Salam Korea

By vaiza zaidi

   قسط 8

Salam Korea Seoul Korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi
Salam Korea Seoul Korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi

  ساری رات جاگتے گزری تھی سوئے دو گھنٹے ہی ہوئے ہونگے کہ الارم بج اٹھا۔۔ وہ کتنی دیر کسلمندی سے پڑی جمائیاں لیتی رہی۔۔ رات بھر بارش رہی تھی اس وقت خاصا موسم بہتر تھا ۔ اس نے سب سے پہلے اٹھ کر کھڑکی سے باہر جھانکا۔۔ نرم گرم سی دھوپ پھیلی تھی۔۔ وہ گہری سانس لیتی فون چارجنگ پر لگا کر نیچھے اتر آئی۔۔ سنتھیا نہا کر باتھ روم سے نکل رہی تھی اس دیکھ کر خوشگوار انداز میں صبح بخیر کہا۔۔ 

صبح بخیر

وہ کپڑے نکالتی باتھروم گھس گئ۔۔ جب تیار ہو کر نکلی تو سنتھیا مکمل تیار لپ اسٹک لگا رہی تھی۔۔

بال جھٹکتی اسے دیکھ کر چونکی۔۔ وہ گھٹنوں سے نیچے تک کی اسکرٹ اور شرٹ میں ملبوس تھی۔۔ 

کیسی لگ رہی ہوں۔۔ اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر سنتھیا گڑبڑا کر پوچھنے لگی۔۔

اچھی لگ رہی ہو مگر اسکرٹ چھوٹی نہیں ایسے ہی باہر جائو گی؟

اس کا انداز سرسری تھا۔۔ سنتھیا چپ سی رہ گئ۔۔

کیوں اس میں کیا برائی ہے یہاں سب ایسی ہی ڈریسنگ کرتے۔۔ اس کا انداز تھوڑا سخت تھا 

اریزہ نے غور نہیں کیا سرسری ہی انداز میں بولتی سیڑھیاں چڑھنے لگی

ہاں مگر یہ لوگ تو کورین ہیں ہم تو پاکستانی ہیں

ہم تھوڑی ایسے کپڑے پہنتے۔۔ 

پہنتے نہیں مگر پہن سکتے تو ہیں۔۔۔

تمہیں منع ہوگا مجھے ایسے کپڑے پہننے منع نہیں۔

اب تم بھی مجھ سے لڑ کر دوستی چھوڑ دو کہ میں تمہارے قابل نہیں رہی۔۔ اس نےتپ کر سختی سے کہا۔۔ سیڑھیوں سے جھانک کر اریزہ غور سے شکل دیکھنے لگی۔۔ پھر تولیہ کھینچ کر گولے کی طرح اسکے منہ پر مارا۔۔

دفع دور میری طرف سے بکنی پہن لو جا کر۔۔ آئی بڑی۔ وہ پیر پٹختی سیڑھیان چڑھ گئ۔۔ سنتھیا نے جھلا کر تولیہ جھٹکا گرنے لگا تو کیچ کر احتیاط سے ریلنگ پر ٹانگ دیا  اور اپنے بال ٹھیک کرنے لگی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کلاس لے کر نکلیں تو اریزہ باقائدہ منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائیاں روک رہی تھی۔۔ 

تھک کر نزدیکی بنچ پر بیگ رکھا اور ڈھیر ہوگئ۔۔

کلاس نہیں لینی؟

سنتھیا نے اس سے پوچھا تو سر نفی میں زور زور سے ہلانے لگی

 نہ بابا مجھ میں کلاس لینے کی ہمت نہیں 

جائو پھر ہاسٹل جا کر سو جائو۔۔ سنتھیا نے مشورہ دیا ۔نہیں سونا نہیں ہے بس جاگنے سے سر بھاری ہو رہا۔۔اتنا چلنے کی ہمت بھی نہیں۔۔۔

 اس نے ہاسٹل تک نظر ڈالی۔۔ تین بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹ ایک گرائونڈ پار کرکے آتا اسکا ہاسٹل۔۔ 

چلو پھر میں آتی ہوں کلاس لے کر یہیں۔۔ سنتھیا کہہ کر آگے بڑھ گئ۔۔ وہ بنچ پر دونوں پائوں اونچے کر کے بیٹھ کر موبائل استعمال کر نے لگی۔۔ پھر کب اسے اونگھ آئی پیر پھیلائے بیگ پر سر رکھا بے خبر ہوگئ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپکا اگلا پراجیکٹ بھی گروپ ہے۔۔ اور میں اس بار اپنی مرضی سے گروپ بنائوں گا۔۔ ۔

نو سر۔۔ پوری کلاس کورس میں بولی۔۔

بالکل۔۔ سر رعائیت دینے کو تیار نہیں تھے۔۔

وہی شکلیں ہر بار پریزنٹیشن دینے آجاتی ہیں میں بور ہو گیا ہوں۔۔ چار لوگ پڑھتے باقی سب انکی محنت پر عیش کرتے سو پانچ نام میں رینڈملی چن کر گروپ بنا رہا ہوں اور پریزنٹیشن مجھے ہر اس طالب علم سے چاہیئے جس نے آج تک نہیں دی۔۔ سر کہتے بورڈ کی طرف بڑھ گئے۔۔

ان سب نے مایوس سی شکل بنا لی۔۔ جانے سر کس کو کس کے۔متھے مارنے والے تھے۔۔

کلاس کے بعد سب طلبا بھاگ کر بورڈ کے پاس پہنچے تھے۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنتھیا  گوارا کم سن ایک گروپ میں تھے

ایڈون سالک اور شاہزیب کا علیحدہ گروپ تھا

ہیون نے مایوسی سے اپنے ممبرز کے نام دیکھے۔

یون بن ۔۔ یعنی بندہ کوئی امید نہ رکھے۔۔

جی۔ہائے۔ گوارا کی دوست سیدھے منہ بات کسی کسی سے کرتی تھی۔۔ 

ایڈلین۔۔ 

ایڈلین اور اس نے بد مزہ ہو کر ایک دوسرے کی شکل دیکھی۔۔ 

اریزہ۔۔ آخری نام بھی کوئی اتنا امید افزا نہیں تھا۔۔

وہ گہری سانس لے کر رہ گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

وہ گروپ پر ہی تبصرہ کرتے لان میں چلے آئے۔۔ 

گوارا کو گروپنگ بالکل پسند نہیں آئی

جی ہائے اسکو کہہ رہی تھی کہ مجھے رئ پلیس کر لو۔۔ 

سر۔۔ نے اپنے پاس ریکارڈ رکھا ہوگا۔۔ یون بن ہنسا۔۔

میں پھر تم لوگوں سے ہمدردی ہی کر سکتی وہ مسکراتی ہاتھ ہلاتی آگے بڑھ گئ۔۔

تم خوش نہیں ہمارے گروپ میں سارا کام تمہیں ہی کرنا پڑتا تھا۔۔ یون بن  نے چھیڑا۔۔ 

پھر بھی مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے۔۔ وہ ضدی پن سے اسکے بازو سے لٹکی۔۔ 

یون بن فدا ہی تو ہو گیا۔۔ 

تم تو ہمیشہ میرے ساتھ ہی ہو۔۔ اس نے اسکا ہاتھ تھام کر چوما۔۔

انکے پیچھے چل کر آتے ایڈون نے دھیرے سے سنتھیا کا ہاتھ تھام لیا۔۔ سنتھیا چونکی پھر آہستہ سے غیر محسوس انداز میں ہاتھ چھڑا کر پلٹی۔۔

ہایون لکی ہو اریزہ بہت اچھی پرزنٹیشن بناتی ہے اسکے پاس آئیڈیاز بہت ہوتے۔۔ 

ہمم دیکھتے ہیں ۔۔۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔ وہ سب اکٹھے چلتے ہوئے لان میں آکر بیٹھ گئے۔۔ 

میں آتی ہوں۔۔ سنتبھیا واش روم جا رہی تھی بیگ ایڈون کو تھما کر چلی گئی۔۔ ایڈون نے بیگز نیچے زمیں پر احتیاط سے رکھا پھر بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر پینے لگا۔۔ 

.ہے کہاں اریزہ۔۔ 

ہیون  نے بیگ نیچے زمیں پر رکھتے ہوئے پوچھا۔۔

ایڈون نے پانی پیتے اشارے سے بتایا۔۔ کم سن اور ہیون نے مڑ کر دیکھا تو کوئی لڑکی بے ترتیب سے انداز میں دراز تھی۔۔ دونوں گھٹنے موڑ کر بیگ پر سر رکھےگلابی رنگ کا اسکارف سر سے گھٹنوں تک پھیلا کر اوڑھے لیٹی تھی۔۔

منہ تو ڈھکا ہوا ہے۔۔ کم سن بولا۔۔ 

 ۔

اریزہ ہی ہے۔۔ہایون نے گلابی اسکارف پہچان لیا تھا۔۔

یہ یہاں کیوں سو رہی ہے۔۔ کم سن حیران ہوا۔۔

اٹھادو اسے جا کر ہاسٹل میں آرام سے سوئے۔۔ کم سن نے کہا تو ہیون  اسے ہلانے بڑھا ایڈون نے ہاتھ پکڑ کر روکا۔۔ 

ٹھہرو۔۔ برا مان جائے گی۔۔ اس نے روکا تو ہیون الجھن سے دیکھنے لگا۔۔ 

ایڈون نے آگے بڑھ کر تھوڑا سا پانی چلو میں نکالا اور اس کے چہرے پر چھڑک دیا۔۔

وہ فورا کسمسائی۔۔

کم سن ہنسا۔۔ 

اس سے تو تمیز سے ہی اٹھا تا۔۔ہیون   

ایڈون نے جواب نہیں دیا۔۔ اریزہ اٹھ بیٹھی۔۔

ہا میں سو گئ تھی۔۔ 

وہ آنکھیں مسل رہی تھی۔۔

ہم بھی بس جا رہے ہیں یہاں سے تم بھی ہاسٹل جا کر ہی سوئو۔۔ ایڈون نے کہا تو وہ سر ہلاتی بیگ سمیٹنے لگی۔۔ 

اریزہ سر نے نئے گروپ بنائے ہیں پروجیکٹ کیلیے۔

تم اور میں ایک ہی گروپ میں ہیں۔۔

نہیں۔۔ سنتھیا۔۔اور میرا گروپ الگ ہے۔۔ کم سن نے کہا تو وہ روہانسی ہوگئ۔۔

تمہارا بھی الگ ہے ۔۔اس نے ایڈون سے پوچھا۔ 

میں اور شاہزیب ایک گروپ میں ہیں۔۔ ایڈون نے بتایا تو اس نے باقائدہ رونا ڈال دیا۔۔

میں اکیلی؟ میں اکیلی کیسے رہوں گی۔۔ کم از کم سنتھیا کو تو ۔۔۔ اسے خیال آیا تو انگریزی میں بولی۔۔

۔۔ کم تم سنتھیا سے تبدیل کر لو۔۔

کم سن ہنسا۔۔ 

ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔ ابھی گوارا بھی یہی کہہ رہی تھی۔۔

اریزہ نے منہ بنالیا۔۔

میں نہیں کھیلتی۔۔ مجھے سنتھیا کے گروپ میں ڈالو کچھ کر کے۔۔ 

وہ ایڈون سے بولی۔ تو وہ کندھے اچکا کر رہ گیا۔۔ 

اس نے پیر پٹخے۔

کیا عزاب ہے زندگی۔۔ دو دن چین سے جی بھی نہیں سکتے۔۔ 

گروپ اسٹڈی ہے ۔۔ رشتہ نہیں طے کر دیا تمہارا۔۔ ایڈون نے ہنس کر کہا۔۔

اریزہ نے گھور کر دیکھا۔۔

کچھ کرو نا میں سنتھیا کے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔ اس کا انداز ملتجی ہوا۔۔

کچھ نہیں ہو سکتا۔۔ سنتھیا ویسے بھی میری ہے تمہیں تقدیر کے فیصلے کو ماننا پڑے گا۔۔

ایڈون روانی میں انگریزئ پر اتر آیا۔۔

مرو۔۔ اس نے جھٹکے سے بیگ اٹھایا اور تن فن کرتی چلی گئ۔۔

ہیون اور کم سن اسکی ڈرامے بازی انجوائے کرتے دیکھ رہے تھے۔۔ 

ایڈون سر جھٹک کر مسکرا دیا۔۔

تم لوگوں کی کیمسٹری اچھی ہے۔۔ ہیون نے یونہی کہا۔۔ 

ایک دوسرے کے جزبات جانتے ہو مگر جیلس نہیں ہوتے۔۔

وہ سادے سے انداز میں کہہ رہا تھا۔۔

مطلب۔۔ ایڈون حیران ہوا۔۔

اریزہ اور سنتھیا اتنی بہترین دوست ہیں روم میٹ بھی ہیں۔۔

ہایون نے وضاحت کی

ہاں۔۔ روم میٹ ہونے پر ہوتا ہوں جیلس۔۔ اس نے آنکھ دبائی۔۔ 

چلو چلیں۔۔ اس نے کہا تو کم سن اور ہایون نے بھی تقلید کی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اب کبھی اپنے ڈورم واپس نہیں جا پائوں گا۔۔ 

کم سن نے اپنے بیڈ پر نگاہ کی اور یون بن سے معصوم سی شکل بنا کر کہا۔۔

تمہیں اپنی چھت یاد آرہی۔۔

یون بن  سمجھ گیا۔۔کم سن نے سر ہلایا۔۔ 

 اسکا ڈورم دو بیڈ کا تھا کمرہ اس سے چھوٹا ہی تھا مگر سیڑھیاں چڑھ کر بیڈ تھا گلاس ونڈو۔۔ ایک طرح سے الگ کمرہ ہی لگتا تھا۔۔ جبکہ یہ تین بیڈ کے حساب سے کھلا ڈلا کمرہ تھا۔۔ یون بن کے بیڈ کے پیچھے فرنچ ونڈو تھی پورا گراونڈ کا ویو تھا۔۔ دوسری کھڑکی کے قریب ایڈون کا بیڈ تھا۔۔

سالک کو بس سونے کی جگہ چاہیئے ہوتی تھی سو وہ آرام سے کونے والے بیڈ پرمان گیا تھا

قطع نظر اس جھگڑے کے سالک کمرے میں ہے بھی یا نہیں پتہ نہیں چلتا تھا۔۔ اپنے آپ میں مگن صبح یون بن  اور ایڈون دس بار باتھ روم کون پہلے جائے گا اس پر لڑتے یا ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں دوڑ کر پہنچتے۔۔ وہ آرام سے انکے فارغ ہو جانے کا انتظار کرتا تھا۔۔ 

تم میرے بیڈ پر آجائو۔۔ وہ اپنے دوست کیلیئے یہی کر سکتا تھا۔۔ 

نہیں رہنے دو۔۔ کم سن نے اسے اٹھنے سے روکا۔۔ 

تبھی ایڈون سر جھٹکتا آیا۔۔ 

کیا ہو رہا ہے۔۔ 

وہ کہتا بیڈ پر بیٹھ کر سر خشک کرنے لگا۔۔ 

کچھ نہیں ایسے ہی باتیں کر رہے تھے۔۔ کم سن کہتا بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔۔ 

تمہارا پراجیکٹ گروپ شاہزیب کیساتھ ہے تم کیا کروگے؟

ایڈون کے چلتے ہاتھ رکے۔۔ 

اکیلا بنا لوں گا۔۔ 

وہ لاپروا تھا۔۔ 

یون بن  نے شانے اچکا دیئے۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم دونوں بنا لیں گے۔۔ ایڈون آجاتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ پریزنٹیشن میں دے دوں گا۔۔ شاہزیب کا انداز لاپروا تھا۔۔ 

سالک نے اسے غور سے دیکھا۔۔

یار کبھی ہماری لڑائی اتنی لمبی نہیں گئ۔۔ 

کبھی ہماری لڑائی مزہب پر نہیں ہوئی۔۔ شاہزیب نے قطعی لہجے میں کہا۔۔

مجھے لگ رہا میں نے سخت الفاظ کہے مجھے اسے گندہ برا نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔ اس کو غلیظ دہراتے ہوئے شرم آگئی تھی۔۔

تو نے تو چلو پھر کچھ کہا۔۔ میں تو بس چپ کرا رہا تھا۔۔ کیا کیا نہیں بولا وہ۔ ازان کے بارے ہمیشہ بقر عید پر سب سے پہلے اسکے گھر لے کر جاتا ہوں میں گوشت۔۔ رمضان میں اسکو کھانے پینے نہیں دیتے؟ میری امی پورا رمضان جب جب  افطاری بانٹتی ہیں انکے گھر بھی بھجواتی ہیں بلکہ محرم کی نیاز ہو یا عید میلاد النبی ہمیشہ انکو شامل کرتے حالانکہ انکا تو کوئی تعلق ہی نہیں ان نیازوں میں  اور محلے والے ہم ہیں اسکے ہم نے کب جا کر اسکے گھر والوں کو عبادت کرنے سے منع کیا۔۔ ۔۔ ٹن۔ اسکے دماغ کی گھنٹی بجی تھی۔۔

اسکے ابو اور امی کوئی بات کر رہے تھے تو اس کے بھی گزرتے ہویے کان میں کچھ جملے پڑے۔۔ 

انکا مزہبی تہوار ہے لوگ آجا رہے ہیں کیا مناسب لگتا میں جا کر انکو کہوں بھئی رات دیر تک اپنی دعائیں پڑھتے ہیں تو محلے والے ڈسٹرب ہوتے ایک دو دن کی ہی بات ہے مگر سرور صاحب بضد تھے کہ پھر میں خود بات کروں گا جا کر۔۔ بتائو کیا کروں

 ٹھیک کہہ رہے آپ۔۔ امی نے تائید کی۔۔ برسوں ہو رہے ساتھ رہتے پڑوسیوں کا بہت حق ہوتا۔۔ اور یہ سرور صاحب جو آئے دن گھر میں لاوڈ اسپیکر لگا کر نعت خوانی کرواتے اسکا کیا۔۔ ان لوگوں نے تو کبھی اعتراض نہیں کیا۔۔ 

ہان وہی تو پہلے سوچا کہ شاہزیب سے کہوں وہ کہہ دے ایڈون سے مگر پھر سوچتا ہوں کہ بچوں کے دل میں بال آجائے گا۔۔ خود کہوں گا پال صاحب سے سلیقے سے ورنہ سرور صاحب تو بہت بے لحاظ آدمی ہیں۔ 

کچھ کہہ دیں گے الٹا سیدھا۔۔ 

کہاں کھو گئے۔۔ سالک نے چٹکی بجائی تو شاہزیب چونکا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یار اس دفعہ کچھ ذیادہ ہی گرمی نہیں پڑ رہی ہے؟ 

کم سن نے منہ بنایا 

تو اور کیا پینتیس ڈگری مجھے تو لگ رہا پگھل رہا ہوں میں ۔

یون بن نے کہا تو ایڈون کو سوالیہ نظروں سے دیکھتا پایا تو انگریزی میں وضاحت کرنے لگا..

ہم گرمی کی بات کر رہے ایسا موسم ہے  بس پانی پیتے رہو۔۔ اور پسینے میں بھیگتے رہو۔۔تم جہاں سے ہو وہاں کم گرمی پڑتی۔۔

اسے ایڈون کو اطمینان سے دیکھ کر حیرت ہوئی

نہیں وہاں تو شدید گرمی پڑتی۔۔ یہاں جیسا موسم ہے ایسا تو ہم محسوس بھی نہیں کرتے  ۔اس نے اپنے موبائل ایپ سے ویدر نکال کر دکھایا۔

یہاں سے پورے چار ڈگری زیادہ ہے۔۔ 

کم سن بھی بولا۔۔

جبھی تم لوگوں کو گرمی کم لگ رہی تھی۔۔

تم لوگ تو پھر بہت پانی پیتے ہوگے۔۔ اور کھانا بھی ہلکا پھلکا کھاتے ہوگے۔۔ یون بن نے پوچھا تو ایڈون ہنس دیا۔۔

یار بس پیاس لگتی تو پانی پی لیتے کھانا بھی کوئی خاص ہلکا پھلکا نہیں کھاتے وہاں تو آجکل روزے شدید گرمی میں آرہے کھانا چھوڑ سارا دن پانی بھی نہیں پیتے شاہزیب سالک وغیرہ۔۔

اس نے روانی میں کہا تھا۔۔

کھاتے پیتے نہیں؟ گرمی میں؟

کم سن اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔

ہاں رمضان ہوتا ہے انکا فاسٹنگ کا مہینہ صبح سورج نکلنے سے پہلے کھانا پینا بند کر دیتے اور غروب ہونے کے بعد کھاتے سترہ اٹھارہ گھنٹے کا روزہ بن جاتا۔۔ 

سارا دن بھوکے پیاسے۔۔ یون بن کو شدید حیرانگی تھی۔۔

ہاں۔۔ ایڈون مسکرایا۔۔ ابھی تو نہیں اس دن سالک کہہ رہا تھا ایک مہینہ رہ گیا۔۔ رمضان شروع ہوگا خود دیکھ لینا ۔۔ شاہزیب اور سالک تو پورے روزے رکھتے ہیں۔۔

بیمار نہیں ہوتے۔۔ کم سن کو حیرانگی ہوئی

عادت ہے ان لوگوں کو۔۔ ایڈون نے کندھے اچکائے۔۔

اچھا تہوار ہے ہمارے یہاں تو کھانے پینے کے تہوار ہوتے ہم تو بس موج مستی کرتے۔۔ کم سن نے کہا تو ایڈون کو یاد آیا۔۔

کھانے پینے کے بھی ہوتے انکی ایک عید ہوتی جس میں صاحب استطاعت لوگ جانور زبح کرتے اور زیادہ سے زیادہ بانٹتے تاکہ وہ لوگ جو سارا سال نہیں گوشت کھا پاتے یا کم کھاتے کھا سکیں۔اور ابھی رمضان سے پہلے نیاز ہوتی لوگ اپنے گھر کھانا بناتے اور سب کو دعوت دے کر کھلاتے پھر بعد میں بھی مختلف موقعوں پر نیاز بانٹتے ہیں۔۔ 

انکے کئی مہینے ایسے ہوتے محرم ہوتا ایک مہینہ اس میں بہت کھلاتے پلاتے ۔۔

دلچسپ۔۔ یون بن حیران ہوا۔۔

اگر ایسا ہے تو میں بھی جائوں گا پاکستان مجھے سیدھی سی بات کھانے پینے میں بہت دلچسپی ہے۔۔ یون بن نے کہا تو کم سن ہنسا۔۔

یہ مسلمانوں کے تہوار ہیں وہ دوسروں کو تھوڑی شامل کرتے ہونگے ان میں۔۔ 

ایڈون نے کچھ سوچا۔۔ پھر بولا۔۔

ایسی بات نہیں۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اریزہ۔۔ 

وہ ہاسٹل جا رہی تھی جب اسے پیچھے سے کسی نے آواز دی۔۔

اس نے مڑ کر دیکھا تو جی ہائے ایک بلونڈ لڑکی کے ساتھ اسکی طرف ہی آرہی تھی۔

ہائے ۔۔ اس نے خوشدلی سے کہا۔۔ 

ہائ۔۔ ایڈلین مسکرا دی۔۔

جی۔ہائے تعارف کروانے لگی۔۔

یہ ایڈلین ہے امریکی ہے۔۔ اور یہ ہے اریزہ پاکستانی حسینہ۔۔

ہم ایک ہی گروپ کے ہیں۔۔

ایڈلین کےتاثرات کڑے ہوئے۔۔ 

آپ سے مل۔کر اچھا لگا۔۔ اریزہ نے مسکرا کر کہا۔۔ 

ہم ابھی پراجیکٹ ہی ڈسکس کر رہے تھے۔۔ ہمیں کسی ایک ترقی پزیر ملک کا آئینی ڈھانچہ اور اس کے اس ملک پر اثرات اسکی کم ازکم دس سال کی بیرونی ممالک سے تعلقات کی پالیسی ڈسکس کرنی ہے ۔۔

ہم سوچ رہے تھے کہ۔۔ 

پاکستان پر پرزنٹیشن دیں۔۔ ایڈلین نے جی۔ہائےکی بات کاٹ دی۔۔

لیکن ہم تو مڈل ایسٹ۔۔ اس نے کہنا چاہا۔۔ 

لیکن ایڈلین نے بات کاٹ دی۔۔

ہمارے لیے پاکستان سے بہتر کونسا ملک ہو سکتا۔۔ اسکی باسی ہمارے سامنے کھڑی ہے۔۔ پوری دنیا کی ناک میں دم کر دینے والے دہشت گردوں کے سرپرست ملک کے بارے میں دنیا کو بتانے میں یہ ہماری مدد کر سکتی ہے۔۔

ایڈلین ۔۔ جی ہائےنے ٹوکنا چاہا۔۔ 

ٹھیک ہے۔ اریزہ نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔۔ 

ہم اس پر ہی پریزنٹیشن دیں گے۔۔ اور اسکا مواد میں بھی جتنا ہو سکا فراہم کروں گی۔۔ 

جی ہائے نے الجھن سے اسے دیکھا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم یہاں کیا کرتی ہو۔۔ سارا دن بند ہی رہتی ہو یہاں۔ ویک اینڈ ہے میرے ساتھ چلو۔۔ ہم لیٹ نائٹ مووی دیکھیں گے چل کریں گے۔۔ کلب چلیں گے۔۔

گوارا اسے منا رہی تھی۔۔ 

جی ہائے ڈمبلز اٹھا رہی تھی اسکے بچوں کی طرح ضد کرنے والے انداز پر مسکرا کر دیکھا۔۔ 

پورے تین ہفتے ہو رہے تمہیں میرے ساتھ ویک اینڈ بتائے اب تو تمہاری خو د کو گروی کرنے والی شرط بھی پوری ہو چکی کر لی تم نے خوب خدمت اس ایزے کی۔۔

اریزہ۔۔۔ وہ یکدم سنجیدہ ہو کر سیدھی ہوئی۔۔ 

ویسے بندہ اتنا بھی شریف نہ ہو۔۔ شرارت کر ہی دیتے ہیں لوگ تمہاری طرح پچھتاوے کا شکار ہو کر خادم نہیں بن جاتے۔۔ گوارا کرسی پر بیٹھی میز پر پائوں رکھے نیل پالش لگا رہی تھی۔۔ 

کیا خدمت کی ہے میں نے ۔۔ وہ ہنس دی۔۔

اسکو فری کی انسٹرکٹر بن کر خدمت ہی کر رہی ہو اسکی۔۔ 

آہش۔۔ اس نے سر جھٹکا اور ڈمبلز اٹھا کر شیلف میں رکھنے لگی۔۔

کیا یار خود بھی کر ہی رہی ہوتی ہوں کسرت اسے بھی دو چار ورزشیں بتا دیں بس۔۔ اسکا پوسچر واقعی بہت خراب تھا۔۔ اس دن جب میں اسکے پیچھے بیٹھی تھی تو اندازہ ہوا مجھے میں تو بس مدد کر رہی تھی۔۔ 

اس سے بہتر تھا بس سوری کہہ دیتیں اسے۔۔ 

گوارا کا انداز ہنوز تھا۔۔

جی ہائےنے ٹھنڈی سانس بھری۔۔ 

ہاش۔۔ نہیں۔۔ ہمت چاہیئے سوری کہنے کیلیے۔۔ اس دن اسکا دوپٹہ باندھتے مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا اسکو اتنی زور سے گلا گھٹے گا۔۔ مجھے لگا تھا زیادہ سے زیادہ اسکو اٹھتے ہوئے جھلاہٹ ہوگی بس۔۔ مگر جب ہم چھپ کر کھڑکی سے دیکھ رہے تھے مجھے بہت افسوس ہوا۔۔ اسکو بہت چوٹ آئی تھی اگر ہایون  کرسی نہ پکڑ لیتا تو کرسی بھی اسکے اوپر آگرتی۔۔ اسکی گردن پر رگڑ سے لکیر پڑ گئ تھی۔

کئی بار سن چکی۔۔ گوارا نے ایک پائوں مکمل کرکے دوسرا اٹھایا۔۔ ۔ 

وہ دوپٹے کی رگڑ سے نہیں جو اتنی موٹی چین ڈالی ہوئی ہے اس نے گلے میں اس سے لکیر پڑی تھی۔۔ 

ہا  تو چین پہلے سے پہنی ہوئی تھی اس نے اس دن دوپٹے سے ۔۔ جی ہائےبول رہی تھی اس نے بات کاٹ دی۔۔

اور اسکے بعد اس نے تمہیں گرنے سے بھی بچایا تم مقروض ہو گئیں اسکی تم نے عہد کیا کہ جب تک اسکی چوٹ مندمل نہیں ہو جاتی تم اس کے ساتھ اچھی طرح پیش آئوگی بھول جائو۔۔ یار۔ 

اب کون ایسے کرتا یہ اپنے پرانے روائتی کوریائی طریقوں سے باہر نکلو۔ سوری ۔۔ بیانیے۔۔ کتنے چھوٹے سے لفظ ہیں کہو اور جان چھڑائو اس موٹی لڑکی سے

گوارا ہاتھ ہلا کر کہہ رہی تھی۔۔

جی ہائے کو ہنسی آگئ۔

موٹی نہیں ہے وہ اتنی ۔۔ اسکی ڈریسنگ ایسی ہے اسکے روائتی لباس کی وجہ سے ہمارے کوریائی روائتی لباس میں نہیں دبلی سے دبلی لڑکی بھی بھاری لگتی۔۔ 

اف وہ چڑی۔۔ 

تم میرے ساتھ ویک اینڈ پر نہیں آرہی ہو۔۔ ؟

چلو چلتی ہوں۔۔ اس نے کچھ سوچا۔۔ پھر حامی بھر لی۔۔ 

ویسے ہم دونوں اتنا مزا بھی نہیں کرتے ۔۔ تم آدھی مووی میں یون بن سے باتیں کرنے لگ جاتی ہو کلب میں بھی اسے بلا لیتی ہو۔۔ میں اکیلی مکھیاں مارتی ہوں۔

۔۔۔۔ گوارا کھسیائی نیل پالش بند کر کے سیدھی ہوئی۔۔

تو تم بھی بلا لینا کسی اپنے کو۔۔ جس کے ساتھ بور نہ ہو۔۔ 

پکا؟

جے ہی کی آنکھیں چمکیں۔۔ 

میرا مطلب بوائے فرینڈ سے تھا۔۔ گوارا نے آنکھیں دکھائیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں ۔۔ اریزہ نے حیرانگی سے انگوٹھے سے اپنی جانب اشارہ کیا۔۔ 

ہاں نا۔۔ یہاں کیا کروگی۔۔ ہم وہاں لیٹ نائٹ باتیں کریں گے مووی دیکھیں گے کلب چلیں گے۔۔ اپنی مرضی کا کھائیں گے پیئیں گے عیش کریں گے۔۔ کل یونی کے بعد چلیں گے تین راتیں بس موج مستی۔ 

پلیز پلیز پلیز چلو نا۔۔ 

جے ہی نے چٹخارہ بھرا۔۔

وہ۔اسی وقت اٹھ کر انکے کمرے میں آئی تھی۔۔ سنتھیا میسجنگ میں لگئ تھئ جب اس نے اسے ساتھ چلنے کو کہا۔۔ تو اسکے بھی کان کھڑے ہوگئے۔۔

خبردار جو تم۔نے ایسا سوچا بھی۔۔ میں اکیلی کیا کروںگئ یہاں۔۔ اس نے اردو میں چیخ ماری

یہی۔۔ اریزہ نے اسکے موبائل کی طرف اشارہ کیا۔۔ 

تمہیں میرے کمرے میں موجود ہونے نا ہونے سے فرق کیا پڑتا مستقل تو موبائل پر لگی ہو کسی بات کا جواب نہیں دے رہی ہو ابھی کیا کہا تھا میں نے تمہیں۔۔ اریزہ نے باقائدہ آستین چڑھائی۔

کیا کہا تھا۔۔ سنتھیا گھبرائی۔۔ 

مارکیٹ جانے کو کہہ رہی تھی ایک بسکٹ تک نہیں بچا۔۔ مگر جواب دور تم نے سنا بھی نہیں۔۔ اریزہ نے چبا چبا کر کہا تو تھوڑا کھسیا گئی سنتھیا۔۔ 

تو۔۔ پھر ڈھیٹ بن کر بولی۔۔ تو کیا تم جی ہائےکے ساتھ جارہی ہو جمہ جمہ آٹھ دن نہیں ہوئے اس سے دوستی ہوئے اسکے پیچھے بچپن کی دوستی چھوڑ دوگی۔۔ ؟ اس نے جزبات کئ مار ماری

نہیں۔۔ اریزہ ٹھنڈی سانس لے کر بولی۔۔

جی ہائے نے اسکے سامنے چٹکی بجائی 

پھر چلوگی نا؟ پلیز اریزہ چلو نا پلیز

نہیں یار۔۔۔ اریزہ نے اسکا ہاتھ تھام کر معزرت کی۔۔

سنتھیا اکیلی رہ جائے گی اسے اکیلے ڈر بھی لگتا رات کو اٹھ اٹھ کر مجھے اسے دیکھنا پڑتا۔۔

اریزہ تھوڑی دیر پہلے کا بدلہ لے رہی تھی۔۔ سنتھیا نے گھور کر دیکھا۔۔

تم بھی چلو۔۔ جے ہی نے ایک لمحہ سوچا پھر طوہا و کرہا اسے بھی دعوت دے ڈالی۔۔

میں؟ سنتھیا کی آنکھیں ابلیں۔۔

میں کیسے جا سکتی۔۔ ایڈون۔۔ اسکے منہ سے نکلا۔۔ اریزہ نے کمر پر ہاتھ رکھ کر جتاتی نظروں سے گھورا۔۔ تو وہ سنبھل کر بولی۔۔ 

اور تمہاری گوارا اس سے پوچھا ہے بالکل پسند نہیں کرتی ہمیں۔۔۔

اسکو میں سنبھال لوں گی۔۔ اگر کہو تو وہ خود تمہیں آکے دعوت دےگی

پلیز چلی چلو نا۔۔ ہم چار لڑکیاں ہونگی خوب پارٹی کریں گی۔۔ اس نے لالچ دیا۔۔ 

تم پہلے گوارا سے پوچھ لو ۔ اگر اسے ہم دونوں کے آنے پر اعتراض نہیں تو ٹھیک ہے۔۔ ۔۔

اریزہ کو اسکے اصرار پر صاف انکار کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔

ٹھیک ہے۔۔ وہ خوش ہو کر پلٹ گئ۔۔

تم جانے کو تیار ہو؟

سنتھیا نے لڑنے کا موڈ بنا لیا تھا۔۔

اریزہ ہنسی۔۔

یہ کہہ کسے رہی تھی لیٹ نائٹ ہینگ آئوٹ۔۔ جن کی لائف میں ایسا کونسیپٹ ہی نہیں۔۔ ہاہہا۔ صاف انکار پر اصرار کیے جا رہی تھی اسلیئے ایسا کہا میں نے وہ گوارا تمہیں کیا لگتا آکر ہمیں دعوت دے گی ناممکن۔۔ ابھی دیکھنا تھوڑی دیر میں آکر معزرت کر لے گی جی ہائے۔۔ 

اسکا جملہ ختم ہوتے ہی دستک دے کر جی ہائے گوارا کے ساتھ حاظر تھی۔۔ گوارا کا منہ غبارے جیسا پھولا اورجی ہائےنے مسمی سی شکل بنائی ہوئی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کیا ؟یک نہ شد دو شد۔۔

میں نے ایک اریزہ کی بات مانی تھی۔۔ تم اسکی سہیلی؟

بھول گئی ہو ایک بیڈروم اپارٹمنٹ ہے ایک بیڈ ہے بس ۔۔

مجھے سب یاد میں صوفے ہر سو جائوں گی۔۔ پلیز پلیز۔پلیز نا۔۔

وہ اسکے کندھے سے جھول گئ۔۔

پلیز ۔۔۔۔۔۔۔

اچھا ۔۔

وہ۔ جھلائی۔۔ 

چلو انہیں دعوت دو۔وہ اسکا بازو پکڑ کر دروازے کی طرف بڑھی۔۔

کیا۔۔دعوت بھی دوں۔۔ نا ممکن۔۔

نہیں۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔ اس نے نفی میں سر ہلایا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم دونوں اس ویک اینڈ ہمارے ساتھ گزارنے ہمارے اپارٹمنٹ میں چلو گی؟

تنے ہوئے تاثرات کے ساتھ گوارا دعوت دے رہی تھی۔۔

دونوں آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھیں

جی ہائے نے کہنی ماری

پلیز ہمارے ساتھ چلو۔۔ جملے میں تبدیلی آئی مگر لہجے اور انداز میں نہیں۔۔

پلیز پلیز پلیز۔۔جی ہائے کی سوئی پھر اٹکی۔۔

ٹھیک ہے۔۔ وہ دونوں اور کیا کہتیں۔۔ ہے۔

جی ہائے نے خوشی سے نعرہ لگایا۔۔ 

تھینکس اریزہ

وہ بہت پرجوش تھی۔۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔۔ 

ہمم اریزہ مسکرائی۔۔ 

گوارا پلٹ کو تیزی سے باہر نکل گئ تو جی ہائے اسکے پیچھے بھاگی۔۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم منہ اٹھا کر جا بھی رہی ہو۔۔ ایڈون نے اسے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو پاگل تو نہیں ہو گئ ہو۔۔ 

سنتھیا کی عقل تو گھاس چرنے گئی رہتی تم کیسے راضی ہوگئیں۔۔ 

سنتھیا کا منہ پھول گیا۔ اریزہ نے اسکا منہ پھولتے دیکھا تو بولی۔۔

یار وہ دوست ہے میری اچھی جان پہچان ہے پھر وہ دونوں بس لڑکیاں ہی ہیں۔۔

اس نے جھلا کر کارٹ چھوڑا ۔۔ وہ انھیں سپر اسٹور لایا تھا آ تو یہی دونوں رہی تھیں مگر وہ بھی ساتھ چل دیا وہ چیزیں لینا چاہ رہی تھیں مگر لگتا تھا دوبارہ آنا پڑے گا۔ 

کیا مطلب۔۔ یہاں آئے عرصہ ہی کتنا ہوا ہے تمہیں۔۔ جانتی ہی کتنا ہو یہاں کے بارے میں یہاں کے لوگوں کےبارے میں۔۔ہاسٹل میں سامنے رہتی ہے نہ آئے دو دن ہاسٹل کون ہے کہاں کی ہے کہاں رہتی کچھ پتہ ہے ؟

ایڈون نے بھڑک کر کہا تھا دونوں چپ رہ گئیں۔

یون بن کی گرل فرینڈ ہے گوارا۔۔ اور جی ہائے اچھی لڑکی ہے اندازہ ہو جاتا ہے بات کر نےسے۔۔

سنتھیا کو اسکا چلانا برا لگا تھا۔۔ لوگ دیکھ رہے تھے انہیں۔۔

یون بن تمہارے مامے کا۔لڑکا۔۔ ہے نا بچپن میں ساتھ کھیلتے تھے ہم۔۔ 

نہیں میرے ماموں کے لڑکے تو تم ہو۔۔ سنتھیا نے معصومیت سے کہا۔۔ اریزہ نے منہ پھیر کر مسکراہٹ دبائی۔۔ ایڈون یونہی گھورتا رہا۔۔ 

اچھا نا میں اسکا ایڈریسس لے کر ٹیکسٹ کر دوں گی تم آجانا دیکھ لینا ہم ٹھیک ہیں کہ نہیں۔۔ اور بلکہ ایسا کرو قریبی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کروا دو یہ دو لڑکیاں سہیلی کے گھر جا رہی ہیں اگر کچھ ہو تو۔۔  سنتھیا شروع ہو گئ۔۔ان دونوں کا بحث کا پروگرام لمبا ہوتے دیکھ کر اس نے کارٹ کھسکایا اور پیچھے ہو کر کارٹ کھینچتی نکل گئ اب وہ آرام سے شاپنگ کر سکتی تھی۔۔ 

اچھا بس۔۔ ایڈون نے ہاتھ اٹھا کر روکا۔۔ 

میں یون بن سے خود پتہ لگا لوں گا۔۔ 

کیا پوچھوگے؟ ہے یون بن ۔۔ اس نے دوستوں کی طرح اسکے کندھے پر کندھا مارا

تمہاری گرل فرینڈ کہاں رہتی ہے؟ 

ایڈون نے گھورا تو جیسے ڈر کر بولی۔۔

نہیں مجھے پرورٹ مت سمجھو میں تو بس اسلیے پوچھ رہا تھا کہ میری گرل فرینڈ تمہا ری گرل فرینڈ کے گھر ویک اینڈ گزارنے جارہی ہے اپنی فرینڈ کے ساتھ ۔اس نے ڈی پر زور دے کر آنکھیں پٹپٹائیں تو ایڈون کو ہنسی آہی گئ۔۔ 

بہت تیز ہو گئ ہو یہاں آکر۔۔ اس نے اسکے سر پر ٹھونگا۔۔

اور تم زیادہ دادا نہیں بننے لگے میرے ۔۔۔۔۔۔یہاں آکر۔۔

اس نے ناز سے کہا۔۔ 

تم اور اریزہ بہت سادی ہو اسلیئے تھوڑا خیال رکھنا پڑتا۔۔ وہ جیبوں میں ہاتھ ڈال کر مڑ کر دیکھنے لگا۔۔

یہ اریزہ کہاں گئ۔۔

وہ اسے ڈھونڈتا آگے بڑھ گیا۔ 

میں اور اریزہ؟ اس نے دھرایا۔۔ صرف میں کیوں نہیں؟

وہ بڑ بڑا کر رہ گئ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گنگم اسکوائر تائے جانگ بلڈنگ فورٹین فلور اپارٹمنٹ نمبر نائن۔۔

پاسورڈ نہیں بتا سکتا کیونکہ تیری طرح اپنی گرل فرینڈ کی سیکیورٹی مجھے بھی عزیز ہے۔۔۔ 

یون بن نے اطمینان سے کہا تو ایڈون کے اوپر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

جلدی گیگنم اسکوائر آ کام ہے تجھ سے۔۔ ہایون کا اسے صبح صبح فون آیا۔۔

کیا کام ہے۔۔ اس نے آنکھیں ملیں۔۔ 

وہ ابھی سو رہا تھا جب اسکی کال سے آنکھ کھلی۔۔

بہت ضروری کام ہے بھاگ کے آئو۔۔ 

ہایون نے کہا تو اسے لگا واقعی کوئی ضروری کام ہے۔۔ 

جلدی جلدی تیار ہو کر پہنچا۔۔ 

تجھے یہاں کیا کام ہے۔۔ اس نے حیرت سے دکان کو دیکھا اور پھر ہایون  کو گھورا۔

وہ دونوں ایک آرٹ اینڈ کرافٹ کی شاپ پر کھڑے تھے۔۔ 

مجھے پینٹنگ کا سامان خریدنا برشز کلرز ایزل وغیرہ۔۔ مجھے تو کوئی آیڈیا نہیں صاف بات نہ قیمت کا نہ ہی اس بات کا کہ پینٹر کو کیا کیا چا ہیئے ہو سکتا ہے۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔

تمہیں چاہیئے کیوں؟

کم سن حیران تھا۔۔

تمہیں کیا بس مجھے خریدوا دے نا۔

 ہیون نے ٹالنا چاہا  کم سن اڑ گیا۔۔۔

نہیں بتائے گا تو مدد بھی نہیں کروں گا۔۔ میں چلا۔۔ وہ مڑا تو ہیون نے اسے کندھے سے پکڑ کر روکا۔۔ 

کردے نا مدد۔ ہیون نے منت کی وہ اکڑا کھڑا رہا۔۔

یار کسی کو دینا ہے۔۔  اسے بتانا پڑا۔۔

کسے؟۔۔۔

دوست ہے۔ اس نے ہچکچا کر کہا۔۔

دوست تو میں ہی ہوں تمہارا۔۔ مجھے مت دلا میں خود لے لوں گا۔۔ وہ بھی ایک کائیاں تھا۔۔

اچھا نا ۔۔۔ ہیون زچ ہوا۔۔

ایک لڑکی ہے پینٹر ہے میں اس سے اپنا پورٹریٹ بنوا رہا ہوں اسے دینا ہے۔۔ 

تو پورٹریٹ بنوا رہا۔۔ ؟

مجھ سے تو اسکیچ تک بنوانے پر تیار نہیں ہوتا تھا۔۔ ہائی اسکول میں لڑکیاں مرتی تھیں مجھ سے اسکیچ بنوانے اور تجھے میں خود منت کرتا تھا بنوالے تو تیار نہ ہوا کبھی۔۔ 

کم سن کو پرانے دکھڑے یاد آگئے۔۔ ہایون  اسے دیکھتا رہا۔۔

یار میں اسکی مدد کرنا چاہ رہا ہوں۔۔

اتنے تم سینٹا کلاز۔۔ میری تو کبھی مدد کو تیار نہ ہوئے۔۔ 

کیا سننا ہے تمہیں۔۔ وہ زچ ہو گیا۔۔ 

کم سن نے اسے اچنبھے سے دیکھا۔۔

خیر ہے بھلا۔۔ 

(نازک سا) محبت تو نہیں ہو گئی ہے۔۔ 

نہیں یار۔۔ ہایون  نے سر جھٹکا۔۔ 

بس وہ ایک شمالی کورین محاجر ہے اکیلی رہتی ہے یہاں۔ نونا اسکی مدد کررہی ہیں میں بس انکا ہاتھ بٹانا چاہ رہا ہوں۔۔

ہایون کے انداز میں اتنی سادگی تھی کہ اسے یقین کرنا پڑا۔۔

لڑکی کا معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہوتا کبھی۔۔ مدد کرتے کب محبت ہوتی پتہ بھی نہیں چلتا۔۔ اس نے کہنا ضروری سمجھا۔۔

ویسے تو یہ سب جا کر اسے دے گا تو وہ لے لے گی؟

اسے خیال آیا۔۔

میں ایسے تھوڑی دوں گا۔۔ کہوں گا نعنانے بھجوایا ہے۔۔ وہ روانی میں کہہ گیا۔۔ کم سن زور سے ہنسا۔۔

نونا نے خود کیوں نہ بھجوایا۔۔ اپنی این جی او کے کام تجھ سے کب سے کروانے لگیں؟ ہیں۔۔

وہ چھیڑ رہا تھا۔۔ ہایون سٹپٹا گیا۔۔

میرا مطلب۔۔

اس سے جواب نہ بن پڑا۔۔

مان کے تیرا اپنا انٹرسٹ ہے اس لڑکی میں۔۔ کم سن نے جتایا۔ وہ سر  کھجا کر رہ گیا۔۔ 

تجھے ایک اور کام بھی کرنا ہے۔۔ 

ہایون نے کہا تو وہ اسے گھو ر کر رہ گیا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اور یون بن قریبی ریستوران میں کافی پینے آئے تھے۔۔

کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے یون بن کو جانے کیا خیال آیا بولا۔۔

یار ایڈون ایک بات بتا۔۔ سنتھیا اور تمہاری کس بات پر لڑائی ہوتی ہے؟

ایڈون نے سوچا۔۔

ابھی کل تو تمہاری گرل فرینڈ کی وجہ سے ہوئی ہے۔۔ 

ایسی کوئی خاص بات نہیں ہوتی ہو جاتی میں کسی بات سے منع کروں تو اسے لگتا میں اسکے سر پر سوار ہورہا۔۔  اس نے سوچ کر جواب دیا۔۔ 

تم کس بات سے منع کرتے۔۔ ؟

ایڈون بڑی سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔۔

یہی اسکے بارے میں تھوڑا پوزیسو ہوں فکر کرتا۔ کہیں جانا چاہتی ہے تو خود لے کر جاتا ہوں خیال کرتا کہیں مجھے لگتا جانا مناسب نہیں تو منع کرتا ۔ ایسے موقعے پر اسے کبھی یہ یاد نہیں رہتا اپنے سب کام چھوڑ کر اسکے ساتھ جایا کرتا ہوں۔۔

 اس نے منہ بنایا۔۔ 

ہمم۔ اس نے پرسوچ انداز میں ہنکارا بھرا۔۔ 

اسے تم پر شک کرنے کی عادت نہیں؟

نہیں۔۔ ایڈون ہنسا۔۔

اسے یقین ہے مجھ پر۔۔اسکے سوا کوئی لڑکی نہیں ہے میری زندگی میں۔۔بچپن سے دیکھ رہی ہے مجھے اسے مجھ پر پورا بھروسہ ہے۔۔ ایڈون کے انداز میں فخر در آیا۔۔

مجھے گورا بچپن سے دیکھ رہی جبھی مجھ پر بالکل اعتبار نہیں کرتی۔۔ یون بن ہنسا۔۔ 

کیوں۔۔ ایڈون نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔

یار میں ویسا ہی کھلنڈرا لڑکا تھا جیسے سب لڑکے ہوتے ہیں کئی گرل فرینڈ ز تھیں میری۔۔ یار یہ بچپن کی محبتیں کہا تمام عمر چلتی ہیں۔ ان سب کا وقت ختم ہوتا گیا۔۔ گوارا کے والدین میرے والدین کے دوست ہیں بچپن سے ہم ملتے رہے۔۔ جب بڑوں نے ہماری منگنی کرنی چاہی تو مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔ میں مطمئن تھا۔۔ 

مگر منگنی کے بعد مجھے اندازہ ہوا گوارا بچپن سے مجھے پسند کرتی تھی۔۔ اسکی مجھ سے اتنی توقعات ہیں کہ میں کبھی کبھی تھک جاتا ہوں۔۔ میں اسکے بہت نخرے اٹھاتا مجھے اچھا لگتا ایسا کر نا مجھے محبت ہے اس سے۔ مگر میں کتنا کوئی اسکے ساتھ رہ سکتا۔۔ میں کسی لڑکی سے بات بھی کر لوں ناراض ہو جاتی۔۔دوستوں کے ساتھ رہتا تو مجھے نظر انداز کرتے ہو کہتی۔۔ ہر وقت ہر جگہ میں اسکے ساتھ رہوں۔۔ ایسا ممکن ہے؟ سفوکیٹ کر دیتی ہے کبھی کبھی مجھے۔۔ وہ بے چارگی سے کہہ رہا تھا۔۔ گھونٹ گھونٹ کافی پیتے وہ جیسے تنگ آیا ہوا تھا۔۔ 

ایڈون اسکی بات سمجھ رہا تھا۔۔ 

سنتھیا سے مجھے یہی شکوہ ہے۔۔ وہ نظر انداز کرتی۔۔ مجھے۔۔ ایڈون مسکرا دیا۔۔

یار یہ محبت بہت بے صبرا کر دیتی ہے۔۔ کھو دینے کا خوف لاحق رہتا۔۔ ایسی خواہشیں دل پر ڈیرا ڈال لیتی ہیں کہ انسان بے قابو ہونے لگتا۔۔ تجھے خوش ہونا چاہیے کوئی اتنی شدت سے محبت کرتا ہے تم سے۔ اسکی سوچوں کا مرکز بس تم ہو۔۔ 

میرا دھیان بھی پلٹ پلٹ کر جاتا  اسکی طرف پھرمیں

 بھی بھاگ بھاگ کر جاتا ہو ں سنتھیا کی طرف کسی طرح مطمئن ہو جائوں۔۔ وہ روانی میں بولا۔۔

کسکی طرف۔۔ یون بن پورے دھیان سے اسکی بات سن رہا تھا۔۔ ایڈون چونکا۔۔ 

سنتھیا کی ہی بات کر رہا۔۔ 

تم بتائو ۔۔ لڑائی ہوئی ہے کیا گوارا سے۔۔ اس نے بات بدل دی۔۔ 

ہاں۔۔ ویک اینڈ پر کہیں جانے کو کہہ رہی تھی کسی ریزورٹ میں۔۔ میں نے کہا سیول سے باہر کا پھر کبھی زیادہ چھٹیوں میں پروگرام بنا لیں گے میری ابھی کچھ کمٹمنٹس ہیں یہاں۔ ناراض ہو گئ۔۔ تم ہمیشہ یہی کرتے ہو۔۔ 

تمہاری کمٹمنٹس ہیں یا بہانہ۔۔ ایڈون نے پوچھا تو مسکرا کر بولا۔۔

ظاہر ہے بہانے ہی ہیں۔۔ اکیلے دو تین دن میں بور ہو جاتا رومینٹک ڈایلاگ بول بول کر۔۔ اسکا انداز لا پروا تھا۔۔

خیر کہہ رہی تھی شکل مت دکھانا میں اپنی دوستوں کے ساتھ ہونگئ۔ ویک ایںڈ پر ۔۔ وہ ہنسا۔

ایڈون کو خیال آیا۔۔ 

وہ اکیلی رہتی ہے نا اپارٹمنٹ لے کر۔۔ 

ہاں۔۔ یون بن کی کافی ختم ہو گئ تھی۔۔ 

اسکے پیرنٹس نہیں رہتے اسکے ساتھ۔۔ 

نہیں۔۔

اکیلے رہنا سیکیور ہے یہاں ایک لڑکی کیلیے؟

یون بن نے غور سے دیکھا اسے۔۔ 

ہاں وہ اچھے علاقے میں رہتی۔۔ 

نہیں پھر بھی اکیلی لڑکی ہے۔۔ 

ایڈون نے کہا تو اس بار یون بن نے کوئی جواب نہ دیا۔۔ ایڈون کی تسلی نہ ہوئی۔۔

یار جتنا بھی سیکیور علاقہ ہو لڑکیاں اکیلی ہوں ۔۔ میرا مطلب اکیلی لڑکی ہو تو لوگ پریشان کر سکتے۔۔

میں مر تھوڑی گیا ہوں۔۔ کوئی آنکھ اٹھا کر تو دیکھے۔۔ یون بن  کو اس حجت پر حیرانی تھی اب اسکی شکل پر الجھن در آئی تھی۔۔

وہ تو ٹھیک مگر تم ہی کہہ رہے اس ویک اینڈ وہ سہیلیوں کے ساتھ ہوگی تم نہیں جائو گے وہاں تو۔۔ 

یون بن سمجھ کر مسکرا دیا۔۔

جائوں گا تو۔۔ ناراض تو نہیں رہنے دے سکتا اسے زیادہ دیر۔

تم بھی جائو گے اس سے ملنے۔۔ ایڈون جز بز ہوا۔۔

تم بھی تسلی کرنے چلے جانا۔۔ 

گنگم اسکوائر تائے جانگ بلڈنگ فورٹین فلور اپارٹمنٹ نمبر نائن۔۔

پاسورڈ نہیں بتا سکتا کیونکہ تیری طرح اپنی گرل فرینڈ کی سیکیورٹی مجھے بھی عزیز ہے۔۔۔ 

یون بن نے اطمینان سے کہا تو ایڈون پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔۔ 

نہیں وہ میرا مطلب تھا۔۔ایڈون سے جواب نہ بن پڑا۔۔ 

یون بن ہنس دیا۔۔ 

مت فکر کرو کرنے دو لڑکیوں کو انجوائے۔۔ ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سب گوارا کے فلیٹ کے باہر کھڑی تھیں اور گوارا لاک پر جھکی الٹے سیدھے پاسورڈ ڈال رہی تھی

تم اپنے فلیٹ کا پاسورڈ کیسے بھول سکتی ہو؟

جی ہائے حیران رہ گئ۔۔

کل ہی بدلا ہے یون بن سے جھگڑے کے بعد نیا اسے بھی پتہ نہیں ہوگا۔۔ اب تو۔۔ وہ بے چارگی سے بولی۔۔ اب لمبا کام تھا۔۔ اریزہ اور سنتھیا نے اپنے بیگ پیک اتار کر زمین پر رکھ دیئے۔۔

کیا کروں۔۔ 

گوارا بے چارگی سے بولی۔۔ 

دو اورکوششیں بچی ہیں کر ڈالو۔۔ پولیس خود آجائے گی دروازہ کھولنے۔۔

جی ہائے نے کہا تو وہ سر ہلاتی مڑی۔۔ پھر خیال آیا تو پلٹ کر گھور کر دیکھنے لگی۔۔ 

واپس چلتے ہی  پھر۔۔ سنتھیا نے کہا تو تینوں مڑ کر گھورنے لگیں اسے۔۔

تمہارے پاسورڈ ہوتے کیا ہیں تمہارا برتھ ڈے یون بن کا برتھ ڈے یا میرا برتھ ڈے۔۔ 

جی ہائے نے کہا۔۔ تو وہ بے چارگی سے بولی۔۔ 

سب ٹرائی کر لیئے اس بار کچھ اور ہی رکھا تھا۔۔ وہ منہ بنا کر سیدھی ہوئی۔۔ لاک سے ہی ٹیک لگا کر سوچنے لگی۔۔ 

سیکیورٹی کمپنی کو کال۔کر تو لوں مگر ہر مہینے انکے ایک دو چکر لگ جاتے پچھلی بار تو اچھا خیاصا گھور کر گیا تھا انکا ملازم۔۔ 

ایک اور ٹرائی کر لو پھر کال ہی کرنی پڑے گی۔۔

جی ہائےنے کہا تو سر ہلا کر مڑی تبھی سامنے سے ڈھیلے ڈھیلے قدم اٹھاتئ سر جھکائے آتی لڑکی پر نظر پڑی۔۔ چند سیکنڈ لگے ہونگے پہچاننے میں۔۔ وہ سرعت سے پلٹ کر اسکی طرف پیٹھ کر گئ۔۔ 

کون ہے یہ۔۔ جی ہائے اور اریزہ اسے ہی دیکھنے لگیں۔

چلی گئ۔۔ ؟ گوارا نے پوچھا۔۔

لفٹ کا ویٹ کر رہی۔۔ اریزہ نے بتایا۔۔ 

وہ لفٹ کھلنے پر اندر گھسی۔ تو جی ہائے نے اسے اطمینان دلایا۔۔

چلی گئ۔۔ 

اس نے پکٹ کر دیکھ کر اطمینان کیا ۔۔ 

کون ہے۔۔جانتی ہو اسے کیا؟

جے حی کو تجسس ہوا۔۔

ہوں۔۔ گوارا نے منہ بنایا وہ دوبارہ لاک پر جھکی تھی۔۔ کڑچ کی آواز آئی اس بار دروازہ کھل گیا۔۔

شکر ہے۔۔ سنتھیا اور اریزہ اکٹھے بے اختیار بولیں۔۔ 

شکر ہے۔۔ جی ہائے نے بھی مسکرا کر کہا۔۔ 

ہم جلد ایک دوسرے کی زبان سیکھ لیں گے۔۔ اریزہ نے مسکرا کر ہاتھ پر ہاتھ مارنے کیلیے ہاتھ بڑھایا۔۔ جی ہائے نے خوش دلی سے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔۔

سنتھیا اس بات پر جل کر رہ گئ اریزہ اس سے کب اتنا فری ہوئی۔۔ گوارا کو جی ہائے کی کسی اور کیساتھ اتنی بے تکلفی پسند نہ آئی دونوں ہونہہ کرکے رہ گئیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ آج بھی نہیں آیا تھا۔۔ اسکا دل بے حد اداس ہو گیا تھا۔۔۔ وہ اتنی بڑی تصویر اٹھا کر دو دن سے آرہی تھی۔۔ اتنے شوق سے پیچھے پڑ کر پورٹریٹ بنوانے کے بعد غیر دلچسپی کا یہ عالم۔۔ 

اس نے اسکیچ بک اٹھا لی۔۔ مگر آرٹسٹ کی ازیت کا عاکم کوئی نہیں سمجھ سکتا جب زہن منتشر ہو اور اسکے ہاتھ میں پنسل ہو۔۔ اسکا دل بھر آیا۔تھا۔۔ دل کہیں اٹکا تھا زہن کہیں وہ خود کہیں اور تھی۔۔ 

اس نے زہن کے پردے ہر لہراتے چہرے کو صفحے پر اتارنا چاہا۔۔ 

آنکھیں دھندلانے لگیں چہرہ بھی دھندلانے لگا۔۔ حالانکہ یہ وہ چہرہ تھا جسے وہ آنکھ بند کرکے بھی اتار سکتی تھی۔۔ ابھی بس آنکھیں ہی بنا پائی تھی کہ رو پڑی۔۔ 

آپ زندہ تو ہوں گی نا آہموجی۔۔ اس نے آنکھوں پر ہاتھ پھیرا۔۔ 

اس نے اسکیچ بک کو سینے مین بھینچ لیا۔۔ اور گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔۔ 

وہ دریا کنارے کسی کو ڈھونڈتا آیا تھا۔۔ 

پہچان کے مطابق پل کے دائیں جانب بیلون ہٹ کے قریب کسی بنچ کے پاس اسے ہونا تھا۔۔ 

اس نے ماتھے پر ہاتھ پھیرا۔۔

کوئی پاگل ہی اتنی گرمی میں یہآں ہوگا۔۔ وہ بڑبڑا کر رہ گیا۔

اور اس سے بڑا پاگل میں ثابت ہونگا یہاں بیٹھ کر۔۔ 

اس نے آنکھوں پر کیپ کا چھجاہاتھ سے جھکا  کر تلاشا دور کونے میں بنچ پر لڑکی بیٹھی تھی۔۔ دھوپ براہ راست اسکے اوپر پڑ رہی تھی۔۔

فوٹو سانتھیسز کر رہی ہے یہ کیا؟

وہ گہری سانس لیتا اسکی طرف بڑھا قریب آنے پر اسے احساس ہوا ہچکیاں کے کر رو رہی ہے۔۔ 

چھوگیو۔۔  اسے سمجھ نہ آیا تو پکار بیٹھا۔۔

اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔۔ 

کسی کا لانبا سراپا اس پر آنے والی دھوپ کے آگے ڈھال بنا کھڑا تھا۔۔ پی کیپ سجائے کھنچی ہوئی آنکھوں میں الجھن اور حیرانی بھرے اسے تکتا وہ کوریائ نقوش کا ہینڈسم سا لڑکا تھا   

اس نے جلدی سے آنسو پونچھے۔۔ 

دھوپ اور گریہ سے سرخ چھوٹی چھوٹی آنکھیں دبتی ہوئی ناک گول سا چہرے کا کٹ تھا بے حد دبلی لڑکی۔۔ اسکے رخسار کی ہڈیاں بے حد نمایاں تھیں آنکھوں کےگرد گہرے حلقے۔۔ پہلی سوچ اسکے زہن میں یہی آئی کہ یہ لڑکی صحتمند ہوتی تو کافی پیاری لگتی۔ 

وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی

وہ چونکا پھر سر کھجا کر بولا۔۔ 

وہ میں نے سنا ہے آپ پورٹریٹ اچھا بنا لیتی ہیں میرا بنا دیں گی۔۔ 

کم سن کی بات پر وہ اسے الجھن بھرے انداز سے دیکھتی رہ گئ۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ایک بیڈ ہے یہ ایک صوفہ۔

گوارا نے کمرے کا تعارف کروایا۔۔ 

ایک لائونج میں کاوچ ہے۔۔ ان پر ہم چاروں نے ایڈجسٹ کرنا ہے۔۔ میں بیڈ پر کمپرمائز نہیں کر سکتی اور جی ہائے کے علاوہ کسی کے ساتھ بیڈ شیئر نہیں کر سکتی۔۔ 

گورا کا لہجہ قطعی تھا۔۔

سنتھیا کے پیروں سے لگی سر پر بجھی۔۔ 

اس کو دیکھ رہی ہو ۔۔ بات کرنے کا بھی کوئی طریقہ ہوتا ہے ایسے زلیل کروانے لائی ہو رکھے اپنا سونے کا بیڈ میں جا رہی۔۔ اس نے اریزہ پر چڑھائی کر دی اور بیگ اٹھا لیا۔۔ اس نے سب تقریر اردو میں جھاڑی تھی مگر جی ہائے کو اندازہ ہوگیا تھا کہ گوارا کی بات پر تپ گئ ہے۔

ریلیکس۔۔ اریزہ نے اسکو بازو سے پکڑا۔۔

جی ہائے آگے بڑھی۔۔ 

میں اور اریزہ نیچے بستر بچھا لیں گے  تم اور گوارا بیڈ شئیر کر لینا۔۔ 

اس نے جملے سے بیڈ سن کر اندازہ لگایا۔۔ 

کوئی نہیں ۔۔ گوارا البتہ انگریزی میں ہی بولی

گوارا اگر یہ دونوں گئیں نا یہاں سے تو میں بھی ساتھ جائوں گی۔۔ اسکی دھمکی کارگر رہی تھی ۔۔ گوارا ہونہہ کرکے منہ پھیر گئ۔۔ 

بیگ رکھو۔۔ اس کو ڈر لگا ہوا تھا سنتھیا نے منہ بنا کر بیگ کندھے سے اتار کر رکھا زمین پر۔ 

بیڈ کے علاوہ سنگل صوفے سے شائد بس بالشت بھر ہی بڑا صوفہ رکھا تھا۔۔ اریزہ اور سنتھیا نے ایک دوسرے کو دیکھا بھاگ کر صوفے پر بیٹھیں دونوں کے اکٹھے دھپ سے بیٹھنے پر صوفے نے ٹھیک ٹھاک احتجاج کیا تھا۔۔ 

گوارا گہری سانس لے کر رہ گئ

جی ہائے کو البتہ انکی حرکت مزا دے گئ۔۔ خود بھی صوفے کی ہتھی سے ٹک گئ۔۔ ۔

بتائو کیا کریں ۔۔ 

جی ہائے نے پوچھا تو گوارا پلٹ کر کچھ کہنے لگی تھی کہ جی ہائے نے جملہ مکمل کیا۔۔

اریزہ۔۔ 

گوارا اور سنتھیا نے منہ بنا کر گھورا تھا۔۔ مگر اریزہ اور جی ہائے ایک دوسرے کی جانب مکمل متوجہ تھیں۔

کچھ کھاتے ہیں۔۔ اریزہ نے کہا تو جواب گوارا کی جانب سے آیا تھا۔۔۔

گھر میں کچھ نہیں۔۔ باہر سے لانا پڑے گا۔۔

چلو مارکیٹ چلتے ہیں۔۔

جے حی نے کہا تو اریزہ نے فورا حامی بھر لی۔۔

چلو۔۔ 

مجھے اس چنڈالنی کے حوالے کر جائو گی۔۔ سنتھیا چیخی۔۔

مجھے اس چڑیل کے ساتھ چھوڑ جائو گی۔۔

گورا بھی اسکے ساتھ ہی اپنی زبان میں چیخی۔۔

آرام سے ۔۔ اسے جملہ نہیں مگر انداز تو سمجھ آہی گیا ہوگا۔۔ 

جی ہائے اور اریزہ ایک ساتھ گھبرا کر بولیں۔۔

ہم بھی چلتے ہیں۔۔

گوارا اور سنتھیا دونوں اکٹھے بولیں تھیں انگریزی میں۔۔ 

پھر اس اتفاق پر بد مزہ سی شکل بنا لی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسٹور میں آکر بھی انکی چپقلش چلتی رہی۔۔ گوارا کو پورک پسند تھا سنتھیا بیف کا پیکٹ اٹھا کر رکھ دیتی۔۔

اریزہ سبزیاں چن رہی تھی۔۔ جی ہائے نوڈلز اور میکرونی۔

اسٹور کے ایک جانب کھانے پینے کے اسٹال تھے۔۔ 

اسپائیسی پنیر ۔۔ ایک لڑکی انہیں مسکرا کر متوجہ کر رہی تھی۔۔فری چکھا رہی تھی

اریزہ اور سنتھیا بدکیں تو جی ہائے اور گوارا شوق سے کھا گئیں

آگے ساس میں ڈوبی مکئ بک رہی تھی۔۔ اریزہ اور سنتھیا چھلی کئ شوقین جھٹ سے خرید لی تو جی ہائئ اور گوارا اچنبھے سے دیکھتی پائی گئیں۔۔ کھاتے پیتے پیٹ پوجا ہو ہی گئ

چاروں ایک ہی کارٹ کو تن رہی تھیں۔۔

اریزہ نے بسکٹ کے پیکٹ اٹھائے 

گوارا جنک فوڈ اٹھا رہی تھی۔۔ جب کارٹ لبا لب بھر گیا تو چاروں کو رکنا پڑا۔۔ 

گوشت سے آدھی ٹرالی بھری تھی۔ جی ہائے نے سر پیٹ لیا۔۔

اتنا گوشت کھائے گا کون۔۔ 

یہ بھرے جا رہی تھی۔۔ دونوں نے ایک دوسرے کی جانب اشارہ کیا۔۔ 

اب ہم دونوں واپس رکھتے ہیں یہ لو۔۔ اریزہ۔۔ جی ہائے نےتین پیکٹ خود اٹھائے تین اریزہ کو اٹھانے کا اشارہ کیا۔۔ 

سنتھیا نے اسکے ہاتھ لگانے سے قبل اٹھا لیے۔۔

میں رکھ دیتی ہوں۔۔ 

اریزہ کی تبھی سامنے کسی شے پر نظر پڑی ۔۔ 

اس نے بہت اشتیاق سے وہ پیکٹ اٹھایا۔۔ 

میرے گھر اوون نہیں ہے۔۔ بس مائکروویو ہے۔۔ بیکنگ نہیں کر سکتیں۔۔ گوارا نے کہا تو اس نے سر ہلا دہا مگر پیکٹ کارٹ میں رکھ دیا۔۔

عجیب کوڑھ مغز ہے۔۔ وہ بڑبڑا کر رہ گئ۔۔ 

چلو۔۔ ٹرالی آدھی خالی کرکے بھی اچھا خاصا بل بنا تھا۔۔ چاروں نے اپنے والٹ نکال لیے تھے مگر گوارا نے کسی کو پیمنٹ نہیں کرنے دی۔۔ چاروں باہر نکلیں تو سورج ڈھل رہا تھا۔۔ انہیں اب پیدل ہی گھر جانا تھا وہی گنگم اسکوائر تک چودھویں منزل تک۔۔ 

آیسکریم کھائیں۔۔ سنتھیا نے سامنے اسٹال کو للچائی نظروں سے دیکھا۔۔ بالشت بھر کی کون تھی بلا مبالغہ۔۔ 

یہ ؟۔۔ گوارا نے منہ بنایا۔۔ 

ہاں کیوں نہیں۔۔ جی ہائے نے اتنی ہی خوشی سے کہا۔۔ 

اریزہ بھی آئسکریم کی شوقین تھی۔۔ گوارا کو چارونا چار تقلید کرنی پڑی۔۔ 

اف یہ تو بہت مزے کی ہے۔۔ اریزہ نے بے ساختہ کہا۔۔ 

آرٹیفیشل فلیور ہے۔۔ گوارا نے منہ بنایا۔۔ 

سنتھیا نے بد مزہ ہو کر گھورا۔۔

ہر چیز پر اعتراض کیوں کرتی ہے یہ۔۔ 

انکا جب دل چاہتا اردو میں شروع ہو جاتیں۔

 مجھے لگتا ہے اسے ہم پسند نہیں آئے۔۔

اریزہ نے سادگی سے کہا تو سنتھیا نے  تپ کر اسکی کون اسکے منہ پر ملنے کیلیے ہاتھ مارا اریزہ عین وقت جھکائی دے گئ۔۔ اسکا ہاتھ اٹھا کون کی آیسکریم اچھل کر سیدھا گوارا کے منہ پر۔۔

ایک لمحے تو وہ چاروں ہکا بکا رہ گئیں۔۔ گوارا چھوڑنے والی نہیں تھی۔۔ بھنا کر اگلے لمحے اریزہ کے منہ پر اپنی آیسکریم ملنے کر بڑھی۔۔ سنتھیا اریزہ کو بچانے آگے بڑھی ساری آسیکریم اسکا منہ بھر گئ۔۔ 

تم سنتھیا نے اپنی آیسکریم گوارا کے منہ پر ماری تو جی ہائے آگئ سامنے۔۔ 

اس دن  مارکیٹ میں لوگ رک رک کر چار آئسکریم میں لت پت لڑکیوں کو ایک دوسرے سے گتھم گتھا دیکھ رہے تھے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لفٹ میں چودھیں فلور تک جانا عزاب ہو گیا انکا۔۔ ایک تو اتنی اونچائی پر جانا ہو تو درمیان کے ہر فلور پر ہی تقریبا کوئی نہ کوئی لفٹ منگوا کر بیٹھا ہوگا۔۔ سو ہر منزل کی تقریبا زیارت نصیب ہوئی۔۔ عین شام کا رش کا وقت تھا۔۔ پھر جو لفٹ میں گھستا ان چاروں کی شکل غور سے دیکھتاپھر یا تو کھل کر یا دبی دبی ہنسی ضرور ہنستا۔۔

چہرے گو انہوں نے ٹشو سے پونچھ ڈالے تھےمگر بال اور کپڑے آیسکریم سے سنے تھے۔۔ اوپر سے چاروں نے ہی سامان بھی اٹھا یا ہوا تھا بکھرے بالوں سرخ چہروں کیساتھ جتنی بن ٹھن کر نکلی تھیں اتنی اجڑ پجڑ کر پہنچی تھیں۔۔ 

لفٹ سے نکلیں تو ایک اور جھٹکا لگا۔۔ ایڈون اور یون بن انکے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑے بیل بجا رہیے تھے۔ دونوں کی انکی جانب پشت تھی۔۔ 

اوہ نو۔۔ سنتھیا گوارا شاپر پھینک بھاگ کر سامنے سیڑھیاں چڑھ گئیں۔۔

تم۔۔ اریزہ اور جی ہائے ہکا بکا انکی تیزیاں دیکھتی رہ گئیں۔۔ 

انکے چھوڑے شاپر اٹھاتے دونوں اپنی اپنی زبان میں بس گالیاں ہی دے سکتی تھیں۔۔

تبھی یون بن کی ان پر نظر پڑی۔۔ 

تم دونوں کو کیا ہوا ۔۔

دونوں بھاگ کر انکے پاس آئے۔۔ 

کچھ نہیں۔۔ دونوں زبردستی مسکرائیں۔۔

یہ کیا ہے بالوں پر۔۔ یون بن نے اشارے سے کہا 

اریزہ نے مسکرا کر جلدی جلدی بالوں پر ہاتھ مارا 

وہ ماسک ہے ہئیر ماسک۔۔

جے ہی نے بھی تائید کی۔۔ 

ہیئر ماسک ہی ہے۔۔

تم لوگ یہ لگا کر باہر گئے۔۔ یون بن نے انکے ہاتھ سے بیگ لیتے ہوئے حیرت سے پوچھا۔۔

نہیں لگوا کر آئے ہیں پارلر گئے تھے۔۔ 

اریزہ نے اردو میں ہی کہا۔۔ 

باقی دونوں کہاں ہیں؟

ایڈون کو تشویش ہوئی۔۔

پارلر میں ہیں ۔۔

جی ہائے نے کہا تو دونوں بس دیکھ کر رہ گئے۔۔ 

اچھا یہ دروازہ کھولو۔۔ لگتا ہے گوارا نے اپنا پاسورڈ پھر بدل لیا۔۔

جی ہائےکو اچھا موقع ملا۔۔

ہمیں نہیں پتہ پاسورڈ اب تو دروازے پر کھڑے رہ کر ان دونوں کے آنے کا انتظار کر نا ہوگا۔۔ 

اس نے اتنی زور چیخ چیخ کر کہا کہ ایڈون اور یون بن دونوں کے کان جھنجھنا گئے۔۔ ہاتھ دونوں کے شاپرز سے لدے تھے سو کندھے اچکا کر کان بند کرنے لگے۔۔

یہ تم آرام سے بھی کہہ سکتی تھیں۔۔ یون بن نے گھورا۔

اریزہ اور جی ہائے کھلکھلا دیں۔۔

تبھی جی ہائےکا موبائل بجا ۔۔ اس کو گوارا کا پیغام آیا تھا۔۔ گالی تھی۔۔ اور پاسورڈ۔۔ 

وہ منہ بناتی دروازہ کھولنے لگی۔۔ ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دونوں سامان رکھوا کر سیٹ کروا کر رخصت ہوئے تو تھوڑی دیر کے بعد بیل بجی۔۔ 

اریزہ اٹھنے لگی تو جی ہائے نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روک دیا۔۔ 

انہوں نے جو ابھی باہر کیا ہے اسکی تھوڑی سزا تو ملنی  چاہیئے۔۔ اس نے کہا تو وہ سر ہلاتی دوبارہ کاوچ پر دراز ہو گئ۔۔

تبھی گوارا کا فون آیا۔۔ اس نے اسپیکر آن کیا تو حلق کے بل چلائی۔۔ 

کمینی تم نے پاسورڈ تبدیل کر دیا۔۔

ہاں اور اب یہ اس وقت تمہیں پتہ چلے گا جب تم دونوں اپنے سدھر جانے کا وعدہ کروگی۔۔

کوئی نہیں میری کوئی غلطی نہیں تھی ۔۔ گوارا کا انداز ہنوز تھا

سنتھیا اسکے ہاتھ سے موبائل چھین کر چلائی۔۔

دیکھا اسکو کبھی اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوگا۔۔ 

ایک ہنگل میں چلا رہی تھی ایک اردو میں۔۔ 

اسٹاپ۔۔

جی ہائے اور اریزہ اکٹھے چلائیں

بحث بند کرو ورنہ باہر رات گزارنی پڑے گی۔۔

دھمکی کارگر رہی۔۔ دونوں اکٹھے چپ ہوئیں۔۔

وعدہ کرو اب سے آگے ایک دوسرے سے نہیں لڑوگی۔۔

میں نہیں لڑتئ تم جانتی ہو اریزہ

میں نے کب لڑائی کی میں تو بات بھی نہیں کرتی۔۔

دونوں کا اب انگریزی کا امتحان شروع تھا۔۔

اف۔۔ جے ہی نے سر پکڑ لیا۔۔ 

دونوں باہر ہی مرو۔۔

اس نے فون بند کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاہ 

گوارا حیران ہی رہ گئ۔۔

یہ میرا گھر ہے ڈیم اٹ۔۔ اس نے دروازے کو لات ماری۔

 اسے جھنجھلاتے دیکھ کر سنتھیا کو یک گونہ سکون ملا تھا۔۔

آرام سے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ اور موبائل میں لگ گئ۔۔۔۔ گوارا نے حیرت سے اسکے اطمینان کو دیکھا۔۔ پھر ناک پھلاتی اسکے ساتھ ہی دروازے کی چوکھٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔

تھوڑی دیر گزری ہوگی دونوں مگن بھول بھی گئیں کہاں بیٹھی ہیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

دیکھ لو انکا حال۔۔ 

آدھے گھنٹے بعد سرویلیئنس کیمرہ سے جی ہائے نے باہر کا منظر دیکھا۔۔ 

میں جانتی تھی اس نے ویک اینڈ پر بلا کر بھی ایسے ہی موبائل میں مگن رہنا ہے جبھی تمہیں ضد کرکے ساتھ لائی۔۔

وہ دونوں نہا دھو کر چینج کر چکی تھیں

مجھے بھی آنے میں اسیلیے اعتراض نہ ہوا مجھے پتہ تھا سنتھیا نے منہ بھی نہیں لگانا مجھے۔۔

اریزہ متفق تھی۔۔

تم لوگوں نے باہر ہی رہنا ہے ؟

جی ہائےکی گرج دار آواز پر دونوں دہل کر چونکی تھیں بے اختیاری میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا۔۔ پھر ایک دوسرے پر نظر پڑی تو شام کا معرکہ یاد آیا تو جھٹکے سے چھڑا بھی لیا۔۔ 

آنے دو نا یار ۔۔ سنتھیا نے منت کی۔۔

ایک شرط پر۔۔ جی ہائے نرم پڑی۔۔ 

ایک دوسرے کو گلے لگائو اور وعدہ کرو ایک دوسرے کو برداشت کروگی۔۔ 

کبھی نہیں۔۔ دونوں اکٹھے چلائیں

رہو پھر وہیں

اریزہ بھی رعائت دینے کو تیار نہیں تھی۔۔

اچھا۔۔ 

دونوں کو دو گھنٹے ہو رہے تھے باہر بیٹھے

سو انکے اٹل ارادے کمزور پڑچکے تھے۔۔

یہ دیکھو۔۔ گوارا نے دانت کچکچا کر کر کیمرے میں دیکھا۔۔

وہ دونوں منتظر تھیں۔

گوارا نے ایک قدم بڑھایا۔۔ تھوڑا سنتھیا آگے آئی۔ دونوں طوہا و کرہا گلے مل گئیں۔۔

اب وعدہ کرو۔۔ جے ہی نے کہا تو اریزہ نے اسے اشارے سے کہا بس کرو بہت ہو گئ۔۔ جے ہی نے گہری سانس لے کر لاک کھول ہی دیا۔۔ 

دونوں تن فن کرتی آئیں اور انہیں گھورتے ہوئے تیزی سے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔۔

تھوڑی دیر گزری تھی دونوں کی تیز آواز آئی۔۔

میں پہلے آئی ہوں باتھ روم میں نکلو تم۔۔

یہ میرا گھر ہے میرا باتھ روم ہے۔۔ 

اریزہ اور سنتھیا ایک دوسرے کو بے چارگی سے دیکھ کر رہ گئیں۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ اسکا کیا کروگی؟ اوون تو ہے نہیں۔۔ 

جی ہائے نے حیرت سے اسے آٹا نکالتے دیکھا۔۔ 

دیکھنا کیا کرتی ہوں۔۔ وہ مسکرا دی۔

اس نے گوبھی کو کورین طریقے سے پکا کر بھجیا بنائی۔۔ جی ہائے نے چکن نوڈلز بنائے۔۔ 

اس نے آٹا گوندھا پیڑھے بنائے ۔۔ ایک شیسشے کی بوتل کو بیلنے کیلیے استعمال کرکے جب اس نے تھپ تھپ ہاتھ پر روٹی بڑی کی تو جی ہائے اپنا سالن چھوڑ چھاڑ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔ اس نے فرائنگ پین کے حساب سے چھوٹے پیڑھے کی چھوٹی چھوٹی روٹیاں پکائیں۔۔ کھانا تیار ہوا تو دونوں پھولے منہ کے ساتھ اٹھ آئیں۔۔ 

میں بھی یہ کھائوں گئ۔۔ جی ہائے نے اپنے نوڈلز الگ ایک طرف کر دیئے۔۔ 

یہ کیسے کھائیں گے؟ گوارا نے حیرت سے انہیں دیکھا۔۔ 

سنتھیا کی بھی روٹی دیکھ کر بھوک چمک گئی۔۔ نوڈلز کھسکا کر گوبھی پلیٹ میں ڈال لی۔۔ اریزہ نے نوالہ بنا کر جی ہائےکے منہ میں ڈال دیا۔۔

یار یہ گوبھی کیسے بنائی ہے میں نہیں کھاتی مگر یہ بہت مزے کی ہے۔۔ سنتھیا نے کہا تو اریزہ نے اسے مسکرا کر انگریزی میں بتایا۔ 

یہ کورین اسپائسز کیساتھ بنائی ہے کورین ڈش ہے۔۔ 

گوارا نے کندھے اچکا۔ دیئے یہ تینوں اتنے چٹخارے بھر کر کھا رہی تھیں کہ بار بار اسکی نگاہ اٹھ جاتی تھی۔۔ اریزہ نے محسوس کیا تو خود نوالہ بنا کر اسکی جانب بڑھا دیا۔۔ وہ حیرت سے دیکھنے لگی۔۔ اریزہ نے ہاتھ پیچھے نہیں کیا تو جھجکتے ہوئے منہ کھول ہی لیا۔۔ 

مزے کا ہے نا جی ہائے اشتیاق سے بولی۔۔ 

ہوں۔۔ اسے ماننا ہی پڑا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

ہایون کو ہوپ کا پیغام آیا تھا۔۔ 

تصویر تیار ہو گئ ہے۔۔

اتنا ہی لکھا تھا۔۔ وہ مسکرا دیا۔۔

وہ لیپ ٹاپ پر کافی دیر سے کچھ کر رہا تھا۔۔ اب تھکن سی ہو رہی تھی۔۔

میں کل اس سے پورٹریٹ بنوانے جا رہا۔۔ 

یہ کم سن نے پیغام بھیجا تھا۔۔

اس نے زوردار انگڑائی لی۔۔ 

لیپ ٹاپ پیٹ سے اٹھا کر سائیڈ میں رکھا۔۔ 

اسے ہلکی ہلکی اب بھوک لگ رہی تھی۔۔ وہ بستر چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے سب سو چکے تھے یا گھر میں ہی نہیں تھے اسے کچھ خبر نہیں تھی اس نے خود کو اس گھر سے اور اس گھر کے معاملات سے علیحدہ کر رکھا تھا۔۔ وہ سیدھا کچن میں آیا تھا۔۔ ارادہ کچھ فریج سے مستفید ہونے کا تھا کہ ہلکی ہلکی آہبو جی کے بولنے کی آواز آئی۔۔ اس کا ارادہ سن گن لینے کا نہیں تھا مگر جب واضح اپنا نام سنائی دیا تو آواز کا منبع تلاش کرنے لگا۔۔ کمرے سے نہیں۔۔ شائد اسٹڈی سے آرہی تھی آواز۔۔ وہ دبے قدموں چلتا ہوا اسٹڈی آیا۔۔ پھر جو اسکے کانوں نے سنا اس نے اسکے اندر آگ بھر دی تھی۔۔ اس نے مٹھی بھینچ لی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عین اسی وقت گھڑی نے پورے رات کے گیارہ بجائے تھے۔۔

اس صوفے پر کوئی کیسے لیٹ سکتا۔۔ سنتھیا ہاتھ ہلا کر کہہ رہی تھی۔۔ 

زمین پر لیٹ جائو۔۔ گوارا کا انداز لاپرواہ تھا۔۔ 

آہ۔۔ جی ہائے اور اریزہ کراہ اٹھیں۔۔ دونوں ہاتھ میں چادریں پکڑے تھیں 

تم لیٹ جائو نا۔۔ اتنا آسان ہے سخت زمین پر لیٹنا۔۔ اگر تو۔۔

سنتھیا کمر پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔۔

میں کیوں لیٹوں میرا گھر ہے میرا بیڈ میں تو بیڈ پر ہی لیٹوں گی۔۔

وہ بیڈ پر پھیل گئ۔۔ 

مجھے نہیں پتہ تھا کورینز اتنے بد تمیز اور روڈ ہوتے۔۔ مہمانوں کا بھی خیال نہیں کرتے۔۔ ہم پاکستانی تو مہمانوں کو اسیے زمین پر سلانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔۔ سنتھیا نے غیرت دلانے کی کوشش کی اور کامیاب بھی ہوئی۔۔ گوارا تنتناتی ہوئی اٹھ آئی۔۔

میرے کسی عمل سے کورینز کو جج نہ کرو ہم بھی بہت خیال رکھتے مہمانوں کا۔۔

دکھائی دے رہا ہے۔۔ سنتھیا نے کان سے مکھی اڑائی۔۔ 

صرف بیڈ پر لیٹنے سے جج نہ کرو نہ ابھی ساری شاپنگ کی پیمنٹ میں نے کی تھی آئیسکریم بھی میں نے کھلائی۔۔ 

اسے اپنے احسانات یاد آئے۔۔

آئیسکریم کھلائی کب ساری تو ۔۔ سنتھیا ہاتھ ہلا کر کہہ رہی تھئ۔۔ اریزہ اور جی ہائے انکو لڑتا چھوڑ کر بیڈ پر گر گئیں ۔۔ اتنا چل کر کھانا پکا کر کھلا کر سب برتن دھو کر آئی تھیں سو بری طرح تھک چکی تھیں۔ دونوں کی لڑتے لڑتے ان پر نظر پڑی تو دونوں بے خبر ہو چکی تھیں۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں پتہ بھی ہے پاکستانی کتنے خطر ناک لوگ ہیں۔۔ 

اسکی آنکھ ہی لگی تھی کی ایڈلین نے اسے آکے جگا کر کہا۔۔ 

کتنے۔۔ اس نے منہ کھول کر جمائی لی۔۔ 

سارے کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا۔۔ 

تبھئ اریزہ نے اسے پکارا۔۔

جی ہیا۔

وہ کمرے کے دروازے پر کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔ 

اریزہ۔ تم۔۔ وہ حیران ہوئی۔۔

ہاں میں وہ پر اسرار انداز میں مسکراتی آگے آئی۔۔ اس نے بڑی سے چادر اوڑھ رکھی تھی۔۔ کمرے کے وسط میں آکر اس نے ایکدم سے چادر پیچھے گرا دی۔۔

وہ ایک بڑی سی جیکٹ پہنے تھی جس میں چھوٹے چھوٹے بم لٹک رہے تھے۔۔ جی ہائے اور ایڈلیں ایک دوسرے سے لپٹ گئیں اریزہ انہیں خوفزدہ دیکھ کر زور سے قہقہہ لگا کر ہنس دی

اور آج میں تمہیں بم سے اڑا دوں گی۔۔ اس نے جیکٹ سے کوئی بٹن دبایا۔۔ 

ایڈلین اور وہ پورے حلق کے زور پر چیخ اٹھیں۔۔

زوردار دھماکا ہوا۔۔ 

اس کی پٹ سے جھرجھری لے کر آنکھ کھلی تھی۔۔ 

صبح کی روشنی کمرے میں ہلکا ہلکا اجالا کر رہی تھی۔۔ 

اوہ یہ خواب تھا۔۔ اس نے اپنا بایاں ہاتھ اٹھا کر پسینہ پونچھا تو خیال آیا دایاں ہاتھ کہاں اس نے دائیں جانب نگاہ کی تو خود کش حملہ آور اسکے بازو پر سر رکھے بے خبر سو رہی تھی اسکا چہرہ اسکے کندھے پر تھا۔۔ اسکے بال ہوا سے سرسرا رہے تھے اس نے مسکرا کر اسکے بال سمیٹے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کسی انجان سے گھر کے سامنے کھڑی تھی سنسان ویران جگہ پر بس وہ ایک گھر تھا۔۔ اس کو خوف آرہا تھا وہ آخر یہاں آئی کیسے؟

اس نے ادھر ادھر دیکھا پھر ہمت کرکے آگے بڑھی اور دستک دے ڈالی۔۔

دروازہ دوسری دستک پر خود بہ خود کھلا تھا۔۔ وہ ڈر کر ایک قدم پیچھے ہوئی۔۔ 

سفید لباس میں ملبوس لبے بال بکھرائے وہ غیر ملکی نقوش کی چڑیل تھی سیا چمڑخ جسکے بے حد سرخ ہونٹ تھے۔۔ اسے دیکھ کر اسکی آواز ہی بند ہو گئ۔۔ 

چڑیل عجیب انداز سے مسکراتی اسکی جانب بڑھی۔

تم میرے پیچھے پاکستان آگئیں؟

نہیں۔۔ وہ ڈر کر  پیچھے  ہوئی۔۔ 

چڑیل ایک قدم آگے ہوئی یہ ڈر کے اس بار کھڑے قد سے گری مگر چڑیل اسی طرح مسکراتی آگے بڑھتی رہی۔۔ 

آئو ڈرو نہیں میں دکھاتی ہوں پاکستانی مہمانوں کی کیسے تواضع کرتے۔۔ وہ لمبے ناخن والے ہاتھ اسکی جانب بڑھا رہی تھی۔۔ 

گوارا نے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر زوردار چیخ ماری۔۔

اس نے چیخ سچ مچ نہیں ماری تھی اس کی نیند پہلے ٹوٹ گئ۔۔ اس نے دھڑ دھڑ کرتے دل پر ہاتھ رکھتے  پانی پینے اٹھنا چاہا۔۔ تو اپنے آپکو اسی پاکستانی چڑیل کے شکنجے میں جکڑا پایا۔۔ وہ اس سے لپٹ کر سوئی تھی پوری اس پر چڑھی اسکے کولہے پر ٹانگ رکھے اسکےپیٹ کو بازو سے جکڑے اس نے چھڑانا چاہا تو وہ کسمسا کر اور لپٹ گئ۔۔ اس نے یونہی لیٹے لیٹے ہاتھ بڑھا کر موبائل میں وقت دیکھا سات بج رہے تھے۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں کرسی پرایسے بندھی ہوئی تھیں کہ دونوں کی پشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی۔۔ 

انکے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔۔ ۔ سنتھیا چلا رہی تھی مگر آواز نہیں نکل رہی تھی۔۔ یہی حال اریزہ کا تھا۔۔

دونوں ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں مگر ایک دوسرے کو چھڑا نہیں پا رہی تھیں۔۔

جی ہائے اور گوارا انکے گرد چکر کاٹ رہی تھیں۔۔ جی ہائے کے ہاتھ میں کوڑا تھا جسے وہ بار بار زمین پر مار کر انہیں ڈراتی جب دونوں بر ی طرح ہل جاتین تو قہقہہ لگا کر ہنستی۔۔ دونوں روائتی لباس میں ملبوس سیمورائی بنی ہوئی تھیں۔۔ 

تبھی گوارا نے تلوار کھینچ کر سنتھیا کی گردن پر رکھ دی۔۔

میرے بیڈ پر لیٹو گی۔۔ ؟

بتائو؟

ابھی لٹاتی ہوں تمہارے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے ہاہاہہاکا

 اس نے خوفناک قہقہہ لگا کر تلوار سے زوردار وار کیا تھا۔

آہ۔۔ اسکی گردن۔ اس نے جاگتے ہی گردن کو چھوا۔۔ 

ابھی جسم سے لگی ہوئی تھی۔۔ اس نے اپنے اوپر غور کیا تو ہڑبڑا گئ۔۔ وہ اپنی ہی قاتلہ سے لپٹی تھی 

قاتلہ سو رہی تھی اس نے پیچھے ہونا چاہا تو احساس ہوا قاتلہ اسکا ہاتھ تھام کر سو رہی تھی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ منہ دھو کر باتھ روم سے نکلی تھی گوارا سے ٹاکرا ہوا۔۔

اس نے دونوں ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے تھے۔۔ 

یہ لو اریزہ میں یہ تمہارے لیے لائی ہوں۔۔

اس نے اپنے پیچھے چھپایا ہوا گفٹ پیک اسکے سامنے کیا۔۔

یہ کیا ہے۔۔ وہ خوشگوار حیرت سے بولی۔۔

اس میں کیا ہے۔۔

لوٹا۔۔ گوارا نے مسکرا کر کہا۔ اس نے حیرت سے دیکھا پھر جلدی سے گفٹ کھولا۔۔

واقعی بڑا سا بھورا پلاسٹک کا لوٹا تھا

یہ کیا ہے۔۔ اس نے غصے سے پھینکا۔۔

تبھی جے ہی چلی آئی۔۔ 

یہ لو اریزہ چائے پی لو۔۔ وہ مسکرا کر اسکی جانب بڑھا رہی تھی۔۔ ایک بڑا سا پیلا لوٹا۔۔ 

کیا ہوگیا ہے ۔ وہ گھبرا کر باہر نکلی

اریزہ یہ لو  میں ہم دونوں کیلیے ایک جیسے بیگ لائی۔۔ سنتھیا اسے بیگ پکڑا رہی تھی۔۔ وہ پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔ اس نے ویسا ہی بیگ اپنے شانے سے لٹکا رکھا تھا۔۔

اور وہ بیگ تھا؟ نہیں وہ سرخ لوٹے تھے جن کے ساتھ اسٹریپ لگا رکھے تھے۔۔ ایڈون سالک شاہزیب جون تائ کم سن سب لاوئنج میں لہک لہک کر لوٹے بجا رہے۔تھے۔۔ 

کیا ہو رہا ہے یہ پاگل ہو گئے ہو سب؟

وہ چلائی۔۔ 

اریزہ کیچ۔۔ ایڈون نے بڑا سا لوٹا اسکی جانب اچھال دیا۔۔ قریب تھا اسکا منہ ٹوٹتا۔۔ کسی نے اسکے چہرے کے پاس کیچ کر لیا۔۔ 

اس نے ڈرتے ڈرتے اسکا چہرہ دیکھا۔

کھنچی آنکھوں کھڑی ناک والا اسکی جانب دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔

………………………

ختم شد 

جاری ہے

KESI LAGI AAPKO AAJ KI QIST ? QIST KO RATE KIJYE

Rating

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.