قطرینہ اور کرونا 

قسط 4 

آن لائن کلاسز اور پاکستانی بچے۔۔

اپنے بیڈ پر دانی لیپ ٹاپ سامنے رکھے کانوں پر ہیڈ فون چڑھائے تمیز سے بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا

دانی فلش تو کر لیا کر اب یہ بھی تجھے سکھانا پڑے گا۔۔ گندا آدمی

باتھ روم سے نکلتے ہوئے کاشی نے خاصی ناراضی سے اچھا خاصا زور سے کہا تھا۔ دانی کا رنگ ایکدم فق ہوا  جھٹ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا کر آنکھیں نکال کر دانت کچکچاتے ہوئے بولا 

آہستہ بول کمینے آن لائن کلاس چل رہی ہے میری ۔۔ 

اس کی گھرکی پر کاشی نے جھٹ ہاتھ کے اشارے سے معزرت کی مگر ٹھیک ٹھاک معاملہ ہاتھ سے نکل گیا تھا۔

اسکے لیپ ٹاپ  کی اسکرین اسکے کلاس فیلوز کے میسجز سے سج گئی تھئ۔۔ 

پہلا پیغام۔۔ دانی فلش کرکے آئو کلاس میں۔۔

دوسرا پیغام: مجھے تو یہاں تک بدبو محسوس ہو رہی ہے۔ 

تیسرا پیغام: یار دانی اب یہ بھی تجھے سکھانا پڑے گا۔ 

چوتھا پیغام : گندا آدمی چھو

پانچواں پیغام: فلش کے بعد صابن سے پورے بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونا

چھٹا: یار سینی ٹائزر دو مجھے لیپ ٹاپ کی اسکرین بھی صاف کرنی ہے اس میں “گندا آدمی” آن لائن ہے۔

ملک کے مستقبل قریب کی بے روز گار انجینئروں کی کھیپ اپنی حس مزاح  کا اچھا مظاہرہ کر رہی تھی۔

اسکے دوست نے تو حد ہی کردی کلاس کے آن لائن چیٹ روم میں پیغام بھیج دیا۔

سر تھوڑی سی بریک دے دیں دانی فلش  کر آئے ذرا

دانی کے کندھے پر جھکے اسکے میسجز پڑھتے کاشی نے کافی محنت کرکے ابلتے قہقہے کا گلا گھونٹا تھا دانی کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا

بھئی جس نے جو کرنا فارغ ہونا ہو آئے مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ۔۔ میں نے جو سلائڈز شئیر کی ہیں انکو گو تھرو کر لو سب 

یہ سر تھے ۔ ٹریک سوٹ پہنے بالوں کو کنگھی کیئے بنا جمائیاں لیتے ہوئے انکو جانے پڑھا کیسے رہے تھے اسے تو لگ رہا تھا اب گرے کہ تب۔۔ 

دانی نے جوابا اپنے ہم جمآعتوں کی شان میں گستاخانہ جملے جلدی جلدی ٹائپ کرکے بھیجنے شروع کیئے تو کاشی سیدھا ہوا۔ اسے فی الحال قطرینہ کا چیلنج مکمل کرنا تھا سو اپنی الماری کھولی ۔ اندر سے باہر نکلنے کو بے تاب کپڑوں کا ڈھیر اسکے اوپر آگرا ۔  وہ اس حملے کے لیئے تیار نہیں تھا ۔۔ کپڑے ٹھیک ٹھاک زور سے سر پر لگے تھے ماتھا سہلاتے ہوئے اس نے جھک کر دیکھا تو ایک عدد کارٹن بھی کپڑوں کی سنگت میں زمین پر اتر آیا تھا اسکی پیشانی زخمی کرنے کے بعد۔ 

یہ کارٹن کہاں سے آیا۔ وہ حیران ہو کر کارپٹ پر ہی آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور بڑی دلچسپی سے کارٹن کھول کر دیکھنے لگا۔ 

ٹوٹے ہوئے درجنوں چارجر ، ہینڈزفری تینتس دس نوکیا ، موبائل اسٹینڈ کور ہاڑڈ بال ، اور نجانے کیا الم غلم بھرا پڑا تھا۔ جو یقینا صرف اسکا نہیں تھا بلکہ اس گھر کی ٹیکنالوجی ایڈوانسمنٹ کئ نشانی کے طور پر ہر فرد کی متروک کی گئ اشیا ء کا خزانہ تھا۔ 

یہ میری الماری میں کہاں سے آیا کل تک تو اس میں نہیں تھا۔ 

کاشی نے پلٹ کر بے چارگی سے بھائی کو دیکھا جو نجانے ابھی بھی کلاس لے رہا تھا کہ نہیں مگر انتہائی شرافت اور سنجیدگی چہرے پر سجائےلیپ ٹاپ میں مگن تھا۔ 

اسے گھورتے ہوئے وہ کارٹن ایک طرف کرکے اپنی پرانی سال خوردہ شرٹوں کی چھانٹی کرنے لگا۔۔ کئی تو بالکل صحیح تھیں اور انکو نہ پہننے کی وجہ بھی اب اسکو بھول چکی تھئ تو انہیں احتیاط سے تہہ کر کرے اپنے خانے میں رکھنے لگا۔ چھانٹی ہی چھانٹی میں نہ صرف اس نے اپنا بلکہ دانی کا بھی خانہ ترتیب دے دیا۔ کل سات شرٹیں نکلی تھیں پانچ اسکی دو دانئ کی۔ ہر شرٹ اسے دکھا تا تو سوراخوں والی شرٹیں تک دانی نے پھینکنے نہ دیں سر کے اشارے سے منع کر دیتا البتہ دو جو شرٹیں اس نے سر ہلا کر اجازت دیں ان پر دانی باقائدہ حیران ہو کر تصدیق بھی چاہی۔ بالکل نئی سی شرٹس تھیں ۔انکو تو ابھی مہینہ پہلے تک یونیورسٹی بھی پہن کر جاتارہا تھا۔ مگر خیر دانی بھیا کی اپنی مصلحت ہوگی کوئی۔

دانی بھیا ویسے بہت پیٹو انسان ہیں آپ۔ گھنٹہ بھی پورا نہیں ہوا ناشتے کو امی سے ملک شیک بنانے کا کہہ کر آئے انہوں نے تو کیا ہی بنانا تھا مجھ سے ہی بنوا لیا۔۔ خیر  لیں۔ 

تین گلاس ٹرے میں رکھے نان اسٹاپ بولتی ثانیہ دھاڑ سے دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی۔ کاشی کرنٹ کھا کر سیدھا ہوتے ہوئے اسے شش چپ وغیرہ کا اشارہ کرنے لگا تھا جسے اس نے اپنی دھن میں دیکھا ہی نہیں سیدھی جا کھڑی ہوئی دانی کے سرہانے۔جو بے چارگی سے اسے دیکھ رہا تھا

لیں پکڑیں نا ۔ اس نے حیران ہو کر دیکھا جو صم بکم اسے تک رہا تھا۔

گلاس تھام کر اپنے بیڈ پر رکھا پھر تسلی سے نئے سرے سے اپنے ہم جماعتوں کے تبصرے پڑھنے لگا

انہیں کیا ہوا۔ وہ حیران ہو کر کاشی کے پاس آئی جواسکی متوقع درگت کا اندازہ کرکے چہرے پر در آنے والی مسکراہٹ دبا رہا تھا

آن لائن کلاس لے رہا ہے۔ اس نے بتایا تو ثانیہ خفت ذدہ سی ہوئی۔ ٹرے زمین پر رکھ کر اپنا گلاس اٹھاکر بولی

یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ 

 شرٹوں کو اپنے گرد پھیلائے بیٹھا وہ امی کی قینچی تھامے تھا اسے جواب دینے کی۔بجائے  اس نے اشارہ کیا اور اپنا گلاس اٹھا کر گھونٹ بھرنے لگا۔ثانیہ نے اشارے کاتعقب  کیااپنا موبائل اسی کار آمد کارٹن سے نکلنے والے سالم اسٹیںڈ میں لگائے وہ یو ٹیوب ویڈیو کھولے بیٹھا تھا۔ گھر پر پرانے کپڑوں سے ماسک بنانے کی ترکیب تھی۔ 

واہ میں بھی مدد کراتی ہوں۔ بڑے شوق سے ثانی نے اپنی خدمات پیش کیں۔گتے پر ٹریس کرکے ماسک کاشی تندہی سے کاٹ رہا تھا پچھلے مہینے ثانیہ نے اپنی پاکٹ منی سے آن لائن بالشت بھر کی سلائی مشین منگوائی تھی اور امی سے اسکے بے کار ہونے اور ثانیہ کے پیسے ضائع کرنے کی عادت پر خوب ڈانٹ کھائی تھی ابھی وہی مشین کام آئی۔ ثانیہ شوق میں اٹھا لائی ۔اب چھوٹی چھوٹی سلائی لگا کر ماسک کے کنارے بند کررہی تھی اور ڈوریاں سی رہی تھی۔ چھے  شرٹوں سے دانی نے تقریبا چھتیس کے قریب ماکس تیار کر لیئے تھے پھر ثانیہ کا ہاتھ بٹانے کو امی کی بڑی والی سنگر مشین بھی اٹھا لایا تھا اب دونوں کی دھڑا دھڑ سلائی جا ری تھی۔ 

دانی کی شرٹ پر بڑا خوبصورت سا ہائی لکھا تھا جسے کاشی نے ایسے کاٹا کہ وہ ایک ماسک کے بالکل بیچ میں آگیا۔ 

بھائی یہ سب سے پیارا بنا ہے۔ثانیہ نے جھٹ اسکو پہنا۔ 

اسی شرٹ کا دوسرا ماسک کاشئ سی رہا تھا۔۔ ثانیہ اس کارگزاری کی تصاویر لے رہی تھی

کاشی کا موبائل اس سب کی خاموشی سے ویڈیو الگ بنا رہا تھا۔ آخر چیلنج بھی تو پورا کرنا تھا۔

بھیا دیکھیں کتنا پیارا ماسک بنا ہے۔ اپنی تصویر لیکر بھی ثانیہ کی تسلی نہ ہوئی تو لیپ ٹاپ پر نگاہیں جمائے کمر اکڑائے دانی کو مخاطب کر ڈالا۔ 

اس نے تھکی تھکی سی نگاہ اٹھائی ۔ ماسک پہنے آنکھیں پٹ پٹاتی بہن کو دیکھ کر خیر سگالی مسکراہٹ اچھالی دوبارہ لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہوا۔ پھر جیسے کوئی خیال آیا تو چونک کر دوبارہ نگاہ ڈالی۔ ہائی جانا پہچانا تھا۔۔ دانی نے بھی ماسک سی کر پہنا اب دونوں بہن بھائی اسکی شرٹ منہ پر چڑھائے وی کا نشان بناتے سیلفی لے رہے تھے۔  پہچان کا لمحہ مکمل ہوا دانی کے منہ سے زور دار چیخ نکلی۔ 

نہیں۔۔ 

سنجیدگئ سے چھوٹے سے وہائٹ بورڈ کو لیپ ٹاپ کے سامنے دکھا کر نجانے کیا ڈرا کررہے تھے ڈر کر اپنا مارکر اور وہائٹ بورڈ دونوں چھوڑ بیٹھے۔بورڈ کھٹ سے آکر لیپ ٹاپ کی اسکرین کو لگا ۔ انکو غور سے دیکھتے 34 طلباء کو لگا یہ انکے سرپر آرہا سو سب اچھل سے پڑے۔ پینتیسواں لیپ ٹاپ بیڈ پر اچھالتا ایک اور نہیں چلاتا ہوا کترنوں کے ڈھیر پر کودا تھا اسکی پسندیدہ ترین ٹی شرٹ ننھے منے ٹکڑوں میں بٹی پڑی تھی۔۔ 

کاشی اور ثانی دونوں بھونچکا سے اسکا ردعمل دیکھ رہے تھے جو اپنی شرٹ کے ٹکڑے کسی لاش کی طرح بانہوں میں لیئے دھاڑیں مار رہا تھا

میری فیورٹ شرٹ کاٹ دی ۔یہ تو بالکل نئی تھی دو مرتبہ پہنی ہوگی بس۔ 

ثانی اور کاشی دونوں ڈر کر پیچھے ہٹے۔

پوچھ کر ہی تو کاٹی ہے۔ پوچھا تھا نا دانی تجھ سے لے لوں یہ؟ ہر پھٹی پرانی پر تو انکار کرتا رہا نہ لوں تبھئ تو دو بار پوچھا تھا میں نے۔ 

کاشی نے ڈرتے ڈرتے کہا تو دانی غم کی انتہا پر روہانسا ہو کر چیخا

مجھے کیا پتہ تھا تو کاٹنے کیلیے مانگ رہا کمینے۔ میں نے سوچا پہننے کیلئے مانگ رہا ہے پھٹی پرانی پر اسی لیئے منع کردیا تھا۔مجھے لگا نئی شرٹ پہن کر کہیں جانا چاہ رہا ہے

دانئ کی بات پر جہاں ثانی  کو ٹھیک ٹھاک ہنسی آئی اس نے باقائدہ منہ پھیر کر چھپائی وہیں کاشی کو بھائی پر پیار بھی آگیا تو یہ غلط فہمی ہوئی اسے ۔ کتنا اچھا ہے بھائی اپنی نئی شرٹ اسے دے رہا تھا اور پرانی پر صاف منع کر دیتا تھا ۔

ہائے آئیم سوری یار مجھے غلط فہمی ہوئی۔۔ کاشی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر معزرت کرنی چاہی 

اور کون کون سی کاٹ ڈالی تم نے۔۔ کاشی بے تابی سے  چیتھڑے ٹٹول رہا تھا۔ 

اسکی دوسری نئی شرٹ قسمت سے سلامت نکلی ۔ سگریٹ گرے کلر کی ٹی شرٹ جس پر Be Hajoom Be lonely  لکھا تھا اسے الٹ پلٹ کر وہ تسلی کررہا تھا

یہ کیسے چھوڑ دی سالم۔ اسے خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہوئی۔  

یہ مجھے اچھی لگی تھی تو میں نے سوچا اسے میں خود رکھ لوں گا۔۔ کاشی نے آہستہ سے کہا تووہ گھور کر رہ گیا

لیپ ٹاپ کا منہ دانی کے اچھالنے کی وجہ سے ان تینوں کی جانب تھا اور سر جاثم سمیت 34 ہم جماعت اسکے غمگین گھریلو ڈرامت کو براہ راست دیکھ کر تفریح لے رہے تھے

سر جاثم یقینا اس سے کوئی درخواست کر رہے تھے 

ثانیہ نے دیکھ کر بھائی کا شانہ ہلایا۔ دانی گڑ بڑا کر لیپ ٹاپ کی جانب لپکا ہیڈ گیئر کانوں میں لگایا 

ہمیں آن لائن براہ راست گھریلو ڈرامہ دکھانے کا شکریہ اب ذرا پڑھ لیں ؟ سر جاثم طنز کر رہے تھے اور چیٹ میسجز سے الگا سکرین بھر چکی تھی اس نےسر جھکا کر معزرت کی۔ ہیڈ گیئر کا مائک اتنا حساس تو تھا کہ انکی سب گفتگو بھی آرام سے سب نے سنی اب سب اس سے ہمدردی کا اظہار کر رہے تھے ایک نے تو ماسک بنانے کی ترکیب بھی پوچھ ڈالی۔۔ 

وہ سب کو حسب توفیق گالیاں دے رہا تھا 

دیکھ رہے ہو اپنے ابو کو ناک میں دم کر دیا ہے نیا شوق آیا ہے کہہ رہے کڑھی بنائیں گے سارا باورچی خانہ الٹ کر رکھ دیا ہے انہوں نے۔۔ 

امی بھنائی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں ۔ 

کاشی دانی ثانی یکدم ساکت سے رہ گئے۔ 

امی کا اترتا پارہ دوبارہ چڑھ گیا۔ 

خدایا کیسی کاہل اور نکمی اولاد ہے میری ۔ اتنے برتن دھو کر آئی ہوں ابھی یہاں یہ تین گلاس پڑے رہ گئے۔ برتن دھونے کو نہیں کہتی کم ازکم ہاتھ پائوں ہلاکر باورچی خانے تک تو پہنچا دیا کرو۔۔۔ سارا دن اکیلی کاموں میں لگی رہتی ہوں ذرا جو۔۔

امی کا گھن گھرج سے دیا جانے والا لیکچر جاری تھا اس بار صرف پس منظر آواز اور دانی کالال ہوتا چہرہ کافی تھا سر جاثم کی بھی جرات نہ ہوئی کہ بول سکیں تاہم انکی نگاہ اپنی میز پر رکھے چائے کے تین مگوں پر پڑی تو سٹپٹا کر انہیں اٹھا کر باورچی خانے میں رکھنے بھاگے ۔

انکی عجلت کسی سے چھپی نہ رہ سکیں کیونکہ وہ کیمرہ بند کئے بنا بھاگے تھے

چیٹ پر دوبارہ پیغامات کی بھرمار ہوئی

سر کو اپنی امی یاد آگئیں لگتا ہے

سر کی امی توگائوں رہتی ہیں یہ چھوٹی امی کا خوف ہے

دانی نے اپنے جی پی اے پر لعنت بھیجی اور سیدھا لیپ ٹاپ کا ٹرن آف بٹن دبا دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ثانیہ اور دانی تینوں اس ریڑھی والے کو گھیرے کھڑے تھے

اوبھائی کچھ نہیں ہوتا کرونا ورونا ہم سخت جان لوگ ہیں۔ 

گرد و غبار میں اٹے کپڑے کو گردن میں پھیرتے اس خان نے جیسے کان پر سے مکھی اڑائی۔ 

تبھی زور دار چھینک آئی تو ان تینوں کا لحاظ کرتے ہوئے اس کپڑے کو منہ ڈھانک کر چھینکا ۔مکھی بے زار سی ہوئی

پھر اڑ کرکیلوں کی بھری ریڑھی پر آبیٹھی تو اسی کپڑے سے بلا تکلف خان جی نے اڑا دیا 

تینوں نقاب پوش ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے 

دانی کیمرہ سنبھالے تھا ثانی ہاتھ میں پیاری سی تنکوں کی  ٹوکری میں گھر کا بنا سینی ٹائزر کی چھوٹی چھوٹی بوتلیں۔ اور اپنے دوپہر بھر کی محنت سے بنائےماسک تھامے کھڑی تھی کاشی مائک تھامے سر پر ٹوپی منہ پر ماسک چڑھایے پھیری والے کا انٹرویو لے رہا تھا

آپ لوگوں نے کیلے نہیں لینے تو جانے دو بھائی پہلے ہی۔دھندا مندا جا رہا ہے بچوں کی روٹی کا انتظام کرنا ہے بھائی

اچھا لیکن اپنے لیئے نہ سہی اپنے بچوں کیلئے یہ ماسک پہن لو بیماری لے گئے گھر تو انکا علاج معالجہ کیسے کروگے؟ 

کاشی کی بات اسکے دل کو لگی۔ 

لائیں دیں ۔ اس نے جیسے تھک کر کاشی سے ماسک لے لیا۔۔ 

ماسک پہن کر اب ہاتھ سینی ٹائز کروانے کی باری تھی۔

اب یہ بھی مل لو ہاتھ پر ۔۔ ویسے تو صابن سے بار بار ہاتھ دھوئو مگر اب جیسے سارا دن ہر جگہ تو پانی نہیں ملتا تو ایسی جگہ ہاتھ پر یہ مل لیا کرنا ۔ 

کاشی سمجھا رہا تھا۔  

کیسے؟ خان صاحب مائل ہوہی گئے پندرہ منٹ کی ان تینوں کی صحت و صفائی سے آگاہی پر مبنی محنت کے بعد۔

اسکو تھوڑا سا لیکر ہاتھ پر ملو یوں ۔

کاشی نے اسکے ہاتھ پر تھوڑا سا سینی ٹائزر ڈالا 

اب اپنے ہاتھ مل کر اسے سکھا رہا تھا۔ خان صاحب نے وہی کیا۔ سارا دن کی محنت مزدوری کرنے والے ہاتھ سینی ٹائزر ملنے سے پسینہ میل غبار مل کر کیچڑ سا بن گیا۔ 

اب پانی تو دو صابن ہاتھ میں مل کر تو نہیں پھروں گا نا۔۔ 

خان صاحب نے جتایا۔ 

انکے ہاتھ میں قطرہ قطرہ کالے پانی کی تہہ بنتے دیکھ کر تینوں متفق ہوگئے کہ خان صاحب کو ہاتھ پانی سے بھی دھو لینا چاہیئے۔ 

میں پانی لیکر آتی ہوں۔ ثانیہ بھاگ کر گھر میں گھسی

ان تینوں کو دیکھ کر محلے کے کئی گھروں سے تماش بین انکا نظارہ کرنے سر باہر نکال رہے تھے دروازوں سے

اچھا جب آپ ہاتھ دھو لیں گے نا تو ہم دوبارہ شوٹ کریں گے پھر آپ نے بس سینی ٹایزر لگانا ہے اسکے بعد ہاتھ دھونے کی ضرورت نہیں پڑتئ

ٹھیک ہے ٹھیک ہے بھائی آپ لوگ فکر نہ کرومیں پہلے بھی انٹرویو دے چکا ہوں وہاں بازار میں بھی ایسے بھائی ٹی وی والے پوچھ رہے تھے۔۔ حکومت کو بھی برا بھلا کہنا ہے نا؟؟ خان صاحب فرط شوق سے پوچھ رہے تھے 

آہاں نہیں۔ کاشی نے کہنا چاہا مگر خان صاحب نے موقع نہیں دیا

ابھی کل ہی کی بات ہے میں نے تو وہ گالیاں دیں عمران خان کو کہ کیا بتائوں ۔۔۔۔۔ گالی۔۔۔ سالا۔۔۔۔ ہمارا ۔۔۔۔۔۔ گالی۔ ہم لوگ۔۔۔۔ گالی ۔۔۔  مارا ڈر گیا رات کو ادھر ہوٹل والوں کے پاس ہم ٹی وی پر دیکھا ہماری ساری گالیاں کاٹ دیں۔۔ بہن۔۔۔ گالی۔

پر ہماری شکل آئی ٹی وی پر ابھی کیلا لیتے ہوئے ایک خالہ جی پہچان بھی گئیں انکو دو کیلے فالتو دے دیئے ہم نے۔ 

خان صاحب اپنی کر گزاری جتا رہے تھے۔ دانی کاشی ہکا بکا دیکھ رہے تھے۔۔ ثانی۔۔ آتی ہوگی۔ دونوں نے اکٹھے مڑ کر دیکھا کہیں بہن ان گالیوں کو نہ سن لے لیکن دیر ہوگئ 

وہ انکے پیچھے ہی سرخ چہرہ اور پانی کا بھرا جگ لیئے کھڑی تھئ۔۔ 

دونوں بھائی ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔ 

انکا پہلا مشن تھا یہ اس چیلنج کو پورا کرنے کیلئے انہیں کم از کم پچیس ماسک ان پھیری والوں کو بانٹنے تھے 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اختتام چوتھی قسط کا۔ 

جاری ہے۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *