salam korea by
vaiza zaidi


قسط 40


صبح اسکی معمول سے پہلے ہی آنکھ کھل گئ تھی۔ شائد پرسکون گہری نیند کا اثر تھا بخار بھی ختم تھا۔گوارا اور جی ہائے بے خبر سو رہی تھیں۔ اس نے کروٹ بدل کر دوبارہ سو جانا چاہا مگر نیند پوری ہو چکی تھی۔ وہ احتیاط سے بیڈ سے اتر کر ان دونوں کو پھلانگتی باہر نکل آئی۔ نہانے کا تو اتنی سردی میں دل نہ کیا منہ ہاتھ اچھی طرح دھو کر بال سنوار کر باہر نکل آئی۔ گائوں میں نکلتے سورج کے ساتھ چہل پہل کا آغاز ہوچکا تھا۔ وہ دلچسپی سے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھنے لگی۔ ہلکے بادلوں میں سے چھن چھن کر آتی سردیوں کی دھوپ۔
گہری سانسیں لیکر دھوپ کھا کر احساس ہوا کہ بھوک نہیں مٹئ۔ گوارا تو جانے کب اٹھے یہاں کوریا میں کنوینیئنس اسٹور جا بجا ہوتے ہیں بہتر یہی تھا کوئی بن وغیرہ کافی کے ساتھ لے لے۔ یہی سوچ کر واپس کمرے میں آکر اپنا والٹ اٹھایا۔ ساتھ ہی موبائل بھی رکھا تھا مگر ذرا سا کنوینئینس اسٹور تک جانے کیلئے موبائل کیا کرنا یہی سوچ کر رکھ دیا۔ یہاں کے راستوں کا بھی پتہ نہیں تھا سو آہجومہ سے پوچھنے وہ ریستوران میں کھٹر پٹر کی آوازیں سنتی ادھر ہی چلی آئی۔ گوارا کے بہن بھائی اور والدہ ناشتہ کر رہے تھے۔
ارے آگاشی۔ آئو آئو ناشتہ کرلو ہمارے ساتھ۔حسب توقع انہوں نے فورا اسے دعوت دی۔
شکریہ۔ وہ انکے ساتھ کھا نہیں سکتی تھی سرسری سئ نگاہ ڈالنے پر اندازہ ہوجاتا تھا ۔ صبح صبح سفید چاولوں کو پورک سوپ اور کمچی کے ساتھ کھا رہے تھے۔
یہاں کہیں کوئی کنوینئینس اسٹور ہے تو بتا دیں۔۔
اسکی شستہ انگریزی کو آہجومہ تو نہیں اسکا نک پھلا بھائی سمجھ گیا تھا۔
ادھر سے سیدھی سڑک پر جا کر الٹے ہاتھ۔
اس نے زبانئ بتانا کافی سمجھا اور سر جھکا لیا۔ آہجومہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر اسے ٹوکا اسے تو سمجھ نہ آیا مگر انہوں نے اسے ساتھ جا نے کو کہا تھا جبکہ وہ جوابا غصے میں بڑبڑایا ناشتہ کر رہا ہوں اور یہ کوئی بچی تھوڑی۔
وہ کوریائی انداز میں سر جھکا کر رخصت لیتئ باہر چلی آئی۔ اونچے نیچے پہاڑئ راستے پر یہ راستہ اتنا چھوٹا یا آسان ہرگز نہ تھا جتنا اس نے بتایا۔ نیچے سڑک تک جا کر اس نے دائیں بائیں دیکھا تو دور اسے سیون الیون نظر آیا۔ یقینا یہ عوامی شاہراہ کے قریب تھا ریستوران جبھی سیون الیون اس پکی سڑک پر نیون سائن کے طو رپر جگمگا رہا تھا۔اس نے اللہ کا نام لے کر چلنا شروع کیا۔ چلتے چلتے جب اس کو لگا وہ ختم ہو جائے سڑک نہیں تو تھک کر وہیں سڑک کنارے پتھریلی دیوار سے ٹیک لگا کر ہانپنے لگی۔
خاصا کمینہ پن کیا ہے یہ تو بتانا تھا کہ دور کتنا ہے۔ فیصل مسجد کی طرح سامنے نظر آرہا ہے مگر سڑک ختم نہیں ہو رہی۔ اف اس نے اپنے اپر کی جیب میں ہاتھ ڈال کر فون نکالنا چاہا۔ مگر جیب سے ہاتھ خالئ ہی نکلا۔
اس نے مڑ کر دیکھا واپسی کا راستہ آگے والے راستے سے ذیادہ طویل لگا بہتر یہی تھا تھوڑی پیٹ پوجا کرکے توانائی بھر کے واپسی کی راہ لی جائے۔اللہ کا نام لیکر دوبارہ چلنا شروع کیا آخر پہنچ ہی گئ۔ سب سے پہلے سیٹ ڈھونڈ کر ڈھیر ہوئی۔ ٹانگیں جیسے ٹوٹنے لگی تھیں۔
اسے واضح محسوس ہوا کہ ایکدم سے خاموشی چھا گئ ہے۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس سپر اسٹور کے کائونٹر پر کھڑے ملازمین اور دیگر صفائی پر معمور بھی خاموشی سے کھڑے اس کی شکل دیکھ رہے تھے۔
کورینز اچھے خاصے اپنے کام سے کام رکھنےو الے لوگ ہیں غیر ملکی شکلوں کو دیکھ کر بھئ نظر انداز کرنے والے۔ یہ اسکے لیئے یکسر نیا تجربہ تھا۔ اس نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔ انکے چہروں پر واضح حیرت دوڑی۔
مگر وہ خوش ہوئے۔ جھک کر آننیانگ ہاسے او بھئ کہا۔
آننیانگ ہاسے او۔
وہ بھی مسکرا دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقریبا ان سب کے ساتھ تصویریں بنوا کر ناشتے کے طور پر بن اور سینڈوچ کھا کر اور دوپہر اور رات کے لیئے بھی یہ دو تین چیزیں لیکر وہ نکلی تھی۔
ملازمین کچھ ہائی اسکولر لگ رہے تھے ایک دو بڑے بھی تھے سب کا اتنا خاص برتائو اسے عجیب بھی لگا اور مزا بھی آیا۔ سلیبریٹی جیسا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ ترنگ میں نکلی تھی تو یقینا ایسا ہی غیر ملکیوں کو لگتا ہوگا جب وہ پاکستان آتے اور لوگ گھیر لیتے ۔ میں سوچتی تھی کہ کیا غلط حرکت ہے چڑا دیتے ہوں گے اسطرح تو لوگ انکو مگر غیر ملکی کتنے سبھائو سے بات کرتے ہیں تصویریں کھنچواتے ہیں بہت اچھے ہیں۔انہیں خود بھئ اچھا لگ رہا ہوتا ہوگا۔ جیسے مجھے لگ رہا ۔
وہ مزے سے ادھر ادھر دیکھتی سوچتی چل رہی تھی۔ اب اترائی تھی سڑک پر اسے اس وقت اندازہ نہ ہوا مگر چڑھائی کی وجہ سے اسکو ذیادہ تھکن محسوس ہوئی اترائی میں تو جھٹ پٹ اترتی چلی آرہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتہائی بکواس مارننگ گلوری کی آواز نے اسکی میٹھی نیند توڑی تھی۔
موبائل اب نہ اٹھایا تو میں موبائل توڑ دوں گی۔
گوارا نے کروٹ بدلتے غرا کر کہا تھا۔
پلیز توڑ دو اٹھ کر۔
ہوپ الگ جھلائی ہوئی تھی۔دونوں نے کروٹ اکٹھے بدلی ایک دوسرے کو گھورا پھر سر اٹھا کر آواز کی جانب۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر جل بجھ کرتا موبائل ان دونوں میں سے کسی کا نہیں تھا۔
اریزہ کی بچی۔
دونوں اکٹھے چلائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


گوارا کی والدہ تخت پر جانے کونسا ساگ پھیلائے بیٹھی تھیں گوارا اور ہوپ مالٹے کھاتی ادھر سے ادھر صحن میں چکر کاٹ رہی تھیں۔ گوارا کا بھائی خاموشی سے سر جھکائے بیٹھا ماں کا ہاتھ بٹا رہا تھا۔ تیسرے چکر پر گوارا نے چھلکے حقیقتا اسکے منہ پر مارے تھے۔
کیا ہے نونا۔
وہ جھلایا۔
تمہیں پتہ ہے نا ہائی وے والا کنویئنس اسٹور کتنا دور ہے اسے وہاں کیوں بھیجا؟ کونسی ایسی چیز ہے جو ریستوران میں موجود نہیں ہمارے؟
گوارا بھنا رہی تھی۔ سوینگ تھوڑا شرمندہ سا ہوامگر ڈھٹائی سے اپنی بات پر جما بھی رہا۔۔
مجھے لگا اسے کوئی چیز ایسی چاہیئے ہوگی جو ہمارے ریستوران میں نہیں جبھی تو پوچھ رہی۔
اسکی بات پر گوارا دانت کچکچا کر رہ گئی۔
راستہ نہ بھٹک گئ ہو۔
ہوپ نے خیال ظاہر کیا۔
سیدھئ سڑک ہے بیٹا۔ دائیں بائیں یا گھر ہیں یا جنگل و کھیت۔ وہ راستہ نہیں بھٹک سکتی ہاں ذیادہ وقت لگ گیا ہوگا اسے پہاڑی علاقے میں پیدل چلنا سب کےبس کی بات نہیں ہوتی ہے۔
آہموجئ نے سبھائو سے تسلی دی۔
آپ لوگ تو ایسے پریشان ہو رہی ہیں جیسے پانچ سال کی بچئ ہے آپکی دوست۔
سوینگ نے کہا تو گوارا نے اسکے سر پر چپت لگا ہی دی۔
چپ کرو تم۔ سخت غصہ آرہا ہے مجھے پہلے ہی تم پر۔
ہمیں اٹھے آدھا گھنٹہ ہو رہا ہے اور اسے گھر سے نکلے تین گھنٹے ہو رہے ہیں مجھے لگتا ہے ہمیں اسکے پیچھے جانا چاہیے۔
ہوپ کی بات میں دم تھا۔ گوارا کو بھی اب فکر ہو رہی تھی۔
پہلے کچھ کھا لو۔تم دونوں نے ناشتہ تک نہیں کیا اگر ناشتے تک نہ آئی واپس تو
آہجومہ کی بات ابھئ منہ میں ہی تھی وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی مین گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔ گوارا اور ہوپ لپک کر اسکے پاس آئیں۔ ہوپ نے اسکے ہاتھ سے دونوں شاپر لیئے تو گوارا پریشانی سے اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر احوال پوچھنے لگی
تم ٹھیک تو ہو نا؟ کہاں رہ گئ تھیں؟
میں ٹھیک ہوں فاصلہ کچھ ذیادہ تھا تو تھک گئ ہوں بس۔ اس نے اتنی فکر پر ہنس کر کہا۔
اور فون کس خوشی میں گھر چھوڑ کر گئی تھیں؟
ہوپ کو یاد آیا تو بلا لحاظ اسکے سر پر بھی ٹھونگا لگا دیا
وہ مجھے لگا تھا کنویئنس اسٹور قریب ہی ہوگا تو بس اس لیئے۔
فون گھر چھوڑنے کی عادت پر وہ خود بھی شرمندہ تھی۔ گوارا نے اسکی بات پر مڑ کر دوبارہ سوینگ کو گھورا۔
اچھا چلو ہمارے ساتھ ہم سب مالٹے کے باغ میں پھل اتارنے جا رہے ہیں ارادہ تو لنچ وہاں کرنے کا تھا مگر اب ناشتہ بھی وہیں کریں گے۔
گوارا نے فورا اگلا پروگرام بنایا۔
نہیں پلیز۔ اتنا چل کے مجھ میں اب مزید کہیں جانے کی ہمت نہیں ہے۔
وہ سنتے ہی گھبرا گئ۔
رہ لو گی اکیلے؟ گھر میں بس آہموجی ہوں گی وہ بھی کچن میں مصروف ہی ہوں گی۔
گوارا کی بات پر وہ سوچ میں پڑی مگر حقیقتا ا سوقت شدید تھکن محسوس ہو رہی تھی سو سہولت سے معذرت کرلی۔ گوارا اور ہوپ نے بھی اسکی حالت دیکھتے ذیادہ اصرار نہیں کیا۔
چلو سو ینگ بچوں کو لیکر آئو ہوپ گاڑی نکال رہی ہے۔
گوارا نے سوینگ کو آواز دی وہ فورا اچھل کر تخت سے اترا تھا۔بچے پہلے سے تیار اندر کھیل رہے تھے ایک آواز پر دوڑے آئے۔ گوارا فرنٹ سیٹ پر سوینگ بچوں کے ساتھ پیچھے بیٹھ گیا تھا۔ گاڑی جب تک نظر آتی رہی گوارا گاڑی کی کھڑکی سے سر نکال کر مس یو اور کورین ہارٹ بناتی رہی ہاتھ سےکبھی فلائنگ کس بھیجتئ۔۔ اسے البتہ فکر ہو رہی تھی سڑک خالی ہی تھی مگر یہ حرکت ٹھیک تھی نہیں۔ سو اسے منع کرتی رہی خدا خدا کرکے گاڑی نے موڑ موڑا تو وہ سر جھٹک کر اسکی دیوانگی پر مسکراتی اندر چلی آئی۔ آہجومہ ساگ بنا چکی تھیں اب ڈھیر اٹھا کراندر لے جارہی تھیں۔ من بھر کا ٹوکرا۔ تمیز کا تقاضا ۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر انکے ہاتھ سے لینا چاہا انہوں نے سہولت سے منع کردیا
بہت بھارئ ہے اٹھا نہیں پائوگی۔ وہ مصر ہوئئ تو اسکے بے حد اصرار پر انہوں نے اسے تھمایا۔ ٹوکرا توقع سے کہیں بھاری تھاوہ لڑکھڑائی ہی تھی کہ انہوں نے ہنس کر اس سے واپس لے لیا۔
تم لوگ آجکل کی بچیاں نہ ڈھنگ سے کھاتی پیتی ہو اوپر سے سیخ سلائی بننے کا شوق ہے۔
جان بالکل بھی نہیں ہے تم لوگوں میں۔
وہ جو کہہ رہی تھیں اسے ایک لفظ سمجھ نہیں آیا تھا۔سو بس مسکرانے پر اکتفا کیا۔
ریستوران اس وقت خالی تھا جو دو چار مستقل مہمان تھے وہ شائد ابھئ اٹھے نہیں تھے۔
وہ انکے ساتھ کچن میں چلی آئی۔ یہاں اتنی سردی نہیں تھی۔ آہجومہ مصالحے کمچی وغیرہ نکالنے لگیں۔ اس نے اپنی ہنگل کو جھاڑ پونچھ کر مدد کی پیشکش کی۔ آہجومہ مسکرا دیں۔
ایسا کرو تم گوشت دھو لو۔

اس نے سر ہلا کر گوشت کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا۔ سنک میں پلاسٹک کے شاپر انڈیلے ہوئے تھے شاید برف پگھلنے کی نیت سے۔
اس نے آگے بڑھ کر شاپر کھولنے شروع کیئے پانچ دس کلو گوشت تو تھا۔ اس نے اپر کے ہڈی میں پرویا کیچراتارا بال لپیٹ کر چٹکی لگائی آستینیں چڑھا کر تندہی سے اس کام میں لگ گئ۔ برف کافی حد تک پگھل چکی تھی نیم گرم پانی سے اس گوشت کو اچھی طرح بھگو کر دھونا شروع کیا۔ مسل مسل کر دھونا پڑا خون گوشت سے کچھ ذیادہ ہی رس رہا تھا۔ کچھ گوشت بھی ذیادہ ہی گلابی گلابی سی تھااور لجلجا سا بھی۔
دھل کر ایکدم سفید ہوگیا تھا۔
شائد یہاں کی گائیں بھی سکن کئئر روٹین فالو کرتی ہیں۔ وہ حسب عادت اردو میں بڑ بڑائی
گوشت دھو کر ایک بڑے سے پتیلے میں ڈالتہ جا رہی تھی دوسرا شاپر کھولا تو اب چھوٹے چھوٹے پائے آگئے تھے۔ یقینا یہ پائے الگ رکھنے ہوں گے۔ نل کے نیچے انڈیلتے اسے جھٹکا سا لگا۔
یہ پائے؟ اس نے پایا اٹھا کر غور سے دیکھا۔ بکرے کا پایا ہے نا یہ۔ اس نے تصدیق کرنا چاہی ۔ مگر چھٹی حس کچھ اور ہی کہہ رہی تھی۔اس نے مڑے بغیر پوچھا۔
یہ کس چیز کا گوشت ہے؟
دل دھک دھک کررہا تھا۔
انگریزئ میں پوچھ کے خیال آیا آہجومہ کو تو سمجھ ہی نہیں آیا ہوگا ابھئ ہنگل کو ہوا لگانے کا سوچ رہی تھی شستہ انگریزی میں ہی جواب آیا۔۔۔
یہ سب سور کا گوشت ہے۔
اس کو دھچکا سا پہنچا تھا۔ مڑ کر پیچھے دیکھا تو علی کوکنگ رینج کے پاس کھڑا اپنے لیئے ناشتہ بنا رہا تھا آہجومہ جانے کہاں چلی گئ تھیں ۔ اسے دیکھتے پا کر علی نے خیر سگالی انداز میں مسکرا کر ہلکا سا سر جھکایا جیسے سلام کر رہا ہو اس نے واپس رخ موڑا۔ نل کی موٹی دھار کھولے گوشت پر سے پانی گزارتے ۔۔۔ آہ ابھی بھی موٹی دھار گوشت پر گر رہی تھی۔ گوشت دھوتے کب اسکی چھینٹوں سے بچتے ہیں اور بچنا چاہیں بھی تو کیسے بچت ہوتی ہے بھلا۔ اسے تو لگا منہ سر تک یہی پانی پہنچنے لگا ہے ۔۔
حدیث کے مطابق آپ آبشار کے پاس بھی کھڑے ہوں تو پانی ضائع کرنا منع ہوتا ہے۔
مخاطب نے اسکے برابر آکر ٹونٹی بند کرتے ہوئے نصیحت کرنا ضروری سمجھا۔
اب تو جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔ اس نے بے بسی سے گوشت کو دیکھا اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔ اپر پر خون کے تو نہیں مگر پانی کے چھینٹے ضرور تھے۔ بے حد احتیاط سے دھونے کے باوجود۔
سارے کپڑے ناپاک ہو گئے۔ نماز بھی نہیں پڑھ سکتی اب تو میں۔
اسے دکھ ہو رہا تھا۔ یہ تاثرات اسکی شکل پر تھے۔
کیا ہوا ؟
اسکی بے چاری شکل دیکھ کر علی پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
کچھ نہیں۔ اس نے سابقہ تاثرات کے ساتھ منہ بنا کر دوبارہ ٹونٹی کھول لی۔ علی کندھے اچکا کر واپس چولہے کے پاس آگیا۔ وہ اپنے لیئے ناشتہ بنا رہا تھا رولڈ آملیٹ اور ٹوسٹ ساتھ کافی ۔۔
اپنا ناشتہ تیار کرتے اس کی گا ہے بگا ہے اس پر نظر پڑی تھی۔ وہ پوری توجہ سے گوشت دھو رہی تھی۔ گوشت دھونے کے بعد اس نے ہاتھ دھونا شروع کردیا تھا۔ اسکا ناشتہ تیار ہوگیا تو وہ ناشتہ لیکر باہر چلا آیا۔ ناشتہ کرکے برتن واپس رکھنے کچن میں آیا تووہ ابھی تک ہاتھ مسل مسل کر دھو رہی تھی۔
یہ کیا کر رہی ہو؟
وہ خاصامتفکر ہوکر اسکے پاس آیا۔
اس نے پانی کی دھار تو نہیں ذیادہ کھول رکھی تھی مگر اپنے ہاتھ برتن دھونے والے مائع سے دھو رہی تھی خوب رگڑ رگڑ کر۔ ساتھ آنکھوں کا بھی غسل جاری تھا۔
مجھے نہیں پتہ تھا یہ سور کا گوشت ہے ورنہ کبھی نہ دھوتی اوپر سے اتنا بدبو دار ہے اسکی بو بھی نہیں جا رہی۔
وہ روہانسی ہو چلی تھی۔
علی نے اسکی شکل دیکھی۔ وہ اس بات پر اتنی پریشان نظر آرہی تھی کہ لگتا تھا ابھی پھوٹ پھوٹ کر رودے گی۔
وہ چہرے کے قریب ہتھیلی لا کر جیسے اسکی بو محسوس کر رہی تھی۔ اسے ابھئ بھی جیسے بو آئی۔ اتنی کراہیت سے ہاتھ پیچھے کرکے دوبارہ اس نے نل کھولنے کیلئے ہاتھ بڑھایا بلا ارادہ اس نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔اریزہ نے چونک کے اسکی شکل دیکھی اسکا انداز سرسر ی تھا مگر گرفت مضبوط تھی۔ اسکے ہاتھ چھڑانے کی کوشش بالکل ناکام رہی ۔
بس ہوگیا۔اس نے قطیعت سے کہا تھااور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ باہر لےآیا۔
میں نے ہاتھ۔ ۔مجھے ہاتھ دھونے
اس نے ہاتھ دھونے تھے مزید مگر علی نے ہاتھ نہیں چھوڑا اسکو باہر صحن میں دھوپ میں لا کر تخت پربٹھایا۔ اسکے ہاتھ سردی سے سفید پڑ گئے تھے۔اس نے اپنی گردن میں لپیٹا مفلر اتارا اسکے سامنے اکڑوں بیٹھ کر اسکے ہاتھ اس مفلر میں اچھی طرح لپیٹ دیئے۔اریزہ ضبط کرنے کی کوشش کر تو رہی تھی مگر آنسو اسکے گالوں پر پھسل آئے تھے۔۔
اسکی شکل دیکھتے اسے ہنسی آگئ تھی ۔ بہت روکتے روکتے بھی وہ چہرے پر پھیل آنے والی مسکراہٹ نہ روک سکا۔
اسکی مسکراہٹ اسے مزید جلا گئ۔
کیوں ہنس رہے ہو آپ؟ یہ مزاحیہ لگ رہا ہے آپکو۔
وہ غصے میں صحیح ہنگل بول گئ۔
ہاں۔ علی نے اطمینان سے سر ہلایا۔ پھر ہنس کر وہیں زمین پر ٹک گیا۔ دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹکا اطمینان سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر محظوظ انداز سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔
ایک بات تو بتائو مجھے ہنسئ آرہی ہے مجھے وجہ پتہ ہے مگر تم جانتی ہو کیا کہ رو کیوں رہی ہو؟
کل سور کھا لیا آج سور کا گوشت ہاتھ میں لیئے رہی یہ چھوٹی بات ہے۔
وہ اب چہکوں پہکوں رو دی۔ علی کو ہنسی بھی آرہی تھی اور اسکو چپ کرانا بھی ضروری تھا ۔ اپنے ہاتھ مفلر میں لپٹے ہونے کے باوجود وہ اپنے چہرے تک نہیں لا رہی تھی۔ لگ رہا تھا اسکے ہاتھ باندھ کر بٹھایا ہوا ہو اس نے۔ سر جھکا کر سڑ سڑ کرتی روتی اریزہ کو دیکھ کر اسے صرف ہنسی آرہی تھی۔ بمشکل ہنسی ضبط کرکے اسے سبھائو سے پکارنا شروع کیا۔
اچھا نا روئو مت۔بات سنو ۔ اریزہ۔ پہلے بات سن لو میری پھر خوب رو لینا؟
اسکی بات پر اریزہ نے تیکھی نگاہ ڈالی۔
گڈ۔ اب بتائو گوشت دھو دیا تم نے؟ ہاتھ گندے ہوئے وہ بھی دھو لیئے۔ صابن سے پانی سے اب سب ٹھیک ہو گیا ہے۔ میرا یقین کرو۔
شستہ انگریزئ میں وہ اسکو بہلا رہا تھا۔
میرے سارے کپڑوں پر چھینٹیں آگئیں میں نے نماز پڑھنی تھی۔
وہ بین کرنے والے انداز میں بولی۔
تو ایسا کرو کپڑے بدل لو جا کر۔
وہ اسے بچوں کی طرح ہی سمجھا رہا تھا۔
اور میں نے سر پر ہاتھ لگا لیا ہوگا مجھے عادت ہے بار بار لٹ پیچھے کرنے کی۔
وہ باقائدہ مفلر والے ہاتھ اٹھا کر اپنے چہرے پر بکھر آنے والی لٹوں کو پیچھے کرتی لائیو ڈیمو بھی دے رہئ تھی۔ ہلکی سرخ ہوتی ناک رو رو کے گلابئ آنکھیں۔ اس کا انداز اتنا بچکانہ تھا کہ وہ لاشعوری طور پر اسے بچوں کی طرح ہی سمجھانے لگا۔
نہا لو۔ کپڑے بدل کر نماز پڑھ لینا۔
اسکے سبھائو سے کہنے پر اسکی عقل کی بتی جلی۔ ساتھ ہی اپنی بے وقوفی پر شرمندگی بھی ہونا شروع ہوئئ۔
ہوں۔ اس کو احساس ہوا کیا حماقت کی ہے۔
اب ذرا مفلر کھول کر اپنے ہاتھ دیکھو۔ اتنا رگڑتا ہے کوئی؟ بالکل پا۔۔
وہ پاگل کہتے کہتے رک گیا۔
پھابو۔ ہاتھ صابن سے دھو لیئے صاف ہوگئے تین بار پانی گزارا پاک بھی ہو گئے۔
اس نے شرمندگی سے مفلر کھولا اسکے ہاتھوں کی جلد سکڑ چکی تھی۔ ٹھنڈے ٹھار برف جیسے تو ہو رہے تھے ساتھ اس نے ہتھیلی ناک کے قریب لا کر سونگھنا چاہا تو بو ابھی بھی محسوس ہوئی
ابھی بھی آرہی ہے۔
اس نے جیسے شکایت لگائی۔
ادھر دکھائو۔
اس نے آگے ہو کر اسکی ہتھیلی تھامی اوراحتیاط سے اپنی ناک کے قریب لایا۔ اسکا انداز اتنا بے ضرر تھا کہ اریزہ جز بز سی ہو کر رہ گئ۔ لمحے بھر میں اس نے ہاتھ چھوڑ بھی دیا۔
لیمن ڈش واش لیکوئیڈ کی بو آرہی ہے اب بس۔ دراصل تم نے دس کلو کے قریب گوشت دھویا ہے سور کا تو یہ عام جانوروں کے گوشت سے ذیادہ بودار ہوتا ہے۔ اسکی بو تمہارے حواس پر سوار ہوگئ ہے۔
اسکی بات میں دم تھا اسکا انداز اتنا پر اثر تھا کہ وہ اپنے آنسو پونچھنے لگی۔
مجھے بالکل اندازہ نہیں ہوا کہ دس کلو تھا۔ آپکوکیسے پتہ ؟ تھوڑا ذیادہ تو تھا مگر اتنا ذیادہ ہے یہ نہیں پتہ تھا۔
گوشت تو کئی بار دھویا مگر دس کلو زندگی میں پہلی بار اکٹھے دھویا تھا۔
مجھے ایسے پتہ ہے کہ یہ ڈی فراسٹ کرنے میں نے نکال کر رکھا تھا ۔ میرا ارادہ تھا دھونے کا بھی مگر ناشتے کے بعد۔ اس سے قبل تم نے آہجومہ کو پیشکش کردی دھونے کی۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں بتانے لگا۔
آپ تو مسلمان ہیں نا؟ سور کا گوشت دھو دیتے؟ سور کو ہاتھ لگا لیتے؟
اریزہ کو حیرت ہوئی۔
ہاں اسکے بعد ہاتھ دھو لیتا موڈ ہوتا نہا لیتا مگر اس بات پرروتا نہیں کہ سور چھو لیا۔
وہ اب مزاق اڑا رہا تھا۔ اریزہ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
میں نے نیک نیتی سے مدد کی پیشکش کی تھی آہجومہ اکیلی کام کر رہی تھیں اسلیے۔
بالکل۔ تم نے نیکی ہی کی ہے۔ علئ اسے چڑانا نہیں چاہ رہا تھا جبھی صلح جویانہ انداز میں بولا
اب اچھے بچوں کی طرح اٹھو جا کر کپڑے بدل لو۔ رونا دھونا بند کرو۔
وہ خود بھی کپڑے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
اریزہ نے بھی سر ہلایا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
اسے دیکھتے یونہی اسے اپنا حال یاد آیا تھا۔
تم آدھے گھنٹے سے وضو کیوں کیئے جا رہے ہو؟ ہوگیا بس بیٹا۔۔
وہ کتنی ہی دیر سے باتھ روم میں بند تھا جب عبدالھادی دروازہ کھٹکا کر اندر آئے تو اسے بے بسی سے بیسن کے آگے روتے ہوئے کھڑا پایا۔
جو پیدائشئ مسلمان ہیں نا کتنا آسان ہے ان کیلئے یہ سب کرنا مجھے بھول جاتا ہے پہلے ناک میں پانی ڈالنا تھا یا کلی کرنی تھی۔ میں ہر بار وضو کرتا ہوں ہر بار کوئی غلطی ہوجاتی ہے۔۔ مجھے وضو کرنا ہے مگر مجھ سے ہونہیں رہا۔
وہ رو رہا تھا مگر جانتا تھا اپنے رونے کی وجہ اس وقت یہ سمجھ نہ آیا کہ اریزہ کیوں رو پڑی تھی؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نرم گرم سی دھوپ ہڈیوں کو جماتی سردی کا اثر ذائل کر رہی تھی۔ گوارا مالٹے چنتے رخ موڑ کر سورج کی طرف کرکے آنکھیں بند کرکئ جیسے اسکی دھوپ کو روح تک محسوس کر رہی تھی۔
نیا سن اسکرین لیا ہے کیا آہجومہ۔
اسکے بھائی نے فورا جملہ چست کیا۔ اس نے فورا اسکو گھورا پھر بڑی بہن ہونے کا رعب جھاڑتے بولی
آہجوشی اپنے کام سے کام رکھو۔ شام تک باغ مکمل خالی کرنا ہے۔
جس رفتار سے کام کر رہی ہو اگلی کئی شامیں یہی کام کرتے گزرنی ہیں۔
اس نے مالٹے توڑتے طنز اچھالا۔ سامنے والی پیڑوں کی قطار سے ہوپ کسی معمول کی طرح پھل ٹھکا ٹھک اتار رہی تھی جیسے بچپن سے یہی کام کرتی آئی ہو۔اسکی پھرتی کو دیکھ کر گوارا بھئ متاثر ہوئی ۔
ویسے تم اس روبوٹ کو کہاں سے درآمد کرکے لائی ہو۔ ہم دونوں ہاتھ جھاڑ کر بیٹھ جائیں تو بھی شام تک یہ آہجومہ باغ کا پھل اتار چکی ہوگی۔
گوارا اسے ہی دیکھ رہی تھی جب سوینگ نے متاثر ہو جانے والے انداز میں ہونٹ گول کرکے پہلے وائو کہا پھر اس سے پوچھا۔
نونا کہو بڑی ہے مگر آہجومہ نہیں ہے۔
گوارا نے فورا ٹوکا
تم ہر کسی کو مجھ سے بڑا بنا دیا کرو۔ وہ برا مان گیا۔
میرا ارادہ اسے لائن مارنے کاتھا بھی نہیں ایسی سوکھی سڑی لڑکی مجھے وارا نہیں کھاتی ۔ اور تم کو نونا کہتا نہیں اسکو کیوں کہوں تم سے تو دو تین سال چھوٹی ہی ہوگی۔ میری ہم عمر ہوگی یقینا۔
سوینگ قیاس آرائی کر رہا تھا۔ گوارا نے لب کھولے اسکی غلط فہمی دور کرنے کو پھر سر جھٹک کر اپنی مالٹوں سے بھری ٹوکری اٹھائے ہوپ کے پاس چلی آئی۔
آرام سے ہوپ۔ہم یہاں کام کرنے تو آئے ہیں مگر ایسی بھی کوئی مشینی رفتار سے کام کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم تو کئی دن لگا تے باتیں کرتے پھل اتارتے ساتھ ساتھ ان گنت کینو کھاتے بھی جاتے ہیں۔
وہ ٹوکری نیچے رکھ کر موٹا سامالٹا نکال کر چھیلنے لگی۔
یہ لو۔
اس نے آگے بڑھ کر ہوپ کے منہ میں ڈالنا چاہا ہوپ نے منہ کھولا ہی نہیں الٹا اسکی شکل دیکھنے لگی کہ وہ گڑبڑا کر واپس پھانک اپنے منہ میں ڈال گئ۔
کام کے دوران ہوپ کھانے کیا بولنے کیلئے بھئ منہ نہیں کھولتی جبھی اتنی رفتار ہے
اس نے سوچا ہی تھا مگر اسکا اندازہ غلط نکلا۔ ہوپ نے ٹوکری نیچے رکھ کر ہاتھ جھاڑے اور بولی۔
پھر تو تمہاری والدہ کو کافی نقصان ہوتا ہوگا۔
خوامخواہ۔ گوارا نے منہ بنایا
کوئی جن بھوت تھوڑی ہیں ہم اتنا تھوڑی کھا جاتے کہ نقصان ہو۔
میں پھل اتارنے میں دیری کی بات کر رہی ہوں۔ ہوپ نے وضاحت کی۔
انکی عمر کم ہوتی ہے ان پھلوں کو اتار کر شہر تک بھیجنے تک آدھا پھل اپنی غذائیت کھو دیتا ہے رہی سہی کسر انکو جو اسپرے لگائے ہیں انکی وجہ سے پھل کا رنگ بدل رہا ہے یہ کبھی بھی اے کیٹیگری میں شمار نہیں کیئے جائیں گے۔ آجکل ویسے بھی بنا پیسٹی سایڈز کے خالص قدرتی پھل کھانے کا رواج ہے بڑے شہروں میں اور یہ پھل چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ مجھ پر کیڑے مار اسپرے کیا گیا ہے ۔ فوری درخت سے اتار کر جو کھا رہی ہو ساتھ ساتھ وہ دوا بھی کھا رہی ہو۔ جن پھلوں کو دھوپ لگ رہی ہو ۔ غور کرنا نگلنے کے بعد ایک کڑوا سا ذائقہ آتا ہوگا زبان پر۔
اسکی اتنی تفصیلی توجیہہ۔حقیقتا گوارا کے حلق میں پھانک اٹک اٹک گئ بمشکل نگلا تو پہلےتو جانے کوئی کڑواہٹ محسوس ہوئی نہ ہوئی اس بار تو لگا مالٹا نہیں کریلا چبا کر نگلا ہے۔
مم۔ میں نے کیڑے مار دوا کھالی ہے؟
اسکی آنکھوں میں آنسو آنے لگے۔ سینہ مسلنے لگی الٹی کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
مجھے اسپتال لے چلو مجھے لگ رہا ہے میری اس ذہر سے طبیعت خراب ہورہی ہے۔
گوارا کی اوور ایکٹنگ ہوپ نے تاسف سے دیکھا۔
اتنا مرنے کا خوف کیوں ہے؟
ہاں تو جینے کا خوف کیوں ہو؟ آخر ابھی دیکھا ہی کیا ہے میں نے ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی۔ مجھے کنواری بھوتنی بن کے جوان لڑکوں کے پیچھے بدروح کی طرح پھرنے کا کوئی شوق نہیں
تم سیول کی لڑکیوں کو شادی کا اتنا شوق کیوں ہوتا ہے۔
ہوپ نے پوچھا گوارا تنک کر جواب دینے لگی تھی پھر اسکے چہرے پر نگاہ پڑی۔ سادہ سا انداز تھا یقینا طنز نہیں کر رہی تھی۔
پیونگ دونگ( شمالی کوریا کا شہر) کی لڑکیوں کو شادی کا شوق کیوں نہیں ہوتا۔
گوارا نےترکی بہ ترکی جواب دیا۔
پہونگ دونگ کی لڑکیوں کو ہوتا ہوگا بس مجھے نہیں رہا۔
اس نے تلفظ درست کرتے ہوئے کندھے اچکائے۔
کیوں؟ تمہیں کیوں نہیں؟
گوارا خاصے تجسس بھرے انداز میں پوچھ رہی تھی۔ ہوپ نے سرجھٹکا۔
کبھئ سوچا نہیں شادی کے بارے میں مسلے ہی اتنے تھے زندگی میں۔
اس نے اپنی طرف سے مفصل جواب دیا تھا۔
گوارا نے لمحہ بھر کو سوچا پھر بلا تمہید پوچھ ڈالا
تم ابھی بھی ہیون کو پسند کرتی ہو؟
ہوپ نے حیرت سے مڑ کر اسکی شکل دیکھی وہ جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الٹرا سائونڈ رپورٹس تھامے وہ کتنی دیر تک اپنے وجود میں پلتے اس ننھے سے وجود کے ادھورے سے عکس کو دیکھ رہی تھی۔ جو شائد آج کل میں اس دنیا سے ہمیشہ کیلئے غائب ہوجانا تھا۔
ابھی تو اسکو بہت مرحلوں سے گزرنا تھا اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے قابل ہونے کیلئے ۔ اچھا ہے ابھی ہی دنیا کی حقیقت جان لے۔ جتنا بڑا وجود ہوگا اتنی ہی دنیا کی آزمائشیں دیکھنے کو ملیں گی تو اس سب سے بہتر ہے دنیا کو پرکھے بنا ہی دنیا سے منہ موڑ لینا۔
اس نے قنوطیت سے سوچاپھراس غیر واضح مبہم بے ڈھب سے اس ننھے وجود کے عکس کو دیکھتے ہوئے بڑبڑائی۔
تم تو ابھی کچھ نہیں ہو۔ یہاں مجھے اپناوجود بے معنی لگ رہا ہے۔
اس نے گہری سانس لیکر رپورٹس سائیڈ ٹیبل پر رکھیں۔ اور دھیرے دھیرے چل کر بڑی بڑی شیشے کی کھڑکیوں کے پاس آکھڑی ہوئی۔ پردے ہٹا کر دیکھا تو دھوپ پھیلی تھی۔
ڈاکٹر کی ہدایت کےمطابق وہ مکمل بیڈ ریسٹ پر تھی۔ بہت دل گھبراتا تو اٹھ کر کھڑکی کے پاس آجاتی۔ سامنے اسپتال کے بڑے سے احاطے کا منظر صاف دکھائی دیتا۔ کچھ مریض لان میں ٹہلتے اور کچھ وہیل چئیر کے ذریعے اپنے تیمار داروں کی مدد سے کھلی فضا میں گھومتے نظر آتے۔ مستقل وارڈز اور رومز ہی اسی طرف تھے ۔ اس نے اتنے دنوں میں ایک بھی ایمبولنس یا ایمرجنسی کی صورتحال نہیں دیکھی تو نرس سے پوچھا تھا۔ اسی نے ہنس کربتایا کہ ایمرجنسی او راسپتال کا داخلی حصہ بالکل اس عمارت متضاد ہے۔ اس جانب کی عمارت مستقل مریضوں کے وارڈز اور دیگر ٹیسٹ وغیرہ کے لیئے مخصوص ہے۔
کوریا کے تو اسپتال وہ متاثر ہوئی تھی۔
اسکا فون بجا تھا۔
اس نے پردے برابر کیئے فون اٹھا کر دیکھا تو کم سن کالنگ لکھا تھا۔ وہ ہونٹ کاٹنے لگی۔ کل کے اس اعتراف کے بعد وہ کتنی ہی دیر ہکا بکا سی بیٹھی رہی تھی ۔ غصہ آیا پھر ختم بھی ہوگیا۔ جب سوچنا چاہا کہ غصہ آیا ہی کیوں۔ وہ واقعی ایڈون کے سوا کسی کو نظر اٹھا کر دیکھتی ہی کہاں تھی۔ کاش کہ دیکھتی اسکے جملوں کی سچائی تو جانتی ہوتی ابھی تو بس حیرت ہی حیرت تھی۔کوئی وجہ نہیں باقی تھی اس سے دوبارہ بات کرنے کی جبھی فون نو کرکے رکھ دیا۔
چند لمحے گزرے ہوں گے پھر کال آنے لگی تھی۔
اس نے بیزاری سے فون اٹھایا انجان نمبر تھا
اس نے بیزار سے ہی لہجے میں فون اٹھا کر کہا
ہیلو۔
ہاں سنتھیا بیٹا مجھے بہت ضروری کام سے پاکستان جانا پڑ رہا ہے تم بالکل پریشان مت ہونا میں اریزہ کے والد سے بات کر چکا ہوں وہ اریزہ کو تمہارے پاس بھیج دیں گے اور کچھ پیسے ابھی ایک آدمی تمہیں دے جائے گا ایک ڈیجیٹل کارڈ بھئ ہوگا تم جو چیز منگوانی ہو منگوا لینا ٹھیک ہے۔
ڈیڈا تھے بنا سانس لیئے جس عجلت میں انہوں نے بات کی وہ پریشان سی ہوگئ
کیا ہوا ڈیڈا سب ٹھیک تو ہے نا؟
وہ چپ سے ہوگئے۔ پھر تھوڑا سنبھل کر بولے
ہاں سب ٹھیک ہے۔ تم بالکل پریشان مت ہو اپنا خیال رکھو میں پاکستان پہنچتے ہی فون کروں گا۔ میری ابھی تھوڑی دیر میں فلائٹ ہے۔
انکے اطمینان دلانے کے باوجود اسکا دل لرزنے سا لگا۔ کپکپاتی آواز میں پوچھنے لگی
کیا ہوا ڈیڈا؟ امی تو ٹھیک ہیں نا ؟ مما کی طبیعت خراب ہے نا؟
بالکل ٹھیک ہے تمہاری ماں پریشان مت ہو کہا نا سب خیریت ہے۔
سیموئیل اسکی پریشانی بھانپ کر تسلی دینے والے انداز میں بولے
آپ کچھ چھپاتو نہیں رہے نا۔ وہ بے یقین تھی۔
مت فکر کرو ماں سے بات کرلو اطمینان کرلو ٹھیک ہے وہ بالکل۔ ابھی تم سے پہلے اسی سے بات کی ہے میں نے تم فکر مت کرو بیٹا ۔
انکی بات پر دھڑ دھڑ کرتے دل کو وقتی اطمینان تو ملا مگر اسکا آپریشن پرسوں تھا وہ یہاں بالکل اکیلی تھی کیسے وہ اسے یوں چھوڑ کر جا سکتے ہیں وہ پوچھنا بھی چاہ رہی تھی مگر جھجک بھی آڑے آرہی تھی۔
مگر ڈیڈاوہ۔
اس نے لبوں پر زبان پھیر کر ہمت کرکے پوچھ ہی لینا چاہا مگر وہ عجلت میں تھے بات کاٹ کر بولے
اچھا بیٹا اپنا خیال رکھا اور جو کھانے کو دل کرے وہ منگوالیناٹھیک خدا حافظ۔
اسکا جواب سنے بنا ہی فون بندہو چکا تھا۔ وہ بند فون کو دیکھ کر رہ گئ۔
اریزہ آجائے گئ؟ اسے نئی فکر لاحق ہوئی۔
نہیں آئے گی۔
اتنے دنوں میں اس کا غصہ ختم ہوگیا ہوگا؟ کیا پتہ آجائے۔ معزرت کرلوں گی منا لوں گی اسے۔
وہ سوچ رہی تھی۔
تبھی دروازے پر دستک دے کر نرس ایک آدمی کو لیکر اندر آئی۔
اس نے مڑ کر دیکھا پھر گھور کر رہ گئ۔
میں نے فون کیا تھا تم نے اٹھایا نہیں یہیں باہر کھڑا تھا میں۔ وہ ۔ ۔۔
کم سن اسکے گھورنے پر سٹپٹا کر صفائی دینے لگا۔
نرس اسکا بی پی وغیرہ دیکھنے آئی تھی۔ وہ خاموشی سے ایک جانب صوفے پر بیٹھ کر اسکے جانے کا انتظا رکرنے لگا۔ نرس اپنا کام کرکے اسے دو ٹیکے ٹھونک کر جیسے ہی باہر نکلی اس نے بنا تمہید باندھے سوال کیا۔
کیوں آئے ہو؟
کم سن نے اسکی بےمروتی پر شاکی نظروں سے دیکھا۔
تمہارا حال پوچھنے آیا ہوں۔
وہ اٹھ کر اسکے پاس چلا آیا۔ وہ بیڈ پر پائوں اوپر کیئے آلتی پالتی مارے اطمینان سے بیٹھی تھی۔
اسکی بات پر بھنوئیں اچکا کر دیکھا
تمہارے آہبوجی کو فون کیا تھا میں نے انہوں نے بتایا وہ جا رہے ہیں پاکستان تو سوچا تم یہاں اکیلی ہوگی تو تمہیں کمپنی دے دوں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا
وہ اسے گہری نگاہوں سے گھور رہی تھی انداز میں ناگوارئ نہیں تھی مگر کھنگال لینے والی نظر تھی کہ وہ مزید سٹپٹا سا گیا۔
کچھ کھائوگئ؟ اسپتال کے بورنگ کھانوں سے بیزار ہوگئ ہوگی۔
اس نے بات بدلنی چاہی۔
سنتھیا نے نظروں کا زاویہ بدل لیا۔
اسپتال سے ہی بیزار ہوگئ ہوں میں تو۔
سنتھیا بڑبڑانے والے انداز میں بولی
چلو تمہیں سیر کرالائوں۔
کم سن نے کہا تو وہ چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگی۔
کہاں؟
نامسان ٹاور ، لوٹے ورلڈ ، ہینگنگ گارڈن سودوک محل کہاں چلیں؟
وہ ڈھیر سارے آپشن سامنے رکھ رہا تھا
ایکوریم دیکھنا ہے۔
وہ بے ساختہ بولی پھر شرمندہ سی ہوگئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈھیر ساری رنگ برنگی مچھلیوں کو دیکھ کر وہ بچوں کی طرح خوش ہوئی تھی۔ ایکوریم پر انگلی رکھتی تو سب مچھلیاں اسکی جانب دوڑی آتیں۔کم سن حقیتا اسے ایکوریم لیکر آیا تھا۔ لوٹے ورلڈ کے دیو ہیکل ایکوریم میں نہیں بلکہ اسپتال کی لابی میں رکھے چار فٹ کے ایکوریم کے پاس وہیل چئیر پر بٹھا کر اور وہ اسی میں خوش ہوگئ تھی۔ کمرے سے نکلنا ہی اسے خوش کر گیا تھا۔ لابی کے لحاظ سے خاصا خوبصورت لگ رہا تھا اندر پرانے طرز کے کورین گھروں کا ماڈل بھی پانی میں تھا ایک کشتی بھی موجود تھی۔ اور اس سب کے ارد گرد تیرتئ بھانت بھانت کی رنگ برنگی مچھلیاں
کچھ مچھلیاں اتنی چھوٹی تھیں کہ انہیں دیکھنا بھی مشکل لگتا تھا۔ اتنی باریک اتنی ننھی سی جیسے ابھی دنیا میں آئی ہوں۔
یہ کس مچھلی کے بچے ہیں؟
اس نے مڑ کر کم سن سے پوچھا۔
نارنجی پیلی چتکبری مچھلیوں میں ان ننھے چاول کے دانوں سے ذرہ بھر ہی بڑے وجود کا اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ کس رنگ کے پروں سے سجیں گے انکے جسم۔
یہ مچھلی ہی اتنی بڑی ہوتی ہے۔
کم سن نے آگے جھک کر ایکوریم میں دیکھ کر بتایا۔
اسکانام بھول گیا میں ہائی اسکول میں پڑھا تھا اسکے بارے میں۔ غور سے دیکھو یہ مکمل مچھلی ہے۔ مچھلی کا بچہ جب چھوٹا ہوتا ہے تب وہ مچھلی جیسا تھوڑی لگتا ایک نقطے جیسا ہوتا ساتھ بے رنگ سی بے ڈھب سی جھلی ہوتا ہے۔جب آہستہ آہستہ بڑا ہوتا ہے تو پورے مچھلی کے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔بالکل انسان کی طرح۔ بس تھوڑا وقت لگتا ہے۔
وہ سادہ سے انداز میں اسے بتا رہا تھا۔ اسکے دل میں ٹیس سی اٹھی تھی۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے ہی تو اپنی الٹراسائونڈ رپورٹ دیکھتے وہ خود کو باور کرا رہی تھی ہونے اور نہ ہونے کا فرق۔ نظر آنے اور نظر نہ آنے والے کی حیثیت۔
اسکی پیشانی تر سی ہوگئ۔ خوفزدہ سا ہو کر اس نے ایکوریم سے ہاتھ ہٹایا۔ کم سن فورا متوجہ ہوا۔ خشک ہوتے لب تر پیشانی
کین چھنا؟ طبیعت خراب ہو رہی ہے تمہاری؟ڈاکٹر کو بلائوں؟
وہ بر طرح پریشان ہو گیا تھا۔ غالبا ڈاکٹر کو بلانے مڑنے لگا اس نےبے ساختہ اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔
نن نہیں۔ میں ٹھیک ہوں۔ کھلی۔ کھلی فضا میں لے چلو۔
وہ سر ہلا کر اسے باہر لے آیا۔ اندر کے گرم ماحول کی نسبت باہر ٹھنڈک تھی دھوپ کے باوجود چلتی سرد ہوا ۔ اسکی ہڈیوں میں سرائیت کرنے لگی تو وہ بے ساختہ جھرجھری لیکر رہ گئ۔ کم سن اسے لان والے حصے میں لے آیا ۔ تھوڑی دیر دھوپ میں رہنے سے اسکی سردی کم ہوئی۔ لان میں خاصی رونق تھی۔ کچھ بچے بھی کھیل رہے تھے جو شائد یہاں آنے والوں کے ساتھ آئے تھے۔ کچھ بیمار بچے بھی تھے۔
کیا کھائوگی؟ کورین بیف سوپ ود نوڈلز یا کمباپ۔
مجھے بھوک نہیں۔ اس نے سر جھٹکا۔
کچھ تو کھانا پڑے گا کمباپ لے آئوں؟
کم سن مہمان نوازی کے موڈ میں تھا۔
بس کم باپ۔
اس نے مختصرا جواب دیا۔ وہ لان کی طرف متوجہ تھی۔ تبھی ایک جوان عورت نوزائیدہ بچہ لیکر شائد دھوپ دکھانے احتیاط سے اٹھا کر لائی تھی۔ اسکے سامنے ہی بنچ پر آبیٹھی تھی۔ وہ جی جان سے اسکی طرف متوجہ ہوگئ کم سن کچھ کہہ تو رہا تھا مگر اس نے سنا ہی وہ منظر میں گم تھی۔ وہ۔لڑکی ممتا سےچور نظروں سے ننھے وجود کو دیکھ رہی تھئ۔ ایک۔چندی ہی آنکھوں والا لڑکا ایک شاپر میں اسکے لیئے کچھ کھانے پینے کی چیزیں لایا تھا۔ شاپر رکھ کر اس نے فورا بچہ اسکی گود سے لے لیا تھا۔ وہ لڑکی ہنس دی تھئ۔ لڑکا اسے مصنوعی خفگی سے شائد کھانے کو ہی کہہ رہا تھا۔احتیاط سے بچے کو تھامے ماں کو کھانے کی ہدایت کرتا وہ لڑکا ایکدم روپ بدل کر ایڈون بن گیا تھا۔ ہنس ہنس کر کم باپ کھاتی لڑکی کا رنگ سنولا گیا تھا وہ وہ خود بن گئ تھی۔ ایڈون کو اپنے ہاتھوں سے کھلا رہی تھی۔ ایڈون کا اصرار تھا کہ میں بعد میں کھا لوں گا تم آرام سے کھائو تم اپنا خیال ٹھیک سے نہیں رکھ رہیں۔
وہ لا شعوری طور پر اسے دیکھے گئ۔ کم سن کا موبائل بجا ۔ اسکا منگوایا ہوا آرڈر آچکا تھا۔ وہ اسے وہیں چھوڑ کر شاپر لیکر واپس آیا تو وہ ویسی ہی مگن گم صم بیٹھئ تھی۔ اسے متوجہ کرنے کیلئے اس نے اسکی گود میں شاپنگ بیگ لا کر رکھا۔ اور اسی بنچ کی طرف اسکی وہیل چئیر چلا کر لے جا نے لگا۔ وہ جوڑا جانے کب اٹھ کر چلا بھی گیا وہ اتنا سوچوں میں محو تھی کہ۔خبر بھی نہ ہوئی۔ وہ کھسیا کر شاپر کھنگالنے لگی۔ ہر چیز دو بندوں کے حساب سے تھی۔
سوائے سوڈے کی پلاسٹک بوتل کے۔
اس نے سب سے پہلے وہی بوتل کھولی
گوماویو۔ کم سن اسکے ہاتھ سے بوتل لیتا بینچ پر بیٹھ گیا۔
یہ میں نے اپنے لیئے کھولی تھی۔ اس نے بھنا کر جتایا
سوڈا میں اپنے لیئے لایا ہوں تمہارے لیئے وٹامن واٹر لیکر آیا ہوں۔دیکھو۔
کم سن کے کہنے پر اس نے دوبارہ شاپر میں جھانکا تو ایک او ربد ہیبت سی بوتل نظر آئی۔ وہ بیزار ہوئئ۔ اتنے دنوں میں اسے یہی پلایا جا رہا تھا۔ وہ تو دوا ہی سمجھی تھی مگر کوریا میں یہ دوا دراصل ایک بنا سوڈے والی وائٹامن ڈرنک تھی۔
مجھے یہ نہیں پینی۔ تنگ آگئ میں یہ پی پی کے۔
وہ جھلائی۔
معزرت مگر میں تمہیں ایسی کوئی چیز نہیں کھانے دے سکتا جو تمہارے اور بے بی کیلئے نقصان دہ ہو۔ اس نے اسکے ہاتھ سے شاپرلیکر اچھی طرح پیک ہوا نوڈلز سوپ کا بائول نکال کر برآمد کرکے بنچ پر رکھنے لگا۔
سوڈا ہے شراب نہیں۔ اس نے کہا تو کم سن نے کندھے اچکا دیئے۔
بچوں کیلئے سوڈا بھی فائدہ مند نہیں۔صرف صحت بخش خوراک کھا سکتی ہو تم۔ وہ ہاتھ اٹھا کر بولا۔
ایویں۔ وہ چیں بہ چیں ہوئی۔
یہ لو تمہارے لیئے کم باپ۔
اس نے سوپ سجانے کے بعد اطمینان سے کم باپ اسکی جانب بڑھایا۔
اس نے شاکی نظروں سے گھورا۔ اسے لگا تھا وہ سوپ کا پیالہ اسکی جانب بڑھائے گا۔
یہ لو تم کمباپ کھائو میں کورین بیف نوڈلز کھائوں گا۔اس نے بنچ کی جانب اشارہ کیا ۔نوڈلز کے ساتھ دو تین سائیڈ ڈشز بھی سجی تھیں۔ اس پرتکلف خوان کے سامنے کم باپ اسے اونٹ کے منہ زیرہ لگے۔ سوپ کی اٹھتی خوشبو حواس پر چھا رہی تھی۔
میں نے نہیں کھانا یہ۔ اس نے بیزار ہو کر کمباپ اسکی جانب بڑھا دیا۔
پھر کیا کھائوگی؟ کم سن سوچ میں پڑا
یہ بیف نوڈلز کھائو گی؟اس نے اثبات میں سرہلایا
اچھا یہ لے لوتم۔ کم سن نے مایوس سا ہو کر پیالہ اسکی جانب بڑھایا اس نے لپک کے تھام لیا۔
اشتہا انگیز گوشت کا مصالحے دار سوپ اور نوڈلز اسکو ایکدم بھوک محسوس ہوئی تھی۔
بنا تکلف وہ رغبت سے کھانے لگی۔
ویسے میں کمباپ سوپ میں ڈبو لیتا ہوں۔ اچھا لگتا ہے۔دوں۔
اس نے کمباپ کھول کر اسکی جانب بڑھایا۔
اس نے سر ہلا حسب ہدایت ڈبو کر چکھا تو مزے کا لگا۔
یہ میرے پسندیدہ رییستوران کا سوپ ہے مزے کا لگا؟
وہ شاپر سے دوسرا پیالہ نکالتے ہوئے مسکراہٹ دباتے پوچھ رہا تھا۔
ہمم مزے کا ہے۔ وہ بے دھیانی سے بولی اسکی مکمل توجہ اپنا پیالہ ختم کرنے پر تھی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہا دھو کر کپڑے بدل کرنماز پڑھ کر آکر بیٹھی تو بھی ہاتھوں کی جلد سکڑی ہوئی ہی تھی۔ اس نے تصویر کھینچ کر بھیجی۔
آج سور کا گوشت دھویا میں نے۔
چند ہی لمحوں میں صارم کی جانب سے ڈھیر سارے لعنتوں والے ایموجیز موصول ہوئے۔
تم پاگل ہو ایک دم اریزہ اس بات کا فائدہ اٹھا رہی ہو کہ تمہارے کان کھینچنے کیلئے میں وہاں موجود نہیں ہوں۔
پے در پے پیغامات آئے تھے۔ کال کی توقع تھی اسے اس نے وقت کا اندازہ کرنا چاہا یقینا وہ اس وقت یونیورسٹی میں ہوگا جبھی کال نہ کرسکا مگر کان کھینچ لیئے تھے اسکے۔
کچھ لگائو اب ان پر ابھی۔ حشر کر لیا ہے تم نے انکا۔
فکر بھئ تھی۔ وہ مسکرا دی۔ اسی وقت لوشن لگا کر تصویر کھینچ کر بھیجی۔۔
فون پر پاپا کی کئی مسڈ کالز پڑی ہوئی تھیں۔ اور ایک پیغام بھی تھا۔
بیٹا سنتھیا کے پاپا نے کہا تھا سنتھیا اکیلی ہے اسپتال میں تو تم اسکے پاس چلی جانا۔
اسکو پڑھ کر غصہ ہی آگیا۔
میں کیوں جائوں ایڈون کو کہتے نا ۔۔ وہ لکھتے لکھتے رکی پھر سارا پیغام مٹا دیا۔ یقینا بابا نہیں جانتے ہوں گے کہ سنتھیا کیوں ہے اسپتال میں۔ سو بس اتنا ہی لکھ بھیجا
ابھی تو بابا میں سیول میں نہیں ہوں آپکو بتایا تھا نا دوستوں کے ساتھ انکے گائوں آئی ہوں جب جائوں گئ تب مل لوں گی اس سے۔ آپ فکر نہ کریں۔
اس نے تفصیل سے اسی لیئے جواب لکھا کہ وہ اطمینان کرلیں۔
ٹھیک ہے بیٹا۔ مس یو۔
بابا نے فورا اسکا پیغام پڑھا تھا مگر شائد مصروف تھے۔
وہ گہری سانس لیکر موبائل رکھ کر اٹھنے لگی تھی موبائل پھر بج اٹھا۔ اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا
ہیون کی کال آرہی تھی۔
وہ چند لمحے اسکی کال دیکھتی رہی پھر سائلنٹ کرکے رکھ دیا۔۔پھر خود بھی لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کھانا کھا رہے تھے جب سیکٹری نے انہیں ایک ٹیبلٹ لا کر دی۔ انہوں نے سوالیہ نظروں سے دیکھا مگر وہ جواب دینے کی بجائے انکی جانب ٹیبلٹ بڑھا کر پیچھے ہٹ گیا۔
انہوں نے ٹیبلٹ اٹھا کر دیکھا تو ایک ویب سائٹ نے بڑی سی تصویر لگا کر پورا بلاگ لکھ ڈالا تھا انکے اسٹور کے بارے میں۔ تصویر تھی ایک بر صغیر کے نقوش کی لڑکی کی انکے سیون الیون اسٹور چین کے ایک اسٹورکے ملازمین کے ساتھ ہنستے مسکراتے انگلیوں سے وکٹری کا نشان بنا رہی تھی۔
عنوان مزید خون کھولانے والا تھا۔
لی گروپ کامیاب مارکیٹنگ اسٹریجی اور رحم دل شہزادی
لی گروپ کی ہونیوالی بہو نے ناصرف اچانک اپنے اسٹور چین کا دورہ کیا بلکہ وہاں کے ملازمین کے ساتھ خوش گپیوں میں بھئ مصروف رہی۔ انٹرنیٹ صارفین اس ارب پتی گھرانے کی ہونے والی بہو کے نیک اطوار سے کافی متاثر نظر آئے۔ لی گروپ کے خاندان میں سے پہلی دفعہ کسی خاتون سب روائتیں توڑتے ہوئے
انہوں نے جھلا کر ٹیبلیٹ پھینکی تھی اور مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔
یہ معاملہ حد سے ذیادہ بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے دانت کچکچائے۔
اس لڑکی کے بارے سب معلومات اکٹھی کرکے دو مجھے۔ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی مجھے بتائو اسکے بارے میں کون ہے کہاں سے آئی ہے اوراچانک کیسے ہماری زندگی میں آن دھمکی ہے۔ سب جاننا ہے مجھے سب۔ سمجھے
کہتے کہتے غیض و غضب سے انکا چہرہ سرخ ہوچلا تھا جملہ ختم کرنے تک آواز بھی خاصی بلند ہوچکی تھی۔
سیکٹری نے ٹیبلیٹ کے ٹکڑے سمیٹے اور مئودب سا انکے سامنے کھڑے ہو کر کہا
سمجھ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانے کتنی دیر گزری وہ یونہی بے آواز روتی رہی۔ گوارا اور ہوپ کمرے میں آئیں بتی جلائی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ گوارا نے پکارا بھی مگر وہ بازو پر ہاتھ رکھے لیٹی تھی سو وہ یہی سمجھی کہ سو رہی ہے سو بتی بجھاتی واپس چلی گئیں دونوں۔ ان دونوں کے جانے کے بعد اس نے کروٹ بدل لی تھی۔ پھر جانے کب اسکی سچ مچ آنکھ لگ گئ۔ رات کے دس بجے کے قریب اسکی آنکھ کھلی۔ پہلے تو پتہ ہی نہ لگا کہ کہاں ہے پھر حواس بحال کرکے اٹھی بتی جلائی اپنا اپر پہن کر باہر نکل آئی۔ باہر دالان حسب معمول سنسان پڑا تھا۔ البتہ ریستوران میں کافی گہما گہمی تھی۔ شائد کوئی پارٹی تھی خوب ساری رنگین پنیاں لگی ہوئی تھیں سب بتیاں روشن تھیں۔ کافی تیز آواز میں کے پاپ لگا ہوا تھا۔ لوگوں سے بھرا ہوا تھا ریستوران۔۔۔گوارا اور ہوپ مختلف ٹرے اٹھائے ادھر سے ادھر جاتی نظر آرہی تھیں۔ گوارا کی اس پر گلاس وال سے آر پار نظر نہ پڑی ہوگی ورنہ پکار لیتی۔ وہ بھی قصدا اس گہما گہمی سے بچ کر باہر ہی آگئ۔ باہر موسم میں بے حد خنکی تھی۔ سامنے پورا چاند چمک رہا تھا۔ اسکا دل کیا قریب سے دیکھنے کا سو اکیلے باہر نکل آئی۔ اسکے گھر سے تھوڑے فاصلے پر چڑھائی تھی پھر جنگلہ لگا کر سڑک کنارے کچھ خالی جگہ تھی یہاں سے چند فٹ نیچے پکی گلی اور دوسری جانب سے اترنے کا راستہ۔ اسکا وہاں جانے کا دل کیا مگر سنسان نیم اندھیرے میں اتنی دور جانے کی ہمت نہ ہوئی سو وہیں کھڑی کچھ دیر دیکھتی رہی پھر واپسی کیلئے مڑی تو ٹھٹھک سی گئ۔ اس سے کچھ فاصلے پر علی دروازے پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔اسے ٹھٹھکتے دیکھ کر شرمندہ سا ہوا۔
وہ میں رات کے کھانے کیلئے باہر جا رہا تھا آپ کھائیں گی میرے ساتھ؟
اس نے غالبا تکلفا کہا تھا۔مگر اس نے تکلفا بھی انکار نہیں کیا۔ اثبات میں سر ہلا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے لگا تھا وہ کسی ریستوران میں لیکر جائے گا مگر اسے حیرت ہوئی جب دو گلی مڑ کر اس نے ایک عام سے کورہائی طرز کے سادہ سے گھر کے لکڑی کے دروازے پر دستک دی۔
اندر سے باریش چندی آنکھوں والے ایک ساٹھ ستر سال کے بزرگ نکلے تھے۔ علی سے تپاک سے گلے ملے۔ علی نے اسکی جانب اشارہ کرکے جانے کیا کہا وہ اسکی جانب دیکھنے لگے اس نے گڑبڑا کر سلام کیا۔
وعلیکم ۔ وہ مختصر کہتے انہیں اندر آنے کی دعوت دیتے ایک جانب ہو گئے۔ وہ جھجکتے ہوئے علی کی معیت میں اندر داخل ہوئی۔ بڑا سا صحن نیم تاریکی میں ڈوبا تھا۔ دو قدم کی سیڑھیاں چڑھ کر دالان تھا جس میں دو کمروں کے دروازے کھلتے تھے۔دروازے کی دراڑوں سے اندر کی روشنی چھن چھن کر آرہی تھی۔صحن کی سنسانی کے برعکس اندر سے کافی لوگوں کے ہنسنے بولنے کی آواز آرہی تھی۔
ان بزرگ نے دروازہ کھولا تو اندر ایکدم خاموشی سی چھا گئ۔ لمبے چوغے پہنے کئی مرد و زن زمین پردسترخوان بچھائے کھانا کھا رہے تھے۔خواتین گھر میں بھی سر پر اسکارف باندھے تھے دو بچے بھی تھے سب خاصی حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
اس کو سمجھ نہ آیا سلام کہے یا آننیانگ۔
اسلام وعلیکم علی بھائی۔ ہم آپکا انتظار کرکے ابھی کھانا کھانے بیٹھے تھے۔
ایک مرد نے اٹھ کر علی کو گلے لگا کر شستہ انگریزی میں کہا۔
علی نے بھی جوابا گرم جوشی سے جواب دیا
میں معزرت خواہ ہوں تھوڑی دیر ہوگئ مجھے۔ یہ میری دوست ہے اریزہ مسلمان ہے تو میں نے اسے بھی دعوت دے دی طعام کی۔
بہت اچھا کیا آئیے بیٹھیئے۔
وہ شخص مہمان نواز تھا فورا انکو بیٹھنے کا اشارہ کرتے مڑ کر مقامی کسی زبان میں اپنی بیوی سے مخاطب ہوا وہ فورا سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
یہ کونسی زبان ہے ہنگل تو نہیں لگ رہی۔
وہ حیرت سے ان سب کو دیکھتی علی سےپوچھ رہی تھی۔
یہ انڈونیشین خاندان ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے کوریا میں رہتے ہیں ہماری مسلم تنظیم کے توسط سے ان سے سیول میں ملاقات رہی تھی ۔ میں جب یہاں آتا ہوں ان سے ضرور ملنے آتا ہوں۔ بہت پرخلوص سادہ لوگ ہیں۔
علی نے دھیرے دھیرے سے بول کر اسے بتایا
اسکے لیئےاو رعلی کیلئے چاولوں کے نئے پیالے آگئے تھے۔سوپ کے ڈونگےانکی جانب بڑھائے جا رہے تھے تلا ہوا گوشت بھی موجود تھا۔ نان اور کباب بھی۔
علی نے تعارف بھئ کروایا
وہ بزرگ مجید ارباب تھے انکے دو بیٹے بہوئیں انکی زوجہ اور بڑے بیٹے کے دو بچے تھے۔ بالترتیب آٹھ اور بارہ سال کے۔ دوسرے کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی۔
بزرگ خاتون بہت دلچسپی اور پیار سے اسکو کھانے کی اشیاء پیش کر رہی تھیں۔ انکی زبان تو سمجھ نہیں آرہی تھی مگر وہ انکے خلوص کی زبان سمجھ رہی تھی۔
یہ تمہاری ہونیوالی بیوی ہے نا۔
ارباب کے بیٹے نے انگریزئ میں خاصی بلند سرگوشی کی تھئ۔ علی نے سٹپٹا کر اسے دیکھا۔ وہ سن کر بھی انجان رہی۔
علی نے فورا انکار کیا تھا مگر وہ یقین نہیں کر رہے تھے۔ اپنی زبان میں گھر والوں کو کچھ کہا تو سب مزید حیرت و اشتیاق سے اسے دیکھنے لگے۔
ایک تو میں جہاں جاتی ہوں میرا سسرال بن جاتا خود ہی۔
وہ تلملائی۔ بڑبڑائی۔ مگر اردو میں۔ اس فضول غلط فہمی کے برعکس کھانا واقعی لذیذ تھا۔ اتنے عرصے بعد کباب اور تلے ہوئے اسٹیک ملے تھے اس نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ مرغی کی کمی محسوس ہو رہی تھی سوپ سبزیوں کا تھا ۔ اس نے چاول اسٹیک اور سوپ سے ملا جلا کر کھا ہی لیئے۔
علی بہت اچھا میزبان تھا۔جو بھئ کھا رہا تھا مستقل اسے بھئ کھانے کیلیئے پیش کر رہا تھا۔
آخر میں بادام کاجو کی ہوائیوں کے ساتھ انڈونیشیائی کھیر سی پیش کی گئ۔ کافی مزے کی تھی مگر اس سے ذیادہ کھائی نہ جا سکی۔ اس نے ایک دو چمچ لے کر معزرت کرلی تو ان خاتون نے وہی پیالہ علی کی جانب بڑھا دیا۔ وہ ماتھے پر شکن لائے بنا ختم کرنے لگا۔ کورین عموما جوٹھے کے وہم سے دو ررہتے ہیں اتنا تو اسے اندازہ ہو ہی گیا تھا اتنے مہینوں میں۔ گوارا ہیون تو ایک دوسرے سے چھین کر بھی کھا لیتے تھے۔ اسکی علی سے ابھی اتنی بے تکلفی نہ تھی۔ کھانا کھا کر انہوں نے اجازت چاہی توان بزرگ کی زوجہ انہیں رکنے کا کہہ کر اندرچلی گئیں۔
اس تکلف کی ضرورت نہیں ۔۔ علی نے کہا مگر
ارباب مسکرا کر چپ رہے۔
وہ خاتون اندر سے ایک نیا پیک شدہ لفافہ اٹھا کر لائیں اور اسکی جانب بڑھا دیا۔ وہ ہاتھ بڑھانے میں متامل تھی۔
لے لو بیٹا۔ پیار سے تحفہ دے رہی ہیں۔
ارباب انکل کی سفارش کے بعد اسکے پاس انکار کی وجہ نہ رہی۔
وہ تھام کر شکریہ اداکرنے لگی۔ مگر وہ دونوں یوں متوجہ تھے جیسے ابھی مزید بھی اس سے توقع ہو کوئی انہیں۔ علی نے سمجھ کر اسکے کان میں سرگوشی کی۔
یہ چاہتی ہیں تم یہ پہن کر دکھائو؟۔
وہ اس فرمائش پر منہ کھول کر رہ گئ۔
جانے کیا تھا کپڑا ہی تھا کوئی اس نے پیکنگ کھولی تو بڑے بڑے پھولوں والا ریشمی اسکارف تھا۔ اس نے اپر کے اوپر اسکو مفلر کی طرح گلے میں ڈال لیا۔ تو خاتون خود آگے بڑھیں ۔
اسکارف لیکر اسکے چہرے کے گرد بڑے ماہرانہ انداز سے حجاب کی طرح لپیٹ دیا۔
اسکا گورا چہرہ گلابی ہالے میں دمک اٹھا تھا ۔ انہوں نے پیار سے پیشانی چوم لی۔
پھر دونوں کو نگاہوں میں بھر کر بولیں دونوں ہاتھوں اشارے کرکے اپنی زبان میں بولیں۔
ماشااللہ بہت خوبصورت جوڑی ہے سدا خوش رہو۔
علی کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی
وہ جو علی کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی کہ شاید انکے جملے کا ترجمہ کرے تاکہ انکے اشارے سمجھ کر وہ جو سمجھی ہے انہیں علی شائد غلط فہمی قرار دے دے ۔ علی کی مسکراہٹ کا مطلب یہی تھا کہ وہ صحیح سمجھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے سردی کے باوجود اسکارف گلی میں آتے ہی اتار کراپر کی جیب میں ڈال لیا تھا۔
پہنے رہتیں اچھی لگ رہی تھیں۔
علی نے ٹوکا تو اس نے ترچھی نگاہ اس پر ڈالی۔ پھر مضبوط لہجے میں بولی
انکو غلط فہمی ہوئی تھی شائد میں حجاب نہیں کرتی۔
کرنا چاہیئے۔ ہر مسلمان لڑکی کو حجاب کرنا چاہیئے نا۔
علی کا انداز سادہ سا تھا مگر اسے برا لگا۔جانے کیوں بھڑک کر بولی۔
ہر مسلمان لڑکی کو جو کرنا چاہیئے وہ مسلمان لڑکوں کو خوب پتہ ہوتا ہے۔ حالانکہ قبر میں سوال ان سے لڑکیوں کے نہیں انکے اپنے بارے میں ہوں گے۔
علئ نے بالکل برا نہیں مانا۔ بلکہ سبھائو سے اپنے اسی نرم سے انداز میں بولا
میں اور مسلمان لڑکوں کے بارے میں تو نہیں جانتا مگر میں اسلام کے بارے میں جو اور جتنا ہو سکے جان لینا چاہتا ہوں۔ اور میری اطلاع کے مطابق پردہ عورت پر واجب ہے۔ تم ویسے تو اچھی مسلمان ہوں نجس پاک کا بھی پتہ ہے نماز بھی پڑھتی ہو سچ پوچھو تم جس طرح سور والی بات پر پریشان ہوئیں میرے لیئے کافی حیرت کی بات تھی میں متاثر ہوا تم سے۔
مجھے نہیں لگتا تھا تم اتنی پکی مسلمان ہوگئ۔۔
پکی مسلمان مطلب؟
اس نے پیشانی پر بل ڈالتے ہوئے اسے گھورا۔
ہر مسلمان ہی جہاں تک ہوتا ہے اپنی بساط بھر اسلامی طریقے سے زندگی گزارتا ہے۔ میں ہمیشہ سے پنج وقتہ نمازی رہی ہوں روزے رکھتی ہوں کبھئ حرام نہیں کھایا ، وہ بولتے ہوئے اٹکی ( غلطئ سے کھایا ہے اگر کھایا بھی تو)
وہ لحظہ بھر اٹکی تھی علی نے وہیں سے اسکی بات اچک لی۔
ہاں یہی تو میرے لیئے حیرانگئ کی بات ہے۔ تمہیں دیکھ کر مجھے لگتا نہیں تھا کہ تم مسلمان ہوگی مگر تم تو پکی والی مسلمان ہو مجھے حیرت بھری خوشی ہے مگر مجھے حیرت یہ بھئ ہے جسے اسلامی عقائد کی اتنی معلومات ہے جو عملی مسلمان ہے وہ پردہ سے اتنا چڑتی ہے۔
چڑنے کی کیا بات ہے۔ اریزہ کو غصہ آرہا تھا۔
یہ کیا بات ہوئی الزام دھر دیا کہ پردے سے چڑتی ہوں۔
میں کوئی چڑتی وڑتی نہیں ہوں مگر میں نہیں کرتی پردہ بس اس میں اور کوئی بات نہیں کہ مجھے پردے سے کوئی مسلئہ ہی ہے۔
اسکا لہجہ تیز ہو گیا تھا۔علی کو اسکی ناگواری محسوس ہوگئ تھی
معزرت اگر میری کوئی بات بری لگی ہو۔ تم چڑتی نہیں ہو تو اسکارف کیوں اتار دیا فورا؟
وہ جانے کیوں بال کی کھال اتار رہا تھا۔
کیونکہ میں پردہ نہیں کرتی بھئ۔
وہ جھنجھلا گئ۔ انکی بحث میں راستہ جلدی کٹ گیا تھا۔ آخری گلی تھی چند قدم کی چڑھائی اور گوارا کے گھر کا گیٹ سامنے تھا انکے۔
علی چلتے چلتے رک کر اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔
ہاں ٹھیک ہے تم پردہ نہیں کرتی۔ تم جب میرے ساتھ جا رہی تھیں تب تم نے اپر کا ہڈی سر پر جمالیا تھا شائد تمہیں سردی لگ رہی تھی لیکن واپسی پر جب انہوں نے ریشمی اسکارف باندھ دیا تمہارے سر پر تو اسے تم نے فورا اتار دیا جبکہ اگر چاہتیں تو اسے سر پر ٹکا رہنے دیتیں کیونکہ موسم ابھی بھی سرد ہے۔
علئ کا انداز سادہ سا ہی تھا مگر وہ جو جتا رہا تھا وہ ایکدم سنآٹے میں آگئ۔ اس نے ایسا ہی کیا تھا۔ کانوں پر سرد ہوا ابھی بھی لگ رہی تھی مگر اس نے ہڈی بھی اوپر نہیں کیا تھا۔تو کیا علی صحیح کہہ رہا تھا۔ علی نے غور سے اسکی شکل دیکھی پھر گہری سانس لیکر بولا۔
میں داڑھی نہ رکھوں تو بھئ مسلمان ہی رہوں گا نا؟ کیا ضرورئ ہے میں داڑھی رکھوں یہ سوال کیا تھا میں نے عالم دین سے۔ انہوں نے مجھے جانتی ہو کیا کہا تھا؟
ہم کس طرح سے غیر مسلموں کے رنگ میں رنگتے جاتے ہیں ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ پہلے انکے جیسا حلیہ اپناتے ہیں سوچتے ہیں کیا ہوا جو داڑھی نہیں رکھی کوئی بات نہیں۔ داڑھی کے بناہم انکے ساتھ انکے جیسے لگنے لگتے ہیں۔ پھر جلد ہی انکی طرح سوچنے لگتے ہیں کیا ہوا جو آج نماز چھوٹ گئ ، کیا ہوا جو تھوڑی سئ پی لی کون سا مدہوش ہوگیا ہوں۔۔یہاں تک کےاپنی شناخت سے شرمندہ ہونے لگتے ہیں۔۔۔
وہ رکا۔ اسے اریزہ کا چہرہ دیکھ کر اندازہ نہیں ہوا تھا کہ وہ کس موڈ میں ہے۔ اسکا انداز لاشعوری طور پر ناصحانہ ہوگیا تھا سو بات کو یہیں ختم کرنے کی نیت سے بس اتنا مزید بولا۔
کوئی ہمیں دیکھنے سے مسلمان نہ سمجھے تو ہم مسلمان کیسے ہوئے بھلا؟
بہت شکریہ اس اسلامی لیکچر کا آپ یقینا اب سیدھا جنت میں جائیں گے
وہ مسکرا کر کہتا ایک طرف ہوا تو اریزہ چبا چبا کر بولی۔ علئ کے چہرے پر حیرت اتر آئی وہ البتہ غصے کے مارے خاصی بد لحاظ ہورہی تھی۔ پیر پٹختی اسکے پاس سے تیز تیز قدم اٹھاتی بڑھ گئ۔ گھر سامنے ہی تھا وہ اسکے پیچھے آنے کا انتظار کیئے بنا دروازہ کھولتی اندر گھس گئ۔ ریستوران میں پارٹی جاری تھی اسے گوارا نے دیکھ کر پکارا وہ تن فن کرتی کمرے میں آئی اپر کی جیب سے اسکارف نکال کر پوری قوت سے زمین پر پھینکا۔
خود کلین شیوڈ ہیں مجھے بتا رہے کہ حجاب کرنا چاہیئے منافق۔۔ ہوںہہ۔
اسکا غصہ ابھی بھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔سو موبائل بیڈ پر اچھال کر باتھ روم میں گھس گئ۔
موبائل پر کال آنے لگی تھی۔ہیون کالنگ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح گوارا نے آکر اسے ہلایا۔
اف کتنا سوتئ ہو تم۔ ہم رات بھر مستی کرکے سوجو پی کر ٹن ہو کر بھی صبح وقت پر اٹھ گئے اور تم جب ہم آئے تھے تب سےگہری نیند سو رہی ہو۔ پھر بھئ اٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں لگتا تمہارا۔
گوارا بولتی ہوئی اس کے بیڈ پر چڑھ کر بیٹھ گئ۔
کیا وقت ہو رہا ہے۔ وہ کسلمندی سے آنکھیں مسلتی اٹھ بیٹھی۔
گیارہ بج رہے ہیں۔
گوارا نے جتایا۔وہ خود بھی حیران رہ گئ۔
ہیں؟ اتنی دیر سوتی رہی میں۔
اسے حیرت ہو رہی تھی۔
ہاں اور تمہارے ساتھ ناشتہ کرنے کے چکر میں میں ابھی تک بھوکی بیٹھی ہوں۔
اس نے منہ بنایا۔
بس میں دو منٹ میں آتئ ہوں فریش ہوکر۔
وہ فورا وقت ضائع کیئے بنا اٹھ گئ۔
تازہ دم ہو کر وہ باہر آئی تو گوارا اور ہوپ صحن میں بچھے تخت پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھیں۔
میرا انتظار نہیں کیا۔ اس نے برا مانا۔
تم نے کونسا وہ کچھ کھانا تھا جو ہم کھا رہی ہیں۔ ہوپ نے جتایا۔ اسکے لائے ہوئے بریڈ جیم مکھن بھی میز پر ایک جانب سجے تھے۔
بات تو صحیح تھی۔ بھوک زوروں پر تھی سو وہ بنا مزید نخرے کیئے انکے برابر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔
یہ رولڈ آملیٹ کھا لو اس میں صرف سبزیاں ہیں۔
گوارا نے آملیٹ اسکی جانب بڑھایا۔ وہ توس پر مکھن لگا کر نگل رہی تھئ جب گوارا نے آملیٹ اسکی جانب بڑھایا۔
گوما وویو۔ وہ شکر گزار ہوئی۔
ہم آج پھر مندر جا رہے ہیں ۔ ہوپ کو ان پجاری بابا سے کچھ پوچھنا ہے۔تم بھی چلوگی نا؟
گوارا نے اگلا پروگرام بتایا تو وہ سر ہلا گئ۔ ان دونوں کے بغیر اس نے اکیلے یہاں رہ کر کرنا بھی کیا تھا۔ ناشتہ ختم کرکے گوارا نے جلدی جلدی کا شور مچا دیا تھا۔
گلابئ پھولدار لانگ ڈریس پہن کر گوارا کی نظر زمین پر پڑے اسکارف پر پڑی تو فورا پوچھنے لگی
یہ کس کا ہے یہ میرے لباس کے ساتھ جچ رہا ہے۔

اریزہ کا ہی ہوگا۔ ہوپ کا اندازہ تھا۔ اس نے اریزہ کی جانب دیکھا اس نے کندھے اچکا دیے
لے لو۔
وہ خود جینز اور لانگ کوٹ پہن کر تیار کھڑی تھی۔ گوارا نے بے حد شوق سے اسکارف گلے میں بو بنا کر ڈالا۔
کیسی لگ رہی ہوں۔؟ وہ پوچھ رہی تھی۔ داد طلب نظروں سے دیکھتی۔ ہوپ اور اریزہ دونوں نےہاتھوں دل بنا کر سراہا۔ وہ کھلکھلا دی۔
اسکارف اس کی گوری رنگت پر واقعی کھل رہا تھا۔
چلو چلیں۔
ہوپ نے حسب عادت جلدی جلدی کرکےان کو گاڑی تک پہنچا دیا تھا۔
آج موسم ابر آلود تھا۔ دھوپ نکلتی تو بس پانچ سات منٹ کیلئے پھر بادل آجاتے۔ مندر تک پہنچتے بادل برسنے لگے تھے۔
وہ تینوں بھاگ کر مندر کے اندر داخل ہو گئیں۔
واپسی تک بارش رک بھی جائے گی فکر نہ کرو۔
اریزہ کو برستی بارش رک کردیکھتے دیکھ کر ہوپ نے تسلی دی تھی۔ وہ سر ہلا کر انکے ہمراہ اندر چلی آئی۔ وہی والے پجاری جی ایک کونے میں آسن باندھے بیٹھے جاپ کررہے تھے ابھئ انکی کوئی مذہبی رسومات باقی تھیں وہ ایک طرف کونے میں بیٹھ کر انکے فارغ ہونے کا انتظا رکرنے لگیں۔
آج وہ تینوں ہی خوب ذہنی طور پر تیار ہو کر آئی تھیں۔ ہوپ کو نئی امید چاہیئے تھی گوارا کو شغل لگانا تھا جبکہ اریزہ آج دل میں ٹھان کر آئی تھی کہ جان کر ہی رہے گی آخر اس دن ان کی مبہم باتوں کا مطلب تھا کیا۔
اسے لگا تھا اسکی بات سن کر جواب دے رہے ہیں مگر کیسے۔ وہ دل کا حال جان گئے تھے کیا؟ جب گوارا پوچھ رہی تھی اسکے متعلق تب اس نے دل میں سوچا تھا ان سب باتوں کو جاننے کا کیا فائدہ ہیون کا پوچھنا چاہیئے سچ کہہ رہا کہ مجھ سے محبت کرتا یا فلرٹ کر رہا ہے۔ اور انہوں نے آگے سے کچھ اور ہی کہہ ڈالا تھا۔ آج وہ پوچھے گی صاف صاف۔ انکو آج بتانا ہی پڑے گا۔۔
۔
۔
۔
۔
ختم شد۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“>> » Home » Urdu Novels » Salam Korea » Salam Korea Episode 40

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *