Aurat kahaniعورت کہانی۔۔۔۔۔۔

عورت کہانی  

آج ہم اپنی زندگی کی نیی شروعات کر رہے ہیں اور میں آج وعدہ کرنا چاہتا ہوں ہم ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ نبھائیں گے دولہا اسکا ہاتھ تھامے کہہ رہا تھا 

(میں وعدہ ‘ ہم ) دلہن ایم اے اردو تھی  اردو   گرامر  انشاء پردازی میں ہی الجھ گیئی 

زندگی کے کسی معاملے پر تم اکیلی نہیں ہوگی ہمیشہ میں تمہارا ساتھ دونگا خیال رکھونگا اوربدلے میں صرف تم مجھے اور مرے گھر والوں کو اپنا سمجھو خیال رکھو بس مجھے تم سے یہ امید ہے تم میری امیدوں پر پورا اترو گی 

دولہا کی  منتظر نظریں اس پر ٹکی تھیں انکی ارینج میرج تھی اور کیا کہنا تھا اسنے سر ہلادیا 

صبح ولیمے کی تیاریوں میں   وقت جیسے بھاگا  تھا اپنے گھر تو بس تھوڑی دیر کو ملنے گیئ وہاں سے پارلر تھوڑی دیر پہلے ہی پارلر سے تیار ہو کر آی اسکی نند اسکے کمرے میں زمین پر   چادر بچھا ۓ استری کر رہی تھی دکھتۓ ہی تعریف کی ماشااللہ بہت روپ آیا ہے تم پر نظر نا لگے 

وہ شرما گئی آپ تیار نہیں ہویں پارلور بھی ساتھ نہیں گئیں ؟ اسکی چھوٹی دونوں نندیں  اس  کے ساتھ تیار ہو کر آییں تھیں 

بس یار دو بچوں کے بعد کیا پارلر ؟ وہ ہنسی بیٹی کو تیار کر کہ ذرا سا کپڑے چینج کرنے گی تو وہ باہر گر آئ سب کپڑے مٹی سے بھر گیے دوبارہ نہلایا تو تمھآ رے میاں شرٹ لے کر گھوم رہے تھے استری کبھی خود نھیں کرتا خیر اب یہ شرٹ استری  ہو جایے تو تیار ہونے جاؤں میں بھی 

وہ تیز تیز ہاتھ چلا رہی تھی 

لائیں بھابی میں کر دیتی ہوں اس نے مروت میں ہی کہا تھا راجستھانی فراک تین انچ کی ہیل لمبا سا کام والا دوپٹہ جھکنا بھی محال تھا اسکے لئے اتنے بھاری جوڑے کے ساتھ 

نہیں تم تیار ہو کر نیچۓ کیسے بیٹھو گی بس ہو جاتا ہے دو منٹ بس 

اس نے پیار سے کہا 

آپی آپکا بیٹا باتھ روم سے آوازیں دے رہا ہے ،اسکی چھوٹی نند کی آواز آئ 

اففف میں تو بھول ہی گیئی صبیحہ سر پر ہاتھ مار کر اٹھی 

آتی ہوں ۔۔۔ 

تبھی باتھ روم کا دروازہ کھلا باسط نہا کر بال خشک کرتا  نکلا آپی ہو گیئی استری ؟ بولتے بولتے ایک لحظے کو اس پر نظر گیئی تو پلٹنا بھول گیئی سارہ  پزل سی ہو کر  پلکیں جھکا گیئ 

تم تیار بھی ہو گئیں میری شرٹ  ہی استری نہیں ہوئی اس نے آگے بڑھ کر شرٹ اٹھائی اسے کر دو تا کہ میں بھی تیار ہو جاؤں ؟ 

جتنی دیر میں سارا سر اٹھا پائی وہ پلٹ کر ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑا بال بنا رہا تھا 

نا چار اٹھی سنڈل اتاری استری کر کے شرٹ پکڑائی 

ولیمے کی تقریب شاندار رہی ایک ایک نے جوڑے کو سراہا کھانا کھا کر گھر پہنچتے ساڑھے دس ہو گیے تھے پھر ساس صاحبہ کو نجانے کونسی رسمیں یاد آگیں خدا خدا کر کے بارہ بجے اسکو سکون سے بیٹھنے کا موقع ملا جس وقت وہ میک اپ اتار رہی تھی باسط فریش ہو کر  آرام دہ کرتا شلوار پہن کر آرام سے  چاۓ پی رہا تھا تم بھی چاۓ پی لو ٹھنڈی ہو جایگی اسے فکر بھی تھی 

سارا مسکرا دی اسکے کمر تک لمبے  بال تھے جس کا جوڑا  

سیدھا اوپر بنا  کر کچھ لٹیں کرل کر کے آگے سے مروڑ کر ہیر اسٹائل بنایا تھا بلا مبالغہ پینتالیس پنیں اس نے گنی تھیں اسکے سر پر دوپٹہ ٹکانے کو ٹھونکی گیئی تھیں اب انھیں نکالتے بازو شل ہو چکے تھے بال بھی نچ رہے تھے تھک کر اسے کہنا پڑا 

سنیں یہ اوپر سے پن نکال دیں 

باسط کے جواب نے اسے ششدر کر دیا تھا اس نے کہا تھا 

بھئی یہ عورتوں والے کام میں نہیں کرتا سمیہ(چھوٹی بہن )  کو آواز دیدو


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد




اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *