Salam Korea
by Vaiza Zaidi

قسط دس

جی ہائے اپنا سامان سمیٹ رہی تھی گوارا بھی اسی کے ساتھ کمرے میں تھی۔ وہ سنتھیا کو ڈھونڈتی ٹیرس پر آئی وہ ریلنگ پر کہنیاں جمائے گہری سوچ میں گم تھی۔۔
سنتھیا۔۔ مجھے بتائو تو سہی آخر ایسی کیا بات ہوئی ہے۔۔ ؟
اس نے پیچھے سے آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
کچھ نہیں ہوا یار۔۔ سنتھیا نے اس بار آرام سے کہا۔۔
کپل ہیں لڑتے رہیں گے۔۔ تم ٹینشن نہ لو۔۔
وہ مسکرائی۔۔
تم نے سارا دن سیدھے منہ مجھ سے بھی بات نہیں کی۔۔ اریزہ سنجیدہ تھی۔۔
ظاہر ہے غصے میں تھی۔۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولی۔۔
مجھ پر بھی تھا غصہ۔۔؟ اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔
سنتھیا چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر قصدا مسکرائی۔۔
ہاں تم بار بار مجھے تنگ کر رہی تھیں مجھے بتائو مجھے بتائو۔۔
بس۔۔ اریزہ کو یقین نہ آیا۔۔
آئی ایم سوری اریزہ اگر میری کوئی بات بری لگی ہو تو۔۔
سنتھیا نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔
نہیں۔۔ اریزہ پگھل سی گئ۔۔
ایسی بات نہیں کہ میں برا مان کر ناراض ہوں مگر مجھے حیرانگی بہت ہوئی۔۔ اس کے انداز میں سچائی تھی۔۔
ہم اچھی والی سہیلیاں ہیں۔۔
سنتھیا گنگنائی۔۔
ہم آپس میں نہیں لڑتییں۔۔ اریزہ نے اسکے کندھے پر تھوڑی جمائی
ہم کسی کو تنگ نہیں کرتیں۔۔ سنتھیا مسکائی
پر ہم سے جو لڑنے آئے گا۔۔ اریزہ نے چونک کر سر اٹھا کر اسے دیکھا
وہ بہت مار کھائے گا۔۔ سنتھیا نے مکا بنا کر دکھایا۔۔
دونوں کھلکھکا کر ہنس دیں۔۔انہوں نے بچپن میں بنائی تھی یہ نظم مل کر کھیلتی تھیں تو تالیاں بجا کر گاتی تھیں۔۔ ابھی بھی گاتے ہوئے وہ اتنا ہی خوش ہو گئ تھیں جتنا بچہن میں ہوا کرتی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد داشت تو نہیں چلی گئ تھی پی کر۔۔ تھوڑی دیر اکیلا رہا تو دھندلا دھندلا یاد آیا کل شام کا منظر۔۔
چہرے دھندلا رہے تھے کبھی اریزہ کبھی سنتھیا۔۔
کیا کر ڈالا میں نے۔۔ اس نے اپنا سر پکڑ لیا۔۔تھا۔۔ وہ غصے سے جب سے گوارا کے گھر سے نکلا تھا سڑکوں پر پھر رہا تھا۔۔ رات ہو گئ تھی۔۔ وہ میٹرو اسٹیشن پر آ تو گیا۔۔ مگر ہاسٹل جانے کا دل نہیں کر رہا تھا۔۔ سو وہیں بنچ پر بیٹھ گیا۔۔
سوچتے سوچتے سر پھٹنے لگا تھا۔۔ کوئی بہانہ کوئی دلیل کافی نہیں تھی جو وہ سنتھیا کو کہہ بیٹھا تھا صبح اسے یہ سن کر ہی غصہ آیا تھا کہ سنتھیا نے شراب کیوں پی۔۔ مگر اسکا اتنا غصہ اسکا بھڑکنا بہت غیر معمولی تھا۔۔ وہ سوچ میں پڑا تھا آخر ایسا کیا ہوا۔۔ اور تب اسے یاد آیا۔۔
اف ۔ اس کا بس نہیں تھا کہ کل رات کا پورا واقعہ اپنی زندگی سے مٹا دے۔ جو بات وہ اپنے اندر دبائے تھا خود سے بھی نہیں دھراتا تھا وہ کیسے ہوش کھونے پر سب سے پہلے اسکے منہ سے نکلی۔۔
اف میں نے کیوں پی۔۔ اس نے اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسا لیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو دن دل بھر کر مزہ کرنے کے بعد ہاسٹل بور نہیں لگ رہا۔۔
اریزہ بیڈ پر سیدھی لیٹی بولی۔۔
اس سے بالکل نیچے سنتھیا بھی سیدھی لیٹی تھی۔۔
دو دن کا سارا مزہ۔۔ اس کے چہرے پر استیزائیہ ہنسی آئی۔۔اس نے یونہی موبائل اٹھا کر دیکھا
ایڈون کا کوئی میسج نہیں آیا تھا۔۔ اور اسے لگ رہا تھا اسکے پاس کرنے کو دنیا کا کوئی دوسراکام نہیں رہا۔۔
اریزہ کچھ دیر تو اسکے جواب کا انتظار کرتی رہی پھر اٹھ کر نیچے جھانکا۔۔ سنتھیا کی آنکھیں بند تھیں۔۔
اتنی جلدی سو گئ۔۔ اس نے مایوس سی شکل بنالی ۔۔ پھر سوچ کر اٹھی دبے پائوں سیڑھیاں اتر کر احتیاط سے دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔۔
ساکت پڑی سنتھیا نے فورا کروٹ لی۔۔ اسے بس تنہائی درکار تھئ سو گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں آجائوں۔۔ اس نے دستک دے کر اندر جھانکا۔۔ جی ہائے فون پر بات کر رہی تھی اسے دیکھ کر سر کے اشارے سے اندر آنے کو کہا۔۔ وہ آرام سے آکر اسکی اسٹڈی ٹیبل پر آبیٹھی۔۔ ہر چیز سلیقے سے سمٹی ہوئی تھی۔ اسکی بچپن کی اسکے پاپا کے ساتھ تصویر اس نے فریم کر کے رکھی تھی۔۔ وہ اسے اٹھا کر دیکھنے لگی۔۔
وہ بات ختم کرکے اسکے پاس آگئ۔۔اس نے فورا پوچھا
یہ تم ہو۔۔
جی ہائے نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
۔۔ بہت پیاری ۔۔ اس نے کھلے دل سے تعریف کی۔۔
جی ہائے مسکرا دی
تم اور گوارا کب سے دوست ہو۔
اس نے ایسے ہی پوچھا۔۔
دو سال سے۔۔ جب سے اس ہاسٹل میں آئی وہ روم میٹ ہے میری۔۔
کیوں۔۔
بس ایسے ہی۔۔ اس نے فریم احتیاط سے واپس رکھا۔۔
مجھے لگتا وہ تم سے مزاجا کافی الگ ہے۔۔
جی ہائے ہنس دی۔۔
ہاں تھوڑی سی۔۔ مگر دوست بہت خیال رکھنے والی ساتھ نبھانے والی ہے۔۔ بس دوستی تھوڑی مشکل سے کرتی ہے۔۔ اس نے بے لاگ تبصرہ کیا۔۔
تمہیں نیند آرہی ہے؟
جےہی نے پوچھا۔۔
نہیں۔۔ ابھی تو دس بھی نہیں بجے اس نے بوریت سے گھڑی دیکھی۔۔ جو سوا نو بجا رہی تھی
چلو پھر بارہ بجاتے ہیں۔۔ جی ہائے نے چٹکی بجائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر بازار کی گہما گہمی عروج پر تھی۔۔ وہ دونوں مزے سے گھوم رہی تھیں۔ یہ انکی یونیورسٹی کے قریب ترین مارکیٹ تھی ارد گرد دو تین ہائوسنگ سوسائیٹیز کو یہی مارکیٹ لگتی تھی سو دنیا کی ہر چیز بک رہی تھی۔۔ دونوں کپڑے کی دکانیں گھوم گھوم کر ونڈو شاپنگ کرتی رہیں فری سیمپلنگ کھا کھا پیٹ بھر لیا اریزہ نے رائس کیک لیا ۔۔
یہاں اتنی رات کو باہر آنے کی اجازت ہے؟
اسے ہاسٹل کی فکر ہوئی
کچھ نہیں ہوتا۔ جی ہائے نے بے فکری سے کہا
تم نے رائس ڈرنک پیا ہے؟
چلتے چلتے اسے خیال آیا۔۔
نہیں۔۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔
کوریا آگئی ہو ابھی تک رائس ڈرنک نہیں پیا۔ چلو۔۔ وہ ہاتھ پکڑ کر اسے ڈرنک کارنر لے آئی
ایک کورین نقوش کا ادھیڑ عمر آدمی اسٹال لگائے کھڑا تھا۔۔
کتنے کا ہے ایک گلاس۔۔
جی ہائے پوچھا۔۔
ایک ہزار وون۔۔ اس نے ادب سے جھک کر بتایا۔۔
میری دوست پہلی بار پیئے گی
اسکو پسند آیا تو دو ہزار وون دوں گی۔۔ اور نہ آیا تو ایک بھی نہیں دوں گئ۔۔ جی ہائے نے دھڑلے سے کہا۔۔ اس آدمی نے غور سے اریزہ کو دیکھا پھر شرط مان گیا۔۔
تم نے کیا کہا ہے اسے۔۔ اریزہ نے پوچھا۔۔
تم چکھو پھر بتائوں گی۔
جی ہائے ہنسی۔
اس آدمی نےبھر کر گلا س تھمائے۔۔ اریزہ سپ لینے لگی تو دونوں اسے اتنے غور سے دیکھ رہے تھے کہ سٹپٹا گئ۔۔
پیو پیو۔۔ جی ہائے منتظر تھی
اس نے اسٹرا منہ سے لگایا۔۔ تھوڑا سا پیا۔۔ اسے اچھا نہ لگا۔۔
اسکے چہرے پر بے چارگی جیسے تاثرات آئے۔۔ جی ہائے نے قہقہہ لگایا۔۔
میٹھی چاولوں کی پیچ۔۔ جس میں تھوڑا سا نمک کا بھی ذایقہ تھا ۔۔ اب اسکا ذائقہ کیسا تھا۔۔ کون چاولوں کی پیچ کبھی پاکستان میں چکھتا ہے۔۔
یہ تھوڑا مختلف ہے ۔۔ برا نہیں ہے۔۔ اس کا اپنےتاثرات پر کوئی اختیار نہیں تھا مگر وہ ہرگز بد تہذیب نہیں تھی۔۔
تم نے میری دوست کے منہ کا ذائقہ خراب کر دیا۔۔ جی ہائے نے دکاندار کو کہا تو وہ جھک جھک کر
بیانئے بینائے کہنےلگا۔۔
اتنے دنوں میں اتنی ہنگل تو آہی گئ تھی اسے۔۔
یہ معزرت کیوں کر رہا۔۔
جی ہائے نے ایک ہی گلاس لیا تھا سو اریزہ سے لیکر خود پینے لگی۔۔
تمہیں پسند جو نہیں آیا۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔
ہر ملک کے لوگوں کا ذوق علیحدہ ہوتا۔۔ وہ شرمندہ تھی۔۔
جی ہائے ہنسی۔۔
چلو ۔۔
کیا مطلب چلو اسے پیسے تو دیے ہی نہیں۔
اریزہ نے ٹوکا تو جی ہائے کو بتانا پڑا۔
میں نے شرط رکھی تھی کہ اگر تمہیں پسند آیا تو پیسے دوں گی ورنہ نہیں۔۔
یہ کیسی شرط ۔۔ میں اسے پیسے دے کر آتی ہوں۔۔ اریزہ مڑی
ارے رکو تو۔۔
اریزہ ان سنی کرتی واپس دکاندار کی جانب بڑھی۔
مہربانی فرما کر یہ لے لیں۔۔
اس نے پیسے بڑھائے۔۔ وہ زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگا۔۔
آنیو آنیو۔۔
نہیں اسکو لیں۔۔ مجھے اچھا نہیں لگ رہا مفت میں لینا۔۔
اس نے اصرار کیا۔۔
آپکو پسند نہیں آیا میں معزرت خواہ ہوں آپکو اسکی قیمت ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔۔
وہ بولتا رہا۔ جی ہائے نے قریب آکر ترجمہ کیا۔۔
پھر بھی۔۔ آپ اسے رکھیئے۔۔ کیونکہ میری دوست اسے شوق سے پی رہی ہے۔یہ پیئے میں پیوں ایک ہی بات ہے۔ اریزہ نے مسکرا کر کہا تو وہ جی ہائے کو دیکھنے لگا۔۔
جی ہائے نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا۔
اس بار دکاندار اسکی ضد کے آگے ہار گیا۔۔ گوما وویو کہتے جھک کر شکریہ ادا کیا۔۔
ویسے تم بور لڑکی ہو۔ میں اور گوارا تو ہمیشہ مفت میں کھاتے پیتے۔۔ اچھی بھلی ڈرنک لیتے بیچ میں اپنا ہی بال نکال کر شور کرتے۔ دکاندار گاہک خراب ہونے کے ڈر سے ہم سے پیسے بھی نہیں لیتا اور معزرت الگ کرتا۔۔
وہ اپنا کارنامہ بتا کر ہنس رہی تھی۔۔
یہ لوگ محنت کر رہے ہیں حلال کما رہے کسی کو نقصان پہنچائے بنا ۔۔ انکے ساتھ مزاق کرنا اچھی بات نہیں۔۔ مزاق میں کسی کا نقصان نہیں کرنا چاہیئے تمہارے لیے ہزار وون بڑی بات نہیں مگر وہ ایک ایک گلاس کی قیمت سے منافع بناتا ہوگا۔۔
اریزہ نے سنجیدگی سے کہا ۔۔
واٹ ایور۔۔ اسکو بے وقت کا لیکچر پسند نہیں آیا تھا۔۔
تم پھر کیسے مزا اڑاتی ہو ۔۔ اس نے پوچھا۔۔
سچ بتائوں۔۔ اریزہ مسکرائی۔۔
مجھے یہاں ایسے اس وقت تمہارے ساتھ گھومنا اچھا لگ رہا ہے۔۔ بنا فکر کسی کے میں اور تم آرام سے پھر رہے ۔۔ کوئی ہمیں دیکھ نہیں رہا کوئی ہمیں جج نہیں کر رہا۔۔ ہم آزادی سے پھر رہے ہیں۔۔ اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیئے۔۔
وہ دونوں بازو پھیلا کر گول گھومی۔۔ اپنا دوپٹہ لہرا کر بچوں کی طرح خوش ہوتی بے چاری پاکستانی لڑکی اسکے لیئے یہی بہت بڑی بات کہ وہ اپنی سہیلی کے ساتھ رات کو اپنی مرضی سے گھوم رہی ہے۔۔
جی ہائے نے مسکرا کر اسٹرا منہ میں لے لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بنچ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی ہیڈفون کانوں میں لگائے ایم پی تھری پلیر میں مگن تھی۔۔
ایک تو اسکی زبان۔۔ وہ گانا ڈھونڈ رہی تھئ۔۔
ہنگل میں سب لکھا تھا۔۔
اسکے اوپر سایہ سا ہوا تو اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔۔
جی ہائے ہایون ۔اور ایڈلین اسکے سر پر کھڑے گھور رہے تھے۔۔
کیا ہوا۔۔
اس نے حیرانی سے انہیں دیکھتے پوچھا۔۔
ہم وہاں سے تمہیں آوازیں دے رہے ہیں تم۔سن ہی نہیں رہیں۔
جی ہائے کی سانس چڑھی تھی۔۔ اس نے دور ڈیپارٹمنٹ کی جانب اشارہ۔کر کے کہاا۔۔
سنائی اسے ابھی۔بھی نہیں دیا تھا۔۔ اس نے ہیڈ فون اتارا۔۔
اب بولو۔۔
وہ تینوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔۔
بھول جائو۔۔
جی ہائے بیگ زمین پر رکھتی اسکے ساتھ آکر بیٹھ گئ۔۔
مجھے حیرت ہے تم لوگوں جیسے نان سیریس لوگوں پر کیا کرنے آئے ہو یہاں۔۔ چار دن رہ گئے ہیں اسائنمنٹ کا ٹاپک کونسا چوز کیا یہ بھی ان موصوف کو نہیں پتہ۔۔ اس نے ہایون کو گھورا۔۔ اس نے منہ بنا کر دوسری جانب چہرہ کر لیا۔۔
میں یہاں اپنی بنائی رپورٹ دکھانے آئی تھی سوچا تھا تم لوگ بھی کچھ کام کر کے لائے ہوگے تو فائنل پریز ٹیشن سیلیکٹ کر لیں گے مگر تم لوگ تو بے کار لوگ ہو۔
ایڈلین جانے کیوں بھنائ تھی۔۔ بولنا شروع ہوئی تو چپ ہی نہ ہوئی۔۔ اریزہ ہکا بکا دیکھ رہی جی ہائے کان کھجا رہی تھی۔۔ ویک اینڈ تو انجوائے منٹ میں گزرا تھا۔۔
اگر بنا ہی لی ہے رپورٹ تو دکھائو۔۔ تو ۔۔
جی ہائے نے سفید جھنڈی لہرائی۔۔
ہونہہ۔۔ اس نے فائل پاس کی۔۔
آج تو تم۔لوگ اسے دیکھو۔۔ کل کا مجھے بتائو۔۔ کہاں ملوگے۔۔
اور ہو سکے تو تم تینوں مل۔کر کم از کم ایک رپورٹ تو تیار کر دو۔۔ ورنہ میں اپنی رپورٹ خود اکیلے جمع کروائوں گی سر کو۔۔ سمجھ آئی۔۔
اسکا انداز نہیں بدلا تھا
میں تمہیں ٹیکسٹ کر دوں گئ۔۔
جے ہئ نے کہا تو وہ احسان جتانے والے انداز مخں
۔۔ جی ہائے کو فائل تھماتے دھمکی بھرے انداز میں بولی۔
ہمم ٹھیک ہے ۔۔ دماغ خراب ہوگیا پتہ نہیں کونسا برا وقت تھا جو یہ اسائمنٹ ملا تم لوگوں کے ساتھ۔۔
۔ الواعیہ کے طور پر اریزہ اور ہایون کو گھورتی چلی گئ۔۔
یہ کیا تھا۔۔ ؟اریزہ نے حیرت سے اسے جاتے دیکھا۔۔
پتہ نہیں۔۔ ہایون نے کندھے اچکائے۔۔
یہ کیا ہے۔ جی ہائے نے فائل کی موٹائی ناپی۔۔
اسکو اور کوئی کام نہیں تھا کرنے کو کیا ویک اینڈ پر۔ جی ہائے حیران ہوئی۔۔
اسے گو تھرو کون کرےگا۔۔ ہایون نے پوچھا۔۔ تو جی ہائے نے دھیرے سے فائل بنچ پر رکھی اور آہستہ آہستہ ڈرامائی انداز میں جانے لگی۔۔
وے۔۔
دونوں چیخے۔۔ پھر ایک دوسرے کو حیران ہو کر دیکھنے لگے۔۔ ہایون کی تو یہی زبان تھی اریزہ نے بھی حیرت سے وہی بولا جو کورین کہتے۔۔
جی ہائے کھسیا کر مڑی۔۔
یار دیکھ لو نا تم دونوں سب۔۔ میری پریکٹس ہے بہت ضروری ۔۔ پلیز۔۔ وہ ملتجی انداز میں بولی۔۔ دونوں پسیج گئے۔۔
ٹھیک ہے ۔۔ ہم دیکھ لیتے ہیں۔۔
گومو ووئو۔۔ وہ شکریہ ادا کرتی خدا حافظ کہتی چلی گئ۔۔
یہ کافی زیادہ ہے۔۔ ہایون نے فائل کو ہاتھ میں لیا تو وہ کندھے اچکا کر اپنا ایم پی تھری سمیٹنے لگی۔۔
ہایون کی اس پر نظر پڑی تو چونکا۔
یہ تمہارا ہے؟
وہ حیرت سے بولا۔۔
ہاں۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
میں دیکھ سکتا ہوں یہ؟
اس نے پوچھا
ہاں کیوں نہیں۔۔ اس نے پکڑا دیا۔۔
وہ اسکے ساتھ بنچ پر بیٹھ گیا۔۔
تم اسے چلا کیسے رہی ہو اسکی تو ساری زبان ہنگل ہے۔۔
وہ کچھ دیر بٹن دباتا دیکھتا رہا پھر حیرت سے بولا۔
وہ۔۔۔ اریزہ کھسیائی۔۔
وہ۔ میں نہیں چلا پا رہی۔۔ میں نے اسکے ڈیزائن یاد کیئے تھے اس سے اوپر جاتا ۔۔ وہ اشارے سے بتا رہی تھی
اس سے اگلا گانا چلتا اس سے پچھلا۔۔
ہایون مسکرایا۔۔
یاد تو صحیح کیا ہوا ہے یہ واقعی اوپر نیچے آگے پیچھے ہی ہے۔۔
ہاں مگر کچھ گانوں کی علیحدہ پلے لسٹ بنائی تھی۔۔ وہ کل غلط ہاتھ لگ گیا۔۔ وہ اٹک اٹک کر بتا رہی تھی۔۔
میں اسکی زبان تبدیل کر دوں؟
ہایون نے پوچھا۔۔
ہاں نا۔۔ اریزہ نے بے تابئ سے کہا۔۔ اس نے زبان تبدیل کر دی اب کافی آسانی تھئ۔۔
تمہیں بریو ہارٹ کافی پسند؟
اس میں انکے سارے البم ہیں صرف انکے
وہ پلے لسٹ چیک کر رہا تھا۔۔
ہاں۔ مجھے اور گانے ڈالنے نہیں آ رہے تھے۔۔
وہ شرمندہ سے انداز میں بولی۔۔
یہ کونسا گانا ہے۔۔ آج تک نہیں سنا میں نے۔۔
وہ حیران ہوا
دکھائو۔۔ اریزہ آگے ہوئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے ہمیں یو ایس بی کیوں نہ دی۔۔
اریزہ نے بے زاری سے دو تین صفحے پلٹے۔۔ وہ ڈیجیٹل لائبریری میں آئے تھے
۔ بس مواد ہے دل بھر کر ویب ساءمئٹس کھولیں انکے پورے پورے پیج کا پرنٹ آئوٹ نکال لیابول ایسے رہی تھی جیسے۔۔ بڑا کمال کر کے آئی تھی
اریزہ کو غصہ آگیا۔۔
ہایون کمپیوٹر آن کرتے ہوئے اسکی بے زاری دیکھ کر مسکرایا۔۔
فونٹ ہی بڑا کر لیتی۔۔ اسے ایک اور اعتراض ہوا۔۔
اسے رکھو ادھر۔۔ ہایون نے اسکے ہاتھ سے فائل لے کر ایک طرف رکھی میز پر۔۔
ہم خود ویبسائٹ کھول لیتے ہیں ۔۔ اس نے نام پڑھا اور سرچ کرنے لگا۔۔
پھر جوں جوں انہوں نے سرچ کرنا شروع کیا اریزہ کا منہ اترتا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کیفے جا رہا تھا جب اسے کسی نے آواز دی۔۔
وہ چونک کر مڑا۔۔ یہ شاہزیب تھا۔۔
ہم نے اپنا اسائنمنٹ کافی حد تک مکمل کر لیا ہے رات کو ہاسٹل آکر گو تھرو کر لینا۔۔
اس نے آرام سے کہا تھا۔۔ ایڈون نے سر ہلایا تو وہ پلٹ بھی گیا۔
ایڈون نے کچھ کہنے کیلیے منہ کھولا پھر رک گیا۔۔
آج صبح سے وہ اکیلا پھر رہا تھا۔۔ سنتھیا آج یونی سکپ کر گئی تھی اس نے اسے میسج بھی کیا اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔ ۔۔
وہ گھبرا کر ہاسٹل آگیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آننیاگ واسے او۔۔
وہ سر جھکائے انی کے بتائے نئے ڈیزائن پر کام کر رہی تھی جب گوارا نے آکر اسے مخاطب کیا۔ اس نے سر اٹھایا تو وہ یون بن کے بازو سے لگ کر بولی۔۔
ہمیں کپل پورٹریٹ بنوانا ہے۔۔
ہوپ گہری سانس لے کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سب ایک ڈیجیٹل کلاس روم خالی ڈھونڈ کر اکٹھے ہوئے تھے۔۔ جی ہائے اریزہ ہایون ایڈلین اور آج اتفاق سے یون بن نے بھی شرکت کر لی تھی
یہ ہے میری فائنل پرزینٹیشن ۔۔ ہایون نے اٹھ کر پراجیکٹر سیٹ کیا۔۔
ہم کس ملک کے بارے میں پریزنٹیشن دے رہے؟
یون بن نے دلچسپی سے پوچھا۔۔
ان چاروں نے گھور کر دیکھا تو کھسیانا سا ہو کر سر کھجایا۔۔
ایسے ہی پوچھا۔۔
میری آج کی پریزنٹیشن ہے ایک جنوبی ایشائی ملک کے بارے میں۔۔ ایک ترقی پذیر ریاست جو بہت عمدگی سے معاملات چلاتی ہے ۔۔ ہر ترقی پزیر میلک کے بنیادی مسائل جیسے غربت افلاس بے روزگاری ۔۔ وہ رکا
اس ملک کو بھی لاحق ہیں۔۔ یہ ہین کچھ جھلکیاں جو آپکو اس ملک سے متعارف کرانے میں مدد کریں گی
یہ ہے انڈیا کا پڑوسی سری لنکا۔۔
ہایون نے ابھی اتنا ہی کہا تھا ایڈلین جھٹکے سے چئیر پر ہاتھ مارتی اٹھی۔
ہم پاکستان کے بارے میں پریزنٹیشن دے رہے ہیں ہم نے ڈیسائیڈ کیا تھا۔۔
ہم نے ہی اب ڈیسائیڈ کیا ہے ہم سری لنکا کے بارے میں بنائیں گے اسائنمنٹ
ہایون نے رسان سے کہا۔۔
کیوں؟۔ تبدیل کیا ہے موضوع میں نے اس پر اپنی فائنل رپورٹ بھی بنا لی ہے۔۔ تم لوگوں کو تو کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں۔۔ ایڈلین کو یہی لگا کہ کام سے جان چھڑا رہے۔۔
تم پھر انفرادی جمع کروا لینا۔۔ گروپ کا فیصلہ یہی ہے۔۔
جی ہائے نے کندھے اچکائے۔۔
کیوں؟۔۔ سری لنکا میں ایسا کیا ہے ہمیں ایسے ملک کا انتخاب کرنا چاہیئے جہاں مسلے ہوں سیاسی عدم استحکام ہو معاشی مسائل ہوں جتنا کومپلیکیٹڈ ملک ہوگا ہمارا اسائنمنٹ اتنا منفرد ہوگا۔۔ ہم سب کے اسکورز بہتر ہونگے
ایڈلین نے زور دے کر کہا۔
سری لنکا میں تمہارا مطلب کوئی مسلئے ہیں ہی نہیں۔۔ہایون استہزائیہ ہنسا۔۔
دیکھ تو لو ہماری پریزنٹیشن ۔۔ ہم نے صرف مسائل۔کی نشاندہی نہیں کی ہے حل بھی تجویز کیے ہیں اچھا خاصا یونیک کام کیا ہے
جو بھی ہے۔۔ جب ہم نے پہلے سے سیلیکٹ کیا ہوا تھا اسے تبدیل۔کیوں کیا ؟
ایڈلین نے پیر پٹخا۔۔
کونسا ملک اسنے منتخب کیا تھا۔۔ یون بن نے حسب عادت جھگڑا ختم کرانے کی زمہ داری اٹھائی۔۔
پاکستان۔۔ ایڈلین نے چبا کر کہا۔۔
تو کیا۔مسلہ ہے؟
وہ حیران ہوا
بلکہ اریزہ تو کافی مدد کر سکتی ہے اس میں۔۔
یہی بات۔۔ ایڈلین نے جتاتی نظروں سے اریزہ کو دیکھا۔۔
ہم پاکستان کے بارے میں اسائنمنٹ نہیں بنانا چاہتے ہماری مرضی۔۔
جی ہائے کا انداز دو ٹوک تھا
اسلیے کہ اس گروپ میں ایک بلڈی پاکستانی بھی ہے؟
ایڈلین نے طنز سے کہا۔۔
تمیز سے بات کرو ایڈلین۔۔ ہایون نے ناگواری سے ٹوکا۔۔
میں کسی پاکستانی سے تمیز سے بات نہیں کر سکتی۔۔
پوری دنیا کی ناک میں دم کرنے والی دہشت گرد قوم ہے یہ ۔۔ ایک یہ ملک صفحہ ہستی سے مٹ جائے تو امن آجائے دنیا میں۔۔
بکواس بند کرو ایڈلین۔ اریزہ کی برداشت جواب دے گئ تھی۔۔کرسی پر ہاتھ مار کر وہ کھڑی ہوگئ۔۔
سچ کڑوا۔ لگا ۔۔ ایڈلین طنزیہ ہنسی
ہضم نہیں ہو رہا۔ تم پاکستانی دنیا کی بد ترین قوم میں سے ہو۔۔ ایک دوسرے کی جان لینے والے وحشی درندے۔ تم۔لوگوں کے بارے میں کہا جاتا پیسے کی خاطر اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہو۔۔ تم میں اتنی ہمت کبھی نہیں آ سکتی اپنے ملک کا اصل چہرہ دنیا کو دکھا سکو۔ ناکام لوگوں۔۔ وہ زہر خند لہجے میں بول رہی تھی
ٹھیک ہے۔۔میں اپنی انفرادی اسائمنٹ پیش کروں گی اور تم لوگوں کو بے نقاب کروں گی۔۔
اور تم بے چارے کورینز۔ اسکی حمایت میں بول رہے ہو کل۔کو پچھتائو گے۔۔ ایک پاکستانی بھی جس ملک جاتا وہاں امن ناپید ہو جاتا۔۔ مجھے ڈر کل کو یہ یونیورسٹی بھی کسی حادثے کا شکار نہ ہو جائے ۔۔
وہ کہتی اپنا بیگ اٹھا کر جانے کو تھی ۔۔
ٹھہرو۔۔ اریزہ نے اسے بلند آواز میں روکا۔۔
ہم پاکستان پر ہی بناتے ہیں۔۔ جو جو ڈیٹا تم دے رہی ہو سب کور کریں گے مگر۔۔ پریزنٹیشن میں دوں گی۔۔
ٹھیک ہے؟
اریزہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھ رہی تھی۔۔
ہا۔۔ ایڈلین ہنسی۔۔
تاکہ تم سب کچھ حذف کر سکو۔۔؟
نہیں میں وعدہ کرتی ہوں میں ایک لفظ حذف نہیں کروں گی۔۔ تم پانچوں بنائو۔۔ میں بس کچھ مزید شامل کروں گی۔۔ منظور ہے؟
ٹھیک ہے۔ ایڈلین کو اعتراض نہیں تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
وہ تینوں مل کر شاہزیب کے کمرے میں پریزنٹیشن فائنل کر رہے تھے۔۔
شاہزیب نے پوری پریزنٹیشن دکھا کر لیپ ٹاپ کھلا ہی چھوڑا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔
تم۔لوگوں نے کچھ مزید شامل۔کرنا ہو یا حذف کر نا ہو تو دیکھ لو۔
وہ اٹھ کر فریش ہونے چلا گیا۔
ایڈون اور سالک خاموشی سے اسکرین کو دیکھتے رہے۔۔
ایڈون دیکھ تو رہا تھا اسکرین کو مگر ذہن کہیں اور تھا۔۔سالک نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔۔ اس کا منہ اترا ہوا تھا۔۔ پیشانی پر تفکر کی لکیر تھی۔۔ اسکا چہرہ کوئی اجنبی بھی دیکھ لو تو جان سکتا تھا کسی پریشانی کا شکار ہے۔۔
ایڈون۔۔
اس نے دھیرے سے پکارا۔۔
ایڈون نے سنا نہیں یا نظر انداز کر گیا۔۔سالک کو خفت سی ہوئی۔
ایڈون۔۔ اس نے ہمت کرکے پھر پکارا۔۔
ہوں۔۔ وہ چونکا۔۔
وہ۔۔ وہ تھوک نگلنے لگا۔۔
دنیا کا سب سے مشکل کام اپنی غلطی کا اعتراف کرنا ہے تو معزرت اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔۔ سالک نے سوچا۔۔
وہ اسے فائنل کر دیں۔۔ وہ بات بدل گیا۔۔
ہاں۔۔ ٹھیک ہے بس۔۔
وہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
میں معزرت چاہتا ہوں میں اس میں بالکل مدد نہیں کرا پایا۔ تم لوگ میرا نام بھی مینشن مت کرو۔ اس میں قطعی میری کوئی محنت شامل نہیں۔ مجھے اسکا کریڈٹ لینے کا کوئی حق نہیں۔۔ وہ کہہ کر جانے کو مڑا۔۔
ایڈون۔۔ سالک نے بے ساختہ آواز دی۔۔
وہ رک کر دیکھنے لگا۔۔
ایسی بہت سی اسائنمنٹس ماضی میں تم نے بھی بنائی ہیں جس میں میرا یا شاہزیب کا کوئی کردار نہیں ہوتا تھا تم نے بھی تو ۔۔ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔۔
اتنا تو چلتا ہے دوستی میں۔۔ وہ بے سوچے بولا۔۔پھر چپ سا ہو گیا۔
یہی میں کہنا چاہ رہا تھا۔۔
سالک مسکرایا۔۔
مجھے معاف کردو یار۔۔ اس دن میں بہت بے لحاظ ہوگیا تھا۔۔ پر اتنا تو تجھے اندازہ ہوگا میں غصے میں اول فول بک جاتا ہوں۔۔ میری کسی بات سے دل دکھا ہو تو۔۔
اس نے اتنا ہی ابھی کہا تھا ایڈون پلٹ کر اسکے گلے آلگا۔۔
شاہ زیب غسل خانے سے نکلا تو ایک لمحے رک سا گیا۔۔ پھر پیچھے سے آکر ایڈون اور سالک دونوں سے لپٹ گیا۔
پاکستان ایک مرتبہ پھر اکٹھا ہوا تھا وہ بھی کسی بڑے سانحے کے بغیر۔ بس کسی نے اپنی انا کا گراف تھوڑا نیچے کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا پوسچر بالکل ٹھیک ہوتا جا رہا ہے۔۔ اب بس عادت بنا لو سیدھا بیٹھنے کی۔۔ اسٹریچنگ کرتے ہوئے اریزہ کو جی ہائے نے غور سے دیکھ کر کہا تھا۔۔
واقعی۔ وہ خوش ہو گئ۔۔
تمہیں اتنا جھک کر بیٹھنے کی عادت پڑی کیوں تھی؟
مطلب مجھے تو ایسے بیٹھ کر لگتا پورا جسم ٹوٹ رہا ہے۔۔ وہ ورک آئوٹ کر چکی تھی سو پسینہ تولیہ میں پونچھتے بر سبیل تزکرہ پوچھا۔۔
“کیسی ہوگئ ہے بھائیوں کے ساتھ رہ رہ کر۔۔ جھک کر بیٹھا کرو۔
مردوں کی طرح نہیں۔۔ شرم لڑکیوں کا زیور ہوتی ہے۔۔
صفیہ نے پیچھے سے آکر اسکے کندھے پر زور کا دھموکا جڑا۔۔
اریزہ کو ایکدم جھٹکا لگا تھا۔۔
کیا ہوا۔۔ جی ہائے اسے دیکھ کر حیران ہوئی۔۔
کچھ نہیں بس ایسے ہی۔۔ وہ قصدا مسکرا دی۔
اریزہ ایک بات پوچھوں؟
جی ہائے جھجکتے ہوئے بولی۔۔
ہوں۔۔ اس نے حوصلہ افزا انداز میں دیکھا۔۔
پاکستان کے حالات واقعی اتنے خراب ہیں جتنا ایڈلین بتا رہی ہے۔۔؟
اریزہ کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئ تھی۔۔
ہاں۔۔ اس نے سر جھکاتے ہوئے کہا تھا۔۔
تم لوگ کیسے رہتے ہو پھر؟
وہ۔حیران رہ گئ ۔۔
رہ لیتے ہیں۔۔ ہمارا اپنا ملک ہے اپنا گھر ہے۔ مشکل وقت ہے یہ گزر جائے گا۔۔
وہ مسکرا کر کہہ رہی تھی اور کہتی بھی کیا۔۔
وہاں لڑکیوں کے منہ پر تیزاب پھینک دیتے ہیں؟
وہ ملالہ واقعی اسکو اسکول جانے پر گولی مار دی تھی؟
جی ہائے کے پاس سوالات کی بھرمار تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے بلاگ کو بہت اچھا ریسپانس مل رہا تھا دھڑا دھڑ پیروکار بڑھ رہے تھے۔۔ وہ بہت خوشی سے دیکھ رہا تھا۔۔ اس نے اپنے بنوائے گئے اسکیچز بھی اسکین کرکے شائع کیئے تھے۔۔
ان پر بہت پسندیدگی بھرے تبصرے آئے تھے۔۔
وہ بلاگ اپڈیٹ کر رہا تھا جب اسے ایک انجان نمبر سے پیغام موصول ہوا۔۔
وہ لیپ ٹاپ ایک طرف رکھتا سیدھا ہوا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے چہرے پر ناقابل فہم تاثرات تھے ۔۔ لیپ ٹاپ آن کیئے وہ سنجیدگی سے مگن تھی۔ کبھی ایک ویب سائٹ کھولتی کبھی دوسری۔۔ اسکا کام کل تک مکمل ہو جانا چاہیئے تھا۔۔ اسکے گروپ کے ممبرز اپنا سب کام ختم کر چکے تھے اب اسکی باری تھی۔۔
گھڑی رات کے تین بجا رہی تھی اور وہ ابھی تک سوئی نہیں تھی۔۔ اور اسکے گرد پھیلے کاغزات دیکھ کر لگتا یہی تھا کہ سوئے گی بھی نہیں۔۔ تبھی ایک خبروں سے متعلق ویب سائٹ اسکی نظروں کے سامنے در آئی۔۔
لاہور میں ایک اور بم دھماکہ۔۔
اسکی آنکھ بھر آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اریزہ لیپ ٹاپ پر لگی تھی۔ اسکی ہلکی سی روشنی دیوار پر سایہ ڈال رہی تھی۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھایا۔۔
ایک ان پڑھا پیغام موجود تھا۔۔
اس نے بےدلی سے کھولا۔۔
تم مجھ سے ایک بار بات کر لو پلیز۔۔ آئی سوئیر میں تمہاری سب غلط فہمی دور کردوں گا۔۔
سنتھیا کو ہنسی آگئ۔۔
غلط فہمی چہ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سچ مچ آنکھیں بند ہو رہی تھیں ۔۔ سنتھیا دو بار اٹھانے آئی تب اٹھی کندھے درد کر رہے تھے ۔۔ مگر وہ سستی سے اٹھ گئ۔۔ سر بول رہے تھے اسکا سر لگ رہا تھا پھٹ جائے گا وہ جان کے آج پیچھے کی نشستوں پر آبیٹھی تھی۔۔ ۔ وہ تھوڑا سا نیچے ہوکر ڈیسک سے نیچے بیٹھ گئ۔۔ حاضری لگ چکی تھی۔۔ سو وہ آرام سے آلتی پالتی مار کر کرسی کی جانب رخ کر کے بیٹھ گئ بنچ پر بیگ پیچھے کر کے جگہ بنائ دونوں بازو رکھ کر سر رکھ لیا ارادہ بس سکون کرنے کا تھا مگر سچ مچ آنکھ لگ گئ۔۔ سنتھیا آج اسکے ساتھ نہیں تھی ساتھ بیٹھا جاپانی اسے دیکھ کر سیدھا ہو کر ایسے بیٹھ گیا کہ رو میں بیٹھے لوگوں کو بھی وہ ایسے بیٹھی صاف نظر نہیں آرہی تھی
ہایون آج لیٹ ہو گیا تھا سو اسکی آگے جگہ بھر چکی تھی سر سے بیٹھنے کی اجازت لیتا وہ ہال میں سیٹ ہی تلاش کر رہا تھا۔۔ سداکو کا ڈیسک۔خالی۔تھی وہ سیدھا اوپر سیڑھیاں چڑھتا آیا۔ اسے اندھا دھند آتے دیکھ کر سداکو سٹپٹایا۔۔ اور آنکھوں میں اشارہ کیا۔۔
ہایون اپنا بیگ ڈیسک پر رکھتے اسے ابرو اچکا کر ہی دیکھ رہا تھا کیا مسلہ سداکو نے جلدی سے بیگ کیچ کر کے عین اریزہ کے سر پر گرنے سے بچایا۔۔
ہایون شا کیا مسلہ ہے بیٹھ کیوں نہیں رہے ہو۔۔
سر نے فورا ٹوکا۔
آپ کلاس کو عاجز کر رہے ہیں۔۔
سوری سر۔۔ وہ جھٹ سے بیٹھ گیا۔۔
اچھا بھلا دو کے بیٹھنے کا بنچ تھا یہ تین ہوئے تو ہایون کو کافی کنارے پر ہو کر بیٹھنا پڑا۔۔
آپ دونوں ساتھ کیوں نہیں بیٹھ رہے؟
کوئی مسلہ ہے؟
سر کو شک سا گزرا۔۔
نہیں سر
کیا جاپانی اور کورین ساتھ نہیں بیٹھ سکتے ؟ یہی مسلہ ہے نا؟
نو سر۔ دونوں اکٹھے بولے۔۔
پھر؟
کیا وجہ ہے اکٹھے نہ بیٹھنے کی؟
بچوں پرانی باتیں بھول جائو۔۔ اپنے بڑوں کے جھگڑے آگے مت بڑھائو۔۔ چلو دونوں گلے ملو۔۔
سر کورین تھے انکا اپنا ہی بھاشن شروع ہوگیا۔۔ پوری کلاس ان دونوں کی جانب متوجہ تھی۔۔
کیا کریں۔۔
دونوں اپنی اپنی زبان میں بڑبڑائے اور روائتی طریقے سے جھک کر سلام کیا۔۔
ہاتھ ملائو۔۔ اور محبت کے اظہار کے طور پر گلے بھی ملو تا کہ ہمیں یقین ہو تم دونوں کے بیچ کوئی تعصب اب باقی نہیں رہا۔۔۔۔ سر نے مزید شوشہ چھوڑا۔۔
دونوں نے بے چارگی سے ایک دوسرے کی شکل دیکھی۔۔ دونوں ایک قدم کے فاصلے پر تھے اپنی جگہ سے ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکتے تھے دور سے ہی اپنے اپنے اوپری دھڑ آگے کیئے ہایون لمبا تھا چھے فٹ سے بھی نکلتا قد۔۔ جبکہ سداکو کا قد اس سے آٹھ نو انچ کم ہی تھا۔۔ ہایون تو سداکو تک پہنچ گیا وہ بے چارہ آگے ہونے کے چکر میں منہ کے بل ہایون پر آرہا تھا۔۔ ہایون نے اسکا پورا وزن سہہ کر اسے اریزہ پر گرنے سے بچایا۔۔
اتنی محبت بھری جھپی پوری کلاس زور سے تالیاں بجا کر شور کرنے لگی۔۔ سر ینگ آبدیدہ ہو گئے۔۔
میں یہی امید کرتا ہوں تم بچے ایسے ہی محبت اور امن سے رہو سب اختلافات بھلا کر۔۔
جی سر۔۔ ہایون اور سداکو نے پرجوش انداز میں کہا۔۔
بیٹھ جائو دونوں۔۔ سر نے اجازت دے دی دونوں جان چھٹی سو لاکھوں پائے بیٹھ گئے۔۔ اریزہ کسمسائی تک نہیں تھی ہایون کو اسکی نیند پر رشک آیا۔۔ سر نے دوبارہ وہیں سے لیکچر شروع کیا جہاں سے ختم ہوا تھا۔۔
سر حسب عادت سوال پوچھتے ایک ایک اسٹیپ چڑھتے اوپر آرہے تھے۔۔
ہایون شا۔۔ کیا شمالی کوریا کی طرح خواتین پر لازم ہونا چاہیئے ملٹری سروس۔۔
سر میں تو لڑکوں کیلیئے لازم قرار دیئے جانے کے خلاف بس چلے تو آج ہی ختم کردوں یہ قانون۔۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں دو ٹوک بولا
ہمم ۔ سر نے ہنکارا بھرا۔۔ وہ دائیں رو سے اوپر چڑھتے جا رہے تھے اب مڑ کر اسکی جانب بڑھنے لگے۔۔
شٹ۔۔ وہ سٹپٹا کر کھڑا ہو گیا۔۔
تو تم شمالی کوریا سے کیسے مقابلہ کروگے۔۔ سر مسکرا کر پوچھ رہے تھے۔۔
سر اگر آپ شمالی کوریا ہوں تو میں جتنا بھی اچھا فوجی ہوں آپ سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔۔
ہایون کا دماغ تیزی سے چلا تھا۔۔
سر بڑھتے بڑھتے حیران ہو کر رک گئے
کیوں؟
اب طلبا نے بھی اسکی جانب رخ کیا۔۔
اف۔
ہایون نے ایک نظر سب کو دیکھا۔۔ سداکو نے باقائدہ سر جھکا کر ہنسی روکی۔۔
سر آپ ایٹمی قوت ہیں۔۔۔ میرا مطلب شمالی کوریا ایٹمی قوت ہے وہ اپنی اگلی جنگ میں اس ہتھیار کو استعمال کیئے بغیر تھوڑی رہیں گے۔۔ پھر ایسے کسی وقت جب ایٹم بم ہمارے اوپر گرے گا تو ہم اسے مکا مار کر اسکے دانت تھوڑی توڑ سکیں گے۔۔
وہ مزاحیہ انداز میں بولا۔۔ پوری کلاس دبی دبی ہنسی ہنسنے لگی۔۔
سر اسے دیکھتے رہے۔۔
پھر سر ہلا کر ڈائس کی طرف بڑھ گئے۔۔ وہ سکھ کا سانس لیتا ہوا بیٹھ گیا۔۔ اریزہ بے خبر سوئی پڑی تھی۔ اسکے بال اڑ اڑ کر اسکے چہرے پر آرہے تھے۔۔
اپنی اسائنمنٹس جمع کرا دیں۔
سر نے کہا تو سب طلبا اپنے بیگ کھنگالنے لگے۔۔
ہایون نے اپنے بیگ سے فایل نکالی۔۔ چند ثانیے سوچا۔۔
اریزہ کا بیگ اسکے بازو کے نیچے تھا مگر اس میں سے کتابیں باہر جھانک رہی تھیں۔۔ اس نے آہستہ سے فائل کھینچی۔۔ اسائنمنٹ ہی تھی۔ اس نے نکال کر سر کو اپنی فائل کے ساتھ جمع کرا دی۔۔ سر باہر نکل گئے کلاس بھی خالی ہوگئ تھی۔۔ سداکو اپنی نشست پر سیدھا ہو کر نیم دراز ہو گیا تھا۔۔
کیا ہوا۔۔ تمہارا بھی سونے کا ارادہ ہے۔۔ ہیون نے پوچھا تو اس نے نیم وا آنکھیں کھول کر سر ہلا دیا۔۔
یہ روم خالی ہے کم از کم آج مزید یہاں کوئی کلاس نہیں ہونی۔۔ اس نے جمائی لیتے ہوئے بتایا۔
ہایون کندھے اچکاتا جانے لگا پھر خیال آیا۔۔
اسے تو اٹھا دو۔۔ اس نے کہا تو سداکو نے لاپروائی سے کہا۔۔
سونے دو ۔۔ تھکی ہوگی۔۔
ہایون نے سوچا پھر خود بھی آکر اپنی جگہ بیٹھ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شور ہنگامہ سائرن چیخیں۔۔ وہ گیارہ سالہ بچی گھبراکر چیخ رہی تھی گھپ اندھیرے میں کسی اپنے کو پکارتی ۔۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔ اس کا پائوں کسی نرم سی چیز پر پڑا تھا۔۔ وہ توازن برقرار نہ رکھ پائی منہ کے بل گری تھی۔۔
اسکے ہاتھ پائوں لباس سب گیلا ہو چکا تھا۔۔ اس نے لرزتے ہوئے جسم کے ساتھ اٹھنا چاہا۔۔ تھوڑی سی روشنی پڑی اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل کی ٹارچ آن کر کے اپنے ہاتھ دیکھے۔۔ یہ گیلا پن پانی کا نہیں تھا۔۔ یہ گاڑھا سرخ خون تھا اس نے زور سے چیخ ماری۔۔
ہیی۔۔ وہ لرز کر اٹھی ۔۔ اسکے منہ سے بے معنی سی آواز نکلی تھی۔۔ اسکے لرزنے سے پورا بنچ لرزا تھا۔۔ ہایون اور سداکو گڑبڑا کر بیدار ہوئے۔۔
اریزہ پسینے پسینے ہوئی وی تھی۔ چند لمحے تو سمجھ نہ آیا کہاں ہے۔۔ سیدھا ہو کر گردن اٹھائی تو کراہ کر رہ گئ۔۔ آہ۔۔
اتنی دیر سے ایک ہی زاویے پر رہنے سے اکی گردن اکڑ چکی تھی۔۔ اس نے سیدھا ہوتے ہوئے بائیں جانب دیکھا تو بری طرح چونک اٹھی۔۔ سداکو آنکھیں مسلتا سیدھا ہو رہا تھا۔۔
اسے خیال آیا تو وہ کلاس میں۔؟
تم ٹھیک تو ہو۔۔ ہایون نے اسکے چہرے کی اڑتی ہوائیں دیکھ کر پوچھا تھا اسے اندازہ نہیں تھا دائیں جانب بھی کوئی بیٹھا ہوگا۔۔ ہوینگ سک کی آواز پر اچھل پڑی ۔۔ایک دم سے سر سیدھا کیا تو ڈیسک کا کنارہ سر میں کھب گیا۔۔
آہ۔ سچ مچ تارے ناچ گئے تھے۔۔
تم لیکچر سنتے ہوئے سو گئیں تھیں۔۔ سداکو اپنا بیگ سمیٹ رہا تھا۔۔
ارے۔آ رام سے۔ ہایون ارے ہی۔کر کے رہ گیا۔۔
اوہ۔۔ اس نے سر سہلایا۔۔
اسائنمنٹ رہ گئ ہوگی۔۔ وہ خود کو کوس کر رہ گئ۔۔ یہ دونوں نابلد کیا بڑ بڑا رہی۔۔
لعنت ہی ہو مجھ پر۔۔
ویسے تمہیں اسکا شکریہ ادا کر دینا چاہیئے۔۔ سداکو نے مسکرا کر کہا۔۔
بیگ بند کرتے اسکے ہاتھ لمحہ بھر رکے۔۔
کیوں۔۔ وہ حیران ہو کر اسکی جانب گھومی۔ وہ مسکرا کر چلتا بنا۔۔
ایکسکیوز می۔
اس نے پکارا بھی۔۔
میری اسائنمنٹ۔۔ وہ بنچ کا سہارا لیتی اٹھی بیگ میں تلاشا ڈیسک پر ہاتھ مارا۔۔
تمہاری اسائنمنٹ جمع ہو چکی ہے۔۔ ہایون نے اطمینان سے بنچ کی پشت سے ٹیک لگاتے بتایا۔۔
آوہ۔۔ سداکو نے جمع کرا دی۔۔ وہ۔خوش ہوئی۔۔
مجھے اسکا شکریہ ادا کرنا پڑے گا۔
جاپانی واقعی بہت اچھے دل کے ہوتے۔۔ سو سویٹ آف ہم
وے۔۔ ہایون نے پورا منہ کھول کر کہا۔۔
کیا؟
اریزہ بیگ اٹھاتئ سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
کورین بھی بہت اچھے دل کے لوگ ہوتے ہیں۔۔
اس نے منہ بنایا۔۔
اریزہ ہنس دی۔۔
کبھی تم بھی مجھ پر کوئی احسان کرو میں تمہارے بارے میں بھی ایسا کہہ دوں گی۔ اس نے کندھے اچکائے۔

ہیون نے کچھ کہنا چاہا پھر سر جھٹک کر ہنس دیا۔۔
دیکھو شائد کبھئ خدا موقع دے۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون اور سالک سامنے سے آرہے تھے ایڈون کی نظروں میں آنے سے پہلے ہی اس نے کترا کر واپس مڑ جانا چاہا مگر دیر ہو گئ تھی۔۔ ایڈون نے اسے کیفے سے واپس مڑتے دیکھا تو سالک کو بتا کر بھاگتا اسکے پیچھے آیا۔۔
سنتھیا۔۔
سنتھیا۔۔ وہ پکار رہا۔تھا اس نے اپنی رفتار مزید بڑھا لی۔۔ اسے رکتے نہ دیکھ کر ایڈون بھاگ کر اسکے آگے آکھڑا ہوا۔۔
سنتھیا۔۔ بات سنو میری۔۔
اس نے اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھے۔۔ اس نے فورا جھٹک دیئے۔۔
سیا۔ ۔۔ایک موقع تودو مجھے اپنی صفائی دینے کا۔وہ بے چارگی سے بولا۔
ایڈون کا فون نہ اٹھانا اسکے پیغام کا جواب نہ دینا دو دن سے خو د کو سمجھانا سب ختم ہو چکا کتنا آسان تھا جیتے جاگتے سامنے کھڑے ایڈون کو دیکھ کر دل نے ایکدم دھوکا دے ڈالا تھا۔۔ خشک آنکھیں دوبارہ بھرنے کو تھیں۔۔ اس نے اس سے قبل کہ آنکھیں اب راز کھول دیتیں مڑ جانا چاہا مگر ایڈون نے اسکی کلائی تھام لی تھی۔۔
سنتھیا۔۔ وہ پھر پکار رہا تھا۔۔
اسکی آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے بے آواز آنسو گالوں پر پھیلنے لگے۔۔ اس نے ایڈون کی طرف پشت کر لی۔۔ ایڈون نے گہری سانس لیکر اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا۔۔ وہ بے آواز رو رہی تھی۔۔
ایڈون شرمندگی کو کوئی آخری حد تھی نا تو اس سے بھی اپنےآپ کو نیچے محسوس کر رہا تھا۔۔
مجھے معاف کر دو سنتھیا۔۔ میں ہوش میں نہیں تھا۔۔ اس دن جو بھی کہہ ڈالا غیر ارادی طور پر بنا سوچے کہا شراب کے نشے میں ۔۔ پلیز میرا یقین کرو۔۔
وہ مرنے والا ہوا وا تھا۔۔
سنتھیا نے اپنی آنسو بھری نگاہیں اسکی آنکھوں پر جمائیں
شراب کے نشے میں تم مجھ میں اور اریزہ میں فرق نہیں کر پائے۔۔ مان لیا۔۔ مگر اریزہ آئی کہاں سے اس وقت تمہارے زہن میں۔۔ یا دل میں تھی جو یوں بے اختیاری میں زبان پر آگئ۔۔
ایڈون نے اسکے کندھوں پر سے ہاتھ اٹھا لیے۔۔
وہ اسے ٹال دینا چاہتا تھا شراب کے نشے میں اول فول بک گیا وغیرہ وغیرہ۔۔ مگر سنتھیا نے جیسے دوٹوک سوال۔کیا تھا اسے اپنے سارے بہانے بے کار لگنے لگے تھے۔۔ گہری سانس لیتا
دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈال کر وہ قصدا اس سے نظر چرا رہا تھا
تم مجھے گالیاں دیتے برا بھلا کہتے مارتے مجھے اتنی تکلیف نہ ہوتی جتنی اس اظہار محبت سے ہوئی جو میرے لیئے تھا ہی نہیں۔۔ وہ استہزائیہ ہنسی
کب سے کرتے ہو اس سے محبت۔۔؟
ایڈون خاموش رہا۔۔
بتائو نا۔ اس نے اصرار کیا۔۔
مجھ سے منگنی کیوں کی پھر۔۔ وہ بلک اٹھی
مت رو سنتھیا پلیز۔۔ اسکا بلکنا اس سے برداشت نہ ہوا مگر
اسکا ملتجی انداز بھی اسے پگھلا نہ سکا۔۔
کیوں نہ روئوں کیا فرق پڑتا تمہیں میرے رونے سے۔۔ وہ چلائی۔۔
اریزہ میری زندگی میں نہیں ہے تم ہو ۔۔ مجھے فرق پڑتا ہے تمہارے رونے سے سنتھیا۔۔ وہ بے چارگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
زندگی میں نہیں۔۔ وہ ہنسی۔۔
کہاں گئی ہے سامنے ہے تمہارے۔۔ جائو اسے بتائو۔ اپنائو۔۔ کون روکتا ہے تمہیں۔۔ یہ انگوٹھی۔۔اس نے ہزیانی انداز میں اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری۔۔
یہ لو ختم۔۔ منگنی۔۔ جائو اپنی محبت کے پاس۔ اس نے اسکے سینے پر ماردی۔۔
جو دل میں ہے۔۔ اسے لے آئو زندگی میں
انگوٹھی ایڈون کے سینے سے ٹکرا کر زمیں پر جا گری۔۔
ایڈون سے یونہی دیکھتا گیا۔ یہاں تک کہ سنتھیا کی آنکھوں کا سمندر اسکی آنکھوں میں بھی اترنے لگا۔۔

سوائے اس وقت کے جب میں ہوش کھو بیٹھا کیا میں نے تمہیں کبھی کوئی کمی محسوس ہونے دی؟
میں اریزہ کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتا۔ میں پلٹ پلٹ کر صرف تمہارے پاس آتا ہوں۔۔ میں نے پوری زمہ داری سے تم سے منگنی کی ہے تمہارے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں یہ میں پوری سچائی سے کہہ رہا ہوں۔۔ سنتھیا۔۔ میں تم سے محبت کرنا چاہتا ہوں سنتھیا مگر تم۔۔ وہ رکا تھا
اسکی آنکھ سے آنسو بہہ نکلا تھا۔۔
تم مجھ سے محبت کا دعوی کرتی ہو نا۔۔ تم مجھےایک بار معاف نہیں کر سکتی ہو۔۔
پلیز۔۔
سنتھیا کے سارے وہ جملے جو دو دن سے اکٹھا کر رہی تھی دماغ میں بھک سے اڑ گئے تھے۔۔ یہ دل کیسا عین وقت پر پلٹا تھا۔۔ ہر چیز چھوڑو کیا سنتھیا کا دل ایڈون کو چھوڑ سکتا تھا۔۔
ایڈون نے جھک کر انگوٹھی اٹھائی۔۔
ایک مرتبہ پھر ٹھنڈے دل سے سوچ لو۔۔ میں تمہارے پیغام کا انتظار کروں گا۔۔
اس نے سنتھیا کی ہتھیلی تھام کر اس پر انگوٹھی رکھ دی پھر آہستہ سے اسے دیکھ کر بے بس سا مسکرایا۔۔
چلتا ہوں۔۔ وہ اسکے پاس سے ہو کر تیز تیز قدم اٹھاتا چلا گیا تھا
سنتھیا نے ایک نظر اسکے دور ہوتے قدموں پر ڈالی پھر کچھ سوچ کرمٹھی بند کر لی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یون بن کو تو کسی لیٹسٹ ٹرینڈ کا پتہ ہی نہیں ہے۔۔ کچھ بولو تو صاف کہتا مجھے تم ایسے ہی پسند ہو مگر تم بتائو جی ہائے اس پھیلی ہوئی ناک کیساتھ ہنستی میں کیا جوکر نہیں لگتی جس نے بال پھنسائی ہو ناک کی پھننگ پر۔۔
کلینزنگ کرتے گوارا بڑ بڑا رہی تھی۔۔
اوپر سے کہتا ہے کہ میں ہونٹ بڑے کروا کر اور ناک پتلی کروا کر ایشئین سے زیادہ ایلین لگوں گی۔۔
اس نے منہ بنا کر کہا تو جی ہائے کی ہنسی چھوٹ گئ۔۔
گوارا نے گھور کر دیکھا پھر ماسک کی ٹیوب ہی اٹھا کر اسے دے ماری۔۔ وہ بر وقت جھکائی دے کر بچی پھر اٹھ کر ٹیوب اٹھانے لگی۔۔
تم لوگ میرے دوست ہو؟ مدد کرنا تو دور الٹا مسلسل دل توڑتے ہو۔۔
وہ خفا ہوئی۔ جی ہائے ٹھنڈا سانس لے کر مڑی۔۔
گوارا ویسے یون بن کہہ صحیح رہا۔۔
جےہی اسے کافی دیر سے اپنے چہرے کی رگڑائی میں مصروف دیکھ رہی تھی۔
اسکی گوری رنگت مزید کیا گوری ہوتی ہاں اب سچ مچ دمک رہی تھی اس کا چہرہ صاف تھا بنا داغ دھبے کے آنکھیں مخصوص کوریائی کھنچی ہوئی تھیں ناک تھوڑی پھیلی تھی مگر کھڑی تھی۔ اور ہونٹ کم از کم اتنے تو بڑے تھے کہ ان سب خدوخال کے آپس میں تال میل کے لحاظ سے برے نہیں لگتے تھے مگر گوارا کو جانے کیا تھا کے پاپ کی عاشق جےہی تھی مگر کے پاپ کے تمام آرٹسٹ جنہوں نے کوئی نہ کوئی پلاسٹک سر جری کروائی تھی اسکی معلومات گوارا کی انگلیوں پر تھی۔۔
تم پہلے ہی اچھی خاصی پیاری ہو تمہیں مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔۔ جی ہائے نے دل سے کہا تھا مگر گوارا مشکوک تھی۔۔
ایسی ہی لیزا کی ناک تھی زرا سی پتلی کروا کر کیسی نخرے والی حسینہ بن گئ ہے۔اور جینی بھی۔ تم نے دیکھا نہیں مگر میں نے فوٹوشاپ کر کے دیکھا ہے اپنے خدو خال کو اگر ویسا کروا لوں تو کسی بڑی اسٹار سے کم نہ لگوں میں۔۔ گوارا پر جوش ہو کر بتا رہی تھی۔۔
کہاں ہے تمہاری فوٹو شاپ والی فوٹو۔۔ جی ہائے نے کمر پر ہاتھ رکھا۔۔
لیپ ٹاپ میں۔۔ وہ فورا دکھانے اٹھی۔۔
لیپ ٹاپ اٹھا کر آلتی پالتی مار کر بیڈ پر بیٹھی اشارے سے جی ہائے کو پاس بلایا۔۔ وہ سر جھٹکتی چلی آئی۔۔ تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔
کم ان۔۔ جی ہائے کہہ کر اسکی تصویر دیکھنے لگی۔۔ واقعی کافی پیاری تصویر لگ رہی تھی مگر اجنبی اجنبی سی ۔۔
ہائے جی ہائے۔ اریزہ خوشگوار انداز میں کہتی آئی گوارا کو دیکھ کر اسکی مسکراہٹ پھیکی ہوتی گئ۔۔ ہائے گوارا۔۔ اس نے اسے بھی ہائے کر دیا۔۔
گوارا نے البتہ بالکل ناگواری نہ چھپائی۔۔ منہ بناتی لیپ ٹاپ بند کرنے لگی۔
ہے اریزہ اسکو دیکھو۔۔ جی ہائے نے لیپ ٹاپ چھین لیا۔۔
وے۔ گوارا ابگی ہکا بکا ہی تھی جی ہائے اٹھ کر اسکی تصویر اریزہ کو دکھا رہی تھی۔
یہ دیکھو ۔۔
کون ہے یہ ؟ اریزہ نہ پہچانی۔۔ جی ہائے زور سے ہنسی۔۔
یہ گوارا ہے اپنی پلاسٹک سرجری کروا کر ایسی شکل بنوانا چاہ رہی۔۔ جی ہائے نے بتایا تو گوارا چڑ گئ۔۔
اسے کیوں دکھا رہی ہو۔۔ اس نے ہنگل میں کہا۔۔
تمہیں دیانت دارانہ تبصرہ یہی دے سکتی۔۔ دیکھتے ہیں کیا کہتی۔۔ اس نے بھی ہنگل میں کہا۔۔
مجھے گوارا قدرتی خوبصورتی میں زیادہ اچھی لگ رہی ہے۔ اریزہ کی بات پر گوارا نے باقائدہ پوری آنکھیں کھول کر دیکھا تھا۔ اسے تو لگا تھا دس اور خامیاں جتا دے گی۔
اس طرح گال اندر کرکے ناک پتلی کر کے یہ۔۔

وہ خرانٹ کہنا چاہ رہی تھی مگر اب خرانٹ کا ترجمہ کیا ہوگا۔۔ وہ سوچنے لگی۔۔
گوارا کا منہ کھلا۔۔ پھر منہ بنا کر بولی۔۔
اسکو کیا پتہ خوبصورتی کا خود تو عام سی شکل کی ہے۔
اسکے کہنے پر جی ہائے اریزہ کو غور سے دیکھنے لگی۔۔
ہاں میچیور۔۔ ۔۔ یہ بھی ٹھیک ترجمہ نہیں۔۔ وہ بڑ بڑائی۔
ویمپ ٹائپ لک آرہی وہ جو بہت چالاک اور عیار لوگ ہوتے نا ویسی لگ رہی اور بڑی بھی لگ رہی ابھی تو اسکے چہرے پر معصومیت سی ہے۔۔
اسے سوجھ ہی گیا۔۔
گوارا کا منہ غبارے جتنا پھول گیا۔۔ چٹخ کر بولی۔
تم ہوتی کون ہو ایسا کہنے والی اپنی شکل دیکھی ہے نا آنکھیں خوب صورت نا ناک اوپر سے اتنا پھولا چہرہ بس رنگ صاف ہے وہ بھی مجھ سے کم ہے۔۔
ارے ارے۔۔ جی ہائے اس کی فراٹے بھری زبان کے آگے ہائیں ہائیں کرکے رہ گئ۔۔
اریزہ مسکرا دی
میری شکل بر صغیر کے حساب سے ہے میرے تمہارے نقوش الگ اگر مجھے میرے علاقے کے معیار سے دیکھو تو اچھی شکل ہے میری میں مطمئن ہوں مگر مجھے ایسا کیوں لگا تمہیں اپنے علاقے کے نقوش کچھ پسند نہیں جو میرے علاقے کے لوگوں جیسی شکل۔کروانی پلاسٹک سرجری کروا کر۔۔
اریزہ کو بالکل اسکا انداز اور اعتراض پسند نہیں آیا۔۔ سو بلا۔لحاظ بولی۔۔
کیا۔مطلب ہے تمہارا۔۔ گوارا کے تلوے سے لگی سر پر بجھی۔۔
مطلب بڑی آنکھیں ستواں ناک کورینز میں عام تو نہیں سب کی ڈبل آئی لڈ ہوتی میرے علاقے کے لوگوں کا ایسا چہرہ ہوتا۔۔ تو تمہیں اپنا کورین نقوش کا ہونا برا لگ رہا ہے؟
ہرگز نہیں ہمیں اپنے نقوش پر فخر ہے۔ جی ہائے بھی تیز ہو کر بولی۔
اچھی بات ہے۔۔ اریزہ نے کندھے اچکا دیئے۔
پھر اپنی فوٹو شاپ کی گئ تصویر میں چندی آنکھیں بنائو جو تم ہو۔۔ اس نے حل بھی بتا دیا۔ گوارا گھورتی اٹھی اور جی ہائے کے ہاتھ سے لیپ ٹاپ لے لیا۔ واقعی اس نے آنکھیں بڑی کرنے میں اپنی غلافی آنکھوں کا غلاف ہی ختم۔کر دیا تھا۔۔
یہ لڑکی۔۔ اس نے دانت کچکچائے۔۔
اریزہ تمہارے ملک میں لوگوں کا رنگ صاف ہوتا ہے۔۔ جی ہائے کو دلچسپی ہوئی۔
ہاں مگر سب کا نہیں۔۔ ابھی گوارا جن چیزوں کو تبدیل کرنا چاہ رہی اپنے چہرے سے یہ کسی پاکستانی لڑکی کے پاس ہوں تو وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے۔۔ غلافی آنکھیں گورا چٹا رنگ براڈ چہرہ
اچھا قد۔۔ ایک مکمل خوب صورت لڑکی کی تشریح پر پورا اترتی۔۔ اریزہ نے سچائی سے کہا تھا۔۔ گوارا کے ایڈیٹنگ کرتے ہاتھ رکے۔۔
واقعی؟۔۔ یہاں تو سب کا رنگ صاف ہوتا ۔۔
جی ہائے کندھے اچکایے۔۔
جبھی قدر نہیں ۔۔ وہ بڑبڑا کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جم میں ڈمبل اٹھاتے بڑے سےآئنے میں خود کو دیکھ کر سالک پوز۔مار رہا تھا ارد گرد سب کورین ہی تھے انکے کم سن اور یون بن بھی مشینوں پر چڑھے تھے۔۔
کم سن شولڈرز کی ایکسرسائز لگا رہا تھا یون بن ٹریڈ مل پر دوڑ رہا تھا شاہ زیب نے انکو ایک نظر دیکھا پھر اپنی سینڈو میں سے جھانکتے مسلز کو ۔۔۔۔۔۔رشک آگیا۔
یہ کہاں کی چربی گھلا رہاہے ہے بھی کہیں۔۔
سالک نے منہ بنا کر انتہائی چپکے پیٹ اور دبلے بازو والے یون بن کو دیکھتے ہوئے شاہزیب سے اردو میں کہا۔ بھاگ بھاگ کر پسینے میں نہایا ہوا تھا مگر سانس بہت پھولی نہیں تھی اسکا اسٹیمنا بے حد اچھا تھا۔۔ اسکے سلکی بال ماتھے پر بکھرے تھے
ایک تو یہ کورینز کے بال کتنے اچھے۔۔ میں جیل لگا کر کھڑے نہ کروں تو لگتا سر پر جونا اگا کر پھر رہا۔
شاہزیب کو نیا غم لگ گیا۔۔
میں تو بالکل یون بن جیسا تھا۔۔ گورا بھی دبلا بھی۔۔ مجھے لڑکی لڑکی کہہ کر کتنا مزاق اڑاتے تھے اور اس پر رشک آرہا تجھے۔۔ ایسا میں جب تھا تم کمینوں نے مزاق اڑا اڑا کر مجھے جم بھیجا تھا۔۔ سالک نے شکوہ کیا۔۔
شکل دیکھ ایویں تونہیں اتنی حسین لڑکی مر رہی اس پر۔۔
ستواں ناک بڑی بڑی آنکھیں۔۔ تو تو تھوبڑ تھابڑ ہے۔۔
اس نے نام لینے سے گریز کیا۔۔
باڈی کم ہے مگر فٹ ہے تجھ میں کیا تھا ہم نے تیرے حق میں بہتر کیا تھا۔۔ اب کم از کم دیکھ کر باڈی تو نظر آتی۔۔
سالک برا مان گیا۔۔
میں کیا کسی سے کم ہوں بڑی آنکھیں ہیں میری گورا چٹا ہوں
اوپر سے داڑھی بھی ہے۔۔
ایک سے ایک لڑکی مرتی ہوگی مجھ پر۔۔
تجھے شک ہی ہے یقین نہیں۔۔ پاکستان میں تو ایک بھی نہ مری یہاں حسن بہت کوئی امید نہ ہی رکھ تو بہتر۔۔
شاہزیب زور سے ہنسا۔
یار ویسے ماننے والی بات ہے کوریا میں حسن بہت ہے۔۔ کاش مسلم ہوتیں میں نے ضرور ایک دو پٹانی تھیں۔
شاہزیب نے کہا تو سالک نے ہنستے ہنستے اسکی کمر پر جما دی۔۔
تجھے بھی پاکستان میں لفٹ نہیں ملی یہاں ملے گی۔
ان گوریوں کا بھی کوئی معیار ہوگا۔
سالک نے دل جلایا تو شاہزیب ڈمبل اٹھاتا اسے دھکا دے کر سایڈ میں کرتے ہوئے آئنے پر چھا گیا۔۔
مرتی ہیں گوریاں برصغیر کے لوگوں پر۔۔ انکے لڑکے لڑکے لگتے۔۔ زرا سے بال لمبے کر لیں تو لڑکیوں والی شکل ہو جاتی۔۔ شیو تک تو آتی نہیں ڈھنگ سے۔۔
مجھے دیکھو یہ ہوتا ماچو مین۔۔ اس نے ایک قدم آگے ہو کر اپنا ڈولا بنا کر دکھایا۔۔
مضبوط بازو مستقل جم لگانے سے سخت سینڈو میں
سے جھانکتے کالے کالے گھنے سینے کے بال۔۔
وہ خود کو کیا کسی شہزادے سے کم سمجھ رہا تھا۔۔
بھالو لگ رہا ہے۔۔ سالک نے آئنہ دکھایا۔۔

شاہزیب منہ بنا کر ہٹ گیا آئنے کے سامنے سے تو سالک دوبارہ آئنے کے سامنے آکھڑا ہوا ۔۔
مجھے تو سمجھ نہیں آرہا پاکستان میں میرا پیٹ بڑھنے لگتا تھا تو چلو میں کھاتا بہت تھا یہاں تو ایک دن بھی پیٹ بھر کھانا نصیب نہیں ہوا پھر کیوں پیٹ باہر آرہا ہے۔۔ سالک نے آئنے میں دیکھتے ہوئے پیٹ سہلایا۔۔
یون بن اسے دیکھتا ٹریڈ مل بند کرتا کم سن کے پاس آگیا۔
یار انہیں دیکھ۔ ایسی باڈی میری نہیں بنتی کھا کھا کر پھٹنے کو آگیا وزن نہیں بڑھا۔۔
وہ بے چارگی سے بولا تو کم سن ہنس پڑا ۔۔ مشین چھوڑ کر سیدھا ہو بیٹھا۔۔
انکی خوراک اور ماحول ایسا ہے۔۔ دیکھ لو قد میں ہم سے کم ہی ہیں۔۔ انکے پاس یہ ایڈوانٹیج ہے۔ ہمارے پاس کوئی اور۔۔

پھر بھی۔۔ کتنی مردانہ لک آتی انکی۔۔اور ہئر اسٹائیل۔
بال کھڑے کرکے کتنے اسٹایلش لگتے دونوں۔۔
یون بن نے کہا تو کم سن نے مکا مارا کمر پر۔
اتنی حسرت سے دیکھ رہا پسند تو نہیں آگئے۔۔ ابھی کوریا اتنا ایڈوانس نہیں ہوا۔۔
یون بن نے موٹی سی گالی دی۔
اس نظر سے نہیں دیکھ رہا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنتھیا نے انگوٹھی ہاتھ میں پہنی ۔۔ پھر اپنے ہاتھ کو گھما گھما کر دیکھتی رہی۔۔ سانولے سے ہاتھ میں سنہری ڈائمنڈ جڑی انگوٹھی۔۔ اس نے تصویر کھینچ کر ایڈون کو بھیج دی۔۔
تھوڑی ہی دیر میں اسکا فون بج اٹھا تھا۔۔
اس نے چمد لمحے جل بجھ کرتی اسکریں پر جگمگاتے نام کو دیکھا جیسے یقین کر رہی ہو ۔۔
چوتھی پانچویں بیل پر اس نے اٹھا لیا۔۔
اسلام و علیکم۔
اس نے دھیرے سے سلام کیا
وعلیکم السلام کیسی ہو؟
ٹھیک ہوں تم؟
وہ جانے کیوں جھجک رہی تھی
میں بھی۔۔ ایڈون مسکرا دیا۔۔
شکریہ سنتھیا۔۔ اس نے دل سے کہا تو سنتھیا۔۔ بس مسکرا کر رہ گئ۔۔
دوستی ہوگئ تمہاری سالک اور شاہزیب سے۔۔
اس نے بات بدل دی۔۔
ہا۔۔ ں۔ اس نے گہری سانس کھینچی۔۔
وہ کمرے میں واپس آئی تو سنتھیا فون پر لگی تھی۔۔ وہ اسے دیکھتی اوپر چلی آئی۔۔ بیڈ پر بیٹھ کر اپنا لیپ ٹاپ آن کر لیا۔۔
مگر پھر تجسس ہوا تو ریلنگ سے نیچے جھانکنے لگی۔۔
اشارے سے پوچھا
کون ہے؟
سنتھیا نے بے آواز ہونٹ ہلا کر بتایا ایڈون۔۔ تو وہ واقعی خوش ہوکر اسے وکٹری کا نشان دکھاتی سیدھی ہو گئ۔۔
ایڈون ایک بات پوچھوں؟
سنتھیا کو اریزہ کو دیکھ کر جانے کیا خیال آیا۔۔
ہاں پوچھو۔۔ وہ ہمہ تن گوش ہوا۔۔
تم نے کبھی اریزہ کو بتایا تھا اپنے جزبات کے بارے میں۔
اسکی بات پر ایڈون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا
تم اس بات کو بھول نہیں سکتیں؟ وہ بے بسی سے بولا
مجھے بتائو نا۔ اسکا ارادہ اٹل تھا وہ جواب جاننا چاہتی تھی۔
بتایا تھا۔ وہ دھیرے سے بولا۔سنتھیا ساکت سی رہ گئ
اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اریزہ جانتی ہوگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اریزہ کو ٹیکسٹ میسج آیا تھا صارم کا۔۔
طلاق مبارک ہو۔۔
آگے ہنستا ہوا اسمائلی تھا۔۔
تو آج سب کاروائی مکمل ہو گئ۔۔ وہ سوچنے لگی۔۔
اسے خوش ہونا چاہیئے تھا۔ مگر دل ایکدم اداس ہو گیا تھا۔۔
اس نے لیپ ٹاپ بند کردیا اور سیدھی چت لیٹ گئ۔۔
تم اور مجھے یاد کر رہے تھے۔۔ جھوٹے۔۔
سنتھیا مان بھرے انداز میں ادا سے بولی
آگے سے ایڈون نے کچھ کہا تو کھلکھلا دی
ہاں بہت۔۔ میں نے بھی ۔۔ اسکی آواز ہلکی ہوتی گئ۔۔
آہ۔۔ اس نے آہ سی بھری۔۔ پھر لیپ ٹاپ پیٹ سے اٹھاتی بیڈ پر رکھتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اسکا رخ کھڑکی کی جانب تھا ا سنے پردے ہٹائے ستاروں بھرا آسمان اسکی شیشے کی عمودی چھت سے دکھائی دے رہا تھا۔۔
اللہ میرے نصیب میں کیا لکھا۔؟
اس نے کھڑکی پر ہاتھ رکھ کر سہارا لیا پھر آسمان کو گردن اٹھا کر دیکھنے لگی۔۔
میں نے کبھی کسی کو اس نظر سے نہیں دیکھا کبھی اس بارے میں سوچا نہیں مجھے لگتا تھا میرے بارے میں سب سے اچھا سوچنے والے موجود۔۔ اس بھروسے سے زیادہ مجھے کبھی کوئی اتنا اچھا لگا ہی نہیں۔۔ اس نے سر جھکایا۔۔وہ حسب عادت بول بول کر خدا سے باتوں میں مگن ہو گئ تھی۔۔ اسکی آواز سرگوشی جیسی تھی جیسے کسی اپنے سے دل۔کھرل کر باتیں کرتی جا رہی ہو۔
آپ جانتے میں کیسی ہوں کیا چاہتی ہوں۔۔ میں کیا چاہتی مجھے خود نہیں پتہ۔۔ اس کی آنکھیں بھرنے لگیں۔۔
مجھے نہیں پتہ میں کچھ مانگ بھی رہی ہوں یا نہیں مجھے بھی محبت ہو گی کبھی کہ نہیں
مجھے محبت نہیں ہوئی ہوتی بھی نہیں مگر اب میں سوچتی ہوں ہو جاتی تو اچھا رہتا۔۔ میرے لیے میرے بڑے اچھا فیصلہ نہیں کرتے میں سب آپ پر چھوڑتی ہوں۔۔ آپ بہتر کردیں جو میرے حق میں ہو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی ابھی باہر سے آیا تھا۔۔ کچن میں آکر اپنے لیئے کم چی نکال رہا تھا جب نونا ایک اور پلندہ اٹھا لائیں۔۔
اس نے کم چی مایکرو ویو میں رکھ دی دو منٹ اسے انتظار کرنا تھا۔۔ رات کے ایک بج رہے تھے نیند آنکھوں میں نام۔کو نہیں تھی۔۔ آج دن میں جو سو گیا تھا۔۔ دو گھنٹے۔۔ اسے یاد آیا تو بے ساختہ مسکراہٹ ہونٹوں پر در آئی۔۔
کبھی اسکول میں نہیں سویا مگر اریزہ تمہاری وجہ سے زندگی میں پہلی بار کلاس روم میں سویا۔۔ اس نے سوچا۔۔ مایکروویو بند ہوا تو پلیٹ نکال کر مڑا انی بالکل سامنے کھڑی پیار سے دیکھ رہی تھیں۔۔
کسے سوچ کر مسکرا رہے۔۔ وہ حسب عادت چھیڑنے لگیں۔۔ وہ مسکرا دیا
۔۔ کچھ خاص نہیں کھائیں گی آپ میرے ساتھ۔۔ اس نے آفر کیا وہ سہولت سے انکار میں سر ہلاتی ماربل سلیب کی میز کا اسٹول گھسیٹ کر اسکے سامنے آبیٹھیں۔۔
آپ اور لے آئیں۔۔ اس نے پلندے کی طرف اشارہ کیا۔۔
ہاں۔۔ انہوں نے کندھے اچکا کر پلندہ آگے بڑھایا۔
اب آپ کو مزید یہ بنوانے کی ضرورت نہیں ۔۔ کھاتے ہوئے اس نے لاپروا سے انداز سے کہا۔۔
کیوں ۔۔ وہ چونکیں
اسے اصل جاب آفر آچکی ہے۔۔ ہایون نے مسکرا کر انکی آنکھوں میں جھانکا۔۔
انی مسکرائیں۔۔
تم نے دلوائی ہے؟
میں نے اسکے تھیمز مختلف جگہوں پر بھجوائے تھے اس میں ٹیلنٹ ہے سو آرام سے اسے اچھی آفر مل گئ ہے۔۔ آپ بہانہ بنا کرمنع کر دیجئے گا اس سے مزید محنت نہ کروائیں۔۔
ہایون نے سادہ سے انداز میں کریڈٹ لینے سے انکار کیا تھا۔۔ پیار ہی آگیا انکو ہایون پر۔۔
ٹھیک ہے۔ انہوں نے سر ہلا دیا۔۔
ابھی اسی بات پر مسکرا رہے تھے ؟
انکا زہن وہیں اٹکا تھا۔۔ ہایون نے چاپ اسٹک رکھ کر قہقہہ لگایا۔
انی آپ حد کرتی ہیں۔۔ زہن میں بھی نہیں تھی ہوپ میرے۔۔
انی اسے ہنستے دیکھ کر برا مان گئیں۔۔
تو بتا دو پھر اتنا سسپنس کیوں پھیلا رہے تھے۔
مجھے تو حیرت ہوتی ہے کس قسم کے لڑکے ہو مجال ہے جو کبھی کسی لڑکی کے ساتھ دکھائی دے جائو کسی لڑکی کی بات کر لو۔۔ ہوپ کا ذکر کرتے ہو تو مجھے لگا شائد مگر نہیں ہوپ بھی نہیں ۔ تمہیں کہیں۔۔ انہوں نے مشکوک ہو کر بات ادھوری چھوڑی۔
انی۔۔ ہایون نے احتجاجا منہ پھلایا۔۔
اب یہ تو حد ہی ہے۔۔شک مت کریں میں نارمل لڑکا ہوں گھور گھور کر لڑکیوں کو دیکھتا ہوں ایسے۔۔
اس نے مزاحیہ انداز میں آنکھیں گھمائیں۔
کسے دیکھا آج۔۔ انی پورا شرارت کے موڈ میں تھیں۔۔
آپکی فین کو ہی گھورا۔۔ اس نے منہ بنایا۔۔
کون ؟ وہ حیران ہوئیں۔
اریزہ جس کو اسکارف بھجوایا تھا آپ نے۔۔ آج بھی وہی اسکارف پہنے تھی۔
اسے یاد آیا
اچھا وہ۔۔ پیاری لڑکی ہے۔۔ غیر ملکی حسینہ
۔۔ انہیں یاد آگئ پھر چونکیں۔۔
اسے کیوں گھور رہے تھے۔۔
کلاس روم میں بیٹھی سو رہی تھی۔۔ پورے دو گھنٹے سوتی رہی۔۔ مت پوچھیں سر اسکے سر پر آنے لگے تھے۔۔ کیسے بچایا میں نے سوچ ہے آپکی۔۔
وہ ہنس ہنس کر بتا رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا اکلوتا بیگ سنبھالے وہ سپا میں داخل ہوئی تھی۔
ریسیپشن پر کھڑی لڑکی نے مسکرا کر اسے خوش آمدید کہا۔۔
اس نے خاموشی سے اپنا نام رجسٹر کرایا ۔۔
آپکا نام ؟ریسیپشنسٹ نے پوچھا تو اس نے خاموشی سے اپنا شناختی کارڈ آگے کر دیا۔۔
ایک رات؟
وہ پوچھ رہی تھی۔۔
اس نے پھر سر ہلا کر جواب دیا۔۔
ریسیپشنسٹ اسے عجیب سی نظر سے دیکھ کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح اسکی خود ہی آنکھ کھلی تھی کسمساتے ہوئے سب سے پہلے اس نے موبائل دیکھا تھا۔۔
پھر پوری آنکھیں کھل گئیں۔۔
ہا۔۔ اتنا لیٹ۔۔ اٹھایا نہیں مجھے آج سنتھیا۔۔
اس نے آواز لگائی۔۔
ایک پیغام بھی پڑا ہوا تھا۔۔
آہش۔۔ اسکا پڑھ کر جی مکدر ہو گیا۔۔
صارم تھا۔۔
مر جائو اتنا سا کام نہیں کر سکتیں۔۔
وہ تیزی سے اٹھی پہلے نیچے جھانکا سنتھیا کمرے میں نہیں تھی۔۔
اس نے اچنبھے سے دیکھا ۔۔
اسکے ہاتھوں پیروں کو پہیئے لگ گئے تھے بھاگ بھاگ کر تیار ہوئی۔۔ بیگ اٹھایا فائل اٹھائی۔۔
کمرے سے نکلتے رک کر آنکھیں بند کر کے اللہ کو پکارا۔۔
پلیز آج میری عزت رکھ لیجئے گا۔۔
بھاگ بھاگ کر کلاس میں پہنچی تھی۔۔
سنتھیا سب سے پیچھے ایڈون کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔
اس نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ سنتھیا نے نظر انداز کر دیا۔
آگے نشستیں خالی تھیں۔۔ اس نے اشارے سے نیچے آنے کو کہا۔۔ خود پہلی رو میں حسب عادت گھس گئ۔۔ اس سے پیچھے جی ہائے اور گوارا بیٹھے تھے۔۔
اسے بیٹھتے دیکھ کر جی ہائے نے اٹھنا چاہا مگر گوارا نے ہاتھ پکڑ کر روک دیا۔۔ اور گھورنے لگی۔۔ وہ داخلی جانب بیٹھی تھی اسکے راستہ دئے بنا جی ہائے آگے جا نہیں سکتی سو منہ بنا کر بیٹھ رہی۔۔
اریزہ نے مڑ کر سنتھیا کو دیکھنا چاہا مگر وہ بے نیازی سے سامنے دیکھ رہی تھی۔۔ پہلی بار اسے احساس ہوا وہ ایسا قصدا کر رہی۔۔ اریزہ الجھن سے اسے دیکھتی سیدھی ہو بیٹھی۔۔ اسکا ڈیسک خالی تھا۔۔ اسکا پراجیکٹ گروپ جن کے ساتھ تھا سب اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔۔ اس نے مڑ کر سب کو ڈھونڈنا شروع کیا۔۔ ایڈلین ۔ پیچھے بیٹھی تھی۔۔ جونتائی کم سن اور۔ اس نے ہایون کو تلاشا۔۔ نظر دوڑاتے نیچے اسے انتہائی دائیں سداکو کے ساتھ بیٹھا نظر آگیا۔م وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اس سے نظر ملنے پر مسکرا کر ہاتھ ہلا دیا۔۔
فائیٹنگ۔۔ اس نے بک اپ بھی کیا۔۔
وہ مسکرا دی۔۔
اسکی پہلی پریزنٹیشن تھی مکمل انگریزی میں کسی دوسرے ملک میں۔۔ وہ گھبرا رہی تھی۔۔
اس نے بے چارگی سے سنتھیا کو دیکھا۔۔
ایک تو جب دوست کی ضرورت پڑتی تبھی میں اکیلی پڑ جاتی۔۔
اس نے تاسف سے سوچا۔۔
وہ اداس سی ہو کر سیدھی ہو بیٹھی تبھی کوئی اسکے سر پر آکھڑا ہوا۔۔
اس نے سر اٹھایا تو ہایون تھا۔۔ اسکے دائیں جانب خالی نشست کی طرف اشارہ کرتا۔۔
میں بیٹھ سکتا ہوں یہاں ؟
وہ مسکرا کر پوچھ رہا تھا۔۔
شیور ۔۔ اس نے دوسری سیٹ سے بیگ اٹھا کر اپنی پشت پر کرسی پر رکھا اور تھوڑا آگے ہو کر بیٹھ گئ۔۔
کیسی تیاری ہے پریزنٹیشن کی؟
اس نے اپنا بیگ نیچے اپنے پیروں کے قریب رکھ لیا تھا۔۔
تھوڑی گھبرا رہی۔۔ اس نے صاف گوئی سے کہا۔۔ پھر بے چین ہو کر اسکا اور اپنا بیگ اٹھا کر بائیں جانب زمین پر رکھ دیا۔۔ اب کم از کم کسی کے پیروں میں نہیں آرہے تھے
گھبرائو مت۔۔ ابھی دیکھنا جو جو آئے گا یہاں پریزنٹیشن دینے اسے دیکھ کر خود ہی با اعتماد ہو جائو گی۔۔
ہایون نے حوصلی افزا انداز میں کہا۔۔
تبھی سر چلے آئے۔۔
گڈ ایوننگ کلاس۔۔
کیا حال ہیں سب کے ؟
ٹھیک ہیں سر۔۔ سب نے کورس میں جواب دیا۔۔
پریںٹیشن ہے آج ۔۔ آٹھ گروپ ہیں پانچ منٹ سب کے بناٹائم ویسٹ کیئے آجائو۔۔
اٹینڈنس میں شکل دیکھ کر لگاتا رہوں گا۔۔
سر مزے سے خود پہلی رو میں ایک کونے میں بیٹھ گئے۔۔
پھر واقعی پانچ گروپ کی پریزنٹیشن دیکھتے اسکا کافی اعتماد بحال ہوا۔
سب کا حال کچھ کچھ اس جیسا تھا۔۔
انگریزی میں بولتے پسینے چھوٹ رہے تھے۔۔ سداکو کا گروپ آیا تو اس نے بیلاروس منتخب کیا تھا۔۔
سر خود گوگل کھول کر بیٹھ گئے تھے۔۔ کم سن ایک ایک پر تبصرہ کرتا رہا تھا ۔۔ ہنس ہنس کر اسکی آدھی گھبراہٹ دور ہو گئ تھی۔۔
نیپال پر پریزنٹیشن کم سن نے بنائی تھی۔۔ اب تک اسکی ہی سب سے بہتر تھی۔۔ نیپال کے عوام کا رجحان طرز زندگی بودو باش سے لیکر سیاسی حالات اور شہزادے کے اوپرلگے الزام جس کے مطابق ایک دن اس نے اپنی محبت پانے کیلیے کیسے پورے شاہی خاندان کے افراد کو چن چن کر مار دیا تھا۔۔
وہ کھو گئ تھی۔

کوئی کیسے اپنوں کو مار سکتا۔۔ وہ بڑ بڑائی۔۔
ہایون کو سمجھ تو نہ آیا مگر اسکی شکل دیکھ کر اندازہ درست لگا لیا۔
لوگ بہت ظالم ہوتے ہیں دنیا میں۔۔
اگلی اسی کی باری تھی۔۔
سر نے گروپ جی کا نام لیا تو وہ سٹپٹا کر اٹھی۔۔
بیسٹ آف لک۔۔ ہایون نے مسکرا کر کہا۔۔ وہ سر ہلاتی یو ایس بی اٹھاتی روسٹروم کے پاس آگئی
۔ لیپ ٹاپ میں یو ایس بی لگا کر گہری سانس لی۔۔
ہایون کے الفاظ کانوں میں گونجے۔۔
کسی کی شکل پر غور مت کرنا ۔۔
اس نے سرسری نظر دوڑائی۔۔
گہری سانس لینے کی بجائے چھوٹی چھوٹی سانس لو
اپنے ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ سے تھام لو۔۔ تھوڑی تھوڑی دیر ہر انگلی۔۔
لاجک؟
وہ حیران ہوئی
جاپانی طریقہ ہے ہاتھ میں پریشر پوائنٹس ہوتے جو ہمارے جزبات کر کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتے۔۔ اس نے تفصیل سے بتایا تھا۔۔۔

میری پریزنٹیشن پاکستان کے بارے میں۔۔
اس نے کہنا شروع کیا۔۔
اس سے پہلے کہ میں پاکستان کے بارے میں بتانا شروع کروں وہ تمام لوگ جو تشدد نہیں دیکھ سکتے کمزور دل کے ہیں برائے مہربانی اسے مت دیکھیں

اس نے کہا تو سب میں کھلبلی مچ گئ۔۔
سر نے بھی چونک کر اسکی شکل دیکھی تھی
پاکستان بنیادی طور پر تشدد پسند اور غیر زمےدار ملک ہے۔اسکی اٹھانوے فیصد آبادی مسلمان ہے۔۔ یہاں دن میں پانچ بار بلکہ بیک وقت کئی کئی مسجدوں سے ازان کی آواز بلند ہوتی ہے۔۔ یہ لوگ اتنے قدامت پسند ہیں کہ اپنے ملک میں باون فیصد خواتین ہونے کے باوجود انکو گھر میں بند رکھتےکئی کئی شادیاں کرتے تعلیم سے دور رہتے ۔۔
انکو اسپورٹس میں بالکل دلچسپی نہیں۔۔
وہ سلائیڈز میں پاکستان کی پرفیشنل کامیاب خواتین کی سلائیڈز چلا رہی تھی۔.
پاکستان گڑبڑ گھوٹالا ہے۔۔ اتنی نسلیں اتنے فرقے اتنی زبانیں ہر دو کلومیٹر کے بعد لہجہ بھی بدل جاتا۔۔
یہ ایک دوسرے سے اردو میں بات کرتے اور کام کرتے وقت انگریزی پر اتر آتے۔۔
وہ پاکستان کے لوگوں کی تصاویر دکھا رہی تھی
خیر سیاسی طور پر یہ کبھی مستحکم نہیں رہا۔
اسکا نام ضرور اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے مگر اس پر جمہوریت ستر سالوں میں خال۔خال ہی نظر آئی۔۔مگر مزے کی بات یہ دس دس سال کی آمریت بھگت کر بھی یہ دوبارہ جمہوریت کی طرف بڑھ آتا
اسکی کوئی خاص خارجہ پالیسی نہیں۔۔
سداکو جز بز ہوا۔
یہ پاکستانی نہیں تھی ؟ اس نے اندازہ لگایا
نہیں پاکستانئ ہی ہے۔۔ ابھی بھی پاکستانی لباس میں ملبوس لمبا دوپٹہ لہرا رہی تھی
۔ یہ نہ صرف بڑی طاقتوں کی پراکسی وار کا حصہ بنا بلکہ چونکہ اسکی سرحدیں تین اطراف سے جن ملکوں سے ملتی ہیں اس نے انکی ناک میں بھی دم کر رکھا ہے۔۔
اس نے پاکستان کا نقشہ کھول رکھا تھا۔۔ زوم کر کر کے وہ ملکوں کی نشاندہی کر رہی تھی۔۔
بد قسمت افغانستان۔۔ ایران۔۔ ہندوستان
بہت شروع سے دیکھا جائے تو اس نے قائم ہوتے ہی سب سے پہلے جس ملک کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا وہ اس وقت کی سپر پاور روس نہیں امریکہ تھا
وہ رکی۔۔
امریکہ سے اس نے بہت سے سیاسی فائدے اٹھائے۔۔
ہندوستان کے ساتھ اسکے دریائوں پر معاہدے امریکہ نے کروائے جس میں تین بڑے دریا پر پاکستان نے اپنا حق چھوڑا۔ یہ ایک بڑی کامیابی ملی اسے امریکی حمایت سے۔۔
امریکہ پاکستان میں مستقل سرمایہ کاری کرتا رہا مگر یہ ملک اور اسکے لوگ بیٹھ کر کھانا جانتے بس۔۔
کرپشن میں اسکا نمبر بھی ہمیشہ کی طرح بہترین رہا
امریکہ نے اسکی ہر طرح سے مدد کی۔۔ اس نے بجائے اسکے کہ ملک میں سرمایہ کاری لاتا ترقی کرتا انڈیا سے تین جنگیں ہار کر فیصلہ کیا کہ ایٹم بم بنائے گا۔۔
یہ وہ وقت تھا جب اس ملک کا ایک بڑا حصہ الگ ہو گیا تھا۔۔
عجیب ملک ہے نا۔۔
امریکہ نے ناراضگی کے طور پر امداد بند کر دی بڑی طاقتوں نے پاکستان کی مدد کرنے سے انکار کیا۔۔ مگر اس وقت کی پاکستان کی جمہوری حکومت نے ڈھٹائی سے دھماکے کرلیے۔۔ اور خود کو نیوکلئیر اسٹیٹ ڈکلیئر کیا۔۔ دو سال بعد جمہوری حکومت ختم ہو گئی۔۔ کیوں کیسے۔۔ دفع کریں
تھوڑا پیچھے جاتے ہیں
نوے کی دہائی میں جب روس افغانستان کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا اس نے امریکہ کی حمایت کی اور طالبان نامی گروپ تشکیل دیا جس نے افغانستان فتح کر لیا۔۔ یہ گروپ پاکستان کی حمایت سے وہاں بارہ سال حکومت کر تا رہا۔۔
وہ ساتھ ساتھ سلائیڈز چلا رہی تھی۔۔
یہ لوگ ۔۔ یہاں غاروں میں رہ کر بڑے بڑے خواب دیکھنے لگے۔۔ انہوں نے امریکہ کو تہس نہس کرنے کا منصوبہ بنایا۔۔
پھر نائن الیون کا واقعہ ہوا۔۔ یہ لوگ ملوث تھے اس میں۔۔
جب ان منصوبوں کے ماسٹر مائنڈ ز کو ڈھونڈا گیا تو سب کے سب پاکستانی نکلے یا پاکستان سے تربیت یافتہ۔۔ ایسے موقع پر امریکہ کو سخت فیصلے لینے پڑے۔۔ اسے پاکستان میں چھپے ان دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے پڑے۔۔
وہ اب ڈرون حملوں کی تصاویر دکھا رہی تھی۔۔
کچھ لڑکیاں اٹھ کر چلی گئیں۔۔
پاکستان کو اس پر بھی اعتراض ہوا۔۔
عالمی عدالت میں احتجاج کرتا رہا جا جا کر۔۔
اب آپ کو بتاتی ہوں وہ فیکٹس جن کے باعث امریکہ کو افغانستان میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔۔
افغانستان میں اس جنگ سے متاثرین پاکستان آنے لگے۔
پاکستان نے انکو پورے ملک میں آکر رہنے دیا۔۔
یہ ہے کابل میں اب تک ہونے والے دھماکوں کی تعداد
ان سب کی پلاننگ پاکستاں میں ہوئی۔۔
یہ ہے انڈیا میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات
ان میں پاکستان ملوث تھا۔۔
ایران پر صرف ابھی تک ہم ۔۔ میرا مطلب پاکستانی طالبان سرحد تک ہی در اندازی کرتے رہے ہیں۔۔ اور ایران نے ہم سے بس احتجاج ہی کیا۔۔ تو کہہ سکتے ہم ایران کو اتنا تنگ نہیں کرتے
چین واحد دوست ہے پاکستان کا مگر یہ مت سمجھئے گا چینیوں کو چھوڑ دیا پاکستا نیوں نے۔۔
یہ ہے گوادر جہاں چین سرمایہ کاری کر رہا۔۔
یہ ہے تعداد ان چینی انجینئیروں کی جو جو پاکستان میں مارے گئے یا کم ازکم اغوا ہوئے۔۔
چین پاکستان میں کافی سرمایہ کاری کرتا سو پاکستان سے ابھی تک اسکی گاڑھی چھن رہی ہے۔۔ ورنہ تو یہ وہ قوم ہے جس کے بارے میں امریکی سفیر کا کہنا ہے یہ وہ قوم ہے جو پیسے کی خاطر اپنی ماں کو بھی بیچ دے۔۔
وہ سانس لینے رکی۔۔
سب خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے۔
ایڈون چین بہ چیں ہوا۔۔
اب بات کرتے ہیں پاکستان کو یہ سب کرکے کیا کیا فائدے ملے۔۔
2002 سے قبل پاکستان میں خود کش حملے جیسا کوئی کانسیپٹ نہیں تھا۔۔ یہ متعارف ہوا۔۔
پہلا حملہ ہی چیف ایگزیکٹو پاکستان پر ہوا جو اس وقت امریکی حمایت کرنے کا تاوان تھا۔۔
اسکے بعد ایک لمبی تاریخ ہے۔۔
اس نے ایک ایک خود کش حملہ گنوایا۔
اس میں مرنے والوں کی تعداد زخمیوں کی تعداد۔۔
ان کی پلاننگ ویسے سننے میں یہ آیا ہے کہ افغانستان میں ہوئی۔ افغان رجسٹرڈ نمبروں سے پاکستانی سہولت کاروں سے رابطے کیئے گئے۔۔
شیعہ جلوسوں پر حملے سنی مسجدوں پر اسمعیلی بس پر حملہ
اور یہ ہے ہزارہ کمیونٹی۔
اسکے ساتھ مستقل بنیادوں پر ہوتا رہا ہے کہ بس سے اتار اتار کر گولیاں ماری گئیں شناختی کارڈ دیکھ دیکھ کر۔۔ شیعہ نسل کشی پر نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں احتجاج ہوا۔۔
وہ مزید بتا رہی تھی۔۔
آسٹریلیا نے ان بیس ہزار خاندانوں کو آسٹریلوی شہریت دے کر سکونت اختیار کرنے کی تجویز دی۔۔
ان احمقوں نے جانے سے انکار کر دیا۔۔
یہ وہی پاکستانی ہیں جو امریکی ویزے کیلیے اپنی ماں۔۔ اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
یہ ہے لاہور کا چرچ ۔۔خود کش حملہ ایسٹر کا دن تھا۔۔
کرسچن کو بھی نہیں چھوڑا۔۔
سریلنکن ٹیم آئی اس پر حملہ کیا۔۔
اس ملک پر بھروسہ کیا جاسکتا۔
یہ نیوکلیئر پاور ہے۔ مستقل دہشت گردی کا شکار۔
اس ملک پر بھروسہ کیا جا سکتا۔۔
دیوالیہ ہونے کے قریب
اس ملک پر بھروسہ کیا جا سکتا۔۔
جو ایک دوسرے کو مار رہے۔۔
یہ وہ فیکٹس اور فگرز ہیں جو 2013 تک کے ہیں
2013
جمہوریت آئی۔۔ پالیسی بدلی پہلا تحفہ
پشاور میں آرمی اسکول پر دہشت گردوں کا حملہ
ڈیڑھ سو بچے قتل
اس ملک سے کیا امید رکھیں
اسکی آواز بھرائی۔۔
میں بتاتی ہوں
یہ تابوت میں آخری کیل ثبت ہوا
پوری قوم ایک ہو کر دہشت گردی کے خلاف اٹھی۔۔
سخت فیصلے کیئے گئے۔۔
ضرب عضب کے نام سے آپریشن شروع کیا گیا۔۔
فوج نے کتنی قربانیاں دیں یہ رف فگرز ہیں ٹرینڈ فوجیوں کی اموات کے۔۔
اس وقت پورے پاکستان میں کوئی گھر ایسا نہیں جس نے دہشتگردی میں کسی اپنے کو کھویا نہ ہو یا کوئی دہشت گردی کے کسی واقعے میں وکٹم نہ رہا ہو۔۔
کیا پاکستان بس اتنا ہی ہے ؟
نہیں۔۔
2017 کے یونائٹڈ نیشنز کے سروے کے مطابق

65 million refuges
پوری دنیا میں محاجر ہیں جن میں سے 1.4million خالی پاکستان میزبانی کر رہا۔۔ ان میں بیشتر
افغانستانی مہا جر ہیں ۔جو پوری دنیا کے مہاجریں میں پاکستان دوسرے نمبر پر سب سے بڑا میزبان ہے۔۔
خود کش حملے ہونے شروع ہوئے خاص جلوسوں مزہبی اجتماعات کو نشانہ بنایا جانے لگا۔۔ کیا۔لگا آپکو کیا پاکستان میں کوئی باہر ہجوم میں نکلتا ہوگا ؟
نکلتا ہے۔
اتنی ہی تعداد میں مزہبی اجتماعات میں لوگ شرکت کرتے
مسجدوں میں نماز پڑھنے جاتے۔۔
چرچ کوئی بند نہیں ہوا۔۔
اسکول جانا نہیں چھوڑا گیا۔۔
الٹا اس گھٹیا قوم کا خوف ختم ہو گیا۔۔
ہنگو میں ایک خود کش حملہ آور نے سرکاری اسکول میں گھسنا چاہا تو ایک چودہ سالہ بچے نے اسے روک دیا۔۔ اسے اندر گھسنے نہ دیا۔۔
ہے کسی میں اتنی ہمت
شکار پور میں ایک مزہبی اجتماع میں ایک امام بارگاہ ۔ مقدس جگہ میں دہشت گرد گھس کر فائرنگ کرنے لگے ایک نے اندر لوگوں کے ہجوم میں گھس کر خود کو اڑانا چاہا۔۔
ایک امریکہ پلٹ عام پاکستانی اس سے جا کر لپٹ گیا۔۔ وہ دھماکہ جس سے نجانے کتنوں کی جان جانی تھی اس کی قربانی کے باعث بچ گئے۔
سوچ سکتا کوئی کسی ایسے انسان سے جا لپٹنے کا جس نے اپنے اوپر بم باندھ رکھا ہو؟۔
کراچی میں بس میں گھس کر دہشت گردوں نے فائرنگ کی بس ڈرایور زخمی حالت میں بس چلا کر اسے قریبی ہسپتال لے گیا۔۔ جس سے کئی زندگیاں بچ بھی گئیں گولی کھا کر ڈرائیوکرنا آسان ہوتا ہے؟
ہر اجتماع سے قبل داخلی راستوں پر جامہ تلاشی لیتے کتنے پولیس والے جاں بحق ہوئے۔۔
۔۔اس حد تک کوئی فرض ادا کر سکتا ہے ؟
یہ ہیں ہم پاکستانی بلڈی پاکستانی۔۔ جن کو امریکی حمایت سے یہ تحفے ملے ہیں کہ آج گرین پاسپورٹ دیکھ کر ہمیں کئی ممالک میں تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
کمزور ایٹمی قوت کہنے والوں کیا پتہ ہے دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہمارے پاس ہے ۔
انڈیا سے جنگیں ہارنے کا یاد دلانے والوں کو بتائوں
سیالکوٹ میں بھارت فوج کی پیش قدمی کے جواب میں ہمارے پاس وسائل اور افرادی قوت دونوں کی۔کمی تھی بھارت ہماری سرحدوں میں اندر بڑھتا آرہا تھا اور میرے ملک کے نوجوان فوجی جسم پر بم باندھ باندھ کر چلتے بڑھتے ٹینکوں کے نیچے جا لیٹے تھے۔۔ ہم سے بڑھ کر جزبہ ہے کسی قوم میں؟

وہ۔رک نہیں رہی تھئ۔۔ بولے جا رہی تھی

یہ۔۔ آخری سلائیڈ ہے۔۔
تاریخ نوٹ کیجئے۔

2008 پاکستان کے کیپٹل سٹی میں فائو اسٹار ہوٹل کی لابی میں بم دھماکا
یہ نوجوان جو آپ دیکھ رہے۔۔ اس دھماکے کا شکار
یہ مسجد میں نہیں گیا تھا۔۔ یہ کسی عبادت گاہ نہیں گیا تھا۔۔یہ کسی سیاسی اجتماع میں نہیں گیا تھا۔۔
یہ محض انیس سال کا نوجوان گیا تھا اپنی چھوٹی بہن کو اسکی سالگرہ کی ٹریٹ دینے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسپیڈ بڑھائیں مجھے بھوک لگ گئ ہے۔۔
اس نے ٹھنک کر کہا تو حماد ڈرایئو کرتے اسے گھورنے لگا۔۔
اور جو چپس اڑائے ہیں ساتھ سیلفی لیکر جو فیس بک پر لگائی اسکا کیا ابھی ایک گھنٹہ بھی نہیں ہوا اسے۔۔
وہ تو چپس تھے۔۔۔ اچھا بھائی اپنا فون دیں میں تصویر بنائوں گی ۔۔نئی فرمائش حاضر تھی
حماد نے گہری سانس لیکر فون اسے دیا
اس نے جھٹ تصویر لی اپنی اور حماد کی ڈرائئو کرتے ہوئے۔ بیک کیمرہ سیلفی۔ موبائل کو دیکھ کر تسلی نہ ہوئی۔۔
بھائی پائوٹ تو بنایا نہیں آپ نے۔
پائوٹ؟ وہ حیران ہوا۔
ایسے۔۔ اب اس نے باقائدہ منہ بنا کر دکھایا۔حماد ہنس دیا
تم بنائو نا جتنے مرضی پائوٹ بنانے مجھے رہنے دو۔
ایسے اچھی تصویر آتی۔ اس نے اصرار کرنا چاہا
چھوٹی ڈرائیو کر رہا ہوں پنگے نہ لو۔ ایکسڈنٹ ہوا نا تو بابا نے آئیندہ گاڑی نہیں دینی۔
اس نے ڈرایا تو وہ واقعی سیدھئ ہو کر بیٹھ گئ۔ اب اپنا فوٹو سیشن ہو رہا تھا
کوئی ایک آدھی سیدھے منہ والی تصویر بھئ لے لو۔
سگنل پر گاڑی رکی تو اسکی مصروفیت پر ٹوکے بنا نہ رہ سکا
آپ کچھ نہیں جانتے۔۔ اس نے منہ پھلایا۔۔۔
تمہاری سہیلی کہاں ہے اس نے سالگرہ کا تحفہ نہیں دیا تمہیں۔
اس نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا جیسے
وہ تو دے گی۔ ماموں کے گھر سے آ تو جائے۔ کہہ رہی تھی تمہاری پارٹی میں آئوں گئ کیا بتائوں پارٹی تو دور امی نے کیک تک نہیں منگوایا میرے لیئے ساگ بنا ہوا یے گھر میں
وہ بسوری حماد ہونٹ بھینچ گیا۔۔
سنتھیا کی سالگرہ پر اسکے ماموں اسے سرینہ لے کر گئے تھے۔۔ اتنا مزہ کیا تھا اس نے۔۔
اسکے شکوے جاری تھے۔
تم بھی اچھی جگہ جا رہی ہو گڑیا۔
اس نے پیار سے اسکا سر ہلایا۔۔
آپ میری ڈھئر ساری تصویریں لیں گا میں دکھائوں گی سنتھیا کو۔
وہ فورا خوش بھئ ہوگئ
حد ہے۔۔ وہ ہنسا
بھائی پاپا سے کہیں نا مجھے بھئ فون دلا دیں۔ بے شک آپ جیسا نہیں بس کلرڈ سکرین ہو۔
اس نے فرمائش کردی۔
حماد نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ اسے سالگرہ پر موبائل ہی گفٹ کرنے والا تھا وہ۔ پاپاسے پوچھ چکا تھا۔ امی نے اعتراض کرنا تھا مگر اریزہ کی اور کوئی دلچسپی بھی تو نہیں تھی گھر میں۔ موبائل میں گیمز وغیرہ ہی کھیل لیا کرے گی اور امی کے پاس بھئ کوئی نمبر ہونا چاہیئے یہی سب سوچ کر وہ اریزہ کے نام سے امی کو فون دیا جانا تھا۔
گیارہ سالہ اریزہ خوش بیٹھی تھئ۔۔دلچسپی سے باہر جھانک رہی تھی۔۔
وہ مسکرا دیا۔۔
پاگل ہوئے ہو کیا۔۔ اریزہ بچی ہے۔۔ ایسے فرمائشیں پوری کروگے تو بگڑ جائے گی۔ بتائو۔۔ سالگرہ منانی چلو ٹھیک ہے بچیوں کو بلا لیتی کیک کٹوا دیتی یہ کیا میریٹ میں ڈنر کرنا۔۔
صفیہ جھاڑ رہی تھیں۔۔
امی میں افورڈ کر سکتاہوں۔ اچھے خاصے پیسے ہیں میرے پاس۔ پاس ہونے کی خوشی میں اور پاپا کے تو سب فرینڈز مجھے اتنے گفٹ دے رہے وکالت کا انتخاب کرنے پر
ہاں تو اڑادو سب پیسے۔۔ وہ چڑ گئیں۔
بلکہ اڑا ہی دو کوئی چیز لے لو۔۔ کپڑے بنالو اچھا سا کوئی کمپیوٹر لے لو بیڈ پر رکھنے والا۔۔ اسکی فالتو ضد پر مت ضائع کرو

۔۔ کبھی کبھی تو ضد کرتی ہے بڑی ہوگی ٹھیک ہوجائے گی۔۔ اب سنتھیا نے اسے اپنی سالگرہ کی تصویریں دکھائی ہیں تو اسکا بھی دل۔کرگیا۔۔
میں تو کہہ رہا آپ بھی چلیں پاپا لاہور سے آج آجاتے تو انہیں بھی لے کر جاتا۔۔
نہ بابا مجھے تو نہیں جانا اتنا ساگ بنا رکھا ہے۔۔ سب ضائع ہوگا۔۔
انہوں نے منع کیا۔۔
آج اریزہ کی سالگرہ تھی ساگ نہ بناتیں۔۔ وہ کہے بغیر نہ رہ سکا۔۔
صبح سے رٹ رہی ہے میری سالگرہ میریٹ جانا
اس نے کونسا ساگ کھانا۔۔
وہ۔لاپروا تھیں۔۔
آپ اریزہ کا خیال رکھا کریں امی۔۔ ایسے ہی محسوس کرتی وہ ۔۔ اسے لگتا آپ مجھ سے زیادہ پیار کرتی ہیں
۔
صفیہ چھری رکھ کر گھورنے لگیں۔۔
اب یہ کیا میں اتنی بڑی لڑکی کو گود میں بٹھا کر رکھوں
پھر تم دونوں باپ بیٹا جیسے آنکھیں بند کرکے اسکی فرمائشیں پوری کرتے ہومیں بھی لاڈ اٹھائوں تو سر پر چڑھ جائے گی۔۔
بھائی۔۔ اریزہ نے ہلایا تو چونکا۔۔
آپ میرے لیئے کیا گفٹ لائے ہیں؟
ابھی سے بتا دوں؟
کیک کاٹو پھر دوں گا۔۔ اس نے چڑا کرکہا تو منہ پھلا گئ۔۔ وہ ہوٹل پہنچ گئے تھے وہ پارکنگ ڈھونڈنے لگا
پاپا بھی نہیں آئے کہہ رہے تھے کل تک آجائوں گا۔ میری تو کوئی برتھ ڈے بھی نہیں مناتا۔
تمہیں کوڑے خانے سے جو اٹھایا تھا۔۔وہ۔ہنسا
بھائی۔۔ وہ بھنا ہی گئ۔۔
ارے۔۔ ایک دم سے اس نے بریک لگائی۔۔ کوئی اسکی
گاڑی کے سامنے سے گاڑی لاتے ایکدم اسی پارکنگ میں گھسا جہاں وہ۔گاڑی لگانے لگا تھا۔۔
ابھی لگ جاتی۔۔ وہ بڑ بڑایا۔۔
اریزہ اپنی جھونک میں بیٹھی تھی ڈیشبورڈ سے ٹکرائی۔۔۔
لگی تو نہیں۔۔ اس نے سر سہلایا
نہیں ۔۔۔۔وہ بھنا گئی۔۔
مرتا ابھی۔۔
ایسے نہیں کہتے گڑیا۔ حماد نے نرمی سے ٹوکا۔۔
اچھی بات منہ سے نکالنی چاہیئے ہمیشہ
اس نے آرام سے گاڑی بیک کر کے دوسری جگہ پارک کی۔۔
اریزہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اندر داخل۔ہوئی تھی۔۔
اندر سما ہی کچھ اور تھا۔۔
بھائی موبائل دیں تصویر لوں گی۔۔ اسکو اینٹرینس پر ہی موبائل درکار تھا۔۔
وہ ہنس کر اسے اندر لے آیا۔۔
بیٹھو آرڈر کر لو بہت وقت ہے تصویروں کیلیے۔۔
اس نے مینیو کارڈ سامنے کھولا۔۔ موبائل نکال کر میز پر رکھا۔۔
اریزہ تاک میں تھی فورا اٹھا لیا۔۔
حماد اسے پیار سے دیکھ کر رہ گیا۔۔ کھانا کیا ہے کتنا ہے کوئی دلچسپی نہیں تھی اسے بس سیلفی لینی تھی۔۔ بیک کیمرہ سے وہ تصویریں لے رہی تھی۔ اس کے الٹے سیدھے پوز دیکھ دیکھ کر وہ ہنس پڑا۔۔
آپ کیوں ہنس رہے۔۔ وہ برا ما ن گئ
ایسی شکلیں دکھائو گی تو ہنسوں گا ہی۔۔ اس نے تصویر کی طرف اشارہ کیا۔۔
ایسے ہی لیتے ہیں تصویریں۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔
کتنی دیر لگے گی انکو۔۔ اس نے بے زاری سے پوچھا۔۔
پارہ بھرا تھا نا اریزہ میں۔۔
جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس اسکارف اوڑھے پائوں ہلاتی ٹیپیکل ٹین ایجر۔۔ آج بارہویں سالگرہ تھی اسکی۔۔
آج سالگرہ ہے اسکے لیے خوش ہونے کی یہی وجہ کافی تھی۔۔ کھانے میں دیر تھی غصہ آنے کیلیئے بھی اتنئ ہی وجہ بہت۔۔
اسکو کہیں جلدی کرے۔۔ اس نے کہا تو حماد اٹھ کھڑا ہوا۔۔
آجاتا ہے کھانا تم بیٹھو میں تمہارا گفٹ گاڑی میں ہی بھول آیا۔۔لے کر آتا ہوں۔۔
خیال یہی تھا گفٹ میں لگ کر بہل جائے گی۔۔
جلدی سے آئیں۔۔ اس نے منہ بنا کر کہا پھر موبائل کھول کر گیم کھیلنے لگی۔۔
حماد سیدھا پارکنگ گیا تھا۔۔ اسکا چانس گرا تو بور ہو کر موبائل رکھ دیا۔۔ تبھی اسے گلاس وال سے حماد چلتا ہوا آتا دکھائی دیا۔۔ وہ بھائی کو دیکھ کر الرٹ ہوئی۔۔ جانے کیا خیال آیا موبائل اٹھا کر اسکی تصویر لینے لگی۔۔ تبھی زوردار دھماکے کی آواز آئی
گلاس وال ٹوٹ کر چکنا چور ہوئی۔۔ وہ الٹ کر پیچھے گری تھی۔۔سر پر بہت شدید درد ہوا تھا۔۔ہال میں یکدم افراتفریح مچ گئ۔۔ شور ہنگامہ بتیاں بجھ گئی تھیں۔ دل پھٹنے لگے ایسی دردناک چیخیں۔۔ بھائی ۔۔ وہ۔کراہ کر اٹھنا چاہ رہی تھی۔۔ اسکا ہاتھ کسی ٹھوس چیز سے ٹکرایا۔۔ اس نے میز کا سہارا لے کر اٹھنا چاہا۔۔ اسکے ہاتھ میں موبائل تھا اسے یاد آیا۔۔ الٹ کر گرنے پر اسکے اوپر ہی آگیا تھا۔۔ اس نے ٹٹول کر موبائل اٹھایا۔۔ لوگ بھاگ رہے تھے۔۔ لوگ اٹھ بھئ نہیں پا رہے تھے۔۔ اس نے موبائل کی ٹارچ آن کی۔۔ سہارا لے کر اٹھی وہ رو رہی تھی یا بس ڈر کر چیخ رہی تھی اسکے اپنے منہ سے بھی کوئی گھٹی گھٹی سی آواز نکل رہی تھی یا نہیں اس ہنگامے میں اسے کوئی خبر نہ تھی۔۔
وہ ٹارچ کی روشنی میں اٹھ کر حماد کی سمت بڑھنا چاہ رہی تھی۔۔
اریزہ۔ اسے کسی نے پکارا تھا یا یہ بھی وہم تھا۔۔ وہ اندھا دھند بڑھئ۔ تبھی کسی نرم سی چیز پر پیر پڑا۔۔ وہ منہ کے بل گرتے گرتے سنبھلی۔۔ اسکئ گھٹنے زمیں سے ٹکرائے۔۔ اسکے ہاتھ گھٹنے سے گیلے ہو چکے تھے۔۔ اس نے کپکپاتے ہوئے ٹارچ کی روشنی ڈالی۔۔ وہ تیز گاڑھا سرخ خون تھا جس میں وہ لت پت تھی۔
اس نے زور سے چیخ ماری اٹھنا چاہا تو دیکھا وہ نرم سی چیز کسی انسان کا ہاتھ تھا۔۔ کوئی منہ کے بل اسکے سامنے گرا پڑا تھا۔۔ جانے زندہ تھا کہ نہیں ۔۔ بھائی۔۔ وہ بلک بلک کر رو رہی تھی تبھی جانے کہاں سے روشنی کا جھماکا ہوا۔۔ بڑی بڑی ایمرجنسی لائٹس لیے لوگ داخل ہوئے تھے۔۔ اسے لگ رہا تھا وہ اس پوری دنیا میں تنہا ہے۔۔ اس نے دوبارہ اٹھ کر بھائی کو ڈھو نڈنا چاہا۔۔ ٹارچ کی روشنی بکھرے شیشے۔۔ وہ لرزتے قدموں سے داخلی دیوار کی طرف بڑھی۔۔
وہ بچی دیکھو ۔ زخمی لگ رہی ہے پکڑو اسے
۔ کسی کی اس پر نظر پڑ ہی گئ تھی۔۔
وہ نجانے کیسے چلتی ہوئی باہر آئی تھی۔۔ حماد دروازے کے باہر ہی منہ کے بل پڑا تھا۔۔ اس نے پہچان لیا تھا۔۔ اسکے ہاتھ میں بالشت بھر کا گفٹ بھی ریپ ہوا تھا
اسے بھائی مل گیا تھا۔۔
مگر جب اس نے جا کر اپنے بھائی کو ہلا کر جگانا چاہا تو خیال آیا۔۔ کاش وہ پہلے ہی بے ہوش ہو جاتی۔۔ وہ بھائی کے اوپر آرہی تھی جب کسی نے اسے پیچھے سے آکر نرمی سے تھاما۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اریزہ کانپ رہی تھی
اسکی آنکھوں سے زاروقطار آنسو بہہ رہے تھے۔۔
اب بھی جب دنیا کہتی کہ پاکستان نے کچھ نہیں کیا تو میں ان سے کہنا چاہیتی
ہم نے واقعی کچھ نہیں کیا۔۔ پراکسی وار۔۔ دشمنی
سیاست
ہمارے حصے میں بس سزا آئی ہے۔۔ کیوں۔۔
ایڈلین کبھئ بم دھماکا دیکھا ہے؟
کسی زخمی انسان کے ہاتھ پر پائوں رکھا ہے؟
کسی اپنے کو آنکھوں کے سامنے بکھر کر دم توڑتے دیکھا ہے؟
تم نے پاکستان نہیں دیکھا۔۔ دیکھو پھر دکھانا دنیا کو بھی۔۔
ایڈلین نے سر جھکا۔لیا۔۔
یہ یہ ہے پاکستان اور یہ میں ہوں پاکستانی۔۔ وکٹم
ہایون کو لگا تھا وہ ابھی لہرا کر آگرے گی۔۔
مگر وہ واقعی ہمت والی تھی۔۔ لڑکھڑاتے قدموں سے واپس اپنی جگہ آرہی تھی۔تبھی گوارا اپنی جگہ سے اٹھی اور اسے آگے بڑھ کر تھام لیا۔۔ جی ہائے نے اسے آگے بڑھ کر بھینچ لیا تھا۔۔ سر اپنی آنکھیں پونچھ رہے تھے۔۔
سداکو۔۔ نے اٹھ کر تالیاں بجائی تھیں۔۔
میری پریزنٹیشن کا ٹائم بھی لے لیا ورنہ میں نے بھی پاکستان پر ہی بنائی تھی کیسے پاکستان نے جاپان کی زلزلون میں مدد کی۔۔ سر اگلی کلاس میں دکھا دوں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہایون جی ہائے گوارا یون بن شاہزیب سالک ایڈون کم سن سب اریزہ کے ساتھ لان میں جمع تھے۔ سب کی کوشش تھی کہ اسکا موڈ بہتر کر دیا جائے۔۔ وہ آنسو پونچھ چکی تھئ۔۔
سنتھیا نے دور سے ان سب کو دیکھا پھر پلٹ کر ہاسٹل جانے لگی۔۔
ایڈون کی اس پر نظر پڑی تھی۔۔وہ فورا پیچھے آیا
سنتھیا۔۔
کہاں جا رہی ہو؟۔۔۔ ایڈون کے پکارنے پر وہ جیسے زبردستی رکی۔۔ بے زاری سے مڑی۔۔
ہاسٹل اور کہاں؟
ہم سب باہر جانے کا پروگرام بنا رہے۔ اس نے بتایا تو سنتھیا نے کندھے اچکا دیئے
مجھے دلچسپی نہیں۔۔
سب جا رہے میں بھی۔۔ تم بھی چلتیں تو اچھا رہتا۔ ایڈون تھوڑا مایوس ہوا۔
سب جا رہے جانے دو۔ اگر کہیں جانے کا پروگرام ہے تو میں اور تم چلتے ہیں۔۔
سنتھیا نے کہا تو وہ لمحہ بھر کو سوچ میں پڑا۔۔
کل چلتے ہیں۔۔ ایکچوئلی میں نے ہی تجویز دی ہے ابھی اریزہ اداس سی تھی تو ہم بس اسے چئیر اپ کرنا چاہ رہے مگر۔۔
سنتھیا اسکی بات کے درمیان میں ہی جھٹکے سے مڑی اور تیز تیز قدم اٹھاتی چلی گئ۔۔
ہاہ۔ ایڈون سر پر ہاتھ مار کر رہ گیا
ایڈون ۔ اسے کم سن آوازیں دے رہا تھا۔۔
آیا۔۔ اس نے اشارے سے اسے جواب دیا۔۔۔
اسکا کیا کروں میں۔۔ وہ سوچ کر رہ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب مال آئے تھے۔۔ مال تھا کہ پورا شہر۔۔ اندر بس ایک نئی دنیا تھی روشنیوں سے بھری۔
مجھے ایکوریم دیکھنا۔ صرف میں ہی رہ گئ جس نے نہیں دیکھا۔۔ اریزہ نے جاتے ہی شور کیا۔۔
ایکوریم میں کیا رکھا چار جانور بس۔۔ آئو تمہیں کوریا کے بیسٹ برینڈز دکھاتی ہوں۔۔ جی ہائے نے اسکا بازو کھینچا۔۔
لڑکے سب گیمنگ زون میں گھس گئے۔۔ وہ تینوں ونڈو شاپنگ کرنے لگیں۔۔ ایک جگہ جی ہائے کو ایک ٹاپ شدید پسند آگیا۔۔
گوارا نے ناک چڑھائی
کتنے آف شولڈر ٹاپ لوگی ۔؟ٹریڈ مارک بن گیا ہے تمہارا اب یہ تو۔۔
اب میں کیا کروں کلر دیکھو سی گرین کتنا پیارا ہے۔۔ دونوں بحث میں لگ گئیں۔
اسکو تو وہاں سمجھ ہی نہ آیا کیا لے۔ ایک طرف لانگ فراکس تھیں انکو ٹائٹس یا جینز کے ساتھ پہنا جا سکتا تھا۔۔ اس نے یونہی ایک سفید فراک ساتھ لگا کر دیکھی۔۔ قیمت مناسب تھئ۔۔ اسکا لینے کا موڈ بن گیا۔۔
وہ کائونٹر پر بل بنوانے چلی آئی۔۔
مجھے وائٹ جینز بھی دکھائیں۔ اسے خیال آیا تو سیلز گرل سے کہا۔۔ اس نے فورا جھک کر تعمیل کی۔۔ مناسب قیمت میں جینز اور ٹاپ خرید کر مڑی تو دیکھا جی ہائے اور گوارا غائب ہو چکی تھیں۔۔
اب میں انہیں کہاں ڈھونڈوں۔۔ دکان سے نکل کر اس نے ادھر ادھر دیکھا دور دور تک دونوں کا نام و نشان نہیں تھا۔۔ بیگ سے موبائل نکال کر انہیں کال کرنے لگی تبھی سامنے موبائلز کی شاپ پر اسے ہایون دکھائی دے گیا۔۔ وہ فون بند کرتی اسکے پاس چلی آئی۔۔
موبائل لے رہے ہو۔۔اس نے قریب آکر پوچھا۔۔
نہیں۔ ہایون چونکا۔۔
میں ویسے ہی نیو گیجٹس دیکھ رہا ہوں۔
اس نے ایک گھڑی اٹھا رکھی تھی ۔۔ اس سے کال بھی ریسیو کی جا سکتی تھی فون سے کنیکٹ کر کے آپ فون کی سب سہولتیں استعمال کر سکتے ہیں۔۔
ہمم۔ ۔۔ پیاری ہے۔ اس نے تعریف کرکے نظر دوڑائی تو اسے سامنے بالکل ویسا ہی ایم پی تھری پلیئر نظر آگیا۔
آہش۔۔ یہ دکھائیں مجھے۔۔ اس نے فورا کہا۔۔
دلاور کیا قسمت ہے تمہاری نظر بھی آگیا مجھے۔وہ حسب عادت بڑ بڑائی۔۔
میم ۔۔ اس نے بے حد احتیاط سے اسکے سامنے لا رکھا۔۔
یہ تو بالکل تمہارے جیسا ہے نا۔۔ ہایون نے پہچان لیا
تبھی تو نکلوایا ہے۔ اس نے ایک بھنوں اچکاکر اترا کر دیکھا۔۔
کتنے کا ہے۔؟ ۔۔
ایک لاکھ۔۔ ڈالر۔۔صرف۔
اچھا۔ دونوں نے مسکرا کر سر ہلایا۔۔ ایک دوسرے کو دیکھا
ایک لاکھ۔۔ ڈ۔۔ دھراتے ہوئے ٹھٹکے پھر اکٹھے چیخ پڑے
کیا؟ ڈالر؟
سیلز مین نے جھک کر ادب سے دوبارہ دھرایا۔۔
سونے کا ہے۔ ؟
اریزہ نے اسے ہی الٹ پلٹ کر دیکھا۔۔
نہیں لیٹسٹ ماڈل ہے لمیٹڈ ایڈیشن ہے۔۔ پورے کوریا میں بس دس پیس ہیں یہ۔۔جن میں پانچ تو برانڈ ایمبیسڈر بریو ہارٹس کےمیمبرز کے پاس ہی ہے۔۔
انکی لیٹسٹ البم کو یہی برانڈ اسپانسر کر رہا۔۔
اس نے تفصیل سے بتایا۔۔
یہ اتنی مہنگی چیز میں مزے سے لے کر گھوم رہی۔۔ وہ شاکڈ رہ گئ۔۔
بریو ہارٹس؟
اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔
انہی کے گانے سنتی رہتی ہو سارا وقت بریو ہارٹس
ہایون نے مزاق اڑانے والے انداز میں جتایا۔۔
یہ بالکل نئی ٹیکنالوجی ہے۔۔ میم ۔۔ اس میں پری انسٹالڈ میوزک ایپ ہے اس کو نئی دھنیں بنانے میں عموما موسیقار استعمال کر تے ہیں پہلی بار اس کو اتنی چھوٹی گیجڈ کے ساتھ لانچ کیا گیا۔ ہے۔۔ سو ابھی بس ٹیسٹ بیسز پر چل۔رہا ہے۔۔ اگر یہ آئڈیا ہٹ ہو گیا تو مزید اس کے ایڈیشن لانچ کیئے جائیں گے۔۔
وہ سیل مارنے کے فل۔موڈ میں تھا۔۔
اتنی مہنگی گیجڈ پر فورا نظر گئ یقینا مالدار پارٹی ہوگی وہ یہی سمجھا تھا۔۔
اریزہ کھسیا کر مسکرائی۔۔ جس شوکیش سے اٹھا کر لایا تھا وہ اس پر بالشت بھر کا بورڈ قیمت کا بھی لگا تھا جو ان موصوفہ کو دکھائی بھی نہیں دیا۔۔
ہمم۔ اچھی ہے۔۔ اس نے واپس رکھ دیا۔۔
چلیں ہایون ؟
وہ اب یہاں سے فوری نکلنا چاہ رہی تھی۔۔
اسے لگ رہا تھا کسی کو پتہ چل گیا کہ یہی گیجٹ ابھی بھی اسکے بیگ میں ہے تو یہیں گن پوائنٹ پر نکلوا لیں گے۔۔
لینا نہیں تم نے۔۔؟
ہایون نے پوچھا تو وہ حسب عادت اردو میں بولی۔۔
میرے خاندان میں کسی نے ایک لاکھ ڈالر اکٹھے نہیں دیکھے۔۔ کوئی نہیں لینا میں نے۔۔
وے ؟
بے چارہ سمجھ نہیں پایا۔۔
آنیو۔۔ میں نہیں لینا چاہتی۔۔ اس نے کوریائی انداز میں مسکرا کر جھک کر مایوس ہوتے سیلزمین کو سلام کیا پھر ہایون سے بولی۔۔
چلو۔۔ بھی۔۔
وہ حیرت سے اسکا انداز دیکھ رہا تھا۔۔ اسکے ساتھ باہر نکلتے ہوئے پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔۔
تمہیں اپنے پلیئر کی قیمت کا نہیں پتہ تھا ؟
اپنا ہوتا تو پتہ ہوتا نا۔۔ اس نے سر جھٹکا۔۔
انگلش۔۔ ہایون نے بے چارگی سے کہا۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا۔۔ یہ میرا ہے بھی نہیں مجھے تو اس بریو ہارٹس کے سنگر نے ہی دیا تھا مجھے تو سستی سی چیز لگی تھی۔۔ مگر اب مجھے یہ اسے واپس لوٹانا چاہیئے۔۔ وہ سنجیدگی سے بتا رہی تھی
بریو ہارٹ کے میمبر نے تمہیں کیوں دیا ؟ جانتی ہو تم اسے؟
ہایون کی حیرانی دوچند ہوگئ۔۔
لمبی کہانی ہے۔۔ اس نے گہری سانس لی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گلاس وال سے ناک چپکا کر وہ اود بلائو کو مخاطب کر رہی تھی مگر مجال ہے جو اس کورین اود بلائو کو پاکستانئ حسینہ میں زرا دلچسپی محسوس ہوئی ہو۔۔ منہ پھیر کر بیٹھ گیا۔۔
ارے۔۔ وہ مایوس ہوئی۔۔
کچھوے البتہ اسے منہ لگا رہے تھے۔۔ بڑی بڑی مچھلیاں تیرتئ ہوئی شیشے کے بالکل قریب آجاتیں۔۔ اتنے قریب کہ لگتا وہ خود بھی پانی میں ہی ہے۔۔ اسکے چہرے پر اتنا اشتیاق اور خوشی تھی کہ ہایون حیران ہو ہو کر دیکھ رہا تھا۔
پاس سے گزرتی دو کورین لڑکیوں نے اسے دیکھ کر
جملہ چست کیا تھا۔۔
کس جہان سے اٹھ آتے ہیں لوگ۔۔ جانور بھی حیران ہو رہے ہیں۔۔
ہنگل میں کہہ کر ہنسی تھیں۔۔ ہایون نے پلٹ کر باقائدہ گھورا انہیں۔۔ تو سر جھٹکتی آگے بڑھ گئیں
آگے بھی چلو اور بھی جانور ہیں ۔۔ اسے کہنا پڑا۔۔
ہمم۔ ۔۔
آکٹوپس لہراتا آیا وہ اسے چھونے کو بڑھ گئ۔۔
اف کتنا خوبصورت ہے سب۔۔
وہ واقعی مسحور ہو رہی تھی۔۔
اتننے مختلف جانور تھے کہ اسے تو انکے نام بھی معلوم نہ تھے۔۔
وہ چھوٹی مچھلیوں کو شیشے پر انگلی رکھ کر بلا
رہی تھی۔۔ سب جمع ہوگئیں۔۔ تبھی ایک بڑی مچھلی سیدھی آئی۔۔ آکر شیشے سے ٹکرا گئی۔۔ وہ بری طرح چونک کر پیچھے ہٹی۔۔ لگ رہا تھا سیدھا شیشے سے باہر نکل کر اس پر آگرے گی۔۔
اسکے ڈرنے پر ہایون نے کھل کر قہقہہ لگایا تھا۔۔ وہ اسکے ہنسنے پر پہلے تو اسے گھورنے لگی پھر خود بھی کھلکھلا کر ہنس دی۔۔ گھنٹہ ایک وہاں گھومتے ہو گیا تھا جب اسے ایڈون کی کال آئی۔
کدھر ہو ؟
ہم۔ایکوریم میں۔ہایون نے بتایا تو وہ بھی حیران رہ گیا۔۔
ابھی تک ؟چلو اوپر کراوکے کلب آجائو۔۔ ہم سب یہیں ہیں۔۔
اچھا۔۔ اس نے فون رکھ کر اریزہ کو دیکھا جو ابھی بھی اتنی ہی مگن تھی۔۔
چلو پھر آجانا سب اوپر ہمارا انتظار کر رہے۔۔
ہیون نے کہا تو وہ ایسے منہ بنانے لگی جیسے ابھی دل نہیں بھرا۔
چلو۔۔
وہ بیگ کندھے پر سیدھا کرتی بولی۔۔
ہایون کو خیال آیا۔۔ ادھر ادھر دیکھا۔۔
جہاں سے وہ اود بلائو کو بلا رہی تھی وہاں دیکھا۔۔
کیا ڈھونڈ رہے۔؟وہ حیران ہوئی۔
تمہارے ہاتھ میں بیگز تھے۔۔ اس نے یاد دلایا۔۔
اف۔۔ وہ سر پر ہاتھ مار کر چونکی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موبائل شاپ والے کا شکریہ ادا کر کے انہوں نے وصول کیا۔۔ وہیں کاونٹر پر بھول آئی تھی۔۔
وہ دونوں برقی سیڑھیوں پر چڑھے تو اس نے ہایون کا شکریہ ادا کیا۔۔
کس لیئے؟۔۔ وہ واقعی حیران ہوا۔۔۔
بیگ یاد رکھنے کیلیے۔۔ بھول جاتی ابھی میں نقصان ہو جاتا۔۔ پتہ ہے پاکستانی کرنسی مین کتنے بن جاتے یہ؟
کتنے؟۔۔ اس نے دلچسپی سے پوچھا۔۔
وہ۔۔ وہ۔۔۔ اریزہ اٹکی۔۔پھر منہ بنا کر بولی
پتہ نہیں۔۔
ہایون بے ساختہ ہنسا۔۔
تم کافی مزاحیہ ہو۔۔
یہ کامپلیمنٹ تھا؟ ۔۔ وہ وہیں اٹک گئ۔ اوپر آچکے تھے۔۔سو جلدی آگے بڑھ کر سیڑھیاں پار کر لیں۔۔
تم۔لوگوں کو۔کلب میں کیا مزا آتا۔
کان پھاڑنے والا شور سن کر اس نے منہ بنا کر کہا۔۔
ہایون سن نہ سکا
کیا؟
مگر کچھ سنائی دے تب نا۔
وہ ایک بڑا سا کمرا تھا جس پر ایک دیوار پر بڑی سی ایل۔ای ڈی لگی ہوئی تھی۔ جس پر ایک گانا چل رہا تھا اور اسکے بول رومن اور ہنگل میں لکھے نظر آرہے تھے یون بن اور کم سن مائک پکڑے کسی پاپ سنگر کی طرح جھوم جھوم کر گا رہے تھے۔۔ آواز دونوں کی گزارے لائق تھی مگر اسے یہ پسند آیا انداز۔۔
باقی سب بڑے سے صوفے پر لائن سے بیٹھے انکا گانا سن رہے اور ہوٹنگ کر رہے تھے۔۔
پنتالیس فیصد۔۔
گانے کے اختتام پر انکی کوشش کو گریڈ بھی کیا گیا تھا۔۔
یےےے۔۔
کم سن جھک جھک کر شکریہ ادا کر رہا تھا۔۔
یہ تو بڑے مزے کی چیز۔اسے بھی دل کیا۔۔
یار انگلش سانگ لگائو ۔۔ہم تو یہ سمجھ بھی نہیں پا رہے۔۔ یہ سالک تھا۔۔
ہاں۔ اب ایڈون اور سالک گانا چاہتے تھے جو گانا لگاتے انکو نہیں پسند آتا۔۔
گوارا بور ہوگئ۔۔
بس کرو بھوک لگ گئ بس اب۔۔
میں نے بھی گانا ہے۔ اس نے ایڈون کو کہہ ہی دیا
پھر سہی واقعی بہت دیر ہوگئ۔۔ اب کھانا کھا کر چلنا چاہیئے۔۔ ایڈون نے صاف منع کر دیا۔۔
وہ دل مسوس کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا اپنے اپارٹمنٹ کی بلڈنگ پر اتری تھی۔۔ جی ہائے کو خدا حافظ کہتی وہ ہایون کی گاڑی کے پاس آئی تھی۔۔
کم سن فرنٹ سیٹ پر تھا ہایون ڈرایئو کر رہا تھا۔۔ اس نے فورا شیشہ نیچے کیا مگر وہ پچھلی نشست کی طرف بڑھی۔۔ اریزہ اسے دیکھ کر حیران سی ہوئی۔۔
میں کل یونی نہیں آئوں گی۔۔ جی ہائے کل شام کو آرہی ہے ویک ایںڈ گزارنے تمہیں مجھے ہر بار انوائٹ کرنے کی ضرورت تو نہیں؟
وہ سوال پر بھونچکا ہی رہ گئ۔۔
پھر ہلکے سے نفی میں سر ہلا دیا۔
گڈ سی یو ٹومارو۔۔
وہ کہتی ہاتھ ہلاتی چلی گئ۔۔
تمہاری گوارا سے اچھی دوستی ہوگئ ہے۔۔
کم سن نے مسکرا کر بیک ویو مرر سے اسے دیکھا۔۔اس نے مسکرا کر کندھے اچکا دیئے۔۔
ہایون شا تمہاری گرل فرینڈ میں ٹیلنٹ ہے ویسے۔۔ وہ ہنگل میں بولا۔۔
وہ میری گرل فرینڈ نہیں ہے۔۔ ہایون نے اسکی غلط فہمی دور کی ۔۔
بنا نے کا ارادہ بھی نہیں؟۔۔ وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔۔ ہایون نے کنیا کر دیکھا اسے۔۔
زندگی جی جا کے اپنی۔ ہایون نے مکھی اڑائی
پاگل ہو کیا۔۔
اریزہ ایکدم زور سے چیخی تھی کہ دونوں اپنی اپنی جگہ اچھل ہی پڑے۔۔ دونوں نے بے ساختہ مڑ کر دیکھا۔۔۔ وہ فون پر کسی سے بات کر رہی تھی انکی جانب متوجہ نہیں تھی
جانے کب اس کو فون آیا وہ باتوں میں لگے تھے پتہ نہ چلا۔۔
اس میں پاگل کی کیا بات۔۔ صارم نے منہ بنایا۔۔
ایک لاکھ ڈالر کی چیز تو تم بھی دے سکتی ہو مجھے۔۔ اس نے مکھن لگایا
کیوں میں پاگل ہوں کیا؟۔۔ اس نے الٹا سوال کیا۔۔
نہیں تم اچھی ہو۔۔
ہاں اچھی ہوں پاگل نہیں۔۔اریزہ نے مزید چڑایا
میں پاگل ہوں خوش۔۔ وہ زچ ہوا۔
ہاں تم پاگل ہی ہو۔۔
وہ مزے سے بولی۔۔
ٹھیک ہے مرو تم ۔۔ وہ بھنا گیا۔۔
اتنا کیوں پاگل ہو رہے ہو ۔۔اریزہ واقعی حیران تھی۔۔
تم نے مجھے ایک بار اور پاگل کہا میں فون سے نکل کر ماروں گا۔۔
پاگل۔۔ اریزہ نے کہا تو اس نے گھور کر فون کو دیکھا اور کال بند کر دی۔۔
پاگل ۔۔۔ اسکے بچوں کی طرح ناراض ہونے پر وہ ہنس دی۔۔
وہ دونوں انجانے میں اسکی جانب متوجہ ہوگئے تھے سو اسکی پاگل کی گردان دونوں کو مسکرانے پر مجبور کر گئ
کم سن اسی کینجانب متوجہ تھا شیشے میں دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔
اریزہ تمہاری زبان کو کیا کہتے۔۔؟
اردو۔۔ اس نے فون میں مصروف رہتے جواب دیاتھا۔۔
مزے کی ہے سننے میں۔۔ تمہاری آواز بھی تمہاری طرح اچھی ہے۔ اس نے بے لاگ تعریف کی۔۔
اریزہ تھوڑی حیران ہوئی مگر مسکرا کر شکریہ ادا کیا۔
تھینکس۔۔ پھر خیال۔آیا تو بولی
گوما وویو۔۔
دونوں اسکے انداز پر ہنس پڑے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس بجے کے قریب ہاسٹل پہنچی تھی۔۔ سنتھیا لائیٹ بند کر کے شائد سو چکی تھی۔۔ اس نے موبائل کی ٹارچ کی روشنی میں سنبھل سنبھل کر سیڑھییاں چڑھیں۔۔ تبھی سنتھیا نے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا۔۔ وہ اوپر چڑھتے چڑھتے رک گئ۔۔
سنتھیا۔ اب کیسی طبیعت ہے؟ ایڈون کہہ رہا تھا تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں جبھی تم آج ہمارے ساتھ نہیں گئیں؟
میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے میں جانا نہیں چاہتی تھی تم لوگوں کے ساتھ۔۔۔
سنتھیا نے مزاج کے برعکس خشک اور کھردرے انداز میں کہا۔۔ اریزہ نے اچنبھے سے اسے دیکھا کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر سنتھیا پہلے سے زیادہ کھردرے انداز میں بولی۔۔
اور ہاں اپنے لیے الارم خود لگایا کرو میں ملازمہ نہیں ہوں تمہاری کہ ر
وز تمہیں اٹھائوں۔۔
اے۔۔ اریزہ تن فن کرتی سیدھی اسکے سر پر آگئ۔۔
میں بھول گئ تھی تم نے صبح مجھے اٹھایا نہیں؟ جبکہ پتہ تھا کہ میری آج پریزنٹیشن ہے میں لیٹ ہو گئ تھی ۔۔
تو؟۔۔ سنتھیا نے بھنویں اچکائیں۔۔
تو کیا؟
اریزہ بھنائی
کیا تکلیف ہوئی ہے اچانک؟ ایسے کیوں بے مروت ہوئی وی۔ہو؟
میری مرضی۔۔ اس نے چادر منہ تک۔کھینچ ڈالی۔۔
اے۔۔ اریزہ نے جھٹکے سے اوپر سے چادر کھینچی۔
یہ گرل فرینڈ والے نخرے ایڈون تک محدود رکھو سمجھیں۔۔میرے سامنے ہیروئن بننے کی ضرورت نہیں۔
وہ انگلی اٹھا کر وارن کر رہی تھی۔۔
سنتھیا استہزائیہ ہنسی۔
تمہارے ہوتے تو ایڈون کے سامنے بھی نخرے نہیں کر پاتی۔۔ وہ بڑبڑائی۔

کیا کہہ رہی ہو؟
اریزہ سن نہیں پائی تھی۔۔
کچھ نہیں۔۔ تم اور ایڈون خوب مزہ کرتے رہے ہوگے۔۔ اس نے چبھتے انداز میں کہا تھا مگر اریزہ محسوس نہ کر پائی۔
ایڈون سے تو بات بھی نہیں ہوئی میری مجھے ہایون دکھاتا رہا ایکوریم۔۔ تم نے بھی دیکھ لیا تھا نا ایڈون کے ساتھ جا کے میں ہی رہ گئ تھی بس۔۔ وہ منہ پھلا کر اسکے پاس ہی بیٹھ گئ۔۔پھر یاد آیا۔
سنتھیا پتہ ہے جوپلیئر وہ چینی چھوڑ گیا تھا وہ کتنا مہنگا تھا۔۔
کورین۔۔ سنتھیا۔۔ نے تصحیح کی۔۔
ہاں وہی۔۔ اریزہ نے کان سے مکھی اڑائی۔۔
پتہ ہے ایک لاکھ ڈالر کا۔ہے۔۔ مجھے تو تب سے فکر لگی ہوئی تھی۔۔ مجھے پتہ ہوتا تو میں اطمینان سے لیکر تھوڑی بیٹھی رہتی۔۔ کیا سوچتا ہوگا اتنی۔مہنگی چیز ہڑپ گئ۔۔
وہ افسوس سے سر ہلا۔رہی تھی۔۔ سنتھیا نے غور سے اسکو دیکھا۔۔
شولڈر کٹ گھنے سیاہ بالوں کو لاپروائی سے کیچر لگا کر باندھے بیٹھی تھی۔۔ اس نے فلک کٹوایا ہوا تھا جو اس پر کاف جچتا تھا۔۔ ابھی تو فلک کے علاوہ۔بھی۔کیچر سے بال۔نکل۔کر اسکے چہرے پر لہرا۔رہے تھے اسکا گول سا چہرہ نیم اندھیرے میں بھی دمک رہا تھا۔۔ ٹارچ کی روشنی اس پر ترچھی پڑ رہی تھی۔۔ بڑی آنکھیں ستوان ناک۔۔ گلابی ہونٹ بھرے بھرے گال۔۔ وہ۔حسرت سے اسے دیکھتی رہی۔۔
کیسا لگا؟۔۔
وہ ٹارچ کی روشنئ میں اسے اپنے کپڑے دکھا کر پوچھ رہی تھی۔۔
بہت پیاری۔ ہو تم۔۔
پیاری؟۔ اریزہ چونکی۔
اس پر موبائل کی ٹارچ ماری۔۔ اس نے فورا ہاتھ۔آگے کرکے روشنی روکی۔
میں شرٹ دکھا رہی تھی؟
تم کیا دیکھ رہی تھیں۔۔ اس نے مشکوک نظروں سے گھورا۔۔
تمہیں۔۔ سنتھیا مسکرادی۔۔
تم اتنی گوری چٹی پیاری سی کیوں ہو۔۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولی۔۔اریزہ ہنس دی۔
پتہ نہیں میں پیدا ہی ایسی ہوئی تھی۔۔
اس نے آنکھ دبائی۔۔
کاش میں بھی ایسی ہی پیدا ہوئی ہوتی۔۔
سنتھیا نے کہا تو اریزہ زور سے ہنسی۔۔
تم تو دوبارہ پیدا ہونے سے رہہیں چلو یہ دعا دیتی ہوں تمہاری بچی خوب گوری چٹی حسین ہو بالکل مجھ پر پڑے۔۔ حالانکہ نا ممکن دعا ہے کیونکہ ایڈون تم سے بھی زیادہ کالا کلوٹا ہے۔۔وہ ہنستے ہنستے چھیڑنے سے باز نہ آئی۔۔سنتھیا نے تکیہ اٹھا کر اسکی ٹھکائی شروع کر دی تھی۔۔ وہ بمشکل اسکے وار سے بچتی سیڑھیوں پر بھاگی۔۔
نیچے آئو جان سے مار دوں گی۔ سنتھیا نے دانت کچکچا کر کہا تھا مگر اس پر اثر نہ تھا۔۔ کھلکھلاتی پھر چھیڑ بیٹھی۔۔
ویسی سنتھیا کوئی کورین پٹا لو تمہیں تو مزہب کا بھی مسلہ نہیں گورا چٹا تو ہوگا۔۔
تمہاری تو۔۔ سنتھیا نے تکیا کھینچ مارا۔ وہ جھکائی دیتی ہنستی اوپر بھاگ گئ۔
ویسے سنتھیا۔۔ وہ اب اوپر ریلنگ سے جھانک رہی تھی۔۔
تم۔۔ سنتھیا اسے مارنے کو کچھ ڈھونڈنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپکے پاس کسی کی بہت قیمتی چیز ہو تو آپ اسے ہڑپ لیں گے یا واپس کریں گے؟
میں واپس کرنا چاہتی مگر مجھے سمجھ نہیں آرہا کیسے دوں۔۔ ۔۔ اس نے بلاگ پر سوال شائع کیا۔۔
پہلا کمنٹ۔۔
کون دل دے بیٹھا اب تمہیں۔۔ کسی کا۔تو رکھ لو ایڈمن۔۔
دوسرا۔۔
رکھ لو تمہارا بل آتا۔۔
تیسرا۔۔
ہمیں کیا پتہ جیسے چرائی ہے ویسے واپس بھی کر دو
چوتھا۔۔
کیا چیز ہے؟
پانچواں۔۔
اخیر کوئئ فارغ عوام ہے ہماری ایک احمق لڑکی فضول بلاگ پر احمقانہ مراسلے شائع کرتی اور سب اس پر تبصرے کرنا شروع کر دیتے۔۔ فارغ لڑکی مجھے دیدو وہ چیز مانگ بھی رہا ہوں میں تو۔۔
چارمنگ ڈوڈ۔۔ آئی ڈی جانی پہچانی تھئ
پندرہ لوگ اسکا تبصرہ سراہ چکے تھے
اس نے دانت کچکچا کر صارم کی شان میں گستاخی کی۔۔
میں اپنے ساتھ قبر لے جائوں گی تمہیں نہیں دوں گی۔
اس نے یہی لکھ ڈالا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو چیز آپکی نہیں اسکو واپس تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ یہی بہتر طریقہ ہے۔
اس نے یہی لکھا۔۔ لیپ ٹاپ بند کرکے وہ گہری سانس لیتا اٹھ کھڑا ہوا جیکٹ پہن کر اپنے باہر جانے والے جوتے ریک سے نکالتا اپنے اپارٹمنٹ سےنکلا ۔ رخ ایک۔بار پھر اپنے گھر کی جانب تھا۔

ختم شد
جاری ہے

Kesi Lagi Salam Korea ki qist ? Rate us

Rating

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *