کرونا اور قطرینہ کہانی

قرنطینہ میں بہن بھائیوں کا حال۔

امی شمسہ خالہ سے بات کر رہی تھیں دو گھنٹےہونے کو آئے تھے وہ جلے پیر کی بلی کی طرح ادھر سے ادھر گھومتا پھر رہا تھا۔ پہلے اپنے کمرے میں جھانکا۔ دانی کی کلاس چل رہی تھئ دروازہ کھلنے پر ایسی خشگمیں نگاہ ڈالی کہ وہ جھٹ بند کرکے دروازے سے ہی لگ کر سانس بحال کرنے لگا۔ 

بہت ڈرونے ہو بڑے بھیا۔۔ وہ سینے پر تھپک تھپک کر آل از ویل بھی پڑھ رہا تھا۔ 

اب ثانی کے کمرے کی باری تھی۔ اس نے ناک کیا تو اس نے مصروف سے انداز میں ہی جواب دیا۔ 

آجائیں۔ وہ جھٹ اسکے پاس آبیٹھا۔۔ آج کپڑوں کی ڈیزائننگ کی بجائے کچھ نیا ہی ہو رہا تھا۔ مگر اسے تندہی سے سلائی پر سلائی کرتے دیکھ کر بھی اسے ککھ سمجھ نہ آیا کیا بن رہا تو پوچھ بیٹھا۔ تکونا چمڑا نیچے ایک جانب سے بیضوی شکل میں کاٹ کر اسکو گولائی میں سی رہی تھی۔ 

کیا کر رہی ہو۔ ؟؟ اس نے اشتیاق سے پوچھا

ثانیہ نے منہ چلانے کی بجائے سامنے تکیئے سے ٹک کر کھڑے موبائل کی جانب اشارہ کیا۔ 

موبائل پر پانچ منٹ کرافٹ کی ویڈیو چل رہی تھی جس میں وہ چمڑے سے چھوٹا سا پرس بنانا سکھا رہے تھےجسکی دیکھا دیکھی اب ثانیہ اپنی منی مشین سے امی کا پرانا پرس کاٹ کر اسکئ چمڑے سے نیا پرس بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔

کوشش پوری کرنے کے باوجود بھی اتنا صاف اور خوبصورت دکھائی دینے والا نہیں بن رہا تھا۔ بلکہ اسکی دو ایک سلائیاں بھی ترچھی تھیں۔

میں کوشش کروں۔ کاشی نے کہا تو اس نے جھٹ مشین کا رخ اسکی جانب کر دیا۔ کمر تختہ ہو گئ تھی جھکے جھکے۔ 

دانی بھائی کیا کر رہے ہیں۔۔ ؟ 

ثانی کے پوچھنے پر اس نے مصروف سے انداز میں بتایا

پڑھ رہا ہے آن لائن کلاس ہو رہی اسکی۔ 

اور آپ کیوں نہیں پڑھ رہے؟ اس نے جھٹ اعتراض جھاڑا

کیونکہ میری آن لائین کلاسز نہیں ہو رہیں۔۔ 

وہ ان مشین سے نکال کر اس چمڑے کو بہتر شکل دینے کا نیا طریقہ سوچ رہا تھا۔ 

آپکی کیوں نہیں ہو رہیں؟؟ 

ثانی کو بھائی کے مستقبل کی فکر ہوئی

کیونکہ ہماری آدھی سے ذیادہ کلاس نے آئوٹ آف سٹی ( شہر سے باہر) ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے کہا کہ لاک ڈائون کے باعث وہ سب اپنے آبائی گھر جا چکے ہیں جہاں انٹر نیٹ کی سہولت میسر نہیں۔ 

واقعی؟؟ ثانیہ کو شک گزرا وہ بھی صحیح

ہاں ایک دو تو واقعی گائوں میں پھنسے ہیں اس نے مطمئن سے انداز میں بتایا 

اور باقی ؟ 

ان سب نے بہانہ بنایا ہے مگر چونکہ اکثریت کا مسلئہ تھا لہذا فی الحال یونیورسٹی نے حتمی فیصلہ نہیں کیا 

اس چمڑے کا کچھ بھی بن سکتا سوائے پرس کے۔ وہ اس نتیجے پر اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے کے بعد با آسانی پہنچ گیا تھا

یہ کیا بات ہوئی 4 جی 3 جی تو سب گائوں تک جا چکا ہے نئی سم لے لیں پیکج کرائیں یوں تو آپکا کافی حرج ہوگا۔ جو آن لائن کلاسز لے سکتے ہیں کم از کم انکو تو پڑھائیں۔

ثانیہ نے کہا تو وہ مسکرا دیا

تمہیں لگتا یے یہ اتنا آسان ہے؟ میری آدھی کلاس پارٹ ٹایم کہیں نوکری کرتی ہے اپنے خرچے نکالنے کیلئے۔اس لاک ڈائون کی وجہ سے گھر بیٹھے ہیں۔ گھر بیٹھے ہیں تو پیسے نہیں ہیں، کھانے پینے کی فکر لگی ہے انکو ، آن لائن کلاس کم از کم بھی 3 جی کنکشن پر جاری رہتی ہے مگر انٹر نیٹ پیکجز موبائل کے اتنے مہنگے ہیں کہ ہر کوئی انکو افورڈ نہیں کر سکتا ، یہ وائی فائئ بس بڑے شہروں میں ہے  وہ بھی بس دو ایک سروس پرووائڈر ہیں جو کسی چھوٹے شہر سے ہو یا گائوں گیا ہوا ہو کیا کرے گا وہ؟ ہمارا ایک بھی کلاس فیلو ہم چند طلبا جن کے والدین انکو سب سہولت فراہم کر سکتے ہیں کی وجہ سے اپنا سیشن ضائع کرے یا ہم سے پیچھے رہ جائے کیا ہمیں ایسا کرنا زیب دیتا ہے؟

پھر اس  طرح تو سب کو نقصان ہوگا۔ وہ قائل ہوئی

سب بچوں کا مستقبل کا سوال ہوگا تو یونیورسٹیز کو یکساں قانون یا نظام لانا ہوگا کسی ایک سے ذیادتی تو نہیں ہوگی۔ ثانی ہمارے دوست اپنے گھر والوں سے دور ہاسٹل میں رہتے گھر والوں پر بوجھ نہ بننے کیلئے چھوٹی موٹی نوکریاں تک کرتے ہیں اس ڈگری سے انکو کیا کیا امید نہ ہوگی سب چھوڑو ہمارا گھر اپنا ہے ابو کی سرکاری نوکری ہے مگر ابو دو بچوں کو یونیورسٹی نہیں پڑھا سکتے۔میری فیس امی کی کمیٹئ سے گئ تھئ اور اس سمسٹر کیلئے میں نے دو مہینے کال سینٹر میں جاب کی۔ 

کاشی کے منہ سے روانی میں نکل گیا تھا ثانی نے آنکھیں پھاڑیں

واقعی بھائی؟ جبھی آپ راتوں کو دیر سے آتے تھے ابو نے آپکو کتنا ڈانٹا بھی تھا 

آن ۔۔۔ ہاں ۔۔ وہ گڑ بڑایا۔۔ اب بتا مت دینا امی ابو کو میں اور دانی ان پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے اگر انکو پتہ لگ جائے گا تو وہ صاف منع کریں گے کہ بس پڑھائی پر دھیان دو

  میں نے تو چلو بی ایس میں آ کر پارٹ ٹائم جاب کی۔ دانی تو میٹرک سے ٹیوشنز وغیرہ کرتا رہا ہےابھی بھی یو ٹیوب کا گیمنگ چینل چلاتا یے توسافٹ ویئر انجیئرنگ کا خرچہ پورا ہوتا ہے۔

بھائی آپ دونوں کتنے کار آمد ہو اور میں کتنی ناکارہ ایک یہ پرس بھئ نہیں بنا سکی۔  ثانیہ کے انداز میں رشک اور مایوسی تھی۔

یہاں پر کار آمد کچھ جچا نہیں کیا کہتے ہیں یہاں۔۔ وہ سوچ میں پڑا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ نہیں کہتے۔ کیا کہنا۔ کہتے ہیں بڑے ہوگئے ہیں اب کیا مار کٹائی کروں مگر زرا جو باپ والا رعب رکھیں ۔ ہم تو ابا جی کی ایک نگاہ اٹھتی تھی دبک جاتے تھے مگر آج کل کی ۔ ایک نمبر کی نکمی اولادیں ہیں۔ بس موبائل دے دو لیپ ٹاپ دے دو۔ آگے سے شمسہ نے کیا کہا کہ وہ گڑ بڑا کر موبائل دیکھنے لگیں۔اپنے کمرے میں بیڈ پر سکون سے بیٹھ کر بات کر رہی تھیں۔ میاں باہر گیلری میں پودوں کو پانی دینے میں مصروف تھے۔ 

ہاں یہ کاشی کا ہی ہے میرے موبائل کا بتایا تو تھا بیٹری خراب ہے۔ کاشی گیا تو تھا دو ایک بار لینے مگر دکانیں ہی بند ہیں۔ہاں چلو ٹھیک ہے آرام کرو پھر بات ہوتی ہے خدا حافظ۔۔۔

فون بند کر کے وہ ایک طرف رکھنے ہی لگی تھیں کہ یکے بعد دیگر کئی نوٹیفیکیشن آئے انہوں نے یونہی کھول کر دیکھ لیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ دیکھو ذرا  قطرینہ کیسا گھر کا کام کر رہی ہے۔۔ جھاڑو پوچھا بھی کرتی ہے یہ تو بہت سگھڑ نکلی۔

امی بڑے جوش سے دروازہ کھولتی انہیں بتانے آئی تھیں

 کاشی اور ثانی اپنی اپنی جگہ اچھل پڑے تھے۔

امی ان کے تاثرات سے بے نیاز بڑے جوش سے کاشی کے موبائل کی تصویر ثانی کو دکھا رہی تھیں۔کاشی کی سانس رکی ہوئی تھی۔ 

ایویں امی تصویر کھنچوانے کیلئے پوز مار رہی ہے ورنہ کیسا چم چم کرتا فرش ہے۔ ثانیہ نے تصویر دیکھ کر منہ بنایا۔  امی قطرینہ کیف کی ہی تصویر دکھا رہی تھیں۔۔چم چم کرتے فرش پرہنستی مسکراتی پوچھا لگاتی قطرینہ کی مشہور زمانہ تصویر

دکھائیں۔ کاشی نے تھوک نگل کر ڈرتے ڈرتے کہا۔ امی نے موبائل واپس کیا تو جان میں جان آئی۔ 

میرےچارجر کا کچھ کرو تمہارے ابا ہر وقت اپنا چارجر لگائے بیٹھے رہتے ہیں یہ ثانی کو الگ تکلیف ہوتی ہے ماں  کو ذرا سا چارجر دیتے ہوئے۔ بور ہو کر رہ گئی ایک ہفتے سے کیںڈی کرش بھی نہیں کھیلا۔ 

امی ہونٹ لٹکا کر بولیں تو دونوں بچوں کا دل پگھل گیا۔ 

ارے تو ابھی کر لیں نا چارج ابھی میرا موبائل فل یے۔

ثانی نے اٹھ کر ماں کے گلے میں بانہیں ڈال لیں تو کاشی فورا اٹھ کھڑا ہوا 

میں ابھی چارجر ڈھونڈنے جاتا ہوں۔ اس نے جذباتی ہوکر فورا چپل پائوں میں پھنسا لی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح سے ماما بابا بھائی بہن ایک ایک دروازہ کھٹکا کے جا چکا تھا اسکی ایک ہی قطعی سی ناں تھی ۔ سب تھک ہار کر اسے اس کے حال پر چھوڑ کر بیٹھ گئے تھے۔ ماما دوپہر کا کھانا لیکر آئیں تو دروازے کے باہر زمین پر رکھ کر جانے کا کہہ دیا۔ جب یقین ہوگیا کہ وہ جا چکی ہیں تب ذرا سا دروازہ کھول کر ٹرے اندر کر لی۔

دال چاول کھا کر برتن واپس کرنے لگی تو خیال آیا کہ برتن تو اسکے جھوٹے ہیں۔ اپنا چمچ پلیٹ اور پانی کا گلاس لیکر ملحقہ غسل خانے میں گھس گئ ۔ سرف سے برتن دھوئے ناک منہ دوپٹے سے اچھی طرح ڈھانپا کمرے میں آئی ہلکا سا دروازہ کھول کر باہر جھانکا کوئی نہیں تھا۔ اس نے اطمینان کی سانس لیتے ہوئئ دروازہ پورا کھولا تو جانے کہاں سے بابا ماما چھوٹی بہن چھوٹا بھائی مکھیوں کی طرح نکل کر سامنے آکھڑے ہوئے۔۔ اسکے ہاتھ سے برتن چھوٹتے چھوٹتے بچے۔ 

شکر ہے تم نکلیں تو باہر۔ ماما فرط جزبات سے مغلوب ہو کر آگے بڑھیں۔ 

مجھ سے دور رہیں۔ اس نے ٹرے ہی آگے کر کے انکو روکا کہ کہیں گلے نہ آ لگیں۔کہتے کہتے بھی دو چھینکیں آگئیں اسے۔ کہنی سے منہ ڈھانپ کر اس نے چھینکا۔۔

کیا ہو گیا ہے بیٹا صرف دو چھینکوں پر اتنا پریشان۔ 

بابا پریشان تھے اسکی وجہ سے۔ ماما نے مایوس ہو کر ٹرے تھام لی۔ 

یہ کرونا ہوا تو؟ اسکی آواز سوچ کر ہی بھرا گئ تھی۔

آپ سب کو اتنا منع کیا تھا۔ آہ چھوو۔۔ مت جائیں مدیحہ آنٹی کے گھر انکا بیٹا۔ آچھو۔۔ اٹلی سے آیا ہے۔ اور قرنطینہ میں جانے کی بجائے۔ کھوں کھوں۔۔۔ اب کھانسی بھی شروع ہوگئ تھی۔ 

سب کو اپنے گھر دعوت دے رہا ہے کھانے پر کوئی تک بھلا۔۔ 

آچھو۔ 

خود کو بھی ہوا اور پورے گھر کو بھی کروا دیا۔ 

وہ رودینے کو تھئ۔ 

مگر آپی ممی بھی تو آپکے ساتھ گئ تھیں انکو تو کچھ نہیں ہوا۔ 

سدید اسکا چھوٹا بھائی اسے سمجھا رہا تھا۔ 

میں تو ممی کو بھی کہہ رہی ہوں سب سے دور رہیں ہم دونوں کو اگلے پندرہ دن قرنطینہ میں آہ چھو۔ رہنا چاہیئے۔ خدارا مان لیں بات سب بیمار ہو جائیں گے ہم ورنہ۔۔ 

وہ کہتے کہتے رو دی۔ اسکے لیئے کونسا آسان تھا ایک کمرے میں بند ہو کر رہنا ۔ 

مگر آپی میں کہاں جائوں میرا بھی تو یہی کمرہ ہے۔ 

مرینہ منمنائی۔

گیسٹ روم میں چلی جائو۔ اور خدارا اب مجھے کوئی باہر نکلنے پر مجبور نہ کرے۔

اس نے کہہ کر دروازہ زور سے بند کیا اور خود اسی سے ٹیک لگا کر گھٹنوں میں منہ دے کر رو دی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پوری مارکیٹ میں ایک ہی موبائلوں کی دکان کھلی تھی۔ وہ جھٹ گھس گیا۔ 

بس ایک ہی چارجر چاہیئے۔۔ 

دکاندار نے پوچھتے ہوئے چارجر نکال کر سامنے رکھا تو وہ کسی سوچ میں پڑ گیا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہاں سارا دن کمرے میں بند موبائل استعمال کرتے وقت گزرتا تھا کہاں اب ایک دن کمرے سے نہ نکلنے کا فیصلہ کیا تو وقت کاٹنا مشکل ہو گیا۔ 

چار گھنٹے مستقل موبائل سے لگے لگے بیٹری کی آخری حد تک مکا دینے کے بعد جب گھڑی پر نگاہ پڑی تو شام کے سات بجے تھے۔ 

باہر سب ٹی وی لگائے بیٹھے تھے۔ خوش گپیوں کی آوازیں دل مچل مچل رہا تھا ۔۔ ماسک پہن کر زرا سا دروازے کی جھری سے باہر جھانکا تو وہاں سب نگٹس اڑا رہے تھے۔ 

اکیلے اکیلے نگٹس۔ اسے رونا آگیا۔ دروازہ بند کرکے وہیں دروازے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔ 

آج کمرے میں بند ہوں تو کسی کو خیال بھی نہ آیا کہ نگٹس مجھے بھی پوچھ لیں۔ایسے ہر دفعہ یہ مرینہ کی بچی نگٹس تل کر لا لا کر سامنے رکھتی تھی آپی چکھ لیں ۔۔ اور میں۔  

اسے یاد آیا۔ 

وہ مسہری پر دراز ہینڈ فری کانوں میں ٹھونسے موبائل میں مگن اپنے پسندیدہ ترکی ڈرامے کو سب ٹائٹلز کے ساتھ دیکھ رہی تھی کہ نگٹس کی پلیٹ ایکدم اسکے سامنے آگئ۔

میں ڈائٹنگ کر رہی ہوں اسٹوپڈ کتنی بار کہا ہے مت میرے سامنے بیٹھ کے یہ سب الا بلا کھایا کرو اور تم خود بھی مت کھایا کرو میٹرک میں آگئ ہو اور اپنا پیٹ دیکھو کتنا باہر نکل رہا عجیب لڑکی ہو مٹاپے سے ڈر ہی نہیں لگتا ہروقت کھاتی رہتی ہو۔

کھلاتئ بھی تو ہوں سب کو دے کر آئی ہوں یہ آپکا حصہ۔ 

مرینہ کو نیا نیا پکانے کا چسکا لگا تھا ۔کچھ نہ کچھ یو ٹیوب سے دیکھ کر بناتئ رہتی تھی نگٹس تو ہر دفعہ کچن میں مرینہ کو دس منٹ سے ذیادہ وقت لگےتو بن کر تیار ملتے تھے قطرینہ کو۔مگر اسے اچانک وہم ہوا تھا کہ اسکی توند نکلنے لگی ہے سو جھٹ نفی میں منڈیا ہلا دی

مجھے نہیں کھانا میرا خود بخود وزن بڑھ رہا ہے میں ڈائٹ کر رہی ہوں اور اب یہ میرا حصہ بھی تم مت کھا جانا تم کونسا دبلی پتلی ہو ڈھول بنتی جا رہی ہو۔۔

آپی بس کرو اتنی سی توند نکلی ہے اس پر اتنا پریشان ہو۔ ہر ڈائٹ کرنے والا چیٹ ڈے تو مناتا ہی ہے آپ نے تو بالکل مرغی کا بائکاٹ کر رکھا ہے۔ 

چڑ کر کہتے ہوئے مرینہ نے دو نگٹس اکٹھے منہ میں ڈالے 

تھے اور وہ منہ کھول کر اسے دیکھتئ رہ گئ پھر بھنا کر چیخی

اٹھو باہر جائو تمہیں تو کھاتے دیکھ کر ہی مجھے لگ رہا ہے کہ میرا وزن بڑھ جائے گا۔ 

اس نے باقائدہ اسے کندھوں سے پکڑ کر کمرے سے نکالا تھا۔ 

اور آج۔ وہ اداس سئ ہوگئ۔ 

چلو دو دن  سے ویسے ہی رمضان شروع ہورہا ہے اچھا ہے قرنطینہ میں روزے رکھ میرا وزن کم ہوجائے گا ۔قرنطینہ میں تو ہوں اعتکاف میں ہی نہ بیٹھ جائوں اس بار۔ 

اسے انوکھا خیال سوجھا۔ تبھی دروازہ زوردار کمر میں لگا  وہ بلبلا سی گئ۔ 

ہائے بد نیتئ پر سزا ہی مل گئ فورا۔  وہ کمر سہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ باہر مرینہ دروازے کو کندھے سے زور لگا رہی تھی۔ اس نے فورا منہ ڈھانکااور باہر جھانکنے لگی۔ 

کہاں اٹک رہا ہے دروازہ۔ بڑ بڑاتئ مرینہ ٹرے میں نگٹس اور کوک کا گلاس رکھے کھڑی کندھے کے زور سے دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔ آخر جھلا کر دوبارہ ہیںڈل گھمانے کیلئے ٹری کو ایک ہاتھ میں تھام کر ہاتھ بڑھایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔ 

یہ لو۔ میں اندر نہیں آرہی اور دیکھو تم سے ملنے کیلئے ماسک بھی پہن کر آئی ہوں اب یہ کھا لو۔بھلے رات کو کھانا نہ کھانا مجھے پتہ ہے تمہیں دل سے دال چاول نہیں پسند۔ 

اسے دیکھتے ہی مرینہ نے جلدی سے پائوں دروازے میں اڑا کر بولا تھا کہ کہیں دروازہ نہ بند کردے۔

چھوٹی بہن کے اس پیار پر اسکی حقیقتا آنکھیں نم ہو گئیں۔ 

ہاتھ بڑھا کر چپ چاپ ٹرے پکڑ لی۔ 

اور کچھ چاہیئے۔ 

اس نے مشکوک نگاہ سے دیکھا خلاف معمول خاموشی۔۔ 

نہیں۔ قطرینہ کچھ کہتے کہتے رک گئ۔ 

اچھا۔ مرینہ کندھے اچکا کر پلٹنے کو تھی کہ بے اختیار قطرینہ پکار بیٹھی۔ 

مرینہ۔ شکریہ۔ آئی رئیئلی لو یو۔ 

برا ہو اس موٹیویشنل اسپیکر کا جس نے قرنطینہ میں اپنوں کو شکریہ ادا کرنے اور انکی۔محبتوں کو حق کی طرح وصول کرنے کے بعد انکا احساس کرنے کی ترغیب دی۔ جذبات سے مغلوب قطرینہ نے انا بالائے طاق رکھ کر اپنی چھوٹی بہن کو شکریہ کہہ ڈالا۔ 

مرینہ کی بڑی بڑی آنکھیں پھیلیں۔ گول گھومیں۔ ایسا تب ہوتا تھا جب وہ دماغ کو ضرورت سے ذیادہ استعمال کرکے کسی بات کے خود ساختہ نتیجے پر پہنچ جاتی تھی۔ قطرینہ دروازہ بند کر رہی تھی جب مرینہ کو کسی انہونی کا ادراک ہوا۔ 

نو وے تم میرا بلو ٹاپ پہن کر ٹک ٹاک ویڈیو تو نہیں بنانے لگیں؟ قطرینہ مجھے تم دس بار بھی آئی لو یو کہو گی تو بھی نہیں دینے والی میں ۔ میں نے تمہیں پہلے بھی منع کیا تھا جتنا مرضی مکھن لگا لو میں اپنا ٹاپ نہیں دوں گی سمجھیں۔

کیا۔ قطرینہ اسکی سوچ کی اڑان پر بھونچکا رہ گئ

قطرینہ میری الماری میں مت گھسنا میں کہے دیتی ہوں۔

مرینہ بلبلا کر ساری احتیاط بالائے طاق رکھ کر دروازے کی جانب بڑھی قطرینہ نے ارادہ بھانپ کر جلدی سے بند کرکے کنڈی لگا لی  

قطرینہ کی بچی خوب سمجھتی ہوں یہ قرنطینہ کا بہانہ کرکے میری وارڈروب استعمال کروگی۔ کھولو دروازہ مجھے اپنے کپڑے لینے ہیں۔ 

مرینہ دروازہ پیٹ رہی تھی۔ 

میں نہیں کھولنے والی اور صرف بلو ٹاپ نہیں پرپل ریڈ اورنج سب پہن کر قینچی سے کاٹ کر رکھوں گی۔ 

بیڈ پر ٹرے رکھ کر اس نے اطمینان سے آلتی پالتی ماری نگٹس منہ میں رکھا کوک کا گھونٹ لیا پھر ہانک لگائی گرم گرم بہت مزے کے لگ رہے تھے۔ 

ممی دیکھیں قطرینہ کو۔میرے کپڑے پہن کر ٹک ٹاک بنا رہی ہے۔ اسکی دھمکی پر مرینہ روہانسی ہو کر شکایت لگانے بھاگی۔ 

ایویں آئی لو یو بولا اس قابل ہی نہیں ہے یہ عوام عزت کے۔ 

وہ برے برے منہ بنا رہی تھی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد جاری ہے

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *