قسط 9  

Salam Korea Episode 9 urdu fan fiction featuring seoul korea urdu web travel novel
Salam Korea Episode 9 urdu fan fiction featuring seoul korea urdu web travel novel

وہ منہ دھو کر باتھ روم سے نکلی تھی گوارا سے ٹاکرا ہوا۔۔

اس نے دونوں ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے تھے۔۔ 

یہ لو اریزہ میں یہ تمہارے لیے لائی ہوں۔۔

اس نے اپنے پیچھے چھپایا ہوا گفٹ پیک اسکے سامنے کیا۔۔

یہ کیا ہے۔۔ وہ خوشگوار حیرت سے بولی۔۔

اس میں کیا ہے۔۔

لوٹا۔۔ گوارا نے مسکرا کر کہا۔ اس نے حیرت سے دیکھا پھر جلدی سے گفٹ کھولا۔۔

واقعی بڑا سا بھورا پلاسٹک کا لوٹا تھا

یہ کیا ہے۔۔ اس نے غصے سے پھینکا۔۔

تبھی جے ہی چلی آئی۔۔ 

یہ لو اریزہ چائے پی لو۔۔ وہ مسکرا کر اسکی جانب بڑھا رہی تھی۔۔ ایک بڑا سا پیلا لوٹا۔۔ 

کیا ہوگیا ہے ۔ وہ گھبرا کر باہر نکلی

اریزہ یہ لو  میں ہم دونوں کیلیے ایک جیسے بیگ لائی۔۔ سنتھیا اسے بیگ پکڑا رہی تھی۔۔ وہ پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔ اس نے ویسا ہی بیگ اپنے شانے سے لٹکا رکھا تھا۔۔

اور وہ بیگ تھا؟ نہیں وہ سرخ لوٹے تھے جن کے ساتھ اسٹریپ لگا رکھے تھے۔۔ ایڈون سالک شاہزیب یون بن کم سن سب لاوئنج میں لہک لہک کر لوٹے بجا رہے۔تھے۔۔ 

کیا ہو رہا ہے یہ پاگل ہو گئے ہو سب؟

وہ چلائی۔۔ 

اریزہ کیچ۔۔ ایڈون نے بڑا سا لوٹا اسکی جانب اچھال دیا۔۔ قریب تھا اسکا منہ ٹوٹتا۔۔ کسی نے اسکے چہرے کے پاس کیچ کر لیا۔۔ 

اس نے ڈرتے ڈرتے اسکا چہرہ دیکھا۔

کھنچی آنکھوں کھڑی ناک والا اسکی جانب دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی پٹ آنکھ کھلی تھی۔ چند لمحے تو کچھ سمجھ نہ آیا۔۔ آہستہ آہستہ حواس بحال ہوئے تو غصہ ہی آگیا۔۔ 

۔ مطلب کچھ بھی؟ اب خواب ہے تو کیا سب دکھائے گا۔۔ کوئی تک ہے بھلا۔۔  اور خواب میں دیکھا کیا اور کسکو بھلا۔۔ اسے خود پر بھی غصہ آگیا۔۔ 

وہ ان تینوں کے نرغے میں سو رہی تھی۔۔ جی ہائے اس سے سنتھیا گوارا سے لپٹی تھی۔۔ اس نے آہستہ سے اپنا آپ اسکے بازو سے چھڑایا۔۔ گردن اکڑ سی رہی تھی۔ سامنے وال کلاک دس بجا رہا تھا۔۔

ان تینوں کا اٹھنے کا ارادہ نہیں لگ رہا تھا۔۔ اسکا اٹھانے کا نہیں تھا۔۔ 

آہستہ سے اٹھ کر باتھ روم کا رخ کیا تھا کہ کال بیل کی آواز آئی۔۔ 

اس نے آگے بڑھ کر گوارا کو ہلایا۔۔ مگر وہ اوں آں کر کے سو گئی۔

دوبارہ کال بیل بجی ۔۔۔چار و نا چار خود ہی دروازہ کھولنے آگئی۔۔ عادت ہی نہیں تھی کیمرہ دیکھنے کی نہ ہول سے دیکھا گئ دھڑ سے دروازہ کھول دیا۔۔

پھر جم گئی۔۔

جتنی وہ حیران ہوئی تھی اتنا تو نہیں مگر کھنچی آنکھوں والا بھی تھوڑا حیران ہوا تھا۔۔ 

اس نے اپنی حیرت چھپائی بھی نہیں مخصوص انداز میں مسکرا کر بولا۔۔

تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔؟

اریزہ حال میں واپس آئی

وہ میں۔۔ اسکی ووکیبلری حسب عادت دغا دے گئ۔۔

وہ تھوڑی دیر اسکے بولنے کا انتظار کرتا رہا مگر اریزہ کی انگریزی واپس آ بھی گئی مگر وہ بولی نہیں۔

یہ گوارا نے منگوایا تھا۔۔ اس نے ایک پیکٹ اسے تھما دیا۔

۔ رات کو منگوایا تھا مگر میں رات کو بھول گیا چلو تم لوگ آج دیکھ لینا۔۔ چلتا ہوں۔۔ وہ پھر مسکرایا۔۔

ٹیک کیئر ۔۔

وہ الوداعیہ جملے ادا کرتا چلا گیا۔۔ تو وہ پیکٹ سنبھالتی دروازہ بند کرتی بڑ بڑائی۔۔

کتنا مسکراتا ہے۔۔ بندہ ہر وقت تو خوش نہیں رہ سکتا۔

۔ اس نے جل۔کر سر جھٹکا۔۔

جی ہائے اٹھ گئ تھی شائد ۔۔ بیڈ پر نہیں تھی۔۔ باتھ روم کا دروازہ بھی بند تھا۔۔ وہ وہیں صوفے پر ٹک کر انتظار کرنے لگی۔ کہ ان دونوں لو برڈز کو دیکھ کر اسے خیال آیا

دونوں ایک دوسرے سے لپٹی سو رہی تھیں۔۔ 

اس نے جلدی سے اپنا موبائل اٹھایا اور انکی ایک دو تصویریں بنا لیں۔۔ جی ہائے منہ پونچھتی باہرچلی  آئی ۔۔

اریزہ باتھ روم مین گھسنے لگی تو اشارے سے روکا۔۔

ٹوائلٹ رول ختم ہے۔۔ ایک منٹ۔۔ 

وہ دراز سے نکال رہی تھی۔۔

اریزہ کو جلدی تھی۔ بھاگ کر گھس گئ۔۔ 

ارے۔۔ وہ حیران ہوئی۔۔ 

اریزہ منہ ہاتھ دھو کر نکلی تب بھی دونوں ایسے ہی پڑی تھیں اس نے دونوں کے گالوں پر ٹھنڈے ٹھنڈے ہاتھ رگڑے جھرجھری لے کر بیدار ہوئیں۔ اور بیدار ہو کر کرنٹ کھا کر ایک دوسرے سے الگ ہوئیں۔۔

ہایون  آیا تھا صبح یہ پیکٹ دے کر گیا ہے۔۔

اس نے اسکی امانت پہنچائی۔۔

ہمیشہ لیٹ ہی رہتا ہے۔۔ گوارا نے منہ بنایا۔۔ جی ہائےکو بھی دلچسپی ہوئی۔۔ 

کیا ہے یہ؟

 مووی منگوائیں تھیں چلو آج رات دیکھ لیں گے۔۔ 

وہ بتاتی اٹھی۔۔ باتھ روم کی طرف بڑھنے لگی پھر خیال آیا۔۔ 

سنتھیا بیڈ پر ہی بیٹھی جمائیاں لے رہی تھی۔۔ 

تم پہلے چلی جائو۔۔ 

گوارا نے کہا تو تینوں اسکی شکل دیکھنے لگیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے کمرے میں آ کر تصویر کو بیڈ کے سہارے کھڑا کیا پھر اس پر سے کاغذ کا پردہ ہٹا کر تھوڑا فاصلے سے دیکھنے لگا۔۔

بہت بہتر بہت بہتر ہے یہ۔۔ شاباش ہوپ۔

 اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا۔۔ اس نے تالی بجائی پھر خود ہی اپنی حرکت پر مسکرا دیا۔۔ 

وہ صبح صبح ہوپ کو اپنی خریدی ہوئی چیزیں پہنچانے گیا تھا۔۔

اسکی پہلی ہی دستک کے جواب میں دروازہ کھل گیا تھا  ۔۔وہ تیار ہو کر باہر ہی نکل رہی تھی۔۔

اسے دیکھ کر حیران رہ گئ۔۔ 

آپ اتنی صبح۔۔ 

وہ ۔۔ وہ تھوڑا رکا۔۔ 

وہ یہ نونا نے آپ کیلیئے بھجوایا ہے۔۔ اس نے زمین پر رکھے بڑے سے باکس کی طرف اشارہ کیا۔۔ 

کیا ہے یہ؟

وہ حیران رہ گئ۔۔ 

آئل پینٹس ہیں برشز اور کچھ پینٹنگ کیلیے مددگار سامان۔۔ 

مگر کیوں۔۔ مجھے نہیں چاہیئے اتنا کچھ۔۔ 

اس کے صاف انکار پر وہ جز بز ہوا۔

وہ در اصل ۔۔ شائدنونا چاہتی ہیں آپ زیادہ سے زیادہ پورٹریٹ بنائیں پریکٹس کریں اسکی زیادہ مانگ ہے نا آجکل۔۔ میں اسے اندر رکھ دوں۔۔ آپکی آسانی کیلیئے۔۔

وہ اسے مزید سوچنے کہنے کا موقع نہیں دینا چاہ رہا تھا۔۔ ہوپ نے الجھن سے اسے دیکھا پھر پلٹ کر اندر چلی گئ۔۔ وہ سمجھا نہیں اجازت ملی ہے اندر آنے کی کہ نہیں۔۔ اس نے گہری سانس لی پھر اٹھا لیا باکس۔۔ اندر کہیں نظر نہیں آرہی تھی ہوپ اس نے اندازے سے لائونج میں ایک کونے میں رکھ دیا۔۔ گھر میں نیم تاریکی تھی۔۔ اسے اندھیرے سے گھٹن سی محسوس ہوئی۔۔ تبھی وہ بڑی سی تصویر گھسیٹتی ہوئی کمرے سے نکلی۔ 

یہ آپ کی تصویر۔۔جی ہاں انداز منہ پر مارنے جیسا ہی تھا ۔۔ کاغذ سے تصویر ڈھکی تھی۔۔ 

گوما وویو۔۔ 

اس نے جھک کر شکریہ ادا کیا وہ بنا اسکی جانب دیکھے نکلتی چلی گئی۔۔ ہایون کو لگا باہر جس تیزی سے نکلی ہے وہ فورا باہر نہ نکلا تو لاک کر جائے گی اسے بھئ اندر۔۔ وہ تیزی سے اسکے پیچھے لپکا۔۔ باہر دروازے پر نہیں تھی۔۔ وہ تیز تیز قدموں سے چلتی لفٹ کی طرف جا رہی تھی۔۔ 

ہوپ شا۔۔ اس نے پکارا مگر وہ ان سنی کر کے لفٹ میں سوار ہو گئ۔۔ وہ اسے چند لمحے تعجب سے دیکھ کر رہ گیا۔۔ پھر اسکے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھینچ کر بند کر دیا۔۔ آٹو میٹک لاک چیک کر کے اس نے تصویر اسی دروازے سے ٹکائی اور گوارا کیلیئے لایا پیکٹ اپر کے اندر سے نکالا۔۔ اب اسکا رخ گوارا کے اپارٹمنٹ کی جانب تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے کچھ سوچا۔۔ پھر تصویر کو اپنی الماری میں رکھ دیا۔ اسکا ارادہ تھا اسکو اپنے کمرے میں لگانے کا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کم سن بیڈ پر بیٹھا فل اسکیپ سائز پیپر  پھیلائے اسے  گھورنے میں مصروف تھا۔۔ یون بن اپنی دھن میں بولتا ہوا داخل ہوا تھا سب سے پہلا کم سن کا ہی بیڈ پڑتا تھا موبائل ہاتھ میں لیئے شائد اسے کچھ دکھانا تھا سو سیدھا آکر اسکے پاس ہی دھپ سے بیٹھا۔۔ 

یہ دیکھو زرا۔۔ 

ارے دیکھ کے۔۔ اٹھو۔۔ کم سن بھونچکا رہ گیا پھر بلا لحاظ اسے دھکیلا۔۔ یون بن  بیڈ سے لڑھک کر نیچے آیا۔

خود بھی گھبرا کر بیڈ کو دیکھنے لگا ۔۔ 

کیا ہے کوئی مکڑی۔۔ وہ ڈر گیا تھا۔۔

کم سن اس پیپر کو ہاتھ سے شکنیں دور کر کے سیدھا کر رہا تھا۔۔ 

کمینے کیا ہے یہ اسکے پیچھے دوست کو گرا مارا

وہ بھناتا کپڑے جھاڑتا اٹھا۔۔ کم سن نے توجہ نہ کی۔۔ دوبارہ تصویر کو گھورنے لگا۔۔

تمہاری ایکس کی تصویر ہے کیا۔۔ یون بن تجسس میں اس کے کندھے پر سوار ہوا۔۔

تمہارے دادا ابو کی تصویر ہے۔۔ اس نے غور سے دیکھ کر اندازہ لگایا

کم سن نے مڑ کر باقائدہ اسکی شکل دیکھی۔۔ 

تمہیں کیسے لگا؟

جھلک آرہی ہے تمہاری۔۔ یہ آنکھیں تھوڑی بڑی ہیں  یہ ناک۔پھیلی ہوئی ہے اور تھوڑی تمہاری طرح نوکیلی نہیں گول ہے ۔ یہ بس تھوڑے بھاری ہیں مگر جوانی میں تو بالکل تمہارے جیسے ہی لگتے ہونگے۔۔ آج برسی ہے کیا انکی؟

یون بن پر یقین تھا۔۔ 

سب کچھ تو گنوا دیا الگ ہے پھر میری  جھلک خاک  آرہی ہے؟

اس نے تصدیق چاہی تھی  

ہاں۔۔ نا آرہی ہے۔۔ تیرے دبلے ہونے سے پہلے کی تصویر لگ رہی۔۔  یون بن نے کندھے اچکائے۔۔ 

 میں کبھی بھی موٹا نہیں رہا۔۔ خیر۔۔ ٹھیک ہے پھر تو۔۔ وہ مسکرایا۔۔ 

ویسے یہ میری تصویر ہے ایک آرٹسٹ سے اسکیچ بنوایا ہے میں نے اپنا۔۔ 

کم سن نے کہا تو یون بن نے آنکھیں پھاڑیں

خود بنا لیتا اپنی اس سے تو بہتر ہی بنا لیتا۔۔ 

کتنا عرصہ ہوگیا ہے برشز ہاتھ میں لیئے بس ایسے ہی دل کیا تو بنوا لی۔۔ 

کم سن نے رول کر کے سائیڈ ٹیبل کی دراز کھول کر ڈال دی۔۔ 

کوئی نو آموز ہی ہوگا۔۔ یون بن دوبارہ بیڈ پر ڈھیر ہو گیا۔۔ 

ہاں۔مگر ٹیلنٹ ہے تھوڑا گروم ہو جائے تو ٹھیک رہے گا۔۔ 

کم سن سستی سے باتھ روم جانے کو اٹھا۔۔

تم دوبارہ پینٹنگ کیوں نہیں شروع کرتے؟ 

کم سن کے بڑھتے قدم لمحہ بھر کر رکے۔۔ 

سوال کہیں سیدھا دل پر لگا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔    

وہ دونوں ٹیرس میں کھڑی کافی انجوائے کر رہی تھیں۔۔ چودھوں فلور سے اونچی اونچی عمارتوں کا نظارہ بل کھاتی سڑکیں ان پر رواں ٹریفک ۔۔ سیول شہر انکے سامنے جلوہ گر تھا۔۔ 

تمہیں یہ نظارہ بہت اچھالگ رہا ؟

جی ہائے نے اسکے چہرے پھر پھیلی خوشی دیکھ کر مسکرا کر کہا۔۔ 

ہاں ۔۔ اس نے سر ہلایا۔۔ 

مجھے منظر بہت مسحور کرتے۔ خاص طور سے کسی اونچے مقام سے شہر کو دیکھنا اسکی رونق محسوس کرنا مجھے بہت پسند ہے۔۔ 

تمہارا شہر بھی ایسا ہے۔۔ جی ہائے نے یونہی پوچھا۔۔

کاش۔۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔ 

وے ؟

وہ سمجھی نہیں تو وہ مسکرا کر اسکی جانب مڑی

تمہارا شہر کیسا ہے؟

سیول سے بہت مختلف۔۔ یہاں بہت شور ہے آلودگئ ہے گہما گہمی ہے میرا گائوں بے حد خاموش ہے۔پر اسرار اور با ہیبت۔۔ اونچے اونچے پہاڑوں میں راستے ہیں ایک گھر یہاں تو دوسرا وہاں۔۔ اس نے  دور تک اشارے سے بتایا۔۔

تم کب جاتی ہو گائوں ؟ چھٹیوں میں؟

ہاں۔ اس بار تم بھئ چلنا برفباری دیکھنا وہاں کی۔۔ جی ہائے پر جوش ہوئی۔۔

دیکھتے ہیں۔ اس  نے کندھے اچکائے۔۔

یہ دونوں کیا کر رہی ہیں۔۔ اسے خیال آیا۔۔ تو دونوں دبے قدموں چلتی ہوئی کمرے میں آئیں۔۔ دونوں نے اپنے کپ سنگل صوفے پر ٹکائے۔۔ اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ان کے قریب آئیں۔۔

دونوں ایک دوسرے سے مخالف منہ موڑے موبائل پر لگی تھیں۔۔اریزہ اور جے ہی نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر تیزی سے آگے بڑھ کر دونوں سے موبائل چھین لیئے۔۔دونوں کی بے نیازی رخصت ہوئی تڑپ کر ان سے چھیننے لپکیں۔۔

یار دو نا بس آخری میسج ہے بائی کرنے لگی تھی۔۔ سنتبھیا جھپٹ رہی تھی اریزہ جھائی دے گئ۔۔

یار میسج نہ چلا جائے یون بن کا میسج آیا ہے ریپلائی چلا جائےگا واپس کر دو۔۔ گوارا اور جے ہی گتھم گتھا تھیں۔۔ 

دو دو۔۔ سنتھیا نے اریزہ سے موبائل چھیننا چاہا اریزہ کا توازن بگڑا وہ لڑکھڑا کر صوفے پر گری دونوں کپ اچھل کر زمیں پر۔۔ کافی بھی ختم کپ بھی۔۔ جی ہائےجلدی سے پیچھے ہوئی پھر بھی کافی اسکے ٹرائوزر کے پائنچے داغدار کر گئ ۔۔

اس حادثے کا فائدہ اٹھاتے دونوں نے اپنے اپنے موبائل چھینے واپس۔۔ جے ہی اسکو ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے فکر مندی سے بولی۔۔

کیم چھنا۔۔ ٹھیک تو ہونا۔۔ 

اریزکی بے وفا دوست مسکراتے ہوئے موبائل پر ٹائپ کرتے بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی۔۔

ٹھیک۔ ہوں۔

وہ سیدھی ہوئی۔۔ 

انہوں نے یہی کرنا تھا پتہ تھا ہمیں۔۔ جے ہی نے

گوارا کو کینہ توز نظروں سے گھورا۔۔

تم لوگ ایکوریم دیکھنے میں تو انٹرسٹڈ نہیں ہوگے نا۔۔

گوارا نے ٹائپ کرتے ہوئے یونہی سرسری انداز میں پوچھا۔۔ 

سنتھیا اور اریزہ کے کان کھڑے ہوئے

نہیں یار کسی مہنگی جگہ کا وعدہ لے کر ماننا

جی ہائےکہتی اسکے ساتھ ہی آبیٹھی۔۔

پھر تائیدی نظروں سے اریزہ کو دیکھا

اسکی توقع کے برعکس دونوں کے چہرے پر اشتیاق پھیلا تھا۔۔

ایکوریم وہی نہ جہاں یہ لڑکے اس دن گئے تھے؟

اریزہ نے تصدیق چاہی سنتھیا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

وہیں چلتے ہیں نا۔۔ کتنا مزہ کر رہے تھے یہ لوگ۔۔ اریزہ نے اشتیاق سے تالی بجائی۔۔ گوارا اور جی ہائے ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہو تو آئے ہو اس دن دوبارہ کیوں جانا ہے؟

یون بن نے میسج ٹائپ کرتے ہوئے پوچھا۔۔ 

یار سنتھیا جانا چاہ رہی تھی وہاں ان لوگوں نے نہیں دیکھا ایکوریم ۔۔

ایڈون نے کہا تو اس نے یہی پوچھ لیا ۔۔

جواب فوری اورنفی میں آیا تھا۔۔

منع کر رہی ہے۔۔ گوارا پھر کسی دن چلیں گے۔۔

یون بن نے بہلایا۔۔

تم لوگوں نے اکٹھے ضرور جانا تم سنتھیا کے ساتھ اسکی پسند کی جگہ جائو تم گوارا کیساتھ اسکی پسند کی جگہ جائو۔۔ 

کم سن منہ پر تکیہ رکھے لیٹا تھا تکیہ ہٹا کر بولا۔۔

دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔ بات تو صحیح تھی۔۔

یارجی ہائےاور اریزہ بھی تو ہیں۔۔ اصل میں تو وہ لوگ مل کر انجوائے کرنا چاہ رہی ہیں۔۔ ایڈون نے کہا تو کم سن ہنسا۔۔

مستقل تو تم دونوں سے باتیں ہو رہی ہیں وہ اکٹھے خاک مزے کر رہی ہیں۔۔

دونوں پھر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم لوگ کلب وغیرہ جاتے ہو۔۔ جی ہائے کو خیال آیا۔۔

ہاں۔۔

نہیں۔۔ 

دونوں نے اکٹھے جواب دیا پھر ایک دوسرے کو گھورنے لگیں

کب جاتی ہو کلب؟

اریزہ نے آڑے ہاتھوں لیا سنتھیا کو۔۔

پاپا کا ہے نا میس۔۔ آفیسرز کلب۔۔ اس نے کھسیا کر کہا۔۔

اول تو یہ اس طرح کے کلب کا نہیں پوچھ رہی دوسرا تم وہاں جتنا جاتی ہو وہ بھی پتہ۔۔ 

دونوں اردو میں شروع تھیں

ہوتا تو کلب ہی ہے۔۔ اس نے ڈھٹائی سے مسکرا کر کہا۔ 

شام کو چلیں۔۔ ڈانس کریں گے  ڈرنک کریں گے فل ہینگ آئوٹ کھانا بھی باہر کھائیں گے ٹھیک۔۔ جی ہائے نے پروگرام۔بنا کر چٹکی بجائی۔۔

ہاں ۔۔ دونوں فہمائشی مسکرائیں۔۔

ناچیں گے پییں گے دونوں اسکے الفاظ دھرا کر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگیں۔۔

ہاں رات کا پروگرام سیٹ کر لو۔۔ ابھی مجھے زرا مارکیٹ تک جاناہے۔۔ گوارا ایکدم سے پروگرام بناتی اٹھئ۔

کیوں ابھی کل ہی تو ہو کے آئے ہیں مارکیٹ سے۔۔ 

جے ہی حیران ہوئی۔۔

مجھے کچھ ضرورت کی چیزیں لینی ہیں۔۔ وہ گڑبڑائ۔

کیا چاہیئے مجھ سے لے لو۔۔ جی ہائے فراخ دلی سے آفر کی۔۔

مجھے بھی کچھ چھوٹی موٹی چیزیں لینی ہیں میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں۔ 

سنتھیا تیزی سے اٹھی۔۔

اب تمہیں کیا ہوا۔۔ اریزہ حیران رہ گئ۔۔

کل تو اتنی تم لوگوں نے۔ وہ اٹکی۔۔ ہڑبونگ مچائی میں فیس واش لینا بھول گئ۔۔ اسے کچھ سوجھ گیا۔۔

اور یہ جو کپ توڑ دیے تم لوگوں نے صرف چار کپ تھے میں کپ لے کر آتی ہوں۔۔ 

ہم بھی چلتے ہیں ۔۔ جی ہائئ اٹھی۔۔ 

ہاں کل کی طرح تم لوگ بیچ سڑک پر لڑ پڑیں کون چھڑائے گا۔۔ اریزہ بھی اٹھی

نہیں۔ دونوں نے ہاتھ اٹھا کر روکا۔۔ پھر ایک دوسرے کو دیکھ کر جز بز ہوئیں۔۔

مطلب ہم پاگل تھوڑی۔۔ ہم نہیں لڑیں گے بے فکر رہو۔۔ بس تھوڑی دیر میں آجائیں گے۔۔سنتھئیا نے کہا تو گوارا نے بھی تائید کی۔۔  

ہاں شام کو پھر جانا بھی تو ہے۔۔

میں زرا چینج کر لوں۔۔ سنتھیا جھپاک سے باتھ روم گھسی۔۔ گوارا نے دانت کچکچا کر اسکی تیزی کو ہنگل میں سراہا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔    ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دونوں بہترین ٹاپ پہن کر جینز پہن کر تیار تھیں۔۔ 

جے ہی اور اریزہ منہ کھولے تیاریاں دیکھ رہی تھیں

اتنا بن ٹھن کر سپر اسٹور جا رہی ہو؟

اریزہ نے ٹوکا تو سنتھیا کھسیائی

واپسی پر باہر بھی تو جانا سوچا تیار ہو جائوں تم لوگ بھی تیار رہنا۔۔

کتنی دیر لگائوگی مارکیٹ میں؟ جے ہی مشکوک ہوئی۔۔

بس گھنٹہ ایک۔۔۔۔ دونوں گڑبڑائیں 

اوکے اریزہ ا

وکے جے ہی خدا حافظ۔۔ دونوں ہاتھ ہلاتی تیزی سے نکل گئیں۔۔

اریزہ اور جے ہی ایک دوسرے کے کندھے پر سر رکھ کر رہ گئیں۔۔

کل کیسا دونوں جنگلی بلیوں کی طرح لڑ رہی تھیں۔۔

اریزہ نے کہا تو جے ہی نے بھی سرد آہ بھری۔۔

اور آج تو ہم دونوں سے زیادہ آپس میں گہری سہیلیاں لگ رہی ہیں۔۔

ایک رات میں اتنا چینج۔۔ اریزہ نے یونہی کہا پھر ایک دم سیدھی ہو کر جی ہائےکی طرف مڑی۔۔ دونوں کے دماغ میں اکٹھے گھنٹی بجی تھی۔۔ شٹ۔۔ دونوں بھاگ کر ٹیرس میں آئیں نیچے جھانکنے لگیں۔۔ یون بن کی گاڑی آ کر رکی تھی۔۔ فرنٹ سیٹ سے ایڈون اترا اتر کر پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر سنتھیا کو بٹھانے لگا  گوارا سیدھی فرنٹ سیٹ کی طرف بڑھی۔ سب بیٹھ گئے تو یونہی یون بن کی سر آٹھاتے ان پر نظر پڑی اس نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔۔ 

جے ہی اور اریزہ کی صدمے سے آواز گنگ ہو چکی تھی منہ کھلا تھا ہاتھ جمے تھے سو جوابا ہاتھ نہ ہلاسکیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جی ہائے اور اریزہ پوری آنکھیں کھولے چہرے پر نا قابل فہم تاثرات لیے اسکرین کو دیکھ رہی تھیں۔۔ 

کس نے آئیڈیا دیا تھا ہارر مووی منگوانے کا ۔۔

جے ہی نے ریموٹ سے ٹی وی بند کر دیا۔۔

چوتھی بار وہ بچی ڈر کر چیخی تھی یہ دونوں بھی ساتھ چیختیں مگر لاونج کی سب کھڑکیوں کےپردے ہٹائے بتیاں جلا کر خوب روشنی کر کےفلم دیکھی جا رہی تھی۔۔

ہایون سے منگوائی تھی گوارا نے اس نے ایسی ہی لا کر دینی تھیں۔۔ اریزہ نے منہ بنایا۔۔

ہمم یہ لوگ تو گئیں اب شام کا پروگرام کینسل ہی سمجھو۔۔ جی ہائےنے انگڑائی لی۔۔ اریزہ بھی صوفے سے ٹیک لگا کر آرام دہ انداز میں نیم دراز ہوگئ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہے اٹھو جلدی وقت نہیں زیادہ ہمارے پاس۔۔۔

گوارا چلا رہی تھی۔۔ سنتھیا جھنجھوڑ رہی تھی۔۔ کمرے میں ہنگامہ اور شور بپا تھا۔۔ دونوں نے کھینچ کر انہیں کھڑا کیا تھا یون بن ایڈون کم سن ہایون سب جمع تھے وہ دونوں بھونچکا تھیں

چلو تیار ہو جلدی سے۔۔ سنتھیا نے ہکا بکا اریزہ کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا ۔۔ دونوں نے جلدی جلدی منہ ہاتھ دھوئے اریزہ باہر آئی تو سنتھیا اسکیلیئے جینز اور ٹاپ نکال چکی تھی۔۔

یہ پہنوں؟ اریزہ نے گٹھری بنے ٹاپ کو دیکھا۔۔

استری کر لاتی ہوں میں۔۔ 

سنتھیا مڑی۔۔

ٹھہرو۔۔ گوارا نے اپنی الماری کھولی سب سے اوپر رکھی پنک فری سائز ٹی شرٹ نکال کر دی۔۔ 

یہ پہن لو۔۔ 

اریزہ نے ایک نظر دیکھا۔۔ گوارا سنتھیا سے بھی لمبی تھی۔۔ اسکی ٹی شرٹ اسکے آرام سے ران تک آرہی تھی۔۔ اس نے ساتھ لگا کر دیکھا۔۔ 

ٹھیک ہے نا اریزہ۔۔ سنتھیا سمجھ گئ کیا دیکھ رہی ہے۔۔

ہمم۔ اس نے کندھے اچکا دیئے۔۔

بمشکل پانچ منٹ لگے تھے۔۔ تیار ہو کر باہر آئیں تو ہایون نے ان سب کو دیکھا پھر یون بن کوگھورنے لگا۔۔

کبھی مجھے نہیں بتاتے دوست تھوڑی ہوں ڈرائیور ہوں تمہارا۔۔ خود سب تیار ہو کر کھڑے ہو۔۔

وہ شارٹس میں ملبوس تھا۔۔

تو تم سے مجھے کام کیا پڑ سکتا بےکار آدمی۔۔ خود سوچنا چاہیئے کہ بلایا ہے تو گھر سے ڈھنگ کے حلیئے میں نکلوں۔۔

میں واپس جا رہا۔۔ وہ فورا مڑا۔۔

اتنی دیر لگ جائے گی واپس گھر جائوگے پھر آئو گے۔۔

یون بن نے روکا۔

میں سیدھا کلب آجائوں گا۔۔ اس نے آرام سے کہا۔

ہم کیسے جائیں گے کلب؟ ایک گاڑی کے بندے نہیں ہم ۔۔

یون بن چڑا۔۔

ہایون گھورنے لگا۔۔

ٹھیک ہے تم لوگوں کو کلب چھوڑ کر دفع ہو جائوں گا۔۔ اسے غصہ آگیا۔۔

ہم واپس کیسے آئیں گے۔۔ ؟

کم سن نے چڑایا۔۔

ٹھہرو۔۔ گوارا کو خیال آیا تو انکی بحث کو بریک لگائی۔۔

میں یون بن کے لیئے جینز لائی تھی وہ پہن لو۔۔ 

اور شرٹ بھی کوئی پڑی ہوگی۔۔

اوئے تم میرے لیئے لائی ہو۔۔ اسے کیوں۔۔ یون بن کو سخت برا لگا۔۔

تمہارے لیئے لا کر پچھتائی ہوں آئندہ سوچوں گی بھی نہیں کچھ لینے کا۔۔ گوارا کو کچھ یاد آگیا تھا سو چبا چبا کر بولی۔۔ یون بن  سر کھجا کر رہ گیا۔۔ گوارا اسے کمرے میں لے گئ ۔ نئی پینٹ اور شرٹ نکال کر دی۔۔ 

چلو تب تک ہم نیچے چلتے ہیں۔۔ یون بن پکار کر ہایون کو گھر لاک کرنے کی ہدایت کرتا نیچے آگیا۔۔

یون بن اور گوارا فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئے جی ہائے ایڈون سنتھیا پیچھے بیٹھ گئے 

ہم نکلتے ہیں گوارا کو کچھ لینا ہے تم لوگ ہمیں اگلے چوک سے جوائن کر لینا۔۔

یون بن نے کہا تو یہ دونوں اثبات میں سر ہلا کر رہ گئے۔۔

کم سن نے دلچسپی سے اریزہ کو دیکھا۔۔ لائٹ بلیو جینز لائٹ پنک ٹی شرٹ جس پر آئی لو ہم لکھا تھا۔۔ اسکے اوپر پنک اور وہائیٹ پرنٹڈ اسکارف بڑے اسٹائلش انداز سے گلے میں ڈالا ہوا تھا۔۔ کندھوں تک آتے لئرز کٹنگ والے بال کھلے ہوئے تھے ٹی شرٹ کے گلے میں چھوٹا سا کیچر ٹکایا ہوا تھا۔۔

کیا ہوا۔ اسے کم سن کی نظروں کا احساس ہوا تو ابرو کے اشارے سے پوچھا۔

مسلم لڑکیاں اسے سر پر نہیں باندھتی ہیں؟ اس نے اسکارف کی طرف اشارہ کیا۔۔

ہاں مگر میں حجاب نہیں کرتی۔۔ اس نے مسکرا کر کہا۔۔

پھر لائی کیوں ہو؟ وہ حیران ہوا۔۔ 

وہ۔۔ اسے جواب نہ سوجھا۔۔ 

وہ یہ دوپٹہ کی جگہ استعمال کر رہی ہوں۔۔

اس نے مسکرا کر کہا۔۔ 

ہایون تبھی لہراتا آیا۔۔ اسے دیکھا ٹھٹھک گیا۔۔

چلیں۔ کم سن کو سچوایشن مزا دے گئ۔۔ ہیون نے کندھے اچکائے۔۔ کم سن جلدی سے آگے بڑھ کر پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھ گیا۔۔

اریزہ نے تھوڑا حیران ہو کر دیکھا۔۔ لیفٹ ہینڈ ڈرایئو ہونے وجہ سے پیسنجر سیٹ کی طرف ہی وہ کھڑی تھی ہیون نے اپنی طرف سے گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھتے اس سے سر ہلا کر پوچھا۔۔ تو وہ نفی میں سر ہلاتی اسکے ساتھ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئ۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان سب کا سی فوڈ کا پلان تھا۔۔ اریزہ کو سی فوڈ کھانے میں اعتراض نہیں تھا اسے مچھلی پسند تھی بس اسکی شرط تھئ کانٹوں والی ہو اور جھینگے نہ ہو۔۔ وہ لوگ سیدھا گنگنم  فوڈ اسٹریٹ میں آئے تھے۔۔ پوری فضا میں تازہ مچھلیوں اور بھنتی سی فوڈ کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔۔ اسے دیکھ کر کافی حیرانی ہوئی فری سیمپلنگ ہو رہی تھی چھوٹے چھوٹے پلاسٹک کے کپ اور چھوٹے چھوٹے چاپ اسٹکس سے وہ پہلے چکھاتے اگر پسند آئے تو آرڈر کریں۔۔ یہ سب مزے سے ہر اسٹال سے چکھتے چکھاتے اوپن ائر ریسٹورنٹ میں آگئے۔

میں یہاں آئوں اور آکٹوپس نہ کھائوں نا ممکن۔۔ ان لوگوں کو آرڈر دے کر انتظار کرنا تھا سو ہایون اٹھ کھڑا ہوا۔۔

ہاں میرے لیئے بھی۔لانا۔۔ یون بن نے پیر سیدھے کیے

لانا مطلب چلوپھر اگر کھانا۔۔

ہایون نے آنکھیں نکالیں۔۔

یار گوارا نے تھکا مارا ہے۔۔ یون بن نے کہا تو گوارا نے گھور کر دیکھا اس نے مظلوم سی شکل بنائی۔۔

سچ تھک گیا ہوں لے آنا میرے لیے۔۔ 

میں بھی چلتا ہوں۔۔ کم سن اٹھ کھڑا ہوا۔

یہ لوگ آکٹوپس بھی کھاتے۔

اریزہ نے حیرت سے کہا تو ایڈون نے ہیون سے کہا۔۔ 

اریزہ کو لے جائو اسکا دل کر رہا آکٹوپس کھانے کا

ہیں وہ بھونچکا رہ گئ

کیا بکواس کر رہیے ہو۔۔ وہ فورا سیدھی ہوئی ایڈون ہنسنے لگا۔۔

چلو۔ اریزہ۔۔ ہیون نے اسے آفر کی۔۔

مم میں کیا کروں گی مجھے تو اسمیل چڑھ رہی ویسے ہی۔۔ اریزہ نے بے چاری سی شکل بنائی۔۔ 

ہمم ۔۔

کم سن اور ہایون متوجہ تھے۔۔

یہ کہہ رہی ذیادہ دور تو نہیں۔۔ سنتھیا کو بھی شرارت سوجھی۔۔

نہیں بس اگلی گلی میں ہے۔۔ ہیون نے اطمینان دلایا۔۔

نہیں میں یہ نہیں کہہ رہی۔۔ اریزہ نے سنتھیا کے بازو پر چٹکی کاٹی۔۔ 

جائو چلی جائو۔۔ اریزہ ہایون کو ڈسکائونٹ مل جائے گا۔۔ گوارا نے کہہ کر ہنسنا شروع کر دیا۔۔ 

یون بن ایڈون سنتھیا سب ہنسنے لگے۔۔ وہ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہی

آجائو اریزہ زیادہ دور نہیں۔۔ کم سن نے کہا تو وہ کچھ سوچ کر اٹھ گئ۔۔

کوریا کے بازار اور پاکستان کے بازار میں واضح فرق تھا۔۔ سب اپنے کام سے کام رکھتے چلے جا رہے تھے۔۔ وہ جتنی بے زاری سے اٹھی تھی اتنی دلچسپی سے اسٹال دیکھ رہی تھی۔۔ پوری گلی فوڈ اسٹال سے بھری تھئ۔۔ اسے سب فری سیمپلنگ آفر کر رہے تھے وہ مسکرا کر معزرت کر دیتی ۔۔ ہایون اور کم سن باتیں کرتے تھوڑا آگے نکل گئے پھر احساس ہوا تو مڑ کر دیکھا۔۔ وہ ایک اسٹال کے باہر کھڑی اس کورین عورت سے بات کر رہی تھی۔

اس نے بڑا سا کپ اسپائیسی چکن کا بنوایا تھا۔۔ دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ مگر وہ متوجہ نہیں تھی۔۔ وہ کپ بنوا کر پلٹ گئ۔۔ دو تین اسٹال سے دور دو چھوٹے بچے بیٹھے سادہ بن کھا رہے تھے۔۔ وہ انکے پاس گئ انہیں دیا وہ لینے سے انکاری تھے اس نے پیار سے انکے گال چھوئے۔۔ اور جانے کیا کہا وہ مسکرا دیے اور لے لیا۔۔ ایک بچے نے اٹھ کر اسکے گال پر پیار بھی کر ڈالا۔۔ وہ دونوں بچوں کے گال پیار سے چھوتی ہاتھ ہلاتی ان کے پاس چلی آئی۔

چلیں۔۔ اس نے کہا تو دونوں کندھے اچکا گیے۔۔ دائیں جانب چند قدم کے فاصلے پر سی فوڈ اسٹال تھا۔ ہیون نے تین پلیٹ کا آرڈر دیا۔۔ 

عورت مسلسل انہیں کچھ کہہ رہی تھی ایک بار اریزہ کو دیکھتی ایک بار ہیون کو بار بار مسکرا رہی تھی۔۔ اریزہ بھی مسکرا دی۔۔ پھر کم سن سے پوچھا کیا کہہ رہی ہے؟

کہہ رہی ہے تم بہت پیاری ہو۔۔ اور۔۔ وہ بتانے لگا تو ہیون نے اسکا پائوں دبا دیا۔۔ وہ سی کر کے بات ادھوری چھوڑ گیا۔۔

گوما وویو۔۔ اریزہ نے کوریں انداز میں جھک کر شکریہ ادا کیا وہ عورت خوش ہو گئ

تم نے محبت میں ہنگل بھی سیکھ لی۔۔ تم اسکو ہاتھ سے جانے مت دینا۔۔ ایسی لڑکی بہت قسمت سے ملتی ہے جو اتنا ساتھ نبھائے۔۔ 

اس نے ہنگل میں کہا تھا کم سن ہنسے گیا ہیون نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلا دیا۔۔ 

اس عورت نے بڑی سی پلیٹ میں دو آکٹوپس بنا کر اریزہ کو ہی تھما دیئے۔۔ اس نے بھی شکریہ ادا کر کے ہیون کو پکڑا دیا۔

تم۔کھائو گی اریزہ۔۔ اس نے اس سے بھی پوچھا مگر وہ سہولت سے منع کر گئ۔ وہ کافی حیرت سے اس عورت کواگلی پلیٹ کیلیئے  آکٹوپس بناتے دیکھ رہی تھی۔۔ اس نے آکٹوپس کو پکڑا لکڑی کے سلیب پر رکھ کر ٹوکا چلایا۔۔ آکٹوپس مسلسل حرکت کر رہے تھے۔۔ اس نے ڈسپوزایبل پلیٹ نکالی آکٹوپس اس میں ڈالے ایک چھوٹے سے کپ میں چٹنی ڈال کر تھما دیے۔۔ 

یہ تو ہل رہے ہیں کیسے کھائوگے؟

 اس کی حیرانی عروج پر تھی۔۔ 

دونوں ہنس دیئے۔۔ پھر کھا کر دکھایا۔۔ 

یہ زبان اور حلق میں چپک جاتے ہیں انکو موقع دیے بغیر چبانا پڑتا۔۔ ہیون نے بتایا پھر چاپ اسٹک سے آکٹوپس کی ٹانگ پکڑ کر ساس میں ڈبوئی اور کھا کر بھی دکھایا۔ دکھائی نوڈلز جیسے رہے تھے ہلتے ہو ئے نوڈلز۔

تم چکھو گی۔۔ دونوں بار بار چاپ اسٹک اسکے سامنے لہراتے یہ ہنستے ڈر کر پیچھے ہو جاتی۔۔ 

ہاں چٹنی اس نے چکھ لی تھئ۔۔ مزے کی تھی لہسن ٹماٹر کی جیسے ہوتی ہے۔۔ جب یہ لوگ پیک کروا کر پہنچے کھانا لگ چکا تھا۔۔ وہ لوگ انہی کا انتظار کر رہے تھے۔۔ اریزہ سی فوڈ کھانے کو راضی تھی مگر جب پوری مچھلی آنکھوں سمیت سامنے آگئ تو سچ مچ اسکی آنکھوں میں پانی آگیا۔۔ 

میں کیا یہاں بھوکی مر جائوں گی۔۔ 

وہ بڑبڑائی۔۔

سنتھیا ہنسی۔۔ 

تم سر نہ کھائو بیچ سے تو کھا لو۔۔ 

اس نے منہ بنا کر کھانا شروع کیا۔۔ بہرحال گھر میں پکاتے مچھلی کا پیٹ بھی صاف کیا جاتا ہی ہے وہ جتنا اوپر اوپر سے کھا سکتی تھی کھا لیا۔۔ شکر ہے مچھلی کی کھال الگ کی گئ تھئ۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کھانا کھا کر وہ سیدھا کلب آئے تھے۔۔ یہاں دن نکلا ہوا تھا ڈے جےلوکل سر بکھیر رہا تھا نوجوان لڑکے لڑکیوں نے ہنگامہ برپا کر رکھا تھا۔۔ یہ سب سیدھا ڈانس فلور کی طرف بھاگے۔۔ 

کیا پیوگی۔۔ ؟

وہ تینوں اسنوکر ٹیبل کی طرف آگئے۔۔ کم سن کا موڈ گیم لگانے کا تھا ہیون کو مہمان نوازی سوجھی۔ 

مجھے پہلے کچھ کھاناہے۔ اس نے مسمسی سی شکل بنائی۔۔ 

ہمم ؟۔۔ ہایون نے اسکو غور سے دیکھا۔۔

کوئی بھی جوس۔۔ اس نے کہا تو ہیون نے آرڈر دیا خود وہ دونوں گیم لگا کر کھڑے ہوگئے۔۔ وہ کچھ دیر انہیں کھیلتے دیکھتی رہی پھر اٹھ کر انکے پاس آگئ۔۔ 

اسکا منہ اترا تھا۔۔ ہیون نے شاٹ لگاتے اسے دیکھا تھا۔۔ ہایون جیت گیا تھا۔۔ 

میں بھی کھیلوں۔۔ اریزہ نے کہا تو کم سن فورا ہٹ گیا

کیوں نہیں۔۔ اس نے اسٹک ٹھیک پکڑی تھی شاٹ بھی لگا دی ٹیبل کھولتے ہی چار بالز پاکٹ میں ۔۔ 

وائو۔۔ تم تو اچھی کھلاڑی ہو۔۔ اس نے کھلے دل سے تالی بجا کر تعریف کی۔۔ 

ہیونگ

 نے شاٹ لگائی مس ہوگئ۔۔ اپنی اسٹک کم سن کو تھما کر بولا۔۔

تم لوگ کھیلو میں آتا۔ہوں۔۔

وہ سیدھا ڈانس فلور کی طرف بڑھا۔۔

ایڈون اور سنتھیا ناچنے میں مگن تھے اس نے پاس جا کر ایڈون کے کان میں کچھ کہا اسے سمجھ نہیں آیا۔۔ اس نے دوبارہ بات دہرائی تو پھر اس نے جواب دیا۔۔ یہ سر ہلاتا واپس آگیا۔۔

اریزہ منہ بنائے ایک طرف میز پر بیٹھی اورنج جوس پی رہی تھی۔۔ 

کیا ہوا گیم ختم ہوگئ تم لوگوں کی؟

اس نے پوچھا تو وہ بےزاری سے بولی۔

نہیں میں جیت رہی تھی کم سن کو کال آگئ وہ باہر چلا۔گیا۔۔ اس نے جیسے شکایت لگائی۔۔

ہایون ہنسا۔۔ 

آئو باہر چلیں ہم بھی۔۔ اس نے کہا تو اریزہ نے ایک نظر کلب پر ڈالی پھر سر ہلا دیا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اندر کتنا حبس تھا۔۔ پتہ نہیں کلب میں لوگ تفریح کیا کرتے۔۔ 

کھلی فضا میں آکر اس نے گہری سانس لی۔۔ 

تمہیں ڈانس کا شوق نہیں۔۔ تمہارے دوست تو خوب تفریح کر رہے تھے۔۔ وہ حیران ہوا۔۔

نہیں۔۔ اچھا لگتا مجھے بہت اچھا ڈانس بھی آتا ہے۔۔ 

مگر اس طرح اجنبیوں میں ایسا ڈانس نہین کر سکتی۔۔ 

وہ سوچ سوچ کر بولی۔

پھر کیسے کر سکتی ہو؟ اکیلے۔۔

اس نے پوچھا تو وہ کندھے اچکا کر بولی۔۔

ہاں اکیلے جب بہت خوش ہوتی تو۔۔اچھل۔کود کر لیتی ۔۔ وہ ہنسی

مجھے کتھک پسند ہے۔ ہلکی پھلکی ادائیں بس۔ میں نے بہت شوق سے سیکھا تھا۔ مگر امی نے کبھی کسی جگہ پرفارم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ 

امی؟ وہ اسکے مکمل انگریزی جملے میں واحد اردو لفظ پر چونکا

ماں۔ والدہ۔ اس نے وضاحت کی۔ 

ہمارے یہاں ماں کو آہموجی کہتے۔ اور باپ کو آہبوجی۔ 

ہ نکال دو تو ہم بھی ابوجی ہی کہتے۔ وہ ہنسی

وہ چلتے چلتے کافی دور نکل آئے تھے۔۔

ہم کلب سے کافی دور نہیں آگئے۔۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔۔

بس کچھ قدم اور۔۔ اس نے آگے کی جانب اشارہ کیا 

اسکی بتائی منزل پر پہنچ کر وہ اچنبھے سے دیکھنے لگی۔۔ وہ اسےکسی قریبئ چائنیز ریسٹورنٹ کے باہر لے آیا تھا۔۔

تم نے کھانا کھانا ہے نا چائینیز ہی آرام سے منہ بنائے بغیر کھا لیتی ہو اسلیے یہاں لایا ورنہ کورین تو وہاں کلب کے پاس بھی ڈھابہ تھا۔۔ اس نے وضاحت کی

تمہیں کیسے پتہ لگا۔۔

تم نے ہی کہا تھا موجے پیلے کاچ کھنا۔۔

اس نے اٹک اٹک کر کہا تو وہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی۔۔ ریستوران میں اس نے حسب معمول سبزی پلائو منگوایا۔۔ ساتھ سلاد۔۔

تم بہت خطرناک ہو۔۔ اس نے پہلا نوالہ منہ میں رکھتے اسے دیکھ کر کہا۔۔ 

کیوں؟۔۔۔ کیسے؟۔۔ وہ حیران ہوا۔

تمہیں اردو سمجھ آتی میں محتاط رہوں گی اب۔۔

اس نے منہ بنا کر کہا تو وہ کھل کر ہنسا۔۔

مجھے کیسے اردو سمجھ آئے گی؟تم نے اتنا دکھی منہ بنا کر کہا تو میں ایڈون کے پاس گیا اس سے پوچھا اس جملے کا کیا مطلب۔۔ وہ سادگی سے بتا رہا تھا۔۔ 

وہ کھانا تو کھا چکا تھا مگر اسکا ساتھ دینے تھوڑی سی سلاد پلیٹ میں نکال کر ان پر چاپ اسٹک پھیر رہا تھا۔۔

اریزہ اسے دیکھتی رہی۔۔ 

 واقعی۔۔ تم بہت سویٹ ہو شکریہ اتنا کنسرن لینے کا۔ 

تم سے ہی سیکھا۔۔ اس نے خوشدلی سے مسکرا کر کہا۔۔ 

اریزہ کو سمجھ نہ آیا۔۔ کندھے اچکا گئ۔۔

دونوں کھا پی کر آرام سے باہر نکلے۔۔ 

ایک انجان سی آنٹی دونوں کو مسکرا کر کچھ کہتی چلی گئیں۔۔  ہایون مسکرا کر رہ گیا وہ اس سے پو چھنے لگی۔۔ 

کیا کہہ گئیں یہ۔۔ 

کہہ رہی تھیں تم دونوں ساتھ اچھے لگ رہے ہو۔۔ ہایون نے جیبوں میں ہاتھ ڈالے۔۔ 

اریزہ سمجھی نہیں۔ ایسے ہی کہہ گئی ہونگی۔۔ 

۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں باتیں کرتے ٹہلتے کلب واپس آئے تو سب کلب کے باہر سیڑھیوں پر  لائن سے رونی صورت بنائے بیٹھے تھے۔۔

تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو؟

 ہایون نے حیرانی سے پوچھا۔۔

انہوں نے نکال دیا ہمیں۔۔

یون بن روتا ہوا اٹھا اور اوپر واپس کلب جانے کیلیے سیڑھی پر قدم رکھا بری طرح لڑکھڑا کر کم سن کے اوپر۔۔ کم سن جو اس سے ایک قدم اوپر سیڑھیوں پر بیٹھا تھا الٹ کر گرا 

گوارا۔۔ کا اسکیچ خراب کر دیا۔۔ میں بنا رہا تھا ۔۔ وہ لڑا

یون بن نے اٹھتے ہوئے معزرت کی۔۔

بیانیئے بیانئے۔۔

میں روک رہا تھا مت پیو ۔۔ انہوں نے میری نہیں سنی۔ ۔۔ ایڈون غصے سے کہتا اٹھا۔۔ 

چلو انکو گھر لے چلیں۔۔ وہ سیدھا کھڑا ہوا  مگر بس ایک لمحے کو لڑکھڑا کر آنے لگا تھا سیدھا اریزہ کے اوپر۔۔ ہیون نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دیا۔۔

میرا دل کر رہا ان تینوں کو یہیں پھینک کر چلے جائیں۔۔

یہ گوارا تھی۔۔ سنتھیا اور گوارا دونوں نیچے ریلنگ سے ٹیک لگائے غصے سے گھور رہی تھیں۔۔

میرا کیا قصور۔۔ ایڈون رونے لگا۔۔

یہ لوگ کہہ رہے میں ذیادہ نہیں پی سکتا۔۔ پی لیا نا میں نے۔۔ ہے نا سنتھیا۔۔ اور دیکھو ہوش میں بھی ہوں۔۔ 

زہر لگ رہے ہو اس وقت مجھے چپ ہو جائو۔۔ سنتھیا چٹخ کر بولی۔۔ 

مجھے چپ کرا دیتی ہو۔۔ اریزہ نے بھی چپ کرا دیا۔۔ میں چپ ہوں مگر مجھے درد تو ہوتا ہے نا۔۔ اریزہ بہت درد ہوتا ہے۔۔ بہت یہاں۔۔ ایڈون ہچکیاں کے کر رو پڑا۔۔ ہیون اسے سنبھالنے میں دہرا ہو گیا۔۔

بمشکل اسے یون بن کے پاس بٹھایا۔۔ 

اریزہ کا رنگ اڑ گیا تھا۔۔سنتھیا بھی اسے چونک کر دیکھ رہی تھی۔ 

یہ تو تینوں ہوش کھو بیٹھے ہیں اب گھر کیسے جائیں گے؟ہایون  کمر پر ہاتھ رکھ کو متفکر انداز میں بولا۔۔ پھر خیال آیا۔۔

جی ہائےکدھر ہے؟ 

پیمنٹ کرنے گئ ہے۔۔ گوارا نے ناگواری سے کہا۔۔ 

ہم سب کے پیسے ختم ہو گئے تھے ۔۔ 

ہمم ۔۔۔۔ 

میں پہلے آدھوں کو چھوڑ کر آتا ہوں پھر باقیوں کو لے جاتا ہوں۔۔ تم سب کسی قریبی ریسٹورنٹ میں بیٹھ جائو۔۔ 

اریزہ کو خیال آیا۔۔ 

ہم اکٹھے ہی چلتے ہیں۔۔ 

کون ڈرائیو کرے گا دوسری گاڑی؟ ۔۔۔گوارا سخت چڑی تھی سو کاٹ کھانے والے انداز میں ہی بولی۔

میں۔۔ اریزہ نے کہا تو ہیون نے تعجب سے دیکھا۔۔

تمہیں ڈرائونگ آتی ہے؟

ہاں۔۔ اریزہ نے اثبات میں سر ہلایا۔

اسکے پاس لائیسنس تو نہیں ہوگا ایوویں مشکل میں پڑ جائیں گے۔۔

گوارا کی بات میں دم تھا۔۔

مین روڈ ایوائڈ کر لیں گے۔۔ چلو سب گاڑی میں بیٹھو۔ ۔۔

وہ ان تینوں کو اٹھانے میں مدد کرنے لگا۔۔

سونے دو۔ یون بن نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جی ہائے اور گوارا یون بن کو سہارا دئے تھیں ایڈون کیلیے اس نے سیکیورٹی گارڈ سے مدد مانگی۔۔ کم سن  کو خود سنبھال رہا تھا۔۔ فلیٹ میں داخل ہو کر گوارا نے یون بن کو صوفے پر تقریبا پٹخ دیا اور تن فم کرتی کمرے میں گھس گئ۔۔ سنتھیا نے بھی کم و بیش یہی حرکت کی۔۔ جی ہائے اور اریزہ ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔۔ پھر ان دونوں نے سینٹرل ٹیبل سائیڈ میں کی ان سب کو کارپٹ پر لٹا کر ایک ایک کشن سر کے نیچے رکھا۔۔ ہایون  نے برابر مدد کروائی۔۔ خود بھی صوفے پر تھک کر گر گیا۔۔۔ 

افف بہت تھک گئ۔۔ جی ہائے کمر سیدھی کرکے تھکے تھکے انداز میں بولی۔۔ 

وہ جب فریش ہو کر نکلی تو تینوں بیڈ پر پھیلی تھیں اسکی جگہ ہی نہیں تھئ۔۔ اس نے سنتھیا کو ہلایا مگر وہ ہلی بھی نہیں۔۔

وہ مایوس ہو کرصوفے کی طرف بڑھ گئ۔۔ سنتھیا نے ہلکا سا سر اٹھا کر اسے جاتے دیکھا۔۔ اریزہ کو پتہ نہ لگا مگر وہ نہ صرف جاگ رہی تھی بلکہ بلک بلک کر رو بھی رہی تھی۔۔

صوفہ چھوٹا تھا اس پر گٹھری بن کر بھی لیٹنا مشکل تھا۔۔ اس نے تھوڑئ دیر کوشش کی پھر تنگ آکر اٹھ کر ٹیرس میں چلی آئی۔۔ 

پورے شہر کا منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔۔ روشنیاں ہی روشنیاں۔۔

اس نے موبایل سے تصویر کھینچ لی۔۔ 

دھندلی سی تصویر آئی منظر اتنا اچھا ہرگز قید نہ ہو پایا جتنا دیکھنے میں لگ رہا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 یہ شہر طلسم ہے ۔جتنا دلکش منظر ہے میری آنکھوں کے سامنے اتنا یہ تصویر نہیں دکھا پا رہی۔۔ 

اداس سا اسمائیلی۔۔ 

۔ شائد کوئی ایسا محسوس کرے کہ میرا دماغ خراب ہو گیا ہے مگر مجھے لگ رہا یہ روشنیاں مجھے بھی اندر سے منور کر رہی ہیں۔۔ میرا شہر کم و بیش ایسا ہی ہے مگر ایسا منظر مجھے اپنے شہر میں کبھی کبھار ہی دیکھنا نصیب ہوا ہے۔۔ 

ویسے روز روز تو میں یہاں بھی دیکھ نہیں پائوں گی۔۔ 

اس نے سوچا پھر ٹائپ کرنے لگی۔۔

کو ن جاگ رہا کون سو رہا کون خوش خوش رات کو گلے لگا رہا کون رات سے لپٹ کر رو رہا ۔کون جانے مگر میرا دعا ہے جو بھی اس شہر میں ہے آج خوش رہے اور چین سے سوئے۔۔ 

اس نے سوچا پھر شہر کاٹ کر دنیا کر دیا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی کو آج خود سے نیند آرہی تھی تبھی اسکے موبایل پر نوٹیفیکیشن آیا۔۔  اس کا ہاتھ سرعت سے موبائل کی طرف بڑھا

سوتے وقت موبائل پہنچ میں ہو تو سونا آسان نہیں ہوتا ۔۔ ہے نا؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

پہلا کمنٹ

کہاں پہنچی ہوئی ہو ایڈمن یہ کونسی زبان ہے؟

اس نے چونک کر تصویر کو دیکھا اسے زوم کیا۔۔ پھر سامنے دیکھا

وہ ایک اونچی سی بلڈنگ تھی جس کا نام پیلی روشنی سے دمک رہا تھا ایک تو بلڈنگ اونچی سی تھی اوپر سے نام بھی کافی بڑا لکھا نظر آرہا تھا

تصویر سے نام پڑھنا مشکل تو تھا مگر کم از کم یہ اندازہ ہو جاتا تھا کہ نہ اردو ہے نا انگریزی۔۔

دوسرا کمٹ۔۔

ہا ہا گوگل سے چوری کی تصویر تو وہ بھی بلر۔۔ اچھے امیج لگایا کرو۔۔

تیسرا کمنٹ۔۔

اگر اتنئ ہئ روشنیاں نکل رہی ہیں تو ہمارے محلے میں آجائو۔۔ تین گھنٹے سے بجلی بند ہے چائے پلا دیں گے ہم سب جاگ رہے۔۔ 

ہاش۔ اس نے منہ بنایا۔۔

چوتھا۔۔

ایڈمن اتنی رات کو چھت پر ہو؟ پیچھے مڑ کر مت دیکھنا بھوت کھڑا ہے۔۔ 

کچھ بھی۔ اس نے منہ بنایا۔۔ پھر جانے کیا احساس ہوا

اسے لگا جیسے کسی نے پکارا ہے شائد۔۔  پیچھے مڑ کر دیکھ لیا۔۔

اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔ اسے کے منہ سے چیخ کے نام پر دہل کر بس ہلکی سی کراہ جیسی آواز نکلی۔۔ ملگجے اندھیرے میں واضح 

اونچا لمبا۔۔ سایہ 

کیا ہوا؟

ہیون  نے اسکے سامنے چٹکی بجائی۔۔ 

پھر ہلکا سا ہنس دیا۔۔

ڈر گئیں؟ کتنی مگن کھڑی تھیں مجھے اندازہ تھا جبھی پکارا تھا تمہیں۔۔ 

ہوں۔۔ اس نے دھڑ دھڑ کرتے دل کیساتھ تھوک نگلا۔۔

نہیں بس وہ چونک گئ۔۔ 

میں پوچھ رہا تھا میں کافی بنانے جا رہا ہوں پیوگی؟

اس نے ہلکے سے سر ہلا دیا۔۔ 

میں بنا کر لاتا ہوں۔۔

وہ مسکرا کر پلٹ گیا۔۔ 

اسکے شناختی کارڈ پر شناختی علامت مسکراہٹ ہی لکھی ہوگی۔۔ وہ سر جھٹک کر دوبارہ بلاگ پر مصروف ہو گئ۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پانچوان کمنٹ

میرا شہر بھی ایسا ہی ہے اور میں روز اسکی روشنیاں محسوس کرنا چاہتا ہوں مگر مجھے لگتا ہے میرے اندر کے اندھیرے اتنی آسانی سے دور نہیں ہونگے۔۔ سو دعا کرتا ہوں آپکی دعا دے کم۔ از کم چین سے سو لوں۔۔

اس نے دل سے دعا دی۔۔

خدا آپکے اندر کے اندھیرے دور کرے ۔۔ 

اسے دعا دے کر سکون سا ملا۔۔ اسے دعا دینا بہت اچھا لگتا تھا۔ کیا پتہ کسی کے نصیب کسی کی دعا سے کھل جائیں۔۔ 

اریزہ۔۔

اسے ہیون نے پکارا۔۔

وہ اس بار اس سے کافی فاصلے پر دروازے سے ہی پکار کر متوجہ کردینا چاہتا تھا۔۔ وہ اسکے انداز پر مسکرائئ۔۔ وہ بھی مسکراتا آیا کافی اسے تھمائی۔۔ 

ویسے میں نے تم سے پوچھا نہیں مگر چینی ڈالی ہے میں چینی کے بغیر نہیں پیتا کافی۔۔ 

میں بھی۔۔ اسے اچھی لگی تھی اس نے کھلے دل سے تعریف کی۔۔

تم تھکی نہیں ؟ باقی لڑکیاں تو سب خراٹے بھر رہی ہیں۔ تمہاری سہیلی کے سوا۔ وہ۔ 

ہایون شاید کمرے سے ہو کر آیا تھا۔ 

ہاں وہ میری جگہ ہی نہیں چھوڑی سب پھیل گئیں۔ موٹیاں۔

موٹیاں اس نے روانی میں جل کر اردو میں کہا تھا۔ ہایون ہنس دیا

موٹیاں کا کیا مطلب کوئی گالی ہے؟ 

وہ دلچسپی سے پوچھ رہا تھا

جی نہیں۔ وہ تیز ہو کر بولی۔

میں گالیاں نہیں دیتئ۔موٹی مطلب فیٹ۔ موٹیاں مطلب بہت سی موٹی لڑکیاں 

ہایون مسکراتے ہوئے دیکھتا رہا۔ 

ایسے ہی غصے میں کہا میں نے ورنہ وہ تینوں موٹی نہیں ہیں۔ میں ہوں انکے مقابلے میں۔ 

اسے یہی لگا کہ وہ مزاق اڑانے والے انداز میں مسکرا رہا ہے کہ خود اتنی موٹی ہو کر دوسروں کو موٹا کہہ رہی ہے سو وضاحت دی

تمہاری زبان بہت مخلتف اور سننے میں اچھی لگتی ہے۔لفظ سمجھ آجاتا یے کہ کیا کہا بہت ردھم سے بولتے ہو تم لوگ۔ 

ہایون نے صاف گوئی سے کہا۔ 

کاش میں بھی ایسا کہہ سکتی۔اریزہ نے دل میں سوچا۔ اسے تو انکی زبان خاصی لائوڈ لگی تھی۔ سیدھی بات بھی ایسے تیز اور چیخنے والے انداز میں کرتے کہ لگتا لڑ رہے ہیں۔ 

وہ سوچ کے رہ گئ کہنے کا ارادہ نہیں تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح ہنگامہ خیز تھئ۔۔ اسکی آنکھ غیر معمولی شور سے کھلی تھی اس نے گردن سیدھی کرنی چاہی تو کراہ کر رہ گئ۔ رات کو کافی پی کر وہ کمرے میں آکر صوفے پر ہی ناچار ٹکی تھی 

موبائل استعمال کرتے کرتے کس وقت آنکھ لگی پتہ ہی نہ چلا۔۔

وہ اٹھ کر بھی اٹھنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔۔

اٹھ گئیں اریزہ آجائو ناشتہ کر لو۔۔ جی ہائے اسے اٹھانے ہی آئی تھی شائد۔۔ اس خوشدلی سے صبح بخیر کرتی الٹے پیروں پلٹ گئی۔۔

کمرہ خالی تھا سب باہر جمع تھے اور سوپ اڑا رہے تھے۔۔ وہ منہ دھو کر آئی تو سب اوپن  کچن میں بنی ماربل ٹیبل جمع سلیب کے گرد جمع تھے۔۔

صبح بخیر ہوش آگیا تم لوگوں کو۔۔ اس نے کہا تو یون بن ڈھٹائی سے ہنسا۔

میں تو ہوش میں تھا مجھے سب پتہ چل رہا تھا۔۔

آئندہ تم میرے سامنے ایسے ڈرنک ہوئے نا گلا دبا دوں گی۔۔ کتنی فضول حرکتیں کر رہے تھے کچھ یاد ہے۔؟

 گوارا نے چاپ اسٹکس سے اسے ہینڈز اپ کیا تھا۔۔

اوئے دور کرو اسے آنکھ پھوٹ جاتی ابھی میری

وہ ڈر کر پیچھے ہوا

تم سب صبح صبح سوپ کیوں پی رہے۔۔

اریزہ کو حیرت ہوئی۔۔

ہینگ اوور سوپ ہے میں نے اور جی ہائےنے بنایا انکو ہوش میں لانے کیلیئے۔۔ ہایون  نے بتایا وہ خود اس وقت چاول کھا رہا تھا ساتھ اوپر پتہ نہیں کیا کیا ڈال کر۔۔

اریزہ انڈہ بنا رہی ہو تو میرے لیے بھی بنا دینا۔۔

اریزہ نے فریج سے انڈہ نکالا تو سنتھیا نے بھی فرمائش کر دی۔۔ اس نے سر ہلا دیا۔۔ پھر چونک کر دیکھنے لگی۔۔

تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا؟

اس کے کہنے پر سب سنتھیا کو ہی دیکھنے لگے۔

وہ گڑ بڑا گئ۔۔ 

بس وہ کل میرے سر میں درد ہو گیا تھا تو سوئی بھی ٹھیک سے نہیں اسلیے۔ 

گوارا نے غور سے اسے دیکھا

اس نے دو شاٹ لیے تھے رات بھر بڑ بڑائی تھی تم بھی ہینگ اوور سوپ لے لو سنتھیا۔۔

سنتھیا نے سر ہلا دیا۔۔ 

کیا تم نے بھی پی؟

ایڈون حیرت سے بولا تو وہ بگڑ گئ۔۔

تو کیا ہوا تھوڑی سی پی لی ؟۔۔ ہوش پھر بھی نہیں کھوئے تم تو بالکل ٹن تھے۔۔ 

تمہیں مگر نہیں پینی چاہیئے تھی۔۔

اس نے اسکے بگڑنے کو تعجب سے دیکھا۔

میں نے منع کیا تھا نا۔۔ اسکے انداز میں ناگواری در آئی۔۔ 

کیوں منع کیا تھا ؟اور تمہارے منع کرنے سے کیا میرا دل کر رہا تھا پی لی تم پی لو ٹھیک ہے میں نہ پیوں۔۔ اسلیے کہ تم لڑکے ہو؟ سب برا بھلا کر لو جائز تمہارے لیے۔۔ وہ حلق کے بل چلائی۔۔ دونوں اردو میں لڑ رہے تھے یہ لوگ بالکل خاموش ہوکر دیکھ رہے تھے۔۔

کیا ہوا ہے تمہیں کیوں چلا رہی ہو۔۔ ایڈون غصہ دبا کر بولا ۔۔

مرضی میری۔۔ میں جتنا بھی زور سے چلائوں اس پر بھی پابندی ہے؟ بولو۔ 

ایڈون نے ضبط سے مٹھی بھینچی 

کیا ہوگیا ہے سنتھیا۔۔ آرام سے بات کرو۔۔

اریزہ انڈے سلیب پر ٹکا کر بیچ بچائو کیلیے میدان میں اتری۔۔ 

تم بیچ میں مت بولو۔۔ وہ پہلے سے زیادہ زور سے چلائی۔۔ انگلی اٹھا کر اس نے خبردار کیا

یہ میرا اور ایڈون کا معاملہ ہے تم اس سے الگ ہی رہو تو بہتر ہے۔۔

ایڈون نے ہونٹ بھینچے کرسی کھسکا کر سنتھیا کو دیکھا۔۔ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔۔ ہایون  اسکے بالکل سامنے ہی بیٹھا تھا اسکے تاثرات دیکھ کر وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔ سنتھیا بالکل بھی نہ خائف ہوئی اسے یونہی گھورتی رہی۔۔ ایڈون نے اپنا موبائل اٹھایا اور تیزی سے پیر پٹختا باہر نکلتا چلا گیا۔۔ 

سنتھیا کی آنکھوں میں دیکھتے ہی دیکھتے سیلاب اتر آیا وہ اسے چھپانے کمرے میں بھاگ گئ۔۔ اریزہ اسکے پیچھے جا رہی تھی کہ گوارا نے اسکا ہاتھ تھام کر روک لیا۔۔

تم ناشتہ کرو اسے اکیلا چھوڑ دو۔ 

اریزہ نے آہستہ سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔۔

کل کچھ ہوا تھا؟

گوارا نے جز بز سا ہو کے چائے کا کپ منہ سے لگا لیا۔۔ 

ڈرنک تھے یہ تینوں ایڈون نے اپنی زبان میں پتہ نہیں کیا کہا سنتھیا نے اسی وقت رونا شروع کر دیا۔۔ لڑ نہیں رہے تھے اس وقت یہ لوگ پھر بھی۔۔ جی ہائےنے بتایا۔۔

کیا بات ہو سکتی ہے۔۔ اریزہ سوچ میں پڑ گئ۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ دونوں کہاں گئے۔۔

کم سن واپس آیا تو اریزہ اور ہایون غائب تھے یون بن  اور ایڈون تھک کر صوفے پر ڈھیر تھے۔۔

دونوں کی ڈرنکس سامنے میز پر تھیں ایک ایک شاٹ چڑھا چکے تھے

پتہ نہیں۔۔ یون بن نے کندھے اچکائے۔۔

گوارا اور سنتھیا ڈرنک لیے وہیں آگئیں

میں نے منع کیا تھا نا۔۔ ایڈون نے رعب سے کہا۔

کوک ہے۔۔ سنتھیا نے منہ بنا کر کہا

کیوں روک رہے ہو اسے اسکی مرضی جو چاہے پیئے۔۔

گوارا کو غصہ آگیا تھا۔۔

ایڈون نے جواب نہیں دیا خود اگلا پیگ بنانے لگا۔

اتنا مت پیو۔۔ ڈرائیو نہیں کر پائو گے۔۔ یون بن نے بھی گلاس بھرنے کو ہاتھ بڑھایا تو گوارا نے ٹوکا۔

چار پیگ سے مجھے نہیں چڑھتی۔۔ وہ ابھی ہوش میں ہی تھا لاپروائی سے بولا۔۔ گوارا نے منہ بنا لیا۔۔

کبھی جو یون بن اسکی سن لے ایک یہ سنتھیا ہے ایک بار ایڈون نے منع کر دیا شراب کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔۔

چلو ٹرتھ  گیم کھیلتے ہیں۔۔ کم سن نے بوتل میز پر رکھی۔۔ جس کی جانب رکے گی وہ ایک پیگ چڑھائے گا اور ایک سوال کا جواب دے گا۔۔ 

کیا ؟ہم بچے تھوڑی۔۔ گوارا نے حسب عادت نخرے سے منہ بنایا۔۔

نہیں فن رہے گا گھمائو۔۔یون بن صوفے سے اتر کر کارپٹ پر آگیا۔۔

سنتھیا نہیں پیئے گی۔ ایڈون کی وہی مرغے کی ایک ٹانگ۔۔ سنتھیا مسکرا دی۔۔

ٹھیک جب جب سمتھیا کی باری آئے ایڈون پیئے گا اسکی جگہ۔۔ یون بن نے مزاق میں کہا تھا

ٹھیک ہے ۔۔ ایڈون فورا راضی ہوگیا۔۔

کم سن ے بوتل گھمائی۔۔

سب سے پہلے گھوم کر گوارا کے پاس ہی آئی

اس نے ایک شاٹ پی لیا۔۔ 

مجھے پوچھنا ہے ۔۔ کم سن اور یون بن اکٹھے بولے۔۔ 

تمہارا مجھے پتہ کیا پوچھو گے۔ اس نے یون بن سے کہا وہ ہنسنے لگا۔۔

تم پوچھو۔۔ وہ کم سن سے کہہ رہی تھی۔۔

تمہارے پاس میرا بنایا ہوا تمہارا اسکیچ موجود ہے؟

اس نے بے حد سنجیدگی سے پوچھا تھا۔۔

نہیں۔۔ اس نے ناک چڑھائی۔ 

مڈل اسکول کی بات یہ اب تک تھوڑی سنبھال کر رکھنا تھا۔۔ 

کم سن مسکرا دیا۔۔ اس بار ایک شاٹ خود ہی بنا باری چڑھا لی

کیا فضول سوال پوچھا ۔۔ یون بن ہنسا۔ 

میں زیادہ بہتر سوال کرتا ہوں گوارا۔۔

اگلی باری۔ گوارا نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔۔

اس بار ایڈون پر رکا تھا۔۔

ایڈون سے مجھے سوال کرنا ہے۔۔۔جانے گوارا کو کیا سوجھی۔۔ 

ڈرنک کیوں نہیں کرنے دے رہے سنتھیا کو۔۔  

ایڈون نے شاٹ جو پی رہا تھا سنتھیا کی جانب بڑھا دیا۔

یہ لو۔۔ سنتھیا حیران ہی رہ گئ۔۔

چکھ لو۔۔ وہ سنجیدہ تھا۔۔

سنتھیا نے چکھا اسے زور سے ابکائی آئ۔۔۔

یہ کیا پی رہے ہو اتنا بدمزہ۔ سنتھیا کو لگا اسکی زبان جل گئی ہو۔ 

ایڈون مسکرا دیا۔ گوارا نے نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھا۔۔ 

میرا سوال ابھی بھی وہیں ہے جواب نہیں دیا تم نے۔۔ گوارا ضدی لہجے میں بولی۔۔ سنتھیا نے جلدی سے کوک منہ سے لگا لی تھی

اگر تمہیں پتہ بھی تھا کہ سنتھیا نہیں پی پائے گی تو بھی منع کیوں کر رہے تھے۔ کم سن کو بھی تجسس ہوا۔۔

ایڈون انکی سنجیدگی پر ہنسا۔۔

میں خود بھی نہیں جانتا۔۔ بس مجھے لگتا ہے لڑکیوں کو نہیں پینی چاہیئے۔۔

اس کا انداز سادہ تھا۔۔ 

میل شائونسٹ۔۔ گوارا نے کڑوا سا منہ بنا لیا۔۔

یار ابھی بھی ایسے لوگ ہیں جو لڑکے اور لڑکی میں فرق کرتے۔۔ یون بن کو حیرت ہوئی۔۔ 

بیک ورڈ ملک سے ہیں اسلیے۔۔ گوارا نے ہنگل میں کہا۔۔ دونوں متفق تھے۔۔ 

چلو ۔۔ کم سن نے پھر گھما دی۔۔ اس بار خود اس پر ہی آئی۔۔ اس سے پہلے یون بن اور ایڈون چھین جھپٹ کر پی گئے۔۔ 

مجھ سے کسی نے کچھ نہیں پوچھنا ۔۔ وہ ہنسا۔ پھر دوبارہ گھما دیا۔

سنتھیا کی باری تھی۔۔

آیڈون نے ایک اور شاٹ چڑھایا۔۔ 

سنتھیا۔۔ ایڈون کے علاوہ کوئی گورا چٹا ہینڈسم چلے گا؟

یہ یون بن تھا۔۔سنتھیا نے فٹ سے جواب دیا۔۔ 

ہر گز نہیں۔۔ یون بن  مسکرا دیا۔۔

چلو ایک آخری باری۔۔

کم سن نے کہا اس بار پھر ایڈون کی باری آئی۔۔

سنتھیا نے ہاتھ اٹھا دیا۔۔

میں نے پوچھنا ایڈون سے۔۔ تم تو ساری عمر پوچھ سکتی ہو۔۔ کم سن نے روکا۔۔ 

میں نے بھی پوچھنا۔۔ یون بن  نے بھی ہاتھ اٹھایا۔۔

سیلبرٹئ ہے نا سب کو اس سے پوچھنا۔۔

گوارا چڑی۔۔ 

میں نے پوچھنا ہے میں۔ نے۔۔ یون بن اور کم سن ہوش کھو رہے تھے۔۔ ایڈون نے ایک اور گلاس چڑھا لیا۔

یہ لوگ فارغ ہو رہے ہیں ۔ میں ہایون کو بلاتی ہوں۔۔ یون بن تو اب ڈرائو بھی نہیں کر سکے گا۔۔

گوارا کو فکر ہو رہی تھی۔ اس نے بیگ سے فون نکال کر کال۔ملا لی

۔ جی ہائے بھی ادھر چلی آئی کیا کر رہے ہو تم لوگ۔ اس نے خوشگوار انداز میں آکر پوچھا۔۔ 

یون بن اور کم سن ابھی بھی ایک دوسرے سے بحث کر رہے تھے۔۔ 

یہ دونوں تو ٹن ہو گئے۔۔ جی ہائے نے آگے بڑھ کر گوارا کے ہاتھ سے اسکا گلاس لے لیا۔۔ 

ہایون کہاں ہو یار یہ لوگ ڈرنک ہو گئے ہیں۔۔ 

سنتھیا نے کچھ سوچا پھر  ایڈون کے قریب آکر بیٹھ گئ۔۔

ایڈون ۔۔ اس نےہلایا۔۔ ایڈون سر جھکائے بیٹھا تھا۔۔

ہوں۔۔

اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ 

اریزہ۔۔ کہاں گئ؟ 

پتہ نہیں۔۔ سنتھیا بد مزا ہوئی۔۔

اسے دیکھو۔۔ کہاں چلی گئ۔۔ پھر چلی گئی کہیں۔۔وہ روہانسا ہو ریا تھا۔۔

تم اسکی فکر میں کیوں گھل رہے۔۔ 

وہ بھنائی۔۔ 

میں تم سے کچھ پوچھنا چاہ رہی ہوں۔۔

میں بھی تو بتا رہا ہوں نا۔۔ میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے۔۔ دل سے۔۔ ایڈون نے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا۔۔ اسکی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔ سنتھیا کا دل ایک دھڑکن مس کر گیا تھا۔۔

تم مجھے چپ کرا دیتی ہو۔۔ میرے اندر بے چینی ہے۔۔ وہ سر ہلا رہا تھا جیسے اسے سمجھ نہ آرہا ہو اپنی کیفیت کیسے بیان کرے۔۔

میں ۔۔ مجھے لگتا میں کہہ نہ پایا تو مر جائوں گا۔۔ تم سن رہی ہو نا۔۔

سنتھیا نے سر اثبات میں ہلایا۔۔

میں بھی تم سے بہت۔۔ وہ کہنا چاہ رہی تھی۔۔ 

یہ دونوں کیا کر رہے۔۔ جے ہی نے انکی جانب اشارہ کیا۔۔ 

گوارا انکی جانب متوجہ ہوئی۔۔ 

لو کنفیس۔۔ ۔۔ اسے گدگدی سی ہوئی۔۔ 

واقعی۔۔ ایڈون کی آنکھیں دھندلا گئیں۔

ہاں میں بھی۔۔ سنتبھیا مسکرائی۔۔

واقعی اریزہ۔۔ تم بھی مجھ سے پیار کرتی ہو۔ 

وہ ایکدم خوش ہو گیا تھا۔سنتبھیا سناٹے میں آگئ تھی۔

میں سنتھیا کو بتا دوں گا۔۔ وہ سمجھ جائے گی۔۔ 

سنتھیا۔۔ وہ پکارتا ہوا اٹھااور میز سے ٹھوکر کھا کر واپس گرا تھا۔۔ 

گوارا کی ان دونوں کی جانب توجہ تھی۔۔ انکے کہے گئے الفاظ تو سمجھ نہیں پائی تھی مگر اتنا اندازہ ہو گیا تھا ایڈون کو جہاں سنتھیا کا نام لینا چاہیئے تھا وہاں وہ کوئی اور نام لے گیا تھا۔۔

کیا کہا تم نے اس نے ایڈون کا کندھا ہلایا۔ 

اس نے اسکا ہاتھ  جھٹک دیا اور میز پر سر رکھ کر سسکنے لگا۔۔

مت رو میرے بھائی۔۔ مجھے دیکھو میں کوئی روتا ہوں۔۔ یون بن اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔

وہ ہنگل میں بول رہا تھا۔

تو کیوں روئے گا۔۔ کم سن اس پر جھکا۔۔

تمھارے پاس گوارا ہے۔۔ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔۔ 

ہاہا۔۔ یون بن ہنسا۔۔

تو کیا اگر گوارا ہے۔۔ گوارا ہے بھی کہ نہیں۔۔ سنتھیا۔۔ 

سنتھیا۔۔ گوارا کو اپنے جیسا کر لو نہ۔۔ تم کتنی اچھی سی ہو۔۔ اسے بھی سکھائو۔۔ میری نہیں سنتی یہ۔۔ یون بن دہائی دے رہا تھا۔۔ سنتھیا ایڈون کو آنکھوں میں آنسو بھرے دیکھ رہی تھی۔۔ گوارا خونخوار نظروں سے یون بن کو گھور رہی تھی۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے بڑی سی کون بنوائی ۔۔ وہ بچون کی طرح خوش تھی۔۔ دونوں آئسکریم لے کر دوبارہ چلنے لگے۔۔

یہ بہت مزے کی ہے۔۔ اس نے چٹخارہ بھرا۔۔

اسکا موڈ بے حد خوشگوار ہو گیا تھا۔۔ ہیون نے ہنکارہ بھرا۔۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی وہ بھی خاصی خنک

یہاں بس اتنی گرمئ پڑتی۔۔ اسے حیرت ہوئی۔۔

یہ کم ہے گرمی؟۔۔ ہایون نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔۔

اس نے موبائل نکالا۔۔ 

یہ دیکھو۔۔ پورے سات ڈگری کم  ہے میرے شہر سے۔۔ 

ہیون  نے بھنویں اچکائیں۔۔

جیسا موسم یہاں اسے تو ہم گرمی میں لفٹ بھی نہیں کراتے۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔ یہ اردو میں کہا تھا۔۔

کیا؟ کہہ رہی ہو؟ہایون نے پوچھا تو وہ سوچ میں پڑ گئ۔

لفٹ نہیں کرواتے کی کیا انگریزی ہوگی بھلا۔۔ 

ہم اتنی گرمی کو محسوس بھی نہیں کرتے۔۔ اس نے جملہ بدل دیا۔۔

ہمم۔ پاکستان میں یعنی کافی گرمی پڑتی۔۔

ہیون نے اندازہ لگایا۔۔

ٹھنڈ بھی بہت پڑتی۔۔ آرام سے مائنس میں جاتا ہے ٹمپریچر سردیوں میں۔۔

برف باری ہوتی؟ہایون نے پوچھا تو اس نے جھٹ کہا 

ہاں۔۔

تمہارے شہر میں بھی۔۔

نہیں ۔اس نے مایوسئ سے سر ہلایا۔ 

 آخری بار چالیس سال پہلے پڑی تو تھی۔۔ اور دس بارہ سال پہلے بھی تھوڑی سی تھی تھی تو۔۔۔۔ سب درخت ہی کاٹ دیئے ہائوسنگ سوسائیٹئوں نے اب تو موسم بھی اتنا گرم ہوجاتا ہے پنڈی کا۔ 

اس نے اٹک اٹک کر سوچ سوچ کر انگریزی میں سب بتا ہی دیا۔۔ ہایون بہت تحمل سے سن رہا تھا۔ 

مجھے برف باری بہت پسند۔۔ جب بھی ہوتی میں ضرور دیکھتا ہوں۔۔ گھنٹوں دیکھ سکتا ہوں۔۔ 

ہایون  اسکےچپ ہونے پر بتا رہا تھا۔۔

مجھے بھی۔۔ اریزہ مسکرا دی۔۔

بس دیکھنے کو ملی نہ کبھی۔ 

اس نے دل میں بقیہ جملہ بولا

ہیون وہ کونسی جگہ تھی جہاں تم لوگ گئے تھے بڑے سا شیشہ تھا۔۔ اور اس میں مچھلیاں اور دیگر جانور تیر رہے تھے۔۔ ۔۔۔ اس نے سوچ سوچ کر کہا۔۔

سمندر تھا۔

ہایون ۔ ہنسا۔۔ یہاں سمندر کہاں۔۔ کب کی بات کر رہی ہو۔۔؟

یہ شاہزیب سالک ایڈون وغیرہ انہوں نے فیس بک پر لگائی تھی تصویر۔۔

پتہ نہیں۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔ میں نہیں تھا۔۔

ویسے ایکوریم ہوگا۔۔ 

ایکوریم ۔۔ اس نے اچنبھے سے دیکھا۔۔ اتنا بڑا ؟

ہاں لوگوں کو کافی پسند آتا  جب تم لوگ دریا پر جا رہے تھے تو میں نے یہی کہا تھا ایکوریم چلو۔۔ 

ہیون نے کہا تو اسے یاد آیا۔۔

میں سمجھی تھی چھوٹا سا ایکوریم ہوگا۔۔ مجھے دیکھنا۔۔ہے۔۔ دور ہے؟

نہیں کئی مالز میں ہے ۔۔

جو قریب لگے۔۔  وہ چلتے چلتے رک گیئ۔۔

میں یہاں بیٹھ جائوں؟۔

اس نے فٹ پاتھ کی طرف اشارہ کیا۔۔

بیٹھ جائو۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔ وہ آرام سے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئ۔

میں تھک گئ ۔۔ اس نے مزے سے بڑی سی آیکسریم کی بائٹ لی۔۔

ہایون نے اسکا اطمینان دیکھا وہ جیسے اپنے ڈرائینگ روم میں بیٹھی تھی۔۔ بارہ بج رہے تھے سڑک پر رش نہیں تھا ارد گرد مارکیٹ بھی کافی بند ہو چکی تھی۔۔ وہ بھی اسکے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔۔

یہاں سب صاف ستھرا تھا۔۔ پاکستان میں شائد وہ کبھی ایسے بیٹھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔ دونوں خاموشی سے آیسکریم ختم کرنے لگے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد۔

جاری یے

Kesi lagi apko Salam Korea ki yeh qist ? rate us below

Rating

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *