Category: Zauq e sukhan urdu shayari

  • mumkin nahi taskeen ay hamdam dil rota hay ro lenay de

    ممکن نہیں تسکین اے ہمدم دل روتا ہے رولینے دے

    میں زیست کا حاصل کھو ہی چکا اس زیست کو بھی کھو لینے دے

    جب درد ہی دل کو بھایا ہو پھر چارہ گری سے کیا حاصل

    برباد میں ہوتا جاتا ہوں برباد مجھے ہو لینے دے

    وہ احد تمنا ختم ہوا ، یادوں کا سہارا باقی ہے 

    اس وادی رنگین میں دل ایک لمحہ سہی کھو لینے دے

    دساز ستارے تھک بھی چلے آنکھوں میں اتنی رات کٹی 

    اے درد مسلسل تھم بھی سہی کچھ دیر ذرا سولینے دے 

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • woh tabasum yaad aaya ro diye

    وہ تبسم یاد آیا رودیے

    کوئی غنچہ مسکرایا رو دیے

    ذہن میں لہرا گئیں  زلفیں تیری 

    ابر جب گھر گھر کے آیا رودیے

    جسے اپنے غم کا نغمہ مل گیا 

    گیت یوں مطرب نے گیا رودیے

    درد سا دل میں اٹھا آنکھیں بھر آییں

    یاد نے تیری رلایا رو دیے 

    شغل یہ ہے فصل گل میں شمیم 

    آنکھہ پھڑکی دل بھر آیا رودیے

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • phir shagoofay phoot nikle toot ker aaai bahar

    حور غم خواری کا جنت دل بہل جانے کا نام

    خلد تخیل خرد منداں ہے میے خانے کا نام

    ساقیا میے ، رقص اے رندو ترنم مطربو

    محتسب کے لب پہ آج آیا ہے پیمانے کا نام

    فتنہ ہائے ہوش کا ردعمل دیوانہ پن 

    مفت میں بدنام کر رکھا ہے دیوانے کا نام

    پھر شگوفے  پھوٹ نکلے ٹوٹ کر آئیی بہار

    پھر لیا ہے آپ نے اپنے دیوانے کا نام 

    مجھ پہ گزرا ہے کچھ  ایسا عالم تشنہ لبی 

    چبھ سا جاتا ہے مرے ہونٹوں میں پیمانے کا نام

    میے پیام امن میخانہ بنا دارالسلام 

    محتسب کے نام پر رکھا ہے میخانے کا نام

    چاک دامان خیر سے چاک جگر سے آملا

    یوں  بہارستان ٹھہرا مرے ویرا نے کا نام

    داغہائے سینہ پھر لو دے اٹھے ہیں شمیم 

    شاعری ٹھہرا جگر کی آگ بھڑکانے کا نام 

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • bala say ghair lia andheron bagolon nay

    بلا سے گھیر لیا اندھیروں بگولوں نے

    مرے جنوں کو ہوا دی ہے چند پھولوں نے

    خراب حال ہو تم بھی ، مگر نصیبوں سے

    مجھے تو دن یہ دکھایا میرے اصولوں نے

    بہار رنگ سمن زار ہے مری منزل

    یہ بات الگ ہے کہ الجھا لیا ببولوں نے

    بکھر گئی ہیں کیوں یونہی اتنی پنکھڑیاں

    بھری بہار کو طعنہ دیا ہے پھولوں نے

    چمن تلک تھی سب اہل چمن کی دلداریاں

    قفس میں اس بندھائی ہے کچھ بگولوں نے

    ہزار اصول ہوئے جذب شوق پر صدقے

    ہزار نام دیے شوق کو اصولوں نے

    وفا سے مضحکہ اہل جور بھی دیکھا

    وفا کے نغمہ سراؤں نے دل ملولوں نے

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • niyat ho doobnay ki tau imkaan nayay nayay

    نیت ہو ڈوبنے کی ، تو امکان نئے نئے 

    اٹھتے ہیں ساحلوں سے بھی طوفان نئے نئے 

    وحشت نئی نئی ، کبھی ارماں نئے نئے 

    دل ہے تو دل بہلنے کے ساماں نئے نئے 

    پیمانے ریزہ ریزہ ، خرابے کھنڈر کھنڈر 

    اب ہیں بھری بہار کے عنوان نئے نئے 

    ہاں یہ مقام ہے کہ چلیں چارہ گر کے پاس

    دل ڈھونڈتا ہے درد کے ساماں نئے نئے 

    غیروں کی دشمنی ہے بڑی عامیانہ چیز 

    میری خرابیوں کے ہیں عنوان نئے نئے 

    پینے کے بعد حضرت واعظ کا زور نطق

    جسے ہوئے ہیں آج مسلمان نئے نئے 

    ایک ترک  عشق پر ہی نہیں داستاں تمام  

    دل ہے تو ٹوٹنے کے بھی امکان نئے نئے 

    پھولوں کا شوق اور خار و شرار و برق 

    ہمراہ درد آئے ہیں درماں نئے نئے

    مستی بھری گھٹا نہ سہی ابر غم سہی

    ارماں بہ خیر زیست کے ساماں نئے نئے 

    آوارہ نکہتیں کبھی پابند خوش نوا 

    کھلتے ہیں گل بنام بہاراں نئے نئے 

    دشمن کا دل جلے کہ ہمارا لہو شمیم 

    ہم ہیں تو روشنی کے بھی ساماں نئے نئے 

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • sach ko sach na bahanay ko bahana samjhain

    سچ کو سچ اور نہ بہانے کو بہانہ سمجھیں

    تم  ستاؤ  ہمیں ہم جور زمانہ سمجھیں

    غیر کو غیر یگانے کو یگانہ سمجھیں

    یہ تو جب ہو کہ ذرا رنگ زمانہ سمجھیں

    جھوٹ کو جھوٹ فسانے کو فسانہ سمجھیں

    وہ بھی دن آئے کہ اسرار زمانہ سمجھیں

    ہم تو انساں کو دکھی دیکھ کر ہنسنے سے رہے

    آپ سمجھیں غم دوراں کو فسانہ سمجھیں

    ہم ہیں جو دیتے ہیں آہوں کو ہنسی کا آہنگ

    کم ہیں جو غم کو مسرت کا خزانہ سمجھیں

    دھڑکنیں ہر دکھے دل کی ہیں میرے سینے میں

    میں کہوں اپنی تو لوگ اپنا فسانہ سمجھیں

    آپ اٹھائیں تو سہی درد کا پرچم لے کے

    اہل دل جتنے بھی ہیں شانہ بشانہ سمجھیں

    ہے مرا شعر مرے درد کی تصویر شمیم

    آپ سے نوحہ ، کہ نعرہ ، کہ ترانہ سمجھیں

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • Rubaai armaan kuchaltay huway dil dukhta hay

    رباعی
    ارمان کچلتے ہوۓ دل دکھتا ہے 
    ایما ں بھی بدلتے ہوئے دل دکھتا ہے 

    گل چاک بد اماں  ہیں انھیں کیا چھیڑوں 
    غنچوں کو مسلتے ہوئے دل دکھتا ہے 


    از قلم زوار حیدر شمیم

  • qataaقطعہ 

    قطعہ 
    وہم رنگیں سے لو لگاۓ ہوئے 
    سوز دل کے دیے جلائے ہوۓ

    چار و ناچار جی رہا ہوں میں 
    ہر سہارے سے جی چرائے ہوۓ

    انکی الفت کا بھی زمانہ تھا 
    اب زمانہ ہوا بھلائے ہوئے

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • Rooh inqilaab روح انقلاب 

    روح انقلاب 

    مرے قدم  میں مے و تو و شباب کی روح 

    ترا خیال ہے مرے خیال و خواب کی روح 

    ہر انقلاب بہاراں تری نگاہ کے ساتھ

    ترا شباب ہے کل عالم شباب کی روح 

    گناہ شوق مسلسل سزا سے بے خبری 

    شباب روح ہے انکی یہ ہیں شباب کی روح 

    نہ چاہیے مجھے الطاف کی خنک بارش 

    میں پا گیا ہوں تری گرمی عتاب کی روح 

    ملا رہے ہیں نگاہیں فلک کے تاروں سے 

    نہاں ہے خاک کے ذروں میں آفتاب کی روح 

    یہ چرچے ہیں   کہ گیا   دور اضطراب مگر 

    سکوں کی آڑ میں اب بھی ہے اضطراب کی روح 

    بہار  تازہ  کی  آمد  کا  غلغلہ    بھی  ہے 

    خزاں رسیدہ بھی ہے شبنم و گلاب کی روح 

    ضیائی روپ میں خونخوار   ظلمتیں ! توبہ 

    وہ ظلمتیں کہ لرزی ہے آفتاب کی روح 

    تمیز ثروت و غربت کے کالے پردوں میں 

    مچل رہی ہے نئی  صبح انقلاب کی روح 

    ہر اک زرہ بے حس کو بخشتی ہے تڑپ 

    بلند عزم ہے پستی میں آفتاب کی روح 

    فنا نہ ہوگا مذاق بلند    پروازی 

    بدل سکے گا نہ کنج قفس عقاب کی روح 

    سنبھل کے دامن جرات نہ چھوٹنے پائے

    سکوں میں ڈھال کے رہے گی اس اضطراب کی روح 

    ضمیر روشن و فکر بلند و عزم صمیم 

    انھیں میں چڑھتی ہے پاروں انقلاب کی روح 

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • Tum se pehle kabhi shikwa tha na ab hay koi

    تم سے پہلے کبھی شکوہ تھا نہ اب ہے کوئی 

    میں جو برباد ہوا ہوں اسکا تو سبب ہے کوئی 

    ہنس تو دیتے ہیں کئی جاننے والے ہم پر 

    ورنہ مڑ کر بھی نہ دیکھیں تو عجب ہے کوئی 

    آج پھر گم خرابات سے رقصندہ دلی 

    آج پھر شہر میں تقریب طرب ہے کوئی 

    اور ہیں جن کو مرے غم سے سروکار نہیں 

    سن ترے آنکھ چرانے کا سبب ہے کوئی 

    کوئی کھائے نہ ترس ہاتھ دعا کو اٹھے 

    دوست جھجکے یہ سمجھ کر کہ طلب ہے کوئی 

    پرسش حال ہے یا مجھ کو گمان گزرا ہے 

    تم ہو ے ہمدمو یا خواب طرب ہے کوئی 

    یہ سر آشفتہ سا ‘ وارفتہ سا ‘ گم سم سا شمیم 

    یہ منجملہ ارباب ادب ہے کوئی 

    از قلم زوار حیدر شمیم