قسط27

وہ سب تیار ہو کر سیہون کے کمرے سے ملحقہ غسل خانے کے دروازے پر کھڑی واعظہ کے نکلنے کا انتظار کر رہی تھیں
اللہ کب سے تیار ہو کر کھڑے ہیں تمہارا ناشتے پر انتظار کرتے رہے تم کہاں چلی گئ تھیں صبح صبح۔۔
عزہ نے دہائی دی
تم یہاں باتھ روم میں گھسی بیٹھی ہو۔ نکل بھی آئو اب
عروج جھلائی
تو اور کیا ہم سب تیار بھی ہوگئے ہیں آج ہم نے گھومنے جانا تھا یاد آیا؟؟؟؟
الف نے دروازے پر طبلہ بجاتے ہوئے کہا تھا۔
یار عشنا سے بات ہوئی کہاں ہے کل گھر بھی نہیں آئی؟
شاور گرنے کی آواز کے ساتھ ہلکی سی واعظہ کی آواز آئی
ہاں کہہ رہی کہ دوست کے ہاں رکی ہوئی ہے رات کو بتانا بھول گئ تھئ۔
الف نے لفظ بہ لفظ دہرایا جو اس نے پیغام میں لکھ بھیجا تھا
تبھی باتھ روم کا دروازہ کھول کر واعظہ
تولیہ سے سر رگڑتے ہوئے دانستہ ان سب کو نظر انداز کرتی باہر نکل آئی۔ تینوں نے بھنا کر اسے گھورا پھر پیر پٹختی اسکے پیچھے لائونج میں چلی آئیں۔
نہیں جانا تو صاف کہہ دو۔
تینوں کے منہ پھولے ہوئے تھے۔ فاطمہ کی تیاری اب جا کے مکمل ہوئی تھی وہ بھی اپنے کمرے سے نمودار ہو ہی گئ۔
ہم واپسی پر اپنے گھر جائیں گے سو تم لوگ اپنا سامان سمیٹ لو جو بھی ہے یہاں۔
واعظہ فریج سے پانی نکال کر پی رہی تھی انہیں باہر آتے دیکھ کر ہدایت کردی۔
تھا کیا ہمارے پاس کپڑے ہی پہنے ہوئے تھے خالی ہاتھ یونیورسٹی گئ ہوں بس عید کے کپڑے ہی ہیں انکو شاپر میں ڈال لیتے ہیں۔
الف نے حسب عادت تفصیل سے بتایا۔ واعظہ نے ترچھی نگاہ سے دیکھا
وہ کان دباتی کمرے میں گھس گئ
ہے جن کہاں ہے؟ صبح سے دکھائی نہیں دے رہا۔ عروج کو۔تجسس ہوا۔ بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے اسکا انداز سرسری سا تھا
تم لوگوں نے کچھ سمیٹنا ومیٹنا نہیں ؟ بار بار سیہون کو تنگ تھوڑی کرنا چاہیئے خاموشی سے بے چارہ ہفتہ ہونے کو آیا ہمیں برداشت کر رہا ہے تو ضروری ہے ہم اسکی مروت رخصت کرکے ہی دم لیں۔
واعظہ ایکدم سے بگڑ کر بولی۔
ہائیں تمہیں کیا ہوا ہے۔ عزہ اورعروج دونوں نے کورس میں کہا تھا
مجھے کیا ہونا تم لوگوں کی سستی پر غصہ آرہا میرا انتظار کرنے کی بجائے کم از کم سامان ہی سمیٹ لینا تھا اب گھنٹہ اور چاہیئے ہوگا تم لوگوں کو۔ حد ہی ہے۔
وہ سابقہ انداز میں ہی بولی۔
اوئے۔ عروج کو اپنی شان میں گستاخی محسوس ہو ہی گئ۔ تڑپ کر پنجے تیز کرنے چاہے۔
یہ کس طرح بات کر رہی ہو خیر تو ہے؟
اسے واقعی حیرت ہوئی تھی۔
تم تو اپنا سامان سمیٹ لو۔ وہ اسکی بات یکسر نظر انداز کرکے عزہ سے مخاطب تھئ ۔ رخ کمرے کی جانب تھا بیچ میں ذرا کی زرا رک کر عزہ کو کہا تو اس نے جھٹ اثبات میں سر ہلایا اور اسکے پیچھے ہولی
دیکھو کیسے ان سنا کیا اس نے یہ عزہ وغیرہ نے بات سن سن کر اسکو سر پر چڑھا لیا ہے ۔ وہ پلٹ کر اب تک۔خاموشی سے کھڑی فاطمہ سے شکایتی انداز میں بولی۔
بتائو عزہ وغیرہ کی۔طرح مجھ پر۔یعنی مجھ پر رعب جھاڑ گئ؟
اسے یقین نہیں آیا تھا ابھی تک۔ فاطمہ نے خاموش رہنے کو ہی ترجیح دی اور اپنے لیئے کافی بنانے چلدی۔ ایک گھنٹہ تو کم از کم انہیں لگنا ہی تھا اب۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب بیچ دوپہر میں لوہتے ورلڈ کے دروازے پر کھڑی تھیں۔22 ڈگری پر جہاں کوریائی گرمی منا کر گھروں میں چھپ بیٹھے تھے یا واٹر سلائڈز کے مزے لینے لوہتے ورلڈ کی مصنوعی جھیل میں گھسے تھے وہاں پانچ لڑکیاں چہلیں کرتی پھر رہی تھیں۔ سب سے پہلے جا گھسیں جھولوں میں ۔
خوب تپتے جھولوں میں گھوم گھام کر چکر کھا لیئے انگنت تصاویر۔ لوہتے ورلڈ کے ریستوران میں کھانا کھانے کا مطلب باقی مہینہ بنا کھائے گزارنا تھا سو دو تین گھنٹے وہاں برباد کرنے کے بعد وہ سب سب شرافت سے واپسی کی راہ۔لینے لگیں۔ عزہ کو ابھی بھی چکر آرہے تھے تو فاطمہ کا سر گھوم رہا تھا۔ جھولوں پر خوب شور مچانے والی عروج اسوقت تازہ دم تھی۔قریبی ریستوران سے کھانا پیک کروا کر وہ سیدھا گھر چلی آئیں۔ ہفتے بھر بعد گھر آنے کا احساس ہی خوش کن تھا۔
واعظہ نے دروازہ کھولا تو وہ سب اسکے پیچھے گھسی چلی آئیں۔ جتنی تیزی سے گھسی تھیں اتنی تیزی سے پلٹ کر باہر بھاگیں۔ واعظہ ناک بند کرتی لائونج کی کھڑکیاں کھولنے لگی۔ پیڈسٹل چلایا ایگزاسٹ فین چلایا۔ اندر بدبو کے جھونکے ختم تو نہیں ہوئے مگر کم ضرور ہو گئے تھے۔ بدبو کا منبع تھا۔۔خون۔ جو ٹھیک ٹھاک سڑ چکا تھا۔
واعظہ لائونج کے بیچوں بیچ کمر پر ہاتھ رکھے کھڑی روہانسی سی ہوئی گھر کا جائزہ لے رہی تھی۔ عروج ، عزہ الف اور فاطمہ دھیرے دھیرے راہداری میں آگے بڑھ آئیں اوپن کچن کی بہرونی دیوار کی آڑ سے اندر جھانکنے لگیں۔ واعظہ انہیں گھور کر رہ۔گئ۔
وہ طوبئ آپی نے چھری پھیر کر جیسے ہی مرغی کو پانی پلانا چاہا وہ انکے ہاتھ سے نکل گئ۔ ادھ کٹی گردن کے ساتھ بھی جانے کہاں سے اس میں اتنی جان آگئ تھی کہ پورے اپارٹمنٹ میں اڑتی پھری۔
عزہ نے سر جھکا کر بتایا۔ اور دیوار سے ہٹ کر اندر لائونج میں چلی آئی۔ اسکی ہمت کو داد دیتی باقیوں نے بھی پیروی کی۔ کھانے کے شاپر فاطمہ کے پاس تھے انہیں کچن کائونٹر پر ٹکاتے ٹکاتے رک کر اندر چولہے کے پاس رکھنے لگی
وہ سب لائونج میں کھڑے گھر کا جائزہ لے رہے تھے۔کچن کے کائونٹر سے لائونج کے صوفے تک گاڑھا گاڑھا خون پھیلا تھا وہاں سے شائد مرغی نے اپنے پرانے مسکن واعظہ کے کارٹن پر چھلانگ لگائی سو خون کے چھینٹے جا بجا راہداری کی دیواروں پر بھی پڑے تھے۔مرغی کو تھامنے کی کوشش میں پوری راہداری کو خون سے سرخ کیا ہوا تھا جس سے پھسل کر طوبی کے شوہرکمر میں چک پڑوا بیٹھے
امیوزمنٹ پارک میں چہلیں کرنے کے بعد کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ صفائی کر سکے مگر ان میں سے کسی کی بھی بے چارگی سے بھری شکل دیکھے بنا واعظہ کمرے میں گھس چکی تھی
آپریشن صفائی شروع ہونے کو تھا۔
مگر اپنے نئے کپڑے برباد کوئی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
سب نے گہری سانس بھری اور جھٹ کپڑے بدل کر باہر آئیں۔ واعظہ نے بالٹی بھر کر لائونج میں لا رکھی تو عروج وائپر اور پوچھا اٹھا لائی۔ عزہ اور الف دیوار پر سے خون صاف کرنے پر معمور ہوئیں تو فاطمہ کچن صاف کرنے لگی۔ عروج اور واعظہ نے لائونج دھو ڈالا۔ صوفے پر پاکستانی عادت کے باعث چادر بچھا رکھی تھی سو اسکی بچت ہو گئ نئی چادر بچھا کر لائونج کا کارپٹ اٹھا کر گیلری میں رکھا اسکو کل دھونے کا ارادہ تھا۔ منے لائونج میں چادر بچھا کر عزہ اور الف نے کھانا چن دیا ۔ تھک کے چور ہونے کے بعد کھانا ملا تو خوب مزے۔لیکر سیر ہو کر کھایا ان سب نے۔
یار پلائو تھوڑا سا ہے جن کے لیئے بھی بچا لو وہ باہر کھانا نہیں کھاتا۔
عزہ نے فکر کی تو چاول کی طرف ہاتھ بڑھاتی الف نے سر ہلا کر روٹی اٹھا لی۔
ہے جن کے لیئے کھانا مت بچائو وہ گائوں چلا گیا ہے۔
واعظہ نے پانی کا گلاس اٹھاتے ہوئے سرسری سے انداز میں کہا تھا
ہیں اچانک کیوں؟ عروج حیران ہوئی
کب آئے گا واپس۔ عزہ بے چین۔۔ الف چیخ ہی تو پڑی
مل کے تو جاتا اسکے گائوں سے میں نے ہانجی ( سلک کے ہاتھ والے پنکھے)منگوانے تھے اتنے خوبصورت تو یہاں ملتے ہی نہیں۔ اس نے بتایا تھا اسکی دادی خود بناتی ہیں
تم نے کیا کرنے تھے ہانجی؟ فاطمہ حیران ہوئی
یار وہ کام آجاتے ہیں۔ وہ گڑبڑا سی گئ
کب تک آئے گا واپس ؟ مجھے اس سے بات کرنی تھی ہم میں تلخ کلامی ہوگئ تھئ۔ میں نے سوچا تھا صبح بات کروں گی اس سے۔ اور ہم نے طوبی آپی کو مل کے منانا بھی تھا
کب تک آئے گا واپس بتا کے تو گیا ہوگا نا
عزہ واعظہ کا بازو ہلانے لگی
ہاں بتا کے گیا ہے کہ ۔ واعظہ کو سمجھ نہ آیا کس طرح کہے۔تو چپ سی ہو کر ہونٹ کاٹنے لگی
کب آئے گا؟ الف سے رہا نا گیا
کبھی واپس نہیں آئے گا۔
اس نے کہہ ہی دیا۔۔
کیا؟ وہ سب چیخ ہی تو پڑیں۔
کیوں؟ ایسے کیسے؟
اسے روکا نہیں تم نے؟ فاطمہ نے واعظہ کی آنکھوں میں جھانکا۔
بہت روکا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو پھسل آئے۔
نہیں رکا۔ کہتا ہے کچھ عرصہ اکیلے رہنا چاہتا ہے۔ اس نے اپنا تبادلہ بھی گائوں کے اسکول میں کروادیا ہے۔
وہ بہت پریشان تھا فاطمہ۔
وہ رو ہی پڑی۔ عروج اور فاطمہ تڑپ کر اسکی۔جانب بڑھیں
فاطمہ نے اسکو اپنے ساتھ لگا لیا تو وہ گھٹ گھٹ کر رونے لگئ۔
میری غلطی ہے اسے ہاتھ تھام کر گڑھے سے نکالتے نکالتے اسے واپس اسی میں دھکیل دیا۔ مجھے اس کو یہاں لانا۔نہیں چاہیئے تھا۔
وہ بلکتے ہوئے کہے جا رہی تھئ۔ اسکی۔بات انکے پلے نہیں پڑ رہی تھی مگر اسکا یوں رو پڑنا انکے لیئے بے حد اچنبھے کا باعث تھا۔ وہ اور عروج ایک دوسرے کو دیکھ کر۔رہ۔گئیں
میری وجہ سے ہوا نا؟ مجھ سے خفا ہوکر چلا گیا۔۔
عزہ بھی جیسے رونے کو تیار تھی۔ اسے گلٹ ہو رہا تھا
اب تم نہ رونے لگنا۔ الف کے کہنے کی دیر تھی وہ بے تحاشہ رو پڑی
میں نے اسے کیا کچھ نہ کہہ دیا۔ ہچکی۔
جبھئ ناراض ہو کر چلا گیا۔۔ چھوٹا سا تو ہے کیسے رہے گا اکیلا
وہ سچ مچ بڑی بہنوں کی۔طرح پریشان ہو رہی تھی۔
واعظہ کہاں ہے اسکا گائوں ہم جا کر اسے منا لیں گے۔ ایسے چھوٹے موٹے جھگڑے کہاں نہیں ہوتے مت روئو۔
فاطمہ نے تسلی دینی چاہی۔
میں سوری کر لیتی ہوں اس سے ۔۔ عزہ واعظہ کے قریب کر بولی
آنسوئوں سے تر چہرہ واعظہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
وہ بڈھسٹ ہے بڈھسٹ رہے جو کھانا پینا ہے کھائے پیئے ہم نہیں ٹوکیں گے اسے اس سے کہو واپس آجائے۔ ہم طوبی سے بھی مل کر بات کریں گے۔
عروج نے اپنے تئیں معاملہ نپٹانا چاہا۔
ہاں تو اور کیا۔ ہم سب نے جھوٹ بولا ہم سب اکٹھے طوبی کو منائیں گے تو مان جائیں گی وہ بھی۔ الف نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
واعظہ اسے فون کرو نا میں خود بات کرکے معزرت کر لیتی ہوں۔ آنسو پونچھتے عزہ منمنائی۔ ان سب کو دیکھتے واعظہ کے آنسو تھمنے لگے۔ کیا کچھ نا تھا ان کے چہروں پر محبت فکر پریشانی جیسے گھر کا کوئی فرد کہیں چلا گیابنا بتایے اور اسے ہر صورت واپس لانے کیلئے سب گھروالے مصمم ارادہ کر یں۔
تم۔سب اس سے محبت کرنے لگی ہو نا۔
اس نے یاسیت سے پوچھا۔
ہاں تو اتنا تو کیوٹ سا پلا پلایا بھائی ملا ہے ہمیں۔ فاطمہ ہنسی
دن میں دس بار بھی کوئی چیز منگواتی تو فورا لا کر دیتا تھا ۔ عروج ہنس کر بولی۔ وہ وقت اسکی نظروں کے سامنے آیا جب سینی ٹائزر ، کریم شیمپو سب ابیہا واعظہ بے گھر افراد میں بانٹ آئی تھیں

میں نے سچ مچ اتنا سلجھا ہوا۔ہائی اسکولر آج تک نہیں دیکھا کوریا تو کوریا پاکستان میں بھئ میرے کزنز تو پھدکتے پھرتے تمیز سے بات کرنا محال۔ فاطمہ نے ناک چڑھائی
واعظہ فون کرو نا اسے۔
عزہ نے کہا تو وہ اسے دیکھ کر رہ گئ
اس نے فون نمبر بھی بدل لیا ہے۔ اور وہ تم سے ناراض بھی نہیں ہے عزہ۔
پھر کیوں چلا گیا ایسے۔ وہ بھرائے ہوئے انداز میں پوچھنے لگی
ان سب کے چہروں پر پریشانی تھی خیال تھا فکر تھی انہیں دیکھتے دیکھتے اسکی ذہنی رو بہکی
تم اتنے گندے اور نیچ ہوگے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی
عروج نے نفرت سے منہ پھیرا
تم جیسے انسان کو میں نے بھائی مان لیا مجھے سوچ کر شرم آتئ ہے۔ عزہ نفرت سے پھنکاری
نکل جائو یہاں سے آئیندہ شکل بھی مت دکھانا اپنی
نکلو جائو۔
ہے جن گھٹنوں کے بل بیٹھا رو رہا تھا
مجھے معاف کردیں نونا میں نے اپنی اصلیت چھپائی آپ سے۔
کوئی معافی نہیں مل سکتی تم جیسے دھوکے باز کو
فاطمہ گرجی
اور تم واعظہ تم نے ایسے انسان کو لا کر ہمارے بیچ کھڑا کر دیا جو۔
فاطمہ عزہ الف نور سب اسکی جانب نفرت سے گھورتی مڑی تھیں۔
واعظہ بولو نا ۔ عزہ نے اسکا کندھا ہلایا تو وہ چونک سی اٹھی
کیوں چلا گیا وہ۔ ؟؟؟
ہے جن کی منہ بولی بہنیں اسکے لیئے فکرمند تھیں۔مگر ہے جن کا سچ جان کر کیا وہ یہی کرتیں۔
اس نے سر جھٹکا
وہ کچھ عرصہ اکیلے رہ کر خود کو سنبھالنا چاہتا ہے۔ تم سب دعا کرنا اسکیلئے وہ سنبھل جائے گر نا پڑے۔ خود سے لڑتے
واعظہ دھیرے سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی
صبح جو بھی سب سے پہلے اٹھے مجھے بھی اٹھادے۔ وہ کہہ کر رکی نہیں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ
کوئی تو بات ہے لغت رو پڑی۔
الف نے خیال ظاہر کیا
یار عادت سی ہوگئ تھی ہمیں ہے جن کی کیسے رہیں گے
عروج نے ٹھنڈی سانس بھری
یاد ہے پہلی بار زخمی سا جب آیا تو عزہ تو اسے بھوت ہی سمجھی تھئ۔
فاطمہ نے کہا تو عزہ کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ آگئ
اور جھٹ بھائی بھی تو بنا لیا تھا میں نے۔ تب تو صرف کہا ہی تھا مگراس نے سچ مچ بھائی ہی بن کر دکھایا۔ وہ ملول سی ہوگئ تو الف نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
منا لائونج منا صوفہ خالی خالی لگ رہا تھا۔
عزہ کو چاکلیٹس یاد آئیں جو وہ اپنی نونا کیلئے روزانہ لاتا تھا۔ کھٹا چونا لیموں کا شربت چکھ کر آنکھیں میچتا
الف کی باری پر چپکے سے سارے برتن دھوتا اور الف کائونٹر پر بیٹھی باتیں بگھارتی
چاول کھاتے اچھو ہو جانا اور ان سب کا پریشانی سے اسکی کمر مسلنا بخار میں اسکو اٹھا کر کمرے میں لے جانا
تو فاطمہ اور الف کی لڑائی میں بیچ بچائو کراتا، الف کے پروگرام میں لمبے لمبے فون آوازیں بدل بدل کر کرتا
ہے جن کتنی یادیں چھوڑ گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حسب معمول تھی۔
عروج عزہ الف کی باتھ روم پر لڑائی ہورہی تھی۔ عروج سب سے پہلے اٹھ کر باتھ روم بھاگی تھی۔ الف اور عزہ اسکی پھرتی ملاحظہ کرتی پہلےتو دنگ رہ گئیں پھر بھاگ کر دروازے سے چپک کر سخت سست سنانے لگیں وہ بھی کان بند کیئے فریش ہورہی تھی ۔ فاطمہ اور واعظہ لمبئ تانے دوسرے کمرے میں سوئی پڑی تھیں
عروج کے نکلتے ہی عزہ الف کو جھکائی دیتے باتھروم گھس گئ تو الف نے موٹی والی گالی دی
عروج ہنس پڑئ ۔
واعظہ کے کمرے میں چلی جائو
بال تولیہ سے رگڑتے عروج نے مشورہ دیا تو وہ اسے گھورتی پیر پٹختی چل دی
اسے اٹھا بھی دینا کہہ کر سوئی تھی کہ اٹھا دینا صبح مجھے۔
پیچھے سے ہانک لگائی۔
الف یقینا اتنئ احمق نہیں تھی کہ اپنے باتھروم کی ریس میں ایک بندہ اور شامل کر لیتی سو آرام سے باتھروم گھسی نہائی تیار ہو کر گنگناتے نکلی اور بھول بھی گئ عروج کی ہدایت۔ فاطمہ اور واعظہ گوڑ سہیلیوں کی طرح لپٹی بے خبر سو رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا یونہی مزاج اچھا تھا صبح ہی صبح گنگناتے ہوئے حاضری لگوائئ وارڈ کا چکر لگایا۔ اسکے وارڈ میں داخل ہوتے ہی لمحہ بھر کو خاموشی چھائی۔
مستقل نقاب ہونے کے باعث اسکی مسکراہٹ تو انکی نگاہوں سے اوجھل رہتی تھی مگر اسکا نرم۔انداز مریضوں کو گرویدہ کر دیتا تھا۔ وہ مسکرا کر اس آٹھ سالہ بچے کو آننیانگ کہتی اسکی فائل دیکھنے لگی۔ بچہ سیڑھیوں سے گر پڑا تھا کل سے پلستر چڑھا تھا اسکی ٹانگ پر تفصیلات پڑھتےاسے اپنے پیچھے کھسر پھسر سی محسوس ہوئی۔ اس نے یونہی پلٹ کر پیچھے دیکھا تو وارڈ کے سب مریض اسکو ہی دیکھ رہے تھے۔ اسکے مڑ کر دیکھتے سناٹا سا ہوگیا۔ اس نے کندھے اچکائے بچے کی دوائیں دیکھیں۔
بچہ ماں کے کان میں گھسا
وہی والی نونا۔
ماں نےاسے چپ کرنے کا اشارہ کرتے چور سا ہو کر عروج کو دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔متوجہ ہونے پر جھک کر آننیانگ کہتی وہ آگے بڑھ گئ۔
پھر اگلا بستر اس سے اگلا۔
سب اسے کچھ ذیادہ ہی غور سے دیکھ رہے تھے وہ سٹپٹا کر باتھ روم چلی آئی۔ آئینے کے سامنے نقاب ہٹا یا۔
لپ اسٹک ہی لگائی ہے آج میں نے نئی۔ ماسک سے آر پار نظر آرہا کیا؟ ویسے کچھ ذیادہ ہی جچ رہی ہوں میں۔
وہ غور سے خود کو دیکھ رہی تھی۔ چہرے سے نگاہ نیچے کی۔ لانگ گرے ٹاپ گرے ہی۔جینز اور لائٹ گرے پرنٹڈ شرگ اور لمبا سا اسکارف ۔ یہ اسکے وہی کپڑے تھے جو اس نے امیوزمنٹ پارک میں جاتے وقت کل پہنے تھے۔ بہت ذیادہ تو نہیں مگر کچھ شکنیں آچکی تھیں۔
ہاں کپڑے۔ کل سیدھے کر کے رکھ تو دیئے تھے تاکہ دوبارہ استری نا کرنے پڑیں۔ پھربھی شکنیں پڑ گئیں۔ اسی لیئے گھور رہے ہونگے بیوٹی کاںشسس۔
وہ بڑ بڑا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلین وہایئٹ شرٹ شکنوں سے پر تھی ساتھ گریبان کا بٹن بھی ٹوٹا ہوا تھا۔ گرے پینٹ اتنی ہی جما کے استری ہوئی وی تھی کہ کریز ہلی بھی نا ہو۔ بال نک سک سے تیار جیل لگے ہوئے چم چم کرتے جوتے۔ عجیب ڈب کھڑبہ منظر تھا نگاہوں کے سامنے۔الف کے جو چہرے پر تاثرات اسے دیکھ کر آئے تھے ژیہانگ نے بے ساختہ اپنی در آنے والی مسکراہٹ دبائی۔ وہ جتنا بدمزا منہ بنائے کھڑی تھی اسے دیکھ کر اسے اتنا ہی مزا آگیا تھا۔
انکوفنکشن ایٹی کیٹس ٹریننگ کیلئے آج صبح صبح اسٹوڈیو بلایا گیا تھا۔ الف خود نک سک سے تیار تھی بلو جینز نیوی بلو لانگ ٹاپ ساتھ نیوی بلیو اسکارف سر پر لپٹا ہوا نیوی بلیو شیفون کا دوپٹہ۔ وہ لابی میں کھڑئ اسکا ہی انتظار کر رہی تھی
شرٹ استری کرتے ہوئے بجلی چلی گئ تھی کیا؟
اس نے تیکھی نگاہ ڈال کر پوچھا تھا
اسکے طنز پر ژیہانگ زور سے ہنسا
نہیں بجلی جانے کی خوش قسمتی بس بے چارےپاکستانیوں کے نصیب میں ہے یہاں تو ہر وقت دن رات آتی رہتی ٹک ٹک ٹک ٹک۔
معصوم سی شکل بنا کر وہ اشتہار کی نقل اتارتے ہوئے ٹک ٹک کہتا انگلی گھڑی کی سوئیوں کی طرح گھماتا بولا۔
کسی چینی شکل کو خالص پاکستانی اشتہار کی نقل اتارتے دیکھنا کتنا مزے کا تجربہ تھا الف کھلکھلا کر ہنستی چلی گئ۔
اسکے ہنسنے پر ژیہانگ بھی ہنس دیا۔
یہ اشتہار بھی سن رکھا ہے تم ۔۔۔
وہ کہتے کہتے رکی
آپ نے؟
تم مجھے تم کہہ سکتی ہو۔ اس نے مسکرا کر کہا تو وہ سر ہلا گئ۔
مجھے یہ اشتہار کافی مزے کا لگتا تھا۔ میری بھانجی بالکل اسی بچے کی طرح ٹک ٹک کرتی رہتی تھی۔ بہت ویڈیوز بناتی تھی میں اسکی۔میری انسٹا بھری ہوئی ہے اسکی ویڈیوز سے۔ وہ شوق سے بتا رہی تھی ژیہانگ دھیمی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے متانت سے سن رہا تھا
اچھا ۔۔ دکھانا مجھے بھی۔
دونوں یونہی باتیں کرتے لفٹ کی جانب چلے آئے
پاکستان میں کتنا عرصہ رہے ۔۔
تم اور آپ کے چکر میں پھنسی الف نے دونوں ہی جملے سے نکال دیئے۔ژیہانگ کو اپنے استاد یاد آئے
جب کسی ہم عمر سے بات کر رہے ہوں تو تم کا استعمال کرتے ہیں کسی سے بے تکلفی ظاہر کرنی ہو تو بھی ،تاہم اجنبیوں اور بڑوں سے ہمیشہ آپ کا صیغہ استعمال کیا۔جاتا ہے۔ آپ میں ادب بھئ ہے اوراجنبیت بھی۔
تاہم اردو کی خوبی یہ بھی ہے کہ آپ اور تم کا استعمال کیئے بنا بھی بات کی جا سکتی ہے اگر مخاطب آپکے سامنے ہو اور آپ فیصلہ نا کر پارہے ہوں کہ اجنبیت کی دیوار قائم رکھنی ہے یا گرا دینی ہے۔
ہیں؟ الف نے اسے لفٹ کی جانب متوجہ کیا۔ مگر اشارہ اسکا اپنے سوال کی جانب ہی تھا کافی دیر سے جواب نہیں آیا تھا۔
میں پورے تین سال رہا ہوں پاکستان میں۔ سارا سارا وقت ٹی وی دیکھتا تھا کتنے اشتہار تو مجھے منہ زبانی یاد ہیں۔ یہاں بھی پاکستان سے ہی آیا ہوں۔ سچ پوچھو تو سوچتا تھا اردو بولنے کا موقع جانے کب ملے یہ نہ ہو کہ بھول ہی جائوں ۔ مگر شکر ہے تم مل گئیں۔ وہ لفٹ کے بٹن دباتا آخر میں اسے دیکھ کر مسکرا کر بولا
اسکے جملے پر الف چونک گئ تھی مگر اسکا انداز بے حد سادہ تھا لفٹ کے بٹن دبا کر اب وہ اپنا موبائل دیکھ رہا تھا۔
پاکستان کیسا لگا تھا آپکو؟
اس نے اشتیاق سے پوچھا تھا مگر جواب اسکا اتنا ہی سرسری اور مختصر تھا
اچھا تھا۔ وہ مکمل مگن تھا فون میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس بجے فاطمہ کا فون بجنا شروع ہوا۔فاطمہ تو نہیں اسکی مستقل بجتی گھنٹی سے واعظہ اٹھ کر بیٹھ گئ۔
فاطی دیکھو کون کال کررہا۔ اس نے عینک نہیں لگائی تھی سو موبائل پر نام نہیں پڑھ پائی موبائل تھما کر دوبارہ لڑھک گئ۔
کون ہے۔ بیزاری سے فون اٹھا کر کان سے لگا لیا بنا دیکھے
کہاں ہو تم؟ بتایا بھی تھا تمہیں کہ کائونسلرز آئیں گے ملنے اب گھر میں بیٹھے ہیں فورا پہنچو۔
سیہون کان میں چیخا اس نے پٹ آنکھیں کھولیں۔
اتنئ صبح۔؟ اسکے منہ سے نکلا
سیہون فون بند کر چکا تھا
سامنے وال کلاک دس بجا رہی تھی۔
دس بج گئے؟ وہ حیران ہوئی پھر پلٹ کر دوبارہ خراٹے لیتی واعظہ کو جھنجھوڑ ڈالا
اٹھا جائو دس بج گئے کسی نے اٹھایا ہی نہیں ہمیں۔۔
اسکی آواز تھئ کہ اٹیم بم وہ بھی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔
اس بار تو مجھے دفتر میں گھسنے نہیں دینے والے۔
اس کو پکا یقین تھا۔ فاطمہ کے البتہ حواس بحال ہو چکے تھے سو واعظہ کے حواس بحال ہونے سے پہلے سیدھا باتھ روم کی جانب بھاگئ۔ واعظہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ پھر دھیرے سے بڑ بڑائی
ہمیشہ دیر۔کر دیتا ہوں میں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *