Salam Korea

by Vaiza Zaidi

سلام کوریا
قسط 12

صبح معمول کے مطابق تھی وہ نہا کر فریش ہوکر باہر جانے کیلیئے کمرے سے نکلا تھا کہ آہبوجی سے سامنا ہو گیا۔۔
آننیاگ واسے او۔۔ وہ۔ہلکے سے سر کو خم دیتا گزرنے کو تھا۔۔
ہایون نا ۔۔۔۔ رکو۔۔
وہ اہتمام سےڈائننگ ٹیبل پر اکیلے بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے چاول سوپ انڈے کے رول سب کچھ موجود تھا۔۔
وہ رک گیا۔۔ مگر وہ شائد اسکے ضبط کا امتحان لینا چاہتے تھے۔۔ وہ انکے پاس کھڑا انہیں منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا اور وہ اہتمام سے ایک کے بعد ایک نوالہ لے رہے تھے۔۔
آہبوجی۔۔ اس نے ناچار پکارا۔۔
ہوں۔۔ وہ۔یوں چونکے جیسے ہایون نے ان سے توجہ کی بھیک مانگ لی ہو۔۔
ہمم بیٹھو۔ انہوں نے ہنکارا بھرا۔۔
ہایون بیٹھنا چاہتا تو نہیں تھا مگر کوئی چارہ نہ تھا۔
میں ایک مہینے کیلیے امریکا جا رہا ہوں۔۔
انہوں نے توقف لیا۔۔ ہایون نے یوں دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو تو میں کیا کروں؟۔۔
تم اس ایک مہینے کیلیئے میری جگہ دفتری معاملات دیکھو گے۔۔سیکٹری آہن تمہیں سب سمجھا دیں گے۔۔ مگر بہر حال کسی بھی معاملے کو نپٹانے میں آخری فیصلہ تمہارا ہوگا۔۔ کل سے دفتر آنا شروع کر دینا میں زیادہ سے زیادہ اگلےویک اینڈ تک چلا جائوں گا۔۔
ہایون نے پوری توجہ سے انکی پوری بات سنی تھی پھر اطمینان سے اٹھتے ہوئے بولا۔۔
مجھے دلچسپی نہیں معزرت۔
ٹھیک ہے پھر مجھے گنگشن کو کہنا پڑے گا۔۔
انکا اطمینان عروج پر تھا۔۔ سرسری سے انداز میں بولے
وہ پلٹ کر جاتے جاتے رک گیا۔۔
میرے پاس اولاد کے نام پر بس یہ دو لوگ ہی ہیں۔۔ سو اگر تم نہیں تو گنگشن کو میری جگہ کام کرنا ہوگا۔۔
انہوں نے نئپکن سے منہ صاف کرتے جیسے وضاحت کی تھی۔۔۔
آہموجی سے کیوں نہیں کہتے؟۔۔
اس نے جیسے احتجاج کیا۔۔
اگر اس عورت کے ہاتھ ایک دن بھی اتنی طاقت آئی تو سب سے پہلے وہ تمہارا پتہ صاف کرے گی۔۔
وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے ۔۔
مجھے کچھ چاہیئے بھی نہیں۔۔ وہ۔لاپروا تھا۔۔ اسکی بات پر لی صاحب یوں مسکرائے جیسے کوئی بچوں کی بات پر مسکرا دیتا ہے۔۔
میں گنگشن سے کہہ دوں گا ۔۔ تم جائو۔۔ اپنا کام کرو۔۔
وہ اسکا کندھا تھپتھپا کر آگے بڑھنے کو تھے۔۔ ہایون نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کر کے سوچا۔۔ پھر ہاں کردی۔۔
میں کل آجائوں گا دفتر۔۔ وہ کہہ کر رکا نہیں تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا تھا۔۔ لی فاتحانہ مسکراہٹ سے اسے جاتے دیکھتے رہے۔۔
مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا یہ بچے ایک دوسرے کیلیئے محبت میں کچھ بھی کر سکتے اچھی کمزوری ہاتھ لگی میرے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن پول کے کنارے کاوچ پر لیٹا اس بے چین روح کو ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر تیر تیر کر چکر لگاتے دیکھ رہا تھا۔۔ وہ پانی پر بازو یوں چلا رہا تھا جیسے پانی کو پٹخ رہا ہو۔۔ کوئی درجن ایک چکر لگا کر جب وہ تھک کر کنارے آیا تو وہ آرام سے اٹھا اور اسے سہارا دینے کو ہاتھ آگے بڑھایا۔۔
ہایون نے ایک نظر اسے دیکھا پھر جیسے ہار مان کر اسکا ہاتھ تھام کر باہر نکل آیا۔۔
کاوچ پر آکر وہ تھک کر گرا تھا۔۔
میں نہیں پوچھوں گا تمہیں کیا پریشانی ہے۔۔ کیونکہ تم اس پریشانی سے کیسے نمٹنا یہ ٹھان چکے
۔۔ کم سن نے اسے کہا تو ہایون زور سے ہنسا تھا۔۔
اسکا انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہا ہو صحیح پہچانے ہو مجھے۔۔
وہ اب کافی پرسکون نظر آرہا تھا۔۔ اس نے گرل۔سے تولیہ کھینچی اور بال خشک کرنے لگا۔۔
کم سن اسے دیکھتا رہا پھر مسکرا کر سر جھٹک گیا۔۔
ہایون ۔۔ ایک بات پوچھوں اگر تم نہ بتانا چاہو تو صاف کہنا برا مت مان جانا۔۔
اس نے حفظ ماتقدم کے طور پر کہا۔۔
بولو۔۔ ہایون نے سائیڈ ٹیبل سے مشروب کا گلاس اٹھا کر چسکی لی۔۔
تم نے اپنی آہموجی کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے کبھی؟۔۔
اس نے سیدھا سوال کیا تھا۔۔ ہایون اگلا گھونٹ بھرتے بھرتے رک سا گیا۔۔۔۔۔۔۔کم سن نے ایک نظر اسکے چہرے ہر پھیلتے سائے دیکھے پھر بات بدل دی۔۔
تمہاری ہوپ کا کوئی مسلئہ ہے جو تمہیں الجھا رہا؟
کم سن کے تمہاری ہوپ کہنے پر اس نے چڑ کر گھورا۔
نہیں اور وہ میری ہوپ بھی نہیں ہے۔
اسکے جل کر کہنے پر کم سن نے خوب حظ اٹھایا قہقہہ لگا کر ہنسا۔۔۔
اچھا میری ہوپ اب خوش۔ میری ہوپ میں خداداد صلاحیت ہے بس اسکو کسی اچھے ادارے سے آرٹس کی کوئی ڈگری لینی چاہیئے وہ بنیادی باتیں سکھائیں گے اسکا ہنر نکھر جائے گا۔
اس نے کچھ نہیں کرنا۔ ہایون چڑ کر بولا۔
اس پاگل لڑکی نے۔مجھے سب چیزیں واپس بھجوا دیں۔۔ اور مجھے کسی پیغام کا جواب بھی نہیں دے رہی ۔گھر بھی بدل لیا حد ہے۔ وہ کافی تپا ہوا تھا۔۔
اوپر سے اس ایڈیٹر نے علیحدہ ناک میں دم کیا ہوا ۔۔ کہہ رہا دو دن میں جواب دو ورنہ کسی اور کو ہائر کر لوں میں مجھے جلدی۔ اب بتائو۔۔ میں کیا کروں۔
دفع کرو۔
۔ کم سن نے گھونٹ بھر کر اطمینان سے کہا۔۔
آپ صرف اسکی مدد کر سکتے جو آپ سے مدد لینا چاہے وہ تم سے مدد نہیں لینا چاہتی۔۔ تم اسکی مدد کا خیال دل سے نکال دو۔۔
ہایون نے گہری سانس لی۔۔
یار میں واقعی اسکی مدد کرنا چاہ رہا تھا۔۔ جانے اسے اچانک ہوا کیا۔۔ میرا کوئی غلط ارادہ نہیں تھا۔۔ اسکی جگہ کوئی بھی ہوتا تو میں یہی کرتا۔۔
اسکے انداز میں سچائی تھی۔ کم سن اسکا چہرہ پڑھ سکتا تھا۔۔ کتنے صاف اور خالص ہوتے ہیں وہ چہرے جو آسانی سے پڑھے جا سکتے ہین جھوٹ کی ملمع کاری سے دور عیاری کے نقاب سے مبرا۔۔
معصوم سادہ ۔۔ ہایون نے اپنی چندی آنکھوں کو سکیڑ کر اسے دیکھا۔۔
کیا ہوا۔۔
کم سن چونک کر مسکرایا۔۔
تم بہت پیارے ہو۔۔ ہایون کیلیئے یہ کافی غیر متوقع اعتراف تھا۔۔۔ پورا منہ کھول کر رہ گیا۔۔
کیا؟
کم سن اسکے انداز پر مسکرایا۔۔
بہت صاف دل کے سچے ستھرے سے انسان ہو کوئی بہت ہی خاص لڑکی ہونی چاہیئے تمہارے لیئے۔۔۔
ہایون ۔کی حیرت دو چند ہو گئی تھی۔۔ کم سن اٹھا پھر ہلکے سے اسکے گال پر چپت لگا دی۔۔
منہ بند کرو۔۔
آہش۔۔۔ اسکا جبڑا ہل گیا تھا ۔۔ کراہ کر سہلانے لگا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا بیڈ پر نیم دراز موبائل میں مگن تھی۔۔
جی ہائے اسکے پیروں کے پاس ٹکی موبائل میں مگن تھی۔۔ اریزہ ان دونوں کے پھیلنے کے بعد بچی تھوڑی سی سرہانے والی جگہ پر بیٹھی موبائل میں مگن تھی۔۔ مطلب صحیح بہترین وقت اکٹھے گزارا جا رہا تھا۔۔ اریزہ سب سے پہلے اکتائی تھی۔ موبائل تکیے پر پٹخ کر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔۔
کیا ہوا ؟۔۔ جی ہائے گیم کھیل رہی تھی نظریں ہٹائے بنا توجہ سے نوازا۔۔
میں بور ہو رہی ہوں۔۔ اس نے منہ بنایا۔۔
میں بھی۔۔ گوارا نے بھی موبائل ایک طرف رکھ دیا۔۔
باہر چلیں۔۔۔ جی ہائے نے کہا تو گوارا نے بے چاری سی شکل بنا لی۔۔
ایم آئوٹ آف کیش۔۔
کل کم خرچنا تھا نا۔۔ جی ہائے نے منہ بنایا۔
یار کیا زندگی ہے پیسہ پیسہ سوچ کر خرچنا۔۔ اب آخری ہفتہ مہینے کا میرا ایسا بکواس گزرے گا۔اور
وہ رکی ایک۔نظر اریزہ۔کو دیکھا پھر ہنگل میں شروع ہوگئ۔۔
آج کے کھانے کیلیئے نا راشن ہے نا پیسے۔۔ سو ہم ابھی ہاسٹل چلتے ہیں کم از کم کھانا تو ملے گا۔۔ اب کیا کروں۔۔
وہ۔جھنجھلائی۔۔ ۔ جب تک میری پاکٹ منی ٹرانسفر نہیں ہوگی میں بھوکی مروں گی۔۔۔
ہآش۔۔ جی ہائے۔نے تاسف سے گھورا۔۔
تمہیں اس اپارٹمنٹ کو کرائے پر چڑھا کر عیش کرنا چاہیئے۔
گوارا نے گھور کر دیکھا۔
کہہ کون رہا جو ہر مہینے ملنے والی پاکٹ منی اور چھے مہینے بعد ملنے والی ایک معقول رقم باہر پھینک آتی ہے۔
تمہیں کتنی بار کہا ہے مجھے یہ طعنہ مت دیا کرو۔
جی ہائے تپ کے سیدھی ہو بیٹھی۔
اپنے باپ کے پیسے کو استعمال کرنے سے میں بھوکا مرنا پسند کروں گی۔
چل چل۔ گوارا نے مکھی اڑائی
یہ زیادتی ہے تم۔لوگ انگریزی میں بات کرو۔۔
اریزہ احمقوں کیطرح دونوں کا چہرہ دیکھ رہی تھی جھنجھلا گئ۔۔
کم از کم مجھے میری دوست کے سامنے شرمندہ نہ کرتیں۔۔ اسے بھی دعوت دی تھی تو کل کم از کم تھوڑا بچت کر لینی تھی اب کیا کہوگی اسے ؟
جی ہائے نے مسکرا کر اریزہ کو دیکھا اور معزرت کرنے کے انداز میں سر ہلایا۔۔ پھر دانت کچکچا کر ہنگل میں ہی گوارا سے بولی۔
ہوگئ نا غلطی۔۔ گوارا نے معصوم سی شکل بنائی۔۔
کوئی مسلہ ہے۔۔ ؟
اریزہ نے اندازہ لگانے کی پوری کوشش کی تھی۔۔
آنیو۔۔ دونوں اکٹھے بول پڑیں۔۔
ہم بس طے کر رہے تھے کیا کھائیں۔۔ میں ایسا کرتی ہوں مارکیٹ سے سامان لے آتی ہوں۔۔ جی ہائے کچھ فیصلہ کیا پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
میں بھی چلتی ہوں۔۔ گوارا بھی اٹھی
میں بھی چلتی ہوں۔۔ اریزہ فورا تیار ہوگئ۔۔
نہیں تم نہانا چاہ رہی تھیں فریش ہولو۔۔ ہم بس تھوڑی دیر میں آتے ہیں۔۔ جی ہائے نے اتنی قطیعت سے کہا تھا کہ وہ رک گئ۔۔
ٹھیک ہے۔۔ وہ اور کیا کہتی۔۔
بس ہم ابھی آئے۔۔
جی ہائے اور گوارا جلدی جلدی اپر پہننے لگیں۔۔ وہ دونوں چلی گئیں تو اس نے اپنے کپڑے نکالے پھر پورے کمرے پر نظر ڈالی۔۔ پورا کمرہ بکھرا پڑا تھا سب سمیٹ کر تھوڑی بہت جھاڑ پونچھ کر کے وہ باتھ روم۔میں گھس گئ۔۔ نہا دھو کر باہر آئی نماز پڑھی۔۔ ابھی دعا کیلیئے ہاتھ اٹھائے ہی تھے کہ کال بیل بج اٹھی۔۔ اس نے نظر انداز کر کے دعا مکمل کرنی چاہی مگر آنے والا بے صبرا تھا۔۔ اس نے آہ بھر کر چادر جسے بچھا کر نماز ادا کر رہی تھی سمیٹی اتنی سی دیر میں دو مرتبہ پھر بیل بج چکی تھی۔۔
ارے۔۔ اسے غصہ ہی آگیا۔۔ تن فن کرتی دروازے پر گئ اور کھول دیا۔
آنے والوں کا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔۔
آرغ۔۔ یون بن کے منہ سے لا یعنی سی آواز نکلی۔۔ کم سن اور ہایون بھی بھونچکا سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔
کہاں وہ۔آنے والے کو۔کھری کھری سنانے کے در پے تھی کہاں انکی سہمی شکلیں دیکھ کر خود سراسیمہ رہ گئ۔۔
کیا ہوا۔۔ اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔۔
آہ۔۔ تم نے مجھے ڈرا دیا
۔۔ یون بن سب سے پہلے حواسوں میں آیا تھا۔۔
اسکی جانب اشارہ کیا تو وہ حیران ہو کر اپنی طرف دیکھنے لگی۔
اوہ۔۔ وہ آف وائٹ کرتا پاجامہ پہنے تھی ساتھ بڑا سا دوپٹہ نماز کے اسٹائل میں اوڑھا ہوا تھا۔۔ پہلی نظر میں کفن پوش مردے کا ہی گمان ہوا تھا۔۔
ہارر مووی کا کفن پوش مردہ لگ رہی تھیں تم
کم سن نے کہہ بھی دیا۔۔اریزہ گھور کر رہ گئ
اف تم ہمیشہ حیران کرتی ہو ۔۔ ایک لمحے کو تو لگا ڈراونی فلم چل رہی اور میں دن میں زندہ لاش دیکھ رہا۔۔
یون بن سر ہلاتا اسے ایک طرف کرتا اندر داخل۔ہوا۔۔
خوامخواہ ہی۔۔ اس نے نا دانستگی میں اپنا بازو جھاڑا تھا جسے یون بن نے دھکیلا تھا۔۔ ہایون نے اسکو حیرت سے دیکھا تھا ۔۔ وہ جز بز سی ہو کر دوپٹہ کھول رہی تھی۔۔
میں نے مسلم لڑکیوں کو ایسے سر لپیٹے دیکھا ہے ہمیشہ تم صحیح اسکارف نہیں لیتیں۔۔ کم سن نے بھی اندر داخل ہوتے ہویے اپنی معلومات کا رعب جھاڑنا ضروری سمجھا تھا۔۔
اس نے منہ بنا کر دروازہ بند کیا۔۔
گوارا کہاں ہے؟۔ یون بن اندر باتھ روم تک جھانک آیا تھا۔۔
باہر گئی ہیں جی ہائے اور گوارا آتی ہونگی۔۔
وہ بتا کر اپنے بال جھٹکتی اندر کمرے میں چلی گئ۔۔
یون بن کچن کیبنٹس کھول کھول کر دیکھنے لگا۔۔ کم سن نے ہمیشہ کی طرح لاونج میں رکھے کاوچ پر دراز ہو کر ٹی وی کھول لیا تھا۔۔ ہایون نے کچھ سوچ کر کمرے میں چلا آیا۔۔ وہ آئنے کے سامنے کھڑی بال سلجھا رہی تھی۔۔ آہٹ پر مڑ کر دیکھا پھر دوبارہ بال سلجھانے لگی۔۔
اریزہ۔ نونا نے تمہارے لیے یہ بھیجا ہے۔۔ اس نے جیب سے کوئی پمفلٹ جیسا کچھ نکال کر اسے پکڑایا۔۔
اس نے کنگھا رکھ کر پکڑ لیا۔۔
یہ کیا ہے۔
پورا بروشر ہنگل میں تھا کچھ پاپ سنگرز کی تصویریں بھی تھیں مگر اسے کچھ سمجھ نہ آیا۔۔
بریو ہارٹ کے چیریٹی کنسرٹ کے پاسسز ہیں۔۔ نونا کی انجمن ہی اسکو ترتیب دے رہی ہے۔۔
اس نے وضاحت کی۔۔
اوہ اچھا۔۔ میری جانب سے شکریہ ادا کرنا انکا۔۔
اس نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی سر جھکا کر وش کرتا پلٹنے لگا پھر کچھ یاد آیا۔۔ مڑ کر مسکرا کر کہنے لگا۔۔
تم ابھی بالکل نن لگ رہی تھیں۔۔
اسکا انداز اتنا سادہ سا تھا وہ سمجھ نہیں پائی۔۔
مزاق اڑا رہے ہو ؟۔۔
آنیو۔۔ اس نے فوری تردید کی۔۔
نن ایسے ہی اسکارف کرتیں ہیں۔۔ اس نے اشارے سے بتایا۔۔
اور ایسی ہی معصوم سی لگتی ہیں۔۔۔
اس نے مسکرا کر وضاحت کی اریزہ چاہ کر بھی برا نہ مان سکی۔۔ جھینپ کر بولی۔۔
تھینکس فار دا کمپلیمنٹ۔۔
یو ر ویلکم۔۔ اس نے کندھے اچکا دیئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
جی ہائے نے اپنا کارڈ ڈال کر اے ٹی ایم سے کیش نکالا تھا۔۔وہ دونوں سیدھا مارکیٹ آئی تھیں۔۔
سبزیاں خریدنے کے بعد اس نے آٹے کا بھی۔پیکٹ اٹھا لیا تھا۔۔ گوارا نے حیرت سے اسے دیکھا تو وہ وضاحت کرنے لگی۔۔
اریزہ ہاسٹل میں کھانا نہیں کھاتی۔۔ یہاں میں نے دیکھا وہ جب وہ فرائی پین میں کیک بناتی تو بہت شوق سے کھاتی ہے۔۔ کم از کم ایک دو دن وہ آرام سے جب تک یہاں ہے کھانا ڈھنگ سے کھا۔لے۔۔

تم اریزہ کو کافی ذیادہ پسند کرتی ہو ہے نا؟ گوارا نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔
ہاں۔۔ مجھے اچھی لگتی ہے۔۔۔مجھے اسکی سب سے اچھی عادت یہ لگتی وہ جب بھی کچھ کھا رہی ہوتی ہے اور میں یا کوئی بھی اسکے سامنے آتا اسکے ساتھ ضرور بانٹتی ہے۔۔ میں بس اسکا خیال رکھنا چاہ رہی۔۔
اس نے صاف گوئی سے کہا۔۔
مجھے پہلے وہ اتنی اچھی نہیں لگی تھی۔ گوارا نے صاف گوئی سے کہا۔۔
پھر جب تم اس سے دوستی کرنے لگیں تو میں جیلس بھی ہوگئ تھی۔۔
آہہ۔۔ جی ہائے نے پیار سے اسے ساتھ لگایا۔۔
مگر اب مجھے لگتا وہ کافی سادہ سی لڑکی ہے بلکہ اگر کسی لڑکے کی نظر سے دیکھا جائے تو بے حد خوبصورت لڑکی ہے مگر وہ بہت سادہ سی دکھایی دیتی ہے اپنی خوبصورتی نمایاں نہیں کرتی ایک لڑکی ہونے کے ناطے مجھے اسکا رویہ عجیب لگتا۔۔
گوارا اپنے مخصوص دو ٹوک انداز میں بولی۔۔
شائد۔انکی ثقافت کا اثر ہے۔۔ جی ہائے بھی متفق تھی کندھے اچکا کر رہ گئ۔۔
ہم شائد۔۔
دونوں شاپنگ مکمل کر کے باہر نکلیں دونوں کے ہاتھوں میں بڑے بڑے بیگ تھے۔۔ جی ہائے ایک ہاتھ بیگز کے ساتھ کلچ بھی لاپروائی سے تھاما ہوا تھا۔۔ دونوں باتیں کرتی سڑک کے قریب آئیں۔۔ ایک لڑکا جی ہائے سے ٹکرایا۔۔
ارے۔۔ جی ہائے نے سنبھل کر خود کو گرنے سے بچایا۔۔
وہ معزرت کرتا تیز تیز ڈگ بھرتا آگے جانے لگا۔۔ اسکی ایکدم سے بڑھتی رفتار کو گوارا نے حیرت سے دیکھا۔۔
اسکو کیا پہیئے لگ گئے ہیں۔؟۔۔
اس نے خیال ظاہر کیا۔۔
نہیں میرا کلچ چرا کر بھاگا ہے۔۔ جی ہائے نے ہاتھ میں پکڑے بیگز سڑک کنارے رکھے۔۔
کیا؟۔۔ گوارا نے منہ کھول کر اسے گھورا۔۔
میں جائوں گی۔۔ اس نے بھی بیگز رکھ دیئے۔۔
میں۔۔ دونوں کی بحث لمبی ہو رہی تھی۔۔ وہ لڑکا بھاگ کر دائیں جان داخلی گلی میں مڑ گیا۔۔
بیگز کے پاس کون رہے گا؟۔۔ جی ہائے نے دانت کچکچایے۔۔ گوارا نے مزید بحث میں وقت ضائع نہیں کیا بھاگ کھڑی ہوئی۔۔ جی ہائے منہ کھول کر اسکی پھرتی دیکھتی رہ گئ۔۔
پھر سب بیگز اٹھا تی اسکے پیچھے بھاگی۔۔
ہائ ہیلز کے ساتھ دوڑنا گوارا کا ہی وال تھا۔۔ وہ پوری جان لگا کر بھاگی تھی۔۔ گلی میں رش کم تھا اسے آسانی سے وہ لڑکا بھاگتا نظر آگیا تھا۔۔
گوارا ٹھیلے والے سے بچتی راہ گیر سے ٹکرائی۔۔ وہ۔لڑکا سیدھی سڑک پر بھاگتا بھی بوکھلاہٹ میں مڑ مڑ کر دیکھتے ہوئے منہ کے بل گرتے گرتے بچا تھا۔۔ مگر ابھی ہمت جوان تھی کو ڑے دان سے بچتا وہ بائیں جانب گلی میں مڑا تو بھاری شاپنگ بیگ منہ پر لگا تھا۔ وہ الٹ کر پشت کے بل گرا تھا۔۔
منے آج غلط جگہ پنگا لے لیا تم نے۔۔ جی ہائے شآرٹ کٹ سے آئی تھی۔۔ بڑے انداز سے بال جھٹک کر اس سے بولی تھی۔۔
ناٹ اگین۔۔ گوارا بھاگی بھاگی آئی تھی اسے دیکھ کر رکی اور سانس بحال کرنے لگی۔۔
اب اگلے کئ سال اس بہادری کے قصے سننے پڑیں گے۔۔ وہ بڑ بڑا کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان پانچوں نے زور دار قہقہہ لگایا تھا جی ہائے البتہ کھسیا گئی تھی۔۔
مجھے کیا پتہ تھا شاپر پھٹ جائے گا اور سارا آٹا خراب ہو جائے گا۔۔ معزرت اریزہ ۔۔
اس نے معصوم سی شکل بنا کر اریزہ کو دیکھا۔۔
کوئی بات نہیں۔۔ اریزہ نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔۔
وہ سب کچن میں بنے سلیب ٹیبل کے گرد جمع کھانا کھا رہے تھے
آج گوشت کی ہڑتال تھی کیا؟
۔ہایون ایک ایک ڈش دیکھ کر معصومیت سے پوچھ رہا تھا۔۔
اریزہ کی دعوت کر رہے تھے ہم تم لوگوں کی نہیں۔۔ اریزہ گوشت نہیں کھاتی اور یہ ایک ڈش ہے تو گوشت کی۔۔ گوارا حسب عادت تنک کر بولی۔۔
معزرت تم لوگوں کو میری وجہ سے کافی تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے۔۔
اریزہ شرمندہ ہوگئ۔
اب کیا ہو سکتا۔۔ ہمارا کھانا تو تمہاری وجہ سے برباد ہو چکا۔۔ کم سن نے چاپ اسٹک اٹھا ک لہراتے ہوئے نہایت سنجیدگی سے کہا تھا۔۔
میری زندگی گوشت کے بن ادھوری ہے۔۔ ہایون نے بھی چاپ اسٹک پٹخ دی پلیٹ میں۔۔
گوارا تمہیں میرے بارے میں تو سوچنا تھا۔۔ اب اس اریزہ کی وجہ سے میں بھوکا رہ گیا۔۔ یون بن کی مایوسی کا عالم ہی کچھ اور تھا۔۔
میں شرمندہ ہوں۔۔ گوارا نے سر جھکا لیا۔۔
ارے کیا ہوگیا ہے تم لوگوں کو۔۔ جی ہائے انکے رویے کو دیکھ کر حیران ہو رہی تھی۔۔ اچنبھے سے ہنگل میں بولی۔۔
اگر ایسی بات ہے کہ میری وجہ سے تم سب کا کھانا خراب ہوگیا تو۔۔ اریزہ روہانسی سی ہو کر بولی۔۔
نہیں۔۔ جی ہائے نے فورا اسکا ہاتھ تھاما۔۔
نہیں واقعی یہ لوگ کھا نہیں پارہے تو اب میں۔۔ وہ پھر رکی۔۔
لگ رہا تھا اب روئی کہ تب۔۔
ان سب کو دکھا دکھا کر پیٹ بھر کر کھائوں گی۔۔
اس نے یکا یک انداز بدل کر ہنستے ہویے چڑایا۔۔ اسکی شرارت پر یہ چاروں بھی اپنی ایکٹنگ بھول بھال کھلکھلا کر ہنس دیئے تھے۔۔
تم لوگ بہت بڑی چیز ہو۔۔ جی ہائے انہیں دیکھ کر ہنس پڑی تھی۔۔ اسے گمان بھی نہین گزراتھا انکی شرارت کا۔۔
وہ تو ہم ہیں۔۔ وہ کورس میں بولے تھے۔۔
کافی کون کون پیئے گا۔ہایون شرافت سے کھانا کھا کر اٹھتے ہوئے پوچھنے۔لگا۔۔
سب نے ہاتھ کھڑا کر دیا تھا۔۔ یون بن برتن سمیٹنے لگا جی ہائے بچ جانے والا کھانا اٹھا کر فریج مین رکھنے لگی۔ اریزہ کافی رشک سے دیکھ رہی تھی۔۔ وہ۔سب دوست تھے سب برابر تھے کوئی تشخیص نہیں تھی کہ کھانا لڑکیاں ہی لگائیں گی یا سمیٹیں گی۔۔
کم سن اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔ اسکی نظر پڑی تو مسکرا دیا۔۔
گوارا اور یون بن کسی بحث میں لگ چکے تھے۔۔
مجھے اچھا لگ رہا ہے تم سب ایک دوسرے کی مدد کرتے ہو ہر چیز میں۔۔ کم سن اسے دیکھے جا رہا تھا تو اسے بتانا پڑا۔
تم لوگ ایک دوسرے کا کام میں ہاتھ نہیں بٹاتے؟۔
اس نے فورا پوچھا۔۔
وہاں تشخیص ہے کچھ کام بس لڑکے کرتے کچھ بس لڑکیاں۔۔
مثلا۔۔ ہایون بھی مڑ کر پوچھنے لگا۔۔
مطلب جیسے ابھی گوارا اور جی ہائے بتا رہی تھیں ایسے کوئی پرس چھین کےبھاگتا تو ۔۔۔ وہ الفاظ ڈھونڈنے لگی۔۔ اسکی ووکیبلری ہمیشہ دغا دے جاتی تھی۔۔ مگر وہ سب اسکا انتظار کر رہے تھے۔۔
لڑکیاں پیچھے نہ بھاگتیں۔ لڑکے شائد بھاگ کر مارتے یا شائد وہ بھی۔۔ کیونکہ وہاں۔۔ مار بھی دیتے ڈکیتی میں۔کبھی کبھی۔۔
اس نے اٹک اٹک کر بات مکمل کر دی تھی۔۔
واقعی؟۔ وہ حیران ہوئے۔۔
اور لڑکیاں۔۔ میرا مطلب پاکستانی لڑکیاں کس چیز میں ماہر ہوتی ہیں؟۔۔
ہایون نے پوچھا تو وہ سوچ میں پڑ گئ۔۔
گھر سنبھالتی ہیں۔۔ ابھی پاکستان ہوتا تو یہ سب کام لڑکیاں سمیٹتیں لڑکے آرام سے بیٹھے رہتے ۔۔ وہ ہنسی۔
وہ سب کچھ مایوس سے ہوئے تھے۔۔
نہیں ویسے اوور آل پاکستان کی کیا خاصیت ہے۔۔ جیسے یہاں کے لوگ اپنے بچوں کو آرٹ میوزک اسپورٹس وغیرہ ایکسٹرا کیوریکولر ایکٹیویٹیز میں ضرور ڈالتے ہیں۔۔۔ یون بن نے وضاحت کی۔۔
وہاں لڑکیاں کیا سیکھتی ہیں؟
ریزہ چائے بنا دو۔۔ صارم پکارا۔۔
اتنے پرگرام آتے ٹی وی پر کھانا بنانے کے لڑکیوں کوکیسا شوق ہوتا کچھ نیا سیکھ کر پکانے کا ایک یہ لڑکی ہے کسی ڈھنگ کی چیز میں دلچسپی ہی نہیں۔۔
جبین کہہ رہی تھیں
کیسی لڑکی ہو میک اپ تک کرنا نہیں آتا شادی کے بعد کیا کروگئ؟
سنتھیا اسکو آئی لائنر لگاتے ڈپٹ رہی تھی
اس نے سر جھٹکا۔۔
کچھ نہیں۔۔ کچھ بھی تو نہیں۔۔ وہ سب اسے دیکھ کر رہ گئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو یہ سب مل کر کوریائ کھیل جما کر بیٹھے تھے۔۔ کچھ بلاکس بچھا کر انکو جانے کیا طریقہ تھا حل۔کرنے کا اسکے پلے نہ پڑا۔۔ گوارا اور یون بن پارٹنر تھے کم سن اور جی ہائے۔۔
ہایون جی ہائے اور کم سن کو مشورے دے رہا تھا۔۔ باتیں کرتے کرتے وہ سب ہنگل پر اتر آئے۔۔
وہ کچھ دیر انکو ہنستا کھیلتا دیکھتی رہی پھر آہستگی سے اٹھ کر باہر چلی آئی۔۔
ٹیرس پر خنک ہوا چل رہی تھی۔۔ وہ ریلنگ پر آکر دونوں کہنیاں ٹکا کر داہنے ہاتھ کے پیالے میں چہرہ ٹکا کر دھیرے سے بڑبڑائ
پاکستانی لڑکیوں کی خاصیت۔۔
ہاہ۔۔ ہمیں کیا سکھایا جاتا۔۔
چائے بنانا ؟۔۔
چائے تک بنانا نہیں آتی اگلے گھر جا کر کیا کروگی۔۔

اب بڑی ہو گئ ہو دھیرے دھیرے سنبھل کر چلا کرو تمہاری عمر میں حماد گود میں آگیا تھا میری تم ابھی تک بچی بنی پھرتی یو۔۔
دوپٹہ ٹھیک کرو۔
تم ٹھیک طرح اسکارف نہیں لیتیں۔۔ کم سن کی آواز کان میں گونجی۔۔ وہ ہنسی۔۔
تم نے کیا کرنا تیرنا سیکھ کر یہ لڑکوں کے کام ہیں۔۔۔
تم کھانا پکانا سیکھو کل کو شادی ہوگی تو کیا کروگی؟
کتھک؟ ؟۔۔ بیٹا آپکو کیا ضرورت ہے؟۔۔ کوئی کمپیوٹر کورس کر لو۔۔
بیکنگ کورس کر لو۔۔ اس موئے کمپیوٹر میں کیا رکھا۔۔ آج کل تو بڑا مقابلہ ہوگیا ہے ٹی وی دیکھ دیکھ کر لڑکیاں کیسے نئے نئے کیک بناتی ہیں
پھپھو نے تمہاری ۔۔۔۔جہانزیب کا رشتہ طے کردیا۔۔
ایسے بڑا بھتیجی پر پیار آتا تھا مگر بہو کی دفعہ کیسا ایک۔طرف کر دیا ہمیں۔۔ سنا ہے انکی بہو ہوم اکنامکس گریجوئٹ ہے۔۔ ہک ہا کتنا کہتی ہوں کچھ کھانے پکانے میں دلچسپی لے لو۔۔
تمہارا رشتہ آیا ہے۔۔ وہ مسز فرقان نہیں ؟ اس دن آئی تھیں تم نے جو کیک بنایا تھا بڑا پسند آیا تھا انہیں دیکھو آج اپنے بیٹے کا رشتہ لے آئیں۔۔
امی ہنس کر بتا رہی تھیں۔۔
اسکی ذہنی رو سہیلیوں کی طرف مڑ گئ۔۔
میری منگنی بچپن میں ہو گئ تھی۔۔
یار آپا کی شادی ہو جلدی سے میری باری آئے۔۔
کوئی حسرت سے کہہ رہی تھی۔۔
میری شادی ہونیوالی ہے۔۔
میری شادی ہوگئ ہے۔۔
میری شادی کیوں نہیں ہو رہی۔۔
میری شادی ہو جائے دعا کرو۔۔

ہم کو کچھ اور سوچنے ہی نہیں دیا جاتا۔۔
اس نے مایوسی سے سر ہلایا۔۔
اور جن کو موقع ملتا کچھ کر گزرنے کا پھر انہوں نے دنیا میں کیا کیا نہیں کیا۔۔ فائٹر پائلٹ اڑایا ملک چلایا۔ ۔نوبل پرائز دلوایا۔۔
اس نے بلاگ کھول لیا۔۔
میں بیج ۔ننھا سا۔
مجھے بنجر زمین ملی۔۔
مجھے کسی نے سیراب نہ کیا
میں نے پھر بھی سر ابھارا۔۔
مجھ سے کونپل پھوٹی۔۔
میرا خواب تنا ور درخت بننے کا تھا۔۔
میں مگر۔۔
نہ بڑھ پائی۔۔
میں بیل رہ گئ۔۔
مجھے سہارا چاہیئے تھا۔۔
مگر یہ کیا۔۔
مجھے اکھاڑ دیا؟۔۔
کہیں اور گاڑ دیا۔۔
مجھے سہارے کو کچھ ملا تو ہے۔۔
کون جانے
میں بڑھ کر کوئی جھنڈ بن سکوں گی۔۔
یا یونہی اپنے وزن سے دب کر۔۔
مٹی میں مل جائوں گی۔۔
دیکھو وقت کیا دکھاتا ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آجکا سوال۔۔
پاکستانی لڑکیاں کس چیز میں اچھی ہیں۔۔۔؟
پہلا کمنٹ۔۔
دل توڑنے میں۔ ہٹلر کہیں کی۔۔
دوسرا۔۔
سوال ہی غلط۔۔ لڑکیاں اور کسی چیز میں اچھی؟
تیسرا۔۔
غیبت کرنے میں۔۔
چوتھا۔۔
بس بک بک کروا لو کام چوری میں اچھی ہیں۔۔
پانچواں۔۔
رونے میں۔۔بس رلوا لو کام نا کروائو کوئی۔۔
چھٹی۔۔
بدتمیزی میں انکا کوئی ثانی نہیں زبان چلانے میں اچھی۔۔
ساتواں۔۔
پاکستانی لڑکیوں کو زیادہ نہیں جانتا مگر لڑکیاں سب ہی اچھی ہوتی ہیں۔۔ خدا نے بے حد پیاری نازک سی مخلوق بنائی ہے۔۔ اسکے بغیر دنیا بےشک ادھوری ہے۔۔ خدا کو بھی اپنی یہ مخلوق بہت پیاری اس نے اپنے سب سے پیارے نبی کو بھی لڑکی سے ہی نوازا۔
لڑکیوں کے ساتھ ہمیشہ نرمی سے ہی پیش آنا چاہیئے۔۔
اسی ہنگل آیڈی کا کمنٹ تھا نام کیا تھا آج تک نہ جان پائی۔۔ ہاں ڈی پی سے پہچان لیا تھا۔۔ لکھنے والے نے گڈ ایٹ اور گڈ بئینگ کا کانسیپٹ مکس کر دیا تھا مگر لکھا کیا خوب تھا۔۔ اور مزے کی بات اوپر سارے نیگیٹو کمنٹ کرنے والے اس کمنٹ کو دھڑا دھڑ پسند کر رہے تھے۔۔
کیا چیز ہیں یہ لوگ۔۔ وہ ہنس دی۔۔
سب آئسکریم کھانے جا رہے آجائو۔۔ جی ہائے نے پکارا تو وہ جلدی سے لاگ آئوٹ کرتی اندر بھاگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ستاروں بھرا آسمان سامنے سوک چھون جھیل کوریا کی مصنوعی جھیل جسکا پانی سیول کے گرد و نواح کو سیراب کرتا تھا انکے ہوٹل سے دور تک جھیل کا نظارہ ملا تھا۔ وہ مچل گئ تھی۔اس وقت تو یہاں کافی لوگ سیر کو آئے تھے ٹہل رہے تھے مگر ایڈون کو رات کو ہی یہاں آنا تھا سو آرام سے کھانا وانا کھا کے نکلے تھے۔ گیارہ بج رہے تھے۔۔میپل درختوں سے سجا شام کے وقت جب سورج کی شعاعیں ان سرخ اور نارنجی پتوں والے درختوں سے منعکس ہو کر جھیل پر پڑ رہی تھیں رنگوں کی بہار اتر آئئ تھی۔ مبہوت کر دینے والا منظر تھا تو اب رات چڑھ آنے پر سیاہ گھور درخت پراسرار سے لگ رہے تھے۔ آج چاند پورا نہیں تھا مگر آدھے چاند کی روشنی میں جھیل کے کنارے پتھروں پر پائوں لٹکا کر بیٹھنا ساتھ من پسند ساتھی ہو اور کیا چاہیئے زندگی سے۔۔
اس نے دونوں بازو پیچھے کر کے اپنا وزن ہتھیلیوں پر ڈال کر سر اونچا کر کے آسمان کو دیکھا۔۔ اکا دکا دمکتے ستارے اور کہیں کہیں بادل
اس نے گہری سانس لے کر فضا میں پھیلی تازگی کو اپنےاندر سمویا۔۔
ایڈون نے اسے ایک نظر دیکھا پھر خود بھی اسی کی طرح پیچھے ہو کر آسمان تکنے لگا۔۔
ایڈون۔۔ سنتھیا نے دھیرے سے پکارا۔۔
جانے اس نے سنا ہی نہیں یا نظرانداز کر دیا۔
اس سے دوبارا پکارا ہی نہیں گیا۔۔ مایوس سی ہو کر سیدھی ہو بیٹھی۔۔
سنتھیا۔۔ وہ جو چاند کے قریب ستارہ ہے نا وہ والا وہ میں ہوں۔۔ ایڈون کو جانے کیا سوجھی اسے اشارہ کرکے بتایا۔۔
اس نے اشارے کی سمت دیکھا وہ ستارہ کافی چمک رہا تھا باقی ستاروں کی نسبت زیادہ نمایاں۔۔
اور میں؟۔۔ سنتھیا مڑ کر پوچھنے لگی۔۔
تم وہ سوچ میں پڑا۔ تم وہ والا۔۔
اس نے اس ستارے سے تھوڑا ہٹ کر دمکتے ستارے کی۔طرف اشارہ کیا۔۔
میں وہ کیوں۔۔ اسے اچھا نہیں لگا۔۔ وہ ستارہ چاند اور اس دمکتے روشن ستارے سے کافی دور تھا۔۔ اس نے منہ بنا لیا۔۔
کیونکہ تم۔مجھ سے اتنی دور جو بیٹھی ہو۔۔
ایڈون نے ہنس کر دیکھا۔
سنتھیا کو بہت دن بعد پرانا والا ایڈون نظر آیا تھا۔
کیا ہوا پیارا لگ رہا ہوں؟
ایڈون مسکرایا
ہاں۔ سنتھیا نے بنا شرمندہ ہوئے کہا
کالا کلوٹا چوڑے جیسا پیارا لگ رہا ہوں تمہیں پکا محبت کرتی ہو مجھ سے۔۔
ایڈون چڑا رہا تھا وہ چڑ بھئ گئ
میں نے کسی چوڑے سے منگنی نہیں کی تھی۔۔ اور کالا دل نہیں ہونا چاہیئے۔ منہ تو دھوپ بھی کالا کر دیتی ہے۔۔
اس نے کندھے اچکا کر کہا۔۔
جھوٹی تم دھوپ میں کالی نہیں ہوئیں ۔۔ایڈون کے کہنے پر اسکا منہ اتر سا گیا۔
میں نے کب کہا کہ میں دھوپ کی وجہ سے کالی ہوں۔
اسکی یہ دکھتی رگ تھی۔ بچپن سے اسے اپنے نہایت سانولی رنگت کی وجہ سے ٹھیک ٹھاک احساس کمتری رہا تھا۔
تو کیا چائے پیتی تھیں؟۔
وہ بھولپن سے پوچھ رہا تھا۔ سنتھیا اس مزاق کے موڈ میں نہ تھی۔ اسکے چہرے کے تاثرات تن سے گئے۔
کالا ہونا کوئی برائئ نہیں ہے سنتھیا۔ میں بھی کالا ہوں تم بھی اور مجھے تم تمہیں میں دنیا کے سب سے خوبصورت انسان لگتے ہیں
چند مہینے قبل کہا ہوتا یہ ایڈون نے تو وہ خوشی سے پھولے نہ سماتی اس وقت استہزائیہ انداز میں ہنس دی۔
میری بات تو ٹھیک ہے مجھے تم اچھے لگتے ہو مگر تم۔۔
وہ جملہ ادھورا چھوڑ کررخ بدل کر سامنے دیکھنے لگی تھی۔
ایڈون ایکٹنگ چھوڑ کر اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔
سنتھیا۔۔ کتنا پیار کرتی ہو مجھ سے؟۔۔
سنتھیا سنجیدہ سی ہو کر سیدھی ہوئی۔۔
میں کوئی پیار ویار نہیں کرتی۔۔ جانے کیوں وہ غصے میں آگئ تھی۔۔
ایڈون بھی اٹھ بیٹھا۔۔
کاش کوئی لڑکی مجھے پیار کرتئ۔۔ وہ گنگناتا شرٹ ٹھیک کر رہا تھا۔۔
مجھ سے محبت کا اظہار کرتی۔۔ وہ شرارت سے اسے دیکھ دیکھ کر گا رہا تھا۔۔
کوئی ہیرو وویر نہیں لگ رہے ایکدم زہر لگ رہے۔ وہ بھنا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ایڈون محظوظ ہو کر ہنسا ۔۔۔
مگر تم بالکل ہیروئن کی طرح پیش آرہی ہو میرے ساتھ۔۔ وہ چھیڑنے کے موڈ میں تھا۔۔
سنتھیا منہ بناتی پیر پٹختی جانے لگی۔۔ دو چار قدم آگے بڑھ کر رک کر پلٹ کر دیکھا۔۔ وہ بازو پیچھے پھیلائے ہتھیلیوں پر وزن دیئے سر اونچا کر کے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔۔ کسی فلمی ہیرو کی طرح اسکے پیچھے اٹھ کر نہیں آرہا تھا۔۔
اسکی آنکھیں بھر آئیں۔۔ وہ مایوس سی ہو کر پلٹنے لگی تبھی اسے ایڈون کی آواز آئی
مت جائو سنتھیا۔۔
ایڈون نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھے بغیر کہا۔۔ اور سنتھیا قدم بڑھا ہی نہ سکی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب ٹہلتے ہوئے قریبی مارکیٹ آئے تھے۔۔ رات کے ڈیڑھ بج چکے تھے مارکیٹ آدھی سے زیادہ بند ہو چکی تھی۔۔ سڑک پر انکے سوا فی الحال اور کوئی نہ تھا۔۔انہوں نے میڈیکل اسٹور سے پیک آئسکریم پر ہی گزارا کرنے کا سوچا۔۔ اسٹور میں آکر سب سیدھا کاوئنٹر پر موجود سیلز مین کے پاس بڑھتے گئے۔۔ اریزہ اور ہایون رکے
دونوں کے دماغ ایک ساتھ چلے تھے دونوں نے ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھا پھر بھاگ کر فریزر کے پاس پہنچے۔۔ سیلز مین نے باقیوں کو بھی فریزر کی راہ دکھائی تھی جہاں ہایون اور اریزہ دھاوا بول چکے تھے۔۔ سب بھاگ کر ان پر چڑھ آئے۔۔
فریزر کھول کر سب اندر آدھے تقریبا گھس گئے تھے۔۔
مجھے چاکلیٹ ۔۔ مجھے اسٹرابیڑی۔۔ مجھے ونیلا۔۔ ہایون اوراریزہ کا سینڈوچ بننے ہی والا۔تھا اریزہ نے ڈھونڈ کر ونیلا اور چاکلیٹ مکس فلیور نکالا تھا جسے یون بن نے اچک لیا۔۔ اور لے لو۔۔
ہایون بھی ڈاکوئوں کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔۔ پھر یہ دونوں ہی فریزر میں فلیور ڈھونڈتے رہ گئے باقی سب باہر بھاگ گئے۔۔ گلاس وال سے سب انکو منہ چڑا رہے تھے۔۔ اریزہ اور ہایون پہلے انہیں گھورتے رہے پھر ہنس دیئے۔۔
آپ لوگوں کو پسند کی آئسکریم مل گئ؟۔۔
سیلز مین چیں بہ چیں ہوا وہ بھی فریزر کب سے کھولے کھڑے تھے۔۔
آنیو۔۔ ہایون سیدھا ہوا۔۔
مکس فلیور ختم ہے چاکلیٹ اور ونیلا۔۔ اس نے پوچھا تو سیلز مین نے کندھے اچکا دیئے۔۔
کوئی اور دیکھ لو۔۔
اریزہ نے منہ بنا کر یونہی ایک اٹھا لی۔ ہایون نے پیور ونیلا اٹھا لیا۔۔
پیمنٹ کرکے جب وہ باہر نکلے تو سب غائب ہو چکے تھے۔۔
یہ سب کہاں گئے۔۔ اریزہ حیران ہوئی تو ہایون نے کندھے اچکائے۔۔
گھر ہی گئے ہونگے۔۔ میرے ساتھ اکثر یہی کرتے یہ لوگ پیمنٹ کے وقت مجھے اکیلا چھوڑ کر بھاگ جاتے۔۔ وہ ہنس کر بتا رہا تھا۔۔دونوں آہستہ آہستہ چلنے لگے
کتنی غلط حرکت ہے۔۔ اریزہ آئسکریم کا ریپر اتار رہی تھی۔۔ اسے اچھا خاصا سرپرائز ملا۔۔
پیور چاکلیٹ۔۔
اس نے روہانسا سا منہ بنا لیا۔۔ اسے پیور چاکلیٹ بالکل پسند نہیں تھی۔۔ ہایون نے اپنی آئسکریم کا ریپر اتارتے ہوئے اسے منہ بناتے دیکھا تو پوچھا
کیا ہوا۔۔؟
کچھ نہیں۔۔ اس نے ایک ہلکی سی بائٹ لی۔۔
ایک بار تو میرے ساتھ اتنا برا ہوا۔۔ یہ لوگ فائیو اسٹار گئے آرڈر دیا۔۔ مجھے بلایا۔۔ میں گھر کے حلیے میں اٹھ کر آیا والٹ میں کیش بھی زیادہ نہیں تھا مجھے خبر بھی نہیں کوئی کون کتنے لوگ تھے۔۔ میں بیٹھا جا کر یہ ایک ایک کرکے اٹھتے گئے۔۔
ویٹر بل لے کر آیا تو مجھے پتہ چلا کل پندرہ لوگوں کا کھانا تھا۔۔
وہ ہنس ہنس کر بتا رہا تھا
پھر۔۔ اریزہ نے پوچھا تو منہ بنا کر بتانے لگا۔۔
والٹ خالی تھا تب میرے پاس کریڈٹ کارڈ بھی نہیں ہوتا تھا۔۔ ہائی اسکول کی بات بتا رہا۔۔
قسمیں کھائیں کہ لی گروپ کا وارث ہوں میرے حلیے کی وجہ سے یقین بھی نہیں کیا ۔۔ پولیس بلوا لی۔۔
تین گھنٹے تھانے رہا۔۔ بل بھی تو اچھا خاصا تھا۔۔
پاپا خود آئے میری ضمانت دی۔۔ پھر مجھے کریڈٹ کارڈ مل گیا تھا۔۔ یہ اچھئ بات ہوئی۔۔
اریزہ ہنس پڑی۔۔ اتنی مشکل صورتحال کا بھی کتنا اچھا سادہ سا نتیجہ نکالا تھا اس نے۔۔
تم کافی اچھا سوچتے ہو۔۔ اس نے صاف دلی سے کہا۔۔ ہایون اسکے کہنے پر زور سے ہنسا۔۔
وہ اب آئسکریم کا ریپر اتار رہا تھا۔
اریزہ نے بے دھیانی میں بڑی چکھ مار لی۔۔
منہ میں کڑواہٹ سی گھل گئ۔۔ نہ چاہتے بھی اسکے چہرے کے تاثرات سب کہانی کہنے لگے۔۔
کیا ہوا تمہیں یہ آئس کریم پسند نہیں۔۔
ہایون نے کہا تو اس نے بے چارگی سے سر ہلایا۔۔
آئو تمہیں دوسری دلا لائوں۔۔ اس نے فورا کہا مگر اریزہ نے مڑ کر دیکھا تو چلتے چلتے کافی دور نکل آئے تھے۔۔
رہنے دو اتنا واپس کیا جائیں گے۔۔ اریزہ نے کہا تو اس نے کچھ سوچ کر اپنی آئسکریم اسکی طرف بڑھا دی۔۔
نہیں نہیں۔۔ وہ شرمندہ ہو گئ۔۔
تم کھایو۔۔ کوئی بات نہیں چاکلیٹ ہے تو کیا ہوا ہے تو آئسکریم کھا لوں گی۔۔ اس نے سہولت سے منع کرنا چاہا۔۔
منہ بنا بنا کر کھائو گی۔ اس نے مزاق اڑایا۔۔
پکڑو ۔۔ اس نے اصرار کیا تو اریزہ کو تھامنی پڑی۔۔
لائو دو ۔۔ وہ اسکی آئسکریم مانگ رہا تھا۔۔
وہ ادھ کھائی دیتے ہوئے ہچکچائی۔۔
یہ۔۔
کیا اب دونوں کھائوگی؟۔۔ ہایون حیران ہوا۔۔
نہیں میرا مطلب تھا میں نے بایٹ کی ہوئی ہے۔۔ اس نے جھجکتے ہوئے کہا۔۔
کوئی بات نہیں اس نے آرام سے لے کر کھانی شروع کر دی۔
اریزہ کندھے اچکا کر رہ گئ۔۔
موڑ پر آکر وہ گلی میں مڑنے لگے۔۔
گلی میں گھپ اندھیرا تھا آگے جا کر دور ایک بلب جل رہا تھا۔۔ وہ چلتے چلتے رک سی گئ۔۔
کیا ہوا۔۔ وہ اپنی جھونک میں چلتا گیا پھر احساس ہوا کہ اکیلا چل رہا تو مڑ کر پوچھنے لگا۔۔
وہ کوئی اور راستہ نہیں یہاں تو کافی اندھیرا ہے۔۔
اریزہ نے کہا تو وہ سوچ میں پڑا۔۔
یہ چھوٹا ہے ایک گلی کے بعد عمارت آجائے گی سڑک سے تھوڑا لمبا ہو جائے گا۔۔ یہ ویسے تھوڑا ہی اندھیرا ہے میں موبائیل کی ٹارچ آن کر دیتا۔۔
وہ آئسکریم منہ میں دبا کر جیب سے موبائل نکالنے لگا۔۔
اٹس اوکے اریزہ کھسیا گئ۔۔ مگر ہایون نے ٹارچ آن کر لی تھی۔۔
تمہیں ڈر لگتا اندھیرے سے۔۔ اس نے چلتے چلتے یونہی پوچھا۔۔ پہلے تو اس نے صاف مکر جانا چاہا۔۔
کوئی نہیں۔۔ اس نے کوئی نہیں ہی کہا تھا۔۔اسے سمجھ نہیں آیا۔۔
واٹ؟
تھوڑا بہت۔۔ اس نے تھوڑا سا کھسیائے انداز میں کہا۔۔
کیا ڈر لگتا جیسے ابھی اس سامنے گھر سے کوئی چڑیل باہر نکل آئے گی؟۔۔
وہ ایکدم سے پر اسرار انداز میں سامنے گھر کی طرف اشارہ کرکے بولا۔۔
اریزہ بے دھیانی میں اسکے اشارہ کیے گئے گھر کو دیکھنے لگی دہل گئ۔۔ اندھیرے میں کوریائی طرز کا بنا ہوا وہ پرانا سا گھر خاصا ڈرائونا لگ رہا تھا۔۔
وہ رک گئی۔۔
کیا ہوا ڈر گئیں۔۔ اسکا پراسرار لہجہ کام کر گیا تھا۔۔ لڑکی گھبرا گئ تھی۔۔
نہیں تو۔۔ ڈرنے کی کیا بات۔۔ کپکپائی سی آواز میں اس نے فورا انکار کیا تھا۔۔ ہایون نے سمجھ کر مزید شرارت کا موڈ بنا لیا۔۔
یہاں اس پہر جو اکیلا گزرتا غائب ہو جاتا ۔۔ پھر اگلے دن کوڑے دان میں اسکی لاش ملتی ہے۔۔ یہاں ایک بد روح کا بسیرا ہے۔۔
اریزہ رک سی گئ۔۔
واقعی۔۔ وہ سراسیمہ انداز میں پوچھ رہی تھی۔۔
رکو نہیں پتہ ہے یہاں ایک لڑکا اور لڑکی ایسے ہی رات کو آرہے تھے انہیں ایک بوڑھی عورت ملی۔۔
اسے اندازہ ہوگیا تھا وہ کافی دہل گئی۔۔ اس نے سامنے سے ایک عورت کو کوڑے کا شاپر کوڑے دان میں ڈالنے کی غرض سے خراماں خراماں چلتے آتے دیکھا تو عورت بھی شامل کرلی۔۔
اریزہ کو گمان بھی نہ گزرا اسکے معصوم چہرے سے کہ بکواس کر رہا۔۔ سنجیدہ سی ہو کر اس سے پوچھنے لگی سامنے اسکا دھیان کم ہی تھا وہ پوری اسکی جانب گھومی چل رہی تھی
پھر۔۔
گوری سی عورت تھی اسکرٹ پہنے گھنگھریالے بال کھولے ۔۔۔
وہ سامنے دیکھ کر حلیہ بتا رہا تھا۔۔
اس عورت نے ان کے قریب آکر پوچھا۔۔
تم لوگ اتنی رات کو باہر کیا کر رہے؟۔۔
اور۔۔
وہ چلتے چلتے قریب آگئے تھے
کیا وقت ہو رہا۔۔
اس عورت نے کوڑے دان میں کوڑا ڈال کر ہاتھ جھاڑے اور یونہی مخاطب کر لیا۔۔ اریزہ کیلیے اس عورت کا آوارد ہونا غیر متوقع تھا۔۔ ہلکی سی چیخ مار کر ہایون کے پیچھے ہو گئ۔۔
اس نے ہایون کو پکڑا نہیں تھا مگر جانے کس زبان میں زور زور سے کچھ گردان کرنے لگی۔۔
لاحول ولاقوت۔۔۔

عورت نے اسکے انداز کو عجیب سی نظروں سے دیکھا۔۔
ہایون کو اس طرح ڈرامے کا اختتام ہوگا توقع نہ تھی کھسیا کر انہیں وقت بتایا۔ عورت اسے گھورتی اپنے گھر کی طرف مڑ گئ۔۔
دیکھا میں نے کہا تھا نا۔۔
ہایون نے دوبارہ اپنا لہجہ پر اسرار بنایا۔۔
یہاں اس وقت روحیں پھرتی ہیں ہماری قسمت اچھی تھی جو اچھی روح ملی۔۔ کہہ کر گئ ہے جلدی سے گھر جائو ورنہ مارے جایو گے۔۔
وہ مکمل ڈرامائی انداز میں لگا تھا۔۔
اریزہ متاثر ہوئے بنا دیکھتی رہی۔۔
کیا ہوا یقین نہیں آیا۔۔؟۔۔
ہایون حیران ہوا۔۔
دیکھ لو وہ عورت غائب ہو چکی۔۔ اس نے گلی کی طرف اشارہ اریزہ نے مڑ کر دیکھا تو وہ عورت واقعی وہاں نہیں تھی۔۔
گھر چلی گئی ہوگی۔۔ اس نے کندھے اچکائے
جی نہیں وہ غائب ہوگئ۔۔
ہایون نے جھٹلایا۔۔ کہہ کر گئ ہے رکنا نہیں ورنہ مارے جائو گے۔۔
وہ ڈرامہ بازی ختم کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔
وہ عورت ہی تھی جی۔۔اس نے زور دے کر کہا۔۔
ورنہ ابھی جو میں نے پڑھا تو غائب ہو جاتی۔۔
اسے یقین تھا۔۔
کیا پڑھا۔۔تھا۔۔ ہایون کو یاد آیا۔
لا حول والا۔۔ اس سے بولا نہ جا سکا۔۔
اریزہ نے دوبارہ پڑھا۔۔
جی یہ پڑھ لو تو کوئی بھی شیطانی چیز ہوتی تو غائب ہو جاتی۔۔
اس نے جتانے والے انداز میں سر ہلا۔ہلا کر بتایا تھا۔۔
اچھا۔۔ وہ ہنسا
کوئی جادو ئی منتر ہے؟۔۔ جیسے فادر پڑھتے بھوتوں کو قابو کرنے کیلیئے۔۔
نہیں منتر نہیں۔۔ اس نے سر جھٹکا۔۔
مقدس جملے ہیں۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔
ہایون متاثر ہونے والے انداز میں سر ہلانے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب فلیٹ پہنچے تو دونوں لڑکے لاوئنج میں بستر بچھائے سو رہے تھے۔۔ ہایون کا بستر بھی یہیں بچھا تھا۔۔وہ فورا وہیں تھک کر گر گیا۔۔
اریزہ کمرے میں آئی تو دونوں لڑکیاں لپٹی پڑی تھیں۔
اریزہ فریش ہونے باتھ روم گھسی تو دونوں نے سر اٹھا کر اسے جاتے دیکھا۔۔ وہ تھوڑی دیر میں آرام سے فریش ہو کر باہر نکل آئی۔۔ گھوم کر آئی اور جی ہائے کے پاس جگہ بنا کر لیٹ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا۔۔
صبح یون بن باتھ روم سے چلا رہا تھا۔۔
تینوں بے خبر سو رہی تھیں جب اسکے پکارنے سے گوارا کی آنکھ کھلی۔۔ بلکہ گوارا ہی کیا سب ہی جاگ گئے۔۔
گوارا ۔۔۔
کیا ہے۔۔ وہ جھلا کر اٹھئ۔۔
باتھ روم مین ٹوائلٹ پیپر بھی رکھتے ہیں ہائی جین کیلیئے ضروری ہوتا۔۔ وہ باتھ روم سے سر نکال کر گھور رہا تھا۔۔
نہا لیتے۔۔ وہ منہ بنا کر اٹھی۔۔
نہا کر ہی نکل رہا ہوں۔۔ وہ باتھ گائون کی ڈوریاں کستے باہر نکل آیا۔۔
مگر باقیوں کیلیئے تو رکھ دو۔۔ وہ سنگھار میز کے آئنے میں جھک کر دیکھتا بال سنوار رہا تھا۔۔
گوارا نے ٹائلٹ رول الماری سے نکال کر اسی کوکھینچ مارا۔۔
اسکے سر پر ہی لگا وہ سہلاتا گھورنے لگا۔۔
جب نکل ہے آئے تھے تو اتنا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔
جی ہائے نے جمائی روکتے اٹھتے ہوئے پوچھا۔۔ یون بن ڈھٹائی سے مسکرایا۔۔
جگا رہا تھا تم سب کو دس بج گئے۔اٹھنا نہیں تم۔لوگوں کو۔۔
یون بن کے کہنے پر دونوں گھور کر رہ گئیں۔۔
گوارا اسے گھورتی ہوئی اسکے پائوں کے پاس سے گرا ہوا ٹائلٹ پیپر رول اٹھاتی باتھروم میں گھس گئ۔۔
اریزہ کسمساتی اٹھ بیٹھی۔۔
تم لوگ رات کو کہاں رہ گئے تھے؟
یون بن اریزہ سے پوچھ رہا تھا
کہیں نہیں۔۔ سیدھے گھر آئے تھے۔۔
اس نے بتایا۔۔تو یون بن نے سر ہلایا۔۔
مان۔نہیں سکتا۔۔ ہم لوگ گھر آکر بستر بچھا کر سو بھی گئے تم لوگ اسکے بھی بعد آئے ہو۔۔
جون تائ نے کہا تو اسکے زہن میں رات کا منظر تازہ ہوا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ شارٹ کٹ تھا۔۔ اف میں تھک گئی۔۔ مجھے تو شدید پیاس لگ رہی۔۔
بلڈنگ کی داخلی سیڑھیوں پر اسکی ٹانگیں جواب دے گئیں وہیں تھک کر بیٹھ گئ۔۔ شدید پیاس لگ رہی تھی۔۔ یوں لگتا تھا سب باہر آجائے گا۔۔
تھا تو۔۔ مگر تم بہت آہستہ چلتی ہو اور آہستہ چل کر بھی تمہارا اتنا کم اسٹیمنا ہے کہ سانس پھول گئ۔۔ ابھی جوانی میں یہ حال بڑھاپے میں کیا کروگئ۔۔
میری مام تم سے زیادہ فٹ ہونگیں
ہایون اسے شرمندہ کرنا چاہا۔۔
میرے خاندان میں کوئی مجھ سے زیادہ پھرتیلی لڑکی نہ ہوگی۔۔ اس نے چڑ کر بڑک ماری
اتنا چل کر کوئی بھی تھک سکتا۔۔
اب میرا کورین لڑکیوں سےمقابلہ مت کرو۔۔ میں سیدھی سادی پاکستانی لڑکی ہوں۔۔ مجھے نہیں آتا تایکوانڈو جمناسٹک جڈو وغیرہ نہ سیکھنا مجھے۔۔
میری یہاں سے واپس جا کر بھی بس شادی ہونی۔۔
پہلے جملے کے بعد وہ بھنا کر اردو میں شروع ہو گئ تھی۔۔
غصہ جھلاہٹ اور آخر میں بے بس سا انداز۔۔ اسکے پلے کچھ نہ پڑا سو خاموشی سے اسکے ساتھ سے ہو کر اندر چلا گیا۔۔
وہ وہیں بیٹھی سانس بحال کر رہی تھی۔۔
تبھی اسکے سامنے ڈسپوز ایبل گلاس پانی سے بھرا لہرایا۔۔
اس نے تھام لیا۔۔ ایک سانس میں پی گئی۔۔
شکریہ۔۔ اسے اس وقت واقعی پانی کی قدر محسوس ہو رہی تھی
تم برا مان گئیں معزرت مگر تم فزیکلی کافی کمزور ہو کوئی جم لگایو تھوڑا سا تو اسٹیمنا بلڈ کرو۔۔ تایکوانڈو جڈو سیکھنے کو نہیں کہہ رہا مگر ابھی اس اپنے پیچھے کھڑی چڑیل سے اگر ڈرو تو بھاگ تو سکو کم از کم۔۔
سنجیدگی سے کہتے کہتے وہ پٹری سے اترا۔۔ اسے دیکھتے دیکھتے اسکے پیچھے ایسے دیکھا جیسے سچ مچ کوئی کھڑا ہو۔۔ اریزہ نے بے ساختہ مڑ کر دیکھا پھر دانت کچکچا کر اسے پیپر کپ مار دیا۔۔
وہ زور سے ہنسا تھا۔۔ ایک تو وہ ہنسنے کے معاملے میں بہت فراخ دل تھا۔۔ اسکی ہنسی اس پر جچتی بھی بہت تھی۔۔ مگر ابھی اسے دیکھتے اریزہ کو جانے کیا ادراک ہوا تھا۔۔ وہ بلا ارادہ اسے غور سے دیکھے گئ۔۔
وہ۔ہنستے ہنستے چپ ہوا اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔ اریزہ نے یوں سر ہلایا جیسے کہہ رہی ہو کچھ نہیں۔۔
چلو۔۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا تو اریزہ نے بھی تقلید کی۔۔ لفٹ کا انتظار کرتے کرتے اس نے پھر چھیڑا۔
دفع کر و لفٹ کو ہم سیڑھیوں سے چلتے۔۔
پاگل نہیں ہوئی ابھی میں۔۔
اس نے لفٹ میں گھستے پھر کہا۔۔
ویسے میرا اسٹیمنا ابھی بھی اتنا کہ میں اوپر سیڑھی سے جا سکتا۔۔
اسکا انداز جتانے والانہیں تھا وہ یونہی بتا رہا تھا۔۔ اریزہ نے لفٹ کے بند ہوتے دروازے میں پیر اڑا دیا۔
پھر تم پیدل آئو۔۔ میں بھی دیکھوں کتنے سپر مین ہو۔۔
اسکا انداز تپانے والا تھا۔۔
ہایون نے کندھے اچکائے
چیلنج ایکسیپٹڈ۔۔
وہ لفٹ سے باہر نکل آیا۔۔
اریزہ نے ہنس کر چودھویں منزل کا بٹن دبا دیا۔۔ وہ۔لفٹ بند ہونے تک مسکرا کر ہاتھ ہلاتا رہا۔۔
پہلا دوسرا تیسرا۔۔ چوتھے فلور تک اسے یقین تھا وہ دوسری لفٹ سے اوپر آرہا ہوگا۔ لڑکے کونسا سنجیدہ ہوتے۔۔
مگر ہایون اگر واقعی ۔۔ ایک لمحے کی سوچ تھی اس نے چھٹے فلور پر لفٹ روک دی۔ لفٹ سے نکل۔کر دوسری لفٹ کو دیکھا وہ گراونڈ پر ہی تھی
یہ پاگل واقعی سیڑھیوں سے آرہا۔
اسے اس حماقت کی توقع تو نہیں تھی۔۔ آکر سیڑھیوں سے نیچے جھانکنے لگی دور دور تک اسکا نام و نشان نہیں تھا۔۔
سیڑھیوں پر روشنی تھی مگر رات کا پہر اسکی ان پر جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔۔
ایک قدم اتر کر واپس اوپر سے نیچے جھک جھک کر جھانکنے لگی۔۔ تبھی ہلکی سی آہٹ ہوئی۔۔
ہایون۔۔ اس نے پکارنا چاہا مگر آواز نہیں نکلی۔
وہ پورے فلور پر اکیلی کھڑی تھی۔۔ اسے ہلکا ہلکا ڈر لگ رہا تھا۔۔
کہیں وہ۔اوپر پہنچ بھی چکا ہو اور میں یہاں بے وقوف۔۔
اسے خیال گزرا۔۔
سیڑھیوں پر آہٹ تھی یا وہم ۔۔
اس نے ہایون کا نمبر نکالا فون میں اور کال ملا دی۔۔
ہلکی ہلکی فون کی رنگ ٹون سنائی دی۔
ہیلو۔۔
اسکا نام اسکرین پر چمکا تو اس نے مسکرا کر فون اٹھایا۔۔ ہیلو اس نے خاص اریزہ کیلیئے بولا تھا۔
ہیولو۔۔ ہیلو۔۔ کہاں ہو۔۔ وہ تھوڑا بوکھلا کر بولی تھی۔۔
میں۔ اس نے سیڑھیوں پر سامنے بورڈ پڑھا فورتھ فلور۔۔ پر ہوں خیریت تم۔گھبرائی کیوں ہو۔
فورتھ۔۔ اس نے سیڑھیوں سے نیچے جھانکا۔۔ ابھی بھی دکھائی تو نہیں دے رہا تھا۔۔ مگر اسکے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔۔
اریزہ ۔۔ اسکی آواز نہیں آئی تو اس نے فون کو دیکھا کال ملی ہوئی تھی۔
آہ ہاں ریلنگ کے پاس آئو۔۔ وہ چونکی پھر ریلنگ سے جھک کر نیچجے جھانکنے لگی۔۔۔
ہایون نے حیران ہو کر مطالبہ سنا پھر ریلنگ کے پاس آگیا پہلے نیچے دیکھا پھر اوپر۔ اریزہ آدھی ریلنگ سے نیچے جھکی جھانک رہی تھی۔۔
وہ مسکرا دیا۔
پھر اگلے دو زینے بھاگ کر اوپر چڑھ آیا۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔
اس نے پوچھا تو وہ الٹا اس پر چڑھ دوڑی
کتنے بے وقوف ہو ۔۔ واقعی سیڑھیاں چڑھتے آرہے تھے ٹانگیں عزیز نہیں تھیں،کوئی بھی دوسرا انسان ہوتا تو دوسری لفٹ سے اوپر آتا اور ساری عمر مان کے نہ دیتا کہ لفٹ سے آیا ہوں۔۔
مگر میں ایسا کیوں کرتا؟۔۔ میں واقعی سیڑھیان چڑھ سکتا ہوں اتنی۔۔ بلکہ کہو تو باقی بھی چڑھ کر آتا ہوں۔۔ وہ مسکراتا اگلے زینے کی طرف بڑھنے کو تھا۔۔
بس مجھے یقین آگیا۔۔ چلو لفٹ سے۔
اریزہ نے کان پکڑے تھے اس پاگل لڑکے سے کچھ بعید نہیں تھا۔۔
ویسے تم کیوں یہاں اتر گئی تھیں۔۔ لفٹ میں داخل ہوتے وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکا
مجھے گلٹ ہو رہا تھا کہ میرے تپانے پر تم اتنا اسٹریس لینے لگے۔۔ وہ منہ بنا کر بولی۔۔
آئندہ کبھی جوش نہیں دلائوں گی تمہیں پاگل ہو ایک دم۔۔
یہ جملہ اسے گھورتے اردو میں بولا۔۔
آہش میں بھی۔۔۔پاگل۔۔۔۔ اس نے اپنے سینے پر انگوٹھا رکھ کر حیرت سے پوچھا۔۔ وہ ہنگل بولا تھا۔۔
کیا۔۔ اریزہ کی آنکھیں پوری کھل گئ تھیں۔۔
تمہیں سمجھ آیا میں نے کیا کہا۔۔ وہ شاکڈ تھی۔۔
نہیں۔۔ وہ اسکی پوری کھلی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرایا۔۔
ڈرا دیا تھا۔ اس نے سانس بحال کی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب سے آخر میں فریش ہو کر باہر آئی۔۔۔۔ وہ سب ناشتہ کرتے ہوئے باتوں میں مگن تھے اسے دیکھ کر ایک لمحے کوخاموشی چھائی۔ وہ اپنی جگہ چور سی بن گئ
آئو ناشتہ کرو۔۔ جی ہائے مسکرا کر اپنے ساتھ جگہ بنائی۔۔
اس نے ایک نظرناشتے پر دوڑائی۔ سبزیوں کا سوپ انڈے رول پین کیک چاول اور ساتھ گوشت کی کوئی ڈش۔۔
اس نے پین کیک اٹھا لیا۔۔ صبح صبح اس سے میٹھا کھایا نہیں جاتا تھا۔اس نے بے دلی سے نوالہ لیا۔۔
۔ اریزہ بریڈ بھی ہے۔۔ ہایون نے اسکی جانب بریڈ بڑھائی۔۔
میں آملیٹ بنا دوں؟۔۔ گوارا اٹھتے ہوئے بولی۔
نہیں نہیں میں خود بنا لیتی ہوں۔۔ وہ سہولت سے منع کرتی اٹھ گئی۔۔ فریج سے انڈہ نکالا حسب عادت اسے پہلے پانی سے گزارا پھر سلیب پر رکھ کر پیاز کاٹنے لگی۔۔
اسکے فرشتوں کو خبر نہیں تھی یہ سب اسے بڑے غور سے دیکھ رہے۔۔ وہ۔آملیٹ بنا کر پلٹی تو سب اسکی جانب ہی متوجہ تھے۔۔
کیا ہوا۔۔ وہ حیران رہ گئ۔۔
کچھ نہیں۔۔ ویسے انڈے صاف ہی تھے ۔۔ جی ہائے نے کہا تو اس نے کندھے اچکا دیئے۔۔
بس عادت پڑی ہوئی دھو کے استعمال کر نے کی۔۔
وہ بریڈ بھی شوق سے نہیں کھاتی تھی مگر ابھی غنیمت تھا چائے کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔۔ اس کے نوالی اٹکا تو ابھی اس نے سر اٹھایا ہی تھا کم سن نے بھرا ہوا پانی کا۔گلاس آگے رکھ دیا۔
گومو وویو۔۔ وہ مسکرا کر شکریہ ادا کرتی گھونٹ بھرنے لگی۔۔
اریزہ تم ہاسٹل میں کیا ناشتہ کرتی ہو۔؟۔۔ گوارا کو خیال آیا۔۔
کبھی چاول کبھی بوائلڈ ایگ کبھی سبزیوں کا سوپ۔۔ اس نے سوچ سوچ کر بتایا۔۔
تم پاکستان میں تو وہ کھاتی ہوگی نا جو اس دن بنایا تھا۔۔ فلور کیک
جی ہائے کو یاد آیا۔۔
پراٹھا کہتے اسے۔ اریزہ نے بتایا
ہان ہاں پراٹھا۔۔
گوارا نے صحیح تلفظ میں بول لیا تھا۔۔
پراٹھا۔۔۔
لڑکے چونکے
اس دن اس نے فلور کیک بنایا تھا بنا کچھ ڈالے بس اوپر گھی سے تلا تھا کافی مزے کا تھا۔۔ جی ہائے تعریفیں کر رہی تھی۔۔
ہمیں بھی کھلائو کسی دن۔۔
یون بن نے فورا فرمائش داغی۔۔
ہاں کیوں نہیں۔۔ اس نے خوشدلی سے ہامی بھر لی۔۔ ناشتہ ختم کرکے وہ حسب عادت چیزیں سمیٹنے لگی۔۔
یار مجھے کوئی کرائے دارنئ ڈھونڈ دو یارو۔ احسان مانوں گئ۔ مجھے پیسے چاہیئیں۔
گوارا نے مظلوم سی شکل بنا کر کہا
ہر گز نہیں۔۔کم سن اور یون بن اکٹھے چلائے
بالکل ضرورت نہیں اریزہ۔۔ یون بن اسے ٹوک کر ہنگل میں شروع ہو گیا۔۔
خوب پتہ ہمیں کیوں تمہیں کرائے دار چاہیئیں۔۔ تاکہ پیسے جمع کرکے پلاسٹک سرجری کروا سکو۔
یون بن بھنایا۔
تمہیں کیا تکلیف۔۔ گوارا چلائی۔۔
میرا منہ میرے پیسے جو مرضی آئے کروں۔
خبر دار جو تم میرے سامنے منہ بدلو ا کر آئیں۔۔ وہ بلبلایا۔۔
میں یہاں دو کرائے دارنیاں رکھ رکھ کر خود پکا پکا ہاسٹل شفٹ ہو جائوں گئ۔
گوارا کے ارادے خطرناک تھے
خبردار جی ہائے اسکو کمرے میں نہ گھسنے دینا۔۔۔۔ یون بن چلایا
بالکل اس ارادے کی راہ میں میں جو رکاوٹ کھڑی کر سکی کروں گی۔ جی ہائے نے عزم کیا۔
میں اریزہ کے ساتھ رہ لوں گی۔
گوارا بھنائئ۔۔
خبردار اریزہ اسکی مدد نہ کرنا۔ یون بن تڑپ اٹھا۔
دونوں بچوں کی طرح لڑ رہے تھے جی ہائے بیچ بچائو کرا رہی تھی۔۔ کم سن انہیں لڑتے دیکھ کر غیر محسوس انداز میں چلتا بنا۔۔ اریزہ ہنگل اور انگریزی کی کھچڑی بنتے کافی دلچسپی سے دیکھ رہئ تھی۔۔
اور ہایون اسکے چہرے کے بنتے بگڑتے زاویے دیکھ کر انجوائے کر رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈورم میں آکر اس نے اپنا بیگ نیچے کھڑے کھڑے ہی اوپر اچھال دیا تھا۔۔ سنتھیا کمرے میں نہیں تھی۔۔ پچھلے تین دن میں اس نے ایک میسج کا جواب نہیں دیا تھا۔۔ اس نے اس کے خالی بیڈ کو دیکھ کر گہری سانس بھری۔۔
وہ باتھ روم میں گھس گئ۔۔ نہا کر باہر نکلی تو سنتھیا کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔۔
اسلام و علیکم ۔۔ اریزہ نے خوشدلی سے سلام کیا۔۔
ہائے۔۔ سنتھیا کا موڈ شائد ٹھیک نہیں تھا یا اسے دیکھ کر خراب ہوا تھا وہ سمجھ نہیں پائی۔۔
وعیلکم السلام کہتے ہیں جواب میں۔۔ اس نے جتایا۔۔
سنتھیا سر جھٹکتی بیگ کونے میں رکھتی بیڈ پر دراز ہو گئ۔۔
مکمل نظر انداز۔ اریزہ نے الجھن سے اسے دیکھا۔۔
کل کانسرٹ میں چلو گی میرے ساتھ۔۔
اریزہ نے پوچھا تو وہ بیڈ پر لیٹے لیٹے ہی سر اونچا کرکے دیکھنے لگی۔۔
کسکا کانسرٹ ہے۔۔ ؟
بریو ہارٹ بینڈ کاوہی سنگر جو ہمیں پلیین میں ملا تھا۔۔
اریزہ نے بتایا تو منہ بنا کر بولی۔۔
انکی شنگ پونگ کیا سمجھ آئے گی۔۔ وہ سیدھی چت لیٹ گئ۔۔
ہلا گلا رہے گا واپسی پر کچھ کھا پی لیں گے کل شام کا پروگرام ہے۔۔ وہ شوق سے اسکے پاس آبیٹھی۔۔
سنتھیا غیر ارادئ طور پر کھسک کر پیچھے ہو گئ۔۔
پھر اس حرکت کا خیال۔آیا تو اٹھ بیٹھی
مجھے نہیں جانا تم نے جانا ہو تو چلی جائو۔۔ وہ اسکے پاس سے ہو کر اٹھنے لگی۔۔
اریزہ نے مڑ کر اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔
تم نے جانا نہیں ہے یا میرے ساتھ نہیں جانا۔۔؟
میرا ایڈون کے ساتھ پروگرام طے ہے۔۔ وہ کترا کر ہاتھ چھڑاتی باتھ روم چلی گئ۔۔
ایڈون ۔۔ وہ ہنس کر رہ گئ۔۔
اریزہ بی بی اب بوائے فرینڈ ان ہے سو گرل فرینڈ کھچ جائو۔۔ اب۔۔ وہ سر پر ہاتھ مارتی اٹھی اپنے ڈورم کی سیڑھیاں چڑھتے اسکی سنتھیا کے ہینڈ بیگ پر نظر پڑی۔۔ اس نے یونہی بیڈ کے اوپر رکھ چھوڑا تھا گرنے ہی والا تھا۔۔
اس نے اتر کر اسے سیدھا کرکے رکھنا چاہا بیگ کی زپ کھلی تھی اسکی اچٹتی نظر پڑی تھی۔۔ اس نے زپ بند کر دی۔۔
بیگ کو بیڈ پر رکھ کر مڑی تو سنتھیا کھڑی گھور رہی تھی۔
تم میرا بیگ کیوں کھول کر دیکھ رہی تھیں۔۔اس نے کافی غصے سے پوچھا تھا۔۔
تمہاری چیزیں چرانی تھیں۔۔ اسے غصہ آگیا تھا۔
میں تمہاری چیزوں کو ہاتھ لگاتی ہوں؟۔۔ اوپر تک نہیں جاتی تم بھی میری چیزوں میں مت گھسا کرو۔۔
وہ تیزی سے بیگ کے پاس آئی اور اسے اٹھا کر اپنے سرہانے بیڈ پر رکھ دیا۔ اریزہ چڑ کر کچھ کہنے لگی تھی مگر پھر اسکی حرکت اسے کھٹکا گئ۔۔
کیا ہوا ہے اچانک تمہیں؟۔۔ وہ بہت ٹھنڈے انداز میں پوچھ رہی تھی۔۔
سنتھیا نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔۔ وہ منہ دھو کر آئی تھی چہرہ تولیہ میں گم کر لیا۔۔ ہلکے ہلکے تھپتھپاتے اریزہ کی جانب پشت بھی کر لی۔۔
اریزہ چند لمحے تو دیکھتی رہی پھر سیڑھیاں چڑھ گئ۔۔
سنتھیا نے مڑ کر اسکے اوپر چلے جانے کا۔یقین کیا۔۔ پھر بیگ کھول کر اس میں سے ایک شاپر نکال کر اپنے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل میں رکھ کر لاک بھی کر دیا۔۔
چابی اپنے تکیے کے غلاف میں رکھ کر لیٹ کر موبائل استعمال کرنے لگی
اریزہ اوپر بیڈ کی جھری سے اسکی تمام مشکوک حرکتیں دیکھ رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح الارم سے اسکی آنکھ کھلی تھی۔
الارم بند کر کے اس نے نیچے جھانکا سنتھیا بے خبر سوئی پڑی تھی۔ وہ اٹھ کر نیچے آئی فریش ہو کر تیار بھی ہو گئ سنتھیا ٹس سے مس نہ ہوئی
اس کا ارادہ تو اب سنتھیا سے بات نہ کرنے کا تھا مگر ابھی اسے دیر ہو جاتی۔ اس نے جا کے اسکا شانہ ہلایا۔۔
سنتھیا۔۔
سونے دو ایڈی۔۔ اس نے کسمسا کر کروٹ بدلی۔۔
سنتھیا۔۔ اس نے گہری سانس لے کر اسے جھنجھوڑا۔۔
آٹھ بیس ہو رہے اٹھ جائو دیر ہو جائے گی۔۔ورنہ
سنتھیا۔۔ نے پوری آنکھیں کھولیں۔۔
اچھا۔۔
وہ اٹھ ہی گئی تھی۔۔۔
میں جائوں یا انتظار کروں۔۔
اریزہ نے پوچھا تو جوتی پہنتے لاپروائی سے بولی جائو۔۔
اریزہ پر نگاہ غلط ڈالے بنا اٹھ کر باتھ روم گھس گئ۔۔
اریزہ کا چہرہ بجھ گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔

Kesi lagi salam korea ki yeh qist? Rate us

Rating

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *