Salam Korea

by Vaiza Zaidi

قسط 32

kdrama urdu,
Desi kimchi,
Desi kdrama fans,
Urdu kdrama,
Urdu web,
Kdrama maza,
Korean masti,
korean dramas,
kdrama,
k drama,
best korean drama,
korean drama 2020,
korean drama 2021,
kdrama 2021
best kdrama,
korean series,
kdramas to watch,
korean drama website,
kdrama website,
netflix korean drama,
asian drama,
best korean drama 2020,
top korean drama,
new korean drama 2021,
best korean drama 2021,
best kdrama 2020,
best kdrama to watch,
best korean drama on netflix,
best korean series,
best kdrama 2021,
kdrama netflix,
k drama urdu,
www korean drama,
watch korean drama,
best k dramas on netflix,
netflix korean drama 2021,
best kdrama on netflix,
new korean drama,
www kdrama,
k drama 2021,
korean series on netflix,
netflix korean drama 2020,
top 10 korean drama,
top kdrama,
top korean drama 2020,
k dramas to watch,
2021 korean drama,
korean drama series,
best korean series on netflix,
new kdrama 2021,
2020 kdrama,
2020 korean drama,
2021 kdrama,
k drama netflix,
best k drama to watch,
romance kdrama,
k drama 2020,
new korean drama 2020,
latest korean drama 2021,
korean dramas to watch,
top korean drama 2021,
watch kdrama,
korean tv series,
highest rated korean drama,
korean drama in hindi,
korean drama shows,
top kdrama 2021,
new kdrama,
watch asian drama,
popular korean drama,
kdrama online,
latest korean drama,
korean drama online,
korean netflix series,
korean tv shows,
korean shows,
must watch kdrama,
korean shows on netflix,
famous korean dramas,
romance korean drama,
top kdrama 2020,
most popular korean drama,
korean series 2021,
must watch korean drama,
new kdrama 2020,
best romance kdrama,
popular kdrama,
good kdramas,
korean drama in hindi dubbed,
korean series 2020,
kdramas 2020,
best korean shows on netflix,
korean drama 2021 netflix,
top k dramas,
top rated korean drama,
watch kdrama online,
korean romance,
top korean series,
netflix k drama,
good korean dramas,
latest kdrama 2021,
most watched korean drama,
top 10 kdrama,
famous kdrama,
all in korean drama,
best k drama 2020,
urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
pakeeza anchal,
l online reading,
pakeeza anchal novel online reading,
urdu novel bank,
urdu novel platform,
yaar zinda sohbat baqi,
desi story urdu,
Salam Korea Episode 32

بے خبر سوتے میں جانے موبائل کو کیا تکلیف پہنچی تھی کہ بجتا چلا گیا۔ہر سام سنگ صارف کی طرح اس مارننگ گلوری کو سن کر اسکو غصہ چڑھا تھا رونا آیا تھا نیند ٹوٹنے پر کوستے ہوئے موبائل اٹھایا اور غصے سے بڑبڑائی

 الارم کیوں بج رہا ہے؟ اس نے بند آنکھوں کو بمشکل تھوڑا سا کھول کر الارم بند کیا۔ ساتھ جانے کیا پیغام جل بجھ کر رہا تھا اس نے پروا نہیں کی۔ کروٹ بدل گئ۔ 

گوارا نے تقریبا ایک بجے کے قریب اٹھایا تھا اسے

کیا ہےسونے دو۔ 

وہ بڑ بڑا کر کروٹ بدل گئ

دے؟ گوارا کو سمجھ نہ آیا مگر نیند کے خمار میں ڈوبی اریزہ کا ترجمے کا کوئی ارادہ نہیں تھا

اچھا سنو میں بھی جا رہی ہوں باہر۔ تمہارا ناشتہ کرنے کا بھی ارادہ نہیں کیا؟ ایک بج رہا ہے۔۔ 

ایک بجنے کا سن کر اس نے پٹ آنکھیں کھول دی تھیں

کہاں جا رہی ہو؟ 

وہ اٹھ بیٹھی۔۔ 

سونا جا رہی ہوں کل پیکنگ پھر پرسوں گائوں ۔اس بار کرسمس گائوں میں ہی کروں گئ ہر سال میری اماں کوستی ہیں مجھے کہ میں ہاتھ نہیں بٹاتی۔ 

خیر ہے دسمبر ابھی شروع ہی ہوا ہے اور تم کرسمس تک وہاں رہوگئ میں کہا کروں گی اتنے دن یہاں۔۔۔۔

 اس چنڈالنی کے ساتھ۔ اس نے چنڈالنی پرکچھ ذیادہ ہی زور ڈال دیا۔

واٹ چنڈ۔ 

گوارا کی زبان بل۔کھا گئ چنڈالنی کہتے۔ 

سونا کیوں جانا ہے ؟ اس نے حیرانگی سے پوچھا تھا گوارا نے کندھے اچکا دیئے۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹھٹھرا دینے والی سردی کے برعکس اندر نرم گرم ماحول لوگوں کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ کوئی گرم پانی سے نہا کے آرہا تھا تو کوئی بھاپ اڑاتے کمرے میں پسینے نکال رہا تھا۔ ایک جانب خواتین کا انتظام تھا۔ 

گوارا باتھ گائون  پہن کر اور اسے زبردستی پہنواکر سونا باتھ میں لے آئی ۔ 

کمرے میں بھاپ جمع تھی۔ کچھ نوجوان لڑکیاں خوش گپیوں میں مگن تھیں کچھ آنکھیں بند کیئے نیم دراز تھیں۔ 

اسے کچھ بھی تھا سردی یہاں بہت لگ رہی تھی۔ جبھی اس نرم گرم ماحول میں آکر اسے اچھا لگا تھا۔ 

آدھا پونا گھنٹہ پسینہ بہا کرشاور لیکر باہر آئیں تو ٹھیک ٹھاک تازہ دم محسوس کر رہی تھیں۔ 

تواضع کیلئے ابلے انڈے اور قہوہ موجود تھا۔ 

اس کو ابلے انڈے پسند تھے مگر اکٹھے ایک سے ذیادہ کھانے کا کبھی اتفاق نہ ہوا تھا مگر وہاں سب جیسے انڈے سے پیٹ بھر رہے تھے۔وہ دلچسپی سے سب پر نظر دوڑا رہی تھئ۔ 

یہاں سب سونا ضرور جاتے ہیں؟ 

اریزہ کا انداز سوالیہ تھا۔

ہاں کوریا میں رواج ہے۔ فل باڈی مساج سے ساری تھکن اتر جاتی ہے تم تیار ہی نہیں ہوئیں اب گائوں جا کر آہموجی سے کروائوں گی مساج۔ 

گوارا کو افسوس ہوا۔ اریزہ کان کھجا کے رہ گئ۔ 

بھلے خواتین ہی مساج کر رہی تھیں پھر بھی اسے مناسب نہ لگا۔

ہمارے یہاں رواج نہیں ہے یوں مساج کا۔ اس نے کہہ دیا

مساج ضروری ہوتا ہے چلو بہت سے ممالک میں رواج نہیں مگر سونا تو تقریبا سب ممالک میں ہوتے ہیں اپنے اپنے انداز کے۔ 

اریزہ نے کندھے اچکا دیے۔

تم لوگ نہیں سونا جاتے؟ جانا چاہیئے۔ سردیوں میں تو جلد کے مردہ خلیئے اتارنے ہی چاہیئے۔ یہاں کورینز تو ہر صورت سونا ضرور جاتے ہیں۔ 

گوارا کی حیرت دیکھنے لائق تھی۔ جیسے پاکستانئ گندے رہتے ہوں۔وہ چڑ کر بولی

ہم۔نہا ہی اچھی طرح لیتے ہیں۔ الگ سے ایسے صفائی کی ضرورت نہیں ہوتی ہمیں۔

اس نے چڑایا۔ گوارا برا مانے بغیر بولی

اچھا یہ بتائو تم لڑکیاں وہاں کیسے وقت گزارتی ہو؟ 

وہ جو پوچھنا چاہ رہی تھی اریزہ کو بتاتے ہچکچاہٹ سی ہوئی۔ تھوڑی دیر مناسب جواب سوچنے کے بعد بس یہی کہا

گھر میں۔ 

وہ تو ظاہرہے۔ میرا مطلب تھا تفریح کیلئے کیا کرتی ہو؟ وہاں کلبز وغیرہ ہیں۔ 

نہیں۔ اس نے سوچا پھر سچ سچ کہہ دیا۔ 

پھر؟ گوارا ہمہ تن گوش تھی

اچھا یہ بتائو تم کیسے وقت گزارتی تھیں وہاں؟ 

بس صبح یونیورسٹی دوپہر کو گھر آتی تھی نماز وغیرہ پڑھ لی پھر گھر کے کام صفائی کھانا بنانا وغیرہ کبھی بہت دل کیا تو صارم کے ساتھ باہر جا کر آئیسکریم کھا لی۔یا سردیوں میں سوپ پینے چلےگئے۔ سردیوں میں رشتے دار وغیرہ آجاتے ہیں تو انکے ساتھ گھومنے پھرنے کا پروگرام بنا لیتے ہیں۔

ورنہ گھر میں۔ 

وہ شرمندہ سے انداز میں بتا رہی تھئ۔ کیا بتاتی وہاں لڑکیوں کی تفریح کا کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔ 

تمہاری دوستیں ہیں ؟ انکے ساتھ نہیں کہیں جاتیں؟ 

گوارا بہت سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔ 

ہیلو ہائے تو بہت سی لڑکیوں سے ہے۔ دوستی بس سنتھیا کے ساتھ تھی۔ اسکے گھر چلی جاتی تھی یا کبھی ہم دونوں مل کر بازا رچلی جاتی تھیں وہ بھی کبھی کبھار ورنہ اپنی شاپنگ کیلئے تو امی کے ساتھ جاتی تھی میں۔ 

اسے یقین ہوچلاتھا کہ گوارا اسے ٹھیک ٹھاک گیا گزرا سمجھ رہی ہے۔ 

تم جاب نہیں کرتی تھیں نا وہاں تو پیسے کون دیتا ہے تمہیں شاپنگ کیلئے؟ گوارا کو نہ جانے کیا دلچسپی تھئ

بابا۔ اس نے مختصرا کہا۔ وہ موضوع بدلنا چاہ رہی تھی

میں اپنی امی کے ساتھ آخری بار شاپنگ پر سیونتھ کلاس میں گئ تھئ۔ اسکے بعد سے آج تک کبھی موقع نہیں ملا۔ ہائی اسکول سے مختلف جاب کرنا شروع کردی تھیں میں نے۔پڑھائی کاخرچ اٹھانے کے بعد کبھی اتنے پیسے بچے نہیں کہ خوب ساری شاپنگ کر سکوں۔ بس ضرورت کی ایک آدھ چیز لیتی تھی۔ پھر گوشی وون میں رہ رہ کر پیسہ پیسہ جوڑا یونیورسٹی میں ایڈمیشن کیلئے۔ تب خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میرے بابا کا انتقال ہوگیا۔ انکی انشورنس سے خوب پیسہ ملا تو آہموجی نے اپارٹمنٹ لیا مگر وہ اسے کرایے پر چڑھانا چاہتی تھیں۔ میں نے تب ضد کی اور یہاں آگئی۔ ورنہ اسکا کرایہ بھی میری آہموجی نے اپنے نئے بچوں پر خرچ کرنا تھ۔ا۔

نئے بچوں پر؟ وہ اسکی اصطلاح پر حیران ہوئی

میرا بس ایک بھائی ہے۔چار سال چھوٹا۔ بس باقی آہموجی نے جب دوسری شادی کی تو آہجوشی سے دو بچے ہوئے انکے ابھی اسکول میں پڑھتے ہیں۔آہجوشی کا ایک بیٹا میرا ہم عمر ہے۔ اپنی ماں کےترکے سے ملنے والا ایک پیسہ اس نے آہموجی کو نہیں دیا۔ اپنا کاروبار کر رہا ہے مگر نا آہجوشی کو ایک پیسہ دیتاہے نا آہموجی کو۔ میرا بھائی آہجوشی کا ہاتھ بٹاتا ہے انکے ریستوران میں مگر اسکی تعلیم کا خرچہ تک وہ نہیں اٹھاتے۔ اسکے لیئے وہ الگ جاب کرتا ہے۔ تو اس فلیٹ کی رقم میں اپنے سوتیلے بہن بھائیوں پر کیوں خرچ کروں؟ یہ بس میرا اور میرے بھائی کا ہے۔ جب اسکی یونیورسٹی کی باری آئے گی وہ یہاں میرے ساتھ رہے گا پڑھے گا۔

گوارا نے عزم کیا۔ تصویر کا دوسرا رخ دیکھ کر وہ حیران سی رہ گئ تھی۔ 

اسکی پڑھائی کا۔خرچ؟ اریزہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔ 

اس نے جمع کیا ہے کچھ ۔ وہ بہت ذہین ہے ٹیوشنز پڑھاتا ہےاور کچھ پیسہ میرے پاس بھی ہے۔ 

پتہ ہے ماڈلنگ شروع کی تھی میں نے۔ تصویر میں میری ناک اورہونٹ اچھے نہیں آتے تھے۔ اس پر مجھے ایجنسی نے ریجیکٹ کر دیا۔ پورے دو سال پیسے جمع کیئے میں نے کہ آپریشن کروالوں۔ 

وہ اپنی انتہائی مہنگی ناک چھو کر بولی۔

ماڈلنگ کا موقع تو دوبارہ ملے توتھوڑا  بھائی کےکام آجائیں گے پیسے۔ ارے تم نے ابھئ تک انڈہ۔ختم نہیں کیا؟ بولتے بولتے اس پر نظر پڑی جو ادھ کھایا انڈہ تھامے بغور اسکی باتیں سن رہی تھی۔

خود اس نے چار انڈے کھالیئے تھے۔ 

میں بس یہی ایک کھائوں گئ۔ اس نے کہتے ہوئے باقی ماندہ انڈہ منہ میں رکھ لیا۔

چلو باہر چل کر گھومتے پھرتے ہیں۔۔ 

گوارا ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

گنگنم میں گھومتے باتیں کرتے ٹھیلوں سے کھانا چکھتے وہ دونوں بے فکری سے پھر رہی تھیں۔ 

گائوں جانے کیلئے وہ کچھ تحفے خریدنا چاہ رہی تھی۔ چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے چاکلیٹس بورڈ گیمز بہن کیلئے گڑیا بھائی کیلئے ریموٹ کنٹرول گاڑی۔ دوسرے بھائی کیلئے خوب پیارا سا ہڈ اور سویٹ سوٹ۔ماں کیلئے اونی لانگ اسکرٹ۔ باپ کیلئے بھی ایک سوئٹر خرید ی۔ 

تم بھی کچھ لے لو۔ اس نے اریزہ کو آفر کی۔ 

اس نے سوچا پھر نفی میں سر ہلا دیا۔ گورا نے اسکے اور اپنے لیئے ایک جیسی لانگ فراک لی۔

کرسمس دور ہے مگر کرسمس تک میں یہاں نہیں ہونگی۔ سو اسلیئے ایڈوانس تحفہ ۔۔ 

اریزہ کے نہ نہ کرنے پر اس نے اصرار سے تھمایا۔ 

تم آنا نا گائوں۔ بلکہ میں کرسمس سے پہلے ایک پارٹی رکھوں گئ سب آئیں گے تم بھئ آنا۔ کرسمس میں تو سب اپنے اپنے خاندان کے ساتھ مصروف ہوتے ہیں۔ اسلیئے میرا ارادہ پہلے ہی پارٹی کرنے کا ہے۔ 

دیکھتے ہیں۔ اس نے ٹالا تھا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح نیند سے بیدار ہوتے ہی مانوس سی خوشبو نے اسکو جگا دیا تھا۔ مسکرا کر بستر سے اٹھتے وہ بنا آہٹ کیئے کچن میں چلا آیا تھا۔ حسب توقع سنتھیا ایپرن باندھے پراٹھا بنا رہی تھی ۔ ایک جانب نان اسٹک پین میں پیاز نرم ہو رہی تھی۔ وہ دبے پائوں اسکے قریب آیا اور اسکو پیچھے سے جا کر بانہوں میں بھر لیا۔ اسکے کندھے پر تھوڑی ٹکادی۔۔ 

کیا کر رہی ہو میری جان۔ 

سنتھیا مسکرا دی۔ 

پراٹھا بنا رہی ہوں۔ پیچھے ہو پراٹھا جل جائے گا۔ اس سے خود کو چھڑاتے وہ جلدی سے آگے بڑھ کر پراٹھا پلٹنے لگی۔ سنہری سنہری گول سا پراٹھا۔ اسکی بھی بھوک چمک اٹھی تھئ۔

میں آملیٹ بنا دیتا ہوں۔ اس نے آگے بڑھ کر پین تھاما۔ 

گومو ووئو۔ سنتھیا  شکر گزار ہوئی۔ ایڈون نے بھنوئیں اچکا کر دیکھا تو وہ کھسیا کر ہنس دی ۔ایڈون بھی ہنس دیا

شکریہ۔۔ ایک تو کورینز نے گومو وویو زبان پر چڑھا دیا ہے۔ ویسے یہاں رہ رہ کر اچھی کورین آجائے گی ہمیں۔

پراٹھا اتار کر ہاٹ پاٹ میں رکھتے وہ مصروف سے انداز میں بولی۔ 

تمہیں کورین بولنی آجائے گی اور کورینز کو پراٹھے کھانے آجائیں گے۔ ایڈون نے پہلے سے حل شدہ انڈوں کا آمیزہ فرائی پین میں انڈیلا۔ 

اس دن گوارا بتا رہی تھی کہ وہ ناشتے میں پراٹھا کھا کے آئی ہے۔ اسے اریزہ نے بنا کر دیا تھا۔ 

وہ سادہ سے انداز میں بتا رہا تھا۔ سنتھیا کے تاثرات کھردرے سے ہو گئے ۔ ہاٹ پاٹ اٹھا کر وہ میز پر رکھنے لگی۔ پلیٹیں بھاپ اڑاتئ چائے کا کپ ۔۔ ناشتے کے سب لوازم مکمل تھے۔ 

لو جی آگیا انڈہ۔ میرے ہاتھ کا بنا انڈا کھائو گی کیا یاد کروگی۔ 

وہ خاصا خوش تھا اپنی کارکردگی پر۔ سنتھیا اسکو دیکھ کر ہنس پڑئ

زندگئ میں پہلی بار تلا ہے انڈہ اور بالکل صحیح تلا۔ 

وہ داد چاہ رہا تھا۔ 

شکریہ جناب میں مشکور ہوں آپ نے اتنی زحمت کی میرےلیئے۔ وہ بھی ہلکے پھلکے انداز میں کہتی اسکے مقابل آ بیٹھی۔ 

ویسے تمہیں آٹا کہاں سے مل گیا۔ یہاں۔ نوالہ بناتے یونہی ایڈون نے پوچھا۔ 

یہاں شائد جو پہلے لوگ رہنے آئے تھے انکو بیکنگ کا شوق تھا۔ میدہ کارن فلور ونیلا ایسسنس سب کچھ بچا ہوا تھا کیبنٹ میں پڑا تھا۔  

اس نے کہا تو ایڈون سر ہلا گیا۔ 

تم مجھے کسی کا چھوڑا ہوا کھلا رہی ہو۔ وہ مستی میں بول گیا۔ 

خود بھئ یہی چھوڑا ہوا کھا رہی ہوں۔ سنتھیا نے گھورا۔ 

مجھے چھوڑا ہوا کھانے کی عادت نہیں ۔۔ ایڈون نے چڑایا

مجھے بھی چھوڑا ہوا اپنانے کی عادت نہیں تھی۔ سنتھیا نے لمحہ بھر توقف کیئے بنا کہا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہارے لیئے جان بھی دے دوں تو تم مجھ پر یقین نہیں کروگی ہے نا۔ میں کیا کروں ایسا کہ تمہارا شک دور ہو جائے۔ نام تک نہیں لیتا میں ۔ خود کو اتنا سمجھاتا ہوں۔ مگر اریزہ۔۔ سوری سنتھیا میرے منہ سے نکل گیا نام سوری۔۔۔۔ اس نے سسکیاں بھرنا شروع کردیں۔

بار کے باہر ایک دکان کے آگے رکھے آرائشی بڑے سے غبارے والے بھالو کے سامنے دو زانو بیٹھا بین کر رہا تھا۔ 

کم سن نے گھور کر یون بن کو دیکھا۔ 

مجھے گوارا کے ساتھ ڈنر پر جانا ہے ورنہ یہ کارخیر خود انجام دیتا۔ اسکے گھر کا پتہ بھی نہیں تھا ورنہ ٹیکسی میں بٹھا کے بھیج دیتا۔

یون بن نے صفائی دی۔ کم سن دانت پیسنے لگا۔

یہیں پڑا رہنے دیتے جوان آدمی ہے مر تھوڑی جاتا۔ 

کم سن کے کہنے پر یون بن نے بہت حیرت سے اسکی شکل دیکھی وہ تھوڑا کھسیا گیا۔

یہ دوست ہے ہمارا۔ 

اس نے جیسے یاد دلایا۔

شاہزیب سے دوستی تھئ میری اس سے کبھی نہیں بنی میری اور اب تو۔۔ 

وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ 

اچھا میں خود چھوڑ آئوں گا اسے مجھے بتادو اسکا پتہ۔ 

یون بن خفا تو نہیں ہوا مگر انداز تھوڑا کھردرا ہوگیا تھا۔

چھیسو(جانے دو)

تم جائو گوارا ناراض ہو رہی ہوگی دیر ہونے پر۔ میں چھوڑ آتا ہوں اس سوغات کو۔

اس نے ہونٹ بھینچے۔ پھر اس نے یون بن کو بھیج کر خود بھئ ایک ٹیکسی روکی ۔ ایڈون کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ بٹھایا ۔

سنتھیا کو میری بالکل پروا نہیں ہے۔ وہ میری گرل فرینڈ نہیں رہی ہے وہ بس اب بچے کی ماں ہے۔اس بچے کے پیچھے مجھ سے بھی ناطہ توڑنے کو تیار ہے۔ بچے تو اور ہو جائیں گے ہے نا۔ مجھ پر اس بچے کو فوقیت دینا غلط ہے نا۔ وہ مجھ سے پیار کرتی ہے ناہے نا 

ایڈون کم سن کے کندھے پر سر رکھے پوچھ رہا تھا۔ کم سن کی جانے بلا ۔ وہ اپنی بات دہراتا سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھنے لگا۔ 

ماں تو پھر ایسی ہی ہوتی ہے نا۔ ماں کیلئے سب سے اہم اسکا بچہ ہوتا ہے۔ آپ اپنی گرل فرینڈ کے بچے سے محبت جتائیں وہ یقیناآپ سے خوش ہوجائے گی۔

اتنی دلگیری سے ڈرائیور نے جواب دیا کہ کم سن چونک کے شکل دیکھنے لگا۔ 

تمہیں سمجھ آرہی ہے یہ کیا کہہ رہا؟ 

کم سن کے پوچھنے پر وہ تھوڑا گڑبڑا سا گیا۔ 

جی وہ چھے سو ہمبندا ( مجھے معاف کیجئے گا) میں حد سے بڑھا۔ 

شستہ ہنگل میں ڈرائیور نے جواب دیا۔

اس نے کیا کہا ہے ابھی؟ کم سن نے پوچھا۔

ڈرائیور سوچ میں پڑا پھر ترجمہ دہرا دیا۔کم سن نے گھور کر ایڈون کو دیکھا۔ 

کہہ سیکی۔ اسکے منہ سے بے ساختہ ہی گالی نکلی تھی۔

ڈرائیور کو ہنسی آگئ۔ پھر فورا ہی ہونٹ بھینچ لیئے۔ کم سن نے اسے بھی گھورا۔

تم پاکستانی ہو؟ 

میں پاکستانئ ہوں۔ ایڈون کی جانب سے جواب آیا وہ اب دوبارہ اسکے کندھے پر سر رکھ اونگھ رہا تھا۔

اس نے چڑ کر پرے کیا اسے وہ سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگا۔

تم بھی پاکستانی ہو ؟ 

کم سن پھر پوچھ رہا تھا۔

آنی۔ بیک ویو مرر میں کم سن کو متوجہ دیکھ کر ڈرائیور نے جواب دیا۔

میں بھارتی ہوں۔ مگر ہندی سمجھ سکتا ہوں۔ یہ پاکستانی ہیں؟ 

اس نے پوچھا تو کم سن نےسر ہلا دیا۔ 

آپکے دوست ہیں؟ 

دے۔ مختصرہی جواب دیا۔

 کیا نام ہے انکا؟ 

ڈرائیور جتنی دلچسپی سے پوچھ رہا تھا کم سن کو اتنی ہی بیزاری ہو رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون۔

اسکے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ بی پی شائد ہائی ہو گیا تھا۔ رو رو کے سوجی ہوئی آنکھیں اکھڑی سانسیں۔ اسے لگا تھا اسکا آخری وقت قریب آچکا ہے۔وہ ہمتیں مجتمع کرکے اسکے کمرے کے دروازے تک آئی تھئ۔ ہلکا سا تھپتھپا کر اس نے پکارا مگر آواز ڈوب رہی تھی اسکی۔ 

دو تین دفعہ تھپتھپانے پر بھی دروازہ نہ کھلا تو وہ بے دم سی ہو کر واپسی کو مڑی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کو تھکی ہاری وہ اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تھیں۔ ہوپ کہیں تیار ہو کر جا رہی تھی ۔ روز مرہ کی گھسی جینز اور شرٹ کی بجائے کالی لانگ اسکرٹ ٹاپ اور ٹخنوں سے تھوڑا سا اوپر  تک کے کورٹ شوز پہنے چھوٹا سا پرس کندھے پر لٹکائے۔دونوں کا بلا ارادہ منہ کھل سا گیا تھا۔ انکو نظر انداز کرتے اونچی ہیل کو کھٹ کھٹ کرتی وہ انکے پاس سے گزر کر جانے لگی

کدھر جا رہی ہو؟ 

اریزہ نے کہنی کمر میں گھسیڑ دی تھی گوارا کے کہ مت پوچھو پھر بھی مجال ہے جو اس نے اثر لیا ہو۔ دھڑلے سے اسے کہنی سے تھام کر روک ڈالا۔ 

وہیں جہاں اریزہ جا رہی ہے۔ خشک سے انداز میں کہہ کر اس نے جھٹکے سے کہنی چھڑائی تھی۔ ردعمل کے طور پر پوری قوت سے دروازہ بند کرتی گئ۔ 

ہائش۔ گوارا بھنا کر اسکے پیچھے مارنے کو دوڑی مگر اریزہ نے کھینچ کھانچ لیا۔ 

کیا کہہ رہی تھی؟ 

اریزہ کو تجسس بھئ تھا۔ دونوں نے ہنگل میں ہی گفت و شنید کی تھی سو اسکے سر پر سے گزرا 

اسکا جملہ دہراتے دہراتے گوارا ٹھٹک کر رکی۔ 

تمہارا ہیون کے ساتھ کانسرٹ میں جانے کا پروگرام تھا نا؟ 

ہاں وہ تو ہفتے کی رات کو ہے کانسرٹ۔ وہ آرام سے انگڑائی لیتی صوفے پر گری۔ 

تو؟ آگاشی آج ہفتہ ہی ہے ؟

کمر پر ہاتھ رکھ کر گوارا نے جتایا تو وہ چونکی۔ 

ہیں ؟ واقعی؟ 

وہ اچھل پڑی۔ اپنا موبائل اٹھا کر دیکھا تو ریمائنڈر صبح بجتا رہا تھا۔۔ ساتھ ہیون کی چار مسڈ کالز جو دن بھر میں وقفے وقفے سے تھیں۔ ایک پیغام بھی تھا

میں پندرہ منٹ میں آرہا ہوں۔ پیغام آئے دس منٹ ہو چکے تھے

کیا ہوا۔۔ اسکا بھونچکا انداز کافی دیر تلک نہ بدلا تو گوارا بھی تشویش میں مبتلا ہو کر اسکے پاس آبیٹھی اور کندھا ہلانے لگی۔ 

میرا فون سائلنٹ پر تھا سارا دن ۔۔۔۔ اریزہ روہانسی سی ہوگئ

تو کیا ہوا؟ میری یون بن سے لڑائی ہوتی ہے تو میں بھی فون سائلنٹ کر دیتی ہوں۔

گوارا نے اطمینان سے انگڑائی لی۔تبھی آطلاعی گھنٹی گنگنا اٹھی

ہیون ہوگا۔شٹ میں تو تیار بھی نہیں ہوئی۔ اریزہ جیسے سر پر پائوں رکھ کر اندر کمرے میں بھاگی

ہیون۔ گوارا نے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھا تبھی دوبارہ گھنٹی بج اٹھی۔ وہ مارے باندھے دروازے پر چلی آئی۔ 

تھیبا۔ دروازہ کھولتے ہی اسکے منہ سے نکلا تھا۔ 

جدید ترین رواج کے مطابق اونچے سے برانڈ کے اپر جیکٹ اور جینز میں ملبوس نک سک سے بال درست کیئے خوشبوئوں میں بسا ہوا ہیون اسکے انداز پر خجل سا ہو کر سر پر ہاتھ پھیرنے لگا

ٹھیک لگ رہا ہوں؟ ۔ اس نے یونہی پوچھا۔ گوارا کچھ کہنے کی بجائے ایک طرف ہوگئ ہیون راستہ پا کر اندر چلا آیا۔

یون بن کو تم پر ترجیح دینے پر افسوس ہو رہا ہے مجھے۔ 

گوارا مایوسی سے سر ہلاتی دروازہ بند کرنے لگی۔ 

انیس بیس ہی ہیں ہم دونوں لوگوں کو ہم ایک شکل کے لگتے ہیں۔ 

ہیون نے چھیڑا تو گوارا نے برا سا منہ بنایا

تم پھر بیس ہی ہو نا۔ ویسے انی نے کانسرٹ میں میرا داخلہ بند تو نہیں کیا ہوا ہوگا ہے نا؟ اور اگر دیگر جوڑے جائیں تمہارے ساتھ تو وہ کوئی ہرجانہ بھی نہیں کرنے کاارادہ رکھتی ہوں گی۔ ہے نا؟ ایسے ہی معلومات کیلئے پوچھ رہی ہوں۔ 

اس نے اطمینان سے چبا چبا کر کہا تھا۔ ہیون کے چہرے پر خفت سی پھیل گئ۔ 

بیانیئے۔ اس نے سیدھا سیدھا معزرت کی۔ 

اسکے انداز پر گوارا قہقہہ لگا کر ہنس دی۔ 

تم بہت پیارے ہو۔ خدا کرے  اریزہ آسانی سے مان جائے۔ آج تو پکا پرپوز کر دینا بہترین موقع ہے۔ 

وہ اسکی تواضع کے خیال سے کہتی ہوئی کچن میں چلی آئی۔ 

چونکہ ہنگل میں بات کر رہی تھی لہذا آرام سے بولتی رہی بنا پروا کیئے۔ 

تمہیں بھی یہی لگتاہے نا کہ وہ انکار کر دے گی۔ 

ہیون سنجیدہ سا ہو کر اسکے پاس چلا آیا۔ 

اسکے لیئے کافی میکر میں کافی بناتے اسکے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے تھے۔ 

اس نے پلٹ کر دیکھا تو کائونٹر ٹیبل سے ٹکا ہیون جیبوں میں ہاتھ ڈالے مضطر سا نظر آیا

وہ بہت مختلف سی لڑکی ہے۔ جتنا تم دونوں ساتھ پھرتے ہو ساتھ رہتے ہو کوئی اور لڑکی ہوتی تو یقینا اب تک تمہیں یقین ہو چکا ہوتا کہ وہ تم میں دلچسپی لیتی ہے۔مگر اسکے ساتھ چوبیس گھنٹے رہنے کے باوجود میں پر یقین نہیں ہو کر کہہ سکتی کہ وہ تمہیں الگ نظر سے دیکھتی ہے کہ نہیں تم 

اس نے گہری سانس لیکر بات ادھوری چھوڑ دی۔ 

میری دعا ہوگی کہ تم دونوں اکٹھے ہو جائو خوش رہو۔ 

اس نے آگے بڑھ کر اسکا کندھا تھپتھپا کر کہا تو وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دیا

لیکن تم اسکے مخالف ردعمل کیلئے بھی ذہنی طور پر تیار رہنا۔ 

اسکی بات نے ہیون کی ہنسی نچوڑ سی لی تھی۔ 

ہوں۔ اس نے دھیرے سے سر ہلا کر نظر چرا لی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

لمبا سفید انرہائی نیک جو اسکی کمر سے تھوڑا نیچے تک آرہا تھا  پہن کر اوپر سے  بریو ہارٹ کی ٹی شرٹ پہنی۔ جو میڈیم سائز ہونے کے باعث ڈھیلی ڈھالی سی تھی اس پر۔ گلے میں اونی اسکارف ڈالا۔ لانگ بلیک اوورکوٹ بلیک جینز اور بلیک ہی ہیل والے جوتے پہن کر وہ خود کو گھوم گھوم کر ہر زاویئے سے دیکھ رہی تھی۔ کراس باڈی چھوٹا سا فان بیگ جس میں موبائل وغیرہ رکھا تھا۔ ایک چھوٹا سا کارڈ کا بیگ جس میں پلیئر اور لائٹ اسٹک کو بڑے اہتمام سے ڈبے میں بند کرکے رکھا تھا۔ 

بال برش کرکے چہرے پر کریم لگائی تو مرچیں سی لگنے لگیں۔ ہونٹوں پر گلابی لپ اسٹک لگا کر وہ تیار ہو کر باہر نکلی تو ہیون اور گوارا کچن کائنٹرکے پاس اطمینان سے اسٹول پر  بیٹھے کافی اڑا رہے تھے۔ 

کیسی لگ رہی ہوں۔ اسکو کمرے سے نکلتے دیکھ کر گوارا فورا متوجہ ہوئی اس نے اسی سے پوچھا

اچھی لگ رہی ہو مگر کیا بہت سردی لگ رہی ہے تمہیں؟ 

گوارا نے اچنبھے سے کہا تھا۔۔ وہ اسکے ہائی نیک اور سکارف کو تعجب سے دیکھ رہی تھئ۔ 

ہاں ۔۔۔۔کیوں؟ وہ گڑبڑائی

یہ اسکارف بالکل ضروری نہیں۔اور لانگ کوٹ میں شرٹ تو چھپا ہی لی ہے تم نے۔ 

وہ اسکے پاس آکر اسکے کپڑے ٹھیک کرنے لگی۔ اس نے اسکے گلے سے اسکارف نکال دیا تھا۔۔ اب کوٹ اتروا رہی تھی۔ 

اوہ خدایا ہائی نیک بھی پہن رکھی ہے۔ وہ بھرپور تعجب کا اظہار کر رہی تھی۔ 

ٹھہرو میں اپنی جیکٹ لا کر دیتئ ہوں۔ وہ اسکا کوٹ اور اسکارف صوفے پر رکھتی اندر کمرے میں چلی گئ۔ 

اس کے انداز پر خجل سی ہوتی ہوئی اس نے چہرے پر در آنے والی لٹیں کانوں کے پیچھے اڑسیں۔ یونہی نظر اٹھا کر دیکھا تو ہیون اسی کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اسے دیکھے جا رہا تھا مگرانداز اتنا سادہ سا تھا کہ اسے برا نہ لگا۔ 

یہ شرٹ ڈھیلی ہے نا تمہیں۔ میں کہہ رہا تھا۔ اس نے جتایا اور مڑ کر کافی ختم کرنے لگا۔ 

اسکے کہنے پر وہ چونکی۔ اسکارف لانگ کوٹ اتارنے کے بعد اسے خیال ہی نہیں رہا تھا کہ وہ بنا دوپٹے کے کھڑی ہے۔ 

یہ لو۔ اس نے خوبصورت سا گلابی جیکٹ اسے لا تھمایا تھا فٹنگ والا پتلا سا جو اسکی کمر تک آرہا تھا اوپر فر اور پھلتروں کا دلکش امتزاج تھا۔ کندھے پر ستارے دمک رہے تھے۔ 

اسکو اسکے ہلکا ہونے پر اعتراض سا ہوا۔ پہنتے ہوئے منمنا کر کہنا چاہا۔ 

ٹھنڈ لگے گئ۔

بہت گرم ہے یہ اور آج اتنی ٹھنڈ بھی نہیں پانچ ڈگری ہے بس۔ میں تو بس ہائی نیک پہنتی اسکی ضرورت بھی نہ پڑتی مجھے۔ 

گوارا نے گھرکتے ہوئے اسے پہنایا۔ 

پانچ ڈگرئ۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ۔ 

اتنے میں تو پنڈی میں میں بستر سے نہیں نکلتی دو سوئٹریں چڑھا کر کافی یا سوپ اندر انڈیلتی رہتی تھی۔ تم لوگ اوپر سے کوئی گیںڈے کی کھال لگوا کر اترے ہو۔آج جیسے کینچلی اتر رہی تھی اندازہ ہوا مجھے۔ 

وہ گوارا کو گھورتے ہوئے بولے جا رہی تھی۔ مگر گوارا نے دھیان نہ دیا۔ کونسا دھیان دینے سے اسکی اردو سمجھ آجانی تھئ۔ 

دے لو جتنی مرضئ گالیاں مگر پہن کر یہی جائوگی تم۔ 

گوارا نے کہا تو وہ منہ بنا کر بولی

گالیاں نہیں دے رہی میں۔ گالیاں نہیں دیتی میں۔ اتنا پتہ نہیں چلا ابھی تک میرے بارے میں۔

اس نے منہ پھلا کر کہا تھا۔ گوارا اسکے انداز پر ہنس پڑی

تمہارے میک اپ بگڑنے کا خدشہ نہ ہوتا تو ابھی اس بات پر تمہارے گالوں میں کوچی کوچی کرنا تھا میں نے۔ 

وہ اسکے گالوں پر اشارے سے چٹکیاں کاٹ رہی تھی

اچھی بات ہے ہاتھ نہ لگائو۔ مگر میں نے میک اپ کیا نہیں ہے۔ 

اس نے زبان چڑائی۔ 

کھوجے ما۔ گوارا نے یقین نہ کرتےہوئے اسکا گال چھوا اور حیران رہ گئ۔ 

واقعی تم نے میک اپ نہیں کیا؟ اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ 

تمہارے گال بلش کیوں ہورہے؟ اس نے باقائدہ اسکے گال چھوئے۔ 

آئی لائنر تک نہیں لگایا۔ 

وہ جیسے بے ہوش ہونے کو تھی۔ 

بس لپ اسٹک لگائی ہے۔ مجھے میک اپ کرنا آتا ہی نہیں ہے۔ سنتھیا کبھی کبھی تیار کردیتی تھی مجھے آئی لائنر لگاکر یونی جاتے ہوئے مجھے وہ بھی لگانا نہیں آتا۔ کبھی برابر نہیں لگتا۔ 

اس نے صاف گوئی سے کہا تھا۔ 

ہائش میں تو بنا میک اپ گھر سے نکلنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی کیسی لڑکی ہے یہ۔ 

وہ اب ہنگل میں واویلا کر رہی تھی۔ 

پیاری ۔

ہیون مگ رکھ کر اٹھا۔ اسکے کان کے پاس سرگوشی کی۔ اریزہ ان دونوں کو منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ 

چلیں؟ ۔ اس نے پوچھا۔تو ہیون نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس بڑے سے کمیونیٹی ہال کے سامنے رنگ و روشنیوں کا میلہ سا لگا تھا۔ پارکنگ انکو کافی دور ملی تھی۔ بس حد نگاہ تک گاڑیاں ہی گاڑیاں تھیں۔ 

اندر شائد کانسرٹ شروع ہوچکا تھا سیٹیوں چیخوں اور موسیقی کا بے ہنگم شور باہر تک سنائی دے رہا تھا۔ 

ہم بریو ہارٹ سے کانسرٹ سے پہلے ملیں گے یا بعد میں؟ 

ہیون کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے اس نے پوچھا۔ 

ہوں۔ وہ جیسے اپنے کسی دھیان سے چونکا۔ 

کیا ہوا؟ کہاں گم ہو ؟ 

اسکی غائب دماغی پر وہ ہنس دی

کہیں نہیں کیا کہہ رہی تھیں؟ 

اس نے سنبھل کر پوچھا۔۔ 

میں پوچھ رہی تھی ہم بریو ہارٹ سے کانسرٹ سے پہلے ملیں گے یا بعد میں۔ میرا مطلب ہم کانسرٹ میں اسکو لیکر تو نہیں پھریں گے نا؟ 

اس نے بیگ لہرایا۔ 

تمہیں کانسرٹ سننے میں کوئی دلچسپی نہیں؟ 

ہیون کو اسکے انداز پر واقعی حیرت ہوئی

بالکل نہیں۔ اس نے بلا توقف سر ہلایا

کیا فائدہ سننے کا جب سمجھ کچھ نہیں آنا۔ نہ زبان نا کچھ اور۔ہاں دھن اچھی ہوتی ہے اور آوازیں بھی بریو ہارٹ کی اچھی ہیں پر کیا مزا جب سمجھ ہی نہ آئے کیا کہہ رہے ہیں۔ 

وہ روانی میں کہتی گئ۔ 

ان آٹھ مہینوں میں تمہیں بالکل بھی ہنگل سمجھ نہیں آنی شروع ہوئی۔؟ لوگ تو روانی سے بولنے لگتے ہیں اتنے عرصے میں تو۔ 

ہیون نے کہا تو وہ کندھے اچکا گئ

سیکھیں تب نا۔مجھے نہ ضرورت ہے نا خواہش۔ انٹرنیشنل اسکول میں پڑھ رہی تھی وہاں انگریزی میں ہی پڑھا رہے تھے تو سیکھ کر کیا کرنا تھا۔ 

سیکھ لو زبان سیکھنا کام آجاتا ہے۔ کسی کی بات سمجھنے کے کسی کو سمجھنے کے۔ 

اسکا لہجہ جملے کے آخر تک دھیما ہوتا گیا۔ 

اریزہ نے دھیان نہ دیا۔ سامنے سے کئی ہائی اسکولرز یونیفارم میں شائد اسکول سے واپسی پر بھاگے آرہے تھے سب کے پاس بریو ہارٹس کی لائٹ اسٹکس تھیں 

بھاگو چلو دیر ہوگئ ہے۔ وہ انکے پاس سے جوش میں ایک دوسرے کو کہتے گزرے 

وہ ہونٹ بھینچ گیا

بریو ہارٹ کوریا کے ٹاپ بینڈز میں سے ایک ہیں۔ انکے گانے دنیا بھر میں ٹاپ رینکنگ میں آتے ہیں۔ امریکہ یورپ ہر جگہ انکی۔زبان سمجھ نہ آنے کے باوجود انکے گانے شوق سے سنے جاتے ہیں انکے پچھلے کانسرٹ نے تو امریکہ میں ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انکے ایک ایک رکن کی علیحدہ فین فالوونگ ہے۔ لوگ ایک جھلک دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے کوریا آتے ہیں۔صرف انکو اس چیریٹی کانسرٹ میں ایک گانا گانا تھا اور یہ سب ٹکٹ ہاتھوں ہاتھ بکے ہیں لوگ دوپہر سے یہاں اندر آنا شروع ہوگئےتھے۔ انکی سب سے آخری پرفارمنس ہوگی جو اب سے ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہوگی مگر دیکھو لوگ انکے لیئے کتنے پرجوش ہیں۔ 

اس نے انہی کی جانب اشارہ کیا تھا۔ 

اریزہ اسے الجھن سے دیکھ رہی تھی۔ اس بے وقت بریو ہارٹ کی مدح سرائی کی وجہ سمجھ نہیں آئی تھی۔ 

اور صرف یہی نہیں کورین ڈرامے دنیا بھر میں ذوق و شوق سے دیکھے جاتے ہیں۔ لیجنڈ آف بلو سی دنیا بھر میں کئی زبانوں میں ترجمہ کرکے دیکھایا جا رہا ہے۔ لوگ شوقیہ ہنگل سیکھتے ہیں ان ڈراموں اور گانوں کے پیچھے۔ اور 

بولتے بولتے وہ یکدم ہی خاموش ہوا  

اریزہ جز بز سی ہورہی تھی۔ یقینا اسے اسکی بات بری لگ چکی تھی۔ اتنے عرصے میں شائد پہلی بار وہ تھوڑا غصے میں آگیا تھا تب بھئ اسکا انداز بدتمیزانہ نہیں ہوا یقینا اسکا بڑا پن ہے اگر وہ برا مان بھی گیا ہے تو اسے معزرت کر لینی چاہیئے۔ یہی سوچ کر وہ بول اٹھی۔ 

میں معزرت خواہ ہوں شائد تمہیں میرا یہ کہنا کہ  ہنگل  سیکھنے کی خواہش ہے نا ضرورت برا لگا ہے۔ مگر اس سے میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ ہنگل کوئی بری زبان ہے یا کچھ بے عزتی کرنا مقصود تھا۔ میں تو بس ۔۔ 

اب دیکھو تم اور میں دونوں ہی ایک تیسری زبان میں آرام سے بات کر لیتے ہیں۔ اب میں تمہیں اردو سیکھنے کو تو نہین کہہ سکتی۔تمہیں کیا ضرورت ہے اردو سیکھنے کی جب تمہارا اردو سے کوئی واسطہ ہی نہیں پڑنا۔ اب اسکا یہ مطلب تھوڑی کے اردو بےکار یا بری زبان ہے بس اسکا مطلب یہ ہے کہ۔ 

ہیون ہونٹ بھینچے اسے دیکھتا رہا۔ وہ اسے ایک پزل کہ طرح لگی تھی ۔ ایسا لگا تھا کہ جیسے وہ پہلی بار اسے دیکھ رہا ہے۔ 

مجھے اردو میں دلچسپی ہونے لگی ہے۔ میرا دل کرتا ہے ایکدن میں اس زبان کو سمجھنے لگ جائوں۔ میں سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں تمہارے منہ سے نکلے ایک ایک لفظ کو۔ تمہارا دل نہیں کرتا ؟ کبھی میں کچھ اپنی زبان میں بھی بولوں تو تمہیں سمجھ آجائے۔ 

اسکی بات پر وہ اسے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہ گئ۔ منہ پھلائے شکوہ کرتا کیا بچوں والا انداز تھا۔ کیا وہ اس بات پر اس سے خفا ہو رہا تھا کہ اسے ہنگل کیوں سمجھ نہیں آتی؟

تم مجھے ویسے ہی ترجمہ کر دیتے ہو اگر کوئی اور بھی ہنگل بولے تو۔ او رخود تو تمہاری انگریزی اتنی اچھی ہے کہ۔

اریزہ کئ وضاحت اسے مزید غصہ دلا گئ تھی۔    

چھیسو۔ (چھوڑو) 

اس نے تیزی سے کہا اور اپنے قدموں کی رفتار بڑھا لی ۔ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسکے پیچھے لپکی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک لسٹ ہاتھ میں لیئے۔ کانوں میں اییئر پیس لگائے جسکا چھوٹا سا مائک گال تک آرہا تھا۔ وہ ادھر ادھر پھرتی ہدایتیں دے رہی تھی۔ 

اگلا لائن اپ بریو ہارٹ کا تھا۔ میک اپ روم میں جھانک کر اس نے انکی۔موجودگی کا یقین کرنا چاہا مگر وہاں بس کچھ ڈانسرز موجود تھے۔ 

بریو ہارٹ چیکڈ ان۔ 

اسکے کان میں سرگوشی ہوئی وہ چوکنا سی ہو کر لابی میں نکل آئی۔ استقبالیئے کی جانب جاتے ہوئے شیشے کی دیوار سے اسے بریو ہارٹ ایک بڑی سی کالے شیشوں والی وین سے اترتے دکھائئ دیئے۔ اپنے مینجرز اور گارڈز کے ہمراہ شاہانہ انداز میں۔ گنگ شن اور انکی این جی او کے  منتظم اعلی نے خود انکا استقبال کیا تھا اور پھول پیش کیئے تھے۔جسے انکے مینجر نے قبول کرکے فورا ہی ڈرائور کو گاڑی میں تھما دیئے تھے۔ 

شکریہ آپ کے تعاون کا۔ 

گنگ شن روایتی انداز میں جھک کر کہہ رہی تھی۔ 

جوابا انہوں نے بھی انکساری کا مظاہرہ کیا۔ 

میک اپ روم نمبر 5 خالی کردیا جائے۔ اور بریو ہارٹ کو قہوہ بھی پیش کیا جائے۔ 

اس نے مائک میں کہا۔ 

گنگ شن انکو اندر لا رہی تھی۔ اس نے آگے بڑھ کر رہنمائی کی انکو لابی میں روم نمبر پانچ تک پہنچا کر جب انکے گارڈز دروازے پر رکے تو وہ بھی گنگشن کے ساتھ اندر جانے کی۔بجائے وہیں رک گئ۔۔۔اسکا کام یہیں تک تھا۔ اس نے فورا مائک نیچے کیا اور ائیر پیس کان سے نکال کر جیب میں رکھ 

اسکے سرد سے انداز نے گارڈز کو بھی شائد متاثر کیا تھا۔۔

ایک نے جھک کر دوسرے کے کان میں سرگوشی کی 

عجیب خشک سی لڑکی ہے۔بڑی سے بڑی تنظیم کے بھی ملازم ہوں بریو ہارٹ کے پرستار نہ بھی ہوں تو بھی کم از کم انکو دیکھ کر گرم جوشی کا مظاہرہ ضرور کرتے ہیں۔ 

کم از کم تصویر تو ضرور ہی۔بنواتے ہیں۔ یہ تولکی کے مسکرا کر دیکھنے پر جوابا مسکرائی تک نہیں۔

ہاں واقعی میں بھی یہی نوٹ کررہا تھا۔ 

دوسرے نے بھئ ہاں میں ہاں ملائی۔ 

ان دونوں کی آوازیں اسکے بھی کان میں پڑی تھیں۔ 

تمتماتے چہرے کے ساتھ فہمائشی مسکراہٹ سجائے گنگ شن انکے کمرے سے نکلیں۔ اسکو دیکھ کر اسکی جانب چلی آئیں۔ 

ارے میں پکار رہی تھی۔ ائیرپیس کہاں ہے تمہارا۔ 

انہوں نے پوچھا تو وہ جیب میں سے نکال کر دکھانے لگی۔ 

ارے ۔۔ یہ دیکھو یوسب کے ساتھ سیلفی لی ہے میں نے کتنی پیاری آئی ہے۔ وہ خوش سی تھیں موبائل سے تصویر نکال کر دکھائی۔ وہ مسکرا دی۔ 

 مائک سے مستقل تمہیں بلا رہی تھی۔ تمہیں تصویر بنوا لیتیں بریو ہارٹ کے ساتھ اسکے بعد تو بہت مصروف ہو جائیں گے۔ موقع نہیں ملنا۔ چلو تمہاری تصویر بنوا دوں۔ 

وہ اسکا ہاتھ تھام کر مڑنے لگیں ۔ اس نے دھیرے سے ہاتھ چھڑا لیا

رہنے دیں انی۔ ضرورت نہیں۔ اور۔کوئی کام ہے تو بتا دیں۔

تم نے آج میرا آدھا کام نپٹا دیا اسکے لیئے میں تمہارا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔بس اب کچھ نہیں۔کانسرٹ سنو اور ہاں ڈنر ساتھ کرنا ہے ہمارے پورے دس بجے ہال نمبر 4 میں آجانا۔ یہ پاس رکھنا اپنے پاس

انہوں نے اپنے پرس سے ایک پاس نکال کر اسے دیا۔ 

جائو شاباش موسیقی کا لطف اٹھائو۔ وہ پیار سے اسکا گال چھو کر کہہ رہی تھیں۔ تبھی انکا موبائل بج اٹھا

ہاں ہیون۔۔۔ وہ کان سے لگا کر یکدم ہی لابی کی۔جانب بڑھ گئیں۔ 

انی وہ۔  وہ کچھ پوچھنا چاہ رہی۔تھی مگر موقع ہی نہ مل۔سکا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اجنبی زبان مگر دلفریب دھن وہ مارے باندھے آئی تھی اور اس وقت بالکل مگن سن رہی تھی۔ اسٹیج کے بالکل دائیں جانب انتظامیہ کے زیر اہتمام پہلی رو میں لگی نشستیں ۔ 

وہ انکو بس ایک جانب سے  دیکھ رہی تھی۔ تین طرفہ اسٹیج تھا مگر ساری ہلڑ بازی سامنے تھئ۔ وہاں سب نوجوان لڑکے لڑکیاں کھڑے تھے اچھل رہے تھے شور مچا رہے تھے۔سیٹیں اس تھوڑے سے قطعے سے پیچھے تھیں مگر اب لگتا تھا سب ہی سیٹوں پر بیٹھنے کو تیار نہیں۔ یہ بریو ہارٹ نہیں تھے۔ انکی باری ابھی نہیں آئی تھئ مگر لگتا تھا یہ بھی مشہور ہیں کافی۔ اوپن ائیر نہ ہونے کی وجہ سے وہاں ٹھنڈ بالکل نہیں تھی۔ منک کوٹ اتارنے کا وہ سوچ رہی تھی۔ پسینہ آنے سے جسم میں الگ چن چنئ سی مچ گئ تھی۔ کبھی بازو سہلاتی کبھی گردن۔ مگر اس سب کے باوجود اسے مزا آرہا تھا۔

 گلو کار گاتے گاتے انکے سامنے اکڑوں بیٹھ کر ہاتھ ملانے لگتے تو شور کان پھاڑنے لگتا۔۔۔۔ 

وہ بہت شوق سے انکی ہلڑ بازی دیکھ رہی تھی۔

انکی۔جانب سے انتظامیہ کے ارکان اور دیگر ملازمین اور ڈانسر گروپ اکٹھے ہی دوڑے چلے آئے۔ نشستوں کو۔نظر انداز کرکے سب اسٹیج کے قریب ہاہو کار میں مصروف ہو گئے۔۔ اسکو جو تھوڑی بہت ایک رخ کی شکل دیکھنے کو مل رہی تھی وہ بھی ختم۔ اسکو شدید خارش ہو رہی تھی پیٹ میں۔ چپکے سے سہلا کر بازو منک کوٹ کے اوپر سے ہی رگڑ دیا۔ اب سامنے بس پشتیں تھیں ناچتے لوگوں کی۔ 

اس نے بد مزہ سا ہو کر رخ پھیرا تو احساس ہوا ہیون اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ 

آئو ادھر چلیں۔ 

اس نے  اسٹیج کے سامنے والی جانب اشارہ  کیا۔ تو وہ اثبات میں سر ہلا کر اٹھ گئ۔ بےتحاشہ ہجوم میں بھی ہیون راستہ بناتا رہا۔ اسکا لمبا قد اسکی نشانی تھی۔ تبھی اسے دھکا سا لگا۔ سوری۔ مقابل کے کہنے سے پہلے زرا سا سر خم کرکے اس نے معزرت کر ڈالی مگر وہاں پروا کسے تھی۔ جھومتے چلاتے خوشی سے پاگل ہوتے لوگ۔ وہ سرجھٹک کر پرس سنبھالتی سیدھی ہوئی۔ اور ہیون لمحہ بھر میں نگاہوں سے اوجھل۔۔۔ 

اجنبی زبان اجنبی شکلیں۔ ایکدم سے اسکو لگا جیسے وہ بالکل تنہا سی رہ گئ ہے دنیا میں۔۔ 

تبھی دھماکا سا ہوا تھا۔۔ اور اسکا دل جیسے تھم سا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آننیانگ۔۔۔ 

اسٹیج کے قریب ہی دوسری جانب انتظامیہ کے مخصوص لباس میں ملبوس ہوپ نے اسے بھرے مجمعے میں بھی ایک نگاہ میں پہچان لیا تھا۔ جگہ بناتی وہ سیدھی اسکے پاس آئی۔

آننیانگ۔ وہ چونکا۔ مسکرایا۔ اور بس۔ مڑ کر جانے کیا اچک اچک کر دیکھنے لگا۔ 

ساری باتیں کہیں کھو گئیں۔ اسکے چہرے پر سایہ سا لہراگیا۔ 

آنکھیں پانی سے بھر گئیں۔ جھٹکے سے مڑ کر واپس جانے لگی تو اسٹیج کے قریب لگے آرائشی قمقموں کے بکھرے تاروں سے الجھ کر لڑکھڑا گئ۔ گرنے سے بچتے بچتے بھئ  وہ گھٹنے کے بل زمین پر آرہی۔ 

اسٹیج پر اور اسٹیج کے نیچے دنیا کے لوگ مگن تھے کسی نے غور بھی نہ کیا۔ 

کین چھنا؟ 

مانوس آواز۔ اس نے بےدردی سے آنکھیں رگڑلیں۔

دے۔ سہارے کیلئے بڑھے ہاتھ کو نظر انداز کرتے وہ خود ہی اپنے بل پر اسٹیج کا سہارا لیتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

اسکے گھٹنے چھل سے گئے تھے۔۔۔ہیون نے اسکی ضبط سے سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھا تو نظر انداز نہ کر پایا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 وہ اسکا ہاتھ تھام کے اندر لے آیا۔ لابی میں لگے صوفے پر بٹھا کر خود اندر داخل ہو گیا۔ 

گھٹنوں سے خون بہت نہیں بہہ رہا تھا مگر کھال اتر جانے سے مرچیں سی لگ رہی تھیں۔اور یہ مرچیں اس تکلیف کے آگے کچھ نہ تھیں جو اسکی آنکھوں میں آنسو بھر رہی تھی۔ 

وہ اندر انتظامیہ سے پلاسٹر مانگ کر لایا تھا۔ 

اسکے سامنے اکڑوں بیٹھ کر اس نے خود اسکے گھٹنے پر پلاسٹر لگایا تھا۔ جانے کیوں اسکا دل خوش فہم سا ہو گیا تھا۔ 

پلاسٹر لگا کر وہ ایکدم سر اونچا کر کے اسکی نگاہوں میں دیکھ کر مسکرایا تو وہ گڑ بڑا سی گئ

بہادر لڑکی ہوتم اتنئ معمولی چوٹ پر ایسے روتے نہیں۔ یہ لو۔ 

جیب سے لالی پاپ نکال کر اسکی جانب بڑھاتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا تھا۔ 

اسکے لب استعجاب سے نیم وا سے ہوئے۔ 

لو نا۔ ہیون نے پھر کہا تو اس نے دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر تھام لیا۔ اس نے شائد بچپن میں بھی کبھی لالی پاپ نہ کھایا تھا۔ مگر اس وقت جانے کیوں اسکا دل کیا کھانے کا۔ فورا ریپر اتار کر منہ میں رکھ لیا

ہیون اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ وہ اسکی جانب دیکھنے سے دانستہ احتراز کر رہی تھی۔ 

اب درد تو نہیں ہو رہا۔چند ثانیئے بعد اسے پھر مانوس آواز سنائی دی تھئ۔  

ریسیپشن پر رکھے ٹشو باکس سے کئی ٹشو نکال کر وہ لایا تھا۔ اب اسکی جانب بڑھاتے ہوئے نرمی سے پوچھ رہا تھا

گوماپسمنبدہ۔( شکریہ) 

اس نے مسکرا کر تھاما۔۔ 

تھائینئے تم مسکرادیں۔ میراخیال ہے چوٹ لگنے پر بڑوں کو بھی لالی پاپ دے کر بہلایا جا سکتا ہے۔ شکر ہے جب نرس نے مجھے پلاسٹر کے ساتھ لالی پاپ دیا تو میں نے واپس نہیں کیا۔ وہ سمجھی تھی کہ کسی بچے کو چوٹ لگی ہے۔

وہ مخصوص نرم سےمگر سرسری سے  انداز میں اسے بتا رہا تھا۔اسکے لالی پاپ کا ذائقہ ایکدم بدل کر تلخ ہونے لگا تھا۔ 

میں نونا کو بتا دیتا ہوں کہ تم آرام سے بیٹھو وہ کسی اور کو تمہاری ذمہ داری دے دیں گی۔۔ 

وہ اپنی طرف سے اسکو تسلی دے کر مصروف سے انداز میں کال ملانے لگا تھا۔ 

آننیانگ۔فون پر بات کرتے کرتے اس نے اخلاقا اسے سر کے اشارے سے خدا حافظ کہا اوراندر بڑھ گیا۔ 

ٹشو ہاتھ میں ہی تھے۔ اب آنکھوں پر بند باندھنے کی وجہ نہیں رہی تھی سو اس نے اس سیلاب کو بہہ جانے دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسٹیج کے قریب آرائشی غبارے پھاڑتے ہوئے بریو ہارٹس کے ارکان کا استقبال کیا گیا تھا۔ 

شور چیخیں بے ہنگم موسیقی اچھلتے کودتے لوگ۔ 

اسکا ایکدم دم سا گھٹنے لگا تھا۔ ایک اور زور دار پٹاخہ چھوٹا تھا اور گھپ اندھیرا سا چھایا تھا اسکی آنکھوں کے سامنے۔ 

آگ خون اندھیرا گنگ سی بچی۔۔۔۔۔ وہ ایکدم سے بارہ سال قبل پہنچ چکی تھئ۔ ڈوبتے دل کے ساتھ اسکے قدموں نے اسکا ساتھ دینے سے انکار کیا تھا۔ وہ اکڑوں بیٹھتی چلی گئ نا سمجھ میں آنے والا شور بلند ہوا تھا اسے دھکا لگا تھا وہ توازن برقرار نہ رکھ پائی تھی۔ کسی کے قدموں تلے اسکا ہاتھ آیا تھا۔ ایک سسکاری سی اسکے منہ سے نکلی۔ 

بند ہوتی آنکھوں کے سامنے اسکا بھائی تھا ملگجے اندھیرے میں مسکراتا آگے بڑھتا اور پھر سب دھواں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جیسے ہی دوبارہ کانسرٹ کی جانب آیا تب ہی بریو ہارٹ اسٹیج پر آنے لگے تھے۔ ایکدم ہی رونق دس گنا بڑھی تھی۔ اسکو انتظامیہ نے دروازہ استعمال کرنے سے روکنا چاہا تھا مگر وہ انکو پاس دکھاتا اندر آگیا تھا۔رش دگنا ہو چکا تھا مشکل  وہ راستہ بناتا اسٹیج کے قریب جانے لگا۔۔ ایکدم سے اسٹیج کی آرائشی بتی پھٹ گئ تھی۔ شیشے سے اڑ کر آگے کھڑے لوگوں پر آئے تھے۔ لمحہ بھر کو سب گھبرا کر پیچھے ہوئے۔ کچھ گرے کچھ بچے۔ چیخیں شور۔۔۔۔ 

آگاشئ۔۔ 

دو تین لڑکیاں تھیں جو چیخ چیخ کر پکار رہی۔تھیں۔ اسکا دل جانے کیوں زور سے دھڑک اٹھا تھاوہ تیزی سے اس جانب بڑھا۔ انتظامیہ کے چند رضا کار سب کو تحمل سے کام لینے کو کہہ رہے تھے۔ 

اس نے لوگوں کو ہٹا کر جب قریب جا کر دیکھا تو لمبا پھیلا بازو جسکی آستین گلابی منک کوٹ۔ 

وہ بے تابی سے آگے بڑھا۔۔ وہ اریزہ ہی تھی۔ مکمل بے ہوش منہ کے بل زمین پر گری ہوئی۔ وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اونچائی ذیادہ تو نہیں تھی مگر وہ بھد سے گری تھی۔ گھٹنے سخت زمین پر لگے تھے۔ پائوں مڑ گیا تھا۔ زمین پر۔ خشک گھاس اور سخت زمین۔ اسکی آنکھوں میں آنسو بھر گئے۔ اندر جاتے غیر معمولی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا تو تیزی سے بھاگتا اسکے قریب آیا تھا۔ وہ فورا اٹھ کر کھڑی بھی ہو گئ۔ 

چوٹ تو نہیں لگی؟ 

کسی نے اسے شانوں سے تھاما۔  

مانوس آواز اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ 

پریشان سا گھبرایا ہوا  مانوس چہرہ۔ 

ساری بہادری ہوا ہوگئ۔ موٹے موٹے آنسو گالوں پر پھسل آئے۔ وہ بری طرح رودی ۔  

ارے کہاں چوٹ لگئ ہے دکھائو۔ 

اس نے گھٹنوں پر سے فراک ہٹائی دونوں گھٹنے چھل گئے تھے پیر بھی مڑ گیا تھا۔ وہ اور زو رسے رو پڑی۔

بہادر بچے روتے نہیں۔ 

اسکے آنسو صاف کرتے حماد بھائئ اسے بہلا بھی رہے تھے۔ 

یہ جیسے ٹانک تھا حماد بھائئ کا۔ وہ فورا سسکیاں دبانے لگی 

میں رو تو نہیں رہی۔ 

آٹھ سالہ اریزہ منہ بسورتے کہہ تو رہی تھی مگر آنسو پھسلے چلے آرہے تھے۔ اس نے گود میں اٹھا کر اسے ل

لان کی کرسی پر لا بٹھایا  اندر سےروئی  پائوڈین لاکر زخم صاف کیا پلاسٹر لگایا ۔

وہ بہادری سے آنسو ضبط کیئے رہی۔ 

کیوں چڑھی تھیں درخت پر؟ بلی۔ 

اب ڈانٹنے کی باری تھی مگر چوٹ کے پیش نظر نرمی سے پوچھا گیا۔ 

وہ طوطا تھا ۔ اسے پکڑ کر پالنا تھا۔ سنتھیا نے کہا تھا۔

اس نے اشارہ کرکے بتایا۔ انکےلان میں امرود کا درخت تھا۔ ہزار بار منع کرنے کے باوجود بھی دونوں بچیاں اس پر چڑھنے کی کوشش کرتی پائی جاتی تھیں۔

سنتھیا کہاں ہے؟ 

حماد نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا۔ 

سنتھیا پچھلے صحن کی طرف جاتی راہداری میں سے گرد ن نکال کر۔جھانک رہی تھی۔ 

وہ آپ سے ڈر کر چھپ گئ۔ اریزہ نے بتایا تو وہ اسکو دیکھ کر رہ گیا۔ 

ادھر آئو۔ 

اسکے رعب سے بلانے پر وہ ڈرتی ڈرتی آئی۔ 

دیکھا نا درخت سے گرنے کتنی چوٹ آتی ہے۔اسلیئے سب بڑے منع کرتے ہیں درخت پر چڑھنے سے۔ مگر تم دونوں بات نہیں سنتی ہو۔ 

حماد بھائی کا رعب ہی بہت تھا۔ اس نے سر مزید جھکا لیا۔ 

آئیندہ درخت پر چڑھیں تو دونوں کی پٹائی کروں گا۔ 

اسکے کہنے پر اریزہ جو ہونٹ بھینچے مسکراہٹ ضبط کر رہی تھی ایکدم زور سے ہنس دی۔ سنتھیا اور حماد نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔ 

تم کیوں ہنس رہی ہو۔ 

آپ کبھی نہیں پٹائی کرتے۔ آپ تو اتنا پیار کرتے ہیں امی سے بھی بچاتے ہیں مجھے۔آپ کبھی پٹائی نہیں کرسکتے۔ 

اس نے یقین سے سر ہلایا۔ 

اسکی بات پر حماد کو ہنسی آگئ تھی۔ اسے ہنستے دیکھ کر سنتھیا کو بھی شہہ ملی۔ 

حماد بھائئ طوطا پکڑ دیں وہ ادھر بیٹھا ہوا ہے۔ 

سنتھیا کے کہنے پر اریزہ بھی اٹھ  کر اسکی ٹانگوں سےلپٹ کر ضد کرنے لگی۔ 

ارے خوامخواہ۔ حماد نے ڈانٹنا چاہا۔ 

پلیز پلیز۔ اتنا پیارا طوطا ہے۔

دونوں ضد کرنے لگیں۔۔ 

دونوں کا ہاتھ تھام کر انہیں قریبی مارکیٹ لایا تھا۔ 

طوطا اتنا پیارا پرندہ ہے اڑتا پھرتا ہے اپنی مرضی سے کھاتا ہے پیتا ہے اسے پنجرے میں قید تھوڑی کرنا چاہیئے۔ 

دونوں کو آئیسکریم تھمانے تک وہ سمجھاتا رہا تھا۔ دونوں نے آئسکریم تھام کر ضد چھوڑ دی تھی۔ مزے لیکر آئیسکریم کھاتے اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو حماد بھائی اسے دور جاتے دکھائی دییے۔ 

کہاں جا رہے ہیں حماد بھائی۔ وہ بے چینی سے بولی

مجھے کیا پتہ۔ سنتھیا کا دھیان آئسکریم کی جانب تھا۔ 

حماد بھائی۔ وہ بے تابی سے پکارتی انکے پیچھے بھاگی۔ 

جانے وہ تیزی سے کیوں چلے جا رہے تھے۔ 

حماد بھائی۔ اس نے پوری طاقت لگا کر آواز دی ۔۔ 

ایک دوسری تیسری اسکی پکار جیسے ان تک پہنچی ہی نہیں۔ اسکی آئسکریم چھوٹ چکی تھی انکے پیچھے بھاگتے بھاگتے انکے دور چلے جانے کے احساس نے اسکو جیسے توڑ دیا وہ بسورنے لگی ۔

حماد بھائی رک جائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نامانوس سا احساس۔ سرمیں  شدید درد کی لہر اٹھی۔ اس نے کراہ کر آنکھیں کھولی تھیں۔ تیز چمکتی روشنی نے نگاہیں چندھیا دیں۔ اس نے فورا آنکھیں دوبارہ بند کر لیں۔ گنگ شن کھڑی ملازم کو ہدایتیں دے رہی تھیں جب اس پر نگاہ پڑی تو بات ادھوری چھوڑ کر اسکے پاس چلی آئیں۔

اریزہ شا۔ نونا اسکا دھیرے دھیرے گال سہلا رہی تھیں۔۔ 

اسکے حواس بحال ہونا شروع ہوئے۔۔ 

کین چھنا۔۔ ؟؟؟ وہ پیار سے اسے جگاتے ہوئے پوچھ رہی تھیں 

نونا انگریزی میں پوچھیں اسے سمجھ نہیں آئی ہوگی بات۔ 

ہیون کی آواز تھی یہ۔ اس نے پہچان لی تھی۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو انی نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دے کر بیٹھنے میں مدد کی۔ 

اوہ ہاں۔ آر یو اوکے اریزہ؟ 

جی۔۔ اس کے منہ سے بلا ارادہ نکلا تھا۔۔۔ 

انی مسکرا دیں۔ 

سویٹ جی۔ تھینک گاڈ یو آر اوکے۔ میں پریشان ہو گئ تھی۔ 

انہوں نے اسکے بال سنوارے۔ اسکے حواس قابو میں آرہے تھے اس نے طائرانہ نگاہ ڈالی تو احساس ہوا وہ اس وقت کسی ہال نما کمرے میں ہے لمبے صوفے پر اسے لٹایا گیا تھا۔ انی دو تین سوٹڈ بوٹڈ این جی او کے ملازم اور ایک سفید اوور آل پہنے اسٹیتھسکوپ گلے میں لٹکائے کھڑا ڈاکٹر جو یقینا اسکے انتظار میں ہی تھا۔ اسے دیکھ کر مطمئن سا ہو کر انی سے ہنگل میں پوچھنے لگا۔ 

ہیون۔۔ اس نے گردن موڑ کر ڈھونڈنا چاہا وہ اسکے سرہانے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ 

اریزہ ڈاکٹر صاحب پوچھ رہے ہیں تم اپنا ہاتھ ہلا کر دیکھو انگلیاں بھی۔۔۔۔ 

اس نے میکا نکی انداز میں ہدایات پر عمل کیا۔ 

ہلکی سی سسکی سی نکلی تھی۔ اسکی انگلیاں بری طرح چھل گئ تھیں ان پر پائوڈین اور کوئی سفید سی دوا لگائی تھی۔ مگر یقینا انگلیاں فریکچر ہونے سے بچ گئی تھیں۔

تم پہلے بھی بے ہوش ہوتی رہی ہو کبھی؟ 

سوال نے اسکو گڑبڑا سا دیا تھا۔

ایک دو دفعہ۔ اس نے جھوٹ بولا تھا یہ اسکی شکل پر لکھا تھا۔ 

ابھی تمہارا بی پی چیک کرنا ہوگا۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئ۔

  کہیں بہت ذیادہ درد تو نہیں ہو رہا۔ 

پہلے ڈاکٹر کچھ بولتا پھر گنگ شن دہراتیں۔ اسکا مکمل چیک اپ کرکے نجانے کیا کیا پوچھ کر مطمئن ہو کر ٹلا تھا ڈاکٹر۔ 

اس طرح بے ہوش ہونا صحیح بات نہیں احتیاطا مکمل چیک اپ کرانا چاہیئے۔ انکے بازو میں بھی سرخ الرجی سی ہے اسکا بھی اثر ہو سکتاہے۔ 

ڈاکٹر ہدایتیں دیتا چلا گیا۔ 

گنگ شن نے جھک جھک کر شکریہ ادا کرتے ہوئے رخصت کیا۔ پھر اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔ 

کیا لڑکی پریشان کرکے رکھ دیا۔ اتنا کور ہو کر آنے کی کیا ضرورت تھی اتنئ سردی تو نہیں تھی۔ ہائی نیک انر اوپر سے منک کوٹ پسینے پسینے ہو رہی تھیں تم جبھی بی پی بھی لو ہوگیا ہوگا تمہارا۔ 

انی بےتکلفی سے اسکے برابر آکر بیٹھیں تو وہ چونک سی گئ۔ اسکا منک کوٹ اتارا جا چکا تھا بلکہ ٹی شرٹ بھی موٹی ہائی نیک کی آستینیں بھی اوپر تک چڑھائی ہوئی تھیں۔ 

ڈاکٹر تو کہہ رہا تھا کہ ہائی نیک بھی اتاریں اسکا دم گھٹ رہا ہوگا۔مگر ہیون نے سختی سے منع کیا کہ تم برا مان جائو گی اٹھ کر۔ حالانکہ اس وقت تمہاری جو حالت تھی ہم سب گھبرا گئے تھے۔ 

انی کے کہنے پر اس نے سر مزید جھکا لیا تھا۔ 

اور یہ الرجی کیسے ہوئی تمہیں۔ پوری گردن سرخ ہو رہی ہے تمہاری اور بازو بھی۔ 

وہ تشویش بھرے انداز میں اسکے بازوکو چھو کر دیکھ رہی تھیں۔ 

میری ایک دوست بہت اچھی ڈرما ٹالوجسٹ ہے میں اس سے اپائنٹمنٹ لے دیتی ہوں تم چیک اپ کروا لو۔ اس طرح کی الرجیز کو ہلکا نہیں لینا چاہیئے۔ 

وہ بالکل بڑی بہنوں کی طرح اسکی فکر کر رہی تھیں۔ اسکی آنکھیں بھرنے لگی تھیں۔ 

یہ پی لو۔ 

ہیون نے انرجی ڈرنک اسکی جانب بڑھایا۔ 

اس نے بلا تامل تھام کر پینا شروع کردیا۔ حلق ایکدم خشک سا ہو رہا تھا۔۔۔۔ 

چند گھونٹ پی کر کچھ توانائی بحال ہوتی محسوس ہوئی۔ 

انی ہم گھر جاتے ہیں آپ اپنا انتظام دیکھ لیں۔ 

وہ یقینا کافی مصروف ہونگی اریزہ کو ہیون کے کہنے پر شرمندگی سی ہوئی۔ 

نہیں بس سب ہوگیا۔ آج ہوپ نے بہت مدد کرائی میری ۔اب بس ایک چکر لگائوں گی ڈائننگ ہال کا سب مہمان کھانا تو کھا۔۔ 

کہتے کہتے خیال آیا تو چونکیں

ارے تم لوگوں نے کھانا تو کھایا نہیں ہوگا۔میں یہاں بھجواتی ہوں۔ 

نہیں انی آپ رہنے دیں۔ اریزہ ویسے بھی یہاں کا کھانا نہیں کھائے گی۔ 

ہیون نےسہولت سے منع کیا۔ دونوں کیا باتیں کر رہے تھے سمجھ تو نہیں آیا اسے مگر اپنے نام پر وہ سر اٹھا کر انہیں دیکھنے لگی تھی۔ 

انی وہ بریو ہارٹ۔ وہ انکو مجھے کچھ دینا تھا

 اسے یاد آیا تو ادھر ادھر متلا شی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ 

وہ تو چلے بھی گئے۔ انکے پاس وقت کم تھا ۔ تم بے ہوش رہی ہو۔تو وقت کا اندازہ نہیں ہوا تمہیں۔ 

ہیونگ سک نے کہا تو وہ مایوس سی ہوگئ۔ 

کوئی بات نہیں اگلی دفعہ سہی۔ پکا تمہاری سیلفی بنوائوں گی انکے ساتھ۔ وہ تو ہماری این جی او کیلئے بہت فنڈز دیتے ہیں۔ان سے ہمارے کئی کانسرٹس کا کانٹریکٹ ہے۔ تم دل چھوٹا مت کرو پھر ملوادوں گی تمہیں۔

انی یہی سمجھیں کہ وہ پرستار ہے انکی۔ جبھی باقائدہ کندھا تھپتھپا کر تسلی دینے لگیں۔ 

اسے خود پر شدید غصہ آرہا تھا۔ شدید ترین۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

گاڑی رہائشی عمارت کے باہر روکتے ہوئے اس نے گردن موڑ کر اریزہ کو دیکھا ستے ہوئے چہرے کے ساتھ سرنگاہیں جھکائے وہ اتنی گہری سوچ میں تھی کہ منزل پر پہنچ جانے پر بھی نہ چونکی۔ 

اریزہ شا۔ کچھ کھا لیتیں طبیعت بہتر ہو جاتی۔ 

اس نے نرمئ سے پھر ٹوکا تو وہ چونک اٹھی۔ 

سامنے نگاہ پڑی تو جلدی سے اپنی جانب کا دروازہ کھول کر اتر گئ۔ 

اسکی پھرتی پرہیون دیکھتا ہی رہ گیا۔ 

گاڑی سے اتر کر ایکدم سے سرد ہوا سر پر لگی تھی۔مگر وہ تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی۔

چند لمحے اسے دیکھ کر وہ بھی اپنی جانب کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا تھا۔ 

تیز تیز قدم اٹھا کر اسکے برابر ہوا۔

مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی۔کل

 اسکے اچانک پاس سے آواز ابھری تو وہ اچھل سی پڑی۔ چونک کر سر اٹھایا تو ہیون جو اسے ہی دیکھ رہا تھاایکدم چپ سا رہ گیا۔ 

اسکی آنکھوں سے تواتر سے  آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ بے آواز رو رہی تھی زاروقطار۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یوم کشمیر کی تقریب تھی اسکول میں۔ علامتی خون آلود سفید لباس پہنے اسٹیج پر کچھ بچے نظم پڑھ رہے تھے۔  کچھ لاشیں بنے پڑے تھے۔ 

میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایکدن۔۔۔۔۔۔۔۔ 

ایک بچی کشمیری لباس پہنے لاشوں کے اوپر بین کرنے کی اداکاری کر رہی تھی۔ 

منظر دیکھتے ہی دیکھتے بدلا تھا اندھیرے میں ڈوبا تھا خون چیخیں ایمبولنس کے سائرن۔۔ 

اور پہلی رو میں بیٹھی دسویں جماعت کی طالبہ بے ہوش ہو کر لڑھک گئ تھی۔۔۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سب لڑکیاں کالج کے زیر تعمیر ڈیپارٹمنٹ میں بیٹھی موبائل پر کال ملا ئے تھیں۔ بوائے فرینڈ ایک کا تھا کن سوئیاں لینے پانچ اس پر جھکی تھیں۔ہنستی کھیلتی مسکراہٹ دباتی سرگوشیاں کرتی لڑکیاں۔۔

جلدی بات کرو۔۔ کوئی آنہ جائے ۔۔۔ ایک کو تشویش ہوئی

آج جمعہ ہے آج تو مزدوروں کی بھی چھٹی ہے کون آئے گا یہاں۔ 

دوسری نے تسلی دی۔

 تبھی زور دار آواز کیساتھ کوئی بلاک گرا تھا۔۔۔ 

ہلکی ہلکی سی چیخیں ابھریں۔ سب چونکی سنبھلیں ۔بس ایک طالبہ بے آواز بے ہوش ہو کر پڑی تھی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں قریبی کنوینیئس اسٹور پر چلے آئے تھے۔ اسکو بھوک بھی لگ رہی تھی۔ خود تو وہ ریمن لے کر آیا تھا اریزہ کیلئے سینڈوچ لیکر آیا تھا۔ شدید بھوک میں یہ بھی نعمت سے کم نہیں تھا۔سینڈوچ کے ساتھ گرم گرم کافی نے نا صرف گرمائش دی تھی بلکہ تازم دم بھی کر دیا تھا۔ 

اس نے کھا پی کے منہ صاف کیا۔ تو ہیون جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اسے دیکھ کر مسکرا دی۔ 

یہ بتائو روئی کیوں تھیں۔۔۔ 

اس نے فورا سوال کیا تھا۔ وہ بہانہ سوچنے لگی تو اس نے ٹوک دیا

سوچنے کی ضرورت نہیں کوئی بہانہ سچ بتائو یا کہہ دو میں بتانا نہیں چاہتی۔ 

اسکے دو ٹوک کہنے پر وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔

مجھے اپنے آپ پر غصہ آرہا تھا۔ میں اتنی کمزور کیوں ہوں۔ اس بات پر۔ دنیا کی لڑکیاں کیا کیا نہیں کرتیں مائونٹ ایورسٹ سر کر لیتی ہیں اور میں۔ 

وہ زرا سا استہزائیہ انداز میں ہنسی۔ 

زرا سا ۔۔۔ وہ رکی۔ ہیون نے چند لمحہ انتظار کیا مگر وہ خاموش ہی رہی۔ 

تم روئئ کیوں ہو ؟ درد ہو رہا ہے ہاتھ میں؟ 

ہیون کے پوچھنے پر وہ نفی میں سر ہلا گئ۔ 

اسکے دائیں ہاتھ کی تینوں انگلیوں پر بینڈج ٹیپ لگی تھی۔ شائد خراشیں گہری تھیں۔

بے ہوش ہونے پر۔

اس نے کہہ دیا۔ 

ہیون نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگا۔

بے ہوش تم  یقینا پہلی دفعہ نہیں ہوئیں۔ کم از کم میرے سامنے دوسری دفعہ ہوئی ہو۔۔۔  مجھے لگا تھا تمہارا بی پی لو ہوا ہے۔ مگراس وقت تم  اصل میں تم اندھیرے کی وجہ سے گھبرائی تھیں۔ اس بار میں سمجھ نہیں پایا۔ اتنا اندھیرا نہیں تھا وہاں۔ تو یا شائد شور وغل یا گھٹن۔۔اور حماد کون ہے؟ تم بے ہوشی میں کسی کو۔پکار رہی تھیں۔ 

اسکے دعوے سے کہنے پر وہ ایکدم چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگی تھئ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حماد میرے بھائی کا نام ہے۔ 

پیدل اسکے ساتھ قدم اٹھاتے وہ اسے بتا رہی تھی۔ 

مجھے اتنا دردناک حادثہ دیکھنے کی وجہ سے ایک خوف لاحق رہتا ہے۔ میں اندھیرے میں بالکل نہیں رہ پاتی۔ کوئی اچانک پٹاخہ بھی پھوٹ جائے تو میں اس رات اس منظر میں پہنچ جاتی ہوں۔۔ مجھے اپنا بھائی کبھی کبھی اتنا یاد آتا ہے کہ خوابوں میں دیکھتئ ہوں اسے۔ ہنستے کھیلتے باتیں کرتے۔ بچپن کی یادیں۔ اور پھر اچانک سب غائب ہوجاتا ہے۔ 

اسکی آواز بھرا گئ تھئ۔ وہ بے ربط بول رہی تھی ۔ ہیون بالکل خاموشی سے سن رہا تھا۔

ایسے کسی خواب سے جاگ کر میں گھنٹوں روتی ہوں۔ 

میری ذر اسی چوٹ پر تڑپ جانے والا بھائی نظر نہیں آتا مجھے۔میرا دل کرتا ہے۔ 

آنسوئوں کا گولا سا گلے میں اٹک گیا۔ وہ خاموش ہو گئ۔ اسکے ہمراہ وہ بھی خاموشی سے قدم بڑھاتا رہا ۔ کمپائونڈ میں آنے تک وہ خود پر قابو پاچکی تھی۔ 

تم اب گھر جائو میں چلی جائوں گی۔ 

اس نے قصدا مسکرا کر کہا۔ 

ہیون خاموشی سے اسکا چہرہ دیکھتا رہا۔

آج میں نے کافی پریشان کیا ہے بیان۔ اور شکریہ ہر چیز ہر بات کیلئے شکریہ۔ گڈ نائٹ۔

ہیون چند لمحے اسے یونہی گھورتا رہا پھر بنا کچھ کہے پلٹ گیا۔ اریزہ نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سوچا۔

وہ خواب تھا کہ ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پے در پے فون کالز آرہی تھیں ایڈون کے موبائل میں۔ ایڈون بالکل بے سدھ ہو چکا تھا۔ اسکو کندھے پر لاد کر بمشکل کمرے تک لاتے اسکی کمر ٹوٹنے کی نوبت آگئ تھی۔ شکرہے کمرہ شروع ہی میں تھا۔لاک کھول کر اسے اسکے بیڈ پر لٹا کر وہ کمر سیدھی ہی کر رہا تھا۔جب ڈرائور آکھڑا ہوا دروازے پر۔اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا

یہ آپکا گاڑی میں رہ گیا تھا۔ 

وہ اسکا والٹ تھامے تھا۔ 

کم سن اسے شکر گزار نظروں سے دیکھ کر رہ۔گیا۔ پیمنٹ کرتے شائد اس نے سیٹ پر ہی گرادیا تھا۔ 

فون بجے جا رہا تھا۔ 

کم سن نے اسکی جیکٹ ٹٹول کر فون نکالا ۔ 

اٹھا لیں کیا پتہ کوئی اہم کال ہو۔ 

ڈرائور نے کہا تو وہ شش و پنج میں پڑ گیا۔ 

انگریزی میں نام جگمگا تو رہا تھا 

اٹھا تو لوں مگر مجھے سمجھ کیا آئے گی کیا کہا ہے؟ 

کم سن کی بات میں دم تھا۔ 

لائیں میں بات سنتا ہوں۔ ڈرائور نے فون ہاتھ سے لے لیا۔

ہیلو۔ 

اسکے ہیلو کہنے پر دوسری جانب سے لگاتار کچھ کہا گیا تھا۔

دیکھیں یہ جن کا فون ہے وہ اس وقت ہوش میں نہیں ہیں۔ 

جی۔ نہیں بس انہوں نے پی ذیادہ لی ہے۔ جی۔ کون ؟ کیا ؟ سنتھیا؟ اچھا اسی ڈورم میں ہے؟ اچھا ہم دیکھ لیتے ہیں۔ ٹھیک ہے ہم پولیس کو اطلاع دے دیتے ہیں۔جی بھگوان پر۔بھروسہ رکھیں جی جی۔ ٹھیک ہے۔ آپ یہاں اگر کوئی اور آپکے جاننے والے ہیں انکو بھی اطلاع دے دیں۔ جی۔ ہیلو۔ ہیلو۔ 

فون بند ہونے تک ڈرائیور ٹھیک ٹھاک پریشان لگنے لگا تھا۔

نام ادھوری بات۔۔۔۔ کم سن نے بے تابی سے سوال کیا

کیا ہوا؟ 

کوئی سنتھیا ہے انکی ماتا جی تھیں کہہ رہی تھیں اسی گوشی وون میں ہیں۔ وہ بھی انہوں نے خود کشی کر لی ہے۔۔۔۔ 

اسکا جملہ پورا ہونے تک کم سن بجلی کی سی  تیزی سے اسے ایک طرف کرتا کمرے سے نکلا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد 

جاری ہے۔

Kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ?

Rating
“>> » Home » Urdu Novels » Salam Korea » Salam Korea Episode 32

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *