ذیابیطس urdu afsana short story


اسکی ساس کو ذیابیطس تھی اور یہ اسکی زندگی کا سب سے بڑا روگ تھا

گھر میں مٹھاس نام کی کوئی چیز آ نہیں  سکتی تھی

 مجال ہے جو اپنی بڑھتی ہوئی شوگر کا انھیں احساس ہو وہی سمیعہ جو طرح طرح کے ٹرائفل کیک ڈونٹ وغیرہ  بنانے میں ماہر تھی یہاں آ کر میٹھے کو ترس بیٹھی تھی

ایسا نہیں تھا کھانے پینے پر پابندی تھی مگر وہ کچھ   بھی میٹھا بنا لے ساس صاحبہ سب سے پہلے چکھنے پہنچتی تھیں

کھہیر بنا رہی ہو ذرا میٹھا چکھا نا

ایک پیالی چکھنے کے بہانے

کیک بیک کیا ہے ؟ ارے چینی تو لگ رہا ڈالنا بھول گئیں

ایک بڑا سا ٹکڑا کھا کے اعتراض آتا

پھلوں کی مکس چاٹ بنی تو پھل ہی پھیکے نکلے پھر رات کو ہسپتال کا ایک چکر

اس نے گھر میں ہی شوگر کی زیادتی معلوم کرنے والا آلہ منگوا لیا

اب جب اس نے فروٹ پنچ بنایا تو یہ کہہ کر پورا گلاس پی گیئں

ارے یہ آلہ خراب ہو گیا ہے ہمیشہ ہی زیادہ شوگر بتاتا

رات کو ہسپتال پہنچ گئیں

فراز نے ٹوک دیا

تمہیں  جو مرضی بنانا بناؤ مگر امی کو تو مت کھلایا کرو دکھائی نہیں دیتا کتنی بیمار ہیں

سمیعہ بس دیکھ کر رہ گئی وہ کونسا چمچے بھر بھر کر منہ میں ڈالتی تھی چیزیں….. ٹوکتی ہی تھی مگر ایک تو بہو تھی اسکا ٹوکنا برا بھی لگتا اور خاطر میں بھی نا لاتی تھیں مگر اب تو حد ہی ہو گئی تھی

میاں نے بھی ڈانٹ دیا

بیچارہ سارا دن دفتر رات کو ہسپتال ترس بھی آیا اسے

اس نے گھر میں میٹھا بنانا چھوڑ دیا

کولڈ ڈرنک چھوڑو جام  شیریں تک گھر میں منع ہو گئے

مہمانوں کے لئے بسکٹ تک نمکین لانے شروع کر دیے

خود شدید بھی دل کرے کچھ کھانے کا تو بھی نمکین سے گزارا کرتی نہ گھر میں آئیگا کچھ نہ دل للچائے گا

ایک دن کسی کام سے باورچی خانے میں آئی دیکھا چینی پھانک رہی تھیں

سر پکڑ کر رہ گئی اب اگر کوئی بہو ہو تو درد سمجھہ سکتی تھی سمیعہ کا نندیں الگ سناتی تھیں باتیں امی کی شوگر کنٹرول کیا کرو انکو کھانے میں یہ دو وہ دو

میاں الگ پریشان اتنا پرہیز کر کے بھی امی کی شوگر ہائی کیوں

خود وہ اب چینی بھی بند کر دے کیا منگوانا

شوگر گھر کے ایک فرد کو تھی پرہیز سارا گھرانہ کر رہا تھا

امی کی دوائیں ختم ہو رہی تھیں پہلے تو سوچا  فراز کو پیغام بھیج کر یاد دہانی کرا دے پھر کچھ سوچ کر کال ملا لی

پڑوس سے مٹھائی آئی تھی سوۓ اتفاق دروازہ تہمینہ بیگم نے ہی کھولا

کس خوشی میں ہے بھئی؟

سامنے والوں کا چھوٹا بیٹا پورے دانت نکال کر بولا

آنٹی میں میٹرک میں پاس ہو گیا پورے آٹھ سو بتیس نمبر آئے ہیں میرے

پلیٹ پکڑ کر تہمینہ بیگم کو گڈو سے بھی زیادہ خوشی ہوئی تھی

مبارک ہو سر پر ہاتھ پھیر کر بھیجا تھا اسے

دروازہ بند کرتے کرتے ایک گلاب جامن جلدی جلدی کھا لی هایے شوگر کے مریض سے کوئی پوچھے مٹھاس کیا نعمت ہے کھا کر وہ آزردہ ہوگیئں

پھر یاد آیا اتنے آرام سے مٹھائی کھا لی سمیعہ کہاں ہے ؟

کہیں چھپ کے دیکھ تو نہیں رہی فراز کو شکایت نہ لگا دے اتنی ہی کوئی ڈراؤنی سوچ تھی کہ گلاب جامن واپس حلق میں ہی آ گئی سمجھو

جلدی سے پلیٹ ڈھک کر باورچی خانے میں رکھی دبے قدموں چلتی ہوئی سمیعہ کے کمرے کے پاس آئیں

تھوڑا سا دروازہ کھلا تھا  کسی سے فون پر بات کر رہی تھی مطمئن ہو کے پلٹنے کو تھیں کہ اپنا ذکر سنائی دیا فطری تجسس بیدار ہوا وہیں آڑ میں کھڑی رہ گیں

ارے میں نے آنٹی کا ایسا حل نکالا ہے کیا بتاؤں

بظاھر تو میٹھے کی گھر میں پابندی ہے مگر چینی تو ہے نا خوب جانتی چھپ چھپ کے کھا لیتی ہیں میں بھی انجان بنی ہوئی کھانے دو زہر شوگر اتنی زیادہ ہے کہ زہر ہی سمجھو اسے

کہہ کر ہنسی زور سے

ڈاکٹر نے کہا ہے واک کرنے کو وہ تک نہیں کرتیں ہونا کیا ہے پھر کچھ نہیں کچھ نہیں شوگر اتنی ہائی رہتی کہ بستر سے اٹھ نہیں سکتیں ہا ہا ہا پورا گھر کا نظام آرام سے میرے ہاتھ میں آگیا ہے

کیا ؟

شاطر قاتل بہو ؟

کیسے اب الزام تو نہ لگائو نا

وہ مصنوئی ناراضگی سے بولی

اپنا قتل وہ خود کر رہیں میرا کیا قصور

اس بات پر تو پولیس بھی مجھے نہیں پکڑ سکتی تم کس کھیت کی مولی ہو

وہ آخر میں قہقہہ لگا کر ہنسی

تہمینہ خاموشی سے پلٹ گیں

……………………

فراز حیران تھا مہینہ ہونے کو آیا کوئی ہسپتال کا چکر نہیں لگا دوائیں پابندی سے لے رہی تھیں امی اور تو اور شام کو ابا کے ساتھ پارک میں چہل قدمی کو بھی جانے لگی تھیں

سمیعہ سے کہا تو منہ بنا کر بولی میرے تو سارے سٹار پلس والے پلان فیل ہو گئے کیا کیا نہ سوچا تھا میٹھا کھلا کھلا کر ساس کو بستر پر ڈال دونگی اور گھر پر راج کرونگی

فراز قہقہہ لگا کر ہنسا

واقعی اس دن امی نے سن لیا تھا سب  کیا

سمیعہ اثبات میں سر ہلا کر ہنس دی

اس دن وہ فراز سے ہی بات کر رہی تھی جو سنگھار میز کے شیشے میں تہمینہ بیگم کا عکس دکھائی دیا

بس جانے کیا ذہن میں سوچ  آئی کہاں وہ فراز کو دوائی لانے کی تاکید کر رہی تھی کہاں ایک دم بات گھما دی

فراز نے حیران ہو کر فون کو گھورا تھا خیر تو ہے اچانک اس بکواس کی وجہ

مگر سمیعہ بولتی گئی تھی  اس وقت تو اندازہ نہیں تھا یہ ترکیب کارگر رہیگی مگر سٹار پلس کے سارے ڈرامے دیکھنے والی تہمینہ بیگم سچ مچ اپنی بہو سے ڈر گئ تھیں

اور

سمیعہ ویسے اب کبھی کبھی ٹرائفل بنا لیتی ہے مگر تہمینہ بیگم چکھنے کو بھی تیار نہیں ہوتی ہیں

عجیب بات ہے نا
ختم شد ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *