salam korea 13

قسط 13

آج کلاس نہیں ہوگی سر نہیں آئے۔۔
وہ کلاس میں جارہی تھی جب شاہزیب نے اسے پکار کر بتایا۔۔
وہ ایڈون اور سالک کلاس کے باہر سیڑھیوں پر لائن سے بیٹھے تھے۔۔
سنتھیا نہیں آئی؟۔۔ ایڈون نے پوچھا
اٹھا کر تو آئی ہوں آتی ہوگی۔۔
وہ بتا کر مڑنے کو تھی
اریزہ رکو۔۔ ایڈون نے کہا تو وہ مڑ کر دیکھنے لگی
یہ لو ہم کیلنڈر لائے تھے رمضان کا۔
وہ بالشت بھر کا کارڈ سا تھا۔
شکریہ۔ اس نے کہہ کر سب سے پہلے اوقات کار دیکھے تو آنکھیں کھل سی گئیں۔۔
3 بج کر اڑتیس منٹ پر سحر اور سات بج کر تریپن منٹ پر افطار۔یعنی پنڈی کے مقابلے میں آدھا پونا گھنٹہ لمبا روزہ۔
وہ دل ہی دل میں حساب لگا رہی تھی
تھوڑا لمبا ہوجائے گا مگر موسم یہاں کا پنڈی جتنا ظالم نہیں ہے۔
ایڈون کے کہنے پر وہ خفت ذدہ سی ہوئئ۔
ہاں شکر ہے یہاں اتنی گرمی نہیں۔
ہم بازار جا رہے ہیں اریزہ چلو گی ؟ سالک نے پوچھا تو وہ سہولت سے انکار کر گئ۔
نہیں۔۔۔
کھجور لائیں تمہارے لیئے ؟
شاہزیب پوچھ رہا تھا۔ وہ پھر ہاں کہتے کہتے رک گئ۔
ایک آدھ دن تو بنا کھجور گزارا چل جائے گا۔
نہیں شکریہ۔ اس نے منع کردیا۔
کھجوریں یہاں عجوہ والی مل رہی تھیں تھوڑی مہنگی ہیں مگر اسکا ذائقہ ہی الگ ہوتا ہے۔
پہلا روزہ کوئی اندازہ ہے کب ہوگا۔
وہ سوچ میں پڑی تھی۔
کل ہو سکتا ہے پرسوں بھئ۔ یہاں ویسے ایک ہی ہوگا پاکستان کی۔طرح دو دو چاند نہیں دیکھیں گے لوگ۔
ایڈون نے ہلکے پھلکے انداز میں طنز کیا۔
کاش پاکستانی بھئ دو دو چاند دیکھنا چھوڑ دیں۔
اریزہ نے کہا تو تینوں نے دل سے آمین کہا۔
ایڈون۔۔ سنتھیا دور کھڑی آواز دے رہی تھی۔۔اریزہ نے مڑ کر دیکھا وہ فاصلے پر تھی مگر یہاں آسکتی تھی۔ اسے اسکا رویہ خاصا حیران کر رہا تھا۔
یہاں آجائو۔۔ ایڈون کا اٹھنے کا ارادہ نہیں تھا۔۔
سنتھیا اشارے سے اسے اب بھی بلا رہی تھی۔۔
آتا ہوں۔۔ وہ کہہ کر اٹھ گیا۔۔
یہ دونوں بہت اونچی ہوائوں میں ہیں۔۔ شاہزیب ہلکی سی آواز میں بڑ بڑایا۔۔ مگر اریزہ نے سن لیا۔۔
مطلب۔۔ وہ نظر انداز نہیں کر سکی۔۔
تم نہیں سمجھو گی۔۔ سالک ہنس پڑا۔۔
کیوں نہیں سمجھوںگی۔۔ وہ اور الجھی۔۔
تم نے دیکھا نہیں یہاں آکر دونوں کے رنگ ڈھنگ یہاں کے لوگوں جیسے ہی ہو گئے ہیں۔۔ شاہ زیب نے کھل کر کہا
اریزہ نے مڑ کر دیکھا دونوں ایک دوسرے کا۔ہاتھ پکڑ کر مگن باتیں کرتے باہر جا رہے تھے۔۔
وہ مسلم نہیں ہیں یار انکا مزہب انکی ثقافت الگ ہی ہے وہ ہم لوگوں کی طرح نہیں سوچتے۔۔
وہ وہیں انکے قریب ہی سیڑھیوں پر ٹک گئ۔۔
مزہب الگ سہی ثقافت کیسے الگ۔۔ سنتھیا کی ڈریسنگ ہی دیکھ لو ٹھیک ہے وہ پاکستان میں بھی ویسٹرن ڈریسنگ کرتی تھی مگر یہاں تو آکر شارٹ اسکرٹس پر آگئ ہے۔۔ تم۔ٹوکتی نہیں ہو اسے؟۔۔
شاہزیب ناپسندیدہ انداز میں کہہ رہا تھا اریزہ زور سے ہنس پڑی۔۔
ہاں اماں ہوں نا میں اسکی۔۔ واپس آتی ہے تو ٹھکائی کروں گی اسکی ۔۔
اس نے شرارت بھرے انداز میں کہا۔۔
پھر بھی یار۔۔ کوئی تہزیب بھی ہوتی ہے۔۔ ہماری تو یہ تربیت بھی نہیں ثافت بھی نہیں۔۔
آیا بڑا دادا ابا۔۔ سالک نے بھی مزاق اڑانا شروع کر دیا۔
تیرے بچے ہیں جو تو انکے غم میں گھل رہا۔۔
میری بلا سے۔۔ اس نے بھی سر جھٹک دیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا کو فون ملا رہی تھی مگر اٹھا نہیں رہے تھے۔ اس نے تھک کر میسج لکھنا شروع کیا
بابا پیسےچاہیئیں ؟؟؟ اس بار رمضان کی وجہ سے جلدی بھجوا دیں ذیادہ بھئ۔
اس نے یہی لکھ کر بھیجا۔ پھر جی ہائے کی تلاش میں لگ گئ۔
جی ہائے اور ہایون ٹینس کھیل رہے تھے۔۔
جی ہائے کافی مشکل وقت دے رہی تھی اسے۔۔ دونوں کے پوائنٹس برابر تھے۔۔۔ ہایون اور وہ بھاگ بھاگ کر پسینے پسینے ہو رہے تھے۔۔ اریزہ جی ہائے کو پوچھتی پچھاتی یہاں پہنچی تھی۔۔ دونوں کھیل میں اتنا مگن تھے کہ اریزہ کے آواز دینے پر بھی نہ چونکے۔۔۔ وہ خاموشی سے آکر سیڑہیوں پر بیٹھ کر انکے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔۔
دونوں ہی بہت محنت کررہے تھے۔ جی ہائے ہایون کو کافی ٹکر دے رہی تھی۔۔
یہ دونوں کتنے فٹ اور کیوٹ ہیں۔۔
اس نے کہنی گھٹنے پر جمائی اور داہنی ہتھیلی پر آہ سی بھر کر چہرہ رکھا۔۔
یہ دونوں ساتھ کتنے اچھے لگیں۔۔
اسکو اچھوتا خیال آیا۔۔
دوست بھی ہیں ساتھ بھی رہتے۔۔اکٹھے کھیل رہے تو مطلب دلچسپیاں بھی ایک ۔۔ اوپر سے یہ ہایون اتنا لمبا ہے جی ہائے جیسی لمبی لڑکی ہی سوٹ کرے گی میرے جتنی ہائٹ والی کی تو دیکھتے دیکھتے ہی گردن درد کرنے لگے۔۔۔
وہ بغور اس عالم چنے کو دیکھ رہی تھی۔۔ ریکٹ اٹھاتا تو لگتا آسمان ہی چھو لے گا۔۔
وہ سوچ کر خود ہی ہنس پڑی۔۔
ہنسی کی آواز پر ہایون نے چونک کر آواز کی سمت دیکھا۔۔
گیند مس ہوئی ٹھا کر کےلگی اسکے کندھے پر جی ہائے نے فاتحانہ نعرہ بلند کیا۔۔
میں جیت گئ۔۔
وہ جوش سے اچھلتی نیٹ کے نیچے سے نکل کر اسکے کورٹ میں آئی۔۔ اور چڑانے لگی۔۔
آہ۔ اس نے کراہ کر کندھے پر ہاتھ رکھا۔
اسکے چہرے پر تکلیف کے گہرے تاثرات تھے۔ وہ اٹھ آئی۔۔
ہایون ہار گیا۔۔ میں شرط جیت گئی فائیٹنگ۔۔ اس نےمٹھی بنا کر دکھا کر چڑایا۔۔
ہایون مسکرا کر رہ گیا۔۔ وہ ابھی بھی سہلا رہا تھا اپنا کندھا۔۔
زور کی لگی ہے۔۔ اریزہ نے پاس آکر پوچھا۔۔
آنیو۔۔ اس نے فورا ہاتھ ہٹا لیا۔۔
ہے اریزہ ۔۔ جی ہائے نے اب دیکھا تھا اسے۔۔
تم کب آئیں۔۔ دیکھا میرا میچ اسے کیسے بری طرح ہرایا میں نے۔۔ جی ہائے کھلکھلائی۔۔
بری طرح نہیں بس یہ بال مس ہو گئ ورنہ میں جیتنے نا دیتا اتنی آسانی سے۔۔
ہیون تڑپ کر بولا۔ دونوں ہنگل میں شروع ہو گئے۔۔
اب تو تم ہارے ہو ئے انسان ایسا ہی کہو گے۔۔ لڑکی سے ہار گیا کیسے مان لوں ۔۔ خالص دقیانوسی کوریائی لڑکے ہو۔۔
جی ہائے بھنائی۔۔
میں نے ایسا کب کہا میں ہرگز بھی شائونسٹ نہیں اچھا خاصا فیمینزم کا۔حامی ہوں الزام نہ لگائو۔۔
ہایون نے الزام تراشی پر گھورا۔۔
فیمنزم اور تم جائو جائو۔۔ رو رہے ہو۔۔
اریزہ سے پوچھ لو یہ ہنسی تو میں اسکو دیکھنے لگا تھا جو مس ہوئی بال ورنہ تم جیسی بگنر ٹینس پلیئر کو چٹکیوں میں اڑا دیتا ہوں میں۔۔
ہیں اریزہ۔۔ جی ہائے مڑ کر پوچھنے لگی۔۔
واٹ۔۔ وہ بے چاری ایک لفظ بھی نہ سمجھ پائی تھی۔۔
فارگیٹ اٹ۔۔ ہایون نے کہا تو جی ہائے گہری سانس لے کر اپنے کٹ بیگ کی طرف بڑھ گئ۔۔
مجھے بھی پانی دینا۔۔ اسے کٹ بیگ سے پانی نکال۔کر پیتے دیکھ کر ہایون نے آواز لگائی
ہایون بال جھٹک رہا تھا۔۔
ہایون انی بریو ہارٹ کے دوہیون سے ملوا سکتی ہیں؟۔۔ میرا مطلب وہ منتظم ہیں نا آج کی محفل کی۔۔
وہ سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔۔
اس نے کندھے اچکائے۔۔ کہنے جا رہا تھا کیا پتہ کہ نے آواز دے کر متوجہ کیا۔۔ وہ۔مڑ ا۔۔
یہ لو۔۔
جی ہائے نے بیگ سے بوتل۔نکال کر اسے وہیں سے اچھال۔دی۔۔ بوتل سیدھا اریزہ کے منہ کی جانب آرہی تھی۔۔ جی ہائے کا نشانہ کمال تھا اریزہ متوجہ بھی نہیں تھی ہایون کو دیکھ رہی تھی ہایون نے آگے ہو کر پورا جسم پھیلا کر اچھل کر اسکا منہ ٹوٹنے سے بچاتے ہوئے پکڑ ہی لی بوتل۔۔
مگر دائیں جانب اچھل کر اتنا جسم اسٹریچ کیا تھا توازن کھو بیٹھا گر ہی گیا۔۔
تم کیا ہر وقت گرتے رہتے۔۔ اریزہ ایک قدم پیچھے ہوئی ورنہ سیدھا اسکے قدموں پر ہی گرتا۔۔
اریزہ نے کہا تو ہایون نے گھورا
شوق ہے مجھے بچپن سے گرنے کا۔۔ وہ دانت کچکچا کر بولا۔۔
نائس کیچ۔۔ جی ہائے تالیاں بجا رہی تھی۔
ہایون سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔ پلٹ کر کینہ توز نظر جی ہائے پر ڈالی۔۔
بہت اعلی تھرو تھا شاباش۔۔ اس نے ہنگل میں کہا۔۔
جی ہائے کھلکھلائی
گومو وویو۔۔
ڈھٹائی عروج پر تھی۔۔
اس کا اٹھنے کا ارادہ نہ دیکھ کر اریزہ بھی گھٹنے کے بل جھکی۔۔
پوچھ کے بتا دو نا۔۔ اگر اس سے ملنا ممکن ہو تب ہی میں جائوں گی کانسرٹ میں ورنہ میرے جانے کا کیا فائدہ۔۔
ہایون گھونٹ بھرتے ہوئے اسے غور سے دیکھ رہا تھا
تمہیں بھی دوہیون اتنا پسند ہے؟۔۔۔ یہ جی ہائے تو پاگل ہے اسکے پیچھے ۔
وہ جیسے جانچ رہ تھا۔۔
ابے نہیں یار۔
اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔
وہ سلپ ہو کر بیٹھ ہی گئ۔۔
مجھے اس سے ملنا ہے اسکا ایم پی تھری واپس کرنا ہے۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔
چھوڑو۔۔ دفع کرو۔۔ اسکو کمی تھوڑی۔۔
ہایون نے جیسے مکھی اڑائی۔۔
یہ بات نہیں ہے۔۔ اس نے مجھے دیا ہوتا تو رکھ بھی لیتی یہ میرے پاس رہ گیا ہے ۔۔ یہ
وہ سوچ میں پڑی۔
۔ امانت کو انگریزی میں کیا کہتے۔۔ بالکل بھول گئی۔۔
وہ سر پر ہاتھ مار کر بڑ بڑائی۔
میرے دل پر بوجھ ہے میں کسی کی چیز بنا اجازت استعمال کر رہی۔۔
اس نے جملہ بدل دیا۔۔
اچھا پوچھوں گا۔۔
وہ اتنی بے چین تھی اسے حامی بھرنی پڑی۔۔
چلو چلیں۔۔ وہ اٹھ کے کھڑا ہوگیا۔
اریزہ زمیں پر ہاتھ رکھ کر بوڑھوں کی طرح گھٹنے پکڑتی اٹھی۔
دیکھا میری بڑھیا دوست کو۔۔ جی ہائے نے وہیں سے آواز لگائی۔
کیا ؟۔۔ اریزہ نے پوچھا۔۔ دونوں زور سے ہنس پڑے۔۔
کتنی ہی کوئی کمینگی ہے یہ ویسے۔۔ جان جان کے میرے سامنے اپنی زبان میں شروع ہو رہے ہو۔۔ دیکھنا اب میں بھی ایڈون سے کہوں گی تم لوگ سامنے ہم خوب اردو بولیں گے اور چڑائیں گے
بلکہ مزاق بھی اڑائیں گے ایسے ہی ہنسوں گی تب پتہ لگے گا۔۔۔
اریزہ پیر پٹختی شروع ہوگئ۔۔۔زور زور سے بولی تو جی ہائے بھی ہنسنا بھول اسکو دیکھے لگ گئ
ہایون کے تاثرات دیکھنے والے تھے۔۔ پہلے حیران پھر الجھن زدہ آخر میں منہ کھول کر اسکی فراٹے بھرتی زبان کو دیکھتا خاصا مضحکہ خیز لگ رہا تھا۔۔
کیا کہا تم نے۔۔ وہ حیرانی پر قابو پا کر بولا۔۔
فارگیٹ اٹ۔۔ اس نے ہایون کی نقل اتاری تھی۔۔
اور مزے سے کندھے اچکا کر جی ہائے کی طرف بڑھ گئ۔۔
ہایون نے دلچسپی سے اسکو دیکھا پھر بڑبڑایا۔۔
کمینگئ۔۔ جان۔ مزے کی زبان ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تینوں قریبی کافی شاپ میں کافی پینے آئے تھے۔۔ ہایون آرڈر دینے سیدھا کاونٹر کی طرف بڑھا تھا جی ہائے اور وہ دونوں کارنر کی ٹیبل پر آ بیٹھیں۔۔
موسم ابر آلود ہو رہا تھا سورج چھپ گیا تھا موسم کی۔خنکی کے باعث سڑک پر لگی بتیاں جل اٹھی تھیں۔۔
ایک دم سے جیسے سب جگمگ کرنے لگا۔۔ ٹریفک رواں دواں تھا اکا دکا راہ گیر گزر رہے تھے۔۔ وہ محویت سے باہر دیکھ رہی تھی۔ فٹ پاتھ پر ایک چھوٹا سا بچہ اپنی ماں کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔ ماں نے کنگھیوں کا اسٹال سا لگایا ہوا تھا۔۔ کچھ بینڈز اور بریسلیٹ بھی تھے۔ بچہ بار بار کسی چیز کی ضد کر رہا تھا۔۔ ماں کبھی دھیرے سے کچھ کہتی کبھی جھڑک دیتی۔۔ وہ بار بار ضد کرتا ایڑھیاں رگڑنے لگتا۔۔
جی ہائے نے اسے اچنبھے سے دیکھا۔۔
اسے اس منظر میں کچھ خا ص دکھائی نہیں دیا تھا۔۔
کافی۔۔ ہایون نے ٹرے لا کر بیچ میں رکھی۔۔
اریزہ چونک کر متوجہ ہوئی۔۔ وہ دونوں ایکسپریسو پی رہے تھے مگر اسکی کریمی کیپیچینو تھی۔۔
اس کی کیپیچینو پر جھاگ سے بے حد خو بصورت چھوٹا سا بھالو بیٹھا ہاتھ ہلا رہا تھا۔۔
اس نے فورا موبائل نکال کر تصویر کھینچ ڈالی۔۔
یہ مت کہنا تم بھی سوشل میڈیا فریک ہو۔۔ جی ہائے نے بے زاری دے جھر جھری لی۔۔
ارادہ اسکا بلاگ پر پوسٹ کرنے کا تھا سو فورا کہیں شائع نہیں کیا مگر کھسیا ضرور گئ۔۔
فریک تو نہیں کبھی کبھی بس۔۔
وہ سیدھی ہو کر کافی کا لطف اٹھانے لگی۔
تبھی ہایون کا موبائل بجا۔۔
اس نے یونہی موبائل میں موسم دیکھا۔۔
پچیس ڈگری۔۔ وہ بھونچکا رہ گئ۔
اتنے پر تو ہم اے سی چھوڑتے ہیں ۔تبھی تو مجھے خنکی محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے جی ہائے کو بغور دیکھا
بند گلے کا گھٹنوں تک کا فراک پہنے وہ مزے سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی تھئ۔ سفید گوری ٹانگیں۔
مجھے تو یہاں جلد ہی سردی کے کپڑوں کی ضرورت پڑ جائے گی۔ پاپا سے کہوں کہ پیسے بھجوا دیں یا پھر ستمبر آنے کا انتظار کروں۔۔
وہ ادھیڑ بن میں تھئ۔
ستمبر کے آنے کا انتظار کرو۔۔
ہایون نے فون بند کرکے اچانک اسے مخاطب کیا وہ بری طرح گڑبڑا گئ۔۔
کیا؟۔۔
ستمبر آنے کا انتظار کرو۔۔
اس نے اطمینان سے بات دہرائی۔۔
کیوں؟۔ جی ہائے بھی حیران ہوئی۔۔
میں بول بول کر سوچ رہی تھی؟۔۔ اریزہ نے پوچھا تو ہایون الٹا حیران ہو کر پوچھنے لگا۔۔
نہیں مگر کیا تم اسی بارے میں سوچ رہی تھیں؟۔۔
کس بارے میں؟۔۔ جی ہائے الجھن زدہ ہوگئ۔۔
بریو ہارٹ کا چیریٹی کانسرٹ ہے نا آج شام۔۔ سات بجے۔۔
ہایون نے کہا تو جی ہائے اچھل پڑی۔۔
کیا پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔ کہاں ہے کب ہے مجھے پاسس چاہیئے۔۔ کتنے کا ہے۔۔ ؟۔۔ وہ بے چینی سے شروع ہو گئ۔
پاس تو ہے میرے پاس مگر
دوہیون نہیں آرہا آج اسکی طبیعت خراب ہے باقی بینڈ میمبرز پرفارم کریں گے ہاں ستمبر میں وہ ایک اور کانسرٹ کرے گا سیول میں اسکے بھی سپانسر انی لوگ ہی ہونگے۔۔ اس نے تفصیل سے بتایا۔
دونوں لڑکیوں کے منہ اتر گئے۔۔
ہاہ
کیا ہوتی ہو تم لڑکیاں بھی۔۔ اس ڈبل آئی لڈ والے میں ایسا کیا خاص اس سے زیادہ تو میں ہینڈسم ہوں۔۔
ہہونگ سک نے کالر کھڑے کیئے۔۔
تم اور ہینڈسم۔۔ اچھا مزاق تھا۔۔
جی ہائے نے چٹکیوں میں اڑایا۔۔
کیوں کیا کمی ہے مجھ میں۔۔ وہ برا مان گیا۔۔
ڈبل آئی لڈ والا۔ہوں۔۔ شاذ نظر آتے کوریا میں۔۔ چھے فٹ دو انچ کا ہوں۔۔ تائکوانڈو بلیک بیلٹ ۔۔ گورا چٹا۔۔ سمارٹ ہنستا ہوں تو ایک دنیا تھم جاتی۔۔
وہ۔لن ترانی پر اتر آیا
ہاں جبھی سنگل ہو آج تک دنیا تھمی ہوئی ہے تمہاری۔۔
جی ہائے زور سے ہنسی۔۔
کیوں اریزہ ۔۔ غلط کہہ رہا ہوں۔ اس نے اریزہ سے تائید چاہی۔۔
میں متفق ہوں۔ ہے تو یہ ہینڈسم۔
اریزہ نے حق بات کی۔۔ جی ہائے آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی۔۔
تمہیں یہ ہینڈسم لگ رہا۔۔ تم۔نے ہینڈسم لوگ دیکھے نہیں پھر۔۔ وہ سر جھٹک رہی تھی۔۔
ہاں ہے تو بے چارہ ہینڈسم ۔۔ اس نے جی ہائے سے کہا تو وہ سر جھٹک کر کافی پینے لگی۔ اس نے ہایون سے براہ راست ہی پوچھ لیا۔۔
سنگل کیوں ہو اب تک؟۔۔
ہایون لاجواب ہو گیا پھر قصدا مسکرا کر بولا۔۔
کورین لڑکیوں کی قریب کی نظر خراب شائد اسلیئے
جی نہیں کورین لڑکیوں کی قریب کی نظر ٹھیک ہے اسلئے۔۔
جی ہائے نے جملہ اچک کر چڑایا۔
دونوں پھر بھڑ گئے تھے۔۔
مجھے تو لگ رہا تم دونوں کی نظریں ہی خراب ہیں۔۔ وہ بڑ بڑا کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے میونگ دیونگ ڈراپ کر دینا۔
کافی شاپ سے نکلتے ہوئے جی ہائے نے ہایون سے کہا تھا۔۔ گاڑی کی طرف بڑھتے ہہونگ سک نے صاف انکار کیا۔۔
میں نہیں جا رہا ادھر۔۔ بس اسٹاپ پر ڈراپ کر دوں گا چلی جانا۔
اریزہ کو تو ہاسٹل ڈراپ کروگے نا مجھے ایک اسٹاپ آگے چھوڑ دینا ۔۔ جی ہائے کہا پھر چڑ کر بولی۔۔
گھس نہیں جائے گی گاڑی تمہاری۔
اریزہ ۔۔ وہ۔چونک کر اردگرد دیکھنے لگا
اریزہ تو انکے ساتھ تھی ہی نہیں۔۔
جی ہائے نے بھی چونک کر اسے ڈھونڈا۔۔
ابھئ کافی شاپ سے اٹھے تو تینوں اکٹھے تھے۔۔
کہاں گئی یہ لڑکی اسے تو یہاں کے راستے بھی نہیں آتے۔۔ جی ہائے تھوڑی سی پریشان ہوئی۔۔
ہایون نے سڑک پر نظر دوڑائی تو وہ اسے ایک اسٹال کے پاس بیٹھی نظر آئی۔
وہ کنگھی خرید رہی تھی۔ وہ بڑا نوٹ تھما کر واپس مڑنے لگی جب اس عورت نے پکارا۔
وہ آندے آندے کرکے جانے کیا کہہ رہی تھی اسے سمجھ نہ آیا۔
ہایون اور جی ہائے اسکے پاس ہی چلے آئے۔
اریزہ یہ کنگھی اتنی مہنگی نہیں ہے یہ بقایا پیسے واپس کرنا چاہ رہی ہے۔
جی ہائے نے بتایا تو وہ سر ہلانے لگی۔
ہاں مجھے اتنا سمجھ آیا ہے مگر میں اسکی مدد کرنا چاہ رہی ہوں۔۔۔ اسکی بات پر جی ہائے اور ہایون ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔
ہایون آگے بڑھ کر اس خاتون سے ہنگل میں کہنے لگا۔
دراصل یہ پوری ٹوکری خریدنا چاہ رہی ہے۔
اسکے لیئے یہ پیسے کم ہیں۔ وہ عورت مایوس سی ہوئی
کتنے پیسے بنتے ہیں۔ ہایون والٹ کھول رہا تھا۔
اس عورت کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی۔
ہایون نے اسکو پیسے دیکر ٹوکری اٹھا لی۔
وہ۔عورت فورا اٹھ کھڑی ہوئی آگے بڑھ کر اریزہ کا ہاتھ تھام کر جھک جھک کے کچھ کہنے لگی۔
شکریہ ادا کر رہی ہے تمہارا۔
جی ہائے نے ترجمہ کیا۔
مگرکیوں۔۔ وہ حیران تھئ۔
جی ہائے نے آگے بڑھ کر ٹوکری ٹٹولنی شروع کی۔
گاڑی میں بیٹھ کر دیکھ لینا۔ ہایون نے اسے ہی پکڑا دی۔ کافی بڑی تھی مگر جی ہائے نے آرام سے سنبھال لی اریزہ نے ہاتھ لگانا چاہا مگر اسے ضرورت نہ تھی۔ ہایون بے نیازی سے گاڑی کی طرف بڑھ گیا
یہاں شائد لڑکیوں کے ہاتھ سے وزن لینے کا رواج نہیں ۔ اسے یہی لگا۔
وائو اس میں تو کافی کام کی چیزیں ہیں۔
جی ہائے پچھلی نشست پر ٹوکری رکھ کر بیٹھ گئ۔ اب دلچسپی سے ٹٹول رہی تھی۔
اریزہ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولنا پڑا۔
اریزہ نے مچھلی کی شکل کا لکڑی کا کنگھا لیا تھا جس پر بے حد پیاری چینی بلکہ کورین گڑیا کھدی ہوئی تھی۔
اسکے بال الجھ الجھ جاتے تھے سو وہ گاڑی میں اطمینان سے بیٹھ کر سلجھانے لگی۔
یہاں لوگ بلا وجہ پیسے لینا معیوب سمجھتے ہیں۔ٹپ دینا یا کسی کو زائد قیمت دے کر مدد کرنے کا مطلب اسے بھکاری سمجھنا ہوتا ہے۔
ہایون گاڑی اسٹارٹ کرتے کرتے رک کر بولا
اسکی ہمدردی کا اتنا غلط مطلب وہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی
اسکا بچہ روئے جا رہا تھا اسلیئے میں اسکی مدد کرنا چاہ رہی تھئ۔ تم نے بھئ تو اسکی پوری ٹوکری خریدی ہے۔
اسے سمجھ نہ آیا اگر اتنا برا لگنے والی بات تھی تو ہایون کی بات کا برا کیوں نہ منایا۔
ہایون نے اسکو کہاتھا کہ تمہیں کورین مصنوعات اپنے دوستوں میں بانٹنی ہیں اسلیئے تم پوری ٹوکری لینا چاہتی ہو۔
جی ہائے کئی کلپس اور بینڈز چن کر اپنے ہینڈ بیگ میں ڈال چکی تھی سو اطمینان سے ٹوکری کی جان چھوڑتے ہوئے بولی۔
مگر میں نے تو یہ نہیں بانٹنئ تھیں۔ وہ حیران رہ گئ۔ ہایون اور جی ہائے ہنس دیئے
اب بانٹ لینا۔ ہایون لے تو چکا ہے اور یہ پونیاں بھی نہیں باندھتا
جی ہائے اسے چھیڑے بنا نہ رہ سکی۔
تمہیں ضرورت نہیں تھی ایسا کہنے کی۔ نا پوری ٹوکری خریدنے کی
اسے برا لگا تھا۔ ہایون گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
چل۔۔ اتنے پیسے یہ یونہی سڑک پراڑا سکتاہے۔
جی ہائے ہنس رہی تھی۔
گوارا بتاتی ہے یہ ہائی اسکول کے ذمانے میں ایک بوڑھی آنٹئ سے روز ان سب کیلئے تبوکی خریدتا تھا تاکہ انکی مدد کرسکے اور جس دن ان کا تبوکی کا موڈ نہیں ہوتا تھا اس دن یہ ہوم لیس لوگ ڈھونڈتا پھرتا تھا انہیں کھلانے کیلئے۔
ہائش۔ چپ کرو۔ بہت فضول بولتی ہو۔
ہایون کی پوری توجہ سڑک کی جانب تھی مگر اسکا چہرہ خفت ذدہ سرخ سا ہورہا تھا۔
اسکے ایسے کئی سوشل ورک آج تک جاری ہیں۔
وہ۔مزید کہہ رہی تھی۔
جی ہائے بس کرو چپ کرکے بیٹھو
ہایون گھرک رہا تھا۔ جی ہائے اسے چھیڑے جا رہی تھی۔ دونوں اب مکمل ہنگل میں بحث میں الجھے تھے۔
اسے حیرت ہوئی تھی اتنا امیر ہونے کے باوجود وہ کتنا سلجھا ہوا لڑکا تھا۔ اور یہ جی ہائے اسکی سب خوبیاں جاننے کے باوجود اس کو لائن نہیں مارتی تھی دونوں بس دوست تھے۔ ہنستے لڑتے بے تکلف دوست
اسے ان دونوں کی اب نگاہوں کی بجائے عقل پر شبہ ہونے لگا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ہائے اتری تو وہ پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی۔
تم انکا کیا کرو گے؟ اسکا اشارہ ٹوکری کی۔جانب تھا۔
میں انکو بیچ کر تمہیں پیسے دوں؟ اسکے کہنے پر
ہایون نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھٹی کا وقت تھا اسکول کے جوق در جوق ٹین ایجرز یونیفارم میں ادھر سے گزرے تھے۔تو دفتر سے واپس گھر کو۔جانے والے بھئ بڑی تعداد میں لوگ آ جا رہےتھے۔
وہ زندگی میں پہلی دفعہ یوں اسٹال لگا کے کھڑی تھی ۔ مگر یہاں کوئی گھورنے والا نہیں تھا یہ اطمینان تھا۔ ایک تو اسکا کرتا پاجامہ شیفون کا دوپٹہ توجہ کا مرکز بنا دوسرا ہایون ہاتھ میں دو پنکھے پکڑے لوگوں کو الگ پکڑ پکڑ کر اسکے اسٹال کی۔جانب بھیج رہا تھا۔
بریسلیٹ فرینڈ شپ بینڈز منٹوں میں ختم ہوئے تھے۔۔ چھوٹے چھوٹے پنکھے اورکنگھیاں ۔۔ بچے تھے بس۔۔ اریزہ کے پاس یکے بعد دیگرےجب لڑکے کنگھی خریدنے آنے لگے تو ہایون آگے بڑھ کر ان سے بھائو تائو کرنے لگا۔۔
دیکھتے دیکھتے وہ بھی ختم ہوئے۔۔ دو چار پنکھے اور دو تین کنگھے بچے بس۔۔
اریزی نے پیسے گنے اور ایمانداری سے سب اسے تھما دیئے۔۔
سب مجھے کیوں۔۔ ہایون حیران تھا
۔۔ تمہاری محنت تھی ساری مجھ سے تو کوئی کچھ خرید ہی نہیں رہا تھا۔۔
اریزہ نے پیسے آدھے آدھے کر دیئے۔۔
تمہاری اکنامکس خاصی کمزور ہے۔ سرمایہ کاری۔ تمہاری تھی۔۔۔
اریزہ نے جتایا تو وہ۔ہنس دیا۔۔
ویسے مزا آیا۔۔۔ وہ نوٹ پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
تم نے سارے بڑے نوٹ مجھے دے دیئے۔ہایون نے جتایا۔۔
ہا۔ اس نے تھک کر سب پیسے اسکے ہاتھ پر رکھ دیئے۔۔
آدھے آدھے کرو۔۔
مجھے نہیں چاہیئے۔۔ ہایون نے منع کیا مگر وہ قطعی انداز میں بولی۔۔
محنت ہم دونوں کی ہے سو پیسے برابر بانٹو۔۔
وہ کندھے اچکا کر اسے سمجھانے لگا۔۔
یہ سب سے چھوٹا نوٹ ہے یہ بڑا۔۔۔ کچھ اسکے پلے پڑا کچھ سر پر سے گزر گیا۔۔
یہ کونسی جگہ ہے ویسے۔۔
اس نے نوٹ والٹ میں رکھتے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔
ارد گرد بہت بڑی بڑی عمارتیں تھیں۔ وہ ایک عمارت کے داخلی راستے کے قریب کھڑے تھے۔۔ ان سے چیزیں خریدنے والے اسی عمارت میں گھستے گئے تھے۔۔
یہ وہی ہال ہے جہاں بریو ہارٹ کا کانسرٹ ہو رہا۔
ہایون نے سرسری انداز میں بتایا۔۔
لو یہاں آگئے ہیں تو کانسرٹ میں چلتے ہیں۔۔اریزہ نے کہا تو ہایون نے پوچھا۔۔
پاس ہے تمہارے پاس۔۔ ؟
ہاں۔۔ اس نے فورا سر ہلایا پھر یاد آیا
پاس تو اس نے اپنے بیڈ سایڈ ٹیبل کی دراز میں رکھا تھا۔۔وہ کھسیا گئ۔۔
ہاسٹل میں ہے۔۔ اس نے مرے مرے انداز میں کہا۔۔
چلو تمہیں اسٹریٹ میوزک سناتا ہوں۔۔ اسے کھڑے کھڑے آئڈیا آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے مشہور گنگنم اسٹریٹ لے آیا تھا۔۔
یہاں جا بجا کلب اور ریستوران تھے یہ کورین نائٹ لائف کا گڑھ تھا۔۔ سڑک کنارے مختلف فنکار بیٹھے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے۔۔ کہیں کوئی موسیقی کا کوئی ساز بجا رہا تھا تو کہیں چھوٹے موٹے فنکار کرتب دکھا رہے تھے۔۔ وہ بے حد دلچسپی سے سب دیکھ رہی تھی۔۔ بڑے بڑے کارٹون کیریکٹر والا لباس پہنے لوگ پھر رہے تھے۔۔ اس نے دو تین کے ساتھ تصویر بنوائی۔ ایک جانب ایک پلازے کے باہرپلازے کی سیڑھیوں۔پر بیٹھا ایک لڑکا گٹار بجا رہا۔تھا۔ کئی لوگ اسکے گرد گھیرے میں کھڑے اسے سن رہے تھے کچھ غیر ملکی اسکی تصویر بھی بنا رہے تھے۔۔
کوئی نا مانوس دھن تھئ مگر دل چھو لینے والی وہ مگن ہو کر اسکے پاس ہی سیڑھیوں پر آبیٹھی۔
ہایون بھی اسکے پاس آبیٹھا۔۔
لڑکا دھیرے دھیرے گنگنا نے لگا۔
اسومی منچھو جی آنا نوا سنگا کامیون گیبون جو ہا
بلگیری منچجو جی آنا نوا سارنگی تھل یو گا۔۔ بے بی یور مائی لو۔۔
نوا سارنگی باجم نوا۔ بے بی یور مائی ڈریم۔
نوا تورئ سا اسومی منچھیو دے۔ نوا توری گچیون بومسے نوا مے یو نوا تورئ سا ہنا داگو شپو۔۔
بے حد خوبصورت آواز تھئ۔
گٹار بجاتے لڑکے نے مسکرا کر انکی جانب مڑ کر دیکھا تو وہ چونکی۔ پھر پلٹ کر ہایون کو دیکھنے لگی۔۔ وہ بے حد جزب سے آنکھیں بند کیئے گا رہا تھا۔۔
گٹار کی دھن ختم ہوئی اسکا گایا ہوا گانا مکمل ہوا۔۔
سب نے پرجوش تالیاں بجائی تھیں۔۔ سب سے زیادہ زور سے اسے اریزہ کی بجائی تالی ہی سنائی دی تھی۔ وہ آنکھیں کھول کر مسکرایا۔۔
اریزہ اسے ہی دیکھتے پر جوش انداز میں تالیاں بجا رہی تھی۔۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔ وہ اورگٹار بجاتا لڑکا جھک جھک کر کورنش بجا لا رہے تھے۔۔
لوگ چھٹنے لگے تو وہ سیڑھیاں اتر کرہایون کے پاس آئی۔۔
واہ بھئی۔۔ تمہاری تو آواز بہت اچھی ہے تمہارے اس چھپے ہوئے فن کا تو مجھے علم ہی نہیں تھا۔۔ وہ۔کھلے دل سے تعریف کر رہی تھی۔۔
گومو ویو۔ وہ جھینپ گیا تھا۔۔
ہائی اسکول میں میں اور سن بے بہت گاتے تھےہر فنکشن میں شروع ہو جاتے تھے تب ہمارا ارادہ آڈیشن دے کر کسی کمپنی کا حصہ بننے کا بھی تھا۔۔
وہ چلتے چلتے سرسری انداز میں بتا رہا تھا۔۔
پھر دیا کیوں نہیں؟۔
اس نے پوچھا تو وہ سر جھٹک گیا۔۔
پھر سن بے کی زندگی میں گرل فرینڈ آگئ اسکا سارا دھیان بس اسکی جانب ہو گیا۔۔
اریزہ زور سے ہنس دی۔۔
ہایون اسے یوں دیکھنے لگا جیسے پوچھ رہا ہو ہنسنے کی کیا بات۔۔
جب آپکے دوستوں کی زندگی میں خاص لوگ آتے تو وہ آپکو مزے سے ایک طرف کر دیتے چاہے وہ کتنے ہی اچھے دوست ہونے کا دعوی کیوں نہ کرتے ہوں۔۔ اب سنتھیا بچپن کی دوست میری مگر جب سے ایڈون اسکی زندگئ میں آیا مجھے بھول ہی گئ ہے۔۔ بتاتے بتاتے اسکا انداز شکائتی سا ہو گیا تھا۔۔
ہایون اسے رک کر دیکھنے لگا
تم سنتھیاکو بہت پسند کرتی ہو۔۔
پسند۔۔
اس نے زور دے کر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔
میں محبت کرتی ہوں اس سے۔۔ وہ مسکرا کر سادہ سے انداز میں کہہ گئ۔۔
مجھے اندازہ تھا۔۔ ہایون نے اسے تسلی دینے والے انداز میں کہا۔۔
ایک بار میں نے تم دونوں کو دیکھا تھا۔۔ تم لوگ سڑک پر گلے لگی ہوئی تھیں۔۔ کوریا میں ایسا کم کم دیکھنے کو ملتا ایک جنس کے لوگ تو بالکل بھی نہیں۔۔ ابھی ہم اتنے ایڈوانس نہیں ہوئے
۔ وہ ہنس کر کہہ رہا تھا۔۔
کیوں۔اس میں ایڈوانس کی کیا بات۔ وہ سمجھی نہیں۔۔
جی ہائے اور گوارا بھئ بہت قریبی سہیلیاں ہیں۔۔کوریا میں بھی۔۔
زن سے اسکے دماغ میں کوئی چیز کھٹک گئی۔۔
ہاں مگر جی ہائے سنگل ہے گوارا کا تو بوایے فرینڈ ہے۔۔ اور جی ہائے اور گوارا دوست تو ہیں مگر گرل فرینڈ تھوڑی ہیں تمہارے اور سنتھیا کی طرح۔۔
کیا۔۔ وہ سمجھ کر زور سے چلائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے ہاسٹل کے باہر ڈراپ کیا تو وہ تن فن کرتی اتری اور بنا اسے کچھ کہنے کا موقع دیئے تیز تیز قدم اٹھاتی اندر گھس گئ۔۔ وہ کندھے اچکا کر گاڑی واپس موڑ گیا۔۔
حد ہے مطلب حد ہی ہے۔۔ وہ بھناتی ہوئی مٹھی بھینچتی کمرے میں آئی۔۔ سنتھیا کمرے میں نہیں تھی۔۔ وہ بیگ وہیں ٹکا کر باتھ روم میں گھس گئی۔۔ منہ پر چھپاکے مار مار کر غصہ کم کرنے کی کوشش کی۔۔
منہ پونچھتی باہر نکلی بیگ اٹھا کر سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔ پھر جانے کیا خیال آیا۔۔ بیگ اپنے بیڈ پر اچھال کر تیزی سے نیچے اتری۔۔ پہلے کمرے کا دروازہ لاک کیا پھر آکر سنتھیا کا تکیہ کھینچا۔۔
خالی تھا۔۔ اس نے بستر جھاڑا بیڈ کے نیچے جھانکا سائڈ ٹیبل تلاش لی۔۔
وہ الجھ گئ۔۔ پھر نا جانے کیا خیال آیا دوڑ کر کوڑے دان کے پاس آئی۔۔ کوڑے دان میں نیا شاپر لگا ہوا تھا اس پر دو دوائیوں کے خالی ریپر چمک رہے تھے۔۔اس نے انکو نکال لیاتھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن سپا سے نکل رہا تھا جب کوئی اسکے پاس سے گزرا وہ چونک کر مڑا۔۔
وہ ایک دھان پان سی لڑکی تھی۔۔ تھوڑی مانوس سی شکل کی۔۔ کاوئنٹر پر سے الماری کی چابی لیکر وہ بنا مڑ کر دیکھے خواتین کے لیئے مخصوص حصے کیطرف بڑھ گئ۔۔
کم سن اسے پکارنے ہی لگا تھا پھر کچھ سوچ کر چپ رہا اور واپس کائونٹر پر موجود لڑکی کے پاس آگیا۔۔
جی سر۔۔ لڑکی نے مسکرا کر اس پرتوجہ کی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوگ چاہے دنیا کے کسی حصے میں بھی رہتے ہوں۔۔
آپکو اپنی مرضی کے مطابق جانچتے۔۔ اپنی مرضی کا نتیجہ اخذ کرتے۔۔ اور اپنی مرضی کا ردعمل دیتے۔۔ پھر چاہے وہ آپکا چھوٹا سا عمل ہو یا کوئی بڑی حرکت سب کیلیئے آپ جوابدہ ہیں۔۔ پہلے دنیا کے سامنے۔۔ آخرت بہت بعد کی بات ہے۔۔
اس نے بھناتے ہوئے شائع کیا تھا۔۔
پہلا کمنٹ۔۔
اب کیا کر بیٹھی ہو ایڈمن۔۔
دوسرا۔
پہلے یہ بتائو اتنے دن سے کہاں تھیں ۔۔ تم جوابدہ ہو ہمارے بتائو۔۔ بلاگ پر کچھ شائع کیوں نہیں کیا اتنے دن۔۔ سامنے ہنستا ہوا اسمائیلی۔۔
اسکے چہرے پر بھی مسکراہٹ آ ہی گئ تھی۔۔
تیسرا۔۔
مجھ سے خود اجالا پوچھ رہی میں سارا دن کیا کرتا رہا سچ مچ بس سوتا رہا ہوں کوئی یقین دلا دو اسے۔۔
چوتھا۔۔
مجھے لڈو اسٹار میں کوئی چیلنج کرنا چاہتا تو آجائے۔۔
پانچواں۔۔
لوگوں کا کیا ہے ایک دن سب مر جائیں گے دیکھنا۔۔
چھٹا۔۔
ہم دنیا میں انسان بن کر آئے ہیں انسانوں میں رہنے آئے ہیں۔ پھر کہیں ہم انہیں کہیں وہ ہمیں سہہ لیں تو زندگی سہل ہے۔۔ اور انسان انسانوں کے بغیر رہ بھی تو نہیں سکتا۔۔ رہنا منع بھی ہے۔ سو تھوڑا سا برداشت سے کام لیجئے۔۔ لوگ اتنے بھی برے نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنتھیا رات کو کافی دیر سے آئی تھی۔ آتے ہی بنا آہٹ کیئے بستر میں گھس گئ۔۔
صارم کا میسج آیا تھا۔ رمضان مبارک۔
ہوگیا چاند پاکستان میں؟ اسے حیرت ہوئی۔
بہن کوریا میں ہوگیا ہے اور گھڑی دیکھو بس ایک گھنٹہ ہے تمہارے پاس۔
صارم نے کہا تو وہ اچھل کر اٹھ بیٹھی۔
تمہیں کیسے پتہ؟ اس سے احمقانہ جملہ بھی کہہ سکتی صارم کو اندازہ تھا۔
تمہیں کیسے نہیں پتہ؟ بی بی گوگل کرلو۔
صارم بی بی ہمیشہ اسے چڑانے کو ہی کہتا تھا۔
اچھا۔ اس نے مایوسی سے سر کھجایا۔ بلاگ لکھتے فیس بک استعمال کرتے وقت کا پتہ نہ لگا تھا اسے۔ جلدی سے اٹھ کر اپنی دراز کھنگالنے لگی۔
ایک آدھ چاکلیٹ اور چپس کا پیک تھا بس۔ ان سے روزہ نہ گزرتا اسکا۔ اور پانی۔ وہ کچھ سوچ کر نیچے اتر آئی۔
سنتھیا۔
اس نے دھیرے سے پکارا۔ سنتھیا دس پندرہ منٹ میں سو تو نہیں گئ تھئ۔ مگر سوتی بنئ رہی۔
وہ چند لمحے اسکے اٹھنے کا انتظار کرتی رہی پھر دھیرے سے کمرے کا دروازہ بند کرتی باہر نکل گئ۔
اس نے دروازے کی آواز پر سر پر سے کمبل ہٹا کر دیکھا۔
پھر موبائل اٹھا لیا۔
سالک نے گروپ میں رمضان مبارک لکھ کر بھیجا تھا
وہ گہری سانس لیکر رہ گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صاف ستھرے مگر بھائیں بھائیں کرتے کچن میں متزبزب کھڑی تھی۔ کم از کم یہاں پانی تھا۔ اس نے ایک الماری سے پلیٹ نکالی۔ ایک پیپر کپ اٹھایا۔ اس میں پانی بھرا۔
اپنی سحری کو غور سے دیکھا۔ ایک کمینی سی سوچ آئی۔ آج پکا جا کے تھوڑی کھانے پینے کی چیزیں لے آئوں گی کل سے سارے روزے جائیں گے۔ مگر پھر اپنی سوچ پر شرمندہ بھی ہوگئ۔
صبر شکر کرکے اسٹول گھسیٹ کر میز پر بیٹھ گئ۔ تبھی سامنے کریکرز کا پورا پیکٹ آدھرا۔
دو انسٹنٹ کافی کے ساشے تھامے سنتھیاں مصروف سے انداز میں سامنے الیکٹرک کیٹل کی۔جانب بڑھ گئ
تم بہت لاپروا ہو تمہیں رمضان سے قبل کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے لینی چاہیئیں تھیں۔
سنتھیا اسے ڈانٹ نہیں رہی تھی ۔۔اور یہ سپاٹ سے انداز میں بولتی سنتھیا اسکے لیئے یکسر اجنبی تھی۔۔۔
بس غلطی ہوگئ۔ وہ سنبھل کر مسکرائی۔
کریکرز خشک تھے۔ چپس وہ شوق سے کھاتی نہیں تھی۔ سنتھیا نے بھاپ اڑاتی کافی کا مگ لا کر اسکے سامنے رکھا تو اس نے چپس اسکی جانب بڑھا دیئے۔
کھائو تمہارا پورا دن گزرنا ہے۔ سنتھیا کو اسکی فکر بھی تھی۔۔
یہ کھا رہی ہوں نا۔ اس نے بسکٹس کا پیکٹ لہرایا۔ گندم کے بسکٹس کافی ذیادہ تھے اسکا پیٹ بھرنا شروع ہوگیا۔
تمہاری طبیعت کیسی ہے؟
سنتھیا اسکے پوچھنے پر چونکی
ٹھیک ہوں مجھے کیا ہوا۔
اریزہ نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی تو گڑبڑا سی گئ ۔۔
بس وہ تھوڑا سر میں درد تھا بس۔۔۔۔
پھر کچھ خیال آیا تو سیدھی ہو بیٹھی۔۔
ایڈون اور میں ڈیٹ پر گئے تھے۔ نام سان ٹاور۔ بہت خوبصورت جگہ ہے۔ پورا سیول نظر آتا ہے۔ وہاں سے۔
ایڈون اور میں نے وہاں لو لاک بھئ لگایا۔ اتنا خوبصورت دل کی شکل کا تالا تھا۔ کہتے ہیں وہاں جو اپنی محبت کا تالا لگاتے ہیں انکو دنیا کی۔کوئی طاقت الگ نہیں کرسکتی۔
سنتھیا بہت شوق سے بتا رہی تھی اریزہ مسکرا دی۔ سادہ سی مسکراہٹ اریزہ کی مسکراہٹ سے وہ کوئی معنی نہ اخذ کر سکی۔
سرجھٹک کر چپس کا پیکٹ کھولنے لگی۔
یہ تمہاری گردن پر کیا ہوا۔ اسکے شانوں پر بکھرے بال اسکے سرجھٹکنے پر پیچھے ہوئے تو اریزہ کو اسکی گردن پر سرخ سا نشان نظر آیا۔ وہ تفکر سے پوچھ رہی تھی۔
یہ۔ سنتھیا سٹپٹاسی گئ۔
کوئی کیڑا مسل گیا تھا ہم ہنگن دریا کے کنارے پر بیٹھے تھے نا کافی دیر۔
اس کی زبان لڑکھڑائی۔ رمضان میں جھوٹ ۔۔۔
اس نے دزدیدہ نگاہوں سے اریزہ کو دیکھا۔
اریزہ سر ہلا کر کافی ختم کررہی تھی۔ اسے ویسے بھی کریدنے کی عادت نہیں تھی۔
رمضان ہمارا تہوار نہیں ہے احمق۔
اسکے کان کے پاس بھاری سی آواز میں کسی نے سرگوشی کی تھی۔۔ اریزہ مکمل طور پر سحری میں مگن تھی۔
بہت میٹھا میٹھا ہو گیا۔۔۔
اریزہ نے مگ رکھ کر اسکے چپس کے بیگ سے ایک دو چپس اٹھا کر منہ میں ڈالے ۔۔
گلابی سی بھری بھرئ سی انگلیاں ۔۔ اسکے ہاتھ خوب نرم نرم سے تھے۔ اسکے ہاتھ بالکل برعکس تھے ۔ سانولے پتلے استخوانئ سی انگلیوں والے۔۔ کسی سانولے سے ہاتھ میں ہاتھ رکھتئ تھی تو نظر بھی نہیں آتے تھے الگ سے۔۔
۔ وہ بلا ارادہ اپنے ہاتھ مسل کر جھاڑنے سی لگی جیسے اسکے ہاتھ پر کوئی دھول مٹی سی لگ گئ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لی گروپ کی وسیع و عریض عمارت اسے اپنے گرد شکنجا کستی محسوس ہو رہی تھی۔۔ وہ خود ہی ڈرایئو کر کے آیا تھا۔۔چند لمحے یونہی باہر کھڑا عمارت کی پیشانی پر کھدے لی گروپ کے الفاظ کو ہی گھورتا رہا۔۔ آتے جاتے ملازمین اس بات سے بے خبر تھے کہ انکا مستقبل کا سی ای او انکے درمیان گمنامی میں کھڑا ہے۔۔ وہ سر جھٹکتا اندر داخل ہو گیا۔۔
سیکٹری سو جان سوک اسکے انتظار میں باہر ریسیپشن پر ہی کھڑے تھے۔۔ اسے آتے دیکھ کر تعظیما جھکے۔۔
آہبو جی کی خاص ہدایت تھی۔۔
ہایون کو میں اس عمارت میں داخل کرنے پر مجبور کر چکا ہوں یہاں سے نکلنے نہ دینا آپکی زمہ داری ہے۔۔
کالے کوٹ پینٹ سرمئی شرٹ اور ٹائی میں ملبوس اکیس سالہ ہایون کے کم عمر چہرے پر دنیا جہان کی بے زاری تھی۔۔ وہ سمجھ گئے تھے اسکو کیسے کہاں کتنا مصروف رکھنا۔۔
اسکو اسکے دفتر تک وہی لے کر آئے تھے درمیان میں آٹھ دس ڈاریکٹر پراجیکٹ مینیجر ز اور جانے کیا کیا عہدہ سنبھالے افراد سے اسکا تعارف کروایا گیا۔۔ وہ مل مل کر تھک گیا۔۔
سیکٹری نے اسکو چھوٹا موٹا خلاصہ پیش کیا کہاں کس کس جگہ اسکے والد محترم پیسہ پھنسا چکے تھے کہاں کہاں مزید سرمایہ کاری کرنی تھی۔۔ کن نئے پراجیکٹس سے انکو بڑی امیدیں تھیں۔۔ امریکہ کس سلسلے میں گئے۔۔ جب باقائدہ اس نے جمائی لی تب جان چھٹئ۔۔ سیکٹری جان اسے چائے پینے کا مشورہ دیتے اسکے لیئے چائے کا آرڈر دیتے باہر چلے گئے
حسب توقع اسکے زمے کوئی کام نہیں تھا۔۔ سب کچھ اسکی غیر موجودگی میں بھی ویسے ہی ہونا تھا سیکٹری مینجرز سب اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔۔
آہمو جی میں آپ سے کبھی جیت نہیں سکتا۔۔
آپ نے مجھے مجبور کر ہی دیا یہاں آنے پر۔
وہ بے بسی سے بڑ بڑایا۔۔
سیکٹری جان کو خاص ہدایت تھی کہ ہر کام کرتے وقت اسے با خبر ضرور کیا جائے جیسے کہ اگر وہ نہ ہو تو سب رک جائے گا۔۔
تیسری بار وہ اسے کوئی فائل اٹھائے کسی پراجیکٹ کی تفصیل بتانے آئے تو اس نے ٹوک دیا۔۔
مجھے یہ بتائیں میرے دستخط درکار ہیں آپکو؟۔۔
جی یہاں۔۔
انہوں نے گڑ بڑا کر اسے ایک جگہ بتائی۔۔
اس نے خاموشی سے دستخط کیئے اور انہیں جانے کا اشارہ کیا۔
بے چارے تعظیما جھک کر سر ہلاتے چلے گئے۔۔
اسکا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔۔ دو بجے اس نے سب دفتری تہزیب بالائے طاق رکھتے ہوئے کمرے میں رکھے آرام دہ صوفے پر کشن سیدھا کیا اور بے خبر ہو رہا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انی تین بجے کے قریب دفتر آئی تھیں۔۔۔
وہ صوفے پر بے خبر سو رہا تھا۔
انکے ساتھ آئی سیکٹری نے آگے بڑھ کر اٹھانا چاہا مگر انہوں نے اشارے سے منع کر دیا۔۔اور اسے بھی بھیج دیا۔۔
خود دھیرے سے اسکے مقابل رکھے صوفے پر بیٹھ کر اسے تکنے لگیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پندرہ سال کی تھیں جب آٹھ سالہ ہایون آہبو جی کا ہاتھ تھامے سہما ہوا سا انکے گھر داخل ہوا تھا۔۔وہ اسی وقت اسکول سے واپس آئی تھی۔۔ بیگ لائونج کے صوفے پر ٹکا کر اس نے آہبو جی سے پوچھا تھا۔۔
یہ کون ہے؟۔۔
ہیون آہبو جی کا ہاتھ تھامے انکے پیچھے چھپ رہا تھا۔۔
آہبو جی لمحہ بھر کو سوچا تھا پھر کھنکار کر تعارف کروایا۔۔
یہ تمہارا چھوٹا بھائی ہے گنگشن۔۔
وہ اتنی چھوٹی نہیں رہی تھیں کہ سمجھ نہ سکتیں کہ انکی ماں کی اولاد نہ ہونے کے باوجود بھی انکا کوئی بھائی پیدا ہو سکتا ہے۔۔
وہ تذبذب سے انہیں دیکھنے لگیں آیا کیا رد عمل ظاہر کریں۔۔ آہبو جی نے کبھی انکو اپنے اتنے قریب آنے نہیں دیا تھا کہ وہ سمجھ سکتیں اس وقت انکا کیا مزاج ہے۔۔ تبھی تیار ہو کر اپنی پنسل ہیل کو ٹک ٹک کرتی آہموجی وہیں چلی آئیں۔۔انکا پرس تھامے انکی سیکٹری انکے پیچھے پیچھے تھی۔۔
تم اس بار جلدی روس سے نہیں آگئے؟۔۔
آہبوجی نے جیسے ان سنا ہی کر دیا۔۔
تمہیں واپس دیکھ کر مجھے ہرگز خوشی نہیں ہوئی۔
تم وہیں کسی حادثے میں مر کیوں نہ گئے۔۔
وہ۔طنز سے صرف انہیں بولنے پر مجبور کر نا چاہ رہی تھیں۔۔ سولہ سالا رفاقت اتنا تو لی کو سمجھا چکی تھی سو مکمل نظر انداز کردیا۔۔
آہجوما۔۔ وہ ملازمہ کو پکار رہے تھے۔۔
ملازمہ پلک جھپکتے میں حاظر ہوئی۔۔
اسکے رہنے کیلیئے کمرہ تیار کرو۔۔
یہ بچہ کون ہے؟۔۔
انکی اب نظر پڑئ تھی۔۔
میرا بیٹا۔۔
مختصر جواب آیا تھا۔۔
کیا۔۔ وہ حلق کے بل چلائیں۔۔
تم جیسے بھنورا صفت انسان کا ایک عورت کیساتھ گزارا نہیں اس بات پر میں نے صبر کر لیا تھا مگر ان دو ٹکے کی عورتوں سے تم بچہ پیدا کروا کر اس گھر میں لے آئو گے میں تمہارے اس گھٹیا پن کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔
وہ حلق کے بل چلا رہی تھیں۔۔
میں تمہارا پابند نا تھا نہ ہوں۔۔ میری مرضی میں جہاں جس مرضی سے اپنی اولاد پیدا کروائوں تم تو مجھے وارث دے نہیں سکی ہو مجھے بے نشان نہیں رہنا تھا۔۔
وہ ان سے بھی اونچی آواز میں چلائے۔۔
تو تم اب اس حد تک پاگل ہوگئے ہو بیٹے کی خواہش میں کہ نا جائز اولاد پیدا کروا ڈالی ؟۔۔ اس طوائف کی اولاد تمہارا خون ہے اس بات کا یقین کیسے ہوا تمہیں؟۔۔
آہمو جی جوان ہوتی بیٹی اور کم سن بچے کی موجودگی یکسر فراموش کیئے جو منہ میں آ رہا تھا بولے جا رہی تھیں۔۔
میرا خون ہے میری اولاد اگر تمہیں شک ہے تو ہوتا رہے۔ اور بیلا طوائف نہیں اسکے بارے میں سنبھل کر بات کرو۔۔
دونوں کی بحث بیچ لائونج میں جاری تھی۔۔ گھر میں موجود ملازمین کی موجودگی سے بے نیاز وہ دونوں غیض و غضب سے کانپ رہے تھے۔۔
ہایون نے ڈر کر رونا شروع کر دیا تھا۔۔
وہ اتنا خوفزدہ تھا کہ بے آواز رو رہا تھا۔۔
آہجومہ اسے لے کر جائو کمرے میں۔۔
آہبوجی کی نظر پڑ گئ تھی۔۔
خبر دار میں کسی کی ناجائز اولاد کو اپنے گھر میں نہیں گھسا سکتی۔۔ آہمونی نے فورا روکا۔۔
کم سنائی دیتا ہے تمہیں لے کر جائو اسے کمرے میں۔۔
لی سوجن کی اتنی اونچی آواز شائد پہلی بار ہی اس گھر کے درودیوار سن رہے تھے
خبردار جو اسکو اندر لے کر گئیں۔۔
آہمونی کم نہیں تھیں ۔۔ انکی آواز بھی کافی اونچی ہوتی جا رہی تھی۔۔
آج ابھی فیصلہ ہو گا۔۔ میں کسی ناجائز اولاد کو اس جائداد کا حصہ نہیں بننے دے سکتی۔۔
فون لگائو وکیل کو۔۔
آہمونی غصے سے پاگل ہو رہی تھیں۔۔ سیکٹری گڑبڑا کر انکا موبائل پرس سے نکالنے لگی۔۔
کسی غلط فہمی میں مت رہنا مجھے سے ٹکرائو گی تو سڑک پر لا کھڑا کروں گا۔۔ کسی تیسرے کو سوچ سمجھ کر بیچ میں لانا۔۔
وہ اتنی دیر میں کچھ سوچ چکے تھے۔۔مگر آہمونی خاطر میں لانے کو تیار نہ تھیں۔۔
دیکھ لوں گی تمہیں ۔۔
اس بچے کو اس گھر میں لا کر تم نے اس گھر کا بٹوارہ کرنے کی شروعات کر دی ہے۔۔
انہوں نے سہمے ہوئے بچے کی جانب اشارہ کیا۔۔
تم ابھی تک یہیں ہو۔۔ وہ حلق کے بل چلائے۔۔
یہ اس گھر میں نہیں رہے گا۔۔ آہمونی جی ان سے بھی زور سے چلائیں۔۔
آہش۔۔ لی نے غصے سے انکا بازو تھاما اور انہیں انکے احتجاج کے باوجود کھینچتے ہوئے کمرے میں لے گئے۔۔
ملازمہ کبھی ہاتھ تھامتی کبھی چھوڑتی ہایون کا بیمار بدن وہیں ڈھیر ہو گیا تھا۔۔
خاموش تماشائی بنی گنگشن کو جانے کیا ہوا آگے بڑھ کر اس نے اس بچے کو بانہوں میں بھر کر گرنے سے بچا لیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بخار تیز ہو گیا تھا۔۔ اس کے سرہانےبیٹھی پٹیاں رکھ رکھ کر وہ اسکا بخار کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
بے ہوشی میں ہایون نے ماں سمجھ کر اسکا ہاتھ پکڑا تھا۔۔
ماما۔۔ماتوشکا۔۔
ایک۔لمحے کو وہ رک سی گئیں۔۔ بخار سے تپتے سرخ چہرے خشک لبوں سے وہ بچہ ماں کو پکار رہا تھا۔۔اسے ماں ہی دکھائی دی تھی یا کیا۔۔ اس نے بمشکل آنکھ کھول کر اس محبت بھرے لمس کو ماں کے لمس پر محمول کرتے گرفت کیا تھا
اسکی ماں نے خواب میں پیار سے اسکے ہاتھ کو چوما تھا۔۔
اس نے آنکھیں کھولیں ایک مہربان سا چہرہ اس پر جھکا تھا۔۔
وہ اس نامانوس چہرے کو پہچاننا چاہ رہا تھا۔۔
اسکی آنکھ کھل گئ۔۔ ہایون کسمسا کر سیدھا ہوا
صوفے پر سونے سے اسکا جسم شل ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔ وہ گردن ہلا تا کندھے کھینچ کر انہیں آرام دہ انداز میں لا کر اٹھ بیٹھا۔۔ گنگشن اسکے سامنے والے سگل صوفے کی ہتھی پر بازو ٹکا ئے سر رکھے سو رہی تھی۔۔ اسکو بہن پر پیار سا آگیا۔۔ اپنا کوٹ اسٹینڈ سے لا کر احتیاط سے ان کو اڑھا دیا۔۔ وہ بلائنڈز کھینچ کر نیم اندھیرا کر کے سونے لیٹا تھا۔۔ صرف اسکی میز کے اوپر کی دو بتیاں جل رہی تھیں۔۔ اس نے بلائینز ہٹا کر باہر جھانکا
شام کے چھے بج رہے تھے اندھیرا ہوا ہی چاہتا تھا۔۔
سیول کی روشنیاں جلنا شروع ہو چکی تھیں۔۔
تبھی دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر اسکی پی اے اندر داخل۔ہوئی۔۔
سر ۔۔ وہ ابھی اتنا ہی بولی تھی۔۔
اس نے انی کی نیند خراب ہونے کے ڈر سے اسے خاموش کرا دیا۔۔ پھر اسکے ساتھ ہی باہر نکل آیا
سر دفتری اوقات ختم ہو چکے ہیں۔۔ آپ نے دو میٹنگز کیلیے بعد میں وقت نکالنے کو کہا تھا میں نے چار بجے کی ملاقات طے کردی تھی مگر۔۔ وہ اٹکی۔۔
ہایون اسے خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔۔
پھر آپ کیلیے کل دوپہر کے کھانے کا وقت طے کر دیا ہے۔۔ معزرت میں آپ سے پوچھ نہ سکی مگر اگر آپ کو اعتراض ہو تو
وہ اچھا خاصا ڈر رہی تھی اس سے
ٹھیک ہے۔۔ تم بھی اب جائو۔۔
ہہونگ سک کو ترس ہی آگیا۔۔ وہ جان چھٹی سو لاکھوں پائے والے انداز میں سر ہلاتی اپنی میز کی جانب بڑھ گئ۔۔ تبھی انی دروازہ کھولتی باہر چلی آئیں۔
اٹھ گئیں آپ۔۔ اس نے مسکرا کر پوچھا۔۔
ہاں دیکھو زرا کیسے بے وقت سو گئ۔۔ انہوں نے ہنستے ہوئے اسکا کوٹ اسے تھمایا۔۔
رات کا کیا پروگرام ہے؟۔۔ ہایون نے پوچھا تو انہوں نے کندھے اچکا دیئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انی نے ڈھیروں ڈھیر شاپنگ کی تھی۔۔ وہ بھی اسکی۔۔
اسکیلیئے نت نئے رنگوں کی شرٹ پینٹ پسند کرتی پھریں۔۔ اسکو ٹرائی روم بھیجتیں کہ جو سب سے زیادہ جچے گی وہی خریدیں گی۔۔ مگر پھر ہر شرٹ پر انکا دل آجاتا۔۔ شہزادہ لگتا انہیں اپنا بھائی۔۔ ایک بار تو اسے چوم ہی لیا۔۔ وہ ہنس ہی پڑا تھا
پورئ دکان خریدنی ہی تھی تو مجھے کیوں بار بار کپڑے بدلواتئ رہی ہیں۔۔
ڈھیروں ڈھیر بیگز اٹھائے باہر نکلتا بظاہر وہ منہ بنا کر کہہ رہا تھا۔۔
پتہ نہیں پھر کب موقع ملے۔۔ میں بس چاہ رہی تھی۔۔
وہ یاسیت سے کچھ کہتے کہتے رک گئیں۔۔ انداز خود کلامی کا تھا۔۔
ہایون کو سمجھ نہ آیا سو رک کر پوچھنے لگا۔۔
کیا کہہ رہی ہیں آپ۔۔
میں کہہ رہی۔۔ میرا اتنا شہزادوں جیسا حسین بھائی ہے مگر ہے ایکدم گھامڑ۔۔ ایک لڑکی نہیں پٹا سکتا کیا کرے گا یہ۔۔
انہوں نے ہلکے سے اسکی پیشانی پر چپت لگادی
یہ تو نہیں کہہ رہی تھیں۔۔۔
وہ دھیرے سے مسکرایا۔۔
یہ اسکا مخصوص انداز تھا۔۔ بے چارگی بھرا جب جب انی اسے ٹالتی تھیں وہ یونہی مسکرا دیا کرتا تھا جیسے کہہ رہا ہو جانتا ہوں مجھ سے کچھ چھپا رہی ہیں۔ اور انی ہمیشہ کی طرح اسکی آنکھوں میں دیکھنے سے گریز کرتی قصدا ہلکے پھلکے انداز میں بولتی بات بدل گئیں۔۔
مجھے پارچے کھانے ۔۔ وہ بھی خود تل کر۔۔
وہ انہیں دیکھ کر رہ گیا۔۔
وہ انکو انکے پسندیدہ ریستوران لے آیا تھا۔۔
چھوٹے سے فرائی پان میں دھیرے دھیرے مصالحہ لگے پارچے تل تل کرسلاد کے پتوں میں لپیٹ کر ہایون کی پلیٹ میں رکھے جا رہی تھیں۔۔ دو کے بعد تیسری بار اس نے چاپ اسٹک سے اٹھا کر انکی پلیٹ میں رکھنا چاہا انہوں نے منہ کھول دیا۔۔
ہایون نے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ انی حیران ہوئیں مگر وہ پھونک پھونک کر اسکو ٹھنڈا کرکے دوبارہ انکی جانب بڑھا رہا تھا۔۔ انہوں نے اسکے ہاتھ سے نوالہ لیا تو آنکھ بھر آئی۔۔
کیسے رہوں گی تمہارے بن۔۔
انہیں سوچ کر ہی دل میں درد سا ہوا تھا۔۔ ہایون اب نئے پارچے تلنے میں مگن تھا چاپ اسٹک سے پلٹتا تھوڑا سا اولیو آئل ڈالتا مگن تھا انکی جانب متوجہ نہیں تھا۔ انہوں نے گہری سانس لی۔۔
تم اپنی پڑھائی سے صرف نگاہ کرکے دفتر آرہے ہو مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔۔ نیپکن سے منہ صاف کرکے وہ سنجیدگی سے بولیں۔۔ہایون چونکا پھر رسان سے بولا۔۔
آپ اپنی پسندیدہ ملازمت سے صرف نگاہ کر کے دفتر آتیں مجھے یہ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
وہ اسے دیکھ کر رہ گئیں۔۔
میں نے آہبو جی سے کہہ دیا تھا میں چھٹی لے کر دفتر دیکھ لوں گی۔۔ پھر بھی انہوں نے تمہیں دفتر لا کر ہی دم لیا۔۔
ہایون کیلیئے نئی اطلاع تھی۔۔ وہ سیدھا ہو کر پلیٹ میں رکھے پارچے الٹ پلٹ کرنے لگا۔۔
آہبوجی تمہیں سب سونپنا چاہتے میں سمجھتی ہوں مگر تم پرمسلط کرنا چاہتے مجھے بالکل پسند نہیں آ رہا۔۔ تم یونیورسٹی جائو میں دیکھ لوں گی دفتری معاملات۔۔
انی کا انداز تحکم بھرا تھا۔ پیار بھرا تحکم۔۔ اسے انکے خلوص کی دل سے قدر تھی۔۔
آج کل اتنا پڑھائی کا زور نہیں میرا اتنا کوئی حرج نہیں ہو رہا۔۔
اس نے اطمینان دلانا چاہا۔۔
تم صحیح کہہ رہے ہو؟۔۔ انہوں نے تصدیق چاہی۔۔
ہاں ایک دم۔۔ اس نے مسکرا کر یقین دلایا۔۔
انی مسکرا دیں۔۔
ٹھیک ہے۔۔ میں پھر بھی ایک دو دن وقت نکال کر چکر لگالیا کروں گی۔۔
انہوں نے اسکے خیال سے کہا وہ۔کندھے اچکا گیا۔۔
ہوپ یہاں ہی کام کرتی تھی نا۔۔
یونہی کھانا کھاتے انہیں خیال آیا۔۔
ہاں۔۔ مگر اس نے یہ نوکری چھوڑ دی ہے۔۔
ہایون نے بتایا تو وہ سر ہلا کر بولیں۔۔
ہاں تم بتا تو رہے تھے اسے تم نے کوئی جاب دلوا دی ہے۔۔
ہایون کے حلق میں نوالہ اٹکا۔۔
اس نے وہ جاب نہیں کی۔۔
ہیں کیوں۔۔ ؟۔۔ انی حیران ہوئیں۔۔
پتہ نہیں۔۔ وہ کیا بتاتا اسے خود خبر نہ تھی۔۔
پھر کیا کر رہی ہے یہ لڑکی
انی نے سر پکڑ لیا تھا۔۔
۔۔ اسکا تو اپارٹمنٹ کا خرچہ بھی نہیں نکل پا رہا ہوگا۔۔ اف۔۔ میں بھی کتنی بھلکڑ ہوں مجھے اس سے خود پوچھنا چاہیئے تھا ابھی تین چار دن پہلے آئی تو تھی مجھ سے ملنے۔۔
وہ آئی تھی آپ سے ملنے۔۔ ہایون چونکا۔۔
ہاں۔۔ میں جائوںگی اس سے ملنے ۔۔ انہوں نے مصمم ارادہ کیا۔
آپ اس سے نہیں مل سکتیں وہ گھر وہ۔چھوڑ چکی ہے۔۔
ہایون نے بتایا تو وہ شاکڈ رہ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چپس بسکٹس دو بجے تک سب ہضم۔ہوچکا تھا۔ بابا نے پیسے وائر کر دیئے تھے۔ مگر وہ اکیلی کیسے باہر جا کر شاپنگ کرتی۔
وہ بے زاری سے فٹ بال۔کورٹ میں آکر بیٹھ گئ۔۔
آج تو یہاں بھی کوئی نہیں تھا۔۔ دور سیڑھیوں پر ایک دو کھلاڑی بیٹھے تھے وہ بھی کٹ بیگ سمیٹتے جانے کو اٹھ گئے۔۔
وہ یونہی گھٹنوں پر چہرہ ٹکائے سامنے دیکھنے لگی۔۔ زہن منتشر تھا کہیں کوئی سوچ ٹک ہی نہیں رہی تھی۔۔
بےزار سا ہو کر اس نے موبائل اٹھا لیا۔۔ فیس بک اوپر نیچے کر کے اس نے بند کر دی۔۔ اور گیلری سے تصویریں نکال۔نکال کر دیکھنے لگی۔
سفید فراک اور سرخ اسکارف پیچھے بڑی سی مچھلی منہ کھولے جیسے لمحہ بھر بعد وہ اسے سالم نگل لے گی۔ یہ اسکی مال میں ایکوریم کے ساتھ ہایون نے کھینچی تھی
اگلی ہایون کی اپنی سیلفی تھی۔۔ سنجیدگی سے کیمرے میں دیکھتا وہ اس مسکراتے ہایون کا سایہ لگ رہا تھا۔۔ وہ ڈیلیٹ کرتے کرتے رک گئ۔
یہ کب لی۔۔ اس نے۔۔ وہ حیران ہوئی۔۔
۔۔ اس نے اپنا موبائل تھما کر تصویر کھنچوائی تھی۔۔ پھر اسکے موبائل کمیرے کا مزاق اڑا کر اگلی کئی تصویریں ہایون نے اپنے موبائل میں کھینچی تھیں۔۔ اسے یاد آیا۔
اف اس نے مجھے تصویریں بھیجی ہی نہیں۔۔ کمینہ
اس کو غصہ آگیا۔۔
کتنا پیارا رزلٹ تھا اسکے کیمرے کا اچھی تصویر آتی تھی۔۔ اسے ماننا پڑا۔۔ اس نے آگے کر دی تصویر۔۔
۔ جی ہائے گوارا کے ساتھ سنتھیا کے ساتھ۔۔ آگے چند ہی تصویریں تھیں۔۔
اسکے پاس نئی سے زیادہ پرانی تصویریں تھیں۔۔ حماد کی دلاور کی۔۔ اس نے بچپن کی تصویریں بھی کھینچ کر محفوظ کر رکھی تھیں۔۔ باری باری سب فولڈر دیکھتے اسکی دلہن بنی تصویر سامنے آگئ۔۔ اسکی سنتھیا کی ۔۔ ہنستے مسکراتے۔۔ کون۔جانتا تھا چند گھنٹوں میں سب بدل جائے گا۔۔ اس نے بند کر دیا۔ امی آپ نے بالکل اچھا نہیں کیا میرے ساتھ۔۔
اسے ایکدم سے غصہ آگیا۔۔
موبائل سائڈ میں پٹخ دیا۔۔
یہی سب ہوتا میں یہاں اکیلی بیٹھی ہوتی دوسرے ملک میں سہی کم از کم مجھے کوئی تکلیف دہ یاد تو نہ ستا رہی ہوتی۔۔
وہ اشارہ کر کر کے خود سے باتیں کر رہی تھی۔۔
خیر میری طلاق کا معاملہ نہ ہوتا تو ابو کبھی مجھ پر ترس کھا کر اتنی دور نہ بھیجتے۔۔
دماغ نے دوسری راہ سجھائی تو ٹھنڈی ہوئی۔۔
مگر پھر مجھے خود سے پاکستان سے بھاگنے کی کیا ضرورت پڑتی میں خوش تھی وہاں بھی سکون سے ہی پڑھ رہی تھی۔۔ بس میری پوری ذات ہلا کر رکھ دی بلا وجہ۔۔ ۔
امی اتنا آرام سے کیسے ہیں کوئی اور تو۔۔۔
اسکی سوچ کر ہی سانس رک گئ۔۔
نہیں۔۔ اس نے سینے پر مکا مار کر خود کو گھبرانے سے روکا۔۔
اب تو یہ سب جتنا مرضی مجھ پر دبائو ڈال لیں میں نہیں مانوں گی سمجھوتے پر۔۔
زور زور سے نفی میں سر ہلاتے وہ خود کو یقین دلا رہی تھی ۔۔ مگر سچ یہی تھا ابھی بھی خود بری طرح ڈر رہی تھی۔۔
مگر سجاد نہ سہی کوئی اور ڈھونڈ لیں گے۔ اس جیسا یا شائد اس سے بھی۔۔
مجھے نہیں کرنی شادی
میں نے نہیں جانا پاکستان یہیں رہنا۔۔ اس نے بلبلا کر کسی خدشے سے دہل کر گھٹنوں میں سر دے دیا۔۔ اور ہچکیاں لے کر رو دی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن کی کلاس تھی اسکے ہمراہ باتیں کرتے وہ اسے چھوڑنے آیا تھا ۔۔
میں یہ پہنچا دوں گا فکر نہ کریں ہیونگ۔
کم سن اسکے ہاتھ سے شاپر لیکر تسلی دینے والے انداز میں بولا۔
گومو ووئیو۔
علی مسکرا کر سر کو ہلکا سا خم دے کر بولا۔
اچھا میری کلاس ہے میں چلا۔ کم سن گھڑی دیکھ کر چونکا پھر جلدی سے دعا سلام کرتا بھاگ کھڑا ہوا۔
وہ چند لمحے اسے یونہی جاتے دیکھتا رہا ۔ گھر جلدی جا کے بھی کچھ نہیں کرنا تھا۔ یہاں کہیں پر فٹ بال گرائونڈ تھا۔ اس نے آتے سرسری سا دیکھا تھا۔ وہ یونہی سکون کی تلاش میں ادھر نکل آیا تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا وہ کس سمت جائے اندازے سے چلتا آیا تو فٹ بال۔کورٹ سامنے تھا۔۔ اس وقت خالی ہی تھا۔ پورے کورٹ میں دھوپ پھیلی تھی ہاں سیڑھیوں پر چھائوں تھی۔۔ ایک جانب دو لڑکے سایہ دار جگہ پر فٹ بال سے کرتب کر رہے تھے وہ دلچسپی سے دیکھنے لگا وہ بھی تھوڑئ دیر میں سیڑھیوں کے پاس سے بیگ اٹھاتے چلتے بنے تبھی اوپر سے بے زاری سے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی اس لڑکی پر نظر پڑی تھی۔ اسکے خدو خال اجنبی تھے تو حلیہ تو بالکل الگ تھا۔۔
وہ لمبی سی گھٹنوں تک کی گلابی شرٹ اورجینز میں ملبوس تھی ساتھ بڑا سا پردہ اوڑھے تھی۔۔ اس نے شولڈر کٹ بالوں کی پونی بنا رکھی تھی۔۔
ایسا لباس۔۔ وہ سوچ میں پڑ گیا کہاں دیکھا۔۔
رچل کے ساتھ کوئی غیر ملکی فلم دیکھی تھی امریکہ میں۔۔ کونسا ملک تھا۔۔ اسے یاد نہ آیا۔۔ وہ سوچتا اسی کو دیکھے جا رہا تھا۔۔ اس لڑکی نے ہاتھ ہلا ہلا کر بات کرنی شروع کی تو یکدم چونک کر باقائدہ جھک کر اسکے مخاطب کو دیکھنا چاہا۔۔ مگر وہاں کوئی نہیں تھا وہ الجھن بھری حیرت سے دیکھ رہا تھا۔۔
اس نے بولتے بولتے گھٹنوں میں سر دے کر شائد رونا شروع کر دیا تھا۔۔ اسکا جسم ہچکیوں سے لرز رہا تھا۔۔
اسکا دل پگھل گیا۔۔ وہ بھی ایک وقت تھا یونہی کہیں بھی بیٹھے بیٹھے ہچکیوں سے رو پڑتا تھا۔۔ رچل کو یاد کر کے۔۔ جانے اس پر کیا بیتی تھی۔۔ وہ تھوڑی دیر تو دیکھتا رہا پھر رہا نہ گیا۔۔ اٹھ ہی گیا۔۔
قریبی ڈیپارٹمنٹ میں لگی وینڈنگ مشین سے پیسے ڈال کر پانی کی بوتل خرید لایا۔۔ حسب توقع وہ رونے میں مگن تھی۔۔
آہ۔۔ وہ ہنگل میں پکارتے پکارتے رک گیا۔۔
ہیلو۔۔مس۔۔ اس نے اسکے قریب آکر دھیرے سے پکارا۔۔
اریزہ نے دہل کر سر اٹھایا۔۔
بے تحاشہ گریہ سے اسکی بڑی بڑی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔ اسکے چہرے پر آنسووں کی نمی تھی۔۔ بالوں کی کئی لٹیں نکل کر چہرے سے آچپکی تھیں۔۔
اسکی کھڑی ناک کی لو سے لیکر گالوں کی ہڈی تک جیسے کسی نے بلشر پھیر دیا تھا۔۔ ایک۔لمحے کو وہ اپنی بات بھی بھول گیا۔۔
اریزہ نے جلدی جلدئ دوپٹے سے چہرہ صاف کیا۔۔
اف۔۔ وہ شرمندگی سے ڈوب مرنے کے مقام پر تھی۔۔
رونا بھئ وقت اور موقع دیکھے بغیر آتا ایک تو۔۔
وہ بڑ بڑا کر رہ گئ۔۔
یہ لیں پانی پی لیں۔۔ علی نے بوتل بڑھائی اریزہ متزبزب تھی ۔۔
مگر مخاطب کے چہرے کے نرم نرم سے تاثرات دیکھ کر بوتل تھام لی۔
وہ اس سے تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر وہیں بیٹھ گیا۔
گومو وویو۔۔
اریزہ نے اسکا شکریہ ادا کیا
مسکرایا۔۔ تو اسے ہنگل آتی ہے۔۔
غم ایسے ہی ہوتے کب کہاں دل تڑپا دیتے کیا خبر۔۔
مگر رونا بہت اچھا ہوتا دل ٹھہر جاتا۔۔ یوں لگتا تکلیف ختم تو نہیں ہو رہی مگر کم ضرور ہو گئ ہے۔۔
وہ رواں ہنگل میں بولا تھا۔۔
اریزہ کچھ نہ سمجھتے اسے دیکھتی گئ۔۔
تم پیاری لڑکی ہو خدا کرے آئندہ ہمیشہ ہنستی ہوئی ہی ملو اگر ملو۔۔ وہ مسکرا کر کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
ابھی بھی ہنگل میں ہی کہہ رہا تھا۔۔
اس نے مسکرا کر کوریائی انداز میں جھک کر الوداع ہی کہا ہو گا۔۔
اریزہ نے سوچ کر اسکو اسی کے انداز میں گردن جھکا کر الوداع کہہ دیا۔
اس نے موبائل اٹھا لیا۔۔
غم بھئ کیا عجیب شے ہوتے کون جانتا کب کہاں آپ کمزور پڑ کر رو پڑیں۔ مگر رونا اچھا ہے۔۔ رونا کمزوری نہیں طاقت دیتا ہے۔۔ غم کو سہنے کی طاقت۔۔ دل ٹھہر جاتا یوں لگتا تکلیف ختم تو نہیں ہو رہی مگر کم ضرور ہو گئ ہے۔۔
ویسے خدا کرے آپ سب پڑھنے والے کبھی نہ روئیں ہنستے ہوئے ہی کمنٹ کریں اگر کریں تو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا۔۔
اچھا بھلا مزاج تھا میرا مجھے میرے غم یاد دلا دیئے اب رونے کا دل کر رہا۔۔
دوسرا۔۔
اتنا اچھا ہوتا رونا مگر کیا کروں آ ہی نہیں رہا رونا۔۔ ایڈمن اپنی شکل دکھا دو ڈر کر ہی رو پڑوں شائد۔۔
فٹے منہ۔ اس نے جل۔کر یہی کمنٹ کر دیا۔۔
تیسرا۔۔۔
مجھے دادی یاد آگئیں۔۔ ابھی زندہ ہیں۔۔ کیا میں رو سکتا اس بات پر۔۔ ؟۔ میرا مطلب میری پھپھو کی بیٹی سے میرا رشتہ طے کر دیا ہے انہوں نے کتنا اچھا ہوتا میں اس وقت رو رہا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔
ہاہ بے چارہ۔۔ اس پر اسے واقعی ترس آیا
چوتھا۔۔
آہ۔ میں رو رہا ہوں چپ بھی کرا دے کوئی۔۔
آگے آنسو والے اسمائیلی تھے۔۔
پانچواں۔۔
روتے ہیں چھم چھم نین اجڑ گیا چین۔۔ آگئے میرے ایگزیم ۔۔ ایڈمن دوا تو میں نہیں کی پورا سال نہیں پڑھا۔۔ تم دعا ہی کر دو۔۔
اس نے بیسٹ آف لک لکھ دیا۔۔
چھٹا
کوئی کہیں تمہاری وجہ سے رو رہا ہے تمہیں خبر ہے۔؟
آہ۔ یہ آئی ڈی۔ وہ صارم کو بلاک کرتے کرتے رک کر بلاگ بند کر گئ۔۔
اسکے موبائل میں پھر میسج آیا تھا۔۔
بس اداس اسمائیلی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اٹھ کر کھڑکی پر سے پردے ہٹا ئے تو اندازہ ہوا شام کے دھند لکے پھیل رہے تھے۔۔ کھڑکی کے بالکل سامنے جھیل کا نظارہ تھا۔۔ سورج کی کرنوں کا جھیل کے پانی پر دمکنے کا نظارہ اگر دلکش ہوتا تو اس وقت جھیل کا ٹھہرا پانی اندھیرے سمیٹتا بھی کیا خوب لگ رہا تھا۔۔ وہ یونہی دیکھے گیا۔۔
اس وقت یہاں کس قدر خاموشی ہے۔۔ پاکستان میں یہ وقت اذانوں کی آواز سے گونج رہا ہوتا تھا۔۔
اس نے یونہی سوچا پھر مڑ کر بیڈ کی جانب نگاہ کی۔۔
سنتھیا بے خبر سو رہی تھی۔
وہ اسے دیکھے گیا۔۔ دیکھتے دیکھتے سنتھیا کی شکل تبدیل۔ہو کر کسی اور چہرے کی جھلک
دکھلانے لگی۔۔
پھر وہ چہرہ بھی دھندلاتا گیا۔۔ اسکی آنکھوں میں بہت پانی اتر آیا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٹھ بجے ہال میں کھانا ملنا تھا۔ تب تک اسکی حالت مخدوش ہوچکی تھی۔۔ ڈھیر ساری سلاد ابلے چاول سبزیوں کا سوپ انڈے لیکرافطاری کرنے بیٹھی تو اسے اپنی رنگ برنگے کھانوں سے سجی افطاری یاد آئی۔۔
صارم کا میسج آیا تھا۔ اس نے کھول کر دیکھا۔
افطاری کی ہی تصویر کھینچ کر بھیجی تھی۔
کمی۔۔ وہ گالی دیتے دیتے زبان دانتوں تلے دبا گئ۔
اس نے تصویر ذوم کی جبین کی پکوڑے کے ٹرے رکھتے ہاتھ کی بھی تصویر آگئ تھی۔
اسکی ماں کے ہاتھ میں بے حد ذائقہ تھا۔ یقینا اس وقت جو فروٹ چاٹ دہی بھلے پکوڑے کچوری چکن پلائو سب بے حد لذیذ بنا ہوا ہوگا۔ مگر وہ صرف اپنی ماں کا ہاتھ دیکھ رہی تھی۔
کیا دیکھ رہی ہو۔۔
جی ہائے دھم سے اسکے برابر آن بیٹھی۔
اس نے مسکرا کر موبائل رکھا اور سوپ پینے لگی۔
جی ہائے اسکی تصویر دیکھ کر ہنس دی۔
تم اپنے روایتی کھانے دیکھ کر انکا ذائقہ اس کھانے میں محسوس کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
وہ چھیڑ رہی تھی۔
مگر یہ ذائقہ محسوس نہیں ہو پارہا۔ اس نے بھی بے چاری سی شکل بنا لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنتھیا۔۔ کہاں ہو جواب تو دے دو۔۔
اس نے کم از کم بھی دس پیغام بھیج دیئے تھے مگر سنتھیا جواب نہیں دے رہی تھی۔۔
کیا ہوگیا ہے تمہیں ۔۔ وہ بے بسی سے موبائل کو دیکھ کر بڑبڑائی۔۔
کمرہ کافی پھیلا ہوا تھا۔۔ وہ صفائی میں لگ گئی۔۔ نہ صرف اپنا بلکہ سنتھیا کا بھی سب سامان سمیٹ کر جھاڑا پونچھا۔۔ تھک کر گھڑی پر نگاہ گئ تو دس بج رہے تھے۔۔ سنتھیا کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔۔
وہ اٹھ کر جی ہائے کے کمرے میں چلی آئی۔۔ جی ہائے لیٹی ہوئی تھی گوارا حسب عادت لیپ ٹاپ پر جتی تھی۔
دونوں نے اسے مسکرا کر خوش آمدید کہا تھا۔
مجھے کچھ چیزیں خریدنی ہیں ہم اس وقت باہر جا سکتے ہیں؟
وہ سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔۔
گوارا نے الرٹ ہو کر لیپ ٹاپ بند کیا اور اسکی جانب گھوم۔گئ۔۔
سیدھے راستے سے تو نہیں ۔۔
جی ہائے اور گوارا اکٹھے بولیں۔۔
وہ مایوس سی ہوئی
پتہ ہے میں اور یون بن منتخب کر لیئے گئے ہیں لوک داستان کی ڈرامائی تشکیل کیلیئے۔ یونورسٹی کی تقریبات اگلے ہفتے سے شروع ہو رہی ہیں۔
اس نے چہکتے ہوئے بتایا تھا۔۔
اچھا۔۔ اریزہ کا انداز اتنا ہی سرسری تھا۔۔اسکو غم ہی کوئی اور لاحق تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکڈ فوڈ بریڈ انڈے آٹا سبزی گھی مکھن ۔
اچھا خاصا سودا سلف لے لیا تھا ایڈون نے۔
رمضان ہمارا تہوار نہیں ہے۔
سنتھیا نے جتایا اسے۔
ہاں مگر کھانے پینے کی منادی تو نہیں نا۔ تمہیں دیسی کھانے یاد نہیں آرہے ؟
اس کا انداز سبھائو بھرا تھا۔ وہ چیں بہ چیں ہو۔کر رہ۔گئ
دو بڑے شاپر بھر کر اس نے سامان خریدا تھا جو صرف کھانے پینے کی اشیاء سے بھرا تھا۔ ایک وہ سالک اور شاہزیب کیلئے اپنے ہاسٹل لے جا رہا تھا دوسرا اسے تھما دیا تھا۔
اسے ہاسٹل کے پاس پیدل چھوڑ کر اب اس نے اپنے ہاسٹل کی۔جانب جانا تھا۔
اوکے خدا حافظ۔
وہ اس کے اوپر جھکا وہ قصدا رخ موڑ گئ۔ ایڈون نے برا نا مانا۔
اپنا خیال رکھنا۔ مسکرا کر کہتا وہ آگے بڑھ گیا۔
آٹھ بج رہے تھے سب یقینا کھانا کھانے کیفے میں گئے ہوئے تھے جبھی یہاں بالکل رش نہ تھا۔ اس نے شاپر وہیں سیڑھیوں کے پاس اندھیرے میں چھوڑا اور خود لان کی طرف بڑھ گئ۔ اسکا اس وقت اکیلے رہنے کا دل کر رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحری کے وقت الارم بجا تو اسے یہی لگا کہ جیسے ابھئ ابھی ہی تو سوئی تھی۔ اسکو پہلا خیال سنتھیا کا ہی آیا ۔۔
اس نے کروٹ بدل۔کر ریلنگ سے نیچے جھانکا
سنتھیا کا بیڈ خالی تھا۔
وہ شائد آج رات بھر نہیں آئی تھی واپس۔
اسکی پیشانی پربل سے پڑ گئے۔۔۔
آج اسکے پاس چپس وغیرہ بھی نہ تھے۔ پانی پی کر نیت کرنے کا ارادہ تھا اسکا۔
وہ سستی سے اٹھ کر باتھ روم میں گھس گئ۔
باہر نکل کر اپنے سرہانے رکھی پانی کی بوتل اٹھا کر پانی پیا دو گھوںٹ ہی نکلے ۔
بھوک۔برداشت ہو۔جاتی تھئ اس سے پیاس نہ ہوتی۔ ابھی سارا دن پڑا تھا۔ گہری سانس بھر کر وہ پانی لینے کچن میں چلی آئی۔ کچن میں کل کے برعکس اس وقت سناٹا نا تھا۔ وہ ڈھیلے ڈھالے قدم اٹھاتی اندر داخل ہوئی تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسکے ہاتھوں سے پانی کی بوتل چھوٹتے چھوٹتے بچی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔
جاری ہے۔

Kesi lagi apko aaj ki qist? Rate us

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *