Amal short urdu story عمل مختصر افسانہ

مختصر افسانہ
عمل

گھر میں داخل ہوتے ہی نہ جانے کیوں پارہ آسمان سے باتیں کرنے لگا
حالانکہ معمول سے ہٹ کر کچھ بھی نہ ہوا تھا
ان کے گھر میں داخل ہوتے ہی انکی کم عمر بیوی بھاگ کر ان کے لئے شربت بنا کر لائی تھی
پھیکا لگا انھیں سارا دن کی محنت مشقت کے بعد پھیکا شربت موڈ غارت ہی کر گیا جھڑک کر اسے دوسرا گلاس بنانے کو کہا
کمرے میں آ کر سیدھا نیم دراز ہو کر انہوں نے گلاس خالی کیا رومانہ دوسرا گلاس لے آئی انہو نے مزید غصہ کرنا مناسب نہ سمجھا حسب عادت رومانہ ان کے قدموں میں بیٹھ کر جوتے موزے اتارنے لگی
کھانے میں کیا بنایا ہے؟
مرغ پلاؤ ہلکی سی آواز میں جواب ملا
پچھلی بار کی طرح نمک تو تیز نہیں کر دیا ایسا بدمزہ کھانا زندگی میں کبھی نہیں کھایا تھا جیسا تم پکاتی ہو
رومانہ خاموش رہی
صبح سے کوئی کام کیا یا نہیں میں کہا تھا میری کالی شلوار قمیض دھو کر رکھنا واسکٹ بھی کل پہن کر جانا ہے میں نے
دھو دیا منحنی سی آواز
استری کر کے لٹکا دینا نہانے کا پانی گرم کر دیا
اس بار جواب ملا یا نہیں ان کے پاس وقت نہیں تھا رومانہ نے سلیپر لا کر سامنے رکھے تو وہ فورا باتھ روم میں گھس گیے
نہا دھو کر نیا کر کرتا پہن کر نکھرے نکھرے باہر نکلے تو رومانہ کھانا کمرے میں ہی لا کر لگا چکی تھی
بیڈ پر دراز ہو کر پلیٹ اپنے سامنے کھسکائی نمک کم ہے نمک دانی لا کر دو
رومانہ جو نوالہ اٹھا چکی تھی پلیٹ مے رکھا اٹھ گئی
کھانے کے دوران سارے دن کی روداد سنائی اور کھانا دنیا کا پھیکا ترین کھانا قرار دے کر چایے کی فرمائش کر دی
واسکٹ تو دھلی نہیں پلٹیں اٹھا کر جاتے جاتے رومانہ کو یاد آیا
ہاں تو ابھی چائ
کھانے میں کیا بنایا ہے؟
مرغ پلاؤ ہلکی سی آواز میں جواب ملا
پچھلی بار کی طرح نمک تو تیز نہیں کر دیا ایسا بدمزہ کھانا زندگی میں کبھی نہیں کھایا تھا جیسا تم پکاتی ہو
رومانہ خاموش رہی
صبح سے کوئی کام کیا یا نہیں میں کہا تھا میری کالی شلوار قمیض دھو کر رکھنا واسکٹ بھی کل پہن کر جانا ہے میں نے
دھو دیا منحنی سی آواز
استری کر کے لٹکا دینا نہانے کا پانی گرم کر دیا
اس بار جواب ملا یا نہیں ان کے پاس وقت نہیں تھا رومانہ نے سلیپر لا کر سامنے رکھے تو وہ فورا باتھ روم میں گھس گیے
نہا دھو کر نیا کر کرتا پہن کر نکھرے نکھرے باہر نکلے تو رومانہ کھانا کمرے میں ہی لا کر لگا چکی تھی
بیڈ پر دراز ہو کر پلیٹ اپنے سامنے کھسکائی نمک کم ہے نمک دانی لا کر دو
رومانہ جو نوالہ اٹھا چکی تھی پلیٹ مے رکھا اٹھ گئی
کھانے کے دوران سارے دن کی روداد سنائی اور کھانا دنیا کا پھیکا ترین کھانا قرار دے کر چایے کی فرمائش کر دی
واسکٹ تو دھلی نہیں پلٹیں اٹھا کر جاتے جاتے رومانہ کو یاد آیا
ہاں تو ابھی چائے کے بعد دھو کر ڈال دینا صبح تک سوکھ جاییگی
بلکہ استرے سے سوکھا دینا صبح لائٹ ہو نہ ہو استری رات کو کر کے سونا
رومانہ سر ہلا کر پلٹنے لگی تو جانے کیا خیال آیا
آپ کو کل جانا کہاں ہے؟
پروفسسر محمّد حلیم سیدھے پاؤں پھیلا کر اپنی داڑھی میں انگلی چلاتے بولے
ایک تعلیمی ادارے میں اسوہ رسول صلہ الله وسلم پر لیکچر دینا ہے

written by vaiza zaidi

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *