Salam Korea
by vaiza zaidi
قسط 16

Salam korea episode 16 a seoul korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi urdu novels by hajoom e tanhai
Salam korea episode 16 a seoul korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi

آج اس نے الارم تک جاگ کے ہی وقت گزارا۔ گوارا بے خبر سوئی ہوئی تھی۔ وہ اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔ پراٹھا بنایا انڈا تلا۔ کافی بنائئ۔ اچھی طرح سحری کرکے خوب پانی پیا ۔ نیت کی۔ نیند تو آ نہیں رہی تھی۔ سو ٹیرس میں چلی آئی۔
بیس بائیس منزلہ اس عمارت سے سیول کی روشنیاں خوب دلفریب نظارہ لگ رہی تھیں۔ اونچئ اونچئ عمارتوں پر جلتے قمقمےسے۔ ہوا سبک اور سرد تھئ۔ اس کا مگر یہاں سے جانے کو دل نہ کیا۔ ارادہ اب نماز پڑھ کر ہی سونے کا تھا۔
کیا کر رہی ہو۔۔
گوارا اونچا اونچا بولتی اسکے پاس چلی آئی
کچھ نہیں ۔۔ اریزہ نے مسکرا کر دیکھا۔
سیول کی روشنیاں دیکھ رہی تھی۔
گوارا ہنسی۔۔
یہ منظر مجھے متاثر نہیں کرتا۔ مجھے پہاڑ پسند۔۔ بہتا جھرنا۔ ہو اور ساتھ من پسند ساتھئ۔۔ ہائے۔۔
اس نے آنکھیں بند کر کے بازو پھیلا کر مزا لیا۔۔ اریزہ اسکے انداز میں بازو پھیلا کر ریلنگ پر پائوں پھنسا کر کھڑی ہوگئ۔۔
کیا کر رہی ہو۔۔ گوارا نے آنکھیں کھولیں تو رنگ فق ہو گیا اسکا۔ گھبرا کر بازو سے پکڑا اسے
۔۔بیس منزلہ عمارت ہے یہاں سے گریں تو قیمہ بن جائے گا تمہارا۔۔وہ مضبوطی سے جکڑ کر بولی۔۔ اریزہ اسکے برعکس مزے سے آنکھیں بند کیئے کھڑی تھی۔۔
تصور کرو سامنے بہتا جھرنا ہے اور ایک خوشگوار سبزہ زار میں کھڑی ہو۔۔
ریلنگ پر کھڑے ہونے سے ریلنگ اسکے پیٹ سے نیچے تھی۔۔
اسطرح کھڑے ہو کر جھرنا نہیں سمندر کا خیال آئے گا۔۔اور یہاں کوئی ہینڈسم جیک میرا ہاتھ بھی نہیں تھامے کھڑا کہ میں بے فکر رہوں مجھے گرنے نہیں دےگا۔۔ گوارا نے تقریر جھاڑ دی۔
اترو نیچے۔۔
وہ ڈپٹ رہی تھی۔۔
اسکی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ اریزہ ہاتھ چھڑا نہ سکی اسے اتر نا ہی پڑا۔۔
کتنی جان ہے تم میں۔۔ وہ منہ بنا کر کہہ رہی تھی۔۔
گوارا ہنسی۔
بیٹا تربیت لی ہوئی ہے میں نے رضاکار ہوں۔۔ ابھی ایسے ہی نہیں پکڑا تھا نیچے ٹانگ بھی پھنسا لی تھی اگر تم چھوٹ جاتیں تو تمہیں پکڑے ہونے کی وجہ میں نے بھی جھٹکا کھا کر تمہارے ساتھ نیچےآنا تھا۔۔
اس نے نیچے اپنی ٹانگ کی جانب اشارہ کیا۔۔ اریزہ نے دیکھا تو داد دے کر رہ گئ۔۔
اس نے ریلنگ کے دو راڈوں کے درمیان پائوں پھنسا رکھا تھا
اف کتنی ٹیلنٹڈ لڑکی ہو تم۔۔ اریزہ متاثر بھی ہوئی۔
بے حد۔ اس نے گردن اکڑائی۔۔
تم ہاتھ بھی مجھ سے نہیں چھڑا سکیں۔۔ گوارا کو یاد آیا۔۔
مجھ سے ہاتھ چھڑانا آسان نہیں مگر پھر بھی ایک لڑکی سے ہاتھ نہیں چھڑا سکتی ہو کل کو کسی لڑکے نے پکڑ لیا تم تو آسان شکار ثابت ہوگی اسکیلیئے۔۔ گوارا اب سنجیدگی سے کہہ رہی تھی۔۔
ایویں۔۔ جرائت کسی کی میرا ہاتھ ایسے ہی پکڑ لے۔۔
اریزہ نے اکڑ کر کہا۔
تمہارے یہاں پر ورٹ نہیں ہوتے؟۔۔ گوارا نے کہا تو وہ ایکدم چپ ہوکر دیکھنے لگی۔۔
میرا مطلب ہے ہو سکتا ہے تمہیں کبھئ ضرورت نہیں پڑی ہو مگر تمہیں اپنا بچائو کرنا تو آنا چاہیئے۔۔ گوارا نے وضاحت کی ۔۔
میں تمہں سکھا سکتی ہوں۔ گوارا نے کہا تو اریزہ سوچ میں پڑی۔۔
دیکھو۔۔اگر کوئی تمہارا ہاتھ پکڑ لے تو ایسے کلائی کرو۔۔ وہ اسے کلائی گھما کر دکھا رہی تھی۔۔
ہاتھ میں فورا پسینہ آتا ہے گرفت کبھی بھی کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو ہاتھ چھٹ جاتا۔۔ سو کوئی بھی کبھی حملہ کرے تو اپنے دونوں ہاتھ شکنجے میں پھنسنے مت دو۔۔
وہ اسے پکڑ کر جھکا رہی تھی۔۔
پیٹ میں کہنی مارو۔۔
تھوڑی پر سر مارو۔۔
وہ اسے پٹخنی دے کر گرا رہی تھی اور اس پٹخنی کو روکنے کا طریقہ بھی بتا رہی تھی۔
ایک منٹ۔۔۔۔
اریزہ کو خیال آیا
تم کہہ رہی ہو ہاتھ میں پسینہ آتا تو ابھی اگر میں گرنے لگتی تو تم سے تو چھٹ جاتی ۔۔۔
اچھا سوال۔۔ گوارا کی سانس پھول رہی۔تھی۔۔ سینے پر دھیرے دھیرے سہلا کر اس نے سانس بحال کی۔۔
ایک تو تم سیدھی کھڑی تھیں گر نہیں رہی تھیں بالفرض اگر گرنے لگتیں۔۔ تو میں تمہاری کلائی تھامے تھی دوسرا ہاتھ میرا خالی تھا اس سے میں نے تمہاری کمر یا بازو سے پکڑنا تھا ۔۔ جیکٹ اچھا آپشن تھوڑی مہلت مل جاتی سب سے بڑھ کر تم نے خود ہاتھ پائوں چلا کر مجھے کہیں نہ کہیں سے تھامنا تھا ایسی صورت حال میں انسان کا اپنا خودکار مدافعتی نظام متحرک ہو جاتا۔۔
گوارا نے تفصیل سے بتایا۔۔
اور گرفت آپکی کلائی کا کام ہے۔۔ ابھی اس کمزور کلائی سے تو تم مضبوط گرفت کرنا تو دور مجھ سے ہاتھ چھڑاتے بھی زخمی ہو سکتی ہو۔۔
گوارا نے شرارت سے اسکی کلائی پکڑ کر چھیڑا۔۔
اریزہ نے فورا چھڑانا چاہا۔۔ مگر چھڑا نہیں پائی۔۔ وہ اسکا ہاتھ تھامے اسکی کوشش کو محظوظ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
تم لڑکی نہیں ہو۔
اریزہ کو یقین ہو چلا تھا۔روہانسی ہو کر بولی گوارا قہقہہ لگا کر ہنسی تھی اسکی بات پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میٹرو کے چلنے کا وقت ہوا خاکروب صفائیاں کرتے پھر رہے تھے جب چہل پہل سے اسکی آنکھ کھلی۔۔
اس نےکسمسا کر اٹھتے ہوئے اپنے اردگرد نگاہ کی۔۔
رات کو اسکے ساتھ دو عورتیں ایک بچہ دو کم عمر لڑکے ایک ادھیڑ عمر مرد ایک ہپی بھی بستر لگا کر سویا تھا مگر اس وقت وہ اکیلی لیٹی تھی۔۔ وہ شرمندہ سی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
پوچھا لگاتے ایک خاکروب نے اسکو دیکھا مگر کچھ کہا نہیں۔۔
وہ ایک۔خالی کارٹن زمین پر بچھا کر لیٹی تھی باقی سب کا روز کا معمول تھا سو کسی کے پاس سلیپنگ بیگ تھا تو کوئی ہوا بھرنے والا۔گدا بچھائے تھا یہ کارٹن اسے بوڑھی عورت نے ازراہ ہمدردی اپنا پہش کیا تھا۔۔
وہ کارٹن سمیٹنے لگی تو کئی نوٹ اسکے ہاتھ لگے۔۔
اسے اچھی طرح یاد تھا کارٹن بالکل خالی تھا جب اس نے جھاڑ کر بچھایا تھا۔
وہ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھ رہی تھی۔۔
جبھی کوئی اسکے قریب سے گزرتے سکا اچھال گیا۔۔
اس نے چونک کر سر اٹھایا۔۔ وہ کوئی کالج کا طالب علم تھا بیگ کندھوں پر لٹکائے مڑ کر دیکھنے بنا اسے بھیک دے گیا تھا
تمہارے ہی ہیں آتے جاتے لوگ رکھ جاتے ہیں بے گھر افراد کے سرہانے اکثر۔۔
وہ خاکروب اسے سنٹ سا بیٹھے دیکھ کر قریب آکر بولا۔ وہ کچھ نہ بولی ٹکر ٹکر دیکھتی رہی
تم کو آج پہلی بار یہاں دیکھا نئی آئی ہو اس شہر میں؟
وہ یونہی پوچھ رہا تھا۔
اسکی آنکھ سے آنسو بہہ نکلے۔۔
مت رو ۔۔ اسکا دل پسیج گیا۔۔
میں بھکاری نہیں ہوں۔۔ وہ کہتے زار زار رو پڑی
ارے ۔۔ وہ موپ دیوار سے ٹکا کر اسکے سامنے دوزانو بیٹھا
بھکاری نہیں لگتی ہو جبھی لوگ مدد کر رہے۔۔ روز کے آنے جانے والے بھکاریوں کو دھتکار دیتے ہیں دیکھا یہاں کوئی نہیں بیٹھا ہوا۔۔ تم مشکل میں لگتی ہو جبھی لوگ پیسے بھی دے گئے بھیک نہیں مدد ہے یہ
اس نے گھٹنوں میں سر دے لیا۔۔
اپنے ہی الفاظ کانوں میں گونجے آئندہ بھیک اسے دیجئے گا جسے ضرورت ہو۔۔ تو کیا وہ بھی بھیک منگوں میں سے ہو گئ ہے۔۔ اسے اپنی بے بسی پر غصہ بھی آرہا تھا۔۔
آہش۔۔
وہ تاسف سے دیکھ رہا تھا
ایک عورت کو تو خود میں نے کہتے سنا۔۔ بےچاری اچھے گھر کی لگتی ہے۔۔ یہ دو ہزار وون کا نوٹ اس نے تمہارے ہاتھ کے نیچھے دبایا تھا۔۔
وہ چونک کر سر اٹھا کر دیکھنے لگی تو وہ یقین دلانے والے انداز میں سر ہلانے لگا۔۔
واقعی۔۔ اس نے ایسا ہی کہا تھا۔۔پھر میں نے یہ کارٹن کے نیچے دبا دیا تھا کہ ہوا سے اڑ نہ جائے۔۔
وہ اسے بہتر محسوس کرانا چاہ رہا تھا۔۔ اس نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔۔ سادہ سا پینتیس چھتیس سال کا کوریائی نقوش کا حامل مرد جس کے چہرے پر سوائے سادگی کے کچھ نہ تھا۔۔ اسکی ہمدردی اسے جانے کیوں بری نہ لگی۔۔ اس نے سر ہلا دیا۔۔ پھر گھٹنوں کو تھامتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اس نے پیسے مٹھی میں بھر کر اپنے اپر کی جیب میں ڈال لیئے تھے۔۔
کچھ کھائو گی؟۔۔ اسے اٹھتے دیکھ کر وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔
میرے پاس تھوڑا سا چاولوں کا کیک ہے دوں؟۔۔ اس کی خاموشی پر اس نے مزید کہا۔۔
وہ آنسو پونچھتی مسکرا دی۔۔
گومو وویو۔۔ پیسے ہیں میرے پاس کچھ کھا لیتی ہوں میں۔۔
یہ کارٹن ادھر سیڑھیوں کے پاس رکھ دوں گا رات کو وہیں سے لے لینا۔۔
وہ سر ہلا کر کارٹن اٹھانے لگا تو خیال آیا ۔۔ ہوپ مڑ کا جانے لگی تھی کہ اسکی بات پر ٹھٹھک گئ۔۔
وہ سادہ سے انداز میں کہہ کر اب کارٹن تہہ کر رہا تھا۔۔
وہ بس دیکھ کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسٹل کے برعکس گوارا کے فلیٹ میں گزارے روزے بہتر گزررہے تھے۔ اس نے گوارا کے سامنے اعتراف بھی کیا۔۔
تم ہاسٹل چھوڑو یہیں رک جائو۔ گوارا اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق فورا بولی
اریزہ ہنس دی۔ اسے اب پیر کو ہی جانا تھا یونی سو اطمینان تھا۔ لیکن چیزیں پورے کمرے میں پھیلا رکھی تھیں سو اپنے بیگ میں سمیٹ سمیٹ کر رکھ رہی تھی۔
ایک تو تمہیں کرایہ دینا پڑے گا دوسرا بس کا کرایہ بھی۔ مانا میرے آہبوجی بہت پیسے بھیجتے مگر اڑانا مجھے زیب نہیں دیتا۔ انکی محنت کی کمائی ہے۔
اسکی بات پر گوارا جو موبائل میں لگی تھی فون ایک طرف رکھ کر بیڈ پر آلتی پالتی مارتے سیدھی ہو بیٹھی۔
سب مسلم والد ایسے ہوتے ہیں؟ بیٹیوں پر پیسہ خرچ کرنے والے۔
سب والد ہی ایسے ہوتے ہیں۔ اپنے بچوں کیلئے۔ مسلم غیر مسلم کی کیا تفریق۔
اریزہ کو اسکا سوال عجیب سا لگا۔
ہممم۔ گوارا ہوں کرکے چپ ہوگئ
تمہارے والد تمہارا خرچہ نہیں اٹھاتے؟
اریزہ سوال کرتے ہی زبان دانتوں میں دبا گئ۔ اسے یوں پوچھنا نہیں چاہیئے تھا۔
نہیں۔ گوارا کا انداز سادہ سا تھا۔ اسکی جھینپی سی شکل کو دیکھ کر مسکرا کر بولی
میرے سگے باپ کا انتقال ہو چکا ہے۔ انکی انشورنس وغیرہ سے آہموجی نے ریستوران بنا رکھا ہے گائوں میں۔ اور یہ فلیٹ تھا انکا۔اپنے والد کی شفقت تو یاد نہیں مگر شائد باپ کا کام ہی بچوں کو فائنینشلی سپورٹ فراہم کرنا ہوتا ہے۔اب جی ہائے کو ہی دیکھ لو۔اسکے بابا اس پر کھلا پیسہ خرچتے ہیں۔ مگر وہ اسکی خاطر اسکی امی سے صلح نہیں کر سکتے تھے۔ اسکو دکھ ہی اسی بات کا بس۔
وہ سرسری انداز میں بتاتئ اٹھ کر باتھ روم میں گھس گئ۔
اریزہ بیگ سمیٹتے سمیٹتے رک کر بیڈ پر بیٹھ گئ۔
اسکے بابا تو اسکے بہت لاڈ اٹھاتے تھے۔شائد ہی کوئی فرمائش ہوگی اسکی جو انہوں نے ٹالی ہو۔ اسکے منہ سے بات نکلنے کی دیر ہوتی تھئ اور وہ اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ رات بارہ بجے وہ انکے ساتھ جا کے آئس کریم کھا کے آتی تھی۔ اسکے پاس مہنگے سے مہنگا فون ہوتا تھا۔۔ یہاں بھی وہ مہینے کے درمیان میں ہی پیسے ختم کرکے مزید کی فرمائش کر دیتی تھی۔۔۔ اسکو شدت سے وہ پل یاد آئے جب وہ رات کو انکے ساتھ بیٹھ کر کافی پیتےانکو لمبے لمبے سہیلیوں کے اسکول کے قصے سناتی تھی۔ اسکی سب سہیلیوں کے نام یاد تھے انہیں۔ سنتھیا اسکی سہیلی نہیں بہن ہے یہ انہوں نے اسے سمجھایا تھا۔
اس نے پلٹ کر بیڈ سے اپنا فون اٹھایا اور فورا میسج ٹائپ کرنے لگی
پاپا۔ آپ بہت یاد آرہے ہیں مجھے۔ مس یو۔ اور ڈھیر سارا لو یو۔
جوابا فوری انکا پیغام آیا تھا۔
مس یو ٹو بیٹا۔ اور پیسے چاہیئے ہیں؟؟؟
وہ شرمندہ سی ہوگئ۔
نہیں پاپا بس مس یو اینڈ لو یو۔۔
اس بار پیغام نہیں انکی کال آگئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ہائے پریکٹس کر رہی تھی وہ دونوں آلتی پالتی مارے بیٹھی اسے دیکھ رہی تھیں
وہ ربن سے کرتب کر رہی تھی۔۔ ہوا میں تیرتی سبک خرامی سے اڑتی پھر زمین پر اسکے پائوں آہستہ آہستہ یوں آ اترتے جیسے کوئی دھیرے سے اسے اٹھا کر رکھ دیتا ہو۔۔
اریزہ محویت سے دیکھ رہی تھی اور گوارا اسکی محویت دیکھ رہی تھی۔
شفاف گلابی جلد ستواں ناک بڑی بڑی آنکھیں میک اپ کے نام پر کاجل تک نہیں تھا۔ اپنے روائتی سرخ رنگ کے لباس میں ملبوس وہ توجہ کھینچ لینے والا حسن رکھتی تھی۔۔
سوائے نقش مختلف ہونے کہ وہ خود بھی کافی پیاری بلکہ حسین کوریائی لڑکی تھی مگر جب انسان خود ہی اپنی شکل کو نا پسند کر بیٹھے کوئی کیا اسے اسکے حسن کا احساس دلائے۔۔
اسکی پریکٹس ختم ہوئی اریزہ نے اسکے لیئے زور زور سے تالیاں بجائیں تب وہ چونکی۔ جے ہی جھک کر اس سے داد وصول رہی تھی۔۔
چڑھی سانسوں کے ساتھ دھپ سے جی ہائےاسکے پاس آگری۔۔ اف پانی۔۔ اس نے اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکالی مگر وہ خالی ہوچکی تھی۔۔ اف۔ اس نے پیاسی نظروں سے ہال کے ایک کونے میں لگے کولر کو دیکھا۔۔
گوارا پانی بھر کے لادو۔۔
اس نے منت بھرے انداز میں گوارا کو کہا۔۔
وہ وہیں اسکے بیگ پر پھیل گئ۔۔
پانی چاہیئے۔۔ اریزہ نے اندازہ لگایا۔۔ جے ہی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
میں لا دیتی ہوں۔۔ اریزہ فورا اٹھی۔۔
میرے لیئے بھی۔۔ گوارا نے اپنی بوتل بھی نکال کر تھما دی
شرم کرو۔۔ جی ہائے نے گھورا مگر وہ ڈھٹائی سے ہنسی
اریزہ دو بوتلیں بھر کر لائی تھی۔۔
جی ہائے تم آجائو نا میرے فلیٹ میں اپنے ابا کے پیسے میرے منہ پر مار دیا کرنا کرائے کی مد میں ساتھ ایک اور بندی ہوجائے تو میری کتنی بچت ہونے لگے۔۔
گوارا کا بچت موڈ آن تھا۔
جی ہائے نے اثبات میں سر ہلایا
خیال اچھا ہے ان سے کرائے کے نام پر مزید پیسے نکلوانے کا موقع بھئ مگر روز جو مجھے اس منحوس ہال میں آکر پریکٹس کرنئ ہے اسکا کیا۔
یار مجھے شکل ٹھیک کرنی ہے ابھی اس اریزہ کو ہی دیکھ لو کیسی ستواں ناک ہے اور میری دیکھو پھینی۔
گوارا نے دہائی دی
اف اسکے عجیب دکھ۔۔
کوئی بتائے اسے اصل دنیا کے مسلے کیا ہیں۔۔ جی ہائےمزاق اڑا رہی تھی۔۔
ماں باپ ہیں بہن بھائی ہیں مگر اسے اکیلا رہنا پسند ہے۔ خیال رکھنے والا بوائے فرینڈ ہے مگر اسکو ناک تک عاجز کیئے رکھتی۔۔ جاب نہیں کرتی ہے مگر خرچے بڑھا رکھے ہر دوسرے دن چھوڑ چھاڑ جیب خرچ اپنے والدین سے منگواتی مگر یہ بہت دکھییا ہے بے چاری۔۔ جب اسے ان سب دکھوں سے فرصت ہوتی تو آئنہ دیکھ کر اچھی بھلی شکل میں عیب ڈھونڈ کر روتی
جی ہائےگنوا گنوا کر زلیل کر رہی تھی اریزہ حیران اسکی شکل۔دیکھ رہی تھی گوارا ہنسے جا رہی تھی۔۔
میں پیسے نہ منگوایا کروں تو میری ماں میرے باپ کے پیسوں سے کما کر اپنے سوتیلے بچوں پر خرچ کردے۔ سب۔
وہ ہنستے ہوئے بولی۔

سدھر جائو آہجومہ زندگی سبق سکھانے پر آتی تو بہت برا رگڑا لگتا ہے۔۔
جو بھی۔۔ اس نے کان سے مکھی اڑائی۔۔
پھر بتانے لگی۔
میں نے نوٹس بورڈ پر اشتہار لگایا ہے صبح سے تین کالز آچکی ہیں مگر سب لڑکوں کی۔
اب ایک کمرے کے فلیٹ میں میل روم میٹ تو رکھنے سے رہی۔۔ ساتھ وہ بھی ایک نازک اندام حسینہ اسکی بھی حفاظت میرے زمے ۔۔ویک اینڈ پر ہی سہی
گوارا نے شرارت سے کہا تو اریزہ ںے تصدیق کرنی چاہی
میری بات کر رہی ہو۔۔
گوارا اور جے ہی کھلکھلا کر ہنس پڑیں
یار یہ مجھ تک سے ہاتھ نہیں چھڑا سکی۔۔ گوارا مزاق اڑا رہی تھی۔۔
واقعی۔۔ جی ہائے حیران ہوئی۔۔ اریزہ خفا ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی
تو اور کیا ایسے کانپ رہی تھی۔۔ گوارا نے مبالغہ آرائی سے کام لیا۔
میرا مزاق نہ اڑائو۔۔ اریزہ کا موڈ خراب ہوا۔۔
ارے ۔ ناراض مت ہو۔۔ وہ اسے خفا بھی نہیں دیکھ سکتی تھیں۔۔ ہنستے ہوئے
۔ دونوں نے ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچ لیا۔ وہ ایکدم سے گرتے گرتے انکے ساتھ دھم سے آبیٹھی تھی دونوں اب پیٹ پکڑ کر ہنس رہی تھیں کیونکہ
وہ اس بار بھی ان سے ہاتھ نہ چھڑا پائی تھی۔۔ اس نے گھورا انہیں پھر خود بھی ہنسنے لگی۔۔
ہال کے نیم وا دروازے سے اس نے جھانک کر ان خوش باش چہروں کو غورسے دیکھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تھکے تھکے قدموں سے گھر میں داخل۔ہوئی تھیں۔۔ آہموجی باہر نکلنے کو تیار تھیں۔۔ وہ جھک کر سلام کرتی اپنے کمرے کی طرف مڑنے لگیں جب آہموجی کو جانے کیا خیال آیا رک کر پکار لیا۔۔
گنگشن۔۔
آہموجی نے پکارا تھا وہ چند لمحے مڑ بھی نہ سکیں۔۔
دے۔۔ وہ خو د کو سنبھال کر پلٹ آئیں۔۔
تم کہاں سے آرہی ہو؟۔۔
وہ ٹٹولتی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
دفتر سے۔۔ انہوں نے مختصر جواب دیا۔۔
کس دفتر سے؟۔۔
آہموجی تفتیش کے موڈ میں تھیں انہوں نے بیزاری سے کہا
اپنے۔۔
اپنے کونسے ؟۔۔ وہ بھنائیں۔۔
کیا پوچھنا چاہ رہی ہیں آپ۔۔ وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولیں۔
لی گروپ سے آرہی ہو نا؟۔۔
انی نے پیشانی مسلی
میں جانتی ہوں جھوٹ مت بولنا۔ انہوں نے ٹوک دیا۔۔
ہیون تھوڑی دیر پہلے ہی اپنا اسپورٹس بیگ لے کر نکلا ہے ظاہر ہے وہ دفتر نہیں گیا ہوگا۔
گنگشن گہری سانس لے کر رہ گئیں۔۔
تم سے میں نے بس ریکارڈ مانگا تھا اتنا تو کر سکتی ہو۔۔ وہ شرمندہ کر دینے والے انداز مین بولیں۔۔
انی خاموش رہیں۔۔
اس لڑکے کے پیچھے تم اپنی ماں کی نافرمان ہوتی جا رہی ہو۔۔
وہ ضبط کھو کر چلائیں۔۔
آوارہ عورت کا ناجائز بچہ ہے وہ کون جانے تمہارا بھائی ہے بھی نہیں۔۔ کل کو بلا شرکت غیرے ہر چیز کا مالک بنا دے گا اسے تمہارا باپ تب تمہیں اپنی ماں کی بات یاد آئے گی۔۔
گنگشن زور سے ہنس دیں۔۔
مالک بنے گا نہیں ہے وہ مالک ۔۔۔
انہوں نے جتایا۔۔ آہموجی ہونہہ کہہ کر رہ گئیں۔۔ وہ زور دے کر بولیں۔۔
۔ وہ نہ ہوتا تو کوئی اور ہوتا۔۔ یہ سب میرا کبھی نہ تھا نہ ہوگا۔۔ آہبوجی اپنی محنت کبھی کسی اور کے ہاتھ میں نہیں سونپیں گے۔ ساری جائداد کمپنی دور ایک معمولی سب کمپنی دان نہ کر۔سکے اپنی بیٹی کا گھر بچانے کیلیئے آپ جانے کس غلط فہمی میں ہیں۔۔
وہ کہہ کر سر جھٹکتی چلی گئیں تھیں۔۔
آہموجی کی فراخ پیشانی شکنوں سے پر ہو گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن اور ہیون بالنگ کر رہے تھے
کم سن نے بورڈ دیکھا ہیونگ سک پندرہ پوائنٹس سے
آگے تھا
بال میں تین انگلیاں پھنسا کر اس نے جتاتئ نظروں سے دیکھا تو کم سن ہنس دیا
وہ انداز سے جھکا نشانہ باندھا اپنےبازو کے زور سے بال کو اسکے راستے پر لڑھکایا بال ریڑھتی گئ اور سیدھا درمیان سے بوتلوں سے ٹکرائی ساری کی ساری بوتلیں ڈھیر ہوگئیں۔۔
یس۔۔ اس نے زور سے چیخ مار کر مٹھی بنا کر ہوا میں لہرائی۔۔
کم سن کی باری ختم ہو چکی تھی اسکور بورڈ ہیونگ سک کی جیت کا جشن منا رہا تھا
اس نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔۔
ہیون پسینے پسینے ہو رہا تھا اس نے سائڈ سے تولیا اٹھا کر اسکی جانب اچھالی۔۔ وہ منہ بازو پونچھتا اسکے پاس صوفے پر آگرا۔
اف تھک گیا۔۔
کم سن نے اسکو پانی کی بوتل پکڑائی خود بھی اسکے ساتھ بیٹھ کر گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔۔
تو اگر جان کر ایک شاٹ مس نہ کرتا تو میں آج بھی نہ جیت پاتا۔۔
بوتل منہ سے لگاتے اس نے سرسری سے انداز میں کہا کم سن کو پانی پیتے اچھو لگ گیا۔۔ کھانستے کھانستے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔۔ وہ پورے دھیان سے پانی پی رہا تھا۔۔
کم سن سر جھٹک کر رہ گیا
تمہارا کام کر دیا تھا میں نے ایک دو دن میں پیپرز مل جائیں گے تمہیں۔۔
اسے اچانک خیال آیا تو سیدھا ہو کر بتانے لگا۔۔
گومو وویو۔۔ وہ مشکور ہوا
غلامی کر اب میری بقیہ زندگی۔۔ اس نے طنز سے گھورا
کم سن زور سے ہنسا۔۔
احسان مند شکریہ ہی ادا کرتے میری دعا ہے تمہیں کبھی کسی کا احسان مند نا ہونا پڑے۔۔ تم نہیں جانتے مگر تم نے میرا بہت بڑا کام کیا ہے۔۔
کم سن سنجیدہ ہو کر کہہ رہا تھا۔۔ اس نے ہیون کی جانب دیکھنے سے احتراز برتا تھا۔۔ مگر کم سن کو دیکھے بغیر بھی وہ جانتا تھا ایسا اس نے آنکھوں میں در آنے والی نمی کو چھپانے کیلیئے کیا ہے۔۔
کم سنا۔۔ ہیونگ سک نے مخاطب کیا تو وہ اسکی جانب گھوم گیا۔۔
سارنگی اے۔۔ (میں تم سے پیار کرتا ہوں)
کم سن نے پوری آنکھیں کھول کر دیکھا۔۔
ہیونگ سک اسکی حیرت پر مسکرایا۔۔ پھر بات ہی بدل گیا۔۔
جون جے سے ملنے جارہا ہوں چلو گے؟۔۔
ہیون نے کہا تو کم سن نے اسے غور سے دیکھا
کیوں؟۔۔جا رہے ہو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اسکے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑے بیل بجا رہے تھے۔ تین چار بار کے بعد دروازہ کھلا۔۔ جون جے انکے آگے جھک سا گیا۔۔
اسلام و علیکم۔۔
معزرت بے حد معزرت تم لوگوں کو انتظار کرنا پڑا۔۔ میں نماز پڑھ رہا تھا آئو اندر آئو۔۔
وہ خوشدلی سے دونوں کو گلے لگا کر ملا ۔۔
آننیانگ واسے او۔۔ کم سن کو اسکے سلام کا جواب سمجھ نہ آیا تو اپنی زبان میں ہی سلام کر دیا۔۔
آننیاگ واسے او۔۔ اس نے فورا جواب دیا۔۔ انکو ہمراہ لیئے سیدھا لائونج میں لے آیا۔۔ لاونج میں ایل ای ڈی تھا اور بےحد آرامدہ صو فے بچھے تھے۔۔
کیا لوگے ۔۔
وہ آداب میزبانی نبھا رہا تھا۔۔ دونوں نے اکٹھے شرارت سے کہا۔۔
وہسکی۔
جون جے ہنس دیا۔
وہ تو نہیں ہے۔۔ تازہ جوس ہے لے آتا ہوں۔۔ وہ انکو بیٹھنے کا اشارہ کرتا کچن کی جانب بڑھ گیا۔۔
ہیون نے اسکے فلیٹ کا جائزہ لیا۔۔ بس ضرورت کا سامان تھا نہ بے حد پر تعیش تھا نہ بالکل خالی۔۔ اسکو اسکا کمرہ یاد آیا۔۔
اس پورے فلیٹ جتنا بس اسکا کمرہ تھا۔۔۔سامان سے اٹا ہوا۔۔ اسکی وارڈروب کسی مہنگی برانڈ کے اسٹور سے کم نہیں تھی نک سک سے درست رہنا مہنگے کلون استعمال کرنا اسکا شوق تھا۔ اور اس وقت۔۔ سادہ سے ٹرائوزر شرٹ میں ملبوس ہلکی ہلکی شیو بڑھی ہوئی وہ انکےلیئے اپنے ہاتھوں سے اورنج جوس نکال رہا تھا۔۔
یہ وہی بندہ ہے جو جھک کر اپنے جوتے کےتسمے تک نہیں باندھنے کو تیار ہوتا تھا ۔۔ اتنا نخریلا تھا۔۔
کم سن نے اسکی جانب جھک کر سرگوشی کی۔ تبھی جون جے کی اس پر نظر پڑی تو مسکرا کر بس دو منٹ میں آیا کا اشارہ کیا۔۔
ہیون نے ہلکے سے ہنکارہ بھرا۔
جون جے تین گلاس بنا کر ٹرے میں سجا لایا۔۔ سہولت سے انہیں تھما کر انکے مقابل آبیٹھا۔۔
میں نے کھانا آرڈر کیا ہے تم لوگ کھا کر ہی جانا ۔۔ اس نے خلوص سے دعوت دی
دونوں نے سر ہلا دیا۔۔
یہ کیا ہے۔۔ ہیونگ سک کو ٹی وی کے پاس رگ سا بچھا نظر آیا۔ تھا تو قالین جیسا ہی مگر قالین پر کوئی تصویر سی بنی تھی۔۔
اوہ۔۔ جائےنماز میں جلدی میں سمیٹنا بھول گیا۔۔
جون جے سر پر ہاتھ مارتا اٹھا
اس پر کیا بنا ہے؟۔۔ کم سن کو بھی تجسس ہوا۔۔
جون جے اٹھ کر تہہ لگا رہا تھا اسکے پوچھنے پر کھول کر دکھانے لگا۔۔
یہ محراب بنی ہے عموما مسجد اسی طرح کی ہوتی اس پر نماز پڑھی جاتی ہے۔۔ ۔۔ جون جے نے تہہ کر کے ریک میں رکھ دی۔۔
میرا روم میٹ تو چادر بچھا کر نماز پڑھتا۔۔ کم سن حیران ہوا۔۔
کون؟۔۔ ہیونگ سک بھی چونکا
شاہزیب۔۔ کم سن نے بتایا تو وہ سمجھ کر سر ہلا گیا۔۔
چادر میں بھی پڑھ سکتے مگر یہ مخصوص ہوتی تو بس اسی کام کیلیئے رکھی جاتی چادر تو کہیں بھی استعمال ہو سکتی۔۔ جون جے کو سمجھ نہ آیا کیسے افادیت بتائے۔۔
دونوں نے پھر مزید سوال بھی نہ کیا۔۔
اور کیا ہو رہا ہے۔ ہیون سے تو ملاقات ہو جاتی تم کیا کر رہے ہو آجکل پینٹنگ کا شوق کیسا جا رہا۔۔
جون جے نے پوچھا تو کم سن پھیکی سی ہنسی ہنس دیا۔
کب کی چھوڑ دی پینٹنگ۔۔۔
کیوں۔۔ جون جے حیران ہوا۔۔
لمبی کہانی ہے۔۔ کم سن نے ٹالنا چاہا۔۔
ہیون بے نیازی سے گھونٹ بھر رہا تھا۔
چلو جیسے تمہاری مرضی۔۔ جون جے نے بھی اصرار نہ کیا۔۔
تم نے کھانے میں کیا آرڈر کیا ہے۔۔ سبزیاں منگوائی ہیں تو مجھے بالکل بھوک نہیں پہلے بتا رہا۔۔
ہیون نے لگی لپٹے رکھے بغیر کہا۔۔
جون جے زور سے ہنسا۔۔
نہیں حلال ریستوران سے کھانا منگوایا ہے ہے کوریائی کھانا مگر بیف اور چکن ہے ساتھ نوڈلز۔۔
ہیونگ سک مطمئن ہوا۔۔
تم لوگ کھا سکتے ہو بیف اور چکن۔۔ کم سن حیران ہوا۔۔
تم لوگ مطلب۔۔ جون جے سمجھا نہیں
یار مسلم کھا سکتے۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔
میرے کچھ دوست ہیں مسلم جو کبھی ہمارے ساتھ کہیں جا کر گوشت نہیں کھاتے۔۔ اگر تم کسی ریستوران کا کھا سکتے ہو تو بتائو میں انہیں بتائوں گا۔
ہاں ۔۔ ضرور۔۔ اس نے فورا حامی بھری پھر چونکا
تمہارے مسلمان دوست ہیں؟
اسکے زہن میں خطبے میں سنے الفاظ گونجے
یہود اور نصارئ تمہارے کبھی دوست نہیں ہو سکتے۔۔
ہاں۔۔ پاکستان ایک ملک ہے اسلامی وہاں سے آئے ہیں۔۔ کچھ ایکسینچ اسٹوڈنٹس۔۔ہماری اچھی خاصی دوستی ہے ان سے اچھے لوگ ہیں۔۔
ہیون نے بھی بتایا تو وہ کندھے اچکا گیا۔۔
اچھی بات ہے۔
تبھی باہر دروازے کی اطلاعی گھنٹی بجی۔۔ کم سن کے دماغ میں بھی گھنٹی بجی۔۔
اس نے غور سے جون جے کو دیکھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہزیب اور ایڈون یونہی رات کو چہل قدمی کرنے نکلے تھے یہ داخلی سڑک تھی سو اکا دکا کوئی گاڑی گزرتی تھی۔ وہ فٹ پاتھ پر چل رہے تھے سڑک شفاف تھی فٹ پاتھ صاف تھا۔ اردگرد صفائی سے ماحول کتنا اچھا لگ رہا تھا۔
۔کاش پاکستان میں بھی لوگ صفائی کا خیال کر لیں
نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے موازنہ کر ڈالا۔ اور دکھ سے سوچا۔۔۔
۔۔ ایڈون نے کسی کو فون ملا کر دیکھا تھا موبائل بند تھا۔۔
آہش۔۔ اس نے سر جھٹک کر موبائل واپس جیب میں ڈال۔لیا۔۔
یار یہاں کا موسم کتنا اچھا ہے
۔ شاہزیب نے دونوں ہاتھ اپر کی جیب میں گھسیڑ کر کندھے اونچے کرکے خنکی کو اپنے اندر سمونا چاہا۔۔
یہاں سب کچھ ہی اچھا ہے۔۔سکون ہے آزادی ہے۔۔
ایڈون نے سادہ سے انداز میں کہا تھا۔۔
شاہزیب نے چلتے چلتے رک کر اسے دیکھا تھا۔۔
ایڈون ایک بات پوچھوں ؟۔۔ زاتی سوال ہے نہ بتانا چاہے تیری مرضی۔۔
اس نے حفظ ماتقدم کےطور پر پہلے ہی کہہ دیا۔۔ ایڈون باقائدہ اسکی جانب مڑ کر گھورنے لگا۔۔
تو کب سے اتنا تمیز تہزیب والا ہوگیا۔۔ پوچھ نہیں بتانا چاہوں تو تیرا۔ وہ رکا۔۔
اگلوا نہیں سکتا مجھ سے۔۔ اس نے کیا لفظ کھایا تھا شاہزیب بخوبی سمجھ کر ہنسا۔۔
نہیں اگلوانا کچھ نہیں تجھ سے تیرا کچھ بھئ مجھ سے چھپا نہیں۔۔
شاہزیب نے کہا تو ایڈون نے فورا دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر جیسے ڈر کر خود کو اس سے چھپایا
کیا بک رہا ہے۔۔
شاہزیب نے کھڑی لات اسکے جمائی۔۔
وہ سی کرتا ٹانگ سہلانے لگا۔۔
سنتھیا جان گئ ہے اریزہ کے بارے میں ؟۔۔
اس نے سیدھا سوال کیا۔۔
ایڈون ایکدم سنجیدہ ہوا۔۔
پھر گہری سانس لے کر سر اثبات میں ہلا دیا۔۔
تجھے میں نے کہا تو کبھی بھولے سے بھی اسکو مت بتانا
شاہزیب کا دل۔کیا اس احمق کے زور سے کان کے نیچے جما دے۔۔ دانت پیس کر بولا تھا
ایڈون نے کوئی جواب نہ دیا۔۔
۔۔ جبھی ناراض ہے تم سے فون بھی اٹھا رہی۔
اس نے پھر پوچھا۔۔
اس بات پر نہیں ناراض۔ اس پر منا لیا تھا میں نے اسے۔۔ اب بس ہر وقت شک کرتی رہتی مجھ پر
کچھ بولوں تو کہتی تم مجھ سے جلدی چڑ جاتے ہو ابھی اریزہ ہوتی تو تمہارا رویہ ایسا نہ ہوتا۔۔
خاموش ہوں تو اسے لگتا اریزہ کی یادوں میں گم ہوں کوئی بھی بات ہو گھوم پھر کر اریزہ کے نام پر آجاتی۔۔ ۔ تنگ آگیا ہوں۔ یار کتنا تو خیال کرتا ہوں میں اسکا کیا کچھ نہیں کرتا اسکے لیئے پھر بھی۔۔
وہ پھٹ پڑا تھا۔۔حقیقتا بال نوچ لینے والا حال تھا اسکا
تین دن سے یونیورسٹی نہیں آرہئ فون بند کیا ہوا ہے
مت پوچھو فکر مند بھی ہوں اور غصہ بھی آرہا ہے مجھے۔۔ لگ رہا میں پاگل ہو جائوں گا۔۔
شاہزیب کو اس پر ترس آرہا تھا۔۔
اونچا لمبا ایڈون بچوں کی طرح روہانسا ہو چلا تھا
اریزہ سے پوچھنا تھا۔۔ شاہزیب نے کہا تو ہونٹ بھینچ گیا
اس سے پوچھا تو کہہ رہی تھی میں گوارا کے ساتھ رہ رہی ہوں۔ اسکے گھر۔۔
کیا۔۔ شاہزیب حیرت سے چیخ پڑا
ہاں۔ ایڈون تھک کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔۔
شاہزیب مجھے لگتا ہے مجھے سنتھیا سے منگنی نہیں کرنی چاہیئے تھی میں نے جلد بازی سے کام لیا ہے۔۔
وہ تھکے تھکے انداز میں بولا
یار کپلز میں لڑائی ہو جاتئ ہے تھوڑا جیلس ہو گئ ہے تحمل سے کام لے ٹھیک ہو جائے گی ۔۔
شاہزیب نے سمجھانا چاہا وہ استہزائیہ ہنسا
مجھے لگا تھا ہر گزرتے دن کے ساتھ اریزہ کیلیئے میرے جزبات سرد ہو جائیں گے ۔ میں سنتھیا کی طرف متوجہ ہوتا جائوں گا۔۔ مگر الٹ ہو رہا۔
تو جانتا ہے میں شکل پر مرنے والا سطحی لڑکا نہیں ہوں۔۔ اس نے شاہزیب سے تائید چاہی شاہزیب خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔۔
مگر وہ ہے بہت الگ بہت اچھی بہت ۔۔ اس نے تھک کر سر جھکا لیا۔۔
اگر میں عیسائی نہ ہوتا تب بھی وہ مجھے ایسے صاف انکار کر دیتی؟۔۔ کم از کم ایک بار تو سوچتی نا میرے بارے میں۔۔
وہ جانے کیا جاننا چاہ رہا تھا۔۔
وہ مسلمان ہے یہ جان کر بھی تو محبت کر بیٹھا نا۔ ؟۔۔
محبت مزہب سے بالا تر ہوتی ہے انسان سے ہوتی ہے۔۔ اسے اگر تیرے بارے میں سوچنا ہوتا تو سوچ چکی ہوتی سب سے بڑھ کر ۔۔ وہ تیری قسمت میں ہوتی تو یا تو مسلمان پیدا ہوتا یا وہ عیسائی پیدا ہوئی ہوتی۔۔ سب سے الگ یہ تو مانتا ہے نا ایک۔طاقت ہماری عقل سمجھ سے بالاتر اور قوی ہے
۔۔ اس نے شہادت کی انگلی سے آسمان کی جانب اشارہ کیا۔۔
باقی سنتھیا کیلیئے یہ روڈ سائڈ رومیو اور بالی ووڈ سے متاثر ہتھکنڈے استعمال مت کر وہ جو اتنا رومانوی انداز اپناتے اداکاری کرتے پردے پر ہی اچھا لگتا یہ کام انہیں آتا۔۔ تو اگر کرنا چاہے گا تو اوپری لگے گا کیونکہ تو اداکار نہیں۔۔ اپنے آپ کر وقت دے سنتھیا کو بھی۔
اس طرح خود پر بھی جبر کر رہا اور سنتھیا کو مزید چڑا رہا ہے۔۔
شاہزیب نے الفاظ کے چنائو میں بے حد احتیاط سے کام لیا تھا پھر بھی ایڈون سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا وہ بخوبی سمجھ گیا تھا کس جانب اشارہ ہے شاہزیب کا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں۔۔
چاپ اسٹکس سے اسٹیک کا ٹکڑا اٹھا کر لاپروائی سے کھاتے ہوئے جون جے نے کہا تھا
تم جانتے ہو پھر بھی؟
کم سن اور ہیون چونکے۔
دونوں ہاتھ روک کر گھور رہے تھے۔۔
جون جے نے انکو ہکا بکا دیکھا تو ہنس کر بولا
کھانا تو کھائو۔۔
پھر آرام سے پانی گلاس میں بھر کر گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔۔
دونوں اسکی ہدایت کے بر عکس اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔ اس نے گلاس میز پر رکھ دیا۔۔ اور انکی حیرت بھری آنکھوں میں جھانک کر بولا
مجھے خوشی ہے میرے اتنے مخلص دوست ہیں۔ گومو وویو۔۔ تم دونوں خاص طور پر مجھے مطلع کرنے اپنے وقت کو صرف کر کے یہاں آئے مجھے دلی قدر ہے
مگر۔۔ وہ رکا پھر گہری سانس لے کر بولا
اب میں اپنا پرانا رہن سہن سب کچھ بدل چکا ہوں اب مجھے نہ اس جائداد میں دلچسپی ہے نہ ہی میں اس کمپنی کیلیئے کچھ بھی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں میری جاب میری روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کیلیئے کافی ہے۔۔
اور تمہاری والدہ۔۔ کیا وہ بھی ایسا ہی سوچتی ہیں۔۔
؟۔۔ کم سن نے سیدھا سوال کیا
اسکے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ در آئی
انکو تو بہت دلچسپی ہے اس جائداد میں۔۔
اگلا جملہ اس نے منہ ہی منہ میں کہا
مجھ سے بھی زیادہ عزیز ہے انہیں تو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واپس آتے ہوئے گاڑی میں دونوں اسی کے بارے میں سوچ رہے تھے
ابھی جزباتی ہو رہا کچھ عرصے بعد احساس ہوگا اسے۔۔
کم۔سن نے ہیونگ سک سے کہا۔۔
ہوں۔۔
ہیون متفق تھا۔۔
مجھے جب میرے بھائیوں نے ہاتھ پکڑ کر نکال باہر کیا تھا تب میں کتنا خوار ہوا تھا جون جے بھی جانتا۔۔ یون بن اور تم نہ ہوتے تو شائد میں کبھی سنبھل نہ پاتا۔۔ جزباتی سہارہ تو ایکرف تم دونوں نے مجھے پیسے سے بھی بہت سہارہ دیا سڑک پر آگیا تھا میں تو۔۔
کم سن کا انداز تلخ ہوگیا تھا جیسے سب منظر ایکدم آنکھوں کے سامنے آگئے تھے
ہیون خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا
عجیب مزہبی ہوا ہے۔۔ دنیا چھوڑ بیٹھا ہے۔۔ یہ وہی جون جے ہے نا موزے بھی برانڈڈ درکار تھے اسے اور اب اس وقت جو شرٹ پہنے تھا اسکا رنگ اڑا ہوا تھا یہ تو دو سے تیسری بارتو بہترین براںڈڈ لباس بھی زیب تن نہیں کرتا تھا۔۔
وہ واقعی حیران تھا۔۔
تم کچھ نہیں کہو گے؟
وہ شائد اکیلے حیراں ہو ہو کر تھک گیا تھا جبھی اسے بھی بولنے پر اکسانے لگا۔۔
کیا بولوں۔۔ جون جے اب پرانا جون جے نہیں ہے بدل چکا تبدیلی کی وجہ مزہب ہے۔۔۔۔۔ کیا نیا اس میں۔۔
وہ اکتایا تھا۔۔
سچ پوچھو تو جو اسکی عادتیں تھیں اچھی نہیں تھیں اب زیادہ نرم مزاج ہو گیا ہے۔۔ کم سن نے مزید رائے دینا ضروری سمجھا۔
مگر یار حیران کردینے والی بات ہے
وہ ہیون کی جانب باقائدہ مڑ کر بولا
مزہب تو سب کا ہی کوئی نہ کوئی ہوتا سب مزہب اچھائی کی ہی تعلیم دیتے بس یہ مسلمان اتنے کٹر کیوں ہوتے ہیں۔۔ ؟۔۔
کون جانے ۔۔۔ کون جانے ہیونگ سک نے کندھے اچکائے تبھی اسے مانوس سا جھنڈا دکھائی دیا۔۔
وہ کوئی ریستوران تھا جسکی پیشانی پر وہ چمک رہا تھا۔ اس نے زہن کے گھوڑے دوڑائے۔۔
کہاں دیکھا۔۔
روتی لڑکی پریزنٹیشن۔۔
دنیا کی واحد مسلمان ایٹمی قوت۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔-
موبائل میں کتنی ہی دیر اس نے وہ چہرہ تکتے وقت بتا دیا تھا سنہری دھوپ میں دمکتا سنہرہ چہرہ
سرد ہوا سے گلابی ہوتا چہرہ۔۔ بات بات پر مسکرا دینے والا خرم شہزادہ۔
یہ انی نے بھجوائے ہیں۔۔
جھوٹ روانی سے بولتا۔۔

اسکے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ آگئ
تو تم پر ترس کھایا جا رہا تھا بس ۔۔
اور کیا ۔وہ دھیرے سے۔ بڑ بڑائی
دے؟
اسکے پاس بیٹھی عورت سمجھی کہ اس سے مخاطب ہے۔۔ سو اس سے پوچھنے لگی۔
وہ متوجہ بھی نہ ہوئی یونہی دیکھتی رہی۔۔
بس اسکے اسٹاپ سے آگے آچکی تھی جب بریک لگنے پر اسکے خیالوں کا سلسلہ ٹوٹا تھا۔۔اس نے چونک کر بس کی کھڑکی سے جھانکا
آہجوشی یہ تو میانگ اسٹاپ نہیں۔۔
اس نے پکار کر ڈرایور سے پوچھا
وہ گزر چکا ہے۔۔ ڈرایور نے جواب دیا تو وہ سر پر ہاتھ مار کر اٹھی
میں بس یہیں اتر رہی ہوں۔۔ وہ بتاتی بس سے نکل آئی۔۔
باہر نکل کر اس نے لمبی کولتار سڑک کر گھور کر دیکھااس نے اندازہ لگایا
اب تمہیں اگلے آدھے گھنٹے تک روندنا ہے مجھے۔ تھوڑا احساس کر لینا۔۔
وہ سڑک سے مخاطب تھئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن کو ڈراپ کر کے واپس آہی رہا تھا کہ شاہراہ پر ہیون کو دائیں جانب داخلی گلی میں مڑتا کوئی مانوس چہرہ دکھائی دیا اس نے فورا انتہائی دائیں جانب ایکدم سے موڑ کر روکی تھی۔۔
وہ گاڑی سے نکل کر تقریبا بھاگتا ہوا گلی میں داخل ہواتھا۔۔ اتنےرش میں بھی اسے وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتئ بائین جانب ایک۔دکان میں گھستی دکھائی دی۔
وہ تیزی سے لپکا
روزمیری مساج اینڈ سپا۔ اس نے رک کر دکان کی پیشانی پر موجود عبارت پڑھی۔
وہ کاونٹر پر کھڑی تھی۔۔
ای جی آ۔۔
اسکے دو بارہ غائب ہونے کے ڈر سے وہ زور سے پکار بیٹھا
ہوپ بری طرح چونک کر مڑی تھی چابی اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جاپڑی تھی۔۔
ہیون درمیانئ فاصلی لمبے ڈگ بھر کر طے کرتا اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔۔
کہاں چھپ گئی تھیں؟۔۔تم۔۔
اس نے جھک کر چابی اٹھائی اور مڑ کر جانے لگی
ہیون نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
ہوپ۔۔ مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔ اسکے چہرے کی مخصوص مسکراہٹ زائل ہوئی وہ اپر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اجنبی سے انداز میں کہہ رہا تھا
ہوپ نے مڑ کر اسے بغور دیکھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں میرا نام کیسے پتہ چلا۔؟
کافی کارنرمیں کائونٹر سے ہیون دو کافی بنوا کر اسکے سامنے ٹرے لیئے آ بیٹھا تو اس نے زہن میں کلبلاتا سوال پوچھ لیا۔۔
ایک بلیک کافی ایک کریمی کیپیچینو۔۔
اس نے خود ہی بلیک کافئ اٹھا لی۔۔ ہیون نے حیرت سے اسے دیکھا مگر وہ بے نیازی سے گھونٹ بھر کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
تمہارے ڈاکومنٹس سے دیکھا تھا۔۔ اس نے بتایا تو اسے یاد آیا۔۔ ایبسٹریکٹ آرٹ کے سیمپلز کیساتھ اس نے سی وی اور کور بھی بھجوایا تھا ۔۔
احمقانہ سوال پوچھنے سے باز نہ آئیں۔۔ کیا لگا تھا اسے خواب آیا تھا ۔۔ وہ خود کو گھرکنے لگی۔۔
تم میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں؟۔۔ تمہیں جاب آفر ہوئی تھی۔۔ کوئی وجہ تھی نا جو بار بار رابطہ کرنا چاہ رہا تھا۔۔ تم نے خود رابطہ کیا تھا اس نمبر پر؟
اسکا انداز سخت نہیں تھا۔۔ اسے شائد سختی سے بات کرنا آتا ہی نہیں تھا۔۔ اتنا نرم اور دھیما انداز تھا کہ وہ کوئی سخت جواب نہ دے سکی۔
نہیں کیا ۔۔ اس نے ہونٹ بھینچے۔۔
مجھے پتہ تھا۔۔ وہ سرجھٹک رہا تھا
تم نے وہ سامان واپس بھجوایا کیوں؟۔۔
وہ بڑے غور سے اسے دیکھ رہا تھا
کیونکہ میں بھکاری نہیں ہوں۔۔ بھیک نہیں چاہیئے تھی مجھے۔ تم نے مجھ پر ترس کھا کر وہ سامان دیا انی تو جانتی بھی نہیں تھیں اس بارے میں۔۔
وہ تیز لہجے میں بولتی گئ۔ ہیونگ سک خاموشی سے دیکھتا رہا۔۔
میں تمہاری مدد کرنا چاہتا تھا میرے خلوص سے دیئے گئے تحفے کو غلط رنگ دے رہی ہو۔۔
خلوص۔۔ وہ استہزائیہ ہنسی۔۔
اچھا مزاق ہے۔۔ وہ کڑوی کافی کے گھونٹ بھر رہی تھی ۔۔

ہیون چپ سا ہو گیا۔۔ کریمی کیپیچینو کا جھاگ بیٹھتا جا رہا تھا۔ اس نے کپ اٹھا لیا۔۔ دونوں سر جھکائے ایک دوسرے کو دیکھنے سے بھی گریزاں گھونٹ بھر رہے تھے۔۔
کافی پی کر وہ اٹھنے لگی تھی جب ہیون نے اسے نظروں میں رکھتے ہوئے کہا۔۔
میری ایک دوست اسی بلڈنگ میں رہتی ہے اسے کرایہ دار درکار ہے۔ تمہیں نسبتا کم قیمت میں اچھی جگہ رہائش مل سکتی ہے ۔ کیا تمہیں دلچسپی ہے؟۔۔
وہ صاف انکار کر دینا چاہتی تھی۔۔ مگر
بھیک نہیں مدد ہے یہ۔ کسی کے الفاظ کانوں میں گونجے۔
دے۔۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔ ہیونگ سک مسکرا دیا۔
بھیک بھی تو وصول کی ہی ہے میں نے مدد بھی سہی۔۔ اس نے تلخی سے سوچا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویک اینڈ پر وہ کھینچ کھانچ کر حسب معمول جی ہائے کو بھی لے جانے آئی تھئ۔
ایک تو یہ ہفتہ وار ہجرت مجھ سے ذبردستی کرواتی ہو۔
جی ہائے بڑ بڑا رہی تھی گوارا آرام سے اسکے بیڈ پر بیٹھی پائوں جھلا رہی تھی۔
سنتھیا سے بھی پوچھ لوں۔ اریزہ کو خیال آیا۔
ہاں پوچھ لو۔
گوارا نے فراخدلی سے کہا۔
۔اریزہ ڈورم میں سنتھیا سے ملنے گئ مگر ڈورم خالی تھا۔ وہ گہری سانس بھر کر اسے فون ملانے لگی۔
فون بند تھا۔ یقینا وہ پھر ایڈون کے ساتھ کوئی پروگرام بنا چکی تھئ۔ وہ دروازہ بند کرتی واپس چلی آئی۔ تینوں اہتمام سے اپارٹمنٹ میں داخل ہوتے چلائیں۔
اس ویک اینڈ ہم خوب چل کریں گے ایک لمحہ بھی فالتو نہیں بیٹھنابس۔۔ اس آموختے کو دہراتے صرف ایک گھنٹے بعد ہی
جی ہائے اریزہ اورگوارا تینوں برابر لیٹی اپنے اپنے موبائل میں لگی ہوئی تھیں۔ جی ہائے حسب عادت گیم کھیل رہی تھی اریزہ اپنا بلاگ کھولے تھی تو گوارا چپکے چپکے آہستہ آواز میں یون بن سے مسکرا مسکرا کر باتیں کرنے میں مگن تھی۔۔
آہش۔۔
اس نے مزے سے کروٹ لی کہنی جی ہائے کو لگی اسکا چانس گر گیا
اس نے بھنا کر گوارا کو گھورا
بیانئے ۔ اس نے لبوں کی بے آواز جنبش سے آنکھیں سکیڑ کر معزرت خواہانہ شکل بناتے جواب دیا تھا۔۔وہ تپ کر اٹھ بیٹھی اسکے ایکدم اٹھنے سے اریزہ جو اسکے ساتھ ہی لیٹی اسکا بازو لگا اریزہ کے ہاتھ سے موبائل چھوٹا اور زمین پر جا پڑا
سوری۔ جی ہائے فورا معزرت خواہ ہوئی
اریزہ گہری سانس بھر کر لیٹے لیٹے ہی جھک کر موبائل اٹھانے لگی۔۔
اس پاگل کو شوق تو بڑا ہے کرایہ دار رکھنے کا ہم تین کو یہ بیڈ پورا نہیں پڑتا ایک اور کو اپنے سر پر بٹھائو گی؟۔۔
جی ہائے کہتے کہتے بیڈ سے اٹھی۔۔ ایسی آواز گوارا کے کان میں فورا پہنچتی تھی۔۔
فورا فون کان سے ہٹا کر بولی۔
جب تیسری کرایہ دار آئے گی تو تم مت آنا نا ویک اینڈ پر ۔۔ جگہ پوری پڑ جائے۔۔گی۔۔ اسکے آدھے جملے میں ہی جی ہائےنے اسکے پیتھیانے پڑا کمبل اٹھا کر اسکے منہ پر گولا بنا کر دے مارا۔ گوارا جھکائی دے کر بھی بچ نہ پائی جوابا سرہانے سے تکیہ اٹھا کر جی ہائے کو مارا۔۔ اس نے بازو آگے کر کے روکنا چاہا تکیہ اسکے بازو سے ٹکرا کر اریزہ کے موبائل تھام کر واپس آتے ہاتھ پر پڑا اسکے ہاتھ سے پھر موبائل چھوٹ کر زمیں پر گر گیا۔
تمہاری تو۔۔ اریزہ کی بے نیازی رخصت ہوئی تلملا کر وہی تکییہ جی ہائے کو کھینچ کر مارا بس پھر جسے طبل جنگ بج گیا۔ ایک دوسرے کو تکیہ سے مار مار کو تکیوں کا انجر پنجر ٹیڑھا کر دیا۔۔
پٹ پٹا کر تینوں بے دم ہو کر بیڈ پر گریں اور کھلکھلا دیں
یار بڑا مضبوط تکیہ ہے۔۔
اریزہ نے بازو میں دبایا تکیہ سر کے نیچے رکھا
ہاں یار فلموں ڈراموں میں تو اس لڑائی کےبعد فر نکل کر ہوا میں اڑنے لگتا ہے۔۔ جی ہائےنے بھی حیران ہو کر تکیہ الٹا
گوارا کو ایک فر اڑتا دکھائی دیا تو روہانسی ہو کر اپنا تکیہ ٹھیک کرنے لگی۔۔
میرا اکلوتا تکیہ پھٹ گیا۔۔ اسکا دکھ دیدنی تھا۔۔
اسکے تکیے کا ایک کونا پھٹ کر فر اڑا رہا تھا۔۔
سی لو ٹھیک ہو جائے گا۔۔ جے ہی اور اریزہ سب بھول بھال مدد کو آئیں
زہریلی عورتوں۔۔ وہ دانت پیسنے لگی۔۔
جے ہی کھلکھلائی۔
ویسے فلمی سین ہو تو گیا۔۔ تھوڑا سا سہی فر نکل آیا۔۔
اریزہ نے فر اٹھا کر ہوا میں اڑایا۔۔
جے ہی کو شرارت سوجھی گوارا کا تکیہ کھینچ کر اس چھوٹے سے سوراخ کو پورا بھنبھخ کیا اور مٹھی بھر کر فر اڑایا۔۔
گوارا چلاتی تکیے کو بچانے دوڑی مگر جی ہائے اور اریزہ نے اسکا تکیہ قبضے میں لیکر فر اڑانا شروع کر دیا۔۔ گوارا انکے تکیوں پر لپکی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیون اور ہوپ گوارا کے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑے تھے
گوارا کافی صفائی پسند ہے میں نے اسکا اپارٹمنٹ کبھی گندا نہیں دیکھا۔۔
ہیونگ سک تعارف کروا رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورا کمرہ کسی مچھلی بازار کا نقشہ پیش کر رہا تھا
بیڈ کی چادر زمیں پر لوٹ رہی تھی پورے کمرے میں فر اڑ رہا تھا تکیےخالی ہو چکے تھے اور کاوچ پر پڑے دھلے کپڑوں کا ڈھیر بھی اس لڑائی کا حصہ بن چکا تھا۔۔ ٹی شرٹ سکرٹ بھی ایک دوسرے کو گولا بنا کر ماری جا رہی تھیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی دوستیں ویک اینڈ پر آجاتئ ہیں مگر کبھی کبھی ۔۔ ایک تو کورین ہے دوسرئ پاکستانی لڑکی ہے مگر وہ بھی اچھی ہے سادہ سی۔۔ وہ بھی جھگڑالو نہیں ہے تمہاری اس سے بھی اچھی نبھ جائے گی۔۔
اس نے مزید کہہ کراطلاعی گھنٹی بجائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے کمزور کہہ کر مزاق اڑا رہی تھیں وہی ہو نا تم دونوں۔۔
جی ہائے بیڈ پر اوندھی پڑی تھی اسکے اوپرگوارا تھی اور ان دونوں کو نیچے دبائے اریزہ ان کی کشن سے دھنائی کر رہی تھی دونوں کا چہرہ لال ہو چکا تھا ہنسنے کی وجہ سے دونوں بے دم ہوئی پڑی تھیں جبھی اریزہ کو کھلا موقع ملا تھا۔ گوارا نے کھسک کر نکلنا چاہا تو اریزہ نے فورا اسکی ٹانگ پکڑی
کدھر؟۔۔
گوارا پھولی سانسوں سے ہانپتی بولی
اطلاعی گھنٹی بجی ہے۔۔
اس وقت۔۔
اریزہ اور جی ہائے دونوں نے بیک وقت گھڑی کو دیکھا۔۔
رات کے ساڑھے گیارہ ہو رہے تھے
اس وقت کون ہو سکتا۔۔
دونوں سنجیدہ ہو کر سیدھی ہوئیں
دیکھ کر ہی پتہ لگے گا۔۔
گوارا نے کندھے اچکائے اور جانے لگی تھی۔ دونوں بیڈ سے کود کر اسکے پاس آئیں اور دائیں بائیں اسکا بازو تھام گئیں
کیا ہے۔ وہ جھلائی
یون بن تو اس وقت آیا نہیں ہم تینوں کا اس شہر میں کوئی جاننے والا نہیں۔۔ کون آیا ہوگا ۔۔ جی ہائے گھبرائی
اس دن جو انگریزی فلم دیکھ رہے تھے جی ہائے اس میں ایسے ہی رات بارہ بجے گھنٹی بجی تھی نا۔۔
اریزہ کو غلط موقع پر ڈرائونی فلم یاد آئی تھی
گوارا سٹپٹا کر دونوں کی شکل دیکھ رہی تھی
اور جب ہیروئن نے دروازہ کھولا تو کوئی نہیں تھا
جی ہائے نے کہا تو گوارا نے مکھی اڑائی
جب کوئی نہیں تھا تو ڈرنے کی کیا بات
ڈرنے کی بات تب تھئ جب وہ دروازہ بند کرکے کندھے اچکا کر مڑی تو اسکے بالکل پیچھے
اریزہ نے لرزتی ہوئی آواز میں بتانا چاہا
تبھی گوارا کو اپنی کمر میں سر سراہٹ ہوئی
کیا تھا پیچھے۔۔ گوارا کو بھی ڈر لگا
چڑیل کھڑئ تھی۔ اریزہ نے کانپتی آواز میں بتایا تھا۔۔
فلم تھی۔۔ گوارا نے ان سے زیادہ خود کو تسلی دی تھی
تینوں لائونج میں کھڑی ایک دوسرے سے لپٹی تھر تھر کانپتے دروازے کو گھور رہی تھیں جیسے آر پار نظر ہی تو آجائے گا۔۔
تبھی پھر گھنٹی بجی اس بار تواتر سے دو مرتبہ بجی ٹرن۔۔ گوارا کے فون کی گھنٹی اچانک بجی تھی تینوں ڈر کر چیخ پڑیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آج دروازہ کیوں نہیں کھول رہی۔۔ ہیون نے الجھن سے دوبارہ گھنٹی بجائی۔
سو رہی ہوگی۔۔
ہوپ نے کہا تو وہ نفی میں سر ہلا گیا
دس منٹ پہلے اس نے ایس این ایس پر اپنا اسٹیٹس اپڈیٹ کیا ہے۔۔ اس نے وضاحت کی
ایس این ایس سوشل میڈیا کیلیئے کورین یہ لفظ استعمال کرتے ہیں social networking site
ہیونگ سک نے فون ملالیا تھا
تبھی اسے بند دروازے سے نسوانی چیخ بلکہ چیخیں سنائی دیں
اس نے گھبرا کر دروازہ پیٹ دیا
اریزہ۔۔ اریزہ گوارا۔۔ ٹھیک تو ہو تم لوگ۔۔
ہوپ بھی متوحش ہو گئ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو ہیون کی آواز ہے۔۔ تینوں ایکدم خاموش ہوئیں گوارا نے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔۔
ہیون ایک لڑکی کے ہمراہ کھڑا تھا
ٹھیک تو ہو تم ؟۔۔ اس نے گھبرا کر پوچھا تھا گوارا سر ہلاتی سوالیہ نظروں سے لڑکی کو دیکھ رہی تھی
ہوپ نے گوارا کو دیکھا پھر ہیون کو گھورنے لگی
یہ تنگ دل لڑکی۔ کرایہ کم کرے گی؟ ذرا سا چینی دینے میں جان نکل گئ تھی اسکئ۔
وہ چینی زبان میں بڑبڑائی تھئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انھیں لے کر وہ لاونج میں آئی تو اریزہ اور جی ہائے سٹپٹاتی بال درست کرنے لگیں۔۔ اریزہ کو احساس ہوا کہ دوپٹہ پاس نہیں تو ایک قدم پیچھے ہو کر جی ہائےکی آڑ میں ہو گئ۔۔
آننیاگ واسے ہو۔۔
جی ہائے نے مسکرا کر جھک کر سلام کیا تو ہوپ مسکرا دی۔۔
گوارا ہیون کو نظروں میں لیئے تھی اور ہیون
یہ گوارا ہے یہ جی ہائے اور یہ۔۔ اس نے اچک کر جی ہائےکے پیچھے چھپتی اریزہ کو تلاشا۔۔
اریزہ۔۔
اب چھپنا بد تہزیبی تھی اس نے کھسیا کر جی یائے کے پیچھے سے جھانک کر اشارے سے سلام کیا۔۔
آپ سب یہاں رہتی ہیں؟۔۔ ہوپ نے پوچھا
آنیو۔۔ میں تو بس ہفتے کا آخر گزارنے آئی ہوں ۔۔ آپ آجائیں گی تب تھوڑی۔۔ جی ہائے گڑ بڑا بولی تو گوارا نے اسکے پائوں پر پائوں مار کر گھورا
یہ میری دوست ہے اریزہ بھی ویک اینڈ ہم اکٹھے گزارتے ہیں۔
گوارا نے جتانے والے انداز میں کہا تھا
ہوپ بخوبی اسکے ماضی الضمیر کو سمجھ گئی تھی
یعنی اگر یہاں رہنا تو تم بھی اعتراض مت کرنا۔۔
ٹھیک ہے تم اسے کمرہ دکھا دو آرام کرو ہوپ کوئی مسلہ ہو تو مجھے پیغام بھیج دینا تم لوگ بھی آرام کرو رات کافی ہو گئ ہے۔۔ ۔ میں اب چلتا ہوں۔۔ پھر ملتے ہیں۔۔ ہیون نے بات کرتے کرتے گھڑی دیکھی تو عجلت میں نکلنے کی کی۔۔
کمرہ۔۔ ؟۔ہوپ نے اپنا مختصر بیگ کا ہینڈل تھام کر پوچھا تو تینوں کھسیا کر نظر چرا گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرہ اسکی توقع کے برعکس تھا
پورا کمرہ فر سے بھرا تھا چیزیں بکھری پڑیں تھیں فرش پر کپڑے بچھے پڑے تھے بستر آدھا بیڈ پر آدھا نیچے گرا پڑا تھاوہ کمرے میں داخل ہو کر ہکا بکا رہ گئ تھی۔۔ یہ تینوں قصدا سر جھکائے اسکی جانب دیکھے بغیر اندر داخل ہوئیں جس کے ہاتھ جو پڑا وہ اٹھا کر سمیٹنے کی سعی کرنے لگی
یہ۔ اسکے منہ سے بس اتنا ہی نکل سکا
وہ بس ہم شغل میں۔۔۔ جی ہائے نجانے کیوں کھسیانی ہوئی جارہی تھی۔۔
بیانئے بس ہم ابھی صاف کر دیتے ہیں۔۔
گوارا نے گھور کر جی ہائے کو دیکھا۔
پھر بڑبڑائی
بندہ اتنا بھی حلیم الطبع نہ ہو۔۔
ہوپ منہ کھولے دیکھتی ایک قدم پیچھے ہوئی تو کوئی چیز اسکی جوتی کے نیچے چرمرا کر ٹوٹ گئ
اس نے سٹپٹا کر پائوں ہٹایا تینوں اسکی جانب ہاتھ روک کر متوجہ ہوئیں۔۔
اس نے بیگ رکھ کر جھک کر اپنے قدموں میں روندی جانیوالی چیز کی باقیات اٹھائیں
جانے کیا تھا پلاسٹک کا۔۔ کیکڑے جیسا
میرا کیچر۔۔ اریزہ نے بکھرے بالوں والے سر کو ٹٹولا جیسے یقین نہ آرہا ہو یہ اسکا معصوم کیچر ہی داغ مفارقت دے گیا ہے۔۔
اوہ ۔۔ ہوپ نے چٹکی سے کیچرکو پکڑ کر دیکھا۔۔
یہ تو اب نہیں لگ پائے گا۔۔ اریزہ نے مایوسی سے کیچر کو گھورا۔۔
ہم اسے تھوڑی دیر تک صاف کر لیں گے اگر تب تک تم نے فریش ہونا تو یہ باتھ روم ہے۔۔ گوارا نے آداب میزبانی نبھائے۔۔
ہم ویسے ہمیشہ ایسے گند مچا کر نہیں رہتے۔۔
اریزہ نے دوستانہ انداز میں تسلی دی
ہاں اور ایسا پاگل پن بھی ہم پر روز روز سوار نہیں ہوتا۔۔ جی ہائےنے بھی صفائی دی
ویک اینڈ پر ایک نفسیاتی آئئ ہے ورنہ میں اور اریزہ شرافت سے رہ رہے تھے
گوارا ہوپ سے مخاطب نہیں تھی جی ہائے کو گھورتے ہوئے چبا چبا کر بولی
کیا میں نفسیاتی۔۔ جوابا وہ زور سے چلائی اور گوارا کی شرٹ جو تہہ لگا کر رکھنے لگی تھی گولا بنا کر اسکے ہی منہ پر ماردی۔۔
تمہاری تو۔۔ گوارا نے تلملا کر کشن اس پر پھینکا
خدا کا واسطہ دوبارہ شروع نہ ہوجانا۔۔ اریزہ سر پکڑتی بیچ بچائو کرانے بڑھی
اس نے شروع کیا ہے دوبارہ گوارہ چلائی
اس نے پہلے مجھے نفسیاتی کہا ابھی بتاتی ہوں نفسیاتی کیسے ہوتے۔۔ وہ آستین چڑھا کر اسکی جانب بڑھی
بس کرو جانے دو۔۔ اریزہ بیچ بچائو کرانے میں ہلکان ہو رہی تھی
ان تینوں کو دوبارہ پوری توانائیوں سے بھڑتے دیکھ کر ہوپ کے چہرے پربھئ بے ساختہ مسکراہٹ در آئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اسکا لگاتار فون بج رہا تھا جس سے اسکی آنکھ کھلی۔۔ جی ہائے اور ہوپ زمین پر بستر لگا کر سوئی تھیں وہ اور گوارا بیڈ پر۔ ابھی گوارا اس کے کندھے پر جھکی بازو اسکے گرد حمائل کیئے لپٹ کر سو رہی تھی۔۔ اس نے احتیاط سے بازو نکال کر اسکے سر کے نیچے تکیہ رکھا۔۔ پھر اٹھ کر موبائل دیکھنے لگی۔۔
ایڈون کالنگ۔۔ اس نے پوری آنکھیں کھول کر تعجب سے دیکھا۔۔
تینوں بے خبر سوئی پڑی تھیں وہ سائلنٹ کر کے احتیاط سے بے آواز قدم اٹھاتی باہر نکل آئی
ہیلو۔۔ اس نے فون اٹھایا تو ایڈون چھوٹتے ہی بولا
کہاں ہو؟۔۔
ابھی تو گھر ہوں آج پہلی کلاس گیارہ بجے ہے تو۔۔
وہ جمائی لیتے بتارہی تھی مگر ایڈون نے عجلت میں بات کاٹ دی
گوارا کے فلیٹ میں ہو؟۔۔ میں بس دو منٹ تک پہنچ رہا ہوں۔۔ جلدی سے تیار ہو جائو۔۔
وہ بے تاب تھا۔۔ شائد گاڑی میں ہی تھا اس نے اسکی آواز کے ساتھ میں ٹریفک کے شور کی آمیزش محسوس کی
مگر کیوں۔۔؟۔۔
وہ بگڑی۔۔ ابھئ آٹھ بجے وہ کیوں پہنچ جائے یونی۔
سنتھیا تین دن سے فون نہیں اٹھا رہی وہ یونیورسٹی بھی نہیں آئی ہے۔ بہت پریشان ہوں میں پلیز تم ہاسٹل جا کر اس سے مل لو مجھے بس خیریت جاننی ہے اسکی پلیز اریزہ۔۔
وہ کتنا پریشان تھا اسکی آواز سے مترشح تھا۔
اوہو تو بتا تو رہی ہوں سو رہی ہوگی نا گیارہ ۔۔۔
اس نے بتانا چاہا مگر ایڈون نے پھر بات کاٹ دی۔
اٹھا دینا نا اسے۔ پلیز پلیز مجھے بہت فکرہو رہی ہے۔
وہ حقیقتا منت پر اتر آیا تھا۔۔
اچھا۔۔ ٹھیک ہے۔۔
اس نے حامی بھر کر فون رکھ دیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ خود بھی پریشان ہوگئ تھئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان تینوں کو ہال میں دیکھ کر اطمینان سا ہوا تھا۔ اپنے موبائل میں اس نے ایڈون کا میسج دوبارہ نکالا۔۔
میں کم سن کے ساتھ ہوں۔
جوابا اس نے لکھا تھا
سچ بولو۔
جوابا اس کا فوری پیغام یہ آیا تھا۔
اریزہ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہوں۔اب خوش۔
وہ یقینا چڑ کر جھوٹ بول رہا تھا۔۔
اب ایڈون کی تلاش بے معنی تھی۔ وہ آرام سے بیگ کندھے پر درست کرتی یونیورسٹی سے نکل آئی۔۔۔۔
شام کے دھندلکے سیول پر چھا رہے تھے۔ گہما گہمی ہجوم۔
وہ بس اس سب میں کھو جانا چاہتی تھی۔
اریزہ کے سوا اسکی بھی کوئی دوست نہ تھی۔ گوارا اور جی ہائے بھی یقینا اریزہ کی ہی سہیلیاں تھیں۔ اریزہ کو اسکے بغیر اکیلا پن محسوس نہیں ہوتا ہوگا مگر وہ تنہا تھی۔
اسکے پاس بس دو ہی تو لوگ تھے ایڈون اور اریزہ۔۔ اور وہ ان دونوں سے ہی دور جانا چاہ رہی تھی۔
جانے باقی دنیا کی لڑکیاں ڈپریشن میں کیا کرتی ہیں۔ پاکستانی لڑکیاں تو بس سوائے تکیئے میں منہ دے کر رونے کے اور کچھ بھئ کرنے کی عادی نہیں۔۔یہاں یوں سڑک پر آ پھرنے کی آزادی تھئ سو آ کر بھی کچھ سوجھ نہ رہا تھا کہاں جائے کیا کرے۔
کیا کروں۔ وہ حقیقتا سڑک کنارے کھڑی یہی سوچ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنگ سی گلی میں بارہ سیڑھیاں اتر کر وہ گھر تھا۔ پرانا مگر اچھی حالت میں بنے اس گھر کا سامنے کا حصہ تو بڑا سا تھا شائد صحن وغیرہ تھا۔ پھولوں سے لدی بیل سے دیوار تقریبا چھپ سی گئ تھی۔ لکڑی کا مختصر سا دروازہ تھا جس کو کھولا تو سامنے واقعی کھلا صحن تھا جس کے بیچوں بیچ چبوترہ سا تھا پرانے زمانے کے کوریائی گھرانوں کا لازمی جز۔ صحن میں بھئ بڑا سا درخت تھا سامنے دو سیڑھیاں چڑھ کر دو کمرے تھے۔ ایک دائیں جانب کونے میں کچن تھا۔ غسل خانہ بھئ اسی طرف تھا۔
سوہائیو تو بچہ تھامے خاموشی سے اندر گھس گئ۔ وہ البتہ کم سن کا بازو تھام کر شکر گزار نظروں سے دیکھنے لگیں
گوما وویو۔
انکے کہنے پر کم سن نے شائد سنا نہیں یا نظر انداز کر گیا
اندر چلیں آہمونی بارش ہونے والی ہے۔
وہ جلدی میں کہتا اندر گھس گیا۔انہوں نے بھئ تقلید کی۔
دونوں کمروں میں ضرورت کا سب سامان تھا۔ برآمدے میں فریج بھئ رکھا تھا۔
سوہائیو نے کمرے کا دروازہ کھول کر بتی جلا دی تھی۔
سامنے چھوٹا سا صوفہ میز رکھے تھے بائیں جانب اندر ڈبل بیڈ تھا ایک جانب دیوار گیر الماری اور سنگھار میز۔ وہ تنقیدی نگاہوں سے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ کم سن اور ایم سیانگ بھئ یہیں چلے آئے۔
یہاں سے سوہائیو کو آرام سے بس مل جایا کرے گی اپنے دفتر تک کی۔ اسٹاپ قریب ہی ہے۔۔۔ اور قریب ہی ڈے کئیر سینٹر بھی ہے وہاں آرام سے بچے کو چھوڑا جا سکتا ہے۔
ڈائپر وغیرہ کا کارٹن میں نے لا کر رکھ دیا ہے باقی جس چیز کی ضرورت ہو بتا دینا ۔۔
وہ مزید بتا رہا تھا۔ سوہائیو بچے کو بستر پر لٹا کر کندھے سے لٹکتے بیگ سے اسکے لیئے دودھ کی بوتل نکالنے لگی۔۔ مکمل نظر انداز۔۔۔
اور آپ کو اب اسپا جانے کی بالکل ضرورت نہیں۔ راشن مہینے بھر کا موجود ہے۔ آپ بس آرام کریں۔
یہ خیال بھرے جملے اس نے روانی سے بولے تھے اور کہہ کر کمرے سے نکل گیا۔ وہ جو شکریہ ادا کرنا چاہ۔رہی تھیں ہونٹ بھینچ گئیں۔
آگے بڑھ کر زور دار دھپ سوہائیو کے لگائی
بھائئ اتنا خیال کر رہا تھا پھوٹ دیتیں کیا کیا چاہیئے۔
سوہائیو انکے دو ہتھڑ پر سخت بدمزہ ہوئی
بھائئ نہیں ہے وہ میرا۔ نا آپکا بیٹا ہے۔ اس سے احسان یا بھیک ملی ہے ہمیں۔ ہمیں اپنی اوقات یاد رکھنی چاہیئے اور منہ کھول کھول کر فرمائیشیں نہیں کرنی چاہییں۔اور یہ بھیک اور احسان بھی آپ نے لیا ہے۔ میں اپنا خرچہ خود اٹھا سکتی ہوں یہ آپ ہیں جو چند دن عیش کی زندگی گزار کر اب غربت کو سہہ نہیں پارہی ہیں۔۔
وہ بولی تھی تو بولتی چلی گئ تھی۔ سختی کڑواپن بے نیازی اسکی ذات کا خاصہ تھی مگریوں بنا لحاظ وہ منہ در منہ سنا دے گئ انکے گمان میں نہ تھا۔ ایم سیانگ سخت خفت زدہ سی اسکی شکل دیکھتی رہیں۔
اس نے انکے عقب میں کھڑے کم سن کو دیکھا تو زبان کو بریک سی لگی۔ مگر وہ یہا ں اپنی خوشی و مرضی سے نہیں آئی تھی یقینا یہ بات کم سن کے علم میں ہونی چاہیئے۔ مگر اس طرح پتہ لگے وہ یہ بھی نہ چاہتی تھی۔ جھلاہٹ میں فیڈر بیڈ پر پٹختی وہ ایک طرف ہو کر کمرے سے ہی نکلتی چلی گئ۔

ایم سیانگ بھئ مڑ کر کم سن کی شکل دیکھ کر شرمندگی سے سر جھکا گئیں۔۔
یہ کچھ پھل ہیں ۔ وہ دو تین شاپر پکڑے تھا۔
وہیں سینٹرل ٹیبل پر رکھ دیئے۔
کرم۔۔ ( چلتا ہوں)۔۔
گوما وویو۔
اس سےقبل وہ دوبارہ عجلت میں نکل جاتا انہوں نے شکریہ ادا کر ڈالا
تم نے مجھے بیٹوں کی طرح سہارا دیا ہے۔ تمہارا بہت شکریہ۔۔
وہ مزید بھی کچھ کہتیں۔۔
میں نے بس آپکے کیئے گئے احسان کا بدلہ چکایا ہے۔ اور بس۔۔
حساب برابر سمجھیں۔۔۔
وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔ ایم سیانگ گہری سانس لیکر اسے جاتے دیکھ کر رہ گئیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لڑکا ناچتے ہوئے بار بار اسے چھوئے جا رہا تھا۔۔ اس نے دو ایک بار اسکا ہاتھ کندھے سے جھٹکا۔۔ پھر بھی وہ باز نہ آیا تو پیر پٹختی ڈانس فلور سے اتر آئی۔ کائونٹر پر بیرے نت نئے کرتب دکھاتے شراب کے پیگ بنا رہے تھے۔
مجھے سادہ جوس دیں۔
اس نے انگریزی میں کہا جو کائونٹر کے دوسری جانب کھڑے بیرے کوبالکل سمجھ نہ آئی۔
سامنے ٹرے میں پھل کٹے رکھے تھے ٹوتھ پکس پروئےایک ایک نوالے جتنے کٹے ہوئے۔ سیب ایوا کاڈو جیک فروٹ ، پیچ ، اور اسٹابریز۔
ایپل جوس۔
اس نے فروٹ کی ٹرے سے باقائدہ سیب اٹھا کر اسے دکھایا
دے۔
وہ سر جھکاتا اسکی فرمائش پوری کرنے چل دیا۔
وہ کائونٹر پر کہنیاں ٹکا کر اس اونچے سے اسٹول پر ٹک گئ۔ اسکا موبائل بجے جا رہا تھا۔اس نے بیزاری سے اٹھا کر دیکھا۔
ایڈون کالنگ۔ اس نے فون کاٹا پھر کچھ سوچ کر فون بند ہی کردیا۔۔
اسکا جوس آگیا تھا۔
اس نے ایک سانس میں پی کر رکھا۔ پیسے رکھے اور جانے لگی۔ ۔تبھئ اسکا ہاتھ کسی مضبوط گرفت میں آگیا تھا۔۔
اسکے برابر بیٹھے اس کورین لڑکے نے اسکا ہاتھ تھام کر روکا تھا۔
اس نے سخت غصے میں مڑ کر دیکھا۔۔
موبائل؟ ۔۔
وہ اشارے سے کائونٹر پر رکھے موبائل کی جانب توجہ دلا رہا تھا۔
اس نے ہونٹ بھینچے اپنا ہاتھ چھڑا کر تن فن کرتی پلٹی موبائل اٹھایا اور پلٹ کر جانے لگی۔ پھر خیال آیا۔
مڑ کر اسکے سامنے آکھڑی ہوئی۔
شراب کے گھونٹ بھرتے کم سن نے سوالیہ انداز میں بھنوئیں اچکائیں۔۔ جیسے پوچھ رہا ہو کیا ہوا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سادہ سی بات ہے۔ اس نے جھوٹ بولا۔
کم سن بے نیازی سے بولا۔
وہ اسکے سامنے اسٹول پر چڑھ کر بیٹھی اسے گھو ررہی تھی۔۔۔
گوما وویو۔ اتنی پتے کی بات تو مجھے سمجھ بھی نہ آنی تھی۔
وہ تپی ہوئی تھی۔ کم سن ہنس دیا۔
تمہیں یہ سوچنا چاہیئے کہ اس نے جھوٹ بولا کیوں۔ آیا وہ جان چھڑا رہا ہے یا جان بچا رہا ہے۔
اسکے سوال میں وزن تھا۔ وہ سوچ میں پڑی۔
جان چھڑا رہا تو جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں تھی اسے۔
وہ مزید بولا۔ سنتھیا اسے چونک کے دیکھنے لگی۔
جان بچارہا تھا۔ وہ اگرشاہزیب یا سالک کا نام لیتا تو وہ یقینا اگلا فون انہیں کھڑکاتی۔ کم از کم اریزہ کے ساتھ نہیں تھا یہ کافی نہیں تھا اسکے لیئے۔ ؟ اسے خود اپنی کیفیت نہیں امجھ آرہی تھئ۔
ویسے تم پاکستانی لڑکیاں اتنی وفادار ہوتی ہو کہ ابھی تمہارا بوائے فرینڈ یہاں ہے بھئ نہیں تم سے جھوٹ بھی بولتا ہے مگر تم اسکی غیر موجودگئ میں بھی ڈرنک نہیں کر رہیں۔
کم سن کو واقعی حیرت تھی۔
میں ویسے بھی نہیں پیتی۔ اور نہ پینے کا تعلق ہرگز ایڈون کے منع کرنے سے نہیں ہے۔
وہ تیز ہو کر بولی۔
پھر کس سے ہے؟ تمہارا بھی مزہب منع کرتا ہے۔؟ کم سن نے یونہی پوچھا۔۔
ایسی کوئی بات نہیں۔ میں چاہوں تو ابھی پی سکتی ہوں۔۔
اس نے ٹرے سے ایک شاٹ اٹھا لیا۔
اپنے ہونٹوں تک لائی۔۔اور جتانے والے انداز میں اسے دیکھ کر واپس رکھ دیا۔
یہ کیا تھا۔ وہ ہنس پڑا۔۔
یہ میری قوت ارادی ہے۔ اجنبئ ملک میں اجنبی لڑکے کے سامنے پی کر بہکنا میں افورڈ نہیں کر سکتی۔
وہ صاف گوئی سے بولی۔
یعنی ابھی تم ایڈون کے ساتھ ہوتیں تو پی لیتیں۔
وہ دلچسپی سے اسے دئکھ رہا تھا۔گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تک کی سادہ سی گلابی فراک میں ملبوس تھی۔ اسکا رنگ گہرا سانولا تھا مگر لانبا قد بڑی بڑی آنکھیں ستواں ناک نازک سے نقش۔۔ اس میں کچھ ایسا تو تھا جو نگاہ کھینچ لے اپنی جانب ۔۔ خاص کر اسکے لمبے سیدھے بال جنکی اس نے اس وقت چوٹی کر رکھی تھی۔ مغربی لباس کے ساتھ خالص دیسی بالوں کا انداز۔ وہ بے حد سمٹ کر پروقار سے انداز میں بیٹھی تھی۔۔وہ بلا شبہ یہاں موجود سب لڑکیوں میں منفرد سی لگ رہی تھئ۔
ہاں۔
اس نے بلا توقف جواب دیا۔
ایڈون کو پتہ ہے تم اس اجنبی ملک میں اجنبی لڑکے کے ساتھ بیٹھی ہو؟
وہ محظوظ سے انداز میں سوال کر رہا تھا۔۔۔ سنتھیا فورا جواب میں کچھ کہنے لگی تھی کہ احساس ہوا۔ چپ سی رہ گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن اسے ہاسٹل تک چھوڑنے آیا تھا۔۔۔۔
شکریہ ۔۔۔
وہ سیدھئ اندر جانے لگی تھی بروقت خیال آیا۔ کوریائی انداز میں جھک کر شکریہ ادا کیا۔
کم سن مسکرا دیا۔۔۔وہ بھئ جوابا مسکرا دی۔۔۔ اپنے ڈورم کا دروازہ کھولتے اسکا اندازہ تھا اریزہ آچکی ہوگی مگر خالی کمرہ اندھیرے میں بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔
آج تو واپس آجانا چاہیئے تھا۔ اسے غصہ ہی آگیا۔ پلٹ کر جی ہائے کے کمرے کا دروازہ دھڑدھڑا ہی دیا۔۔۔ کوئی جواب نہ آیا توناب گھمادی۔ ۔ کمرہ لاکڈ تھا۔۔۔
جی ہائے کمرے میں نہیں ہے۔۔ گوارا کے ساتھ گئ ہوئی ہے۔
پاس سے گزرتی لڑکی نے گاڑی ہنگل میں اسے بتایا۔۔
پورے جملے میں بس جی ہائے اور گوارا ہی سمجھ آئے۔
وہ دانت پیستی کمرے میں واپس آئی۔ بیگ اٹھا کر بیڈ پر پھینک دیا۔
پھر خود بھی دھپ سے بیڈ پر آن گری۔۔۔
موبائل آن کیا۔ ایڈون کا نمبر بلاک کیا اریزہ کا نمبر بلاک کیا۔
کم سن کی مسڈ کال پڑی تھی اسکا نمبر احباب فہرست میں شامل کیا نام لکھا۔۔۔ اس نے اسٹیٹس لگا رکھا تھا۔ مکمل ہنگل میں۔
اس نے کاپی کیا۔۔۔۔۔۔۔
انکی لازمی ہنگل کی کلاس میں ابتدائی ہنگل سکھانے کیلئے ایک ایپ انکے استاد نے سب کو انسٹال کروائی تھئ۔
اس نے اس ایپ میں جملہ ڈالا۔ ترجمہ ہوا۔
لکھا تھا۔۔

Life is all about cutting ties, not making the knot stronger..

Life is all about cutting ties, not making the knot stronger..
English heart broken qoutes
Life is all about cutting ties, not making the knot stronger..

دل کو لگا۔۔۔۔
اس نے اپنا بھی یہی اسٹیٹس لگا لیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے

Kesi lagi apko aaj ki salam korea ki qist? Rate us

Rating

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *