Salam Korea
by vaiza zaidi
قسط 14

Salam korea urdu novel feautring seoul korea kdrama fan fiction by desi kimchi
Salam korea urdu novel feautring seoul korea kdrama fan fiction by desi kimchi

سنتھیا فرائی پان میں گرم گرم پراٹھے تل رہی تھی گوارا میز پر بیٹھی ندیدی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی آملیٹ کیلئے پیاز ہری مرچ سب کاٹ کے رکھا ہوا تھا میز پر ایک جانب ایک باسکٹ میں نمک متچ اور دیگر ضروری مصالحے بھی سجے رکھے تھے اس طرح کہ بس اس ٹوکری کو اٹھا کے نکل لو۔ پراٹھے پر تیل لگاتے سنتھیا کی نگاہ اس پر پڑی تھی
آگئیں تم میں اٹھانے ہی آرہی تھی تمہیں تم یہ آملیٹ میں اپنی مرضی سے نمک مرچ ڈال لو۔
سنتھیا نے سادہ سے انداز میں کہہ کر توجہ پراٹھے کی طرف مبذول کرلی تھی
یہ سب کہاں سے آیا؟ اسکی حیرت الگ تھی۔
ایڈون نے بھجوایا ہے تمہارئ لیئے۔
کوشش کے باوجود سنتھیا کا لہجہ سادہ نہ رہ سکا تھا۔ اریزہ اسکے لہجے پر توجہ دیئے بنا خوشی خوشی ٹوکری دیکھ رہی تھی۔ کھجوروں کا بھی چھوٹا سا سہی مگر پیکٹ موجود تھا۔ اس نے یونہی اسکی قیمت دیکھی تو آنکھیں کھل سی گئیں۔
تم سارا دن بھوکی رہو گی۔
گوارا حیرت سے پوچھ رہی تھی۔
نہیں۔ اس نے بے دھیانی میں انکار کیا پھر خیال آیا
آہاں۔ روزہ رکھوں گی تو کھانا پینا دونوں شام کو ہی ہوگا اب۔ تم کیوں اٹھی ہوئی ہو۔
وہ اسکے برابر کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے بات بدل گئ
بھوک لگ رہی تھی ریمن بنانے آئی کچن میں تو سنتھیا پہلے سے موجود تھی کہتی ہے آج مجھے پاکستانی ناشتہ کرائے گی ۔اور مجھے کیا چاہیئے مجھے انسٹنٹ نوڈلز بھی بنانے نہیں پڑ رہے۔
گوارا ڈھٹائی سے کہتی ہنسی ۔اریزہ کو بھی اسکے انداز پر۔ہنسی آگئ۔
یہ فلور کیک بنا رہی ہے وہ بھی آئل سے میں نے کبھی ایسا کیک نہیں دیکھا۔ کیا کہتے اسے
گوارا بولتے بولتے روانی سے ہنگل میں کہہ گئ۔
اسکو پراٹھا کہتے ہیں۔
اریزہ نے بتایا تو وہ حیران رہ گئ۔
تمہیں سمجھ آگیا میں نے کیا کہا؟
ہاں پوری بات نہ سہی مگر مفہوم سمجھ آگیا آخر میں نے لازمی کورین کی کوئی ایک کلاس بھی نہیں چھوڑی ۔
اریزہ نے فخریہ کالر جھاڑے
تھیبا۔۔ گوارا نے متاثر ہونے والے انداز میں تالی بجائئ
دونوں باتوں میں مگن تھیں سنتھیا نے پراٹھے اتار کر خود ہی انڈہ بھی تلنا شروع کر دیا۔
انڈہ تل کر پراٹھے کے ساتھ انکے سامنے رکھا تو بلا۔تکان بولتی اریزہ شرمندہ ہوگئی۔
آئم سوری بالکل بھول گئ میں انڈہ تلنا۔
کوئی بات نہیں۔ سنتھیا نے آرام سے کہا۔ اور کافی بنانے مڑ گئ
اسکو کھاتے کیسے ہیں۔ گوارا کے کہنے پر اس نے نوالہ توڑ کر اسکے منہ میں ڈالا
اف یہ بہت مزے کا ہے
گوارا نے پہلا نوالہ لیتے چٹخارہ بھرا تھا
اف ابھی اسکے ساتھ میری امی کے ہاتھ کا آم کا اچار نہیں اف لطف دوبالا ہوجاتا ہے پراٹھے کا۔
اریزہ نے کہا تو سنتھیا اسکے سامنے کافی رکھتے ہوئے ٹوکے بنا نہ رہ سکی
سحری کر لو وقت کم رہ گیا ہے۔
ہوں۔وہ سر ہلاتی فورا اپنی پلیٹ پر جھک گئ۔
گرم گرم بھاپ اڑاتی کافی۔ اسکے دل سے دعا نکلی سنتھیا کیلئے
سنتھیا جیو ہزارو سال خوش رہو سچی محبت ملے تمہیں۔
کافئ کا گھونٹ بھرتے وہ لہرا کر بولی۔
تم نے بہت ثواب کمایا ہے پتہ ہے سحری کرانے والے کو بھی بہت ثواب ملتا ہے۔
اسکی بات پر سنتھیا نے ترچھی سی نگاہ ڈالی۔
چاہے وہ کرسچن ہی کیوں نہ ہو۔
سنتھیا کے تیکھے انداز میں کہنے پر وہ لمحہ بھر کو چپ ہی رہ گئ پھر کچھ کہنا چاہا تبھی گوارا متاثر ہوجانے والے انداز میں بولی
زبردست ۔ مجھے تم لوگوں کی یہ روایت اچھی لگی۔ جو آپکو کھانا کھلائے اسے دعائیں دو۔ سنتھیا میری بھی دعا ہے تمہارے لیئے سچی محبت پائو تم۔
سنتھیا اسکے کہنے پر اسے نظر بھر کر دیکھ کر رہ گئ۔
اریزہ اور گوارا کے چہرے پر پرخلوص مسکراہٹ ہی تھی وہ چاہ کر بھی کوئی غلط مطلب نہ نکال سکی۔ البتہ دل پر سے کافی بوجھ سا ہٹا الفاظ کا اثر تھا کہ دعا کی طاقت۔ وہ ہلکی پھلکی سی ہوگئ۔
اے سنو آم تو اتنا رس بھرا پھل ہوتا ہے اسکا اچار کیسے بنتا۔
گوارا کو تعجب ہو رہا تھا۔
وہ پکا ہوا پھل ہوتا ہے اچار میں کچا پھل ڈالا جاتا ہے ۔اریزہ اب اسےاچار کی ترکیب سمجھا رہی تھی۔ انکی باتوں سے بے نیاز سنتھیا سوچ رہی تھی
تم دونوں نے دل سے دعا دی ہے اب مجھے واقعی لگتا ہے مجھے سچی محبت مل کر رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سنتھیا نے تیار ہونے کے بعد اسے ہلایا تھا۔ وہ سرعت سے بستر سےاٹھی۔ناشتہ واشتہ تو کرنا نہیں تھا سو تیار ہونے میں ذیادہ وقت نہیں لگا۔۔ وہ آئینے میں بال بناتے ہوئے بھی آئنے میں ابھرتے سنتھیا کے عکس کو دیکھتی رہی۔ خاموشی سے اپنا بیگ تیار کرتی سنتھیا کے پاس اس سے بات کرنے کو کوئی بات نہ تھی جیسے۔ وہ بس بیگ اٹھا کر کمرے سے نکلی نہیں ۔ جس سے اسے لگا کہ اسکا انتظار کر رہی ہے۔جلدی جلدی ہاتھ چلا کر وہ تیار ہوئی تو سنتھیا ایک لفظ بھی بولے بنا خاموشی سے اسکے ساتھ جانے چل پڑی۔
وہ چاروں اب اکٹھے ہی بیٹھا کرتی تھیں۔ کلاسز لینے کے بعد جی ہائے کو اپنے آنے والے کمپیٹیشن کیلئے پریکٹس کرنے جانا تھا۔ سو گوارا انکے ساتھ ہی آگئ۔
تم لوگوں کو بھوک نہیں لگی۔ مجھے تو منہ اندھیرے ناشتے کے بعد اب شدید بھوک لگ گئ ہے۔
ہاتھوں سے آنکھوں پر دھوپ سے بچنے کو چھجا سا بناتے گوارا مسکینیت سے بولی
تو تم نے اس وقت ناشتہ کیوں نہیں کیا وہ تو سورج بھی نکلنے سے پہلے کا وقت تھا۔
اریزہ نے کہا تو سنتھیا بھی کندھے اچکا کر بولی
میں نے بھی نہیں کیا ناشتہ۔
کیوں بھئ۔؟ چلو کیفے چلو پھر۔
اریزہ نے کہا تو وہ ہچکچا سی گئ
تم کیا کروگی پھر۔ آدھا دن تو ہو گیا ہے ڈورم میں فروٹ کیک پڑا ہوگا وہ کھالوں گی۔
کیا ارادے ہیں بھئ؟ یہ اریزہ تو شام تک بھوکی رہے گی تم تو چلو کچھ کھا کے آتے ہیں۔
گوارا نے کہا تو اریزہ نے سنتھیا کو پھر بیٹھنے نہ دیا
چلو جائو تم دونوں کھا کے آجائو میں یہیں بیٹھی ہوں۔
وہ آرام سے ڈرائئو وے کے کنارے گھاس پر پھسکڑا مار کر بیٹھ گئ۔
آر یو شیور ؟ سنتھیا جانا نہیں چاہ رہی تھی مگر بھوک بھئ لگ رہی تھی
بالکل جائو دونوں۔ اس نے زبردستی دونوں کو بھیجا۔
تیز دھوپ میں ہلکی سی چبھن تھی مگر اچھی لگ رہی تھئ وہ دھوپ کی جانب ہی رخ کیئے بیٹھی تھی۔نتیجتا چہرہ تپنا شروع ہو گیا تھا۔ وہ مگن سی بیٹھی فیس بک پر پوسٹس لگانے میں مصروف تھی۔
ایڈون نےدور سے اسے دیکھا تھا۔ وہ اور کم سن کین جوس پی رہے تھے۔ انکا رخ بالکل مخالف سمت تھا۔ ایڈون اسے دیکھتا ادھر مڑ گیا۔ اپنی دھن میں چلتا کم سن بولتا کئی قدم آگے بڑھ کر حیران ہو کر پلٹا۔
ایڈون نے تیز تیز قدم اٹھاتے اریزہ کی جانب بڑھتے ہوئے اپنا کین سیدھا ڈسٹ بن میں اچھال دیا۔
اور دھپ سے اسکے برابر آن بیٹھا۔ اپنی دھن میں بیٹھی اریزہ چونک اٹھی۔ کم سن بھی کندھے اچکاتا ادھر ہی چلا آیا
تمہیں ناشتے کا سامان مل گیا تھا؟ آج سحری بنائئ؟
ایڈون کے پوچھنے پر وہ فورا اپنا بیگ ٹٹولنے لگی
یار بہت بہت شکریہ۔آج تو مجھے بالکل روزہ نہیں لگ رہا۔ یہاں گرمی اتنئ نہیں مگر روزہ لمبا بہت ہےبنا اچھی سحری مشکل سے گزرتا ہے۔۔
ایڈون مسکرا دیا۔ گول گول سئ اریزہ کیلئے یقینا کھانا پینا کافی اہم تھا۔
اس نے بیگ سے پیسے نکالے۔
یہ لو اور ایک بار پھر بہت شکریہ تم نے میرا اتنا بڑا مسلئہ حل کردیا۔
اس نے ایڈون کو پیسے دینے چاہے وہ بدک کے پیچھے ہوا۔
یہ کیا ہے رکھو اسے واپس۔۔ میں نے پیسے مانگے ہیں بھلا۔
تو؟ اریزہ حیران ہوکر دیکھنے لگی۔
اچھا خاصا بل بنا تھا اتنی چیزوں کامیں نے پرائئس ٹئگز سے قیمتیں نکالی ہیں کوئی ایکسٹرا پیسے نہیں پکڑا رہی میں۔
تو؟ ایڈون بگڑ گیا
میں آلریڈی پے کر چکا ہوں۔ سالک اور شاہزیب کیلئے بھی سامان لایا تھا انہوں نے تو پیسے نہیں پکڑائے۔ دوست سمجھتی ہی نہیں ہو تم ہمیں۔

ارے۔ میں نے یہ سب لینے کیلئے پاپا سے پیسے الگ سے منگوائے تھے۔۔ اور دوست ہونے کا یہ مطلب تو نہیں ۔ ویسے بھئ مجھے اور شاپنگ کرنی تھی اگر تم ایسا کروگے تو میں پھر کبھی تم سے کچھ نہیں منگوائوں گی
اریزہ نے کہا تو اس نے کان پر سے مکھی اڑائی۔
اچھا اچھا۔ دیکھی جائے گی بعد کی بعد میں ابھی اپنے پیسے سنبھال لو امیر لڑکی۔
انکی خالص اردو میں بحث کو کم سن گھونٹ گھونٹ جوس ختم کرتے خاصے غور سے دئکھ رہا تھا۔
اب دیکھنا میں خود جایا کروں گئ شاپنگ پر ایک چیز تم سے نہیں منگوائوں گئ۔ منت بھئ کروگے نا مجھ سے چیز منگوا لو نہیں منگوائوں گئ
اریزہ کی دھمکی پر ایڈون نے کھل کے قہقہہ لگایا۔ تو اپنی بات پر غور کرکے اریزہ بھی ہنس پڑی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیفے کھچا کھچ بھرا تھا ۔ اسے کبھی یہاں کیفے کی خوشبوئیں پسند نہ آئیں فورا سامان لیکر باہر نکل آئی۔گوارا اور اسکا رخ میدان کی جانب ہی تھا جبھی سنتھیا نے اسے بازو سے تھام کر روک دیا۔وہ قریبی بنچ کی جانب اشارہ کرکے کہہ رہی تھئ
اسکو پہلے یہاں بیٹھ کے ختم کر لیتے ہیں پھر اریزہ کے پاس چلیں گے اسکا روزہ ہے نا اسکے سامنے کھانا پینا اچھا نہیں لگے گا۔
اسکی بات پر گوارا کیا کہتی کندھے اچکا کر قریبی بنچ پر آن بیٹھئ۔ دونوں نے ابھئ کھانا شروع کیا تھا۔
وہ ایڈون کیلئے بھئ برگر لائی تھی سو اسے کال ملانے لگی۔
گوارا کی یونہی اسکے فون پر نظر پڑی۔
بڑا بڑا ایڈون لکھا نظر آرہا تھا۔
ایڈون کو بلا رہی ہو وہ وہیں اریزہ کے پاس ہی تو بیٹھا ہے۔
اسکی شائد نظر نہیں پڑی تھی۔ گوارا نے اسے بیٹھا دیکھ لیا تھا۔ سنتھیا نے حیران ہو کر مڑ کر دیکھا تو دور بیٹھی اریزہ اب لمبے کم سن اور ایڈون کے پیچھے چھپ سی گئ تھی۔ وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئئ۔
برگر چپس اسپرائٹ اٹھاکر تیز تیز قدم اٹھاتی سنتھیا کو گوارا نے حیرت سے دیکھا پھر خود بھی اپنا برگر اٹھاتی اسکے پیچھے بھاگئ۔ سنتھیا کا مرکز نگاہ ایڈون ہی تھا۔کھل کر وہ اور اریزہ بحث میں لگے ہنس رہے تھے۔ کم سن انکے ساتھ بیٹھا بھئ ساتھ نہیں لگ رہا تھا
کیا ہوا ابھی تو آنے سے روک رہی تھیں ۔گوارا نے ٹوکا تو وہ چونکی
ہاں وہ ایڈون کیلئے بھئ برگر لیا ہے ٹھنڈا ہو جائے گا۔
اسئ یہی بہانہ سوجھا۔ گوارا نے کندھے اچکا دیئے۔
وہ دونوں انکے قریب آئیں تب تک وہ تینوں کسی اور بحث میں الجھ چکے تھے
دیکھوتپسیا بدھزم میں بھی ہے مگر صرف پجاری ہی کرتے مطلب جسکا ذہن مذہب کی جانب لگ چکا وہ اب بس مزہب کی پیروی کرنا چاہتا ہے اسے دنیا سے کوئی لینا دینا نہیں اب جو انسان ایسا ذہن بنا چکا ہو اسکے لیئے روزے عبادت کرنا کونسا مشکل کام ہے۔ اب ہم عام انسان تو اپنی اتنی مشکل زندگی کے ساتھ مزہب پر کاربند نہیں رہ سکتے نا۔
کم سن دلیل سے بات کر رہا تھا۔
مزہب صرف چند لوگوں کی میراث تو نہیں ہوتی نا مزہب تو تمام انسانیت کیلئے ہوتا ہے۔
اریزہ نے کہا تو قائل نہ ہونے والے انداز میں سر نفی میں ہلانے لگا۔
وہی تو کہہ رہا ہوں اتنا مشکل مزہب ہوا یہ پھر۔ سب لوگ چاہے وہ ذیادہ مزہبی ہوں نا ہوں انکو روزے بھی رکھنے پانچ دفعہ نماز پڑھنی۔ سالک اور شاہزیب کو دیکھتا ہوں نا۔ ہر دفعہ اتنا اتنا نہا کے آتے ہیں پھر نماز کی جگہ الگ کی ہوئی اس سائیڈ کی صفائی کا الگ خیال رکھنا عام لوگ ایسی زندگی کیسے گزار سکتے؟
انکی بحث سے بے نیاز سنتھیا اور گوارا وہیں انکے پاس آبیٹھیں۔ سنتھیا نے دو برگر لیئے تھے ایک برگر اور چپس والا پیکٹ ایڈون کی جانب بڑھا کر وہ خود خاموشی سے اپنا کھانا کھانے لگی۔ گوارا دلچسپی سے اریزہ کو دیکھ رہی تھی کہ اب اس سوال کا کیا جواب دے گی۔
تم تو گواہ ہو دیکھ رہے ہو شاہزیب اور سالک کو عام انسان ہو کرایسی ہی زندگی گزار رہے ہیں۔خود بھی صاف رکھتے سارا دن بھوکا بھی رہ لیتے ان سب کاموں کے ساتھ عبادت بھی خشوع و خضوع سے کر رہے ہیں۔ مشکل وہ مزہب ہوا جو عام انسانوں کے بس کی بات نہیں جو اختیا رکرے وہ دنیا تیاگے یا وہ مزہب ہوا جو دنیا کے سب کاموں کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے؟
جواب ایڈون کی جانب سے آیا تھامدلل اور فوری ۔ اریزہ بھی متاثرہونے والے اندازمیں دیکھنے لگی۔ کم سن سے جواب نہ بن پڑا
ویسے اگر ڈیووشن ( Devotion) کی بات ہے تو سچی صبح میں متاثر ہوئی کافی۔یہ ڈیووٹڈ تھئ روزے کیلئے مطلب خاص نیند توڑ کر رات کو اٹھ کر کھا نا اور پھر سارا دن بھوکا پیاسا رہنا یقینا آسان کام نہیں ۔ تھیبا اریزہ۔
منہ میں برگر بھرے پھونکیں اڑاتئ گوارا کہہ رہی تھی۔ اریزہ شرمندہ سی ہوگئ۔ اتنا کوئی بڑا کام بھی نہیں تھا روزہ رکھنا کہ یوں سراہتے جائیں سب اسے۔
ہاں یہ بات ماننے والی ہے۔ سالک اور شاہزیب بھی پورے عقیدے سے روزے رکھ رہے ہیں سچ مچ پانی نہیں پیتے کل تو شاہزیب کے ہونٹ اتنے خشک ہو رہے تھے۔
کم سن بتا رہا تھا
تم کھائو برگر ٹھنڈا ہو رہا ہے ۔
سنتھیا نے ایڈون کو ٹوکا۔
بعد میں کھائوں گا اور تم بھی بعد میں کھا لیتیں یا کھا کر آتیں یہاں۔ اریزہ کا روزہ ہے اور تم اسکے سامنے بیٹھ کر کھارہی ہو۔
ایڈون کا انداز سادہ تھا مگر سنتھیا کو بری طرح چبھا۔اریزہ بھی حیران ہو کر دیکھنے لگی
کیوں بھئ میرے سامنے بیٹھ کر کھانے میں کیا حرج؟ میں نظر تھوڑی لگائوں گئ تم بھی کھالو آرام سے۔
وہ برا مان گئ
احمق روزے دار کے سامنے کھانے سے منع کر رہا ہوں۔
ایڈون نے دانت پیسے۔
روزے دار کا روزہ اتنا کچا نہیں ہے جو اسکے سامنے کوئی کھا پی لے تو وہ نیت لگا کے بیٹھ جائے گا۔ وہ جتا کر بولی۔
اگر ایسی بات ہے تو رمضان میں بازار کیوں بند کرواتے پھرتے ہو پاکستان میں؟ کھل کھلا کوئی کھاتاپیتا نظر آجائے تو اسے بند کر دیتے ہو؟ کیوں۔۔ چلو ایڈون برگر کھا کے واپس آجانا یہاں ٹھنڈا ہو رہا ہے
سنتھیا ایک دم چٹخ کر بولتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئئ۔کم سن گوارا بھی اپنی بات چھوڑ کر اسے دیکھنے لگے ایڈون کے ماتھے پر شکن ابھر آئی
اریزہ اس سے یوں بھڑک اٹھنے کی توقع نہیں کر رہی تھی۔
وہ میں بند نہیں کرواتی ۔ مجھے تو تمہارے یہاں بیٹھ کر کھانے پربھی اعتراض نہیں ہے۔
سنتھیا کے برعکس اسکا انداز ابھی بھی نرم تھا
بیٹھ جائو سنتھیا۔ ایڈون نے سنجیدگی سے ٹوکا۔
کیوں ؟ اب روزہ نہیں ٹوٹے گا اریزہ کا؟
وہ چمک کر بولی۔
تم کیوں بات بڑھا رہئ ہو وہ کہہ تو رہی ہے اسے کوئی اعتراض نہیں بیٹھ جائو اب۔
ایڈون کواسکی ضد پر غصہ آنے لگا تھا۔
تمہیں تو ہے نا۔۔ کیوں ؟ نہیں ہے اعتراض ابھی تم ہی مجھے اریزہ کے سامنے کھانے پر ٹوک رہے تھے اب کیا ہوا؟ چلو اٹھو ہم کسی اور جگہ بیٹھ کر کھا کر آتے ہیں۔
وہ ادھ کھایا برگر تھامے اپنا بیگ کندھے پر ٹکاتی جانے کو تیار کھڑی تھئ۔ ایڈون اسے گھو ررہا تھا۔
مجھے بھوک نہیں تم نے جہاں جانا جو کھانا جاکے کھا آئو۔
ایڈون کا انداز خاصا سخت تھا۔سنتھیا کا رنگ سرخ ہوگیا
تم لوگ لڑ رہے ہو۔
کم سن نے پوچھا۔ سنتھیا غصے سے لال پیلی ہوئی کھڑی تھی ایڈون کا رنگ بھی تپا تپا تھا اریزہ گھبرائی سی شکل بنائے کبھی ایڈون کو کبھی سنتھیا کو دیکھ رہی تھی جو ایک دوسرے کو کھاجانے والی نگاہوں سے گھور رہے تھے۔
کیا ہوا پھر کپل فائیٹ ہو رہی ہے تم دونوں کی؟
گوارا نے سنتھیا سے پوچھا تھا مگر وہ یونہی ٹھس سی کھڑی تھی۔
ایڈون جائو تم دونوں کھا پی آجائو میں یہیں بیٹھی ہوں۔
اریزہ کو ہی مصالحت کیلئے بیچ میں کودنا پڑا۔
مجھے بھوک نہیں۔
ایڈون کا انداز بے لچک تھا۔
اٹھ جائو سنتھیا کو غصہ آگیا ہے۔ اریزہ نے کہا تو وہ اسکی شکل دیکھ کر رہ گیا۔ پھر گہری سانس لیتا اٹھ کھڑا ہوا۔
سنتھیا کو مزید طیش آگیا تھا۔ ایڈون نے ایک نظر اسکے لال بھبھوکا چہرے پر ڈالی۔
چلو۔ اس نے برگر نہیں اٹھایا تھا اس پر نگاہ غلط ڈالتا چل پڑا تھا۔ سنتھیا نے لمحہ بھر کا توقف کیا پھر اسکی پیروی کرنے کی بجائے وہیں بچا کھچا برگر پھینکتی پیر پٹختی گرلز ہاسٹل کی طرف بڑھ گئ۔
سنتھیا۔ ارے رکو۔
اریزہ اسے پکار رہی تھی مگر سنتھیا نے پلٹ کر نہ دیکھا ایڈون نے بھی۔
اسے یوں برگر نہیں پھینکنا چاہیئے تھا۔
گوارا نے افسوس سے اس اشتہا انگیز خوشبو اڑاتے برگر کو دیکھا۔
میری آہموجی کہتی ہیں رزق پر غصہ کبھی نہیں اتارنا چاہیئے رزق کو غصہ آجاتا ہے۔
کتنی گہری بات تھئ۔ اریزہ گہری سانس بھر کر رہ گئ۔
کم سن نے ایڈون کے برگر کو اٹھا لیا۔
میری آہموجی جانے کیا کہتی تھیں پتہ نہیں۔ مجھے البتہ کھانے سے منہ موڑنا نہیں پسند۔
اسکی اپنی منطق تھی۔ وہ خوب مزے لیکر برگر کھا رہا تھا۔
اریزہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے سوچوں میں الجھی بیٹھئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے لگا تھا سنتھیا ڈورم واپس آئی ہوگئ مگر خالی ڈورم بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔وہ چند لمحے کھڑی سوچتی رہی۔ ارادہ تو اسی کے ساتھ باہر جانے کا تھا مگر اب مجبوری تھی۔
وہ دھیرے سے جی ہائے کے کمرے کا دروازہ کھٹکا کر اندر چلی آئی۔حسب توقع وہ اپنے ڈورم کی ریلنگ سے الٹی لٹکی تھی۔گوارا منہ پر ماسک لگائے بیٹھی تھئ۔ اسے دیکھ کر دونوں نے استقبالیہ مسکراہٹ اچھالی
تم اتنی لچک دار کیسے ہو۔ اسکے انداز میں ہرگز رشک نہ تھا۔
تم اتنئ سست کیسے ہو۔
اسکے جھکے کندھوں پر جی ہائے نے چوٹ کی۔
ایسا ہے کہ مجھے کچھ ضروری سامان لینا ہے تو کیا تم میں سے کوئی میرے ساتھ چلے گا۔
اس نے بلا تمہید درخواست کی۔
بس کوئی دونوں نہیں جا سکتے۔
جی ہائے اچھل کر اتری۔
اریزہ نے کندھے اچکا دییئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے دودھ ڈبل روٹی انڈے وغیرہ لیئے تھے۔ گوارا کاسمیٹکس والے حصے میں گھس گئ ٹرائے ٹرائے کرنے میں پورا میک اپ کر لیا تھا اس نے جی ہائے اسکو مستقل چھیڑ رہی تھی۔ وہ دونوں مکمل مگن تھیں۔ روزے کا وقت ہونے لگا تھا اس نے کنوینئینس اسٹور کے ایک کونے میں لگے ٹیبل چیئر پر افطاری کا سامان رکھنا شروع کیا
اس نے بیکری سے کیک اور ویجیٹیبل سینڈوچ لیا تھا۔ حسب عادت ہر چئیز دوگنئ لی تھئ۔
افطار کرکے پیٹ بھر کر نماز یاد آئی۔ تو آہ بھر کر رہ گئ۔
اب ہاسٹل جا کر ہی نماز پڑھ سکتی تھی۔ بوتل اٹھا کرپانی پیتے یونہی کنوینئس اسٹور کی گلاس وال سے باہر نظر پڑی تو جی ہائے کو کسی بھڑتے پایا۔ وہ جلدی جلدی پانی پی کر بوتل میز پر رکھتی گلاس وال کےپاس چلی آئی
جی ہائے ہاتھ اٹھا اٹھا کر جانے کیا اونچا اونچا بول رہی تھی وہ آہجوشی جیبیں ٹٹول رہے تھے۔ انکے ہمراہ ایک بچی بھی تھی جو ڈر کر باپ سے چپکی جا رہی تھی
یہ کیا سین ہے وہ متجسس سی ہو کر گلاس وال سے چپک گئ۔ وہ ادھیڑ عمر انکل بار بار اسکا ہاتھ تھام رہے تھے کبھئ اسکے آگے منت بھرے انداز میں کچھ کہتے ایک چھوٹی سی آٹھ دس سال کی بچی انکے ہمراہ تھی جو ان دونوں کو سراسیمگی سے دیکھ رہی تھی۔ جی ہائے بری طرح انکا ہاتھ جھٹک رہی تھی۔
ہراسگی کا معاملہ تو نہیں لگتا۔ وہ معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
تم نے کھانا کھا لیا۔ گوارا اچانک سے اسکے برابر آکر بولی
وہ بری طرح اچھلی۔
تم کیسے اس جہان میں آگئیں اتنے چڑیا سے دل کے ساتھ۔
وہ مزاق اڑا رہی تھی۔
کوئی اچانک قریب آجائے تو اچھل پڑتی ہو کوئی تمہارے سامنے لڑے تو کانپنا شروع کر دیتی ہو تمہیں دیکھ کے لگتا کہ چھوٹا سا گنئ پگ پہلی بار لیبارٹری سے باہر نکل کر دنیا دیکھ رہا ہے۔
وہ کھل کر ہنس رہی تھی۔
تم ہوگی گنئ پگ۔ وہ چڑ گئ۔بیٹھے بٹھائے سور کہہ دیا۔۔ حد ہے۔۔
اور کب میں کانپی ؟ اس طرح اچانک چپکے سے کوئی پاس آکھڑا ہو تو کوئی بھی چونک جائے۔
اور دوپہر کو کیا ہوا تھا؟ گوارا اسے چھوڑنے کے موڈ میں نہ تھئ
لڑ سنتھیا اور ایڈون رہے تھے جان تمہاری نکلی جا رہی تھی مجھے تو لگا تھا تم نے رونا شروع کردینا ہے ۔ وہ تو وہ دونوں واک آئوٹ کر گئے ورنہ تم تو انکے چیخنے سے ڈر کر بے ہوش ہوجاتیں۔
وہ یقینا مبالغہ آرائی کر رہی تھی۔
وہ لڑ نہیں رہے تھے۔ بس سنتھیا پوزیسیو ہے اور لڑکے تو پتہ ہے موڈی ہوتے۔ اس نے صفائی دینی چاہی گوارا محظوظ سے انداز سے دیکھ رہی تھی
تمہیں پتہ ہے اتنے دنوں میں تم لوگوں کو دیکھ کر اتنا اندازہ ہو گیا ہے ہمیں بات سمجھ آئے نہ آئے لہجہ سمجھ آجاتا۔ اتنا تحمل سے ٹھہر ٹھہر کر دھیرج سے بولتے ہو صرف لڑائئ جھگڑے میں آواز بلند ہوتی ہے۔
اور تم لوگ نارمل بھئ اتنا اونچی آواز میں بات کرتے ہو جیسے جھگڑا کر رہے ہو۔
وہ بھی جوابا چوٹ کر گئ۔ گوارا ہنس دی۔
ہاں ہماری بولی ایسی ہے۔ ۔اریزہ نے بھئ مسکرا کر رخ بدلا۔اب سڑک پر سکون تھا۔ جی ہائے گلاس ڈو رکھول کر اندر داخل ہو رہی تھی وہ آہجوشی اور بچی غائب ہو چکے تھے
اچھا سنو تم جی ہائے کو نہ بتانا کہ تم مسلم ہو روزے رکھ رہی ہو ۔ گوارا نے جی ہائے کو آتے دیکھ کر سرگوشی کی۔
کیوں۔ اسکی پیشانی پر بل پڑے۔
وہ کیوں شناخت چھپائے۔
بعد میں بتاتئ ہوں۔ گوارا نے اسکا ہاتھ ہلکے سے دبایا تو وہ بھی خاموش ہو رہی۔
جی ہائے کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ اس نے قریب آکر میز سے منرل واٹر کی بوتل اٹھا کر جلدی جلدی کئی گھونٹ بھر لیئے۔
پھر گوارا کو دیکھ کر فاتحانہ انداز میں مسکرائی۔
چلو آج کچھ ثواب کمانے چلیں۔۔
گوارا نے گہری سانس بھری اریزہ نہ سمجھنے والے انداز میں دونوں کو دیکھ کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گنگم اسٹریٹ پر سڑک کنارے ایک بار پھر وہ اسی بینڈ کے کانسڑٹ سننے کو موجود تھیں۔انکا لیڈ سنگر جی ہائے کو پہچان گیا تھا۔ خاص اسکے آگے آ آکر جھک کر گانا گایا۔ جی ہائے وہاں موجود لوگوں میں یکدم مرکز نگاہ بن گئ تھی۔ اس نے کین بیئر کا ایک کین ختم کرکے ہاتھ میں پکڑے شاپر میں ڈالا اور شاپر سے دوسرا نکال لیا۔ مگر ابھی بھئ حواس میں تھی۔ گوارا بیزار سی شکل بنائے تھی۔۔ ۔ اریزہ خود کو تسلی دے رہی تھی
یہ گانا نا مجھے سمجھ آرہا نا میں انجوائے کر رہی ہوں۔ یہاں میں سب کو ڈنڈے کے زور پر رمضان کا احترام کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔
کیا بڑ بڑا رہی ہو۔
گوارا نے ببل پھلاتے پوچھا۔
کک کچھ نہیں ۔۔وہ گڑبڑائی
جی ہائے اس لڑکے کے ساتھ ڈانس اسٹیپ لے رہی تھی۔ کئی کیمرے حرکت میں تھے مگر اسے پروا نہیں تھی۔ شارٹ اسکرٹ میں کپل ڈانس کرتے جب وہ گول گول گھومی تو بالکل چابی کی گڑیا لگ رہی تھی۔
جی ہائے بہت پیاری ہے۔
اس نے دل سے کہا تھا
گوارا نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی پھر ہنس دی۔
تم بھئ بس ظاہر پر توجہ مرکوز رکھتی ہو۔ صحیح بات ہے آپ باہر سے ہی تو نظر آتے ہیں لوگ اندر کہاں جھانک سکتے۔ اسی لیئے تو میں بھی باہر سے خوبصورت لگنا چاہتی ہوں۔
بات کو اپنی مرضی کے موضوع پر گھما کر لے جانا اگر کوئی فن تھا تو گوارا طاق تھی اس میں۔
ناچنے کے بعد وہ اب جھک جھک کر داد وصول رہی تھی۔ پرس سے اس نے نوٹوں کی گڈی نکالی اور انکے باکس میں نزاکت سے اندر۔ڈال دی۔
اب اس کمینی کو دیکھو۔ سب پیسے چھین جھپٹ کر لینے کے بعد یہاں پھینک کر ہاتھ جھاڑ کر آئے گی اور واپسی کا کرایہ مجھے بھرنا پڑے گا اسکا۔ چاہتی تو یہ میرے پرس میں بھی یہ پیسے پھینک سکتی تھی۔
اس نے کندھے سےلٹکتے اپنے منے سے پرس کو حسرت سے دیکھا۔
اسکو یہ بینڈ پسند ہوگا۔
اریزہ یہی اندازہ لگا سکی۔
جی ہائے فاتحانہ انداز میں چلتی انکے پاس آئی۔
اڑا دیئے پیسے۔گوارا کا انداز جلا بھنا تھا اسکے برعکس جی ہائے خوش سی کھلکھلائی
اف بڑا مزا آیا۔
تمہیں کیا ضرورت تھی ان سے پیسے لینے کی۔ وہ اپنی راہ جا رہے تھے تم انکے سر پر سوار ہوگئیں۔
گوارا نے ہنگل میں ٹوکا۔
یہ بڈھا اپنی بیٹی کو شاپنگ کرانے آیا تھا۔
جی ہائے تیز ہو کر بولی۔
لو اب ان دونوں کی لڑائی ہونے والی ہے۔ اریزہ بیزار سی ہوئی۔ اتنا سامان اٹھائے کھڑے کھڑے کمر تختہ ہو رہی تھی وہ اطمینان سے انکو لڑتے چھوڑ کر وہیں سڑک پر بنے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئ۔
تو؟ گوارا تیز ہو کر بولی
تو یہ کہ ان کمینوں کی عید آنے والی ہے ۔ میں کیا بیٹی نہیں مجھے عید کی شاپنگ نہیں کراتا وہ بڈھا۔
وہ مزے سے بولی۔
وہ کرسمس نہیں مناتے مگر تم نے کرسمس کی بھی ٹھیک ٹھاک رقم وصولی تھی۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے جی ہائے وہ مسلمان بعد میں ہیں پہلے تمہارے باپ ہیں۔بوڑھے ہو رہے ہیں تمہیں انکا۔

گوارا نے سمجھانا چاہا مگر جی ہائے سمجھنا چاہتی ہی نہیں تھی اسکی بات کاٹ کر بولی
تو وہ بڈھا کیوں بضد ہے میرا خرچہ اٹھانے پر ؟ جوان ہوں اپنا خرچہ خود اٹھاتی ہوں پھر کیوں آتا ہے مجھے جیب خرچ دینے میں نہیں لیتی تھئ تب زبردستی دے کر جاتا تھا جانتی ہو کیوں؟ کیونکہ اسکے نئے مزہب میں بیٹی باپ کی ذمہ داری ہے۔ جب تک شادی نہ کر لوں وہ میرا خرچ اٹھانے کا پابند ہے بلکہ کہتا ہے کہ شادی کا خرچ بھی اٹھائے گا۔۔ وہ استہزائیہ ہنسی۔
کہہ سیکی۔۔ ( گالی)
میرا گھر میرا خاندان توڑنے والا یہ مذہب دیکھو کتنا اچھا ہے۔۔۔۔ ہونہہ۔
جانتی ہو مجھے یہ سب کبھی نہیں چاہیئے تھا مجھے بس ایک گھر جس میں میرے ماں اور باپ اکٹھے خوشی سے رہتے ہوں بس اتنی سی خواہش تھی میری ۔ اور کچھ نہیں چاہیئے تھا۔مگر اس نے اسکے مزہب نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا۔
میرا بھائی میری ماں میرا باپ سب کچھ۔ ہم سب بچھڑ چکے ہیں کیونکہ بس ایک میرے باپ نے عقیدہ بدلا۔ اور سب برباد ہوگیا سب ختم۔
وہ زور زور سے کہتی رو پڑی تھی
اریزہ نے سٹپٹا کر گوارا کو دیکھا۔ اسکے ایک لفظ پلے نہ پڑا تھا۔تھوڑی بہت جوہنگل سیکھی تھی اس سے ابھی اتنا سخت سیول کا لہجہ سمجھنے میں کوئی مدد نہیں مل سکی تھی۔ اس کو سمجھ نہ آیا کہ اٹھ کر ان دونوں کے بیچ پڑے یا نہیں۔ اتنا تو اندازہ ہو گیا تھا کہ آپس میں نہیں لڑ رہی ہیں۔
حوصلہ کرو جی حیا۔
سنتھیا نے اسے گلے سے لگانا چاہا مگر وہ اسکو جھٹک کر چلائی۔
تمہیں بھی میں غلط لگتی ہوں۔ کبھی خود کو میری جگہ رکھ کر سوچا ہے۔ میرا گھر برباد کیا ہے میرے باپ نے۔ میں نفرت کرتئ ہوں اپنے باپ سے۔ نفرت
اسکو چڑھ رہی تھی۔ سیدھی کھڑی نہیں ہو پا رہی تھی۔
۔ آئی ہیٹ ہم ۔ آئی ہیٹ ہز فیتھ۔ آئی ہیٹ مسلمز آئی ہیٹ یو آل۔
بولتے بولتے وہ انگریزئ میں حلق کے بل چلائی تھی۔
اریزہ نے چونک کر جی ہائے کو دیکھا۔۔ اسکے کان میں سیٹییاں سی گونج گئی تھیں۔
تو کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھونچکا سی بیٹھی رہ گئ
گوارا اسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
جو جھومتی گوارا کی بانہوں سے پھسلی جا رہی تھی۔
اریزہ ہیلپ می پلیز۔ کیب روکو ذرا ۔۔
گوارا نے اسئ سے مدد مانگئ جو کہ وہ حسب عادت کرنے اٹھ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی۔ وہ اسے خاص طور پر اسے اسکے پسندیدہ فاسٹ فوڈ ریستوران لیکر آیا تھا۔
تمہارے دوپہر کے برگر کا۔ کفارہ۔
اس نے برگر کی ٹرے لا کر اسکے سامنے رکھی۔ اس نے رخ موڑ لیا۔ ایڈون سر کھجا کر سیدھا ہوا۔
مجھے سمجھ نہیں آتا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ تم اچھی طرح جانتی ہو تم دوپہر کو غلط تھیں۔۔ پھر بھی اس وقت تم مجھ سے روٹھئ بیٹھئ ہو۔
اسکا انداز بے چارگی بھرا تھا۔سنتھیا نے تیکھی نگاہ ڈالی اس پر۔
اچھا میں ہی معزرت کر لیتا ہوں۔ آئی۔ ایم سوری۔
وہ اسے ہر قیمت پرمنانا چاہتا تھا۔
ایسے تو ہر وقت کہتے رہتے ہو یہ ہمارا تہوار نہیں وہ ہمارا تہوار نہیں مگر اریزہ کے سامنے ذرا سا برگر کھانے پر تم نے مجھے ذلیل کرکے رکھ دیا سب کے سامنے۔ اس سے میں کیا سمجھوں؟
سالک اور شاہزیب کے سامنے بھی میں یہی کہتا۔ وہ کوشش کرکے اپنا لہجہ ہموار کرکے بولا۔
تمہیں پتہ ہے میں اور کم سن کیوں ہاسٹل سے نکلے تھے کیونکہ سالک اور شاہزیب نماز پڑھ رہے تھے۔ اور دونوں الگ الگ کمرے میں یہ بھی نہیں کہ اکٹھے پڑھ رہے ہوں۔ کم سن شاہزیب کو اور میں سالک کو پرائیویسی دینے کے خیال سے ہاسٹل سے ہی نکل آئے۔ جب سے رمضان شروع ہوا ہے میں ہی نہیں یون بن کم سن بھی انکے سامنے دن میں کچھ نہیں کھاتے۔ کیا ہم ایسا پاکستان میں نہیں کرتے تھے؟ تم خود اریزہ کے سامنے کھاتی پیتی تھیں بھلا آج ایسے بی ہیو کر رہی ہو جیسے کبھی نہ رمضان دیکھا نہ مسلمان دیکھے۔
وہ سبھائو سے بات کرتے کرتے بھئ اسے ڈانٹ ہی گیا۔ سنتھیا کے غصے کے درجے میں کمی سی آنے لگی۔ اسے غصہ کس بات پر کیوں تھا یہ شائد کبھی وہ ایڈون کو سمجھا نہیں پائے گی۔
اس نے خاموشی سے برگر اپنی جانب کھسکا لیا۔
ایسی بات نہیں ہے۔ صبح اریزہ کو سحری میں نے ہی بنا کر دی تھی۔
اسکو لگا کہ یہ بات اسے ایڈون کو بتانی ہی چاہیئے۔
اچھا۔۔ ۔ ایڈون نے اب بات ختم کر دینی چاہی جبھی مکمل طور پر برگر کی جانب متوجہ ہوگیا۔
وہ ایڈون کو دزدیدہ نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئ۔ بندہ سراہ ہی لیتا ہے کبھی کسی کی خوبی پتہ لگنے پر۔ سارا دن وقفے وقفے سے اسکی ایک غلطی پر انکی لڑائی چلی تھی مگر اسکی کی گئ اتنی بڑی نیکی ایڈون کے نزدیک اتنی بھئ اہم نہ تھی کہ کوئی تبصرہ کر دیتا۔۔ انسان ایسے ہی ہوتے ہیں انسانوں سے نیکی کا صلہ نہیں صرف غلطی کا بدلہ ملتا ہے۔ سنتھیا کو مگر ابھئ یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی مدہوش کو اٹھا کر لانا کتنا بڑا عزاب تھا کوئی اس سے پوچھتا۔ وہ اور گوارا ہلکان ہو گئی تھیں اسے سیڑھیاں چڑھاتے۔ دھان پان سی جی ہائے جسم ڈھیلا چھوڑنے پر ٹھیک ٹھاک بھاری بھرکم گائے بن گئ تھی۔جسے کھونٹے سے باندھنے پر وہ دونوں بے دم ہو کر اسکے بیڈ پر اسکے برابر ہی گر گئ تھیں۔
میں سوچ نہیں سکتی تھی جی ہائے اتنی بھاری ہوگی۔
اریزہ کی سانس پھول رہی تھی۔ گوارا کی بھی سانس چڑھی تھی مگر اریزہ کی حالت دیکھ کر اسے ترس آگیا۔ اٹھ کر کمرے میں رکھے تھرماس سے پانی نکال کر اسکی جانب بڑھایا
اس نے اٹھ کر پانی کا گلاس تھاما۔ گرم سیال اندر تک اسے جلا گیا۔
یہ کیا گرم پانی دے دیا مجھے۔
وہ جلدی جلدی دو گھونٹ نگل گئ تو جلن کا احساس شدید ہوا۔
ہاں ہم تو گرم ہی پیتے ہیں۔
گلاس ایک ہی تھاوہ انتظار میں کھڑی تھی ۔
اس سے تو مجھے اور پیاس لگ گئ۔شدید پیاس میں گرم پانی پینا کوئی آسان بات نہ تھی وہ برے برے منہ بنا رہی تھی
اچھا جائو اپنے ڈورم سے پی لو جا کے۔ گوارا نے اسکے ہاتھ سے گلاس چھین کر خود پینا شروع کردیا۔ وہ حیران تھی کورین جھوٹا کھانے پینے میں ہچکچاتے نہیں۔ شائد انکے نزدیک انسانیت ہی سب کچھ ہے۔ اس نے سوچا۔ پھر یاد آیا اس دن گوارا کے ساتھ اسکے اپارٹمنٹ میں وہ وائل یو ور سلیپنگ ڈرامہ دیکھ رہی تھئ گوارا رننگ کمنٹری کرکے اسے مکالمے ترجمہ کرکے سنا دیتی تھی۔ مگر دیکھتے دیکھتے ایسا منظر سامنے آیا کہ اسے ابکائی ہی آگئ
چندی آنکھوں والے خوبصورت سے ہے ان صبح کا آغاز مسکراکر اٹھتے کیا۔ اپنے پالتو کتے کو اسکے پیالے میں خشک سا کھانا ڈالا اور یونہی کئئ دانے اپنے منہ میں بھی کتے کے پیالے سے اٹھا کر ڈال لیئے۔ کتے نے برا مانا تھا۔ غصے سے غرایا اریزہ غصے سے تلملا اٹھی تھی۔
کہاں کھو گئیں۔
گوارا نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائئ۔ تو وہ جھر جھری لیتی اٹھ گئ۔
چھائے چھا۔ شب بخیر ہنگل میں کہتی وہ جھک کر سامان اٹھاتی باہر نکل آئی۔ گوارا اپنے بیڈ پر دھم سے گری۔
ہائے میرا کم از کم بوٹوکس ہو جاتا جی ہائے کمینی۔ کیسی ناقدری لڑکی ہے۔ اس نے غصے سے اپنے بیڈ پر آڑی ترچھی پڑی جی ہائے کو گھورا پھر آہ بھر کر تکیہ منہ پر رکھ لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں نائٹ بلب جل رہا تھا۔ سنتھیا نے منہ تک کمبل تان رکھا تھا۔ وہ اسے سوتا سمجھ کر ہی دھیرے سے اسکے سرہانے کیک اور سینڈوچز کا شاپر رکھ کر احتیاط سے سیڑھیاں چڑھ گئ۔
اسکے اوپر جانے کے بعد سنتھیا نے کمبل سے سر نکالا ۔
سینڈوچز کئ خوشبو کیک کی مہک۔
وہ گہری سانس لیکر کروٹ بدل گئ۔
اسکا ارادہ آج سحری کے بعد ہی سونے کا تھا۔ مگر جانے کب آنکھ لگ گئ۔ اس بار سنتھیا نے سحری کی ٹرے اسکے سرہانے رکھ کر جگایا تھا۔
ارے۔ وہ اٹھ کر سچ مچ شرمندہ ہوئئ تھی۔ ٹرے اسکے ہاتھ سے لیکر فورا اپنے بیڈ پر رکھی۔
آئیم سو سوری مجھے جگا دیتیں۔ میں خود سحری بنا لیتی۔
اکیلے کھائو گئ یہ سب۔
اسکی بات پر سنتھیا نے جتانے والے انداز میں کہا۔
نہیں۔وہ فورا پیچھے ہوئی۔ سنتھیا بھی اسکے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔
آج تو آملیٹ بہت مزے کا ہے یہ کیا ڈالا ہے چیز۔
پزا کی طرح آملیٹ نے لمبا سا لیس بنایا تو وہ خوشگوار حیرت سے بولی۔
تھوک ہے میرا۔ سنتھیا نے اسکا وہی نوالہ اچک لیا
میرا لے جاتیں ذیادہ مزے کا بنتا مجھے تو آجکل بلغم۔
وہ کونسا کم تھی اسکی لن ترانی جاری تھی سنتھیا نے باقائدہ اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر روکا دونوں کی ڈھینگا مشتی میں ٹرے الٹتے الٹتے بچی۔
یار کافی نہ گرانا اس کے بنا دن نہیں گزرتا۔۔
اریزہ نے منت کرتے کافی کا گھونٹ بھرا۔ اندر تک تازگی اتر گئی۔
اریزہ واقعی جو سحری کراتا اسکو بھی ثواب ملتا ہے۔
سنتھیا جانے کس خیال میں الجھی تھی۔اریزہ نے اسکے چہرے پرپھیلی سنجیدگی غور سے دیکھی۔
ہاں۔ اب سےہر روز سحری تم ہی کروائوگئ مجھے۔
وہ پھر پٹری سے اتری۔
اور تم بدلے میں مجھے کل والی دعا ہی روز دیا کرنا۔
اس نے بھی فورا شرط رکھی۔
کل کیا دعا کی تھی میں نے۔ اسے واقعی یاد نہیں تھا
جانے دو۔ سنتھیا برا مان گئ۔
اریزہ نے سر کھجایا۔
ایک تو میں گجنی۔ سچی میں نہیں یاد۔چلو یہی دعا کر دیتی ہوں کہ میری کل والی دعا قبول ہو جائے تمہارے لیئے خوش۔
اس نے منانا چاہا۔
آمین۔ سنتھیا نے صدق دل سے کہا تھا
اچھا میں تمہارے لیئے کیک سینڈوچ لائی تھی
اریزہ کو کھا پی کے اب یاد آیا تھا۔
صبح کھا لوں گئ۔ دس بجے بھوک لگ جاتی ہے اس وقت کھا کے۔ تمہیں نہیں لگتی؟
سنتھیا کو خیال آیا۔
پیاس لگتی ہے بس بھوک ووک نہیں لگتی۔
اس نے دیانت داری سے جواب دیا۔
ظاہر ہے دھوپ اتنی تیز ہے آجکل اور اتنا چلنا۔بس کل میں اور تم بس ڈیپارٹمنٹ میں ہی رہیں گے یہ جو ہر روز اس یونیورسٹی کا نیا ڈیپارٹمنٹ دیکھنے کا شوق چڑھتا ہے نا اسے رمضان کے بعد تک کیلئے اٹھا رکھو۔ اور پانی بس ایک گلاس پیا تھا تم نے کل پانی تو پیا کرو پانی کی کمی نہ ہو جائے۔ توبہ ہے اریزہ اب یہ سب بھی مجھے تمہیں بتانا پڑے گا۔
سنتھیا کا خیال رکھنے والی سہیلی والا موڈ آن ہو چکا تھا اسکے پاس سوائے سر ہلانے ہاں میں ہاں ملنے کے اور کوئی راستہ نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش میں پلاسٹک سرجری کروا چکی ہوتی ۔۔ اس ایونٹ کو اتنا میڈیا میں اچھالا جائے گا کیا خبر کسی ہدایت کار کی نظر مجھ پر ٹھہر جاتی ۔۔
گوارا کوریائی روایتی لباس پہنے خود کو ہر زاویئے سے قد آدم آئینے میں دیکھ رہی تھی۔۔
گوارا آئنے کی جان چھوڑو اسکرپٹ پر دھیان بھی دے لو۔۔
یون بن نے ٹوکا تو وہ منہ بناتی اسکے پاس چلی آئی۔
رٹی رٹائی کوریائی داستان ہے۔۔
بادشاہ اپنی اکلوتی بیٹی کو دشمنوں کے خوف سے ایک خفیہ قلعے میں چھپا کر رکھتا ہے ۔۔ وزیر کو کسی طور خبر مل جاتی ہے شہزادی کہاں ہے سو وہ ہیرو کو اسے مارنے کیلیئے بھیجتا ہے۔۔ ہیرو کو شہزادی پہلئ نظر میں پسند آجاتی ہے۔۔ وہ اسے مارنے کی بجائے اسکی محبت میں مبتلا ہو جاتا۔۔ وزیر مزید قاتل بھیجتا ہیرو سب کو مار دیتا مگر خود بھی شہزادی کو بچاتے تیر کھا کر مر۔جاتا۔۔شہزادی۔۔ رو رو کر اسکیلئے گانا گاتی ہے بس۔۔
اس نے کندھے اچکائے یون بن ہنس پڑا۔۔
یہ ڈیڑھ گھنٹے تک چلے گا۔۔ اتنے لمبے ڈائلاگز ہیں یاد کرنا آسان نہیں ہے یہ ہائی اسکول ڈرامہ نہیں ہے اسکو ہلکا مت لو۔۔
اس نے سمجھانا چاہا۔۔
یون بن اگر ہر ہائی اسکول کے ڈرامہ میں ہم مرکزی کردار ادا نہ کرتے تو کیا ہم گرل فرینڈ بوائے فرینڈ ہوتے۔۔
گوارا نے یونہی پوچھا
ہماری دوستی ہی ایک جیسی دلچسپیاں رکھنے کی وجہ سے اکٹھے رہنے کی وجہ سے بڑھی۔
یون بن نے سرسری انداز میں کہا۔۔
وہ لباس میں الجھا ہوا تھا۔۔ مخصوص کوریائی بڑے چوغے نما ریشمی لباس اسے بری طرح گرم کر چکا تھا۔۔ ہاتھ کو پنکھے کی طرح جھل رہا تھا۔۔ گوارا اسکی حالت دیکھ کر مسکراہٹ دبا رہی تھی۔۔
یہ کہہ رہے تھے وگ لگانی پڑے گی۔۔ ایک یہ پرانے لوگ بال کیوں نہیں کٹواتے تھے۔۔ وہ لمبے بالوں کی وگ اٹھا کر الٹ پلٹ کر رہا تھا۔۔
ہم کسی اور چیز میں حصہ نہ لیں ۔۔ یون بن نے بے چارگی سے کہا۔۔۔
مجھے اسی کا حصہ بننا۔۔ گوارا نے ضدی لہجے میں کہا۔۔
مجھے اس کہانی کی خاص بات یہ لگتی ہیرو ہیروئن سے محبت کرتا ہے اتنی کہ اسکی خاطر جان بھی دے دیتا۔ہے۔۔ کم از کم ڈرامہ کرتے ہی تم میرے لیئے مروگے میں یہ دیکھنا چاہتی۔۔ گوارا کا انداز سنجیدہ تھا۔۔یون بن نے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔۔ اسکے انداز میں اسکے چہرے پر میں مزاق کر رہی ہوں بدھو بنایا جیسا کچھ نہیں تھا۔۔
تم مجھے مرتے دیکھنا چاہتی ہو؟۔ وہ الجھا۔۔
اپنے لیے جان دیتے دیکھنا چاہتی۔۔ وہ قصدا مسکرائی
ایک ہی بات ہے۔۔
اسے اچھا نہیں لگا تھا۔۔ گوارا نے ایک۔نظر اسے دیکھا پھر دوبارہ آئنے کی طرف بڑھ گئ۔۔
بو ٹوکس تو کروا ہی سکتی ابھی کم از بھی پندرہ دن تو ہہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی گرمی کا فیسٹیول چل رہا تھا یونیورسٹی میں۔ دو تین اکٹھی چھٹیاں آگئی تھیں۔
چلو یار یہاں ہاسٹل میں کیا کرنا میرے اپارٹمنٹ چلو مل کر ہلہ گلہ کریں گے۔
گوارا ایک بار پھر سر تھی انکے۔
ایڈون اور میں آئوٹ اسٹیشن جارہے ہیں۔ اچھا ہوا تم نےپوچھ لیا۔ اریزہ تم اسکے ساتھ چلی جائو یہاں اکیلی کیسے رہو گی میں تو اب اتوار کوہی آئوں گئ۔
سنتھیا اطمینان سے پہلے گوارا پھر اس سے مخاطب ہوئی
تم تو چلو گی نا۔ گوارا نے اسے دیکھا تو وہ اثبات میں سر ہلا گئ۔
اوکے میں ذرا اپنی چیزیں سمیٹ لوں۔ وہ فورا چٹکی بجاتی بھاگی تھئ
سنتھیا۔ تم ایڈون کے ساتھ مت جائو۔
اس نے بہت سوچ کے اسے کہا تھا۔ سنتھیا بال بنا رہی تھی اسکے ہاتھ ایک دم رکے۔ اس نے چونک کر اریزہ کی شکل دیکھی۔ اسکے ہی بیڈ پر بیٹھی وہ غیر مرئی نکتے پر نگاہ جمائے سوچ سوچ کے بول رہی تھی۔
تمہیں کیا تکلیف ہے۔
اس نے برے لہجے میں ہی ٹوکا تھا۔ مگر اریزہ نے دھیان نہ دیا۔
ہم۔ میرا مطلب ہے مجھے۔ ہم سب کو ہی۔
سنتھیا اسکی بات مکمل کرنے کے انتظار میں کھڑی تھی۔
کیا؟ اس سے صبر نہ ہوا۔
یار ہم اس ملک کے نہیں۔ ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ لڑکے لڑکیوں کے بیچ فاصلہ رہنا چاہیئے۔ تم۔ اور ایڈون اکیلے ۔ دیکھو میں۔۔۔ تم سمجھدار ہو اپنا برا بھلا سمجھتی ہو۔ پر یوں اسکے ساتھ کئی دن کیلئے جانا مناسب نہیں لگتا
وہ جھجک سئ گئ۔
تمہیں کیا لگتا ہے میرے اور ایڈون کے درمیان کچھ ہو چکا ہے۔
وہ استہزائیہ سے انداز میں ہنسئ
نہیں میں ایسا نہیں کہہ رہی۔
وہ گھبرا کر بستر سے اتر آئئ۔
تم مجھے غلط مت سمجھو۔ میں تمہیں دوست بلکہ اپنی بہن ہی سمجھتی ہوں۔ میں بس تمہیں سمجھا۔۔۔ میں تمہارے بارے میں الٹا سیدھا سوچ بھئ نہیں سکتی یار بچپن سے جانتی ہوں تمہیں۔
اسے لگا تھا سنتھیا ناراض ہوگئ ہے۔ سنتھیا اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔ اسکی شکل پر سوائے سنتھیا کی فکر کے کچھ نہ تھا۔ اس نے گہری سانس لی۔
تم نے دیر کر دی ہے اریزہ۔ میں اور ایڈون ایک ہو چکے ہیں۔ اب تو یہ بات پرانی بھی ہو چکی ہے۔
وہ ہنسئ۔ اریزہ سناٹےمیں آگئ تھئ۔ اسکے چہرے کی حیرت دیکھتے سنتھیا نظر چرا گئی
تم پتہ نہیں کس جہان میں رہتی ہوگرو اپ بے بی۔ ۔ تمہیں کیا لگتا گرل فرئنڈ بوائے فرینڈ اکٹھے کسی جگہ عبادت کرنے جاتے ہیں۔ ایڈون تو ویسے بھی۔
وہ بولتے بولتے زبان دانتوں تلے دبا گئ۔ اریزہ ایک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے اسکی ان نگاہوں سے الجھن آرہی تھئ
ویسے بھئ۔ اس نے تھوک نگلا۔
میں اور ایڈون مسلم تھوڑی ہیں جتنا بڑا مسلئہ مسلمز کیلئے ہے اتنا ہمارے لیئے تھوڑی اور مسلمز بھئ تو اب ویلنٹائن ڈے مناتے گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بن جاتے یہ گڈ اولڈ ویلیوز تو اب پاکستان میں بھی کوئی فالو نہیں کرتا مائی ڈئیر۔
وہ بال بار بار سلجھا رہی تھی۔ پھر بھی کوئی نہ کوئی بال الجھتا یا سوچ الجھتی۔ وہ اور زور سے برش بالوں میں چلانے لگتی۔
مگر تم کم ازکم پاکستان میں فالو کرتی ہی تھیں یہ گڈ اولڈ ویلیوز۔
وہ آخری الفاظ پر زور دیتی پیر پٹختی باتھ روم میں گھس گئ دروازہ دھاڑ سے بند کیا تھا۔
تمہیں اتنا برا کیوں لگا۔ میرے لیئے۔ یا۔ ۔۔
سنتھیا اس ادھیڑبن میں لگ گئ بند دروازے کو دیکھتے جانے کیا کیا وہم پال۔لیئے۔
اور باتھ روم میں چہرےپر پانی کے چھپاکے مارتے اریزہ
سوچ رہی تھی۔
زندگی جوا نہیں۔۔۔ جو ایسا سوچتے وہ نقصان اٹھاتے ہیں۔سب کچھ دائو پر لگا کر اگر صرف ایک رشتہ بچ رہا ہو تو یقینا یہ خسارے کا سودا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے خاموشی سے ۔ بس ضروری چیزوں کیلیئے بیگ تیار کیا تھا۔سحری کا سامان البتہ رکھ لیا تھا۔
گوارا کیب کی بجائے اسے میٹرو اسٹیشن لے آئی تھی
ہم کیب لے لیتے ہیں نا۔۔ اریزہ اتنا رش دیکھ کر گھبرائی
روز کیب سے تھوڑی آجا سکو گی۔۔ اتنا مہنگا پڑے گا۔۔ یہ اسٹیشن ہوگا یہاں سے روٹ دیکھ لو تاکہ آسانی ہو۔۔پھر تم سیول میں کہیں بھی آ جا سکتی ہو
گوارا ٹکٹ لیتے ہوئے اسے سمجھا رہی تھی۔۔
تم بھی تو ساتھ ہوگی نا۔۔
وہ منمنائی گوارا زور سے ہنسی۔۔
اور جب میں نہیں ساتھ ہونگی تو کیا گھر سے نہیں نکلو گی۔۔
میں ہاسٹل میں ہی ٹھیک تھی۔۔ وہ منمنا کر رہ گئ۔۔ گوارا سن نہیں پائی تھی۔۔
میٹرو کھچا کھچ بھری تھی۔۔
خواتین کو علیحدہ سیٹ دینے کا رواج تو دور مزے سے سیٹ پر مرد بیٹھے تھے خواتین انکے سامنے ہینڈل پکڑے کھڑی تھیں۔۔اسطرح آنےجانے کا تصور اسکےلیئے محال تھا۔۔
بیگ تھامے وہ کسی ننھی بچی کی طرح گوارا کے پہچھے چھپ رہی تھی۔۔ خدا خدا کرکے اسٹاپ آیا تو کتنے ہی لوگ ٹکراتے گزر گئے۔۔ اس نے بہت نا پسندیدہ انداز میں اپنا کندھا جھاڑا۔۔ گوارا اسکا انداز دیکھ کر کھلکھلائی۔۔
جراثیم لگ گئے تمہیں انکے۔۔ اس نے کندھا مار کر چھیڑا
اریزہ مسکرا بھی نہ سکی۔۔ وہ ابھی سے پچھتانے لگی تھی۔۔ گوارا کی بلڈنگ سے اسٹاپ زیادہ دور نہ تھا۔۔
مارکیٹ تو دو دفعہ جا چکی تھی کچھ کچھ راستوں کی پہچان ہوگئ۔۔ اپارٹمنٹ پہنچ کر اس نے اریزہ سے ہی لاک۔کھلوایا۔۔
اسکا پاسورڈ بھی یاد کر لو۔۔1995
میرے والدین کی شادی اس سال ہوئی تھی۔۔ وہ بتا کر ہنسی۔۔
اریزہ بیگ اٹھائے اٹھائے تھک چکی تھی۔۔ کمرے میں آکر بیگ رکھ کر بیڈ پر دھم سے گری
تم تھک گئیں۔۔ چایے پلائوں؟۔۔
اس نے ہمدردی سے پوچھا تھا اس نے بے ساختہ ہاتھ جوڑے۔۔
نہیں۔۔
گوارا زور سے ہنسی۔ تو اریزہ شرمندہ سی ہو گئ
یار وہ ہم چائے کے نام پر جو پیتے وہ بالکل بھی ویسا کچھ نہیں ہوتا جو یہاں چائے کے نام۔پر پیا جاتا۔۔
اس نے وضاحت کی
جانتی ہوں انگریزی چائے ۔۔ ملتی ہے وہ بھی یہاں۔۔ تم لا۔کر رکھ لینا اب تو یہ گھر تم اپنا ہی سمجھوجو مرضی کھائو پکائو۔ عیش کرو۔۔ وہ مزے سے کہتی الماری سے کپڑے نکالتی باتھ روم شاور لینے گھس گئ۔۔
یہ فائدہ تو ہے۔۔ اس نے باآواز بلند سوچا۔۔
آج افطاری پر کیا بنائوں۔
دور بیڈ پر پڑے اسکے موبائل کی اسکرین پھر روشن ہوئی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنڈی کا موسم دونوں طرح سے زیادہ ہوتا گرمیوں میں پینتالیس تک چلا جاتا تو سردیوں میں نقطہ انجماد سے بھی گر جاتا۔۔
سالک بتا رہا تھا یون بن پوری آنکھیں کھول کر دیکھ رہا تھا۔۔ دونوں سالک کے بیڈ پر دراز تھے سالک ٹیک لگا کر بیٹھا تھا تو یون بن تکیہ کھینچ کر اس پر اوندھا لیٹا دلچسپی سے سن رہا تھا۔۔
پینتالیس۔۔ ڈگری میرے خدا۔۔ تم لوگ کیسے برداشت کرتے ہو ۔۔۔وہ بھر پور حیرت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔۔
عادی ہیں۔۔ سالک نے ایسے کہا جیسے کوئی بڑے اعزاز سے نوازا گیا ہو اسے۔۔
ہمت ہے بھئ تم لوگوں کی۔۔ ہم تو چالیس تک بھی نہیں جا پاتے تب بھی یہاں کی گرمی برداشت نہیں ہوتی ہم سے۔۔
ہم تو روزے بھی رکھتے سارا دن پانی پیئے بغیر گزارتے اتنی گرمی میں بھی۔۔
ہیں۔۔
یون بن نے ایڈون سے سن تو رکھا تھا مگر اخلاق کا تقاضا بھی تھا سو حیران ہوا۔۔
اچھا یہ بتائوتمہاری کتنی گرل فرینڈز اب تک رہی ہیں۔۔یون بن نے پوچھا تو سالک جھینپ گیا۔۔
ایک بھی نہیں۔۔
کیوں۔۔ وہ حیران ہوا۔۔
بس ۔۔ اسے سمجھ نہ آیا کیا جواب دے۔۔
اتنے ہینڈسم ہو اسمارٹ ہو مجھے لگتا پاکستانی لڑکیوں کی قریب کی نظر کمزور ہوتی ہے۔ ایڈون کو اسکے تاثرات مزا دے گئے تھے
سو مزید چھیڑنے لگا۔۔
ہاں اس بات سے تو متفق ہوں۔۔ وہ ہنس دیا
اچھا ویسے پاکستانی لڑکیاں اریزہ جیسی ہوتی ہیں یا سنتھیا جیسی۔۔
یون بن نے پوچھا تو اس نے فٹ سے جواب دیا۔
اریزہ جیسی۔۔
مطلب گوری ہوتی ہیں۔۔ اس نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔
نہیں۔۔ میں شکل کی بات نہیں کر رہا۔
سالک نے اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہی۔۔
پھر۔۔ یون بن کو سمجھ نہیں آیا۔۔
گوری بھی ہوتی ہیں کالی بھی مگر میں شخصیت کی بات کر رہا اریزہ جیسی ہوتی ہیں شرمیلی سی۔۔سنتھیا تو۔۔۔
سالک بول رہا تھا تبھی دروازے پر کھٹکا ہوا۔۔
ایڈون تھکا تھکا سا کمرے میں داخل ہوا ادھر ادھر دیکھے بغیر شاپر بیڈ پر پھینکتا سیدھا بیڈ پر ڈھیر ہو گیا۔۔
سالک نے باقی الفاظ منہ میں روک لیئے۔۔ یون بن نے اسکی حرکت نوٹ کی مگر بولا کچھ نہیں۔۔
ایڈی کہاں تھا
سالک نے فورا پوچھا۔۔
کچھ نہیں بازار تک گیا تھا۔ اس نے شاپر غیر ارادی طور پر کھینچ کر تکیئے کے نیچے کردیا
کم سن کا کاٹیج ہے شہر سے کچھ فاصلے پر وہاں رہنےجا رہا ہوں ۔۔ ایڈون نے لیٹے لیٹے ہی جواب دیا۔۔
دونوں اردو میں بات کر رہے تھے تو یون بن سیدھا ہو کر موبائل دیکھنے لگا۔
ہمیں بتاتا ہم بھی چلتے۔۔ سالک نے کہا تو ایڈون سیدھا ہو بیٹھا۔۔
وہ بغور سالک کو دیکھ رہا تھا۔۔ وہ سادگی سے ہی کہہ رہا تھا
ایڈون نے جواب نہیں دیا جوتے اتارنے لگا۔
تم اکیلے تو نہیں جا رہے ہو ہے نا۔
سالک نے اس بار جتایا ہی تھا۔۔
لیس کھولتے ایڈون کے ہاتھ پل بھر تھمے۔۔
میں کوئی لیکچر نہیں دینا چاہتا مگر تم بہت تیز بھاگ رہے ہو۔۔ اور بھاگ بھی خود سے رہے ہو خدا کرے تم گر نہ پڑو۔۔
ایڈون نے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔۔ وہ طنز نہیں کر رہا تھا۔۔ اسے دیکھ کر تاسف سے کہہ رہا تھا۔۔ ایڈون برا نہ مان سکا۔۔
سالک بیڈ کی سائیڈ ٹیبل سے چادر نکال رہا تھا۔۔ اسکا نماز کا ارادہ تھا شائد۔۔ وہ وضو کرنے باتھ روم گھس گیا۔۔
یون بن کو بھی اندازہ ہو گیا تھا۔۔سو وہ اٹھ کر باہر چلا گیا۔۔ ایڈون جوتے بیڈ کے نیچے کھسکا کر سیدھا ہو لیٹا۔۔
پھر کچھ احساس ہوا تو اپنی ہتھیلی پر پھونکا
الکوحل کی محسوس کر لی جانے والی بو تھی۔ وہ تھکا ہوا تھا مگر پھر بھی اپنے جوتے ایک طرف کرکے چپل پہنتا کمرہ خالی کر گیا۔۔
سالک وضو کر کے ہی نکلا تھا آرام سے کونے میں چادر بچھا کر نیت باندھ لی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن نے ہایون کو اپنی آمد سے مطلع کرنے کیلیئے سیکٹری سے کہا تو وہ عاجزی سے جھک کر معزرت کرنے لگی۔۔
سر اس وقت کسی سے نہیں مل سکتے بہت مصروف ہیں۔
کم سن نے ایک۔نظر اسے دیکھا اسکا کائونٹرہایون کے کمرے کے باہر تھا۔۔ وہ دروازہ کھولتا اندر گھس گیا۔۔
سیکٹری گھبرائی ہائیں ہائیں کرتی۔پیچھے دوڑی۔۔
آہجوشی۔ ایسا مت کیجئے ڈاریکٹر صاحب خفا ہونگے۔۔
ڈاریکٹر صاحب کے دوست ان جیسے ہی تو تھے۔۔ کمرے میں گھس کر سب سے پہلے بلائینڈز ہٹا دیں۔۔ کمرے میں بلائنڈز ڈال کر سب بتیاں بجھا کر ڈاریکٹر صاحب کسی اہم میٹنگ میں ہی مصروف تھے مگر اپنے خواب میں۔۔
اسکے جارحانہ انداز میں دروازہ کھولنے اور بلائنڈز ہٹانے سے اسکی نیند ٹوٹ ہی گئ۔۔ کسمساتا آنکھیں مسلتا اٹھ بیٹھا۔
میں نے آہجوشی کو روکنے کی پوری کوشش کی تھی۔۔
سیکٹری بری طرح گھبرائی ہوئی تھی لگتا تھا رو پڑے گی۔۔
کم سن اسے جتاتی نظروں سے گھور رہا تھا۔۔
جمائی لیتے ہایون نے ایک نظر تھر تھر کانپتی سیکٹرئ کو دیکھا پھر انگریزی میں وضاحت کرنے لگا۔
قسم اٹھوا لو جو میں نے اس سے اونچی آواز تو دور فالتو بات بھی کی ہو۔۔ پتہ نہیں کیوں اتنی خوفزدہ رہتی مجھ سے۔۔ وہ بے چارگی سے اپنی روہانسی سیکٹرئ کو دیکھ رہا تھا۔
یہ تمہارا نہیں تمہارے عہدے کا رعب ہے اگر تم اس عہدے پر آہی گئے ہو تو کم از کم سو سو کر اس عہدے کی توہین تو نہ کرو۔۔ کچھ کام ہی کر لو سیکھ لو۔۔
کم سن نے کہا تو وہ برے برے منہ بنانے لگا۔۔
خالی پیٹ لیکچر۔۔
پھر ہنگل میں سیکٹری کو کچھ کھانے کو لانے کو کہا۔۔ وہ جان چھڑاتی جھک کر سلام کرتی بھاگ گئ۔۔ وہ اٹھ تو گیا تھا مگر صوفے سے اٹھ نہیں رہا تھا۔ کم سن گھوم کر اسکے سامنے آبیٹھا۔۔
تمہارے ابا میرے ابا کی کمپنی کو دیوالیہ کرنے پر تلے ہیں۔۔
اس نے بلا تمہید کہا۔۔
تمہارے ابا نے میرے ابا کی کمپنی دیوالیہ کرنے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی
ہایون نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔۔
دونوں زور سے ہنس پڑے۔۔
میں ایک پرپوزل لے کر آیا ہوں۔۔ کم سن نے ایک فائل اسکی۔جانب بڑھائی۔۔
میں کاروبار میں دلچسپی نہ پہلے لیتا تھا نہ اب لینے کا ارادہ ہے۔۔
ہایون نے فائل رکھ دی اور بیزاری سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
کم سن کےلیئے اسکا ردعمل غیر متوقع نہیں تھا۔
جیسے تم اپنے باپ سے لڑے بیٹھے ویسے ہی میں بھی۔۔ مگر جیسے تمہارا باپ تم کو نہیں چھوڑتا اکلوتا ہونے کی وجہ سے۔۔ میرے باپ کی ایسی کوئی مجبوری نہیں۔۔ میرے باقی بھائی میرے باپ کیلیئے کافی ہیں۔۔ میرا باپ مجھے عاق کر چکا میرے پاس فی الحال صرف وہی کچھ ہے جو میں نے خود کمایا اور وہ اتنا نہیں کہ میں ۔۔
وہ رکا۔۔
یہ گھر خرید سکوں۔۔ تم مجھے یہ خرید دو۔۔ اسکا انداز ملتجی ہوگیا تھا۔۔
ہایون اسکے انداز پر پگھل سا گیا۔۔
جھٹ سے فائل اٹھا کر دیکھنے لگا۔۔
یہ تو۔۔ وہ چونکا۔۔
ہاں۔۔ کم سن نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
ہایون اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جون جے نے پیغام بھیجا تھا۔
مل سکو تو مل لو میں گنگم اسٹریٹ میں ہوں۔۔
ہایون کو اسکا پیغام ملا تو وہ اس وقت ڈرائیو ہی کر رہا تھا۔۔ اگلے چوک سے گاڑی موڑ کر سیدھا گنگم اسٹریٹ پہنچا تھا۔ رات کے اندھیرےچھا چکے تھے وہ اپنے مخصوص ترکی ریستوران میں بیٹھا کھانا کھا رہا تھا۔۔
اسے دیکھ کر نان چھوڑ کر تپاک سے گلے ملا۔۔ ہایون نے ہاتھ ملانے کو آگے بڑھایا تھا مگر وہ تو گلے ہی۔لگ گیا۔۔
کیسے ہو۔ وہ اسی جوش بھرے انداز میں پوچھ رہا تھا۔۔
ٹھیک۔ہوں۔۔ ہایون حیرانی چھپا نہیں پا رہا تھا۔۔
بیٹھو۔۔
جون جے نے اسکو بیٹھنے کا۔کہا تو وہ جھجکتے ہوئے بیٹھ گیا۔۔
مجھے لگا تھا تم نہیں آئو گے سو میں نے کھانا آرڈر کر دیا۔۔ تم نے کچھ اور منگوانا ہو تو منگوا لو۔۔
وہ شرمندہ ہوتے ہویے کہہ رہا تھا۔۔
یہ تو کوئی اور ہی ملک کا کھانا ہے مجھے اندازہ نہیں کیا اور کیسا ہوگا۔۔
ہایون نے صاف گوئی سے کہا ۔
عربی ریسٹورںٹ ہے۔۔ جون جے نے بتایا۔۔
پھر اپنا نان اور سالن آگے کر دیا۔۔ وہ چکن کھا رہا تھا۔۔
اسے چکھ کر دیکھ لو اچھا ہے ۔۔
ہایون کو سمجھ نہ آیا کیسے کھائے تو اس نے نوالہ بنا کر اسے کھلایا۔
مزے کا تھا۔۔
وہ رغبت سے کھانے لگا۔۔
تم ویسے چکن کھانا چھوڑ نہیں چکے تھے اسلام کی وجہ سے۔۔ ہایون ٹوکے بنا نہ رہ سکا۔۔
جون جے ہلکے سے مسکرا دیا۔۔
حلال کرکے چکن کھاتا ہوں۔۔ یہ ویسے مسلمان ملک کا ریستوران ہے یہاں چکن حلال کرکے ہی پکتا۔
حلال۔۔ اس نے حیرانی سے پوچھا۔۔
حلال۔۔ جون جے سوچ میں پڑا کیسے سمجھائے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


بچپن میں کہانی سنی تھئ۔ بابر کی۔
اچھی طرح یاد نہیں مگر کچھ کچھ یوں تھی کہ بابر ایک شہزادہ تھا جو جنگیں لڑتا ہارتا جیتا جنگلوں بھٹک رہا تھا۔کئی دن بھوکے گزرے اسکے۔ جب شکار نہ ملا تو اس نے ایک درخت کے پتے توڑے چبائے اسکی چھال کی اوک میں ٹھہرا پانی پیا اور کہا
بابر با عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست۔۔
بابر عیش کر لو یہ دنیا دوبارہ نہ ملے گی۔
دنوں کے بھوکے کو ان پتوں پانی سے بھوک مٹنے کا احساس کیسا فرط انگیز محسوس ہوا ہوگا مجھے آج اندازہ ہوا۔
اس سادہ سئ افطاری نے مجھے آج بابر کا عیش کروانا ہے۔ اور میں بابر کی طرح ہی شکر گزار بندی بن کر کھائوں گئ۔
اس نے بلاگ پر اپنی افطاری کی تصویر کھینچ کر لگاتے ہوئے یہ لکھا تھا۔
اسکی افطاری تھئ۔
سادہ روٹئ جس پر لہسن اور نمک مرچ کی کٹی ہوئی چٹنی رکھ کر وہ کھا رہی تھی ساتھ گلاس بھر کر سادہ پانی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا کمنٹ۔۔
میرے گھر کی افطارئ دیکھو۔
ساتھ انواع و اقسام کے کھانوں کی تصویر۔
دوسرا کمنٹ
افطاری کی۔تصویر۔
تیسرا کمنٹ
دوستوں کو افطاری کرواتے ہوئے لی گئ سیلفی میز کھانے سے بھری تنی ہوئی۔
چوتھا کمنٹ ۔۔ پانچواں چھٹا۔ ساتواں سارے ہی کمنٹس تصویروں بھرے
ایک سے ایک۔دعوتی کھانے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صارم نے اسکے بلاگ پر لکھنے کی بجائے سیدھا انباکس کیا تھا۔
یہ دیکھو تمہارے گھر کی افطاری اب احساس ہوا کیا کچھ پیچھے چھوڑ آئی ہو۔
اس عنوان کے ساتھ دل جلانے والے اسمائیلیز
اور گھر کی افطارئ کی تصویر۔
پکوڑے۔ چنا چاٹ دہی بڑے فروٹ چاٹ کچوری جام شیریں بھرا ہوا جگ ، رول سموسے۔ اور ۔۔
اس نے دونوں انگلیوں کی مدد سے تصویر بڑی کی۔ اسکا اپناسر بھی نظر آرہا تھا وہ اسکے سامنے رخ موڑے بیٹھی۔تھی تصویر سے بچنے کو ہی۔ یہ یقینا پچھلے سال کی۔تصویر تھئ۔
اسکے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔
اس وقت کیا کھا رہے اسکی تصویر بھیجو۔۔
حکم کی فوری تعمیل ہوئی۔
ساگ گوشت اور روٹی۔
ساتھ ایک جملہ۔
خالہ کی۔طبیعت ٹھیک نہیں تھی آج
اس نے موبائل ایکطرف رکھ دیا۔ اور افطاری کرنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد
جاری ہے

Kesi lagi Aapko aaj ki Salam Korea ki qist? Rate us below

Rating

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *