں میچ کر کنپٹی اپنے انگوٹھے کی مدد سے سہلائی۔ 

    نئے سال کی آمد کا رات بھر جشن منانے والوں کے سر میں   نئے سال کی صبح میں دھماکے ہی  ہوتے ہیں۔۔اور انکے لیئے اورنج جوس سے ذیادہ فائدہ مند ہینگ اوور سوپ ہوتا ہے۔ 

    اسکے عقب سے آواز آئی تھی۔مانوس آواز وہ بے ساختہ مڑا۔ 

    سوپ کا پیالہ میز پر رکھتی وہ مسکرادیں۔ 

    نونا آپ کب آئیں۔ وہ خوشی سے کہتا ان سے لپٹ گیا

    کل۔۔ اور تم رات بھر گھر ہی نہیں آئے۔ وہ مصنوعی خفگی سے بولیں۔

    نیو اییئر نائٹ گھر پر کون گزارتا۔۔ 

    وہ جتانے والے انداز میں بولا

    میں۔وہ کھلکھلائیں۔

    جوابا وہ کان کھجانے لگا۔

    تمہارے لیئے سوپ بنایا تھا صبح مگر تم اٹھے ہی نہیں ابھی اٹھانے آئی کمرے میں توتم نہانے گھسے تھے۔ سو میں نے گرم کردیا۔ 

    بس ایک ہی سوپ کا پیالہ تھا جو وہ اسکی جانب کھسکا چکی تھیں۔ وہ جوس کا گلاس چھوڑ کر سوپ پینے بیٹھ گیا۔ گنگشن نے پیار سے اسکو دیکھا۔۔۔

    کیا حال ہے چینیوں کا۔۔ 

    اس نے برسبیل تذکرہ پوچھا۔ 

    کوئی حال نہیں۔ ویسے ہی سخت دل خشک اور سرد مزاج ہیں جیسے پہلے تھے۔ گہری سانس لیکر وہ بولیں۔ 

    آپکے کورینوں کو ضرورت کیا ہے انکے پاس جانے کی۔بن بلائے مہمانوں کا سواگت کون کرتا ہے۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں انہیں چھیڑنے لگا۔ 

    میرے نہیں ہم سب کے کورینز ہیں۔ نونا سنجیدہ سی ہوگئیں۔

    خوف دہشت بھوک موسم کی شدتیں ان میرے تم جیسے انسانوں کو کیا کیا خطرات نہیں لاحق۔ محض جنوبی اور شمالی کے فرق سے ہماری زندگیاں کتنا بدل گئ ہیں۔ ایک جیسی رنگت نسل کے لوگوں کے بیچ سرحدوں نے ہمیں انکا احوال بتانے سے تو روکا ہی ہے بے حس بھی کردیا ہے ہمیں۔۔وہ مریں جئیں ہمیں کیا۔۔۔۔ 

    نونا۔۔ اس نے سر اٹھا کر انکو دیکھا۔ وہ بولتے بولتے افسردہ سی ہو گئ تھیں۔ شائد ان مہاجرین کا حال قریب سے دیکھنے کی وجہ سے وہ ذیادہ شدت سے محسوس کرسکتی تھیں انکی تکلیفوں کو۔ 

    کوئی نیا مہمان لے آئی ہیں آپ چین سے؟ 

    وہ نہایت سنجیدگئ سے آنکھوں میں شرارت بھرے پوچھ رہا تھا۔

    ہاں۔ اتنی پیاری لڑکی ہے۔ پچاس سالہ چینی آدمی نے خریدا تھا اسے وہ بھی جب وہ بس بارہ برس کی تھی۔پچھلے بارہ سالوں سے۔۔۔ 

    وہ فورا جوش سے اسے بتانے لگیں۔ سوپ پیتے اسکے چہرے پر محظوظ سی مسکراہٹ تھی۔ اسے پتہ تھا کسی نئے آنے والے کا غم لاحق ہے انہیں جو سال کے پہلے دن بھی انکو خوش ہونے نہیں دے رہا۔ 

    تم ۔۔ وہ سمجھ کر فورا بریک لگا گئیں۔

    مجھے پتہ تھا۔ وہ اب کی دفعہ کھل کر ہنسا۔ گنگشن اسے گھور کر رہ گئ۔

    نونا صحت نہیں بن پاتی آپکی اسی وجہ سے۔ آپ کا سوشل ورک آپکو دکھی کیوں کر دیتا ہے۔ وہ ہنسی روک کر اب سمجھانے والے انداز میں کہہ رہا تھا۔ 

    یقینا وہ جو کوئی بھی دکھیاری ہے اب اسکے دکھوں کا مداوا آپ کردیں گئ اس بات پر آپ خوش ہوجائیں بجائے اسکے کہ اسکے ماضی کی تکلیف دہ یادوں کو سوچ کر خود دکھی ہونا شروع کردیں۔ خوشیاں گننی چاہئیں غم کو اتنی بھی مہلت نہیں دینی چاہیئے کہ اسکا شمار کرنےلگیں۔۔ 

    وہ ایسا ہی تھا۔ہر معاملے ہر مسلئے کا مثبت پہلو دیکھنے والا مثبت سوچ کا حامل۔ گنگشن کو اس پر فخر سا ہوا۔ نثار ہو جانے والی نگاہوں سے اسکا لیکچر سنتی گنگشن۔ وہ خفا سا ہوگیا۔

    میں اتنئ سنجیدہ بات کر رہا تھا آپ مجھے ایسے دیکھ رہی ہیں۔احمق محسوس کر رہا ہوں میں۔ 

    خفا خفا سا ہایون۔ گنگشن نے ہنس کر اسکے دونوں گالوں کو چٹکیوں میں بھر لیا۔ 

    پھابو( پاگل) میں تمہیں ہی سن رہی ہوں۔ اب تم ہو ہی اتنے کیوٹ کیا کروں۔ 

    نونا۔۔ وہ چڑا اپنے گال بھی چھڑائے

    اب میں بچہ تھوڑی ہوں۔ وہ منہ پھلاکر بچوں کی طرح ہی کہہ رہا تھا۔ 

    میرے لیئے تم سدا بچے ہی رہو گے۔ گنگشن پر کوئی اثر نہ تھا۔ ہنس کر کہتی اسکے نیم گیلے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر جھٹکنے لگیں۔ سوپ پیتے ہایون کا منہ جل گیا۔ 

    نونا کیا کر رہی ہیں۔۔۔۔ نوناا

    بال تو سکھا لیتا ہے بندہ اتنی سردی میں۔ 

    وہ اب اسکا سر ہلا رہی تھیں۔

    نونا سوپ پی رہا ہوں۔ اس نے احتجاج کیا مگر گنگ شن نونا مجال ہے جو کبھی اسکے احتجاج کو خاطر میں لائیں 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گرم گرم گاڑی سے نکلتے ہی اسکو جھرجھری سی آئی تھی۔ دانت بجنے کوتھے۔ سرد اور نم ہوا سیدھا اسکے سینے سے ٹکرائی تھئ۔ کل اور آج برفباری نہیں ہوئی تھی مگر یقینا کل ضرور ہوگئ یا شائد رات تک۔موسم کے تیور بتا رہے تھے۔اس نے اپنے اپر کی زپ چڑھائی۔۔ مستعد گارڈ فورا چابی لینے اسکی جانب بڑھا ۔ پارکنگ میں گاڑی لگانا اور اور اسکی واپسی پر گاڑی پارکنگ سے نکال کر یہیں واپس لگانا اب اسکی ذمہ داری تھئ۔ اسے گاڑی کی چابی تھماتے وہ عجلت میں اس مشہور مگرسیول کے مہنگے ترین ہوٹل میں اندر داخل ہوا تھا۔ اندر حسب توقع خوب روشنیوں اور خوشبوئوں کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ ایکجانب ایک خوش رو لڑکا بیٹھا دھیمے سروں میں گا رہا تھا۔ میل کتے واں۔۔ یہ گانا گنگشن انی کو بہت پسند تھا۔  وہ رک کر سنے گیا۔ صرف گٹار کی آواز آرہی تھی۔ باقی موسقیقی کے آلات ڈرم پیانو بیٹس وغیرہ لیئے لوگ بیٹھے تو تھے مگر آرام کر رہے تھے۔ لڑکے کی آواز مسحورکن تھی۔ 

    ہایونا۔۔۔۔ 

    پکار پر وہ چونکا۔ دائیں جانب ایک کونے میں وہ سب ساتھئ جمع تھے۔ سونگیون نے ہی آواز لگائی تھئ۔ متوجہ ہونے پر اسے آنے کا اشارہ کیا۔ وہ سر جھٹک کر انکے پاس چلا آیا۔ 

    کم سن ، سونگیون،  یون بن وہ سب اکٹھے ہو کر بیٹھے تھے۔اسے دیکھ کر پر تپاک انداز سونگھیون اٹھ کر ملا۔تھا باقی دونوں سے تو کل بھی ملاقات رہی تھی سو انہوں نے بیٹھے بیٹھے ہی بس ہاتھ پر ہاتھ مارنے پر اکتفا کیا تھا۔۔ اسکے سوا سب جیکٹوں میں ملبوس تھے۔ یون بن نے تو مشہور ذمانہ گھٹنوں تک والا لمبا فوم والا پیراشوٹ جیکٹ پہن رکھا تھا۔ اس وقت اندر فل ہیٹڈ ہال میں بھی وہ پہنے بیٹھا تھا۔

    کل خیریت سے پہنچ گئے تھے گھر۔

    یون بن نے پوچھا تھا۔ وہ سر ہلاتا بیٹھ گیا خیرت سے پہنچا تھا تبھی تو آج دوبارہ انکے سامنے تھا۔ 

    اس نے ایک نظر سب پر ڈالی۔ خوش گپیوں میں مصروف وہ سب ایک جیسے تھے چندی آنکھوں برف سی رنگت والے اسکے بچپن کے سنگئ ساتھئ۔ پھر بھی ایک دکھائی دینے والا فرق تھا۔ وہ سب اس ریستوران میں  پہلی دفعہ نہیں  آئے تھے۔مگر ہر دفعہ آنے پر ریستوران میں کوئی نئی تبدیلی آچکی ہوتی تھی جس کو وہ ناصرف آرام سے پہچان جاتے تھے بلکہ کھل کر سراہتے بھی تھے۔۔ریستوران کی دلکش انٹیرئر ان سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔ اس وقت بھئ سونگیون اور یون بن دیوار پرلگی نادر پینٹنگ کو دیکھتے تبصرہ کر رہے تھے۔ 

    ہایونا۔ یہ والی پینٹنگ وہی ہے نا جسے لینے ہم بوسان گئے تھے ۔ یون بن کو پچھلے سال کی وہ نمائش یاد تھئ جس مین شرکت کیلئے وہ اور ہایون اکٹھے گئے تھے۔۔ 

    پتہ ہے یہ کتنی مہنگی پینٹنگ ہے۔ پورے۔۔۔ 

    آگے قیمت بتا رہا تھا۔ اس نے دانستہ ان پر سے دھیان ہٹایا۔ 

    ہیں ہایون۔ اتنی مہنگی پینٹنگ ہے یہ۔ 

    سونگیوں یون بن کا پسندیدہ ردعمل دے رہا تھا۔ متاثر ہوجانے والا۔ 

    ظاہر ہے اس ریستوران کا اپنا معیار ہے اسکے حساب سے تو یہ۔تصویر کچھ بھئ نہیں۔یون بن متاثر تھا اس ریستوران سے جبکہ یہ ہایون کے باپ کا ریستوران تھا۔ اسکے چہرے کی مسکراہٹ ماند سی پڑنے لگی۔ اس نے دانستہ سر ہلا کر رخ پھیرا۔ وہ جانے کیوں احساس جرم کا شکار ہوجاتا تھا ۔ بے پناہ دولت مند ہونےکا احساس اسے کبھئ خوش نہیں کرسکا تھا کیونکہ۔۔ پاس سے گزرتے ویٹر کی نظر اس پر پڑئ تو   مستعد ہو کر اسکی جانب آیا۔

    اسکے باپ کا ریستوران تھا ویٹر کا رواں رواں کان بن گیا تھا۔ 

    آننیانگ واسے او۔ پرتپاک سلام۔۔ 

    آنیانگ۔ جوابا وہ سنبھل کر سیدھا ہو بیٹھا۔ 

    آرڈر دے لو کیا منگوانا ہے۔ اس نے ہلکا سا میز بجا کر ان سب کو متوجہ کیا۔  

    سن بے ( سینئر) واش روم تک گئے ہیں آتے ہیں تو انکی مرضی سے آرڈر کرتے ہیں۔ یون بن نے کہا۔ تو وہ چونکا

    سن بے؟ 

    سن بے۔۔۔سونگھیون نے وضاحت کی۔  جونگ جے وہی توملنا چاہ رہا تھا تم سب سے۔ جو یہ دعوت رکھی۔ یہ دعوت ہے بھئ انکی جانب سے۔ ورنہ مجھے کیا پاگل سمجھا ہے ان دو ٹکے کے لوگوں کو میں اتنے مہنگے ریستوران لائوں گا۔ سونگھیون کا جملہ ختم ہونے تک یون بن اور کم سن اس پر پل پڑے تھے۔دونوں نے کرارے ہاتھ جمائے تھے اسکی گدی پر جوابا وہ ہنسے گیا ڈھٹائئ سے۔

    اسکے دماغ کی گھنٹئ بجی۔۔۔۔ 

    ارے۔۔  وہ چونک کے سیدھا ہوا۔ 

    ویٹر منتظر کھڑا تھا۔

    تم جائو تھوڑی دیر میں آنا۔ اسے بھیج کر وہ سونگیون کی جانب متوجہ ہوا۔

    جون جے سن بے تو امریکہ میں نہیں تھے؟ 

    اب آگئے ہیں۔بالکل بدل کر۔

    سونگھئون نے کہہ کر ہنکارہ بھرا ۔سامنے جون جے ریستوران کے باہر سے اندر آرہا تھا۔ وہ سب اسکو حیرت سے دیکھنے لگے۔ 

     آنیانگ واسے او ۔۔۔

    آج ہم تقریبا دو سال کے بعد اکٹھے ہوئے ہیں ۔۔۔

    جون جے نے مسکرا کر قریب آکر اپنے دوستوں کو مخاطب کیا۔۔ 

    سونگھئون کے سوا سب کے چہرے پر اسے دیکھ کر جو حیرت اتری تھئ اسے اندازہ تھا۔جبھی بظاہر کمپوزڈ سا تھا۔ 

    ہایون نے فورا تاثرات قابو میں کیئے اور اٹھ کر گرمجوشی سے ملا۔۔ کم سن یون بن۔ 

    معزرت میں ذرا باہر چلا گیا تھا۔ 

    اپنی غیر موجودگئ کی مختصر سی وضاحت۔ 

    اور کیسے ہو تم سب ۔پڑھائئ جارئ ہے ؟ وہ برسبیل تذکرہ پوچھ رہا تھا۔  ہائی اسکول چھوڑنے کے بعد تو سمجھو پہلی بار ہےیہ ملاقات تم سب سے۔۔۔ 

    دے۔۔ کم سن نے ہی جواب دیا۔ 

    وہ ان سب سے دو سال سینئر تھا۔جبھی اسکے انداز میں بڑا پن اور بے تکلفی تھئ۔ وہ سب جون جے سے بہت متاثر ہوا کرتے تھے ہائی اسکول دور میں۔ بہترین باسکٹ بال پلیئر پوزیشن ہولڈر۔۔۔۔

    اسکی ان سب سے دوستی باسکٹ بال کھیلنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ سنجیدہ طبیعت جون جے نہایت غصہ ور ہوتا تھا۔ مگر ایک اتفاقی جھگڑے  نے اسے ان کے گروہ کا حصہ بنادیا تھا ان سب کے ساتھ بھی ہر پارٹئ میں شامل ہوتا تھا اور اسکا اپنا دوستوں کا گروہ الگ تھا۔مگر اس وقت اسکی شکل دیکھ کر انہیں نہیں لگا تھا کہ وہ دنیا کا سنجیدہ ترین انسان ہے جس کیلئے مسکرانا ایک کارگراں تھا۔ غصے کی جگہ اسکے چہرے پر نرمی سی تھی۔ وہ مسکرا نہیں رہا تھا مگر تاثرات ایسے ہی تھے جیسے ایکدم مسکرا دے گا۔

    سونگھیون کو سب سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے جو دانستہ ان سب سے نظر چرائے مینیو کارڈ میں منہ گھسائے تھا۔

    ہو یون بن  ، پارک سونگھیون ،  کم سن او اور لی ہایون۔۔۔۔۔۔

    جون جے نے طائرانہ نگاہ ان پر ڈالی۔ وہ سب اس وقت سٹپٹائے ہوئے سے بیٹھے تھے ایک اسکی وجہ سے۔۔ 

    سونگھیون نے مینیو کارڈ سے سر اٹھایا۔ 

    سن بے وہ وقت یاد جب ہم اپنی پورے ہفتے کی کمائی جمع کرتے تھے کسی جگہ کھانا کھانے کیلئےاور پھر بھی پیسے کم پڑتے تھے پھر ہایون شا کسی مددگار جن کی طرح اپنا بٹوہ کھولا کرتا تھا ۔

    ۔یون بن  نے بھئ دماغ کی پٹاری سے پرانی یادیں چھانٹ نکالیں

    وہ یاد ہے جب تم یہاں اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ یہاں آئےتھے اور بل دیکھ کر ہوش اڑ گئے تھے تمہارے۔ تمہیں اندازہ ہی نہ وہا کبھی ہایون کی وجہ سے کہ یہ سیول کا مہنگا ترین ہوٹل ہے۔

    سونگھیوں کا چہرہ خفت سے سرخ پڑا۔ 

    کبھئ بھول سکتاہوں۔ ایک تو پہلا پیار اوپر سے پہلے پیار کے سامنے پہلی اخیر پھٹکار ۔۔۔ 

     ہایون  جون جے ساختہ ہنسے  تھے۔۔  باقی بھی یاد کر کے مسکرا اٹھے 

    لیکن ہایون نے اس مینجر کی صحیح بستی کی تھی۔میرے دوست سے یہ سلوک کرنے کی ہمت کیسے کی۔ کم سن نے بھی ہنس کر یاد کیا۔

    بھئی یہ جناب ٹھہرے لی گروپ کے وارث انکے کیا کہنے ۔ کھلا پیسہ موج مستی ۔۔۔ سونگھیون نے رشک سے کہا ہایون کی ہنسی پھیکی پڑنے لگی اگر پیسہ خوش قسمتی کی دلیل ہوتا تو وہ خوش قسمت ترین تھا اور اگر دنیا میں پیسے کے علاوہ بھی کوئی چیز ہوتی ہے جو زندگی گزارنے کے لیئے درکا ر تو یقین کرو اس سے زیا دہ بد نصیب کوئی نہیں وہ سوچ کر رہ گیا 

    اور میں اپنے  باپ کے کھلے پیسے کو بس حسرت سے دیکھ کر رہ جاتا تھا اپنے جیب خرچ کے لالے پڑے ہوتے تھے کوئی فائدہ تھا امیر مگر کنجوس باپ کا بیٹا ہونے کا ہائے محنت مزدوری کرکے پڑھائی کی آگے یونیورسٹئ گریجوایشن کے لیئے بھی خوار ہو رہا ۔۔۔ یون بن نے منہ بنایا  اسکے دکھڑے پر سب قہقہ لگا کر ہنس پڑے 

    وہ سب بالکل گئے گزرے نہیں تھے مگر ہایون اور کم سن کا مقابلہ مشکل تھا۔ 

     یون بن جو اتنی مسکینی سے بولا تھا۔۔۔ چندی آنکھوں چوڑے شانوں مگر چست بدن والا دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والا اتنا بھئ غریب نہ تھا۔ ہمیشہ اپنے باپ کے اصولوں سے باغی جتنا پڑھائی میں اچھا اتنا ٹھرکی۔ وکالت سے بھاگتا تھا باپ سخت گیر مگر با اصول اور ایماندار وکیل پیسہ آبائی جائداد کی وجہ سے کھلا تھا مگر بیٹے پر شیر کی نظر رکھنے کی وجہ سے محفوظ۔۔

    اسکے دائیں جانب چندی ہی مگر کچھ ذیادہ ہی کھنچی آنکھوں چھوٹے سے چہرے والا کم سن۔ گہرے سیاہ بال لانبا قد دبلی جسامت۔ عام سا کوریائئ نقوش والا نوجوان جو سو لڑکوں میں کھڑا ہو تو بھی نگاہ ٹھٹکا دے۔ وجہ اسکے چہرے پر رہنے والی بے نیازی۔ جوامیری کی دین ہوتئ اگر۔۔۔۔ دراصل

    کم سن ایک کاسمیٹکس چین کے مالک کا بیٹاتھا۔ جسکی ماں دوسری بیوی تھئ۔ اسکے باپ کی پہلئ بیوئ مرچکی تھی ۔ اسکی اپنی ماں بھئ اسکے بچپن میں چھوڑ کر چلی گئ تھی جانے کہاں۔ سو اسکے باپ نے تیسری شادی کی۔ اب تو باپ بھی ایک اسپتال میں کومے میں پڑا آخری دن گن رہا تھا۔ اسکے دو سوتیلے بھائی باپ کی سب جائداد کے وارث بن چکے تھے اسے اور اپنی تیسری ماں کودودھ میں سے مکھی کی طرح نکال باہر کیا۔۔ نہایت عیش و آرام میں پلنے والے کم سن کو وہ بے دخل تو کر چکے تھے اپنی طاقت اور پیسے کے بل پر مگر اسکا تعلیم کا خرچ اسکا باپ ہی اٹھا رہا تھا انشورنس کے ذریعے دو تین دکانیں اسکے نام تھیں جنکو فرنچائز کہنا مناسب ہوگا ۔ مصوری اسکا شوق تھا۔ طالب علمی سے اپنا خرچہ خود اٹھا رہا باپ نےایک گھر نام کیا تھا اسکی ماں کے جہاں کبھی کبھی چلا جاتا تھا۔ مگر اب وہ علاقہ بند کرکے وہاں نئے سرے سے سوسائٹی بننے والی تھی سو سب علاقہ خالی کروایا جارہاتھا۔پیسے مل جانے تھے البتہ اسے۔۔

    سونگھیون دبتے قد فربہ سراپے کا مالک ان سب میں سب سے ذیادہ کھانے اور ہنسنے والا لڑکا۔  ماں باپ دونوں زندہ تھے اکٹھے بھی رہتے تھے یہ  مسلئہ تھا اسکا۔ ساتھ ہی چار اور بہن بھائی بھی رہتے تھے اسکو ہمیشہ قلق رہا والدین نے خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کیوں نہ کیا یہ سوچے بنا کہ خود اسکا نمبر اس فہرست میں تیسرا بنتا تھا تو اسکی اس دنیا میں آمد ممکن نہ ہوتی اگر اسکے والدین واقعی عمل کرتے ہوتے اوپر سے آیا بھی اکیلا نہیں تھا اسکی ایک جڑواں بہن بھی تھی ساتھ ساتھ رہتی کتابیں بھی دونوں ایک ہی استعمال کرتے تھے اور جیب خرچ بھی انکے درمیان خاموش معاہدہ تھا کتابیں بو را کی پیسے سونگھیون کے۔۔۔ 

    رہا چھا جون جے۔۔ امریکی اور کورین نقوش کا امتزاج اسے کورہائی نقوش سے ذیادہ امریکی نقوش بخش گئے تھے۔ تاہم آنکھیں چندی تھیں۔ چوڑے شانے جم لگا کر خوب مسل بنا رکھے تھے۔ اسکے والد امریکی اور والدہ کوریائی تھے ہائی اسکول میں تھا جب والد کے انتقال کے بعد اسکی والدہ کوریا منتقل ہو گیئں اسکی ابتدائی تعلیم امریکہ کی تھی اور ہائی اسکول مکمل کرنے کے بعد وہ اپنی محبوبہ رچل کے ساتھ اعلی تعلیم کےلیے امریکہ ہی چلا گیا تھا ہائی اسکول کے بعد سب نے اپنےاپنے پسندیدہ شعبے کا انتخا ب کیا تھا سب بچھڑ ہی توگئے تھے مگر ان سب نے تعلق رکھا تھاایک دوسرے سے رابطہ رکھتے تھے۔۔۔ 

    میں ملٹری میں جا رہا ہوں اگلے مہینے۔۔۔ سونگھیون نے اچانک ہی کہا تھا سب خاموش ہو کر شکل دیکھنے لگے۔۔

    ابھی سے؟ ۔۔۔۔۔۔یون بن نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔ 

    ہم سب نے فیصلہ کیا تھا ہم اکٹھے جائیں گے۔ 

    کم سن نے بھئ ٹوکا۔۔

    ہم اکٹھے اب کبھی نہیں ہوسکتے ہم سب کی فیلڈز الگ ہیں شوق دلچسپیاں اور سب سے بڑھ کر زندگئ کے رنگ۔۔ 

    کہہ کر وہ  ہنسا۔۔

    میں اس سے قبل کہ پاگل ہو جائوں بہتر ہے سیول چھوڑ جائوں۔ 

    یہ اچانک حملہ تھا ۔۔جون جے نے ناپسندیدگی سے دیکھا 

    پاگل پن کا سیول سے کیا تعلق ہے؟ اور لازمی ملٹری سروس میں خود سے جانا بذات خود پاگل پن ہے۔ 

    ہایون نے  جتایا۔ 

    میں لازمی ملٹری سروس نہیں مکمل ملٹری سروس جوائن کرنے لگا ہوں ۔۔۔سونگھیون  نے اپنی بات کی وضاحت کی

    مگر کیوں تمہیں تو ملٹری میں دلچسپی نہیں تھی۔۔

    کم سن چیخ ہی تو پڑا

    مجھے کچھ تو کرنا ہے میں یونی ورسٹی افورڈ نہیں کر سکتا بو را پڑھائی چھوڑ چکی میں بھی یا تو یہی کروں یا کم ازکم شمالی کوریا کو ڈرا لوں لازمی سروس بھی تو کرنی ہی تھی سو میں نے سوچا یہ برا خیال نہیں کیوں سن بے۔۔ 

    اس نے نسبتا ہلکا پھلکا انداز اپنایا فی الحال سب ابھی اپنے پیروں پر کھڑے نہیں تھے سو انہیں سونگھوین  سے اتنا اتفاق ضرور تھا کہ اسکی سوچ اسکے حالات کے حساب سے درست تھی

     جون جے اپنے ہی کسی دھیان میں تھا سنا ہی نہیں وہ میز پر سجے خوبصورت گلدان پر نظر جمائے تھا انداز سے ظاہر تھا وہ زہنی طور پر کہیں اور ہی ہے

    ہایون۔۔ اسکا انداز بھانپ گیا۔۔ 

    یہ اس وقت یہاں نہیں رچل کے پاس ہیں  ۔۔۔ سونگھیون تمہیں رچل کو بھی دعوت دینی چاہیے تھی ۔ جب سے رچل انکی زندگی میں آئی ہے ہمارے ساتھ دل کہاں لگتا ہے۔۔۔ہم بھی اپنی پرانی سن بےسے مل لیتے ۔۔۔ وہ روانی میں بولتا گیا تھا دیکھا ہی نہیں سونگھیون  اسے نظروں نظروں میں چپ ہو جانے کا اشارہ کر رہا تو کم سن یکدم سنجیدہ سی شکل بنا کر بات  ہی بدل گیا ۔۔۔

    آرڈر کر یں خالی خولی باتیں بناتے بہت وقت ہوگیا 

     جون جے کے چہرے پر پھیکی سی بےبس سی مسکراہٹ در آئی کم از کم دوستی اسکے نصیب میں تھی وہ بھی مکمل اور پر خلوص۔۔۔

    ہاں یار رچل کوبھی دعوت دینی چاہیئے تھی کیسی ہیں وہ آئی ہیں؟ آپ  لوگوں نے تو شادی کر لی تھی نا چاچو بن گئے ہم کہ نہیں ۔۔۔ یون بن  نے بھی اخلاق جتانا ضروری سمجھا ہایون سب کے چہروں سے کچھ بہت غلط ہے  بھانپ گیا سو یون بن کوآنکھ کے اشارے سے منع کیا 

    جون جے نے اسکے اشارے کو دیکھا پھر ہلکے سے مسکرا کر سر جھٹکا 

    سونگھیون  نے اسے بھی دعوت دی تھی میں بھی ضرور لاتا اگر وہ آسکتی ہوتی ۔۔۔ایک لحظہ رکا پھر جیسے آنکھیں میچ کر کسی درد کو اپنے اندر روکا اپنی چندی آنکھیں کھول کر درد بھر مسکراہٹ لبوں پر سجا ڈالی

    ۔ اگر وہ اب بھی اس دنیا میں ہوتی۔۔۔

    رچل نونا  کا پچھلے سال انتقال ہو چکا ہے ۔۔۔ سونگھئون نے افسردگی سے وضاحت کی ۔۔۔تینوں کے چہرے پر افسوس در آیا۔رچل بہت اچھی لڑکی تھی ان سب سے اچھی دعا سلام تھی اسکی انھیں حقیقتا بہت دکھ پہنچا تھا 

    وہ تو بالکل صحتمند تھی کوئی ایسی جان لیوا بیماری نہیں تھی اسکو پھر کیوں اچانک سوال اہم تھا مگر دوست کا چہرہ دیکھ کر ہمت نہیں تھی پوچھنے کی۔۔۔

    کیا کیسے۔۔۔ بے ساختہ یون بن کے منہ سے نکلا

    سوال تھا کہ نیزے کی انی سیدھا دل میں کھبی تھی جون جے کے۔۔۔ اس نے یک لحظہ سوچا پھر گہری سانس لے بولنا شروع کیا  

    امریکہ کے ایک گائوں  میں ہم ساحل کے کنارے پارٹی کر رہے تھے میں اور رچل تھے بس کچھ غنڈوں نے ہمیں گھیر لیا 

    تین لوگ تھے میں پی کے مدہوش تھا۔۔۔

    اس نے بتاتے بتاتے آنکھیں میچ لیں جیسے وہ منظر دوبارہ تازہ ہو گیا ہو 

    انہوں نے بے رحمی سے اسکوتشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا ۔۔۔ ہمیں طبی امداد صبح مل سکی وہ اسپتال میں دو دن زندگی کی جنگ لڑ کر ہار گئی۔۔۔

    اسکے دل کی تکلیف آنکھوں سے بہہ نکلی 

    یون بن پوچھ کے شرمندہ تھا بعد میں سونگھیون سے پوچھ سکتا تھا اسکی جلدبازی کی عادت ۔۔اس نے جون جے کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دینا چاہی 

    ہایون حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا 

    میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ جون جے بدقت مسکرایا 

    پرسوں اسکی برسی ہے میں نے فا۔۔۔ وہ کہتے کہتے رکا پھر مسکرا دیا۔۔۔ جون جے میں بہت تبدیلی آئی تھی وہ بہت غصے کا تیز اور کم مسکرانے والا انسان ہوا کرتا تھا مگر اب بات بے بات مسکراتا رہا تھا دعائیہ خوش آمدیدی کلمات کی ادائیگی کے وقت سے ہایون اسکا بدلا انداز دیکھ رہا تھا 

    اسکی یاد میں تقریب رکھی ہے میرے گھر پر

    تم سب آنا میں اپنا پتہ ایس این ایس (سماجی رابطےکی ویبسائٹ برائے پیغام رسانی )  کر دونگا

    وہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا

    اچھا چلتا ہوں۔۔۔

    سونگھیون  نے فورا اسے روکنا چاہا

    کھانا تو کھاتے جائو ہم ڈنر کرنے ہی تو اکٹھے ہوئے تھے۔۔۔

    ہاں ہم بس آرڈر کر دیتے ہیں ۔۔۔ کم سن نے ہڑبڑا کر ویٹر کو آنے کا اشارہ کیا۔۔۔

    بہت شکریہ میں ویسے بھی یہاں کھانا نہیں کھا سکتا البتہ یہ دعوت ہوگی میری طرف سے ہی۔۔۔  وہ مسکرایا۔ 

    تم سب بلا تکلف دعوت اڑانا۔ سچ مچ تم سب کو دیکھ کر خوشی ہوئی ہے مجھے۔ ابھی چلتا ہوں۔مغرب ہو چکی ہے مجھے دیر ہو رہی ہے پھر ملتے تم سب ضرور آنا میں انتظار کروں گا  خدا حافظ۔۔۔ اس نے پھر مسکرا کر تھوڑا سا کندھے جھکا کر الودائیہ کلمات ادا کیے پھر رکا نہیں یہ سب بس دیکھتے ہی رہ گیے اس نے مکمل ہنگل زبان میں بات کی تھی مگر مخصوص کوریائی انداز میں آدھا جھکے بغیرصرف ہلکا سا سر جھکانے پر اکتفا کیا تھا

    یہ کچھ الگ الگ سا دیکھائی نہیں دے رہا ۔۔۔ کم سن کہے بنا نا رہ سکا

    ہاں بہت اداس ہے داڑھی بھی بڑھی ہوئی تھی اسکی خشخسشی  سہی ۔مگر یاد ہے کیسے نک سک سے درست رہتا تھا لگتا ہے ابھی بھی صدمے میں ہے پیار بھی تورچل سے بہت کرتا تھا۔۔۔ 

    یون بن نے افسوس سے کہا تھا

    سونگھیون  خاموشی سے دیکھ رہا تھا انہیں 

    ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی

     ہایون پر سوچ انداز میں اس دروازے کو دیکھ رہا تھا جہاں سے ابھی لمبے لمبے ڈگ بھرتا جون جے نکل کر گیا تھا 

    جون جے تائیکوانڈو میں بلیک بیلٹ ہے تین لوگ اسکے قابو سے باہر ہو نہیں سکتے بلکہ جون جے تو دس لوگوں پر بھاری پڑتا تھا ہائی اسکول میں کتنے جھگڑے مول لیے اس نے پھر رچل کو بچا کیوں نہ پایا۔۔۔۔

    ہاں وہ اس سب کے با وجود رچل کو بچا نہیں پایا اور اس نے اپنے آپ کو بہت سزا بھی دی ہے۔۔۔

    سونگھیون  نے افسوس سے اپنے بٹوے سے ایک کارڈ نکال کر انکے سامنے میز پر اس پر تحریرعبارت ہنگل اور انگریزی میں تھی مگر بے انتہا چونکا دینے والی وہ سب بھو نچکا رہ گئے تھے۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریستوران سے نکل کر وہ سیدھا بس اڈے کی جانب آیا تھا۔سب سے پہلے والٹ کھول کر دیکھا تھا جس میں صرف تھوڑی سی ریزگاری پڑی تھی۔ اس نےان سب کو دعوت دینے کا کہا ضرور تھا مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ سونگھیون اس ریستوران میں سب کو اکٹھا کر لے گا۔ خیر اسے کیا خبر تھئ کہ ۔۔ 

    بس کا ہارن اسے متوجہ کر گیا۔ جلدی سے سر جھٹکتا وہ بس میں چڑھا اور سب سے آخری نشست کی جانب بڑھ گیا۔ آگے بیٹھنے والوں کو بھانت بھانت کے لوگ ٹکرتے جبکہ پیچھے بیٹھنے والوں کو جھٹکے لگتے۔ اسے لوگوں کے دیئے جھٹکوں سے گاڑی کے جھٹکے بہتر لگتے تھے۔

    سیٹ کئ پشت سے سر ٹکا کر اس نے آنکھیں موند لیں۔ اسکا ابھئ لمبا سفر باقی تھا۔ سو وہ لوٹ کے وہیں امریکہ جاپہنچا تھا جہاں سے بھاگ آیا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ جو آسمان پر اتنے ستارے ہیں ۔۔۔ 

    نیم اندھیرے ساحل کنارے ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوتے وہ دونوں چہل قدمی کر رہے تھے اور خوش گپیوں میں مصروف تھے یونہی ادھر ادھر کی باتیں کرتے جانے رچل کو کیا سوجھی رک کر سر اٹھا کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے بولی 

    ان میں آدھے سیٹلائٹ ہیں ۔۔۔جون جے نے مسخرے پن سے کہہ کر اسکی بات اچک لی 

    ہونہہ ۔۔ رچل نے مصنوعی خفگی سے دیکھا پھر دوبارہ اپنی بات مکمل کی

    یہ جو آسمان پر اتنے ستارے ہیں ان سب میں اگر زندگی ہو ان سب میں اگر میں باری باری پیدا ہوں تو ان سب میں میں جسے سب سے پہلے ڈھونڈوں گی وہ تم ہوگے ۔۔۔اس نے ٹھہر کر بات مکمل کی پھر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر مسکائی ۔۔

    رچل کی گوری رنگت مدھم چاندنی میں دمک رہی تھی رچل کی آنکھیں خالص کوریائی چندی تھیں اسکے پپوٹے اسکی آنکھوں پر ڈھلکے تھے 

    گلابی چھوٹا سا دہانہ گھنے سیاہ بال شانے پر پھیلے تھے وہ اسکی اس  ادا پر فدا ہی تو ہو گیا 

    ذرا اس پر جھک کر بولا

    پر میں تو یہاں ہوں اس دنیا میں ۔۔۔

    تو میں ہمیشہ یہاں اس زمیں پر آنا چاہوں گی ۔۔۔ وہ جزب سے اسے دیکھ رہی تھی 

    اونچا لمبا چھے فٹ سے بھی نکلتا ہو اقد چوڑے کندھے مضبو ط ڈولے والے بازو کیا زور آور شخصیت تھی اسکی مگر اس سب سے الگ گوری رنگت والا چہرہ جس پر سجی چندی آنکھیں محبت کی قندیلوں سے روشن تھیں چھوٹے سے ہونٹ اسکی باتوں کے جواب میں پیار سے مسکرا رہے تھے یہ تھا اسکا ہمیشہ اسکارہنے والا جون جے

    اسکے ہوتے کس کی جرات اسکی جانب آنکھ اٹھا کر دیکھ لے وہ مغرور ہوئی

    اور میں تمھیں یہاں سے کہیں جانے نہیں دونگا ۔۔۔میرے تمھارے بیچ کوئی نہ آسکے گاخدا بھی نہیں۔۔  ۔۔ اس نے کہتے ہوئے دھیرے سے اسکو بانہوں میں لے لیا 

    اور کوئی آ بھی کیسے سکتا کسی نے کوشش بھی کی تو منہ توڑ دونگا۔۔۔ وہ لہک کر بولا 

    کوئی تو خیر آچکا ہے۔۔۔۔ اس نے کہہ کر جون جے کے تاثرات جانچے وہ چمک کر بولا

    کون؟ جان لے لوں گا میں اسکی۔۔۔ 

    اسکا تم کچھ نہیں بگاڑ پائو گے ۔۔۔ اس نے قصدا لاپروا انداز اپنا کر خو د کر چھڑایا پھر منہ پھیر کر ہونٹوں پر مسکراہٹ دبائے مخالف سمت قدم اٹھانے لگی 

    رچل۔ ہمارے آنے والے بچے کی بات کر رہی ہو نا؟  ۔خلاف توقع وہ بہت سنجیدہ ہوگیا تھا وہیں رک کر اس سے پوچھ رہا تھا اسکے انداز کی سنجیدگی نے رچل کے قدم روک دیئے تھے ان دونوں کے بیچ کچھ قدموں کا فاصلہ در آیا تھا جون جے کی سنجیدگی عروج پر تھی رچل ہنس دی

    اتنا جزباتی کیوں ہورہے ہو ؟ہاں  میرا مطلب تھا ہمارا بےبی ۔۔۔وہ تو آئے گا نا ہمارے بیچ 

    جون جے مسکرایا بھی نہیں 

    وہ آئےگا تو اسکی جگہ الگ ہوگی تم میرے لیے ہمیشہ کچھ اور ہی رہو گی میں تمہیں کسی کے ساتھ بانٹ نہیں سکتا تم میرے لیے میرا سب کچھ ہو وہ سب کچھ جو دنیا میں توکوئی کبھی نہیں ہوسکتا یہاں تک کے خدا بھی نہیں۔۔۔وہ گمبھیر انداز میں کہہ رہا تھا

    ساحل کی خنک ہوا دلوں کو گرما رہی تھی سمندر کی لہریں انکے قدموں سے ٹکرا ٹکرا کر پلٹ رہی تھیں وہ مکمل طور پر جون جے کے سحر زدہ انداز کے زیر اثر تھی 

    اس نے بھاگ کر درمیانی فاصلہ طے کیا اور پورے جوش سے اسکے گلے لگ کر بولی۔۔۔

     کون جانے خدا ہے بھی کہ نہیں ہا ں خدا جیسا مکمل شخص میری زندگی میں ہے۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جون جے کو جھٹکا سا لگا تھا۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔بس تقریبا خالی ہو چکی تھی اس نے سڑک پر نگاہ کی تو ایکدم اٹھنا پڑا۔ اسکا اسٹاپ آگیا تھا۔ 

    آہجوشئ۔ اس نے زور سے ڈرائور کو آواز دی۔ 

    رکنا ذرا۔۔ چھاکے منیو۔

    ڈرائئور نے بدمزا ہو کر اس سوئئ سرکار کو دیکھا مگر بس روک دی۔ وہ تیزی سے جھک کر ڈرائور سے معزرت کرتا اترا تھا۔ بس اسٹاپ پر اکا دکا لوگ تھے۔ وہ نیچے اتر کر گہری سانس لیکر رہ گیا۔ ابھئ یہاں سے اسکی رہائشی عمارت تک کم از کم بھی پندرہ منٹ کی چہل قدمی کرنی پڑتی اسے۔۔ 

    تمہیں کب عادت پڑے گی پیدل چلنے کی۔ اب امیر نہیں رہے تم۔۔

    اسکے انداز میں حسرت نہیں لاپروائئ سی تھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    #۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ جونگھئییا۔۔۔ سن بے کا گھر تو نہیں ہے۔ 

    ہایون نے حیرت سے اس چھوٹے سے متوسط طبقے کے گھر کو دیکھا تھا جو کوریائی روایتئ مکان تھا لکڑی کے دروازے کو کھول کر اندر داخل ہونے پر کھلا صحن تھا سامنے کمرے تھے ایک جانب صحن میں بڑی بڑی دو تین دیگیں رکھی تھیں جن پر معمور دو تین نو عمر لڑکے ڈشوں میں ترک پلائو نکال رہے تھے۔

    یہ منظر انکی توقع سے بالکل برعکس تھا ہایون اور کم سن ایک دوسرے کو اچنبھے سے دیکھ رہے تھے جبکہ  جونگھیو  کے اطمینان بھرے انداز کو حیرت سے ۔۔۔ یون بن کو البتہ کچھ کچھ اندازہ تھا سو اسکے تاثرات عام سے ہی تھے وہ ان تینوں کے بر عکس پھلوں کی ٹوکری اٹھائے تھا یہ تینوں حسب روایت گلدستے لے کر آئے تھے انکو اندازہ نہیں تھا کہ گھر کی تقریب اتنی مختلف بھی ہو سکتی ہے برسی کی تقریبات عموما سماجی ادارے میں منعقد ہوا کر تی ہیں جس میں ایک کونہ مختص کر دیا جاتا تھا جہاں مرحوم کی تصاویر سجا دی جاتی تھی لوگ گلدستے عقیدت سے ان کے آگے رکھتے اور مرحوم کی اچھی یادیں بیان کر کے ایک طرف ہوجاتے تواضع مہمانوں کی حسب توفیق روایتی کوریائ کھانوں سے ہو جاتی تھی مگر یہاں تو منظر ہی کچھ اور تھا

    سامنے ہال نما بڑا سا کمرہ تھا جس کے سب دروازے کھلے تھے ۔کھلے کمرے میں  فرشی چاندنی بچھی تھی جس پر مختلف عمروں کے مرد اور لڑکے ادب سے پیر سمیٹے بیٹھے سنائی دینے والی مگر دھیمی آواز میں کسی غیر فہم زبان کی کتابیں پکڑے بول بول کر پڑھنے میں مصروف تھے ۔۔۔

    رچل کی کوئی تصویر کہیں نظر نہیں آرہی تھی  ایک ادھیڑعمر آہجوشی قہوہ پیش کرتے پھر رہے تھے جسے سب شکریہ کہہ کر تھام ضرور رہے تھے مگر اپنے سامنے رکھ کر دوبارہ پڑھنے میں مشغول ہو جاتے 

    یہ جون جے کے روحانی والد کا گھر ہے۔ یہیں اس نے رچل کی برسی کی تقریب رکھی ہے۔ 

    جونگھیو نے اسکی الجھن دور کی۔

    جون جے کہاں ہے۔۔۔ یون بن نے الجھن بھرے انداز میں سرگوشی کی 

    وہ رہا ۔۔۔جونگھیو نے آہستہ سے سامنے کی طرف اشارہ کیا

    کہاں ۔۔۔ یون بن کو ہرگز سمجھ نہ آیا سب انجانی شکلیں تھیں سب کے سب کورین بھی نہیں تھے اسے تو ان میں کچھ ایشیائی بھی نہیں لگ رہے تھے 

    ادھر ۔۔ ہایون نے پہچان لیا تھا سیدھا اس سمت میں بڑھا ان دو رویہ بیٹھے لوگوں میں وہ ایک کونے میں بیٹھا تھا اس کی جانب جانے کیلئے ان دو رویہ بیٹھے لوگوں کے بیچ سے گزرنا پڑتا 

    بیچ سے نہیں ادھر کونے سے چلو ۔۔۔ سونگ یونگنے باقاعدہ بازو پکڑ کر روکا تھا اور ایک جانب ہو کر خود انکی رہبری کرنے لگا یہ تینوں الجھن سے دیکھ کر پیروی کرنے لگے سونگھیواور جون جے زیادہ قریبی دوست تھے سو وہ جون جے کے طرز عمل میں تندیلی سے نہ صرف واقف تھا بلکہ اسے اب جون جے کیساتھ کیسے رشتہ نبھانا ہوگا وہ اس سے بھے بہ خوبی آگاہ تھا 

    انہیں قریب آتے دیکھ کر جون جے پہلے تو حیران ہوا شائد اسے لگا تھا وہ اسکی دعوت قبول نہ کریں گے اسکی سچائی انکے رویے بدل دے گی مگر وہ سب نہ صرف آئے بلکہ روائتی انداز سے پھول بھی ہمراہ لائے تھے وہ بے تحاشہ خوش ہوا تھا کہ اسکے دوست نہیں بدلے وہ اپنے اس فیصلے کی پاداش میں اپنوں کو کھو چکا تھا اسکے سگے چچا زاد نے اس سے تعلقات ختم کرلیے تھےکہ انکی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا اسکی سگی ماں بھی ایسا ہی سوچتی تھی اور اسے تنہا چھوڑ چکی تھی وہ گرم جوشی سے انکے استقبال کو بڑھا تھا  ڈھیلے سے پاجامے اور ہمرنگ ترک قمیص میں ملبوس سر پر سفید سی ترک ٹوپی پہنے کمزور سا مگر بالکل مختلف دکھائی دیتا سونگھیو نہ ہوتا تو تینوں پہچان ہی نا پاتے اور شائد دروازے سے ہی واپس ہوجاتے 

    وہ تینوں سے لپٹ کر ملا تھا 

    بہت بہت شکریہ تم لوگ آئے  ۔۔۔۔۔آئو بیٹھو 

    ہایون کے ہاتھ سے ٹوکری لیکر ایک طرف رکھتے ہوئے وہ انہیں خلوص سے بیٹھنے کی پیشکش کر رہا تھا۔

     تینون ایک دوسرے کو دیکھنے لگے جونگھیو ٹراوزر اور شرٹ میں ملبوس تھا جبکہ یہ تینوں تھری پیس سوٹ پہنے ٹائی لگائے حاضر ہوئے تھے جونگھیو جون جے سے ملکر بڑے آرام سے وہاں فرش پر بیٹھ کر کسی ادھیڑعمر آدمی سے مل رہا تھا انداز سے ظاہر تھا پہلی ملاقات پہلی نہیں ان تینوں کیلیے وہاں بیٹھنا تھوڑا مشکل تھا روائتی طور پر تو وہ سب سوٹ پہن کر اسے بیٹھنے کے عادی تھے مگر یہاں لوگ بے حد مختلف تھے انکی الجھن سمجھ کر جون جے ان کودائیں جانب کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر کمرے میں لے آیا صوفے سے سجا کم فرنیچر والا وہ ایک سادہ سی بیٹھنے کا کمرہ تھا

    تم لوگ شائد حیران ہوئے ہو ؟

    جون جے کے پوچھنے پر وہ کچھ کہہ نہ سکے خاموشی سے صوفے کی نشست سنبھال لی

    شائد جونگھیو نے بتایا ہو تمہیں کہ میں نے مزہب بدل لیا ہے۔ 

    وہ بلا تمہید بولا تھا۔ اس نے بتایا تھا انہیں یہ انکے لیئے نئی اطلاع نہ تھی مگر یہ کیسا مزہب تھا کہ بندے کا حال حلیہ تک بدل دے۔ 

    میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ وہ لحظہ بھر رکا۔۔ 

    وہ تینوں خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے۔  

    دراصل رچل کے بعد میں بہت مضطرب رہنے لگا تھا کہیں نہ کہیں اسکےساتھ جو ہوا اسکا زمہ دار میں خود کو سمجھتا ہوں اور اسکیلیئے میں خود کو  معا ف بھی نہیں کر پائوں گا عمر بھر۔۔۔

    وہ ان کی خاموشی سے تھک کر انکے سامنے بیٹھ کر خود ہی صفائی دینے لگا 

    مگر جو ہوا اس میں تمھارا کیا قصور ؟

    یون بن کہے بنا نہ رہ سکا 

    میں تائیکوانڈو بلیک بیلٹ تین لوگ جن کے پاس اسلحہ بھی نہیں تھا۔ ایک چھری تھی بس۔  ان سے اپنی بیوی کو نہ بچا سکا میری بیوی رو رہی تھی تڑپ کر مجھے پکار رہی تھی اور میں کچھ نہ کر سکا میں ہلنے جلنے کےقابل نہ تھا میں اپنے آپے میں نہ تھا

    وہ بے قراری سے بات کاٹ گیا خود ترسی کی انتہا تھی وہ جزبات کی شدت سے کانپ رہا تھا

    آپ  پینے سے مدہوش تھے کوئی بھی بہت پی لے اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا اپنے ہو ش کھو دینے کے باعث اگر آپ مدد نہیں کر پائے تو اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں رچل بھی آپکو قصوروار نہیں گردانتی ہونگیں۔۔۔ ہایون اٹھ کر اسکے پاس آبیٹھا اور تسلی دینے کے انداز میں اسکا کندھا دبانے لگا۔۔۔۔

    جون جے دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر رو پڑا۔۔

    وہ تینوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بس کوئی لمحہ ایسا ہوتا کہ انسان اس لمحے کےزیر اثر آ کر کچھ بھی کر جاتا ایسا جو کبھی اسے نا ممکنات میں سے لگتا ہے ۔۔۔سونگھیو متاثر ہو جانے والے انداز میں بتا رہا تھا۔۔

    یون بن گلاس میں مشروب ڈال کر اس نے ہایون کو پیش کیا اور اپنے لیئے گلاس بنانے لگا

     وہ برسی سے واپسی پر ایک قریبی کلب میں آئے تھے۔ مے نوشی کا ارادہ تونہیں تھا مگر کم سن نے منگوا لی تھئ۔ ناچ گانے شور شرابے سے دور اوپر کھلے کیبن میں بیٹھ کر دور سے اچھلتے کودتے لوگوں کودیکھ کر لطف اندوز ہو رہے تھے ہلکی ہلکی موسیقی کی آواز آرہی تھی کوئی مشہور پاپ گلوکار کا گانا چل رہا تھا بول فاصلہ ہونے کی وجہ سے ناقابل فہم تھے

    جون جے کا احساس جرم اسے چین نہیں لینے دے رہا تھا جبھی اس نے مزہب بدل لیا۔ سونگھیون نے چسکی لیتے ہوئے بات مکمل کی۔ 

    انسان کو ایک وجہ درکار ہوتی ہے ہر حادثے کے بعد جس وجہ کو مورد الزام ٹھہرا کر خود کو دلاسہ دے سکے۔ جون جے کو بھئ بس یہی فرار چاہیئے تھا  ورنہ شراب چھوڑتا مزہب نہیں۔

    کم سن نے ماہر تجزیہ کار کی طرح کہا تھا۔ یون بن نے سر جھٹکا۔ 

    انکا تو نام بھی بدل گیا ہے۔ سچ کہوں تو مجھے لگا انسان بھی بدل گیا ہے۔ سن بے ایسے نرم مزاج یا روندو تو کبھی نہ تھے۔ 

    یون بن کو دوپہر کی جون جے کی رقیق القلبی یاد آئی۔۔ 

    ہایون نے پرسوچ انداز میں اسے دیکھا اور چسکی لینے لگا

    میں نے کسی سے سنا تھا کہ سن بے  کوریا واپس آگئے ہیں۔۔کوئی آٹھ ماہ پہلے میں پہلی فرصت میں اس سے ملنے گیا تھا یقیں کر و مجھے جھٹکا لگا تھا نچڑ کر آدھے رہ گیئے تھا بہت زہنی دبائو کا شکار رھےمجھ سے  لپٹ کر رو دیئے۔ 

    ۔سونگھیون رکا ہایون ہت غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ 

    اس سے اگلی بار میں اس سے ایک ہفتے بعد ملا کافی بہتر تھے  اور آہستہ آہستہ ہر بار ملنے پر میں نے اس کو بہتر ہوتے دیکھا میں سمجھا تھا کسی نفسیات دان سے مل رہے ہیں اپناعلاج کروا رہے مگر میرے اندازے کے بر عکس وہ ایک مزہبی عالم سے مل رہے تھے تب میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ امریکہ میں ہی اس واقعے سے متاثر ہو کر اپنا مزہب تبدیل کر چکے ہے۔۔۔ اب انکا نام چھا محمد علی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    کم سن یون بن اور ہایون تینوں بہت غور سے دیکھ رہے تھے۔ 

    کہا تھا نا ان پر وقتی فیز ہے۔غم ہلکا ہوگا تو واپس اپنے مزہب پر آجائیں گے  

    کم سن اپنے اندازے کی درستگی پر داد طلب نظروں سے دیکھنے لگا۔ 

    کوئی نہیں ۔ اس مذہب کو اختیار کرنے کی پاداش میں سن بے تنہا ہو چکے ہیں۔ انکی آہموجی نے انکو جائداد سے بے دخل کر دیا ہے، انکے ساتھی جو انکے ساتھ شراب کے کاروبار میں شریک تھے انکے اپنے آپ کو اس کاروبار سے نکال لینے پر نقصان کی وجہ سے تعلق توڑ چکے ہیں۔ سن بے امریکہ میں اپنی تعلیم بھی مکمل نہ کر سکے اب بس کورین ماسٹرز کی ڈگری کے ساتھ فی الحال بے روز گار ہیں اور اپنے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں اکیلے رہتے ہیں۔ اس سب کے بعد بھی وہ اسی نئے مذہب پر قائم ہیں۔ 

    جونگھیو نے تفصیل سے بتایا ان تینوں کے چہروں پر شدید حیرت تھی۔ 

    مجھے شدید حیرت ہورہی ہے ۔۔ ہایون کہے بنا نہ رہ سکا۔۔۔

    شراب پینے سے نفرت ہوجانا سمجھ آتا کہ کہیں نہ کہیں وہ اپنے ہوش کھو دینے اور اپنی بیوی کو نہ بچا سکنے پر اپنی کمزوری پر شرمندہ ہے مگر اس سے مزہب تبدیل کرنے کا کیا تعلق وہ بھی اتنا مشکل مزہب ساری دنیا میں پسند نہیں کیا جاتا۔۔۔

    پھر بھی سب سے تیزی پھیلنے والے مزاہب میں سے ایک ہے ۔۔۔ جونگھیو نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا

    حیران کن ۔۔۔ کم سن نے کندھے اچکائے ۔

    یون بن نے نیا جام اٹھا لیا۔ اسکو دنیا کی کم ہی پروا ہوتئ تھی۔ سن بے کی مرضی مزہب بدلیں یا جنگلوں میں نکل جائیں انکو حق ہے اپنی زندگی اپنی مرضی سے برباد کرنے کا۔ 

    اسکا مئوقف سادہ تھا۔ جونگھیو بے ساختہ ہنس دیا۔

     اس بے وجہ ہنسی پرتینوں  نے حیرت سے اسے دیکھا 

    برباد ؟ شائد غلط لفظ ہے۔۔ سدھرنا ذیادہ جچے گا یہاں۔۔عجیب بات لگتی ہے مگر کبھی جانا تم علی کے ساتھ ملنا انکے پیشواہ سے انکا طریقہ عبادت دیکھنا بہت دلچسپ ہوتا ہےوہ منظر جب ڈھیرسارے لوگ ایک جیسے طریقےسےاٹھتے بیٹھتے کھڑے ہوتے 

    مزہ آتا دیکھ کر ۔۔ وہ براہ راست یون بن کو بتا رہا تھا۔۔۔۔ ہایون نے اس کے چہرے پر مزاق یا تمسخر ڈھونڈنا چاہا مگر وہ واقعی شائد انکو دیکھ کر بہت مرعوب ہوا تھا 

    مجھے کیا ضرورت ہے میں چرچ نہیں جاتا باقاعدگی سے ۔۔۔یون بن لاپروائی سے کہہ کر گھونٹ بھر رہا تھا سونگھیون نے اپنے گلاس سے ایک چسکی بھی نہیں بھری تھی  

    تم پی کیوں نہیں رہے؟  اس نے کافی اچنبھے سے پوچھا تھا 

    سونگھیون  ہلکے سے ہنسا پھر بڑا سا گونٹ بھر لیا 

    تمہیں پتہ ہے میں نے علی سے کہا تم شراب پی کر مد ہوش ہوگئے اسلیئے مان لیا کہ رچل کی جان گئی مگر اس میں شراب کا قصور نہیں تمہارا ہے تم نے پی زیادہ لی تھی کم پیو آئندہ احتیاط کرنا میں اسکو کلب لایا اور شراب پینے پر منانے لگا

    اس نے میرے سامنے شراب کی بوتل رکھ دی بولا بس اتنی پیو کہ بہکو نہ 

    وہ کہہ کر زور سے ہنسا۔۔۔۔ ان تینوں کو لگ رہا تھا تھوڑا سا دماغ سونگھیون کا بھی کھسک گیا ہے۔۔ 

    ہایون بالکل سمجھ نہیں پا رہا تھا اسے اپنی چندی آنکھوں کو پورا کھول کر اسے گھور رہا تھا مانا جون جے بہتریں دوست تھا اس نے مزہب بدلا مگر انہوں نے دوست نہیں بدلا ۔۔۔ ٹھیک ہوگیا مگر یہ کیا کہ اس سے متاثر ہوئے چلے جائیں۔۔۔سونگھیون کی بات جاری تھئ۔

    میں نے کہا ٹھیک ہےمیں نے دو جام بنائے پیے تیسرا جام اس نے بنا کر سامنے رکھا میں نے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا اس نے روک دیا مجھے یہ نہ پینا ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے پھر مجھے نہیں یاد میں نے کتنے جام چڑھالیے صبح آنکھ کھلی میری میں اسکے گھر اسکے بستر پر سویا پڑا تھا 

    اب یہ کیا بات ہوئی پیتا ہی بندہ بہکنے کے لیے ہے تم نے شرط الٹی لگالی تھی 

    ہایون کو اسکی منطق سمجھ نہ آئی

    شرط نہیں ۔۔۔ اس نے نفی میں سر ہلایا 

    جون جے شرط نہیں لگاتا کہتا ہے حرام ہے لگانا 

    منطق کیا ہے اس میں ۔۔۔ یون بن جھلایا

    سن بے کہتا ہے اسلام میں شراب پینا منع ہے اسلئے کہ انسان ہوش کھو دیتا اور ہوش کھونے سے کم جتنا پینا اسکے لیے ممکن بھی نہیں ہوتا ۔اگر سامنے میسر ہو شراب تو۔۔۔ چکھ لو تو ذائقہ منہ سے جاتا نہیں پھر ہاتھ رک پاتا نہیں سو نہ پینا بہتر۔۔۔

    بتاتے بتاتے اس نے ایک سانس میں گلاس ختم کرکے رکھ دیا

    مجھے دیکھو ۔۔ہایون نے اپنا گلاس خالی کیا

    میں نے پی لیا میں بہکا نہیں میں اور پی بھی نہیں رہا ۔۔۔منطق ابھی ہی غلط ثابت ہو گئی ۔وہ کہہ کر اسے جتاتے ہوئے انداز میں دیکھ رہا تھا

    جونگھیون ہنس دیا۔۔۔

    میں بھی اسے غلط ہی ثابت کرنا چاہتا ہوں تبھی تو ملٹری جوائن کر رہا۔۔۔۔ اسے کہتے کہتے خیال آیا تو رک گیا ۔۔۔پھر بات بدل دی

    تم لوگوں کی چھٹیاں چل رہی ہیں کیا ؟ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ گھر آکر سیدھالائونج میں صوفے پر آن گرا تھا۔ نیو ائیر نائٹ کی مے نوشی کا مکمل اثر ختم ہوا ہی تھا۔ اوراگلے ہی دن ان دوستوں نے پھر مزاق مزاق میں چڑھا لی۔ اسکا سر گھوم رہا تھا۔

    لائونج کا ٹی وی آن کرکے ریموٹ اس نے چھوڑ دیا تھا دھپ سے قالین پر گرا۔۔ اس نے صوفے کی پشت سے سر ٹکایا۔ 

    ہوش کھونا اتنا آسان بھئ نہیں ہوتا۔ آرام سے گھر پہنچ گیا ہوں۔ ہاں مگر۔۔۔ اسکی آنکھیں بند ہوئیں۔۔۔ جانے کتنا وقت گزرا

    کیسے ہو منے بھائی۔۔۔ 

    شن نونا خوش گوار انداز میں اسکے سر پر طبل بجاتی دھم سے اسکے ساتھ صوفے پر آبیٹھیں وہ ہڑبڑا کر آنکھیں کھول بیٹھا۔ 

    سو رہے تھے ۔۔۔وہ حیران ہوئیں 

    بس آنکھ لگ گئ۔۔۔ وہ کسمساتا انگڑائی لیتا اٹھ بیٹھا ۔۔۔اور آپ کب آئیں؟۔۔۔ 

    بس ابھی ابھی ۔۔۔انہوں نے بیچ کی میز پر ہایون  کے برابر ہی ٹانگیں پھیلا لیں ریموٹ نیچے قالین پر لڑھکا پڑا تھا اسے اٹھا کر انہوں نے فورا موسیقی کا چینل لگا لیا تھا شائنی  کی آواز جادو بکھیرنے لگی  وہ دفتر سے لوٹ کر کپڑے بدل چکی تھیں سکرٹ اور لیگنگ کی بجائے ڈھیلے سے پا جامے ٹی شرٹ میں ملبوس بالوں کو کیچر میں جکڑےوہ بھرے بھرے جسم چندی آنکھوں بےتحاشہ گوری خالص کوریائی نقوش کی حامل تیس سالہ کنواری مگر خود مختار  دوشیزہ تھیں ہایون کی واحد آٹھ سال بڑی بہن شن ۔۔۔ شکل میں ہایون بالکل ان جیسا نہیں  تھا۔۔۔۔۔۔

    آہبھوجی(والد) نہیں آئے ابھی تک واپس امریکہ سے ؟

     انہوں نے یونہی پوچھا تھا۔۔۔ ہایون بدمزا ہوا تھا۔۔ انکے ذکر پر۔۔۔

    آچکے ہوں گے مجھے کیا پتہ۔۔ 

    آہمی (امی) بھی ابھی تک گھر نہیں آئیں ۔۔۔ یہ بات وہ بتا رہی تھیں ہایون کو ان دونوں میں دلچسپی نہیں تھی سو کندھے جھٹکتا اندر جانے کو اٹھا۔۔۔

    انی نے ہاتھ پکڑ کر روکا

     میں نے چائنیز آرڈر کیا ہے سوچا تو یہی تھا سب خاندان مل کر کھائے مگر چلو ہم دو ہی سہی

    وہ بہت محبت سے دعوت دے رہی تھیں 

    میں چائنیز شوق سے نہیں کھاتا جانتی ہیں آپ۔ ویسے میں کھانا کھا کر آیا ہوں۔  آپ کھائیے باقی آہمی جی آپکا ساتھ دینے آچکی ہیں ۔۔۔

    گلاس ڈور سےریڈ لانگ سکرٹ اور وہائٹ بلاوز میں گہری تیز لال لپ اسٹک سجائے نک سک سے تیار اسکی اپنی عمر سے کہیں کم نظر آتی کامیاب سوشل ورکر اسکی ماں اندر داخل ہوتی دکھائی دے رہی تھی لمبی اونچی ہیل کی ٹک ٹک کو گنگشن کی آواز بھی دبا نہیں پائی تھی اس نے دھیرے سے ہاتھ چھڑایا

    میں تمہاری پسند کا بھی کچھ آرڈر کر دیتی ہوں رکو تو سہی 

    نونا کہہ تو رہی تھیں مگر ہایون کا جی مکدر ہو چکا تھا

    ہاییون شا۔۔ آدل ( بیٹا) ۔۔۔ سی یان نے اسکو عجلت میں لمبے ڈگ بھرتے جاتے دیکھ کر پیچھے سے آواز دی آج کئ روز کے بعد وہ شکل دیکھ رہی تھیں اسکی مگر وہ صاف نظر انداز کرتا گزر گیا وہ کندھے اچکا کر اندر لائونج میں آگیئیں 

    آنیانگ واسے اوآہموجئ۔  ۔ نونا نے اپنے مخصوص خوش گوار انداز میں ماں سے حال پوچھا 

    تم کب آئیں۔۔چین سے۔۔ 

    وہ پوچھ کر مڑنے کو تھیں۔۔۔ 

    دو دن ہو رہے ہیں۔۔ انہوں نے برا نا مانا۔۔ 

    اچھا۔۔ ہاں کل سیڑھیوں کے پاس نیا ڈریگن دیکھ کر اندازہ ہوا تھا مجھے۔ ۔۔۔وہ ہنسیں۔ 

    ایک۔گھر میں رہتے انکی ملاقات بس یوںہی کبھی آتے جاتے ہوجاتئ تھئ۔

    چلو تم آگئ ہوتو اس سے بات کرنا تمہارے آہبوجی امریکہ بھجوانا چاہ رہے ہیں اسے یہ جانے کو تیار نہیں میری تو دیکھ لو سنتا تک نہیں تم کہہ کر دیکھو۔  

    انہوں نے لگے ہاتھوں کام بتا دیا۔ نونا لمحہ بھر کو چپ سی ہوئیں۔ 

    آہموجی آج میری ترقی منظور ہوئی ہے سو میں نے چائنیز منگوایا ہے آپ نہا لیں تو اکٹھے ڈنر کرتے ہیں 

    انہوں نے جلدی سے بتایا کہیں وہ بھی نا چلتی بنیں 

    آو واقعی میری بیٹی ۔انھوں نے آگے بڑھ کر پیار سے گلے لگایا 

    ہمیشہ کامیاب رہو ۔۔۔ میں ضرور شامل ہوتی ڈنر میں مگر آج میرے ڈائیٹ پلان کا کافی بیڑا غرق ہوا ہے دو سالگرہ کی دعوتیں بھگت کر آرہی ہوں سو ڈنر کا ارادہ نہیں تم اپنی کامیابی کا جشن منائو مزے اڑائو ۔۔۔

    نونا جو ان کے محبت بھرے انداز سے متاثر سی ہوئیں ان کے ارمانوں پر اوس سی گر گئی۔۔ مایوسی سے انھیں جاتا دیکھ کر بڑبڑائیں 

    ہاں میں مزے اڑائوں مگر اکیلے اور یہ۔۔۔ہایون امریکہ کیوں نہیں جانا چاہتا۔۔  بڑبڑاتے ہوئے سوچا تھا انہوں نے۔۔ 

    انکا فون بج رہا تھا شائد انکا منگوایا کھانا گھر پہنچ چکا تھا 

    انہوں نے بے زاری سے فون اٹھایا۔

     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     ہایون کے امریکہ جانے سے انکار کی بس ایک ہی وجہ ہے مجھے ناکوں چنے چبوانا اور کیا ۔۔۔ لی بیون ہونگ غصے سے بھرے ہوئے تھے 

    میں چاہتا ہوں اعلی تعلیم کےلیے امریکہ جائے کاروبار کی سند لے کوئی ہنر سیکھے لی ایمپائر کے شایان شان کوئی تو کام کر لے مگر نہیں نہ کوئی مقصد ہے زندگی میں آگے بڑھنے کی دھن کیا کیا خواب نہ دیکھے تھے اسکے لئے اکلوتا بیٹا ہے اسکو کسی ایک کارخانے کا نظام سونپ دوں معاون بنائوں صدارت کے لیے منتخب کروائوں مگر صاحبزادے فرماتے ہیں مجھے دلچسپی نہیں کاروبار میں چلو ٹھیک ہے میں مانتا ہوں بیس اکیس سال کی عمرمیں بچے لاابالی ہوتے میں وقت دینے کو تیار ہوں مگر یہ لڑکا مجھے بہت نا امید کر رہا ہے میں آج مر جائوں تو ڈاریکٹرز منٹوں میں سب لی ایمپائر کے اثاثوں پر قبضہ کرکے اسے سڑک پر لے آئیں گے ۔۔۔

    وہ اپنی صدارتی کرسی پر براجمان گرج رہے تھے

    انکا وفادار سیکٹری ہاتھ باندھے سامنے کھڑا نظریں جھکائے خاموشی سے سن رہا تھا وہ بول بول کر لحظہ بھر تھمے تو اس نے انکو گلاس بھر کر پانی پیش کیا کف اڑاتے انہوں نے اس گلاس کو غنیمت جانا اور گھونٹ بھر لیا

    بیٹی ہے تو میرے ہی کاروباری حریف کی فنڈڈ این جی او میں  دو ٹکے کی نوکری کر رہی باپ اس ایمپائر کا صدر بنانا چاہتا اور وہ ہے کہ 

    وہ بولتے بولتے رک گئے انہیں یاد آیا بیٹی انکی اس ترجیح کا حصہ کبھی نہیں رہی تھی اسکو تو انہوں نے شائد خود ہی کھویا تھا اپنی ایم بی اے کی ڈگری لے کر وہ انکے پاس جاب کیلیئے ہی آئی تھی اور ان کے کارباری زہن نے اس کو خسارے کی سرمایہ کاری قرار دیا تھا 

    اسکی خوشی سے دمکتی شکل اور کچھ سال پرانا منظر نگاہوں کے سامنے روشن ہوگیا

    خیر

    انہوں نے سر جھٹکا

    شنوا گروپ کے ساتھ میٹنگ سے پہلے مجھے ایک بریفنگ چاہیے لی کیمیکلز کے فائدے اور نقصان کے حوالے سے۔۔۔

    وہ واقعی جھٹک چکے تھے ایک اچھے کاروباری آدمی کی طرح وہ غیر پیداواری سوچوں پر کبھی سرمایہ کاری نہیں کرتے تھے رہا سیکٹری سر اثبات میں ہلا کر انکے اگلے حکم کا منتظر تھا ایک اچھے سیکٹری کی طرح اس نے اپنی رائے محفوظ رکھی تھی وہ انکے ابرو کا اشارہ بھانپ لیتا تھا ابھی بھی اسے اندازہ تھا کہ بات بے شک اس سے کی جا رہی مگر اس سے بات نہیں کی جا رہی تھی یہ صرف خود کلامی تھی ۔۔۔۔

    سر ڈاریکٹر جان آپ سے ملنا چاہتے کل دوپہر کے وقت کی ملاقات طے کر دی جائے ؟

    وہ بورڈ میٹنگ میں مجھ سے کل مل چکا دوبارہ اتنی جلدی ملنے کی کیا وجہ؟

    وہ چونکے 

    شائد کو ئی خاندانی معاملہ زیر بحث لانا چاہتے

    سیکٹری کو اندازہ تھا نوعیت کا کاروباری معاملات تو سب طے پاچکے تھے دوسرا اس نے ان سے پوچھ بھی لیا تھا 

    ہے تو میرا چچازاد مگر ہے شیطان کا چیلا ضرور کوئی نئی سازش تیار کی ہوگی ۔۔۔انہوں نے اندازہ لگایا 

    انکی یہ خودکلامی بلند آواز میں نہیں تھی 

    چلو دیکھتے ہیں جان تم نیا کیا ڈنک تیار کر رہے ہو میرے لیے۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک آخری  بازی اس آخری چھٹی کے نام۔

    ہایون اوریون بن نے بلیئرڈ کی اسٹک ٹکرا کر چئیرز کیا۔۔

    وہ  اسنوکر کی بازی لگائے ہوئے تھے۔ دھڑا دھڑ گیندیں میز پر گھوم کر میز کی جیب میں جا گرتیں۔ یون بن کی شاٹس ہمیشہ کسی نئی ٹرک پر مشتمل ہوتئ تھیں۔اس وقت بھی اسکی ہاف والی گیندیں تھیں جو میز پر سے خالی ہو چکی تھیں۔ ہایون نے اسنوکر لگا کر دیا تھا۔ اسکی فل گیند کے بالکل برابر جوڑ کر ہاف پڑی تھی ۔۔ اسکی چیلنج دیتی نگاہوں کے جواب میں یون بن نے مسکراتی نگاہوں سے دیکھتے شاٹ لگائی سفید گیند سیدھی میز کے کنارے سے ٹکراکر اچھلی اور فل والی گیند کو پار کرکے ہاف سے ٹکرائی۔ باری تو ختم ہوگئ مگر اسنوکر بھئ ہٹ گیا اور پاکٹ کے سامنے یون بن کی گیند آجانے سے ہایون کیلئے شاٹ لینا دشوار ہوگیا۔ 

    ہایون غور سے میز دیکھ رہا تھا۔

    یون بن نے مکا سا بنا کر اسکے چھیڑا۔ 

    ہایون شا۔ فائٹنگ۔۔ 

    ہایون اسکے بچکانہ انداز پر مسکرایا۔ 

    وہ یقینا ہارنے لگا تھا۔ مگر وہ مسکرا کر ہار قبول کرنے والوں میں سے تھا۔۔

      گوارا ان سے کچھ فاصلے پر اکیلی بیٹھی بور ہو رہی تھی۔۔

    چندی آنکھوں لمبے سیدھے سیاہ بالوں والی روائتی کورین لڑکی۔انکی ہم جماعت  گھٹنوں تک آتی سرخ  اسکرٹ اور سرخ ہی بلائوز میں ملبوس سردی سے بچنے کو منک کوٹ پہن رکھا تھا۔ اور لیگنگ بھئ۔ لانگ شوز والے پائوں بے چینی سے جھلاتی انہیں گھور رہی تھئ مگردونوں بلا کے مگن تھے۔۔  اس نے دو ایک بار انکو بازی ختم کرنے کا کہا بھی مگر دونوں کان نہیں دھر رہے تھے کمیونٹی کلب تھا اسے اکیلا بیٹھے دیکھ کر دو نوجوان اسے گپ شپ اور رقص کیلئے پوچھ چکے تھے اس نے سہولت سے انکار کیا تھا مگر اب اسے سچ مچ غصہ آرہا تھا 

    یون بن اور وہ ہائی اسکول سے ساتھ تھے اکٹھے پڑھا تھا ان میں دوستی سے کچھ زیادہ تھا وہ اس بات کر چھپاتے نہیں تھے مگر یون بن میں یہ بری عادت تھی اسے کبھی کبھی جیسے بھول ہی جاتا تھا اتنا نظر انداز کر دیتا کہ اسے شک گزرتا کہ کہیں اسکی زندگی میں کسی اور حسینہ کاعمل دخل تو نہیں مگر یہ شک فی الحال شک ہی تھا

    ابھی بھی جلتی کلستی دونوں کو گھوررہی تھی کم سن ڈانس کرکے تھک ہار کر واپس ان لوگوں کے پاس چلا آیا 

    مشروب کا گلاس تھامے اس نے گوارا کو مشروب کی بے دلی سے چسکیاں لیتے دیکھا پھر اسکی نگاہوں کے مرکز کو 

    وہ ہایون کو کھا جانے والی نظروں سے گھو ر رہی تھی

    اس نے ہنس کر اس کے ہاتھ سے گلاس چھینا اور غٹا غٹ چڑھا گیا 

    گوارا نے خاصی نا پسندیدہ نظروں سے اسے گھورا 

    مگر بولی نہیں 

    اس نے اسکے گلاس پر لگے لپ اسٹک کے نشان پر انگلی پھیری پھر جتاتی نظروں سے دیکھ کر بولا

    ابھی بھی وقت ہے مجھ سے پٹ جائو کسی طور یون بن  سے کم نہیں اور کبھی اس طرح تمہیں اکیلا چھوڑنے والا بھی نہیں اسکی طرح۔۔۔

    گوارا  ہنسی

    ہاں ہینڈسم جبھی کنڈر گارٹن سے اب تک ایک گرل فرینڈ تک نہیں تمھاری۔۔۔ 

    یون بن  کی گنی ہیں کبھی تمھیں ملا کر کونسی باری بنتی تمہاری؟  کنڈرگارٹن سے اب تک۔۔ برا مانے بنا بولا

    یہ گوارا کی دکھتی رگ تھی سلگ کر جانے کو اٹھ کھڑی ہوئی تبھی ہنستے مسکراتے یون بن  اور ہایون چلے آئے 

    کدھر ؟ آئو پیتے ہیں ڈرنک آج میری طرف سے ۔۔۔ یون بن نے گرم جوشی سے اسکے کندھے پر ہاتھ پھیلا کر روکا اسکا موڈ خوشگوار تھا مگرگوارا کا خراب ہو چکا تھا اسکا ہاتھ جھٹکے سے پیچھے کرتی پئر پٹختی باہر نکلتی گئ۔۔۔ 

    اسے کیا ہو ا ۔۔۔ یون بن  خود پر لگنے والی فرد جرم سے بے خبر تھا حیران پریشان رہ گیا

    جناب یون بن شی جب آپ دوستوں کے ساتھ آتے تو گرل فرینڈ کو ساتھ نہیں لاتے اور اگر لے آتے تو اسے بور ہونے کیلیئے اکیلا چھوڑنا بد تہزیبی ہوتا ہے آہجوشی ( صاحب) آپکی مادام خفا ہو چکی ہیں منائیے ۔۔۔ انتہائی تادیبی نظروں سے دیکھتے ہوئے بہت شائستہ اور ادب آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آرام سے صوفے پر پھیلتے کم سن نے طنز داغا

    جون تائی کچھ سمجھا کچھ نہیں ہاں گوارا کے پیچھے جانا ضروری تھا وہ معزرت کرتا اس سمت لپکا ہایون نے اسے تقریبا بھاگتے دیکھا تو اسکی حالت پر ترس کھاتا  مسکرا کر کم سن کے سامنے والی نشست پر براجمان ہو گیا 

    ایک اور ترس کے لائق انسان اسکے سامنے تھا

    بے خیالی میں گوارا کا جھوٹا گلاس تھامے اسکی لپ اسٹک کے نشان پر انگلی پھیر رہا تھا

    یہ گوارا کا گلاس ہے گوارا نہیں رکھ دو میز پر ۔۔۔

    رومیو کی حالت نا گفتہ تھی مگر اس نے کھسیا کر میز پر گلاس رکھ دیا اور دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر انگلیاں پھنسا لیں ایک دوسرے میں جیسے خود سے مزید کسی بے اختیاری کے سر زد ہونے کا خوف لاحق ہو۔۔۔

    آہش۔۔۔ ہیون جونگنے سر جھٹکا 

    عشق میرے دوستوں کے ساتھ دشمنی پر اترا ہوا لگتا ہے سب دیوانے ہوئے جاتے ہیں بے چارے جنوبی کورییائی باشندے ۔۔۔ وہ ترس کھا رہا تھا پھر رکا جیسے کوئی خیال آیا ہو۔۔۔

    کہیں عشق کو شمالی کوریا تو معاونت فراہم نہیں کر رہا ؟ جا عشق جنوبی کوریا ئی جوانوں کو کسی کام کا نہ رہنے دے ۔۔۔۔ اسکی لن ترانی عروج پر تھی کم سن جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا اسے تپتے دیکھ کر ہیون جونگنے اپنی زبان کو بریک لگائی اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچ کر بٹھایا

    بیا نیئے۔۔۔ معاف کر دو۔۔۔ مذاق کر رہا تھا کو ابھی یہ خیال کم جونگ ان کو نہیں آیا ورنہ وہ  تھوڑی وہ نیوکلئر بنانے میں سب توانائیاں خرچ کرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکےلئے باز آنا مشکل تھا کم سن دوبارہ اٹھا اس بار پہلے سے زیادہ سخت گرفت سے روکا اور بٹھا دیا گیا

    کیا گرل فرینڈ کی طرح نخرے کر رہے ہو بیٹھ جائو۔۔۔

    میں اکیلے کلب نہیں آیا تھا سب چھوڑ گئے مجھے۔۔۔

    وہ خفا ہوا۔ 

    سونگھئون  کہاں ہے ؟آیا تو وہ بھی تھا۔۔۔

    کم سن حیران ہوا

     ہوگا کسی دوشیزہ کے ساتھ ۔۔۔ ہایون نے کان سے مکھی اڑائی

    کم سن نے اٹھ کر کلب پر۔طائرانہ نگاہ ڈالی۔ ڈانس فلور نیچے تھا اور وہاں رقص جاری تھا وہاں اگر جونگھیون تھا بھئ تو نظر نہ آتا لہزا اس نے اسی فلور پر نگاہ دوڑائئ۔ وہ دور ایک لڑکی کے ساتھ ہی کھڑا تھا۔ 

    سونگھیون  جون جے کی وجہ سے پریشان ہے شائد وہ دونوں ہمیشہ سے ایک دوسرے کے زیادہ قریب رہے ہیں ۔۔۔ ہایون  نے خیال ظاہر کیا کم سن نے  کندھے اچکا دیے

    پریشانی تووہ دیکھ ہی چکا تھا۔

    تو اکیلے لوگ ابھی بھی یہاں بیٹھے ہیں ۔۔۔ یون بن  اکیلا واپس آیا تھا آکے دھم سے ہایون کے برابر آگرا 

    گوارا کہاں ہے ؟

    کم سن نے فورا پوچھا

    یار خفا ہوکے گھر چلی گئی ہے اتنا منایا مانی نہیں۔ یون بن  کا انداز لا پروا تھا 

    اب کل اسے گھمائوں پھرائوں گا خریداری کروائوں گا مزاج ٹھیک ہو جائے گا ڈرامہ کوئین ہے ایکدم

    یار مشروب تو منگوائو وہ اسی لا پروا انداز میں کہہ کر اشارے سےبیرے کو بلا رہا تھا 

    ہایون  خا موشی سے گلاس پر نظر جمائے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔

    بھرا ہوا مشروب تھا اسکے ہاتھ میں۔ مگر اس نے گرفت چھوڑ دی۔۔ 

    تبھی ایک غیر ملکی نقوش کی حامل لڑکی ان کے پاس آرکی۔۔۔

    آپ انگریزی سمجھ سکتے ہیں ؟یون بن  سے مخاطب تھی وہ ۔۔۔

    جی تھوڑی بہت۔۔۔ یون بن کی بانچھیں چر گئیں 

    مجھے ڈرنک آرڈر کرنا مگر میری بات شائد بار ملازم کو سمجھ نہیں آرہی آپ میری مدد کر سکتے ہیں ہیں۔۔۔ بھورے بالوں درمیانے قد بڑی بڑی آنکھوں  کی وہ مکمل بلونڈ لڑکی تھی شا ئد نہیں یقینا امریکی

    ایک تو امریکیوں کو یہ کیوں لگتا ساری دنیا کو انگریزی آتی ہے ۔۔۔ کم سن نے بڑبڑا کر سر جھٹکا بیرا انکے آرڈر کیئے گئے مشروب لا کر رکھ رہا تھا مگر یون بن  جھٹ سے مدد کو تیار اٹھ کھڑا ہوا لڑکی دلفریب مسکراہٹ اچھالتی اسکے ساتھ بڑھ گئی

    ہایون  ہنس دیا

    تو غلط کیا ہے اس میں یہاں دیکھ لو سیول کے اس خالص سیول کے باشندوں سے بھرے اس کلب میں بھی انگریزی کی شد بد رکھنے والے کم از کم تین لوگ مو جود ہی ہیں ۔۔۔

    اس نے گلاس اٹھا کر پی لیا تھا۔ پھر چونکا بھئ۔۔ 

    ہماری مجبوری ہم یونیورسٹی اسٹوڈنٹ ہیں ہم پر مسلط ہے انگریزی اگر ہم نے کوئی اسپیشلائزیشن کرنے باہر جانا تو ہمیں سیکھنا پڑے گئ انگریزی  ۔۔۔ کم سن کی اپنی رائے تھی 

    جو بھی وجہ سہی۔۔۔ ہایون  نے بھی کندھے اچکا دیئے۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حسب معمول وہ چاروں جماعت میں داخل ہوتے ہی سب سے پیچھے جا کر بیٹھے تھے۔ کم سن ، ہایون، یون بن اور گوارا۔

    ماس کمینیکشن کے اوسط درجے کے طلباء تو نہیں تھے مگرپھر بھئ نمایاں ہونے سے جان جاتی تھی۔ سر ڈیوڈ کا لیکچر شروع ہو چکا تھا ان چاروں نے جماعت کو ڈسٹرب نہیں کیا۔ سر ڈیوڈ بھی ایک نظر دیکھ کر دوبارہ لیکچر میں مگن ہوگئے تھے۔

    نئے تعلیمئ سمسٹر کا آغاز تھا۔ سب طلباء خاموشی سے ہال نما کمرے میں بیٹھے سر کا لیکچر سن رہے تھے۔۔۔۔ 

    رائے عامہ کا شعبہ دنیا کا حساس ترین شعبہ ہوتا ہے

    حکومت بہت حد تک اس پر اثر انداز ہو سکتی ہے مگر جوں جوں ذرائع ابلاغ ترقی کر رہے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کچھ معاملا ت حکومت کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں ہم یہاں بیٹھ کر امریکہ کے حالات و واقعات سے باخبر رہتے اسی طرح ہمارے معاملات سیاسی و سماجی تبدیلیاں امریکیوں سے چھپی نہیں ہیں ۔۔۔ہماری رائے بھی ہے اور ہم اپنی رائے کا اظہار ڈھکے چھپے انداز میں کریں یا کھلم کھلا ہم پر منحصر ہے ہم تو چلیں بڑے ہیں پڑھے لکھے ہیں مگر اب بچے بھی اپنے لیے کب کہاں کتنا بولنا ہے جانتے ہیں جب میں ہائی اسکول کا طالب علم تھا تب میری زندگی کی سب سے بڑی مشکل اپنی سائیکل کی دیکھ بھال ہوا کرتی تھی۔۔

    تمام طلبا انکے انداز پر مسکرا دیے۔۔۔ 

    ہاں یقیں کیجیئے کسی جھگڑے میں یونہی کسی بچکانہ لڑائی میں یا کبھی کسی معمولی حادثے میں میری سائیکل کو خراش بھی آتی میں پہروں دکھی رہتا تھا امریکہ اور سوویت یونین آمنے سامنے ہیں اور جرمن بچہ اپنے گھر کے اسٹور روم میں گھسا اپنی سائکل پر جھنڈیاں لگانے میں مصروف ہے اور اب ایسا نہیں ملکی و غیر ملکی معاملات پر 

     اسکول کا طالب علم بھی اپنی رائے رکھتا ہے اسکا بھی اس دنیا کے سیاسی و خانگی یا ماحولیاتی تبدیلیو ں پر نہ صرف نظر ہے بلکہ اسکی اچھی یا بری رائے ہے ۔۔۔

    پرفیسر ڈیوڈولف اپنا لیکچر دے رہے تھے بنیادی طور پر وہ جرمن تھے انکا پورا لیکچر مکمل انگریزی میں ہوتا تھا ان کے سو کے قریب طلبا میں سے غیر ملکی بمشکل پانچ سات ہونگے باقی سب کوریائی تھے جو اگر انگریزی کی شدبد رکھتے بھی تھے تو اتنی نہیں کہ انکی مکمل بات سمجھ سکیں یہ بات انکے چہرے سے ظاہر تھی پوری جماعت جمائی روک رہی تھی انکی زیرک نگاہ سے یہ چھپا نہ رہ سکا بے ساختہ مسکرا دیے

    اب یہ دیکھئے کہ میں جرمن باشندہ کوریا میں کھڑا انگریزی میں لیکچر دے رہا جو سب سے غور سے ایک ہندوستانی طالب علم سن رہا ہے جس کی مادری زبان شا ئد ہندی ہے ۔۔۔

    انہوں نے سب سے آگے بیٹھے سر پر پگڑی باندھے  اس طالب علم کو شفقت سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔ 

    واقعی پریم سنگھ پوری توجہ سے سن رہا تھا انکی بات پر خفیف ہو کر مسکرا دیا 

    باقی جماعت بھی دبی دبی ہنسی سے اسے دیکھنے لگی تھی۔۔۔

    نہیں سر میری مادری زبان پنجابی ہے ۔۔۔اس نے کھڑا ہو کر انگریزئ میں تصحیح کی ۔۔۔

    سر نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا اور اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا۔۔۔

    میں چاہتا ہوں کہ آپ سب مجھے کچھ نیا بتائیں آپ سب کا اگلا اسئانمنٹ ہے کسی دور افتادہ علاقے شہر یا گائوں جس کا آپ کے اندازے کے مطابق مجھے علم نہ ہو اس پر رپورٹ لکھ کر مجھے اگلے ہفتے جمع کرائیں۔۔۔

    ان کے اس کام پر سب میں کھلبلی مچی تھی 

    سر ایسا کیسے ممکن ہے ابھی تو آپ نے کہا دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے اور آپ تو ویسے ہی کتنے ممالک گھوم چکے۔۔۔ ہایون کی زبان میں کھجلی ہوئی

    تمھارا کہنے کا مطلب دنیا بس اتنی ہی چھوٹی سی ہے اور ایک چھپن سالہ بوڑھے جس کی یادداشت جواب دے رہی ہے اسکو گوگل استعمال کرکے بھی متاثر نہیں کرسکتے ہو۔۔ پرفیسر صاحب نے کان سے پکڑا تھا اسے جیسے۔۔۔

    بات میں دم تھا ہیون کھسیا گیا

    اگر اتنا مشکل لگ رہا تو پانچ پانچ لوگ گروپ اسئنمنٹ بنا لو۔۔۔ وہ آج بڑے موڈ میں تھے۔۔۔

    یہ خیال سب کو پسند آیا پوری جماعت کھسر پھسر میں لگ گئ۔۔۔

    ہاں ایک بات ۔۔۔ انھیں جاتے جاتے کوئی خیال آیا 

    کوریا کم میونگ یونیورسٹی نے ایک نئےایشیائی ملک کی یونیورسٹی سے ایکسچینج پروگرام کی داغ بیل رکھی ہے۔۔اسکے عالمی تعلقات کے شعبے کو مزید بڑھانے اور نت نئی تہزیبوں سے روابط بڑھانے کے لئے عالمی تعلقات کے دس طلبا کو اس ملک میں خاص وظیفے پر بھیجنے کے لیئے درخواستیں طلب کئ ہیں آپ میں سے جو بچے جانا چاہیں وہ کم ازکم اپنے دو سمسٹر  وہاں مکمل کر سکیں گے رعائتی فیس کے ساتھ سو مجھے پندرہ مارچ تک آپ ریفرینس اور ریکومنڈیشن کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں ۔۔۔ تر جیح تو میرٹ پر ہی دی جائے گی مگر میں آپکی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کروں گا۔۔۔

    کون سا ملک ہے سر ۔۔۔ بہت سے طلبا اس اسکالر شپ میں دلچسپی لیتے نظر آئے ہایون کو بالکل دلچسپی نہیں تھی اسکے آہبھوجی امریکہ اسے بھجوانے کو ایڑھی چوٹی کا زور لگا چکے تھے وہ نہیں گیا اب اس ایشیائی ملک جانے کو کیا تیا ر ہونا تھا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    سجدے میں جا کر جیسے وہ سر اٹھانا ہی بھول گیا

    یوں لگ رہا تھا جیسے آج وہ پگھل ہی جائے گا اسکی آنکھوں سے آنسو لگاتار بہہ رہے تھے اسے پتہ بھی نہ چلا تھا وہ زور زور سے سسکیاں لینے لگا تھا جماعت کب کی ختم ہوگئی تھی امام صاحب اسے دیکھتے رہے رشک سے دیکھتے دیکھتے انہیں لگا تھا شائد وہ ہوش کھو دے گا انہیں سمجھ نہ آیا تو قریب آکر دھیرے کندھا ہلا کر آواز دی

    علی ۔۔۔

    علی جھرجھری لے کر سیدھا ہوا اسکے گالوں پر سرخی تھی اسکی پیشانی تر تھی اسکی سانسیں بے ترتیب تھیں جیسے کسی ریس میں دوڑ لگا کر سب کو ہرا کر بے دم کھلاڑی ہانپنے لگے اس نےنظریں جھکا کر آنکھیں پونچھ ڈالیں

    محمد ہادی اسے شفقت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے آگے بڑھ کر انہوں نے سہارا دے کر اسے اٹھایا

    میں خود کو معاف نہیں کر پا رہا ہوں آہجوشی

    بےبسی سے اٹھتے ہوئے اس کے منہ سے نکلا

    محمد ہادی قصدا خاموش رہے اسے لیکر وہ مسجد سے باہر کھلی فضا ء میں لے آئے 

    انکا گھر یہاں سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھا مگر انکا ارادہ تھوڑی دیر چہل قدمی کرنے کا تھا

    علی انکو اپنے بچوں کی طرح عزیز تھا وہ بنیادی طور پر کوریا سے تھے۔ پندرہ سال قبل اپنا مذہب بدل کر اسلام قبول کیا اور ایک مراکش خاتون سے شادی کرکے مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔  کوریا کے دانش کدہ میں میں کیمیاء کے استاد۔انکی دو بیٹیاں تھیں۔ علی سے انکی ملاقات اسی مسجد میں ہوئی تھی وہ پچھلے سات سال سے یہاں امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے علی سے انکو انسیت تھی اسکا مزہب کی جانب رجحان اوراسکے اسی طرح طویل سجدوں سے دل کھنچا تھا انکا

      سئول کی ٹھنڈی شام  خنک ہوائیں شائد بارش کی آمد کی پیشگی اطلاع کے طور پر چل رہی تھیں کھلی فضاء نے علی کے منتشر اور بےچین اعصاب کو تھوڑا ہی سہی مگر سکون پہنچایا تھا 

    تم خود کو قصوروار مانتے رہو یہ اپنے آپ کو بری الزمہ قرار دینے سے بہتر ہوتاہے۔نفس کیلئے۔۔۔۔ مگر تمہارا قصور تھا کیا یہ طے ضرور کر لو۔۔۔

    ہادی کی بات پر اس نے چونک کر انہیں دیکھا وہ انکو اپنی زندگی کے اس بڑے سانحے سے آگاہ کر چکا تھا تب وہ خاموش رہے تھے ہر ملنے والے اس کے چاہنے والے یا خیر خواہ اسکے نفسیات کے معالج کے برعکس انہوں نے یہ جملے کہے تھے سب اسے اتفاقی حادثہ قرار دے کر اسے بری الزمہ قرار دے دیتے مگر یقینا انکے پاس کچھ الگ کہنے کوکچھ تھا

    اس کی اچنبھے سے تکتی نگاہیں ان کے چہرے پر گڑی تھیں 

    وہ مسکرائے 

    تم مدہوش ہوئے کیوں کہ تم پیئے ہوئے تھے تم پیتے تھے کیوں کہ تمھہیں اندازہ نہیں تھا کہ پینا تمہیں بھاری پڑ سکتا۔۔۔

    یہان تک تمہاری کوئی غلطی نہیں ۔۔۔

    اگر تم مسلمان پہلے سے ہوتے تو ضرور میں مان لیتا تمہاری غلطی ہے۔۔۔

    یہ وہ بات تھی جس پر اس نے خود کو سب سے  پہلے قصوروار ٹھہرایا تھا وہ حیران ہوا

    وہ پچھتایا اتنا پچھتایا کہ اسے پینے سے نفرت ہوگئ وہ لڑتا رہا خود سے وہ پیتا کیوں تھا اسکو روکا کیوں نہیں گیا۔۔۔۔ 

    اسے مدد کیلئے آئے اس رضاکار کے جملے نہیں بھولتے تھے جس نے تاسف سے اسکو بیوی سے لپٹ کر روتے دیکھ کر کہاتھا 

    جبھی میرے دین نے شراب کو حرام کہا یہ ام الخبائث ہے ہمیشہ روگ دیتی ہے ۔۔۔

    اور اسے روگ ہی لگ گیا تھا 

    تم اپنی بیوی کے ساتھ تھے اکیلے تھے ساحل کنارے تھے کیوں کہ تمہیں اپنے آپ پر مکمل بھروسہ تھا کہ تم اس پر کوئی آنچ نہیں آنے دوگے یہ تمہاری غلطی تھی ۔۔۔ 

    یہ امام صاحب کیا کہہ رہے تھے ؟

    علی کی آنکھوں میں شدید حیرت تھئ۔

    تم نے یہ سوچا بھی کیسے کہ تم اپنی بیوی کو ہر مشکل پریشانی سے بچا لوگے۔ تم صرف بچانے کی کوشش کر سکتے ہو علی۔۔ خود پر بے جا بھروسہ تمہاری غلطی تھئ۔ 

    تم تو ایک معمولی سے انسان ہو علی۔ کسی کی حفاظت کے ضامن کیسے ہو سکتے ہو جبکہ آفات ہمیشہ ناگہانی ہوتی ہیں۔۔ ؟۔۔۔

    وہ جو کہہ رہے تھے اگر کوئی محض سال پیشتر اسے کہتا تو شائد اسکا ردعمل کچھ اور ہوتا مگر اس وقت وہ اپنی کم مائیگی کو محسوس کر رہا تھا۔ گہری سانس بھرتا اثبات میں سر ہلانے لگا۔۔

     واقعی وہ تو بس ایک معمولی سا انسان ہے۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آہنیانگ واسے او

    نسبتا تھوڑا سا روائتی آگے جھک کر انہوں نے خوش آمدید کیا ڈائریکٹر جان نے فہمائشی مسکراہٹ چہرے پر سجا رکھی تھی لی  ان کا ہر انداز پہچانتے تھے خوب سمجھ رہے تھے آج یقینا کوئی بڑی شرط منوانے کا ارادہ ہے 

    وہ اس وقت ایک اونچے درجے کے پانچ ستارہ ہوٹل میں موجود تھے ان دونوں کے ذاتی سیکٹری ان دونوں کے پیچھے مئودب کھڑے تھے یہ ایک روائتی کوریائی کیوزین تھی زمیں سے تھوڑی ہی اونچی میز جس کے سامنے رکھی نرم گدی پر وہ روئتی انداز سے براجمان تھے۔۔۔

    ان کے منگوائے گئے آرڈر میں فی الحال کچھ وقت تھا 

    ڈاریکٹر جان کچھ تھوڑا سا جھکے جیسے کچھ کہنے ہی لگے ہیں پھر رکے اپنے سیکٹری کو اشارہ کیا اس نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا اور الٹے قدموں پیچھے ہوتا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا 

    مسٹر لی نے تعجب سے دیکھا 

    میں ہمیشہ سیدھی بات کرتا ہوں لی۔۔۔ سو آج بھی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنا اور تمھارا فائدہ گنوائے بغیر کچھ کہنا چاہتا ہوں یہ اندازہ میں تم پر چھوڑتا ہوں سو آج میں تمہیں ایک پروپوزل دینے آیا ہوں ۔۔۔

    مسٹر لی کی شفاف پیشانی شکنوں سے بھر گئ

    اپنا ہاتھ اٹھا کر انہوں نے مزید کچھ کہنے سے ڈائرکٹر جان کو روکا اپنے پیچھے کھڑے سیکٹری کو بھی باہر جانے کا اشارہ کر ڈالا 

    یہ محض خیر سگالی کا انداز تھا ورنہ دونوں کے سیکٹری بھی یہ بات جانتے تھے کہ ان دونوں کے بیچ ہو نے والی گفتگو پر ان دونوں سے ہی مشورہ لیا جائے گا۔۔۔

    #۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسے تیار ہو کر تیزی سے باہر نکلتے دیکھ کر گنگشن نے آواز دے ڈالی تھی 

    وہ اور آہمی جی لونگ روم میں بیٹھی چائے پی رہی تھی وہ قصدا دونوں پر نگاہ ڈالے بنا گزر جانا چاہتا تھا مگر نونا وہ گہری سانس لے کر رک گیا مگر پلٹ کر بھی نہ دیکھا 

    مجھے سونا تک ڈراپ کر دو میری گاڑی سروس کیلئے گئ ہوئی ہے۔۔۔ 

    نہ اثبات نہ انکار وہ بس کھڑا تھا

    تم میری گاڑی لے جائو میرا شام تک کوئی پروگرام نہیں ہے ۔۔۔

    اسکا بے رخی سے بھرپور انداز آہمی کو ناگوار گزرا تھا ۔۔۔ ہایون تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا

    انی نے باقی ماندہ چائے ایک سانس مین حلق سے اتاری اور اپنا بیگ اٹھا کر لپکیں 

    چابی تو لے جائو۔۔۔ آہموجی نے پکار کر کہا مگر نونا بہت جلدی میں تھیں تقریبا بھاگ کر باہر آئیں حسب توقع ہایون گاڑی میں بیٹھا انکا انتظار کر رہا تھا

    انہوں پیار بھری نظروں سے اپنے بھائی کو دیکھا تھا

    ابو آہمی کے نزدیک لاپروا کھلنڈرا تھوڑا سا بدتمیز نظر آنے والا انکا بھائی اپنی نونا (بہن) پر جان دیتا تھا نا ممکن تھا کہ وہ انکو ٹال کر چلا جاتا

    وہ مسکرا کر اگلی نشست پر آ بیٹھیں

    اس نے بنا کچھ کہے گاڑی اسٹارٹ کر دی

    میری ترقی کی دعوت کب لے رہے ہو ؟ہایونا

    وہ خوشگوار انداز میں مخاطب تھیں 

    جب آپ واقعی ترقی کر لیں گی۔۔۔ ہیون جونگکا انداز جتاتا ہوا تھا نونا  چپ رہ گئیں اسکا اشارہ کس جانب تھا انہیں اندازہ تھا

    ہیایون نے انکا پھیکا پڑتا چہرہ دیکھا تو اپنے کہے پر افسوس بھی ہوا۔۔۔ 

    مجھےہماری فوڈ چین کے سوا کہیں پر بھی ٹریٹ چاہئیے ۔۔ وہ بات بدل گیا

    میرا ارادہ تمہیں سی فوڈ کھلانے کا ہے۔۔

    نونا  نے بھی موڈ ٹھیک کر لیا تھا اپنا

    چائینیز کھلائیں گی سی فوڈ بھی مگر وہ نہیں جسکی فرمائش کروں۔۔۔ مجھے بیف کھانا

    وہ مصنوعی خفگی سے کہہ رہا تھا

    تم مجھے ڈیٹ پر لے کر جانے کا وعدہ کرو تو میں تمہیں تمہاری پسند کی ٹریٹ دونگی۔۔ وہ بھی اسکی نونا تھیں فورا شرط رکھ دی سامنے

    نونا  ویسے اور کچھ وراثت میں آہبوجی سے لیا ہو نہ لیا ہو کاروباری زہنیت لی ہے آپ نے۔۔۔ اسکا انداز ہلکا پھلکا تھا 

    نونا ہنس دیں 

    ان کیلیئے بھائی کی توجہ بہت تھی پھر وہ انہیں کالی چڑیل بھی کہہ دے

    سپا کے سامنے گاڑی رک چکی تھی بس اتنا سا سفر 

    وہ خدا حافظ کہہ کر اتر گئیں پیچھے سے ہایون نے پکارا

    نونا۔۔ 

    وہ چونک کر مڑیں

    نیکسٹ ویک اینڈ پر میں فارغ ہوں  ٹریٹ لے سکتا ہوں اور ہاں 

    وہ رکا

    واپسی پر گاڑی منگوا لیجئے گا جب ہم آرہے تھے تو آپکی گاڑی واپس آ چکی تھی۔۔۔ 

    نونا کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ در آئی ہایون کو بھی بہن کا چہرہ کھلتے دیکھ کر اندر سے بہت اطمینان محسوس ہوا تھا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کم سن یون بن اور ہایو ن تینوں اطمینان سے تھے ان کے پاس گورا تھی ابھی بھی کیمپس میں بیٹھے ڈیل  اور کولڈ ڈرنک اڑا رہے تھے گوارا پیر پٹختی آئی

    تم تینوں کے ساتھ رہنا میری سب سے بڑی غلطی ہے۔۔۔ اسکا چہرہ لال بھبھوکا ہو رہا تھا

     یون بن  نے دلچسپی سے اسکا گلابی چہرہ دیکھا 

    کیا ہوا۔۔۔ 

    ہایون کو اچھو لگا تھا اچھا بھلا سکون سے بیٹھا کولڈڈرنک کا بڑا سا گھونٹ بھرا تھا ایکدم سے پیچھے سے آکر حلق کے بل چلا اٹھی اسکا ہاتھ ڈگمگا گیا آدھی کولڈ ڈرنک سانس کی نالی میں آدھی اسکی شرٹ پر آئی تھی  زور کا پھندا لگا تھا کھانس کھانس کر حشر ہو گیا کم سن جو اسکے ساتھ ہی بیٹھا تھا اسکی پیٹھ سہلانے لگا گوارا نے زرہ بھر اثر نہ لیا پرانے انداز میں شروع ہوگئی

    “پورے پراجیکٹ کی زمہ داری مجھ پر سارا دن انٹرنیٹ پر معلومات اکٹھی کرتی رہی ہوں تو شام اسکی پریزنٹیشن بناتے پورے پانچ دن لگے مجھے اور تم تینوں مدد کرنا تو دور کم ازکم ایک بار پریزنٹیشن دیکھ لو اسکے لیئے بھی بلا بلا کے تھک گئی مطلب میں صاف صاف یہ سمجھوں کہ اس اسائنمنٹ میں بھی ہم سب سے آخری نمبر پر ہونگے۔۔۔کیونکہ سر دو بار مجھے ٹوک چکے کہ آپ کے گروپ میں کوئی اور کبھی پریزنٹیشن کیوں تیار نہیں کرتا اب انہیں بتائوں کوئی اور پراجیکٹ کیلیئے معلومات تک فراہم کرنے کا روادار نہیں ہے سب کچھ میں ہی کرتی ۔۔۔ “

    ہاں تو ہم سب فیمنسٹ ہیں لڑکیوں کی آزادی و خودمختاری کے حامی ہم اپنے سے بھی آگے رکھتے تمہیں ۔۔۔ یون بن کی ڈھٹائی عروج پر تھی مزے سے بچی ہوئی کولڈڈرنک پیش کر رہا تھا اسے

    فیمنسٹ مائی فٹ 

    دانت کچکچا کر اس نے اپنے بیگ میں ہاتھ ڈالا ایک رایٹنگ پیڈ اور یو ایس بی نکال کر کم سن کا ہاتھ کھینچ کر اسے تھمایا اپنی مخروطی انگلی سے انہیں دھمکی آمیز اشارہ کرکے بولی

    یہ رہا مواد جو میں نے اکٹھا کر دیا ہے کب کہاں کیسے کس نے پریزنٹیشن بنانی کس نے دینی تم تینوں مل کر فیصلہ کر لو ۔۔۔

    اسکی دھمکی سے تینوں کے ہاتھوں سے طوطے اڑ گئے 

    سنو گوارا یار غصہ کیوں کر رہی ہو بات تو سنو ۔۔۔ تینوں الرٹ ہو گئے تھے گوارا رعائت دینے کے موڈ میں نہیں تھی کم سن رائٹنگ پیڈ الٹ پلٹ رہا تھا ریفرنس کے ساتھ رائے بھی تھی کافی کچھ تھا بس اسے ترتیب دینا تھا مگر یہ کام بس گوارا ہی کر سکتی تھی کیونکہ کیا کہاں لکھا اسکی لکھائی ناقابل فہم تھی 

    گوارا یہ تو کچھ سمجھ نہیں آریا ۔۔کم سن نے دہائی دی

    ملک کا نام ہے ۔نیپال ۔۔ شہر ہے کھٹمنڈو۔ مجھے یقین ہے سر کو کم از کم اسکا نام نہیں پتہ ہوگا۔ ۔۔۔۔۔ باقی میرا مسلئہ نہیں ۔۔۔ وہ کہہ کر مڑگی دو قدم ہی چلی ہوگی واپس مڑنا پڑا یون بن صدمے سے کم سن پر جھکا ہوا اسکی لکھائی پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا ایک ہاتھ کم سن کے کندھے پر تھا دوسرے میں کولڈ ڈرنک کا کین تھا اسکے ہاتھ سے کین چھینا پھر تیزی سے قدم اٹھاتی آگے بڑھ گئی یون بن  نے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا پھر ہایون کی گدی پر زوردار چپت جما دی 

    یہ کس لیئے ابھی ہی کھانسی رکی تھی ۔۔۔۔بلبلا کر کر گھورا تھا اس نے

    میری گرل فرینڈ پر اکتفا کرکے بیٹھے ہوئے ہو اپنی بھی کوئی بنائی ہوتی تو آج یہ نہ ہوتا ۔۔۔

    ویسے آج کوئی گرل فرینڈ نہ ہونے کا مجھے بھی شدت سے احساس ہو رہا ہے ۔۔۔کم سن متفق تھا

    کیا بڑا مسلئہ ہے ہم بنا لیں گے سب کام کہہ تو رہی ہے کر چکی ہے گوارا ۔۔۔ ہیون نے منہ بنا کر کہا کم سن کے ہاتھ سے لے کر رائٹنگ پیڈ کے صفحے پلٹے 

    یار دو دن ہیں ابھی کوئی گرل فرینڈ بن مل سکتی ہے اتنے کم وقت میں۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    #

    وہ ایک اور خوشگوار دن تھا چمکیلی دھوپ سیول پر چھائی ہوئی تھی پچھلے کچھ دنوں کی نسبت اب کافی گرم موسم ہو چکا تھا سو سنسانی پھیلی تھی  پرفیسرڈیوڈ   کی کلاس میں موسم کافی گرم تھا 

    مجھے حیرت ہے آب سب پر کہ اگر آپ کو بین الاقوامی معاملات میں دلچسپی نہیں تھی تو آخر اس مضمون کا انتخاب کیوں کیا ۔۔۔ تقریبا ساٹھ کے قریب طلبا  اٹھارہ کے قریب اسائنمنٹ گروپ چھے سے آٹھ طلبا مل کر کوئی ایک انوکھا موضوعاتی مواد جمع نہ کر سکے آپ لوگوں نے وکی پیڈیا کا اہم ڈھونڈے جانے والے مواد کو اکٹھا کیا آپ لوگوں نے جو اٹھارہ خاکے جمع کروائے میں نے دو دن میں پڑھ لیے پہلی سطر سے مضمون کے چربہ اور نقل ہونے کو بھانپ لیا میں نے ۔۔تین گروپ نے تو شمالی کوریا کو ہی منتخب کیا اور سوائے چند سنی سنائی باتوں کے مجھے ان میں بھی کچھ متاثر کن نہ لگا فلاں شہر اتنا رقبہ اتنی تعداد میں افراد یہ زبان ۔۔۔ ہائی اسکول کے بچے کو بھی شمالی کوریا کے متعلق اتنی معلومات ہونگی ہی۔۔۔ 

    بہر حال کل پانچ اسائنمنٹ مجھے پسند آئے

    مجھے انکی پریزنٹیشن دیکھنی ہے ہم ایک دن میں دو کم ازکم دیکھیں گے اور ان پانچ خاکوں کے علاوہ باقی سب تسلی رکھیں آپ سب کو میں پاس نہیں کرنے والا اس اسائنمنٹ میں۔۔۔۔ 

    انکا انداز دو ٹوک تھا۔۔کلاس میں بھنبھناہٹیں سی ہونے لگیں۔ 

    آخری رو میں بیٹھے ان چاروں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر کچھوے کی طرح گردن لمبی کر لی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نونا ۔ ہنسے جا رہی تھیں 

    پھر ۔۔۔ بمشکل ہنسی روک کر پوچھا۔۔ 

    پھر۔۔۔ کیا ہیون جونگنے منہ بنایا

    سر نے نام بھی سنا تھا اور وہ نیپال کی اس رسم کماری کے بارے میں بھی جانتے تھے۔ 

    نونا ہنسیں۔۔ 

    میں نے بنائی ہے ساری پریزنٹیشن کافی دلچسپ ہے ۔۔۔

    آپ کو بھی دکھائوں گا بس سر کو پسند آجائے شکر ہے انہوں نے جو پانچ خاکے منتخب کیئے ان میں ہمارا خاکہ شامل تھا۔۔۔

    وہ اس وقت کنگنم اسکوائر میں مخصوص رائس ڈرنک پیتے ہوئے ٹہل رہے تھے نونا کا ارادہ اسے ٹریٹ دینے کا تھا مگر کھائیں کیا اسکا فیصلہ کرنا دشوار تھا یہ ایک طرح کی فوڈ سٹریٹ تھی بھانت بھانے کے پکوان کے ٹھیلے خوشبو اڑا رہے تھے بہت سے دکاندار اپنے کھانے مفت میں چکھا بھی رہے تھے ان دونوں کا ارادہ مگر کہیں سکون سے بیٹھ کر کھانے کا تھا اور بھوک لگانے کو ٹہل بھی رہے تھے

    آہ طلبا کی زندگی بھی کیا خوبصورت زندگی ہوتی مجھے سچ میں اپنا بےفکری سے گزرا یہ دور بہت یاد آتا بعد میں پریکٹیکل لائف بس کام کام یا شادی شدہ لائف یعنی مزید زمہ داریاں۔۔ انی رشک سے کہہ رہی تھیں 

    تبھی آپ دوبارہ اس زمہ داری میں پڑنے سے گریز کر رہی ہیں ۔۔۔ ہیون جونگنے جو سوچا صاف کہہ دیا

    نونا  کے چہرے پر سایہ لہرایا پھر دوبارہ خود کو سمیٹ کر تازہ دم ہو کر بولیں

    کہہ سکتے ہیں ۔۔۔ میں بھی عام سی ہی انسان ہوں۔۔۔

    آنیا ( نہیں)  میں اپنی جس نونا  کو جانتا ہوں وہ عام سی نہیں ہے ان کے اپنے مستقبل اپنے کام کیلئے بہت سارے پلان تھے وہ ہر دم خوش مطمئن رہتی تھیں 

    وہ اور بھی کہہ رہا تھا انی نے بات کاٹ دی

    وہ تو میں اب بھی ہوں دکھائی نہیں دیتی ۔۔۔ 

    کریم کلر کی لانگ سکرٹ اور ہلکے گلابی ٹاپ میں ملبوس ہمرنگ لپ اسٹک مسکراتے لبوں پر سجائے باب کٹ بالوں گوری رنگت والی انی مکمل میچور کوریائی لڑکی لگ رہی تھیں جو اپنا خیال خود رکھ سکتی تھی 

    بس دکھائی دیتی ہیں اب آپ ۔۔۔ ہیون بات کاٹے جانے پر منہ بنا کر کہہ رہا تھا۔۔۔ انی ہنس دیں

    اب میں بیس اکیس سال والی انی تو نہیں رہی نا بڑی ہو گئی ہوں ۔۔۔ تم ہو اب بیس  اکیس سال کے۔۔

    کوئی گرل فرینڈ تو بنائو یا بنا لی ہے مجھے خبر نہیں۔۔۔

    مزے سے بات پلٹ گئی تھیں وہ

    کوئی نہیں بنائی ۔۔۔ اس نے سر جھٹکا 

    کیوں منے ۔۔۔ وہ آنکھیں پٹپٹا کر مصنوعی حیران ہوئیں

    بس کوئی دل میں کھبی نہیں ۔۔۔ ہیون کا انداز لاپروا تھا اسکا ڈسپوز ایبل گلاس خالی ہو گیا تھا اس نے یونہی ایک جانب اچھا ل دیا۔۔۔

    کیسی لڑکی پسند تمہیں ؟ 

    مجھے۔۔۔ وہ سوچ میں پڑا

    نخریلی لڑکیاں نہیں پسند۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اف میں تھک گئی بس اب اور نہیں چل سکتی۔۔۔

    اسکی سانس پھول چکی تھی ہانپتے ہوئے وہ وہیں کھڑی ہو گئ واکنگ ٹریک پر اسکے ساتھ جاگنگ کرتا صارم  جو اپنی رفتار میں اس سے تھوڑا آگے نکل گیا تھا اسکو اپنے ساتھ محسوس نہ کرکے مڑا تو آدھی جھکی گھٹنوں پر ہاتھ رکھے وہ ہانپتے ہوئے کہہ رہی تھی

    حیرت سے وہ مرنے ہی تو لگا تھا بھاگ کر اپنا اور اسکا درمیانی فاصلہ طے کیا اور چیخ ہی تو پڑا

    ابھی ایک چکر بھی پورا نہیں ہوا اور تم تھک گئیں۔۔۔

    ہاں اس نے جلدی بیگ پیک اپنے کندھے سے اتارا اور اندر سے کین براآمد کر کے جلدی سے منہ کو لگا لیا

    اے ۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر اس سے کین چھیننا چاہا مگر وہ جھکائی دے گئ

    یہ کونسا طریقہ ہے منہ میں یہ جو فیٹ انڈیل رہی ہو اسکو ہی کم کرنے شائد چہل قدمی کرنے آئیں ہیں آپ محترمہ ۔۔۔ وہ طنزیہ بولا 

    تو کیا تو ہے نا ۔۔۔ اسکی ڈھٹائی عروج پر تھی 

    ویسے مجھے پتہ نہیں تھا نہار منہ پارک میں دوڑکی لگانے سے اردو اچھی ہو جاتی ہے ۔۔۔ اس نے اب بیگ سے موبائل بر آمد کیا تھا ارادہ قریبی بنچ پر بیٹھ کر اسکی ہی جان کو رونے کا تھا دلاور نے ایک لمحے کو سوچا پھر اسکا موبائل چھین کر دوڑ لگا دی۔۔۔ایک لمحے کو تو اسے سمجھ نہ آیا کیا ہوا جب اسکے اور اپنے درمیان فاصلہ بڑھتے دیکھا تو چیخ مار کر دوڑی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔ ایسی ہو جو نرم دل ہو۔۔۔ وہ کہہ رہا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صارم  کے بچے 

    اسکے پیچھے بھاگتے بھاگتے اسکی سانس پھول رہی تھی اسکا بس نہ چلا تو ہاتھ میں پکڑا کین تاک کر اسکے سر پر دے مارا ابھی اس میں کولڈ ڈرنک تھا کسی پتھر کی طرح آگے آگے بھاگتے دلاور کی گدی پر لگا  وہ وہیں چیخ مار کر ڈھیر ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ٹھہر ٹھہر کر دھیما دھیما بولتی ہو۔۔۔

    ہایون کی مدح سرائی جاری تھئ نونا بہت دلچسپی سے سن رہی تھیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے بھاگ کے اسے جا لیا تھا 

    جو زمین پر بے سر و سامانی کی حالت میں بے ہنگم ٹانگیں پھیلائے پڑا سر سہلا رہا تھا اس نے قریب آکے ایک لات اسکے پیٹ پر جمائی وہ دہرا ہو گیا جلدی سے جھک کر  اس سے مو بائل چھینا۔۔ 

    سو بار کہا ہے موبائل کا مزاق نہیں۔۔ اس نے دھمکی دیکر گھورا۔ پھر خیال آیا۔

    ۔ ایک تو تم میری سمجھ سے بالا ہو۔ ۔ کسے صبح صبح نواز شریف پارک آنے کا شوق ہو سکتا وہ بھی جاگنگ کیلئےاوپر سے آنا بھئ  بائک پرہے۔ ۔  دانت بجتے ہیں آتے ہوئے میرے۔۔ 

    وہ دانت کچکچا رہی تھی۔ سانس پھول گئ تھی۔ مگر زبان تواتر سے چلانے میں اسے ملکہ حاصل تھا۔ 

    ہر اس شخص کو جسے تمہارے جیسا موٹا ٹھلا بن کے پھرنے کا شوق نہ ہو۔ وہ بھڑک کر بولا۔۔ 

    یہ تم تم نے ہر وقت موٹا کہہ کہہ کر اماں کو وہم دیا ہے۔

    اس نے پھر لات جمانی چاہی مگر وہ سرعت سے زمین پر ہی پہلو بدل گیا۔۔ 

    مانا سیخ سلائی نہیں ہوں مگر موٹی بھی کہنا ذیادتی ہے۔ 

    ایک وقت تھا میری گڑیا میری چندا کہہ کر زبردستی کھلایا کرتی تھیں خالی پیٹ یونیورسٹی مت جا ئو اب ہر روز خالی پیٹ یہاں تمہارے ساتھ واک پر بھیج دیتی ہیں کچھ پتہ میرے ایک ڈیپارٹمنٹ سے دوسرے ڈپارٹمنٹ کا فاصلہ کتنا ہے یہاں بے کار میں تھک کر جاتی وہاں ایک قدم مجھ سے چلا نہیں جاتا تین دن سے۔۔۔۔ وہ بول بول کر پھر تھک گئ۔۔ 

    خود بھی وہیں اس کے ساتھ ڈھیر ہو گئ 

    صارم ابھی بھی پڑا اسے کینہ توز نگاہوں سے گھور رہا تھا۔

    اس نے گہری سانس لے کر سانسیں بحال کیں پھر سلسلہ کلام جوڑا 

    کلاس نہیں لی میں نے۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دھیما بولنے والی نازک سی لڑکی جس کو دیکھ کر اسکی ڈھال بن جانے کیی خواہش پیدا ہو دل میں۔۔۔۔

    ہایون نے بات مکمل کر دی تھئ۔ نونا کی مسکراہٹ گہری ہوگئ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بڑا احسان کیا ۔ وہ چڑگیا۔ 

    سو چنگیز خان ہٹلر مرے ہونگے جو تم پیدا ہوئی تھیں 

    جاہل جنگلی لڑکی ساری آنتیں اوپر نیچے ہو کر رہ گئیں میری۔۔

     پچھلے جنم میں گدھی تو نہیں تھیں بے دریغ لاتیں چلانے سے تو ایسا ہی لگتا۔۔۔ وہ ابھی بھی پیٹ سہلا رہا تھا

    میں اسکو کومپلیمنٹ کے طور پر لیتی ہوں جس کے تم جیسے آستیں کے سانپ بھائی  ہوں انکے ساتھ جانور ہی بن کے رہنا ٹھیک۔۔ وہ لا پرواہ تھی مزے سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔۔۔

    بلاگ اپڈیٹ کرنے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ 

    اس نے یونہی ہاتھ اوپر کرکے دو رویہ درختوں کے بیچ جھانکتے سورج کی تصویر لی۔ 

    صبح روشن۔۔۔اسکے ذہن میں مزیدار سا قول آیا تھا۔۔ جھٹ لکھنے لگی۔ 

    کوئی کہہ سکتا یہ لڑکی پڑھی لکھی ہے ۔۔۔ دلاور ہاتھا پائی تو کر نہیں سکتا تھا سو مخصوص چڑانے والا انداز اپنا لیا

    گریجوئشن کر رہی ہے اگلے ہفتے شادی ہے اسکی۔۔۔

    اسکی ساری لا پروائی رخصت ہوئی 

    موبائل کی اسکریں پر چلتے ہاتھ رک گئے

    شادی نہیں نکاح ہے بس۔۔۔

    وہ کہہ کر فون لاک کرتی اٹھ کھڑی ہوئی دلاور نے اسکے انداز کو غور سے دیکھا پھرخود بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

    چلو نکاح سہی مگر  شادی شدہ ہی کہلائو گی۔۔۔

    وہ اسے چھیڑ نہیں رہا تھا اب… اسکا انداز بدلا بدلا وہ کافی دن سے دیکھ رہا تھا۔۔۔

    ابھی بھی وہ اسکے الفاظ پر چیں بہ چیں ہو کر رہ گئی مگر خاموش رہی 

    خالہ کے الفاظ کانوں میں گونجے۔صارم کئ۔۔

    تم ہی بات کرکے دیکھ لو بجھ سی گئ ہے بہن بھائی کوئی ہے نہیں کسی اور دوست سہیلی سے قریب ہے نہیں مجھ سے تو اتنا چڑ رہی ہے کہ بات کروں تو کاٹ کھانے کو دوڑ رہی ہے پوچھو اس سے مسلہ کیا ہے۔۔۔

    مسلئہ ۔۔ اس نے پرسوچ نگاہیں تیز تیز قدم اٹھاتی دور جاتی اریزہ پر جمائیں۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اور ۔۔۔۔نونا  بے حد دلچسپی سے سن رہی تھیں۔۔۔جبھئ مزید بولنے پر اکسایا ۔۔ 

    وہ کنگم کے درمیانے درجے کے  ہوٹل میں داخل ہو رہے تھے۔ حسب عادت نونا نے کونے والی میز کا رخ کیا تھا۔۔

    اور ۔۔۔۔ 

    ہایون سوچ رہا تھا۔ 

    دونوں میز پر براجمان ہوئے ۔۔۔ویٹر کے قریب آنے پر 

    آرڈر کیا ۔۔

    اور۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب اتنی پھرتی کہاں سے آگئی تم میں ابھی تو دو قدم چلنا بھی محال تھا تمھارے لیے۔۔۔ اسکو تیز تیز قدم اٹھاتے مین گیٹ کی جانب جاتے دیکھ کر کر جملہ کسا

    رکو تو سہی مجھے ساتھ لے کر جائو بنا بائک پیدل کیسے گھر جائو گی ؟

    اس نے  کہا تو وہ خلاف توقع رک گئ اور اسکے قریب آنے کا انتظار کرنے لگی۔۔

    میں چل رہا ہوں نہ تو مجھے لگ رہا کوئی چیز اوپر چلی گئی ہے اندر۔۔۔ چلتے چلتے رک کر خوفزدہ سی شکل بنا کر اس نے کہا تھا۔۔۔

    اوپر چلی گئی میری آنت… خالی ہو گئی ہے جگہ دیکھو۔۔۔

    اپنے دو پیکس والے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکی تشویش دیدنی تھی۔۔۔

    مگر مقابل ٹکرکی  تھی انتہائی پریشانی چہرے پر سجا کر مکا بنا کر بولی

     ایک گھونسا سینے پر بھی جما دیتی ہوں آجائے گی واپس ۔۔۔

    اس سے بعید بھی نہیں تھا وہ ڈر کے پیچھے ہوا۔۔۔

    کتنی پر تشدد لڑکی ہو جانے سجاد بھائی پر کیا گزرے گی تم سے تو وہ لڑ بھی نہیں پائیں گے ادھر انہوں نے کچھ کہا تم نے پنجے تیز کیئے۔۔۔

    اس نے جان کے ذکر نکالا۔۔۔

    وہ بھی سمجھ گئی تھی 

    تم خوشیاں منائو تمہارے پلے تو نہیں پڑی نا اوروں کی فکر میں ہلکان مت ہو۔۔

    میں تو اٹھتے بیٹھتے شکر ادا کرتا ہوں سچی۔۔۔۔۔ 

    بائک نکالتے وہ چڑا رہا تھا مگر چہرے پر سنجیدگی تھی۔ 

    دونوں یونہی لڑتے بھڑتے گھر آگئے 

    انکی آوازیں سنتے ہئ امی نے پکار کے بتایا۔۔ 

    آئو اریزہ ابھی تازہ جوس نکالا ہے۔۔ موسمی کا۔۔

    امی نے تازہ جوس نکال کر رکھا ہوا تھا اس نے صاف انکار کیا۔۔۔

    امی میں تو اور موٹی ہو جائوں گی شادی والے دن بھدی لگوں گی مجھے آپ بھوکا مرنے دیں کم از کم ناک تو نہیں کٹے گی میری وجہ سے۔۔۔ وہ دھپدھپ کرتی تیار ہونے کمرے میں گھس گئی

    دیکھ رہے ہو ۔۔۔ امی نے شکایتی نظروں سے دلاور کو دیکھا

    خالہ اسے اسکے حال پر چھوڑ دیں سچ تو یہ ہے کہ آپ لوگوں نے شادی شادی کر کے اس ذکر سے چڑا دیا ہے اسے کتنی پرجوش تھی میں سی ایس ایس کروں گی یہ کروں گی وہ کروں گی گریجوایشن بھی مکمل نہیں کرنے دے رہیں آپ اسکا چڑنا تو بنتا ہے ۔۔۔ دلاور نے سنجیدگی سے کہاتھا مگر وہ خالصتا پاکستانی ماں مجال ہے جو بچوں کی سن لیں چڑ گئیں۔۔ 

    ہاں دشمن ہوں اسکی اتنے اچھے رشتے کو ہاتھ سے جانے دیتی ۔۔ فضول شوق کے پیچھے باقی کینڈا جا کے جو مرضی پڑھتی رہے ۔ کوئی اعتراض نہیں پھرسجاد گھر کا بچہ ہے سنجیدہ سمجھدار۔۔۔ 

    ۔۔۔

    وہ اپنی دھن میں کہے گئیں اپنی بات کے حق میں سو دلائل تھے انکے پاس ۔۔۔ 

    خیر بچہ تو نہ کہیں۔۔۔ اس نے لائونج کے صوفے پر گرتے ہوئے ریموٹ سے ٹی وی آن کیا تو لائونج میں لگے دیوار گیر ٹی وی کے نیچے بنی میز پر سجی سجاد اور اریزہ کی منگنی کی تصویرپر نگاہ۔جا رکی۔ اس نے  تادیبی نگاہ سے دیکھا۔۔ اڑتیس  سال کے ہینڈسم مگر سنجیدہ سے سجاد کے ساتھ بیس سال کی اریزہ گڑیا سی لگ رہی تھی۔۔۔

    ماں کے ارشادات اریزہ نے بخوبی سنے تھے دھڑ سے الماری بند کرکے اپنی قسمت کو کوستی اسی سے سر ٹکا کر رہ گئی۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پہلا نمبر  ہمیشہ کی طرح اریزہ کے نام تھا 

    نوٹس بورڈ پر مد ٹرم کا رزلٹ لگا تھاسب طلبا نوٹس بورڈ کے گرد جمع تھے وہ دیکھنے آئی تو ساجد نے جو اپنا نام ڈھونڈ رہا تھا جلدی سے اسکا رزلٹ بتایا اور دوبارہ نوٹس بورڈ پر جھک گیا دونوں ہاتھ چلاتے ہوئے وہ ہر نئے آنے والے کو بھی ساتھ ساتھ بتا رہا تھا۔۔۔ اسکو سب آتے جاتے مبارک باد دے رہے تھے۔۔۔

    سنتھیا اسکا بجھا بجھا سا انداز دیکھ تو رہی تھی مگر چھیڑا نہیں اسکا ہاتھ پکڑ کر کینٹین میں لے آئی۔۔۔

    ایڈون کونے میں میز گھیرے سموسے اور کولڈ ڈرنک منگوائے انکا انتظار کر ررہا تھا

    مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔ وہ بیٹھ تو گئی تھی مگر کھانے سے صاف انکار کر دیا تھا

    پتہ ہے مجھے تین دن سے ناشتہ نہیں مل رہا تمہیں چلو شرافت سے کھانا شروع کرو۔۔۔ سنتھیا نے اس کے سر پر چپت لگا کر ڈرامہ بازی سے روکا۔۔

    کیوں یہ ظلم کیوں ہو رہا تم پر۔۔

    ایڈون نے آدھا سموسہ منہ میں رکھتے ہوئے پوچھا

    کیونکہ میں موٹی ہوں اور دلہن بن کر اور موٹی لگوں گی بقول میری ہونے والی ساس کے۔۔۔ ابھی بنی بھی نہیں ہیں ساس۔۔۔مگر میرا کھانا پینا کھٹکنے لگا امی سے صاف کہا اسے ڈائٹنگ کروائیں اب ایک ہفتے میں میں اپنا سارا زائد وزن کم کرکے انکے بیٹے کے قابل بن جائوں سو میری اماں مجھے چھے بجے صارم  کے ساتھ واک پر بھیجتی ہیں اور واپسی پر ایک  ابلا انڈہ اور فریش جوس میرا منتظر ہوتا۔۔

    وہ تقریر ہی کرنے لگ گئ ۔سنتھیا اور ایڈون متاسف نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ جوابا انکی نظروں سے  اب جزباتی ہو کر میز پر ہاتھ مار کر بولی۔ 

    مطلب میں کیا ہوں انسان ہوں کہ نہیں مجھے زور سے ہنسنا زور سے بولنا چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ میری شادی ہو رہی ہے مجھے وزن کم کر لینا چاہیے کیونکہ میری شادی ہو رہی ہے مجھے روز چہرے پر ماسک رگڑنا چاہیے تاکہ گوری ہو جائوں کیونکہ میری شادی ہو رہی میں یونیورسٹی آنا چھوڑ دوں کیونکہ میری شادی ہو رہی ہے ان شارٹ میں اپنی مرضی سے جینا چھوڑ دوں کیونکہ میری شادی ہو رہی ہے  لڑکی ہونا عزاب ہو گیا ہے میرے لیے کوئی حد ہوتی ہے کسی بات کی بھی کہ نہیں  ۔۔۔ بولتے بولتے اسکی آواز تیز ہو گئی تھی ایڈون سموسہ چبانا بھول گیا سنتھیا منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی پوری کینٹین میں یکدم خاموشی چھا گئی تھی سب طلبا ویٹر کاونٹر پر موجود لوگ ہاتھ روک کر اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

    اسے جوش میں اپنے والیم کا اندازہ ہوا ہی نہیں ۔۔۔ سب کو ٹکر ٹکر اپنی طرف دیکھ کر کھسیا کر کرسی پر نیچی ہو کر بیٹھ گئی

    چند لمحوں کی خاموشی کے بعد سب اپنے اپنے حواسوں میں واپس آئے دوبارہ کینٹیں آوازوں سے بھرنے لگی۔۔۔سنتھیا اور ایڈون نے ایک دوسرے کی شکل دیکھی۔۔ 

    ویسے تم موٹی تو نہیں ہو یہ تو زیادتی کی ہے تمھاری ساس نے۔۔۔ سنتھیا نے اسے سرتاپا دیکھتے ہوئے کہا تھا دوست ہونے کے ناطے اسے کافی غصہ آیا تھا۔۔۔

    اسکی بات پر اریزہ آہستہ آہستہ دوبارہ کرسی پر طلوع ہونا شروع ہوئی

    دراصل مجھ سے میرا وزن پوچھا تھا انہوں میں نے سچ بتا دیا۔۔تو۔۔ اس نےمنہ بنا کر سموسے کی جانب ہاتھ بڑھایا

    کتنا وزن ہے تمہارا۔۔۔ ایڈون نے سموسہ نگل کر پوچھا

    سکسٹی ٹو کےجی۔۔ اس نے سموسہ بھرا منہ میں۔۔۔ 

    کیا ۔۔۔ سنتھیا کو کولڈ ڈرنک پیتے اچھو لگا۔۔۔

    لگتا تو نہیں ہے۔۔۔ ایڈون بھی حیران ہوا۔۔۔

    ہاں وہی تو مانا پانچ فٹ چار انچ قد کے حساب سے تھوڑا کم ہو نا چاہیئے پچپن تک ہو مگر میں اتنی بھی موٹی سی تو نہیں لگتی کہ مجھے منہ بھر کر ٹوک دیا جائے۔۔۔ گرے کرتے اور جینز میں ملبوس بڑی سی ہمرنگ شال سلیقے سے اوڑھے وہ ٹھیک ہے بہت ہوا ہوائی نہیں لگتی تھی مگر موٹی بھی نہیں کہہ سکتے تھے اسے ہاں بھرا بھرا جسم تھا اسکا۔۔۔ 

    صحیح کہہ رہی ہے ۔۔سنتھیا متفق تھی اپنے بیٹے کو دیکھا ہے اس کے ساتھ کھڑا ابا لگتا ہے اسکا اس سے تو کہیں پیاری اور چھوٹی ہے یہ ۔۔

     انجانے میں سنتھیا اسکی دکھتی رگ چھیڑ گئی۔۔۔

    نا شکل نہ عادت نہ عمر نہ مزاج کسی طور تو ہم پلہ نہیں ہے سجاد اسکے۔۔ سنتھیا کو غصہ آگیا۔ 

    جتنا یہ شوخ  مزاج کی زندہ دل لڑکی اتنا سجاد سنجیدہ سڑیل منگنی پر یاد ہے جب صارم وغیرہ اس کو چھیڑ رہے تھے رسموں کیلئے بلا رہے تو سجاد کی ناگواری عروج پر تھی بعد میں فون کرکے اسکے کزنز کو چھچھورا بدتمیز اور نہ جانے کیا کیا بنا ڈالا اس نے کچھ کہنا چاہا انکی حمایت میں تو صاف کہا اسے اپنا مزاج تبدیل کر کے انکی زندگی میں شامل ہونا چاہیئے۔۔۔ 

    تیزی سے سموسے کی پلیٹ صاف کرتے اسکے ہاتھ واضح طور پر رکے تھے۔۔ ایڈون نے اسکو دیکھ کر سنتھیا کو آنکھون آنکھوں میں گھرکا تھا۔۔۔ 

    سنتھیا بھی شرمندہ ہو گئی تھی ۔۔۔

    اچھا چھوڑو پتہ ہے نیو اسکالر شپ آئی ہیں ایک ایشین ملک کے ساتھ ہماری یونیورسٹی ماس کمیونیکیشن  کے شعبے سے الحاق کی شروعات  کر رہی ہے پہلے مر حلے میں تجربے کے طور پر پانچ دس انکے طلبا اپنے آخری دو سمسٹر یہاں آکر مکمل کریں گے اسی طرح یہاں سے بھی پانچ طلبا کو اسکالر شپ دی جا رہی کہ وہ وہاں کے تعلیمی ماحول سے فیضیاب ہوں اس طرح ہماری یونیورسٹی کی ڈگری بھی بھی بین الاقوامی سطح پر پہچاانی جائے گی ۔۔۔ مزے کی بات ہے نا۔۔۔ اگلے مہینے تک درخواست جمع کروانی ہے ۔۔۔ایڈون بتا رہا تھا۔۔۔ 

    کس ملک کی اسکالر شپ ہے۔۔۔ اریزہ نے دلچسپی سے پوچھا تھا ۔۔۔۔ 

    سجاد سے تو میں نے کہا تھا کہ مجھے کینڈا کی یونیورسٹیز کے بارے میں بتائیں مگر انہوں نے تو دلچسپی ہی نہیں لی۔۔۔ مجھے نہیں لگتا مجھے آگے پڑھنے دیں گے یہ لوگ۔۔۔ اسکے انداز میں افسوس تھا۔۔۔ 

    میں نے ایشیائی ملک کہا ہے۔۔۔ ایڈون نے کہا تو وہ لاپروائی سے بولی

    کونسا ملک ہے چائنہ ہو گا ہےنا۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جی نہیں۔۔ نونا نے نفی میں گردن ہلائی

    جنوبی کوریا

     ایک سے ایک حسینہ سے بھرا ہوا  ہے ایسی لڑکی بہت آسانی سے مل جائے گی تمہیں اور  

    میری دعا ہے تمہیں تمہاری پسند ضرور ملے ۔۔۔ انی نے پورے خلوص سے کہا تھا ہیون ہنس دیا 

    اور میری خواہش ہے کہ آپ اپنی پسند کو اپنا لیں ۔۔۔ قسمت ایک بار آپ دونوں کو آزما چکی اس مرتبہ آپ ہایونگ (بڑا بھائی) کو مایوس مت کیجئے۔۔۔ ہیونگ نے بے حد سنجیدگی سے انی کا ہاتھ تھام کر استدعا کی تھی

    نونا  اپنے بھائی کو محبت سے تکنے لگیں 

    میرا بھائی بڑا ہو گیا ہے۔۔۔ 

    اتنے غیر متعلقہ جملے پر ہیون جھلا گیا

    سمجھیں بھی نا ۔۔ بس کہتی ہیں ۔۔۔ آپ۔۔۔ اس نے کمچی کا قیمہ بنا دیا چاپ اسٹکس سے ۔۔۔نونا ہنس دیں۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے گھر آکر لیپ ٹاپ میں گوگل کیا یو ٹیوب کھول کر دیکھا تھا ہوشربا انکشاف ہوئے تھے 

    شمالی کوریا ایک وسطی ایشیائی ریاست ہے جس پر آمر ۔۔۔ کی حکومت ہے ۔۔۔۔ 

    وہ پڑھتئ جا رہی تھی اور آنکھیں سجل علی کی آنکھوں سے ذیادہ بڑی ہوتی جا رہی تھیں۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اگلے دن یونیورسٹی میں  اس نے ایڈون کو جا لیا تھا ایک ایک تفصیل بتائی تھی

    جہنم ہے جہنم 

    سوچنا بھی نہ وہاں جانے کا میں بھی کہوں ایک دنیا جب پاکستان آنے کے نام سے خوف سے تھر تھر کانپتی تو آخر یہ  دس طلبا یہاں آ کیوں رہے تو جناب اسلیئے کہ انکے حالات ہم سے بھی خراب ہیں ۔۔ کم از کم ہم ایک آدھ دھماکہ برداشت کرتے مرتے وہاں  تو لوگوں کے سامنے معمولی معمولی بات پر لوگوں کو بیچ چوراہے میں مار ڈالتے دنیا کے بد ترین آمروں میں سے ایک ہے بادشاہ جا۔۔۔۔ وہ نام بھول گئی

    ایڈون نے تاسف سے دیکھا۔۔۔ 

    ہاں بالکل شمالی کوریا میں ایسا ہی ہے مگر میں جس اسکالر شپ کیلیئےاپلائی کر رہا وہ جنوبی کوریا کی ہے۔۔۔ 

    ہاں وہی تو کوریا۔۔۔ وہ تیز ہو کر بولی پھر بات عقل میں گھسی 

    جنوبی کوریا اچھا مطلب ملک کے دوسرے حصے میں جائوگے۔۔۔

    جی نہیں وہ زور دے کر بولا۔۔۔ ملک ہی دوسرے جا رہا شمالی کوریا اور جنوبی کوریا دو الگ ملک ہیں انکو بھی انڈیا پاکستان کی طرح علیحدہ ہوئے نصف صدی ہو نے کو آئی ہے۔۔۔

    اوہ اچھا۔۔۔ وہ شرمندہ ہوئی 

    وہ ایک ہی ملک سمجھی تھی۔۔۔

    مجھے کیا پتہ ہمیشہ میں نے تو بس کورین سیل فون کا ہی سنا تھا میڈ ان کوریا لکھا ہوتا تھا جنوبی شمالی وہ لوگ خود  بھی نہیں لکھتے ۔۔۔ کوریا میں ویسے انسان بھی ہوتے ہیں؟

    اس نے کافی حیرانگی سے پوچھا تھا۔۔  

    ایڈون نے تاسف سے اسے دیکھا

    تمہیں شادیریا ہو گیا ہے دماغ کام نہیں کر رہا۔۔۔ ویسے تم کیوں نہیں اپلائی کر رہی ہو تمہارا تو نام آسانی سے آجائے گا میرٹ پر دوسرا ابھی تک سنتھیا کے سوا اور کسی لڑکی نے اپلائی بھی نہیں کیا سر جازب کہہ رہے تھے کم سے کم دو تین لڑکیاں بھی بھیجنی ہےانہیں اچھا امپریشن بھی تو دینا لڑکے تو پتہ نہیں واپس بھی آئیں نا آئیں۔ 

    سنتھیا نے بھی اپلائی کیا ہے۔۔۔  اس نے بے تابی سے بات کاٹ دی اسکی اکلوتی بچپن کی سکھی سہیلی اسے چھوڑ کر جا رہی تھی کوریا۔۔

    ہاں۔۔۔ایڈون نے آرام سے کہا

    اسے گھر سے اجازت مل گئی؟

    وہ صدمے میں تھی

    ہاں میں بھی تو جا رہا ہوں اسکا منگیتر پھر کیسا ڈر۔۔۔

    وہ رکا

    مین تو کہتا تم بھی چلو کینڈا تو پتہ نہیں کتنے عرصے میں جائو سال دو سال آرام سے لگے گا گریجوایشن مکمل کر سکتی ہو تم آرام سے۔۔۔ تب تک

    ۔۔۔۔اریزہ نے نفی میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔۔۔۔

    یونیورسٹی ٹرپ پر جا نے نہیں دیتیں اماں کوریا تو بابا بھی کبھی جانے نہیں دیں گے مجھے۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آخر حرج ہی کیا ہے اسمیں میری یونیورسٹی سے بھیجا جا رہا ہے رہائش ہاسٹل میں ہوگی دو سال کی ہی تو بات ہے یہاں بھی تو میں پڑھوں گی ہی۔۔۔ 

    اس نے بات ابا سے کرنی شروع کی تھی رات کو چائے بنا کر ان کے پاس آبیٹھی ابا انداز پہچانتے تھے کچھ منوانے آئی ہے آج سے کچھ عرصہ پہلے شادی سے انکار کرنے آئی تھی۔۔۔۔ اماں کی فورا رگ پھڑکی اسکے پیچھے پیچھے دبے پائون چلتی آئیں ابھی اس نے بات مکمل ہی کی تھی اماں نے لتے لینے شروع کر دیئے 

    اب جو کرنا ہو سسرال جا کر کرنا۔۔۔ کینڈا جاکر جہاں مرضی آئے داخلہ لینا جو مرضی پڑھنا۔۔۔ پتہ نہیں کس دماغ کی لڑکی ہے بجائے اسکے کہ شادی ہونے والی گھرداری میں دلچسپی لو کھانا پکانا سیکھ لو کوریا جائیں گی بتائو نام تک نہ سنا آج تک اس ملک کا۔۔۔  انجان ملک انجان لوگ جان لڑکی کو منہ اٹھا کر بھیج دیں

    ابا چپ چاپ انکے خاموش ہونے کا انتظار کرتے رہے۔۔۔

    ابا کینڈا بھی تو بھیج رہے ہیں اتنی دور مجھے۔۔۔ وہاں کونسا آپ ہونگے اماں ہونگی وہاں بھی تو میں اکیلی ہونگی۔۔۔۔

    کیسے اکیلی ہوگی۔۔۔ اماں چمک کر بولیں 

    شوہر ہوگا خالہ ہوں گی تمہاری پورا خاندان ہوگا وہاں انکا ۔۔۔ 

    کونسے لوگ جن کو صرف میں نےشکل سے دیکھ رکھا بس۔نہ مزاج پتہ نہ ماحول مانوس ۔۔۔ اکیلی ہونگی میں وہاں پر ۔۔۔ اس نے اکیلی پر زور دیا

    ہمیشہ میں نے آپ کی بات مانی ہے مجھے سجاد بالکل پسند نہیں تھا مگر آپ کے کہنے پر میں نے ایک ہاں کردی آپ میری اتنی سی بات نہیں مان سکتی ہیں۔۔۔ اسکی آنکھون میں آنسو آرہے تھے۔۔۔ باپ کا دل پگھل گیا۔۔

    اماں کو اندازہ تھا جبھی انہیں بولنے کا موقع نہیں دے رہی تھیں

    تو کیا غلط فیصلہ کیا ہے۔۔۔ پڑھا لکھا ہے امیر کبیر ہے کینڈا میں وکیل ہے اتنا قابل لڑکا ہے سمجھدار ہے اور کیا چاہیئے ہوتا ۔۔۔ 

    کینڈا میں ہے کم از کم بھی سال دو سال لگیں گے مجھے وہان جانے میں تب تک اگر میں اپنی تعلیم مکمل کر لوں تو کیا حرج ہے۔۔۔ 

    پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ۔۔۔ اماں نے سر پیٹ لیا۔۔۔

    صاف بات میں کسی دوسرے شہر اکیلی لڑکی کو نہ بھیجوں دوسرے ملک تو نا ممکن ہے۔۔۔

    تو کیوں بھیج رہی ہیں۔۔۔ مت بھیجیں نہ مجھے کینڈا  بھی۔۔۔

    منع کر دیں اس رشتے سے کریں گی۔۔۔ منع

    وہ جھلا رہی تھی غصہ میں بول رہی تھی یہ تو انکی بیٹی تھی ہی نہیں اس لہجے اس انداز میں تو اس نے کبھی بات نہ کی تھی۔۔۔  مرتضی اسے بہت غور سے دیکھ رہے تھے

    دیکھ رہے ہیں آپ اسے کتنی بدتمیزی کر رہی ہے مجھ سے کئی دن سے دیکھ رہی صاحبزادی کا مزاج ہی نہیں مل رہا ہے بتائو کارڈ چھپ کے بٹ چکے دو دن میں مہمان آنا شروع ہو جائیں گے اور یہ ۔۔۔۔

    تم چپ رہو گی تھوڑی دیر مجھے اس سے بات کرنے دو۔۔۔ بلکہ جائو میں اس سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ مرتضی کے سختی سے کہنے پر وہ چپ تو ہو گئیں مگر کمرے سے باہر نہ گئیں وہیں کونے میں صوفے پر جا بیٹھیں 

    اریزہ بیٹھو بیٹا۔۔۔ انہوں نے کتاب سایڈ میں رکھ دی عینک اتار کر بغور اسکا خفا خفا چہرہ دیکھا۔۔۔ 

    وہ انکے پاس ہی فلور کشن پر بیٹھ گئی۔۔۔

    بیٹا پڑھائی تو ڈسٹرب نہیں کر رہے آپکی آپ جب تک گریجوایشن مکمل نہیں کر لوگی ہم کینڈا نہیں بھیجیں گے آپکو ٹھیک۔۔۔ تو کوریا کیوں جانا چاہتی ہے میری بیٹی۔۔۔ 

    انکی بات پر وہ چپ ہی رہ گئی کیا بتائے کیا کہے۔۔۔ پڑھائی تو یہاں بھی کر ہی رہی تھی۔۔ ابا نے اپنے تئیں اسے تسلی بھی کرادی پھر کیوں۔۔۔۔۔

    اماں چین بہ چیں ہوئیں مگر ابا نے اشارے سے انہیں خاموش رہنے کو کہا

    میں تھوڑی تبدیلی چاہتی ہوں۔۔ میں یہاں اس ماحول سے دور جانا چاہتی۔۔۔ جہاں ہر دوسری بات میری شادی سے متعلق ہے میرا دم گھٹ رہا ہے سوچ کر ہی کہ مجھے کتنے سارے سمجھوتے کرنے پڑ گئے ہیں اس شادی کے پیچھے آگے جانے کتنےاور کرنے میں تو سی ایس ایس کرنے کے خواب دیکھتی تھی کچھ کر نے کچھ بننے کے اس ماحول کو تبدیل کرنا چاہتی جو لڑکیوں کے خواب آرزوئیں دبا دیتا اس معاشرے میں تبدیلی لانا چاہتی جس کے نزدیک لڑکی سوائے بچہ پیدا کرنے کے اور کسی پیداواری سوچ کا حصہ نہیں بن سکتی کیا کوئی جانتا ہے اسکے تھیسس اسکی پرزنٹیشن اسکے لکھے تحقیقی مقالے پوری یونیورسٹی میں مشہور ہیں وہ تقریر کرتی تو ایک دنیا چپ ہو کر اسکے خیالات سنتی بین الاقوامی سطح پر ہونیوالے مقابلے میں اسکی پینتیس ممالک کے طلبا میں ساتویں پوزیشن تھی میرا لکھامقالہ اپنے اچھوتے موضوع کی بنا پر کتنا پسند کیا گیا تھا۔۔۔ میں انعام لے کر خوشی خوشی گھر آئی تو میری خوشی میں شامل ہونا تو درکنار اماں نے دیر سے آنے پر ڈپٹ کر اسے سجاد کی امی کے سامنے لا بٹھایا تھا۔۔۔  

    ماہر مقررہ کی طرح وہ بولی تھئ۔ مگر لط سلے رہ گئے۔ 

    یہ سب اسکے دماغ میں ہی چکرا کر رہ گیا تھا۔۔ 

    اب اسکی  قابلیت اسکے گورے رنگ دبلے جسم اچھے قد کی محتاج تھی اماں کینہ توز نگاہوں سے گھور رہی تھیں۔ 

    اسے یاد تھا جب اس نے سجاد کے عمر میں زیادہ اور مختلف مزاج ہونے پر اعتراض کیا تھا تو امی نے صاف کہا تم اپنا مزاج بدلو چھوٹی بچی نہیں رہی ہو باقی مرد اپنے مزاج میں ڈھال  لیتاہے  اور عمر کی خوب کہی دو بچے ہونگے اسکی اماں لگنے لگوگی۔۔۔۔

    کچھ نہیں۔۔۔ وہ کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔

    پلٹ کر جا ہی رہی تھی کہ ابا نے آواز دے کر روکا وہ پلٹی نہیں مگر رک گئ

    مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے میری بیٹی کوریا جا کر پڑھنا چاہتی  ہےضرور پڑھے جہان مرضی ہو اسکی وہاں جا کر پڑھے۔۔۔ 

    ابا کے جملوں پر وہ بے یقینی سے مڑ کر دیکھنے لگی

    کیا کہہ رہے ہیں آپ ۔۔۔ اماں پر تو پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو جیسے۔۔۔۔ 

    مگر بیٹا اب آپ پر مجھ سے زیادہ سجاد کا حق ہے۔۔ 

    آپ اس سے ایک بار پوچھ لو اگر وہ اجازت دے دے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔ انہوں نے بات مکمل کی

    ۔۔۔ کیا کہہ رہے ہیں بیٹی کی سسرال ہے انتہائی نازک معاملہ ہے خبردار جو تم نے سجاد سے ایک لفظ بھی اس بارے میں کہا۔۔۔

    تم خاموش رہو۔۔۔ مرتضی چڑ سے گئے۔۔۔ سجاد پڑھا لکھا سمجھدار انسان ہے تم اس سے پوچھ لو مجھے نہیں لگتا وہ انکار کرےگا۔۔۔

    وہ مزید کہہ رہے تھے۔۔ پھیکی سی مسکراہٹ آگئ تھی اریزہ کے چہرے پر۔کتنی آسانی سے اسکے حقوق ایک انجان آدمی کے سپرد کر دئے گئے تھے یعنی باپ کی اجازت مل بھی گئ تو بھی ابھی سجاد سے پوچھنا باقی ہے۔۔۔ اسے خوب اندازہ تھا یہ سلیقے سے کیا جانے والا انکار تھا اسکے والدین کی جانب سے وہ مایوسی  سر ہلا کر  کمرے میں لوٹ آئی۔۔۔

    بالکل ارادہ نہ تھا پوچھنے کا بھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپکو اندازہ بھی ہے اگر آپا کو بھنک بھی پڑ گئ تو کیا ہوگا انہوں نے صاف کہا ہے اریزہ نے جو جتنا پڑھنا ہے شادی سے پہلے پڑھ لے سجاد سیٹل ہے اریزہ کو وہاں کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔

    یہ بات آپ نے مجھ سے کیوں چھپائی ۔۔۔ مرتضی بگڑ گئے۔۔۔

    اتنی جاہلانہ سوچ رکھتی ہیں وہ کینڈا میں رہ کر۔۔۔ میری بیٹی اتنی با ہنر پڑھنے کی شوقیں ایسے جاہلوں میں بیاہ دوں کیونکہ وہ آپکی بہن کا بیٹا ہے۔۔۔ آپ اچھی طرح جانتی ہیں میں اس رشتے کے حق میں نہیں تھا سجاد کا عمر کا فرق بھی نظرانداز کر دینے والا نہیں اوپر سے اکلوتی بیٹی اتنی دور بھیجوں کہ اسکی شکل دیکھنے کو ترسوں ۔۔۔

    بس کیجیے ۔۔۔ وہ پچھتا رہی تھیں کیا منہ سے نکل گیا۔۔۔

    اب سب طے ہو چکا ہے ایسی باتیں نہ کریں

    کیوں نہ کروں اسکی رخصتی نہیں ہونے دوں گا میں اسکی گریجوایشن سے پہلے ۔۔۔ میں خود بات کروں گا سجاد سے۔۔۔

    آپ اور شہہ مت دیں اریزہ کو۔۔۔ وہ بات سنبھالنے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھیں۔۔۔

    اریزہ میں میری جان بند ہے کیا جانتا نہیں میں کیوں جھنجھلائی رہنے لگی ہے دنیا کی لڑکیاں شادی کے نام پر کھل اٹھتی ہیں اور یہ جب سے رشتہ طے ہوا ہے ہنسنا بھول گئی ہے مجھے کیا کچھ نظر نہیں آتا اوپر سےمیری بیٹی اتنی فرمانبردار کہ ماں باپ کے فیصلے پر خاموشی سے سر جھکا دیاایک لفظ نہیں بولی میں نے رشتہ پر حامی آپ کے اصرار پر بھری تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ اریزہ کو معمولی سا بھی اعتراض ہوا تو میں صاف انکار کر دوں گا۔اریزہ نے صاف انکار کیا آپ نے یہ بات بھی مجھ سے چھپالی۔۔۔مگر اب میں اسکے ساتھ مزید کوئی زیادتی ہونے نہیں دوں گا سمجھیں آپ۔۔ انکا انداز دو ٹوک تھا

    جبیں انکے انداز سے خائف ہو گئیں اور مزید کچھ بھی کہنے سے گریز کیا۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ سوتے میں سے ماں کو پکارتے اٹھا تھا۔کمرے میں اندھیرا تھا۔ اس نے زور زور سے رونا شروع کردیا تھا۔ تبھی کسی نے اسکے کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھولا تھا اور لپک کر اسے بانہوں میں بھر لیا تھا۔۔ 

    آہما۔۔ مجھے آہما کے پاس جانا ہے۔ وہ اس مہربان لمس کو پہچانتا تھا۔ یہ اسکی ماں نہیں تھی۔ 

    بس ابھی چلتے ہیں۔ آئو۔اسکے آنسو پونچھ کر اسکا ہاتھ تھام کر اسے وہ اس بڑے سے جنازہ گاہ میں لے آئی تھی جہاں لوگ ہی لوگ تھے۔ ایک کونے میں تابوت رکھا تھا جسکا ڈھکنا کھلا تھا۔ وہ جانتا تھا اس میں کون ہے سو لپکا۔ گنگشن سے ہاتھ چھڑاتا پوری قوت سے دوڑتا وہ تابوت کی جانب بھاگا

    تبھی کسی نے بازو سے پکڑ کر اسے کھینچا اور ایک تھپڑ منہ پر لگایا۔ 

    اسکی آنکھ کھلی تھئ۔ لمحہ بھر کو سمجھ نہ آیا کہ کہاں ہے۔ دھیرے دھیرے حواس بحال ہوئے تو سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا ۔رات کے دو۔۔ 

     کمرے میں نائٹ لیمپ جل رہا تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل لیمپ جلا دیا اور سستی سے اٹھ بیٹھا۔ بے چینی بے زاری اسکو یہ دونوں احساسات اتنا گھیرے  لیتے تھے کہ اطمینان اور سکون کو جیسے بھول ہی گیا تھا۔ وہ اٹھ کر کمرے سے باہر آگیا۔ جب کچھ نا کرنے کو ہو تو پی لینا چاہیئے۔ یہ اسکا خیال تھا۔ اوپن  کچن سے ملحقہ پائوڈر روم میں شیلفس بنے تھے یہاں ایک جانب کمچی اور دیگر اجناس کا ذخیرہ کیا جاتا تھا اور دوسرے کونے میں شراب کا۔ اس نے آگے بڑھ کر پہلے تو قیمتی وائن اٹھائی مگر اسکی سیل مکمل بند تھی۔ یہ بوتل اسے پہلے نظر نہیں آئی تھئ۔ اس نے لیبل پڑھا تو سینکڑوں ڈالر کی امریکی شراب تھی۔ یقینا کسی خاص تقریب کیلئے بطور خاص منگوائی گئ تھئ۔ وہ چند لمحے بوتل ہاتھ میں لیئے کھڑا رہا۔ 

    اپنے ہی گھر میں کسی چیز کو اٹھاتے رکھتے وہ ملکیت کے احساس سے محروم تھا۔ 

    احتیاط سے وہ بوتل واپس رکھ کر اس نے نیچے جھک کر ایک چھوٹی بوتل اٹھا کر پلٹا تو گنگ شن نونا سامنے کھڑی تھیں سینے پر بازو لپیٹے اسکے متوجہ ہونے کی منتظر۔ 

    صبح یونیورسٹی جانا ہے نا؟ رکھو اسے واپس۔ 

    وہ رعب سے بولیں۔ 

    نونا ہائی اسکولر نہیں رہا ہوں میں اب خود کو باور کرالیں۔

    وہ تھوڑا چڑا تھا مگر چڑ لہجے میں جھلک نا پائی تھی۔ 

    رکھو اسے اور میرے ساتھ چلو اچھی سی کافی پلاتی ہوں۔ 

    وہ مسکرا کر لالچ دینے والے انداز میں بولیں۔ 

    ہیون چار و نا چار بوتل واپس رکھ کر انکے ساتھ ہو لیا۔ 

    کچن میں آکر نونا پھرتی سے کیبنٹس کھول بند کر رہی تھیں۔ چولہے پر ایک دیگچی چڑھا کر  کافی میکر میں اجزاء ڈال کر بنا سوئچ آن کیئے اب کپ نکالے جا ریے تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر پلگ لگانا چاہا تو ایک کراری چپت ہاتھ پر پڑی۔ 

    پھابو( احمق) کافی ابھی بنا لی تو تمہارے ریمن کھانے تک ٹھنڈی ہو جائے گی۔ چلو وہاں میز پر بیٹھو۔ 

    اسے بازو سے پکڑ کر وہ کھینچتی لائی تھیں اور لا کر کچن میں ایک طرف لگی ڈنر ٹیبل پر لا بٹھایا۔

    نونا بہت زبردستی کرتی ہیں آپ میرے ساتھ۔ وہ بےحد سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ اسکے انداز پر ہر وقت سجی رہنے والی مسکراہٹ گنگشن کے چہرے سے یک لخت غائب ہوئی تھئ۔ 

    بیانیئے۔ وہ دھیرے سے اسکا کندھا تھام کر بولیں۔ وہ یونہی خفا سا بیٹھا میز کو گھورتا رہا

    تمہیں بھوک تو لگی ہوگی نا ہیونگ سک۔ آہبوجی سے سامنا نہ ہو اسلیئے تم ڈنر ہی کرنے باہر نہیں نکلے تھے۔ مجھے پتہ تھا تم بنا کھائے ہی سو جائو گے۔ میں دو بار آئی تھی تمہارے کمرے میں۔ مگر تم سو گئے تھے۔ 

    نونا نے اسے پچکارا۔۔

    میں پی کے دوبارہ سو جاتا۔ وہ بچوں کی طرح منہ پھلائے تھا۔ 

    خالی پیٹ پینے سے طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔ کھالو پھر پی لینا۔

    نونا اسے واقعی ابھی بھی آٹھ سال کا ہی سمجھتی ہیں۔۔ 

    اس کو اس بات پر ہنسی نہیں آئی۔۔ الٹا دکھ ہوا تھا۔۔ 

    #

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بی بی سی اردو کی وہ ویڈیو دیکھتے وہ بے چین سی ہوگئ تھی۔  کماری کی رسم نیپال میں صدیوں سے رائج تھئ۔ اسے دیکھتے دیکھتے بے چینی سی ہونے لگی۔ 

    ہر ملک میں ہی خواتین کو دبانے کا کوئی نہ کوئی طریقہ رائج ہی ہے۔  افسو س سے سوچا تھا اس نے ہھر موبائل بند کر کر سائئڈ پر رکھ دیا۔ 

    ایک اور  کروٹ بدلی۔ بے چین سی ہو کر اٹھ بیٹھئ۔ 

    سجاد سے پوچھنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ کینڈا میں رہتے ہیں سجاد دقیانوسی تو نہیں ہوں گے۔ 

    اس نے موبائل اٹھایا۔  پھر گھڑی دیکھ کر واپس بھی رکھ دیا۔ 

    کیا فائدہ ابھئ تو پوچھوں بھی تو ۔۔۔ وہ بستر سے اترآئی۔  نائٹ لیمپ جل رہا تھا جبھئ مکمل اندھیرا نہیں تھا۔ اس نے لائٹ بھئ جلا لی۔ 

    یہ اسکا کمرہ تھا۔ اریزہ مرتضی کا۔ جسکے در و دیوار پر ہوئے روغن سے لیکر سائیڈ ٹئبل پر رکھی الارم کلاک تک اسکی مرضی کی تھئ۔ اسکی پسند او رفرمائش پر لائی سجائی گئ تھئ سوائے اس ایک تصویر کے جو اسکے اسٹڈی ٹیبل پر فریم میں سجی رکھی تھئ۔ ۔۔۔۔ وہ  گہری سانس لیکر اسٹڈی ٹیبل پر آن بیٹھئ۔ہاتھ بڑھا کر تصویر کو دیکھا۔ 

    یہ اسکی اور سجاد کی وہی منگنی کی تصویر تھی جس کی ایک نقل لائونج میں بھئ لگی تھئ۔ 

    اسے یاد تھا منہ پھلائے پڑی تھی بستر پر جب امی تصویریں لیکر اسکے کمرے میں آئی تھیں۔ 

    بتائو کون کونسئ فریم میں لگوانی ہے۔ 

    اس نے شاکی نگاہ سے دیکھا۔۔ 

    یہ۔ انہوں نے تصویر دکھائی۔ 

    یہ واحد تصویر تھی جس میں اس نے نگاہ اٹھا کر کیمرہ مین کو دیکھا تھا۔ شاکی نظریں کیمرہ مین جو مسلسسل اس سے نگاہیں اٹھانے کو کہہ رہا تھا اسکے بعد ایک بار بھی نہیں بولا تھا۔ 

    اس نے انہی نظروں سے امی کو دیکھا جوابا وہ دانستہ نظر انداز کرتی وہی تصویر منتخب کر کے فریم کروآ کرگھر کے ہر کونے میں لگا چکی تھیں۔۔ 

    کوئی اور تصویر فریم کروا لیتیں ۔اس میں تو میں ٹھیک ٹھاک دکھی لگ رہی ہوں۔ 

    وہ تاسف سے بڑبڑائی پھر فریم الٹ کر رکھ دیا۔ 

    اللہ تو ہی بتا دے کیا کروں۔ پوچھوں یا نا پوچھوں۔  

    کہنیاں میز پر ٹکا۔ کر اس نے دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا۔ 

    یہ خوب رہی پر کاٹ دو پھر کہو بیٹا اونچی اڑان لے لو۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

    اسے غصہ آگیا۔تو سیدھئ ہو بیٹھئ۔  

     اسکا لیپ ٹاپ یہیں رکھا تھا۔ اس نے کھول کر اپنا بلاگ اپڈیٹ کرنا شروع کردیا۔ وہ آن لائن سافٹ وئیر استعمال کرکے اردو لکھا کرتی تھی۔ وہی کھولا۔ 

    حالیہ بلاگ اسی وییڈیو پر لکھنے لگئ۔

    نیپال میں ایک طویل عرصے سے ایک رواج ہے کماری کا۔ یہ رسم نیپال کی بہت سی مزہبی رسومات میں سے ایک ہے۔

    کچھ عرصہ قبل بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی نے اس پر مکمل رپورٹ تیار کی تھی جو میں نے دیکھی۔ رسم کا نام ہے کماری۔

    ہوتا کچھ یوں ہے کہ نیپال کے معزز اور مزہبی گھرانوں میں سے ایک نوزائدہ بچی کو چن کر خطاب دیا جاتا ہے کماری کا۔اور پھر وہ بچی اعلی درجے کے مندر کو سونپ دی جاتی ہے۔ اس مندر میں اس بچی کی پرورش راجکماریوں کی طرح کی جاتی ہے اسکیلئے اونچی زات کا پنڈت یا مجاور جو بھی اس مندر سے منسلک ہو اسکا خدمت گار ہوتا ہے۔جواس بچی کے اٹھنے بیٹھنے سونے جاگنے کھانے پینے کا خیال رکھتا ہے۔ اس بچی کے پیر زمین پر لگنا بد شگونی سمجھا جاتا یے۔ روز اس بچی کو سجا سنوار کر اونچے سنگھاسن پر بٹھا دیا جاتا ہے جہاں اسکا سارا دن واسطہ عقیدت مندوں سے پڑتا ہے جو اسکے قدموں کو چھو کر اپنے اچھے نصیب کیلئے اس سے آشیرباد یا دعا طلب کرتے ہیں۔بچی سارا دن سج سنور کر آنے والوں کو تبرک بانٹتی ہے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنی نیک تمنائیں دیتی ہے۔ صرف ایک قصبے یا شہر کی بات نہیں سب سے اعلی درجے کی کماری جو کہ نیپال کی حکومت کے سرپرست مندر سے منسلک ہو تو پورا ملک اس بچی کو دیوی مان کر پوجتا ہے۔تہواروں پر جب سب بچے کھیلتے کودتے نئے کپڑے پہن کر چیزیں کھاتے کھلاتے نظر آتے ہیں یہ کماری بچپن کی سب ننھی منی خواہشوں کو دباتی کھیل کود سے بے نیاز اپنا بچپن کا سنہرا دور بھگتوں کو آشیر واد دیتے گزارتی ہے۔ اس بچی کو مندر میں رکھا جاتا ہے تو ظاہر ہے اسکے والدین بہن بھائی بھی اس سے ملاقات وقت کے وقت ہی کر پاتے ہیں۔یوں عام بچوں کے برعکس یہ بچی تنہا اور دنیاوی ہر شے سے کٹ کر تارک الدنیا کی سی زندگی گزارتی ہے۔ کماری رسم کے اوائل میں یہ بھی رواج تھا کہ کماری کو دنیاوی تعلیم سے بھی دور رکھا جاتا تھا۔دوست سہیلی کیا ہوتے ایسی بچی نہیں جانتی۔ مگر کیا اسکی ساری زندگی بھگتوں کا ناچ دیکھتے انہیں آشیر باد دیتے گزر جاتی ہے؟

    جواب ہے نہیں۔ یہ شاہانہ مگر قابل رحم طرز زندگی اسے بس اس وقت تک سہنا ہے جب تک وہ بالغ نہیں ہو جاتی ہے۔ بچی کے لڑکپن کو چھوتے ہی اس سے یہ خطاب واپس لے لیا جاتا ہے۔ اسے نجس سمجھتے ہوئے اس دنیا کی عام سی لڑکی بنا دیتے ہیں۔ یہ عام سی لڑکی اپنے والدین کے گھر میں اپنی عام سی زندگی شروع کرتی ہے اور کسی اور اونچے گھرانے کی کسی اور بچی کو کماری چن لیا جاتا ہے۔ اب اس بچی کا حال کیا ہوتا ہے جو دنیا میں بالغ ہو کر واپس آئی ہے نہ دنیا کے گورکھ دھندے کی خبر نہ ہی کوئی علم و ہنر سے آراستہ۔ اس لڑکی کیلئے زندگی کے راستے محدود ہیں۔اس لڑکی کو کماری کا درجہ چھنتے ہی منحوس کا درجہ مل جاتا ہے اور اس سے شادی کرنا بد بختی سمجھا جاتا ہے۔ایسا بھی ہوا ہے کہ ماضی کی کماری کی بقیہ زندگی جسم فروشی یا بھیک مانگتے گزری۔تاہم اب جدید دور کی مناسبت سے کماری کو مندر کے اندر ہی تعلیم دینے کا اہتمام کیا جاتا ہے مگر اسکے باوجود پچھلے کچھ سالوں کی کماریاں اپنی زندگی سے خوش نظر نہیں آتیں۔ ایک کماری کا کہنا تھا کہ پچھلی زندگی اسے سہانہ خواب محسوس ہوتی ہے اور اسے جدید دور میں دنیا کے ساتھ قدم بڑھاتے بہت دشواریوں کا سامنا رہا جن میں اچھی نوکری ، اچھا رشتہ نہ ملنا اور لوگوں سے ٹاکرا نہ ہونے کے باعث انکی چالاکیاں سمجھ میں نہ آئیں اور دھوکے بھی کھائے۔

    یوں آٹھ دس یا بارہ چودہ سال کی قابل رشک حد تک خدمت لینے کے بعد کماری راجکماری کے سنگھاسن

    سے اٹھا کر زمین پر پٹخ دی جاتی ہے۔۔ یہ کہانی کیوں سنائی؟ 

    اس نے لکھتے لکھتے سوچا۔۔ 

    اسلیئے کہ آج مجھے بھئ ایسا ہی لگا ہے میں کسی سنگھاسن سے اٹھا کر ذمین پر پٹخ دی گئ ہوں۔۔۔ 

    اس ملک میں لڑکیوں کے خواب نہیں ہونے چاہیئے بلکہ اس ملک میں لڑکیوں کو ہی نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔

    اس نے لکھا اور پوسٹ کردیا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پہلا کمنٹ

    اوہو چوٹ تو نہیں آئی ایڈمن ؟ ہلدی دودھ پی لو۔۔۔۔۔ 

    دوسرا کمنٹ۔۔ 

    کاش میں نیپال کی کماری ہوتا۔ ہر وقت سب کو آشیر باد دیتا۔ کوئی ٹیڑھئ نگاہ ڈالتا شڑاپ بھی دے ڈالتا۔ پر میں تو پاکستانی لڑکا ہوں۔۔ صبح جسے یونیورسٹی جانا ہے۔۔۔۔ سو سونے دو ۔۔۔ 

    تیسرا کمنٹ۔ 

    نہیں لڑکیوں کو ہونا چاہیئے ورنہ ہمارا کیا ہوگا۔ اتنی محنت 

    سے انجینئر اس لیئے تھوڑی بن رہا کہ کنوارا مر جائوں۔ 

    چوتھا کمنٹ۔ 

    خواب دیکھیں یا لکھیں مگر آنکھیں کھول کر۔ خواب کو جواب لکھ دیا ہے آپ نے۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے دانت کچکچا کر کمنٹس پڑھے ۔۔۔ 

    ایک تو مجال ہے کوئی سنجیدہ با شعور انسان میرا بلاگ کبھی پڑھ لے۔ 

    وہ سر جھٹک رہی تھی مگر ایڈٹ کھول کر جواب کو خواب بھی کردیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔ 

    جاری ہے۔۔ 

    Kesi lagi aapko Salam Korea ki pehli qist? Rate us below

    Rating

  • Corona aur katrina kahani episode 6

    کرونا اور قطرینہ کہانی

    قرنطینہ میں بہن بھائیوں کا حال۔

    امی شمسہ خالہ سے بات کر رہی تھیں دو گھنٹےہونے کو آئے تھے وہ جلے پیر کی بلی کی طرح ادھر سے ادھر گھومتا پھر رہا تھا۔ پہلے اپنے کمرے میں جھانکا۔ دانی کی کلاس چل رہی تھئ دروازہ کھلنے پر ایسی خشگمیں نگاہ ڈالی کہ وہ جھٹ بند کرکے دروازے سے ہی لگ کر سانس بحال کرنے لگا۔ 

    بہت ڈرونے ہو بڑے بھیا۔۔ وہ سینے پر تھپک تھپک کر آل از ویل بھی پڑھ رہا تھا۔ 

    اب ثانی کے کمرے کی باری تھی۔ اس نے ناک کیا تو اس نے مصروف سے انداز میں ہی جواب دیا۔ 

    آجائیں۔ وہ جھٹ اسکے پاس آبیٹھا۔۔ آج کپڑوں کی ڈیزائننگ کی بجائے کچھ نیا ہی ہو رہا تھا۔ مگر اسے تندہی سے سلائی پر سلائی کرتے دیکھ کر بھی اسے ککھ سمجھ نہ آیا کیا بن رہا تو پوچھ بیٹھا۔ تکونا چمڑا نیچے ایک جانب سے بیضوی شکل میں کاٹ کر اسکو گولائی میں سی رہی تھی۔ 

    کیا کر رہی ہو۔ ؟؟ اس نے اشتیاق سے پوچھا

    ثانیہ نے منہ چلانے کی بجائے سامنے تکیئے سے ٹک کر کھڑے موبائل کی جانب اشارہ کیا۔ 

    موبائل پر پانچ منٹ کرافٹ کی ویڈیو چل رہی تھی جس میں وہ چمڑے سے چھوٹا سا پرس بنانا سکھا رہے تھےجسکی دیکھا دیکھی اب ثانیہ اپنی منی مشین سے امی کا پرانا پرس کاٹ کر اسکئ چمڑے سے نیا پرس بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔

    کوشش پوری کرنے کے باوجود بھی اتنا صاف اور خوبصورت دکھائی دینے والا نہیں بن رہا تھا۔ بلکہ اسکی دو ایک سلائیاں بھی ترچھی تھیں۔

    میں کوشش کروں۔ کاشی نے کہا تو اس نے جھٹ مشین کا رخ اسکی جانب کر دیا۔ کمر تختہ ہو گئ تھی جھکے جھکے۔ 

    دانی بھائی کیا کر رہے ہیں۔۔ ؟ 

    ثانی کے پوچھنے پر اس نے مصروف سے انداز میں بتایا

    پڑھ رہا ہے آن لائن کلاس ہو رہی اسکی۔ 

    اور آپ کیوں نہیں پڑھ رہے؟ اس نے جھٹ اعتراض جھاڑا

    کیونکہ میری آن لائین کلاسز نہیں ہو رہیں۔۔ 

    وہ ان مشین سے نکال کر اس چمڑے کو بہتر شکل دینے کا نیا طریقہ سوچ رہا تھا۔ 

    آپکی کیوں نہیں ہو رہیں؟؟ 

    ثانی کو بھائی کے مستقبل کی فکر ہوئی

    کیونکہ ہماری آدھی سے ذیادہ کلاس نے آئوٹ آف سٹی ( شہر سے باہر) ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے کہا کہ لاک ڈائون کے باعث وہ سب اپنے آبائی گھر جا چکے ہیں جہاں انٹر نیٹ کی سہولت میسر نہیں۔ 

    واقعی؟؟ ثانیہ کو شک گزرا وہ بھی صحیح

    ہاں ایک دو تو واقعی گائوں میں پھنسے ہیں اس نے مطمئن سے انداز میں بتایا 

    اور باقی ؟ 

    ان سب نے بہانہ بنایا ہے مگر چونکہ اکثریت کا مسلئہ تھا لہذا فی الحال یونیورسٹی نے حتمی فیصلہ نہیں کیا 

    اس چمڑے کا کچھ بھی بن سکتا سوائے پرس کے۔ وہ اس نتیجے پر اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے کے بعد با آسانی پہنچ گیا تھا

    یہ کیا بات ہوئی 4 جی 3 جی تو سب گائوں تک جا چکا ہے نئی سم لے لیں پیکج کرائیں یوں تو آپکا کافی حرج ہوگا۔ جو آن لائن کلاسز لے سکتے ہیں کم از کم انکو تو پڑھائیں۔

    ثانیہ نے کہا تو وہ مسکرا دیا

    تمہیں لگتا یے یہ اتنا آسان ہے؟ میری آدھی کلاس پارٹ ٹایم کہیں نوکری کرتی ہے اپنے خرچے نکالنے کیلئے۔اس لاک ڈائون کی وجہ سے گھر بیٹھے ہیں۔ گھر بیٹھے ہیں تو پیسے نہیں ہیں، کھانے پینے کی فکر لگی ہے انکو ، آن لائن کلاس کم از کم بھی 3 جی کنکشن پر جاری رہتی ہے مگر انٹر نیٹ پیکجز موبائل کے اتنے مہنگے ہیں کہ ہر کوئی انکو افورڈ نہیں کر سکتا ، یہ وائی فائئ بس بڑے شہروں میں ہے  وہ بھی بس دو ایک سروس پرووائڈر ہیں جو کسی چھوٹے شہر سے ہو یا گائوں گیا ہوا ہو کیا کرے گا وہ؟ ہمارا ایک بھی کلاس فیلو ہم چند طلبا جن کے والدین انکو سب سہولت فراہم کر سکتے ہیں کی وجہ سے اپنا سیشن ضائع کرے یا ہم سے پیچھے رہ جائے کیا ہمیں ایسا کرنا زیب دیتا ہے؟

    پھر اس  طرح تو سب کو نقصان ہوگا۔ وہ قائل ہوئی

    سب بچوں کا مستقبل کا سوال ہوگا تو یونیورسٹیز کو یکساں قانون یا نظام لانا ہوگا کسی ایک سے ذیادتی تو نہیں ہوگی۔ ثانی ہمارے دوست اپنے گھر والوں سے دور ہاسٹل میں رہتے گھر والوں پر بوجھ نہ بننے کیلئے چھوٹی موٹی نوکریاں تک کرتے ہیں اس ڈگری سے انکو کیا کیا امید نہ ہوگی سب چھوڑو ہمارا گھر اپنا ہے ابو کی سرکاری نوکری ہے مگر ابو دو بچوں کو یونیورسٹی نہیں پڑھا سکتے۔میری فیس امی کی کمیٹئ سے گئ تھئ اور اس سمسٹر کیلئے میں نے دو مہینے کال سینٹر میں جاب کی۔ 

    کاشی کے منہ سے روانی میں نکل گیا تھا ثانی نے آنکھیں پھاڑیں

    واقعی بھائی؟ جبھی آپ راتوں کو دیر سے آتے تھے ابو نے آپکو کتنا ڈانٹا بھی تھا 

    آن ۔۔۔ ہاں ۔۔ وہ گڑ بڑایا۔۔ اب بتا مت دینا امی ابو کو میں اور دانی ان پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے اگر انکو پتہ لگ جائے گا تو وہ صاف منع کریں گے کہ بس پڑھائی پر دھیان دو

      میں نے تو چلو بی ایس میں آ کر پارٹ ٹائم جاب کی۔ دانی تو میٹرک سے ٹیوشنز وغیرہ کرتا رہا ہےابھی بھی یو ٹیوب کا گیمنگ چینل چلاتا یے توسافٹ ویئر انجیئرنگ کا خرچہ پورا ہوتا ہے۔

    بھائی آپ دونوں کتنے کار آمد ہو اور میں کتنی ناکارہ ایک یہ پرس بھئ نہیں بنا سکی۔  ثانیہ کے انداز میں رشک اور مایوسی تھی۔

    یہاں پر کار آمد کچھ جچا نہیں کیا کہتے ہیں یہاں۔۔ وہ سوچ میں پڑا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کچھ نہیں کہتے۔ کیا کہنا۔ کہتے ہیں بڑے ہوگئے ہیں اب کیا مار کٹائی کروں مگر زرا جو باپ والا رعب رکھیں ۔ ہم تو ابا جی کی ایک نگاہ اٹھتی تھی دبک جاتے تھے مگر آج کل کی ۔ ایک نمبر کی نکمی اولادیں ہیں۔ بس موبائل دے دو لیپ ٹاپ دے دو۔ آگے سے شمسہ نے کیا کہا کہ وہ گڑ بڑا کر موبائل دیکھنے لگیں۔اپنے کمرے میں بیڈ پر سکون سے بیٹھ کر بات کر رہی تھیں۔ میاں باہر گیلری میں پودوں کو پانی دینے میں مصروف تھے۔ 

    ہاں یہ کاشی کا ہی ہے میرے موبائل کا بتایا تو تھا بیٹری خراب ہے۔ کاشی گیا تو تھا دو ایک بار لینے مگر دکانیں ہی بند ہیں۔ہاں چلو ٹھیک ہے آرام کرو پھر بات ہوتی ہے خدا حافظ۔۔۔

    فون بند کر کے وہ ایک طرف رکھنے ہی لگی تھیں کہ یکے بعد دیگر کئی نوٹیفیکیشن آئے انہوں نے یونہی کھول کر دیکھ لیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ دیکھو ذرا  قطرینہ کیسا گھر کا کام کر رہی ہے۔۔ جھاڑو پوچھا بھی کرتی ہے یہ تو بہت سگھڑ نکلی۔

    امی بڑے جوش سے دروازہ کھولتی انہیں بتانے آئی تھیں

     کاشی اور ثانی اپنی اپنی جگہ اچھل پڑے تھے۔

    امی ان کے تاثرات سے بے نیاز بڑے جوش سے کاشی کے موبائل کی تصویر ثانی کو دکھا رہی تھیں۔کاشی کی سانس رکی ہوئی تھی۔ 

    ایویں امی تصویر کھنچوانے کیلئے پوز مار رہی ہے ورنہ کیسا چم چم کرتا فرش ہے۔ ثانیہ نے تصویر دیکھ کر منہ بنایا۔  امی قطرینہ کیف کی ہی تصویر دکھا رہی تھیں۔۔چم چم کرتے فرش پرہنستی مسکراتی پوچھا لگاتی قطرینہ کی مشہور زمانہ تصویر

    دکھائیں۔ کاشی نے تھوک نگل کر ڈرتے ڈرتے کہا۔ امی نے موبائل واپس کیا تو جان میں جان آئی۔ 

    میرےچارجر کا کچھ کرو تمہارے ابا ہر وقت اپنا چارجر لگائے بیٹھے رہتے ہیں یہ ثانی کو الگ تکلیف ہوتی ہے ماں  کو ذرا سا چارجر دیتے ہوئے۔ بور ہو کر رہ گئی ایک ہفتے سے کیںڈی کرش بھی نہیں کھیلا۔ 

    امی ہونٹ لٹکا کر بولیں تو دونوں بچوں کا دل پگھل گیا۔ 

    ارے تو ابھی کر لیں نا چارج ابھی میرا موبائل فل یے۔

    ثانی نے اٹھ کر ماں کے گلے میں بانہیں ڈال لیں تو کاشی فورا اٹھ کھڑا ہوا 

    میں ابھی چارجر ڈھونڈنے جاتا ہوں۔ اس نے جذباتی ہوکر فورا چپل پائوں میں پھنسا لی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح سے ماما بابا بھائی بہن ایک ایک دروازہ کھٹکا کے جا چکا تھا اسکی ایک ہی قطعی سی ناں تھی ۔ سب تھک ہار کر اسے اس کے حال پر چھوڑ کر بیٹھ گئے تھے۔ ماما دوپہر کا کھانا لیکر آئیں تو دروازے کے باہر زمین پر رکھ کر جانے کا کہہ دیا۔ جب یقین ہوگیا کہ وہ جا چکی ہیں تب ذرا سا دروازہ کھول کر ٹرے اندر کر لی۔

    دال چاول کھا کر برتن واپس کرنے لگی تو خیال آیا کہ برتن تو اسکے جھوٹے ہیں۔ اپنا چمچ پلیٹ اور پانی کا گلاس لیکر ملحقہ غسل خانے میں گھس گئ ۔ سرف سے برتن دھوئے ناک منہ دوپٹے سے اچھی طرح ڈھانپا کمرے میں آئی ہلکا سا دروازہ کھول کر باہر جھانکا کوئی نہیں تھا۔ اس نے اطمینان کی سانس لیتے ہوئئ دروازہ پورا کھولا تو جانے کہاں سے بابا ماما چھوٹی بہن چھوٹا بھائی مکھیوں کی طرح نکل کر سامنے آکھڑے ہوئے۔۔ اسکے ہاتھ سے برتن چھوٹتے چھوٹتے بچے۔ 

    شکر ہے تم نکلیں تو باہر۔ ماما فرط جزبات سے مغلوب ہو کر آگے بڑھیں۔ 

    مجھ سے دور رہیں۔ اس نے ٹرے ہی آگے کر کے انکو روکا کہ کہیں گلے نہ آ لگیں۔کہتے کہتے بھی دو چھینکیں آگئیں اسے۔ کہنی سے منہ ڈھانپ کر اس نے چھینکا۔۔

    کیا ہو گیا ہے بیٹا صرف دو چھینکوں پر اتنا پریشان۔ 

    بابا پریشان تھے اسکی وجہ سے۔ ماما نے مایوس ہو کر ٹرے تھام لی۔ 

    یہ کرونا ہوا تو؟ اسکی آواز سوچ کر ہی بھرا گئ تھی۔

    آپ سب کو اتنا منع کیا تھا۔ آہ چھوو۔۔ مت جائیں مدیحہ آنٹی کے گھر انکا بیٹا۔ آچھو۔۔ اٹلی سے آیا ہے۔ اور قرنطینہ میں جانے کی بجائے۔ کھوں کھوں۔۔۔ اب کھانسی بھی شروع ہوگئ تھی۔ 

    سب کو اپنے گھر دعوت دے رہا ہے کھانے پر کوئی تک بھلا۔۔ 

    آچھو۔ 

    خود کو بھی ہوا اور پورے گھر کو بھی کروا دیا۔ 

    وہ رودینے کو تھئ۔ 

    مگر آپی ممی بھی تو آپکے ساتھ گئ تھیں انکو تو کچھ نہیں ہوا۔ 

    سدید اسکا چھوٹا بھائی اسے سمجھا رہا تھا۔ 

    میں تو ممی کو بھی کہہ رہی ہوں سب سے دور رہیں ہم دونوں کو اگلے پندرہ دن قرنطینہ میں آہ چھو۔ رہنا چاہیئے۔ خدارا مان لیں بات سب بیمار ہو جائیں گے ہم ورنہ۔۔ 

    وہ کہتے کہتے رو دی۔ اسکے لیئے کونسا آسان تھا ایک کمرے میں بند ہو کر رہنا ۔ 

    مگر آپی میں کہاں جائوں میرا بھی تو یہی کمرہ ہے۔ 

    مرینہ منمنائی۔

    گیسٹ روم میں چلی جائو۔ اور خدارا اب مجھے کوئی باہر نکلنے پر مجبور نہ کرے۔

    اس نے کہہ کر دروازہ زور سے بند کیا اور خود اسی سے ٹیک لگا کر گھٹنوں میں منہ دے کر رو دی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پوری مارکیٹ میں ایک ہی موبائلوں کی دکان کھلی تھی۔ وہ جھٹ گھس گیا۔ 

    بس ایک ہی چارجر چاہیئے۔۔ 

    دکاندار نے پوچھتے ہوئے چارجر نکال کر سامنے رکھا تو وہ کسی سوچ میں پڑ گیا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کہاں سارا دن کمرے میں بند موبائل استعمال کرتے وقت گزرتا تھا کہاں اب ایک دن کمرے سے نہ نکلنے کا فیصلہ کیا تو وقت کاٹنا مشکل ہو گیا۔ 

    چار گھنٹے مستقل موبائل سے لگے لگے بیٹری کی آخری حد تک مکا دینے کے بعد جب گھڑی پر نگاہ پڑی تو شام کے سات بجے تھے۔ 

    باہر سب ٹی وی لگائے بیٹھے تھے۔ خوش گپیوں کی آوازیں دل مچل مچل رہا تھا ۔۔ ماسک پہن کر زرا سا دروازے کی جھری سے باہر جھانکا تو وہاں سب نگٹس اڑا رہے تھے۔ 

    اکیلے اکیلے نگٹس۔ اسے رونا آگیا۔ دروازہ بند کرکے وہیں دروازے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔ 

    آج کمرے میں بند ہوں تو کسی کو خیال بھی نہ آیا کہ نگٹس مجھے بھی پوچھ لیں۔ایسے ہر دفعہ یہ مرینہ کی بچی نگٹس تل کر لا لا کر سامنے رکھتی تھی آپی چکھ لیں ۔۔ اور میں۔  

    اسے یاد آیا۔ 

    وہ مسہری پر دراز ہینڈ فری کانوں میں ٹھونسے موبائل میں مگن اپنے پسندیدہ ترکی ڈرامے کو سب ٹائٹلز کے ساتھ دیکھ رہی تھی کہ نگٹس کی پلیٹ ایکدم اسکے سامنے آگئ۔

    میں ڈائٹنگ کر رہی ہوں اسٹوپڈ کتنی بار کہا ہے مت میرے سامنے بیٹھ کے یہ سب الا بلا کھایا کرو اور تم خود بھی مت کھایا کرو میٹرک میں آگئ ہو اور اپنا پیٹ دیکھو کتنا باہر نکل رہا عجیب لڑکی ہو مٹاپے سے ڈر ہی نہیں لگتا ہروقت کھاتی رہتی ہو۔

    کھلاتئ بھی تو ہوں سب کو دے کر آئی ہوں یہ آپکا حصہ۔ 

    مرینہ کو نیا نیا پکانے کا چسکا لگا تھا ۔کچھ نہ کچھ یو ٹیوب سے دیکھ کر بناتئ رہتی تھی نگٹس تو ہر دفعہ کچن میں مرینہ کو دس منٹ سے ذیادہ وقت لگےتو بن کر تیار ملتے تھے قطرینہ کو۔مگر اسے اچانک وہم ہوا تھا کہ اسکی توند نکلنے لگی ہے سو جھٹ نفی میں منڈیا ہلا دی

    مجھے نہیں کھانا میرا خود بخود وزن بڑھ رہا ہے میں ڈائٹ کر رہی ہوں اور اب یہ میرا حصہ بھی تم مت کھا جانا تم کونسا دبلی پتلی ہو ڈھول بنتی جا رہی ہو۔۔

    آپی بس کرو اتنی سی توند نکلی ہے اس پر اتنا پریشان ہو۔ ہر ڈائٹ کرنے والا چیٹ ڈے تو مناتا ہی ہے آپ نے تو بالکل مرغی کا بائکاٹ کر رکھا ہے۔ 

    چڑ کر کہتے ہوئے مرینہ نے دو نگٹس اکٹھے منہ میں ڈالے 

    تھے اور وہ منہ کھول کر اسے دیکھتئ رہ گئ پھر بھنا کر چیخی

    اٹھو باہر جائو تمہیں تو کھاتے دیکھ کر ہی مجھے لگ رہا ہے کہ میرا وزن بڑھ جائے گا۔ 

    اس نے باقائدہ اسے کندھوں سے پکڑ کر کمرے سے نکالا تھا۔ 

    اور آج۔ وہ اداس سئ ہوگئ۔ 

    چلو دو دن  سے ویسے ہی رمضان شروع ہورہا ہے اچھا ہے قرنطینہ میں روزے رکھ میرا وزن کم ہوجائے گا ۔قرنطینہ میں تو ہوں اعتکاف میں ہی نہ بیٹھ جائوں اس بار۔ 

    اسے انوکھا خیال سوجھا۔ تبھی دروازہ زوردار کمر میں لگا  وہ بلبلا سی گئ۔ 

    ہائے بد نیتئ پر سزا ہی مل گئ فورا۔  وہ کمر سہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ باہر مرینہ دروازے کو کندھے سے زور لگا رہی تھی۔ اس نے فورا منہ ڈھانکااور باہر جھانکنے لگی۔ 

    کہاں اٹک رہا ہے دروازہ۔ بڑ بڑاتئ مرینہ ٹرے میں نگٹس اور کوک کا گلاس رکھے کھڑی کندھے کے زور سے دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔ آخر جھلا کر دوبارہ ہیںڈل گھمانے کیلئے ٹری کو ایک ہاتھ میں تھام کر ہاتھ بڑھایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔ 

    یہ لو۔ میں اندر نہیں آرہی اور دیکھو تم سے ملنے کیلئے ماسک بھی پہن کر آئی ہوں اب یہ کھا لو۔بھلے رات کو کھانا نہ کھانا مجھے پتہ ہے تمہیں دل سے دال چاول نہیں پسند۔ 

    اسے دیکھتے ہی مرینہ نے جلدی سے پائوں دروازے میں اڑا کر بولا تھا کہ کہیں دروازہ نہ بند کردے۔

    چھوٹی بہن کے اس پیار پر اسکی حقیقتا آنکھیں نم ہو گئیں۔ 

    ہاتھ بڑھا کر چپ چاپ ٹرے پکڑ لی۔ 

    اور کچھ چاہیئے۔ 

    اس نے مشکوک نگاہ سے دیکھا خلاف معمول خاموشی۔۔ 

    نہیں۔ قطرینہ کچھ کہتے کہتے رک گئ۔ 

    اچھا۔ مرینہ کندھے اچکا کر پلٹنے کو تھی کہ بے اختیار قطرینہ پکار بیٹھی۔ 

    مرینہ۔ شکریہ۔ آئی رئیئلی لو یو۔ 

    برا ہو اس موٹیویشنل اسپیکر کا جس نے قرنطینہ میں اپنوں کو شکریہ ادا کرنے اور انکی۔محبتوں کو حق کی طرح وصول کرنے کے بعد انکا احساس کرنے کی ترغیب دی۔ جذبات سے مغلوب قطرینہ نے انا بالائے طاق رکھ کر اپنی چھوٹی بہن کو شکریہ کہہ ڈالا۔ 

    مرینہ کی بڑی بڑی آنکھیں پھیلیں۔ گول گھومیں۔ ایسا تب ہوتا تھا جب وہ دماغ کو ضرورت سے ذیادہ استعمال کرکے کسی بات کے خود ساختہ نتیجے پر پہنچ جاتی تھی۔ قطرینہ دروازہ بند کر رہی تھی جب مرینہ کو کسی انہونی کا ادراک ہوا۔ 

    نو وے تم میرا بلو ٹاپ پہن کر ٹک ٹاک ویڈیو تو نہیں بنانے لگیں؟ قطرینہ مجھے تم دس بار بھی آئی لو یو کہو گی تو بھی نہیں دینے والی میں ۔ میں نے تمہیں پہلے بھی منع کیا تھا جتنا مرضی مکھن لگا لو میں اپنا ٹاپ نہیں دوں گی سمجھیں۔

    کیا۔ قطرینہ اسکی سوچ کی اڑان پر بھونچکا رہ گئ

    قطرینہ میری الماری میں مت گھسنا میں کہے دیتی ہوں۔

    مرینہ بلبلا کر ساری احتیاط بالائے طاق رکھ کر دروازے کی جانب بڑھی قطرینہ نے ارادہ بھانپ کر جلدی سے بند کرکے کنڈی لگا لی  

    قطرینہ کی بچی خوب سمجھتی ہوں یہ قرنطینہ کا بہانہ کرکے میری وارڈروب استعمال کروگی۔ کھولو دروازہ مجھے اپنے کپڑے لینے ہیں۔ 

    مرینہ دروازہ پیٹ رہی تھی۔ 

    میں نہیں کھولنے والی اور صرف بلو ٹاپ نہیں پرپل ریڈ اورنج سب پہن کر قینچی سے کاٹ کر رکھوں گی۔ 

    بیڈ پر ٹرے رکھ کر اس نے اطمینان سے آلتی پالتی ماری نگٹس منہ میں رکھا کوک کا گھونٹ لیا پھر ہانک لگائی گرم گرم بہت مزے کے لگ رہے تھے۔ 

    ممی دیکھیں قطرینہ کو۔میرے کپڑے پہن کر ٹک ٹاک بنا رہی ہے۔ اسکی دھمکی پر مرینہ روہانسی ہو کر شکایت لگانے بھاگی۔ 

    ایویں آئی لو یو بولا اس قابل ہی نہیں ہے یہ عوام عزت کے۔ 

    وہ برے برے منہ بنا رہی تھی ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد جاری ہے

  • Corona aur katrina kahani episode 5

    کرونا اور قطرینہ کہانی قسط 5

    خود اختیاری احتیاطی قرنطینہ اور ٹک ٹاک

    You cant live the life of a teenager at mature age but unfortunately every teenager wants to live adulthood. try to live your age

    اس تینوں نے مل کر سارے ہی ماسک بانٹے تھے اور تین منٹ کی ویڈیو بنائی تھی۔ یہ ویڈیو بھی سارے گزشتہ ریکارڈ توڑتی چلی گئ تھی۔ ہاں انکے علاقے میں مستقل آنے والے تمام پھیری والے اب ماسک پہن کر گھومتے تھے ۔ اسکی ویڈیو یو ٹیوب پر مستقل ٹریںنڈنگ میں آنے سے اسکا ایڈ سینس اکائونٹ بھی منظور ہو گیا تھا۔ یہ کام دانی پہلے سے کر رہا تھا اسکا گیمنگ چینل تھا اب ان دونوں چھوٹے بہن بھائیوں کو اسکی جانب سے ڈھیر سارے مشورے اور حوصلہ افزائی مل رہی تھی۔ وہ ٹھیک ٹھاک پرجوش تھا۔ اس وقت انکو سوشل میڈیا اکائونٹس بنا بنا کر دے رہا تھا فیس بک پیج ٹوئٹر اکائونٹ ۔ لیپ ٹاپ کھولے وہ کھاتے کھول رہا تھا یہ دونوں دائیں بائیں بیٹھے خوش خوش سے بیٹھے تھے۔ 

    اس چینل پر معلوماتی ویڈیوز ڈالتے جانا دیکھنا ٹھیک ٹھاک پیسہ ملا کرے گا دونوں کی پاکٹ منی سے ذیادہ ہوگا یہ۔

    دانی نے انکو جوش دلانے کو کہا

    بھائی ٹک ٹاک پر بھی پیسے ملتے ہیں پتہ ہے آپکو۔میری سہیلی ٹک ٹاک استعمال کرتی ہے اسکا تو آئی فون نکلا تھا۔ 

    ثانی نے بتایا تو دانی نے سر سری سے انداز میں پوچھا 

    اچھا کیا نام ہے اسکا؟

    سنہری چڑیا۔ 

    دانی کا لیپ ٹاپ پر تھرکتا ہاتھ رکا کاشی کی مسکراہٹ مدہم پڑی کاشی نے چونک کر اسے دیکھا 

    وہ مزے لیکر بتا رہی تھئ

    اسکے ملینز میں فالوورز ہیں۔ لوگ اسکو اتنا پسند کرتے ہیں۔ اسکی ویڈیوز دیکھیں اتنے مزے کی بناتی ہے گانوں پر لپ سنک کرتی یے میک اپ کرتی ہے بڑا مزا آتا ہے آپکو دکھاتی ہوں

    اس نے جوش سے اپنے موبائل میں اسکا کھاتہ کھول کر دکھایا۔ اسکی ویڈیوز پر لاکھوں تبصرے اور پسندیدگیاں تھیں واقعی وہ کافی مشہور تھی مگر اپنے نہایت بے باک انداز اور کپڑوں کی وجہ سے بے تحاشہ تنقید کی زد میں بھی رہتی تھئ۔ بے تحاشہ گوری رنگت والی وہ لڑکی کہیں سے بھی پندرہ سولہ سال کی نہیں لگ رہی تھی بلکہ اکثر زومعنی مکالموں پر آنکھیں مٹکا کر بولتی تو اپنی عمر سے کہیں بڑی دکھائی دیتئ۔ سوشل میڈیا پر اسکا ٹھیک ٹھآک مزاق بھی اڑایا جا رہا تھا۔ اسکی ویڈیوز اور اس پر لوگوں کے گھٹیا تبصرے ان دونوں نے دیکھ رکھے تھے مگر انکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ثانی کی دوست نکلے گی وہ۔ 

    یہ ہم نے اسکول میں بنائی تھی۔میں نے اور رابی نے رابعہ نام ہے اسکا۔۔ ٹک ٹاک پر سنہری چڑیا کے نام سے ہے۔۔اس نے وضاحت کرتے ہوئے ڈھونڈ کر ایک ویڈیو نکالی۔۔

    مشہور ٹک ٹاک کا چیلنج جس میں چٹکی بجا کر تصویر کھنچوانی تھی الٹے سیدھے منہ بنا کر ۔ 

    ویڈیو میں دونوں بہت معصوم اور پیاری لگ رہی تھیں مگر ویڈیو کے نیچے لاکھوں کمنٹس ۔۔ 

    تم نے ٹک ٹاک بنوائی ہوئئ ہے اسکے ساتھ اور اس نے پبلک پر لگا رہی ہے ویڈیو۔ 

    کاشی کو ایکدم غصہ آیا تھا ۔ ثانی نے اپنی دھن میں اسکے تاثرات پر غور ہی نہیں کیا ہنس کر بتانے لگی

    ہاں تو میری بھی ٹک ٹاک پبلک ہی ہے اب تو میرے بھی پچاس ہزار فالورز ہوگئے ہیں۔  یہ دیکھیں میرا اکائونٹ۔ 

    اس نے اب اپنا اکائونٹ کھول کر دکھایا۔  وہ اکثر اپنی ٹک ٹاک انسٹا پر لگاتی تھئ اپنی سہیلیوں کزنوں وغیرہ کے ساتھ  اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا اس نے پبلک پروفائل بنا رکھا ہوگا وہ یہی سمجھتا تھاکہ انسٹا پر لگاتی ہے سو کبھی اعتراض بھی نہیں کیا۔ 

    کس خوشی میں پبلک پروفائل بنا رکھا ہے؟ کس سے اجازت لی تم نے؟ دماغ خراب تو نہیں ہے تمہارا؟ ابھی ڈیلیٹ کرو اپنا اکائونٹ۔ 

    کاشی غصے سے بھڑک کر بولا۔تو ثانی کا رنگ سا اڑ گیا اسے اپنے اتنے نرم مزاج سے بھائی سےیوں بھڑک اٹھنے کی امید نہیں تھی۔ دانی نے ثانی کے چہرے کو دیکھا تو کاشی کو ٹوکنے لگا

    آرام سے بات کرو کاشی۔ 

    آرام سے کیا بات کروں؟؟ کاشی کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔ 

    یہ سنہری چڑیا اسکی دوست ہے کتنی بدنام لڑکی ہے یہ کچھ پتہ ہے کیسے کیسے لوگ اسکے بارے میں بات کرتے ہیں یہ اس دوٹکے کی لڑکی کے ساتھ  ویڈیوز بنوا آئی ہے ہمیں پتہ بھی نہیں اوپر سے خود بھی اپنا اکائونٹ کھول رکھا ہے۔ کیا بننا ہے تم نے سنہری چڑیا جیسی لڑکی؟ کبھی یہ جو لاکھوں کمنٹس ہیں اسکے اکائونٹ پر کھول کر دیکھے ہیں کبھی کیسی گندی باتیں کرتے ہیں لوگ ان میں۔۔ 

    کاشی کا انداز ہنوز تھا۔ ثانی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔  

    کوئی دو ٹکے کی لڑکی نہیں ہے اسکے پاپا ایڈوکیٹ ہیں ۔۔ اور وہ۔۔ سسکیاں۔ 

    بہت اچھی لڑکی ہے اسکو مت کہیں ایسے۔  

    وہ ہاتھوں میں منہ چھپا کر روپڑی۔ دانی نے دانت کچکچا کر کاشی کو گھورا۔ 

    آرام سے بات نہیں کر سکتے رلا دیا اسے۔ 

    آرام سے بات کروں میں؟ کاشی بھنا کر اٹھ کر کھڑا ہوگیا

    امی ابا کو پتہ چلا تو جانتے ہو کیا ہوگا۔ انکو تو وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا اسکی ویڈیوز کون کون دیکھ کر کیا کیا باتیں ۔۔۔۔ 

    کوئی چھپ کر کچھ نہیں کرتی میں۔ 

    اسکے مسلسل سخت سست کہنے پر ثانیہ بھی چلا اٹھی

    امی ابو سب کو پتہ ہے میں ٹک ٹاک بناتی ہوں انکو دکھاتی بھی ہوں آپ دو چار دن سے گھر بیٹھیں ہیں تو حیران ہورہے ورنہ میں امی کے سامنے ابو کے سامنے ہی بنا رہی ہوتی ہوں امی تو انسٹا پر میری ہر ویڈیو پسند بھی کرتی ہیں ایویں آپ۔  وہ بولتے بولتے پھرروپڑی تھی۔ 

    کوئی چھپ کر نہیں کرتی میں ۔۔ نا ہی کچھ غلط کام کیا میں نے۔

    غلط کام نہیں تو پھر کیا ہے؟؟ وہ لڑکی خود تو بدنام ہے ہی تمہیں بھی کر دے گئ۔ اس سے کہو فورا اپنی تمہارے ساتھ والی ویڈیو ڈیلیٹ کرے۔  

    کاشی کا انداز ہنوز تھا۔  دانی ہونٹ بھینچے چھوٹے دونوں بہن بھائیوں کو دیکھ رہا تھا دونوں اسکی موجودگی کو بالکل بھلائے الجھ رہے تھے

    کیوں میں کیوں کہوں اسے ڈیلیٹ کرنے کو۔ آپکو کروانی ہے ڈیلیٹ تو میری ویڈیو ڈیلیٹ کروانے کی بجائے اپنی قطرینہ کی ڈیلیٹ کروائیں ملینز میں اسکے بھی فالورز ہیں۔ اس پر کوئی اعتراض نہیں آئے بڑے مجھ پر رعب جھاڑنے

    ثانی نے سب ادب لحاظ بالائے طاق رکھ دیا۔  

    ثانیہ۔ کاشی دھاڑا تھا۔  

    کیوں اب برا کیوں لگ رہا ہے۔ اسکے لیئے جائز ہے بہن نہ کرے کیوں وہ لڑکی نہیں ہے یا میں نرالی لڑکی ہوں۔ اسک

    وہ نجانے اور کیا کہنے لگی تھی کاشی جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھا دانی جست لگا کر دونوں کے بیچ آیا۔۔

    ثانی آواز نہ آئے اب تمہاری جائو اپنے کمرے میں۔ 

    اس نے ڈپٹ کر ثانیہ کو بھگایا وہ منہ بناتی آنسو پونچھتی باہر نکل گئ۔

    اسکی زبان دیکھ رہے ہو کیا مطلب تھا اسکا کاشی اسکے بانہوں کے گھیرے میں پھڑ پھڑایا تھا۔

    بس کرو تم بھی ۔ شروع ہی ہو جاتے ہو۔ دانی نے اسکو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ 

    کس بچے کا آج کل ٹک ٹاک اکائونٹ نہیں ہے اگر ثانیہ کا بھی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ 

    کاشی کو اسکی حمایت سخت بری لگی

    غلط بات مت کرو اس لڑکی کا دیکھا ہے اکائونٹ کبھی کیسے کیسے لوگ کمنٹ کرتے ہیں ثانیہ کو بھی ویسا ہی سمجھتے ہونگے ۔ ثانیہ بچی ہے ہم اسے نہیں سمجھائیں گے بتائیں گے تو کون بتائے گا؟۔

    تو سمجھا نہیں رہا تھا ڈانٹ رہا تھا۔ دانی نے جتانے والے انداز میں کہا پھر آرام سے دوبارہ اپنے بیڈ پر لیپ ٹاپ گود میں رکھ کر نیم دراز ہوگیا

    بڑا بھائی ہوں ڈانٹ بھی دیا تو کیا۔۔ اور شائد تم بھی بڑے بھائی ہو اسکے تمہاری بھی کچھ ذمہ داری بنتی ہے مگر تم میں بڑا پن نام کو نہیں تمہیں اس وقت یہی سب کرنا چاہیئے تھا جو میں کر رہا تھا۔ 

    کاشی نے غیرت دلانا چاہی دانی سکون سے اس کی شکل دیکھتا رہا پھر بولا

    تم نے کیا اکھاڑ لیا اسے ڈانٹ کر؟ صحیح کہہ رہی ہے وہ قطرینہ اگر ٹک ٹاک اکائونٹ بنا سکتی ہے تو ثانیہ کیوں نہیں؟ قطرینہ کو کبھی کہا ہے کہ وہ اکائونٹ ڈیلیٹ کرے؟ یا اسکو تم لڑکی سمجھتے ہی نہیں ہو۔  

    اسکا جملہ کاشی کو آگ لگا گیا

    بکواس مت کرو۔ قطرینہ کی بھی میں بہت عزت کرتا ہوں مگر وہ ایک اکیس سال کی میچیور لڑکی ہے اسکے ڈی آئی وائیز ہوتے ہیں جن میں مفاد عامہ کے لیئے سماجی پیغام ہوتے ہیں وہ پیداواری ویڈیوز بناتی ہے سنہری چڑیا کی طرح  گھٹیا گانوں پر ناچ ناچ کر ویڈیوز نہیں بناتی۔ اسکے کمنٹ باکس کھولو لوگ اسکو پسند کرتے ہیں۔۔ اسکی عزت کرتے ہیں۔ گھٹیا جملے بازی نہیں کرتے اسکے ساتھ۔ اور تم تمہیں کوئی اعتراض نہیں سنہری چڑیا کے ساتھ ویڈیو بنوانے پر ثانی کے؟؟؟کیسے بڑے بھائی ہو تم۔۔۔ 

    کاشی کا انداز سختی بھرا تھا اور آخرمیں اسکے چہرے پر حیرت در آئی۔۔

    دانی نے گہری سانس لی ۔ 

    بڑا بھئ ہوں بھائی بھی۔ تم اگر اکیس سال کے ہو تو میں بھی چوبیس سال کا ہورہا ہوں تم سے دو ایک سال ذیادہ ہی دنیا دیکھی ہے میں نے۔ اس نے جتاتے ہوئے لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا اور آلتی پالتی مارتا اٹھ بیٹھا

    تین چار مہینے پہلے فیس بک اسکرال کرتے ہوئے میرے سامنے ملینز ویوز کےساتھ سنہری چڑیا اور ثانیہ کی ہی ویڈیو سامنے آئی تھئ۔ بہت حیران ہوا تھا یقین بھی نہیں آیا تھا۔ سیدھا ثانیہ کے پاس گیا تھا مگر وہ اپنی ویڈیو کے مشہورہونے پر اتنی خوش تھی کہ ایک لفظ نہ کہہ سکا میں اسے۔ وہ بچی ہے یار اوپر سے صحیح کہہ رہی ہے امی ابو دونوں کو پتہ ہے وہ ویڈیوز بناتی ہے بلکہ ابو تو خوب ہنستے بھی ہیں یہ جب انکو دکھاتی ہے مگر فرق پتہ ہے کیا آیا یہاں؟؟۔ 

    وہ کہتے کہتے رکا ۔ کاشی کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے اسکے سامنے بیڈ پر آٹکا 

    امی ابو کو نئی ٹیکنالوجیز کا کچھ پتہ نہیں انکو ٹک ٹاک کا نام پتہ ہے مگر وہ کیسی ایپ ہے کیسے استعمال ہوتی ہے اسکی ویڈیوز کہاں کہاں دیکھی جاتی ہیں وہ نہیں جانتے ۔ انکو بتا نے کا فائدہ بھی نہیں تھا۔ سو مجھے جو مناسب لگا میں نے وہ کیا۔ 

    کیا کیا ؟ کاشی کا انداز بے صبرا تھا۔ دانی مسکرا دیا

    چھوٹی بہن ہے لاڈلی بھی اسکو کہتا کہ ٹک ٹاک استعمال مت کیا کرو ڈانٹتا روکتا وہ مان جاتی مگر پھر اگرکبھی اسکا دل کرتا تو مجھ سے چھپ کر بناتی۔ پھر مجھے پتہ بھی نہ چلتا ۔مگر میں نے اسکی حوصلہ افزائی کی اسکا اکائونٹ خود فالو کیا ۔ اسکو ویڈیوز کے آئیڈیاز دیئے کچھ۔۔ جو مجھے لگا کہ انکو پبلک نہیں ہونا چاہیئے ان ویڈیوز کی پرائیویسی بدلوائی وہ خوشی خوشی مان گئ۔ ابھی اگر اتنا بھڑکنے کی بجائے اسکا اکائونٹ دیکھتے تو پتہ لگتا کہ اسکی ویڈیوز میں سے نوے فیصد ویڈیوزمیں تو وہ نظر بھی نہیں آتی۔ ڈی آئی وائز ہیں، انگلش پوئمز ہیں جو لکھی بھئ اس نے خود ہی ہیں ، یہ جو مشین منگوائی تھی اس نے اس سے نت نئے ڈیزائن بھی خود بناتی ہے اور آجکل یہ کرونا کی آگاہی مہم کے حوالے سے پیغامات ہیں۔ جتنے گانے والی وییڈیوز ہوتی ہیں وہ سب پرائیوٹ ہوتی ہیں وہ یہ صرف انسٹا پر لگاتی ہے۔۔

    کاشی چپ ہو کر سر جھکا گیا تھا

    تم کو ایک اور بات بتائوں تمہاری قطرینہ مستقل اسکی ویڈیوز پر کمنٹ کرتئ ہے تمہاری بہن ہونے کی وجہ سے یا جو بھی اسکی ثانی سے مستقل ٹک ٹاک ویڈیوز کے آئیڈیاز پر بات ہوتی رہتی ہے۔ اور وہ بہت پروموٹ کرتی ہے ثانیہ کو اسکے پچاس ہزار فالورز اسی نے کروائے ہیں ۔ 

    مجھے کیوں نہیں پتہ تھا یہ سب؟؟؟ کاشی حیران ہوا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خود جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں گھر بیٹھے تو یاد آیا بڑا بھائی ہوں میں ایسے پلٹ کر پوچھتے بھی نہیں مجھے۔ سارا سارا دن گھر میں اکیلی پڑی رہتی ہوں اس پر دو چار ویڈیوز بنا لوں تو اس سے بھی منع کر رہے ہیں۔ 

    کمرے میں آکر اسکا غصہ ٹھنڈا ہونے کی بجائے بڑھ گیا تھا۔ آنسو پونچھ پونچھ کر چہرہ سرخ ہو گیا تھا مگر امںڈتے چلے جا رہے تھے آنسو۔ 

    سارے اصول بہن کیلئے ۔ وہ قطرینہ تو گرل فرینڈ ہے اسکو نہیں روکتے۔ خود ویڈیوز بنا کر یو ٹیوب پر ڈال لیں کوئی مسلئہ نہیں میں ٹک ٹاک بنا لوں تو۔۔ اس نے فون اٹھایا اور رابی کو ملالیا۔ اٹھا ہی نہیں رہی۔تھی فون ۔۔

    اسے اور رونا آگیا۔ اب امی ابو سے ڈانٹ پڑوائیں گے منع کر وا دیں گے۔ میرا کوئی نہیں سوچتا۔ سارا دن گھر میں اکیلی بند بور ہوتی رہتی ہوں۔ امی کسی سہیلی کے ہاں بھی ذیادہ نہیں جانے دیتیں۔

    کسی کو میری پروا نہیں اکیلی پڑی رہوں۔ان لوگوں کو تو اب لاک ڈائون کی وجہ سے گھرمیں رہنا پڑ رہا میرے لیئے تو پورا سال قرنطینہ بنا رہتا ہے یہ گھر۔۔نہ کہیں آنا نہ جانا نہ ہی کوئی میرے سے بات کرنے والا ہوتا ہے

    وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بڑ بڑا رہی تھی

    کمرے کے باہر کھڑے کاشی اور دانی نے اسکے بین سن کر ایک دوسرے سے نگاہ چرا لی۔ دونوں کے ذہن میں وہ منظر تاذہ ہوئے تھے جب وہ کوئی چیز منگوانے یا کسی سہیلی کے گھر جانے کی فرمائش لیکر آتی تھئ اور دونوں حیلے بہانوں سے ٹال جاتے تھے۔۔ 

    اب یہ رابی کی بچی فون کیوں نہیں اٹھا رہی۔ ویڈیو پرائیوٹ کروا لوں 

    اس نے جھلا کر فون بیڈ پر پٹخا۔ 

    مر جائوں میں بس سب خوش ہو جائیں گے۔ 

    اسے نئے سرے سے رونا آگیا تھا باہر دونوں بھائی تڑپ کر اندر داخل ہوئے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    کیا کر رہے ہیں بچے کیسا شور مچا رکھا ہے۔ 

    امی اور ابو ثانیہ کے کمرے سے آتی تینوں کے بے ہنگم شور کی وجہ سے متجسس ہوئے۔دونوں اپنے کمرے میں بیٹھے چائے پی رہے تھے جانے کتنے عرصے بعد دونوں فارغ تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ 

    پتہ نہیں تینوں میں کیا چل رہا ہے کب سے شور مچا رکھا ہے سر میں درد ہو گیا میرے۔۔ آدھا کچن اٹھا کر کمرے میں لے گیے ہیں دودھ کافی میکر سب لائونج کی چھوٹی میز بھی اٹھا لے گئے کوئی ٹک ٹک پتہ نہیں کیا بلا بنا رہے ہیں

    امی نے کنپٹی دبائی

    چلو جو بھی کریں ہیں تو گھر میں ہی بس اللہ ہمارئ بچوں کو محفوظ رکھے ہر وبا سے۔ 

    ابو اسی میں مثبت رخ دیکھ رہے تھے

    ہاں یہی اطمینان ہے کاشی تو بالکل ٹکتا نہیں تھا گھر میں مگر اب شرافت سے سارا دن گھر میں رہتا ہے بلکہ آتے جاتے پوچھتا بھی ہے کوئی کام ہے تو بتا دیں۔۔ امی ہنس کر بتا رہی تھیں۔۔ دوپہر کو سلاد بھی بنائی ۔۔

    دانی میرے گھٹنے پر مالش کرتا رہا دوپہر میں ۔ شکر ہے ہمارے بچے احساس والے ہیں 

    ہاں یہ تو ہے ثانی میں بچپنا ہے مگر صبح سے ہر کام میں میرا ہاتھ بٹاتی رہی ہے۔

    امی نے اضافہ کیا۔۔ 

    آپس میں بھئ بہت پیار سےرہ رہے ورنہ دن میں کتنی بار تو ان میں نوک جھونک ہوتی تھئ۔ کچھ نہیں تو ثانی کو چھیڑ دیتے تھے دونوں پھر وہ شکایت لیکر میرے پاس آتی تھی۔ اس کرونا نے بچوں کو بدل کر رکھ دیا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کوئی نہیں بدلا وہی والا ہے قسم لے لو۔۔ 

    کاشی کپ لہرا کر یقین دلا رہا تھا۔۔ ثانی ماننے کو تیار نہیں تھی

    نہیں آپ نے اپنا کپ بدل لیا ہے یہ میرا والا لیا ہوا ہے اس میں سے میں نے بس ایک گھونٹ پیا تھا آپکا آدھا کپ تھا

    ثانی جھگڑ رہی تھی۔۔ دونوں ماسک پہن کر کافی بنانے کی نئی ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہے تھے دانئ کیمرہ تھامے انکے سامنے ہی کھڑا تھا۔ انکے جھگڑے سے تنگ آکر بولا

    اوفوہ میں کیا کروں مجھے تو بتائو۔

    بھائی جو مرضی آئے کریں میں پابندیاں لگانے والی چھوٹی بہن نہیں ہوں۔۔ 

    ثانی نے مزے سے کہا تو دانی دانت پیستا ہوا کیمرہ بیڈ پر پھینک کر بیڈ پر رکھی ٹرے سے تیسرا کپ اٹھا کر دھپ سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر گھونٹ بھرنے لگا

    بھائی مت پیئو اس کپ کا شاٹ لینا تھا ہم دونوں کی۔بنائی کافی تو آدھی ہوگئ ہے۔ 

    ثانی اور کاشی تڑپ کر اسے روکنے بڑھے مگر وہ منہ کو لگا چکا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    انسٹا گرام کا مشہور کافی چیلنج کاشی ثانی اور دانی نے کیا تھا۔ کافی کو تھوڑے سے پانی میں پھینٹ کر دودھ اور برف میں ملا کر ڈرنک تیار کرنا تھا مگر ثانی اور کاشی کی نوک جھونک اور بار بار چکھنے میں کافی تین کپ بنی تو مگر ویڈیو کے آخر میں صرف ایک کپ وہ بھی آدھا ہی ناظرین کو دیکھنے کو ملا تھا

    اپنے کمرے میں آرام سے بیڈ پر دراز موبائل میں  قطرینہ انکی ویڈیو دیکھ کر ہنستی چلی گئ۔ 

    حد ہے ڈی آئی وائئ کم کامیڈی ویڈیو ذیادہ لگ رہی ہے لیکن مزا آیا دیکھ کر کل کوئی کپ کیک بنانا سکھائو۔ 

    اس نے یہی کمنٹ کیا تبھی اسے زور دار چھینک آئی۔ پے در پے ایک دو تین۔ پھر کھانسی۔۔ بے تحاشہ کھانستے کھانستے اس نے سینہ مسلا پھر بری طرح خوفزدہ ہوگئ۔۔ 

    یہ کیا ؟؟؟ مجھے کھانسی مگر ۔۔   میں تو گھر سے باہر۔۔کھو کھو۔  بھئ نہیں گئ۔ 

    تبھی اسکو کل کا منظر یاد آیا تو سر پر جیسے آسمان ہی تو گر پڑا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اختتام ۔۔۔ جاری ہے۔۔۔

  • Corona aur Katrina kahani episode 4

    قطرینہ اور کرونا 

    قسط 4 

    آن لائن کلاسز اور پاکستانی بچے۔۔

    اپنے بیڈ پر دانی لیپ ٹاپ سامنے رکھے کانوں پر ہیڈ فون چڑھائے تمیز سے بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا

    دانی فلش تو کر لیا کر اب یہ بھی تجھے سکھانا پڑے گا۔۔ گندا آدمی

    باتھ روم سے نکلتے ہوئے کاشی نے خاصی ناراضی سے اچھا خاصا زور سے کہا تھا۔ دانی کا رنگ ایکدم فق ہوا  جھٹ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا کر آنکھیں نکال کر دانت کچکچاتے ہوئے بولا 

    آہستہ بول کمینے آن لائن کلاس چل رہی ہے میری ۔۔ 

    اس کی گھرکی پر کاشی نے جھٹ ہاتھ کے اشارے سے معزرت کی مگر ٹھیک ٹھاک معاملہ ہاتھ سے نکل گیا تھا۔

    اسکے لیپ ٹاپ  کی اسکرین اسکے کلاس فیلوز کے میسجز سے سج گئی تھئ۔۔ 

    پہلا پیغام۔۔ دانی فلش کرکے آئو کلاس میں۔۔

    دوسرا پیغام: مجھے تو یہاں تک بدبو محسوس ہو رہی ہے۔ 

    تیسرا پیغام: یار دانی اب یہ بھی تجھے سکھانا پڑے گا۔ 

    چوتھا پیغام : گندا آدمی چھو

    پانچواں پیغام: فلش کے بعد صابن سے پورے بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونا

    چھٹا: یار سینی ٹائزر دو مجھے لیپ ٹاپ کی اسکرین بھی صاف کرنی ہے اس میں “گندا آدمی” آن لائن ہے۔

    ملک کے مستقبل قریب کی بے روز گار انجینئروں کی کھیپ اپنی حس مزاح  کا اچھا مظاہرہ کر رہی تھی۔

    اسکے دوست نے تو حد ہی کردی کلاس کے آن لائن چیٹ روم میں پیغام بھیج دیا۔

    سر تھوڑی سی بریک دے دیں دانی فلش  کر آئے ذرا

    دانی کے کندھے پر جھکے اسکے میسجز پڑھتے کاشی نے کافی محنت کرکے ابلتے قہقہے کا گلا گھونٹا تھا دانی کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا

    بھئی جس نے جو کرنا فارغ ہونا ہو آئے مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ۔۔ میں نے جو سلائڈز شئیر کی ہیں انکو گو تھرو کر لو سب 

    یہ سر تھے ۔ ٹریک سوٹ پہنے بالوں کو کنگھی کیئے بنا جمائیاں لیتے ہوئے انکو جانے پڑھا کیسے رہے تھے اسے تو لگ رہا تھا اب گرے کہ تب۔۔ 

    دانی نے جوابا اپنے ہم جمآعتوں کی شان میں گستاخانہ جملے جلدی جلدی ٹائپ کرکے بھیجنے شروع کیئے تو کاشی سیدھا ہوا۔ اسے فی الحال قطرینہ کا چیلنج مکمل کرنا تھا سو اپنی الماری کھولی ۔ اندر سے باہر نکلنے کو بے تاب کپڑوں کا ڈھیر اسکے اوپر آگرا ۔  وہ اس حملے کے لیئے تیار نہیں تھا ۔۔ کپڑے ٹھیک ٹھاک زور سے سر پر لگے تھے ماتھا سہلاتے ہوئے اس نے جھک کر دیکھا تو ایک عدد کارٹن بھی کپڑوں کی سنگت میں زمین پر اتر آیا تھا اسکی پیشانی زخمی کرنے کے بعد۔ 

    یہ کارٹن کہاں سے آیا۔ وہ حیران ہو کر کارپٹ پر ہی آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور بڑی دلچسپی سے کارٹن کھول کر دیکھنے لگا۔ 

    ٹوٹے ہوئے درجنوں چارجر ، ہینڈزفری تینتس دس نوکیا ، موبائل اسٹینڈ کور ہاڑڈ بال ، اور نجانے کیا الم غلم بھرا پڑا تھا۔ جو یقینا صرف اسکا نہیں تھا بلکہ اس گھر کی ٹیکنالوجی ایڈوانسمنٹ کئ نشانی کے طور پر ہر فرد کی متروک کی گئ اشیا ء کا خزانہ تھا۔ 

    یہ میری الماری میں کہاں سے آیا کل تک تو اس میں نہیں تھا۔ 

    کاشی نے پلٹ کر بے چارگی سے بھائی کو دیکھا جو نجانے ابھی بھی کلاس لے رہا تھا کہ نہیں مگر انتہائی شرافت اور سنجیدگی چہرے پر سجائےلیپ ٹاپ میں مگن تھا۔ 

    اسے گھورتے ہوئے وہ کارٹن ایک طرف کرکے اپنی پرانی سال خوردہ شرٹوں کی چھانٹی کرنے لگا۔۔ کئی تو بالکل صحیح تھیں اور انکو نہ پہننے کی وجہ بھی اب اسکو بھول چکی تھئ تو انہیں احتیاط سے تہہ کر کرے اپنے خانے میں رکھنے لگا۔ چھانٹی ہی چھانٹی میں نہ صرف اس نے اپنا بلکہ دانی کا بھی خانہ ترتیب دے دیا۔ کل سات شرٹیں نکلی تھیں پانچ اسکی دو دانئ کی۔ ہر شرٹ اسے دکھا تا تو سوراخوں والی شرٹیں تک دانی نے پھینکنے نہ دیں سر کے اشارے سے منع کر دیتا البتہ دو جو شرٹیں اس نے سر ہلا کر اجازت دیں ان پر دانی باقائدہ حیران ہو کر تصدیق بھی چاہی۔ بالکل نئی سی شرٹس تھیں ۔انکو تو ابھی مہینہ پہلے تک یونیورسٹی بھی پہن کر جاتارہا تھا۔ مگر خیر دانی بھیا کی اپنی مصلحت ہوگی کوئی۔

    دانی بھیا ویسے بہت پیٹو انسان ہیں آپ۔ گھنٹہ بھی پورا نہیں ہوا ناشتے کو امی سے ملک شیک بنانے کا کہہ کر آئے انہوں نے تو کیا ہی بنانا تھا مجھ سے ہی بنوا لیا۔۔ خیر  لیں۔ 

    تین گلاس ٹرے میں رکھے نان اسٹاپ بولتی ثانیہ دھاڑ سے دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی۔ کاشی کرنٹ کھا کر سیدھا ہوتے ہوئے اسے شش چپ وغیرہ کا اشارہ کرنے لگا تھا جسے اس نے اپنی دھن میں دیکھا ہی نہیں سیدھی جا کھڑی ہوئی دانی کے سرہانے۔جو بے چارگی سے اسے دیکھ رہا تھا

    لیں پکڑیں نا ۔ اس نے حیران ہو کر دیکھا جو صم بکم اسے تک رہا تھا۔

    گلاس تھام کر اپنے بیڈ پر رکھا پھر تسلی سے نئے سرے سے اپنے ہم جماعتوں کے تبصرے پڑھنے لگا

    انہیں کیا ہوا۔ وہ حیران ہو کر کاشی کے پاس آئی جواسکی متوقع درگت کا اندازہ کرکے چہرے پر در آنے والی مسکراہٹ دبا رہا تھا

    آن لائن کلاس لے رہا ہے۔ اس نے بتایا تو ثانیہ خفت ذدہ سی ہوئی۔ ٹرے زمین پر رکھ کر اپنا گلاس اٹھاکر بولی

    یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ 

     شرٹوں کو اپنے گرد پھیلائے بیٹھا وہ امی کی قینچی تھامے تھا اسے جواب دینے کی۔بجائے  اس نے اشارہ کیا اور اپنا گلاس اٹھا کر گھونٹ بھرنے لگا۔ثانیہ نے اشارے کاتعقب  کیااپنا موبائل اسی کار آمد کارٹن سے نکلنے والے سالم اسٹیںڈ میں لگائے وہ یو ٹیوب ویڈیو کھولے بیٹھا تھا۔ گھر پر پرانے کپڑوں سے ماسک بنانے کی ترکیب تھی۔ 

    واہ میں بھی مدد کراتی ہوں۔ بڑے شوق سے ثانی نے اپنی خدمات پیش کیں۔گتے پر ٹریس کرکے ماسک کاشی تندہی سے کاٹ رہا تھا پچھلے مہینے ثانیہ نے اپنی پاکٹ منی سے آن لائن بالشت بھر کی سلائی مشین منگوائی تھی اور امی سے اسکے بے کار ہونے اور ثانیہ کے پیسے ضائع کرنے کی عادت پر خوب ڈانٹ کھائی تھی ابھی وہی مشین کام آئی۔ ثانیہ شوق میں اٹھا لائی ۔اب چھوٹی چھوٹی سلائی لگا کر ماسک کے کنارے بند کررہی تھی اور ڈوریاں سی رہی تھی۔ چھے  شرٹوں سے دانی نے تقریبا چھتیس کے قریب ماکس تیار کر لیئے تھے پھر ثانیہ کا ہاتھ بٹانے کو امی کی بڑی والی سنگر مشین بھی اٹھا لایا تھا اب دونوں کی دھڑا دھڑ سلائی جا ری تھی۔ 

    دانی کی شرٹ پر بڑا خوبصورت سا ہائی لکھا تھا جسے کاشی نے ایسے کاٹا کہ وہ ایک ماسک کے بالکل بیچ میں آگیا۔ 

    بھائی یہ سب سے پیارا بنا ہے۔ثانیہ نے جھٹ اسکو پہنا۔ 

    اسی شرٹ کا دوسرا ماسک کاشئ سی رہا تھا۔۔ ثانیہ اس کارگزاری کی تصاویر لے رہی تھی

    کاشی کا موبائل اس سب کی خاموشی سے ویڈیو الگ بنا رہا تھا۔ آخر چیلنج بھی تو پورا کرنا تھا۔

    بھیا دیکھیں کتنا پیارا ماسک بنا ہے۔ اپنی تصویر لیکر بھی ثانیہ کی تسلی نہ ہوئی تو لیپ ٹاپ پر نگاہیں جمائے کمر اکڑائے دانی کو مخاطب کر ڈالا۔ 

    اس نے تھکی تھکی سی نگاہ اٹھائی ۔ ماسک پہنے آنکھیں پٹ پٹاتی بہن کو دیکھ کر خیر سگالی مسکراہٹ اچھالی دوبارہ لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہوا۔ پھر جیسے کوئی خیال آیا تو چونک کر دوبارہ نگاہ ڈالی۔ ہائی جانا پہچانا تھا۔۔ دانی نے بھی ماسک سی کر پہنا اب دونوں بہن بھائی اسکی شرٹ منہ پر چڑھائے وی کا نشان بناتے سیلفی لے رہے تھے۔  پہچان کا لمحہ مکمل ہوا دانی کے منہ سے زور دار چیخ نکلی۔ 

    نہیں۔۔ 

    سنجیدگئ سے چھوٹے سے وہائٹ بورڈ کو لیپ ٹاپ کے سامنے دکھا کر نجانے کیا ڈرا کررہے تھے ڈر کر اپنا مارکر اور وہائٹ بورڈ دونوں چھوڑ بیٹھے۔بورڈ کھٹ سے آکر لیپ ٹاپ کی اسکرین کو لگا ۔ انکو غور سے دیکھتے 34 طلباء کو لگا یہ انکے سرپر آرہا سو سب اچھل سے پڑے۔ پینتیسواں لیپ ٹاپ بیڈ پر اچھالتا ایک اور نہیں چلاتا ہوا کترنوں کے ڈھیر پر کودا تھا اسکی پسندیدہ ترین ٹی شرٹ ننھے منے ٹکڑوں میں بٹی پڑی تھی۔۔ 

    کاشی اور ثانی دونوں بھونچکا سے اسکا ردعمل دیکھ رہے تھے جو اپنی شرٹ کے ٹکڑے کسی لاش کی طرح بانہوں میں لیئے دھاڑیں مار رہا تھا

    میری فیورٹ شرٹ کاٹ دی ۔یہ تو بالکل نئی تھی دو مرتبہ پہنی ہوگی بس۔ 

    ثانی اور کاشی دونوں ڈر کر پیچھے ہٹے۔

    پوچھ کر ہی تو کاٹی ہے۔ پوچھا تھا نا دانی تجھ سے لے لوں یہ؟ ہر پھٹی پرانی پر تو انکار کرتا رہا نہ لوں تبھئ تو دو بار پوچھا تھا میں نے۔ 

    کاشی نے ڈرتے ڈرتے کہا تو دانی غم کی انتہا پر روہانسا ہو کر چیخا

    مجھے کیا پتہ تھا تو کاٹنے کیلیے مانگ رہا کمینے۔ میں نے سوچا پہننے کیلئے مانگ رہا ہے پھٹی پرانی پر اسی لیئے منع کردیا تھا۔مجھے لگا نئی شرٹ پہن کر کہیں جانا چاہ رہا ہے

    دانئ کی بات پر جہاں ثانی  کو ٹھیک ٹھاک ہنسی آئی اس نے باقائدہ منہ پھیر کر چھپائی وہیں کاشی کو بھائی پر پیار بھی آگیا تو یہ غلط فہمی ہوئی اسے ۔ کتنا اچھا ہے بھائی اپنی نئی شرٹ اسے دے رہا تھا اور پرانی پر صاف منع کر دیتا تھا ۔

    ہائے آئیم سوری یار مجھے غلط فہمی ہوئی۔۔ کاشی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر معزرت کرنی چاہی 

    اور کون کون سی کاٹ ڈالی تم نے۔۔ کاشی بے تابی سے  چیتھڑے ٹٹول رہا تھا۔ 

    اسکی دوسری نئی شرٹ قسمت سے سلامت نکلی ۔ سگریٹ گرے کلر کی ٹی شرٹ جس پر Be Hajoom Be lonely  لکھا تھا اسے الٹ پلٹ کر وہ تسلی کررہا تھا

    یہ کیسے چھوڑ دی سالم۔ اسے خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہوئی۔  

    یہ مجھے اچھی لگی تھی تو میں نے سوچا اسے میں خود رکھ لوں گا۔۔ کاشی نے آہستہ سے کہا تووہ گھور کر رہ گیا

    لیپ ٹاپ کا منہ دانی کے اچھالنے کی وجہ سے ان تینوں کی جانب تھا اور سر جاثم سمیت 34 ہم جماعت اسکے غمگین گھریلو ڈرامت کو براہ راست دیکھ کر تفریح لے رہے تھے

    سر جاثم یقینا اس سے کوئی درخواست کر رہے تھے 

    ثانیہ نے دیکھ کر بھائی کا شانہ ہلایا۔ دانی گڑ بڑا کر لیپ ٹاپ کی جانب لپکا ہیڈ گیئر کانوں میں لگایا 

    ہمیں آن لائن براہ راست گھریلو ڈرامہ دکھانے کا شکریہ اب ذرا پڑھ لیں ؟ سر جاثم طنز کر رہے تھے اور چیٹ میسجز سے الگا سکرین بھر چکی تھی اس نےسر جھکا کر معزرت کی۔ ہیڈ گیئر کا مائک اتنا حساس تو تھا کہ انکی سب گفتگو بھی آرام سے سب نے سنی اب سب اس سے ہمدردی کا اظہار کر رہے تھے ایک نے تو ماسک بنانے کی ترکیب بھی پوچھ ڈالی۔۔ 

    وہ سب کو حسب توفیق گالیاں دے رہا تھا 

    دیکھ رہے ہو اپنے ابو کو ناک میں دم کر دیا ہے نیا شوق آیا ہے کہہ رہے کڑھی بنائیں گے سارا باورچی خانہ الٹ کر رکھ دیا ہے انہوں نے۔۔ 

    امی بھنائی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں ۔ 

    کاشی دانی ثانی یکدم ساکت سے رہ گئے۔ 

    امی کا اترتا پارہ دوبارہ چڑھ گیا۔ 

    خدایا کیسی کاہل اور نکمی اولاد ہے میری ۔ اتنے برتن دھو کر آئی ہوں ابھی یہاں یہ تین گلاس پڑے رہ گئے۔ برتن دھونے کو نہیں کہتی کم ازکم ہاتھ پائوں ہلاکر باورچی خانے تک تو پہنچا دیا کرو۔۔۔ سارا دن اکیلی کاموں میں لگی رہتی ہوں ذرا جو۔۔

    امی کا گھن گھرج سے دیا جانے والا لیکچر جاری تھا اس بار صرف پس منظر آواز اور دانی کالال ہوتا چہرہ کافی تھا سر جاثم کی بھی جرات نہ ہوئی کہ بول سکیں تاہم انکی نگاہ اپنی میز پر رکھے چائے کے تین مگوں پر پڑی تو سٹپٹا کر انہیں اٹھا کر باورچی خانے میں رکھنے بھاگے ۔

    انکی عجلت کسی سے چھپی نہ رہ سکیں کیونکہ وہ کیمرہ بند کئے بنا بھاگے تھے

    چیٹ پر دوبارہ پیغامات کی بھرمار ہوئی

    سر کو اپنی امی یاد آگئیں لگتا ہے

    سر کی امی توگائوں رہتی ہیں یہ چھوٹی امی کا خوف ہے

    دانی نے اپنے جی پی اے پر لعنت بھیجی اور سیدھا لیپ ٹاپ کا ٹرن آف بٹن دبا دیا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ ثانیہ اور دانی تینوں اس ریڑھی والے کو گھیرے کھڑے تھے

    اوبھائی کچھ نہیں ہوتا کرونا ورونا ہم سخت جان لوگ ہیں۔ 

    گرد و غبار میں اٹے کپڑے کو گردن میں پھیرتے اس خان نے جیسے کان پر سے مکھی اڑائی۔ 

    تبھی زور دار چھینک آئی تو ان تینوں کا لحاظ کرتے ہوئے اس کپڑے کو منہ ڈھانک کر چھینکا ۔مکھی بے زار سی ہوئی

    پھر اڑ کرکیلوں کی بھری ریڑھی پر آبیٹھی تو اسی کپڑے سے بلا تکلف خان جی نے اڑا دیا 

    تینوں نقاب پوش ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے 

    دانی کیمرہ سنبھالے تھا ثانی ہاتھ میں پیاری سی تنکوں کی  ٹوکری میں گھر کا بنا سینی ٹائزر کی چھوٹی چھوٹی بوتلیں۔ اور اپنے دوپہر بھر کی محنت سے بنائےماسک تھامے کھڑی تھی کاشی مائک تھامے سر پر ٹوپی منہ پر ماسک چڑھایے پھیری والے کا انٹرویو لے رہا تھا

    آپ لوگوں نے کیلے نہیں لینے تو جانے دو بھائی پہلے ہی۔دھندا مندا جا رہا ہے بچوں کی روٹی کا انتظام کرنا ہے بھائی

    اچھا لیکن اپنے لیئے نہ سہی اپنے بچوں کیلئے یہ ماسک پہن لو بیماری لے گئے گھر تو انکا علاج معالجہ کیسے کروگے؟ 

    کاشی کی بات اسکے دل کو لگی۔ 

    لائیں دیں ۔ اس نے جیسے تھک کر کاشی سے ماسک لے لیا۔۔ 

    ماسک پہن کر اب ہاتھ سینی ٹائز کروانے کی باری تھی۔

    اب یہ بھی مل لو ہاتھ پر ۔۔ ویسے تو صابن سے بار بار ہاتھ دھوئو مگر اب جیسے سارا دن ہر جگہ تو پانی نہیں ملتا تو ایسی جگہ ہاتھ پر یہ مل لیا کرنا ۔ 

    کاشی سمجھا رہا تھا۔  

    کیسے؟ خان صاحب مائل ہوہی گئے پندرہ منٹ کی ان تینوں کی صحت و صفائی سے آگاہی پر مبنی محنت کے بعد۔

    اسکو تھوڑا سا لیکر ہاتھ پر ملو یوں ۔

    کاشی نے اسکے ہاتھ پر تھوڑا سا سینی ٹائزر ڈالا 

    اب اپنے ہاتھ مل کر اسے سکھا رہا تھا۔ خان صاحب نے وہی کیا۔ سارا دن کی محنت مزدوری کرنے والے ہاتھ سینی ٹائزر ملنے سے پسینہ میل غبار مل کر کیچڑ سا بن گیا۔ 

    اب پانی تو دو صابن ہاتھ میں مل کر تو نہیں پھروں گا نا۔۔ 

    خان صاحب نے جتایا۔ 

    انکے ہاتھ میں قطرہ قطرہ کالے پانی کی تہہ بنتے دیکھ کر تینوں متفق ہوگئے کہ خان صاحب کو ہاتھ پانی سے بھی دھو لینا چاہیئے۔ 

    میں پانی لیکر آتی ہوں۔ ثانیہ بھاگ کر گھر میں گھسی

    ان تینوں کو دیکھ کر محلے کے کئی گھروں سے تماش بین انکا نظارہ کرنے سر باہر نکال رہے تھے دروازوں سے

    اچھا جب آپ ہاتھ دھو لیں گے نا تو ہم دوبارہ شوٹ کریں گے پھر آپ نے بس سینی ٹایزر لگانا ہے اسکے بعد ہاتھ دھونے کی ضرورت نہیں پڑتئ

    ٹھیک ہے ٹھیک ہے بھائی آپ لوگ فکر نہ کرومیں پہلے بھی انٹرویو دے چکا ہوں وہاں بازار میں بھی ایسے بھائی ٹی وی والے پوچھ رہے تھے۔۔ حکومت کو بھی برا بھلا کہنا ہے نا؟؟ خان صاحب فرط شوق سے پوچھ رہے تھے 

    آہاں نہیں۔ کاشی نے کہنا چاہا مگر خان صاحب نے موقع نہیں دیا

    ابھی کل ہی کی بات ہے میں نے تو وہ گالیاں دیں عمران خان کو کہ کیا بتائوں ۔۔۔۔۔ گالی۔۔۔ سالا۔۔۔۔ ہمارا ۔۔۔۔۔۔ گالی۔ ہم لوگ۔۔۔۔ گالی ۔۔۔  مارا ڈر گیا رات کو ادھر ہوٹل والوں کے پاس ہم ٹی وی پر دیکھا ہماری ساری گالیاں کاٹ دیں۔۔ بہن۔۔۔ گالی۔

    پر ہماری شکل آئی ٹی وی پر ابھی کیلا لیتے ہوئے ایک خالہ جی پہچان بھی گئیں انکو دو کیلے فالتو دے دیئے ہم نے۔ 

    خان صاحب اپنی کر گزاری جتا رہے تھے۔ دانی کاشی ہکا بکا دیکھ رہے تھے۔۔ ثانی۔۔ آتی ہوگی۔ دونوں نے اکٹھے مڑ کر دیکھا کہیں بہن ان گالیوں کو نہ سن لے لیکن دیر ہوگئ 

    وہ انکے پیچھے ہی سرخ چہرہ اور پانی کا بھرا جگ لیئے کھڑی تھئ۔۔ 

    دونوں بھائی ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔ 

    انکا پہلا مشن تھا یہ اس چیلنج کو پورا کرنے کیلئے انہیں کم از کم پچیس ماسک ان پھیری والوں کو بانٹنے تھے 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اختتام چوتھی قسط کا۔ 

    جاری ہے۔۔

  • corona and qatrina episode 3

    corona and qatrina ep3

    قرنطینہ اور احساس نادار  طبقے کا۔۔

    corona aur katrina kahani episode 3

    امی اپنی سفید والی ساڑھی دے دیں نا جس کے بارڈر پر سنہرا گوٹا ہے پلیز امی۔ 

    ثانیہ نے انکو عاجز کر دیا تھا پیچھے پیچھے پھر رہی تھی برتن دھونا عذاب کردیا انکا ویسے تو صبح وے جہاں جا رہی تھیں۔اس نے پیچھا لے رکھا تھا اب کندھے سے لٹکی جا رہی تھی پلیٹ دھو کر برتنوں کی ٹرے میں رکھنے کے لئے ہاتھ لمبا کیا تو اس بار تو دوپٹہ ہی کھینچ ڈالا

    توبہ ہے ثانی کیوں دوں تمہیں؟ کاٹ پیٹ کر برباد کرنے کیلئے۔۔ 

    امی تنگ آکر کچن سے ہی نکل آئیں۔ ثانی پیچھے تھی۔

    امی پہنتی تو آپ ہیں نہیں اسکا بلائوز آپکو تنگ ہے اور دادو آپ کو پورا سفید پہننے کب دیتی تھیں کیا ہوتا وہ۔۔اس نے ذہن پر زور ڈالا پھر یاد آنے پر چٹکی بجا کر بولی

    بد شگونی ہوتئ ہے سہاگن پورا سفید پہنے تو ۔۔ 

    امی گھور کر رہ گئیں

    ایک تو تمہاری دادی انڈیا سے پاکستان آگئیں مگر سارے وہم واہمے بھی ساتھ لے آئیں اتنے شوق سے بنارسی ساڑھی منگوائی تھئ انڈیا سے تمہارے باوا جب گئے رشتے داروں سے ملنےپر تمہاری دادی نے ایک بار نہیں پہننے دی سات سال ہونے کو آئے ویسی کی ویسی رکھی ہے ۔ 

    تو امی دادی اماں کو گزرے بھی چار سال ہونے کو آئے آپ پہن لیتیں شوق پورا ہو جاتا آپکا پھر آپ آرام سے ثانی کو اسے برباد کرنے دیتیں۔

    دانی نے کسی زندہ لاش کو ٹھکانے لگاتے ہوئے مفت مشورے سے نوازا۔ ثانی متشکرانہ نظروں سے بھائی کو دیکھنے لگی۔

    دانی 55 انچ ایل ای ڈی پر پلے اسٹیشن جوڑے بیٹھا تھا لائونج میں ۔ صبح سے جانے کتنی نسلیں ٹھا ٹھا کر کے اجاڑ چکا تھا ۔ کاشی بھی اسکے ساتھ ہی بیٹھا تھا صبح سے ابھی تھوڑی دیر پہلے فون آنے پر اٹھ کر اندر گیا تھا اپنے کمرے میں۔

    ہاں تو وہم تو ڈال گئیں نا دل میں۔ اب انکے جیتے جی تو میں پہننے کا رسک نہیں لے سکتی۔  

    امی کو واقعئ افسوس تھا جیسے ۔ 

    ہاں تو اب کیا ساڑھی پہننے کیلئے بابا کے جانے کا انتظار کریں گی۔ 

    ثانی بے سوچے سمجھے بولی امی نے بلا لحاظ اسکی کمر پر دو ہتھڑ جما دیئے

    بنا سوچے جو منہ میں آیا بک دیتی ہے نامراد۔ 

    دانئ پلے اسٹیشن کے ہنڈل میں منہ چھپائے ہنس رہا تھا۔ 

    ثانی کمر سہلاتی روہانسی سی ہو گئ۔

    میرا یہ مطلب تھوڑی تھا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمہارا جو بھی مطلب ہو مگر تم میرا مزاق ہی اڑا رہے تھے جیسے میں پاگل ہوں کوئی جو اس عالمی وبا ء سے پریشان ہوں دوسروں کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔ 

    قطرینہ ابل پڑی تھی بولتے بولتے روہانسی ہوگئ کتنے آنسو آنکھوں سے پھسل آئے۔ ۔کاشی بے بسی سے موبائل کو دیکھ کر رہ گیا۔ 

    قطرینہ منصوبہ بنا رہی تھی کہ کچھ راشن بیگ بنا کر دیہاڑی دار مزدوروں کو دے کر انکا کچھ وقت گزروا دے مگر ظاہر ہے ایسا سوچنا اچھا بھی تھا آسان بھی پر کرنے کیلئے وسائل بھی درکار تھے۔نیکی کا کام گھر سے شروع کرنا چاہیئے یہی سوچ اسکو لے ڈوبی۔  قصہ مختصر اس نے اپنی کام والی کی چھٹی کردی اور ساتھ ہی اسے اپنے امی کے ذخیرہ کردہ راشن سے دو کلو چاول پانچ کلو آٹا دالیں گھی وغیرہ یہاں تک کے صابن تک ساتھ باندھ دیا کام والی خوش ہوئی دعائیں دینے لگی اسکو یہ سب سامان لے جانے کیلئے رکشہ بھی کروا دیا ۔ یہ سب کاروائی یوں ممکن ہوئی کہ امی کسی سہیلی کے ہاں قرآن خوانی میں گئ تھیں۔ جب شام ڈھلے واپسی ہوئی تو جو خبر لی انہوں نے اسکی الامان۔ 

    تم غلط سمجھ رہی ہو مزاق کیوں اڑائوں گا تمہارا  مانا تمہاری نیت اچھی تھی مگر کام والی کی چالاکی بھی تو دیکھو نا تمہاری امی کو غصہ تو آنا تھا نا۔ 

    چالاکی؟ اسکو امی نے دو ہزار دیئے تھے بس اب بتائو دو ہزار میں یہ سب سامان آتا جو میں نے اسے دیا ٹھیک ہے اس نے مجھے نہیں بتایا کہ امی اسے تنخواہ کے علاوہ الگ سے دو ہزار دے چکی ہیں مگر دو ہزار کا تو صرف میرا شیمپو آتا یے یار۔ اور  خود بتائو اسے دو ہزار دے کر امی نے صاف کہا جب تک کرونا نہیں ختم ہوتا مت آنا یعنی وہ کام پر نہیں آئے گی کمائے گئ نہیں تو وہ اور اسکے نو بچے 

    کیا کریں گے بھوکے نہیں مریں گے؟ 

    وہ سب جو وہ امی کو نہیں کہہ پائی تھی اسکی بھڑاس کاشی کے سامنے نکال رہی تھی۔ 

    ایک تو امی۔۔۔ اتنا کہا کہیں نہ جائیں گھر بیٹھیں الٹا خفا ہو گئیں کہ قرآن خوانی اس وبا سے نجات کیلئے ہی کروائی جا رہی ہے سو جانا ضروری پھر وہاں روشانے آنٹی نے سب نوکروں کو ہال سے دور کر کرے سب آنے والیوں کو ماسک اور سینیٹائزر بانٹے جبکہ سب ہی تقریبا ماسک پہن کر آئی تھیں امی تک کو میں نے پہنوا کر بھیجا تھا آگے ۔امی تعریف کر رہی تھیں انکی میں نے کہا جو آنٹیاں بڑی بڑی گاڑیوں سے نکل رہی تھیں وہ تو ماسک افورڈ کر سکتی تھیں انکو اپنے نوکروں کو بانٹنے چاہیئے تھے نا؟

    بات تو صحیح کر رہی ہو۔ کاشی نے کان کھجایا۔

    پھر سب اشتہاروں میں کہہ رہے ہاتھ بار بار دھوئو مگر یہ غریب لوگ صابن خریں یا روٹی؟ قرنطینہ میں رہیں تو کیسے؟ میری کام والی دو کمروں کے کوارٹر میں 4بچوں اور ساس سسر کے ساتھ رہتی ہے۔ انکیلئے قرنطینہ کیسے بنے گا؟ خدا نخواستہ کسی ایک کو بھی ہوا تو  ؟ میں نے درجن صابن دیئے اسے پھر بھی اتنےلوگوں کے خاندان کو کم ہی پڑنے ہیں صابن۔ 

    پھر میں نے جو لیٹر بھر سینی ٹایزر بنایا وہ بھی اسے دے دیا اب دوبارہ بنائوں گی گھر والوں کیلئے۔ 

    وہ بچوں کی طرح پرجوش انداز میں بتا رہی تھی۔ سب کو اسکا یہ جوش بچکانہ احمقانہ لگ سکتا تھا مگر کاشی کو اسکے پیچھے جو خیال کرنے والا محبت بھرا دل نظر آرہا تھا اس نے اسکو سرشار کر دیا تھا یقینا بہت مختلف اور دل کی اچھی لڑکی اسکی بہترین دوست اور اب دوست سے کچھ زیادہ تھی۔

    بہت اچھا کام کیا تم نے یوں سوچو کہ کہیں تم مغرور نہ ہوجائو اس لیئے تمہاری امی کی ڈانٹ اسکا بونس کے طور پر پڑ گئ تمہیں۔ اب دل چھوٹا مت کرو تمہیں اس نیکی کا صلہ ضرور ملے گا۔ 

    کاشی نے پرخلوص انداز میں اسے کہا تو وہ بھی جیسے شانت سی ہوگئ۔ 

    فی الحال تو میں ایک اویورنیس کیمپین awareness campaign چلانے کا سوچ رہی ہوں اسکے لیئے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔اسکا زہن چل پڑا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مگر میں آپکی امی نے دیکھ لیا تو بہت ڈانٹ پڑے گی مجھے ۔ میں تو بس آپ لوگوں کے کپڑے دھونے آئی تھی۔ 

    زرینہ پچھلے صحن میں کپڑوں کا ڈھیر نکالے کھڑی تھی ۔ 

    اوہو کچھ نہیں ہوتا امی کو خالہ نے فون کر رکھا یے دو گھنٹے سے پہلے نہیں آنے والی ہیں وہ ادھر۔ اور دیکھو میں ماسک پہن کر تمہارے سامنے آئی ہوں کوئی جراثیم تمہارے مجھے نہیں لگنے والے پلیز پلیز کاٹ دو نا۔ 

    ثانیہ کا انداز ملتجی ہو چلا تھا۔ 

    زرینہ نے بے بسی سے پھیلے کپڑوں کے ڈھیر کو دیکھا پھر مشین کا ٹائمر جسے پندرہ منٹ پر لگا کر وہ ابھی کمر سیدھی بھی نہ کر پائی تھی۔ 

    پلیز۔۔ ثانیہ قینچی اور اپنی قمیض اسکے سامنے بڑھائے آنکھیں پٹپٹا رہی تھئ

    لائیں دیں۔ 

    وہ ہار مانتی ہوئی برآمدے میں بچھے تخت پر آ بیٹھی۔ براق سفید قمیض اسکے سامنے تھی جس کے گلے پر  سفید ہی موتیوں کا بھرا ہوا کام تھا۔ 

    کیا کرنا ہے۔ اس نے بے ساختہ ہی کام پر ہاتھ پھیر دیا ۔ اتنی خوب صورت قمیض کو جانے کیوں وہ کٹوانا چاہ رہی تھی

    اسکا دامن کاٹ کر مجھے سفید جھنڈا بنانا ہے۔ ثانیہ خوش ہو کر اسکے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ

    جھنڈا؟ زرینہ نے آنکھیں پھاڑیں۔ مگر بی بی بالکل ٹھیک قمیض ہے یہ تو 

    تنگ ہو گئ ہے پچھلے سال کی ہے اب تو بے کار ہے میرے لیئے کاٹ دو ۔ ثانیہ مزے سے بولی۔ 

    سولہواں سال تھا اسکا ۔ قد بھی نکل رہا تھا تھوڑی صحت بھی اچھی ہو رہی تھی کھلتا ہوا گورا رنگ جس میں گلابیاں جھلک رہی تھیں۔ اچھا کھانا پینا بے فکری اسکی اپنی بیٹی بھی پندرہ کی ہو رہی تھی مگر کم خوراکی پریشانیاں چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالتی تھی قد تو کم نہیں تھا مگر ثانیہ میں سے آرام سے دو نکل آئیں ۔ یقینا یہ قمیض اسکو پوری ہوتی۔ فی الحال تو وہ رابعہ کی اترن پہنے ہوئے تھئ۔ جسکو بار بار سی کر بھی وہ اسکے ناپ کے مطابق نہ کر سکی تھی۔ 

    کاٹو نا۔ ثانیہ اسے بے خیالی میں خود کو تکتا پا کر ٹوکنے لگئ

    اس نے گہری سانس لی۔ 

    مگر بی بی جھنڈا کیوں بنانا؟ اور بنانا تو کسی اور پرانے کپڑے کا بنا لو یہ تو بالکل نیا جوڑا ہے۔ 

    زرینہ نے سمجھانا چاہا تو وہ نئے سرے سے افادیت بتانے کی بجائے جھلا اٹھی

    میرا سوٹ یے نا مجھے نہیں پہننا کاٹ دو بس جھنڈا اسکا یہاں دامن سے کاٹو ادھر سے سل جائے گا میں یہاں ڈنڈا پرو لوں گی۔ 

    وہ ضدی پن سے بولی 

    زرینہ نے گہری سانس لی پھر قینچی گلے سے تھوڑا نیچے کی جانب رکھ کر چلانے ہی لگی تھی کہ رابعہ جو یونہی فون پر بات کرتی دروازہ کھلا دیکھ کر بند کرنے آئی تھیں حلق کے بل چلا اٹھیں۔ 

    نہیں ۔۔۔۔۔ 

    پچھلے صحن کی جانب کھلتے لائونج کے دروزے سے انکو بھاگنے والے انداز میں قدم اٹھاتے چند لمحے ہی لگے ہونگے مگر انکو لگا میلوں کا سفر طے کر لیا ہو انہوں نے

    چھوڑو اسے کیوں کاٹ رہی ہو ۔۔ 

    انہوں نے آگے بڑھ کر جھپٹا مارا۔

    انکی چیخ پر دانی اور کاشی اندر سے بھاگے بھاگے باہر آئے 

    کیا ہوا۔ دونوں برآمدے میں ہونق پن سے گھورتے امی کو زرینہ اور ثانیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے دیکھ کرمعاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ 

    امی میرا سوٹ ہے آپ اپنی ساڑھی تو دے نہیں رہیں میں اپنا سوٹ کاٹ دوں اس پر بھی اعتراض ہے۔ 

    ثانیہ جھلائی

    بالکل ہے۔ غضب خدا کا نیا جوڑا ایک دو دفعہ کا پہنا ہوا کاٹنے جا رہی ہے یہ بائولی 

    امی نے قمیض اپنے قبضے میں لے لی۔۔ 

    فون ہاتھ سے چھوٹ کر تخت پر جا گرا تھا خالہ اس میں سے سنتی معاملہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے ہیلو ہیلو کر رہی تھیں۔

    نہیں آتی مجھے تنگ ہو گئ ہے اب ۔ مجھے کاٹنے دیں اسے اپنی ساڑھی تو دے نہیں رہیں میری قمیض پر بھی اعتراض ہے۔ 

    ہاں ہے۔ امی نے گھورا۔ نہیں آتی تو کسی کو دے دو ۔شمسہ کی زارا کو دے دوں گی اتنی مہنگی قمیض ہے برباد تو نہیں کرنے دوں گی۔ 

    اور تم تمہیں عقل نہیں نئی قمیض کاٹنے جا رہی تھیں۔ 

    امی نے روئے سخن زرینہ کی جانب موڑا

    وہ ثانیہ بی بی ضد کر رہی تھیں۔ وہ منمنا کر رہ گئ

    میں اسے برباد نہیں کرنے دےسکتی۔

    امی کا ارادہ مصمم تھا۔ 

    اوفوہ ۔وہ جھلا کر رہ گئ۔ 

    خالہ کو بھجوائیں گی ؟ لاہور ہیں وہ خالہ آپ زارا کو نئی شرٹ دلوا دیں گا مجھے اس شرٹ کو برباد ہی کرنا ہے۔۔ 

    اس نے جھلا کر فون اٹھا کر اسپیکر آن کردیا

    آں۔ ہاں۔ ظاہر ہے۔ شمسہ گڑبڑا گئی۔

    کرنے دیں نا آپا کیا کرنا چاہ رہی ہے یہ؟ شمسہ نے پوچھا

    ارے جھنڈا بنانا موا وہ جیو والوں نے سیاپا ڈالا ہے کہ ڈاکٹروں کیلئے سفید جھنڈا لگائیں چھت پر بس وہی شوق چڑھا ہوا ہے۔ 

    امی نے بتایا تو شمسہ آگے سے خوش ہوگئیں

    آپا یہ تو اچھی بات ہے اب دیکھیں ہم یہاں گھر والوں سے دور یہاں اسپتال میں لوگوں کے علاج میں مصروف ہیں 32 گھنٹے ہو رہے  مجھے یہاں ابھی تک گھر نہیں گئ ہوں ۔ سچ میں ابھی میں دیکھ رہی تھی ٹی وی اچھا لگ رہا تھا کہ ہماری اس قربانی کو عوام سراہ رہے ہیں۔۔احساس کرنا ہی تو سب کچھ ہوتاہے۔ کسی کا احساس کر لیں بہت ہے یہ احساس کہ آپکی قربانیوں کا احساس کیا جا رہا ہے انسان کو نئی توانائیاں عطاکرتاہے۔ باقی تو ہر کوئی اپنی جگہ کسی نہ کسی مسلئے میں الجھا ہے۔ 

    لو یک نہ شد دو شد۔ 

    کاشی اور دانی منہ چھپا کر ہنس دیئے۔ 

    ہاں تو جو مرضی کرے مگر نئی قمیض برباد نہ کرے اتنا پیارا کام ہے میں زارا کو بھجوا دوں گی یہ۔ 

    امی ضدی پن سے بولیں۔ 

    امی اتنی سیلفیاں لے کر پوسٹ کر چکی ہوں زارا کبھی نہیں پہنے گی یہ سوٹ۔ 

    ثانیہ منمنائی۔ شمسہ بھی منع ہی کرنا چاہ رہی تھیں ثانیہ کی بات تو نہ سنی وہ اپنی کہہ رہی تھیں

    ارے آپا سب بند ہے ٹرانسپورٹ وغیرہ  کیسے بھجوائیں گی ؟ وہیں کسی کو دے دیں کسی غریب نادار کو اسکے کام ہی آجائے گی۔۔

    انکی بات ثانیہ کے دل کو کہیں ٹھک کرکے لگی

    تم میری شرٹ لے لو نا ٹی شرٹ وہائیٹ والی اب تو میں وہ پہنتا بھی نہیں اسکے کالر والی جگہ پیلی ہو رہی بس اسے کاٹ دینا۔۔ 

    کاشی ہی آگے بڑھا مسلئے کا حل نکالنے کو۔ 

    واقعی؟ ثانیہ خوش ہوئی۔امی نے سکھ کا سانس لیا۔ 

    شکر ہے اب اسکو سنبھال کر رکھو کام آجائے گی پھر کبھی۔ 

    امی نے قمیض اسکی جانب بڑھائئ۔ 

    ہاں وہ لے لو بلکہ اس پر ہاتھ بھی پرنٹ کرتے ہیں ساتھ ساتھ پیغام بھی جائے گا کہ ہاتھ دھونا ہے۔کاشی پر قطرینہ کے لیکچر کا اثر تاذہ تھا

    دانی نے دونوں کو یوں دیکھا جیسے انکے سر پر سینگ نکل آئے ہوں

    کریک ہیں دونوں چھوٹے۔۔ وہ تاسف سے سر جھٹکتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔ امی فون پر شمسہ کو خدا  حافظ کہہ رہی تھیں

    تبھی زرینہ  کو چھینک سی آگئ۔ 

    مشین نے پندرہ منٹ پورے ہونے پر زور دار گھنٹی بجائی امی کے ہاتھ سے فون چھوٹ گیا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ پکڑو اور اب جب تک میں نہ بلائوں مت آنا۔  

    گیراج میں انتہایی بے مروتی سے امی نے ہزار روپے اسکے ہاتھ پر رکھے وہ بھی یوں کہ ہاتھ اس سے چھو نہ جائے۔دوپٹی اچھی طرح منہ ناک پر لپیٹے تھیں۔ ثانیہ اور کاشی انکے پیچھے ہی کھڑے تھے۔ جانے کیوں انکو امی کا رویہ بہت سخت لگ رہا تھا

    مگر بی بی جی وہ۔  

    زرینہ جانے کیا کہنا چاہ رہی تھی امی نے موقع نہیں دیا

    کہا بھی تھا اپنے ایرانی خاندان والوں سے دور رہو غضب خدا کا تمہارے بہن بھائی سب ایران گئے ہوئے تھے نا؟ لگا دیا نا انہوں نے تمہیں بھی کرونا عجیب جاہل لوگ ہو تم سب۔ ایک تو بیمار ہوتے ہو اوپر سے تجھ مجھ کے گھر جانا نہیں چھوڑتے کہ سب کو لگ جائے بیماری۔ پچھلی دفعہ ہی منع کردیا تھا اب مت آنا پھر بھی منہ اٹھا کے آگئیں میں فون میں لگی تھی تو پورا گھر گزار کر پچھلے صحن میں بھی پہنچ گئیں ثانیہ کے ساتھ۔ میری بیٹی بیمار پڑی نا تو چھوڑوں گی نہیں تمہیں۔۔ پچھلی دفعہ بھی ہزار روپیہ اسی لیئے دیا تھا کہ مت آنا یہاں مگر تم لوگوں کو حرام

    امی غضبناک ہوئی وی تھیں۔ 

    زرینہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہہ نکلے تو کاشی نے آگے بڑھ کر امی کو کندھے سے تھام کر روک دیا

    امی بس کریں۔ ضروری تھوڑی ہے کہ ہر چھینک کرونا ہی ہو

    بی بی جی یقین کیجئے میرا صرف بھائی گیا تھا ایران وہ بھی ابھی تک اسکا کوئی اتا پتا نہیں جانے پاکستان آیا بھی ہے یا وہیں پھنسا ہے۔ پندرہ دن ہو رہے  بھائی کی کوئی خبر نہیں ملی مجھے۔ 

    وہ بولتی ہوئی پھوٹ پھوٹ کر رو دی

    اچھا بس اب ٹسوے نہ بہائو جائو گھر اور جب تک نہ بلائوں مت آنا۔۔ 

    امی زرا سا نرم پڑیں۔ 

    چلیں امی اندر چلیں ۔ کاشی کو یہی سمجھ آیا کہ انکو لے جائے یہاں سے  

    امی اندر کی جانب مڑیں تو زرینہ آنسو پونچھ کر پلٹ کر جانے لگی

    زرینہ۔۔ یہیں رکو۔  ثانیہ نے لمحہ بھر سوچا پھر اندر بھاگ گئ۔ 

    کاشی امی کو اندر لا کر خود انکے لیئے کچن سے پانی لینے چلا آیا۔ تبھی کچن کی گیراج کی جانب کھلی کھڑکی سے اس نے ثانیہ کو اندر سے بھاگ کر آتے اور زرینہ کی جانب بڑھتے دیکھا تو تجسس میں کھڑکی کے پاس آکر باہر جھانکنے لگا

    آئیم سوری تم تو اندر آ بھی نہیں رہی تھیں میں نے بلا لیا مجھے نہیں پتہ تھا امی نے کپڑے دھلوانے سے منع کیا یے۔ 

    ثانیہ شرمندہ سئ اس کے سامنے کھڑی معافی مانگ رہی تھی

    کوئی بات نہیں ۔ آپکی امی آپکی فکر ہی کر رہی ہیں اب اندر جائو آپ

    زرینہ نے مسکرا کر اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا جو بہت شرمندہ نظر آرہی تھی

    یہ لو یہ دوپٹہ اور یہ ٹرائوزر ہے ۔ یقینا یہ تمہاری بیٹی کو آجائے گا اتنی پتلی سی یے اور یہ پانچ سو میری طرف سے ۔ابھی اتنے ہی ہیں میرے پاس لیکن جب بھی تمہیں  مزید کچھ بھی چاہیئے ہو آجانا ہم ضرور مدد کریں گے تمہاری

    نہیں بی بی۔۔ زرینہ نے انکار کرنا چاہا مگر اس نے اصرار کرکے زبردستی تھما دیا۔ زرینہ آنسو پونچھتی ڈھیروں دعائیں دیتی گئ تو وہ مطمئن سی ہو کر اندر آگئ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ تینوں چھت پر چڑھے تھے۔ سفید براق جھنڈا کاشی اور ثانی نے مل کر بنایا تھا اب تینوں تین مختلف رنگوں سے ہاتھ سنے ہوئے اس جھنڈے پر چسپاں کر رہے تھے تین مختلف سائز کے ہاتھ تین مختلف رنگ۔ فاصلے سے چسپاں جو سماجی دوری اور ہاتھ دھونے دونوں پیغامات کی علامت تھے

    جھنڈا ڈنڈے پر لگانے اور اسے ریلنگ سے باندھ کر ماسک پہنے سلوٹ کرتے ہوئے بہن بھائی ۔ پیچھے جواد احمد کا گانا ڈیڑھ منٹ کی ویڈیو ۔ اسی وقت انہوں نے بنا کر اپلوڈ کی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند منٹوں میں ہی وہ ٹرینڈنگ پر آگئ تھی۔ 

    اوئے  اس سے تو میرا چینل تو چل نکلے گا۔۔ دانی خوش ہو رہا تھا۔ اسکا گیمنگ چینل تھا جس پر وہ گیمز کی لائو اسٹریمنگ کرتا تھا لوگ اسکی ویڈیو دیکھ کر اسے فورا پہچان گئے تھے اور اب دھڑا دھڑ کمنٹ کر رہے تھے۔۔ 

    واہ ہم تو اسٹار بن گئے ابھی توہم نے جیو کو بھیجی بھی نہیں ویڈیو۔  

    دانی کے موبائل پر ویڈیوز کے کمنٹس اسکے ساتھ جھک کر پڑھتی ثانیہ بچوں کی۔طرح خوش ہو رہی تھی۔

    یہ ویسے آئیڈیا کہاں سے آیا تھا جھنڈا بنانے کیلئے۔ 

    دانی نے یونہی پوچھا تھا مگر جواب چودہ طبق روشن کر گیا

    قطرینہ بھابی سے۔ وہ فورا بولی

    انہوں نے اپنی ٹک ٹاک پر اسکی ڈی آئی وائی ویڈیو لگائی تھی یہ انکا ہی آئیڈیا تھا ایسے ہاتھوں کے پرنٹ بنانے کا جھنڈا بھی انہوں نے اپنی پرانی ٹی شرٹ سے بنانا سکھایا تھا

    اسے ہکا بکا دیکھ کر ثانیہ اپنے موبائل میں کھول کر دکھانے لگی

    یہ دیکھیں۔  

    ٹک ٹاک اسٹار ملینزز فالوورز کے ساتھ وہ کوئی اور نہیں قطرینہ ہی تھی پچاس کے قریب ویڈیوز تھیں جن میں کہیں وہ سوشل ڈسٹنس مینٹین کرنے کا طریقہ بتا رہی تھی دو لڑکیاں ماسک پہن کر کہنی سے مصافحہ کر رہی تھیں کہیں سینی ٹایزر گھر بنانے کی ترکیب کئی گھر میں بیٹھے بیٹھے مصروفیتیں نکالنے کی چھوٹی چھوٹی ویڈیوز  ڈی آئی وائیز  ماسک گھر میں کھیلی جانے والی کارڈ گیمز چھوٹے چیلنجز بچوں کو کیسے مصروف رکھیں اور ایک کاش ٹرینڈ بھی تھا 

    وہ دیکھتا جا رہا تھا اسکی آنکھیں پھیلتی جا رہی تھیں۔ 

    کاشی کو ایک عدد چیلنج دیا گیا تھا جو اسے پورا کرنا تھا اور پھر کسی اور کو نامزد کرنا تھا۔ اسے قطرینہ نے بتایا تو تھا کہ یہ کرنا مگر اتنی جلدی کرنا پڑے گا یہ پتہ نہ تھا اسے۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔

    اختتام  تیسری قسط کا 

    جاری ہے

  • Corona aur katrina kahani episode 2

    کرونا اور قطرینہ کہانی قسط 2

    قرنطینہ کے بوجھل دن 

    صبح سے گھر میں اٹھا پٹخ مچی تھی  ماہانہ صفائی ہو رہی تھی کہ کیا بس چیزوں کا شور۔۔ امی نے دو بار تو کمرے میں آکر ان دونوں کو جگایا مگر ڈھٹائی عروج پر تھی دونوں کی۔ ایک بجے تو امی کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا۔ دروازہ دھاڑ سے کھول کر دھاڑیں

    اٹھ جائو بہت ہوگئ بس سارا دن نحوست پھیلائے رکھتے ہیں دونوں بھائی یہ نہیں کہ وبا پھوٹی ہے تو نہا دھو کر نماز پڑھ لو کوئی اللہ کا نام لے لو بس شیطان کی طرح اوندھے پڑے ہیں۔ 

    انہوں نے آگے بڑھ کر اوندھے پڑے دانش کی کمر پر دھموکا ہی جڑ دیا۔ 

    آئی امی۔۔ کیا کرتی ہیں۔۔ وہ تڑپ کر سیدھا ہوا

    کتنی دفعہ کہا ہے اوندھے مت لیٹا کرو ایسے شیطان سوتا ہے ہر اوندھی عادت اپنا رکھی ہے تم نے ۔ 

    امی شیطان کہاں سوتا ہر وقت تو کہیں نہ کہیں مصروف ہوتا دنیا میں فساد پھیلانے۔ 

    کاشی کا برا وقت آیا ہوا تھا سے خبر ہی نہیں اچھا بھلا جو دھموکے سے بچ گیا تھا اس بات پر امی نے آگے بڑھ کر اسکے بھی ایک لگا دی

    ہر وقت کا ٹھٹھا ۔ مزاق بناتے ہو ہر چیز کا ۔ اسلامی شعائر تک کو نہیں چھوڑتے بس لمبی زبان ہوتی جارہی ہے سب کی۔ 

    کاشی کی درگت بنتے دیکھ کر دانی نے منہ چھپا کر ہنسی روکی

    کاشی منہ بسورتا اٹھ بیٹھا۔

    چلو ثانیہ نے کھانا بنا دیا ہے بس آج سے کوئی ناشتہ نہیں ہوا کرے گا بس بارہ بجے کے بعد کھانا کھالیا کرو تم لوگ اٹھ کر۔۔ 

    امی انکے کمبل سمیٹتی جیسے ناک تک عاجز آئی ہوئی تھیں۔ دونوں نے شرافت کے سب ریکارڈ توڑ دیئے۔ دانی ملحقہ غسل خانے کی جانب لپکا تو کاشی نے اس سے الجھنے کی بجائے سیدھا امی ابو کے کمرے کا رخ کیا انکا غسل خانہ استعمال کرنے کو۔ 

    دروازہ کھولتے ہی ابو پر نگاہ پڑی۔ کونے میں جائے نماز پر بیٹھے قرآن کھولے پڑھ رہے تھے ساتھ ایک بوتل پانی بھی رکھا ہوا تھا۔ 

    اسلام و علیکم ابو جی۔ اس نے گڑ بڑا کر سلام کیا جوابا ابو نے تنبیہی سی نگاہ ڈالی جسکا مطلب مجھ سے مخاطب مت ہوں وظیفہ چل رہا ہے  اس نے صحیح صحیح سمجھا اور سیدھا غسل خانے میں گھس گیا۔ منہ ہاتھ دھوکر بال ہاتھوں سے سنوارتا باہر نکلا تو ابو اپنا وظیفہ ختم کر چکے تھے پانی پر پھونکا اور  بوتل اسکی جانب بڑھا دی۔ 

    یہ لو پی لو۔ 

    رات بھر کی پیاس تھئ اس نے منہ لگایا تو دو گلاس پی گیا ابو ہائیں ہائیں کرتے رہ گئے۔ 

    بس کرو  سارا مت ختم کرو سب گھر والوں نے پینا تھا یہ۔

    ابو اس سے ذیادہ گھبرا گئے۔۔ اس نے بوتل منہ سے ہٹائی تو انکی جان میں جان آئی۔  شکر تھا لیٹر بوتل تھی ورنہ کرونا سے کاشی کو کچھ ہوتا نہ ہوتا ابو کو صدمے سے کچھ ہو جاتا۔ 

    عجیب خرافاتئ اولادیں ہیں میری۔ 

    وہ گھور کر رہ گئے۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ثانیہ لائونج میں حسب عادت آلتی پالتی مارے بیٹھی فل والیم میں جیو نیوز لگائے شملہ مرچیں کاٹ رہی تھی۔ 

    27 مارچ کو تمام پیرا میڈیکل اسٹاف کی قربانیوں کا احساس کرتے ہوئے انکو خراچ تحسین پیش کیجئے اپنے گھر پر سفید جھنڈا لہرائیے جیو کے ساتھ منائیں ۔۔۔۔۔۔ 

    امی۔ امی۔ وہ چھری رکھ کر وہیں سے چلانے لگی۔ 

    امی جو منہ پر کپڑا باندھے سارے گھر کے جالے اتارتی پھر رہی تھیں اسکے گھبرا کر آوازیں دینے پر دوڑتی چلی آئیں۔ 

    کیا ہوا ہاتھ کٹ گیا۔ 

    انکو پہلا خیال اس پھوہڑ اولاد کا یہی آیا تھا کہ پہلی یا حد سے حد دوسری دفعہ سبزی کاٹنے بیٹھی ہے ہو تو ہاتھ بھی کٹوا لیا ہوگا۔۔ 

    نہیں امی۔ سفید جھنڈا ہے کوئی گھر پر؟ کل لگانا ہے چھت پر؟

    وہ دنیا جہان کا شوق آنکھوں میں سمائے پوچھ رہی تھی

    نہیں  سفید کیوں؟ اتنا بڑا چودہ اگست پر لایا تو تھا کاشی پاکستان کا ۔۔ امی ںے اسے ایک حصے میں دیکھ کر سکھ کا سانس لیا

    اوہو نہیں۔ جیو والے میڈیکل اسٹاف کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں کہ چھت پر سفید جھنڈا لگائیں۔

    میں نے بھی لگانا ہے۔ 

    وہ بچوں کی طرح ٹھنک کر بولی تو امی چڑ گئیں۔ 

    ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا صوفے سے ٹکاتی اسے گھور کر بولیں

    کیوں سب کے سب عیسائی ہیں جو سفید جھنڈا ہی بس لگا سکتے انکے لیئے،؟۔ اپنا ملک ہے اپنے ملک کا جھںڈا لگائو۔ سفید تو ہار کا اظہار کرنے کیلئے جنگ میں لگاتے فوجی۔ 

    خدا نہ کر ے جو اس وبا سے ہم ہاریں۔ 

    ارے نہیں امی سفید جھنڈا امن کا اظہار کرتا ہے ہار کا نہیں۔جنگ میں سفید جھنڈا فوجی اسلیئے لہراتے ہیں کہ ہم اب مزید نہیں لڑنا چاہتے جنگ بند کی جائے امن کا پیغام ہوتا ہے سفید جھنڈا۔ 

    دانی نے لائو نج میں داخل ہوتے ہوئے بحث کا سرا پکڑا

    بھائی سفید جھنڈا لا دو مجھے کل چھت پر لہرانا ہے۔ 

    ثانیہ نے روئے سخن بھائی کی جانب موڑ دیا۔  بڑی بڑی آنکھیں پھیلا کر معصوم سی شکل بنا کر لاڈ سے بولی۔ 

    دانی کا دل موم ہوا شائد پہلی بار اٹھ جاتا کہ امی نے ڈانٹ ہی تو دیا اسے

    کوئی ضرورت نہیں فالتو کے کام کرنے کی گھر بیٹھو آرام سےسب  کوئی باہر نہیں جائے گا گھر پر رہو اور تم کب سے سبزیاں ہی کاٹے جا رہی ہو کب کٹے گا کب پکے گا کھانا ایک بج گیا۔۔ 

    امی نے جھاڑا تو اس نے کھسیا کر ٹرے کی جانب توجہ کی۔ 

    تھوڑی سی گاجر تھوڑی سی ہری پیاز ، شملہ مرچیں پتلی پتلی کٹنے کے لئے سجی رکھیں تھیں جتنا ڈھیر تھا اور جو ثانیہ کی رفتار تھئ تقریبا دو گھنٹے اسکو کٹنے میں لگنے تھے۔ ۔ ٹرے کے ایک سائیڈ میں  موبائل بھی سجا تھا ۔یو ٹیوب ویڈیو روکی ہوئی تھی۔ اسکو کٹنا نہیں تھا اس نے گھر والوں کے معدے کا امتحان لینے کا سارا طریقہ کار بتانا تھا بس۔

    کیا۔ دانی صدمے سے دل پکڑ گیا۔ 

    یہ یہ وہ کھانا ہے جو ثانیہ پکا رہی ہے۔؟ مطلب پکنے کا ابھی دور دور تک نام و نشان نہیں ۔امئ رات کا کھایا ہوا ہے رحم کریں۔۔ 

    اسکا  جملہ چپل گھسیٹ کرڈھیلے قدم اٹھاتا کاشی کو بھی صدمے سے دوچار کر گیا۔ ابو کے پھکے پانی کی بوتل اسکے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچی 

    ہاں تو ۔ مدد کرادو بہن کی جلدی پک جائے گا۔ امی بے نیازی سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔

    امی ایک ۔۔ دانی نے ہمت کرکے فرمائیش کرنی چاہی جو امی کی ایک تیکھی نگاہ سے منہ میں ہی رہ گئ۔ 

    ناشتے کا وقت حد سے حد دس بجے تک ہے اسکے بعد بس کھانا کھائو گے جب بھئ پکے۔ غضب خدا کا سارے گھر کا نظام ہی بگاڑ دیا ہے چھٹیوں نے ۔۔ 

    امی بڑ بڑاتی جالے صاف کرنے والا ڈنڈا اٹھا کر پھر کسی کمرے کو آڑے ہاتھوں لینے نکل گئیں۔ 

    پانی پلا یار میرا دل بیٹھ رہا۔ 

    دانی نے کاشی کے ہاتھوں سے بوتل کھینچ کر منہ سے لگا لی۔

    بس یہ سبزیاں کٹ جائیں تو پکنے میں تو ٹائم نہیں لگے گا چار منٹ کی ویڈیو ہے بس۔ 

    ثانیہ نے تسلی دینی چاہی۔ کاشی اسکی عقل کو سلام کرکے رہ گیا۔

    ویڈیو 4 منٹ کی ہوگی مگر پکایا تو انہوں نے وقت لے کر ہی ہوگا فاسٹ فارورڈ کرکے بس اہم اہم طریقہ کار بتایا ہوگا۔ احمق پکانے میں تو تمہیں وہ پورا وقت لگے گا۔ 

    کاشی نے کہا تو ثانیہ نے قائل ہوکر اپنا کدو ہلایا۔ 

     یہ تو بہت ذیادہ سبزیاں ہیں ابھی۔ مجھے پانی تو پلا دیں دانی بھائی۔ 

    ثانیہ کو پھیلا وا دیکھ کر خفقان سا ہوا۔ 

    کاشی کرنٹ کھا کر مڑا۔ بوتل تقریبا خالی ہونے کو تھی آخری دو گھونٹ اور دانی کا منہ۔ 

    نہیں ۔ وہ دونوں ہاتھوں سے نہیں کا اشارہ کرتا ہوا دانی پر لپکا۔ دانی صورت حال کے لیئے تیار نہیں تھا کاشی اس پر کودا تو بوتل پیتے اسکے ہاتھ سے چھوٹی ہوا میں لہرائی۔ اسے گرنے سے بچانے کو کاشی نے ہاتھ بڑھایا دونوں ایک دوسرے سے الجھے دھماکے سے صوفے سے رڑھتے ہوئے نیچے آرہے۔تاہم بوتل کاشی کے ہاتھ میں آگئ تھی۔۔ 

    دونوں بے ہنگم انداز میں ایک دوسرے پر الجھے کارپٹ پر گرے پڑے تھے ثانیہ بھونچکا سی دیکھ رہی تھی

    اف بچا لیا۔ 

    کاشی کہنی سہلاتا بوتل میں ایک گھونٹ کے قریب پانی بچا لیا تھا اسے ہی فاتحانہ انداز میں لہرا کر سیدھا ہو بیٹھا۔

    کمر سہلتا دانی دانت کچکچانے لگا

    صحرا میں بیٹھا ہے؟ آخری کنواں تھا یہ جس کے پانی پر مر رہا ہے۔ کمر توڑ دی میری کمینہ سانڈ کود گیا مجھ پر جیسے پھول سا وزن ہے اسکا۔ 

    اس نے بلا لحاظ دو تین لاتیں مار دیں کاشی کو۔۔ 

    کاشی اسکے وار سے بچتا بوتل پر ڈھکن لگاتا پیچھے ہوا

    اوئے یہ پھونکا ہوا پانی ہے ابو نے نجانے کون کون سی سورت پڑھ کر دم کیا ہے اس پر اسکو فریج کی ہر بوتل میں تھوڑا تھوڑا ملانا تھا۔ ختم ہوجاتا تو ابو نے مار ڈالنا تھا مجھے۔ 

    کاشی نے کہا تو دانی کو تھوڑا سکون ہوا

    یعنی میں اندر تک پاک صاف ہوگیا اب مجھے اندر باہر کسی کرونا وائرس کیا کسی قطرینہ چڑیل سے بھی کوئی خطرہ نہیں۔  

    وہ جوش خطابت میں یقینا حد پار کر گیا۔۔ ثانیہ نے جہاں کھی کھی کی وہیں کاشی دانی کی گردن دبوچنے بھاگا تھا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

     لائونج میں لگے گھڑیال نے دو کا گھنٹہ بجایا تو امی خاموشی سے کچن میں گئیں دو کپ چائے بنائی  توس لیئے اور اپنے کمرے میں اسے ابو کے ساتھ سہارے کو  تناول فرمانے گھس گئیں۔ ثانیہ تندہی ہی ایک ایک گاجر کو باریک کاٹنے کی کوشش کر رہی تھی۔ 

    دانی اور کاشی  صبر سے اسکو ایک ٹک دیکھ رہے تھے۔ 

    آپ دونوں ایسے دیکھ کر مجھے اور کنفیوز کر رہے ہیں۔ 

    ثانیہ نے بے چارگی سے سر اٹھایا۔  

    لائو میں مدد کروائوں۔ کاشی سے رہا نہ گیا اسکے ہاتھ سے چھری لیکر خود اسکے سامنے بیٹھ گیا

    آپ کاٹیں گے؟ ثانیہ حیران ہوئی۔ 

    ہاں اور تم جا کر اس سنگا پورین چاولوں کو ترکیب کے مطابق ایک کنی ابال لو اور اس میں کیا ڈالنا وہ بھی دیکھ لو۔ میں ان سبزیوں سے نمٹتا ہوں۔ 

    وہ مصروف سے انداز میں اسکی حیرت کی پروا نہ کرتے ہوئے بولا تو وہ خوشی خوشی اٹھ کر باورچی خانے بھاگی۔ 

    اس میں میکرونی بھئ ابال کر ڈالنی میں ابالتی ہوں۔ 

    یار مجھے لگ رہا میرئ آنکھوں کے سامنے اندھیرا آرہا ہے۔ 

    دانی صوفے پر نیم دراز انگڑائی لیکر بولا۔ 

    ثانی ایک پراٹھا ڈال دو مجھے۔ ثانیہ کو باورچی خانے میں جاتے دیکھ کر جھٹ فرمائیش ڈال دی۔ ثانیہ کے قدم سست پڑے بھائی کو شکایتی نگاہ سے دیکھنے لگی۔ 

    کوئی نہیں ثانیہ تم اپناکام کرو بس آج کھانا ہی کھائیں گے سب مل کر۔ 

    کاشی نے مشکل آسان کی تو وہ غڑاپ سے باورچی خانے میں گھس گئ دانی نے صوفے سے کشن اٹھا کر اسکے سر پر دے مارا

    بڑا بھائی میں ہوں کہ تو ہے۔

    توہے بد قسمتی سے مگر بڑا پن نام کو نہیں تجھ میں۔ 

    کاشی جوابا کشن اپنی کمر کے پیچھے ٹکا کر مزید آرام سے بیٹھ کر گاجریں کاٹنے لگا۔ 

    کتنے شوق سے وہ بنا رہی ہے بجائے اسکے کہ مدد کر اسکی الٹا فرمائیشیں جھاڑ رہا ہے۔ 

    ہاں تو کیا تیری طرح سبزیاں کاٹ کے دوں ؟ کاشی باجی۔۔۔ 

    اس نے طنز کیا تو کاشی نے گہری سانس لیکر اسے دیکھا۔ 

    کیا حرج ہے۔ ؟ بچی ہے وہ سب اکیلے کیسے کر سکتی ہے کیا ہوا جو ذرا دی مدد کروادوں میں۔۔ 

    ہاں تو بچی ہے۔ اسی کا کام ہے کھانا پکانا سسرال میں میں اور تم تھوڑی مدد کرائیں گے اسکی۔۔ 

    دانی کج بحثی پر اتر آیا 

    اگر سسرال میں بھئ مدد کرانی پڑی تو جا کر مدد کروانے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ چھوٹی بہن ہے میری۔ 

    کاشی نے آرام سے کہا تو وہ حیران ہوتا باقائدہ اٹھ بیٹھا۔

    اوئے فیمنسٹ نکلا تو۔ وہ تیری قطرینہ یہ اسی نے دماغ میں ڈالا نا تیرے ؟ بڑے بلاگ لکھ رہئ تھی میرا جسم میری مرضی پر اسکے بلاگ کا لنک واٹس ایپ اسٹیٹس لگاتا رہا تو دیکھا تھا۔ ہائے امی آپکا بیٹا گیا ہاتھ سے ۔۔ 

    وہ مسخرے پن سے کہتا مزاق اڑا رہا تھا۔  کاشی نے ناپسندیدہ نگاہ ڈالی اس پر۔

    دیکھا ہی تو نہیں دیکھا ہوتا اسکا بلاگ تو ایسے نہ کہتا۔ اسکے بلاگ نے ہی مجھے سوچنے پر مجبور کیا۔ اگر گھر میں بیوی بہن ماں کا ہاتھ بٹانا فیمنزم ہے تو اسکی شروعات چودہ سو سال پہلے رسول خدا ص کے اپنے گھر سے ہوئی جب وہ اپنا ہر کام خود کرتے تھے اور اکثر گھرکے کاموں میں اپنی زوجہ کی مدد کرواتے تھے، جب حضرت علی علیہ السلام بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہہ کو چکی پیستا دیکھ کر انکی مدد کروانے بیٹھ جاتے تھے ، جب بی بی زینب سلام اللہ علیہہ اپنے نانا جان کی قبر کی زیارت کو جاتئ تھیں تو بھائی انکا سایہ بن کر انکے ساتھ جاتے تھے۔ اپنا کھانا خود گرم کرنے میں مجھے کوئی قباحت نظر نہیں آتی اگر میری خدمت کیلئے میری ماں اٹھنے لگتی ہے۔ بہن کو سبزی کاٹ کر دیتے ہوئے مجھے صرف ایک احساس ہے کہ کل اس نے میرے اٹھنے پر بارہ بجے اپنا ہر کام چھوڑ کر مجھے تازہ ناشتہ بنا کر دیا تھا۔ اگر اسکی مدد کروادوں گا تو میں اچھا بھائی کہلائوں گا بہن نہیں بن جائوں گا نہ ہی میری مردانگی میں کمی آجائے گی۔ 

    دانی کو اندازہ نہیں تھا وہ اتنا سنجیدہ ہو کر لیکچر جھاڑ دے گا۔ 

    بھوک لگی ہوئی تھی اس لیئے کہہ دیا تھا۔ اتنا برا بھی نہیں ہوں میں کل اس نے مجھے بھی تو پراٹھا بنا کر دیا تھا آج میں اسے سبزیاں کاٹ کے دوں گا۔ جزباتی ہی کردیا تو نے  اب میں بنائوں گا کھانا ہٹ پیچھے ۔۔ 

    دانی پر ڈرامہ بازی ختم تھئ یوں اٹھا جیسے اسکی تقریر نے جزباتی ہی تو کر ڈالا ہے۔ کاشی کے ہاتھ سے چھری لیکر خود کاٹنے بیٹھ گیا۔ کاشی اپنا ہاتھ دبانے لگا جو سبزیاں کاٹنے سے دکھنے سی لگی تھیں۔ 

    کمرے کے دروازے پر کھڑے ابو نے دونوں کی گفتگو سنی تھی۔بچوں کی باتوں نے انکو بھی متاثر کر دیا تھا ۔  

    کیا ہوا یہاں کیوں کھڑے ہیں 

    امی کمرے سے ٹرے لیکر نکلیں تو انکو دروازے کے آگے حائل پایا۔ 

    لائو دو میں رکھ آتا ہوں باورچی خانے میں ہی جا رہا ہوں۔ 

    ابو نے امی کے ہاتھ سے خالی کپ اور پلیٹ والی ٹرے لے لی۔بظاہر نارمل سا انداز تھا پر امی بےہوش ہوتے ہوتے بچیں۔ ہل کر پانی نہ پینے والے شوہر کا یہ روپ انکیلئے انوکھا تھا۔ ابو کو انکی حیرت کا اندازہ تھا سو بے نیازی سے ایسے ظاہر کرتے ہوئے جیسے کچھ نئی بات ہی نہیں ہوئی وہ ٹرے اٹھا کر کچن کی۔جانب بڑھ گئے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    انکی شادی شدہ 23 سالہ زندگی کا پہلا دن تھا جو وہ آرام سے کھانے کی میز پر بیٹھی تھیں کسی مہارانی کی طرح انکے بیٹے میز سجا رہے تھے۔ شوہر سلاد کی پلیٹ لیکر آئے تو ساتھ ہی بڑے فخر سے بتایا کہ سلاد میں نے بنائی ہے۔ 

    امی رائتہ میں نے بنایاہے۔ 

    دانئ نے بھی جھٹ کار گزاری جتائی

    ثانیہ گرم گرم چاول لیکر آئی تو سب نے اسکے بھی اطمینان سے بیٹھ جانے کا انتظار کیا ۔ 

    یہ ہے کیا؟ امی کو ڈش دیکھ کر سمجھ نہ آیا 

    امی سنگاپورین رائیس ہیں۔ ثانیہ نے خوش ہو کر بتایا 

    اس میں مخرونی کیوں ڈال دی؟ 

    وہ حیرانی سے چمچ اٹھا کر دیکھ رہی تھیں۔ 

    امی اس میں سب ڈلتا ہے۔ کاشی نے انکو معلومات دیں۔  امی نے چمچ بھر کر منہ میں رکھا۔ تھوڑا مختلف سا مگر اچھا ذائقہ ۔۔بیٹی اتنی بڑی ہوگئ تھی کہ کھانا بھی بنانے لگی انہوں نے پیار بھری نگاہ سے اسے دیکھا۔ 

    بہت ذائقے دار ہے میری بیٹی کا۔تجربہ کامیاب رہا۔  

    یہ میں نے تو صرف نہیں بنایا کاشی اور دانی بھائی بھی برابر سے ساتھ لگے رہے ہیں سب مصالحے کاشی بھائی کو یاد تھے تو دانی بھائی نے تو آج گوشت بھی دھویا

    وہ بھی ثانیہ تھی کیسے نا انصافی سے سارا کریڈٹ لے جاتی اسکی بات پر سب قہقہہ لگا کر ہنسے

    کیا ہوا میں نے کچھ غلط کہا؟ وہ شرمندہ سی ہو کر پوچھنے لگی۔ 

    ہاں سارے مصالحے کاشی سے منگواتی ہوں اسے تو ایک ایک چیز کا پتہ ہے۔ امی نے پیار سے کاشی کو دیکھا تووہ جھینپ کر مسکرادیا

    اور میں جب جب امی چکن دھو رہی ہوتی تھیں تو میں انکے سر پر سوار کوئی فرمائش کر رہا ہوتا تھا تو مجھے پتہ چکن کیسے دھلتا 

    دانئ نے بھی بتانا ضروری سمجھا۔  

    اور یہ ہمیشہ سلاد کمرے میں پھیری والوں کی شکایتیں لگاتے ہوئے کاٹتی تھیں تو مجھے بھی پتہ کیسے سلاد بنتی ہے ۔۔ 

    ابو کے کہنے پر امی جھینپ کر ہنس پڑیں۔ 

    ویسے یار مزے کا بنا ہے پلائو ۔ کاشی نے فیاضی سے تعریف کی۔ سب سے ذیادہ نخرے اسی کے تھے سبزیاں نہیں کھانی وغیرہ مگر پلائو میں شملہ مرچ بھی چٹخارے لیکر کھا رہا تھا

    کل بھی کوئی نئی چیز بنائیں؟ ثانی پرجوش ہوئی

     مزا آیا وقت بھئ گزر گیا اور امی کو آرام بھی مل گیا۔امی اب جب تک ہماری چھٹیاں ہیں نا ہم روز کوئی نئی کانٹینٹل ڈش بنائیں گے یو ٹیوب سے دیکھ کر ۔۔ 

    ثانی کے جوش پر کاشی اور دانئ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی

    مگر کل ناشتہ کروا کر محنت کروانا مجھ سے آج تو میرے پیٹ کے چوہے بھی بھوک سے بلک بلک کر مرچلے تھے۔۔ 

    کاشی نے دہائی دی۔ 

    مگر اب کوئی سبزی بنائو دیکھ کر ہر وقت کا گوشت کھانا بھی ٹھیک بات نہیں۔ ابو نے کہا تو تینوں کل کا مینو ڈیسائڈ کرنے لگ گئے۔

    میزپر آج امی کے ہاتھ لگایے بنا بھی ہر چیز موجود تھی مگر ایک چیز کم تھی۔ ظاہر ہے برسوں سے میز لگانے والی کا مقابلہ نہیں ہو سکتا تھا۔ پانی رکھنا ہی بھول گئے بچے۔ انہیں ہنستا بولتا دیکھ کر خوش ہوتی امی چپکے سے پانی لینے اٹھ گئیں۔۔

    ۔۔۔۔اختتام قسط 2

    جاری ہے۔

  • Corona aur katrina kahani episode 1


    کرونا اور قطرینہ کہانی قسط 1
    کرونا وائرس کا خطرہ اور سنجیدگی کا عالم

    کاشی کاشی دہی لا دو ۔۔ 

    امی نے اسکے اوپر سے کمبل کھینچ کر عجلت میں کہا۔۔ 

    وہ ہڑبڑا کر اٹھا 

    اور یہ لائونج میں کیوں سو رہے تھے؟ 

    امی کے ایکدم صور پھونک کر جگا دینے پر بدمزا کاشی منہ بنا کر بولا

    شوق تھا مجھے بیچ چوراہے میں سونے کا دیکھ رہا تھا نیند کیسی آتی ہے۔ 

    اچھا اب تو دیکھ لیا نا چلو اب کمرے میں جا کر سوئو یہاں کی صفائی رہ گئ بس تمہیں سوتا دیکھ کر شاداں گیراج دھونے لگ گئ ۔۔ 

    امی ۔۔ اس نے احتجاجا گھورا اس نے طنز کیا تھا اور امی بات اڑا گئیں۔

    چلو اٹھو شاباش ایک بج رہے چھٹیوں کا یہ مطلب نہیں کہ دن چڑھے سوتے رہو۔ 

    وہ منہ بناتاچپل گھسیٹتا اندر کی جانب بڑھنے لگا کہ امی کو پھر دہی یاد آگیا  

    کہاں جارہے ہو؟ 

    سونے ۔۔ کاشان بھنایا 

    پہلے دہی لا کر دو مجھے۔۔ پھر بھلے شام تک سوتے رہنا کھانا بنانے میں دیر ہو جائے گی ورنہ۔۔ 

    تبھئ سر کھجاتا چپل گھسیٹ کر ڈھیلے قدموں سے چلتا دانش آیا آتے ہی اسکی چھوڑی جگہ صوفے پر دھپ سے گرا۔۔ 

    امی ناشتہ۔۔ دانی کی آواز نیند سے بھری تھی

    ہاں بنواتی ہوں شاداں پراٹھا ڈال دو دانئ کیلئے۔۔ کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے سر میں درد ہو رہا۔۔ ؟؟؟؟

    دانی نے معصوم سی شکل بنا کر آنکھیں پٹپٹائیں۔۔ 

    اوہو ۔۔ ناشتہ کر لو پھر سر درد کی۔ اسکو بےزاری سے سر سہلاتے دیکھ کر امی فکر مند سی ہو کر اسکےپاس آبیٹھیں۔ 

    کاشی کا خون جل گیا۔۔ 

    امی میں بھئ آپکی اولاد ہوں یاد آیا؟ مجھے بھی ناشتے کا پوچھ لیں۔

    اسکے جلے بھنے انداز پر دانی چسکا لینے والے انداز میں ہنسا

    کتنئ بار تمہیں بتائوں کہ تم شاداں کے بھائی ہو امی نے ترس کھا کر گود لے لیا تھا تمہیں۔۔ 

    اسکے طنز سے کہنے پر امی چونک کر مڑیں۔ 

    تم ابھی تک گئے نہیں؟ تمہارے ابو نے صبح سات بجے کا ناشتہ کیا ہوا ہے۔ انہیں بھوک لگ جانی ہے ابھی۔۔ 

    امی میں نے کل دوپہر کا کھانا کھایا ہوا ہے مجھے تو ناشتے کا بھی نہیں پوچھا آپ نے۔ 

    وہ روہانسا ہوا

    ہاں تو اپنی مرضی سے بھوکے رہے سب نے کریلے قیمہ شوق سے کھایا رات کو سوائے تمہارے۔۔

    امی بے نیازئ سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔ 

    کوئی نہیں دانی نے بھی نہیں کھایا ۔یہ رات کو ڈیل آر۔۔۔ وہ غصے میں راز افشا کرنے لگا تھا دانی سٹپٹا کر سیدھا بیٹھا 

    ارے قط قطرینہ کی ڈیل تھی ۔ بھول گئے

    دانی نے چبا کر کہتے آنکھیں دکھائیں کاشی نے زبان کو بروقت بریک لگائی

    کیا ڈیل کیسی ڈیل؟ 

    امی کچھ نہ سمجھیں 

    قطرینہ نے کئی نئی فلموں کی ڈیل سائن کر لی امی ایک سال تین فلمیں کر رہی ہے۔ اب پتہ ہے آپکو۔۔ 

    دانئ ایران توران کی ہانکنے لگا تو امی بےزار ہو اٹھیں

    ارے دفع کرو قرینہ قطرونا کرونا کو ہمیں کیا تم کاشی 

    ۔ چلو اب جلدی سے دہی لا کر دو میں تب تک تم دونوں کیلئے ناشتہ تیار کرواتی ہوں۔۔ 

    امی کہتی اٹھ کر جانے لگی دانی نے بمشکل انکے کمرے سے نکلنے کا انتظار کیا لپک کر گردن سے پکڑ لیا کاشی کو

    کیا بکنے جا رہے تھے؟ کیا طے ہوا تھا تم میرا راز رکھو گے میں تمہارا۔ ایک پیس دیا تھا نا پزا کا تمہیں احسان فراموش۔ 

    اس نے جھٹکا دیا ۔ کاشی گردن چھڑا کر سہلاتے ہوئے گھورنے لگا

    میرا ایک چھوٹا سا راز ہے تمہارے کتنے درجن میں راز رکھتا ہوں کچھ یاد ہے۔ 

    چھوٹا سا راز ہے تمہارا اچھا ۔۔ دانی کہاں ہاتھ آنے والا تھا وہیں سے آواز لگا نے لگا

    امی امی قطرینہ آپکی بہو بننے والی ہے۔۔ 

    کیا ۔۔ امی کی دور سے آواز آئی کاشی ہاتھ پیر جوڑنے لگا 

    اچھا اچھا ۔چپ کر جا میرے بھائی ۔ 

    ہاں اب ہوا نا سیٹ۔ دانی نے فرضی کالر جھاڑے

    اچھا سن پزا کے خالی ڈبے تیرے بیڈ کے نیچے گھسا دیئے تھے شاداں کو صفائی نہیں کرنے دی کمرے کی تم۔ناشتے کے بعد امی کی۔نظر بچا کر باہر پھینک دینا۔

    وہ مزے سے حکم چلاتا ہوا منہ دھونے چل دیا تھا اسے کاشی بس گھور کر رہ گیا 

    نجانے کونسئ منحوس گھڑی تھئ جو ایک دفعہ اسکے نمبر سے میسج کردیا قطرینہ کو۔ کمینہ چھے مہینے ہونے کو آگئے بلیک میل کیئے چلا جا رہا ہے۔

    وہ منہ بناتا صوفے پر آبیٹھا پھر جیسے کرنٹ سا لگا اچھل کر کھڑا ہواسر پر ہاتھ مارا 

     دہی۔۔۔ اف امی پیسے تو دیں دہی لانے کے۔ 

    وہ جھلاتا ہوا کچن کی جانب بڑھ گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

     کرونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری وائرس چین سے پھیلتا ہوا دنیا کو لپیٹ میں لے رہا ہے۔ اب تک اس وائرس سے متاثرہ ممالک میں ایران امریکہ اسپین اٹلی بھی شامل ہو چکے ہیں ۔ اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد۔۔ 

    ابھی اتنی ہی خبر ہوئی تھی کہ جھٹ ثانیہ نے چینل بدل دیا۔

    ارے دیکھنے تو دو پوری خبر؟؟ دانی نے کہا تو وہ لاپروائی سے کندھے اچکا کر بولی

    ہمیں کیا۔ یہ گندے لوگوں کا وائرس ہے جو الا بلا کھاتے ہاتھ منہ نہیں دھوتے ہم تو دن میں پانچ مرتبہ وضو کرنے والی قوم ہیں۔۔ 

    اسکی بات ابھی ختم نہ ہوئی تھی امی نے جھٹ اسکے سر پر چپت لگا دی۔

    یہ نماز پڑھنے والی قوم کا حال دیکھو ایک بجے محترمہ کی صبح ہوئی ہے ناشتہ تک ٹی وی لائونج میں روتی دھوتی عورتوں کو دیکھ کر ہو رہا ہے کچھ پتہ ہے عصر کب ہوتی ہے فجر ظہر تو گزر چکی ہے ۔ 

    بیٹے کیلئے ٹرے میں ناشتہ لیکر آتی امی کی اس اقربا پروری پر وہ آنکھوں میں آنسو ہی تو لے آئی۔۔ 

    پونے دو بجے ناشتے کیلئے صوفے پر ٹانگے پسارے بیٹھی اولاد نرینہ کیلئے بھی کچھ ارشاد فرما دیا کریں ۔ کم از کم میں اپنا ناشتہ خود لیکر آئی ہوں انکو تو ٹرے میں لگا کر دینا پڑتا آپکو۔  اتنی زور سے مارتی ہیں دماغ ادھر ادھر ہوگیا ہوگا میرا۔۔ 

    وہ اب باقائدہ سر سہلا رہی تھی

    دانئ نے ناشتہ آتے دیکھ کر پساری ہوئی ٹانگیں سمیٹ لی تھیں اب کشن سامنے میز کی طرح سجائے اس پر ناشتے کی ٹرے رکھے تناول فرمانے کا احسان کرنے کو تیار تھا مگر بہن کو چھیڑے بغیر لطف کیسے آتا۔۔لہک کر بولا 

    مت فکر کرو کوئی ادھر ادھر نہیں ہوگا دماغ۔ در اصل دماغ ہوگا تو ادھر ادھر ہوگا نا۔ 

    بھائی میرا تو ایک ہے سو مجھے فکر اب آپکی طرح دو دماغ ہوں تو بندہ ایسے ہی بے فکر رہتا۔۔ 

    وہ درپردہ اسے بندر کہہ گئ تھی۔ دانی گھورنے لگا 

    امی تاسف سے بیٹی کو گھور رہی تھیں

    کیسا تڑ تڑ زبان چلتی ہے ۔ کبھی ہاتھ پائوں بھی ہلا لیا کرو اتنی تیزی سے چلو ناشتہ ختم ہوگیا ہو تو چائے بنائو سب کیلئے سر پھٹ رہا میرا بھی۔ اس کوکر کی چھک چھک سے۔۔ 

    امئ سر تھامتی ہوئی سنگل صوفے پر پائوں اوپر کرکے اطمینان سے بیٹھ گئیں۔ 

    ثانیہ نے ہونٹ لٹکا کر شکایتی نگاہ ڈالی ان پر۔اسکے پسندیدہ ڈرامے جس میں ہیروئن کی اپنے ابا کی عمر کے آدمی سے شادی ہوگئ تھی آرہا تھا۔ اور تو اور اسکے پراٹھے کے ابھی دو تین لقمے باقی تھے یہ الگ بات کافی دیر سے ہی وہ باقی تھے بے دلی سے ٹونگنے کی وجہ سے۔ 

    امی کافی دیر نہیں ہوگئی اس کوکر کی آواز کو؟۔ دانی کے بھی سر پر یہ آواز گراں گزر رہی تھی۔

    ہاں گوشت گلا ہی نہیں سو دوبارہ لگایا ہے پندرہ منٹ کیلئے۔ 

    یہ کاشی کب کا گیا ہوا ہے آیا نہیں دہی لیکر ۔ دہی خریدنے گیا ہے یا بنانے بیٹھ گیا ہے۔۔ 

    امی کو یاد آیا ۔ تبھی منہ پر ماسک چڑھائے ہاتھوں میں گلوز پہنے کاشی دہی کی تھیلی تھامے اندر داخل ہوا

    تینوں اسے دیکھ کر ہکا بکا ہی تو رہ گئے

    ہیں یہ کیا ہوا۔۔ ؟؟؟ تینوں نے بے ساختہ بولا تو وہ تھوڑا سٹپٹا گیا

    امی وہ باہر ایک این جی او والے مفت ماسک اور گلوز بانٹ رہے ہیں کہہ رہے کہ وائرس سے بچنا ہو تو ماسک پہن کر نکلیں ۔۔ 

    تینوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے ۔

    ارے یہ تو چین کا وائرس ہے یہاں کہاں۔ ایویں ڈراتے ہیں میڈیا والے ۔

    یہ دانی تھا باقائدہ ٹھٹھا لگا کر بولا 

    نہیں پاکستان میں بھی آچکا ہے سات سو کے قریب کیسز ہوچکے ٹی وی دیکھا کرو تو پتہ لگے۔ 

    ثانیہ کی خبریں ہمیشہ اپ ٹو ڈیٹ رہتی تھیں سو اپنی قابلیت جھاڑنا ضروری سمجھا۔۔ 

    کیا اتنا برا حال ہو چکا ہے؟ امی بھی تھوڑا گھبرا سی گئیں

    ہاں تو ایویں تھوڑی ہم سب کو چھٹیاں دے دی گئیں ہیں۔ کراچی میں تو لاک ڈائون بھی شروع ہو گیا ہے اجتماعات شادیوں اور دیگر تقریبات پر بھی پابندی لگا دی ہے پورے پاکستان میں۔ 

    کاشی نے ماسک اتار کر گہری سانس لی۔ 

    وہ این جی او والے کہہ رہے تھے کہ محتاط رہیں چھینک وغیرہ کہنی موڑ کر چھینکیں بار بار ہاتھ دھوئیں گلا خشک نہ ہونے دیں اور معمولی نزلہ زکام کو بھی معمولی نہ سمجھیں۔ اور یہ پینا ڈول کا پتا بھی دیا ہے انہوں نے۔ اس نے جیب سے پینا ڈول کا پتا بھی نکال کر لہرایا

    اور دہی وہ لائے کہ نہیں ؟؟؟ امی نے گھورا

    کب سے انتظار میں ہوں سالن بنانے کے بجائے دہی لانے کے این جی او والوں سے باتیں پٹیلنے بیٹھ گئے۔ ارے ان لوگوں کو ڈرانے کے سوا کام ہی کیا ہے۔۔ 

    امی جیسے ناک تک تنگ آئی ہوئی تھیں

    کرونا رٹ رٹ کر ہی سب کو بیمار کر چھوڑیں گے

    انکی تقریر کو بریک کاشی کے منہ بنا کر دہی کی تھیلی انکے سامنے لہرانے پر ہی بند ہوئی

    آتے ہونگے ابا تمہارے نماز پڑھنے گئے ہیں مسجد۔۔ 

    سالن تیار کروں۔۔ 

    کونسی نماز مسجد میں جماعت پر پابندی لگا دی ہے کہہ رہے ہیں کرونا سے بچنا ہے تو گھر بیٹھو۔۔ توبہ ایمان کی کمزور ی ہے بس۔۔ بتائو گھر بیٹھ کر موت نہ آئے گی۔۔ عجیب خرافاتی لوگ ہیں میڈیا والے سب کو ڈرا ڈرا کر پاگل ہی کر چھوڑا ہے

    ابا ٹوپی سر سے اتارتے سخت ناراض ناراض سے گھر میں داخل ہوئے تھے۔۔ 

    یک نہ شد دو شد۔ ۔

    تازہ تازہ لیکچر لیکر آئے کاشی کو اپنے ہی گھر والوں کو کرونا کی احتیاطی تدابیر بتانا مشکل لگ رہا تھا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آیت کریمہ کا ورد کرکے اس میسج کو آگے بھیجئے اس آسمانی آفت سے بچنے کا بس یہی طریقہ ہے

    استغفار کیجئے یہ ہمارے ہی اعمال کی سزا ہوتی ہے جو وبا کی صورت نازل ہوتی ہے۔۔ 

    بار بار فالتو میں ہاتھ دھونے سے بہتر ہے کچن میں پڑے دو چار برتن بھی لگے ہاتھوں دھو لیا کریں۔ 

    ابے یار۔۔ 

    اس نے بیزاری سے واٹس ایپ بند کیا ۔ ہر طرح کا کرونا کا میسج آیا ہوا تھا جس کو جو سمجھ آتا وہ آگے فارورڈ کرکے صدقہ جاریہ کا حصہ دار بننا ضروری سمجھتا۔ 

    سب سے ذیادہ اسکی ہر دل عزیز سہیلی قطرینہ کے ایسے پیغام موصول ہوتے ۔ اسکے واٹس ایپ اسٹیٹس بھی کچھ ایسے تھے ہاتھ صابن سے دھونے کی ٹک ٹاک ویڈیو بنا کر اپلوڈ کی ہوئی تھی۔ منہ پر ماسک پہن کر وکٹری کا نشان بناتے ہوئے۔ اپنی سہیلی کے ساتھ مصافحے کیللئے ہاتھ بڑھا کر ایکدم ہاتھ پیچھے کر کے دور سے سلام کرتے ہوئے مفاد عامہ کا پیغام دیتے ہوئے کی ویڈیو۔ 

    دو درجن دعائیں ۔ سینی ٹائزر لگاتے ہوئے تصویر ۔ 

    وہ اسکے اسٹیٹس دیکھ کر خوب ہنسا تھا لیکن وہ کتنی سنجیدہ تھی اسکا اندازہ اسے تب ہوا جب اس سے فون پر بات کرتے ہوئے اس نے باقائدہ تعداد گنوا کر دنیا بھر میں ہونے والی اموات اور خاص کر اٹلی کے لوگوں کی کرونا کو سنجیدہ نہ لینے والی حرکت کے بعد چین کے بعد سب سے ذیادہ اموات کا شکار ہونے کا بتاتے ہوئے رو پڑی۔ 

    کاشی انکی فوج فوجی گاڑیوں میں بوریوں کی طرح لاشیں بھر کر لے جارہی ہیں سڑک پر پڑیں ہیں وہاں انسانی لاشیں ۔ یہ اس ملک کا حال جہاں صحت کی سہولتیں بہترین ہیں ۔ہم جیسے ترقی پزیر ملک کا کیا ہوگا۔۔ 

    روتے ہوئے اسکے بین کرنے والے اس انداز نے اس پر اچھا خاصا اثر کیا تھا۔  

    وہ ویڈیو اس نے بھی فیس بک پر دیکھ رکھی تھی مگر اتنا محسوس نہیں کیا تھا۔ 

    بس یار ہم بس اللہ سے مدد مانگ سکتے ہیں اور کیا کر سکتے۔۔ 

    وہ بے چارگی سے بولا۔  

    آدھے گھنٹے کی اس واٹس ایپ کال میں سوائے کرونا کے اس نے دوسری کوئی بات نہیں کی تھی۔ دو ہفتے سے انکی کوئی ملاقات نہیں تھئ۔ وہ اسے کافی یاد کر رہا تھا مگر وہ سوائے کرونا کے کچھ سننے کو تیار نہیں تھی۔ 

    بس یہی تو اس قوم کا المیہ ہے۔ وہ ایکدم تیز ہو کر بولی

    خود کچھ نہیں کرنا بس سب اللہ پر چھوڑ کر ہاتھ پائوں توڑ کر بیٹھ رہناہے۔ اللہ بھی کہتا ہے اپنا خیال رکھو اپنی زندگی کی حفاظت کرو۔ مگر یہاں کسی کو کچھ کہو تو آگے سے ایمان کی کمزوری کا طعنہ دے ڈالتا ہے۔ ارے وبا پھوٹ پڑی ہے تو انسان دیکھ کر لگے گی یا کرونا آکر پہلے پوچھے گا بھائی مسلمان ہو، اوہ معزرت میں کوئی کافر دیکھتا ہوں آگے ۔۔

    اسکا انداز اتنا چڑ چڑا سا تھا کہ وہ بے ساختہ ہنس پڑا

    اب تم ہنس کر مجھے اور غصہ نہ دلائو۔ کوئی سننے کو تیار نہیں میری۔  میرے اپنے بہن بھائی میرا مزاق اڑا رہے کہ ذیادہ سوچتی ہو تم۔۔ وہ مایوس سی ہو چلی تھی۔۔

    نہیں بھئی مجھے یقین ہے تمہاری بات پرکرونا سب پر یکساں حملہ آور ہے سعودیہ میں طواف بند ہے تو ایران میں مسلمان بھی اسکا شکار بن رہے ہیں۔ ہمیں ہر ممکن احتیاط کرنی چاہیئے۔ 

    وہی تو۔۔ اسکو اپنا ہم نوا دیکھ کر وہ پھر پرجوش ہوئی۔۔ 

    کاشان ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔۔ کال پر دوسری جانب ایک اور کرونا اپڈیٹ دئ جارہی تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح حسب معمول تھی۔اسکے برابر والے بیڈ پر دانی  خراٹے مار رہا تھا۔ وہ سستی سے چپل پہنتا باہر نکل آیا۔  ابا چہل قدمی کرنے قریبی پارک گئے تھے امی کچن میں لگی تھیں۔ 

    ثانیہ بھی یقینا ابھی سو ہی رہی تھی۔۔ وہ ڈھیلے قدموں سے چلتا کچن میں آکر امی کے شانوں پر سر رکھ لاڈ جتانے لگا

    اٹھ گیا میرا بچہ ۔ چلو ابھی ناشتہ ہی بنا رہی ہوں کاشی کو بھی اٹھا دو۔

    امی نے پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر کہا تھا اسکے ہاتھ سست سے پڑے اور وہ دھیرے سے ان سے الگ ہوگیا۔۔

    امی نے مڑ کر دیکھا تو حیران ہی رہ گئیں۔

    ارے تم کیسے اٹھ گئے صبح صبح۔۔ 

    بس آنکھ کھل۔گئ۔۔ وہ پھیکے سے انداز میں کہتا کچن میں رکھی چھوٹی میز اور چار کرسیوں کی جانب بڑھ گیا۔ 

    کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے جانے کیوں دل اداس سا ہوچلا تھا اسکا۔۔ 

    تم کبھی سب سے پہلے اٹھتے ہی نہیں ہو اسلیئے میں سمجھی دانی ہے۔ 

    وہ ماں تھیں یقینا اسکی بھی۔ اسکو فورا صفائی دینے لگیں۔ گرم پراٹھا انڈہ اسکے سامنے تھا۔  وہ یونہی خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا۔

    لاحول ولا ۔عجیب لوگ ہیں بھئ ڈرپوک ۔ پارک میں نہ کوئی بندہ نہ بندے کی ذات بس ایک میں ایک۔چوکیدار۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگا پارک نہیں کھلےگا آج کرونا کا خطرہ ہے۔ اتنا بڑا ماسک پہنے مجھ سے یوں ڈر رہا تھا جیسے میں ہی کرونا ہوں ہاتھ تک نہ ملایا مجھ سے۔۔ 

    فہیم صاحب کافی خفا نظر آرہے تھے۔ بڑ بڑاتے ہوئے کچن میں داخل ہوئے سیدھا سنک کی جانب بڑھے ہاتھ دھونے کیلئے۔ 

    کہا تو تھا آپکو مت جائیں آج ۔ ہر طرف کرونا پھیلا ہوا ہے شروع میں تو مجھے بھی لگا تھا کوئی بڑی بات نہیں مگر جس طرح سے اسکی لپیٹ میں دنیا کے سبھی ملک آتے جارہے ہیں ہمیں 

    امی مزید بھی کہتیں مگر ابو نے ٹوک دیا

    ارے رہنے دو بس سب ایمان کی کمزوری ہے۔ بھلا ایک وائرس کے پیچھے سب ایسے ڈر رہے جیسے وائرس نہیں ڈائنا سور آگیا یے۔ زرا تیز گرمی پڑے گی خود ہی سب ختم ہو جائے گا۔۔ 

    ایسا نہیں ہے ابو ۔یہ وائرس دبئی سعودیہ جیسے گرم علاقوں میں بھی زندہ ہے۔وہاں بھی لوگوں کو ایسے ہی گھر میں محصور رکھا جا رہا ہے۔ 

    ارے جس کو لگنا ہوگا وائرس گھر بیٹھے بھی لگ جائے گا۔۔ 

    ابو نے کان پر سے مکھی اڑائی۔۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بھائی شوارما تو لا دو ۔۔ 

    ثانیہ اسکے کندھے سے جھول رہی تھی۔۔ 

    باہر کرونا پھیلا ہے بھائی سے زرا محبت نہیں تمہیں۔۔ 

    کاشی نے بھنا کر گھورا

    بھائئ لا دو نا تمہیں قطرینہ ملے دعا کروں گی ۔۔ 

    اس نے مسکا لگایا۔۔ 

    کاشی اسے گھورکر رہ گیا۔۔ مگر چارو ناچار اٹھنا پڑا۔ اسکی دعا اور بد دعا دونوں ہی فورا لگتی تھیں۔ اسکا بی ایس کا آخری سمسٹر چل رہا تھا جو ثانیہ نے عین فائنل پراجیکٹ سے پہلے اسی طرح شوارما نہ لا کر دینے پر بد دعا دی کہ سب مٹ ہی نہ ہو پائے۔  سب مٹ تو دور بن بھی نہ پایا تھا کہ یونیورسٹی بند ہوگئ۔ نا معلوم مدت کیلئے۔ 

    امی باہر جا رہا ہوں کچھ منگوانا ہے تو بتا دیں۔ 

    اس نے باہر نکلتے نکلتے کچن میں جھانکا۔ 

    نہیں دودھ ڈبل روٹی وغیرہ منگوانا تھا وہ دانی لینے گیا ہوا ہے۔ امی چائے بناتے ہوئے مصروف سے انداز میں بولیں۔

    وہ کندھے اچکاتا لائونج کی دیوار گیر الماری کی جانب بڑھا جہاں کل ماسک اور گلوز لا کر رکھے تھے۔ اب وہ خالی منہ چڑا رہا تھا۔ 

    ہاں کاشی۔ سنو کل کیلئے پیاز بھی لے آنا آج بھی سارا دن ایک پیاز والا نہیں گزرا ۔ کہ خرید لیتی اب کلو دو کلو لیکر رکھ لیتے ہیں جانے کب تک یہ کرونا کا سلسلہ چلے گا۔

    امی تیزی سے کچن سے نکلیں

    لے آتا ہوں مگر ماسک اور گلوز کہاں گئے؟ 

    کاشی نے کہا تو وہ سر سری سے انداز میں بولیں

    وہ دانی پہن گیا تم جائو جلدی سے لیکر آئو چائے تیار ہونے والی ہے۔ 

    امی میں بنا ماسک کے کیسے جائوں باہر؟ 

    کاشی نے کہا تو امی نے سر جھٹکا

    ارے کچھ نہیں ہوتا دانی بھی ایسے ہی جا رہا تھا وہ تو ثانیہ نے پہنوا کر بھیجا اسے۔۔ 

    تو ثانیہ کی۔بچی شوارما بھی دانی سے منگوا لیتی ۔

    اسے سچ مچ غصہ آگیا تھا

    کیا یہ لڑکی پھر شوارما منگوا رہی ہے؟ ابھی ڈانٹا تھا اسے۔ 

    امی آگ بگولا ہو کر ثانیہ کو پکارنے لگیں۔ 

    ثانیہ منع کیا ہے نا باہر کا الا بلا کھانے سے؟ سمجھ نہیں آتی چلو شرافت سے گوبھی کھائو جو پکا ہے صبر شکر کرکے۔۔

    امی کی ڈانٹ پر وہ خوب پھولا ہوا منہ بنا کر نکلی اور اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگی۔۔ 

    اور تم جلدی سے لیکر آئو بھئ۔ امی نے روئے سخن دوبارہ اسکی جانب موڑا تو وہ برا سا منہ بناتا ایسے ہی سودا لانے نکل کھڑا ہوا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شوارما کھاتی ثانیہ فل والیم میں ٹی وی لگائے بیٹھی تھی لائونج میں۔ امی نے چائے یہیں لگا دی تھی سو سب فرصت سے ٹی وی کے آگے بیٹھے تھے۔

    سندھ کے بعد اب پنجاب میں بھی اگلے چودہ روز کیلئے مکمل لاک ڈائون کا اعلان۔

    خبریں دل دہلائے دے رہی تھیں۔ اب تک ہر بات کو مضحکے میں اڑانے والا دانی بھی سنجیدہ بیٹھا سن رہا تھا۔ 

    یہ کرونا پہلے نہیں آسکتا تھا ہمارے صرف پریکٹیکل کینسل ہوئے امتحان بھی ہو جاتے ۔ میرا کیمسٹری کا بالکل اچھا پیپر نہیں ہوا۔۔

    ثانیہ رو دینے کو تھی۔ امی تسبیح ہاتھ میں لیئے بیٹھی تھیں۔ ابو بھی کافی سنجیدہ سی شکل بنا کر خبریں سن رہے تھے۔ 

    سب کے کام بند سب کے کام رکے ہوئے تھے سو سب لائونج میں بیٹھے ٹی وی پر گزارا کر رہے تھے۔ 

    قطرینہ نے نئی ویڈیو اسٹیٹس پر لگا دی تھئ 

    گھر میں ہینڈ سینی ٹائزر بنانے کی۔۔ سادہ سی ترکیب۔ 

    60 فیصد ربنگ الکوہل Rubbing alcohal 60%

    20 فیصد گھیکوار/کوارگندل  aloe vera20% 

    20 فیصد گلیسیرین  glacerine 20%

    خوشبو دار تیل اگر خواہش ہو تو

    سب کر برابر ملا کر گھول کر بوتل میں رکھ لیں آتے جاتے ہاتھ میں مل لیا کریں۔ 

    گھر میں صرف قطرینہ کی آواز گونج رہی تھی جانے کب ٹی وی کی آواز بند ہوئی وہ جو آرام سے ہینڈ فری کانوں میں لگائے فل والیم میں ویڈیو دیکھ رہا تھا چونکا۔ اسکی ہینڈ فری کہ پن موبائل سے باہر جھول رہی تھی اور قطرینہ کی آواز براہ راست گھر والوں تک پہنچ رہی تھی۔ سب پلک جھپکائے بنا اسے دیکھ رہے تھے۔۔ 

    سب سے پہلے ابو نے گلا کھنکارا۔۔ 

    دانئ ماسک اور گلوز  پہن کر جائو اور فارمیسی سے ربننگ الکوہل تو پکڑ لائو۔۔ 

    ثانیہ کاشی اور دانی کی جان میں جان آئی تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • Mujh may he hay rangon ki Kami – Episode 4(final Episode)

    مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی
    قسط 4

    مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔ اردو ویب ناول ہے stress dysphoria میں مبتلا ایک لڑکی کی کہانی جس کو معاشرے کے ابنارمل رویوں نے لڑکا بننے پر مجبور کر دیا۔ اپنے آپ سے الجھتی اپنے وجود پر سوالیہ نشان اور ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتیں جانیئے۔۔ مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی کی پہلی قسط میں۔۔
    مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔ اردو ویب ناول ہے stress dysphoria میں مبتلا ایک لڑکی کی کہانی جس کو معاشرے کے ابنارمل رویوں نے لڑکا بننے پر مجبور کر دیا۔ اپنے آپ سے الجھتی اپنے وجود پر سوالیہ نشان اور ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتیں جانیئے۔۔ مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی کی پہلی قسط میں۔۔

    اچھا نا سوری مجھے غصہ آگیا تھا جبھی ایسے بول دیا۔ معاف کردو  

    وہ بنچ پر بیٹھی تھی مزنہ کو دیکھتے ہی منہ پھیر لیا مگر مزنہ پاس آکر اسکے پاس اکڑوں بیٹھ کر گھٹنے پکڑ کر معافی مانگنے لگی۔

    مزنہ عادل صرف میرا منگیتر ہی نہیں سگا تایا ذاد بھی ہے۔ میں اسکے ساتھ اپنا عروسی جوڑا ہی پسند کرنے گئ تھی کل۔ اور تم نے کیسے کہہ دیا منہ پھاڑ کر گلچھرے۔۔

    اسکو واقعی دکھ پہنچا تھا اس وقت بھی آواز بھرا سی گئ۔ 

    معاف کردو پلیز۔ ماہا تمہیں پتہ ہے نا میرا ایسا ہی گدھا سا ہوں میں۔ اوپر سے ہر وقت عادل عادل کرتی رہتی ہو میں تو جیلس ہوگیا ہوں اس سے ایسا لگنے لگا ہے تم اس سے مجھ سے بھی ذیادہ پیار کرنے لگی ہو۔

    جزباتی سے انداز میں کہتی مزنہ اسے بہت الگ بہت مختلف سی لگی تھئ۔بچوں کی طرح شکوہ کرتی ماہا نے اسکےسر پر چپت لگا دی

    احمق ۔میری واحد دوست ہو تم تمہاری جگہ وہ اسٹوپڈ عادل کبھی نہیں لے سکتا۔ 

    وہ لے رہا ہے میری جگہ۔ آہستہ آہستہ  

    وہ خفا سئ ہو کر اٹھ کر اسکے برابر بنچ پر آن بیٹھی۔ 

    اے۔ ماہا نے اسکی تھوڑی پکڑ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا تو اسکی آنکھوں میں تیرتا پانی اسے بھی اداس کر گیا

    مزنہ نے اپنی شکوہ کناں نگاہیں اسکے صبیح چہرے پر ٹکادیں

    کم آن شادی کر رہی ہوں کوئی جیل تھوڑی جا رہی ہوں۔ہم تب بھی روز ملا کریں گے ایسے ہی فون کھڑکا کر بلا لیا کروں گی۔ کوئی دیور ہوتا نا میرا تو پکا تم کو ہمیشہ کے لیئے اپنے ساتھ اپنے گھر ہی رکھ لیتئ میں۔ ماہا اپنے مزاق پر خود ہی ہنسی

    تم ۔ مزنہ نے لمحہ بھر سوچا پھر سامنے گرائونڈ میں کھیلتے لڑکوں پر نگاہ جما دی

    تم میرے ساتھ نہیں رہ سکتیں ماہا ؟ چھوڑو یہ شادی وادی کی ضرورت ہے اس ٹنٹنے کی۔ 

    ماہا ہنس دی۔

    اور عادل کا کیا ہوگا؟ 

    اور میرا کیا ہوگا ماہا۔میں تم سے عادل سے ذیادہ محبت کرتا ہوں۔

    اس نے جی کڑا کرکے کہہ ڈالا۔ماہا نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔ 

    پاگل تم تم ہو وہ وہ ہے۔ تم میری جان ہو مزنہ۔ اچھا فالتو میں مجھے جزباتئ نہ کرو قسم سے رخصتی تک کے آنسو یہیں بہا دینے ہیں میں  نے۔ اپنی بھیگتی پلکیں صاف کرتی وہ مصنوعی خفگئ سے بولی تھئ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آج یونیورسٹی سے واپسی پر وہ سیدھا گھر جانے کی بجائے سیلون میں گھس گئ تھئ۔ اپنا نیا ہیئر اسٹائل بدلوا کر وہ گھر آئی تھی۔ بائک پورچ میں کھڑی کرکے اس نے لائونج کا دروازہ کھولنے کو ہاتھ بڑھایا تو ادھ کھلے دروازے سے اپنا نام سنائی دیا تو فطرئ تجسس سے رک کر بات سننے لگی۔

    سچ میں مجھے تو جب ڈاکٹر نے کہا کہ پتہ کریں کسی کو پسند تو نہیں کرتی جسکا اتنا صدمہ لیا ہے تو میں خود بھی پریشان ہو گئ تھی اس طرف تو ہمارا دھیان بھئ نہیں گیا تھا کہ اس دن آنٹی سے اتنی بد تمیزی کرنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ وہاں نہیں کہیں اور شادی کرنا چاہتی ہے

    امی کسی کو بتا رہی تھیں

    نہیں امی ایسا ویسا کچھ نہیں۔ ۔ مزنہ کی ایک ہی تو دوست ہے بچپن سے کتنا تو لگائو ہے اسے ماہا سے بس اسکی دوری کا خیال اسے دکھی کر گیا ہے۔ بچپناہے بس اسکا۔ ماہا کی شادی ہو جائے گی خود ہی عقل آجائے گی اسے۔ 

    حفصہ نے ہنس کر تسلی دی ۔

    امی مزنہ  ماہا آپی سے محب۔۔ کنزی کی زبان لڑکھڑائی

    محبت کرتی ہے۔اس دن جب بخار میں میں مزنہ کے ساتھ سوئی تھی تو وہ بار بار ماہا کا نام لے رہی تھی اور کہہ رہی تھی۔ 

    کنزی جانے کیا بتانے لگی تھی اس  نے جھٹکے پورا دروازہ کھولا اور اندر آگئ

    آگئیں تم ہم تمہارا۔۔۔ 

    اسے دیکھتے ہوئئ حفصہ خوشگوار انداز میں کہنے لگی تھی کہ اسے دیکھ کر حیرت کے مارے چپ ہی ہوگئ۔امی اور کنزی بھی حیرانگی سے اسے دیکھنے لگیں

    کیسا لگ رہا ہوں یہ ہیئر اسٹائل سوٹ کر رہا ہے مجھے۔ 

    اپنے تازہ کٹنگ ہوئے بالوں پرہاتھ پھیر کر وہ مسکرا کر پوچھ رہی تھی۔

    جدید مردانہ ہیئر اسٹائل بنوا کر اس نے درمیان میں خوب گھنا پف رکھوا کر دونوں جانب کنپٹیوں سے مشین پھروا لی تھی۔ یہ مردانہ کٹنگ اس پر جچ رہی تھی کیونکہ وہ اس وقت لڑکا ہی لگ رہی تھی بلیک اپر بلیک جینز میں دبلا سراپا مردانہ چال ڈھال اگر کوئی اسے پہلی بار دیکھتا تو لڑکا ہی سمجھتا۔۔۔۔۔

    یہ یہ کیا کیا تم نے؟ امی نے سکتے سے باہر آتے ہی اسے آڑے ہاتھوں لیا

    تمہیں امی نے اپنی قسم دی تھی کہ تم بال نہیں کٹوائوگی

    کنزی نے یاد کرایا

    ہاں مگر قسم وسم پر میرا کوئی یقین نہیں۔امی قسم واپس لے لیں اپنی۔

    وہ آرام سے کہتی اپنے کمرے کی جانب مڑی

    ایک منٹ تم کب سے اتنی خود مختار اور خود سر ہوگئ ہو؟ میرے کہے کی کوئی اہمیت نہیں ہے تمہاری نظر میں کیوں بال۔کٹوائے ہیں تم نے؟ بولو 

    امی غضب سے کانپ اٹھیں

    اسکا سادا سا جواب ہے میری مرضی۔ 

    اس نے بدتمیزئ سے جواب دے کر کندھے اچکائے

    مزنہ تمہاری بدتمیزیاں خود سری ہم نے برداشت کیں کیونکہ تم بیمار تھیں مگر تم ناجائز فائدہ مت اٹھائو ہماری نرمی کا۔بہت ہوگیا اپنی حد میں آجائو واپس 

    حفصہ غرائی۔ 

    بیمار تھا۔ آپ لوگوں کو کتنی بار سمجھائوں میں لڑکی نہیں ہوں مجھے لڑکی سمجھنا چھوڑ دیں۔عجیب بے وقوفی ہے کہ۔۔ 

    وہ بول رہی تھی مگر حفصہ کا تھپڑ اسے خاموش کراگیا۔ 

    کیا بکواس کر رہی ہو بولو؟ لڑکی نہیں ہو تو کیا ہو تم؟ لڑکا تو پیدا نہیں ہوئیں تھیں تم ؟ آئندہ میرے سامنے ایسی بکواس کی تو زبان کھینچ لوں گئ میں سمجھیں تم

    حفصہ طیش کے عالم انگلی اٹھا کر اسے دھمکی دے رہی تھی۔امی حیرت اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھ رہی تھیں اور کنزی اسکی نظریں 

    اس نے گہری سانس لیکرخود کو پرسکون کیا

    اسکے اطمینان نے حفصہ کو ٹھٹکا سا دیا

    اگر آپکو ایسا سمجھ کے اطمینان ملتا تو ٹھیک ہےآپ مجھے لڑکی سمجھ لیں مگر مجھے اپنے آپکو لڑکا سمجھ کر سکون ملتا ہے ۔۔۔ اس نے لحظہ بھر کا توقف لیا اور ان سب پر طائرانہ نگاہ ڈال کر استہزائیہ انداز میں بولی 

    مجھے میرا سکون آپکے سکون سے ذیادہ عزیز ہے مجھے۔ 

    وہ کہہ کر رکی نہیں اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر دھاڑ سے بند کرتے ہوئے ان سب کو بھی جیسے بھاڑ میں جھونک دیا تھا۔وہ تینوں ششدر سی کھڑی دیکھتی رہ گئیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح امی شائد ناراضگی کے اظہارکے طور پر نہ اٹھیں اور کنزی نے بھی چھٹی کرلی۔ وہ خود ہی تیارہو کر نیا ٹرائوزر شرٹ پہن کر تیار ہو کر گھر لاک کرتی یونیورسٹی کیلئے نکل گئ۔ 

    وہ اور عادل ڈیپارٹمنٹ کی بیک پر مخصوص سیڑھیوں پر بیٹھے تھے۔آج موسم بہت خوبصورت ہو رہا تھا بادل آ جا رہے تھے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی

    لگتا ہے آس پاس کہیں بارش ہوئی ہے۔ 

    عادل نے موسم کی ٹھنڈک گہری سانس لیکر خود میں سموتے ہوئے خیال ظاہر کیا۔

    یہاں بھی ہوگی دیکھنا گھٹا برسنے والی لگتی ہے۔ماہا کو یقین تھا

    ایسے موسم میں تو پکوڑے بنتے ہیں۔عادل نے کہا تو وہ ناک چڑھا کر بولی

    نہیں بھئ۔کوئی چکنی تلی ہوئی چیز نہیں کھانے والی میں ۔ فورا دانہ نکل آتا ہے اب شادی تک اسکن خراب ہونا میں افورڈ نہیں کر سکتی۔ 

    کچھ نہیں ہوتا دو مہینے پڑے ہیں آج نکل بھی آیا تو تب تک ٹھیک۔ہو جائے گا

    عادل کا شائد زوروں سے دل کیا تھا پکوڑے کھانے کا سو ہاتھ جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔

    میرے لیئے مت لانا اپنے لیئے لے آئو۔

    ماہا نے حفظ ماتقدم کے طور پر کہا مگر عادل جانتا تھا اسکی سب فکر وکر پکوڑے سامنے آنے سے پہلے تک کی ہے پکوڑے دیکھ کر سب بھول جانا ہے اس نے سو کان پر سے مکھی اڑاتا پکوڑے لینے چل دیا۔ 

    آج سر سلمان نہیں آئے تھے سو پہلا پیریڈ فری تھا وہ یونہی  پیر جھلاتے ادھر ادھر نگاہ دوڑا رہی تھی جب کسی پیچھے سے آکر اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا۔ 

    مزنہ۔ وہ فورا پہچان گئ

    کیسے پہچانا۔مزنہ نے ہاتھ پیچھے کر لیئے ماہا نے گردن گھماکر اسے دیکھنے کی بجائے بے نیازی سے کندھے اچکائے

    تمہارے علاوہ بس عادل ہی یہ حرکت کرسکتا ہے وہ میرے سامنے کینٹین کی طرف گیا ہے۔ 

    اسکی  وضاحت نے تھوڑا سا مزنہ کو مایوس کیا۔ 

    پھر سنبھل کر سیڑھیاں اتر کر اسکے سامنے آکھڑی ہوئی

    ماہا نے مسکرا کر اسکی جانب رخ کیا تو حیران سی رہ گئ۔ مسکراہٹ مدھم ہوئی پھر غائب ہی ہوگئ۔

    کیسا لگ رہا ہوں میں۔ 

    اس نے قصدا پف میں ہاتھ پھیر کر ایک انداز سے اسکی جانب دیکھا۔ گرے فیڈڈ جینز جاگرز میں گرے اور وائٹ اپر میں ملبوس بوائے کٹ بال دراز قد وہ خوبصورت نہیں وجیہہ لگ رہی تھی

    یہ کیا کیا تم نے؟ اتنے لمبے اتنی مشکل سے ہوئے تھے تمہارےبال سب کٹوا دیئے

    وہ بری طرح بھونچکا رہ گئ تھی۔ اٹھ کر اسکے قریب آکر یقین کیا تو اسے سچ مچ دکھ ہوا

    کیا ہوا اچھا نہیں لگ رہا ؟ عادل سے ذیادہ ہینڈسم لگ رہا ہوں نا میں۔

    اس نے مان سے پوچھا جوابا وہ سختی سے نفی میں سر ہلا گئ

    ایکدم ذہر لگ رہی ہو تم ۔ اف تم میری واحد سہیلی ہو شادی تک تو تمہارے بال انچ انچ بھئ بمشکل آئیں گے اور تم کیا لگو گی شادی میں بھلا اف۔ میں نے تو کیا کیا پلان کیا تھا تم اکلوتئ سالی بنتی عادل کی اور

    ماہا دکھ سے کہے جا رہی تھی کہ مزنہ نے بےزاری سے ٹوک دیا

    فارگاڈ سیک۔ بند کرو یہ عادل نامہ۔ تم نے کہا تھا نا اگر میں لڑکا ہوتی تو کبھی عادل ہمارے بیچ میں نہ آتا تم مجھ سے شادی کرتیں۔ لو اب دیکھو مجھے میں۔۔۔۔۔۔

    کیا بکواس کر رہی ہو۔ ماہا اسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔ 

    بکواس نہیں سچ ہے یہ۔ ۔ وہ جیسے تھک کر بولی

    آئی لو یو ماہا۔بہت پیار کرتا ہوں میں تم سے۔ تمہارے بنا نہیں رہ سکتا اور میں یہ بھی جانتا ہوں تم بھی پیار کرتی ہو مجھ سے کل کہہ ۔۔۔ وہ جانے کیا کہے جا رہی تھی ماہانے زور دار تھپڑ اسکے منہ پر دے مارا

    پاگل ہوگئ ہو تم ہوش کھو بیٹھئ ہو کیا۔۔کیسی باتیں کر رہی ہو تم ۔ 

    وہ غصے کے مارےپاگل ہونے کو تھی

    ماہا پاگل نہیں ہوں میں۔بہت سوچا ہے میں نے میں بچپن سے تمہارے سوا کسی کو اپنا نہیں مانا ہے۔ میں تم سے

    وہ گڑگڑا رہی تھی

    باس۔ایک۔لفظ اور نہیں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی تم اتنا گر جائو گی۔ میں تو بہن۔

    بولتے بولتے اسکی نگاہ مزنہ کے پیچھے  پکوڑے کی پلیٹ تھامے ششدر کھڑے عادل پرپڑی توچہرہ چھپاتی ڈیپارٹمنٹ کی جانب بھاگ گئ

    رکو ماہا۔ مزنہ نے پکارنا چاہا مگر وہ رکی نہیں کسی احساس کے تحت مڑ کر دیکھا تو عادل کوخود کو گھورتا پایا۔ اسکی نگاہیں۔ اسکی نگاہوں میں اتنے تاثرات تھے کہ وہ ٹک کر گھور بھی نہ سکی 

    شٹ۔ اس نے منہ پھیر کر خود کو کوس ڈالا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ماہا اسی دن سے میں ڈرتا تھا اور سمجھاتا تھا تمہیں۔

    وہ ماہا کو لیکر پارک میں آیا تھا۔وہ بنچ پر بیٹھی زار و قطار روئےچلی جا رہی تھی۔ 

    وہ مزاق کر رہی ہوگی۔ میں چلی آئی یقینا وہ مجھے بتاتی کہ اس نے میرے ساتھ پرینک کیا ہے میں نے اسے تھپڑ مار دیا۔۔ وہ میری بچپن کی دوست ہے

    وہ احساس جرم کا شکار ہو رہی تھی اسکی بات پر عادل سر پیٹ کر رہ گیا

    وہ خود کو تمہارا بچپن کا  دوست سمجھتئ ہے سہیلی نہیں۔ ماہا۔تمہیں  ابھئ بھئ سمجھ نہیں آیا اسکا مسلئہ؟ وہ لڑکی نفسیاتی ہے۔ خود کو لڑکی نہیں سمجھتی۔بارہا یہ بات میں نے تم کو سمجھانئ چاہی ہے وہ مجھ سے مقابلہ بازی کرتی ہے۔اسکا اٹھنا بیٹھنا تمہیں دیکھنا تمہارے گلے لگنا سب۔۔ ۔۔تمہیں احساس ہی نہیں ہوتا تھا مگر وہ

    بس۔ماہا نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیئے۔ 

    بس کرو ایسا کچھ نہیں ہے ایسا کچھ نہیں ہوسکتا۔ سب جھوٹ ہے۔

    وہ اور بلک بلک کر رونے لگی تو عادل کا دل پسیج گیا

    اچھا روئو نہیں۔ جو ہوگیا سو ہوگیا اب اس سے کنارہ کش ہو جائو اسی میں بہتری ہے تمہاری بھی اسکی بھی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کتنا ہی وقت وہ اسی  پارک میں کھڑی ان دونوں کو دیکھتئ رہی تھئ۔عادل نے کتنے استحقاق سے اسکا ہاتھ تھاما اسے چپ کرایا جب بوندا باندی شروع ہونے لگی تو وہ دونوں اٹھ کر وہاں سے چلے گئے ساتھ شائد اسکے وجود کا ایک حصہ بھی لے گئے۔بے حس و حرکت کھڑے اسے جانے کتنی دیر گزری کہ چھما چھم بارش اس پر برستی چلی گئ۔ 

    سنو اوئے پاگل ہے کیا کیوں بھیگ رہا ہے؟ 

    پارک کے سیکیورٹی گارڈ نے اپنے کیبن سے باہر جھانکا تو ملگجے ہوتے اندھیرے میں کھڑے اس لڑکے پر نظر پڑی تو آواز لگائے بنا نہ رہ سکا۔

    اس لڑکے نے ذرا سا چونک کر اسکی جانب دیکھا تھا۔ گارڈ سٹپٹا سا گیا۔ وہ بھیگتا وجود اسے مخمصے میں مبتلا کر گیا تھا۔ 

    وہ لٹے پٹے مسافر کی طرح ڈولتے قدموں سے پارک سے باہر آئی تھی۔ برستی بارش میں بائک کئی بار ڈولی تھی۔ ہر بار اسے اپنی پشت پر اپنے دائیں جانب سے اپنے بائیں جانب سے آواز سنائی دی تھی۔ 

    الفاظ تھے کہ تیر تھے جو اسکی سماعتوں میں گھستے تھے روح تک چھلنی کرتے جاتے تھے۔ 

    گھر کے احاطے میں گیراج میں امی تسبیح لیئے اسکی سلامتی کی دعا مانگتی ٹہل رہی تھیں۔اسے دیکھ کر تڑپ کر پاس آئیں۔

    اف ابھی تو بخار سے اٹھی ہو اتنا بھیگ گئیں چلو اندر فورا کپڑے بدلو۔ میں سوپ بنواتئ ہوں۔

    جامد تاثرات میکانکی انداز میں وہ انکے سہارے کےساتھ کسی زندہ لاش کی طرح چلتی آئی تھی۔ 

    اسکے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے انہوں نے پکار کر کنزی کو چائے بنانے کو کہا تھا۔

    وہ بھیگے وجود کے ساتھ بیڈ پر آن بیٹھئ۔ اسکے لیئے نئے کپڑے الماری سے  نکالتے ہوئے امی نے اسے بیڈ پر بیٹھنے سے روکا تھا ٹوکا تھا

    کنزی کمرے میں چلی آئی۔تھی

    اف یہ اتنا کیسے بھیگ گئ کہیں رک کر بارش کا انتظار کرلیا ہوتا مزنہ۔ 

    تم پاگل ہو گئ ہو۔ 

    حفصہ نے اسکے منہ پر تھپڑ مارا تھا۔

    کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھئ ہو مزنہ

    کنزی بے قراری سےپکار رہی تھی 

    تم پاگل ہو گئی ہو کیا ۔۔

    امی اسکے منہ پر تھپڑ مار رہی تھیں۔ 

    کیا ہوا مزنہ۔امی اسکا کندھاہلارہی تھیں

    اس نے اپنی سپید ہوتی ہتھیلیاں نگاہوں کے سامنے پھیلائیں

    نازک نرم پتلی پتلی انگلیاں۔اس کو تھامتی  ایک نرم سی گلابی ہتھیلی۔۔ 

    عادل کے مضبوط ہاتھوں میں سماتی وہ نازک سی ہتھیلی

    تم پاگل ہوگئ ہو کیا۔ 

    وہی نازک ہاتھ اسکے گال پر آجما تھا۔غصے افسوس سے گھورتی ماہا۔

    میں پاگل ہو گئی ہوں۔ 

    اس نے بے چینی سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرے۔ اس پر ایک جنون اور وحشت سی طاری ہوئی تھئ

    کیا ہوا مزنہ۔ 

    امی اور کنزی کے اسے سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھیں اا نے دیوانگی کے عالم میں انکے ہاتھ خود پر سے نوچ نوچ کر ہٹائے تھے

    یہ میں نہیں ہوں۔ نہیں ہوں میں یہ۔ 

    حلق کے بل چلاتئ وہ خود کو بری طرح نوچ کھسوٹ رہی تھی۔اپنے چہرےپر اس نے خراشیں ڈال لی تھیں۔ دیوانہ وار خود کوطمانچے لگائےتھے حلق کے بل چلاتے غراتے وہ بس ایک ہی بات بار بار دہرا رہی تھی 

    یہ نہیں ہوں میں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مزنہ کو شدید نروس بریک ڈائون ہوا تھا۔وجہ کیا تھی۔عامر اور خالہ کے سامنے بہانے بنا بنا کر وہ پاگل ہو چلی تھی۔ کنزی کا رو رو کے برا حال تھا تو امی مصلے سے اٹھتی ہی نہ تھیں جانے کون کون سے وظیفے  شروع کر دیئے تھے۔ 

    مزنہ کو تین چار دن بعد ہوش آیا تھا۔اسکے بعد ایک۔جامد چپ اسکے وجود پر آن ٹھہری تھی۔۔ ایک ہفتے کے بعد ڈاکٹرز نے انہیں اسے گھر لے جانے کی اجازت دی تھی۔۔ 

    گھر آکر بھی وہ خاموش چپ چاپ تھی۔ کسی معمول کی طرح کھانا کھانے کو کہو تو کھا لیتی نہ کہو تو باتھ روم تک جانے نہ اٹھتی۔ 

    ہمیں کچھ نہیں پتہ۔ اس دن بارش میں بری طرح بھیگ گئ تھی گھر آکر ایسے ہی خاموش تھی پھر اچانک جیسےاس پر کوئی جنون سوار ہوا اس نے مجھے امی کو دھکے دیئے پھر خود کو مارنے لگی۔ 

    اسکے ہر طرح سے کریدنے پر کنزی بس اتنا ہی بتا پائی بتاتےبتاتےبھی رو پڑی۔ اسے بمشکل چپ کرا کر وہ امی کے پاس چلی آئی۔ کئی نفل پڑھنے کے بعد وہ پھر نیت باندھنے کی تیاری میں تھیں تو اس نے روک دیا

    امی ڈاکٹر کہتے ہیں ذہنی دبائو ہے اس پر۔ اگر کوئی مسلئہ ہے تو دوا دے رہے ہیں خیال رکھ رہے ہیں کچھ تو بہتری آئے اس میں اتنی چپ رہتی ہے کہ ہول آتا ہے دیکھ کر اسے۔۔۔

    حفصہ کہہ تو رہی تھی مگر کیا وہ خود نہیں دیکھ رہی تھیں مزنہ کو۔انکی آنکھیں برس اٹھیں جانے کیا ہوگیا انکی اچھی بھلی بیٹی کو ۔حفصہ نے ماں کے کندھے پر تسلی بھرا ہاتھ رکھا۔۔ 

     امی کنزی بتاتی ہے گم صم سی ہوگئ تھی بارش سے آکر۔ امی ہوائی مخلوق کے وجود سے انکار نہیں پھر رات گئے بارش میں کیا پتہ کہاں سے گزر آئی ہو کہیں ایسا تو نہیں کہ کوئی مخلوق اس پر۔۔۔۔ 

    امی نے چونک کر اسکی شکل دیکھی تو وہ سٹپٹا کر چپ سی ہوگئ

    امی سعدیہ کے رشتے کیلئے خالہ تعویز لائی تھیں کسی بزرگ سے۔ ہم بھی مسلئہ بتا کر اگر تعویز لے آئیں۔دیکھیں اگر کوئی ایسا ویسا مسلئہ نہ بھی ہوا تو دعا میں تو بہت اثر ہوتا ہے کیا پتہ یوں شفا لکھی ہو مزنہ کے نصیب میں

    ٹھئک ہے ئہ بھی کر دیکھتے ہیں۔امی آہ بھر کر بولیں۔ 

    حفصہ نے  انکو سینے سے لگا لیا

    دیکھئے گا بالکل ٹھیک ہو جائے گی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کنزی مزنہ کیلئے کھانا لیکر آئی تھی۔ مزنہ زمین پر بیڈ سے ٹیک لگائے سر بیڈ پر رکھے بیٹھی تھی۔اتنی ساکت کہ لمحہ بھر کو مجسمے کا گمان ہو 

    مزنہ کھانا کھالو۔ کنزی نے ٹرے اسکے قریب لا کر رکھی تو اس نے سر اٹھا کر آنکھیں سکوڑ کر اسے جیسے پہچاننے کی کوشش کی۔ چند ہی دنوں میں وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کے رہ گئ تھی۔رخسار کی نمایاں ہوتی ہڈیاں پیلی رنگت آنکھوں میں ویرانی۔ اور وحشت۔وہ مزنہ کا کوئی بھیانک سایہ لگتی تھئ۔ 

    مزنہ۔ کھانا کھالو۔ کنزی کی آنکھیں بھر آئیں۔ کیسی اسکی زندگی سے بھرپور بہن۔

    ماہا۔۔تم ماہا ہو نا۔ اس نے اسکا کندھا ہلایا۔ 

    میں کنزی ہوں مزنہ۔۔ 

    کنزی نے دھڑ دھڑ کرتے دل سے اسے دیکھتے ہوئے بتایا

    ماہا ۔۔ ماہا کو بلائو۔ماہا آئے گی تو میں کھائوں گا۔یہ

    گمبھیر بھاری آواز۔ کنزی ڈر سئ گئ۔ یہ مزنہ کی آواز تو نہ تھی۔۔ 

    ماہا۔چاہیئے مجھے۔ماہاکو بلائو ورنہ ۔۔ اس نے وحشت ذدہ سے انداز میں ٹرے اٹھا لی۔ 

    میں یہ کھانا تم پر الٹ دوں گا ۔اس نے کنزی کی جانب رخ کیا تو ڈر کر ایکدم بھاگ کھڑئ ہوئی

    امی۔۔آپی۔ 

    اسکی بےتابانہ چیخوں پر دونوں بھاگی آئیں وہ آپی سے لگ کر رو دی۔۔ 

    بلائو ماہاکو۔ ورنہ تم سب کو کھا جائوں گا میں۔ 

    ٹرےتھامے وہ انکے سامنے آکھڑی ہوئی۔ اسکی نگاہوں میں دیکھتے حفصہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹیں دوڑتی محسوس  ہوئی تھیں۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ بیڈ پر اپنے سل کر آئے جوڑے پھیلائےتنقیدی نگاہوں سے جائزہ لے رہی تھی۔ امی اسکے ساتھ ہی کپڑے تہہ کروا رہی تھیں۔

    شادی میں چند دن ہی رہ گئے لے دے کے ایک ہی سہیلا ہے تمہارا۔

    امی نے ہنس کر کہاتھا وہ ہونٹ بھینچ گئ

    وہ بھی نہیں آئی ابھی تک۔ کب آئے گی مزنہ۔ کتنے کام نمٹا دیتی تھی وہ تمہارے اب تمہارے فیورٹ پارلر کی بکنگ کروانے بھی تمہیں خود جانا پڑا۔ 

    اسکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے امی۔اس نے بہانہ بنایا۔

    اچھا۔امی حیران ہوئیں

    تو پھر اس سے مل ہی آئو ذیادہ طبیعت تو خراب نہیں اسکی۔ چھوٹی موٹی بیماری کو تو وہ خاطر میں نہیں لاتی۔ یاد ہے خود ایک سو تین بخار تھا اور تمہاری عیادت کو آئی تھی۔تم نے دو چھینکیں مار کر بستر سے اٹھنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ

    پرانی یادیں جانے کیوں امی کو یاد آئے چلی جارہی تھیں۔ کپڑے تہہ کرتے وہ بولے گئیں۔۔ تبھی اسکا موبائل گنگنا اٹھا۔بیڈ پر چمکتی اسکرین۔مزنہ کالنگ۔ امی کی نظر پڑ گئ  تو فون اٹھاکر اسے تھماتے ہوئےبولیں۔

    لو ماشا اللہ لمبی عمر ہے تمہاری دوست کی میری جانب سے بھی پوچھنا اسے کہنا یاد کررہی ہوں میں اپنے ماہی منڈے کو۔

    جی۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے فون تھام لیا۔

    ہیلو۔ 

    ہیلو بیٹا ماہا۔ میں مزنہ کی امی بول رہی ہوں۔۔ 

    جی آنٹی خیریت۔حیرانی کے عالم میں بس اسکے منہ سے اتنا ہی نکل سکا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عادل ہی اسے مزنہ کے گھرچھوڑنے آیا تھا

    میں پھر کہوں گا تم غلطی کر رہی ہو۔۔ تمہیں اب اس سے ہر تعلق ختم کرلینا چاہیئے۔۔ 

    گھر کے سامنے گاڑی روکنے تک عادل نصیحت کر نے سے باز نہ آیا۔ تو وہ جھلا گئ

    مجھے بھی پتہ ہے مگر میں یہاں آنٹی کے بلانے پر آئی ہوں۔ آنٹی سے امی کے بھی تعلقات ہیں یوں بے مروتی سے انکار نہیں کر سکتی تھی میں۔۔

    اسکے چڑنے پر عادل پھر نہ بولا

    وہ جھجکتے ہوئے لائونج میں داخل ہوئی تو حفصہ آنٹی کنزی تینوں متوحش سی بیٹھی نظر آئیں۔

    کیا ہوا آنٹی۔ وہ سیدھی انکے پاس ہی چلی آئی۔ صفیہ تو اسکی شکل دیکھ کر رونے لگیں حفصہ نے ہی اسے ساری بات بتائی

    تم بس اس سے ملو پوچھو آخر مسلئہ کیا ہے کیا بات ہے جو اسے اتنا پریشان کر رہی ہےہماری شکل دیکھ کر چیختی ہے اور کہتی ہے ماہا کو بلائو۔ 

    حفصہ کے کہنے پر وہ جز بز سی ہو کر پہلو بدل گئ

    مجھے تو لگتا یے کوئی سایہ ہوگیا ہے ۔ ہم یہ تعویز لائے ہیں۔ اسکو مزنہ کے تکیئے کے نیچے رکھنا ہے بس مگر ہم میں سے کسی کو وہ اندر بھی نہیں آنے دے رہی ہے۔

    کیوں؟ ۔۔ ماہا کا سوال جائز تھا۔مگر اسکی دیوانگی والی حالت کا ذکر حفصہ نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا۔اس وقت بھئ بات ٹال گئ۔ 

    تعویز اسکے ہاتھ میں تھما کر منت بھرے انداز میں بولی

    پلیز ماہا بس یہ تعویز کسی طرح اس تک پہنچ جائے بس 

    ماہا سر ہلا کر رہ گئ۔

    حفصہ کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوئی تو مزنہ دیوار سے سر ٹکائے زمین میں بیٹھی خلائوں میں گھور رہی تھی۔ اسکا دل تڑپ سا گیا۔ دھیرے سے پکارا

    مزنہ۔ اسکے پکارنے پر اس نے چونک کر نگاہ اسکی جانب کی۔ شناسائی کی رمق آنکھوں میں جھلکی وہ خوش ہو کر بھاگتی ہوئی اسکے پاس آگی

    ماہا تم آگئیں۔ماہا۔ میں کتنی بار تمہارے گھر گیا تمہیں فون کیاتم نے نہیں اٹھایا۔

    اسکو کندھوں سے تھامے وہ آنکھوں میں آنسو بھرے پوچھ رہی تھی۔ ماہا اسے دیکھ کر ششدر تھی

    یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نےمزنہ

    ملگجا لباس استخوانی وجود وہ تو جیسے گھل کر رہ گئ تھی۔

    کچھ نہیں تم آگئیں میں اب بالکل ٹھیک ہو جائوں گا

    وہ اتنے بشاش لہجے میں بولی کہ ماہا اسے دیکھتی ہی رہ گئ۔

    ادھر آئو۔

    وہ اسکو بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگاتی بیڈ تک لائی۔

    ماہا کے ذہن میں عادل کے الفاظ گونجے

    اس نے جھٹکے سے خود کو چھڑایا

    کیوں ایسی حرکتیں کر رہی ہو کیا ہوگیا ہے تمہیں۔ 

    اسکے انداز میں خود بخود سختی در آئی

    اسے پیچھے کرکے وہ اسکے بیڈ کے سرہانے آن بیٹھی

    مزنہ اسکے قدموں میں آن بیٹھی

    ماہا سب مجھے پاگل کہتے ہیں مگر یہاں دل کو تمہارا مجھے پاگل کہنا سب سے ذیادہ چبھا۔ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں ماہا۔ چاہے دنیا کچھ بھئ کہے میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا

    تمہیں عادل کے ساتھ دیکھ کر میرے جسم میں چیونٹیاں سی رینگنے لگتی ہیں۔۔ کیا محبت کرنا پاگل پن ہے ماہا؟ عادل کی محبت نظر آتئ ہے تمہیں اور میں

    نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھتی اسے سچ مچ وہ پاگل ہی لگی۔تھی۔ قریب تھا کہ وہ چیخ مار کر باہر بھاگتی کنزی ٹرے میں چائے کباب لیئے چلی آئی

    ماہا آپی آپ کیا یاد کریں گی آج آپکو اپنے ہاتھ کی گرم گرم چائے پلاتی ہوں۔  بہت کم لوگوں کو یہ اعزاز نصیب ہوتا ہے

    آئو مزنہ کباب کھا لو۔ 

    اس نے  ٹرے لا کر بیڈ پر رکھئ تو ماہا نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا۔ وہ سمجھ کر مزنہ کو سہارا دے کر اٹھانے لگی اسکی لمحہ بھر کی نظر اوجھل ہونے کا فائدہ اٹھاتے اس نے مٹھی میں دبا تعویز اسکے تکیے کے غلاف میں گھسیڑ دیا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس دن ماہا کی نگاہوں میں اسے اپنے لیئے واضح نفرت نظر آئی تھی۔ اسکا دل اس ایک نظر کا وار نہ سہہ سکا تھا۔ ماہا کے جانے کے بعد وہ بلک بلک کر روئی تھئ۔ کچھ دیر تو امی اورکنزی نے اسے خاموش کرانے کی کوشش کی پھر تھک کر اسکے حال پر چھوڑدیا روتے روتے اس نے اپنے پچھلے کئی مہینوں کا غبار نکال دیا تھا۔ڈاکٹر بھی یہی کہتے تھے اسکواندر ہی اندر کوئئ بات کھائے جا رہی ہے اسکا غبار نکل جائے تو شائد سنبھل جائے۔ روتے روتے وہ سوگئ تھی۔اگلے کئی دن پھر سوئی رہی تھی پہلےاسپتال میں پھر دوائوں کے ذریعے گھرمیں۔

    اس دفعہ ڈاکٹر نے انہیں نفسیات دان سے مشورہ کرنے کا بھی مشورہ دیا تھا۔مگر صفیہ اپنی بیٹی پر پاگل پن ٹھپہ ہرگز نہیں لگوانا چاہتی تھیں۔

    ⁰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جتنے دن مزنہ بیمار رہی گھر کے باہر کے سب کام انہوں نے خود ہی سنبھال لیئے تھے۔اب انکو احساس ہو رہا تھا کہ بلا وجہ سب ذمہ داریاں مزنہ پر ڈال رکھی تھیں۔وہ خود بھی سب کام کر سکتی ہیں۔ کنزی انکے ساتھ اکثر بازار بھی چلی جاتی تھی۔ مزنہ تو گھر سے اب نکلنے کو بھی تیار نہ ہوتی تھی۔ یونیورسٹی میں اسکا سمسٹر فریز کروا لیا تھا یہ کام بھی کنزی کے ساتھ جا کر اسکی میڈیکل رپورٹس دکھا کر وہ خود ہی کر آئی تھیں۔وہاں جا کے انکو احساس ہوا تھا کہ مزنہ بے حد ذہین لڑکی ہے اسکا جی پی اے اسے پہلی تین میں سے ایک پوزیشن دلا رہا تھا۔ اسکا رزلٹ جان کر بے حد فخر ہوا تھا اسکی ماں ہونے پر۔بے حد خوش خوش وہ واپس آئی تھیں۔واپسی پر دونوں نے بازار کا بھی چکر لگا لیا۔ مزنہ کے لیئے بے حد خوبصورت گلابی کام والا پاجامہ کرتا لیا تھا انہوں نے۔ کنزی نے کہا بھی کہ مزنہ یہ پہننے کو تیار نہ ہوگی مگر انہوں نے بڑے مان سے کہا میں منا لوں گی اسے۔ 

    حفصہ کی نند کی شادی تھی مایوں مہندی میں تو انہوں نے بہانہ بنا دیا تھا مگر شادی میں جانا ضروری تھی۔ وہ اب لوگوں کو مزید باتیں بنانے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھیں جبھی اسکے لیئے خالص لڑکیوں والا لباس لیا تھا۔ارادہ یہی تھا قسمیں دے کر ساتھ لے جانے پر راضی بھی کر لیں گی۔یوں بھی اتنے دنوں سے گھر میں تھی تھوڑی بہت آب و ہوا کی تبدیلی بھی ضروری تھی۔ 

    لدی پھندی وہ سات بجے گھر پہنچی تھیں مزنہ خلاف معمول لائونج میں بیٹھی کوئی اسپورٹس چینل دیکھ رہی تھی

     انہوں نے بڑے شوق سے اسکا جوڑا نکال کر اسے دکھایا

    یہ کس کے لیئے۔ اس نے بے تاثر سے انداز میں ہی پوچھا تھا

    تمہارےلیئے۔ آج کیلئے تو بہانہ کردیا مگر کل تو ہم سب کو جانا ہی پڑے گا نا شادی میں۔پرانے کپڑوں میں جائوگی 

    وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولیں۔

    وہ خاموشی سے جوڑا ہر زاویئے سے دیکھنے لگی

    کنزی کو لگا تھا بھڑک اٹھے گی مگر یقینا یہ ایک اچھی علامت تھی۔ جھٹ چٹکی بجا کر بولی

    میں سب کیلئے چائے بنا کر لاتی ہوں۔ 

    میرے لیئے ساتھ کچھ کھانے کو بھی لے آنا۔۔ 

    لباس تہہ کرتے ہوئے مزنہ سرسری سے انداز میں بولی تھی۔امی اور کنزی نے خوشگوار حیرت سے اسے دیکھا۔دو مہینے میں پہلی بار خود سے اس نے کھانا منگوایا تھا۔ 

    میں کباب تل کے لاتی ہوں۔کنزی خوشی خوشی اٹھ گئ امی نے پیار سے اسکو اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ سب ضرورئ ہے۔ 

    کنزی نے اسے سنگھار میز کے سامنے بٹھایا ہوا تھا۔ گلابی کرتا پاجامہ میں نازک سی مزنہ بے حد مختلف اور اچھی لگ رہی تھی بس چہرے پر محسوس کی جانے والی اداسی تھی

     گہرے حلقے تھے جنہیں چھپانے کو میک اپ ضروری تھا۔

    اسکے بال اب بوائے کٹ لگنے لگے تھےسو اس لباس میں مخصوص اسکی مردانہ لک نہیں آرہی تھی

    بالکل۔ اتنے حلقے پڑے ہیں پیلی لگنے لگی ہو اس کی ضرورت تو ہے نا۔۔ کنزی نے نا نا کے باوجود اسکا فل میک اپ کردیا تھا۔ وہ پھر کچھ نہ بولی۔ کنزی نے میک اپ کرنے کے بعد فورا اسکی دو چار اچھی اچھی تصویریں بھی بنا لیں۔

    ماہا کا فون آیا ؟۔۔ اسے جانے کیسے خیال آیا۔کنزی چپ سی رہ گئ

    نہیں۔ اس نے جھوٹ بولنا مناسب نہیں سمجھامگر اسکی دل آزاری کا بھی خیال تھا سوفورا صفائی بھی دینے لگی

    مصروف ہوں گئ وہ بھئ۔ چار دن بعد انکی بھی تو بارات ہے۔ کارڈ بھجوایا تھا انہوں نے ڈرائیور کے ہاتھوں۔ تم نے جانا ہو تو میں ساتھ چلوں گئ تمہارے ٹھیک ہے نا

    نہیں۔ ضرورت نہیں۔ اس کے جواب پر کنزی نے حیرت سے اسے دیکھا وہ بے نیازی سے دوپٹہ اٹھارہی تھی۔۔۔ 

    جلدی کرو تم لوگ۔۔ امی تیار ہو کر انہیں بلانے آئی تھیں مگر اسے دیکھ کر بات ہی بھول گئیں۔ ماشا اللہ کہہ کر اسکی پیشانی چوم لی۔ 

    بہت حسین لگ رہی ہے میری بیٹی۔ انہوں نے کہا تو کنزی ٹھنک کر بولی

    اور میں امی۔ 

    تم بھی انہوں نے دونوں کو سینے سے لگا لیا تھا۔ مزنہ کو انکے سینے سے لگ کر جانے کیسا سکون ملا کہ اسکے چہرے پر چھائی ساری بے چینی رخصت سی ہونے لگی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شادی میں وہ کتنی ہی نظروں میں آئی۔کچھ نے اس تبدیلی کو سراہا تو کچھ نے تسمخر بھی اڑایا۔

    جو خاندان والے ہمیشہ اسکے حلیئے پر باتیں بناتے تھے اسکی تبدیلی دیکھ کر منہ چھپا کر ہنسے بھی۔ حفصہ کی نندوں وغیرہ نے اس اونچی لمبی لڑکی کے بارے میں حفصہ سے تفصیل سے سوال کیئے۔ انہیں اب اپنے دوسرے اونچے لمبے بھائی کیلئے لڑکی کی تلاش تھی۔ حفصہ نے بے حد خوش ہوکر ماں کو یہ بات بتائی تھی۔۔

    آج پیاری بھی بہت لگ رہی ہے۔امی نے نہارتی نگاہوں سے دیکھا

    واقعی کوئی سایہ ہی تھا اب ماشا اللہ سے بات بھی مان رہی ہے اور کنزی سے بول بھی لیتی ہے۔

    کہاں۔کنزی نے فورا کہا

    اتنا خاموش ہوگئ ہے کھاتی پیتی بھی نہیں ڈھنگ سے۔۔۔

    ٹھیک ہوجائے گی میں اس بار خود انہی بابا جی کے پاس جائوں گئ۔تم جو تعویز لائی تھیں واقعی پراثر تھا۔

    امی نے سب خدشے جھٹک دیئے۔ 

    اچھا تم جائو بہن کے پاس رہو اکیلی بیٹھی ہے ۔ انہوں نے کنزی کو اٹھادیاوہ بھی سعادتمندی سے اچھا امی کہتی مزنہ کے پاس چلی آئی۔

    ۔انکی۔باتوں سے بے نیاز مزنہ شدید بے چین تھی۔ لگ رہا تھا سب اسے دیکھ رہے ہیں۔وہ چپکے سے اٹھ کر باتھ روم چلی آئی۔۔ دیوار گیر آئیینے۔ وہ بیسن کے پاس چلی آئی۔ آئینہ ایک خوبصورت دوشیزہ کا روپ منعکس کر رہا تھا۔ نازک سے نین نقش میک اپ نے نکھار ڈالے تھے۔ اسکے وجود کی مخصوص سختی اور بے نیازی یوں اوجھل ہوئی تھی کہ جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ یہ تو بالکل ہی الگ روپ تھا اسکا۔ 

    اس نے وحشت ذدہ سا ہو کر آئینے پر ہاتھ رکھا۔ چند لمحے خود کو دیکھتے اس پر عجیب سا خلفشار حاوی ہونے لگا۔ بے چینئ سے رگڑ رگڑ کر منہ ہاتھ دھونے لگی۔۔

    یہ میں نہیں ہوں۔ 

    بیت الخلا سے نکلتی اس لڑکی نے بڑی حیرت سے اسے بڑبڑاتے اور شڑاپ شڑاپ پانی اپنے چہرے پر بہاتے دیکھا تھا۔ 

    آپ ٹھیک تو ہیں۔ قریب آکر اس نے نرمی سےاسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تو مزنہ جیسے ہوش میں واپس آگئ ۔۔ 

    ہاں۔ہاں۔میں ٹھیک ہوں۔

    لرزتی ہوئی آواز اور ڈولتی چال کے ساتھ وہ باتھ روم سے باہر نکل گئ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ سیدھا گھر آئی تھی۔۔۔ گیٹ پر لگا بڑا سا تالہ اس نے کنارے سے اینٹ اٹھا کر اس تالے پر مار کر تالہ توڑ دیا۔ آگے لائونج کا دروازہ بھی بند تھا۔ اس نے اس کے لاک پر بھی اینٹ مار مار کر توڑ دیا۔ دروازے پر شدید ضرب آئی تھی۔مگر اسے پروا نہیں تھی۔ 

    کمرے میں آکر وہ اپنے بیڈ پر جیسے گر سی گئ۔ جانے کتنا وقت بیتا جب اسے مانوس سی آواز آئی۔ 

    آنٹی ؟ کنزی ؟ مزنہ۔کوئی ہے گھر میں؟ 

    اسے وہم ہوا تھا شائد۔ 

    وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔

    چوری تو نہیں ہوگئ کہیں گھر میں۔کسی نے دروازہ توڑ دیا ہے لگتا ہے۔ 

    آواز قریب آئئ تھی۔ وہ چونک کر لائونج کی جانب بھاگئ۔

    اسکا وہم نہیں تھا۔ ماہا ہی تھی۔ فون پر بات کرتی اس وقت لائونج میں ہی کھڑی تھی۔ اسکی جانب پشت تھی۔

    نہیں کوئی نہیں ہے۔  اچھا میں اندر نہیں جا رہی واپس باہر نکل رہی ہوں ارے پریشان نہ ہو۔۔۔

    ماہا۔۔۔۔۔۔۔ 

    اس نے بے تابی سے پکارا۔

    وہ چونک کے مڑی۔ 

    مزنہ۔ اس نے بے یقینی سے کہا تھا۔ مزنہ کو پہچاننا مشکل ہوا تھا اسکے لیئے۔

    ماہا تم آگئیں۔۔۔ 

    آنکھوں میں آنسو بھرے حسرت سے کہتی مزنہ کو دیکھ کر اسکا دل ہل سا گیا تھا۔

    یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے مزنہ۔ وہ گھبرا کر اسکے پاس آئی۔چہرہ  گریبان گلا سب پانی سے بھیگا ہوا تھا۔ 

    عجیب لگ رہی ہوں نا۔وہ ہنسی۔ 

    یہ لباس یہ دوپٹہ۔یہ میں نہیں ہوں ۔۔ ہے نا۔

    اس نے اپنے گلے میں جھولتا دوپٹہ جھٹکے سے نوچ کر پھینکا

    کیا ہوا ہے اور یہ پانی؟ ماہا اسکی حالت دیکھ کر پریشان ہو اٹھی۔۔ اسکو کندھے سے تھام کر پوچھا  پھر گھبرا کر ادھر ادھر دیکھتے آوازیں لگانے لگئ

    کہاں ہیں سب ؟ آنٹی کنزی۔۔۔  

    کیوں فکر مند ہو رہی ہو میرے لیئے۔ کس حیثیت سے ؟ کیا سمجھ رہی ہو مجھے۔ وہ جو میں نظر آرہا ہوں یا وہ جو میں اصل ہوں۔ 

    مزنہ نے اسکو بازوئوں سے جارحانہ انداز میں جکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا۔

    کیا بکواس کر رہی ہو۔ماہا نے خود کو اسکی گرفت سے چھڑانا چاہا۔

    بکواس نہیں ہے یہ۔ اب تو میں نے جانا ہے خود کو۔وہ نہیں ہوں میں جو تم سب سمجھتے ہو۔ وہ حلق کے بل اتنی زور سے چلائی کہ ماہا کو اپنے کان کے پردے پھٹتے محسوس ہوئے۔ 

    اس نے جنونی انداز میں اسے چھوڑا اور بھاگ کی کچن میں گھس گئ

     ماہا کو سمجھ نہ آیا کیسے سنبھالے اسے۔

    آنٹی کنزی۔۔ وہ دوسرے کمرے کا دروازہ کھول کر مدد کو پکاری

    میں اس وجود اس جھوٹے وجود کا قصہ ہی تمام کرتی ہوں۔

    وہ اسئ جنونی انداز میں کچن کی چھری اٹھائے نکلی تھی

    کک۔ کیا کرنے لگی ہو۔ ماہا کی جان ہی نکل گئ

    اپنا قصہ تمام۔

    وہ زہر خند سے مسکرائی۔ وہ ماہا کی جانب بڑھی مگر اسکی چھری کا رخ ماہا کی جانب نہیں تھا وہ خود کشی نہیں کر رہی تھی مگر اس نے جنونی انداز میں خود پر چھریاں چلا لی تھیں۔۔ پے در پے وار۔ ۔ خون فوارے کی طرح نکلا تھا ماہا ساکت سی کھڑی اسے دیکھتئ رہ گئ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    سفید براق سویٹ شرٹ اور ٹرائوزر میں ملبوس وہ وجود کائوچ پر دراز اتنا نحیف و نزار لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی ڈھانچہ کپڑے میں لپیٹ کر لٹا دیا گیا ہو۔اسکے لب ہل رہے تھے۔ مسلسل اور مستقل باتیں بے ربط سی کبھی بچپن کا قصہ۔ اسکے برابر ہی کرسی پر بیٹھی وہ ڈاکٹر بہت انہماک سے اسے سن رہی تھی۔ 

    بولتے بولتے اسکی سانس پھولنے لگی تو اس نے نرمی سے اسے بولنے سے روک دیا۔

    اب تھوڑی دیر آرام کرلو آدھے گھنٹے بعد جب تمہاری آنکھ کھلے گئ تو تم باہر بہت خوشگوار موڈ میں آئو گی۔ 

    اسے ہدایت دیتی وہ کمرے میں چلی آئی۔۔جہاں حفصہ اور صفیہ  دونوں انتظار میں بیٹھی  اسکی جانب متوجہ ہوئی تھیں۔۔

    نفسیات کی اصطلاح میں آپکی بیٹی

    کا شکار ہے۔ یہ مکمل طور پر نفسیاتی مسلئہ ہے۔بنیادی طور پر اس میں مبتلا انسان مسلسل ایک کشمکش میں مبتلا رہتا ہے۔ اسکے اندر جنگ چھڑی رہتی ۔آیا وہ اس جنس یا صنف سے تعلق رکھتا ہے جو اسکی پیدائش کے وقت اسکے جسم کو دیکھ کر متعین کی گئ ہے یا اس جنس یا صنف سے جو وہ خود کو سمجھتا ہے۔۔

    اسکے رویئے اسکے لباس کے انتخاب، بول چال ، وغیرہ اس سب پر اسکے ذہن میں چلتی اس مستقل جنگ کا اثر پڑتا ہے۔

    عموما بچے چار پانچ سال کی عمر سے اپنے رویئے کے ذریعے اس بے چینی اور اضطراب کا اظہار کرتے ہیں یا بلوغت کی عمر میں۔ ایسی صورت میں ہم مکمل ایک علاج کا طریقہ وضع کرتے ہیں جس میں ہارمونل ٹریٹمنٹ سے اور کائونسلنگ سے شروعات کی جاتی ہے اور پھر مریض کے مرض کی سنگینی پر منحصر ہے کہ۔ وہ بولتے بولتے رکی

    کہ؟ صفیہ نے بے تابئ سے سوال کیا۔

    ہم پھر ایسے مریض کو سرجری کا مشورہ دیتے ہیں۔اب تو پاکستان میں بھی ایسے بہت سے کیسز ہیں جن میں بچوں کا کامیاب آپریشن کیا گیا ہے اور وہ مکمل طور پر اپنی حسب خواہش جنس کا انتخاب کرکے مکمل اور نارمل زندگی گزار رہے ہیں

    کیسی بات کر رہی ہیں آپ۔ صفیہ چیخ پڑیں

    میری بیٹی ہے وہ مکمل صحتمند لڑکی پیدا ہوئی ہے وہ ایسے کیسے۔۔ انکی صدمے کے مارے آواز کپکپا گئ۔

    میں نے آپکو پہلے بھی بتایا یہ مکمل طور پر نفسیاتی مسلئہ ہے۔۔ ہم بحیثیت مسلمان یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمیں  بہترین صورت و صنف میں اللہ نے مکمل انسان پیدا کیا ہے۔ اگر ایک بچہ اپنے آپ سے خود نالاں ہونے لگے اوردوسری صنف میں دلچسپی لینے لگے یا اپنے رویئےسے دوسری صنف ظاہر کرنے کی کوشش کرے تو اسوقت اس بچے کو مکمل رہنمائی فراہم کرکے مدد کی جاسکتی ہے۔۔

    معاف کیجئے گا آپکی بیٹی نے اپنی نسوانیت ختم کرنے کی کوشش کی ہے وہ اس وجود اور شناخت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہے۔وہ یہ بات ماننے پر تیار نہیں ہے کہ اسے لڑکی بنا کر دنیا میں بھیجا گیا ہے۔

    مگر ڈاکٹر صاحبہ صرف ذہنی دبائو کے باعث کیسے وہ بالکل مختلف انسان بن سکتی ہے؟

    حفصہ کو بالکل سمجھ نہ آیا کہ انکی اچھی بھلی بہن کیسے خود کو لڑکا سمجھنے لگی ہے۔ ایسی بھی کیا نفسیاتی گرہ

    دیکھیں نفسیاتئ مسائل میں کوئی ایک چیز ہی مکمل طور پر انسان پر اثر نہیں ڈالتی۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی انسان بیٹھے بٹھائے کسی مخصوص سوچ کی آبیاری کرے اور بدل جائے عموما اسکے گرد رہنے والے افراد کے روئیے، ماحول معاشرے کا رواج رہن سہن یہ سب اسکے روئیوں پر گہرا نقش ڈال جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آٹھ سال قبل۔۔۔ 

    ارے صفیہ تم۔۔ راہ چلتے انہیں مانوس آواز سنائی دی تو انہوں نے ٹھٹک کر مڑ کر دیکھا۔انکی بچپن کی سہیلی راہ چلتے ملنے پر پکار رہی تھی۔ وہ مسکرا کر پلٹیں۔ انکے ساتھ قدم بڑھاتی مزنہ بھی رک گئ۔ 

    بھائی کا سن کر بہت افسوس ہوا تھا مگر انکی پوسٹنگ ہوگئ تھی تو ملنے آ نہ سکی ابھی پچھلے ہفتے آئی ہوں اس شہر میں واپس۔ 

    سہیلی کے تعزیتی الفاظ انکی آنکھیں نم کر گئے 

    اور یہ بیٹا ہے تمہارا؟ 

    انہوں نے ماں کے ساتھ سینہ تانے محافظ بنے کھڑے اس بارہ تیرہ سالہ لڑکے کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرنا چاہا

    بیٹی ہے یہ میری۔

    امی نے پیار سے دیکھتے تعارف کرایا۔

    ہیں مگر اس نے لڑکوں جیسے کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں۔

    وہ خاتون استعجاب کے مارے ٹوکے بنا نہ رہ سکیں

    امی ہنس دیں۔۔ 

    بس اسکو ایسے ہی لڑکوں جیسے کپڑے پہن کر پھرنے کا شوق ہے۔ میں بھی منع نہیں کرتی ابھی چھوٹی ہے بڑی ہو کے خود ہی سمجھ آجائے گی اسے۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھ میں ہی ہے ۔۔۔۔ رنگوں کی کمی 

    یہ زندگی اندھیروں میں گھل رہی۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    کل کے نشان۔۔۔۔۔۔ آج میں جم گئے۔۔۔۔۔۔۔

    میرے قدم ۔۔۔۔۔۔۔یونہی تھم گئے۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    میں آج اڑوں۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹوٹے پروں کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔۔۔۔۔۔

    Kesi lagi kahani ? Rate us below

    Rating
    Home » Urdu Novels » Page 6
  • Mujh may he hay rangon ki Kami- Episode 3

    مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی
    قسط 3

    مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔ اردو ویب ناول ہے stress dysphoria میں مبتلا ایک لڑکی کی کہانی جس کو معاشرے کے ابنارمل رویوں نے لڑکا بننے پر مجبور کر دیا۔ اپنے آپ سے الجھتی اپنے وجود پر سوالیہ نشان اور ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتیں جانیئے۔۔ مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی کی پہلی قسط میں۔۔
    مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔ اردو ویب ناول ہے stress dysphoria میں مبتلا ایک لڑکی کی کہانی جس کو معاشرے کے ابنارمل رویوں نے لڑکا بننے پر مجبور کر دیا۔ اپنے آپ سے الجھتی اپنے وجود پر سوالیہ نشان اور ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتیں جانیئے۔۔ مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی کی پہلی قسط میں۔۔

    صبح وہ حقیقتا یونیورسٹی میں ماہا کو ڈھونڈتی پھری تھی۔ جانے کہاں غائب تھی۔ بے دلی سے پیریڈز اٹنیڈ کرنے کے بعد وہ خاصے خراب موڈ میں گھر واپس آرہی تھی جب ماہا کی کال آئی۔ فورا سڑک کنارے بائک روک کر اس نے فون اٹھا لیا۔ 

    کہاں ہو صبح سے فون کر رہا ہوں اگر آج یونی نہیں آنا تھا تو بتا تو دیتیں میں بھی نہ آتا

    ہائے میرا جانو اداس ہو گیا میرے بن۔ ماہا آگے سے یوں کھلکھلائی جیسے وہ کوئی رام کہانی سنارہی ہو۔

    یار قسم سے یونیورسٹی آئی تھی مگر یہ عادل کے بچے نے اغوا کر لیا مجھے۔ موبائل تک بند کروادیا۔ یہاں مونال لا کر سرپرائز دیا ہے اپنی ہی سالگرہ کا مجھے۔ اف اتنا بے ایمان موسم ہو رہا ہے۔ 

    وہ خوش تھی بے تحاشہ خوش اسکی آواز سے جھلک رہا تھا۔

    اچھا بس بھی کرو کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔۔ عادل کی آواز آئی تھی

    میں بھی آتا ہوں۔ 

    اس نے کہا توماہا آگے سے خو ش ہوگئ

    یہ صحیح رہے گا تم بھی آجائو ابھی ۔ 

    وہ جانے کیا کہنے جا رہی تھی کہ عادل ڈپٹ کر بولا

    پاگل تو نہیں ہو وہ کیسے مونال آئے گی بائک پر اوپر سے بارش ہونے والی ہے کتنی تو پھسلن ہو جاتی ہے سڑک پر۔ 

    میں آرہا ہوں میرا انتظار کرنا۔ 

    اسے عادل کا کہنا چیلنج سا لگا سو ضدی انداز میں بولی

    نہیں جانو عادل صحیح کہہ رہا ہے ۔ ماہا ڈر گئ تھی۔ عادل بھی دانت پیس رہا تھا۔ 

    ہم پھر کسی دن آئیں گے مل کے۔خفا نہ ہونا میری جان آج وہسے بھی عادل کی سالگرہ یہ ہمارے ساتھ کباب میں ہڈی بنا رہے گا کسی دن ہم دونوں بائک پر آئیں گے بس ہم دونوں۔ 

    ماہا مسکا لگا رہی تھی مگر مزنہ کے دل کو جیسے ٹھنڈ سی پڑی۔ 

    یہ ٹھیک ہے کسی دن۔ اس نے کہنا چاہا مگر ماہا نے عجلت میں بات کاٹ دی۔ 

    اچھا میرے جانو غصہ نہ کرنا کل ملتے ہیں اپنا خیال رکھنا با بائے۔ موا۔ 

    اس نے فلائنگ کس بھیج کر فون بند کر دیا۔ 

    اس نے سر جھٹک کر فون بند کرکے جیب میں ڈالا بائک کوکک لگا کر دوبارہ اسٹارٹ کرنا چاہا تو کچھ فاصلے

    پرکھڑے ان دو لڑکوں پر نظر پڑی جو اسے عجوبہ روزگار 

    سمجھ کر ویڈیو بنا رہے تھے اسکو اپنی طرف متو جہ ہوتے دیکھ کر چونکے پھر تیزی سے بھاگ بھی اٹھے وہ بس گھور کر رہ گئ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گھر حسب معمول وہ چار بجے کے قریب پہنچی تھی مگر عام دنوں کے برعکس کافی چہل پہل تھی گھرمیں۔کنزی اور امی کچن میں لگے ہوئے تھے حفصہ لائونج کے کونے میں لگے استری اسٹینڈ پر کپڑے استری کر رہی تھی

    خیریت ایک ہی ہفتےمیں دو چکر۔ عامر بھائی سے طلاق لینے کا تو ارادہ نہیں۔ 

    قریب جا کر اس نےزور سے ہنستے ہوئے کہا تو حفصہ نے بنا لحاظ دو ہتھڑ لگا دیئے

    سوچ سمجھ کے بولا کرو کچھ بھی بول دیتی ہو۔برا لگ رہا ہے بہن کا آنا۔ 

    اس نےمصنوعی خفگی جتائی۔

    برا تو نہیں البتہ حیران کن لگ رہا ہے۔ وہ صاف گوئی سے بولی۔ 

    آپی ڈرائینگ روم کی اچھی طرح جھاڑ پونچھ کر دی ہے اور رول بھی بنا دیئے اور کوئی کام کرنا ہے تو وہ بھی بتا دیں۔

    کنزی مصروف سی دوپٹے سے ہاتھ پونچھتی اسکے پاس چلی آئی۔ 

    خیریت کوئی آرہا ہے کیا ؟

    مزنہ کوتجسس ہوا۔

    حفصہ مسکرا دی پیار سے تھوڑی  چھو کر بولی

    ہاں ایک نہایت اچھی سی خاتوں آرہی ہیں تمہیں دیکھنے۔

    کیوں دیکھنے آرہی ہیں مجھے ؟ مجھ پر ٹکٹ لگ گیا ہے کیا؟ کوئی فلم ہوں میں کیا۔ 

    وہ جانے سمجھی نہیں یا جان کے انجان بن گئ

     فلم نہیں تم تو ڈرامہ ہو مزنہ وہ بھی ہارر۔

    کنزی اپنی سابقہ ناراضگیاں بھلا کر شرارت سے بولی۔مزنہ کے ماتھے پر بل پڑگئے تو حفصہ نے بات کا اثر ذائل کرنے کو کنزی کو ڈانٹ دیا

    بری بات کنزی بڑی بہن ہے تمیز سے بات کیا کرو۔ 

    آستین پر استری پھیر کر نیا نکور کاٹن کا جوڑا تھما کر بولی

    یہ لو جائو نہا کر یہ جوڑا پہن لو۔

    مزنہ بدک گئ

    میں کیوں یہ پہن لوں یہ آپکا ہے اور میں ویسےبھی ایسے کپڑے نہیں پہنتا پتہ ہے آپکو یہ بات۔

    اسکے صاف انکار نے بھئ حفصہ کو بد دل نہ کیا۔ پچکار کے بولی

    بیٹا مہمان آرہے ہیں انکے سامنے سب ہی اچھا سا حلیہ بنا کر جاتے ہیں کنزی امی اور  میں نے بھی کپڑے بدلے ہیں تم بھی بدل لو ویسے بھی وہ تمہیں دیکھنے آرہی ہیں۔

    حفصہ نے اپنی طرف سے سبھائو سے بات کی مگر وہ پٹھے پر ہاتھ بھی دھرنے نہ دے رہی تھی

    میں نہیں پہن رہا یہ کپڑے اور انہوں نے مجھے دیکھنا ہے تو ایسے ہی دیکھیں میں ان کپڑوں میں بھی دکھائی دے رہا ہوں غائب نہیں ہوگیا۔

    مزنہ بگڑکر بولی توکنزی ہنس دی

    آپکو ایسے دیکھ کر انکو دلہا نظر آئے گا جبکہ انکو اپنے بیٹے کیلئے دلہا نہیں دلہن درکار ہے۔ میری بہنیا بنے گی دلہنیا سمجھیں مزنہ بی بی

    اسکے مزاحیہ انداز پر حفصہ بھی ہنس پڑی۔مزنہ نے جھلا کر کپڑے زمین پر پھینک دییئے

    یہ کیا مزاق چل رہا ہےمجھے نہیں پہننے یہ کپڑے

    کیوں بھئ؟ اسکے رویئے نے حفصہ کو ٹھٹکا دیا سنجیدہ سی۔ہوگئی۔ بڑی بہن والا رعب ڈال کر ڈپٹ کر بولی

    کیوں نہیں پہن رہیں یہ کپڑے۔۔خبردار جو اس حلیئے میں انکے سامنے آئیں۔جائو کپڑے بدلو اور کنزی اسکا تھوڑا میک اپ بھی کردینا۔ 

    مگر آپی میں یہ سب نہیں کرتا۔اس نے احتجاج کرنا چاہا جسے وہ خاطرمیں نہ لائی

    مگر اب کرو۔تھوڑا سجنا سنورنا شروع کرو۔تھوڑی لڑکیوں والی حرکتیں بھی کر لیا کرو۔۔

    وہ سمجھانے والے انداز میں بولی جوابا ایکدم مزنہ چلا اٹھی

    میں لڑکی نہیں ہوں۔۔۔ 

    حفصہ ایکدم چپ ہو کر دیکھنے لگی تبھی داخلی دروازے پر دستک ہوئی۔ امی جو مزنہ کے چلانے پر کچن سے نکل آئی تھیں جلدی سے دروازہ کھولنے لگیں۔ واقعی مہمان خاتون ہی تھیں۔

    دو منٹ میں کپڑے بدل کر آئو۔ حفصہ نے گھور کر سخت لہجےمیں کہا تو وہ پیر پٹختی اندر بڑھ گئ۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چائےکا پرتکلف دور چلا۔ رول سموسے کباب اور پیٹیز۔  کنزی کے ہاتھ کی مزیدار چائے بیگم اصفہانی نے خوب تعریفیں کرکرکے انصاف کیا۔ صفیہ کو بھی بیگم اصفہانی فورا پسند آگئیں۔گوری سی پروقار انداز گفتگو خوش لباس خاتون انکے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر نظر گھما گھما کر گھر کا جائزہ لینے کی بجائے انکی مکمل توجہ کا مرکز صفیہ اور حفصہ ہی تھیں۔ ادھر ادھر کی باتیں کرکے سیدھا مدعے پرچلی آئیں

    میری بڑی بہو نے آپکی بہت تعریف کی بتا رہی تھی کیسے آپ نے بیوگی اور اکلوتے بیٹے کی موت کا صدمہ جھیلا پھر بھی ہمت نہیں ہاری۔

    امی انکساری سے مسکرا دیں۔

    بس برا وقت تھا گزر گیا۔شکر ہے خدا کا بیٹیاں سعادت مند اور نیک ہیں میری۔حفصہ کی تو پانچ سال پہلے شادی کردی۔تھی اب مزنہ کی باری ہےما شا اللہ سے میری بیٹی بہت کام کاجو ہے باہرکا سب کام  دکانوں کا حساب

    وہ سادگی سے کہے جا رہی تھیں حفصہ نے سٹپٹا کر ماں کو گھورا تو جملہ ادھورا چھوڑ گئیں

    بیگم اصفہانی بھی شائد بال کی۔کھال نکالنے کی عادی نہ تھیں مسکرا کر بولیں

    اچھا ما شا اللہ گھر بیٹی نے سنبھال رکھا ہے؟ظاہر ہے حفصہ تو اب مہمان ہے اس گھر میں۔کنزی تو پڑھائی میں مصروف ہوتی ہوگی۔ 

    امی گڑبڑا گئیں

    جی جی ۔۔ آپ چائےلیجئے۔ 

    چائے تو بہت مزے کی ہے۔ گھونٹ بھر کر وہ ہنس دیں

    میرا بیٹا ماشا اللہ سے بہت خوش خوراک ہے صاف بات کروں گی بہن۔ کہتا ہے امی شکل وکل سے مجھے سروکار نہیں بس کھانا لذیذ بناتی ہو ۔۔ سچ بتائوں آپکے یہاں ایک ایک چیز میں ذائقہ ہے اور یہ جان کے تو بہت خوشی ہوئی کہ بچی کام کاجو ہے سب گھر سنبھال رکھا ہے۔

    امی نے حفصہ کی شکل دیکھی اس نے اشارے سے انہیں دھیرج رکھنے کا اشارہ کیا۔

    یہ آپکی بیٹی ہے؟

    انکی خود ہی دروازے کی اوٹ میں کھڑی مزنہ پر نگاہ پڑی تو پوچھ لیا۔ حفصہ اور صفیہ نے بھی مڑکر دیکھا تو حیران رہ گئئیں۔ہر وقت اوٹ پٹانگ حلیہ بنائے رکھنے کی وجہ سے اندازہ نہ ہوا مگر اس وقت بڑی بڑی آنکھوں میں کاجل ہونٹوں پر گلابی لپ اسٹک گلابی ہی سوٹ میں دراز قد مزنہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔ 

    خاتون بھی ایک ٹک دیکھتی رہ گئیں۔ 

    ما شا اللہ ادھر آئو بیٹا۔ بڑی تعریفیں سنی ہیں بھئ تمہاری۔ بہت سگھڑ ہو بھئ بچیاں تو کام کرتی ہی اچھی لگتی ہیں۔ 

    وہ پیار سے یونہی بات برائے بات کہہ رہی تھیں مگر مزنہ کے تو جیسے تلوے سے لگی سر پر بجھی

    دو قدم اندر آکر انکے پاس جانے کی بجائے وہیں تن کر کھڑی ہوکر بولی

    کیوں بیٹیاں نوکرانیاں ہوتی ہیں؟جو کام کرکے اچھی لگتی ہیں آپکو یا بہو کے روپ میں کام والی چاہیئے آپکو۔

    اسکے تند و تیز لہجے پر وہ خاتون گھبرا سی گئیں

    نہیں وہ۔میرا مطلب

    حفصہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی

    مزنہ کیا بدتمیزی ہے یہ۔

    نہیں تو اور کیا فخر سے کہہ رہیں کہ بیٹا خوش خوراک ہے۔ انکو اپنے پیٹو بیٹے کیلئے روٹیاں تھوپنے والی نوکرانی درکار ہے

    خاتون کا رنگ ہتک سے سرخ ہوگیا امی نے ڈپٹا

    مزنہ چپ کرجائو

    یہ کیا بدتمیزئ ہے آپ لوگ یوں گھر بلا کر مہمانوں کو بے عزت کرتے ہیں ۔بہت منہ زور بیٹی ہے آپکی۔

    بیگم اصفہانی سب مروت لحاظ بالائے طاق رکھ کر گرجیں

    بیٹی نہیں بیٹا ہوں میں انکا بیٹا۔ اور گھر میں گھس کر چائے پانی نہیں کرتا باہر کے سب کام سنبھالتا ہوں۔

    اسکے بولنے پر خاتون بولنا بھول کر حیرت زدہ رہ گئیں

    یہ یہ کیسے بول۔رہی ہے

    حفصہ اسکو بازو سے پکڑ کر باہر لے جانے لگی مگر وہ اسے ہلا بھی نہ پائی

    ایسے ہی بولتا ہوں میں ۔اگر آپکو اپنے پیٹو بیٹے کیلئے دلہا درکار ہے تو یہاں بیٹھیں ورنہ چلتی پھرتی نظرآئیں

    اتنی منہ زوری بد زبانی مہمان خاتون تو گنگ ہوگئیں البتہ امی نےبلا۔لحاظ اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا

    بند کرو بکواس یہ تربیت دی ہے میں نے تمہیں۔ 

    امی کی غیض و غضب سے آواز پھٹ سی گئ۔ کنزی ہنگامہ سن کر بھاگی آئی بیگم اصفہانی تنفر سے انہیں دیکھتی باہر نکل گئیں۔

    حفصہ کے روکنے پر بھی نہ رکیں 

     کیا ہوا امی۔ کنزی نے آگے بڑھ کر تھر تھر کانپتی ماں کو سہارا دیا

    پاگل ہو گئ ہو کیا تم یہ کیا حرکت کی ہے تم نے۔حفصہ نے پلٹ کر اسے جھنجھوڑ دیا

    ہاں ہاں میں پاگل ہوگیا ہوں۔ماں کے تھپڑ نے مزنہ پر جو سکتہ طاری کیا تھا وہ حفصہ کے جھنجھوڑ ڈالنے پر ٹوٹ گیا۔حلق کے بل چلا اٹھی

    اپنے کاموں کیلئے تم سب نے مجھے پاگل بنایا ہےمیں خود ایسا نہیں بناتم لوگوں کے کام کرتے کرتے بن گیا ہوں میں اب

    کام کام کی کیا رٹنی لگا رکھی ہے تم نے؟ 

    امی بگڑ کر بولیں

    باہر کے دو چار کام کرلینے سے تم خود کو لڑکا ہی سمجھنے لگ گئ ہو واقعی بہت ڈھیل دے دی ہے میں نے تمہیں ۔ کتنا بے عزت کرایا ہے ماں کو آج تم نے؟ایسی بد لحاظ اور نافرمان۔۔۔

    کیا نافرمانی کی ہے میں نے۔بیٹوں کی طرح گھر کا بوجھ اٹھایا ہے ہمیشہ خود دوڑدھوپ کی کبھی آپ سب پر آنچ نہ آنے دی۔منٹ منٹ پرباہر کے چکر لگائے ہر کام بیٹے کی طرح کیا کبھی بیٹے کی کمی محسوس نہ ہونے دی اب میں آپکا بیٹا ہی بن چکا ہوں بھول جائیں میں لڑکی پیدا ہوئی تھی 

    وہ گرج رہی تھی۔بھاری آواز مضبوط انداز وہ تینوں ششدر سی اسے دیکھتی رہ گئیں۔

    یہی یہی سب میں آپکو بتا رہی تھی مگر میری کوئی سنتا نہیں۔کنزی بولی تو حفصہ اسے دیکھ کر رہ۔گئ

    امی کے ہاتھ پائوں بے دم سے ہونے لگے۔ حفصہ آنکو سہارا دے کر بٹھانے لگی۔

    میں کیا کروں میری تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ امی رو ہی دیں۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     اپنی طرف سے تو اس نے داد چاہنے والے انداز میں ماہا کو اپنا کارنامہ سنایا تھا مگر اسکے ہر اچھے برے فعل میں اسکا کندھا تھپتھپانے والی ماہا کا ردعمل بالکل غیر متوقع تھا۔ وہ اس پر چلا اٹھی تھی۔ یونیورسٹی کے گرائونڈ میں بیٹھ کر سموسمہ اڑاتے اس نے ہنس ہنس کر قصہ سنایا مگر ماہا ہنسنے کی۔بجائےاسے یوں دیکھنے لگی جیسے اسکے سر پر سینگ نکل آئے ہوں۔

    پاگل تو نہیں ہو گئ ہو؟ کیا ضرورت تھی تمہیں ان خاتون سے اتنی بد تمیزی کرنے کی کوئی اندازہ ہے تمہیں وہ کتنا بدنام کر سکتی ہیں تمہیں؟ لوگ تو دشمنی پر اتر آتے ہیں احمق۔ اگر لڑکا پسند نہیں تھا تو بعد میں حفصہ آپی سے بات کر لیتیں آنٹی کو منا لیتے میں آنٹی سے بات کرتی

    میں  نے کونسا دیکھا تھا لڑکا۔ اس نے اطمینان سے کندھے اچکائے

    پھر اتنی بدتمیزی کی وجہ۔جتنا میں جانتی ہوں آنٹی تمہاری پسند ناپسند کو اہمیت ضرور دیں گی۔انکے دل میں تمہاری الگ ہی جگہ ہے۔ بجائے اسکے کہ تم ان کو اپنی پسند نا پسند بتائو تم نے ایک غیر خاتون کے سامنے انکو شرمندہ کروادیا۔ انہوں نے ایک تھپڑ مارا میری اماں تو ڈنڈے سے پٹائی کرتیں میری اگر میں نے یہ حرکت کی ہوتی تو۔ 

    سموسے کو چٹنی میں بھگوتے وہ صاف گوئی سے کہہ رہی تھی

    لڑکیاں اتنی ہی مجبور ہوتی ہیں۔ مزنہ کو اس پر ترس آگیا

    ہاں تم تو جیسے لڑکا ہو نا۔بی بی ہو تم بھی لڑکی ہی۔ہونی تمہاری بھی شادی ہی ہے۔ ابھی بائک اڑا رہی ہو بعد میں کسی ببلو ڈبو کو گود میں لے کر سیاں جی کا۔کندھا دبوچ کر بیٹھا کروگی سمٹ کر بائک پر

    لہک۔لہک کر کہتی شرارت آنکھوں میں بھرے وہ کھلکھلا رہی تھی۔ مزنہ کو اس پر۔غصہ آنے کی بجائے ہنسی ہی آگئ

    دیکھی جائے گی۔ مزنہ نے کان پر سےمکھی اڑائی

    یہ بتائو آج شام کا کیا پروگرام ہے ریفریشمنٹ سینٹر چلیں؟ 

    بیگ اٹھا کر کھڑے ہوتے اس نے پوچھا مگر خلاف توقع ماہا نفی میں سر ہلا گئ

    نہیں بھئ آج ڈنر عادل کے ساتھ کرنا ہے۔ تم مجھے گھر چھوڑ دو

    ماہا بھی ہاتھ جھاڑتی اٹھ گئ۔

    مزنہ کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔

    ڈنر کیوں؟ رات کو کیا ضرورت ہے عادل کے ساتھ ڈنر پر جانے کی؟ یہاں ہر وقت اکٹھے پھر پھرا کر دل نہیں بھرتا؟ یہاں تو چلو انکو پتہ نہ چلے یوں رات گئے پھرنے سے نہیں روکتے گھر والے تمہیں۔ 

    ماہا منہ کھولے اسکی جھاڑ سنتی گئی پھر اسکے کندھے پر مکا مار کر بولی

    بس بس ذیادہ ڈائلاگ بازی مت کرو۔فیملی ڈنر ہے عادل کے گھروالے اور میرے گھر والے بھی ہوں گے۔ اور۔ 

    وہ بولتے بولتے مسکائی

    کوئی کینڈل لائٹ رومینٹک ڈنر پر نہیں جا رہے ہم۔ ماہا نے جتایا تو وہ سر جھٹک کر رہ گئ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ماہا کو اسکے گھر چھوڑ کر وہ آدھے پنڈی کا چکر لگا کر واپس گھر پہنچ پائی تھی۔ نو بج رہے تھے امی اسکے انتظار میں ٹہل رہی تھیں۔ دو دن سے اس سے مخاطب نہ ہونے باوجود وہ اسکے کھانے پینے کا اسی طرح خیال رکھ رہی تھیں۔

    کنزی سو گئ۔ اس  نے یونہی پوچھا تھا مگر وہ جواب دیئے بنا کچن میں چلی گئیں۔

    وہ تھکی تھکی سی اپنے کمرے میں آکر بیڈ پر گر سی گئ۔ 

    اسلام آباد میں اپنے ماہی منڈے والے حلیئے میں سارا دن گھومنے میں بھی اسے ان نظروں اور جملوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا تھا جو گلریز پنڈی میں ماہا کو اسکے گھر چھوڑنے کے بعد اسے گلیوں میں سے گزرتے سڑک پر آتے سگنل پر رکتے سننا پڑا تھا

    ماہی منڈا،اوئے لڑکے، اوئے۔سن یہ بتا دے لڑکا ہے یا لڑکی، غلیظ جملے بازی ریس لگائے گا؟ نہیں ریس لگائے گی بول

    سنو شش۔۔ 

    آوازیں شور روشنیاں۔۔۔ 

    ماں کی نرم سی آواز۔ ۔۔۔

    مزنہ۔ 

    اس نے جھٹ آنکھیں کھول دیں۔امی کھانے کی ٹرے لیئے کھڑی تھیں۔وہ ذہنی طور پر ابھی بھی شائد گھر نہ پہنچی تھی۔خالی خالی نگاہوں سے دیکھتی رہی جیسے انکے وہاں کھڑے ہونے کا مقصد سمجھ نہ آرہا ہو

    سرخ لال بوٹی سی آنکھیں تپا۔ہوا چہرہ۔ ماں کا کلیجہ تڑپ سا گیا۔

    ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اسکے پاس آبیٹھیں۔

    کیا ہوا مزنہ طبیعت تو ٹھیک ہے نا بیٹا۔ 

    امی آپ بھی مجھ سے نفرت کرتی ہیں؟

    وہ یونہی دیکھتی رہی  کہنا کیا تھا کہہ کیا گئ۔۔اس نے انکی گود میں منہ چھپا لیا۔ 

    نہیں میری جان تم تو میری سب سے لاڈلی بیٹی ہو ۔۔

    امی تڑپ ہی تو گئیں اسے اپنے بازوئوں کے حلقے میں لے لیا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ماہا بے خوش خوش یونیورسٹی آئی تھی۔ اسکو دیکھتے ہی بھاگی آئی گلے سے جھول ہی گئ۔ اسکے بے ساختہ اظہار پر اسکا سارا گلہ جاتا رہا موڈ بھی اچھا ہوگیا۔ 

    کیا ہوا خیریت ہے؟ بہت خوش نظر آرہی ہو اور آج تو عادل کا دم چھلا بھی ساتھ نہیں ہے۔ 

    پوچھتے پوچھتے بھی وہ طنز کیئے بنا نہ رہ سکی۔

    اب سے وہ میرے آس پاس بھی نہیں پھٹکا کرے گا۔

    وہ کھلکھلائی

    کیوں بھئ منگنی ٹوٹ گئ کیا تمہاری۔ 

    اسے سچ مچ یہی خیال گزرا تھا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو ماہا اسکے گھونسا دے جڑتئ پر آج وہ اور ہی ہوائوں میں تھئ۔جھوم کے بولی

    اللہ نہ کرے بس ہماری شادی طے ہوگئ ہے دو مہینے بعد کی تاریخ رکھی گئ ہے سو اب سے ملنا جلنا بند دو مہینے تک ہک ہا۔ میں کیسے رہوں گی یار۔۔۔۔وہ اسکے ساتھ ساتھ قدم بڑھا رہی تھی مگر اسکی بات سن کر اسکے قدم رک سے گئے

    بس جلدی جلدی سب کام ہونے ہیں ڈھیروں شاپنگ کرنی ہے مجھے اور اب سے تم اگلے دو مہینے تک آفیشلی میری ڈرائیور ہو ساری شاپنگ۔۔۔۔۔ بولتے بولتے اسے احساس ہوا کہ اکیلی چلتی جا رہی ہے تو چونک کر مڑی

    کیا ہوا آئو نا کلاس شروع ہونے والی ہے  ۔۔ 

    اس نے یاد دلایا۔

    کیوں شادی کرنے لگی ہو ابھی نا تمہاری پڑھائی مکمل ہے نا عادل کی کماتا وماتا تک نہیں ہے۔۔ اس نے اتنا منہ بنا کر کہا تھا کہ ماہا کو ہنسی آگئ

    پکا لڑاکا پھپھیوں کی طرح اعتراض اٹھائے ہیں۔ ہا ہا ہا۔

    بھئی ہمارا بی ایس کا آخری سمسٹر ہے اسکا ایم بی اے کا۔مڈز تو ہو چکے ہمارے فائنلز بھی ختم ہو جائیں گے دو مہینے تک پھر کیا کرنا میں نے تو شادی ہی سہی۔

    وہ بے حد خوش اور مگن تھی سو آرام سے تاویلیں گھڑتی گئ۔۔

    مگر دو مہینے میں عادل کی نوکری تو نہیں لگ جائے گی۔

    اس نے ذرا بھنا کر کہا۔ 

    تو عادل نے کونسا نوکری کرنی ہے ۔تایا ابو کا کاروبار ہی سنبھالنا ہے۔ چلو اس فالتو بحث میں پراکسی نکل جائے گی۔

    وہ اسکا بازو تھام کے کھینچ لے گئ ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ماہا نے اپنا کہا سچ کر دکھایا نا امتحانوں کی فکر تھی نا ہی کوئی اور کام دھندہ بس شاپنگ کا پروگرام بنا کر فون کھڑکاتی اور سارا دن اسے لیئےلیئے بازاروں کے چکر لگواتی رہتی۔ دھوپ میں پھر پھر کر اسکا رنگ سیاہ ہوگیا نا دوپہر کے کھانے کی فکر نا شام کے امی نے کچھ دن تو برداشت کیا اسکا یہ معمول مگر جب شام کو تھک ہارکر وہ جب بسترپر گری اور تھکن کے مارے  کھانے سے بھی انکار کردیاتو انکےصبر کاپیمانہ لبریز ہوگیا بھنا کر باہر آئیں۔کنزی برتن دھورہی تھی انہوں نے ساری بھڑاس اسکےسامنے نکال دی۔

    اتنا سا منہ نکل آیا ہے مزنہ کا۔نوکر ہی سمجھ رکھا ہے ماہا نے ۔صبح یونیورسٹی شام کو شاپنگ جانے دن  بھر کچھ کھاتی پیتی بھی ہے کہ نہیں۔عجیب لڑکی ہے بھئ اپنی ماں بہن کے ساتھ شاپنگ کرے گاڑی میں گھومے میری بیٹی ملازمہ ہے کیا اسکی کہ اسے لیئےلیئےبازاروں کے چکر لگائے۔۔۔ 

    روٹی پکاتےانہوں نے تھپ تھپ سارا غصہ نکال دیا۔ کنزی نے ماں کا غصے سے لال بھبھوکا چہرہ دیکھا تو مسکرا دی

    ارے امی ماہا باجی اکلوتی تو ہیں کہاں کوئی بہن بھائی ہے انکا اور آنٹی کے ساتھ تھوڑی کھل کے گھوم پھر کر شاپنگ کر سکتی ہوں گی۔ جبھی مزنہ کے ساتھ جاتی ہیں کہ آرام سے دونوں سہیلیاں گھوم پھر کر چیزیں لیتی ہوں گی۔

    ہاں تو کوئی حد ہونی چاہیئےنا روز روز کا یوں بازاروں میں پھرنا ابھی بھئ مزنہ کا چہرہ لال ہو رہا تھا ہلکا ہلکا بخار بھی لگ رہا تھاجیسے۔تھکا ڈالامیری بیٹی کو ابھی آئے ذرا اسکا فون خبرلیتی ہوں میں اپنے ابا کی گاڑی کو ہوا لگائے نا۔۔ 

    کوئئ ضرورت نہیں اسکی خبر لینے کی۔دو چار دن کی ہی بات ہے اورجب مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے تو۔۔ 

    مزنہ شائد پانی پینے آئی تھی کچن کے دروازے کا سہارا لیئے انکی بات سن کر فورا بولی۔

    حال دیکھو اپنا نچڑ گئ ہو چار دن میں کھانا وانا بھی چھٹ گیا ہے اس طرح تو بیمار پڑ جائو گئ۔ 

    امی فکر مندی سے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر بولیں۔انکی بات پر کنزی نے بھی ذرا غور سے اسکی شکل دیکھی۔پژ مردگئ چہرے سے عیاں تھی۔ مضمحل سی وہ دروازے کا یوں سہارہ لیئے کھڑی تھی جیسے چکرا کر گر جائے گی۔

    بس آج کھانے سے انکار کیا تھا دل نہیں تھا۔چلیں ابھی پیٹ بھر کر کھانا کھاتا ہوں آپکی فکر دور کرنے کو ٹھیک ہے۔ 

    اس نے بشاشت طاری کرتےہوئےجیسے انکو بہلایا۔وہ بہل بھی گئیں۔تینوں نے اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا مگر رات کو اسکو شدید بخار ہوگیا۔ صبح امی اٹھانے آئیں تو بخار میں پھنکتےکراہ بھی رہی تھی۔ امی کے تو ہاتھ پائوں پھول گئے۔ کنزی کو بھئ کالج جانے سے روک دیا اسکے سرہانےہی تسبیح لیکر بیٹھ گئیں۔ کنزی نے دودھ گرم کرکے لا کر دیا تو امی کو ڈبل روٹی یاد آئی

    ڈبل روٹی ہی لے آئو بھوک لگ رہی ہوگی اسے۔ 

    امی ڈبل روٹی تو ختم ہوگئ ہے۔ کنزی نے دھیرے سے بتایا

    تو وہ اسےلانےکا کہتے کہتے رک گئیں

    ہاں کل مزنہ کو یاد کرایا تھا لانا بھول گئ شاید۔

    مزنہ کی پیشانی سہلاتے انہیں خیال آیا۔

    لانے والی ہی وہی تھی ہر چیز۔

    دوپہر تک بخار کا زور کم تو ہوا مگر سودا سلف ہر چیز کیلئے وہ دونوں بیٹھی رہ گئیں۔

    گھر میں بس آلو تھے وہی پکا لیئے۔دلیہ ختم تھا دودھ بھی ختم تھا۔سونے پر سہاگہ موٹرالگ چلتے چلتے رکی تو دھواں دے گئ۔ابھی مزنہ ٹھیک ہوتی تو فورا مکینک لے آتی ۔ ڈاکٹرتک بلانے کیلئے وہ دونوں بیٹھی تھیں۔

    امی مزنہ بیمار ہوئی ہے تو گھر کاہر کام ہی رک گیا ہے۔آج تو موٹر بنا بھئ گزارا ہو جائے گا کل کیا کریں گے ۔سودا سلف کیلئے کیا کریں؟ 

    کنزی نے کہا تو وہ سوچ میں پڑ گئیں۔پھر حفصہ کو فون ملا دیا۔ حفصہ میاں کے ساتھ چکوال گئ ہوئی تھی وہ الگ پریشان ہو گئ مزنہ کی طبیعت کتنی خراب ہے جو ایسے فون کرناپڑا مشکل سے اسے مطمئن کرکےفون بند کیا۔

    قریبی مارکیٹ سے سودا تو میں جا کر لے آتی ہوں باقی پانی احتیاط سے خرچ کرنا تم۔اور مزنہ سے کہو تھوڑی ہمت پکڑے قریبئ کلینک لے چلتے ہیں۔

    امی نےخود ہی حل نکالا۔کنزی سر ہلاگئ۔ برسوں سے گھر سے نکلنے کی عادت نہیں تھی۔اللہ بخشے شوہر سخت گیرتھےکبھی انکے ساتھ بھی بازار جانے کی نوبت نہ آئی۔ہاں انکے بعد حالات نے خواریاں کٹوائیں ان سے مگر اب پھر پچھلے کئی سالوں سے اکیلے تو گھر سے نکلی ہی نہ تھیں۔ مگر بڑھتی عمرتھوڑا بہت با اعتماد کر ہی گئ تھی سو چادر 

    اوڑھ کرنکلیں تو سودے سلف کے بعد مکینک کو بھی بلا لائیں۔موٹر اپنی نگرانی میں ٹھیک کروائی کنزی ماں کو دیکھ دیکھ کر حیران ہوئی

    امی ایویں ہی ہم نے سب کام مزنہ پر ڈال رکھے ہیں یہ سب کام تو آپ بھی کر سکتی ہیں ہم ایویں مکینک بلانےتک کیلئے بھی مزنہ کا انتظار کرتے تھے۔

    کنزی مزنہ کے لیئے دودھ ڈبل روٹی لے جاتے ہوئے یونہی کہہ رہی تھی انہوں نے سر ہلا دیامگر یہ تو انکو پتہ تھا سائکلوں  والے کے پاس جا کر موٹر ٹھیک کرنے کیلئے کاریگر کو بلارہی تھیں۔وہ تو بھلا انسان تھا مزنہ کو بھی جانتا تھا انکو گھربھیج کر خود مکینک کو فون کرکے بھجوا دیا تھا۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اگلے دو دن مزنہ کا بخار چڑھتا اترتا رہا۔ حفصہ پریشان ہو کر فورا اگلے دن واپس آئی۔عامر ڈاکٹر کو بلا کر لائے دوائیں وغیرہ وہ ہی سب خیال رکھتے رہے۔ پھر بھی دو دن میں مزنہ نچڑ سی گئ۔ بخار کبھی سر پر چڑھنے لگتا کبھی چہرہ تھر تھرانے لگتا۔ ڈاکٹر نے شدید تفکر کا نتیجہ بتایا۔ امی نے مصلہ سنبھال لیا جانے کتنے نفل مان لیئے تیسرے دن وہ مکمل ہوش میں آئی تو فورا سجدے میں جا گریں۔کنزی پچھلے دو دن سے اسکے پاس ہی بیڈ پر سو رہی تھی امی کا میٹرس بھی اسی کمرے میں بچھا لیا تھا۔حفصہ کوشش کے باوجود رہ تو نہ سکی مگر تھوڑی تھوڑی دیر بعد فون کرکے خیریت پوچھ لیتی تھی۔ اس دن بھئ وہ مزنہ کے ساتھ سو رہی تھی جب اچانک مزنہ کا بخار بڑھنے لگا۔ کنزی نے اٹھ کر اسکے تھرمامیٹر لگا کر بخار دیکھا پھر پانی لا کر سر پر پٹیاں رکھنے لگی۔۔ وہ جانے کیا بخار میں منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگی۔اس نے کان لگا کر سننا چاہا ۔۔ ادھورے ٹوٹے جملے۔ وہ ماہا کو پکار رہی تھی۔ اسے اسکی حالت دیکھ کر خوف ہی آنے لگا۔ امی کی شائد ابھی آنکھ لگی تھی اس نے ایک دو بار پکارا مگر جب وہ ٹس سے مس نہ ہوئیں تو خود ہی جو جو سورت سمجھ آئی پڑھنے لگی۔ اس نے ایکدم اپنی لال انگارہ آنکھیں کھول کر دیکھا۔ 

    تم تم ماہاتم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے جو ٹوٹے پھوٹے الفاظ تھے کہ زلزلہ تھے۔ انہوں نے کنزی کے سر پر جیسے پہاڑ گرا ڈالا تھا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    صبح اسکا بخار ختم ہو چکا تھا۔خود ہی اٹھ کر منہ ہاتھ دھو کر کپڑے بدلےناشتہ کیا سب دوائیں بنا چوں چراں کیئے کھا لیں۔ ۔یونیورسٹی جانے کی تو امی نے اجازت نہ دی۔ کنزی کی لگ رہا تھا طبیعت خراب ہوگئ تھی۔ سر بوجھل ہو رہا تھا آنکھیں رت جگے سے سرخ بھی ہو رہی تھیں پھر بھی یونیفارم پہنے تیار کھڑی تھی کالج جانے کو۔ ناشتے تک کوتیار نہ تھی۔

    میں چھوڑ آئوں تمہیں کالج۔ اس نے بغور اسکی ڈھیلی طبیعت کو دیکھتے ہوئے آفر کی

    نہیں ۔اس نے فورا انکار کیا

    ساری رات تو بخار رہا ہے اب جاکے طبیعت سنبھلی ہے تو ذیادہ تھکن مت لو۔ ابھئ بھی ناشتے کے بعد جا کے سوجانا۔ ڈاکٹر نے ذیادہ سے ذیادہ آرام کرنے کا بتایا ہے۔ بتائو ایسے چہرہ تھر تھرا رہا تھا تمہارا بخار میں میری تو جان ہی نکل گئ۔ 

    امی نے بھی فورا گھرکا وہ خاموشی سے کان دبا کے سنے گئ۔ کنزی نے دزدیدہ نگاہوں سے اسے دیکھا پھر جلدی سے اپنا بیگ اٹھا کر باہر گیراج میں چلی آئی۔حالانکہ ابھی اسکی وین آنے میں پورے دس منٹ باقی تھے۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    امی کے حسب ہدایت وہ آکر کمرے میں لیٹ تو گئ مگر نیند کوسوں دور تھی۔ یونہی وقت گزاری کیلئے موبائل استعمال کرنے لگی۔ماہا نے مشہور ریستوران کا چیک ان لگایا ہوا تھا۔

    ہمراہ عادل۔ اسکے تن بدن میں آگ سی لگ گئ۔ کہاں کہہ رہی تھی اگلے دو مہینے تک عادل سے ملنا ملانا بند اور اب اسکے ساتھ ہوٹلنگ ہو رہی ہے۔

    اس نے اسی وقت یہی سب لکھ کر واٹس ایپ کر ڈالا۔ 

    اسکا پیغام اس نے فورا پڑھا تھا مگر جواب نہیں دیا۔

    کیا بات ہے جواب کیوں نہیں دے رہی ہو؟ یا عادل نے منع کیا ہے جواب دینے سے بھی۔ 

    اسکا یہ پیغام بھئ پڑھ لیا گیا تھا جواب ندارد

    تمہارے گھر والے جانتے ہیں تم باہر کس کے ساتھ گلچھرے اڑا رہی ہو؟

    اسکو اتنا غصہ آیا کہ اس نے یہی لکھ بھیجا

    میرے گھر والے بھئ ساتھ ہیں میرے اور تم اپنی چھوٹی سوچ اپنے پاس رکھو۔عادل نے منع نہیں کیا تھا جواب دینے سے میں کھانا کھا رہی تھی۔ہاں اور اگر وہ منع کرتا تو میں واقعی میں منع ہو جاتئ جواب نہ دیتئ۔ 

    اسکا سچ مچ اسکی فضول بات پر دماغ گھوم گیا تھا سو سخت ہی جواب دیا اسے۔

    اتنا اہم ہو گیا ہے وہ دو ٹکے کا عادل تمہارے لیئے کہ تم مجھے ایسے کہہ رہی ہو۔

    اسے اتنے سخت جواب کئ توقع نہ تھی۔اسکے پیغام کو اس بار پڑھا بھئ نہیں گیا تھا۔اس نے جھلا کر فون ملا لیا۔ دو تین بیلوں کے بعد لائن کاٹ دی گئ۔ اس نے دوبارہ فون ملایا تو  ماہا نے فون ہی بند کردیا۔ 

    ہائش۔اس نے غصے میں آکر فون پوری قوت سے زمین پر پٹخ دیا۔وہ تو شکر ہے میٹرس بچھا ہونے سے بچت ہوگئ۔اسی وقت حفصہ جو  کمرے میں داخل ہورہی تھی گھبرا کر ٹوکنے لگی

    ارے ارے کیا کر رہی ہو۔ ؟ 

    حفصہ کو دیکھ کر وہ بھی گڑ بڑا گئ۔ آگے ہو کر موبائل کی باقیات پر نظر ڈالی 

    شکر ہے بچت ہوگئ۔ حفصہ نے آگے بڑھ کر فون اٹھایا اور گھورنے لگی

    لگتا ہے طبیعت ٹھیک ہوگئ تمہاری۔ دوبارہ جناتی غصہ وارد ہو رہا ہے تمہارا۔ شکر ہے۔ پتہ ہے امی کتنا پریشان ہوگئ تھیں تمہارے لیئے کبھی اتنی شدید بیمار نہ پڑیں تم ۔

    حقیقت تو یہ کہ اسے ٹھیک ٹھاک بیٹھا دیکھ کر حفصہ نے اطمینان کا سانس لیا تھا۔مزنہ کھسیا کر فون اسکے ہاتھ سے لینے لگی

    ہاں آج بہتر ہوں۔

    بہتر ہوتے ہی غصہ کس پر آگیا تمہیں ہیں؟ حفصہ اطمینان سے اسکے بیڈ پر برابر آن بیٹھی 

    وہ بس۔ وہ جز بز سی ہوئی

    اور وہ تمہاری رگ جاں ہم نوالہ ہم پیالہ ماہا صاحبہ کہاں مصروف ہیں ؟ تین دن سے بیمار ہو ایک بار بھی خیریت پوچھنے کو بھی فون نہیں کیا اس نے کیسی دوست ہے۔ 

    حفصہ نے کہا تو اسکا غصہ پھر واردہو گیا

    موصوفہ عادل کے ساتھ لنچ کر رہی ہیں۔ دو مہینے بعد شادی ہے ان دونوں کی پھر بھئ ہر وقت اکٹھے رہتے ہیں۔گھر والےتک  نہیں روکتے ان دونوں کو۔۔۔

    اس نے اتنےدل جلے انداز میں کہا تھا کہ حفصہ کو ہنسی ہی آگئ مگر اسے منہ پھلائے دیکھ کر سمجھانے والے انداز میں بولی

    تمہیں کیوں اتنا غصہ آرہا ہے؟ سہیلی پرائی ہورہی ہے تمہاری اب تمہارے ساتھ تھوڑی وقت گزارا کرے گی اپنے منگیتر کے ساتھ گھوما پھرا کرے گی۔ 

    کیوں بھئ۔ شادی کر رہی ہے تو بس اب سب کچھ عادل ہے میری کوئی حیثیت نہیں رہی اسکے نزدیک

    وہ دلی جزبات زبان پر لے آئی۔ حفصہ اسکے بچپنے پر مسکرا کر رہ گئ

    یہی ہوتا ہے چندا۔ اب ہم تینوں بہنیں کیسے ہر وقت سر جوڑ کے بیٹھی رہتی تھیں اب مہینہ ہو جاتا مجھے تم دونوں کی شکل بھی دیکھے۔ 

    اس نے پیار سے اسکے بال بگاڑے

    شادی ہم لڑکیوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔ہماری ترجیحات بھی بدل۔جاتی ہیں۔ اپنے بہن بھائئ گھر والے دور ہو جاتے ہیں دوستیاں تو بالکل ہی ختم بھی ہو جاتی ہیں۔ اگر سیاں جی قسمت سے اچھے مل جائیں تو ہی دوستیاں قائم رہتی ہیں ورنہ سب ختم۔۔۔ 

    میں ایسا نہیں کروں گا۔میرے لیئے ماہا ہمیشہ میری سب سے بہترین قریبی دوست رہے گی۔۔

    وہ اٹل انداز میں ضدی انداز سے بولی

    اب یہ تو وقت بتائے گا کیا پتہ تم شادی کے بعد سیاں سیاں کرو اور سہیلیاں بھول جائو۔

    وہ بھی جوابا ہلکے پھلکے انداز میں بولی۔ 

    میں شادی ہی نہیں کروں گا پھر۔ اس نے حفصہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تو حفصہ کی آنکھوں میں الجھن تیر گئ۔ اسکی طبیعت بھی ٹھیک نہ تھی سو بحث میں نہ پڑی۔

    بات بدل دی۔ 

    اچھا یہ بتائو۔ گریڈز کیسے آئے ہیں مڈز میں تمہارے؟ 

    اس نے بڑے پیار سے پوچھا تھا مگر مزنہ کی پیشانی پر بل پڑگئے

    کیوں گریڈز کیوں یاد آگئے۔ ؟ 

    ایسے ہی۔ حفصہ نے ٹالنا چاہا۔ گھما پھر کر پوچھنے لگی

    کوئی جھگڑا وگڑا تو نہیں ہوا کوئی یونیور سٹی میں کوئی ٹیچر وغیرہ تو نہیں دشمن بنا ہوا ؟ اگر کوئی مسلئہ ہے تو تم کھل کر مجھے بتا سکتی ہو۔۔ 

    ایسا کچھ نہیں ہوا اگر ہوا بھی ہے تو میں خود نمٹ سکتی ہوں ایسے معاملوں سے۔ مزنہ قطیعت سے بولی

    کبھئ کبھی ہمیں لگتا ہے ہم بہت مضبوط ہیں اور ہم ہوتے بھی ہیں مگر بہت پریشانی ہو نا کسی بات کی تو ذہن پر بوجھ بہت بڑھ جاتا ہے ایسے موقعے پر کسی کے ساتھ باتیں کرکے وہ بوجھ بانٹ لیا جائے تو نا صرف انسان ہلکا پھلکا ہوجاتاہے بلکہ ہو سکتا ہے اگلا اتنا اچھا مشورہ دے کہ الجھن پریشانی ہی ختم ہو جائے۔ تمہارے ذہن پر بھی اگر کوئی بوجھ کوئی الجھن ہے تو تم مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہو بتا سکتی ہو کیا چیز پریشان کر رہی ہے۔

    حفصہ اس سے اسکی پریشانی کی اصل وجہ اگلوانا چاہتی تھی۔ ڈاکٹر نے صاف کہا تھا کہ اسکے ذہن پر شدید دبائو ہے جسکی وجہ سے اسکو فٹس پڑنے لگے تھے بہتر ہوگا اسکی ذہنی پریشانی میں کمی لائی جائے اس سے بات کریں اسکا خیال رکھیں اسکو احساس دلائیں کہ اسکے گرد محبت کرنے والے لوگ ہیں جو اسے مطمئن اور خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔ 

    مزنہ اسے بے تاثر نظروں سے دیکھتی رہی

    بتا دوں مجھے کیا پریشانی ہے؟۔

    اسکا انداز عجیب سا ہوگیا تھا

    ہاں نا میری جان مجھے نہیں بتائوگی تو پھر کسے بتائوگی؟ 

    حفصہ نے محبت سے اسکےپیشانی کے  بال سمیٹے۔

    ماہا مجھ سے دور جا رہی ہے آپی۔ میں اسکے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔ 

    اس نے سر جھکا کر اپنا مسلئہ صاف صاف بیان کر دیا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد
    جاری ہے

  • Mujh may he hay rangon ki Kami – Episode 2

    مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی

    قسط 2

    مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔ اردو ویب ناول ہے stress dysphoria میں مبتلا ایک لڑکی کی کہانی جس کو معاشرے کے ابنارمل رویوں نے لڑکا بننے پر مجبور کر دیا۔ اپنے آپ سے الجھتی اپنے وجود پر سوالیہ نشان اور ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتیں جانیئے۔۔ مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی کی پہلی قسط میں۔۔
    mujh main hi hay rangoun ki kami episode 2

    تم نے چائے نہیں بنانی نہ بنائو میرے بارے میں کسی قسم کی فضول بکواس کی منہ توڑ دوں گا تمہارا۔ جائو نکلو یہاں سے۔گیٹ لاسٹ۔ 

    اسکا انداز اتنا سخت تھا کہ باوجود خواہش کے کنزی بول نہ پائی شاکی نگاہ سے ماں کو دیکھتی پیر پٹختی باہر نکل گئ

    بہت بد تمیز ہو گئ ہے یہ۔ اتنی زبان کب لگ گئ اسکے۔ سیدھا کرنا پڑے گا اسے اب۔ تم نماز وماز پڑھ لو میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔ 

    امی سبھائو سے اسکے کندھے کو سہلاتی اٹھنے لگیں۔اپنی کنپٹی سہلاتی مزنہ چونک گئ پھر ٹھنڈی سانس لیکر ہموار لہجے میں بولی

    مجھے نہیں پینی چائے۔لائٹ اور دروازہ بند کرکے جائیے گا۔ 

    میں لیٹوں گی تھوڑی دیر۔

    وہ بستر پر دراز ہوگئ

    مگر بیٹا نماز کا وقت۔۔ امی نے ٹوکنا چاہا جوابا اس نے اپنا بازو آنکھوں پر ٹکا دیا۔امی چپ ہو گئیں۔اس وقت یقینا وہ کچھ سننے سنانے کے موڈ میں نہیں تھی۔ سواسکی ہدایت کے مطابق دروازہ اور بتی بند کرتی خود بھی باہر نکل آئیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کنزی بیڈ پر کپڑے پھیلائے انہیں کھول کھول کر دیکھ رہی تھی۔

    بہت بدتمیز ہو گئ ہو تم بڑی بہن سے ایسے مقابلہ بازی کرتے ہیں؟ ذرا سا چائے بنا کر دے دیتیں تو گھس جاتیں۔

    امی نے کمرے میں آتے اسے آڑے ہاتھوں لے لیا۔ 

    کنزی نے ایک نظر انہیں دیکھا پھر گلابی پھولدار پرنٹ کی خوبصورت قمیض بیڈ پر پھیلا کر بظاہر سرسری سے انداز میں بولی

    امی یہ قمیض مزنہ کو آجائے گی نا؟ 

    فٹنگ والی جدید تراش خراش کا وہ کرتا پاجامہ دیدہ زیب لگ رہا تھا سلنے کے بعد۔

    یہ تو تمہارا سوٹ ہے مزنہ نے تو گرے رنگ کا مردانہ کرتا سلوایا ہے۔ امی اسکے بات بدلنے پر چیں بہ چیں ہوئیں 

    ہاں تو کیا ہوا۔بہنیں ایک دوسرے کے کپڑے پہنتی ہی ہیں مزنہ پر یہ جچے گا آپ اسکو کہییئے گا کل یونیورسٹی  یہی پہن کر جائے۔۔

    وہ احتیاط سے تہہ لگاتے ہوئے بولی

    تمہیں پتہ تو ہے وہ کتنا خفا ہوگی۔ اس سے یہ کپڑے نہیں پہنے جاتے تنگ ہوتی ہے وہ۔ اسکے لیئے جوڑا سل کر آیا ہے نا وہی پہنے گی وہ۔

    امی بیڈ کرائون سے ٹیک لگاتے آرام سے بیٹھتی ہوئی بولیں۔

    کیوں؟ کنزی تیز ہو کر دھپ سے بیڈ پر آن بیٹھی

    سب لڑکیاں ایسے کپڑے پہنتی ہیں۔اگر اسے ڈھیلے ڈھالے پسند ہیں تو ہم اسکے لیئےڈھیلے ڈھالے کپڑے بنوا دیتے ہیں۔کب تک وہ مردانہ کپڑے پہنا کرے گی؟آپ سمجھائیں نا اسے۔ اب بڑی ہوگئ ہے۔ دوپٹہ اوڑھا کرے جیسے میں اوڑھتی ہوں لڑکیوں والے کپڑے پہنا کرے آپکو اندازہ بھی نہیں ہے لوگ اسکے بارے میں کیسی کیسی باتیں بناتے ہیں۔

    کنزی کے کہنے پر وہ سنجیدہ سی ہو کر سیدھی ہوئیں

    سچی بات تو یہ کہ وہ میری ایک نہیں سنتی۔جانتی تو ہو کتنی ضدی ہے۔قسمیں دے دے کراس کو بال کٹوانے سے منع کیا ہے اس پر بھی وہ کندھوں سے ذرا سا نیچے بال نہیں جانے دیتی۔ اب ایک بات منوائی ہے آہستہ آہستہ اسکو کپڑوں پر بھی منا لوں گئ

    کب؟ یونیورسٹی تک تو پہنچ گئ ہے۔ نا بات چیت کا انداز بدلا ہے نا چال ڈھال کپڑے یا تو مردانہ کرتے پہنتی ہے یا جینز شرٹ۔اب تو اسے دیکھو تو پہلی نظر میں یہی گمان ہوتا کہ لڑکا ہی ہے۔ 

    کنزی کے کہنے پر وہ آہ بھر کے رہ گئیں۔

    حق ہاہ میری قسمت۔آج ہادی زندہ ہوتا تو اتنا ہی بڑا گھبرو جوان ہوتا دو سال کا ہی تو فرق تھا مزنہ اور ہادی میں۔اکٹھے کھیلتے تھے کپڑے بھی ایک جیسے پہنتے دوست بھی مشترکہ ہوتے تھے۔کتنی گم سم ہوگئ تھی اسکے جانے پر میرا خود حال برا تھا۔ اسکو ہادی کے کپڑے پہنے گھومتے دیکھتئ تو لگتا تھا ہادی ہی میری آنکھوں کے سامنے چل پھر رہا ہے۔ وہ کہتے کہتے آبدیدہ ہو گئیں۔مگر جانے کیوں ہر بار انکی ایسی کسی دکھ بھری بات پر تاسف سے انکو گلے لگا لینے والی کنزی آج بالکل نہ پگھلی۔ 

    ہادی بھائی آج سے کئی برس پہلے گزر چکے۔ اس بات کو گرہ سے باندھ لیں۔ نہ وہ واپس آسکتے نا ہی انکی کمی کوئی پوری کر سکتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ مزنہ ہماری بہن ہے وہ چاہے جیسے مرضی۔۔۔

    بولتے بولتے اس کی ماں کی آنکھوں سے جاری تواتر سے گرتے آنسوئوں پر پڑی تو خاموش ہی ہوگئ۔ 

    جائو تم چائے بنائوایک چائے بنانے کیلئے کیا کیا تاویل نہ گڑھ لی بس زبان چلوا لو اس لڑکی سے ۔

    آنسو پونچھتے ہوئے امی بگڑیں تو وہ جھلا کر اٹھ گئ۔

    بنا رہی ہوں چائے۔ کبھی میری بات نہ سنئیے گا آپ نہ سمجھیئے گا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح دونوں ہی خاموش تھیں۔ امی کا بھی منہ پھولا ہوا تھا۔ کنزی کی وین آئی تو مزنہ بھی ساتھ اٹھ گئ۔ وہ بائک نکال رہی تھی جب اس نے وین والے کو کہتے سنا

    واپسی پر وین نہیں آئے گی مجھے بہت ضروری کام سے گائوں جانا ہے واپسی پر آپ لوکل آجائیں گا۔ 

    کنزی سر ہلاتی وین میں بیٹھنے جا رہی تھی جب اس نے پیچھے سے آواز لگا ئی

    تم دو بجے کالج سے نکل آنا میں آجائوں گا لینے 

    اور کوئی وقت ہوتا تو کنزی خوش ہوجاتی مگر اس وقت پلٹ کر خاصے سخت انداز میں بولی

    کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں میرے کالج آنے کی میں خود آجائوں گی وین سے۔

    مزنہ نا سمجھنے والے انداز میں  دیکھتی رہی وہ آرام سے وین میں بیٹھ کر یہ جا وہ جا۔ 

    ذیادہ ہی دماغ خراب ہو رہا ہے اسکا۔ اسکو کیا لگتا معافی مانگوں گا میں۔۔ خود بدتمیزی کرتی ہے اوپر سے اکڑ بھئ رہی ہے۔ 

    غصے سے بائک کو زوردار کک لگا دی۔ 

    یونیورسٹی پہنچ کر حسب معمول اس نے ماہا کو ڈھونڈا تھا۔

    نہ کینٹین میں نہ کلاس میں۔ کال ملائی تو کھلکھلاتے ہوئے بولی

    میرے بغیر دل نہیں لگ رہا نا جانو؟ بس میں ابھی آئی ۔۔ 

    اسکی کھلکھلاہٹوں کے درمیان بھی عادل کی آواز اسے سنائی دے گئ۔ 

    وہ وہیں ڈیپارٹمنٹ کے باہر سیڑھیوں پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگی

    بات سنیں۔ 

    ایک منحنی سی لڑکی اسکے پاس آکر بولی۔ اس نے یونہی سر اٹھا کر دیکھا

    میرا نام بیلا ہے میں میڈیا اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ سے ہوں ٹک ٹاک بھئ بناتی ہوں آپ نے دیکھا ہوگا۔

    اسکا انداز اتنا پریقین تھا کہ جیسے مشہور سیلیبریٹی ہے اور مزنہ تو یقینا فین ہی ہوگی اسکی۔ 

    اچھا پھر؟۔ مزنہ کے تاثرات ہنوز رہے تو وہ تھوڑا گڑبڑا سی گئ

    وہ میں ٹک ٹاک بنا رہی ہوں آپ بس میرے ساتھ چل لیں گی۔ مجھے لڑکا چاہیئے اپنے ساتھ ذرا سا ایکٹ ہے آپکو کوئی ڈائلاگ بھئ نہیں بولنا ہوگا۔ پلیز۔ 

    اس نے اتنے منت بھرے انداز میں کہا کہ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

    اسکو ساتھ چلتے دیکھ کر وہ جیسے بے طرح خوش ہوئی تھی۔ وہ میڈیا اسٹڈیز کے ڈیپارٹمنٹ کی تھی انکو کوئی پراجیکٹ کرنا تھا جس کیلئے اداکاری کیلئے لڑکا درکار تھا یہ سب تفصیل اس نے چلتے چلتے بتائی تھی۔ 

    کہاں رہ گئ تھیں اتنی بڑی یونیورسٹی میں ایک لڑکا نہ ملا تمہیں؟

    اسکی سہیلیاں اسے دیکھتے ہی چلائیں۔ 

    آگئ آگئی اور وہ جو بانہوں میں بانہیں ڈالنے والا سین تھا نا اسکا بھئ انتظام ہوگیا۔ 

    بیلا چہکی۔مزنہ ان سب کو سوالیہ انداز میں دیکھتی رہی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ماہا کی تین مسڈ کالز آچکی تھیں۔ وہ جلدی جلدی ٹک ٹاک بنوا کر بھاگی تو ماہا ڈیپارٹمنٹ کی لابی میں بے چینی سے منہ پھلائے گھوم رہی تھی۔۔ 

    اس نے جاتے ہی اسکو پیچھے سے بانہوں میں بھر لیا ماہا خفگی سے خود کو چھڑانے لگی

    چھوڑو جانے دو۔ جائو اپنے سب کام نمٹا لو ماہا جائے بھاڑ میں۔ 

    وہ سخت خفا تھی اسے اس پر پیار ہی آگیا اسکا گال چوم کر اسکے کندھے پر تھوڑی ٹکا دی

    اتنی خفگئ میری جان۔ایسے روٹھو گی تو میں تو مرجائوں گا۔ 

    اسکے مکالمے پر ماہا کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ 

    اچھا تو یہ سب سیکھ کر آئے ہو تم۔ 

    اس نے کہا تو وہ ہنس دی۔ 

    یار وہ بی ایس کی نئی بچیاں تھیں۔کوئی پراجیکٹ تھا انکا اسکے لیئے چھوٹی سی ویڈیو بنانی تھی۔ اب لڑکے کے تو گلے نہیں لگ سکتی تھی سو مجھ سے خوب لپٹ لپٹ کر ڈائلاگ بولے اس نے۔ یہ والے ڈائلاگ میرے تھے۔اف تھکا دیا پندرہ ری ٹیکس دیں میں نے۔ 

    اول تو بی بی آپ بھئ بی ایس ہی کی ہیں فائنل ائیر ہے تو کیا ہوا ایویویں انکی اماں بن گئیں  بچیاں کہہ کر۔۔

    ماہا نے کہا تو وہ ہنس کر بولی

    اماں نہیں ابا۔۔ 

    وہی۔ ماہا نے لاپروائی سے کندھے اچکائے۔

    اچھا چلو آج ویسے بھی کوئی اہم پیریڈ نہیں ہے مجھے باہر جانا ہے کچھ شاپنگ کرنی ہے۔ 

    اس نے کہا تو مزنہ نے جتانے والے انداز میں یاد کرایا

    جانا تھا نا عادل کے ساتھ۔ ابھی اسی کے پاس تو تھیں۔ 

    ارے عادل عادل ہے وہ میری جانو کی جگہ تھوڑی لے سکتا۔ اب میں جتنی آسانی اور سکون سے تمہارے ساتھ گھوم پھر سکتی اس عادل کے بچے کے ساتھ تھوڑی جا سکتی۔

    ماہا اسے مسکا لگاتے ہوئےبولی۔ 

    خاص کر شاپنگ میں تو وہ اتنا تنگ کرتا ہے جلدی کرو ۔۔ 

    خیر تنگ تو میں بھئ ہوتا ہوں ایک چیز کیلئے دس دکانیں کھنگالتی ہو تم۔

    لگے ہاتھوں مزنہ نے بھی جتا دیا۔ 

    لیکن تم جتنا بھی چڑ لو ہمیشہ میری شاپنگ مکمل ہونے تک میرا ساتھ نبھاتے ہو ۔ماہا اسکے کندھے سے جھول گئ

    کاش تم پکے والا لڑکا ہوتے سچی میں نے عادل ہو لفٹ ہی نہیں کرانی تھی۔ ماہا بے تکی ہانک رہی تھی۔ 

    میں اور تم ہمیشہ ساتھ رہتے اف اتنا گھومتے پھرتے آئیڈیل کپل ہوتےہم ہائیٹ بھی میچ کرتی ہے ہماری

    اسکی باتوں پر مزنہ کو ہنسی آگئ۔ 

    اچھا بس بہت مسکا ہوگیا جانا کہاں ہے؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بائک پر ماہا اسکا کندھا دبوچے بیٹھی تھی۔ اور وہ آج اسے ڈرانے کو خوب تیز بائک اڑاتے لائی تھی۔ مال کے باہر بائک روکی تو وہ اچھل کر نیچے اتری ایک زور دار مکا لگا دیا اسکے کندھے پر

    اگر تم یہ سمجھتے ہو نا  ایسے مجھے ڈرادوگے اور آئیندہ میں تم سے شاپنگ پر جانے کی فرمائش کرنا چھوڑ دوں گئ تو غلط فہمی ہے تمہاری آج اور آئیندہ بھی مجھے جب جب جانا ہوگا تم ہی مجھے لیکر آیا کروگے سمجھے۔ 

    اسکے خونخوار انداز کے برعکس وہ سکون سے بائک کا انجن بند کر رہی تھی۔

    ایک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا تحفہ عادل کیلئے تم نے لینا ہے تو میں کیوں تمہارے ساتھ یہاں خوار ہورہا ہوں بھئ

    اسی کے ساتھ آنا تھا نا۔

    لو۔ وہ برا مان گئ۔

    پھر سرپرائز کیسے رہتا۔ ہماری منگنی کے بعد پہلی سالگرہ ہے اسکی مجھے اسکے لیئے بہت اچھا سا تحفہ لینا ہے۔

    وہ جھوم جھوم کر بولی تھی۔ مزنہ اسے دیکھ کر ہی رہ گئ ۔ پھر مال میں عادل کی شاپنگ کہیں پیچھے رہ گئ جہاں اسے سیل لگی نظر آتی گھس جاتی ۔۔۔

    پہلے عادل کیلئے کچھ لے لو۔ 

    مزنہ کو ٹوکنا پڑا

    ہاں تو عادل کیلئے تو سب سے بہترین تحفہ لینا ہے ایسے ہی تھوڑی کچھ اٹھا لوں گی کچھ دل کو جچے کچھ بھائے۔۔۔۔ اف کتنا پیارا ہے یہ

    بولتے بولتے مشہور برانڈ کا بے حد خوبصورت کرتا پسند آگیا جھٹ اپنے ساتھ لگا کر دیکھنے لگی۔

    تم غالبا عادل کی شاپنگ کیلئے آئی تھیں۔

    مزنہ نے ٹوکا تو وہ ڈھٹائی سے ہنس دی

    میں بھی تو عادل کی ہی ہوں۔۔عادل میرا میں عادل کی۔۔۔۔۔

    کچھ ذیادہ ہی فدا ہو عادل پر اتنا بھئ پیارا نہیں ہے وہ  

    خواتین کی سائیڈ کے مقابل ہی مردانہ کلیکش تھی وہ قصدا لاپروائی سے کہتی اسے چڑاتی اس جانب چلی آئی۔ماہا کسی اور جوڑے کی طرف مگن ہوگئ تھی اس نے دھیان نہ دیا شائد۔جبھی اسکا وار خالی گیا۔

    مردانہ حصہ بالکل خالی پڑا تھا وہ ڈمی پر لگے اس خوبصورت کاٹن کے کرتے کی جانب چلی آئی۔ گلے پر ہلکا سا کام کلف لگا کرتا نیچے جینز ڈمی خوب سج رہا تھا

    اس جانب لگا ہوا ہے یہ جوڑا اگر آپ ٹرائی کرنا چاہیں تو  

    اسکے مردانہ حلیئے اور کرتے کو دیکھنے کے انداز سے یقینا اس سیلز گرل کو غلط فہمی ہوئی تھی۔ بولتی قریب آئی تو اسے دیکھ کر جھجک سی گئ

    سورئ میں سمجھی آپ اپنے لیئے دیکھ رہے میرا مطلب دیکھ رہی ہیں۔

    خالص مردانہ کرتے واسکٹ اور جینز میں ملبوس خاتون کو دیکھ کر اسے یقینا حیرت کا  جھٹکا سا لگا تھا۔

    وائو۔ مجھے پتہ تھا تم میری مدد کروائوگے۔ یہ واقعی بہت پیارا کرتا ہے۔عادل کیلئے دیکھ رہے ہو نا

    ماہا حسب عادت شور مچاتی آئی۔کرتے کو توصیفی انداز سے دیکھتئ پسند کی مہر لگاتی

    نہیں میں تو اپنے لیئے۔ 

    مزنہ نے اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہی مگر جلد باز ماہا مڑ کر سیلز گرل سے شروع ہوچکی تھی۔

    مجھے یہ والا کرتا دکھائیں کونسا سائز بیسٹ رہے گا ہاییٹ ویسٹ بس کچھ اسی جیسی چاہیئے عادل کا بس ایک آدھ نچ ہی قد ذیادہ ہے مزنہ سے۔ 

    سیلز گرل سے مستقل بولتے ہوئے وہ یہی کرتا نکلوا رہی تھی۔

    پھر بل بنواتے تک بولتے بالتے اسے کائونٹرپر جیولری پسند آگئ

    نازک سے زنجیر میں جھل مل کرتے نگینے جڑے آویزے۔۔ چین اتنی باریک تھی کہ دور سے دیکھنے پر لگتا نگینے ہوا میں معلق ہیں۔ 

    یہ کیسے ہیں۔ کانوں میں سجا کر وہ اسکو دکھا کر پوچھنے لگی

    جانے جگر جگر کرتے ہیرے جیسے نگینوں کی جھلملاہٹ تھی یا اسکے گالوں میں پڑتے ڈمپل سے اسکے چہرے ہر جگمگاہٹ تھی وہ بے تحاشا حسین لگ رہی تھی۔

    بتائو نا کیسی لگ رہی ہوں میں؟ 

    ماہا نے ٹوکا 

    بہت پیاری بے حد حسین۔

    اس نے دل سے کہا تو وہ پھر کھلکھلا دی۔ اسکا حسن دو آتشہ سا ہو چلا

    مزنہ نے سنبھل کر اسکے گال پر جھولتی اس آوارہ سی لٹ کو احتیاط سے اسکے کان کے پیچھے اڑس دیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ روبیہ اور لیلی کے ساتھ کینٹین میں گپ شپ کرتی سموسہ چاٹ اڑا رہی تھی جب شمائلہ اپنے گروپ کے ہمراہ بن بلائے مہمان کی طرح نازل ہوگئ۔

    تمہاری بہن تو بڑی سپر اسٹار نکلی۔ اوہ۔ وہ جان کے اٹکی۔ 

    معاف کرنا سپر اسٹار نکلا۔ پوری ٹک ٹاک پر ٹرینڈنگ میں آرہا ہے۔ ہمیں پتہ ہوتا تو اس دن روک کرآٹوگراف لے لیتے۔۔ 

    وہ آنکھیں مٹکا مٹکا کر چمک چمک کر بول رہی تھی۔اسکی سہیلیاں کھی کھی کرنےلگیں۔

    میں تو کندھےسے لگ کر تصویر بھی بنوا لیتی ۔۔ اسکی سہیلی نے لقمہ دیا

    ارے امی کو کیا بتاتیں کس کے کندھے سے لگ کر تصویر بنائئ ہے لڑکی یا لڑکا۔

    یہ ہما تھی کہتے ساتھ ہی ہنسے چلی گئ۔ 

    کیا بد تمیزئ ہے یہ شمائلہ۔ 

    کنزی کا طیش سے منہ سرخ ہو چکا تھا۔ اسکا ہاتھ دبا کرروکتے ہوئےلیلی بولی تھی۔ 

    بد تمیزی؟؟؟ ارے ہم تو تعریف کر رہے تھےسچی ہمیں نہیں پتہ تھا اسکی بہن ہیرو آتی ہے ٹک ٹاک پر۔

    شمائلہ نے بھولا بن کراپنا موبائل اسکی نگاہوں کے سامنےلہرایا۔

    کیا بکواس کر رہی ہو۔کنزی دونوں ہاتھ میز پر مارتی غضب کےمارےاٹھ کھڑی ہوئی

    بکواس تعریف کر رہی ہوں دیکھو کتنا اچھا ایکٹر ہے تمہارا بھائئ۔ میرا مطلب بہن۔ 

    شمائلہ کے چہرے پر چڑا دینےوالی مسکراہٹ تھی۔اسکا موبائل نگاہوں کے سامنے تھا کنزی نے تھامنا چاہا مگراس نے موبائل چھوڑا نہیں بلکہ ویڈیوچلا بھئ دی۔

    مشہور بھارتی گانے پر وہ لڑکی بہت جھوم جھوم کر اس لڑکے کے کندھے سے لٹک لٹک کر گا رہی تھی۔لڑک بھی خوب موج میں اسے احتیاط سے تھام رہا تھا۔ لڑکے کی بس ایک دو بار جھلک ہی آئی تھی۔ویڈیو کےآخر میں دونوں نے اپنی پیشانیاں ٹکائیں اور رومانوی پوز دیا۔۔۔ لڑکی کو وہ نہیں جانتی تھئ مگرلڑکا وہ لاکھوں لوگوں میں پہچان سکتی تھی۔ وہ لڑکا۔ کوئی اور نہیں اسکی اپنی سگی ماں جائی تھی

    وہ پتھرا سی گئ۔

    کینٹین میں موجود سب لڑکیوں کی توجہ انکی جانب ہونے لگی

    شمائلہ نے استہزائیہ انداز سے دیکھتے ویڈیو دوبارہ پلےکردی

    بھئی مبارک باد دو کنزی کی بہن مشہور ہوگئ ہے ٹک ٹاکر کے طور پر۔ 

    شمائلہ کی سہیلی نے اعلان کر ڈالا۔ لڑکیاں فورا متوجہ ہوئیں

    یہ لڑکی کنزی کی بہن ہے؟ جانے کس نے پوچھا

    نہیں یہ لڑکی نہیں اس ویڈیو میں جو لڑکا ہے وہ۔۔

    شمائلہ اس تماشےسے بہت محظوظ ہورہی تھی۔ روبیہ اور لیلی نےکنزی کا ہاتھ پکڑ کر اس جمگھٹےسے نکلنا چاہا۔

    کیا ہوا؟ کنزی کا بھائی ٹک ٹاکرہے؟ 

    ایک لڑکی اسکو روک کرپوچھ رہی تھی

    ارےکنزی کا بھائی نہیں بہن ہے ۔۔ اسکی بہن لڑکوں جیسی لگتی ہے۔ 

    جانےکون اعلان کر رہی تھی کنزی نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔روبیہ اور لیلی کتنے جتنوں سے اسے کھینچ کھانچ کر کینٹین سےباہر لے کر آئیں۔سائکالوجی ڈیپارٹمنٹ کے بیک سائیڈ اس وقت سنسان ہو تی تھیں دونوں اسے تھام کر وہیں لے آئیں۔ دیوار سے لگ کر بیٹھتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ 

    مت روئو۔ شمائلہ کی عادت تو جانتی ہو۔ ایسا بھی کچھ عجیب نہیں یہ ٹک ٹاکر انیتا اسکومیں بھی فالو کرتی ہوں اسی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے جسمیں مزنہ آپی پڑھتی ہیں۔بنوا لی ہوگئ ویڈیو۔شمائلہ کا پتہ تو ہےتمہیں ہے ہی سڑی ہوئی جل ککڑی۔۔ 

    لیلی اسکو بہلانےکو جو سمجھ آرہاتھا کہے جا رہی تھی۔

    اسی مانوس گانےکی آواز سنائی دی تو لیلی نے گھور کر روبیہ کو دیکھا۔وہ سنجیدہ سی شکل بنائےویڈیودیکھ رہی تھی گڑ بڑا سی گئ۔ کنزی نے بھی سر اٹھا کر دیکھا۔ 

    وہ میں بس دیکھنا چاہ رہی تھی کمنٹس۔ 

    روبیہ نے صفائی دینا چاہی۔ کنزی نے دوپٹےسے آنسو پونچھے اور اسکا موبائل ہاتھ میں لیکرخود بھی کمنٹس پڑھنے لگی۔

    ان لوگوں نے اس دن کم تماشا لگایا تھاجب مزنہ آپی اسکو چھوڑنے آئی تھیں۔ اب تو انکوپکاموقع ملا ہے

     روبیہ گہری سانس لیکر بولی

    یار عجیب سائکو ہیں  یہ۔ہمیشہ لیٹ کالج آتی ہیں اس دن کنزی لیٹ ہو گئ تو دیکھ لیا ورنہ کتنی دفعہ تو مزنہ آپی اسے چھوڑ کر گئ ہیں لینےتو اکثر ہی آتی تھیں گارڈ تک پہچانتا انکو انہوں نےاس دن ایسے تماشا بنا دیا تھا جیسے

    لیلی کو شمائلہ پرشدید غصہ آرہا تھا۔

    کنزی خاموشی سے کمنٹس پڑھنے لگی۔

    یہ لڑکی سائیکوہی ہے۔۔یونیورسٹی بھی ایسے ہی آتی ہے۔ 

    یہ ہجڑا ہےکیا ؟؟؟؟ 

    یہ دیکھنے میں تو کہیں سےلڑکی نہیں لگ رہی۔۔ 

    یہ لڑکا ہے ۔۔اسکی۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    یہ تو گے کپل ہے۔۔۔

    اسکے کانوں کی لوئیں تک سرخ ہونے لگیں 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کالج سے آکروہ جلے پیرکی بلی کی طرح پھری تھی۔ امی نے سب ناراضگئ بالائے طاق رکھ کر اسکی بے چینی کا سبب بھی پوچھا مگر وہ سیدھا کنزی سے ہی بات کرنا چاہتی تھی۔امی اسے اسکےحال پر چھوڑ کر نماز کی نیت باندھنے لگیں۔

    وقت گزرتا گیا شام کی چائےبن گئ۔ اس نے مزنہ کو فون کھڑکایا اس نے اٹھایا ہی نہیں ۔امی اطمینان سے آکر لائونج میں آٹھ بجے کاڈرامہ دیکھنے لگیں

    وہ سنجیدگی سے انکے پاس آن بیٹھی۔

    امی کی یونہی نظر پڑگئی تو تشویش سے پوچھنے لگیں

    کیا ہوا کنزی۔۔ 

    امی کا پوچھنا غضب ہو گیا۔ وہ بل کھا کر بولی

    امی آٹھ بج رہے ہیں کنزی ابھی تک گھر نہیں آئی۔ 

    امی نوٹس لیئے بنا بولیں۔

    آتی ہوگی آج یونیورسٹی کے بعد ماہا کے ساتھ کہیں جانا تھا۔ اسے۔

    ایک یہ ماہا آپی۔ مانا بچپن کی دوست ہیں مزنہ کی مگر ڈرائیور کی طرح پیش آتی ہیں مزنہ کے ساتھ۔ کہیں جانا فون کھڑکا دیا یہ بائک لیکر حاضر ہیں۔ لڑکیوں والی دوستی تو نہیں نبھاتیں الٹا مزنہ کو مستقل لڑکوں کی طرح ٹریٹ کر کرکے اور اسکا دماغ خراب کر دیا ہے۔ 

    امی ہنس دیں۔

    ہاں اسکا فون آیا تھا کنزی کے فون پر کنزی باتھ روم میں تھی تو میں نے اٹھا لیا کہہ رہی تھی۔ جانو بھول گئے آج ہم نے صدر جانا تھا مجھے تو اتنی ہنسی آئی اسکے ایسےبولنے پر اور وہ میری آواز سن کر اتنی شرمندہ ہا ہا ہا۔

    دیکھا۔کنزی اپنا اندازہ درست ثابت ہونے پر تیز ہو کر بولی

    اب انہوں نے صدر جانا تھا اور مزنہ انکے لیئے ڈرائیور ڈیوٹی کرے گی کیوں بھلا؟۔

    ارے پرانے تعلقات ہیں۔ واحد تو دوست ہےمیں تو شکر کرتی ہوں ایک ہی سہی لڑکی دوست ہے ورنہ اسکا یاد ہے لڑکپن تک لڑکوں کے ساتھ ہی کھیلتی تھی آئوں گا جائوں گا کہتی تھی اب تو۔۔۔ امی کے ڈرامے میں اشتہار آگئے تھے سو فرصت سے بیٹی سے بات سے بات بڑھانے لگیں۔کنزی کو سمجھ نہ آیا کیسے بتائے۔سو بات بدل کر گھڑی کی جانب اشارہ کرنے لگی

    اور وقت دیکھیں۔کبھی آپ نے مجھے اور حفصہ آپی کو تو اتنی رات گئےکہیں آنے جانے نہ دیا۔ حفصہ آپی کی تو شادی بھی ہو چکی ہےپھر بھی انکو آپ شام میں رکشے تک میں اکیلے نہیں جانے دیتیں ہمیشہ عامر بھائی  آتے پھر اسے کیوں نہیں ٹوکتیں۔ ساڑھے آٹھ ہو رہے ہیں کوئی اتا پتہ نہیں اسکا۔

    امی اسکا لال بھبھوکا چہرہ دیکھتی ہی رہ گئیں پھر سبھائو سے سمجھانے لگیں۔

    مزنہ ماشا اللہ سے سمجھدار بہادر لڑکی ہے اپنی موٹر سائکل لیکر گئ ہے..

    امی لڑکیاں بہادر نہیں ہوتیں ہونا نہیں چاہیئے ہوں بھی تو لڑکی کو لڑکی تو لگنا چاہیئے یہ دیکھیں۔ 

    اس نے غصے کے مارے ویڈیو نکال کر دکھا دی۔

    کیسی ویڈیوز بنا رہی ہیں لڑکیاں یہ منگیتر بھی ہے اگر اسکا تو یوں لپٹنا۔۔ 

    امی پہچانی ہی نہیں۔

    غور سے دیکھیں امی یہ لڑکا نہیں ہے مزنہ ہے۔ 

    کنزی نے سر پیٹ لیا۔

    اچھا ہاں۔وہ مسکرا دیں۔

    میں ماں ہو کر دھوکا کھا گئ ما شا اللہ میری مزنہ

    اوفوہ امی۔ کنزی جھلا کر چیخ پڑی

    ذرا کمنٹ کھول کر دیکھیں کیا کہہ رہے ہیں لوگ مزنہ کے بارے میں ہجڑا تک کہہ رہے ہیں اسے۔ اور آپ خود دیکھیں مزنہ بالکل بھی لڑکیوں جیسی نہیں ہے بولتی چلتی پہنتی اوڑھتئ سب لڑکوں کی طرح ہے لڑکی کہو تو غصے میں آجاتی ہے۔ بولتے بولتے اسکی نگاہ بائک کی چابی جھلاتی مگن سی لائونج میں داخل ہوتی مزنہ پر پڑی۔ مردانہ گہرے رنگ کی ۔ ٹی شرٹ جینز میں ملبوس دوپٹہ ندارد۔ہاتھ میں شاپر پھر کسی دکان کے چکر لگا کے آئی تھی۔مزید لوگ مزید الٹی سیدھی باتیں

    چڑ کر کہہ دیا

    اور یہ تو دوپٹہ تک نہیں اوڑھتی۔ باہر پھر پھر کر چہرے تک پر سختی آچکی ہے اسکےلڑکی لگتی ہی نہیں ہے اب۔

    کیا فضول باتیں کر رہی ہو کہاں سے فضول باتیں ذہن میں آرہی ہیں تمہارے۔ 

    امی کی پشت تھئ پھر بھی لاڈلی بیٹی کی حمایت میں کنزی پر خفا ہونے لگیں۔ ۔کنزی کو دیکھتےمزنہ وہیں رک کر سننے لگی تھی اب ماتھے پر کئی شکنیں بھی ابھر آئی تھیں۔

    کنزی اٹھ کر کھڑی ہوگئ۔ 

    یہ فضول باتیں نہیں ہیں۔ امی اسکو سمجھائیں یہ لڑکی ہے لڑکی رہے لڑکا بننے کی کوشش میں بیچ میں ہی نہ۔

    بکواس بند کرو۔ مزنہ بھاری آواز میں چلا اٹھی۔

    جتنا مرضی چلائومگر حقیقت سے نظر نہ چرائو تم دوپٹہ اوڑھو نہ اوڑھوآئوں گا جائوں گا کرو نہ کرو تم لڑکی ہو لڑکی رہو گی

    کنزی بے خوفی سے دوبدو تھئ۔مزنہ طیش کے عالم میں اسکی جانب بڑھی۔ امی گھبرا کر مزنہ کو روکنے لگیں

    ہوش کرو وہ تو چھوٹی ہے نادان ہے جانے کس کی باتوں میں آگئی

    امی کے جملے اسے تیر کی طرح چبھے

    چھوٹی ہوں نادان نہیں۔ آپ نادانی کر رہی ہیں۔کچھ اندازہ ہے آپکو لوگ پیٹھ پیچھےاسے سائکوخبطی پاگل کیاکچھ نہیں کہتے اور اب اس ٹک ٹاک والے کارنامے کے بعد تو ہجڑا اور گ۔۔ وہ فرط شرم سے چپ کر گئ

    بولو کیا کہتے۔ مزنہ دانت کچکچا رہی تھی۔۔

    گھر میں اتنی زبان چلتی ہے باہر جواب کیوں نہیں دیتیں تم

    امی ان دونوں کو روکتے جھلا گئئیں۔

    کس کس کو جواب دوں ؟کنزی چلائی تو کئی آنسو گال پر امنڈتےچلے آئے

    کس کس کو روکوں۔ خالہ عامر بھائی محلے والے اور میری سہیلیوں تک تو منہ درمنہ مقابلہ کیا اب تو اسکو انجان لوگ تک۔ آپکو احساس کیوں نہیں ہوتا یہ غلط ہے شرم آتی ہے جب لوگ اسکو ۔۔ 

    تو تمہیں بھی میرے وجود سے شرمندگی ہو تی ہےحفصہ کی طرح۔ ؟ تم چاہتی ہو میں تمہاری طرح نزاکت سے چلا کروں ہر وقت دوپٹے میں الجھی رہا کروں شلوار پہن کر بائک چلایا کروں؟؟

    مزنہ دھاڑی۔ آنکھوں میں سرخ ڈورے بھاری آواز امی بھی ٹھٹک کر اسے دیکھنے لگیں۔۔کنزی ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔

    بات سنو مزنہ۔ امی نے پیار سے اسکا بازو تھام کر سمجھانا چاہا

    کچھ نہیں سننا میں نے خوب سمجھ رہی ہوں میں اسکا مسلئہ۔مگر یاد رکھو میں جیسی بھی ہوں لڑکوں جیسی یا ہجڑوں جیسی ہر طرح سے تم سے بہتر ہوں۔یاد رکھو ایک درزی سے جوڑا لانے تک کیلیئےتم اسی مزنہ کی محتاج ہو۔ اگر لڑکیاں تم جیسی ہوتی ہیں تو میں لڑکا ہی ٹھیک ہوں۔

    وہ مزنہ کا جوڑا ہی درزی سے لائی تھی۔ ہاتھ میں پکڑا شاپر 

    کنزی پر اچھال کر حقارت بھرے انداز میں کہتی مزنہ کنزی کو اتنی مختلف اور اجنبی لگی کہ چند لمحے دیکھتی ہی رہ گئ

    بہن کو غلط مت سمجھو بیٹا۔ اتنا غصہ مت کرو میری اچھی بیٹئ ہو نا تم

    امی لجاجت سے بولیں تو وہ لمحہ بھر کو خاموش ہو کر انہیں دیکھنے لگی۔ اپنی پیشانی مسل کر خود کو ٹھنڈا کیا جیسے۔اس بات ہموار مگر اٹل لہجے میں بولی۔۔

    بیٹی نہیں بیٹا ہوں میں امی آپکے ہادی کا پرتو۔میں لڑکا ہوں آپکا بیٹا۔اس حقیقت کو جتنی جلدی ہوسکےباور کرلیں۔ 

    وہ کہہ کر رکی نہیں پیر پٹختی کمرےکی جانب بڑھ گئ

    کنزی تو کنزی امی بھی سناٹے میں آگئ تھیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے وہ سنجیدہ سی شکل بنائے موبائل میں مگن تھی۔ جب امی تھکی تھکی سی کمرے میں داخل ہوئیں۔

    جانے کس کی نظر لگ گئ ہے ایسا گھل مل کے بیٹھی رہتی تھیں میری بیٹیاں اب ہر وقت کا جھگڑا۔ 

    امی اسے ڈانٹنے ڈپٹنے کے موڈ میں تھیں مگر وہ بے نیازی سے موبائل میں لگی رہی۔

    جانے دوپہر کو کچھ کھایا یا شام کو میں نے اتنا پکارا تو دروازہ کھول لیا مگر کھانا کھانے کو تیار نہیں ہوا یہ جا کر دوبارہ منہ تک چادر تان کے لیٹ گیا ہے۔ 

    امی بولتی ہوئی کمرے کی چیزیں سمیٹ رہی تھی

    کھانے کو تیار نہیں ہوئی، دوبارہ منہ تک چادر تان کر لیٹ گئ ہے۔

    وہ جتانے والے انداز میں چبا چبا کر بولی

    امی آپ تو میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ موبائل ایک طرف رکھ کر وہ سیدھی ہو بیٹھی

    کیا سمجھوں ۔امی چڑ گئیں۔

    تم تو ایسی نہ تھیں اتنی پیاری بیٹی تھیں۔بہن سے اتنا پیار کرتی تھیں جب کوئی کچھ اسے کہتا تھا تو لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتی تھیں آج کیا کچھ نہ سنا دیا تم نے اسے۔

    بالکل میں اب بھی وہی ہوں۔ امی۔ مگر آج جب کوئی اسے کچھ کہتا ہے تو مجھے یہ سمجھ بھی آرہا ہے کہ اس نے موقع دیا ہے دنیا کو باتیں بنانے کا۔ ایک دنیا کی لڑکیاں کیا کچھ نہیں کرتیں جہاز اڑاتی ہیں ، پہاڑ کی چوٹی سر کرتی ہیں سب کیا اپنی چال ڈھال حلیہ بدل لیتی ہیں؟ اسکو لڑکی کہہ دو تو اسے گالی کی طرح لگتا ہےامی یہ نارمل رویہ نہیں ہے خدا کاواسطہ ہے میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ 

    مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا کہ یہ بچپن سے ایسی ہے اب اچانک کیوں تمہیں اس میں اتنے کیڑے نظر آنے لگےہیں۔

    امی ناراض ہوگئیں۔ 

    کنزی سر تھام کے رہ گئ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    صبح وہ کب اٹھی کب باہر چلی گئ انہیں پتہ نہ لگا۔وہ اتوار کی وجہ سے گیارہ بجے اٹھیں۔ کنزی کو جگایا اسے اٹھانے کمرے میں آئیں تو وہ گھر میں نہیں تھی۔ بائک بھی نہ تھی۔ 

    ابھی فون کرکے پوچھنے کا سوچ ہی رہی تھیں کہ بائک پورچ میں آرکنے کی آواز آئی۔ وہ کچن سے تجسس میں باہر لائونج میں چلی آئیں تو داخلی دروازے سے حفصہ اور مزنہ اکٹھے اندر آرہی تھیں۔ 

    اسلام و علیکم امی۔ 

    وہ خوشگوار انداز میں آکر ان سے لپٹ گئ۔ 

    وعلیکم السلام۔ کیسی ہو پورے دو ہفتے بعد ماں یاد آئی تمہیں ہیں۔ 

    بیٹی کو کلیجے سے لگا نے پر ڈھیروں ٹھنڈ سینے میں پڑی تھی پھر بھی ہلکا پھلکا شکوہ کر ہی ڈالا۔ جوابا حفصہ کھلکھلائی

    اف آپکو نہیں پتہ کتنی مصروفیت رہی ہے آخر کار خوشخبری ہے میرے پاس مگر امی پہلے اچھا سا پراٹھا بنا کر کھلائیں قسم سے پیٹ میں چوہے کود رہے ہیں۔

    وہ بچوں کی طرح ٹھنکی۔ 

    امی مجھے بھی ناشتہ کرادیں۔آپی نے نہار منہ بلوا لیا گیٹ پر انتظار میں کھڑی تھی بس جیسے ہی پہنچا بیٹھ کے واپس یہاں لے آئیں پانی تک کو نہ پوچھا۔

    مزنہ اپنے ہمیشہ کے انداز میں بولتی ہوئی لائونج میں ٹی وی چلا کر صوفے پر گر گئ۔امی نے چونک کے شکل دیکھی۔نارمل انداز تھا رات والی تلخی کا شائبہ تک نہ تھا۔امی محبت سے مسکرا دیں

    کیا کرتی امی  ردا  اپنی دادو اور اپنے تایا کے بچوں کے ساتھ کل سے اپنی پھپو کے گھر گئ ہوئی ہے۔ یہ صبح صبح گاڑی لیکر نکل گئے لاہور جانا تھا انہیں اب میں اکیلی تھی۔ کیا اپنے لیئے اہتمام کرتی سوچا آج ماں کے ہاتھ کا پراٹھا کھائوں۔

    حفصہ لاڈ سے ماں کے کندھے سے جھول گئ

    بس دو منٹ میں بناتی ہوں اپنی بیٹیوں کیلئے پراٹھے۔جائو کنزی کو بھی اٹھا لائو۔ امی کہتی فورا کچن میں گھس گئیں۔ حفصہ نے آلو کی ترکاری تیار کی گرم گرم پراٹھے۔کنزی اٹھ آئی تو بہن سے لپٹ گئ۔ ہنستے بولتے اسی نے چائے بنا دی۔ اہتمام سے جب ناشتہ کرنے بیٹھیں تب تک مزنہ آرام سےٹی وی کے چینل بدلتی رہی

    اب مزنہ کو بھی گھر کے کاموں میں لگائیں کم از کم چائے تو بنانئ سیکھ لے۔ 

    حفصہ نے تو یونہی بات کی مگر امی بری طرح سٹپٹا گئیں۔ او رآنکھ کے اشارےسے اسے چپ ہونے کا کہنےلگیں۔مزنہ تو بے نیازی سے ناشتہ کرتی رہی جیسے سنا ہی نہ ہو کنزی کے چہرےپر بڑی جتاتی مسکراہٹ آئی تھی۔ 

    اتوار کے دن کے حساب سے کئی کام منتظر تھے مگر سر فہرست سودا سلف لانا تھا۔حفصہ کو اپنے ہاتھ کی بریانی کھلانے کیلئے انہوں نے فٹا فٹ سودے کی فہرست مزنہ کے حوالے کی وہ فورا بائک لیکر نکل گئ کنزی کو اپنا ادھورا اسائنمنٹ مکمل کرنا تھا سو کمرے میں گھس گئ

     حفصہ جو بات کرنے آئی تھی  اسکے لیئے اسے یہی وقت مناسب لگا۔امی کو لیکرلائونج میں آ بیٹھی۔

    امی ابھی خالہ نے سب کو اطلاع نہیں دی مگر سعدیہ کا رشتہ طے ہو گیا ہے۔ اب جانے وہ کرامت والے بابا کا تعویز اثر کر گیا کہ کیا جھٹ پٹ سب کام ہو رہے ہیں ۔لڑکا اکلوتا ہے دبئی میں رہتا ہےباپ نہیں ہے ماں بھی ساتھ رہتی ہے ۔ اچھے لوگ ہیں۔

    شکر ہے خدا کا۔بہت پریشان تھی میری بہن۔ اللہ نے اسکی مشکل آسان کی۔ شکر الحمد اللہ۔۔

    امی کے دل سے بے ساختہ شکر نکلا۔ بھانجی انکی حفصہ سے بھی دو مہینے بڑی تھی مگر قسمت نہیں کھل رہی تھی۔حفصہ مسکرا دی۔ امی ہمیشہ سے ہی اتنی رقیق القلب تھیں اس دفعہ تو حفصہ کی وجہ سے ڈھیروں دعائیں انہوں نے بھی سعدیہ کیلیے کی تھیں جو مقبول ہوگئیں ۔جتنا شکر کرتیں کم تھا۔

    اور ایک اور خاص بات امی۔ حفصہ کو اصل بات کرنے کی جلدی بھی تھی۔ڈر یہی تھا کہ مزنہ نہ آجائے اس سے پہلے بات کرلے

    مزنہ کیلئے رشتہ ہے۔میری سہیلی کا دیور ہے۔میری شادی کی سالگرہ پراسکی ساس کی آپ سے اور کنزی سے ملاقات ہوئی تھی۔ ہمارا گھرانہ پسند آیا ہے انہیں۔انہوں نے توبات کنزی کی کی تھی مگر میں نے بتایا کہ ابھی تو فرسٹ ائیر کا امتحان دیا ہے کم ازکم گریجوایشن سے پہلے اسکا نہیں سوچنا تو خود ہی انہوں نے مزنہ کا ذکر کر ڈالا۔مزنہ بھی کم پیاری نہیں ہے بس اسکو لڑکیوں والے کپڑے پہنوا کر کسی دن انکو ملنے بلا لیں۔لڑکا عمر میں مناسب ہے اپنا کاروبار کر رہا ہےپڑھے لکھے لوگ ہیں۔ 

    ایک ہی سانس میں سب سنا کر وہ بمشکل سانس لینے رکی تھی۔اتنا جوش و خروش دیکھ کر بھی امی ہچکچاہٹ کا شکارہوئیں۔

    مگر بیٹا ابھی مزنہ شائد تیار نہ ہو شادی کیلئے۔

    حفصہ تیز ہو کر بولی

    کیوں نہیں؟  آخری سمسٹر ہے یونیورسٹی کا شادی طے ہو بھی جائے تو سال چھے مہینے لگ جائیں گے فارغ ہو جائے گی ڈگری سے۔۔ 

    پھر بھی۔ ویسے بھی اس نے سارا گھر سنبھال رکھا ہے۔ 

    امی گومگو میں تھیں کہ حفصہ کوکل والی لڑائی اور مزنہ کے مکالمے بتائیں نہ بتائیں۔جانے وہ واقعی ایسا سوچنے لگی ہے یا غصے میں کہہ گئ ہے۔ سمجھ نہ آیا تو بودا بہانہ تراش لیا۔ حفصہ کچھ اور ہی سمجھی

    سارا گھر سنبھال لیا ہے تو کیا اسکی شادی ہی نہیں کریں گی؟ اور لڑکیاں گھر کے کام کرکے گھر سنبھالتی ہیں باہر کے کام کرکے نہیں

    امی بے بسی سے اسکی شکل دیکھنے لگیں

    بیٹا دکانوں کا حساب کتاب سب وہی دیکھتی ہے اور وہ تو کہتی ہے ڈگری کے بعد نوکری کرے گی 

    امی بس کریں۔حفصہ جھلا گئ

    ایک دنیا کی خواتین اپنے کام خود کرتی ہیں۔ آپ نے اچھا باہر کی دنیا کو ہوا بنا رکھا ہےاور اس چکر میں اسے بھی عجوبہ ماہی منڈا بنا دیا ہے۔ امی بیٹی ہے آپکی وہ۔ بیٹا نہیں۔ اگر عام سی لڑکی ہوتی تو پھر چلو دو چار سال ٹال جاتے اسکی شادی کا سلسلہ مگر اسے دیکھیں ذرا بالکل لڑکا بن کے رہ گئ ہے۔ابھی کم عمر ہے رعب میں ہے آپکے ڈانٹ ڈپٹ کر شادی کردیں یہ ماہی منڈا پن سب بھول بھال جائے گی  اسے ابھی اسکے حال پر چھوڑا تو بالکل ہاتھ سے نکل جائے گی۔

    پہلے کنزی اوراب حفصہ دونوں کی ایک ہی بولی۔ انکو تو لگنے لگا تھا تمام عمر بس گھاس ہی کھودی ہے سب عقل شعور انکی بیٹیوں نے گھول کے پی لیا ہے۔

    امی خود غرض نہ بنیں معاملے کو سمجھیں۔ حفصہ انکی طوہل خاموشی سے جھلا گئ

    ابھی میری ساس اور شوہر نے ہمارے گھرانے کا بائکاٹ کردیا ہے نا خود آتے ہیں نہ ردا کو آنے دیتےہیں مجھے روک سکتے تو شائد میرا آنا بھی بند کرا دیتے۔طرح طرح کی باتیں بن رہی ہیں امی۔لوگ کہتے ہیں آپ مزنہ کی اب کبھی شادی ہی نہیں کریں گی۔آپکو کیا پتہ خاندان والے تک مزنہ کے بارے میں کیا کہہ جاتے حالانکہ بچپن سے دیکھ رہے ہیں اسے۔ 

    دبے لفظوں میں اس نے خانداں میں پھیلی چہ مگوئیوں کا بھی تذکرہ کر ڈالا۔ 

    امی ٹکر ٹکردیکھتی رہیں  یہ وقت بھی آنا تھا کہ انکی اپنی اولاد خود غرضی کے طعنے دے گی۔ سوچتی رہیں۔پھرتھک کر بولیں

    نہیں خود غرض تو نہیں ہوں میں۔ چلو بلا لو کسی دن انکو مل لیتے ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔ 

    جاری ہے۔۔