aayeena آئینہ

شہر کے داخلی دروازے پر۔۔
ایک آئینہ لیئے۔۔
جو فقیر بیٹھا ہے۔۔
اسکو وہاں سے ہٹائو۔۔
شہریوں کا مطالبہ ہے۔۔
گو وہ نا بھیک مانگتا ہے۔۔
نہ دعا دیتاہے۔۔
چپ چاپ سر نیہواڑے بیٹھا رہتا ہے۔۔
کسی کو کیا کہتا ہے۔۔
مگر سب تنگ ہیں اس سے یوں۔۔
اسکے ہاتھ میں جو ایک آئینہ ہے۔۔
اسے اٹھاتا ہے۔۔ گزرتا ہے پاس سے جو اس کے۔۔
انہیں دکھاتا ہے۔۔
انہی کا اپنا چہرہ۔۔

از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoom

mujhay meray lafzoun main talaashnay walo

مجھے میرےلفظوں میں تلاشنے والو۔۔
ختم ہوئی تمہاری تلاش کہ نہیں۔۔
میری تحریر میں موت ہے جذبوں کی کئی۔۔
ملی تمہیں بھی کوئی لاش؟۔۔ کہ نہیں۔۔
مجھے کرید کے جانو گے جان تو جا چکی کب کی۔۔
ملا پھر تمہیں کوئی صاحب فراش؟۔۔ کہ نہیں۔۔
چھیڑ بیٹھنا کسی قلندر کو پھر چھوڑنا اسکو حال پہ۔۔
کبھی کی ہےتم نے ایسی غلطی فاش ؟ کہ نہیں۔۔
مانوس ہو کے کسی سے جانا کیا ہوتے معنی اجنبیت۔۔
کسی سے مل کے سوچا؟نہ ملے ہوتے کاش؟۔۔ کہ نہیں۔۔
تعلق تو رکھتاہو مگر ناطے توڑدیتا ہو جودل۔۔
کیا اسکو کہہ سکتے ہیں اوباش ؟۔۔۔ کہ نہیں۔۔
جیبیں خالی ہوں مگر الفت سے مالا مال ہو جو شخص۔۔
محفلوں میں ذکر ہو تا ہوجسکا کہلا سکتا ہےقلاش ؟ کہ نہیں۔۔
دل لگی میں لگائے دل جلائے دل مگر بس اپنا ہی۔۔۔
سیاہ قلب، مگر بدن پاک کہلائے گا بدمعاش ؟ کہ نہیں۔۔۔
سبھی تو تنہائی میں غمگین ہوا نہیں کرتے ہیں۔۔
ہجوم میں ملا کبھی کوئی خوش باش؟۔۔ کہ نہیں۔

از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoom


Dyar e mustafa shehr madina hay nigahon main

نہیں گلزار رضواں میرے دل کی سجدہ گاہوں میں

دیار مصطفے    شہر    مدینہ  ہے    نگاہوں  میں 

ہم ان کو وسعت کون و مکاں تک دیکھنے نکلے

خرد والے سمٹ کر رہ  گئے ہیں  خانقاہوں  میں 

جمال  بندگی  پوچھو  نگاہ   بندہ     پرور    سے

دمکتا ہے  نشان  سجدہ  نورانی   نگاہوں   میں

سمجھ بیٹھے   جنہیں   اہل خرد    معراج   انسانی 

ہم ایسی منزلیں دانستہ  چھوڑ آئے  ہیں  راہوں میں

مرا ایمان  کامل ہے  شفیع    روز    محشر    پر!

کوئی یونہی  نہیں یہ  پختگی  میرے  گناہوں میں

جبیں اس آستاں   پر دولت کونیں قدموں   میں 

غلامان  محمد  منتخب ہیں   کجکلاہوں    میں 

شمیم آقائے یثرب   رحمت اللعالمیں    ٹھہرے 

وگرنہ  کیا دھرا ےھا میرے نالوں میر آہوں میں

 از قلم زوار حیدر شمیم 

قصیدہ رسول ص