Tag: best urdu novels

  • Salam Korea Episode 18

    Salam Korea
    by Vaiza Zaidi

    سلام کوریا قسط 18

    New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea.
Bookmark : urduz.com
kuch acha perho
Salam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy
Episode 
urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books
    Salam Korea Episode 18

    کم خاندان کی یادگاری آخری آرام گاہ ۔۔۔
    کسی عجائب گھر کی طرح انکی آخری سات پشتوں کے ہر فرد کی آخری آرام گاہ جس میں بڑے سے لان میں درجنوں خوش رنگ پھولوں کے کنج تھے تو ایک قطار میں درخت بھئ آب و تاب سے کھڑے تھے۔ ہر درخت کے ساتھ زمین پر ایک تختی لگی تھی۔ جس پر کسی مرحوم یا مرحومہ کیلئے توصیفی کلمات پیدائش اور وفات کی تاریخیں درج تھیں۔۔۔اونچے اونچے ان درختوں کو دیکھ کر بخوبی اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ مرحوم مرحومہ کو دنیا سے گئے بھی ایک طویل عرصہ ہوچکا ہے۔ کچھ بالکل نئے پودے بھی تھے
    کچھ کے نام کے پودے مرجھا گئے تھے انکی جگہ تازہ پودے لگائے گئے تھے۔اس بڑے سے لان کے دائیں جانب ہال نما عمارت تھی جس کے اندرچہار اطراف دیوار گیر شوکیس بنے ہوئے تھے ۔ہر شوکیس میں ایک چھوٹے چوکور خانے میں مرحوم یا مرحومہ کی باقیات کورین روائتی مرتبان میں سجی تھی ساتھ اہل خانہ کی پسند کے مطابق انکی تصویر اکیلی یا اہل خانہ کے ہمراہ فریم میں سجی تھی۔ ملاقاتی پھولوں کا گلدستہ اسی خانے میں سجا دیتے۔۔ وہ کتنی ہی دیر سے وہ اس شوکیس کے سامنے کھڑا بے بسی سے اپنی ماں کی تصویر کو دیکھ رہا تھا۔ باقی شوکیسوں کے برعکس اسکی ماں کی تصویر سجی تھی۔اسکے برابر والے خانے میں اسکے باپ کی باقیات اور انکی تصویر تھی۔ دونوں خانوں میں اس کا خاندان احوال چارٹ میں بھی ذکر نہ تھا
    پہلے اسکے باپ کے خانے میں اسکی بچپن کی اپنے باپ کے ہمراہ بیس بال کیپ پہنے خوبصورت تصویر سجی تھی۔وہ اسکی ماں نے ہٹائی تھی۔ اور اب اسکی ماں کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اسے کاٹ کے الگ کردیا گیا تھا۔
    اس آرام گاہ کی دیکھ بھال پر معمور ملازم اسے دیکھ کر سیدھا اسکے پاس چلا آیا تھا۔ ادب سے جھک کر کورنش بجا لایا۔ جوابا وہ بمشکل سر کے اشارے سے جواب دے سکا۔
    آپ کیلئے تازہ پھولوں کا گلدستہ منگوا دوں۔
    اسے خالی ہاتھ کھڑا دیکھ کر اس نے فورا اپنی خدمات پیش کیں۔
    پھول ۔۔۔ اس نے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھا۔ پھر خیال آیا۔
    پھول ہاں کم از کم وہ پھول تو لا سکتا تھا۔ مگر وہ یونہی یہاں خالی ہاتھ جھلاتا چلا آیا۔
    اس نے خانے کے شیشے پر دھیرے سے ہاتھ رکھ کر جیسے اپنی ماں کا لمس محسوس کرنا چاہا۔
    یہ مرتبان چھوٹا سا نہیں ہے؟
    اسکے جواب کا منتظر ملازم اسکے سوال پر چونکا
    دے؟؟۔ وہ سمجھ نہ سکا اسکا مطلب۔
    میری ماں کا قد بہت اچھا تھا۔ پانچ فٹ سات انچ۔مجھے ۔۔
    اسکے گلے میں آنسوئوں کا گولہ سا اٹکا۔ آواز بھرا سا گئ۔
    مجھے اچنبھا ہے کہ انکی باقیات اتنے سے مرتبان میں کیسے سمٹ پائیں۔
    جملہ مکمل کرتے اس نے اسی شیشے پر سر ٹکا دیاتھا۔ اسکے بے آواز آنسو بہہ نکلے تھے۔
    سچ پوچھیں تو یہ مرتبان آدھے خالی ہی ہیں۔سیمیٹری سے انسان بس ذرا سی راکھ دھول بن جاتے ہیں آگ اتنی ہی بے رحم ہے۔
    ملازم یہی سمجھا تھا کہ اسے وہم ہورہا ہے کہ اسکی والدہ کی باقیات ضائع ہوئی ہیں وغیرہ سو انداز سادہ سا صفائی دینے والا ہی تھا۔ مگر اسکے جملے پر علی خود پر ضبط کھو بیٹھا۔ قدموں سے جیسے جان سی نکلتی گئ۔ وہ وہیں گھٹنوں کے بل گر سا گیا تھا۔
    اس آگ سے آپکو بچانا چاہتا تھا یہ آگ آپکو لپیٹ لے گئ آہماں۔۔
    وہ مٹھیاں بھینچے بلک بلک کر رو نے لگا۔ ملازم بے چارگی سے اسے دیکھتا رہا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایڈون اسے اور اریزہ کو اس مشہور ہندوستانی ملبوسات کی دکان پر لایا تھا۔ رنگوں کی بہتات جھلمل ملبوسات دونوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ انگرکھے، لہنگا چولی سے لیکر راجستھانی فراک ساڑھیاں۔ سب کچھ بے حد خوبصورت تھا۔مگر سارا جوش آدھے گھنٹے میں ختم ہوچکا تھا۔
    اریزہ کو راجستھانی فراک پسند آئی پشواز کی جامنی نیلے امتزاج کی خوب گھیر والی فراک جس پر سنہرا کام تھا دیدہ زیب اور سادہ ساتھ سنہرا ہی چوڑی دار ۔۔ مگر گلا آگے پیچھے سے خوب گہرا۔ اس گہرے ترین گلے پر پیچھے بس ایک سنہری ڈوری تھی۔
    سیلز گرل نے اسکی دلچسپی بھانپ کر اس جوڑے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے شروع کردیئے۔
    آپکا رنگ اتنا صاف ہے یہ تو خوب کھلے گا آپ پر۔اس کی آستین دیکھئے اس پر کام دیکھیں۔ آپکے سڈول گورے بازو اس میں دمکیں گے۔
    چلو چھٹی ہوئی۔ آستین مکمل سی تھرو تھی وہ بد دل سی ہوئی۔
    آپ پہن کر دیکھ لیں۔
    اس نے اکسایا۔ وہ ابھی بھی شش و پنج میں تھی۔
    سنتھیا نے نارنجئ پٹے ہوئے سلور کام والی مختصر سی سلک کی قیمض اور غرارہ پسند کیا تھا۔ اسی وقت چینجنگ روم میں جا کر پہن بھی آئی۔
    اسکے نازک وجود پر یہ لباس خوب بیٹھا تھا۔ وہ قد آدم آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھ رہی تھی۔
    اریزہ فراک اپنے ساتھ لگا کر دیکھ رہی تھی جب ایڈون کی آواز پر چونک کر مڑی۔۔۔
    سنتھیا یہ آف وائٹ کام والا لو نا یہ ذیادہ پیارا ہے۔ یہ اورنج تو اوور سا لگ رہا ہے۔
    اسکا انداز سادہ سا تھا۔ وہ بھی دل ہی دل میں متفق ہوئی۔ واقعی یہ لباس اتنا اچھا نا تھا۔ دور سے ایسے لگ رہا تھا جیسے آگ سی لگی ہو۔ شائد کچھ لوگوں کو ایسا رنگ ایسے کام کے ساتھ پسند آتا ہوگا جبھی تو ڈیزائنر نے یہ ڈئزائن کیا مگروہ کچھ لوگ اس وقت دکان میں موجود نہ تھے کم ازکم۔ وہ جل کر اریزہ کے پاس چلی آئی۔
    اریزہ بتائو یہ کیسا لگ رہا ہے مجھ پر ۔
    وہ یقینا تعریف سننا چاہ رہی تھی۔
    اریزہ نے سرتاپا اسے دیکھا پھر متاثر ہوجانے والے انداز میں بولی۔
    بہت سلم بہت اسمارٹ لگ رہی ہو یار۔ روزے رکھ رکھ کر میں اتنی پتلی نہ ہوسکی جتنئ تم لگ رہی ہو بالکل ماڈلز کیے جیسی ۔۔
    اس نے دل سے بے ساختہ تعریف کی تھی مگر سنتھیا پر اوس سی آن گری۔ بس دبلی پتلی؟ وہ تو تھی ہی مگر یہ لباس کیا اس پر جچ رہا بس شکل نہ دیکھو تب؟ اس نے بلا ارادہ اپنےملبوس پرہاتھ پھیرا۔ اپنے سانولے ہاتھوں کو اس گہرے نارنجی رنگ پر مزید سنولاتا دیکھا تو جھٹ سے ریلنگ پر سے ایک ہنگر اٹھاتی اندر بدلنے چلی گئ۔ اریزہ نے ابھی وہی ہینگر لگایا تھا اب پلٹ کر دوسرے لباس دیکھنے لگی۔
    گلابی اور پیچ کے امتزاج کا ڈبل بریس کرتا پاجامہ ساتھ سنہری کام والا دوپٹہ تھا۔ ڈھیلا ڈھالا۔ سادا سا۔ بس گلے سے دامن تک سنہرئ کام والی پٹی آرہی تھی۔ اس نے قیمت پوچھی تو نہایت انکساری سے سیلز گرل نے جواب دیا۔
    ساڑھے تین لاکھ وون ۔۔
    ساڑھ۔۔ اسکا منہ کھلا رہ گیا۔
    سونے کی تاروں کا کام کیا ہوا ہے کیا ؟
    اس نے طنز نہیں کیا تھا حقیقتا یہی سمجھی تھی۔ ڈیزائنر ڈریس ہے کچھ بعید نہیں۔
    آنیا۔
    وہ بوکھلائی۔
    یہ بھی عجیب معاملہ۔تھا۔ ہندوستانی دکان کورین باجی نوکر تھیں اور انہیں انگریزی خوب اچھی آتی تھی۔
    آپ چاہیں تو قسطوں میں ادائیگئ کر لیں۔
    اس نے اسے مشکل میں دیکھا تو مدد کو بولی۔۔
    آندے۔ ا س نے گہری سانس لی۔
    اسی وقت موبائل میں ایکسچینج ریٹ دیکھا۔ گو کورین وون لاکھوں میں ہوں تو پاکستانئ عدد میں آدھے بن جاتے مگر ۔۔۔۔
    اس نے موبائل کائونٹر پر رکھا اور والٹ میں جھانکنے لگی۔
    کیا میں اس فضول خرچی کی متحمل ہو سکتی ہوں۔
    وہ شش و پنج میں مبتلا تھی۔۔
    کیا ہوا ؟ پیسے کم پڑ گئے کیا؟
    ایڈون اسکے پاس آکھڑا ہوا ۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میچنگ سینڈلز ائیر رنگز انہوں نے خوب دل کھول کر شاپنگ کی تھئ۔ اسے سب شاپنگ تھما کر ٹیکسی میں بٹھا کر ایڈون اور سنتھیا خود آگے کہیں چلے گئے۔۔ سنتھیا کا موڈ تھوڑا سا آف تھا پھولا ہوا تھا۔ وہ سر جھٹکتی ٹیکسی میں بیٹھ گئ ۔ ٹیکسی نے اسے ہاسٹل کے باہر اتارا تھا۔تین اسکے تین ہی سنتھیا کے بڑے بڑے شاپنگ بیگز ۔۔ وہ سنبھالتے سنبھالتے ہلکان سی ہونے لگی۔ راہداری سے ہاسٹل کی سیڑھیوں تک درجنوں لڑکیاں گزریں مجال ہے کسی نے اپنی خدمات پیش کی ہوں۔ بے مروت لڑکیاں۔ وہ دانت پیستی سیڑھیاں چڑھتی اوپر آئی سانس وانس پھول چکی تھی۔ شاپنگ کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی وسط میں ڈھیر کی پھر تھک کر سنتھیا کے بیڈ پر گر سی گئ۔
    اف توبہ۔ ایسے بے مروت لوگ نہ دیکھے۔ ابھی پاکستان ہوتا تو۔۔۔۔
    وہ چڑ کر اٹھ بیٹھی۔ سنتھیا کے شاپنگ بیگز اسکی الماری میں رکھ کر اپنے بیگز لیکر وہ اوپر چلی آئی۔
    سب بیگز نکال کر بیڈ پر پھیلائے۔
    بلاگ پر اسٹیٹس لگانا تھا سو ابھئ بس شاپنگ بیگز کی تصویریں چاہیئے تھیں۔ اس نے ایک انداز سے سب کو لگاکر بیگ سے موبائل نکالنے کیلئے بیگ کھولا۔ ہاتھ ڈالا۔ چیزیں نکلتی گئیں۔والٹ، گھڑی ، پین ، ہینڈزفری، شاپنگ کی رسید ائیررنگز، لاکٹ نہیں نکلنا تھا تو موبائل نہیں نکلا۔
    اسکے ہاتھوں کے طوطے کبوتر سب اڑ گئے۔
    آخری بار موبائل اس نے نکالا تھا کورین وون کی پاکستانی روپے میں قیمت کا اندازہ کرنے اور۔ کائونٹر پر رکھا۔ پھر اٹھایا۔۔ نہیں ۔۔
    اسکی روح فنا ہوئی۔ موبائل بس رکھا ہی تھا اٹھایا نہیں۔۔
    وہیں کائونٹر پر چھوڑ دیا۔ وہ صدمے کی حالت میں دل تھامتی وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھتی چلی گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیلز گرل نے اسکی شکل دیکھتے ہی فون نکال کے سامنے رکھ دیا تھا۔
    گومو وویو۔ فون لیکر وہ کوریائی انداز میں رکوع میں ہی چلی گئ تھی۔ دو تین بار جھک جھک کے شکریہ ادا کیا۔
    وہ اسکے انداز پر مسکرا دی۔
    پرس سنبھالتی موبائل کو حقیقتا سینے سے لگائے وہ دکان سے باہر نکلی تھی۔ اتنے دنوں میں پہلی بار اکیلی خود پر بھروسہ کرکے نکلی تھی۔ ٹیکسی سے آئی تھی۔ اوراب پھر ٹیکسی لینی تھی۔ اب چونکہ موبائل ہاتھ میں تھا سو آرام سے ٹیکسی منگوا سکتی تھی۔ خراماں خراماں دکان سے نکل کر حسب عادت ادھر ادھر دیکھے بنا سڑک کی جانب رخ کیا۔ سر ایک کھمبے سے بندے سے ٹکرایا تھا موبائل ہاتھ سے چھوٹا گول گول چکر کھا کر لمحہ بھر کو چمکا پھر اندھیرے میں ڈوب گیا۔ بھونچکا سی اس افتاد پر اپنے موبائل کو روہانسی انداز میں دیکھتی رہ گئ۔
    ٹکرانے والا بیان کہتا نکل لیا تھا۔
    اتنئ منحوسیت؟؟؟
    وہ دلگرفتہ سی موبائل اٹھا کر دیکھنے لگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے لگا تھا ہم عید کے دن بھی یونیورسٹی جا رہے ہوں گے۔
    کانوں میں میچنگ ائیر رنگ ڈالتے اریزہ نے ہنس کر کہا تھا۔
    ہاں شکر ہے ہفتے کی عید پڑی ہے۔ پاکستان میں کب ہے عید؟
    سنتھیا بالوں کو ہیئر ڈرائیر سے سوکھا رہی تھی۔
    شائد کل اور پشاور والوں نے تو آج منا لی ہوگی۔ جانے کیا مزا آتا ہے ہر سال یہ تفریق پیدا کرکے۔
    وہ جھلائی ۔۔سنتھیا مسکرا دی۔
    یہاں بھی تو دیکھو عید منا رہے ہیں بنا کسی جھگڑے کے۔
    وہ مزید کہتی آئینے کے سامنے سے ہٹ گئ۔ اب سنتھیا کے تیار ہونے کی باری تھی۔۔۔
    سرمئی فراک اسکا کھلا گہرا گلا ۔۔۔ سنتھیا کے لانبے بال احتیاط سے ایک طرف کرکے آگے کیئے پھر اسکے گلے کے پیچھے ڈوریاں کس کر گرہ لگادی۔۔
    شکریہ۔ سنتھیا نے سر جھٹک کر کہتے بال پیچھے کر لیئے۔۔کمر تک لانبے سنتھیا کے گھنے سیاہ بال اسکی پشت کو ڈھانک گئے۔
    یار میرے بال اسٹریٹ کر دو پیچھے سے۔
    نا اسکے سنتھیا جیسے گھنے سلکی بال تھے نا اسکے جتنے لمبے کہ بنا ان کے ساتھ دو دو ہاتھ کیئے وہ تیار نہ ہو سکتی تھی۔۔۔ سومنت بھرے انداز میں بولی۔
    سنتھیا نے اپنا میک اپ ادھورا چھوڑا اور اسکے ہاتھ سے اسٹریٹنر لیکر بال اسٹریٹ کرنے لگی۔
    دو تین بار دوپٹہ الجھا تو دوپٹہ اتار کر رکھ دیا ایک طرف۔
    گو سامنے اریزہ ہی تھی اور اس وقت تو سر جھکائے بیٹھی موبائل میں مگن تھی پھر بھی اسے جھجک سی آئی۔
    یار یہ گلا کچھ ذیادہ گہرا ہے۔ تم ہی کھڑی ہو جائو میں اس سے ذیادہ نہیں جھک سکتی۔
    وہ جھکتے جھکتے رکی۔ پھر جھلا کر بولی
    اریزہ نے سر اٹھا کر اسکی جھلائی شکل دیکھی پھر ہنستی اٹھ کھڑی ہوئی۔
    یہ لو۔ یہ ڈریس لیتے لیتے میں نے اسی وجہ سے چھوڑا تھا۔
    اسکی بات پر سنتھیا کے ہاتھ جہاں تھے وہاں رک سے گئے۔
    کیا مطلب؟ وہ چونک سی گئ۔
    یہ ڈریس لینے لگی تھی میں مگرایک تو گلا اتنا گہرا ہے آگے پیچھے سے۔ اوپر سے آستینیں الگ سی تھرو۔جبھئ واپس رکھ دیا تھا آ۔۔
    اسٹریٹنر اسکی چندیا پر گرم گرم لگا توجملے کے آخرمیں چیخ سی پڑی۔
    اوہ۔ سوری ۔۔ سنتھیا نے سٹپٹا کر ہاتھ پیچھے کیا۔ اسکے سر کے بیچوں بیچ میں سے بالوں کی موٹی سی لٹ سے دھواں اٹھ رہا تھا۔
    ہاہ۔ سنتھیا کی بچی سر جلا دیا میرا۔
    وہ تڑپ کر اپنا سر سہلاتی وہیں بیٹھ گئ۔
    آئم سو سو سو ری۔ اس کو کچھ سمجھ نہ آیا۔ اریزہ کی آنکھوں میں ضبط کے باوجود آنسو آگئے تھے۔ سنتھئا کو کچھ سمجھ نہ آیا تو گلاس میں پانی لاکر سر پر چھڑکنے لگی۔
    آئم سو سوری۔اریزہ بالکل غلطی سے ہوا سو سوری۔
    وہ معزرت کرتی روہانسی سی ہوگئ۔
    اٹس اوکے۔۔ شکر ہے بال نہیں جل گئے۔ بس تھوڑی سی جلن ہے۔
    اسے اتنا پریشان ہوتا دیکھ کر اریزہ الٹا اسے تسلی دینے لگی۔
    سنتھیا نے دزدیدہ نگاہوں سے اسکا سر دیکھا پھر سر جھکا لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں تیار ہو کرباہر نکلیں تو ہاسٹل کے گیٹ تک درختوں تک نے منہ کھول کر انہیں دیکھا تھا۔ کچھ لڑکیاں تو انہیں خلائی مخلوق سمجھ کر انکے راستے سے بھی ڈر کر ہٹ گئیں۔ رہی سہی کسر گیٹ سے باہر نکل کر پوری ہوگئ۔
    سالک شاہزیب ایڈون کے ساتھ یون بن کم سن ہایون اور گوارا بھی کھڑے تھے۔ گوارا تو دوڑ کر انکے پاس آئی۔
    یہ۔ یہ تم لوگوں نے بھارتی لباس پہنا ہے؟ اف میں نے بھی پہننا تھا۔ کہاں سےلیا۔ کتنا پیارا ہے۔ وہ کھلے دل سے تعریف کر رہی تھی۔
    اور یہ کیا ہے۔ اس نے بڑی حیرت سے اریزہ کے سر پر جمے دوپٹے کو چھوا۔
    اسکو سر پر بھی لیتے ہیں۔
    سنتھیا نے حفظ ماتقدم کے طور پر اسکا ہاتھ پیچھے کردیا۔
    ہاں ایسے انڈین برائڈز سر پر لیتی ہیں نا۔ گوارا کی معلومات پکی تھیں۔
    چلو آدھے ہایون کی گاڑی میں آدھے یون بن کی گاڑی میں چلیں گے۔
    ایڈون انکے قریب آکر بولا۔۔
    اریزہ کو سچ مچ اپنا آپ دلہن لگنے لگا تھا۔ اس وقت وہ مرکز نگاہ تھی۔ اس نے سٹپٹا کر گھورا
    ان لوگوں کو ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت تھی۔
    انکو ساتھ لے جانے پر مفت میں سواری مل رہی ہے اور کیا چاہیئے۔
    ایڈون شرارت سے بولا۔
    چلو آجائو سارے۔
    یون بن بلا رہا تھا
    اریزہ تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔
    اس نے بے تکلفی سے جملہ چسپاں کیا۔ یہی جملہ کسی دیسی نے کہا ہوتا تو برا مان جاتی اس وقت بھی اچھا تو نہ لگا مگر ہونٹ بھینچ گئ۔
    تمہارا ہبئ بہت لکی ہے۔ سونے پر سہاگہ۔ اس کا سارا موڈ غارت ہوا۔
    نو ڈائوٹ تم پیاری لگ رہی ہو۔
    ہایون نے بھی اسے سراہنا فرض سمجھا۔
    اریزہ پیارئ لگ رہی ہو۔
    سالک شاہزیب دونوں جان کے باری باری انگریزی میں بولے۔
    ہاں سچ میں پیاری لگ رہی ہو
    گوارا دل سے بولی۔
    ایڈون بھی انکی شرارت میں شامل ہوگیا۔۔
    اریزہ تم ۔۔
    اریزہ حقیقتا اپنا پرس گھما کر اسے لگانے لگی تھی کہ وہ بچتا ہنستا ہوا بھاگا۔ وہ سب اب اریزہ کو ہوٹ کررہے تھے۔ اسکے گرد دائرہ بنا کر تالیاں بجاتے اسی جملے کی گردان کر رہے تھے۔ اریزہ کا ہنستے ہوئے اور کچھ خفت سے منہ سرخ ہو چکا تھا۔
    سنتھیا نے گہری سانس لی۔ یہاں موجود سب لوگوں کو وہ شائد نظر بھئ نہیں آرہی تھی اریزہ کے سامنے۔
    اس نے یونہی اپنا موبائل نکال کر وقت دیکھا تبھی کوئی اسکے قریب آگیا اس نے چونک کے سر اٹھایا۔
    سنتھیا تم پیاری نہیں۔۔۔ کہنے والا ذرا سا تھما۔۔
    حسین لگ رہی ہو۔
    چندی آنکھوں والا وہ لڑکا ماتھے پر بکھرے بال وہ شائد اس سے دوسری بار مخاطب ہوا ہوگا۔ وہ اتنی حیران رہ گئ کہ بس ٹکر ٹکر دیکھتی رہی۔
    کم سن اسکی حیرانی پر مسکرادیا۔ بھر پور مگر سادہ سی مسکراہٹ وہ نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھتی رہی وہ سر جھٹکتا مڑا ان کی ہلڑ بازی سے بے نیاز سب سے پہلے جا کر ہایون کی گاڑی کے پاس جا کھڑا ہوا۔
    ہایون نے اسے دیکھ کر فورا گاڑی انلاک کردی تھی۔
    آئو سنتھیا۔
    ایڈون پکار رہا تھا اسے۔ اریزہ اور گوارا باتیں کرتی یون بن کی۔گاڑی کی۔جانب بڑھ چکی تھیں۔۔ وہ سر جھٹکتی ایڈون کے پاس چلی آئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عید کی مناسبت سے پاکستانی سفارت خانے میں تقریب کا اہتمام تھا۔ ایک جانب کھانے پینے کی چیزوں کے اسٹالز تھے روائتی پاکستانی پکوان کی خوشبو چار سو پھیلی تھی تو دوسری جانب پاکستانی آرٹس اینڈ کرافٹس کے اسٹال سجے تھے۔ کچھ فنکار پرفارم کرنے آئے تھے۔ پاکستانی کمیونٹی اور مسلم کمیونٹی کے ساتھ ساتھ ہندوستانی و غیر ملکی بھی بڑی تعداد میں رونق میلہ دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ ۔۔۔ یہاں آکر انکو اندازہ ہوا تھا کہ کوریا میں صرف وہ چار پانچ لوگ ہی بس پاکستان سے نہیں آئے تھے بلکہ ایک بڑی تعداد موجود تھی۔۔۔ وہ پانچوں ذیادہ تیار ہو کر آئے تھے اپنی جانب سے مگر یہاں تو رنگ و بو کا سیلاب آیا ہوا تھا۔۔۔۔
    اف گوارا کو ضرور وئک اینڈ پر گائوں جانا تھا ورنہ اسے تو ضرور دکھاتئ میں پاکستانی لباس بلکہ اسے بھی پہنواتی میں۔
    اریزہ کو افسوس ہو رہا تھا۔ اور اس سے ذیادہ سنتھیا کو اسے دیکھ دیکھ کر۔
    سوری اریزہ۔
    ہاسٹل سے یہاں تک کے سفر میں جانے کتنے ہزار دفعہ وہ یہ دہرا چکی تھی کہ اریزہ کو جھنجھلانا پڑا
    تمہارے سوری کہنے سے میری چندیا کی جلن ختم ہورہی ہے نا جلے ہوئے بالوں کی جگہ چمکدار گھنے لمبے بال اگ آئے ہیں سو اپنا سوری اپنے پاس رکھو۔
    اریزہ کے جملوں پر اسکا مزید منہ اتر گیا۔
    اریزہ شرمندہ ہوگئ۔
    اچھا نا بس کرو۔ وہسے بھی تم نے اتنا اچھا دوپٹہ سیٹ کیا ہے میرے سر پر کہ ناممکن ہے کسی کو پتہ لگے کہ میرے بالوں کا کیا حشر ہوا ہے۔
    وہ دانستہ ہنسی ۔۔ سنتھیا بھی مسکرا دی۔ درجن بھر پنیں ٹھونک کر اس نے دوپٹہ اسکے سر پر ٹکا دیا تھا اور سچ تو یہ کہ دوپٹے کے ہالے میں اسکا چہرہ مزید سنہرا لگ رہا تھا۔
    یہ لو سویاں۔ پھر نہ کہنا کہ عید پر سویاں کھانے کو نہ ملیں۔
    ایڈون نے ڈسپوزایبل پیالہ لا کر اسے تھمایا۔
    میرے لیئے؟ سنتھیا سوالی ہوئی۔
    یار اس اسٹال پر سب سے ذیادہ رش تھا یہ کورینوں سے پاکستانی کھانے کھائے نہیں جا رہے سب سی سی کرتے سویوں پر ٹوٹ پڑے یہ آخری پیالہ تھا ۔ میں نے شکر ہے کھایا نہیں تھا ورنہ یہ بھی نہ بچتا۔
    ایڈون ہنس ہنس کر بتا رہا تھا۔ سنتھیا کا منہ بن گیا۔
    کوئی نہیں اتنی ذیادہ ہے یہ ہم سب کھا سکتے ہیں۔یہ لو سنتھیا۔
    اریزہ نے چمچ اسکی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو وہ درشتی سے بولی۔
    تم کیا چاہتی ہو ہر چیز مجھے تمہاری چھوڑی ہوئی ہی ملا کرے۔ مجھے نہیں چاہیئے۔
    ارے۔ اسکی۔بات پراسکا منہ کھلا رہ گیا۔
    ایڈون کی پیشانی پرناگواری کی کئی شکنیں پڑ گئیں۔
    جنہیں دیکھ کر اسکو مزید غصہ آگیا ۔۔ تن فن کرتی آگے بڑھ گئ۔
    اسے کیا ہوا۔
    اریزہ کو سمجھ نہ آیا اسکا غصہ۔
    پاگل ہوگئ ہے اور کیا ہوا۔ ایڈون جل کر بولا۔ پھر خود کو گہری سانس لیکر پرسکون کرنے کی کوشش کرتا اسکے پیچھے چل پڑا۔
    اس نے کندھے اچکا کر بڑا سا چمچہ لیا ابھی منہ میں رکھا ہی تھا فون بج اٹھا اس نے بے دھیانی میں چمچ منہ میں ہی رکھے رکھے چھوٹے سے پرس سے موبائل نکال کر مزے سے دیکھنے لگی کہ کس کی کال ہے کہ کلک کی سی تصویر کھنچنے کی آواز پر چونک سی گئ۔
    اس پر کوئی فلیش آیا تھا اور تصویر کھنچ گئ تھی۔ یا شائد وہم ہوا تھا۔منہ میں چمچہ لیئے وہ صدمے سے چمچ منہ سے نکالنا بھول گئ۔
    سر اٹھا کے ادھر ادھر دیکھا۔ وہ داخلی حصے میں کونے میں کھڑی تھئ کچھ فاصلے پر اسٹالز تھے لوگ یہیں سے گزر کر آ جا رہے تھے۔ کئ فوٹرگرافر وی لاگرز آئے ہوئے تھے کیمرہ تھامے کئی صحافی اس تقریب کا احوال محفوظ کر رہے تھے۔ دو تین تو سامنے ہی تھے ایک نے فوری اسے اپنی جانب دیکھتا پا کر رخ بدلا تھا۔ اسے یہ اتفاق نہ لگا۔
    ہیلو ۔۔ اریزہ۔ صارم اسکی جانب سے کوئی جواب نہ ملنے پر پکار رہا تھا۔
    صارم۔
    وہ روہانسی ہوئی۔ چمچ منہ سے نکال کر غصے میں پھینک ہی دیا۔
    میری تصویر کھنچ گئ ہے او رمجھے پتہ بھی نہیں کہ کس نے کھینچئ۔
    تو کیا ہوا۔ صارم حیران ہوگیا۔
    کون ہے میں چھوڑوں گی نہیں اسے۔۔۔ اسکا غصہ بے قابو ہونے کو تھا۔
    بعد میں بات کرتی ہوں تم سے۔
    اس نے فون بند کرکے بیگ میں رکھا اور اپنی تصویر کھینچنے والے فوٹوگرافرکی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔
    تیز تیز قدم اٹھاتی اسکا رخ سیدھا اسی چندی آنکھوں والے ڈی ایس ایل آر تھامے لڑکے کی جانب تھا جو اسکو دیکھ کر رخ بدل گیا تھا۔
    اریزہ ادھر۔۔۔
    ہایون اسکے ایکدم سامنے آگیا جانے کیا کہنے لگا تھا اس نے اپنے ہاتھ میں تھاما پیالا اسے تھمایا اور تن فن کرتی آگے بڑھی۔۔
    ہایون نے حیرت سے اپنے ہاتھ میں تھمایا ہوا پیالہ دیکھا پھر مڑ کر اسے دیکھا۔
    لمحہ بھر کو ہی ہایون نے توجہ بھٹکائی تھی اسکی۔اور وہ لڑکا نظر سے اوجھل ہوگیا تھا۔ ایکدم بھیڑ میں گھس کر غائب۔۔وہ بیچ راستے میں کھڑی متلاشی نگاہوں سے دیکھ رہی تھئ۔
    کیا ہوا۔ ؟ ہایون نے پوچھا
    وہ ۔۔ وہ لڑکا ۔۔ اس نے میری تصویر کھینچ لی۔ وہ بھی اتنی بری۔۔ ۔ میں اسکی جان نکال دوں گئ۔
    وہ مٹھیاں بھینچ کر بولی۔
    کس نے۔ ہایون فورا سنجیدہ ہوا۔
    وہ ادھر کھڑا تھا۔ بلو اپر پہنے تھا۔ہڈ سر پر لیا ہوا تھا۔ مجھے دیکھ کر بھیڑ میں گھس گیا۔
    ہایون نے لمحہ بھر بھی تاخیر نہ کی تیز تیز قدم اٹھاتا بھیڑ کی جانب بڑھا۔ وہ بھی اسکے پیچھے بھاگئ آئی۔ چند لمحے لگے تھے اسے ڈھونڈنے میں۔ وہ اب ایک پاکستانی کپل کی تصویر بنا رہا تھا۔ جو گول گپے کھا رہے تھے۔
    ہایون اسکے سر پر جا پہنچا۔۔۔
    یہ لو۔ اس نے پیالہ اسکی جانب بڑھایا ۔ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے کیمرہ ایک ہاتھ میں لیکر دوسرے ہاتھ سے تھام گیا۔۔
    وے؟ ۔۔۔ وہ پوچھ رہا تھا۔ ہایون نے اسکے ہاتھ سے کیمرہ چھین کر فورا تصویریں دیکھنی شروع کردیں۔ وہ لڑکا حیران پریشان اسے دیکھ رہا تھا۔وہ دبلی پتلی جسامت کا اوسط قد کا حامل لڑکا تھا اسکے مقابلہ ہایون کا چھے فٹ سے اوپر قد اور جارحانہ انداز۔وہ قدرتی طور پر رعب میں آگیا تھا۔
    ویو؟کیا مسلئہ ہے آپکے ساتھ۔
    چوری چھپے تصویر کھینچتے ہو لڑکیوں کی شرم نہیں آتی۔ ؟ میں تمہیں پولیس کے حوالے کردوں گی۔ سمجھے۔
    اریزہ کی بھاگتے سانس پھول چکی تھی۔ مگر لڑکا وہی تھا۔ قریب آتے ہی اس پر چڑھ دوڑی۔۔ مگر اردو میں ۔وہ بے چارہ حیران پریشان اس افتاد پر بھونچکا سا کھڑا بٹر بٹر دیکھے جا رہا تھا۔
    کیا کہہ رہی ہو آگاشی۔
    ہایون نےجلدی جلدی اسکی پچاس سے اوپر تصویریں دیکھ لیں۔ مگر اسے اریزہ نظر نہ آئی۔
    اس نے اریزہ کو آنکھوں سے اشارہ کیا کہ بس کرے۔
    اسکا کیمرہ ہی توڑ دو تاکہ باز آجائے یہ۔
    اریزہ مزید تیز ہو کر بولی۔۔ ۔ ہایون نے کھسیانی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسکی جانب کیمرہ بڑھایا۔
    میں یہاں کا سرکاری فوٹوگرافر ہوں اس تقریب کے اہم مناظر عکس بند کرنے کیلئےمجھےبلایا گیا ہے خاص طور پر ۔۔۔۔
    وہ گلے میں لٹکا کوئی کارڈ دکھاتا درشتی سے بولا۔۔۔
    تم ہوتے کون ہو میرے کیمرے کو ہاتھ لگانے والے۔
    اس نے سارا رعب لحاظ بالائے طاق رکھا اور مڑ کر انتظامیہ کے اہلکاروں کو بلانے لگا۔ اتفاق یا بد قسمتی
    گول گپے ہی کھا رہے تھے شائد انہی کی تصویر بھی بنا رہا تھا وہ۔
    سیکیورٹی۔۔ ادھر آئو۔
    اس کے پکارنے پر منہ میں گول گپے بھرے وہ چندی آنکھوں والے اہلکار فورا متوجہ ہوئے۔ اس سے قبل کہ وہ یہ چند قدم کا فاصلہ طے کرتے ہایون نے کیمرے کا بڑا سا اسٹریپ اسکے گلے میں ڈالا اریزہ کا ہاتھ تھاما اور دوڑ لگا دی۔
    ہائیں۔ اریزہ بھونچکا سی اسکے ساتھ کئی قدم دوڑ گئ۔۔
    میری تصویر۔۔
    اریزہ نے ہاتھ چھڑاتے کہا۔ تو اس نے رک کر اسکا ہاتھ چھوڑا۔ اہلکار اس لڑکے تک چکے تھے اب معاملہ دریافت کیا جا رہا تھا۔
    ہایون نے گہری سانس بھری اور پھر دوڑ لگائی۔ فوٹوگرافر اسے دوبارہ اپنے روبرو دیکھ کر ابھی صرف حیران ہی ہو پایا تھا۔
    یہ میری دوست کا ہے۔ اس نے اسکے ہاتھوں سے سویوں کا پیالہ چھینا۔۔
    بیانئے۔۔ بیانمیتا۔۔
    معزرت بے حد معزرت۔
    جھک کے کہتا وہ واپس بھی اتنی ہی تیزی سے آیا تھا۔ اریزہ بھونچکا سی کھڑی اسکی پھرتی دیکھ رہی تھی۔
    بھاگو وہ پیالہ تھامے بھاگتا ہوا آیا تھا۔ اریزہ نے اسکے پیچھے دوڑ کر آتے اہلکاروں کو دیکھا پھر خود بھی دوڑ لگادی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بھاگتے بھاگتے دونوں کانسرٹ والے حصے میں گھس گئے تھے۔ یہاں بھیڑ بھی تھی اور شور بھئ۔اسٹیج کے قریب بس دو رویہ بیٹھنے کا انتظام تھا باقی پورا لان کھلا تھا۔ جس میں نوجوان لڑکے لڑکیاں کھڑے ہو کر پروگرام سے حظ اٹھا رہےتھے۔ ۔ کوئی ابھرتا ہوا کامیڈین اردو میں مزاحیہ خاکہ پیش کر رہا تھا۔ یہاں بڑی تعداد میں جنوبئ ایشیائی شکلیں تھیں سو یہاں گم جانا آسان تھا۔۔ اریزہ کی سانس پھول گئ تھی۔۔وہ وہیں ایک کونے کی طرف بڑھ گئ۔ ہایون نے بھی اسکی تقلید کی۔ بھیڑ میں گزرتے ایک جوڑا باتوں میں مگن ہاتھ میں کپ آئس کریم پکڑے تھا اس نے آرام سے ان چھوئے والے کپ سے چمچ اٹھا لیا۔ پیالے میں رکھ کر پیالہ اسکی جانب بڑھا دیا۔
    تصویر۔
    ہایون نے یقینا طنز کیا تھا۔
    تصویر۔ اریزہ نے آنکھیں پھاڑیں۔ یہ اچھا انکے بولے الفاظ یاد کر لیتا تھا۔۔ کمپیوٹر کہیں کا۔
    اسکے کیمرے کو اچھی طرح دیکھا میں نے۔ ہایون اس بار انگریزی میں بولا۔ کوئی ایک تصویر بھی تمہاری نہیں۔۔
    اتنی سی دیر میں سب دیکھ لیا؟ اریزہ مشکوک تھی۔
    ہاں تو دو سال لگاتا ۔۔ وہ منہ بنا کر بولا۔
    کھائو۔۔ اس نے پیالہ اسکی جانب پھر بڑھایا۔
    آنیا۔ اس نے سر ہلادیا۔
    جانے دو مجھے نہیں کھانا۔۔ اسکا موڈ خراب ہو رہا تھا۔ ہایون نے کندھے اچکا دیئے پھر خود کھانے لگا۔
    سویٹ نوڈلز پہلی بار کھائے ہیں مزے کے ہیں۔
    وہ چسکے لے رہا تھا۔
    اریزہ نے کچھ کہنا چاہا پھر ہوںٹ بھینچ گئ۔ اس نے متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا۔ نہ سالک نہ شاہزیب نہ ہی ایڈون اور سنتھیا کوئی بھی تو دور دور تک نظر نہ آرہا تھا۔
    اس کا منہ پھول گیا۔
    اسکا فون اب دوبارہ بج رہا تھا۔ بابا کالنگ۔ وہ ایکدم خوش سی ہوگئ۔۔
    عید مبارک بابا۔
    اس نے خوشی سے زور دار آواز میں کہا۔ اسکی آواز سن کر بے ساختہ انکے چہرے پر بھی مسکراہٹ دوڑ گئ۔
    عید مبارک بیٹا۔ کیسی ہو ؟
    میں ٹھیک ہوں آپ کیسے۔؟
    وہ محبت سے بولی۔
    میں بھئ ٹھیک ہوں۔اور میری گڑیا تیار ہوئی عید پر؟
    جی بابا۔۔ اس نے کہتے زور و شور سے سر ہلایا۔
    چلو پھر میں ویڈیو کال کرتا ہوں۔
    انہوں نے کہا تو اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی۔ اس نے ایک کان پر ہاتھ رکھا ہوا تھا تب بات سن پا رہی تھی۔
    بابا ہینڈز فری نہیں ہے پاس اور میں یہاں باہر آئی ہوئی ہوں شور بہت ہے ہاسٹل جا کے بات کرتی ہوں ۔۔
    چلو ٹھیک ہے میں ابھی جاگ ہی رہا ہوں اچھا آرام سے جب وقت ملے فون کر لینا۔۔
    وہ بھی فورا مان گئے اسکے پیچھے سے آتا شور انکو بھی سنائی دے رہا تھا
    اوکے بابا لو یو بائے۔
    اس نے فون کو باقائدہ چوم کر خدا حافظ کہا۔ کال بند کرکے سر اٹھایا تو ہایون کو دلچسپی سے محظوظ انداز میں دیکھتا پایا۔
    بوائے فرینڈ تھا ؟
    دے؟ اسکی آنکھیں ابلیں۔
    جی نہیں والد تھے میرے۔ اس نے ناک چڑھا کر بتایاپھر جتایا۔
    حدہے پہلے سنتھیا کو میری گرل فریںڈ بنا دیا اب بابا کو۔۔ گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کے علاوہ انسان کی زندگی میں اور بھی رشتے ہوتے ہیں۔
    تو سنگل ہو یعنی؟
    اس نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا۔۔۔
    اس نے سر جھٹکا پھر اپنی سیلفی لینے لگی۔
    ٹوٹی اسکرین پر تصویر کے دو حصے ہو رہے تھے۔
    کیا خبر تھی فون ٹوٹ جائے گا کچھ پیسے ہی سیو کرلیتی۔
    اسے خود پر غصہ آیا۔۔
    لعنت ہو مجھ پر۔ اس ڈریس میں جھونک دیئے اتنے پیسے۔
    اس نے اپنے کپڑوں پر جھلا کر ہاتھ مارا۔
    کیا ہوا ؟ سب ٹھیک ہے؟
    اس کی بڑبڑاہٹ اسے سمجھ تو نہ آئی تھی مگر جھلاہٹ نے پوچھنے پر مجبور کر دیا تھا۔
    کچھ نہیں۔ آئی مین۔ آنیا۔
    اس نے سر جھٹکا۔
    تصویر بنانئ ہے؟ لائو میں بنا دوں؟
    وہ سیلفی ہی لے رہی تھی جبھی اس نے اندازہ لگایا۔ اس نے بھی اندھا کیا چاہے دو آنکھیں فورا موبائل اسے تھما دیا۔
    پوری لینا۔ پورا ڈریس آنا چاہیئے۔
    اس کو بابا کو ڈریس بھی دکھانا تھا اور اسکے پیسے بھی بتانے تھے۔
    مجھے پہلے خیال کیوں نہ آیا۔ اسکی آنکھیں چمک گئیں۔ ہایون اسکے موبائل میں اسی کو فوکس کر رہا تھا۔
    بابا کو قیمت بڑھا کے بھئ تو بتائی جا سکتی تھی۔ اس نے دزدیدہ نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا۔ اسٹیج کی۔طرف ہی روشنی ذیادہ تھی اسٹیج کے بائیں جانب پھولوں کا کنج تھا
    ادھر آئو۔
    وہ اسکو کہتی تیزی سے اس کونے کی جانب بڑھی۔ ہایون کا منہ کھلا رہ گیا۔ اسے لگا تھا اسکے پل پل بدلتے تاثرات تصویریں بنوانے کیلئے ہی تھے۔ وہ دو تین اسکے موبائل میں کھینچ چکا تھا۔
    خاموش تصویریں کلک تک کی آواز اسکے فون میں بند تھی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکے ہاتھ میں فون بھی بند ہو گیا۔
    اریزہ پھولوں والی باڑ کے پاس جا کھڑی ہوئی۔
    آئو نا۔ وہ پکا ررہی تھی۔ ہایون نے اسکے موبائل کا آن کا بٹن دبایا مگر وہ آن ہوا ہی نہیں۔
    اریزہ ذرا سا ترچھئ ہو کر کھڑی پوز بنا رہی تھی۔ ایک بازو کہنی سے ترچھا کرکے دوسرے ہاتھ سےنزاکت سے ہاتھوں میں ہاتھ تھامے بالکل ماڈلز کی طرح۔
    اس نے مسکراہٹ دباتے اسکی تصویر کھینچی۔
    ایک ایسے۔
    اب اس نے رخ بدلا تھا۔۔ تبھی اسکی نگاہ فاصلے پرسامنے سے آتےیون بن گوارا پر پڑی۔ گوارا اسے دیکھتے ہی ہاتھ ہلانے لگی تصویر بنانا بھول کر وہ زور و شور سے ہاتھ ہلاتی مسکرائی تھی۔ یہی منظر تصویر میں قید ہو گیا تھا۔
    بس کافی ہے۔ چلو وہاں چلیں۔
    اس نے فورا پینترا بدلا تھا۔ ہایون نے کندھے اچکا کر اسکا موبائل اسے واپس کر دیا۔ اور جوابا اس نے شکریہ بھی کہنا ضروری نہ سمجھا تھا تیزی سے گوارا کی جانب بڑھ گئ تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہنگن دریا کے مشرقی کنارے اسے سنتھیا ضد کرکے لائی تھی۔ دریا کنارے بنے واکنگ ٹریک پر اس وقت بس وہی دونوں تھے۔ یہاں قدرے فاصلے سے لیمپ پوسٹ تھے جن کی روشنی خاصی ناکافی تھی پراسرار اور ملگجے اندھیرے سےسجے اس ٹریک سے نیچے نشیب تھا پھر گھنی جھاڑیاں تھیں اسکے نیچے چلتا ہوا دریا۔ فضا میں جھینگروں اور اوپر سے گزرتے پل پر رواں ٹریفک کا شور تھا۔
    سنتھیا کو یہاں آکر یک گونہ سکون سا ملا تھا۔
    اتنا تیار ہو کر یہاں لے آئی ہو کوئی ہوائی مخلوق عاشق ہوگئ نا تو مجھے ہی اٹھا کر سیدھا دریا میں پھینک دے گی۔
    ایڈون نے محتاط سے انداز میں اسے یہاں آنے پر ہی ٹوکا تھا مگر سنتھیا بے نیازی سے بولی
    میں نے صلیب پہن رکھی ہے۔ ہمارے قریب بھی کوئی نہیں آسکتا۔
    پھر بھی یہ وقت یہاں آنے کیلئے مناسب نہیں ہے۔ ہم اجنبی ملک میں ہیں۔ یہاں کا ہمیں ماحول کا پتہ نہیں۔
    ایڈون نے سمجھانا چاہا تو وہ چڑ گئ
    پاکستان سے تو ذیادہ محفوظ ہے۔۔ اور جو تمہیں عید ملن چھوڑ کر آنے کا دکھ ہو رہا تو راحت فتح علی خان نہیں آنے والے تھے وہاں ۔ اور باقی کوئی سنگر تمہارا پسندیدہ نہیں تھا۔۔
    وہ بحث کے موڈ میں تھئ۔ ایڈون نے خاموشی کو بہتر جانا۔۔
    کتنی ہی دیر وہ دونوں خاموش ایک لفظ بولے بنا ٹہلتے رہے کہ سنتھیا خود سے لڑتے لڑتے تھک گئ۔ ٹریک کے ساتھ بنت سنگی بنچ پر خاموشی سے جا بیٹھی۔ ایڈون کو دو تین قدم چلنے کے بعد احساس ہوا کہ وہ ساتھ نہیں۔مڑ کر دیکھا تو وہ سنگی بنچ پر سر جھکائے دونوں ہاتھ ٹکائے ہارے ہوئے انداز میں بیٹھئ تھی۔ اس نے ذرا دھیان سے دیکھا اسے۔
    سرمئی جامنی نیلے امتزاج کی اس فراک میں وہ نہایت نازک سی لگ رہی تھی۔ لانبا دوپٹہ اس نے کندھے پر ایک جانب ڈال رکھا تھا۔ اسکے بال گھنے سیاہ سیدھے اور کمر تک آتے تھے اس وقت بھی پشت پر آبشار سی بکھری تھی۔ ہلکے پھلکے میک اپ میں وہ اس وقت کافی حسین لگ رہی تھی۔ مگر اسکا دل بالکل خاموش سا تھا۔
    جانے کیوں اسکے ساتھ یہ ہونے لگا تھا۔ اسکے پاس باتیں ختم سی ہوگئ تھیں۔سنتھیا اسکے ساتھ اکیلے وقت گزارنا چاہتی تھی باتیں کرنا چاہتی تھی مگر جانے کیوں اسکا ذہن بالکل خالی ہوجاتا تھا۔ کوئی بات کوئی چیز ذہن میں آتی ہی نہ تھی وہ کسی روبوٹ کی طرح اسکا ساتھ دینے کی کوشش کرتا تھا۔ اسے اپنی اس کیفیت سے خود خوف آنے لگا تھا۔
    سنتھیا کو جانے اسکی نظروں کا احساس ہوا تھا یا یونہی اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ چونک کر سنبھل کر مسکراتا اسکے پاس چلا آیا۔
    بس تھک گئیں۔۔۔ ابھی تو ہمیں واپس بھی جانا ہے
    وہ ہلکے پھلکے سے انداز میں کہتا اسکے برابر آن بیٹھا۔
    ہمم۔۔ وہ قصدا مسکرائی۔
    بھوک لگی؟ مجھے تو بہت ذوروں کی لگ رہی ہے۔ کیا کھائو گی؟
    ایڈون نے پوچھا تو وہ سر جھٹک کر بولی
    مجھے کورین کھانے نہیں کھانے کسی انڈین ریستوران چلتے ہیں۔
    ہمم۔ چلو اریزہ کو بھی ساتھ لے لیں گے۔ اب تو تقریب بھی ختم ہونے والی ہوگی۔
    وہ روانی میں کہتا اٹھا سنتھیا ہونٹ بھینچ کرچند لمحے سوچ کر بولی
    اریزہ گوارا وغیرہ کے ساتھ ہے یقینا انکے ساتھ چلی جائے گی ہاسٹل ہم دونوں چلتے ہیں نا بس۔
    اس نے کوشش کرکے اپنا بولنے کا انداز سادہ سا ہی رکھا تھا۔
    ایڈون نے گہری سانس لیکر اسکے تاثرات دیکھے پھر سر ہلا دیا۔
    ٹھیک ہے چلو۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خلاف توقع ان سب کو اس تقریب میں خاصا مزا آیا تھا۔ گوارا نے سندھی اجرک بڑے شوق سے خریدی تھی اب اپنے آف شولڈر ٹاپ کے اوپر کاندھوں پر ڈالے مزے سے پوز بنوا بنوا کر تصویریں کھنچوا رہی تھی۔ یون بن نے بھی سندھی ٹوپی خریدی تھی اس وقت جینز شرٹ کے اوپر یہی پہنے تھا۔ گھنے بال ماتھے پر بکھرے تھے۔ جو ٹوپی کے اگلے کٹائو سے جھانک رہے تھے۔کم سن کا چاٹ کھانے سے برا حال ہوا وا تھا سالک اور شاہزیب اسکا مزاق اڑا رہے تھے۔ ہایون گوارا کا فوٹو گرافر تھا۔ تصویریں کھینچ کھینچ کے وہ تھک گیا تھا یون بن بھی تھک گیا تھا مگر گوارا کی ہمت جوان تھی۔ وہ سب اس وقت باہر آچکے تھے پارکنگ کے قریب سڑک پر شغل جاری تھا۔ وہ تھوڑا بے چین سی ہو رہی تھی۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ ان سب کا واپسی کا ارادہ نہیں تھا۔
    اچھابس اب ہم چلتے ہیں۔ ہایون نے آخر اسکے اس فوٹو سیشن کا اختتام کردیا۔
    چلو پھر آجائو میری گاڑی کی سواریوں۔
    یون بن نے نعرہ لگایا پھر بندے گن کر پوچھنے لگا۔
    ایڈون اور اسکی گرل فرینڈ کہاں ہیں؟
    وہ دونوں کب کے جا چکے ہیں۔
    شاہزیب نے بتایا تو وہ پریشان سی ہوگئ
    سنتھیا کہاں چلی گئ مجھے چھوڑ کر؟
    اسکے ایکدم پریشان ہونے پر سالک نے اسے تسلی دی۔
    تو کیا ہوا ہم تو ہیں نا۔ چلو یار اب چلیں۔ وہ اب شاہزیب کم سن وغیرہ سے کہہ رہا تھا۔
    چلو۔ کلب چلتے ہیں۔ یہ مشورہ ہایون کا تھا جس سے سب نے اتفاق کیا۔
    ہاں ٹھیک ہے۔ وہ سب پر جوش سے ہوئے
    ہم گاڑیاں نکال کر لاتے ہیں۔
    یون بن اور ہایون پارکنگ کی جانب بڑھ گئے۔
    گوارا تم تو گھر جائوگی نا ؟
    اس کو واحد امید گوارا ہی لگی۔ اسکے پاس آکر امید بھرے انداز میں پوچھا۔
    نہیں کیوں بھلا۔ کل چھٹی ہے اتنی جلدی گھر جا کر کیا کرنا اس شمالی کوریائئ لڑکی کو دیکھوں جا کر یار قسم سے بھوتنی ہے پوری۔ گھپ اندھیرے میں بیٹھی رہتی ہے ہر بات کا الٹا جواب سڑی سی شکل بناکر دیتئ عجیب نفسیاتی سی ہے۔ ہایون نے سفارش نہ کی ہوتی تو پکا۔۔
    مجھے گھر جانا ہے۔ اریزہ نے اسکی بات کاٹ کر بے تابی سے بتایا۔
    دیوار پھلانگنی آتی ہے؟
    گوارا سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔
    نہیں کیوں؟ وہ اس بے محل سوال پر الجھن بھرے انداز میں دیکھنے لگی
    اسلیئے کہ رات کے گیارہ ہو رہے ہیں ۔ ہاسٹل میں مین گیٹ دس بجے بند ہوجاتا اسکے بعد جا کر یا تو اپنی بستی کروا کر یو لگوا کر اندر جا سکتے یا دیوار پھلانگ کر ۔۔
    گوارا بے نیازی سے بولی
    پھر۔
    اسکے تو ہوش اڑ گئے۔ گھبرا کر پوچھا۔
    پھر یہ کہ میرے ساتھ چلنا فلیٹ پر۔مگر ابھی پہلے کلب چلو۔ میرا اتنی جلدی واپسی کا کوئی موڈ نہیں۔
    یون بن گاڑی موڑ کر لے آیا تھا وہ اسکا ہاتھ تھامتی بولی تو اریزہ نے بھی بے چارگی سے خود کو حالات کے حوالے کردیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کلب میں گوارا کا ہاتھ تھامے وہ کسی ننھی بچی کی طرح ہی داخل ہوئی تھی۔ داخلے سے لیکر راہداری سے گزرتے مین ڈانسنگ فلور تک لوگ ہی لوگ تھے مگر انکے لیئے سرعت سے راستہ بنتا جا رہا تھا۔لوگ پہلے چونک کے دیکھتے پھر گھورتے پھر فورا ایک قدم پیچھے ہو جاتے۔ وہ بری طرح سٹپٹا گئ تھئ۔ گوارا اسکے برعکس لاپروا سی تھی۔ اس نے ڈانسنگ فلور پر جا کر ہی اسکا ہاتھ چھوڑا تھا۔ او رخود بھی جھومنے لگی۔ یون بن سالک شاہزیب ہایون سب ڈانسنگ فلو رپر آچکے تھے۔ اجنبی دھن پر مگن ناچتے۔ اسے ایکدم یہ سب بہت برا اور عجیب سا لگا۔ ابھی کل تک رمضان تھا روزے رکھ رہے تھے عبادت میں مشغول تھے اور آج عین عید کے دن یہاں سب بھول بھلا کر ناچنا۔
    وہ پلٹ کر ڈانس فلور سے اتر آئی۔ ڈسکو لائٹس ملگجی روشنی اسے اس منزل پر ہی شدید گھٹن ہونے لگی تھی۔
    وہ انکو نظروں میں رکھتے ہوئے ہی فلور سے دور سجی نسبتا کونے میں رکھی میز کرسی پر آن بیٹھی۔
    اسے شدید نیند آنے لگی تھئ۔ سحری کے بعد سونے کی عادت تھی رات کو نیند بھی دیر سے آئی تھی۔ اس وقت تو سر میں دھماکے سے ہونے لگے تھے۔
    اس نے دونوں کہنیاں میز پر ٹکا کر اپنا چہرہ بازوئوں میں چھپا لیا۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ ایک پاکستانی ریستوران تھا۔ جس نے عید کی۔مناسبت سے نا صرف ریستوران کو آرائشی قمقموں سے سجا رکھا تھا خاصا ڈسکائونٹ دے رکھا تھا۔ کوئی وائوچر بھی تھا ایڈون کے پاس کھانا خاصا سستا اور ذائقے دار تھا۔ سنتھیا کا مزاج اب بہتر ہوگیا تھا۔مستقل بولتے ہوئے اس نے
    بریانی چکن کڑاہی خوب دل بھر کے کھائی۔ پھر خیال آیا۔
    اریزہ کو بھی لے آتے ہم اسے بریانی کھانے کا دل کر رہا تھا۔
    وہ بے دھیانی میں بول گئ تھئ۔ ایڈون نے ایک گہری نگاہ ڈالی تھی اس پر بولا کچھ نہیں۔ وہ پھر بھی شرمندہ سی ہوگئ۔
    خجل ہو کر بات بدل گئ۔
    بابا نے عیدی بھجوائئ ہے؟ کہہ رہے تھے تمہیں بھیجیں گے۔
    ہاں۔ ایڈون نے مختصر کہہ کر ویٹر کو بل لانے کا اشارہ کیا۔
    وائو۔۔ مل گئ کتنی ہے؟ وہ بچوں کی طرح خوش ہوئئ۔
    ہم کل جیجو آئی لینڈ چلیں ۔میں نے کبھی جزیرہ نہیں دیکھا۔ سنا ہے خاصئ خوبصورت جگہ ہے۔
    ہم ابھی کہاں جائیں گے یہ سوچو۔ ایڈون نے اسکے انڈوں کی ٹوکری کو سر پر سے بے دردی سے گرادیا
    کیوں؟ اسکا سوال بجا تھا۔
    محترمہ ہم لیٹ ہو چکے ہیں۔ہاسٹل کے دروازے ہم پر بند ہو چکے ہیں۔گیارہ بج رہے ہیں۔
    ایڈون نے اپنی کلائی اسکی نگاہوں کے سامنے کی۔ نئی چمکتے ڈائل والی گھڑی ۔ سنتھیا نے نگاہ چرا لی۔
    پھر۔
    ایڈون نے اپنی پیشانی مسلی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈانس فلور پر ناچتے جھومتے اسے اس لڑکی نے خود آکر ڈانس کی آفر کی۔ سنہری رنگت والی چندی آنکھوں میں نشے کا خمار تھا۔ اسکے ساتھ ناچتے ہوئے وہ ہوش کھو رہی تھی۔ اس نے اسکا ہاتھ تھاما اور اسے ڈانس فلور سے باہرلا کر ٹیبل پر لا بٹھایا۔ پاس سے گزرتی ویٹرس کو اسکے لیئے پانی لانے کا کہا۔ وہ وہیں میز پر سر رکھ کر ڈھے سی گئ۔
    سومیا۔
    کوئی لڑکی اسکا نام پکارتی اسکے پاس آئی۔
    ہایون اسے اسکو سنبھالنے کا اشارہ کرتا خود کم سن کو ٹیکسٹ کرنے لگا
    میں جا رہا ہوں گھر تم نے چلنا ہے۔
    چند ہی لمحوں میں جواب آیا تھا۔۔
    آندے تم جائو میں یہیں ہوں۔
    اس نے گہری سانس لی۔ اسکا دل کلب سے جلدی بھر جاتا تھا جانے کیوں۔ شائد وہ سنگل تھا اسلیئے۔ مگر بہت سے سنگل لوگ بھی یہاں ہلڑ بازی کرتے ناچتے گاتے حظ اٹھاتے ہی تھے۔
    تم ایک بوڑھی روح ہو ہایون۔ جوزن ایرا کے باسی جسکو آج سے کئی سو سال قبل پیدا ہونا تھا مگر لیٹ ہوگیا۔
    نونا اسکے کان کھینچتے اکثر یہ جملہ کہتی تھیں۔ ابھی بھی ذہن میں انکے الفاظ گونجے تو وہ ذرا سا ہنس کر سر جھٹکنے لگا۔
    پیدا تو خیر مجھے ابھئ بھی نہیں ہونا چاہیئے تھا بلکہ کبھی بھی نہیں ہونا چاہیئے تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گڑیا۔یہاں سو گئیں۔
    کسی کی نرم سی آواز اسکے کان میں گونجی تھی۔ اس نے کسمسا کر اس نرم سے لمس کو محسوس کیا تھا۔
    اتنے آرام سے ہلاتے رہو گے تواٹھے گی ہی نہیں۔ کتنی بار کہا ہے اسکو اپنے کمرے میں جا کے سویا کرے جانے اس صوفے پر کیسا نشہ ہے اسکول سے آکر بھی یہیں سو جاتی ہے۔
    امی اسے اٹھاتے جھلا کر بول رہی تھیں
    چھوڑیں امی سونے دیں۔ میں اسے گود میں اٹھا کر چھوڑ آتا ہوں۔
    حماد نے نرمی سے اسکو بازوئوں میں اٹھایا تھا
    سات آٹھ سالہ اریزہ کو گود میں اٹھا کر اسکے بستر پر لے جا کر بہت احتیاط سے لٹادیا تھا۔
    اس نے کسمسا کر ذرا سی آنکھ کھول کر دیکھا۔ حماد کا مسکراتا چہرہ نگاہوں کے سامنے تھا۔
    سو جائو ۔۔۔۔ اس نے پیار سے تھپکا۔
    اس نے دوبارہ آنکھیں بند کیں پھر گھبرا کر کھولیں۔ حماد کی پیشانی سے خون کی لکیر سی اسکے گال تک بہتی چلی آئی۔ مسکراہٹ دھیمی پڑتی گئ۔ دھوئئیں کے بادل سے اسکے اورحماد کے بیچ حائل ہونے لگے
    اس نے پکارنا چاہا ۔۔ اسکی زبان گنگ سی ہوگئ۔ بری طرح خوفزدہ ہو کر اس نے پکارنا چاہا۔ کہ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ سرسری سی طائرانہ نگاہ کلب پر ڈالتا باہر نکلنے کو تھا کہ عجیب سا احساس ہوا۔ وہ بڑھتے بڑھتے رک کر پلٹ کر دیکھنے لگا۔۔ نیم تاریک اس کونے میں گلابی دوپٹے سے ڈھکاشناسا وجود۔میز پربازوئوں میں سر رکھے اسے مغالطہ ہوا تھا کہ کیا اسے لگا وہ کانپ رہی ہے۔ اس نے پلٹ کر گوارا وغیرہ کو دیکھا وہ سب ڈانس فلور پر ناچنے میں مگن تھے۔
    وہ کچھ سوچ کر اسکے پاس چلا آیا۔
    ہلکے سے گلا کھنکار کر پوچھا۔
    اریزہ شا۔ گھر جانا ہے ؟
    اسکے سوال کے جواب میں کوئی ردعمل سامنے نہ آیا تھا۔
    اریزہ۔۔
    اس نے جھک کر اسکو دیکھنا چاہا۔
    اسکا چہرہ چھپا ہوا تھا دوپٹے میں۔ مگر اسکو دیکھنے پر اندازہ ہوتا تھا وہ لرز رہی ہے۔
    حم۔ حماد۔ بھ۔ بھائی۔
    وہ شائد کچھ بڑبڑا بھی رہی تھی۔۔
    اریزہ۔۔۔
    اس نے ذرا سا جھک کر اسکا کندھا ہلایا۔
    اسکی ایکدم سے آنکھ کھلی تھی۔ ملگجا اندھیرا۔ نا مانوس ماحول شور۔ اسکی سانس بند ہونے لگی۔ وہ خواب سے جاگ کر بھئ جاگ نہ سکی تھی۔
    اریزہ۔
    ہایون نے جھک کر اسے ہلایا۔وہ ایکدم جھٹکے سے اٹھی اسکا بازو اس نے پوری قوت سے دور کیا تھا۔ اسکے منہ سے گھٹی گھٹی سی آوازیں نکلی تھیں جیسے وہ چلانا چاہ رہی ہو۔مگر آواز نہ نکل رہی ہو۔
    حم۔۔ ۔۔ وہ پکار رہی تھی مگر لفظ منہ سے نکل نہیں رہے تھے۔
    اریزہ۔ اسکی حالت سے گھبرا کر اس نے اسکو کندھوں سے تھامنا چاہا مگر اس نے بری طرح اسکو جھٹک کے پیچھے کیا۔ اسکا ہاتھ ہایون کی ناک پر لگا تھا۔ مگر وہ پھر بھی اسے تھامنے آگے بڑھا۔ اسکو سانس لینے میں سخت دشواری کا سامنا ہو رہا تھا۔ بری طرح ہانپتے ہوئے اس نے کھڑا ہونا چاہا مگر آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا۔
    اریزہ۔
    وہ اسکے قریب آنے پر مزید بوکھلا رہی تھی۔ اس بار اس نے اسے تھامنے کی کوشش کرنے کی بجائے پکارنے پر اکتفا کیا۔فل بجتی موسیقی میں اسکو کافی زور لگا کر پکارنا پڑ رہا تھا۔
    اریزہ ۔۔ اریزہ۔۔۔اس نے زرا زور سے پکارا۔
    اس تیسری آواز پر اس نے پہچانا تھا اسے۔ اسکی آنکھوں میں شناسائی کی رمق دیکھ کر وہ ہمت کرکے اسے تھامنے بڑھا مگر لمحہ بھر کی ہی بات تھی ہانپتے ہوئے وہ لہرائی سہارے کیلئے کرسی کو تھامنا چاہا مگر ناکام ہوتے کھڑے قد سے لہرا کر زمین پر گر سی گئ۔ہایون دم بخود سا اسے گرتا دیکھ رہا تھا۔
    کین چھنا۔ وہ گھبرا کے اسکی جانب بڑھا۔ پھر خیال آیا۔تو انگریزی میں بولا۔
    آر یو آل رائٹ؟ اریزہ؟
    ہایون نے آگے بڑھ کر سہارا دینے کیلئے ہاتھ بڑھایا وہ خالی خالی۔نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس بڑے سے سیون الیون کے باہر سجی میز کرسی پر وہ بیٹھی اپنی ہتھیلیاں مسل رہی تھی۔ ہایون بنانا ملک اور چیز سینڈوچ خرید کر لایا لا کر اسکے سامنے میز پر رکھا۔
    اس نے خجل سا ہو کر سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھی۔ ہایون نے سفید براق اپر پہن رکھا تھا۔ اسکا ہاتھ لگنے سے اسکی نکسیر پھوٹ گئ تھئ۔ اسکے اپر پر خون کے کئی چھوٹے چھوٹے دھبے تھے۔۔
    اس نے ناک کے نتھنے میں ٹشو رول کرکے رکھا ہوا تھا۔
    بیانئے۔ اس نے کہتے ہی سر جھکا لیا تھا۔
    بیانئے خود سے کہو پہلے۔۔۔ وہ تیز ہو کر بولا۔
    تمہیں پتہ ہے کتنا ذیادہ بی پی لو تھا تمہارا۔ بیہوش ہوتے ہوتے بچی ہو۔ کھانا نہیں کھایا ہوا تھا کیا تم نے؟
    اس نے سر جھکائے جھکائے ہی نفی میں سر ہلایا
    ہائش۔ اسکو اندازہ تھا۔ بس سر پیٹ کر رہ گیا۔
    چلو یہ کھائو۔ پیور ویج ہے۔
    اس کے تسلی دلانے پر اس نے سینڈوچ کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
    بھوک تو اسے واقعی لگ رہی تھی۔ مگر یہ خواب جانے کب اسکا پیچھا چھوڑنے والے تھے۔ اسے خود پر شدید غصہ آرہا تھا۔ جتنا وہ خود کو مضبوط بنانا چاہتی تھی اتنا کمزور پڑ جاتی تھئ۔
    ہایون نے اپنے لیئے کاربونیٹڈ ڈرنک لیا تھا۔ اسکے مقابل بیٹھ کر وہ گھونٹ گھونٹ ختم کرنے لگا۔
    تم ڈرائونا خواب دیکھ رہی تھیں؟
    ہایون کو اپنا وقت یاد آگیا تھا سو نرمی سے پوچھا
    اریزہ نے سر مزید جھکا لیا۔ یقینا وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہ رہی تھی۔
    تم لوگ عید کیسے مناتے ہو؟ میرا مطلب ہے پاکستان میں بھی کانسرٹ میں جاتے ہو ؟ ایسے ایونٹس ہوتے ہیں وہاں؟
    وہ بات بدلنے کی غرض سے پوچھ رہا تھا۔
    نہیں۔ وہاں ہم رشتے داروں کے گھر ملنے ملانے جاتے ہیں۔ دوستوں سے ملتے ہیں گھومنے پھرنے کا پروگرام بناتے ہیں۔ اور۔۔
    اس نے سوچنا چاہا مگر احساس ہوا۔ پچھلی کئی عیدیں بیڈ پر اینڈتے امی کی صلواتیں سنتے گزاری ہیں۔ سنتھیا آجاتی تھی تب وہ بستر سے طلوع ہوتی تھی۔ تب امی کو اور غصہ آتا تھا۔ جب تیار ہو کر دونوں نیچے تو آجاتی تھیں مگر ڈائٹنگ کے نام پر انکی پکائی ایک چیز کو ہاتھ لگانے کو تیار نہ۔ہوتی تھیں
    ناقدری ہو تم۔ ارے نصیب والوں کو عید کےدن اتنی نعمتیں نصیب ہوتی ہیں اور تم ناشکری کرتی ہو۔ اچھے سے اچھا کھانے کو موجود ہے پورا مہینہ اسکی رضا کیلئے بھوک ماری ہے تو آج اسکی نعمت کا شکر اداکرو۔۔ نماز پڑھو جی بھر کھائو خوش ہو۔ مگر یہ آج کل کی نسل ہی ایسی ہے۔ انکا سوچو جو عید کے دن بھی فاقے کررہے ہوتے ہیں کتنوں سے خوش نصیب ہو کیا یہ شکر کا مقام نہیں؟ نعمتوں سے منہ موڑنا ناشکری ہوتا ہے کسی دن عید پر اپنے ہاتھوں سے منہ میں نوالے ڈالنے والی ماں پاس نہ ہوگئ تو احساس ہوگا۔
    ہر دیسی ماں کی طرح آخر میں وہ ایموشنل بلیک میلنگ پر اتر آتی تھیں۔اور وہ دونوں انکے دائیں بائیں کندھے پر جھک کر انکے گال چوم لیتی تھیں۔
    اچھا نا صارم سے کہیں پہلے ہمیں گھما لائے پھر ہم پکا رات کو یہ سب کھائیں گے۔ وعدہ۔
    کرما تھا یا مکافات عمل اسکے سامنے آگیا تھا۔ عین عید کے دن بھوک سے نڈھال ایک اجنبی کی عنایت ۔۔۔ اس نے جھر جھری سی لی تھی۔
    تمہیں پینک ڈس اوڈر( Panic disorder) ہے؟
    ہایون نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے اچانک پوچھا تھا۔ وہ بری طرح چونک کے دیکھنے لگی تھی اسے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اریزہ میری ناک دیکھو مجھے لگ رہا ہے مزید ڈھے گئ ہے۔۔
    لفٹ میں لگے شیشے میں اپنا چہرہ دیکھتی گوارا پریشان ہو اٹھی تھئ۔ اس نے شیشے سے ناک چپکا رکھی تھی۔ جبھی یہ وہم ہو رہا تھا۔
    نہیں بالکل ٹھیک ہے ادھر مت دیکھو۔
    اریزہ نے اسکوبمشکل پیچھے کیا وہ لہرا کر دوبارہ شیشے پر آرہی اسکا منہ سیدھا شیشے پر لگتا جبھی اس بے فورا اپنی ہتھیلی آگے کردی۔ ٹھک سے اسکی ناک اسکی ہتھیلی پر لگی تھی۔
    اس طرح مدہوش ہونے میں کیا مزا آتا ہے تم لوگوں کو۔
    وہ خاصا چڑ کر بولی تھی۔
    جوابا یون بن ہنسا تھا۔
    یہ گوارا ایسے ہی کرتی ہے۔ میں تومدہوش نہیں ہوتا۔
    وہ کہہ کر ہایون کے کندھے پر سر ٹکا گیا۔
    ہایون یار اس لفٹ سے کہو اوپر جائے یہ دائیں جانب جارہی ہے۔۔
    اریزہ نے تاسف سے دیکھا۔۔ ہایون اسکی جھلاہٹ پر ہنس دیا۔
    میں نے پہلی دفعہ کسی کو کوئی ایسا تہوار مناتے دیکھا ہے جس میں شراب کا عمل دخل نہیں تھا۔
    ہایون نے کہا تھا۔ اسے لگا تھا اریزہ کوئی وضاحت دے گی مگر وہ چپ رہی۔ تبھی لفٹ کا دروازہ کھل گیا۔ گوارا جو ابھی تک اسکی ہتھیلی سے ناک چپکائے کھڑی تھی ایکدم سے لفٹ کا دروازہ کھلتے ہی باہر نکلنے لگی
    ارے رکو۔ اریزہ فورا مستعد ہوئی مگر تب تک وہ لفٹ کے باہر دراز ہوچکی تھی۔ ہایون نے یون بن کو چھوڑا او رآگے بڑھ کر اسے اٹھانے لگا۔
    گوارا نے ہڑبڑا کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
    میری ناک گر گئ۔
    کوئی نہیں گری لگی ہوئی ہے منہ پر۔
    اریزہ چڑ کر بولی۔
    یون بن اور ہایون اسے اور گوارا کو اپارٹمنٹ تک چھوڑنے آئے تھے۔ گوارا مکمل طور پر مدہوش تھی۔۔ یون بن بھئ جھوم رہا تھا مگر اسکا حال اتنا خراب نہ تھا۔ ہایون گوارا کو سہارا دیئے تھا
    اریزہ میری ناک گر گئ باہر اٹھا لائو۔۔۔۔سیلیکون کی ہوگی۔۔
    بہت۔۔
    گوارا دہائی دے رہی تھی۔
    ابھی اصلی ہی ناک ہے تمہاری اور لگی ہوئی ہے منہ پر تمہارے۔
    نہیں گر گئ وہاں گری تھی میں نا تو۔۔ لا کر لگا دو واپس۔ میں لاتی ہوں
    وہ دہائیں دے رہی تھی۔ ہایون نے اسے صوفے پر لا کر بٹھا یا تواٹھ کر جانے لگی۔
    اریزہ کو اسکی بات پر اس بار ہنسی ہی آگئ تھی۔ ہلکے سے اسکی ناک دبا کر تسلی دی۔
    یہ لو لگا دی واپس۔
    تھائی نیئے۔اس نے اپنی ناک چھو کر تسلی کی۔ پھراطمینان ہوا تو دوبارہ بیٹھی۔۔ پھر خیال آیا تو بیٹھے بیٹھے رکوع میں اریزہ کے سامنے جھک گئ۔
    گوما وویو اریزہ۔۔ تم بہت اچھی ہو میری ناک واپس لگا دی۔
    ہایون نےیون بن کا کندھا تھپتھپایا۔
    اچھا میں جا رہا ہوں تم نے چلنا ہے۔
    جوابا یون بن مزید صوفے پر ںیم دراز ہو گیا۔
    آنیا۔۔ بالکل ہمت نہیں۔۔۔
    اس نے کہہ کر آنکھیں بھی بند کر لیں۔ اریزہ گوارا کو اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
    گوارا اندر کمرے میں چل کر لیٹ جائو۔۔
    دے۔ ( اچھا) اٹھتی ہوں۔۔
    وہ اسکا چہرہ تھپتھپا رہی تھی گوارا نے بات سمجھ کر اٹھنا چاہا مگر لہرا کر دوبارہ گر گئ صوفے پر۔ اریزہ اسے اٹھانے کے چکر میں خود بھی گرتے گرتے بچی تھی۔
    اریزہ انکو یہیں چھوڑ دو۔۔
    ہایون نے کہا تو وہ سر ہلاکر رہ گئ۔ ہایون نے ہلکا سا سر جھکا کر کہا
    کرم۔۔۔۔۔۔
    یہ اسکا خدا حافظ کہنے کا انداز تھا۔۔ وہ اسکی جانب دیکھنے سے احتراظ برت رہی تھی سو بس سر جھکانے پر اکتفا کیا۔
    ہایون کو نکلتے نکلتے یاد آیا تو مڑا۔ وہ جو اپنی جھونک میں سر جھکائے اسکئ پہچھے آرہی تھی ٹکراتے ٹکراتے بچی۔
    یہ یون بن کی گاڑی کی چابی ہے دے دینا اسے۔
    اسنے جیب سے چابی نکال کر اسے تھمائی
    دے۔ اس نے سر نہ اٹھایا۔
    ہایون کے نکلتے داخلی دروازہ لاک کرکے جب مڑی تو گوارا اور یون بن خراٹے بھر رہے تھے۔اس نے چابی سامنے میز پر رکھی۔ لائونج کی کیبنٹ سے کمبل نکال کر ان دونوں پر ڈالا۔ مڑ ی تو دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
    ہائے اللہ۔۔ اس نے فورا دل پر ہاتھ رکھا تھا۔
    سامنے دروازے میں ہوپ سرخ آنکھیں لیئے گھور رہی تھی۔
    ابھی مزید کوئی اس ویک اینڈ سوپ کی قسط آنی ہے یا میں اب سو جائوں؟
    دے ؟
    اتنی ہنگل آتی ہوتی تو کورین ہی ہوتی وہ۔ آنکھیں پھاڑیں۔ ہوپ نے چڑ کر اس بار اپنی بات کا انگریزی ترجمہ کیا۔
    آنیا۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
    یہ آخری قسط تھئ۔
    اس نے اپنی جانب سے تسلی دی تھی۔ مگر وہ گھورتی ہوئی پلٹی اور دھماکے سے دروازہ بند کیا۔
    گوارا چونک کے اٹھی تھی۔
    اوہ۔۔ اریزہ میری ناک باہر ہی رہ گئ ۔۔ وہ اب لڑکھڑاتی اٹھی اور دروازے کی جانب جانے لگی۔
    اریزہ نے دانت کچکچا کر گھونسا بنا کر اس کمرے کے دروازے کو دکھایا جس میں ابھی ہوپ گھسی تھی ۔۔
    آنیا۔ میں نے لگا دی ناک واپس گوارا۔
    اس سے قبل گوارا دروازہ کھول کے باہر نکل جاتی وہ کہتی ہوئی فورا اسکے پیچھے بھاگئ۔ جوابا گوارا باہر جاتے جاتے رکی احساس تشکر سے اسکی جانب پھر جھک گئ۔
    گوما وویو تم بہت اچھی ہو اریزہ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چہرے پر کالے نقاب چڑھائے بالوں پر کالے ہی پی کیپ۔
    وہ تینوں ہاسٹل کی دیوار پرسے کود کر نیچے اترے تھے۔ کیمپس لان میں ہو کا عالم تھا۔ اونچے اونچے درخت ملگجا اندھیرا جھینگروں کی آوازیں۔مگر یہ وقت ان چیزوں پر غورکرنے کا نہیں تھا۔ہاسٹل کا داخلی دروازہ بند تھا۔کم سن نے ہلا جلا کر دیکھا بند تھا۔ حسب عادت سالک آگے بڑھ کر کارڈ سوائپ کرنے لگا تو کم سن نے اسکا بازو پکڑ کر پیچھے کیا
    تمہیں کیا لگتا میرے پاس کارڈ نہیں۔ رات کے تین بجے کارڈ سوائپ کروگے تو کیا بچوگے تم؟ آخری بندہ کون داخل ہوا اسکا ریکارڈ بن جائے گا پھابو۔
    اسکے ڈانٹنے پر سالک ہونق ہو کر پوچھنے لگا
    پھر کیا کریں۔
    کم سن اسے دیکھ کر رہ گیا۔
    اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ پھر ہاسٹل کے پچھلے حصے کی جانب انہیں لیکر آیا۔ ایمرجنسی سیڑھیوں کے اختتام پر ممٹی سی بنی تھی وہاں رات گزاری جا سکتی تھی۔
    مگر دروازے پر موٹا تازہ تالا تھا۔ تازہ اسلیئے کہ نیا نیا لگتا تھا۔
    شاہزیب نے ادھر ادھر دیکھا پھر کیاری کے کنارے سے بڑا سا پتھر اٹھا کر لایا۔ اس سے قبل کے دروازے کے تالے پر پوری قوت سے مار کر توڑ ڈالتا کم سن نے جیب سے چابی نکالی اور تالا کھول دیا۔
    دونوں منہ کھولے اسے دیکھ رہے تھے۔
    کھاجا۔ کم سن نے مسکرا کر انکو آنے کا اشارہ کیا۔ چار منزلہ سیڑھیاں چڑھ کر ٹیرس سا تھا۔ وہاں ایک کونے میں پیٹی سی رکھی تھی۔ اس نے پیٹی سے تین کمبل نکالے ۔۔
    واہ یہاں تو پورا انتظام ہے۔
    سالک متاثر ہونے والے انداز میں بولا
    یہ اضافی کمبل وغیرہ یہاں رکھے جاتے تھے ۔ یہ جگہ ہم نے اتفاقا دریافت کی تھی۔ ورنہ اب تو اضافی سامان کیلئے ہاسٹل میں علیحدہ اسٹور بن چکا ہے۔ یہاں تو کوئی آتا بھی نہیں۔۔۔۔میں یون بن اور اکثر ہایون بھی ہمارے ساتھ یہاں چل کرتا ہے۔ کم سن نے بتایا تو شاہزیب نے سر ہلایا۔
    میرے ہاسٹل میں سالک اور ایڈون بھی اکثر ایسے دھاوا بولتے تھے۔ میرے کمرے میں ہر چیز تین کے حساب سے ہوتی تھی۔
    ایڈون کو تم لوگوں کے ساتھ اتنا دیکھا تو نہیں ہے ایک لڑائی کے بعد دوستی ختم ہوگئ ہے تم لوگوں کی۔
    کم سن ٹیرس کی ریلنگ سے کمر ٹکاکر سگریٹ سلگا رہا تھا
    نہیں رویہ تو اسکا ٹھیک ہے ہمارے ساتھ بس وہ اب سنتھیا کو ذیادہ وقت دیتا ہے۔ دینا بھی چاہیئے۔ گرل فریںڈ ہے آخر۔
    شاہزیب کا انداز سادہ سا تھا۔
    ہممم۔ یون بن بھی اب ہمارے ساتھ کم گوارا کے ساتھ ذیادہ نظر آتا ہے۔
    کم سن متفق تھا۔۔۔
    ایک بات پوچھوں؟ سالک دیوار سے ٹیک لگائے کمبل اوڑھے سکون سے بیٹھا تھا۔
    کم سن نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا۔ یہ اشارہ تھا کہ کیا پوچھنا ہے؟
    تمہیں گوارا کے بعد کوئی لڑکی پسند ںہیں آئی؟ میرا مطلب تم اتنے وجیہہ ہو یہاں اتنی پیاری لڑکیاں ہیں پھر ابھی تک سنگل کیوں ہو ؟
    سالک نے سیدھا سوال کیا۔ کم سن ہنس پڑا۔
    مجھے تو پسند آجائے گی اسے میں پسند کیسے آئوں گا ؟۔ نہ میں ہایون کی طرح کا امیرزادہ ہوں نہ یون بن کی طرح کھاتے پیتے گھر کا۔۔۔ اپنے اخراجات پورے کیسے کروں جس کا دماغ یہ سوچتا رہتا ہو وہ محبت کا کھڑاگ کیسے پال سکتا ہے۔
    اسکے سوال میں دم تھا۔ سالک متفق ہو کر سر ہلانے لگا۔
    صحیح کہہ رہے ہو۔
    غلط کہہ رہے ہو۔
    شاہزیب نے فورا نفی کی تھی۔ کم سن اور سالک دونوں نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔
    محبت کا کھڑاگ پالا نہیں جاتا محبت ہو جاتی ہے۔ اگر یہ اختیاری معاملہ ہوتا تو غریب ہمیشہ سوچتے رہ جاتے صرف امیر ہی محبت کیا کرتے۔ شاہزیب کا انداز فلسفیانہ تھا۔
    ہاں اس بے چارے کے حالات تو تم سے بھی خراب پھر بھی محبت ہوگئ تھی اسے۔
    سالک نے اسکا مزاق اڑایا تھا۔ شاہزیب نے پاس پڑا کمبل اٹھا کے اسکے منہ پر مارا تھا۔
    بکواس کیے جا بس۔ وہ ہنسے گیا۔ شاہزیب کا منہ سرخ ہو رہا تھا۔۔
    اچھا پھر کیا ہوا ۔۔۔
    کم سن کو دلچسپی ہوئی۔
    اسکا مزہب مختلف تھا۔ بلکہ مزہب نہیں فرقہ کہنا چاہییے۔ اس بے چارے کی ہمت بھی نہ ہوئی اسے پرپوز کرنے کی۔ ابا کا ڈنڈا ذیادہ خطرناک تھا۔ اسکے نزدیک۔
    ابا کا ڈنڈا؟۔۔۔ کم سن بھونچکا سا ہوا۔
    یہ لوگ با محاورہ انگریزی ترجمہ نہیں کیا کرتے تھے بس روز مرہ کی عام گفتگو کا جو ترجمہ بنے وہی چپکا دیتے پھر جو چل سو چل۔۔۔۔
    ابھی بھی ابا کے ڈنڈے کو ابا کا ڈنڈا ہی کہا تھا انگریزی میں۔
    میرا مطلب ہے ابا نے مار مار کر بھرکس بنا دینا تھا سخت مزہبی ہیں اسکے ابا۔
    سالک نے وضاحت کی۔
    والد نے تو شادی نہیں کرنی تھی۔
    کم سن کو یہ منطق سمجھ نہ آئی۔
    خیر اس لڑکی نے کونسا مان جانا تھا۔۔
    شاہزیب نے گہری سانس لیکر کہا۔
    بس اتنی آہیں نہ بھر ۔۔۔۔پہوا کچھ ذیادہ ہی خنک لگنے لگی ہے
    سالک کو اپنے مزاق پر افسوس بھی ہوا خوامخواہ اسے اداس کردیا۔ شاہزیب اسکے کندھے پر سر رکھ کر دراز ہو گیا تھا۔ اب اگر ہمدردی مل رہی تھی تو کیوں نہ پرسکون ہو کر سو ہی جایا جائے۔سالک اب اس پر کمبل ڈال رہا تھا۔
    کم سن نے کندھے اچکا کر رخ بدل لیا۔
    ان لوگوں کو تو آپس میں جتنی انسیت ہے انکو گرل فرینڈ ملنی بھئ نہیں ہے۔۔
    یہ اسکا خیال تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جو اللہ کی وحدانیت پر یقین نہیں لائے وہ کفر کی حالت میں ہی انتقال کر گئے۔ جس نے زندگی بھر اللہ کو نہ پہچانا اسکے لیئے مرنے کے بعد بخشش کی دعا کرنا نہ کرنا بے معنی ہے۔۔
    وہ ان عالم دین کے پاس اپنی ماں کے ایصال ثواب کے لیئے اپنائے گئے طریقے کے بارے میں پوچھنے آیا تھا۔۔آخر کیا طریقہ اختیار کرے؟ مگر انکا جواب مفصل اور توقع کے برخلاف تھا۔اس وقت وہ اپنے گھر کے بڑے سے کمرے میں بیٹھے تھے۔ اس جیسے کئ نو مسلم اور دیگر ممالک کے مسلم طلباء انکا لیکچر لینے آئے تھے۔ فرشی نشستوں پر ایک علمی مجلس جاری تھی۔۔ ایک بندہ سوال کرتا ۔ سب خاموشی سے سنتے تھے۔ اب اسکی باری تھی اپنے ذہن سے سب شکوک و شبہات دور کرنے کی۔
    وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے ہونٹ بھینچے انکے سامنے بیٹھا ضبط کے کڑے مرحلے سے گزر رہا تھا۔
    اللہ نے اپنے رسول ص کو سرکش کافروں کیلئے دعا کرنے سے بھی منع کیا تھا۔ انکو جہنم کا عزاب دیا ہی جانا ہے اسکو ٹالا نہیں جا سکتا۔ تمہاری ماں تمہارے لیئے بے حد عزیز سہی مگر چونکہ کفر کی حالت میں دنیا سے گئ ہے اسکے لیئے تم چاہے قرآن بخشو یا کچھ بھی اس تک اسکا ثواب نہیں پہنچے گا۔۔۔ ان مفتی صاحب نے رسان سے سمجھایا تھا۔
    مگر میں اپنی بیوی کیلئے بھی فاتحہ خوانی کرواتا رہا ہوں۔
    اس نے صفائی دینی چاہی۔
    تمہاری بیوی مسلمان تھی؟
    انہوں نے الٹا سوال کیا۔ اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلادیا
    یہی معاملہ اسکے ساتھ بھی ہے۔
    انہوں نے لگی لپٹی رکھے بنا کہا۔ وہ مایوس سا ہو کر اٹھا آیا۔
    عبد الھادی اسکا گھر کے باہر انتظار کر رہے تھے۔
    وہ خاموشی سے پسنجر سیٹ پر آن بیٹھا۔
    وہ گاڑی اسٹارٹ کرنے کی بجائے رخ موڑ کر اسے تکنے لگے۔ وہ بے حد مایوس اور آزردہ نظر آرہا تھا۔
    کیا کہا انہوں نے؟
    وہ پوچھے بنا نہ رہ سکے۔ اس نے جوابا آہ بھری او رنشست کی پشت سے سر ٹکا لیا۔
    کہتے ہیں کوئی فائدہ نہیں انکے ایصال ثواب کیلئے کچھ بھی کرنے کا۔ آپ غلط تھے۔ مجھے رچل کیلئے بھی فاتحہ خوانی نہیں کرانی چاہیئے تھی۔
    عبدالھادی گہری سانس لیکر سیدھے ہو بیٹھے۔
    جب میں بڈھسٹ تھا تو مجھے ایک امید ہوتی تھی اس زندگی میں کچھ برا ہوا بھی تو میں دوبارہ دنیا میں آئوں گا۔ یہ نہ سہی اگلی زندگی اچھی ہوگی اچھے اعمال کروں گا تو میرے ساتھ اچھا ہوگا برا کروں گا تو برا۔ اسلام نے تو مجھ سے یہ امید ہی چھین لی ہے کہ شائد میں دوبارہ کبھی ہمیشہ کیلئے بچھڑ جانے والے اپنے پیاروں کو دوبارہ دیکھ بھی پائوں گا۔
    تلخی سے کہتے اسکی آواز ڈوبتی سی گئ۔ اس نے چند لمحے ہونٹ بھینچ کر خود پر قابو پانے کی کوشش کی پھر مڑ کر ان سے پوچھنے لگا۔
    میری ماں جہنم میں جائے گی میری بیوی بھی۔ میرا عقیدہ ہے کہ میں اپنے ہر گناہ کی سزا پاکر بھی اپنے ایمان کی وجہ سے جنت میں جائوں گا۔ تومیں ان دونوں سے تو ہمیشہ کیلئے بچھڑ گیا نا ؟میں تو انکے لیئے دعا بھئ نہیں کر سکتا۔ ۔۔۔۔ مجھے اجازت نہیں۔۔۔
    عبد الھادی نے خاموشی سے سامنے دیکھتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کر دئ۔ گاڑی کو پہلے تھوڑا سا پیچھے کیا پھر گاڑی سیدھی کرکے دائیں جانب موڑ کر سڑک پر لے آئے۔۔۔۔۔
    دنیا میں ہمیں سب سوال ہاں یا نہیں میں نہیں ملتے۔ کبھی کبھی سوچ کا زاویہ موڑنا پڑتا ہے تھوڑی لچک دکھانی پڑتی ہے۔ وہ زرا سا رکے۔۔ علی بے تاثر چہرہ لیئے سامنے سڑک پر نگاہ جمائے تھا۔ وہ اندازہ نہ لگا سکے کہ وہ سن رہا ہے کہ نہیں۔۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھی۔۔
    کیوں؟ کیونکہ اللہ ہمیں خود سے اچھی امید رکھنے کا کہتا ہے۔ کہتا ہے دعا مانگو میں تقدیر بدلنے پر قادر ہوں۔
    امید اور دعا ایک مسلمان کی زندگی کا بہترین اثاثہ ہوتے ہیں۔
    نا امیدی تو کفر ہے بیٹا۔۔۔ اللہ بہت بے نیاز ہے۔۔۔ کیا خبر وہ تمہاری دعائیں تمہاری ماں کے حق میں قبول لےکیا خبر تمہارا دعائیں مانگنا خدا کو اتنا پسند آئے کہ وہ تمہیں وہ سب دے دے جو تم مانگو۔ حقوق اللہ تو اللہ کا معاملہ ہیں۔ اس سے کیا بعید کہ معاف کردے۔ تم اس امید پر عمل جاری رکھو صلہ اللہ کی مرضی۔
    وہ کندھے اچکاکر بولے۔
    مفتی صاحب کہتے ہیں کافروں کیلئے دعا کرنے کیلئے اللہ نے رسول ص کو منع کیا تھا۔
    وہ بے چین سا ہوا۔۔
    بے شک۔ مگر وہ اللہ اور رسول ص کا معاملہ تھا۔ جن سرکش کافروں کیلئے ہدایت کی دعا کیلئے منع کیا گیا تھا انہوں نے سرکشی اور ایزا رسانئ کی ہر حد پار کی تھئ۔۔۔۔ان جیسے تو مسلمان بھی ہو سکتے ہیں جو نام کے مسلمان ہوں منافق ہوں دل کہیں جھکتے ہوں زبان کچھ اور کہتی ہو جنہوں نے دنیا میں انسانوں کو بانٹ رکھا ہو فساد مچا رکھا ہو انکے قول فعل میں تضاد ہو جو کافر نہ سہی منافق ہوں۔ اور کافر اور منافق جہنم میں سب سے نچلے درجے پر اکٹھے کر دیئے جائیں گے۔ ایسے مسلمان اور کافر میں فرق ہے بھی تو کیا فائدہ؟ اسی طرح دنیا میں کوئی ایسے بھی کافر ہوں گے جن سے لوگوں کو فیض پہنچا جن کے لیئے کسی کے دل سے دعا نکلی ہو جن کا ایک عمل انکے لیئے صدقہ جاریہ بن گیا ہو جن کی اپنی بندوں پر رحم کرنے کی عادت اللہ کو اتنا خوش کردے کہ وہ ان پر رحم کردے انہیں جہنم کا ایندھن نہ بنائے۔
    قیامت تک کی مہلت ہم سب کو دی گئ ہے۔ اگر ہاں اور نہیں پر جہنم دوزخ کا فیصلہ ہونا ہوتا تو قیامت کا انتظار کیوں سیدھا مرنے کے بعد دوزخ یا جنت میں کیوں نہیں پہنچا دیئے جاتے ؟ اسی لیئے کہ شائدکسی کاایسا کوئی ایسا عمل ہو جو قیامت تک ثواب کا سلسلہ جاری رہے اور اسکے گناہوں کا پلڑا ہلکا پڑ جائے۔
    وہ جو کہنا چاہ رہے تھے انہیں علی کی شکل دیکھ کر اندازہ نہیں ہوپایا کہ وہ اپنی بات سمجھانے میں کامیاب ہوئے ہیں یا نہیں۔ سو مزید کچھ بھی کہنے کا ارادہ ترک کردیا۔ علی خاموشی سے سامنے دیکھ رہا تھا۔ سامنے سیدھی سڑک تھی۔
    مگر سیدھی سڑک پر کب کہاں سے کوئی رکاوٹ آجائے کیا خبر تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔۔
    جاری ہے

    Kesi lagi apko Salam Korea ki qist ?Rate us below

    Rating

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
    کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
    آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
    دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
    پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

    Home » best urdu novels » Page 4

  • Salam Korea Episode 17

    salam korea
    by vaiza zaidi

    Salam Korea Episode 17

    قسط 17
    اس نے جلدی جلدی جو سمجھ میں آیا بیگ میں ڈالا ویسے تو بیگ تیار کر ہی لیا تھا اس نے پھربھی ابھی لگ رہا تھا دو تین چیزیں یہیں چھوڑ جائے گی۔
    گوارا کو ہلا کر اپنے جانے کا بتایا وہ اوں آں کرکے سوگئ۔
    ایڈون نے اسکے فون پر مس کال دی تو جلدی سے اپنا پرس بیگ اٹھاتئ وہ باہر نکل آئی۔ لفٹ آنے میں وقت تھا وہ یونہی سر گھما کے ادھر ادھر دیکھتی رہی۔ لفٹ کے سامنے ہی دائیں جانب اوپر کو جانے والی سیڑھیاں تھیں جن پر آج اسکی نظر پڑی۔ یعنی اس سے اوپر بس چھت تھی۔
    اسکا دل کیا کہ سیڑھی چڑھ کر چھت دیکھ آئے مڑنے ہی لگی تھی کہ لفٹ آگئ۔ ایڈون اسکے انتظار میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔وہ اسے گھور کر رہ گئ۔
    تم مجھے کل بتا دیتے کہ اس سے رابطہ نہیں ہو پارہا۔ حد ہے۔ مجھے تو لگا تھا تم دونوں ویک اینڈ گزارنے گئے ہوئے ہو۔
    جانا تو تھا مگر۔وہ قصدا بات ادھوری چھوڑ کر رہ گیا۔ پورا راستہ وہ دل ہی دل میں دعائیں پڑھتی آئی۔ سر پر دوپٹہ رکھ کر آیت الکرسی چاروں قل جو سمجھ آیا آنکھیں بند کرکے سنتھیا کو تصو رکرکے پھونک بھئ دیا۔ایڈون اسکے برابر ہی بیٹھا تھا۔ اس نے اسکی حرکت دیکھی مگر بولا کچھ نہیں۔
    ٹیکسی سے اتر کر ایڈون گھوم کر اسکے پاس آیا۔ وہ اس وقت ہاسٹل کے گیٹ پر کھڑے تھے۔۔
    تم مجھے کال کر دینا میں تمہیں خود اچھا سا ناشتہ کروا کر ڈراپ کروں گا وعدہ۔۔
    روزہ ہے میرا۔
    ایڈون کی آفر پروہ چڑ کر بولی پھر ۔ سر جھٹکتی تیز تیز قدم اٹھاتی وہ سیدھا ہاسٹل کی جانب بڑھ گئ۔ اسکو فکر ہو رہی تھی سو بھاگتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ ڈالیں اوپر آنے سے اسکی سانسیں پھول چکی تھیں۔۔ وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔ دروازہ کھولا تو سنتھیا کو آرام سے بیڈ پر دراز کانوں میں ہنڈز فری چڑھائے پائوں ہلاتے ہوئے گانے سننتے گنگناتے اور کوئی کتاب پڑھتے پایا۔۔
    کھٹکے پر بھی سر نہ اٹھایا۔ اریزہ اسے گھور کر رہ گئ۔
    فون کہاں ہے تمہارا؟۔۔ اس نے آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ پلیئر میں سے سن رہی تھی ۔۔اس نے آگے بڑھ کر اسکی ہینڈ فری کھینچی۔۔ سنتھئا نے گھور کر دیکھا۔
    فرصت مل گئ واپسی کی۔۔۔ خیال آگیا میرا۔ کوئی اندازہ ہے پچھلے تین دن سے اکیلی پڑی ہوں اس کمرے میں۔
    وہ الٹا اریزہ پر چڑھ دوڑی۔ اسکا منہ کھلا رہ گیا۔
    ارے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ میرے ساتھ جانے کو تیار نہ ہوئیں کہ ایڈون کے ساتھ جانا ہے۔ اور ایڈون کے ساتھ گئ بھی نہیں۔ وہ بے چارہ اتنا پریشان ہو رہا تھا مجھے لیکر آیا ہے کہ تمہارے حالات دریافت کروں۔
    وہ تیز ہو کر بولی۔
    تمہیں ایڈون لیکر آیا ہے؟ وہ چونکی۔ اسے خوشگوار سی حیرت ہوئی۔
    ہاں۔ وہ دھم سے اسکے بیڈ پر گری۔
    اوپر سے اتنا پریشان کردیا کہ تین دن سے تم فون نہیں اٹھا رہیں پورا راستہ دعائیں پڑھتی آئی ہوں ابھئ سیڑھیوں پر۔
    اسکی سانس بولتے بولتے پھول گئ۔
    ابھئ سیڑھیوں پر بھی بھاگتی آئی۔ میرا تو ابھی سے حلق خشک ہوگیا۔
    اسکی دہائیاں جاری تھیں
    میں پانی لاتی ہوں۔یہ وہ اٹھنے کو تھی اریزہ نے اسکے گھٹنے پر چپت لگا دئ
    روزہ ہے میرا۔
    اوہ ہاں۔ اسے بھی یاد آیا رمضان چل رہا سو اطمینان سے دوبارہ بیٹھ گئ
    پھر لڑائئ ہوئئ ہے تم دونوں کی؟ اریزہ کہنی کے بل اسکے تکیے پر ٹک کر بولی
    نہیں۔ وہ دامن بچا گئ
    پھر فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں اسکا؟۔
    اریزہ کی تفتیش جاری تھی۔
    سنتھیا چپ سی ہوگئ۔
    اسکوسر جھکائے دیکھ کر وہ سیدھی ہوبیٹھی
    کیا ہوا سنتھیا ؟ سب ٹھیک تو ہے نا۔
    وہ دونوں ہاتھ گود میں رکھے ناخن پر سے نیل پالش کھرچتی گہری سوچ میں گم تھئ۔چند لمحے بعد گہری سانس لیکر بولی
    اریزہ مجھے لگتا ہے ایڈون مجھ سے پیار نہیں کرتا۔مجھے لگتا ہے میں اسکے اوپر مسلط ہوں وہ بور ہوتا ہے میرے ساتھ۔۔۔
    اس نے ایسا کہا۔ اریزہ کو غصہ آگیا۔
    سمجھتا کیا ہے وہ خود کو۔ ایک سے ایک لڑکا مل سکتا ہے تمہیں۔ اس سے کہو اپنے نخرے اپنے پاس رکھے۔ بلکہ تم کہو اسے تم بور ہوتی ہو اسکے ساتھ۔
    وہ ایکدم اتنا بھڑک کر بولی تھی کہ سنتھیا کو ہنسی ہی آگئ۔۔
    اسے ہنستے دیکھ کر بھی اریزہ کا غصہ کم نہ ہوا
    تمہارا مسلئہ پتہ ہے کیا سنتھیا تم بہت ہی ذیادہ سویٹ ہو۔ اسی لیئے وہ تمہیں فار گرانٹڈ لے رہا ہے۔
    وہ نتیجے پر پہنچ گئ۔سنتھیا کو اس کے یوں بھڑک اٹھنے پر پیار ہی آگیا۔
    اس نے ایسا کہا نہیں ہے۔ پاگل۔ ایسا کوئی کہہ سکتا بھلا۔
    اس نے ہنس کر بات آئی گئ کرنی چاہی۔
    پھر تم نے بیٹھے بیٹھے کہانی بنا لی،؟ اریزہ کا ارادہ اسے اب آڑے ہاتھوں لینے کا تھا۔
    پتہ ہے ابھئ جان نکلی پڑی تھی اسکی مجھے لینے خود آیا کہ جا کر سنتھیا کو دیکھو۔ اور تم یہاں اکیلی بیٹھی الٹے سیدھے اندازے لگا رہی ہو۔ فون کرکے خیریت بتائو اپنی اب اسے۔
    اسے ہلکا سا ڈانٹتئ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
    میں ذرا اسائنمنٹ دیکھ لوں تمہاری تیار ہے؟اریزہ اس سے پوچھ رہی تھی مگر اس نے جواب نہ دیا
    سنتھیا فون میں لگی تھی اسے اب اریزہ اور ایڈون کو انبلاک کرنا تھا۔۔۔۔
    فون پر انبلاک کرتے ہی ایڈون کی کال آگئ تھی۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں تیار ہو کر اسائنمنٹ سب مٹ کرانے چلی آئیں۔ یونیورسٹی کی داخلی سڑک پر ۔۔ کوئی تقریب کا سماء تھا۔۔ کافی سارے طلبا مختلف ماسک پہنے رنگین لباس میں ملبوس تھے کوئی بے رنگ رین کوٹ پہنے تھا تو کوئی چھتری لیئے گھوم رہا تھا۔ سب ایک دوسرے پر واٹر گن سے رنگدار پانی پھینک رہے تھے۔ غباروں میں پانی بھر کر ایک دوسرے پر اچھال رہے تھے۔۔
    خوشی ہنسی قہقہے۔
    یہ ہولی۔منا رہے ہیں۔
    سنتھیا کو حیرت ہوئئ۔
    ان میں دیسی شکلیں بھی تھیں مگر ذیادہ تر چندی آنکھوں والے ہی تھے۔
    انکا بھئ کوئی کلر فیسٹول ہوتا ہے لگتا ہے۔
    اریزہ نے کندھے اچکا دیئے۔ دونوں راستہ بدل کر ڈیپارٹمنٹ چلی آئیں۔ جی ہائے اور گوارا یہیں تھیں۔
    تم بنا بتائے چلی آئیں میں ایک گھنٹہ تمہیں اپارٹمنٹ میں ڈھونڈتی رہی ۔ ٹیرس سے نیچے جھانکا کہیں گر گرا تو نہیں گئیں ٹوائلٹ بول تک میں ڈھونڈا تمہیں۔ مگر یہ جی ہائے فلش کر چکی تھی مجھے تو لگا تھا۔
    گوارا کا مسخرا پن عروج پر تھا۔ جی ہائے ہنس رہی تھی
    اریزہ نے بے تکلفی سے اسکا بازو دبوچا۔
    کیا کہا مجھے فلش کر دیا جی ہائے نے۔
    اس نے اسی کا سکھایا دائو چلایا تھا۔ وہ بھی حیران رہ گئ
    واہ اریزہ تم تو بہت جلدی سیکھ گئیں۔
    جی ہائے متاثر ہوئی۔۔۔
    بس یہی تو میرا کمال ہے۔
    اریزہ کہہ کر ہنسی گوارا اور جی ہائے دونوں نے ساتھ دیا۔غیر محسوس طریقے سے سنتھیا ان سے چند قدم پیچھے رہ گئ تھی۔تینوں ہنستی بولتی بڑھتی گئیں۔
    وہ دانستہ رک کر دیکھنے لگی شائد اریزہ پلٹ کر دیکھ لے اسکی غیر موجودگی محسوس کرکے۔
    کیسی ہو۔
    ایڈون اسکے کانوں کے پاس گنگنایا۔ وہ دہل سی گئ مگر بظاہر منہ بنا کر بولی
    میں تو اچھی ہوں بس مجھے لوگ اچھے نہیں ملتے۔
    ایڈون اسکے طنز پر آہ بھرتا اسکے برابر ہوا۔
    بس ایک میں ہی تو برا ہوں باقی سب کو کیوں برا کہہ رہی ہو۔
    وہ مزاق میں بات اڑانے کے موڈ میں تھا۔
    ہاں باقی سب نے کیا کیا ہے۔ سنتھیا سوچ کے رہ گئ۔
    بس ایک میں۔۔
    اسکا ذہن سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔
    پھر کیا سوچا ہے؟
    ایڈون جانے کیا بول رہا تھا اسکی بے توجہی محسوس کرکے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجا کر بولا۔
    کس بارے میں۔۔
    وہ چونکی۔
    لو پوری بات کردی میں نے تم سن نہیں رہیں؟ عید پر ہم سب پلان کر رہے ہیں گھومنے جانے کا۔ کیا خیال یےعید کی شاپنگ کے بارے میں۔ کب چلنا؟
    ایڈون نے دہرایا تو وہ کندھے اچکا کر بولی
    نئ شاپنگ کی کیا ضرورت ہے اتنے کپڑے تو لائی ہوں میں۔
    کیوں وہاں تو عید پر نئے کپڑے بنواتئ ہی تھیں۔
    ایڈون نے ٹوکا
    تو وہاں سب تیار ہوتے تھے اسلیئے ہمیں بھی ہونا پڑتا تھا۔ اب یہاں کونسا سب عید منائیں گے۔یہاں تو شائد اریزہ بھی شاپنگ نہ کرے ہم آئوٹ اینڈ آڈ لگیں گے تیار ہو کر۔
    وہ کندھے اچکا کر بولی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیوں لگیں گے آئوٹ اینڈ آڈ۔
    اریزہ تیز ہو کر بولی۔
    بلکہ میں سوچ رہی ہوں کہ ہم پاکستان سے ڈریس منگوائیں۔ ایک جیسا۔ کیسا؟
    وہ دونوں اسائنمنٹ جمع کر وا کر واپس ہاسٹل آرہی تھیں۔
    جتنے میں آئے گا اس سے بہتر یہاں کسی اچھے برانڈ سے شاپنگ کرلو۔
    سنتھیا کی بات میں وزن تھا۔۔
    چلو کچھ کرتے ہیں اسکا بھی۔
    اسکے بھی بات دل کو لگی۔۔۔ سر ہلانے لگی۔
    ویسے یہاں گرمی بھی ذیادہ گرم نہیں سردی کیسی ہوتی ہوگی۔
    اریزہ کو ہوا سرد سی لگی۔ تو اپنے بازو سہلاتے ہوئے حیرت سے بھری دھوپ کو گھورنے لگی
    برف پڑتی ہے یہاں۔ سنتھیا نے یاد دلایا۔
    یار پھر تو ہمیں اسکے لیئے بھی شاپنگ کرنی ہوگی۔
    اریزہ معصوم بنی۔۔ سنتھیا گھور کر رہ گئ۔ تبھی گوارا کی کال آگئ۔
    وہ چلتے چلتے ایکدم رک گئ۔ سنتھیا اپنی جھونک میں کئ قدم آگے بڑھ گئ پھر مڑ کر گھورنے لگی۔
    ابھی اسی وقت۔۔۔ ٹھیک ہے۔
    اریزہ اسے نظروں میں رکھے گوارا سے پوچھ رہی۔تھی۔ جانے آگے جواب کیا تھا اس نے دے ( اچھا)کہتے ہی فون بند کر دیا۔
    کیا ہوا۔ سنتھیا متجسس ہوئی۔۔
    گوارا وغیرہ لوتے ورلڈ ٹاور جا رہے ہیں کہہ رہی تم دونوں بھی آجائو۔
    لوتے ورلڈ؟ لوٹے ورلڈ ہوتا تو بات بھی تھی یہ۔لوتے کیا نام ہوا۔ ؟
    سنتھیا۔ نام پر ہی اٹک گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لوٹے کہتے اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ واقعی قدیم کسی ظروف کی شکل کی عمارت کھڑی ہوگی انکی نظروں کے سامنے۔
    ان دونوں نے ٹیکسی سے اتر کر کمپائونڈ کے گرین ایریا سے سر اٹھا کر جب اس عمارت کو دیکھنا شروع کیا تو سر اونچا ہوتا گیا ہوتا گیا۔ٹوپی پہنی ہوتی تو پکا گر جاتی۔
    بیس اکیس بائیس۔
    وہ دونوں اسکی منزلیں گن رہی تھیں
    ایک سو تئیس مزنلہ عمارت ہے یہ کوریا کی سب سے اونچی عمارت۔ ۔
    جی ہائے نے انکی معلومات میں اضافہ کیا۔
    ایک سو ت۔۔ دونوں حق دق سی رہ گئیں۔
    گلدان کی طرز کی اس شان و شوکت والی عمارت کا نظارہ مسحور کن تھا۔ سورج کی پڑتی دھوپ میں شیشوں سے رنگ ہی رنگ منعکس ہورہے تھے۔
    اصل مبہوت کردینے والے مناظر یہاں سے نہیں ایک سو ستراہویں منزل سے دکھائی دیں گے۔
    گوارا نے کہا تو سنتھیا حیران ہوگئ
    کیوں؟ باقی منزلیں خالی ہیں اسکی؟
    گوارا کا منہ کھلا رہ گیا۔
    پہلے ہم جائیں گے سترہویں فلور ہینگ آئوٹ کے بعد جائیں گے کچھ پیٹ پوجا کرنے سو لڑکیوں کمر کس لو اور میرے پیچھے آئو۔
    جی ہائے انکی گائیڈ بن جانے کو تن من دھن سے تیار تھی۔
    اسکے مارچ پاسٹ شروع کرتے ہی ان دونوں نے بھی تقلید کی۔ شکر یہ تھا کہ ہفتے کا کام کا دن ہونے کے باعث رش کم تھا۔ بس کچھ غیر ملکی ہی اس اونچی ترین عمارت کی سیر کو آئے تھے۔ وہ دونوں دلچسپی سے انٹیریر دیکھ رہی تھیں مگر گوارا اور جی ہائے کو اوپر جانے کی جلدی تھی۔ انکا رخ سیدھا لفٹ کی جانب تھا۔
    تم میں سے کسی کو اونچائی سے خوف تو نہیں آتا ؟
    لفٹ کا بٹن دباتے جی ہائے کو خیال آیا۔
    ایک سو ستراہویں منزل تک پہنچیں گے زندگی میں پہلی بار پھر سوچیں گے۔
    اریزہ سنتھیا کے کان میں منمنائی
    آنیا۔ اس نے دھڑلے سے کہا۔ جی ہائے اور گوارا ایک دوسرے کو دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرنے لگیں۔
    موشن سکنس؟ ۔۔ ( تیزی سے حرکت کرنے پر چکر آنے کی بیماری)
    آندے۔ سنتھیا نے زور و شور سے گردن ہلائی۔
    اگر آج تم نے مجھ پر الٹی کی تو تمہیں ایک سو ستراہویں منزل سے نیچے پھینک دوں گی۔
    اریزہ نے دانت کچکچائے۔ وہ ڈھیٹ بنی مسکراتی رہی۔ لفٹ آچکی تھی ۔ لفٹ میں داخل ہوتے ہی خوبصورت پھول بوٹوں کی آتش بازی دیواروں پر رنگ بکھیر رہی تھی۔ ہلکی نیلگوں روشنی میں ایک دم جھماکے سے اینیمیشن کےمناظر بدلے۔
    وائو۔ وہ دونوں باقائدہ دیوار چھو کر اسکے رنگ محسوس کر نے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔
    اس دیوار پر دیکھو سب سے پیاری اینیمیشن یہاں ہے۔ گوارا نے اریزہ کا باقائدہ کندھوں سے پکڑ کر رخ موڑا۔
    اس جانب شیشے کی دیوار تھی جس سے گرائونڈ فلور تک چمکتا دمکتا صاف نظر آرہا تھا۔ مگر گولی کی رفتار سے اوپر سے اوپر جاتے گراوئونڈ فلور ننھے منے نقطوں میں تبدیل ہو چکا تھا۔
    اس نے تھوک نگلا۔
    یہ نظارہ یکدم اور اچانک سامنے تھا۔ اسکا دل دھڑ دھڑ کرنے لگا تھا۔
    کیا ہے اس جانب مجھے بھی دکھائو۔
    سنتھیا اسکے کندھےپر تھوڑی رکھ کر جھانکنے لگی وہ سرعت سے سیدھی ہوئی اسے بھئ گھما کر رخ بدل دیا۔
    کچھ خاص نہیں فضول اینیمیشن ہے اس طرف کی۔
    وہ سنتھیا کی الٹیاں نہیں سہہ سکتی تھی۔۔ سو جلدی جلدی دھیان بٹایا۔۔
    ارے دیکھنے تو دو سنتھیا حیران تھی۔ لفٹ آچکی تھی دروازہ کھلتے ہی اریزہ اسکا ہاتھ تھامتی باہر نکل آئی۔ انکی تیزی پر گوارا اور جی ہائے منہ کھول کر انہیں دیکھتی رہ گئیں۔
    یہ اب تک کا سب سے پھسپھسا ردعمل تھا اتنا پھسپھسا تو سیول کے باسی بھی پہلی بار یہاں آکر نہیں دیتے۔ وہ دونوں تیز تیز قدم اٹھاتی سیدھا گلاس وال کی جانب بڑھی تھیں۔ شیشے کی شفاف دیوار سے سیول شہر کا اونچائی سے نظارہ بے حد دلکش تھا۔ اونچی اونچی عمارتوں اور شفاف سڑکوں کے جال سے لیکر دور آسمان تک تیرتے بادل سب جیسے ہاتھ بھر کے فاصلے پر تھا۔
    یہ تو لگ رہا ہم آسمان میں کھڑے ہیں۔
    اریزہ مسحور سی ہو کر بولی۔
    ہاں یہاں سے پورا سیول دیکھا جا سکتا ہے پوری 360 ڈگری کے زاویئے سے۔۔
    جی ہائے نے لمبی طویل راہداری کی جانب اشارہ کرتے دکھایا۔ اس منزل پر مکمل شیشے کی دیواریں تھیں۔ وہ بھی صاف شفاف۔
    کچھ غیر ملکی باشندے کیمرہ اٹھائے تصویریں وغیرہ بنا رہے تھے باقی کورین ہی تھے۔ مگر منظم سے اپنے کام سے کام رکھتے تصویریں بناتے خوش گپیاں کرتے۔ ایک چھوٹا سا پانچ چھے سال کا بچہ غبارہ تھامے دیوار پر ہاتھ رکھے پتہ نہیں کیا گٹ پٹ کرتا اپنے ماں باپ سے کہہ رہا تھا وہ ہنس ہنس کر جواب دے رہے تھے۔
    اس بچے کو ڈر نہیں لگ رہا؟
    سنتھیا نے رشک سے کہا۔۔
    کیوں ڈرنا کیوں ہے بچے نے؟ تمہیں جو دیکھ لیا۔
    اریزہ نے مزاق اڑایا۔
    نہیں اتنی اونچائ سے مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ سنتھیا منمنائی۔۔
    مجھےتو الٹی آرہی ہے ۔۔
    اریزہ کا رنگ اڑا اڑا سا ہوا

    نہ کرنا روزہ ٹوٹ جائے گا۔
    سنتھیا کو فکر ہوئی۔پھر اطمینان سے بولی
    میرا روزہ نہیں ہے

    ۔ اریزہ منمنائئ۔۔پھر کر لو الٹی تم جو کام ہے۔
    ویسے مجھے حیرت ہورہی ہے ہم دونوں بڑےخطرناک قسم کے ردعمل کئ توقع کر رہے تھے مگر تم دونوں تو بالکل نہیں ڈریں یہاں آکر۔
    گوارا کو اپنے پرینک کے ضائع جانے کا افسوس ہوا۔
    ڈرنے کی کیا بات ہے سامنے دیوار ہے شیشے کی ہے تو کیا ہوا۔
    اریزہ نے مضبوط بن کر کہا گویا تسلی بھی دی خود کو۔
    نہیں دیوار سے نہیں لوگ اس فرش پر کھڑا ہوتے ڈر جاتے بڑے بڑوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں نیچے دیکھتے۔
    جی ہائے ہنس کر بولی
    کیوں فرش سے کیا ڈرنا ۔۔ سنتھیا سمجھی نہیں۔
    فرش بھی تو گلاس کا ہے نا۔
    گوارا نے وضاحت کی۔ دونوں نا سمجھنے والے انداز میں اسکی شکل دیکھنے لگیں۔
    اس نے ابرو کے اشارے سے مسکرا کر نیچے دیکھنے کو کہا۔۔
    اریزہ اور سنتھیا نے اکٹھے نیچے جھک کر دیکھا۔۔ روح فنا ہونا ، ہاتھوں کے طوطے اڑ جانا اور مزید محاورے ذہن میں آنہیں پائے۔ دونوں کی آنکھیں پھٹ سی گئیں تیورا کر دونوں اسی فرش پر کانپتی ٹانگوں لرزتے وجود کے ساتھ ڈھے سی گئیں۔ کیونکہ اس منزل پر صرف دیواریں ہی نہیں فرش بھی آر پار دکھائی دینے والے شیشے کا تھا۔ ایک سو ستراہویں منزل سے صاف دکھائی دیتا گرائونڈ فلور اس پر چلتے لوگ بس نقطے ہی حرکت کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
    انکو پتہ ہی نہ چلا تھا ؟
    جی ہائے حیران ہوئی۔
    پاکستانی لڑکیاں ڈر کر چیختی نہیں ہیں ۔ گوارا انکے پھسپھسے ردعمل سے نتیجہ اخذ کر رہی تھی۔
    دونوں کے چہرے سفید تھے ہونٹ تھر تھر کانپ رہے تھے منہ سے آواز ہی نہ نکل سکی۔
    چلو اٹھو یہ فرش پکا ہے آج تک ٹوٹا نہیں سیکنڑوں لوگ روندتے ہیں اسے۔
    جی ہائے نے تسلی دیتے آگے بڑھ کر انہیں اٹھانا چاہا۔
    ہاں شاک پروف۔۔
    گوارا نے تسلی دینا چاہی مگر شائد آج اس فرش کو سب سے بڑا شاک ملنا تھا۔
    زور دار پھٹنے کی آواز تھی۔ اس بے خوف بچے کا غبارہ پھٹ گیا تھا۔اچانک مگر شیشے کے فرش پر بیٹھی اریزہ سنتھیا کو لگا فرش تڑخ گیا۔ دونوں کے منہ سے اکٹھے زوردار چیخ نکلی۔ اسکی پیروی میں دوسری تیسری ۔۔ پھر چیخوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ پوری منزل کے لوگ پہلے بھونچکا ہوئے پھرگڑبڑائے پھر اسی شیشے کے فرش پر بھگدڑ سئ مچئ ۔کوئی لفٹ کی جانب بھاگا کوئی سیڑھیوں کے کسی نے اپنے بچے ڈھونڈے۔۔ انتظامیہ کے اہلکار بگٹٹ آوازوں کے منبع کی جانب بھاگے۔ فرش کے بیچوں بیچ ایک دوسرے کے گلے لگ کر آنکھیں بند کرکے چیخیں مارتی ان لڑکیوں کی چیخوں سے لگتا تھا آج فرش ہی نہیں دیوار کے شیشے بھئ تڑخ جائیں گے۔
    گوارا جی ہائے ان دونوں کو سنبھالنے میں ہلکان ہو رہی تھیں جو نا ایک دوسرے سے الگ ہو رہی تھیں نا چیخنا کم کیا تھا۔ دونوں کے کان اب سن ہو چکے تھے اور انکے ساتھ ساتھ گوارا اور جی ہائے کے بھی۔
    تجربے نے گوارا کا تجزیہ غلط ثابت کر دیا تھا۔ پاکستانی لڑکیاں کسی سے کم نہیں ڈر کر چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا سکتی ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لوتے ورلڈ ٹاور کی انتظامیہ کے دفتر میں انکی ٹیم کا ایک ایک فرد چوکنا اور مستعد انکی خدمت میں حاضر تھا۔ انکو بڑے سے صوفے پر بٹھایا گیا تھا چھوٹے چھوٹے شال نما کمبل اوڑھے وہ دونوں خفت سے سرخ چہرے لیئے بیٹھی تھیں ۔اریزہ تو خیر بیہوش ہوگئ تھی ایک آدھ چیخ کے بعد مگر وہ تو ہوش و ہواس میں ہی ابتدائئ طبی امداد حاصل کر رہی تھی۔ یہاں لا کر سب سے پہلے تو انہیں ہلایا جلایا پھر ریسکیو ٹیم بلا لی گئ۔ اریزہ کو تو ڈرپ ھی لگا دی ۔اسے جوس پر ٹرخادیا۔۔ اب ۔تو خیر اریزہ بھی ہوش میں آگئ تھی۔ روزہ تو ٹوٹ ہی گیا تھا سو صبر سے شرمندہ ہورہی تھی

    کوریا کی ایمرجنسی سروس 119 کی ٹیم انکا فشار خون دیکھ رہی تھی۔ جوس کے ڈبے سے دھیرے دھیرے گھونٹ بھرتی ان دونوں کو اس وقت پر افسوس ہو رہا تھاکہ فرش سچ مچ کیوں نہیں تڑخ کر ٹوٹا۔ اوپر سے گوارا اور جی ہائے کا بجتا ریکارڈ۔
    بیانتا۔۔
    گوارا اور جی ہائےنے جانے کونسی دفعہ معزرت کی تھی۔ دونوں سخت شرمندہ تھیں۔اس وقت انکے سامنے ہاتھ مسلتی شرمسار سی کھڑی تھیں۔
    ۔ڈاکٹر نے ان دونوں کا فشار خون دیکھنے کے بعد ایک ایک ٹیکا ٹھونکا تھا۔ اب اپنا فرسٹ ایڈ باکس بند کر رہے تھے۔
    آپ دونوں اب اسپتال چل کر مکمل معائنہ کروالیں ۔۔۔
    انکو اچھی طرح ٹھونک بجا کے دیکھنے کے باوجود بھی شائد انکو تسلی نہ ہوئی۔
    ہنگل میں دیئے گئے اس مشورے پر دونوں نے سوالیہ نگاہوں سے سہیلیوں کو دیکھا۔
    جی ہائے نےترجمہ کیا۔
    آندے۔ کین چھنا۔ دونوں فٹ سے دونوں ہاتھ اٹھا کر اطمینان دلانے لگیں۔ کین چھنا کا مطلب ٹھیک ہے، ضرورت نہیں، خیر ہے کوئی بات نہیں وغیرہ کے ضمرے میں استعمال ہوتا ہے۔ ان دونوں کی دودھ پیتی ہنگل اس وقت بالکل گنگ ہوئی تھی سو بس اسی جملے کی گردان کرتی چلی گئیں۔۔
    119 والے جھک جھک کر سلام کرتے اپنا سامان سمیٹتے چلے گئے۔ انکا جوس ابھی بھی ختم نہ ہوپایا تھا۔ تبھئ وہ ادھیڑ عمر انتظامیہ کا اہلکار اپنے دو چیلوں کے ہمراہ انکے سامنے آ کر جھک جھک کر بولنے لگا
    ہم بہت شرمندہ ہیں۔ لوتے ورلڈ کی انتظامیہ ایسی کسی بھی شرارت کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے۔ یقین جانیئے ہم نئے آنے والے سیاحوں کو خود رہنمائی فراہم کرتے ہیں تاکہ کسی کمزور دل کے فرد کو اچانک دھچکا نہ پہنچے۔ ہماری ایک سو سترہویں منزل بین القوامی اصولوں کے مطابق تیار کی گئ ہے اور بالکل محفوظ ہے۔ یہ ٹوٹ نہیں سکتی ہم اسکا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں۔ہمارا اس منزل کو بنانے کا مقصد سیاحوں کو اونچی عمارتوں سے دلکش نظارے دکھانے او رتفریح کا نیا انداز روشناس کرانے کا تھا۔ہرگز کسی کی دل آزاری ہمارا مقصد نہیں ۔ ہم شرمندہ ہیں کہ آپکو اس ذہنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔۔
    وہ انتظامیہ کا کوئی اونچا افسر تھا ادھیڑ عمر کا نرم سے تاثرات والا چندی آنکھوں کے ساتھ کہتے ہوئے آدھا جھک گیا تھا۔ اسکی تقلید میں اسکے ہمراہ موجود دیگردو نوجوان افسران بھی آدھے جھک گئے۔ جھکے رہے۔
    انکی کمروں میں درد نہیں ہوتا؟
    اریزہ نے سنتھیا کے کان میں سرگوشی کی۔
    جتنی دیر سے جھکے ہیں لگتا ہے آج تو ضرور ہوگا۔
    سنتھیا نے پیشن گوئی کی۔
    دونوں حیرت سے انہیں دیکھے جا رہی تھیں جو جھکے تھے تو سیدھا ہونا بھول گئے تھے۔
    کین چھنا ۔۔ گوارا انکو سرگوشی میں ہنگل میں جانے کیا بتا رہی تھئ۔
    کیا کہہ رہی ہے یہ۔ پورے جملے میں بس کین چھنا سمجھ آیا۔
    سنتھیا نے حیرت سے دیکھتے کہا۔
    یہ لوگ سیدھے کیوں نہیں ہو رہے۔
    اریزہ نے جی ہائے سے پوچھا۔ وہ الگ اشارےکررہی تھی۔
    دونوں کو سمجھ نہ آیا مگر اریزہ کو انکا جھکے رہنا برا لگ رہا تھا۔۔
    آپ سیدھے ہو جائیں آپکی کمر میں درد ہو جائے گا۔
    شستہ انگریزی میں اریزہ نے کہا تو تینوں گہری سانس لیتے سیدھے ہوئے۔
    کین چھنا۔۔ چھے سو ہمبندا۔۔
    گوارا اور جی ہائے اب ان تینوں سے جھک جھک کر معزرت کر رہی تھیں۔
    ان انکل سے سلام دعا کرکے دونوں خراماں خراماں دروازہ کھول کر جانے لگیں کہ۔خیال آیا تو مڑ کر۔دانت پیس کر بولیں۔۔
    کھاجا۔۔
    اوہ۔ دونوں جوس کے ڈبے سنبھالتی فورا اٹھ کر انکے پیچھے بھاگی تھیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک چینی ریستوران میں کھانا کھا کر وہ سب دوبارہ چارج ہوچکی تھیں۔
    چلو اب اچھی سی مووی ہوجائے۔
    سنتھیا نے کہا تو اریزہ بھی پرجوش ہوگئ۔
    ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔ کوئی اچھی سی فلم دیکھتے ہیں۔
    ان دونوں کے پرجوش ہونے پر جی ہائے سٹپٹا کر گوارا کو دیکھنے لگی۔
    ٹھیک ہے۔۔ چلتے ہیں۔وہ یقینا جی ہائے کا اشارہ نہ سمجھی۔ اریزہ سنتھیا بھی مکمل حمایتی تھیں
    ان سب کو پرجوش دیکھ کر اس نے جھجک بالائے طاق رکھ دی۔ ہنگل میں گوارا کو دانت پیس کر بتایا
    یہ جو سب سے ذیادہ پرجوش ہے نا فلم دیکھنے کو اس نے لوتے ورلڈ سے لیکرچینی ریستوران تک کہیں ایک پیسہ نہیں نکالا ٹیکسی کے کرایوں تک میں میرے یا تمہارے پیسے لگے ہیں۔
    مگر کھانے کا بل تو اریزہ نے پے کیا نا۔
    گوارا نے دانستہ مسکرا کر اسے آنکھوں سے اشارہ کرتے گھرکا کہ یہ وقت مناسب نہیں اس بات کا۔
    ہاں اریزہ میں ہے یہ تمیز مگر ابھی ہی فیصلہ کر لو ٹکٹس کون لے گا پاپ کارن کون کیونکہ میرے پاس صرف دو ٹکٹس کی گنجائش ہے۔
    اس نے کندھے اچکا دیئے۔
    کیا ہوا کیا مسلئہ ہے۔
    اریزہ اور سنتھیا کو انکا لہجہ سمجھ نہیں آرہا تھا پھر بھی اتنا اندازہ ہوا کہ پیسوں کی بات ہورہئ ہے۔
    گوارا نے دانت پیس کر گھورا پھر دانستہ مسکرا کر اریزہ سے بولی
    نہیں وہ بس جی ہائے کو اپنی پینڈنگ اسائنمنٹس یاد آرہی ہیں۔ میں نے کہا مل جل کر کرلیں گے۔۔
    نہیں میں یہ کہہ رہی تھی کہ میرے پاس اب ذیادہ پیسے نہیں بچے ہیں اب ہمیں مل جل کر ہی پیمنٹ کرنی پڑے گی۔
    جی ہائے نے تنک کر صاف صاف کہہ ڈالا۔
    اوہ۔ اریزہ اور سنتھیا سنجیدہ ہوگئیں۔
    اسکا مطلب ہے اب ہمیں تمہیں خدا حافظ کہہ کر واپس بھیج دینا چاہیئے ہم تینوں بس فلم دیکھنے چلیں۔
    سنتھیا جیسے سارا معاملہ سمجھ گئ۔
    ہوں چلو ٹھیک ہے جی ہائے آننیانگ۔
    اریزہ نے بھی تابوت میں آخری کیل ٹھونکی۔باقائدہ ہاتھ ہلا کر خدا حافظ بھئ کہہ دیا۔
    جی ہائے تو جی ہائے گوارا بھی بھونچکا سی ان دونوں کی بے مروتی کو دیکھتی رہ گئ ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سب ٹائٹلز پڑھ کر فلم دیکھنا یا فلم دیکھتے ہوئے سب ٹائٹلز کو جلدی جلدی پڑھنا دونوں ہی بیزار ہوگئیں۔ کوئی رومانوی فلم تھی۔ موٹے سے گول گپے جیسے منہ والی ہیروئن اور تھوڑا سا ہی اس سے بڑا چھوٹا سا ہیرو۔ان دونوں نے جمائی لیتے ایک دوسرے کو ملتجی نظروں سے دیکھا پھر مڑ کر اکٹھے جی ہائے اور گوارا کو کہنا چاہا کہ چلیں۔ مگر ان دونوں کے برعکس وہ دونوں بری طرح مگن تھیں فلم میں۔ جانے کیا کہانی چل رہی تھی کچھ پلے نہ پڑ رہا تھا اوپر سے چیخ چیخ کے بولتے لوگ اچانک ہائش۔ یاآآا۔۔۔ اور جھنچا کہتے تو دل اچھل کر انکا بھی حلق میں آجاتا۔
    دونوں کے پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ فلم کے اختتام پر جی ہائے اور گوارا انکی جانب متوجہ ہوئیں تو دونوں ایک دوسرے کے سر پر سر ٹکائے خراٹے بھر رہی تھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سینما سے باہر نکلتے جی ہائے اور گوارا نے خوب مزاق اڑایا تھا۔۔
    ہمیں لگا تھا ہم کوئی انگریزی فلم دیکھیں گے۔
    اریزہ نے کہا تو سنتھیا نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔
    ہاں تو اور کیا۔۔۔
    سچی محبت کی کہانی تھی ہائے تم لوگوں نے محبت کی ہی نہیں ورنہ محبت کی اپنی زبان ہوتی ہے۔
    گوارا جھوم کے لہراکر بولی
    کیہہ سوری (گوبر ) کونسی محبت دکھائی دی تمہیں۔ ؟ ایک کس سین اس میں بھی ہیرو نے برستی بارش میں ہیروئن کی چھتری چومی۔
    جی ہائے چمک کر اعتراض کرنے لگی۔
    تو تمہارے خیال میں انسان محبت میں صرف جسمانی تعلق بناتا ہے؟۔گوارا نے اس سے سوال کیا
    میرا خیال ہے جسمانئ تعلق بنانے کیلئے ہی محبت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے
    جی ہائےکندھے اچکا کر بولی۔
    اف کتنی منتقمانہ سوچ ہے تمہاری۔ محبت وجود سے ہوتی ہے جسم سے نہیں۔فلم غور سے دیکھتیں تو ہیرو کا ہیروئن کیلئے پیار سمجھ آتا تمہیں۔ گوارا نے ناک چڑھائی
    تم اور یون بن ایسی بدھا والی تارالدنیا محبت کرتے ہو جیسے؟ جی ہائے نے مزاق اڑایا گوارا کھسیانی سی ہوئی۔
    ہاں تو ہمیں اپنا رشتہ قائم کرنے میں وقت لگا تھا یونہی۔تھوڑی ہم۔۔۔ وہ چلتے چلتے رک۔کر ان لوگوں کے سامنے آکھڑی ہوئی۔
    تم دونوں بتائو ہم میں سے کون صحیح کہہ رہا؟
    مجھے کبھی محبت نہیں ہوئی ۔
    اریزہ نے کندھے اچکائے۔
    سنتھیا لمحہ بھر کو سوچ میں پڑی۔اسکے ذہن میں اپنا اور ایڈون کا تعلق گھوم گیا۔ اسکے لاکھ محبت کا دم بھرنے کے باوجود بھی اسے ایڈون کو اپنی محبت کا یقین دلانے کیلئے مشرقی روائیتوں کو توڑنا پڑا ہی تھا۔
    محبت جسم سے ہو نہ ہو محبت میں جسم آہی جاتا ہے۔۔۔۔۔
    گہری بات۔ گوارا متاثر ہوئئ۔
    یہی بات دوسرے لفظوں میں میں نے کہی ہے۔ جی ہائے ہنسی۔ ۔۔۔ اسکی بات پر سنتھیا کے قدم رک سے گئے۔ وہ نا سمجھنے والے انداز میں ساکت سی کھڑی رہ گئ۔ اسکے رکنے کا نوٹس لیئے بنا ان دونوں کا جھگڑا جاری تھا۔ چلتے چلتے اسکے اور انکے درمیان چند قدم کا فاصلہ آنے لگا
    کوئی نہیں تم تو اپنے ابا کی دوسری شادی کے بعد انتہا پسند ہوگئ ہو ورنہ محبت کا بے حد خوبصورت رخ بھی ہوتا ہے۔
    گوارا نے اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر جان کر ہنگل میں کہا۔
    میرے آہبجوجی کا ذکر مت کیا کرو میرے سامنے موڈ خراب ہوجاتا ہے میرا۔
    حسب توقع وہ چڑ گئ۔
    ہاں تو اور کیا وجہ ہے تمہارئ ایسے ایبنارمل خیالات کی۔
    تائی من؟ ہیں بولو یاد آتا ابھی بھئ کیا؟ پہلا پیار۔۔
    وہ جان کے چھیڑ رہی تھی۔ جی ہائے نے اپنا بیگ گھما کر اسے مارنا چاہا۔ وہ جھکائی دے گئ۔ اور منہ چڑاتی بھاگ اٹھی۔ جی ہائے اسے مارنے کو دوڑ پڑی۔۔
    ان دونوں کی نوک جھونک سمجھ نہ آنے کئ باوجود بھی اریزہ انکی لڑائی کا۔لطف لے رہی تھی بے پروا سڑک کنارے چلتے چلتے وہ دونوں دوڑنے لگیں ۔۔ نہ کسی نے رک کر گھورا نہ برا سمجھا۔ دو لڑکیاں اپنی مستی شرارت کرتی کافی دور جا کر بھی گتھم گتھا تھیں ۔جی ہائے اسے اپنے بیگ سے پیٹ رہی تھی گوارا ہنستے ہنستے جھکائی دے رہی تھی۔
    دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی اریزہ رشک سے دیکھ رہی تھی انہیں۔
    اریزہ۔۔۔ سنتھیابھاگ کے اسکے ہم قدم ہوئی۔
    تمہیں واقعی محبت نہیں ہوئی کبھی؟
    مجھے؟ وہ چونکی۔ کس سے ہوتی؟
    کسی سے بھی اسکول کالج یونیورسٹی کتنے ہی تو لڑکے بڑھے تھے تمہاری جانب۔۔۔
    ہوتی تو تمہیں پتہ ہوتا۔
    اس نے کندھے اچکا کر آرام سے کہا۔
    مجھے تو سجاد سے بھی محبت نہ ہوپائی تھی۔ حالانکہ کہتے نکاح کے دو بول محبت پیدا کردیتے ہیں دل میں۔
    اسکا جواب مفصل تھا۔ وہ لوگ اب تیز قدم اٹھا کر جی ہائے اور گوارا کے پاس جا رہی تھیں۔۔
    تمہاری رخصتی ہو جاتی تو ہوجاتی تمہیں محبت ہے نا؟
    سنتھیا کے سوال پر اریزہ نے ابرو چڑھا کر دیکھا۔
    کیا سننا چاہ رہی ہو؟ ۔ وہ اس جرح کا مطلب پوچھ رہی تھی سنتھیا اپنی بات کا مطلب بتانے لگی۔
    مطلب ہو جاتی نا محبت جب اکٹھے رہتے ساتھ رہتے تعلق بنتا لگائو پیدا ہوجاتا۔
    لوگ سالوں ساتھ رہتے شادی کرتے ان میں محبت لگائو پیدا ہی نہیں ہو پاتا یا ختم ہو جاتا ہے آخر طلاق بھی تو لوگوں کی ہوتی ہےنا۔۔۔
    اریزہ کا انداز سادہ سا تھا۔سنتھیا چپ کر گئ۔گوارا اور جی ہائے انکا انتظار کر رہی تھیں۔ انہوں نے کیب روک رکھی تھی۔
    پالی پالی۔ گوارا ہاتھ کے اشارے سے اورچلا۔کر۔انہیں جلدی آنے کو کہہ رہی تھی۔ ان دونوں نے بھی بحث ختم۔کرکے قدموں کی رفتار بڑھا دی۔ان دونوں کی طرح بھاگنے کی کوشش نہ کرسکیں۔ انکو یوں لڑھکتے آتے دیکھ کر گوارا نے گہری سانس لی
    بندہ بھاگ لیتا ہے یہ دونوں بہت سست ہیں۔
    جی ہائے نے بھئ ناک چڑھا کر کہا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا ان تینوں کو ہاسٹل بھیج کر وہ اپنے اپارٹمنٹ آئی تھی۔ پورا اپارٹمنٹ تاریکی میں ڈوبا تھا شائد ہوپ نہیں آئی تھی۔کاریڈور میں شو ریک پر ایک اجنبی جوڑی تھی تو مگر وہ دھیان دیئے بنا چپل بدلتی بتیاں جلاتی اپنی دھن میں کمرے میں داخل ہوئی۔۔ اس نے بتی جلائی تو دل تھام کر وہیں گر سی گئ۔ ایک زور دار چیخ منہ سے نکلی۔
    کم چاگیا۔
    گھپ اندھیرا کیئے ہوپ بہت سکون سے بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھی موبائل استعمال کر رہی تھی۔ اسکے چلانے پر ناگواری سے اسے دیکھا۔
    تم کیا بھوتوں کی طرح پورے گھر میں اندھیرا کیئے بیٹھی تھیں۔
    دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
    تم کیا پورے گھر میں چراغاں کرتی داخل ہوئی ہو
    بجلی کا بل نہیں آتا تمہارا؟
    جوابا وہ ترکی بہ ترکی بولی۔
    آتا ہے میں گھپ اندھیرا کرکے ڈرنے ڈرانے کی۔بجائے اسکا بل ادا کرنے پر یقین رکھتی ہوں۔
    وہ۔بھی چبا چبا کر بولی۔ گوارا نے بے نیازی سے اسکا جملہ نظر انداز کیا پھر اپنے فون پر نگاہ جما لی۔
    پہلی لڑکی دیکھی یے جو اندھیرے میں اتنے سکون سے بیٹھی تھی۔ کوئی ڈر نہیں لگ رہا تھا اسے کیا۔۔۔
    وہ بڑبڑ کرتی صوفے پر سے کپڑے اٹھانے لگی۔
    اسکی بات پر بظاہر بے نیازی سے بیٹھی ہوپ نے ذرا کی۔ذرا نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔
    وہ شاید نہانے جا رہی تھی کپڑے اٹھا کر باتھ روم میں گھسس گئ۔۔۔
    ڈر۔ اس نے سوچا۔ اندھیرے سے کیا ڈرنا۔
    جس نے دنیا دیکھ رکھی ہو اسکے نزدیک اندھیرا سب سے کم خوفناک چیز ہوتا ہے۔ دنیا میں سب سے خوفناک انسان ہی ہیں۔۔۔ کاش کہ تمہیں کبھی تجربہ نہ ہو اس چیز کا۔
    بڑبڑا تے ہوئے اس نے فون ایک جانب رکھا اور کروٹ لیکر آنکھیں موند لیں۔ دس منٹ بعد گوارا جب نہا کے باہر نکلی تو وہ گہری نیند میں تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آہبوجی واپس آچکے تھے۔۔ اسے انکو ایک۔مہینے کی کارکردگی بتانی تھی۔۔ وہ بیزار سا انکے سامنے بیٹھا تھا۔ انکا سیکٹری اسکے برابر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔ وہ سر سری نظر ڈال کر دو تین فائلیں بھگتا کر رکھ چکے تھے۔۔
    گنگشن کتنی بار دفتر آئی ہے؟۔ وہ سیکٹری سے پوچھ رہے تھے۔۔
    ہفتے میں تین بار آیا کرتی تھیں۔۔ سیکٹری نے بتایا تو وہ جانے کیوں ہایون پر نظریں گاڑ بیٹھے۔۔
    تم امریکہ نہیں جائو گے؟۔۔ انداز انکا تحکمانہ نہیں تھا وہ بس پوچھ رہے تھے۔۔
    آنیو۔ اس نے مختصر جواب دیا۔۔
    دفتر سنبھالنے کا بھی ارادہ نہیں؟۔۔
    انداز ہنوز تھا۔۔
    دے۔۔ (جی)۔۔ اس نے مزید سر جھکا لیا۔۔
    گنگشن کا رشتہ میں نے ڈاریکٹر کے بیٹے سے طے کر دیا ہے ۔۔۔ وہ بتا رہے تھے۔۔
    ہایون نے مٹھئ بھینچی۔اطلاع نئ نہیں تھی۔۔ اسکو اس دن نونا اور انکے درمیان ہونے والی گفتگو یاد تھی۔۔
    آپ مجھے سیڑھی بنائے بغیر بھی کاروبار کے بلاشرکت غیرے عظیم آسمان کو چھوتے ہیں مزید اور کتنا اوپر جانا چاہتے؟۔۔میں دوسری بار اپنی زندگی آپکے ہاتھوں کھلونا بننے نہیں دے سکتی۔۔
    انی کی آواز بھرائی تھی۔۔ شائد روئی بھی ہونگی مگر اسکا باپ پگھلنے والوں میں سے نہیں تھا۔۔
    پھر مجھے ہایون کا رشتہ ڈاریکٹر کی بیٹی سے طے کرنا پڑے گا۔۔ مگر ہایون کے شیئرز تمہارے شیئرز سے کہیں زیادہ ہیں۔۔ میں ڈائریکٹر کے ہاتھ میں کمپنی نہیں دے سکتا۔۔ اس احمق لڑکے کو کاروبار کی الف بے بھی معلوم نہیں۔۔ ڈاریکٹر سمدھی بننے کے بعد کب کونسا پتہ پھینکے کیا خبر۔۔ انہوں نے تفصیل سے اپنے ذہن میں چلنے والی جمع تفریق نونا کو سمجھائی۔۔
    نونا تاسف سے اپنے لالچی باپ کو گھور رہی تھیں۔
    مجھ سے تو آپکو محبت نہیں مگر ہیون سے تو کرتے ہیں نا۔۔ اسکے خواب کیوں اپنی مادہ پرست طبیعت کے ہاتھوں پامال کر رہے ہیں۔۔ وہ ضبط سے بولیں۔۔
    مجھے کسی کو تو سہارا بنانا پڑے گا۔۔ اپنے چچا زاد بھائی کو کچھ تو ضمانت دینی پڑے گی۔۔ وہ کیسے اپنی مکمل حمایت مجھے دے گا بنا کوئی فائدہ اٹھائے۔۔ وہ سخت چڑے۔۔ انکے بچے جانے کس پر پڑے تھے جزباتی احمق۔۔
    اگر تم مان جاتی ہو تو ٹھیک۔۔۔۔ مجھے ہیون کے نام سب شئیرز واپس لے کر تمہارے نام کرنے ہونگے۔۔ جو تمہاری ماں کا دیرینہ خواب ہے۔۔
    پھر تم کسی دن بھی ہاتھ پکڑ کر اسکو اس گھر سے نکال دینا۔۔۔ بلکہ نہیں یہ کام تمہاری ماں کر لے گی۔۔ ٹھیک ہے جائو۔۔
    وہ بے نیازی سے کہہ کر رخ موڑ کر سگار جلانے لگے۔۔
    انی ساکت سی بیٹھی انہیں دیکھ رہی تھیں۔۔
    آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔ بیٹا ہے وہ آپکا۔۔
    ایسا بس میں سمجھتا۔۔ تمہاری ماں اسے میرا بیٹا بھی ماننے کو تیار نہیں۔۔ آج اگر میں مر جائوں تو اسکی۔اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔۔
    تم اچھی طر ح جانتی ہو۔۔ وہ کن اکھیوں سے دیکھتے سگار کے کش لیے جارہے تھے۔۔
    آپ ہیون کو بے دخل نہیں کریں گے۔۔ انی تڑپ کر انکے سامنے آکھڑی ہوئی تھیں۔۔
    میں نہیں کرنا چاہتا۔ مگر ہیون اگر میری بات مان کر شادی کے لیئے رضامند ہو بھی جاتا تو بھی اسکی بلا شرکت غیرے والی جائداد میں حیثیت نہیں رہنے دے سکتا۔۔ سب اس عیاش آدمی کے پاس چلا جائے گا بیٹی داماد کی صورت۔۔ انہوں نے کھل کر اپنی بے بسی بیان کی۔۔ انی انہیں دیکھتی رہ گئیں۔۔
    ٹھیک ہے۔۔ میں راضی ہوں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سنا تم نے ؟ آہبوجی کو لگا وہ سن نہیں رہا۔
    جانتا ہوں۔۔ اس نے اپنی مٹھی بھینچی۔۔
    ضبط سے اسکی کنپٹی کی رگ ابھر آئی تھی۔۔
    میں اسکے نام کے شئرز تمہارے نام کر رہا ہوں۔۔ اسطرح تمہاری حیثیت بڑھ جائے گی۔۔ میں چاہتا ہوں تم ڈائریکٹرز کا اعتماد جیتو اور منتظم اعلی کا عہدہ سنبھال لو۔۔ وہ سرسری سے انداز میں کہے جارہے تھے۔۔
    اور اگر میں یہ دونوں کام آپکو کرنے نا دوں تو۔۔
    اس نے انکو تحریک دینے والے انداز میں کہا۔۔
    لی اسے غور سے دیکھتے رہے۔۔
    پھر مسکرا دیئے۔۔
    مرضی تمہاری۔۔ روک سکو توروک لو۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ نونا کے کمرے میں پکارتا آیا تھا۔
    نوکرانی انکے کمرے کی صفائی کر رہی تھی۔۔ آہٹ پر چونک کر مڑی پھر جھک کر ادب سے سلام کیا۔۔
    انی کہاں ہیں؟۔ اس نے پوچھا۔۔
    وہ تو کل شام کی فلائٹ سے چین گئ ہیں۔۔ نوکرانی نے بتایا
    کیا۔؟۔۔ وہ حیرانی سے چیخ ہی تو پڑا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ حسب عادت منہ ہاتھ دھو کر باتھ روم سے نکلی تھی۔ سنتھیا بیڈ پر بیٹھی اپنا والٹ نکالے جانے کس جمع تفریق میں لگی تھئ۔ وہ اپنے ڈورم کی سیڑھی چڑھنے لگی تو اس نے پکارا۔۔
    اریزہ ادھر آئو۔
    وہ سعادتمندی سےرخ بدل کر اسکے بیڈ پر آن بیٹھی۔
    یہ لو۔۔
    اس نے چند کرنسی نوٹ اسکی۔جانب بڑھائے۔
    یہ کیا ؟
    وہ۔قطعی نہ سمجھی۔
    آج کھانے کے پیسے بھی تم نے دیئے پھر فلم کا ٹکٹس ، اسنیکس او رواپسی کا کرایہ بھی۔ میں اتنی گھامڑ کہ والٹ لیئے بنا ہی تمہارے ساتھ چل۔پڑی۔
    سنتھیا نے وضاحت کی تو اریزہ برا مان گئ۔
    تو کیا ہوا۔ اب تم مجھ سے حساب کتاب رکھو گی؟
    یہ بات نہیں مگر ہم چاروں اکٹھےگئے تھے ان دونوں نے بھی تو حصہ بٹایا نا میرے لیئے ہر بار تم نے ادائیگی کی تو مجھے شرمندگی ہورہی ہے۔
    سنتھیا نے کہا تو وہ اسکے ہاتھ سے پیسے اور والٹ دونوں چھین کر اس میں پیسے رکھنے لگی۔
    مانا آپ بہت بڑے بیوروکریٹ کی اکلوتی بیٹی ہیں آپکو پیسے کی کمی نہیں مگر دوستی میں حساب کتاب نہیں لانا چاہیئے۔
    رکھو یہ پیسے اپنے پاس۔ اور یہ بتائو عید کی شاپنگ کرنے کب جانا ہے؟
    وہ اسے ڈانٹ کر بات بھی بدل گئ سنتھیا نے کچھ کہنا چاہا پھر سر ہلا کر بولی۔
    ایڈون سے پوچھوں گئ۔
    کیوں ایڈون سے کیاپوچھنا ؟ ہم چاروں چلیں گے نا کتنا مزا آیا نا گرلز ڈے آئوٹ میں۔ ہم لڑکیاں ہی لڑکیاں بس پورا شہر گھوم آئیں۔۔ کل گوارا سے کہوں گی۔۔
    اریزہ کو آج بہت مزا آیا تھا۔ سنتھیا مسکرا دی۔۔
    ٹھیک ہے۔۔۔۔
    آج جو تصویریں لی ہیں مجھے بھیجو میں انسٹا پر تو لگائوں۔ وہ۔ہدایت کرتی اٹھ گئ۔ سنتھیا بیڈ درست کرتی نیم دراز ہوئی سب تصویریں چن کر بھیجیں اسے پھر ایک پیغام بھی لکھ ڈالا۔
    ابو پیسے چاہیئیں عید کی شاپنگ کرنی ہے۔
    جواب سرعت سے آیا تھا۔اورغیر متوقع بھی۔
    بھیجے ہیں نا بیٹا عید کی شاپنگ کروانے کا کہہ کر ہی ایڈون کو اس سے کہو نا شاپنگ کرا لائے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سالک شاہزیب ایڈون اس بڑی سی چھابڑی نما عارضی دکان کے سامنے کھڑے شرٹس اور جینز پسند کر رہے تھے۔
    ایک ہی دکان پر کھڑے رنگ ڈیزائن وغیرہ کی ذیادہ فکر کیئے بنا۔۔ وہ اور سنتھیا بیزاری سے ان لوگوں کی “شاپنگ” دیکھ رہی تھیں۔گنگنم کی مشہور مڈل کلاس مارکیٹ جس میں حقیقتا کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔پنڈی کے راجہ بازار کی طرح تنگ گلیاں اور آدھی آدھی گلی تک استراحت فرماتی دکانوں کے آگے بڑی بڑھی چھابڑیاں اور ٹھیلے۔ سوئی سے ہاتھی تک یہاں بک رہا تھا۔خیر سچ مچ کا ہاتھی نہیں محاورتا کہا۔ ان دونوں سے دو ایک لوگ ٹکرا کر گزرے تو بھنا کر سنتھیا بولی۔۔
    بس بھی کرو ساری دکان خریدنی ہے؟
    آگے پیچھے اور بھی دکانیں ہیں کم از کم ایک آدھ تو چیز کہیں اور سے لے لو۔
    اریزہ بھئ ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔
    کیا ضرورت ہے۔ یہ فرسٹ کاپی بیچ رہا ہے سستی سستی شرٹس ہیں یہ سب۔
    ایڈون نے آترا کر بتایا۔ چینجنگ روم تو تھا نہیں۔۔ سالک نے وہیں شرٹ اتار کر اپنے سائز کی شرٹ نکلوا کر پہنی۔
    ٹی پنک شرٹ پہن کر موبائل میں اپنا بوتھا دیکھ کر سالک اتراکر پوچھنے لگا
    یہ کیسی ہے؟ ۔۔ جوابا دکاندار شاہزیب ایڈون کے ساتھ جملہ راہ گیروں تک کو منہ کھولے گھورتا پایا تو سٹپٹا سا گیا۔
    کیا ہوا۔ ؟
    پینٹ بھئ بدل لے یہیں کھڑے کھڑے۔ ایڈون نے دانت کچکچایے۔ اریزہ سنتھیا قصدا رخ موڑ گئیں۔
    یار پینٹ کے ساتھ مسلئہ ہے میں نے آج۔
    اس سے قبل کہ وہ بھانڈ اپنا مسلئہ بھی فل والیم میں بتاتا شاہزیب نے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔
    ایڈون کو بھئ اسکی ٹی پنک شرٹ پسند آئی۔
    ویسے یہ کلر اچھا لگ رہا ہے اس پر۔
    تو تو بھی لے لے۔ سالک نے کندھے اچکائے۔ اچھا ہے عید کے دن دونوں بھائی ایک جیسے کپڑے پہنے ہوں گے۔
    ایڈون اس جیسی شرٹ اٹھا کر اپنے ساتھ لگا کر دیکھنےلگا پھر ہنس کر بولا۔
    اس میں تو میں اور کالا لگوں گا۔
    توپھر یہ اورنج لے لے۔ تاکہ اندھیرے میں بھی دور سے چمکے تو۔
    شاہزیب نے حقیقتا گہرے نارنجی رنگ کی شرٹ اٹھا کے تھمائی جوابا وہ گھور کر رہ گیا۔
    یار کرتا پاجامہ یاد آرہا ہے مجھے یہاں ملتا تو ہوگا۔
    سالک کو عید کی یاد ستائی۔
    عید کی نماز جینز پہن کر پڑھوں گا میں کیا ؟ اسے دکھ ہو رہا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گرے کرتا جو کمر سے تھوڑا سا ہی نیچے آرہا تھا ہمراہ سفید کھڑا پاجامہ پہن کر وہ انکے سامنے آیا تو بے ساختہ وہ دل سے خوش ہو کر ماشا اللہ کہہ بیٹھے۔
    بہت وجیہہ بہت پیارے لگ رہے ہو ماشا اللہ۔
    انہوں نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی چوم لی
    علی جھینپا جھینپا سا تھا انکے ردعمل پر۔ اسے آج بطور خاص اصرار کرکے عبدالہادی نے اپنے گھر بلایا تھا۔ اور عید کا جوڑا تھمایا تھا بلکہ ابھی پہن کر دکھانے پر اصرار بھی کرنے لگے۔ تاکہ کمی بیشی دور ہوسکے۔۔۔
    اسکی کیا ضرورت تھی۔ ؟ میرے پاس بہت سے کپڑے ہیں۔۔۔
    وہ کہے بنا نہ رہ سکا۔
    کیسے ضرورت نہ تھی؟عید پر کیا پرانے کپڑے پہنتے ؟
    وہ بگڑ کر بولے۔
    بیٹا رمضان کے بعد عید کا دن مسلمانوں کیلئے اللہ کا تحفہ ہے۔ اس دن خوش ہونا صاف کپڑے پہن کر سجدہ شکر ادا کرنا سنت نبوی ص ہے۔ پورا مہینہ عبادت کرکے اپنا نفس سنوار کر عید کے دن سچی خوشی محسوس کرنا ہم پر فرض ہے بیٹا۔
    یہ لباس ہے کونسا۔؟ کچھ کچھ کیمونو( جاپانی روایتی لباس) جیسا ہے
    ویسے یہ ترکی لباس ہے۔ میری ترک بیوی نے خاص ترکی سے منگوائے تھے یہ کرتے پاجامے۔ میں اپنا دکھائوں۔
    انہیں اچانک خیال آیا تو بچوں جیسی خوشی سے بولے۔
    جی دکھائیے۔۔
    وہ مسکرا دیا۔ وہ خوشی خوشی اپنا لباس لینے اندر کمرے میں چلے گیے۔ وہ یونہی طائرانہ نظر کمرے پر ڈالتا صوفے پر ٹک گیا۔ اسکو تبھی موبائل پر پیغام آیا تھا۔
    کھول کر پڑھتے ہی وہ ایکدم اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
    یہ دیکھو میرے اور تمہارے کرتے میں بس ایمبرائیڈری کا فرق ہے تھوڑا سا ہم عید پر صحیح باپ بیٹا لگیں گے تیار ہو کر۔۔
    وہ کرتا پہن کر خوشگوار انداز میں بولتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔۔
    علی نے بے چین سی نگاہ ان پر ڈالی۔ وہ بھی ایکدم سنجیدہ سے ہوگئے
    کیا ہوا؟۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں بھاگم بھاگ اسپتال پہنچے تھے۔ یہ اسپتال اسکے ٹرسٹ کا حصہ تھا۔ ریسیپشن پر سے ہی انہیں وی آئی پی پروٹوکول ملا تھا۔۔ انتظامیہ کا اہلکار انہیں سب تفصیل بتاتا آئی سی یو تک لایا تھا۔ ۔ اسکی ماں کی اچانک طبیعت خراب ہوگئ تھئ۔ گھر میں کافی دیر تکلیف میں پڑے رہنے کے بعد وہ ہوش وحواس سے بے گانہ ہوگئی تھیں تب ملازمہ کسی کام سے اندر آئی تو انکو بیہوش پڑے دیکھ کر اس نے ایمرجنسی سروس بلائی۔۔ فوری اسپتال پہنچانے کے باوجود ابھی انکی حالت خطرے سے باہر نہ تھی۔ اسکے چچا اور اسکے چچا کا بیٹا آئی سی یو کے باہر ہی کھڑے تھے اور اسکو دیکھ کر خاصے بدمزا بھی ہوئےتھے۔
    اب کیا لینے آئے ہو؟ماں اکیلی گھر میں بیمار پڑی رہی تمہیں احساس نہ ہوا تمہارے ہوتے ہوئے بھی ہم تمہاری ماں کو اسپتال لائے علاج کروا رہے تمہاری اب کیا ضرورت باقی رہ گئ ہے۔ جائو اپنے نئے رشتے نبھائو۔ اپنے نئے باپ کے ساتھ۔
    اسکے چچا نے لتاڑ کر رکھ دیا۔ آخری جملے پر ان دونوں کو ایک جیسے ملبوس میں دیکھ کر طنزیہ انداز حقارت بھرا ہوگیا تھا۔ عبدالہادی خفت زدہ سے ہوگئے۔ جبکہ علی سر جھکا کے کھڑا سنتا رہا۔ ایک لفظ صفائی میں نہ بولا۔
    کچھ اندازہ ہے ہمارے ہاتھ سے سارا کاروبار نکل رہا ہے؟ ایک تمہارے غلط فیصلے نے تمہاری ماں کے سب شئیرز ڈبو دیئے ہیں۔ پچھلے چند ماہ سے ۔
    کوئی سننے لگے تو سنانے والوں کی تو چاندی ہوجاتی ہے۔ سو وہ اسکی ماں کی بیماری سے کاروبار تک پہنچ گئے۔
    اپنی ماں کی بیماری میں اسکے پاس نہ ہونا میری غلطی ہے اس پر میں خاموشی سے آپکی سخت سست سن سکتا ہوں مگر کاروبار اور اس سے جڑے معاملات سے میں خود کو الگ کر چکا ہوں اسکا تذکرہ کرنے کیلئے یہ وقت ویسے بھی مناسب نہیں۔۔
    اسکے دو ٹوک جواب پر وہ دانت پیس کر رہ گئے
    ہائش۔ ہمیشہ یہی خود سری دکھا کے تم نے بھابی کا دل دکھایا اور اب کاروبار بھی ڈبونے چلے ہو۔۔ جانے تم جیسی اولاد۔۔
    وہ بڑ بڑا رہے تھے انہیں نظر انداز کرکے وہ آئی سی یو سے نکلتے ڈاکٹر کی جانب لپکا۔
    شدید ذہنی دبائو کے باعث انکا فشار خون بہت بلند ہو گیا تھا۔
    ہم تک پہنچنے میں انکو بہت دیر لگ گئ۔ ہم پوری کوشش کرنے کے باوجود بھئ انکو بچا نہ سکے۔۔ بیانیئے۔۔
    ڈاکٹر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے افسوس بھرے انداز میں بتایا تھا۔۔۔ وہ ساکت سا کھڑا اسکو دیکھتا رہ۔گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان لڑکوں کی جوتوں کپڑوں سمیت مکمل شاپنگ میں ایک گھنٹہ لگا ہوگا اسکے بعد ان دونوں کو انکی پسند کی چیزیں خریدنے میں ساری شام خرچ ہوگئ۔
    مگر وہ تینوں بڑے تحمل سے شاپر اٹھائے انکے ہمراہ دکانیں جھانکتے پھرے۔ ہر دکان پر ایک تو مناسب لباس اکا دکا تھے جو تھے وہ ان دونوں کو پسند نہ آتے ناک چڑھا کر باہر نکل آتیں۔اب تو تنگ آکر ان تینوں نے بھی انکی مدد کرانی شروع کر دی۔۔ سالک ہینگ ہوئی اسکرٹس نکال کر اسکے سامنے لہرانے لگا۔ سیلز گرل سٹپٹائی سی اسکے ساتھ ساتھ آئی تھی۔
    اسکرٹ پہنوں میں عید کے دن۔۔
    اریزہ بھنائی۔
    کوئی حرج نہیں لانگ اسکرٹس بھی ہیں یہاں۔
    شاہزیب نے گھاگھرے کی طرز کی اسکرٹ اسے دکھائی۔
    یہ بھی لمبا کرتا لگ رہا ہے۔
    سالک ہینگرز سیلز گرل کو تھما کر اب ڈمی کے لانگ ٹاپ کو لہرا کر دکھا رہا تھا۔
    ایڈون اور سنتھیا دکان میں کے ایک کونے میں گھسے الگ ڈسپلے کے کپڑے چھانٹ رہے تھے۔
    سرمئی گلابی امتزاج کی وہ چھوٹے چھوٹے پھولوں والی سلیو لیس میکسی تھی۔ سنتھیا اور ایڈون نے ایک ساتھ اسکی جانب ہاتھ بڑھایا۔ سنتھیا نے ہاتھ پیچھے کیا۔
    یہ دیکھو اریزہ یہ تم پر سوٹ کرے گی۔۔۔۔۔
    ایڈون ہینگر اٹھا کر اریزہ کی جانب بڑھا جو قد آدم آئینے کے سامنے کھڑی ہلکے نیلے رنگ کا ٹاپ خود سے لگا کر دیکھ رہی تھئ۔
    ایڈون نے اسے سوٹ تھمایا تو وہ خود سے لگا کر دیکھنے لگی۔۔۔
    ٹاپ واقعئ خوبصورت تھا۔۔ مگر خاصا فٹنگ والا۔ یقینا اسکو پھنس جاتا۔۔۔۔
    اس نے کالر سے سائز دیکھا پھر پاس کھڑی سیلز گرل سے بولی
    اسکا کوئی بڑا سائز ہے؟
    آندے۔ فری شائز۔
    ٹوٹی پھوٹی انگریزئ ہنگل میں دونوں ہاتھ ہلا ہلا کر اس نے بات سمجھا ہی دی۔
    آجائے گا اریزہ اتنے روزے تو رکھتی رہی ہو۔۔
    شاہزیب نے کہا تو وہ گھور کر رہ گئ۔
    اندر چینجنگ روم ہے آپ وہاں جا کر پہن کر دیکھ لیں۔
    سیلز گرل نے کہا تو وہ متزبزب ہوئی۔
    سنتھیا۔ اس نے سنتھیا سے مشورہ کرنا چاہا مگر وہ چینجنگ روم کی جانب ہی بڑھ رہی تھی۔ وہ ٹاپ اٹھاتی ان کیبنز کی طرف بڑھ آئی۔ سنتھیا اسکے برابر والے کیبن میں ہی تھی۔ اس نے کپڑے بدلے اور آئینے میں خود کو دیکھنے لگی۔
    میکسی اسے آ تو گئی مگر بہت چست تھی۔
    اریزہ مجھے بھی دکھانا میکسی۔
    سنتھیا نے آواز لگائی تو وہ سٹپٹا سی گئ۔۔۔
    سنتھیا چینج کرکے اب اسکے کیبن کے باہر کھڑی تھی۔
    اس نے دروازہ کھولا سنتھیا کا منہ کھلا۔
    تم کیا کر رہی تھیں اتنی دیر سے کپڑے ہی نہیں بدلے ؟
    وہ حیران ہوئی۔ اریزہ میکسی بدل چکی تھی۔
    یہ لباس میرے لیئے نہیں بنا۔ تمہیں شائد آجائے۔ اس نے احتیاط سے سنتھیا کے ساتھ لگایا تو دبلی پتلی سنتھیا کو واقعی وہ لباس اتنا چست نہ ہوتا جتنا اس پر لگا تھا۔
    سنتھیا نے لمحہ بھر سوچا پھر وہ میکسی لیکر کیبن میں گھس گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تیار ہو کر وہ باہر نکلی تو اریزہ اسکے انتظار میں باہر کھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر جیسے منہ کھلا رہ گیا
    اف بہت بہت پیاری لگ رہی ہو تم۔
    اس نے چٹا چٹ گال چوم لیئے۔ سنتھیا سرخ سی ہوگئ۔
    چلو ایڈون سامنے ہی کھڑا ہے منہ کھلا رہ جائے گا اسکا۔ اسکو دھکیل کر کہتی وہ شرارت سے کان میں منمنائی۔ سنتھیا نے قدآدم آئینے میں خود کو دیکھا تو اعتماد سا چال میں آگیا۔ سہج سہج کر چلتی باہر آئی تو سب سے پہلے ایڈون کی ہی اس پر نظر پڑی۔
    ایک لمحے کو تو حیران ہوا پھر تاثرات پر قابو پا لیا۔
    کیسی لگ رہی ہوں میں۔۔
    وہ اسکے سامنے ہی جا کھڑی ہوئی۔
    آ ہاں۔ اچھی لگ رہی ہو مگر یہ رنگ تھوڑا ڈارک نہیں؟۔
    وہ بے ساختہ بولا سنتھیا کا منہ اتر سا گیا۔
    کیا ہوا میں اس میں کالی لگ رہی ہوں
    اسے یہی گمان گزرا۔۔
    آں۔۔ نہیں ۔۔ اچھی لگ رہی ہو اسمارٹ۔ تم لائٹ کلرز لیتی ہو نا اسلیئے بس ۔۔
    وہ سنبھل کر مسکرا کر بولا۔
    سنتھیا کو اسکی وضاحت مطمئن نہ کرسکی مڑ کر آئینے میں اپنا سراپا دیکھنے لگی۔
    گہرے رنگوں میں اسکی رنگت مزید گہری لگ رہی تھی۔ اس نے آئینے میں منعکس ہوتا اریزہ کا عکس دیکھا جو ڈسپلے سے ایک اور ٹاپ اٹھا کر اپنے ساتھ لگا کر دیکھ رہی تھی۔ ہلکے سے عنابی رنگ کا۔ جو اس کی گوری رنگت پر جچ رہا تھا۔ خیر اسکا رنگ صاف ہی اتنا تھا ہر رنگ جچتا تھا اس پر ۔۔
    وہ کپڑے بدلنے کیبن میں واپس گھس گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لڑکے انکو ہاسٹل کے باہر چھوڑ کر خود آگے چلے گئے تھے۔ ان دونوں نے عید کا جوڑا نہیں لیا تھا۔
    میں نے کہا تھا نا۔ ہم لڑکیاں لڑکیاں مل کر چلتے مزا بھی آتا اور جی ہائے اور گوارا دونوں کو دیکھا ہے انکی ڈریسنگ کتنی اعلی ہوتی ہے دونوں ہی میچنگ وغیرہ کا خوب دھیان رکھتی ہیں۔
    اریزہ کمرے میں داخل ہونے تک سیر حاصل تبصرہ کرتی آئی۔
    مگر مجھے دوبارہ ایڈون کے ساتھ ہی جانا پڑے گا۔ وہ مسکرا دی
    کیوں؟ اریزہ سوالیہ ہوئی
    وہ اسلیئے کہ ابو نے پیسے ایڈون کو ہی بھجوائے ہیں عید کی شاپنگ کیلئے۔
    وہ اطمینان سے کہتی بیڈ پر دھپ سے گر گئ۔ پھر پھر کر تھکن ہوگئ تھی۔
    یہ کیا بات ہوئی۔ اریزہ کمر پر ہاتھ رکھ کر جرح کرنے لگی۔
    تمہارے ابو پیسے ایڈون کو کیوں بھجوا رہے؟
    ایڈون سمجھدار ہے لڑکا ہے ذیادہ بہتر سنبھال سکتا۔
    وہ متفق تھی یا نہیں اس بات سےمگر بظاہر اسکو یہی صحیح لگ رہا تھا۔
    ںو وے۔اپنا پیسہ اپنے ابا کا پیسہ انسان خود ہی صحیح طرح خرچ کر سکتا ہے۔۔ پاپا کہتے ہیں یہ میرے۔ انہوں نے مجھے یہی سکھایا۔
    ۔چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی لینی ہوتی تھی نا تو پاپا مجھے پیسے دیتے چاہے امی یا صارم کے ساتھ ہی کیوں نہ جائوں۔ ایک بار بس میں نے شکایت لگائی تھی پاپا کو کہ امی نے مجھے چیز نہیں لینے دی کہ پیسے ختم ہوگئے بس پھر پاپا نے کبھی میری پاکٹ منی بھی امی کے ہاتھ نا دی مجھے۔
    وہ ہنس ہنس کر بتا رہی تھی۔
    تمہارے پاپا تم سے بہت پیار کرتے ہیں نا۔ سنتھیا مسکرا دی۔
    ہمیشہ سے۔ جب حماد بھائی زندہ تھے نا تب بھی پاپا کی میں لاڈلی ہوتی تھئ۔ حماد بھائی کے بعد تو بہت ذیادہ ہی پاپاپیار کرنے لگے ہیں۔ ۔۔۔
    وہ بولتے بولتے رکی۔۔ پھر قصدا ہنس کر بولی
    شائد ایک ہی اولاد باقی رہ گئ ہوں میں اسلیے۔
    اچھا ایمو ہونے کی نہیں ہو رہی۔ سنتھیا فورا اٹھ بیٹھی۔
    یہ سوچو آخر ہم کیا کریں۔عید کے کپڑے تو ہمیں یہاں پسند نہیں آرہے۔ پھر ۔؟
    سنتھئا کی بات میں دم تھا۔اریزہ بھی اسکے پاس آن بیٹھی
    یار ویسے انڈیںز تو دنیا میں ہر جگہ ہوتے ہیں یہاں بھی انڈینز ہوں گے نا۔ کیا پتہ یہاں بھی کپڑے بکنے آتے ہوں۔۔
    اریزہ کے کہنے پر سنتھیا ہنسی۔۔
    کون پہنتا ہوگا یہاں۔ مجھے نہیں لگتا یہاں بھارتی کپڑے بکتے ہوں گے۔
    سنتھیا نے نفئ میں گردن ہلائی۔
    سرچ کرتے ہیں۔اریزہ نے فورا موبائل نکال لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    روایتی کورین انداز میں آخری رسومات انجام دی جا رہی تھیں۔ قد آدم گلدستے جن پر بڑے بڑے بینر چسپاں تھے آنجہانی ینگ سومی کیلئے تعزیتی کلمات سے سجے۔ الوداعی رسومات کمیونٹی ہال میں ادا ہونی تھیں۔ ہال کمرے میں ینگ سومی کی خوبصورت تصویر فریم کرکے چبوترے پر رکھی تھی ارد گرد تعزیت کیلئے آئے لوگوں کی جانب سے پھول اور پھل رکھے تھے۔ لوگ بدھ متی عقائد کے مطابق تصویر کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اپنی نیک تمنائوں کا اظہار کرتے پھر ایک دو رسمی کلمات ایک کونے میں سر جھکائے بیٹھے علی کا کندھا تھپکتے ادا کرتے اور چلے جاتے۔ دوسرے ہال کمرے میں ضیافت کا انتظام تھا۔ چھوٹی چھوٹی چوکیوں پر کورین طرز کے سات رنگ کے کھانے تھے قیمتی شراب سے مہمانوں کی تواضع کی جا رہی تھی۔ شہر کے متمول لوگ اس جنازے میں شریک تھے۔ کالے تھری پیس سوٹوں کا جیسے میلہ لگا ہوا تھا۔
    کم جون جے۔۔
    آنے والے نے خاصے تکلف سے اسے مخاطب کیا تھا۔
    اس نے خالی خالی نگاہیں اٹھا کر دیکھا۔ لی گروپ کا خاندان تعزیت کیلئے آیا تھا۔ وہ اپنے سن سے ذہن کے ساتھ بھی اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ اس خاندان سے اسکے چچا کا خاندان جڑنے والا ہے تو یقینا انکو تعظیم دینا اس پر فرض تھا۔ سو میکانیکی انداز میں اٹھ کھڑا ہوا
    آہجوشی لی نے رسمی سے انداز میں اسکا کندھا تھپکا ۔۔۔
    بہت افسوس ہوا بیٹا۔ شائد یہی قدرت کی مرضی تھی۔ تمہاری ماں بہت محنتئ اور قابل انسان تھی یقینا اسکا جانا ہم سب کیلئے بہت بڑا نقصان ہے۔
    لی روائتی جملے دہرا رہے تھے۔ انکے برابر کھڑا ہایون بالکل خاموش سرجھکائے کھڑا تھا۔وہ رسمی کلمات ادا کرنے اور سماجئ روابط نبھانے میں بالکل اناڑی تھا۔ابھی بھی باپ کی تنبیہی نگاہوں سے نگاہ چرا کر آہجومہ سومی کی تصویر کی جانب بڑھ گیا۔ روائتی طریقے سے سجدہ کرنے کے بعد وہ فورا ہی جانے کو تیار ہوئے تھے۔۔
    اسکے چچا انکا سایہ بنے ہوئے تھے۔ بہت اصرار سے انکو ضیافت کیلیے لے گئے بلایا تو ہایون کو بھی تھا۔ مگر وہ دانستہ پیچھے رہ گیا۔ علی دوبارہ میکانکی سے انداز میں دیوار سے ٹیک لگا کے بیٹھا تھا۔ سرمئی ترک لباس میں ملبوس علی روائتی کورین ماتمی سیاہ لباس زیب تن نہیں کیئے تھا۔اسکا لباس ملگجا بے ترتیب تھا۔ چہرے پر آنسوئوں کے مٹے مٹے نشان تھے بال پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے۔ وہ الجھا ٹوٹا سا دکھائی دے رہا تھا۔ہایون اسکے کندھے پر دھیرے سے تسلی آمیز انداز میں ہاتھ رکھتا برابر آن بیٹھا۔۔
    علی نے چونک کر آنسوئوں سے بھری نگاہیں اٹھا کر دیکھا پھر سر جھکا لیا۔۔۔۔۔
    میری آہمونی کو جلا دیا انہوں نے۔ میری ایک نہ سنی۔۔
    وہ ضبط کھو کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں اپنی ماں کی لاش کو جلانا نہیں چاہتا۔۔
    وہ حلق کے بل چلایا تھا۔ کم گروپ کے آبائئ گھر کے ڈرائنگ روم میں ہونے والی اس ملاقات میں اسکے چچا انکا بیٹا ، انکا وکیل اور اسکی ماں کا وکیل سب موجود تھے۔
    اسکی ماں کے وکیل نے اسکی ماں کی وصیت سنائئ تھی جس میں جائداد کے بٹوارے اور جون جے کو قانونی طور پر اس جائداد ، انکی کمپنی کے شئیرز اور ا س وسیع و عریض بنگلے جس میں وہ سب اس وقت موجود تھے کی ملکیت سے اسکی ماں کی جانب سے عاق کر دیا گیا تھا۔۔۔
    مزہب کی تبدیلی کے باعث کم سو می اپنے بیٹے سے شدید ناراض تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ انکا بیٹا انکے عقیدے پر پلٹ آئے۔ اس لیئے انہوں نے ناراضی کے اظہار کے طور پر اپنی منقولہ و غیر منقولہ تمام جائداد سے اپنے اکلوتے بیٹے جو ن جے کو عاق کر دیا تھا۔ تا وقتیکہ کہ وہ اپنے مزہب پر واپس آکر اپنی پرانی شناخت بحال نہ کرلے۔ دوسری صورت میں یہ گھر کم گروپ کے وارثین میں تقسیم کیا جائے گا۔
    جون جے سپاٹ تاثرات سے انکی ساری باتیں سنتا رہا تھا۔ اسکے چچا اور کزن دونوں کو اس سے اتنی شرافت کی امید نہ تھی۔ خاموشی سے اپنے ہاتھ سے اپنے حق سے دستبرداری کے تمام کاغذوں پر اس نے دستخط کیئے تھے۔
    مگر جب وکیل نے اسکی ماں کی وصیت کے مطابق بدھ متی عقائد سے انکی لاش کو جلانے کا حکم نامہ سنایا تو وہ تڑپ اٹھا تھا۔
    مگر تمہاری ماں کی یہی وصیت ہے کہ اسے اسکے عقائد کے مطابق ہی رسومات ادا کرکے دفنایا جائے۔
    اسکے چچا کو اسکے اعتراض کرنے پر حیرت ہوئی تھی۔
    میں بیٹا ہوں انکا۔ میں انکی قبر بنوانا چاہتا ہوں۔۔۔ میں اپنی ماں کو جلا کر راکھ نہیں ہوتے دیکھ سکتا ۔مجھے انکا مرقد چاہیئے جہاں میں جا کر اپنی ماں سے مل سکوں۔ پھول نچھاور کر سکوں۔
    وہ جزباتی ہو کر بولا۔
    یہ تو کوئی مسلئہ نہیں۔ ہم انکو اپنے خاندانی یادگارگھر میں ہی جگہ دیں گے جہاں جدی پشتی ہمارے بڑوں کی باقیات سجی ہیں۔ تم جایا کرنا اپنی ماں سے ملنے پھول رکھنے۔
    نا چاہتے ہوئے بھی آخر میں انکا انداز طنزیہ ہوگیا تھا۔۔
    میں وارث ہوں انکا۔۔ انکا اکلوتا بیٹا میری مرضی میں اپنی ماں کا جنازہ جلائوں یا دفنائوں آپ کو اس زمین جائیداد سے دلچسپی ہے نا یہ سب آپکی ہوئی مجھےمیری ماں کا جنازہ چاہیئے۔۔
    وہ ضدی انداز میں بولا۔ جوابا اسکے چچا طیش میں آکر اٹھ کھڑے ہوئے۔
    تم کس ماں کی بات کر رہے ہو جسکے آخری وقت میں تم اسکے ساتھ نہ تھے؟ کمپنی ڈوب گئی تم نے پروا نہ کی یہ صدمہ تمہاری ماں کی جان لے گیا اور تم کہتے ہو ت وارث ہو اسکی لاش کے کوئی حق نہیں تمہارا اس جنازے پر وہ ہمارے خاندان کی بہو ہے او رہم اسکو اپنے آبائی یادگارگھر کا حصہ ہی بنائیں گے۔
    کونسا خاندان؟ وہ چٹخ کر بولا۔
    میرے باپ کو ساری عمر تو آپ نے اپنابھائی نہ مانا۔ انکو دادا جان کی غلطی سمجھا اب کس منہ سے۔
    اسکا جملہ ابھی منہ میں تھا کہ اسکے چچا کا بھرپور تھپڑ خاموش کرواگیا اسے
    یہ پہلی اور آخری بار ہے جو تم نے یہ دہلیز پار کی ۔ میں تمہیں تمہاری ماں کی رسومات میں آنے سے نہیں روکوں گا مگر اب تم یہاں ایک پل نہیں رک سکتے۔۔
    انہوں نے تنفر سے کہہ کر حقیقتا اسے اپنے سیکیورٹی گارڈز سے دھکے دے کر نکلوایا تھا۔
    مجھے صرف میری ماں چاہیئے۔ خدا کا واسطہ ہے مجھے میری ماں دے دو۔ مجھے اور کچھ نہیں چاہیئے۔
    وہ تڑپا تھا مچلا تھا گڑگڑایا تھا۔۔مگر۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میری ماں کو راکھ بنا دیا انہوں نے۔۔ وہ ہایون کے کندھے پر سر رکھے بلک اٹھا تھا۔۔
    میری ماں کو راکھ کردیا۔ مجھے قبر نہیں بنوانے دی۔ اس راکھ کو بھی دفنانے کی اجازت نہیں مجھے۔ میری ماں کو جلا دیا۔۔
    وہ بے ربط بولتا بین کر رہا تھا۔ ہایون چپ سا اسے سنتا رہا۔ یوم بن کم سن بھی آگئے تھے۔ ان دونوں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا تھا۔۔ وہ روئے جا رہا تھا اور یہی جملے دہرائے جا رہا تھا۔۔۔
    میری ماں کو کتنی تکلیف دی انہوں نے۔۔۔
    وہ بڑبڑانے والے انداز میں ہچکیاں لے رہا تھا۔
    ہایون بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔
    مری ہوئی ماں کو جلایا یا دفنایا کیا فرق پڑتا۔ اسکو مری ہوئی ماں کی۔تکلیف اتنی محسوس ہو رہی تھی اور وہ۔۔
    وہ گھبرا کر اپنی ٹائی ڈھیلی کرتا باہر نکل آیا۔ اسے اندر ایک دم سے بہت گھٹن سی محسوس ہونے لگی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عبد الھادی اسکے ساتھ اسکے گھر آئے تھے۔پچھلے تین چار دن سے اس نے کپڑے تک نہ بدلے تھے نا کھانا ڈھنگ سے کھایا تھا۔ انہوں نے اسے کپڑے بدلنے بھیجا۔ اور خود کھانا گرم کرنے لگے۔۔جب کافی دیر وہ کمرے سے باہر نہ آیا تو وہ تشویش میں مبتلا ہو کر کمرے میں چلے آئے۔
    اس نے شاور لے لیا تھا۔ کپڑے بدل لیئے تھے مگر بیڈ کی پٹی سے سر ٹکائے زمین پر بیٹھا اپنی ماں کی تصویر چومتا رو رہا تھا۔ وہ تاسف بھرئ نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئے۔ پھر دھیرے سے اسکے برابر بیڈ پر آن بیٹھے۔ پیار سے اسکے سر پر ہاتھ پھیر کرکہنے لگے
    صبر کرو آدل ( بیٹا)۔ جانے والے کبھی واپس نہیں آتے۔ ہمیں انکے بغیر جینا سیکھنا ہوتا ہے۔ یوں رو رو کر ماں کے دل کو بے چین نہ کرو بیٹا۔ اپنے اکلوتے بیٹے کو یوں غم سے نڈھال دیکھ کر انہیں تکلیف ہوتی ہوگئ۔۔
    وہ مجھ سے نفرت کرنے لگی تھیں۔ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔اسکی چندی آنکھیں سوج چکی تھیں۔ چہرہ سرخ اور ستا ہوا تھا۔ انکادل کٹ کر رہ گیا۔ اور وہ کہہ رہا تھا۔
    مجھے عاق کردیا تھا۔ انہوں نے مجھے کبھی واپس گھر نہ آنے دیا۔ اپنے جنازے تک پر سے میرا حق ختم کردیا۔ اپنی ماں کو آخری بار چھو بھی نہ سکا میں۔۔۔ وہ مجھے سے ناراض چلی گئیں۔ میں انہیں منا نہ سکا۔۔۔۔
    مائیں ناراض نہیں ہوتیں بیٹا۔ ماں توبے لوث محبت کرتی ہے۔اللہ نے اپنی محبت کا یقین دلانے کیلئے ماں کی محبت کی مثال دی ہے بیٹا۔ تمہیں جائداد سے عاق کرنا صرف تمہیں واپس بلانے کی کوشش تھئ کہیں زمین جائداد جاتے دیکھ کرہی سہی تم پلٹ آئو بس۔۔۔۔
    مجھے کچھ نہیں چاہیئے تھا بس مجھے میری ماں کا وجود دے دیتے۔اسکو راکھ نہ بناتے میرے پاس انکی ایک نشانی ایک قبر ایک سلسلہ ربط رہ جاتا کاش۔۔
    اس نے کہتے ہوئے تھک کر انکے گھٹنے سے سر ٹکادیا۔
    میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ آہجوشی۔ میرا اس دنیا میں کوئی اپنا نہیں رہا۔۔ میں تنہا رہ گیا۔۔۔۔۔میرے پاس جینے کی کوئی وجہ نہیں رہی آہجوشی۔۔۔۔
    اسکے بین انکا بھی دل چیرے دے رہے تھے
    انہوں نے جھک کر اسکے چہرے پر سے آنسو صاف کیئے۔۔
    ایسا نہیں سوچتے بیٹا۔ ہم اکیلے کبھی نہیں ہوتے اللہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔دیکھنا وہ تمہارے لیئے زندگی میں جینے کی نئی وجہ پیدا کردے گا۔
    وہ تسلی آمیز انداز میں بولے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے سبزی کے سینڈوچ بنا کر سحری کی تھی۔ کافی کا مگ بنا کو واپس ڈورم میں آئی تو سنتھیا ابھئ بھی گہری نیند میں تھی۔ وہ کافی کی چسکیاں لیتے سیڑھیاں چڑھ کر اپنے بئڈ پر آن بیٹھی۔
    کھلی ترچھی چھت تک مکمل گلاس وال سے آسمان صاف دکھائی دے رہا تھا۔ چاند کی آخری تاریخیں تھیں سو نا ہونے کے برابر باریک سا چاند تھا۔
    وہ غور سے اسے دیکھتئ رہی۔ تبھئ اسکو میسج آیا تھا۔
    صارم تھا۔
    اس نظم نے کہیں دل پر وار کیا ہے تم بھی پڑھو۔

    کاہے کی تگ و دو میں پھنساتے ہو خود کو .
    ایک دن تیرا یہاں نام و نشان بھی نہیں رہنا …

    قائم ذات بس ایک ہی ہو گی باقی ابد تک …
    تو نے نہیں رہنا ہے میں نے بھی نہیں رہنا
    …
    آسمان کو تسخیر کرنے کی کوشش ہیں سب کرتے …
    سنا ہے ایک دن ہم نے زمیں میں بھی نہیں رہنا …

    دشواریاں جڑی ہیں اسی زندگی سے اگر ہجوم …
    ایک دن تو تجھے یہاں زندہ بھی نہیں رہنا …

    کہنے کو کہتے رہیں گے سبھی بہت کچھ …
    سننے کے مگر قابل اب ہم نے نہیں رہنا …

    آیے تھے اکیلے یہاں جانا بھی ہو گا تنہا …
    بس دنیا کا چونچلا ہے کہ تنہا نہیں رہنا …
    دنیا کا چونچلا ۔۔
    اسے ہنسی آگئ۔ مگر نظم واقعی دل کو لگی تھی۔۔
    کاہے کی۔تگ و دو۔۔۔
    وہ زیر لب بڑبڑائئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔۔۔

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
    کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
    آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
    دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
    پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

  • Salam Korea Episode 16

    Salam Korea
    by vaiza zaidi
    قسط 16

    Salam korea episode 16 a seoul korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi urdu novels by hajoom e tanhai
    Salam korea episode 16 a seoul korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi

    آج اس نے الارم تک جاگ کے ہی وقت گزارا۔ گوارا بے خبر سوئی ہوئی تھی۔ وہ اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔ پراٹھا بنایا انڈا تلا۔ کافی بنائئ۔ اچھی طرح سحری کرکے خوب پانی پیا ۔ نیت کی۔ نیند تو آ نہیں رہی تھی۔ سو ٹیرس میں چلی آئی۔
    بیس بائیس منزلہ اس عمارت سے سیول کی روشنیاں خوب دلفریب نظارہ لگ رہی تھیں۔ اونچئ اونچئ عمارتوں پر جلتے قمقمےسے۔ ہوا سبک اور سرد تھئ۔ اس کا مگر یہاں سے جانے کو دل نہ کیا۔ ارادہ اب نماز پڑھ کر ہی سونے کا تھا۔
    کیا کر رہی ہو۔۔
    گوارا اونچا اونچا بولتی اسکے پاس چلی آئی
    کچھ نہیں ۔۔ اریزہ نے مسکرا کر دیکھا۔
    سیول کی روشنیاں دیکھ رہی تھی۔
    گوارا ہنسی۔۔
    یہ منظر مجھے متاثر نہیں کرتا۔ مجھے پہاڑ پسند۔۔ بہتا جھرنا۔ ہو اور ساتھ من پسند ساتھئ۔۔ ہائے۔۔
    اس نے آنکھیں بند کر کے بازو پھیلا کر مزا لیا۔۔ اریزہ اسکے انداز میں بازو پھیلا کر ریلنگ پر پائوں پھنسا کر کھڑی ہوگئ۔۔
    کیا کر رہی ہو۔۔ گوارا نے آنکھیں کھولیں تو رنگ فق ہو گیا اسکا۔ گھبرا کر بازو سے پکڑا اسے
    ۔۔بیس منزلہ عمارت ہے یہاں سے گریں تو قیمہ بن جائے گا تمہارا۔۔وہ مضبوطی سے جکڑ کر بولی۔۔ اریزہ اسکے برعکس مزے سے آنکھیں بند کیئے کھڑی تھی۔۔
    تصور کرو سامنے بہتا جھرنا ہے اور ایک خوشگوار سبزہ زار میں کھڑی ہو۔۔
    ریلنگ پر کھڑے ہونے سے ریلنگ اسکے پیٹ سے نیچے تھی۔۔
    اسطرح کھڑے ہو کر جھرنا نہیں سمندر کا خیال آئے گا۔۔اور یہاں کوئی ہینڈسم جیک میرا ہاتھ بھی نہیں تھامے کھڑا کہ میں بے فکر رہوں مجھے گرنے نہیں دےگا۔۔ گوارا نے تقریر جھاڑ دی۔
    اترو نیچے۔۔
    وہ ڈپٹ رہی تھی۔۔
    اسکی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ اریزہ ہاتھ چھڑا نہ سکی اسے اتر نا ہی پڑا۔۔
    کتنی جان ہے تم میں۔۔ وہ منہ بنا کر کہہ رہی تھی۔۔
    گوارا ہنسی۔
    بیٹا تربیت لی ہوئی ہے میں نے رضاکار ہوں۔۔ ابھی ایسے ہی نہیں پکڑا تھا نیچے ٹانگ بھی پھنسا لی تھی اگر تم چھوٹ جاتیں تو تمہیں پکڑے ہونے کی وجہ میں نے بھی جھٹکا کھا کر تمہارے ساتھ نیچےآنا تھا۔۔
    اس نے نیچے اپنی ٹانگ کی جانب اشارہ کیا۔۔ اریزہ نے دیکھا تو داد دے کر رہ گئ۔۔
    اس نے ریلنگ کے دو راڈوں کے درمیان پائوں پھنسا رکھا تھا
    اف کتنی ٹیلنٹڈ لڑکی ہو تم۔۔ اریزہ متاثر بھی ہوئی۔
    بے حد۔ اس نے گردن اکڑائی۔۔
    تم ہاتھ بھی مجھ سے نہیں چھڑا سکیں۔۔ گوارا کو یاد آیا۔۔
    مجھ سے ہاتھ چھڑانا آسان نہیں مگر پھر بھی ایک لڑکی سے ہاتھ نہیں چھڑا سکتی ہو کل کو کسی لڑکے نے پکڑ لیا تم تو آسان شکار ثابت ہوگی اسکیلیئے۔۔ گوارا اب سنجیدگی سے کہہ رہی تھی۔۔
    ایویں۔۔ جرائت کسی کی میرا ہاتھ ایسے ہی پکڑ لے۔۔
    اریزہ نے اکڑ کر کہا۔
    تمہارے یہاں پر ورٹ نہیں ہوتے؟۔۔ گوارا نے کہا تو وہ ایکدم چپ ہوکر دیکھنے لگی۔۔
    میرا مطلب ہے ہو سکتا ہے تمہیں کبھئ ضرورت نہیں پڑی ہو مگر تمہیں اپنا بچائو کرنا تو آنا چاہیئے۔۔ گوارا نے وضاحت کی ۔۔
    میں تمہں سکھا سکتی ہوں۔ گوارا نے کہا تو اریزہ سوچ میں پڑی۔۔
    دیکھو۔۔اگر کوئی تمہارا ہاتھ پکڑ لے تو ایسے کلائی کرو۔۔ وہ اسے کلائی گھما کر دکھا رہی تھی۔۔
    ہاتھ میں فورا پسینہ آتا ہے گرفت کبھی بھی کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو ہاتھ چھٹ جاتا۔۔ سو کوئی بھی کبھی حملہ کرے تو اپنے دونوں ہاتھ شکنجے میں پھنسنے مت دو۔۔
    وہ اسے پکڑ کر جھکا رہی تھی۔۔
    پیٹ میں کہنی مارو۔۔
    تھوڑی پر سر مارو۔۔
    وہ اسے پٹخنی دے کر گرا رہی تھی اور اس پٹخنی کو روکنے کا طریقہ بھی بتا رہی تھی۔
    ایک منٹ۔۔۔۔
    اریزہ کو خیال آیا
    تم کہہ رہی ہو ہاتھ میں پسینہ آتا تو ابھی اگر میں گرنے لگتی تو تم سے تو چھٹ جاتی ۔۔۔
    اچھا سوال۔۔ گوارا کی سانس پھول رہی۔تھی۔۔ سینے پر دھیرے دھیرے سہلا کر اس نے سانس بحال کی۔۔
    ایک تو تم سیدھی کھڑی تھیں گر نہیں رہی تھیں بالفرض اگر گرنے لگتیں۔۔ تو میں تمہاری کلائی تھامے تھی دوسرا ہاتھ میرا خالی تھا اس سے میں نے تمہاری کمر یا بازو سے پکڑنا تھا ۔۔ جیکٹ اچھا آپشن تھوڑی مہلت مل جاتی سب سے بڑھ کر تم نے خود ہاتھ پائوں چلا کر مجھے کہیں نہ کہیں سے تھامنا تھا ایسی صورت حال میں انسان کا اپنا خودکار مدافعتی نظام متحرک ہو جاتا۔۔
    گوارا نے تفصیل سے بتایا۔۔
    اور گرفت آپکی کلائی کا کام ہے۔۔ ابھی اس کمزور کلائی سے تو تم مضبوط گرفت کرنا تو دور مجھ سے ہاتھ چھڑاتے بھی زخمی ہو سکتی ہو۔۔
    گوارا نے شرارت سے اسکی کلائی پکڑ کر چھیڑا۔۔
    اریزہ نے فورا چھڑانا چاہا۔۔ مگر چھڑا نہیں پائی۔۔ وہ اسکا ہاتھ تھامے اسکی کوشش کو محظوظ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
    تم لڑکی نہیں ہو۔
    اریزہ کو یقین ہو چلا تھا۔روہانسی ہو کر بولی گوارا قہقہہ لگا کر ہنسی تھی اسکی بات پر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میٹرو کے چلنے کا وقت ہوا خاکروب صفائیاں کرتے پھر رہے تھے جب چہل پہل سے اسکی آنکھ کھلی۔۔
    اس نےکسمسا کر اٹھتے ہوئے اپنے اردگرد نگاہ کی۔۔
    رات کو اسکے ساتھ دو عورتیں ایک بچہ دو کم عمر لڑکے ایک ادھیڑ عمر مرد ایک ہپی بھی بستر لگا کر سویا تھا مگر اس وقت وہ اکیلی لیٹی تھی۔۔ وہ شرمندہ سی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    پوچھا لگاتے ایک خاکروب نے اسکو دیکھا مگر کچھ کہا نہیں۔۔
    وہ ایک۔خالی کارٹن زمین پر بچھا کر لیٹی تھی باقی سب کا روز کا معمول تھا سو کسی کے پاس سلیپنگ بیگ تھا تو کوئی ہوا بھرنے والا۔گدا بچھائے تھا یہ کارٹن اسے بوڑھی عورت نے ازراہ ہمدردی اپنا پہش کیا تھا۔۔
    وہ کارٹن سمیٹنے لگی تو کئی نوٹ اسکے ہاتھ لگے۔۔
    اسے اچھی طرح یاد تھا کارٹن بالکل خالی تھا جب اس نے جھاڑ کر بچھایا تھا۔
    وہ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھ رہی تھی۔۔
    جبھی کوئی اسکے قریب سے گزرتے سکا اچھال گیا۔۔
    اس نے چونک کر سر اٹھایا۔۔ وہ کوئی کالج کا طالب علم تھا بیگ کندھوں پر لٹکائے مڑ کر دیکھنے بنا اسے بھیک دے گیا تھا
    تمہارے ہی ہیں آتے جاتے لوگ رکھ جاتے ہیں بے گھر افراد کے سرہانے اکثر۔۔
    وہ خاکروب اسے سنٹ سا بیٹھے دیکھ کر قریب آکر بولا۔ وہ کچھ نہ بولی ٹکر ٹکر دیکھتی رہی
    تم کو آج پہلی بار یہاں دیکھا نئی آئی ہو اس شہر میں؟
    وہ یونہی پوچھ رہا تھا۔
    اسکی آنکھ سے آنسو بہہ نکلے۔۔
    مت رو ۔۔ اسکا دل پسیج گیا۔۔
    میں بھکاری نہیں ہوں۔۔ وہ کہتے زار زار رو پڑی
    ارے ۔۔ وہ موپ دیوار سے ٹکا کر اسکے سامنے دوزانو بیٹھا
    بھکاری نہیں لگتی ہو جبھی لوگ مدد کر رہے۔۔ روز کے آنے جانے والے بھکاریوں کو دھتکار دیتے ہیں دیکھا یہاں کوئی نہیں بیٹھا ہوا۔۔ تم مشکل میں لگتی ہو جبھی لوگ پیسے بھی دے گئے بھیک نہیں مدد ہے یہ
    اس نے گھٹنوں میں سر دے لیا۔۔
    اپنے ہی الفاظ کانوں میں گونجے آئندہ بھیک اسے دیجئے گا جسے ضرورت ہو۔۔ تو کیا وہ بھی بھیک منگوں میں سے ہو گئ ہے۔۔ اسے اپنی بے بسی پر غصہ بھی آرہا تھا۔۔
    آہش۔۔
    وہ تاسف سے دیکھ رہا تھا
    ایک عورت کو تو خود میں نے کہتے سنا۔۔ بےچاری اچھے گھر کی لگتی ہے۔۔ یہ دو ہزار وون کا نوٹ اس نے تمہارے ہاتھ کے نیچھے دبایا تھا۔۔
    وہ چونک کر سر اٹھا کر دیکھنے لگی تو وہ یقین دلانے والے انداز میں سر ہلانے لگا۔۔
    واقعی۔۔ اس نے ایسا ہی کہا تھا۔۔پھر میں نے یہ کارٹن کے نیچے دبا دیا تھا کہ ہوا سے اڑ نہ جائے۔۔
    وہ اسے بہتر محسوس کرانا چاہ رہا تھا۔۔ اس نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔۔ سادہ سا پینتیس چھتیس سال کا کوریائی نقوش کا حامل مرد جس کے چہرے پر سوائے سادگی کے کچھ نہ تھا۔۔ اسکی ہمدردی اسے جانے کیوں بری نہ لگی۔۔ اس نے سر ہلا دیا۔۔ پھر گھٹنوں کو تھامتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    اس نے پیسے مٹھی میں بھر کر اپنے اپر کی جیب میں ڈال لیئے تھے۔۔
    کچھ کھائو گی؟۔۔ اسے اٹھتے دیکھ کر وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔
    میرے پاس تھوڑا سا چاولوں کا کیک ہے دوں؟۔۔ اس کی خاموشی پر اس نے مزید کہا۔۔
    وہ آنسو پونچھتی مسکرا دی۔۔
    گومو وویو۔۔ پیسے ہیں میرے پاس کچھ کھا لیتی ہوں میں۔۔
    یہ کارٹن ادھر سیڑھیوں کے پاس رکھ دوں گا رات کو وہیں سے لے لینا۔۔
    وہ سر ہلا کر کارٹن اٹھانے لگا تو خیال آیا ۔۔ ہوپ مڑ کا جانے لگی تھی کہ اسکی بات پر ٹھٹھک گئ۔۔
    وہ سادہ سے انداز میں کہہ کر اب کارٹن تہہ کر رہا تھا۔۔
    وہ بس دیکھ کر رہ گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہاسٹل کے برعکس گوارا کے فلیٹ میں گزارے روزے بہتر گزررہے تھے۔ اس نے گوارا کے سامنے اعتراف بھی کیا۔۔
    تم ہاسٹل چھوڑو یہیں رک جائو۔ گوارا اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق فورا بولی
    اریزہ ہنس دی۔ اسے اب پیر کو ہی جانا تھا یونی سو اطمینان تھا۔ لیکن چیزیں پورے کمرے میں پھیلا رکھی تھیں سو اپنے بیگ میں سمیٹ سمیٹ کر رکھ رہی تھی۔
    ایک تو تمہیں کرایہ دینا پڑے گا دوسرا بس کا کرایہ بھی۔ مانا میرے آہبوجی بہت پیسے بھیجتے مگر اڑانا مجھے زیب نہیں دیتا۔ انکی محنت کی کمائی ہے۔
    اسکی بات پر گوارا جو موبائل میں لگی تھی فون ایک طرف رکھ کر بیڈ پر آلتی پالتی مارتے سیدھی ہو بیٹھی۔
    سب مسلم والد ایسے ہوتے ہیں؟ بیٹیوں پر پیسہ خرچ کرنے والے۔
    سب والد ہی ایسے ہوتے ہیں۔ اپنے بچوں کیلئے۔ مسلم غیر مسلم کی کیا تفریق۔
    اریزہ کو اسکا سوال عجیب سا لگا۔
    ہممم۔ گوارا ہوں کرکے چپ ہوگئ
    تمہارے والد تمہارا خرچہ نہیں اٹھاتے؟
    اریزہ سوال کرتے ہی زبان دانتوں میں دبا گئ۔ اسے یوں پوچھنا نہیں چاہیئے تھا۔
    نہیں۔ گوارا کا انداز سادہ سا تھا۔ اسکی جھینپی سی شکل کو دیکھ کر مسکرا کر بولی
    میرے سگے باپ کا انتقال ہو چکا ہے۔ انکی انشورنس وغیرہ سے آہموجی نے ریستوران بنا رکھا ہے گائوں میں۔ اور یہ فلیٹ تھا انکا۔اپنے والد کی شفقت تو یاد نہیں مگر شائد باپ کا کام ہی بچوں کو فائنینشلی سپورٹ فراہم کرنا ہوتا ہے۔اب جی ہائے کو ہی دیکھ لو۔اسکے بابا اس پر کھلا پیسہ خرچتے ہیں۔ مگر وہ اسکی خاطر اسکی امی سے صلح نہیں کر سکتے تھے۔ اسکو دکھ ہی اسی بات کا بس۔
    وہ سرسری انداز میں بتاتئ اٹھ کر باتھ روم میں گھس گئ۔
    اریزہ بیگ سمیٹتے سمیٹتے رک کر بیڈ پر بیٹھ گئ۔
    اسکے بابا تو اسکے بہت لاڈ اٹھاتے تھے۔شائد ہی کوئی فرمائش ہوگی اسکی جو انہوں نے ٹالی ہو۔ اسکے منہ سے بات نکلنے کی دیر ہوتی تھئ اور وہ اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ رات بارہ بجے وہ انکے ساتھ جا کے آئس کریم کھا کے آتی تھی۔ اسکے پاس مہنگے سے مہنگا فون ہوتا تھا۔۔ یہاں بھی وہ مہینے کے درمیان میں ہی پیسے ختم کرکے مزید کی فرمائش کر دیتی تھی۔۔۔ اسکو شدت سے وہ پل یاد آئے جب وہ رات کو انکے ساتھ بیٹھ کر کافی پیتےانکو لمبے لمبے سہیلیوں کے اسکول کے قصے سناتی تھی۔ اسکی سب سہیلیوں کے نام یاد تھے انہیں۔ سنتھیا اسکی سہیلی نہیں بہن ہے یہ انہوں نے اسے سمجھایا تھا۔
    اس نے پلٹ کر بیڈ سے اپنا فون اٹھایا اور فورا میسج ٹائپ کرنے لگی
    پاپا۔ آپ بہت یاد آرہے ہیں مجھے۔ مس یو۔ اور ڈھیر سارا لو یو۔
    جوابا فوری انکا پیغام آیا تھا۔
    مس یو ٹو بیٹا۔ اور پیسے چاہیئے ہیں؟؟؟
    وہ شرمندہ سی ہوگئ۔
    نہیں پاپا بس مس یو اینڈ لو یو۔۔
    اس بار پیغام نہیں انکی کال آگئ تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جی ہائے پریکٹس کر رہی تھی وہ دونوں آلتی پالتی مارے بیٹھی اسے دیکھ رہی تھیں
    وہ ربن سے کرتب کر رہی تھی۔۔ ہوا میں تیرتی سبک خرامی سے اڑتی پھر زمین پر اسکے پائوں آہستہ آہستہ یوں آ اترتے جیسے کوئی دھیرے سے اسے اٹھا کر رکھ دیتا ہو۔۔
    اریزہ محویت سے دیکھ رہی تھی اور گوارا اسکی محویت دیکھ رہی تھی۔
    شفاف گلابی جلد ستواں ناک بڑی بڑی آنکھیں میک اپ کے نام پر کاجل تک نہیں تھا۔ اپنے روائتی سرخ رنگ کے لباس میں ملبوس وہ توجہ کھینچ لینے والا حسن رکھتی تھی۔۔
    سوائے نقش مختلف ہونے کہ وہ خود بھی کافی پیاری بلکہ حسین کوریائی لڑکی تھی مگر جب انسان خود ہی اپنی شکل کو نا پسند کر بیٹھے کوئی کیا اسے اسکے حسن کا احساس دلائے۔۔
    اسکی پریکٹس ختم ہوئی اریزہ نے اسکے لیئے زور زور سے تالیاں بجائیں تب وہ چونکی۔ جے ہی جھک کر اس سے داد وصول رہی تھی۔۔
    چڑھی سانسوں کے ساتھ دھپ سے جی ہائےاسکے پاس آگری۔۔ اف پانی۔۔ اس نے اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکالی مگر وہ خالی ہوچکی تھی۔۔ اف۔ اس نے پیاسی نظروں سے ہال کے ایک کونے میں لگے کولر کو دیکھا۔۔
    گوارا پانی بھر کے لادو۔۔
    اس نے منت بھرے انداز میں گوارا کو کہا۔۔
    وہ وہیں اسکے بیگ پر پھیل گئ۔۔
    پانی چاہیئے۔۔ اریزہ نے اندازہ لگایا۔۔ جے ہی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
    میں لا دیتی ہوں۔۔ اریزہ فورا اٹھی۔۔
    میرے لیئے بھی۔۔ گوارا نے اپنی بوتل بھی نکال کر تھما دی
    شرم کرو۔۔ جی ہائے نے گھورا مگر وہ ڈھٹائی سے ہنسی
    اریزہ دو بوتلیں بھر کر لائی تھی۔۔
    جی ہائے تم آجائو نا میرے فلیٹ میں اپنے ابا کے پیسے میرے منہ پر مار دیا کرنا کرائے کی مد میں ساتھ ایک اور بندی ہوجائے تو میری کتنی بچت ہونے لگے۔۔
    گوارا کا بچت موڈ آن تھا۔
    جی ہائے نے اثبات میں سر ہلایا
    خیال اچھا ہے ان سے کرائے کے نام پر مزید پیسے نکلوانے کا موقع بھئ مگر روز جو مجھے اس منحوس ہال میں آکر پریکٹس کرنئ ہے اسکا کیا۔
    یار مجھے شکل ٹھیک کرنی ہے ابھی اس اریزہ کو ہی دیکھ لو کیسی ستواں ناک ہے اور میری دیکھو پھینی۔
    گوارا نے دہائی دی
    اف اسکے عجیب دکھ۔۔
    کوئی بتائے اسے اصل دنیا کے مسلے کیا ہیں۔۔ جی ہائےمزاق اڑا رہی تھی۔۔
    ماں باپ ہیں بہن بھائی ہیں مگر اسے اکیلا رہنا پسند ہے۔ خیال رکھنے والا بوائے فرینڈ ہے مگر اسکو ناک تک عاجز کیئے رکھتی۔۔ جاب نہیں کرتی ہے مگر خرچے بڑھا رکھے ہر دوسرے دن چھوڑ چھاڑ جیب خرچ اپنے والدین سے منگواتی مگر یہ بہت دکھییا ہے بے چاری۔۔ جب اسے ان سب دکھوں سے فرصت ہوتی تو آئنہ دیکھ کر اچھی بھلی شکل میں عیب ڈھونڈ کر روتی
    جی ہائےگنوا گنوا کر زلیل کر رہی تھی اریزہ حیران اسکی شکل۔دیکھ رہی تھی گوارا ہنسے جا رہی تھی۔۔
    میں پیسے نہ منگوایا کروں تو میری ماں میرے باپ کے پیسوں سے کما کر اپنے سوتیلے بچوں پر خرچ کردے۔ سب۔
    وہ ہنستے ہوئے بولی۔

    سدھر جائو آہجومہ زندگی سبق سکھانے پر آتی تو بہت برا رگڑا لگتا ہے۔۔
    جو بھی۔۔ اس نے کان سے مکھی اڑائی۔۔
    پھر بتانے لگی۔
    میں نے نوٹس بورڈ پر اشتہار لگایا ہے صبح سے تین کالز آچکی ہیں مگر سب لڑکوں کی۔
    اب ایک کمرے کے فلیٹ میں میل روم میٹ تو رکھنے سے رہی۔۔ ساتھ وہ بھی ایک نازک اندام حسینہ اسکی بھی حفاظت میرے زمے ۔۔ویک اینڈ پر ہی سہی
    گوارا نے شرارت سے کہا تو اریزہ ںے تصدیق کرنی چاہی
    میری بات کر رہی ہو۔۔
    گوارا اور جے ہی کھلکھلا کر ہنس پڑیں
    یار یہ مجھ تک سے ہاتھ نہیں چھڑا سکی۔۔ گوارا مزاق اڑا رہی تھی۔۔
    واقعی۔۔ جی ہائے حیران ہوئی۔۔ اریزہ خفا ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی
    تو اور کیا ایسے کانپ رہی تھی۔۔ گوارا نے مبالغہ آرائی سے کام لیا۔
    میرا مزاق نہ اڑائو۔۔ اریزہ کا موڈ خراب ہوا۔۔
    ارے ۔ ناراض مت ہو۔۔ وہ اسے خفا بھی نہیں دیکھ سکتی تھیں۔۔ ہنستے ہوئے
    ۔ دونوں نے ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچ لیا۔ وہ ایکدم سے گرتے گرتے انکے ساتھ دھم سے آبیٹھی تھی دونوں اب پیٹ پکڑ کر ہنس رہی تھیں کیونکہ
    وہ اس بار بھی ان سے ہاتھ نہ چھڑا پائی تھی۔۔ اس نے گھورا انہیں پھر خود بھی ہنسنے لگی۔۔
    ہال کے نیم وا دروازے سے اس نے جھانک کر ان خوش باش چہروں کو غورسے دیکھا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ تھکے تھکے قدموں سے گھر میں داخل۔ہوئی تھیں۔۔ آہموجی باہر نکلنے کو تیار تھیں۔۔ وہ جھک کر سلام کرتی اپنے کمرے کی طرف مڑنے لگیں جب آہموجی کو جانے کیا خیال آیا رک کر پکار لیا۔۔
    گنگشن۔۔
    آہموجی نے پکارا تھا وہ چند لمحے مڑ بھی نہ سکیں۔۔
    دے۔۔ وہ خو د کو سنبھال کر پلٹ آئیں۔۔
    تم کہاں سے آرہی ہو؟۔۔
    وہ ٹٹولتی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
    دفتر سے۔۔ انہوں نے مختصر جواب دیا۔۔
    کس دفتر سے؟۔۔
    آہموجی تفتیش کے موڈ میں تھیں انہوں نے بیزاری سے کہا
    اپنے۔۔
    اپنے کونسے ؟۔۔ وہ بھنائیں۔۔
    کیا پوچھنا چاہ رہی ہیں آپ۔۔ وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولیں۔
    لی گروپ سے آرہی ہو نا؟۔۔
    انی نے پیشانی مسلی
    میں جانتی ہوں جھوٹ مت بولنا۔ انہوں نے ٹوک دیا۔۔
    ہیون تھوڑی دیر پہلے ہی اپنا اسپورٹس بیگ لے کر نکلا ہے ظاہر ہے وہ دفتر نہیں گیا ہوگا۔
    گنگشن گہری سانس لے کر رہ گئیں۔۔
    تم سے میں نے بس ریکارڈ مانگا تھا اتنا تو کر سکتی ہو۔۔ وہ شرمندہ کر دینے والے انداز مین بولیں۔۔
    انی خاموش رہیں۔۔
    اس لڑکے کے پیچھے تم اپنی ماں کی نافرمان ہوتی جا رہی ہو۔۔
    وہ ضبط کھو کر چلائیں۔۔
    آوارہ عورت کا ناجائز بچہ ہے وہ کون جانے تمہارا بھائی ہے بھی نہیں۔۔ کل کو بلا شرکت غیرے ہر چیز کا مالک بنا دے گا اسے تمہارا باپ تب تمہیں اپنی ماں کی بات یاد آئے گی۔۔
    گنگشن زور سے ہنس دیں۔۔
    مالک بنے گا نہیں ہے وہ مالک ۔۔۔
    انہوں نے جتایا۔۔ آہموجی ہونہہ کہہ کر رہ گئیں۔۔ وہ زور دے کر بولیں۔۔
    ۔ وہ نہ ہوتا تو کوئی اور ہوتا۔۔ یہ سب میرا کبھی نہ تھا نہ ہوگا۔۔ آہبوجی اپنی محنت کبھی کسی اور کے ہاتھ میں نہیں سونپیں گے۔ ساری جائداد کمپنی دور ایک معمولی سب کمپنی دان نہ کر۔سکے اپنی بیٹی کا گھر بچانے کیلیئے آپ جانے کس غلط فہمی میں ہیں۔۔
    وہ کہہ کر سر جھٹکتی چلی گئیں تھیں۔۔
    آہموجی کی فراخ پیشانی شکنوں سے پر ہو گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کم سن اور ہیون بالنگ کر رہے تھے
    کم سن نے بورڈ دیکھا ہیونگ سک پندرہ پوائنٹس سے
    آگے تھا
    بال میں تین انگلیاں پھنسا کر اس نے جتاتئ نظروں سے دیکھا تو کم سن ہنس دیا
    وہ انداز سے جھکا نشانہ باندھا اپنےبازو کے زور سے بال کو اسکے راستے پر لڑھکایا بال ریڑھتی گئ اور سیدھا درمیان سے بوتلوں سے ٹکرائی ساری کی ساری بوتلیں ڈھیر ہوگئیں۔۔
    یس۔۔ اس نے زور سے چیخ مار کر مٹھی بنا کر ہوا میں لہرائی۔۔
    کم سن کی باری ختم ہو چکی تھی اسکور بورڈ ہیونگ سک کی جیت کا جشن منا رہا تھا
    اس نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔۔
    ہیون پسینے پسینے ہو رہا تھا اس نے سائڈ سے تولیا اٹھا کر اسکی جانب اچھالی۔۔ وہ منہ بازو پونچھتا اسکے پاس صوفے پر آگرا۔
    اف تھک گیا۔۔
    کم سن نے اسکو پانی کی بوتل پکڑائی خود بھی اسکے ساتھ بیٹھ کر گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔۔
    تو اگر جان کر ایک شاٹ مس نہ کرتا تو میں آج بھی نہ جیت پاتا۔۔
    بوتل منہ سے لگاتے اس نے سرسری سے انداز میں کہا کم سن کو پانی پیتے اچھو لگ گیا۔۔ کھانستے کھانستے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔۔ وہ پورے دھیان سے پانی پی رہا تھا۔۔
    کم سن سر جھٹک کر رہ گیا
    تمہارا کام کر دیا تھا میں نے ایک دو دن میں پیپرز مل جائیں گے تمہیں۔۔
    اسے اچانک خیال آیا تو سیدھا ہو کر بتانے لگا۔۔
    گومو وویو۔۔ وہ مشکور ہوا
    غلامی کر اب میری بقیہ زندگی۔۔ اس نے طنز سے گھورا
    کم سن زور سے ہنسا۔۔
    احسان مند شکریہ ہی ادا کرتے میری دعا ہے تمہیں کبھی کسی کا احسان مند نا ہونا پڑے۔۔ تم نہیں جانتے مگر تم نے میرا بہت بڑا کام کیا ہے۔۔
    کم سن سنجیدہ ہو کر کہہ رہا تھا۔۔ اس نے ہیون کی جانب دیکھنے سے احتراز برتا تھا۔۔ مگر کم سن کو دیکھے بغیر بھی وہ جانتا تھا ایسا اس نے آنکھوں میں در آنے والی نمی کو چھپانے کیلیئے کیا ہے۔۔
    کم سنا۔۔ ہیونگ سک نے مخاطب کیا تو وہ اسکی جانب گھوم گیا۔۔
    سارنگی اے۔۔ (میں تم سے پیار کرتا ہوں)
    کم سن نے پوری آنکھیں کھول کر دیکھا۔۔
    ہیونگ سک اسکی حیرت پر مسکرایا۔۔ پھر بات ہی بدل گیا۔۔
    جون جے سے ملنے جارہا ہوں چلو گے؟۔۔
    ہیون نے کہا تو کم سن نے اسے غور سے دیکھا
    کیوں؟۔۔جا رہے ہو۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں اسکے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑے بیل بجا رہے تھے۔ تین چار بار کے بعد دروازہ کھلا۔۔ جون جے انکے آگے جھک سا گیا۔۔
    اسلام و علیکم۔۔
    معزرت بے حد معزرت تم لوگوں کو انتظار کرنا پڑا۔۔ میں نماز پڑھ رہا تھا آئو اندر آئو۔۔
    وہ خوشدلی سے دونوں کو گلے لگا کر ملا ۔۔
    آننیانگ واسے او۔۔ کم سن کو اسکے سلام کا جواب سمجھ نہ آیا تو اپنی زبان میں ہی سلام کر دیا۔۔
    آننیاگ واسے او۔۔ اس نے فورا جواب دیا۔۔ انکو ہمراہ لیئے سیدھا لائونج میں لے آیا۔۔ لاونج میں ایل ای ڈی تھا اور بےحد آرامدہ صو فے بچھے تھے۔۔
    کیا لوگے ۔۔
    وہ آداب میزبانی نبھا رہا تھا۔۔ دونوں نے اکٹھے شرارت سے کہا۔۔
    وہسکی۔
    جون جے ہنس دیا۔
    وہ تو نہیں ہے۔۔ تازہ جوس ہے لے آتا ہوں۔۔ وہ انکو بیٹھنے کا اشارہ کرتا کچن کی جانب بڑھ گیا۔۔
    ہیون نے اسکے فلیٹ کا جائزہ لیا۔۔ بس ضرورت کا سامان تھا نہ بے حد پر تعیش تھا نہ بالکل خالی۔۔ اسکو اسکا کمرہ یاد آیا۔۔
    اس پورے فلیٹ جتنا بس اسکا کمرہ تھا۔۔۔سامان سے اٹا ہوا۔۔ اسکی وارڈروب کسی مہنگی برانڈ کے اسٹور سے کم نہیں تھی نک سک سے درست رہنا مہنگے کلون استعمال کرنا اسکا شوق تھا۔ اور اس وقت۔۔ سادہ سے ٹرائوزر شرٹ میں ملبوس ہلکی ہلکی شیو بڑھی ہوئی وہ انکےلیئے اپنے ہاتھوں سے اورنج جوس نکال رہا تھا۔۔
    یہ وہی بندہ ہے جو جھک کر اپنے جوتے کےتسمے تک نہیں باندھنے کو تیار ہوتا تھا ۔۔ اتنا نخریلا تھا۔۔
    کم سن نے اسکی جانب جھک کر سرگوشی کی۔ تبھی جون جے کی اس پر نظر پڑی تو مسکرا کر بس دو منٹ میں آیا کا اشارہ کیا۔۔
    ہیون نے ہلکے سے ہنکارہ بھرا۔
    جون جے تین گلاس بنا کر ٹرے میں سجا لایا۔۔ سہولت سے انہیں تھما کر انکے مقابل آبیٹھا۔۔
    میں نے کھانا آرڈر کیا ہے تم لوگ کھا کر ہی جانا ۔۔ اس نے خلوص سے دعوت دی
    دونوں نے سر ہلا دیا۔۔
    یہ کیا ہے۔۔ ہیونگ سک کو ٹی وی کے پاس رگ سا بچھا نظر آیا۔ تھا تو قالین جیسا ہی مگر قالین پر کوئی تصویر سی بنی تھی۔۔
    اوہ۔۔ جائےنماز میں جلدی میں سمیٹنا بھول گیا۔۔
    جون جے سر پر ہاتھ مارتا اٹھا
    اس پر کیا بنا ہے؟۔۔ کم سن کو بھی تجسس ہوا۔۔
    جون جے اٹھ کر تہہ لگا رہا تھا اسکے پوچھنے پر کھول کر دکھانے لگا۔۔
    یہ محراب بنی ہے عموما مسجد اسی طرح کی ہوتی اس پر نماز پڑھی جاتی ہے۔۔ ۔۔ جون جے نے تہہ کر کے ریک میں رکھ دی۔۔
    میرا روم میٹ تو چادر بچھا کر نماز پڑھتا۔۔ کم سن حیران ہوا۔۔
    کون؟۔۔ ہیونگ سک بھی چونکا
    شاہزیب۔۔ کم سن نے بتایا تو وہ سمجھ کر سر ہلا گیا۔۔
    چادر میں بھی پڑھ سکتے مگر یہ مخصوص ہوتی تو بس اسی کام کیلیئے رکھی جاتی چادر تو کہیں بھی استعمال ہو سکتی۔۔ جون جے کو سمجھ نہ آیا کیسے افادیت بتائے۔۔
    دونوں نے پھر مزید سوال بھی نہ کیا۔۔
    اور کیا ہو رہا ہے۔ ہیون سے تو ملاقات ہو جاتی تم کیا کر رہے ہو آجکل پینٹنگ کا شوق کیسا جا رہا۔۔
    جون جے نے پوچھا تو کم سن پھیکی سی ہنسی ہنس دیا۔
    کب کی چھوڑ دی پینٹنگ۔۔۔
    کیوں۔۔ جون جے حیران ہوا۔۔
    لمبی کہانی ہے۔۔ کم سن نے ٹالنا چاہا۔۔
    ہیون بے نیازی سے گھونٹ بھر رہا تھا۔
    چلو جیسے تمہاری مرضی۔۔ جون جے نے بھی اصرار نہ کیا۔۔
    تم نے کھانے میں کیا آرڈر کیا ہے۔۔ سبزیاں منگوائی ہیں تو مجھے بالکل بھوک نہیں پہلے بتا رہا۔۔
    ہیون نے لگی لپٹے رکھے بغیر کہا۔۔
    جون جے زور سے ہنسا۔۔
    نہیں حلال ریستوران سے کھانا منگوایا ہے ہے کوریائی کھانا مگر بیف اور چکن ہے ساتھ نوڈلز۔۔
    ہیونگ سک مطمئن ہوا۔۔
    تم لوگ کھا سکتے ہو بیف اور چکن۔۔ کم سن حیران ہوا۔۔
    تم لوگ مطلب۔۔ جون جے سمجھا نہیں
    یار مسلم کھا سکتے۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔
    میرے کچھ دوست ہیں مسلم جو کبھی ہمارے ساتھ کہیں جا کر گوشت نہیں کھاتے۔۔ اگر تم کسی ریستوران کا کھا سکتے ہو تو بتائو میں انہیں بتائوں گا۔
    ہاں ۔۔ ضرور۔۔ اس نے فورا حامی بھری پھر چونکا
    تمہارے مسلمان دوست ہیں؟
    اسکے زہن میں خطبے میں سنے الفاظ گونجے
    یہود اور نصارئ تمہارے کبھی دوست نہیں ہو سکتے۔۔
    ہاں۔۔ پاکستان ایک ملک ہے اسلامی وہاں سے آئے ہیں۔۔ کچھ ایکسینچ اسٹوڈنٹس۔۔ہماری اچھی خاصی دوستی ہے ان سے اچھے لوگ ہیں۔۔
    ہیون نے بھی بتایا تو وہ کندھے اچکا گیا۔۔
    اچھی بات ہے۔
    تبھی باہر دروازے کی اطلاعی گھنٹی بجی۔۔ کم سن کے دماغ میں بھی گھنٹی بجی۔۔
    اس نے غور سے جون جے کو دیکھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شاہزیب اور ایڈون یونہی رات کو چہل قدمی کرنے نکلے تھے یہ داخلی سڑک تھی سو اکا دکا کوئی گاڑی گزرتی تھی۔ وہ فٹ پاتھ پر چل رہے تھے سڑک شفاف تھی فٹ پاتھ صاف تھا۔ اردگرد صفائی سے ماحول کتنا اچھا لگ رہا تھا۔
    ۔کاش پاکستان میں بھی لوگ صفائی کا خیال کر لیں
    نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے موازنہ کر ڈالا۔ اور دکھ سے سوچا۔۔۔
    ۔۔ ایڈون نے کسی کو فون ملا کر دیکھا تھا موبائل بند تھا۔۔
    آہش۔۔ اس نے سر جھٹک کر موبائل واپس جیب میں ڈال۔لیا۔۔
    یار یہاں کا موسم کتنا اچھا ہے
    ۔ شاہزیب نے دونوں ہاتھ اپر کی جیب میں گھسیڑ کر کندھے اونچے کرکے خنکی کو اپنے اندر سمونا چاہا۔۔
    یہاں سب کچھ ہی اچھا ہے۔۔سکون ہے آزادی ہے۔۔
    ایڈون نے سادہ سے انداز میں کہا تھا۔۔
    شاہزیب نے چلتے چلتے رک کر اسے دیکھا تھا۔۔
    ایڈون ایک بات پوچھوں ؟۔۔ زاتی سوال ہے نہ بتانا چاہے تیری مرضی۔۔
    اس نے حفظ ماتقدم کےطور پر پہلے ہی کہہ دیا۔۔ ایڈون باقائدہ اسکی جانب مڑ کر گھورنے لگا۔۔
    تو کب سے اتنا تمیز تہزیب والا ہوگیا۔۔ پوچھ نہیں بتانا چاہوں تو تیرا۔ وہ رکا۔۔
    اگلوا نہیں سکتا مجھ سے۔۔ اس نے کیا لفظ کھایا تھا شاہزیب بخوبی سمجھ کر ہنسا۔۔
    نہیں اگلوانا کچھ نہیں تجھ سے تیرا کچھ بھئ مجھ سے چھپا نہیں۔۔
    شاہزیب نے کہا تو ایڈون نے فورا دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر جیسے ڈر کر خود کو اس سے چھپایا
    کیا بک رہا ہے۔۔
    شاہزیب نے کھڑی لات اسکے جمائی۔۔
    وہ سی کرتا ٹانگ سہلانے لگا۔۔
    سنتھیا جان گئ ہے اریزہ کے بارے میں ؟۔۔
    اس نے سیدھا سوال کیا۔۔
    ایڈون ایکدم سنجیدہ ہوا۔۔
    پھر گہری سانس لے کر سر اثبات میں ہلا دیا۔۔
    تجھے میں نے کہا تو کبھی بھولے سے بھی اسکو مت بتانا
    شاہزیب کا دل۔کیا اس احمق کے زور سے کان کے نیچے جما دے۔۔ دانت پیس کر بولا تھا
    ایڈون نے کوئی جواب نہ دیا۔۔
    ۔۔ جبھی ناراض ہے تم سے فون بھی اٹھا رہی۔
    اس نے پھر پوچھا۔۔
    اس بات پر نہیں ناراض۔ اس پر منا لیا تھا میں نے اسے۔۔ اب بس ہر وقت شک کرتی رہتی مجھ پر
    کچھ بولوں تو کہتی تم مجھ سے جلدی چڑ جاتے ہو ابھی اریزہ ہوتی تو تمہارا رویہ ایسا نہ ہوتا۔۔
    خاموش ہوں تو اسے لگتا اریزہ کی یادوں میں گم ہوں کوئی بھی بات ہو گھوم پھر کر اریزہ کے نام پر آجاتی۔۔ ۔ تنگ آگیا ہوں۔ یار کتنا تو خیال کرتا ہوں میں اسکا کیا کچھ نہیں کرتا اسکے لیئے پھر بھی۔۔
    وہ پھٹ پڑا تھا۔۔حقیقتا بال نوچ لینے والا حال تھا اسکا
    تین دن سے یونیورسٹی نہیں آرہئ فون بند کیا ہوا ہے
    مت پوچھو فکر مند بھی ہوں اور غصہ بھی آرہا ہے مجھے۔۔ لگ رہا میں پاگل ہو جائوں گا۔۔
    شاہزیب کو اس پر ترس آرہا تھا۔۔
    اونچا لمبا ایڈون بچوں کی طرح روہانسا ہو چلا تھا
    اریزہ سے پوچھنا تھا۔۔ شاہزیب نے کہا تو ہونٹ بھینچ گیا
    اس سے پوچھا تو کہہ رہی تھی میں گوارا کے ساتھ رہ رہی ہوں۔ اسکے گھر۔۔
    کیا۔۔ شاہزیب حیرت سے چیخ پڑا
    ہاں۔ ایڈون تھک کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔۔
    شاہزیب مجھے لگتا ہے مجھے سنتھیا سے منگنی نہیں کرنی چاہیئے تھی میں نے جلد بازی سے کام لیا ہے۔۔
    وہ تھکے تھکے انداز میں بولا
    یار کپلز میں لڑائی ہو جاتئ ہے تھوڑا جیلس ہو گئ ہے تحمل سے کام لے ٹھیک ہو جائے گی ۔۔
    شاہزیب نے سمجھانا چاہا وہ استہزائیہ ہنسا
    مجھے لگا تھا ہر گزرتے دن کے ساتھ اریزہ کیلیئے میرے جزبات سرد ہو جائیں گے ۔ میں سنتھیا کی طرف متوجہ ہوتا جائوں گا۔۔ مگر الٹ ہو رہا۔
    تو جانتا ہے میں شکل پر مرنے والا سطحی لڑکا نہیں ہوں۔۔ اس نے شاہزیب سے تائید چاہی شاہزیب خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔۔
    مگر وہ ہے بہت الگ بہت اچھی بہت ۔۔ اس نے تھک کر سر جھکا لیا۔۔
    اگر میں عیسائی نہ ہوتا تب بھی وہ مجھے ایسے صاف انکار کر دیتی؟۔۔ کم از کم ایک بار تو سوچتی نا میرے بارے میں۔۔
    وہ جانے کیا جاننا چاہ رہا تھا۔۔
    وہ مسلمان ہے یہ جان کر بھی تو محبت کر بیٹھا نا۔ ؟۔۔
    محبت مزہب سے بالا تر ہوتی ہے انسان سے ہوتی ہے۔۔ اسے اگر تیرے بارے میں سوچنا ہوتا تو سوچ چکی ہوتی سب سے بڑھ کر ۔۔ وہ تیری قسمت میں ہوتی تو یا تو مسلمان پیدا ہوتا یا وہ عیسائی پیدا ہوئی ہوتی۔۔ سب سے الگ یہ تو مانتا ہے نا ایک۔طاقت ہماری عقل سمجھ سے بالاتر اور قوی ہے
    ۔۔ اس نے شہادت کی انگلی سے آسمان کی جانب اشارہ کیا۔۔
    باقی سنتھیا کیلیئے یہ روڈ سائڈ رومیو اور بالی ووڈ سے متاثر ہتھکنڈے استعمال مت کر وہ جو اتنا رومانوی انداز اپناتے اداکاری کرتے پردے پر ہی اچھا لگتا یہ کام انہیں آتا۔۔ تو اگر کرنا چاہے گا تو اوپری لگے گا کیونکہ تو اداکار نہیں۔۔ اپنے آپ کر وقت دے سنتھیا کو بھی۔
    اس طرح خود پر بھی جبر کر رہا اور سنتھیا کو مزید چڑا رہا ہے۔۔
    شاہزیب نے الفاظ کے چنائو میں بے حد احتیاط سے کام لیا تھا پھر بھی ایڈون سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا وہ بخوبی سمجھ گیا تھا کس جانب اشارہ ہے شاہزیب کا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں جانتا ہوں۔۔
    چاپ اسٹکس سے اسٹیک کا ٹکڑا اٹھا کر لاپروائی سے کھاتے ہوئے جون جے نے کہا تھا
    تم جانتے ہو پھر بھی؟
    کم سن اور ہیون چونکے۔
    دونوں ہاتھ روک کر گھور رہے تھے۔۔
    جون جے نے انکو ہکا بکا دیکھا تو ہنس کر بولا
    کھانا تو کھائو۔۔
    پھر آرام سے پانی گلاس میں بھر کر گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔۔
    دونوں اسکی ہدایت کے بر عکس اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔ اس نے گلاس میز پر رکھ دیا۔۔ اور انکی حیرت بھری آنکھوں میں جھانک کر بولا
    مجھے خوشی ہے میرے اتنے مخلص دوست ہیں۔ گومو وویو۔۔ تم دونوں خاص طور پر مجھے مطلع کرنے اپنے وقت کو صرف کر کے یہاں آئے مجھے دلی قدر ہے
    مگر۔۔ وہ رکا پھر گہری سانس لے کر بولا
    اب میں اپنا پرانا رہن سہن سب کچھ بدل چکا ہوں اب مجھے نہ اس جائداد میں دلچسپی ہے نہ ہی میں اس کمپنی کیلیئے کچھ بھی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں میری جاب میری روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کیلیئے کافی ہے۔۔
    اور تمہاری والدہ۔۔ کیا وہ بھی ایسا ہی سوچتی ہیں۔۔
    ؟۔۔ کم سن نے سیدھا سوال کیا
    اسکے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ در آئی
    انکو تو بہت دلچسپی ہے اس جائداد میں۔۔
    اگلا جملہ اس نے منہ ہی منہ میں کہا
    مجھ سے بھی زیادہ عزیز ہے انہیں تو۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واپس آتے ہوئے گاڑی میں دونوں اسی کے بارے میں سوچ رہے تھے
    ابھی جزباتی ہو رہا کچھ عرصے بعد احساس ہوگا اسے۔۔
    کم۔سن نے ہیونگ سک سے کہا۔۔
    ہوں۔۔
    ہیون متفق تھا۔۔
    مجھے جب میرے بھائیوں نے ہاتھ پکڑ کر نکال باہر کیا تھا تب میں کتنا خوار ہوا تھا جون جے بھی جانتا۔۔ یون بن اور تم نہ ہوتے تو شائد میں کبھی سنبھل نہ پاتا۔۔ جزباتی سہارہ تو ایکرف تم دونوں نے مجھے پیسے سے بھی بہت سہارہ دیا سڑک پر آگیا تھا میں تو۔۔
    کم سن کا انداز تلخ ہوگیا تھا جیسے سب منظر ایکدم آنکھوں کے سامنے آگئے تھے
    ہیون خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا
    عجیب مزہبی ہوا ہے۔۔ دنیا چھوڑ بیٹھا ہے۔۔ یہ وہی جون جے ہے نا موزے بھی برانڈڈ درکار تھے اسے اور اب اس وقت جو شرٹ پہنے تھا اسکا رنگ اڑا ہوا تھا یہ تو دو سے تیسری بارتو بہترین براںڈڈ لباس بھی زیب تن نہیں کرتا تھا۔۔
    وہ واقعی حیران تھا۔۔
    تم کچھ نہیں کہو گے؟
    وہ شائد اکیلے حیراں ہو ہو کر تھک گیا تھا جبھی اسے بھی بولنے پر اکسانے لگا۔۔
    کیا بولوں۔۔ جون جے اب پرانا جون جے نہیں ہے بدل چکا تبدیلی کی وجہ مزہب ہے۔۔۔۔۔ کیا نیا اس میں۔۔
    وہ اکتایا تھا۔۔
    سچ پوچھو تو جو اسکی عادتیں تھیں اچھی نہیں تھیں اب زیادہ نرم مزاج ہو گیا ہے۔۔ کم سن نے مزید رائے دینا ضروری سمجھا۔
    مگر یار حیران کردینے والی بات ہے
    وہ ہیون کی جانب باقائدہ مڑ کر بولا
    مزہب تو سب کا ہی کوئی نہ کوئی ہوتا سب مزہب اچھائی کی ہی تعلیم دیتے بس یہ مسلمان اتنے کٹر کیوں ہوتے ہیں۔۔ ؟۔۔
    کون جانے ۔۔۔ کون جانے ہیونگ سک نے کندھے اچکائے تبھی اسے مانوس سا جھنڈا دکھائی دیا۔۔
    وہ کوئی ریستوران تھا جسکی پیشانی پر وہ چمک رہا تھا۔ اس نے زہن کے گھوڑے دوڑائے۔۔
    کہاں دیکھا۔۔
    روتی لڑکی پریزنٹیشن۔۔
    دنیا کی واحد مسلمان ایٹمی قوت۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔-
    موبائل میں کتنی ہی دیر اس نے وہ چہرہ تکتے وقت بتا دیا تھا سنہری دھوپ میں دمکتا سنہرہ چہرہ
    سرد ہوا سے گلابی ہوتا چہرہ۔۔ بات بات پر مسکرا دینے والا خرم شہزادہ۔
    یہ انی نے بھجوائے ہیں۔۔
    جھوٹ روانی سے بولتا۔۔

    اسکے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ آگئ
    تو تم پر ترس کھایا جا رہا تھا بس ۔۔
    اور کیا ۔وہ دھیرے سے۔ بڑ بڑائی
    دے؟
    اسکے پاس بیٹھی عورت سمجھی کہ اس سے مخاطب ہے۔۔ سو اس سے پوچھنے لگی۔
    وہ متوجہ بھی نہ ہوئی یونہی دیکھتی رہی۔۔
    بس اسکے اسٹاپ سے آگے آچکی تھی جب بریک لگنے پر اسکے خیالوں کا سلسلہ ٹوٹا تھا۔۔اس نے چونک کر بس کی کھڑکی سے جھانکا
    آہجوشی یہ تو میانگ اسٹاپ نہیں۔۔
    اس نے پکار کر ڈرایور سے پوچھا
    وہ گزر چکا ہے۔۔ ڈرایور نے جواب دیا تو وہ سر پر ہاتھ مار کر اٹھی
    میں بس یہیں اتر رہی ہوں۔۔ وہ بتاتی بس سے نکل آئی۔۔
    باہر نکل کر اس نے لمبی کولتار سڑک کر گھور کر دیکھااس نے اندازہ لگایا
    اب تمہیں اگلے آدھے گھنٹے تک روندنا ہے مجھے۔ تھوڑا احساس کر لینا۔۔
    وہ سڑک سے مخاطب تھئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کم سن کو ڈراپ کر کے واپس آہی رہا تھا کہ شاہراہ پر ہیون کو دائیں جانب داخلی گلی میں مڑتا کوئی مانوس چہرہ دکھائی دیا اس نے فورا انتہائی دائیں جانب ایکدم سے موڑ کر روکی تھی۔۔
    وہ گاڑی سے نکل کر تقریبا بھاگتا ہوا گلی میں داخل ہواتھا۔۔ اتنےرش میں بھی اسے وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتئ بائین جانب ایک۔دکان میں گھستی دکھائی دی۔
    وہ تیزی سے لپکا
    روزمیری مساج اینڈ سپا۔ اس نے رک کر دکان کی پیشانی پر موجود عبارت پڑھی۔
    وہ کاونٹر پر کھڑی تھی۔۔
    ای جی آ۔۔
    اسکے دو بارہ غائب ہونے کے ڈر سے وہ زور سے پکار بیٹھا
    ہوپ بری طرح چونک کر مڑی تھی چابی اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جاپڑی تھی۔۔
    ہیون درمیانئ فاصلی لمبے ڈگ بھر کر طے کرتا اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔۔
    کہاں چھپ گئی تھیں؟۔۔تم۔۔
    اس نے جھک کر چابی اٹھائی اور مڑ کر جانے لگی
    ہیون نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
    ہوپ۔۔ مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔ اسکے چہرے کی مخصوص مسکراہٹ زائل ہوئی وہ اپر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اجنبی سے انداز میں کہہ رہا تھا
    ہوپ نے مڑ کر اسے بغور دیکھا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تمہیں میرا نام کیسے پتہ چلا۔؟
    کافی کارنرمیں کائونٹر سے ہیون دو کافی بنوا کر اسکے سامنے ٹرے لیئے آ بیٹھا تو اس نے زہن میں کلبلاتا سوال پوچھ لیا۔۔
    ایک بلیک کافی ایک کریمی کیپیچینو۔۔
    اس نے خود ہی بلیک کافئ اٹھا لی۔۔ ہیون نے حیرت سے اسے دیکھا مگر وہ بے نیازی سے گھونٹ بھر کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
    تمہارے ڈاکومنٹس سے دیکھا تھا۔۔ اس نے بتایا تو اسے یاد آیا۔۔ ایبسٹریکٹ آرٹ کے سیمپلز کیساتھ اس نے سی وی اور کور بھی بھجوایا تھا ۔۔
    احمقانہ سوال پوچھنے سے باز نہ آئیں۔۔ کیا لگا تھا اسے خواب آیا تھا ۔۔ وہ خود کو گھرکنے لگی۔۔
    تم میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں؟۔۔ تمہیں جاب آفر ہوئی تھی۔۔ کوئی وجہ تھی نا جو بار بار رابطہ کرنا چاہ رہا تھا۔۔ تم نے خود رابطہ کیا تھا اس نمبر پر؟
    اسکا انداز سخت نہیں تھا۔۔ اسے شائد سختی سے بات کرنا آتا ہی نہیں تھا۔۔ اتنا نرم اور دھیما انداز تھا کہ وہ کوئی سخت جواب نہ دے سکی۔
    نہیں کیا ۔۔ اس نے ہونٹ بھینچے۔۔
    مجھے پتہ تھا۔۔ وہ سرجھٹک رہا تھا
    تم نے وہ سامان واپس بھجوایا کیوں؟۔۔
    وہ بڑے غور سے اسے دیکھ رہا تھا
    کیونکہ میں بھکاری نہیں ہوں۔۔ بھیک نہیں چاہیئے تھی مجھے۔ تم نے مجھ پر ترس کھا کر وہ سامان دیا انی تو جانتی بھی نہیں تھیں اس بارے میں۔۔
    وہ تیز لہجے میں بولتی گئ۔ ہیونگ سک خاموشی سے دیکھتا رہا۔۔
    میں تمہاری مدد کرنا چاہتا تھا میرے خلوص سے دیئے گئے تحفے کو غلط رنگ دے رہی ہو۔۔
    خلوص۔۔ وہ استہزائیہ ہنسی۔۔
    اچھا مزاق ہے۔۔ وہ کڑوی کافی کے گھونٹ بھر رہی تھی ۔۔

    ہیون چپ سا ہو گیا۔۔ کریمی کیپیچینو کا جھاگ بیٹھتا جا رہا تھا۔ اس نے کپ اٹھا لیا۔۔ دونوں سر جھکائے ایک دوسرے کو دیکھنے سے بھی گریزاں گھونٹ بھر رہے تھے۔۔
    کافی پی کر وہ اٹھنے لگی تھی جب ہیون نے اسے نظروں میں رکھتے ہوئے کہا۔۔
    میری ایک دوست اسی بلڈنگ میں رہتی ہے اسے کرایہ دار درکار ہے۔ تمہیں نسبتا کم قیمت میں اچھی جگہ رہائش مل سکتی ہے ۔ کیا تمہیں دلچسپی ہے؟۔۔
    وہ صاف انکار کر دینا چاہتی تھی۔۔ مگر
    بھیک نہیں مدد ہے یہ۔ کسی کے الفاظ کانوں میں گونجے۔
    دے۔۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔ ہیونگ سک مسکرا دیا۔
    بھیک بھی تو وصول کی ہی ہے میں نے مدد بھی سہی۔۔ اس نے تلخی سے سوچا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویک اینڈ پر وہ کھینچ کھانچ کر حسب معمول جی ہائے کو بھی لے جانے آئی تھئ۔
    ایک تو یہ ہفتہ وار ہجرت مجھ سے ذبردستی کرواتی ہو۔
    جی ہائے بڑ بڑا رہی تھی گوارا آرام سے اسکے بیڈ پر بیٹھی پائوں جھلا رہی تھی۔
    سنتھیا سے بھی پوچھ لوں۔ اریزہ کو خیال آیا۔
    ہاں پوچھ لو۔
    گوارا نے فراخدلی سے کہا۔
    ۔اریزہ ڈورم میں سنتھیا سے ملنے گئ مگر ڈورم خالی تھا۔ وہ گہری سانس بھر کر اسے فون ملانے لگی۔
    فون بند تھا۔ یقینا وہ پھر ایڈون کے ساتھ کوئی پروگرام بنا چکی تھئ۔ وہ دروازہ بند کرتی واپس چلی آئی۔ تینوں اہتمام سے اپارٹمنٹ میں داخل ہوتے چلائیں۔
    اس ویک اینڈ ہم خوب چل کریں گے ایک لمحہ بھی فالتو نہیں بیٹھنابس۔۔ اس آموختے کو دہراتے صرف ایک گھنٹے بعد ہی
    جی ہائے اریزہ اورگوارا تینوں برابر لیٹی اپنے اپنے موبائل میں لگی ہوئی تھیں۔ جی ہائے حسب عادت گیم کھیل رہی تھی اریزہ اپنا بلاگ کھولے تھی تو گوارا چپکے چپکے آہستہ آواز میں یون بن سے مسکرا مسکرا کر باتیں کرنے میں مگن تھی۔۔
    آہش۔۔
    اس نے مزے سے کروٹ لی کہنی جی ہائے کو لگی اسکا چانس گر گیا
    اس نے بھنا کر گوارا کو گھورا
    بیانئے ۔ اس نے لبوں کی بے آواز جنبش سے آنکھیں سکیڑ کر معزرت خواہانہ شکل بناتے جواب دیا تھا۔۔وہ تپ کر اٹھ بیٹھی اسکے ایکدم اٹھنے سے اریزہ جو اسکے ساتھ ہی لیٹی اسکا بازو لگا اریزہ کے ہاتھ سے موبائل چھوٹا اور زمین پر جا پڑا
    سوری۔ جی ہائے فورا معزرت خواہ ہوئی
    اریزہ گہری سانس بھر کر لیٹے لیٹے ہی جھک کر موبائل اٹھانے لگی۔۔
    اس پاگل کو شوق تو بڑا ہے کرایہ دار رکھنے کا ہم تین کو یہ بیڈ پورا نہیں پڑتا ایک اور کو اپنے سر پر بٹھائو گی؟۔۔
    جی ہائے کہتے کہتے بیڈ سے اٹھی۔۔ ایسی آواز گوارا کے کان میں فورا پہنچتی تھی۔۔
    فورا فون کان سے ہٹا کر بولی۔
    جب تیسری کرایہ دار آئے گی تو تم مت آنا نا ویک اینڈ پر ۔۔ جگہ پوری پڑ جائے۔۔گی۔۔ اسکے آدھے جملے میں ہی جی ہائےنے اسکے پیتھیانے پڑا کمبل اٹھا کر اسکے منہ پر گولا بنا کر دے مارا۔ گوارا جھکائی دے کر بھی بچ نہ پائی جوابا سرہانے سے تکیہ اٹھا کر جی ہائے کو مارا۔۔ اس نے بازو آگے کر کے روکنا چاہا تکیہ اسکے بازو سے ٹکرا کر اریزہ کے موبائل تھام کر واپس آتے ہاتھ پر پڑا اسکے ہاتھ سے پھر موبائل چھوٹ کر زمیں پر گر گیا۔
    تمہاری تو۔۔ اریزہ کی بے نیازی رخصت ہوئی تلملا کر وہی تکییہ جی ہائے کو کھینچ کر مارا بس پھر جسے طبل جنگ بج گیا۔ ایک دوسرے کو تکیہ سے مار مار کو تکیوں کا انجر پنجر ٹیڑھا کر دیا۔۔
    پٹ پٹا کر تینوں بے دم ہو کر بیڈ پر گریں اور کھلکھلا دیں
    یار بڑا مضبوط تکیہ ہے۔۔
    اریزہ نے بازو میں دبایا تکیہ سر کے نیچے رکھا
    ہاں یار فلموں ڈراموں میں تو اس لڑائی کےبعد فر نکل کر ہوا میں اڑنے لگتا ہے۔۔ جی ہائےنے بھی حیران ہو کر تکیہ الٹا
    گوارا کو ایک فر اڑتا دکھائی دیا تو روہانسی ہو کر اپنا تکیہ ٹھیک کرنے لگی۔۔
    میرا اکلوتا تکیہ پھٹ گیا۔۔ اسکا دکھ دیدنی تھا۔۔
    اسکے تکیے کا ایک کونا پھٹ کر فر اڑا رہا تھا۔۔
    سی لو ٹھیک ہو جائے گا۔۔ جے ہی اور اریزہ سب بھول بھال مدد کو آئیں
    زہریلی عورتوں۔۔ وہ دانت پیسنے لگی۔۔
    جے ہی کھلکھلائی۔
    ویسے فلمی سین ہو تو گیا۔۔ تھوڑا سا سہی فر نکل آیا۔۔
    اریزہ نے فر اٹھا کر ہوا میں اڑایا۔۔
    جے ہی کو شرارت سوجھی گوارا کا تکیہ کھینچ کر اس چھوٹے سے سوراخ کو پورا بھنبھخ کیا اور مٹھی بھر کر فر اڑایا۔۔
    گوارا چلاتی تکیے کو بچانے دوڑی مگر جی ہائے اور اریزہ نے اسکا تکیہ قبضے میں لیکر فر اڑانا شروع کر دیا۔۔ گوارا انکے تکیوں پر لپکی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہیون اور ہوپ گوارا کے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑے تھے
    گوارا کافی صفائی پسند ہے میں نے اسکا اپارٹمنٹ کبھی گندا نہیں دیکھا۔۔
    ہیونگ سک تعارف کروا رہا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پورا کمرہ کسی مچھلی بازار کا نقشہ پیش کر رہا تھا
    بیڈ کی چادر زمیں پر لوٹ رہی تھی پورے کمرے میں فر اڑ رہا تھا تکیےخالی ہو چکے تھے اور کاوچ پر پڑے دھلے کپڑوں کا ڈھیر بھی اس لڑائی کا حصہ بن چکا تھا۔۔ ٹی شرٹ سکرٹ بھی ایک دوسرے کو گولا بنا کر ماری جا رہی تھیں۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکی دوستیں ویک اینڈ پر آجاتئ ہیں مگر کبھی کبھی ۔۔ ایک تو کورین ہے دوسرئ پاکستانی لڑکی ہے مگر وہ بھی اچھی ہے سادہ سی۔۔ وہ بھی جھگڑالو نہیں ہے تمہاری اس سے بھی اچھی نبھ جائے گی۔۔
    اس نے مزید کہہ کراطلاعی گھنٹی بجائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے کمزور کہہ کر مزاق اڑا رہی تھیں وہی ہو نا تم دونوں۔۔
    جی ہائے بیڈ پر اوندھی پڑی تھی اسکے اوپرگوارا تھی اور ان دونوں کو نیچے دبائے اریزہ ان کی کشن سے دھنائی کر رہی تھی دونوں کا چہرہ لال ہو چکا تھا ہنسنے کی وجہ سے دونوں بے دم ہوئی پڑی تھیں جبھی اریزہ کو کھلا موقع ملا تھا۔ گوارا نے کھسک کر نکلنا چاہا تو اریزہ نے فورا اسکی ٹانگ پکڑی
    کدھر؟۔۔
    گوارا پھولی سانسوں سے ہانپتی بولی
    اطلاعی گھنٹی بجی ہے۔۔
    اس وقت۔۔
    اریزہ اور جی ہائے دونوں نے بیک وقت گھڑی کو دیکھا۔۔
    رات کے ساڑھے گیارہ ہو رہے تھے
    اس وقت کون ہو سکتا۔۔
    دونوں سنجیدہ ہو کر سیدھی ہوئیں
    دیکھ کر ہی پتہ لگے گا۔۔
    گوارا نے کندھے اچکائے اور جانے لگی تھی۔ دونوں بیڈ سے کود کر اسکے پاس آئیں اور دائیں بائیں اسکا بازو تھام گئیں
    کیا ہے۔ وہ جھلائی
    یون بن تو اس وقت آیا نہیں ہم تینوں کا اس شہر میں کوئی جاننے والا نہیں۔۔ کون آیا ہوگا ۔۔ جی ہائے گھبرائی
    اس دن جو انگریزی فلم دیکھ رہے تھے جی ہائے اس میں ایسے ہی رات بارہ بجے گھنٹی بجی تھی نا۔۔
    اریزہ کو غلط موقع پر ڈرائونی فلم یاد آئی تھی
    گوارا سٹپٹا کر دونوں کی شکل دیکھ رہی تھی
    اور جب ہیروئن نے دروازہ کھولا تو کوئی نہیں تھا
    جی ہائے نے کہا تو گوارا نے مکھی اڑائی
    جب کوئی نہیں تھا تو ڈرنے کی کیا بات
    ڈرنے کی بات تب تھئ جب وہ دروازہ بند کرکے کندھے اچکا کر مڑی تو اسکے بالکل پیچھے
    اریزہ نے لرزتی ہوئی آواز میں بتانا چاہا
    تبھی گوارا کو اپنی کمر میں سر سراہٹ ہوئی
    کیا تھا پیچھے۔۔ گوارا کو بھی ڈر لگا
    چڑیل کھڑئ تھی۔ اریزہ نے کانپتی آواز میں بتایا تھا۔۔
    فلم تھی۔۔ گوارا نے ان سے زیادہ خود کو تسلی دی تھی
    تینوں لائونج میں کھڑی ایک دوسرے سے لپٹی تھر تھر کانپتے دروازے کو گھور رہی تھیں جیسے آر پار نظر ہی تو آجائے گا۔۔
    تبھی پھر گھنٹی بجی اس بار تواتر سے دو مرتبہ بجی ٹرن۔۔ گوارا کے فون کی گھنٹی اچانک بجی تھی تینوں ڈر کر چیخ پڑیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ آج دروازہ کیوں نہیں کھول رہی۔۔ ہیون نے الجھن سے دوبارہ گھنٹی بجائی۔
    سو رہی ہوگی۔۔
    ہوپ نے کہا تو وہ نفی میں سر ہلا گیا
    دس منٹ پہلے اس نے ایس این ایس پر اپنا اسٹیٹس اپڈیٹ کیا ہے۔۔ اس نے وضاحت کی
    ایس این ایس سوشل میڈیا کیلیئے کورین یہ لفظ استعمال کرتے ہیں social networking site
    ہیونگ سک نے فون ملالیا تھا
    تبھی اسے بند دروازے سے نسوانی چیخ بلکہ چیخیں سنائی دیں
    اس نے گھبرا کر دروازہ پیٹ دیا
    اریزہ۔۔ اریزہ گوارا۔۔ ٹھیک تو ہو تم لوگ۔۔
    ہوپ بھی متوحش ہو گئ تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ تو ہیون کی آواز ہے۔۔ تینوں ایکدم خاموش ہوئیں گوارا نے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔۔
    ہیون ایک لڑکی کے ہمراہ کھڑا تھا
    ٹھیک تو ہو تم ؟۔۔ اس نے گھبرا کر پوچھا تھا گوارا سر ہلاتی سوالیہ نظروں سے لڑکی کو دیکھ رہی تھی
    ہوپ نے گوارا کو دیکھا پھر ہیون کو گھورنے لگی
    یہ تنگ دل لڑکی۔ کرایہ کم کرے گی؟ ذرا سا چینی دینے میں جان نکل گئ تھی اسکئ۔
    وہ چینی زبان میں بڑبڑائی تھئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انھیں لے کر وہ لاونج میں آئی تو اریزہ اور جی ہائے سٹپٹاتی بال درست کرنے لگیں۔۔ اریزہ کو احساس ہوا کہ دوپٹہ پاس نہیں تو ایک قدم پیچھے ہو کر جی ہائےکی آڑ میں ہو گئ۔۔
    آننیاگ واسے ہو۔۔
    جی ہائے نے مسکرا کر جھک کر سلام کیا تو ہوپ مسکرا دی۔۔
    گوارا ہیون کو نظروں میں لیئے تھی اور ہیون
    یہ گوارا ہے یہ جی ہائے اور یہ۔۔ اس نے اچک کر جی ہائےکے پیچھے چھپتی اریزہ کو تلاشا۔۔
    اریزہ۔۔
    اب چھپنا بد تہزیبی تھی اس نے کھسیا کر جی یائے کے پیچھے سے جھانک کر اشارے سے سلام کیا۔۔
    آپ سب یہاں رہتی ہیں؟۔۔ ہوپ نے پوچھا
    آنیو۔۔ میں تو بس ہفتے کا آخر گزارنے آئی ہوں ۔۔ آپ آجائیں گی تب تھوڑی۔۔ جی ہائے گڑ بڑا بولی تو گوارا نے اسکے پائوں پر پائوں مار کر گھورا
    یہ میری دوست ہے اریزہ بھی ویک اینڈ ہم اکٹھے گزارتے ہیں۔
    گوارا نے جتانے والے انداز میں کہا تھا
    ہوپ بخوبی اسکے ماضی الضمیر کو سمجھ گئی تھی
    یعنی اگر یہاں رہنا تو تم بھی اعتراض مت کرنا۔۔
    ٹھیک ہے تم اسے کمرہ دکھا دو آرام کرو ہوپ کوئی مسلہ ہو تو مجھے پیغام بھیج دینا تم لوگ بھی آرام کرو رات کافی ہو گئ ہے۔۔ ۔ میں اب چلتا ہوں۔۔ پھر ملتے ہیں۔۔ ہیون نے بات کرتے کرتے گھڑی دیکھی تو عجلت میں نکلنے کی کی۔۔
    کمرہ۔۔ ؟۔ہوپ نے اپنا مختصر بیگ کا ہینڈل تھام کر پوچھا تو تینوں کھسیا کر نظر چرا گئیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کمرہ اسکی توقع کے برعکس تھا
    پورا کمرہ فر سے بھرا تھا چیزیں بکھری پڑیں تھیں فرش پر کپڑے بچھے پڑے تھے بستر آدھا بیڈ پر آدھا نیچے گرا پڑا تھاوہ کمرے میں داخل ہو کر ہکا بکا رہ گئ تھی۔۔ یہ تینوں قصدا سر جھکائے اسکی جانب دیکھے بغیر اندر داخل ہوئیں جس کے ہاتھ جو پڑا وہ اٹھا کر سمیٹنے کی سعی کرنے لگی
    یہ۔ اسکے منہ سے بس اتنا ہی نکل سکا
    وہ بس ہم شغل میں۔۔۔ جی ہائے نجانے کیوں کھسیانی ہوئی جارہی تھی۔۔
    بیانئے بس ہم ابھی صاف کر دیتے ہیں۔۔
    گوارا نے گھور کر جی ہائے کو دیکھا۔
    پھر بڑبڑائی
    بندہ اتنا بھی حلیم الطبع نہ ہو۔۔
    ہوپ منہ کھولے دیکھتی ایک قدم پیچھے ہوئی تو کوئی چیز اسکی جوتی کے نیچے چرمرا کر ٹوٹ گئ
    اس نے سٹپٹا کر پائوں ہٹایا تینوں اسکی جانب ہاتھ روک کر متوجہ ہوئیں۔۔
    اس نے بیگ رکھ کر جھک کر اپنے قدموں میں روندی جانیوالی چیز کی باقیات اٹھائیں
    جانے کیا تھا پلاسٹک کا۔۔ کیکڑے جیسا
    میرا کیچر۔۔ اریزہ نے بکھرے بالوں والے سر کو ٹٹولا جیسے یقین نہ آرہا ہو یہ اسکا معصوم کیچر ہی داغ مفارقت دے گیا ہے۔۔
    اوہ ۔۔ ہوپ نے چٹکی سے کیچرکو پکڑ کر دیکھا۔۔
    یہ تو اب نہیں لگ پائے گا۔۔ اریزہ نے مایوسی سے کیچر کو گھورا۔۔
    ہم اسے تھوڑی دیر تک صاف کر لیں گے اگر تب تک تم نے فریش ہونا تو یہ باتھ روم ہے۔۔ گوارا نے آداب میزبانی نبھائے۔۔
    ہم ویسے ہمیشہ ایسے گند مچا کر نہیں رہتے۔۔
    اریزہ نے دوستانہ انداز میں تسلی دی
    ہاں اور ایسا پاگل پن بھی ہم پر روز روز سوار نہیں ہوتا۔۔ جی ہائےنے بھی صفائی دی
    ویک اینڈ پر ایک نفسیاتی آئئ ہے ورنہ میں اور اریزہ شرافت سے رہ رہے تھے
    گوارا ہوپ سے مخاطب نہیں تھی جی ہائے کو گھورتے ہوئے چبا چبا کر بولی
    کیا میں نفسیاتی۔۔ جوابا وہ زور سے چلائی اور گوارا کی شرٹ جو تہہ لگا کر رکھنے لگی تھی گولا بنا کر اسکے ہی منہ پر ماردی۔۔
    تمہاری تو۔۔ گوارا نے تلملا کر کشن اس پر پھینکا
    خدا کا واسطہ دوبارہ شروع نہ ہوجانا۔۔ اریزہ سر پکڑتی بیچ بچائو کرانے بڑھی
    اس نے شروع کیا ہے دوبارہ گوارہ چلائی
    اس نے پہلے مجھے نفسیاتی کہا ابھی بتاتی ہوں نفسیاتی کیسے ہوتے۔۔ وہ آستین چڑھا کر اسکی جانب بڑھی
    بس کرو جانے دو۔۔ اریزہ بیچ بچائو کرانے میں ہلکان ہو رہی تھی
    ان تینوں کو دوبارہ پوری توانائیوں سے بھڑتے دیکھ کر ہوپ کے چہرے پربھئ بے ساختہ مسکراہٹ در آئی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح اسکا لگاتار فون بج رہا تھا جس سے اسکی آنکھ کھلی۔۔ جی ہائے اور ہوپ زمین پر بستر لگا کر سوئی تھیں وہ اور گوارا بیڈ پر۔ ابھی گوارا اس کے کندھے پر جھکی بازو اسکے گرد حمائل کیئے لپٹ کر سو رہی تھی۔۔ اس نے احتیاط سے بازو نکال کر اسکے سر کے نیچے تکیہ رکھا۔۔ پھر اٹھ کر موبائل دیکھنے لگی۔۔
    ایڈون کالنگ۔۔ اس نے پوری آنکھیں کھول کر تعجب سے دیکھا۔۔
    تینوں بے خبر سوئی پڑی تھیں وہ سائلنٹ کر کے احتیاط سے بے آواز قدم اٹھاتی باہر نکل آئی
    ہیلو۔۔ اس نے فون اٹھایا تو ایڈون چھوٹتے ہی بولا
    کہاں ہو؟۔۔
    ابھی تو گھر ہوں آج پہلی کلاس گیارہ بجے ہے تو۔۔
    وہ جمائی لیتے بتارہی تھی مگر ایڈون نے عجلت میں بات کاٹ دی
    گوارا کے فلیٹ میں ہو؟۔۔ میں بس دو منٹ تک پہنچ رہا ہوں۔۔ جلدی سے تیار ہو جائو۔۔
    وہ بے تاب تھا۔۔ شائد گاڑی میں ہی تھا اس نے اسکی آواز کے ساتھ میں ٹریفک کے شور کی آمیزش محسوس کی
    مگر کیوں۔۔؟۔۔
    وہ بگڑی۔۔ ابھئ آٹھ بجے وہ کیوں پہنچ جائے یونی۔
    سنتھیا تین دن سے فون نہیں اٹھا رہی وہ یونیورسٹی بھی نہیں آئی ہے۔ بہت پریشان ہوں میں پلیز تم ہاسٹل جا کر اس سے مل لو مجھے بس خیریت جاننی ہے اسکی پلیز اریزہ۔۔
    وہ کتنا پریشان تھا اسکی آواز سے مترشح تھا۔
    اوہو تو بتا تو رہی ہوں سو رہی ہوگی نا گیارہ ۔۔۔
    اس نے بتانا چاہا مگر ایڈون نے پھر بات کاٹ دی۔
    اٹھا دینا نا اسے۔ پلیز پلیز مجھے بہت فکرہو رہی ہے۔
    وہ حقیقتا منت پر اتر آیا تھا۔۔
    اچھا۔۔ ٹھیک ہے۔۔
    اس نے حامی بھر کر فون رکھ دیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ خود بھی پریشان ہوگئ تھئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان تینوں کو ہال میں دیکھ کر اطمینان سا ہوا تھا۔ اپنے موبائل میں اس نے ایڈون کا میسج دوبارہ نکالا۔۔
    میں کم سن کے ساتھ ہوں۔
    جوابا اس نے لکھا تھا
    سچ بولو۔
    جوابا اس کا فوری پیغام یہ آیا تھا۔
    اریزہ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہوں۔اب خوش۔
    وہ یقینا چڑ کر جھوٹ بول رہا تھا۔۔
    اب ایڈون کی تلاش بے معنی تھی۔ وہ آرام سے بیگ کندھے پر درست کرتی یونیورسٹی سے نکل آئی۔۔۔۔
    شام کے دھندلکے سیول پر چھا رہے تھے۔ گہما گہمی ہجوم۔
    وہ بس اس سب میں کھو جانا چاہتی تھی۔
    اریزہ کے سوا اسکی بھی کوئی دوست نہ تھی۔ گوارا اور جی ہائے بھی یقینا اریزہ کی ہی سہیلیاں تھیں۔ اریزہ کو اسکے بغیر اکیلا پن محسوس نہیں ہوتا ہوگا مگر وہ تنہا تھی۔
    اسکے پاس بس دو ہی تو لوگ تھے ایڈون اور اریزہ۔۔ اور وہ ان دونوں سے ہی دور جانا چاہ رہی تھی۔
    جانے باقی دنیا کی لڑکیاں ڈپریشن میں کیا کرتی ہیں۔ پاکستانی لڑکیاں تو بس سوائے تکیئے میں منہ دے کر رونے کے اور کچھ بھئ کرنے کی عادی نہیں۔۔یہاں یوں سڑک پر آ پھرنے کی آزادی تھئ سو آ کر بھی کچھ سوجھ نہ رہا تھا کہاں جائے کیا کرے۔
    کیا کروں۔ وہ حقیقتا سڑک کنارے کھڑی یہی سوچ رہی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تنگ سی گلی میں بارہ سیڑھیاں اتر کر وہ گھر تھا۔ پرانا مگر اچھی حالت میں بنے اس گھر کا سامنے کا حصہ تو بڑا سا تھا شائد صحن وغیرہ تھا۔ پھولوں سے لدی بیل سے دیوار تقریبا چھپ سی گئ تھی۔ لکڑی کا مختصر سا دروازہ تھا جس کو کھولا تو سامنے واقعی کھلا صحن تھا جس کے بیچوں بیچ چبوترہ سا تھا پرانے زمانے کے کوریائی گھرانوں کا لازمی جز۔ صحن میں بھئ بڑا سا درخت تھا سامنے دو سیڑھیاں چڑھ کر دو کمرے تھے۔ ایک دائیں جانب کونے میں کچن تھا۔ غسل خانہ بھئ اسی طرف تھا۔
    سوہائیو تو بچہ تھامے خاموشی سے اندر گھس گئ۔ وہ البتہ کم سن کا بازو تھام کر شکر گزار نظروں سے دیکھنے لگیں
    گوما وویو۔
    انکے کہنے پر کم سن نے شائد سنا نہیں یا نظر انداز کر گیا
    اندر چلیں آہمونی بارش ہونے والی ہے۔
    وہ جلدی میں کہتا اندر گھس گیا۔انہوں نے بھئ تقلید کی۔
    دونوں کمروں میں ضرورت کا سب سامان تھا۔ برآمدے میں فریج بھئ رکھا تھا۔
    سوہائیو نے کمرے کا دروازہ کھول کر بتی جلا دی تھی۔
    سامنے چھوٹا سا صوفہ میز رکھے تھے بائیں جانب اندر ڈبل بیڈ تھا ایک جانب دیوار گیر الماری اور سنگھار میز۔ وہ تنقیدی نگاہوں سے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ کم سن اور ایم سیانگ بھئ یہیں چلے آئے۔
    یہاں سے سوہائیو کو آرام سے بس مل جایا کرے گی اپنے دفتر تک کی۔ اسٹاپ قریب ہی ہے۔۔۔ اور قریب ہی ڈے کئیر سینٹر بھی ہے وہاں آرام سے بچے کو چھوڑا جا سکتا ہے۔
    ڈائپر وغیرہ کا کارٹن میں نے لا کر رکھ دیا ہے باقی جس چیز کی ضرورت ہو بتا دینا ۔۔
    وہ مزید بتا رہا تھا۔ سوہائیو بچے کو بستر پر لٹا کر کندھے سے لٹکتے بیگ سے اسکے لیئے دودھ کی بوتل نکالنے لگی۔۔ مکمل نظر انداز۔۔۔
    اور آپ کو اب اسپا جانے کی بالکل ضرورت نہیں۔ راشن مہینے بھر کا موجود ہے۔ آپ بس آرام کریں۔
    یہ خیال بھرے جملے اس نے روانی سے بولے تھے اور کہہ کر کمرے سے نکل گیا۔ وہ جو شکریہ ادا کرنا چاہ۔رہی تھیں ہونٹ بھینچ گئیں۔
    آگے بڑھ کر زور دار دھپ سوہائیو کے لگائی
    بھائئ اتنا خیال کر رہا تھا پھوٹ دیتیں کیا کیا چاہیئے۔
    سوہائیو انکے دو ہتھڑ پر سخت بدمزہ ہوئی
    بھائئ نہیں ہے وہ میرا۔ نا آپکا بیٹا ہے۔ اس سے احسان یا بھیک ملی ہے ہمیں۔ ہمیں اپنی اوقات یاد رکھنی چاہیئے اور منہ کھول کھول کر فرمائیشیں نہیں کرنی چاہییں۔اور یہ بھیک اور احسان بھی آپ نے لیا ہے۔ میں اپنا خرچہ خود اٹھا سکتی ہوں یہ آپ ہیں جو چند دن عیش کی زندگی گزار کر اب غربت کو سہہ نہیں پارہی ہیں۔۔
    وہ بولی تھی تو بولتی چلی گئ تھی۔ سختی کڑواپن بے نیازی اسکی ذات کا خاصہ تھی مگریوں بنا لحاظ وہ منہ در منہ سنا دے گئ انکے گمان میں نہ تھا۔ ایم سیانگ سخت خفت زدہ سی اسکی شکل دیکھتی رہیں۔
    اس نے انکے عقب میں کھڑے کم سن کو دیکھا تو زبان کو بریک سی لگی۔ مگر وہ یہا ں اپنی خوشی و مرضی سے نہیں آئی تھی یقینا یہ بات کم سن کے علم میں ہونی چاہیئے۔ مگر اس طرح پتہ لگے وہ یہ بھی نہ چاہتی تھی۔ جھلاہٹ میں فیڈر بیڈ پر پٹختی وہ ایک طرف ہو کر کمرے سے ہی نکلتی چلی گئ۔

    ایم سیانگ بھئ مڑ کر کم سن کی شکل دیکھ کر شرمندگی سے سر جھکا گئیں۔۔
    یہ کچھ پھل ہیں ۔ وہ دو تین شاپر پکڑے تھا۔
    وہیں سینٹرل ٹیبل پر رکھ دیئے۔
    کرم۔۔ ( چلتا ہوں)۔۔
    گوما وویو۔
    اس سےقبل وہ دوبارہ عجلت میں نکل جاتا انہوں نے شکریہ ادا کر ڈالا
    تم نے مجھے بیٹوں کی طرح سہارا دیا ہے۔ تمہارا بہت شکریہ۔۔
    وہ مزید بھی کچھ کہتیں۔۔
    میں نے بس آپکے کیئے گئے احسان کا بدلہ چکایا ہے۔ اور بس۔۔
    حساب برابر سمجھیں۔۔۔
    وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔ ایم سیانگ گہری سانس لیکر اسے جاتے دیکھ کر رہ گئیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ لڑکا ناچتے ہوئے بار بار اسے چھوئے جا رہا تھا۔۔ اس نے دو ایک بار اسکا ہاتھ کندھے سے جھٹکا۔۔ پھر بھی وہ باز نہ آیا تو پیر پٹختی ڈانس فلور سے اتر آئی۔ کائونٹر پر بیرے نت نئے کرتب دکھاتے شراب کے پیگ بنا رہے تھے۔
    مجھے سادہ جوس دیں۔
    اس نے انگریزی میں کہا جو کائونٹر کے دوسری جانب کھڑے بیرے کوبالکل سمجھ نہ آئی۔
    سامنے ٹرے میں پھل کٹے رکھے تھے ٹوتھ پکس پروئےایک ایک نوالے جتنے کٹے ہوئے۔ سیب ایوا کاڈو جیک فروٹ ، پیچ ، اور اسٹابریز۔
    ایپل جوس۔
    اس نے فروٹ کی ٹرے سے باقائدہ سیب اٹھا کر اسے دکھایا
    دے۔
    وہ سر جھکاتا اسکی فرمائش پوری کرنے چل دیا۔
    وہ کائونٹر پر کہنیاں ٹکا کر اس اونچے سے اسٹول پر ٹک گئ۔ اسکا موبائل بجے جا رہا تھا۔اس نے بیزاری سے اٹھا کر دیکھا۔
    ایڈون کالنگ۔ اس نے فون کاٹا پھر کچھ سوچ کر فون بند ہی کردیا۔۔
    اسکا جوس آگیا تھا۔
    اس نے ایک سانس میں پی کر رکھا۔ پیسے رکھے اور جانے لگی۔ ۔تبھئ اسکا ہاتھ کسی مضبوط گرفت میں آگیا تھا۔۔
    اسکے برابر بیٹھے اس کورین لڑکے نے اسکا ہاتھ تھام کر روکا تھا۔
    اس نے سخت غصے میں مڑ کر دیکھا۔۔
    موبائل؟ ۔۔
    وہ اشارے سے کائونٹر پر رکھے موبائل کی جانب توجہ دلا رہا تھا۔
    اس نے ہونٹ بھینچے اپنا ہاتھ چھڑا کر تن فن کرتی پلٹی موبائل اٹھایا اور پلٹ کر جانے لگی۔ پھر خیال آیا۔
    مڑ کر اسکے سامنے آکھڑی ہوئی۔
    شراب کے گھونٹ بھرتے کم سن نے سوالیہ انداز میں بھنوئیں اچکائیں۔۔ جیسے پوچھ رہا ہو کیا ہوا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سادہ سی بات ہے۔ اس نے جھوٹ بولا۔
    کم سن بے نیازی سے بولا۔
    وہ اسکے سامنے اسٹول پر چڑھ کر بیٹھی اسے گھو ررہی تھی۔۔۔
    گوما وویو۔ اتنی پتے کی بات تو مجھے سمجھ بھی نہ آنی تھی۔
    وہ تپی ہوئی تھی۔ کم سن ہنس دیا۔
    تمہیں یہ سوچنا چاہیئے کہ اس نے جھوٹ بولا کیوں۔ آیا وہ جان چھڑا رہا ہے یا جان بچا رہا ہے۔
    اسکے سوال میں وزن تھا۔ وہ سوچ میں پڑی۔
    جان چھڑا رہا تو جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں تھی اسے۔
    وہ مزید بولا۔ سنتھیا اسے چونک کے دیکھنے لگی۔
    جان بچارہا تھا۔ وہ اگرشاہزیب یا سالک کا نام لیتا تو وہ یقینا اگلا فون انہیں کھڑکاتی۔ کم از کم اریزہ کے ساتھ نہیں تھا یہ کافی نہیں تھا اسکے لیئے۔ ؟ اسے خود اپنی کیفیت نہیں امجھ آرہی تھئ۔
    ویسے تم پاکستانی لڑکیاں اتنی وفادار ہوتی ہو کہ ابھی تمہارا بوائے فرینڈ یہاں ہے بھئ نہیں تم سے جھوٹ بھی بولتا ہے مگر تم اسکی غیر موجودگئ میں بھی ڈرنک نہیں کر رہیں۔
    کم سن کو واقعی حیرت تھی۔
    میں ویسے بھی نہیں پیتی۔ اور نہ پینے کا تعلق ہرگز ایڈون کے منع کرنے سے نہیں ہے۔
    وہ تیز ہو کر بولی۔
    پھر کس سے ہے؟ تمہارا بھی مزہب منع کرتا ہے۔؟ کم سن نے یونہی پوچھا۔۔
    ایسی کوئی بات نہیں۔ میں چاہوں تو ابھی پی سکتی ہوں۔۔
    اس نے ٹرے سے ایک شاٹ اٹھا لیا۔
    اپنے ہونٹوں تک لائی۔۔اور جتانے والے انداز میں اسے دیکھ کر واپس رکھ دیا۔
    یہ کیا تھا۔ وہ ہنس پڑا۔۔
    یہ میری قوت ارادی ہے۔ اجنبئ ملک میں اجنبی لڑکے کے سامنے پی کر بہکنا میں افورڈ نہیں کر سکتی۔
    وہ صاف گوئی سے بولی۔
    یعنی ابھی تم ایڈون کے ساتھ ہوتیں تو پی لیتیں۔
    وہ دلچسپی سے اسے دئکھ رہا تھا۔گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تک کی سادہ سی گلابی فراک میں ملبوس تھی۔ اسکا رنگ گہرا سانولا تھا مگر لانبا قد بڑی بڑی آنکھیں ستواں ناک نازک سے نقش۔۔ اس میں کچھ ایسا تو تھا جو نگاہ کھینچ لے اپنی جانب ۔۔ خاص کر اسکے لمبے سیدھے بال جنکی اس نے اس وقت چوٹی کر رکھی تھی۔ مغربی لباس کے ساتھ خالص دیسی بالوں کا انداز۔ وہ بے حد سمٹ کر پروقار سے انداز میں بیٹھی تھی۔۔وہ بلا شبہ یہاں موجود سب لڑکیوں میں منفرد سی لگ رہی تھئ۔
    ہاں۔
    اس نے بلا توقف جواب دیا۔
    ایڈون کو پتہ ہے تم اس اجنبی ملک میں اجنبی لڑکے کے ساتھ بیٹھی ہو؟
    وہ محظوظ سے انداز میں سوال کر رہا تھا۔۔۔ سنتھیا فورا جواب میں کچھ کہنے لگی تھی کہ احساس ہوا۔ چپ سی رہ گئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کم سن اسے ہاسٹل تک چھوڑنے آیا تھا۔۔۔۔
    شکریہ ۔۔۔
    وہ سیدھئ اندر جانے لگی تھی بروقت خیال آیا۔ کوریائی انداز میں جھک کر شکریہ ادا کیا۔
    کم سن مسکرا دیا۔۔۔وہ بھئ جوابا مسکرا دی۔۔۔ اپنے ڈورم کا دروازہ کھولتے اسکا اندازہ تھا اریزہ آچکی ہوگی مگر خالی کمرہ اندھیرے میں بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔
    آج تو واپس آجانا چاہیئے تھا۔ اسے غصہ ہی آگیا۔ پلٹ کر جی ہائے کے کمرے کا دروازہ دھڑدھڑا ہی دیا۔۔۔ کوئی جواب نہ آیا توناب گھمادی۔ ۔ کمرہ لاکڈ تھا۔۔۔
    جی ہائے کمرے میں نہیں ہے۔۔ گوارا کے ساتھ گئ ہوئی ہے۔
    پاس سے گزرتی لڑکی نے گاڑی ہنگل میں اسے بتایا۔۔
    پورے جملے میں بس جی ہائے اور گوارا ہی سمجھ آئے۔
    وہ دانت پیستی کمرے میں واپس آئی۔ بیگ اٹھا کر بیڈ پر پھینک دیا۔
    پھر خود بھی دھپ سے بیڈ پر آن گری۔۔۔
    موبائل آن کیا۔ ایڈون کا نمبر بلاک کیا اریزہ کا نمبر بلاک کیا۔
    کم سن کی مسڈ کال پڑی تھی اسکا نمبر احباب فہرست میں شامل کیا نام لکھا۔۔۔ اس نے اسٹیٹس لگا رکھا تھا۔ مکمل ہنگل میں۔
    اس نے کاپی کیا۔۔۔۔۔۔۔
    انکی لازمی ہنگل کی کلاس میں ابتدائی ہنگل سکھانے کیلئے ایک ایپ انکے استاد نے سب کو انسٹال کروائی تھئ۔
    اس نے اس ایپ میں جملہ ڈالا۔ ترجمہ ہوا۔
    لکھا تھا۔۔

    Life is all about cutting ties, not making the knot stronger..

    Life is all about cutting ties, not making the knot stronger..
English heart broken qoutes
    Life is all about cutting ties, not making the knot stronger..

    دل کو لگا۔۔۔۔
    اس نے اپنا بھی یہی اسٹیٹس لگا لیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے

    Kesi lagi apko aaj ki salam korea ki qist? Rate us

    Rating
  • Salam Korea Episode 15

    salam korea 

    by vaiza zaidi

    salam korea 

    by vaiza zaidi

    urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

Novel urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list


urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

novel

urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list
urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

Novel urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list


urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

novel

urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list
kdrama urdu,
Desi kimchi,
Desi kdrama fans,
Urdu kdrama,
Urdu web,
Kdrama maza,
Korean masti,
korean dramas,
kdrama,
k drama,
best korean drama,
korean drama 2020,
korean drama 2021,
kdrama 2021
best kdrama,
korean series,
kdramas to watch,
korean drama website,
kdrama website,
netflix korean drama,
asian drama,
best korean drama 2020,
top korean drama,
new korean drama 2021,
best korean drama 2021,
best kdrama 2020,
best kdrama to watch,
best korean drama on netflix,
best korean series,
best kdrama 2021,
kdrama netflix,
k drama urdu,
www korean drama,
watch korean drama,
best k dramas on netflix,
netflix korean drama 2021,
best kdrama on netflix,
new korean drama,
www kdrama,
k drama 2021,
korean series on netflix,
netflix korean drama 2020,
top 10 korean drama,
top kdrama,
top korean drama 2020,
k dramas to watch,
2021 korean drama,
korean drama series,
best korean series on netflix,
new kdrama 2021,
2020 kdrama,
2020 korean drama,
2021 kdrama,
k drama netflix,
best k drama to watch,
romance kdrama,
k drama 2020,
new korean drama 2020,
latest korean drama 2021,
korean dramas to watch,
top korean drama 2021,
watch kdrama,
korean tv series,
highest rated korean drama,
korean drama in hindi,
korean drama shows,
top kdrama 2021,
new kdrama,
watch asian drama,
popular korean drama,
kdrama online,
latest korean drama,
korean drama online,
korean netflix series,
korean tv shows,
korean shows,
must watch kdrama,
korean shows on netflix,
famous korean dramas,
romance korean drama,
top kdrama 2020,
most popular korean drama,
korean series 2021,
must watch korean drama,
new kdrama 2020,
best romance kdrama,
popular kdrama,
good kdramas,
korean drama in hindi dubbed,
korean series 2020,
kdramas 2020,
best korean shows on netflix,
korean drama 2021 netflix,
top k dramas,
top rated korean drama,
watch kdrama online,
korean romance,
top korean series,
netflix k drama,
good korean dramas,
latest kdrama 2021,
most watched korean drama,
top 10 kdrama,
famous kdrama,
all in korean drama,
best k drama 2020,
urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
pakeeza anchal,
l online reading,
pakeeza anchal novel online reading,
urdu novel bank,
urdu novel platform,
yaar zinda sohbat baqi,
desi story urdu,
    salam korea urdu web travel novel episode 15

    قسط 15

    ۔۔۔۔۔

    صبح الارم بجنے پر اسکی آنکھ کھلی تھی۔۔ سحری کا وقت نکل چکا تھا۔ وہ خود کو کوس کر رہ گئ۔ ہاں بنا کھائے پیئے روزے کی نیت کر نے کی ہمت نہ تھی۔ ایک تو ویسے ہی جب سے آئی تھی یہاں ڈھنگ سے کھانے کو نہیں مل رہا تھا۔۔ الارم بھئ یہ گوارا کا بجا تھا۔ اس نے اپنا موبائل اٹھا کر دیکھا الارم لگا ہوا تھا یقینا بج بج کے بند ہوگیا۔ اسکی بے ہوش نیند اور یہ ساتھی گوارا۔ ابھی بھی

    گوارا کسمسمائی تھی مگر اٹھنے کا کوئی ارادہ نہین تھا۔۔ وہ فریش ہو کرباہر نکل آئی۔  ناشتہ بنانے لگی۔  ڈبل روٹی اور انڈے ہی موجود تھے اس نے توس سینک کر آملیٹ بنایا ساتھ کافی کے دو مگ بنائے تب گوارا نک سک سے تیار کمرے سے برآمد ہوئی۔

    آجائو ناشتہ کر لو۔۔ 

    اس نے خوشدلی سے اسے دعوت دی۔۔ 

    میں تو ناشتہ نہیں کرتی۔ اس نے کہا تو مگر اتنے اہتمام سے ناشتہ سجا تھا وہ انکار نہ کر سکی۔۔ دونوں کھا پی کر اکٹھے یونی کیلیئے نکلی تھیں۔۔ 

    اس فالتو اسائنمنٹ نے آج بھئ یونی کی شکل دکھا دی ورنہ میں نے پورا ہفتہ یہ والا یونیورسٹی کے بارے میں سوچنا بھی نہ تھا۔ 

    یہ گوارا کے ارادے تھے۔

    اور اریزہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لیئے سوچ رہی تھی۔ 

    مجھے تو ابھی سے بھوک لگ گئ ہے۔۔ دو پیس اتنے کم کیوں ہوتے ہیں میرے لیئے۔ 

    اس وقت صد شکر کل شام جتنا ہجوم نہیں تھا میٹرو میں انہیں بیٹھنے کی جگہ بھی مل گئ۔۔

    وہ دلچسپی سے ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔۔ 

    مختلف ملک مختلف شکلیں مختلف رویئے مگر سب روزی کی خا طر دھکے کھاتے مجبور ۔۔

    وہ بوڑھی سی خاتون بڑی سی ٹوکری اٹھائے ایک ہاتھ سے ہینڈل پکڑے کھڑی تھیں۔ ٹوکری انہوں نے زمیں پر نہ رکھی تھی۔ اس نے پہلے تو نظر انداز کرنا چاہا مگر پھر مشرقی تربیت آڑے آہی گئ۔۔ اپنی جگہ سے اٹھ کر اس نے انکو اپنی جگہ بیٹھنے کو کہا۔۔ وہ جانے کیا سمجھیں معزرت کرنے لگیں۔۔ 

    ٹوکری سامنے کر دی 

     وہ بری طرح ڈر گئ تھیں۔۔

    وہ الٹا شرمندہ ہو گئ۔۔

    میں آپ سے شکایت نہیں کر رہی ۔ اس نے اشارے سے بھی کام لے کر سمجھانا چاہا وہ چپ ہو کر اسے دیکھنے لگیں۔۔

    دفعتا اسکی نظر ٹوکری پر پڑی۔ 

    نہایت حسین چندی آنکھوں والا بچہ گورا چٹا چھوٹے سے دہانے میں انگوٹھا گھسیڑے آنکھیں موندے شائد سو رہا تھا۔۔

    بالکل گڈا سا ۔۔۔ وہ موم سی ہو کر اسکے گال چھو بیٹھی۔۔ 

    ماشااللہ ۔۔ بے ساختہ اسکے منہ سے نکلا وہ عورت کچھ کہتے کہتے چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔

    آہجومہ۔۔ یہ آپ کو اپنی نشست پر بیٹھنے کو کہہ رہی تھی۔۔ آپ سے بدبو کی شکایت نہیں کر رہی۔۔ 

    گوارا نے اسکو اتنا تردد کرتے دیکھا تو گہری سانس لے کر مترجم کے فرائض نبھانے لگی۔۔

    وہ۔عورت یکبارگی مشکور ہو کر اسکی جانب جھکی۔۔ اس نے جلدی سے ٹوکری تھام لی۔۔ غربت کے باعث وہ سودے کی پرانی ٹوکری میں گدا بچھا کر بچے کو لٹائے تھیں۔۔ اس نے ٹوکری اٹھائے انکے بیٹھنے کا ا نتظار کیا پھر احتیاط سے انکی گود میں رکھ دی۔۔

    گومو وویو۔۔ انکی آنکھیں جھلما گئیں۔۔ 

    یہ آپکا بچہ ہے۔۔۔۔ 

    وہ عورت پلٹ کر گوارا کو منتظر نظروں سے دیکھنے لگی۔۔ 

    اس نے غور سے انکے چہرے کو دیکھا۔۔ انکی عمر اتنی زیادہ نہیں تھیں مگر جانے زندگی کتنی بری طرح پیش آئی تھی۔۔ انکا چہرہ الجھنوں کی  لکیروں سے بھرا تھا۔۔ گال دبلاپے سے دھنسے تھے۔۔  گوارا نے ترجمہ کیا تو انہوں نے خوشی خوشی بتایا۔

    نہیں میری بیٹی کا بچہ ہے۔۔ 

    گوارا بھی اب دلچسپی سے اس گل گوتھنے سے بچے کے گال چھو رہی تھئ۔۔

    بہت پیارا ہے۔۔ اس نے بےدھیانی سے اردو میں کہا

    اس نے دو انگلیاں اپنے ہونٹوں سے چھو کر اسکے گال پر ثبت کیں۔۔۔

    زبان گوارا کیلیئے بھی انجان تھی مگر وہ عورت اریزہ کے انداز سے بھی مطلب سمجھ گی۔۔

    بو پیارا۔ اس نے اٹک کر اسکے کہے الفاظ دھرانے چاہے۔ شہادت کی انگلی سےاسکی جانب اشارہ کرکے اس نے پھر دہرایا۔۔

    ۔اریزہ خوشگوار حیرت میں گھرگئ۔۔ محبت کی واقعی اپنی ہی زبان ہوتی ہے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پتہ ہے تمہاری وجہ سے ناشتہ کر لیا۔۔ ورنہ میں ناشتہ نہیں کرتی دس گیارہ بجے بھوک سے بے حال۔ہو کر یون بن کے ساتھ کیفے گھس جاتی روز ریمن کھا کھا الگ دل اوب گیا مگر  تیار کھانا اور کیا کھایا جا سکتا۔۔ 

    گوارا اسکے ساتھ چلتے بتا رہی تھی۔۔ یہ وہی گوارا تھی جو سیدھے منہ بات نہیں کرتی تھی نخرے سے بولتی تھی۔۔ اب اتنی اپنائیت سے پو را راستہ بولتی آئی تھی۔۔ واقعی انسان ضروری نہیں کہ ویسا ہو جیسا پہلی ملاقات میں اپنا تاثر چھوڑے۔۔ 

    میں روز  تمہارے لیئے ناشتہ بنا دیا کروں گی۔۔۔ 

    اریزہ نے خلوص سے کہا تو گوارا ششدر ہی تو رہ گئ۔۔

    واقعی۔۔ اسے یقین نہیں آیا۔۔ 

    ہاں۔۔ اس نے مسکرا کر سر ہلایا۔۔ 

    گومو وویو۔۔ گوارا اس سے لپٹ ہی تو گئ۔۔ 

    اریزہ کیلیئے یہ اچانک تھا مگر سنبھل کر اسکو گرم جوشی سے ساتھ لگایا۔۔

    پتہ صبح مجھ سے کچھ کام نہیں ہوتا ۔مگر میں رات کو  روز کھانا بنا کر کھلا سکتی ہوں تمہیں۔۔ پکا۔۔ 

    وہ شائد سحری کی بات کر رہی تھی۔ اریزہ ہنس دی۔ 

    گوارا الگ ہو کر اسکی جانب اپنا سیدھا ہاتھ بڑھائے تھی سب انگلیاں بند کیئے سب سے چھوٹی انگلی آگے بڑھائے تھی۔۔ 

    اریزہ اسے نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھ رہی تھی۔ 

    وعدہ۔۔ اس نے بھنویں اچکا کر اسے بھی ایسا کرنے کا اشارہ کیا۔۔ اریزہ نے بھی ویسے ہی ہاتھ بڑھایا تو اس نے کاٹ کر نے کے انداز میں اسکی چھنگلیا اپنی چھنگلیا سے لپیٹ کر اپنے انگوٹھے سے اسکا انگوٹھا ملا کر تالہ سا لگایا۔۔

    یہ ہوا پنکی پرامس ۔۔ وہ بچوں کی طرح کھلکھلائی۔۔ اریزہ زور سے ہنس پڑی۔۔ 

    کیا ہوا ۔۔ وہ الٹا حیران ہوئی۔۔ 

    کچھ نہیں وہ ہنسی۔ روک کر بمشکل بولی۔۔

    ہمارے یہاں ناراضگی کے اظہار اور تعلقات ختم کرنے پر ایسے کٹی کی جاتی۔۔ 

    ہیں۔ گوارا کافی حیران ہوئی۔۔ 

    واقعی۔۔ عجیب بات ہے۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔ 

    وہ اب اسکے کندھے سے لگی آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔۔ 

    اور دوستی کیسے کرتے ؟۔۔ وہ پوچھ رہی تھی۔۔ 

    دوستئ۔ وہ بتا رہی تھی جبھی سامنے سے آتے ہایون پر نظر پڑی۔۔ اس نے بلا ارادہ گوارا سے اپنا ہاتھ چھڑا کر اسے دھیرے سے الگ کیا۔ ہایون کو بے ساختہ ہنسی آگئ۔۔ اس دن کے بعد آج ملاقات ہوئی تھی انکی۔۔ لگ بھگ پانچ دن ہورہے تھے اس نے سوری لکھ کر پیغام بھیجا تھا مگر اریزہ نے جواب نہ دیا

    وے ۔۔ گوارا ابھی حیران ہو کر پوچھنے ہی والی تھی کہ ہایون رفتار بڑھا کر انکے پاس پہنچ گیا۔۔

    آننیونگ واسے او۔۔ اس نے مسکرا کر سلام دونوں کو کیا رھا مگر دلچسپی سے اریزہ پر نظر ڈالی تھی۔۔

    جو بے نیاز دکھائی دینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ 

    آننیانگ واسے او۔ بڑے دن بعد نظر آئے کہاں تھے۔۔یونی کیوں نہیں آرہے تھے۔۔ گوارا کا دھیان بٹ گیا وہ بہت گرمجوشی سے احوال دریافت کر رہی تھی۔۔

    بس تھوڑا سا کام میں مصروف تھا۔۔

    ہایون اور گوارا باتوں میں لگے تو اریزہ نے کترا کر نکلنا چاہا۔۔ 

    ہے۔۔ ہیونگ سے نے اسکا ہاتھ پکڑ کر جانے سے روکا۔۔

    اتنی ناراض ہو پیغام کا جواب بھی نہیں دینتیں۔۔ سوری کہا تھا میں نے۔۔ 

    وہ معصوم سی شکل بنا کر کہہ رہا تھا۔۔

    اریزہ بری طرح چونک گئ۔۔ فورا ہاتھ چھڑانا چاہا۔۔ مگر ہایون نے گرفت تھوڑی سی سخت کی۔۔ 

    اریزہ کے برعکس اسکے چہرے پر سادی سی مسکراہٹ تھی۔۔

    معزرت۔۔ یار۔۔ غلط فہمی تھی سوری۔۔

    اس نے ہاتھ چھوڑ کر باقائدہ جھک کر کہا۔۔ 

    تم لوگ ناراض تھے ایک دوسرے سے۔۔ گوارا کو حیرت کا جھٹکا سا لگا۔۔

    یار وہ بس میں سمجھا۔۔

    ہایون پلٹ کر بتانے لگا تھا کہ اریزہ نے جلدی سے بات کاٹ دی۔۔ 

    چھوٹی سی غلط فہمئ تھی ۔۔ میں ناراض نہیں تھی ہایون۔۔ 

    اس نے ہونگ سک کی براہ راست آنکھوں میں دیکھ کر جیسے اسے مزید کہنے سے منع بھی کیا۔۔ ہایون نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔

    خیر اریزہ ۔۔۔وہ اسکی جانب مڑی۔۔ 

    چونکہ تم نے مجھے ناشتہ کرایا سو دوپہر کا کھانا میری طرف سے ہوگا۔۔

    اسکی ضرورت نہیں۔۔ اریزہ نے منع کرنا چاہا 

    کیوں نہیں؟۔۔  بس طے ہوگیا۔۔ تین بجے یہیں ملنا اکٹھے چلیں گے۔۔

    یہ آفر بس اریزہ کیلئے ہے۔۔ ہایون نے ٹوکا۔۔

    نہیں اگر تمہارا بھی موڈ ہے دعوت کا تو سائیڈ ڈشز تمہاری طرف سے ہو جائیں گی۔۔ 

    گوارا کی بے نیازی عروج پر تھی۔۔

    اسکی چالاکی پر اریزہ کھلکھلا دی تو ہایون گھورنے لگا تھا ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریسٹورنٹ خالی تھا تقریبا۔۔

    اس نے ایک ایک۔میز کپڑا رگڑ کر صاف کی پھر ایپرن اتارتی کائونٹر کے پاس آئی۔۔

    میری شفٹ ختم ہو گئ ہے میں جاتی ہوں۔۔ اس نے بتانا ضروری سمجھا تھا۔۔

    ٹھیک ہے۔۔ مینیجر نے سر ہلا دیا۔۔ 

    وہ پلٹنے لگی تو اسے روک کر ایک چھوٹا سا شاپر تھما دیا۔۔

    یہ کھا لینا۔۔

    وہ ادھیڑ عمر مینجیجر اسے تھما کر اندر کچن میں چلا گیا۔۔ وہ چونکی پھر شاپر میں ہاتھ ڈال کر دیکھنے لگی کیا ہے یہ۔۔

    اس کھڑوس بڈھے کو جانے اس کے کام کرنے لگن یا اسکی اتری شکل دیکھ کر ترس آیا تھا ایک بڑا ہیم برگر مفت تھما دیا۔۔ وہ گہری سانس لیتی ریستوران سے باہر نکل آئی۔۔ دوپہر کا وقت تھا سورج سر پر چمک رہا تھا۔۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی بس اسٹاپ پر چلی آئی۔۔

    وہ گلی میں  تھڑے پر بیٹھی۔ننھے ننھے پتھر چن کر ان سے کھیل رہی تھی

    کوئی پتھر اسکا باپ تھا کوئی ماں کوئی بھائی۔۔ 

    مجھے دو۔۔ 

    ایک۔ننھے پتھر نے اپنے سے تھوڑے بڑے پتھر کی پلیٹ پر جھپٹا مارا تھا۔۔

    یہ میرا ٹکڑا ہے۔۔ 

    اس نے جلدی سے واپس چھینا۔۔ 

    کھانا ٹوتھ پیسٹ کے خالی ڈھکن میں پیش کیا جا رہا تھا۔۔

    مجھے بھوک لگی ہے اور کھانا۔۔

    اس نے اپنے چھوٹے بھائی کی آواز نکالی۔۔

    ای جی روہانسی ہوگی۔۔

    میں نے صبح بھی نہیں کھایا تھا۔۔

    جونگسو شا۔۔ بہن کو بھی کھانے دو۔۔ اناج کا۔۔ 

    وہ بولتے بولتے رکی۔۔ 

    گوشت کا ٹکڑا۔۔

    خیالی کہانی تھی۔ اناج کی۔جگہ گوشت کہا جا سکتا تھا۔۔ 

    اسکی ماں کہہ رہی تھی

    وہ خوش سی ہوئی۔۔ 

    ای جی۔۔ تم بہت کھانے لگی ہو ۔۔ 

    ایک بڑا سا پتھر ایک چھوٹے سے پتھر کو ڈانٹ رہا تھا

    مگر یہ تو میری ہی پلیٹ ہے آہموجی نے یہ مجھے دیا تھا۔۔

    وہ اپنی آواز نکالتی تو انداز گھگیا جاتا۔۔ 

    زبان چلاتی ہو۔۔ وہ آہبو جی کی طرح غرائی۔۔

    ایک جھاڑو کا تنکا اٹھا کر اس نے اس چھوٹے پتھر کو خوب پیٹا تھا۔۔

    بیانئے بیانئے آہبوجی۔۔

    وہ رو رہی تھی۔۔

    آہموجی اسکو بچانے آئی تھیں۔۔ 

    اس نے دوسرا بڑا پتھر اٹھایا۔

    ای جی آ۔

    آہموجی اسکے سر پرکھڑی تھیں۔ 

    وہ ڈر کر پیچھے ہٹی۔۔

    یہ لو۔۔

    وہ اپنے دامن میں سے چاولوں کا کیک نکال کر اسے پکڑا رہی تھیں۔۔ اسکی آنکھیں چمک گئی تھیں

    ابھی مت کھانا۔۔ انہوں نے فورا ٹوکا تھا۔۔

    اس نے بڑے شوق سے تھاما تھا۔۔ اس ہدایت پر آنکھوں میں آنسو ہی تو آگئے تھے۔۔

    کیوں۔۔

    اس نے۔معصومیت سے پوچھا۔۔

    رات کے کھانے کیلیئے ہے ابھی تو تھوڑی سی مکئی کھا لی ہے نا بیٹا۔۔ انہوں نے اسکی تھوڑی چھو کر پیار سے سمجھانا چاہا۔۔ 

    میں ابھی امدادی ٹرک سے بہت مشکل سے تھوڑے سے یہ لا پائی ہوں۔۔ باقی بچوں میں تم چھین جھپٹ کر رات کو نہیں لے پائو گی اسلیئے ابھی دے رہی ہوں۔۔ اسے اپنی قمیض کے دامن میں چھپا لو۔۔ اور چپکے سے اپنے کمرے میں ٹرنک میں لے جا کر رکھ لو۔۔ رات کو کھانا۔۔ سمجھ آئی۔۔

    اپنی کم خوراکی کا شکار دھنسی ہوئی آنکھوں اور بے انتہا ابھری گالوں کی ہڈیوں والے چہرے کی مالک بیٹی کو انہوں نے چمکار کر سمجھایا تھا۔۔

    وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔۔

    تھوڑا سا کھا لوں۔۔ 

    رات کو پھر بھوک لگ جائے گئ بیٹا۔۔ اہموجی کی آنکھوں میں تارے سے جھلملا گئے۔۔

    ٹھیک ہے۔۔ ای جی مایوس سی ہوئی مگر اپنی فراک کے دامن میں چھپانے لگی۔۔

    ماں کا دل اسکی سعادتمندی پر پگھل سا گیا۔ اپنے حصے میں سے تھوڑا سا توڑ کر اسکے منہ میں ڈال دیا۔۔ ای جی کی آنکھیں جھلملائیں۔۔ وہ نا چبا رہی تھی نہ نگل رہی تھی  بس ذیادہ سے زیادہ دیر منہ میں رکھ کر اسکے ذائقے کو محسوس کرتے رہنا چاہتی تھی۔۔

    ماں مطمئن ہو کر پلٹ گئ۔۔ تو اس نے فراک مین چھپایا کیک نکال کر کترا۔۔

    کتنی عجیب بات ہے نا بھوک نہ بھی تو ہاتھ میں اگر کھانے کی چیز ہو تو ہاتھ رکتا نہیں۔۔

    کتنی تکلیف دہ یادیں تھیں اسکے بچپن کی۔۔ ایک۔کھانے نے اسے کتنا تڑپایا ہے۔۔ 

    اس نے ہیم برگر کو ہاتھ میں لے کر جیسے تولا تھا۔

    وہ بس اسٹاپ پر بنے بنچ پر بیٹھی تھی۔۔ دوپہر کا وقت تھا سڑک پر بس اسٹاپ پر کہیں رش نہیں تھا۔۔

    دو دن میں وہ تین بار کھاتی تھی۔۔ آخری بار کل شام کو کھایا تھا۔۔

    وہ پیسے جمع کر رہی تھی کسی گھٹیا سے علاقے میں ایک کمرہ اسکو درکار تھا سر چھپانے کو۔۔ 

    اس نے بیگ سے ایک اشتہا ر نکالا کمرہ کرائے کیلیئے دستیاب 

    میرے پاس ہیں۔۔ اٹھارہ سو وون۔۔ روز میں کھانے کی مد میں خرچ کرتی پچاس وون۔ آج اس سے گزارہ کروں تو آج کے پچاس وون بچ جائیں گے۔۔ 

    وہ حساب لگا رہی تھی۔۔ 

    مطمئن ہو کر اس نے برگر سلیقے سے پیک کر کے اپنے بیگ میں رکھ لیا۔۔ 

    برگر کی خوشبو حواس پر سوار ہو رہی تھی۔۔ اسکی نظر بھٹک کر دو بار بیگ پر گئ۔۔ مگر اب یوآنہ بچی تھوڑی تھئ۔۔

    یوآنہ کہا بھی تھا رات کو کھانا اب کیا کروگی؟۔۔

    ماں نے اسکےہاتھ میں کیک کے نام پر وہ چاولوں کا پاپڑ جیسا بمشکل چار انگل کا ٹکڑا دیکھا تو سر پیٹ لیا تھا۔۔ 

    ای جی شرمندگی سسے سر جھکا ئے تھی۔۔

    اب چوبیس  سال کی یوانہ کو اتنی سمجھ تھی

    کہ رات کی بھوک برداشت کرنا بہت مشکل ہوتا۔۔ کالی اندھیری رات بھوک میں مزید دیر سے گزرتی اتنی دیر سے کہ سمجھو جان نکلنے ہی لگتی مگر بھوکا مرنا بھی آسان تھوڑی ہوتا۔۔ 

    وہ استہزائیہ ہنس دی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ دوپہر کو گوارا کی بتائی جگہ پر اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔ پارکنگ کے قریب فٹ پاتھ پر اس جانب آج رش نہ ہونے کے برابر تھا باہر جاتے ایڈون نے دور سے اسے دیکھا۔ 

    وہ فرنچ فرائز کھا رہی تھی ساتھ ساتھ موبائل میں لگی تھی۔ 

    وہ اسکے پاس ہی چلا آیا۔

    کیسی ہو اریزہ۔ 

    اسکے قریب آکر کہنے پر وہ بری طرح اچھلی۔ 

    رمضان میں فرائز کھا رہی تھی وہ بھی اپنی دانست میں چھپ کے۔ لا شعوری طور پر فرائز ایکدم سائڈ میں رکھ دیئے۔ 

    ایڈون اسکے برابر ہی آن بیٹھا۔ وہ اسکی سٹپٹاہٹ محسوس کر چکا تھا جبھی سرسری سے انداز میں پلیٹ اٹھا کر اس میں سے یونہی ایک دو چپس اٹھا کر اسکو تھما دی۔

    اسائنمنٹ جمع کرادی تم نے۔ 

    اس نے یونہی اسکی شرمندگی زائل کرنے کو پوچھا۔ 

    ہاں صبح سب سے پہلے یہی کام کیا اسکے بعد سے یہاں بیٹھی ہوں۔ 

    اریزہ نے بھی سوچا اب کیا ہوسکتا۔ سو آرام سے چپس کھانے لگی۔

    سنتھیا کے پاس چلی جاتیں۔ 

    اس نے کہا تو اریزہ گہری سانس بھر کے بولی

    اس نے بتایا تھا کہ تم اور وہ آج دوسرے شہر جا رہے ہو۔ اسلیئے وہاں نہیں گئ۔ 

    ہم بس نکل رہے ہیں سنتھیا چارجر بھول گئ تو واپس گئ ہے لینے۔ چلو گی تم بھی؟ 

    اس کے منہ سے بے اختیارانہ نکلا۔

    مجھے کباب میں ہڈی کیوں بنانا ہے۔ 

    تم ہم دونوں کیلئے ہڈی نہیں ہو۔ یہ بات تم بھی جانتی ہو۔ 

    وہ زو ردے کر بولا۔ اسکی بات گہری تھی اور وہ اس میں الجھنا نہیں چاہتی تھی۔ سو خاموش ہی رہی۔ 

    تمہیں کوریا کیسا لگا؟ وہ بات سے بات نکال رہا تھا

    اچھا ہے۔ اس نے مختصرا کہا۔ 

    مجھے بہت اچھا لگا۔ اپنا اپنا سا۔ ایڈون دونوں بازو پیچھے زمین پر ٹکا کران پر وزن دے کر  ریلیکس سا ہو کر بیٹھا۔ 

    اپنا اپنا سا؟ وہ حیران ہوئی۔ 

    چندی آنکھیں گوری رنگت نا مانوس زبان اس میں اپنائیت کہاں سے جھلکی۔ اسے حیرت تھئ۔

    یہاں بہت آزادی ہے لوگوں کے ذہن بندھے ہوئے نہیں ہیں۔ سب اپنے کام سے کام رکھتے ہیں کوئی کسی کو دیکھ کر جج نہیں کرتا۔ لوگ اپنے عقائد دوسروں پر نہیں تھوپتے۔ کسی کو اسکے عقائد کی وجہ سے مسترد نہیں کر دیتے۔ 

    وہ بڑ بڑانے والے انداز میں بول رہا تھا۔ وہ چپس چباتے رک سی گئ۔ جانے کیوں اسے لگا وہ اسے ہی سنا رہا ہے۔ 

    تبھی ایڈون کا فون بجنے لگا۔ اس نے بیزاری سے دیکھا 

    سنتھیا کی کال آرہی تھی۔ وہ شائد باہر بلانے کیلئے ہی کال کر رہی تھی۔ اس نے کال نو کرکے فون جیب میں رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ چند لمحے اسے کھڑا دیکھتا رہا۔ وہ حیران سی ہو کر دیکھنے لگی اسے تو بنا کچھ کہے پلٹ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا داخلی راستے کی جانب بڑھ گیا۔

    اسکے دل پر بے تحاشا بوجھ آن گرا۔ آگہی عذاب ہے جس نے بھی کہا سولہ آنے درست بات کی۔ 

    کاش 31 دسمبر 2015 میری زندگی میں نہ آئی ہوتی۔۔

    وہ یاسیت سے سوچ کر رہ گئ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔

    وسیع و عریض لان سے اندر رہائشی عمارت کا فاصلہ اسے صدیوں پر محیط لگا تھا۔ نیم اندھیرے لان میں ایڈون کے ہمراہ چلتے اسے جانے کیوں خیال آیا تھا کہ اسے کم از کم سنتھیا کو بتاکے آنا چاہیئے تھا۔ 

    اندر جا کے ویسے کیا کروگی؟ سنتھیا کا کمرہ لاکڈ ہی ہوگا۔ 

    ایڈون نے کہا تو وہ حقیقتا پریشان ہوگئ۔ 

    یہاں  واک کریں۔ 

    ایڈون نے خود ہی دوسرا آپشن دیا۔ 

    ہمم۔۔۔ وہ اور کیا کہتی۔  ابھی بارہ بجنے میں وقت تھا اس سے قبل تو یہ دعوت پارٹی ختم ہوتی نظر نہ آرہی تھی۔ گھر کے تین اطراف لان تھا۔ پارٹی اگلے حصے میں تھی وہ دوسرے حصے میں چلے آئے۔ 

    سردی کافی تھی۔ اس نے انر بھئ پہن رکھا تھا ساتھ شنیل کی میکسی۔ جبکہ ایڈون اسکے برعکس صرف ایک ہائی نیک اور کوٹ پہنے تھا مگر یوں سکون سے تھا جیسے جون چل رہا ہو اور اسے ٹھنڈ سی لگ رہی تھی۔ 

    آج کچھ ذیادہ ٹھنڈ نہیں ہے؟ 

    اسکے دانت بجنے کو تیار تھے۔ بڑی کوشش سے قابو کیے

    نہیں بلکہ آج تو مجھے کم۔ٹھنڈ لگ رہی ہے۔ 

    ایڈون کو اس سے اختلاف تھا۔ 

    میم ثمینہ والی اسائنمنٹ بنا لی؟ میم نے کہا تھا پیپرز سے پہلے سب جمع کروادیں ورنہ مارکس نہیں لگائیں گی۔ 

    اریزہ کو جنوری میں ہونے والے امتحانوں کی فکر ہو رہی تھی۔

    نہیں ۔ تم نے کروا دئ؟ 

    ایڈون نے کہا تو وہ فخر سے بولی

    میں اپنا کام وقت پر مکمل کر لیتی ہوں۔ ڈیو ڈیٹ سے بھی دو دن پہلے جمع کرادی تھئ۔ 

    جی آپ ٹھہریں بلا کی پڑھاکو یونہی تو نہیں ٹاپر کی ریس میں شامل ہیں ۔ وہ چھیڑنے لگا۔اریزہ فخر سے گردن اکڑا گئ

    انشا اللہ گولڈ میڈل لوں گئ۔ 

    اسے یقین تھا خود پر۔ 

    صرف پڑھائی کر کر کے تھک نہیں جاتیں یہی تو چار دن ہیں جوانی ہے کیا پڑھ پڑھ کر ریڑھ لگانی انکی۔ کبھی پڑھائی سے ہٹ کر بھی ادھر ادھر دیکھ لیا کرو۔ اتنے پیارے لڑکے ہیں یونی میں۔ شاہزیب تو گورا چٹا بھی ہے۔ 

    وہ۔جان بوجھ کر چھیڑ رہا تھا۔

    اس چھچھورے کا نام بھی نہ لینا میرے سامنے۔ حسب توقع وہ بھڑک اٹھی

    باڈی بنا کر خود کو سلمان خان سمجھنے لگا ہے۔ نشیلی نگاہیں بنا کر جب گھورتا ہے نا تو دل کرتا ہے دونوں ڈیلے باہر نکال دوں۔ 

    وہ اتنے جوش سے بولی تھی کہ ایڈون بے ساختہ ہنس پڑا۔ ہنسے گیا۔ وہ کھسیا سی گئ۔ کھل کر ہنس کر وہ محظوظ سے انداز میں بولا

    اف کتنی خطرناک ہو تم۔ اب میں بھی تمہاری طرف دیکھے بنا بات کروں گا کیا خبر غصہ آئے تم میری بھی آنکھیں پھوڑ دو۔ 

    وہ معصوم سے انداز میں بولا۔

    تم اسکی طرح نہیں گھور سکتے وہ بہت برا لگتا ہے گھورتے ہوئے۔ 

    اس نے جھرجھری سی لی۔ ایڈون غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔ مگن سے انداز میں وہ دل کی بات کر رہی تھی۔ دو سال ہو رہے تھے انہیں اکٹھے پڑھتے وہ سنتھیا اریزہ اچھے دوست تھے۔ وہ تینوں ہر کام مل کر کرتے تھے۔  مگر جانے کب اسکا دل اسکے ہاتھوں سے نکلتا چلا گیا۔ 

    تمہارا کیا آئیڈیل ہے۔ کیسا لڑکا ہونا چاہیئے تمہاری زندگی میں۔ 

    وہ دھڑ دھڑ کرتے دل سے پوچھ رہا تھا۔ اریزہ لمحہ بھر رک کر جیسے سوچنے سی لگی۔ 

    کیسا لڑکا ہونا چاہیئے۔۔۔ کبھی سوچا ہی نہیں۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھ سے آنکھیں بند نہیں ہوتیں۔ مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔ جب اندھیرا ہوتا ہے مجھے بس نگاہوں میں ایک منظر سما جاتا ہے۔ خون لاشیں چیخیں۔ مجھے لگتا ہے میرے بازو ہاتھوں پر خون ہے مجھ پر کچھ گرا ہوا ہے۔ اسے جھاڑیں ۔

    پندرہ سالہ اریزہ بولتے بولتے ہزیانی سے انداز میں اپنے ہاتھوں پر سے نادیدہ گرد سی جھاڑنے لگی۔ 

    مجھے ڈر لگتا ہے اندھیرے سے بہت۔۔ آپ لائٹ جلائیں۔ 

    سائیکو تھیراپی میں بہترین وقت یہی ہوتا ہے جب مریض اپنا لاشعور میں دبا خوف بیان کر نے لگے۔ تبھی تو علاج سہل ہو جاتا ہے نفسیات دان کیلئے۔ نفسیات دان نے دھیرے سے اسکی۔نبض پر ہاتھ رکھا 

    جب ڈر   محسوس ہوتا ہے تو آپ کیا کرتی ہو۔ 

    حماد بھائئ کو پکارتی ہوں۔ مگر وہ اب تو نہیں آسکتے۔ 

    وہ مایوس سی ہوئی۔ 

    اور پھر۔ 

    امی کو بابا کو۔۔اس نے سادگی سے بتایا۔ 

    امی اور بابا نہ آئیں کبھی تو کیا کروگی۔

    ڈاکٹر پوچھ رہا تھا۔ 

    وہ آجاتے ہیں۔ 

    اسے یقین نہ آیا ایسا بھئ کبھی ہو سکتا ایسے تو آج تک کبھی نہ ہوا تھا۔ کبھی اچانک لائٹ جائے یو پی ایس ٹرپ کرجائے یا کسی بھی وجہ سے ذرا سا بھی اندھیرا ہو اور وہ پکارے تو امی اور بابا دوڑ کر آتے تھے۔ کبھی کبھی تو اسکے پکارنے سے پہلے ہی۔ 

    اب انکے آنے کا انتظار نہیں کرنا۔اریزہ نے اب اندھیرے میں دیکھنا ہے کہ اسے کیا نظر آتا ہے۔ روشنی کا انتظار نہیں کرنا خود اٹھ کر دیکھنا ہے روشنی کرنی ہے۔ جب ڈر لگے تو اپنا ہاتھ خود تھامنا ہے ایسے۔ 

    انہوں نے اسکی دونوں ہتھیلیاں جوڑ کر اسکا ہاتھ اسکے اپنے ہاتھ سے ہی ملایا۔ 

    اور کہنا ہے۔میں خود بھی اپنے لیئے روشنی کا انتظام کر سکتی ہوں۔ میں اپنے ساتھ ہوں۔ مجھے اپنا ہاتھ تھامنے کے بعد ڈر نہیں لگتا۔ 

    آپ لائٹ جلا دیں۔ 

    اس نے ملتجی سے انداز میں کہا۔ 

    نفسیات دان اپنا ہاتھ اسکے ہاتھوں سے ہٹا لیا۔ 

    سامنے میز پر ٹارچ رکھی ہے۔ اپنا ہاتھ تھام کر دہرائو میں اپنے ساتھ ہوں۔۔ مجھے اپنا ہاتھ تھامنے کے بعد ڈر نہیں لگتا۔ 

    انکی آواز دور اور مدہم ہوتی گئ۔ اریزہ نے کانپتے ہاتھوں کو مضبوطئ سے باندھا۔۔ کپکپاتی آواز میں دہراتی اٹھنے لگی۔ لہرائی۔ ٹھوکرکھائی۔ مگر جملہ دہراتے وہ چند قدم اٹھا کر میز تک پہنچ ہی گئ۔ 

    ٹا۔۔ ٹارچ۔ 

    اسکا ہاتھ ٹارچ پر نہیں پڑا تھا وہ میز ٹٹول رہی تھی۔تبھی کسی نے دھیرے سے اسکا ہاتھ تھام کر ٹارچ اسے تھما دی تھی۔ 

    اس نے ٹارچ آن کرکے یہ عنایت کرنے والے کو دیکھنا چاہا۔ اسکی معالج مہربان سے انداز میں اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ 

    پچیس چھبیس سال کا وہ نوجوان ڈاکٹر جس نے اسکو اپنے خوف سے لڑنے میں مدد دی۔ اسکاپہلا کرش۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایسا لڑکا جس کے ساتھ گھپ اندھیرے میں بھی میں ٹارچ ڈھونڈ سکوں۔ 

    اس نے یہی کہہ دیا۔ 

    اپنے چار سال پرانے کرش کی یاد پر اسکے لبوں پر مسکراہٹ دوڑ گئ۔ اسکے معالج نے اسے اپنی شادی پر بلایا تھا اور وہ اسکی شادی کا سن کر گھنٹوں روئی تھی وہ بھی اندھیرے میں تکیئے میں منہ دے کر۔ 

    ایڈون نے اسکے جواب پر خاصی حیرت سے دیکھا تھا اسے۔ 

    اندھیرا ٹارچ ڈھونڈنا اسے ان دونوں میں ربط نہ سمجھ آسکا۔ جبکہ اریزہ جانے کیا سوچ کےدھیرے دھیرے قدم اٹھاتئ محظوظ سی مسکرا رہی تھی۔ 

    اس نے ہلکے سے گلا کھنکارا۔۔ وہ تب بھی متوجہ نہ ہوئی۔

    میں تم سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔ مگر موقع نہیں مل رہا تھا۔ 

    ایڈون نے دھیرے سے ہمت کرکے کہا۔ 

    بولو۔ وہ لاپروا تھی۔ لانگ کورٹ شوز جن میں تین انچ کی بلاک ہیل تھی اسے خاصا دراز قامت بنانے کے ساتھ سہج سہج کر چلنے پر مجبور بھئ کر رہی تھی۔

    اندھیرا تو یہاں بھی ہے ۔۔۔ کیا میں تمہارے لیئے ٹارچ ڈھونڈنے میں مدد کرنے والا۔۔۔ 

    تبھئ درختوں کے قریب سرسراہٹ سی ہوئی۔ شائد کوئی بلی تھی۔ تیزی سے نکل کر سامنے آئی سیاہ بلی جسکی تاریکی میں بس آنکھیں چمکی تھیں۔ اسکا دل ایکدم بند سا ہوا۔

    نیم تاریک اندھیرے اور اوپر سے تقریبا پورے چاند سے اسے اس لان میں سیدھا سیدھا بھوت پریت کا ہی گمان ہوا تھا۔ 

    وہ  بے ساختہ ایڈون کی اوٹ میں ہوئی تھی۔ ایڈون کا بازو دبوچ لیا تھا۔ آواز حلق سے نکل بھی نہ سکی۔ 

    اسکے منہ سے غیر مرئی سی آواز نکلی تھی۔ 

    بلی ہے۔ اریزہ ڈرو مت۔ 

    یہ تسلی دیتے ایڈون کا چہرہ تمتماسا گیا تھا۔ اریزہ اس کی اوٹ میں پناہ لے گئ تھی کسی کمزور لمحے میں آکر ہی سہی۔ مگر یقینا اسے اس پر بھروسہ تھا اسے کچھ اپنا سمجھتی تھی جبھی۔ یہ خیال اسے سرشار کرنے کیلئے کافی تھا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہائش۔ بیانیئے۔ 

    حسب عادت خوب اونچی آواز میں گوارا بولی۔ وہ تھوڑئ دیر سے آئی مگر آتے ہی معزرت کرنے لگی ۔۔ اریزہ چونک کے حال میں واپس آئی تھئ۔ 

    سوری سوری یون بن کے ساتھ ریہرسل کرتے وقت کا پتہ نہیں چلا۔۔ تمہیں بھوک لگی ہوگی چلو بس بھاگم بھاگ چلتے ہیں۔۔ 

    وہ عجلت بھرے انداز میں بولی۔۔

    نہیں۔۔ اس نے نرمی سے منع کر دیا۔۔

    مجھے بھوک نہیں ہے ابھی چپس کھائے ہیں تھوڑی دیر پہلے 

    واقعی۔۔ اس نے مشکوک انداز میں دیکھا۔۔

    ہاں سچی۔۔ اریزہ نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔۔ 

    وہ یون بن کیساتھ میں نے بھی ریمن کھا ہی لیا تھا۔۔ بھوک مجھے بھی نہیں۔۔ گوارا نے کھسیا کر کان کھجایا۔۔

    گھر چلیں پھر۔۔ اس نے پوچھا تو اریزہ نے فورا نفی میں سر ہلایا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ دونوں سپر اسٹور آئی تھیں۔۔ اریزہ کو سودا خریدنا تھا۔ بیسن گھی وہ  بے دریغ خریداری کر رہی تھی

    گوارا ٹوک ہی گئ۔۔

    تم پاکستان کے کسی رئیس خاندان سے ہو؟۔۔

    اریزہ اپنے دھیان میں تھی چونک کر دیکھنے لگی۔۔

    ریک سے خشک خوراک اٹھاتے ہوئے ہاتھ وہیں رک گیا۔۔

    مطلب تم یہاں جاب بھی نہیں کرتی ہو تمہارے والد تمہارے خرچے کیلیئے کافی رقم بھیجتے ہیں لگتا ہے۔۔ 

    گوارا نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تھا۔۔

    اریزہ مسکرا کر رہ گئ۔۔

    اچھے خاصے۔۔۔۔اس نے کہا نہیں مگر۔

    تم پاکستان میں تو جاب کرتی ہو گی۔۔ اس نے پوچھا تو اریزہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔

    نہیں۔۔میں نے کبھی جاب نہیں کی۔۔ 

    واقعی۔۔ گوارا حیران ہوئی۔۔ 

    واقعی امیر زادی ہے ۔۔۔۔اس نے سوچا۔۔

    تمہارے آہبوجی کیا کرتے پاکستان میں۔۔ 

    گوارا متجسس تھی۔۔

    بیرسٹر ہیں۔۔

    اس نے سرسری انداز میں بتا کر ٹرالی پر نظر دوڑائی۔۔کوئی چیز رہ تو نہیں گئ۔ وہ گن رہی تھی۔۔

    بیرسٹر ۔ گوارا نے متاثر انداز میں سر ہلارہی تھی

    تم نے کچھ نہیں لینا۔۔ اریزہ نے پوچھا 

    تم نے سب کچھ لیا مگر ٹوائلٹ رول نہیں لیا۔۔

    گوارا نے کچھ سوچ کر اسے ٹوکا۔۔

    میں لے لیتی ہوں۔۔ 

    اریزہ نے فورا ایک رول اٹھا لیا۔۔

    استعمال کرنا چاہیئے۔۔ صحت و صفائی کا خیال رکھنا چاہیئے ورنہ بندہ بیمار ہو جاتا۔۔ 

    اریزہ نے ہوں کر دیا سوچا ہی نہیں گوارا کیوں اسے ٹوک رہی۔۔ گوارا بھی اسکئ بے دھیانی محسوس کرکے چپ ہوگئ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    انی اپنے دفتر میں بیٹھی  فائلوں میں سر کھپا رہی تھیں جب انکے سیکٹری نے ایک رپورٹ لا کر سامنے رکھی۔۔

    انہوں نے مصروف انداز میں ہی سر اٹھا کر دیکھا سیکٹری اشارہ سمجھ کر بتانے لگا۔۔

    یہ شمالی کوریا ئی باشندوں کی فہرست ہے جنہوں نے 2014 میں وہاں سے نکلنا چاہا تھا اور مارے گئے۔ انکے بارے میں معلومات اکٹھا کی گئی ہیں۔۔ زندہ یا مردہ جسکی جو جتنی اطلاع ملی ہے میں نے اکٹھی کر دی ہے۔۔ 

    انی نے اپنا کام چھوڑ چھاڑ فائل اٹھا لی۔۔

    انہوں نے ایک ایک نام انگلی رکھ کر پڑھا تھا۔۔

    مطلب مجھے جاناہی پڑے گا۔۔ وہ دھیرے سے بڑ بڑائیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اپارٹمنٹ میں آکر وہ سارا سودا سلف باورچی خانے میں ٹھکانے لگانے لگی۔۔ نماز کا وقت تنگ ہو رہا تھا۔ سو جلدی سے نماز پڑھنے کی تیاری کرنے لگی۔ وضو کرکے کمرے کے ایک کونے میں چادر بچھا کر نیت باندھ لی۔ گوارا سستی سے بستر پر پڑی تھی۔ اسکو نماز پڑھتے دیکھ رہی تھی۔ اسکو اسکی نظریں محسوس ہو رہی تھیں مگر یقینا اسے بھی تجسس تھا۔ نماز پڑھ کر چائے کی طلب اسے کچن میں لے آئی۔

    دروازے پر دستک ہورہی تھی۔۔ اس نے یہی سوچا گوارا کھول دے گئ۔۔

    دستک مستقل  ہوئی تو اس نے کمرے میں جھانکا گوارا شائد غسل کر رہی تھی۔۔ پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔۔

    وہ خود ہی دروازہ کھولنے چلی آئی۔۔

    دروازہ کھولا تو آنے والے افراد بھونچکا ہی تو رہ گئے۔۔

    تم۔۔ نووارد نے انگلی اٹھا کر اسکو ہینڈز اپ کر لیا تھا وہ ڈری ڈری سی پیچھے ہوئی

    تم ہو گوارا کی نئی کرائہ دار۔۔ اس نے دانت کچکچائے۔۔

    تم ۔۔ کیا ضرورت تھی تمہیں ڈورم چھوڑنے کی۔۔ 

    تمہیں منع کیا تھا نا گوارا کے ساتھ اپارٹمنٹ میں منتقل ہونے سے ۔۔ کیوں ہوئیں۔۔ 

    یون بن  جانے واقعی غصے میں تھا یا ڈرامہ کر رہا تھا وہ ڈر سچ مچ گئ۔۔

    میں وہ۔۔ اس سے جواب نہ بن پڑا۔۔

    بس ۔۔ ہیون نے یون بن  کو کندھے سے پکڑ کر روکا۔۔ 

    روکنا ہے تو گوارا کو پلاسٹک سرجری کرنے سے روکو۔۔  

    اس نے جتایا۔۔ یون بن  سر جھٹک کر رہ گیا۔۔

    وہ کہاں رک رہی ۔۔ انداز بے بسی بھرا تھا۔۔

    اریزہ کو اس سے ہمدردی سی محسوس ہوئی۔۔

    میں سمجھائوں گی گوارا کو۔۔ 

    اس نے کہا تو یون بن اور ہایون نے اسکی شکل دیکھی پھر زور سے ہنس دئے۔۔ 

    سن ہی نہ لے وہ ۔۔ دونوں ہنگل میں اکٹھے بڑ بڑائے۔۔

    انکو ہنستے اور بڑبڑاتے دیکھ کر اریزہ برا مان گئ۔۔

    تم لوگوں کو میری صلاحیت پر شک ہو رہا۔۔ میں سمجھا سکتی۔۔ بہت اچھا سمجھاتی ہوں لوگوں کو مان جاتے ہیں میری بات۔۔ 

    اس نے جتایا تو یون بن نے شرارت سے پوچھا

    مثال کے طور پر۔۔ 

    مثال کے طور پر ۔۔۔

    وہ روانی میں بولتے بولتے رک گئ۔۔

    میں بس چھٹیاں گزارنے آئی ہوں مستقل منتقل نہیں ہوگئ۔ یونی کھلے گی تو چلی جائوں گی۔ 

    اس نے تسلی دی۔یون بن تھوڑا ٹھنڈا ہوا

    چائے پیوگے؟ تم لوگ ۔۔

    اس نے تکلفا پوچھا تھا۔۔ 

    ضرور۔۔مگر گوارا کہاں ہے۔۔ اسکو کو فورا گوارا کی غیر موجودگئ ستائی

    تمہیں آتی ہے بنانی۔۔ ہیون نے کسی وجہ سے پوچھا تھا وہ مزے سے بولی۔۔

    میں ماہر ہوں پورے خاندان میں میرے ہاتھ کی بنی چائے مشہور ہے۔۔ لوگ فرمائش کر کے بنواتے۔۔

    اس نے فخریہ انداز میں گردن اکڑائی۔۔ ہیون اسکے انداز پر ہنس دیا۔۔

    اریزہ نئے کپ لائی تھی۔۔ بہت پیارے سے کارٹون بنے تھے۔۔ ساتھ ہنگل میں کچھ لکھا بھی تھا۔۔ وہ چائے چڑھا کر پلٹی تو ہیون دلچسپی سے کپ پر کو ہاتھ میں لیئے جائزہ لینے میں مشغول تھا

    اچھے ہیں نا۔۔ اس نے تائید چاہی۔۔

    ہاں۔۔اس نے خوشدلی سے کہا۔۔

    وہ دوبارہ شاپرزکھول کھول کر ترتیب سے کیبنٹ میں رکھنے لگی۔۔

    ہیون خود ہی آگے بڑھ کر مدد کروانے لگا۔۔ کاوئنٹر صاف کرکے اس لائن سے چار کپ سجائے۔۔

    ایک پلیٹ میں گندم کے بسکٹس سجائے وہ یونہی بیکڈ کپ کیک بھی لائی تھی ایک پلیٹ میں وہ بھی سجا دیئے۔۔

    اف کتنی سگھڑ ہوگئ ہوں میں۔۔ اسے خود پر پیار بھی آگیا۔۔

    وہ خود کلامی کر رہی تھی۔۔ ہایون نے مسکراہٹ دبائی۔۔

    اور ایک بسکٹ اٹھا کر کترنے لگا۔۔

    تمہاری دوست بھی رہتی ہے نا یہیں۔۔

    اریزہ کو اچانک ہی یاد آیا تھا سو بلا ارادہ پوچھ لیا۔۔ 

    کون۔۔ ہیون اپنے دھیان میں تھا فوری طور پر یاد نہیں آیا۔۔

    اریزہ کھسیا گئ۔۔

    خود ہی سر پر چپت لگا دی۔

    بڑی کوئ بچپن کی سکھی سہیلی ہوں نا جو اتنی بےتکلفی سے پوچھ بیٹھی ہوں۔۔ 

    وہ اردو میں بڑ بڑائی۔۔ ہیون دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔

    کون کسکی بات کر رہی ہو۔۔ اس نے پھر پوچھا۔۔

    نیور مائنڈ۔۔ بس ایسے ہی۔۔ کچھ نہیں۔۔ اس نے ٹالنا چاہا۔۔

    ہایون ابھی بھی منتظر دیکھ رہا تھا۔۔

    ہوپ کی بات کر رہی ہو۔۔ اسے خیال آیا۔۔ 

    وہ میں نے گوارا کی تصویر دیکھی تھی وہ بتا رہی تھی تمہاری دوست نے بنائی ہے۔۔

    اسے جواب سوجھ گیا سو وضاحت کی۔۔

    ہاں ۔۔ آرٹسٹ ہے اچھئ پینٹنگ بناتی ہے۔۔ میں نے بھی بنوائی تھی اپنی۔۔ انتقال کر گئی ہے اب یہاں نہیں رہتی۔۔ 

    ہیون سرسری انداز مین بتا رہا تھا۔۔

    اریزہ نے غور سے دیکھا۔۔

    نہ آنکھیں چمکیں نہ لہجہ بدلا۔۔

    ایویں جی ہائے  نے اسکو گرل فرینڈ ہی بنا دیا تھا ہیون کا۔۔ خود ٹرائی مار لیتی اچھا خاصا ہینڈسم تو ہے۔۔ وہ اسے تنقیدی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔

    ہیون کو اسکی تنقیدی نگاہوں سے گدگدئ سی ہوئی۔ اسے خیال بھی نہ تھا اچھی طرح جائزہ لیکر گھوم بھی گئ

    یون بن  اور گوارا اندر سے زور زور سے بول رہے تھے ۔ 

    ایڈون کا نام آیا تو ہیون  چونکا۔۔ دونوں کا لہجہ اتنا مختلف تھا کہ اریزہ کو سمجھ نہیں آیا۔۔البتہ ہیون  کو چونکتے دیکھ کر پوچھنے لگی۔۔ 

    دونوں لڑ تو نہیں رہے۔۔ 

    آنیو۔۔ اس نے فورا نفی میں گردن ہلائی۔۔ پھر انگریزی میں وضاحت کی۔۔

    نہیں۔۔باتیں کر رہے ہین۔ تمہاری چائے میں دودھ ابالا جاتا۔۔ وہ چولہے کو دیکھ رہا تھا۔۔

    ہاں دودھ ابالتے پھر پتی ڈالتے۔۔ وہ۔مزے سے بتانے لگی۔۔

    تو ڈال دو۔۔ ہایون نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔

    کیا۔۔ اسے سمجھ نہ آئی۔۔ پھر اچانک خیال آیا تو چونک کر پلٹی دودھ ابل کر بس گرنے ہی والا۔تھا۔۔ اس نے بھاگ کر چولہا دھیما کیا۔۔

    چائے بنا کر اس نے پیالیوں میں نکال کر گوارا کو آواز دی۔۔ 

    واہ یہاں تو پارٹی کا اہتمام ہے۔۔ گوارا اور یون بن خوشگوار انداز میں ہنستے بولتے کھنچے چلے آئے۔۔ 

    دونوں کا مزاج پل میں تولہ پل میں ماشہ تھا۔۔

    جبھئ شائد نبھ رہی تھی۔۔

    یہ کیا ہے۔۔ یون بن کو جھٹکا لگا تھا۔۔

    گوارا کو االبتہ اندازہ تھا۔ کپ اٹھا کر اس نے عبارت پڑھی پھر خود منتخب کر کے ایک کپ خود لیا ایک یون بن  کی جانب بڑھا دیا۔۔

    ہیون البتہ یہ جھٹکا پہلے سہ چکا تھا سو آرام سے ایک کپ اپنی جانب کھسکا لیا۔۔

    چائے ہے۔ اریزہ اسکے انداز پر شرمندہ ہوگئ۔۔

    یہ چایے تھوڑی کہی تھی۔۔ اس نے صاف کہا۔۔

    تو کیا ہوا انگریزی چائے ہےکچھ نیا بھی آزمانا چاہیئے۔۔ گوارا نے آرام سے کہہ کر گھونٹ بھرا۔۔

    وہ ہم شام کو میرا مطلب ہم پاکستانی شام کو یہی چائے پیتے ۔۔ اریزہ نے وضاحت کی۔۔ 

    مزے کی ہے نیا زائقہ ہے شکریہ اریزہ۔۔

    ہیون  نے اسے شرمندہ ہوتے دیکھا تو اثر زائل۔کرنے کو بولا۔۔

    مجھے پتہ تم کو بھی زیادہ پسند نہیں آئی ہو گی۔۔ تم لوگوں کو اسکی عادت نہیں نا سوری۔۔ اریزہ خجل سی ہو گئی تھی۔۔ یون بن  نے دلچسپی سے اسکے گال گلابی ہوتے دیکھے۔۔ 

    نہیں نہیں۔۔ اچھی ہے مزے کی ہے۔۔ گوارا نے سچ مچ دل سے کہا تھا۔۔

    میں بھی اس ذائقے کو برا نہیں کہہ رہا تھا۔۔ یون بن  کو بھی اخلاقیات نبھانے کا خیال آیا۔۔ 

    ہایون خاموشی سے چسکیاں لیتا رہا۔۔ 

    اریزہ نے اپنا کپ اٹھایا تو گوارا نے ایک نظر اسے دیکھا ایک نظر ہیون کو اور قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔۔

    اس دن تم لوگ کپل شرٹس پہن کر پھر رہے تھے آج کپل کپس میں چائے پی رہے۔۔ کیا سمجھوں میں یہ قدرت کا اشارہ ہے دو دل ملانے کیلیئے۔۔

    وہ شرارت سے ہنگل میں بولی۔۔ ہیون اور یون بن  نے بھی چونک کر کپ دیکھا۔۔

     میری ایک خواہش ہے

    میں اور تم ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے 

    یون بن  نے عبارت پڑھی۔۔

    پھر اریزہ کے کپ پر نظر ڈالی وہ انکی باتوں سے بے نیاز چائے پی رہی تھی۔۔

    بقیہ اسکے کپ پر لکھا تھا۔۔

     سڑک کنارے چل رہے ہوں 

    اور موسم کی پہلی برفباری ہم پر برس اٹھے

    ہیون اور یون بن  زور سے ہنسے 

    اریزہ نے خفا خفا نظر ڈالی۔۔ 

    کتنی غلط بات ہے تم لوگ اپنی زبان میں بولے جا رہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا اوپر سے ہنس بھی رہے۔۔

    اس نے کہہ ڈالا۔۔

    ہم شعر پڑھ رہے تھے۔۔ ہیون نے فورا صلح جو انداز میں کہا۔۔

    اب ہم کیا کریں ہم ٹھہرے کورین نا انگریزی سمجھ آتی نہ انگریزی چائے۔۔ یون بن  نے آہ بھر کر پھر چھیڑ دیا۔۔

    ہماری بدقسمتی  انگریز دو سو سال ہم پر مسلط رہے دو بلائیں چھوڑ گئے انگریزی اور چائے۔۔چاہ کر بھی جان نہیں چھڑا پا رہے ہم۔۔ اریزہ نے صاف گوئی سے کہا۔۔

    پتہ ہے مفت پلاتے تھے شروع شروع میں ایسے عادی کیا تھا انہوں نے۔۔ اریزہ نے بتایا تو تینوں دلچسپی سے سننے لگے۔

    ورنہ برصغیر کے لوگ تھوڑی چائے پیتے تھے۔۔ 

    واقعی۔۔ وہ کافی حیران ہوئے۔۔ 

    کاروبار کے بہانے آئے تھے دھیرے دھیرے قبضہ کر لیا ۔۔ وہ منہ بنا کر بتا رہی تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایڈون شاہزیب سالک کم سن ڈنر کرنے جا رہے تھے

    ارادہ قریبی فوڈ پوائنٹ تک جانے کا تھا سو پیدل ہی رواں ہوئے۔۔  جب سنتھیا کی کال آئی اسے۔۔

    کہاں ہو۔۔

    وہ قصدا ایک قدم پیچھے ہو کر اس سے بات کرنے لگا۔۔

    کیا کر رہے ہو۔۔ وہ شائد بور ہورہی تھی۔۔

    یار شاہزیب وغیرہ کیساتھ ڈنر کا پروگرام ہے۔۔ وہیں جا رہے۔۔ تم نے کھانا کھا لیا۔۔

    نہیں۔۔ تم آجائو ان لوگوں کو جانے دو اکٹھے ڈنر کرتے ہیں۔۔ اس نے حسب عادت ناز بھرے انداز سے اسے کہا۔۔

    یار ۔۔ وہ تھوڑا سا بےزار ہوا۔۔

    میں نے ہی پروگرام بنایا ہے سوری جان تم اریزہ کیساتھ جائو کھانا کھا لو بھوکی نہ سونا اچھا۔

    ۔ اس نے مزید اپنا انداز نرم کرکے پیار سے کہا تھا۔۔

    اریزہ نہیں ہے یہاں۔۔ اسکا منہ کڑوا ہوگیا۔۔

    کہاں گئ ہے۔۔۔ اس نے یونہی پوچھا تھا مگر وہ بھڑک کر بولی۔۔

    جہاں بھی جائے تمہیں کیا۔ اور ہم کیوں نہیں گئے اسکی وجہ سے؟ ۔۔

    ایڈون نے ہونٹ بھینچے۔۔

    نہیں۔۔ 

    اچھا بعد میں بات کرتے ہیں۔۔ اس نے بات ختم کرنی چاہی۔۔ 

    تم میرے ساتھ ہمیشہ ایسے کرتے ہو۔ میں بات کر رہی ہوں نا کیوں فون بند کر رہے۔ میں نے تو کبھی ایسا نہیں کیا جب جس وقت بھی تم فون کرتے سب کام چھوڑ کر تم سے بات کرتی تمہاری خاطر اپنی انا اپنے سب اصول توڑ لیئے پھر بھی تم خوش نہیں ہو مجھ۔ سے کیوں بھلا۔۔ وہ زور زور سے بولتی روہانسی ہو چلی تھی۔۔

    ایسی کوئی بات نہیں۔۔ دوستوں کیساتھ ہوں بعد میں فارغ ہو کر کرتا ہوں نا بات۔۔ ایڈون کو اب ہلکا ہلکا غصہ آنا شروع ہو گیا تھا۔۔

     میری جگہ اریزہ ہوتئ تو ؟۔۔ اسے تو ایسے نظر انداز نہیں کرتے نا تم۔۔ 

    اریزہ کہاں سے آگئ بیچ میں۔۔

    زچ ہو کر وہ تھوڑا اونچی آواز میں بول گیا۔۔

    آگے آگے باتیں کرتے کم سن سالک اور شاہزیب تینوں یکدم خاموش ہو کر مڑ کر  اسے دیکھنے 

     لگے۔۔

    آئی نہیں وہ گئ ہی نہیں ہمارے بیچ سے مین کتنی بھی کوشش کر لوں وہ جاتی ہی نہیں تمہارے نا دل سے نا دماغ سے ۔۔ وہ بھڑک کر چلائی

    میرے ساتھ ہو کر بھی تم اسی کو سوچتے ہو۔۔ میں بات کر رہی ہوتی ہوں تمہارا دھیان کہیں اور ہوتا۔۔ 

    میں جان بھی دے دوں تمہارے لیئے تمہیں کوئی فرق نہ پڑے ایسا کیا ہے اس میں؟۔۔ 

    تم سے کچھ کہنے کا فائدہ ہی کچھ نہیں۔۔ اس نے دانت کچکچا کر نہ صرف کال بند کی بلکہ موبائل بھی بند کر دیا۔۔ 

    سنتھیا نے ایکدم کال بند ہونے پر موبائل کو کان سے ہٹا کر دیکھا پھر فورا ہی دوبا رہ کال ملا دی۔۔

    اسکا نمبر بند تھا۔۔

    آہ۔۔ اسے بے تحاشہ رونا آگیا اس نے بلبلا کر موبائل سامنے دیوار میں دے مارا ۔۔

    خیریت۔۔ شاہزیب اور سالک اسکا لال بھبھوکا چہرہ دیکھ کر پوچھے بنا نہ رہ سکے۔۔

    ہاں۔۔ وہ زبردستی مسکرایا۔۔

    کچھ نہیں اس نے ٹال دیا ان دونوں نے بھی اصرار نہ کیا۔۔

    کم سن انکی باتیں سمجھ نہیں سکتا تھا سو دھیان ہٹا لیا۔۔

    یار کیا لڑکی ہے۔۔

    یونہی باتیں کرتے شاہزیب کی سامنے بل بورڈ پر نظر پڑی تھی۔ 

    ڈیجیٹل بورڈ تھا کئی فٹ کی اسکرین پر ایک کوریائی حسینہ جلوہ گر تھی۔ کسی کریم کا ہی اشتہار تھا دودھ جیسی گوری کھنچی ہوئی آنکھیں کسی حور کا گمان ہورہا تھا اس پر۔۔

    ہاہ واقعی۔۔ سالک بھی رک کر دیکھنے لگا۔۔

    اوئے بھابی ہے تیری ہٹ پرے۔۔

    شاہزیب نے اسکو فورا  دھکا دیے کر پرے کیا۔۔ 

    شکل دیکھ اتنی گوری ہے اسے بھی گورا ہی پسند آئے گا۔۔

    سالک نے ڈھٹائی سے کالر جھاڑے۔

    کس کتاب میں لکھا۔۔ اسے کم گورا بھی پسند آسکتا۔۔

    شاہزیب کی بات میں  وزن تھا۔۔ 

    ابے چل۔۔ سالک نے اسکو سڑک کی جانب دھکا دیا۔۔ وہ پلٹ کر آیا اس پر پل پڑا۔۔

    انکی مار کٹائی سے بچتا ایڈون دونوں ہاتھ اپر کی جیبوں میں ڈالے محظوظ ہو رہا تھا۔۔کم سن اپنے دھیان سے چونکا تو براہراست کشتی اسکے سامنے چل رہی تھی۔۔

      میری نظر پہلے پڑی وہ اب میری ہے۔۔

    شاہزیب  اسکی گردن قابو کی۔۔ 

     یہ کیوں لڑ رہے اچانک۔۔ اس نے ایڈون سے حیرت سے پوچھا۔

    دونوں گتھم گتھا سڑک پر پڑے تھے۔۔

    ایڈون نے بل بورڈ کیطرف اشارہ کیا۔۔ 

    سوزی بے؟۔۔ وہ حیران ہوا۔۔

    ایڈون نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ ہنس دیا۔۔

    چھوڑو سالوں ۔۔ نہ تمہارے کام کی ہے نہ تمہارے۔۔

    ایڈون نے آگے بڑھ کر سالک پر پلے پڑے شاہزیب کو کھینچا کم سن نے ہنستے ہنستے بے حال ہوئے سالک کو ہاتھ پکڑ کر اٹھایا۔۔ دونوں بندر اب اپنے کپڑے جھاڑ رہے تھے۔۔

    میرا بھی کرش رہا ہے اس پر ۔۔ مگر سنا ہے لی من ہو(کوریائی اداکار) کے ساتھ آجکل تعلق میں ہے۔ 

    کم سن نے معلومات میں اضافہ کیا۔۔

    ہاہ۔۔

    ایک تو ہر لڑکی جس پر میرا دل اٹکتا یا تو منگنی شدہ نکلتی یا شادی شدہ۔۔ میں لگتا کنوارا مروں گا۔۔

    شاہزیب نے یاسیت سے کہا تھا کم سن نے ایڈون کو وضاحت طلب نظروں سے دیکھا تو اس نے مترجم کے فرائض نبھائے۔۔ کم سن ہنس دیا۔۔

    سالک نے منہ بنایا۔۔

    اب تو نہیں ہے دوبارہ کوشش کر کے دیکھ۔۔

    وہ دھیرے سے اردو میں بڑ بڑایا۔۔

    شاہزیب کے چہرے پر سایہ سا لہرایا۔۔ ایڈون بھی یکدم سنجیدہ نظر آنے لگا۔۔

    کم سن تینوں کی باری باری شکل دیکھنے لگا۔۔

    کیا ہوا تم لوگوں کو۔؟۔۔

    اس نے چٹکی بجائی۔۔

    کچھ نہیں۔۔ یہی کہہ رہے تھے تم جیسا بندہ اکیلا ہے تو ہمارے حال گئے گزرے ہیں

    ۔۔ ایڈون نے سنبھل کر ہلکے پھلکے انداز میں بات گھما دی

    کم سن زور سے ہنسا۔۔

    مجھے بچپن سے بس ایک لڑکی پسند آئی سیدھا یہاں جگہ بنائی۔۔ اسکے بعد کوئی یہاں دستک نہیں دے پائی۔۔ 

    اس نے دل پر ہلکے سے مٹھی بنا کر رکھی۔۔ اسکی آنکھون میں تبھی ایک اور چہرہ بھی در آیا۔۔ 

    یہ کیا ہوا۔۔ وہ ساکت رہ گیا۔۔ 

    وہ تینوں خاموشی سے اسے دیکھنے لگے۔۔

    پھر؟۔۔ ایڈون نے پوچھا تو وہ چونک سا گیا۔پھر شانہ جھٹک کر دھیرے سے مسکرا دیا۔۔

    پھر یہ کہ اسے کوئی اور پسند تھامیں تو اسے بتا بھی نہیں پایا اپنے جزبات کا۔۔ وہ ہنسا۔۔

    کیوں؟۔۔ شاہزیب نے فورا پوچھا۔۔  

    اسے میں نظر بھی نہیں آتا تھا اسکے آگے۔۔ اور مجھے اس سے بھی پہلے اسکے جزبات کا احساس ہو گیا تھا۔۔ آپ جس سے محبت کرتے اس کا رویہ  اسکی سوچیں کسی بھی دوسرے انسان سے زیادہ جلدی پڑھ لیتے۔۔ آپکا دل اس انسان کے دل کی دھڑکن کب کہاں تھمتی یہ بھی محسوس کر لیتا۔۔ 

    وہ بظاہر مسکرا کر بتا رہا تھا۔ مگر اسکی آنکھیں جھلملانے لگی تھیں۔۔

    ایڈون اسکے الفاظ میں کھو سا گیا۔۔

    ہر بار سنتھیا اس سے اریزہ کے نام پر ہی لڑتی۔۔ تو کیا۔۔ وہ سوچ میں پڑا۔۔

    پھر بھی کہتے تو کیا پتہ وہ قدر کرلیتی 

    ۔۔ سالک کو اسکی بات پسند نہیں آئی۔۔ ایک۔انسان دوسرے انسان کے بارے میں کیسے کوئی پریقین اندازہ لگا سکتا جبکہ انسان ہی تو نا قابل بھروسہ مخلوق کب کہاں کسکے جزبات بدل جائیں کون جانے۔۔ 

    آپ کسی سے محبت کریں تو نا ممکن ہے اس انسان کو پتہ نہ چلے۔۔ محبت اپنا آپ منوا لیتی ہے۔۔ الا وہ انسان جان کے انجان بنے تو علیحدہ بات۔۔ مجھے اسے بتانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔۔ اسے پتہ تھا۔۔ 

    کم سن سالک کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔۔ انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہا ہو بچے ہو کچھ پتہ وتا نہیں تمہیں۔۔ سالک کندھے اچکا کر رہ گیا۔۔ واقعی محبت تو آج تک نہ ہوئی تھی اسے ہوتا ہوگا ایسا بھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

    وہ گرم کافی کا مگ اٹھا کر ٹیرس میں چلی آئی۔۔ دور تک دمکتی جگنو سی روشنیاں ہلکا ہلکا ٹریفک کا شور دور فلائی اوور اور اس پر جگمگاتی گاڑیوں کی بتیاں۔۔ وہ گھنٹوں کھڑے دیکھ سکتی تھی۔۔

    کتنا پیارا ہے سیول۔۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کتنا برا ہے سیول۔۔ رات کے گیارہ بجے بھی سب جاگ رہے ایسے پھر رہے جیسے صبح انکو کوئی کام ہی نہیں۔۔ 

    اس نے بےزاری سڑک پر رواں ٹریفک کو گھورا۔۔

    شور اسکے سر پرگراں گزر رہا تھا۔۔

    آج اس نے مقررہ وقت سے زیادہ دیر کام کیا تھا۔۔ 

    اسکی واپسی کیلیئے آخری بس اس سے چھوٹ گئ تھی۔۔ ٹیکسی کے کرائے کے پیسے نہیں تھے۔۔ وہ فی الحال بس اسٹاپ پر بیٹھی میٹرو اسٹیشن بند ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔۔ اسکے داخلی حصے میں نیچےسیڑھیوں کے پاس اس نے اکثر کچھ بے گھر افراد کو بستر لگائے سوئے دیکھا تھا۔۔ آج اسکا ارادہ بھی یہی کرنے کا تھا۔۔ اسپا تک پیدل جانے کی ہمت نہیں تھئ۔۔

    وہ نیند اور بھوک سے نڈھال تھی۔۔ بھوک برداشت کرنے کی تو اسے عادت تھی مگر نیند۔۔ 

    سو جائو سیول۔۔ وہ بڑ بڑائی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کم آن سیول۔۔ ویک اپ۔۔ بریو ہارٹ اسکے کان میں چلا رہے تھے وہ مگن سر ہلاتی محظوظ ہو رہی تھی۔۔

    آج میرا دل کر رہا میں شائع کروں۔۔

    کچھ نہیں۔۔

    آج کیلیئے کچھ نہیں۔۔ بس کچھ بھی نہیں۔۔ نہ اچھا کہنے کو ہے نا برا کہنا۔۔

    جینا ہے بس ابھی اس وقت کو۔۔ جیو میرے ساتھ بس صرف اس پل کو۔۔

    اس نے بلاگ پر شائع کیا۔۔

    پہلا کمنٹ۔۔

    کچھ نہیں۔۔۔ اور آگے ہا ہا ہا ہا۔۔۔

    دوسرا۔۔ 

    جب کچھ کہنا نہیں ہوتا تو پوسٹ کیوں کرتے ہو۔۔؟؟؟؟؟؟

    عمائما کی طرح کوئی چلایا تھا۔۔

    تیسرا۔۔

    مجھے بھی ایڈمن لے لو قسم سے کبھی بھی ایسا کچھ نہیں شائع کروں گا وعدہ۔۔۔

    چوتھا۔۔

    گزر چکا ایک پل اب جائیں۔۔ ؟۔۔

    وہ ہنسی۔۔

    پانچواں۔۔

    میں ایسا ہی کرتا ہوں۔۔ ہمیشہ۔ 

    عجیب سی آئی ڈی۔۔ 

    آہ۔۔ اس نے پہچانا۔۔ 

    آپکا نام سمجھ نھہیں آتا انگریزی میں لکھئے مہربانی۔۔

    اس نے ٹائیپ کیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ ابھی ابھی اپنے اپارٹمنٹ آیا تھا۔۔ بتیاں جلاتا۔۔ جوتے حسب عادت گھر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے شوریک میں سجائے۔۔ اسکے ہاتھ میں بڑے بڑے شاپر تھے وہ ہفتے بھر کا سودا لے کر آیا تھا۔۔ اب چیزیں ٹھکانے پر رکھ کر اس نےپیک کھانا نکالا۔۔ کھمچھی اور سادے نوڈلز۔۔ کھمچی پر ایک کونے میں حلال بھی لکھا تھا۔۔

    اس نے گھڑی میں وقت دیکھا پھر انتظار کرنے لگا۔ تاوقتیکہ مقررہ وقت پر سوئی آن ٹھہری۔

    اس نے دعا پڑھ کر رغبت سے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ اسے کال آگئ۔۔

    بٹلر ہانگ۔۔

    وہ نام دیکھ کر چونکا۔۔ چاپ اسٹک رکھ کر اس نے بے تابی سے فون اٹھایا۔۔

    یوونگ سے او۔۔ 

    آننیاگ واسے او۔۔ بٹلر ہانگ ادب سے گویا ہوئے۔۔

    آننیانگ واسے او۔۔ وہ سنبھلا۔۔

    آپ کو  رات کو زحمت دینے کیلیئے پیشگی معزرت۔۔ مگر بات کچھ ایسی ہے کہ میں صبح تک کا انتظار نہیں کر سکتا۔۔ وہ گھبرائے ۔۔

    کہیئے۔۔ اسکے دل کی دھڑکن تھمی۔۔

    مادام نے چالیس فیصد شئرز آپکے چچا کے نام کر دئے ہیں۔۔اسطرح انکا حصہ آپ سے تھوڑا سا ہی کم رہ جائے گا۔۔ اگر وہ ایک دو ڈاریکٹرز کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گئے تو پوری کمپنی انکے ہاتھ میں آجائے گی۔۔ کل صبح وہ ڈائریکٹرز کی اہم۔ملاقات بلا کر اپنے اثر رسوخ کی دھاک بٹھانا چاہیں گے۔۔ مجھے لگتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ کہہ رہے تھے  علی نےغیر دلچسپی سے بات کاٹ دی۔

    آہمونی کیسی ہیں ؟۔۔

    ٹھیک ہیں۔۔ وہ چپ سے ہوئے۔۔

    آپ فکر نہ کریں۔۔کر لینے دیں میرے چچا کو کمپنی پر قبضہ مجھے اس کاروبار میں زرا بھر دلچسپی نہیں۔۔ پھر جو چیز جیسے شروع ہوئی ہے ویسے ہی ختم بھی ہوتی ہے۔۔ آہبوجی نے بھی چچا کو ایسے ہی بے دخل۔کیا تھا جیسے وہ اب مجھے کریں گے۔۔

    اس کا اطمینان قابل رشک تھا۔۔ 

    مگر۔۔ بٹلر نے کچھ کہنا چاہا۔۔ 

    مجھے اس گھر سے بس تب تک اور اتنی دلچسپی ہے جب تک آہموجی وہاں ہیں۔۔ آئندہ آپ زحمت مت کیجئے گا انکی کوئی بھی اطلاع دینے کی۔۔ اسکا انداز درشت نہیں تھا مگر محسوس کی جانے والی سختی تھی۔۔

    بہتر ۔۔ وہ۔ہونٹ بھینچ گئے۔۔

    آپ سنائیں سب ٹھیک ٹھاک آپکے گھر میں۔۔ جان کی اسکولنگ کیسی جا رہی ؟۔۔   وہ اب ہلکے پھلکے انداز میں پوچھ رہا تھا۔۔ اس نے دوبارہ کھانا کھانا شروع کر دیا تھا۔

    سب ٹھیک ہے آپکو یاد کرتا ہے۔۔ وہ مشکور ہوئے۔۔

    میں آئوں گا اس سے ملنے۔۔ اس نے خوشدلی سے کہا۔۔

    جی ۔۔ بٹلرہانگ مسکرائے۔۔ 

    آپ اپنا اور آہموجی کا خیال رکھیے گا۔۔ میں اطمینان سے اسلیئے ہوں کہ آپ انکے پاس ہیں۔۔ ۔۔ جون جے کا انداز التجائیہ ہوا تھا

    دے۔۔ وہ اثبات میں سر ہلا گئے۔۔

    اس نے الوداعی کلمات ادا کرکے فون بند کر دیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے پوری پریزنٹیشن بنا کرفائل  ماں کے سامنے ٹیبل پر رکھی تھی 

    فائلوں میں الجھی سومئ نے مسکرا کر سر اٹھایا۔

    وہ اڑتالیس سال کی انتہائی اسمارٹ اور حسین خاتوں تھیں۔۔ وہ خواتین کے تھری پیس سوٹ مین ملبوس تھیں سادہ سے میک اپ میں تیس تک کی لگ رہی تھیں۔۔ جانے اسکی ماں بے حد پیاری تھی یا اسے پیاری لگ رہی تھی کیوں کہ ماں تھی۔۔ وہ سوچ میں پڑا۔۔ 

    بیٹھو۔۔ انہوں نے اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا۔۔ 

    مجھے بہت خوشی ہے تم نے میری بات مان لی۔۔ 

    میں بس یہ سب تمہارے حوالے کر دینا چاہتی ہوں

    اب تمہاری آہمونی بوڑھی ہوگئ ہیں۔۔ 

    وہ مسکرا کر کہہ رہی تھیں۔۔

    آپ اور بوڑھی۔ وہ ہنسا۔۔ آہمونی جی کا دل چھو گئی اسکی ہنسی۔۔ کتنے عرصے کے بعد اسے یوں ہنستے دیکھا تھا۔۔ 

    آئنہ دیکھیں میری چھوٹی بہن لگ رہی ہیں۔۔

    اس نے مزید کہا وہ زور سے ہنس پڑیں۔۔

    اف بہت فلرٹی ہو۔۔ ایسی ہی باتیں کرکے گھائل کیا ہوگا رچل کو۔۔

    وہ۔یونہی روانی میں ہنستئ اسکی دکھتی رگ چھیڑ گئیں۔ جون جے کی مسکراہٹ دھیمی پڑی۔ سومئئ نے بیٹے کا چہرہ بجھتا دیکھا تو خود کو کوس کر رہ گئیں۔۔

    بیانتا۔۔ انہوں نے شرمندہ سے انداز میں کہا۔۔

    آہمونی ۔۔ جون جے انکا دل رکھنے کو مسکرایا۔۔

    آئندہ مجھے کبھی سوری مت کہیئے گا۔۔ آپ مجھے گناہگار کرتی ہیں۔۔ 

    آہمونی کو اسکی بات سمجھ نہیں آئی۔۔ مگر چپ ہوگئیں۔۔

    کیا پرپوزل لائے ہو۔۔ ؟۔۔ وہ نظر کی عینک۔لگا کر اسکی فائل دیکھنے لگیں۔۔

    انکے چہرے پر پہلے حیرانی آئی پھر الجھن آخر میں وہ اسے سر اٹھا کر گھورنے لگیں۔۔

    یہ کیا ہے ؟۔۔

    جون جے نے گہری سانس لی۔ انکا ردعمل غیر متوقع نہیں تھا۔۔

    تم نے یہ کیا رپورٹ بنائی ہے۔ جون جےآ۔۔ وہ 

    حتی المقدور لہجے پر قابو پا کر رسانیت سے بولیں۔۔

    جون جے مضبوط لہجے میں بولنا شروع ہوا۔۔

    میں نے منافع میں کمی کرکے ملازمین کیلیئے نئے فنڈز کے اجرا کی تجویز دی ہے۔۔ ملازمین کے بہبود فنڈ میں سے بلا سود قرض دینے اور انکی تنخواہ میں اضافے کیساتھ ساتھ فی  الحال جو جو ملازمیں کسی وجہ سے کمپنی کے مقروض ہیں انکے قرضے معاف کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔ میں نے خود اکاوئنٹس کے معاملات دیکھے ہیں۔۔ ہم اصل رقم سے دوگنا کم از کم وصول چکے ہیں۔۔ اب مزید یہ ظلم کرنے کی ضرورت نہیں۔۔

    تم پاگل تو نہیں ہوگئے ہو؟۔۔ 

    وہ خاموشی سے سنتے ضبط کھو کر چلائیں۔۔

    جون جے فورا خاموش ہوا۔۔

    ٹیکس کی مد میں اتنا پیسہ بھاڑ میں جھونکو گے میں نے مان لیا۔ تم اپنے باپ کی طرح چور راستے تلاش نہیں کرنا چاہتے مت کرو۔۔ مگر یہ سود سے کیا بیٹھے بٹھائے خار ہوگئی ہے تمہیں؟۔۔

    آہمونی جی ہم بہت منافع کماتے ہیں ان سے سود وصول نہ کرکے بھی نقصان میں نہیں رہیں گے البتہ

    ان تنخوادار ملازمین کا بھلا ہو جائے گا۔۔ اس نے سمجھانا چاہا وہ درشتی سے گھورتی رہیں۔۔

    اور میں نے تجویز کی ہے۔۔ہم اپنی پراڈکٹس کی قیمت کم نہیں کر سکتے کیونکہ وہ استحکام پر ہیں تاہم ہم مقدار بڑھا ئیں گے تاکہ ناجائز منافع وصول نہ ہو۔۔ 

    اس نے کہا تو حقیقتا سومئئ کو لگا اسکا دماغ الٹ چکا ہے۔۔

    کیا۔لگتا تمہیں۔۔ ہم یہاں کوئی خیراتی ادارہ چلا رہے۔

     بیس ہزار لوگ اس کمپنی سے اپنا معاش چلا رہے۔۔ تم کمپنی کو ڈبونا چاہتے ہو۔۔ ؟

    نہیں میں بس ان خامیوں کو دور کرنا چاہتا ہوں جن سے ہمارے ملازمیں مشقت کرکے پیٹ بھر کر نہیں کھا پاتے اور ہم محض نگرانی کرکے اپنا پیٹ جہنم سے بھر رہے۔۔ اسکا انداز نہ چاہتے ہوئے تلخ ہو گیا۔۔

    جہنم۔ وہ چونکیں۔۔

    یہ تمہارے اس نئے مزہب کی وجہ سے ۔۔ افف۔ انہوں نے پیشانی پیٹ ڈالی۔۔وہ غصے سے ابلتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔

     مجھے لگا تھا تم رچل کے جانے کی وجہ سے اپ سیٹ ہو پریشان ہو میں تمہیں سنبھلنے کا موقع دے رہی تھی۔۔ تم نے مزہب بدلنے کا فیصلہ کیا میں نے اعتراض تک نہیں کیا مجھے لگا تھا کچھ عرصے میں خود ہی تمہارا جنون کم ہو جائے گا مگر تم تو برین واش ہوتے جا رہے ہو۔۔ 

    کس قسم کا یہ تارک الدنیا مزہب ہے یہ؟۔۔ پچھلا پورا مہینہ تم روزے کے نام پر بھوکے رہے اب اپنا پیسہ لٹا دینا چاہتے ہو  وقت بے وقت عبادت کرتے ہو۔۔ کھانا پینا سونا جاگنا سب حرام ہے کیا تمہارے مزہب میں؟۔۔ کوئی انسانوں والا۔کام جائز ہے تمہارے اس سو کالڈ مزہب میں کہ نہیں۔۔تم کتنے سمجھدار بیٹے تھے میرے کیا ہوتا جا رہا ہے تمہیں۔۔ 

    وہ چلا رہی تھیں  بے بسی سے گھگھیا رہی تھیں۔۔ جون جے کی ماں ہونا انہیں بے حد کڑا امتحان لگ رہا تھا۔۔ جون جے بالکل خاموش رہا۔۔

    آپکو لگتا نہیں کہ میں اب زیادہ بہتر بیٹا بن گیا ہوں آپکا۔۔

    اس نے بے چارگی سے کہا تھا۔۔

    ہرگز نہیں۔۔ وہ قطعیت سے بولیں۔۔

    اسلام اور اسکے بارے میں مغرب جو پراپیگینڈہ کرتا میں کبھی اس سے متاثر نہیں ہوئی مگر اب

    ۔ وہ رکیں۔۔ اور جون جے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولیں۔۔

    سب صحیح لگتا ہے واقعی یہ ایسا مزہب ہے جو انسان کا دماغ بند کر دیتا اور شدت پسندی پر اکساتا۔۔ 

    وہ عجیب سی زبان والی کتاب اس سے سب سیکھتے ہو ابھی میں اس کتاب کو گھر سے۔۔

    بس۔۔ جون جے ضبط کی شدت سے سرخ ہوتے چہرے کیساتھ پورے قد سے انکے مقابل آکھڑا ہوا۔۔

    اسکی کنپٹی پھڑک رہی تھی۔۔ 

    انہیں لگا تھا وہ اب کچھ کر بیٹھے گا۔۔ اسکی آنکھوں میں سرخی تھی۔۔ وہ پہلی بار زندگئ میں اپنے بیٹے کی آنکھوں میں دیکھ کر گھبرائی تھیں

    آپ مجھے جتنا مرضی برا بھلا کہہ لیں میرے مزہب کو اس کتاب کو کچھ مت کہیں۔۔ آپ نہیں جانتی اسکی حرمت۔۔

    وہ تھم کر بولا تھا۔۔ کپکپاتے لب دھیمی آواز وہ تو چلایا بھی نہیں تھا۔۔ اسکی انکھیں بس نم ہو کر رہ گئی تھیں

    ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسکا موبائل بجا تو وہ چونکا۔۔ 

    بلاگ کی اپ ڈیٹ تھی۔۔

    اسکی اشتہا ختم ہو چکی تھی اس نے میز سے خالی پلیٹ اٹھا کر کھانا ڈھک دیا اور ہاتھ نیپکن سے پونچھتا موبائیل اٹھاتا کمرے میں چلا آیا۔۔ اطمینان سے بستر پر نیم دراز ہو کر اس نے پڑھا۔۔ 

    کمنٹ کیا۔۔ ایڈمن نے عجیب فرمائش کی تھی۔۔

    جے او۔۔ وہ نام لکھتے لکھتے رکا۔۔ پھر مسکرا کر علی لکھ دیا۔۔ محمد علی۔۔ 

    فورا جواب آیا۔۔

    بہت خوبصورت نام ہے۔۔ ماشااللہ۔۔ 

    یہ کیسا نام ہے؟۔۔

    اب نام بدلنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔ جو مرضی مزہب کے پیروکار بنو نام کیوں بدل رہے

    میں تو جون جے ہی کہوں گا۔۔ ۔

    اس کے زہن میں مختلف لوگوں کے ردعمل گونجے

    اس نے سر جھٹکا۔۔

    شکریہ ۔۔ اور آپکا؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نو مسلم۔ 

    اس نے سوچا۔۔ 

    پھر اپنا نام لکھ دیا۔۔

    بیٹری ختم ہونے والی تھی۔۔۔۔۔ اس نے بلاگ  بھئ بند کر دیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد 

    جاری ہے۔

    Kesi lagi apko salam korea ki qist? Rate us

    Rating
  • Salam Korea Episode 14

    Salam Korea
    by vaiza zaidi
    قسط 14

    Salam korea urdu novel feautring seoul korea kdrama fan fiction by desi kimchi
    Salam korea urdu novel feautring seoul korea kdrama fan fiction by desi kimchi

    سنتھیا فرائی پان میں گرم گرم پراٹھے تل رہی تھی گوارا میز پر بیٹھی ندیدی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی آملیٹ کیلئے پیاز ہری مرچ سب کاٹ کے رکھا ہوا تھا میز پر ایک جانب ایک باسکٹ میں نمک متچ اور دیگر ضروری مصالحے بھی سجے رکھے تھے اس طرح کہ بس اس ٹوکری کو اٹھا کے نکل لو۔ پراٹھے پر تیل لگاتے سنتھیا کی نگاہ اس پر پڑی تھی
    آگئیں تم میں اٹھانے ہی آرہی تھی تمہیں تم یہ آملیٹ میں اپنی مرضی سے نمک مرچ ڈال لو۔
    سنتھیا نے سادہ سے انداز میں کہہ کر توجہ پراٹھے کی طرف مبذول کرلی تھی
    یہ سب کہاں سے آیا؟ اسکی حیرت الگ تھی۔
    ایڈون نے بھجوایا ہے تمہارئ لیئے۔
    کوشش کے باوجود سنتھیا کا لہجہ سادہ نہ رہ سکا تھا۔ اریزہ اسکے لہجے پر توجہ دیئے بنا خوشی خوشی ٹوکری دیکھ رہی تھی۔ کھجوروں کا بھی چھوٹا سا سہی مگر پیکٹ موجود تھا۔ اس نے یونہی اسکی قیمت دیکھی تو آنکھیں کھل سی گئیں۔
    تم سارا دن بھوکی رہو گی۔
    گوارا حیرت سے پوچھ رہی تھی۔
    نہیں۔ اس نے بے دھیانی میں انکار کیا پھر خیال آیا
    آہاں۔ روزہ رکھوں گی تو کھانا پینا دونوں شام کو ہی ہوگا اب۔ تم کیوں اٹھی ہوئی ہو۔
    وہ اسکے برابر کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے بات بدل گئ
    بھوک لگ رہی تھی ریمن بنانے آئی کچن میں تو سنتھیا پہلے سے موجود تھی کہتی ہے آج مجھے پاکستانی ناشتہ کرائے گی ۔اور مجھے کیا چاہیئے مجھے انسٹنٹ نوڈلز بھی بنانے نہیں پڑ رہے۔
    گوارا ڈھٹائی سے کہتی ہنسی ۔اریزہ کو بھی اسکے انداز پر۔ہنسی آگئ۔
    یہ فلور کیک بنا رہی ہے وہ بھی آئل سے میں نے کبھی ایسا کیک نہیں دیکھا۔ کیا کہتے اسے
    گوارا بولتے بولتے روانی سے ہنگل میں کہہ گئ۔
    اسکو پراٹھا کہتے ہیں۔
    اریزہ نے بتایا تو وہ حیران رہ گئ۔
    تمہیں سمجھ آگیا میں نے کیا کہا؟
    ہاں پوری بات نہ سہی مگر مفہوم سمجھ آگیا آخر میں نے لازمی کورین کی کوئی ایک کلاس بھی نہیں چھوڑی ۔
    اریزہ نے فخریہ کالر جھاڑے
    تھیبا۔۔ گوارا نے متاثر ہونے والے انداز میں تالی بجائئ
    دونوں باتوں میں مگن تھیں سنتھیا نے پراٹھے اتار کر خود ہی انڈہ بھی تلنا شروع کر دیا۔
    انڈہ تل کر پراٹھے کے ساتھ انکے سامنے رکھا تو بلا۔تکان بولتی اریزہ شرمندہ ہوگئی۔
    آئم سوری بالکل بھول گئ میں انڈہ تلنا۔
    کوئی بات نہیں۔ سنتھیا نے آرام سے کہا۔ اور کافی بنانے مڑ گئ
    اسکو کھاتے کیسے ہیں۔ گوارا کے کہنے پر اس نے نوالہ توڑ کر اسکے منہ میں ڈالا
    اف یہ بہت مزے کا ہے
    گوارا نے پہلا نوالہ لیتے چٹخارہ بھرا تھا
    اف ابھی اسکے ساتھ میری امی کے ہاتھ کا آم کا اچار نہیں اف لطف دوبالا ہوجاتا ہے پراٹھے کا۔
    اریزہ نے کہا تو سنتھیا اسکے سامنے کافی رکھتے ہوئے ٹوکے بنا نہ رہ سکی
    سحری کر لو وقت کم رہ گیا ہے۔
    ہوں۔وہ سر ہلاتی فورا اپنی پلیٹ پر جھک گئ۔
    گرم گرم بھاپ اڑاتی کافی۔ اسکے دل سے دعا نکلی سنتھیا کیلئے
    سنتھیا جیو ہزارو سال خوش رہو سچی محبت ملے تمہیں۔
    کافئ کا گھونٹ بھرتے وہ لہرا کر بولی۔
    تم نے بہت ثواب کمایا ہے پتہ ہے سحری کرانے والے کو بھی بہت ثواب ملتا ہے۔
    اسکی بات پر سنتھیا نے ترچھی سی نگاہ ڈالی۔
    چاہے وہ کرسچن ہی کیوں نہ ہو۔
    سنتھیا کے تیکھے انداز میں کہنے پر وہ لمحہ بھر کو چپ ہی رہ گئ پھر کچھ کہنا چاہا تبھی گوارا متاثر ہوجانے والے انداز میں بولی
    زبردست ۔ مجھے تم لوگوں کی یہ روایت اچھی لگی۔ جو آپکو کھانا کھلائے اسے دعائیں دو۔ سنتھیا میری بھی دعا ہے تمہارے لیئے سچی محبت پائو تم۔
    سنتھیا اسکے کہنے پر اسے نظر بھر کر دیکھ کر رہ گئ۔
    اریزہ اور گوارا کے چہرے پر پرخلوص مسکراہٹ ہی تھی وہ چاہ کر بھی کوئی غلط مطلب نہ نکال سکی۔ البتہ دل پر سے کافی بوجھ سا ہٹا الفاظ کا اثر تھا کہ دعا کی طاقت۔ وہ ہلکی پھلکی سی ہوگئ۔
    اے سنو آم تو اتنا رس بھرا پھل ہوتا ہے اسکا اچار کیسے بنتا۔
    گوارا کو تعجب ہو رہا تھا۔
    وہ پکا ہوا پھل ہوتا ہے اچار میں کچا پھل ڈالا جاتا ہے ۔اریزہ اب اسےاچار کی ترکیب سمجھا رہی تھی۔ انکی باتوں سے بے نیاز سنتھیا سوچ رہی تھی
    تم دونوں نے دل سے دعا دی ہے اب مجھے واقعی لگتا ہے مجھے سچی محبت مل کر رہے گی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح سنتھیا نے تیار ہونے کے بعد اسے ہلایا تھا۔ وہ سرعت سے بستر سےاٹھی۔ناشتہ واشتہ تو کرنا نہیں تھا سو تیار ہونے میں ذیادہ وقت نہیں لگا۔۔ وہ آئینے میں بال بناتے ہوئے بھی آئنے میں ابھرتے سنتھیا کے عکس کو دیکھتی رہی۔ خاموشی سے اپنا بیگ تیار کرتی سنتھیا کے پاس اس سے بات کرنے کو کوئی بات نہ تھی جیسے۔ وہ بس بیگ اٹھا کر کمرے سے نکلی نہیں ۔ جس سے اسے لگا کہ اسکا انتظار کر رہی ہے۔جلدی جلدی ہاتھ چلا کر وہ تیار ہوئی تو سنتھیا ایک لفظ بھی بولے بنا خاموشی سے اسکے ساتھ جانے چل پڑی۔
    وہ چاروں اب اکٹھے ہی بیٹھا کرتی تھیں۔ کلاسز لینے کے بعد جی ہائے کو اپنے آنے والے کمپیٹیشن کیلئے پریکٹس کرنے جانا تھا۔ سو گوارا انکے ساتھ ہی آگئ۔
    تم لوگوں کو بھوک نہیں لگی۔ مجھے تو منہ اندھیرے ناشتے کے بعد اب شدید بھوک لگ گئ ہے۔
    ہاتھوں سے آنکھوں پر دھوپ سے بچنے کو چھجا سا بناتے گوارا مسکینیت سے بولی
    تو تم نے اس وقت ناشتہ کیوں نہیں کیا وہ تو سورج بھی نکلنے سے پہلے کا وقت تھا۔
    اریزہ نے کہا تو سنتھیا بھی کندھے اچکا کر بولی
    میں نے بھی نہیں کیا ناشتہ۔
    کیوں بھئ۔؟ چلو کیفے چلو پھر۔
    اریزہ نے کہا تو وہ ہچکچا سی گئ
    تم کیا کروگی پھر۔ آدھا دن تو ہو گیا ہے ڈورم میں فروٹ کیک پڑا ہوگا وہ کھالوں گی۔
    کیا ارادے ہیں بھئ؟ یہ اریزہ تو شام تک بھوکی رہے گی تم تو چلو کچھ کھا کے آتے ہیں۔
    گوارا نے کہا تو اریزہ نے سنتھیا کو پھر بیٹھنے نہ دیا
    چلو جائو تم دونوں کھا کے آجائو میں یہیں بیٹھی ہوں۔
    وہ آرام سے ڈرائئو وے کے کنارے گھاس پر پھسکڑا مار کر بیٹھ گئ۔
    آر یو شیور ؟ سنتھیا جانا نہیں چاہ رہی تھی مگر بھوک بھئ لگ رہی تھی
    بالکل جائو دونوں۔ اس نے زبردستی دونوں کو بھیجا۔
    تیز دھوپ میں ہلکی سی چبھن تھی مگر اچھی لگ رہی تھئ وہ دھوپ کی جانب ہی رخ کیئے بیٹھی تھی۔نتیجتا چہرہ تپنا شروع ہو گیا تھا۔ وہ مگن سی بیٹھی فیس بک پر پوسٹس لگانے میں مصروف تھی۔
    ایڈون نےدور سے اسے دیکھا تھا۔ وہ اور کم سن کین جوس پی رہے تھے۔ انکا رخ بالکل مخالف سمت تھا۔ ایڈون اسے دیکھتا ادھر مڑ گیا۔ اپنی دھن میں چلتا کم سن بولتا کئی قدم آگے بڑھ کر حیران ہو کر پلٹا۔
    ایڈون نے تیز تیز قدم اٹھاتے اریزہ کی جانب بڑھتے ہوئے اپنا کین سیدھا ڈسٹ بن میں اچھال دیا۔
    اور دھپ سے اسکے برابر آن بیٹھا۔ اپنی دھن میں بیٹھی اریزہ چونک اٹھی۔ کم سن بھی کندھے اچکاتا ادھر ہی چلا آیا
    تمہیں ناشتے کا سامان مل گیا تھا؟ آج سحری بنائئ؟
    ایڈون کے پوچھنے پر وہ فورا اپنا بیگ ٹٹولنے لگی
    یار بہت بہت شکریہ۔آج تو مجھے بالکل روزہ نہیں لگ رہا۔ یہاں گرمی اتنئ نہیں مگر روزہ لمبا بہت ہےبنا اچھی سحری مشکل سے گزرتا ہے۔۔
    ایڈون مسکرا دیا۔ گول گول سئ اریزہ کیلئے یقینا کھانا پینا کافی اہم تھا۔
    اس نے بیگ سے پیسے نکالے۔
    یہ لو اور ایک بار پھر بہت شکریہ تم نے میرا اتنا بڑا مسلئہ حل کردیا۔
    اس نے ایڈون کو پیسے دینے چاہے وہ بدک کے پیچھے ہوا۔
    یہ کیا ہے رکھو اسے واپس۔۔ میں نے پیسے مانگے ہیں بھلا۔
    تو؟ اریزہ حیران ہوکر دیکھنے لگی۔
    اچھا خاصا بل بنا تھا اتنی چیزوں کامیں نے پرائئس ٹئگز سے قیمتیں نکالی ہیں کوئی ایکسٹرا پیسے نہیں پکڑا رہی میں۔
    تو؟ ایڈون بگڑ گیا
    میں آلریڈی پے کر چکا ہوں۔ سالک اور شاہزیب کیلئے بھی سامان لایا تھا انہوں نے تو پیسے نہیں پکڑائے۔ دوست سمجھتی ہی نہیں ہو تم ہمیں۔

    ارے۔ میں نے یہ سب لینے کیلئے پاپا سے پیسے الگ سے منگوائے تھے۔۔ اور دوست ہونے کا یہ مطلب تو نہیں ۔ ویسے بھئ مجھے اور شاپنگ کرنی تھی اگر تم ایسا کروگے تو میں پھر کبھی تم سے کچھ نہیں منگوائوں گی
    اریزہ نے کہا تو اس نے کان پر سے مکھی اڑائی۔
    اچھا اچھا۔ دیکھی جائے گی بعد کی بعد میں ابھی اپنے پیسے سنبھال لو امیر لڑکی۔
    انکی خالص اردو میں بحث کو کم سن گھونٹ گھونٹ جوس ختم کرتے خاصے غور سے دئکھ رہا تھا۔
    اب دیکھنا میں خود جایا کروں گئ شاپنگ پر ایک چیز تم سے نہیں منگوائوں گئ۔ منت بھئ کروگے نا مجھ سے چیز منگوا لو نہیں منگوائوں گئ
    اریزہ کی دھمکی پر ایڈون نے کھل کے قہقہہ لگایا۔ تو اپنی بات پر غور کرکے اریزہ بھی ہنس پڑی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیفے کھچا کھچ بھرا تھا ۔ اسے کبھی یہاں کیفے کی خوشبوئیں پسند نہ آئیں فورا سامان لیکر باہر نکل آئی۔گوارا اور اسکا رخ میدان کی جانب ہی تھا جبھی سنتھیا نے اسے بازو سے تھام کر روک دیا۔وہ قریبی بنچ کی جانب اشارہ کرکے کہہ رہی تھئ
    اسکو پہلے یہاں بیٹھ کے ختم کر لیتے ہیں پھر اریزہ کے پاس چلیں گے اسکا روزہ ہے نا اسکے سامنے کھانا پینا اچھا نہیں لگے گا۔
    اسکی بات پر گوارا کیا کہتی کندھے اچکا کر قریبی بنچ پر آن بیٹھئ۔ دونوں نے ابھئ کھانا شروع کیا تھا۔
    وہ ایڈون کیلئے بھئ برگر لائی تھی سو اسے کال ملانے لگی۔
    گوارا کی یونہی اسکے فون پر نظر پڑی۔
    بڑا بڑا ایڈون لکھا نظر آرہا تھا۔
    ایڈون کو بلا رہی ہو وہ وہیں اریزہ کے پاس ہی تو بیٹھا ہے۔
    اسکی شائد نظر نہیں پڑی تھی۔ گوارا نے اسے بیٹھا دیکھ لیا تھا۔ سنتھیا نے حیران ہو کر مڑ کر دیکھا تو دور بیٹھی اریزہ اب لمبے کم سن اور ایڈون کے پیچھے چھپ سی گئ تھی۔ وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئئ۔
    برگر چپس اسپرائٹ اٹھاکر تیز تیز قدم اٹھاتی سنتھیا کو گوارا نے حیرت سے دیکھا پھر خود بھی اپنا برگر اٹھاتی اسکے پیچھے بھاگئ۔ سنتھیا کا مرکز نگاہ ایڈون ہی تھا۔کھل کر وہ اور اریزہ بحث میں لگے ہنس رہے تھے۔ کم سن انکے ساتھ بیٹھا بھئ ساتھ نہیں لگ رہا تھا
    کیا ہوا ابھی تو آنے سے روک رہی تھیں ۔گوارا نے ٹوکا تو وہ چونکی
    ہاں وہ ایڈون کیلئے بھئ برگر لیا ہے ٹھنڈا ہو جائے گا۔
    اسئ یہی بہانہ سوجھا۔ گوارا نے کندھے اچکا دیئے۔
    وہ دونوں انکے قریب آئیں تب تک وہ تینوں کسی اور بحث میں الجھ چکے تھے
    دیکھوتپسیا بدھزم میں بھی ہے مگر صرف پجاری ہی کرتے مطلب جسکا ذہن مذہب کی جانب لگ چکا وہ اب بس مزہب کی پیروی کرنا چاہتا ہے اسے دنیا سے کوئی لینا دینا نہیں اب جو انسان ایسا ذہن بنا چکا ہو اسکے لیئے روزے عبادت کرنا کونسا مشکل کام ہے۔ اب ہم عام انسان تو اپنی اتنی مشکل زندگی کے ساتھ مزہب پر کاربند نہیں رہ سکتے نا۔
    کم سن دلیل سے بات کر رہا تھا۔
    مزہب صرف چند لوگوں کی میراث تو نہیں ہوتی نا مزہب تو تمام انسانیت کیلئے ہوتا ہے۔
    اریزہ نے کہا تو قائل نہ ہونے والے انداز میں سر نفی میں ہلانے لگا۔
    وہی تو کہہ رہا ہوں اتنا مشکل مزہب ہوا یہ پھر۔ سب لوگ چاہے وہ ذیادہ مزہبی ہوں نا ہوں انکو روزے بھی رکھنے پانچ دفعہ نماز پڑھنی۔ سالک اور شاہزیب کو دیکھتا ہوں نا۔ ہر دفعہ اتنا اتنا نہا کے آتے ہیں پھر نماز کی جگہ الگ کی ہوئی اس سائیڈ کی صفائی کا الگ خیال رکھنا عام لوگ ایسی زندگی کیسے گزار سکتے؟
    انکی بحث سے بے نیاز سنتھیا اور گوارا وہیں انکے پاس آبیٹھیں۔ سنتھیا نے دو برگر لیئے تھے ایک برگر اور چپس والا پیکٹ ایڈون کی جانب بڑھا کر وہ خود خاموشی سے اپنا کھانا کھانے لگی۔ گوارا دلچسپی سے اریزہ کو دیکھ رہی تھی کہ اب اس سوال کا کیا جواب دے گی۔
    تم تو گواہ ہو دیکھ رہے ہو شاہزیب اور سالک کو عام انسان ہو کرایسی ہی زندگی گزار رہے ہیں۔خود بھی صاف رکھتے سارا دن بھوکا بھی رہ لیتے ان سب کاموں کے ساتھ عبادت بھی خشوع و خضوع سے کر رہے ہیں۔ مشکل وہ مزہب ہوا جو عام انسانوں کے بس کی بات نہیں جو اختیا رکرے وہ دنیا تیاگے یا وہ مزہب ہوا جو دنیا کے سب کاموں کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے؟
    جواب ایڈون کی جانب سے آیا تھامدلل اور فوری ۔ اریزہ بھی متاثرہونے والے اندازمیں دیکھنے لگی۔ کم سن سے جواب نہ بن پڑا
    ویسے اگر ڈیووشن ( Devotion) کی بات ہے تو سچی صبح میں متاثر ہوئی کافی۔یہ ڈیووٹڈ تھئ روزے کیلئے مطلب خاص نیند توڑ کر رات کو اٹھ کر کھا نا اور پھر سارا دن بھوکا پیاسا رہنا یقینا آسان کام نہیں ۔ تھیبا اریزہ۔
    منہ میں برگر بھرے پھونکیں اڑاتئ گوارا کہہ رہی تھی۔ اریزہ شرمندہ سی ہوگئ۔ اتنا کوئی بڑا کام بھی نہیں تھا روزہ رکھنا کہ یوں سراہتے جائیں سب اسے۔
    ہاں یہ بات ماننے والی ہے۔ سالک اور شاہزیب بھی پورے عقیدے سے روزے رکھ رہے ہیں سچ مچ پانی نہیں پیتے کل تو شاہزیب کے ہونٹ اتنے خشک ہو رہے تھے۔
    کم سن بتا رہا تھا
    تم کھائو برگر ٹھنڈا ہو رہا ہے ۔
    سنتھیا نے ایڈون کو ٹوکا۔
    بعد میں کھائوں گا اور تم بھی بعد میں کھا لیتیں یا کھا کر آتیں یہاں۔ اریزہ کا روزہ ہے اور تم اسکے سامنے بیٹھ کر کھارہی ہو۔
    ایڈون کا انداز سادہ تھا مگر سنتھیا کو بری طرح چبھا۔اریزہ بھی حیران ہو کر دیکھنے لگی
    کیوں بھئ میرے سامنے بیٹھ کر کھانے میں کیا حرج؟ میں نظر تھوڑی لگائوں گئ تم بھی کھالو آرام سے۔
    وہ برا مان گئ
    احمق روزے دار کے سامنے کھانے سے منع کر رہا ہوں۔
    ایڈون نے دانت پیسے۔
    روزے دار کا روزہ اتنا کچا نہیں ہے جو اسکے سامنے کوئی کھا پی لے تو وہ نیت لگا کے بیٹھ جائے گا۔ وہ جتا کر بولی۔
    اگر ایسی بات ہے تو رمضان میں بازار کیوں بند کرواتے پھرتے ہو پاکستان میں؟ کھل کھلا کوئی کھاتاپیتا نظر آجائے تو اسے بند کر دیتے ہو؟ کیوں۔۔ چلو ایڈون برگر کھا کے واپس آجانا یہاں ٹھنڈا ہو رہا ہے
    سنتھیا ایک دم چٹخ کر بولتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئئ۔کم سن گوارا بھی اپنی بات چھوڑ کر اسے دیکھنے لگے ایڈون کے ماتھے پر شکن ابھر آئی
    اریزہ اس سے یوں بھڑک اٹھنے کی توقع نہیں کر رہی تھی۔
    وہ میں بند نہیں کرواتی ۔ مجھے تو تمہارے یہاں بیٹھ کر کھانے پربھی اعتراض نہیں ہے۔
    سنتھیا کے برعکس اسکا انداز ابھی بھی نرم تھا
    بیٹھ جائو سنتھیا۔ ایڈون نے سنجیدگی سے ٹوکا۔
    کیوں ؟ اب روزہ نہیں ٹوٹے گا اریزہ کا؟
    وہ چمک کر بولی۔
    تم کیوں بات بڑھا رہئ ہو وہ کہہ تو رہی ہے اسے کوئی اعتراض نہیں بیٹھ جائو اب۔
    ایڈون کواسکی ضد پر غصہ آنے لگا تھا۔
    تمہیں تو ہے نا۔۔ کیوں ؟ نہیں ہے اعتراض ابھی تم ہی مجھے اریزہ کے سامنے کھانے پر ٹوک رہے تھے اب کیا ہوا؟ چلو اٹھو ہم کسی اور جگہ بیٹھ کر کھا کر آتے ہیں۔
    وہ ادھ کھایا برگر تھامے اپنا بیگ کندھے پر ٹکاتی جانے کو تیار کھڑی تھئ۔ ایڈون اسے گھو ررہا تھا۔
    مجھے بھوک نہیں تم نے جہاں جانا جو کھانا جاکے کھا آئو۔
    ایڈون کا انداز خاصا سخت تھا۔سنتھیا کا رنگ سرخ ہوگیا
    تم لوگ لڑ رہے ہو۔
    کم سن نے پوچھا۔ سنتھیا غصے سے لال پیلی ہوئی کھڑی تھی ایڈون کا رنگ بھی تپا تپا تھا اریزہ گھبرائی سی شکل بنائے کبھی ایڈون کو کبھی سنتھیا کو دیکھ رہی تھی جو ایک دوسرے کو کھاجانے والی نگاہوں سے گھور رہے تھے۔
    کیا ہوا پھر کپل فائیٹ ہو رہی ہے تم دونوں کی؟
    گوارا نے سنتھیا سے پوچھا تھا مگر وہ یونہی ٹھس سی کھڑی تھی۔
    ایڈون جائو تم دونوں کھا پی آجائو میں یہیں بیٹھی ہوں۔
    اریزہ کو ہی مصالحت کیلئے بیچ میں کودنا پڑا۔
    مجھے بھوک نہیں۔
    ایڈون کا انداز بے لچک تھا۔
    اٹھ جائو سنتھیا کو غصہ آگیا ہے۔ اریزہ نے کہا تو وہ اسکی شکل دیکھ کر رہ گیا۔ پھر گہری سانس لیتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    سنتھیا کو مزید طیش آگیا تھا۔ ایڈون نے ایک نظر اسکے لال بھبھوکا چہرے پر ڈالی۔
    چلو۔ اس نے برگر نہیں اٹھایا تھا اس پر نگاہ غلط ڈالتا چل پڑا تھا۔ سنتھیا نے لمحہ بھر کا توقف کیا پھر اسکی پیروی کرنے کی بجائے وہیں بچا کھچا برگر پھینکتی پیر پٹختی گرلز ہاسٹل کی طرف بڑھ گئ۔
    سنتھیا۔ ارے رکو۔
    اریزہ اسے پکار رہی تھی مگر سنتھیا نے پلٹ کر نہ دیکھا ایڈون نے بھی۔
    اسے یوں برگر نہیں پھینکنا چاہیئے تھا۔
    گوارا نے افسوس سے اس اشتہا انگیز خوشبو اڑاتے برگر کو دیکھا۔
    میری آہموجی کہتی ہیں رزق پر غصہ کبھی نہیں اتارنا چاہیئے رزق کو غصہ آجاتا ہے۔
    کتنی گہری بات تھئ۔ اریزہ گہری سانس بھر کر رہ گئ۔
    کم سن نے ایڈون کے برگر کو اٹھا لیا۔
    میری آہموجی جانے کیا کہتی تھیں پتہ نہیں۔ مجھے البتہ کھانے سے منہ موڑنا نہیں پسند۔
    اسکی اپنی منطق تھی۔ وہ خوب مزے لیکر برگر کھا رہا تھا۔
    اریزہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے سوچوں میں الجھی بیٹھئ تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے لگا تھا سنتھیا ڈورم واپس آئی ہوگئ مگر خالی ڈورم بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔وہ چند لمحے کھڑی سوچتی رہی۔ ارادہ تو اسی کے ساتھ باہر جانے کا تھا مگر اب مجبوری تھی۔
    وہ دھیرے سے جی ہائے کے کمرے کا دروازہ کھٹکا کر اندر چلی آئی۔حسب توقع وہ اپنے ڈورم کی ریلنگ سے الٹی لٹکی تھی۔گوارا منہ پر ماسک لگائے بیٹھی تھئ۔ اسے دیکھ کر دونوں نے استقبالیہ مسکراہٹ اچھالی
    تم اتنی لچک دار کیسے ہو۔ اسکے انداز میں ہرگز رشک نہ تھا۔
    تم اتنئ سست کیسے ہو۔
    اسکے جھکے کندھوں پر جی ہائے نے چوٹ کی۔
    ایسا ہے کہ مجھے کچھ ضروری سامان لینا ہے تو کیا تم میں سے کوئی میرے ساتھ چلے گا۔
    اس نے بلا تمہید درخواست کی۔
    بس کوئی دونوں نہیں جا سکتے۔
    جی ہائے اچھل کر اتری۔
    اریزہ نے کندھے اچکا دییئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے دودھ ڈبل روٹی انڈے وغیرہ لیئے تھے۔ گوارا کاسمیٹکس والے حصے میں گھس گئ ٹرائے ٹرائے کرنے میں پورا میک اپ کر لیا تھا اس نے جی ہائے اسکو مستقل چھیڑ رہی تھی۔ وہ دونوں مکمل مگن تھیں۔ روزے کا وقت ہونے لگا تھا اس نے کنوینئینس اسٹور کے ایک کونے میں لگے ٹیبل چیئر پر افطاری کا سامان رکھنا شروع کیا
    اس نے بیکری سے کیک اور ویجیٹیبل سینڈوچ لیا تھا۔ حسب عادت ہر چئیز دوگنئ لی تھئ۔
    افطار کرکے پیٹ بھر کر نماز یاد آئی۔ تو آہ بھر کر رہ گئ۔
    اب ہاسٹل جا کر ہی نماز پڑھ سکتی تھی۔ بوتل اٹھا کرپانی پیتے یونہی کنوینئس اسٹور کی گلاس وال سے باہر نظر پڑی تو جی ہائے کو کسی بھڑتے پایا۔ وہ جلدی جلدی پانی پی کر بوتل میز پر رکھتی گلاس وال کےپاس چلی آئی
    جی ہائے ہاتھ اٹھا اٹھا کر جانے کیا اونچا اونچا بول رہی تھی وہ آہجوشی جیبیں ٹٹول رہے تھے۔ انکے ہمراہ ایک بچی بھی تھی جو ڈر کر باپ سے چپکی جا رہی تھی
    یہ کیا سین ہے وہ متجسس سی ہو کر گلاس وال سے چپک گئ۔ وہ ادھیڑ عمر انکل بار بار اسکا ہاتھ تھام رہے تھے کبھئ اسکے آگے منت بھرے انداز میں کچھ کہتے ایک چھوٹی سی آٹھ دس سال کی بچی انکے ہمراہ تھی جو ان دونوں کو سراسیمگی سے دیکھ رہی تھی۔ جی ہائے بری طرح انکا ہاتھ جھٹک رہی تھی۔
    ہراسگی کا معاملہ تو نہیں لگتا۔ وہ معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
    تم نے کھانا کھا لیا۔ گوارا اچانک سے اسکے برابر آکر بولی
    وہ بری طرح اچھلی۔
    تم کیسے اس جہان میں آگئیں اتنے چڑیا سے دل کے ساتھ۔
    وہ مزاق اڑا رہی تھی۔
    کوئی اچانک قریب آجائے تو اچھل پڑتی ہو کوئی تمہارے سامنے لڑے تو کانپنا شروع کر دیتی ہو تمہیں دیکھ کے لگتا کہ چھوٹا سا گنئ پگ پہلی بار لیبارٹری سے باہر نکل کر دنیا دیکھ رہا ہے۔
    وہ کھل کر ہنس رہی تھی۔
    تم ہوگی گنئ پگ۔ وہ چڑ گئ۔بیٹھے بٹھائے سور کہہ دیا۔۔ حد ہے۔۔
    اور کب میں کانپی ؟ اس طرح اچانک چپکے سے کوئی پاس آکھڑا ہو تو کوئی بھی چونک جائے۔
    اور دوپہر کو کیا ہوا تھا؟ گوارا اسے چھوڑنے کے موڈ میں نہ تھئ
    لڑ سنتھیا اور ایڈون رہے تھے جان تمہاری نکلی جا رہی تھی مجھے تو لگا تھا تم نے رونا شروع کردینا ہے ۔ وہ تو وہ دونوں واک آئوٹ کر گئے ورنہ تم تو انکے چیخنے سے ڈر کر بے ہوش ہوجاتیں۔
    وہ یقینا مبالغہ آرائی کر رہی تھی۔
    وہ لڑ نہیں رہے تھے۔ بس سنتھیا پوزیسیو ہے اور لڑکے تو پتہ ہے موڈی ہوتے۔ اس نے صفائی دینی چاہی گوارا محظوظ سے انداز سے دیکھ رہی تھی
    تمہیں پتہ ہے اتنے دنوں میں تم لوگوں کو دیکھ کر اتنا اندازہ ہو گیا ہے ہمیں بات سمجھ آئے نہ آئے لہجہ سمجھ آجاتا۔ اتنا تحمل سے ٹھہر ٹھہر کر دھیرج سے بولتے ہو صرف لڑائئ جھگڑے میں آواز بلند ہوتی ہے۔
    اور تم لوگ نارمل بھئ اتنا اونچی آواز میں بات کرتے ہو جیسے جھگڑا کر رہے ہو۔
    وہ بھی جوابا چوٹ کر گئ۔ گوارا ہنس دی۔
    ہاں ہماری بولی ایسی ہے۔ ۔اریزہ نے بھئ مسکرا کر رخ بدلا۔اب سڑک پر سکون تھا۔ جی ہائے گلاس ڈو رکھول کر اندر داخل ہو رہی تھی وہ آہجوشی اور بچی غائب ہو چکے تھے
    اچھا سنو تم جی ہائے کو نہ بتانا کہ تم مسلم ہو روزے رکھ رہی ہو ۔ گوارا نے جی ہائے کو آتے دیکھ کر سرگوشی کی۔
    کیوں۔ اسکی پیشانی پر بل پڑے۔
    وہ کیوں شناخت چھپائے۔
    بعد میں بتاتئ ہوں۔ گوارا نے اسکا ہاتھ ہلکے سے دبایا تو وہ بھی خاموش ہو رہی۔
    جی ہائے کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ اس نے قریب آکر میز سے منرل واٹر کی بوتل اٹھا کر جلدی جلدی کئی گھونٹ بھر لیئے۔
    پھر گوارا کو دیکھ کر فاتحانہ انداز میں مسکرائی۔
    چلو آج کچھ ثواب کمانے چلیں۔۔
    گوارا نے گہری سانس بھری اریزہ نہ سمجھنے والے انداز میں دونوں کو دیکھ کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گنگم اسٹریٹ پر سڑک کنارے ایک بار پھر وہ اسی بینڈ کے کانسڑٹ سننے کو موجود تھیں۔انکا لیڈ سنگر جی ہائے کو پہچان گیا تھا۔ خاص اسکے آگے آ آکر جھک کر گانا گایا۔ جی ہائے وہاں موجود لوگوں میں یکدم مرکز نگاہ بن گئ تھی۔ اس نے کین بیئر کا ایک کین ختم کرکے ہاتھ میں پکڑے شاپر میں ڈالا اور شاپر سے دوسرا نکال لیا۔ مگر ابھی بھئ حواس میں تھی۔ گوارا بیزار سی شکل بنائے تھی۔۔ ۔ اریزہ خود کو تسلی دے رہی تھی
    یہ گانا نا مجھے سمجھ آرہا نا میں انجوائے کر رہی ہوں۔ یہاں میں سب کو ڈنڈے کے زور پر رمضان کا احترام کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔
    کیا بڑ بڑا رہی ہو۔
    گوارا نے ببل پھلاتے پوچھا۔
    کک کچھ نہیں ۔۔وہ گڑبڑائی
    جی ہائے اس لڑکے کے ساتھ ڈانس اسٹیپ لے رہی تھی۔ کئی کیمرے حرکت میں تھے مگر اسے پروا نہیں تھی۔ شارٹ اسکرٹ میں کپل ڈانس کرتے جب وہ گول گول گھومی تو بالکل چابی کی گڑیا لگ رہی تھی۔
    جی ہائے بہت پیاری ہے۔
    اس نے دل سے کہا تھا
    گوارا نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی پھر ہنس دی۔
    تم بھئ بس ظاہر پر توجہ مرکوز رکھتی ہو۔ صحیح بات ہے آپ باہر سے ہی تو نظر آتے ہیں لوگ اندر کہاں جھانک سکتے۔ اسی لیئے تو میں بھی باہر سے خوبصورت لگنا چاہتی ہوں۔
    بات کو اپنی مرضی کے موضوع پر گھما کر لے جانا اگر کوئی فن تھا تو گوارا طاق تھی اس میں۔
    ناچنے کے بعد وہ اب جھک جھک کر داد وصول رہی تھی۔ پرس سے اس نے نوٹوں کی گڈی نکالی اور انکے باکس میں نزاکت سے اندر۔ڈال دی۔
    اب اس کمینی کو دیکھو۔ سب پیسے چھین جھپٹ کر لینے کے بعد یہاں پھینک کر ہاتھ جھاڑ کر آئے گی اور واپسی کا کرایہ مجھے بھرنا پڑے گا اسکا۔ چاہتی تو یہ میرے پرس میں بھی یہ پیسے پھینک سکتی تھی۔
    اس نے کندھے سےلٹکتے اپنے منے سے پرس کو حسرت سے دیکھا۔
    اسکو یہ بینڈ پسند ہوگا۔
    اریزہ یہی اندازہ لگا سکی۔
    جی ہائے فاتحانہ انداز میں چلتی انکے پاس آئی۔
    اڑا دیئے پیسے۔گوارا کا انداز جلا بھنا تھا اسکے برعکس جی ہائے خوش سی کھلکھلائی
    اف بڑا مزا آیا۔
    تمہیں کیا ضرورت تھی ان سے پیسے لینے کی۔ وہ اپنی راہ جا رہے تھے تم انکے سر پر سوار ہوگئیں۔
    گوارا نے ہنگل میں ٹوکا۔
    یہ بڈھا اپنی بیٹی کو شاپنگ کرانے آیا تھا۔
    جی ہائے تیز ہو کر بولی۔
    لو اب ان دونوں کی لڑائی ہونے والی ہے۔ اریزہ بیزار سی ہوئی۔ اتنا سامان اٹھائے کھڑے کھڑے کمر تختہ ہو رہی تھی وہ اطمینان سے انکو لڑتے چھوڑ کر وہیں سڑک پر بنے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئ۔
    تو؟ گوارا تیز ہو کر بولی
    تو یہ کہ ان کمینوں کی عید آنے والی ہے ۔ میں کیا بیٹی نہیں مجھے عید کی شاپنگ نہیں کراتا وہ بڈھا۔
    وہ مزے سے بولی۔
    وہ کرسمس نہیں مناتے مگر تم نے کرسمس کی بھی ٹھیک ٹھاک رقم وصولی تھی۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے جی ہائے وہ مسلمان بعد میں ہیں پہلے تمہارے باپ ہیں۔بوڑھے ہو رہے ہیں تمہیں انکا۔

    گوارا نے سمجھانا چاہا مگر جی ہائے سمجھنا چاہتی ہی نہیں تھی اسکی بات کاٹ کر بولی
    تو وہ بڈھا کیوں بضد ہے میرا خرچہ اٹھانے پر ؟ جوان ہوں اپنا خرچہ خود اٹھاتی ہوں پھر کیوں آتا ہے مجھے جیب خرچ دینے میں نہیں لیتی تھئ تب زبردستی دے کر جاتا تھا جانتی ہو کیوں؟ کیونکہ اسکے نئے مزہب میں بیٹی باپ کی ذمہ داری ہے۔ جب تک شادی نہ کر لوں وہ میرا خرچ اٹھانے کا پابند ہے بلکہ کہتا ہے کہ شادی کا خرچ بھی اٹھائے گا۔۔ وہ استہزائیہ ہنسی۔
    کہہ سیکی۔۔ ( گالی)
    میرا گھر میرا خاندان توڑنے والا یہ مذہب دیکھو کتنا اچھا ہے۔۔۔۔ ہونہہ۔
    جانتی ہو مجھے یہ سب کبھی نہیں چاہیئے تھا مجھے بس ایک گھر جس میں میرے ماں اور باپ اکٹھے خوشی سے رہتے ہوں بس اتنی سی خواہش تھی میری ۔ اور کچھ نہیں چاہیئے تھا۔مگر اس نے اسکے مزہب نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا۔
    میرا بھائی میری ماں میرا باپ سب کچھ۔ ہم سب بچھڑ چکے ہیں کیونکہ بس ایک میرے باپ نے عقیدہ بدلا۔ اور سب برباد ہوگیا سب ختم۔
    وہ زور زور سے کہتی رو پڑی تھی
    اریزہ نے سٹپٹا کر گوارا کو دیکھا۔ اسکے ایک لفظ پلے نہ پڑا تھا۔تھوڑی بہت جوہنگل سیکھی تھی اس سے ابھی اتنا سخت سیول کا لہجہ سمجھنے میں کوئی مدد نہیں مل سکی تھی۔ اس کو سمجھ نہ آیا کہ اٹھ کر ان دونوں کے بیچ پڑے یا نہیں۔ اتنا تو اندازہ ہو گیا تھا کہ آپس میں نہیں لڑ رہی ہیں۔
    حوصلہ کرو جی حیا۔
    سنتھیا نے اسے گلے سے لگانا چاہا مگر وہ اسکو جھٹک کر چلائی۔
    تمہیں بھی میں غلط لگتی ہوں۔ کبھی خود کو میری جگہ رکھ کر سوچا ہے۔ میرا گھر برباد کیا ہے میرے باپ نے۔ میں نفرت کرتئ ہوں اپنے باپ سے۔ نفرت
    اسکو چڑھ رہی تھی۔ سیدھی کھڑی نہیں ہو پا رہی تھی۔
    ۔ آئی ہیٹ ہم ۔ آئی ہیٹ ہز فیتھ۔ آئی ہیٹ مسلمز آئی ہیٹ یو آل۔
    بولتے بولتے وہ انگریزئ میں حلق کے بل چلائی تھی۔
    اریزہ نے چونک کر جی ہائے کو دیکھا۔۔ اسکے کان میں سیٹییاں سی گونج گئی تھیں۔
    تو کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھونچکا سی بیٹھی رہ گئ
    گوارا اسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
    جو جھومتی گوارا کی بانہوں سے پھسلی جا رہی تھی۔
    اریزہ ہیلپ می پلیز۔ کیب روکو ذرا ۔۔
    گوارا نے اسئ سے مدد مانگئ جو کہ وہ حسب عادت کرنے اٹھ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی۔ وہ اسے خاص طور پر اسے اسکے پسندیدہ فاسٹ فوڈ ریستوران لیکر آیا تھا۔
    تمہارے دوپہر کے برگر کا۔ کفارہ۔
    اس نے برگر کی ٹرے لا کر اسکے سامنے رکھی۔ اس نے رخ موڑ لیا۔ ایڈون سر کھجا کر سیدھا ہوا۔
    مجھے سمجھ نہیں آتا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ تم اچھی طرح جانتی ہو تم دوپہر کو غلط تھیں۔۔ پھر بھی اس وقت تم مجھ سے روٹھئ بیٹھئ ہو۔
    اسکا انداز بے چارگی بھرا تھا۔سنتھیا نے تیکھی نگاہ ڈالی اس پر۔
    اچھا میں ہی معزرت کر لیتا ہوں۔ آئی۔ ایم سوری۔
    وہ اسے ہر قیمت پرمنانا چاہتا تھا۔
    ایسے تو ہر وقت کہتے رہتے ہو یہ ہمارا تہوار نہیں وہ ہمارا تہوار نہیں مگر اریزہ کے سامنے ذرا سا برگر کھانے پر تم نے مجھے ذلیل کرکے رکھ دیا سب کے سامنے۔ اس سے میں کیا سمجھوں؟
    سالک اور شاہزیب کے سامنے بھی میں یہی کہتا۔ وہ کوشش کرکے اپنا لہجہ ہموار کرکے بولا۔
    تمہیں پتہ ہے میں اور کم سن کیوں ہاسٹل سے نکلے تھے کیونکہ سالک اور شاہزیب نماز پڑھ رہے تھے۔ اور دونوں الگ الگ کمرے میں یہ بھی نہیں کہ اکٹھے پڑھ رہے ہوں۔ کم سن شاہزیب کو اور میں سالک کو پرائیویسی دینے کے خیال سے ہاسٹل سے ہی نکل آئے۔ جب سے رمضان شروع ہوا ہے میں ہی نہیں یون بن کم سن بھی انکے سامنے دن میں کچھ نہیں کھاتے۔ کیا ہم ایسا پاکستان میں نہیں کرتے تھے؟ تم خود اریزہ کے سامنے کھاتی پیتی تھیں بھلا آج ایسے بی ہیو کر رہی ہو جیسے کبھی نہ رمضان دیکھا نہ مسلمان دیکھے۔
    وہ سبھائو سے بات کرتے کرتے بھئ اسے ڈانٹ ہی گیا۔ سنتھیا کے غصے کے درجے میں کمی سی آنے لگی۔ اسے غصہ کس بات پر کیوں تھا یہ شائد کبھی وہ ایڈون کو سمجھا نہیں پائے گی۔
    اس نے خاموشی سے برگر اپنی جانب کھسکا لیا۔
    ایسی بات نہیں ہے۔ صبح اریزہ کو سحری میں نے ہی بنا کر دی تھی۔
    اسکو لگا کہ یہ بات اسے ایڈون کو بتانی ہی چاہیئے۔
    اچھا۔۔ ۔ ایڈون نے اب بات ختم کر دینی چاہی جبھی مکمل طور پر برگر کی جانب متوجہ ہوگیا۔
    وہ ایڈون کو دزدیدہ نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئ۔ بندہ سراہ ہی لیتا ہے کبھی کسی کی خوبی پتہ لگنے پر۔ سارا دن وقفے وقفے سے اسکی ایک غلطی پر انکی لڑائی چلی تھی مگر اسکی کی گئ اتنی بڑی نیکی ایڈون کے نزدیک اتنی بھئ اہم نہ تھی کہ کوئی تبصرہ کر دیتا۔۔ انسان ایسے ہی ہوتے ہیں انسانوں سے نیکی کا صلہ نہیں صرف غلطی کا بدلہ ملتا ہے۔ سنتھیا کو مگر ابھئ یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کسی مدہوش کو اٹھا کر لانا کتنا بڑا عزاب تھا کوئی اس سے پوچھتا۔ وہ اور گوارا ہلکان ہو گئی تھیں اسے سیڑھیاں چڑھاتے۔ دھان پان سی جی ہائے جسم ڈھیلا چھوڑنے پر ٹھیک ٹھاک بھاری بھرکم گائے بن گئ تھی۔جسے کھونٹے سے باندھنے پر وہ دونوں بے دم ہو کر اسکے بیڈ پر اسکے برابر ہی گر گئ تھیں۔
    میں سوچ نہیں سکتی تھی جی ہائے اتنی بھاری ہوگی۔
    اریزہ کی سانس پھول رہی تھی۔ گوارا کی بھی سانس چڑھی تھی مگر اریزہ کی حالت دیکھ کر اسے ترس آگیا۔ اٹھ کر کمرے میں رکھے تھرماس سے پانی نکال کر اسکی جانب بڑھایا
    اس نے اٹھ کر پانی کا گلاس تھاما۔ گرم سیال اندر تک اسے جلا گیا۔
    یہ کیا گرم پانی دے دیا مجھے۔
    وہ جلدی جلدی دو گھونٹ نگل گئ تو جلن کا احساس شدید ہوا۔
    ہاں ہم تو گرم ہی پیتے ہیں۔
    گلاس ایک ہی تھاوہ انتظار میں کھڑی تھی ۔
    اس سے تو مجھے اور پیاس لگ گئ۔شدید پیاس میں گرم پانی پینا کوئی آسان بات نہ تھی وہ برے برے منہ بنا رہی تھی
    اچھا جائو اپنے ڈورم سے پی لو جا کے۔ گوارا نے اسکے ہاتھ سے گلاس چھین کر خود پینا شروع کردیا۔ وہ حیران تھی کورین جھوٹا کھانے پینے میں ہچکچاتے نہیں۔ شائد انکے نزدیک انسانیت ہی سب کچھ ہے۔ اس نے سوچا۔ پھر یاد آیا اس دن گوارا کے ساتھ اسکے اپارٹمنٹ میں وہ وائل یو ور سلیپنگ ڈرامہ دیکھ رہی تھئ گوارا رننگ کمنٹری کرکے اسے مکالمے ترجمہ کرکے سنا دیتی تھی۔ مگر دیکھتے دیکھتے ایسا منظر سامنے آیا کہ اسے ابکائی ہی آگئ
    چندی آنکھوں والے خوبصورت سے ہے ان صبح کا آغاز مسکراکر اٹھتے کیا۔ اپنے پالتو کتے کو اسکے پیالے میں خشک سا کھانا ڈالا اور یونہی کئئ دانے اپنے منہ میں بھی کتے کے پیالے سے اٹھا کر ڈال لیئے۔ کتے نے برا مانا تھا۔ غصے سے غرایا اریزہ غصے سے تلملا اٹھی تھی۔
    کہاں کھو گئیں۔
    گوارا نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائئ۔ تو وہ جھر جھری لیتی اٹھ گئ۔
    چھائے چھا۔ شب بخیر ہنگل میں کہتی وہ جھک کر سامان اٹھاتی باہر نکل آئی۔ گوارا اپنے بیڈ پر دھم سے گری۔
    ہائے میرا کم از کم بوٹوکس ہو جاتا جی ہائے کمینی۔ کیسی ناقدری لڑکی ہے۔ اس نے غصے سے اپنے بیڈ پر آڑی ترچھی پڑی جی ہائے کو گھورا پھر آہ بھر کر تکیہ منہ پر رکھ لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کمرے میں نائٹ بلب جل رہا تھا۔ سنتھیا نے منہ تک کمبل تان رکھا تھا۔ وہ اسے سوتا سمجھ کر ہی دھیرے سے اسکے سرہانے کیک اور سینڈوچز کا شاپر رکھ کر احتیاط سے سیڑھیاں چڑھ گئ۔
    اسکے اوپر جانے کے بعد سنتھیا نے کمبل سے سر نکالا ۔
    سینڈوچز کئ خوشبو کیک کی مہک۔
    وہ گہری سانس لیکر کروٹ بدل گئ۔
    اسکا ارادہ آج سحری کے بعد ہی سونے کا تھا۔ مگر جانے کب آنکھ لگ گئ۔ اس بار سنتھیا نے سحری کی ٹرے اسکے سرہانے رکھ کر جگایا تھا۔
    ارے۔ وہ اٹھ کر سچ مچ شرمندہ ہوئئ تھی۔ ٹرے اسکے ہاتھ سے لیکر فورا اپنے بیڈ پر رکھی۔
    آئیم سو سوری مجھے جگا دیتیں۔ میں خود سحری بنا لیتی۔
    اکیلے کھائو گئ یہ سب۔
    اسکی بات پر سنتھیا نے جتانے والے انداز میں کہا۔
    نہیں۔وہ فورا پیچھے ہوئی۔ سنتھیا بھی اسکے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔
    آج تو آملیٹ بہت مزے کا ہے یہ کیا ڈالا ہے چیز۔
    پزا کی طرح آملیٹ نے لمبا سا لیس بنایا تو وہ خوشگوار حیرت سے بولی۔
    تھوک ہے میرا۔ سنتھیا نے اسکا وہی نوالہ اچک لیا
    میرا لے جاتیں ذیادہ مزے کا بنتا مجھے تو آجکل بلغم۔
    وہ کونسا کم تھی اسکی لن ترانی جاری تھی سنتھیا نے باقائدہ اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر روکا دونوں کی ڈھینگا مشتی میں ٹرے الٹتے الٹتے بچی۔
    یار کافی نہ گرانا اس کے بنا دن نہیں گزرتا۔۔
    اریزہ نے منت کرتے کافی کا گھونٹ بھرا۔ اندر تک تازگی اتر گئی۔
    اریزہ واقعی جو سحری کراتا اسکو بھی ثواب ملتا ہے۔
    سنتھیا جانے کس خیال میں الجھی تھی۔اریزہ نے اسکے چہرے پرپھیلی سنجیدگی غور سے دیکھی۔
    ہاں۔ اب سےہر روز سحری تم ہی کروائوگئ مجھے۔
    وہ پھر پٹری سے اتری۔
    اور تم بدلے میں مجھے کل والی دعا ہی روز دیا کرنا۔
    اس نے بھی فورا شرط رکھی۔
    کل کیا دعا کی تھی میں نے۔ اسے واقعی یاد نہیں تھا
    جانے دو۔ سنتھیا برا مان گئ۔
    اریزہ نے سر کھجایا۔
    ایک تو میں گجنی۔ سچی میں نہیں یاد۔چلو یہی دعا کر دیتی ہوں کہ میری کل والی دعا قبول ہو جائے تمہارے لیئے خوش۔
    اس نے منانا چاہا۔
    آمین۔ سنتھیا نے صدق دل سے کہا تھا
    اچھا میں تمہارے لیئے کیک سینڈوچ لائی تھی
    اریزہ کو کھا پی کے اب یاد آیا تھا۔
    صبح کھا لوں گئ۔ دس بجے بھوک لگ جاتی ہے اس وقت کھا کے۔ تمہیں نہیں لگتی؟
    سنتھیا کو خیال آیا۔
    پیاس لگتی ہے بس بھوک ووک نہیں لگتی۔
    اس نے دیانت داری سے جواب دیا۔
    ظاہر ہے دھوپ اتنی تیز ہے آجکل اور اتنا چلنا۔بس کل میں اور تم بس ڈیپارٹمنٹ میں ہی رہیں گے یہ جو ہر روز اس یونیورسٹی کا نیا ڈیپارٹمنٹ دیکھنے کا شوق چڑھتا ہے نا اسے رمضان کے بعد تک کیلئے اٹھا رکھو۔ اور پانی بس ایک گلاس پیا تھا تم نے کل پانی تو پیا کرو پانی کی کمی نہ ہو جائے۔ توبہ ہے اریزہ اب یہ سب بھی مجھے تمہیں بتانا پڑے گا۔
    سنتھیا کا خیال رکھنے والی سہیلی والا موڈ آن ہو چکا تھا اسکے پاس سوائے سر ہلانے ہاں میں ہاں ملنے کے اور کوئی راستہ نہ تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کاش میں پلاسٹک سرجری کروا چکی ہوتی ۔۔ اس ایونٹ کو اتنا میڈیا میں اچھالا جائے گا کیا خبر کسی ہدایت کار کی نظر مجھ پر ٹھہر جاتی ۔۔
    گوارا کوریائی روایتی لباس پہنے خود کو ہر زاویئے سے قد آدم آئینے میں دیکھ رہی تھی۔۔
    گوارا آئنے کی جان چھوڑو اسکرپٹ پر دھیان بھی دے لو۔۔
    یون بن نے ٹوکا تو وہ منہ بناتی اسکے پاس چلی آئی۔
    رٹی رٹائی کوریائی داستان ہے۔۔
    بادشاہ اپنی اکلوتی بیٹی کو دشمنوں کے خوف سے ایک خفیہ قلعے میں چھپا کر رکھتا ہے ۔۔ وزیر کو کسی طور خبر مل جاتی ہے شہزادی کہاں ہے سو وہ ہیرو کو اسے مارنے کیلیئے بھیجتا ہے۔۔ ہیرو کو شہزادی پہلئ نظر میں پسند آجاتی ہے۔۔ وہ اسے مارنے کی بجائے اسکی محبت میں مبتلا ہو جاتا۔۔ وزیر مزید قاتل بھیجتا ہیرو سب کو مار دیتا مگر خود بھی شہزادی کو بچاتے تیر کھا کر مر۔جاتا۔۔شہزادی۔۔ رو رو کر اسکیلئے گانا گاتی ہے بس۔۔
    اس نے کندھے اچکائے یون بن ہنس پڑا۔۔
    یہ ڈیڑھ گھنٹے تک چلے گا۔۔ اتنے لمبے ڈائلاگز ہیں یاد کرنا آسان نہیں ہے یہ ہائی اسکول ڈرامہ نہیں ہے اسکو ہلکا مت لو۔۔
    اس نے سمجھانا چاہا۔۔
    یون بن اگر ہر ہائی اسکول کے ڈرامہ میں ہم مرکزی کردار ادا نہ کرتے تو کیا ہم گرل فرینڈ بوائے فرینڈ ہوتے۔۔
    گوارا نے یونہی پوچھا
    ہماری دوستی ہی ایک جیسی دلچسپیاں رکھنے کی وجہ سے اکٹھے رہنے کی وجہ سے بڑھی۔
    یون بن نے سرسری انداز میں کہا۔۔
    وہ لباس میں الجھا ہوا تھا۔۔ مخصوص کوریائی بڑے چوغے نما ریشمی لباس اسے بری طرح گرم کر چکا تھا۔۔ ہاتھ کو پنکھے کی طرح جھل رہا تھا۔۔ گوارا اسکی حالت دیکھ کر مسکراہٹ دبا رہی تھی۔۔
    یہ کہہ رہے تھے وگ لگانی پڑے گی۔۔ ایک یہ پرانے لوگ بال کیوں نہیں کٹواتے تھے۔۔ وہ لمبے بالوں کی وگ اٹھا کر الٹ پلٹ کر رہا تھا۔۔
    ہم کسی اور چیز میں حصہ نہ لیں ۔۔ یون بن نے بے چارگی سے کہا۔۔۔
    مجھے اسی کا حصہ بننا۔۔ گوارا نے ضدی لہجے میں کہا۔۔
    مجھے اس کہانی کی خاص بات یہ لگتی ہیرو ہیروئن سے محبت کرتا ہے اتنی کہ اسکی خاطر جان بھی دے دیتا۔ہے۔۔ کم از کم ڈرامہ کرتے ہی تم میرے لیئے مروگے میں یہ دیکھنا چاہتی۔۔ گوارا کا انداز سنجیدہ تھا۔۔یون بن نے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔۔ اسکے انداز میں اسکے چہرے پر میں مزاق کر رہی ہوں بدھو بنایا جیسا کچھ نہیں تھا۔۔
    تم مجھے مرتے دیکھنا چاہتی ہو؟۔ وہ الجھا۔۔
    اپنے لیے جان دیتے دیکھنا چاہتی۔۔ وہ قصدا مسکرائی
    ایک ہی بات ہے۔۔
    اسے اچھا نہیں لگا تھا۔۔ گوارا نے ایک۔نظر اسے دیکھا پھر دوبارہ آئنے کی طرف بڑھ گئ۔۔
    بو ٹوکس تو کروا ہی سکتی ابھی کم از بھی پندرہ دن تو ہہیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کوئی گرمی کا فیسٹیول چل رہا تھا یونیورسٹی میں۔ دو تین اکٹھی چھٹیاں آگئی تھیں۔
    چلو یار یہاں ہاسٹل میں کیا کرنا میرے اپارٹمنٹ چلو مل کر ہلہ گلہ کریں گے۔
    گوارا ایک بار پھر سر تھی انکے۔
    ایڈون اور میں آئوٹ اسٹیشن جارہے ہیں۔ اچھا ہوا تم نےپوچھ لیا۔ اریزہ تم اسکے ساتھ چلی جائو یہاں اکیلی کیسے رہو گی میں تو اب اتوار کوہی آئوں گئ۔
    سنتھیا اطمینان سے پہلے گوارا پھر اس سے مخاطب ہوئی
    تم تو چلو گی نا۔ گوارا نے اسے دیکھا تو وہ اثبات میں سر ہلا گئ۔
    اوکے میں ذرا اپنی چیزیں سمیٹ لوں۔ وہ فورا چٹکی بجاتی بھاگی تھئ
    سنتھیا۔ تم ایڈون کے ساتھ مت جائو۔
    اس نے بہت سوچ کے اسے کہا تھا۔ سنتھیا بال بنا رہی تھی اسکے ہاتھ ایک دم رکے۔ اس نے چونک کر اریزہ کی شکل دیکھی۔ اسکے ہی بیڈ پر بیٹھی وہ غیر مرئی نکتے پر نگاہ جمائے سوچ سوچ کے بول رہی تھی۔
    تمہیں کیا تکلیف ہے۔
    اس نے برے لہجے میں ہی ٹوکا تھا۔ مگر اریزہ نے دھیان نہ دیا۔
    ہم۔ میرا مطلب ہے مجھے۔ ہم سب کو ہی۔
    سنتھیا اسکی بات مکمل کرنے کے انتظار میں کھڑی تھی۔
    کیا؟ اس سے صبر نہ ہوا۔
    یار ہم اس ملک کے نہیں۔ ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ لڑکے لڑکیوں کے بیچ فاصلہ رہنا چاہیئے۔ تم۔ اور ایڈون اکیلے ۔ دیکھو میں۔۔۔ تم سمجھدار ہو اپنا برا بھلا سمجھتی ہو۔ پر یوں اسکے ساتھ کئی دن کیلئے جانا مناسب نہیں لگتا
    وہ جھجک سئ گئ۔
    تمہیں کیا لگتا ہے میرے اور ایڈون کے درمیان کچھ ہو چکا ہے۔
    وہ استہزائیہ سے انداز میں ہنسئ
    نہیں میں ایسا نہیں کہہ رہی۔
    وہ گھبرا کر بستر سے اتر آئئ۔
    تم مجھے غلط مت سمجھو۔ میں تمہیں دوست بلکہ اپنی بہن ہی سمجھتی ہوں۔ میں بس تمہیں سمجھا۔۔۔ میں تمہارے بارے میں الٹا سیدھا سوچ بھئ نہیں سکتی یار بچپن سے جانتی ہوں تمہیں۔
    اسے لگا تھا سنتھیا ناراض ہوگئ ہے۔ سنتھیا اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔ اسکی شکل پر سوائے سنتھیا کی فکر کے کچھ نہ تھا۔ اس نے گہری سانس لی۔
    تم نے دیر کر دی ہے اریزہ۔ میں اور ایڈون ایک ہو چکے ہیں۔ اب تو یہ بات پرانی بھی ہو چکی ہے۔
    وہ ہنسئ۔ اریزہ سناٹےمیں آگئ تھئ۔ اسکے چہرے کی حیرت دیکھتے سنتھیا نظر چرا گئی
    تم پتہ نہیں کس جہان میں رہتی ہوگرو اپ بے بی۔ ۔ تمہیں کیا لگتا گرل فرئنڈ بوائے فرینڈ اکٹھے کسی جگہ عبادت کرنے جاتے ہیں۔ ایڈون تو ویسے بھی۔
    وہ بولتے بولتے زبان دانتوں تلے دبا گئ۔ اریزہ ایک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے اسکی ان نگاہوں سے الجھن آرہی تھئ
    ویسے بھئ۔ اس نے تھوک نگلا۔
    میں اور ایڈون مسلم تھوڑی ہیں جتنا بڑا مسلئہ مسلمز کیلئے ہے اتنا ہمارے لیئے تھوڑی اور مسلمز بھئ تو اب ویلنٹائن ڈے مناتے گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بن جاتے یہ گڈ اولڈ ویلیوز تو اب پاکستان میں بھی کوئی فالو نہیں کرتا مائی ڈئیر۔
    وہ بال بار بار سلجھا رہی تھی۔ پھر بھی کوئی نہ کوئی بال الجھتا یا سوچ الجھتی۔ وہ اور زور سے برش بالوں میں چلانے لگتی۔
    مگر تم کم ازکم پاکستان میں فالو کرتی ہی تھیں یہ گڈ اولڈ ویلیوز۔
    وہ آخری الفاظ پر زور دیتی پیر پٹختی باتھ روم میں گھس گئ دروازہ دھاڑ سے بند کیا تھا۔
    تمہیں اتنا برا کیوں لگا۔ میرے لیئے۔ یا۔ ۔۔
    سنتھیا اس ادھیڑبن میں لگ گئ بند دروازے کو دیکھتے جانے کیا کیا وہم پال۔لیئے۔
    اور باتھ روم میں چہرےپر پانی کے چھپاکے مارتے اریزہ
    سوچ رہی تھی۔
    زندگی جوا نہیں۔۔۔ جو ایسا سوچتے وہ نقصان اٹھاتے ہیں۔سب کچھ دائو پر لگا کر اگر صرف ایک رشتہ بچ رہا ہو تو یقینا یہ خسارے کا سودا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے خاموشی سے ۔ بس ضروری چیزوں کیلیئے بیگ تیار کیا تھا۔سحری کا سامان البتہ رکھ لیا تھا۔
    گوارا کیب کی بجائے اسے میٹرو اسٹیشن لے آئی تھی
    ہم کیب لے لیتے ہیں نا۔۔ اریزہ اتنا رش دیکھ کر گھبرائی
    روز کیب سے تھوڑی آجا سکو گی۔۔ اتنا مہنگا پڑے گا۔۔ یہ اسٹیشن ہوگا یہاں سے روٹ دیکھ لو تاکہ آسانی ہو۔۔پھر تم سیول میں کہیں بھی آ جا سکتی ہو
    گوارا ٹکٹ لیتے ہوئے اسے سمجھا رہی تھی۔۔
    تم بھی تو ساتھ ہوگی نا۔۔
    وہ منمنائی گوارا زور سے ہنسی۔۔
    اور جب میں نہیں ساتھ ہونگی تو کیا گھر سے نہیں نکلو گی۔۔
    میں ہاسٹل میں ہی ٹھیک تھی۔۔ وہ منمنا کر رہ گئ۔۔ گوارا سن نہیں پائی تھی۔۔
    میٹرو کھچا کھچ بھری تھی۔۔
    خواتین کو علیحدہ سیٹ دینے کا رواج تو دور مزے سے سیٹ پر مرد بیٹھے تھے خواتین انکے سامنے ہینڈل پکڑے کھڑی تھیں۔۔اسطرح آنےجانے کا تصور اسکےلیئے محال تھا۔۔
    بیگ تھامے وہ کسی ننھی بچی کی طرح گوارا کے پہچھے چھپ رہی تھی۔۔ خدا خدا کرکے اسٹاپ آیا تو کتنے ہی لوگ ٹکراتے گزر گئے۔۔ اس نے بہت نا پسندیدہ انداز میں اپنا کندھا جھاڑا۔۔ گوارا اسکا انداز دیکھ کر کھلکھلائی۔۔
    جراثیم لگ گئے تمہیں انکے۔۔ اس نے کندھا مار کر چھیڑا
    اریزہ مسکرا بھی نہ سکی۔۔ وہ ابھی سے پچھتانے لگی تھی۔۔ گوارا کی بلڈنگ سے اسٹاپ زیادہ دور نہ تھا۔۔
    مارکیٹ تو دو دفعہ جا چکی تھی کچھ کچھ راستوں کی پہچان ہوگئ۔۔ اپارٹمنٹ پہنچ کر اس نے اریزہ سے ہی لاک۔کھلوایا۔۔
    اسکا پاسورڈ بھی یاد کر لو۔۔1995
    میرے والدین کی شادی اس سال ہوئی تھی۔۔ وہ بتا کر ہنسی۔۔
    اریزہ بیگ اٹھائے اٹھائے تھک چکی تھی۔۔ کمرے میں آکر بیگ رکھ کر بیڈ پر دھم سے گری
    تم تھک گئیں۔۔ چایے پلائوں؟۔۔
    اس نے ہمدردی سے پوچھا تھا اس نے بے ساختہ ہاتھ جوڑے۔۔
    نہیں۔۔
    گوارا زور سے ہنسی۔ تو اریزہ شرمندہ سی ہو گئ
    یار وہ ہم چائے کے نام پر جو پیتے وہ بالکل بھی ویسا کچھ نہیں ہوتا جو یہاں چائے کے نام۔پر پیا جاتا۔۔
    اس نے وضاحت کی
    جانتی ہوں انگریزی چائے ۔۔ ملتی ہے وہ بھی یہاں۔۔ تم لا۔کر رکھ لینا اب تو یہ گھر تم اپنا ہی سمجھوجو مرضی کھائو پکائو۔ عیش کرو۔۔ وہ مزے سے کہتی الماری سے کپڑے نکالتی باتھ روم شاور لینے گھس گئ۔۔
    یہ فائدہ تو ہے۔۔ اس نے باآواز بلند سوچا۔۔
    آج افطاری پر کیا بنائوں۔
    دور بیڈ پر پڑے اسکے موبائل کی اسکرین پھر روشن ہوئی تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پنڈی کا موسم دونوں طرح سے زیادہ ہوتا گرمیوں میں پینتالیس تک چلا جاتا تو سردیوں میں نقطہ انجماد سے بھی گر جاتا۔۔
    سالک بتا رہا تھا یون بن پوری آنکھیں کھول کر دیکھ رہا تھا۔۔ دونوں سالک کے بیڈ پر دراز تھے سالک ٹیک لگا کر بیٹھا تھا تو یون بن تکیہ کھینچ کر اس پر اوندھا لیٹا دلچسپی سے سن رہا تھا۔۔
    پینتالیس۔۔ ڈگری میرے خدا۔۔ تم لوگ کیسے برداشت کرتے ہو ۔۔۔وہ بھر پور حیرت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔۔
    عادی ہیں۔۔ سالک نے ایسے کہا جیسے کوئی بڑے اعزاز سے نوازا گیا ہو اسے۔۔
    ہمت ہے بھئ تم لوگوں کی۔۔ ہم تو چالیس تک بھی نہیں جا پاتے تب بھی یہاں کی گرمی برداشت نہیں ہوتی ہم سے۔۔
    ہم تو روزے بھی رکھتے سارا دن پانی پیئے بغیر گزارتے اتنی گرمی میں بھی۔۔
    ہیں۔۔
    یون بن نے ایڈون سے سن تو رکھا تھا مگر اخلاق کا تقاضا بھی تھا سو حیران ہوا۔۔
    اچھا یہ بتائوتمہاری کتنی گرل فرینڈز اب تک رہی ہیں۔۔یون بن نے پوچھا تو سالک جھینپ گیا۔۔
    ایک بھی نہیں۔۔
    کیوں۔۔ وہ حیران ہوا۔۔
    بس ۔۔ اسے سمجھ نہ آیا کیا جواب دے۔۔
    اتنے ہینڈسم ہو اسمارٹ ہو مجھے لگتا پاکستانی لڑکیوں کی قریب کی نظر کمزور ہوتی ہے۔ ایڈون کو اسکے تاثرات مزا دے گئے تھے
    سو مزید چھیڑنے لگا۔۔
    ہاں اس بات سے تو متفق ہوں۔۔ وہ ہنس دیا
    اچھا ویسے پاکستانی لڑکیاں اریزہ جیسی ہوتی ہیں یا سنتھیا جیسی۔۔
    یون بن نے پوچھا تو اس نے فٹ سے جواب دیا۔
    اریزہ جیسی۔۔
    مطلب گوری ہوتی ہیں۔۔ اس نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔
    نہیں۔۔ میں شکل کی بات نہیں کر رہا۔
    سالک نے اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہی۔۔
    پھر۔۔ یون بن کو سمجھ نہیں آیا۔۔
    گوری بھی ہوتی ہیں کالی بھی مگر میں شخصیت کی بات کر رہا اریزہ جیسی ہوتی ہیں شرمیلی سی۔۔سنتھیا تو۔۔۔
    سالک بول رہا تھا تبھی دروازے پر کھٹکا ہوا۔۔
    ایڈون تھکا تھکا سا کمرے میں داخل ہوا ادھر ادھر دیکھے بغیر شاپر بیڈ پر پھینکتا سیدھا بیڈ پر ڈھیر ہو گیا۔۔
    سالک نے باقی الفاظ منہ میں روک لیئے۔۔ یون بن نے اسکی حرکت نوٹ کی مگر بولا کچھ نہیں۔۔
    ایڈی کہاں تھا
    سالک نے فورا پوچھا۔۔
    کچھ نہیں بازار تک گیا تھا۔ اس نے شاپر غیر ارادی طور پر کھینچ کر تکیئے کے نیچے کردیا
    کم سن کا کاٹیج ہے شہر سے کچھ فاصلے پر وہاں رہنےجا رہا ہوں ۔۔ ایڈون نے لیٹے لیٹے ہی جواب دیا۔۔
    دونوں اردو میں بات کر رہے تھے تو یون بن سیدھا ہو کر موبائل دیکھنے لگا۔
    ہمیں بتاتا ہم بھی چلتے۔۔ سالک نے کہا تو ایڈون سیدھا ہو بیٹھا۔۔
    وہ بغور سالک کو دیکھ رہا تھا۔۔ وہ سادگی سے ہی کہہ رہا تھا
    ایڈون نے جواب نہیں دیا جوتے اتارنے لگا۔
    تم اکیلے تو نہیں جا رہے ہو ہے نا۔
    سالک نے اس بار جتایا ہی تھا۔۔
    لیس کھولتے ایڈون کے ہاتھ پل بھر تھمے۔۔
    میں کوئی لیکچر نہیں دینا چاہتا مگر تم بہت تیز بھاگ رہے ہو۔۔ اور بھاگ بھی خود سے رہے ہو خدا کرے تم گر نہ پڑو۔۔
    ایڈون نے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔۔ وہ طنز نہیں کر رہا تھا۔۔ اسے دیکھ کر تاسف سے کہہ رہا تھا۔۔ ایڈون برا نہ مان سکا۔۔
    سالک بیڈ کی سائیڈ ٹیبل سے چادر نکال رہا تھا۔۔ اسکا نماز کا ارادہ تھا شائد۔۔ وہ وضو کرنے باتھ روم گھس گیا۔۔
    یون بن کو بھی اندازہ ہو گیا تھا۔۔سو وہ اٹھ کر باہر چلا گیا۔۔ ایڈون جوتے بیڈ کے نیچے کھسکا کر سیدھا ہو لیٹا۔۔
    پھر کچھ احساس ہوا تو اپنی ہتھیلی پر پھونکا
    الکوحل کی محسوس کر لی جانے والی بو تھی۔ وہ تھکا ہوا تھا مگر پھر بھی اپنے جوتے ایک طرف کرکے چپل پہنتا کمرہ خالی کر گیا۔۔
    سالک وضو کر کے ہی نکلا تھا آرام سے کونے میں چادر بچھا کر نیت باندھ لی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کم سن نے ہایون کو اپنی آمد سے مطلع کرنے کیلیئے سیکٹری سے کہا تو وہ عاجزی سے جھک کر معزرت کرنے لگی۔۔
    سر اس وقت کسی سے نہیں مل سکتے بہت مصروف ہیں۔
    کم سن نے ایک۔نظر اسے دیکھا اسکا کائونٹرہایون کے کمرے کے باہر تھا۔۔ وہ دروازہ کھولتا اندر گھس گیا۔۔
    سیکٹری گھبرائی ہائیں ہائیں کرتی۔پیچھے دوڑی۔۔
    آہجوشی۔ ایسا مت کیجئے ڈاریکٹر صاحب خفا ہونگے۔۔
    ڈاریکٹر صاحب کے دوست ان جیسے ہی تو تھے۔۔ کمرے میں گھس کر سب سے پہلے بلائینڈز ہٹا دیں۔۔ کمرے میں بلائنڈز ڈال کر سب بتیاں بجھا کر ڈاریکٹر صاحب کسی اہم میٹنگ میں ہی مصروف تھے مگر اپنے خواب میں۔۔
    اسکے جارحانہ انداز میں دروازہ کھولنے اور بلائنڈز ہٹانے سے اسکی نیند ٹوٹ ہی گئ۔۔ کسمساتا آنکھیں مسلتا اٹھ بیٹھا۔
    میں نے آہجوشی کو روکنے کی پوری کوشش کی تھی۔۔
    سیکٹری بری طرح گھبرائی ہوئی تھی لگتا تھا رو پڑے گی۔۔
    کم سن اسے جتاتی نظروں سے گھور رہا تھا۔۔
    جمائی لیتے ہایون نے ایک نظر تھر تھر کانپتی سیکٹرئ کو دیکھا پھر انگریزی میں وضاحت کرنے لگا۔
    قسم اٹھوا لو جو میں نے اس سے اونچی آواز تو دور فالتو بات بھی کی ہو۔۔ پتہ نہیں کیوں اتنی خوفزدہ رہتی مجھ سے۔۔ وہ بے چارگی سے اپنی روہانسی سیکٹرئ کو دیکھ رہا تھا۔
    یہ تمہارا نہیں تمہارے عہدے کا رعب ہے اگر تم اس عہدے پر آہی گئے ہو تو کم از کم سو سو کر اس عہدے کی توہین تو نہ کرو۔۔ کچھ کام ہی کر لو سیکھ لو۔۔
    کم سن نے کہا تو وہ برے برے منہ بنانے لگا۔۔
    خالی پیٹ لیکچر۔۔
    پھر ہنگل میں سیکٹری کو کچھ کھانے کو لانے کو کہا۔۔ وہ جان چھڑاتی جھک کر سلام کرتی بھاگ گئ۔۔ وہ اٹھ تو گیا تھا مگر صوفے سے اٹھ نہیں رہا تھا۔ کم سن گھوم کر اسکے سامنے آبیٹھا۔۔
    تمہارے ابا میرے ابا کی کمپنی کو دیوالیہ کرنے پر تلے ہیں۔۔
    اس نے بلا تمہید کہا۔۔
    تمہارے ابا نے میرے ابا کی کمپنی دیوالیہ کرنے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی
    ہایون نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔۔
    دونوں زور سے ہنس پڑے۔۔
    میں ایک پرپوزل لے کر آیا ہوں۔۔ کم سن نے ایک فائل اسکی۔جانب بڑھائی۔۔
    میں کاروبار میں دلچسپی نہ پہلے لیتا تھا نہ اب لینے کا ارادہ ہے۔۔
    ہایون نے فائل رکھ دی اور بیزاری سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
    کم سن کےلیئے اسکا ردعمل غیر متوقع نہیں تھا۔
    جیسے تم اپنے باپ سے لڑے بیٹھے ویسے ہی میں بھی۔۔ مگر جیسے تمہارا باپ تم کو نہیں چھوڑتا اکلوتا ہونے کی وجہ سے۔۔ میرے باپ کی ایسی کوئی مجبوری نہیں۔۔ میرے باقی بھائی میرے باپ کیلیئے کافی ہیں۔۔ میرا باپ مجھے عاق کر چکا میرے پاس فی الحال صرف وہی کچھ ہے جو میں نے خود کمایا اور وہ اتنا نہیں کہ میں ۔۔
    وہ رکا۔۔
    یہ گھر خرید سکوں۔۔ تم مجھے یہ خرید دو۔۔ اسکا انداز ملتجی ہوگیا تھا۔۔
    ہایون اسکے انداز پر پگھل سا گیا۔۔
    جھٹ سے فائل اٹھا کر دیکھنے لگا۔۔
    یہ تو۔۔ وہ چونکا۔۔
    ہاں۔۔ کم سن نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
    ہایون اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جون جے نے پیغام بھیجا تھا۔
    مل سکو تو مل لو میں گنگم اسٹریٹ میں ہوں۔۔
    ہایون کو اسکا پیغام ملا تو وہ اس وقت ڈرائیو ہی کر رہا تھا۔۔ اگلے چوک سے گاڑی موڑ کر سیدھا گنگم اسٹریٹ پہنچا تھا۔ رات کے اندھیرےچھا چکے تھے وہ اپنے مخصوص ترکی ریستوران میں بیٹھا کھانا کھا رہا تھا۔۔
    اسے دیکھ کر نان چھوڑ کر تپاک سے گلے ملا۔۔ ہایون نے ہاتھ ملانے کو آگے بڑھایا تھا مگر وہ تو گلے ہی۔لگ گیا۔۔
    کیسے ہو۔ وہ اسی جوش بھرے انداز میں پوچھ رہا تھا۔۔
    ٹھیک۔ہوں۔۔ ہایون حیرانی چھپا نہیں پا رہا تھا۔۔
    بیٹھو۔۔
    جون جے نے اسکو بیٹھنے کا۔کہا تو وہ جھجکتے ہوئے بیٹھ گیا۔۔
    مجھے لگا تھا تم نہیں آئو گے سو میں نے کھانا آرڈر کر دیا۔۔ تم نے کچھ اور منگوانا ہو تو منگوا لو۔۔
    وہ شرمندہ ہوتے ہویے کہہ رہا تھا۔۔
    یہ تو کوئی اور ہی ملک کا کھانا ہے مجھے اندازہ نہیں کیا اور کیسا ہوگا۔۔
    ہایون نے صاف گوئی سے کہا ۔
    عربی ریسٹورںٹ ہے۔۔ جون جے نے بتایا۔۔
    پھر اپنا نان اور سالن آگے کر دیا۔۔ وہ چکن کھا رہا تھا۔۔
    اسے چکھ کر دیکھ لو اچھا ہے ۔۔
    ہایون کو سمجھ نہ آیا کیسے کھائے تو اس نے نوالہ بنا کر اسے کھلایا۔
    مزے کا تھا۔۔
    وہ رغبت سے کھانے لگا۔۔
    تم ویسے چکن کھانا چھوڑ نہیں چکے تھے اسلام کی وجہ سے۔۔ ہایون ٹوکے بنا نہ رہ سکا۔۔
    جون جے ہلکے سے مسکرا دیا۔۔
    حلال کرکے چکن کھاتا ہوں۔۔ یہ ویسے مسلمان ملک کا ریستوران ہے یہاں چکن حلال کرکے ہی پکتا۔
    حلال۔۔ اس نے حیرانی سے پوچھا۔۔
    حلال۔۔ جون جے سوچ میں پڑا کیسے سمجھائے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    بچپن میں کہانی سنی تھئ۔ بابر کی۔
    اچھی طرح یاد نہیں مگر کچھ کچھ یوں تھی کہ بابر ایک شہزادہ تھا جو جنگیں لڑتا ہارتا جیتا جنگلوں بھٹک رہا تھا۔کئی دن بھوکے گزرے اسکے۔ جب شکار نہ ملا تو اس نے ایک درخت کے پتے توڑے چبائے اسکی چھال کی اوک میں ٹھہرا پانی پیا اور کہا
    بابر با عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست۔۔
    بابر عیش کر لو یہ دنیا دوبارہ نہ ملے گی۔
    دنوں کے بھوکے کو ان پتوں پانی سے بھوک مٹنے کا احساس کیسا فرط انگیز محسوس ہوا ہوگا مجھے آج اندازہ ہوا۔
    اس سادہ سئ افطاری نے مجھے آج بابر کا عیش کروانا ہے۔ اور میں بابر کی طرح ہی شکر گزار بندی بن کر کھائوں گئ۔
    اس نے بلاگ پر اپنی افطاری کی تصویر کھینچ کر لگاتے ہوئے یہ لکھا تھا۔
    اسکی افطاری تھئ۔
    سادہ روٹئ جس پر لہسن اور نمک مرچ کی کٹی ہوئی چٹنی رکھ کر وہ کھا رہی تھی ساتھ گلاس بھر کر سادہ پانی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پہلا کمنٹ۔۔
    میرے گھر کی افطارئ دیکھو۔
    ساتھ انواع و اقسام کے کھانوں کی تصویر۔
    دوسرا کمنٹ
    افطاری کی۔تصویر۔
    تیسرا کمنٹ
    دوستوں کو افطاری کرواتے ہوئے لی گئ سیلفی میز کھانے سے بھری تنی ہوئی۔
    چوتھا کمنٹ ۔۔ پانچواں چھٹا۔ ساتواں سارے ہی کمنٹس تصویروں بھرے
    ایک سے ایک۔دعوتی کھانے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صارم نے اسکے بلاگ پر لکھنے کی بجائے سیدھا انباکس کیا تھا۔
    یہ دیکھو تمہارے گھر کی افطاری اب احساس ہوا کیا کچھ پیچھے چھوڑ آئی ہو۔
    اس عنوان کے ساتھ دل جلانے والے اسمائیلیز
    اور گھر کی افطارئ کی تصویر۔
    پکوڑے۔ چنا چاٹ دہی بڑے فروٹ چاٹ کچوری جام شیریں بھرا ہوا جگ ، رول سموسے۔ اور ۔۔
    اس نے دونوں انگلیوں کی مدد سے تصویر بڑی کی۔ اسکا اپناسر بھی نظر آرہا تھا وہ اسکے سامنے رخ موڑے بیٹھی۔تھی تصویر سے بچنے کو ہی۔ یہ یقینا پچھلے سال کی۔تصویر تھئ۔
    اسکے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔
    اس وقت کیا کھا رہے اسکی تصویر بھیجو۔۔
    حکم کی فوری تعمیل ہوئی۔
    ساگ گوشت اور روٹی۔
    ساتھ ایک جملہ۔
    خالہ کی۔طبیعت ٹھیک نہیں تھی آج
    اس نے موبائل ایکطرف رکھ دیا۔ اور افطاری کرنے لگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد
    جاری ہے

    Kesi lagi Aapko aaj ki Salam Korea ki qist? Rate us below

    Rating
  • Salam Korea Episode 13

    salam korea 13

    قسط 13

    آج کلاس نہیں ہوگی سر نہیں آئے۔۔
    وہ کلاس میں جارہی تھی جب شاہزیب نے اسے پکار کر بتایا۔۔
    وہ ایڈون اور سالک کلاس کے باہر سیڑھیوں پر لائن سے بیٹھے تھے۔۔
    سنتھیا نہیں آئی؟۔۔ ایڈون نے پوچھا
    اٹھا کر تو آئی ہوں آتی ہوگی۔۔
    وہ بتا کر مڑنے کو تھی
    اریزہ رکو۔۔ ایڈون نے کہا تو وہ مڑ کر دیکھنے لگی
    یہ لو ہم کیلنڈر لائے تھے رمضان کا۔
    وہ بالشت بھر کا کارڈ سا تھا۔
    شکریہ۔ اس نے کہہ کر سب سے پہلے اوقات کار دیکھے تو آنکھیں کھل سی گئیں۔۔
    3 بج کر اڑتیس منٹ پر سحر اور سات بج کر تریپن منٹ پر افطار۔یعنی پنڈی کے مقابلے میں آدھا پونا گھنٹہ لمبا روزہ۔
    وہ دل ہی دل میں حساب لگا رہی تھی
    تھوڑا لمبا ہوجائے گا مگر موسم یہاں کا پنڈی جتنا ظالم نہیں ہے۔
    ایڈون کے کہنے پر وہ خفت ذدہ سی ہوئئ۔
    ہاں شکر ہے یہاں اتنی گرمی نہیں۔
    ہم بازار جا رہے ہیں اریزہ چلو گی ؟ سالک نے پوچھا تو وہ سہولت سے انکار کر گئ۔
    نہیں۔۔۔
    کھجور لائیں تمہارے لیئے ؟
    شاہزیب پوچھ رہا تھا۔ وہ پھر ہاں کہتے کہتے رک گئ۔
    ایک آدھ دن تو بنا کھجور گزارا چل جائے گا۔
    نہیں شکریہ۔ اس نے منع کردیا۔
    کھجوریں یہاں عجوہ والی مل رہی تھیں تھوڑی مہنگی ہیں مگر اسکا ذائقہ ہی الگ ہوتا ہے۔
    پہلا روزہ کوئی اندازہ ہے کب ہوگا۔
    وہ سوچ میں پڑی تھی۔
    کل ہو سکتا ہے پرسوں بھئ۔ یہاں ویسے ایک ہی ہوگا پاکستان کی۔طرح دو دو چاند نہیں دیکھیں گے لوگ۔
    ایڈون نے ہلکے پھلکے انداز میں طنز کیا۔
    کاش پاکستانی بھئ دو دو چاند دیکھنا چھوڑ دیں۔
    اریزہ نے کہا تو تینوں نے دل سے آمین کہا۔
    ایڈون۔۔ سنتھیا دور کھڑی آواز دے رہی تھی۔۔اریزہ نے مڑ کر دیکھا وہ فاصلے پر تھی مگر یہاں آسکتی تھی۔ اسے اسکا رویہ خاصا حیران کر رہا تھا۔
    یہاں آجائو۔۔ ایڈون کا اٹھنے کا ارادہ نہیں تھا۔۔
    سنتھیا اشارے سے اسے اب بھی بلا رہی تھی۔۔
    آتا ہوں۔۔ وہ کہہ کر اٹھ گیا۔۔
    یہ دونوں بہت اونچی ہوائوں میں ہیں۔۔ شاہزیب ہلکی سی آواز میں بڑ بڑایا۔۔ مگر اریزہ نے سن لیا۔۔
    مطلب۔۔ وہ نظر انداز نہیں کر سکی۔۔
    تم نہیں سمجھو گی۔۔ سالک ہنس پڑا۔۔
    کیوں نہیں سمجھوںگی۔۔ وہ اور الجھی۔۔
    تم نے دیکھا نہیں یہاں آکر دونوں کے رنگ ڈھنگ یہاں کے لوگوں جیسے ہی ہو گئے ہیں۔۔ شاہ زیب نے کھل کر کہا
    اریزہ نے مڑ کر دیکھا دونوں ایک دوسرے کا۔ہاتھ پکڑ کر مگن باتیں کرتے باہر جا رہے تھے۔۔
    وہ مسلم نہیں ہیں یار انکا مزہب انکی ثقافت الگ ہی ہے وہ ہم لوگوں کی طرح نہیں سوچتے۔۔
    وہ وہیں انکے قریب ہی سیڑھیوں پر ٹک گئ۔۔
    مزہب الگ سہی ثقافت کیسے الگ۔۔ سنتھیا کی ڈریسنگ ہی دیکھ لو ٹھیک ہے وہ پاکستان میں بھی ویسٹرن ڈریسنگ کرتی تھی مگر یہاں تو آکر شارٹ اسکرٹس پر آگئ ہے۔۔ تم۔ٹوکتی نہیں ہو اسے؟۔۔
    شاہزیب ناپسندیدہ انداز میں کہہ رہا تھا اریزہ زور سے ہنس پڑی۔۔
    ہاں اماں ہوں نا میں اسکی۔۔ واپس آتی ہے تو ٹھکائی کروں گی اسکی ۔۔
    اس نے شرارت بھرے انداز میں کہا۔۔
    پھر بھی یار۔۔ کوئی تہزیب بھی ہوتی ہے۔۔ ہماری تو یہ تربیت بھی نہیں ثافت بھی نہیں۔۔
    آیا بڑا دادا ابا۔۔ سالک نے بھی مزاق اڑانا شروع کر دیا۔
    تیرے بچے ہیں جو تو انکے غم میں گھل رہا۔۔
    میری بلا سے۔۔ اس نے بھی سر جھٹک دیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بابا کو فون ملا رہی تھی مگر اٹھا نہیں رہے تھے۔ اس نے تھک کر میسج لکھنا شروع کیا
    بابا پیسےچاہیئیں ؟؟؟ اس بار رمضان کی وجہ سے جلدی بھجوا دیں ذیادہ بھئ۔
    اس نے یہی لکھ کر بھیجا۔ پھر جی ہائے کی تلاش میں لگ گئ۔
    جی ہائے اور ہایون ٹینس کھیل رہے تھے۔۔
    جی ہائے کافی مشکل وقت دے رہی تھی اسے۔۔ دونوں کے پوائنٹس برابر تھے۔۔۔ ہایون اور وہ بھاگ بھاگ کر پسینے پسینے ہو رہے تھے۔۔ اریزہ جی ہائے کو پوچھتی پچھاتی یہاں پہنچی تھی۔۔ دونوں کھیل میں اتنا مگن تھے کہ اریزہ کے آواز دینے پر بھی نہ چونکے۔۔۔ وہ خاموشی سے آکر سیڑہیوں پر بیٹھ کر انکے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔۔
    دونوں ہی بہت محنت کررہے تھے۔ جی ہائے ہایون کو کافی ٹکر دے رہی تھی۔۔
    یہ دونوں کتنے فٹ اور کیوٹ ہیں۔۔
    اس نے کہنی گھٹنے پر جمائی اور داہنی ہتھیلی پر آہ سی بھر کر چہرہ رکھا۔۔
    یہ دونوں ساتھ کتنے اچھے لگیں۔۔
    اسکو اچھوتا خیال آیا۔۔
    دوست بھی ہیں ساتھ بھی رہتے۔۔اکٹھے کھیل رہے تو مطلب دلچسپیاں بھی ایک ۔۔ اوپر سے یہ ہایون اتنا لمبا ہے جی ہائے جیسی لمبی لڑکی ہی سوٹ کرے گی میرے جتنی ہائٹ والی کی تو دیکھتے دیکھتے ہی گردن درد کرنے لگے۔۔۔
    وہ بغور اس عالم چنے کو دیکھ رہی تھی۔۔ ریکٹ اٹھاتا تو لگتا آسمان ہی چھو لے گا۔۔
    وہ سوچ کر خود ہی ہنس پڑی۔۔
    ہنسی کی آواز پر ہایون نے چونک کر آواز کی سمت دیکھا۔۔
    گیند مس ہوئی ٹھا کر کےلگی اسکے کندھے پر جی ہائے نے فاتحانہ نعرہ بلند کیا۔۔
    میں جیت گئ۔۔
    وہ جوش سے اچھلتی نیٹ کے نیچے سے نکل کر اسکے کورٹ میں آئی۔۔ اور چڑانے لگی۔۔
    آہ۔ اس نے کراہ کر کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    اسکے چہرے پر تکلیف کے گہرے تاثرات تھے۔ وہ اٹھ آئی۔۔
    ہایون ہار گیا۔۔ میں شرط جیت گئی فائیٹنگ۔۔ اس نےمٹھی بنا کر دکھا کر چڑایا۔۔
    ہایون مسکرا کر رہ گیا۔۔ وہ ابھی بھی سہلا رہا تھا اپنا کندھا۔۔
    زور کی لگی ہے۔۔ اریزہ نے پاس آکر پوچھا۔۔
    آنیو۔۔ اس نے فورا ہاتھ ہٹا لیا۔۔
    ہے اریزہ ۔۔ جی ہائے نے اب دیکھا تھا اسے۔۔
    تم کب آئیں۔۔ دیکھا میرا میچ اسے کیسے بری طرح ہرایا میں نے۔۔ جی ہائے کھلکھلائی۔۔
    بری طرح نہیں بس یہ بال مس ہو گئ ورنہ میں جیتنے نا دیتا اتنی آسانی سے۔۔
    ہیون تڑپ کر بولا۔ دونوں ہنگل میں شروع ہو گئے۔۔
    اب تو تم ہارے ہو ئے انسان ایسا ہی کہو گے۔۔ لڑکی سے ہار گیا کیسے مان لوں ۔۔ خالص دقیانوسی کوریائی لڑکے ہو۔۔
    جی ہائے بھنائی۔۔
    میں نے ایسا کب کہا میں ہرگز بھی شائونسٹ نہیں اچھا خاصا فیمینزم کا۔حامی ہوں الزام نہ لگائو۔۔
    ہایون نے الزام تراشی پر گھورا۔۔
    فیمنزم اور تم جائو جائو۔۔ رو رہے ہو۔۔
    اریزہ سے پوچھ لو یہ ہنسی تو میں اسکو دیکھنے لگا تھا جو مس ہوئی بال ورنہ تم جیسی بگنر ٹینس پلیئر کو چٹکیوں میں اڑا دیتا ہوں میں۔۔
    ہیں اریزہ۔۔ جی ہائے مڑ کر پوچھنے لگی۔۔
    واٹ۔۔ وہ بے چاری ایک لفظ بھی نہ سمجھ پائی تھی۔۔
    فارگیٹ اٹ۔۔ ہایون نے کہا تو جی ہائے گہری سانس لے کر اپنے کٹ بیگ کی طرف بڑھ گئ۔۔
    مجھے بھی پانی دینا۔۔ اسے کٹ بیگ سے پانی نکال۔کر پیتے دیکھ کر ہایون نے آواز لگائی
    ہایون بال جھٹک رہا تھا۔۔
    ہایون انی بریو ہارٹ کے دوہیون سے ملوا سکتی ہیں؟۔۔ میرا مطلب وہ منتظم ہیں نا آج کی محفل کی۔۔
    وہ سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔۔
    اس نے کندھے اچکائے۔۔ کہنے جا رہا تھا کیا پتہ کہ نے آواز دے کر متوجہ کیا۔۔ وہ۔مڑ ا۔۔
    یہ لو۔۔
    جی ہائے نے بیگ سے بوتل۔نکال کر اسے وہیں سے اچھال۔دی۔۔ بوتل سیدھا اریزہ کے منہ کی جانب آرہی تھی۔۔ جی ہائے کا نشانہ کمال تھا اریزہ متوجہ بھی نہیں تھی ہایون کو دیکھ رہی تھی ہایون نے آگے ہو کر پورا جسم پھیلا کر اچھل کر اسکا منہ ٹوٹنے سے بچاتے ہوئے پکڑ ہی لی بوتل۔۔
    مگر دائیں جانب اچھل کر اتنا جسم اسٹریچ کیا تھا توازن کھو بیٹھا گر ہی گیا۔۔
    تم کیا ہر وقت گرتے رہتے۔۔ اریزہ ایک قدم پیچھے ہوئی ورنہ سیدھا اسکے قدموں پر ہی گرتا۔۔
    اریزہ نے کہا تو ہایون نے گھورا
    شوق ہے مجھے بچپن سے گرنے کا۔۔ وہ دانت کچکچا کر بولا۔۔
    نائس کیچ۔۔ جی ہائے تالیاں بجا رہی تھی۔
    ہایون سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔ پلٹ کر کینہ توز نظر جی ہائے پر ڈالی۔۔
    بہت اعلی تھرو تھا شاباش۔۔ اس نے ہنگل میں کہا۔۔
    جی ہائے کھلکھلائی
    گومو وویو۔۔
    ڈھٹائی عروج پر تھی۔۔
    اس کا اٹھنے کا ارادہ نہ دیکھ کر اریزہ بھی گھٹنے کے بل جھکی۔۔
    پوچھ کے بتا دو نا۔۔ اگر اس سے ملنا ممکن ہو تب ہی میں جائوں گی کانسرٹ میں ورنہ میرے جانے کا کیا فائدہ۔۔
    ہایون گھونٹ بھرتے ہوئے اسے غور سے دیکھ رہا تھا
    تمہیں بھی دوہیون اتنا پسند ہے؟۔۔۔ یہ جی ہائے تو پاگل ہے اسکے پیچھے ۔
    وہ جیسے جانچ رہ تھا۔۔
    ابے نہیں یار۔
    اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔
    وہ سلپ ہو کر بیٹھ ہی گئ۔۔
    مجھے اس سے ملنا ہے اسکا ایم پی تھری واپس کرنا ہے۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔
    چھوڑو۔۔ دفع کرو۔۔ اسکو کمی تھوڑی۔۔
    ہایون نے جیسے مکھی اڑائی۔۔
    یہ بات نہیں ہے۔۔ اس نے مجھے دیا ہوتا تو رکھ بھی لیتی یہ میرے پاس رہ گیا ہے ۔۔ یہ
    وہ سوچ میں پڑی۔
    ۔ امانت کو انگریزی میں کیا کہتے۔۔ بالکل بھول گئی۔۔
    وہ سر پر ہاتھ مار کر بڑ بڑائی۔
    میرے دل پر بوجھ ہے میں کسی کی چیز بنا اجازت استعمال کر رہی۔۔
    اس نے جملہ بدل دیا۔۔
    اچھا پوچھوں گا۔۔
    وہ اتنی بے چین تھی اسے حامی بھرنی پڑی۔۔
    چلو چلیں۔۔ وہ اٹھ کے کھڑا ہوگیا۔
    اریزہ زمیں پر ہاتھ رکھ کر بوڑھوں کی طرح گھٹنے پکڑتی اٹھی۔
    دیکھا میری بڑھیا دوست کو۔۔ جی ہائے نے وہیں سے آواز لگائی۔
    کیا ؟۔۔ اریزہ نے پوچھا۔۔ دونوں زور سے ہنس پڑے۔۔
    کتنی ہی کوئی کمینگی ہے یہ ویسے۔۔ جان جان کے میرے سامنے اپنی زبان میں شروع ہو رہے ہو۔۔ دیکھنا اب میں بھی ایڈون سے کہوں گی تم لوگ سامنے ہم خوب اردو بولیں گے اور چڑائیں گے
    بلکہ مزاق بھی اڑائیں گے ایسے ہی ہنسوں گی تب پتہ لگے گا۔۔۔
    اریزہ پیر پٹختی شروع ہوگئ۔۔۔زور زور سے بولی تو جی ہائے بھی ہنسنا بھول اسکو دیکھے لگ گئ
    ہایون کے تاثرات دیکھنے والے تھے۔۔ پہلے حیران پھر الجھن زدہ آخر میں منہ کھول کر اسکی فراٹے بھرتی زبان کو دیکھتا خاصا مضحکہ خیز لگ رہا تھا۔۔
    کیا کہا تم نے۔۔ وہ حیرانی پر قابو پا کر بولا۔۔
    فارگیٹ اٹ۔۔ اس نے ہایون کی نقل اتاری تھی۔۔
    اور مزے سے کندھے اچکا کر جی ہائے کی طرف بڑھ گئ۔۔
    ہایون نے دلچسپی سے اسکو دیکھا پھر بڑبڑایا۔۔
    کمینگئ۔۔ جان۔ مزے کی زبان ہے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ تینوں قریبی کافی شاپ میں کافی پینے آئے تھے۔۔ ہایون آرڈر دینے سیدھا کاونٹر کی طرف بڑھا تھا جی ہائے اور وہ دونوں کارنر کی ٹیبل پر آ بیٹھیں۔۔
    موسم ابر آلود ہو رہا تھا سورج چھپ گیا تھا موسم کی۔خنکی کے باعث سڑک پر لگی بتیاں جل اٹھی تھیں۔۔
    ایک دم سے جیسے سب جگمگ کرنے لگا۔۔ ٹریفک رواں دواں تھا اکا دکا راہ گیر گزر رہے تھے۔۔ وہ محویت سے باہر دیکھ رہی تھی۔ فٹ پاتھ پر ایک چھوٹا سا بچہ اپنی ماں کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔ ماں نے کنگھیوں کا اسٹال سا لگایا ہوا تھا۔۔ کچھ بینڈز اور بریسلیٹ بھی تھے۔ بچہ بار بار کسی چیز کی ضد کر رہا تھا۔۔ ماں کبھی دھیرے سے کچھ کہتی کبھی جھڑک دیتی۔۔ وہ بار بار ضد کرتا ایڑھیاں رگڑنے لگتا۔۔
    جی ہائے نے اسے اچنبھے سے دیکھا۔۔
    اسے اس منظر میں کچھ خا ص دکھائی نہیں دیا تھا۔۔
    کافی۔۔ ہایون نے ٹرے لا کر بیچ میں رکھی۔۔
    اریزہ چونک کر متوجہ ہوئی۔۔ وہ دونوں ایکسپریسو پی رہے تھے مگر اسکی کریمی کیپیچینو تھی۔۔
    اس کی کیپیچینو پر جھاگ سے بے حد خو بصورت چھوٹا سا بھالو بیٹھا ہاتھ ہلا رہا تھا۔۔
    اس نے فورا موبائل نکال کر تصویر کھینچ ڈالی۔۔
    یہ مت کہنا تم بھی سوشل میڈیا فریک ہو۔۔ جی ہائے نے بے زاری دے جھر جھری لی۔۔
    ارادہ اسکا بلاگ پر پوسٹ کرنے کا تھا سو فورا کہیں شائع نہیں کیا مگر کھسیا ضرور گئ۔۔
    فریک تو نہیں کبھی کبھی بس۔۔
    وہ سیدھی ہو کر کافی کا لطف اٹھانے لگی۔
    تبھی ہایون کا موبائل بجا۔۔
    اس نے یونہی موبائل میں موسم دیکھا۔۔
    پچیس ڈگری۔۔ وہ بھونچکا رہ گئ۔
    اتنے پر تو ہم اے سی چھوڑتے ہیں ۔تبھی تو مجھے خنکی محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے جی ہائے کو بغور دیکھا
    بند گلے کا گھٹنوں تک کا فراک پہنے وہ مزے سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی تھئ۔ سفید گوری ٹانگیں۔
    مجھے تو یہاں جلد ہی سردی کے کپڑوں کی ضرورت پڑ جائے گی۔ پاپا سے کہوں کہ پیسے بھجوا دیں یا پھر ستمبر آنے کا انتظار کروں۔۔
    وہ ادھیڑ بن میں تھئ۔
    ستمبر کے آنے کا انتظار کرو۔۔
    ہایون نے فون بند کرکے اچانک اسے مخاطب کیا وہ بری طرح گڑبڑا گئ۔۔
    کیا؟۔۔
    ستمبر آنے کا انتظار کرو۔۔
    اس نے اطمینان سے بات دہرائی۔۔
    کیوں؟۔ جی ہائے بھی حیران ہوئی۔۔
    میں بول بول کر سوچ رہی تھی؟۔۔ اریزہ نے پوچھا تو ہایون الٹا حیران ہو کر پوچھنے لگا۔۔
    نہیں مگر کیا تم اسی بارے میں سوچ رہی تھیں؟۔۔
    کس بارے میں؟۔۔ جی ہائے الجھن زدہ ہوگئ۔۔
    بریو ہارٹ کا چیریٹی کانسرٹ ہے نا آج شام۔۔ سات بجے۔۔
    ہایون نے کہا تو جی ہائے اچھل پڑی۔۔
    کیا پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔ کہاں ہے کب ہے مجھے پاسس چاہیئے۔۔ کتنے کا ہے۔۔ ؟۔۔ وہ بے چینی سے شروع ہو گئ۔
    پاس تو ہے میرے پاس مگر
    دوہیون نہیں آرہا آج اسکی طبیعت خراب ہے باقی بینڈ میمبرز پرفارم کریں گے ہاں ستمبر میں وہ ایک اور کانسرٹ کرے گا سیول میں اسکے بھی سپانسر انی لوگ ہی ہونگے۔۔ اس نے تفصیل سے بتایا۔
    دونوں لڑکیوں کے منہ اتر گئے۔۔
    ہاہ
    کیا ہوتی ہو تم لڑکیاں بھی۔۔ اس ڈبل آئی لڈ والے میں ایسا کیا خاص اس سے زیادہ تو میں ہینڈسم ہوں۔۔
    ہہونگ سک نے کالر کھڑے کیئے۔۔
    تم اور ہینڈسم۔۔ اچھا مزاق تھا۔۔
    جی ہائے نے چٹکیوں میں اڑایا۔۔
    کیوں کیا کمی ہے مجھ میں۔۔ وہ برا مان گیا۔۔
    ڈبل آئی لڈ والا۔ہوں۔۔ شاذ نظر آتے کوریا میں۔۔ چھے فٹ دو انچ کا ہوں۔۔ تائکوانڈو بلیک بیلٹ ۔۔ گورا چٹا۔۔ سمارٹ ہنستا ہوں تو ایک دنیا تھم جاتی۔۔
    وہ۔لن ترانی پر اتر آیا
    ہاں جبھی سنگل ہو آج تک دنیا تھمی ہوئی ہے تمہاری۔۔
    جی ہائے زور سے ہنسی۔۔
    کیوں اریزہ ۔۔ غلط کہہ رہا ہوں۔ اس نے اریزہ سے تائید چاہی۔۔
    میں متفق ہوں۔ ہے تو یہ ہینڈسم۔
    اریزہ نے حق بات کی۔۔ جی ہائے آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی۔۔
    تمہیں یہ ہینڈسم لگ رہا۔۔ تم۔نے ہینڈسم لوگ دیکھے نہیں پھر۔۔ وہ سر جھٹک رہی تھی۔۔
    ہاں ہے تو بے چارہ ہینڈسم ۔۔ اس نے جی ہائے سے کہا تو وہ سر جھٹک کر کافی پینے لگی۔ اس نے ہایون سے براہ راست ہی پوچھ لیا۔۔
    سنگل کیوں ہو اب تک؟۔۔
    ہایون لاجواب ہو گیا پھر قصدا مسکرا کر بولا۔۔
    کورین لڑکیوں کی قریب کی نظر خراب شائد اسلیئے
    جی نہیں کورین لڑکیوں کی قریب کی نظر ٹھیک ہے اسلئے۔۔
    جی ہائے نے جملہ اچک کر چڑایا۔
    دونوں پھر بھڑ گئے تھے۔۔
    مجھے تو لگ رہا تم دونوں کی نظریں ہی خراب ہیں۔۔ وہ بڑ بڑا کر رہ گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے میونگ دیونگ ڈراپ کر دینا۔
    کافی شاپ سے نکلتے ہوئے جی ہائے نے ہایون سے کہا تھا۔۔ گاڑی کی طرف بڑھتے ہہونگ سک نے صاف انکار کیا۔۔
    میں نہیں جا رہا ادھر۔۔ بس اسٹاپ پر ڈراپ کر دوں گا چلی جانا۔
    اریزہ کو تو ہاسٹل ڈراپ کروگے نا مجھے ایک اسٹاپ آگے چھوڑ دینا ۔۔ جی ہائے کہا پھر چڑ کر بولی۔۔
    گھس نہیں جائے گی گاڑی تمہاری۔
    اریزہ ۔۔ وہ۔چونک کر اردگرد دیکھنے لگا
    اریزہ تو انکے ساتھ تھی ہی نہیں۔۔
    جی ہائے نے بھی چونک کر اسے ڈھونڈا۔۔
    ابھئ کافی شاپ سے اٹھے تو تینوں اکٹھے تھے۔۔
    کہاں گئی یہ لڑکی اسے تو یہاں کے راستے بھی نہیں آتے۔۔ جی ہائے تھوڑی سی پریشان ہوئی۔۔
    ہایون نے سڑک پر نظر دوڑائی تو وہ اسے ایک اسٹال کے پاس بیٹھی نظر آئی۔
    وہ کنگھی خرید رہی تھی۔ وہ بڑا نوٹ تھما کر واپس مڑنے لگی جب اس عورت نے پکارا۔
    وہ آندے آندے کرکے جانے کیا کہہ رہی تھی اسے سمجھ نہ آیا۔
    ہایون اور جی ہائے اسکے پاس ہی چلے آئے۔
    اریزہ یہ کنگھی اتنی مہنگی نہیں ہے یہ بقایا پیسے واپس کرنا چاہ رہی ہے۔
    جی ہائے نے بتایا تو وہ سر ہلانے لگی۔
    ہاں مجھے اتنا سمجھ آیا ہے مگر میں اسکی مدد کرنا چاہ رہی ہوں۔۔۔ اسکی بات پر جی ہائے اور ہایون ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔
    ہایون آگے بڑھ کر اس خاتون سے ہنگل میں کہنے لگا۔
    دراصل یہ پوری ٹوکری خریدنا چاہ رہی ہے۔
    اسکے لیئے یہ پیسے کم ہیں۔ وہ عورت مایوس سی ہوئی
    کتنے پیسے بنتے ہیں۔ ہایون والٹ کھول رہا تھا۔
    اس عورت کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی۔
    ہایون نے اسکو پیسے دیکر ٹوکری اٹھا لی۔
    وہ۔عورت فورا اٹھ کھڑی ہوئی آگے بڑھ کر اریزہ کا ہاتھ تھام کر جھک جھک کے کچھ کہنے لگی۔
    شکریہ ادا کر رہی ہے تمہارا۔
    جی ہائے نے ترجمہ کیا۔
    مگرکیوں۔۔ وہ حیران تھئ۔
    جی ہائے نے آگے بڑھ کر ٹوکری ٹٹولنی شروع کی۔
    گاڑی میں بیٹھ کر دیکھ لینا۔ ہایون نے اسے ہی پکڑا دی۔ کافی بڑی تھی مگر جی ہائے نے آرام سے سنبھال لی اریزہ نے ہاتھ لگانا چاہا مگر اسے ضرورت نہ تھی۔ ہایون بے نیازی سے گاڑی کی طرف بڑھ گیا
    یہاں شائد لڑکیوں کے ہاتھ سے وزن لینے کا رواج نہیں ۔ اسے یہی لگا۔
    وائو اس میں تو کافی کام کی چیزیں ہیں۔
    جی ہائے پچھلی نشست پر ٹوکری رکھ کر بیٹھ گئ۔ اب دلچسپی سے ٹٹول رہی تھی۔
    اریزہ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولنا پڑا۔
    اریزہ نے مچھلی کی شکل کا لکڑی کا کنگھا لیا تھا جس پر بے حد پیاری چینی بلکہ کورین گڑیا کھدی ہوئی تھی۔
    اسکے بال الجھ الجھ جاتے تھے سو وہ گاڑی میں اطمینان سے بیٹھ کر سلجھانے لگی۔
    یہاں لوگ بلا وجہ پیسے لینا معیوب سمجھتے ہیں۔ٹپ دینا یا کسی کو زائد قیمت دے کر مدد کرنے کا مطلب اسے بھکاری سمجھنا ہوتا ہے۔
    ہایون گاڑی اسٹارٹ کرتے کرتے رک کر بولا
    اسکی ہمدردی کا اتنا غلط مطلب وہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی
    اسکا بچہ روئے جا رہا تھا اسلیئے میں اسکی مدد کرنا چاہ رہی تھئ۔ تم نے بھئ تو اسکی پوری ٹوکری خریدی ہے۔
    اسے سمجھ نہ آیا اگر اتنا برا لگنے والی بات تھی تو ہایون کی بات کا برا کیوں نہ منایا۔
    ہایون نے اسکو کہاتھا کہ تمہیں کورین مصنوعات اپنے دوستوں میں بانٹنی ہیں اسلیئے تم پوری ٹوکری لینا چاہتی ہو۔
    جی ہائے کئی کلپس اور بینڈز چن کر اپنے ہینڈ بیگ میں ڈال چکی تھی سو اطمینان سے ٹوکری کی جان چھوڑتے ہوئے بولی۔
    مگر میں نے تو یہ نہیں بانٹنئ تھیں۔ وہ حیران رہ گئ۔ ہایون اور جی ہائے ہنس دیئے
    اب بانٹ لینا۔ ہایون لے تو چکا ہے اور یہ پونیاں بھی نہیں باندھتا
    جی ہائے اسے چھیڑے بنا نہ رہ سکی۔
    تمہیں ضرورت نہیں تھی ایسا کہنے کی۔ نا پوری ٹوکری خریدنے کی
    اسے برا لگا تھا۔ ہایون گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
    چل۔۔ اتنے پیسے یہ یونہی سڑک پراڑا سکتاہے۔
    جی ہائے ہنس رہی تھی۔
    گوارا بتاتی ہے یہ ہائی اسکول کے ذمانے میں ایک بوڑھی آنٹئ سے روز ان سب کیلئے تبوکی خریدتا تھا تاکہ انکی مدد کرسکے اور جس دن ان کا تبوکی کا موڈ نہیں ہوتا تھا اس دن یہ ہوم لیس لوگ ڈھونڈتا پھرتا تھا انہیں کھلانے کیلئے۔
    ہائش۔ چپ کرو۔ بہت فضول بولتی ہو۔
    ہایون کی پوری توجہ سڑک کی جانب تھی مگر اسکا چہرہ خفت ذدہ سرخ سا ہورہا تھا۔
    اسکے ایسے کئی سوشل ورک آج تک جاری ہیں۔
    وہ۔مزید کہہ رہی تھی۔
    جی ہائے بس کرو چپ کرکے بیٹھو
    ہایون گھرک رہا تھا۔ جی ہائے اسے چھیڑے جا رہی تھی۔ دونوں اب مکمل ہنگل میں بحث میں الجھے تھے۔
    اسے حیرت ہوئی تھی اتنا امیر ہونے کے باوجود وہ کتنا سلجھا ہوا لڑکا تھا۔ اور یہ جی ہائے اسکی سب خوبیاں جاننے کے باوجود اس کو لائن نہیں مارتی تھی دونوں بس دوست تھے۔ ہنستے لڑتے بے تکلف دوست
    اسے ان دونوں کی اب نگاہوں کی بجائے عقل پر شبہ ہونے لگا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جی ہائے اتری تو وہ پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی۔
    تم انکا کیا کرو گے؟ اسکا اشارہ ٹوکری کی۔جانب تھا۔
    میں انکو بیچ کر تمہیں پیسے دوں؟ اسکے کہنے پر
    ہایون نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چھٹی کا وقت تھا اسکول کے جوق در جوق ٹین ایجرز یونیفارم میں ادھر سے گزرے تھے۔تو دفتر سے واپس گھر کو۔جانے والے بھئ بڑی تعداد میں لوگ آ جا رہےتھے۔
    وہ زندگی میں پہلی دفعہ یوں اسٹال لگا کے کھڑی تھی ۔ مگر یہاں کوئی گھورنے والا نہیں تھا یہ اطمینان تھا۔ ایک تو اسکا کرتا پاجامہ شیفون کا دوپٹہ توجہ کا مرکز بنا دوسرا ہایون ہاتھ میں دو پنکھے پکڑے لوگوں کو الگ پکڑ پکڑ کر اسکے اسٹال کی۔جانب بھیج رہا تھا۔
    بریسلیٹ فرینڈ شپ بینڈز منٹوں میں ختم ہوئے تھے۔۔ چھوٹے چھوٹے پنکھے اورکنگھیاں ۔۔ بچے تھے بس۔۔ اریزہ کے پاس یکے بعد دیگرےجب لڑکے کنگھی خریدنے آنے لگے تو ہایون آگے بڑھ کر ان سے بھائو تائو کرنے لگا۔۔
    دیکھتے دیکھتے وہ بھی ختم ہوئے۔۔ دو چار پنکھے اور دو تین کنگھے بچے بس۔۔
    اریزی نے پیسے گنے اور ایمانداری سے سب اسے تھما دیئے۔۔
    سب مجھے کیوں۔۔ ہایون حیران تھا
    ۔۔ تمہاری محنت تھی ساری مجھ سے تو کوئی کچھ خرید ہی نہیں رہا تھا۔۔
    اریزہ نے پیسے آدھے آدھے کر دیئے۔۔
    تمہاری اکنامکس خاصی کمزور ہے۔ سرمایہ کاری۔ تمہاری تھی۔۔۔
    اریزہ نے جتایا تو وہ۔ہنس دیا۔۔
    ویسے مزا آیا۔۔۔ وہ نوٹ پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
    تم نے سارے بڑے نوٹ مجھے دے دیئے۔ہایون نے جتایا۔۔
    ہا۔ اس نے تھک کر سب پیسے اسکے ہاتھ پر رکھ دیئے۔۔
    آدھے آدھے کرو۔۔
    مجھے نہیں چاہیئے۔۔ ہایون نے منع کیا مگر وہ قطعی انداز میں بولی۔۔
    محنت ہم دونوں کی ہے سو پیسے برابر بانٹو۔۔
    وہ کندھے اچکا کر اسے سمجھانے لگا۔۔
    یہ سب سے چھوٹا نوٹ ہے یہ بڑا۔۔۔ کچھ اسکے پلے پڑا کچھ سر پر سے گزر گیا۔۔
    یہ کونسی جگہ ہے ویسے۔۔
    اس نے نوٹ والٹ میں رکھتے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔
    ارد گرد بہت بڑی بڑی عمارتیں تھیں۔ وہ ایک عمارت کے داخلی راستے کے قریب کھڑے تھے۔۔ ان سے چیزیں خریدنے والے اسی عمارت میں گھستے گئے تھے۔۔
    یہ وہی ہال ہے جہاں بریو ہارٹ کا کانسرٹ ہو رہا۔
    ہایون نے سرسری انداز میں بتایا۔۔
    لو یہاں آگئے ہیں تو کانسرٹ میں چلتے ہیں۔۔اریزہ نے کہا تو ہایون نے پوچھا۔۔
    پاس ہے تمہارے پاس۔۔ ؟
    ہاں۔۔ اس نے فورا سر ہلایا پھر یاد آیا
    پاس تو اس نے اپنے بیڈ سایڈ ٹیبل کی دراز میں رکھا تھا۔۔وہ کھسیا گئ۔۔
    ہاسٹل میں ہے۔۔ اس نے مرے مرے انداز میں کہا۔۔
    چلو تمہیں اسٹریٹ میوزک سناتا ہوں۔۔ اسے کھڑے کھڑے آئڈیا آیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اسے مشہور گنگنم اسٹریٹ لے آیا تھا۔۔
    یہاں جا بجا کلب اور ریستوران تھے یہ کورین نائٹ لائف کا گڑھ تھا۔۔ سڑک کنارے مختلف فنکار بیٹھے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے۔۔ کہیں کوئی موسیقی کا کوئی ساز بجا رہا تھا تو کہیں چھوٹے موٹے فنکار کرتب دکھا رہے تھے۔۔ وہ بے حد دلچسپی سے سب دیکھ رہی تھی۔۔ بڑے بڑے کارٹون کیریکٹر والا لباس پہنے لوگ پھر رہے تھے۔۔ اس نے دو تین کے ساتھ تصویر بنوائی۔ ایک جانب ایک پلازے کے باہرپلازے کی سیڑھیوں۔پر بیٹھا ایک لڑکا گٹار بجا رہا۔تھا۔ کئی لوگ اسکے گرد گھیرے میں کھڑے اسے سن رہے تھے کچھ غیر ملکی اسکی تصویر بھی بنا رہے تھے۔۔
    کوئی نا مانوس دھن تھئ مگر دل چھو لینے والی وہ مگن ہو کر اسکے پاس ہی سیڑھیوں پر آبیٹھی۔
    ہایون بھی اسکے پاس آبیٹھا۔۔
    لڑکا دھیرے دھیرے گنگنا نے لگا۔
    اسومی منچھو جی آنا نوا سنگا کامیون گیبون جو ہا
    بلگیری منچجو جی آنا نوا سارنگی تھل یو گا۔۔ بے بی یور مائی لو۔۔
    نوا سارنگی باجم نوا۔ بے بی یور مائی ڈریم۔
    نوا تورئ سا اسومی منچھیو دے۔ نوا توری گچیون بومسے نوا مے یو نوا تورئ سا ہنا داگو شپو۔۔
    بے حد خوبصورت آواز تھئ۔
    گٹار بجاتے لڑکے نے مسکرا کر انکی جانب مڑ کر دیکھا تو وہ چونکی۔ پھر پلٹ کر ہایون کو دیکھنے لگی۔۔ وہ بے حد جزب سے آنکھیں بند کیئے گا رہا تھا۔۔
    گٹار کی دھن ختم ہوئی اسکا گایا ہوا گانا مکمل ہوا۔۔
    سب نے پرجوش تالیاں بجائی تھیں۔۔ سب سے زیادہ زور سے اسے اریزہ کی بجائی تالی ہی سنائی دی تھی۔ وہ آنکھیں کھول کر مسکرایا۔۔
    اریزہ اسے ہی دیکھتے پر جوش انداز میں تالیاں بجا رہی تھی۔۔
    وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔ وہ اورگٹار بجاتا لڑکا جھک جھک کر کورنش بجا لا رہے تھے۔۔
    لوگ چھٹنے لگے تو وہ سیڑھیاں اتر کرہایون کے پاس آئی۔۔
    واہ بھئی۔۔ تمہاری تو آواز بہت اچھی ہے تمہارے اس چھپے ہوئے فن کا تو مجھے علم ہی نہیں تھا۔۔ وہ۔کھلے دل سے تعریف کر رہی تھی۔۔
    گومو ویو۔ وہ جھینپ گیا تھا۔۔
    ہائی اسکول میں میں اور سن بے بہت گاتے تھےہر فنکشن میں شروع ہو جاتے تھے تب ہمارا ارادہ آڈیشن دے کر کسی کمپنی کا حصہ بننے کا بھی تھا۔۔
    وہ چلتے چلتے سرسری انداز میں بتا رہا تھا۔۔
    پھر دیا کیوں نہیں؟۔
    اس نے پوچھا تو وہ سر جھٹک گیا۔۔
    پھر سن بے کی زندگی میں گرل فرینڈ آگئ اسکا سارا دھیان بس اسکی جانب ہو گیا۔۔
    اریزہ زور سے ہنس دی۔۔
    ہایون اسے یوں دیکھنے لگا جیسے پوچھ رہا ہو ہنسنے کی کیا بات۔۔
    جب آپکے دوستوں کی زندگی میں خاص لوگ آتے تو وہ آپکو مزے سے ایک طرف کر دیتے چاہے وہ کتنے ہی اچھے دوست ہونے کا دعوی کیوں نہ کرتے ہوں۔۔ اب سنتھیا بچپن کی دوست میری مگر جب سے ایڈون اسکی زندگئ میں آیا مجھے بھول ہی گئ ہے۔۔ بتاتے بتاتے اسکا انداز شکائتی سا ہو گیا تھا۔۔
    ہایون اسے رک کر دیکھنے لگا
    تم سنتھیاکو بہت پسند کرتی ہو۔۔
    پسند۔۔
    اس نے زور دے کر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔
    میں محبت کرتی ہوں اس سے۔۔ وہ مسکرا کر سادہ سے انداز میں کہہ گئ۔۔
    مجھے اندازہ تھا۔۔ ہایون نے اسے تسلی دینے والے انداز میں کہا۔۔
    ایک بار میں نے تم دونوں کو دیکھا تھا۔۔ تم لوگ سڑک پر گلے لگی ہوئی تھیں۔۔ کوریا میں ایسا کم کم دیکھنے کو ملتا ایک جنس کے لوگ تو بالکل بھی نہیں۔۔ ابھی ہم اتنے ایڈوانس نہیں ہوئے
    ۔ وہ ہنس کر کہہ رہا تھا۔۔
    کیوں۔اس میں ایڈوانس کی کیا بات۔ وہ سمجھی نہیں۔۔
    جی ہائے اور گوارا بھئ بہت قریبی سہیلیاں ہیں۔۔کوریا میں بھی۔۔
    زن سے اسکے دماغ میں کوئی چیز کھٹک گئی۔۔
    ہاں مگر جی ہائے سنگل ہے گوارا کا تو بوایے فرینڈ ہے۔۔ اور جی ہائے اور گوارا دوست تو ہیں مگر گرل فرینڈ تھوڑی ہیں تمہارے اور سنتھیا کی طرح۔۔
    کیا۔۔ وہ سمجھ کر زور سے چلائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے ہاسٹل کے باہر ڈراپ کیا تو وہ تن فن کرتی اتری اور بنا اسے کچھ کہنے کا موقع دیئے تیز تیز قدم اٹھاتی اندر گھس گئ۔۔ وہ کندھے اچکا کر گاڑی واپس موڑ گیا۔۔
    حد ہے مطلب حد ہی ہے۔۔ وہ بھناتی ہوئی مٹھی بھینچتی کمرے میں آئی۔۔ سنتھیا کمرے میں نہیں تھی۔۔ وہ بیگ وہیں ٹکا کر باتھ روم میں گھس گئی۔۔ منہ پر چھپاکے مار مار کر غصہ کم کرنے کی کوشش کی۔۔
    منہ پونچھتی باہر نکلی بیگ اٹھا کر سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔ پھر جانے کیا خیال آیا۔۔ بیگ اپنے بیڈ پر اچھال کر تیزی سے نیچے اتری۔۔ پہلے کمرے کا دروازہ لاک کیا پھر آکر سنتھیا کا تکیہ کھینچا۔۔
    خالی تھا۔۔ اس نے بستر جھاڑا بیڈ کے نیچے جھانکا سائڈ ٹیبل تلاش لی۔۔
    وہ الجھ گئ۔۔ پھر نا جانے کیا خیال آیا دوڑ کر کوڑے دان کے پاس آئی۔۔ کوڑے دان میں نیا شاپر لگا ہوا تھا اس پر دو دوائیوں کے خالی ریپر چمک رہے تھے۔۔اس نے انکو نکال لیاتھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کم سن سپا سے نکل رہا تھا جب کوئی اسکے پاس سے گزرا وہ چونک کر مڑا۔۔
    وہ ایک دھان پان سی لڑکی تھی۔۔ تھوڑی مانوس سی شکل کی۔۔ کاوئنٹر پر سے الماری کی چابی لیکر وہ بنا مڑ کر دیکھے خواتین کے لیئے مخصوص حصے کیطرف بڑھ گئ۔۔
    کم سن اسے پکارنے ہی لگا تھا پھر کچھ سوچ کر چپ رہا اور واپس کائونٹر پر موجود لڑکی کے پاس آگیا۔۔
    جی سر۔۔ لڑکی نے مسکرا کر اس پرتوجہ کی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لوگ چاہے دنیا کے کسی حصے میں بھی رہتے ہوں۔۔
    آپکو اپنی مرضی کے مطابق جانچتے۔۔ اپنی مرضی کا نتیجہ اخذ کرتے۔۔ اور اپنی مرضی کا ردعمل دیتے۔۔ پھر چاہے وہ آپکا چھوٹا سا عمل ہو یا کوئی بڑی حرکت سب کیلیئے آپ جوابدہ ہیں۔۔ پہلے دنیا کے سامنے۔۔ آخرت بہت بعد کی بات ہے۔۔
    اس نے بھناتے ہوئے شائع کیا تھا۔۔
    پہلا کمنٹ۔۔
    اب کیا کر بیٹھی ہو ایڈمن۔۔
    دوسرا۔
    پہلے یہ بتائو اتنے دن سے کہاں تھیں ۔۔ تم جوابدہ ہو ہمارے بتائو۔۔ بلاگ پر کچھ شائع کیوں نہیں کیا اتنے دن۔۔ سامنے ہنستا ہوا اسمائیلی۔۔
    اسکے چہرے پر بھی مسکراہٹ آ ہی گئ تھی۔۔
    تیسرا۔۔
    مجھ سے خود اجالا پوچھ رہی میں سارا دن کیا کرتا رہا سچ مچ بس سوتا رہا ہوں کوئی یقین دلا دو اسے۔۔
    چوتھا۔۔
    مجھے لڈو اسٹار میں کوئی چیلنج کرنا چاہتا تو آجائے۔۔
    پانچواں۔۔
    لوگوں کا کیا ہے ایک دن سب مر جائیں گے دیکھنا۔۔
    چھٹا۔۔
    ہم دنیا میں انسان بن کر آئے ہیں انسانوں میں رہنے آئے ہیں۔ پھر کہیں ہم انہیں کہیں وہ ہمیں سہہ لیں تو زندگی سہل ہے۔۔ اور انسان انسانوں کے بغیر رہ بھی تو نہیں سکتا۔۔ رہنا منع بھی ہے۔ سو تھوڑا سا برداشت سے کام لیجئے۔۔ لوگ اتنے بھی برے نہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سنتھیا رات کو کافی دیر سے آئی تھی۔ آتے ہی بنا آہٹ کیئے بستر میں گھس گئ۔۔
    صارم کا میسج آیا تھا۔ رمضان مبارک۔
    ہوگیا چاند پاکستان میں؟ اسے حیرت ہوئی۔
    بہن کوریا میں ہوگیا ہے اور گھڑی دیکھو بس ایک گھنٹہ ہے تمہارے پاس۔
    صارم نے کہا تو وہ اچھل کر اٹھ بیٹھی۔
    تمہیں کیسے پتہ؟ اس سے احمقانہ جملہ بھی کہہ سکتی صارم کو اندازہ تھا۔
    تمہیں کیسے نہیں پتہ؟ بی بی گوگل کرلو۔
    صارم بی بی ہمیشہ اسے چڑانے کو ہی کہتا تھا۔
    اچھا۔ اس نے مایوسی سے سر کھجایا۔ بلاگ لکھتے فیس بک استعمال کرتے وقت کا پتہ نہ لگا تھا اسے۔ جلدی سے اٹھ کر اپنی دراز کھنگالنے لگی۔
    ایک آدھ چاکلیٹ اور چپس کا پیک تھا بس۔ ان سے روزہ نہ گزرتا اسکا۔ اور پانی۔ وہ کچھ سوچ کر نیچے اتر آئی۔
    سنتھیا۔
    اس نے دھیرے سے پکارا۔ سنتھیا دس پندرہ منٹ میں سو تو نہیں گئ تھئ۔ مگر سوتی بنئ رہی۔
    وہ چند لمحے اسکے اٹھنے کا انتظار کرتی رہی پھر دھیرے سے کمرے کا دروازہ بند کرتی باہر نکل گئ۔
    اس نے دروازے کی آواز پر سر پر سے کمبل ہٹا کر دیکھا۔
    پھر موبائل اٹھا لیا۔
    سالک نے گروپ میں رمضان مبارک لکھ کر بھیجا تھا
    وہ گہری سانس لیکر رہ گئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ صاف ستھرے مگر بھائیں بھائیں کرتے کچن میں متزبزب کھڑی تھی۔ کم از کم یہاں پانی تھا۔ اس نے ایک الماری سے پلیٹ نکالی۔ ایک پیپر کپ اٹھایا۔ اس میں پانی بھرا۔
    اپنی سحری کو غور سے دیکھا۔ ایک کمینی سی سوچ آئی۔ آج پکا جا کے تھوڑی کھانے پینے کی چیزیں لے آئوں گی کل سے سارے روزے جائیں گے۔ مگر پھر اپنی سوچ پر شرمندہ بھی ہوگئ۔
    صبر شکر کرکے اسٹول گھسیٹ کر میز پر بیٹھ گئ۔ تبھی سامنے کریکرز کا پورا پیکٹ آدھرا۔
    دو انسٹنٹ کافی کے ساشے تھامے سنتھیاں مصروف سے انداز میں سامنے الیکٹرک کیٹل کی۔جانب بڑھ گئ
    تم بہت لاپروا ہو تمہیں رمضان سے قبل کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے لینی چاہیئیں تھیں۔
    سنتھیا اسے ڈانٹ نہیں رہی تھی ۔۔اور یہ سپاٹ سے انداز میں بولتی سنتھیا اسکے لیئے یکسر اجنبی تھی۔۔۔
    بس غلطی ہوگئ۔ وہ سنبھل کر مسکرائی۔
    کریکرز خشک تھے۔ چپس وہ شوق سے کھاتی نہیں تھی۔ سنتھیا نے بھاپ اڑاتی کافی کا مگ لا کر اسکے سامنے رکھا تو اس نے چپس اسکی جانب بڑھا دیئے۔
    کھائو تمہارا پورا دن گزرنا ہے۔ سنتھیا کو اسکی فکر بھی تھی۔۔
    یہ کھا رہی ہوں نا۔ اس نے بسکٹس کا پیکٹ لہرایا۔ گندم کے بسکٹس کافی ذیادہ تھے اسکا پیٹ بھرنا شروع ہوگیا۔
    تمہاری طبیعت کیسی ہے؟
    سنتھیا اسکے پوچھنے پر چونکی
    ٹھیک ہوں مجھے کیا ہوا۔
    اریزہ نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی تو گڑبڑا سی گئ ۔۔
    بس وہ تھوڑا سر میں درد تھا بس۔۔۔۔
    پھر کچھ خیال آیا تو سیدھی ہو بیٹھی۔۔
    ایڈون اور میں ڈیٹ پر گئے تھے۔ نام سان ٹاور۔ بہت خوبصورت جگہ ہے۔ پورا سیول نظر آتا ہے۔ وہاں سے۔
    ایڈون اور میں نے وہاں لو لاک بھئ لگایا۔ اتنا خوبصورت دل کی شکل کا تالا تھا۔ کہتے ہیں وہاں جو اپنی محبت کا تالا لگاتے ہیں انکو دنیا کی۔کوئی طاقت الگ نہیں کرسکتی۔
    سنتھیا بہت شوق سے بتا رہی تھی اریزہ مسکرا دی۔ سادہ سی مسکراہٹ اریزہ کی مسکراہٹ سے وہ کوئی معنی نہ اخذ کر سکی۔
    سرجھٹک کر چپس کا پیکٹ کھولنے لگی۔
    یہ تمہاری گردن پر کیا ہوا۔ اسکے شانوں پر بکھرے بال اسکے سرجھٹکنے پر پیچھے ہوئے تو اریزہ کو اسکی گردن پر سرخ سا نشان نظر آیا۔ وہ تفکر سے پوچھ رہی تھی۔
    یہ۔ سنتھیا سٹپٹاسی گئ۔
    کوئی کیڑا مسل گیا تھا ہم ہنگن دریا کے کنارے پر بیٹھے تھے نا کافی دیر۔
    اس کی زبان لڑکھڑائی۔ رمضان میں جھوٹ ۔۔۔
    اس نے دزدیدہ نگاہوں سے اریزہ کو دیکھا۔
    اریزہ سر ہلا کر کافی ختم کررہی تھی۔ اسے ویسے بھی کریدنے کی عادت نہیں تھی۔
    رمضان ہمارا تہوار نہیں ہے احمق۔
    اسکے کان کے پاس بھاری سی آواز میں کسی نے سرگوشی کی تھی۔۔ اریزہ مکمل طور پر سحری میں مگن تھی۔
    بہت میٹھا میٹھا ہو گیا۔۔۔
    اریزہ نے مگ رکھ کر اسکے چپس کے بیگ سے ایک دو چپس اٹھا کر منہ میں ڈالے ۔۔
    گلابی سی بھری بھرئ سی انگلیاں ۔۔ اسکے ہاتھ خوب نرم نرم سے تھے۔ اسکے ہاتھ بالکل برعکس تھے ۔ سانولے پتلے استخوانئ سی انگلیوں والے۔۔ کسی سانولے سے ہاتھ میں ہاتھ رکھتئ تھی تو نظر بھی نہیں آتے تھے الگ سے۔۔
    ۔ وہ بلا ارادہ اپنے ہاتھ مسل کر جھاڑنے سی لگی جیسے اسکے ہاتھ پر کوئی دھول مٹی سی لگ گئ ہو۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لی گروپ کی وسیع و عریض عمارت اسے اپنے گرد شکنجا کستی محسوس ہو رہی تھی۔۔ وہ خود ہی ڈرایئو کر کے آیا تھا۔۔چند لمحے یونہی باہر کھڑا عمارت کی پیشانی پر کھدے لی گروپ کے الفاظ کو ہی گھورتا رہا۔۔ آتے جاتے ملازمین اس بات سے بے خبر تھے کہ انکا مستقبل کا سی ای او انکے درمیان گمنامی میں کھڑا ہے۔۔ وہ سر جھٹکتا اندر داخل ہو گیا۔۔
    سیکٹری سو جان سوک اسکے انتظار میں باہر ریسیپشن پر ہی کھڑے تھے۔۔ اسے آتے دیکھ کر تعظیما جھکے۔۔
    آہبو جی کی خاص ہدایت تھی۔۔
    ہایون کو میں اس عمارت میں داخل کرنے پر مجبور کر چکا ہوں یہاں سے نکلنے نہ دینا آپکی زمہ داری ہے۔۔
    کالے کوٹ پینٹ سرمئی شرٹ اور ٹائی میں ملبوس اکیس سالہ ہایون کے کم عمر چہرے پر دنیا جہان کی بے زاری تھی۔۔ وہ سمجھ گئے تھے اسکو کیسے کہاں کتنا مصروف رکھنا۔۔
    اسکو اسکے دفتر تک وہی لے کر آئے تھے درمیان میں آٹھ دس ڈاریکٹر پراجیکٹ مینیجر ز اور جانے کیا کیا عہدہ سنبھالے افراد سے اسکا تعارف کروایا گیا۔۔ وہ مل مل کر تھک گیا۔۔
    سیکٹری نے اسکو چھوٹا موٹا خلاصہ پیش کیا کہاں کس کس جگہ اسکے والد محترم پیسہ پھنسا چکے تھے کہاں کہاں مزید سرمایہ کاری کرنی تھی۔۔ کن نئے پراجیکٹس سے انکو بڑی امیدیں تھیں۔۔ امریکہ کس سلسلے میں گئے۔۔ جب باقائدہ اس نے جمائی لی تب جان چھٹئ۔۔ سیکٹری جان اسے چائے پینے کا مشورہ دیتے اسکے لیئے چائے کا آرڈر دیتے باہر چلے گئے
    حسب توقع اسکے زمے کوئی کام نہیں تھا۔۔ سب کچھ اسکی غیر موجودگی میں بھی ویسے ہی ہونا تھا سیکٹری مینجرز سب اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔۔
    آہمو جی میں آپ سے کبھی جیت نہیں سکتا۔۔
    آپ نے مجھے مجبور کر ہی دیا یہاں آنے پر۔
    وہ بے بسی سے بڑ بڑایا۔۔
    سیکٹری جان کو خاص ہدایت تھی کہ ہر کام کرتے وقت اسے با خبر ضرور کیا جائے جیسے کہ اگر وہ نہ ہو تو سب رک جائے گا۔۔
    تیسری بار وہ اسے کوئی فائل اٹھائے کسی پراجیکٹ کی تفصیل بتانے آئے تو اس نے ٹوک دیا۔۔
    مجھے یہ بتائیں میرے دستخط درکار ہیں آپکو؟۔۔
    جی یہاں۔۔
    انہوں نے گڑ بڑا کر اسے ایک جگہ بتائی۔۔
    اس نے خاموشی سے دستخط کیئے اور انہیں جانے کا اشارہ کیا۔
    بے چارے تعظیما جھک کر سر ہلاتے چلے گئے۔۔
    اسکا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔۔ دو بجے اس نے سب دفتری تہزیب بالائے طاق رکھتے ہوئے کمرے میں رکھے آرام دہ صوفے پر کشن سیدھا کیا اور بے خبر ہو رہا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انی تین بجے کے قریب دفتر آئی تھیں۔۔۔
    وہ صوفے پر بے خبر سو رہا تھا۔
    انکے ساتھ آئی سیکٹری نے آگے بڑھ کر اٹھانا چاہا مگر انہوں نے اشارے سے منع کر دیا۔۔اور اسے بھی بھیج دیا۔۔
    خود دھیرے سے اسکے مقابل رکھے صوفے پر بیٹھ کر اسے تکنے لگیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ پندرہ سال کی تھیں جب آٹھ سالہ ہایون آہبو جی کا ہاتھ تھامے سہما ہوا سا انکے گھر داخل ہوا تھا۔۔وہ اسی وقت اسکول سے واپس آئی تھی۔۔ بیگ لائونج کے صوفے پر ٹکا کر اس نے آہبو جی سے پوچھا تھا۔۔
    یہ کون ہے؟۔۔
    ہیون آہبو جی کا ہاتھ تھامے انکے پیچھے چھپ رہا تھا۔۔
    آہبو جی لمحہ بھر کو سوچا تھا پھر کھنکار کر تعارف کروایا۔۔
    یہ تمہارا چھوٹا بھائی ہے گنگشن۔۔
    وہ اتنی چھوٹی نہیں رہی تھیں کہ سمجھ نہ سکتیں کہ انکی ماں کی اولاد نہ ہونے کے باوجود بھی انکا کوئی بھائی پیدا ہو سکتا ہے۔۔
    وہ تذبذب سے انہیں دیکھنے لگیں آیا کیا رد عمل ظاہر کریں۔۔ آہبو جی نے کبھی انکو اپنے اتنے قریب آنے نہیں دیا تھا کہ وہ سمجھ سکتیں اس وقت انکا کیا مزاج ہے۔۔ تبھی تیار ہو کر اپنی پنسل ہیل کو ٹک ٹک کرتی آہموجی وہیں چلی آئیں۔۔انکا پرس تھامے انکی سیکٹری انکے پیچھے پیچھے تھی۔۔
    تم اس بار جلدی روس سے نہیں آگئے؟۔۔
    آہبوجی نے جیسے ان سنا ہی کر دیا۔۔
    تمہیں واپس دیکھ کر مجھے ہرگز خوشی نہیں ہوئی۔
    تم وہیں کسی حادثے میں مر کیوں نہ گئے۔۔
    وہ۔طنز سے صرف انہیں بولنے پر مجبور کر نا چاہ رہی تھیں۔۔ سولہ سالا رفاقت اتنا تو لی کو سمجھا چکی تھی سو مکمل نظر انداز کردیا۔۔
    آہجوما۔۔ وہ ملازمہ کو پکار رہے تھے۔۔
    ملازمہ پلک جھپکتے میں حاظر ہوئی۔۔
    اسکے رہنے کیلیئے کمرہ تیار کرو۔۔
    یہ بچہ کون ہے؟۔۔
    انکی اب نظر پڑئ تھی۔۔
    میرا بیٹا۔۔
    مختصر جواب آیا تھا۔۔
    کیا۔۔ وہ حلق کے بل چلائیں۔۔
    تم جیسے بھنورا صفت انسان کا ایک عورت کیساتھ گزارا نہیں اس بات پر میں نے صبر کر لیا تھا مگر ان دو ٹکے کی عورتوں سے تم بچہ پیدا کروا کر اس گھر میں لے آئو گے میں تمہارے اس گھٹیا پن کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔
    وہ حلق کے بل چلا رہی تھیں۔۔
    میں تمہارا پابند نا تھا نہ ہوں۔۔ میری مرضی میں جہاں جس مرضی سے اپنی اولاد پیدا کروائوں تم تو مجھے وارث دے نہیں سکی ہو مجھے بے نشان نہیں رہنا تھا۔۔
    وہ ان سے بھی اونچی آواز میں چلائے۔۔
    تو تم اب اس حد تک پاگل ہوگئے ہو بیٹے کی خواہش میں کہ نا جائز اولاد پیدا کروا ڈالی ؟۔۔ اس طوائف کی اولاد تمہارا خون ہے اس بات کا یقین کیسے ہوا تمہیں؟۔۔
    آہمو جی جوان ہوتی بیٹی اور کم سن بچے کی موجودگی یکسر فراموش کیئے جو منہ میں آ رہا تھا بولے جا رہی تھیں۔۔
    میرا خون ہے میری اولاد اگر تمہیں شک ہے تو ہوتا رہے۔ اور بیلا طوائف نہیں اسکے بارے میں سنبھل کر بات کرو۔۔
    دونوں کی بحث بیچ لائونج میں جاری تھی۔۔ گھر میں موجود ملازمین کی موجودگی سے بے نیاز وہ دونوں غیض و غضب سے کانپ رہے تھے۔۔
    ہایون نے ڈر کر رونا شروع کر دیا تھا۔۔
    وہ اتنا خوفزدہ تھا کہ بے آواز رو رہا تھا۔۔
    آہجومہ اسے لے کر جائو کمرے میں۔۔
    آہبوجی کی نظر پڑ گئ تھی۔۔
    خبر دار میں کسی کی ناجائز اولاد کو اپنے گھر میں نہیں گھسا سکتی۔۔ آہمونی نے فورا روکا۔۔
    کم سنائی دیتا ہے تمہیں لے کر جائو اسے کمرے میں۔۔
    لی سوجن کی اتنی اونچی آواز شائد پہلی بار ہی اس گھر کے درودیوار سن رہے تھے
    خبردار جو اسکو اندر لے کر گئیں۔۔
    آہمونی کم نہیں تھیں ۔۔ انکی آواز بھی کافی اونچی ہوتی جا رہی تھی۔۔
    آج ابھی فیصلہ ہو گا۔۔ میں کسی ناجائز اولاد کو اس جائداد کا حصہ نہیں بننے دے سکتی۔۔
    فون لگائو وکیل کو۔۔
    آہمونی غصے سے پاگل ہو رہی تھیں۔۔ سیکٹری گڑبڑا کر انکا موبائل پرس سے نکالنے لگی۔۔
    کسی غلط فہمی میں مت رہنا مجھے سے ٹکرائو گی تو سڑک پر لا کھڑا کروں گا۔۔ کسی تیسرے کو سوچ سمجھ کر بیچ میں لانا۔۔
    وہ اتنی دیر میں کچھ سوچ چکے تھے۔۔مگر آہمونی خاطر میں لانے کو تیار نہ تھیں۔۔
    دیکھ لوں گی تمہیں ۔۔
    اس بچے کو اس گھر میں لا کر تم نے اس گھر کا بٹوارہ کرنے کی شروعات کر دی ہے۔۔
    انہوں نے سہمے ہوئے بچے کی جانب اشارہ کیا۔۔
    تم ابھی تک یہیں ہو۔۔ وہ حلق کے بل چلائے۔۔
    یہ اس گھر میں نہیں رہے گا۔۔ آہمونی جی ان سے بھی زور سے چلائیں۔۔
    آہش۔۔ لی نے غصے سے انکا بازو تھاما اور انہیں انکے احتجاج کے باوجود کھینچتے ہوئے کمرے میں لے گئے۔۔
    ملازمہ کبھی ہاتھ تھامتی کبھی چھوڑتی ہایون کا بیمار بدن وہیں ڈھیر ہو گیا تھا۔۔
    خاموش تماشائی بنی گنگشن کو جانے کیا ہوا آگے بڑھ کر اس نے اس بچے کو بانہوں میں بھر کر گرنے سے بچا لیا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بخار تیز ہو گیا تھا۔۔ اس کے سرہانےبیٹھی پٹیاں رکھ رکھ کر وہ اسکا بخار کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
    بے ہوشی میں ہایون نے ماں سمجھ کر اسکا ہاتھ پکڑا تھا۔۔
    ماما۔۔ماتوشکا۔۔
    ایک۔لمحے کو وہ رک سی گئیں۔۔ بخار سے تپتے سرخ چہرے خشک لبوں سے وہ بچہ ماں کو پکار رہا تھا۔۔اسے ماں ہی دکھائی دی تھی یا کیا۔۔ اس نے بمشکل آنکھ کھول کر اس محبت بھرے لمس کو ماں کے لمس پر محمول کرتے گرفت کیا تھا
    اسکی ماں نے خواب میں پیار سے اسکے ہاتھ کو چوما تھا۔۔
    اس نے آنکھیں کھولیں ایک مہربان سا چہرہ اس پر جھکا تھا۔۔
    وہ اس نامانوس چہرے کو پہچاننا چاہ رہا تھا۔۔
    اسکی آنکھ کھل گئ۔۔ ہایون کسمسا کر سیدھا ہوا
    صوفے پر سونے سے اسکا جسم شل ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔ وہ گردن ہلا تا کندھے کھینچ کر انہیں آرام دہ انداز میں لا کر اٹھ بیٹھا۔۔ گنگشن اسکے سامنے والے سگل صوفے کی ہتھی پر بازو ٹکا ئے سر رکھے سو رہی تھی۔۔ اسکو بہن پر پیار سا آگیا۔۔ اپنا کوٹ اسٹینڈ سے لا کر احتیاط سے ان کو اڑھا دیا۔۔ وہ بلائنڈز کھینچ کر نیم اندھیرا کر کے سونے لیٹا تھا۔۔ صرف اسکی میز کے اوپر کی دو بتیاں جل رہی تھیں۔۔ اس نے بلائینز ہٹا کر باہر جھانکا
    شام کے چھے بج رہے تھے اندھیرا ہوا ہی چاہتا تھا۔۔
    سیول کی روشنیاں جلنا شروع ہو چکی تھیں۔۔
    تبھی دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر اسکی پی اے اندر داخل۔ہوئی۔۔
    سر ۔۔ وہ ابھی اتنا ہی بولی تھی۔۔
    اس نے انی کی نیند خراب ہونے کے ڈر سے اسے خاموش کرا دیا۔۔ پھر اسکے ساتھ ہی باہر نکل آیا
    سر دفتری اوقات ختم ہو چکے ہیں۔۔ آپ نے دو میٹنگز کیلیے بعد میں وقت نکالنے کو کہا تھا میں نے چار بجے کی ملاقات طے کردی تھی مگر۔۔ وہ اٹکی۔۔
    ہایون اسے خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔۔
    پھر آپ کیلیے کل دوپہر کے کھانے کا وقت طے کر دیا ہے۔۔ معزرت میں آپ سے پوچھ نہ سکی مگر اگر آپ کو اعتراض ہو تو
    وہ اچھا خاصا ڈر رہی تھی اس سے
    ٹھیک ہے۔۔ تم بھی اب جائو۔۔
    ہہونگ سک کو ترس ہی آگیا۔۔ وہ جان چھٹی سو لاکھوں پائے والے انداز میں سر ہلاتی اپنی میز کی جانب بڑھ گئ۔۔ تبھی انی دروازہ کھولتی باہر چلی آئیں۔
    اٹھ گئیں آپ۔۔ اس نے مسکرا کر پوچھا۔۔
    ہاں دیکھو زرا کیسے بے وقت سو گئ۔۔ انہوں نے ہنستے ہوئے اسکا کوٹ اسے تھمایا۔۔
    رات کا کیا پروگرام ہے؟۔۔ ہایون نے پوچھا تو انہوں نے کندھے اچکا دیئے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انی نے ڈھیروں ڈھیر شاپنگ کی تھی۔۔ وہ بھی اسکی۔۔
    اسکیلیئے نت نئے رنگوں کی شرٹ پینٹ پسند کرتی پھریں۔۔ اسکو ٹرائی روم بھیجتیں کہ جو سب سے زیادہ جچے گی وہی خریدیں گی۔۔ مگر پھر ہر شرٹ پر انکا دل آجاتا۔۔ شہزادہ لگتا انہیں اپنا بھائی۔۔ ایک بار تو اسے چوم ہی لیا۔۔ وہ ہنس ہی پڑا تھا
    پورئ دکان خریدنی ہی تھی تو مجھے کیوں بار بار کپڑے بدلواتئ رہی ہیں۔۔
    ڈھیروں ڈھیر بیگز اٹھائے باہر نکلتا بظاہر وہ منہ بنا کر کہہ رہا تھا۔۔
    پتہ نہیں پھر کب موقع ملے۔۔ میں بس چاہ رہی تھی۔۔
    وہ یاسیت سے کچھ کہتے کہتے رک گئیں۔۔ انداز خود کلامی کا تھا۔۔
    ہایون کو سمجھ نہ آیا سو رک کر پوچھنے لگا۔۔
    کیا کہہ رہی ہیں آپ۔۔
    میں کہہ رہی۔۔ میرا اتنا شہزادوں جیسا حسین بھائی ہے مگر ہے ایکدم گھامڑ۔۔ ایک لڑکی نہیں پٹا سکتا کیا کرے گا یہ۔۔
    انہوں نے ہلکے سے اسکی پیشانی پر چپت لگادی
    یہ تو نہیں کہہ رہی تھیں۔۔۔
    وہ دھیرے سے مسکرایا۔۔
    یہ اسکا مخصوص انداز تھا۔۔ بے چارگی بھرا جب جب انی اسے ٹالتی تھیں وہ یونہی مسکرا دیا کرتا تھا جیسے کہہ رہا ہو جانتا ہوں مجھ سے کچھ چھپا رہی ہیں۔ اور انی ہمیشہ کی طرح اسکی آنکھوں میں دیکھنے سے گریز کرتی قصدا ہلکے پھلکے انداز میں بولتی بات بدل گئیں۔۔
    مجھے پارچے کھانے ۔۔ وہ بھی خود تل کر۔۔
    وہ انہیں دیکھ کر رہ گیا۔۔
    وہ انکو انکے پسندیدہ ریستوران لے آیا تھا۔۔
    چھوٹے سے فرائی پان میں دھیرے دھیرے مصالحہ لگے پارچے تل تل کرسلاد کے پتوں میں لپیٹ کر ہایون کی پلیٹ میں رکھے جا رہی تھیں۔۔ دو کے بعد تیسری بار اس نے چاپ اسٹک سے اٹھا کر انکی پلیٹ میں رکھنا چاہا انہوں نے منہ کھول دیا۔۔
    ہایون نے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ انی حیران ہوئیں مگر وہ پھونک پھونک کر اسکو ٹھنڈا کرکے دوبارہ انکی جانب بڑھا رہا تھا۔۔ انہوں نے اسکے ہاتھ سے نوالہ لیا تو آنکھ بھر آئی۔۔
    کیسے رہوں گی تمہارے بن۔۔
    انہیں سوچ کر ہی دل میں درد سا ہوا تھا۔۔ ہایون اب نئے پارچے تلنے میں مگن تھا چاپ اسٹک سے پلٹتا تھوڑا سا اولیو آئل ڈالتا مگن تھا انکی جانب متوجہ نہیں تھا۔ انہوں نے گہری سانس لی۔۔
    تم اپنی پڑھائی سے صرف نگاہ کرکے دفتر آرہے ہو مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔۔ نیپکن سے منہ صاف کرکے وہ سنجیدگی سے بولیں۔۔ہایون چونکا پھر رسان سے بولا۔۔
    آپ اپنی پسندیدہ ملازمت سے صرف نگاہ کر کے دفتر آتیں مجھے یہ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
    وہ اسے دیکھ کر رہ گئیں۔۔
    میں نے آہبو جی سے کہہ دیا تھا میں چھٹی لے کر دفتر دیکھ لوں گی۔۔ پھر بھی انہوں نے تمہیں دفتر لا کر ہی دم لیا۔۔
    ہایون کیلیئے نئی اطلاع تھی۔۔ وہ سیدھا ہو کر پلیٹ میں رکھے پارچے الٹ پلٹ کرنے لگا۔۔
    آہبوجی تمہیں سب سونپنا چاہتے میں سمجھتی ہوں مگر تم پرمسلط کرنا چاہتے مجھے بالکل پسند نہیں آ رہا۔۔ تم یونیورسٹی جائو میں دیکھ لوں گی دفتری معاملات۔۔
    انی کا انداز تحکم بھرا تھا۔ پیار بھرا تحکم۔۔ اسے انکے خلوص کی دل سے قدر تھی۔۔
    آج کل اتنا پڑھائی کا زور نہیں میرا اتنا کوئی حرج نہیں ہو رہا۔۔
    اس نے اطمینان دلانا چاہا۔۔
    تم صحیح کہہ رہے ہو؟۔۔ انہوں نے تصدیق چاہی۔۔
    ہاں ایک دم۔۔ اس نے مسکرا کر یقین دلایا۔۔
    انی مسکرا دیں۔۔
    ٹھیک ہے۔۔ میں پھر بھی ایک دو دن وقت نکال کر چکر لگالیا کروں گی۔۔
    انہوں نے اسکے خیال سے کہا وہ۔کندھے اچکا گیا۔۔
    ہوپ یہاں ہی کام کرتی تھی نا۔۔
    یونہی کھانا کھاتے انہیں خیال آیا۔۔
    ہاں۔۔ مگر اس نے یہ نوکری چھوڑ دی ہے۔۔
    ہایون نے بتایا تو وہ سر ہلا کر بولیں۔۔
    ہاں تم بتا تو رہے تھے اسے تم نے کوئی جاب دلوا دی ہے۔۔
    ہایون کے حلق میں نوالہ اٹکا۔۔
    اس نے وہ جاب نہیں کی۔۔
    ہیں کیوں۔۔ ؟۔۔ انی حیران ہوئیں۔۔
    پتہ نہیں۔۔ وہ کیا بتاتا اسے خود خبر نہ تھی۔۔
    پھر کیا کر رہی ہے یہ لڑکی
    انی نے سر پکڑ لیا تھا۔۔
    ۔۔ اسکا تو اپارٹمنٹ کا خرچہ بھی نہیں نکل پا رہا ہوگا۔۔ اف۔۔ میں بھی کتنی بھلکڑ ہوں مجھے اس سے خود پوچھنا چاہیئے تھا ابھی تین چار دن پہلے آئی تو تھی مجھ سے ملنے۔۔
    وہ آئی تھی آپ سے ملنے۔۔ ہایون چونکا۔۔
    ہاں۔۔ میں جائوںگی اس سے ملنے ۔۔ انہوں نے مصمم ارادہ کیا۔
    آپ اس سے نہیں مل سکتیں وہ گھر وہ۔چھوڑ چکی ہے۔۔
    ہایون نے بتایا تو وہ شاکڈ رہ گئیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چپس بسکٹس دو بجے تک سب ہضم۔ہوچکا تھا۔ بابا نے پیسے وائر کر دیئے تھے۔ مگر وہ اکیلی کیسے باہر جا کر شاپنگ کرتی۔
    وہ بے زاری سے فٹ بال۔کورٹ میں آکر بیٹھ گئ۔۔
    آج تو یہاں بھی کوئی نہیں تھا۔۔ دور سیڑھیوں پر ایک دو کھلاڑی بیٹھے تھے وہ بھی کٹ بیگ سمیٹتے جانے کو اٹھ گئے۔۔
    وہ یونہی گھٹنوں پر چہرہ ٹکائے سامنے دیکھنے لگی۔۔ زہن منتشر تھا کہیں کوئی سوچ ٹک ہی نہیں رہی تھی۔۔
    بےزار سا ہو کر اس نے موبائل اٹھا لیا۔۔ فیس بک اوپر نیچے کر کے اس نے بند کر دی۔۔ اور گیلری سے تصویریں نکال۔نکال کر دیکھنے لگی۔
    سفید فراک اور سرخ اسکارف پیچھے بڑی سی مچھلی منہ کھولے جیسے لمحہ بھر بعد وہ اسے سالم نگل لے گی۔ یہ اسکی مال میں ایکوریم کے ساتھ ہایون نے کھینچی تھی
    اگلی ہایون کی اپنی سیلفی تھی۔۔ سنجیدگی سے کیمرے میں دیکھتا وہ اس مسکراتے ہایون کا سایہ لگ رہا تھا۔۔ وہ ڈیلیٹ کرتے کرتے رک گئ۔
    یہ کب لی۔۔ اس نے۔۔ وہ حیران ہوئی۔۔
    ۔۔ اس نے اپنا موبائل تھما کر تصویر کھنچوائی تھی۔۔ پھر اسکے موبائل کمیرے کا مزاق اڑا کر اگلی کئی تصویریں ہایون نے اپنے موبائل میں کھینچی تھیں۔۔ اسے یاد آیا۔
    اف اس نے مجھے تصویریں بھیجی ہی نہیں۔۔ کمینہ
    اس کو غصہ آگیا۔۔
    کتنا پیارا رزلٹ تھا اسکے کیمرے کا اچھی تصویر آتی تھی۔۔ اسے ماننا پڑا۔۔ اس نے آگے کر دی تصویر۔۔
    ۔ جی ہائے گوارا کے ساتھ سنتھیا کے ساتھ۔۔ آگے چند ہی تصویریں تھیں۔۔
    اسکے پاس نئی سے زیادہ پرانی تصویریں تھیں۔۔ حماد کی دلاور کی۔۔ اس نے بچپن کی تصویریں بھی کھینچ کر محفوظ کر رکھی تھیں۔۔ باری باری سب فولڈر دیکھتے اسکی دلہن بنی تصویر سامنے آگئ۔۔ اسکی سنتھیا کی ۔۔ ہنستے مسکراتے۔۔ کون۔جانتا تھا چند گھنٹوں میں سب بدل جائے گا۔۔ اس نے بند کر دیا۔ امی آپ نے بالکل اچھا نہیں کیا میرے ساتھ۔۔
    اسے ایکدم سے غصہ آگیا۔۔
    موبائل سائڈ میں پٹخ دیا۔۔
    یہی سب ہوتا میں یہاں اکیلی بیٹھی ہوتی دوسرے ملک میں سہی کم از کم مجھے کوئی تکلیف دہ یاد تو نہ ستا رہی ہوتی۔۔
    وہ اشارہ کر کر کے خود سے باتیں کر رہی تھی۔۔
    خیر میری طلاق کا معاملہ نہ ہوتا تو ابو کبھی مجھ پر ترس کھا کر اتنی دور نہ بھیجتے۔۔
    دماغ نے دوسری راہ سجھائی تو ٹھنڈی ہوئی۔۔
    مگر پھر مجھے خود سے پاکستان سے بھاگنے کی کیا ضرورت پڑتی میں خوش تھی وہاں بھی سکون سے ہی پڑھ رہی تھی۔۔ بس میری پوری ذات ہلا کر رکھ دی بلا وجہ۔۔ ۔
    امی اتنا آرام سے کیسے ہیں کوئی اور تو۔۔۔
    اسکی سوچ کر ہی سانس رک گئ۔۔
    نہیں۔۔ اس نے سینے پر مکا مار کر خود کو گھبرانے سے روکا۔۔
    اب تو یہ سب جتنا مرضی مجھ پر دبائو ڈال لیں میں نہیں مانوں گی سمجھوتے پر۔۔
    زور زور سے نفی میں سر ہلاتے وہ خود کو یقین دلا رہی تھی ۔۔ مگر سچ یہی تھا ابھی بھی خود بری طرح ڈر رہی تھی۔۔
    مگر سجاد نہ سہی کوئی اور ڈھونڈ لیں گے۔ اس جیسا یا شائد اس سے بھی۔۔
    مجھے نہیں کرنی شادی
    میں نے نہیں جانا پاکستان یہیں رہنا۔۔ اس نے بلبلا کر کسی خدشے سے دہل کر گھٹنوں میں سر دے دیا۔۔ اور ہچکیاں لے کر رو دی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کم سن کی کلاس تھی اسکے ہمراہ باتیں کرتے وہ اسے چھوڑنے آیا تھا ۔۔
    میں یہ پہنچا دوں گا فکر نہ کریں ہیونگ۔
    کم سن اسکے ہاتھ سے شاپر لیکر تسلی دینے والے انداز میں بولا۔
    گومو ووئیو۔
    علی مسکرا کر سر کو ہلکا سا خم دے کر بولا۔
    اچھا میری کلاس ہے میں چلا۔ کم سن گھڑی دیکھ کر چونکا پھر جلدی سے دعا سلام کرتا بھاگ کھڑا ہوا۔
    وہ چند لمحے اسے یونہی جاتے دیکھتا رہا ۔ گھر جلدی جا کے بھی کچھ نہیں کرنا تھا۔ یہاں کہیں پر فٹ بال گرائونڈ تھا۔ اس نے آتے سرسری سا دیکھا تھا۔ وہ یونہی سکون کی تلاش میں ادھر نکل آیا تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا وہ کس سمت جائے اندازے سے چلتا آیا تو فٹ بال۔کورٹ سامنے تھا۔۔ اس وقت خالی ہی تھا۔ پورے کورٹ میں دھوپ پھیلی تھی ہاں سیڑھیوں پر چھائوں تھی۔۔ ایک جانب دو لڑکے سایہ دار جگہ پر فٹ بال سے کرتب کر رہے تھے وہ دلچسپی سے دیکھنے لگا وہ بھی تھوڑئ دیر میں سیڑھیوں کے پاس سے بیگ اٹھاتے چلتے بنے تبھی اوپر سے بے زاری سے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی اس لڑکی پر نظر پڑی تھی۔ اسکے خدو خال اجنبی تھے تو حلیہ تو بالکل الگ تھا۔۔
    وہ لمبی سی گھٹنوں تک کی گلابی شرٹ اورجینز میں ملبوس تھی ساتھ بڑا سا پردہ اوڑھے تھی۔۔ اس نے شولڈر کٹ بالوں کی پونی بنا رکھی تھی۔۔
    ایسا لباس۔۔ وہ سوچ میں پڑ گیا کہاں دیکھا۔۔
    رچل کے ساتھ کوئی غیر ملکی فلم دیکھی تھی امریکہ میں۔۔ کونسا ملک تھا۔۔ اسے یاد نہ آیا۔۔ وہ سوچتا اسی کو دیکھے جا رہا تھا۔۔ اس لڑکی نے ہاتھ ہلا ہلا کر بات کرنی شروع کی تو یکدم چونک کر باقائدہ جھک کر اسکے مخاطب کو دیکھنا چاہا۔۔ مگر وہاں کوئی نہیں تھا وہ الجھن بھری حیرت سے دیکھ رہا تھا۔۔
    اس نے بولتے بولتے گھٹنوں میں سر دے کر شائد رونا شروع کر دیا تھا۔۔ اسکا جسم ہچکیوں سے لرز رہا تھا۔۔
    اسکا دل پگھل گیا۔۔ وہ بھی ایک وقت تھا یونہی کہیں بھی بیٹھے بیٹھے ہچکیوں سے رو پڑتا تھا۔۔ رچل کو یاد کر کے۔۔ جانے اس پر کیا بیتی تھی۔۔ وہ تھوڑی دیر تو دیکھتا رہا پھر رہا نہ گیا۔۔ اٹھ ہی گیا۔۔
    قریبی ڈیپارٹمنٹ میں لگی وینڈنگ مشین سے پیسے ڈال کر پانی کی بوتل خرید لایا۔۔ حسب توقع وہ رونے میں مگن تھی۔۔
    آہ۔۔ وہ ہنگل میں پکارتے پکارتے رک گیا۔۔
    ہیلو۔۔مس۔۔ اس نے اسکے قریب آکر دھیرے سے پکارا۔۔
    اریزہ نے دہل کر سر اٹھایا۔۔
    بے تحاشہ گریہ سے اسکی بڑی بڑی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔ اسکے چہرے پر آنسووں کی نمی تھی۔۔ بالوں کی کئی لٹیں نکل کر چہرے سے آچپکی تھیں۔۔
    اسکی کھڑی ناک کی لو سے لیکر گالوں کی ہڈی تک جیسے کسی نے بلشر پھیر دیا تھا۔۔ ایک۔لمحے کو وہ اپنی بات بھی بھول گیا۔۔
    اریزہ نے جلدی جلدئ دوپٹے سے چہرہ صاف کیا۔۔
    اف۔۔ وہ شرمندگی سے ڈوب مرنے کے مقام پر تھی۔۔
    رونا بھئ وقت اور موقع دیکھے بغیر آتا ایک تو۔۔
    وہ بڑ بڑا کر رہ گئ۔۔
    یہ لیں پانی پی لیں۔۔ علی نے بوتل بڑھائی اریزہ متزبزب تھی ۔۔
    مگر مخاطب کے چہرے کے نرم نرم سے تاثرات دیکھ کر بوتل تھام لی۔
    وہ اس سے تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر وہیں بیٹھ گیا۔
    گومو وویو۔۔
    اریزہ نے اسکا شکریہ ادا کیا
    مسکرایا۔۔ تو اسے ہنگل آتی ہے۔۔
    غم ایسے ہی ہوتے کب کہاں دل تڑپا دیتے کیا خبر۔۔
    مگر رونا بہت اچھا ہوتا دل ٹھہر جاتا۔۔ یوں لگتا تکلیف ختم تو نہیں ہو رہی مگر کم ضرور ہو گئ ہے۔۔
    وہ رواں ہنگل میں بولا تھا۔۔
    اریزہ کچھ نہ سمجھتے اسے دیکھتی گئ۔۔
    تم پیاری لڑکی ہو خدا کرے آئندہ ہمیشہ ہنستی ہوئی ہی ملو اگر ملو۔۔ وہ مسکرا کر کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
    ابھی بھی ہنگل میں ہی کہہ رہا تھا۔۔
    اس نے مسکرا کر کوریائی انداز میں جھک کر الوداع ہی کہا ہو گا۔۔
    اریزہ نے سوچ کر اسکو اسی کے انداز میں گردن جھکا کر الوداع کہہ دیا۔
    اس نے موبائل اٹھا لیا۔۔
    غم بھئ کیا عجیب شے ہوتے کون جانتا کب کہاں آپ کمزور پڑ کر رو پڑیں۔ مگر رونا اچھا ہے۔۔ رونا کمزوری نہیں طاقت دیتا ہے۔۔ غم کو سہنے کی طاقت۔۔ دل ٹھہر جاتا یوں لگتا تکلیف ختم تو نہیں ہو رہی مگر کم ضرور ہو گئ ہے۔۔
    ویسے خدا کرے آپ سب پڑھنے والے کبھی نہ روئیں ہنستے ہوئے ہی کمنٹ کریں اگر کریں تو۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پہلا۔۔
    اچھا بھلا مزاج تھا میرا مجھے میرے غم یاد دلا دیئے اب رونے کا دل کر رہا۔۔
    دوسرا۔۔
    اتنا اچھا ہوتا رونا مگر کیا کروں آ ہی نہیں رہا رونا۔۔ ایڈمن اپنی شکل دکھا دو ڈر کر ہی رو پڑوں شائد۔۔
    فٹے منہ۔ اس نے جل۔کر یہی کمنٹ کر دیا۔۔
    تیسرا۔۔۔
    مجھے دادی یاد آگئیں۔۔ ابھی زندہ ہیں۔۔ کیا میں رو سکتا اس بات پر۔۔ ؟۔ میرا مطلب میری پھپھو کی بیٹی سے میرا رشتہ طے کر دیا ہے انہوں نے کتنا اچھا ہوتا میں اس وقت رو رہا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔
    ہاہ بے چارہ۔۔ اس پر اسے واقعی ترس آیا
    چوتھا۔۔
    آہ۔ میں رو رہا ہوں چپ بھی کرا دے کوئی۔۔
    آگے آنسو والے اسمائیلی تھے۔۔
    پانچواں۔۔
    روتے ہیں چھم چھم نین اجڑ گیا چین۔۔ آگئے میرے ایگزیم ۔۔ ایڈمن دوا تو میں نہیں کی پورا سال نہیں پڑھا۔۔ تم دعا ہی کر دو۔۔
    اس نے بیسٹ آف لک لکھ دیا۔۔
    چھٹا
    کوئی کہیں تمہاری وجہ سے رو رہا ہے تمہیں خبر ہے۔؟
    آہ۔ یہ آئی ڈی۔ وہ صارم کو بلاک کرتے کرتے رک کر بلاگ بند کر گئ۔۔
    اسکے موبائل میں پھر میسج آیا تھا۔۔
    بس اداس اسمائیلی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے اٹھ کر کھڑکی پر سے پردے ہٹا ئے تو اندازہ ہوا شام کے دھند لکے پھیل رہے تھے۔۔ کھڑکی کے بالکل سامنے جھیل کا نظارہ تھا۔۔ سورج کی کرنوں کا جھیل کے پانی پر دمکنے کا نظارہ اگر دلکش ہوتا تو اس وقت جھیل کا ٹھہرا پانی اندھیرے سمیٹتا بھی کیا خوب لگ رہا تھا۔۔ وہ یونہی دیکھے گیا۔۔
    اس وقت یہاں کس قدر خاموشی ہے۔۔ پاکستان میں یہ وقت اذانوں کی آواز سے گونج رہا ہوتا تھا۔۔
    اس نے یونہی سوچا پھر مڑ کر بیڈ کی جانب نگاہ کی۔۔
    سنتھیا بے خبر سو رہی تھی۔
    وہ اسے دیکھے گیا۔۔ دیکھتے دیکھتے سنتھیا کی شکل تبدیل۔ہو کر کسی اور چہرے کی جھلک
    دکھلانے لگی۔۔
    پھر وہ چہرہ بھی دھندلاتا گیا۔۔ اسکی آنکھوں میں بہت پانی اتر آیا تھا۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آٹھ بجے ہال میں کھانا ملنا تھا۔ تب تک اسکی حالت مخدوش ہوچکی تھی۔۔ ڈھیر ساری سلاد ابلے چاول سبزیوں کا سوپ انڈے لیکرافطاری کرنے بیٹھی تو اسے اپنی رنگ برنگے کھانوں سے سجی افطاری یاد آئی۔۔
    صارم کا میسج آیا تھا۔ اس نے کھول کر دیکھا۔
    افطاری کی ہی تصویر کھینچ کر بھیجی تھی۔
    کمی۔۔ وہ گالی دیتے دیتے زبان دانتوں تلے دبا گئ۔
    اس نے تصویر ذوم کی جبین کی پکوڑے کے ٹرے رکھتے ہاتھ کی بھی تصویر آگئ تھی۔
    اسکی ماں کے ہاتھ میں بے حد ذائقہ تھا۔ یقینا اس وقت جو فروٹ چاٹ دہی بھلے پکوڑے کچوری چکن پلائو سب بے حد لذیذ بنا ہوا ہوگا۔ مگر وہ صرف اپنی ماں کا ہاتھ دیکھ رہی تھی۔
    کیا دیکھ رہی ہو۔۔
    جی ہائے دھم سے اسکے برابر آن بیٹھی۔
    اس نے مسکرا کر موبائل رکھا اور سوپ پینے لگی۔
    جی ہائے اسکی تصویر دیکھ کر ہنس دی۔
    تم اپنے روایتی کھانے دیکھ کر انکا ذائقہ اس کھانے میں محسوس کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
    وہ چھیڑ رہی تھی۔
    مگر یہ ذائقہ محسوس نہیں ہو پارہا۔ اس نے بھی بے چاری سی شکل بنا لی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سنتھیا۔۔ کہاں ہو جواب تو دے دو۔۔
    اس نے کم از کم بھی دس پیغام بھیج دیئے تھے مگر سنتھیا جواب نہیں دے رہی تھی۔۔
    کیا ہوگیا ہے تمہیں ۔۔ وہ بے بسی سے موبائل کو دیکھ کر بڑبڑائی۔۔
    کمرہ کافی پھیلا ہوا تھا۔۔ وہ صفائی میں لگ گئی۔۔ نہ صرف اپنا بلکہ سنتھیا کا بھی سب سامان سمیٹ کر جھاڑا پونچھا۔۔ تھک کر گھڑی پر نگاہ گئ تو دس بج رہے تھے۔۔ سنتھیا کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔۔
    وہ اٹھ کر جی ہائے کے کمرے میں چلی آئی۔۔ جی ہائے لیٹی ہوئی تھی گوارا حسب عادت لیپ ٹاپ پر جتی تھی۔
    دونوں نے اسے مسکرا کر خوش آمدید کہا تھا۔
    مجھے کچھ چیزیں خریدنی ہیں ہم اس وقت باہر جا سکتے ہیں؟
    وہ سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔۔
    گوارا نے الرٹ ہو کر لیپ ٹاپ بند کیا اور اسکی جانب گھوم۔گئ۔۔
    سیدھے راستے سے تو نہیں ۔۔
    جی ہائے اور گوارا اکٹھے بولیں۔۔
    وہ مایوس سی ہوئی
    پتہ ہے میں اور یون بن منتخب کر لیئے گئے ہیں لوک داستان کی ڈرامائی تشکیل کیلیئے۔ یونورسٹی کی تقریبات اگلے ہفتے سے شروع ہو رہی ہیں۔
    اس نے چہکتے ہوئے بتایا تھا۔۔
    اچھا۔۔ اریزہ کا انداز اتنا ہی سرسری تھا۔۔اسکو غم ہی کوئی اور لاحق تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پیکڈ فوڈ بریڈ انڈے آٹا سبزی گھی مکھن ۔
    اچھا خاصا سودا سلف لے لیا تھا ایڈون نے۔
    رمضان ہمارا تہوار نہیں ہے۔
    سنتھیا نے جتایا اسے۔
    ہاں مگر کھانے پینے کی منادی تو نہیں نا۔ تمہیں دیسی کھانے یاد نہیں آرہے ؟
    اس کا انداز سبھائو بھرا تھا۔ وہ چیں بہ چیں ہو۔کر رہ۔گئ
    دو بڑے شاپر بھر کر اس نے سامان خریدا تھا جو صرف کھانے پینے کی اشیاء سے بھرا تھا۔ ایک وہ سالک اور شاہزیب کیلئے اپنے ہاسٹل لے جا رہا تھا دوسرا اسے تھما دیا تھا۔
    اسے ہاسٹل کے پاس پیدل چھوڑ کر اب اس نے اپنے ہاسٹل کی۔جانب جانا تھا۔
    اوکے خدا حافظ۔
    وہ اس کے اوپر جھکا وہ قصدا رخ موڑ گئ۔ ایڈون نے برا نا مانا۔
    اپنا خیال رکھنا۔ مسکرا کر کہتا وہ آگے بڑھ گیا۔
    آٹھ بج رہے تھے سب یقینا کھانا کھانے کیفے میں گئے ہوئے تھے جبھی یہاں بالکل رش نہ تھا۔ اس نے شاپر وہیں سیڑھیوں کے پاس اندھیرے میں چھوڑا اور خود لان کی طرف بڑھ گئ۔ اسکا اس وقت اکیلے رہنے کا دل کر رہا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سحری کے وقت الارم بجا تو اسے یہی لگا کہ جیسے ابھئ ابھی ہی تو سوئی تھی۔ اسکو پہلا خیال سنتھیا کا ہی آیا ۔۔
    اس نے کروٹ بدل۔کر ریلنگ سے نیچے جھانکا
    سنتھیا کا بیڈ خالی تھا۔
    وہ شائد آج رات بھر نہیں آئی تھی واپس۔
    اسکی پیشانی پربل سے پڑ گئے۔۔۔
    آج اسکے پاس چپس وغیرہ بھی نہ تھے۔ پانی پی کر نیت کرنے کا ارادہ تھا اسکا۔
    وہ سستی سے اٹھ کر باتھ روم میں گھس گئ۔
    باہر نکل کر اپنے سرہانے رکھی پانی کی بوتل اٹھا کر پانی پیا دو گھوںٹ ہی نکلے ۔
    بھوک۔برداشت ہو۔جاتی تھئ اس سے پیاس نہ ہوتی۔ ابھی سارا دن پڑا تھا۔ گہری سانس بھر کر وہ پانی لینے کچن میں چلی آئی۔ کچن میں کل کے برعکس اس وقت سناٹا نا تھا۔ وہ ڈھیلے ڈھالے قدم اٹھاتی اندر داخل ہوئی تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسکے ہاتھوں سے پانی کی بوتل چھوٹتے چھوٹتے بچی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔۔
    جاری ہے۔

    Kesi lagi apko aaj ki qist? Rate us

    ★★★★