Discovering the Wonders of Korea Through Urdu Web Travel Novels

Salam korea by

vaiza zaidi

قسط 39

وعلیکم السلام ، میں ٹھیک آپ یہاں کیسے۔؟ 

تھوڑا اٹک کر سہی اس نے ہنگل میں پوچھا تھا۔ علی کی مسکراہٹ گہری ہوگئ۔ 

چھٹیاں گزارنے آیا ہوں۔ 

ہاں ظاہر ہے۔ اریزہ کھسیائی۔ احمقانہ سوال تھا۔ 

اس نے فون بند کردیا تھا۔

کھانا کھاچکی ہو؟

وہ اپنے لیئے کھانا لیکر آیا تھا اخلاقا پوچھا۔ وہ سوچ میں پڑگئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریستوران کے اوپر بنے کمروں میں سے ایک میں وہ رہ رہا تھا۔ راستہ ریستوران کے ایک کونے سے اوپر کو جاتا تھا۔ اس نے چابی سے تالہ کھولا اور لائٹ جلا دی۔ ریستوران اس وقت خالئ پڑا ہوا تھا۔ سب سے پہلی قریبی میز پر اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے وہ خود اندر سے پلیٹیں چمچ لیکر آیا تھا۔

اسے کورین بلیک بین نوڈلز کہتے ہیں۔ یہ عموما حلال نہیں ہوتی کیونکہ اس کے ساس میں بھنا ہوا سور شامل ہوتا ہے لیکن میں یہاں قریبئ ڈھابے میں جا کر خود اپنے لیے بنا کر لایا ہوں۔ 

وہ بات برائے بات بتا رہا تھا۔

اس نے سر ہلا دیا۔ اچھی خاصی مقدار میں کھانا تھا۔اس نے تھوڑا سا اپنی پلیٹ میں نکال لیا۔

کبھئ لال لوبیے کا سالن نوڈلز کے ساتھ نہیں کھایا تھا ہاں چاول کے ساتھ اکثر امی بناتی تھیں خاصا مزے کا بناتئ تھیں۔

وہ بہت مہارت سے چاپ اسٹکس کا استعمال کر رہا تھا۔ وہ کانٹے میں نوڈلز پروتی تو لوبیا بھاگ جاتا۔

اسکی جد و جہد کو دیکھتے علی کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ در آئی تھی۔ جسے وہ خوبی سے چھپا گیا۔

میں نہیں کھا سکتی۔ اس نے پلیٹ پرے کردی۔

مجھے خود سے گھن آرہی ہے۔

اسکی شکل پر حقیقتا بے چارگئ تھئ۔

تم اتنا محسوس کیوں کر رہی ہو؟ تم نے جان بوجھ کر تو نہیں کھایا۔ غلطی ہو جاتی ہے۔اسی وقت  الٹی کرلیتیں۔ اتنا وہم ہو رہا تھا تو

علی نے سبھائو سے کہا تو وہ شرمندہ لہجے میں بولی

مجھے خیال نہیں آیا۔ میں نے خود کو یہی سمجھایا غلطی ہوگئ بھوک میں تو مردار بھی حلال ہوجاتا مگر مجھے الٹی کر لینی چاہیئے تھی۔ وہ مایوس نظر آرہی تھی۔ پھر خیال آیا تو جوش سے بولی

اب کرلوں؟

کھانا کھائے کتنا وقت ہوگیا؟

علی سنجیدگئ سے پوچھ رہا تھا۔

دو تین گھنٹے ہوگئے۔

اس نے اندازا سامنے وال کلاک کو دیکھتے بتایا اس وقت رات کے سوا بارہ ہو رہے تھے۔

اسکے چہرے کو دیکھتےعلی کو شرارت سوجھئ۔ چاپ اسٹکس رکھ کر تاسف سے سر ہلاتے بولا۔ 

کھانا تین گھنٹے میں ہضم ہو جاتا ہے۔ اب تو سور کے اجزاء تمہارے خون تک جا چکے ہوں گے۔ ہر آرگن تک توانائی پہنچ چکی ہوگی۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔

اریزہ کا رنگ واضح طور پر اڑا تھا۔ آنکھوں میں پانی در آیا۔

ہیں ۔۔ یعنئ سور میرے خون میں بھی سرائیت کرچکا ہوگا اب تک؟مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ۔ 

اس نے میز پر کہنیاں ٹکا کر ہتھیلیوں میں چہرہ چھپا لیا شائد رونے ہی والی تھئ۔  علی بھونچکا سا اسکو دیکھتا رہ گیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے اسکے گرد کا منظر بدلتا گیا۔ گائوں کے عام سے فرنیچر والے معمولی ریستوران کی جگہ سیول کے ایک لگژری ہوٹل نے لے تھی۔ اسکے مقابل اب  اریزہ کی جگہ رچل نے لے لی تھی دھیمے بجتے پیانو خوابناک ماحول  رچل کا پسندیدہ پاستا اور اسٹیک سامنے سجا تھا جب اس نے ہلکا سا گلا کھنکارا تھا اور اسے کہا تھا۔ 

رچل ہمارے ساتھ کو پانچ سال مکمل ہوگئے ہیں میں اب یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ میں مزید اب اس طرح تمہارے ساتھ تعلق نہیں نبھا سکتا۔ معزرت رچل۔

رچل کے ہاتھ سے کانٹا چھوٹ کر پلیٹ پر جا گرا تھا۔ اسکی چندی آدھے چاند جیسی آنکھوں میں حیرت امڈ آئی تھی۔ 

علی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ 

اتنا عرصہ میرا خیال ہے کافی تھا ہم دونوں کیلئے گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بن کے رہنے کے لیئے ہمیں اب اس رشتے کو سلیقے سے ختم کردینا چاہیئے۔ اور۔

اور۔ رچل کی آواز جیسے کسی کنوئیں سے آئی تھی۔ اسکے چہرے پر زلزلے سی کیفیت تھی۔ 

علی اٹھ کر اسکے مقابل آگیا تھا۔ 

رچل کے چہرے سے جیسے کسی نے سب توانائیاں نچوڑ لی تھیں۔ 

علی کے چہرے کی سنجیدگی اسے معاملے کی سنگینئ محسوس کرا رہی تھی۔ 

علی اسکے قریب آکر گھٹنے کے بل جھکا تھا 

اور ہمیں اب ایک مستحکم رشتے کی بنیاد رکھنی چاہیئے۔ مجھ سے شادی کروگی رچل؟

جیب سے انگوٹھئ نکال کر اسکی جانب بڑھاتے اس نے ڈرامائی انداز سے کہا تھا۔ اسکی آنکھوں میں اب شرارت مچل رہی تھی لبوں پر مسکان دبی تھی۔

رچل اتنی حیران ہوئی تھی کہ ہاتھ بڑھانے کی بجائے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی رہی۔ 

رچل۔

اسے پکارنا پڑا۔

رچل کو جیسے ہوش آیا۔ کتنے سارے آنسو اسکے چہرے پر پھیلتے چلے گئے۔ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر بلک اٹھئ تھی۔ 

علی کو لگا تھا ذیادہ سے زیادہ غصہ ہوگی اس شرارت پر مگر اسکا ردعمل اتنا شدید تھا وہ گھبرا کے اٹھ کھڑا ہوا

رچل ۔ 

اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہ اسے مخاطب کر رہا تھا مگر وہ یونہی دھواں دھار روتی رہی 

اسکا سرپرائز اسکے گلے پڑ گیا تھا ریستوران میں موجود سب لوگ اسکو دیکھ رہے تھے وہ کھسیانا سا ہو کر سب سے اشارے میں جھک کے معزرت کرنے لگا۔

روتے روتے اس نے خود ہی اپنی آنکھیں پونچھیں۔ پھر ذرا سا نگاہ اٹھا کے اسے دیکھ کر بولی۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ پہلے سور کھاتے تھے؟

اس نے ہنگل میں سوال کیا تھا۔ علی کیلئے اسکا سوال غیر متوقع تھا۔وہ چونک کے حال میں واپس آیا تھا۔ اریزہ سنجیدگی سے اس سے پوچھ رہی تھی۔دونوں ہاتھ میز پر ٹکائے وہ تاسف بھرے تاثرات چہرے پر سجائے یقینا اپنا دھیان بٹانے کو پوچھ رہی تھی۔

ہاں۔ اس نے مختصرا جواب دیاحسب توقع اگلا سوال اسی سے پیوستہ تھا۔

آپکو سور کا گوشت پسند تھا؟ وہ غور سے اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔

ہاں۔۔  اس نے حیرت سے اسکو دیکھا جیسے اس سوال کا مقصد سمجھ نہ آیا ہو

آپکا دل نہیں کرتا اسے دوبارہ کھانے کا؟

اس کے سوال پر اسے ہنسی آگئ تھئ۔ مگر اسکی سنجیدگی دیکھ کر وہ باقائدہ چاپ اسٹکس رکھ کر نپا تلا جواب دینے لگا

اچھا سوال ہے۔ مگر میں بہت سے ایسے کام جو پہلے کرتا تھا اب نہیں کرتا انسان ہوں دھیان جاتا ہے مگر مجھے خود پر قابو رکھنا ہے ۔جب اسلام کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا تو سب سے ذیادہ جس چیز نے متاثر کیا تھا مجھے وہ یہی تھی کہ اسلام آپکو ہر چیز میں ایک حد مقرر کرکے دیتا ہے۔ جس سے باہر نہیں نکلنا۔ خود پر قابو رکھنا ہے اور یقین کرو ان حدوں سے باہر بالکل بھی لطف نہیں بلکہ آپ جب یہ سوچتے ہیں کہ آپکو کبھی کسی معاملے پر رکنا نہیں ہے وہاں سے آپ ہر حد پار کرکے بھی غیر مطمئن ہی رہتے ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں

pleasure seekers always seek pleasure contentment is not for them۔

اس نے کندھے اچکا کر کہا تھا۔ اسکی باتیں دل چھو سی گئی تھیں۔

 آپکو روکنا پڑتا ہے خود کو آپکو رکنا ہی پڑتا ہے۔ 

وہ بےخیالی میں بڑبڑا اٹھئ

وہ اس ایک خیال پر شرمندہ ہو رہی تھی جب یہ معلوم ہو جانے کے بعد بھی وہ متذبذب سی اپنا پیٹ بھر لینا چاہتی تھی کہ کیا ہوا سور ہے بھوک بھی تو بہت ہے۔۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے دس بج رہے تھے جب اس نے پولیس اسٹیشن میں اپنا بیان رکارڈ کروایا تھا۔ فوری طور پر سیموئیل صاحب کو اطلاع دی گئ تھی اور وہ آدھے گھنٹے کے اندر موجود تھے پولیس اسٹیشن میں۔ 

کہاں ہے میری بیٹئ۔ 

پولیس افسر سے انہوں نے بے تابی سے پوچھا تھا ۔ 

سنتھیا کو انہوں نے کمرے میں بٹھا رکھا تھا ایک پولیس افسر اس سے ہر طرح کا بیان لے چکا تھا اب یقینا اسے باپ سے ملنے کی اجازت تھی۔ 

پولیس افسر نے جیسے ہی دروازہ کھولا وہ حواس باختہ سے سنتھیا کی جانب بڑھے

سنتھیا؟ تم ٹھیک ہو؟ کہاں تھیں بیٹا۔ 

اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیکر وہ بے حد فکر مند سے پوچھ رہے تھے۔ 

پاپا۔ وہ انکا ہاتھ چومتے وہ بلک اٹھی تھی۔ انکے سینے سے لگ کر اس نے سب آنسو بہا ڈالے تھے۔

چٹاخ۔۔ 

اتنئ زور کا تھپڑ تھا کہ اسکا پورا چہرہ گھوم گیا تھا۔ وہ ایک جھٹکے میں حقیقت کی دنیا میں واپس لا پٹخی گئ تھئ۔

ایک کے بعد دوسرا۔ وہ پہلے جھٹکے سے سنبھلی نہ تھی۔ اسکے برابر ہی بیٹھے کم سن نے اسکو فورا سنبھالا تھا۔ دوسرا تھپڑ بھی پہلے کے ساتھ تھا 

تیسرا اس نے ایکدم خود آگے آکر اسے بچاتے خود اپنے کندھے پر کھایا تھا۔ چوتھا پانچواں۔ پولیس افسر نے سیموئل صاحب کو زبردستی پکڑ کر پیچھے کیا تھا۔ وہ چلا رہے تھے اپنی زبان میں۔ برا بھلا کہہ رہے تھے۔ کم سن اور وہ پولیس افسر انکی زبان سے بے بہرہ تھے مگر سنتھیا کے دل میں انکا لفظ لفظ ترازو ہو رہا تھا۔ وہ اتنی ششدر تھئ کہ گال پر ہاتھ تک نہ رکھ سکی بس حیرت سے اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی جس نے کبھی بچپن میں کبھی ہاتھ اٹھانا تو دور جھڑکا تک نہ تھا۔

ٹوں ں ۔۔

اسکا ذہن سائیں سائیں کر رہا تھا

پہلے کیا کیا کہا اسے اسکا ذہن یاد کرنےسے قاصر تھا۔۔ وہ ابھی بھئ چپ نہ ہوئے تھے 

اپنی مرضی سے روپوش تھئ یہ کہا ہے تم نے پولیس کو؟ ایڈون کا کوئی قصور نہیں؟ پھر کس کا قصو رہے ہمارا تمہارے ماں باپ کا جنہوں نے تم جیسی اولاد پیدا کی؟

وہ چیختے چیختے بے حال ہو رہے تھے۔ 

پہلے کم ہماری ناک کٹوائی تھی تم نے؟  اس بد ذات ایڈون کو کیا کہوں میں جب میری بیٹی ہی ایسی ہے۔ 

وہ سر پر ہاتھ رکھ کر روپڑے تھے۔ پولیس افسر نے انہیں سہارا دے کر کرسی پر بٹھا دیا تھا۔مترجم سے اشارے سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے اس نے سر جھکا لیا۔اب ان باتوں کے کیا ترجمے کیئے جاتے۔

کین چھنا۔ کم سن اسکو کندھوں سے تھامے جھنجھوڑ رہا تھا وہ سکتے کی سی کیفیت میں بیٹھئ زمین تک رہی تھی۔

ہر برا خیال آیا مجھے کہیں اس نے مار تو نہیں دیا کاش مار دیا ہوتا اس رزیل نے میں اسے کوس تو سکتا تھا۔ کاش تو مرجاتی سنتھیا۔ 

وہ میز پر دونوں کہنیاں ٹکائے سر پکڑے رو رہے تھے۔ 

اریزہ کے باپ کو کیا کچھ نہیں کہا اس نے کس یقین سے کہا تھا میری بیٹی کبھی کچھ غلط نہیں کر سکتی۔غرور تھا اسے اپنی بیٹی پر میں نہیں کہہ سکتا ایسے میری بیٹی اسکی بیٹی جیسی نہیں ہے۔ 

وہ سر پیٹ رہے تھے ۔ انکے ساتھ آیا مترجم انکو پانی دے رہا تھا۔ انکا فشار خون اس وقت بلند ہو چکا تھا  

سنتھیا کا سانولا چہرہ پہلے سرخ اب سیاہ پڑ چکا تھا۔ کم سن اسکے لیئے پانی لیکر آیا تھا۔ وہ خالی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

ہم قانونی کاروائی مکمل کر لیتے ہیں۔ سیموئل صاحب کا وکیل پراسیکیوٹر کے ہمراہ داخل ہوا تھا۔دونوں نے کئی کاغذات میز پر پھیلا دیئے تھے۔ 

ہنگل اور اردو میں ہونے والی اس گفتگو کو وہ سن تو رہی تھی مگر ذہن سمجھنے سے قاصر تھا۔ 

یہ کیا کہہ رہے ہیں کم سن۔

کم سن کی کلائی اپنی کمزور مٹھی میں جکڑ کر وہ پوچھ رہی تھی 

یہ کہہ رہے ہیں تم کو فورا سے پیشتر واپس بھجوادیا جائے گا۔ 

کم سن نے گہری سانس لیکر بتایا تھا اسے۔ 

سنتھیا کا دل سکڑ کر پھیلا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنتھیا کو ایمبیسیڈر گاڑی میں اسکے والد کے ساتھ بٹھایا گیا تھا۔ آدھے پونے گھنٹے کی کاغذی کاروائئ کے بعد انہوں نے بہت جلدی معاملات طے کیئے تھے۔ اسکی اب یہاں کوئی ضرورت نہیں تھی پھر بھی وہ سنتھیا کے ساتھ کھڑا رہا تھا۔ سنتھیا کے والد نے ناگواری کے اظہار کے طور پر اسے گھورا بھی تھا مگر وہ گیا نہیں۔ وہ الجھے اتنے تھے کہ انہوں نے اسے وہاں سے باہر نکلوانے میں دلچسپی بھی نہیں لی۔ بہر حال رات کے بارہ بجے وہ بالکل فارغ تھا۔ اب یا تو گھر جاتا یا ۔۔ وہ ڈھیلے ڈھیلے قدم اٹھاتا گاڑی کی طرف بڑھتا سوچ رہا تھا۔ سنتھیا کا سوجا چہرہ اسکی نگاہوں سے ہٹ نہیں رہا تھا۔گاڑی اسٹارٹ کرکے مین روڈ تک آتے وہ بہت بوجھل سا محسوس کر رہا تھا۔ 

اسے بس اتنا سمجھ آیا تھا کہ وہ اسکے بیان پر غصے میں آئے تھے۔ مگر اتنا غصہ۔ 

وہ سر جھٹکتا پھر اسی کی طرف خیال جاتا۔ 

بہر حال وہ اسکے باپ ہیں۔ مارا غصے میں ہوگا مگر اب وہ اپنوں کے ہاتھوں میں ہے یقینا اسکا خیال بہتر رکھیں گے۔

وہ خود کو سمجھا رہا تھا۔

کل کال کرکے پوچھوں گا کب جارہی ہے پاکستان۔ 

اس نے ارادہ کیا تو خیال آیا۔اس کے پاس سنتھیا کا کوئی رابطہ نمبر اب نہیں تھا۔

اس نے سر جھٹکا۔ اب رابطہ کرنے کی ضرورت بھئ نہیں تھی۔ اس نے دوست نہ ہوتے ہوئے بھی جہاں تک جتنی مدد کر سکتا تھا کردی تھی ۔ 

اس نے اطمینان کی سانس لی۔ 

یونہی سر گھما کر اپنے برابر خالی نشست کو دیکھا۔ جانے کیا ہوا آگے سے گاڑی یو ٹرن کی طرف موڑ لی تھی۔ پولیس اسٹیشن سے نکلتے اس بار وہ اتنا بے چین سا دکھائی نہیں دے رہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح اسکی بازو سن ہونے سے آنکھ کھلی تھی۔وہ چت پڑا تھا اسکےکندھے پر گھنے بالوں والا سر تھا۔اس نے پہلے تو پلکیں جھپک کر جگہ پہچاننی چاہی۔ مانوس تھئ۔ پھر اپنے شل کندھے کو ہلانا چاہا ۔ 

اونہوں۔ کم سن کسمساکر مزید اس سے چمٹ گیا۔۔

کم سن۔ اٹھو۔ 

اس نے کندھا ہلایا وہ ٹس سے مس نہ ہوا

دو تین بار ہلانے پر جاگ کر بھی ڈھٹائی سے پڑا رہا تو اسے قومئ زبان استعمال کرنی پڑی 

کمسانا۔ اٹھ۔۔ میرا بازو شل ہو چکا ہے کیہہ سیکی اٹھا جائو اب 

اس نے اپنی ساری توانائی لگا کر بمشکل اسے دھکیلا اور بیٹھ کر اپنا کندھا سہلانے لگا۔

اسی کیہہ سیکی سے رات بھر ایسے لپٹ کر سوئے ہو جیسے میں تمہارا یوجا شنگو( گرل فرینڈ)  ہوں ۔

کم سن انگڑائی لیکر بیدار ہوتے اسے چھیڑنے لگا۔

میرے بالوں پر ہاتھ پھیر رہے تھے کیا سمجھ رہے تھے مجھے اریزہ؟

اس نے شوخی سے چھیڑا

ہیون کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ در آئی

نہیں اتنا خوش فہم میں نہیں۔خواب بھی ایسا نہیں آتا مجھے۔  

اب کیسی ہے طبیعت؟ 

کم سن نے اسے سنجیدہ ہوتے دیکھ کر موضوع بدلا

کیا ہوا تھا مجھے؟ 

وہ الٹا اس سے پوچھنے لگا

پی کے تیراکیاں کر رہے تھے فل پارٹی موڈ اون تھا تمہارا پھر جو بخار چڑھا ہے تمہیں۔ صبح کے وقت کہیں جا کر کم ہوا تھا۔تولیا رکھتا رہا ہوں میں رات بھر۔ 

اس نے بیڈ کے پیتھیانے پڑی باتھ ٹاول کی جانب اشارہ کیا۔ فل سائز باتھ ٹاول تھی جسکو اتنا بھگویا گیا تھا کہ اب وہاں سے بیڈ گیلا بھی ہو رہا تھا۔ 

ہیون اسے گھور کر رہ گیا۔ 

شکریہ ۔  اس نے طنزیہ ہی کہا تھا۔ پھر انٹرکام پر صاف تولیئے لانے کا اور ناشتے کا انتظام کرنے کا کہہ کر نہانے گھس گیا۔ 

نہا کر نکلا تب بھی کم سن بیڈ پر چت لیٹا سوچوں میں گم تھا

کیا سوچ رہے ہو؟ 

اس نے یونہی پوچھا تھا۔ باتھ گائون پہنے وہ بال جھٹک رہا تھا۔ تبھئ روم سروس پر معمور دو ویٹر اسکی ہدایات کے مطابق صاف تولیئے اور ناشتہ لیکر داخل ہوئے۔ 

تولیہ لیکر سر جھٹکتے وہ مستقل کم سن کو دیکھ رہا تھا جو ڈھیلے ڈھالے انداز میں اٹھ کر بیٹھا تھا۔ ہیون نے ٹرالی بیڈ کے قریب کی تو اس نے بے دلی سے ایک سلائس اٹھا کر اس پر جیم لگانا شروع کردیا۔

تمہیں کیا ہوا ہے؟ ہیون نے حیرت سے ہلایا اسے۔

میری نگاہوں سے سنتھیا کا چہرہ نہیں ہٹ رہا۔  

اس نے مختصرا کہا 

کون سنتھیا؟ ہیون نے ذہن پر زور ڈالا

اور کیوں نہیں ہٹ رہا اسکا چہرہ۔؟ وہ اپنے لیئے سلائس اٹھانے لگا تو کم سن نے ٹھںڈی سانس بھرتے  سلائس کا بڑا سا لقمہ لیتے اعتراف کیا

مجھے پیار ہو گیا ہے سنتھیا سے۔ 

کون سنتھیا۔ اب تو ہیون کو دماغ کے گھوڑے دوڑانے پڑے۔اور وہ دوڑتے دوڑتے جہاں رکے وہیں ہیون کے ہاتھ سے سلائس چھوٹ کر ٹرالی پر جا گرا۔ 

وہ اریزہ کی دوست؟ وہ اچھل پڑا۔

کم سن نے اثبات میں سر ہلایا۔اور باقی ماندہ سلائس بھئ نگل لیا۔

ہیون نے سر تھام لیا۔ 

یک نہ شد دو شد۔ 

یہ کیا ماجرا ہے؟ وہ اب اس سے سب اگلوائے بنا رہنے والا نہیں تھا سچ تو یہ ہے کم سن بھی دل ہلکا کردینا چاہتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گوارا کی دفعہ تو تم چھوٹے تھے مجھے بھی لگتا تھا یون بن اور گوارا کا ساتھ بس سال دو سال پر ہی محیط ہوگا۔تو تمہارا چانس بن سکتا تھا مگر دوبارہ بھئ ایسی لڑکی پر ہی دل آیا ہے جو اپنا دل کسی اور کو دے چکی ہے یہ تمہاری منحوسیت ہے یا تم ہو ہی دوسروں کی چیزوں پر نیت لگانے والے انسان۔ 

گاڑی ڈرائیو کرتے ہیون اسکا صریحا مزاق اڑا رہا تھا۔ہیون کے کہنے پر اس نے بلا تکلف گردن پر لگائی تھی۔

سوچ کے بولو ۔ میں کبھی بھی آوارہ مزاج لڑکا نہیں رہا۔ 

کم سن نے یاد دلایا

تو منحوس ہو یعنئ۔ ہیون نے سمجھ کر سر ہلایا

تم سے کم منحوس ہوں میں۔ چلو ناکام سہی دوسری بار کوشش کر رہا ہوں تم تو کوشش کیئے بنا ہار مانے ہوئے ہو۔

کم سن نے اسے جوش دلانا چاہا۔ 

ہیون نے سر جھٹکا۔ 

جتنا سخت انداز اور سخت الفاظ میں اریزہ اسے وہ سب کچھ کہہ رہی تھی وہ دن بلکہ وہ رات کا وقت وہ یاد بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ 

کیا کوشش کروں ؟ لیس ہوجائوں اسکے آگے پیچھے پھروں اسکی ناک میں دم کردوں ؟ تاکہ وہ مجھے پیونتی ( ٹھرکی) ثابت کرکے پولیس میں پکڑوا دے۔ 

ہیون کا انداز بظاہر ہلکا پھلکا تھا

مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ وہ لڑکی تمہیں انکار کیوں کر رہی ہے۔ سچ پوچھو ہم سب کو لگتا تھا تم دونوں کپل ہو اور بس کسی دن ہم سب کے سامنے اعتراف کرلوگے۔ 

ہیون اسکی بات پر کیا کہتا۔ کتنے لمحے اسکی نگاہوں کے سامنے گزر گئے جب اسے لگا تھا کہ اریزہ بھی اسکی قدر کرتی ہے اسے پسند کرتی ہے مگر اریزہ کے ۔۔ 

دیکھ کر۔۔ 

کم سن نے چیخ کر کہا تو جیسے اسے ہوش آیا۔ وہ بے دھیانی میں سرخ اشارے کو پار کرنے چلا تھا جھٹ بریک لگائی۔

یون بن کہاں ہے؟ یہ ڈرائیور ڈیوٹی ہم کیوں کر رہے ہیں؟ 

ہیون نے پوچھا تو کم سن نے گہری سانس لی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون سے انکی ملاقات کمرے میں کروائئ گئ تھی۔ اسکے ہاتھوں میں ہتھکڑی ابھی بھی تھی

باقائدہ ضمانت اور دیگر قانونی کاروائی تک یون بن انکے وکیل کے ساتھ لگا رہا تھا۔ 

ایڈون نے جن نظروں سے ماموں کو دیکھا تھا وہ نظر چرا گئے۔ 

کیسے ہو بیٹا؟ 

انکے سوال کا جواب وہ مجسم خود تھا جبھی اس نے جواب نہیں دیا آکر کرسی پر بیٹھ گیا تھا

پولیس افسر اسکو بٹھا کر خود باہر نکل گیا تھا

سنتھیا کے دل کو دھکا سا لگا۔ اسکی آنکھوں کے گرد حلقے نمایاں تھے رنگت سیاہی مایل ہورہی تھی وہ پہلے سے کافی کمزور دکھائی دے رہا تھا۔ آنکھوں میں رت جگوں کی سرخی چہرے کی پریشانی سب چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ مجرم وہ ہے۔ اس نے سر جھکا لیا۔

میں ذرا بات کرکے آتاہوں کتنی دیر ہے۔ 

سیموئل قصدا ان دونوں کو بات کرنے کا موقع دے کر اٹھ کر چلے گئے۔ 

ایڈون۔ اس نے ہمت کرکے پکارا۔ ایڈون نے اسکے چہرے پر نظریں جما لیں۔

خوش ہو مجھے دیکھ کر؟ یا مزید کوئی چرکے لگے دیکھنے کی خواہش ہے تمہیں؟ 

وہ زہر خند لہجے میں بولا تھا۔ سنتھیا نے سر جھکا لیا۔

تمہارا باپ مجھے قاتل تک بنا چکا تھا ، سگا بھانجا ہوں میں وہ یہ رشتہ تک بھلا کر میرے ماں باپ تک کو جانے کیا کچھ کہہ چکے ہیں۔ کہ اسپتال میں پڑی ہے ماں میری اور میں یہاں۔۔ 

اس نے بے بسی سے اپنے ہتھکڑیوں میں جکڑے ہاتھ میز پر مارے۔ سنتھیا کی آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے تھے۔

مجھے نہیں پتہ تھا کہ۔ 

اس نے صفائی دینی چاہی مگر وہ مزید طیش میں آگیا

کیا نہیں پتہ تھا؟ وہ چلایا نہیں تھا چلانے جتنی توانائی تک باقی نہ تھئ اس میں مگر اسکے لہجے کی سختی گھٹی گھٹی سی آواز سنتھیا کا دل سہمائے دے رہی تھی۔

کیوں کیا تم نے ایسا؟ کیا ملا مجھے برباد کرکے؟ پچھلے پندرہ بیس دن سے میں نہ میں کام پر گیا ہوں نہ اکیڈمی یہاں سے چھوٹ بھی جائوں تو گوشی وون کا کرایہ ڈیو ہے وہ نکال چکے ہوں گے مجھے۔ سڑک پر لا کھڑا کیا ہے تم نے مجھے۔ کوئی اندازہ ہے تمہیں؟ میری بہنیں میری ماں کس اذیت سے گزر رہی ہیں؟ میں نے تو کچھ نہیں بتایا تھا انہیں تمہارے باپ نے دھمکیاں دی تھیں یہ تک کہا کہ میں نے یقینا تمہاری جان لے لی ہے میری ماں کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ڈیم اٹ۔

اسکی آواز پھٹی پھٹی سی تھی۔ جزبات کی شدت سے کانپ رہا تھا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے وہ خود بے خبر تھا۔ 

مجھے معاف کردو۔ 

سنتھیا بلک اٹھئ ۔ ہچکیاں لیتے ہوئے صفائی دینے لگی

میں نے صرف اتنا سوچا تھا کہ کچھ دن تم سے دور رہوں گی تو ت۔۔تم شائد۔۔۔۔۔ میری۔۔۔۔۔ 

وہ جملہ پورا نہ کرسکی۔

کچھ دن دور رہوگی تو وقت گزر جائے گا 

اسکا جملہ اچک کر وہ استہزائیہ انداز میں سر جھٹک کر بولا

پھر ابارشن نہیں کروانا پڑے گا۔

اچھا منصوبہ بنایا تم نے مبارک ہوتمہیں۔ تم کامیاب رہیں۔ 

اپنے ہتھکڑی والے ہاتھوں کو جوڑ کر اس نے تالی بھی بجا ڈالی۔

 اب پالو اس بچے کو۔ جیسے تیسے کرکے۔ اب میرے دل میں تمہارے لیئے کوئی جگہ نہیں۔ تم نے مجھ میں اور اس بچے میں اس بچے کو چنا اب یہ بچہ ہی رہے گا بس تمہارے پاس۔ میں نہیں۔۔۔

ایسا مت کہو ایڈون۔ وہ رونا بھول کر گڑگڑائئ

میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔ میں تمہارے بغیر جی نہیں پائوں گی۔ پلیز مجھے معاف کردو۔ 

اس نے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔

میں ابارشن کرالوں گی پلیز مجھ سے خفا مت ہو۔ میں اس بچے کو ۔۔ آنسوئوں میں اسکا جملہ دب گیا تھا۔

وہ ہونٹ بھینچے اسکی شکل دیکھتا رہا۔ اسکا دل پگھل نہیں رہا تھا۔سنتھیا کی حالت کونسا ٹھیک تھی۔اسکی رنگت بالکل سیاہ پڑی ہوئی تھی وہ بجائے وزن بڑھنے کے وزن گھٹا چکی تھی اپنا۔ مگر اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا سنتھیا کو اسکے چہرے کے پتھریلے تاثرات ڈرا رہے تھے۔ اسکا دل سہما جا رہا تھا۔

اسکا بس نہ چلا تو آئیم سوری ایڈون کہہ کروہ میز پر سر رکھ کر روئے چلی گئ۔

مت روئو سنتھیا۔ 

ایڈون بولا بھی تو کیا بیزاری سے بھرپور انداز میں ٹوکا تھا اسے۔ 

ہر دفعہ رو کر تم اپنی سب غلطیاں دھو نہیں سکتیں۔ 

اسکا انداز اتنا بے رحم تھا کہ سنتھیا کی ہچکیاں تھم سی گئیں۔

تم اور تمہاری وجہ سے تمہارے باپ نے جو کچھ میرے اور میرے ماں باپ کے ساتھ کیا ہے میں اسے کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ 

سنتھیا کی سانسیں تک سینے میں اٹکنے لگی تھیں وہ دم سادھے اسکی شکل دیکھنے لگی۔ 

سنتھیا تم اب میری کچھ نہیں لگتیں۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔ 

سنتھیا حق دق اسکی شکل دیکھتی رہ گئ تھئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون اور کم سن انکا پولیس اسٹیشن سے باہر ہی کھڑے انتظار کررہے تھے۔ 

اتنی دیر؟ 

یون بن چھوٹتے ہی بولا۔ 

ہیون اور کم سن گاڑی سے اترنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر یون بن نے موقع نہیں دیا۔کم سن کا دروازہ بند کرتے ہوئے پچھلی سیٹ پر پہلے ایڈون کو بٹھایا پھر خود بیٹھ کر بولا

نفرت آرہی ہے پولیس اسٹیشن سے ہم دونوں کو نکلو یہاں سے بعد میں مل ول لینا

ہیون نے کندھے اچکا کر حسب ہدایت گاڑی چلا دی

کہاں جانا ہے؟ ہیون نے پوچھا

گوشی وون۔ 

ایڈون کی منحنی سی آواز نکلی تھی۔

کیوں؟ کم سن چونکا

میرا مطلب ہے تم سنتھیا سے نہیں ملنے جارہے؟

نہیں۔ ایڈون کا جواب مختصر ترین تھا۔

اسکے ماموں اور سنتھیا اس سے مل چکے ہیں دونوں اسی ہفتے واپس جا رہے ہیں پاکستان۔

ایڈون کا موڈ سمجھتے ہوئے یون بن نے جواب دیا

مگر کیوں؟ اسکی حالت ٹھیک نہیں وہ سفر کیسے کرے گی؟

کم سن کے منہ سے پھسلا تھا۔ 

اتنے دنوں سے بھی تو سفر کر رہی تھی آرام سے  چھپی بیٹھی تھی۔ اگلوں نے ایڈون کا شجرہ کھنگال لیا پینلٹی پوائنٹس الگ لگ گئے جیل کے۔ اسکا تو کیئریر تباہ ہوگیا ہے۔ اب کیا ایڈمیشن لے گا یہاں۔ اور وہ مزے سے باپ کے ساتھ واپس جا رہی ہے۔ انتہائی خود غرض لڑکی ہے۔ 

یون بن کو اپنے دوست کی پریشانی کا احساس تھا جبھی غصے سے بولتا گیا۔

قصور ثابت نہیں ہوا اس پر پھر یہ کونسا کورین شہری ہے کچھ نہیں ہوتا۔ 

ہیون نے تسلی دی۔

ہاں تھائینیئے۔  ( شکر ہے) اس نے بیان ایڈون کے خلاف نہیں دیا ورنہ اسکے باپ کا بس نہیں تھا پھانسی لگوادے ایڈون کو۔۔ مگر بندہ پوچھے غائب ہوئی ہی کیوں؟ کیا ملا یہ سب ڈرامہ کرکے۔۔

ڈرامہ؟ کم سن سے رہا نہ گیا۔

ایک ماں کا اپنے بچے کی زندگی بچانے کیلئے ان لوگوں سے چھپ جانا جو اسکے بچے کی جان لینا چاہتے ہوں ڈرامہ لگ رہا ہے تمہیں؟ کوئی اندازہ ہے وہ پریگننٹ تھئ کہاں کیسے رہ رہی ہوگی خوراک بھی ڈھنگ کی ملی ہوگی کہ نہیں اور یہ سب تکلیفیں کس لیئے جھیلیں اپنے بچے کیلئے۔ صرف اسکا بچہ تو نہیں ہے۔ آخری جملہ اس نے بیک ویو مرر سے لاتعلقی سے کھڑکی سے باہر دیکھتے ایڈون کو گھور کر کہا تھا۔

یون بن اسکے تیز ہو کربولنے پر حیرت سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔

تو اب کونسا بچ جائے گا۔ اسکے والد ایڈون سے پرمیشن لیٹر پر سائن کرواکے گئے ہیں ابارشن کیلئے۔

کیا؟ کم سن کے ساتھ ہیون بھی چلایا تھاپھر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔ 

یون بن اور ایڈون دونوں کیلئے انکا ردعمل غیر متوقع تھا۔دونوں ہی حیرت سے دیکھ رہے تھے۔

ایڈون تم ۔۔ کم سن نے دانت پیسے۔ 

تم ایک بار بھی سنتھیا کیلئے نہیں سوچتےاسکی فکر نہیں تمہیں؟ وہ ۔ وہ۔۔۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ کیسے کہے۔ بس اتنا کہنے پر اکتفا کیا۔ 

وہ بہت کمزور ہے ۔ 

اسکے ماں باپ ہیں نا خیال رکھنے کو۔

ایڈون کا انداز۔ کم سن کو طیش آرہا تھا۔ 

اسکا کیا جس کے باپ ہی تم ہو؟

وہ مر جائے گا۔

وہ بے نیازی سے کہہ کر دوبارہ باہر دیکھنے لگا تھا۔اسکے گوشی وون کے باہر گاڑی رکنے تک وہ چپ ہی  رہے تھے۔

تم آرام کرو میں شام میں چکر لگائوں گا۔

یون بن نے اتر کر اسکا کندھا تھپتھپا کر کہا تھا۔ وہ سر ہلا کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اندر بڑھ گیا۔۔

میں سوچ نہیں سکتا تھا یہ اتنا کمینہ انسان ہوگا۔

کم سن اسے جاتے دیکھ کر غصے سے بولا

یون بن پچھلی نشست پر بیٹھتے اسکا جملہ سن کر حیرانی سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔ہیون  نے گاڑی ہی آگے بڑھا لی نہ دیکھے نہ غصہ کرے۔

کیہہ سیکی۔ نامرد۔  

وہ مزید خراج تحسین پیش کر رہا تھا۔

کیا ہوا بھئ ؟ اتنا غصہ کیوں؟ 

اسلیئے کہ سنتھیا کو میں ہی اسپتال لیکر گیا تھا اسکی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ابارشن اب قانونی طور پر منع ہے اور پریگننسی جاری رکھنے میں اسکی زندگی کو شدید خطرہ ہے۔ اور اس آدمی کو دیکھو رتی بھر پروا نہیں ہے اسکی۔ 

ہاں تو صحیح تو کہہ رہا اسکے ماں باپ خیال رکھ لیں گے ہو سکتا ہے پاکستان میں لیگل ابارشن کی معیاد کچھ اورہواور  ویسے اب یہ کیا کر سکتا ہے یہاں؟

 جاب تک تو رہی نہیں گوشئ وون کے مالک سے منتیں کرکے معیاد بڑھوا کر آیا ہوں اسکا بھی کرایہ نہیں دے سکا ایڈون۔ اس کو تو ان پندرہ بیس دنوں نے کنگال کر چھوڑا ہے۔ 

یون بن کو ترس آرہا تھا اور کم سن کو غصہ۔

 تو کس نے کہا تھا کہ اسے مجبور کرے ابارشن کیلئے؟ نہ یہ مجبور کرتا نہ وہ یہ قدم اٹھاتئ۔ کم سن تیز ہو کر بولا

ہاں تو بے روزگار انسان اپنی گرل فرینڈ کا بچہ کیوں پالے؟ جب یہ فیصلہ دونوں کرتے تو ذمہ داری دونوں کی برابر ہوئی نا۔ 

یون بن کو اسکا غصہ سمجھ نہ آیا۔

تم بتائو گوارا سے محبت کرتے ہو نا اگر گوارا پریگننٹ ہوتی تو کیا تم بھی اسے مجبور کرتے ؟ چاہے اسکی جان کو خطرہ ہوتا؟ 

کم سن کا سوال ہیون نے اسکی شکل۔غور سے دیکھی۔

اول تو گوارا خود بہت سمجھدار ہے دوسرا اگر ایسا کچھ ہوتا تو ظاہر ہے میں بھی وہی کرتا جو ایڈون کر رہا ابھی ہماری پڑھائی مکمل نہیں ہے کیریئر نہیں بنا کیسے ہم کوئی نئی ذمہ داری اٹھا سکتے؟ 

یون بن کا جواب ہیون کو اسکی شکل دیکھنے پر۔مجبور کرگیا۔

حد ہے ۔ گوارا سے محبت کا دعوی کرتے ہو اور پھر بھی۔ 

کم سن نے شرمندہ کرنا چاہا یون بن نے بات کاٹ دی

ہاں تو میں نے کب انکار کیا۔ محبت الگ چیز ہے بچہ الگ، 

کیا بات کر رہے ہو۔۔ 

کم سن اور یون بن بحث میں الجھ گئے تھے 

اور سڑک پر نگاہ جمائے گاڑی دوڑاتے ہیون سوچ رہا تھا اچھی لڑکیاں چاہے کورین ہوں یا پاکستانی غلط لڑکے کا ہی انتخاب کیوں کرتی ہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوپ اور اسے ناشتہ کرتے ہی حکم ملا تھا فورا تیار ہو کر باہر آجائو۔ دونوں حسب ہدایت تیار ہو کر باہر آئیں تو گوارا ایک پاکستانی مہران کے سائز کی مگر مہران سے دس گنا بہتر ڈئزاین کی الیکڑک بلو پیاری سی گاڑی کو کپڑا مار رہی تھی۔ 

یہ کس کی گاڑی ہے۔ 

اریزہ نے حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ گوارا کھلکھلائی۔

یون بن کی۔ میں نے اسے کہا تھا فورا یہاں بھجوا دے خود بے شک بعد میں آتا رہے۔  اب ہم یہاں بنا گھومے پھرے کیسے رہ سکتے ہیں۔

وہ معصوم سی شکل بنا کر بولی تھی۔ 

ابھی پچھلے ہفتے بک کروائی تھی اس نے اور میں نے یہاں کا پتہ لکھوایا تھا۔ وہ مزید اپنی کارگزاری سنا رہی تھی۔ 

عظیم لڑکی ہو تم۔ 

اریزہ نے خراج تحسین پیش کیا۔ 

ہوپ پچھلی سیٹ کی طرف بڑھنے لگی تو گوارا نے اسکو کندھے سے پکڑ کر کھینچا چابی اسکے ہاتھ پر رکھتے بولی

تم کدھر جا رہی ہو؟ گاڑی کون چلائے گا؟ 

تمہیں گاڑی نہیں چلانی آتی؟ ہوپ کا موڈ نہیں تھا شائد۔ 

آتی ہے مگر ابھی میرا لائسنس نہیں بنا۔ دوسرا یہاں کی اونچی نیچی سڑکیں نا بابا نا کوئی رسک نہیں۔ 

وہ مزے سے کہتی خود پیچھے کا دروازہ کھول کر بیٹھ بھئ گئ۔ 

ہوپ کو چابی تھامنی پڑی تھی۔ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھتی اریزہ نے مسکرا کر سر ہلایا وہ بھی جوابا مسکرا کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے لگی۔ 

گوارا پیچھے بیٹھ کر بھی آگے ہی سیٹ کے بیچ سے نکل کر بک بک کرتی رہی۔ اسکا گائوں پہاڑ کے دامن میں تھا۔ بے تحاشہ خوبصورت مناظر کہیں کہیں برف پڑی ہوئی سرد ہوا ۔ وہ لوگ پہلے پہاڑ کی چوٹی سے نظارہ کرتی رہیں تبھی چوٹی کے دامن میں اسے وہ بے حد خوبصورت سا لال شہتیروں والا مندر نظر آیا۔ 

آئو وہاں چلیں۔ 

اریزہ اتنا پرجوش ہو کر بولی تھی کہ ہوپ اور گوارا دونوں نے چونک کے اسکی شکل دیکھی

پتہ بھی ہے کیا ہے وہ؟ مندر ہے بدھا کا

گوارا نے جتایا

تو؟ اریزہ نےالٹا سوال کیا

تم وہاں جا کر کیا کروگی؟ ہوپ نے بور ہو کر کہا ۔پیچ دار سڑک پر اتنی اونچائئ تک لے کر تو اسے ہی جانا پڑتا

میں دیکھوں گی تم لوگ عبادت کر لینا۔ میں نے آج تک مندر نہیں دیکھا اور بدھا کا تو بالکل بھی نہیں دیکھا پلیز چلو نا میں نے دیکھنا ہے۔

اریزہ بچوں کی طرح ضد کر رہی تھی دونوں نے ٹھنڈئ سانس بھری۔ 

گاڑی سے اتر کر بھی پیدل چل کر کم ازکم ڈیڑھ سو سیڑھیاں تھیں جنکو چڑھنا پڑا تھا۔ گوارا اور ہوپ کا تو نہیں اریزہ کا برا حال ہوگیا تھا مگر شوق کا کوئی مول نہیں۔ مندر سادہ مگر بے حد خوبصورت تھا۔بڑا سا کھلا دالان جس کے کونوں میں کیاریاں سی بنی ہوئی تھیں بڑی بڑی لکڑی کی بلیوں اور شہتیروں والی چھت سے ڈھکی راہداری سامنے کھلے دروازے سے نظر آتا بدھا کا بڑا سا بت آسن جمائے نظر آتا تھا۔ کئی پجاری اپنے مخصوص معمول کی عبادتوں میں مشغول تھے۔ ایک چھوٹا سا ڈنڈا تھامے جسکے سروں پرچھوٹی سی گول گھنٹیاں سی لگی تھیں۔ دھیمے دھیمے بجاتے جاپ کرتے۔ ماحول پر ہیبت طاری کر رہے تھے۔ 

 گوارا اپنے ہڈی کے اپر سے سر ڈھانکتی اندر گئ پجاری نے گھنٹیاں بجا کر اسکا خیر مقدم کیا۔ دعا دئ  گوارا وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر سر زمین سے سجدے کی طرح لگائے مخصوص انداز میں جھکتی اٹھتی دعا کر رہی تھی۔ 

اریزہ اور ہوپ بھی اندر چلی آئی تھیں۔ مگر گوارا کے برعکس دونوں تمیز سے گھٹنے کے بل بیٹھئ اسکی عبادت مکمل ہونے کا انتظار کررہی تھیں۔ 

ہم بھی ایسے ہی سجدہ کرتے ہیں۔ گوارا کو جھکتے دیکھ کر اریزہ نے ہوپ کے کان میں سرگوشی کی۔

جانتئ ہوں روز تو عبادت کرتا دیکھتی ہوں تمہیں۔ 

ہوپ کے جتانے پر کھسیا سی گئ۔ ہوپ سے تو بندہ بات بھئ سوچ سمجھ کر کرے۔ اس نے آئیندہ سوچ سمجھ کر بات کرنے کا عہد کیا۔۔

گوارا دعائیں کرکے پجاری سے سر پر پانی چھڑکوا کر کچھ میٹھی ریوڑیوں جیسی مٹھائئ لیکر باہر آئی تب تک وہ دونوں دالان کی ہر سیڑھی ہر ستون سے ٹک کر تصویر بنا چکی تھیں۔

یہاں آخری بار اپنے ابا کی آخری رسومات کی دعائیں کروانے آئی تھی۔ اور آج تم مجھے یہاں لے آئیں۔ بدھا بھی کہتے ہوں گے کیسی نا شکری اور مطلبی پیروکار ہے میری۔ 

گوارا بڑبڑ کرتی انکے پاس آئی تھی۔ 

اریزہ اسکی غبارے جیسی شکل دیکھ کر ہنس پڑی۔ 

ویسے یہاں ہے بہت سکون ۔ مجھے اچھا لگ رہا ہے یہاں آکر۔ 

اریزہ نے یونہی کہا تھا۔ گوارا دھپ سے اسکے برابر آن بیٹھی

ہر مقدس مقام پر سکون ہی ہوتا ہے۔ ایسی جگہوں پر پاک روحیں فرشتے ہی آتے ہیں ہمیں دکھائی نہیں دیتے مگر ہمیں دھیرے دھیرے اپنی رحمت کے سائے میں لیتے جاتے ہیں۔ میرا ماننا ہے ہر مذہب کا کوئی نہ کوئی مقدس نا دکھائی دینے والا ربط اوپر سے ہوتا ہے۔ 

وہ آسمان کی جانب اشارہ کرکے بولی۔ 

ہوپ نے بلا ارادہ اسکی تقلید میں آسمان تک نگاہ کی تو پلٹی ہی نہیں۔ 

ضروری نہیں۔

ہوپ نے ناک چڑھائی۔ 

ہم روز جس بت کو پوجتے تھے اس سے شدید نفرت بھی محسوس کرتے تھے۔ اس بت کے گرد مقدس ہالہ تو دور نفرین و لعنتوں کا جال محسوس ہوتا تھا جس سے دم گھٹتا تھا میرا۔

ہوپ زہر۔خند سے انداز میں کہہ رہی تھی۔ 

ہیں؟ گوارا کا منہ کھلا رہ گیا۔ہوپ نے سر جھٹکا

جب نفرت تھئ تو پوجتے کیوں تھے بھئ؟ 

گوارا کے حیرت سے پوچھنے پرہوپ ہونٹ بھینچ کردوسری طرف دیکھنے لگی۔

شمالی کوریا میں مزہبی عبادات پر بین ہے۔ وہاں صرف موجودہ و سابقہ آمروں کے با بجا بت سجے ہیں جن کے آگے عوام کا روز سلامی دینا فرض ہے۔ اور موٹے منہ والے بھالو بندر اس جابر ظالم کم جانگ اون کو دیکھ کر محبت خاک پھوٹنی جس نے پوری قوم کی ہر خوشی سلب کرکے آٹھ آٹھ آنسو رلا رکھا ہے۔ 

جواب غیر متوقع طور پر اریزہ کی جانب سے آیا تھا۔ گوارا اور ہوپ حیرت سے اسکی شکل دیکھ رہی تھیں۔  

تمہیں کیسے پتہ؟ گوارا کا حیرت کے مارے برا حال تھا

تم بھی شمالی کورین تو نہیں۔ 

اس نے معصوم سئ شکل بنا کر پوچھا اریزہ گھو رکر رہ گئ 

ہوپ نے البتہ جاندار قہقہہ لگایا۔ 

موٹے منہ والے بھالو بندر کم جانگ ہا ہا ہا۔ کاش اسکو یہ کوئی سناتا اسکے منہ کاش سن سکتا وہ یہ ہا ہا۔ پتہ ہے ان جملوں پر سر قلم ہو جاتا تمہارا اگر تم سیول کی جگہ پھیانگ یانگ 

میں ہوتیں۔ 

کیوں ہوتی میں خدا نخواستہ۔ اریزہ نے منہ بنایا

میں تو شمالی کوریا کا سن کر سیول ہی آنے کو تیار نہیں ہورہی تھی ۔ اس اسکالر شپ کی وجہ سے تو مجھے پتہ لگا کہ کوریا کوئی ملک ہے اور اسکے بھی دو حصے ہو چکے ہماری طرح۔پوری طرح اطمینان کیا تھا پھر اپلائی کیا تھا۔ 

اس نے گوارا کے سوال کا بھی جواب دے دیا۔ 

گوارا نے سر ہلایا۔

شکر ہے دو حصے ہو چکے ہیں ورنہ ہم بھی پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہوتے۔ گوارا نے جھر جھری لی۔ اریزہ کو ایک بڑا دکھی کردینے والا خیال آیا۔ ہم سے الگ ہونے والے بھی کیا ایسا سوچتے ہوں گے؟

چلو چلیں اب؟ یا ابھئ شیمن سے اپنا مستقبل کا احوال بھی پتہ کروانا ہے؟ 

ہوپ نے تو یونہی کیا مگر گوارا پرجوش ہوگئ

ہاں یہ صحیح رہے گا مستقبل کا احوال جانتے ہیں تینوں ۔۔۔ یہاں کے شیمن سب صحیح صحیح پیشن گوئیاں کرتے ہیں۔ میرے آہبوجی کے انتقال سے پہلے ہی انہوں نے مجھے بتا دیا تھا میرے پاس ایکدم سے بہت پیسہ آئے گا ۔ انکی پیشن گوئی کے دوسرے ہی ہفتے آہبوجی کا انتقال ہوگیا تھا۔ 

گوارا متاثر کرنے والے انداز میں بتا رہی تھی۔ 

ہوپ اور اریزہ دونوں نے اسکی اچنبھے سے شکل دیکھی۔ 

اس میں تمہارے ان پجاری جی کا کیا کمال؟ اریزہ پوچھے بنا نہ رہ سکی

ہاں تو آہبوجی کے انتقال پر ہی تو مجھے انشورنس کے پیسے ملے انکے جس سے میں نے سیول میں اپارٹمنٹ خریدا ۔ 

وہ کندھے اچکا کر بولی۔ 

تم دونوں بھی جاننا  چاہوگی اپنی قسمت کا حال ؟ 

۔ ہوپ نے سر جھٹکا۔ 

بکواس۔بالکل نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گیرواں لبادہ پہنے بالکل صفا چٹ سر لیئے گلے میں سرخ پٹکا ڈالے وہ پجاری جی ہوپ سے اسکی تاریخ پیدائش پوچھ رہے تھے۔  اسکا جواب سن کر مراقبے میں چلے گئے تھے۔اس چھوٹے سے کمرے میں وہ دھونی رما کے بیٹھے تھے۔ڈھیر ساری اگربتیاں جل رہی تھیں کمرہ خوشبو سے مہک رہا تھا ۔کمرہ رنگ برنگی پینٹنگز سے سجا بلکہ تنا ہوا کہنا چاہیئے۔جا بجا تصویریں جس میں کوریائی ثقافت انکے بادشاہی نظام وغیرہ کی تصاویر تھیں تو کچھ عجیب سی آدھے انسان آدھے کسی جانور کے جسم کے ساتھ بے تکے جوڑ والے قد آدم پوسٹر تھے۔ بدھا کے کئی اسٹیچو تھے کچھ دلہا دلہن کی پینٹنگز اتنے رنگ تھے کمرے میں کہ اسکا دیکھتے دیکھتے ذہن بٹ ہی گیا۔ گوارا نے ٹہوکا دے کر متوجہ کیا۔ 

ہوپ ہم سے چھے سات سال بڑی ہے۔ 

گوارا کا منہ کھلا رہ گیا تھا۔ اریزہ کے کان میں گھسی۔ اریزہ نے اسکو ہلکے سے گھورا۔ 

گوارا اسکی گھرکی پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئ۔ اریزہ نے حقیقتا ہتھیلیاں پھیلا کر پھر خیال آیا تو ذرا مٹھی بند کرکے کہ دعا کا پوز نہ لگے دل سے دعا کی تھئ

یا اللہ یہ آدمی ہوپ کو صرف اچھی اچھی باتیں بتائے۔ کوئی اچھی امید دے دے جینے کی ۔ بہت مایوس ہے کیا پتہ اسکے الفاظ ہی اسے جینے کی نئئ امید  دے دیں۔

ہوپ ان سے بےنیاز پجاری صاحب کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے تھے۔ اسے جیسے یقین تھا وہ کوئی نہ کوئی غلطی کریں گے اور وہ گوارا کو جتا سکے گی کہ انکے پاس کوئی روح ووح نہیں جس کو بلا کر اس سے وہ مستقبل کا حال جان سکیں بلکہ ایک اچھے شعبدہ باز ہیں بس۔

ایک مٹی کی چھوٹی سی کھلے منہ کی دیگچی میں چاول اور لال رنگ کا جانے کونسا سفوف ملا کر رکھا تھا۔چٹکی میں بھر کر انہوں نے اپنے سامنے رکھی چھوٹی سی میز پر چھڑکا ایک صندل کی تسبیح مٹھی میں داب رکھی تھی تسبیح کے دانے کم ہی تھے شائد دس بیس ہی ہوں گے ہر دانے پر کچھ چینی زبان کے حرف کھدے تھے۔ انگلئ پر بڑی مہارت سے دانے گھماتے وہ جھوم جھوم کر گھنٹی بجاتے آنکھیں بند کیئے کچھ بڑ بڑا رہے تھے۔ ایکدم جھٹکا کھا کر رکے

 تسبیح کے جس دانے پر انگلی رکی تھی اسکو گن کر انہوں نے پانسہ پھینکا۔ چوڑا سا ایک ہتھیلی کے برابر پانسے پر چار اطراف الفاظ کھدے تھے۔ اور اوپر نیچے سیاہ اور سفید رنگ ہوا وا تھا۔ اس نے ایسا پانسہ زندگی میں کبھی نہ دیکھا تھا۔ 

اسکا دل چاہا کہ اٹھا کر دیکھ لے مگر بمشکل طبیعت پر جبر کرکے روکا۔جانے وہ اس حرکت کو کس معنے میں لیں۔وہ بہر حال انکی مزہبئ روایت کا احترام ہی کر رہی تھی۔ 

بس کچھ الٹا سیدھا نہ بولیں ہوپ کی زندگی میں پہلے ہی کوئی خوشی نہیں ہے۔ 

وہ دعا کیئے جا رہی تھی۔ 

پجاری جی نے آنکھیں کھولیں مگر گردن موڑ کر اریزہ کودیکھا پھر مسکرا دیئے۔ اریزہ ٹھٹھک سی گئ۔ انکی مسکراہٹ ایسی تھی جیسے کوئی کسی بچے کی بات پر اسکی نادانی پر مسکرا دے۔ 

بدھا کہتے ہیں تین چیزیں ذیادہ دیر تک چھپی نہیں رہ سکتیں۔ سورج ، چاند اور سچائئ۔ ایک نہ ایک وقت انکو ظاہر ہونے پر مجبور کردیتاہے۔سورج چاند پھر کبھی بادل میں چھپ جاتے سچائئ جتنا چھپانا چاہو اتنی ہی مزید ظاہر ہوتی ہے۔ 

وہ شستہ انگریزی میں اریزہ سے کہہ رہے تھے۔ 

اریزہ گنگ سئ انکی شکل دیکھنے لگی۔

میں جھوٹ نہیں دے سکتا کسی کو جو مجھے جتنا پتہ ہے وہ میں بتانے کا پابند ہوں۔ میرے پاس دینے کیلئے سوائے سچائی کے اور کوئی تحفہ نہیں۔ سچائی کا تحفہ دوسرے تمام تحائف کو مات دیتا ہے۔  سچائی کا ذائقہ دوسرے تمام ذائقوں کو مات دیتا ہے۔  سچائی کی خوشی دیگر تمام خوشیوں کو مات دیتی ہے، اور خواہش کا خاتمہ تمام دکھوں پر فتح پاتا ہے۔

وہ بولتے بولتے گردن گھما کر ہوپ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اب اسی روانی سے چینی زبان  میں بولتے چلے گئے۔

خواہش  ختم کردو اگلی زندگئ آسان ہے تمہاری

ماضی میں مت پھنسو، مستقبل کے خواب نہ دیکھو، دماغ کو موجودہ لمحے پر مرکوز رکھو بس۔تمہیں نہیں لگتا تمہاری یہاں موجودگی ان دوبہنوں کا ساتھ تمہارا ماضی تمہارا ہاتھ چھڑا چکا ہے تمہارا اکیلا پن دور ہوچکا ہے یہ سب اسکا ثبوت ہے۔ تمہیں اب زندگی جینا شروع کردینا چاہیئے۔ 

ہوپ کا منہ کھلا۔ پھر سر جھٹک کر طنزیہ انداز میں بولی

ایک ایک لفظ بدھا کا ہے یہ۔آپ تو خود اپ ایک جملہ بولے ہیں ان دونوں کی شکل دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کیا مشکل ہے کہ یہ احمقیں سچ مچ میری پروا کرتی ہیں ۔   

ہوپ چینی زبان میں ہی بولی تھی۔ گوارا نے سخت اکتا کر ان دونوں کی شکل دیکھی

پجاری صاحب ہنس دیئے محظوظ ہو کر جیسے۔۔

بدھا کا بھگت ہوں انکی باتیں نہیں بولوں گا تو پھر کس کی بات کروں گا؟ 

بات میں وزن تھا۔ ہوپ نے ناگواری سے دیکھا

پھر اگلا سوال چینئ میں ہی داغا۔

میں نے محبت کے بارے میں پوچھا تھا میرے نصیب میں ہے کہ نہیں۔ 

محبت ہے مگرجس سے تمہیں  محبت وہ نہیں۔ 

وہ دانستہ کہتے ہوئے گردن موڑ کر گوارا کو دیکھنے لگے۔ ہوپ کا چہرہ دھواں دھواں سا ہوا تھا۔ اریزہ نے چیں بہ چیں ہو کر شاکی نگاہوں سے دیکھا۔ 

ایسے تو بہت پہنچے ہوئے بنتے ہیں اسکی شکل پر لکھا شدید مایوسی و دکھ میں مبتلا ہے کیا تھا ذرا سا خوش کردیتے کچھ اچھا بول کے۔ ایسے تو انگریزی بول رہے تھے ہنگل چھوڑ یہ تو کوئی تیسرئ زبان بولنی شروع کردی جانے کیا کہہ دیا اسے۔ 

میں باہر انتظار کرتی ہوں تم لوگوں کا۔ 

ہوپ کو خود کو سنبھالنا مشکل لگا تو نظر چراتے فورا اٹھ گئ۔

آپ مجھے بتائیں کہ میرے پاس پھر کوئی پیسہ آنے کی امید ہے یا نہیں؟

ہوپ کے جاتے ہی گوارا کھسک کر آگے ہوئی۔

پیسہ تو آتا جاتا رہے گا انسان بھی۔ تم کہاں دل لگاتئ ہو یہ دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں ہے بیٹا۔ 

انکا جواب حسب توقع اور اسکا ردعمل بھی حسب توقع تھا منہ بنا کر رہ گئ

آپ میری دوست کو دیکھیں اسکا کتنا دانہ پانی ہے کوریا ہے؟

گوارا بولی ۔۔ 

کیا کرنا یہ جان کر۔۔

 اریزہ نے سر جھٹکا۔

 محبت ملے گی یا نہیں؟ 

گوارا مزید کہہ رہی تھئ۔ 

اسکی تو۔ اریزہ ایکدم الرٹ ہوئی۔

سب سے بڑھ کر اسکو محبت ہو۔  

گوارا تیز تیز بولی تھی اریزہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا

بس مجھے کچھ نہیں جاننا ۔ 

کیوں؟ بہت پہنچے ہوئے ہیں یہ سب صحیح بتا دیں گے کچھ نہیں کچھ نہیں پاگل امتحان میں کامیابی ناکامی کا ہی پوچھ لو ۔

گوارا نے اصرار کیا پجاری صاحب مراقبے میں جانے لگے۔ 

تاریخ پیدائش۔

20 ستمبر 1996 

گوارا جھٹ سے بولی۔ اریزہ نے منہ بنا کر دیکھاپھر تصحیح کی۔

1995۔ 

گوارا نے منہ کھول کر اب اسکی شکل دیکھی۔ 

ہائش۔ یہ بھی۔ 

آپ، خود، پوری کائنات میں جتنا کوئی ہے، آپ کی محبت اور پیار کے مستحق ہیں۔خود سے مت بھاگو۔خود کو اپنائو اپنے سوا انسان کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہوتی ہے۔ اپنے سوا کسی میں پناہ گاہ مت تلاش کرو۔ایک بے چین انسان کہیں خوش نہیں رہ سکتا۔ 

وہ ٹھہر ٹھہر کر بول رہے تھے۔ اریزہ کا دماغ بھک سے اڑا۔

کچھ بھئ بول رہے۔ اسے غصہ آگیا۔گوارا کو اٹھنے کا اشارہ کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔پجاری صاحب کی آنکھیں بند تھیں۔ اتنے پکے ہیں تو پتہ لگے کہ اب انکا سامع کوئی ہے ہی نہیں۔ اسکے دل میں یہی خیال آیا تھا۔ گوارا اسکے تیور دیکھتے خود بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

گوارا کیا پوچھ رہی جواب کیا دے رہے۔ 

اس نے سر جھٹکا۔ 

جو تمہیں جاننا ہے میں بس وہی بتا رہا ہوں۔ 

پجاری صاحب نے جواب دیا تھا وہ کمرے کی چوکھٹ میں کھڑی تھی کہ قدم رک سے گئے۔ گوارا بھی حیرت سے پلٹ کر دیکھنے لگی۔

انہوں نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ 

کسی کے دل کا حال کون جان سکتا؟  کون سچا ہے ۔ کون اچھا ہے یہ تو بعد کی بات ہے پہلے خود اپنے آپ کو جانو بیٹا۔  باقی آگے کیا ہوگا زندگی میں انسان کے فیصلے طے کرتے ہیں نا۔ 

خدا طے کرتا ہے۔ اس نے پلٹ کر انہیں دیکھتے جتایا۔ 

بے شک۔ ۔۔۔ مگر

خدا آپکی خواہش پر آپکے مانگنے پر عطا کرے گا یا نہیں یہ بھی تو طے کرتا ہے نا۔ 

وہ مسکرادیئے۔ اریزہ لاجواب سی ہوئی تو رکی نہیں سیدھا ناک کی سیدھ میں بڑھتی گئ۔ گوارا نذرانہ دیتی خدا حافظ کہہ کر جب تک باہر آئی وہ ہوپ کے ساتھ دالان بھی پار کرچکی تھی

ہا ہا۔۔ یہ کیا چل رہا تھا ۔۔ ہوں ۔۔۔  (پھولی سانسیں )تمہارے اور پجاری صاحب کے بیچ۔ 

وہ اتنئ متجسس تھی کہ بھاگنے سے پھولی سانسیں بھی ہموار نہ کیں آکر ان دونوں کے بیچ میں لینڈ کرتے پوچھا۔ 

مجھے کیا پتہ۔ اریزہ نے جان چھڑائی

کیا چل رہا تھا۔ 

ہوپ کو دلچسپی ہوئئ۔ 

یہ چپ شکل دیکھ رہی تھی پجاری صاحب اسکو ایسے جواب دے رہے تھے جیسے اسکو اسکی باتوں کا جواب دے رہے ہوں۔ اور یہ اسکی شکل دیکھنے والی تھی آپکو کیسے پتہ چلا؟ منہ پر بڑا بڑا لکھا تھا۔ 

گوارا ہاتھوں کے اشارے کے ساتھ بتا رہی تھی۔ اریزہ سٹپٹا سی گئ۔ 

کیا واقعی کوئی روح ووح تو نہیں بلا رکھی تھئ انہوں نے۔ جادو وغیرہ کے ماہر ہوتے ہیں یہ شیمن وغیرہ۔ 

یہ پجاری لوگ سالوں تپسیا کرکے ہیپناٹزم فیس ریڈنگ اور مائنڈ اسسیسمنٹ وغیرہ سیکھتے ہیں۔ ہوپ نے غبارے سے ہوا نکالی جیسے۔

سیڑھیاں اترتے اس نے انکی معلومات میں اضافہ کیا۔ 

اب میری شکل دیکھ کر نہیں بولے ماضی میں نہ رہو مستقبل کا نہ سوچو حال پر توجہ دو بلا بلا او ریہ دونوں بہنیں ہیں تمہاری۔۔ 

ہیں یہ کہا انہوں نے؟ گوارا حیرت سے چیخ پڑی۔ 

سنا نہیں تھا تم نے۔ ہوپ کو اسکی مصنوعی حیرانی پر اکتاہٹ ہوئی

چینی میں بولے تھے تم سے ہمیں کیا پتہ کیا کہا۔ گوارا نے یاد دلایا تو وہ سر ہلانے لگی 

ہاں۔ بس یہی کہہ رہے تھے ان دونوں کو دیکھو بہنیں مل گئ ہیں کافی نہیں ماضی بھلانے کو۔ 

ہوپ نے کہتے ہوئے پلٹ کر دیکھا دوسری بہن کئی سیڑھیاں پیچھے سوچ میں گم اتر رہی تھی۔ گوارا نے بھی اسکی تقلید میں مڑ کر دیکھا تو ٹوکے بنا نہ رہ سکی

کیا ہوا؟ اریزہ جلدی کرو دیر ہورہی ہے ہمیں۔ 

مغرب سے پہلے واپس پہنچنا ہے ہمیں۔

گوارا کے چلانے پر وہ بری طرح چونکی تھی اتنی کہ لڑکھڑا گئی۔ 

آرہی ہوں۔ اس نےسنبھل کر تسلی دی اوررفتار بھی بڑھائی۔ 

ہولا ہاتھ رکھو ڈرا دیا اسے یہاں سے گرتی تو آخری سیڑھی تک جانا تھا اس نے۔ 

ہوپ نے گوارا کو ڈانٹ ہی دیا۔ 

گوارا نے بھنا کر کچھ کہنا چاہا پھر خیال آیا تو زبان دانتوں تلے داب لی۔ وہ اسکے لیئے بڑی بہن کے برابر تھی اور وہ بنا لحاظ جانے کیا کیا کہتی آئی تھی اسے۔ 

تم اب کس مزہب پر ہو، ؟ 

گوارا نے یونہی سوال کیا اسے گھورتے پایا تو ذرا تمیز کے جامے میں آتے کندھے پر پرس بلا وجہ درست کرتے ہوئے جملہ درست کیا۔ 

میرا مطلب اب تو آپ شمالی کوریائی نہیں ہیں نا اب تو کوئی مزہب اپنا سکتی ہیں۔ 

میں کسی مزہب پر نہیں ہوں۔ 

اس نے مختصر جواب دیا

بدھ سب سے معصوم سادہ سا مزہب ہے اس پر آجائو نہ کوئی روز کی عبادت کی شرط نا ہی کوئی لمبے چوڑے فرائض ۔ بس جیو اور جینے دو کا اصول ہے۔ 

گوارا یونہی بات برائے بات ہی کہہ رہی تھئ۔

ہوپ نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا ۔ اریزہ انکے قریب آچکی تھی۔ پھولی سانسیں رنگ پھیکاپڑتا 

اسکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہئ  سفید پڑی گئ ہے یہ۔ 

ہوپ نے فکر مندی سے اسکی ٹھنڈی پیشانی چھوئئ۔ گوارا کو بھی پریشانی ہوئی

کیاہوا اریزہ تم ٹھیک تو ہو؟ 

ٹھیک ہوں بس تھک گئ ہوں۔ 

اس نے تسلی دینے کو کہا تھا۔ 

بس اب گھر ہی چل رہے ہیں مجھے اندازہ تھا تم سے اتنی اونچائی پر چڑھا نہیں جائے گا آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور تمہیں اتنی ٹھنڈ کہ عادت بھی نہیں۔ پانی پیو گی؟

تم سے چلا نہیں جا رہا تو ہم پگی بیک رائیڈ دے دیتے ہیں تمہیں۔ آدھا راستہ میری پشت پر بقیہ آدھا گوارا کی پشت پر سواری کر لو۔

ہوپ نے آئیڈیا دیا 

ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔ گوارا فورا مان گئ

گوارا اور ہوپ کا بس نہیں تھا گود میں اٹھا لیں 

اسے ہنسئ آگئ۔ 

بس کرو اتنی محبت کہاں سمیٹ پائوں گی میں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیڈ پر پڑی وہ چھت پر نگاہ جمائے چت لیٹی تھی۔ گرم بستر گرم کمرہ پیٹ بھر کر کھانا سب ملا تھا۔ مگر محبت چھن جانے کے بعد۔ ایڈون کا چہرہ اسکے کہے جملے اسکے ذہن سے چپک گئے تھے۔ اس وقت تجزیہ کرنے کا موقع نہیں تھا۔ اسکے سرہانے ڈرپ کا اسٹینڈ رکھا تھا جس سے قطرہ قطرہ ڈرپ اسکے سفید پڑے ہاتھ میں سوئی کے ذریعے رگوں میں داخل ہو رہی تھی۔ دوسرا ہاتھ وہ سینے پر رکھے تھی وہی ہاتھ اٹھا کر اس نے اپنی سپید پڑتئ ہتھیلی نگاہوں کے سامنے پھیلائی۔ 

کیا ملا مجھے۔ میں تو خالی ہاتھ ہی رہ گئ ہوں ۔  اس نے یاسیت سے سوچا۔ 

چند گھنٹوں قبل ایڈون سے ملاقات کا منظر ابھی بھی نگاہوں میں تھا۔ 

اسکے قطیعت بھرے انداز میں ہر رشتے کو ختم کرنے کا اعلان سن کر اس کو لگاتھا کہ اسکے جسم سے روح ہی نکل گئ ہے بظاہر وہ خالی خالی نظروں سے دیکھتی رہ گئ تھی ایڈون کا وکیل اندر آکر اسے اپنے ساتھ لے گیا ۔ جانے کتنا وقت گزرا وہ کتنی دیر اکیلی بیٹھی رہی اسے کچھ یاد نہیں تھا۔ڈیڈا اسکو پکارتے ہوئے ہلا رہے تھے وہ بس ساکت بیٹھی رہی تھی۔ اسے پھر نہیں یاد کس نے سہارا دیا اسے فوری طور پراسپتال لے جایا گیا تھا وہ مکمل بےہوش نہیں تھی مگر حواس میں بھئ نہیں تھی۔ فورئ طبی امداد سے کئی گھنٹوں بعد وہ مکمل ہوش میں آئی تھی تو بند آنکھوں سے اس نے ڈاکٹر کو کہتے سنا تھا۔   

بہت کمزور ہے ماں۔۔  بچے کی بھی جان کو شدید خطرہ ہے۔ مکمل بستر پر رہے کم ازکم اگلے د ومہینے۔ تھکن بالکل نہیں لینی خوراک کا خاص خیال رکھنا ہے۔ کچھ سپلیمنٹس ہیں انکو مستقل استعمال کرائیں فی الحال کچھ انجیکشن لگنے ضروری ہیں اور فوری توانائی کیلئے ڈرپ لگے گی۔ 

وہ کوئی ہندوستانی ڈاکٹرنی تھی جس نے اسکا مکمل معائنہ کرتے ہوئے تاکیدوں کے ڈھیر لگا دیئے تھے۔ غنیمت تھا کہ وہ اردو بول رہی تھی ورنہ وہ جس ذہنی کیفیت کا شکار تھی کسی اور زبان کو سمجھنا مشکل تھا اسکے لیئے۔ ایک نہیں دو تین ڈرپیں اسے وقفے وقفے سے لگی تھیں۔ رات کے بارہ بج رہے تھے وہ مکمل بیدار ہو پائی تھئ اب اور لگا تھا کہ جسے چند پل ہی گزرے ہوں گے جب ایڈون ۔۔۔ 

 کمرے کا دروازہ ہلکا سا چرچرایا تھا اس نے بنا ہلے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ یہ یقینا اسکی خدمت پر معمور نرس تھی جسکا کام ہر دو گھنٹے بعد آکر اسے دیکھنا تھا۔۔

اسے سوتا سمجھ کر بے حد احتیاط سے اس نے ڈرپ بند کی تھی اس پر کمبل درست کیا تھا۔ کینولا کے ذریعے ہی ایک ٹیکا لگایا تھا۔ 

دروازہ بند ہونے کی آواز سن کر بھی چند لمحے اس نے انکے جا چکنے کا یقین کیا تھا پھر آنکھیں کھولی تھیں۔چت لیٹے لیٹے تھکن ہو گئ تھی سو تکیہ درست کرتے وہ بیڈ کا سہارا لیکر نیم دراز ہوگئ ۔  سائیڈ ٹیبل پر شاپر رکھا تھا۔کچھ پھل تھے سوپ ڈھکا رکھا تھا۔ بھوک محسوس ہو رہی تھی اس نے شاپر سے سیب نکال لیا۔ پھلوں کے ایک اور بھی خاکی لفافہ تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل کالیمپ آن کیا میز کا سہارا لیکر اٹھ بیٹھی۔ 

لفافہ کھولا۔ مختصر سا نوٹ تھا۔ 

ہو سکے تو مل کر واپس جانا ۔۔ میری دعا ہے جہاں رہو خوش رہو۔

ایک کارڈ تھا۔ نوٹ انگریزئ میں تھا اور کارڈ مکمل ہنگل میں اسے ہنگل پڑھنی نہیں آتی تھی پھر بھی اس نے کارڈ پہچان لیا تھا یقینا یہ کم سن تھا۔

پرسوں صبح کی فلائٹ تھی یہاں سے دبئی کی۔ اسا دانہ پانی کوریا سے اٹھ گیا تھا۔

کیا ملوں گی میں؟ ہاں شکریہ ادا کرنا بنتا ہے۔ اس نے گہری سانس لی۔ اور سیب کھانے لگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھر پہنچنے تک اسے بخار چڑھ گیا تھا۔ گوارا کی امی نے اسکے خوب لتے لیئے تھے۔ 

اتنئ سردی میں اتنی سیڑھیاں کیوں چڑھوائیں؟ 

اسے یہاں کے موسموں کا کیا پتہ؟ 

وہ  اسکے سرہانے بیٹھ کر سر دباتے ہوئے مستقل گوارا کو ڈانٹ رہی تھیں۔ 

اسی نے کہا تھا جان کھا لی مندر جانا ورنہ آپکو بھی پتہ ہے مجھے مزہب میں ذیادہ دلچسپی نہیں۔ اسکو مندر دیکھنے کا شوق چڑھ آیا تھا۔

تھوڑی دیر خاموشی سے ڈانٹ کھانے کے بعد وہ بلبلا کر بولی تھی۔

میرے سامنے زبان مت چلایا کرو تمہاری وجہ سے تمہارے باقی بہن بھائئ بھی شیر ہوتے ہیں۔

اب نئئ ڈانٹ پڑ گئ۔ 

ہوپ مسکراہٹ دبا رہی تھی۔ گوارا چڑ گئ۔آہموجی نےاریزہ کو اپنے ہاتھوں سے سبزیوں کا سوپ بنا کر پلایا۔ قہوہ پلایا۔ جب تک سو نہ گئ وہ اسکے سرہانے بیٹھی رہیں۔ گوارا اور ہوپ وہیں اپنے بستر پر لیٹ گئیں ۔ جب اریزہ نے گہری نیند میں کروٹ بدلی تب جا کے وہ اسکے اوپر کمبل درست کرتی اٹھی تھیں۔ احتیاط سے دروازہ کھول کر باہر آئیں تو یوسب اپنے لیئے کھانا نکال کر باہر لائونج میں بیٹھ رہا تھا

تم کب آئے۔ ؟

وہ حیران ہوئیں

جب آپ اپنی نئی بیٹی کو تھپکیاں دے کر سلارہی تھیں۔ 

اسکا چڑا ہوا جواب آیا تھا۔ وہ مسکرادیں۔ 

اسکی طبیعت خراب تھی۔ آہمی آہمی پکار رہی تھی بخار میں ۔ جانے اسکی ماں زندہ ہے یا نہیں مجھ میں اپنی ماں کو ڈھونڈ رہی تھی۔ ترس آیا مجھے ۔ بالکل گوارا لگی مجھے۔ ایسے جتنی زبان چلا لے مگر ذرا سی طبیعت خراب ہو تو مجھے اپنے پاس سے ہلنے نہیں دیتی۔ 

وہ پیار سے کہہ رہی تھیں

ہاں سب لٹا دی محبت بیٹیوں پر بیٹوں کیلئے کچھ بچا ہی نہیں ہے آپکے پاس وہ چاہے ٹھنڈا کھانا کھائیں یا کھائیں ہی نا۔ 

وہ منہ بنا کر کہتا ٹی وی آن کر رہا تھا۔ 

کھانا وہ رات کا انکے ساتھ ہی کھاتا تھا جبھی خفا تھا۔ وہ مسکرادیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گرم گرم مٹر پلائو دیکھتے ہی اسے اریزہ یاد آگئ تھی۔ مسکراہٹ دبا کر اس نے چاول کی ڈش اٹھا کر اپنی پلیٹ میں چاول نکالے۔ خالو رات کو چاول نہیں کھاتے تھے سو انکے لیئے قیمہ مٹر بنا تھا۔ خالہ خود بھی چاول شوق سے نہیں کھاتی تھیں سو روٹی کھا رہی تھیں۔ 

ایک منٹ۔ 

اس نے فورا محسوس کر لیا۔ 

خالہ آپ صرف میرے لیئے الگ اہتمام مت کیا کیجئے اب جب مٹر قیمہ تھا تو آپ نے الگ سے پلائو کیوں بنایا میں بھی کھا لیتا یہی ۔ 

اس کے تکلف پر جبین مسکرا دیں

تو کیا ہوا دو منٹ میں بن جاتا ہے کونسا مشقت کرنی پڑتی ہے پلائو بنانے میں۔ میرا بیٹا شوق سے کھاتا ہے مٹر پلائو تو میں ۔۔ 

وہ پیار سے کہہ رہی تھیں

ہاں دو ڈشیں بنانے میں کونسا وقت لگ جاتا ہے۔ ہمیشہ ہی تمہاری خالہ سب کی پسند نا پسند کا خیال رکھتی آئی ہیں۔ 

خالو کا انداز بتاتا تھا وہ کس موڈ میں بولے ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے سے وہ رات کو ہی بس کھانے کے وقت گھر آتے تھے اور تقریبا روز ہی انکی کسی نا کسی بات پر نوک جھوک ہوجاتی تھئ۔

آپ تو عورتوں کو بھی مات کرنے لگے ہیں طعنے دینے میں۔ 

وہ حسب توقع بری طرح چڑ گئیں۔ 

لو ایک تو تعریف کر رہا ہوں تمہاری۔ بیٹے کی پسند نا پسند کا خیال رکھتی ہو ایک وقت میں دو طرح کے کھانے بنا رکھتی ہو تھکتی بھئ نہیں ہو اب۔

وہ تپا چکے تھے جبھی اب ٹھنڈے میٹھے انداز میں بول رہے تھے۔ 

جانتی ہوں اس تعریف کا مطلب اچھی طرح۔ 

وہ بڑبڑا کر رہ گئیں

اریزہ بھی کل مٹر پلائو کھارہی تھی۔ اسکی کورین سہیلی کی ماں نے بنایا تھا۔ کہہ رہی تھی مزے کا ہے۔ مگر انہوں نے اس میں سالن ڈال دیا تھا۔ رونے والئ ہوئی وی تھی۔

اس نے بات بدلنے کی نیت سے قصہ سنایا مگر خیال آیا کہ سور والی بات جانے بتانی چاہییے یا نہیں سو بروقت زبان کو بریک بھی لگالی۔ 

سالن ڈالنے میں رونے کی کیا بات۔ اکثر لوگ سالن ڈال کر کھاتے ہیں چاول۔ 

جبین حیران ہو رہی تھیں۔ اس نے وضاحت نہیں کی۔ خالو کا کھانا کھاتے کھاتے دل اچاٹ سا ہوا روٹی ہاٹ پاٹ میں رکھتے اٹھ کھڑے ہوئے۔ 

اے اب کھانا تو پورا کھا لیں کہاں جا رہے ہیں؟

جبین نے ٹوکا مگر وہ بھوک نہیں ہے کہتے چائے کی فرمائش داغتے کمرے میں چلے گئے۔

وہ بول کے پچھتا رہا تھا کھانے میں اسکی بھی دلچسپی ختم ہو گئ تھی مگر خالہ کی وجہ سے ساتھ دینے کو کھانا زہر مار کرتا رہا۔

اریزہ کی طبیعت ٹھیک ہے؟ سردی سنا ہے کوریا میں سخت پڑتی ہے۔ اسکو تو فورا بخار ہوتا تھا سردی میں۔ بڑی احتیاط کرنی پڑتی تھی مجھے اسکی۔ 

نوالہ بناتے وہ بظاہر سرسری سے انداز میں پوچھ رہی تھیں حقیقتا رواں رواں کان بنا ہوا تھا۔ 

ٹھیک ہے۔ آجکل سہیلی کے گھر آئی ہوئی ہے۔ خوب گھوم پھر رہی ہے۔ تصویریں لگا رہی ہے انسٹا پر دکھائوں؟۔

اس نے پوچھنے کے ساتھ ہی موبائل نکال لیا۔ کرسی گھسیٹ کر انکے برابر کرتے ہوئے انکو تصویریں دکھانے لگا۔

بہت کمزور ہوگئ ہے؟ کھاتئ پیتی نہیں ہوگی نا۔ اتنے تو نخرے تھے کھانے میں اسکے۔ 

ماں نے سب سے پہلے بھانپا تھا کہ اس نے وزن کم کر لیا ہے۔ پرفضا مقام پر پہاڑوں کے درمیان ہنستی مسکراتی اریزہ بے حد خوش دکھائی دے رہی تھی۔ 

انکی آنکھیں جھلملا سی گئیں۔۔۔ 

اب بات ہو تو پوچھنا اس سے ۔۔ 

کہتے کہتے وہ رک سی گئیں۔ 

کیا ؟ وہ ہمہ تن گوش ہی تو تھا۔ 

یہی خیریت وغیرہ۔ تم چائے پیوگے؟ 

وہ ایکدم اٹھ کھڑی ہوئیں۔ پلیٹیں سمیٹتے ہموار لہجہ معمول کا انداز انہیں جیسے دلچسپی ہی نہ تھی تصویروں میں۔ وہ انکے خیال سے اسکی درجنوں تصویریں دکھانے بیٹھا تھا ۔۔ 

جی۔ صارم مایوس سا ہوا۔ 

جانے آج دل کیوں بیٹھا جا رہا ہے۔ وہ برتن اٹھاتے بڑبڑائی تھیں۔ 

آپ بیٹھیں میں سمیٹ دیتا ہوں بلکہ چائے بھی بنا دیتا ہوں۔ وہ فورا اٹھا تھا وہ واپس کرسی پر بیٹھ گئیں۔ مروتا بھی انکار نہیں کیا۔۔۔ دل ہی عجیب سا ہو رہا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے دفتر میں بیٹھا وہ کچھ ضروری امور دیکھ رہا تھا جب اسکو موبائل پر کال آئی۔ انجان نمبر دیکھ کر اس نے بے دھیانی سے فون اٹھا کر کان سے لگایا 

یوبوسیو۔ 

آنیانگ ہاسے او۔ سنتھیا بات کر رہی ہوں۔ 

پوری دنیا ختم ہو رہی ہوتی اور سنتھیا اور وہ آخری دنیا میں رہ جانے والے انسان بچتے تب بھی اسے گمان نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ اب اسے کال کرے گی۔ 

کیسے ہو؟ وہ انگریزی میں احوال پوچھ رہی تھی۔

ٹھیک ہوں تم کیسی ہو طبیعت کیسی ہے؟

اس نے بے تابئ سے پوچھا تھا جوابا وہ چپ سی رہ گئ

ٹھیک ہوں۔ میں آج واپس جا رہی ہوں سوچا تمہیں خدا حافظ کہہ دوں۔ تم نے مجھ پر جتنے احسان کیئے جتنا میرا خیال رکھا اسکا بدلا تو نہیں اتار سکتئ مگر دل سے تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ۔ بہت بہت شکریہ کم سن ۔ تم بہت اچھے انسان ہو خدا تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔ 

کہاں ہو تم؟ 

کم سن نے اسکی بات کاٹ کر پوچھا 

میں۔ وہ رکی پھر بتا دیا

اسپتال میں ہوں۔ 

کونسے؟ 

اس نے وقت ضائع کیئے بنا پوچھا

نام تو مجھے نہیں پتہ۔ اس نے موبائل کان سے لگائے سوالیہ نظروں سے نرس کو دیکھا جو اسکے کمرے کی کھڑکی کے پردے ہٹا رہی تھی۔ اسے اپنی طرف متوجہ ہوتے دیکھ کر مسکرا دی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھنٹے بھر میں وہ اسکے سامنے تھا۔صوفے پر بیٹھا اسکے فارغ ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ 

وہ ابھئ ناشتہ کرکے فارغ ہوئی تھی۔ نرس اسکا منہ صاف کروا رہی تھی۔  رات دیر تک جاگی تھی صبح دیر تک سوتی رہی تھی۔ اس وقت کچھ طبیعت پرسکون تھی۔ اسے دیکھ کر خیر مقدمی مسکراہٹ سجا کر وہ بیڈ اونچا کروا کر ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔ نرس اسکا بیڈ اونچا کرکے اسے ذیادہ دیر نہ بیٹھے رہنے کی تاکید کرتی باہر نکل گئ۔ نرس کے جاتے ہی وہ اٹھ کر اسکے قریب آکھڑا ہوا تھا۔

تم نے اچھا کیا تم آگئے۔ میں تمہارا دوبدو شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی۔ تم نے جو میرے لیئے کیا۔ 

وہ ابھی اتنا ہی کہہ پائی تھی کہ کم سن نے بات کاٹ دی

تم سفر نہیں کر سکتی ہو پھر کل جانے کا مطلب؟

اس نے بلا تمہید سوال کیا تھا۔ 

میں یہاں رہ نہیں سکتی ۔ ڈیڈا کے ساتھ واپس جانا ہے مجھے۔

اس نے کمزور سی آواز میں کہتے ہوئے سر جھکا لیا۔

کیوں کیا مجبوری ہے؟ تمہاری طبی حالت ایسی ہے کہ آرام سے تم کوریا میں رہ سکتی ہو اس بچے کی پیدائش تک  کوئی تمہیں ہوائی سفر پر مجبور نہیں کرسکتا۔ 

کم سن کا انداز۔ اسکی فکر۔ اس نے کچھ کہنے کیلئے لب کھولے پھر ہونٹ بھینچ لیئے۔ وہ یقینا اچھا انسان تھا جو کسی انجان لڑکی کیلئے اتنا فکر مند تھا لیکن وہ اس کو کیا بتائے کیسے بتایے سب سے بڑھ کر کیوں بتائے اپنی مجبوریوں کی داستان۔ 

تم بیٹھو تو ۔ یہ میں نے کچھ ریفرشمنٹ بھئ منگوائی تھی معزرت تمہیں خود زحمت کرنی پڑے گی۔ اس نے وزیٹنگ صوفے کے سامنے رکھی سینٹرل ٹیبل کی جانب اشارہ کرتے بات ہی بدل دی۔ اسکو وی آئی روم دیا گیا تھا۔ اسکے بیڈ اور دیگر سہولیات تو جو تھیں ایک حصے میں مہمانوں کیلیئے صوفہ سیٹ بھی لگا ہوا تھا۔ میز پر بڑا سا شاپر بھی رکھا ہوا تھا۔ کم سن بھنا ہی گیا

بات مت بدلو۔وہ ہاتھ اٹھا کر بولا۔

 تم پاکستان مت جائو ۔ یہیں رکو۔ تمہارے ڈیڈا اتنا تو خرچہ اٹھا سکتے ہیں تمہارا کہ یہاں کوئی رہائش کا انتظام کر سکیں ۔ یہاں چیریٹئ کے بھئ بہت سے نرسنگ ہومز ہیں ۔ تمہارا یہاں کوئی انتظام کیا جا سکتا ہے اور تم یہاں اکیلی بھی نہیں ہو ایڈون ہےاریزہ ہے ہم سب ہیں ۔ 

وہ کہنا چاہتا تھا میں ہوں مگر جانے وہ اسکا مطلب کیا لیتی سو اپنی بات کہہ گیا سنتھیا ہنس دی۔ 

بس ہنس کر چپ ہی رہی۔ کم سن کو اپنا آپ ایکدم چغد سا لگا۔یعنی اسکی بات بچکانہ سمجھ کر ہنس کر ٹال دی گئ تھی۔

سنتھیا میں سنجیدہ ہوں۔ 

وہ اپنی بات پر زور دے کر بولا۔ سنتھیا مسکرا کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔

تمہارا ایک بار پھر بہت شکریہ تم نے میری جتنی مدد کی جتنی فکر کی میں واقعی احسان مند ہو گئ ہوں تمہاری۔ کوریا کے بارے میں کم ازکم ایک اچھی یاد جڑ گئ ہے میری۔ تمہاری وجہ سے۔ 

اسکا انداز نپا تلا تھا ۔ وہ بہت سلیقے سے اسے اب جانے کا کہہ رہی تھی۔ کم سن اتنا بے وقوف نہیں تھا کہ سمجھ نہ پاتا ہونٹ بھینچے وہ بلا ارادہ اسے دیکھتا رہ گیا۔بس اتنا ہی تو تعلق تھا ان میں۔ اس نے خدا واسطے ایک انجان ملک کی لڑکی کی مدد کی جوابا وہ شکریہ ادا کررہی تھی مزید اور کیا ۔۔ 

یہ میں تمہیں دینا چاہتی تھی۔ اسے جیسے کچھ یاد آیا تھا۔ اپنے بیڈ کی سائڈ ٹیبل کی دراز سے اس نے ایک موٹا سا سفید کاغذکا لفافہ نکالا۔اسکی جانب بڑھا کر بولی 

یہ امانت تھی تمہاری۔ 

اس نے میکانکی انداز میں اسکے ہاتھ سے لفافہ لیا۔ کھول کر دیکھا تو وون کے نوٹوں سے بھرا ہوا تھا

مجھے درست اندازہ تو نہیں کہ اسپتال کے اخراجات پر تمہارا کتنا خرچ آیا ہوگا۔ لیکن یہ میری جانب سے شکریے کا نذرانہ ہے۔۔

کم سن کو ہنسی آگئ 

مٹھی بھر نوٹ بس۔  اتنی سی قیمت لگی۔ 

یہ بہت کم ہیں۔ اس نے نوٹ واپس لفافے میں رکھ کر لفافہ اسکی جانب بڑھا دیا

وہ انکار کرے گا لینے سے منع کرے گا وہ تھوڑا اصرار کرکے منا لے گی وہ اتنے خرچے ایک مخلص انسان کے کروا کر پاکستان جا بیٹھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ بہر حال پیسہ ایک حقیقت ہے۔ مگر اس کے سب ردعمل سوچتے اس نے یہ کم از کم نہیں سوچا تھا کہ وہ پیسے واپس کرتے کہے گا یہ کم ہیں۔ 

اسے ڈیڈا سے مزید رقم کا انتظام کرنے کا کہنا چاہئےتھا اسکا یقینا کافی ذیادہ خرچہ ہوا ہوگا۔

میں ڈیڈا سے مزید وائر کروادیتی ہوں۔ وہ الرٹ سی ہو کر بیٹھی۔ اب تو ڈیجیٹل بھی بھیجا جا سکتا ہے خوامخواہ کیش کی زحمت کی۔ 

وہ سوچ رہی تھی۔ بیڈ سائیڈ سے فون اٹھا کر ڈیڈا کو کال ملائے۔ ۔کم سن نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام کر روک کر اس پر لفافہ رکھا۔ 

جو میرا خرچ ہوا ہے وہ وقت تھا جزبے تھے۔ انکی قیمت پیسوں میں تولی نہیں جاسکتی۔ کبھی وقت یا جزبوں سے مول لگا سکو تب رابطہ کرنا۔ 

سنتھیا کا دیکھتے ہی دیکھتے رنگ بدلا پیشانی پر شکن آگئ۔ 

کیا مطلب ہے اس بات کا۔ وہ چٹخ کر بولی۔

کم سن  گہری سانس لیکر بنا جواب دیے جانے کو مڑا۔ پھر خیال آیا تو رک کر بنا پیچھے مڑ کر دیکھے بولا

بہت طویل عرصہ میں نے گزارا ہے کسی کیلئے یک طرفہ محبت میں جلتے سلگتے۔ ساتھ کھڑے ہونا مگر پس منظر کا حصہ بن جانا۔ اور تمہیں دیکھ کر مجھے خیال آیا تھا یہ بد قسمتی صرف میرے حصے میں نہیں آئی ہے۔ اور بھی لوگ ہیں دنیا میں جو پاس ہو کر بھی نارسائی کی آگ میں جلتے ہیں۔۔ یہ میں جانتا تھا کیونکہ۔۔۔

وہ رکا تھا۔ سانس لی تھئ شائد۔ سنتھیا دم سادھے سن رہی تھی۔

۔۔۔۔دراصل تمہیں دیکھتا تھا میں اتنا دیکھتا تھا کہ۔۔۔ 

اسکے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ در آئی۔پلٹ کر ناگواری سے گھورتی سنتھیا کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا

تم ایڈون کے سوا کسی کو دیکھتیں تو شائد مجھے تمہیں دیکھتا دیکھ لیتیں۔

سنتھیا بھونچکا سی اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔ وہ کہہ کر رکا نہیں تھا ۔ رک سکتا ہی نہیں تھا آنکھیں ہی بھرآئی تھیں۔ دروازہ کھول کر باہر نکلتے اس نے رفتار بڑھاتے بس یہی سوچا تھا 

پھر میں۔۔۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد

جاری ہے 

Rating
“>> » Home » Urdu Novels » Salam Korea » Discovering the Wonders of Korea Through Urdu Web Travel Novel Salam Korea Episode 39

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *