Discover the Inspiring Traits of the Heroine in Urdu Novel Phurteeli Heroin Episode 3

رومانٹک ناول “پھرتیلی ہیروئن پارٹ ۳”

کُتے نے “رفع حاجت “سے فارغ ہوکہ ٹانگ “نیچی “اور منہ “اوپر”کر کے دیکھا تو دیکھتا رہ گیا ،کُتے کی زبان مزید باہر نکل آئی اور (وہ مزید “کُتا “لگنے لگا )وہ کھمبا نہیں قدرت کا ایک شاہکار تھا چھ فٹ سے نکلتا دراز قد ، گھنگریالے سنہری بال جو پسینے کے باعث ماتھے پہ سلیقے سے چپکے تھے، انڈے سے بڑی آنکھیں اور دھوپ میں جھلسا ہوا سنہرا گلابی رنگ ، پیروں میں جمی چُو کے چمکتے جوتے، جن پہ جہنمیلا کے ہاتھوں کی تیار کردہ پالش چمک رہی تھی ، جہنمیلا کا ڈیزائن کردہ گُوچی کا ٹریک سوٹ اور کاندھے پہ لٹکتا جہنمیلا ایڈیڈاس کا تیار کردہ ایڈیڈاس بیگ ( پارٹ ٹائم برانڈ ڈیزائنر بھی تھی) ، وہ خود سے لاپرواہ و بیگانہ شخص ،

دراصل کتے نے “کھمبا “سمجھ کے جس پہ “مُوتا “تھاوہ تو مریخی شہزادہ تھاکتے نے شہزادے کو دیکھ کے “بھاؤ بھاؤ “ اور شہزادے نے کُتے کو دیکھ کے “موتی چھُو “کیا اور کتا ٹیاؤں ٹیاؤں کرتا گاؤں میں انجانے شہزادے کی آمد کا اعلان کرنے روانہ ہوگیا اور شہزادہ کھوجتی نظروں سے اپنی “ جہنمیلا” کے گھر کی تلاش میں یہاں وہاں نظریں دوڑانے لگا ، عید کی بھرپور گہما گہمی میں بھی لوگ رک رک شہزادے کو ٹکٹکی باندھے اور انگلیاں کلائی سمیت منہ میں دبائے دیکھ رہے تھے آخر کو مریخی کزن نے ہمت کرکے ایک پریشان خاتون سے پوچھا “ ماں جی، میری ماں کی سگی بہن اور جہنمیلا کی ماں کے شوہر یعنی میرے “خالو “جُمّن چچا کا گھر بتا سکتی ہیں ؟ اماں جو مریخی شہزادے کے حسن کی شوخی سے مرعوب ہوکے اپنی “ لیلیٰ” کے لئے اسُے داماد منتخب کرچکی تھیں، کے “ماں “کہنے پہ اور مچل گئیں ۔۔۔ ہاں بیٹا کیوں نہیں ، وہ جو گاؤں کا سب سے چمکتا گھر ہے جہاں گاؤں کا سب سے اونچا امرود کا درخت ، جس پہ لال ہرے سیب لٹکے ہیں “ وہ ہی جہنمیلا کا گھر ہے ۔۔ جانتے ہو اس گھر کی رنگائی پُتائی بھلے جہنمیلا نے کی لیکن وہ رنگ میری “ لیلی “ نے جنگل کے پچھواڑے بھٹی لگا کے تیار کئے ہیں مریخی شہزادے نے ایک لاکھ روپے نقد ، دو سنے کے کنگن اور ایک سو بیس گز کا مریخی پلاٹ ماں جی کو بطور شکریہ پیش کیا اور شرماتا ،مسکراتا جہنمیلا کے رنگین سپنے اپنی آنکھوں میں سجائے ، اس کے “خالی مگر رومانس سے بھرپور میسجز “، “شرارت سے پُر مہندی لگی ٹنڈ “اور “بنا کچھ کئے، شرم و حیا سے لال رُخسار “اپنی نظروں میں بسائے اپنے متوقع سسرال کی جانب روانہ ہوگیا اسکے نتھنوں میں دور سے ہی جہنمیلا کے ہاتھوں لگے امرود کے درخت پہ لٹکے سیبوں کی خوشبو گُھسنے لگی اور وہ ان سیبوں کا مینگو شیک بناکر پینے کے لئے مچلتا ، بھِنکتا تیز تیز دوڑنے لگا۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔

Kesi lagi apko Phurteeli Heroin ki yeh qist? Rate us below

Rating

Home » 2023 » Page 2

#پھرتیلی_ہیروئن_ناول

Delve into the Life and Choices of the Heroine in Urdu Novel Phurteeli Heroin Episode 2

رومانٹک ناول “ پھرتیلی ہیروئن پارٹ ۲”
اسی پاکیزہ محبت کی “تیز دھوپ “جیسی “برستی بارشوں” میں “سُوکھتے “کب عید آگئی پتا ہی نہیں چلا ، ہوش تو جہنمیلا کو جب آیا جب اسکی خالی کی سگی بہن اور اسکے باپ کی بیوی یعنی اسکی “ماں “نے اسُے بتایا کہ آج چاند رات ہے اور مریخ پہ اسکے کزن کا “ مریخ پہ درخت لگاؤ مُلک بچاؤ پراجیکٹ “ مکمل ہوگیا ہے اوراس نے وہاں سے روانگی “پکڑ “لی اور وہ کل صبح بعد نماز عید ہمارے ساتھ ہوگا جہنمیلا پہلےمُسکرائی پھر شرمائی، اور پھر گھبرائی ،جہنمیلا کے مخروطی انگلیوں والے ہاتھ حرکت میں آئے اور وہ کل عید کی تیاریوں میں جُتنے کے لئے روانہ ہوئی
اسے نا صرف اپنا گھر ، بلکہ اپنا آپ اور اپنا گاؤں بھی اپنے مریخی کزن اور عید کی خوشی میں سجانا تھا۔۔۔ اس نے سب سے پہلے “چاند “(جو اسکے کزن نے تحفے میں بھیجا تھا)کو اپنی مانگ سے نکال کے “آسمان” پہ ٹانگا تاکہ سب کو “چاند رات “کی خبر ہو سکے اسکے بعد گاؤں کے ہر گھر میں جاکر چاند مبارک کا سلام پیش کیا،
سلامتی پنہچانے کے بعد اپنے گھر والوں کے کپڑے رنگائی کرنے بیٹھ گئی ، (کپڑے رنگے گیں تو سئیے گی نا )پچھلی اگست کی طرح جنگل سے پتے لا کے مہندی تیار کی ابا کی ٹنڈ چمکائی، اماں کو مہندی لگا کے پلنگ پہ بٹھایا ، بھائیوں کی حجامت کی ،پائپ لگا کے پورا گھر بہن بھائیوں اور بھینسوں سمیت “دھویا” ابا کی بھینسوں🐂🐂 سے دودھ نکال کے انکا دہی جمایا اور لنگوٹ سی کے بھینسوں کو پہنائے شرمیلی جو تھی منگیتر کے سامنے ننگی بھینسیں کیسے آنے دیتی ؟ ☺️☺️بہنوں کی ٹوٹی ہوئی سینڈلوں کی ٹُوٹی ہوئی ہیلز کو اپنی فیوی کول جیسی کارآمد تُھوک سے جوڑا پھر گرم موسم کی مناسبت سے اپنا مخملی پنک کلرکا گہرا لال سوٹ ، ہلکے سرمئی رنگے کے گہرے ہرے دوپٹے کے ساتھ جس پہ ہلکے گہرے نیلے اودے پھول چھپے تھے استری کرکے واش روم میں لٹکایا ، اس دوران وہ اپنے کزن کی حسین یادوں اور مدہوش سرگوشیوں میں کھوئی رہی جو میسج کی صورت وقتاً فوقتاً اسکا کزن کرتا تھا “میری جہنمیلا، “کتنا حسین سما ہوگا جب “!!! بس یہیں تک سوچ کی اسکے رخسار شرم وحیا کی لالی سے ہرےہوجاتے ہیں کہ اسے اچانک آگے کا میسج” جب میں تمہارا محرمِ زار بن جاؤنگا اور تمیں میت خانے لے جانے اور کفنانے دفنانے کا حق صرف مجھے حاصل ہوگا “ یاد آجاتا ہے وہ مزید کھلکھلاتی ، اٹھلاتی ، کچن کی طرف صبح کی تیاریوں کے لئے چل دیتی ہے ۔۔۔
جاری ہے

Kesi lagi apko Phurteeli Heroin ki yeh qist ? Rate us below

Rating
Home » 2023 » Page 2

The Captivating Persona of the Heroine in Urdu NovelPhurteeli Heroin Episode 1

s

آپ سب کے بے حد اصرار پہ ایک نئی رومانٹک کہانی۔۔۔۔



‎اچانک سے لڑکی کے اپنے ایجاد کردہ فون پہ روشنی جگمگائی، اس نے دیکھا تو اس کے مریخ والے کزن کا میسج تھا، دل میں یکایک ایک انجانی خوشی و مسرت کا احساس ابھرا، اس نے میسج دیکھا “چاند سے پیاری لڑکی کو جشنِ آزادی مبارک”، میسج پڑھ وہ بے اختیار مسکرا اٹھی، اس کے مسکرانے سے ہونٹوں کے درمیان سے اس کے دانتوں کی جھلک نظر آئی، اس جھلک سے اس قدر روشنی پھوٹی کہ یکدم سے اس روشنی سے پورا گاوں جگمگا اٹھا، گاوں کے لوگ سمجھ گئے کہ “جہنمیلا ” مسکرا رہی ہے،

‎ اس نے موبائل جونہی رکھا تو بیٹری لو کی وارننگ آئی، “افففوہ گاوں کا ٹرانسفارمر تو پچھلے چھ دن سے خراب ہے، اب کل چودہ اگست ہے، کس طرح ہوگا سب کچھ”، وہ بہت حساس مزاج کی مالکہ تھی اسے خود سے زیادہ دوسروں کی فکر رہتی تھی، اسی کشمکش میں وہ جمپ لگا کر اٹھی اور بجلی کے مخملی پول پر چڑھ گئی۔
‎دو گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد اس نے ٹرانسفارمر ٹھیک کر دیا۔
‎ گاوں کی بجلی بحال ہوگئی
‎اس نے گھر آکر شکرانے کے طور پہ 20 منٹ میں 200نفل ادا کئے۔۔
‎پھر جاکر اس نے اپنا موبائل چارجنگ پہ لگایا، جب تک موبائل چارج ہوتا اس نے سب بہن بھائیوں اور اپنے ابا کے ہرے اور سفید کپڑے سلائی کیے، ۔
‎ اس کی لمبی لمبی مخروطی انگلیوں پہ سلائی جچتی بھی بہت تھی، جونہی سب کے کپڑے اور گاؤں کے ہر گھر کی چھت پہ لہرانے کے لئے جھنڈے سلائی کرکے فارغ ہوئی تو اسے یاد آیا کہ اسے ابا کے سنگ مرمر جیسی ٹنڈ پر مہندی بھی لگانی ہے 😄وہ ایک چھلانگ لگاکر دوڑی اور گاؤں کے پیچھے جنگل سے مہندی کے پتے توڑ کے لائی پتے پراسس سے گُذار کے مہندی تیار کی اور پندرہ منٹ کے اندر
‎پہلے اس نے اپنے ہاتھوں پہ مہندی لگائی، ابا کی ٹنڈ رنگی اور مہندی لگا نے کے بعد اس نے اپنے چھوٹے بھائیوں کے بال کاٹے، وہ پارٹ ٹائم موچی جو تھی، اتنی دیر میں موبائل بھی چارج ہوچکا تھا، اس نے میسج کمپوز میں اپنے مریخ والے کزن کا نمبر لگایا، نمبر دیکھتے ہی اس کے رخساروں پہ حیا کی سرخی دوڑ گئی، میسج کمپوز کرتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔ پھیپھڑے پھولنے لگے۔۔۔، اس نے اپنے کزن کو “خالی میسج” کیا کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ پاکیزہ جذبات کے اظہار میں الفاظ کی کھرچن ضروری نہیں ہوتی۔۔۔۔
اور اسی لئے اپنے مہندی لگے ہاتھوں کی جگہ ابا کی مہندی لگی ٹنڈ کی تصویر کزن کو روانہ کردی کیونکہ کے اسے کامل یقین تھا کہ اسکا دیوانہ اسکے ہاتھوں کی چُمی لیکر اسکی پاکیزہ محبت کو ناپاک کرنے کی کوشش ضرور کریگا
جاری ہے۔۔۔۔۔۔


Kesi lagi apko phurteeli heroin ki pehli qist? Rate us below

Rating


#پھرتیلی_ہیروئن_ناول

Home » 2023 » Page 2

Pathar say Insan urdu udaas shayari

پتھر سے انسان۔۔۔
کبھی چلتے چلتےپتھر سے ٹھوکر کھائی؟
کیا کیا پھر؟
جس پتھر سے ٹھوکر کھائی
اس سے نفرت کی؟
اس سے دور ہوئے؟
اسے ٹھوکر لگادی؟
یا سنبھل کر آگے بڑھ لیئے؟
میں بتائوں میں نے کیا کیا؟
پتھر اٹھایا۔۔
دل سے لگایا۔۔
اب بھی پاس ہے میرے۔۔
یاد دہانی کیلئے۔۔
راستے میں پتھر ہوتے ہیں۔۔
پتھروں سے بچ کر چلنا چاہیئے۔۔
اور پتھر جیسے انسانوں سے بھی۔۔

۔
۔
۔

از قلم ہجوم تنہائی۔۔

Rate us below

Rating
Home » 2023 » Page 2

Zehar lagtay hain mujhay hunstay chehre

زہر لگتے ہیں مجھے ہنستے چہرے۔۔
بس چلے تو ان پر میں لگا دوں پہرے۔۔
کس بات کی خوشی ہے انکو؟
زندگی کیسی ملی ہے انکو؟
جو گزرے سب دکھ سب بھول گئے؟
ماضی پر کیسی ڈال یہ دھول گئے؟
ایسابھی کیا ملا ہے اب ہمیں بتائو
کیا کبھی نہ تم سےکچھ چھنا؟ ہمیں بتائو
مسکراتے ہوئے دیکھے ہیں ہم نے کہاں لوگ
ہمارے گرد تو ہم جیسے ہیں تہی داماں لوگ
تنہائی میں ملتی ہیں کالی ناگن سی پھنکارتی سوچیں
اپنے سود و زیاں پر کلبلاتی ماضی کو پکارتی سوچیں
یاسیت و اداسی سے بھرے صبح شام سےہیں
چند پل بھی خوشی کے بس نام کے ہیں
اب ان کو بھی یاد کریں تو دل دکھتا ہے
گزرے لمحوں میں رہنے سے کہاں کچھ ملتا ہے۔
ہم جیسے لوگوں کو تو بس قسمت کا لکھا کھا گیا
ہمارے دل میں جانے کیا تھا
جو دکھوں کے موسم کو بھا گیا۔۔
اب کس دل سے دیکھوں میں اس دل میں بستے چہرے؟
تبھی تو زہر لگتے ہیں مجھے اب ہنستے چہرے۔۔

از قلم ہجوم تنہائی

تنہائی کو دل میں اتار رہا ہے

Home » 2023 » Page 2

Discovering the Wonders of Korea Through Urdu Web Travel Novel Salam Korea Episode 39

Salam korea by

vaiza zaidi

قسط 39

وعلیکم السلام ، میں ٹھیک آپ یہاں کیسے۔؟ 

تھوڑا اٹک کر سہی اس نے ہنگل میں پوچھا تھا۔ علی کی مسکراہٹ گہری ہوگئ۔ 

چھٹیاں گزارنے آیا ہوں۔ 

ہاں ظاہر ہے۔ اریزہ کھسیائی۔ احمقانہ سوال تھا۔ 

اس نے فون بند کردیا تھا۔

کھانا کھاچکی ہو؟

وہ اپنے لیئے کھانا لیکر آیا تھا اخلاقا پوچھا۔ وہ سوچ میں پڑگئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریستوران کے اوپر بنے کمروں میں سے ایک میں وہ رہ رہا تھا۔ راستہ ریستوران کے ایک کونے سے اوپر کو جاتا تھا۔ اس نے چابی سے تالہ کھولا اور لائٹ جلا دی۔ ریستوران اس وقت خالئ پڑا ہوا تھا۔ سب سے پہلی قریبی میز پر اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے وہ خود اندر سے پلیٹیں چمچ لیکر آیا تھا۔

اسے کورین بلیک بین نوڈلز کہتے ہیں۔ یہ عموما حلال نہیں ہوتی کیونکہ اس کے ساس میں بھنا ہوا سور شامل ہوتا ہے لیکن میں یہاں قریبئ ڈھابے میں جا کر خود اپنے لیے بنا کر لایا ہوں۔ 

وہ بات برائے بات بتا رہا تھا۔

اس نے سر ہلا دیا۔ اچھی خاصی مقدار میں کھانا تھا۔اس نے تھوڑا سا اپنی پلیٹ میں نکال لیا۔

کبھئ لال لوبیے کا سالن نوڈلز کے ساتھ نہیں کھایا تھا ہاں چاول کے ساتھ اکثر امی بناتی تھیں خاصا مزے کا بناتئ تھیں۔

وہ بہت مہارت سے چاپ اسٹکس کا استعمال کر رہا تھا۔ وہ کانٹے میں نوڈلز پروتی تو لوبیا بھاگ جاتا۔

اسکی جد و جہد کو دیکھتے علی کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ در آئی تھی۔ جسے وہ خوبی سے چھپا گیا۔

میں نہیں کھا سکتی۔ اس نے پلیٹ پرے کردی۔

مجھے خود سے گھن آرہی ہے۔

اسکی شکل پر حقیقتا بے چارگئ تھئ۔

تم اتنا محسوس کیوں کر رہی ہو؟ تم نے جان بوجھ کر تو نہیں کھایا۔ غلطی ہو جاتی ہے۔اسی وقت  الٹی کرلیتیں۔ اتنا وہم ہو رہا تھا تو

علی نے سبھائو سے کہا تو وہ شرمندہ لہجے میں بولی

مجھے خیال نہیں آیا۔ میں نے خود کو یہی سمجھایا غلطی ہوگئ بھوک میں تو مردار بھی حلال ہوجاتا مگر مجھے الٹی کر لینی چاہیئے تھی۔ وہ مایوس نظر آرہی تھی۔ پھر خیال آیا تو جوش سے بولی

اب کرلوں؟

کھانا کھائے کتنا وقت ہوگیا؟

علی سنجیدگئ سے پوچھ رہا تھا۔

دو تین گھنٹے ہوگئے۔

اس نے اندازا سامنے وال کلاک کو دیکھتے بتایا اس وقت رات کے سوا بارہ ہو رہے تھے۔

اسکے چہرے کو دیکھتےعلی کو شرارت سوجھئ۔ چاپ اسٹکس رکھ کر تاسف سے سر ہلاتے بولا۔ 

کھانا تین گھنٹے میں ہضم ہو جاتا ہے۔ اب تو سور کے اجزاء تمہارے خون تک جا چکے ہوں گے۔ ہر آرگن تک توانائی پہنچ چکی ہوگی۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔

اریزہ کا رنگ واضح طور پر اڑا تھا۔ آنکھوں میں پانی در آیا۔

ہیں ۔۔ یعنئ سور میرے خون میں بھی سرائیت کرچکا ہوگا اب تک؟مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ۔ 

اس نے میز پر کہنیاں ٹکا کر ہتھیلیوں میں چہرہ چھپا لیا شائد رونے ہی والی تھئ۔  علی بھونچکا سا اسکو دیکھتا رہ گیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے اسکے گرد کا منظر بدلتا گیا۔ گائوں کے عام سے فرنیچر والے معمولی ریستوران کی جگہ سیول کے ایک لگژری ہوٹل نے لے تھی۔ اسکے مقابل اب  اریزہ کی جگہ رچل نے لے لی تھی دھیمے بجتے پیانو خوابناک ماحول  رچل کا پسندیدہ پاستا اور اسٹیک سامنے سجا تھا جب اس نے ہلکا سا گلا کھنکارا تھا اور اسے کہا تھا۔ 

رچل ہمارے ساتھ کو پانچ سال مکمل ہوگئے ہیں میں اب یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ میں مزید اب اس طرح تمہارے ساتھ تعلق نہیں نبھا سکتا۔ معزرت رچل۔

رچل کے ہاتھ سے کانٹا چھوٹ کر پلیٹ پر جا گرا تھا۔ اسکی چندی آدھے چاند جیسی آنکھوں میں حیرت امڈ آئی تھی۔ 

علی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ 

اتنا عرصہ میرا خیال ہے کافی تھا ہم دونوں کیلئے گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بن کے رہنے کے لیئے ہمیں اب اس رشتے کو سلیقے سے ختم کردینا چاہیئے۔ اور۔

اور۔ رچل کی آواز جیسے کسی کنوئیں سے آئی تھی۔ اسکے چہرے پر زلزلے سی کیفیت تھی۔ 

علی اٹھ کر اسکے مقابل آگیا تھا۔ 

رچل کے چہرے سے جیسے کسی نے سب توانائیاں نچوڑ لی تھیں۔ 

علی کے چہرے کی سنجیدگی اسے معاملے کی سنگینئ محسوس کرا رہی تھی۔ 

علی اسکے قریب آکر گھٹنے کے بل جھکا تھا 

اور ہمیں اب ایک مستحکم رشتے کی بنیاد رکھنی چاہیئے۔ مجھ سے شادی کروگی رچل؟

جیب سے انگوٹھئ نکال کر اسکی جانب بڑھاتے اس نے ڈرامائی انداز سے کہا تھا۔ اسکی آنکھوں میں اب شرارت مچل رہی تھی لبوں پر مسکان دبی تھی۔

رچل اتنی حیران ہوئی تھی کہ ہاتھ بڑھانے کی بجائے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی رہی۔ 

رچل۔

اسے پکارنا پڑا۔

رچل کو جیسے ہوش آیا۔ کتنے سارے آنسو اسکے چہرے پر پھیلتے چلے گئے۔ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر بلک اٹھئ تھی۔ 

علی کو لگا تھا ذیادہ سے زیادہ غصہ ہوگی اس شرارت پر مگر اسکا ردعمل اتنا شدید تھا وہ گھبرا کے اٹھ کھڑا ہوا

رچل ۔ 

اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہ اسے مخاطب کر رہا تھا مگر وہ یونہی دھواں دھار روتی رہی 

اسکا سرپرائز اسکے گلے پڑ گیا تھا ریستوران میں موجود سب لوگ اسکو دیکھ رہے تھے وہ کھسیانا سا ہو کر سب سے اشارے میں جھک کے معزرت کرنے لگا۔

روتے روتے اس نے خود ہی اپنی آنکھیں پونچھیں۔ پھر ذرا سا نگاہ اٹھا کے اسے دیکھ کر بولی۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ پہلے سور کھاتے تھے؟

اس نے ہنگل میں سوال کیا تھا۔ علی کیلئے اسکا سوال غیر متوقع تھا۔وہ چونک کے حال میں واپس آیا تھا۔ اریزہ سنجیدگی سے اس سے پوچھ رہی تھی۔دونوں ہاتھ میز پر ٹکائے وہ تاسف بھرے تاثرات چہرے پر سجائے یقینا اپنا دھیان بٹانے کو پوچھ رہی تھی۔

ہاں۔ اس نے مختصرا جواب دیاحسب توقع اگلا سوال اسی سے پیوستہ تھا۔

آپکو سور کا گوشت پسند تھا؟ وہ غور سے اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔

ہاں۔۔  اس نے حیرت سے اسکو دیکھا جیسے اس سوال کا مقصد سمجھ نہ آیا ہو

آپکا دل نہیں کرتا اسے دوبارہ کھانے کا؟

اس کے سوال پر اسے ہنسی آگئ تھئ۔ مگر اسکی سنجیدگی دیکھ کر وہ باقائدہ چاپ اسٹکس رکھ کر نپا تلا جواب دینے لگا

اچھا سوال ہے۔ مگر میں بہت سے ایسے کام جو پہلے کرتا تھا اب نہیں کرتا انسان ہوں دھیان جاتا ہے مگر مجھے خود پر قابو رکھنا ہے ۔جب اسلام کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا تو سب سے ذیادہ جس چیز نے متاثر کیا تھا مجھے وہ یہی تھی کہ اسلام آپکو ہر چیز میں ایک حد مقرر کرکے دیتا ہے۔ جس سے باہر نہیں نکلنا۔ خود پر قابو رکھنا ہے اور یقین کرو ان حدوں سے باہر بالکل بھی لطف نہیں بلکہ آپ جب یہ سوچتے ہیں کہ آپکو کبھی کسی معاملے پر رکنا نہیں ہے وہاں سے آپ ہر حد پار کرکے بھی غیر مطمئن ہی رہتے ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں

pleasure seekers always seek pleasure contentment is not for them۔

اس نے کندھے اچکا کر کہا تھا۔ اسکی باتیں دل چھو سی گئی تھیں۔

 آپکو روکنا پڑتا ہے خود کو آپکو رکنا ہی پڑتا ہے۔ 

وہ بےخیالی میں بڑبڑا اٹھئ

وہ اس ایک خیال پر شرمندہ ہو رہی تھی جب یہ معلوم ہو جانے کے بعد بھی وہ متذبذب سی اپنا پیٹ بھر لینا چاہتی تھی کہ کیا ہوا سور ہے بھوک بھی تو بہت ہے۔۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے دس بج رہے تھے جب اس نے پولیس اسٹیشن میں اپنا بیان رکارڈ کروایا تھا۔ فوری طور پر سیموئیل صاحب کو اطلاع دی گئ تھی اور وہ آدھے گھنٹے کے اندر موجود تھے پولیس اسٹیشن میں۔ 

کہاں ہے میری بیٹئ۔ 

پولیس افسر سے انہوں نے بے تابی سے پوچھا تھا ۔ 

سنتھیا کو انہوں نے کمرے میں بٹھا رکھا تھا ایک پولیس افسر اس سے ہر طرح کا بیان لے چکا تھا اب یقینا اسے باپ سے ملنے کی اجازت تھی۔ 

پولیس افسر نے جیسے ہی دروازہ کھولا وہ حواس باختہ سے سنتھیا کی جانب بڑھے

سنتھیا؟ تم ٹھیک ہو؟ کہاں تھیں بیٹا۔ 

اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیکر وہ بے حد فکر مند سے پوچھ رہے تھے۔ 

پاپا۔ وہ انکا ہاتھ چومتے وہ بلک اٹھی تھی۔ انکے سینے سے لگ کر اس نے سب آنسو بہا ڈالے تھے۔

چٹاخ۔۔ 

اتنئ زور کا تھپڑ تھا کہ اسکا پورا چہرہ گھوم گیا تھا۔ وہ ایک جھٹکے میں حقیقت کی دنیا میں واپس لا پٹخی گئ تھئ۔

ایک کے بعد دوسرا۔ وہ پہلے جھٹکے سے سنبھلی نہ تھی۔ اسکے برابر ہی بیٹھے کم سن نے اسکو فورا سنبھالا تھا۔ دوسرا تھپڑ بھی پہلے کے ساتھ تھا 

تیسرا اس نے ایکدم خود آگے آکر اسے بچاتے خود اپنے کندھے پر کھایا تھا۔ چوتھا پانچواں۔ پولیس افسر نے سیموئل صاحب کو زبردستی پکڑ کر پیچھے کیا تھا۔ وہ چلا رہے تھے اپنی زبان میں۔ برا بھلا کہہ رہے تھے۔ کم سن اور وہ پولیس افسر انکی زبان سے بے بہرہ تھے مگر سنتھیا کے دل میں انکا لفظ لفظ ترازو ہو رہا تھا۔ وہ اتنی ششدر تھئ کہ گال پر ہاتھ تک نہ رکھ سکی بس حیرت سے اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی جس نے کبھی بچپن میں کبھی ہاتھ اٹھانا تو دور جھڑکا تک نہ تھا۔

ٹوں ں ۔۔

اسکا ذہن سائیں سائیں کر رہا تھا

پہلے کیا کیا کہا اسے اسکا ذہن یاد کرنےسے قاصر تھا۔۔ وہ ابھی بھئ چپ نہ ہوئے تھے 

اپنی مرضی سے روپوش تھئ یہ کہا ہے تم نے پولیس کو؟ ایڈون کا کوئی قصور نہیں؟ پھر کس کا قصو رہے ہمارا تمہارے ماں باپ کا جنہوں نے تم جیسی اولاد پیدا کی؟

وہ چیختے چیختے بے حال ہو رہے تھے۔ 

پہلے کم ہماری ناک کٹوائی تھی تم نے؟  اس بد ذات ایڈون کو کیا کہوں میں جب میری بیٹی ہی ایسی ہے۔ 

وہ سر پر ہاتھ رکھ کر روپڑے تھے۔ پولیس افسر نے انہیں سہارا دے کر کرسی پر بٹھا دیا تھا۔مترجم سے اشارے سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے اس نے سر جھکا لیا۔اب ان باتوں کے کیا ترجمے کیئے جاتے۔

کین چھنا۔ کم سن اسکو کندھوں سے تھامے جھنجھوڑ رہا تھا وہ سکتے کی سی کیفیت میں بیٹھئ زمین تک رہی تھی۔

ہر برا خیال آیا مجھے کہیں اس نے مار تو نہیں دیا کاش مار دیا ہوتا اس رزیل نے میں اسے کوس تو سکتا تھا۔ کاش تو مرجاتی سنتھیا۔ 

وہ میز پر دونوں کہنیاں ٹکائے سر پکڑے رو رہے تھے۔ 

اریزہ کے باپ کو کیا کچھ نہیں کہا اس نے کس یقین سے کہا تھا میری بیٹی کبھی کچھ غلط نہیں کر سکتی۔غرور تھا اسے اپنی بیٹی پر میں نہیں کہہ سکتا ایسے میری بیٹی اسکی بیٹی جیسی نہیں ہے۔ 

وہ سر پیٹ رہے تھے ۔ انکے ساتھ آیا مترجم انکو پانی دے رہا تھا۔ انکا فشار خون اس وقت بلند ہو چکا تھا  

سنتھیا کا سانولا چہرہ پہلے سرخ اب سیاہ پڑ چکا تھا۔ کم سن اسکے لیئے پانی لیکر آیا تھا۔ وہ خالی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

ہم قانونی کاروائی مکمل کر لیتے ہیں۔ سیموئل صاحب کا وکیل پراسیکیوٹر کے ہمراہ داخل ہوا تھا۔دونوں نے کئی کاغذات میز پر پھیلا دیئے تھے۔ 

ہنگل اور اردو میں ہونے والی اس گفتگو کو وہ سن تو رہی تھی مگر ذہن سمجھنے سے قاصر تھا۔ 

یہ کیا کہہ رہے ہیں کم سن۔

کم سن کی کلائی اپنی کمزور مٹھی میں جکڑ کر وہ پوچھ رہی تھی 

یہ کہہ رہے ہیں تم کو فورا سے پیشتر واپس بھجوادیا جائے گا۔ 

کم سن نے گہری سانس لیکر بتایا تھا اسے۔ 

سنتھیا کا دل سکڑ کر پھیلا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنتھیا کو ایمبیسیڈر گاڑی میں اسکے والد کے ساتھ بٹھایا گیا تھا۔ آدھے پونے گھنٹے کی کاغذی کاروائئ کے بعد انہوں نے بہت جلدی معاملات طے کیئے تھے۔ اسکی اب یہاں کوئی ضرورت نہیں تھی پھر بھی وہ سنتھیا کے ساتھ کھڑا رہا تھا۔ سنتھیا کے والد نے ناگواری کے اظہار کے طور پر اسے گھورا بھی تھا مگر وہ گیا نہیں۔ وہ الجھے اتنے تھے کہ انہوں نے اسے وہاں سے باہر نکلوانے میں دلچسپی بھی نہیں لی۔ بہر حال رات کے بارہ بجے وہ بالکل فارغ تھا۔ اب یا تو گھر جاتا یا ۔۔ وہ ڈھیلے ڈھیلے قدم اٹھاتا گاڑی کی طرف بڑھتا سوچ رہا تھا۔ سنتھیا کا سوجا چہرہ اسکی نگاہوں سے ہٹ نہیں رہا تھا۔گاڑی اسٹارٹ کرکے مین روڈ تک آتے وہ بہت بوجھل سا محسوس کر رہا تھا۔ 

اسے بس اتنا سمجھ آیا تھا کہ وہ اسکے بیان پر غصے میں آئے تھے۔ مگر اتنا غصہ۔ 

وہ سر جھٹکتا پھر اسی کی طرف خیال جاتا۔ 

بہر حال وہ اسکے باپ ہیں۔ مارا غصے میں ہوگا مگر اب وہ اپنوں کے ہاتھوں میں ہے یقینا اسکا خیال بہتر رکھیں گے۔

وہ خود کو سمجھا رہا تھا۔

کل کال کرکے پوچھوں گا کب جارہی ہے پاکستان۔ 

اس نے ارادہ کیا تو خیال آیا۔اس کے پاس سنتھیا کا کوئی رابطہ نمبر اب نہیں تھا۔

اس نے سر جھٹکا۔ اب رابطہ کرنے کی ضرورت بھئ نہیں تھی۔ اس نے دوست نہ ہوتے ہوئے بھی جہاں تک جتنی مدد کر سکتا تھا کردی تھی ۔ 

اس نے اطمینان کی سانس لی۔ 

یونہی سر گھما کر اپنے برابر خالی نشست کو دیکھا۔ جانے کیا ہوا آگے سے گاڑی یو ٹرن کی طرف موڑ لی تھی۔ پولیس اسٹیشن سے نکلتے اس بار وہ اتنا بے چین سا دکھائی نہیں دے رہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح اسکی بازو سن ہونے سے آنکھ کھلی تھی۔وہ چت پڑا تھا اسکےکندھے پر گھنے بالوں والا سر تھا۔اس نے پہلے تو پلکیں جھپک کر جگہ پہچاننی چاہی۔ مانوس تھئ۔ پھر اپنے شل کندھے کو ہلانا چاہا ۔ 

اونہوں۔ کم سن کسمساکر مزید اس سے چمٹ گیا۔۔

کم سن۔ اٹھو۔ 

اس نے کندھا ہلایا وہ ٹس سے مس نہ ہوا

دو تین بار ہلانے پر جاگ کر بھی ڈھٹائی سے پڑا رہا تو اسے قومئ زبان استعمال کرنی پڑی 

کمسانا۔ اٹھ۔۔ میرا بازو شل ہو چکا ہے کیہہ سیکی اٹھا جائو اب 

اس نے اپنی ساری توانائی لگا کر بمشکل اسے دھکیلا اور بیٹھ کر اپنا کندھا سہلانے لگا۔

اسی کیہہ سیکی سے رات بھر ایسے لپٹ کر سوئے ہو جیسے میں تمہارا یوجا شنگو( گرل فرینڈ)  ہوں ۔

کم سن انگڑائی لیکر بیدار ہوتے اسے چھیڑنے لگا۔

میرے بالوں پر ہاتھ پھیر رہے تھے کیا سمجھ رہے تھے مجھے اریزہ؟

اس نے شوخی سے چھیڑا

ہیون کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ در آئی

نہیں اتنا خوش فہم میں نہیں۔خواب بھی ایسا نہیں آتا مجھے۔  

اب کیسی ہے طبیعت؟ 

کم سن نے اسے سنجیدہ ہوتے دیکھ کر موضوع بدلا

کیا ہوا تھا مجھے؟ 

وہ الٹا اس سے پوچھنے لگا

پی کے تیراکیاں کر رہے تھے فل پارٹی موڈ اون تھا تمہارا پھر جو بخار چڑھا ہے تمہیں۔ صبح کے وقت کہیں جا کر کم ہوا تھا۔تولیا رکھتا رہا ہوں میں رات بھر۔ 

اس نے بیڈ کے پیتھیانے پڑی باتھ ٹاول کی جانب اشارہ کیا۔ فل سائز باتھ ٹاول تھی جسکو اتنا بھگویا گیا تھا کہ اب وہاں سے بیڈ گیلا بھی ہو رہا تھا۔ 

ہیون اسے گھور کر رہ گیا۔ 

شکریہ ۔  اس نے طنزیہ ہی کہا تھا۔ پھر انٹرکام پر صاف تولیئے لانے کا اور ناشتے کا انتظام کرنے کا کہہ کر نہانے گھس گیا۔ 

نہا کر نکلا تب بھی کم سن بیڈ پر چت لیٹا سوچوں میں گم تھا

کیا سوچ رہے ہو؟ 

اس نے یونہی پوچھا تھا۔ باتھ گائون پہنے وہ بال جھٹک رہا تھا۔ تبھئ روم سروس پر معمور دو ویٹر اسکی ہدایات کے مطابق صاف تولیئے اور ناشتہ لیکر داخل ہوئے۔ 

تولیہ لیکر سر جھٹکتے وہ مستقل کم سن کو دیکھ رہا تھا جو ڈھیلے ڈھالے انداز میں اٹھ کر بیٹھا تھا۔ ہیون نے ٹرالی بیڈ کے قریب کی تو اس نے بے دلی سے ایک سلائس اٹھا کر اس پر جیم لگانا شروع کردیا۔

تمہیں کیا ہوا ہے؟ ہیون نے حیرت سے ہلایا اسے۔

میری نگاہوں سے سنتھیا کا چہرہ نہیں ہٹ رہا۔  

اس نے مختصرا کہا 

کون سنتھیا؟ ہیون نے ذہن پر زور ڈالا

اور کیوں نہیں ہٹ رہا اسکا چہرہ۔؟ وہ اپنے لیئے سلائس اٹھانے لگا تو کم سن نے ٹھںڈی سانس بھرتے  سلائس کا بڑا سا لقمہ لیتے اعتراف کیا

مجھے پیار ہو گیا ہے سنتھیا سے۔ 

کون سنتھیا۔ اب تو ہیون کو دماغ کے گھوڑے دوڑانے پڑے۔اور وہ دوڑتے دوڑتے جہاں رکے وہیں ہیون کے ہاتھ سے سلائس چھوٹ کر ٹرالی پر جا گرا۔ 

وہ اریزہ کی دوست؟ وہ اچھل پڑا۔

کم سن نے اثبات میں سر ہلایا۔اور باقی ماندہ سلائس بھئ نگل لیا۔

ہیون نے سر تھام لیا۔ 

یک نہ شد دو شد۔ 

یہ کیا ماجرا ہے؟ وہ اب اس سے سب اگلوائے بنا رہنے والا نہیں تھا سچ تو یہ ہے کم سن بھی دل ہلکا کردینا چاہتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گوارا کی دفعہ تو تم چھوٹے تھے مجھے بھی لگتا تھا یون بن اور گوارا کا ساتھ بس سال دو سال پر ہی محیط ہوگا۔تو تمہارا چانس بن سکتا تھا مگر دوبارہ بھئ ایسی لڑکی پر ہی دل آیا ہے جو اپنا دل کسی اور کو دے چکی ہے یہ تمہاری منحوسیت ہے یا تم ہو ہی دوسروں کی چیزوں پر نیت لگانے والے انسان۔ 

گاڑی ڈرائیو کرتے ہیون اسکا صریحا مزاق اڑا رہا تھا۔ہیون کے کہنے پر اس نے بلا تکلف گردن پر لگائی تھی۔

سوچ کے بولو ۔ میں کبھی بھی آوارہ مزاج لڑکا نہیں رہا۔ 

کم سن نے یاد دلایا

تو منحوس ہو یعنئ۔ ہیون نے سمجھ کر سر ہلایا

تم سے کم منحوس ہوں میں۔ چلو ناکام سہی دوسری بار کوشش کر رہا ہوں تم تو کوشش کیئے بنا ہار مانے ہوئے ہو۔

کم سن نے اسے جوش دلانا چاہا۔ 

ہیون نے سر جھٹکا۔ 

جتنا سخت انداز اور سخت الفاظ میں اریزہ اسے وہ سب کچھ کہہ رہی تھی وہ دن بلکہ وہ رات کا وقت وہ یاد بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ 

کیا کوشش کروں ؟ لیس ہوجائوں اسکے آگے پیچھے پھروں اسکی ناک میں دم کردوں ؟ تاکہ وہ مجھے پیونتی ( ٹھرکی) ثابت کرکے پولیس میں پکڑوا دے۔ 

ہیون کا انداز بظاہر ہلکا پھلکا تھا

مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ وہ لڑکی تمہیں انکار کیوں کر رہی ہے۔ سچ پوچھو ہم سب کو لگتا تھا تم دونوں کپل ہو اور بس کسی دن ہم سب کے سامنے اعتراف کرلوگے۔ 

ہیون اسکی بات پر کیا کہتا۔ کتنے لمحے اسکی نگاہوں کے سامنے گزر گئے جب اسے لگا تھا کہ اریزہ بھی اسکی قدر کرتی ہے اسے پسند کرتی ہے مگر اریزہ کے ۔۔ 

دیکھ کر۔۔ 

کم سن نے چیخ کر کہا تو جیسے اسے ہوش آیا۔ وہ بے دھیانی میں سرخ اشارے کو پار کرنے چلا تھا جھٹ بریک لگائی۔

یون بن کہاں ہے؟ یہ ڈرائیور ڈیوٹی ہم کیوں کر رہے ہیں؟ 

ہیون نے پوچھا تو کم سن نے گہری سانس لی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون سے انکی ملاقات کمرے میں کروائئ گئ تھی۔ اسکے ہاتھوں میں ہتھکڑی ابھی بھی تھی

باقائدہ ضمانت اور دیگر قانونی کاروائی تک یون بن انکے وکیل کے ساتھ لگا رہا تھا۔ 

ایڈون نے جن نظروں سے ماموں کو دیکھا تھا وہ نظر چرا گئے۔ 

کیسے ہو بیٹا؟ 

انکے سوال کا جواب وہ مجسم خود تھا جبھی اس نے جواب نہیں دیا آکر کرسی پر بیٹھ گیا تھا

پولیس افسر اسکو بٹھا کر خود باہر نکل گیا تھا

سنتھیا کے دل کو دھکا سا لگا۔ اسکی آنکھوں کے گرد حلقے نمایاں تھے رنگت سیاہی مایل ہورہی تھی وہ پہلے سے کافی کمزور دکھائی دے رہا تھا۔ آنکھوں میں رت جگوں کی سرخی چہرے کی پریشانی سب چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ مجرم وہ ہے۔ اس نے سر جھکا لیا۔

میں ذرا بات کرکے آتاہوں کتنی دیر ہے۔ 

سیموئل قصدا ان دونوں کو بات کرنے کا موقع دے کر اٹھ کر چلے گئے۔ 

ایڈون۔ اس نے ہمت کرکے پکارا۔ ایڈون نے اسکے چہرے پر نظریں جما لیں۔

خوش ہو مجھے دیکھ کر؟ یا مزید کوئی چرکے لگے دیکھنے کی خواہش ہے تمہیں؟ 

وہ زہر خند لہجے میں بولا تھا۔ سنتھیا نے سر جھکا لیا۔

تمہارا باپ مجھے قاتل تک بنا چکا تھا ، سگا بھانجا ہوں میں وہ یہ رشتہ تک بھلا کر میرے ماں باپ تک کو جانے کیا کچھ کہہ چکے ہیں۔ کہ اسپتال میں پڑی ہے ماں میری اور میں یہاں۔۔ 

اس نے بے بسی سے اپنے ہتھکڑیوں میں جکڑے ہاتھ میز پر مارے۔ سنتھیا کی آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے تھے۔

مجھے نہیں پتہ تھا کہ۔ 

اس نے صفائی دینی چاہی مگر وہ مزید طیش میں آگیا

کیا نہیں پتہ تھا؟ وہ چلایا نہیں تھا چلانے جتنی توانائی تک باقی نہ تھئ اس میں مگر اسکے لہجے کی سختی گھٹی گھٹی سی آواز سنتھیا کا دل سہمائے دے رہی تھی۔

کیوں کیا تم نے ایسا؟ کیا ملا مجھے برباد کرکے؟ پچھلے پندرہ بیس دن سے میں نہ میں کام پر گیا ہوں نہ اکیڈمی یہاں سے چھوٹ بھی جائوں تو گوشی وون کا کرایہ ڈیو ہے وہ نکال چکے ہوں گے مجھے۔ سڑک پر لا کھڑا کیا ہے تم نے مجھے۔ کوئی اندازہ ہے تمہیں؟ میری بہنیں میری ماں کس اذیت سے گزر رہی ہیں؟ میں نے تو کچھ نہیں بتایا تھا انہیں تمہارے باپ نے دھمکیاں دی تھیں یہ تک کہا کہ میں نے یقینا تمہاری جان لے لی ہے میری ماں کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ڈیم اٹ۔

اسکی آواز پھٹی پھٹی سی تھی۔ جزبات کی شدت سے کانپ رہا تھا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے وہ خود بے خبر تھا۔ 

مجھے معاف کردو۔ 

سنتھیا بلک اٹھئ ۔ ہچکیاں لیتے ہوئے صفائی دینے لگی

میں نے صرف اتنا سوچا تھا کہ کچھ دن تم سے دور رہوں گی تو ت۔۔تم شائد۔۔۔۔۔ میری۔۔۔۔۔ 

وہ جملہ پورا نہ کرسکی۔

کچھ دن دور رہوگی تو وقت گزر جائے گا 

اسکا جملہ اچک کر وہ استہزائیہ انداز میں سر جھٹک کر بولا

پھر ابارشن نہیں کروانا پڑے گا۔

اچھا منصوبہ بنایا تم نے مبارک ہوتمہیں۔ تم کامیاب رہیں۔ 

اپنے ہتھکڑی والے ہاتھوں کو جوڑ کر اس نے تالی بھی بجا ڈالی۔

 اب پالو اس بچے کو۔ جیسے تیسے کرکے۔ اب میرے دل میں تمہارے لیئے کوئی جگہ نہیں۔ تم نے مجھ میں اور اس بچے میں اس بچے کو چنا اب یہ بچہ ہی رہے گا بس تمہارے پاس۔ میں نہیں۔۔۔

ایسا مت کہو ایڈون۔ وہ رونا بھول کر گڑگڑائئ

میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔ میں تمہارے بغیر جی نہیں پائوں گی۔ پلیز مجھے معاف کردو۔ 

اس نے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔

میں ابارشن کرالوں گی پلیز مجھ سے خفا مت ہو۔ میں اس بچے کو ۔۔ آنسوئوں میں اسکا جملہ دب گیا تھا۔

وہ ہونٹ بھینچے اسکی شکل دیکھتا رہا۔ اسکا دل پگھل نہیں رہا تھا۔سنتھیا کی حالت کونسا ٹھیک تھی۔اسکی رنگت بالکل سیاہ پڑی ہوئی تھی وہ بجائے وزن بڑھنے کے وزن گھٹا چکی تھی اپنا۔ مگر اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا سنتھیا کو اسکے چہرے کے پتھریلے تاثرات ڈرا رہے تھے۔ اسکا دل سہما جا رہا تھا۔

اسکا بس نہ چلا تو آئیم سوری ایڈون کہہ کروہ میز پر سر رکھ کر روئے چلی گئ۔

مت روئو سنتھیا۔ 

ایڈون بولا بھی تو کیا بیزاری سے بھرپور انداز میں ٹوکا تھا اسے۔ 

ہر دفعہ رو کر تم اپنی سب غلطیاں دھو نہیں سکتیں۔ 

اسکا انداز اتنا بے رحم تھا کہ سنتھیا کی ہچکیاں تھم سی گئیں۔

تم اور تمہاری وجہ سے تمہارے باپ نے جو کچھ میرے اور میرے ماں باپ کے ساتھ کیا ہے میں اسے کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ 

سنتھیا کی سانسیں تک سینے میں اٹکنے لگی تھیں وہ دم سادھے اسکی شکل دیکھنے لگی۔ 

سنتھیا تم اب میری کچھ نہیں لگتیں۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔ 

سنتھیا حق دق اسکی شکل دیکھتی رہ گئ تھئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون اور کم سن انکا پولیس اسٹیشن سے باہر ہی کھڑے انتظار کررہے تھے۔ 

اتنی دیر؟ 

یون بن چھوٹتے ہی بولا۔ 

ہیون اور کم سن گاڑی سے اترنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر یون بن نے موقع نہیں دیا۔کم سن کا دروازہ بند کرتے ہوئے پچھلی سیٹ پر پہلے ایڈون کو بٹھایا پھر خود بیٹھ کر بولا

نفرت آرہی ہے پولیس اسٹیشن سے ہم دونوں کو نکلو یہاں سے بعد میں مل ول لینا

ہیون نے کندھے اچکا کر حسب ہدایت گاڑی چلا دی

کہاں جانا ہے؟ ہیون نے پوچھا

گوشی وون۔ 

ایڈون کی منحنی سی آواز نکلی تھی۔

کیوں؟ کم سن چونکا

میرا مطلب ہے تم سنتھیا سے نہیں ملنے جارہے؟

نہیں۔ ایڈون کا جواب مختصر ترین تھا۔

اسکے ماموں اور سنتھیا اس سے مل چکے ہیں دونوں اسی ہفتے واپس جا رہے ہیں پاکستان۔

ایڈون کا موڈ سمجھتے ہوئے یون بن نے جواب دیا

مگر کیوں؟ اسکی حالت ٹھیک نہیں وہ سفر کیسے کرے گی؟

کم سن کے منہ سے پھسلا تھا۔ 

اتنے دنوں سے بھی تو سفر کر رہی تھی آرام سے  چھپی بیٹھی تھی۔ اگلوں نے ایڈون کا شجرہ کھنگال لیا پینلٹی پوائنٹس الگ لگ گئے جیل کے۔ اسکا تو کیئریر تباہ ہوگیا ہے۔ اب کیا ایڈمیشن لے گا یہاں۔ اور وہ مزے سے باپ کے ساتھ واپس جا رہی ہے۔ انتہائی خود غرض لڑکی ہے۔ 

یون بن کو اپنے دوست کی پریشانی کا احساس تھا جبھی غصے سے بولتا گیا۔

قصور ثابت نہیں ہوا اس پر پھر یہ کونسا کورین شہری ہے کچھ نہیں ہوتا۔ 

ہیون نے تسلی دی۔

ہاں تھائینیئے۔  ( شکر ہے) اس نے بیان ایڈون کے خلاف نہیں دیا ورنہ اسکے باپ کا بس نہیں تھا پھانسی لگوادے ایڈون کو۔۔ مگر بندہ پوچھے غائب ہوئی ہی کیوں؟ کیا ملا یہ سب ڈرامہ کرکے۔۔

ڈرامہ؟ کم سن سے رہا نہ گیا۔

ایک ماں کا اپنے بچے کی زندگی بچانے کیلئے ان لوگوں سے چھپ جانا جو اسکے بچے کی جان لینا چاہتے ہوں ڈرامہ لگ رہا ہے تمہیں؟ کوئی اندازہ ہے وہ پریگننٹ تھئ کہاں کیسے رہ رہی ہوگی خوراک بھی ڈھنگ کی ملی ہوگی کہ نہیں اور یہ سب تکلیفیں کس لیئے جھیلیں اپنے بچے کیلئے۔ صرف اسکا بچہ تو نہیں ہے۔ آخری جملہ اس نے بیک ویو مرر سے لاتعلقی سے کھڑکی سے باہر دیکھتے ایڈون کو گھور کر کہا تھا۔

یون بن اسکے تیز ہو کربولنے پر حیرت سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔

تو اب کونسا بچ جائے گا۔ اسکے والد ایڈون سے پرمیشن لیٹر پر سائن کرواکے گئے ہیں ابارشن کیلئے۔

کیا؟ کم سن کے ساتھ ہیون بھی چلایا تھاپھر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔ 

یون بن اور ایڈون دونوں کیلئے انکا ردعمل غیر متوقع تھا۔دونوں ہی حیرت سے دیکھ رہے تھے۔

ایڈون تم ۔۔ کم سن نے دانت پیسے۔ 

تم ایک بار بھی سنتھیا کیلئے نہیں سوچتےاسکی فکر نہیں تمہیں؟ وہ ۔ وہ۔۔۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ کیسے کہے۔ بس اتنا کہنے پر اکتفا کیا۔ 

وہ بہت کمزور ہے ۔ 

اسکے ماں باپ ہیں نا خیال رکھنے کو۔

ایڈون کا انداز۔ کم سن کو طیش آرہا تھا۔ 

اسکا کیا جس کے باپ ہی تم ہو؟

وہ مر جائے گا۔

وہ بے نیازی سے کہہ کر دوبارہ باہر دیکھنے لگا تھا۔اسکے گوشی وون کے باہر گاڑی رکنے تک وہ چپ ہی  رہے تھے۔

تم آرام کرو میں شام میں چکر لگائوں گا۔

یون بن نے اتر کر اسکا کندھا تھپتھپا کر کہا تھا۔ وہ سر ہلا کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اندر بڑھ گیا۔۔

میں سوچ نہیں سکتا تھا یہ اتنا کمینہ انسان ہوگا۔

کم سن اسے جاتے دیکھ کر غصے سے بولا

یون بن پچھلی نشست پر بیٹھتے اسکا جملہ سن کر حیرانی سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔ہیون  نے گاڑی ہی آگے بڑھا لی نہ دیکھے نہ غصہ کرے۔

کیہہ سیکی۔ نامرد۔  

وہ مزید خراج تحسین پیش کر رہا تھا۔

کیا ہوا بھئ ؟ اتنا غصہ کیوں؟ 

اسلیئے کہ سنتھیا کو میں ہی اسپتال لیکر گیا تھا اسکی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ابارشن اب قانونی طور پر منع ہے اور پریگننسی جاری رکھنے میں اسکی زندگی کو شدید خطرہ ہے۔ اور اس آدمی کو دیکھو رتی بھر پروا نہیں ہے اسکی۔ 

ہاں تو صحیح تو کہہ رہا اسکے ماں باپ خیال رکھ لیں گے ہو سکتا ہے پاکستان میں لیگل ابارشن کی معیاد کچھ اورہواور  ویسے اب یہ کیا کر سکتا ہے یہاں؟

 جاب تک تو رہی نہیں گوشئ وون کے مالک سے منتیں کرکے معیاد بڑھوا کر آیا ہوں اسکا بھی کرایہ نہیں دے سکا ایڈون۔ اس کو تو ان پندرہ بیس دنوں نے کنگال کر چھوڑا ہے۔ 

یون بن کو ترس آرہا تھا اور کم سن کو غصہ۔

 تو کس نے کہا تھا کہ اسے مجبور کرے ابارشن کیلئے؟ نہ یہ مجبور کرتا نہ وہ یہ قدم اٹھاتئ۔ کم سن تیز ہو کر بولا

ہاں تو بے روزگار انسان اپنی گرل فرینڈ کا بچہ کیوں پالے؟ جب یہ فیصلہ دونوں کرتے تو ذمہ داری دونوں کی برابر ہوئی نا۔ 

یون بن کو اسکا غصہ سمجھ نہ آیا۔

تم بتائو گوارا سے محبت کرتے ہو نا اگر گوارا پریگننٹ ہوتی تو کیا تم بھی اسے مجبور کرتے ؟ چاہے اسکی جان کو خطرہ ہوتا؟ 

کم سن کا سوال ہیون نے اسکی شکل۔غور سے دیکھی۔

اول تو گوارا خود بہت سمجھدار ہے دوسرا اگر ایسا کچھ ہوتا تو ظاہر ہے میں بھی وہی کرتا جو ایڈون کر رہا ابھی ہماری پڑھائی مکمل نہیں ہے کیریئر نہیں بنا کیسے ہم کوئی نئی ذمہ داری اٹھا سکتے؟ 

یون بن کا جواب ہیون کو اسکی شکل دیکھنے پر۔مجبور کرگیا۔

حد ہے ۔ گوارا سے محبت کا دعوی کرتے ہو اور پھر بھی۔ 

کم سن نے شرمندہ کرنا چاہا یون بن نے بات کاٹ دی

ہاں تو میں نے کب انکار کیا۔ محبت الگ چیز ہے بچہ الگ، 

کیا بات کر رہے ہو۔۔ 

کم سن اور یون بن بحث میں الجھ گئے تھے 

اور سڑک پر نگاہ جمائے گاڑی دوڑاتے ہیون سوچ رہا تھا اچھی لڑکیاں چاہے کورین ہوں یا پاکستانی غلط لڑکے کا ہی انتخاب کیوں کرتی ہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوپ اور اسے ناشتہ کرتے ہی حکم ملا تھا فورا تیار ہو کر باہر آجائو۔ دونوں حسب ہدایت تیار ہو کر باہر آئیں تو گوارا ایک پاکستانی مہران کے سائز کی مگر مہران سے دس گنا بہتر ڈئزاین کی الیکڑک بلو پیاری سی گاڑی کو کپڑا مار رہی تھی۔ 

یہ کس کی گاڑی ہے۔ 

اریزہ نے حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ گوارا کھلکھلائی۔

یون بن کی۔ میں نے اسے کہا تھا فورا یہاں بھجوا دے خود بے شک بعد میں آتا رہے۔  اب ہم یہاں بنا گھومے پھرے کیسے رہ سکتے ہیں۔

وہ معصوم سی شکل بنا کر بولی تھی۔ 

ابھی پچھلے ہفتے بک کروائی تھی اس نے اور میں نے یہاں کا پتہ لکھوایا تھا۔ وہ مزید اپنی کارگزاری سنا رہی تھی۔ 

عظیم لڑکی ہو تم۔ 

اریزہ نے خراج تحسین پیش کیا۔ 

ہوپ پچھلی سیٹ کی طرف بڑھنے لگی تو گوارا نے اسکو کندھے سے پکڑ کر کھینچا چابی اسکے ہاتھ پر رکھتے بولی

تم کدھر جا رہی ہو؟ گاڑی کون چلائے گا؟ 

تمہیں گاڑی نہیں چلانی آتی؟ ہوپ کا موڈ نہیں تھا شائد۔ 

آتی ہے مگر ابھی میرا لائسنس نہیں بنا۔ دوسرا یہاں کی اونچی نیچی سڑکیں نا بابا نا کوئی رسک نہیں۔ 

وہ مزے سے کہتی خود پیچھے کا دروازہ کھول کر بیٹھ بھئ گئ۔ 

ہوپ کو چابی تھامنی پڑی تھی۔ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھتی اریزہ نے مسکرا کر سر ہلایا وہ بھی جوابا مسکرا کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے لگی۔ 

گوارا پیچھے بیٹھ کر بھی آگے ہی سیٹ کے بیچ سے نکل کر بک بک کرتی رہی۔ اسکا گائوں پہاڑ کے دامن میں تھا۔ بے تحاشہ خوبصورت مناظر کہیں کہیں برف پڑی ہوئی سرد ہوا ۔ وہ لوگ پہلے پہاڑ کی چوٹی سے نظارہ کرتی رہیں تبھی چوٹی کے دامن میں اسے وہ بے حد خوبصورت سا لال شہتیروں والا مندر نظر آیا۔ 

آئو وہاں چلیں۔ 

اریزہ اتنا پرجوش ہو کر بولی تھی کہ ہوپ اور گوارا دونوں نے چونک کے اسکی شکل دیکھی

پتہ بھی ہے کیا ہے وہ؟ مندر ہے بدھا کا

گوارا نے جتایا

تو؟ اریزہ نےالٹا سوال کیا

تم وہاں جا کر کیا کروگی؟ ہوپ نے بور ہو کر کہا ۔پیچ دار سڑک پر اتنی اونچائئ تک لے کر تو اسے ہی جانا پڑتا

میں دیکھوں گی تم لوگ عبادت کر لینا۔ میں نے آج تک مندر نہیں دیکھا اور بدھا کا تو بالکل بھی نہیں دیکھا پلیز چلو نا میں نے دیکھنا ہے۔

اریزہ بچوں کی طرح ضد کر رہی تھی دونوں نے ٹھنڈئ سانس بھری۔ 

گاڑی سے اتر کر بھی پیدل چل کر کم ازکم ڈیڑھ سو سیڑھیاں تھیں جنکو چڑھنا پڑا تھا۔ گوارا اور ہوپ کا تو نہیں اریزہ کا برا حال ہوگیا تھا مگر شوق کا کوئی مول نہیں۔ مندر سادہ مگر بے حد خوبصورت تھا۔بڑا سا کھلا دالان جس کے کونوں میں کیاریاں سی بنی ہوئی تھیں بڑی بڑی لکڑی کی بلیوں اور شہتیروں والی چھت سے ڈھکی راہداری سامنے کھلے دروازے سے نظر آتا بدھا کا بڑا سا بت آسن جمائے نظر آتا تھا۔ کئی پجاری اپنے مخصوص معمول کی عبادتوں میں مشغول تھے۔ ایک چھوٹا سا ڈنڈا تھامے جسکے سروں پرچھوٹی سی گول گھنٹیاں سی لگی تھیں۔ دھیمے دھیمے بجاتے جاپ کرتے۔ ماحول پر ہیبت طاری کر رہے تھے۔ 

 گوارا اپنے ہڈی کے اپر سے سر ڈھانکتی اندر گئ پجاری نے گھنٹیاں بجا کر اسکا خیر مقدم کیا۔ دعا دئ  گوارا وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر سر زمین سے سجدے کی طرح لگائے مخصوص انداز میں جھکتی اٹھتی دعا کر رہی تھی۔ 

اریزہ اور ہوپ بھی اندر چلی آئی تھیں۔ مگر گوارا کے برعکس دونوں تمیز سے گھٹنے کے بل بیٹھئ اسکی عبادت مکمل ہونے کا انتظار کررہی تھیں۔ 

ہم بھی ایسے ہی سجدہ کرتے ہیں۔ گوارا کو جھکتے دیکھ کر اریزہ نے ہوپ کے کان میں سرگوشی کی۔

جانتئ ہوں روز تو عبادت کرتا دیکھتی ہوں تمہیں۔ 

ہوپ کے جتانے پر کھسیا سی گئ۔ ہوپ سے تو بندہ بات بھئ سوچ سمجھ کر کرے۔ اس نے آئیندہ سوچ سمجھ کر بات کرنے کا عہد کیا۔۔

گوارا دعائیں کرکے پجاری سے سر پر پانی چھڑکوا کر کچھ میٹھی ریوڑیوں جیسی مٹھائئ لیکر باہر آئی تب تک وہ دونوں دالان کی ہر سیڑھی ہر ستون سے ٹک کر تصویر بنا چکی تھیں۔

یہاں آخری بار اپنے ابا کی آخری رسومات کی دعائیں کروانے آئی تھی۔ اور آج تم مجھے یہاں لے آئیں۔ بدھا بھی کہتے ہوں گے کیسی نا شکری اور مطلبی پیروکار ہے میری۔ 

گوارا بڑبڑ کرتی انکے پاس آئی تھی۔ 

اریزہ اسکی غبارے جیسی شکل دیکھ کر ہنس پڑی۔ 

ویسے یہاں ہے بہت سکون ۔ مجھے اچھا لگ رہا ہے یہاں آکر۔ 

اریزہ نے یونہی کہا تھا۔ گوارا دھپ سے اسکے برابر آن بیٹھی

ہر مقدس مقام پر سکون ہی ہوتا ہے۔ ایسی جگہوں پر پاک روحیں فرشتے ہی آتے ہیں ہمیں دکھائی نہیں دیتے مگر ہمیں دھیرے دھیرے اپنی رحمت کے سائے میں لیتے جاتے ہیں۔ میرا ماننا ہے ہر مذہب کا کوئی نہ کوئی مقدس نا دکھائی دینے والا ربط اوپر سے ہوتا ہے۔ 

وہ آسمان کی جانب اشارہ کرکے بولی۔ 

ہوپ نے بلا ارادہ اسکی تقلید میں آسمان تک نگاہ کی تو پلٹی ہی نہیں۔ 

ضروری نہیں۔

ہوپ نے ناک چڑھائی۔ 

ہم روز جس بت کو پوجتے تھے اس سے شدید نفرت بھی محسوس کرتے تھے۔ اس بت کے گرد مقدس ہالہ تو دور نفرین و لعنتوں کا جال محسوس ہوتا تھا جس سے دم گھٹتا تھا میرا۔

ہوپ زہر۔خند سے انداز میں کہہ رہی تھی۔ 

ہیں؟ گوارا کا منہ کھلا رہ گیا۔ہوپ نے سر جھٹکا

جب نفرت تھئ تو پوجتے کیوں تھے بھئ؟ 

گوارا کے حیرت سے پوچھنے پرہوپ ہونٹ بھینچ کردوسری طرف دیکھنے لگی۔

شمالی کوریا میں مزہبی عبادات پر بین ہے۔ وہاں صرف موجودہ و سابقہ آمروں کے با بجا بت سجے ہیں جن کے آگے عوام کا روز سلامی دینا فرض ہے۔ اور موٹے منہ والے بھالو بندر اس جابر ظالم کم جانگ اون کو دیکھ کر محبت خاک پھوٹنی جس نے پوری قوم کی ہر خوشی سلب کرکے آٹھ آٹھ آنسو رلا رکھا ہے۔ 

جواب غیر متوقع طور پر اریزہ کی جانب سے آیا تھا۔ گوارا اور ہوپ حیرت سے اسکی شکل دیکھ رہی تھیں۔  

تمہیں کیسے پتہ؟ گوارا کا حیرت کے مارے برا حال تھا

تم بھی شمالی کورین تو نہیں۔ 

اس نے معصوم سئ شکل بنا کر پوچھا اریزہ گھو رکر رہ گئ 

ہوپ نے البتہ جاندار قہقہہ لگایا۔ 

موٹے منہ والے بھالو بندر کم جانگ ہا ہا ہا۔ کاش اسکو یہ کوئی سناتا اسکے منہ کاش سن سکتا وہ یہ ہا ہا۔ پتہ ہے ان جملوں پر سر قلم ہو جاتا تمہارا اگر تم سیول کی جگہ پھیانگ یانگ 

میں ہوتیں۔ 

کیوں ہوتی میں خدا نخواستہ۔ اریزہ نے منہ بنایا

میں تو شمالی کوریا کا سن کر سیول ہی آنے کو تیار نہیں ہورہی تھی ۔ اس اسکالر شپ کی وجہ سے تو مجھے پتہ لگا کہ کوریا کوئی ملک ہے اور اسکے بھی دو حصے ہو چکے ہماری طرح۔پوری طرح اطمینان کیا تھا پھر اپلائی کیا تھا۔ 

اس نے گوارا کے سوال کا بھی جواب دے دیا۔ 

گوارا نے سر ہلایا۔

شکر ہے دو حصے ہو چکے ہیں ورنہ ہم بھی پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہوتے۔ گوارا نے جھر جھری لی۔ اریزہ کو ایک بڑا دکھی کردینے والا خیال آیا۔ ہم سے الگ ہونے والے بھی کیا ایسا سوچتے ہوں گے؟

چلو چلیں اب؟ یا ابھئ شیمن سے اپنا مستقبل کا احوال بھی پتہ کروانا ہے؟ 

ہوپ نے تو یونہی کیا مگر گوارا پرجوش ہوگئ

ہاں یہ صحیح رہے گا مستقبل کا احوال جانتے ہیں تینوں ۔۔۔ یہاں کے شیمن سب صحیح صحیح پیشن گوئیاں کرتے ہیں۔ میرے آہبوجی کے انتقال سے پہلے ہی انہوں نے مجھے بتا دیا تھا میرے پاس ایکدم سے بہت پیسہ آئے گا ۔ انکی پیشن گوئی کے دوسرے ہی ہفتے آہبوجی کا انتقال ہوگیا تھا۔ 

گوارا متاثر کرنے والے انداز میں بتا رہی تھی۔ 

ہوپ اور اریزہ دونوں نے اسکی اچنبھے سے شکل دیکھی۔ 

اس میں تمہارے ان پجاری جی کا کیا کمال؟ اریزہ پوچھے بنا نہ رہ سکی

ہاں تو آہبوجی کے انتقال پر ہی تو مجھے انشورنس کے پیسے ملے انکے جس سے میں نے سیول میں اپارٹمنٹ خریدا ۔ 

وہ کندھے اچکا کر بولی۔ 

تم دونوں بھی جاننا  چاہوگی اپنی قسمت کا حال ؟ 

۔ ہوپ نے سر جھٹکا۔ 

بکواس۔بالکل نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گیرواں لبادہ پہنے بالکل صفا چٹ سر لیئے گلے میں سرخ پٹکا ڈالے وہ پجاری جی ہوپ سے اسکی تاریخ پیدائش پوچھ رہے تھے۔  اسکا جواب سن کر مراقبے میں چلے گئے تھے۔اس چھوٹے سے کمرے میں وہ دھونی رما کے بیٹھے تھے۔ڈھیر ساری اگربتیاں جل رہی تھیں کمرہ خوشبو سے مہک رہا تھا ۔کمرہ رنگ برنگی پینٹنگز سے سجا بلکہ تنا ہوا کہنا چاہیئے۔جا بجا تصویریں جس میں کوریائی ثقافت انکے بادشاہی نظام وغیرہ کی تصاویر تھیں تو کچھ عجیب سی آدھے انسان آدھے کسی جانور کے جسم کے ساتھ بے تکے جوڑ والے قد آدم پوسٹر تھے۔ بدھا کے کئی اسٹیچو تھے کچھ دلہا دلہن کی پینٹنگز اتنے رنگ تھے کمرے میں کہ اسکا دیکھتے دیکھتے ذہن بٹ ہی گیا۔ گوارا نے ٹہوکا دے کر متوجہ کیا۔ 

ہوپ ہم سے چھے سات سال بڑی ہے۔ 

گوارا کا منہ کھلا رہ گیا تھا۔ اریزہ کے کان میں گھسی۔ اریزہ نے اسکو ہلکے سے گھورا۔ 

گوارا اسکی گھرکی پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئ۔ اریزہ نے حقیقتا ہتھیلیاں پھیلا کر پھر خیال آیا تو ذرا مٹھی بند کرکے کہ دعا کا پوز نہ لگے دل سے دعا کی تھئ

یا اللہ یہ آدمی ہوپ کو صرف اچھی اچھی باتیں بتائے۔ کوئی اچھی امید دے دے جینے کی ۔ بہت مایوس ہے کیا پتہ اسکے الفاظ ہی اسے جینے کی نئئ امید  دے دیں۔

ہوپ ان سے بےنیاز پجاری صاحب کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے تھے۔ اسے جیسے یقین تھا وہ کوئی نہ کوئی غلطی کریں گے اور وہ گوارا کو جتا سکے گی کہ انکے پاس کوئی روح ووح نہیں جس کو بلا کر اس سے وہ مستقبل کا حال جان سکیں بلکہ ایک اچھے شعبدہ باز ہیں بس۔

ایک مٹی کی چھوٹی سی کھلے منہ کی دیگچی میں چاول اور لال رنگ کا جانے کونسا سفوف ملا کر رکھا تھا۔چٹکی میں بھر کر انہوں نے اپنے سامنے رکھی چھوٹی سی میز پر چھڑکا ایک صندل کی تسبیح مٹھی میں داب رکھی تھی تسبیح کے دانے کم ہی تھے شائد دس بیس ہی ہوں گے ہر دانے پر کچھ چینی زبان کے حرف کھدے تھے۔ انگلئ پر بڑی مہارت سے دانے گھماتے وہ جھوم جھوم کر گھنٹی بجاتے آنکھیں بند کیئے کچھ بڑ بڑا رہے تھے۔ ایکدم جھٹکا کھا کر رکے

 تسبیح کے جس دانے پر انگلی رکی تھی اسکو گن کر انہوں نے پانسہ پھینکا۔ چوڑا سا ایک ہتھیلی کے برابر پانسے پر چار اطراف الفاظ کھدے تھے۔ اور اوپر نیچے سیاہ اور سفید رنگ ہوا وا تھا۔ اس نے ایسا پانسہ زندگی میں کبھی نہ دیکھا تھا۔ 

اسکا دل چاہا کہ اٹھا کر دیکھ لے مگر بمشکل طبیعت پر جبر کرکے روکا۔جانے وہ اس حرکت کو کس معنے میں لیں۔وہ بہر حال انکی مزہبئ روایت کا احترام ہی کر رہی تھی۔ 

بس کچھ الٹا سیدھا نہ بولیں ہوپ کی زندگی میں پہلے ہی کوئی خوشی نہیں ہے۔ 

وہ دعا کیئے جا رہی تھی۔ 

پجاری جی نے آنکھیں کھولیں مگر گردن موڑ کر اریزہ کودیکھا پھر مسکرا دیئے۔ اریزہ ٹھٹھک سی گئ۔ انکی مسکراہٹ ایسی تھی جیسے کوئی کسی بچے کی بات پر اسکی نادانی پر مسکرا دے۔ 

بدھا کہتے ہیں تین چیزیں ذیادہ دیر تک چھپی نہیں رہ سکتیں۔ سورج ، چاند اور سچائئ۔ ایک نہ ایک وقت انکو ظاہر ہونے پر مجبور کردیتاہے۔سورج چاند پھر کبھی بادل میں چھپ جاتے سچائئ جتنا چھپانا چاہو اتنی ہی مزید ظاہر ہوتی ہے۔ 

وہ شستہ انگریزی میں اریزہ سے کہہ رہے تھے۔ 

اریزہ گنگ سئ انکی شکل دیکھنے لگی۔

میں جھوٹ نہیں دے سکتا کسی کو جو مجھے جتنا پتہ ہے وہ میں بتانے کا پابند ہوں۔ میرے پاس دینے کیلئے سوائے سچائی کے اور کوئی تحفہ نہیں۔ سچائی کا تحفہ دوسرے تمام تحائف کو مات دیتا ہے۔  سچائی کا ذائقہ دوسرے تمام ذائقوں کو مات دیتا ہے۔  سچائی کی خوشی دیگر تمام خوشیوں کو مات دیتی ہے، اور خواہش کا خاتمہ تمام دکھوں پر فتح پاتا ہے۔

وہ بولتے بولتے گردن گھما کر ہوپ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اب اسی روانی سے چینی زبان  میں بولتے چلے گئے۔

خواہش  ختم کردو اگلی زندگئ آسان ہے تمہاری

ماضی میں مت پھنسو، مستقبل کے خواب نہ دیکھو، دماغ کو موجودہ لمحے پر مرکوز رکھو بس۔تمہیں نہیں لگتا تمہاری یہاں موجودگی ان دوبہنوں کا ساتھ تمہارا ماضی تمہارا ہاتھ چھڑا چکا ہے تمہارا اکیلا پن دور ہوچکا ہے یہ سب اسکا ثبوت ہے۔ تمہیں اب زندگی جینا شروع کردینا چاہیئے۔ 

ہوپ کا منہ کھلا۔ پھر سر جھٹک کر طنزیہ انداز میں بولی

ایک ایک لفظ بدھا کا ہے یہ۔آپ تو خود اپ ایک جملہ بولے ہیں ان دونوں کی شکل دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کیا مشکل ہے کہ یہ احمقیں سچ مچ میری پروا کرتی ہیں ۔   

ہوپ چینی زبان میں ہی بولی تھی۔ گوارا نے سخت اکتا کر ان دونوں کی شکل دیکھی

پجاری صاحب ہنس دیئے محظوظ ہو کر جیسے۔۔

بدھا کا بھگت ہوں انکی باتیں نہیں بولوں گا تو پھر کس کی بات کروں گا؟ 

بات میں وزن تھا۔ ہوپ نے ناگواری سے دیکھا

پھر اگلا سوال چینئ میں ہی داغا۔

میں نے محبت کے بارے میں پوچھا تھا میرے نصیب میں ہے کہ نہیں۔ 

محبت ہے مگرجس سے تمہیں  محبت وہ نہیں۔ 

وہ دانستہ کہتے ہوئے گردن موڑ کر گوارا کو دیکھنے لگے۔ ہوپ کا چہرہ دھواں دھواں سا ہوا تھا۔ اریزہ نے چیں بہ چیں ہو کر شاکی نگاہوں سے دیکھا۔ 

ایسے تو بہت پہنچے ہوئے بنتے ہیں اسکی شکل پر لکھا شدید مایوسی و دکھ میں مبتلا ہے کیا تھا ذرا سا خوش کردیتے کچھ اچھا بول کے۔ ایسے تو انگریزی بول رہے تھے ہنگل چھوڑ یہ تو کوئی تیسرئ زبان بولنی شروع کردی جانے کیا کہہ دیا اسے۔ 

میں باہر انتظار کرتی ہوں تم لوگوں کا۔ 

ہوپ کو خود کو سنبھالنا مشکل لگا تو نظر چراتے فورا اٹھ گئ۔

آپ مجھے بتائیں کہ میرے پاس پھر کوئی پیسہ آنے کی امید ہے یا نہیں؟

ہوپ کے جاتے ہی گوارا کھسک کر آگے ہوئی۔

پیسہ تو آتا جاتا رہے گا انسان بھی۔ تم کہاں دل لگاتئ ہو یہ دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں ہے بیٹا۔ 

انکا جواب حسب توقع اور اسکا ردعمل بھی حسب توقع تھا منہ بنا کر رہ گئ

آپ میری دوست کو دیکھیں اسکا کتنا دانہ پانی ہے کوریا ہے؟

گوارا بولی ۔۔ 

کیا کرنا یہ جان کر۔۔

 اریزہ نے سر جھٹکا۔

 محبت ملے گی یا نہیں؟ 

گوارا مزید کہہ رہی تھئ۔ 

اسکی تو۔ اریزہ ایکدم الرٹ ہوئی۔

سب سے بڑھ کر اسکو محبت ہو۔  

گوارا تیز تیز بولی تھی اریزہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا

بس مجھے کچھ نہیں جاننا ۔ 

کیوں؟ بہت پہنچے ہوئے ہیں یہ سب صحیح بتا دیں گے کچھ نہیں کچھ نہیں پاگل امتحان میں کامیابی ناکامی کا ہی پوچھ لو ۔

گوارا نے اصرار کیا پجاری صاحب مراقبے میں جانے لگے۔ 

تاریخ پیدائش۔

20 ستمبر 1996 

گوارا جھٹ سے بولی۔ اریزہ نے منہ بنا کر دیکھاپھر تصحیح کی۔

1995۔ 

گوارا نے منہ کھول کر اب اسکی شکل دیکھی۔ 

ہائش۔ یہ بھی۔ 

آپ، خود، پوری کائنات میں جتنا کوئی ہے، آپ کی محبت اور پیار کے مستحق ہیں۔خود سے مت بھاگو۔خود کو اپنائو اپنے سوا انسان کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہوتی ہے۔ اپنے سوا کسی میں پناہ گاہ مت تلاش کرو۔ایک بے چین انسان کہیں خوش نہیں رہ سکتا۔ 

وہ ٹھہر ٹھہر کر بول رہے تھے۔ اریزہ کا دماغ بھک سے اڑا۔

کچھ بھئ بول رہے۔ اسے غصہ آگیا۔گوارا کو اٹھنے کا اشارہ کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔پجاری صاحب کی آنکھیں بند تھیں۔ اتنے پکے ہیں تو پتہ لگے کہ اب انکا سامع کوئی ہے ہی نہیں۔ اسکے دل میں یہی خیال آیا تھا۔ گوارا اسکے تیور دیکھتے خود بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

گوارا کیا پوچھ رہی جواب کیا دے رہے۔ 

اس نے سر جھٹکا۔ 

جو تمہیں جاننا ہے میں بس وہی بتا رہا ہوں۔ 

پجاری صاحب نے جواب دیا تھا وہ کمرے کی چوکھٹ میں کھڑی تھی کہ قدم رک سے گئے۔ گوارا بھی حیرت سے پلٹ کر دیکھنے لگی۔

انہوں نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ 

کسی کے دل کا حال کون جان سکتا؟  کون سچا ہے ۔ کون اچھا ہے یہ تو بعد کی بات ہے پہلے خود اپنے آپ کو جانو بیٹا۔  باقی آگے کیا ہوگا زندگی میں انسان کے فیصلے طے کرتے ہیں نا۔ 

خدا طے کرتا ہے۔ اس نے پلٹ کر انہیں دیکھتے جتایا۔ 

بے شک۔ ۔۔۔ مگر

خدا آپکی خواہش پر آپکے مانگنے پر عطا کرے گا یا نہیں یہ بھی تو طے کرتا ہے نا۔ 

وہ مسکرادیئے۔ اریزہ لاجواب سی ہوئی تو رکی نہیں سیدھا ناک کی سیدھ میں بڑھتی گئ۔ گوارا نذرانہ دیتی خدا حافظ کہہ کر جب تک باہر آئی وہ ہوپ کے ساتھ دالان بھی پار کرچکی تھی

ہا ہا۔۔ یہ کیا چل رہا تھا ۔۔ ہوں ۔۔۔  (پھولی سانسیں )تمہارے اور پجاری صاحب کے بیچ۔ 

وہ اتنئ متجسس تھی کہ بھاگنے سے پھولی سانسیں بھی ہموار نہ کیں آکر ان دونوں کے بیچ میں لینڈ کرتے پوچھا۔ 

مجھے کیا پتہ۔ اریزہ نے جان چھڑائی

کیا چل رہا تھا۔ 

ہوپ کو دلچسپی ہوئئ۔ 

یہ چپ شکل دیکھ رہی تھی پجاری صاحب اسکو ایسے جواب دے رہے تھے جیسے اسکو اسکی باتوں کا جواب دے رہے ہوں۔ اور یہ اسکی شکل دیکھنے والی تھی آپکو کیسے پتہ چلا؟ منہ پر بڑا بڑا لکھا تھا۔ 

گوارا ہاتھوں کے اشارے کے ساتھ بتا رہی تھی۔ اریزہ سٹپٹا سی گئ۔ 

کیا واقعی کوئی روح ووح تو نہیں بلا رکھی تھئ انہوں نے۔ جادو وغیرہ کے ماہر ہوتے ہیں یہ شیمن وغیرہ۔ 

یہ پجاری لوگ سالوں تپسیا کرکے ہیپناٹزم فیس ریڈنگ اور مائنڈ اسسیسمنٹ وغیرہ سیکھتے ہیں۔ ہوپ نے غبارے سے ہوا نکالی جیسے۔

سیڑھیاں اترتے اس نے انکی معلومات میں اضافہ کیا۔ 

اب میری شکل دیکھ کر نہیں بولے ماضی میں نہ رہو مستقبل کا نہ سوچو حال پر توجہ دو بلا بلا او ریہ دونوں بہنیں ہیں تمہاری۔۔ 

ہیں یہ کہا انہوں نے؟ گوارا حیرت سے چیخ پڑی۔ 

سنا نہیں تھا تم نے۔ ہوپ کو اسکی مصنوعی حیرانی پر اکتاہٹ ہوئی

چینی میں بولے تھے تم سے ہمیں کیا پتہ کیا کہا۔ گوارا نے یاد دلایا تو وہ سر ہلانے لگی 

ہاں۔ بس یہی کہہ رہے تھے ان دونوں کو دیکھو بہنیں مل گئ ہیں کافی نہیں ماضی بھلانے کو۔ 

ہوپ نے کہتے ہوئے پلٹ کر دیکھا دوسری بہن کئی سیڑھیاں پیچھے سوچ میں گم اتر رہی تھی۔ گوارا نے بھی اسکی تقلید میں مڑ کر دیکھا تو ٹوکے بنا نہ رہ سکی

کیا ہوا؟ اریزہ جلدی کرو دیر ہورہی ہے ہمیں۔ 

مغرب سے پہلے واپس پہنچنا ہے ہمیں۔

گوارا کے چلانے پر وہ بری طرح چونکی تھی اتنی کہ لڑکھڑا گئی۔ 

آرہی ہوں۔ اس نےسنبھل کر تسلی دی اوررفتار بھی بڑھائی۔ 

ہولا ہاتھ رکھو ڈرا دیا اسے یہاں سے گرتی تو آخری سیڑھی تک جانا تھا اس نے۔ 

ہوپ نے گوارا کو ڈانٹ ہی دیا۔ 

گوارا نے بھنا کر کچھ کہنا چاہا پھر خیال آیا تو زبان دانتوں تلے داب لی۔ وہ اسکے لیئے بڑی بہن کے برابر تھی اور وہ بنا لحاظ جانے کیا کیا کہتی آئی تھی اسے۔ 

تم اب کس مزہب پر ہو، ؟ 

گوارا نے یونہی سوال کیا اسے گھورتے پایا تو ذرا تمیز کے جامے میں آتے کندھے پر پرس بلا وجہ درست کرتے ہوئے جملہ درست کیا۔ 

میرا مطلب اب تو آپ شمالی کوریائی نہیں ہیں نا اب تو کوئی مزہب اپنا سکتی ہیں۔ 

میں کسی مزہب پر نہیں ہوں۔ 

اس نے مختصر جواب دیا

بدھ سب سے معصوم سادہ سا مزہب ہے اس پر آجائو نہ کوئی روز کی عبادت کی شرط نا ہی کوئی لمبے چوڑے فرائض ۔ بس جیو اور جینے دو کا اصول ہے۔ 

گوارا یونہی بات برائے بات ہی کہہ رہی تھئ۔

ہوپ نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا ۔ اریزہ انکے قریب آچکی تھی۔ پھولی سانسیں رنگ پھیکاپڑتا 

اسکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہئ  سفید پڑی گئ ہے یہ۔ 

ہوپ نے فکر مندی سے اسکی ٹھنڈی پیشانی چھوئئ۔ گوارا کو بھی پریشانی ہوئی

کیاہوا اریزہ تم ٹھیک تو ہو؟ 

ٹھیک ہوں بس تھک گئ ہوں۔ 

اس نے تسلی دینے کو کہا تھا۔ 

بس اب گھر ہی چل رہے ہیں مجھے اندازہ تھا تم سے اتنی اونچائی پر چڑھا نہیں جائے گا آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور تمہیں اتنی ٹھنڈ کہ عادت بھی نہیں۔ پانی پیو گی؟

تم سے چلا نہیں جا رہا تو ہم پگی بیک رائیڈ دے دیتے ہیں تمہیں۔ آدھا راستہ میری پشت پر بقیہ آدھا گوارا کی پشت پر سواری کر لو۔

ہوپ نے آئیڈیا دیا 

ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔ گوارا فورا مان گئ

گوارا اور ہوپ کا بس نہیں تھا گود میں اٹھا لیں 

اسے ہنسئ آگئ۔ 

بس کرو اتنی محبت کہاں سمیٹ پائوں گی میں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیڈ پر پڑی وہ چھت پر نگاہ جمائے چت لیٹی تھی۔ گرم بستر گرم کمرہ پیٹ بھر کر کھانا سب ملا تھا۔ مگر محبت چھن جانے کے بعد۔ ایڈون کا چہرہ اسکے کہے جملے اسکے ذہن سے چپک گئے تھے۔ اس وقت تجزیہ کرنے کا موقع نہیں تھا۔ اسکے سرہانے ڈرپ کا اسٹینڈ رکھا تھا جس سے قطرہ قطرہ ڈرپ اسکے سفید پڑے ہاتھ میں سوئی کے ذریعے رگوں میں داخل ہو رہی تھی۔ دوسرا ہاتھ وہ سینے پر رکھے تھی وہی ہاتھ اٹھا کر اس نے اپنی سپید پڑتئ ہتھیلی نگاہوں کے سامنے پھیلائی۔ 

کیا ملا مجھے۔ میں تو خالی ہاتھ ہی رہ گئ ہوں ۔  اس نے یاسیت سے سوچا۔ 

چند گھنٹوں قبل ایڈون سے ملاقات کا منظر ابھی بھی نگاہوں میں تھا۔ 

اسکے قطیعت بھرے انداز میں ہر رشتے کو ختم کرنے کا اعلان سن کر اس کو لگاتھا کہ اسکے جسم سے روح ہی نکل گئ ہے بظاہر وہ خالی خالی نظروں سے دیکھتی رہ گئ تھی ایڈون کا وکیل اندر آکر اسے اپنے ساتھ لے گیا ۔ جانے کتنا وقت گزرا وہ کتنی دیر اکیلی بیٹھی رہی اسے کچھ یاد نہیں تھا۔ڈیڈا اسکو پکارتے ہوئے ہلا رہے تھے وہ بس ساکت بیٹھی رہی تھی۔ اسے پھر نہیں یاد کس نے سہارا دیا اسے فوری طور پراسپتال لے جایا گیا تھا وہ مکمل بےہوش نہیں تھی مگر حواس میں بھئ نہیں تھی۔ فورئ طبی امداد سے کئی گھنٹوں بعد وہ مکمل ہوش میں آئی تھی تو بند آنکھوں سے اس نے ڈاکٹر کو کہتے سنا تھا۔   

بہت کمزور ہے ماں۔۔  بچے کی بھی جان کو شدید خطرہ ہے۔ مکمل بستر پر رہے کم ازکم اگلے د ومہینے۔ تھکن بالکل نہیں لینی خوراک کا خاص خیال رکھنا ہے۔ کچھ سپلیمنٹس ہیں انکو مستقل استعمال کرائیں فی الحال کچھ انجیکشن لگنے ضروری ہیں اور فوری توانائی کیلئے ڈرپ لگے گی۔ 

وہ کوئی ہندوستانی ڈاکٹرنی تھی جس نے اسکا مکمل معائنہ کرتے ہوئے تاکیدوں کے ڈھیر لگا دیئے تھے۔ غنیمت تھا کہ وہ اردو بول رہی تھی ورنہ وہ جس ذہنی کیفیت کا شکار تھی کسی اور زبان کو سمجھنا مشکل تھا اسکے لیئے۔ ایک نہیں دو تین ڈرپیں اسے وقفے وقفے سے لگی تھیں۔ رات کے بارہ بج رہے تھے وہ مکمل بیدار ہو پائی تھئ اب اور لگا تھا کہ جسے چند پل ہی گزرے ہوں گے جب ایڈون ۔۔۔ 

 کمرے کا دروازہ ہلکا سا چرچرایا تھا اس نے بنا ہلے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ یہ یقینا اسکی خدمت پر معمور نرس تھی جسکا کام ہر دو گھنٹے بعد آکر اسے دیکھنا تھا۔۔

اسے سوتا سمجھ کر بے حد احتیاط سے اس نے ڈرپ بند کی تھی اس پر کمبل درست کیا تھا۔ کینولا کے ذریعے ہی ایک ٹیکا لگایا تھا۔ 

دروازہ بند ہونے کی آواز سن کر بھی چند لمحے اس نے انکے جا چکنے کا یقین کیا تھا پھر آنکھیں کھولی تھیں۔چت لیٹے لیٹے تھکن ہو گئ تھی سو تکیہ درست کرتے وہ بیڈ کا سہارا لیکر نیم دراز ہوگئ ۔  سائیڈ ٹیبل پر شاپر رکھا تھا۔کچھ پھل تھے سوپ ڈھکا رکھا تھا۔ بھوک محسوس ہو رہی تھی اس نے شاپر سے سیب نکال لیا۔ پھلوں کے ایک اور بھی خاکی لفافہ تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل کالیمپ آن کیا میز کا سہارا لیکر اٹھ بیٹھی۔ 

لفافہ کھولا۔ مختصر سا نوٹ تھا۔ 

ہو سکے تو مل کر واپس جانا ۔۔ میری دعا ہے جہاں رہو خوش رہو۔

ایک کارڈ تھا۔ نوٹ انگریزئ میں تھا اور کارڈ مکمل ہنگل میں اسے ہنگل پڑھنی نہیں آتی تھی پھر بھی اس نے کارڈ پہچان لیا تھا یقینا یہ کم سن تھا۔

پرسوں صبح کی فلائٹ تھی یہاں سے دبئی کی۔ اسا دانہ پانی کوریا سے اٹھ گیا تھا۔

کیا ملوں گی میں؟ ہاں شکریہ ادا کرنا بنتا ہے۔ اس نے گہری سانس لی۔ اور سیب کھانے لگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھر پہنچنے تک اسے بخار چڑھ گیا تھا۔ گوارا کی امی نے اسکے خوب لتے لیئے تھے۔ 

اتنئ سردی میں اتنی سیڑھیاں کیوں چڑھوائیں؟ 

اسے یہاں کے موسموں کا کیا پتہ؟ 

وہ  اسکے سرہانے بیٹھ کر سر دباتے ہوئے مستقل گوارا کو ڈانٹ رہی تھیں۔ 

اسی نے کہا تھا جان کھا لی مندر جانا ورنہ آپکو بھی پتہ ہے مجھے مزہب میں ذیادہ دلچسپی نہیں۔ اسکو مندر دیکھنے کا شوق چڑھ آیا تھا۔

تھوڑی دیر خاموشی سے ڈانٹ کھانے کے بعد وہ بلبلا کر بولی تھی۔

میرے سامنے زبان مت چلایا کرو تمہاری وجہ سے تمہارے باقی بہن بھائئ بھی شیر ہوتے ہیں۔

اب نئئ ڈانٹ پڑ گئ۔ 

ہوپ مسکراہٹ دبا رہی تھی۔ گوارا چڑ گئ۔آہموجی نےاریزہ کو اپنے ہاتھوں سے سبزیوں کا سوپ بنا کر پلایا۔ قہوہ پلایا۔ جب تک سو نہ گئ وہ اسکے سرہانے بیٹھی رہیں۔ گوارا اور ہوپ وہیں اپنے بستر پر لیٹ گئیں ۔ جب اریزہ نے گہری نیند میں کروٹ بدلی تب جا کے وہ اسکے اوپر کمبل درست کرتی اٹھی تھیں۔ احتیاط سے دروازہ کھول کر باہر آئیں تو یوسب اپنے لیئے کھانا نکال کر باہر لائونج میں بیٹھ رہا تھا

تم کب آئے۔ ؟

وہ حیران ہوئیں

جب آپ اپنی نئی بیٹی کو تھپکیاں دے کر سلارہی تھیں۔ 

اسکا چڑا ہوا جواب آیا تھا۔ وہ مسکرادیں۔ 

اسکی طبیعت خراب تھی۔ آہمی آہمی پکار رہی تھی بخار میں ۔ جانے اسکی ماں زندہ ہے یا نہیں مجھ میں اپنی ماں کو ڈھونڈ رہی تھی۔ ترس آیا مجھے ۔ بالکل گوارا لگی مجھے۔ ایسے جتنی زبان چلا لے مگر ذرا سی طبیعت خراب ہو تو مجھے اپنے پاس سے ہلنے نہیں دیتی۔ 

وہ پیار سے کہہ رہی تھیں

ہاں سب لٹا دی محبت بیٹیوں پر بیٹوں کیلئے کچھ بچا ہی نہیں ہے آپکے پاس وہ چاہے ٹھنڈا کھانا کھائیں یا کھائیں ہی نا۔ 

وہ منہ بنا کر کہتا ٹی وی آن کر رہا تھا۔ 

کھانا وہ رات کا انکے ساتھ ہی کھاتا تھا جبھی خفا تھا۔ وہ مسکرادیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گرم گرم مٹر پلائو دیکھتے ہی اسے اریزہ یاد آگئ تھی۔ مسکراہٹ دبا کر اس نے چاول کی ڈش اٹھا کر اپنی پلیٹ میں چاول نکالے۔ خالو رات کو چاول نہیں کھاتے تھے سو انکے لیئے قیمہ مٹر بنا تھا۔ خالہ خود بھی چاول شوق سے نہیں کھاتی تھیں سو روٹی کھا رہی تھیں۔ 

ایک منٹ۔ 

اس نے فورا محسوس کر لیا۔ 

خالہ آپ صرف میرے لیئے الگ اہتمام مت کیا کیجئے اب جب مٹر قیمہ تھا تو آپ نے الگ سے پلائو کیوں بنایا میں بھی کھا لیتا یہی ۔ 

اس کے تکلف پر جبین مسکرا دیں

تو کیا ہوا دو منٹ میں بن جاتا ہے کونسا مشقت کرنی پڑتی ہے پلائو بنانے میں۔ میرا بیٹا شوق سے کھاتا ہے مٹر پلائو تو میں ۔۔ 

وہ پیار سے کہہ رہی تھیں

ہاں دو ڈشیں بنانے میں کونسا وقت لگ جاتا ہے۔ ہمیشہ ہی تمہاری خالہ سب کی پسند نا پسند کا خیال رکھتی آئی ہیں۔ 

خالو کا انداز بتاتا تھا وہ کس موڈ میں بولے ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے سے وہ رات کو ہی بس کھانے کے وقت گھر آتے تھے اور تقریبا روز ہی انکی کسی نا کسی بات پر نوک جھوک ہوجاتی تھئ۔

آپ تو عورتوں کو بھی مات کرنے لگے ہیں طعنے دینے میں۔ 

وہ حسب توقع بری طرح چڑ گئیں۔ 

لو ایک تو تعریف کر رہا ہوں تمہاری۔ بیٹے کی پسند نا پسند کا خیال رکھتی ہو ایک وقت میں دو طرح کے کھانے بنا رکھتی ہو تھکتی بھئ نہیں ہو اب۔

وہ تپا چکے تھے جبھی اب ٹھنڈے میٹھے انداز میں بول رہے تھے۔ 

جانتی ہوں اس تعریف کا مطلب اچھی طرح۔ 

وہ بڑبڑا کر رہ گئیں

اریزہ بھی کل مٹر پلائو کھارہی تھی۔ اسکی کورین سہیلی کی ماں نے بنایا تھا۔ کہہ رہی تھی مزے کا ہے۔ مگر انہوں نے اس میں سالن ڈال دیا تھا۔ رونے والئ ہوئی وی تھی۔

اس نے بات بدلنے کی نیت سے قصہ سنایا مگر خیال آیا کہ سور والی بات جانے بتانی چاہییے یا نہیں سو بروقت زبان کو بریک بھی لگالی۔ 

سالن ڈالنے میں رونے کی کیا بات۔ اکثر لوگ سالن ڈال کر کھاتے ہیں چاول۔ 

جبین حیران ہو رہی تھیں۔ اس نے وضاحت نہیں کی۔ خالو کا کھانا کھاتے کھاتے دل اچاٹ سا ہوا روٹی ہاٹ پاٹ میں رکھتے اٹھ کھڑے ہوئے۔ 

اے اب کھانا تو پورا کھا لیں کہاں جا رہے ہیں؟

جبین نے ٹوکا مگر وہ بھوک نہیں ہے کہتے چائے کی فرمائش داغتے کمرے میں چلے گئے۔

وہ بول کے پچھتا رہا تھا کھانے میں اسکی بھی دلچسپی ختم ہو گئ تھی مگر خالہ کی وجہ سے ساتھ دینے کو کھانا زہر مار کرتا رہا۔

اریزہ کی طبیعت ٹھیک ہے؟ سردی سنا ہے کوریا میں سخت پڑتی ہے۔ اسکو تو فورا بخار ہوتا تھا سردی میں۔ بڑی احتیاط کرنی پڑتی تھی مجھے اسکی۔ 

نوالہ بناتے وہ بظاہر سرسری سے انداز میں پوچھ رہی تھیں حقیقتا رواں رواں کان بنا ہوا تھا۔ 

ٹھیک ہے۔ آجکل سہیلی کے گھر آئی ہوئی ہے۔ خوب گھوم پھر رہی ہے۔ تصویریں لگا رہی ہے انسٹا پر دکھائوں؟۔

اس نے پوچھنے کے ساتھ ہی موبائل نکال لیا۔ کرسی گھسیٹ کر انکے برابر کرتے ہوئے انکو تصویریں دکھانے لگا۔

بہت کمزور ہوگئ ہے؟ کھاتئ پیتی نہیں ہوگی نا۔ اتنے تو نخرے تھے کھانے میں اسکے۔ 

ماں نے سب سے پہلے بھانپا تھا کہ اس نے وزن کم کر لیا ہے۔ پرفضا مقام پر پہاڑوں کے درمیان ہنستی مسکراتی اریزہ بے حد خوش دکھائی دے رہی تھی۔ 

انکی آنکھیں جھلملا سی گئیں۔۔۔ 

اب بات ہو تو پوچھنا اس سے ۔۔ 

کہتے کہتے وہ رک سی گئیں۔ 

کیا ؟ وہ ہمہ تن گوش ہی تو تھا۔ 

یہی خیریت وغیرہ۔ تم چائے پیوگے؟ 

وہ ایکدم اٹھ کھڑی ہوئیں۔ پلیٹیں سمیٹتے ہموار لہجہ معمول کا انداز انہیں جیسے دلچسپی ہی نہ تھی تصویروں میں۔ وہ انکے خیال سے اسکی درجنوں تصویریں دکھانے بیٹھا تھا ۔۔ 

جی۔ صارم مایوس سا ہوا۔ 

جانے آج دل کیوں بیٹھا جا رہا ہے۔ وہ برتن اٹھاتے بڑبڑائی تھیں۔ 

آپ بیٹھیں میں سمیٹ دیتا ہوں بلکہ چائے بھی بنا دیتا ہوں۔ وہ فورا اٹھا تھا وہ واپس کرسی پر بیٹھ گئیں۔ مروتا بھی انکار نہیں کیا۔۔۔ دل ہی عجیب سا ہو رہا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے دفتر میں بیٹھا وہ کچھ ضروری امور دیکھ رہا تھا جب اسکو موبائل پر کال آئی۔ انجان نمبر دیکھ کر اس نے بے دھیانی سے فون اٹھا کر کان سے لگایا 

یوبوسیو۔ 

آنیانگ ہاسے او۔ سنتھیا بات کر رہی ہوں۔ 

پوری دنیا ختم ہو رہی ہوتی اور سنتھیا اور وہ آخری دنیا میں رہ جانے والے انسان بچتے تب بھی اسے گمان نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ اب اسے کال کرے گی۔ 

کیسے ہو؟ وہ انگریزی میں احوال پوچھ رہی تھی۔

ٹھیک ہوں تم کیسی ہو طبیعت کیسی ہے؟

اس نے بے تابئ سے پوچھا تھا جوابا وہ چپ سی رہ گئ

ٹھیک ہوں۔ میں آج واپس جا رہی ہوں سوچا تمہیں خدا حافظ کہہ دوں۔ تم نے مجھ پر جتنے احسان کیئے جتنا میرا خیال رکھا اسکا بدلا تو نہیں اتار سکتئ مگر دل سے تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ۔ بہت بہت شکریہ کم سن ۔ تم بہت اچھے انسان ہو خدا تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔ 

کہاں ہو تم؟ 

کم سن نے اسکی بات کاٹ کر پوچھا 

میں۔ وہ رکی پھر بتا دیا

اسپتال میں ہوں۔ 

کونسے؟ 

اس نے وقت ضائع کیئے بنا پوچھا

نام تو مجھے نہیں پتہ۔ اس نے موبائل کان سے لگائے سوالیہ نظروں سے نرس کو دیکھا جو اسکے کمرے کی کھڑکی کے پردے ہٹا رہی تھی۔ اسے اپنی طرف متوجہ ہوتے دیکھ کر مسکرا دی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھنٹے بھر میں وہ اسکے سامنے تھا۔صوفے پر بیٹھا اسکے فارغ ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ 

وہ ابھئ ناشتہ کرکے فارغ ہوئی تھی۔ نرس اسکا منہ صاف کروا رہی تھی۔  رات دیر تک جاگی تھی صبح دیر تک سوتی رہی تھی۔ اس وقت کچھ طبیعت پرسکون تھی۔ اسے دیکھ کر خیر مقدمی مسکراہٹ سجا کر وہ بیڈ اونچا کروا کر ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔ نرس اسکا بیڈ اونچا کرکے اسے ذیادہ دیر نہ بیٹھے رہنے کی تاکید کرتی باہر نکل گئ۔ نرس کے جاتے ہی وہ اٹھ کر اسکے قریب آکھڑا ہوا تھا۔

تم نے اچھا کیا تم آگئے۔ میں تمہارا دوبدو شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی۔ تم نے جو میرے لیئے کیا۔ 

وہ ابھی اتنا ہی کہہ پائی تھی کہ کم سن نے بات کاٹ دی

تم سفر نہیں کر سکتی ہو پھر کل جانے کا مطلب؟

اس نے بلا تمہید سوال کیا تھا۔ 

میں یہاں رہ نہیں سکتی ۔ ڈیڈا کے ساتھ واپس جانا ہے مجھے۔

اس نے کمزور سی آواز میں کہتے ہوئے سر جھکا لیا۔

کیوں کیا مجبوری ہے؟ تمہاری طبی حالت ایسی ہے کہ آرام سے تم کوریا میں رہ سکتی ہو اس بچے کی پیدائش تک  کوئی تمہیں ہوائی سفر پر مجبور نہیں کرسکتا۔ 

کم سن کا انداز۔ اسکی فکر۔ اس نے کچھ کہنے کیلئے لب کھولے پھر ہونٹ بھینچ لیئے۔ وہ یقینا اچھا انسان تھا جو کسی انجان لڑکی کیلئے اتنا فکر مند تھا لیکن وہ اس کو کیا بتائے کیسے بتایے سب سے بڑھ کر کیوں بتائے اپنی مجبوریوں کی داستان۔ 

تم بیٹھو تو ۔ یہ میں نے کچھ ریفرشمنٹ بھئ منگوائی تھی معزرت تمہیں خود زحمت کرنی پڑے گی۔ اس نے وزیٹنگ صوفے کے سامنے رکھی سینٹرل ٹیبل کی جانب اشارہ کرتے بات ہی بدل دی۔ اسکو وی آئی روم دیا گیا تھا۔ اسکے بیڈ اور دیگر سہولیات تو جو تھیں ایک حصے میں مہمانوں کیلیئے صوفہ سیٹ بھی لگا ہوا تھا۔ میز پر بڑا سا شاپر بھی رکھا ہوا تھا۔ کم سن بھنا ہی گیا

بات مت بدلو۔وہ ہاتھ اٹھا کر بولا۔

 تم پاکستان مت جائو ۔ یہیں رکو۔ تمہارے ڈیڈا اتنا تو خرچہ اٹھا سکتے ہیں تمہارا کہ یہاں کوئی رہائش کا انتظام کر سکیں ۔ یہاں چیریٹئ کے بھئ بہت سے نرسنگ ہومز ہیں ۔ تمہارا یہاں کوئی انتظام کیا جا سکتا ہے اور تم یہاں اکیلی بھی نہیں ہو ایڈون ہےاریزہ ہے ہم سب ہیں ۔ 

وہ کہنا چاہتا تھا میں ہوں مگر جانے وہ اسکا مطلب کیا لیتی سو اپنی بات کہہ گیا سنتھیا ہنس دی۔ 

بس ہنس کر چپ ہی رہی۔ کم سن کو اپنا آپ ایکدم چغد سا لگا۔یعنی اسکی بات بچکانہ سمجھ کر ہنس کر ٹال دی گئ تھی۔

سنتھیا میں سنجیدہ ہوں۔ 

وہ اپنی بات پر زور دے کر بولا۔ سنتھیا مسکرا کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔

تمہارا ایک بار پھر بہت شکریہ تم نے میری جتنی مدد کی جتنی فکر کی میں واقعی احسان مند ہو گئ ہوں تمہاری۔ کوریا کے بارے میں کم ازکم ایک اچھی یاد جڑ گئ ہے میری۔ تمہاری وجہ سے۔ 

اسکا انداز نپا تلا تھا ۔ وہ بہت سلیقے سے اسے اب جانے کا کہہ رہی تھی۔ کم سن اتنا بے وقوف نہیں تھا کہ سمجھ نہ پاتا ہونٹ بھینچے وہ بلا ارادہ اسے دیکھتا رہ گیا۔بس اتنا ہی تو تعلق تھا ان میں۔ اس نے خدا واسطے ایک انجان ملک کی لڑکی کی مدد کی جوابا وہ شکریہ ادا کررہی تھی مزید اور کیا ۔۔ 

یہ میں تمہیں دینا چاہتی تھی۔ اسے جیسے کچھ یاد آیا تھا۔ اپنے بیڈ کی سائڈ ٹیبل کی دراز سے اس نے ایک موٹا سا سفید کاغذکا لفافہ نکالا۔اسکی جانب بڑھا کر بولی 

یہ امانت تھی تمہاری۔ 

اس نے میکانکی انداز میں اسکے ہاتھ سے لفافہ لیا۔ کھول کر دیکھا تو وون کے نوٹوں سے بھرا ہوا تھا

مجھے درست اندازہ تو نہیں کہ اسپتال کے اخراجات پر تمہارا کتنا خرچ آیا ہوگا۔ لیکن یہ میری جانب سے شکریے کا نذرانہ ہے۔۔

کم سن کو ہنسی آگئ 

مٹھی بھر نوٹ بس۔  اتنی سی قیمت لگی۔ 

یہ بہت کم ہیں۔ اس نے نوٹ واپس لفافے میں رکھ کر لفافہ اسکی جانب بڑھا دیا

وہ انکار کرے گا لینے سے منع کرے گا وہ تھوڑا اصرار کرکے منا لے گی وہ اتنے خرچے ایک مخلص انسان کے کروا کر پاکستان جا بیٹھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ بہر حال پیسہ ایک حقیقت ہے۔ مگر اس کے سب ردعمل سوچتے اس نے یہ کم از کم نہیں سوچا تھا کہ وہ پیسے واپس کرتے کہے گا یہ کم ہیں۔ 

اسے ڈیڈا سے مزید رقم کا انتظام کرنے کا کہنا چاہئےتھا اسکا یقینا کافی ذیادہ خرچہ ہوا ہوگا۔

میں ڈیڈا سے مزید وائر کروادیتی ہوں۔ وہ الرٹ سی ہو کر بیٹھی۔ اب تو ڈیجیٹل بھی بھیجا جا سکتا ہے خوامخواہ کیش کی زحمت کی۔ 

وہ سوچ رہی تھی۔ بیڈ سائیڈ سے فون اٹھا کر ڈیڈا کو کال ملائے۔ ۔کم سن نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام کر روک کر اس پر لفافہ رکھا۔ 

جو میرا خرچ ہوا ہے وہ وقت تھا جزبے تھے۔ انکی قیمت پیسوں میں تولی نہیں جاسکتی۔ کبھی وقت یا جزبوں سے مول لگا سکو تب رابطہ کرنا۔ 

سنتھیا کا دیکھتے ہی دیکھتے رنگ بدلا پیشانی پر شکن آگئ۔ 

کیا مطلب ہے اس بات کا۔ وہ چٹخ کر بولی۔

کم سن  گہری سانس لیکر بنا جواب دیے جانے کو مڑا۔ پھر خیال آیا تو رک کر بنا پیچھے مڑ کر دیکھے بولا

بہت طویل عرصہ میں نے گزارا ہے کسی کیلئے یک طرفہ محبت میں جلتے سلگتے۔ ساتھ کھڑے ہونا مگر پس منظر کا حصہ بن جانا۔ اور تمہیں دیکھ کر مجھے خیال آیا تھا یہ بد قسمتی صرف میرے حصے میں نہیں آئی ہے۔ اور بھی لوگ ہیں دنیا میں جو پاس ہو کر بھی نارسائی کی آگ میں جلتے ہیں۔۔ یہ میں جانتا تھا کیونکہ۔۔۔

وہ رکا تھا۔ سانس لی تھئ شائد۔ سنتھیا دم سادھے سن رہی تھی۔

۔۔۔۔دراصل تمہیں دیکھتا تھا میں اتنا دیکھتا تھا کہ۔۔۔ 

اسکے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ در آئی۔پلٹ کر ناگواری سے گھورتی سنتھیا کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا

تم ایڈون کے سوا کسی کو دیکھتیں تو شائد مجھے تمہیں دیکھتا دیکھ لیتیں۔

سنتھیا بھونچکا سی اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔ وہ کہہ کر رکا نہیں تھا ۔ رک سکتا ہی نہیں تھا آنکھیں ہی بھرآئی تھیں۔ دروازہ کھول کر باہر نکلتے اس نے رفتار بڑھاتے بس یہی سوچا تھا 

پھر میں۔۔۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد

جاری ہے 

Rating
https://desikimchi.com/cast-away-diva-first-impression-urdu-review/
https://desikimchi.com/concerete-utopia-korean-movie-2023-honest-urdu-review/
https://urduz.com/din-ki-neeli-chirya%d8%af%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%86%db%8c%d9%84%db%8c-%da%86%da%91%db%8c%d8%a7/
Home » 2023 » Page 2

Ju hay pas e dewaar udas urdu shayari

نوشتہ دیوار پڑھیئے

جو ہے پس دیوار پڑھیئے

کون کس کا راستہ روک سکا ہے آج تک

ہو سکے تو تاریخ کے ادوار پڑھیئے

خاک چھانتے گزری ہو اک عمر جنکی

انکے چہروں پرہی لکھا ہےآدم بیزار پڑھیئے

انکی خواہش رہی کہ پا لیں چہرے سے راز دل

ارےمیرے لفظوں میں درج ہے میرا احوال پڑھیئے

ایسی بھی کیا قنوطیت کہ سب خوش کن احساس مار لیئے

جواب ہجوم کے پاس نہیں، آپ تنہائی میں زیست کے اوراق پڑھیئے

از قلم ہجوم تنہائی

Home » 2023 » Page 2

Thora sa pyar Hua hay urdu short story

افسانہ: تھوڑا سا پیار ہوا ہے۔۔۔
مصنفہ: واعظہ زیدی

نجانے اس دن اسکے دل میں کیا سمائی کہ اپنا ماضی روزینہ کے سامنے کھول بیٹھا۔
راحیلہ ایسی تھی یوں کرتی تھی ۔۔۔اس کے ساتھ اچھا وقت گزرا مگر کس طرح اسکے گھر والوں بنا اس سے پوچھے اسکا رشتہ خاندان میں طے کردیاوہ کتنا روئی یہ خود کتنا رویا بے بسی کی انتہائیں خودکشی تک کا سوچا وغیرہ۔
روزینہ عام بیویوں کی طرح اس سے جھگڑنے کی بجائے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سنتی رہی۔خاموشی سے۔۔ اتنا کہ اسکا دل ہلکا پھلکا سا ہو گیا۔
اس نے اس بات کا اقرار بھی کیا۔۔
شکر ہے تم میری بیوی سے ذیادہ میری دوست ہو۔ یہ باتیں میں آج تک کسی دوست سے بھی نہ کہہ
پایا۔کجا تم سے کہہ ڈالا۔

روزینہ نے اسی متانت سے سر ہلایا اپنے کام میں مگن ہوگئ۔
پھر تو جیسے اسکے اندر کی گھٹن کو روزن مل گیا۔ پہلا پیار کہاں بھولتا کسی کو۔ اور پہلا پیار کا ذکر کون نہ کرنا چاہے گا۔ پرانی یادیں باتیں قصے۔۔
۔کیا کچھ وہ دل میں دبائے تھاقسمت سے بیوی اچھی مل گئ جو اسکی نا صرف دل جمعی سے سنتی بلکہ کبھی کبھی لقمہ بھی دے ڈالتی
آپ ابھی بھی بہت یاد کرتے ہیں ناراحیلہ کو۔
ہاں۔ وہ صاف گوئی سے کہتا۔
مگر اب سوچتا ہوں وہ مل جاتی تو مجھے تم جیسی شریک حیات کہاں ملتی۔ سچ پوچھو تو مجھے ان تہجد کی نمازوں کا دعائوں کا شکوہ جاتا رہتا یے جو نا مقبول ہوئیں اور مجھے راحیلہ نہ مل سکی۔ مگر اللہ نے اجر کی صورت تم دے دیں مجھے۔۔

روزینہ شرارتی سے انداز میں ہنستی۔۔
یوں کہیں نا تھوڑا سا مجھ سے بھی پیار ہو گیا
ہے۔۔
اس دن بھی جب روزینہ خاموشی سے کپڑے تہہ کرتی اسکی سنے جا رہی تھی
روزینہ مجھے تم سے بھی پیار ہو چلا ہے۔۔
یکدم ہی اس نے بات بدل کر کہا تو وہ مسکرا دی
تھوڑا سا ؟؟؟؟اسکا انداز شرارت بھرا تھا۔۔
وہ بھی ہنسا۔ پھر گنگنانے لگا۔۔
تھوڑا سا پیار ہوا ہے تھوڑا ہے باقی۔۔۔
ویسے روزینہ تھوڑا سا اور پیار ہو جائے نا مجھے تم سے میں راحیلہ کو بھول جائوں گا۔۔
وہ جزباتی سا ہو چلا۔۔
راحیلہ تو آپکا پہلا پیار ہے کیسے بھول سکتے ہیں معاذ آپ۔
وہ رخ پھیر گئ تہہ شدہ کپڑے اٹھا کر الماری میں رکھنے لگی۔
وہ سانس روکے اسے چند لمحے دیکھتا ہی رہ گیا۔
اسکو لگا روزینہ کی آنکھوں میں نمی سی جھلکی ہے۔۔ اتنی صابر محبت کرنے والی بیوی سے تھوڑی سی سہی مگر اسے بھی تو محبت ہو گئ تھی۔ تڑپ ہی تو گیااٹھا اسکے قریب چلا آیا کندھوں پر ہاتھ رکھ کر جزب سے بولا
پہلا پیار کبھی بھول نہیں سکتا مگر روزینہ وعدہ ہے تم سے تمہارے سوا اب زندگی میں کوئی نہیں آئے گا۔۔
سچ ۔
روزینہ بھیگی پلکوں کو جھپکتے آس سے دیکھ رہی تھی۔
مچ۔۔ اس نے مسکرا کر سر ہلادیا۔۔
وہ دن آخری دن تھاجب میں نے راحیلہ کا نام لیا۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ مجھے روزینہ سے بھی بہت محبت ہوگئ ہے اتنی کہ میں بس اسکو چاہتا ہوں اتناکہ اسکے دل و دماغ میں بلا شرکت غیرے راج کرنا چاہتا ہوں۔۔
یہ تھی میری کہانی ۔۔ اب میری زندگی کا محور بس میری بیوی ہے اب راحیلہ کا ذکر ہمارے درمیان نہیں ہوتا۔۔ مجھے وہ یاد بھی نہیں آتی۔۔میرا پہلا پیار تو موسم سا تھا اچھا تھا گزر بھی گیا۔میری حقیقت میری بیوی ہے۔۔ میری روزینہ اور روزینہ کا میں۔ صرف میں یعنی ساعد مراد۔

Kesi lagi apko yeh kahani? rate us below

Rating
Home » 2023 » Page 2

Discovering the Wonders of Korea Through Urdu Web Travel Novel Salam Korea Episode 38

Salam Korea
by vaiza zaidi

salam korea episode 38


قسط 38
صبح سب سے پہلے گوارا کی آنکھ کھلی تھی۔ آنکھ کھلتے ہی جھلا گئ۔ کیونکہ آنکھ کھلنے کی وجہ تھی مسلسل بجتا موبائل۔ اس نے ہاتھ مار کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا تو دس بج رہے تھے۔ کروٹ بدلی تو ہوپ کا چہرہ سامنے تھا۔
کم چاگیا۔ وہ بے ساختہ ڈر کر پیچھے ہوئی۔
ہوپ نے آنکھیں کھول کر کینہ توز نگاہوں سے گھورا۔
ذیادہ ڈرائونی شکل بنانے کی ضرورت نہیں تم ویسے ہی خوفناک ہو۔
وہ کہاں باز آسکتی تھی۔
فون تو اٹھا لو۔ ہوپ نے دانت کچکچائے۔
میرا نہیں بج رہا۔ وہ خود جھلائی ہوئی تھی۔ اس کے کہنے پر ہوپ نے کروٹ بدل کر پہلو میں بے خبر سوئی اریزہ کو گھورا۔ سر پر بجتے فون سے بے نیاز گہری نیند میں گم۔
اے اریزہ۔
گوارا جھلا کر ہوپ کے کندھے پر تھوڑی ٹکاتی کہنی کے بل اسکے اوپر سے جھانک کر چلائی۔
ہوں۔ وہ کسمسائی۔
فون آرہا ہے تمہارا۔
ہوپ اور گوارا اکٹھے بولی تھیں۔ اس نے مندی مندی آنکھوں سے کروٹ لیکر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا۔ نا واقف نمبر تھا۔ اس نے سائلنٹ کرکے رکھا اور دوبارہ نیند میں گم ہونے کو تھی۔
اٹھو۔ہماری نیندیں اڑا کر تم سکون کی نیند نہیں سو سکتیں۔
ہوپ نے اسکے اوپر سے کمبل کھینچا۔
سونے دو نا پلیز۔
وہ نیند میں ڈوبی آواز میں بولی مگر گوارا اور ہوپ بخشنے کو تیار نہیں تھیں۔
اسے اٹھا کر بٹھا دیا۔
پہلے باتھ روم سے تو فارغ ہو لو۔
وہ دہائی دے رہی تھی۔
ہم قربانئ دے لیں گے پہلے تم جائو۔
گوارا نے حقیقتا قربانئ دی۔ وہ مشکوک نظروں سے دیکھتئ اٹھی باتھ روم میں گھسی۔ منہ ہاتھ دھو کر واپسی ہوئی تو بے ساختہ گوارا کی طرح ہی چلا اٹھی۔دونوں منہ تک کمبل تانے بے خبر سو رہی تھیں بظاہر کم از کم۔
اے ۔۔ےےے ۔ اٹھو دونوں۔
پھر خیال آیا تو انگریزی بولی۔
یا۔۔ کہتے ہیں ۔ آگاشی۔
گوارا کمبل سے سستی سے نمودار ہونا شروع ہوئی۔
ہم اے کہتے ہیں۔
اس نے جتایا۔
اے؟ اور بی کسے کہتے ہیں۔ ہوپ نے شائد مزاق کرنا چاہا تھا۔
بی بڑی بی کو کہتے۔ ہوپ بی اٹھ جائییے آپ کو دیر ہو گئ ہے آہجومہ۔
اریزہ نے گھڑی کی طرف اشارہ کرتے یاد دلایا۔
مجھے نہیں جانا آج میں کل استعفی دے آئی تھی۔
ہوپ سرسری سے انداز میں کہتی کمبل ہٹاتی اٹھ بیٹھئ۔
گوارا اور اریزہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگی۔
ہوپ تمہیں نہیں لگتا تمہیں سیشن لینے چاہیئے تھے۔ خود کشی کی ایک بار سوچ آجائے تو بار بار ذہن ایسے ہی گھمن گھیریاں کھاتا ہے۔ ہر چیز سے دل اٹھتا جاتا ہے او رصرف موت ہی پناہ گاہ
گوارا مزید بھی کہتی اس بار اریزہ او رہوپ اکٹھے چلائیں۔
یا۔ منہ بند کرو گوارا۔ اریزہ بھنائی
کھوجو۔ ( دفع ہو)۔ ہوپ نے بدمزہ منہ بنایا
میں دو نوکریاں کرکے ڈھیروں پیسہ جس مقصد کیلئے جمع کر رہی تھی وہ مقصد ختم ہوچکا تو مجھے اتنی بیگار لینے کی ضرورت نہیں۔
پھر اب کیا کروگی؟ اریزہ ہمدردانہ انداز میں اسکے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
فی الحال سوچا نہیں۔ سوچنے کیلئے وقت ہی نہیں تھا۔ پینٹنگ کو سنجیدگی سے لوں یا۔
اس نے ابھی اتنا ہی کہا گوارا نے ہاتھ اٹھا دیئے
کچھ اور سوچو پینٹنگ تمہارے بس کا روگ نہیں۔ اتنا موٹا منہ بناتی ہو عمر میں دس پندرہ سال کا اضافہ ہوجاتا ہے پورٹریٹ مکمل ہوتے تک اوپر سے ۔
وہ مزید بھی خوبیاں گنواتی اریزہ نے بستر سے کشن اٹھا کر اسکے منہ پر مارا۔ گوارا صدمے سے گھورتی رہ گئ۔
بس کرو ۔۔
اریزہ نے آنکھیں دکھائیں۔
تم بے وفا لڑکی۔ تمہاری تو۔ اس نے لپک کر زمین سے کشن اٹھا کر واپس اسے دے مارا وہ تیزی سے پیچھے ہوئی اس بار ہوپ نے بدلہ لیا اور تکیہ اسے دے مارا۔ گوارا اپنے مخالف ٹیم بنتے دیکھ کر خم ٹھونک کر میدان میں اتری۔
ہوپ اور گوارا میں گولا باری شروع ہوئی تو اریزہ کو ہی صلح کا جھنڈا لہرانا پڑا۔ دونوں اپنے اپنے تکیئے تلوار کی طرح چلاتی آگے بڑھیں تو اریزہ رضاکارانہ طور پر بیچ میں آکر وار سہہ گئ۔
بس کرو تکیئے پھٹ جائیں گے۔
اریزہ کے کہنے پر دونوں کو ہاتھ روکنے پڑے۔
بیڈ پر ٹک کر دونوں ہانپنے لگیں۔ اریزہ بھی دھپ سے دونوں کے بیچ آ بیٹھی۔
یاد ہے پہلی دفعہ جب میں آئی تھی تب بھی تم لوگ ایسے ہی تکیوں سے لڑ رہی تھیں۔ تب ایک لڑکی اور تھی ۔
ہوپ کے ذہن میں یاد تازہ ہوئی۔
جی ہائے۔ گوارا نے گہری سانس لی۔
ہاں نام تو نہیں یاد مجھے۔ سچ تو یہ شکل بھی۔
ہوپ یونہی ہنس کر بولی۔
گوارا تم جی ہائے کو یاد نہیں کرتیں؟
اریزہ نے پوچھ لیا۔ گوارا نے کندھے اچکا دیئے۔
مجھے پکا یقین وہ مجھے یاد نہیں کرتی ہوگی۔
یعنی تم کرتی ہو۔
اریزہ نے جیسے راز پالیا۔
تم سنتھیا کو یاد نہیں کرتیں کیا۔
اسکے الٹا سوال کرنے پر وہ چپ ہوگئ
یہ سنتھیا اور جی ہائے کون ہیں؟ ہوپ نے انکی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائئ تو دونوں چونک گئیں۔
سنتھیا میری دوست تھی اور جی ہائے اسکی۔
اریزہ نے کہا تو گوارا جملہ مکمل کرتی بولی
اور اب نہ سنتھیا اسکی دوست ہے نا جی ہائے میری۔۔ اور اب لگتا ہے اریزہ بھی میری دوست نہیں رہ گئ۔
گوارا منہ لٹکا کر بولی۔
کیوں بھئ اریزہ کیوں؟ ہوپ کا سوال بنتا تھا۔اریزہ بھی سوالیہ ہوئی۔
تمہاری وجہ سے۔ ہر دو دوستوں کے بیچ کوئی تیسرا آجاتا پھوٹ ڈلوانے۔ چار دن گائوں کیا گئ تم دونوں ذیادہ سگی بن گئ ہو مجھے کاٹ کے علیحدہ کردیا ابھی بھی تم دونوں مل کر مجھے مار رہی تھیں۔ ذرا خیال نہ آیا۔۔ اس نے باقائدہ بین کرنے شروع کیئے تو دونوں اکتا کر اٹھ گئیں۔
ہائیش۔۔۔
میرا تو کوئی اپنا نہیں رہا۔وہ ہنگل میں اب شروع ہوگئ۔
سرکتے ہوئے دوبارہ بیڈ پر دراز ہوئی ارادہ کمبل میں گھس کر مزید نیند پوری کرنے کا تھا۔
سچی دوستی و محبت کی کوئی قدر نہیں رہی۔ کوریا مادہ پرست معاشرہ بنتا جا رہا ہے۔ کہتی ہے اس دنیا میں جاپانی دوست بن سکتے ہیں مگرمسلمان نہیں۔ کیوں بھلا؟
اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا ریمائینڈر جگمگا رہا تھا۔
فرینڈیسری ۔ ٹھیک ڈھائی سال قبل اسی دن ان دونوں نے دوستی کا عہد لیا تھا۔ اکٹھے تصویر بنواتے ہوئے دونوں نے مسکرا کر انگلیوں سے دل کی شکل بنا رکھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم دونوں میرے ساتھ چلو گائوں۔ سچ مچ بہت مزا آئے گا وعدہ تم دونوں کو خوب سیر کرائوں گی۔ میلہ دیکھنا میرے ساتھ کرسمس منانا اور ہم فورا چھٹیاں ختم ہوتے ہی واپس آجائیں گے۔ناشتہ کرتے ہوئے گوارا لالچ دے رہی تھی۔ ہوپ سوچ میں پڑی۔ اریزہ کی نئی فرمائش تھی۔
اب یہی سب ہنگل میں کہو۔
گوارا نے لمحہ ضائع کیے بنا دہرادیا۔ مجال ہے ایک لفظ سمجھ آسکا ہو اس نے منہ لٹکا لیا۔
ہمت نہ ہارو وقت لگے گا ہنگل اتنی مشکل زبان تھوڑی ہے۔ آجائے گئ تمہیں بھی۔ گوارا نے تسلی دی۔
پتہ ہے میں اور جی ہائے ہر سال جاتے تھے جب سے ہماری دوستی ہوئی اسے میرا گائوں اتنا پسند تھا کہ گرمیوں میں ہم ویک اینڈ منانے بھی گائوں جایا کرتے تھے۔
گوارا اریزہ کو بتا رہی تھی۔
میں تیار ہوں۔ ہوپ نے ایکدم سے اسے مخاطب کیا۔
کس لیئے۔ ؟ گوارا بے دھیانی سے پوچھ رہی تھی۔
تم نے چاہے یونہی مروتا پوچھا ہوگا مگر میں جانا چاہتی ہوں ۔ میں دوسری جاب سے کچھ دن کی چھٹیاں لے لیتی ہوں۔ مجھے تبدیلی آب و ہوا کی شدید ضرورت ہے۔میں کافی مددگا رثابت ہو سکتی ہوں تمہاری امی کے ریستوران کیلئے۔
ہوپ کاوہی قنوطی انداز۔
دو سینڈوچ پر مشتمل اسکا ناشتہ ختم ہو چکا تھا۔ اب کافی کا مگ اٹھا کر جانے ہی لگی تھی کہ اریزہ نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔
بیٹھو ابھی ہمارا ناشتہ باقی ہے اور ہم باتیں بھی کر رہے ہیں۔
ہوپ نے اجازت طلب نگاہوں سے گوارا کو دیکھا۔ اس نے اپنے چہرے پر در آنے والی مسکراہٹ فورا کافی کا مگ ہونٹوں سے لگا کر چھپائی۔ ہوپ بیٹھ ہی گئ۔
تم جی ہائے سے بھی پوچھ لو کیا پتہ اب اسکی ناراضگی کم ہوچکی ہو۔
اریزہ نے کہا تو گوارا گہری سانس لیکر سیدھی ہوئی
اسکی ناراضگی کی وجہ جانتی ہو۔
اریزہ نے نفی میں سر ہلایا۔
تم ہو۔
گوارا کے کہنے پر وہ چونک سی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہلکی سی کھٹر پٹر سے اسکی آنکھ کھلی تھی۔ وہ کسمساتے ہوئے اٹھی تو جی ہائے صوفے کے ساتھ رکھی چھوٹی سی میز پر ناشتے کے باکس رکھےناشتہ کر رہی تھی۔ ایک نظر اسے دیکھ کر دوبارہ ناشتے میں مشغول ہو گئ۔ کم سن اسی وقت بڑے بڑے شاپر اٹھائے اندر داخل ہوا۔
تم ناشتہ کر رہی ہو؟ ابھی تو میں آیا تھا تو سوئی پڑی تھیں میں تمہارے لیئے بھی ناشتہ لے آیا۔
کم سن کی ابھی اس پر نظر نہ پڑی تھی۔
اسکو کھلا دینا ۔ اٹھ گئ ہے یہ۔
وہ ہاتھ جھاڑتے رسان سے بولی۔ اسکا ناشتہ ختم ہو چکا تھا۔
تم اٹھ گئیں۔ لو ناشتہ کرلو۔ تمہیں تو گوشت سے پرابلم نہیں ہے نا؟ میں چکن سوپ لایا ہوں ساتھ ویجی ٹیبل سوپ بھی ہے۔
وہ ایک کونے میں کھڑی مریضوں کی اسٹینڈ والی میز گھسیٹ کر اسکے بیڈ پر ہی ناشتہ لگانے لگا۔جی ہائے جیکٹ پہن کرپرس کندھے پر لاد کر جانے کیلئے تیار ہوگئ۔
میں جا رہی ہوں۔ اب میری تو کوئی ضرورت ہے نہیں۔ باقی اگر پڑے بھئ تو سنتھیا برائے مہربانی مجھے یاد مت کرنا۔
یہ اسکا الوداعیہ تھا۔ کھردرا انداز سخت لہجہ چہرے پر اجنبیت۔ کم سن نے حیرت سے مڑ کر اسکی شکل دیکھی۔
وہ جملہ مکمل کرکے دروازے کی طرف بڑھی جب سنتھیا نے اسے پکارلیا۔
جی ہائے۔ دروازے کی ناب پر اسکا ہاتھ لمحہ بھر کو رکا۔
تم نے مجھ پر بہت احسان کیا ہے میں اسے ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ تمہارا بہت شکریہ۔ میں ویسے کسی قابل تو نہیں مگر کبھی بھی ضرورت پڑے میری تو ۔۔۔
سنتھیا ابھی بول ہی رہی تھی کہ وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گئ۔ اسکی بدتمیزی پر کم سن نے دانت کچکچا کر گھورا۔ سنتھیا دل مسوس کر رہ گئ۔
جانے دو۔اسکا غصہ ایسا ہی ہے۔ تم ناشتہ کرو۔
کم سن نے سر جھٹک کر اسے کہا۔ دو طرح کے سوپ تھے ابلے چاول تھے سبزیوں کی کچومر سی کوئی ترکاری تھی۔ رول آملیٹ تھے۔
سنتھیا ہونٹ کاٹنے لگی۔
کم سن خفت زدہ سا ہوگیا۔
مجھے بالکل اندازہ نہیں کہ پاکستانی ناشتے میں کیا کھاتے ہوں گے۔ گوگل کیا تو جو قریب ترین بھی ناشتہ مل رہا تھا وہ آنے جانے میں گھنٹہ لگا دیتا اور مجھے لگا تمہیں
شکریہ۔ بہت بہت شکریہ۔ میں تم لوگوں پر اتنا بوجھ بن گئ ہوں مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا تم جی ہائے تم دونوں نے میرے لیئے جو کیا ہے اسکا میں کبھی بدلہ نہیں اتار سکتی میں چاہوں بھی تو
وہ بات کاٹ کر بولتے بولتے روپڑی۔ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر۔
کم سن ہونٹ بھینچ کر اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اسکی دوست نہیں تھی۔ کبھی انکی ذیادہ بات چیت نہ رہی تھی۔اسکو سمجھ نہیں آرہا تھا اسے کیسے چپ کرائے۔ کتنے مناظر اسکی نگاہوں میں گھوم گئے تھے جب اسے ناک چڑھا کر گھورتے دیکھتا تھا۔ایڈون کے سوا کسی کی جانب نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھتے دیکھا تھا۔اریزہ اور وہ کبھی اکیلے بیٹھی بھی نظر آتی تھیں تو تنی گردن اور تیکھی نظروں سے دیکھتی وہ کتنی مغرور لڑکی دکھائی دیتی تھی۔ اس وقت وہ اس لڑکی کا سایہ بھی نہیں لگ رہی تھی۔ چند مہینوں میں کوئی کیسے اتنا بدل سکتا ہے۔
مجھے اسی لیئے محبت سے نفرت ہے۔ محبت کمزور کر دیتی ہے۔ انسان کو بدل دیتی ہے انسان سے وہ کچھ کروا لیتی ہے جو سوائے اس فالتو جزبے کے دنیا کی کوئی طاقت بھی نہ کرواسکے۔محبت کرنی نہیں چاہیئے۔
جی ہائے رواں ہنگل میں چبا چبا کر بولی تھی۔
کم سن اور سنتھیا چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگے۔سنتھیا نے باقی سسکیاں روک کر جلدی سے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
ائیر بڈز رہ گئے تھے میرے یہاں۔ وہ صوفے کی طرف اشارہ کرکے بولی۔پھر آگے بڑھ کر تکیہ ٹٹول کر پینل اٹھانے لگی
سنتھیا شکریہ ادا کر رہی تھی تمہارا اور رو پڑی۔
کم سن نے جتایا۔ یعنی یہ فالتو کا لیکچر کس خوشی میں دیا محبت پر۔
سنتھیا کو کہا بھی نہیں میں نے ورنہ ہنگل میں نہیں انگریزی میں کہتی۔
جی ہائے مصروف سے انداز میں بولی۔
پھر کسے کہا۔ کم سن سوالیہ ہوا
تمہیں کہا۔
وہ بھنوئیں اچکا کر بولی۔
مجھے؟ وہ ہکا بکا رہ گیا۔
تمہیں پہلے اسکا اپنا درد مشترک لگتا تھا اب مشترکہ کے درد میں ہی مبتلا لگتے ہو۔ اگر وقت ہے تائب ہو جائو
ارے کیا مطلب ہوا اس بات کا؟
کم سن سمجھا نہیں۔
ہنگل میں ہی بولا ہے سمجھ کر نہ سمجھو تو الگ بات۔کرم
وہ جتا کر ایک نظر اسے او رپھر سنتھیا کو دیکھتی ہوا کے جھونکے کی طرح گزر گئ
خوامخواہ۔ کم سن کو ہوش آیا تو جھلائے بنا نہ رہ سکا۔
کچھ بھئ ۔ہائش۔ یہ لڑکی کھسک چکی ہے۔
وہ بڑبڑا رہا تھا
کیا ہوا کیا کہہ رہی تھی۔
سنتھیا کو بات تو نہیں انداز سے یہی لگا کہ اسکے بارے میں ہی بات ہو رہی ہے۔
کچھ نہیں۔ تم کھانا کھائو ٹھنڈ اہو رہا ہے۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر اسکا دھیان بٹاگیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسٹل واپس آکر ابھی وہ بیڈ پر آکر بیٹھی ہی تھی کہ اسے گوارا کا میسیج کاکائو ٹاک پر موصول ہوا تھا۔ سال بھر پرانی یاد تازہ کی گئ تھی۔ ایک خوبصورت لمحے کی یاد گارتصویر میں قید تھئ۔
ساتھ لکھا تھا۔ ہم پچھلے سال اکٹھے یہاں یادیں اکٹھی کر رہے تھے۔ میں آج یہاں جاتے سوچ رہی ہوں کہ کیا ایسا دن دوبارہ کبھی آسکے گا۔
نہیں۔
اس نے فورا جواب لکھ کر بھیجا تھا۔
جوابا اس نے میسج دیکھ کر جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ وہ چند لمحے منتظر رہی۔ پھر دوبارہ تصویر کو ذوم کرکے دیکھنے لگی۔ اس دن فارم پر جانے سے پہلے اپنے گھر کے صحن میں یہ تصویر اس نے لی تھی۔ بظاہر سیلفی تھی مگر پس پردہ بھاگتے اسکے تینوں چھوٹے بہن بھائی بھی اس تصویر کا حصہ بن گئے تھے۔ اسے تصویر دیکھ کر وہ دن یاد آگیا تھا۔
اس دن تیز دھوپ نکلی ہوئی تھی ۔ اسکا اور گوارا کا قریبی باغ سے سیب چننے کا ارادہ تھا اس چھوٹے سے باغ سے پھل چننے کی ذمہ داری گوارا نے اٹھا لی تھی وہ اسکا۔چھوٹا بھائی جا رہے تھے تو اس نے بھئ گھر بیٹھ کر بور ہونے سے بہتر یہی سمجھا کہ انکے ساتھ چلی چلے۔ گوارا نا صرف خود فٹا فٹ تیار ہوئی بلکہ اپنے دونوں چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی ہمراہ لے لیا
انکو کیوں ٹانگ رہی ہو اپنے ساتھ ہم کام کریں گے یا انکو سنبھالیں گے۔
اس نے سخت ناگواری سے کہا تھا جو شائد ساتھ چلتے سوینگ کو برا لگا تھا جبھی بچوں کو اپنے ساتھ آنے کا کہہ کر رفتار بڑھا لی تھی۔
کیا کہیں گے یہ ہمیں؟ درخت سے پھل توڑنے جتنا قد ہے نہیں انکا فارم ہائوس اتنا بڑا نہیں کہ گم جائیں کھیلتے رہیں گے یہ وہاں ہم اپنا کام کر لیں گے۔گھر میں تو اتنی جگہ ہے نہیں پھر آہمونی انکو وہاں بھاگنے دوڑنے بھی نہیں دیتیں دیکھو کتنے خوش ہیں ۔
اچھلتے کودتے جاتے بہن بھائی کو دیکھ کر گوارا نے پیار بھرے انداز میں اسے بالتفصیل بتایا۔
تم واقعی ان سے پیار کرتی ہو؟
جی ہائے نے حیرت سے سوال کیا تھا۔
میرے بہن بھائئ ہیں سوتیلے ہیں تو کیا ہوا۔ دیکھا جائے تو ان بچوں سے مجھے کیا پرخاش ہو سکتی ہے۔ اسکا انداز سادہ سا تھا۔ مگر جی ہائے چڑ گئ
تم مجھے جتا رہئ ہو؟ مگر یہ دیکھو کہ ان کے والد صاحب تمہارا اور تمہارے بڑے بھائی کا خرچہ اٹھانے کو تیار نہیں تمہیں ان کے بچوں پر پیار لٹانے کی کیا ضرورت ہے۔ تم بھی انکو اگنور کرو۔
اگرایسی بات ہے تو تمہارے والد تو تمہارا خرچہ مزید بچوں کے باوجود اٹھاتے ہیں تمہیں تو اپنی بہنوں سے پیار ہونا چاہیئے تھا۔
گوارا نے بنا لحاظ اسے جتایا تھا
تم مجھے اب اس بات کا طعنہ دوگی؟
غصے کے مارے اسکی آواز کانپ گئ۔
میں طعنہ نہیں دے رہی سمجھا رہی ہوں۔ اسکو غصے میں آتے دیکھ کر گوارا نے بھی اپنا لہجہ دھیما کیا۔
میرے والدین کی آپس میں نہیں بنی وہ الگ ہوگئے ۔ ہم دونوں بہن بھائی اتنے بڑے تھے کہ اپنا خیال خود رکھ سکتے تھے۔ میں آہجوشی سے امید کیوں رکھوں کہ وہ میرا خیال کریں میرا باپ میرا خیال رکھتا رہا تھا میرے نام سےانشورنس پالیسی بھری ہے اس نے۔
آہجوشی میرے باپ نہیں ہاں میری ماں کیلئے میں اور سوینگ بھی انکی اولاد ہیں اور رودا اور سنگ گون بھی۔ ایک ٹوٹے لڑتے بھڑتے مگر اکٹھے رہنے پر مجبورخاندان سے بہتر دو الگ خوشحال خاندانوں کا حصہ بننا بہتر نہیں؟
میرے تو میرے والد کی بیوی سے بھئ اچھے تعلقات ہیں۔ تم بھی اگر چاہو تو۔۔
تمہارے والدین لڑ کر الگ ہوئے میرے باپ نے میری ماں کو ایک نئے مذہب کے پیچھے چھوڑا۔ میری ماں آخری وقت تک مصالحت چاہتی تھئ میرا باپ اسکو چھوڑ گیا ہمارے حالات ایک جیسے نہیں۔۔ میرے باپ کی بیوی میری ماں کی اور اسکی اولادیں مجھے اپنی ہنستی بستی زندگی اجاڑنے کی ذمہ دار لگتی ہیں جسکے لیئے میں اس بڈھے کو کبھی معاف نہیں کر سکتی۔۔ سمجھیں تم۔
گوارا اسے سمجھانا چاہ رہی تھی مگر جی ہائے کو اتنا غصہ آیا تھا کہ اس پر چلا چلا کر وہیں سے پیر پٹختی واپس ہوئی تھئ۔ اس وقت بھی یہ یاد اسے غصہ ہی دلا گئ تھئ۔ اس نے موبائل بیڈ پر پٹخا اور بازو آنکھوں پر رکھتی وہیں دراز ہوگئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ اس لڑکی سے کیوں نہیں پتہ کرتے ؟ کیا آپ نہیں جانتے وہ اس وقت کہاں رہ رہی ہے؟
سنتھیا کے والد کا بس نہیں تھا کہ اس ڈیٹیکٹو کا سر بجا دیتے۔اس وقت وہ کمشنر کے دفتر میں بیٹھے تھے۔ انکی بیٹی کی بازیابئ کیلئے جو ٹیم تشکیل دی گئ تھی اسکے ٹیم لیڈر علاقے کا ایس پی اور پاکستانی سفارتخانے کا نمائندہ بھی موجود تھا۔ سیموئل صاحب کا اصرار تھا کہ اریزہ سے تفتیش کی جائے۔۔
گو انکی بات جزئیات کے ساتھ ان سب کو سمجھ آچکی تھی پھر بھی مترجم کے ترجمے کا انتظار کیا۔
ہم اریزہ سے تفتیش کیوں نہیں کر رہے؟
کمشنر بیک نے سوالیہ نگاہوں سے ٹیم کے منتظم کو دیکھا۔
یہ لڑکی اریزہ ، سنتھیا سیموئل کی گمشدگی سے مہینوں قبل سے اپنی سہیلی کے ساتھ اپارٹمنٹ شئیر کر رہی ہے۔ سنتھیا کی گمشدگئ کی اطلاع ملنے پر خود تھانے آکر اس نے بیان بھی ریکارڈ کروایا۔ سیموئیل صاحب کا دعوی ہے کہ یہ لڑکی سنتھیا کے ساتھ رہ رہی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ سنتھیا درمیانے درجے کے ایک گوشی وون میں رہتی تھی۔ اور سی سی ٹی وی کے مطابق وہ خود اپنے ہوش و حواس میں گوشی وون سے نکل کر گئ تھی۔
ٹیم لیڈر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا۔
کیا کہہ رہا ہے یہ ۔ سیموئیل جھلا کر مترجم سے بولے۔
ڈیٹیکٹو نے مترجم کی جانب دیکھا ۔ اس نے گہری سانس لیکر ترجمہ کیا۔
ہاں تو اسکے سوا کوئی دوست نہیں ہے اسکا یہاں اس نے یقینا اسے اطلاع دی ہوگی رابطہ کرنے کی کوشش کی ہوگی۔ کیا کر رہے ہیں یہ لوگ میری بیٹی نا جانے کہاں کس حال میں ہے۔
عجیب نا اہل لوگ ہیں۔ یہاں بیٹھے ہیں ڈھونڈ رہے ہوتے تو مل چکی ہوتی نا وہ۔
سیموئل کا غصہ بڑھ رہا تھا۔ مترجم نے انکی سب باتوں کا ترجمہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے بس اسی بات پر زور دیا کہ وہ دوست ہے کچھ تو جانتی ہوگی۔
ہمارے پاکستان سے تعلقات ہیں یہ دونوں ممالک کے تعلقات کی طرف معاملہ جا سکتا ہے۔ ہم کسی غیر ملکی طالبہ کی گمشدگی کا الزام اپنے سر نہیں لے سکتے۔۔ ہمیں سخت فیصلے لینا ہوں گے۔
کمشنر صاحب نے تنبیہا کہا تھا۔
مگر سر ہم پہلے ہی ایڈون کو تحویل میں لے چکے ہیں۔ اتنی تفتیش کے باوجود وہ لڑکا براہ راست ملوث نہیں لگ رہا ہے۔ ہم ایک اور ملزم حراست میں کیسے لے سکتے۔ ؟ جبکہ وہ لڑکی لی خاندان کی ہونے والی بہو بھی ہے۔
ٹیم لیڈر نے انکو جھجکتے ہوئے یہ اطلاع دی تھی۔
دے؟(کیا۔)؟
کمشنر صاحب کا حیرت سے منہ کھلا رہ گیا۔
کیا کیا کہہ رہے ہیں یہ لوگ۔
ان سب کے تاثرات دیکھ کر سیموئل کو کھد بد ہوئی۔
کیا بکواس ہے یہ؟ عجیب جاہل لوگ ہیں اتنے اونچتے عہدوں پر ہیں پھر بھی کسی کو انگریزی ہی نہیں آتی۔۔
وہ جھلا رہے تھے۔ مترجم نے دھیرے سے ترجمہ کیا تو لمحہ بھر کو وہ سن ہی رہ گئے
کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا؟
کم سن اسکی شکل دیکھ کر رہ گیا۔
وہ سنجیدہ تھی۔
میرے لیئے نوکری سب سے اہم ہے۔ اگر میں مسلسل نقاب کیئے رکھوں تو میرا پہچانے جانا مشکل ہے۔ میں نے یہاں اکثر لڑکیوں کو ماسک پہنے دیکھا ہے۔ میں اسکارف کر لوں گی۔
رہو گی کہاں؟
کم سن نے جتایا۔ وہ ایکدم کچھ کہتے کہتے رک گئ۔ پھر قصدا رخ بدل کر بولی
میں اسکا انتظام کر لوں گی۔
وہ اس وقت ہنگن دریا کنارے کھڑے تھے۔ بیچ دوپہر میں بھی دھوپ میں چبھن نہیں تھی۔ سیول کے باسی ہونے کی وجہ سے وہ ایسی جگہوں کے بارے میں جانتا تھا جو سی سی ٹی وی کیمروں سے اوجھل ہوں۔ اس وقت سنتھیا نے سر پر اسکارف لپیٹا تھا گہرے رنگ کے گاگلز او رماسک بھی پہن رکھا تھا۔
کم سن نے جیکٹ اور ہڈی پہن رکھا تھا۔ پھر بھی سرد ہوا چبھ رہی تھی جبکہ سنتھیا سویٹ سوٹ اور جیکٹ میں ملبوس تھی مگر پیشانی پر پسینے کے قطرے دمک رہے تھے۔
میں خود غرض ہو رہی ہوں ہے نا۔
اسکی خاموشی سے وہ یہی اندازہ لگا پائی۔
کم سن دونوں ہاتھ اپر کی جیبوں میں ڈالے دریا پر نگاہ جمائے تھا۔ بالکل باریک پرت برف کی اس دریا پر جمی تھی۔ جیسے دریا پر شیشے کی تہہ سی ہو۔ یہ اتنی ہی غیر محفوظ تھی جیسے ہلکا سا کانچ ۔ اس پرت پر چلا جاسکتا تھا قسمت پر منحصر تھا یا آپکے وزن پر جتنا یہ برف سہہ جائے ورنہ ایک دراڑ اور گہرا شگاف اور بے رحم سرد دریا کی موجیں۔۔
مجھے لگا تھا میں جب تمہیں بتائوں گا کہ ایڈون جیل میں ہے تو تم فورا اسے چھڑوانے کیلئے بے تاب ہو جائو گی۔ مگر مجھے تمہارا ایسا کوئی ارادہ نہیں لگتا۔
کم سن گہری سانس لیکر بولا
ہاں نہیں ہے۔ سنتھیا ضدی سے انداز میں بولی
اب تمہیں کوئی ابارشن کیلئے مجبور نہیں کرسکتا۔ کم از کم کوریا میں۔
کم سن نے اسے تسلی دینا چاہی تھی۔
اور اگر مجھے ڈی پورٹ کردیاگیا تو؟
سنتھیا نے تیکھی نگاہ سے دیکھا اسے۔
وہ کہتے کہتے رہ گیا کہ اس سب کے بعد ہوگا تو یہی۔
ایڈون اگر اغوا کار ثابت ہو تا تو شائد پھر اسکی بازیابی کے بعد کیس چلتا مگر جس طرح وہ بنا اطلاع غائب تھی اسکے بعد اسکی غیر ذمہ داری پر سب سے کم سزا یہی ہونی تھی کہ اسے واپس وہیں بھیج دیا جائے جہاں سے آئی ہے۔
اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ایڈون کو بچانے کا مقصد ذہن میں تھا یہ سوچ بھی نہیں آئی کہ سنتھیا کیا چاہتی ہے؟ اسکی بھی تو کوئی مرضی سوچ خواہش ہوگی۔
لڑکی کو سمجھنا ناممکن ہے۔
اسکا ذہن تھک رہا تھا سوچ سوچ کے کہ کیا کرے۔ اس وقت وہ سنتھیا کے ساتھ نیکی کرکے بھی پھنس رہا تھا اور سخت دل بن کے اسکے حال پر بھی چھوڑ نہیں سکتا تھا۔
وہ حقیقتا سر کھجا رہا تھا۔
مستقل تنائو سے تنگ آکر اس نے جیب سے چاکلیٹ نکال کر کھانی شروع کردی۔
ایسے موقع پر جی ہائے ہونا کم سن ہونے سے بہتر ہے۔
اس نے دانت پیسےریپرپھینکا۔ ۔ تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔
ہیون کالنگ۔
اسکو اتنی خوشی ہوئی کہ جھٹ فون اٹھا لیا۔
ہیونگ ( بھائی) میری نوکری دائو پر لگی ہے آکرہیون سر کو سنبھالیں۔ مدہوش ہو چکے ہیں اور پورا سوئیٹ سر پر اٹھایا ہوا ہے۔
ہیون کے کلب کا منتظم تھا گھبرایا ہوا۔
اس وقت؟ بھری دوپہر میں کون کم بخت پی کے ٹن ہوتا ہے۔
وہ جھلا ہی تو گیا۔
برائے مہربانی سر آجائیں ۔ غیر ملکی مہمان ہیں آئے ہوئے ہم ان میں سے کسی کو روک بھی نہیں پائیں گے اگر کسی نے ویڈیو بنا لی تو۔
منتظم رو دینے والا تھا۔
کر کیا رہا ہےدکھائو ۔ اس نے ویڈیو کال پر کلک کیا۔
سامنے جو منظر تھا بے ساختہ ہنسی آگئ اسے۔
سوئم سوٹ میں باتھ گائون پہنے وہ سوئمنگ پول کے کنارے بوتل لہراتا ناچ ناچ کر گا رہا تھا۔ اور اسے ناچنا تو آتا ہی نہیں تھا۔ الٹے سیدھے ہاتھ پائوں مارتا وہ خاصا مضحکہ خیز لگ رہا تھا۔ منتظم کو صحیح ڈر لگا تھا۔ دو تین امریکی لڑکے اور لڑکیاں اسکے ساتھ شغل میں ناچ رہے تھے ہاتھ میں شراب کے گلاس تھامے ۔ ہنسی قہقہے۔ اسکو ناچتا دیکھ کر تالیاں بھی بجا رہے تھے۔ صد شکر فی الحال کوئی ویڈیو بناتا دکھائی نہ دیا۔۔
آتا ہوں۔
اسے تسلئ دے کر فون بند کیا ۔ چہرے پر محظوظ مسکراہٹ تھی۔ لمحہ بھر کو بھول ہی گیا جیسے کہ چند لمحے قبل کس موڈ میں تھا۔ مسکرا کر سر جھٹکتے ہوئے سنتھیا کی جانب رخ کرنا چاہا تو نا صرف مسکراہٹ سکڑ گئ بلکہ دل بھی اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔
سنتھیا جمے ہوئے دریا کی اسی برف کی پتلی دبیز تہہ پر چلتی چلی جا رہی تھی۔
سنتھیا۔
وہ حلق کے بل چلایا تو وہ چونک کے رکی۔
کیا کر رہی ہو۔ واپس آئو۔
آتی ہوں۔۔
وہ اطمینان سے بولی۔
کیا؟ کم سن کو لگا اسکا دماغ چل گیا ہے۔
سنتھیا نے حیرت سے اسے دیکھا۔ دھوپ اس پر پوری طرح پڑ رہی تھی۔ وہ اسی دھوپ میں سینے پر مٹھیاں باندھے عاجزی سے آنکھیں بند کیئے کھڑی تھی
تم پاگل تو نہیں ہو گئ ہو؟
کم سن چلایا۔
مت کرو ایسے ڈوب جائو گی بظاہر جما ہوا ہے مگر اس پرت کے نیچے ٹھاٹھے مارتی سرد لہریں ہیں۔ کوئی بچا بھی نہیں سکے گا تمہیں۔
وہ کنارے پر کھڑا چلا چلا کر اسے اسکی حماقت کے مضمرات بتا رہا تھا۔
خدا وند میں یہاں خود کو اس بچے کو تیرے رحم و کرم پر چھوڑتی ہوں۔ کوریا یا پاکستان میرے حق میں جو بہتر ہو مجھے وہاں پناہ دے دے۔
اس نے گہری سانس لیتے ہوئے صلیب کا نشان بنایا۔
آمین۔ آنکھیں بند کر زرا سا کندھے جھکا کر جیسے رب کی رحمت کو محسوس کرنا چاہا۔
واپس آئو پلیز۔ خودکشی کوئی حل نہیں۔ جس بچے کے لیئے لڑ رہی ہو اسے قتل کردوگی؟
اس نےجھلا کر اسے جزباتی جھٹکا دینا چاہا۔وہ بے بسی سے ساحل کنارے پیر پٹخ رہا تھا۔ سر بھی پٹختا تو کم تھا۔ دھوپ تیز تھی اگر برف کی پتلی تہہ ذرا سا بھی پگھل جاتی تو وہ اس وقت اسے بچا بھی نہیں سکتا تھا۔
اسکی بات پر وہ ذرا بھر چونکی۔ پھر جھلائی
خود کشی۔۔ میں کیوں خود کشی کروں گی بھلا؟۔
کم سن اسکی بات سن کر لمحہ بھر کو بھونچکا رہ گیا۔
اس نے اشارے سے اسے نیچے دیکھنے کا کہا۔وہ سر جھٹکتی سر جھکا کر دیکھنے لگی تو جیسے قدم وجود کا وزن اٹھانے سے انکاری ہوگئےاپنے گرد کانچ سی زمین کو دیکھتے وہ بری طرح گھبرائی۔ خداوند پر چھوڑا تھا۔ کیا اسے زمین ہی نصیب نہیں ہونی ہے کیا۔ اسے ڈر سا لگا جو اگر یہ برف پگھل گئ تو؟
اسکے قدم لڑکھڑا سے گئے۔ کڑچ کڑچ کانچ کے فرش پر دراڑ سی پڑی۔
وہ تیزی سے کنارے کی جانب بڑھی تو پھسل کر گرتے گرتے بچی ۔۔ پیروں تلے کڑچ کڑچ کی آواز بڑھتی جا رہی تھی۔ اس نے بھاگ کر واپس آنا چاہا تو کم سن کی پریشانی بھری پکار سنائی دی
بھاگنا مت۔
وہ موت کے تعاقب سےخوف میں مبتلا ہوئی تھئ سو تیز تیز قدم اٹھاتی واپس آرہی تھی اتنے تیز کہ کڑچ کی آواز بڑھتی چلی گئ وہ ایکدم رک گئ۔ موت سے کہاں کوئی بھاگ سکا ہے۔ اگر ایسے لکھی تو ایسے سہی۔ اس کی ٹانگیں جیسے بے جان سی ہوتئ گئیں وہ وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھتی گئ۔ آوازیں شور سب سکوت طاری تھا برف ٹوٹتی اور وہ سیدھا دریا برد۔
ہائیش۔
کم سن کو اپنی عقل سمجھ بالائے طاق رکھ کر اسکی جانب بڑھنا پڑا۔

دانت کچکچاتے ہوئے وہ تیز تیز قدم اٹھاتااسکے سر پر پہنچا تھا۔کانوں پر ہاتھ رکھے وہ اکڑوں بیٹھی لرز رہی تھی۔
میں آج مرا تو تمہاری ذمہ داری ہوگی۔
وہ خشمگیں نظروں سے گھور رہا تھا۔ مانوس آواز سن کر اس نے سر اٹھایا۔ ارد گرد دریا پر جمی برف سالم تھئ۔ یقینا وہ اسکا وہم تھا وہ شرمندہ سی ہو کر اٹھنے لگی۔
میں آ تو رہی تھی۔
کم سن نے سہارے کیلئے ہاتھ بڑھایا مگر وہ خود ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔
کورٹ شوز میں سٹر پٹر کر رہی تھیں ابھی پھسل جاتیں تو یہیں دفن ہوجانا تھا تم نے۔
اسکے منہ سے فی الحال اچھے الفاظ نکلنا مشکل تھا۔وہ چپ ہی رہی۔ اسے واقعی سوچوں میں گم اندازہ نہ ہوا کہ وہ چلتے ہوئے کدھر نکل آئی
اسکے ہم قدم سنبھل سنبھل کر قدم اٹھاتے ایکدم کڑک کی آواز تیز ہوئی۔ اب یقینا اسکا وہم نہیں تھا برف کی پرت پر شگاف پڑا تھا۔۔ سنتھیا بے اختیار کم سن کا سہارا لے بیٹھی۔
کم سن بھی لمحہ بھر کو خوفزدہ ہوا تھا۔ باقائدہ سر گھما گھماکر گرد و نواح کے حالات پر نگاہ ڈالی۔ ارد گرد برف سالم تھی مگر آواز اچھی خاصی تھی۔ پر تھی کس چیز کی۔
کین چھنا۔ اسکا کندھا تھپتھپاتے اس نے منظر سے سب خطرات دیکھ داکھ کر اطمینان دلایا۔ کنارے تک وہ مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھامے رہی تھی۔ کنارے تک کڑچ کڑچ کی آواز مدہم پڑ گئ تھی۔ کسی نہایت بے مروت خود غرض انسان کی طرح کنارے تک پہنچتے ہی سنتھیا نے اسکا نا صرف ہاتھ چھوڑا بلکہ رفتار بھی بڑھا لی۔ تبھی کم سن کی نگاہ اسکے جوتے کے تلے چپکے چاکلیٹ کے ریپر پر پڑی تھی۔بے ساختہ مسکراہٹ اسکے لبوں پر در آئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گائوں کی گوری کی طرح وہ ریل گاڑی کی شیشے کی کھڑکی سے ناک چپکائے قدرتی مناظر دیکھ رہی تھئ ۔برف سے ڈھکے کوہساروں میں تیزئ سے دوڑتی اسے ہمیشہ ریل کا سفر کرنے کا شوق ہوتا تھا۔ جتنا اسے شوق تھا اتنا ہی باقی گھر والے ریل کے سفر کو غیر محفوظ وقت کا ضیاع اور غیر آرام دہ قرار دے کر اسے موٹر وے سے سفر کراتے رہے تھے۔ آج برسوں پرانا شوق پورا ہوا بھی تو کوریا میں۔ فلک بوس پہاڑوں اونچے بڑے سے کھمبوں تو کبھئ کسی کھیت میں چرتے جانور ہر منظر کے ساتھ اسکے تاثرات بدل رہے تھےاسکے چہرے پر ان تمام مناظر کو پڑھا جا سکتا تھا۔
ہوپ اور گوارا اسکے مقابل بیٹھی اسکا شوق ملاحظہ کر رہی تھیں۔
پاکستان میں ٹرین نہیں ہوتی کیا۔ ہوپ نے یونہی پوچھا تھا۔
سرچ کرو ذرا۔
گوارا موبائل احتیاط سے تھامنے کہنی ٹکائے ساکت بیٹھئ اریزہ کی ویڈیو بنا رہی تھی۔
غیر اخلاقی حرکت ہے یہ ویسے۔ ہوپ نے منہ بناتے اپنا موبائل نکالا۔
گوارا نے ہونٹ بھینچ کر گھورا۔۔
خود جو تم سوتے میں بناتی رہی ہو اسکی وہ کیا تھا؟
ہوپ نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔
صرف دنیا میں ایک ملک ایسا ہے جہاں ریلوے کا نظام نہیں اور وہ ہے افغانستان۔
ہوپ کی تلاش مکمل ہوئی۔اب اعتراض ہوا
پھر اسکو ٹرین کیوں درکار تھی۔ چار گھنٹےلگیں گے بوسان پہنچنے میں ۔ آگے پھر گائوں تک کا سفر الگ بس سے۔ مجھے سوچ کے تھکن ہو رہی۔
ہوپ نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔ اسکا ارادہ سو جانے کا ہی تھا۔
اریزہ ٹرین کی سیر کروگی؟
گوارا نے اس سے پوچھا۔ اریزہ چونکی پھر زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا
ہاں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈبے سے جڑا ڈبہ وہ آرام سے ہر ڈبے سے گزرتی پوری ٹرین کا دیدار کراتی اسے ٹرین کے کیفے ٹیریا تک لائی تھی۔ بھانت بھانت کے لوگ مختلف بولیاں الگ منزلیں ایک سفر وہ ٹرین کے ہلکے پھلکے جھٹکوں کا بھی مزا لے رہی تھئ۔ ۔ کیفے ٹیریا تقریبا خالی تھا مگر یہاں نشستیں مختلف طرز کی تھیں ایک دو جوڑے بیٹھے تھے۔ بڑی بڑی کھڑکیاں شفاف شیشے انکے ساتھ لگی بنچ نما فوم کی نشستیں۔ ایک جانب وینڈنگ مشین لگی تھئ۔ وہ تو سیدھا جا کر کھڑکی کے پاس بیٹھ گئ۔ گوارا کم باپ بسکٹ چپس اور کولڈڈرنک لیکر اسکے پاس آبیٹھی۔ سامنے لگے چھوٹے سی دیوار سے جڑی میز پر اسکے لیئے سجا دیا۔
گوما ویو۔ وہ بے ساختہ خوش ہوئی۔
کتنے کا ہے۔ فورا کندھے سے لٹکے اپنے ہینڈ بیگ سے پیسے نکالنے لگی۔
بہت مہنگا ہے تم نہیں دے پائوگی۔
گوارا نے جس طرح کہا تھا وہ چپ ہو کر زپ بند کرنے لگی۔
اس نے کھڑکی سے کہنی ٹکائی ہوئی تھی۔ اسکے زخم پر کھرنڈ آرہا تھا جبھی اس نے بس اوپر سے دوا لگائی ہوئی تھی۔ یہ دوا خشک سی ہوجاتی تھی زخم پر اور ایک تہہ بنا دیتی تھی۔ شائد اسی لیئے زخم مندمل ہورہا تھا۔ اریزہ اسکی نظروں سے بے نیاز باہر کے نظاروں میں گم تھی۔ چپس وہ جتنی تیزی سے کھا رہی تھی یقینا اسے بھوک لگی ہوئی تھی۔
تم سے ایک بات پوچھوں؟
کم باپ کا ریپر اتارتے گوارا سنجیدگی سے بولی۔
پوچھو۔ وہ بے دھیان تھی۔
تم نے ہیون کا پرپوزل قبول کر لیا ہےنا؟
اس نے بنا تمہید باندھے پوچھا تھا۔ اریزہ کا چپس منہ تک لے جاتا ہاتھ رک گیا۔ وہ حیران سی ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔
تمہیں ہیون نے کہا ہے؟
تمہارے خیال میں ہیون مجھے یہ کہے گا؟پورا سوشل میڈیا ٹیبلائڈ بھرے پڑے ہیں تمہاری اور ہیون کی تصویروں سے۔ میں نے صبر سے انتظار کیا کہ تم خود مجھے بتائوگی مگر مجھے تمہارا تو ایسا کوئی ارادہ نہیں لگا ۔ دوست نہیں سمجھتی ہو مجھے تم۔ ہے نا۔
گوارا منہ بنا کرکم باپ کھانے لگی۔ ۔
اگرمیں نے ہیون کا پرپوزل قبول کیا ہوتا تو یقینا خود تمہیں بتاتئ مگر یہ ایک غلط فہمی تھی۔مجھے اتنا غصہ آیا تھا کہ بتا نہیں سکتی۔
مجھے نہیں پتہ تھا کہ کوریا میں کسی کی شادی میں دعوت کھانا بھی اسکینڈل بنایا جا سکتا ہے۔اخباروں میں چھپ گیا حد ہے۔کوئی کام نہیں کیا یہاں لوگوں کو۔
وہ بےنیازی سے دوبارہ چپس کھانے لگی۔گوارا کو شدید حیرت ہوئئ۔
مجھے تم حیران کر رہی ہو؟ تم نے۔۔ نہیں ایک سیکنڈ تم اور ہیون ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو نا۔ تم نے اس اسکینڈل کی وجہ سے انکار کردیا اسے؟
گوارا حیرت کے مارے بیہوش ہونے کو تھئ۔
اریزہ نے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
مجھے اندازہ تو تھا کہ تم نے ہیون کو انکار کردیا ہے مگر اتنی سی بات پر؟ ظاہر ہے وہ کوریا کے ایک اہم خاندان کا فرد ہے اسکی ذاتی زندگی میں رپورٹروں کو دلچسپی ہوتی ہے مگر یہ تو بہت سخت ردعمل ہے تمہیں اتنی سی بات
گوارا بولی تو بولتی چلی گئ۔اریزہ کو ہاتھ اٹھا کراسے ٹوکنا پڑا۔
ویٹ۔ تھمو ذرا۔میں نے انکار کرنا ہی تھا میں اور وہ بس اچھے دوست ہیں بس۔ میں اس رشتے کو آگے بڑھانا نہیں چاہتی اتنی سی بات ہے۔
اپنی طرف سے اریزہ نے سبھائو سے بات ختم کردی۔
لیکن کیوں؟ گوارااتنئ حیران ہوئی تھی کہ کم باپ چبانا بھول گئ۔
ہیون تمہیں بہت پسند کرتا ہے تمہیں اندازہ نہیں ہوا کبھی اسکے دل میں تمہارے لیے الگ مقام ہے؟اور تم بھی تو پسند کرتی ہو نا اسے؟
نہیں پسند کرتی میں اسے۔میرا مطلب ہے اس نظر سے نہیں پسند کرتی میں۔ ہم اچھے دوست تھے ہیں اور رہیں گے۔
اریزہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہی تھی۔ گوارا کچھ کہتے کہتے رک کر چپ سی اسکی شکل دیکھنے لگی۔ اتنے غور سے کہ وہ گڑبڑا سی گئ
کیا ہوا؟ قصدا اسے ٹوک کر اس نے اپنے کولڈ ڈرنک کا کین اٹھا کر منہ سے لگا لیا۔
مجھے لگتا ہے تمہیں خود کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
گوارا نے گہری سانس لی پھر اپنا بقیہ کم باپ ختم کرنے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب تک پہنچا ہیون کی سب توانائیاں ختم ہو چکی تھیں۔ وہیں کائوچ پر اوندھا پڑا تھا اسکے ساتھ شغل میں مصروف غیر ملکی سیاح تھک تھکا کر اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔
ہیون ۔۔
اس نے آگے بڑھ کر بمشکل ہیون کو سیدھا کیا۔
پسینے میں تر پیشانی سرخ چہرہ۔ وہ تاسف سے اسکا پسینہ صاف کرنے لگا۔ مینجر پاس آکھڑا ہوا تو اسے ڈانٹے بنا نہ رہ سکا
اسکو اندر تو لے جاتے کوئی گرم کپڑا تولیہ ہی ڈال دیتے اسے نمونیا ہوگیا تو کون ذمہ دار ہوگا؟
یہ سریہ گائون یہ تولیہ سب سر نے ابھی اٹھا کے پھینکی ہیں ۔
وہ منمنایا۔
واقعی اسکے کائوچ کے گرد گائون تولیہ کمبل تک پڑا تھا۔
کم سنا۔ کہاں تھے اتنی دیر سے پکار رہا تھا میں۔
ہیون بہکے بہکے انداز میں بول رہا تھا۔
چلو میں تمہیں لینے ہی آیا ہوں۔ اس نے اسکو سہارا دے کر اٹھایا تو وہ بنا چوں چراں کیئے اٹھنے لگا۔ اسکا نشہ مدہوش کر رہا تھا اسے جبھی گرنے ہی لگا جیسے۔
سہارا دو اب اسے۔
اس نے مینجر کو کہا تو ایک طرف سے اس نے سہارا دیا دوسرے سے کم سن نے اسے گھر لے جانے کی بجائے اسکے سوئیٹ لے آیا تھا۔ اسکو لٹا کر کمبل اڑھایا۔اس نے تکیئے پر سر پٹخا۔
کھوجے مار۔۔ ( جھوٹی)
مینجر نے چونک کے اسکی شکل دیکھی تھی۔
اس نے اسے جانے کا اشارہ کیا۔ ہیون نے اسکا ہاتھ تھام لیا وہ اب نشے میں بڑبڑا رہا تھا۔
اس کو مجھ سے پیار ہوا ہی نہیں۔۔۔۔ہچکی ۔ کھوجے مار۔۔۔ اسکو ہوا تھا اسکو ہے مجھ سے۔ میں نے دیکھا ہے اسکو پروا تھی میری۔ وہ بس مانتی نہیں۔ وہ مانتی کیوں نہیں۔۔
کم سن نے اسکا ہاتھ تسلی آمیز انداز میں تھپکا۔ وہ بڑبڑا کر کروٹ بدل گیا۔
اس پر کمبل درست کرکے وہ الٹے قدموں واپس ہوا۔
گاڑی میں بیٹھی سنتھیاتھک کر اونگھنے لگی تھی جب وہ واپس آیا۔
بیان مجھے ذیادہ وقت لگ گیا۔
اس نے فورا معزرت کی۔ سنتھیا نے سر ہلا دیا۔اور کر بھی کیا سکتی تھی۔
ضرورت کے وقت دوست ہی دوست کے کام آتا ہے۔
کم سن نے گاڑی روکتے ہوئے اسے مخاطب کیا تھا وہ نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگی پھر گردن گھما کر دیکھا تو وہ گوارا کی بلڈنگ کی پارکنگ میں کھڑے تھے۔
نو نو۔نو وے میں اریزہ کے ساتھ جا کر ہرگزنہیں رہ سکتی۔ اس سے بہتر ہے مجھے پولیس کے حوالے کردو۔
وہ یکدم سمجھ کر بپھر کر بولی
پولیس کے حوالے کرنے سے بہتر نہیں کہ تم اریزہ سے مدد لے لو۔
کم سن رسان سے بولا
کس منہ سے سامنا کروں گئ میں اسکا تم نہیں جانتے میں نے اسکو کیا کچھ کہا ہے وہ میری شکل بھئ نہیں دیکھنا چاہے گی تھوک دے گی مجھ پر۔
وہ کہتے کہتے روہانسی ہو چلی تھی۔
جہاں تک میں اریزہ کو جانتا ہوں وہ ایسا کچھ نہیں کرے گی۔ اور مجھ سے ذیادہ تو تم اپنی دوست کو جانتی ہوگی ہے نا۔
کم سن کی بات پر وہ چپ ہی رہ گئ۔ وہ اپنی طرف کا دروازہ کھول کر اترا تو سنتھیا کو بھی اترنا پڑا۔
کم سن کے ہمراہ قدم اٹھاتے اسکے قدم من من کے ہو رہے تھے۔۔ اس پر چلاتے ہوئے دھکا دینے سے لیکر اسکے منہ پر حقیقتا سوپ کا پیالہ مارنے تک اپنی ہر بدتمیزی یاد آرہی تھی تواپنے کہے جملوں کی سختی الگ اسے شرمندہ کر رہی تھی۔ ہتھیلیاں مسلتے اسکی بے چینی کم سن کی نگاہوں سے پوشیدہ نہ رہ سکی تھی۔کاش اریزہ اس پر واقعی تھوک دے۔اتنا لڑے کہ وہ اریزہ کے ساتھ کیئے اپنے برے سلوک پر پشیمان ہونے کی بجائے سوچے اس نے صحیح کیا۔ وہ خود کو ہر طرح کی صورتحال کیلئے تیار کر رہی تھی۔ تبھئ اسکی نگاہ سامنے پڑی۔ لفٹ میں لگے دیوارگیر آئینے میں وہ خود کو دیکھ کر حیران رہ گئ تھی۔ اسکا رنگ بالکل سیاہ پڑ چکا تھا۔ وہ برسوں کی بیمار دکھائی دیتی تھی۔
چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔ یہ شکل دیکھ کر اریزہ ترس کھا کر رکھ لے گی۔
خود ترسی کی انتہا پر پہنچتے اس نے سوچا تھا۔ لفٹ رک گئ تھی۔ کم سن اسے مستقل نوٹ کر رہا تھا۔
کاش اریزہ ہو ہی نہ گھر پر۔
یہ آخری سوچ دعا بن گئ تھی ۔ اس نے بہت دل سے دعا کی۔۔
جانتی ہو اریزہ بیمار ہے اسپتال میں داخل تھی وہ پچھلے کئی دنوں سے۔
کم سن نے اسکو بتانا ضروری سمجھا۔
کیوں؟ اس نے لمحہ بھر کے توقف کے بنا پریشان ہو کر پوچھا تھا۔
کم سن کے حسب توقع وہ فکر مند ہوئی تھی۔
اسکو نروس بریک ڈائون ہوا تھا۔ کم سن نے سرسری سے انداز سے کہتے اسکے اپارٹمنٹ کی بیل بجائی تھی۔
کیا؟ کیوں ؟ اب کیسی ہے وہ ٹھیک تو ہے نا؟
وہ بے اختیارئ سے اسکا بازو ہلا کر پوچھ رہی تھی۔
کم سن مسکرا دیا
خود پوچھ لینا۔
سنتھیا اسکے انداز پر شرمندہ سی ہوگئ۔ کئی بار بیل بجانے کے بعد بھی دروازہ نہ کھلا تو اس نے گوارا کو کال ملا دی۔
کہاں ہو؟ میں بیل بجا رہا ہوں اپارٹمنٹ کی ۔
آگے سے جو جواب ملا اس پر وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔
کب آئوگی واپس؟
وہ ہنگل میں بات کر رہا تھا اسکے پلے تو نہ پڑا مگر اندازہ ہوا کہ آج اسکی دعائوں کی قبولیت کا دن ہے۔پہلے پتہ ہوتا تو کچھ اور مانگ لیتئ اب بنا سوچے سمجھے مانگنے کا نتیجہ یہ تھا کہ اس شہر میں واحد جگہ جہاں اسے پناہ مل سکتی تھی وہ بھی اب میسر نہیں تھی۔
کم سن کال بند کرکے پیشانی مسلنے لگا۔
پولیس اسٹیشن چلو۔ اب جو ہوگا دیکھ لوں گی میں۔
اس نے ایکدم سے فیصلہ کیا تھا۔ مضبوط انداز میں کہتی سنتھیا کو دیکھ کرکم سن چونکا تھا اسےاتنے دنوں میں پہلی دفعہ اس میں پرانی والی سنتھیا نظر آئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بوسان پہنچ کرانہیں بس پکڑنی پڑی جب اسکے گائوں کے پاس اسٹاپ پر اتریں تو دن ڈھل چکا تھا شام کے سائے پھیل رہے تھے۔ یہاں سے انکو پیدل مزید چلنا تھا۔ انکے سامان کے بیگز میں تو پہیئے تھے پھر بھی اتنے سفر کی تھکن روم روم میں اتر رہی تھی۔
گوارا نے کال کرکے اپنے بھائی کو بلایاہوا تھاوہ کھلے کیبن والی سامان اٹھانے والی پک اپ نما گاڑی لیکرانکے پہنچنے کے دس پندرہ منٹ بعد پہنچا تھا۔بمشکل اٹھارہ انیس سال کا وہ ہائی اسکولر تھا جسے گوارا نے بنا لحاظ دو لگا بھی دی تھیں کہ دس منٹ انتظار کیوں کروایا۔جوابا وہ بس من من کر سکا۔ ان دس پندرہ منٹوں میں کھلی ٹھنڈی ہوا ہڈیوں کو جما رہی تھی اریزہ کی۔ سامان پیچھے رکھ کر گوارا نے خاص طور پر اسے آگے کی نشست پر بٹھایا خود وہ اور ہوپ پیچھے ہی سامان کے ساتھ بیٹھ گئیں۔
میں بھی پیچھے بیٹھ جاتی ۔۔ وہ منمنائی مگر گوارا نے ایک نہ سنی۔
تم سے یہاں کا موسم برداشت نہیں ہوگا بیمار پڑ جائو گئ۔
باہر خالی کھڑے سرد ہوا قلفی بنا رہی تھی یہ دونوں کھلی گاڑی میں جانے کیسے بیٹھی تھیں۔
خدا خدا کرکے گاڑی اونچئ نیچی تنگ سڑکوں سے گزر کر اس چھوٹے سے مگر خوب روشن پرانے کوریائئ طرز کے بنے ریستوران کے آگے جا کر رکی تھی۔
بڑی بڑی شہتیروں والا گھر جس کا ایک حصہ ریستوران بنا دیا تھا باقی رہائشی عمارت ملحقہ ہی تھی۔ اس وقت ریستوران بھرا ہوا تھا ڈھیر ساری چندی آنکھوں والی شکلوں سے۔ خوش گپیوں کی آوازیں گرم تازہ کھانے کی مہک ، شیشے کی دیواروں سے نظر آتی رونق۔ گوارا انکو ریستوران سے ملحق رہائشی عمارت میں لے آئی تھی۔ لکڑی کے فرش کھپچیوں شہتیروں سے سجے ورانڈے سے گزر کر چھوٹا سا پکا مکان تھا۔ اسکا بھائی انکا سامان لا رہا تھا۔ ہوپ اپنا سامان خود اٹھائے تھی مگر گوارا نے حقیقتا اسے گدھا ہی بنا دیا تھا اسکا اریزہ کا بیگ اٹھائے وہ غبارے کی طرح منہ پھلائے تھا۔
اندر لائونج میں ایک سات آٹھ سال کی بچی اور ایک دس بارہ سال کا بچہ کھانا کھاتے ہوئے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔
آننیانگ۔
گوارا نے خوشگوار سے انداز میں کہا۔
دونوں کھانا چھوڑ کر بھاگ کر آکر اس سے لپٹ گئے تھے۔
انی۔۔ نونا۔۔۔ ہم آپکو ہی یاد کر رہے تھے۔ آپ اتنی جلدی کیوں واپس چلی گئ تھیں آپ نے وعدہ کیا تھا کرسمس تک یہیں رہیں گی۔
دونوں اکٹھے بول رہے تھے۔حیرت انگیزطور پر اریزہ کو ان بچوں کا لہجہ سمجھ آگیا تھا۔ پوری نہ سہی مگر کرسمس تک رکنے کا وعدہ یاد دلانے والا جملہ پورا سمجھ آگیا تھا۔
تحفے دے کر تو گئ تھئ پھر بھی یاد کررہے تھے مجھے؟
گوارا نے بچے کی ناک کھینچتے چھیڑا
ہاں کیونکہ بے وقوف بچے ہیں نا یہ۔
اسکےبھائی نے منہ پھلاکر جتایا اورسامان وہیں ڈھیر کر دیا۔
ارے کمرے تک تو پہنچا دو۔
گوارا نے کہا مگر وہ ان سنی کرتا باہر نکل گیا۔
ہائش۔ وہ گھور کر رہ گئ۔ بچے اسے گھور رہے تھے
اب تم لوگوں کو کیا ہوا بھئ؟ وہ حیران ہوئی۔
ہم تحفوں کے بھوکے تھوڑی ہیں خوامخواہ ہی ۔
وہ خفا ہوگیا۔
ایک تو ہم یاد کررہے تھے آپکو نونا۔
دوسری نے بھی ٹھنک کر کہا۔
جانتی ہوں مزاق کر رہی تھی۔
اس نے پیار سے انکو ساتھ لپٹایا پھر ان دونوں کی جانب مڑ کر تعارف کرانے لگی۔
یہ سب میرے سوتیلے بہن بھائی ہیں۔نام بتانے کا فائدہ نہیں یاد نہیں رہے گا یہاں رہوگی تو یاد ہو ہی جائے گا۔
وہ ہنسی۔
یہ کون ہیں انی؟
بچوں کو اسکے نقوش مختلف لگے تھے جبھی خاص اسی کا پوچھا۔
یہ میری دوستیں ہیں انکا تم سب کو خیال رکھنا پڑے گا تھا سمجھے؟
گوارا نےتاکید کی تو وہ سب زور و شور سے سر ہلانے لگے۔
اریزہ کو پھولے پھولے گالوں والی بچی پر اتنا پیار آیا کہ بے ساختہ آگر بڑھ کر اسکے گالوں پر چٹکی بھر لی۔
بچی اس پیار کے مظاہرے پر شرما گئی۔
چلو تم دونوں منہ ہاتھ دھو لو میں کھانا لگواتی ہوں۔
گوارا آگے بڑھ کر بیگ اٹھانے لگی ۔
یہ جوتے بدلے بغیر اندر آگئ ہے۔
اس بچے نے ناگواری سے اسکے جوتوں کی جانب اشارہ کرکے کہا۔ وہ بری طرح شرمندہ ہوگئ۔ ایک اسکے سوا سب عادتا جوتے بدل چکے تھے ہوپ بھی ۔
بیان۔ اس نے فوراجھک کر معزرت کی۔اور جوتے اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیے۔ گوارا انہیں اپنے کمرے میں ہی ٹھہرا رہی تھی۔ اسکا کمرا چھوٹا سا ہی تھا مگر سلیقے سے سامان رکھا سمٹاہوا۔ اٹیچ باتھ روم بھی تھا۔ پرانے طرز کی روائتئ کوریائی طرز تعمیر بس گھر کے باہر تک ہی محدود تھئ اندر سے کافی نئے انداز کا پکا مکان تھا باتھ روم بھی جدید طرز کا تھا۔اتنی سردی میں نہانے کا تو ارادہ نہ بنا منہ ہاتھ دھو کر باہر آئی تو گوارا انکے لئے چھوٹی سی میز پر کھانا رکھ کے اند رہی لے آئی۔
چاول مٹر پکے ہوئے تھے۔ ساتھ چکن ویجی ٹیبل سوپ۔
خاص کر تمہارے لیئے چاولوں میں مٹر ڈلوانے کا کہا تھا آہموجی سے۔مکمل ویج کھانا ہے سکون سے کھائو۔
اس نے تسلی بھی دے دی۔ ہوپ سوپ پی رہی تھی۔
ابلے ہوئے چاول ابلے ہوئے مٹر کے ساتھ پکے ہوئے تھے۔ اس نے ڈرتے ڈرتے منہ میں رکھا نمکین مختلف ذائقہ۔ حیرت انگیز طور پر برا نہیں تھا۔وہ رغبت سے کھا رہی تھی گوارا کی آہمونی ان سے ملنے چلی آئیں۔ روائتی کوریائی نقوش کی گوری چٹی گوارا سے خطرناک مشابہت ۔ نہایت ہی پیاری مسکان سجائے وہ محبت سے ملنے آئی تھیں۔
ہوپ اور اریزہ ان سے ملنے فورا اٹھ کھڑی ہوئیں۔
آنیا آنیا۔ بیٹھو کھانا کھائو۔
دونوں ہاتھ ہلا ہلا کر وہ انکو منع کر رہی تھیں۔ ہوپ نے تو کوریائی انداز سے جھکنےپر اکتفا کیا۔ اریزہ آگے بڑھ کر ان کے گلے لگ گئ۔ یہ انکے لیئے غیر متوقع تھا مگر بہت پیار سے انہوں نے اسے ساتھ لگایا۔ گوارا نے مسکراہٹ دبائی۔
پھر جانے ہنگل میں کیا پوچھنے لگیں۔
آہمونی پوچھ رہی ہیں کھانا کیسا لگا تمہیں؟
گوارا نے ترجمہ کیا۔
۔ماشیتا۔ ( بہت مزے کا)چھائے موکے سبندا۔
اریزہ نے ساری ہنگل جھاڑی تو وہ خوش ہو کر کچھ بتانے لگیں۔ انکی بات سنتی گوارا چیخ پڑی
کیا؟ آپکو منع کیا تھا نا میں نے۔۔
مزے لیکر چاول کھاتی اریزہ حیرت سے اسکا برتائو دیکھنے لگی۔ ایکدم اچانک کیا ہوا۔ ہوپ نے اریزہ کے ہاتھ سے پلیٹ لے لی۔
دونوں ماں بیٹی میں بحث جاری تھی ۔ آہمونی جھک جھک کر معزرت کرنے لگیں۔
کوئی بات نہیں جانے دیں اس بات کو۔
ہوپ نے اخلاقا دخل دیا اور گوارا کو بھی چپ کرایا۔
ہائش۔ گوارا سر پکڑ کر رہ گئ۔
کیا ہوا۔
اریزہ حیران پریشان تھی۔
اب اسے نہ بتا دینا ورنہ یہیں کھانا چھوڑ دے گی۔
گوارا نے ہوپ سے کہا۔ تو جوابا وہ نفی میں سر ہلاگئ
نہیں بتانا تو چاہیئے یہ اتنی سخت ہے اپنی مزہبی رسومات میں ہمیں اسے دھوکا نہیں دینا چاہیئے
ہوا کیا ہے کچھ مجھے بھئ تو بتائو۔
اریزہ جھلا گئ
در اصل آنٹی نے مٹرچاول میں سور کا سالن بھی ڈال دیا تھا۔ گوشت نکال کے۔
ہوپ نے بتایا تو وہ سر ہلا کر بولی۔
اوہ اچھا ۔ پلیٹ دوبارہ اٹھانے لگی تو دماغ میں گھنٹی بجی۔
اتنے مزے لے لے کر وہ آدھی پلیٹ کھا چکی تھی۔ اس نے پلیٹ چھوڑ دی۔ گوارا نے ہوپ کو گھورا
دیکھا کہا تھا نا میں نے۔۔
سچ بتانا بھی تو ضروری تھا نا۔
ہوپ بے نیازی سے بولی۔
اریزہ کو نیا غم لاحق ہوچکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہی ہو نا میں بات کر رہا تھا میری بات کاٹ کر فون بند کردیا کوئی کام پڑتا ہے تو میں فورا یاد آتا ہوں تمہیں۔
صارم کو موقع ملا تھا کیسے نہ بدلہ لیتا۔
اوفوہ ۔ وہ جھلا گئ۔ ایک تو اتنی سردی میں جیکٹ مفلر لپیٹ کر باہرصحن میں آکر اس کو کال ملائی اوپر سے وہ اصل مسلئے کی بجائے اپنی بے پر کی ہانک رہا تھا۔
صارم پلیز میں سنجیدہ ہوں۔ وہ رودینے کو تھی۔
میں بھی سنجیدہ ہوں۔ مجھ سے بدتمیزیاں کرنے سے پہلے سوچتی کیوں نہیں ہو میرے سوا اس دنیا میں تمہارا ہے ہی کون۔ اب منتیں بھی کرلوگی مگر دوبارہ میٹر گھومے گا اور تو کون میں کون ۔
وہ چمک کر بولا۔
صارم کے بچےآٹھ بجے ہیں اندر سب سونے لیٹ گئے ہیں میں اکیلی باہر اتنی سردی میں پھر رہی ہوں بھائی نہیں ہو ؟ ذرا ترس نہیں آرہا تمہیں مجھ پر۔
ہاں تو میں بھی باہر ہی ہوں ٹیرس پر۔یہاں بھی پانچ ڈگری ہو رہا ہے درجہ حرارت۔
وہ ترس کھانے کو تیار نہ تھا۔
میں اس نے موبائل کان سے ہٹا کر ویدر ایپ دیکھی۔ سیول کا ہی درجہ حرارت بتا رہی تھی ابھی لوکیشن اپڈیٹ ہی نہیں کی تھی۔ وہاں تو شائد پھر برفباری ہو رہی تھی سنو بنی آرہی تھی ساتھ منفی تیرہ۔
یہاں منفی تیرہ ہو رہا ہے۔
اس کی بتاتے آواز کانپ کانپ گئ۔ دانت جو بج رہے تھے۔
ہیں؟ وہ پہلی بار چونکا۔
ہاں ۔ وہ کونسا ابھی بوسان کا ویدر دیکھ کر اسے شرمندہ کرے گا۔ اس نے ڈھٹائی سے کہا۔
ٹھہرو میں دیکھتا ہوں اتنی سردی میں تم زندہ کیسے ہو یہاں تو اکتوبر سے دو سوئٹریں چڑھا لیتئ تھیں۔
وہ سچ مچ ویدر نکالنے لگا تھا۔
سو کمینے مرے تھے جو تم پیدا ہوئے۔
وہ غصے میں چلا اٹھی۔
اسکے ایکدم زور سے بولنے پر مین گیٹ سے اندر داخل ہوتے اس شخص کے ہاتھ سے تھیلی چھوٹ کر نیچے گر گئ۔
گرنے کی آواز پر وہ چونک کے مڑی ۔ تیز بلب کی روشنی میں نووارد کا چہرہ واضح تھا۔ اسکے چہرے پر اسکو دیکھ کر خوشگوار حیرت در آئئ تھئ۔ اریزہ بھی اسے دیکھ کر فون کال بھول گئ تھی۔
جھک کر شاپر اٹھاتے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسکے پاس چلا آیا۔
اسلام و علیکم اریزہ ۔کافی خوشگوار سرپرائز ہے ۔ کیا حال ہے تمہارا؟
علی مسکراتے ہوئے اسکا احوال پوچھ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے

kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ? rate us below

Rating
https://desikimchi.com/a-good-day-to-be-a-dog-first-episode-review/
https://urduz.com/takabur-kahani-%d8%aa%da%a9%d8%a8%d8%b1%da%a9%db%8c-%d8%a8%d9%88-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c/

ایک تھی مچھلی۔ اسکو شیشے کے گھر میں کسی نے کتب خانے میں رکھا ہوا تھا۔ روز لوگوں کو گھنٹوں گردن جھکائے کتابیں پڑھتے دیکھ کر اسے بھی پڑھنے کا شوق ہو گیا۔اپنی محدود جگہ میں تیرتے ہوئے لوگوں کو کتابیں پڑھتے دیکھ دیکھ کر ادھر سے ادھر ہوتی جاتی اور پڑھتی جاتی۔ یوں  فلسفہ، تاریخ ، سائنس ، اردو ادب غرض ہر موضوع پر کتابیں پڑھتی گئ۔ 
یہاں تک کہ اسے ادراک ہوا کہ تعلیم نے اسکی شخصیت بدل کر رکھ دی ہے۔ اب وہ عام مچھلی کی طرح تیرنے اور کھانے کی بجائے سوچوں میں گم 
رہتی ۔ ایک دن سوچتے ہوئے مراقبے میں چلی گئ۔
کتب خانے کے ملازم کی صفائی کرتے ہوئے اس پر نظر پڑی سمجھا مر گئ۔ اسے نکال کر میز پر رکھے اخبار پر رکھ دیا کہ صفائی کے بعد پھینک دے گا۔ مچھلی نے پڑھ رکھا تھا کہ ایک عام مچھلی 10 منٹ تک پانی کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے سو اس مہلت کو غنیمت جان کر اس کی علم کی پیاس مزید بھڑک اٹھی۔ اس نے اسی اخبار کو پڑھنا شروع کردیا۔ اخبار پڑھتے اسکی حالت غیرہونے لگی خوف کے مارے اسکی آنکھیں ابل سی پڑیں اس نے بے تابی سے اپنے پر اور سر کو اخبار پر پٹخنا شروع کردیا ۔ اخبار پھڑپھڑا اٹھا۔کتب خانے کی خاموشی کی چادر میں دراڑ پڑی۔ ملازم نے چونک کے اسے پھڑکتے دیکھا تو احتیاط سے اٹھا کر واپس شیشے کے گھر میں ڈال دیا۔ پانی ملا سانس بحال ہوئی سب سکھئ سہیلیاں جو اسکی موت کے غم میں مغموم تھیں آکر خوشی سے اس سے لپٹ گئیں۔ مچھلی تڑپ تڑپ کر رونے لگی۔ سب حیران ہوئیں کیوں روتی ہو؟ مچھلی نے ہچکیاں لیتے ہوئے بتایا جس اخبار پر اسے ملازم لٹا گیا تھا اس اخبار میں کھانا پکانے کی ترکیب درج تھی۔ اسے پڑھ کر رونا آگیا۔ سب مچھلیاں اسکی بیوقوفی پر ہنس پڑیں۔مچھلی نے کچھ کہنا چاہا مگر انکے مطمئن چہرے دیکھ کر ہمت نہ ہوئی لب سی لیئے اور اپنے کونے میں آبیٹھی۔ 
اسے یاد آیا تھا کہیں پڑھا تھا علم شعور کے دروا کرتا ہے اسے شعور آگیا تھا سو چپ رہنے کا فیصلہ کیا۔ 
دراصل اس مچھلی نے جو اخبار میں کھانا پکانے کی ترکیب پڑھی تھی وہ ترکیب تلی ہوئی مچھلی بنانے کی ہی تھی۔ 
نتیجہ: جو جان جاتا ہے وہ یہ بھی جان جاتا ہے کہ جاننا جان لیوا بھی ہوتا ہے۔ 

urduz.com/ kuch acha perho #urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen #vaiza #hajoometanhai