Desi Kimchi Episode 27

قسط27

وہ سب تیار ہو کر سیہون کے کمرے سے ملحقہ غسل خانے کے دروازے پر کھڑی واعظہ کے نکلنے کا انتظار کر رہی تھیں
اللہ کب سے تیار ہو کر کھڑے ہیں تمہارا ناشتے پر انتظار کرتے رہے تم کہاں چلی گئ تھیں صبح صبح۔۔
عزہ نے دہائی دی
تم یہاں باتھ روم میں گھسی بیٹھی ہو۔ نکل بھی آئو اب
عروج جھلائی
تو اور کیا ہم سب تیار بھی ہوگئے ہیں آج ہم نے گھومنے جانا تھا یاد آیا؟؟؟؟
الف نے دروازے پر طبلہ بجاتے ہوئے کہا تھا۔
یار عشنا سے بات ہوئی کہاں ہے کل گھر بھی نہیں آئی؟
شاور گرنے کی آواز کے ساتھ ہلکی سی واعظہ کی آواز آئی
ہاں کہہ رہی کہ دوست کے ہاں رکی ہوئی ہے رات کو بتانا بھول گئ تھئ۔
الف نے لفظ بہ لفظ دہرایا جو اس نے پیغام میں لکھ بھیجا تھا
تبھی باتھ روم کا دروازہ کھول کر واعظہ
تولیہ سے سر رگڑتے ہوئے دانستہ ان سب کو نظر انداز کرتی باہر نکل آئی۔ تینوں نے بھنا کر اسے گھورا پھر پیر پٹختی اسکے پیچھے لائونج میں چلی آئیں۔
نہیں جانا تو صاف کہہ دو۔
تینوں کے منہ پھولے ہوئے تھے۔ فاطمہ کی تیاری اب جا کے مکمل ہوئی تھی وہ بھی اپنے کمرے سے نمودار ہو ہی گئ۔
ہم واپسی پر اپنے گھر جائیں گے سو تم لوگ اپنا سامان سمیٹ لو جو بھی ہے یہاں۔
واعظہ فریج سے پانی نکال کر پی رہی تھی انہیں باہر آتے دیکھ کر ہدایت کردی۔
تھا کیا ہمارے پاس کپڑے ہی پہنے ہوئے تھے خالی ہاتھ یونیورسٹی گئ ہوں بس عید کے کپڑے ہی ہیں انکو شاپر میں ڈال لیتے ہیں۔
الف نے حسب عادت تفصیل سے بتایا۔ واعظہ نے ترچھی نگاہ سے دیکھا
وہ کان دباتی کمرے میں گھس گئ
ہے جن کہاں ہے؟ صبح سے دکھائی نہیں دے رہا۔ عروج کو۔تجسس ہوا۔ بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے اسکا انداز سرسری سا تھا
تم لوگوں نے کچھ سمیٹنا ومیٹنا نہیں ؟ بار بار سیہون کو تنگ تھوڑی کرنا چاہیئے خاموشی سے بے چارہ ہفتہ ہونے کو آیا ہمیں برداشت کر رہا ہے تو ضروری ہے ہم اسکی مروت رخصت کرکے ہی دم لیں۔
واعظہ ایکدم سے بگڑ کر بولی۔
ہائیں تمہیں کیا ہوا ہے۔ عزہ اورعروج دونوں نے کورس میں کہا تھا
مجھے کیا ہونا تم لوگوں کی سستی پر غصہ آرہا میرا انتظار کرنے کی بجائے کم از کم سامان ہی سمیٹ لینا تھا اب گھنٹہ اور چاہیئے ہوگا تم لوگوں کو۔ حد ہی ہے۔
وہ سابقہ انداز میں ہی بولی۔
اوئے۔ عروج کو اپنی شان میں گستاخی محسوس ہو ہی گئ۔ تڑپ کر پنجے تیز کرنے چاہے۔
یہ کس طرح بات کر رہی ہو خیر تو ہے؟
اسے واقعی حیرت ہوئی تھی۔
تم تو اپنا سامان سمیٹ لو۔ وہ اسکی بات یکسر نظر انداز کرکے عزہ سے مخاطب تھئ ۔ رخ کمرے کی جانب تھا بیچ میں ذرا کی زرا رک کر عزہ کو کہا تو اس نے جھٹ اثبات میں سر ہلایا اور اسکے پیچھے ہولی
دیکھو کیسے ان سنا کیا اس نے یہ عزہ وغیرہ نے بات سن سن کر اسکو سر پر چڑھا لیا ہے ۔ وہ پلٹ کر اب تک۔خاموشی سے کھڑی فاطمہ سے شکایتی انداز میں بولی۔
بتائو عزہ وغیرہ کی۔طرح مجھ پر۔یعنی مجھ پر رعب جھاڑ گئ؟
اسے یقین نہیں آیا تھا ابھی تک۔ فاطمہ نے خاموش رہنے کو ہی ترجیح دی اور اپنے لیئے کافی بنانے چلدی۔ ایک گھنٹہ تو کم از کم انہیں لگنا ہی تھا اب۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب بیچ دوپہر میں لوہتے ورلڈ کے دروازے پر کھڑی تھیں۔22 ڈگری پر جہاں کوریائی گرمی منا کر گھروں میں چھپ بیٹھے تھے یا واٹر سلائڈز کے مزے لینے لوہتے ورلڈ کی مصنوعی جھیل میں گھسے تھے وہاں پانچ لڑکیاں چہلیں کرتی پھر رہی تھیں۔ سب سے پہلے جا گھسیں جھولوں میں ۔
خوب تپتے جھولوں میں گھوم گھام کر چکر کھا لیئے انگنت تصاویر۔ لوہتے ورلڈ کے ریستوران میں کھانا کھانے کا مطلب باقی مہینہ بنا کھائے گزارنا تھا سو دو تین گھنٹے وہاں برباد کرنے کے بعد وہ سب سب شرافت سے واپسی کی راہ۔لینے لگیں۔ عزہ کو ابھی بھی چکر آرہے تھے تو فاطمہ کا سر گھوم رہا تھا۔ جھولوں پر خوب شور مچانے والی عروج اسوقت تازہ دم تھی۔قریبی ریستوران سے کھانا پیک کروا کر وہ سیدھا گھر چلی آئیں۔ ہفتے بھر بعد گھر آنے کا احساس ہی خوش کن تھا۔
واعظہ نے دروازہ کھولا تو وہ سب اسکے پیچھے گھسی چلی آئیں۔ جتنی تیزی سے گھسی تھیں اتنی تیزی سے پلٹ کر باہر بھاگیں۔ واعظہ ناک بند کرتی لائونج کی کھڑکیاں کھولنے لگی۔ پیڈسٹل چلایا ایگزاسٹ فین چلایا۔ اندر بدبو کے جھونکے ختم تو نہیں ہوئے مگر کم ضرور ہو گئے تھے۔ بدبو کا منبع تھا۔۔خون۔ جو ٹھیک ٹھاک سڑ چکا تھا۔
واعظہ لائونج کے بیچوں بیچ کمر پر ہاتھ رکھے کھڑی روہانسی سی ہوئی گھر کا جائزہ لے رہی تھی۔ عروج ، عزہ الف اور فاطمہ دھیرے دھیرے راہداری میں آگے بڑھ آئیں اوپن کچن کی بہرونی دیوار کی آڑ سے اندر جھانکنے لگیں۔ واعظہ انہیں گھور کر رہ۔گئ۔
وہ طوبئ آپی نے چھری پھیر کر جیسے ہی مرغی کو پانی پلانا چاہا وہ انکے ہاتھ سے نکل گئ۔ ادھ کٹی گردن کے ساتھ بھی جانے کہاں سے اس میں اتنی جان آگئ تھی کہ پورے اپارٹمنٹ میں اڑتی پھری۔
عزہ نے سر جھکا کر بتایا۔ اور دیوار سے ہٹ کر اندر لائونج میں چلی آئی۔ اسکی ہمت کو داد دیتی باقیوں نے بھی پیروی کی۔ کھانے کے شاپر فاطمہ کے پاس تھے انہیں کچن کائونٹر پر ٹکاتے ٹکاتے رک کر اندر چولہے کے پاس رکھنے لگی
وہ سب لائونج میں کھڑے گھر کا جائزہ لے رہے تھے۔کچن کے کائونٹر سے لائونج کے صوفے تک گاڑھا گاڑھا خون پھیلا تھا وہاں سے شائد مرغی نے اپنے پرانے مسکن واعظہ کے کارٹن پر چھلانگ لگائی سو خون کے چھینٹے جا بجا راہداری کی دیواروں پر بھی پڑے تھے۔مرغی کو تھامنے کی کوشش میں پوری راہداری کو خون سے سرخ کیا ہوا تھا جس سے پھسل کر طوبی کے شوہرکمر میں چک پڑوا بیٹھے
امیوزمنٹ پارک میں چہلیں کرنے کے بعد کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ صفائی کر سکے مگر ان میں سے کسی کی بھی بے چارگی سے بھری شکل دیکھے بنا واعظہ کمرے میں گھس چکی تھی
آپریشن صفائی شروع ہونے کو تھا۔
مگر اپنے نئے کپڑے برباد کوئی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
سب نے گہری سانس بھری اور جھٹ کپڑے بدل کر باہر آئیں۔ واعظہ نے بالٹی بھر کر لائونج میں لا رکھی تو عروج وائپر اور پوچھا اٹھا لائی۔ عزہ اور الف دیوار پر سے خون صاف کرنے پر معمور ہوئیں تو فاطمہ کچن صاف کرنے لگی۔ عروج اور واعظہ نے لائونج دھو ڈالا۔ صوفے پر پاکستانی عادت کے باعث چادر بچھا رکھی تھی سو اسکی بچت ہو گئ نئی چادر بچھا کر لائونج کا کارپٹ اٹھا کر گیلری میں رکھا اسکو کل دھونے کا ارادہ تھا۔ منے لائونج میں چادر بچھا کر عزہ اور الف نے کھانا چن دیا ۔ تھک کے چور ہونے کے بعد کھانا ملا تو خوب مزے۔لیکر سیر ہو کر کھایا ان سب نے۔
یار پلائو تھوڑا سا ہے جن کے لیئے بھی بچا لو وہ باہر کھانا نہیں کھاتا۔
عزہ نے فکر کی تو چاول کی طرف ہاتھ بڑھاتی الف نے سر ہلا کر روٹی اٹھا لی۔
ہے جن کے لیئے کھانا مت بچائو وہ گائوں چلا گیا ہے۔
واعظہ نے پانی کا گلاس اٹھاتے ہوئے سرسری سے انداز میں کہا تھا
ہیں اچانک کیوں؟ عروج حیران ہوئی
کب آئے گا واپس۔ عزہ بے چین۔۔ الف چیخ ہی تو پڑی
مل کے تو جاتا اسکے گائوں سے میں نے ہانجی ( سلک کے ہاتھ والے پنکھے)منگوانے تھے اتنے خوبصورت تو یہاں ملتے ہی نہیں۔ اس نے بتایا تھا اسکی دادی خود بناتی ہیں
تم نے کیا کرنے تھے ہانجی؟ فاطمہ حیران ہوئی
یار وہ کام آجاتے ہیں۔ وہ گڑبڑا سی گئ
کب تک آئے گا واپس ؟ مجھے اس سے بات کرنی تھی ہم میں تلخ کلامی ہوگئ تھئ۔ میں نے سوچا تھا صبح بات کروں گی اس سے۔ اور ہم نے طوبی آپی کو مل کے منانا بھی تھا
کب تک آئے گا واپس بتا کے تو گیا ہوگا نا
عزہ واعظہ کا بازو ہلانے لگی
ہاں بتا کے گیا ہے کہ ۔ واعظہ کو سمجھ نہ آیا کس طرح کہے۔تو چپ سی ہو کر ہونٹ کاٹنے لگی
کب آئے گا؟ الف سے رہا نا گیا
کبھی واپس نہیں آئے گا۔
اس نے کہہ ہی دیا۔۔
کیا؟ وہ سب چیخ ہی تو پڑیں۔
کیوں؟ ایسے کیسے؟
اسے روکا نہیں تم نے؟ فاطمہ نے واعظہ کی آنکھوں میں جھانکا۔
بہت روکا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو پھسل آئے۔
نہیں رکا۔ کہتا ہے کچھ عرصہ اکیلے رہنا چاہتا ہے۔ اس نے اپنا تبادلہ بھی گائوں کے اسکول میں کروادیا ہے۔
وہ بہت پریشان تھا فاطمہ۔
وہ رو ہی پڑی۔ عروج اور فاطمہ تڑپ کر اسکی۔جانب بڑھیں
فاطمہ نے اسکو اپنے ساتھ لگا لیا تو وہ گھٹ گھٹ کر رونے لگئ۔
میری غلطی ہے اسے ہاتھ تھام کر گڑھے سے نکالتے نکالتے اسے واپس اسی میں دھکیل دیا۔ مجھے اس کو یہاں لانا۔نہیں چاہیئے تھا۔
وہ بلکتے ہوئے کہے جا رہی تھئ۔ اسکی۔بات انکے پلے نہیں پڑ رہی تھی مگر اسکا یوں رو پڑنا انکے لیئے بے حد اچنبھے کا باعث تھا۔ وہ اور عروج ایک دوسرے کو دیکھ کر۔رہ۔گئیں
میری وجہ سے ہوا نا؟ مجھ سے خفا ہوکر چلا گیا۔۔
عزہ بھی جیسے رونے کو تیار تھی۔ اسے گلٹ ہو رہا تھا
اب تم نہ رونے لگنا۔ الف کے کہنے کی دیر تھی وہ بے تحاشہ رو پڑی
میں نے اسے کیا کچھ نہ کہہ دیا۔ ہچکی۔
جبھئ ناراض ہو کر چلا گیا۔۔ چھوٹا سا تو ہے کیسے رہے گا اکیلا
وہ سچ مچ بڑی بہنوں کی۔طرح پریشان ہو رہی تھی۔
واعظہ کہاں ہے اسکا گائوں ہم جا کر اسے منا لیں گے۔ ایسے چھوٹے موٹے جھگڑے کہاں نہیں ہوتے مت روئو۔
فاطمہ نے تسلی دینی چاہی۔
میں سوری کر لیتی ہوں اس سے ۔۔ عزہ واعظہ کے قریب کر بولی
آنسوئوں سے تر چہرہ واعظہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
وہ بڈھسٹ ہے بڈھسٹ رہے جو کھانا پینا ہے کھائے پیئے ہم نہیں ٹوکیں گے اسے اس سے کہو واپس آجائے۔ ہم طوبی سے بھی مل کر بات کریں گے۔
عروج نے اپنے تئیں معاملہ نپٹانا چاہا۔
ہاں تو اور کیا۔ ہم سب نے جھوٹ بولا ہم سب اکٹھے طوبی کو منائیں گے تو مان جائیں گی وہ بھی۔ الف نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
واعظہ اسے فون کرو نا میں خود بات کرکے معزرت کر لیتی ہوں۔ آنسو پونچھتے عزہ منمنائی۔ ان سب کو دیکھتے واعظہ کے آنسو تھمنے لگے۔ کیا کچھ نا تھا ان کے چہروں پر محبت فکر پریشانی جیسے گھر کا کوئی فرد کہیں چلا گیابنا بتایے اور اسے ہر صورت واپس لانے کیلئے سب گھروالے مصمم ارادہ کر یں۔
تم۔سب اس سے محبت کرنے لگی ہو نا۔
اس نے یاسیت سے پوچھا۔
ہاں تو اتنا تو کیوٹ سا پلا پلایا بھائی ملا ہے ہمیں۔ فاطمہ ہنسی
دن میں دس بار بھی کوئی چیز منگواتی تو فورا لا کر دیتا تھا ۔ عروج ہنس کر بولی۔ وہ وقت اسکی نظروں کے سامنے آیا جب سینی ٹائزر ، کریم شیمپو سب ابیہا واعظہ بے گھر افراد میں بانٹ آئی تھیں

میں نے سچ مچ اتنا سلجھا ہوا۔ہائی اسکولر آج تک نہیں دیکھا کوریا تو کوریا پاکستان میں بھئ میرے کزنز تو پھدکتے پھرتے تمیز سے بات کرنا محال۔ فاطمہ نے ناک چڑھائی
واعظہ فون کرو نا اسے۔
عزہ نے کہا تو وہ اسے دیکھ کر رہ گئ
اس نے فون نمبر بھی بدل لیا ہے۔ اور وہ تم سے ناراض بھی نہیں ہے عزہ۔
پھر کیوں چلا گیا ایسے۔ وہ بھرائے ہوئے انداز میں پوچھنے لگی
ان سب کے چہروں پر پریشانی تھی خیال تھا فکر تھی انہیں دیکھتے دیکھتے اسکی ذہنی رو بہکی
تم اتنے گندے اور نیچ ہوگے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی
عروج نے نفرت سے منہ پھیرا
تم جیسے انسان کو میں نے بھائی مان لیا مجھے سوچ کر شرم آتئ ہے۔ عزہ نفرت سے پھنکاری
نکل جائو یہاں سے آئیندہ شکل بھی مت دکھانا اپنی
نکلو جائو۔
ہے جن گھٹنوں کے بل بیٹھا رو رہا تھا
مجھے معاف کردیں نونا میں نے اپنی اصلیت چھپائی آپ سے۔
کوئی معافی نہیں مل سکتی تم جیسے دھوکے باز کو
فاطمہ گرجی
اور تم واعظہ تم نے ایسے انسان کو لا کر ہمارے بیچ کھڑا کر دیا جو۔
فاطمہ عزہ الف نور سب اسکی جانب نفرت سے گھورتی مڑی تھیں۔
واعظہ بولو نا ۔ عزہ نے اسکا کندھا ہلایا تو وہ چونک سی اٹھی
کیوں چلا گیا وہ۔ ؟؟؟
ہے جن کی منہ بولی بہنیں اسکے لیئے فکرمند تھیں۔مگر ہے جن کا سچ جان کر کیا وہ یہی کرتیں۔
اس نے سر جھٹکا
وہ کچھ عرصہ اکیلے رہ کر خود کو سنبھالنا چاہتا ہے۔ تم سب دعا کرنا اسکیلئے وہ سنبھل جائے گر نا پڑے۔ خود سے لڑتے
واعظہ دھیرے سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی
صبح جو بھی سب سے پہلے اٹھے مجھے بھی اٹھادے۔ وہ کہہ کر رکی نہیں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ
کوئی تو بات ہے لغت رو پڑی۔
الف نے خیال ظاہر کیا
یار عادت سی ہوگئ تھی ہمیں ہے جن کی کیسے رہیں گے
عروج نے ٹھنڈی سانس بھری
یاد ہے پہلی بار زخمی سا جب آیا تو عزہ تو اسے بھوت ہی سمجھی تھئ۔
فاطمہ نے کہا تو عزہ کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ آگئ
اور جھٹ بھائی بھی تو بنا لیا تھا میں نے۔ تب تو صرف کہا ہی تھا مگراس نے سچ مچ بھائی ہی بن کر دکھایا۔ وہ ملول سی ہوگئ تو الف نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
منا لائونج منا صوفہ خالی خالی لگ رہا تھا۔
عزہ کو چاکلیٹس یاد آئیں جو وہ اپنی نونا کیلئے روزانہ لاتا تھا۔ کھٹا چونا لیموں کا شربت چکھ کر آنکھیں میچتا
الف کی باری پر چپکے سے سارے برتن دھوتا اور الف کائونٹر پر بیٹھی باتیں بگھارتی
چاول کھاتے اچھو ہو جانا اور ان سب کا پریشانی سے اسکی کمر مسلنا بخار میں اسکو اٹھا کر کمرے میں لے جانا
تو فاطمہ اور الف کی لڑائی میں بیچ بچائو کراتا، الف کے پروگرام میں لمبے لمبے فون آوازیں بدل بدل کر کرتا
ہے جن کتنی یادیں چھوڑ گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حسب معمول تھی۔
عروج عزہ الف کی باتھ روم پر لڑائی ہورہی تھی۔ عروج سب سے پہلے اٹھ کر باتھ روم بھاگی تھی۔ الف اور عزہ اسکی پھرتی ملاحظہ کرتی پہلےتو دنگ رہ گئیں پھر بھاگ کر دروازے سے چپک کر سخت سست سنانے لگیں وہ بھی کان بند کیئے فریش ہورہی تھی ۔ فاطمہ اور واعظہ لمبئ تانے دوسرے کمرے میں سوئی پڑی تھیں
عروج کے نکلتے ہی عزہ الف کو جھکائی دیتے باتھروم گھس گئ تو الف نے موٹی والی گالی دی
عروج ہنس پڑئ ۔
واعظہ کے کمرے میں چلی جائو
بال تولیہ سے رگڑتے عروج نے مشورہ دیا تو وہ اسے گھورتی پیر پٹختی چل دی
اسے اٹھا بھی دینا کہہ کر سوئی تھی کہ اٹھا دینا صبح مجھے۔
پیچھے سے ہانک لگائی۔
الف یقینا اتنئ احمق نہیں تھی کہ اپنے باتھروم کی ریس میں ایک بندہ اور شامل کر لیتی سو آرام سے باتھروم گھسی نہائی تیار ہو کر گنگناتے نکلی اور بھول بھی گئ عروج کی ہدایت۔ فاطمہ اور واعظہ گوڑ سہیلیوں کی طرح لپٹی بے خبر سو رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا یونہی مزاج اچھا تھا صبح ہی صبح گنگناتے ہوئے حاضری لگوائئ وارڈ کا چکر لگایا۔ اسکے وارڈ میں داخل ہوتے ہی لمحہ بھر کو خاموشی چھائی۔
مستقل نقاب ہونے کے باعث اسکی مسکراہٹ تو انکی نگاہوں سے اوجھل رہتی تھی مگر اسکا نرم۔انداز مریضوں کو گرویدہ کر دیتا تھا۔ وہ مسکرا کر اس آٹھ سالہ بچے کو آننیانگ کہتی اسکی فائل دیکھنے لگی۔ بچہ سیڑھیوں سے گر پڑا تھا کل سے پلستر چڑھا تھا اسکی ٹانگ پر تفصیلات پڑھتےاسے اپنے پیچھے کھسر پھسر سی محسوس ہوئی۔ اس نے یونہی پلٹ کر پیچھے دیکھا تو وارڈ کے سب مریض اسکو ہی دیکھ رہے تھے۔ اسکے مڑ کر دیکھتے سناٹا سا ہوگیا۔ اس نے کندھے اچکائے بچے کی دوائیں دیکھیں۔
بچہ ماں کے کان میں گھسا
وہی والی نونا۔
ماں نےاسے چپ کرنے کا اشارہ کرتے چور سا ہو کر عروج کو دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔متوجہ ہونے پر جھک کر آننیانگ کہتی وہ آگے بڑھ گئ۔
پھر اگلا بستر اس سے اگلا۔
سب اسے کچھ ذیادہ ہی غور سے دیکھ رہے تھے وہ سٹپٹا کر باتھ روم چلی آئی۔ آئینے کے سامنے نقاب ہٹا یا۔
لپ اسٹک ہی لگائی ہے آج میں نے نئی۔ ماسک سے آر پار نظر آرہا کیا؟ ویسے کچھ ذیادہ ہی جچ رہی ہوں میں۔
وہ غور سے خود کو دیکھ رہی تھی۔ چہرے سے نگاہ نیچے کی۔ لانگ گرے ٹاپ گرے ہی۔جینز اور لائٹ گرے پرنٹڈ شرگ اور لمبا سا اسکارف ۔ یہ اسکے وہی کپڑے تھے جو اس نے امیوزمنٹ پارک میں جاتے وقت کل پہنے تھے۔ بہت ذیادہ تو نہیں مگر کچھ شکنیں آچکی تھیں۔
ہاں کپڑے۔ کل سیدھے کر کے رکھ تو دیئے تھے تاکہ دوبارہ استری نا کرنے پڑیں۔ پھربھی شکنیں پڑ گئیں۔ اسی لیئے گھور رہے ہونگے بیوٹی کاںشسس۔
وہ بڑ بڑا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلین وہایئٹ شرٹ شکنوں سے پر تھی ساتھ گریبان کا بٹن بھی ٹوٹا ہوا تھا۔ گرے پینٹ اتنی ہی جما کے استری ہوئی وی تھی کہ کریز ہلی بھی نا ہو۔ بال نک سک سے تیار جیل لگے ہوئے چم چم کرتے جوتے۔ عجیب ڈب کھڑبہ منظر تھا نگاہوں کے سامنے۔الف کے جو چہرے پر تاثرات اسے دیکھ کر آئے تھے ژیہانگ نے بے ساختہ اپنی در آنے والی مسکراہٹ دبائی۔ وہ جتنا بدمزا منہ بنائے کھڑی تھی اسے دیکھ کر اسے اتنا ہی مزا آگیا تھا۔
انکوفنکشن ایٹی کیٹس ٹریننگ کیلئے آج صبح صبح اسٹوڈیو بلایا گیا تھا۔ الف خود نک سک سے تیار تھی بلو جینز نیوی بلو لانگ ٹاپ ساتھ نیوی بلیو اسکارف سر پر لپٹا ہوا نیوی بلیو شیفون کا دوپٹہ۔ وہ لابی میں کھڑئ اسکا ہی انتظار کر رہی تھی
شرٹ استری کرتے ہوئے بجلی چلی گئ تھی کیا؟
اس نے تیکھی نگاہ ڈال کر پوچھا تھا
اسکے طنز پر ژیہانگ زور سے ہنسا
نہیں بجلی جانے کی خوش قسمتی بس بے چارےپاکستانیوں کے نصیب میں ہے یہاں تو ہر وقت دن رات آتی رہتی ٹک ٹک ٹک ٹک۔
معصوم سی شکل بنا کر وہ اشتہار کی نقل اتارتے ہوئے ٹک ٹک کہتا انگلی گھڑی کی سوئیوں کی طرح گھماتا بولا۔
کسی چینی شکل کو خالص پاکستانی اشتہار کی نقل اتارتے دیکھنا کتنا مزے کا تجربہ تھا الف کھلکھلا کر ہنستی چلی گئ۔
اسکے ہنسنے پر ژیہانگ بھی ہنس دیا۔
یہ اشتہار بھی سن رکھا ہے تم ۔۔۔
وہ کہتے کہتے رکی
آپ نے؟
تم مجھے تم کہہ سکتی ہو۔ اس نے مسکرا کر کہا تو وہ سر ہلا گئ۔
مجھے یہ اشتہار کافی مزے کا لگتا تھا۔ میری بھانجی بالکل اسی بچے کی طرح ٹک ٹک کرتی رہتی تھی۔ بہت ویڈیوز بناتی تھی میں اسکی۔میری انسٹا بھری ہوئی ہے اسکی ویڈیوز سے۔ وہ شوق سے بتا رہی تھی ژیہانگ دھیمی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے متانت سے سن رہا تھا
اچھا ۔۔ دکھانا مجھے بھی۔
دونوں یونہی باتیں کرتے لفٹ کی جانب چلے آئے
پاکستان میں کتنا عرصہ رہے ۔۔
تم اور آپ کے چکر میں پھنسی الف نے دونوں ہی جملے سے نکال دیئے۔ژیہانگ کو اپنے استاد یاد آئے
جب کسی ہم عمر سے بات کر رہے ہوں تو تم کا استعمال کرتے ہیں کسی سے بے تکلفی ظاہر کرنی ہو تو بھی ،تاہم اجنبیوں اور بڑوں سے ہمیشہ آپ کا صیغہ استعمال کیا۔جاتا ہے۔ آپ میں ادب بھئ ہے اوراجنبیت بھی۔
تاہم اردو کی خوبی یہ بھی ہے کہ آپ اور تم کا استعمال کیئے بنا بھی بات کی جا سکتی ہے اگر مخاطب آپکے سامنے ہو اور آپ فیصلہ نا کر پارہے ہوں کہ اجنبیت کی دیوار قائم رکھنی ہے یا گرا دینی ہے۔
ہیں؟ الف نے اسے لفٹ کی جانب متوجہ کیا۔ مگر اشارہ اسکا اپنے سوال کی جانب ہی تھا کافی دیر سے جواب نہیں آیا تھا۔
میں پورے تین سال رہا ہوں پاکستان میں۔ سارا سارا وقت ٹی وی دیکھتا تھا کتنے اشتہار تو مجھے منہ زبانی یاد ہیں۔ یہاں بھی پاکستان سے ہی آیا ہوں۔ سچ پوچھو تو سوچتا تھا اردو بولنے کا موقع جانے کب ملے یہ نہ ہو کہ بھول ہی جائوں ۔ مگر شکر ہے تم مل گئیں۔ وہ لفٹ کے بٹن دباتا آخر میں اسے دیکھ کر مسکرا کر بولا
اسکے جملے پر الف چونک گئ تھی مگر اسکا انداز بے حد سادہ تھا لفٹ کے بٹن دبا کر اب وہ اپنا موبائل دیکھ رہا تھا۔
پاکستان کیسا لگا تھا آپکو؟
اس نے اشتیاق سے پوچھا تھا مگر جواب اسکا اتنا ہی سرسری اور مختصر تھا
اچھا تھا۔ وہ مکمل مگن تھا فون میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس بجے فاطمہ کا فون بجنا شروع ہوا۔فاطمہ تو نہیں اسکی مستقل بجتی گھنٹی سے واعظہ اٹھ کر بیٹھ گئ۔
فاطی دیکھو کون کال کررہا۔ اس نے عینک نہیں لگائی تھی سو موبائل پر نام نہیں پڑھ پائی موبائل تھما کر دوبارہ لڑھک گئ۔
کون ہے۔ بیزاری سے فون اٹھا کر کان سے لگا لیا بنا دیکھے
کہاں ہو تم؟ بتایا بھی تھا تمہیں کہ کائونسلرز آئیں گے ملنے اب گھر میں بیٹھے ہیں فورا پہنچو۔
سیہون کان میں چیخا اس نے پٹ آنکھیں کھولیں۔
اتنئ صبح۔؟ اسکے منہ سے نکلا
سیہون فون بند کر چکا تھا
سامنے وال کلاک دس بجا رہی تھی۔
دس بج گئے؟ وہ حیران ہوئی پھر پلٹ کر دوبارہ خراٹے لیتی واعظہ کو جھنجھوڑ ڈالا
اٹھا جائو دس بج گئے کسی نے اٹھایا ہی نہیں ہمیں۔۔
اسکی آواز تھئ کہ اٹیم بم وہ بھی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔
اس بار تو مجھے دفتر میں گھسنے نہیں دینے والے۔
اس کو پکا یقین تھا۔ فاطمہ کے البتہ حواس بحال ہو چکے تھے سو واعظہ کے حواس بحال ہونے سے پہلے سیدھا باتھ روم کی جانب بھاگئ۔ واعظہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ پھر دھیرے سے بڑ بڑائی
ہمیشہ دیر۔کر دیتا ہوں میں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔

Desi Kimchi Episode 26

قسط 26
میں معزرت خواہ ہوں آپ دونوں کو ڈرا دیا میں نے۔
یون بے ٹھیک ٹھاک شرمندہ سی تھی۔ دونوں اسے کینہ توز نظروں سے ہی گھو ررہی تھیں جان نکال دی تھی اس نے۔ اب سامنے بیٹھی انہی کے پیش کردہ سینڈوچ کو چباتے ہوئے بار بار جھک جھک کر معزرت کر رہی تھی۔
آنیو۔ (کوئی بات نہیں۔) جس خشک انداز میں واعظہ نے کہا تھا اسکی رہی سہی جان بھی فنا ہو چلی تھی۔
وہ دراصل مجھے آپکے گھر میں کھائے ان پکوڑوں کا ذائقہ بھولا ہی نہیں۔ مجھے نام بھی نہیں پتہ تھا ورنہ ضرور آن لائن ڈھونڈ ہی لیتی۔ اب یاد رہے گا وہ پکوڑے تھے۔ ابھی آپ کو دیکھ کر مجھے یہی بہتر لگا آپ سے براہ راست ہی ترکیب پوچھ لوں۔
اسکی چندی آنکھیں مسکراتے ہوئے مزید چندی ہو چلی تھیں۔
پیاز تھی ، پالک تھی اور بینگن مگر لپیٹا کس چیز میں تھا انکو؟
بیسن ۔ یہ عروج تھئ۔ اردو میں جواب دیتی
کارن فلور۔ واعظہ پر بدلہ لینے کا بھوت سوار تھا۔عروج نے گھور کر دیکھا مگر وہ چہرے پر نہایت پر خلوص مسکراہٹ سجائے تھی کہ یون بے کو شک بھی نہ گزرا۔
اوہ یعنی مکئی کا آٹا۔
اس نے جیسے خوش ہو کر چٹکی بجائی
میں ضرور بنائوں گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واعظہ عروج اور سیہون اکٹھے ہی رات گئے گھر میں داخل ہوئے تھے۔گھر میں مکمل خاموشی اور اندھیرے کا راج تھا۔تینوں کو تھکن اتنی سوار تھی کہ بس سیدھا اپنے اپنے کمروں میں گھس گئے۔سیہون جب کمرے میں آیا تب ہے جن بے سدھ پڑا تھا وہ آہٹ کیئے بنا احتیاط سے تازہ دم ہونے غسل خانے میں گھس گیا تھا۔اسے پھر بھی آہٹ محسوس ہوئی کہ کیا اس نے پٹ آنکھیں کھول لی تھیں۔
صبح اتوار تھا سب نے خوب نیند پوری کی گیارہ بجے کے قریب ان سب کے کمزور سیل جان پکڑنا شروع ہوئے۔ ایک ہی باتھ روم تھا ان سب کو ایک دوسرے کا انتظار کرتا جھگڑتا چھوڑ کر وہ کمرے سے باہر نکل آئی۔سیہون کے کمرے کا دروازہ دھیرے سے کھٹکا کر جھانکا پھر سٹپٹا کر بند کردیا۔ ہے جن شرٹ بدل رہا تھا اسے جھجک کر دروازہ بند کرتے دیکھ کر خود دروازہ کھولنے لگا۔ واعظہ پلٹ کر واپس فاطمہ کے کمرے کی جانب مڑ گئ تھی
آجائیں انی ۔ہے جن نے پکارا تو پلٹی
تم ہوجائو تیار میں بس ویسے ہی ۔۔ وہ کھسیا سی گئ تھی
میں بس تیار ہو رہا تھا ہو گیا اچھا ہوا آپ مل گئیں رات کو تو آپ کافی دیر سے واپس آئیں۔
وہ دروازہ کھول کر بولتا ہوا اندر کمرے میں چلا آیا ۔
کمرے میں بس ہے جن ہی تھا
سیہون چلا گیا نوکری پر ۔ اس نے یونہی پوچھا
جی ۔۔ اسکا جواب مختصر تھا۔ وہ ایک طرف ہوکر اپنے بیڈ پر سے والٹ اٹھانے لگا۔
واعظہ کی بیڈ پر نگاہ پڑی تو ٹھٹک سی گئ۔ ۔ بیڈ پر اس کا تیار بیگ رکھا تھا اس نے آگے بڑھ کر زپ بند کی ۔ واعظہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔ وہ نظر چرا کر تیز تیز بولتا گیا
مجھے دراصل آپکو بتانا تھا میں فلیٹ سے صبح جا کر اپنا سب سامان لے آیا تھا ہیونگ(بھائی سہیون کے بارے میں بات ہو رہی ہے) سے چابی لے لی تھی میں نے ۔ ویسے تو مل کر ہی جاتا میں اس وقت ذیادہ وقت نہیں میرے پاس۔ بس کا وقت ہونے والا۔ہے میں جا رہا ہوں۔ بس مجھے آپکا بے حد شکریہ ادا کرنا تھا نونا۔ ہے جن کی آنکھیں جھلملا رہی تھیں۔واعظہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی اس نے آگے بڑھ کر واعظہ کے ہاتھ تھام لیئے۔
آپ نے میرا بہت خیال رکھا میری مشکل ترین وقت میں مدد کی۔ میں آپکا احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔آپ میری سچ مچ بہن ہیں میری نونا۔ آپ مجھے زندگی کی آخری سانس تک یاد رہیں گی سارانگھیئے نونا۔ اس نے اسکے ہاتھ عقیدت سے چوم لیئے۔
کیا مطلب کہاں جا رہے ہو؟ وہ بھونچکا سی رہ گئ
جہاں جانے سے آپ مجھے چند مہینے قبل روک کر یہاں لے آئی تھیں۔
وہ تھکے تھکے انداز میں مسکرایا۔ اسکی رنگت بے حد زرد مگر آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ جیسے وہ یا بہت رویا ہو یا ساری رات نہ سویا ہو۔
تم تارک الدنیا۔واعظہ کی آواز گنگ سی ہوتی گئی۔ وہ یقین کرنا نہیں چاہ رہی تھی جس بچے کو وہ انگلی پکڑ کر چلا کر دنیا میں واپس لائی تھی وہ یوں ایکدم واپس دنیا چھوڑنے جا رہا تھا
۔تم تارک الدنیا ہونے جا رہے ہو۔ اس نے پھر تصدیق چاہی ۔ اسے شدید صدمہ پہنچا تھا ۔ وہ لمحہ بھر کو تو چپ سی کھڑی رہ گئ تھئ
ہے جن کو اس سے اسی ردعمل کی توقع تھی۔ اور یہ بھی کہ وہ پھر اسے روکے گی ساری رات اس نے وہی حیلے بہانے گڑھتے ہوئے گزاری تھی جن سے وہ اس وقت اس اچھی لڑکی کو مطمئن کر سکتا تھا مگر سب بے سود رائیگاں جاتا نظر آرہا تھا کہ وہ سب کچھ بھول گیا تھا یاد تھا تو اسے چند مہینے قبل کا وہ بس کا منظر۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے نگاہ بس پر دوڑائی تو بس ایک بچےکے برابر کی نشست خالی نظر آئی ۔وہ جھٹ اسکے پاس دھم سے آ بیٹھی۔ کھڑکی سے سر ٹکائے کانوں پر ہیڈ فون چڑھائےبانہوں میں اسکول بیگ سینے سے بھینچے بیٹھا آنکھیں بند کیئے وہ سولہ سترہ سال کا لڑکاہوگا جو شائد سو رہا تھا ۔ جبھی واعظہ کے برابر آبیٹھنے پر بھی نہ چونکا نا آنکھیں کھولیں۔ پچھلی نشست سے اٹھ کر آتا وہ چندی آنکھوں والا ادھیڑ عمر کرخت سے چہرے والا مرد سخت بد مزا ہوا تھا
آگاشی۔ یہ میری جگہ ہے؟۔
اس نے بلا تکلف واعظہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اس نے تڑپ کر اسکا ہاتھ پیچھے کیا
ہاتھ لگائے بنا بات کریں
وہ بھنا کر اٹھنے کو تھی کہ بے نیاز سے بیٹھے اس بچے نےبیگ پر سے ہاتھ ہٹا کر واعظہ کی کلائی تھام کر روکا۔
یہ نشست میرے برابر ہے یہاں وہی بیٹھ سکتا ہے جسے میں بیٹھنے کی اجازت دوں گا۔
آنکھیں پوری کھول کر جس تحکمانہ انداز میں وہ لڑکا بولا تھا اس نے اس ادھیڑ عمر آدمی کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا تھا۔ بکتا جھکتا وہ پلٹ گیا۔
اسکو پلٹتے دیکھ کر ہے جن نے کلائی چھوڑی اور سابقہ انداز میں واپس سیدھا ہوبیٹھا۔واعظہ بھنوئویں اور کندھے اچکا کر سیدھی ہو بیٹھی۔
او نام کوئئ نیگا ہاسو دامیان۔
اسکے ہیڈ فون سے آواز باہر تک آرہی تھی۔
بی ٹی ایس۔ واعظہ کے کان کھڑے ہوئے۔
یہ اسکا پسندیدہ گانا تھا۔
وہ یونہی گانے سے محظوظ ہوتی گردن ہلا ہلا کر بول بے آواز گنگنانے لگی۔
اس لڑکے نے فورا گانا بدل دیا تھا اس نے بد مزا سا ہو کر اسکے ہاتھ میں تھامے اس آئی پوڈ سے ملتے جلتے سستے سے ایم پی تھری پلیئر کو گھورا جو اسکی انگلی کی جنبش کے باعث کسی گانے پر ٹک نہیں رہا تھا۔ اسکی کلائی کے اندرونی جوڑ پر عین نبض کے قریب ایک ٹیٹو سا تھا۔ مٹا مٹا سا اسٹیکر جیسا۔ جیسے اسکو رگڑ کر اتارا جائے تو شائد اتر جائے۔ مگر اس اسٹیکر پر جو لکھا تھا اسکا مفہوم سمجھ نہ آسکا انگریزی میں سکس اور۔ آگے کچھ مٹا مٹا سا تھا
9 لکھا ہوا تھا یہاں۔
اسکے کہنے پر وہ جو تھوڑا سا جھک کر غور سے دیکھ رہی تھی سٹپٹا کر سیدھی ہوئی
چھے سو ہمبندا۔۔ ( میں معزرت خواہ ہوں)
اس نے جھک کر معزرت کی۔ جوابا وہ بچہ ہنس پڑا۔
آنیو۔ آپ متجسس تھیں اسلیئے بتا دیا ۔ یہ میرا ماضی ہے آدھا مٹا چکا ہوں آدھا مٹا دوں گا۔ پھر میری کلائی صاف ہو جائے گی۔ وہ دھیرے سے اس پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ وہ اسٹیکر جیسا جو اتر رہا تھا وہ کھال تھی اسکی۔
اوہ کیا کر رہے ہو۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی تک سنسناہٹ دوڑی تھی جھٹ اسکو ٹوکا۔
آپکو کیا ہوا میری کلائی ہے آپ تو یوں ڈری ہیں جیسے آپکی کھال اتر رہی ہو۔
خالص نوجوان بدتمیز بچوں والے انداز میں وہ تسمخر اڑاتا زور سے ہنسا تھا۔
میں اپنے ساتھ اتنا ظلم نہیں کر سکتی۔ کہ اپنی کھال خود اتارنے بیٹھ جائوں۔ دنیا کم ہے ستانے کو کہ ہم خود بھی اپنے آپکو تکلیف دینے بیٹھ جائیں۔۔ہمیں تو بلکہ دنیا کے آزار سے خود کو بچانے میں اپنی توانائیاں خرچ کرنی چاہیئں ۔
واعظہ ذرا جو بدمزا ہوئی ہو۔ اسکے اندر کی جھکی واعظ دینے کو تیار واعظہ انگڑائی لیکر بیدار ہوئی تھی۔ اسکے جملوں نے غیر محسوس سے انداز میں ہے جن پر اثر کیا تھا زخم کریدتی انگلیاں سست پڑیں۔ واعظہ مسکرا دی
ویسے ٹیٹو تو اب اتر جاتے ہیں لیزر سے انکو یوں اتارنے کی کیا ضرورت ؟
پیسے لگتے ہیں اس میں۔ اس نے جتایا۔پھر بیگ سے کم باپ نکالنے لگا۔
آپ ویسے ان کاسٹیوم والی لڑکیوں کی کئیر ٹیکر ہیں کیا؟
آپ سب سے پہلے بڑھی تھیں بس کی جانب سب سے آخر میں چڑھی تھیں
کم باپ اسکی جانب بڑھا تے وہ سادگی سے پوچھ رہا تھا۔
وہ یقینا اتنا بے خبر بیٹھا نہیں تھا جتنا دکھائی دے رہا تھا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار لڑکیاں گنو تو پتہ چلے ہر لڑکی کو پانچ منٹ بھی لگیں تو چالیس منٹ کہیں نہیں گئے۔ یار بارہ ہونے کو آئے ابھی باتھ روم سے فارغ نہیں ہوئے ہیں باہر کیا خاک پتھر جا پائیں گے
تم لوگ کوئی پروگرام بنانا تو دور بنا بنایا پروگرام بھی برباد کرنے میں ماہر ہو۔
یہ تقریر الف جھاڑ رہی تھئ۔ فاطمہ کا باتھ روم میں منہ بند کرکے منہ دھونا محال ہوگیا۔بھنا کر بند دروازے کو گھور کر رہ گئ۔ ۔
یہ حساب کیسے لگایا تم نے؟۔
عموما ایسا سوال عشنا کی جانب سے آتا تھا مگر آج عروج میتھس ٹیسٹ لینے کے درپے تھئ۔ بیڈ پر دراز موبائل پر انگلیاں چلا رہی تھی۔
ہم آٹھ لڑکیاں ہیں ایٹ فائوز آر فورٹی۔
الف نے چٹکئ بجائی
ہم آٹھ کہاں رہ گئیں؟ عزہ نے انگڑائی لی
ابیہا پاکستان چلی گئ ، نور جیل میں ہے واعظہ سیہون کے واش روم میں چلی گئ ہے لے دے کر رہ گئیں میں، تم ، عروج اور فاطمہ چار لڑکیاں۔ بس۔
حساب کرتے کرتے وہ چونکی۔
ایک دو تین۔ ہم تین لڑکیاں ہیں کمرے میں۔
عروج بھی چونکی۔
ہاں تو ایک باتھروم میں ہے نا فاطمہ۔
الف نے مکھی اڑائی کان پر سے۔
عروج ، عزہ ، فاطمہ، واعظہ باہر، میں ادھر نور جیل میں ابیہا پاکستان میں۔ رہ کون گیا؟
الف نے دوبارہ گنتی کی۔
عشنا۔ تینوں اکٹھے چیخی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا نام پکارے جانے پر وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔ اسکے پاس پیسے تو تھے نہیں سو قریبی پارک میں بنچ پر آ بیٹھی ۔ واعظہ کو فون ملانا تو دور موبائل کی بیٹری ہی فین میٹنگ کی تصاویر او رویڈیوز بناتے ہوئے ختم ہوچکی تھی۔
سامنے کالے لانگ عبایا میں ملبوس بھاری تن و توش کی وہ عورت شدید حیرت سے اسے گھور رہی تھی۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو؟
خالہ آپ۔ نقاب میں بھی عشنا پہچان کر سٹپٹا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھئ
تم یہاں کیا کر رہی ہو عشنا وہآں پاکستان میں سب سمجھ رہے ہیں کہ تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانے کیا اجزاء ہوں کم۔باپ کے اس نے بہت سلیقے سے معزرت کر لی تھی۔وہ کندھے اچکا کر کھانے لگا بڑے بڑے نوالے۔ واعظہ ٹوکتے ٹوکتے رہ گئ۔ انکا رواج ہی اور تھا ۔ ہم جسے بدتہذیبئ بد تمیزی سے کھانا گردانتے وہ انکی ریت تھی۔ چھوٹے سے دہانے میں پورا کم۔باپ ڈال کر کلے پھلا کر کھاتا وہ بالکل بھالو لگ رہا تھا اس نے منہ پھیر کر مسکراہٹ چھپائی۔ ہے جن نے گہری نگاہ اس پر ڈالی تھی اسکی حرکت چھپی نہ رہ سکی تھی
آپ پڑھتی ہیں؟ وہ یونہی پوچھ بیٹھا۔
ہاں۔ اس نے سر ہلایا۔ ماسٹرز کر رہی ہوں اور
تم تو اسکول میں پڑھتے ہوگے؟ اس نے حسب عادت لمبی بات کی۔
ہاں ہائی اسکول کا طالب علم ہوں ۔ چھٹی پر گائوں جا رہا ہوں۔ آپ اور آپکی بچیاں بہت مختلف سی لگ رہی ہیں
آپ لوگ کسی کاسٹیوم پارٹی پر جا رہی ہیں۔۔
بڑی دیر سے متجسس ہے جن پوچھ ہی بیٹھا۔۔
آنیو۔۔ واعظہ نے نفی میں سر ہلایا۔۔
صبح صبح کونسی کاسٹیوم پارٹی۔۔
واعظہ ہنسی۔۔
پھر یہ کیا پہنے ہیں۔؟ اس نے اچک کر عزہ اور نور کو دیکھتے ہوئےپوچھا۔۔
اچھا یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔ یہ مزہبی لباس ہے انکا۔۔
واعظہ کو سوجھا نہیں کہ عبایا کو انگریزی میں کیا کہے۔۔۔۔
ہے جن ہائی اسکول کا طالب علم تھا سیول میں پڑھتا تھا ہفتے کے آخر میں اپنے گائوں جا رہا تھا سیول میں بھی اسکول جانے والے بچے انگریزی پڑھتے اور سیکھتے ہیں اتنی کہ ہماری طرح بات کر ہی سکتے ہیں۔۔ تھوڑا سوچ کر سہی۔
ہمم۔ تو یہ اسلامی نن ہیں۔ جیسے کرسچنز کی نن ہوتی ہیں ویسی یہ ڈیوٹڈ ہیں اسلام کیلئے۔۔
ہے ان نے اندازہ لگایا پھر تصدیق چاہنے والے انداز میں دیکھنے لگا۔۔
نہیں ڈیوشن کا کانسیپٹ اسلام میں نہیں ہے۔ بس یوں کہہ لو یہ مزہبئ ہیں مگر اسلام آپکو دین کیلئے دنیا چھوڑ دینے کا درس نہیں دیتا۔۔ ہم عام زندگی گزارتے ہیں مگر اسلامی اصولوں کے ساتھ۔۔
واعظہ نے اپنی طرف سے مدلل جواب دیا۔۔
خیر ۔۔ ہے جن نے گہری سانس لی۔۔
میں بھی ڈیووٹ کردوں گا خود کو اگلے کچھ سالوں میں میں خود کو نارنجی چولے میں مالائیں گلے میں ڈال کر سر منڈوائے کسی ویران پہاڑی پر آسن جمائے بیٹھا دیکھتا ہوں۔۔
آنکھیں بند کرتا وہ جیسے سچ مچ خود کو بدھ مت کا راہب بنا تصور کر رہا تھا جیسے۔۔
یہ تصور اتنا روشن تھا کہ ایک لمحے کو واعظہ بھی خود کو کسی ویران پہاڑی پر ایک سترہ سالہ گنجے
نارنجی لبادے میں ملبوس راہب کے سامنے بیٹھا محسوس کرنے لگئ۔۔
نہیں۔۔
اس نے جھر جھری لی اور چونک کر جے ہن کو دیکھنے لگی۔۔۔۔ آنکھیں بند کیئے جے ہن کیلئے بھی تصور اتنا روشن تھا کہ اسکی چندی آنکھوں کے کنارے بھیگ چلے تھے واعظہ کا دل موم ہوگیا۔۔
بمشکل سولہ سترہ سال کا دبلا پتلا سا ہے جن جسکی مسیں بھئ ابھی پوری نہ بھیگی تھیں ہلکا سا ہی رواں تھا ابھی جوانی ڈھنگ سے آئی نہیں تھی اور دنیا تیاگ دینے کو تیار بیٹھا تھا۔۔
نہیں منے میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گی۔۔
واعظہ کے اندر کی بڑی بہن جاگ اٹھی تھی۔۔
واٹ؟۔ منا آنکھیں کھول کر ان جملوں کو سمجھنے کی ناکام کو شش کرنے لگا تھا۔۔
دے ؟
میرا مطلب ہے تمہیں کیا پڑی ہے ابھی تو زندگی شروع ہوئی ہے تمہاری ابھی تو تمہاری عمر کے لڑکے کھیلتے کودتے پھرتے ہیں لڑکیوں کے چکر میں پڑتے ہیں پڑھائی مکمل کرتے ہیں کیریر بناتے ہیں تمہیں کیا پڑی ہے اپنی زندگی برباد کرنے کی یوں دنیا تیاگ کر۔ وہ جوش سے کہتی چلی۔گئ۔
آپ نہیں جانتی زندگی کتنی دشوار ہے میرے لیئے۔
یہ جملہ اس سترہ سال کے بچے کے منہ سے پھسلاتھا۔
بریک اپ۔ واعظہ نے لمحے کے ہزارویں حصے میں اندازہ لگایا تھا اور اسکے خیال میں یہ اندازہ سو فیصد درست تھا۔
میرے لیئے زندگی نے بس دو راستے چھوڑے ہیں۔ یا تو میں بے غیرتی کا تر نوالہ اڑائوں یا عزت کی روٹی کھائوں جنگلوں میں دنیا سے کٹ کر بدھا کی عبادت میں اپنے دانستہ نادانستہ گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے۔ اب دنیا میں رہنے کے قابل نہیں رہا میں ۔
اسکا انداز چٹخا ہوا سا تھا۔
یہ کیا بات ہوئی۔ سیول میں کہاں رہتے ہو؟
اسکی ہمدردانہ طبیعت جوش ما ررہی تھی
کہیں نہیں ۔ وہ ہنسا۔ میرا سیول میں کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں۔
اوہ یعنئ رہائش کا مسلئہ ہے؟ سیول میں؟ پڑھتے نہیں ہو کیا اسکول میں تم؟ نوکری کرو۔ پڑھائی کا خرچ اٹھائو جوان بچے ہو کیا کمی ہے زندگی میں؟ اگر رہائش کا بہت مسلئہ تو میں انتظام کر دیتی ہوں میرا ایک فلیٹ ہے سیول میں تم وہاں رہو۔ ویسے ہے تو چھوٹا سا ہم لڑکیاں بھی بہت ذیادہ ہیں ۔مگر کچھ نا کچھ انتظام ہو ہی جائے گا۔ تم بس پڑھائی پر توجہ دو صبح اسکول جائو شام کو جاب کرو سب بچے یہی تو کرتے اتنے مایوس کیوں ہو تم؟
حسب عادت اپنے ذہن سے اسکے مسائل کا اندازہ لگا کر وہ جھٹ پٹ حل نکالنا شروع ہوگئ تھی۔
آپ مجھے رکھیں گی اپنے گھر؟ کتنا چارج کریں گی؟ ویسے میں چھوٹا سہی مگر ۔۔۔ اتنا چھوٹا نہیں۔۔
اسکی بات اسکا انداز واعظہ کے سر پر سے گزرا تھا۔
آپ ویسے اتنی بڑی تو نہیں ہیں آپکو تو کوئی اچھا بوائے فرینڈ بھی مل جائے گا۔ آپ مجھے کیوں رکھنا چاہتی ہیں۔؟
وہ استہزائیہ کہہ کر خود ہی جیسے خود پر ہنسا۔
کیا مطلب اسکا اس بات سے کیا تعلق؟
وہ الجھئ۔۔
مطلب بنا مطلب تو آپ مجھے نہیں رکھنے والی ہیں نا؟ میں آپکے مطلب کا ہوں کیا؟ آپ مجھے رہائش دیں گی تو مجھے آپکا مطلب پورا کرنا ہوگا ہے نا۔
وہ کھل کر بولا انداز استہزائیہ سا تھا زن سے واعظہ کے دماغ میں جیسے کوئی گولی سی گزری تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے ہنگم شور کے باعث بس الٹتے الٹتے بچی تھی۔ عروج نے اس ادھیڑ عمر آدمی کو فوری طبی امداد دی واعظہ کی توجہ بٹ گئ تھی عروج کی مدد کرواتے ایمبولنس کی آمد تک وہ اور عروج ایک دوسرے سے نامانوس زبان میں باتیں کر رہی تھیں وہ بہت غور سے اسے دیکھتا رہا تھا۔ایمبولنس کی آمد پر جب مریض کو اسٹریچر پر ڈال کے لے جا رہے تھے واضح طور پر اس نے اسے سکھ کا سانس لیتے دیکھا تھا۔ اسکے ساتھ آئی لڑکیاں اسے جانے کیا کہہ رہی تھیں ایک اسکے کندھے سے جھول کر کچھ کہہ رہی۔تھی تو دوسری اسکا بازو کھینچ کر کچھ بتا رہی تھی۔ اسکی پیشانی پر بل تک نہیں تھا۔ وہ ہنستے ہنستے سر ہلانے لگی تو سب ایکدم سے ہنستی ہوئی اس سے آلپٹی تھیں۔ وہ بھی ہنس دی تھی۔ اسے ہنستا دیکھ کر اسکے اپنے چہرے پر مسکراہٹ در آئی تھی۔ اور احساس ہوتے ہی مدھم بھی پڑ گئ۔ وہ لڑکی عجیب تھئ اس سے چند سال بڑی ہوگی مگر بات کرنے کا انداز ایسا تھا جیسی اسکی ماں ہی ہو۔ اب تک کی زندگی میں اسے ٹکر جانے والی پہلی انسان جس نے اس کو بچہ سمجھا ۔ سترہ سال کا بچہ؟ عجیب ہی تھی۔
بس روانہ ہونے کو تیار ہوئی سب جھٹ پٹ بس میں سوار ہونے لگے۔ اسے یقین تھا اب وہ اسکے پاس والی نشست پر نہیں آکر بیٹھے گی۔ سو آرام سے اس نشست پر اپنا بیگ رکھا۔ وہ بچہ اور اسکی ماں جس طرح اسے گھور رہے تھے عزہ کیلئے دوبارہ وہاں جا بیٹھنا ممکن نہ تھا ۔
واعظہ تمہاری جگہ میں بیٹھنے لگی ہوں۔
عزہ نے اردو میں ہانک لگائی ۔ اسکے مطابق واعظہ نے اس لڑکے کو شرافت ٹیسٹ میں پاس کر دیا تھا۔ سو اسکے ساتھ بیٹھا جا سکتا تھا لیکن جیسے ہی وہ اس نشست کی۔جانب بڑھی جانے جان بوجھ کر یا اتفاقیہ ہے جن نے اپنا بیگ ساتھ والی نشست پر رکھ دیا وہ بد مزہ ہو کر اسے گھورتی واپس اپنی جگہ چلی آئی۔ واعظہ حسب عادت سب سے آخر میں چڑھی ان سب کو گن کر سیدھا اپنی نشست کی جانب بڑھی ہے جن کا بیگ اٹھا کر اسکی گود میں پٹخا اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں
میں نے سوچا ہے کہ تمہیں رکھ لوں اپنے پاس اپنے مطلب کیلئے۔
وہ سنجیدگی سے کہتی اسکے پاس بیٹھ گئ۔
مجھے۔ اس نے کچھ کہنا چاہا مگر واعظہ نے موقع نہیں دیا
میں نے بہت سوچا دماغ سے۔۔ وہ سانس لینے رکی ہوگی
کب ؟ کس وقت۔ اس نے مزاق اڑانا چاہا۔ مریض کو اسٹریچر پر ڈالتے وقت جو عروج کو سینیٹائزر تھما رہی تھی بیگ سے نکال کر تب ؟ یا سہیلیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتے وقت۔
۔ اور فیصلہ دل سے کیا ہے۔ مجھے تم اچھے لگے ہو دل سے سو میں تمہیں پیشکش کرتی ہوں کہ میرے گھر میں آکر رہو۔ میرے چھوٹے بھائی بن کر۔ وہ کہہ کر مسکرا دی
میں نہیں کوئی بھائ۔
وہ تیزی سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے چونکا۔ یہ کیا۔کہہ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ابھی تارک الدنیا نہیں ہورہا۔ میں خود کو سوچنے کا مزید وقت دینا چاہتا ہوں۔ اسلیئے فی الحال سیول سے جا رہا ہوں۔
اس نے رخ پھیر کر اپنا انداز سادہ رکھ کر وضاحت دی مگر پھر جب واعظہ کا کوئی ردعمل نہ آیا تو چور سی نگاہ اس پر ڈالی۔ وہ بے آواز رو رہی تھی۔
نونا مت روئیں۔ وہ تڑپ سا گیا۔ اس نے بے دردی سے آنسو پونچھے۔
تم ان سب کی وجہ سے جا رہے ہو نا ۔مت جائو ۔ تم ہماری وجہ سے اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع نہ کرو چھے بال۔ ( پلیز)
تم یہاں کسی ہاسٹل میں شفٹ ہو جائو پلیز مت جائو میری غلطی ہے میں تمہیں ہم سب میں لے آئی تم مت گھبرائو کچھ نہیں ہوگا تم بڈھسٹ ہی رہو گے ہے جن۔۔
پلیز اپنے ساتھ ایک اور ظلم مت کرو تم پڑھ لوگے تو زندگی بدل جائے گی تمہاری ہے جن۔
وہ منت بھرے انداز میں اسکو کہہ رہی تھی۔ اسکیلئے بلک رہی تھی۔ اس نے بانہوں میں بھینچ لیا ۔
نونا میرے امتحان ہو چکے ہیں ۔اور آگے کیلئے میں نے تبادلے کی درخواست دی ہے پکا وعدہ میں اپنی تعلیم مکمل کروں گا۔میں گائوں کے اسکول میں اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھوں گا مت روئیں چھے بال۔
تم کیوں جا رہے ہو مت جائو نا۔
اسکے کہنے پر اسکے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ بکھر گئ۔
نونا مجھے خود کو جاننا ہے میں کیا چاہتا ہوں میں اس وقت بہت مخمصے میں ہوں۔ میرا دل و دماغ بہت الجھا ہوا ہے مجھے کچھ وقت اس سب سے دور اپنے آپ کے ساتھ گزارنا ہے ۔شائد میں اپنی زندگی کا بہتر رخ دیکھ سکوں ۔مجھے مت روکیں نونا۔
اسکا انداز التجائیہ ہوا تو اسکی ہچکیاں تھمنے لگیں۔بہت حوصلے سے وہ اس سے الگ ہوئی۔ اپنا بیگ اٹھاتا وہ تیزی سے کمرے سے نکلا کہ کہیں باقیوں سے ٹاکرا نا ہوجائے۔ فی الحال سب کمرے میں ہی بند تھے
عزہ سے تو مل لو۔ اسے تیزی سے بیرونی دروازے کی جانب بڑھتے دیکھ کر واعظہ نے کہنا چاہا۔اسکے قدم سست پڑے مگر وہ نا پلٹا ذرا سا رک کر بولا۔
عزہ نونا کو سوری کہہ دیجئے گا میری جانب سے۔ میں ان سے نگاہ نہیں ملا پائوں گا۔ وہ بہت اچھی ہیں انکو ذرا سا جھوٹ برداشت جب انکو پتہ لگے گا کہ میں ہی سراپا جھوٹ ہوں تووہ سہہ نہیں پائیں گی۔ اپنا خیال رکھیئے گا نونا اللہ حافظ۔
وہ کہہ کر تیزی سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔ واعظہ بس دیکھ کر ہی رہ گئ تھی اسے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپی یہ تھی میری اصلیت یقینا قابل فخر نہیں تھی اگر آپ جانتیں تو کیا تب بھی مجھے اپنا سمجھ پاتیں؟ نہیں نا بس اسی لیئے اپنا ماضی چھپاتا رہا آپ سے آپ مجھ سے
ناراض ہیں نا ؟ مجھ سے خفا ہیں آپکو ہونا بھی چاہیئے میں اسی لیئے معافی مانگ رہا ہوں معاف کر دیں پلیز خود کو۔ خود پر اپنی سادگی پر آپکو غصہ آرہا ہے نا آپی آپکا قصور نہیں یہ دنیا مجھ جیسوں سے بھری پڑی ہے آپ جیسے لوگ کم ہیں خو دکو نا بدلیئے گا۔ ۔ جو ہوا اس میں آپ کی کہیں کوئی غلطی نہ تھی۔ آپی۔بس یہ جان لیں کہ ایک بدکردار بد قماش انسان آپکو دھوکا دے گیا مگر اس بات پر خود کو بدل کر انسانوں پر اعتبار کرنا مت چھوڑ دیجئے گا۔
دراصل انی ہوتا کچھ یوں ہے کہ ہم اپنے آپ میں کچھ پیمانے رکھتے ہیں لوگوں کو ناپنے کے انسانوں کو جانچنے کے پھر اس میں کمی بیشی آ جانے پر ہم اپنے آپکو مورد الزام ٹھہراتے ہیں کہ ہم نے صحیح نہیں جانچا غلط ماپا مگر دراصل غلط وہ پیمانہ ہوتا جو صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے کیلئے ہم نے تھام رکھا ہوتا ہے۔ یہ کام انسانوں کے بس کا ہوتا توجنت کا تصور ہی نہ رہتا۔ ہے نا؟ سب سزا دیتے منصف بن کر سب مجرم ٹھہرتے کسی نا کسی کی عدالت میں۔۔
میں آپکی عدالت میں مجرم ہوں اور اپنی عدالت میں بھی سب قصور میرے نکلتے ہیں سو معافی کا طلبگار ہوں۔ ایک جرم آپکا بھی ہے میں اس پر معافی بھیج رہا ہوں مگر آپکو ملے گی تب جب آپ اپنا جرم جان جائیں گی۔
ہے جن ۔۔

خط پڑھ کر طوبی نے گہری سانس لی تھی۔ناشتے کی میز پر دلاور نے خط لا کر اسے دیا تھا ۔ بچے اتوار کی وجہ سے سو رہے تھے اس نے بھی انکو سونے دیا دونوں میاں بیوی ناشتہ کرنے کیلئے اٹھ گئے تھے۔ دلاور اخبار لینے بیرونی دروازے پر گئے تو چوکھٹ سے اندر انہیں زمین پر پڑا ملا ایک سفید لفافہ۔ لفافے پر نام نہیں تھا سو انہوں نے کھول لیا دو پرچے نکلے تھے انہوں نے تجسس میں پڑھ تو لیا مگر پھر سوچ میں پڑے وہیں کھڑے رہ گئے ۔ طوبی ناشتہ میز پر لگا کر آوازیں دینے لگی تب چونکے۔گہری سانس لیکر کچھ سوچا۔ پھر طوبی کو لفافہ لا تھمایا۔ طوبی نے پوچھا بھی کس کا خط ہے مگر انہوں نے یہی کہا کہ خود پڑھ لو ۔ دلاور بہت غور سے اسکا چہرہ دیکھ رہے تھے
یہ۔خط آپکو کہاں سے ملا؟ ۔ لفافے سے نکلنے والا پرچہ احتیاط سے لفافے میں ڈالتے ہوئے اس کا انداز سرسری سا تھا۔
دروازے پر پڑا تھا۔ تم نے معاف کردیا ہے جن کو؟
دلاور نے بے صبری سے پوچھا۔
ظاہر ہے۔ پتھر دل تو نہیں ہوں۔معاف ہی کرنا ہے ابھی تو غصہ کم ہوا ہے میرا ختم نہیں۔ ہاں مگر اب پہلے جیسا سب کچھ تو نہیں ہو سکتا جب تک میرا دل صاف نہ ہو جائے۔ بھئ ایسی بھی کیا بات تھی کہ جھوٹ پر جھوٹ گڑھو۔ اور بھئی میری بھی غلطی نکال دی بلکہ کرائم یعنی جرم نکال دیا میرا ۔ ہاں بھئ سب صحیح میں غلط ہوں جسکو سادہ سمجھ کر جسکا جو دل چاہے سلوک کرے۔۔
وہ بھنا گئ تھی اسکے آخری جملے پر۔اسکے بھنانے پر دلاور ہنس ہی پڑے۔ جوابا وہ اور خفا ہوئی
ہاں اب یہ رہ گیا کہ آپ بھی مزاق اڑائیں میرا۔ شرافت کا زمانہ ہی نہیں بھئ۔ خیر کب آرہی ہیں یہ لوگ واپس آپ نے پتہ کیا تھانے میں؟ کتنے دن بے چاریوں کو انکے اپنے ہی گھر آنے نہیں دیں گے؟
معاملہ تو نمٹ گیا اب تو آسکتی ہیں یہ لوگ واپس گھر میرا خیال ہے عید کی وجہ سے دیر ہوئی ہے انہیں۔
دلاور لقمہ توڑتے ہوئے بتا رہے تھے
ہممم۔ میں نے غصے میں کل دھیان ہی نہیں دیا فاطمہ عروج واعظہ ان کی بھئ تو دعوت تیار کی تھی اتنا کھانا بچا ہے۔ اگر آج آجاتیں تو انکو گھر ہی۔بھجوا دیتی کھانا پکانے سے بچ جاتیں۔
وہ حسب عادت بڑ بڑا بڑ بڑا کر سوچ رہی۔تھی
دلاور ان سے بے نیاز کسی سوچ میں گم تھے۔
میں چائے لیکر آتی ہوں۔ وہ دم پر رکھی چائے نکالنے اٹھ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد ۔
جاری ہے

Desi Kimchi Episode 25

قسط 25
دھیرے سے دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی اسکے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی۔ واعظہ ابھی بھی بیڈ پر بازوئوں میں سر چھپائے کرسی پر بیٹھی بے سدھ تھی۔ البتہ نور جاگ چکی تھی ۔ بیڈ کرائون سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی مگر آنکھیں بند ہی کی ہوئی تھیں۔۔ ڈرپ ختم ہونے والی تھی۔ وہ ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھتی ڈرپ دیکھنے لگی تو اس نے چونک کر آنکھیں کھول دیں۔
ڈرپ نکال کر عروج نے اس پر نگاہ کی تو اسے منتظر نظروں سے دیکھتا پایا۔
کیسی طبیعت ہے؟ اس نے سرگوشیانہ انداز میں پوچھا تھا جوابا اس نے بس سر ہلا دیا۔
عید کا آدھا دن جیل اور بقیہ آدھا اس وقت ہاسپٹل میں گزر رہا ہو جسکا، اسکا حال پوچھنا نہیں چاہیئے وہ رو ہی دے گا جوابا۔ اسکی آنکھوں کے کنارے سے موٹے موٹے بے آواز بہتے آنسوئوں کی دھار دیکھتے ہوئے اس نے سوچا۔
اس نے متاسف سا ہو کر اسکا ہاتھ تھام لیا۔
اس ذرا سے سہارے نے دل اور کاٹ کے رکھ دیا تھا وہ ہچکیاں لیکر رونے لگی۔۔پھر خیال آیا تو ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر واعظہ کی نیند خراب ہونے کے ڈر سے آواز دبا لی۔
یہ سیہون کھانا لایا تھا گھر سے بریانی ہے پہلے تو مجھے چیک کرانی پڑ گئ باہر مگر خیر ابھی گرم ہے تم نے کھانا ہے تو کھالو بہت سارئ ہے۔
عروج سرگوشی میں کہہ رہی تھی جوابا وہ نفی میں سر ہلاتی رہی بھوک پیاس کچھ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
مجھے کچھ نہیں کھانا پینا۔ اس نے بھی جوابا سسکیاں دباتے سرگوشئ میں جواب دیا۔
تبھی ان دونوں کی سب احتیاط غارت کرتی ہوئی دھاڑ سے دروازہ کھول کر وہ چندی آنکھوں والی جاسوسہ داخل ہوئی۔
آننیانگ ہاسے او۔ ملزمہ کو ہوش آگیا ہو تو کیا ہم اسکی ملاقات گھر والوں سے کروا سکتے ہیں؟ ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔
واعظہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ ان دونوں نے گھور کر اسے دیکھا تھا ۔جوابا وہ سٹپٹا سی گئ۔ صفائی دینے والے انداز میں بولی۔
دراصل ہم حال پوچھنا چاہ رہے تھے ۔ ہم جیل میں کھانے پینے کی ہر سہولت فراہم کر رہے ہیں مگر یہ خود صبح سے شام تک کھانا نہیں کھاتیں نتیجتا آج بے ہوش ہوگئیں ذہنی دبائو اور خوراک کی کمی کے باعث۔ اب انکے گھروالے ایمبیسئ کے رابطہ کرنے پر ملنے آئے ہیں خصوصی اجازت سے۔
اسکی نا سمجھ آنے والی بک بک سن کر ٹپ ٹپ دوبارہ نور نیر بہانے لگی۔
آج آپکا کوئی تہوار بھی ہے شائد۔ ہمیں ایمبیسی کی جانب سے بتایا گیا ہے۔ وہ۔ وہ رکی ۔ پھر اٹک اٹک کر بولی
عادی موبر۔
کیا؟ تینوں اکٹھے بول پڑیں۔ موصوفہ پھر سٹپٹا گئیں۔
عادی مبراک۔
یہ کونسا تہوار ہے ہمارا۔ واعظہ تشویش زدہ ہوئی
مجھے تو نہیں پتہ ورنہ مناتی نا میں ؟ عروج کو تشویش لاحق ہوئی ایسا کونسا تہوار ہے جو انکو خود آج تک پتہ نہ چل سکا۔
کیا کہہ رہی ہے یہ چڑیل۔ عید کے دن بھی مجھے جیل بھیج کر دم لے گئ۔ عروج انکو لکھ دو مجھے کوئی بہت ہی سنگین بیماری ہے یا کہہ دو گرنے سے سر میں شدید چوٹ آئی ہے کم از کم ایک دن تو اسپتال رکھنا ہی پڑے گا ۔۔
بھلے دکھ کا کوئی عالم ہو عید کا دن بے ہوش ہو کر گرنے کے باعث اسپتال میں گزر رہا ہو اسکے پاس نت نئے آئیڈیاز کی کمی نہیں تھی دلگیری سے عروج کا ہاتھ پکڑے کہہ رہی تھی۔
عروج اسے دیکھ کر ہی رہ گئ۔
میں آپکو آپکے تہوار کی مبارکباد دینا چاہ رہی ہوں ۔ اس نے کھسیا کر وضاحت کی ۔
اوہ اچھا۔ عید نام ہے ہمارے تہوار کا ۔ عید مبارک کہتے ہیں ہم آج کے دن ایک دوسرے کو۔
عروج کے دماغ کی گھنٹی بج ہی اٹھی۔
دے دے ۔۔ اس نے زور و شور سے سر ہلایا۔
ایڈ مبرک۔
اف۔ واعظہ نے سر پر ہاتھ ہی مار لیا اس بار۔
ایک اور پیغام ہے آپکی ایمبیسی سے آپکے اہل خانہ تک ہم نے رابطہ کیا ہے۔ وہ آپ سے ملنے آئیں گے۔۔ ابھی تھوڑی دیر میں۔
اسکی بات پر عروج نے چونک کر واعظہ کی شکل دیکھی جس کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑی تھی۔ نور ٹکر ٹکر ان تینوں کو دیکھ رہی تھی۔
وہ لڑکی ان سے بے نیاز اب وہ میسج نکال رہی تھی موبائل میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار یہ عروج اور واعظہ آج گھر نہیں آئیں گی؟
چکر لگاتے موبائل میں گم الف سے وہ جھلا کر پوچھ رہی تھی۔ فاطمہ ٹیرس میں ٹہل ٹہل کر کھانا ہضم کر رہی تھی۔ عزہ اور ہے جن رات ہونے کو آئی تھی بند تھے کمرے میں۔ عشنا کا دور دور تک پتہ نہیں تھا الف البتہ اسکے ساتھ ٹیرس پر موجود تھی۔ ریلنگ سے ٹیک لگائے آرام سے بیٹھی موبائل میں مگن جانے اسے نیا کیا شاک پہنچا تھا۔ بٹر بٹر اسکرین گھو ررہی تھی
صبح سے بھوکے پیاسے دونوں پڑے ہیں عید کے دن۔ اتنا کہا دوپہر کو ابھی رات کو بھی مگر دونوں کا ایک جواب بھوک نہیں۔ بتائو عید کے کتنے منصوبے بنائے تھے یہ کریں گے وہ کریں گے یہاں جائیں گے وہاں جائیںگے۔ سب ختم۔
بھلا بتائو۔
واعظہ آتی دونوں کو کان سے پکڑ کر سیدھا کر دیتی۔ حالانکہ میں بھی ہوں یہاں واعظہ سے کم پرسنیلٹی نہیں میری اور ڈیل ڈول میں بھی برابر ہی ہیں ہم۔
اس نے فرضی ڈولا بنایا۔
مگر میرا کوئی رعب ہی نہیں ہے ۔ واعظہ کونسا انکی امی برابر ہے جو اسکے رعب میں سب آجاتے۔ سمجھ نہیں آتا مجھے۔
دو چکر خاموشی سے لگائے۔۔ پھر شروع ہوئی۔
اور پتہ ہے سیہون اور میری کا بریک اپ کیوں ہوا؟
تیسرے چکر پر تیسرا قصہ شروع کر چکی تھی مگر جواب ندارد
اب تم کیا اتنے غور سے دیکھ رہی ہو۔اس نے آگے بڑھ کر موبائل چھین لیا الف سے۔ ساری گچ پچ چینی کچھ کچھ فیس بک کی چھوٹی بہن جیسی ایپ مگر سب کی سب چینی اشکال۔ چھوٹی چھوٹی آنکھوں والے لوگ اسکی آنکھیں پھیل سی گئیں۔ الف نے سٹپٹا کر موبائل واپس چھینا۔
ویبو؟
فاطمہ کو یقین نا آیا تو تصدیق کرنی چاہی۔
الف نے ہونٹ کاٹ ڈالے۔
ہاں۔ مرا مرا سا انداز
مگر تمہارا کیا کام ویبو پر۔تم اسٹاک کر رہی ہو؟
فاطمہ چیخ ہی تو پڑی۔
ہاں۔ الف نے دانت پیسے۔
مگر کون کسے کیوں؟؟؟۔ یہ چندی آنکھوں والا کون ہے جسے اسٹاک کر رہی ہو وہ بھی ویبو پر جا کر؟؟؟؟؟ اسکی حیرانی کی کوئی انتہا نہ رہی تھی دھم سے اسکے پاس ہی آگری وہ بھئ گھٹنوں کے بل۔۔۔۔ اسکے جواب سے قبل ہی ایک عدد چیخ اسکے اپنے منہ سے برآمد ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اس وقت ایک چینی ریستوران کے باہر کھڑے تھے
چلو۔ اسے باہر جمے دیکھ کر ژیہانگ نے ٹوکا۔ وہ سرجھٹک کر اسکے ساتھ اندر کی جانب بڑھ گئ۔ کونے کی سڑک کنارے شیشے کی دیوار کے ساتھ والی جگہ اس نے منتخب کی تھی۔ ژیہانگ نے آگے بڑھ کر اسکیلئے کرسی کھینچی تھی پھر اسکے بیٹھنے کے بعد ہی خود نشست سنبھالی۔ ایک اسکارف پہنے چندی آنکھوں والی ادھیڑ عمر عورت جس نے لانگ اسکرٹ پر ایپرن باندھا ہوا تھا مسکرا کر جھک کر انہیں نی ہائو کہتی مینیو کارڈ تھما گئ۔ اب یقینا دس پندرہ منٹ بعد وہ اگلا حکم لینے آتی۔
یہاں حلال کھانا تو ہوگا نا؟ مینیو کارڈ کھول کر دیکھتے الف نے پوچھا۔ مینیو کارڈ دیکھنا بے کار رہا ۔ سب کچھ چینی اور انگریزی میں تھا مگر کھانے کے جو نام تھے وہ یکسر اجنبی تھے بلکہ ان تصویروں میں کھانے کے اجزاء پہچاننا بھی نا ممکن نظر آتا تھا۔
یہاں سب حلال ہے۔ ژیہانگ مسکرایا۔
مگر کہیں لکھا ہوا تو نہیں ہے حلال۔ اور اس ریستوران کا نام تو انگریزی میں لکھا بھی نہیں ہے جانے کیا کچھ پکتا ہوگا یہاں۔
اس نے اعتراض جڑا۔
ژیہانگ نے مینیو کارڈ میں ایک جگہ انگریزی میں لکھا نام اسے دکھایا جس پر اسکی نظر پڑی ہی نہیں تھی۔
شومائو سانئین ۔ جسکا لفظی مطلب بنتا ہے فوڈ پانڈا ۔ اس
چینئ ریستوران کا مالک مسلمان ہے اور وہ تمام چینی کھانے سو فیصد حلال اجزا سے بناتا ہے حالانکہ یہاں ذیادہ تر غیر مسلم آتے ہیں مگر پھر بھی یہاں کبھی تمہیں حرام گوشت کھانے کو نہیں ملے گا۔ پورک وغیرہ نہیں رکھتے یہ لوگ۔
ژیہانگ نے وضاحت کی مگر الف کی آنکھیں مزید کھل سی گئیں۔ اور تھوڑا سا منہ بھی۔ کیونکہ۔۔۔ کیونکہ ژیہانگ نے یہ ساری وضاحت اردو میں کی تھی۔
رواں لہجہ مکمل صاف جملہ ۔ وہ خاتون اب آرڈر لینے واپس آچکی تھیں۔ژیہانگ اسکے چہرے کو دیکھ کر دھیرے سے مسکرایا پھر ان خاتون کو آرڈر لکھوانے لگا۔ شاشلک، چینی چکن فرائیڈ رائس اور اسپرنگ رولز۔
خاتون جھک کر سلام کرتئ پلٹ گئیں۔
تم اردو بھی جانتے ہو؟؟؟؟؟۔ الف کا کھلا منہ لمحہ بھر ہی بند ہوا پھر جھٹ اگلا سوال داغ دیا۔
انگریزی میں تم اور آپ میں فرق نہیں ہوتا مگر پھر بھی وہ ہمیشہ سوچ کر محتاط انداز میں جس طرح بات کرتی تھی ایک تکلف ایک گریز محسوس کیا جاسکتا تھا لیکن ابھی تو تکلف کی سب دیواریں گرا کر وہ صرف اسکا مکمل تعارف چاہ رہی تھئ۔ الف حیران تھی مگر اسکی حیرانی دوچند ہونے والی تھی اسے یہ نہیں پتہ تھا۔
ژیہانگ اسکے اتائولے پن پر مسکرا کر سیدھا ہو بیٹھا۔ وہ مسکراتا بہت تھا۔ ایک قطار میں سجے برابر سے موتی جیسے دانت سفید رنگت چندی آنکھیں۔وہ مکمل چینی نقوش کا حامل تھا مگر اردو جانتا تھا مسلمان تھا یہ یقینا حیرانی کی بات تھئ۔
میرا اصل نام ذکریہ ہے اور میرا تعلق چین کے مسلمان کثریتی صوبے شن جانگ سے ہے۔ میرے والد وکیل ہیں والدہ ہائوس وائف۔ مجھے بچپن سے آئیڈل بننے کا شوق تھا سو بیجنگ میں جب ایکسو گروپ کے آڈیشنز کا سنا تو گھر سے بھاگ کر میں بیجنگ چلا آیا۔ میں اور لوہن نے اکٹھے ٹریننگ لی تھی۔ ۔ وہ لمحہ بھر کو تھما تو الف چیخ ہی تو پڑی
کیا ایکسو کا لوہن وہ چینی رکن تمہارا دوست ہے؟
ژیہانگ نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔
تم نے ایکسو کیلئے آڈیشن دیا تھا؟ وائو۔ الف پرجوش سی ہوئی
پھر تم سیلیکٹ نہ ہوسکے اور لوہن ہو گیا؟؟۔ وہ اندازہ لگا رہی تھئ۔
نہیں۔ اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔

ہم دونوں ہی ایکسو گروپ کیلئے منتخب ہو گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نہا کر نکلا تھا۔ بال خشک کرتا جب اپنے ڈورم کے بیڈ پر آکر بیٹھا تو اسکا فون بج بج کے پاگل ہو چکا تھا۔ اکیس مسڈ کالز ۔ پندرہ مسیجز۔ سب کے سب اسکی امی کے۔
میرے بچے جانے کیوں بہت دل گھبرایا ہے بہت برا خواب دیکھا ہے میں نے۔ اپنا خیال رکھنا۔۔
مجھے فرصت ملتے ہی فون کرنا۔۔
بیٹا صدقہ دے دینا یاد سے۔
مجھے پتہ ہے تم نماز پابندی سے پڑھتے ہوگے مگر آج تو ضرور پڑھنا اور دعا کرنا اللہ سے کہ وہ تمہیں ہر آفت سے دور رکھے۔
میرے بچے ماں قربان جائے تمہارے خواب پر تمہارے والد ضرور تم سے تعلق توڑ بیٹھیں مگر وہ بھی بہت اداس ہیں یاد کرتے ہیں تمہیں۔ اللہ کامیاب کرے تمہیں مگر کامیابی ملتے ہی سب سے پہلے باپ کو آکر منا لینا میرے بچے باپ ناراض ہو تو انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔۔
اچھا میں صدقہ خود یہاں دے رہی ہوں تم بس آج نماز پڑھ لینا۔ پڑھو گے نا؟
ایک بار بات کرلو ٹھیک تو ہو نا تم۔
سب پیغامات پڑھتے اسکا دل بھر سا آیا۔ ماں بھی کیا چیز ہے دور کہیں بیٹھی ہے مگر دل اولاد میں اٹکا ہے۔
نماز ۔ اس نے سر کھجایا۔ تین مہینے ہونے کو آئے تھے اس نے نماز نہیں پڑھی تھی۔ وقت ہی نہیں ملتا تھا ساری دوپہر ساری شام بس ںاچنے میں گزرتی نہیں تو آواز کے اتار چڑھائو پر قابو پاتے۔ اسکا گلا بالکل بیٹھ چکا تھا۔ کل ایک کوریا کی کمپنی کے آڈیشن دیئے تھے سوچا تھا آکر نماز پڑھ کر خوب گڑ گڑا کر دعا مانگے گا مگر سارا دن پہلے تیاری پھر آڈیشن میں گزرا دس بجے ڈورم میں واپسی ہو پائی تو بے سدھ سا ہوکر بستر پر گرا اور غافل ہو گیا۔
نماز پڑھ کر دعا مانگوں کہ ایکسو کے آڈیشن میں کامیاب ہو جائوں ؟ اس نے سوچا پھر جھٹ اٹھ کر وضو کر ڈالا۔ واپس ڈورم میں آکر قبلہ رخ چادر بچھا کر کھڑا ہوگیا۔
آج اس نے معمول سے ذیادہ خشوع و خضوع سے نماز پڑھی مانگنا جو تھا خدا سے اور اسکا تو وعدہ ہے جو دل سے مانگو گے دوں گا۔
دونوں ہاتھ پھیلا کر اس نے دعا مانگی
یا اللہ مجھے ایکسو کے آڈیشن میں کامیاب کردے بس اسکے بعد میں کچھ نہیں مانگوں گااپنے لیئے۔ اور ہاں ۔ میرے والدین کو اپنی امان میں رکھنا میں ان سے بہت دور ہو جائوں گا۔
ذکریہ زکریہ تم اور میں آڈیشن میں کامیاب ہو گئے۔
لوہن بھاگتا ہوا آیا تھا اور آتے ہی دروازہ کھول کر چلایا تھا۔ اسکی رنگت تمتا رہی تھی خوشی سے سانسیں پھول چلی تھیں۔ وہ بھاگتا اسکے پاس آیا مگر اسے عبادت میں مصروف دیکھ کر ٹھٹک کر رک گیا۔
دعا مانگتے ذکریہ کی سانس رک سی گئ ۔۔ اور دعا مانگتے لب بھی۔ اب حالانکہ اسکی دعا کے جملے کچھ اور تھے۔ وہ اپنی دادی کی سکھائی دعا کے الفاظ دہرا رہا تھا
یا اللہ مجھے کبھی غافلوں میں سے نہ کرنا مجھے ہدایت کےراستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما میرے مالک۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم دونوں کو اکٹھے ڈیبیو کرنا تھا۔ اب کچھ طے ہوچکا تھا ایک ہفتے بعد ہم نے کوریا کیلئے نکل جانا تھا۔
اس رات جب ایکسو کیلئے معاہدہ کرنے لگے تو ایک بات پر میں چونک اٹھا تھا۔ یوں تو پورا معاہدہ ہی مجھے ایک غلامی کا پروانہ لگا تھا مگر جب میں نے وہ شق پڑھی جس میں معاہدہ ختم ہونے تک مجھے جو بھی کھانا پینا تھا اس کا فیصلہ بھی کمپنی کرتی مجھے کھٹکا گیا۔میں حرام نہیں کھاتا تھا اور میں مسلمان تھا سینکڑوں لوگوں کو ہرا کر اس مقام پر پہنچا تھا ایک میرے لیئے وہ شق بدلنا یقینا کمپنی کو گوارا نہ تھا مگر یہ کونسا بڑی بات تھی۔ میرے منہ میں کچھ زبردستی ڈالا تو نہیں جا سکتا تھا۔
وہ جملے کے آخر میں الف کے انہماک پر تھوڑا سا رکا۔
پھر کیا ہوا۔؟ وہ بے صبری سے بول اٹھی
دوسری شق تھی دن کے کچھ گھنٹے مجھے صرف ناچنا اور گانا سیکھنا تھا۔ میں کوئی بہت مزہبی انسان کبھی نہیں رہا تھا۔نمازیں بھی چھٹ جاتی تھیں مگر نماز کیلئے ایسے کبھی معمول نہ بنانے والا اگلے کئی سال کیلئے اپنا معمول بنانے کے سارے اختیارات کمپنی کو سونپنے والا تھا۔ عجیب بات ہے نا؟ مجھے اس پر بھی اعتراض نہیں تھا۔ میں نے بس لمحہ بھر سوچا تھا اور دستخط کرنے کیلئے قلم اٹھا لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آگئے ۔ میں انکو لیکر آتی ہوں۔ وہ پیغام پڑھ کر انہیں بتاتی باہر نکل گئ۔
کیا کہہ رہی تھی یہ۔ نور کی جیسے چھٹی حس بیدار ہوئی تھی
واعظہ سائیڈ ٹیبل سے ٹھنڈا ہوتا کھانا اٹھا کر کمرے کے کونے میں لگے بنچ پر جا بیٹھی۔ عروج اسکی بے نیازی پر شاباش دے کر رہ گئ۔
بولو نا عروج کیا کہہ کر گئ ہے یہ؟
نور عروج کا بازو ہلا رہی تھی۔ عروج نے ٹھنڈی سانس بھر کر واعظہ کو دیکھا جو
عروج نے ترجمہ کیا تو نور بپھر کر واعظہ کی جانب مڑی
تم سے میں نے کیا کہا تھا کہ میرے گھر والوں کو خبر نا ہو تم نے انکو باقائدہ رابطہ کرکے بلا لیا؟
کیوں کیوں دھوکا دیا تم نے مجھے واعظہ۔ وہ حلق کے بل چلا اٹھئ تھئ۔
نور کیا ہو گیا ہے ۔ ہم اور کیا کرتے تمہارے گھر والوں سے یہ بات کیسے چھپا سکتے تھے؟ واعظہ نا بھی بتاتی تو ایمبیسی سے یہ لوگ خود رابطہ کر چکے تھے۔
عروج نے بپھری ہوئی نور کو کندھے سے پکڑ کر سنبھالنا چاہا۔ واعظہ کو شدید بھوک لگ رہی تھی ٹھنڈی بریانی بھی خوب خشوع و خضوع سے کھا رہی تھی۔
میں یہاں نہیں رہ سکتی میں جا رہی ہوں مجھے نہیں جانا مین کیسے امی کو منہ دکھائوں گی ابو تو جان سےمار دیں گے میں انکا سامنا نہیں کر سکتی۔۔وہ دیوانوں کی طرح مچل کر عروج کی بانہوں سے نکلی ۔۔
نور ہوش کرو بات تو سنو۔ عروج اسکی جانب لپکی مگر
وہ بری طرح بپھر کر دروازے کی جانب بھاگ اٹھی ۔۔ عروج نے اسے اب روکنے کی کوشش نہ کی۔۔ باہر پولیس کا پہرہ تھا وہ بھاگ کے جا بھی کہاں سکتی تھی۔۔ نور نے دروازہ کھولا تو سامنے موجود شخصیت کو دیکھ کر اسکے جسم سے جیسے جان ہی نکلتی چلی گئ۔
اسکے ابو سامنے کھڑے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبھئ سیہون اتنی آسانئ سے آگیا تھا تم لوگوں کے اس دو ٹکے کے شو میں۔دوست جو تھا ژیہانگ کا۔۔ فاطمہ گھٹنا سہلاتے سر ہلا تے سب سمجھ گئ تھئ۔ الف نے بری طرح تپ کر چپت لگا دی اسکے سر پر۔
خبردار جو ہمارے شو کی شان میں گستاخی کی۔ الف کا انداز دھمکانے والا تھا۔
اف اتنے ننھے وجود میں اتنی جان کہاں سے لاتی ہو ۔ فاطمہ بلبلا کر جوابئ حملہ کرتے ہوئے لات ہوا میں ہی روک کر کہنے لگی۔ ایک تو یہ بندہ کبھی تائیکوانڈو کی ٹریننگ نہ لے کم از کم۔ ہاتھ کی بجائے ٹانگ پہلے اٹھتئ تھئ۔
تم لاتیں کیوں مارنے پر تل جاتی ہو ۔۔ اسکی ٹانگ کو گھورتے وہ حفظ ماتقدم کے طور پر اسکی رسائی سے دور ہو کر چڑ کربولی تھی۔
یہ تکنیکی خرابی پیدا ہوچکی ہے مجھ میں ۔۔ وہ ڈھٹائی سے کہتی ریلنگ کا سہارا لیتے ہوئے اٹھنے لگی۔ کپڑے جھاڑ جھاڑ کر بغور الف کی شکل دیکھی۔ اسکے چہرے پر خطرناک سی سنجیدگی تھئ۔
ویسے اس قصے میں مجھے ژیہانگ کو ویبو پر جا کر اسٹاکنے کی تک سمجھ نہیں آئی۔
یار بہت دکھی کہانی ہے ذکریہ کی ۔ مجھے سچ مچ بہت افسوس ہوا سن کے۔
الف قصہ پورا سنانا چاہ رہی تھی ۔
ہاں ایکسو بینڈ کا حصہ نا بن سکا بے چارہ دنیا کا بدقسمت ترین انسان ہوگا وہ تو۔۔ فاطمہ کا انداز سراسر مزاق اڑانے والا تھا۔
بی ٹئ ایس ہوتا تو بات بھئ تھئ۔
اس نے کہتے ہی زبان دانتوں تلے دبا لی۔ اتنی مشکل سے عید کے چکر میں بنا کوئی مزید ڈرامہ لگائے دونوں نے پچھلی ساری باتیں بھلا کر بات چیت شروع کر لی تھی اب دوبارہ وہ نادانستگی میں سہی اسے چھیڑ بیٹھی تھی۔
فاطمہ میں نے تم سے ایکسو کے پیچھے لڑتے ہوئے اگر کوئی ایسی بات کی ہو جو تمہیں دل پر لگی ہو تو مجھے معاف کردینا۔ مجھے جانے کیا ہوا تھا اس دن ۔ مجھے فین وار بالکل پسند نہیں رہی کبھی بھی اب تو بالکل بھی نہیں کم از کم کے پاپ بینڈ کے پیچھے میں نہیں۔ لڑنا چاہتی ہوں۔
الف اسکے انداز کے بالکل برعکس سابقہ انداز میں مخاطب تھی
آہ۔ وہ سٹپٹائی۔ میں بھی اوور ری ایکٹ کر گئ تھی۔ ۔ بی ٹی ایس ٹھیک ہے بہت پسند مجھے مگر اسکا یہ مطلب تھوڑی انکے پیچھے لڑتی پھروں۔ میری بھی غلطی تھی۔
چھوڑو بس ختم کرو بات۔
وہ دانستہ رخ پھیر گئ۔
سورج کل نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتا کیا۔ سر کھجاتے وہ سوچ کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر بات کہیں ختم ہوئی پیچھے رہ گئ۔ باپ کی شکل دیکھتے ہی بت بن جانے والی لڑکی کو باپ نے آگے بڑھ کر گلے سے لگا لیا تھا۔ بیٹی کی شکل غماز تھی اس پر کیا کچھ بیت چلا ہے۔ باپ کے سینے سے لگتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھئ۔
ایمبیسی سے آئے دو مزید افراد ایک وکیل اور وہ پولیس افسر سب کمرے میں داخل ہوئے تو وہ اور عروج دونوں کمرے سے نکل آئی تھیں۔۔۔
مت روئو بیٹا میں آگیا ہوں نا سب سنبھال لوں گا۔
اسکے والد کے جملے دروازہ بند کرتے ہوئے انکے کانوں میں پڑے تھے۔
دونوں کیفے کی جانب بڑھ گئیں۔ کیفے میں اس وقت ذیادہ رش نہیں تھا۔ سو وہ آرام سے کونے والی میز کرسی کی جانب بڑھ گئیں۔
کافی پیئو گئ یا کولڈ ڈرنک؟ عروج نے میزبانی نبھائی۔
کافی۔ واعظہ جمائی لیتے ہوئے میز پر سر رکھ کر آرام سے بیٹھ گئ۔
کافی بنا کر عروج اسکے اور اپنے لیئے سینڈوچزلے آئی تھی۔
بریانی ہی اٹھا لاتے ہم حماقت ہوگئ ایک اور ہم سے۔ واعظہ نے سینڈوچ فورا اٹھایا تھا۔ عروج ادھر ادھر دیکھ کر اطمینان کرتے ہوئے چہرے سے ماسک اتارنے لگی۔ واعظہ نے کافی کا بھی جھٹ گھونٹ بھرا تھا۔ انداز میں اتنی بے صبری تھی کہ اسے ہنسی ہی آگئ۔
کھا تو ایسے ہبڑ تبڑ رہئ تھیں کہ مجھے لگا تھا کہوگی کہ میں نے کھا لیاتھا تم ہی کھائو سینڈوچز۔ عروج نے جتایا تو وہ ڈھیٹ سی بن گئ۔
ہاں تو ہبڑ تبڑ دو چار لقمے ہی لیئے تھے صبح کا ناشتہ کیا ہوا ہے اب جاکے کھانا نصیب ہوا تھا۔ ویسے بریانی تو نہیں کھا رہے ہونگے وہ لوگ اٹھا لائوں۔؟
واعظہ خیال آتے ہی جزباتی ہو کر اٹھنے کو تھی کہ عروج نے ہاتھ پکڑ کر روکا
بیٹھو آرام سے۔ پہلے کتنے فارم بھروا کر تلاشی لیکر تمہیں اندر جانے دیا تھا اب تھوڑی جانے دیں گے۔ ملزمہ ہے وہ ۔ صحافی بو سونگھتے پھر رہے وہ لوگ جتنے محتاط رہیں کم ہوگا۔
عروج کی بات عقل میں گھسی۔ منہ بنا کر سینڈوچ نگلنے لگی۔
عید کے دن سینڈوچ کون کھاتا ہے۔ اس کا دکھ عروج پر تھا۔
عید کے دن انسان ویسے اپنے گھر بھی جاتا ہے تم کیوں نہیں گئیں؟
عروج نے یونہی پوچھا تھا ۔۔وہ اداس سی ہوگئ تھی
سب پاکستان گئے ہوئے ہیں۔بھائی بھابی بچے سب۔
تم بھی چلی جاتیں۔ عروج حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی۔
کیسے چلی جاتی ؟ جس دن عزہ اغوا ہوتے بچی اس دن رات کی فلائٹ تھی میری۔ وہ مس ہوئی پھر پے در پے ایسے حالات پیدا ہوئے کہ جا نہیں سکی۔ اب تو مما بھی بات نہیں کر رہیں فون نہیں اٹھا رہیں میرا۔ سب ناراض ہیں مجھ سے۔
واعظہ اداس سے انداز سے کہہ رہی تھی
تم پاکستان کیوں نہیں چلی جاتیں؟ یہاں کونسا بہت کامیاب کیریر ہے تمہارا ایم بی اے تک چھوڑ بیٹھی ہو پاکستان جائو اور۔۔
ہر پاکستانئ کی طرح اگلا اسکا جملہ وہی پسندیدہ ترین والا تھا جس کی توقع میں واعظہ نے دانت کچکچا کر گھورنا شروع ہی کیا تھا کہ پھولی سانسوں کے ساتھ وہی پولیس والی بھاگتی انکے پاس آئی ۔ دونوں ہاتھ میز پر رکھ کر جھک کر سانسیں بحال کرتے ہوئے وہ ہنگل میں بولی
شکر ہے آپ دونوں مل گئیں پورے اسپتال میں آپ دونوں کو ڈھونڈتئ ہوئی یہاں آئی ہوں۔
کیوں کیا ہوا خیریت۔۔
دونوں گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔
آندے آندے۔
اس نے دونوں ہاتھ ہلا۔ہلا کر انہیں کہنا چاہا۔۔۔
کیا ہوا نور خیریت سے تو ہے؟
نور ٹھیک ہے؟
دونوں اکٹھے ہنگل میں چیخی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختتام ۔۔۔۔۔
جاری ہے۔