Tag: URDU WEB NOVEL

  • Salam Korea urdu desi novel web travel Episode 42

    Dive into the Exciting World of “Salam Korea” Urdu Novel with the Latest Episode salam korea 

    by vaiza zaidi

    Salam Korea urdu desi novel web travel Episode 42

    https://desikimchi.com/is-it-doctor-slump-worth-watching-get-the-facts-here-park-hyungsik-and-park-shin-hye-starter-2024-kdrama/

    قسط 42

    شدید طوفان برفباری راستے بند۔ سفر میں احتیاط اور متبادل راستوں کے حوالے سے ایپلیکیشن کا نوٹیفیکیشن آیا تھا۔اس نے چونک کے فون اٹھایا تھا پھر بدمزہ ہوگئ۔ اس نے ایپ پر اپنی نئی لوکیشن اپڈیٹ نہیں کی تھی جبھی سول میں آنے والے آندھی طوفان سے ڈرانے کیلئے ایپ نے پیغام بھیجا تھا۔ اس نے وقت دیکھا صبح کے ساڑھے چھے ہو رہے تھے۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی  گوارا اور ہوپ بے خبر سو رہی تھیں۔ اس نے احتیاط سے اپنے اوپر سے کمفرٹر اتارا گوارا کی جیکٹ اٹھا کر پہنتی کمرے سے باہر نکل آئی۔  

    باہر لائونج میں آکر صوفے پر بیٹھ کر کال ملا لی۔ 

    دوسری یا تیسری بیل پر ہی صارم کی نیند میں ڈوبی آواز سنائی دی

    ہیلو۔ 

    یہ مت کہنا کہ سو رہے تھے میں نہیں ماننے والی۔ 

    اسکی بات پر صارم آنکھیں مسل کر فون دیکھا پھر بھنا کر بولا

    رات کے دو بجے میں کیا کبڈی کھیل رہا ہوں گا؟ سو ہی رہا تھا۔

    کوئی بات نہیں اب تو جاگ گئے ہو نا۔ اس نے کندھے اچکا دییئے۔

    خیریت ؟ 

    اسے فکر ہوئی۔ 

    ہاں خیریت ہے ۔۔ وہ آرام سے بولی

    بتائو اب کیا کھڑاگ پھیلا کر بیٹھی ہو جو میں یاد آیا ہوں اس وقت۔ 

    وہ اسکی رگ رگ سے واقف تھا۔۔ یقینا کوئی بات اسکی نیند اڑائے ہوئے تھی۔  سو جمائی لیتا سیدھا ہوبیٹھا

    کچھ نہیں۔ دل گھبرا رہا تھا۔ سوچا تم سے بات کرلوں۔ اسکے انداز میں کچھ تو ایسا تھا کہ صارم سنجیدہ ہوگیا

    تم آجائو واپس گھبرا رہی ہو دل بھی نہیں لگ رہا تووہاں کیوں ہو؟ 

    بس تمہیں یہی آتا ہےجب دیکھو ایک ہی بات بس پاکستان آجائو۔ وہاں تو لڈو بٹ رہے ہیں نا۔ 

    وہ جھلا کر بولی۔ صارم نے گہری سانس لی۔

    کیا ہوا ہے؟

    کچھ نہیں بولا نا۔ اسکی آواز رندھنے لگی۔ 

    آنکھوں سے آنسو بھی پھسل آئے۔ چند لمحے بے آواز روتے جب آنسو نہ تھمے تو خود پر قابو پا کر بولی

    اچھا سو جائو ۔۔ 

    خاک سو جائوں؟ وہ چڑ گیا۔

    اب بتائو کیا ہوا کیوں رو رہی ہو؟ 

    میں تو نہیں رو رہی۔ وہ صاف مکر گئ۔

    ہاں جیسے مجھے تو پتہ نہیں چل رہا کچھ ۔ بولو کیا ہوا؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟ سنتھیا نے پھر کچھ کیا ؟ 

    وہ خود ہی اندازے لگانے لگا۔اس نے سوتے میں صارم کو پریشان کردیا تھا۔ اسے خود پر غصہ آنے لگا۔ سنبھل کر بولی

    کچھ نہیں۔ بس تم یاد آرہے تھے توکال کرلی ۔ سوری نیند بھی خراب کردی تمہاری۔ آئیم ریئیلی سوری۔

    اریزہ۔ اس نے مصنوعی خفگی سے گھرکا۔ پھر پیار سے بولا

    کیا ہوا ہے ؟ بتائو مجھے کیوں پریشان ہو؟۔ 

    اسکی بات پر وہ چپ ہوگئ۔پھر کہہ ہی ڈالا

    مجھےخود نہیں پتہ۔ بس عجیب بوجھل ہو رہا تھا دل۔ رات کو گوارا کے گھر آتے رستہ بھول گئ تھی۔۔

    صارم پریشان ہو اٹھا

    پھر ؟ کیسے واپس آئیں ؟ پینک اٹیک تو نہیں ہوا ؟ گوارا کہاں تھی۔

    گوارا نہیں تھی پاس۔ وہ بولتے پھر رو پڑی۔

    پھر کیا ہوا؟ بول کر بتائو روئو مت۔ بولو شاباش کیا ہواتھا؟ 

    صارم اسے بولنے پر اکسا رہا تھا۔ 

    بس میں راستہ بھول گئ تھی۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کیسے واپس آئوں۔ 

    وہ ہچکیاں لے کر رو رہی تھی۔ 

    ہمم۔ فون کر لیتیں گوارا کو۔ فون تھا پاس؟۔

    صارم کو فکر بھی ہو رہی تھی۔ 

    ہوں۔ اس نے دھیرے سے ہنکارا بھرا۔

    یاد ہے نا ڈاکٹر نے کیا کہا تھا؟ جو محسوس کرو بولو۔ ابھی بھئ مجھے بول کر سب بتائو۔ رونے سے مسلئہ حل نہیں ہوگا۔ بولو شاباش پھر کیا ہوا۔۔کیسے واپس آئیں ہیون کہاں تھا؟

     

    ہیون۔ ہیون نے کال کی تھی۔ اس نے کہا گہری سانس لو۔ میں نے لی۔ پھر کال بھی کٹ گئ۔پھر مجھے پینک اٹیک بھی ہوا اسکے بعد سے آنکھیں بند نہیں کر پا رہی بار بار لگ رہا اسی سڑک پر کھڑی ہوں۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ 

    اس نے روانی سے بتایا تو صارم چونک سا گیا۔

    چند لمحے خاموشی سے رونے کے بعد اس نے ہتھیلی کی پشت سے آنسو صاف کیئے۔ 

    اچھا مجھے نیند آرہی ہے۔ میں سونے جا رہی ہوں تم بھی سوجائو۔ 

    ٹھیک ہے۔ صارم نے بحث نہیں کی۔ اریزہ نے فون کاٹ دیا۔ 

    اس وقت تو پینک اٹیک تھا۔ اس وقت کیا ہوا ہے تمہیں؟

    اسکی کالنگ آئی ڈی پر لگی تصویر دیکھتے وہ پرسوچ انداز میں بولاتھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ذہن بوجھل تھا خواب میں بھی سڑک پر ہی بیٹھی رو رہی تھی ۔ جب کسی نے دھیرے سے اسکے شانے کو تھپکا۔ 

    سب ٹھیک ہے اریزہ۔ 

    اس نے سر اٹھا کر دیکھا ۔۔۔ 

    مانوس چہرہ ۔۔۔ 

    اس نے مطمئن سا ہو کر آنکھیں موند لیں۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح اسکی آنکھ کھلی تو سرمیں درد کی ٹیس اٹھی تھئ۔ اس کا ہاتھ بے ساختہ پیشانی پر گیا۔ سرابھی بھی چکرا رہا تھا۔ شدید پیاس لگ رہی تھی۔ 

    پانئ۔ اس نے پکارنا چاہا مگر آواز حلق سےسرسراتئ سی ہی نکلی۔ اسے خود بھی آواز نہیں آئی تو نرس کو الہام ہونے سے رہا۔ اس نے خود ہمت کرکے اٹھنا چاہا تو جسم ہلنے سے بھی قاصر تھا۔ صوفے پر نیم دراز کم سن کی یونہی آنکھ کھلی تو اسے ہلتے جلتے دیکھ کر اٹھ کر آیا۔ 

    کین چھنا؟ 

    مانوس آواز ایکدم قریب سے آئی تھی۔  چونک کے اس نے بائیں جانب رخ موڑا۔ کم سن فکرمندی سے اس پر جھکا تھا۔

    پپ۔پانی۔ 

    سوکھے لبوں پر زبان پھیرتے اس نے بمشکل کہا۔ 

    دے؟ وہ سمجھ نہ پایا ۔ اس نے اشارہ کرنے کیلئے بازو اٹھایا توکنولا لگا ہوا تھا ۔درد کی لہر سی اٹھی۔ وہ کراہ کر رہ گئ۔

    ایک منٹ ۔ کم سن نےاسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اٹھنے سے منع کیا  

    پھر بیڈ کے ریموٹ سے اسکا بیڈ تھوڑا اونچا کردیا۔

    پانی۔ اسکا ذہن اتنا بوجھل تھا کہ پانی کے سوااسے کچھ دوسرا متبادل انگریزی لفظ بھی یاد نہ آیا۔ 

    کم سن نے ادھر ادھر دیکھا۔ پھر سائیڈ ٹیبل سے فلاسک اٹھا کر گلاس میں پانی انڈیلا۔ اور اسکی جانب بڑھادیا

    بل۔ ( پانی)۔ پی لو ۔۔

    وہ ہنگل میں بولا پھر خیال آیا تو انگریزی میں ترجمہ کرنے لگا۔ اس نے بمشکل دوسرے ہاتھ سے تھاما اتنی پیاسی ہو رہی تھی کہ ایک سانس میں پیتی گئ۔ کم سن تاسف سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔ اسکا رنگ بالکل سیاہ ہو رہا تھا۔ اور ہوںٹ بالکل خشک۔ 

    کچھ کھائو گی؟ 

    کم سن نے پوچھا تو اس نے دھیرے سے سر اثبات میں ہلا دیا۔ نرس ناشتے کی ٹرے رکھ گئ تھی اسکے سرہانے ۔ اس نے بیڈ کے اوپر میز کا اسٹینڈ لگا کر ناشتہ رکھ دیا۔ دلیہ چکن اور تھوڑا سا بیف ۔ سنتھیا چند لمحے ناشتے کو دیکھتی ہی رہی۔ 

    کیا ہوا؟ کچھ اور کھانا چاہتی ہو؟

    کم سن نے پوچھا تو وہ سر نفی میں ہلاتی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھا گئ۔۔ اسے کافی بھوک محسوس ہو رہی تھی یہ ایک اچھی بات تھی۔ کم سن واپس صوفے پر جا بیٹھا۔ موبائل اسکرال کرتے وہ شائد اسکے کھانا ختم کرنے کا انتظار کر رہا تھا۔

    ناشتہ مکمل کرکے وہ کم سن کو دیکھنے لگی۔ بے نیازئ سے فون استعمال کرتا وہ بظاہر اسکی نظروں سے انجان تھا۔ 

    آپ کل رات سے یہیں ہیں؟ 

    اس نے دھیرے سے پوچھا تھا۔ اتناکم آواز نکلی تھی کہ اسے لگا کہ سوال دہرانا پڑے گا مگر کم سن نے سن کر فورا سر اٹھا کر جواب دیا۔ 

    دے؟ 

    وہ یقینا ہمہ تن گوش تھا۔ 

    آپ کو بہت زحمت ہوئی ہے میں بہت معزرت خواہ ہوں آپکو میری وجہ سے یہاں بلوالیا گیا۔ نرس کو شائد کوئی غلط فہمی۔۔ 

    اس نے وضاحت دینی چاہی ۔ کم سن نے بات کاٹ دی

    نرس کو کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی تھی میں نے اسے کہا تھا کہ میں آپکا یہاں نگہبان ہوں اور آپکو معمولی سی بھی تکلیف پہنچنے پر مجھے ہی بلایا جائے۔ اور کل تو آپکا بی پی بہت ہائی تھا۔

    وہ اپنی جگہ بیٹھے اسکے سوال کا جواب دے رہا تھا۔ سنتھیا کی آنکھیں بھرنے لگیں۔ بہت ضبط سے اس نے سوال کیا تھا۔

    آپ ایڈون کو بلا سکتے ہیں؟ 

    کم سن کے لب وا ہوئے۔ پھر کچھ سوچ کر اس نے کہنے کا ارادہ ترک کیا۔ اور سر ہلا دیا۔۔

    ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح اسکی کافی دیر سے آنکھ کھلی تھی۔ اس نے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا۔ تقریبا ایک بجے ۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ کمرے میں نیم اندھیرا تھا۔ وہ اکیلی ہی لیٹی تھی۔ یعنی گوارا اور ہوپ خود ہی اٹھ کر ناشتے کیلئے چلی گئ تھیں۔ اب تو دوپہر کا وقت تھا۔ اسے شرمندگی سی ہوئی۔ شائد صبح دیر تک جاگنے کی وجہ سے یوں بے خبری میسر آئی۔ وہ اٹھ کر پہلے باتھ روم میں گھس گئ۔ نہا کر بال لپیٹتی باہر نکل آئی۔ صحن میں دھوپ پھیلی ہوئی تھی تخت پر کچھ سبزیاں سکھانے کی نیت سے سجی تھیں۔ 

    وہ ریستوران میں چلی آئی۔ ریستوران میں اس وقت کافی رش تھا۔ میزیں بھری ہوئی تھیں۔ گوارا ادھر سے ادھر آرڈر پہنچا رہی تھی۔ وہ خاموشی سے کچن میں چلی آئی گوارا کی والدہ سوپ بنا رہی تھیں۔ ہوپ برتن دھو رہی تھی۔ 

    اس نے جھک کر آننیانگ کہا تو آہجومہ نےخوش ہو کر جواب دیا 

    بیٹھو بیٹھو۔ کیا کھائو گی؟ 

    وہ اسکی مشکل سمجھ کر ذرا رک رک کر جملہ بولتی تھیں۔ تاکہ وہ سمجھ سکے ساتھ اشارے بھی کرتی تھیں۔

    میں بریڈ کھالوں گی اور انڈہ آپ اپنا کام کیجئے۔ 

    اس نے سہولت سے انہیں منع کردیا۔ ہوپ نے اسکی جانب سےترجمہ کیا وہ کونے کے چولہے کی طرف بڑھ گئ۔ دو توس سینک کر انڈہ فرائی کیا  اپنا مختصر سا ناشتہ بنا کر جانے لگی 

    کافی نہیں پیوگی؟ ہوپ نے پوچھا تو وہ سوچ میں پڑگئ 

    وہ پینا تو چاہتی تھی مگر زحمت بھی نہیں دینا چاہتی تھی۔ 

    میں بنا کر لاتی ہوں۔ ہوپ سمجھ کربولی تو وہ متشکرانہ نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئ۔

    ریستوران میں جگہ گھیرنے کی بجائے وہ باہر صحن میں  آکر تخت کے کونے میں جگہ بنا کر بیٹھ گئ۔ 

    آننیانگ اریزہ شا۔ اب ناشتہ کر رہی ہو؟ اب پاکستان کے حساب سے صبح کرتی ہو اپنی؟ 

    یون بن نے اپنے مخصوص انداز میں زور دار سلام کرتے ہوئے کہا ۔ وہ اپنے دھیان میں بیٹھی تھی اچھل پڑی۔ پھر خوشگوار حیرت سے ہنگل میں بولی

    آننیانگ ؟ تم کب آئے؟ بڑے دنوں بعد ملاقات ہورہی ہے۔ 

    واہ۔ اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ 

    اتنی ہنگل؟ تم یہاں کیا ناشتے میں ہنگل کھاتی ہو کیا؟ 

    یون بن نے خاصا محظوظ ہو کر چھیڑا

    یہ جملہ وہ مکمل نہیں سمجھ سکی تھی مگر مفہوم کا اندازہ ہوگیا تو مصنوعی کالر کھڑے کرکے بولی۔

    ڈونٹ انڈر ایسٹیمیٹ دی پاور آف کامن وومن 

    اسکے اندر شاہ رخ خان کلبلایا۔ یون بن کی جانے بلا کندھے اچکا کر اسکے برابر آبیٹھا

    کبھی انڈر ایسٹیمیٹ نہیں کیا بھئی تم واقعی سپر گرل ہو۔اب تو ہنگل بھی سیکھ لی کم از کم تم اب آرام سے رہ لینا یہاں بھاگ نہ جاناباقیوں کی طرح۔ یون بن شائد  بات برائے بات کہہ رہا تھا 

     اس نے سر ہلا کر اسے بھی اخلاقا ناشتے کی دعوت کی اس نے سہولت سے منع کردیا۔ پھر یونہی سوال کرنے لگا

    اور سنائو؟ گوارا نے گھمایا پھرایا بھی ہے یا بس اپنے باغ کے پھل اتروا رہی ہے تم سے؟

    میں نے دراصل باغ دیکھا بھی نہیں۔ جس دن یہ لوگ گئے پھل اتارنے میں نہیں گئ تھی۔

    اسے افسوس تھا۔ یون بن نے بغور اسکی شکل دیکھی۔  ناشتہ ختم کرکے اس نے سر اٹھایا تو یون بن کو ایک ٹک دیکھتا پا کر گڑبڑا سی گئ۔ 

    کیا ہوا؟ اسے لگا شائد منہ پر کچھ لگا ہوا ہے سو بے ساختہ منہ پر ہاتھ پھیر کر جھاڑا۔ 

    آں آنیا۔ وہ بھی کھسیا کر پہلو بدل گیا

    تبھئ ایڈون دھیرے سے چلتا اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔

    کیسی ہو اریزہ۔ 

    اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہی پرانا انداز۔ دھیما لہجہ۔ مگر وہ پہلے سے ذیادہ کمزور اور سنولا گیا تھا۔ 

    ان دونوں کی آخری ملاقات جس تلخی پر ختم ہوئی تھی اسکو جتانا مناسب نہیں لگا تھا لیکن خفگی باقی تھی۔ سو بس سر ہلا کر رہ گئ۔ 

    ایڈون کے چہرے پر۔پھیکی سی مسکراہٹ در آئئ۔ 

    ناراض ہو۔ اسکا لہجہ لو دیے رہاتھا۔ 

    تمہاری ضمانت ہوگئ کب ہوئی؟ 

    اسے ناراضگی ظاہر کرنا مناسب نہ لگا۔روکھے سے انداز میں وہ بولی۔ وہ اب پہلے جیسے دوست نہیں رہے تھے پہلے جیسی مروت اب باقی نہیں رہی تھی تو پہلے جیسی بےتکلفی جتا کر روٹھنے منانے کا کیا فائدہ تھا۔ 

    ہاں۔ تمہیں نہیں پتہ؟ وہ الٹا اس سے حیران ہو کر سوال کرنے لگا وہ کھسیا سی گئ۔ اس نے تو پلٹ کر پوچھا بھی نہیں تھا۔ 

    سنتھیا خود پیش ہو گئ تھئ تھانے۔ ماموں اسے لے گئے تو میری  بھی جان بخشی ہوگئی۔

    ایڈون اسکا گریز سمجھ رہا تھا مگرجتانا مناسب نہیں سمجھا تفصیل سے بتادیا

    کیا۔ وہ متاسف سی ہوئی پھر خیال آیا تو پوچھ بیٹھی۔ 

    سنتھیا کیسی ہے وہ پاکستان چلی گئ؟  

    وہ سول میں ہی ہے۔ 

    اس نے جیسے ناچاہتے ہوئے جواب دیا۔ وہ دونوں اردو میں بات کر رہے تھے تو یون بن خاموشی سے موبائل میں لگ گیا۔ 

    کیوں؟ اور وہ سول میں ہے تو تم یہاں کیاکر رہے ہو؟ 

    اس کا انداز جرح کرنے والا تھا۔ 

    کیونکہ میں اب اس سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔ 

    ایڈون کا انداز قطعی تھا۔ 

    کیا؟ اسے شاک سا لگا تھا۔ 

    تم کیسے اس سے سب تعلق ختم کر سکتے ہو وہ وہ تو ۔۔ وہ بولتے جھجک سی گئ۔

    وہ پریگننٹ ہے ۔ ایڈون نے اسکا جملہ مکمل کیا جیسے۔

    یہ اسکا فیصلہ تھا۔ اس نے مجھ میں اور بچے میں اس بچے کو چنا۔ اب ہمارے راستے الگ ہیں۔

    ایڈون تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے؟تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔ وہ تمہارا بھی بچہ ہے۔ سنتھیا اکیلی اس سب کی ذمہ دار نہیں ہے۔تمہیں اسکی بالکل فکر کوئی پروا نہیں ہے ایڈون ۔  وہ کیا کرے گی اب؟ بولو؟ 

    اسکو اتنا غصہ آیا کہ اٹھ کر اسکے مقابل آکھڑی ہوئی غصے کے مارے اسکی آواز تھرا گئ تھی۔ ایڈون کو اسکے  انتہائی ردعمل کی توقع تھی پھربھی اس وقت تھوڑا بھونچکا سا رہ گیا۔  ۔ یون بن اسکے تیور دیکھ کر گڑبڑا کر خود بھی کھڑا ہو گیا۔ اب اگر دوبارہ دونوں گتھم گتھا ہونے لگیں تو اسے ہی بیچ بچائو کرانا پڑنا تھا۔ ایڈون نے گہری سانس لیکر اپنی صفائی پیش کرنی چاہی۔ 

    میں نے اس بات سے کبھی انکار نہیں کیا وہ میرا ہی بچہ ہے مگر میں اس وقت ان ذمہ داریوں میں نہیں پڑنا چاہتا۔ میں نے صاف بتا دیا تھا سنتھیا کو۔ اسکی ضد کا نتیجہ ہے کہ ہم آج الگ ہو چکے ہیں۔ ورنہ میں خود اسکو اسپتال لے کر جاتا رہا ہوں۔ اسکی پروا نہ ہوتی تو اس بچے کا باپ ہوں یہ ماننے سے ہی انکار کردیتا۔ 

    ایڈون آج کافی رسان سے بات کر رہا تھا۔ اریزہ کا چہرہ غصے سے لال پڑ گیا

    کیا ۔۔۔ کیا کہا تم نے دوبارہ بولو۔ 

    وہ شائد دوبارہ اس پر ہاتھ اٹھا دیتی۔ یون بن ایکدم سے آگے بڑھ کر اسے شانوں سے تھام کے پیچھے کرگیا۔ 

    ریلیکس اریزہ بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔

    وہ انگریزی میں اسے کہہ رہا تھا مگر اسے سنائی بھی نہیں دے رہا تھا۔ اسکی آنکھیں لبا لب پانی سے بھر گئیں۔ 

    تم اتنے کمینے نیچ اور گھٹیا انسان ہو سکتے ہو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔تم نے سنتھیا کی زندگی برباد کر دی ہے ایڈون کوئی احساس ہے تمہیں اس بات کا

    احساس ہے مجھے۔ ایڈون زچ ہو کر چلا اٹھا۔ 

    مگر کیا تمہیں احساس ہے سنتھیا نے میرے ساتھ کیا کیا ہے؟ میرا کیریئر میری تعلیم سب برباد ہوگیا ہے اسکی وجہ سے۔ مجھ پر کرمنل کیس ہو چکا ہے یہاں میں نہ واپس جا سکتا ہوں نہ یہاں نوکری کر سکتا ہوں جب تک یہ معاملہ ختم نہیں ہوجاتا۔ برباد ہوگیا ہوں میں اسکی ضد کی وجہ سے۔ 

    کیسی ضد ۔۔ جوابا وہ حلق کے بل چلائی۔ 

    وہ تمہاری وجہ سے تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہے۔اور تم نے اسے چھوڑدیا ہے اکیلے سب سہنے کیلیئے۔ ان ذمہ د اریوں میں پڑنا نہیں تھا تو اس لڑکی کو اس حد تک لائے کیوں؟ سگی ماموں ذاد ہے اپنے خاندان کی عزت کا ہی خیال کر لیا ہوتا تم نے ایڈون۔ لعنت ہو تم پر۔۔

    یون بن کی گرفت میں وہ حقیقتا پھڑپھڑا کر رہ گئ 

    اسکا بس نہیں تھا کہ اسکا گریبان پکڑ لیتئ۔

    اریزہ calm down کیا ہوا ہے ؟ 

     یون بن کو سمجھ نہیں آرہی تھی دونوں میں بحث کس بات کی چل رہی ہے ایڈون آج اپنے آپے میں تھا مگر اریزہ اس نے احتیاطا اریزہ  کوپیچھے کیا خود ان دونوں کے بیچ آکھڑا ہوا۔

    تم لوگ آرام سے بات کرو کیا ہوا ہے۔ 

    یون بن ان دونوں کے بیچ کشمکش کا شکار کھڑا تھا۔اسے خوف تھا دونوں ہی ہاتھا پائی پر اتر آئیں گے۔ ایڈون کا چہرہ ایکدم سرخ پڑ گیا تھا۔

    لعنت؟ تم مجھ پر لعنت بھیج رہی ہو؟ 

    اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ جملہ اریزہ نے اسے کہا

    ہاں لعنت ہو تم جیسے کمینے گھٹیا انسان پر چلو بھر پانی لو اور ڈوب مرو تم۔ نا تمہیں اپنی عزت کا پاس ہے نا خاندان کی عزت کی پروا ۔

    اس نے چلو کا اشارہ کرتے ہوئے اتنے تنفر سے کہا تھا کہ اسکی بات سے ذیادہ اسکے حقارت بھرے انداز نے اسے جھلسا دیا۔ 

    بعد میں بات کرتے ہیں ایڈون۔

    یون بن نے اسکا بازو تھام کر اسے وہاں سے کے جانا چاہا۔ 

    مجھے خاندان کی عزت کا ہی خیال تھا جو اسے خاموشی سے اس معاملے کو ختم کرنے کا کہہ رہا تھا۔

     ایڈون کو یقین نہیں آرہا تھا اریزہ اسے اتنا برا بھلا بھی کہہ سکتی ہے۔ اسے اپنی صفائی دینی تھی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اریزہ اسے ایک نیچ کمینہ انسان سمجھ کر نفرت کرنے لگ جائے۔ وہ سنتھیا کی بہترین دوست تھی۔ اسکے پیچھے اس سے لڑتے نفرت بھی کر رہی تھی۔ لیکن وہ اسکی نفرت نہیں سہہ سکتا تھا۔ 

    اگر اتنا خاندان کی عزت کا خیال تھا تو ایسی نوبت کیوں آنے دی؟ اریزہ یون بن کو ہٹاتے اسکے مقابل آکر تن کر بولی

    سنتھیا ہرگز ایسی لڑکی نہیں تھی جیسی تم نے اسے بنا دیا ہے۔ اس نے تمہاری محبت  پانے کیلئے اپنی عزت تک دائو پر لگا دی اور تم نے تم نے کیا کیا اسکے ساتھ ایڈون۔ اسکو اکیلا چھوڑ دیا۔۔ تم بہت نیچ انسان نکلے ہو ایڈون۔ 

    بولتے بولتے اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔۔ وہ واقعی سنتھیا سے محبت کرتی تھی۔ اس نے سنتھیا کو ایڈون پر جان وارتے دیکھا تھا ان لمحوں کی گواہ تھی وہ جب سنتھیا دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتی تھی اس سے بات کرتے۔ وہ اندازہ کرسکتی تھی کہ اس وقت سنتھیا پر کیا گزر رہی ہوگی۔  

    اور میں۔۔ میں  کیا ہوں تمہاری نظر میں ؟ آوارہ بد کرداربدمعاش انسان؟

    ایڈون کو اسکی بات سے صدمہ پہنچا تھا۔ ساری دنیا اسے برا بھلا کہہ لے برا سمجھ لے اتنا دکھ نہ پہنچتا اسے مگر اریزہ نے جیسے اسے کانٹوں پر گھسیٹ لیا تھا۔ 

    اریزہ ہم دونوں بالغ انسان ہیں۔ جو کچھ ہوا ہے اس میں ہماری باہمی رضامندی شامل تھی۔ سنتھیا کے ساتھ جبر نہیں کیا ہے میں نے۔ وہ خود اپنی مرضی سے۔ 

    وہ بولتے بولتے رکا۔اریزہ کے سامنے کہہ دینے کی ہمت نہ ہوسکی۔  جھجک اسے جملہ مکمل کرنے سے روک گئ تھی۔ اریزہ چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ وہ چند لمحے رک کر خود پر قابو پا رہا تھا۔

     یون بن احتیاطا اسے تھامے ہی تھا ۔وہ  یون بن کی گرفت سے بازو چھڑاتا اسکے مقابل آکھڑا ہوا۔ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے شہادت کی انگلی کھڑی کرکے جتانے والے انداز میں کہنے لگا۔ 

    ورنہ تم گواہ ہو اس بات کی کہ نا میں نظر باز ہوں نہ بدکردار۔

    اریزہ دم سادھے اسکی شکل دیکھنے لگی۔ 

     تمہیں آج بھی اسی  شدت سے چاہنے کے باوجود بھی  تمہارے انکار کے بعد میں تمہاری راہ میں بھی کبھی نہیں آیا ہوں۔ تمہارا مان رکھ کر سنتھیا سے تعلق بھی نبھا رہا تھا میں۔۔ تم  آئیندہ کم از کم مجھ پر یہ الزام کبھی مت لگانا۔۔۔

    فرط جزبات سے اسکی آواز کانپ گئ۔ وہ جملہ مکمل نہ کرسکا۔ اریزہ سکتے کی سی حالت میں  اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔ ایڈون اسکی نگاہوں کی تاب نہ لا سکا۔ یون بن نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھنا چاہا مگر وہ جھٹکے سے خود کو چھڑاتا تیز قدم اٹھاتا باہر ہی نکل گیا۔ یون بن نے مڑ کر اریزہ کی شکل دیکھی۔ پھر سر جھٹکتا ایڈون کے پیچھے لپکا۔ 

    ایڈون کی باتیں اسکے ذہن میں طوفان اٹھا رہی تھیں۔ وہ سائیں سائیں کرتے ذہن کے ساتھ پلٹی اورکمرے میں آکر بیڈ پر گر سی گئ۔ 

    آج بھی؟۔ اسکے ذہن میں یہ لفظ اٹک گیا تھا۔ 

    یہ کیا جتا گیا تھا ایڈون اسے۔ سنتھیا اسکی طرف سے جبھئ اتنی بدگمان رہتی تھی۔ وہ اتنی محبت کرتی تھی کہ ناممکن تھا کہ اسے احساس نہ ہوپاتا ۔ اسے پتہ نہ لگتا کہ ایڈون کا دل کس لے پر دھڑکتا ہے۔ اسکی ہر بدگمانی جائز تھی۔ اسکی نفرت اس کا عدم تحفظ سب کی وجہ وہ خود تھی۔ پھر سنتھیا اس کے ساتھ جو سلوک کرتی وہ حق پر تھی۔ 

    تمہارا مان رکھ کر۔۔۔ 

    سنتھیا سے تعلق نبھانے کی وجہ بھی وہی بن گئ تھی ایڈون کیلئے ۔۔ ایسا نہیں ہونا چاہییے تھا

    وہ تکیئے میں منہ دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی

    آئیم سوری سنتھیا۔ سو سوری۔۔ 

    وہ بے قراری سے روتے یہی گردان کر رہی تھی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ستا ہوا چہرہ سوجی آنکھیں۔ گوارا اور ہوپ نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔  ہوپ تو کوئی سوال کیئے بنا آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔  اپنا اٹیچی کھول جانے کیا الٹ پلٹ کرنے لگی گوارا البتہ فکرمندی سے سوال کر رہی تھی۔

    تم مجھے لگا تھا سوتی رہی ہو ابھی تک یہاں تو معاملہ رونے کا لگ رہا ہے۔ 

    کچھ بھی نہیں بس ایسے ہی۔اس نے ٹالنا چاہا۔ 

    اس نے ابھی منہ دھویا تھا۔ پھر بھی چہرے کا رنگ اڑا ہواہی تھا۔وہ منہ ہاتھ دھو کر بھی واپس بستر پر آکر لیٹ گئ تھی۔ گوارا کو اطمینان دلانے کو اٹھنا پڑا۔ پیر سمیٹ کر بیٹھتے اس نے گوارا کو بھی بستر پر بیٹھنے کی جگہ دی۔ 

    یون بن  بتا رہا تھاتمہارے اور ایڈون کے درمیان کچھ گرما گرمی ہوئی ہے؟ خیریت رہی ہے؟ کیا کہہ رہا تھا؟ یون بن یہ بھی بتا رہا تھا کہ وہ پہلے بھی تم سے لڑچکا ہے کیا معاملہ ہے آخر؟ 

    گوارا کو فکر ہورہی تھی۔ کبھی ایسی فکریں سنتھیا کیا کرتی تھی اسکی۔اسکی پھر آنکھیں بھرنے لگیں۔ہوپ نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔ صبح وہ کافی بنا کر جب لائی تب ایڈون اور وہ بحث میں الجھے تھے اس نے واپس پلٹ جانا چاہا تو یون بن جس طرح ان دونوں کے بیچ آیا اسے لگا شائد اسکی بھی ضرورت پڑ جائے سو رک کر معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اریزہ کا طیش سے سرخ پڑتا چہرہ جب درد میں ڈھل کر آنسوئوں سے تر ہوا تب وہ آگے بڑھی تھی اسے دلاسہ دینے کو مگر اریزہ نے دیکھا ہی نہیں اسکی طرف وہ اسکے پیچھے کمرے تک آئی ۔ اریزہ کو روتے دیکھا تو پھر خاموشی سے پلٹ گئ۔ ابھی بھی اسے یہی بہتر لگا کہ گوارا کی۔توجہ ہٹائی جائے۔

    اریزہ آج گوارا نے پارٹی رکھی ہے تم نے کچھ لینا ہے؟ میں بازار جا رہی ہوں میرے ساتھ چل سکتی ہو۔

    ہوپ نے مڑ کرپوچھا۔۔گوارا نے ہونٹ بھینچ کر اسے گھورا مگر وہ بے نیازی سے اریزہ سے مخاطب تھی۔ اریزہ سنبھل کر بولی

    مجھے تو کچھ نہیں لینا۔ اگر تم دوسراہٹ کے لیئے مجھے لے جانا چاہو تو میں چلتی ہوں۔ 

    اسکا انداد سادہ سا تھا مگر ہوپ ہنس پڑی

    دوسراہٹ؟ ( کمپنی) میں تنہا رہنے کی عادی ہوں یہ سب چونچلے مجھے درکار نہیں ہوتے۔ میں اکیلی جا کر بھی لا سکتی ہوں۔ 

    وہ کافی بدل گئ تھی ۔ لیکن اندر کی کڑواہٹ جاتے جاتے ہی جاتی۔ اس وقت بلا ارادہ ہی انداز طنزیہ ہوگیا تھا اسکا۔اریزہ نے محسوس تو کیا مگر ٹوکا نہیں۔

    اگر تم کہو تو میں یون بن سے کہتی ہوں ایڈون پارٹی میں نہیں آسکتا۔ 

    گوارا نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اٹل انداز میں کہا۔ اریزہ ہنس دی۔ 

    ہم بچے تھوڑی ہیں۔ ویسے بھی کرسمس پارٹی میں میرا کیا کام نہ میں نے ڈانس کرنا ہے نا ہی ڈرنک۔ تم ہماری دوستی کی وجہ سے یون بن اور ایڈون کی دوستی خراب نہ کرو۔ 

    اریزہ کے سبھائو سے کہنے پر وہ سر ہلا کر چپ کر گئ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہوپ کے ساتھ قریبی بازار وہ لگ کے ساتھ آئی تھی۔ گوارا اسکی جانب سے کچھ ذیادہ ہی فکر مند تھی۔اسے اطمینان دلانے وہ بظاہر شوق سے بازار آئی ۔ یہاں کی رونق دیکھ کر کچھ مزاج بہتر بھئ ہو گیا۔ 

    ہوپ کو کرسمس ٹری کی سجاوٹ کی چیزیں لینی تھیں۔ کچھ گوارا کے بہن بھائیوں کیلئے اس نے تحفے لیئے۔ اسے تو بچوں کی شاپنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ہوپ ہر جگہ خود ہی اپنی پسند سے چیزیں خریدتی رہی۔ اسے حقیقتا کسی کے ساتھ کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ ایک دو جگہ چھوٹے موٹے مشورے ہی دے پائی۔ جیسے ایک جگہ اسے بڑے قمقمے خریدتے دیکھ کر ٹوکا 

    گوارا کے ریستوران کے کونے میں کھڑے کرسمس ٹری کے حساب سے یہ کافی بڑے قمقمے نہیں ہیں؟ 

    کرسمس ٹری کیلئے میں نے گوارا کے بھائی سے کہا ہے بڑی شاخیں کاٹ کر لائے چھوٹا سا نہیں چاہییے مجھے۔آج شام گوارا باربی کیو پارٹی کر رہی ہے اپنے دالان میں وہیں سجائیں گے ایک بڑا سا کرسمس ٹری۔ 

    ہوپ نے بتایا تو وہ سر ہلا کر رہ گئ۔ یہ نئی اطلاع تھی اسکے لیئے بھی۔

     باربی کیو یقینا گوشت کا ہونا تھا۔بیف چکن یا پورک وہ تو کچھ بھی کھا نہیں سکتی۔۔  اسے اپنے لیئے رات کے کھانے کا کچھ انتظام کرنا چاہیئے۔وہ بھی کسی قسم کا علی کا احسان لیئے بغیر۔ میں کچھ ذیادہ ہی علی پر انحصار کرتی جا رہی ہوں علی کیا سوچتا ہوگا میرے بارے میں ۔ 

     وہ یہی سوچ رہی تھی ہوپ ادائیگی کرکے آگے بھی بڑھنے لگی تب اریزہ پر نگاہ پڑی۔ وہ وہیں کھڑی ایک چھوٹے سے ستارے کو تھامے تھی۔ اس نے اریزہ کو سوچ میں گم دیکھا توپلٹ کر آئی ٹہوکا دے کر بولی

    چلو اب یہاں نہ کھو جانا ہیون بے چارے کی ابھی  پچھلے سفر کی تھکن نہیں اتری ہوگی اسے کسی نئ تلاش میں مبتلا نہ کردینا۔۔ 

    ہلکے پھلکے انداز میں ہوپ اسے چھیڑ رہی تھی۔ اسے سمجھ نہ آیا۔

    مطلب؟ ہیون کا کیا ذکر؟ 

    کیا مطلب؟ بھئ رات کو جیسے ہی موسم بہتر ہوا وہ بنا رکے ڈرائیو کرکے یہاں پہنچا تھا اتنا پریشان تھا تمہارے لیئے جب تک دیکھا نہیں اسے چین نہیں آیا بخار ہو رہا تھااسے پھر سو بھی نہیں رہا تھا۔ گوارا نے زبردستی پلز دے کر سلایا اسے ۔ ابھی سو ہی رہا تھا وہ۔ 

    ہوپ بتا رہی تھی اس نے ہوپ کا بازو تھام لیا

    کیا؟ ہیون سول سے یہاں آیا؟ کب ؟  کل تو سول میں موسم کافی خراب تھا نا۔

    ہاں جبھی تو کافی دیر لگ گی اسے ۔ یون بن پہلے پہنچ گیا تھا وہ بعد میں پہنچا۔ وہ سرسری انداز میں بتا رہی تھی سامنے تبوکی کے اسٹال پرنظر پڑی تو بات بدل کر اس سے پوچھنے لگی۔

    تم تبوکی کھائوگئ؟ 

    اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔

    میں تو کھائوں گی۔ 

    وہ شاپروں کا ڈھیر اکیلے اٹھا کر اسٹال کی طرف بڑھ گئ۔ اسکے پیچھے قدم بڑھاتے وہ الجھ رہی تھی۔ 

    وہ خواب ہی تھا یا۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہوپ منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو گوارا اریزہ کے بیڈ کی جانب غالبا اسےاٹھانے کیلئے بڑھ رہی تھی۔ 

    صبح تو سوئی ہے اسے سونے دو۔ ہوپ نے آواز دبا کر بولتے ہوئے روکا۔ 

    اس نے جانے رات کو کھانا کھایا ہے یا نہیں اب اتنی دیر ہو گئ ہے اسکی طبیعت نہ خراب ہو جائے؟ 

    گوارا کو فکر ہو رہی تھی۔ 

    اسے اس وقت سکون کی ذیادہ ضرورت ہے بھوک لگے گی تو اٹھ جائے گی۔ 

    ہوپ کی بات اسکی سمجھ میں آگئ سو سر ہلاتی اسکے ساتھ ہی کمرے کا دروازہ آہستگی سے بند کرتی باہر نکل آئی۔ باہر چمکیلی دھوپ نکل رہی تھی۔ وہ دونوں باتیں کرتی ناشتہ لیکرباہر تخت نما چبوترے پر ہی چلی آئیں۔ نرم گرم دھوپ میں بیٹھ کر ناشتے کا اپنا مزا تھا۔ داخلی دروازے سے یون بن اور ایڈون ایک ساتھ اندر داخل ہوئے تھے۔ ہوپ کا رخ اسی جانب تھا اسے دیکھ کر یون بن نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چپ رہ جانے کا اشارہ کیا۔ اسکا ارادہ بولنے کا تھا بھئ نہیں۔ سر جھٹک کر نوالہ منہ میں رکھ لیا۔ اپنا بیگ وہیں ڈیوڑھی میں چھوڑتا  

    یون بن دبے قدموں آگے بڑھا اسکا ارادہ گوارا کو چونکانے کا تھا۔ ایڈون نے اسکی بچکانہ حرکت پر سر جھٹک کر اسکا بیگ بھی اٹھا لیا۔ یون بن نے ایکدم پیچھے سے آکر گوارا کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا۔ 

    تمہارے سوا کون ہو سکتا ہے ایسے بچکانہ پرینک سوچنے والا۔ 

    گوارا ذرا حیران نہ ہوئی۔مزے سے بولی وہ گہری سانس لیکر انکے برابر آن بیٹھا

    آننیانگ ہوپ کیسی ہو؟

    اس نے مروتا پوچھا تھا جوابا اس نے مروتا بس مسکرا کر سر ہلانے پر اکتفا کیا۔فی الحال اسکے نزدیک سب سے اہم ناشتہ تھا۔ سو یون بن دوبارہ متوجہ ہوا گوارا کی جانب۔

    مجال ہے جو تم کبھی کسی بات پر حیران ہو جائو گوارا چلو نہ سہی۔اتنے دنوں بعد بوائے فرینڈ کو دیکھ کر خوش ہی دکھائی دینے کی اداکاری کر لو  

    اس نے بے چارگی سے کہا۔

    تمہیں دیکھ کر خوشی کا کیا سوال اورحیران کس بات پر ہوں؟ وہ الٹا حیران ہو کر بولی

    کل میسج کرکے بتا تو دیا تھا تم نے کہ پہنچ کر پہلے اپنے چچا کے گھر جائوگےاور آج آئوگے۔ ساتھ ایڈون بھئ ہے۔ اسے خیال آیا۔ 

    ایڈون کہاں ہے؟اسکے پوچھنے پریون بن نے اشارہ کیا۔ ایڈون نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ ہلکا سا سر جھکا کر بولا۔ 

    اسلام و علیکم ۔۔پھر خیال آیا توسٹپٹا کر آننیانگ ہاسے او کہا۔

    ہائے۔ گوارا نے خیر مقدمی مسکراہٹ سجائی پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

    آئو یہاں بیٹھو میں اندر ناشتے کا کہہ آتی ہوں۔ 

    وہ اچھی میزبانی نبھارہی تھی۔ 

    کوئی جلدی نہیں ہے۔ آپ آرام سے پہلے ناشتہ کر لیں۔ ہم ویسے بھی پہلے فریش ہونا چاہیں گے۔ کافی مشکل سفر رہا ہےہمارا۔

    ہیں تم لوگ اب پہنچے ہو؟ گوارا یون بن کی جانب مڑی۔

    یون بن نے گھو رکر دیکھا۔ پھر منہ بنا کر بولا

    پتہ ہے کل موسم خراب تھا۔ تمہاری وجہ سے کل  میں نکل آیا  انہوں نے راستے بند کر دیئے تھے۔گھنٹوں سڑک پر گزارنے پڑے  تمہاری وجہ سے بھاگم بھاگ پہنچا ہوں یہاں ورنہ آرام سے اپنے کمرے میں کمبل تان کے سورہا ہوتا میں۔ 

    ان دونوں کے لو برڈز والے ان جھگڑوں پر ہوپ صرف بیزار سی بیٹھی۔ سر تھام سکتی تھی سو ایک ہاتھ سے پیشانی تھامے خاموشی سے کھا رہی تھی۔ 

    ہاں تو کس نے کہا تھا آخری دن تک ٹالو پہلے آجاتے نا۔ ایسے کیسے؟ گوارا چمک کر بولی۔ ہ

    ہمیشہ ہم سب  اکٹھے کرسمس مناتے آج پارٹی کرتے تم نے تو آج پہنچنا ہی تھا نہیں تو میں نے سیول پہنچ کر کان سے پکڑ کر تمہیں لانا تھا۔

    بولتے بولتے اس نے سچ مچ کان سے پکڑ لیا تھا۔

    ارے کان تو چھوڑو۔ 

    وہ بلبلا کر کان چھڑانے لگا۔ 

    پہلے ایڈون کو کمرے تک لیکر جائو میرا ناشتہ مت کھائو۔ گوارا کے حکمیہ انداز پر یون بن کو اٹھنا پڑا۔ 

    باقی سب آرہے ہیں۔؟ ہیون ، کم سن ، جی ہائے۔ 

    وہ روانی میں پوچھتا خود ہی چپ ہوگیا۔

    جی ہائے تو مجھےبلاک کر چکی ہے کم سن تو نہیں آرہا اس نے معزرت کر لی ہے ہیون اس وقت شائد اسی کے ساتھ ہوگا۔۔

    گوارا نے تفصیلا بتایا۔وہ سر ہلاتے آگے بڑھ کر ایڈون کے ساتھ سامان اٹھانے لگا۔تبھئ  ہوپ کی دروازے پر نگاہ گئ۔ 

    ہیون تو یہ رہا۔ اسکے کہنے پر گوارا اور یون بن دونوں نے گردن گھما کر دیکھا۔گوارا بے ساختہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

    ۔ بکھرے بال چہرے پر تھکن سے ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔ ملگجے کپڑے وہ خاصا پریشان حال دکھائی دے رہا تھا۔ ایڈون نے خاصی حیرت سے اسکا حلیہ دیکھا۔ وہ تو ہمیشہ نک سک سے درست تیار رہتا تھا۔ 

    یون بن اور گوارا اسکی جانب پریشان ہو کر بڑھے

    ہیون؟ تم ٹھیک تو ہو؟

    ہاں ۔ ڈرائیو کرکے آیا ہوں اس لیئے تھکا تھکا لگ رہا ہوں۔ 

    وہ زبردستی مسکرا کر تسلی دینے والے انداز میں بولا۔

    راستے تو بند کر دیئے تھے انہوں نے؟ 

    یون بن نے اسکی پیشانی چھوئی پر حدت ہو رہی تھی۔ 

    ہاں تھوڑا انتظار کرنا پڑا۔ 

    اس نے نرمی سے اسکا ہاتھ تھام کر الگ کیا۔ 

    اریزہ کیسی ہے؟ اسکے بے تابی بھرے سوال میں اسکی یہاں موسم کی ترشی کے باوجود پہنچ جانے کی وجہ پنہاں تھی۔ گوارا اور یون بن ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔ ایڈون نے گہری نگاہ سے اسکا جائزہ لیا۔ 

    وہ ٹھیک ہے ۔ رات کو خیریت کی اطلاع دے تو دی تھی ہم نے۔ 

    گوارا نے جانے کیا جتانا چاہا تھا وہ انجان تھا۔ 

    میں مل لوں؟

    اس نے پوچھا۔ 

    ہاں اسے جگا دینا آکر باہر ناشتہ کر لے ہمارے ساتھ۔ 

    جواب گوارا کی بجائے ہوپ نے اونچی آواز میں دیا تھا۔ ہیون نے اسکی موجودگی محسوس ہی اب کی تھی۔ سر کے اشارے سے اسے سلام کرکے وہ اجازت طلب نگاہوں سے گوارا کو دیکھ رہا تھا۔ 

    جائو ۔ وہ کمرے کی۔جانب اشارہ کرتی ایک طرف ہو گئ۔ ہیون تیز قدم اٹھاتا کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ 

    تمہارے پاس بخار کی دوا ہوگی؟ 

    یون بن پوچھ رہا تھا۔گوارا نے ہونٹ بھینچ لیئے۔ 

    ایڈون اپنی جگہ کھڑا ہیون کو اندر جاتے دیکھ رہا تھا۔ 

    چلو۔ یون بن کو اسے باقائدہ چٹکی بجا کرمتوجہ کرنا پڑا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ کسمسائی تھی مگر شائد نیند نہیں ٹوٹی تھی اسکی۔ وہ دبے قدموں اسکے بیڈ کے پاس آیا تو احساس ہوا وہ خواب میں شائد ڈر رہی تھی۔ بازو موڑے داہنے ہاتھ کی مٹھی گال پر جمائے وہ سو رہی تھی۔مگر اسکا جسم دھیرے دھیرے لرز رہا تھا۔ پیشانی پر تفکر کی گہری لکیر تھی۔ کسی ڈرائونے خواب کے زیر اثر تھی شائد وہ۔ اس نے آگے بڑھ کر اسکو جگانا چاہا تھا تو اسکی آنکھ کھل گئ تھی۔ نیند بھری خمار آلود نگاہوں سے اس نے دیکھا تھا۔ پیشانی سے تفکر کی گہری لکیر مدھم پڑ رہی تھی۔ 

    اس نے دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر اسکا کندھا تھپکا

    کین ۔۔ وہ کین چھنا کہتے کہتے رکا۔ پھر دھیرے سے بولا

    سب ٹھیک ہے۔ اریزہ۔۔

    اسکے الفاظ میں جانے کیا جادوئی اثر تھا اس نے جیسے سچ مچ مطمئن ہو کر دوبارہ آنکھیں موند لیں۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کرسمس ٹری سج کر بے تحاشا خوبصورت لگ رہا تھا۔ گوارا اور ہوپ نے بہت دل سے سجایا تھا۔شام ہوتے ہی انہوں نے دعوت کا انتظام کرنا شروع کردیا تھا۔ عارضئ ٹینٹ کی مدد سے پورا صحن ڈھکا تھا۔ باربی کیو کا کافی بڑا انتظام تھا جس سے موسم کی ترشی کم محسوس ہو رہی تھی۔ گوارا کا بھائی ، یون بن اور دو تین لڑکے باربی کیو کرنے کا بار اٹھائے تھے۔ فضا میں گوشت بھننے کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ گائوں میں سب جلدی سو جاتے سو رات گئے کا انتظار نہیں کیا گیا تھا۔ گوارا کے عزیز رشتے دار دوست احباب کی بڑی تعداد مدعو تھی۔سب شام سے آنا شروع ہو گئے تھے۔ ریستوران کھچا کھچ بھر گیا تھا۔ خوش گپیوں کی آوازوں کے ساتھ سوجو اور بئیر کھلنے کی بھی آوازیں آرہی تھیں۔  بچوں کو ٹھنڈ کئ وجہ سے ریستوران کے اندر ہی رکھا ہوا تھا۔ خواتین بزرگ بھی اندر ہی تھے جبکہ نوجوان سب صحن میں جمع تھے۔ بی ٹی ایس بلیک پنک کے گانے لگے ہوئے تھے۔ گوارا نے اپنی بچپن کی سہیلیوں سے بڑے شوق سے ہوپ اور اسے ملوایا تھا۔ 

    جی ہائے نہیں آئی؟ 

    ان میں سے ایک نے غور سے ان دونوں کو دیکھ کر گوارا سے پوچھا تھا۔ 

    آں۔ وہ مصروف تھئ۔ گوارا بات بنا گئ۔ 

    جی ہائے کی ناراضئ کی وجہ اس وقت بلا وجہ دوبارہ شرمندگی محسوس کرکے گھٹنوں میں منہ دینے کو تیار بیٹھی تھی۔

    ہوپ نے ٹہوکا دیا تو وہ چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگی اس نے مسکرا کر نگاہوں سے سامنے دیکھنے کا اشارہ کیا۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا۔۔ ہوپ اسکے گردن گھماتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایڈون کا گوشی وون بند تھا۔ اس نے انتظامیہ سے پتہ کیا تو انہوں نے بتایا وہ کرسمس منانے شہر سے باہر گیا ہے۔ اس نے واپس کب آنا تھا  اسکی خبر نہیں تھی۔ وہ شکریہ ادا کرکے باہر نکل آیا۔ کل کی شدید برفباری کےبعد آج بھی موسم ابر آلود ہی تھا۔ وہ اپنی گاڑی میں آکر بیٹھا تو دفتر سے پی اے کی کال آگئ ضروری ملاقات طے تھی ایک دو جگہ اسکے ضروری دستخط درکار تھے۔ اسکے کئی گھنٹے اسی میں لگے۔ شام کو جا کر وہ فارغ ہوا۔ کل کرسمس کی چھٹی تھی۔ اس نے سب کو گھر بھیج دیا۔ خود اس وقت اپارٹمنٹ میں جا کر اکیلے بیٹھنے کا دل نہیں تھا سو گنگنم چلا آیا۔ سڑک کنارے کئی میوزیکل پروگرام ہو رہے تھے ۔ پوری سڑک دلہن کی طرح سجی تھی۔ کھانے پینے کے ٹھیلے لوگوں کے رش کی وجہ سے کم پڑ رہے تھے۔ کہیں سینٹا کے لباس میں لوگ بچوں میں مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے تو کہیں نئے نویلے جوڑے بانہوں میں بانہیں ڈالیں خوش باش گھوم پھر رہے تھے۔ وہ یونہی ایک نو آموز گلوکار بینڈ کی کارکردگی دیکھنے بیٹھ گیا۔ 

    سڑک کنارے کسی بھی بڑے سیٹ اپ کے بنا بھی وہ کرسمس کا مزا دوبالا کر رہے تھے۔ کرسمس کی آرائش کے طور پر انہوں نے اپنے بینڈ کے ہر موسیقی کے آلے کے ساتھ جل بجھ کرتے قمقمے لگا رکھے تھے۔ ایک چھوٹا سا ڈیڑھ دو فٹ کا کرسمس ٹری بھی خوب قمقموں اور چھوٹی چھوٹی چیزوں سے سجا رکھا تھا۔ اسکی نگاہ کو کھینچ گیا ایک ایک چھوٹا سا ننھا فرشتہ  جو کرسمس ٹری میں پر پھیلائے جھول رہا تھا۔ ان لڑکوں کی اپنی تیاری بھی پوری تھی۔ سردی کے لحاظ سے کالےجیکٹ گرم ٹوپی لانبےجوتے پہن رکھے تھے۔ کانوں میں آویزے لٹکائے خوش شکل لڑکے لوگ جوق در جوق جمع ہو رہے تھے۔ مفت کا کانسرٹ دیکھنے۔ہاں کچھ  لوگ ایک کونے میں رکھے انکے آر پار دکھائی دینے والے باکس میں حسب منشاء پیسے ڈال رہے تھے۔ وہ بھی اتنے ہو چکے تھے کہ ڈبہ بھرنے کو تھا۔ وہ کافی مشہور معلوم ہو تے تھےایک مکمل راک بینڈ جو ذرا سا اگر موقع مل جاتا تو شائد کورین پاپ انڈسٹری کا ایک اچھا اضافہ ثابت ہوتے۔ انکا تو اپنا گانا بھی تھا۔ 

    زندگی اے میری زندگی

     تو ہی بتا کہ اب کروں میں  کیا

    اب تو جی گیا جیسے بھی جیا

     اب جو جی چکا تو مروں میں کیا 

    میری آرزو ہوئی پوری مگر 

    پھر بھی خوش نہیں میرا دل ہوا

    سن اے زندگی میرے پاس آ

    مجھے گلے لگا۔۔ 

    میں ہوں تھک چکا۔۔۔۔ 

    گلوکار نے بہت لمبا کھینچا تھا اس جملے کو۔ 

    تبھئ گٹار بجانا چھوڑ کر اسکا ساتھی آگے بڑھا اور ریپ شروع کردیا۔ گلوکار کا کام اب موسیقی کی لے برقرار رکھنا تھا۔ اب ریپرتیز تیز مگر مکمل جملے کہتا وہ اب زندگی کے مکالمے بول رہا تھا۔ زندگی خفا تھی اسکی ناشکری پر اور ڈانٹتے ہوئے بول رہی تھی۔ 

    آہاں میں زندگی۔۔۔ 

    سن رہی ہوں یہیں کھڑی

    تیرے الم تیری بکا

    اب سن میرا جواب آ

    اے تھکے ہوئے انسان تو

    یہاں تھا چار دن کا مہمان تو

    چند سکوں کی تجھے تلاش تھئ

    جن رشتوں کی تجھے آس تھی

    اب میں پوچھتا ہوں تجھ سے اگر

    وہی موڑ ہے یہ اور وہی ڈگر

    سب  یہاں ہی تھا تو پھر بتا کیوں کہاں گیا

    تو نےپایا جوتگ و دو سےوہ ہے جہاں کیا۔۔ 

    تجھے آرزو تھی کہ بہت مال ہو

    تیری شہرتوں کونہ زوال ہو

    تجھے مل جائے بس ایک شخص

    چاہے اسکو تیرا نہ خیال ہو

    اب جو پا گیا تو سب کچھ یہیں

    اب تو سوچ رہا  ہے کہ کہیں

    تو نے مانگا ہی خسارہ تھا

    تونےاپنا دل جس پر وارا تھا

    تو نے صدقہ جسکا اتارا تھا

    تیری آہوں پر تجھے جو بخش دیا

    تیری دعا کے بدلے جو شخص دیا

    اس نےبھی کبھی

     دل سے کسی کو پکارا تھا

    وہ نام مگر

     نہ تمہارا تھا۔۔۔۔

    کرسمس نائٹ پر اداس گانا بھی خوش ہو کر سن رہے تھے۔گانے والی کی آواز بھی بہت میٹھی تھی اور سر بھی اچھے اٹھا رہا تھا۔ وہ وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر انہیں سنتا رہا۔۔ سردی بڑھ رہی تھی اور لوگوں کا جوش و خروش بھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کچھ ہی فاصلے پر وہ کسی دوست کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ منٹ گرین ہائی نیک بلیک جینزمیں  وہ سب میں نمایاں دکھائی دے رہاتھا۔ اسکے چہرے پر پڑنے والی روشنی اسکی بے تحاشہ صاف رنگت میں زردی گھول رہی تھی یا وہ اسے ویسے ہی ذرا سا کمزور لگا۔بلا ارادہ وہ اسے دیکھ رہی تھی جب باتیں کرتے اس نے رخ بدل کر اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ اس نے گڑبڑا کر نگاہوں کا رخ ہوپ کی جانب بدلا وہ پتہ نہیں کب اٹھ کے جا چکی تھی۔ اس نے حیرت سے اپنے برابر خالی کرسی کو دیکھا۔  

    کیسی ہو

    ۔ہیون اسکے متوجہ ہوتے ہی وہ اپنے ساتھ کھڑے لڑکے سے معزرت کرتے سیدھا اسی کے پاس آیا تھا۔

    ٹھیک ہوں تم کیسے ہو؟بخار ہوا وا تھا اب کیسی طبیعت ہے۔۔

     اسکی آنکھوں میں دیکھنا اسکے لیئے آج کل مشکل ہوا وا تھا۔ اس وقت تو سرخ بھی ہو رہی تھیں۔ وہ بولتے بولتے نگاہ چرا بھی گئ۔

    اب بہتر ہوں۔ بخارنہیں ہے اب۔ 

    اس نے سادہ سے انداز میں جواب دیا۔ مگر نگاہیں اس پر بھٹک سی گئیں۔ 

    تھائینیے۔ اریزہ نے دھیرے سے کہا۔ 

    گرے وولن میکسی میں اسکا رنگ دمک رہا تھا۔ اس نے گرےاور بلیک ہی وولن اسکارف گردن میں ڈال رکھا تھا۔ یہ میکسی اس نے گوارا کے ہمراہ سول میں لی تھی۔ گوارا نے اسی طرح کی گہری نیلی اور ہوپ نے میرون پہن رکھی تھی۔ تینوں کی ایک جیسی لک تھی۔ تینوں نے بال کھول رکھے تھے۔ وہ بہت غور سے اسکی شکل دیکھ رہا تھا۔ اس کے رخسار تپنا شروع ہو گئے تھے۔ 

    تم کمزور لگ رہی ہو۔ کھاپی نہیں رہیں ڈھنگ سے؟ 

    اسکا انداز اپنائیت بھرا تھا۔ شائد کوئی خوش فہم اندازہ لگانے پر دل مائل تھا۔

    ارے نہیں۔ بہت کھا رہی ہوں۔ بس کل ڈر گئ تھی شائد اسلیئے۔ ویسے۔ کل تم نے میری مدد کی اسکے لیئے دل سے شکریہ۔ میں تو شائد وہیں سڑک پر ہی بیٹھی رہ جاتی۔  وہ پورے خلوص سے  اور محسوس کی جانے والہ اجنبیت سےاسکا شکریہ ادا کررہی تھی۔ 

    ہیون کے چہرے پر کھلتی مسکراہٹ ماند پڑگئ۔

    جوابا کچھ بول ہی نہ سکا۔اریزہ اٹھنے کا بہانہ سوچنے لگی۔ 

    آئی مس یو اریزہ۔ ڈڈ یو مس می؟

    ( میں نے تمہیں یاد کیا اریزہ، تم بھی مجھے یاد کیا؟)

    اس نے صاف کہا تھا۔

    اریزہ واضح طور پر چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگی ۔ اسکا انداز سادہ نہیں تھا۔ اسکا لہجہ یاسیت بھرا تھا۔ چہرے پر امید سی تھی کہ وہ جواب میں شائد کہے گی۔ ہاں بہت ذیادہ۔ تم سے بھی ذیادہ۔اریزہ جز بز سی ہوگئ۔ اگر اسے ایڈون کی آنکھوں میں اپنے لیئے جگنو دمکتے محسوس ہوتے تھے تو اس وقت ہیون کی آنکھیں میں دیئے جلتے نظر آرہے تھے۔

    میں نے تو بہت یاد کیا ۔۔بہت ذیادہ۔ کاش تم بھی۔  

    وہ کہہ کر چند لمحے اسکے جواب کا منتظر رہا۔ اریزہ کو سمجھ نہ آیا کیا جواب دے۔ اس کو اسکی باتوں کو اسکی دوستی کو اس نے واقعی یاد کیا اسکے ساتھ اچھی یادیں وابستہ تھیں مگر اگر وہ جواب میں صرف مس یو ٹو بھی کہہ دیتی تو شائد وہ اسے کچھ اور معنوں میں لیتا۔ وہ جملہ ترتیب کرتی رہ گئی وہ مایوس ہو کر چلا ہی گیا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ اکیلی ہی بیٹھی تھی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سول میں کرسمس کی شروعات ہو چکی تھیں۔ نرس نے دوپہر میں کھڑکی کے پردے ہٹائے تھے اس وقت کھڑکی سے پوری آتش بازئ دکھائی دی تو دل اور اداس ہوگیا۔  یہ اسکی بائیس سالہ زندگی کی پہلی کرسمس تھی جس میں نہ اریزہ پاس تھی نا ایڈون۔ وہ آج اریزہ کو یاد کر رہی تھی۔ اسکے ساتھ بیتے پل ریل کی طرح نگاہوں میں گھومے تو کتنے ہی آنسو گالوں پر پھیلتے چلے گئے۔ نرس نے اندر آتے تاسف سے اسے دیکھا۔پھر چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بڑے خلوص سے اسے آکر مبارک باد دی۔ رات کی دوائیں دیں۔ کیک کا ایک پیس وہ بطور خاص اپنی مریضہ کیلئے لائی تھی۔ 

    اسکے خلوص سے سنتھیا کا دل بھر آیا تھا۔ 

    آج کا دن رونے کا نہیں دعا کرنے کا ہے۔ اپنے لیئے اپنے بچے کیلئے دعا کرو کہ  جب وہ دنیا میں آئے تو تندرست ہو یسوع مسیح کا سچا پیروکار بنے۔ اولاد جیسا خوبصورت تحفہ مل رہا ہےتم تو جتنا شکر ادا کرو کم ہے سنتھیا۔ یہ آخری کرسمس ہوگی تمہاری تنہا۔ اگلی کرسمس پر تو تم اسکے پیچھے بھاگ رہی ہوگی۔ 

    اسکی پلکوں سے آنسو چنتے نرس نے ہلکے پھلکے انداز میں اسے ٹوکا مستقبل کی روشن جھلک دکھائی۔ کتنی نئی امیدیں تھما دیں۔

    وہ بہل بھی گئ۔ چند مہینے گزریں گے جیتا جاگتا ننھا وجود اسکی بانہوں میں ہوگا۔ایڈون جتنا بھی سخت دل بنتا ہو جب اپنی اولاد کو اپنی گود میں لے گا تو یقینا پگھل جائے گا۔ اسے تو بچے پسند ہوا کرتے تھے۔ یہ سوچ اسکو لمحوں کیلئے سہی ہر فکر سے آزاد کر گئ۔ ایک مسکراہٹ بھئ بھولے بھٹکے ہونٹوں پر در آئی۔ 

    نرس نے محبت سے اسکو دیکھا۔

    اب اچھا اچھا سوچو اور سونے کی کوشش کرو۔ 

    گڈ نائیٹ۔ وہ کہہ کر جانے لگی جب دھیرے سے کمرے کا دروازہ کھلا۔نووارد کو دیکھ کر وہ مسکرا کر اس سے مخاطب ہوئی۔

    لو آگیا تمہارا بوائے فرینڈ تم ناحق اداس ہو رہی تھیں۔

    نرس کی بات پر اس نے بےتابی سے مڑ کر دیکھا۔ تو کم سن ایڈون کو سچ مچ لے آیا۔ایڈون مان گیا آخر۔ اس کے خوش فہم دل نے کیا کیا نہ سوچ لیا۔ اسکی ساری خوش پل میں ہی خاک ہوئی۔ چہرے پر یکدم سایہ لہرا گیا۔

    یہ کم سن تھا۔ بڑا سا شاپر تھامے ۔

    کم سن جو نرس کی غلط فہمی پر کچھ کہنے ہی والا تھا سنتھیا کے چہرے کو پل میں لو دیتے پل میں تاریک پڑتے دیکھ کر اپنی جگہ مجرم سا بن گیا۔ 

    میں یہی سوچ رہی تھی روزانہ باقائدگی سے آتے ہو اور کرسمس پر غائب ہو پتہ ہے سنتھیا اداس ہو گئ تھئ۔ تمہارا فرض ہے اب اسکو خوش کرکے جائو۔ 

    خوشدلی سے کہتی نرس جواب کا انتظار کیئے بنا باہر نکل گئ تو وہ دروازہ احتیاط سے بند کرتا سنتھیا کے پاس چلا آیا

    میری کرسمس۔ 

    اس نے شاپر اسکی جانب بڑھایا۔ 

    میری کرسمس۔ وہ بمشکل جواب دے پائی۔ مایوسی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔ وہ شاپر کی جانب ہاتھ بڑھا ہی نہ سکی۔ کم سن نے خود ہی شاپر میں سے دو بالشت بھر کا چھوٹا سا کرسمس ٹری نکالا۔ 

    ہم کرسمس منانے باہر تو جا نہیں سکتے کرسمس  ہی سوچا اندر لے آئوں۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ رہا تھا۔  صوفے کے پاس سے اسٹول اٹھا کر کھڑکی کے پاس رکھا  کرسمس ٹری اسی پر ٹکا دیا۔ ایک چھوٹی سی بیٹری لگی تھی اس نے بٹن دبایا تو کرسمس ٹری جگمگا اٹھا۔ اور اسکے بیچ میں ہوا میں معلق ننھے فرشتے نے پر پھیلائے اور ہلکی سی اڑان بھی بھر لی۔

    اتنا پیارا منظر تھا کہ سنتھیا بے ساختہ مسکرا دی۔ کم سن بے ساختہ زیر لب تھائی نیئے کہہ گیا۔پھر باقی شاپر اسکی جانب بڑھادیا۔ 

    چھوٹا سا سہی کرسمس کیک بھی ہے اور گفٹ بھی ۔ 

    سنتھیا نے ہاتھ بڑھا کر تھام لیا۔ بالشت بھر کے دو عدد ڈبے تھے۔ اس نے تحفہ ایک جانب رکھ کر کیک کھولا۔ کیک واقعی چھوٹا سا تھا۔ کپ کیک۔ اسے ہنسی آگئ۔ 

    کم سن نے پھلوں کی ٹوکری سے چھری اٹھا کر اسے تھمائی۔ 

    چلو دعا مانگیں۔ سینے پر کراس بنا کر ایک ہاتھ کی مٹھی بنائئ دوسرے ہاتھ سے تھاما آنکھیں بند کرکے باقائدہ دعا بھی مانگی۔ سنتھیا اسے دیکھے جا رہی تھی تو آنکھیں کھول کر اسے آنکھوں سے ہی اپنی تقلید کرنے کا اشارہ کیا۔ سنتھیا نے بھی دعا کا انداز بنا لیا مگر دل بالکل خالی سا تھا کوئی دعا ذہن میں ٹھہر ہی نہ رہی تھی۔ 

    چلو کاٹو کیک۔ کم سن کے کہنے پر اس نے آنکھیں کھولیں۔ منے سے کیک کو احتیاط سے چٹکی میں پکڑ کر کاٹا ایک ٹکڑا کیا۔ اسکی جانب بڑھایا جسے اس نے خوشدلی سے تھام کر منہ میں ڈال لیا۔ 

    شکریہ۔ اس نے آگے بڑھ کر اگلا ٹکڑا خود اٹھا کر سنتھیا کی جانب بڑھایا۔ اس نے منہ کھولنے کی بجائے تھام کر ہلکا سا چکھا۔ 

    ایڈون نے آنے سے انکار کردیا نا؟

    اسےہر برے کی امید تھی۔

    ایڈون کرسمس منانے دوسرے شہر گیا ہوا ہے۔ یون بن کے ساتھ۔ گوارا کے گائوں میں۔ 

    اس نے سرسری سے انداز میں اطلاع دی۔پھر اضافہ کیا

    اریزہ ہیون سب وہیں ہیں۔ 

    تو میں سیول میں اکیلی ہوں۔ 

    وہ ذرا سا ہنسی۔ پھر خیال آیا تو اگلا سوال بھی کرڈالا

    میں تو یہاں اکیلی ہوں لیکن تم اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ کیوں نہیں ہو کرسمس کے موقعے پر۔

    سنتھیا نے بنا تمہید سوال کیا تھا۔کم سن کو اچھو سا ہوا۔ اس سوال کی کم از کم اس وقت اسے امید نہ تھی۔ 

    سنتھیا جواب طلب نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چھانون نورینونو ائے 

    نو اے ایئے چھونن کورسومان

     ایدا میون کی پور تھیندے۔۔ 

    ایکسو کا فرسٹ سنو بج رہا تھا اور سب ینگ پارٹی اس پر جوڑوں میں ناچ رہے تھے۔ وہ کچھ فاصلے پر بیٹھی ان سب کو دیکھ دیکھ کر ہی پارٹی کا لطف اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ کورینز ویسے بھی غیر ملکیوں سے تھوڑا فاصلے سے رہتے ہیں جبھی کسی نے اسے ڈانس کی صلاح بھی نہیں ماری۔ سب آپس میں ہی رونق میلے میں لگے تھے۔۔ ہوپ گوارا کی والدہ کے ساتھ اندر خواتین کی محفل میں بیٹھی تھی۔ وہ اسکے ساتھ اندر گئ تھی بیٹھنے مگر اسکی شکل دیکھ کر جیسے خاموشی چھائی پھر سب ہی اسکی وجہ سے ذرا تکلف سے بات کرنے لگیں  کچھ نہیں تو سامنے بیٹھی آہجومہ جس طرح ایک ٹک اسے دیکھے گئیں وہ جزبز سی ہوتی معزرت کرکے اٹھ آئی باہر۔یہاں کم از کم سب اسے گھور نہیں رہے تھے انکی اپنی دلچسپیاں تھیں۔اس نے صحن پر طائرانہ نگاہ دوڑائئ۔  ایک طرف  کچھ لڑکے لڑکیاں سوجو پیتے ناچتے ہنس ہنس کر پاگل ہو رہے تھے۔ شائد چڑھ گئ تھی انہیں۔ کچھ سب بھول کر بس باربی کیو کے پاس کھڑے بس کھانے میں لگے تھے ۔۔ اس وقت یون بن اور گوارا  دونوں مزید کچھ جوڑوں کے ساتھ کپل ڈانس کر رہے تھے ۔ اس پر نگاہ پڑنے پر گوارا نے فٹ سے اسے بلایا۔ اس نے سہولت سے نفی میں سر ہلایا۔وہ یون بن کو کچھ کہنے لگی۔ یقینا وہ یون بن کو پرے کرکے اسکے ساتھ آبیٹھنے والی تھی۔ اریزہ گہری سانس لیکر اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسے اگر اس پارٹی کا حصہ نہیں بننا تھا تو یہاں بیٹھ کر گوارا کو مروت کی مار بھی نہیں دینی چاہیئے۔ یہی سوچ کر وہ اٹھ کر کمرے میں چلی آئی۔ کمرے میں باہر کے شور کی آواز کم سہی مگر آرہی تھی۔ اس نے سامنے دیوار پر لگئ گھڑی میں وقت دیکھا۔ پھر سوچ میں پڑ گئ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شولڈر بیگ لٹکاتی وہ لانگ کوٹ پہنتی گلے میں مفلر لپیٹ کر شوز پہنتی پارٹی سے بچتی باہر نکل آئی تھی۔ اس وقت نو بج رہے تھے۔ اسے بھوک تو نہیں لگ رہی تھی مگر اگر اسے کچھ کھانا پینا تھا تو اسٹور تک جانے آنے میں گھنٹہ لگ جانا تھا۔ گھر سے نکلتے پارٹی کی باقیات کے شور و ہنگامے میں اندازہ ہی نہ ہوا کہ باہر ضرورت سے ذیادہ سنسانی ہے۔ وہ سردی کی وجہ سے کافی تیز قدم اٹھا رہی تھی ۔  پہلی گلی  دوسری گلی پار کر کے احساس ہوا  کہ اتنا سناٹا اور خاموشی ہے۔ آگے شاہراہ تھی۔ جس پرٹریفک بھی ہوتا مگر کیا اس وقت اکیلے اسکا یوں سڑک پر جانا ٹھیک ہوتا؟ اسے اپنی بہادری نری حماقت  محسوس ہوئی کہ آگے جانے کی ہمت نہ ہوئی۔ سڑک کنارے کھڑی

    وہ شش و پنج میں مبتلا سوچ رہی تھی کہ آگےجائے نا جائے ۔ جب اسے پیچھے بھاگتے قدموں کی آواز آئی۔ کسی نے اسے اونچی آواز میں پکارا بھی تھا۔اس نے مڑ کر دیکھا تو ہیون بھاگتا ہوا آرہا تھا۔ 

    اتنی رات کو اکیلی کہاں جا رہی ہو؟ میں وہاں سے۔۔  وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر ہانپنے لگا۔

    اریزہ خفت زدہ سئ مسکرا دی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسے حرارت محسوس ہو نے لگی تھی تو پارٹی سے اٹھ کر وہ کمرے میں چلا آیا۔ ٹیبلٹس لیکر ارادہ لمبی تان کر سونے کا تھا۔ تبھی کھڑکی پر نگاہ پڑی تو پردے برابر کرنے کی نیت سے کھڑکی کے پاس آیا ۔تبھئ اسکی ڈیوڑھی سے تیز قدم اٹھا کر نکلتی اریزہ پر نگاہ پڑی۔ وہ یقین کرنے میں متامل ہوا مگر جب اسے دروازہ کھول کر باہر جاتے دیکھا تو فوراموبائل اٹھا کر اسے کال ملائی جو کہ حسب عادت اس نے فون نہیں اٹھایا۔وہ تیز قدم اٹھاتی سڑک پر بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ عجلت میں والٹ اور جیکٹ اٹھاتا اسکے پیچھے بھاگا تھا وہ اتنی ہی دیر میں غائب ہوگئ تھئ۔ 

    وہ میں نے سوچا اسٹور سے کچھ کھانے کیلئے لے آئوں۔ 

    کھسیا کر اس نے بتایا تھا۔ اس کو شرمندگی ہوئی تھی۔ ایک تو اسکی طبیعت خراب اوپر سے وہ اتنی کڑاکے کی سردی میں اسکے پیچھے بیچ سڑک میں کھڑا تھا۔ 

    ہیون سانس بحال کرتا اسے دیکھ کر رہ گیا۔

    صبح ہوپ کے ساتھ گئ تو تھیں باہر اس وقت کچھ لے کر آنا چاہیئے تھا۔ اس وقت اتنی سردی اور رات کو اکیلے نکل پڑیں۔ کسی کو ساتھ لے کر ہی آتیں مجھے ہی کہہ دیتیں۔ ابھی یہاں راستہ بھول جاتیں پھر؟ ۔ اسکا انداز سخت نہیں تھا مگر وہ ڈانٹ ہی رہا تھا ۔ 

    اریزہ سچ مچ شرمندہ ہوگئ۔ 

    مجھے اندازہ نہیں تھا اتنی سنسانی ہوگی یہاں پر۔ پھر قریب ہی تو سڑک ہے بس اس لیئے۔ معزرت۔ 

    اپنی غلطی مانتے اس نے فورا معزرت بھئ کرلی۔

    چلو واپس میں گاڑی نکالتا ہوں۔ 

    اس نے کہا تو وہ سہولت سے منع کر گئ

    بس سڑک آ تو گئ میں دو منٹ میں چیز لے کر آتی ہوں۔ تم جائو۔ گاڑی لیکر جب تک آئوگے میری شاپنگ بھی ہو جائے گئ ۔ واپسی میں مجھے لے لینا۔

    اس نے جھٹ پٹ پروگرام بنا لیا تھا۔ ہیون کو جانے کیوں ہنسی آگئ۔۔ دونوں ہاتھ سینے پر لپیٹتے وہ مسکرا کر پوچھ رہاتھا

    اسٹور سے چیزیں کیسے لوگی؟

    پیسے ہیں میرے پاس۔ 

    اس نے تھوڑا برا مانا یہ کیسا سوال ہوا۔ اپنے شانے سے لٹکتا چھوٹا سا بیگ تھپتھپا کر بولی۔

    اتنی بھئ احمق نہیں تھی وہ۔ 

    ہیون نےسر جھٹکا

    چلو۔ اسکا واپس جانے کا ارادہ نہیں تھا۔ اریزہ جانتی تھی اب وہ اسے اکیلا چھوڑ کر جانے والا نہیں تھا۔ سچی بات ہے اس وقت اسکی آمد سے خاصی ڈھارس محسوس ہوئی تھی اسے۔ 

    سڑک پر اکا دکا گاڑیاں گزر رہی تھیں ہیون گھوم کر خود سڑک کی طرف آگیا تھا۔ اسکی سردی کے مارے گھگھی سی بندھ رہی تھی ۔ اس نے کن اکھیوں سے ہیون کو دیکھا اسکی بھی ناک سرخ ہو رہی تھی ۔

     اتنی برفانی ہوا کیوں چل رہی ہے؟ اس نے جھنجھلا کر سوچا۔ 

    سامنے ہی روشنیوں میں گھرا مارٹ تھا۔ پہنچتے پہنچتے قلفی جم گئی تھی پھر بھی۔  

    ایک اور مصیبت تھی سامنے۔ جالی دار سوراخوں والا شٹر گرا ہوا تھا۔ 

    یہ تو بند ہے۔

    وہ زیر لب بڑبڑائئ۔ ہیون نے آگے بڑھ کر شٹر اٹھا دیا۔ اریزہ نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولنا چاہا۔ مگر شیشے کا دروازہ مضبوطئ سے بند تھا۔ 

    کرسمس ہے چھٹی ہے مارٹ بند ہوتا ہے۔ گائوں ہے یہ سیول تھوڑی۔ انکو کیا پتہ کہ اریزہ کو بھوک لگتی ہے رات کو۔ 

    ہیون کی وضاحت پر وہ اسے گھور کر رہ گئ۔ 

    وہ دروازے کے پاس ٹٹولتی نگاہوں سے جانے کیا ڈھونڈ رہا تھا۔ 

    پہلے نہیں بتا سکتے تھے۔ اس نے چڑ کر کہا۔ 

    اب چلو واپس۔ کیا ڈھونڈ رہے ہو۔ 

    ہمارے اسٹورز میں مشین لگی ہوتی ہے سیلف سروس سے آپ اپنے شناختی کارڈ یا بنک کارڈ کو سوائپ کرکے کھول سکتے ہیں مارٹ مگر یہاں لگتا ہے نہیں لگی ہوئی۔ 

    وہ مایوسی سے سر ہلا رہا تھا۔ پھر آگے بڑھ کر گلاس ڈور کے لاک اسکرین پر ہاتھ رکھا ۔ اسکرین روشن ہوئئ اسکینر بجا اور دروازہ کھل گیا۔ اریزہ کا منہ کھلا رہ گیا۔

    آجائو۔ وہ آرام سے دروازہ کھولتا اسے اندر آنے کی دعوت دے رہا تھا۔

    یہ اب کیسے کھلا؟ 

    وہ حیران تھئ۔ 

    میرے ہاتھ کا کمال ہے۔ اس نے شرارت سے اپنے ہاتھ کی انگلیاں نچائیں۔

    تم نے لاک کوڈ توڑا؟ مسلئہ تو نہیں ہو جائے گا؟ یہاں تو کیمرے لگے ہوتے ہیں۔ 

    وہ فکر مند ہوگئ تھی۔ اس طرح بند اسٹور میں گھسنا جیل کی سیر نہ کروادے۔

    ہم واپس چلتے ہیں۔ 

    وہ ڈر کر واپس جانے کو تھی۔ہیون نے اسکو ہاتھ پکڑ کر روکا۔ پھر داہنا ہاتھ لہرا کر بولا  

    میں اس ہاتھ سے لی مارٹ کی چین کے کسی اسٹور کو کبھی بھی کھول سکتا ہوں۔ میرا ہاتھ اسکینڈ ہے ہر ایکسسس کیلئے۔ 

    وہ اسٹور کے فرنٹ پر جا بجا لگے لی مارٹ کے لوگو کی جانب اشارہ کرکے بتا رہا تھا۔ 

    لی مارٹ۔ وہ چونکی۔ یہ اسٹورتو اسی  چین کا حصہ تھا جہاں وہ جاب کر رہی تھی ۔یعنی ہیون کے باپ کا۔ یعنی ہیون کا۔ اسکا ذہن کڑیاں ملا رہا تھا یعنی اسکے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔

    کیا ہوا؟ چلو جو لینا ہے لے لو ہمیں واپس جلدی جانا ہوگا برفباری ہونے والی ہے۔ 

    اسے سوچ میں پڑا دیکھ کرہیون نے چٹکی بجائئ۔

    آہاں۔ وہ چونکی۔ ہاں چلو۔ اسٹور غیر معمولی خنک ہو رہا تھا۔ وہ کوٹ میں بھی جھر جھری سی لے گئ۔ ہیون تیز قدم اٹھاتا اندر کہیں چلا گیا تو وہ سہولت سے گھومنے لگی۔ 

    اسٹور اس دن تو بس آگے آگے سے دیکھا تھا اس وقت تو ٹھیک ٹھاک بڑا لگ رہا تھا  کئی رویہ اور وہ بھی سامان سے کھچا کھچ بھرا ہوا۔ ہر بڑے کنوینئنس اسٹور کی طرح ایک کونے میں میز کرسیاں بھی لگی تھیں۔  فروزن /انسٹنٹ فوڈ ہر طرح کی ورائٹئ تھئ۔  کرسمس کی وجہ سے ایک کونے میں کپڑوں کا بھی اسٹال لگا تھا۔ جس کے پاس بڑا سا سینٹا کلاز بھی کھڑا تھا۔ جیکٹس اور سوئٹرز ٹاپس مفلرز۔  ۔وہ کھانا بھول کر جیکٹس دیکھنے لگی۔

    تمہیں جو پسند آئے لے سکتی ہو۔  

    ہیون نے پاس آکر  کہا تو وہ بھی ترنگ میں آگئ۔ جو سوئٹر جیکٹ پسند آرہی تھی اسے پہن کر دیکھتی۔ بڑا سا پونچو پہن کر اس نے سینٹا کلاس کی ٹوپی چرا کر سر پر رکھی۔ دیوار گیرآئینہ دیکھ کروہ محظوظ ہو رہی تھی۔ بھالو بھالو سی موٹو سی لگ رہی تھی۔

    ادھر دیکھو۔ 

    ہیون نے متوجہ کیا جیسے ہی اس نے دیکھا ہیون نے فورا اسکی تصویر بنا لی۔ 

    کلک۔ 

    شٹر سائونڈ کی آواز خاصی تیز محسوس ہوئی تھی۔ 

    دکھائو۔ وہ دلچسپی سے آگے بڑھ کر دیکھنے لگی۔ تصویر واقعی اچھی آئی تھی۔ 

    اور بھی دکھائو۔ اسکی فرمائش پرہیون کو ہنسی آگئ

    یہی کھینچی ہے بس۔ آواز آئی تھی اور کوئی تمہیں؟ 

    اچھا۔ پھر یہ تو بھیجو۔ وہ مایوس ہوئی۔پھر خیال آیا۔۔

     ویسے تم سب کورینز شٹر سائونڈ بند کیوں نہیں کرتے ہم لوگ تو بند رکھتے ہیں خاص کر میں مجھے ذہر لگتی تصویر کھنچنے کی آواز بندہ ویسے ہی چوکنا ہوجاتا تصویر کھنچ رہی جانے کیسی آئے گی۔

    کوریا میں ذاتی تصاویر لیک ہونے کے کئی اسکینڈلز کے بعد ہر موبائل سے شٹر سائونڈ بند کرنے کی سہولت ہی بند کر دی گئ ہے۔ اب کوئی بھی خاموشی سے کسی دوسرے کی تصویر نہیں کھینچ سکتا۔

    ہیون نے کاکائو ٹاک پر اسے تصویر بھیجتے مفصل جواب دیا۔

    اریزہ سر ہلاتی اپنے موبائل میں تصویر ذوم کرکے دیکھ رہی تھی۔ اتنا موٹا چوڑا سا پونچو اوپر سے سینٹا کلاز کی ٹوپی پہن کر بھی وہ موٹی نہیں لگ رہی تھی۔ بے ساختہ اچانک پوز بنانے کی وجہ سے ہنستی ہوئی وہ تصویر میں خود کو بھی اچھی لگی۔ 

    ہر جیکٹ احتیاط سے واپس لٹکا کر وہ فوڈ آئیٹمز کی طرف آگئ۔ نوڈلز دیکھتے اسے حیرت کا جھٹکا لگا جب اسے انڈونیشین حلال نوڈلز نظر آگئے۔بڑا بڑا حلال لکھا دیکھ کر اسے جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ۔ بے ساختہ خوش ہو کر بولی

    یہ تو حلال نوڈلز ہیں۔ 

    کیا ہیں؟ ہیون سمجھا نہیں۔ 

    یہ والے میں کھا سکتی ہوں ان پر یہ جو حلال لکھا ہے نا اس وجہ سے۔ 

    اس نے عربی میں حلال لکھا سے دکھایا۔ ہیون کو عربی پڑھنی تو کیا آنی تھی ہاں ڈیزائن سمجھ لیا۔

    میں یہ کھائوں گی۔ اف اتنے عرصے بعد نوڈلز کھائوں گی میں وہ بچوں کی طرح خوش ہو رہی تھی۔ 

    ایک منٹ بنائوں گی کیسے۔؟ اسے نئی فکر سوار ہوئئ۔

    ہیون نے ہی یہ پریشانی بھی دور کی۔ انسٹنٹ ریمن کے پیک اٹھا لایا ان کو کھول کر انکے نوڈلز اور ٹیسٹ میکر ایک طرف رکھ کر خالی کرکے اسکی جانب بڑھا دیا۔ ڈسپنسر سے گرم پانی لیکر نوڈلز بنائے ۔ہیون نے خود اپنے لیئے بھی انڈونینشین ہی نوڈلز بنائے تھے۔ 

    ریمن کے پیک اور ٹیسٹ میکر ایک شاپر میں کرکے رکھ دیئے۔دونوں اپنا اپنا پیالہ اٹھا کر میز کرسی پر آبیٹھے۔ 

    ڈسپوز ایبل کانٹے میں نوڈلز پرو کر پھونک مار کرٹھنڈا کرکے اس نے کافی عجلت میں منہ میں رکھا تھا۔ 

    میں نے زندگی میں کبھی حلال نوڈلز نہیں کھائے آج پہلی بار کھائوں گا۔ تم لوگ کیا کہہ کر کھاتے ہو؟ 

    وہ چاپ اسٹکس سے نوالہ بناتے پوچھ رہا تھا۔ 

    نوڈلز کہتے ہیں ہم بھی اسے۔ 

    وہ اسکا سوال سمجھئ نہیں۔ 

    نہیں میرا مطلب ہے مسلم لوگ کھانا شروع کرنے سے پہلے کچھ کہتے ہیں نا انڈونینشینز کلاس فیلو کو میں نے دیکھا ہے وہ کچھ پڑھتا ہے پھر کھاتا ہے وہ جملہ بتائو میں حلال نوڈلز کھانے لگا ہوں تو حلال طریقے سے ہی کھائوں گا۔ 

    وہ سادہ سے انداز میں پوچھ رہا تھا جبکہ اس پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ بسم اللہ پڑھے بنا وہ خود کھانا شروع کر چکی تھی۔ ادھر ہیون تھا کہ بسم اللہ پڑھ کر ہی حلال نوڈلز کھانا چاہتا تھا۔ 

    وہ خود کو کوس کر رہ گئ  ۔ ہیون منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ 

    بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ 

    اس نے آہستہ آہستہ توڑ توڑ کر بتایا تاکہ وہ آرام سے پڑھ سکے۔ 

    ہیون نے سنا۔ اور بنا رکے فر فر دھرا دیا۔وہ حیران ہی رہ گئ

    اب مطمئن ہو کر کھانا شروع کر چکا تھا۔ 

    مجھے لگا تھا تمہارے لیئے بسم اللہ پڑھنا مشکل ہوگا تم نے تو آرام سے پہلی دفعہ میں ہی پڑھ لیا۔

    اسکا انداز توصیفانہ تھا

    میرے بچپن میں مسلم دوست تھے۔ وہ یہ پڑھتے تھے۔ ان سے سیکھا تھا میں نے پھر کوریا آیا تو بھول بھال گیا۔ ابھی تم نے بولا تو مجھے خود بھی نہیں پتہ مجھے کیسے یاد تھا یہ۔

    ہیون سرسری سے انداز میں بتا رہا تھا۔

    تم کہاں رہتے تھے؟ جو کوریا آگئے؟ اریزہ کو سمجھ نہیں آئی بات۔

    ماسکو۔ میری آہمونی رشین تھیں۔ آہبوجی نے ان سے شادی کی تھی جو کوریا کے قوانین کے مطابق ناجائز تھئ۔ وہ یہاں آ نہیں سکتی تھیں یا یوں کہہ لو آہبوجی لانا نہیں چاہتے تھے۔ اگر میں بیٹی ہوتا تو شائد مجھے بھی نہ لاتے۔ 

    وہ جتنا سرسری انداز میں بتا رہا تھا اتنا وہ متجسس سی ہوگئ تھئ۔ جبھی اگلا سوال حاضر تھا۔

    تمہاری آہمونی کہاں ہیں وہیں رشیا میں ؟تم جاتے ہو ماسکو اپنی آہموجی سے ملنے۔ 

    ہیون کو پہلی بار اسکے کسی سوال سے جھٹکا سا لگا تھا۔ اسکے ہاتھ میں لرزش سی اتر آئئ۔  چاپ اسٹکس ترمرا سی گئیں۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نہ وہ میری ماں ہیں نا انکی بیٹی میری بہن۔

    کم سن نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے اطمینان سے جواب دیا۔ 

    کیا مطلب ؟ تم نے خود کہا تھا کہ وہ تمہارے گھر والے ہیں۔ سنتھیا کو اسکے یوں مکرنے پر حیرت ہوئی

    جاننا چاہتی ہو؟ متجسس ہو میرے بارے میں۔ 

    کم سن ہنس کر بولا۔ اسکا انداز صاف مزاق اڑاتا محسوس ہوا۔ سنتھیا ہونٹ بھینچ گئ۔ 

    سوری مجھے تمہاری ذاتیات میں دخل نہیں دینا چاہیئے تھا۔ یہ تمہارا ذاتی معاملہ ہے معزرت۔ 

    اس نے سہولت سے معزرت کی۔ کم سن کی حیرت سے آنکھیں کھل سی گئیں۔

    پاکستانی لڑکیاں اتنی آسانی سے اپنی غلطی مان لیتی ہیں مجھے نہیں پتہ تھا۔ وہ ابھی بھی سنجیدہ نہیں تھا۔ سنتھیا نے ترچھی نگاہ ڈالی تو وہ شرارت چھوڑ کر ہنس پڑا۔

    اچھا اب غصہ نہ کرو ایسی کوئی انوکھی داستان حیات بھی نہیں ہے میری۔ گوگل کرو میرے باپ کا نام تو بھی آجائے گی سامنے میری کہانی۔ 

    میں دراصل اپنے باپ کی سیکٹری کا بیٹا ہوں۔ میری ماں مجھے میرے باپ کے منہ پر مار کر چلی گئ تھئ۔ تب میرے باپ کی پہلی بیوی وفات پا چکی تھی اور تین عدد بیٹے تھے۔ میری دیکھ بھال کیلئے انہوں نے ان خاتون سے شادی کرلی جو پہلے سے ایک عدد بیٹی کی ماں تھیں۔ جب آج سے پانچ سال قبل آہبوجی کا انتقال ہوا تو میرے بھائیوں نے مجھے اور انہیں نکال باہر کیا تھا۔جو چند چیزیں میرے والد میرے نام کر چکے تھے اپنی زندگی میں ان سے اور ان خاتون کے نام جو جائداد تھی اسکے بل پر ہم اب تک گزارہ کرتے رہے ہیں۔ اب میں نے کچھ اقرباء سے دبائو ڈلوا کر اپنا کچھ حصہ لے کر اپنی کمپنی کی داغ بیل ڈالی ہے۔ قوی امید ہے اچھا خاصا اسٹیٹس بنالوں گا اب میں اپنا۔ پیسہ ہی پیسہ آنے والا ہے میری آئندہ زندگی میں۔ 

    کرسمس پر اپنے اہل خانہ کے بجائے یہاں میرے ساتھ وقت ضائع کرنے کا جواب اس داستان امیر حمزہ میں کہیں نہیں تھا۔

    وہ جتا کر بولی تھئ۔ کم سن محظوظ ہو کر زور سے ہنسا۔ 

    چلو تمہارے اس سوال کا بھی جواب ہے میرے پاس۔ وہ اطمینان سے اسکے بیڈ پربیٹھ چکا تھا۔ انداز ایسا تھا جیسے جانے کیا اہم بات کرنے والا ہے۔ وہ غیر دلچسپی سے دیکھ رہی تھی جبکہ اصل میں جواب کی منتظر بھی تھی۔ 

     اگر کرسمس پر سگے رشتے داروں سے ملنا ضروری ہوتا ہے تو میرا ان سے ملنے جانا ضروری نہیں ۔ اور اگر خون کے رشتوں سے بڑھ کر قلبی تعلق اہم ہوتے ہیں تو وہ واقعی میری ماں اور بہن ہی ہیں میرے لیئے۔ اور میں ضرور اس وقت انکے ساتھ ہوتا اگر انکے ساتھ ساتھ تم سے بھی مجھے کوئی قلبی تعلق محسوس نہ ہوتا ۔ 

    اسکی بات ۔ سنتھیا خاموش ہی رہ گئ۔ وہ بلا ارادہ اس وقت یہ بات لیکر بیٹھ گیا تھا۔ سنتھیا کے ایکدم چپ کر جانے پر اسے افسوس بھی ہوا یہ وقت مناسب نہیں تھا ان باتوں کیلئے۔

    سنتھیا چند لمحے سوچتی رہی پھر جملے ترتیب دے کر بولی۔ 

    میں ایڈون کو پسند کرتی ہوں۔ تم جانتے ہو یہ بات۔ تمہارے اس خلوص کی میرے نزدیک بہت اہمیت ہے مگر میں خود غرض بن کے کسی کے جزبات کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہتی۔ اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم اس طرح میرا دل جیت لوگے تو تم سالوں بھی میرا اس طرح احساس کرو میرا خیال رکھوگے تو بھئ میرا دل ایڈون کی طرف ہی مائل رہے گا۔میرا اس کا تعلق آج کا نہیں ہے ۔ میں بچپن سے اسے چاہتی ہوں۔ تب سے جب محبت کیا ہوتی اسکا ادراک بھی نہیں تھا۔وہ تب سے میرے دل میں براجمان ہے۔ مجھے امید ہے تم سمجھ گئے ہوگے میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں۔

    وہ اسکو مایوس کر دینا چاہتی تھی۔ کم سن نے معمولی سا بھی اثر نہ لیا اسکی تقریر کا۔ یونہی مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا رہا۔ اسے اسکے دیکھتے جانے سے الجھن سی ہوئی۔ سچ مچ وہ چکنا گھڑا تھا کیا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خاموشی سے نوڈلز ختم کرتے اسکی نگاہ گلاس وال سے باہر روئی کے گالوں کی طرح گرتی برف پر پڑی۔ جانے کتنی دیر سے برفباری ہو رہی تھی کہ سامنے اچھی خاصی برف کی تہہ بن گئ تھی۔

    اتنی تیزی سی برف گر رہی تھی کہ وہ مبہوت سی دیکھے گئ۔ بے ساختہ اٹھ کر گلاس وال کی طرف چلی آئی۔ تھی۔ اتنی تیز برفباری اس نے زندگی میں پہلی دفعہ دیکھی تھی۔ یہاں آکر سول میں برفباری دیکھنے کا اتفاق ہوا تو مگر یوں بطور خاص برفباری کا منظر دیکھنے کا پہلا موقع تھا۔ وہ کتنی دیر دیکھے گئی تو احساس ہوا دیکھتے ہی دیکھتے سامنے والی پوری سڑک نے برف کی چادر اوڑھ لی تھی۔اسکے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی

    ہیون۔ اس نے بے ساختہ گھبرا کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ ہیون نوڈلز ختم کرنے میں مگن تھا ابرو اچکا کر دیکھنے لگا

    ہیون برفباری ہورہی ہے اور سامنے تو ساری سڑک برف سے ڈھک گئ ہے ہم واپس کیسے جائیں گے؟ باہر تو طوفان آیا ہوا ہے

    وہ متوحش سی پوچھ رہی تھی۔ 

    ہیون نے سوپ کا پیالہ اٹھا کر لمبا سا گھونٹ بھرا۔ 

    ہاں تو۔۔ اتنے طوفان میں تو ہم واپس  نہیں جائیں گے آج  یہیں رہیں گے۔ 

    کیا؟ 

    وہ چیخ ہی تو پڑی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد

    جاری ہے۔۔۔

  • Salam Korea URDU WEB NOVEL Episode 41

    salam korea by
    vaiza zaidi

    قسط 41

    باتیں کرتے سیڑھیاں چڑھتے آج انہیں ذیادہ وقت نہیں لگا تھا۔ گوارا اندر جا کر عبادت کرنے لگی تو وہ اور ہوپ باہر دھوپ سینکنے بیٹھ گئیں۔
    ایک اچھی خبر ہے ایک بری۔
    گوارا حسب عادت ڈرامائی انداز میں باہر آکر بولی۔وہ اندر سے مند رکا تبرک سفید ریپر میں سلیقے سے لپٹی سفید مٹھائی لیکر آئی تھی۔
    اریزہ کو یہ مٹھائی پسند تھی جبھی فورا ہاتھ بڑھا کر لے لی۔ گوارا نے دوسرا تبرک ہوپ کی جانب بڑھایا اس نے لیکر اریزہ کے کوٹ کی جیب میں ڈال دیا۔ گوارا گھور کر رہ گئ۔ اسکے کوٹ سے واپس لینے کیلئے ہاتھ بڑھایا تو اریزہ نے چپت لگا دی
    اور لے لینا اندر سے۔ وہ منہ بنا کر ہاتھ واپس کھینچ کر رہ گئ۔
    خبر سنائو اب۔۔ ہوپ کو خبر میں دلچسپی تھی۔
    اچھی خبر پہلے۔۔ اریزہ بولی
    بری خبر پہلے۔۔ ہوپ بولی
    دونوں کہہ کر ایک دوسرے کو گھورنے لگیں۔
    پجاری صاحب بلا رہے ہیں ہمیں وقت بھی مل گیا ہے مگر آج ان پر کوئی حاضری نہیں ہوتی سو وہ مستقبل کا کوئی آحوال نہیں بتا سکیں گے۔
    گوارا نے بتایا تو دونوں جھلا گئیں۔
    تو کونسا وہ شاہ رخ خان ہیں جو ہمیں ان سے ملنے کا اشتیاق ہو۔ اریزہ بھنائی
    تو کونسا وہ کم جونگ وو ہیں جو ہم ملیں جا کر ان سے۔ ہوپ تلملائی
    اس بار دونوں اکٹھے ہی بولی تھیں
    کم جونگ وو ؟ شاہ رخ خان؟ ارے ان سے ذیادہ اہم ہیں یہ۔ ویسے بھی
    بزرگوں سے ملنے کا فائدہ ہی ہوتا ہے نقصان کوئی نہیں۔
    گوارا نے بردباری سے کہا تو دونوں نے اکٹھے ہاتھ اٹھا کرجیسے مکھی اڑائی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ آج بھی دھونی رمائے بیٹھے تھے۔ آج انکے ملبوس کا رنگ سرمئی سا تھا۔ آنکھیں بند کیئے مراقبے میں گم وہ تینوں سوالیہ نگاہوں سے انکی شکل دیکھ رہی تھیں۔ ایکدم سے انہوں نے آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا تینوں اچھل سی پڑیں۔ وہ مسکرا دیئے پھر اپنے مخصوص دھیمے انداز میں بولتے گئے۔
    میرے پاس تم لوگوں کے لیئے آج کچھ نہیں۔ بلکہ یوں کہو کہ آج جو تم تینوں کو چاہیئے اسے دینے کی قدرت میں نہیں رکھتا۔ میرے پاس علم ہے مگر تم لوگوں میں تعلم کی چاہ نہیں۔۔ تم لوگ جائو اور اپنے اپنے مزہبی انداز سے خدا سے لو لگائو۔ بچو امیدیں انسانوں سے نہیں خدا سے لگانی چاہیئیں۔
    لو قصہ ہی ختم کردیا عزت سے کہہ رہے کھوجو(جائو)۔ گوارا اریزہ کے کان میں گھسی۔
    آپ نے پچھلی دفعہ مبہم باتیں کی تھیں جو مجھے سمجھ نہیں آئیں میرے آج یہاں آنے کا مقصد ان باتوں کی تشریح جاننا ہے اور بس۔
    اریزہ نے گلا کھنکارا اور کہہ ڈالا
    اس نے رواں انگریزی میں دھڑلے سے پوچھا تھا۔ کورین سیخ پا ہوجاتے ہیں اگر کوئی چھوٹا ان سے بے تکلفی سے سوال کر جائے اسکو وہ بد تہزیبئ گردانتے ہیں کجا سامنے بیٹھا بھی مونک ہو ۔ وہ بھی سربراہ اس مندر کا۔
    گوارا اور ہوپ چیں بہ چیں ہو گئیں۔ اریزہ کو کہنی مارتے گوارا معزرت خواہانہ نظروں سے پجاری جی کو دیکھنے لگی۔ انہوں نے برا نا مانا تھا ۔ ہا مانا تھا تو ناگواری انکے لہجے کا خاصہ نہ بن سکی۔نظریں اریزہ پر تھیں جو ہمہ تن گوش دکھائی دیتی تھی۔ وہ اسی سے مخاطب تھے تو انگریزی میں ہی گویا ہوئے۔
    “بدھا جب اس دنیاسے جانے لگے تھے تو انہوں نے کہا تھا اپنے سب شاگردوں سے کہ “میں صرف آپ کو راستہ بتانے کے قابل تھا۔یعنی سفر انسان کو خود اختیار کرنا ہوتا ہے منزل کا تعین بھی انسان کو خود کرنا پڑتا ہے ۔تمام انفرادی چیزیں ختم ہو جاتی ہیں۔ چاہے وہ اچھی ہوں یا بری۔ بس ہمارے انتخاب ہمیں خوار کرتے ہیں سوجس چیز کی بھی جستجو کرو اسکو پانے کی تندہی کے ساتھ کوشش کرو۔ یاد رکھنا تمام انفرادی چیزیں ختم ہو جاتی ہیں۔۔ چاہے وہ انسان ہوں یا اس دنیا کی کوئی بھی چیز۔
    انہوں نے لحظہ بھر رک کر سانس لی تھی۔ اریزہ نے دم سادھ لیا۔ یہ کیا کہہ رہے تھے؟ اب کھل کر کہہ رہے تھے یا وہ اب معموں کو سمجھنے لگی تھئ۔
    بدھا کہتے تھے اپنے لیے چراغ بنو، اپنے لیے پناہ گاہ بنو۔ اپنے آپ کو کسی بیرونی پناہ کی خواہش میں نہ ڈالو۔

    Be a lamp unto yourself, be a refuge to yourself. Take yourself to no external refuge
    سادہ الفاظ میں کہوں تو “اپنے آخری الفاظ میں، بدھ ہمیں اس دنیا کی سچائی کو دیکھنے کی ترغیب دے رہے تھے اگرچہ آپ اسے تلاش کرنے کی کوشش میں دنیا کے بھیدوں کو تلاش کر سکتے ہیں، لیکن آپ کی آخری پناہ گاہ آپ کی ذات کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔”
    وہ کہہ کر یوں چپ ہوئے جیسے کبھی بولیں گے نہیں۔ پھر اپنے سامنے رکھی فرشی نشست کے حساب سے رکھی مختصر میز کی دراز کھول کر اس میں سے ایک پرچہ نکال کر اسکی جانب بڑھا دیا۔ اس نے جھجکتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر پرچہ تھام لیا۔
    کچھ ہنگل میں لکھا تھا۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے انہیں دیکھا۔ وہ اس بار پھر انگریزی میں بولے۔

    The root of suffering is attachment.”
    مصائب کی جڑ لگائو ہے۔۔
    وہ مسکرا دیئے۔ اس نے کاغذ کو تہہ کرکے اپنے کوٹ کی جیب میں رکھ لیا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں مفت میں بدھا کا گیان تھما دیا ہے آہجوشی نے۔ گوگل کرو بدھا کے سارے اقوال زریں سامنے آجائیں گے ایک ایک جملہ وہی دہرایا ہے ۔
    ہوپ واپسی پر جھلا رہی تھی۔۔ اسکو کہا تھا۔

    ہم وہی کچھ ہیں جو ہم سوچتے ہیں ۔ سوچ بدلو بس اپنی ۔ خودبخود تمہارا دل بدل جائے گا۔
    یہ قول سننے کیلئے اتنی سیڑھیاں چڑھیں۔ بدھا کے اقوال آرام سے سرچ انجن سے سرچ کرکے خود پڑھ لیتی میں۔
    وہ مزید بھی کہہ رہی تھی۔ گوارا اسکی باتوں پر سر جھٹک رہی تھی اس وقت اسکی مکمل توجہ اریزہ پر تھی جو بہت خاموشی سے سر جھکائے انکے ہم قدم سیڑھیاں اتر رہی تھی۔ اتنی خاموش کہ وہ گڑبڑ کا اندازہ آرام سے لگا سکتی تھی۔
    تمہیں جواب ملا ہے اپنے سوال کا؟
    گوارا نے پوچھ ہی لیا۔
    ہوں۔ اس نے ہلکے سے سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔
    اسکو تو لگتا ہے چپ رہنے کا تعویز پکڑا دیا ہے انہوں نے بالکل خاموش ہوگئ ہے۔ ہوپ نے چڑانا چاہا جوابا وہ مسکرا دی۔
    ہوپ نے اپنے کوٹ کی جیب سے پرچہ نکالا۔
    مجھے تو یہ پرچہ دیا ہے۔

    درد یقینی ہے؛ تکلیف اختیاری ہے
    Pain is certain; suffering is optional

    آہ جیسے میں فیصلہ کروں کہ اب مجھے تکلیف نہیں ہوگی تو اپنے پائوں سے میں اس پتھر کو ٹھوکر لگا سکتی ہوں درد نہیں ہوگا مجھے بکواس۔
    اس نے وہیں کاغذ مروڑ کر پھینک دیا۔ راستے میں پڑے بڑے پتھروں کو خیالی ٹھوکر بھی لگا دی۔ سچ مچ ٹھوکر لگاتئ تو پائوں پکڑ کر وہیں بیٹھنا پڑتا۔
    پتھر نے تمہاراکچھ نہیں بگاڑا اسکو بلا وجہ ٹھوکر لگائوگی تو بلاوجہ یونہی ٹھوکر کھائوگئ۔ کرما اصول ہے بدھ مزہب کا۔ جیسا کروگے ویسا بھروگے۔
    گوارا نے کندھے اچکا کر کہا۔
    اریزہ نے سر جھٹکا۔
    سب کو انکے کیئے کا پھل اتنی آسانی سے ملتا ہوتا تو دنیا میں کون کسی کے ساتھ برا کرنے کا سوچتا۔۔ سب ڈرتے کسی کا برا کرنے برا چاہنے سے۔۔۔۔
    اسکے اوپر گرم گرم سوپ کا پیالہ آکر لگا تھا جیسے ابھی ابھئ۔۔ گوارا کندھے اچکا کررہ گئ جیسے کہہ رہی ہو یہ بھی صحیح ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہت بھیانک خواب تھا کوئی۔ اس نے ایکدم سے پٹ آنکھیں کھولی تھیں۔ جسم پسینے میں بھیگا سا تھا۔ اتنی سردی میں وہ پسینے پسینے کیوں ہو رہی تھی۔ اس نے گھبرا کر اپنے اوپر سے کمبل ہٹایا۔۔ کھڑکی کے پردے ہٹے ہوئے تھے۔ صبح جب بھی نرس آتی سب پردے ہٹا کر دھوپ کے اندر آنے کا انتظام کر دیتی تھی۔ مگر آج دھوپ نہیں تھی۔ بادل چھائے ہوئے تھے۔ اس نے ذرا سا کہنی کا سہار لیکر اٹھنا چاہا تو پیٹ میں درد کی تیز لہر سی اٹھی تھی۔ وہ کراہ کر رک گئ۔ تبھی دروازہ کھول کر نرس مسکراتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔
    اٹھ گئیں؟ گہری نیند تھی اسلیئے جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ناشتہ بہت دیر سے ہوگا اتنی دیر خالی پیٹ رہنا تمہارے لیئے مناسب نہیں۔ وہ مسکراتے ہوئے انگریزی میں کہہ رہی تھی۔ سخت کوریائی لہجے میں انگریزی بھی اسے سمجھنا آسان نہ لگی تھی۔ اس نے کونے میں لگا بیڈ اسٹیںنڈ اٹھا کر اسکے بیڈ پر لا کر سیٹ کردیا۔ پھر میز سے ناشتے کی ٹرے اٹھا کر لا کر اس پر رکھ دیا۔
    ابلے انڈے، رول آملیٹ، پھلوں کا سلاد، بریڈ جام مکھن تازہ جوس ۔سب اسکی پسند کی چیزیں تھیں۔ مگر اسکا دل کچھ بھی کھانے کو نہیں چاہ رہا تھا۔
    میں فریش ہونا چاہ رہی تھی۔
    اس نے بتانا چاہا۔
    تو ہو جائو۔ وہ مسکرا کر بولی۔ سنتھیا نےچونک کر اسکی شکل دیکھی تو وضاحت کرنے لگی۔
    تمہاری طبیعت رات کو کافی خراب ہوگئ تھی جبھی ڈاکٹرز کو تمہیں مصنوعی نیند دینی پڑی۔ ہم نے اخراج کیلئے سی ٹیوب بھی لگا دی ہے۔ تم اگلے ایک دو مہینے مکمل بیڈ ریسٹ پر ہو۔
    مگر میرا تو آج آپریشن ہونا تھا؟
    سنتھیا حیران سی رہ گئ
    تمہارا آپریشن ؟ تم نہیں جانتیں؟ وہ الٹا حیران ہو کراس سے پوچھنے لگئ۔
    تمہارے والد نے آپریشن کیلئے منع کردیا تھا۔ پیچیدگی کی صورت میں تمہارے لیئے آئیندہ ماں بننے کا مواقع محدود ہوسکتے تھے۔ اور وہ یہ رسک لینے کیلئے تیار نہیں تھے۔ تمہارے لیئے اس اسپتال میں ڈیلیوری تک کے ڈیوز کلیئر ہیں او رمیں تمہاری مددگار ہوں اس بچے کے دنیا میں آنے تک کیلئے۔ اور پھر مزید اگر تمہیں میری مدد درکار ہو تو بھی۔ اس نے سائیڈ ٹیبل سے ہائی جین کٹ اٹھا کر اسکے سامنے رکھی ۔ آر پار دکھائی دینے والے پلاسٹک کے تھیلے میں ٹوتھ پیسٹ برش ویٹ وائپس کاغذ کے صابن اور دیگر ضرورت کی اشیاء تھیں۔
    بس اتنئ سی بات تھئ۔ اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
    یہی پریشانی تھی نا ایڈون کو کہ بچے کا خرچہ کون کرے گا کون اٹھائے گا۔ اس معاملے کو ایسے بھئ تو حل کیا جا سکتا تھا۔میرے گھر والوں کو اعتماد میں لیکر ۔ ممی ڈیڈا میری اور اس بچے کی جان پر بن آنے تک کا انتظار کیئے بنا مجھے میری غلطیوں سمیت اپنا نہیں سکتے تھے؟ یہاں اتنے مہینوں کا خرچہ اٹھانا انکے لیئے کبھی مشکل نہیں تھا۔ اور اب۔
    اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔
    کل وہ فیصلہ کرکے سوئی تھی کہ آج سے وہ اکیلی ہوگی۔ اور آج اسکیلئے فیصلہ ہوچکا تھا کہ اب وہ کبھی اکیلی نہیں ہوگی۔ جو زندگی ابھی آنے کے در پر ہے وہ جب دنیا میں آچکی ہوگی تب ۔۔ اسکو وحشت سی محسوس ہونے لگی۔
    نہیں۔ مجھے نہیں چاہیئے۔ اس نے گھبرا کر کہا۔
    دے؟ نرس چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگی وہ سمجھ نہیں سکی تھی سنتھیا نے کیا کہا ہے۔
    مجھے اپنی پہلے والی زندگی واپس چاہیئے۔ مجھے اب یہ سب نہیں چاہیئے۔
    وہ نفی میں سر ہلاتی دیوانوں کی طرح بڑبڑا رہی تھی۔
    مس آپ ٹھیک ہیں۔ نرس نے اسکا کندھا ہلایا۔ اس نے سخت وحشت سے اسے دھکا دیا۔ میز اسٹینڈ پر رکھے ناشتے کے لوازمات اس نے ہاتھ مار کر گرا دیئے۔
    ہٹائو یہ سب۔ نہیں چاہیئے مجھے یہ سب۔ دور کرو۔
    وہ اٹھنا چاہ رہی تھی مگر زنجیروں میں جکڑی تھی۔ اور وہ ان سب زنجیروں کو توڑ دینا چاہتی تھی۔ نرس نے گھبرا کر اسکو کندھے سے پکڑ کر اٹھنے سے روکا اور چلا کر مدد کےلیئے پکارنے لگی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واپسی پر گوارا انہیں اپنے گائوں کے بازار لائئ تھی۔ ثقافتئ دستکاری سے لیکر جدید رواج کے مغربی ملبوسات کے اسٹال تھے۔ یہ سالانہ میلے کا حصہ تھا۔کورین روائتی تہوار اور کرسمس دونوں کی مناسبت سے خوب بازار سجا تھا۔ اسے سب سے ذیادہ جوزن دور کی نشانیاں ثقافتی کلپ پسند آئے تھے۔ اسکی دلچسپی بھانپ کر اسٹال پر موجود خاتون نے اپنے سب مال کو ہوا لگانی شروع کردی۔ لکڑی کی کندہ کاری ہوئی کنگھی ، پرانے زمانے کے نگوں والے زیورات گلوبند کلپس۔ اسکے سامنے ڈھیر کردیا۔ گوارا زیورات دیکھ رہی تھی ہوپ ہر چیز سے بیزار تھی جیسے انکے ساتھ ہو کر بھی غائب دماغ سی خاموشئ سے انکی سرگرمیاں دیکھ رہی تھی۔ نگوں سے سجا اس نے بڑے شوق سے کلپ خریدا مگر بالوں میں لگانا نہیں آرہاتھا۔
    اسکو پرانے زمانے کی خواتین جوڑا بنا کر پروتی تھیں۔ گوارا نے بتایا۔ اس نے کتنے مہینوں سے بال نہیں کٹوائے تھے پھر بھی کندھوں سے تھوڑا ہی نیچے آرہے تھے۔ گوارا نے اسکا شوق دیکھا تو وہیں اسکے بال مٹھی میں جکڑ کر جوڑا بنایا اور کلپ سجا دی۔ سنہرے نیلے لال نگوں سے سجا پھول اسکے جوڑے سے بھی بڑا تھا۔
    اسکے بالوں نے اتنی بے دردی سے جکڑے جانے پر احتجاج کیا اور آگے سے اسکی لٹیں باہر نکل آئیں تو سر پر جوڑا دہائیاں دینے لگا۔
    یار یہ تو بہت بھاری ہے۔ اس نے بے چارگی سے گوارا کو دیکھا۔
    تمہیں ہی شوق ہوا ہے۔ ویسے اچھی لگ رہی ہو۔
    گوارا نے بہت بے ساختہ تعریف کی تھی۔ اس نے آئینہ دیکھا توخود بھی اچھا لگا۔ اس طرح جوڑا تو کبھی کیا نہیں تھا۔ بال کھنچنے سے پیشانی کشادہ لگ رہی تھی۔
    تم کچھ کچھ کورین لگنے ہی لگی ہو کیوں ہوپ۔
    گوارا نے ہنس کر ہوپ کو کہنی مار کر متوجہ کیا
    آں ہاں۔ وہ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔۔
    ویسے کرسمس قریب ہے تمہیں کرسمس کی مناسبت سے بھئ کچھ لینا چاہیئے۔
    اس نے کچھ فاصلے پر کرسمس گفٹس کے اسٹال کی جانب اشارہ کرکے کہا جہاں دکاندار سینٹا کلاز والی ہیٹ پہنے کھڑا تھا اسکے اسٹال پربھی لڑکیوں کا کافی رش تھا۔
    تم لوگ کرسمس کیسے مناتے ہو۔
    گوارا کو خیال آیا تو وہ گڑبڑا سی گئ۔
    ہم ۔ ہم۔۔
    وہ سوچ میں پڑی۔
    سچی بات تو یہ ہے کہ ہم کرسمس نہیں مناتے۔ یہ ہمارا تہوار نہیں ہے نا۔ ہاں میں سنتھیا کی دوست ہونے کے ناطے اسکے لیئے تحفہ لے لیتی ہوں۔ وہ بھی اسے نئے سال کی مبارکباد دیتے وقت ہی دیتی ہوں وہ کرسمس پر اپنے خاندان کے ساتھ تقریبات میں مصروف ہوتی ہے۔ پچھلے سال بھی نیو ائیر نائٹ منانے ہی جا سکی تھی میں۔
    اسکے جواب پر ہوپ اور گوارا حیرت سے اسے دیکھنے لگیں۔
    تو کرسمس ہمارا کونسا تہوار ہے ؟ پورے کوریا میں بمشکل پانچ سات فیصد عیسائی رہتے ہیں مگر دیکھو ہم سب کتنے ذوق و شوق سے کرسمس کی تیاری کرتے ہیں۔یہ تو تہوار ہے چاہے جو بھی ہو جسکا بھی ہو خوش ہونے ملنے جلنے کا موقع ہے تو کیا برا ہے۔
    گوارا کو اسکی منطق نہیں سمجھ آئی تھی۔
    ہاں مگر یہ تو تم ایسی بات کر رہی ہو جیسے میں شکوہ کروں کہ کورین عید کیوں نہیں مناتے ؟ تہوار ہے خوشی کا موقع مل جل کر بیٹھنے کا بہانہ۔ مگر یہاں مسلمان نہ ہونے کے برابر ہیں تم لوگ جانتے بھئ نہیں ہو ہمارے تہواروں کے نام بھی۔
    اریزہ کا دماغ چلا تھا خوب چلا تھا۔ گوارا لاجواب ہوئی۔
    بات تو صحیح ہے یعنی پاکستان میں کرسچن نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ٹھیک ہوگیا۔
    گوارا نے جیسے سمجھ کر سرہلایا۔
    اریزہ نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
    گردن گھما کر بازار کی رونقوں پر نظر ڈالی۔ وہی رونق میلہ تھا جیسا پاکستان میں عید کے موقع پر نت نئے اسٹال لگتے۔ سب خوش ہونے کیلئے خرچنے کو تیارلیکن بالکل اجنبی۔ ۔
    گوارا اور ہوپ اگلے اسٹال کی طرف بڑھ گئیں وہ انکے پیچھے تھئ جب
    آگاشی۔
    کسی نے اسے پکارا تھا۔ وہ چونک کے مڑی۔
    چندی آنکھوں گیرواں لباس سر پر اسکارف۔ اس کے ذہن میں جھماکا ہوا۔ یہ انہی خواتین میں سے ایک خاتون تھیں جن کے گھر کی وہ بن بلائے مہمان کے طور پر دعوت اڑا کر آئی تھی۔
    اسکے چہرے پر شناسائی کی رمق دیکھ کر وہ مسکرا دیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قریب ہی ایک چرچ کے زیر انتظام یتیم خانے میں انکی تنظیم نے بچوں میں نئے کپڑے کھانے پینے کی چیزیں وغیرہ بانٹنے کا کام رضاکارانہ طور پر تقسیم کرنے کا ارادہ کیا تھا۔
    عموما سینٹا کلاز کے کاسٹیوم پہن کر رضاکار یہ خدمات سرانجام دیتے تھے مگر اس نے نرمی سے معزرت کر لی تھی۔ وہ بچوں میں مٹھائیاں تقسیم کر رہا تھا۔ بچوں کیلئے مٹھائی سے ذیادہ سینٹا کلاز میں کشش تھی۔ سو وہ تقریبا ساری ہی مٹھائی میز پر سجائے دلچسپی سے بچوں کو غباروں کاٹن کینڈی اور مٹھائی سے مٹھیاں بھرے ادھر ادھر بھاگتے دیکھ رہا تھا۔ تبھئ ذہنی رو بہک سی گئ۔ ریچل اور وہ دونوں ہی بچوں سے بہت پیار کرتے تھے انکا ارادہ جلد ہی والدین بننے کا تھا۔اگر رچل کی زندگی ساتھ دیتی تو یقینا انکی زندگی میں بھی بچہ آچکا ہوتا شائد سال دو سال کا ہوتا اور۔
    ایک پانچ چھے سال کے بچے کو بھاگتے دیکھتے اس پر نظر جمائے وہ سوچوں میں گم ہوتا چلا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سلام ۔۔ اس نے آداب کے انداز میں سلام کیا جوابا وہ خوب زو رسے ہنس دیں۔ دو بڑے بڑے تھیلے بمشکل اٹھائے اسکو جانے کیا کہہ رہی تھیں۔
    آگے ہنگل کی ریل گاڑی چھک چھک کرتی گزری۔
    اس نے سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھا۔ گوارا او رہوپ چند قدم کے فاصلے پر ہی تھیں۔
    وہ مجھے ہنگل اتنی سمجھ نہیں آتی۔
    اس نے بنیادی ہنگل اور ہاتھ کے اشاروں سے مدعا سمجھایا۔
    وہ خاتون انہی بھاری تھیلوں کو اٹھائے اٹھائے جانے ہاتھ ہلا کر کیا کہنے لگیں۔
    میں آپکی مدد کرائوں؟
    اس نے آگے بڑھ کر تھیلا تھام لیا۔ وہ تو نثار ہی ہوگئیں۔ پیار سے اسکا چہرہ چھوا۔
    ریل گاڑی پھر چل پڑی۔ وہ کان لگا کر سن رہی تھی مگر پلے نہ پڑا۔ گوارا کی آواز کان میں پڑی
    مجھے پتہ ہے یہ پچھلے سال کا مال ہے مجھے الو مت بنائو پرانے اسٹاک پر نیا ریٹ مت لگائو یہ مہمان ہیں میرے ساتھ کیا سوچیں گی کیسے ہیں گائوں کے لوگ چالاک چلتر۔
    گوارا کو ایک اسکارف پسند آگیا تھا سو اب جھگڑ کر قیمت کم کروانا چاہ رہی تھی۔
    آگاشی الزام نہ لگائو یہ کل ہی چین سے مال آیا ہے خالص ریشم ہے یہ ۔
    دکاندار چیخ ہی پڑا۔
    پچھلے سال بھی میں یہاں انہی دنوں یہیں کھڑی تھی وہاں۔۔اس جگہ۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے بتا رہی تھی کہ اریزہ نے آئو دیکھا نہ تائو بازو سے کھینچ کر اسے اسی جگہ پہنچا دیا۔ وہ اسکارف ہاتھ میں لیئے گھسٹتی چلی آئی۔
    آگاشی۔ دکاندار نے مال جاتے دیکھ کر چیخ ماری۔ ہوپ نے تاسف سے دونوں کو جاتے دیکھا اور اپنا پرس کھول کر چیختے دکاندار کو اسکی مطلوبہ رقم نکال کر تھمائی ۔
    یہیں قریب ہی چرچ میں یہ سامان لیکر جارہی ہیں وہاں بانٹیں گی۔ کوئی اولے بھی وہیں ہے تم چلو گی انکے ساتھ؟
    آہاں۔۔ وہ تھیلا تھامے بے چارگی سے دیکھنے لگی۔
    ایک تو اسکی مروت۔۔
    گوارا جھلائی۔ ہوپ نے دانت پیسے۔
    خاتون نے جیسے خوش ہو کر سر ہلایا اور آگے آگے چلنے لگیں۔ اریزہ نے تقلید کی تو گوارا اور ہوپ بھی اسکے ساتھ ہولیں۔ ایک گلی کا فاصلہ تھا۔ سامنے خوب قمقموں سےسجا ہوا دلکش گرجا گھر تھا۔جسکے احاطے میں کافی سارے اسٹالز لگے تھے۔ چھوٹے چھوٹے بچے چرچ کے لان میں ادھر سے ادھر بھاگتے پھر رہے تھے۔ انکو تھیلے اٹھائے آتے دیکھ کر رضاکار لڑکے فورا آگے بڑھے تھے اور انکے ہاتھ سے سامان لے لیا۔ وہ خاتون انکو اندر آنے کی دعوت دینے لگیں۔
    اریزہ سلیقے سے معزرت کرکے گوارا کی شکل دیکھنے لگی۔ گوارا نے سمجھ کر ترجمہ کیا ۔ وہ یونہی لان پر نگاہ دوڑانے لگی جب اسکی نظراس چار پانچ سال کے گول مٹول سے سرخ سویٹر پہنے بچے پر پڑی۔ زور زور سے ہنستے ہوئے وہ بھاگتا بالکل چھوٹا سا گڈا لگ رہا تھا۔ سرخ پھولے پھولے گال سرخ لب گورا چٹا اسکا دل ایکدم سے اسکے گالوں پر چٹکی لینے کا چاہا۔ جبھئ بھاگتے بھاگتے اسکا پیر رپٹا اور وہ منہ کے بل گھاس پر آن گرا۔ وہ ایکدم سے بھاگ کر اسکے پاس آئی تھی اسے اٹھاتے ہوئے گلے سے لگا لیا تھا۔
    کچھ نہیں ہوا مٹی جھڑ گئ۔ بہادر بچہ ہے یہ تو گر کر روتا تھوڑی ہے۔
    وہ اسکا سر سہلاتی بول رہی تھی یہ خیال ہی نہ آیا کہ وہ بچہ اسکی بات سمجھ نہیں سکتا مگر محبت کی اپنی بھی شائد ایک زبان ہوتی ہے جبھی وہ بچہ اسکے کندھے پر سر رکھ کر سسک اٹھا تھا۔
    ہوپ بھی اسکے پیچھے ہی بھاگی آئی تھی ہنس دی
    اسکو ایک لفظ سمجھ نہیں آیا ہوگا۔ کیا کہا تم نے۔
    کرے۔ وہ کھسیانی ہوئی۔
    بچے کے آنسو پونچھے اسے خوش کرنے کو اپنی جیکٹ کی جیب سے مندر کا تبرک نکال کر تھمایا وہ چوٹ بھول کر خوشی سے ریپر اتارنے لگا۔
    تم مندر میں اس مٹھائی کیلئے ندیدی ہورہی تھیں اب مزے سے اسے دے دی ۔ تمہیں دل سے پسند چیزیں بانٹنا پسند ہے کیا؟ ہوپ نے کہا تووہ حیرت سے ہاتھ جھاڑتئ اٹھی۔
    ہیں۔ کیا مطلب؟ وہ واقعی نہیں سمجھی۔
    مطلب اگر یہ مٹھائی اتنی پسند تھی تو کسی اور کو کیسے دے دی؟
    ہوپ شائد بحث کے موڈ میں تھی۔
    کھمسامنیدہ ۔۔۔
    بچہ جھک کر شکریہ ادا کرتا بھاگ گیا۔
    وہ رو رہاتھا اسلیئے دیکھو بھول گیا اپنی چوٹ۔
    اسے بھاگ کر جاتے دیکھ کر اریزہ نےبہت پیار سے کہا۔
    یعنی کوئی رو کر مانگے تو اپنی عزیز از جان چیز تھما دو گی اسے؟ ہوپ کا انداز عجیب ہو چلا تھا۔ کافی دنوں بعد ہوپ اپنے مزاج پر واپس آئی تھی۔ سچی بات تو یہ کہ اسے لگتا تھا جو اس پر گزری ہے اس سے اسکی کڑواہٹ میں اضافہ ہوگا مگر پچھلے کچھ دنوں میں جو خیال رکھنے پیار بھرے انداز میں پیش آنے والی ہوپ اسے نظر آرہی تھی اسے دیکھ کر لگتا تھا پرانی ہوپ ایک زرہ بکتر تھی اس ہمدرد لڑکی کا خود کو بچانے کی خاطر اختیار کیا گیا مصنوعی خول ۔ افسوس یہ اوتار بھی وقتی نکلا۔
    وہ ابھی اسکا سوال ہی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی جواب کیا دیتی کہ اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا ۔ مڑ کر دیکھا تو حیرت کی انتہا نہ رہی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ بچہ بھاگتے ہوئے لڑکھڑا کر منہ کے بل گرا تھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا تو فورااسےاٹھانے کو بڑھا۔مگر فاصلہ ذیادہ تھا۔ برائون لانگ اونی اسکرٹ میں وہ لڑکی اس سے پہلے بھاگ کر اس بچے کے پاس پہنچی چکی تھی اسے گلے سے لگایا تھا۔ اسکی جانب پشت تھی پھر بھی اسے یقین تھا وہ آگے بڑھ کر اسکی شکل دیکھے گا تو وہ رچل ہی ہوگی۔ وہ کسی معمول کی طرح کھنچتا آیا تھا۔وہ لڑکی کسی ماں کی طرح اسکے آنسو پونچھ رہی تھی ۔ بچہ کھلکھلایا تو وہ چونکا۔ آگے بڑھ کر اس لڑکی کو چھو کر متوجہ کرنا چاہا کہ وہ ایکدم سے بچے کا ہاتھ تھامتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ کندھوں تک کالے سیاہ بال درمیانی قامت رچل تو خوب لمبی سی تھی۔ پشت دیکھنے کے باوجود بھی اسے احساس ہوگیا تھا کہ یہ لڑکی کوئی بھی ہے رچل نہیں۔ اس لڑکی کو بھی اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کااحساس ہوا تھا کہ کیا یونہئ مڑ کر دیکھا۔
    آپ۔ وہ چونکی۔
    ایک طلسم سا تھا جو ٹوٹ گیا تھا۔ علی کے چہرے پر مایوسی سی در آئی۔
    آپ یہاں؟ اس نے حیرت سے چرچ کو پھر اسے دیکھا۔علی فوری جواب نہ دے سکا تو پھیکی سی مسکراہٹ سجا لی چہرے پر۔
    آپکو نہیں پتہ غیر مسلموں کے ساتھ رہنے انکے تہواروں کو منانے سے ہم ان جیسے ہوتے جاتے ہیں ؟ ہم میں اور غیر مسلموں میں کچھ فرق نظر آنا چاہیئے نا میں تو آپکو یہاں کھڑے دیکھ کر کرسچن ہی سمجھ بیٹھتی۔
    اسے تو موقع ملا تھا۔کمر پر ہاتھ ٹکا کروہ چمک چمک کر بولی تھی ۔ ہوپ نے حیرت سے اسکا یہ انداز دیکھا۔ وہ تو جیسے لڑنے کو تیار بیٹھی تھی۔
    علی نے اسکے انداز کا بالکل برا نہ ماناالٹا اسکی مسکراہٹ گہری ہوگئ تھی۔
    کرسمس کے تحائف بانٹنے آئے ہیں ہم۔ یہ اسٹال نجی مسلمانوں کی تنظیم کی جانب سے مزہبی رواداری بڑھانے کی نیت سے ہی لگایا گیا ہے۔
    اسکے مفصل جواب نے تھوڑا خفت زدہ کیا تھا مگر وہ متاثر ہونے کے موڈ میں نہیں تھی جبھی سر جھٹک دیا۔ گوارا اور وہ خاتون بھی ادھر چلی آئیں۔
    میں نے اسے بازار میں دیکھا تو بتایا کہ تم یہاں ہو تو یہ بھی یہاں چلی آئی۔ میں علی سے کہہ رہی تھی نیک کاموں میں شریک حیات کو ساتھ رکھنا چاہیئے ثواب ملتا ہے ۔ مگر یہ بولا تم خوامخواہ تھک جائو گی آخر کو سارے دن کا ہلا گلا ہے یہ۔
    وہ خاتون رواں ہنگل میں بولی تھیں۔ گوارا اور ہوپ نے سٹپٹاکر ایک دوسرے کی شکل دیکھی۔ اریزہ مطمئن سئ کھڑی گوارا کے ترجمے کا انتظار کر رہی تھی۔
    اب تم کھانا کھا کر ہی جانا۔ ہماری جانب سے تنظیم کے رضاکاروں کیلئے حلال کھانے کا مکمل انتظام کیا گیا ہے۔ بلکہ تم دونوں بھی کھانا کھا کر جانا۔
    بولتے بولتے انہیں خیال آیا تو ان دونوں کو بھی دعوت دے ڈالی۔
    نہیں شکریہ ہمیں دیر ہو جائے گئ ۔ میرا خیال ہے اب ہمیں چلنا چاہیئے۔ اریزہ تم اگر یہاں مزید وقت گزارنا چاہو تو رک سکتی ہو ہم رات کو ملتے ہیں۔
    ہوپ نے کہا تو وہ منہ کھول کر رہ گئ۔
    مگر میں؟
    آہجومہ ہمیں بہت ضروری کام ہے ہم چلتے ہیں اب۔ گوارا نے بھی وقت ضائع کیئے بنا ان خاتون سے اجازت چاہی جھک جھک کر آننیانگ کہتی دونوں نے اسکی جانب دیکھنے سے بھی احتراظ کیا تھا۔
    مم مگر۔گوا۔۔
    وہ کہنا چاہ رہی تھی مگر خاتون نے پیار سے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
    آئو میں آج تمہارا مکمل تعارف کرواتی ہوں اپنے گھر کی خواتین سے۔
    اس نے مدد طلب نگاہوں سے علی کی جانب دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کیا کہہ رہی ہیں مطلب تو بتا دو۔ وہ سمجھ کربھی کندھے اچکا گیا۔
    اسکا مترجم بننے کا فی الحال ارادہ نہیں تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بچوں نے کرسمس کی مناسبت سے کچھ ترانے گائے ایک ٹیبلو بھی پیش کیا۔ پھر ایک چھوٹی سی تقریر پادری اور ایک مولوی نے حضرت عیسی کی شان میں کی ۔ ایک لفظ سمجھ نہ آنے کے باوجود اسے یہ سب دیکھنا اچھا لگ رہا تھا۔
    ایک ہی اسٹیج پر دو مختلف مزاہب کے عالم دین اپنے اپنے عقائد کے مطابق حضرت عیسی کی شان بیان کر رہے تھے ۔ نا بحث نا مباحثہ تقریب کے آکر میں باقائدہ ہاتھ تھام کر دعا کروائی۔
    ایک ہم لوگ ہیں ایک مزہب کے مختلف فرقوں کے دو عالم دین اس رواداری سے ایک جگہ اکٹھے نہیں ہوتے۔
    وہ ویڈیو بناتے ہوئے کہے بنا نہ رہ سکی۔ یہ ویڈیو بنتے ہی اس نے صارم کو بھیجنی تھی۔
    تقریب ختم ہو چکی تھی ۔ اس نے ویڈیو بند کرکے اپنی گیلری میں ابھی ریکارڈ کی گئ ویڈیوز گنیں۔ اس نے بچوں کے ٹیبلو کی بھی دو تین ویڈیوز بنائی تھیں۔ ایک تو بہت پیاری تھی۔ چھوٹے چھوٹے سے آدھے درجن سینٹا کلاز جب ٹیبلو کرتے ایک دوسرے سے ٹکرائے تو سب کے سب گرتے گئے۔ ہنسے اٹھ کھڑے ہوئے او ردوبارہ وہیں سے اسٹیپ اٹھائے جہاں سے گڑبڑ ہوئی تھی۔ یہ ویڈیو بناتے بھی وہ ہنس پڑئ تھی ابھی دوبار سامنے آئی تو دوبارہ پلے کرتے ہوئے بھی ہنس دی۔ علی اسکے ساتھ ہی کھڑا تھا۔ ہنستے ہوئے اس نے سر اٹھایا تو اسے اپنی ہی جانب متوجہ پایا
    تمہیں بچے بہت پسند ہیں لگتاہے۔
    اس کے کہنے پر وہ محظوظ سے انداز میں ہی سر ہلانے لگی۔
    بہت ذیادہ۔ میں تو راہ چلتے بھئ بچوں کو پیار کرنے رک جاتی ہوں۔ سنتھیا کو بچے ذیادہ پسند نہیں تھے۔ وہ میری عادت سے چڑتی تھی کہتی تھی مجھ میں ایک ماں چھپی ہے۔ دوسروں کے بچوں سے اتنا پیار کرتی ہو اپنے بچوں کو تو چوم چوم کر پاگل کردوگی اور میں کہتی تھی اورتم میں سوتیلی ماں چھپی ہے اپنے بچوں کو بھی گھور گھور کر خون خشک کردیا کروگی انکا۔۔۔ وہ پرانی باتیں یاد کرکے ہنس دی۔پھر خیال آیا تو وضاحت کرنے لگی۔
    سنتھیا میری بچپن کی دوست ہے۔۔ علی کو اندازہ ہو گیا تھا۔ جبھی حیران نہیں ہوا۔
    اچھا میں نے جتنئ بھی لڑکیاں دیکھیں ہیں انہیں بچوں کے ساتھ بہت پیار بھرا برتائو کرتے ہی دیکھا ہے۔ مجھے لگتا ہے لڑکیوں میں ماں والی فطرت ہوتی ہی ہے۔
    علی کی بات پر وہ متفق نہیں تھی۔ مگر بحث نہیں کی۔
    چلو کھانا کھا لیں۔ علی نے کہا تو وہ مزید کچھ کہنے کا ارادہ موقوف کرتی اسکے ساتھ ہی چلی آئی۔ علی بہت اچھا میزبان تھا۔ یہاں خواتین اور مردوں کا علیحدہ انتظام نہیں تھا بس دو ہی میزیں حلال کھانے کیلئے مخصوص تھیں ۔ وہ ایک کونے میں میز کرسی سنبھالےرش کم ہونے کا انتظارکرتی رہی۔ علی اسکے لیئے بھی پلیٹ بنا لایا۔
    شکریہ۔ وہ شرمندہ ہورہی تھئ
    کوئی بات نہیں۔
    علی کا انداز سادہ سا تھا۔ اسکو کھانے کی پلیٹ تھما کر وہ بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرچکا تھا۔ اس نےایک دو بار نگاہ اٹھا کر دیکھاتو اسے مکمل طور پر کھانے میں مگن پایا۔ وہ تین چار دفعہ اکٹھے کھانا کھا چکے تھے لیکن اس نے آج پہلی دفعہ نوٹ کیا تو خیال آیا وہ عام کورینز کی نسبت منہ بھر کر کھانا کھانے کی بجائے ٹھہر ٹھہر کر چھوٹے لقمے کھا رہا تھا۔

    میں ہاتھ سے کھا نہیں پاتا ابھی عادت نہیں ہے مجھے۔چاول کھاتے ہوئے بہت گراتا ہوں اسی لیئے۔ جب اکیلا ہوتا ہوں صرف تب ہاتھ سے کھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔
    اس نے چاپ اسٹکس سے کھانا کھانے کی وضاحت کی تھی۔ وہ خفت زدہ سی ہوئی۔ بے دھیانی میں اسے دیکھ رہی تھی وہ سمجھا شائد اسکے چاپ اسٹکس استعمال کرنے پر حیران ہے۔ شائد اسکے باتیں سنانے کی وجہ سے وضاحت بھی کردی۔ بہر حال اسے یوں باتیں سنانی چاہیئے بھی نہیں تھیں۔
    آئیم سوری۔ میں اس وقت جانے کیوں وہ سب کہہ گئ۔ میرا وہ مطلب نہیں تھا۔
    اس نے ہمت کرکے معزرت کر ہی ڈالی۔علی نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔ وہ شرمندہ تھی۔ اس نے مسکرا کر گلاس اٹھا کر ایک گھونٹ پانی پیا۔ پھر بولا
    خیر ہے میں نے برا نہیں مانا۔ لیکن اگر اس معزرت کے جواب میں آپکو لگتا ہے میں نے کل آپکو جو کچھ کہا اس پر میں بھی معزرت کروں گا تو معزرت۔ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔
    اس نے تین سانسوں میں گلاس ختم کیا تھا۔اریزہ کی ساری شرمندگی بھک سے اڑ گئ۔
    حالانکہ اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسان کو اپنی غلطی کا اعتراف کرنے میں شرم نہیں کرنی چاہیئے۔ دل آزاری سب سے بڑا گناہ ہے۔
    اس نے جتایا۔
    علی جیسے سوچ میں پڑا۔ چند لمحے پرسوچ انداز میں اسے دیکھتا رہا۔ وہ جزبز سی ہونے لگی
    اگر میری کل کی باتوں سے آپکی تھوڑی سی بھی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معزرت خواہ ہوں۔ میں ابھی اسلام کی بہت سے باتوں سے ناواقف ہوں مگر کل جو کچھ کہا وہ اپنی محدود معلومات کی روشنی میں جو درست سمجھا وہ کہا پھر بھی شائد کل میں نے لاعلمی میں دل دکھایا ہے آپکا۔ میری معلومات محدود ہیں۔میں جانتا ہوں۔۔۔۔
    اسکا انداز متاسفانہ ہو چلا تھا۔ اریزہ ہونٹ کاٹ کر رہ گئ۔ یہ معزرت ذیادہ شرمندہ کرنے والی تھی۔
    ان دونوں کے درمیان خاصا طویل وقفہ خاموشی کا در آیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واپسی پرانہیں نو بج گئے تھے۔ گائوں اور سردی کے لحاظ سے آدھی رات مانو ہو گئ تھی۔ سڑک پر نہ بندہ نہ بندے کی ذات ۔ ہائی وے پر پھر کچھ ٹریفک نظر آجاتی یہاں اونچی نیچی گلیوں میں تو بالکل سنسانی تھی۔ علی اسکے ساتھ چل رہا تھا مگر جانے کس سوچ میں گم تھا۔ وہ خود بھی اس وقت گوارا اور ہوپ کے یوں اسے چھوڑ کر بھاگنے کی وجہ ہی سوچ رہی تھی ساتھ ساتھ راستے کی سنسانی بھی دل بوجھل کر رہی تھی۔ اس نے یونہی سر اٹھا کر آسمان دیکھا تو چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ سیاہ آسمان پر دمکتا چاند جس کےگرد بنے ہالے نے تاروں کو مدھم کر ڈالا تھا۔ چاندنی نے اسکا سایہ بھی بڑا گہرا کر دیا تھا۔ زمین پر اپنے پڑتے سائے کو دیکھتی وہ سر جھکائے قدم بڑھانے لگی۔ بے ڈھنگے بے ہنگم سائے کی جگہ اس وقت اسکا سراپا خاصا نازک سایہ بنا رہا تھا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو شائد خوشی سے پھولے نہ سماتی مگر اس وقت اسکا ذہن کسی اور ہی جگہ اٹکا تھا۔۔
    مصائب کی جڑ لگائو ہے۔۔ اسکا ذہن اس جملے میں الجھ سا گیا تھا۔ بس یہی جملہ چپکا تھا آگے پیچھے کوئی سوچ نہیں۔۔لگائو ؟ اس نے کونسی ایسی چیز سے لگائو محسوس کیا ہے جو اسکے لیئے دکھ کا باعث بننے والی تھی؟۔۔ اس نے سوچنا چاہا۔۔۔ اسکا دل بوجھل سا ہونے لگا تھا۔ سانس رکنے سی لگی۔ شائد کھانا ذیادہ کھا لیا تھا۔ اس نے گھبرا کر گہری سانس کھینچی۔ وہ حقیقتا ماحول سے بے پروا ہوگئ تھی۔ اپنے حواس بحال کرکے یونہی گردن گھمائی تو حق دق سی رہ گئ۔ وہ اکیلی اس شاہراہ پر کھڑی تھی۔ اسکے ساتھ چلتا علی جانے کب کہاں پیچھے چھوٹ گیا۔ اسے احساس بھی نہ ہوا تھا۔
    اسکو ایک لمحے کیلئے حقیقتا اپنا دم رکتا محسوس ہوا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سنتھیا سو رہی تھی۔ کم سن اسکے سرہانے کھڑا ایک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔ ہیون نے کمرے کا دروازہ کھولا تو پہلی نظر اس پر ہی پڑی تھی۔ اسکے قریب آکر اس نے دھیمی آواز میں سرگوشی کی۔
    اب تمہیں آرام کرنا چاہیئے۔ رات بہت ہو گئ ہے۔
    کم سن چونکا۔پھر گہری سانس لیکر بولا
    ہوں۔۔
    سنتھیا کو ایک نظر بھر کر دیکھنے کے بعد وہ ہیون کے ساتھ احتیاط سے دروازہ بند کرتا باہر نکل آیا۔
    ایڈون سے رابطہ ہوا؟ کم سن پوچھ رہا تھا۔ ہیون نے نفی میں سر ہلایا۔
    صبح دوبارہ کوشش کروں گا۔ ہیون نے تسلی دی تھی۔ وہ اسے لیکر کیفے ٹیریا آیا تھا۔۔ دوپہر سے دونوں یہیں تھے۔ نرس نے اسکو اطلاع دی تھی۔ وہ اس وقت ہیون کی ہی فرم کے ساتھ میٹنگ کر رہا تھا ۔ اسے عجلت میں نکلتے دیکھ کر ہیون نے ہی باقی میٹنگ سنبھالی تھی اور فارغ ہوتے ہی اسکے پیچھے آیا تھا۔ سنتھیا کو ڈپریشن اٹیک ہوا تھا۔ اسکی اور بچے کی حالت دونوں سیریس تھی۔ جب تک ڈاکٹروں نے تسلی بخش جواب نہیں دیا کم سن حقیقتا جلے پیر کی بلی کی طرح حواس باختہ رہا تھا۔
    بوفے سے اپنے لیئے دونوں ٹرے بنا کر ایک کونے کی میز پر آبیٹھے۔ یوں تو احساس نہیں ہو رہا تھا مگر کھانا سامنے آیا تو بھوک شدید محسوس ہوئی۔ دونوں خاموشی سے کھانا کھانے لگے۔
    ہمیں اریزہ کو اطلاع کرنی چاہیئے؟ ۔ ہیون نے پوچھا تھا۔۔

    رہنے دو۔ کم سن نے منع ہی کردیا۔

    سچی بات ہے مانا سنتھیا کو اس وقت اسکی ضرورت ہے مگر سنتھیا نے جو سلوک اسکے ساتھ کیا ہے وہ ایسے رویئے میں حق بجانب ہے۔ ہمیں اسکی اچھائی کو اتنا نہیں آزمانا چاہیئے۔
    کم سن نے دیانتدارئ سے تجزیہ کیا۔ ہیون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔ اسکے موبائل کی بیپ بجی ۔۔ اس نے دیکھا تونونا کا پیغام آیا تھا۔
    اگر تو یہ کام تمہاری منشاء سے ہوا ہے تو تم پر مجھے فخر ہے میرے بھائی ۔ تم صحیح اپنے باپ کی اولاد ہو۔ اور اگر اسکی تمہیں خبر بھی نہیں تو مت بھولنا تم کس باپ کی اولاد ہو۔
    ساتھ لنک تھا۔
    ایک نونا پہلیاں بجھواتی ہیں۔
    اس نے لنک کھولا ۔ کسی میڈیا ویب سائٹ کا آرٹیکل تھا۔ لی گروپ کی بہو کی اپنے مارٹ کےاسٹاف سے اچانک ملاقات۔ دوستانہ انداز سے دل موہ لیا۔
    اسکا دل سکڑ کر پھیلا تھا
    کیا ہوا؟
    کم سن نے اسکا واضح طور پر رنگ اڑتا دیکھا تو پوچھے بنا نہ رہ سکا
    اس نے اپنا موبائل اسکے سامنے کردیا۔ وہ بھی کھانا چھوڑ کر آرٹیکل پڑھنے لگا۔
    بہت غلط ہوگیا ہے یہ۔
    پہلی بات اسکے منہ سے یہی نکلی تھی۔ ہیون کو بھی احساس تھا۔۔
    چاول گوشت کے پارچے اور سوپ ۔۔ کھانا بد مزا نہیں تھا مگر اسکا ایکدم سے دل اچاٹ ہوا تھا۔
    چاپ اسٹکس بے دلی سے پلیٹ میں رکھ کر وہ بوتل اٹھا کر پانی پینے لگا۔
    کھانا کیوں چھوڑ دیا؟
    کم سن نے حیرت سے اسکی حرکت دیکھی۔
    کھانا تو کھائو۔ اس بارے میں کیا کرنا سوچتے ہیں۔ ریلیکس کرو ہیون۔
    میں جا رہا ہوں۔ گائوں۔
    وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
    ابھی؟ کم سن نے بے یقینی سے دہرایا۔
    گلاس وال سے باہر برفباری ہو تی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
    ہاں۔ تمہیں پہنچ کر کال کردوں گا۔
    وہ کہہ کر رکانہیں۔۔ تیزی سے داخلی دروازے کی جانب بڑھا۔
    تیری تو۔ کم سن نے کھانے کی ٹرے کو حسرت سے دیکھا ۔صبح کے بعد اب کھانے بیٹھے تھے۔ اسکے پیچھے جانے کا ارادہ کیا۔ پھر ٹال دیا۔ میز پر نگاہ پڑی تو دو عدد موبائل محو استراحت نظر آئے۔
    ہائش۔۔ اس نے جھلا کر جلدی سے چمچ بھر کر سوپ پیا گوشت کا پارچہ منہ میں رکھتے فون اٹھا کر اسکے پیچھے بھاگا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہیون ہیون ۔۔۔آوازیں دیتے ہوئے بھاگ کر ہیون کو اس نے لابی میں جا لیا۔
    بات تو سنو۔۔۔
    اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر روکنا پڑا تھا۔
    ہینڈ فون ۔۔ ہینڈ فون تو۔۔۔۔۔ لیتے جائو۔
    منہ میں نوالی بھاگنے سےسانسیں پھولی ہوئی تھیں ۔ ہانپتے ہوئے بمشکل اس نے جملہ مکمل کیا۔
    ہینڈ فون ۔۔۔
    ہیون کو خیال آیا توجیکٹ کی جیبیں ٹٹولنے لگا۔
    وہیں کیفے میں رہ گیا ہے۔ آوازیں دے رہا تھا سنا ہی نہیں تم نے۔ چلو چل کر لے آتے ہیں۔
    اس نے غیر محسوس انداز میں فون جیکٹ کی جیب میں ڈال لیئے۔
    ہیون نے آنکھیں سکوڑ کر گھورا۔ اس نے چوری پکڑے جانے والے انداز میں ہونٹ بھینچے۔ جیب سے فون نکال کر اسکے ہاتھ پر رکھا۔
    فون کرلو اسے بات کر لو تسلی ہو جائے گی۔ ۔صبح تک برفباری رک چکی ہوگی تو صبح چلے جانا ۔۔
    کم سن کو اسکے مان جانے کی ایک فیصد امید بھی نہیں تھی مگر کہنا فرض تھا۔ ہیون نے سر ہلا کرفون اسکے ہاتھ سے لے لیا۔
    چلتا ہوں۔ اسکے کندھے کو تھپتھپا کر وہ رکا نہیں تیز قدموں سے باہر نکل گیا۔ ۔ یہ اسکا مخصوص انداز تھا۔ فکر نہ کرو میں کروں گا مگر وہی جو مجھے کرنا ہوگا۔
    کم سن نے اس دفعہ اسے روکنے کی بھی کوشش نہ کی۔ سر جھٹک کر واپس ہولیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برفباری کی شدت کے باعث موٹروے بند کر دیئے گئے تھے۔ برفباری کے باعث شہریوں کو شہر سےباہربلا ضرورت سفر کرنے سےبھی منع کردیا گیا تھا۔
    پولیس افسر نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں اسے تفصیلات سے آگاہ کیا تھا۔ گاڑی واپس موڑ لینے کی ہدایت کرتا وہ پلٹ گیا
    ہیون اسٹیئرنگ پر ہاتھ مار کررہ گیا۔ ہیون نے لمحہ بھر سوچا۔
    کم سن کی بات یاد آئی فون کرلو تسلی ہوجائے گی ۔۔
    اٹھاتئ ہی نہیں ہے فون میرا۔
    وہ بے بسی سے بڑبڑاتے ہوئے فون ملا رہا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اریزہ کے ہمراہ دعوت سے رخصت چاہتے وقت مجید ارباب بطور خاص اسے ایک طرف لے گئے۔
    عبدالہادی کو میں نے اپنا بیٹا بنایا ہوا ہے۔ اس نے مجھ سے ذکر کیا تھا کہ تمہارے لیئے لڑکی دیکھوں۔ دراصل میرے بڑے بیٹے کی سالی ہے۔ صوم صلوات کی پابند ہے۔ حجاب کرتی ہے۔ عبدالہادی نے بس یہی شرائط بتائئ تھیں تمہاری۔ مگر شائد وہ اس لڑکی کے بارے میں انجان تھے۔ اس دن تمہیں دعوت اسی لیئے دی تھی کہ اتفاق سے وہ بچی آئی ہوئی تھی ۔ابھی میں نے گھر میں بات نہیں کی تھی۔ میں چاہتا تھا تم دیکھ لو مل لو پسند آجائے تو بات آگے بڑھائیں۔لیکن تمہیں دیکھ کر لگتا ہے تم لڑکی پسند کر چکے ہو ۔اگر ایسی بات ہے تو بھی مجھے خوشی ہے۔۔۔
    وہ کہتے کہتے رکے جیسے فیصلہ نہ کر پارہے ہوں مزید کچھ کہیں نہ کہیں۔ چند لمحے اس کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد خود ہی گہری سانس لیکر بولے۔
    علی۔۔ بیٹا تم اب مسلمان ہو اپنے لیئے ایسی لڑکی منتخب کرو جو تمہارے ایمان کو مضبوط کرنے میں مدد کرے ناکہ ایسی لڑکی جو خود پردے شرع وغیرہ سے نابلد ہو۔ تم میرے بیٹے جیسے ہو میں اسلیئے اتنی جسارت کر گیا ہوں۔ اگر تو یہی تمہاری مرضی ہے تو بیٹا تم بالغ ہو بہتر فیصلہ کر سکتے ہو۔
    اپنے مخصوص نرم سے انداز میں وہ اسکو کہتے چلے گئے تھے۔ اسکے جواب کا بھی انتظار نہیں کیا بات مکمل کی کندھا تھپکا اور آگے بڑھ گئے۔ وہ انجان نہیں تھا اس بات سے۔ یہاں خاص طور پر عبدالہادی کے ضد کرکے اسے بھیجنے کے پیچھے یہی وجہ تھی کہ وہ وہاں جا کر لڑکی دیکھ لے۔ اسے شادی میں ہی دلچسپی نہیں تھی ۔ عبدالہادی جس طرح اسے شادی کرنےپر زور دے رہے تھے انہیں لگتا تھا کہ شادی کرنے سے وہ بہل جائے گا رچل کی یادوں سے نکل آئے گا۔ وہ بھی بچہ نہیں تھا
    مستقل ڈپریشن نے اسکی صحت خراب کر رکھی تھی۔ اس سب کے باوجود وہ خود کو شادی کرنے پر تیار نہیں کرپارہا تھا۔۔ اس دن اس نے بنا سوچے یونہی اریزہ کو دعوت دے دی تھی۔ اسے خیال بھی نہ آیا تھا کہ یوں خاص الخاص دعوت دینے کا مطلب اسکا بر دکھوا کروانا بھی ہو سکتا ہے۔ورنہ شائد اریزہ کو ہرگز نہ لے جاتا۔
    اس نے ساتھ قدم اٹھاتئ اریزہ کر دیکھا۔ لانگ اسکرٹ لانگ جیکٹ کورٹ شوز میں وہ مکمل مغربی لباس میں ملبوس تھی۔ اسکے بال کندھوں تک تھے اور یونہی کھلے تھے۔ ہلکی سرد ہوا سے لہراتے۔ وہ اپنی کسی سوچ میں مگن تھی ورنہ وہ اتنا تفصیل سے اسے دیکھ رہا تھا کہ کم از کم چونکتی ضرور۔
    اس نے گہری سانس لیکر رخ موڑ لیا۔سیدھا اپنی راہ چلتے وہ لاشعوری طور پر اسے ہی سوچنے لگا۔ اب تک جتنی بھی ملاقاتیں رہیں ان سے وہ یہی نتیجہ نکال پایا تھا کہ وہ بظاہر بہت عملی مسلمان نہیں تھی۔ اس بات کی جانب ارباب نے اشارہ کیا تھا۔ اسکی اپنی بھی رائے شائد یہی تھی ۔ کل بحث کرتے ہوئے آج شکوہ کرتے ہوئے اس نے اس پر سوچ کا نیا در وا کیا تھا۔ وہ کون ہوتا ہے کسی کی نیت کو کسی کے اخلاق و کردار کو اسکی ظاہری شخصیت سے ناپنے والا۔ وہ پردہ نہیں کرتی تھی مگر جس طرح حرام حلال کی فکر تھی اسے ؟؟۔ شدید بھوک میں تو انسان کیا کھارہا ہوں یہ نہیں سوچتا اور وہ حرام اجزا پر ناصرف کھانا چھوڑ کر اٹھ گئ تھی بلکہ اپنی اس غلطی پر کتنا پشیمان ہوئی تھی۔ ر وپڑی تھی۔ سور کا گوشت دھولیا تو نماز جانے کی فکر نے ہلکان کردیا تھا۔ اس نے کبھی اسے ہیون کے ساتھ بھی غیر ضرورئ بے تکلف ہوتے نہیں دیکھا تھا۔ شائد وہ واقعی بس اسے دوست ہی سمجھتی تھی۔۔ اگرایسا تھا تو یقینا اسکے بارے میں سوچنے میں حرج نہیں تھا۔
    وہ پردہ نہیں کرتی تھی لیکن پیدائشئ مسلمان تھی۔ باقی سب دین کے ارکان تو ازبر تھے اسے۔ تو ایسی لڑکی اسکی زندگی میں آجائے تو کیا اسکے لیئے بہتر نہیں رہےگا۔اس پر یقینا وہ اچھا اثر ڈال سکتی ہے۔ کیا خبر کل کو وہ پردہ بھی کرنے لگے۔ اپنی سوچ پر اسے خود ہی ہنسی آئی تھئ۔ موڑ مڑتے اس نے سر جھٹکا۔
    میں نے بھی کہاں تک سوچ لیا۔ مجھے مسلمان لڑکی سے شادی کرنی ہے پردے کی شرط اس نے یوں رکھی تھی کہ عبدالہادی نے اسے جس مراکش سے آئی طالبہ سے ملوایا تھا وہ پردہ دور کپڑے بھی مناسب پہننے پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اپنی ناپسندیدگی جتانے کیلئے سب سے ہلکے پھلکے الفاظ استعمال کرتے ہوئے اس نے پردے کا ذکر کیا تھا۔ پردہ کرتی ہوگی تو اتنی عملی مسلمان تو ہوگی ہی جو اسکے ایمان کو مکمل کردے ناکہ وہ خود اسے ایمان پر لانے کیلئے کوششوں میں لگ جائے۔
    وہ کسی نتیجے پر پہنچ گیا تھا۔ سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو چند کوس کے فاصلے پر گوارا کا گھر تھا۔ باقی سوچیں کل پر ڈالتے اس نے اپنے ساتھ آتی اریزہ کو دیکھنا چاہا تو احساس ہوا وہ تو اکیلا ہی اس گلی میں کھڑا تھا۔ اس نے گھبرا کر دائیں بائیں آگے پیچھے دیکھا ۔ جانے کب کہاں وہ لڑکی اس سے چھوٹ گئ تھی جسے وہ اپنی زندگی کا ہم سفر بنانے کا سوچ رہا تھا۔ اپنی غفلت پر وہ خود کو کوس کر رہ گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ع۔عا۔۔ علی۔
    اسکے منہ سے بمشکل اتنی ہی آواز نکل پائی تھی کہ وہ خود ہی سن سکے۔
    آگے سنسان سڑک تھی دائیں بائیں گلیاں جانے کس گلی میں مڑنا تھا اسے کہاں علی مڑ گیا اسے خبر نہ ہوسکی۔۔
    اندھیرا اتنا نہیں تھا جتنا سنسانی سے اسکی جان نکلنے لگی تھی۔ اس نے مڑ کر واپس آنا شروع کیا۔ اسے پینک اٹیک آنے لگا تھا شائد۔ اسکی سانس ایکدم پھول گئ تھی۔ ہاتھ کانپنا شروع ہوگئے تھے۔ لڑکھڑاتے قدموں سے وہ سیدھی سڑک پر بھی چل نہیں پا رہی تھئ۔
    علی۔۔ اس نے حلق کے بل پکارنا چاہا تھا مگر آواز نکل ہی نہیں پا رہی تھی۔ تبھی اسکا فون بجا۔ اتنئ تیز آواز نے اسے پہلے تو خوفزدہ ہی کردیا۔ دل تھام کر اس نے جلدی سے جیکٹ کی جیب ٹٹول کر فون نکالا ہیون کالنگ لکھا آرہا تھا۔
    اس نے بے تابی سے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔
    ہیون۔ اسکا نام لیتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی ۔۔
    ہیون میں راستہ بھول گئ۔ میں گھر کیسے جائوں گی؟ بالکل یاد نہیں سڑک پر اکیلی کھڑی ہوں۔گوارا کا گھر۔۔ ہچکیوں کے درمیان وہ بمشکل بول پائی تھئ۔
    اریزہ؟ وہ اسکے رونے پر پریشان ہو گیا تھا۔
    پھر آگے جو کچھ وہ بولی وہ بھی سمجھ نہیں آیا۔
    اریزہ انگریزی میں بولو کیا ہوا کہاں ہو؟ رو کیوں رہی ہو۔ ؟
    ہا ہاہیون۔ ہچکیاں لیتے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔
    مم میں۔ گوارا کا گھر بھول گئ۔ کیسے گھر جائوں۔
    اس نے بمشکل ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں مدعا سمجھایا۔ ہیون پریشان ہوگیا۔
    تم اکیلی باہر کیوں نکلیں؟ گوارا کہاں ہے؟ اریزہ روئو مت۔
    گوارا گھر چلی گئ تھئ میں اکیلی نہیں تھی۔ وہ مجھے چھوڑ گیا۔ اس کو گھبراہٹ میں نام ہی بھول گیا۔
    کون کون چھوڑ گیا؟
    ہیون کے پوچھنے پر اسے اور رونا آنے لگا۔
    نام ابھئ بھی یاد نہیں آرہا تھا۔
    ابھی آواز دی میں نے۔ سنا نہیں۔ اب مجھے یاد بھی نہیں آرہا۔
    اریزہ۔ سب چھوڑو غو رسے میری بات سنو۔ رونا بند کرو۔ چھے بال۔۔آنسو پونچھو اپنے۔
    ہیون نے اسے بچوں کی طرح پچکارا وہ اپنے آنسو پونچھنے لگی۔
    پونچھ لیے؟ وہ پوچھ رہا تھا
    ہوں۔ اس نے ہنکارابھرا۔ اسکا رونا بند ہوگیا تھا
    ہیون کے لیئے یہی بہت تھا۔
    اب ایسا کرو اس وقت جہاں بھی ہو وہیں بیٹھ جائو۔
    ہیون نے کہا تو اس نے ارد گرد بے چارگی سے دیکھا۔ سنسان سڑک دور کہیں جھینگروں کی آواز آرہی تھی یا کتوں کے بھونکنے کی۔
    یہاں؟۔۔ اسے تامل ہوا۔
    مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔
    وہ پھر بلک اٹھی ۔۔
    ہاں۔ سڑک پر بیٹھ جائو۔ وہیں۔ ہیون نے زور دے کر کہا تووہ وہیں اکڑوں بیٹھ گئ۔
    آنکھیں بند کرکے گہری سانس لو۔ ہنا دول سیت۔ وہ روانی میں ہنگل بول گیا۔
    واٹ؟ اریزہ کو سمجھ نہ آیا۔
    گہری سانس لو۔ ون ٹو تھری۔آنکھیں بند کرو۔ صرف میری آواز سنو۔ ون ٹو تھری۔
    شاباش۔ اور گہری سانس لو۔
    وہ مستقل بول کر اسےشانت کرنا چاہ رہا تھا۔
    اس نے اسکی ہدایات کی تعمیل کی تو واقعی دل کو کچھ قرار آیا۔
    تم اکیلی نہیں ہو میں ہوں تمہارے ساتھ۔ بالکل پریشان مت ہو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
    اسکی دلاسہ دیتی آواز ۔۔ سچ مچ اسکا دل ٹھہرنے لگا۔
    تم آرہے ہو۔۔ اس کو تسلی چاہیے تھی۔
    ہاں میں ابھی آرہا ہوں۔
    ہیون نے ایسے کہا جیسے ابھی واقعی آرہا ہو۔ اور اسے بھی تسلی ہوگی جیسے۔۔
    اریزہ۔۔
    ہیون نے پکارا۔
    ہوں۔ وہ اب بہتر محسوس کر رہی تھی۔
    میں ہوں لائن پر۔۔۔
    تم فون بند مت کرنا میں گوارا کو کال کرتا ہوں۔ اسکا علاقہ اتنا بڑا نہیں ہے۔ بس ہمت نہ ہارنا۔ ابھی وہ آجائے گی تم بس جہاں ہو اسکے قریب کوئی لینڈ مارک ہو تو بتائو۔
    لینڈ مارک۔ اس نے سر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا۔ کوئی بورڈ کوئی سائن نہیں تھا۔ بس چوراہے پر جو بڑے سے شیشے لگے ہوتے ہیں وہ سڑک کے موڑ پر لگا تھا۔۔
    وہ یہاں۔ ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ کال کٹ گئ تھی۔ اس نے آواز بند ہونے پر کان سے ہٹا کر فون دیکھا۔اسکے فون نے آخری جھپکی لی تھی اور بند ہو گیا۔
    اس ایک آواز سے کتنی ڈھارس ملی تھی اور اب۔ وہ اکڑوں سے وہیں دھپ سے بیٹھ گئ۔
    گہری سانس لو۔ اریزہ۔
    اسے ہیون کی آواز آرہی تھی۔
    اس نے آنکھیں بند کرکے گہری سانس لی۔
    میں ٹھیک ہوں۔ مجھے سب پتہ ہے راستہ میں۔ ابھی خیریت سے گھر پہنچ جائوں گی۔
    وہ اردو میں خود سے کہہ رہی تھی۔
    ارےزہ۔
    دور کہیں سے آواز آئی تھی۔ اس نے پٹ آنکھیں کھولیں۔
    بھاگتے قدموں کی آواز ۔ وہ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے سمت کا اندازہ نہیں لگا پائی۔
    اری ۔۔ زااا۔
    اپنے نام کا اتنا برا تلفظ ۔ وہ کپڑے جھاڑتئ اٹھ کھڑی ہوئی۔
    دل کو یک گونہ سکون میسر آیا۔
    میں یہاں۔ اس نے پکارنے کی کوشش کی تو خراش سی ہوگئ۔ کھانسی آگئ۔ اسکی کھانسی کی آواز بھی خاصی گونج گئ۔ علی فورا چونکا۔ وہ دو گلی پیچھے پکار رہا تھا۔
    اریزہ۔۔۔ اس بار اسکی آواز نسبتا تیز آئی تھی۔
    میں یہاں ہوں۔ اس نے بھی کھانسی پر قابو پا کرپکارا اس بار خاصی کراری آواز نکلی۔
    کیا نام تھا۔ وہ پیشانی مسلنے لگی۔ اسکی آواز علی تک پہنچ گئ تھئ۔ وہ بے چارہ گلی سے بھاگتا ہوا باہر نکلا۔ پہلے سڑک کے بائیں جانب
    دیکھا۔ وہ دائیں جانب تھی۔اسکو دیکھ کر دوبارہ پکارا تو وہ بھاگتا ہوا اسکے پاس آیا۔ اسکی سانس بری طرح پھول چکی تھی۔ وہ پچھلی دو تین گلیوں میں بھاگ بھاگ کر دیکھتا آیا تھا۔ اسکے قریب پہنچ کر گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر ہانپنے لگا۔
    آئی ایم سورئ۔ وہ مگن ہو کر مجھے پتہ نہ چلا میں آگے نکل آئی۔
    اس کی حالت دیکھ کر اسے سچ مچ شرمندگی ہوئی تھی۔
    مائی بیڈ۔
    وہ سانسیں بحال کرتا سیدھا ہوا۔
    مجھے بھی پتہ نہ لگا۔ مجھے لگا تھا ذیادہ سے زیادہ پچھلی گلی میں ہوگی تن ۔ تو میں نے آواز دینے کی بجائے پہلے گلی میں ڈھونڈا۔تم تو کافی آگے نکل آئی ہو۔ ویسے تم ٹھیک ہونا؟
    علی کی بولتے ہوئے اسکی شکل پر نظر پڑی تو پوچھے بنا نہ رہ سکا۔ اسکی ناک اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
    میں ٹھیک ہوں۔ اس نے کمال صفائی سے جھوٹ بولا۔
    تمہیں راستہ نہیں آتا؟ ۔۔ وہ اب حیرت سے پوچھ رہا تھا۔
    آں۔ ۔ اس سے جواب نہ بن سکا۔
    یہ راستہ مین ہائی وے کو جاتا ہے۔
    علی کے کہنے پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دور چھوٹی سی کوئی گاڑی گزری تھی۔ وہ اگر گھبرانہ جاتی تو اس سڑک سے اسکا گزر ہوچکا تھا مانا دن اور رات میں فرق ہوتا ہے مگر اتنا بھئ نہیں۔۔ تم کبھی بڑی نہ ہونا اریزہ وہ خود کو کوستی ہونٹ کاٹنے لگی۔ گوعلی نے شرمندہ کرنے کی نیت سے نہیں کہا تھا مگر وہ ہو گئ تھی۔
    چلیں۔ وہ اسکی شرمندگی محسوس کرکے بات بدل گیا۔ جوابا اس نے سر ہلا دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    گوارا اور ہوپ دونوں موٹی والی گھٹنے تک کی جیکٹیں پہن کر باہر نکل رہی تھیں جب وہ گلی میں مڑے۔ ہوپ تودروازے سے دیکھ کر اطمینان سے پلٹ گئ ۔ گوارا اسے دیکھ کر بھاگی ہوئی پاس آئی۔۔
    کین چھنا؟ کیا ہوا؟ راستہ بھٹک گئ تھیں؟
    وہ پریشان ہوئی وی تھی۔
    میں ٹھیک ہوں۔
    اریزہ شرمندہ ہو رہی تھی۔
    فون کیوں بند ہے تمہارا پتہ ہے کتنی دیر سے ٹرائی کررہی تھی میں۔۔
    چارجنگ ختم ہوگئ تھی۔
    اریزہ منمنائی۔
    حد ہے ایسی لڑکی نہ دیکھی میں نے جسے فون کا کوئی ہوش ہی نہیں۔
    گوارا تاسف سے سر ہلاتی بولتے ہوئے علی کی جانب مڑگئ۔
    سن بے آپ ساتھ نہیں تھے اسکے؟ یہ ہماری چھوٹی بچی ہے اسکو راستے واستے نہیں آتے ۔ گم گئ تھئ یہ۔ آپکو اندازہ نہیں یہ کتنی عزیز ہے ہمیں۔ اسکو آپکے پاس چھوڑ کر آئے تھے خیال نہیں رکھا آپ نے۔
    وہ اب علی کی ہنگل میں کلاس لینے لگی۔الفاظ اریزہ کو سمجھ آتے تو یقینا ان دونوں کی یہیں لڑائی ہو جاتی۔ علی نے بمشکل مسکراہٹ دبائی۔ اریزہ خفت سے سرخ چہرہ لیے اسکو ہلکے ہلکے کندھے پر مکے مار رہی تھی۔
    بس کرو۔ گوارا۔
    بیان ۔ چلو اب گھر چلو ٹھنڈ بہت ہورہی ہے۔
    علی نے فراخ دلی سے معزرت کرکے بات بدلی۔
    ادھر ہاتھ پکڑائو اپنا۔ کہیں کھو گئیں تو میں تمہارے نگہبان فرشتے کو کیا جواب دوں گی۔
    گوارا اسے چھیڑے جا رہی تھی۔ وہ دانت کچکچا کر گھور رہی تھی۔ علی ان کو شب بخیر کہتا سیدھا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ وہ دونوں کمرے میں آئیں تو ہوپ اطمینان سے کمفرٹر اوڑھے فون میں لگی تھی۔ گوارا دھپ سے اسکے برابر آن گری۔
    اف اتنی پیاری نیند سو رہے تھے ہم دونوں۔ گوارا نے لمبی سی جمائی لی اور ہوپ کے بازو پر سر رکھ دیا۔ ہوپ نے اسے بے مروتی سےپرے کیا ۔ گوارا شاکی نگاہوں سے دیکھتی سیدھی ہوئی۔
    تمہیں کیسے پتہ چلا میں گم گئ تھی؟ اریزہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔اندازہ تو ہورہاتھا
    تمہارے نگہبان فرشتے نے بتایا۔ گوارا ترنگ میں بولی پھر خیال آیا۔
    بتا دو اس بے چارے ہیون کو اتنا پریشان ہو رہا تھا فورا ہمیں فون کرکے تمہارے پیچھے جانے کو کہا۔ میں نے کہا بھی وہ اکیلی تھوڑی ہوگی سن بے ہوں گے ساتھ اسکے۔ وہ ابھی کہہ ہی رہی تھی کہ اسکا فون بجنے لگا۔ ہیون ہی کی کال تھی اس نے فون اریزہ کی جانب بڑھا دیا
    لو خود بات کرلو۔
    اس نے فون اٹھایا تو ہیون بے تابی سے ہنگل میں پوچھنے لگا
    ملئ اریزہ؟ ٹھیک تو ہے نا وہ؟
    میں اریزہ بول رہی ہوں ٹھیک ہوں میں اب۔۔ اریزہ نے اطمینان دلایا۔ اسکی آواز سن کر اس نے سکھ کی سانس لی۔
    گھر آگئ ہو؟گوارا پہنچ گئ تھی؟ فون کیوں بند ہوگیا تمہارا؟
    اسکے پے در پے سوال آور بے تابی ظاہر کررہے تھے کتنا پریشان تھا وہ
    ہاں وہ بیٹری ختم ہوگئ تھی۔ میں ٹھیک ہوں گھر آچکی ہوں ۔ بس اب میں سونے لگی ہوں۔ تھینک یو سو مچ ہیون ۔ تم نہ ہوتے تو شائد میں بے ہوش ہوجاتی وہیں۔
    وہ قصدا رخ موڑ کر دھیمی آواز میں بولی۔
    تھائی نیئے۔ اس نے شکر کا کلمہ پڑھا۔۔
    مجھے یہی فکر ہو رہی تھی کہ پینک اٹیک ہوا ہے کہیں وہیں بےہوش نہ ہو جائو۔ شکر ہے۔
    اچھا میں صبح بات کرتی ہوں ٹھیک ہے؟ خدا حافظ۔
    گوارا اسکو محظوظ انداز سے گھور رہی تھی چہرے پر اتنی شرارتی مسکراہٹ تھی کہ اس نے جھٹ بنا ہیون کی بات سنے فون بند کردیا۔
    وے؟ فون اسے تھماتے ہوئے پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
    تو آخر کار تم نے چن لیا اپنا ہم سفر؟ گو وہ ہیون نہیں ہے اسکا افسوس ہے مجھے مگر تمہارے آج کے لال ٹماٹر چہرے کو دیکھ کر میں تمہارے لیئے خوش ہوں۔
    وہ اطمینان سے آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہوئے بولی۔ انداز سے لگتا تھا تفصیل سے بات کرنے کا ارادہ ہے۔ ہوپ نے بھی موبائل ایک طرف رکھا او رتکیے پر کہنی ٹکا کر اسکی جانب یوں متوجہ نظروں سے دیکھنے لگی کہ اریزہ سٹپٹا سی گئ۔
    کیا مطلب کیا کہہ رہی ہو؟ کیا کیا میں نے؟
    ہم سے چھپایا جبکہ ہم تمہارے کہنے کے مطابق تمہاری بہنوں جیسی سہیلیاں ہیں۔ تمہیں لگاتھا چونکہ میں نے ہیون کے لیئے تمہیں منانے کی کوشش کی تھی اور ہیون دوست ہے میرا تو تم نے مجھ سے بھی چھپایا۔ پھابو۔ میں تمہاری بھی دوست ہوں۔
    گوارا اندازوں پر اندازے لگا رہی تھی۔ اس کی پیشانی شکنوں سے پر ہوگئ۔
    کیا کہہ رہی ہو صاف کہو مجھے سمجھ نہیں آرہا ۔۔
    وہ بری طرح جھلا گئ۔ ہوپ نے چونک کے اسکی شکل دیکھی۔ گوارا اپنے ازلی بےتکلف انداز میں کہہ رہی تھی
    یقین جانو تم سے اس بات پر تھوڑا خفا ہونے کے باوجود کہ تم نے مجھے خود نہیں بتایا میں بہت خوش ہوں تمہارے لیئے۔ سن بے بہت بہت اچھے انسان ہیں۔ ہائی اسکول میں ہم جونئیر لڑکیوں کے بھئ کرش ہوتے تھے سن بے۔ گاڈ کیا وقت تھا وہ بھی۔ آدھا سکول۔
    وہ جانے کیا قصہ سنا رہی تھی۔ اریزہ بھنا اٹھی
    کون سن بے؟ یہ علی کی بات کر رہی ہو؟ کیا نہیں بتایا میں نے بھلا؟ یہ کہ وہ ٹیچر ہیں میرے؟

    یہی نہیں بتایا نا کہ چپکے چپکے تم نے سن بے کا انتخاب کیا ہے جیون ساتھی کیلئے۔
    گوارا نے اس پر بم پھوڑا تھا۔
    کیا؟ وہ اتنی حیران ہوئی کہ چیخ ہی تو پڑی۔۔
    گوارا اور ہوپ نے بہت حیرانگی سے اسکا ردعمل دیکھا پھر دوپہر میں ان خاتون کی کہی بات من و عن دہرا دی۔


    حد ہے۔ ایک تو زبان مجھے صحیح سمجھ نہیں آتی اوپر سے جس کا جو دل چاہتا اپنے سے آگے جوڑ کر بات لگا دیتا۔ میرے وہ استاد ہیں ہم مزہب ہونے کے ناطے انکی کھانے کی دعوت قبول کرنے کا گناہ سرزد ہو گیا ہے مجھ سے بس اسکا یہ مطلب تھوڑی کہ میں ان سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔
    اریزہ کا بس نہیں چل رہا تھا وہ خاتون سامنے آجاتی وہ کچا چبا جاتی انہیں۔
    ٹھیک ہے۔ ہو سکتا ہے انہیں غلط فہمی ہوگئی ہو۔ مگر تم اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو؟۔
    ہوپ اسکا غصہ سمجھنے سے قاصر تھی۔
    مجھے خود سمجھ نہیں آرہا اسے غصہ کس بات پر آرہا ہے۔
    گوارا بھی انجان تھی اسکے غصے کی اصل وجہ سے۔۔ جبکہ وہ جھاگ اڑا رہی تھی منہ سے۔
    میں پوچھوں گئ صبح ان سے آخر انہوں نے ایسی غلط فہمی ہونے کیوں دی انہیں چھوڑوں گی نہیں۔۔
    اس کا ارادہ اٹل تھا۔ گوارا اور ہوپ نے کندھے اچکا دیئے۔ پھروہ دونوں تو فورا سو گئیں اسکی نیند جانے کیوں اڑ گئ۔ کچھ دیر سونے کی کوشش کرتی رہی پھر موبائل کھول لیا۔ بلاگ کے نوٹیفیکیشن آئے تھے۔ اس نے کتنا عرصہ ہو گیا تھا بلاگ کھولا ہی نہیں تھا۔ یونہی کھول کر نوٹیفیکیشن دیکھنے لگی۔ اسکا فالور اسکے پرانے مراسلے پر لکھ کے گیا تھا۔

    ہمیشہ اس بلاگ سے مجھے فیصلہ لینے میں مدد ملی ہے اپنی زندگی کا مشکل ترین فیصلہ کرنے لگا ہوں مگر آج یہاں کچھ نہیں۔ ہو سکے تو کچھ لکھ دو۔
    اس نے اس عبارت کو کئی مرتبہ پڑھا تھا۔
    اسکے عام سے بک بک پر مبنی بلاگ سے کیا مدد ملتی رہی ہوگی۔ اس نے بھنا کر سوچا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    اس نے اٹھ کر اپنے کوٹ کی جیب کھنگالی۔ وہی کاغذ نکالا۔ اسکی تصویر کھینچی۔ اور یہی تصویر شائع کردی۔
    یہاں ہنگل میں لکھا ہے۔

    The root of suffering is attachment.

    تو جناب اگر آپ کسی بھی شخص جگہ یا چیز کے لگائو میں مبتلا ہیں تو خود کو علیحدہ کیجئے ورنہ خود سے علیحدہ ہو جائیں گے۔
    آہ کیا لکھ ڈالا۔ اس نے خود ہی اپنا کندھا تھپکا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پہلا کمنٹ۔
    یہ کونسے کیڑے مکوڑے جمع کر رکھے ہیں ایڈمن۔۔
    دوسرا کمنٹ۔
    ابھی زندہ ہو مجھے لگا اب کبھی یہ بلاگ کا نوٹیفیکیشن نہیں آئے گا۔ مگر قسمت میری ابھی تھک کر سونے لیٹا تھا۔
    تیسرا کمنٹ
    یہ کونسی زبان ہے؟ اتنی لمبی عبارت کا بس اتنا سا ترجمہ بنا؟
    چوتھا کمنٹ
    میں بھی بچپن میں ایسےکیڑے مارتا تھا تب مجھے لکھنا نہیں آتا تھا۔
    اس نے بیزاری سے اوپر نیچے کیا۔ کوئی اسکے لکھےقول کی تعریف کرنے کو تیار نہ تھا۔
    تیسرا کمنٹ۔ وہ چونکی۔
    اتنی لمبی عبارت کا بس اتنا ترجمہ بنا؟؟
    وہ غور سے تحریر کی تصویر کو بڑا کرکے دیکھنے لگی۔ ہنگل میں اوپر نیچے جو لکیریں ہوتی ہیں وہ مکمل لفظ بن جاتی ہیں پھر بھی یہاں ان لفظوں کی بھی تین سطریں تھیں۔ اسے اچھی طرح یاد تھا ان پجاری جی نے اسے انگریزی میں بس اتنا کہا تھا
    The root of suffering is attachment
    وہ یہی سمجھی کہ انہی سطروں کا ترجمہ ہے۔ اسے الجھن ہونے لگی۔۔ اجنبی زبان کی عبارت اسے معمہ لگ رہی تھی۔ سامنے لکھے الفاظ اور وہ معنی سے نا واقف ۔ اس نے حروف کو پہچاننے کی کوشش کی ۔
    آخر میں۔۔
    وہ اتنا ہی پڑھ سکی۔ مصائب کی جڑ لگائوہے میں آخر لفظ تو آیاہی نہیں۔ یہ ضرور کچھ اور لکھا ہے۔ پڑھنے کی کوشش میں اسے خیال آیا۔ ہنگل سکھانے کیلئے اسے ایک ایپ بھی موبائل میں ڈائونلوڈ کروائی گئ تھی تاکہ اسائنمنٹس بنانے میں مدد مل سکے۔ اس نے وہی ایپ کھولی تصویر اپلوڈ کی اسکرین پر الفاظ ابھر آئے۔
    “آخر میں، صرف تین چیزیں اہمیت رکھتی ہیں: آپ نے کتنا پیار بانٹا، آپ نے کتنی عاجزی سے زندگی گزاری، اور آپ نے کتنی خوش اسلوبی سے ان چیزوں کو چھوڑ دیا جو آپ کے لیے نہیں ہیں۔”
    یعنئ وہ جو پوچھ رہی تھی پوچھنا چاہ رہی تھی ان پجاری جی سے وہ بات تو اہم تھی ہی نہیں۔۔۔
    اسے اب سمجھ آیا تھا۔ اورتبھئ ایک نوٹیفیکشن آیا تھا۔ کسی نے اسکے بلاگ پر تبصرہ کیا تھا۔ اس نے نوٹیفیکشن کھولا۔
    ہمیشہ کی طرح تم نے مدد کی۔ میں آخر کار آگے بڑھنے کا فیصلہ کرتا ہوں۔ اور علیحدہ کرتا خود کو ان سب یادوں سےجنہوں نے مجھے جکڑ رکھا تھا۔ شکریہ۔ کل میری زندگی کا اہم دن ہے۔ میں ایک بہت جرات مندانہ قدم اٹھانے لگا ہوں ۔ دعا کرنا میں اب وہ چین پا لوں جو مجھ سے چھن چکا ہے۔۔
    پہلی آئی ڈی جس نے اسکے لکھے کو ہی پڑھا تھا۔ سمجھا تھا۔مان بھی لیا تھا۔ اور اریزہ نے اسے پہچان بھئ لیا تھا۔ یہ وہی تھااسکا واحد کورین پرستار۔ اسکا استاد۔۔۔
    اس نے بلاگ بند کر دیا۔ موبائل رکھ دیا آنکھیں بند کرلیں۔ کمبل منہ تک تان لیا۔ نیند کے سب لوازم پورے تھے بس ایک نیند میسر نہیں تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔۔۔

  • Salam Korea Episode 40

    salam korea by
    vaiza zaidi


    قسط 40


    صبح اسکی معمول سے پہلے ہی آنکھ کھل گئ تھی۔ شائد پرسکون گہری نیند کا اثر تھا بخار بھی ختم تھا۔گوارا اور جی ہائے بے خبر سو رہی تھیں۔ اس نے کروٹ بدل کر دوبارہ سو جانا چاہا مگر نیند پوری ہو چکی تھی۔ وہ احتیاط سے بیڈ سے اتر کر ان دونوں کو پھلانگتی باہر نکل آئی۔ نہانے کا تو اتنی سردی میں دل نہ کیا منہ ہاتھ اچھی طرح دھو کر بال سنوار کر باہر نکل آئی۔ گائوں میں نکلتے سورج کے ساتھ چہل پہل کا آغاز ہوچکا تھا۔ وہ دلچسپی سے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھنے لگی۔ ہلکے بادلوں میں سے چھن چھن کر آتی سردیوں کی دھوپ۔
    گہری سانسیں لیکر دھوپ کھا کر احساس ہوا کہ بھوک نہیں مٹئ۔ گوارا تو جانے کب اٹھے یہاں کوریا میں کنوینیئنس اسٹور جا بجا ہوتے ہیں بہتر یہی تھا کوئی بن وغیرہ کافی کے ساتھ لے لے۔ یہی سوچ کر واپس کمرے میں آکر اپنا والٹ اٹھایا۔ ساتھ ہی موبائل بھی رکھا تھا مگر ذرا سا کنوینئینس اسٹور تک جانے کیلئے موبائل کیا کرنا یہی سوچ کر رکھ دیا۔ یہاں کے راستوں کا بھی پتہ نہیں تھا سو آہجومہ سے پوچھنے وہ ریستوران میں کھٹر پٹر کی آوازیں سنتی ادھر ہی چلی آئی۔ گوارا کے بہن بھائی اور والدہ ناشتہ کر رہے تھے۔
    ارے آگاشی۔ آئو آئو ناشتہ کرلو ہمارے ساتھ۔حسب توقع انہوں نے فورا اسے دعوت دی۔
    شکریہ۔ وہ انکے ساتھ کھا نہیں سکتی تھی سرسری سئ نگاہ ڈالنے پر اندازہ ہوجاتا تھا ۔ صبح صبح سفید چاولوں کو پورک سوپ اور کمچی کے ساتھ کھا رہے تھے۔
    یہاں کہیں کوئی کنوینئینس اسٹور ہے تو بتا دیں۔۔
    اسکی شستہ انگریزی کو آہجومہ تو نہیں اسکا نک پھلا بھائی سمجھ گیا تھا۔
    ادھر سے سیدھی سڑک پر جا کر الٹے ہاتھ۔
    اس نے زبانئ بتانا کافی سمجھا اور سر جھکا لیا۔ آہجومہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر اسے ٹوکا اسے تو سمجھ نہ آیا مگر انہوں نے اسے ساتھ جا نے کو کہا تھا جبکہ وہ جوابا غصے میں بڑبڑایا ناشتہ کر رہا ہوں اور یہ کوئی بچی تھوڑی۔
    وہ کوریائی انداز میں سر جھکا کر رخصت لیتئ باہر چلی آئی۔ اونچے نیچے پہاڑئ راستے پر یہ راستہ اتنا چھوٹا یا آسان ہرگز نہ تھا جتنا اس نے بتایا۔ نیچے سڑک تک جا کر اس نے دائیں بائیں دیکھا تو دور اسے سیون الیون نظر آیا۔ یقینا یہ عوامی شاہراہ کے قریب تھا ریستوران جبھی سیون الیون اس پکی سڑک پر نیون سائن کے طو رپر جگمگا رہا تھا۔اس نے اللہ کا نام لے کر چلنا شروع کیا۔ چلتے چلتے جب اس کو لگا وہ ختم ہو جائے سڑک نہیں تو تھک کر وہیں سڑک کنارے پتھریلی دیوار سے ٹیک لگا کر ہانپنے لگی۔
    خاصا کمینہ پن کیا ہے یہ تو بتانا تھا کہ دور کتنا ہے۔ فیصل مسجد کی طرح سامنے نظر آرہا ہے مگر سڑک ختم نہیں ہو رہی۔ اف اس نے اپنے اپر کی جیب میں ہاتھ ڈال کر فون نکالنا چاہا۔ مگر جیب سے ہاتھ خالئ ہی نکلا۔
    اس نے مڑ کر دیکھا واپسی کا راستہ آگے والے راستے سے ذیادہ طویل لگا بہتر یہی تھا تھوڑی پیٹ پوجا کرکے توانائی بھر کے واپسی کی راہ لی جائے۔اللہ کا نام لیکر دوبارہ چلنا شروع کیا آخر پہنچ ہی گئ۔ سب سے پہلے سیٹ ڈھونڈ کر ڈھیر ہوئی۔ ٹانگیں جیسے ٹوٹنے لگی تھیں۔
    اسے واضح محسوس ہوا کہ ایکدم سے خاموشی چھا گئ ہے۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس سپر اسٹور کے کائونٹر پر کھڑے ملازمین اور دیگر صفائی پر معمور بھی خاموشی سے کھڑے اس کی شکل دیکھ رہے تھے۔
    کورینز اچھے خاصے اپنے کام سے کام رکھنےو الے لوگ ہیں غیر ملکی شکلوں کو دیکھ کر بھئ نظر انداز کرنے والے۔ یہ اسکے لیئے یکسر نیا تجربہ تھا۔ اس نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔ انکے چہروں پر واضح حیرت دوڑی۔
    مگر وہ خوش ہوئے۔ جھک کر آننیانگ ہاسے او بھئ کہا۔
    آننیانگ ہاسے او۔
    وہ بھی مسکرا دی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تقریبا ان سب کے ساتھ تصویریں بنوا کر ناشتے کے طور پر بن اور سینڈوچ کھا کر اور دوپہر اور رات کے لیئے بھی یہ دو تین چیزیں لیکر وہ نکلی تھی۔
    ملازمین کچھ ہائی اسکولر لگ رہے تھے ایک دو بڑے بھی تھے سب کا اتنا خاص برتائو اسے عجیب بھی لگا اور مزا بھی آیا۔ سلیبریٹی جیسا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ ترنگ میں نکلی تھی تو یقینا ایسا ہی غیر ملکیوں کو لگتا ہوگا جب وہ پاکستان آتے اور لوگ گھیر لیتے ۔ میں سوچتی تھی کہ کیا غلط حرکت ہے چڑا دیتے ہوں گے اسطرح تو لوگ انکو مگر غیر ملکی کتنے سبھائو سے بات کرتے ہیں تصویریں کھنچواتے ہیں بہت اچھے ہیں۔انہیں خود بھئ اچھا لگ رہا ہوتا ہوگا۔ جیسے مجھے لگ رہا ۔
    وہ مزے سے ادھر ادھر دیکھتی سوچتی چل رہی تھی۔ اب اترائی تھی سڑک پر اسے اس وقت اندازہ نہ ہوا مگر چڑھائی کی وجہ سے اسکو ذیادہ تھکن محسوس ہوئی اترائی میں تو جھٹ پٹ اترتی چلی آرہی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انتہائی بکواس مارننگ گلوری کی آواز نے اسکی میٹھی نیند توڑی تھی۔
    موبائل اب نہ اٹھایا تو میں موبائل توڑ دوں گی۔
    گوارا نے کروٹ بدلتے غرا کر کہا تھا۔
    پلیز توڑ دو اٹھ کر۔
    ہوپ الگ جھلائی ہوئی تھی۔دونوں نے کروٹ اکٹھے بدلی ایک دوسرے کو گھورا پھر سر اٹھا کر آواز کی جانب۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر جل بجھ کرتا موبائل ان دونوں میں سے کسی کا نہیں تھا۔
    اریزہ کی بچی۔
    دونوں اکٹھے چلائیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    گوارا کی والدہ تخت پر جانے کونسا ساگ پھیلائے بیٹھی تھیں گوارا اور ہوپ مالٹے کھاتی ادھر سے ادھر صحن میں چکر کاٹ رہی تھیں۔ گوارا کا بھائی خاموشی سے سر جھکائے بیٹھا ماں کا ہاتھ بٹا رہا تھا۔ تیسرے چکر پر گوارا نے چھلکے حقیقتا اسکے منہ پر مارے تھے۔
    کیا ہے نونا۔
    وہ جھلایا۔
    تمہیں پتہ ہے نا ہائی وے والا کنویئنس اسٹور کتنا دور ہے اسے وہاں کیوں بھیجا؟ کونسی ایسی چیز ہے جو ریستوران میں موجود نہیں ہمارے؟
    گوارا بھنا رہی تھی۔ سوینگ تھوڑا شرمندہ سا ہوامگر ڈھٹائی سے اپنی بات پر جما بھی رہا۔۔
    مجھے لگا اسے کوئی چیز ایسی چاہیئے ہوگی جو ہمارے ریستوران میں نہیں جبھی تو پوچھ رہی۔
    اسکی بات پر گوارا دانت کچکچا کر رہ گئی۔
    راستہ نہ بھٹک گئ ہو۔
    ہوپ نے خیال ظاہر کیا۔
    سیدھئ سڑک ہے بیٹا۔ دائیں بائیں یا گھر ہیں یا جنگل و کھیت۔ وہ راستہ نہیں بھٹک سکتی ہاں ذیادہ وقت لگ گیا ہوگا اسے پہاڑی علاقے میں پیدل چلنا سب کےبس کی بات نہیں ہوتی ہے۔
    آہموجئ نے سبھائو سے تسلی دی۔
    آپ لوگ تو ایسے پریشان ہو رہی ہیں جیسے پانچ سال کی بچئ ہے آپکی دوست۔
    سوینگ نے کہا تو گوارا نے اسکے سر پر چپت لگا ہی دی۔
    چپ کرو تم۔ سخت غصہ آرہا ہے مجھے پہلے ہی تم پر۔
    ہمیں اٹھے آدھا گھنٹہ ہو رہا ہے اور اسے گھر سے نکلے تین گھنٹے ہو رہے ہیں مجھے لگتا ہے ہمیں اسکے پیچھے جانا چاہیے۔
    ہوپ کی بات میں دم تھا۔ گوارا کو بھی اب فکر ہو رہی تھی۔
    پہلے کچھ کھا لو۔تم دونوں نے ناشتہ تک نہیں کیا اگر ناشتے تک نہ آئی واپس تو
    آہجومہ کی بات ابھئ منہ میں ہی تھی وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی مین گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔ گوارا اور ہوپ لپک کر اسکے پاس آئیں۔ ہوپ نے اسکے ہاتھ سے دونوں شاپر لیئے تو گوارا پریشانی سے اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر احوال پوچھنے لگی
    تم ٹھیک تو ہو نا؟ کہاں رہ گئ تھیں؟
    میں ٹھیک ہوں فاصلہ کچھ ذیادہ تھا تو تھک گئ ہوں بس۔ اس نے اتنی فکر پر ہنس کر کہا۔
    اور فون کس خوشی میں گھر چھوڑ کر گئی تھیں؟
    ہوپ کو یاد آیا تو بلا لحاظ اسکے سر پر بھی ٹھونگا لگا دیا
    وہ مجھے لگا تھا کنویئنس اسٹور قریب ہی ہوگا تو بس اس لیئے۔
    فون گھر چھوڑنے کی عادت پر وہ خود بھی شرمندہ تھی۔ گوارا نے اسکی بات پر مڑ کر دوبارہ سوینگ کو گھورا۔
    اچھا چلو ہمارے ساتھ ہم سب مالٹے کے باغ میں پھل اتارنے جا رہے ہیں ارادہ تو لنچ وہاں کرنے کا تھا مگر اب ناشتہ بھی وہیں کریں گے۔
    گوارا نے فورا اگلا پروگرام بنایا۔
    نہیں پلیز۔ اتنا چل کے مجھ میں اب مزید کہیں جانے کی ہمت نہیں ہے۔
    وہ سنتے ہی گھبرا گئ۔
    رہ لو گی اکیلے؟ گھر میں بس آہموجی ہوں گی وہ بھی کچن میں مصروف ہی ہوں گی۔
    گوارا کی بات پر وہ سوچ میں پڑی مگر حقیقتا ا سوقت شدید تھکن محسوس ہو رہی تھی سو سہولت سے معذرت کرلی۔ گوارا اور ہوپ نے بھی اسکی حالت دیکھتے ذیادہ اصرار نہیں کیا۔
    چلو سو ینگ بچوں کو لیکر آئو ہوپ گاڑی نکال رہی ہے۔
    گوارا نے سوینگ کو آواز دی وہ فورا اچھل کر تخت سے اترا تھا۔بچے پہلے سے تیار اندر کھیل رہے تھے ایک آواز پر دوڑے آئے۔ گوارا فرنٹ سیٹ پر سوینگ بچوں کے ساتھ پیچھے بیٹھ گیا تھا۔ گاڑی جب تک نظر آتی رہی گوارا گاڑی کی کھڑکی سے سر نکال کر مس یو اور کورین ہارٹ بناتی رہی ہاتھ سےکبھی فلائنگ کس بھیجتئ۔۔ اسے البتہ فکر ہو رہی تھی سڑک خالی ہی تھی مگر یہ حرکت ٹھیک تھی نہیں۔ سو اسے منع کرتی رہی خدا خدا کرکے گاڑی نے موڑ موڑا تو وہ سر جھٹک کر اسکی دیوانگی پر مسکراتی اندر چلی آئی۔ آہجومہ ساگ بنا چکی تھیں اب ڈھیر اٹھا کراندر لے جارہی تھیں۔ من بھر کا ٹوکرا۔ تمیز کا تقاضا ۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر انکے ہاتھ سے لینا چاہا انہوں نے سہولت سے منع کردیا
    بہت بھارئ ہے اٹھا نہیں پائوگی۔ وہ مصر ہوئئ تو اسکے بے حد اصرار پر انہوں نے اسے تھمایا۔ ٹوکرا توقع سے کہیں بھاری تھاوہ لڑکھڑائی ہی تھی کہ انہوں نے ہنس کر اس سے واپس لے لیا۔
    تم لوگ آجکل کی بچیاں نہ ڈھنگ سے کھاتی پیتی ہو اوپر سے سیخ سلائی بننے کا شوق ہے۔
    جان بالکل بھی نہیں ہے تم لوگوں میں۔
    وہ جو کہہ رہی تھیں اسے ایک لفظ سمجھ نہیں آیا تھا۔سو بس مسکرانے پر اکتفا کیا۔
    ریستوران اس وقت خالی تھا جو دو چار مستقل مہمان تھے وہ شائد ابھئ اٹھے نہیں تھے۔
    وہ انکے ساتھ کچن میں چلی آئی۔ یہاں اتنی سردی نہیں تھی۔ آہجومہ مصالحے کمچی وغیرہ نکالنے لگیں۔ اس نے اپنی ہنگل کو جھاڑ پونچھ کر مدد کی پیشکش کی۔ آہجومہ مسکرا دیں۔
    ایسا کرو تم گوشت دھو لو۔

    اس نے سر ہلا کر گوشت کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا۔ سنک میں پلاسٹک کے شاپر انڈیلے ہوئے تھے شاید برف پگھلنے کی نیت سے۔
    اس نے آگے بڑھ کر شاپر کھولنے شروع کیئے پانچ دس کلو گوشت تو تھا۔ اس نے اپر کے ہڈی میں پرویا کیچراتارا بال لپیٹ کر چٹکی لگائی آستینیں چڑھا کر تندہی سے اس کام میں لگ گئ۔ برف کافی حد تک پگھل چکی تھی نیم گرم پانی سے اس گوشت کو اچھی طرح بھگو کر دھونا شروع کیا۔ مسل مسل کر دھونا پڑا خون گوشت سے کچھ ذیادہ ہی رس رہا تھا۔ کچھ گوشت بھی ذیادہ ہی گلابی گلابی سی تھااور لجلجا سا بھی۔
    دھل کر ایکدم سفید ہوگیا تھا۔
    شائد یہاں کی گائیں بھی سکن کئئر روٹین فالو کرتی ہیں۔ وہ حسب عادت اردو میں بڑ بڑائی
    گوشت دھو کر ایک بڑے سے پتیلے میں ڈالتہ جا رہی تھی دوسرا شاپر کھولا تو اب چھوٹے چھوٹے پائے آگئے تھے۔ یقینا یہ پائے الگ رکھنے ہوں گے۔ نل کے نیچے انڈیلتے اسے جھٹکا سا لگا۔
    یہ پائے؟ اس نے پایا اٹھا کر غور سے دیکھا۔ بکرے کا پایا ہے نا یہ۔ اس نے تصدیق کرنا چاہی ۔ مگر چھٹی حس کچھ اور ہی کہہ رہی تھی۔اس نے مڑے بغیر پوچھا۔
    یہ کس چیز کا گوشت ہے؟
    دل دھک دھک کررہا تھا۔
    انگریزئ میں پوچھ کے خیال آیا آہجومہ کو تو سمجھ ہی نہیں آیا ہوگا ابھئ ہنگل کو ہوا لگانے کا سوچ رہی تھی شستہ انگریزی میں ہی جواب آیا۔۔۔
    یہ سب سور کا گوشت ہے۔
    اس کو دھچکا سا پہنچا تھا۔ مڑ کر پیچھے دیکھا تو علی کوکنگ رینج کے پاس کھڑا اپنے لیئے ناشتہ بنا رہا تھا آہجومہ جانے کہاں چلی گئ تھیں ۔ اسے دیکھتے پا کر علی نے خیر سگالی انداز میں مسکرا کر ہلکا سا سر جھکایا جیسے سلام کر رہا ہو اس نے واپس رخ موڑا۔ نل کی موٹی دھار کھولے گوشت پر سے پانی گزارتے ۔۔۔ آہ ابھی بھی موٹی دھار گوشت پر گر رہی تھی۔ گوشت دھوتے کب اسکی چھینٹوں سے بچتے ہیں اور بچنا چاہیں بھی تو کیسے بچت ہوتی ہے بھلا۔ اسے تو لگا منہ سر تک یہی پانی پہنچنے لگا ہے ۔۔
    حدیث کے مطابق آپ آبشار کے پاس بھی کھڑے ہوں تو پانی ضائع کرنا منع ہوتا ہے۔
    مخاطب نے اسکے برابر آکر ٹونٹی بند کرتے ہوئے نصیحت کرنا ضروری سمجھا۔
    اب تو جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔ اس نے بے بسی سے گوشت کو دیکھا اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔ اپر پر خون کے تو نہیں مگر پانی کے چھینٹے ضرور تھے۔ بے حد احتیاط سے دھونے کے باوجود۔
    سارے کپڑے ناپاک ہو گئے۔ نماز بھی نہیں پڑھ سکتی اب تو میں۔
    اسے دکھ ہو رہا تھا۔ یہ تاثرات اسکی شکل پر تھے۔
    کیا ہوا ؟
    اسکی بے چاری شکل دیکھ کر علی پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
    کچھ نہیں۔ اس نے سابقہ تاثرات کے ساتھ منہ بنا کر دوبارہ ٹونٹی کھول لی۔ علی کندھے اچکا کر واپس چولہے کے پاس آگیا۔ وہ اپنے لیئے ناشتہ بنا رہا تھا رولڈ آملیٹ اور ٹوسٹ ساتھ کافی ۔۔
    اپنا ناشتہ تیار کرتے اس کی گا ہے بگا ہے اس پر نظر پڑی تھی۔ وہ پوری توجہ سے گوشت دھو رہی تھی۔ گوشت دھونے کے بعد اس نے ہاتھ دھونا شروع کردیا تھا۔ اسکا ناشتہ تیار ہوگیا تو وہ ناشتہ لیکر باہر چلا آیا۔ ناشتہ کرکے برتن واپس رکھنے کچن میں آیا تووہ ابھی تک ہاتھ مسل مسل کر دھو رہی تھی۔
    یہ کیا کر رہی ہو؟
    وہ خاصامتفکر ہوکر اسکے پاس آیا۔
    اس نے پانی کی دھار تو نہیں ذیادہ کھول رکھی تھی مگر اپنے ہاتھ برتن دھونے والے مائع سے دھو رہی تھی خوب رگڑ رگڑ کر۔ ساتھ آنکھوں کا بھی غسل جاری تھا۔
    مجھے نہیں پتہ تھا یہ سور کا گوشت ہے ورنہ کبھی نہ دھوتی اوپر سے اتنا بدبو دار ہے اسکی بو بھی نہیں جا رہی۔
    وہ روہانسی ہو چلی تھی۔
    علی نے اسکی شکل دیکھی۔ وہ اس بات پر اتنی پریشان نظر آرہی تھی کہ لگتا تھا ابھی پھوٹ پھوٹ کر رودے گی۔
    وہ چہرے کے قریب ہتھیلی لا کر جیسے اسکی بو محسوس کر رہی تھی۔ اسے ابھئ بھی جیسے بو آئی۔ اتنی کراہیت سے ہاتھ پیچھے کرکے دوبارہ اس نے نل کھولنے کیلئے ہاتھ بڑھایا بلا ارادہ اس نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔اریزہ نے چونک کے اسکی شکل دیکھی اسکا انداز سرسر ی تھا مگر گرفت مضبوط تھی۔ اسکے ہاتھ چھڑانے کی کوشش بالکل ناکام رہی ۔
    بس ہوگیا۔اس نے قطیعت سے کہا تھااور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ باہر لےآیا۔
    میں نے ہاتھ۔ ۔مجھے ہاتھ دھونے
    اس نے ہاتھ دھونے تھے مزید مگر علی نے ہاتھ نہیں چھوڑا اسکو باہر صحن میں دھوپ میں لا کر تخت پربٹھایا۔ اسکے ہاتھ سردی سے سفید پڑ گئے تھے۔اس نے اپنی گردن میں لپیٹا مفلر اتارا اسکے سامنے اکڑوں بیٹھ کر اسکے ہاتھ اس مفلر میں اچھی طرح لپیٹ دیئے۔اریزہ ضبط کرنے کی کوشش کر تو رہی تھی مگر آنسو اسکے گالوں پر پھسل آئے تھے۔۔
    اسکی شکل دیکھتے اسے ہنسی آگئ تھی ۔ بہت روکتے روکتے بھی وہ چہرے پر پھیل آنے والی مسکراہٹ نہ روک سکا۔
    اسکی مسکراہٹ اسے مزید جلا گئ۔
    کیوں ہنس رہے ہو آپ؟ یہ مزاحیہ لگ رہا ہے آپکو۔
    وہ غصے میں صحیح ہنگل بول گئ۔
    ہاں۔ علی نے اطمینان سے سر ہلایا۔ پھر ہنس کر وہیں زمین پر ٹک گیا۔ دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹکا اطمینان سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر محظوظ انداز سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔
    ایک بات تو بتائو مجھے ہنسئ آرہی ہے مجھے وجہ پتہ ہے مگر تم جانتی ہو کیا کہ رو کیوں رہی ہو؟
    کل سور کھا لیا آج سور کا گوشت ہاتھ میں لیئے رہی یہ چھوٹی بات ہے۔
    وہ اب چہکوں پہکوں رو دی۔ علی کو ہنسی بھی آرہی تھی اور اسکو چپ کرانا بھی ضروری تھا ۔ اپنے ہاتھ مفلر میں لپٹے ہونے کے باوجود وہ اپنے چہرے تک نہیں لا رہی تھی۔ لگ رہا تھا اسکے ہاتھ باندھ کر بٹھایا ہوا ہو اس نے۔ سر جھکا کر سڑ سڑ کرتی روتی اریزہ کو دیکھ کر اسے صرف ہنسی آرہی تھی۔ بمشکل ہنسی ضبط کرکے اسے سبھائو سے پکارنا شروع کیا۔
    اچھا نا روئو مت۔بات سنو ۔ اریزہ۔ پہلے بات سن لو میری پھر خوب رو لینا؟
    اسکی بات پر اریزہ نے تیکھی نگاہ ڈالی۔
    گڈ۔ اب بتائو گوشت دھو دیا تم نے؟ ہاتھ گندے ہوئے وہ بھی دھو لیئے۔ صابن سے پانی سے اب سب ٹھیک ہو گیا ہے۔ میرا یقین کرو۔
    شستہ انگریزئ میں وہ اسکو بہلا رہا تھا۔
    میرے سارے کپڑوں پر چھینٹیں آگئیں میں نے نماز پڑھنی تھی۔
    وہ بین کرنے والے انداز میں بولی۔
    تو ایسا کرو کپڑے بدل لو جا کر۔
    وہ اسے بچوں کی طرح ہی سمجھا رہا تھا۔
    اور میں نے سر پر ہاتھ لگا لیا ہوگا مجھے عادت ہے بار بار لٹ پیچھے کرنے کی۔
    وہ باقائدہ مفلر والے ہاتھ اٹھا کر اپنے چہرے پر بکھر آنے والی لٹوں کو پیچھے کرتی لائیو ڈیمو بھی دے رہئ تھی۔ ہلکی سرخ ہوتی ناک رو رو کے گلابئ آنکھیں۔ اس کا انداز اتنا بچکانہ تھا کہ وہ لاشعوری طور پر اسے بچوں کی طرح ہی سمجھانے لگا۔
    نہا لو۔ کپڑے بدل کر نماز پڑھ لینا۔
    اسکے سبھائو سے کہنے پر اسکی عقل کی بتی جلی۔ ساتھ ہی اپنی بے وقوفی پر شرمندگی بھی ہونا شروع ہوئئ۔
    ہوں۔ اس کو احساس ہوا کیا حماقت کی ہے۔
    اب ذرا مفلر کھول کر اپنے ہاتھ دیکھو۔ اتنا رگڑتا ہے کوئی؟ بالکل پا۔۔
    وہ پاگل کہتے کہتے رک گیا۔
    پھابو۔ ہاتھ صابن سے دھو لیئے صاف ہوگئے تین بار پانی گزارا پاک بھی ہو گئے۔
    اس نے شرمندگی سے مفلر کھولا اسکے ہاتھوں کی جلد سکڑ چکی تھی۔ ٹھنڈے ٹھار برف جیسے تو ہو رہے تھے ساتھ اس نے ہتھیلی ناک کے قریب لا کر سونگھنا چاہا تو بو ابھی بھی محسوس ہوئی
    ابھی بھی آرہی ہے۔
    اس نے جیسے شکایت لگائی۔
    ادھر دکھائو۔
    اس نے آگے ہو کر اسکی ہتھیلی تھامی اوراحتیاط سے اپنی ناک کے قریب لایا۔ اسکا انداز اتنا بے ضرر تھا کہ اریزہ جز بز سی ہو کر رہ گئ۔ لمحے بھر میں اس نے ہاتھ چھوڑ بھی دیا۔
    لیمن ڈش واش لیکوئیڈ کی بو آرہی ہے اب بس۔ دراصل تم نے دس کلو کے قریب گوشت دھویا ہے سور کا تو یہ عام جانوروں کے گوشت سے ذیادہ بودار ہوتا ہے۔ اسکی بو تمہارے حواس پر سوار ہوگئ ہے۔
    اسکی بات میں دم تھا اسکا انداز اتنا پر اثر تھا کہ وہ اپنے آنسو پونچھنے لگی۔
    مجھے بالکل اندازہ نہیں ہوا کہ دس کلو تھا۔ آپکوکیسے پتہ ؟ تھوڑا ذیادہ تو تھا مگر اتنا ذیادہ ہے یہ نہیں پتہ تھا۔
    گوشت تو کئی بار دھویا مگر دس کلو زندگی میں پہلی بار اکٹھے دھویا تھا۔
    مجھے ایسے پتہ ہے کہ یہ ڈی فراسٹ کرنے میں نے نکال کر رکھا تھا ۔ میرا ارادہ تھا دھونے کا بھی مگر ناشتے کے بعد۔ اس سے قبل تم نے آہجومہ کو پیشکش کردی دھونے کی۔
    وہ ہلکے پھلکے انداز میں بتانے لگا۔
    آپ تو مسلمان ہیں نا؟ سور کا گوشت دھو دیتے؟ سور کو ہاتھ لگا لیتے؟
    اریزہ کو حیرت ہوئی۔
    ہاں اسکے بعد ہاتھ دھو لیتا موڈ ہوتا نہا لیتا مگر اس بات پرروتا نہیں کہ سور چھو لیا۔
    وہ اب مزاق اڑا رہا تھا۔ اریزہ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
    میں نے نیک نیتی سے مدد کی پیشکش کی تھی آہجومہ اکیلی کام کر رہی تھیں اسلیے۔
    بالکل۔ تم نے نیکی ہی کی ہے۔ علئ اسے چڑانا نہیں چاہ رہا تھا جبھی صلح جویانہ انداز میں بولا
    اب اچھے بچوں کی طرح اٹھو جا کر کپڑے بدل لو۔ رونا دھونا بند کرو۔
    وہ خود بھی کپڑے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
    اریزہ نے بھی سر ہلایا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
    اسے دیکھتے یونہی اسے اپنا حال یاد آیا تھا۔
    تم آدھے گھنٹے سے وضو کیوں کیئے جا رہے ہو؟ ہوگیا بس بیٹا۔۔
    وہ کتنی ہی دیر سے باتھ روم میں بند تھا جب عبدالھادی دروازہ کھٹکا کر اندر آئے تو اسے بے بسی سے بیسن کے آگے روتے ہوئے کھڑا پایا۔
    جو پیدائشئ مسلمان ہیں نا کتنا آسان ہے ان کیلئے یہ سب کرنا مجھے بھول جاتا ہے پہلے ناک میں پانی ڈالنا تھا یا کلی کرنی تھی۔ میں ہر بار وضو کرتا ہوں ہر بار کوئی غلطی ہوجاتی ہے۔۔ مجھے وضو کرنا ہے مگر مجھ سے ہونہیں رہا۔
    وہ رو رہا تھا مگر جانتا تھا اپنے رونے کی وجہ اس وقت یہ سمجھ نہ آیا کہ اریزہ کیوں رو پڑی تھی؟۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نرم گرم سی دھوپ ہڈیوں کو جماتی سردی کا اثر ذائل کر رہی تھی۔ گوارا مالٹے چنتے رخ موڑ کر سورج کی طرف کرکے آنکھیں بند کرکئ جیسے اسکی دھوپ کو روح تک محسوس کر رہی تھی۔
    نیا سن اسکرین لیا ہے کیا آہجومہ۔
    اسکے بھائی نے فورا جملہ چست کیا۔ اس نے فورا اسکو گھورا پھر بڑی بہن ہونے کا رعب جھاڑتے بولی
    آہجوشی اپنے کام سے کام رکھو۔ شام تک باغ مکمل خالی کرنا ہے۔
    جس رفتار سے کام کر رہی ہو اگلی کئی شامیں یہی کام کرتے گزرنی ہیں۔
    اس نے مالٹے توڑتے طنز اچھالا۔ سامنے والی پیڑوں کی قطار سے ہوپ کسی معمول کی طرح پھل ٹھکا ٹھک اتار رہی تھی جیسے بچپن سے یہی کام کرتی آئی ہو۔اسکی پھرتی کو دیکھ کر گوارا بھئ متاثر ہوئی ۔
    ویسے تم اس روبوٹ کو کہاں سے درآمد کرکے لائی ہو۔ ہم دونوں ہاتھ جھاڑ کر بیٹھ جائیں تو بھی شام تک یہ آہجومہ باغ کا پھل اتار چکی ہوگی۔
    گوارا اسے ہی دیکھ رہی تھی جب سوینگ نے متاثر ہو جانے والے انداز میں ہونٹ گول کرکے پہلے وائو کہا پھر اس سے پوچھا۔
    نونا کہو بڑی ہے مگر آہجومہ نہیں ہے۔
    گوارا نے فورا ٹوکا
    تم ہر کسی کو مجھ سے بڑا بنا دیا کرو۔ وہ برا مان گیا۔
    میرا ارادہ اسے لائن مارنے کاتھا بھی نہیں ایسی سوکھی سڑی لڑکی مجھے وارا نہیں کھاتی ۔ اور تم کو نونا کہتا نہیں اسکو کیوں کہوں تم سے تو دو تین سال چھوٹی ہی ہوگی۔ میری ہم عمر ہوگی یقینا۔
    سوینگ قیاس آرائی کر رہا تھا۔ گوارا نے لب کھولے اسکی غلط فہمی دور کرنے کو پھر سر جھٹک کر اپنی مالٹوں سے بھری ٹوکری اٹھائے ہوپ کے پاس چلی آئی۔
    آرام سے ہوپ۔ہم یہاں کام کرنے تو آئے ہیں مگر ایسی بھی کوئی مشینی رفتار سے کام کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم تو کئی دن لگا تے باتیں کرتے پھل اتارتے ساتھ ساتھ ان گنت کینو کھاتے بھی جاتے ہیں۔
    وہ ٹوکری نیچے رکھ کر موٹا سامالٹا نکال کر چھیلنے لگی۔
    یہ لو۔
    اس نے آگے بڑھ کر ہوپ کے منہ میں ڈالنا چاہا ہوپ نے منہ کھولا ہی نہیں الٹا اسکی شکل دیکھنے لگی کہ وہ گڑبڑا کر واپس پھانک اپنے منہ میں ڈال گئ۔
    کام کے دوران ہوپ کھانے کیا بولنے کیلئے بھئ منہ نہیں کھولتی جبھی اتنی رفتار ہے
    اس نے سوچا ہی تھا مگر اسکا اندازہ غلط نکلا۔ ہوپ نے ٹوکری نیچے رکھ کر ہاتھ جھاڑے اور بولی۔
    پھر تو تمہاری والدہ کو کافی نقصان ہوتا ہوگا۔
    خوامخواہ۔ گوارا نے منہ بنایا
    کوئی جن بھوت تھوڑی ہیں ہم اتنا تھوڑی کھا جاتے کہ نقصان ہو۔
    میں پھل اتارنے میں دیری کی بات کر رہی ہوں۔ ہوپ نے وضاحت کی۔
    انکی عمر کم ہوتی ہے ان پھلوں کو اتار کر شہر تک بھیجنے تک آدھا پھل اپنی غذائیت کھو دیتا ہے رہی سہی کسر انکو جو اسپرے لگائے ہیں انکی وجہ سے پھل کا رنگ بدل رہا ہے یہ کبھی بھی اے کیٹیگری میں شمار نہیں کیئے جائیں گے۔ آجکل ویسے بھی بنا پیسٹی سایڈز کے خالص قدرتی پھل کھانے کا رواج ہے بڑے شہروں میں اور یہ پھل چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ مجھ پر کیڑے مار اسپرے کیا گیا ہے ۔ فوری درخت سے اتار کر جو کھا رہی ہو ساتھ ساتھ وہ دوا بھی کھا رہی ہو۔ جن پھلوں کو دھوپ لگ رہی ہو ۔ غور کرنا نگلنے کے بعد ایک کڑوا سا ذائقہ آتا ہوگا زبان پر۔
    اسکی اتنی تفصیلی توجیہہ۔حقیقتا گوارا کے حلق میں پھانک اٹک اٹک گئ بمشکل نگلا تو پہلےتو جانے کوئی کڑواہٹ محسوس ہوئی نہ ہوئی اس بار تو لگا مالٹا نہیں کریلا چبا کر نگلا ہے۔
    مم۔ میں نے کیڑے مار دوا کھالی ہے؟
    اسکی آنکھوں میں آنسو آنے لگے۔ سینہ مسلنے لگی الٹی کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
    مجھے اسپتال لے چلو مجھے لگ رہا ہے میری اس ذہر سے طبیعت خراب ہورہی ہے۔
    گوارا کی اوور ایکٹنگ ہوپ نے تاسف سے دیکھا۔
    اتنا مرنے کا خوف کیوں ہے؟
    ہاں تو جینے کا خوف کیوں ہو؟ آخر ابھی دیکھا ہی کیا ہے میں نے ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی۔ مجھے کنواری بھوتنی بن کے جوان لڑکوں کے پیچھے بدروح کی طرح پھرنے کا کوئی شوق نہیں
    تم سیول کی لڑکیوں کو شادی کا اتنا شوق کیوں ہوتا ہے۔
    ہوپ نے پوچھا گوارا تنک کر جواب دینے لگی تھی پھر اسکے چہرے پر نگاہ پڑی۔ سادہ سا انداز تھا یقینا طنز نہیں کر رہی تھی۔
    پیونگ دونگ( شمالی کوریا کا شہر) کی لڑکیوں کو شادی کا شوق کیوں نہیں ہوتا۔
    گوارا نےترکی بہ ترکی جواب دیا۔
    پہونگ دونگ کی لڑکیوں کو ہوتا ہوگا بس مجھے نہیں رہا۔
    اس نے تلفظ درست کرتے ہوئے کندھے اچکائے۔
    کیوں؟ تمہیں کیوں نہیں؟
    گوارا خاصے تجسس بھرے انداز میں پوچھ رہی تھی۔ ہوپ نے سرجھٹکا۔
    کبھئ سوچا نہیں شادی کے بارے میں مسلے ہی اتنے تھے زندگی میں۔
    اس نے اپنی طرف سے مفصل جواب دیا تھا۔
    گوارا نے لمحہ بھر کو سوچا پھر بلا تمہید پوچھ ڈالا
    تم ابھی بھی ہیون کو پسند کرتی ہو؟
    ہوپ نے حیرت سے مڑ کر اسکی شکل دیکھی وہ جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الٹرا سائونڈ رپورٹس تھامے وہ کتنی دیر تک اپنے وجود میں پلتے اس ننھے سے وجود کے ادھورے سے عکس کو دیکھ رہی تھی۔ جو شائد آج کل میں اس دنیا سے ہمیشہ کیلئے غائب ہوجانا تھا۔
    ابھی تو اسکو بہت مرحلوں سے گزرنا تھا اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے قابل ہونے کیلئے ۔ اچھا ہے ابھی ہی دنیا کی حقیقت جان لے۔ جتنا بڑا وجود ہوگا اتنی ہی دنیا کی آزمائشیں دیکھنے کو ملیں گی تو اس سب سے بہتر ہے دنیا کو پرکھے بنا ہی دنیا سے منہ موڑ لینا۔
    اس نے قنوطیت سے سوچاپھراس غیر واضح مبہم بے ڈھب سے اس ننھے وجود کے عکس کو دیکھتے ہوئے بڑبڑائی۔
    تم تو ابھی کچھ نہیں ہو۔ یہاں مجھے اپناوجود بے معنی لگ رہا ہے۔
    اس نے گہری سانس لیکر رپورٹس سائیڈ ٹیبل پر رکھیں۔ اور دھیرے دھیرے چل کر بڑی بڑی شیشے کی کھڑکیوں کے پاس آکھڑی ہوئی۔ پردے ہٹا کر دیکھا تو دھوپ پھیلی تھی۔
    ڈاکٹر کی ہدایت کےمطابق وہ مکمل بیڈ ریسٹ پر تھی۔ بہت دل گھبراتا تو اٹھ کر کھڑکی کے پاس آجاتی۔ سامنے اسپتال کے بڑے سے احاطے کا منظر صاف دکھائی دیتا۔ کچھ مریض لان میں ٹہلتے اور کچھ وہیل چئیر کے ذریعے اپنے تیمار داروں کی مدد سے کھلی فضا میں گھومتے نظر آتے۔ مستقل وارڈز اور رومز ہی اسی طرف تھے ۔ اس نے اتنے دنوں میں ایک بھی ایمبولنس یا ایمرجنسی کی صورتحال نہیں دیکھی تو نرس سے پوچھا تھا۔ اسی نے ہنس کربتایا کہ ایمرجنسی او راسپتال کا داخلی حصہ بالکل اس عمارت متضاد ہے۔ اس جانب کی عمارت مستقل مریضوں کے وارڈز اور دیگر ٹیسٹ وغیرہ کے لیئے مخصوص ہے۔
    کوریا کے تو اسپتال وہ متاثر ہوئی تھی۔
    اسکا فون بجا تھا۔
    اس نے پردے برابر کیئے فون اٹھا کر دیکھا تو کم سن کالنگ لکھا تھا۔ وہ ہونٹ کاٹنے لگی۔ کل کے اس اعتراف کے بعد وہ کتنی ہی دیر ہکا بکا سی بیٹھی رہی تھی ۔ غصہ آیا پھر ختم بھی ہوگیا۔ جب سوچنا چاہا کہ غصہ آیا ہی کیوں۔ وہ واقعی ایڈون کے سوا کسی کو نظر اٹھا کر دیکھتی ہی کہاں تھی۔ کاش کہ دیکھتی اسکے جملوں کی سچائی تو جانتی ہوتی ابھی تو بس حیرت ہی حیرت تھی۔کوئی وجہ نہیں باقی تھی اس سے دوبارہ بات کرنے کی جبھی فون نو کرکے رکھ دیا۔
    چند لمحے گزرے ہوں گے پھر کال آنے لگی تھی۔
    اس نے بیزاری سے فون اٹھایا انجان نمبر تھا
    اس نے بیزار سے ہی لہجے میں فون اٹھا کر کہا
    ہیلو۔
    ہاں سنتھیا بیٹا مجھے بہت ضروری کام سے پاکستان جانا پڑ رہا ہے تم بالکل پریشان مت ہونا میں اریزہ کے والد سے بات کر چکا ہوں وہ اریزہ کو تمہارے پاس بھیج دیں گے اور کچھ پیسے ابھی ایک آدمی تمہیں دے جائے گا ایک ڈیجیٹل کارڈ بھئ ہوگا تم جو چیز منگوانی ہو منگوا لینا ٹھیک ہے۔
    ڈیڈا تھے بنا سانس لیئے جس عجلت میں انہوں نے بات کی وہ پریشان سی ہوگئ
    کیا ہوا ڈیڈا سب ٹھیک تو ہے نا؟
    وہ چپ سے ہوگئے۔ پھر تھوڑا سنبھل کر بولے
    ہاں سب ٹھیک ہے۔ تم بالکل پریشان مت ہو اپنا خیال رکھو میں پاکستان پہنچتے ہی فون کروں گا۔ میری ابھی تھوڑی دیر میں فلائٹ ہے۔
    انکے اطمینان دلانے کے باوجود اسکا دل لرزنے سا لگا۔ کپکپاتی آواز میں پوچھنے لگی
    کیا ہوا ڈیڈا؟ امی تو ٹھیک ہیں نا ؟ مما کی طبیعت خراب ہے نا؟
    بالکل ٹھیک ہے تمہاری ماں پریشان مت ہو کہا نا سب خیریت ہے۔
    سیموئیل اسکی پریشانی بھانپ کر تسلی دینے والے انداز میں بولے
    آپ کچھ چھپاتو نہیں رہے نا۔ وہ بے یقین تھی۔
    مت فکر کرو ماں سے بات کرلو اطمینان کرلو ٹھیک ہے وہ بالکل۔ ابھی تم سے پہلے اسی سے بات کی ہے میں نے تم فکر مت کرو بیٹا ۔
    انکی بات پر دھڑ دھڑ کرتے دل کو وقتی اطمینان تو ملا مگر اسکا آپریشن پرسوں تھا وہ یہاں بالکل اکیلی تھی کیسے وہ اسے یوں چھوڑ کر جا سکتے ہیں وہ پوچھنا بھی چاہ رہی تھی مگر جھجک بھی آڑے آرہی تھی۔
    مگر ڈیڈاوہ۔
    اس نے لبوں پر زبان پھیر کر ہمت کرکے پوچھ ہی لینا چاہا مگر وہ عجلت میں تھے بات کاٹ کر بولے
    اچھا بیٹا اپنا خیال رکھا اور جو کھانے کو دل کرے وہ منگوالیناٹھیک خدا حافظ۔
    اسکا جواب سنے بنا ہی فون بندہو چکا تھا۔ وہ بند فون کو دیکھ کر رہ گئ۔
    اریزہ آجائے گئ؟ اسے نئی فکر لاحق ہوئی۔
    نہیں آئے گی۔
    اتنے دنوں میں اس کا غصہ ختم ہوگیا ہوگا؟ کیا پتہ آجائے۔ معزرت کرلوں گی منا لوں گی اسے۔
    وہ سوچ رہی تھی۔
    تبھی دروازے پر دستک دے کر نرس ایک آدمی کو لیکر اندر آئی۔
    اس نے مڑ کر دیکھا پھر گھور کر رہ گئ۔
    میں نے فون کیا تھا تم نے اٹھایا نہیں یہیں باہر کھڑا تھا میں۔ وہ ۔ ۔۔
    کم سن اسکے گھورنے پر سٹپٹا کر صفائی دینے لگا۔
    نرس اسکا بی پی وغیرہ دیکھنے آئی تھی۔ وہ خاموشی سے ایک جانب صوفے پر بیٹھ کر اسکے جانے کا انتظا رکرنے لگا۔ نرس اپنا کام کرکے اسے دو ٹیکے ٹھونک کر جیسے ہی باہر نکلی اس نے بنا تمہید باندھے سوال کیا۔
    کیوں آئے ہو؟
    کم سن نے اسکی بےمروتی پر شاکی نظروں سے دیکھا۔
    تمہارا حال پوچھنے آیا ہوں۔
    وہ اٹھ کر اسکے پاس چلا آیا۔ وہ بیڈ پر پائوں اوپر کیئے آلتی پالتی مارے اطمینان سے بیٹھی تھی۔
    اسکی بات پر بھنوئیں اچکا کر دیکھا
    تمہارے آہبوجی کو فون کیا تھا میں نے انہوں نے بتایا وہ جا رہے ہیں پاکستان تو سوچا تم یہاں اکیلی ہوگی تو تمہیں کمپنی دے دوں۔
    وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا
    وہ اسے گہری نگاہوں سے گھور رہی تھی انداز میں ناگوارئ نہیں تھی مگر کھنگال لینے والی نظر تھی کہ وہ مزید سٹپٹا سا گیا۔
    کچھ کھائوگئ؟ اسپتال کے بورنگ کھانوں سے بیزار ہوگئ ہوگی۔
    اس نے بات بدلنی چاہی۔
    سنتھیا نے نظروں کا زاویہ بدل لیا۔
    اسپتال سے ہی بیزار ہوگئ ہوں میں تو۔
    سنتھیا بڑبڑانے والے انداز میں بولی
    چلو تمہیں سیر کرالائوں۔
    کم سن نے کہا تو وہ چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگی۔
    کہاں؟
    نامسان ٹاور ، لوٹے ورلڈ ، ہینگنگ گارڈن سودوک محل کہاں چلیں؟
    وہ ڈھیر سارے آپشن سامنے رکھ رہا تھا
    ایکوریم دیکھنا ہے۔
    وہ بے ساختہ بولی پھر شرمندہ سی ہوگئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈھیر ساری رنگ برنگی مچھلیوں کو دیکھ کر وہ بچوں کی طرح خوش ہوئی تھی۔ ایکوریم پر انگلی رکھتی تو سب مچھلیاں اسکی جانب دوڑی آتیں۔کم سن حقیتا اسے ایکوریم لیکر آیا تھا۔ لوٹے ورلڈ کے دیو ہیکل ایکوریم میں نہیں بلکہ اسپتال کی لابی میں رکھے چار فٹ کے ایکوریم کے پاس وہیل چئیر پر بٹھا کر اور وہ اسی میں خوش ہوگئ تھی۔ کمرے سے نکلنا ہی اسے خوش کر گیا تھا۔ لابی کے لحاظ سے خاصا خوبصورت لگ رہا تھا اندر پرانے طرز کے کورین گھروں کا ماڈل بھی پانی میں تھا ایک کشتی بھی موجود تھی۔ اور اس سب کے ارد گرد تیرتئ بھانت بھانت کی رنگ برنگی مچھلیاں
    کچھ مچھلیاں اتنی چھوٹی تھیں کہ انہیں دیکھنا بھی مشکل لگتا تھا۔ اتنی باریک اتنی ننھی سی جیسے ابھی دنیا میں آئی ہوں۔
    یہ کس مچھلی کے بچے ہیں؟
    اس نے مڑ کر کم سن سے پوچھا۔
    نارنجی پیلی چتکبری مچھلیوں میں ان ننھے چاول کے دانوں سے ذرہ بھر ہی بڑے وجود کا اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ کس رنگ کے پروں سے سجیں گے انکے جسم۔
    یہ مچھلی ہی اتنی بڑی ہوتی ہے۔
    کم سن نے آگے جھک کر ایکوریم میں دیکھ کر بتایا۔
    اسکانام بھول گیا میں ہائی اسکول میں پڑھا تھا اسکے بارے میں۔ غور سے دیکھو یہ مکمل مچھلی ہے۔ مچھلی کا بچہ جب چھوٹا ہوتا ہے تب وہ مچھلی جیسا تھوڑی لگتا ایک نقطے جیسا ہوتا ساتھ بے رنگ سی بے ڈھب سی جھلی ہوتا ہے۔جب آہستہ آہستہ بڑا ہوتا ہے تو پورے مچھلی کے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔بالکل انسان کی طرح۔ بس تھوڑا وقت لگتا ہے۔
    وہ سادہ سے انداز میں اسے بتا رہا تھا۔ اسکے دل میں ٹیس سی اٹھی تھی۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے ہی تو اپنی الٹراسائونڈ رپورٹ دیکھتے وہ خود کو باور کرا رہی تھی ہونے اور نہ ہونے کا فرق۔ نظر آنے اور نظر نہ آنے والے کی حیثیت۔
    اسکی پیشانی تر سی ہوگئ۔ خوفزدہ سا ہو کر اس نے ایکوریم سے ہاتھ ہٹایا۔ کم سن فورا متوجہ ہوا۔ خشک ہوتے لب تر پیشانی
    کین چھنا؟ طبیعت خراب ہو رہی ہے تمہاری؟ڈاکٹر کو بلائوں؟
    وہ بر طرح پریشان ہو گیا تھا۔ غالبا ڈاکٹر کو بلانے مڑنے لگا اس نےبے ساختہ اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔
    نن نہیں۔ میں ٹھیک ہوں۔ کھلی۔ کھلی فضا میں لے چلو۔
    وہ سر ہلا کر اسے باہر لے آیا۔ اندر کے گرم ماحول کی نسبت باہر ٹھنڈک تھی دھوپ کے باوجود چلتی سرد ہوا ۔ اسکی ہڈیوں میں سرائیت کرنے لگی تو وہ بے ساختہ جھرجھری لیکر رہ گئ۔ کم سن اسے لان والے حصے میں لے آیا ۔ تھوڑی دیر دھوپ میں رہنے سے اسکی سردی کم ہوئی۔ لان میں خاصی رونق تھی۔ کچھ بچے بھی کھیل رہے تھے جو شائد یہاں آنے والوں کے ساتھ آئے تھے۔ کچھ بیمار بچے بھی تھے۔
    کیا کھائوگی؟ کورین بیف سوپ ود نوڈلز یا کمباپ۔
    مجھے بھوک نہیں۔ اس نے سر جھٹکا۔
    کچھ تو کھانا پڑے گا کمباپ لے آئوں؟
    کم سن مہمان نوازی کے موڈ میں تھا۔
    بس کم باپ۔
    اس نے مختصرا جواب دیا۔ وہ لان کی طرف متوجہ تھی۔ تبھی ایک جوان عورت نوزائیدہ بچہ لیکر شائد دھوپ دکھانے احتیاط سے اٹھا کر لائی تھی۔ اسکے سامنے ہی بنچ پر آبیٹھی تھی۔ وہ جی جان سے اسکی طرف متوجہ ہوگئ کم سن کچھ کہہ تو رہا تھا مگر اس نے سنا ہی وہ منظر میں گم تھی۔ وہ۔لڑکی ممتا سےچور نظروں سے ننھے وجود کو دیکھ رہی تھئ۔ ایک۔چندی ہی آنکھوں والا لڑکا ایک شاپر میں اسکے لیئے کچھ کھانے پینے کی چیزیں لایا تھا۔ شاپر رکھ کر اس نے فورا بچہ اسکی گود سے لے لیا تھا۔ وہ لڑکی ہنس دی تھئ۔ لڑکا اسے مصنوعی خفگی سے شائد کھانے کو ہی کہہ رہا تھا۔احتیاط سے بچے کو تھامے ماں کو کھانے کی ہدایت کرتا وہ لڑکا ایکدم روپ بدل کر ایڈون بن گیا تھا۔ ہنس ہنس کر کم باپ کھاتی لڑکی کا رنگ سنولا گیا تھا وہ وہ خود بن گئ تھی۔ ایڈون کو اپنے ہاتھوں سے کھلا رہی تھی۔ ایڈون کا اصرار تھا کہ میں بعد میں کھا لوں گا تم آرام سے کھائو تم اپنا خیال ٹھیک سے نہیں رکھ رہیں۔
    وہ لا شعوری طور پر اسے دیکھے گئ۔ کم سن کا موبائل بجا ۔ اسکا منگوایا ہوا آرڈر آچکا تھا۔ وہ اسے وہیں چھوڑ کر شاپر لیکر واپس آیا تو وہ ویسی ہی مگن گم صم بیٹھئ تھی۔ اسے متوجہ کرنے کیلئے اس نے اسکی گود میں شاپنگ بیگ لا کر رکھا۔ اور اسی بنچ کی طرف اسکی وہیل چئیر چلا کر لے جا نے لگا۔ وہ جوڑا جانے کب اٹھ کر چلا بھی گیا وہ اتنا سوچوں میں محو تھی کہ۔خبر بھی نہ ہوئی۔ وہ کھسیا کر شاپر کھنگالنے لگی۔ ہر چیز دو بندوں کے حساب سے تھی۔
    سوائے سوڈے کی پلاسٹک بوتل کے۔
    اس نے سب سے پہلے وہی بوتل کھولی
    گوماویو۔ کم سن اسکے ہاتھ سے بوتل لیتا بینچ پر بیٹھ گیا۔
    یہ میں نے اپنے لیئے کھولی تھی۔ اس نے بھنا کر جتایا
    سوڈا میں اپنے لیئے لایا ہوں تمہارے لیئے وٹامن واٹر لیکر آیا ہوں۔دیکھو۔
    کم سن کے کہنے پر اس نے دوبارہ شاپر میں جھانکا تو ایک او ربد ہیبت سی بوتل نظر آئی۔ وہ بیزار ہوئئ۔ اتنے دنوں میں اسے یہی پلایا جا رہا تھا۔ وہ تو دوا ہی سمجھی تھی مگر کوریا میں یہ دوا دراصل ایک بنا سوڈے والی وائٹامن ڈرنک تھی۔
    مجھے یہ نہیں پینی۔ تنگ آگئ میں یہ پی پی کے۔
    وہ جھلائی۔
    معزرت مگر میں تمہیں ایسی کوئی چیز نہیں کھانے دے سکتا جو تمہارے اور بے بی کیلئے نقصان دہ ہو۔ اس نے اسکے ہاتھ سے شاپرلیکر اچھی طرح پیک ہوا نوڈلز سوپ کا بائول نکال کر برآمد کرکے بنچ پر رکھنے لگا۔
    سوڈا ہے شراب نہیں۔ اس نے کہا تو کم سن نے کندھے اچکا دیئے۔
    بچوں کیلئے سوڈا بھی فائدہ مند نہیں۔صرف صحت بخش خوراک کھا سکتی ہو تم۔ وہ ہاتھ اٹھا کر بولا۔
    ایویں۔ وہ چیں بہ چیں ہوئی۔
    یہ لو تمہارے لیئے کم باپ۔
    اس نے سوپ سجانے کے بعد اطمینان سے کم باپ اسکی جانب بڑھایا۔
    اس نے شاکی نظروں سے گھورا۔ اسے لگا تھا وہ سوپ کا پیالہ اسکی جانب بڑھائے گا۔
    یہ لو تم کمباپ کھائو میں کورین بیف نوڈلز کھائوں گا۔اس نے بنچ کی جانب اشارہ کیا ۔نوڈلز کے ساتھ دو تین سائیڈ ڈشز بھی سجی تھیں۔ اس پرتکلف خوان کے سامنے کم باپ اسے اونٹ کے منہ زیرہ لگے۔ سوپ کی اٹھتی خوشبو حواس پر چھا رہی تھی۔
    میں نے نہیں کھانا یہ۔ اس نے بیزار ہو کر کمباپ اسکی جانب بڑھا دیا۔
    پھر کیا کھائوگی؟ کم سن سوچ میں پڑا
    یہ بیف نوڈلز کھائو گی؟اس نے اثبات میں سرہلایا
    اچھا یہ لے لوتم۔ کم سن نے مایوس سا ہو کر پیالہ اسکی جانب بڑھایا اس نے لپک کے تھام لیا۔
    اشتہا انگیز گوشت کا مصالحے دار سوپ اور نوڈلز اسکو ایکدم بھوک محسوس ہوئی تھی۔
    بنا تکلف وہ رغبت سے کھانے لگی۔
    ویسے میں کمباپ سوپ میں ڈبو لیتا ہوں۔ اچھا لگتا ہے۔دوں۔
    اس نے کمباپ کھول کر اسکی جانب بڑھایا۔
    اس نے سر ہلا حسب ہدایت ڈبو کر چکھا تو مزے کا لگا۔
    یہ میرے پسندیدہ رییستوران کا سوپ ہے مزے کا لگا؟
    وہ شاپر سے دوسرا پیالہ نکالتے ہوئے مسکراہٹ دباتے پوچھ رہا تھا۔
    ہمم مزے کا ہے۔ وہ بے دھیانی سے بولی اسکی مکمل توجہ اپنا پیالہ ختم کرنے پر تھی۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نہا دھو کر کپڑے بدل کرنماز پڑھ کر آکر بیٹھی تو بھی ہاتھوں کی جلد سکڑی ہوئی ہی تھی۔ اس نے تصویر کھینچ کر بھیجی۔
    آج سور کا گوشت دھویا میں نے۔
    چند ہی لمحوں میں صارم کی جانب سے ڈھیر سارے لعنتوں والے ایموجیز موصول ہوئے۔
    تم پاگل ہو ایک دم اریزہ اس بات کا فائدہ اٹھا رہی ہو کہ تمہارے کان کھینچنے کیلئے میں وہاں موجود نہیں ہوں۔
    پے در پے پیغامات آئے تھے۔ کال کی توقع تھی اسے اس نے وقت کا اندازہ کرنا چاہا یقینا وہ اس وقت یونیورسٹی میں ہوگا جبھی کال نہ کرسکا مگر کان کھینچ لیئے تھے اسکے۔
    کچھ لگائو اب ان پر ابھی۔ حشر کر لیا ہے تم نے انکا۔
    فکر بھئ تھی۔ وہ مسکرا دی۔ اسی وقت لوشن لگا کر تصویر کھینچ کر بھیجی۔۔
    فون پر پاپا کی کئی مسڈ کالز پڑی ہوئی تھیں۔ اور ایک پیغام بھی تھا۔
    بیٹا سنتھیا کے پاپا نے کہا تھا سنتھیا اکیلی ہے اسپتال میں تو تم اسکے پاس چلی جانا۔
    اسکو پڑھ کر غصہ ہی آگیا۔
    میں کیوں جائوں ایڈون کو کہتے نا ۔۔ وہ لکھتے لکھتے رکی پھر سارا پیغام مٹا دیا۔ یقینا بابا نہیں جانتے ہوں گے کہ سنتھیا کیوں ہے اسپتال میں۔ سو بس اتنا ہی لکھ بھیجا
    ابھی تو بابا میں سیول میں نہیں ہوں آپکو بتایا تھا نا دوستوں کے ساتھ انکے گائوں آئی ہوں جب جائوں گئ تب مل لوں گی اس سے۔ آپ فکر نہ کریں۔
    اس نے تفصیل سے اسی لیئے جواب لکھا کہ وہ اطمینان کرلیں۔
    ٹھیک ہے بیٹا۔ مس یو۔
    بابا نے فورا اسکا پیغام پڑھا تھا مگر شائد مصروف تھے۔
    وہ گہری سانس لیکر موبائل رکھ کر اٹھنے لگی تھی موبائل پھر بج اٹھا۔ اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا
    ہیون کی کال آرہی تھی۔
    وہ چند لمحے اسکی کال دیکھتی رہی پھر سائلنٹ کرکے رکھ دیا۔۔پھر خود بھی لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ کھانا کھا رہے تھے جب سیکٹری نے انہیں ایک ٹیبلٹ لا کر دی۔ انہوں نے سوالیہ نظروں سے دیکھا مگر وہ جواب دینے کی بجائے انکی جانب ٹیبلٹ بڑھا کر پیچھے ہٹ گیا۔
    انہوں نے ٹیبلٹ اٹھا کر دیکھا تو ایک ویب سائٹ نے بڑی سی تصویر لگا کر پورا بلاگ لکھ ڈالا تھا انکے اسٹور کے بارے میں۔ تصویر تھی ایک بر صغیر کے نقوش کی لڑکی کی انکے سیون الیون اسٹور چین کے ایک اسٹورکے ملازمین کے ساتھ ہنستے مسکراتے انگلیوں سے وکٹری کا نشان بنا رہی تھی۔
    عنوان مزید خون کھولانے والا تھا۔
    لی گروپ کامیاب مارکیٹنگ اسٹریجی اور رحم دل شہزادی
    لی گروپ کی ہونیوالی بہو نے ناصرف اچانک اپنے اسٹور چین کا دورہ کیا بلکہ وہاں کے ملازمین کے ساتھ خوش گپیوں میں بھئ مصروف رہی۔ انٹرنیٹ صارفین اس ارب پتی گھرانے کی ہونے والی بہو کے نیک اطوار سے کافی متاثر نظر آئے۔ لی گروپ کے خاندان میں سے پہلی دفعہ کسی خاتون سب روائتیں توڑتے ہوئے
    انہوں نے جھلا کر ٹیبلیٹ پھینکی تھی اور مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔
    یہ معاملہ حد سے ذیادہ بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے دانت کچکچائے۔
    اس لڑکی کے بارے سب معلومات اکٹھی کرکے دو مجھے۔ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی مجھے بتائو اسکے بارے میں کون ہے کہاں سے آئی ہے اوراچانک کیسے ہماری زندگی میں آن دھمکی ہے۔ سب جاننا ہے مجھے سب۔ سمجھے
    کہتے کہتے غیض و غضب سے انکا چہرہ سرخ ہوچلا تھا جملہ ختم کرنے تک آواز بھی خاصی بلند ہوچکی تھی۔
    سیکٹری نے ٹیبلیٹ کے ٹکڑے سمیٹے اور مئودب سا انکے سامنے کھڑے ہو کر کہا
    سمجھ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جانے کتنی دیر گزری وہ یونہی بے آواز روتی رہی۔ گوارا اور ہوپ کمرے میں آئیں بتی جلائی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ گوارا نے پکارا بھی مگر وہ بازو پر ہاتھ رکھے لیٹی تھی سو وہ یہی سمجھی کہ سو رہی ہے سو بتی بجھاتی واپس چلی گئیں دونوں۔ ان دونوں کے جانے کے بعد اس نے کروٹ بدل لی تھی۔ پھر جانے کب اسکی سچ مچ آنکھ لگ گئ۔ رات کے دس بجے کے قریب اسکی آنکھ کھلی۔ پہلے تو پتہ ہی نہ لگا کہ کہاں ہے پھر حواس بحال کرکے اٹھی بتی جلائی اپنا اپر پہن کر باہر نکل آئی۔ باہر دالان حسب معمول سنسان پڑا تھا۔ البتہ ریستوران میں کافی گہما گہمی تھی۔ شائد کوئی پارٹی تھی خوب ساری رنگین پنیاں لگی ہوئی تھیں سب بتیاں روشن تھیں۔ کافی تیز آواز میں کے پاپ لگا ہوا تھا۔ لوگوں سے بھرا ہوا تھا ریستوران۔۔۔گوارا اور ہوپ مختلف ٹرے اٹھائے ادھر سے ادھر جاتی نظر آرہی تھیں۔ گوارا کی اس پر گلاس وال سے آر پار نظر نہ پڑی ہوگی ورنہ پکار لیتی۔ وہ بھی قصدا اس گہما گہمی سے بچ کر باہر ہی آگئ۔ باہر موسم میں بے حد خنکی تھی۔ سامنے پورا چاند چمک رہا تھا۔ اسکا دل کیا قریب سے دیکھنے کا سو اکیلے باہر نکل آئی۔ اسکے گھر سے تھوڑے فاصلے پر چڑھائی تھی پھر جنگلہ لگا کر سڑک کنارے کچھ خالی جگہ تھی یہاں سے چند فٹ نیچے پکی گلی اور دوسری جانب سے اترنے کا راستہ۔ اسکا وہاں جانے کا دل کیا مگر سنسان نیم اندھیرے میں اتنی دور جانے کی ہمت نہ ہوئی سو وہیں کھڑی کچھ دیر دیکھتی رہی پھر واپسی کیلئے مڑی تو ٹھٹھک سی گئ۔ اس سے کچھ فاصلے پر علی دروازے پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔اسے ٹھٹھکتے دیکھ کر شرمندہ سا ہوا۔
    وہ میں رات کے کھانے کیلئے باہر جا رہا تھا آپ کھائیں گی میرے ساتھ؟
    اس نے غالبا تکلفا کہا تھا۔مگر اس نے تکلفا بھی انکار نہیں کیا۔ اثبات میں سر ہلا دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے لگا تھا وہ کسی ریستوران میں لیکر جائے گا مگر اسے حیرت ہوئی جب دو گلی مڑ کر اس نے ایک عام سے کورہائی طرز کے سادہ سے گھر کے لکڑی کے دروازے پر دستک دی۔
    اندر سے باریش چندی آنکھوں والے ایک ساٹھ ستر سال کے بزرگ نکلے تھے۔ علی سے تپاک سے گلے ملے۔ علی نے اسکی جانب اشارہ کرکے جانے کیا کہا وہ اسکی جانب دیکھنے لگے اس نے گڑبڑا کر سلام کیا۔
    وعلیکم ۔ وہ مختصر کہتے انہیں اندر آنے کی دعوت دیتے ایک جانب ہو گئے۔ وہ جھجکتے ہوئے علی کی معیت میں اندر داخل ہوئی۔ بڑا سا صحن نیم تاریکی میں ڈوبا تھا۔ دو قدم کی سیڑھیاں چڑھ کر دالان تھا جس میں دو کمروں کے دروازے کھلتے تھے۔دروازے کی دراڑوں سے اندر کی روشنی چھن چھن کر آرہی تھی۔صحن کی سنسانی کے برعکس اندر سے کافی لوگوں کے ہنسنے بولنے کی آواز آرہی تھی۔
    ان بزرگ نے دروازہ کھولا تو اندر ایکدم خاموشی سی چھا گئ۔ لمبے چوغے پہنے کئی مرد و زن زمین پردسترخوان بچھائے کھانا کھا رہے تھے۔خواتین گھر میں بھی سر پر اسکارف باندھے تھے دو بچے بھی تھے سب خاصی حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
    اس کو سمجھ نہ آیا سلام کہے یا آننیانگ۔
    اسلام وعلیکم علی بھائی۔ ہم آپکا انتظار کرکے ابھی کھانا کھانے بیٹھے تھے۔
    ایک مرد نے اٹھ کر علی کو گلے لگا کر شستہ انگریزی میں کہا۔
    علی نے بھی جوابا گرم جوشی سے جواب دیا
    میں معزرت خواہ ہوں تھوڑی دیر ہوگئ مجھے۔ یہ میری دوست ہے اریزہ مسلمان ہے تو میں نے اسے بھی دعوت دے دی طعام کی۔
    بہت اچھا کیا آئیے بیٹھیئے۔
    وہ شخص مہمان نواز تھا فورا انکو بیٹھنے کا اشارہ کرتے مڑ کر مقامی کسی زبان میں اپنی بیوی سے مخاطب ہوا وہ فورا سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
    یہ کونسی زبان ہے ہنگل تو نہیں لگ رہی۔
    وہ حیرت سے ان سب کو دیکھتی علی سےپوچھ رہی تھی۔
    یہ انڈونیشین خاندان ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے کوریا میں رہتے ہیں ہماری مسلم تنظیم کے توسط سے ان سے سیول میں ملاقات رہی تھی ۔ میں جب یہاں آتا ہوں ان سے ضرور ملنے آتا ہوں۔ بہت پرخلوص سادہ لوگ ہیں۔
    علی نے دھیرے دھیرے سے بول کر اسے بتایا
    اسکے لیئےاو رعلی کیلئے چاولوں کے نئے پیالے آگئے تھے۔سوپ کے ڈونگےانکی جانب بڑھائے جا رہے تھے تلا ہوا گوشت بھی موجود تھا۔ نان اور کباب بھی۔
    علی نے تعارف بھئ کروایا
    وہ بزرگ مجید ارباب تھے انکے دو بیٹے بہوئیں انکی زوجہ اور بڑے بیٹے کے دو بچے تھے۔ بالترتیب آٹھ اور بارہ سال کے۔ دوسرے کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی۔
    بزرگ خاتون بہت دلچسپی اور پیار سے اسکو کھانے کی اشیاء پیش کر رہی تھیں۔ انکی زبان تو سمجھ نہیں آرہی تھی مگر وہ انکے خلوص کی زبان سمجھ رہی تھی۔
    یہ تمہاری ہونیوالی بیوی ہے نا۔
    ارباب کے بیٹے نے انگریزئ میں خاصی بلند سرگوشی کی تھئ۔ علی نے سٹپٹا کر اسے دیکھا۔ وہ سن کر بھی انجان رہی۔
    علی نے فورا انکار کیا تھا مگر وہ یقین نہیں کر رہے تھے۔ اپنی زبان میں گھر والوں کو کچھ کہا تو سب مزید حیرت و اشتیاق سے اسے دیکھنے لگے۔
    ایک تو میں جہاں جاتی ہوں میرا سسرال بن جاتا خود ہی۔
    وہ تلملائی۔ بڑبڑائی۔ مگر اردو میں۔ اس فضول غلط فہمی کے برعکس کھانا واقعی لذیذ تھا۔ اتنے عرصے بعد کباب اور تلے ہوئے اسٹیک ملے تھے اس نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ مرغی کی کمی محسوس ہو رہی تھی سوپ سبزیوں کا تھا ۔ اس نے چاول اسٹیک اور سوپ سے ملا جلا کر کھا ہی لیئے۔
    علی بہت اچھا میزبان تھا۔جو بھئ کھا رہا تھا مستقل اسے بھئ کھانے کیلیئے پیش کر رہا تھا۔
    آخر میں بادام کاجو کی ہوائیوں کے ساتھ انڈونیشیائی کھیر سی پیش کی گئ۔ کافی مزے کی تھی مگر اس سے ذیادہ کھائی نہ جا سکی۔ اس نے ایک دو چمچ لے کر معزرت کرلی تو ان خاتون نے وہی پیالہ علی کی جانب بڑھا دیا۔ وہ ماتھے پر شکن لائے بنا ختم کرنے لگا۔ کورین عموما جوٹھے کے وہم سے دو ررہتے ہیں اتنا تو اسے اندازہ ہو ہی گیا تھا اتنے مہینوں میں۔ گوارا ہیون تو ایک دوسرے سے چھین کر بھی کھا لیتے تھے۔ اسکی علی سے ابھی اتنی بے تکلفی نہ تھی۔ کھانا کھا کر انہوں نے اجازت چاہی توان بزرگ کی زوجہ انہیں رکنے کا کہہ کر اندرچلی گئیں۔
    اس تکلف کی ضرورت نہیں ۔۔ علی نے کہا مگر
    ارباب مسکرا کر چپ رہے۔
    وہ خاتون اندر سے ایک نیا پیک شدہ لفافہ اٹھا کر لائیں اور اسکی جانب بڑھا دیا۔ وہ ہاتھ بڑھانے میں متامل تھی۔
    لے لو بیٹا۔ پیار سے تحفہ دے رہی ہیں۔
    ارباب انکل کی سفارش کے بعد اسکے پاس انکار کی وجہ نہ رہی۔
    وہ تھام کر شکریہ اداکرنے لگی۔ مگر وہ دونوں یوں متوجہ تھے جیسے ابھی مزید بھی اس سے توقع ہو کوئی انہیں۔ علی نے سمجھ کر اسکے کان میں سرگوشی کی۔
    یہ چاہتی ہیں تم یہ پہن کر دکھائو؟۔
    وہ اس فرمائش پر منہ کھول کر رہ گئ۔
    جانے کیا تھا کپڑا ہی تھا کوئی اس نے پیکنگ کھولی تو بڑے بڑے پھولوں والا ریشمی اسکارف تھا۔ اس نے اپر کے اوپر اسکو مفلر کی طرح گلے میں ڈال لیا۔ تو خاتون خود آگے بڑھیں ۔
    اسکارف لیکر اسکے چہرے کے گرد بڑے ماہرانہ انداز سے حجاب کی طرح لپیٹ دیا۔
    اسکا گورا چہرہ گلابی ہالے میں دمک اٹھا تھا ۔ انہوں نے پیار سے پیشانی چوم لی۔
    پھر دونوں کو نگاہوں میں بھر کر بولیں دونوں ہاتھوں اشارے کرکے اپنی زبان میں بولیں۔
    ماشااللہ بہت خوبصورت جوڑی ہے سدا خوش رہو۔
    علی کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی
    وہ جو علی کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی کہ شاید انکے جملے کا ترجمہ کرے تاکہ انکے اشارے سمجھ کر وہ جو سمجھی ہے انہیں علی شائد غلط فہمی قرار دے دے ۔ علی کی مسکراہٹ کا مطلب یہی تھا کہ وہ صحیح سمجھی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے سردی کے باوجود اسکارف گلی میں آتے ہی اتار کراپر کی جیب میں ڈال لیا تھا۔
    پہنے رہتیں اچھی لگ رہی تھیں۔
    علی نے ٹوکا تو اس نے ترچھی نگاہ اس پر ڈالی۔ پھر مضبوط لہجے میں بولی
    انکو غلط فہمی ہوئی تھی شائد میں حجاب نہیں کرتی۔
    کرنا چاہیئے۔ ہر مسلمان لڑکی کو حجاب کرنا چاہیئے نا۔
    علی کا انداز سادہ سا تھا مگر اسے برا لگا۔جانے کیوں بھڑک کر بولی۔
    ہر مسلمان لڑکی کو جو کرنا چاہیئے وہ مسلمان لڑکوں کو خوب پتہ ہوتا ہے۔ حالانکہ قبر میں سوال ان سے لڑکیوں کے نہیں انکے اپنے بارے میں ہوں گے۔
    علئ نے بالکل برا نہیں مانا۔ بلکہ سبھائو سے اپنے اسی نرم سے انداز میں بولا
    میں اور مسلمان لڑکوں کے بارے میں تو نہیں جانتا مگر میں اسلام کے بارے میں جو اور جتنا ہو سکے جان لینا چاہتا ہوں۔ اور میری اطلاع کے مطابق پردہ عورت پر واجب ہے۔ تم ویسے تو اچھی مسلمان ہوں نجس پاک کا بھی پتہ ہے نماز بھی پڑھتی ہو سچ پوچھو تم جس طرح سور والی بات پر پریشان ہوئیں میرے لیئے کافی حیرت کی بات تھی میں متاثر ہوا تم سے۔
    مجھے نہیں لگتا تھا تم اتنی پکی مسلمان ہوگئ۔۔
    پکی مسلمان مطلب؟
    اس نے پیشانی پر بل ڈالتے ہوئے اسے گھورا۔
    ہر مسلمان ہی جہاں تک ہوتا ہے اپنی بساط بھر اسلامی طریقے سے زندگی گزارتا ہے۔ میں ہمیشہ سے پنج وقتہ نمازی رہی ہوں روزے رکھتی ہوں کبھئ حرام نہیں کھایا ، وہ بولتے ہوئے اٹکی ( غلطئ سے کھایا ہے اگر کھایا بھی تو)
    وہ لحظہ بھر اٹکی تھی علی نے وہیں سے اسکی بات اچک لی۔
    ہاں یہی تو میرے لیئے حیرانگئ کی بات ہے۔ تمہیں دیکھ کر مجھے لگتا نہیں تھا کہ تم مسلمان ہوگی مگر تم تو پکی والی مسلمان ہو مجھے حیرت بھری خوشی ہے مگر مجھے حیرت یہ بھئ ہے جسے اسلامی عقائد کی اتنی معلومات ہے جو عملی مسلمان ہے وہ پردہ سے اتنا چڑتی ہے۔
    چڑنے کی کیا بات ہے۔ اریزہ کو غصہ آرہا تھا۔
    یہ کیا بات ہوئی الزام دھر دیا کہ پردے سے چڑتی ہوں۔
    میں کوئی چڑتی وڑتی نہیں ہوں مگر میں نہیں کرتی پردہ بس اس میں اور کوئی بات نہیں کہ مجھے پردے سے کوئی مسلئہ ہی ہے۔
    اسکا لہجہ تیز ہو گیا تھا۔علی کو اسکی ناگواری محسوس ہوگئ تھی
    معزرت اگر میری کوئی بات بری لگی ہو۔ تم چڑتی نہیں ہو تو اسکارف کیوں اتار دیا فورا؟
    وہ جانے کیوں بال کی کھال اتار رہا تھا۔
    کیونکہ میں پردہ نہیں کرتی بھئ۔
    وہ جھنجھلا گئ۔ انکی بحث میں راستہ جلدی کٹ گیا تھا۔ آخری گلی تھی چند قدم کی چڑھائی اور گوارا کے گھر کا گیٹ سامنے تھا انکے۔
    علی چلتے چلتے رک کر اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔
    ہاں ٹھیک ہے تم پردہ نہیں کرتی۔ تم جب میرے ساتھ جا رہی تھیں تب تم نے اپر کا ہڈی سر پر جمالیا تھا شائد تمہیں سردی لگ رہی تھی لیکن واپسی پر جب انہوں نے ریشمی اسکارف باندھ دیا تمہارے سر پر تو اسے تم نے فورا اتار دیا جبکہ اگر چاہتیں تو اسے سر پر ٹکا رہنے دیتیں کیونکہ موسم ابھی بھی سرد ہے۔
    علئ کا انداز سادہ سا ہی تھا مگر وہ جو جتا رہا تھا وہ ایکدم سنآٹے میں آگئ۔ اس نے ایسا ہی کیا تھا۔ کانوں پر سرد ہوا ابھی بھی لگ رہی تھی مگر اس نے ہڈی بھی اوپر نہیں کیا تھا۔تو کیا علی صحیح کہہ رہا تھا۔ علی نے غور سے اسکی شکل دیکھی پھر گہری سانس لیکر بولا۔
    میں داڑھی نہ رکھوں تو بھئ مسلمان ہی رہوں گا نا؟ کیا ضرورئ ہے میں داڑھی رکھوں یہ سوال کیا تھا میں نے عالم دین سے۔ انہوں نے مجھے جانتی ہو کیا کہا تھا؟
    ہم کس طرح سے غیر مسلموں کے رنگ میں رنگتے جاتے ہیں ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ پہلے انکے جیسا حلیہ اپناتے ہیں سوچتے ہیں کیا ہوا جو داڑھی نہیں رکھی کوئی بات نہیں۔ داڑھی کے بناہم انکے ساتھ انکے جیسے لگنے لگتے ہیں۔ پھر جلد ہی انکی طرح سوچنے لگتے ہیں کیا ہوا جو آج نماز چھوٹ گئ ، کیا ہوا جو تھوڑی سئ پی لی کون سا مدہوش ہوگیا ہوں۔۔یہاں تک کےاپنی شناخت سے شرمندہ ہونے لگتے ہیں۔۔۔
    وہ رکا۔ اسے اریزہ کا چہرہ دیکھ کر اندازہ نہیں ہوا تھا کہ وہ کس موڈ میں ہے۔ اسکا انداز لاشعوری طور پر ناصحانہ ہوگیا تھا سو بات کو یہیں ختم کرنے کی نیت سے بس اتنا مزید بولا۔
    کوئی ہمیں دیکھنے سے مسلمان نہ سمجھے تو ہم مسلمان کیسے ہوئے بھلا؟
    بہت شکریہ اس اسلامی لیکچر کا آپ یقینا اب سیدھا جنت میں جائیں گے
    وہ مسکرا کر کہتا ایک طرف ہوا تو اریزہ چبا چبا کر بولی۔ علئ کے چہرے پر حیرت اتر آئی وہ البتہ غصے کے مارے خاصی بد لحاظ ہورہی تھی۔ پیر پٹختی اسکے پاس سے تیز تیز قدم اٹھاتی بڑھ گئ۔ گھر سامنے ہی تھا وہ اسکے پیچھے آنے کا انتظار کیئے بنا دروازہ کھولتی اندر گھس گئ۔ ریستوران میں پارٹی جاری تھی اسے گوارا نے دیکھ کر پکارا وہ تن فن کرتی کمرے میں آئی اپر کی جیب سے اسکارف نکال کر پوری قوت سے زمین پر پھینکا۔
    خود کلین شیوڈ ہیں مجھے بتا رہے کہ حجاب کرنا چاہیئے منافق۔۔ ہوںہہ۔
    اسکا غصہ ابھی بھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔سو موبائل بیڈ پر اچھال کر باتھ روم میں گھس گئ۔
    موبائل پر کال آنے لگی تھی۔ہیون کالنگ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح گوارا نے آکر اسے ہلایا۔
    اف کتنا سوتئ ہو تم۔ ہم رات بھر مستی کرکے سوجو پی کر ٹن ہو کر بھی صبح وقت پر اٹھ گئے اور تم جب ہم آئے تھے تب سےگہری نیند سو رہی ہو۔ پھر بھئ اٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں لگتا تمہارا۔
    گوارا بولتی ہوئی اس کے بیڈ پر چڑھ کر بیٹھ گئ۔
    کیا وقت ہو رہا ہے۔ وہ کسلمندی سے آنکھیں مسلتی اٹھ بیٹھی۔
    گیارہ بج رہے ہیں۔
    گوارا نے جتایا۔وہ خود بھی حیران رہ گئ۔
    ہیں؟ اتنی دیر سوتی رہی میں۔
    اسے حیرت ہو رہی تھی۔
    ہاں اور تمہارے ساتھ ناشتہ کرنے کے چکر میں میں ابھی تک بھوکی بیٹھی ہوں۔
    اس نے منہ بنایا۔
    بس میں دو منٹ میں آتئ ہوں فریش ہوکر۔
    وہ فورا وقت ضائع کیئے بنا اٹھ گئ۔
    تازہ دم ہو کر وہ باہر آئی تو گوارا اور ہوپ صحن میں بچھے تخت پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھیں۔
    میرا انتظار نہیں کیا۔ اس نے برا مانا۔
    تم نے کونسا وہ کچھ کھانا تھا جو ہم کھا رہی ہیں۔ ہوپ نے جتایا۔ اسکے لائے ہوئے بریڈ جیم مکھن بھی میز پر ایک جانب سجے تھے۔
    بات تو صحیح تھی۔ بھوک زوروں پر تھی سو وہ بنا مزید نخرے کیئے انکے برابر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔
    یہ رولڈ آملیٹ کھا لو اس میں صرف سبزیاں ہیں۔
    گوارا نے آملیٹ اسکی جانب بڑھایا۔ وہ توس پر مکھن لگا کر نگل رہی تھئ جب گوارا نے آملیٹ اسکی جانب بڑھایا۔
    گوما وویو۔ وہ شکر گزار ہوئی۔
    ہم آج پھر مندر جا رہے ہیں ۔ ہوپ کو ان پجاری بابا سے کچھ پوچھنا ہے۔تم بھی چلوگی نا؟
    گوارا نے اگلا پروگرام بتایا تو وہ سر ہلا گئ۔ ان دونوں کے بغیر اس نے اکیلے یہاں رہ کر کرنا بھی کیا تھا۔ ناشتہ ختم کرکے گوارا نے جلدی جلدی کا شور مچا دیا تھا۔
    گلابئ پھولدار لانگ ڈریس پہن کر گوارا کی نظر زمین پر پڑے اسکارف پر پڑی تو فورا پوچھنے لگی
    یہ کس کا ہے یہ میرے لباس کے ساتھ جچ رہا ہے۔

    اریزہ کا ہی ہوگا۔ ہوپ کا اندازہ تھا۔ اس نے اریزہ کی جانب دیکھا اس نے کندھے اچکا دیے
    لے لو۔
    وہ خود جینز اور لانگ کوٹ پہن کر تیار کھڑی تھی۔ گوارا نے بے حد شوق سے اسکارف گلے میں بو بنا کر ڈالا۔
    کیسی لگ رہی ہوں۔؟ وہ پوچھ رہی تھی۔ داد طلب نظروں سے دیکھتی۔ ہوپ اور اریزہ دونوں نےہاتھوں دل بنا کر سراہا۔ وہ کھلکھلا دی۔
    اسکارف اس کی گوری رنگت پر واقعی کھل رہا تھا۔
    چلو چلیں۔
    ہوپ نے حسب عادت جلدی جلدی کرکےان کو گاڑی تک پہنچا دیا تھا۔
    آج موسم ابر آلود تھا۔ دھوپ نکلتی تو بس پانچ سات منٹ کیلئے پھر بادل آجاتے۔ مندر تک پہنچتے بادل برسنے لگے تھے۔
    وہ تینوں بھاگ کر مندر کے اندر داخل ہو گئیں۔
    واپسی تک بارش رک بھی جائے گی فکر نہ کرو۔
    اریزہ کو برستی بارش رک کردیکھتے دیکھ کر ہوپ نے تسلی دی تھی۔ وہ سر ہلا کر انکے ہمراہ اندر چلی آئی۔ وہی والے پجاری جی ایک کونے میں آسن باندھے بیٹھے جاپ کررہے تھے ابھئ انکی کوئی مذہبی رسومات باقی تھیں وہ ایک طرف کونے میں بیٹھ کر انکے فارغ ہونے کا انتظا رکرنے لگیں۔
    آج وہ تینوں ہی خوب ذہنی طور پر تیار ہو کر آئی تھیں۔ ہوپ کو نئی امید چاہیئے تھی گوارا کو شغل لگانا تھا جبکہ اریزہ آج دل میں ٹھان کر آئی تھی کہ جان کر ہی رہے گی آخر اس دن ان کی مبہم باتوں کا مطلب تھا کیا۔
    اسے لگا تھا اسکی بات سن کر جواب دے رہے ہیں مگر کیسے۔ وہ دل کا حال جان گئے تھے کیا؟ جب گوارا پوچھ رہی تھی اسکے متعلق تب اس نے دل میں سوچا تھا ان سب باتوں کو جاننے کا کیا فائدہ ہیون کا پوچھنا چاہیئے سچ کہہ رہا کہ مجھ سے محبت کرتا یا فلرٹ کر رہا ہے۔ اور انہوں نے آگے سے کچھ اور ہی کہہ ڈالا تھا۔ آج وہ پوچھے گی صاف صاف۔ انکو آج بتانا ہی پڑے گا۔۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ختم شد۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Home » URDU WEB NOVEL
  • Phurteeli Heroin Urdu Novel Episode 8 finale

    رومانٹک ناول پھرتیلی ہیروئن
    اچھا تو آپ ہیں لیلٰی ۔۔ جن کی کوئی تعریف نہیں کرتا ۔۔۔ ؟ (کیونکہ سب صرف جہنمیلا کی تعریف کرتے ہیں ) ہُدہدائی نے گرم چائے کی ٹھنڈی چُسکی لیتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
    ہاہاہاہا۔اُف کتنے مذاقی ہیں آپ !! جی ہاں میں ہی ہوں لیلیٰ ۔۔ لیلیٰ نے اِٹھلاتے ہوئے کہا ۔۔۔
    جی ۔۔مگروہ تو میں ہوں مگر “آپ “سے کم ۔۔
    ہاہاہاہاہا ۔۔۔
    دونوں کے مُشترکہ قہقہے کو سُن کے جہنمیلا کچن سے دوڑی دوڑی باہر آئی اور جس رفتار سے آئی اسُی رفتار سے واپس دوڑ گئی کیونکہ اسے رات کے کھانے کی تیاری جو کرنی تھی ۔۔۔
    رات کے کھانے کے بعد چھوٹے سے گاؤں کی لمبی سی سڑک پہ ، سڑک کنارے لگی اسٹریٹ لائٹ کے اندھیرے میں مُسکراتا ہدہدائی اور شرماتی لیلیٰ ایک مُکمل جوڑی لگ رہے تھے ۔۔ ہدہدائی نٹ کھٹ سی لیلٰی کو دیکھ جہنمیلا کو جیسے بھول ہی گیا ۔۔۔ تُم اتنے بڑے ٹھرکی نکلو گے ہُدہدائی ؟ مجھے پتا ہوتا تو زمین سے ہاتھ نکال مریخ پہ تمہاری پکڑ کے مروڑ دیتی ، اور تمہاری لاش کو مریخ سے دھکا دیکر بحیرہ عرب کی گہرائیوں میں مُنہ کھولے بیٹھی یہودی مچھلیوں کی خوراک بنادیتی ۔۔۔ لیکن میں تمہیں ایسے نہیں جانے دے سکتی تم میری اندھیری راتوں میں ٹرین کے آگے منہ میں لالٹین دبائے دوڑتے کُتے کی طرح ہو جس نے میری پٹڑیوں کو روشن کر رکھا ہے ، تم میرے گلستاں کے وہ امرود ہو جسے کیڑا لگ گیا اور میرے اندھے اعتبار نے مجھے اس کیڑے کی خبر بھی اس وقت دی جب کسی نے امرود کیڑے سمیت تقریباً آدھا کھالیا ہے جہنمیلا نے لیلیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
    میری ایک شرط ہے جہنمیلا نے بیچ سڑک پہ دونوں کو روک کے غیض وغضب سے بھرپورلہجے میں کہا ، اس غصے میں اسکے بندر کی تشریف سے لال گال مزید لال ہوکے سرخ گلابوں کو شرمانے لگے تھے آنکھوں سے نکلتے شراروں کو جمع کرکے گاؤں کے الہڑ نوجوان اس پہ تکّے سینکنے لگے تھےاور مُنہ سے اڑتے کف کو بچے جھولیوں میں جمع کرنے لگے تاکہ گھروں کو جاکے اس کف کو اپنی ماؤں کو دیں اور اس کف سے کپڑوں میں کلف لگا سکیں ۔۔
    میری جہنمیلا تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے میں تو بس لیلیٰ کو ٹہلانے نکلا تھا تمہارے مزیدار کھانوں کو بھرپور تناول کرنے کے بعد محترمہ کو کھٹی ڈکاریں آرہی تھیں میں نے سوچا ایسے انکا کھانا بھی ہضم ہوجائیگا اور میں تمہارے اس دو لاکھ کلومیٹر کے رقبے پہ بنے چھوٹے سے گاؤں کی سیر بھی کرلونگا
    ۔۔ اچھا ۔۔ تو یہ بات ہے جہنمیلا نے فٹافٹ پگڈنڈی کے کنارے اُگی جڑی بوٹیاں توڑیں اور دونوں ہتھیلیوں کے بیچ رگڑ کے چُورن تیار کرکے لیلیٰ کو چٹایا( وہ کسی کو تکلیف میں جو نہیں دیکھ سکتی تھی)
    ٹھیک ہی ہدہدائی ۔۔ مجھے یقین ہے تم پہ لیکن تمہیں میری ایک پہیلی کا جواب دینا ہوگا اگر تم نے جواب نہیں دیا تو تمہارے شادی کارڈ پہ دلہن کی جگہ میرا نام ہوگا اور اگر جواب دیدیا تو میرے شادی کارڈ پہ دولہے کی جگہ تمہارا نام ہوگا ۔۔۔ بولو منظور ہے ؟
    ارے مُشتری ۔۔۔ شادی کے بارے تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ چھمو خالہ نے موقع دیکھ اپنی بہن سے بات شروع کی
    اوئی چھمو ۔۔۔ باؤلی ہوئی ہو کیا ، رو پیٹ کے تو بیوہ ہوئی ہوں اللّہ رکھے میرے ٹونی کو ایسی جگہ کاٹا تھا تمہارے بہنوئی کے جانبر نا ہوسکے ہاں لیکن پتا نہیں کیوں پھر “ٹونی “کے چودہ انجیکشن لگوانے پڑے تھے ۔۔۔ ویسے میں کیوں اب اس عمرمیں شادی کرنے لگی؟
    اے میری بھینسوں سے بھی موٹی عقل کی بہن ۔۔۔ میں تمہاری نہیں ہُدہدائی کی شادی کی بات کررہی ہوں ۔۔۔
    اچھااااااا،۔۔۔۔ میں سمجھی تم میری شادی کا پوچھ رہی ہو ، ہدہدائی کی شادی کا تو مجھے بڑا ارمان ہے مگر کوئی “میرے “جوڑ کی ملے بھی تو ۔۔۔!!!
    آپا ۔۔۔ جوڑ تو لڑکے لڑکی کا دیکھتے ہیں
    نا بہن نا ۔۔۔۔لڑکا لڑکی تو ایک بند کمرے اور ایک چارپائی کے سہارے بھی زندگی گذارسکتے ہیں سارا رولا تو ساس بہو کا ہے مجھے تو اپنے لئے کم سِن بالی عمر کی ،کم کھانے والی ، اونچا سُننے والی ،دھیما دھیما بولنے والی، دھیمے دھیمے چلنے والی اور نزاکت تو ایسی ہو کے مانو پھونک سے اُڑ جائے جیسی خصوصیات والی بہو چاہئیے ۔۔۔۔
    مُشتری آپا ، پھر تو تُم بہو کی تلاش کسی اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں کرو۔۔ ایسی مریضہ تمہیں کسی بستر پہ وینٹیلیٹر کے انتظار میں پڑی مل ہی جائیگی۔۔ چھمو خالہ جل کے بولیں ۔۔۔
    ہاں اگر تمہیں ایک سولہ سالہ الہڑ دوشیزہ جو ، ڈاکٹر ، نائی، درزی ، انجنیئر ، باورچی، ہونے کے ساتھ ساتھ بہت پُھرتیلی ، بہادر ، ہمدرد ، معصوم ، شُوخ چنچل سیدھی اور بھولی بہو چاہئیے تو میری “ جہنمیلا “ حاضر ہے ۔۔ جانتی ہو آپا وہ بیج بو کے فصل تیار کرکے اکیلے ہی کاٹنے سے لیکر اور ٹرکوں پہ لوڈ کروا کے منڈی بھجوانے تک سارے کام خود کرتی ہے ۔۔۔ اپنی بھینسوں کے پڑوسیوں کی بھینسوں سے افئیر چلواکر انکی سیٹنگ کرانے سے لیکر بھینسوں کے بچوں کی ڈیلیوری تک کے کام خود انجام دے لیتی ہے ، یہ گھر ، بہن بھائی ، محلہ ، پڑوسی اور گاؤں اُس نے تن تنہا ہی سنبھالا ہوا ہے
    ایک دن تو اس نے پڑوس والی خالہ کی بہو کا ایمرجنسی آپریشن بھی کردیا تھا وہ تو بیچاری بعد میں “بھوک” لگنے سے مَر گئی تھی۔۔۔ میری جہنمیلا تو جس گھر جائیگی اپنے اخلاق اور معصومیت سے گھر کو جنت بنا دیگی ۔۔۔۔ چھمو خالہ نے ایک ہی سانس میں جہنمیلا کو کھول کے رکھ دیا اور مُشتری خالہ دانتوں مین انگلیاں دبائے سب سُنتی رہیں ۔۔ اسکے حسن سے وہ پہلے ہی مرعوب تھیں ۔۔
    ٹھیک ہے چھمو ۔۔۔ اسقدر سگھڑ بہو کے ساتھ میرا گُذارا تو مشکل ہے کیونکہ مجھے تو صبح دیر سے اٹھنے والی ، رات دیر تک جاگنے والی، اسٹار پلس کے ڈرامے دیکھتے ہوئے شُڑپ شڑپ کی آواز نکال کے چائے پینے والی، سارا دن بازار میں پھرنے اور واپسی پہ پیزااور سوفٹ ڈرنک لیکر گھر آنے والی یعنی
    “ اپنے جیسی” بہوویں پسند ہیں ۔۔۔ لیکن تم کہتی ہو تو میں ہدہدائی سے بات کرونگی۔۔۔
    مُشتری خالہ کا جواب سُن کے چھیمو خالہ مطمئن ہوکر اٹھلاتی ہوئی اپنے میاں جُمن میاں کے کمرے کی طرف چل دیں آخر کو جہنمیلا کو شادی کی خوشی میں ایک عدد کُھر چن یعنی “ بہن یا بھائی “ نامی تحفہ بھی تو گفٹ کرنا تھا کیا سُہانا سما ہوگا جب جُمن جہنمیلا کی شادی میں جہنمیلا کے شیر خوار بھائی کو گود میں اٹھائے غبارے والے کو ڈھونڈتے پھرینگے ۔۔۔
    چھیمو خالہ تو سوچ کے ہی شرما گئیں اور “موقع” دیکھتے ہی جمن چچا کے ساتھ شادی کی تیاریوں میں “مصروف “ہوگئیں 😂😂😂۔۔۔۔
    Written by : Jiya Ali

    kesi lagi apko Phurteeli Heroin ki yeh qist? Rate us below

    Rating
  • Unforgettable Moments: A Highlight of the Heroine’s Journey in Phurteeli Heroin Episode 7

    پھرتیلی ہیروئن سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ
    تحریر : جیا علی
    یہ لیں تولیہ اور صابن ،اور فریش ہوجائیں اتنی دُور مریخ سے پیدل آئے ہیں پھر کالے پُل سے مشتری خالہ کو کلیکٹ کیا ہے تھک گئے ہونگے جتنی دیر آپ نہائیں ،میں گڑھا” کھود “کے تندُور تیار کرتی ہوں اور اس میں گرم گرم تندوری نان لگا کے دسترخوان لگاتی ہوں ۔۔۔ جہنمیلا نے ایک ادائے دلرُبائی سے ہُدہدائی سکندر کو حکم جاری کیا اور وہ جہنمیلا کو تصور میں بسائے نہانے گھس گیا،جہاں جہنمیلا نے اسکے لئے پہلے سے ہی جے ڈاٹ کا سُوٹ خود سلائی کرکےمولانا طارق جمیل کا “برانڈڈ ناڑا” ڈال کے تیار رکھا ہوا تھا ہُدہدائی رگڑ رگڑ نہا کے اندر سے نیا نکور نکل آیا تھا نِک سِک سا تیار جب کھانے کی چٹائی پہ پنہچا تو اتنے ڈھیر لوازمات دیکھ حیران ہی تو رہ گیا گرم گرم تندور سے نکلے ٹھنڈے ٹھنڈے نان اور سوکھے دودھ کے گیلے حلوے کو دیکھ کے اسکی آنکھیں جہنمیلا کی اٹُوٹ محبت کے زیرِ اثر نَم ہوگئیں ۔۔۔۔
    ارے جہنمیلا ۔۔۔ یہ کیا؟ تُم نے اناج ، مٹن اور فشری کا تو کوئی آئٹم رکھا ہی نہیں میری لیلیٰ تو جب تک گائے ، بکرا ، دُنبہ ، مُرغی ، مچھلی سبزی دالیں، نا بنالے اسے تو دعوت مکُمل ہی نہیں لگتی ۔۔۔
    جہنمیلا سن کے مسکرائی اور پلنگ کے نیچے ہاتھ ڈال کے تلی ہوئے مچھلی، بُھنی ہوئی بکرے کی ران اور ماش کی دال کے دہی بڑے نکال کے سامنے رکھ دیتی ہے ( یہ بھی اس نے رات میں ہی تیار کرکے چُھپا دئیے تھے) جہنمیلا کی پُھرتیاں اور سلیقہ دیکھ لیلیٰ کی ماں کا رنگ پہلے سُرخ ، پھر لال اور پھر اُودا ہوجاتا ہے جبکہ مُشتری خالہ جہنمیلا کے حُسن کے زیرِ اثر سُن اور ہُدہدائی سکندر بھوکوں کی طرح کھانے پہ ٹوٹ پڑے جبکہ جہنمیلا اپنے بہن بھائیوں اور ماں باپ کو پلیٹیں سجا کر دینے کے بعد خود ایک پلیٹ میں دس دانے چاول اور ایک کھیرے کا ٹکڑا لیکر کترنے لگتی ہے وہ( ڈائٹ کونشس ) بھی تھی ۔۔۔
    بھئی واہ کیا مزیدار کھانا ہے ۔۔۔ جہنمیلا دل تو چاہتا ہے تمہارے ہاتھ چُوم لوں ہدہدائی نے نظروں سے پیغام بھیجتا ہے اور جہنمیلا بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنا ہاتھ ہدہدائی کے لبوں پہ رکھ دیتی ہے ۔۔۔ نا کریں یہ بیغیرتیاں میرے آدھے سَرکے تاج ابھی آپ میرے پورے سرتاج نہیں بنے ، ، ابھی ہم نا محرم ہیں ۔۔ اور ہدہدائی اسکی اس ادائے دلرُبائی پہ مزید فریفتنہ ہوجاتا ہے اتنے میں دروازے پہ لگا بلب روشن ہوا اور جہنمیلا کا بھائی دروازے پہ جاکے چوچوچوچوچو کرکے اطلاعی گھنٹی بجانے لگا۔۔۔
    ٹہریں جُمن چچا ۔۔۔ میں دیکھتا ہوں کون ہے ۔۔ ہدہدائی کھانا چھوڑ دروازے کھولنے بڑھا۔۔
    دروازے کے اُس پار لیلیٰ اپنی تمام تر حشر سامانیوں اور ہاتھوں میں اسکے اپنے ہاتھوں سے “خریدے” خانزادہ باورچی کے ہاتھوں تیار کردہ لوازمات کا تھال لئے، ہدہدائی پہ بجلیاں گرانے کے لئے تیار کھڑی تھی ، اگلے ہی لمحے دروازہ کھلتا ہے اور لیلٰی ہدہدائی کے اونچے لمبے قد ، سلکی گھنگریالے سلیقے سے بنے بال، لمبی دراز پلکیں ،باہر کو ابلتی بڑی بڑی آنکھیں ، مسکراتے لبوں کے بیچ سےڈنٹونک سے رگڑےصاف چمکدار دانت ، چوڑی چھاتی پہ سجتتا جے ڈاٹ کا سوٹ اور قمیض کے نیچے” لٹکتے ایم ٹی جے کے برانڈڈ ناڑے “کو دیکھ کر تقریباًبے ہوش ہونے والی ہی ہوتی ہے کہ ہدہدائی نے لیلیٰ کو اپنی بانہوں میں اور تھال کو ہاتھوں میں تھام لیا اور پیچھے کھڑی جہنمیلا کے اندر چھن سے کُچھ ٹوٹ گیا۔۔۔
    اری جہنمیلا ۔۔ یہ تمہارے چلنے سے کھڑ کھڑ کی آوازیں کیوں آرہی ہیں ؟
    کیونکہ ٹوٹے ہوئے شخص کی یہی نشانی ہوتی ہے اماں ، جب وہ چلتا ہے تو کھڑ کھڑ کی آوازیں آنے لگتی ہیں ۔۔۔اس نے روتے ہوئے ، ماں کے گلے لگ کے ساون بھادوں ہی تو بہادئیے ۔۔۔ اماں ، میں خیالوں میں بھی ہُدہدائی کو کسی کے ساتھ نہیں بانٹ سکتی ۔۔
    اماں ۔۔جانتی ہوں میری بچی ۔۔ شروع شروع میں یہی جذبات ہوتے ہیں کوئی محبوب کی طرف دیکھے بھی تو لگتا ہے جیسے کوئی بھوکی بلی کے مُنہ سے چِھیچڑا چھین رہا ہے ، میرے دل میں بھی تمہارے باپ کے لئے شادی سے پہلے یہی جذبات تھےلیکن اب دل چاہتا ہے کہ ٹین ڈبے والے کے دیکر تمہارے باپ کے بدلے “دو نئے پتیلے “لے لوں ، تو بھی وقت گُذرنے کے ساتھ سیٹ ہوجائیگی میری بچی ۔۔ فکر نا کر میں مُشتری سے تم دونوں کی شادی کی بات کرتی ہوں۔۔
    جہنمیلا خیالوں ہی خیالوں میں اپنے شہزادے کو ناراضگی سر پُر پیغام روانہ کرتی ہے “میرے ہرجائی ہُدہُدائی “ کاش میں وہ فلمی سین دیکھنے سے پہلے ایسے ہی مرجاتی جیسے تمہارے ابا تمہاری اماں کے پالتو کُتے کے کاٹنے سے مرے تھے تم کیا جانو اس دل پہ کیسی چُھریاں چلیں جب تُم لیلیٰ کو گرنے سے بچانے کے لئے آم کے اچار میں ڈلے کیری سے چپکے لسوڑے کے طرح لیلیٰ سے چپک گئے تھے ، کاش میں یہ منظر دیکھنے سے پہلے اپنی آنکھوں میں وہ ایلفی ڈال لیتی جو میں نے کوفتوں کو جوڑنے کے لئے کوفتوں میں ڈالی تھی ۔۔۔کاش ۔۔۔۔

    تحریر جیا علی ۔۔

    Kesi Lagi apko Phurteeli Heroin ki yeh qist? Rate us below

    Rating
    Home » URDU WEB NOVEL
  • Unforgettable Moments: A Highlight of the Heroine’s Journey in Phurteeli Heroin Episode 6

    رومانٹک ناول پھرتیلی ہیروئن

    مریخی شہزادے کی آنکھوں کے سامنے وہ دروازہ تھا جس کے پیچھے اُسکے خوابوں کی شہزادی بستی تھی اُس نے تھوک لگاکے جوتے چمکائے اور چمکتے جوتوں میں دیکھ کر اپنے بال سنوارنے کی کوشش کی تو “ مُشتری خالہ “ نے ایک ہتڑ اسکی کمر پہ جڑا ۔۔ ارے “باولے “جب موبائل ہے تو جوتوں میں شکل کیوں دیکھ رہا ہے ؟۔۔۔ اوففففوہ۔ جہنمیلا تم نے تو مجھے دیوانہ ہی بنادیا ہے خیالوں میں جہنمیلا سے مخاطب مریخی شہزادے نے جیب سے موبائل نکالا اسے بھی تھوک لگا کے صاف کیا اسکی اسکرین پہ لگی شیشے والے وال پیپر کو دیکھ کے اسُے یاد آیا کہ وہ مریخ سے جو ہئیر بُرش لایا ہے اسُ میں تو” شیشہ” لگا ہوا ہے اسُ نے اپنے سر پہ ایک شرارتی چپت لگائی اور “برش کے شیشے “میں دیکھ کے بال بنانے لگا۔۔۔ اتنی دیر میں مشتری خالہ نے دروازے کے کنارے اوپر کو لگی گھنٹی دبائی اور گھر کے اندر کا بلب روشن ہوگیا ، جہنمیلا کا چھوٹا بھائی سمجھ گیا کہ باہر کوئی گھنٹی بجا رہا ہے تو اُس نے دروازے کے قریب کھڑے ہوکر چوں چوں چوں چوں چوں کی گھنٹی نما آوازیں نکالنی شروع کردیں ، اور پورے گھر کو اطلاع ہوگئی کہ دروازے پہ کوئی آیا ہے ( جہنمیلا کو ڈائریکٹ گھنٹی بج جانے والی گھنٹیوں سے ہمیشہ ہی الجھن رہی تھی یہ بلب جلواکے چوں چوں ولاآئیڈیا بھی اُسی کا تھا ) جہنمیلا ۔۔۔ جلدی دروازہ کھول دے آنے والا تو لگتا ہے گھنٹی پہ ہاتھ رکھ کے بھول گیا ہے آخر میرا بچہ کب تک چوچوچوچوچو کرتا رہیگا چھمّو خالہ چلّائیں ۔۔۔

    اور جہنمیلا پھولتی سانسوں اور پسلیاں توڑتی دھڑکنوں کو انہیلر کی ایک چُسکی لگا کے سنبھالتی دروازہ کھول دیتی ہے ۔۔۔

    سامنے دیکھ اسکی اوپر کی سانس نیچے اور نیچے کی سانس اوپر رہ جاتی ہے ، آخر کو “ جس کا تھا انتظار وہ شاہکارآگیا” والی مثال جو پوری ہوگئی تھی

    جہنمیلا کا مریخی کزن یعنی” ہُدہُدائی سکندر “اپنی بھرپور مردانہ وجاہت کے ساتھ ، اپنے گھنے گھنگریالےکاے براؤن بالوں کو تھُوک سے سلیقے سے جما ئے ،ماتھے پہ بالوں کا چاند بنائے، آنکھوں میں بھر بھر سُرمہ ڈالے( شیدے کسوڑے کو مات دیتا )پان کی لالی سے رنگے لال ہونٹ ، مُنہ میں داہنی طرف گُٹکا اور بائیں طرف “ کیپسٹن “ کے سگریٹ سے دھواں اُڑاتا، گُوچی کا سُوٹ اور ہاتھ میں نائیکی کا بیگ انگلیوں میں زمرد اور ہیرے کی انگوٹھیاں پہنےاور بغل میں ماں کو ساتھ لئے کھڑا تھا جہنمیلا اور وہ ایکدوسرے کی آنکھوں میں دنیا و مافیہا سے بے خبر کھو گئےاور جنموں سے پیاسی آنکھوں کو دید کے مشروب سے سیراب کرنے لگے ، جہنمیلا کو اسکی سرگوشیاں اورہُدہدائی سکندر کو اس کے خاموش پیغام سُنائی دینے لگے،ہوش تو دونوں کو جب آیا جب “ لیلیٰ “ کی بوڑھی ماں پیچھے سے آکے کالی کھانسی کی کھوں کھوں کرنے لگیں اور اس کھانسی کی چھینٹیں جہنمیلا اور ہُدہدائی کو حقیقی دنیا میں واپس لے آئیں ارے خالہ،

    آپ یہاں ؟ ہدہدائی سکندر نے سوال داغا

    ہاں بیٹا۔تمہاری ماں مُشتری میری بچپن کی سہیلی ہے میں نے سوچا چل کے اُسے سرپرائز دوں لیلیٰ کی ماں نے جہنمیلا کو تنقیدی نظروں سے گھورتے جواب دیا ۔۔۔ آئیے خالہ اند آئیے مگر یہ کیا ؟ مُشتری خالہ کہاں گئیں ؟

    مشتری خالہ کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا تو خالہ کو زمین پہ محوِ استراحت پایا وہ دراصل جہنمیلا کے حُسن کی شعاعوں کی تاب نا لاسکیں اور بے ہوش ہوگئیں بالآخر ہدہدائی سکندر نے اپنی ماں کو کاندھے پہ اٹھایا اور جہنمیلا کے آنچل کا دامن پکڑے ، کسی اندھے کی طرح جہنمیلا کی سِیدھ میں چلتا چارپائی تک آیا اماں کو چارپائی پہ منتقل کیا اماں کی بے ہوشی ہدہدائی کے لئے ایک سُنہری موقع تھا وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے جہنمیلا کاتفصیلی جائزہ لینے لگا اتنی دیر میں پورا گھر چارپائی کے گرد جمع ہوگیا اور سب ایک دوسرے سے ملنے لگے لیکن ہُدہدائی کیا کرتا اُسکے دیدے تھے کہ جہنمیلا کے سادگی بھرے رُوپ کا دیوانہ وار طواف کررہے تھے ۔۔۔ اور وہ نظروں ہی نظروں میں جہنمیلا کو برقی پیغام دینے لگا ۔۔۔جہنمیلا” خدا کا واسطہ ہے مجھ پہ اپنی سادگی اور پھرتیوں کی بجلیاں نا گراؤ ورنہ تمہارا دیوانہ بھی اپنی ماں کی طرح تمہارے حسن کی تاب نا لاتے ہوئے بیہوش ہوجائیگا “ اور جہنمیلا اسکےبرقی پیغام کے جواب میں ایک مرتبہ پھر خالی میسج بھیج دیتی ہے کیونکہ عاشق کی دیوانگی کے اظہار کے شکرئیے کے لئے لفظوں کی کھُرچن کی ضرورت جو نہیں ہوتی

    Kesi lagi Apko Phurteeli heroin ki yeh qist? Rate us now

    Rating
    Home » URDU WEB NOVEL
  • Unforgettable Moments: A Highlight of the Heroine’s Journey inPhurteeli Heroin Episode 5

    پھرتیلی ہیروئن “

    جہنمیلا نے “جھنڈے “کا “ڈنڈا “ نکال کر اس میں ابا کی دھوتی پھنسائی ( ابا کو نئی دھوتی سی کر پہنا دی تھی) اور پورے گھر کے جالے پلک جھپکتے صاف کردئیے جالوں میں بسی “مکڑیوں “کو اکٹھا کیا اور انھیں چھت پہ بنے اسٹور میں نئے جالے لگا کر “آباد “کیا ( رحمدل جو تھی) پورے گھر کی صفائی نپٹا کر ، صوفہ کور ، پردے ، بیڈ شیٹس فلور کشن کور سب تبدیل کردئیے میلے کپڑے دھو کر سکھانے ڈالے اور “دس منٹ “کے اندر ان سب کاموں سے فارغ ہوکر پہاڑ کی طرف دوڑ لگادی۔۔

    پہاڑ سے اُس نے اپنے ہاتھوں سے لگائے پودینہ کے پودے سے ہرا دھنیا توڑا، ٹماٹر کے پودے سے مٹر جمع کئے اور آلو کی فصل کھود کے مرچیں نکالیں، پودوں کو “آبِ حیا “دیا

    اب اس کے پاس دوڑنے کا وقت نہیں تھا مریخی کزن کسی بھی وقت پنہچ سکتا تھا اسلئیے” لُڑھکتی “ ہوئی زمین کی طرف آئی نیچے پنہچ کے مسکراتی ہوئی اٹھی کپڑے جھاڑے اور دوسرے پہاڑ کی طرف دوڑ لگادی جہاں جہنمیلا نے اپنے باپ سے چُھپ کے جانور پالے ہوئے تھے اسکی لاڈلی مرغی جہنمیلا کو چھری کے ساتھ دیکھ کے مسکراتی ہوئی اسکی طرف آئی اور اسکے ہاتھوں ذبح ہونے کے لئے ٹانگیں اٹھا کے لیٹ گئی

    “جہنمیلا” کیا تم میری آخری خواہش نہیں پوچھو گی ؟ مرغی نے کہا ۔۔

    کیوں نہیں میری جان سے پیاری ، ؟؟

    جہنمیلا ، میں چاہتی ہوں کہ مجھے ذبح کرکے میری رانیں بھون کے اس مریخی شہزادے کو پیش کی جائیں جس کی آمد کی اطلاع تمہارے خاندانی کُتے نے جنگل کی آگ کی طرح پھیلائی ہے اور وہ میری ٹانگیں چبا چبا کے مجھے تباہ و برباد کردے ، لیکن ہوں “ بریسٹ پیس “ پہ شہزادے کی نظر نا پڑے اسُ پہ تمہارے “ تاڑو باپ کا ہی “حق “ہے اور میرے اندر پلنے والےمیرے محبوب کی نشانی ، میرے “انڈے “کو احتیاط سے نکال کر کسی اور مرغی کی “تشریف” کے نیچے رکھ کر سینچا جائے اور جب اسُ انڈے سے میرا چوزہ نکلے تو میں اس چوزے کے آنکھوں سے میں تمہارا اور تمہارے شہزادے کا دیدار کروں ۔۔۔😭😭

    کیوں نہیں میری پیاری ۔۔۔ جہنمیلا نے ہچکیوں اور آنسوؤں کے بیچ ہامی بھری اور آنکھیں بند کر کے مرغی کی گردن پہ چھری چلادی ۔۔۔( عیدِ قرباں پہ قربانیاں کرکر کے ماہر قصائی بھی بن چکی تھی)

    گوشت جمع کرکے ایک مرتبہ پھر لڑھکتی ہوئی نیچے پنہچی ( دوڑنے کا ٹائم جو نہیں تھا) کچن میں داخل ہوکر اس نے گھڑی کی طرف دیکھااسے ان سب کاموں کو سمیٹتے دو گھنٹے ہوگئے تھے اور ابھی عید کی نماز میں پورا “ آدھا” گھنٹہ باقی تھا ۔۔۔

    وہ فوراً طبیلے کی طرف دوڑی اور شیر خُرمہ بنانے کے لئے بھینس کا دودھ نکالا بدودھ نکال کے بھینس کے چوڑے سینے پہ تنگ “ چولی” پہنائی (لنگوٹ وہ پہلے ہی پہنا چکی تھی)لیکن ان پُر مشقت دو گھنٹوں اور تھکا دینے والے معمولی کاموں کے دوران بھی وہ اپنے محبوب کی یادوں سے غافل نا ہوئی ۔۔۔ دھیمے دھیمے مسکراتی وہ اپنے محبوب کا برقی پیغام “ جہنمیلا ، میں تمہاری یاد میں مریخ کے کنارے خلا میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھ جاتا ہوں اور میری نظریں دور کہیں زمین پہ تمہاری تلاش میں سرگرداں رہتی ہیں ، میں اوپر سے پان کی پچکاری سے زمیں پہ تمہارے گھر کی چھت پہ تمہارے لہراتے آنچل کا نشانہ لیتا ہوں اور تمہیں اپنی محبت کے لال رنگ سے رنگ دیتا ہوں تو تم مجھے اپنی پانچ انگلیاں ہتھیلی سمیت دکھاتی ، شرماتی نیچے کی طرف کیوں دوڑ جاتی ہو؟ کے بارے میں سوچتی ہوئی لال گُلال ہوتی ، سل بٹّا نکالنے لگتی ہے آخر کو محبوب کی پسند کے پکوان جو تیار کرنے تھے۔۔۔۔

    Kesi lagi apko phurteeli heroin ki yeh qist? Rate us below

    Rating

  • The Impactful Journey of the Heroine in Urdu Novel Phurteeli Heroin Episode 4

    پھرتیلی ہیروئن
    جہنمیلا نے جھٹ پٹ قورمے کا پلاؤ تیار کیا ساتھ شامی کباب کا مصالحہ چولہے پہ رکھا دوسرے چولہے پہ دودھ چڑھا کے قورمہ تیار کیا اور فوراً ہی کوفتوں کے لئے بوٹیوں کو پیس کے قیمہ کیا اور پھر قیمہ جوڑ کے کوفتے نامی گول بوٹیاں بنائیں (جنھیں اسکے کزن نے کھا کے پھر قیمہ کر کے نکال دینا تھا)کوفتے بھی چڑھادئیےگئے جتنی دیر میں شیرخرمہ ٹھنڈا ہو کوفتے پلاؤ ،کباب کا مصالحہ تیار تھا اس نے سل کے ایک حصے پہ پودینے کی چٹنی، املی کی چٹنی ، ہرے دھنیے کی چٹنی اور رائتے کا مصالحہ پیسا اور دوسرے حصے پہ اسُی بٹّے کی مدد سے کبابوں کا مصالحہ پیسا ہرا مصالحہ (جواسُکی پھرتیلی ماں نے کاٹنے سے منع کردیا )تو وہ بھی خود کاٹا اور کباب بغیر ڈھکن والی ٹِرک کے محض ہتھیلی پہ گول کرکے بنائے اور فرائی کرکے ہاٹ پاٹ میں رکھ دئیے ٹائم دیکھا تو عید کی نماز میں ابھی بھی پندرہ منٹ باقی تھے اس نے جلدی سے مٹر ایسے سلیقے سے چھیلے کہ سارے مٹر کے دانے گول گول نکلے ۔۔۔ ان دانوں سے آلو مٹر کی سبزی تیار کی اور باقی بچے مٹر کے پیکٹ بنا کے فریز کئے چکن تکہ کڑاہی اور چکن جنجر وہ کاموں کے بیچ رات ہی بنا کے رکھ چکی تھی۔۔ اور اس بیچ اپنی چہیتی مُرغی کے انڈے کو اپنی ماں کے مرغے کی مرغی کی تشریف کے نیچے رکھنا نہیں بھولی تھی( وصیت جو پوری کرنی تھی) اوفففففففوووواس افراتفری خوشی و دکھ میں وہ بھول ہی گئی کہ اسُ کے کزن کو سوکھے دودھ کا حلوہ بہت پسند ہے اب وہ پھر طبیلے بھاگی ، بھینس کے آگے اپنا دوپٹہ ڈال دیا ، اس کے ہاتھ پاؤں جوڑ منت سماجت کرکے اسُ سے “سوکھا دودھ “نکلوایا بھینس کی بے وقت مدد اور اسکی “ایکسٹرا ایفرٹ “پہ اسکا شکریہ ادا کیا اور جلدی سے سوکھے دودھ کا حلوہ تیار کرکے اوپر بادام پستے کی ہوائیاں چھڑک کے چاندی کے ورق ( جو اس نے اپنی ماں کے جہیز کے چاندی کے سیٹ سے بنائے تھے ) سجادئیے۔۔۔ اوہ خُدا۔۔۔
    عید کی نماز میں ابھی پانچ منٹ باقی تھے اور وہ بھُلکڑ ویلکم “ ڈرنک “ تیار کرنا تو بھول ہی گئی ۔۔۔
    وہ برف لینے جلدی سے دوڑی دوڑی پڑوس میں پنہچی اور جُمن خالہ کو آوازیں دینے لگی ، خالہ جو بیچاری گھُٹنوں کے درد سے تڑپ رہی تھیں جہنمیلا کو دیکھ کر رونے لگیں اور جہنمیلا پلک جھپکتے میں سمجھ گئی کہ ان کی میسنی بہو نے پھر خالہ کے دماغ یعنی گھٹنوں کی مالش نہیں کی اس نے فٹا فٹ انجیر کے درخت سے زیتون توڑے ، کولہو میں زیتون ڈال کے ، سانڈے کا تیل نکالا اور اس تیل سے خالہ کے گھٹنوں کی مالش کرکے ان سے جھولی بھر دعائیں سمیٹیں ، اور خالہ کی اجازت سے برف لیکر گھر لوٹی تو مسجدوں سے عید کی نماز کی اللّہ اکبر سنائی دینے لگی اس نے جلدی سے اپنے ہاتھوں سے اگائے امرود کے درخت سے سیب توڑ کے “لیمن سوڈا “ خوب ساری برف ڈال کے تیار کیا تاکہ ٹھنڈا پی کے اسکے محبوب کے معدے میں اور اسکے معدے کی ٹھنڈ سے جہنمیلا کے کلیجے میں ٹھنڈ ا ٹھنڈا کُول کُول ہوجائے، اس نے خدا کے حضور سجدہ شُکر ادا کیا کہ اسکے پاس تیار ہونے کے لئے ابھی بھی بہت وقت باقی تھا۔۔۔


    تحریر : جیا علی

    Kesi lagi apko Phurteeli Heroin ki yeh qist? Rate us below

    Rating
    Home » URDU WEB NOVEL
  • Discover the Inspiring Traits of the Heroine in Urdu Novel Phurteeli Heroin Episode 3

    رومانٹک ناول “پھرتیلی ہیروئن پارٹ ۳”

    کُتے نے “رفع حاجت “سے فارغ ہوکہ ٹانگ “نیچی “اور منہ “اوپر”کر کے دیکھا تو دیکھتا رہ گیا ،کُتے کی زبان مزید باہر نکل آئی اور (وہ مزید “کُتا “لگنے لگا )وہ کھمبا نہیں قدرت کا ایک شاہکار تھا چھ فٹ سے نکلتا دراز قد ، گھنگریالے سنہری بال جو پسینے کے باعث ماتھے پہ سلیقے سے چپکے تھے، انڈے سے بڑی آنکھیں اور دھوپ میں جھلسا ہوا سنہرا گلابی رنگ ، پیروں میں جمی چُو کے چمکتے جوتے، جن پہ جہنمیلا کے ہاتھوں کی تیار کردہ پالش چمک رہی تھی ، جہنمیلا کا ڈیزائن کردہ گُوچی کا ٹریک سوٹ اور کاندھے پہ لٹکتا جہنمیلا ایڈیڈاس کا تیار کردہ ایڈیڈاس بیگ ( پارٹ ٹائم برانڈ ڈیزائنر بھی تھی) ، وہ خود سے لاپرواہ و بیگانہ شخص ،

    دراصل کتے نے “کھمبا “سمجھ کے جس پہ “مُوتا “تھاوہ تو مریخی شہزادہ تھاکتے نے شہزادے کو دیکھ کے “بھاؤ بھاؤ “ اور شہزادے نے کُتے کو دیکھ کے “موتی چھُو “کیا اور کتا ٹیاؤں ٹیاؤں کرتا گاؤں میں انجانے شہزادے کی آمد کا اعلان کرنے روانہ ہوگیا اور شہزادہ کھوجتی نظروں سے اپنی “ جہنمیلا” کے گھر کی تلاش میں یہاں وہاں نظریں دوڑانے لگا ، عید کی بھرپور گہما گہمی میں بھی لوگ رک رک شہزادے کو ٹکٹکی باندھے اور انگلیاں کلائی سمیت منہ میں دبائے دیکھ رہے تھے آخر کو مریخی کزن نے ہمت کرکے ایک پریشان خاتون سے پوچھا “ ماں جی، میری ماں کی سگی بہن اور جہنمیلا کی ماں کے شوہر یعنی میرے “خالو “جُمّن چچا کا گھر بتا سکتی ہیں ؟ اماں جو مریخی شہزادے کے حسن کی شوخی سے مرعوب ہوکے اپنی “ لیلیٰ” کے لئے اسُے داماد منتخب کرچکی تھیں، کے “ماں “کہنے پہ اور مچل گئیں ۔۔۔ ہاں بیٹا کیوں نہیں ، وہ جو گاؤں کا سب سے چمکتا گھر ہے جہاں گاؤں کا سب سے اونچا امرود کا درخت ، جس پہ لال ہرے سیب لٹکے ہیں “ وہ ہی جہنمیلا کا گھر ہے ۔۔ جانتے ہو اس گھر کی رنگائی پُتائی بھلے جہنمیلا نے کی لیکن وہ رنگ میری “ لیلی “ نے جنگل کے پچھواڑے بھٹی لگا کے تیار کئے ہیں مریخی شہزادے نے ایک لاکھ روپے نقد ، دو سنے کے کنگن اور ایک سو بیس گز کا مریخی پلاٹ ماں جی کو بطور شکریہ پیش کیا اور شرماتا ،مسکراتا جہنمیلا کے رنگین سپنے اپنی آنکھوں میں سجائے ، اس کے “خالی مگر رومانس سے بھرپور میسجز “، “شرارت سے پُر مہندی لگی ٹنڈ “اور “بنا کچھ کئے، شرم و حیا سے لال رُخسار “اپنی نظروں میں بسائے اپنے متوقع سسرال کی جانب روانہ ہوگیا اسکے نتھنوں میں دور سے ہی جہنمیلا کے ہاتھوں لگے امرود کے درخت پہ لٹکے سیبوں کی خوشبو گُھسنے لگی اور وہ ان سیبوں کا مینگو شیک بناکر پینے کے لئے مچلتا ، بھِنکتا تیز تیز دوڑنے لگا۔۔۔۔

    جاری ہے ۔۔۔

    Kesi lagi apko Phurteeli Heroin ki yeh qist? Rate us below

    Rating

    Home » URDU WEB NOVEL

    #پھرتیلی_ہیروئن_ناول

  • Delve into the Life and Choices of the Heroine in Urdu Novel Phurteeli Heroin Episode 2

    رومانٹک ناول “ پھرتیلی ہیروئن پارٹ ۲”
    اسی پاکیزہ محبت کی “تیز دھوپ “جیسی “برستی بارشوں” میں “سُوکھتے “کب عید آگئی پتا ہی نہیں چلا ، ہوش تو جہنمیلا کو جب آیا جب اسکی خالی کی سگی بہن اور اسکے باپ کی بیوی یعنی اسکی “ماں “نے اسُے بتایا کہ آج چاند رات ہے اور مریخ پہ اسکے کزن کا “ مریخ پہ درخت لگاؤ مُلک بچاؤ پراجیکٹ “ مکمل ہوگیا ہے اوراس نے وہاں سے روانگی “پکڑ “لی اور وہ کل صبح بعد نماز عید ہمارے ساتھ ہوگا جہنمیلا پہلےمُسکرائی پھر شرمائی، اور پھر گھبرائی ،جہنمیلا کے مخروطی انگلیوں والے ہاتھ حرکت میں آئے اور وہ کل عید کی تیاریوں میں جُتنے کے لئے روانہ ہوئی
    اسے نا صرف اپنا گھر ، بلکہ اپنا آپ اور اپنا گاؤں بھی اپنے مریخی کزن اور عید کی خوشی میں سجانا تھا۔۔۔ اس نے سب سے پہلے “چاند “(جو اسکے کزن نے تحفے میں بھیجا تھا)کو اپنی مانگ سے نکال کے “آسمان” پہ ٹانگا تاکہ سب کو “چاند رات “کی خبر ہو سکے اسکے بعد گاؤں کے ہر گھر میں جاکر چاند مبارک کا سلام پیش کیا،
    سلامتی پنہچانے کے بعد اپنے گھر والوں کے کپڑے رنگائی کرنے بیٹھ گئی ، (کپڑے رنگے گیں تو سئیے گی نا )پچھلی اگست کی طرح جنگل سے پتے لا کے مہندی تیار کی ابا کی ٹنڈ چمکائی، اماں کو مہندی لگا کے پلنگ پہ بٹھایا ، بھائیوں کی حجامت کی ،پائپ لگا کے پورا گھر بہن بھائیوں اور بھینسوں سمیت “دھویا” ابا کی بھینسوں🐂🐂 سے دودھ نکال کے انکا دہی جمایا اور لنگوٹ سی کے بھینسوں کو پہنائے شرمیلی جو تھی منگیتر کے سامنے ننگی بھینسیں کیسے آنے دیتی ؟ ☺️☺️بہنوں کی ٹوٹی ہوئی سینڈلوں کی ٹُوٹی ہوئی ہیلز کو اپنی فیوی کول جیسی کارآمد تُھوک سے جوڑا پھر گرم موسم کی مناسبت سے اپنا مخملی پنک کلرکا گہرا لال سوٹ ، ہلکے سرمئی رنگے کے گہرے ہرے دوپٹے کے ساتھ جس پہ ہلکے گہرے نیلے اودے پھول چھپے تھے استری کرکے واش روم میں لٹکایا ، اس دوران وہ اپنے کزن کی حسین یادوں اور مدہوش سرگوشیوں میں کھوئی رہی جو میسج کی صورت وقتاً فوقتاً اسکا کزن کرتا تھا “میری جہنمیلا، “کتنا حسین سما ہوگا جب “!!! بس یہیں تک سوچ کی اسکے رخسار شرم وحیا کی لالی سے ہرےہوجاتے ہیں کہ اسے اچانک آگے کا میسج” جب میں تمہارا محرمِ زار بن جاؤنگا اور تمیں میت خانے لے جانے اور کفنانے دفنانے کا حق صرف مجھے حاصل ہوگا “ یاد آجاتا ہے وہ مزید کھلکھلاتی ، اٹھلاتی ، کچن کی طرف صبح کی تیاریوں کے لئے چل دیتی ہے ۔۔۔
    جاری ہے

    Kesi lagi apko Phurteeli Heroin ki yeh qist ? Rate us below

    Rating
    Home » URDU WEB NOVEL