مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔۔
قسط
1

مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔ اردو ویب ناول ہے
stress dysphorIa
میں مبتلا ایک لڑکی کی کہانی جس کو معاشرے کے ابنارمل رویوں نے لڑکا بننے پر مجبور کر دیا۔ اپنے آپ سے الجھتی اپنے وجود پر سوالیہ نشان اور ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتیں جانیئے۔۔ مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی کی پہلی قسط میں۔۔
مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔ اردو ویب ناول ہے
stress dysphoria
میں مبتلا ایک لڑکی کی کہانی جس کو معاشرے کے ابنارمل رویوں نے لڑکا بننے پر مجبور کر دیا۔ اپنے آپ سے الجھتی اپنے وجود پر سوالیہ نشان اور ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتیں جانیئے۔۔ مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی کی پہلی قسط میں۔۔

اٹھ جائو کنزی مزنہ ۔ اٹھا اٹھا کے تھک گئ میں۔دیر ہو جائے گی تم لوگوں کو آٹھ بج رہے ہیں۔۔
تھپا تھپ پراٹھے کو بڑھا کر توے پر ڈالتے ہوئے صفیہ اونچی آواز میں پکار رہی تھیں۔
یونیفارم میں نک سک سے تیار ہوکر سنگھار میز کے سامنے بال بناتی کنزی نے کمرے سے ہی آواز لگائئ۔
اٹھ گئ ہوں امی یہ مزنہ سوئی پڑی ہے ابھی تک۔
اس کی تیز آواز پر برابر ہی بیڈ پر سوئی مزنہ کسمسا کر اٹھی۔ گھور کر دانت پیستی آنکھیں ملتی۔
مزنہ اٹھ جائواور مجھے کالج بھی چھوڑ آئو پلیز۔
اسکی سب گھوریاں نظر انداز کرتی پونی باندھ کر کنزی اسکے پاس آبیٹھی۔
مزنہ نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا تے ہوئے ایک بار اور گھورا۔
شرافت سے وین کا کرایہ پکڑو اور جائو۔
پلیز نا میں لیٹ ہو جائوں گئ نا بہن نہیں ہو۔
کنزی اسکا گھٹنا پکڑ کر منت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی۔اس پر ذرا اثر نہ ہوا۔بے مروتی سے بولی
راستہ ناپو میں نہیں لے جارہا پورا شہر گزار کر کالج ہے تمہارا تمہارے چکر میں میں لیٹ ہوجائوں گا۔
امی دیکھیں نامزنہ کو صاف انکار کر رہا ہےمجھے چھوڑ کر نہیں آئے گا اب اتنا تیار ہو کر میں لوکل وین سے نہیں جا سکتی میرا وین والا بھی آکر جا چکا تب میں تیار نہیں ہوئی تھی۔۔ امی اس سےکہیں نا۔۔
اسکی ساری منتیں نرمی بھک سے اڑ گئیں فورا اٹھ گئ۔چلا کر پیر پٹخ کر شکایت لگانے لگی
ارے ارے۔ مزنہ اسکے انداز پر اٹھ بیٹھی
۔امی پراٹھہ ہاٹ پاٹ میں رکھ کر دوپٹے سے ہاتھ پونچھتی یہیں چلی آئیں۔
اب تو بالکل نہیں لیکر جائوں گا دیکھ لینا۔اس نے منہ پر ہاتھ پھیرا تو کنزی منہ چڑانے لگی۔
امی نے آتے ہی اسکی یہی بات پکڑ لی۔
کتنئ بار کہا ہے یہ آئوں گا جائوں گا مت کیا کروبڑی ہوگئ ہو تم ۔نہ جانے کونسا منحوس وقت تھا جو یہ لڑکوں کی طرح بولنے کی عادت پڑی ہے اسے۔اور کنزی تم بھی اسی کی طرح
امی اس سے کہیں نامجھے بائک پر چھوڑ آئے۔میں وین سے ایسے نہیں جا سکتی
کنزی امی کے کندھے سے لٹک گئ۔۔
اتنا میک اپ تھوپ کے جانے کو کہا کس نے ہے اسے؟۔
بے موقع جھاڑ صبح صبح نئی ذمہ داری اس نے خاصا چڑ کر ٹوکا تھا
چھوڑ آئو نا بہن کو۔اسکی سہیلی کی سالگرہ ہے آج۔ اب تو کتنے دنوں کے بعد فرمائش کر رہی ہے۔
امی اسکا سر سہلاتے دلار سے کہہ رہی تھیں
کنزی منہ چڑانے لگئ تو وہ اسے گھور کر رہ گئ۔
امی اس بلی کا روز کا ڈرامہ ہے آج ویسے بھی پہلی دو کلاسیں فری ہیں میری میں لیٹ جائوں گا پھر کپڑے بھی استری نہیں میرے۔۔
سستی سے پیر سلیپر میں ڈالتے ہوئے وہ منہ پھلا کر کہہ رہی تھی انداز نیم رضامندانہ ہی تھا۔ امی کو اسکی فرمانبرداری پر پیار ہی آگیا۔۔ انکی تینوں بیٹیوں میں سب سے ذیادہ فرمانبردار یہی تھئ۔سو فورا کنزی کو حکم دے ڈالا
جائو جلدی سے بھائی کے کپڑے استری کردوجائو شاباش۔
انکی بات پر منہ بناتئ کنزی آخر میں ہنس پڑئ
اب خود ہی اس کلو کو بھائی کہہ دیاآپ نے۔
اسکی بات پرموبائل کو چارجنگ پر لگاتی مزنہ بھی مسکرا دی
اوہو ایک تو زبان بھئ پھسل جاتی ہے۔امی خفت ذدہ سی ہوئیں مگر آگے بڑھ کر مزنہ کا خفا خفا سا چہرہ ہاتھوں میں لیکر پیار سے کہنے لگیں۔
مگرسچ پوچھو تومیری آنکھ کا تارا ہے میری مزنہ۔۔تم دونوں سے ذیادہ فرمانبردار اور کام کاجو بیٹی ہے میری۔
مزنہ مسکرا دی۔ امی کا ہاتھ چومتی کنزی کو منہ چڑاتی باتھ روم میں گھس گئ۔
کنزی نے منہ بنا کر امی کو دیکھا
خیرہم دونوں بھی بہت کام کرتی ہیں آپا کو بھری سسرال بھیج رکھا ہے سارا وقت کچن میں گھسی رہتی ہیں۔۔ اپنے آدھے درجن دیوروں کا ناشتہ بناتئ ہیں وہ
اس نے بڑ بڑاتے ہوئے الماری سے اسکا مردانہ کرتا اور جینز نکالی امی کو اسکی عادت کا پتہ تھا اب اس نے لمبی تقریر جھاڑنی تھئ سو کان دبا کر نکل گئیں۔
اس نے مڑ کر دیکھا تو کمرہ خالی ہو چکا تھا۔سو کپڑے نکال کر لائونج میں استری اسٹینڈ کے پاس بڑ بڑاتی چلی آئی۔
اور میں تو جتنا بھی کام کرلوں گنتئ میں نہیں آتا۔ کھانا پکاتی ہوں برتن دھوتی ہوں صفائی ستھرائی بھی میرے ذمہ اوپر سے اس کالو کی خدمتیں بھی کرواتی ہیں مجھ سے۔
یہ کبھی میرے کپڑےپریس کرتئ ہے۔
دل لگا کراستری کرتے وہ اونچی آواز میں بڑ بڑا رہی تھی۔امی چائے بناتئ ان سنی کرتی رہیں۔
جب تک مزنہ تیار ہو کر آئی اسکا موڈ ٹھیک ہو چکا تھا۔امی کے ساتھ ناشتہ میز پر لگانے میں مدد بھی کروائی۔۔
ان دونوں کو ناشتہ کرتے چھوڑ کر امی اندر سے کچھ کاغذ اٹھائے چلی آئیں۔
مزنہ یہ آج بجلی کے بل کی آخری تاریخ ہے۔بنک سے پیسے نکلوا کر جمع کروادینا۔موٹر بھئ کل سے بہت آواز کر رہی ہے لگتا ہے جل جائے گئ یونیورسٹی سے واپسی پر مکینک لیتے آنااور حفصہ کے ہاں سے سوٹ لےآنا وہ سلوا چکی ہےمگر اسکا جانے کب آنا ہو دوکنزی کے ہیں دو تمہارے ایک میرا ہے۔
سر ہلا ہلا کر سنتی مزنہ سنجیدہ سی ہوگئ۔
باقی کام کردوں گامگر یہ حفصہ آپی کے گھر نہیں جا سکتا۔انکی ساس اور عامر بھائئ کا بس نہیں چلتاکہ مجھے دیکھ کے کچا چبا جائیں ایسا گھورتے ہیں جیسے میں کوئی عجوبہ ہوں۔
بولتے ہوئے آخر میں دکھی بھی ہوگئ۔
کنزی اور امی بھی چپ سی ہو کر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگیں۔امی ذرا سنبھل کر بولیں۔
بس بیٹا سب کا اپنا ذہن ہوتا ہے۔تھوڑے سے دقیانوسی ہیں وہ لوگ۔۔ نہیں پسند انکو خود مختار لڑکیاں
انکی بات پر کنزی نے باقائدہ آنکھ پھاڑ لیں حیرت سے
لڑکی؟؟ کہاں سے لگتی ہے یہ لڑکی؟
ڈھیلے ڈھالے جدید مگرمردانہ طرز کے کرتے میں ملبوس اس نے اپنے کندھوں تک آتے بال کھینچ کر پونی میں باندھ رکھے تھے۔ میک سے مبرا دھلا دھلایا صاف مگر سپاٹ سا چہرہ۔ ناشتہ کرتے ہوئے وہ مردوں کی طرح ہی آستین چڑھائے بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی۔انداز میں لاپروا مرد کا تاثر نمایاں تھا بہ نسبت نازک سی لڑکی کے۔
یہ لمبے بال تک اس میں لڑکیوں والی لک نہیں آنے دیتے۔آواز تک بھاری ہوچکی ہے اسکی امی اسکو بوائے کٹ کروانے دیں ہم بھائی ہی بنا لیتے ہیں اسے۔
وہ مزاق نہیں اڑا رہی تھی بس شرارت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی۔ اسکی بات پر مزنہ نے جھٹ اجازت طلب نگاہوں سے دیکھا
بوائے کٹ کروالوں امی؟ سچی لمبے بال نہیں سنبھلتے مجھ سے؟
مگرامی سختی سے جھڑک گئیں۔
خبردار جو بالوں کو کٹوانے کا سوچاتمہیں قسم دی ہوئی ہے
خبردار جو کٹوائے۔
سختی سے کہتے ہوئے جب انہوں نے مزنہ کا چہرہ اترتا دیکھا تو لہجہ دھیما کرکے سمجھانے والے انداز میں بولیں
بیٹا لوگ باتیں بناتے ہیں۔کیوں لڑکوں کی طرح بولتی ہو چلتی ہو لڑکوں جیسے کپڑے پہنتی ہو۔سب مجھے خود غرض اور نا عاقبت اندیش ماں تک کہہ ڈالتے ہیں کہ اپنے کام نکلوانے کیلئےمیں نے تمہیں بیٹا بنا رکھا ہے کوئی ایک بیوہ ماں کی مجبوری نہیں سمجھتا۔
بولتے ہوئے انکی آواز بھرا گئ۔
سچ تو یہ ہے کہ مجھے پچھتاوا بھی ہوتا ہے مجھے تمہیں ٹوکتے رہنا چاہیئے تھا۔ بیٹی کبھی بیٹا نہیں بن سکتی۔ تمہیں بیٹوں کی طرح پال کر میں خود کو مجرم سمجھنے لگی ہوں۔ کل کو تمہیں بھی رخصت۔۔انہوں نے رونا ہی شروع کردیا تو دونوں بہنیں اٹھ کر ان سے دائیں بائیں لپٹ گئیں۔
میں تو مزاق کررہی تھئ ۔۔۔ سوری امی کنزی نےدونوں کان پکڑ لیئے۔
نہیں کٹوا رہا میں بال اور کپڑے بھئ لے آئوں گابس رونا بند کریں۔۔
مزنہ نے بازو کے حلقے میں لیا تو وہ بھی آنسو پونچھنے لگیں۔۔
جیتی رہو دونوں۔ انہوں نے دل سے دعا دی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک سرد سی بےرحم شام تھی جب انکو اپنے شوہر اور اکلوتے بیٹے کے ٹریفک حادثے میں گزر جانے کی اطلاع ملی تھی۔ بارہ سالہ عبدالہادی اپنے باپ کے ہمراہ بڑے شوق سے نئے جوتے لینے موٹر سائکل پر گیا تھا۔ ایک تیز رفتار ٹرک ان دونوں کی زندگی کا چراغ بجھا گیا۔ نفیسہ تو بالکل ہمت ہار بیٹھی تھیں۔چودہ پندرہ سالہ حفصہ ماں کو سنبھالنے کی اپنی سی کوشش کرتی تھی۔ مگر نفیسہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر ہادی کو پکارنے لگ جاتی تھیں۔ چالیسیوں تک سب رشتے داروں نے حتی المقدور ساتھ نبھایا۔ گھر اپنا تھا اسی کا ایک حصہ اوپر کاکرائے پر چڑھا کر کچھ سرٹٹیفیکیٹس تھے ان سے ایک دکان خرید کرکرائے پر چڑھا کر زندگی کی گاڑی کھینچنی شروع کردی۔ جیسے تیسے عدت گزری اسکے بعد گھر کا معمولی سے معمولی کام بھی کرنے کیلئے جب گھر سے نکلنا پڑا تو گھبرا سی گئیں۔حفصہ کو ساتھ لے جانا شروع کیا تو لوگوں کی نظروں اور باتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سودا سلف لانا ہو کرایہ وصول کرنا انہوں نے حفصہ کو ساتھ لے جانا چھوڑ دیا۔ مگر اکیلے نکلنے کی بھی ہمت نہ ہوتی تھی۔ مزنہ نسبتا تیز اور ہوشیار تھی اور ابھی ذیادہ قد بھی نہ نکالا تھا۔ انہوں نے اسکو ہر کام میں اپنے ساتھ رکھنا شروع کیا۔ بڑھتئ عمر کی بچی کو ہادی کے پینٹ شرٹ پہنا کر لے جاتیں تو سب اسے بچی کی بجائے بچہ ہی سمجھتے۔ انہوں نے اسکو پھر بچہ ہی بناڈالا۔ بال بالکل چھوٹے چھوٹے کروادیئے عبدالہادی کے کرتے پاجامے پہنتے مزنہ نے اطوار بھی لڑکوں جیسے ہی اختیار کر لیئے۔ اسے ہر معاملے میں ساتھ رکھتے ایک وقت آیا کہ وہ ہر معاملے کو ان سے بہتر سمجھنے سنبھالنے لگی۔ مارکیٹ میں بھانت بھانت کے لوگوں سے نمٹتے انکو احساس بھی نہ ہوا کہ کب وہ بڑی ہونے لگی۔ لوگوں نے مردمارسہی مگر لڑکی ہی سنجھنا شروع کردیا۔ مزنہ پہلے گھبرائی پھر اس نے نظروں کے وار سے جھجکتے چھپتے انکا ڈٹ کر سامنا اور ڈپٹ کر مردانہ وار مقابلہ کرنا شروع کردیا۔ بڑھتے قد اور دبلی جسامت کے باعث وہ اس عمر میں جب لڑکیاں خود سے چھپنا شروع کرتی ہیں اس نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ڈپٹنا سیکھا۔ دوپٹہ اوڑھنے کی بجائے گلے میں مفلر ڈالنا شروع کیا رنگ برنگی شلوارقمیض کی جگہ پھیکے رنگوں کے مردانہ کرتے بنوانے لگی۔ بال بڑھانے ہی چھوڑ دیئے۔ قد نکالا تو وہ بھی تاڑ سا۔پانچ فٹ نو انچ کی لڑکی تو کیا ہی لگتی الٹا مردانہ چال اور حلیئے کے باعث بہنوں کیلئے بھائی کی طرح ہی ڈھال بن گئ۔ موٹر سائکل چلانا سیکھ لی۔ حفصہ کی شادی کا وقت آیا تو تن و تنہا سب معاملات خوش اسلوبئ سے سنبھال لیئے۔ دیگوں ٹینٹ سروس سے لیکر شادی ہال تک کا سب انتظام بیٹے کی طرح سنبھالا اگر وہ سچ مچ بیٹا ہوتئ تو انٹر میں ہونے کے باوجود سب کچھ اچھی طرح سنبھالنے پر صفیہ فخریہ اسکی تعریفیں وصولتیں ۔مگر حفصہ کی شادی میں جس طرح لوگوں نے اس کو دیکھ کر باتیں بنائیں۔ اسکو ہجڑا تک کہہ ڈالا۔ تب پہلی بارصفیہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ مگر تب تک شائد بہت دیر ہوچکی تھی۔مزنہ انکے ہر طرح کی سختی کرنے ڈانٹ ڈپٹ اور پیار سے سمجھانے کے باوجود نا لڑکیوں والے کپڑے پہننے کوتیار ہوئئ نہ ہی لب و لہجہ بدلنے پر۔انہوں نے اسکو لڑکیوں کے ہی اسکول اور کالج میں پڑھوایا بال کٹوانے نہ دیے اب کندھوں تک آتے تھے کہ اس سے ذیادہ بڑھنے نہیں دیتی تھئ وہ مگر یونیفارم میں دوپٹہ لینے کے باوجود اسکی چال ڈھال ٹھٹکا دیتی تھی۔ لڑکیاں اس سے دور ہو جاتیں یا باتیں بناتیں۔لے دے کے بس ایک ہی اسکی دوست بنی۔اور ایسی بہترین دوست جو پہلے اسکول پھر کالج اور اب بی ایس میں یونیورسٹی میں بھی اسکے ساتھ تھئ۔جسے کنزی اور حفصہ کی طرح اس نے اپنے حفاظتی حصار میں لے رکھا تھا۔مگر کہیں کچھ ایسا ضرور تھا جو اسے خود بھی اب کھٹکنے لگا تھا۔ ابھی بھی بائک چلاتے اشارے پر رکتے وہ کتنی ہی عجیب نظروں کے حصار میں تھی۔ عادی ہو چکنے کا کہنے اور عادی ہوجانے میں یقینا جو بال برابر فرق تھا اسے ضرور محسوس ہوتا تھا۔
اس نے ہیلمٹ گرمئ کی وجہ سے پہن نہیں رکھا تھا جبھی اس وقت۔۔ اس نے اشارہ کھلتے ہی ایکدم بائک تیز چلا دی تھی۔ پیچھے اپنی دھن میں بیٹھی کنزی نے سنبھل کر اسکا کندھا دبوچا
کیا کرتی ہو ابھی گر جاتی میں۔
اسکے چلانے کا اس نے قطعی نوٹس نہ لیا بائک یونہی اڑاتی رہی
کیا ہوگیا ہے مزنہ آہستہ چلائو میں گرجائوں گی۔
وہ اس بار جان کر اسکے کان پر چیخی۔۔ اسکے ڈرنے پر مزنہ محظوظ ہوکر بولی
واقعی؟ پھر تو مجھے اور رفتار بڑھانی چاہیئے ۔۔۔تم گرو ڈرو
تاکہ آئندہ یہ خرافاتی خیال نہ آئے کہ میں صبح صبح تمہیں ڈراپ کروں کالج ۔۔
وہ ہنس ہنس کر مزید ڈراتئ رہی۔ جیسے ہی کالج کے آگے اس نے بائک روکی کنزی نے اترتے ہی دھپ سے اسکے کندھے پر مکا مارا۔مزنہ ڈھٹائی سے ہنس کر اسے چڑاتی رہی۔ پھر جیب میں ہاتھ ڈال کر اسکے ہاتھ پر ہزار روپیہ بھی رکھ دیا۔ کنزی کی سب کوفت دور ہوئی کھلکھلا کر اسکو گلے لگاکر پیار کرتئ خداحافظ کہتی اندر بھاگی۔ اسکے بچپنے پر وہ بزرگانہ شفقت سے مسکرا کر سرجھٹکتی بائک نکال لے گئ۔ گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی سامنے اسکا گروپ کھڑا تھا وہ گرمجوشی سے انکو ہاتھ ہلاتے ہوئے انکی جانب بڑھنے کو تھی جب سینیئرز کا ایک گروپ اسے پکارنے لگا۔
اے اے کنزی۔ یہ کونسا کزن تھا تمہارا؟؟
فورتھ ائیر کی شمائلہ آنکھیں مٹکا مٹکا کر پوچھتی اسے ایکدم زہر ہی لگی۔
کونسا کزن ؟ وہ سمجھی نہیں۔
ارے وہی جس سے لپٹ کرپیار کرتی تم ابھی آئی ہو اندر۔
دوسری لڑکی نے عامیانہ انداز میں کہہ کر شمائلہ کے ہاتھ پر ہاتھ مارا وہ سب زور سے ہنس دیں۔۔
شٹ اپ۔ سوچ سمجھ کر بولا کرو ۔ وہ غصے سے زور سے بولی تو اسکی سہیلیاں بھی اسکی مدد کو دوڑی آئیں۔۔
ہم سوچ سمجھ کر بولا بھی کریں اور تم باہر بنا سوچے سمجھے گلے لگو گال سے گال ملائو۔
ایک اور لڑکی چمک کر بولی تو کنزی کی ساری مروت رخصت ہوئئ
خبردار جو ایک لفظ بھئ مزید بکواس کی تو منہ توڑ دوں گی۔ میں اپنی بہن کے ساتھ آئی ہوں بڑی بہن ہے وہ میری۔
اسکی طیش کے مارے آواز پھٹ سی گئ۔ ارد گرد لڑکیوں کی بھنبھناہٹیں بھی تھم سی گئیں
کیا ہوا کنزئ۔۔ اسکی سہیلی نے آکر اسے بازو سے تھاما۔۔ فرط طیش سے وہ کانپ رہی تھی
مگر ہم نے خود دیکھا وہ تو بالکل لڑکا۔۔۔۔ شمائلہ خود بھی اسکا ردعمل دیکھ کر گڑبڑا سی گئ
وہ مزنہ ہیں اسکی بڑی بہن ۔ وہ لڑکوں جیسی لگتی ہیں مگر بڑی بہن ہیں اسکی۔ کنزی کو کندھے سے تھام کر لیلی نے ان سب کئ غلط فہمی دور کرنی چاہی۔
واٹ ؟ مگر وہ تو بالکل لڑکا تھی۔ بالوں کی پونی تھی مگر وہ تو بالکل لڑکی نہیں لگتی۔۔۔۔
شمائلہ کی حیرت عروج پر تھی۔
توکیا ہوا وہ دراصل اسکا بھائیوں کی طرح ہی خیال رکھتی ہیں بس کپڑے مردانہ ہوتے ہیں انکے۔ہیں وہ لڑکی ہی۔
روبیہ نے بھی صفائی دینی چاہی۔
ہیں کنزی کی بہن ہے وہ؟ کنزی کو اپنی پشت سےحیرانی بھری آواز سنائی دی۔
ارے یار میں خود حیران ہوئی کنزی کو کیا ہوا کس طرح لڑکے سے گلے مل رہی ہے۔
بائیں جانب سے حیرت کا اظہار۔
بہن ہی ہے یا؟ نا بھائی نا بہن ؟ سرگوشی۔۔
جب وہ بہن ہیں تو بھائیوں کی طرح کی کیوں ہیں۔
شمائلہ اپنی حیرت پر قابو پا کر پوچھ رہی تھی۔
کنزی کی بہن تھئ۔۔
کنزی کا بھائی۔۔
آوازیں ہی آوازیں وہ دونوں کانوں پر ہاتھ رکھتی وہاں سے بھاگ اٹھئ۔ روبیہ اور لیلی بھی اسکے پیچھے دوڑیں مگر یہاں موجود مجمع ابھی بھی اس معمے کو حل کرنے میں مصروف تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونیورسٹی کے احاطے میں بائک کھڑی کرکے وہ حسب عادت بائک پر لگے آئینے میں دیکھ کر بال سنوارنے لگی۔
ایک دو لٹیں ماتھے پر آن گری تھیں جنہیں اس نے لاپروائی سے سمیٹا تھا۔ انداز میں بے نیازی پنہاں تھی۔ بائک لاک کرکے یونیورسٹی کے احاطے سے لیکر ڈیپارٹمنٹ تک وہ کتنی ہی نظروں کے حصار میں رہی تھی۔ ماہا اورعادل کینٹین سے ہنستے بولتے باہر نکل رہے تھے۔ اسکی نگاہوں میں چمک سی آگئ۔ تیز تیز قدم اٹھاتی سیدھا وہ مکمل عادل کی جانب متوجہ ہنسی ہوئی ماہا سے جا لپٹی تھی
ماہا اپنی دھن میں چونکی مگر اسکا لمس محسوس کرتے ہی پہچان کر ہنس کر جوابا مڑ کر گلے لگ گئ۔
ہیلو میری جان۔مزنہ نے اسکے کان میں سرگوشی کی
کیسے ہو جانو آج تو بہت ہینڈسم لگ رہے ہو۔اس سے الگ ہو کر سرتاپا دیکھتے ہوئے وہ توصیفی انداز میں بولی۔۔
مزنہ ہنسی اور آگے بڑھ کرعادل سے بھی گلے لگنا چاہا مگر وہ سنجیدہ سا چہرہ بنا کر پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوگیا
کیوٹ کہہ لو۔ لڑکیاں ہینڈسم نہیں ہوتیں۔
عادل نے اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈالتے ہوئے جتانے والے انداز میں کہا ۔۔
ماہا اسکی بات پر ہنس دی اور پیار سے اسکو ساتھ لگا کر بولئ
یہ کہاں سے لڑکی ہے۔ یہ تو ماہی منڈا ہے۔ میرا پہلا بوائے فرینڈ یہی ہے۔۔
اسکی بات پر جو فخریہ مسکراہٹ مزنہ کے چہرے پر در آئی تھئ وہ جانے کیوں عادل کو بالکل پسندنہ آئی۔
یہ گرل ہے بوائے فرینڈ بس میں ہوں تمہاراتمہیں تو بلکہ اپنی سہیلی کو بھی اچھا سا بوائے فرینڈ ڈھونڈ نے میں مد دکرنی چاہیئے
عادل کی بات پر مزنہ کو اچھا خاصا برا لگا۔ تپ کر بولی
تم میری فکر مت کرو میرے لیئے ماہا ہی کافی ہےمجھے اسکے سوا کسی کی ضرورت نہیں ہے۔یہی میری فرینڈ بھی گرل فرینڈ بھی ۔۔
اسکا انداز عادل کو چیلنج دیتا ہوا لگا تو وہ بھی شرارت بھرے مگر جتانے والے انداز میں کہنے لگا
لڑکیوں کی گرل فرینڈ نہیں بوائے فرینڈ ہوتے ہیں۔ مزنہ بی بی۔۔ اور تم چاہے جتنا بھی حقیقت سے بھاگ لو رہوگی لڑکی ہی اور ایکدن تم نے بھئ لال جوڑا پہن کر رخصت ہونا ہے پیا سنگ۔
اسکے ہلکے پھلکے مگر جتانے والے انداز نے مزنہ کا دماغ کھولا دیا۔ سختی سے بولی
ایسا کبھئ نہیں ہوگا۔
ایسا ہی ہوگا ڈئیر۔ عادل نے مزید چڑایا
اسکی مسکراہٹ پر مزنہ کے تن بدن میں آگ سی لگ گئ
تم اتنے ان سیکیور کیوں رہتے ہو؟ مرد نہیں ہوکیا؟ ڈرتے ہو مقابلہ کرنے سے؟
مزنہ اسکو کندھے سے دھکا دیتے ہوئے بولی۔ قدمیں وہ بس دو ایک انچ ہی بڑا ہوگا پھر بھی یوں دھکا دیا تھا جیسے مسل ڈالے گی چٹکیوں میں۔ عادل کو اسکے دھکے سے ذیادہ جملے غصے میں لے آئے۔
مزنہ تم لڑکی ہو اسلیئے لحاظ کر رہا ہوں۔ تم حد سے گزر رہی ہو۔
عادل کا چہرہ یک لخت سرخ پڑا تھا تو مزنہ بھی لال بھبھوکا ہو چلی تھی ماہا گھبرا کر دونوں کے بیچ میں آگئ
گائز کیا ہوگیا ہے؟ ریلیکس؟ کس فالتوبحث میں الجھ رہے ہو؟
وہ بری طرح گھبرا گئ تھی
ماہا کو بیچ میں آتے دیکھ کر دونوں ٹھنڈے پڑے
عادل بالوں میں انگلیاں پھنسا کر خود کو شانت کرنے لگا تو وہیں مزنہ ماہا کو منصف بنا کر پوچھنے لگئ
میں الجھا ہوں ؟ یہ ہروقت الٹی سیدھی باتیں کرتا ہےمیں جو مرضی کروں اسے کیا۔میں لڑکا ہوں یا لڑکی اس سے ۔۔۔۔
تم لڑکی ہی ہو اور تمہیں کم از کم اب یہ بات خود کو باور کرالینی چاہیئے۔
عادل اپنا غصہ ہمیشہ کی طرح جھٹک کر دوبارہ اس سے مخاطب تھا۔انداز سمجھانے والا تھا مگر مزنہ کو طنز ہی لگا چٹخ کر بولی
تم پاکستانئ مرد ہو ہی میل شائونسٹ۔ کسی پروگریسیو (progressive)انڈیپینڈنٹ (independent) لڑکی کو دیکھتے ہو تو جل اٹھتے ہو اسے لیٹ ڈائون کرنے کو الٹی سیدھی
thats what you are.. larki…
وہ ذرا سا جھک کر اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے زور دے کر بولا
مزنہ نے اسے گھور پھر پیر پٹختی چلی ہی گئ۔ ماہا نے اسے روکنا چاہا
مزنئ ۔۔ مزنئ بات سنو رکو۔
مگر وہ رکی نہیں
ماہا نے گھور کر عادل کو دیکھا
تم کیا فضول بحث لیکر بیٹھ گئے۔ پتہ ہے نا اسے ایسی باتیں نہیں پسند خفا کردیا نا اسے۔ کبھی کبھی تو لگتا وہ بس میری دوست ہے۔۔۔
یہ فضول بحث نہیں ہے۔ دیکھو اسے ۔۔
اس نے تیز قدم اٹھاتی لمحہ بہ لمحہ دور ہوتی مزنہ کی جانب اشارہ کیا
کہیں سے نارمل لڑکی لگتئ ہے؟ اسے دوست سمجھا ہے جبھی چاہتا ہوں وہ نارمل لڑکی بنے۔ لڑکیوں جیسی چال ڈھال اپنائے انکے جیسے کپڑے پہنا کرے۔ یہ آئوں گا جائوں کرنے سے وہ لڑکا نہیں بن جائے گی۔ تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے پیٹھ پیچھے لوگ کیسی باتیں کرتے ہیں اسکے بارے میں ۔پاگل سائیکو تک کہتے ہیں۔مجھے سمجھ نہیں آتا اسکے گھر والے سمجھتے کیوں نہیں اسکا مسلئہ؟ وہ۔خود کو لڑکی سمجھتی ہی نہیں ہے اور تمہیں بھی۔
غصے سے بولتے بولتے وہ ایکدم رکا۔
تم ۔۔ تم بھی نہیں سمجھاتیں اسے۔۔ وہ جھلا سا گیا تھا
ماہا اسکے چپ ہونے کا ہی انتظار کر رہی تھی۔
بول لیا اب میں بولوں؟
ماہا نے کہا تو وہ ہونٹ بھینچ کر دیکھنے لگا۔
تمہیں عجیب لگتی ہے کیونکہ تم نے اسے پچھلے سال دو سال سے ہی دیکھا یا جانا ہے۔ وہ میری بچپن کی دوست ہے۔ ہمیشہ سے ہی ایسی ہے۔اسے لڑکیوں والے شوق نہیں پھر وہ تین بہنیں ہیں انکے گھر کا باہر کا ہر کام یہی کرتی ہے تو تھوڑی سی مردمار ٹائپ ہے مگر یار ہمارا معاشرہ بھی تو دیکھو نا۔ ایسا اسے ہونا پڑا ہے۔بس اور۔۔
اسکی توجیہہ پر عادل بری طرح چڑ سا گیا
ہاں بس وہ ہے ایسی اسکا کچھ نہیں ہو سکتا۔میں تمہیں نہیں سمجھا پا رہا وہ کیا سمجھے گئ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادل سے منہ ماری کے بعد اسکا پھر موڈ خراب ہی رہا۔ اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے چکر میں ماہا بھی عادل سے کھنچی کھنچی اسکے ساتھ ساتھ رہی مناتی رہی کینٹین میں اسکے ساتھ لنچ کیا۔ عادل کو شائد اتنی کوئی پروا بھی نہیں تھی۔ ویسے بھی اسکا ڈیپارٹمنٹ دوسرا تھا آرام سے گھر بھی چلا گیا۔ ہاں ماہا کے منانے سے اسکا موڈ بہتر ہوا اسے اپنی بائک پر خود گھر چھوڑ کر جب گھر جانے کا ارادہ باندھا تو تھکن کے مارے بیگ کا وزن ذیادہ محسوس ہوا۔ مگر ایک اور کام ابھی باقی تھا۔ اس نے گہری سانس لی اور بائک کا رخ حفصہ کے سسرال کی جانب موڑ دیا۔۔۔
حفصہ کے گھر میں غیر معمولی چہل پہل تھی۔ مین گیٹ کھلا ہوا تھا سو وہ آرام سے بائک کھڑی کرکے اندر چلی آئی۔ پانچ سالہ ساراکچھ بچوں کے ساتھ گیراج میں ہی کھیل رہی تھی۔ اسے دیکھ کر کھیل چھوڑ چھاڑ بھاگی آئی اور آکر لپٹ گئ۔
مانی آدئیں۔
اسکے پیار کے بے ساختہ اظہار پر اس نے بھی جھک کر اسکو گود میں اٹھا لیا
حفصہ نے مزنہ اور کنزی کو آنی کہلوایا تھا اس سے کنزی کو تو خیر کنزی آنی ہی کہتی تھی مزنہ اسکی زبان پر نہیں چڑھتا تھاسو وہ مزنہ آنی کو ملا جلا مانی کہنے لگی تھی اسے۔ اور اسے اسکے منہ سے اتنا پیارا لگتا تھا کہ کبھی تصحیح بھی نہیں کی۔
کیسا ہے میرا بیٹا ۔ وہ پیار سے اسکا گال چوم کر پوچھ رہی تھی۔ گلابی فراک میں وہ چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی اسکی بات پر منہ بسورنے لگئ
میں نے نیکر پہننی تھی مما نے فراک پہنا دی گندا برا لگ رہی ہوں میں۔۔
اس نے اتنئ معصومیت سے شکایت لگائی کہ وہ ہنس دی
نہیں تو اتنی پالو لگ رہی ہے سارو۔۔ اس نے جھٹ گال چوم لیئے
مما سے کہو نا مجھے معاذ جیسے کپڑے پہننے۔۔
اس نے اشارے سے اپنے تایا ذاد بھائی کو دکھایا۔ حفصہ کے جیٹھ کے دونوں بیٹے ہی تھے بڑا آٹھ دس سال کا چھوٹا معاذسارا سے چند مہینے کے فرق سے ہی تھا۔ ان دونوں بچوں کے ساتھ کھیل کھیل کر اسکی ایسی خواہش عجیب نہ تھی۔ اس وقت تو خیر ان دونوں بھائیوں کے ساتھ دو تین او ربھی بچے ہی تھے اس وقت اسکو خوب حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔
مانی آپ لڑکی ہو نا۔ معاذ بھی اسکے پاس بھاگا آیا۔
جی نہیں جی لڑکیاں تو ایسے کپڑے نہیں پہنتیں۔
ایک بچے نے اعتراض جڑا۔
یہ لڑکا ہیں انکے بس بال لمبے ہیں۔۔ میرے چاچو نے بھی بڑھائے ہوئے ہیں۔
دوسرا بچہ اسکی بات کاٹ کر بولااور بھاگا بھاگا اسکے پاس آیا
آپ لڑکا ہیں نا؟
اسکے ساتھ باقی بچے بھی تجسس میں کھنچے آئے۔۔
وہ گڑبڑا سی گئ۔ اتنے چھوٹے بچے تھے اوپر سے حفصہ کے سسرالی بھی ڈانٹ کر بھگا بھی نہیں سکتی تھی۔
مانی لڑکی ہی ہیں بس وہ لڑکوں جیسے کپڑے پہنتی ہیں۔
معاذ سے بڑے شاذ نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
کیوں؟
بچے کا سوال تیار تھا۔
اس نے گڑبڑا کر سارا کو گود سے اتارا اور قصدا رعب سے بولی
کیا اتنئ گرمی میں باہر کھیل رہے ہو تم سب چلو اندر ۔۔
اسکے اچانک رعب میں بچوں نے تو کیا ہی آنا تھا الٹا برے برے منہ بنانے لگے
چلو بچو آجائو اندر کھانا لگ گیا ہے۔ تبھی حفصہ لائونج کا دروازہ کھول کر باہر جھانک کر بچوں کو بلانے لگی
اسلام و علیکم آپی
وہ گرمجوشی سے اسکی جانب بڑھی۔ حفصہ کی اس پر نظر نہیں پڑی تھئ اسے دیکھ کر گھبرا سی گئ۔ بچوں کو اندر جانے کا کہتی خود جلدی سے باہر نکل آئی
تم اس وقت خیریت؟ انداز میں گرمجوشی مفقود تھی۔ مزنہ کا جوش جھاگ کی طرح بیٹھنے لگا
ہاں وہ امی نے سوٹ منگوائے ہیں جو سل چکے ہیں۔۔
وہ بھی سنجیدہ سی ہوگئ
اچھا اچھا میں یہیں لیکر آتی ہوں۔
حفصہ نے کہا تو وہ اسکے ساتھ آنے لگی
تم یہیں رکو میں لا رہی ہوں۔ حفصہ نے سے روک ہی دیا
آپی پانی بھی پینا ہے مجھےاتنی دھوپ سے آرہا ہوں۔
مزنہ نے کہا تو وہ جانے کیوں جھلا سی گئ
اچھا پانی بھی لا دیتی ہوں یہیں رکو تم۔
وہ کہہ کر رکی نہیں تیزی سے اندر گھس گئ۔۔ چند ہی لمحوں میں وہ باہر بھی تھئ۔ شائد بھاگتی ہوئی گئ تھی اندر جبھی پانی لانا بھی بھول گئ۔ شاپر تھما کر بولی
یہ لو۔ امی سے کہنا ایک سوٹ ابھئ درزی نے واپس نہیں کیاوہ میں بعد میں بھجوا دوں گی اب تم جلدی سے گھر جائو عامر بوتل لینے گئے ہیں آتے ہوں گے تمہیں نہ دیکھ لیں۔۔
وہ جو پانی کا یاد دلانے لگی تھی اسکی ہدایت پر جھلا گئ
کیوں مجھے نہ دیکھ لیں۔میں کوئی بھوت ہوں جو مجھے دیکھ کر ڈر جائیں گے۔؟
حفصہ کی جان پر بنی تھی اسکی حجت پر چڑ ہی گئ
میری نند کے رشتے کیلئے لوگ آئے ہوئے ہیں نازک معاملہ ہے کوئی اونچ نیچ ہوئی نا سیدھا سارا الزام تم پر دھر دیں گے جانتی تو ہو عامر اور انکی اماں کا مزاج میں کوئی رسک نہیں لے سکتئ۔ اور یہ لو پیسے۔ باہر سے بوتل لے لینا پانی کی۔
اس نے دوپٹے کے کنارے سے بندھے پیسے نکال کر بڑھانے چاہے۔ ہتک کے احساس سے مزنہ کی پیشانی پر کئی بل آگئے۔ شاکی نگاہ سے اسے دیکھتی شاپر لیکر اسکا پیسے بڑھاتا ہاتھ نظرانداز کرتی باہر نکل گئ۔
حفصہ نے اسے پکارا اسکئ پیچھےگیٹ تک آئی مگر وہ لمحہ بھر بھی نہ رکی بائک نکال لے گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکینک کو وہ واپسی پر ساتھ لائی تھی۔ موٹر اپنہ نگرانی میں ٹھیک کروا کر موٹر چلا کر تسلی کرکے جب لائونج کا دروازہ کھولا تو گرم تپتے چہرے پر ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اسے بے تحشا تھکن کا احساس دلا گیا۔ لائونج نیم تاریک تھا یقینا امی اور کنزی سو ہی رہی ہوں گی۔ صبح ساڑھے سات کی نکلی اب ساڑھے پانچ بجے گھر میں واپس قدم رکھ پائی تھی۔ شاپر ابھی تک ہاتھ میں ہی تھے۔ وہ ٹھنڈی سانس بھرتے امی کے کمرے کی جانب چلی آئی۔کنزی شائد اسکے کمرے میں تھئ امی اکیلی بیڈ پر لیٹی تھیں۔یقینا سو ہی رہی ہوں گی۔ اس نےشاپر لا کر امی کے سرہانے رکھے اپنی جانب سے تو خوب احتیاط سے رکھے تھے مگر پھر بھی آہٹ سے انکی آنکھ کھل ہی گئ۔
آگیا میرا بیٹا۔ چلو منہ ہاتھ دھو لو میں روٹی ڈال دیتی ہوں۔
وہ فورا اٹھ کر بیٹھ گئیں۔
کنزی آگئ کالج سے۔ اس نے یونہی پوچھا۔۔
ہاں وہ تو ایک بجے تک آجاتی ہے۔ کھانا وانا کھا کر سو رہی ہے اٹھا دو اب اسے بھی پانچ بج رہے ہیں نماز وماز پڑھے۔
امی بیڈ کے نیچے سے چپل پیر سے نکالتے ہوئے بولیں۔ اس نے بس سر ہلا دیا۔ اورکمرے میں چلی آئی۔
کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا۔ پردے وغیرہ کھڑکیوں پر ڈلے ہوئے تھے ہلکا ہلکا اے سی چل رہا تھا۔ کنزی چادر تانے بے خبر اسکے بیڈ پر سو رہی تھی۔ گرمی کے تھپیڑے کھانے کے بعد ایکدم ٹھنڈک نے اسکا دماغ سن سا کردیا تھا۔ کچھ سجھائی بھی نا دیا۔ بچ کر چلتے بھی بری طرح گھٹنا بیڈ سے ہی ٹکرا گیا۔
آہ۔ وہ گھٹنا سہلاتی وہیں بیڈ کے کنارے ہی ٹک گئ
بیڈ ہلنے سے کنزی کی فورا آنکھ کھلی۔
کون۔وہ آنکھیں کھول کر دیکھنے لگی۔ مزنہ نے جواب نہیں دیا تو فورا اٹھ کر لائٹ جلانے لگی۔
کیا ہوا چوٹ لگی ہے۔ اسے گھٹنا دباتے دیکھ کر وہ فورا پاس چلی آئی
مزنہ نے رخ پھیرنا چاہا مگر اسکی آنکھوں میں تیرتے موٹے موٹے آنسو اس سے چھپے نہ رہ سکے
بہت زور سے چوٹ لگی ہے۔ اس نے سہلاناچاہا مگر وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی
جائو تم میرا کھانا یہیں لے آئو میں منہ ہاتھ دھو لوں ذرا۔۔
وہ تیزی سے کہتئ باتھ روم میں گھس گئ۔ خوب رگڑ رگڑ کر منہ دھویا چہرے پر دنیا جہان کی تھکن گردو غباروہ پانی بھر بھر کر منہ پر ڈالتی رہی۔ جانے کتنی دیر گزر گئ کہ کنزی نے گھبرا کر دروازہ بجا ڈالا
کیا ہوا رو رہی ہو؟ ذیادہ چوٹ آگئ ہے؟
اسکی تشویش پر اس نے خاصا بدمزا ہو کر دروازہ کھولا
کیا ہوا کہاں چوٹ لگی ہے؟
امی بھی پریشان کھڑی تھیں
ذرا سا ٹھوکر لگ گئ اس پر بیٹھ کر روئوں گا بھلا میں؟ وہ قصدا لاپروائئ سے کہتی ہوئی اپنے بیڈ کی جانب بڑھی۔
اس نے مجھے پریشان کردیا۔ امی نے جیسے سکھ کا سانس لیا
مجھے آکر کہتی یے مزنہ کو بہت زور سے چوٹ لگی ہے گھٹنے میں۔ اب باتھ روم سے نکل نہیں رہا رو رہا ہے یقینا
امی دوپٹے سے ہاتھ پونچھتئ اسکے برابر ہی آن بیٹھیں۔
بیڈ پر اسکا کھانا سجا ہوا تھا گرم گرم روٹی اور آلو گوشت۔
اسکی بھوک چمک سی اٹھی۔ ڈھیلے ڈھالے مردانہ کرتےکی آستین ذرا سا چڑھا کر وہ مکمل لاپروا سے انداز میں کھانے میں مگن تھئ
میں نے کہا تھا نکل نہیں رہی رو رہی ہوگی۔
کنزی چبا چباکر بولی۔
میرا بچہ سب کام کرکے آیا ہے جائو اسکے لیئے چائے بنا کر لائو۔ سر میں درد ہو گیا ہوگا۔ امی لاڈ سے اسکے بال سنوارنے لگیں۔
کنزی چڑ سی گئ۔
ہمیں ٹوکتی رہتی ہیں خود اسے بیٹا بیٹا کہتی رہتی ہیں۔ یہ بھئ بیٹی ہے کبھی اس سے بھی چائے بنوا لیا کریں۔۔
تھوڑی کڑک چائے بنانا۔۔ مزنہ نے اسے ہرگز چڑانے کو نہیں کہا تھا مگر اسکا جملہ جلتی پر تیل ڈال گیا تھا۔
آپکو اسکے لاڈ اٹھاناہے خود اٹھائیں۔مجھ سے مت اٹھوائیں۔
۔ میں کالج سے آتی ہوں تو اپنے لیئے روٹی بھئ خود ڈالتی ہوں اسے ٹرے میں لگا کر کھانا پانی دیتی ہیں اور۔۔۔
تم بھی پھر کسی دن بائک پر بنک ونک کے چکر لگائو بجلی گیس کا بل ٹھیک کروانے جائو مکیکنک کو بلا کر لایاکرو سودا سلف لانے کی ذمہ داری اٹھائو پھر مقابلہ کرنا۔ کبھی بھائی کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا مزنہ نے اس پر یہ حال ہے تمہارا
امی نے ایک نہ رکھی لتاڑ کر رکھ دیا۔کنزی مگر آج چپ ہونے والی نہ تھی۔فٹ سے بولی
بھائی کی کمی ہے امی ہماری زندگی میں۔بھائی نہیں ہے کوئی میرا اور یہ یہ سب کچھ کر کے بھی بھائی نہیں بن گئ ہے ہمارا اور دنیا میں کیا لڑکیاں یہ سب کام نہیں کرتیں وہ سب اسکی طرح کیا لڑکوں والے کپڑے پہنتی ہیں یا چال ڈھال بدل لیتی ہیں۔؟ آپکو احساس ہی نہیں ہے کہ اسکے اس حلیے کی بنا پر
بس کرو خاموش ہو جائو
مزنہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔۔ بھاری گمبھیر آواز میں وہ چلائی تو کنزی تو کنزی امی بھی ایکدم چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگ گئیں۔
……………………………
ختم شد۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *