Salam korea

by vaiza zaidi

قسط 11

وہ گھر کے دروازے پر پہنچا ہی تھا کہ دروازہ کھل گیا۔ بڑی سی گاڑی میں تمکنت سے  پچھلی نشست پر آہموجی براجمان تھیں۔اسکی شکل دیکھتے ہی تاثرات سپاٹ کر لیئے تھے۔ ڈرائور گاڑی بڑھا نہیں سکتا تھا پھر بھئ خاصے درشت انداز میں ٹوکا اسے

چلا کیوں نہیں رہے گاڑی رک کیوں گئے؟ 

ڈرائور نے گہری سانس لیکر سر جھکا لیا۔ وہ چند لمحے انکے کٹھور انداز کو دیکھتا رہا پھر آگے بڑھ کر انکی جانب والی کھڑکی پر جھکا 

کیسی ہیں آہموجی آپ؟ 

جوابا انہوں نے رخ پھیر لیا۔ 

آہموجی مجھے کچھ نہیں چاہیئے آپ سے کچھ بھی نہیں۔ میں آپ کو منانے آتا ہوں بس۔ آپ مجھے کچھ نہ دیں بس مجھے معاف کر دیں۔ میں بیٹا ہوں آپکا یوں منہ نہ موڑیں مجھ سے۔ 

آپ ایک بار بس ایک آخری بار مجھے معاف نہیں کرسکتیں آہموجی؟ میں مسلمان ہو بھی گیا تو بھی آپکا بیٹا تو ہوں ؟ ایک بار میری شکل دیکھ لیں۔۔ 

شیشے بند تھے اسکی آواز شائد اندر نہ جارہی ہو مگر اسکی بے تابئ اسکے انداز سے جھلک رہی تھی اس نے شیشے پر ہاتھ مار کر انکو متوجہ کرنا چاہا جوابا وہ حلق کے بل ڈرائور پر چلائیں۔  

گاڑی چلائو اب کس وجہ سے رکے ہو؟ 

ڈرائیور نے جھٹکے سے گاڑی آگے بڑھائئ تھئ وہ جھکا تھا لڑکھڑا گیا مگر اسکی ماں نے پلٹ کر نہ دیکھا۔

وہ وہیں گھٹنے کے بل گر سا گیا۔ 

کیا کروں اللہ؟ ماں نہیں مان رہی تو تو دیکھ رہا ہے نا میں کوشش کرتا ہوں؟  

وہ ہچکیوں سے رو دیا۔  کیسا  سودا تھا یہ رچل  ماں دوست کچھ بھئ تو اسکے پاس نہ رہا تھا سوائے ایمان کے۔ مگر ایمان اتنا مضبوط تھا اسکا کہ وہ سب رشتے دائو پر لگانے کو تیار تھا۔ چوکیدار نے گیٹ بند کرنا تھا مگر وہ وہاں دو زانو بیٹھا روئے جا رہا تھا۔ اپنے نہایت اکھڑ مالک کو یوں روتے دیکھنا اسکے لیئے بالکل غیر متوقع تھا۔ اسے یاد تھا ذرا سا گیٹ دیر سے کھولنے پر وہ ٹھیک ٹھاک چلاتا تھا اس پر۔ 

آئیگو۔ اکلوتا بیٹا ہے یہ سب جائداد اسی کے کام نہیں آئے گی تو کس کام کی ہے یہ سب جائداد۔ 

اس نے سر جھٹکا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماں آپ بہت  کٹھور ہیں۔ مجھ سے واقعی کیا ذرہ بھر بھی محبت نہ تھی آپکو؟ کیا مجبوری تھی جو کبھئ پلٹ کر حال بھئ نہ پوچھا میرا؟ میں سوچتی تھی کبھی آپ جیسئ نہ بنوں گئ۔ میں ترس کے قابل کبھی نہیں بنوں گی۔ مگر دیکھیں آج مجھ پر دنیا ترس کھا رہی ہے۔ آپکی وجہ سے۔ 

وہ دھیرے سے بڑبڑانے والے انداز میں مخاطب تھی۔ تصویر سے یوں جیسے ماں جیتی جاگتی سامنے کھڑی یو۔ 

سونا میں اپنا سونے کا میٹ بچھائے وہ دیوار سے کمر ٹکائے بیٹھئ تھئ اس نے ایک پرانے فریم کو تھام رکھا تھا۔۔  اس جیسے نقوش کی وہ دبلی پتلی مگر ادھیڑ عمر عورت کی تصویر تھی۔۔ جو کوریائی نقوش کے حامل اس کھلکھلا کر ہنستے شخص سے لگی کھڑی تھی وہ شخص جتنا مسکرا رہا تھا خوش دکھائی دے رہا تھا اتنی ہی سنجیدہ اور سنٹ تھی وہ۔عورت ۔۔بلکہ کسی حد تک سراسیمگی بھی اسکی شکل سے جھلک رہی تھی۔۔ اس نے اپنے سارے بال۔سیدھے پیچھے کر کے جوڑے میں باندھ رکھے تھے ایسا کرنے سے اسکی پیشانی نمایاں ہوگئی تھی۔۔ اور ایک ترچھی لکیر سی پیشانی پر کھنچی تھی۔۔ یہ ہوپ کو کسی کے بےدرد دھکے سے بچاتے گرنے پر لگی تھی۔۔ میز کا کونا انکے ماتھے پر گھس گیا تھا خون کا فوارہ چھوٹا تھا جیسے ۔۔ بہتا خون دیکھ کر وہ شقی رک گیا تھا۔۔ 

آہبوجی آپ جانتے ہیں میں نے اس تصویر سے آپکو کاٹ کر الگ کیوں نہیں کیا؟

کیونکہ میں اپنی ماں کا ایسا چہرہ دیکھتی ہوں تو اسکی وجہ یاد رکھنا چاہتی ہوں۔۔ کاش میں آپکا منہ  نوچ سکتی۔

۔ اس نے سوچا پھر ہنسی سی آگئ۔۔

میں زندہ رہنا چاہتی ہوں کم از کم تب تک جب تک آپکا چہرہ نوچ نہ لوں۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے گھر آکے سب سے پہلے رائٹنگ پیڈ ڈھونڈا تھا۔۔ کچھ ہنگل میں لکھا پھر اس کو  موبائل میں ویب سائٹ کھول کر انگریزی حروف تہجی میں لکھ کر ڈھونڈا تھا۔۔ 

جواب نے مسکراہٹ بکھیر دی تھی اسکے چہرے پر۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح ابر آلود تھی۔۔ گرمی گرمی کہنے والے ایک بارش ہوتی اور ٹھٹھرنے لگتے۔۔اسکو بھی صبح اٹھ کر خنکی کا احساس ہوا تھا۔۔ آج اس نے لان کی بجائے جی ہائے کا دیا ٹاپ نکال لیا اسکے ساتھ ہلکا سا کاٹن شرگ پہن لیا اوپر سے اسکارف میچ کرکے گلے میں ڈالا تو سنتھیا ٹوک ہی گئ۔۔

اور بھی کچھ دوں چڑھا لو ۔۔ اسکے ٹوکنے پر اریزہ نے مڑ کر دیکھا۔۔ وہ تیار ہو چکی تھی شائد اسے آئینہ چاہیئے تھا جبھئ اسکا انداز کھردرا تھا۔۔

وہ فورا قد آدم آئنے کے آگے سے ہٹ کر سینڈل پہننے لگی۔۔

گوارا نے مجھے کل پھر انوائٹ کیا ویک اینڈ گزارنے کیلیئے۔۔ لاسٹ ویک۔کافی مستی کی تھی دوبارہ چلیں؟

سینڈل کے اسٹریپ چڑھاتی وہ مصروف انداز میں پوچھ رہی تھی۔۔

جائو ۔۔ میں نے روکا؟

سنتھیا کا انداز سرسری تھا۔۔

تم بھی چلو گی نا۔۔؟ وہ مسکرائی۔۔

مجھے نہیں جانا۔۔ سنتھیا نے پیچ کلر کی لپ اسٹک کا شیڈ نکالا ۔۔ اریزہ اسے آئنے میں دیکھ رہی تھی۔۔ 

کیوں؟ اتنا مزہ آیا تھا۔۔ چلتے ہیں نا یہاں کیا اس کمرے میں بور ویک اینڈ گزارنا۔۔ 

سنتھیا نے ایک نظر اسکے چہرے کو غور سے دیکھا اس نے پیچ ہی رنگ کی لپ اسٹک لگا رکھی تھی۔۔۔گورئ رنگت پر صرف لپ اسٹک ہی رعنائی دوڑا گئ تھی۔ اس نے ٹشو اٹھا کر اپنے ہونٹ رگڑ لیئے۔ وہ اب بیوٹی  باکس میں سے نیا شیڈ ڈھونڈ رہی تھی۔۔ 

تم جانا چاہتی ہو چلی جائو۔۔ مجھے کیا کہہ رہی ہو۔۔

وہ۔مصروف تھئ۔۔

میں اکیلے نہیں جائوں گی پتہ ہے تمہیں تمہارے بنا میں کہیں نہیں جاتی۔۔ اس نے ٹھنک کر ضد کی۔۔ 

کیوں؟ میں کیا باڈی گارڈ ہوں تمہاری؟۔۔ بچی تو نہیں ہو کہ میں اور ایڈون تمہارا گارجین کئ طرح خیال کریں جہاں جانا ہو لے کر جائیں ؟ ۔

وہ بلا اردہ چٹخ کر بولی اریزہ اسے ایکدم چپ سی ہو کر دیکھنے لگی تو اسے احساس ہوا۔۔ نسبتا دھیمے انداز سے کہنے لگی۔۔

۔۔ بڑی ہو جائو اریزہ۔۔ خود آنے جانے اپنی زمہ داری خود اٹھانے کی عادت ڈال۔لو۔۔ اب۔۔ میں ہر جگہ تمہارے ساتھ تمہاری سپورٹ کیلیے نہیں جا سکتی۔۔

اریزہ زبردستی مسکرائی۔

میں اسلیئے نہیں کہہ رہی تھی۔۔ تم میری واحد دوست ہو میں کہیں بھی جائوں میرا دل۔کرتا تم ساتھ ہو میرے بس اسلیئے۔۔

وہ مڑ کر بیگ سمیٹنے لگی۔۔

سنتھیا تھوڑی شرمندہ سی ہوئی۔۔ اپنی صفائی دینے لگی

میرا اور ایڈون کا ویک اینڈ پر شہر سے باہر جانے کا پروگرام ہے۔۔ تم بہتر ہے چلی جائو گوارا کے گھر یہاں اکیلے بور ہی ہوگی۔۔ 

ہمم۔ ٹھیک ہے۔۔ اریزہ کو اسکے رویئے الجھا  رہے تھے اس بار مسکرا بھی نہ سکی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جی ہائے اس کو دیکھ کر ایکدم خوش ہوئی تھی۔ 

مجھے پتہ تھا یہ تمہیں فٹ ہوگا تم اتنی موٹی نہیں  ہو اپنے روائتی کپڑوں کی وجہ سے لگتی یو۔۔ 

وہ اسے سر تاپا دیکھ رہی تھی پھر چونکی۔

یہ کیوں پہن لیا۔۔ اس نے شرگ کی طرف اشارہ کرکے پوچھا۔۔

موسم خنک ہے نا۔۔ اسے یہی بہانہ سوجھا

خنک؟۔ وہ حیران رہ گئ۔۔ وہ خود نیٹ کا بلاوئز سلیو لیس انر اور گھٹنوں تک کی اسکرٹ پہنے تھی

ہاں۔۔ اس موسم کی عادت نہیں نا۔۔ اس نے مزید کہا تو وہ کندھے اچکا گئ

چلو چھوڑو۔۔ ہم ہایون کو لوٹ رہے ہیں۔۔ ٹریٹ دے رہا ہے وہ ہمیں۔ کیوں کہ ہماری پریزنٹیشن پر سر کا فیڈ بیک بہت اچھا آیا ہے ۔۔ فائنل تو بعد میں پتہ چلے گا لیکن ماننے والی بات ہے جتنا بمباسٹک ہمارا کام تھا اتنا کسی کا نہیں ہونے والا۔۔

جی ہائے خوش تھی۔۔آنکھ مار کر بولی۔۔

ہاں مگر ہایون  کیوں ٹریٹ دے رہا ہم سب کی محنت تھی ہم سب کی کوشش ہمیں کچھ مل کر پلان کرنا چاہیئے۔۔ اریزہ نے کہا تو اس نے کندھے اچکا۔دیئے۔

امیر ( chaobel)ہے وہ اس سے جتنا کھینچ لو کم ہے۔۔ پھر اسکی کونسی گرل فرینڈ ہے جس پر خرچ کرے ایٹ لیسٹ اسی بہانے اسے لڑکیوں کا ساتھ مل جائے گا۔۔۔ اس نے جیسے کان سے مکھی اڑائی

چلو پھر۔۔ وہ۔اور کیا کہتی۔۔ وہ۔دونوں باتیں کرتی ہوئی یونی سے باہر نکل آئیں۔۔ ہایون  پارکنگ میں کار سے ٹیک لگائے منہ بنائے کھڑا تھا۔۔ ساتھ ہی ایڈلین اس سے بھی برا منہ بنائے کھڑی تھی۔

تم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لگ رہا ہے بہت اچھا وقت گزار رہے تھے۔۔

جی ہائے نے صریحا طنز کیا تھا۔۔ دونوں نے ہونہہ کرکےمنہ پھیر لیا۔۔

جی ہائے فرنٹ سیٹ کی طرف بڑھی تو اسے اور ایڈلین کو پیچھے اکٹھے بیٹھنا پڑا۔۔ ایڈلین کا اسکے ساتھ بیٹھتے منہ بن گیا تھا۔۔ دوسری طرف سے گھوم کر بیٹھتی نزاکت سے اس سے انگریزی میں بولی۔۔ 

سمٹ کر بیٹھو۔۔ بیگ سے جگہ تنگ ہو رہی۔۔ اریزہ کا بیگ بیچ میں رکھا تھا اس جیسی ایک اور نازک اندام لڑکی بھی بیٹھ جاتی تو تنگ نہ ہوتی۔۔ اریزہ کو اسکا انداز کافی چبھا ۔۔ بیگ پیچھے کرکے اس سے بولی

نک چڑھی چڑیل تیلی جیسی تو ہو بھینس جتنی جگہ کیوں چاہیئے بیٹھنے کیلئے تمہیں؟ 

بظاہر مسکرا کر اس نے اردو میں کہا۔ 

کیا؟۔۔ اسے سمجھ نہ آئی۔۔

کیا کہا تم نے ابھی۔

بھینس۔۔ وہ بھینس کہہ کر رکی جیسے اسے ہی بھینس کہہ رہی ہو ۔

بھینس ماری ہے کیا میں نے تمہاری جو ایسی سڑی شکل بنائی ہوئی ہے؟۔ سیدھے منہ بات نہیں ہوتی تم سے۔۔ ؟۔۔

صبح کی بھی شائد چڑ نکل رہی تھی۔ 

مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا بک رہی ہو۔۔ اسے اتنا تو پتہ لگ گیا تھا اسے کچھ برا کہا جا رہا۔ہے۔

اریزہ انگریزی میں بات کر ونا یہ۔سمجھ نہیں پا رہی تم کیا کہہ رہی ہو۔۔ 

جی ہائے کیلیئے اریزہ کا انداز نیا تھا ۔۔ بیک ویو مرر سے دیکھ کر اسےکہنے لگی۔۔

مجھے اس پاگل عورت سے بات کرنے کا شوق نہیں نہ سمجھ آئے اسکو میری بلا سے۔۔ وہ مسکرا کر بولی۔۔ اتنی دیر سے چپکے چپکے مسکراتا ہایون  ہنس پڑا۔۔اریزہ چوکنا ہوئی۔۔ یہ کیوں ہنسا اسے سمجھ آگئ کیا میں نے جو کہا؟۔ اس نے آئنے سے اسکا چہرہ دیکھا وہ مسکراہٹ ہونٹوں کے گوشے میں دبائے سامنے دیکھنے میں مگن تھا۔۔ 

ایڈلین کے تن بدن میں آگ لگ گئ۔۔ اس نے ناک سے دھواں نکالتے ہوئے رخ پھیر لیا ہایون چڑا رہا تھا اسے کیا

گاڑی ایک جانے پہچانے ریستوران کے سامنے رکی تھی۔

ایڈلین نے ایک نظر باہر ڈالی پھر اترنے سے انکار کر دیا۔

میں اس ریستوران میں نہیں جائوں گی۔۔ یہاں کی نہ سروس اچھی نہ کھانا ۔۔۔

  ہایون  اسے چڑانے والے انداز میں دیکھ رہا تھا یہ جواب اسکیلیئے غیر متوقع نہیں تھا۔۔

جی ہائے اتر چکی تھی اس کو کوئی کال۔آئی تھی وہ ہٹ کر کال سننے لگی۔۔ 

کم آن سیول کے بہترین ریستورانوں میں سے ایک ہے۔۔ یہاں کا کھانا کھانے دور دور سے لوگ آتے۔۔۔ ہایون نے کہا

مجھے پسند نہیں۔۔ کہیں اور چلو۔۔ اس نے شانے اچکا دیئے۔۔ 

مجھے تو کافی پسند آیا تھا یہاں کا۔کھانا۔۔ اریزہ پہلی بار آئی۔تھی مگر ایڈلین کو چڑانے کا موقع ملا تھا کیسے جانے دیتی لہک کر اتری جی ہائے داخلے پر کھڑی انہیں اشارے سے بلا رہی تھی۔۔

آجائو۔۔ جی ہائے تو اندر بھی پہنچ چکی۔۔ ہایون  نے کہا ایسے ہی تھا کہ وہ نہ ہی آئے۔  

ایڈلین۔ ہیونا ۔ اریزہ۔۔ وہ باقائدہ نام۔لے کر پکار رہی تھی۔ ایڈلین کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی اتری دھپ۔دھپ کرتی جی ہائے کی طرف بڑھ گئ۔

یہ سب سے ہی نفرت کرتی یا ہم دونوں کیلیئے اسکا خاص پیکج ہے؟۔۔ اریزہ نے پوچھا تو ہیون نے کندھے اچکا دیئے جیسے کہہ رہا ہو کیا کہہ سکتے۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انہوں نے پورک اور بیف آرڈر کیا تھا۔۔ اریزہ نے ایگ رول سادے چاول سبزیوں کے ساتھ۔۔ 

وہ سب مزے لے کر کھا رہے تھے ۔۔ اسے ایگرول پسند آیا مگر تھوڑا لجلجا تھا۔۔ پاکستانی حساب سے کم پکا ہوا جلدی میں اتارا ہوا۔۔ پہلے نوالے میں پتہ نہ چلا۔۔ مگر پھر اسے ابکائی آگئ۔ اس نے پھر ایگ رول۔کو ہاتھ نہ لگایا۔۔ سادے چاول ابلی سبزیوں اور کورین چٹنی کے ساتھ۔۔ بس کچھ جا رہا تھا حلق کے نیچے۔ بے ذائقہ۔ 

اسکی امی کتنا مزے کا سبزی پلائو بناتی تھیں وہ اور صارم زیادہ کھا جاتے تھے۔۔۔۔۔۔ 

اسکی آنکھوں میں دھواں بھرنے لگا۔

ایک بار بھئ مجھ سے بات کرنے کا دل نہ کیا؟ کیا غلطی ہے میری ؟ اپنے ساتھ ذیادتی نہ ہونے دی؟ اوپر سے میں۔۔۔۔۔میں آپکو یاد کر رہی۔۔ اسے خود پر ترس بھی آیا غصہ بھی۔۔

وہ ایکدم اٹھ کر کھڑی ہو گئ۔۔ تینوں چونک کر دیکھنے لگے۔۔

میں زرا فریش اپ ہو کے آتی ہوں۔۔۔ 

ان تینوں نے سر ہلا دیا۔۔ 

کتنی دیر وہ منہ پر چھپاکے مارتئ رہی۔۔۔

میک اپ تو کچھ کیا نہ تھا بس کریم لگائی تھی اور لپ اسٹک۔ دونوں صفا چٹ ہو گئیں۔ رگڑ رگڑ کر ٹشو سے چہرہ خشک کیا۔ چہرہ تھپتھپاتی ہوئی باہر آئی۔ 

 یہ تینوں کھانا کھا چکے تھے اب کچھ پی رہے تھے۔۔

تم بھی پیوگی۔۔؟۔ جی ہائے نے اس سے پوچھا۔۔ اس نے سر ہلا دیا۔۔

یہ تینوں ایک گھونٹ جتنے گلاس میں پی رہے تھے۔۔ 

جی ہائے نے اسے بھی ایک گلاس پکڑایا۔۔ وہ منہ تک۔لے جاتے لے جاتے رک گئ۔۔ اچھی خاصی بری بو تھی۔۔

یہ کونسا ڈرنک ہے؟۔ اس نے بے چارگی سے پوچھا۔۔

ہارڈ ڈرنک۔۔ ہیون نے اسے تھوڑا عجیب سی نظر سے دیکھا

ہارڈ؟۔ اسکی عقل جواب دے گئ تھئ۔۔ 

ووڈکا ہے۔۔ ایڈلین نے جتایا۔۔

اوہ۔۔ اس نے فورا رکھ دیا۔۔

میں شراب نہیں پیتی۔۔ 

دوبارہ نہیں۔۔ ایڈلین جیسے بےزار ہو کر بڑبڑائی

اوکے کوئی جوس پیو گی؟

جے ہی نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلا۔دیا۔۔ 

چلو بل دے کر چلیں۔۔ جی ہائےنے ویٹر کو اشارے سے بلایا۔۔ 

ہیون ادھر ادھر جانے کسے گردن گھما گھما کر ڈھونڈ رہا تھا۔۔ 

معزرت مجھے بتایئے گا آپکے ریستوراں میں ہوپ ہوتی تھیں؟

اس نے آخر ویٹر سے پوچھ ہی لیا۔۔

وہ آج چھٹی پر ہیں۔۔ انکی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔ 

ٹھیک ہے۔۔ وہ تھوڑا مایوس ہوا۔۔ ویٹر مخصوص انداز میں جھک کر وش کرتا چلا گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈلین کو اسکے اپارٹمنٹ ڈراپ کرکے وہ ان دونوں کو گوارا کے اپارٹمنٹ  چھوڑنے آیا تھا۔ انکے ساتھ وہ بھی اتر آیا تھا۔۔

وہ یہی سمجھی تھیں کہ انکے ساتھ آئے گا مگر جب اوپر آکر لفٹ سے نکل کردائیں جانب مڑ گیا تو جی ہائے کو تجسس ہوا۔۔

یہ کہاں جا رہا ہے۔۔ وہ رک کر دیکھنے لگی۔۔ 

ہمیں کیا چھوڑو۔۔ اریزہ لاپروائی سے کہہ کر آگے بڑھنے کو تھی جی ہائے نے اسے کھینچ لیا سامنے سیڑھیوں کے پاس دیوار سے ٹک کر اسے دیکھنے لگی۔۔

وہ اسی قطار میں آخری فلیٹ کی ڈور بیل بجا رہا تھا۔۔ 

اجنبی شکل نے دروازہ۔کھولا۔۔ وہ چونکا پھر مسکرا کر بولا

ہوپ ہیں؟

کون ہوپ؟

اس نے الٹا سوال کر دیا۔۔ 

وہ جو یہاں پہلے رہتی تھیں۔۔

وہ جھجک کر بولا۔

مجھے نہیں پتہ میں کل ہی یہاں منتقل۔ہوا ہوں۔۔ اس نے کھردرے انداز میں کہا تو وہ مسکرا کر جھک کر معزرت کرنے لگا۔۔ اس نے ہلکا سا جھک کر دروازہ بند کر دیا تھا۔۔وہ چند لمحے دروازے کو گھورتا رہا پھر تھکے تھکے انداز میں سر جھکائے لفٹ کی طرف بڑھ گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لڑکی پٹا رہا ہیون 

گوارا انکے لائے اسٹیک کو منہ میں بھرے بمشکل بولی۔۔ وہ تینوں بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھیں تھیں۔۔ گوارا نے انکے لائے کھانے اسی وقت کھول کر کھانے شروع کر دیئے تھے 

کوئی اسٹرگلنگ آرٹسٹ ہے بہت بری تصویر بنواتی ہم سب دوستوں کو کہہ کر اس سے تقریبا ہم سب کا اسکیچ بنوا چکا۔ 

وہی لڑکی جس سے آخری بار ہم دونوں نے دریا کنارے تصویر بنوائی تھئ۔۔ جے ہی کو یاد آیا۔۔

ہاں ۔۔ گوارا نے بمشکل چباتے برا سا منہ بنایا۔۔

منہ میں کھانا بھرے پھولے کلوں کے ساتھ بولتی۔ 

ابھئ اریزہ کی امی ہوتیں تو گدی پر زور دار دھپ پڑتی اسکے۔ 

تم۔پہلے کھا لو اچھو نہ ہو جائے۔ اریزہ کو اسکے انداز سے الجھن آرہی تھی۔۔ اسکا کہنا تھا مزید کچھ کہنے کو منہ کھولتی گوارا کو زور سے اچھو ہوا تھا۔۔

جی ہائے اسکی۔کمر سہلانے لگی۔۔ اریزہ بھاگ کے پانی لے آئی۔۔

کھانس کھانس کر اسکا حشر ہوگیا تھا۔۔

منہ سرخ کھانا منہ میں بھرا ہوا۔۔

اس نے بمشکل نگلا۔۔ 

اتنی کوئی پیاری تو نہیں۔۔ جے ہی نے منہ بنایا۔

اوپر سے ہر وقت منہ بنائے رہتی۔۔ گوارا کو بھی بالکل پسند نہیں ائی تھی۔۔ 

مجھے تو ایسا گھورتی تھی میں جیسے اس کے ایزل چرا کر بھاگ جائوں گی۔۔ حالانکہ چار پورٹریٹ بنوائے پیسے دے کر۔۔ہیونگ سک کے کہنے پر اس نے دانت کچکچائے۔۔ 

سڑی ہوئی شکل دیکھ کر ہی انسان اداس ہوجائے۔۔

ایسا بندہ آپکے گرد ہو ویسے ہی ڈپریشن ہو جائے آپکو۔ گوارا بھری بیٹھی تھی جیسے۔۔

کون ہے اتنئ بری لڑکی۔۔ 

اریزہ کو بھی تجسس ہوا۔

دیکھ لینا تم بھی ۔

اس نے کان سے مکھی اڑائی۔۔ پھر بڑے اشتیاق سے پلیٹ رکھ کر سائیڈ ٹیبل سے لیپ ٹاپ اٹھایا۔۔ 

میں نے اپنا دوبارہ فیس فوٹو شاپ کیا ہے۔۔

دوبارہ نہیں۔ جے ہی اور اریزہ ایکساتھ کہتی اٹھ گئیں

تم۔لوگ جلتے ہو مجھ سے۔ وہ بھنا کر چلائی۔۔

جو بھئ سمجھو۔۔ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ری ہیب سینٹر آئی تھی۔ انی بہت ساری لڑکیوں میں گھری کوئی لیکچر دے رہی تھیں۔۔ اس نے کانفرنس روم کے گلاس ڈور سے جھانکا وہ متوجہ نہیں تھیں۔۔ وہ باہر آکر لابی میں رکھے صوفے پر بیٹھ کر انتظار کر نے لگی۔۔ پانچ سات منٹ بعد انی سامنے سے گزریں تو وہ بھاگ کر انکے پاس آئی۔

گنگشنی شا۔

اسکے پکارنے پر وہ رک گئیں تھیں اسے دیکھ کر بھرپور انداز سے مسکرائیں۔۔

کیسی ہو ہوپ؟

ٹھیک ہوں آپ۔۔وہ جھک کر مسکرائی

میں بھی۔۔ وہ دلکش انداز میں مسکراتی تھیں۔ اس نے رشک سے انکی مسکراہٹ کو دیکھا ۔۔ پھر دیکھتی گئ۔۔

ہوپ۔۔ انی نے پکارا تو وہ جیسے ہوش میں آئی۔۔

معاف کیجئے گا۔۔ انی۔۔ 

انی میری ماں اور بھائی کا کچھ پتہ چلا۔۔

وہ بے تابی سے پوچھ رہی تھی۔۔ انی کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئ۔۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہیں۔۔

اسکے چہرے پر امید بھرا ہیجان تھا۔۔

انہوں نے گہری سانس لی۔۔

ہوپ فی الحال۔کوئی خبر نہیں۔۔ مجھے جیسے ہی اطلاع ملی ضرور سب سے پہلے خبر کر وں گی تم بس دعا کیا کرو۔۔ہم کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے پیار سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مخصوص مسکراہٹ سے کہا۔۔وہ ایک دم اداس نظر آنے لگی تھی۔۔

ہوپ۔۔فائیٹنگ۔۔ انہوں نے مٹھی بنا کر اسے خوش کرنا چاہا۔۔ 

ہمم وہ زبردستی مسکرائی پھر کچھ یاد آیا۔

انی مجھے آپکا شکریہ ادا بھی کرنا تھا آپ نے مجھے جو ایزل پینٹس وغیرہ بھجوائے بہت اچھے تھے مجھے بہت ضرورت بھی تھی انکی

کونسے ؟ ۔ وہ نہ سمجھیں۔۔

وہ جو آپ نے کارٹن بھجوایا تھا۔ پینٹس برشز کنفیکشنری کا۔ ہیونگ سک کے زریعے۔۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔ 

اوہ ہاں ۔۔۔ وہ چونک کر سنبھلیں

۔۔ تمہارے کام آئے اچھی بات شکریہ کی ضرورت نہیں۔۔۔

انہوں نے پیار سے اسکا کندھا تھپتھپایا۔۔ تبھی کسی نے انہیں پکار لیا وہ معزرت کرتی۔آگے بڑھ گئیں

۔ ہوپ البتہ وہیں کھڑی کچھ سوچتی رہی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ٹیرس میں ٹہل ٹہل کر فون پر باتیں کر رہی تھی۔ 

رمضان کی خریداری کرکے آیا ہوں۔ خالو تو پتہ ہے پرہیز کی وجہ سے کچھ کھاتے نہیں خالہ اپنے لیئے تو اہتمام کریں گی نہیں ایک میں کتنا کھائوں گا۔آجائو واپس مل کر پکوڑے کھائیں گے۔ 

صارم فون پر حسب عادت بونگیاں ہانک رہا تھا۔

ہاں پکوڑے کھانے کیلئے اتنا خرچہ کرکے واپس آئوں۔ اب یہاں سے ڈگری ہی لیکر واپس آئوں گی۔ 

اریزہ شان بے نیازی سے بولی

خیر ڈگری وگری تم مکمل نہیں کرتیں وہاں۔۔ 

جانے کون سئ منحوس گھڑی تھی جو صارم نے یہ بکا۔ اریزہ کے تلوئوں سے لگی سر پر بجھی مگر ابھی اسے مزید گل افشانئ کرنی تھی۔

تمہیں کیا لگتا خالو نے تمہیں اتنی دور کیوں بھیجا؟ طلاق کے بعد پتہ ہے کتنی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں خاندان میں۔ سجاد بھائئ اور خالہ تو کینڈا بیٹھے ہیں سب خاندان تصدیق کرنے خالو خالہ کے پاس آتا ہے۔ کیا ماجرا ہوا۔ وغیرہ۔ اور اب دو باتیں چل رہی ہیں کچھ کہہ رہے کہ سجاد نے طلاق دی ہے کیونکہ تم دونوں کی آپس میں کوئی لڑائی ہوئی ہے۔ خالو نے اسی لیئے تمہیں اتنی دور بھیجا تھا تاکہ ان سب باتوں سے پریشان نہ ہو۔۔ 

مگر بابا کو کیا پتہ تھا تم جیسی بئ جمالو مجھے کوریا میں بھی لائیو اپڈیٹ دے گی۔ وہ بھنا کے رہ گئ جوابا صارم کھل کر ہنسا۔ 

میرا کیا قصور ہے فرمانبردارئ؟ میری اماں نے رشتہ طے کیا میرے ابا نے رشتہ توڑا مگر قصور میرا ہے۔ کوئی حد کے کمینے لوگ ہیں یہ۔ 

اسکا خون جل بھن گیا۔ 

تو ؟ تمہیں لگتا تمہارے ساتھ ذیادتی ہوئی ہے۔ صارم سنجیدہ ہوا

تو کیا ہوئی نہیں ہے؟ وہ حیران ہوئی اسکے یوں کہنے پر۔

تم آج سے پچاس پچپن سال پہلے کی لڑکی ہوتیں تو مان لیتا مگر اپنے خود ساختہ مظلومانہ فیز سے ذرا نکل کر سوچو۔ 

تمہاری زندگی تھی تمہاری زندگی کا فیصلہ ہو رہا تھا اور تم کیا کر رہی تھیں؟ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے بیٹھی تھیں۔ حق چھوڑنے کا تو مزہب بھی حکم نہیں دیتا۔ میں کہہ کہہ کر تھک گیا کہ خالو سے میں بات کرتا ہوں مگر تم نے صاف منع کیا مجھے دونوں دفعہ۔ اور تم چاکلیٹ کافی پسندیدہ سوٹ تک کندھے پر لٹک کر فرمائش کرکے اپنی مرضی سے لیتی تھیں خالو سے اور اپنے۔۔ 

تو؟ مجھے کیا پتہ تھا کہ امی نے بابا تک کو نہ بتایا تھا۔۔ 

وہ تیز ہو کر بات کاٹ کر بولی جوابا وہ اس سے بھی تیز ہو کر بولا

تمہیں پتہ نہ چلتا اگر تم ایک بار خالو سے خود بات کرتیں؟ 

وہ صحیح کہہ رہا تھا وہ چپ سی ہوگئ

مانا خالہ نے دبائو ڈالا مگر تم اپنے آپکو مقرر کہتی ہو نا؟ تحریری مقالے لکھتی ہو تقریر کرتی ہو مگر اپنے حق کیلئے بولا نہ جا سکا کیا فائدہ تمہارے ان گٹس کا؟ 

اسے جانے کیوں شدید غصہ تھا اس پر۔ وہ خاموش نہ رہ سکی

ہاں سب میری غلطی ہے میں پیدا ہی غلط ہوئئ اس دن مرنا بھی مجھے چاہیئے تھا۔۔

بس یہی مظلومیت لے ڈوبی ہے تمہیں۔ اس دن تم نے مرنا ہوتا تو حماد بھائئ کو خراش بھی نہ آتی۔۔۔ تمہیں لگتا خالہ حماد بھائئ سے ذیادہ پیار کرتی ہیں چلو مان لیا مگر اس وقت تم انکی اکلوتی زندہ اولاد ہو وہ تمہیں کھونا نہیں چاہتیں۔۔ روتی ہیں یاد کرکے تمہیں۔ 

وہ اسے سمجھانا چاہ رہا تھا مگر اریزہ کا غصہ سوا ہوچکا تھا

بکواس۔ مجھ سے بات تک کرنا نہیں پسند۔ یاد کرکے روتی ہیں۔ انکو صرف یہ غم ہے کہ میں نے انکی بات مان کر رشتہ نہیں نبھایا بس۔ میں یہ بھی کر جاتی اگر بابا آگے بڑھ کرفیصلہ نہ لیتے۔ 

اسکے کہنے پر صارم گہری سانس لیکر رہ گیا۔ 

وہی نا تم نے جتنا مرضی تقریری جھاڑنی ہو اپنے لیئے خود اسٹینڈ نہیں لینا یہی بات ہے نا؟ 

تم مجھے فون نہ کیا کرو یہ سب بکواس بار بار دہرانے کا مجھےکوئئ شوق نہیں۔ 

اس نے بدلحاظی سے جھڑک دیا۔ صارم ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔۔۔ 

احمق تم جو اپنے یو ٹیوپیا میں رہتی ہو نا جہاں سب ٹھیک ہے اس یوٹیوپیا میں باہر کی خبریں پہنچانا فرض ہے میرا۔

ساری زندگئ تم نے کوریا میں نہیں رہنا ۔ واپس آئوگئ تو یہیں اسی ماحول۔۔۔ 

نہیں آئوں گئ واپس۔ مر جائوں گئ واپس نہیں آئوں گی خوش۔ 

اب فون بند کر رہی ہوں میں۔

ہاں وہیں رہو چھپ کے سب سے۔ بدلنا نہ بس خود کو۔ 

ریپینزل کہیں کی۔ کوئی باہر سے نہیں آتا آپکی مدد کرنے آپکو بچانےکیلئے اپنے لیئے خود فیصلہ کیا جاتا ہے اپنے لیئے خود اسٹینڈ لیا جاتا ہے۔ تم مجھے سو فیصد یقین ہے کوریا میں رہ کر بھئ ویسی ہی ویسی واپس آئوگئ جیسی یہاں سے گئ تھیں۔ یہاں پر میں تھا وہاں سنتھیا کا بازو تھام رکھا ہوگا۔ 

اسکی بات غلط نہیں تھی مگر وہ چلبلا کر ٹوک گئ

جی نہیں۔ میں یہاں سنتھیا کے ساتھ نہیں ہوں۔ میں نے اپنی دوستیں بنائی ہیں دونوں کورین ہیں اس وقت میں انکے اپارٹمنٹ میں انکے ساتھ ویک اینڈ گزارنے آئی ہوں۔ 

اس نے اتراکر کہا جبکہ صارم حقیقتا پریشان ہوگیا

کیا؟ کون ہیں ؟ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں کوریا گئے اتنا اعتبارکرلیا انجان لڑکیوں پر؟ سنتھیا کہاں ہے تم اکیلی۔۔۔۔ 

ابھئ مجھے بھاشن جھاڑ رہے تھے کہ خود مختار ہو جائو اپنا خیال۔خود رکھو اب کیا ہوا۔ 

وہ مزاق اڑارہی تھی جبکہ صارم سنجیدہ تھا۔ 

اجنبئ جگہ ہے اجنبی ماحول اجنبی ملک شہر اور تم نادان لڑکی کسی مشکل میں نہ پھنس جانا۔ سنتھیا کے ساتھ رہا کرو۔ اکیلے ۔۔ 

اچھا میں سونے جا رہی ہوں خدا حافظ۔ 

اس کے انداز میں پریشانی محسوس کرکے وہ۔شاداں و فرحاں ترنگ میں آکر جھٹ فون بند کرگئ۔اسکا جواب سنے بغیر۔ 

رہو تم بھئ پریشان۔ 

صارم کا دوبارہ فون آرہا تھا۔ مگر اسکا اٹھانے کا ارادہ نہیں تھا۔ 

ایویں خون جلا دیا۔ ایک تو ان پاکستانیوں کو دوسروں کے معاملات میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ 

وہ سوچتے مٹھیاں بھینچنے لگی۔۔ 

پندرہ  منزلہ عمارت کی دسویں منزل کے کھلے ٹیرس سے سیول شہر کی سب روشنیاں نگاہوں کو خیرہ کررہی تھیں سبک سرد سی ہوا خوشگوار موسم مگر اسکے اندر بھانبھڑ جل اٹھے تھے۔ جن لوگوں کی باتوں پر دل جلا رہی تھی وہ میلوں دور تھے مگر ہم یہی تو کرتے ہیں۔ کسی کے ایک لفظ ایک جملے پر کوسوں دور مہینوں سالوں سوچ کر یاد کر خون جلاتے ہیں وہ بھی اپنا ہی۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح اسکی آنکھ سب سے پہلے کھلی تھی فریش ہو کر اس نے سب سے پہلے آٹا ڈھونڈا کافی سارا بچا پڑا تھا وہ یوں خوش ہوئی جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ ہو۔۔ جلدی سے گوند کر اس نے پراٹھا بنایا انڈہ بنایا۔۔ تبھی جی ہائےبھی جمائی لیتی کچن میں چلی آئی۔۔

آئو ناشتہ کر لو۔۔ وہ اتنے چٹخارے لے کر کھا رہی تھی کہ جے ہی انکار نہ کر سکی۔۔ ہری مرچوں والا آملیٹ مکھن میں بنا ہوا ساتھ گرم پراٹھے اس نے احتیاطا دو بنا لیئے تھے کام آہی گئے۔۔ 

اف یہ کافی مزے کا ہے۔۔ جے ہی خوب مزے لے رہی تھی۔۔ جاپانیوں اور چینیوں کے برعکس کورین کافی شوق سے مرچ مسالے کھاتے ہیں اسے یہاں آکر اندازہ ہوا تھا۔۔ 

تم لوگ کیا کھا رہے ہو۔ گوارا نے نہایت معصومیت سے کان کھجاتے پوچھا تھا

آجائو تم بھی۔۔ اریزہ نے دعوت دی تو وہ بھی خوشی خوشی شریک ہو گئ۔۔

اریزہ نے اٹھ کر مزید ایک پراٹھا انہیں بنا کر دکھایا۔۔ دونوں کافی حیرت سے دیکھتی رہیں۔۔

تمہیں گرم نہیں لگ رہا؟۔۔ گوارا حیران تھی تو جی ہائے ڈر رہی تھی۔۔

آرام سے ۔۔ جل جائو گی۔۔ 

ہنستے کھیلتے ناشتہ ہوا تھا انکا۔۔

پھر آجکا کیا پروگرام ہے۔۔۔ گوارا نے پوچھا تو جے ہی کرسی پر کسلمندی سے بازو پھیلا کر انگڑائی لے کر بولی۔۔

سوتے ہیں۔۔ 

اور تم اریزہ۔۔ اس نے منہ بنا کر اریزہ سے پوچھا۔۔

مجھے کٹنگ کروانی۔۔ اس نے اپنے شولڈر کٹ بالوں میں انگلیاں چلائیں۔۔

چلو پھر پارلر چلتے ہیں۔ گوارا نے فورا پروگرام بنا لیا۔۔

اریزہ نے تیار ہونے کیلیئے کپڑے نکالے تو دونوں نے اکٹھے منہ بنایا۔۔ 

اچھا یہ۔۔ وہ اپنے ساتھ جینز ٹاپ بھی لائی تھی۔۔ 

ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔ دونوں نے اسے این او سی دے ہی دیا۔۔

تینوں تیار ہو کر جب پارلر آئیں تو یہاں دنیا ہی الگ تھی۔۔

اتنی نازک نازک چینی گڑیائیں جھک جھک کر سلام کرتی۔

اسکے انکار کے باوجود نرمی سے اسکے کندھے دبا دیئے۔۔ اریزہ کو وہیں نیند آنے لگی۔۔ جی ہائے گوارا اسے دیکھ دیکھ کر ہنستی رہیں۔پتہ نہیں کیا کیا مل۔کر اسکا فیشل کیا وہ ٹھیک ٹھاک گوری ہو کر جی ہائے اور گوارا کو ٹکر دینے لگی۔۔ بالوں کا بھی کوئی ہربل ٹریٹمنٹ کیا تھا۔۔ غرض پارلر سے نکلتے وہ خود کو پہچان بھی نہیں پا رہی تھی۔۔ اس نے لمبائی بالوں کی زیادہ کم نہیں کروائی تھی مگر اسٹیپس اور لیئرز کا۔مکس اسکے چہرے پر کافی جچ رہا تھا۔۔ جی ہائے اور گوارا نے کھلے دل سے اسکی تعریف کی تھی۔۔ 

کھانا کھا کر وہ کلب چلی آئی تھیں۔ بنا کسی لڑکے کے ساتھ کے اکیلے اتنی آزادی سے گھومنا اور مزے کرنا اریزہ کیلیئے بہت بڑی بات تھی وہ کافی خوش تھی۔۔ ان تینوں نے فروٹ کاکٹیل منگوایا تھا۔۔ پیتے پیتے ڈی جے نے انکی پسند کا گانا لگا دیا  وہ دونوں ڈانس فلور پر چلی گئیں وہ خاموشی سے ایک۔طرف کونے میں بیٹھ کر انہیں دیکھنے لگی۔۔ وہ دونوں خوب شغل کرنے کے موڈ میں تھیں انکا کلوز ڈانس دیکھنے والا تھا وہ بہت دلچسپی سے دیکھنے میں مگن تھی

۔۔ آپ کو مزید کچھ چاہیئے۔ ایک ویٹرس  نے نرمی سے اس سے پوچھا ٹرے میں مختلف رنگوں کے شربت سجائے وہ پاس سے گزری تو پوچھ لیا اس سے بھئ اس نے نفی میں سر ہلایا تو وہ مسکرا کر جھک کر اسے اچھی شام گزرے دعا دیتی چلی گئ۔ اس نے بھی اسے جوابا یہی کہا تھا۔ اسے تھوڑی دیر گزری ہوگی ایک کھنچی ہوئی آنکھوں والی ویٹرس اسکے پاس آکر کافی سختی سے کچھ بولی۔۔

معزرت مجھے سمجھ نہیں آیا آپ کیا کہہ رہی ہیں؟

اس نے چونک کر شائستگی سے اس سے انگریزی میں کہا۔۔

ضرورت سے زیادہ آرڈر کرتی ہی کیوں ہو۔۔ ؟ جب پینا نہیں تھا تو ضائع کیوں کیا؟ یہ پھلوں کا جوس تھا۔۔ ہر کوئی پھل کھانا افورڈ نہیں کر۔سکتا دوسری۔طرف تم۔جیسی امیر زادیاں کھانا ضائع کرتی ہو۔۔ 

وہ اسکے سامنے گلاس لہرا کر بولی۔ 

یہ گوارا کا۔تھا شائد۔۔ آدھے سے زیادہ۔ڈرنک باقی تھا۔۔

معزرت مگر یہ میرا نہیں۔۔ میری دوست پیتے پیتے ہی اٹھ کر گئ ہے ڈانس فلور پر ۔۔ اس نے سلیقے سے کہا تھا مگر وہ اسے۔درشت انداز میں۔ہی گھورتی ہنگل میں بڑبڑا کر کچھ کہتی چلی گئ۔۔

واہ ۔۔ وہ حیرت سے اسے دیکھ کر رہ گئ

مطلب میری شکل۔پر لکھا آئو لڑو۔مجھ سے۔ وہ بھنا ہی گئ

جی ہائے اور گوارا اسے ڈانس فلور پر بلا رہی تھیں۔

وہ بھی اٹھ کر انکے پاس چلی آئی

جھوم جھوم کر ناچتے اس نے کئی سیلفیاں بنائی تھیں اور اسی وقت صارم کو بھیجی تھیں۔۔ 

یہ والی پیاری ہے۔۔ اس کا نمبر لے دو  

فوری جواب آیا تھا۔ یہ والی گوارا تھئ

 اسے ہنسی آگئ۔

یہ والی اپنی شکل بدلوانے لگی ہے چند مہینے بعد شکل دیکھ کر فیصلہ کرنا۔۔ 

اس نے یہی لکھ کر بھیجا تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے بارہا کال کی ہر بار ہوپ اسکی کال بند کر دیتی تھی۔۔ وہ اس ریسٹورنٹ گیا جہاں وہ پارٹ تائم جاب کرتی تھی مگر ریسیپشنسٹ نے بتایا وہ بیماری کی چھٹی کے بعد آئی ہی نہیں بلکہ اپنا استعفی بھجوا دیا تھا۔۔

کہان چلی گئی ہو تم؟

 ریستوران سے نکل کر وہ یونہی سڑک پر نظر دوڑاتا بڑبڑایا تھا۔۔ وہ سیدھا گھر آیا تھا۔۔ 

ملازم نے اسے دیکھتے ہی بتایا تھا کہ اسکے نام ایک پارسل آیا ہے۔۔

اس نے کمرے میں آکر دیکھا تو ایک چھوٹا کارٹن تھا جسکے ساتھ ایک چھوٹا سا خط تھا۔۔

اس نے فورا خط کھولا۔۔

مختصر تحریر تھی

آئندہ بھیک اسے دیجئے گا جو مانگے۔۔ 

وہ تحریر پڑھ کر چونکا فورا کارٹن کھولا 

تو اسکے ہوپ کو دئیے گئے پینٹس برشز ایزل وغیرہ تھے ان میں سے آدھی چیزوں کی ابھی پیکنگ بھی نہیں کھولی گئ تھی۔

 آہش۔۔ وہ بھنا کر رہ گیا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس پاکستانی لحاظ سے چھوٹے سے کمرے میں ایک بڑا سا ڈبل بیڈ ایک جانب چھوٹا سا سنگھار میز اور دو مناسب سے چھوٹے صوفےرکھے تھا بس اب چلنے پھرنے کی جگہ تھی بس۔ اس نے باتھ روم کھول کر جھانکا نہایت چھوٹا سا باتھ روم جس میں ایک جانب شیشے کی دیوار میں جتا شاور ایریا تھا۔ اندر گھسو تو دروازہ بند کرنے کیلئے چھپکلی کی طرح دیوار سے چپک جائو۔ 

اس کو دیکھ کر خفقان سا ہونے لگا جھٹ بند کیا۔ کمرے کا چھوٹا ہونا الگ ذہنئ طور پر پریشان کن تھا۔ اس نے کارڈ دیوار میں لگی چھوٹی سئ سوائپ مشین میں رکھا تھا جس سے بنیادی بتیاں جل گئ تھیں۔ اس نے سوئچ بورڈ کے سب بٹن جلا دیے۔ اب آرائشی روشنیاں سائیڈٹیبل لیمپس سب روشن ہو گئے تھے۔ اب کچھ سکون محسوس ہوا تھا اسے۔۔۔ کمرے میں بس ایک جانب پردے لگے تھے وہ اسی کی طرف بڑھی پردے پورے کھول دیئے سامنے شیشے کئ دیوار اور شیشے کی ہی کھڑکیاں تھیں۔۔ اس نے کھڑکیاں سب کھول دیں 

 تازہ ہوا اندر داخل ہوئی خنکی بھی محسوس ہوئی۔ اس نے آف وہائیٹ ون شولڈر گھٹنوں تک کا فراک پہنا ہوا تھا۔ ٹھیک ٹھاک سردی لگی اسے۔ 

اسکے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔ 

ایک یہ پاکستانیت نہیں جاتی مجھ میں سے۔۔ 

اس نے اپنے سانولے مگر گداز بازو پر ہاتھ پھیرا۔  

ایڈون کہاں رہ گیا۔ وہ جھلا کر مڑی تبھی ایڈون ایک ویٹر کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوا۔ ویٹر ٹرالی میں یقینا انکے لیئے کھانا لایا تھا۔ سوپ چکن اسٹیک چاول اور کمباپ۔ ( چاولوں  گوشت اور سبزیوں کے امتزاج کو سی ویڈ میں لپیٹ کر کھایا جانے والا کورین کھانا)

ویٹر میز پر سب چیزیں رکھ کر جھک کر سلام کرتا واپس چلا گیا۔ 

پیسے تو اتنے لیئے ہیں انہوں نے کمرہ کتنا چھوٹا سا ہے دم گھٹنے لگا تھا میرا۔ 

وہ کہے بنا نہ رہ سکی۔ ایڈون خاموش ہی رہا۔ 

کمباپ کی جانب اس نے ہاتھ بڑھایا پھر رک گئ

اس میں پورک تو نہیں؟ 

اسکی بات پر ایڈون نے خاموشی سے اسکے سامنے سے پلیٹ ہٹا کر اسٹیک رکھ دیا۔ اور خود کمباپ کھانے لگا

تم پورک کھانے کی عادت مت ڈالو پاکستان میں واپس جا کے مشکل ہوگئ۔ 

وہ اسے اکسا رہی تھی

میرا ارادہ نہیں ہے پاکستان واپس جانے کا میں یہیں سیٹ ہونے کی کوشش کروں گا۔ 

ایڈون نے حتی المقدور اپنا لہجہ سادہ ہی رکھا۔

اریزہ کو بھی کوریا بہت پسند آیا ہے۔ کہہ رہی تھی کہ اسکا بس چلے تو واپس کبھی نہ جائے۔ 

اریزہ نے اسکو کبھی ایسا نہیں کہا تھا مگر وہ اسکی جانب سے کہہ کر ایڈون کے تاثرات دیکھنا چاہ۔رہی تھی۔ ایڈون کا چہرہ بے تاثر رہا۔۔ وہ مکمل کھانے کی جانب متوجہ تھا۔

وہ ہونٹ بھینچ کر اسٹیک پر کانٹا پھیرنے لگی۔ 

عجیب بات ہے نا ویسے پوری دنیا کے کرسچن پورک کھاتے ہیں ایک ہم پاکستانی ہیں کہ 

اس نے استہزا سے جملہ ادھورا چھوڑا۔۔ 

مزے کا ہوتا ہے برائلز چکن جیسا ہی ذائقہ ہے تم چکھ کر دیکھو پسند آئے گا تمہیں۔ 

ایڈون نے ایک کمباپ اسکی جانب بڑھانا چاہا۔۔

نہیں میں گندی ہو جائوں گئ۔ 

وہ بول کر ہنس پڑی۔ ایڈون کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ وہ اس وقت کسی بحث کسی لڑائی میں نہیں پڑنا چاہتا تھامگر سنتھیا کا یہی ارادہ لگتا تھا۔ 

پتہ ہے بچپن کی بات ہے یہ ایک بار اریزہ کو بتایا تھا میں نے کہ برائن انکل کے گھر پورک اسٹیک کھایا ہے میں نے اریزہ نے مجھے دھکا دے کر دو رکیا تھا کہ تم گندی ہوگئ ہو پھر میں نے باقائدہ مائوتھ واش سے غرارے کرکے اسے یقین دلایا تھا اب میں صاف ہوں۔ 

وہ خاصی دلچسپی سے بتا رہی تھی ایڈون نے کوئی ردعمل ہی نہ دیا۔ وہ خود ہی بتا کر ہنستی رہی پھر چپ بھی ہوگئ۔

یہ لو۔ ایڈون نے وائن  کی بوتل اٹھا کراسکے سامنے رکھی۔ 

اب یہ کیا ہے؟ 

اس نے پیشانی پر بل ڈال کر پوچھا۔ 

ریڈ وائن ہے۔ پچھلے ویک اینڈ اسی کو پینے سے روکا تھا تمہیں اب پی لو جتنا مرضی چاہے۔ 

اسکا انداز سادہ تھا۔ 

سنتھیا ہنس پڑی ہنستے ہنستے پہلو بدل کر صوفے کی پشت سے سر ٹکا دیا۔ ہنسے گئ۔ ایڈون کھانا چھوڑ کر اسے دیکھنے لگا۔ 

اس وقت ہم کلب میں تھے اور لوگ تھے وہاں تم نے کبھی پی بھی نہیں ہے اسلیئے بس میں تھوڑا اوور پروٹیکٹیو ہو گیا تھا بس۔

اس نے جانے کیوں صفائی دی۔ سنتھیا ہنستے ہنستے سیدھی ہوئی۔ 

ہماری لڑائی میرے وائن نہ پینے کی وجہ سے نہیں تمہارے وائن پی کر ٹن ہونے سچ بولنے کی وجہ سے ہوئی۔ 

سنتھیا کی بات پر وہ ہاتھ نیپکن سے پونچھتا اٹھ کھڑا ہوا

جو بھی وجہ رہی ہو۔ 

وہ اس جھگڑے کو پھر ٹالنا چاہتا تھا۔

تمہیں اریزہ نے انکار کر دیا تھا نا ؟ کب کی بات ہے یہ ہماری منگنی سے پہلے کی؟ 

سنتھیا اسکو نظروں میں رکھے تھی

میں نے کہا تھا تمہیں کہ یہ بات اب دوبارہ ہمارے درمیان نہیں ہوگئ۔ 

وہ زچ ہوا

مجھے جانناہے۔ اس دن بھی تم ٹال گئے مگر میں اب اس رشتے کو نبھانے سے قبل ساری حقیقت جاننا چاہتی ہوں۔ 

وہ میز پر ہاتھ مار کر ایکدم غصے سے بولی۔ 

کیا کروگئ جان کے۔ 

ایڈون نے تھکے تھکے انداز میں دیکھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنتھیا کے گھر نیو ائیر پارٹی تھی۔ اریزہ کو جبین جانے نہیں دے رہی تھیں۔ 

آنٹی صرف ہم لڑکیاں ہوں گی بس ہم انجوائے کریں گے کھائیں گے پیئیں گے۔ڈانس کریں گے بس۔ 

سنتھیا انکے کندھے پر جھول رہی تھی جبین گہری سانس بھر کر رہ گئیں

بیٹا یہ نیو ائیر وغیرہ ہمارے تہوار تھوڑی ہیں پھر اریزہ کو کبھی رات بھر کیلئے کہیں رکنے نہیں دیتے اسکے پاپا۔ 

انکل سے میں بات کر لوں گئ آپ اجازت تو دیں۔ 

سنتھیا کے کہنے پر انہوں نے جان چھڑانے کو حامی بھری مگر کہہ بھئ دیا کہ اسکے بابا سے پوچھ لو۔ انکو سو فیصد یقین تھا کہ وہ اجازت نہیں دیں گے۔ اس وقت تو بابا گھر پر نہ تھے جب شام کو واپس آئے تو دونوں انکے دائیں بائیں بیٹھ گئیں۔ 

انکل اریزہ میرے گھر نیو ائئر نائٹ منانے چلی جائے؟ 

سنتھئا نے پوچھا انہوں نے لمحہ بھر سوچا اور سر ہلا کر اجازت دے دی۔ 

ہرا۔ آنٹی ایسے ہی ڈر رہی تھیں۔ 

وہ نعرہ مار کر وہیں اریزہ سے لپٹ گئ

ارے رات بھر کا فنکشن ہوگا اسکے گھر یہ وہاں رات رہے گئ۔۔ 

جبین نے یاد دلانا چاہا۔ 

تو کیا ہوا آنٹی میرا گھر اریزہ کا بھی تو گھر ہے میں نہیں رہتی کیا یہاں آکر۔ 

سنتھیا برا مان گئ۔ جبین سٹپٹا سی گئیں

بیٹا اب تھوڑی دیوار سے دیوار ملی ہوئی ہے 

تو آنٹی ہم نے گھر بدل لیا تو کیا ہم بھی بدل گئے؟ یقین کیجئے امی اریزہ کو اتنا یاد کرتی ہیں اسکو اپنی دوسری بیٹی مانتئ ہیں مگر  آپ اسے کبھی میرے گھر بھیجتی نہیں ہیں اب کم ازکم نیو ائیر پر تو آنے دیں ۔۔ 

سنتھیا کے پاس کبھئ دلائل کی کمی نہیں ہوتی تھی۔ جبین نے شوہر کی۔جانب دیکھا وہ بھی نرمی سے سر ہلا کر انہیں منع کرنے سے روک ہی رہے تھے۔ انہوں نے بھی سر اثبات میں ہلا ہی دیا۔ 

 چرچ اتنا خوب صورت سجا ہوتا ہے امی مجھے اتنا شوق تھا دیکھنے کا۔۔ اریزہ کی الگ خوشی تھئ۔ 

چلو جلدی سے کپڑے نکالو عید والا ڈریس نکالنا۔ 

نہیں میں نے نیا بنوایا ہے ایک سفید دکھائوں؟ 

اریزہ نے کہا تو وہ فورا مان گئ

جلدی کرو ایڈون کو فون کردیا ہے لینے آتا ہوگا ہمیں

سنتھیا کو فورا جانے کی فکر لگ گئ۔ دونوں پروگرام بناتئ اٹھ کر بھاگیں۔ 

آپ ان نزاکتوں کو نہیں سمجھتے اب یہ نیو ائیر منانا کہاں سے جائز ہے اوپر سے آرتھر صاحب کے گھر کی تقریبات تو مخلوط ہوتی ہیں گانابجانا ہوتا ہے وہاں ناچتے ہیں لڑکے لڑکیاں مل کر یہ ہمارے یہاں۔۔ 

جبین چیں بہ چیں ہوئیں۔ مرتضی مسکرادیئے

تو؟ ایک تو سوچتی بہت ہیں۔ آرتھر کا خاندان اجنبی نہیں ہمارے لیئے بیس پچیس سال پڑوسی رہے ہیں وہ اچھے شریف لوگ ہیں۔ کیا وہ عید ملنے نہیں آتے ہم سے؟ ہم کرسمس پر کبھی انکے گھر تک نہیں گئے چلو کرسمس مزہبئ بحث بن جاتی مگر نئے سال کی چھوٹی سی تقریب میں شرکت کرنے سے کیا ہو جائے گا۔ باقی اریزہ خود سمجھدار ہو چکی ہے اچھے برے کا پتہ ہے اسے اپنے آپ اسے ہر وقت روکنا ٹوکنا چھوڑ دیں۔ یونیورسٹی پہنچ گئ ہے وہ اب۔ بچئ نہیں رہی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔ یہ سب اسکی توقع کے برعکس تھا۔ سنتھیا کے بڑے سے لان میں الگ ہی دنیا سجی تھئ۔ ایک جانب باربی کیو کا اہتمام تھا دوسری جانب ہٹ سی بنا کر مشروبات کیلئے بڑا سا کائونٹر بنایا ہوا تھا جس پر باوردی ویٹرز تعینات تھے۔ پورے لان کے اوپر شامیانے تھے جن سے دسمبر کی سردی روکی گئ تھی جگہ جگہ ہیٹر لگے تھے۔ موسیقی کا بھئ خوب اہتمام تھا ۔ کئی مشہور نام سر بکھیرنے آئے تھے موسیقار الگ بیٹھے تھے ڈی جے الگ  فرمائشی گانے لگا رہا تھا۔ یقینا رات بھر کا پروگرام تھا انکا۔ جبھی سنتھیا رات رکنے کی اجازت لیکر آئی تھی ۔ایک کونے میں ڈانس فلو ربناہوا تھا شیشے کی زمین  جن پر ڈسکو لائٹس اور برقی قمقموں کی کہکشاں نے سجا رکھا تھا۔ سانولے سلونے عیسائی جوڑےمغربی لباس زیب تن کیئے کپل ڈانس کر رہے تھے۔ کئی غیر ملکی شکلیں بھی ہاتھ میں جام لیئے مغربی لباس میں ملبوس تقریب کا لطف اٹھا رہے تھے۔ 

سنتھیا کی بچی۔ اس نے ہتھیلیاں مسلیں۔ 

آئوٹ اینڈ آڈ کی وہ شاندار مثال بنی ہوئی تھی۔ جامنی اور نیلے امتزاج کی لانگ فراک جس پر گلے پر ہلکا سا کام ہواتھا چوڑی دار پاجامہ جو اسکے چلنے پر بمشکل نظر آتا تھا لانبا دوپٹہ شیفون کا وہ بلا مبالغہ اس وقت یہاں سب سے ذیادہ کپڑے پہنے تھی۔ باقی سب تو اسکرٹ آف شولڈر یا میکسیز پہنے یوں پھر رہی تھیں جیسے اسلام آباد کا دسمبر نہیں کراچی کا جون چل رہا ہو۔ 

کیا ہوا ٹھنڈ لگ رہی ہے؟ 

وہ دانت پیس رہی تھئ جب سنتھیا کی اس پر نگاہ پڑی فورا دوڑی چلی آئی اسکے پاس۔ 

خود وہ ستاروں بھراپنڈلیوں تک کا فل سلیوز مغربئ طرز کا فراک پہنے تھی جس کے نیچے ٹائٹس بھی پہن رکھی تھیں اس نے۔ 

یہ چرچ ہے؟ اس نے کہا تو سنتھیا کھلکھلا دی۔ 

چرچ بھئ چلیں گے یہ تو پاپا کی پارٹی ہے پتہ ہے کتنے بڑے بڑے لوگ آئے ہیں ۔۔ 

وہ شو مارنا چاہ رہی تھی اریزہ نے گھرک دیا۔

جی جانتی ہو آپکے پاپا بیوروکریٹ ہیں یہاں سب وی آئی پیز ہی آئیے ہوں گےمگر میں یہاں کیا کر رہی ہوں ؟ 

اسکے کہنے پر سنتھیا ہنس دی۔ 

یار سورئ تم سے بھئ جھوٹ بولنا پڑا کہ صرف میری کزنز ہوں گئ مگر یار یقین کرو بہت مزا آنے والا ہے ہم سب کھائیں پیئیں گے ناچیں گے گائیں گے بس ذرا بارہ بجنے دو۔ 

وہ اسکو منانے کندھے پر جھول۔گئ۔ اریزہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ 

پھر واقعی اصل رونق بارہ بجے کے بعد لگی۔ 

جام پر جام چڑھاتے ہوئے مدہوش ہوتے لوگ ڈانس فلور پر ناچ ناچ کر نئے سال کا جشن منا رہے تھے سنتھیا نہیں پیتی تھی مگر اسکے علاوہ اسکی کزنز وغیرہ سب پی بھی رہی تھیں ناچ بھی رہی تھیں۔ اسکے کزنز اسکے پاپا کے دوست بوڑھے جوان کوئی تشخیص نہ تھی ۔ ایک لڑکے نے اسے اپنے ساتھ ڈانس کرنے کی دعوت دی تو اس نے جھومتی سنتھیا کا ہاتھ تھام لیا۔ 

آں کیا ہوا۔ وہ متوجہ ہوئی۔ 

مجھے یہاں سے جانا ہے۔۔  

گانے کا شور لوگوں کی چیخم دھاڑ۔ سنتھیا نے کان دبا کر پوچھا 

کیا۔۔ 

مجھے گھبراہٹ ہورہی ہے مجھے یہاں سے جانا ہے۔ 

اسکو بھانت بھانت کے لوگوں کی لگائی ہوئی خوشبوئوں، باربئ کیو کی مہک  اور شراب کی بو سے سخت الجھن آرہی تھی۔ اسکو لگ رہا تھا یہیں چکرا کر بے ہوش ہو جائے گئ۔ 

سنتھیا کو اسکی کزن نے کھینچ لیا تھا۔ قریب تھا وہ وہیں چکرا کر بے ہوش ہو جاتی اسے ایک نرم مہربان آواز اپنے قریب سنائی دی۔

اریزہ۔ 

وہ چونک کے پکارنے والے کی جانب مڑی۔ مخاطب کوئی 

اجنبی نہیں تھا۔ اس نے سکھ کا سانس لیا۔ 

ادھر میرے ساتھ آئو۔ 

ایڈون اسکے چہرے کے تاثرات پڑھتا مسکرا دیا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون کھلی کھڑکی سے باہر جھانک رہا تھا۔ دونوں ہاتھ اپر کی جیب میں ڈالے وہ  31 دسمبر 2016 میں پہنچا ہوا تھا شائد۔ 

ایڈون۔ 

سنتھیا نے اسے پکار کر۔متوجہ کرنا چاہا۔ 

اس نے سنا نہیں شائد۔ 

اس نے جلبلا کر سامنے رکھی وائن کی بوتل اٹھائی 

زندگئ میں کبھی ہوش نہ کھوئے تھے اس نے اور آج ہوش اڑ گئے تھے اسکے۔ غلط دن غلط انتخاب کیا تھا اس نے۔ آج اسکو اپنے حواس کھونے نہیں دینے چاہیئے تھے۔ 

اس نے پانی والے گلاس کو اٹھا کر اسے بھرنا شروع کردیا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کم سن اپنے روم میں واپس جا چکا تھا۔۔ یون بن بھئ نہیں تھا اور ایڈون بھئ غائب تھا۔ سالک شاہزیب کے پاس آیا ایڈون کا پوچھنے۔ 

وہ شائد آج رات آئے ہی نہ آج کیا ہوسکتا ہے کل بھی نہ۔آئے۔ 

شاہزیب نے بتایا تو وہ حیران ہوگیا

کیوں ؟ کہاں گیا ہے؟ 

یہیں سیول میں ہے مگر سنتھیا کے ساتھ۔ 

شاہزیب نے محتاط انداز میں ہی بتایامگر سالک ہکا بکا رہ گیا

پاگل تو نہیں ہے ؟ انگلینڈ آگیا ہے وہ یہ سمجھ رہا ہےکیا اور سنتھیا اسے کیا ہوا میں اسے ایسی لڑکی نہیں سمجھتا تھا۔ 

سالک کے کہنے پر شاہزیب نے دانت پیسے۔ 

ایسی لڑکی کیا ہوتا۔ اور دونوں بچے نہیں ہیں۔ اپنا اچھا برا سمجھتے ہیں۔ 

سالک کندھے اچکا کر اسکے برابر ہی بیڈ پر آن گرا۔

پرے مر۔ وہ آدھا شاہزیب پر ہی گرا تھا اس نے منہ بنا کر دھکیلا تو الٹا وہ اس سے اور لپٹ گیا۔ کم سن اسی وقت باتھ روم سے نکلا۔  بڑے غور سے ان دونوں کو دیکھا۔دونوں اسکے گھورنے پر سیدھے ہو گئے۔ 

میں نے سنا ہے باتھ روم میں کھانا پینا ان ہائی جینک ہوتا ہے۔ 

سرسری سی نظر ان پر ڈال کر وہ اپنے بیڈ کی جانب بڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ 

ہاں تو ہم کونسا بریانی کھاتے ہیں باتھ روم میں۔ سالک نے منہ بنایا۔ 

یہ جو قہوہ پیتے ہو باتھ روم میں اسکا کہہ رہا ہوں۔ ویسے مجھے تو سادہ پانی ہی لگا۔ کیا ڈالتے ہو اس میں۔ 

وہ متجسس تھا دونوں تڑپ کر سیدھے ہو بیٹھے

کونسا قہوہ کیا پی رہے ہیں ہم باتھ روم میں؟ انکی حیرانگی بجا تھی۔ 

یہ جو کیتلی رکھی ہے باتھ روم میں اسکا پوچھ رہا ہوں۔ اسکے کہنے پر دونوں سٹپٹائے

پیا تو نہیں اس کو۔ ؟ 

انکے کہنے پر وہ جھٹ نفی میں سر ہلاگیا۔ 

آنیا۔ ۔۔۔۔ پھر رک کر جھجکتے ہوئے اعتراف کیا۔۔

مطلب تھوڑا سا چکھا تھا۔۔

ابے یار۔ 

سالک نے سر پر ہاتھ مارا تھا۔ شاہزیب نے کھل کر قہقہہ لگایا

اسے بتا کس مقصد کیلئے رکھا ہے اس میں سے پانی پی کر آگیا ہے۔ 

سالک کو گھن سی آئی۔

ہاں تو پانی تو سادہ ہی تھا کونسا تو اسکے اندر۔۔۔

 شاہزیب کی تشریح اس نے باقائدہ اسکو مکے جڑ کر روکی ان کے برعکس کم سن سادہ سے انداز میں کہہ رہا تھا

 ۔۔ سادہ پانی ہی لگا مجھے تو ادھر یون بن کے باتھ روم میں بھئ سالک نے رکھا ہوا تم سب پاکستانی باتھ روم میں قہوہ پیتے ہو؟ 

اسکی حیرانگی دیدنی تھی۔ 

سالک نے منہ بنایا۔ 

نہیں پاکستان میں مسلم شاور آسانئ سے دستیاب ہوتا ہمیں وہاں قہوہ بنانے کی ضرورت نہیں پڑتئ۔ 

شاہزیب نے گھور کر اسے دیکھا۔ پھر کم سن کی غلط فہمی دور کرنے لگا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈھیر سارا مزا اڑا کر وہ تھکی ہاری جھومتی ہوئی اپارٹمنٹ پہنچی تھیں۔۔

اف میں تو تھک گئی۔۔ جی ہائے  سیدھا بیڈ پر گری تھی۔۔ 

میں بھی گوارا بھی لڑھک کر اسکے پاس آگری تھی۔۔ 

کافی پیوگی دونوں۔۔ اریزہ بھی تھکی تھی مگر اس نے لطف اتنا اٹھایا تھا کہ ابھی بھی مسرور سی تھی۔۔ 

میں تو سونے لگی۔۔ گوارا نے صاف انکار کیا

مجھے لا دو۔۔ جی ہائے  نے انگڑائی لی۔ وہ سر ہلاتی کچن میں آگئ۔۔ دو مگ کافی بنا کر جب جے ہی کو اسکا کپ دینے آئی تو جی ہائے گوارا سے لپٹی بے خبر سو رہی تھی۔۔ ا س کو سنتھیا جانے کیوں یاد آئی

۔ جانے اسے اچانک کیا ہوا ہے۔۔ وہ سوچ کر اداس سی ہو چلی تھی۔۔ 

پھر دونوں کو چادر اڑھا کر وہ بتی بجھاتی ٹیرس میں چلی آئی۔۔ سیول ابھی بھی جاگ رہا تھا۔۔ اس نے موبائل اٹھالیا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیمنسٹ کہتے لڑکیوں کو آزادی چاہیئے سب کر گزرنے کی۔۔ انکی پسند کا لباس پہننے کی انکو انکی مرضی کا ہر کام کرنے کی آزادی ہو ہر جگہ ہر وقت جانے کی آزادی۔۔ برابری کا حق ملنا چاہیئے کیونکہ لڑکیاں بھی وہ سب کر سکتی ہیں جو لڑکے کر سکتے مگر کیا واقعی لڑکیوں کو یہ سب درکار؟

 مجھے لگتا۔۔

صرف لڑکیوں پر سے دھیان ہٹا لیا جائے بس۔۔ اتنا کافی ہے۔۔ 

اس نے سوچا پھر شائع کر دیا ۔۔ 

ہاں میرے پاس ایک کپ کافی ہے فالتو چاہیئے کسی کو ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلا کمنٹ۔۔

ہائے کیسےدھیان ہٹائوں؟۔۔ ہر وقت لڑکیوں کے بارے میں ہی سوچتا ہے دل میرا۔۔

دوسرا۔

لڑکا ہوں تو لڑکیوں پر ہی دھیان جائے گا نا کیا فالتو بات کرتی ہو ایڈمن۔۔

تیسرا۔

ایڈمن بری بات لڑکوں کو غلط غلط مشورے نہ دو کچے زہن خراب کر رہی ہو۔۔ 

آہ۔۔ اس نے سر  ہی پیٹ لیا تھا اپنا۔۔

چوتھا۔۔

مجھے کافی دے دو بہت سر درد کر رہا۔۔

پانچواں۔۔

میں بھی یہی سوچتا آئندہ تم پر بھی دھیان نہیں دونگا بلاگ ان فالو کر رہا۔۔  آگے منہ چڑاتا اسمائیلی۔۔ صارم تھا یہ۔

چھٹا۔۔

یہ بات میرا مزہب اسلام چودہ سو سال پہلے کہہ چکا۔۔ کسی غیر محرم کو دیکھو تو نظر چرا لو مت گھورو دوسری نگاہ نہ ڈالو۔۔ اسی میں بہتری ہے دونوں کیلیئے۔۔

کسی عجیب سے زبان میں لکھا نام والا صارف ۔۔ اس نے پہچان لیا۔۔یہ وہی تھا جو کچھ عرصے سے باقائدگی سے کمنٹ کر رہا تھا اس نے اسکی آئ ڈی کھول لی۔۔ سیول کوریا کا رہائشی۔۔ ہمم اس نے تجسس میں اسکی وال کھولی۔۔ ہنگل میں ہی سب پوسٹ تھیں اسکا اپنا کوئی بلاگ تھا جس میں جانے کیا مواد تھا ہر کوئی کمنٹ کر رہا تھا کوئی دو پونے دو سو کمنٹ تھے ہزاروں لائکس اور شئرز۔۔

پتہ نہیں لوگوں کے اتنے پیروکار کیسے بن جاتے میرے مر مر کر بھی ہزار نہیں ہوئے۔۔ اس نے رشک سے دیکھا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔

وہ اپنا بلاگ اپڈیٹ کر رہا تھا لیپ ٹاپ کھولے جب اسے نوٹیفیکیشن آیا۔۔

اسے ایڈمن نے جواب دیا تھا بلکہ جواب میں سوال کیا تھا

اسلام؟۔۔ آپ مسلمان ہیں؟

اس نے سوچا۔۔ تو یہ ایڈمن بھی متعصب ہے۔۔ مگر اسے اپنی شناخت پر شرمندگی نہیں تھی سو فورا جواب دیا 

ہاں۔۔ 

اسے چند لمحوں میں ہی جواب ملا ۔۔

اسلام و علیکم جان کر خوشی ہوئی۔۔ میں بھی مسلمان ہی ہوں۔۔اور آپکی بات سے متفق بھی۔۔

اس نے اسمائیلی بھیج دیا۔۔ 

جواب میں  اس نے بھی اسمائیلی ہی بنا کر بھیجا۔

وہ دوسری ٹیب بند کر کے دوبارہ بلاگ اپڈیٹ کرنے لگا تھا کہ اسے ایک اور اطلاع موصول۔ہوئی۔۔  اس نے تجسس میں کھولئ تو اسی ایڈمن نے اسکا بلاگ فالو کیا تھا۔۔ اسے جانے کیوں بے حد خوشی ہوئی تھی۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

پلیز میرا فون اٹھا لو میرے لیئے نہیں اپنے لیئے۔ تمہیں ایک ادارے سے جاب کی آفر ہوئی ہے سچی اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔۔

پلیز مجھ سے رابطہ کرو۔۔

اچھا یہ لو۔نمبر خود بات کر لو۔۔ آہجوشی تائے ہانگ سو ہیں یہ۔۔

پانچ میسجز تھے۔۔ اس نے باری باری سب کھول کر پڑھے ضائع کیئے اور کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اختتام 

جاری ہے

Kesi lagi Salam Korea ki qist? Rate us

Rating

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *