Salam Korea Episode 35

Salam korea
by vaiza zaidi
قسط 35

کلاس لیکر وہ باہر نکلا تو شام کے دھندلے سائے سیول پر چھا رہے تھے۔ ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی۔ اس نے اپنے گردن کے گرد لپٹے اسکارف کو درست کیا۔ اور ٹیرس سے نیچے جانے والی سیڑھیوں کی طرف مڑا۔ تبھی خیال آیا تو پلٹ کر دیکھنے لگا۔ ریلنگ پر ایک بڑا سا کمبل نما جیکٹ دھرا تھا جس پر۔برف کے ننھے ننھے ذرے جمع ہو رہے تھے۔ جیکٹ جانا پہچانا لگا تھا اسے۔ اس نے گہری سانس لیتے ہوئے آگے بڑھ کر جیکٹ اٹھا لیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹریفک شدید سڑک طویل راستہ آج ہیون بھی خلاف معمول خاموش تھا۔ وہ سچ مچ اسکے برابر بیٹھی اونگھ گئ تھی۔ گاڑی رکی تھی جب اسکی آنکھ کھلی۔یا شائد ویسے ہی نیند پوری ہونے پر آنکھ کھلی تھی۔
اللہ و اکبر اللہ و اکبر۔ لا الہ الااللہ۔۔
نہیں اذان کی آواز تھی۔ بہت تیز نہیں تھی مگر واضح تھی۔ ختم ہو رہی تھی۔
اس نے سیدھا ہوتے اردگرد نظر دوڑائی تو باہر اندھیرا چھا چکا تھا۔گاڑی شائد کسی تفریحی مقام کے احاطے میں پارکنگ ایریا میں رکی ہوئی تھی۔
گاڑی بند کیئے نشست کی پشت سے سر ٹکائے آرام دہ حالت میں بیٹھا تھا۔ چہرے پر سنجیدگی سامنے ونڈ اسکرین پر نگاہ جمی ہیون کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ اتنی گہری سوچ تھی کہ اسکے اٹھنے کا اسے احساس ہی نہ ہوا۔
اس نے شرمندہ سا ہوتے ہوئے پکارا
ہیون۔
آں دے۔ وہ چونک کر سیدھا ہوا۔
اٹھ گئیں تم؟ نیند پوری ہوئی۔
وہ یونہی پوچھ رہا تھا مگر وہ اچھی خاصی شرمندہ ہوگئ۔
آئیم سوری۔ تم نے کہیں گھومنے جانا تھا اور میں سو گئی۔ اٹھا دیتے مجھے؟ ایک تو تمہاری گاڑی کی نشست ہی اتنی آرام دہ ہے بندہ ذرا سا سر ٹکائے غافل ہو جاتاہے۔
خالصتا اریزہ کا انداز شرمندہ بھی ہورہی تھی ساتھ الزام اسکی گاڑی پر لگا دیا۔
بہر حال اٹھا دینا چاہیئے تھا تمہیں جانے کتنی دیر ہوگئی۔
اس نے موبائل میں وقت دیکھتے پھر ٹوکا۔ گھڑی نے اگلا جھٹکا دیا اسے۔چیخ ہی پڑی
کیا پونے سات میں تین گھنٹے سوتی رہی۔ حد ہے۔

تم بہت گہری نیند سو رہی تھیں مجھے اٹھانا مناسب نہیں لگا۔۔ اسکینگ کا ارادہ تھا یقین کرو گوانگانگ دو ریزورٹ کے پارکنگ لاٹ سے گاڑی واپس نکال کے لایا ہوں۔
ہیون محظوظ سے انداز میں بتا رہا تھا۔
اریزہ کی بچی۔ وہ اپنے سر پر ہاتھ مار کر بولی۔ رات گئے ہوپ کے ساتھ طویل بیٹھک کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔ بہر حال نیند پوری ہو گئ تھی۔
مجھے جگا دینا چاہیئے تھا۔
اسکینگ میں کوئی خاص دلچسپی نہ تھی مگر یوں ہیون کی گاڑی میں دوسری بار اتنی طویل نیند لینا اسے خاصا شرمندی کر گیا تھا کیا سوچتا ہوگا۔
چلیں؟۔۔
ہیون نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے چلنے کا اشارہ کیا وہ سر ہلا کر دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔
یہ کونسی جگہ ہے؟
باہر ہوا خاصی سرد تھی اسے تو لگا بوندا باندی بھی ہو رہی ہے۔ اس نے جھر جھری سی لی۔
سر پرائز ہے خود ہی چل کر دیکھ لو
ہیون بے نیاز بنا ۔ اس نے بھی کندھے اچکا دیئے۔ پارکنگ انہیں نسبتا فاصلے پر ملی تھی۔ ذیلی سڑک پر ہیون کے ہم قدم چلتے وہ گردن گھما گھما کر دیکھ رہی تھی آتے جاتے لوگ سڑک کی چہل پہل سامنے کھلی مارکیٹ کی رونقیں ۔کرسمس کی تیاریاں عروج پر تھیں مارکیٹ میں جا بجا سینٹا کے لباس میں چلتے پھرتے لوگ اشتہار بانٹ رہے تھے کہیں کرسمس ٹری سجا کھڑا تھا وہ بہت شوق سے رونقیں دیکھ رہی تھی ہیون چلتے چلتے رکا۔ وہ بھی رک گئ۔
تم غلط جگہ دیکھ رہی ہو۔ پیچھے مڑ کر دیکھو۔ ہیون نے کہا تو وہ نا سمجھتے ہوئے گول گھوم گئ۔
وہ عربی طرز تعمیر کی بڑی سی عمارت تھی۔ سبز روشنی سے سجے دومینار گنبد۔ جس پر بڑا سا اللہ و اکبر لکھا ہوا تھا۔
اس نے حیرانگی سے مڑ کر اسے دیکھا۔
ہم مسجد آئے ہیں ؟
اریزہ کے حیرانگی سے پوچھنے پر وہ ہنس دیا۔
ہاں۔ چلو تو سہی اندر۔
ہیون کے کہنے پر وہ کندھے اچکا کر ساتھ چل پڑی۔
اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ سیول شہر میں جامع مسجد بھی ہوگی۔
یہ اٹیوان ہے یہاں کافی سارے مسلمانوں کے ریستوران بھی ہیں۔
ہیون اسکی معلومات عامہ میں اضافہ کر رہا تھا۔
وہ سر ہلاتی اسکے پیچھے چل رہی تھی۔ شائد فیصل مسجد کی طرح کا کوئی تفریحی مقام ہے یہ۔۔ کوئی مشہور مسجد یا۔۔ وہ بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر مسجد کا احاطہ شروع ہو رہا تھا۔ کچھ چندی آنکھوں والے کچھ افریقی النسل سر پر ٹوپی سجائے شائد نماز پڑھنے اوپر جا رہے تھے وہ ایک طرف ہو کر راستہ دینے لگی۔
ہیون اپنی جھونک میں آگے بڑھ رہا تھا کہ احساس ہوا وہ کہیں پیچھے رک گئ ہے۔ وہ واقعی سیڑھیوں کے اختتام پر ایک جانب کھڑی ہو کر سر اٹھا کر مسجد کی عمارت کو دیکھ رہی تھی۔
ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو چکی تھی۔ کئی قطرے اسکے چہرے پر آن گرے تھے۔
کیا ہوا چلو نا نماز کا وقت ہو رہا ہےنا تمہاری؟
ہیون نے پاس آکر کہا تو وہ یوں دیکھنے لگی جیسے اسکے سر پر سینگ اگ آئے ہوں۔
تم یہاں مجھے اسلیئے لائے ہو کہ میں نماز پڑھ سکوں؟
وہ حیرانگئ سے مرنے کو تھی جیسے۔ ہیون نے سر ہلایا۔
لڑکیاں مسجد جا کر نماز نہیں پڑھتی ہیں۔ اس نے سر پیٹ لیا جیسے۔۔
جانتا ہوں۔ مسلمان لڑکے او رلڑکیاں الگ الگ عبادت کرتے ہیں ادھر لڑکیوں کیلئے الگ انتظام ہے۔
اس نے دور راہداری کی جانب اشارہ کیا۔ جہاں ایک بورڈ لگا ہوا تھا جس میں کورین میں کوئی ہدایات وغیرہ لکھی تھیں۔
میں سب معلومات لیکر آیا ہوں۔ تم جائو نماز پڑھ لو میں یہاں تمہارا انتظار کرتا ہوں یا بلکہ ایسا کرتا ہوں میں بھی اندر پریئیر کر آتا ہوں۔ ٹھیک ہے۔
ہیون اسے آج شائد حیران کر کرکے ہی مارنے والا تھا۔
تم کونسی پرئیر کروگے؟ نماز پڑھوگے؟ اریزہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا اسکے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔
ہیون ہنس دیا۔
مجھے نماز کہاں آتی ہے مگر خدا تو ہر عبادت گاہ میں ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ میں اندر جا کر ہاتھ جوڑ کر پرئیر کر لوں گا جیسے تم نے چرچ میں ہاتھ ایسے کرکے دعا مانگئ تھی۔
ہیون نے دعا کرنے کے انداز میں ہاتھ پھیلاکر سمجھایا۔ اسکے نزدیک یہ کوئی بڑی بات نہ تھی۔ اریزہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس دن چرچ میں سر ڈھانک کر اس نے جو دعائیں مانگی تھیں اسکو کسی نے نا صرف نوٹ کیا تھا بلکہ اسکا بدلہ اتارنے پر تل گیا تھا۔ مسجد میں ہتھیلیآں جوڑ کر پرئیر کرنے کو تیار ہیون ۔۔۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ اسکی معصومیت پر ہنسے یا اپنا سر پیٹ لے۔
کیا سوچ رہی ہو؟
ہیون نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔
ہم باہر چل کر بات کرتے ہیں۔
بہر حال وہ مسجد کے احاطے میں کھڑے تھے۔ اسے یہاں اسکی غلط فہمی دور کرنا بھی بے ادبی لگا تھا۔
وہ سنجیدگی سے کہہ کر پلٹی
اریزہ۔ رکو ۔۔ مجھے ضروری بات کرنی ہے تم سے۔۔
ہیون نے اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔
وہ بیزار ہوئئ۔
نیچے چلتے ہیں نا۔ بارش بھی ہونے لگی ہے اب تو۔

نہیں یہیں بات کرنی ہے۔
اس نے لمحہ بھر سوچ کر گہری سانس لیکر کہہ دیا۔
میں ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔ میں آج تمہیں یہاں اسی لیئے لیکر آیا ہوں۔
وہ رکا تھا۔ اسکی سنجیدگی اسکا انداز اریزہ ٹھٹک کر اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔ اسکے صبیح چہرے پر سنجیدگی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔یقینا کوئی اہم بات تھی۔
ایسی کیا بات۔۔
کھد بد تو ہو رہی تھی ۔ اریزہ نے دھیرے سے کہہ کے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا
اریزہ میں جو بھی کہنے جا رہا ہوں اس میں کوئی لگی لپٹی نہیں ہے۔ جو میرے دل میں ہے بنا سوچے میں کہہ ڈالنا چاہتا ہوں۔ اس نے گہری سانس لیکر اریزہ کی آنکھوں میں جھانکا۔
اس دن چرچ میں تمہیں دیکھ کر مجھے ایک الگ سا احساس ہوا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا وہ کیا احساس تھا۔۔ تم پرئیر کر رہی تھیں مگر تم اتنی مختلف اور مقدس سی لگی تھیں مجھے کہ میرا دل لمحہ بھر کو جیسے تھم سا گیا تھا۔ تمہیں دیکھنا تمہیں جاننا چاہتا تھا تب میں۔
اریزہ اپنا ہاتھ چھڑانا بھول گئ تھی۔ موسم نے کروٹ لے لی تھئ۔ بوندا باندی تیز پھوار میں بدلتی جا رہی تھی۔
اور پھر دھیرے دھیرے یہ احساس اتنا الگ اتنا انوکھا رخ اختیار کر گیا ہے کہ اسکا اعتراف میں آج یہاں کرنا چاہتا ہوں۔ تمہاری مقدس ترین عبادت گاہ میں کہ۔
وہ سانس لینے رکا۔۔ اریزہ کی سانس رک سی گئ۔
اریزہ تم مجھے بہت اچھی لگنے لگی ہو۔
رواں انگریزی بولتے بولتے وہ ایکدم اردو پر اتر آیا تھا۔
اریزہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔ بلکہ۔
اس نے ذرا سا وقفہ لیا۔
میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں۔
اس نے ان دو جملوں کو بولنے کی بہت مشق کی تھی۔ جبھی بالکل اٹکے بنا ایکدم کہہ ڈالا تھا۔
بجلی نہیں کڑکی تھی۔ بادل نہیں گرجے تھے۔ مگر شور ایکدم سے اتنا بڑھا تھا کہ اسے جیسے اسکی سنائی ہی نہ دی۔ نہیں سن تو لی تھی مگر سمجھ نہیں آئی تھی۔
اریزہ بنا پلک جھپکائے اسے دیکھتی جا رہی تھی۔
کیا اس نے وہی کہا ہے جو اس نے سنا ہے۔
اریزہ میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں ۔۔ جھنچا۔
ہیون نے جھنچا پر زو ردے کر کہا تھا۔۔
آہش۔ مجھے جھنچا کا اردو معنی بھی یاد کرنا چاہیئے تھا۔
اس نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا۔ وہ اعتراف کرکے جیسے ہوائوں میں اڑتا محسوس کر رہا تھا خود کو۔ ایکدم ہلکا پھلکا۔ اسکے چہرے پر اب بشاشت سی آرہی تھی۔ بارش اتنی تیز برس رہی تھی ان پر مگر ان دونوں کو اس بارش کا کوئی اثر نہیں تھا۔
آدل ۔۔۔۔
کسی نے بہت نرمی سے انہیں پکارا تھا۔ اریزہ جیسے ہوش میں آئی تھی۔۔ ہیون آواز کی سمت مڑ کر دیکھنے لگا۔ باریش چندی آنکھوں والے وہ آہجوشی مہربان سی مسکراہٹ سجائے انہیں دیکھ رہے تھے۔
بارش ہو رہی ہے آئو اندر آجائو۔۔۔ ۔ وہ یہی سمجھے تھے کہ شائد بارش سے پناہ لینے وہ اندرصحن میں چلے آئے ہیں۔
ہیون نے انکو جواب دینے کیلئے منہ کھولا تھا ۔ اریزہ تیزی سے پلٹ کر سیڑھیاں اترنے لگی۔
ہیون دھیرے سے سر جھکا کر انکو کوریائی انداز میں الوداع کرتا اسکے پیچھے بھاگا تھا۔
تیز برستی بارش اسے بری طرح بھگو گئ تھی۔ اسکی آنکھوں میں شائد بارش کا پانی چلا گیا تھا اتنی جلنے لگی تھیں کہ۔ اس نے سڑک پر آکر جیسے اندھوں کی طرح ادھر ادھر دیکھا۔ کیا کرنا تھا اسے ؟ اسکا۔ذہن مائوف ساہورہا تھا۔
اریزہ شا۔
ہیون بھاگتا ہوا اسکے پیچھے آیا۔۔۔
کیا ہوا؟
وہ اسکے یوں بھاگ آنے کی وجہ پوچھنا چاہتا تھا۔
مجھے گھر جانا ہے۔
اسکے آواز بھرائی ہوئی تھی شدید سردی سے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ سرخ آنکھوں کو رگڑتی وہ بمشکل بول پائی تھی۔
ادھر حلال ریستوران ہیں چلو کچھ۔۔
وہ اشارہ کرتے ہوئے بتا رہا تھا اس نے بے تابی سے بات کاٹ دی
مجھے نہیں کھانا ۔ تم نے کھانا ہے تو جائو میں ٹیکسی۔
بجلی ایکدم زو رسے کڑکی تھی وہ جھری جھری سی لیکر کر رہ گئ۔
چلو میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔
ہیون نے بحث نہیں کی۔ اریزہ بری طرح بھیگ گئ تھی او رجتنی وہ نازک مزاج تھی یہ بارش یہ سردی اسکا مزاج برہم کرچکی تھی۔
یقینا یہ موسم موافق نہیں تھا۔ یہ موسم اسے ہمیشہ کوئی کسک ہی دیکر جاتا ہے۔ وہ قنوطیت سے سوچتا اسکے ہمراہ قدم اٹھا رہا تھا۔ اریزہ کا چہرہ مکمل طور پر بھیگا ہوا تھا ناک سرخ ہو رہی تھی شائد آنکھیں بھی۔ وہ چاہ کر بھی اسکے چہرے کے تاثرات سے اسکے جواب کا اندازہ نہیں لگا پایا تھا۔ گاڑی کے قریب آنے تک وہ گا ہے بگا ہے اسکے چہرے پر نگاہ ڈالتا آیا تھا۔گاڑی انلاک کرکے وہ اسکے لیئے دروازہ کھولنے بڑھا تھا مگر وہ تیزی سے خود ہی دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئ تھی۔ وہ خاموشی سے آکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ راستہ بھر ان دونوں میں مزید کوئی بات نہ ہو سکی۔ گاڑی رکتے ہی وہ بنا اسکی جانب دیکھے تیزی سےبیگ اٹھائے اتر کر اندر عمارت میں گھس گئ تھی۔
دروازہ بند نہیں ہوا تھا۔ اسے اتر کر اسکی جانب کا دروازہ بند کرنا پڑا تھا۔ اسکے ہر طرح کے ردعمل کو گھنٹوں سوچا تھا وہ یوں کہے گی تو یوں وہ یوں کرے گی تو ایسا کہوں گا۔ مگر آج کی بارش اسکے لیئے سب سے غیر متوقع صورت حال کو پیدا کر گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپارٹمنٹ میں پہنچی تو اند رسب بتیاں بند تھیں۔
اریزہ نہیں آئی ابھی تک؟
وہ سوچتی ہوئی جوتے لابی میں بدلتی ہوئی کمرے میں چلی آئی۔ لائٹ جلا کر بیڈ پر بیگ اچھالا دھم سے بستر پر بیٹھئ۔ پھر ایک دم اچھل کر اٹھ کھڑی ہوئی گرتے گرتے بچئ۔ دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔
کم چاگیا۔۔
بیڈ پر اریزہ آڑی ترچھی بلکہ اوندھی پڑی تھی۔ کمبل سر تک تانے وہ اسکے منہ پر بیگ اچھالتی ٹانگوں پر بیٹھ گئ تھی۔۔وہ کسمساتی ہوئی سیدھی ہو رہی تھی کمبل منہ تک تانے۔
تم اندھیرا کیئے لیٹی تھیں؟ تم تو اندھیرے سے ڈرتی نہیں ہو؟
اس نے آگے بڑھ کر اسکے چہرے سے کمبل ہٹا تے ہوئے پوچھا۔
سرخ چہرہ سوجا ہوا سرخ آنکھیں۔
کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے؟ وہ بے ساختہ فکر مند سی ہو کر جھک کر اسکا ماتھا چھونے لگی۔ تپ رہا تھا۔
بخار ہو رہا ہے۔
اسکے رندھے ہوئے گلے سے بمشکل آواز نکلی۔۔
رو رہی ہو؟
اسکے انداز میں حیرت تھی۔ اور شائد فکر بھی۔ اریزہ نے بمشکل سر ہلایا۔
کیوں؟ وہ اسکے پاس آبیٹھی۔
گھر والے یاد آرہے ہیں۔
اس نے خود ہی اندازہ لگایا۔ اریزہ چپ چاپ اسے دیکھتی رہی۔
فون کر لو۔ ہوپ شائد سچ مچ اسکی فکر کر رہی تھی۔
اسکی آنکھیں پھر بھرنے لگیں
میرا فون ٹوٹ گیا ہے۔ وہ دوبارہ رو پڑی تھی۔
میرے فون سے کر لو۔
ہوپ اور کیا کہتی اپنا فون بیگ سے نکال کر اسکی جانب بڑھانے لگی۔
تم نے اتنی زور سے بیگ مار دیا منہ پر لگا ہے میرے۔
اسے غصہ آگیا تھا۔
آئیم سوری۔جان کے نہیں مارا۔۔۔ ہوپ آسکے ردعمل پر تھوڑی حیران ہوئی مگر فوری معزرت کی۔
میں نے کب کہا کہ جان کے مارا ہے تم نے۔ ایک تو اتنی سردی میں بارش میں بھیگتی آئی بخار چڑھ گیا کھانا بھئ نہیں کھایا اوپر سے تم نے اتنا بھاری بیگ اٹھا کے منہ پردے مارا۔ حد ہوتی ہے۔ ایسا کرتا ہے کوئی؟
وہ جھلا کے اٹھ بیٹھی۔ اتنی شکایتیں کرتے مزید رونا آچکا تھا۔ رو رو کر بین کرتی اریزہ ہوپ نے چند لمحے اسے گھورا پھر تھک کے بولی۔
کیا کہہ رہی ہو؟ انگلش میں تو بولو۔
کچھ نہیں کہہ رہی میں۔
اس نے بے دردی سے آنسو پونچھتے اپنا چہرہ رگڑ لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ایسی روشن تھی جیسے گزرے دن بارش کی بوند تک نہ برسی ہو۔ مطلع صاف نرم گرم دھوپ۔ رات کے ابر باراں کا نام و نشان تک نہیں۔۔۔ اریزہ نے رشک سے گلاس ڈور سے ناک چپکاتےٹیرس میں پھیلی دھوپ کو دیکھا۔ ۔ مگ کے گرد دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں پھیلائےگرم کافی کی گرماہٹ اپنے یخ ہوتے ہاتھوں میں محسوس کی۔
اس وقت موبائل پاس ہوتا تو یقینا اس وقت کوئی بلاگ پوسٹ کرتی۔
اس نے بشاشت سے سوچا۔ کافئ ختم کرکے اس نے گردن موڑ کر گھڑی پر وقت دیکھا تو چونک کے سیدھی ہوئی۔ نو بجنے والے تھے ۔۔ ہوپ کے جاب پر جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ وہ اسے اٹھانے کی نیت سے کمرے میں آئی۔ بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے وہ خاصی الرٹ سی بیٹھی غیر آرامدہ حالت میں سو رہی تھی۔
اس پرنظر پڑتے اسے رات کا منظر یاد آیا۔ بخار رات کو بڑھتا ہی گیا تھا۔ اس پرغنودگی طاری ہونے لگی تھی۔ ہوپ نے ہی اسے دودھ کے ساتھ دوا کھلائی اور پھر سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھتی رہی۔ رات کو جتنی بار بھی آنکھ کھلی اس نے ہوپ کو خود پر فکرمندی سے جھکے پایا۔ جانے کب سوئی اور اسکے اس خیال کی ہی وجہ سے صبح وہ مکمل تازہ دم اٹھی تھی۔ ہوپ چہرے سے بے نیاز اور تھوڑی سی کڑخت دکھائی دینے والی کتنی ہمدرد و نرم سی طبیعت رکھتی تھی۔ گوارا اسے دیکھتی تو یقینا ہکا بکا رہ جاتی اسے سوچ کے ہنسی آگئ ۔ تبھئ ہوپ کسمساتی ہوئی سیدھی ہوئی۔
آہ۔ اسکی ایک ہی رخ پر بیٹھے گردن اکڑ گئی تھی شائد۔اٹھتے ہی کراہتے ہوئے گردن سہلانے لگی۔
گڈ مارننگ۔ اس نے آگے بڑھ کر تپاک سے صبح کا سلام بھیجا۔
وہ گردن اٹھا کر اسے گھورنے لگی۔ اسکی طبیعت بالکل بشاش لگ رہی تھی۔ چہرے پر کل کے بخار کے آثار تو تھے جنہیں مٹانے کیلئے اس وقت غیر ضروری بشاشت کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔
کیسی طبیعت ہے تمہاری؟
اس نے کڑے تیور سے پوچھا تھا۔
ٹھیک ہوں ایکدم فٹ۔۔ وہ باقائدہ گول گھومی۔
رات کو ٹھیک ٹھاک پریشان کیا ہے تم نے ۔۔ ایک سو تین بخار تھا تمہیں۔ ہوپ نے جتایا۔
جانتی ہوں۔ اور تم نے میری خوب خدمت کی ہے اسکے صلے میں ملتا ہے تمہیں آج میری جانب سے پرتکلف ناشتہ۔ ٹوسٹ فرائی انڈہ اور پین کیک۔سب تیا رکیا ہے جلدی سے فریش ہو کر آئو مل کر ناشتہ کرتے ہیں۔
اس نے لہک لہک کر کہا ہوپ اسے گھورتی رہی
اسکی طبیعت واقعی ٹھیک ہوچکی تھی شائد۔
کاش کوئی ایپ ہوتی جس سے میں ترجمہ کر سکتی رات کو جو تم کہتی رہی ہو اپنی زبان میں اسکا۔
ہوپ سستی سے بیڈ سائیڈ پر پیر لٹکائے پیر سے ٹٹول کر چپل تلاشتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
میں بول رہی تھی؟ ایک تو میں بخار میں بڑبڑانا کب چھوڑوں گی۔
وہ دانت پیس کر رہ گئ۔
کیا کہہ رہی ہو۔ ہوپ نے گھورا
شکر ادا کر رہی ہوں کہ تم اردو نہیں جانتیں۔
اس نے کندھے اچکا کر چڑایا۔
اردو نہیں جانتی مگر تمہیں جان گئ ہوں ۔ ہوپ اسے جتانے والے انداز میں کہہ رہی تھی۔
مطلب؟ اریزہ گڑبڑائئ۔
ہوپ مسکرا دی۔
میں فریش ہوکر آتی ہوں۔
وہ اپنی گردن سہلاتی باتھ روم میں گھس گئ۔ پندرہ بیس منٹ بعد وہ صرف نہا کر نہیں جانے کیلئے تیار ہو کر آئی۔ تب تک وہ ناشتہ میز پرسجائے گہری سوچ میں گم بیٹھی اسکا انتظار کر رہی تھی۔ اسے حیرت ہوئی۔ اسے لگا تھا وہ ناشتہ ختم کر چکی ہوگئ
اس نے اسکے کھوئے انداز کو بغو ردیکھا پھر اسکے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئ وہ متوجہ نہ ہوئی تو اسے میز پر ٹھونگا لگا کر جگانا پڑا۔
ناک ناک۔ واپس آجائو اگاشی۔
اس نے جان کے ہنگل میں کہا۔
دے۔ وہ چونکی تھی مگر ظاہر نہیں کیا۔
فورا اٹھی اور کافی میکر سے کافی نکال لائی۔ ہوپ ٹوسٹ اور انڈہ لیکر ناشتہ شروع کر چکی تھی۔ اس نے
پین کیک اورکافی کا بھاپ اڑاتا مگ اسکی جانب بڑھایا۔
تم نے آج جانا ہے کلاس لینے؟ ہوپ نے نوالہ لیتے ہوئے یونہی پوچھا۔
ہاں۔ اسکا جواب مختصر تھا۔
چھٹئ کر لو بخار تھا تھکن مت لو۔ ہوپ کی فکر پر وہ مسکرا کر رہ گئ۔
ٹھیک ہوں میں۔
ہوپ کندھے اچکا کر ناشتہ ختم کرنے لگی۔ اریزہ کو پھر حرارت سی محسوس ہو رہی تھی۔ جبھئ ناشتہ کیا نہیں جا رہا تھا۔ہوپ نے ایک نظر اسے دیکھا پھر سوچ کربولی۔
اچھا سنو میرا موبائل رکھ لو۔ جب تک تم نیا نہیں لیتیں۔
اسکی پیشکش پر وہ منہ کھول کر رہ گئ۔
میرے موبائل پر پاسورڈ نہیں ہوتا اور مجھے سارا دن اسکو بند کرکے لاکر میں ہی رکھنا ہے تم استعمال کر لینا۔۔۔
اس نے صرف کہا نہیں بلکہ اپنا موبائل میز پرسے پھسلا کر اسکی جانب بڑھا بھی دیا تھا۔ میز کی چکنی سطح پر وہ پھسلتا ہوا اریزہ کے پاس آیا تھا۔
نہیں مجھے نہیں چاہیئے ایسی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے مجھے۔ شکریہ تمہارا۔
وہ پورے خلوص سے کہہ رہی تھی۔ موبائل اٹھا کر اسکی جانب بڑھایا۔ ۔ ہوپ نے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو جانتی نہیں ہوں نا میں جیسے تمہیں۔۔اسکا ہاتھ چھو کر پیچھے کرتے ہوئے بولی۔
جس دن سے میں آئی ہوں تمہیں اس مشین کے بنا بیٹھے نہیں دیکھا۔ مجھے حیرت ہے تم دو دن سے زندہ کیسے ہو اسکے بغیر؟
ہوپ اور طنز کے بنا بات کر لے۔ وہ بھنائی۔۔
تم تو جیسے صرف ہفتے میں ایک دن باری لگا کر استعمال کرتی ہو خود بھی تو جب گھر آتی ہو مستقل موبائل میں ہی لگی ہوتی ہو۔
ہاں تو سارا دن موقع نہیں ملتا گھر آکر ہی استعمال کرنے کا وقت ملتا ہے اس پر بھی مجھے اسکی اتنی عادت نہیں ہے کہ اسکے بنا رہ نہ سکوں۔
ہوپ نے مزید اسکا دل جلایا۔
مجھے بھئ عادت ڈالنی ہے۔ شکریہ
اریزہ نے موبائل بڑھایا وہ تھامنے کی بجائے اسکے ہاتھ کو ہی دیکھتئ رہی ۔۔ یہ بد تہزیبی سمجھی جاتی ہے کوریا میں ایک ہاتھ سے چیز تھمانا ازراہ احترام کورین کسی کو کوئی چیز پکڑاتے وقت دوسرے ہاتھ سے اپنی کلائی چھو لیتے ہیں تھامنے کیلئے بھی دونوں ہاتھ بڑھانا پسند کیا جاتا ہے۔ وہ جتا رہی تھی نگاہوں سے۔۔ اس نے ہونٹ بھینچ کر بائیں ہاتھ سے اپنے دائیں ہاتھ کی کلائی چھوئی۔
تم مجھ پر اپنے سب کورین ثقافت کے دائو پیچ آزمایا کرو۔
وہ کہے بغیر نہ رہ سکی۔
تم کورین کیوزین پر بھی آجائوگئ دیکھنا ایکدن۔ ہوپ کھلکھلائئ
جب تک اس میں پورک نہ ہو۔
اریزہ نےاضافہ کیا۔
جو بھی ہے۔ بنتی جا رہی ہو آدھی کورین ذیادہ وقت نہیں لگے گاپورک پر بھی آجائوگی ۔
ہوپ کا انداز سادہ تھا اسے جانے کیوں اکساتا ہوا لگا۔
پورک کھانے کا تعلق ثقافت نہیں مزہب سے ہے اور ثقافت اپنائئ جا سکتی ہے مزہب چھوڑا نہیں جا سکتا۔۔ میں کوریا میں رہ سکتی ہوں کورین بولنا سیکھ سکتی ہوں کورین ثقافت کی تعظیم کر سکتی ہوں ، کورینز کے ساتھ دوستی کر سکتی ہوں مگر بات مزہب کی ہو تو سب ہیچ ہے میرے لیئے۔
وہ جوش میں بولتی چلی گئ پھر احساس ہوا۔چند لمحے چپ ہی رہ گئ ۔ سٹپٹا کرسر جھکالیا۔ اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر دونوں کہنیاں میز پر ٹکادیں۔ خود کو پرسکون کرنے کی کوشش۔۔
اریزہ کا سخت لہجہ پھر اسکے بالکل مخالف ردعمل ہوپ نے تعجب سے اسکی شکل دیکھی۔
تم کل کلاس کے بعد کہاں گئ تھیں؟
اسکے سوال پر اریزہ نے سر اٹھا کر اسکو دیکھا۔ وہ جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
ویئے اوو( کیوں) اسکے منہ سے پھسلا
ایسے ہی کافی worked up ہو کر آئی ہو۔
وہ حسب عادت صاف گوئی سے بولی۔
وہ میں۔ اس نے جواب دینا چاہا تھا مگر ہوپ کرسی پیچھے کرتی اٹھ کھڑی ہوئئ
جانے دو میں تمہاری ماں نہیں ہو جسکو جواب دینا ضروری ہو تمہارے لیئے۔ خیر فون نہیں چاہیئے؟
وہ بات بدل گئ فون دکھاکر پوچھنے لگئ۔
نہیں۔ اس نے سہولت سے انکار کیا وہ کندھے اچکا کر بیگ ٹھیک کرنے لگی۔
آج میں دیر سے آئوں شائد۔ مجھے کہیں جانا ہے۔ ہوپ نے اسے قصدا بتایا تھا۔ اریزہ نے سرہلا دیا۔
ہوپ اسے خدا حافظ کہتی چلی گئ۔ اس نے گھڑی دیکھی پھر جلدی جلدی سب برتن سنک میں ڈالتی تیار ہونے چلی گئ۔ جلدی مچانے کا نتیجہ تھا معمول سے آدھا گھنٹہ قبل وہ تیار ہو کر باہر بھی نکل آئی۔
تیز تیز قدم اٹھاتے وہ گلی سے شاہراہ تک نکل آئی تو سکھ کا سانس لیا۔ روز کا آنا جانا تھا کب تک وہ ہیون پر پیرا سائیٹ بن کر انحصار کرتی۔ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ گھسائے وہ شاداں تھی اپنی کامیابی پر۔ پہلی گلی دوسری سڑک پھر دائیں مڑنا۔
وہ چلتے چلتے رک گئ۔ یہاں سے دائیں ہی مڑنا تھا مگر وہ راستہ اسے مانوس نہیں لگا تھا۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا ۔۔ یہاں تک تو اسے یاد تھا راستہ مگر آگے؟ ہیون کے ساتھ آتے جاتے اس نے کبھی راستے پر دھیان ہی نہ دیا تھا یا وہ واقعی اتنی احمق تھی کہ روز آنے جانے کے باوجود اسے راستہ یاد نہ ہوا تھا۔۔۔
آگے جانے کا راستہ نہ آتا ہو تو عقل کا تقاضا ہوتا ہے واپس مڑ جانا مگر اریزہ کو اتنی عقل ہوتی تو یہاں بیچ راستے پر پریشان کھڑی ہوتی۔۔
ہیون حسب معمول مقررہ وقت پر اسکےاپارٹمنٹ کے باہر کھڑا اطلاعی گھنٹی بجا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند لمحے احمقوں کی طرح ادھر ادھر تکنے کے بعد اس نے ہار مان لی تھی۔
اخیر احمق ہو تم اریزہ۔ اتنے دن میں ایک موڑ تک یاد نہیں رہ سکا تمہیں۔ ہیون تمہارا ڈرائور نہیں ہے روز تمہیں بچوں کی طرح لانے لے جانے کی ذمہ داری نبھائے۔
اس نے خود کو ڈانٹے سچ مچ خود کو سر پر خاصی زور دار چپیڑ لگا دی تھی۔ آگے جانا یقینا بے وقوفی ہوتی سو ہونٹ کاٹتے واپسی کا سفر اختیار کیا۔ ایک گلی پیچھے مڑ کر داخلی سڑک سے اہم شاہراہ اور بس اسٹاپ۔ دھوپ تیز تھی مگر اسے اچھی لگ رہی تھی ۔ وہ مرے مرے قدموں سے چلتی آئی اور بس اسٹاپ پر لگے اسٹینڈ پر آبیٹھی۔
ذیادہ نہ سہی ایک دو گھنٹے کافی ہوں گے کسی کا انتظار ختم کرنے کیلئے۔
اس نے یہی سوچا تھا۔ اور سکون سے شیشے کی دیوار سے سر ٹکا کر بس اسٹاپ پربس سے اترتے چڑھتے لوگوں کو تکنے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن نے گہری سانس لی پھر جانچتی نگاہوں سے اسکا عزم و ہمت کی پیمائش کرنی چاہی۔ اسکی درخواست کم دھونس اسے خاصی ناقابل عمل لگ رہی تھی۔
تو کیا میں سمجھوں کہ آپ میری مدد کریں گے؟
اس سے کم سن کی طویل خاموشی برداشت نہ ہوسکی تو پوچھ لیا۔ وہ منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
کم سن اسے یونہی غور سے دیکھتا رہا۔ وہ اسکی نگاہوں سے ٹھیک ٹھاک الجھ رہی تھی۔ وہ کسی ٹھرکی کی ٹٹولتی نگاہیں نہیں تھیں مگر پرسوچ اور کھنگال لینے والی ضرور تھیں۔
اٹس اوکے اگر یہ آپکے لیئے مشکل ہے تو ٹھیک ہے۔ میں چلتی ہوں۔
وہ مایوس ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس وقت وہ کم سن کے دفتر میں اسکے مقابل ہی تھی۔ کم سن نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
بیٹھو۔
اس نے مختصرا کہا۔ وہ بے یقینی سے دیکھتی ایکدم خوش ہوگئ تھی۔ جھٹ سے بیٹھ گئ۔ کم سن نے انٹرکام پر اپنے فائنانس ایگزیکیٹیو ایچ آر جمع پرسنل اسسٹنٹ کو بلایا۔
یہ ہماری نئی ملازمہ ہیں ۔ انکو آفس ورک میں کہیں ایڈجسٹ کرلو۔
اس نے خالص ہنگل میں کہا تو اسکے پی اے کی آنکھیں ابلنے لگیں۔۔
مگر سر فی الحال کوئی جگہ خالی نہیں مارکیٹنگ ٹیم پلاننگ سب پر ہائیرنگ ہو چکی ہے۔ سب سے بڑھ کر ہمارا بجٹ اتنا نہیں ہے کہ ایک اور گھوسٹ ملازم ہائر کرلیں۔پہلے ہئ وہ اریزہ شاہ اتنے دن سے چھٹی پر ہے اسکا فون بھی بند جا رہا ہے۔ اسکی پورے چار دن کی تنخواہ کٹنئ چاہیئے۔ ویسے۔
سنتھیا بغور ان دونوں کی گفتگو سن رہی تھی مگر پھر بھی ٹھیٹھ سیول کے لہجے میں بولتے پی اے کے شور و غو غا سے کوئی درست اندازہ لگانے میں ناکام رہی۔
اریزہ۔
اسکو بس یہی نام سمجھ آیا گفتگو میں۔ مگر اریزہ کا کیا ذکرکچھ اور کہا ہوگا اس نے سر جھٹکا۔
اسکا فون ٹوٹ گیا ہے نیا لیتے ہی رابطہ کرے گی۔
کم سن کا اطمینان دیکھنے لائق تھا۔
پھر بھی سر اس لڑکی کو کیوں رکھنا ہے وہ تو چلو آپکی اور ہیون سر کی دوست ہے۔
وہ بے بسی سے بولا۔
یہ اس لڑکی کی دوست ہے۔ وجہ کافی نہیں؟
کم سن کی بات پر وہ لاجواب ہوگیا تھا۔
کم سن اس سے مخاطب ہوا۔
تم انکے ساتھ جائو یہ تمہیں کام وغیرہ سمجھا دیں گے اور فی الحال تم دوسری والی بات پر غور کرنا ۔۔
مجھے فائنانشل سیکیورٹی چاہیئے بس میں اتنی کمزور نہیں کہ اپنا خیال خود نہ رکھ سکوں۔
وہ مضبوط لہجے میں کہتئ اٹھ کھڑی ہوئی
کم سن نے سر ہلا یا پھر دوبارہ ہنگل میں اپنے پی اے کو ہدائیتیں دینے لگا
انکو لے جائو اور جو کام سپرد کرنے لگو سمجھا دینا اور تھوڑا اپنی انگریزی کو ہوا لگادینا اسکو ہنگل سمجھ نہیں آتی۔
ایک اور انگریزنی ۔ وہ منہ بنا کر رہ گیاپھر مئودب سا ہو کر اسکو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کرنے لگا۔
چلیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین سے چار گھنٹے گزار کر وہ تھکےتھکے قدموں سے چلتی ہوئی گھر واپس آئی۔ جسمانی سے ذیادہ ذہنی تھکن نے نڈھال کردیا تھا۔ حسب عادت دروازہ بند کرکے وہ سیدھا اندر جانے لگی پھر خیال آیا تو الٹے قدموں واپس ہوئی جوتے بدلے۔ کندھے سے بیگ اتارتی اندر آئی تو ایکدم لائونج کی بتی جل اٹھی تھی۔ سامنے ہی بلیک اپر بلیک جینز میں ملبوس ہیون کھڑا مسکرا رہا تھا۔ وہ ششدر سی رہ گئ
کہاں تھیں؟ دو گھنٹے سے انتظار کر رہا ہوں تمہارا۔
وہ ایک چھوٹا سا کارڈ کا بیگ اسکی جانب بڑھاتے ہوئے خوشگوار سے انداز میں پوچھ رہا تھا۔
وہ اتنی حیران ہوئی تھی کہ کچھ بول ہی نہ پائی۔ اسکی حیرت بھانپ کر وہ خود ہی صفائی دینےلگا۔
صبح آیا تمہیں لینے کافی دیر ناک کرتا رہاپھرتمہاری اکیڈمی گیا تم وہاں بھی نہیں تھیں تو ہوپ کو فون کیا اس نے بتایا کہ بخار تھا رات تمہیں۔تم دروازہ بھی نہیں کھول رہی تھیں تو مجبورا گوارا سے لاک کوڈ پوچھا مگر تم تو یہاں تھیں ہی نہیں۔ طبیعت ٹھیک ہے اب تمہاری؟
اس نے روانی میں پوچھتے اسکی پیشانی چھونے کو ہاتھ بڑھایا وہ چونک کے دو قدم پیچھے ہوئی۔
آنیا۔ میں ٹھیک ہوں بس ذرا باہر تک گئ تھی۔
اچھا۔ اس نے فورا ہاتھ پیچھے کرلیا۔۔اور شاپر اسکی جانب بڑھانے لگا
یہ لو۔
یہ کیا؟ وہ سوالیہ ہوئی
تمہارے لیئے فون۔گوارا سے بات بھی کر لینا وہ کافی پریشان ہو رہی تھی دو دن سے تم سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تو۔۔
اسکی کیا ضرورت تھی۔۔ وہ شرمندہ ہوگئ۔
میں لے لیتئ خود ہی۔
ہاں تو لینا تو تھا ہی اسی لیئے میں لے آیا۔
اسکا انداز لاپروا سا تھا
مگر مجھے یہ لینا اچھا نہیں لگ رہا۔ پہلے ہی تمہارے بہت احسان ہوچکے ہیں مجھ پر۔ اب اور نہیں۔ تم یہ واپس لے جائو
اس نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا۔ اسکا انداز خاصا سخت تھا اتنا کہ ہیون کی مسکراہٹ پھیکی پڑگئ
مگر میں یہ تمہارے لیئے ہی لایا ہوں۔ تمہارا فون ٹوٹ
اس نے اصرار کرنا چاہا
ہاں تو میرا فون ٹوٹاہے مجھے جب لینا ہوگا میں لے لوں گی۔ تمہیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔
اسکے اتنے بدلحاظ انداز میں کہنے پر وہ چند لمحے خاموش ہی ہوگیا۔ اریزہ کو بھی اپنے رویئے کی سختی کا احساس ہوا۔
تم خفا ہو مجھ سے؟ اسکو یہی سمجھ آسکا۔ سو سہولت سے اسکی سب بدتمیزیاں نظرانداز کرکے پوچھنے لگا۔
نہیں۔ اس نے کترا کر اسکے برابر سے ہو کر نکل جانا چاہا۔
وہ گھوم کر اسکے سامنے آکھڑا ہوا ۔ اسکو موبائل کا شاپر تھماتے اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔
تم میرے کل کے روکھے پھیکے اعتراف پر غصے میں ہونا؟
نہیں۔۔ اس نے فورا اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہی اس نے مسکرا کراسکے کندھوں پر ہاتھ رکھے۔
اریزہ میں ایسا ہی ہوں۔ مجھے دل سے اعتراف کرنا تھا سادہ اور عام فہم مگر سچے الفاظ سے ۔ میں نے جو محسوس کیا وہ تمہارے گوش گزار کیا۔ تمہیں پتہ ہے
میں نے بہت سوچا تھا میں اپنے جزبات کا اظہار کہاں کیسے کروں۔کسی پر فضا مقام پر ستاروں بھری رات میں کسی اونچے ریستوران میں ڈھیر پھولوں اور کینڈل لائٹ ڈنر کے ساتھ پر وہ تو سب ہی کرتے ہیں۔ اور تم۔۔ جو لڑکی میرے ساتھ چلتے اپنے گرد ونواح پر نگاہ بھی نہ ڈالتی ہو اسکو ان چیزوں سے متاثر نہیں کیا جاسکتا ہے ہے نا۔ مجھے یہی لگا تھا بڑے سے بڑے ارینجمنٹس بھی شائد تمہیں پسند نہیں آتے۔۔۔صحیح کہہ رہا ہوں نا۔۔
وہ اسکی نگاہوں میں جھانکتے تائید طلب کر رہا تھا۔وہ جیسے کسی ٹرانس کی کیفیت میں اسکئ سب باتیں سن رہی تھی۔۔
کل تو موقع نہ مل سکا تم بھاگ آئیں۔ مگر آج میں تمہارا ہر شکوہ دور کر دوں گا۔
اس نے مسکر کر کہتے ہوئے جیب سے ایک بے حد قیمتی انگوٹھئ نکال کر اسکی جانب بڑھاتے ہوئے سوال کیا تھا
اریزہ تم میری بنو گئ؟
ہیرے کی جگر جگر کرتی انگوٹھی کی روشنی ذیادہ تھی یا ہیون کی آنکھوں میں دمکتے ستارے وہ اندازہ نہ لگا پائی۔ کسی فلمی ہیرو کی طرح زرا سا سر خم کیئے اسکی جانب جی جان سے متوجہ ہو کروہ اسکے جواب کا منتظر تھا۔
جیسے اسے ایکدم ہوش سا آیا۔ وہ دو قدم پیچھے ہوئی
مجھے نہیں سمجھ آرہی تم کیا کہہ رہے ہو۔ تمہیں کوئئ ضرورت نہیں ایسا کچھ کرنے کی اور کچھ کہنے کی بھی۔ ہم دوست ہیں صرف۔ بہت اچھے دوست نا اس سے ذیادہ کچھ نہیں۔
اسکا انداز قطیعت بھرا تھا۔اس کےرواں اور سخت لہجے نے اس کے سر پر جیسے بم پھوڑا تھا۔ وہ جہاں کا تہاں کھڑارہ گیا تھا۔ وہ یوں اچانک بنا سوچے سختی سے انکار کردے گی یہ اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
تم کیا کہہ رہی ہو؟
بمشکل اسکے منہ سے نکلا تھا۔ اسکے چہرے پر زلزلے کی سی کیفیت تھی۔
ہیون ہم بہت اچھے دوست ہیں ہم ساری زندگی اچھے دوست رہیں گے بس۔ اس سے ذیادہ ہم کچھ نہیں ہو سکتے۔
اس نے قطیعت سے کہا۔
تم نے کبھی میرے بارے میں نہیں سوچا ؟
ہیون کی آواز جیسے کسی کنوئیں سے آئی تھی۔
ہرگز نہیں۔
اریزہ کا انداز مزید دو ٹوک ہو چلا تھا۔
اب سوچ لو۔
وہ ہمت نہیں ہارنا چاہتا تھا شائد۔ اریزہ اسکو کوئی جھوٹی امید نہیں دینا چاہتی تھی۔
اسکی ضرورت نہیں مجھے۔ میں نے کبھئ تمہارے بارے میں نا ایسے سوچا نہ سوچنے کا ارادہ ہے۔ اس بات کو یہیں ختم کردو۔ اور۔ یہ بھی ۔۔
موبائل کا شاپر واپس کرتے ہوئے وہ مزید بھی کچھ کہتئ۔ ہیون سے مزید وہاں کھڑا رہنا محال ہوا وہ اسکے پاس سے ہو کر سیدھا باہر نکلتا چلا گیا۔
ہیون۔ یہ ۔۔
وہ موبائل واپس کرنا چاہتی تھی پکارتی اسکے پیچھے بھی بھاگی پر وہ رکا نہیں۔ دروازہ بند ہوگیا تھا۔ وہ وہیں رک کر ہونٹ کاٹنے لگی۔ کچھ بھی تھا وہ بے حد اچھا دوست تھا اسکے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا اور اگر وہ کرسچن نہ ہوتا تو شائد۔
یہ کیا سوچ آئی تھی اسے۔
فون کی کڑخت سی بیل بجی تھی وہ بری طرح اچھل پڑی۔ ڈبے میں سے فون بج رہا تھا۔ اس نے ڈبہ نکال کر کھولا۔نیا سامسنگ کا ماڈل اسکے ہاتھ میں تھا۔ اور فون بک اپڈیٹڈ تھی۔
گوارا کالنگ انگریزی میں لکھا آرہا تھا۔
اس نے فون سوائپ کرکے کان سے لگایا
ہیلو۔
اریزہ؟ اوہ۔خدایا کیسی ہو کہاں تھی اتنا پریشان ہوگئ تھی میں جب ہیون نے بتایا تم گھر میں نہیں طبیعت ذیادہ خراب ہوگئ تھی کیا؟
گوارا کا لگاتار بلا تکان بولنا غماز تھا وہ کتنی پریشان رہی ہے اسکے لیئے۔ آخر کار اسکو ایک اچھی سہیلی مل گئ تھی۔ ایک اچھی سہیلی چھن جانے کے بعد۔۔
کیا ہوا یوبو سیو؟ اریزہ؟
اسکی جانب سے جواب نہ ملنے پر گوارا مزید اتائولی ہوچکی تھی۔
ہوں۔ اریزہ بمشکل ہوں کر سکی۔ اسکی آنکھوں سےآنسو ہی اتنے پھسلے چلے آرہے تھے۔ اس نے بےدردی سے آنکھیں مسل ڈالیں۔
ایک دوست ملتا ہے ایک چھن جاتا ہے اچھا مزاق بنا ہوا ہے زندگی میں۔
اس نے تپ کر سوچا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں حقیقتا باولا ہوا بیٹھا تھا۔دونوں ہاتھوں میں سر تھامے بے بسی کی تصویر۔ اسکا فون برابر میں ہی پڑا مستقل جل بجھ کر رہا تھا۔ بجتی رنگ ٹون گوشی وون میں بالکل قابل برداشت نہیں تھی ۔ سب کمرے مختصر اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے سو اس نے موبائل سائلنٹ کر رکھا تھا۔ پھر بھی گا ہے بگا ہے وہ نگاہ ڈال۔لیتا تھا۔ پاکستان سے آنے والے فون وہ اٹھا نہیں سکتا تھا اور اگر پولیس اسٹیشن سے فون آتا تو نا اٹھانے پر مسلئہ بن جاتا۔ سنتھیا کی بدولت سیکس اوفنڈر کے چارج تک لگ چکے تھے فورسڈ ابارشن اور اب اسکی گمشدگی اسکو قاتل بھئ ثابت کر سکتی تھی۔
اف۔۔ اسکا دل کر رہا تھا اپنے بال وال نوچ لے۔ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کبھی سنتھیا اسکےلیئے اتنا بڑا درد سر بن جائے گی۔
وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا ۔ کمرے میں چلنے پھر نے کی جگہ نہیں تھی پھر بھی بے چینی میں اس نے اس مختصر جگہ میں بھی کئی چکر کاٹ لیئے تبھی اسکے دروازے پر دستک ہوئی۔
اس نے فورا دروازہ کھولا توسامنے دو پولیس اہلکار کھڑے تھے۔
یو آر انڈر اریسٹ۔۔
ٹوٹی پھوٹئ انگریزی اسے لگا تھا سننے میں غلطی ہوئی ہے۔
دے؟؟؟۔
اسکے ہنگل میں پوچھنے پر اس بار گہری سانس لیتے ہوئے اہلکاروں نے دہرایا۔۔
آپکے خلاف اپنی گرل فرینڈ کو اغوا اور حبس بیجا میں رکھنے کا پرچہ درج ہوا ہے ہم آپکو گرفتار کرنے کیلئے آئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ہائے تھکی تھکی سی کمرے میں آکر بستر پر گر گئ۔ پھر ایکدم چونک کے اٹھ کر دیکھنے لگی۔ اسکے کمرے کی حالت بدلی ہوئی تھی۔ ایک ایک چیز سمٹ کر اپنی جگہ پر پہنچ چکی تھی۔ بستر پر کمبل تہہ ہوا رکھا تھا اسکی کتابیں سلیقے سے ڈیسک پر سجی تھیں۔ دوسرا بیڈ بھی سمٹا ہوا تھا۔ بے شکن چادر۔
وہ تیر کی طرح اٹھی اور جھٹ سے ملحقہ باتھ روم کا دروازہ کھولا اندر سے باہر نکلتی لڑکی کی اس سے ٹکر ہوتے ہوتے بچئ تھی۔
ہائش۔ اس نے جیسے سکھ کا سانس لیا۔ اور واپس مڑگئ۔
جائو میں نہا چکی۔
اسے یہی لگا تھا کہ شائد اس نے باتھ روم جانا ہے جبھی اتنی تیزی میں نکلی ہے۔
یہ سب تم نے کیا ہے؟
جی ہائے نے کمر پر ہاتھ رکھتے یوں پوچھا تھا جیسے اثبات میں جواب ملنے پر گریبان ہی پکڑ لے گی۔
ہاں کیوں؟ سنتھیا گڑبڑائئ۔
بےکار میں زحمت کی۔ سوہایا آئے گئ اسکا دوبارہ پہلے سے بھئ برا حال ہو جائے گا۔
وہ دھپ سے اپنے بیڈ پر گرتے ہوئے بولی۔
کب آئے گئ؟
سنتھیا اسی میں اٹک گئ۔ تولیہ سے بال خشک کرتے ہوئے ہاتھ رک سے گئے تھے۔
کرسمس کے بعد ہی ظاہر ہے۔ اگلے سمسٹر سے آئے گی سب میری طرح بے گھر تھوڑی ہوتے کہ چھٹیاں بھی ہاسٹل میں گزاریں۔
وہ بیزاری سے بیڈ پر اینڈ رہی تھی ۔ ایک انگڑائی دوسری بار اسٹریچنگ ۔ تیسری بار اسے جتاتی نگاہ سے دیکھا۔
ابھی تو دن ہیں کچھ ۔ میں تب تک انتظام کر لوں گی۔
سنتھیا کو یک گونہ اطمینان ہوا۔
ویسے تمہاری تو روم میٹ گوارا ہوا کرتی تھی۔ تب یہ کمرہ بھی صاف ستھرا ہوا کرتا تھا۔
اس نے طائرانہ نگاہ کمرے پر ڈالتے ہوئے جتایا۔
اس وقت بھئ گوارا یہاں کم کم ہی رہتی تھی جبھی صاف ہوتا تھا کمرہ میں صرف اپنا حصہ صاف رکھتی ہوں باقی کمرے سے الغرض رہتی ہوں۔
جی ہائے کا جواب عجیب ضرور تھا مگر اس سے ایسے ہی جواب کی امید تھئ اسے۔ وہ لیٹے لیٹے ہی اسٹریچنگ کر رہی تھی۔ سنتھیا نے پہلو بدل لیا۔ فضا میں بیڈ کی چرچراہٹ کی بے ہنگم آواز گونج رہی تھی۔
تم نے پیسوں کے انتظام کا کہا تھا کچھ ہوا؟
اس نے کافی دیر ہمت کرنے کے بعد جھجکتے ہوئے نظر چرا کر پوچھا تھا۔
جی ہائے کی ورزش کرتی ٹانگیں رکیں۔ پھر اچھل کر سیدھی ہو بیٹھئ۔
گئی تھی آہبوجی کے لاکر سے اپنی ماں کے زیورات لینے مگر وہاں انکا لاڈلا لے پالک بیٹھا تھا چوکیداری پر آج آہموجی سے مانگنے گئ تو انہوں نے لمبے چوڑے مجبوریوں کے قصے سنا دیئے۔اپنے لیئے ایک پیسہ ان دونوں سے مانگنا حرام سمجھا ہے میں نے مگر تمہاری وجہ سے ۔۔۔
آئم سوری۔
سنتھیا نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ ببل چباتی جی ہائے نے جگالی چھوڑ کر فرصت سے اسکا چہرہ تکا۔ یہ وہی بندی تھی جس کا غصہ ناک پر دھرا رہتا تھا اور نخرا آسمان پرہوا کرتا تھا۔ بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے۔۔
اس نے مزید کچھ بھی کہنے کا ارادہ ترک کرکے ہونٹ بھینچ لیئے۔
میں آج کم سن سے ملنے گئ تھی۔ اس نے مجھے جاب دے دی ہے۔بہت ذیادہ نہیں مگر۔۔
ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ جی ہائے نے حیرت سے چیخ مار دی
کم سن؟ وہ کنگلا؟ وہ کونسی جاب دے رہا ہے تمہیں اسے تو اسکے بھائیوں نے لات مار کر گھر سے نکالا تھا کتنے عرصے ہیون نے خرچہ اٹھا یا ہے اسکا۔
میں یہ سب نہیں جانتی مگر وہ اب ایک ایڈورٹائزینگ ایجنسی چلا رہا ہے اس نے مجھے اپنا کارڈ دیا تھا۔
وہ اسکے پریقین انداز میں کہنے پر سٹپٹا سی گئ۔ جھٹ اپنے پرس سے کارڈ نکال کر اسکی جانب بڑھایا۔ جی ہائے پرسوچ سے انداز میں کارڈ میں اندراج تفصیل پڑھ رہی تھئ اسکے ذہن و دل میں جھکڑ چلنے لگے۔ کیا پتہ وہ اس کمپنی کا ملازم ہی ہو مگر کم از کم دفتر وفتر اصلی ہی تھا اور وہاں۔۔ پر سب انتظام نیا ہی تھا ۔ اسے شک گزرنے لگے۔ کہیں وہ کسی دھوکے کا شکار تو نہیں ہونے لگی۔
ہاں ایجنسی تو اسی کی ہے۔ ہیون نے ہی مدد کی ہوگی ۔
جی ہائے نے کارڈ واپس تھمایا تواسکی جان میں جان آئی۔
ویسے اچھا لڑکا ہے شریف تم فالتو میں گھبرا گئیں۔
اس نے سنتھیا کا گھبرانا نوٹس کر لیا تھا۔
کچھ کھایا ہے تم نے؟
وہ اب فکر کر رہی تھی۔ سنتھیا نے نفی میں سر ہلادیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کارڈ چھوڑ کر تو گئ۔تھی کیفے چلی جاتیں۔ ہمارا میس چھٹیوں میں محدود ہوجاتا ہے بند نہیں ہوتا اکثر غیر ملکی چھٹیوں میں گھر جانے کی بجائے یہاں چھوٹی موٹی نوکری کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تو انکی سہولت کیلئے کچن کھلا ہی رہتا ہے۔
وہ سیڑھیاں اترتے ہوئے بتا رہی تھی۔ سنتھیا خاموشی سے اسکے ہم قدم تھی۔ میس پہنچ کر اسے نے آٹو میٹڈ اسکینر میں کارڈ دو مرتبہ چھوایا تھا۔ کورین بیف اسٹیک نوڈلز سوپ سادہ ابلے چاول سبزیوں کا اچار اور دو تین طرح کی چٹنیاں سلاد۔ اسکی بھوک چمک اٹھی تھی۔ وہ کافی تیزی اور رغبت سے کھانے لگی تھی۔ جی ہائے اپنا کھانا چھوڑ کر اسے دیکھ رہی تھی۔ اسکے منہ سے نوڈلز پھسل کر پیالے میں گرے تو اس نے جلدی سے پانی کا گلاس بھر کر اسکی۔جانب بڑھایا۔ سنتھیا شرمندہ سی ہوگئ۔ کیا سوچتی ہوگی وہ۔ مگر اسے یا تو بالکل بھوک محسوس نہیں ہوتی تھی یا لگتا تھا پوری دنیا کھا جائے تو بھی پیٹ نہیں بھرے گا۔
وہ ایک سانس میں پورا گلاس پی گئی۔
تمہیں اچھی خوراک اور آرام کی ضرورت ہے ۔ تمہیں دیکھ کر کوئی اندھا بھی بتا سکتا ہے کہ تم غذائی کمی کا شکار ہو۔ تم پاکستان واپس چلی جائو کم ازکم تمہارے پیرنٹس تمہارا خیال تو رکھیں گے۔
جی ہائے نے پورے خلوص سے مشورہ دیا تھا۔ سنتھیا کے حلق میں نوالے اٹکنے لگے۔
وہ اس بچے کو کبھی دنیا میں نہیں آنے دیں گے۔ بدنامی کا خوف انہیں مجھے کھو دینے کے خوف سے ذیادہ ہوگا۔ پاپا بیوروکریٹ ہیں ایسا کوئی اسکینڈل انکی ساکھ کوکتنا نقصان پہنچا سکتا ہے۔۔۔۔ اس سے بہتر
وہ سوچ کے رہ گئ۔ جی ہائے کو افسوس سا ہوا اسے یقینا یہ مشورہ نہیں دینا چاہیئے تھا اگر وہ واپس جا سکتی ہوتی تو جا چکی ہوتی۔ اسے دوسرا خیال آیا۔
تم اریزہ سے مدد نہیں مانگتیں؟ وہ تو کافئ امیر ہے نا؟
وہ جواب طلب نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
میں تم پر ذیادہ دن بوجھ نہیں بنوں گی۔ مجھے اندازہ ہے تمہارے اوپر میرا بار۔۔
اس نے ابھی اتنا ہی کہا تھا جی ہائے نے بات کاٹ دی۔
فارگیٹ اٹ۔ میرے اتنے خرچے نہیں دوسرا میں قومی سطح پر جمناسٹکس کرتی ہوں میری اسپانسرشپ بڑی ہے۔ یہ سب میرے لیئے مسلئہ نہیں ہاں تم پریگننٹ ہو تمہارے ریگولر چیک اپس ہوں گے دوائیں سپلیمنٹس بھی تو چاہیئے ہوں گے اسکے لیئے خاصی رقم درکار ہوگی تمہیں پھر اس بچے کو پالوگی کیسے؟ تمہیں ایڈون کی بات مان لینی چاہیئے تھئ۔
بس کرو۔اس نے زور سے چمچ ٹرے پر پٹخا۔۔
جسے دیکھو اس بچے کو مارنے کا مشورہ دینے چلا آتا۔ ایک جان میرے اندر پل رہی ہے ایک نئی زندگی ۔ تم لوگ دیکھ نہیں سکتے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ یہ کچھ نہیں ہے۔ یہ انسان ہے میرے تمہاری طرح کا۔ اسکو مارنا اتنا آسان لگتا ہے؟
وہ ایکدم غضبناک ہوگئ تھی۔ اسکا چہرہ سرخ ہوگیا تھا تنفس بھی تیز ہوگیا تھا۔
ریلیکس۔ جی ہائے نے اسکا ہاتھ تھاما۔وہ ہاتھ چھڑاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں تمہاری فکر میں کہہ رہی تھی۔ بیانئے۔ گاڈ ایسے بھی لوگ ہیں دنیا میں جو بچہ ابھی دنیا میں آیا نہیں اسکے لیئے لڑ رہی ہو لوگ تو اپنی پلی پلائی جوان ہوتی اولاد کو دھتکار دیتے ہیں۔ جانے د واب بیٹھ بھی جائو۔
اسکی معزرت بھی اسکا غصہ ٹھنڈا نہیں کر پا رہی تھی۔
میں جلد اپنا انتظام کر لوں گی ۔ تم نے میری جتنی بھی مدد کی ہے اسکا احسان میں نہیں اتار سکتی پھر بھی دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں تمہارا۔
اسکی بات پر جی ہائے مسکرا دی۔
آننیانگ؟ جی ہائے ہیئر۔ ایم ناٹ اریزہ۔
اس نے جتاتے ہوئے دونوں ہاتھ ویو کیئے۔
میں جھوٹے منہ بھئ کسی کو دوست کہہ دوں تو نبھاتی ہوں۔ شکریہ مت اداکرو بیٹھ کر کھانا ختم کرو۔
اس نے پیار بھری دھونس جمائی۔ وہ پھر بھی نہ بیٹھی تو اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے زبردستی بٹھایا۔
گاڈ تمہارا ٹیمپرامنٹ ایک الگ ہی چیز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانی پر بازو کا وار کرکے اسے پیچھے دھکیلتے پیروں سے لہروں کو چیرتے اس نے پول کے کتنے چکر کاٹ ڈالے تھے۔ اسکی تیراکی کی رفتار غیر معمولی تھی۔ پول کے گرد لگی نشستوں پر دو چار اور لوگ بھی تھے ۔پول میں مگر وہ اکیلا تھا اتنئ سخت سردی میں تیراکی کرنا کسی نارمل انسان کا کام تھا بھی نہیں۔۔کسی نے اسے ٹوکا بھی تھا مگر وہ ان سنی کیئے خود کو یونہی تھکاتا رہا ۔ یہاں تک کہ بازو شل سے ہوگئے۔ یہ پہلی بار تھا سوئمنگ بھئ اسکا انتشار کم نہ کرسکی۔ وہ تھک کر نڈھال ہو کر پول سے باہر نکل آیا۔ باتھ گائون لپیٹتا وہ پول کے ساتھ سجی آرم دہ کرسی پر آگرا
کم سن اسکے برابر والی آرام دہ کرسی پر نیم دراز تھا۔ اسے دیکھ کر سیدھا ہو بیٹھا۔پانی کی بوتل اسکی جانب بڑھا دی
ہیون بوتل تھام کر چند لمحے اسے دیکھتا ہی رہا۔ اسکے بازو اتنے شل ہو چکے تھے کہ لگتا تھا بوتل اٹھا کر منہ تک نہ لے جا سکے گا۔کم سن نے سر جھٹکا اور آگے بڑھ کر بوتل خود پکڑ کر اسے پانی پلانے لگا۔ پیاس اتنی محسوس ہو رہی تھی کہ جیسے سارا پول بھی ختم کرلے تو پیاس نہ بجھے۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا اسے اچھو ہوا تھا اتنا زو رسے کہ جیسے پھیپھڑوں تک پانی چلا گیا ہو۔ بری طرح کھانستے وہ دیکھتے ہی دیکھتے چہرہ لال ہوگیا۔ کم سن نے اسکی پیٹھ سہلائی کندھے دبائے تب جا کر کچھ سکون ہوا۔اسکی آنکھیں پہلے ہی پانی میں رہنے سے سرخ ہو رہی تھیں ۔
کیا ہوا ہے؟ کوئی بات ہوئی ہے ہیون؟
کم سن پوچھے بنا نہ رہ سکا۔ وہ قصدا سر جھکائے بیٹھا تھا۔ انڈورپول تھا ماحول جدید ٹیکنالوجی سے انہوں نے گرم کر رکھا تھا پانی بھی ٹھنڈا نہیں تھا پھر بھی دسمبر یوں پاگلوں کی طرح تیراکی کرنے والا مہینہ نہیں تھا۔ وہ کانپ نہیں رہا تھا مگر اسکے جسم کا رواں رواں کھڑا ہوا تھا۔
تم یہاں کیسے ؟ میں نے تو تمہیں نہیں بلایا تھا؟
اس نے الٹا سوال کیا۔ کم سن نے گہری سانس لی۔
تمہارے پول مینجر نے کال کی تھی تم پر پھر تیراکی کا بھوت سوار ہوا ہے۔ پول تو تیار کردیا مگر مجھے بھی فون کردیا۔ کلائنٹ کے ساتھ میٹنگ چھوڑ کر بھاگا آیا ہوں۔ اور شکر ہے ۔۔
ہیون نڈھال سا ہو کر چکرایا تھا وہ بولتے بولتے بات ادھوری چھوڑ کر لپکا اسکو کندھے سے لگا کر گرنے سے بچایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوئٹ کھلوا کروہ اسے سہارا دے کر اندر لا یا تھا۔اسکا جسم بری طرح ٹوٹ رہا تھا۔ مینجر انکے ہمراہ تھا ساتھ ٹرالی گھسیٹ کر لاتا ویٹر بھئ۔ اسکے لیئے کھانے پینے کی چیزیں اعضاء کو پرسکون کرنے والی دیسی دوا سے لیکر ہلکی پھلکی شراب تک سجی تھی۔ یہ پورا جم خانہ لی گروپ کا تھا۔ کئی منزلہ عمارت میں سب سے نیچے پول تھا اس سے اوپر والی منزل پر بار اور پھر اس سے اوپر مہمان خانہ۔ سب سے اوپر گھر کی طرز پر یہ سویٹ بنے ہوئے تھے۔ لی گروپ کے تجارتی وفود کو یہیں ٹھہرایا جاتا تھا۔ یہ سویٹ اکثر ان دونوں کے استعمال میں ہی رہتا تھایا ہیون اگر پارٹی رکھتا تو اسکے مہمانوں کے۔ ہیون کو بیڈ پر لٹا کر اس نے مینجر او رویٹر کو شکریئے کے ساتھ واپس بھیج دیا تھا۔ ہیون نے کہنی اپنی آنکھوں پر ٹکا لی اسکی آنکھوں میں شدید جلن ہو رہی تھی۔
اب بتائوگے کیا ہوا ہے تمہیں؟ کیا پریشانی ہے؟
کم سن اسکی فکر میں ہلکان ہو رہا تھا۔ اسکے لیئےپینے والی دوا کا گلاس پکڑے سرہانےکھڑا منت کرنے والے انداز میں پوچھ رہا تھا۔
کچھ نہیں۔
وہ قصدا مسکرانے کی کوشش کرتا سیدھا ہوا اور اسکی تسلی کیلئے بنا چوں چراں کیئے دوائی کا گلاس بھی منہ کو لگا لیا۔
کم سن نے اسے دیکھا پھر اٹھ کر اسکے اتارے ہوئے کپڑوں کی تلاشی لینے لگا۔ ہیون نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
اس نے اسکے اپر کی جیب کی تلاشی لی تو ایک انگوٹھی کیس مٹھئ میں آگیا۔ اس نے جھٹ نکال کر کھولا اندر بے حد قیمتی انگوٹھئ جگمگا رہی تھی۔
یہ۔ اس نے حیرت سے ہیون کو دیکھا۔۔۔ انگوٹھئ، ہیون ، لڑکی۔۔
اس کے ذہن نے تیزی سے کڑیاں ملائیں۔
تم پرپوزکر رہے ہو ؟ کسے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اریزہ کو؟
اس کی حیرت دیدنی تھئ۔ ہیون کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ در آئی۔
کرچکا ہوں۔۔۔
اس نے لحظے بھر کا وقفہ لیا۔ کم سن کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا مگر ابھئ ایک او رحیرت کا جھٹکا باقی تھا لگنا۔
اور اس نے انکاربھی کردیا۔
ہیون نے جملہ پورا ادا کیا اسکے ہاتھ سے انگوٹھی چھوٹ کر گرتے گرتے بچی۔
دے( کیا)؟ ویئو؟(کیوں)؟۔۔
اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہ سوچ بھئ نہیں سکتا تھا کوئی لڑکی ہیون کو انکار کر سکتی ہے۔
میں فرینڈ زونڈ کردیا گیا ہوں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر ہنسا تھا مگر اسکی آنکھوں سے آنسو پھسل آئے۔ کم سن تڑپ کر اسکے پاس آبیٹھا۔
کیا مطلب؟ ایسے کیسے۔
وہ کہتی ہے اس نے کبھی میرے بارے میں نہیں سوچا۔
ہیون کا گلا رندھ سا گیا۔
تو اب سوچ لے۔ ایسے کیسے کوئی منہ پر انکار کرسکتی ہے؟۔۔
کم سن شاکڈ تھا۔ ہیون خود پر قابو پا رہا تھا۔ اسےلگ رہا تھا وہ کچھ بولا تو شائد ضبط ٹوٹ جائے گا۔
میں بات کروں اس سے؟
اسے دکھ ہو رہا تھا۔ ہیون کو اسکے خلوص پر پیار آگیا۔
کیا بات کروگے ؟ وہ استہزائیہ ہنسا۔۔
یہی کہ۔
کم سن کو سمجھ نہ آیا کیا کہے۔پھر کچھ نہ کچھ سوجھ گیا
تم دونوں دوست ہو اچھی انڈر اسٹنڈنگ ہے تم دونوں میں ہو سکتا ہے وہ ابھی لائٹلی لے رہی ہو۔ ابھی وہ انوالو نہیں ہے پر ہو تو سکتی ہے۔ تم خوش شکل ہو خوش مزاج ہو ، خوش اطوار ہو اچھے گھرانے سے تعلق ہے تمہارا۔ وہ پاکستان سے آئی ہے اسے اندازہ نہیں ہوگا ابھی تمہارے بارے میں سب سے بڑھ کر اسے کیا پتہ لی گروپ کیا بلا ہے؟
وہ اسکا دل بڑھانا چاہ رہا تھا مگر اسکی اس کوشش کا بالکا الٹا اثر ہوا۔
لی گروپ اپنے تعارف کا حصہ نہیں بنانا مجھے۔ میں پچھلے بارہ تیرہ سالوں سے خود کو باور کراتا آیا ہوں ایک دن مجھے اپنے اوپر سے لی کا ٹیگ ہٹاناہے۔ اگر اسے پیسے سے متاثر ہونا ہے تو مجھے ایسی لڑکی نہیں چاہیئے اپنی زندگئ میں۔ میں ہیون ویدا الیکسی ہوں بس ۔
وہ ایکدم اتنا بھڑک اٹھا تھا کہ کم سن چپ ہوگیا۔
اچھا فی الحال تم شانت رہو۔ بلکہ تھوڑی دیر آرام کرو۔
اس نے زبردستی اسکو کندھے سے پکڑ کر لٹا دیا۔
ہیون ذہنی طور پر اتنا منتشر تھا کہ مزاحمت بھی نہ کرسکا۔چپ چاپ لیٹ گیا۔
کم سن احتیاط سے انگوٹھی کو کیس میں واپس رکھ کر بند کرنے لگا کہ خیال آیا انگوٹھی نکال کر چٹکی میں دبا کرغور سے دیکھنے لگا۔ آنکھوں کو خیرہ کردینے والا دمکتا ہیرا وائٹ گولڈ میں سجا تھا۔ انگوٹھی اپنی بناوٹ سے ہی نہایت انمول اور قیمتی دکھائی دیتی تھی۔کیس کوریا کے سب سے مشہوربرانڈ کا تھا۔
کوئی لڑکی اس انگوٹھی کو منع کر سکتی ہے؟ اسکو حیرت ہو رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دو گھنٹے بے خبر سوتا رہا تھا پھر بھی ذہن بوجھل تھا۔ کم سن اسکو سلا کر خود چلا گیا تھا۔۔ وہ دوا کے زیر اثر سویاتھا آنکھ کھلی تو چند لمحے سمجھ بھی نہ آیا کہ کہاں ہے۔ فون چیک کیا تو پانچ چھے آہبوجی کی مسڈ کالز پڑی۔ تھیں۔ لمبا چوڑا پیغام بھی تھا جسے اس نے پڑھنے کی زحمت نہ کی۔ یقینا انکے پی اے نے ہی بھیجا ہوگا۔وہ بمشکل چکراتے سر کو سنبھالتے گاڑی جم خانہ میں ہی چھوڑ کر۔ٹیکسی سے گھر آیا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اسے آہبوجی کا ایک اور پیغام ملا تھا۔ فورا اسٹڈی میں آئو کچھ بات کرنی ہے ۔ وہ انکے پی اے کو دیکھ کر رہ گیا اس نے مزاج بھانپتے ہوئے ہونٹ بھینچے اور فوری منظر سے غائب ہونے میں بہتری سمجھی۔ ہیون اس وقت کسی نئے شوشے کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا مگر قسمت میں یہی لکھا تھا شائد۔ وہ تھکے تھکے قدموں سے انکی اسٹڈی میں چلا آیا۔ ہلکی سی دستک پر اسے اندر آنے کی اجازت فورا مل گئ۔
آئو ہیون آئو یہ میرا بیٹا ہے ہیون۔
آہبوجی سامنے ہی صوفے پر دراز تھے اسے دیکھ کر جس خوشگوار انداز میں بولے اسے اپنی خیریت مشکوک لگنے لگی۔ اسکا اندازہ غلط نہیں تھا۔ ان کے مقابل صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ تکلف سے رکھے گلابی گھٹنوں تک کے مغربی لباس میں ملبوس دوشیزہ براجمان تھی۔
اتنے پرتپاک انداز میں اسی سے تعارف کرایا گیا تھا۔
ہیون یہ سارا ہیں ایمرلڈ گروپ کے ڈائریکٹر یوسانگ ہو کی اکلوتئ بیٹئ۔ حال ہی میں امریکہ سے ایم بی اے کی تعلیم مکمل کرکے آئی ہے۔اور سارا یا یہ ہیون ہے اسکو میں امریکہ سے ہی ایم۔۔
اس سے قبل وہ پھر اپنا من پسند دکھڑا روتے اس نے بات کاٹ کرسلام کر دیا ۔
ہیلو۔
ہیلو ۔ اس نے بھئ مسکرا کر جواب دیا۔۔۔
تم لوگ بیٹھ کر باتیں کرو میں ذرا ایک ضرور فون کرکے آتا ہوں۔
آہبوجی یقینا ان کو پرائیویسی دینے کیلئے بہانہ بنا کر اٹھے تھے۔ وہ اس طرح کی انکی کئی کوششیں ناکام بنا چکا تھا جبھی اس بار اسے سرپرائز دیا گیا تھا۔ پچھلی کوششوں کے برعکس اس وقت سب سے غلط موقع تھا۔ وہ انکو کہنا چاہتا تھا کہ وہ تھکا ہوا ہے ابھی آیا ہے مگر انہوں نے کچھ ذیادہ ہی پھرتی دکھائئ۔
آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟
سارا نے بات برائے بات پوچھا تھا۔ وہ خشک ہوتے لبوں کو بھینچتا ہوا اسکے مقابل بیٹھ گیا۔
ماس کمیونیکشنز اینڈ میڈیا سائنسزمیرا میجر ہے۔
اس نے مختصر جواب دیا تھا۔ سارا ذرا سا ہنسی پھر صوفے کی پشت سے سر ٹکا دیا۔ اور تھوڑا سا ریلیکس ہو کر بیٹھ گئ۔
سو تم انجان ہو اس ارینج ڈیٹ سےیا مجھ سے ذیادہ بیزار ہو انکل نے تو پچھلے آدھے گھنٹے سے مجھے یوں انتظارکرایا تھا جیسے تم اس ڈیٹ کیلئے پارلر سے تیا رہو کر آرہے ہو۔ پر تمہیں دیکھ کر لگتاہے کسی سے تازہ تازہ بریک اپ کرکے آرہے ہو۔ وہ کیا کہتے ہیں۔۔۔
رومیو۔۔۔
اسکی ہنگل پر امریکی لہجہ چڑھا ہوا تھا۔۔ خالص امریکیوں کی طرح بے تکلفی سے وہ اس پر جملے چست کیے جا رہی تھی۔اسکا اندازہ کمال کا تھا۔ اسکی جان جل گئ سو ناگواری سے ٹوک دیا۔
معاف کرنا ہماری پہلی ملاقات ہے ہمیں گفتگو میں آپ جناب کا لحاظ قائم رکھنا چاہیے۔۔
اسکا جواب سارا کیلئے غیر متوقع تھا پھر وہ قہقہہ لگا کر ہنس دی۔
بیان۔ در اصل امریکہ میں رہ کر مجھ سے غیر ضروری کوریائی ادب آداب کا لحاظ رکھنا مشکل لگتا ہے ویسے تم مجھ سے چھوٹے ہی ہوگے ایک دو سال۔ تو برا مت مانو۔ وہ کندھے اچکا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
بیٹھے بیٹھے تھک گئ میں۔
دو مہینے میں چوتھی ڈیٹ ہے میری۔۔۔ نرو پر آرہا ہے میری بھی۔ ۔ جا نے یہ کوریائی والدین کب ان گھسے پٹے طریقوں سے ڈیٹس ارینج کروانا چھوڑیں گے۔ لائک میں ابھی تو آئی ہوں اتنی جلدی کیا ہے۔
وہ دونوں ہاتھ ہلاہلا کر بہت انداز سے ٹہل رہی تھی۔ اپنے سنگل صوفے سے اٹھ کر بولتے ہوئے ا س نے مختصر سا چکر لگایا پھر صوفے کی پشت پر کہنیاں ٹکا کر اس کو بغور دیکھنے لگی۔
سو کیا ارادے ہیں ؟
ہوں۔ ؟ ہیون چونک کر دیکھنے لگا وہ اسکا مطلب سمجھ نہیں سکا تھا۔
اس ڈیٹ کیلئے کیا فیڈ بیک دوں میں؟
ہیون نگاہ کا زاویہ پھیرکر رہ گیا۔ سارا نے اسکا انداز محسوس کیا۔ پھر جیسے لطف لیتے ہوئے سر ہلایا۔
گڈ ۔ تم مجھ سے بھی ذیادہ بیزار دکھائی دیتے ہو۔۔
خیر۔ وہ گھوم کر اسکے مقابل تکلف سے آن بیٹھی۔ٹانگ پر ٹانگ جماتے ہوئے تسلی سے بولی۔ ہیون نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگا۔
یہ سب اسے جتانے کا مطلب ؟ اگر نہیں ہی کہنا ہے تو جائے کہے اسکو کیوں جتا رہی ہے؟
سنو۔۔ میری پچھلی تینوں ڈیٹس میں تم سب سے ذیادہ ہینڈسم ہو۔ اور بولتے بھی کم ہو۔گاڈ لاسٹ ڈیٹ میں تو میں نے گن کر چار جملے بولے تھے بس۔
وہ ذرا سا ہنسئ۔
لانگ اسٹوری کٹ شارٹ۔ مجھے تم اچھے لگے ہو ۔ اگر میں اچھا فیڈ بیک دوں تو ہمارے پیرنٹس کم از کم ہمارے لیئے مزید کوئی نئی ڈیٹ ارینج نہیں کریں گے۔
اسکی بات اب ہیون کو سمجھ آئی تھی۔۔ وہ کھلکھلا دی
لک میرا ابھی شادی وادی کا کوئی موڈ نہیں۔ اور لگتا ہے تمہارا بھئ نہیں ہےنا۔
تو؟ ہیون نے پیشانی پر کئی بل ڈال لیئے تھے۔
تو ڈیل؟
وہ اپنا مرمریں ہاتھ اسکی جانب بڑھارہی تھی۔
ہیون نے لحظہ بھر کو سوچا پھر ہاتھ بڑھا دیا۔۔
ڈیل۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گنگشن فون پر بات کر رہی تھی جب ہوپ ایکدم بنا اجازت کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔ وہ چونکی مگر اسکو سر کے اشارے سے آنیانگ کہا۔ وہ اسکے مقابل کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔
دے آں۔ دے۔ دے۔ اس نے جلدی جلدی بات ختم کرکے فون کریڈل پر رکھا۔
کیسی ہو ہوپ بڑے دن بعد آئیں۔۔
وہ ازلی مشفق انداز میں پوچھ رہی تھی۔
تو آپکو یاد ہے میں بڑے دنوں بعد آئی ہوں۔ پھر کوئی ہے خیر خبر۔ اب اگر آپ کے پاس مجھے بتانے کیلئے کچھ نہیں تو میں آئیندہ کبھی آپکو تنگ کرنے نہیں آئوں گی۔ اگر کچھ ہے جو آپ بتا سکیں تو مزید چھپانے کی ضرورت نہیں آپکو۔
ہوپ نے بلا تمہید پوچھا بلکہ تقریر جھاڑ دی۔ وہ اسکی ٹال مٹول سے تنگ آچکی تھئ اسے لگتا تھا گنگشن کے پاس کوئی خبر ہے جو جان کے وہ اس سے چھپا رہی ہے۔ افسوس کی بات یہی تھی کہ واقعی گنگشن ایسا ہی کر رہی تھی ابھئ بھئ اسکے اٹل انداز کو دیکھ کر بھی سچ بتانے کی ہمت کرنا جوکھم تھا اسکے لیئے۔ ۔ وہ گہری سانس لیکر کرسی کی پشت سے سر ٹکا گئ۔ چند لمحے لفظ جوڑتی رہی جملہ بناتئ رہی اسکی ہچکچاہٹ ہوپ اسکے چہرے سے پڑھ سکتی تھی۔ اتنے دنوں میں وہ خود کو بارہا باور کرا چکی تھی کہ اچھی خبرکا ملنا اسکے لیئے مشکل ہے۔مگر لاکھ سمجھانے کے باوجود وہ اس خبر کے خوف سے دل ہی دل میں لرز اٹھی تھی۔ اسکو اپنی دھڑکنیں جیسے سنائئ دے رہی تھیں۔
جو بھی اطلاع ہے بتا دیں۔
اس نے بے تابی سے کہا۔
تمہاری ماں چین سے شمالی کوریا واپس جب بھجوائی گئ تھئ تو تمہاری صرف سب سے چھوٹی بہن اسکے ہمراہ تھی۔ تمہاری دوسری بہن کیمپ سے بھاگنے کی کوشش میں اندھی گولی کا شکار ہوگئ۔ اسکی لاش بھی چینی حکام نے شمالی کوریا بھجوا۔۔۔
چھوٹی توزندہ ہے نا؟ اب تو خیر وہ بھی بڑی ہوگئ ہوگی اور ماں؟؟؟
اس نے بے تابئ سے بات کاٹی۔ زندہ رہ جانے والوں کی خبر کا ملنا مرجانے والوں کی خبر سے اہم تھا۔ پانچ بہن بھائیوں میں سے چار بھاگے تھے تین پہنچ پائے تھے چین اور اب ان میں سے بھی ایک اب نہیں رہا تھا۔
گنگشن نے ترحم بھری نگاہ سے اسکو دیکھا۔وہ جتنی بھی بے نیاز بن جائے کسی کے زندہ بچ جانے کی امید اسکو زندگی کی گاڑی گھسیٹنے پر مجبور رکھتی تھی۔ ۔ لیکن جھوٹی امید کب تک ساتھ نبھا سکتی ہے۔ چونکہ اب اسکے پاس ہر تفصیل موجود تھی اس نے مزید حقائق پر پردہ ڈالنا مناسب نہ سمجھا۔ اس نے نگاہ چرائی ۔۔ یہ سب سے مشکل ہوتا تھا اسکے لیئے کسی کو اسکے پیاروں کی دائمی جدائی کی خبر دینا۔
ہم نے انکا بھی پتہ کروانے کی کوشش کی۔ مگر کوئی اچھی خبر نہیں مل سکی۔ تمہاری والدہ بہت بیمار تھیں ان سے اتنی جسمانی مشقت نہ ہوسکی اور وہ تین سال قبل کیمپ میں ہی انتقال کر گئیں۔
گنگشن نے بہت مشکل سے یہ چند جملے سوچ سوچ کر ادا کیئے تھے۔ ہوپ کا رنگ بالکل سفید پڑگیا تھا جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ وہ ساکت سی بیٹھی گنگشن کی شکل دیکھ رہی تھی۔گنگشن نے گہری سانس لیتے ہوئے اپنی دراز سے ایک فائل نکال کر اسکی جانب بڑھا دی۔
اس فائل میں تمام تفصیلات ہیں۔ تمہاری دوسری بہن بھی کیمپ کی سختیوں کا شکار ہوگئ۔
ہوپ نے جھپٹ کر وہ فائل لی تھی او رتیزی سے صفحے پلٹے۔ سرکاری کاغذات کیمپ میں جمع کرتے وقت جو تصاویر لی جاتی تھیں ریکارڈ کیلیے وہ آخر میں لاش کی۔تصویر تاکہ کوئی بھولا بسرا لواحقین میں سے پوچھنے آئے تو ثبوت دیا جا سکے۔ اسکی ماں کی کئی تصاویر تھیں ۔ چینی حکام نے واپس بھجواتے وقت جو تصاویر و کاغذات بنائے وہ بھی موجود تھے اور آخر میں۔۔
اس نے تکلیف سے آنکھیں میچ لیں۔ تصو رکی آنکھ سے بارہا اس منظر کو دیکھا تھا تب بھی جو چہرہ بنتا تھا اس پر اتنی زردی نہیں کھنڈی تھی اتنا بڑھاپا نہیں تھا اتنے چہرے پر زخم نہیں تھے۔ اس کی آنکھیں جل رہی تھیں مگر حیرت انگیز طور پر اسکی آنکھ سے آنسو نہ نکلا۔ اس نے سب کاغذ پلٹے پھر فائل بند کردی۔
اس میں میری بہن نہیں ہے؟۔۔

گنگشن باقائدہ اٹھ کر اسکے پاس آئی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دینےلگی۔
بچوں کا اتنا ریکارڈ نہیں ملتا ہاں تمہاری ماں کی ایک تصویر ہے اس میں جو وہ ایک مٹی کے ڈھیر کے پاس اکڑوں بیٹھی ہے۔ کسی فوجی نے یہ تصویر ایک چینی اخبار کو بیچی تھی۔ اس کا تراشہ ہے اس میں۔ قوی امکان یہی ہے وہ ننھی قبر۔۔۔
ہوپ نے سر ہلایا کئی آنسو اسکے گالوں پرپھسل آئے۔ گنگشن نے اسکاسر اپنے ساتھ لگا لیا۔
صبر کرو ۔۔ تم بہت بہادر ہو ۔ تم زندگی سے لڑ کر جینا جانتی ہو۔ خدا ایسے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔
وہ دھیرے دھیرے اسکا سر تھپک رہی تھیں۔۔۔
ہوپ کو لگتا تھا اسکی آنکھیں خشک ہو چکی ہیں مگر اس وقت ایک بار پھر سیل رواں جاری ہوا تھا۔ ضبط کے سب بندھن ٹوٹے تھے وہ گنگشن کی بانہوں میں بکھر کر رودی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوپ ابھئ تک نہیں آئی تھی پورے اپارٹمنٹ کی ایک ایک بتی جلا کروہ اپنے لیئے خوب سارے فرائز تک کر کمرے میں آئی۔ بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہوئے موبائل اٹھا لیا۔ موبائل نا چاہتے ہوئے بھی اسکو استعمال کرنا پڑا تھا۔ بمشکل دو دن دو ررہی تھی فون سے ۔ ہیون نے اسکا پرانا کنکشن بحال نہیں کروایا تھا اب نیا نمبر تھا۔چند ہی نمبر سیو تھے گوارا ، ہوپ، ہیون ، کم سن یعنی جتنے ہیون کے پاس تھے۔ دو دن سے صارم سے بات نہیں ہوئی تھی یقینا وہ پریشان ہو رہا ہوگا۔ صارم کا فون نمبر تو اسے منہ زبانی یا دتھا اسی کو کال ملادی۔
ہیلو۔ انجان نمبر سو اسکا انداز محتاط تھا۔
ہائے۔ اسے بھی شرارت سوجھی بن بن کر بولی۔
صارم سے بات ہوسکتی ہے؟
نہیں صارم تو دبئی ہوتا ہے اب یہ میرے پاس ہوتا ہے نمبر۔۔خیر اسے چھوڑیں آپ بتائیں کہاں مر گئیں تھیں ؟ دو دن سے فون ملا ملا کر تھک گیا خالو بھی پریشان ہو رہے تھے۔
وہ بھی ایک کائیاں تھا فورا پہچان گیا۔ کان کھینچنے والے انداز میں پوچھنے لگا۔
وہ میرا فون ٹوٹ گیا تھا۔
اسے بتانا پڑا۔
ٹوٹ گیا تھا کیسے؟
وہ حیران ہوا۔
تم اپنا سر تڑوالو مگر فون کو کچھ نہ ہونے دو یہ انہونی کیسے ہوئی؟
بس وہ گر گیا تھا سڑک پر گاڑی گزر گئ اس پر سے۔
اس نے سچ بتایا وہ آگے سے بری طرح پریشان ہوگیا
خالی فون کیسے گر گیا؟ تم بھی تو جڑی ہوگی اس سے ؟ ایکسیڈنٹ ہوا کیا؟ تم ٹھیک ہو؟
ارے بابا بالکل ٹھیک ہوں فون گر گیا تھا روڈ پر میں ٹھیک ہوں خیریت سے ہوں فکر نہ کرو
وہ تسلی دے رہی تھی مگر اسے تسلی ہوئی نہیں۔
کال فورا بند کردی۔ چند لمحوں کے بعد ویڈیو کال تھی۔
دیکھ لو کر لو تسلی بالکل ٹھیک ٹھاک خیریت سےہوں۔ آئو تم بھی چپس کھالو۔
وہ قصدا چڑانے کو اسے چپس دکھا دکھا کر کھا رہی تھی۔
کوئی نہیں ریگولر جم لگا رہاہوں چپس مہینے ہورہے دیکھے بھی نہیں اور تم اتنے چپس کھا رہی ہو پھر پہلے جیسی ہوجائوگی ۔
وہ چھیڑنے سے باز نہ آیا۔۔ اس نے زبان چڑائی
چلو شکر ہے ون پیس میں ہی لگ رہی ہو۔۔ نیا فون خود لیا ہے؟ کہاں سے پیسے آئے؟
اب اس کا تفتیشی موڈ آن ہوچکا تھا۔
ہیون نے لا کر دیا ہے۔۔
اسکی آواز کم سے کم ہوتی گئ
ایک اور احسان چڑھا لیا ابھی اسکواکیڈمی فیس وغیرہ بھی نہیں دی ہےنا؟
پیسے بھجوائے تم نے؟ وہ شرمندگئ مٹانے کو اسے آنکھیں دکھانے لگی
بھجوا دیئے ہیں جائو اپنا اکائونٹ چیک کرو۔ اور جاب چھوڑی کہ نہیں خالو خفا ہو رہے تھے اس سے کہو جاب چھوڑے پڑھائی پر دھیان دے بس
ہوں صبح چیک کرتی ہوں موبائل تھا کہاں پاس جو مجھے پتہ لگتا اچھا یہ نمبر سیو کرلینا۔
وہ فرصت سے چپس اڑا رہی تھی۔
او ریہ تم اکیلی ہو اپارٹمنٹ میں۔؟ سہیلیاں کہاں ہیں تمہاری۔ ہمیشہ تمہارے پس منظر میں مرغیوں کی کٹاک کٹاک کی آواز آتئ رہتی ہے آج بڑی خاموشی ہے۔
صارم آنکھیں مٹکا مٹکا کر کمرے کے باقی منظر کو گھور رہا تھا۔
ڈیلے باہر گر جائیں گے آنکھیں مت پھاڑو۔
اس نے ٹوک دیا۔
گوارا گائوں گئ ہوئی ہے بتایا تو تھا اور ہوپ ابھی واپس نہیں لوٹی۔
تم ڈر ور نہیں رہیں کمال ہے؟
وہ خود آرام سے لائونج میں کائوچ پر دراز ٹی وی دیکھ رہا تھا اسے ڈرانے پر تل گیا۔ ایکدم چونک کے سیدھا ہوا
یہ تمہارے پیچھے کالا کالا کیا ہے۔
اس نے اتنے وثوق سے کہا کہ وہ فورا گھبرا کر پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی۔
صارم کا قہقہہ بلند ہوا تھا او راسکا پارہ چڑھا تھا
کمینے ہو تم لعنتی۔ سچ مچ میں اکیلی ہوں اور تم ڈرا رہے ہو۔
وہ بولتے بولتے روہانسی ہوگئ۔ تبھی داخلی دروازے کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی۔ اسکا دل دھڑ دھڑ کرنے لگا۔سانس رک سی گئ۔ اسکے تاثرات دیکھ کر صارم بھی سیدھا ہو بیٹھا
کیا ہوا کون ہے؟
کوئی آرہا ہے ۔۔
اس کے منہ سے سرسراتی ہوئی آواز نکلی
ڈھیلے قدموں کی چاپ کمرے کے کھلے دروازے تک آئی او ر ہوپ کا ہیولا نمودار ہوا۔
کیا ہوا اریزہ کون ہے؟
اریزہ آنکھیں پھاڑےسانس روکے بھونچکا سی سامنے دیکھ رہی تھی صارم کو سچ مچ گھبراہٹ ہونے لگی
اریزہ۔۔۔ اریزہ ٹھیک ہو تم کون آیا ہے؟
ہوپ ۔ اس نے آرام سے آنکھیں مٹکا کر کندھے اچکائے
صارم دانت پیس کر رہ گیا۔ وہ خود کھلکھلا کر ہنس دی۔
بہت زہر ہو تم۔ اس نے غصے میں فون بند کردیا
ارے۔ اسکےاتنے شدید ردعمل کا اندازہ نہیں تھا مگر ہنسی بھی بہت آرہی تھی۔ ہاتھ چکنے تھے اس نے دوبارہ ڈائل کرنا چاہا مگر فون کی لائٹ بند ہوگئ اس نے موبائل رکھ دیا۔
ہوپ دروازے میں ایستادہ چہرے پر مضمحل سی مسکراہٹ سجائےاسے ہی دیکھ رہی تھی۔
آننیانگ۔ اس نے ہاتھ ہلایا۔ اسے دیکھ کر اتنے خطرناک تاثرات دیئے تھے ازالہ ضروری تھا۔
آئو چپس کھالو ابھی بنائے ہیں گرم گرم ہیں۔ آج تو لیٹ نہیں ہو گئیں تم۔
وہ خیر مقدمی انداز میں بلا رہی تھی۔
ہوپ تھکی تھکی سی لگ رہی تھی۔ اسکی آفر کو اشارے سے منع کرتی آکر اپنی دراز کھول کر ڈائری نکالنے لگی۔
اریزہ کندھے اچکا کر چپس کی۔طرف متوجہ ہوگئ۔
یہ خط گنگشن انی کو دے دینا۔
اس نے ڈائری میں سے ایک موڑا ہوا کاغذ نکال کر اسکی جانب بڑھایا۔
کیا ہے یہ؟
اسکے ہاتھ چکنے تھے سو اسی سے پوچھنے لگی۔
کچھ خاص نہیں بس اعتراف ہے۔ تم سے ملنے آئی تھی میں۔ شکریہ ادا کرنے تم نے دل سے دعا کی تھی شائد میرے لیئے۔ قبول ہوگئ۔
کونسی دعا۔
وہ پلیٹ سائیڈ میں کرکے سائیڈ ٹیبل سے ٹشو رول اٹھا کر ہاتھ صاف کرنے لگی۔
تم نے نماز میں دعا کی تھی نا میرے گھر والوں کی اطلاع مل جائے ۔
آہاں۔ اسے یاد آیا۔
تو مل گئ؟ سب ٹھیک ہیں نا۔ وہ خوش ہو کر پوچھ رہی تھی۔ اپنی دعائوں کی قبولیت پر یقین تو تھا مگر اتنی جلدی پر خوشی بھی بہت ہوئی۔
مبارک ہوبہت بہت۔۔ میں بہت خوش ہوں تمہارے لیئے۔
وہ بیڈ سے اتر کر بھاگئ آئی آکر اس سے لپٹ گئ۔ ہوپ جو اسکی غلط فہمی دور کرنے کیلئے لب وا کیے تھی ہونٹ بھینچ گئ۔ وہ بچوں کی طرح خوش ہو رہی تھی اسکے لیئے ہوپ نے اسکی محبت کو دل سے محسوس کیا تھا۔ اس وقت غیر ارادی طو رپر اسکے بازو اریزہ کے گرد بندھ گئے تھے۔
ٹریٹ لوں گئ میں۔
اریزہ ا س سے الگ ہوتے ہوئے ٹریٹ کی فرمائش کررہی تھی۔ ہوپ نے سوچا پھر اپنا پرس اسکی جانب بڑھا دیا
آج ہی تنخواہ ملی ہے سب تمہاری۔ اپنی مرضی کی ٹریٹ لے لینا۔
اریزہ سر کھجانے لگی۔
میرا یہ مطلب بھی نہیں تھا۔ ہم دونوں باہر چلیں گے اکٹھے کل چلتے ہیں ۔ مجھے بھی اپنے پیسے وصولنے ہیں واپسی پر اچھا سا لنچ کریں گے تم ایسا کرو کل چھٹی کر لو۔
کل تو میں یہاں نہیں ہوں گی۔ تم میری جانب سے یاد سے ٹریٹ لے لینا اچھا۔
وہ زبردستی اسکے ہاتھ میں پرس تھما کر بولی۔ اریزہ کے چہرے پر پیار سے ہاتھ رکھا۔
اچھا میں چلتی ہوں بائے۔ اپنا خیال رکھنا۔
وہ اسکے برابر سے ہو کر نکلتی چلی گئ۔
کہاں جا رہی ہو ابھی تو آئی ہو۔
اس نے پکار کر پوچھا مگر جواب نہ ملا ۔ اپارٹمنٹ کا دروازہ کھلا اور بند بھی ہوگیا۔ اس نے کندھے اچکا کر بیڈ پر پڑے اس پرچے کو دیکھا۔ ہنگل میں لکھا تھا وہ ابتدائی ہنگل پڑھ سکتی تھی مگر اسکی لکھائی سمجھنا مشکل تھا۔ اس نے تھوڑی سی کوشش کے بعد ہار مان لی۔
تبھی فون کی بیل بج اٹھی۔ اسکا موبائل نہیں تھا یہ۔ ہوپ کے پرس میں سے جل بجھ ہوتی روشنی آرہی تھی۔ اس نے اسکا موبائل نکالا انی کالنگ لکھا تھا۔
ہیلو۔
اس نے فون اٹھایا گنگشن چونکیں۔یوبوسیو کی بجائے ہیلو؟؟؟
کون؟ ۔۔۔
میں اریزہ ۔ اس نے بتایا تو وہ پریشان ہوگئیں
ہوپ کہاں ہے اریزہ؟
ابھی باہر گئ ہے۔
اس نے بتایا تو وہ چپ ہوگئیں پھر خیال آیا تو پوچھنے لگیں۔
اسکی طبیعت کیسی ہے رو تو نہیں رہی ذیادہ؟
نہیں کیوں اسکی طبیعت خراب ہے؟
اس نے الٹا سوال کیا۔ وہ شائد ڈرائیو کر رہی تھیں ٹریفک کا شور آرہا تھا۔
نہیں۔۔لیکن وہ پریشان تو ہوگی ظاہر ہے صدمہ اتنا بڑا ہے۔۔ بس اسکا خیال رکھنا مجھے اسکی طرف سے پریشانی ہورہی تھئ میں نے سوچا فون کرلوں بلکہ میں آرہی ہوں ابھی وہیں ہی۔
صدمہ؟ اریزہ سوالیہ ہوئی
کیسا صدمہ؟
اس نے تمہیں نہیں بتایا ؟ وہ مصروف انداز میں بول رہی تھیں۔
اسکی فیملی پوری ختم ہوگئ ہے۔ اسکی والدہ بہنیں بھی۔ بہت دکھی ہو رہی تھی وہ۔ خیریت سے گھر پہنچ تو گئ نا مجھے فکر تھی کہ۔۔۔
اریزہ کے ہاتھ میں موبائل کانپا تھا۔ چند دن قبل کے جملے کانوں میں گونجے ۔
بس انکی اطلاع کا انتظار کر رہی ہوں جی کر۔ اگر زندہ ہوئے تو انکو بلانے کا خرچہ اٹھانے کیلئے پیسہ پیسہ جوڑ رہی ہوں۔ اور اگر۔
وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر چپ ہوگئ۔
اور اگر؟ اریزہ اسکی جانب مکمل مڑ کر پوچھنے لگی۔
ہوپ نے اسکو ہمہ تن گوش دیکھا تو مسکرا دی

اس نے اضطراری انداز میں دیکھا بیگ اسکا یہیں تھا موبائل یہیں پڑا تھا پھر وہ کہاں او رکیوں گئ تھی؟
اور اگر وہ مر چکے ہوئے تو ایک فلور اوراوپر چڑھوں گی اور وہاں سے۔۔۔
اسکے ہاتھوں سے طوطے اڑگئے تھے۔ حواس باختہ سی ہو کرموبائل وہیں پھینک کر وہ بھاگی۔ جوتے پہننے کا بھی وقت نہیں تھا اس وقت وہ گھر کے چپلوں میں اپارٹمنٹ سے باہر نکلی تو پھسل سی گئ۔ پیر سے چپل نکل گئ مگر اسے ہوش نہ تھا۔ پوری راہداری خالی تھی سب سے اوپر جانے والی سیڑھیاں لفٹ کے بالکل سامنے تھیں۔ وہ تیزی سے دو دو کرکے سیڑھیاں پھلانگتی گئ۔ عین اسی وقت لفٹ کا دروازہ کھلا تھا۔۔ سب سے اوپر ٹیرس سا بنا ہوا تھا۔ اسکا دروازہ نیم وا تھا۔ اس نے پورا کھولا تو سامنےملگجا اندھیرا تھا ۔۔
ہوپ وہ پوری طاقت سے پکارنا چاہ رہی تھی مگر سامنے کا منظر دیکھ کر اسکی آواز گھٹ گئ۔ ہوپ ریلنگ کو پار کیئے ریلنگ تھامے کھڑی تھی جیسے اگلے کسی بھی لمحے کود جائے گی۔ چھت پر وینٹی لیٹر لگے تھے پائپ بھی تھے۔۔
ہ۔۔ہو۔۔۔ ہوپ۔ اس نے پکارا مگر اپنی آواز خود بھی نہ آسکی۔ وہ بھاگ کر اسے روکنا چاہ رہی تھی کہ اندھیرے میں کسی پائپ سے الجھ کر گر گئ۔ گھٹنے میں بہت زور کی چوٹ آئی اور ہلکی سی آواز بھی ۔ ہوپ نے گردن گھما کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن نے اسکی شکل دیکھی اسکا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔
مجھے تمہیں نہیں لانا چاہیئے تھا بیان مگر یہ مسلئہ اتنا گمبھیر تھا کہ مجھے لگا تمہیں بتانا چاہیئے۔ یون بن بھی گائوں گیا ہوا ہے اور۔۔
ہیون نے اسے تادیبئ نگاہوں سے دیکھا تو وہ چپ کرگیا۔ لفٹ آہستہ آہستہ اوپر چڑھ رہی تھی۔
دروازہ کھلا تو ہیون کو سیڑھیوں پر کوئی آہٹ سی محسوس ہوئی ۔ وہ یونہی رک کر دیکھنے لگا۔
کیا ہوا ؟ کم سن نے مڑ کر پوچھا تو وہ سر جھٹکتا اسکے پیچھے چلا آیا۔ اپارٹمنٹ کا دروازہ نیم وا تھا کم سن حیرت سے دیکھتا بیل بجاتا اندر داخل ہوگیا ہیون اپنی دھن میں آرہا تھا کہ چپل سے الجھ گیا اسے چڑ کر دیوار کے ساتھ لگاتے خود بھی اندر چلا آیا۔ کم سن پورے اپارٹمنٹ میں پکارتا پھر رہا تھا۔
اریزہ؟ ہوپ
اپارٹمنٹ کی ایک ایک بتی جل رہی تھی۔
کہاں گئیں دونوں یوں گھر کھلا چھوڑ کر۔ کم سن حیران ہورہا تھا۔
ٹیرس میں ہوں گی۔ ہیون نے کہا تو وہ سر ہلاتا ٹیرس کی طرف بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ہوپ۔ آندے۔ ہوپ رک جائو پلیز ایسا مت کرو۔
بھرائے گلے سے بے تابئ سے پکارتی وہ اپنا گھٹنا سہلاتی لڑکھڑاتی جتنی تیزی سے بلکہ بھاگ سکتی تھی بھاگ کر اسکے پاس آئی۔ وہ حیرت سے منڈیر پر کھڑی اسکو دیکھ رہی تھی۔ ریلنگ کے آگے بھی اتنی کگر تھی کہ ہوپ آرام سے اسکی جانب مڑ کر ریلنگ تھامے کھڑی تھی۔
ہوپ حیرت سے اسکی شکل دیکھ رہی تھی
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔
اریزہ نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھوں پر ہاتھ رکھے
پلیز ہوپ یہ حرکت مت کرو خد اکیلئے ادھر آئو
وہ اسکو بازو سے تھام کر روک دینا چاہتی تھی۔ ہوپ نے کسمساکر خود کو چھڑانا چاہا
میں نے تمہیں بتایا تو تھا اب میرے پاس جینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ تم نے ناحق زحمت کی۔
جینے کی وجہ یہی کافی ہے کہ تم زندہ ہو۔ پلیز ہم بات کرتے ہیں نا ہوپ۔
وہ روہانسی ہو رہی تھی۔
اب بہت دیر ہو گئ ہے۔ اس نے یکدم اپنے دونوں ہاتھ ریلنگ سے ہٹا دیئے وہ سر کے بل نیچے جانے کو تھی کگر سے اسکا توازن بگڑا اریزہ کے پاس لمحہ بھر تھا فیصلے کو پوری مضبوطی سےآگےبڑھ کر اس نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔ جھٹکا لگا تھا ہوپ کے پیروں تلے سے کگر نکلی تھی اسکا وجود ہوا میں معلق ہوا اریزہ بھی اسکے پورے وزن کے ساتھ نیچے ہوئی ریلنگ اسکی پسلیوں پر کھب رہی تھی ۔
پاگل ہوئی ہو کیا۔ ہوپ چلائی۔
چھوڑو میراہاتھ بے وقوف لڑکی تم بھی گروگی میرے ساتھ۔
نہیں تم میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑو یہ سوچ کر کہ اس وقت اگر تم نے میری مدد نہ کی تو میں بھی تمہارے ساتھ بے موت ماری جائوں گئ۔
تم پاگل ہوگئ ہو۔
ہوپ غصے سے چلائی۔ مگر اریزہ کا ارادہ اٹل تھا وہ اسے چھوڑنے کو تیار نہ تھی۔
تم کیوں اپنی زندگی کی دشمن بنی ہو ؟ تمہارے اپنے ہیں گھر ہے دوست ہیں میرے لیئے خود کو مشکل میں مت ڈالو تم مجھے اب نہیں واپس کھینچ سکتیں۔
ہوپ کا بس نہیں تھا اسکا گلا دبا دے۔ اتنئ بے وقوفی
ہاں مگر تمہیں چھوڑوں گی بھی نہیں۔
اسکے انگلیوں پر کھرنڈ تھا اتنی مضبوط گرفت نے زخم تازہ کردیئے تھے۔ ہوپ اپنا ہاتھ اسکے ہاتھوں سے پھسلتا محسوس کر رہی تھی مگر وہ بے وقوف اسے بچانے کو خود بھی آدھی لٹکی ہوئی تھی
بائیسویں منزل اوپر ہوا میں معلق وہ جانتی ہوا کا دبائو اسکی اس کوشش کو جلد ناکام بنا دے گا۔ اسکا ہاتھ چھٹ جائے گا مگر اسکا ہاتھ چھٹنے پر وہ خود بھی اپنا توازن کھو بیٹھے گی او رشائد اسکے ساتھ وہ بھی نیچے آرہے۔
مگر احمق اریزہ کو اپنی ذرہ فکر نہ تھی الٹا گڑگڑا رہی تھی۔
ہوپ پلیز دوسرے ہاتھ سے بھی تھامو مجھے خدا کا واسطہ۔
ہوپ کوشش کرو۔
وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکا ہاتھ تھامے تھئ ۔ اسکی آنکھوں سے گرتے آنسو ۔۔ ہوپ کی ساری بے چینی و دکھ کا جیسے مداوا ہورہا تھا۔
ہوپ میں بھی گر جائوں گئ میری خاطر کوشش کرو اوپر آنے کی پلیز۔
وہ منتیں کر رہی تھی۔
ہوپ کو زندگئ میں پہلی بار احساس ہوا تھا ۔انسان انسانوں سے جڑے ہوئے ہیں کسی نہ کسی طرح آپکی زندگی آپ کو دوسرے کسی انسان کی زندگی سے جوڑے ہوئے ہے۔ اسکے خون کے رشتے سب ختم ہوچکے تھے اب یہ اپنائیت دوستی لگائو جو بھی تھا اریزہ سے ایک نیا تعلق جڑ گیا تھا۔ افسوس اس تعلق کا احساس اسے اپنی زندگی کے آخری لمحوں میں ہوا تھا۔ اریزہ کا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھٹ رہا تھا کوئی چپچپاہٹ سی اسکے ہاتھ کو پھسلا رہی تھی۔ اریزہ بری طرح روتے چلاتے اسے پکار رہی تھی ہاتھ پکڑنے کو کہہ رہی تھی ۔ آخری لمحوں کا کتنا پیارا منظر تھا کوئی اسکے لیئے رو رہا تھا خالصتا اسکے لیئےپکار رہا تھا اسکو ۔۔
وہ مسکرادی شائد آخری بار۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے

kesi lagi apko salam korea ki yeh qist? rate us below

Rating
Home » Areeza

Salam Korea Episode 34

Salam Korea
by vaiza zaidi
قسط 34

اب اتنا ہنسنا تو نہیں چاہیئے بندے سے غلطی ہو ہی جاتی ہے۔
کتنئ دیر خفت ذدہ رہتی۔ فورا شرمندگی دور کی غصہ چڑھا لیا۔ علی بہت کھل کر ہنسا تھا اور ہنستے ہوئے اسکا اینگری ینگ مین سنجیدہ انداز بالکل غائب ہو گیا تھا۔پھر بھی اسے کھل کر ہنستے دیکھ کر وہ تھوڑا خفگی سے بولی۔
اسکے الفاظ تو سمجھ نہیں آئے تھے علی کو مگر اسکے خفا خفا سے انداز کو بھانپ کر اس نے فورا ہنسی کو بریک لگائی۔
آننیانگ ۔۔
اس نے خیر مقدمی مسکراہٹ سجائئ۔
ہیلو۔ اب کے اریزہ نے ہنگل میں بات کرنے کی غلطی نہیں دہرائی۔
یہ لو۔ اس نے شاپنگ بیگ اسکی جانب بڑھایا وہ ہاتھ بڑھانے کی بجائے تحیر سے دیکھنے لگی۔ گفٹ وہ بھی سر کیوں دے رہے بھئ؟۔

یہ تمہارا کوٹ ۔کل تم ریلنگ پر لٹکا بھول گئ تھیں۔۔ علی نے اسکی حیرت دور کی۔
اوہ۔ اس نے فورا بیگ تلاشا۔
صبح یہی سوچ رہی تھی کہ کل کوٹ آکر کہاں اتارا مل ہی نہیں رہا ۔ اتنی موٹی رضائئ چڑھانی پڑی سب جبھی گھور گھو رکر دیکھ رہے تھے۔
وہ روانی میں بولتی کوٹ نکال رہی تھی۔
شکریہ ۔۔ اس نے سر اٹھایا اچانک یاد آیا تھا۔۔
اف آپکے کپڑے؟ ۔اس نے سر پر ہاتھ مارا۔
میں بھول گئ بالکل۔ کل پکا لے آئوں گی ویسے دھو دیئے تھے میں نے۔
اس نے تسلی بھی دینی چاہی۔ علی اسے دیکھتا رہا پھر اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئ
وہ مستقل یقینا اسی سے مخاطب تھی یہ بھول کر کہ وہ اسکی اردو کی الف ب بھی نہیں جانتا۔ اریزہ نے اسکو مسکراتا دیکھا تو چونکی۔
معزرت۔ اس نے زبان دانتوں تلے دبائئ۔
میں اردو میں بولتی گئ میں کہہ رہی تھی۔
اب وہ اپنی انگریزی کو ہوا لگا رہی تھی۔ اسکو انگریزی میں تسلی دی کہ میں بالکل لاپروا نہیں احتیاط سے کپڑے رکھے ہیں جس دن یاد رہا لا کر ہاتھ میں تھمائے گی بالکل فکر نہ کرے علی۔
علی کو اب واقعی فکر ہونے لگی تھئ۔ بظاہر تسلی سے سنتے ہوئے اس نے چپکے سے کلائی میں بندھی گھڑی میں وقت دیکھا کلاس کا وقت ہوچکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون بھونچکا سا کھڑا خالی کمرہ دیکھ رہا تھا۔ اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ صبح جب واپس آئے گا تو سنتھیا اپنا سب سامان لیکر جا چکی ہوگی۔
وہ جا بھئ کہاں سکتی تھی۔ اسکے پاس رہنے کو کوئی جگہ کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔پیسے بھئ جانے تھے کہ نہیں۔ اس نے اضطراری انداز میں سر جھٹکا۔
بیڈ کی چادر تکیہ سب بے شکن تھے۔ یعنی وہ رات کو ہی جا چکی تھی یہاں سے۔ کمرہ بالکل صاف تھا یہاں تک کے کل صبح لا کر رکھا گیا ناشتے کا سامان بھی نہیں تھا۔
یہ۔جزباتی لڑکی۔
اس نے دانت پیسے۔ پھر بیڈ درازیں سب ٹٹول ٹٹول کر دیکھیں کوئی پتہ کوئی خط کچھ بھی نہیں تھا۔ اس نے اپنا کوئی نشان نہیں چھوڑا تھا۔
وہ سر تھام کے وہیں بیڈ پر ٹک گیا۔
بہت بری طرح پھنسا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن اور وہ دونوں قریبئ تمام ہوٹلز سونا میں پتہ کرتے پھرے تھے۔ہر جگہ سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس چھوٹے سے سرائے سے نکلتے ہوئے اسکا بس نہیں تھا کیا کرے۔ زور دار ٹھوکر زمین کو لگاتے وہ پریشانی و انتشار کی آخری حدوں پر تھا۔
پیسے اسکے پاس اتنے نہیں ہوں گے کہ وہ کسی ہوٹل جا سکے۔ کہاں چلی گئ وہ بے وقوف لڑکی۔
وہ مٹھیاں بھینچ رہا تھا۔یون بن اسکے برعکس سنجیدگی سے صورت حال کا تجزیہ کر رہا تھا۔ سینے پر ہاتھ باندھے سب ممکنہ باتیں سوچ کر اسکو یہی خیال آیا۔
ہمیں سب دوستوں میں اطلاع کرنی چاہیئے ۔ وہ پریگننٹ ہے موسم ابھی تو ٹھیک ہے مگر رات کو بارش کا امکان ہے۔ وہ کسی پارک یا کھلی جگہ پورا دن گزار سکتی ہے مگر رات کو اسکے لیئے مشکل ہوگئ۔پھر ۔ اسکی ذہنی رو جانے کس طرف جائے کہیں وہ کوئی انتہائی قدم اٹھانے کا ارادہ نہ رکھتی ہو۔
یون بن کے انداز میں سنگینی تھئ۔ ایڈون نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
انتہائی قدم؟
وہ خودکشی کی کوشش نہ کرلے۔۔۔
یون بن نے بغور اسکی شکل دیکھتے کہا تو وہ لمحہ بھر کو سناٹے میں آیا۔۔
تمہیں اندازہ ہے رات سے تمہاری ممانی کی کیا حالت ہے۔ ہمارا اس سے کوئی رابطہ نہیں اس نے تمہاری ممانی کو صاف کہا ہے وہ خود کشی کر لے گی ہم نے کیسے رات گزاری ہے ہم جانتے ہیں تمہارا فون لگا تو تم نے نہیں اٹھایا سنتھیا کو فون کرتے رہے وہ ہر دفعہ فون کاٹ دیتی کانٹوں پر گزرا ہے ہمارا۔۔۔۔۔۔۔ ٹوون
اسکے کانوں میں کل صبح کی ہوئی ماموں سے گفتگو گونجی۔
سوائے اریزہ کے اسکا کوئی دوست نہیں تھا یہاں اور اریزہ کے پاس وہ نہیں جا سکتی اتنا پتہ ہے مجھے۔ ہمیں پولیس میں اطلاع کرنی چاہیئے۔
ایڈون نے کہا تو وہ سر ہلانے لگا
میں رپورٹ کر دیتا ہوں تم پہلے ہی پولیس والوں کے دائرہ شک میں ہو۔
اس نے سنتھیا والے معاملے کی رپورٹ کا جتایا۔ ایڈون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔
۔ تم اپنی ایمبیسی سے رابطہ کرو۔ کیا خبر وہ واپس جا رہی ہو۔
یون بن کو خیال آیا۔۔ وہ بری طرح چڑ گیا
بس تک پر سفر کے پیسے نہیں ہوںگے اسکے پاس جہاز کا ٹکٹ کہاں سے لے گی۔
اسکو جھلانے کے بعد احساس ہوا تو خود پر قابو پاتے یون بن سے معزرت بھی کرنے لگا۔۔
ایم سوری ۔
آنیو۔ یون بن نے اسکا کندھا تھپکا
مجھے اندازہ ہے تمہاری پریشانی کا۔ تم فکر نہ کرو ہم سب مل کر ڈھونڈ لیں گے۔۔ میں کم سن سے بات کرتا ہوں۔
اسے تسلی دیتے ہوئے اس نے کم سن کو فون بھی ملا لیا۔۔اسکے پرخلوص انداز نے ایڈون پر خاصا اثر کیا تھا۔ وہ ضرور ایسا ہی دوست تھا اپنے دوستوں کیلئے ہر قسم کی مصیبت میں پڑنے کو تیار مگر یہ پہلی بار تھا کوئی دوست اسکے ساتھ خالصتا اسکے لیئے یوں خواری کاٹ رہا ہو۔
اس نے کچھ سوچ کے اریزہ کو کال ملا دی۔
اس نے حسب توقع اسکا فون کاٹ دیا تھا۔ اس نے دو تین کوششوں کے بعد پیغام لکھ بھیجا
اریزہ سنتھیا تمہارے ساتھ ہے۔ ؟ پلیز جواب دو ایمرجنسی ہے
نہیں۔۔ مختصر جواب چند لمحوں میں ہی موصول ہوا تھا۔
اس نے گہری سانس لی۔
اریزہ کے پاس بھی نہیں گئیں تو کہاں گئیں تم سنتھیا۔۔۔
اسے صرف فکر نہیں ہورہی تھی غصہ بھی آرہا تھا۔۔
ایک لمحے کو ایک کمینہ خیال بھی آیا۔
اگر وہ واقعی خود کشی کر لے تو ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس ختم ہونے کے بعد وہ حسب معمول ٹیرس میں آکر کھڑی ہو گئ تھی۔ یہاں سے سامنے دو رویہ سڑک سے لیکر ذرا فاصلے پر میٹرو اسٹیشن تک نظر آتا تھا۔ ہیون کی دیو ہیکل گاڑی موڑ مڑتے نظر آجاتئ۔ سو وہ اطمینان سے جیکٹ ریلنگ پر ٹکا کر کوٹ پہن کر جانے کیلئے بالکل تیار تھی۔ جیکٹ کو موڑ کر شاپر میں نہیں رکھا جا سکتا تھا۔سو اس نے بیگ ساتھ ہی ٹکا دیا تھا زمین پر۔ دھوپ کو بادل ڈھکتے جا رہے تھے یقینا آج رات شدید سردی پڑنی تھی کم از کم بارش یا برفباری تو ضرور ہونی تھی۔
اس نے موبائل اٹھا کر اس منظر کو قید کیا۔ سیول کی روشنیاں اور خوبصورت عمارتوں میں سے جھانکتا آسمان۔
ابھئ فورا اس تصویر کو اپلوڈ کرنا تھا اس نے اچھے سے عنوان کے ساتھ۔ جیسے ہی بلاگ کھولا اسکرین جل بجھ کرنے لگی۔
ایڈون کی کال آرہی تھی بیزار ہو کر اس نے کاٹ دی۔ تو اسکا پیغام موصول ہوا
حد ہے۔ وہ بیزار ہوئی۔
کیوں آئے گی وہ میرے پاس ؟ تم دونوں بخش ۔۔۔
وہ لمبا میسج ٹائپ کرنے لگی تھی۔ پیشانی کی رگیں تن گئ تھیں بھنوئوں کے درمیان شکنیں پڑ چکی تھیں۔
اسلام و علیکم۔ اریزہ
اجنبی لہجہ شستہ سلام۔صحیح تلفظ سے پکارا جانا اس نے چونک کے رخ پھیرا۔
ہیون اسکے بالکل مقابل کھڑا مسکرا رہا تھا۔ وہ۔اتنی حیران ہوئی کہ جواب بھی نہ دے سکی۔
کیا ہوا؟
ہیون نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائئ ۔ وہ گڑبڑاکر سیدھی ہوئی
وہ تم۔اچانک پیچھے کیسے۔ میں تو وہاں دیکھ رہی تھی کہ تم وہاں سے آئوگے۔
اس نے مڑ کر ریلنگ کے پار سڑک کی جانب اشارہ کیا۔ اسکی حیرت پرہیون کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
تم انتظار کر رہی تھیں میرا؟
اسکی چندی آنکھیں شائد تھوڑی بڑی ہوئی تھیں۔اسکا موبائل پھر بجا تھا۔
آں۔ ہاں۔
ایڈون کا ایک اور میسج آچکا تھا۔ اس نے جلدی سے جواب مٹا کر یک لفظی جواب لکھ بھیجا۔اس وقت وہ لڑنے بھڑنے کے موڈ میں نہیں تھی۔
چلیں۔
ہیون نے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلاتے بیگ اور شاپنگ بیگ سنبھالا۔
چلو۔
کم سن کو بتا دیا ہے میں نے۔ تم آج چھٹئ کر رہی ہو۔آج ہم خوب گھومیں گے پھریں گے۔
ہیون کا انداز دھونس بھرا تھا
اچھا۔ اس نے سر ہلادیا ۔۔ اسکا فون دوبارہ بج اٹھا تھا۔ وہی نام وہ کال کاٹتے کاٹتے رہ گئ۔ پھر اٹھا ہی لیا فون۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن کم سن اور ایڈون پولیس میں رپورٹ درج کرانے آئے تھے۔ ایک اہلکار ان سے معلومات لے رہا تھا ۔ وہ ہیون کے ساتھ سیدھا وہیں پہنچی تھی۔ تھانے میں داخل ہوتے ہی اس نے متلاشی نگاہوں سے ایڈون کو ڈھونڈا تھا۔
ایڈون ۔۔ ایڈون۔۔ کہاں گئ ہے سنتھیا؟
اس نے دور سے ہی ایڈون کو دیکھا توپکارتی ہوئی بھاگ کر پاس آئی ۔
ایڈون یون بن کم سن کے کمراہ ایک تفتیشی افسر کے سامنے خاموش بیٹھا بیان لکھ رہا تھا۔ ایکدم اٹھ کھڑا ہوا۔
تم؟ تم تھانے میں کیا کر رہی ہو بتایا تو تھا میں نے میں رپورٹ درج کرا رہا ہوں۔۔۔تمہیں یہاں آنے کی ضرورت نہیں تھی۔
ایڈون کی بات پر اسکو غصہ ہی آگیا۔
کیوں ضرورت نہیں تھی۔موسم دیکھا ہے باہر؟ بارش ہو رہی ہے اور وہ اس وقت جانے کہاں ہے۔ اسکی تو طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ کیا کہا ہے تم نے اسے جووہ اس طرح چلی گئ؟
اسکی آواز جوش جزبات میں کافی اونچی ہو گئ تھی۔
ریلیکس۔ اریزہ۔
ہیون فورا آگے بڑھ کر ٹوکنے لگا۔ اسے اسکی بات تو سمجھ نہیں آئی تھی مگراسکے جارحانہ انداز سے خائف ہو کر یون بن اور کم سن بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
کچھ نہیں کہا میں نے۔ اسے کم غصہ نہیں تھا جھلا کر بولا۔۔
اورتم اسکو یہاں کیوں لیکر آئے ہو؟ یہ کوئی اچھی جگہ ہے کسی لڑکی کیلئے ؟
ایڈون انگریزئ میں ہیون پر چڑھ دوڑا۔
اسکو کیا کہہ رہے ہو مجھے بتائو سنتھیا کہاں ہے؟ ایسے کیسے وہ چلی گئ؟ وہ جا بھی کہاں سکتی ہے۔۔ کیا کہا ہے تم نے اسے؟
اریزہ اسکے غصے کو خاطر میں نہ لاتے اس سے ذیادہ زور سے بولی تھی۔
میں کیا کہوں گا اسے ؟ دماغ خراب اسکا ہوا ہے بنا کسی کو کچھ کہے جانے کہاں چلی گئ ہے۔
ایڈون الگ جھلا رہا تھا۔
پاگل تو نہیں ہے وہ نا ہی اتنی احمق۔ سچ بتائو مجھے کیا بات ہوئی ہے تم دونوں کے بیچ جووہ یوں کہیں چلی گئ ؟؟؟
اریزہ کا بس نہیں تھا اسکا گریبان پکڑ لے۔
کس زبان میں بتائوں کوئی بات نہیں ہوئی ہے صبح آرام سے ناشتہ کراکے کمرے میں چھوڑ کر گیا ہوں واپس آیا ہوں تو کہیں دف۔۔
اس نے بمشکل زبان روکی تھی۔ وہ کیا کہنے جا رہا تھا؟
اریزہ غصے سے جیسے پاگل ہوگئ۔
دفع؟دفع ہوگئ یہ کہنے جا رہے تھے نا تم یہ عزت ہے تمہاری نظر میں سنتھیا کی۔
ہاں یہی عزت ہے۔ وہ جوابا اس سے ذیادہ زور سے چلایا۔
اسی قابل ہے وہ۔ دو کوڑی کی عزت نہیں چھوڑی ہے اس نے میری کہاں کہاں نہیں ذلیل کروادیا ہے مجھے او رخود جانے۔۔
اور تم تم نے اسکو کم خوارکیاہے اس سب کے ذمہ دار تم خود ہو۔۔
اریزہ ترکی بہ ترکی بولی تھی کہ پولیس افسر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اونچی گرج دار آواز میں بولا۔۔
کھم آنے۔۔ بس کرو کیا کر رہے ہو تم لوگ۔
پولیس افسر انکے شور سے تنگ آکر اٹھ کھڑا ہوا۔
دونوں ایکدم خاموش ہوئے تھے۔
کیا کہہ رہے ہیں یہ لوگ۔ پولیس افسر نے یون بن اور کم سن سے پوچھا تھا دونوں نے کندھے اچکا دیئے۔
آپ لوگ اپنے معاملات باہر جا کر نمٹائیں ہم اپنی تفتیش شروع کرنے لگے ہیں کوئی اطلاع آئی تو ہم آپکو بتا دیں گے۔
کنپٹی سہلاتے افسر نے بمشکل اپنی جھلاہٹ پر قابو پاتے ہوئے عزت سے انکو نکل جانے کا کہا تھا۔ یون بن کم سن سر جھکا کے کوریائی انداز میں خدا حافظ کہتے نکلنے لگے۔ ایڈون بھئ ہمرا ہ تھا جب پولیس افسر نے پکارا۔
اور آپ مسٹر آیڈون
وہ اب ایڈون سے مخاطب تھا۔
اگلے اڑتالیس گھنٹوں تک آپ شہر سے باہر نہیں جائیں گے او رجب آپکو بلایا جائے آپکو یہاں آنا پڑے گا تفتیش میں آپ سب سے پہلے شک کے دائرے میں آتے ہیں۔
ایڈون نے ہونٹ بھینچ کر سر ہلایا تھا۔
کیا کہا ہے انہوں نے۔ وہ ہیون کے سر ہوئی۔ ہیون نے ترجمہ کیا تو وہ اسکے سر ہوگئ۔
کیوں شک کے دائرے میں آتے ہیں ؟ کیا کیا ہے ایڈون نے۔ پوچھو ان سے۔
اسکے اصرار پر ہیون کو پولیس افسر سے پوچھنا پڑا۔
اپنی گرل فرینڈ کا جبری اسقاط حمل کروانے کی کوشش کا الزام ہے ان پر۔۔۔۔
پولیس افسر کے جواب کا ہیون نے ترجمہ کرکے بتایا تھا اسے۔ اسکے تن بدن میں آگ سی لگ گئ۔ وہ تن فن کرتی ایڈون سے یقینا لڑنے کے ارادے سے نکلی تھی۔ ۔ ہیون جلدی سے پولیس والے سے مصافحہ کرتا اسکے پیچھے بھاگا۔ پولیس اسٹیشن کے باہر بارش شروع ہو چکی تھی۔ ایڈون کم سن شیڈ میں کھڑے یون بن کے پارکنگ سے گاڑی لانے کا انتظار کررہے تھے اس نے پیچھے سے جا کر اسکے کندھے پر ہاتھ مار اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔ ایڈون پورا گھوم گیا تھا اس نے بنا سوچے سمجھے ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر جڑ دیا تھا۔ اسکے پیچھے بھاگ کے آتا ہیون اس سے دو قدم دور ہی رک گیا تھا۔
جرائت کیسے ہوئی تمہاری سنتھیا کے ساتھ یہ سب کرنے کی؟ کیا لگا تھا وہ اکیلی ہے اسکا یہاں کوئی نہیں؟
اس کو زبردستی اسپتال لے جانے کی ہمت کیسے ہوئی تمہاری؟ بولو جواب دو۔
وہ سچ مچ جیسے اپنا آپا کھو بیٹھی تھی۔ گریبان سے پکڑ کر حلق کے بل چلاتے ہوئے وہ اسے جھنجھوڑ رہی تھی۔
کیا ہوگیاہے اریزہ پاگل ہو گئ ہو؟
ایڈون اس افتاد کیلئے تیار نہیں تھا اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر اس نے جھٹکے سے دور کیا تھا اسے۔ وہ گرتے گرتے بچی تھی۔
تم پاگل ہو چکے ہو۔ وہ جوابا اس سے زو رسے چلائی۔
کیوں مجبور کیا تم نے سنتھیا کو؟ جواب دو مجھے۔ کیا دھمکی دی تھی تم نے اسے کیا کہہ کر۔
کوئی دھمکی نہیں دی تھی میں نے۔ اپنی مرضئ سے گئ تھی وہ میرے ساتھ اسپتال۔
ایڈون نے بمشکل خود پر قابو پا کر جواب دیا تھا۔
میں مان ہی نہیں سکتی۔ سنتھیا کبھی ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ وہ نہیں مان رہی تھی جبھی تم نے مجھے کہا تھا اس سے بات کرو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی تم اتنے گرے ہوئے انسان ہوگے۔
اریزہ نفرت سے کہتی کف اڑا رہی تھی ایڈون کو اسکی بے اعتباری پر دکھ بھی ہو رہا تھا۔
نا مانو۔
وہ اپنی جتنی بھی صفائی دے لیتا اس نے نہیں ماننا تھا۔اس نے رخ موڑ لیا۔ کم سن او رہیون کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیسے روکیں دونوں کو۔
میں خود انکل سے بات کرتی ہوں بتاتئ ہوں تم انکی بیٹی کے ساتھ کیا کرچکے ہو اور سنتھیا تمہاری وجہ سے کہیں چلی گئ ہے۔
اس نے صرف دھمکی نہیں دی تھی۔ فون نکال کر اسی وقت اسکے سامنے ملانے لگی ۔۔
اریزہ خبر دار جو تم نے ماموں کو فون کیا۔
وہ بل کھاتا مڑا اسے وارننگ دینے والے انداز میں انگلی اٹھا کر بولا۔
میں ابھی اسی وقت فون کر رہی ہوں۔مجھے سنتھیا مت سمجھنا ڈرتئ نہیں ہوں میں تم سے۔ ۔۔
وہ اس سے ذرا خائف نہ ہوئی تھی بلکہ فون ملا کر کان سے لگا لیا۔
تم سمجھتئ کیا ہو خود کو۔ وہ غصے سے بے قابو ہوتا آگے بڑھا تھا اسکا بازو پکڑ کراسکے ہاتھ سے موبائل چھین کر دور سڑک پر برستی بارش میں پھینکا تھا۔وہ ششدرسی رہ گئ۔
مجھ سے سنتھیا سے اس معاملے سے دو ررہو سمجھیں ورنہ۔
اسکا بازو سختی سے دبوچے وہ دھمکی آمیز انداز میں بولا
ورنہ کیا ؟۔۔۔کیا کرلوگے بولو۔ تم ایک بزدل گھٹیا اور کمینے انسان ہو۔ کچھ کرنے کے قابل ہی نہیں ہو تم۔
وہ جوابا اسکو دوسرے ہاتھ سے دھکا دے کر بولی تھی۔اسکو حقیقتا رتی برابر بھی خوف محسوس نہیں ہوا تھا اس سے۔
تم۔ حد میں رہو سمجھیں۔۔۔غصے سے بے قابو وہ شائد اس وقت اس پر ہاتھ اٹھا دیتا کہ کم سن نے اسے پیچھے سے او رہیون نے ایکدم سے اسکے ہاتھ کوپکڑ کراریزہ کا بازو چھڑاتے اسے آگے سے روکا تھا۔ دونوں کی گرفت بھی مضبوط تھی اور نگاہوں میں کچھ ایسا ضرور تھا کہ اسے رکنا پڑا تھا۔
بس کرو۔ کم سن نے اسکوکندھے سے پکڑ کر کھینچ کر پیچھے کیا تھا۔ ہیون دیوار بن کر اریزہ کے آگے آکھڑا ہوا تھا۔ ایڈون کو اپنے غصے کو دبانا پڑا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن گاڑی نکال کے لایا تو سامنے غیر متوقع منظر تھا۔ اریزہ اور ایڈون گتھم گتھا ہورہے تھے او رکم سن اور ہیون معاملہ سنبھالنے میں ہلکان ۔ اسکے گاڑی سے نکلنے کی نوبت نہیں آپائی تھی کم سن نے ایڈون کو کھینچ کر لا کر گاڑی میں بٹھایا تھا اس نے بھی وقت ضائع کیئے بنا گاڑی آگے بڑھا دی۔ انکی گاڑی کو نکلتے دیکھ کر ہیون کو خیال آیا آگے بڑھ کر روکنا چاہا مگر دیر ہو گئ تھی۔ وہ سر پر ہاتھ مارتا اریزہ کی جانب متوجہ ہوا۔ وہ دونوں ہاتھ دعا کی طرح سینے سے لگائے آنکھیں بند کیئے منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتی رو بھی رہی تھی۔
کین چھنا۔۔ ہیون نے اس سے پوچھا تو وہ اور زور سے رو دی۔
کس حال میں جانے کہاں ہوگی سنتھیا۔۔
سب ٹھیک ہو جائے گا اریزہ۔
ہیون کو یہ تو سمجھ نہیں آیا اس نے کیا کہا ہے مگر سنتھیا کا نام لے رہی ہے تو یقینا اسکی وجہ سے ہی پریشان ہو رہی ہوگی سو یہی تسلی دے سکا۔ جوابا اس نے اور زور سے رونا شروع کردیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا سنتھیا کو۔ وہ خیریت سے ہوگی۔ ہم سب مل کر ڈھونڈیں گے تم پریشان مت ہو۔
انی نے بے حد پیار سے اسکو اپنے ساتھ لگا کر تسلی دی تھی۔ وہ اس وقت انکے دفتر میں انکے ساتھ صوفے پر بیٹھی تھی۔اب رو تو نہیں رہی تھی مگر اسکا چہرہ ستا ہوا تھا۔ ہیون کو یہی سمجھ آیا تھا کہ نونا کے اثر ورسوخ سے مدد لی جائے سو اسے نونا کے دفتر لے آیا تھا۔
انہوں نے وقت ضائع نہیں کیا تھا۔ اسے تسلی دیتے ہی کئی جگہ کال ملا دی تھی۔ ہنگل میں ہدایات دے کر وہ فون بند کرکے اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔
وہ جہاں جس ہوٹل میں چیک ان کرے گی ہم اسے ٹریس کر لیں گے۔ ہمارے ادارے کے لوگ تیزی سے کام کرتے ہیں سچ پوچھو تو پولیس سے بھی ذیادہ تیزی سے۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولیں۔اریزہ مشکور نظروں سے دیکھتی بولی۔
آپکا بہت بہت شکریہ انی۔
انی مسکرا دیں۔ ہیون ایک کونے میں ہیٹر کے پاس کھڑا کپڑے سے موبائل صاف کرنے میں لگا تھا۔
آنیو۔یہ کوئی بڑی بات نہیں۔۔ تم مجھے بہنوں کی طرح ہی عزیز ہوگئ ہو۔مجھ سے جو بن پڑا میں کروں گئ۔
سنتھیا کی تصویر میری سیکٹری کو دے دو۔
انہوں نے کہا تو اسے خیال آیا اپنے فون کا۔
وہ تو میرے فون میں ہوگی ۔۔ مگر فون ۔۔۔
وہ پریشان ہوئی۔
ہیون نے مایوسی سے سر ہلاتے اسے دیکھا۔
یہ ختم ہو گیا ہے ۔آن نہیں ہو رہا۔ بارش کے علاوہ یون بن کی گاڑی کا ٹائر بھی اس پر سے گزرا ہے اب اسکو سفر آخرت پر بھیجنا ہی پڑے گا۔
اوہ ۔۔ وہ مایوس سی ہوئی۔۔
ایڈون سے مانگ لیتا ہوں تصویر تم فکر نہ کرو۔
ہیون نے کہتے ہوئے اسی وقت میسج ٹائپ کرکے ایڈون کو بھیجا تھا۔
کچھ کھائو گی اریزہ؟
انی کو اب اسکی مزید فکر ہو رہی تھی۔ بے خیالی میں ہنگل میں ہی پوچھ بیٹھیں۔
نہیں ۔ کین چھنا۔ وہ بمشکل مسکرا کر بولی۔
اب میں گھر جائوں گی۔
یہ پہلا مکمل کورین جملہ تھا جو وہ بولی تھی۔ نونا کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ در آئی۔
تھیبا ۔ تم نے تو بہت جلدی ہنگل سیکھ لی ہے شاباش۔
وہ ہنگل میں اسکی تعریف کر رہی تھیں۔ اسے جملہ سمجھ آگیا تھا مگر اسکا جواب نہ بن پڑا۔
میں کوشش کر رہی ہوں۔
اس نے سوچ سوچ کر کہا۔
اب مجھے محتاط ہونا پڑے گا بھئی۔ اریزہ میں اب ہیون کو کچھ بھی الٹا سیدھا تمہارے سامنے نہیں کہہ سکتی۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں شائد اسکا دھیان بٹانے کی کوشش کر رہی تھیں۔اس نے سوالیہ نگاہوں سے ہیون کو دیکھا۔ وہ سمجھ کر فورا ترجمہ کرنے لگا۔ اسکی ہنگل بہتر ہو رہی تھی مگر اتنی بھی اچھی نہ ہوئی تھی کہ انکے خالص سیول لہجے کو سمجھ پاتی۔
وہ پھیکا سا مسکرا دی۔ پھر اٹھ کھڑی ہوئئ۔ ہیون نے بھئ تقلید کی۔
میرا خیال ہے اب مجھے گھر جانا چاہیئے۔
انی بھی اسکے ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ایک بار پھر تسلی دینے لگیں
چلو ٹھیک ہے۔ اور بالکل پریشان مت ہونا۔ کوریا محفوظ ملک ہے وہ جہاں ہوگئ خیریت سے ہوگی۔
انشا اللہ۔
اس نے صدق دل سے کہا تھا۔ وہ ان سے الوداع کہنے لگی تھی کہ انی پیار سے اسکے گال سے گال مس کرنے لگیں۔ انہیں اسکا انداز آج بھی یاد تھا۔
مجھے خوشی ہوئی تم سے مل کر۔
مجھے بھی۔ اس نے بھی کرٹسی نبھادی۔
اوہ ہاں۔
انہیں اچانک جیسے کچھ یاد آیا۔ فورا اپنی میز کی جانب بڑھیں دراز کھول کر کچھ کارڈز نکالے اور لاکر اسے تھمائے۔
اریزہ اس سے اگلے ہفتے کو میری شادی ہے تم نے ضرور آنا ہے۔ہوپ اور گوارا کو بھی دے دینا۔میں نے تم سب کے کارڈز سنبھال کے رکھے ہوئے تھے۔
انہوں نے اسے تین کارڈز لا تھمائے تھے۔
ہیون نے جتاتی نگاہوں سے انکو دیکھا وہ قصدا رخ موڑ گئیں۔اور اریزہ کے کندھے پر پیار سے ہاتھ رکھ کر کہنے لگیں۔
مجھے پتہ ہے یہ مناسب وقت نہیں دعوت نامے دینے کا مگر میری مجبوری ہے میں کل چین جا رہی ہوں اب کم از بھی ہفتے بعد واپسی ہوگی میں بالکل نہیں چاہتی کہ میرے عزیزمہمان میری مصروفیت کی نظر ہو جائیں۔
اریزہ نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔ بہت خوبصورت کارڈ تھا دلہا دلہن ہنبق میں مسکرا رہے تھے اسک کارڈ کو تھوڑا سا پھسلائو تو اندر سفید براق لباس میں دلہن اورکالے سیاہ سوٹ میں دلہا گلے لگ جاتے تھے۔نیچے خوبصورت ہنگل میں تفصیلات لکھی تھیں۔ بس ایک کارڈ تھا کوئی لمبی چوڑی رسومات نہیں تفصیل نہیں۔
آپ چین جا رہی ہیں ؟ اسکے منہ سے کارڈ دیکھتے ہوئے انکی بات سنتے حیرانی سے پھسلا۔۔
ہاں کیوں؟ وہ اسکی حیرانی پر ہنسیں۔۔
میں چین نہیں جا سکتی؟
نہیں۔ وہ گڑبڑائئ۔
میرا مطلب ہے آپکی شادی ہورہی ہے آپکو اپنی مصروفیات کم کرکے آرام کرنا چاہیئے۔ گھر میں رہنا چاہیئے۔ ہمارے یہاں تو مایوں بٹھا دیتے ٹوٹکے آزماتےاس سے جلد پر اچھا اثر پڑتا ہے۔
اچھا؟ انی نے بھر پور دلچسپی لی۔
کیا ٹوٹکے کرتے کچھ بتائو مجھے؟ میری جلد آجکل ویسے واقعی کافی بے رونق ہو رہی ہے۔
آپ ایلو ویرا جیل لگائیں۔ اسکرب کے لیئے ہم توبیسن میں دودھ ملا کر لگاتے عرق گلاب میں انٹن گوندھ کر لگاتے۔ ابٹن مجھے نہیں پتہ اسے انگریزی میں کیا کہتے۔۔۔۔۔
وہ دونوں گوڑھ سہیلیوں کی طرح شروع ہو گئ تھیں ۔ ہیون جو گاڑی کی چابی اٹھاتا باہر نکلنے کو بالکل تیار تھا انکی گفتگو کا رخ مڑتا دیکھ کر تاسف سے سر ہلاتا سوچ رہا تھا۔۔
یہ لڑکیوں کو ہر اہم بات الوداعیہ کے وقت ہی کیوں یاد آتئ ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انی سے مل کر اسکے دل کو واقعی تسلی ہوئی تھی۔ اب وہ رونے کی بجائے ذہن کے گھوڑے دوڑا رہی تھی کہ آخر سنتھیا جا کہاں سکتی ہے۔انی کے دفتر سے نکل کر پارکنگ لاٹ تک اس نے سب ممکنہ مقامات سوچ لیئے جہاں وہ جا سکتی ہے۔ اسکے چہرے پر اسکی ادھیڑ بن واضح تھئ۔ ہیون نے گا ہے بگا ہے اسکے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کی تفکر کی گہری لکیر اسکی پیشانی پر واضح تھی۔ بارش تھم چکی تھی۔ مگر سردی شدید تھی۔ اتنئ کہ ہیون نے جھر جھری سی لی اسکو سردی لگ رہی تھی تو اریزہ کو تو تھر تھر کانپنا چاہیئے تھا۔ ابھی شائد سنتھیا کی فکر حاوی تھی جو وہ بالکل آرام سے چل رہی تھی۔
مجھے لگا تھا اس دن سوپ الٹوانے کے بعد تم سنتھیا کے ساتھ دوستی سے تائب ہو جائو گی مگر آج تمہاری پریشانی دیکھ کر مجھے شک ہو رہا ہے کہ میرا پہلا شک درست تو نہیں تھا۔
اس نے ہم قدم چلتے یونہی چھیڑا تھا اسے۔
مجھے بھی لگا تھا مگریہ بھی سچ ہے وہ میری بچپن کی واحد دوست ہے میں اس سے محبت کرتی ہوں۔میرے اس پر غصے پر اسکی فکر حاوی ہے۔
اریزہ کا جواب نپا تلا تھا۔
یعنی میرا پہلا والا شک درست تھا ۔ تم سنتھیا سے محبت کرتی ہو۔۔
ہیون جیسے سب معاملہ سمجھ گیا۔
ایویں اس وقت تم مجھ سے ناراض بھئ ہوگئ تھیں۔ جانے کیوں لڑکیاں اپنے دل کی بات کھل کر نہ کہتی ہیں نا مانتی ہیں۔
ہیون تاسف سے سر ہلا رہا تھا۔
کونسا پہلا شک؟ ناراضگئ۔
اریزہ نے الجھن بھری نگاہ سے دیکھا۔ پھر دماغ کے گھوڑے سرپٹ دوڑے۔ بھنا ہی تو گئ
کیا مطلب ہے کس وقت کی بات کر رہے ہو؟
جب تم کہتی تھیں ایسی کوئی بات نہیں سنتھیا صرف دوست ہے میری تم تو اس سے محبت میں مبتلا ہو۔
وہ مسکراہٹ دبا کر پکا سا منہ بنا کر بولا۔
پھر پھر؟۔۔
اسے غصے کے مارے کچھ سوجھا ہی نہیں۔ مٹھیاں بھینچ کر وہیں پیر پٹخ کر بولی
سنتھیا میری دوست ہے میں اس سے پیار کر تی ہوں مگر جیسا تم سوچ رہے ویسا کچھ نہیں سمجھے۔
آراسو آراسو۔ وہی تو سنتھیا تمہاری گرل فرینڈ ہے۔
ہیون شرارت پر آمادہ تھا۔بالکل سنجیدہ شکل بنا کر سر ہلانے لگا۔
ہیون۔ اسکا انداز ڈانٹنے والا ہو چلا۔
ایسا ویسا کچھ نہیں۔ میں اسے دوست کے طور پر ہی چاہتی ہوں۔ اور تم آج تک یہ بات لیئے بیٹھے ہو تمہیں یقین کیوں نہیں آتا۔۔
اسے سچ مچ غصہ آرہا تھا۔ وہ دونوں چلتے ہوئے گاڑی کے پاس پہنچ چکے تھے۔
اچھا ۔۔اچھا غصہ کیوں کر رہی ہو۔
ہیون نے آرام سے کہا اور آگے بڑھ کر گاڑی انلاک کرنے لگا۔ مقصد اسے تپانا نہیں تھا وہ تو بس یونہی دل۔لگی کر رہا تھا مگر اریزہ تپ گئ۔
میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں۔ یہ کام کوریا میں ہوتے ہوںگے ہم پاکستانی نارمل ہوتے ہیں لڑکیوں کو لڑکے پسند ہوتے ہیں او رلڑکوں کو لڑکیاں آئئ سمجھ۔
گاڑی کا دروازہ کھولتے ہیون نے محظوظ سی مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔
تو تمہیں لڑکے پسند ہیں۔ لڑکیاں نہیں۔
بالکل۔
وہ آج اسکی غلط فہمی دو رکر دینا چاہتی تھی۔
کیسے لڑکے پسند تمہیں؟ موٹے گنجے بڑی عمر کے یا۔۔
اس نے گاڑی کی چھت پر بازو ٹکا ہاتھ کی پشت پر تھوڑی رکھتے ہوئے دلچسپی سے دیکھا۔۔
موٹے گنجے بڑی عمر کے۔ اسکے ذہن میں سجاد گھوم گیا۔ وہ موٹا گنجا تو خیرنہیں تھا مگر ہاں اسکا آئیڈیل بھی نہیں تھا۔ اسکا آئیڈیل۔۔ وہ سچ مچ سوچ میں پڑی۔
موٹے نہ ہوں اسمارٹ ہوں بال بھی سر پر ہونے چاہیئے لمبے ہوں گورے کالے سے فرق نہیں پڑتا بس بندے کی صورت ایسی ہو جیسے ابھی مسکرا دے گا غصہ ور تنک مزاج لڑکے ذہر لگتے۔
لمبا چلے گا؟ ہیون اسکے ساتھ کسوٹی کھیل رہا تھا جیسے۔
اس نے فورا سر ہلایا۔
ہاں لمبا ہونا چاہیے میں اتنی لمبی نہیں اوپر سے وہ بھی گٹھا ہوا تو بچے۔۔۔
روانی میں وہ کیا بولنے جا رہی تھی سٹپٹا کر بریک لگائی
لمبا گورا اسمارٹ لڑکا ہو جو ہر وقت مسکراتا ہو ۔۔
ہیون نے یہ بات جان کے مسکرا کر کہی تھی۔ اریزہ گڑبڑا گئ۔
اچھا آئیڈیل ہے۔
ہیون کا انداز معنی خیز تھا ۔ اس نے جلدی سے اپنی جانب سے گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھنا چاہا پھر رک سی گئ۔ اس جانب سیٹ کے آگے اسٹئیرنگ ویل لگا ہوا تھا۔وہ حسب عادت رائٹ ہینڈ ڈرائیو کے حساب سے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب آن کھڑی ہوئی تھئ۔
ہیون کھل کے ہنس دیا۔ وہ اسکے لیئے ہی دروازہ کھل کر بٹھانے کیلئے پسنجر سیٹ کی طرف بڑھا تھا۔ وہ۔کھسیا کر سر کھجاتئ بڑبڑاتی ہوئی گھوم کر اسکی طرف آئی۔ اس نے ایک طرف ہو کر اسکے لیئے دروازہ کھولا تھا۔
اور مہزب بھی ہو۔
اریزہ نے اسکے مہزبانہ انداز کو دل ہی دل میں سراہتے ہوئے سوچا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوپ کچن میں کھڑی کھانا بنا رہی تھی جب وہ گھر پہنچی۔ سیدھا اندر آتے آتے خیال آیا تو پلٹ کر دروازے کے پاس رکھے شو ریک میں جوتے بدل کر اندر داخل ہوئی۔ بیگ سنبھالتی اسے سلام کہتی سیدھا کمرے میں گھس گئ۔ ہوپ پیچھے پیچھے آئی۔
کہاں رہ گئ تھیں؟ اکیڈمی سے تو اتنی دیر نہیں لگتی تمہیں۔۔
اسکے انداز میں فکر تھی۔ بیڈ پر دھپ سے بیٹھتی اریزہ نے حیرانگی سے دیکھا اسے۔وہ بدستور سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی اس نے گہری سانس لی۔
پولیس اسٹیشن گئ تھی۔ میری سہیلی کہیں بنا بتائے چلی گئ ہے۔رپورٹ درج کروائی ہے۔ اللہ کرے وہ خیریت سے ہو۔
کون گوارا؟
وہ چونکی۔
آنی۔ ( نہیں) ۔ سنتھیا۔ وہ میری بچپن کی دوست ہے پاکستانی ہے وہ بھی۔
اس نے تفصیلا بتایا۔
تمہاری دوست ہے؟ بچپن کی کہاں ہوتی ہے میں نے تو نہیں دیکھا اسے۔
ہوپ کو ٹھیک ٹھاک حیرت ہوئی تھی۔ اریزہ نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
ہماری لڑائی ہوئئ وی تھی۔
فون کیوں آف ہے تمہارا؟ اتنی مرتبہ کال ملائی میں نے۔ یہاں میں تمہاری گمشدگی کئ رپورٹ درج کروانے کا سوچنے لگی تھی۔
ہوپ کی پریشانی اسکے لیئے خاصی خوشگوار حیرت کا باعث تھی۔
فون خراب ہوگیا میرا۔ ٹوٹ گیا۔
اسکے انداز میں دکھ اتر آیا۔ جواب دے کر اردو میں بڑبڑانے لگی۔
اف نیا فون بھی لینا پڑے گا اب مجھے۔ ایڈون کی تو۔۔
کتنا جنگلی انسان ہے کمینہ۔ الو کا۔۔
اسکو دل بھر کر گالیاں دینے کا دل کر رہا تھا۔ کہاں اس نے کبھی اسے غصے سے بے قابو ہوتے نہ دیکھا تھا کہاں آج وہ اس پر شائد ہاتھ بھی اٹھا دیتا اگر ہیون اور کم سن نہ ہوتے۔ اسے سوچ کے پھر غصہ آرہا تھا۔ مٹھیاں بھینچ کر رہ گئ
اچھا۔ چلو کھانا کھالو۔ سبزیوں کا سوپ بنایا ہےساتھ سادے چاول ہیں۔
ہوپ نے اسکے چہرے کے اتار چڑھائو کو بغور دیکھا تھا جبھی بات بدل دی۔۔۔ اریزہ کا منہ کھلا ہوپ نے آج شائد حیران کر کرکے مار دینا تھا۔
اچھا ۔۔ اسے بھوک لگ تو رہی تھی۔ ہیون کے بار بار کہنے پر بھی وہ کھانے کو تیار نہ ہوئی تھی مگر اب چوہے دوڑ رہے تھے سو بنا مزید نخرے کیئے اسکے ساتھ کچن میں چلی آئی۔
سادے چاول سوپ کے ساتھ ملا کر کھانا نیا تجربہ تھا مگر ذائقہ دار تھا۔ کھاتے کھاتے یاد آیا
انی سے ملاقات ہوئئ تھی آج۔ انکی شادی ہو رہی ہے انہوں نے تمہارے لیئے بھی کارڈ بھیجا ہے۔
ہوپ نے ایکدم سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھی۔
انہوں نے او رکچھ کہا؟
اسکے انداز میں بے تابی تھی۔
اور تو کچھ نہیں۔ اس نے کندھے اچکائے پھر یاد آیا۔
ہاں کل چین جا رہی ہیں ہفتےایک رہیں گی۔ جبھی خود کارڈ دینے نہ آسکیں میرے ہاتھ بھجوادیا۔
انی کل چین جا رہی ہیں۔
وہ بے چین سی ہوگئ ۔
مجھے تو لگا تھا وہ اب تک چین سے ہو کرواپس بھی آچکی ہوں گی۔
اسکے چہرے پر۔تفکر دیکھ کر اسے بھی تشویش ہوئئ
تم ٹھیک ہو؟ انکے چین جانے سے تمہیں کوئی مسلئہ ہے؟
ہاں۔ انکو بہت پہلے جانا تھا اب تک واپس بھی آجانا تھا۔ مگر ظاہر ہے انکو اس بات کی کیا فکر کہ میں کتنی پریشان ہوں۔ انکا مسلئہ تھوڑی۔ پتھر دل ہیں ایکدم ذرا پروا نہیں کہ مجھ پر کیا بیت رہئ ہے
وہ چڑ رہی تھی۔ انی جیسی لڑکی سے بے مروتی سنگدلی کی اسے امید تو نہیں تھی پھر بھی ہوپ سے پوچھ لیا۔
ہوا کیا ہے تمہارا کوئی کام کرنا تھا انی نے؟
کر ہی تو نہیں رہی ہیں کب سے ٹالے جا رہی ہیں۔ میں نے اپنی ماں کا پتہ کروانا تھا جانے کہاں ہیں کس حال میں ہیں چین میں ہی ہیں یا واپس اس جہنم میں پہنچ گئیں ہیں۔ مگر ظاہر ہے یہ پریشانی میری ہے انہیں کیافکر۔
اسکا دل اچاٹ ہو گیا تھا۔ کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اریزہ تسلئ دینا چاہ رہی تھی مگر سمجھ نہ آیا کیا کہے۔ سو کھانے کیلئے ہی روکنے لگی۔
کہاں جا رہی ہو کھانا تو پورا کھا لو۔
ہوپ سر جھٹکتئ پلیٹیں سمیٹنے لگی۔
نہیں بس میرا دل بھر گیا۔تم کافی پیئوگی؟
پل میں تولہ پل میں ماشہ وہ اب مہمان نوازی کے موڈ میں تھی۔ نیکی اور پوچھ پوچھ اس نے بھی جھٹ سر ہلادیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوپ بیڈ پر بیٹھی اپنے ٹرائوزر کو گھٹنے تک چڑھائے دوا لگا رہی تھی۔ وہ وضو کرکے باتھ روم سے نکلی تو پہلی نظر اسکے زخم پر پڑی ۔۔
یہ کیسے چوٹ لگی۔؟ وہ فطرت سے مجبور تھی شائد۔
ہوپ نے گہری سانس لیکر سر جھٹکا جیسے کہہ رہی ہو تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔
گر گئ تھی۔
مختصر جواب تھا۔ ہوپ کے مزاج کا ابھی بھی اسے پتہ نہیں لگتا تھا پل میں تولہ پل میں ماشہ سو مزید بہناپا دکھانے کی بجائے خود نماز کی تیاری کرنے لگی۔
تمہیں ہاتھ پر پانی نہیں لگانا چاہیئے تھا۔
ہوپ پر شائد اسکا اثر ہوا تھا۔
اتنا گہرا زخم نہیں تھا میرا۔۔۔ پانی زخم پر ٹھیک ٹھاک چبھا تھا مگر کھرنڈ سا آرہا تھا خون نہیں نکلا تو اس نے ہاتھ منہ دھو کر وضو کر لیا تھا۔ اسے جواب دیتئ وہ
کمرے کے کونے میں صاف چادر بچھا کر دوپٹہ اچھی طرح لپیٹ کر نیت باندھنے لگی ۔۔۔ ہوپ بینڈیج لگا کر نائٹ لیمپ جلا کر لیٹنے ہی لگی تھی کہ اسے دیکھ کر خیال آیا تو اٹھ کر بیٹھ گئ۔
تمہارا سونے کا ارادہ نہیں ہے؟ کیا کرنے لگی ہو؟
آں۔ اریزہ چونکی۔
نہیں مجھے نماز پڑھنی ہے۔ تم اگر تنگ ہو رہی ہو تو میں باہر چلی جاتی ہوں۔
شکر تھا ابھی نیت باندھی نہیں تھی۔ فورا جھک کر سمیٹنے لگی تو ہوپ ہاتھ اٹھا کر بولی
میں تنگ نہیں ہوتی میرے سرہانے نقارہ بھی بجا لو تو میں سوجائوں گئ تم پڑھ لو نماز۔۔
ہوپ کے کہنے پر وہ سر ہلا کر چادر ٹھیک کرنے لگی۔
تمہارے خدا کا کیا نام ہے؟
ہوپ کے سوال پر وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی
مطلب؟
مطلب جیسے بدھ متی کے گوتم بدھ ہیں ، عیسائیوں کے جیزز ہوتے تم لوگ اپنے خدا کو کیا کہتے۔
اس نے وضاحت کی۔
اللہ۔
اریزہ کا جواب مختصر تھا۔
تمہارا اللہ تمہاری دعائیں سنتا ہے؟
اسکا اگلا سوال حاضر تھا۔
اریزہ نے پلٹ کر اسکی شکل دیکھی ۔ وہ سنجیدگی سے اسکے دیکھتے ہوئے جواب کی منتظر تھی۔ اریزہ سہولت سے وہیں چوکڑی مار کر بیٹھ گئ۔
ہاں۔ اللہ سے جب میں نے تڑپ تڑپ کر دعا مانگی ہے اس نے سنی ہے۔ میرے ساتھ تو معجزہ بھی ہوا ہے۔ نا ممکن نظر آنے والا کام ہوا ہے۔ اور ۔
وہ روانی میں کہتے کہتے رکی۔پھر دھیرے سے بولی
ممکن نظر آنے والا ایکدم ناممکن میں بدل گیا۔
اسے یاد آیا کس طرح اچانک اسکا بیچ سمسٹر تعلیمی سلسلہ منقطع ہوا۔۔
کونسا ناممکن کام ہوا ہے تمہارا۔۔
ہوپ نے پھر سوال کیا۔
یہی کوریا آنے والا میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میں کبھی کوریا آکر تعلیم حاصل کرسکوں گی۔ اسکے لیئے میں جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔
اریزہ کے انداز میں اتنی شکر گزاری تھی کہ ہوپ اسے دیکھ کر رہ گئ
مگر تمہارا تو سمسٹر سیز ہوگیا ہے نا۔
ہوپ نے اسکئ دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا
ہاں۔۔ نہیں۔ میرا مطلب اب دوبارہ اگلے سمسٹر میں داخلہ لے لوں گی انشا اللہ۔
اریزہ نے وثوق سے کہا ۔۔
انشا اللہ؟؟؟
ہوپ پھر سوالیہ ہوئی۔
اسکا مطلب ہوتا ہے اللہ کی رضا کے ساتھ۔ یہ کہہ دو تو خدائی مدد ساتھ ہو جاتی ہے پھر ضرور کام ہوتا ہے۔
اریزہ کے کہنے پر وہ چند لمحے سوچ میں پڑی ۔۔
اریزہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
پھر تم کیا انشا اللہ کہہ سکتی ہو کہ میرے بہن بھائیوں اور ماں کا پتہ چل جائے۔
ہوپ نے جانے کس امید کی ڈور تھامے فرمائش داغی تھی۔
اریزہ اسکی شکل دیکھ کر رہ گئ۔ ہوپ کو امید چاہیئے تھی زندگی کی گاڑی کھینچنے کیلئے۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
انشااللہ۔۔ انکا جلد سے جلد پتہ لگ جائے گا۔۔۔
اریزہ نے خلوص نیت سے دعا کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل بھر آیا تھا۔ اسکی نماز طویل سے طویل ہوگئ تھی۔ قضا نمازیں پڑھنے کے بعد اس نے نفل پڑھے تھے سنتھیا کی خیر و عافیت کیلئے۔ دونوں ہاتھ پھیلا کر دعا مانگتے رو پڑی تھی۔
یا اللہ تو جانتا ہے مجھے سنتھیا کی بہت پروا ہے وہ صرف سہیلی نہیں میری بہن جیسی ہے۔ مجھے اس پر غصہ آیا بہت آیا مگر تو جانتا ہے میں نے۔۔ ہچکی۔۔
کبھی میں نے اسکا برا نہیں چاہا اسکو اپنی امان میں رکھنا میرےاللہ۔جانے وہ کہاں کس حال میں ہے اسکو اپنی حفاظت میں رکھنا میرے اللہ۔ دعائیں مانگتے مانگتے اسے ہوپ کی التجا آمیز نگاہیں یاد آئیں تو خود بخود وہ بھی اسکی دعا کا حصہ بن گئ۔
یا اللہ ہوپ پر رحم فرما اسے اسکے گھر والوں کی۔خیر و عافیت کی اطلاع دے۔ اس کے بہن بھائی ماں باپ سب خیریت سے ہوں۔ اسکا انتظار ختم کر دے۔ آمین۔
دیر تک دعائیں کرنے سے اسکا دل ہلکا ہوگیا تھا۔ سلام پھیر کر جاء نماز سمیٹتی وہ اٹھی تو احساس ہوا کافی دیر ہوگئ ہے نماز پڑھتے پڑھتے۔ بیٹھے بیٹھے کمر اکڑ گئ تھی۔ ہوپ شائد سو چکی تھی۔ اسکی مدہم سانسوں کی آواز گہری نیند کا پتہ دے رہی تھی۔ اس کے اوپر کمبل درست کرتی وہ خود بھی اسکے برابر آلیٹی۔ چند ہی لمحوں میں غافل بھی ہوگئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح وہ تا دیر سوتی رہی تھی۔ اتنی دیروہ بھی گہری نیند کہ جب اسکی آنکھ کھلی تو کچھ دیر تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کہاں ہے۔ چند لمحے آنکھیں کھولنے میں لگاتے ہوئے اس نے بیڈ پر ہاتھ مارتے ہوئے موبائل ڈھونڈا تھا۔ تکیئے کے نیچے بیڈ سائیڈ میز اچھل کر اٹھ بیٹھی۔ پھر یاد آیا تو سر پر ہاتھ مار کر رہ گئ۔
سامنے دیوار پر سجی گھڑی دو بجا رہی تھی۔ کلاس مس ہو چکی تھی۔ بھوک بھی شدید تھی۔ سو فورا تازہ دم ہونے نہانے گھس گئ۔ نہا دھو کر گیلے بال تولیہ میں لپیٹے وہ سیدھا باورچی خانے میں چلی آئی۔ میز پر بڑی سی جالی دار ٹوکری سے کچھ ڈھکا ہوا تھا۔ اس نے اٹھا کر دیکھا تو ایگ رول آملیٹ توس مکھن اور بنانا ملک کا پیک رکھا ہوا تھا۔۔
ہوپ تم اتنی بھی ہوپ لیس نہیں ہو۔ وہ زیر لب کہتی اہتمام سے ناشتہ کرنے بیٹھ گئ۔
بنانا ملک پیتے ہوئے ہاتھ پر دوا لگا رہی تھی جب داخلی دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔
ہیون ہوگا وہ جلدی جلدی دوا کا ڈھکن لگاتی اٹھی اور بنا کیمرے میں دیکھے دروازہ بھی کھول دیا۔ خلاف توقع سامنے کم سن تھا۔
اسکے چہرے پر اتنی حیرانی آئی کہ کم سن کان کھجانے لگا۔
آننیانگ۔۔ اندر آجائوں؟
آہاں ۔۔ آئو۔ وہ گڑبڑا کر اسے راستہ دینے لگی۔ کم سن گیلری میں لگے شو ریک میں جوتے بدلتا ہوا اندر چلا آیا۔
تم اکیلی ہو۔گھر میں؟ ہوپ بھی نہیں ہے؟
وہ طائرانہ نگاہوں سے اپارٹمنٹ کو دیکھتا پوچھ رہا تھا۔
ہاں فی الحال اکیلی ہوں۔ ہوپ جاب پر گئ ہے۔
اسے کھد بد سی ہورہی تھی سو پوچھے بنا نہ رہ سکی۔۔
تم یہاں کیسے خیریت؟ سنتھیا کا کچھ پتہ لگا؟
نہیں۔ کم سن نے گہری سانس لی۔
تم سے بھی سنتھیا کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے؟
کم سن کے سوال پروہ اسے دیکھ کررہ۔گئ۔
جانے کہاں چلی گئ ہے احمق۔
اس نے دانت پیسے۔۔
میں تم سے اس کے بارے میں بات کرنے آیا ہوں۔
بیٹھو۔
وہ سہولت سے لائونج میں بچھے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اسے دعوت دے رہا تھا۔
سب ٹھیک ہے نا؟؟؟۔۔
وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی صوفے پر آبیٹھی۔
سنتھیا سے تمہاری بچپن کی دوستی ہے نا؟
ہاں۔۔ اریزہ بنا توقف بولی۔
کتنی دوستی ہے تمہاری اس سے؟ پریشان ہو تم اسکے یوں گم جانے پر؟
کم سن کسوٹی کھیل رہا تھا وہ۔جھلا گئ
ظاہر سی بات ہے وہ میری دوست کم بہن جیسی ہے مجھے اسکی شدید فکر ہو رہی ہے جانے کہاں ہے کس حال میں ہے۔
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے وہ تمہارے ساتھ کافی کمینہ پن دکھا چکی ہے۔ بد تمیزی کرتی رہی ہے اور پھر بھی تم اس دن والے سوپ کے واقعے کے باوجود اس سے ناراض نہیں ہو ۔۔ ہےنا۔
اس کی تمہید اسے مزید دہلانے لگی تھی۔
ہاں کیوں۔ اسکا دل دھڑ دھڑ کرنے لگا۔ کم سن نے بغور اسکی پریشان صورت دیکھی۔
سنتھیا ٹھیک تو ہے نا؟
اریزہ کو برے برے وہم ستانے لگے تھے۔
کم سن نے گہری سانس لی اور صوفے کی پشت سے سر ٹکا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن اسے اور ایڈون کو ریستوران لیکر آیا تھا۔
پورک اسٹیک ساتھ ویج سوپ نوڈلز۔ تین جگہ۔
ویٹر کو کھانے کا آرڈر دے کر اس نے جلدی لانے کی تاکید بھئ کر دی تھی۔
تم دونوں بیٹھو کھانا کھائو میں چلتا ہوں۔۔۔مجھے بھوک نہیں ہے۔۔ ایڈون دامن چھڑا کر نکلنا چاہ رہاتھا۔
کم آنے۔ یون بن نے ہاتھ پکڑ کر روکا۔
میری بھوک سے جان نکلی جا رہی ہے۔ ذیادہ زور نہیں لگا سکتابیٹھ جائو۔ صبح سے تم نے کچھ نہیں کھایا ہے۔
مگر مجھے بھوک نہیں ہے کچھ کھانے کا موڈ نہیں ہے میرا بس اب گھر جائوں گا۔۔ ۔۔
ایڈون کا سچ مچ کچھ کھانے کا دل نہیں تھا ۔ کم سن خاموشی سے ہتھیلی پر تھوڑی جمائے میز پر کہنی ٹکا کر ان دونوں کا محبت بھرا منظر دیکھ رہا تھا۔
باہر بارش ہو رہی ہے کھانا کھالو میں گھر ڈراپ کردوں گا۔
یون بن نے گلاس وال سے باہر چھلا چھل برستی بارش کو دیکھ کر کہا تو ایڈون سر جھٹکتا اٹھ کھڑا ہوا
پنڈی کا رہائشی ہوں بارش سے فرق نہیں پڑتا چلتا ہوں۔
پنڈی میں بہت بارشیں ہوتی ہیں۔ یون بن نے دلچسپی سے پوچھا۔
ہاں۔ ایڈون مصافحہ کرکے نکلنا چاہ رہا تھا ۔۔
اوکے۔ بائے۔۔
یون بن نے ہاتھ نہیں چھوڑا۔
برفباری بھی ہوتی ہے؟ اگلا سوال حاضر تھا۔
نہیں۔۔۔ ایڈون نے دانت پیسے۔
ویٹر کھانا لے آیا تھا۔۔ میز پر رکھے چھوٹے سے چولہے پر گوشت انہوں نے خود تلنا تھا۔ سوپ کے پیالے اچار اور سلاد کے پتے سجا کر کچے گوشت کی ٹرے لا کر اس نے میز پر رکھی تھئ یوں کے یون بن بیٹھا ہوا ایڈون اسکے ہاتھ میں ہاتھ پکڑائے اسے گھور رہا تھا۔ ویٹر کے چہرے پر واضح حیرانگی تھی مگر بولا کچھ نہیں کھانا سجا کے چلا گیا۔
ہاتھ چھوڑ کر بات کرو۔
نہیں چھوڑوں گا کھانا بھئ آگیا ہے اب کھا کر ہی جا سکتے ہو تم۔۔
یون بن کی دھونس بھری فکر ایڈون کے نخرے۔۔
بس کرو ایویں سب کو مشکوک کر رہے ہو دونوں۔
کم سن نے بیزار سے انداز میں ٹوکتے ہوئے گوشت کے پارچے تلنے شروع کردیئے۔ ایڈون کا ہاتھ یون بن چھوڑ ہی نہیں رہا تھا سو اسے گھورتے ہوئے بیٹھنا ہی پڑا۔
کھانا کھا کر اٹھنے تک بارش رک چکی تھی۔
وہ تینوں بئیر کین تھامے اکٹھے ہی باہر نکلے۔
تم فکر نہ کرو غیر ملکی ہونے کی وجہ سے اسکو ترجیحی بنیاد پر ڈھونڈا جا رہا ہوگا۔ اب تک تو پاکستان ایمبیسی سے رابطہ بھی کر لیا ہوگا دیکھنا ذیادہ سے ذیادہ کل رات تک اسکا پتہ چل جائے گا۔
یون بن نے تسلی دیتے ہوئے اسکا کندھا تھپکا تھا۔ جوابا وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلانے لگا۔
اریزہ کافی پریشان لگ رہی تھی۔
کم سن نے یونہی کہا تھا مگر ایڈون چلتے چلتے رک کراسے دیکھنے لگا۔۔
ظاہر سی بات ہے دوست ہے وہ ۔ پریشان تو ہوگی وہ دیکھا نہیں تھا اسکا بس نہیں تھا کہ ایڈون کو پیٹ ہی دے۔ خاصا کرارا تھپڑ لگایا ہے اس نے۔
یون بن نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تھا۔
ایڈون بھی لگانے لگا تھا کہ میں اور ہیون بیچ میں آگئے۔
کم سن نے اسے جتایا ہی تھا ۔۔ یون بن نے بے یقینی سے شکل دیکھی اسکی
ناممکن۔ ایڈون کبھی اس پر ہاتھ اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
اسکی بات کے جواب میں ایڈون کے سر جھکا لیا۔
میں آجکل بہت کچھ ایسا کر رہا ہوں جو میں عام دنوں میں کرنے کا سوچ بھئ نہیں سکتا۔
ایڈون نے کین خالی کرکے اسے مٹھی میں بھرے بھرے مروڑ دیا تھا۔
کین چھنا کین چھنا۔۔
یون بن اسکا کندھا تھپکنے لگا۔۔
انسان کی اصلیت غیر معمولی حالات میں ہی کھلتی ہے۔
کم سن کو اسکے اعتراف پر مزید غصہ ہی آیا تھا۔
حالات کو کم طاقتور نہیں سمجھنا چاہیئے ان میں انسانوں کویکسر بدل دینے کی طاقت ہوا کرتی ہے۔
ایڈون کو اس پر غصہ نہیں آیا تھا۔ بہت سبھائو سے اسے کہا تھا۔ کم سن نے سر جھٹکا۔وہ گاڑی کے پاس پہنچ چکے تھے سو یون بن نے صلح کا پرچم لہرایا ان کے بیچ۔
اچھا چلو بیٹھو دونوں ۔گاڑی انلاک کرتا یون بن ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھا تھا۔۔
کم سن کا موبائل بجا تھا۔ ٹیکسٹ میسج وہ بھی انگریزی میں۔۔ انجان نمبر سے۔۔
اس نے فورا کھولا۔
کم سن سنتھیا ہیئر تم سے بات ہو سکتی ہے ابھی؟
اس نے بے یقینی سے دو سے تین بار پیغام پڑھا۔
یون بن ہارن بجا کر اسے متوجہ کر رہا تھا۔
تم لوگ جائو مجھے ایک کام یاد آگیا ہے۔۔۔۔
یون بن نے سر ہلا کر گاڑی نکال لی تھی۔ گاڑی جیسے ہی نظروں سے اوجھل ہوئی تھی اس نے فورا اس نمبر پر کال ملا دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے مجھے صرف اتنا کہا کہ وہ اپنی دوست کے پاس ہے اور ٹھیک ہے۔ وہ جاب کرنا چاہتی ہے مگر فی الحال وہ کہاں ہے یہ کسی کو بتانا نہیں چاہتی۔ اس نے اپنا فون بھئ بند اسلیئے رکھا ہے کہ کوئی اس تک پہنچ نہ سکے۔
کم سن کی بات پر اس نے حقیقیتا اپنا سر تھام لیا تھا۔ اتنا بچپنا اتنی بڑی حماقت۔ اسے حالات سے لڑنے کے مشورے دینے والی یوں حالات سے بھاگ اٹھے گی۔
اسے غصہ آرہا تھا۔
تم فورا سے پیشتر پولیس کو اطلاع دو کونسا نمبر ہے جس سے اس نے تمہیں رابطہ کیا ہے؟
کم سن ہونٹ بھینچ کر اسے دیکھنے لگا۔ اسکی نگاہیں پڑھ کر وہ چڑ ہی گئ۔
تو اور کیا کروگے؟ ایڈون اسکے والدین سب کتنے پریشان ہو رہے ہیں اور وہ احمق کہیں چھپی بیٹھی ہے۔ اوپر سے تمہیں کال بھی کر رہی ہے کرنی ہی تھی کال تو ایڈون کو کرتی مجھے کرتی۔
اریزہ ۔ شانت رہو۔ اس نے ایڈون کو کال کیوں کرنی تھی وہ اسے مجبور کر رہا ہے ابارشن کیلئے۔ اور تم ۔۔
وہ۔کہتے کہتے رکا۔
دیکھو۔ اریزہ۔
ایمانداری سے کہوں مجھے یہی لگا تھا کہ وہ دوست تم ہو۔۔۔ میں یہاں آیا ہی اسی لیئے تھا کہ اس سے بات کروں۔
حدہے۔ اریزہ تاسف سے دیکھنے لگی۔
اتنی شدید پریشان تھی میں اسکے لیئے اور تمہیں لگا وہ میرے پاس ہے؟
ہاں۔ اس نے صاف گوئی سے کام لیا۔۔
کل جس طرح تم ایڈون کے ساتھ پیش آئیں وہ غیر معمولی تھا۔مجھے یہی لگا کہ کوئی تم پرشک نہ کرے اسلیئے تم اتنا صدمہ دکھا رہی تھیں۔
اریزہ اسے گھور کر رہ گئ۔
اب بتائو اسکی اور کوئی دوست ہے جس کا تم سوچ سکتی ہو جس کے پاس وہ جا کر رہ سکتی ہو۔
کم سن کے کہنے پر اس نے چند لمحے تو سوچا۔پھر سر نفی میں ہلانے لگی۔
یقینا کسی غیر معروف ہوٹل یا سونا میں رکی ہے۔ دوست اسکی صرف یہاں میں ہوں۔ گوارا تک سے تو اسکی دوستی نہیں ہوئی وہ اور کہاں سے دوست بنائے گی۔جھوٹ بول رہی ہے یقینا۔
کرم۔۔ کم سن اٹھ کھڑا ہوا۔
اس نے مجھ سے رابطہ کیا ہے یقینا اسے بھروسہ ہوگا کہ میں اسکا پتہ کسی کو نہیں دوں گا۔ اس نے مجھے خود کال کرنے کا کہا ہے اسکی پھر کال آئے گی تو میں اسے سمجھانے کی کوشش کروں گا اور تمہیں بھئ اسکی خیریت کی اطلاع دے دوں گا۔ فکر نہ کرو۔۔
اسکی تسلی بھی اسے مطمئن نہ کر سکی۔ فکرمندی اسکے چہرے سے عیاں تھی۔
پولیس کو تو بتا دو۔ کہاں ہے وہ کم ازکم پتہ تو چلے۔
وہ جہاں ہے ٹھیک ہے۔ اس بارے میں مجھے رتی بھر بھی شبہ ہوتا تو یہاں آنے کی بجائے پولیس اسٹیشن جاتا۔ تم بھی گھبرائو مت۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں اگر اس نے مجھ پر بھروسہ کیا ہے تو اسکا بھروسہ ٹوٹے نا۔ میں اسے سمجھاکر خود واپس آنے کو کہوں گا۔ ٹرسٹ می۔
وہ سبھائو سے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہہ رہا تھا۔ اس نے سمجھ کر سر ہلا دیا۔
میں پہلے جاتا ہوں۔
وہ الوداع کہتا نکل گیا ۔ وہ وہیں صوفے پر گر سی گئ۔
حد ہے حد۔ تمہاری رج کے پٹائی ہونی چاہیئے ۔۔سنتھیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیون کے ہم قدم چلتے اکیڈمی کے راستے میں اس نے پورا قصہ سنایا تھا۔
مجھے تو حیرت ہے اس نے کم سن سے رابطہ کیوں کیا؟
اریزہ بھر پور حیرت کا اظہار کر رہی تھی۔
اور مجھے حیرت ہے کم سن اسکی فکر کیوں کر رہا ہے؟
ہیون کے مشکوک ہونے پر وہ گھور کر بولی
کم سن اچھا لڑکا ہے اسکی جگہ تم بھی ہوتے تو ایسا ہی کرتے۔
نہیں۔ ہیون نے اپنے اپر کی جیب میں ہاتھ ڈالے۔ اور اطمینان سے بولا۔
میں ہوتا تو اس نے جو جو بد تمیزیاں تمہارے ساتھ کی ہیں سب جتاتا اور کہتا کسی اور سے فیور لو مجھ سے کوئی امید نہ رکھنا۔
اریزہ کا۔حقیقتا منہ کھلا رہ گیا تھا
ہیون اسکی حیرت پرخاصا محظوظ ہوا ۔۔ سڑک پار کرنے والوں کا سگنل بند تھا۔
کیا ہوا حیران کیوں ہو رہی ہو ؟ تم میری دوست ہو وہ نہیں تم میرے لیئے اہم ہو جو تمہارے ساتھ بد تمیزیاں کرے گرم سوپ پھینکے اسکا منہ نہ بھی توڑسکوں اسکو منہ تو ہرگز نہ لگائوں میں۔ منہ توڑا بھی تمہاری وجہ سے نہیں۔ تم اسے ابھی بھی اپنا دوست مانتی ہو۔پھابو۔
اس نے کندھے اچکائے۔
اسکو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔ مسکرا کر سر ہلایا۔
سگنل کھل گیا تھا۔اسے سر جھکائے سوچ میں گم مسکراتے دیکھ کر ہیون نے ہی اسکو ہلایا۔
چلو۔
وہ چونکی۔ باتوں باتوں میں اسے پتہ بھی نہ لگا تھا کہ اکیڈمی آگئ ہے۔
میں اتنے دنوں میں ایک بار بھی راستہ نہیں دیکھ پائی۔ تم مجھے باتوں میں لگا لیتے ہو میں اردگرد دیکھتی ہی نہیں۔ اب جس دن تم نہیں آئوگے ساتھ میری چھٹی ہوجانی ہے۔
اریزہ کے منہ پھلا کر الزام دھرنے پر وہ ہنسا تھا۔
تمہاری چھٹئ نہیں ہونے دوں گا بے فکر رہو۔ اسکے اطمینان دلانے پر بھی وہ منہ پھلائے رہی۔اسکا بیگ ہیون نے ہی تھام رکھا تھا وہ خود ایک شاپنگ بیگ تھامے تھی۔۔ سیڑھیاں چڑھ کر اس نے بیگ تھمایا اریزہ کو۔وہ بیگ سنبھالتی خدا حافظ کہتی اندر جانے لگی تو ہایون نے پکار لیا۔
اچھا سنو۔۔۔ پرسوں اسکینگ کا پروگرام تھا میرا جو برباد ہوا ۔ اب آج واپسی پر میں گاڑی لیکر آئوں گا اسکینگ کرنے چلیں گے۔
اس نے فٹا فٹ پروگرام سیٹ کیا
اسکینگ؟ مجھے نہیں کرنی آتی اسکینگ۔ میں نے آج تک نہیں کی۔
اریزہ گھبراگئ ۔
کوئی بڑا مسلئہ نہیں سب پہلی بار کبھی نہ کبھی اسکینگ کرتے ہی ہیں۔ تم اپنا جیکٹ یاد سے اٹھا لینا۔ کلاس میں بھول آئی تھیں نا؟
اس نے اریزہ کے اعتراض کو چٹکیوں میں اڑایا تھا۔
اس نے سر ہلا دیا۔
چلو اندر جائو میں چلتا ہوں۔ ہایون نے اسے اندر جانےکو کہا پھر جاتے جاتے مڑ کر تاکید کی
میں کال کروں گا تو باہر آجانا ۔
میرا موبائل کل ٹوٹ چکا ہے یاد آیا؟
اس نے یاد دلایا۔
مائئ بیڈ اچھا میں اوپر ہی آجائوں گا۔ تم کلاس میں ہی رہنا ۔
اس نے فورا اگلا پروگرام سیٹ کردیا۔ وہ ہاتھ ہلاتا تیز قدم اٹھاتا سیڑھیاں اتر گیا۔ ریلنگ کے پاس آکر وہ اسکو سڑک پار کرتے تک وہ بلا ارادہ دیکھے گئ۔
مس اریزہ۔۔ کلاس شروع ہونے لگی ہے۔
کسی نے اسے دھیرے سے پکارا تو وہ چونک کے مڑی۔
سامنے سر علی کھڑے مسکرا رہے تھے۔
اوہ ہیلو۔ سر آپکے کپڑے۔
اس نے اٹینشن سا ہو کر تھیلا انکی۔جانب بڑھایا ۔ عین اسی وقت سر نے بھئ ایک تھیلا اسکی۔جانب بڑھایا تھا۔
آپکی جیکٹ۔
اوہ۔ وہ میں کلاس میں بھول۔گئ اسے شائد۔
اس پر گھڑوں پانی پڑا تھا۔ پہلے کوٹ اب جیکٹ۔ حد ہے لاپروائی کی اریزہ۔ وہ کوس کے رہ گئ خو دکو۔
آپ اسکو یہیں ریلنگ پر بھول گئ تھیں۔
سرکی مسکراہٹ گہری ہوگئ۔
اس نے کھسیا کر گھمسامنیدہ کہہ کر تھام لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس میں اسکو نیند سے جھٹکے لگنے لگے تھے۔ بچپن سے انگریزی سیکھنا اور بات تھی بڑے ہو کر ایک نئی اجنبی زبان سیکھنا خاص کر زبان بھی ایسی جس میں ذرا سا حلق پر کم زور دے کر آواز نکالنے پر لفظ کا مطلب ہی بدل جاتا ہے۔
ہنگل کو ٹونل لینگویج کہا جاتا ہے۔ حلق سے نکلنے والی آوازوں سے الفاظ کے مفہوم تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ۔
سرعلی بورڈ کی طرف مڑے ادھر اسکی بس ہوئی جمائی لیتے ہوئے اس نے سر ڈیسک پر ٹکا دیا۔
علی کی عادت تھی ہر نیا لفظ جملہ سکھاتے وقت وہ پوری کلاس سے دہرواتا تھا۔
میں کمچی شوق سے کھاتا ہوں۔
اس وقت بھی جب اس نے جملہ بول کر سب کو اپنے ساتھ بلوانا چاہا تو جواب میں کھلکھلاہٹیں ابھریں۔
وہ مسکرا کر مڑا۔
کیا ہوا؟
سر ۔۔ سب نے اریزہ کی جانب اشارہ کیا تھا۔
وہ سو گئ ہے۔ شائد۔
ایک نے شوخی سے پوچھا۔
ہم ہنگل میں کیسے کہیں گے کہ وہ لڑکی سو گئ ہے؟
ہنگل میں میل فی میل کیلئے الگ ورب استعمال نہیں ہوتا۔ وہ سوگئ ہے ہم۔لڑکے کیلئے بھئ استعمال کر سکتے ہیں۔
علئ مسکرا کر بولا۔
چلیں ہم دوسرا جملہ سیکھتے ہیں۔
اسے آرام کرنے دو مت تنگ کرو ۔۔
اس نے ہنگل میں جملہ دہرایا تھا۔
پوری کلاس نے شرارتا کورس میں دہرایا تھا۔
اریزہ ہڑبڑا کر اٹھ گئ تھی۔
صبح بخیر اریزہ۔
علی نے شرارت سے کہا تو پوری کلاس ہنس پڑی تھی۔
اریزہ کا منہ سرخ ہوگیا۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
حسب ہدایت اس نے جیکٹ پہن لیا تھا کوٹ خاص طور پر یاد سے اٹھایا بیگ سنبھال کر باہر نکل آئی۔ سورج نہیں نکلاہوا تھا بادل چھائے تھے۔ سردی کڑاکے کی تھی۔ ہیون کا انتظار کرتے قلفی جمنے لگی تھی جب اسکی دیو ہیکل گاڑی موڑ مڑی تھی۔ جتنی دیر میں وہ یو ٹرن لیکر آیا وہ نیچے سڑک پر اتر کر آگئ تھئ۔ ہیون کو اترنا نہیں پڑا وہ سیدھا بھاگ کر گاڑی کے پاس آئی۔ اس نے فورا دروازہ کھولا۔ اندر گرم گرم ماحول اسے کچھ سکون ملا۔
بہت سردی ہے آج۔ اس نے ہتھیلیاں رگڑیں۔
ہیون نے اسے سیٹ بیلٹ پہننے کی تاکید کرتے ہوئے گاڑی چلا دئ۔
کافی پیوگی؟
اس نے پوچھا جوابا اس نے نفی میں سر ہلادیا
ہاں۔ ورنہ مجھے پھر نیند آجانی ہے۔ پتہ ہے۔ ۔ آج میری اتنی بستی ہوئی۔ سخت شرمندہ ہورہی ہوں میں۔ اس نے منہ پھلا کر شکایت لگائی۔
کیوں کیا ہوا۔ ہیون نے دلچسپی سے اسکا سرخ ہوتا چہرہ دیکھا
اتنا گرم ماحول تھا کلاس کا مجھے نیند آگئ۔سب نے اتنا مزاق اڑایا۔ وہ ناک چڑھا کر بولی۔
ہیون مسکرا دیا۔
کوئی بات نہیں۔۔۔۔
سر علی دیکھنے میں کیسے سڑو کھڑوس سے لگتے ہیں سب کے ساتھ مل کر ہنس رہے تھے۔
اس نے جمائی لیتے ہوئے بتایا۔
ہیونگ بہت خوش مزاج انسان ہوتے تھے۔ بہت شرارتی اور زندہ دل۔
ہیون کی بات پر اسے صد فیصد یقین تھا۔
اندازہ ہوگیا مجھے کل سے کافی پی کر جائوں گی کلاس میں۔ ویسے اسکینگ ریزورٹ کتنا دور ہے؟۔
اریزہ نے پوچھا تووہ گاڑی کی اسکرین پر اشارہ کرکے بولا
بنا ٹریفک 45 منٹس کا راستہ ہے تم سو سکتی ہو نیند پوری ہو جائے گی تمہاری۔
وہ احتیاط سے گاڑی چلا رہا تھا سیول کی سڑکیں شفاف بنا کھڈوں والی وہ سو بھی سکتی تھی مگر اتنی بستی کے بعد سونا چاہیئے نہیں تھا اسے۔ سو جھٹ کانوں کو ہاتھ لگائے۔۔
نہ بابا نہ اب نہیں رسک لینا سونے کا۔ ۔ پوری آنکھیں کھول کر بیٹھوں گی ۔۔۔ایک دن میں ایک ہی بستی کافی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹریفک آج تھا۔۔۔ شفاف سڑک طویل راستہ آج ہیون بھی خلاف معمول خاموش تھا۔ وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتی چپ ہوئی اس وقت گاڑی ٹریفک میں پھنسی تھی ۔ جب تک نکلے گی۔۔۔۔ تیسرا کلمہ پڑھو تو راستے آسان ہو جاتے یہ سوچتے ابھی ورد شروع بھی نہیں کیا تھا کہ کب پلکیں بوجھل۔ہوئیں۔۔ سچ مچ اسکے برابر بیٹھی اونگھ گئ تھی۔ گاڑی رکی ہوئی تھی جب اسکی آنکھ کھلی۔ شائد ویسے ہی نیند پوری ہونے پر آنکھ کھلی تھی۔
اللہ و اکبر اللہ و اکبر۔ لا الہ الااللہ۔۔
نہیں اذان کی آواز تھی۔ بہت تیز نہیں تھی مگر واضح تھی۔ ختم ہو رہی تھی۔
اس نے سیدھا ہوتے اردگرد نظر دوڑائی تو باہر اندھیرا چھا چکا تھا۔گاڑی شائد کسی تفریحی مقام کے احاطے میں پارکنگ ایریا میں رکی ہوئی تھی۔ اسکی سیٹ آرام دہ حالت میں پیچھے ہوئی وی تھی شائد جبھی وہ سوتی رہی۔۔
گاڑی بند کیئے نشست کی پشت سے سر ٹکائے آرام دہ حالت میں بیٹھا تھا۔ چہرے پر سنجیدگی سامنے ونڈ اسکرین پر نگاہ جمی ہیون کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ اتنی گہری سوچ تھی کہ اسکے اٹھنے کا اسے احساس ہی نہ ہوا۔
اس نے شرمندہ سا ہوتے ہوئے پکارا
ہیون۔
آں دے۔ وہ چونک کر سیدھا ہوا۔
اٹھ گئیں تم؟ نیند پوری ہوئی۔
وہ یونہی پوچھ رہا تھا مگر وہ اچھی خاصی شرمندہ ہوگئ۔
آئیم سوری۔ تم نے کہیں گھومنے جانا تھا اور میں سو گئی۔ اٹھا دیتے مجھے؟ ایک تو تمہاری گاڑی کی نشست ہی اتنی آرام دہ ہے بندہ ذرا سا سر ٹکائے غافل ہو جاتاہے۔
خالصتا اریزہ کا انداز شرمندہ بھی ہورہی تھی ساتھ الزام اسکی گاڑی پر لگا دیا۔
بہر حال اٹھا دینا چاہیئے تھا تمہیں جانے کتنی دیر ہوگئی۔
اس نے موبائل میں وقت دیکھتے پھر ٹوکا۔ گھڑی نے اگلا جھٹکا دیا اسے۔چیخ ہی پڑی
کیا پونے سات میں تین چار گھنٹے سوتی رہی۔ حد ہے۔

تم بہت گہری نیند سو رہی تھیں مجھے اٹھانا مناسب نہیں لگا۔۔ اسکینگ کا ارادہ تھا یقین کرو گوانگانگ دو ریزورٹ کے پارکنگ لاٹ سے گاڑی واپس نکال کے لایا ہوں۔
ہیون محظوظ سے انداز میں بتا رہا تھا۔
اریزہ کی بچی۔ وہ اپنے سر پر ہاتھ مار کر بولی۔ رات گئے ہوپ کے ساتھ طویل بیٹھکوں کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔ بہر حال نیند پوری ہو گئ تھی۔
مجھے جگا دینا چاہیئے تھا۔
اسکینگ میں کوئی خاص دلچسپی نہ تھی مگر یوں ہیون کی گاڑی میں دوسری بار اتنی طویل نیند لینا اسے خاصا شرمندہ کر گیا تھا کیا سوچتا ہوگا۔
چلیں؟۔۔
ہیون نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے چلنے کا اشارہ کیا وہ سر ہلا کر دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔
یہ کونسی جگہ ہے؟
باہر ہوا خاصی سرد تھی اسے تو لگا بوندا باندی بھی ہو رہی ہے۔ اس نے جھر جھری سی لی۔
سر پرائز ہے خود ہی چل کر دیکھ لو
ہیون بے نیاز بنا ۔ اس نے بھی کندھے اچکا دیئے۔ پارکنگ انہیں نسبتا فاصلے پر ملی تھی۔ ذیلی سڑک پر ہیون کے ہم قدم چلتے وہ گردن گھما گھما کر دیکھ رہی تھی آتے جاتے لوگ سڑک کی چہل پہل سامنے کھلی مارکیٹ کی رونقیں ۔کرسمس کی تیاریاں عروج پر تھیں مارکیٹ میں جا بجا سینٹا کے لباس میں چلتے پھرتے لوگ اشتہار بانٹ رہے تھے کہیں کرسمس ٹری سجا کھڑا تھا وہ بہت شوق سے رونقیں دیکھ رہی تھی ہیون چلتے چلتے رکا۔ وہ بھی رک گئ۔
تم غلط جگہ دیکھ رہی ہو۔ پیچھے مڑ کر دیکھو۔ ہیون نے کہا تو وہ نا سمجھتے ہوئے گول گھوم گئ۔
وہ عربی طرز تعمیر کی بڑی سی عمارت تھی۔ سبز روشنی سے سجے دومینار گنبد۔ جس پر بڑا سا اللہ و اکبر لکھا ہوا تھا۔
اس نے حیرانگی سے مڑ کر اسے دیکھا۔
ہم مسجد آئے ہیں ؟
اریزہ کے حیرانگی سے پوچھنے پر وہ ہنس دیا۔
ہاں۔ چلو تو سہی اندر۔
ہیون کے کہنے پر وہ کندھے اچکا کر ساتھ چل پڑی۔
اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ سیول شہر میں جامع مسجد بھی ہوگی۔
یہ اٹیوان ہے یہاں کافی سارے مسلمانوں کے ریستوران بھی ہیں۔
ہیون اسکی معلومات عامہ میں اضافہ کر رہا تھا۔
وہ سر ہلاتی اسکے پیچھے چل رہی تھی۔ شائد فیصل مسجد کی طرح کا کوئی تفریحی مقام ہے یہ۔۔ کوئی مشہور مسجد یا۔۔ وہ بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر مسجد کا احاطہ شروع ہو رہا تھا۔ کچھ چندی آنکھوں والے کچھ افریقی النسل سر پر ٹوپی سجائے شائد نماز پڑھنے اوپر جا رہے تھے وہ ایک طرف ہو کر راستہ دینے لگی۔
ہیون اپنی جھونک میں آگے بڑھ رہا تھا کہ احساس ہوا وہ کہیں پیچھے رک گئ ہے۔ وہ واقعی سیڑھیوں کے اختتام پر ایک جانب کھڑی ہو کر سر اٹھا کر مسجد کی عمارت کو دیکھ رہی تھی۔
ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو چکی تھی۔ کئی قطرے اسکے چہرے پر آن گرے تھے۔
کیا ہوا چلو نا نماز کا وقت ہو رہا ہےنا تمہاری؟
ہیون نے پاس آکر کہا تو وہ یوں دیکھنے لگی جیسے اسکے سر پر سینگ اگ آئے ہوں۔
تم یہاں مجھے اسلیئے لائے ہو کہ میں نماز پڑھ سکوں؟
وہ حیرانگئ سے مرنے کو تھی جیسے۔ ہیون نے سر ہلایا۔
لڑکیاں مسجد جا کر نماز نہیں پڑھتی ہیں۔ اس نے سر پیٹ لیا جیسے۔۔
جانتا ہوں۔ مسلمان لڑکے او رلڑکیاں الگ الگ عبادت کرتے ہیں ادھر لڑکیوں کیلئے الگ انتظام ہے۔
اس نے دور راہداری کی جانب اشارہ کیا۔ جہاں ایک بورڈ لگا ہوا تھا جس میں کورین میں کوئی ہدایات وغیرہ لکھی تھیں۔
میں سب معلومات لیکر آیا ہوں۔ تم جائو نماز پڑھ لو میں یہاں تمہارا انتظار کرتا ہوں یا بلکہ ایسا کرتا ہوں میں بھی اندر پریئیر کر آتا ہوں۔ ٹھیک ہے۔
ہیون اسے آج شائد حیران کر کرکے ہی مارنے والا تھا۔
تم کونسی پرئیر کروگے؟ نماز پڑھوگے؟ اریزہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا اسکے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔
ہیون ہنس دیا۔
مجھے نماز کہاں آتی ہے مگر خدا تو ہر عبادت گاہ میں ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ میں اندر جا کر ہاتھ جوڑ کر پرئیر کر لوں گا جیسے تم نے چرچ میں ہاتھ ایسے کرکے دعا مانگئ تھی۔
ہیون نے دعا کرنے کے انداز میں ہاتھ پھیلاکر سمجھایا۔ اسکے نزدیک یہ کوئی بڑی بات نہ تھی۔ اریزہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس دن چرچ میں سر ڈھانک کر اس نے جو دعائیں مانگی تھیں اسکو کسی نے نا صرف نوٹ کیا تھا بلکہ اسکا بدلہ اتارنے پر تل گیا تھا۔ مسجد میں ہتھیلیآں جوڑ کر پرئیر کرنے کو تیار ہیون ۔۔۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ اسکی معصومیت پر ہنسے یا اپنا سر پیٹ لے۔
کیا سوچ رہی ہو؟
ہیون نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔
ہم باہر چل کر بات کرتے ہیں۔
بہر حال وہ مسجد کے احاطے میں کھڑے تھے۔ اسے یہاں اسکی غلط فہمی دور کرنا بھی بے ادبی لگا تھا۔
وہ سنجیدگی سے کہہ کر پلٹی
اریزہ۔ رکو ۔۔ مجھے ضروری بات کرنی ہے تم سے۔۔
ہیون نے اسکا بازو تھام کر روکا۔

نیچے چلتے ہیں نا۔ بارش بھی ہونے لگی ہے اب تو۔
اریزہ نے بیزاری سے کہا۔۔
نہیں یہیں بات کرنی ہے۔
اس نے لمحہ بھر سوچ کر گہری سانس لیکر کہہ دیا۔
میں ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔ میں آج تمہیں یہاں اسی لیئے لیکر آیا ہوں۔
وہ تھم کر رکا تھا پھر ایک قدم آگے ہو کراسکا ہاتھ تھام کر کہنے لگا۔ اسکی سنجیدگی اسکا انداز اریزہ ٹھٹک کر اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔ اسکے صبیح چہرے پر سنجیدگی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔یقینا کوئی اہم بات تھی۔
ایسی کیا بات۔۔ نیچے چل کر بات کرتے ہیں نا۔۔
کھد بد تو ہو رہی تھی ۔ اریزہ نے دھیرے سے کہہ کے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا۔۔
اریزہ میں جو بھی کہنے جا رہا ہوں اس میں کوئی لگی لپٹی نہیں ہے۔ جو میرے دل میں ہے بنا سوچے میں کہہ ڈالنا چاہتا ہوں۔ اس نے گہری سانس لیکر اریزہ کی آنکھوں میں جھانکا۔
اس دن چرچ میں تمہیں دیکھ کر مجھے ایک الگ سا احساس ہوا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا وہ کیا احساس تھا۔۔ تم پرئیر کر رہی تھیں مگر تم اتنی مختلف اور مقدس سی لگی تھیں مجھے کہ میرا دل لمحہ بھر کو جیسے تھم سا گیا تھا۔ تمہیں دیکھنا تمہیں جاننا چاہتا تھا تب میں۔
اریزہ اپنا ہاتھ چھڑانا بھول گئ تھی۔ موسم نے کروٹ لے لی تھئ۔ بوندا باندی تیز پھوار میں بدلتی جا رہی تھی۔
اور پھر دھیرے دھیرے یہ احساس اتنا الگ اتنا انوکھا رخ اختیار کر گیا ہے کہ اسکا اعتراف میں آج یہاں کرنا چاہتا ہوں۔ تمہاری مقدس ترین عبادت گاہ میں کہ۔
وہ سانس لینے رکا۔۔ اریزہ کی سانس رک سی گئ۔
اریزہ تم مجھے بہت اچھی لگنے لگی ہو۔
رواں انگریزی بولتے بولتے وہ ایکدم اردو پر اتر آیا تھا۔
اریزہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔ بلکہ۔
اس نے ذرا سا وقفہ لیا۔
میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں۔
اس نے ان دو جملوں کو بولنے کی بہت مشق کی تھی۔ جبھی بالکل اٹکے بنا ایکدم کہہ ڈالا تھا۔
بجلی نہیں کڑکی تھی۔ بادل نہیں گرجے تھے۔ مگر شور ایکدم سے اتنا بڑھا تھا کہ اسے جیسے اسکی سنائی ہی نہ دی۔ نہیں سن تو لی تھی مگر سمجھ نہیں آئی تھی۔
اریزہ بنا پلک جھپکائے اسے دیکھتی جا رہی تھی۔
کیا اس نے وہی کہا ہے جو اس نے سنا ہے۔
اریزہ میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں ۔۔ جھنچا۔
ہیون نے جھنچا پر زو ردے کر کہا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔

جاری ہے۔۔

Kesi lagi apko Salam Korea ki yeh qist ? Rate us below

Rating
Home » Areeza

Salam Korea Episode 33

salam korea
by vaiza zaidi
قسط 33

ڈرائیور کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگا ۔ اس نے تیزی سے جا کر سنتھیا کے کمرے کا دروازہ کھٹکایا . چند دستکوں پر بھی نہ کھلا تو اس نے زور لگا کر کھول دیا تھا۔ کمرے میں تالا نہیں لگا تھا مگر کوئی تھا بھی نہیں۔
کیا ہوا آپ جانتے ہیں کون ہے سنتھیا ؟
ڈرائور نے حیرت سے پوچھا تھا۔اسکے پاس جواب دینے کا وقت نہیں تھا۔ اس نے فورا فون نکال کر کال ملانی چاہی۔ مگر کس کو کال ملائے؟ سنتھیا کا تو نمبر اسکے پاس تھا بھی نہیں۔ ۔ سر جھٹک کر وہ خود ہی ڈھونڈنے کا ارادہ کرتا گوشی وون سے نکلا
میں آپکو لے چلتا ہوں جہاں جانا۔
ڈرائیور اسکے پیچھے بھاگا آیا تھا۔ تیزی سے ڈرائئونگ سیٹ کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے کہا تھا۔ کم سن سر ہلاتا ٹیکسی کی جانب بڑھا جب اسے شائبہ سا گزرا ۔ کن اکھیوں سے نظر آتا وجود۔ وہ آیکدم سے رکا۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا ۔ داخلی گلی سے خراماں خراماں چل کر آتی سنتھیا سامنے ہی کھڑی تھی۔ ہاتھ میں کافی کا مگ تھامے۔ اسے دیکھتا پا کرشائد یونہی ٹھٹھک کر رکی تھی۔
ہائیش۔
اس کی جیسے جان میں جان آئی تھی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ سوچا کافی پی لوں تو بہتر محسوس کروں گی۔ یہیں کنوینیئنس اسٹور تک گئ تھی بس۔
گارڈن کے باہر سنگی کیاری سے ٹکے کافی کا گھونٹ بھرتی وہ مضبوط انداز میں بتا رہی تھی۔ کم سن نے گہری سانس لی۔
میں معزرت خواہ ہوں۔ یقینا زبان الگ ہونے کی وجہ سے کوئی غلط فہمی ہوگئ ہوگی۔ میں بنیاد پرست مسیحی ہوں حرام موت مرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔
اس نے ہنس کر کہا تھا۔ کم سن نے بغور اسکی شکل دیکھی ۔ اتنی بغور کہ وہ تھوڑا جز بز سی ہوگئی۔
چلتا ہوں میں۔ تمہارا بوائے فرینڈ بے ہوش پڑا ہے اپنے کمرے میں۔اسے ہی چھوڑنے آیا تھا میں۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
کیا ہوا اسے؟
وہ گھبرا کے بولی تھی۔
پی کے ٹن ہے۔
اس کا انداز تسلی دلانے والا تھا۔ سنتھیا کچھ کہتے کہتے ہونٹ بھینچ گئ۔
تمہارا نمبر میرے پاس نہیں تھا کہ میں کال کرکے پوچھ لیتا معاملہ۔
کم سن نے کہا تو جوابا اس نے بس سر ہلادیا۔وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔ پھر والٹ سے اپنا کارڈ نکال کر اسکی جانب بڑھا دیا۔ بڑھاتے ہوئے اس نے حسب عادت اپنا دائیں بازو کی کلائی چھو لی تھی۔
میرا نمبر رکھ لو۔ کبھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔کام آئے گا۔
اب وہ اتنی بھئ بد تمیز نہیں تھی۔ ہاتھ بڑھا کر کارڈ لے لیا۔ سیدھا ہاتھ بڑھا کر کارڈ لے لیا۔ کورین ثقافت میں یہ خاصی معیوب حرکت تھی۔ ہمیشہ کورین کسی کو کوئی چیز دیتے یا لیتے وقت اپنا دایاں ہاتھ کلائی سے چھو لیتے ہیں۔یا دونوں ہاتھ بڑھاتے ہیں۔
سنتھیا جیسے اسکا کارڈ حفظ کر رہی تھی۔
وہ مزید بھئ کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر پھر ہمت نہ ہوئی۔
کرم۔
اس نے اتنا آہستہ سے کہہ کر رخصت چاہی کہ خود بھی بمشکل آواز آئی ۔ دو قدم ہی بڑھائے ہوں گے کہ سنتھیا نے پکار لیا۔
کم سن۔۔
اپنے نام کا اتنا مختلف تلفظ اسکے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا تھا۔ اس نے دباتے ہوئے مڑ کر دیکھا۔
یہ تمہاری کمپنی ہے؟ کوئی جاب ہے ایسی جو میں کر سکتی ہوں اس میں؟
اس نے سیدھا سوال کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سیدھا اپنے کمرے میں آکر اپنے بستر پر گرا تھا۔
چت لیٹے وہ چند گھنٹوں قبل والے منظر میں ہی اٹکا تھا۔
لوگوں میں سے رستہ بناتے وہ جب اریزہ تک پہنچا تھا تو حقیقتا اسے یوں بے دم سا دیکھ کر ایک لمحے کو اسکے حواس گل ہو گئے تھے۔
اریزہ۔ وہ بے تابی سے پکارتا گھٹنوں کے بل جھکا تھا۔ اسکے گرد لڑکے لڑکیوں نے گھیرا سا بنا دیا تھا تاکہ کوئی آگے نہ آسکے۔ رضاکاروں کے اسے اسٹریچر پر لٹا کر اٹھانے تک وہ اسے پکارتا رہا تھا۔ اور اس نے لمحہ بھر کیلئے آنکھ کھول کر دیکھا تھا۔ ہاتھ بڑھایا تھا۔ اسکی انگلیاں زخمی تھیں مگر اس نے اسکی جیکٹ مٹھی میں پکڑ لی تھی۔ اور کچھ کہنا بھی چاہا تھا۔
اس نے کروٹ لی تو جیکٹ کی جیب میں رکھی انگوٹھی کا کیس کمر میں چبھا تھا۔ اس نے سی کرکے ایکدم سے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے جیب سے کیس نکالا۔
جانے اسکی قسمت کے ستارے گردش میں کیوں تھے۔ اس نے کیس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ تبھی اسکی نگاہ سائیڈ ٹیبل پر رکھے گلابی لفافے پر پڑی۔ اس نے اٹھا کر کھولا۔ بے حد خوبصورت ہلکے گلابی پھولوں کا گلدستہ بنا ہوا تھا جس پر ایک کوریائی نظم لکھی تھی۔
تم جو چاہو سمندر کی گہرائی ماپنا
تو تم چاند بنو کہ
لہروں میں تلاطم بپا کرسکو
جو تم دنیاپر حکومت کی آرزو کرو
تو یک جنبش سے موسم بدل سکو
یہ میری آرزو ہے
تمہاری ہر خواہش کا کئی گنا تمہیں ملے
مگر تم نے فقط ستاروں کی چاہ کی ہے۔
تو جان لو
یہ تو تمہارے قسمت میں پہلے سے ہی
لکھے ہیں
مبارک ہو میرے بھائی جو چاہا ملا تمہیں۔ سدا خوش رہو
مجھے پتہ ہے تمہیں کوئی لڑکی انکار کر ہی نہیں سکتی ہے۔
یہ کارڈ نونا نے اسکے لیئے لکھا ہوگا۔اسکے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ آئی تھی۔۔ کارڈ دیکھتے وہ دھیرے سے بڑبڑایا۔۔
کتنئ خوش فہمی ہے آپکو میرے بارے میں۔ کیا کہوں
اس نے آج پہلی بار میرا ہاتھ تھاما تھا۔ میرا نام بھی لیا تھا۔ مگر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوپ نے کہا تھا وہ گھر نہیں آئے گی آج جبھی رات کو تمہاری وجہ سے میں واپس آئی ورنہ میرا قطعی ارادہ نہیں تھاواپس آنے کا۔ یون بن تو کہہ رہا تھا کہ میں سامان لیکر ہی چلوں صبح وہ بجائے یہاں آنے کے مجھے سیدھا بس اڈے لے جاتا۔
گوارا اسکے سامنے ٹوسٹ اور ہاف فرائی انڈہ رکھتے کہہ رہی تھی۔ اسکی تین انگلیاں کچلی گئ تھیں شائد کسی کے پائوں کے نیچے آکر ۔ بینڈیج تو اس نے نہیں اتاری تھی مگر ہاتھ پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔ سو وہ الٹے ہاتھ سے ہی ٹوسٹ کا نوالہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔
شکریہ یار تم سراپا پیار ہو۔
اریزہ کے انگریزی میں مکھن لگانے پر وہ ہنس دی۔
پھر ٹوسٹ کا نوالہ بنا کر اسکے منہ میں ڈالا۔
مجھے فکر ہو رہی ہے تمہاری۔ ایسا کرتی ہوں ٹکٹ کینسل کرا دیتی ہوں آج ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔ پراپر چیک اپ کرائو کوئی فریکچر نہ ہوگیا ہو۔
گوارا سچ مچ فکر مند ہو رہی تھی۔
ارے بچی تھوڑی ہوں میں۔ جائو تم میں خود چلی جائوں گی ڈاکٹر کے پاس فکر نہ کرو۔
اریزہ کو اسکا خلوص شرمندہ کر رہا تھا۔
ہاں بچی نہیں ہو جبھی اندھیرے سے ڈرتی ہو اکیلے رہنے سے ڈرتی ہو۔ مجھے حیرت ہے ویسے کیا واقعی کبھی پاکستان میں اکیلی نہیں رہی ہو گھر میں۔میرا مطلب ہے والدین ہر وقت تو ساتھ نہیں ہوتے نا۔
وہ اپنے ماحول کے مطابق کہہ رہی تھی۔
پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔
اسکا جواب مختصر تھا۔ گوارا کندھے اچکا کر رہ گئ۔
اس نے بے دلی سے ناشتہ ختم کیا تھا۔
جائو فریش ہو لو جاتے ہوئے اچھی سی تصویر بنا کر لیکر جائوں گی تمہاری تاکہ سفر اچھا گزرے میرا۔
گوارا نے جیسے اسے پچکارا۔وہ یونہی سستی سے اٹھ کر نہانے گھس گئ۔ اپنے بیگ کو سمیٹ کر وہ بیڈ پر دھپ سےبیٹھی پھر ایکدم اٹھی۔ وہ شائد اریزہ کا موبائل تھا۔
اس نے ایک نظر بند دروازے پر ڈالی پھر اسکا موبائل اٹھا لیا۔ لاک نہیں تھا۔ وہ سہولت سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ
اریزہ آئم سوری مگر ہیون کا مسلئہ بھی اہم ہے مجھے ہی تم دونوں کی مدد کرنی پڑے گی۔
وہ سہولت سے اسکے موبائل کی گیلری کھول کر دیکھنے لگی۔سنتھیا اور اریزہ کی تصویروں کا ایک انبار تھا۔بہت اسکرال کرکے نیچے جا کے اسے وہ مطلوبہ تصویریں ملی تھیں۔ لال جوڑا۔ دلہن کا اوتار۔ ساتھ وہ استحقاق سے بیٹھا شخص جو ٹھیک ٹھاک تیار تھا۔دلہن کی ٹکر کا ہی۔ پھر خیال آیا تو اپنا موبائل اٹھا کر تصویر کی تصویر کھینچ لی۔
تبھئ ہیون کالنگ لکھا نظر آیا۔ وہ گڑبڑا سی گئ
اسکا موبائل وابریٹ کر رہا تھا اس نے گڑبڑاہٹ میں نو کرکے رکھنا چاہا مگر کال موصول ہوگئ
اسلام وعلیکم صبح بخیر۔
ہیون کی پرجوش سی آواز۔ وہ ٹھس سی ہو کر رہ گئ۔
آننیانگ۔ بمشکل منہ سے نکلا تھا
گوارا۔ ؟ وہ فورا آواز پہچان گیا
دے۔ اس نے سوچ کے جواب دیا تھا
اریزہ کہاں ہے؟
وہ جہاں بھئ ہے تم کہاں ہو؟ کیا کر رہے ہو؟
وہ چڑھ دوڑی۔
کیا ہوا گھر میں ہوں تیار ہو رہا ہوں ۔۔ وہ حیران ہوا اسکے انداز پر صبح صبح بلاوجہ
بس تیاریاں ہی ختم نہیں ہو رہیں تمہاری۔جانے کس انتظار میں ہو۔ ایک ذرا سا زبان نہیں ہلائی جا رہی ہے تم سے۔
وہ بھنائی۔
تم اگر کورین ڈرامے دیکھنے کے عادی ہوتےتو تمہاری احساس ہوتا سائیڈ ہیرو والی سب غلطیاں دہرارہے ہو تم۔
گوارا کو اتنا غصہ آرہا تھا کہ دل کر رہا تھا فون سے نکل کر کان کھینچ لے اسکے
ہیون اسکی بات پر الجھن ذدہ انداز میں فون دیکھنے لگا۔
مطلب۔ وہ واقعی نہیں سمجھا تھا
مطلب سادہ سا ہے۔ مواقع بھی اسی کو ملتے ہیں جسکو ان مواقعوں سے فائدہ اٹھانا آتاہو۔ ذرا گنو کتنے مواقع اب تک گنوا چکے ہو ۔ سادہ سا سارانگھیئے کہنے میں اتنا ہچکچا کیوں رہے ہو۔ اریزہ جتنی بھی مختلف لڑکی سہی سر تو نہیں پھاڑ دے گی نا تمہارا آئی لو یو کہنے پر۔ کل بہترین موقع تھا کہتے اسے آئی لو یو مگر نہیں جانے کس کے انتظار میں ہو تم ۔کل کلاں کو کسی اور نے تم سے ذیادہ ہمت دکھا دی تو بیٹھے رہنا سر پر ہاتھ رکھ کر روتے۔
گوارا نے بنا لحاظ ٹھیک ٹھاک سنا دی۔
کل کیسے کہتا ۔۔ وہ چڑ کر کہتے یکدم رکا۔ خیال آیا تو پوچھنےلگا
کل اریزہ نے بتایا تمہیں۔
ہاں گر گئ تھی وہ اسکا ہاتھ زخمی ہوگیاہے۔ تم کہاں تھے اس وقت ویسے؟ چوٹ لگنے کیسے دی اسے ؟
گوارا نے کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا اسے۔
اب کیسی ہے وہ؟
وہ احتیاط سے بات کر رہا تھا۔
ہاتھ سوجا ہوا ہے میں اسے کہہ رہی تھی ایکسرے کروائے اور ڈریسنگ بھی دوبارہ کروانی ہوگی اسے۔ کہا تو ہے اس نے آج جائے گی۔ تم لے جائونا اسے۔
وہ جتانے والے انداز میں بولی۔
ہوں اور ہوپ کیسی ہے؟
ہیون نے پوچھا تو وہ الٹا اسے پوچھنے لگی
پتہ نہیں رات گھر نہیں آئی تم کیوں پوچھ رہے ہواسکو کیا ہونا؟
ایسے ہی ۔۔ کل وہ بھی آئی تھی کانسرٹ میں۔
وہ ٹال گیا۔
اچھا اور اس ہوپ نے تمہارے منہ پر آکر ٹیپ چپکا دی ہوگی کہ۔خبردار آج اریزہ کو پرپوز نہ کرنا ہیں۔
وہ بھی جوابا تیز ہو کر بولی تو ہیون قہقہہ لگا کر ہنس پڑا
تم بھی نا۔۔۔اچھا اریزہ کو بتا دینا میں آرہا ہوں تیار رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اتنی اداس سی شکل بنا کر اسے دروازے تک چھوڑنے آئی تھی کہ گوارا دیکھ کر رہ گئ
تم میرے ساتھ ہی چلو مجھے پتہ ہے اس ہوپ کے ساتھ رہناکتنا ہوپ لیس ہے۔
گوارا نے کہہ ہی دیا۔ وہ ہنس دی۔
یار میں جاب کرتی ہوں اب اور اب اکیڈمی جوائن کر رہی ہوں ہنگل سیکھوں گی تھوڑا پڑھائی پر دھیان دوں گئ مجھے یہاں سے اب ڈگری لیکر ہی جانا ہے۔ چھٹیوں کا وقت نہیں میرے پاس۔۔۔
اس کا ارادہ مصمم تھا۔ گوارا نے مسکرا کر سر ہلا دیا
اچھا سنو وہ ہیون کی کال آئی تھی کہہ رہا تھا تیار رہنا وہ آرہا ہے یاد سے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے تمہیں۔
وہ جاتے جاتے کچھ یاد آنے پر پلٹی۔
تمہیں فون آیا تھا؟ وہ حیران ہوئی
نہیں تمہارا فون بج رہا تھا میں نے اٹھا لیا۔ نام ہیون لکھا آرہا تھا انگلش میں تھا تو میں نے پڑھ کر اٹھا لیا۔تم لوگ فون بک میں اپنی زبان میں نام سیو نہیں کرتے؟
گوارا حیران تھی۔ اریزہ نفی میں سر ہلا کر رہ گئ۔
اچھا یار میں نکلتی ہوں یوں بن اب کیا اوپر آئے گا پارکنگ میں ہی رکنے کو کہا ہے میں نے۔ اور تمہیں نیچے تک آنے کی ضرورت نہیں بہت سردی ہے آج۔
اسے گلے لگا کر پیار کرتے ہوئے گوارا نے محبت سے کہا تھا۔
میں بہت یاد کروں گی تمہیں۔ اریزہ نے اسکے کندھے پر تھوڑی رکھ کر دل سے کہا تھا
میں بھی۔ گوارا بھی سچ مچ اداس ہو رہی تھی
فون کرنا پہنچ کر۔
اسے دروازے سے رخصت کرتے کرتے اس نے یاد دہانی کرائی۔ جوابا گوارا مسکرا کر سر ہلاتے لفٹ کی جانب بڑھ گئ۔ دروازہ بند کرکے اندر آئی تو یکدم ویرانی کا سا احساس ہوا تھا ۔۔
یہ کوریا ہے۔یہاں جن بھوت نہیں ہو سکتے۔
تھوک نگل کر اس نے خود کو یقین دلایا۔ پھر اپارٹمنٹ کی ایک ایک بتی جلادی۔
ٹئ وی بھی آن کر دیا۔
اکیلے کمرے میں رہنا اس نے کس مشکل سے شروع کیا تھا کجا اکیلے گھر میں۔
کچن میں برتن دھونے لگ گئ سب سمیٹا۔۔۔ ایویں ہی بار بار اسے وہم ہو رہا تھا کوئی چل پھر رہا ہےیا اچانک کوئی بھیانک سی شکل والا پیچھے سے آکر کھڑا ہوجائے گا۔
اس نے زو رزور سے آیت الکرسی پڑھ کر خود پر پھونکی۔ اب تھوڑا محفوظ محفوظ محسوس ہورہا تھا۔ مگر یہ احساس وقتی رہا۔
تبھی ٹی وی پر کوئی پر اسرار سی موسیقی چلنے لگی۔
بس اسکی کمی تھی۔
وہ دانت کچکچاتی ٹی وی کے پاس آئی۔
کسی ڈرائونی فلم کا اشتہار تھا ایکدم ہی چیخ اور بھیانک سی شکل ٹی وی پر چھائئ۔۔ اس نے جھٹ چینل بدلا۔
اسکی اپنی آواز گم۔وہیں دھپ سے صوفے پر گر سی گئ۔اب سوجو کا اشتہار چلنے لگا۔
صبح صبح کون ڈرائونی فلم کا اشتہار لگاتا ہے۔ جاہل کورین۔۔
اسکا بس چلتا تو ٹی وی میں سے نکل کر صبح صبح منحوس شکل دکھانے والے کی شکل منحوس کر دیتی مار مار کر۔
مجھے ڈر نہیں لگ رہا ۔۔ سب ٹھیک ہے
اس نے بول کر خود کو تسلی کرانی چاہی۔
تبھی اطلاعی گھنٹی بج اٹھئ۔۔
اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
کاش گوارا واپس آگئ ہو۔
یہ امید کرتے ہوئے اسے اس امید کے بودا ہونے کا احساس تھا۔
اطلاعی گھنٹی دوبارہ بجی۔
وہ ہمت کرکے اٹھ ہی گئ۔۔ پہلے کیمرے سے باہر دیکھا تو اطمینان کی لہر سی دوڑ گئ۔
اسلام و علیکم۔
صبح کی طرح تروتازہ مسکراہٹ تازہ دم سا خوشبوئوں میں بسا ہیون ہاتھ میں ایک بڑا سا شاپر لیئےکھڑا تھا۔
وعلیکم السلام۔ وہ خوش دلی سے کہتی ایک جانب ہوگئ۔
مجھے لگا تھا تم تیار ہو کر میرا انتظار کر رہی ہوگی۔
اسے سویٹ پینٹ اور اپر میں ملبوس ملگجے سے حلیے میں کھڑا دیکھ کراندر آتے ہوئے وہ ٹوکے بنا نہ رہ سکا۔
وہ شرمندہ سی ہو کر دروازہ بند کرنے لگی۔
بس پانچ منٹ لگیں گے۔ کافی پیوگے؟
اس نے تسلی دینی چاہی۔
نہیں ابھی پی کر ہی آرہا ہوں۔
وہ سہولت سے صوفے پر بیٹھ کرٹی وی دیکھنے لگا۔
وہ اطمینان سے کمرے میں آکر کپڑے لیکر باتھ روم میں گھس گئ۔
جینز ہائی نیک اور اپر پہن کر وہ اپنے گیلے بال ڈرائر کر رہی تھی جب ہیون نے دروازے پر دستک دی۔۔

گیارہ بجے کلاس ہے تمہاری کتنا وقت لوگی اور؟
اسکے کہنے پر وہ چونکی۔
کونسی کلاس؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کامن سینس ہوتا ہے زخم کو صاف کرنا ۔
وہ خفگئ سے کہہ رہا تھا۔ گوارا کے کچن کی کیبنٹس کھول کھول کر دیکھتے اسے مطلوبہ چیز نظر آہی گئ۔
فرسٹ ایڈ باکس۔
اریزہ تھوڑی ہتھیلی پر جمائے کہنی میز پر ٹکائے ایک ٹک گھور رہی تھی۔
تم کتنے لمبے ہو۔ اس کیبنٹ تک میرا ہاتھ پہنچتا تک نہیں۔ گوارا کو بھی پنجوں کے بل کھڑا ہونا پڑتا ہے اسکو کھولنے کیلئے اور تم ۔۔
وہ سچ مچ یہی سوچ رہی تھی۔ سو کہہ دیا۔ ہیون ہنس دیا۔
میں اسے تعریف کے طور پرلیتا ہوں۔ بس قد ہی اچھا ہئ میرا ہے چلو کم از کم کچھ تو اچھا ہے۔
وہ بے چاری سی شکل بناتا اسکے مقابل آن بیٹھا۔ اسکا ہاتھ تھام کر احتیاط سے بینڈیج اتارنے لگا۔
نہیں تمہارے خد وخال بھی اچھے ہیں بالوں کا رنگ بھی سب سے اچھی بات ہے کہ تم دھیمے مزاج کے ہو ہر وقت مسکراتے رہتے ہو مجھے غصہ ور لوگ۔
اپنی تعریفوں پر ہیون نے یونہی سر اٹھا کر اسے دیکھا اسکے چہرے پر شرارتی سی مسکراہٹ در آئی۔ اریزہ ایکدم گڑبڑا کر چپ ہوئی۔
او رکیا کیا اچھا ہے مجھ میں؟۔ وہ اسکا زخم محلول سے صاف کرتے پوچھ رہا تھا۔
آہ۔ جواب تو کیا دینا تھا لگا تھا آگ ہی لگ گئ ہے ہاتھ میں اس نے تڑپ کر ہاتھ کھینچنا چاہا مگر ہیون کی گرفت مضبوط تھئ۔
بیان۔۔ اس نے فورا معزرت کی وہ ہلکے ہلکے سے پھونکیں بھی مار رہا تھا۔
زخم صاف کرنا ضروری ہے۔ سوری۔
اس نے کہتے ہوئے اسکی شکل دیکھی۔ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھرے وہ ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
اس نے جلدی سے آئنٹمنٹ کا لیپ کیا۔ اسکی انگلیاں چھپ سی گئیں سفید مادے میں۔
کل ڈاکٹر نے تمہاری انگلیاں دیکھی تو تھیں فریکچر نہیں ہے مگر پھر بھی اکیڈمی سے واپسی پر ہم ڈاکٹر کے پاس چلیں گے۔ ایکسرے کروالینا چاہیئے تسلی کیلئے۔
وہ مزید کہہ رہا تھا۔
اکیڈمی؟ اریزہ نے سوالیہ انداز میں دہرایا
تم نے فارم فل کر لیا ہے نا ؟ پرسوں کہا تو تھا کل چلیں گے اکیڈمئ؟
ہیون کے پوچھنے پر وہ گڑ بڑا گئ۔
نہیں وہ۔ تم نے کل کا کہا تھا نا کل تو ہم کانسرٹ گئے تھے۔
اریزہ اور غلطئ مان لے اپنی کبھی۔
کل مطلب اگلا کاروباری دن اتوار کو اکیڈمی بھوتوں سے ملاقات کیلئے جانا تھا ؟
ہیون کی بات پر وہ سر کھجانے لگی۔
ہم لوگ ایسے موقع پر طنز میں کہتے کہ اتوار کو صفائی کرنے جانا تھا کیا۔
وہ ہنسی ہیون مسکرایا تک نہیں تو خجل سی ہو کر اٹھنا پڑا۔ خالی فارم لا کر اسکے سامنے رکھا۔ہیون اسے تاسف سے دیکھ کر رہ گیا۔
زندگئ میں کبھی میں نے کوئی فارم فل نہیں کیا ہمیشہ صارم فل کرتا ہے چاہے اسکول کا ہو کالج کا یا یونیورسٹی کا اور تو اور۔
اسکی لن ترانی سنتے وہ پوری توجہ سے فارم بھرنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر دھوپ نکلی ہوئی تھی پھر بھی اسے سردی محسوس ہو رہی تھی۔ گرم لانگ کوٹ کے نیچے اس نے موٹا سویٹر بھی پہن لیا تھا گلے میں مفلر ڈالا ہوا تھا پھر بھئ ناک سرخ اور ٹھنڈی ہوتی محسوس ہو رہی تھی اسے۔
اتنی سردی ہے نہیں ویسے۔
اسکے قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے ہیون اسکا مزاق اڑا رہا تھا۔اوور کوٹ اس وقت تھوڑا گرم لگ رہا تھا مگر اتنا بھی نہیں۔
میرے لیئے ہے۔اس نے شان سے گردن اٹھا کر کہا تھا۔
تیز دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ مگرخنکی لگ رہی تھی
ہم پیدل جائیں گے؟ اس نے یونہی پوچھا تھا
ہاں دو گلی۔چھوڑ کر ہی۔ہے۔ ہیون نے اطمینان دلایا۔
یہ وہی گلی ہے نا جس کے بارے میں تم خوفناک کہانی سنا رہے تھے۔
اس نے پہچان لی۔ ہیون محظوظ سے انداز میں سر ہلانے لگا
پتہ ہے ہمارے گھر کے قریب بھی ایک گلی کے بارے میں مشہور تھا کہ رات کو وہاں چڑیل پھرتی ہے۔ صارم کو بڑا شوق ہوتا تھا اسے دیکھنے کا۔ اکثر رات کو جب ہم واک کرنے جاتے مجھے اتنا ستاتا تھا ہر بار جس گلی میں مڑتے اسی کے بارے میں کہتا تھا کہ یہ ہے وہ گلی۔ اف بہت ڈرایا ہے اس نے مجھے۔ ایک بار تو رو پڑی تھی میں۔ بس جس دن رو پڑی اسکے بعد اس نے مجھے تنگ نہیں کیا۔
تمہیں ڈرنا نہیں چاہیئے یہ جن بھوت سب بکواس ہے۔ ایویں لوگ کہانیاں بناتے تھے وقت گزاری کیلئے۔
ہیون نے یونہی کہا تھا مگر اریزہ کو ایمان تھا انکے ہونے پر
کوئی نہیں ہوتے ہیں۔ ابھئ میں اکیلی تھی نا اپارٹمنٹ میں تو اتنا ڈر بھئ لگا مجھے بلا وجہ آہٹیں ہو رہی تھیں۔
اس نے جھر جھری سی لی۔
تم ڈر رہی تھیں کیوں؟ ہیون رک کر پوچھنے لگا
ویسے تو میں نے آیت الکرسی پڑھ لی تھی اگر کوئی چیز تھی بھی تو بھاگ گئ ہوگی مگر میں کبھی اکیلی رہی نہیں ہوں نا تو بلا وجہ وہم ہو رہا تھا شائد۔
اسے خود پر غصہ بھی آرہا تھا۔
گوارا تو چلی گئ ہوگئ ہوپ بھی سارا دن تو گھرمیں نہیں رہا کرے گی تو تم ڈرتی رہو گی؟
ہیون بہت سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا
میں جاب پر بھی تو جائوں گی۔
وہ کندھے اچکا گئی۔
ہم ویسے یہاں رک کیوں گئے۔
اس نے یونہی ادھر ادھر دیکھا تو وہ اہم شاہراہ پر آچکے تھے۔ سامنے مارکیٹ تھی کچھ دفتر فوڈ پوائنٹ بھئ ۔۔
ہیون نے اشارہ دکھایا۔ ابھی ٹریفک رواں تھا پیدل چلنے والوں کا اشارہ بند تھآ۔وہ اتنا مگن ساتھ چلتی آئی تھی کہ کب سڑک آگئ اسے پتہ نہ لگا۔ اشارہ کھل گیا تھا
ہیون اسکے ساتھ اندر اسکول تک آیا تھا۔ دفتر میں فارم جمع کروا کر اسکی کلاس کی سلپ کارڈ سب کچھ لا کر اسکے ہاتھ میں تھمایا۔
گوماویو۔
اسکے انداز میں لاپروائئ تھی۔
یہ تمہارا بیگ۔ ہیون نے اسکو بیگ تھمایا۔
گرے اور بلیک امتزاج کا جدید فیشن کے مطابق خوبصورت سا کالج بیگ جس میں کئی کتابیں بھی تھیں۔وہ یہی سمجھی تھی کہ ہیون کا اپنا بیگ ہے۔
یہ۔ وہ جھجکی۔۔
میں اس سب کا بل بنا کر اکٹھے وصول لوں گا۔ فی الحال کلاس شروع ہونے والی ہے تمہاری۔
اس نے ذرا ڈپٹ کر کر کہا تو وہ چپ کر گئ۔۔
کرم۔ وہ کہہ کر جانے لگا مگر وہ اپنی جگہ ہی کھڑی تھی۔ نئئ جگہ اجنبئ شکلیں۔وہ یقینا جھجک رہی تھئ۔ وہ کچھ سوچ کر پلٹ آیا پھر ریسیپشن سے معلومات لیکر اسکو کلاس تک بٹھا کر گیا تھا۔
جب فارغ ہو جانا تو مجھے پیغام بھیج دینا میں آجائوں گا۔
اسکے کہنے پر وہ ہچکچا سی گئ۔
تم مت آنا۔ میں خود واپس چلی جائوں گی گھر۔
اسکی بات پر ہیون ایسے مسکرایا جیسے کسی بچے کی بات پر مسکراتے ہیں۔
ویسے تو واکنگ ڈسٹنس ہے مگر کیا تمہیں راستہ آتا ہے۔ ابھی میرے ساتھ آتے ہوئے تم نے اردگرد دیکھا تھا؟
اسکی بات پر زور و شور سے سر ہلاتے ہلاتے وہ رکی تھی۔ ہیون کھل کر ہنسا۔
کرم۔۔ وہ اجازت طلب کرتا چلا گیا۔ وہ اپنا سر تھام کر رہ گئ۔
کچھ ذیادہ ہی پیراسائیٹ بنتی جا رہی ہوں میں۔ اس نے دانت کچکچائے۔
آننیانگ واسے او۔
جماعت میں داخل ہوتے ہوئے انکے استاد نے خوش دلی سے سلام جھاڑا تھا۔ وہ ایکدم چوکنا سی ہو کر بیٹھی۔ سامنے دیکھا اور آنکھیں پھیل سی گئیں۔استاد محترم نے بھی طائرانہ نگاہ جماعت پر ڈالتے ہوئے اسکی موجودگی کو نوٹس کیا اور خوشدلی سے مسکرا دیئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس فل ہیٹڈ تھئ۔ جہاں کلاس ختم ہونے پر سب طلبا ء جان چھٹی سو لاکھوں پائے کی مصداق باہر بھاگے تھے وہاں وہ آرام سے ایک کرسی پر بیٹھ کر دوسری پر پائوں رکھ کر سکون سے بیٹھ کر موبائل استعمال کرنے لگی۔وہ اسکو ہی دیکھ رہا تھا سب طلباء اٹھ اٹھ کر نکل گئے اسکا اطمینان قابل دید تھا۔ لانگ کوٹ جینز جوتے گلے میں مفلر وہ ملفوف تھی آج بھئ۔
وہ مسکرا کر سر جھٹکتا اسکے پاس ہی چلا آیا
ہیلو۔
اسکے قریب آکر کہنے پر وہ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی
ہا۔۔ ہیلو۔
بہر حال وہ اب اسکا استاد تھا وہ مزے سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے نیم دراز بیٹھئ تھی۔
کیسی ہو۔
وہ اطمینان سے اسکے قریب کرسی پر ٹک گیا
ٹھیک ہوں آپ کیسے ہو۔ اسے اسکے یوں قریب آ بیٹھنےپر حیرت ہوئی تھی مگر مسکرا کر ہی جواب دیا
آپ کی دو تین کلاسز مس ہو چکی ہیں ہنگل کی آج میری چوتھی کلاس تھی۔ آپ تو پیچھے رہ جائیں گی اس طرح۔
اس نے کہا تو وہ لاپروا سے انداز میں بولی
عام بول چال میں بالکل کوری نہیں ہوں میں آجکا لیکچر بھی سمجھ آیا ہے مجھے اور ہم جب یہاں آئے تھے سمسٹر کئ آغاز میں تو ہماری ابتدائی ہنگل کی کلاسز یونی میں ہوتی تھیں تھوڑی بہت آتی ہی ہے مجھے۔
علی مسکرا دیا
کھانے کا آرڈر کرتے ہوئے کیا جملہ بولنا چاہیے اگر آپ ویجیٹیرین ہوں؟
سادہ سوال۔ ساری ہنگل کے ترمرے سے آنکھوں کے سامنے ناچنے لگے۔۔ پہلا سبق نیا ٹیچر پکا گائودی سمجھے گا۔ اریزہ اپنے زنگ لگے دماغ کو رگڑ لو یہی وقت ہے۔ اس نے اپنے ذہن کے گھوڑے دوڑائے۔
ہیم سونگ چھےاو۔ ۔۔
اس نے چٹکی بجا کر جتانے والے انداز میں کہا۔
علی بے ساختہ ہنستا چلا گیا۔
اریزہ نے خاصئ حیرت سے اسکے ردعمل کو دیکھا۔۔۔
اگر یہ غلط ہے بھی تو آپکو مزاق اڑانے کی بجائے تصحیح کر دینا چاہیئے ۔۔
وہ خفا ہوگئ تھی۔ بیگ اٹھا کر ڈیسک سے اپنی ابتدائی ہنگل کی کتاب سمیٹنے لگی۔
خفا خفا سی منہ پھلائے۔ علی کو اپنی ہنسی کو بریک لگانی پڑی۔
ہیم پیگا چوسے او۔
یہ ہے درست جملہ۔ مطلب سور کا گوشت نکال کے دو۔
علی کا مقصد اسکو خفا کرنا نہیں تھا سو فورا تصحیح بھی کردی۔
اس نے سر ہلادیا۔ اور موبائل اٹھا کے دیکھنے لگی
میسج آیا تھا اسے۔
ویٹ۔
اسے اپنے ٹیچر کا مستقل ٹکٹکی جما کے دیکھنا سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔
بھوک بھی لگ رہی تھی اور گھر بھی جانا تھا۔وہ اٹھ کھڑی ہوئئ
گھر جا رہی ہو ؟اسکئ ٹیچر کو آج بہت فکر ہو رہی تھی اسکی۔
جی۔وہ کہتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گئ۔علی کی مسکراہٹ گہری ہوگئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گیلری سے باہر جھانک رہی تھی۔ نرم گرم دھوپ بیچ دوپہر گیارہ سے تین کلاسز تھیں۔ سو اس وقت وہ دھوپ سینک سکتی تھی۔ اوور کوٹ اس نے گرمی لگنے پر اتار کر ریلنگ پر ٹانگ دیا۔ مگر ہائی نیک پہن رکھی تھی۔ اب اندر اسے پسینے آرہے تھے
تمہیں سردی بہت لگتی ہے عادت نہیں ہوئی ابھی؟
اس نے گرم گرم کافی اور چیز سینڈوچ کا شاپر اسے لا تھمایا۔
دے۔۔ وہ بس اتنا ہی کہہ سکی۔ عجیب لگ رہا تھا کہاں وہ اسکا استاد اور اب اس سے کافی اور چیز سینڈوچ کی ٹریٹ لینا۔
شاپر میں دو سینڈوچز تھے یقینا ایک وہ اپنے لیئے لایا تھا۔ اس نے ایک سینڈوچ نکال کر شاپر واپس کردیا۔
چیز سینڈوچ کھا کھا کے نفرت سی ہی ہونے لگی تھی۔ مگر بھوک بھئ لگ رہی تھی۔ اس نے کافی تیزی سے ختم کیا تھا۔
ہیون نہیں آیا ابھئ تک؟
علی نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلادیا۔
آتا ہوگا۔ بہت ذمہ دار لڑکا ہے۔تمہارا انتخاب اچھا ہے۔
اسکی بات پر اس نے ترچھی سی نگاہ ڈالی تو علی نے وضاحت دینے والے انداز میں کہا۔
اچھا لڑکا ہے ہیون۔۔۔ سچ کہوں بہت اچھا ہے۔
علی یقینا رشتہ کرانے والی عورتوں کی طرح دوبارہ تعریفوں کے پل باندھنے لگا ہے ۔ سمجھ کیا رہا ہے یہ۔
اس نے ناک چڑھائئ۔۔
ہیون مجھ سے جونئر ہوتا تھا۔ ہمیشہ سے توجہ کا۔مرکز رہا وہ ۔ ہمارے اسکول کا امیر ترین اور نہایت اچھے مزاج کا متحمل لڑکا۔ایک بار میرا جھگڑا ہوا تھا اسکے دوست سے اپنے دوست کو۔بچانے یہ بیچ میں آگیا تھا پے در پے کئی مکے کھا لیئے اس نے مجھ سے مگر تب بھی پلٹ کر ہاتھ نہیں اٹھایا بس مجھے روکتا رہا۔ بعد میں سب لڑکوں نے مجھے اتنا ڈرایا کہ یقینا اب اسکے ابا مجھے آسکول بدلنے پر مجبور کر دیں گے۔
وہ اسکے برعکس ہلکے پھلکے انداز میں قصہ سناتا چلا گیا
ہیون کا ذکروہ بھی اسکی تعریف اسے سننا اچھا لگا تھا
وہ بھی کافی دلچسپی سے سنتئ گئ
پھر؟ اس کے رکنے پر اریزہ نے فورا پوچھا۔ علی نے اپنی طرف سے بات مکمل کردی تھی مگر اسکے اشتیاق پر ذرا سا ہنس کر مزید بتانے لگا
اگلے دن ہیون آیا نہیں اسکول میں نے بھی سوچا جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ دو تین دن بعد آیا چہرے کی سوجن کم ہوچکی تھی اس نے پوری کلاس کو ٹریٹ دی اور میرے لیئے الگ لنچ باکس لیکر آیا۔ سچی بات اسے دیکھ کر مجھے شرمندگی ہوئی بس پھر میں نے معزرت کی اور اسکے لائے رائس کیک کھا لئے۔
علی نے کندھے اچکائے۔ سنہری دھوپ میں اسکی بے تحاشا گوری رنگت چمک رہی تھی۔ پاکستان میں ہوتا تو فئیر اینڈ لولی کی ماڈل ہوتا۔ اریزہ کو سوچ کے ہنسی آگئ۔
کیا ہوا؟ علی نے دلچسپی سے اسکو ہنستے دیکھ کر پوچھا۔
کچھ نہیں۔ اس نے ٹالنا چاہا۔ مگر اسکے اصرار پر۔بتا دیا
جوابا اس نے خوب اونچا قہقہہ لگایا
پھر تو مجھے فورا پاکستان جانا چاہییے میرا مستقبل کافی روشن ہوگا پاکستان میں۔
علی محظوظ ہوا تھا۔ اریزہ سر کھجا کے رہ گئ۔ یقینا اسکی حس مزاح کافی اچھی تھی۔
ویسے پاکستان میں مسلمان ذیادہ ہیں ہے نا؟ مجھے امریکہ۔میں جتنے بھئ پاکستانی ملے سب مسلمان تھے۔ عیسائی کافی کم ہیں وہاں ۔۔
وہ کافی باتونی تھا یا اس کے ساتھ ہیون کی سہیلی ہونے کی وجہ سے اعزازی توجہ بخشی۔جا رہی تھی۔
ہاں کم ہیں مگر میری پکی سہیلی بھی عیسائی ہے۔ ہم ہمیشہ ساتھ رہتے آئے ہیں میری بہن جیسی ہے وہ۔
بولتے بولتے اسے دور سڑک پار کرتاہیون آتا دکھائی دیا۔
اچھا میں چلتی ہوں۔۔ اس نے کافی کا آخری گھونٹ بھرتے ہوئے بیگ کندھے پر سیدھا کیا۔عجلت میں ٹیک کئیر کہتی سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئ۔ ہیون کی۔نگاہ ٹیرس پر کھڑے علی پر پڑی تو ہاتھ ہلانے لگا۔علی نے بھی خوشدلی سے ہاتھ ہلادیا
اریزہ تیز قدم اٹھاتی اسکے پاس پہنچ چکی تھی۔ شائد اسے گھرک رہی تھی کیونکہ ہیون مسکراتے ہوئے کان پکڑ رہا تھا۔مکمل منظر علی نے مسکرا کر سر جھٹکا تو یونہی ریلنگ پر ٹکے اس کوٹ پر نظر پڑی۔
ویٹ۔ہیلو۔ اس نے چونک کر آواز دے کر انہیں پکارنا چاہا مگر دونوں یونہی باتیں کرتے مڑنے لگے۔فاصلہ اتنا ذیادہ نہ تھا مگر دونوں شائد ایک دوسرے کے سوا کسی اور جانب متوجہ ہونا نہیں چاہتے تھے۔
علی نے کوٹ احتیاط سے اٹھا لیا۔ اب اسے کل ہی واپس لیا جا سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوٹ جتنئ بھی گہری ہو ذیادہ دوا لگانے سے زخم جلدی نہیں بھرتے۔
ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا تھا۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے ہیون کو دیکھا وہ خفت سے سر کھجانے لگا۔ڈاکٹر نے اسکا ہاتھ نرمی سے صاف کرکے کچھ دوائیں لکھ دی تھیں ۔ ایکسرے کروا کر دکھانے کی بھی تاکید کی تھی۔
معانقہ کرکے ہیون اور وہ اکٹھے ہی باہر نکلے تھے۔ اسکا ایکسرے بالکل ٹھیک تھا۔ انگلیاں بس باہر سے ہی زخمی ہوئی تھیں۔ ہڈی محفوظ تھی۔ زخم صاف کروانے کی تاکید ہی اسے دوبارہ ملی۔
اسپتال سے نکلتے شام ہو چکی تھی۔ ہیون کا سارا دن یقینا اسکے ساتھ برباد ہوا تھا۔اسے شرمندگی سی ہورہی تھی۔ ہیون نے اس سے رات کے کھانے کا پوچھا مگر اس نے سہولت سے منع کردیا۔ وہ اب اسے گاڑی میں گھر چھوڑنے جا رہا تھا۔ مکمل طور پر سڑک پر متوجہ ہیون کو دیکھتے اسے پھر شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔
میں نے آج تمہیں بہت زحمت دی ہے ۔ آئی ایم سوری
اس نے کہہ ہی دیا۔
ہیون نے اسے باقائدہ گردن موڑ کر دیکھا۔
شکریہ۔
اسے بھئ احساس ہوا الفاظ غلط استعمال ہو گئے ہیں۔
مجھے بالکل زحمت نہیں محسوس ہوئی۔
اسکا جواب مختصر تھا۔
اریزہ میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ کیا تم کل ڈنر پر چلو گی میرے ساتھ۔
بلا تمہید اس نے سوال کیا تھا۔
آج کیلئے تو وہ سہولت سے منع کر گئ تھی جبھی شائد۔
کیا بات کرنی ہے کرو۔
اس نے تجسس چھپاتے ہوئے کہا تھا۔
کل آٹھ بجے۔ ٹھیک۔۔
ا س نے گاڑی اسکی عمارت کے کمپائونڈ میں روکی تھی۔
ہوں ٹھیک ہے۔ بائے۔
وہ کیا کہتی سر ہلاتی اتر گئ۔ دوسری جانب سےگاڑی کا دروازہ کھول کر ہیون بھی اتر آیا۔ وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
ہوپ اگر نہ واپس آئی ہوئی تو تم ڈروگی۔
اس نے جیسے وضاحت کی۔ وہ یقینا اسکے ساتھ اپارٹمنٹ تک آنے والا تھا۔ ایک اور احسان۔
میں ہوپ سے پوچھ لیتی ہوں وہ آگئ ہوتو۔۔
اس نے کہتے ہوئے بیگ سے فون نکالا نکالتے ہوئے احساس ہوا کبھی اسکے او رہوپ کے درمیان اتنے تعلقات نہیں رہے کہ نمبر کا تبادلہ کرتیں دونوں۔
وہ شش و پنج میں پڑ گئ۔
ہیون نے سمجھ کر خود ہوپ کو فون ملا لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم پاگل تو نہیں ہو گئ ہو؟
ایڈون نے ایکدم سے پیچھے سے آکر اسکوبازو سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے بھینچی ہوئی آواز میں کہا تھا۔
وہ کنوینیئس اسٹور سے ناشتہ خریدنے آئی تھی پیمنٹ کرکے باہر نکلی ہی تھی کہ اس افتاد نے حقیقتا اسے سہما دیا ۔ اسکا ایک لمحے کو تو لگا دل ہی بند ہو گیا ہے۔
ایڈون کو اسکی حالت دیکھ کر تھوڑا خیال ہوا تو بازو چھوڑ کر دانت کچکچاتے ہوئے بولا
تم نے ماموں ممانی کو بتا دیا ؟ کوئی اندازہ ہے تمہیں کتنا بڑا بھونچال آچکا ہے وہاں؟ صبح سے تین فون آچکے ہیں انکے مجھے۔
تو تمہیں احساس ہوا پھر کہ میں لاوارث نہیں ہوں۔ مجھے پوچھنے والے لوگ ہیں جنکو مجھ سے سچ مچ محبت ہے جنکو میری زندگی کی پروا ہے ۔
وہ چٹخ کر بولی
تمہاری پروا مجھے بھی ہے جبھی یہاں تمہارے ساتھ خواری کاٹ رہا ہوں احمق لڑکی۔ ۔ ایڈون نے بمشکل اپنے لہجے پر قابو پایا۔گہری سانس لیکر چند لمحے ادھر ادھر دیکھ کر خود کو پرسکون کرنے لگا۔ سنتھیا ایک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ سچ مچ پریشان بلکہ کمزور تھکا تھکا بھی لگا۔ اسکا دل نرم سا پڑا۔۔
دیکھو ۔۔ اس نے کچھ سوچ کر اسکا ہاتھ تھاما۔
تم۔۔ کہتے ہوئے اسکے ہاتھ میں تھامے شاپر پر نگاہ پڑی تو کہنے کا ارادہ ملتوی کیا۔ کنوینئیس اسٹور کے باہر لگی میز کرسی گھسیٹ کر اسے بٹھایا اسکے ہاتھ سے شاپر لیکر ڈبل روٹی مکھن دودھ نکال کر میز پر سجائے۔
پہلے ناشتہ کرلیتے ہیں۔
اس کے کہنے پر سنتھیا بنا کوئی اعتراض کیئے خاموشی سے نشست سنبھالنے لگی۔ ایڈون کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں چہرہ بھی تپا ہوا لگ رہا تھا۔جیسے بخار ہو۔اس نے توس نکال کرڈسپوز ایبل چمچ سے مکھن لگا کر اسکی جانب بڑھایا۔
تم کل دھت تھے نشے میں۔
اس نے جانے پوچھا تھا یا بتایا تھا۔
اس نے توس کی جانب ہاتھ نہیں بڑھایا تو ایڈون نے اسکا ہاتھ تھام کر توس پکڑایا۔
ہاں۔ یون بن کے ساتھ کلب گیا تھا وہاں تھوڑی پی لی تھی۔ وہی مجھے چھوڑ گیا ہوگا۔
اس نے وضاحت کی۔
کم سن آیا تھا چھوڑنے۔
اس نے توس کھانا شروع کیا۔ ایڈون نے سر جھٹکا۔
ہاں کم سن۔
وہ مکمل طور پر کھانے میں مگن تھا اور اسکی جانب دیکھنے سے دانستہ احتراظ کر رہا تھا۔وہ اس پر نگاہ جمائے تھی۔ رات کا منظر اسکی نگاہوں میں تازہ تھا۔ کم سن کے اطمینان دلانے کے باوجود وہ ایڈون کو دیکھنے آئی تھی۔ بیڈ پر اوندھاترچھا گرا تھا۔ کمبل ڈالنا تو دور اسکے جوتے بھئ نہیں اتارے تھے کسی نے۔ موبائل زمین پر شائد اسکی جیب سے پھسل کر گرا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر اسکے جوتے اتارے اسکی ٹانگیں احتیاط سے بیڈ پر کیں سر کے نیچے تکیہ رکھا کمبل کھول کر اڑھایا۔ موبائل تکیے کے پاس رکھا۔ اور
ایڈون کا ناشتہ ختم ہو چکا تھا۔ اس نے بھی سلائس ختم کر لیا تھاخاموشی سے واپسی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے وہ بنا تمہید بولا تھا۔
صبح صبح ماموں کا فون آیا تھا مجھے۔ انہوں نے مجھے جو کہا وہ الگ داستان ہے۔ میں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا مجھے وہ غلط نہیں لگے۔ کوئی بھی ہوتا انکی جگہ اسکا یہی ردعمل ہوتا۔بہر حال وہ بھی میرے فیصلے کے حق میں ہیں۔ پہلی فرصت میں ابارشن کروانے کا کہا ہے انہوں نے۔ تم اب بنا کوئی بہانہ بنائے بنا کسی قسم کا مسلئہ کھڑا کیئے خاموشی سے اب وہ ہونے دو جو ہم سب کیلئے اس وقت بہتر ہے۔
چند جملے تھے۔ راستے پر محیط ہو گئے تھے۔ وہ بالکل چپ سی ہو گئ تھی۔ ایڈون جانے مزید کیا کہتا آیا یا شائد چپ ہی رہا تھا اسے یاد نہیں تھا۔ ایڈون کو بھی اندازہ تھا کہ اس وقت وہ یقینا مائوف سے ذہن کے ساتھ چل رہی ہے ۔ جبھی اسکو گوشی وون تک چھوڑنے آیا ۔سامان رکھا۔ اسکو کمرے میں بیڈ پر بٹھا کراسکے سامنے دوزانو بیٹھ کر دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اسکا چہرہ تھام کر بولا۔
میں بہت برا سہی مگر یہ حقیقت ہے تمہارے لیئے برا نہیں ہوں کبھی برا سوچ نہیں سکتا تمہارے لیئے کبھی بھی نہیں۔ کل تمہیں جو کچھ کہا وہ سب غصے میں کہہ گیاتھا۔ اسے بھلا دینا میں اب بھی تمہارے ساتھ ہی اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ آئی لو یو سنتھیا۔
اس نے کہتے ہوئے اٹھ کر اسکی پیشانی چوم لی تھی۔ پھر ایکدم سیدھا ہوا۔
میں ابھی جا رہا ہوں تم آرام کر لو کھانا میں شام کو لیتا آئوں گا اکٹھے کھائیں گے۔ٹھیک ہے؟
ٹھیک ہے۔
اس نے سرموق حرکت نہیں کی تھی جبھی اس نے بات دہرا کر پوچھا جوابا وہ تکیہ سیدھا کرتی بستر پر لیٹ گئ۔ ایڈون چند لمحے اسکے جواب کا انتظار کرتا رہا پھر اس پر کمبل ڈالتا ہوا کمرے کا دروازہ بند کرتا نکل گیا۔رات کے مناظر من و عن تازہ ہوئے تھے ذہن میں۔ سنتھیا کی آنکھیں جلنے لگی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنتھیا یہ کیا کردیا ۔۔
وہ سنتھیا کا اعتراف سن کر ہکا بکا سی رہ گئ تھیں۔
پھر لعن طعن کا طویل سلسلہ تھا۔ انکے کوسنے سنتے وہ چڑ گئ۔
ممی بس کریں میں مر جائوں اس سے آپکو کوئی فرق نہیں پڑے گا؟ بس عزت کی فکر ہے آپکو۔
وہ چلا اٹھئ تھی۔
مر جاتیں تم صبر کر لیتے۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم نے ہمیں کہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا ہے اوپر سے تم واپس آنا چاہ رہی ہو کیا بتائیں گے ہم سب کو کیا کہیں گے پڑھنے بھیجا تھا اور۔۔
سارا سر پر ہاتھ رکھ کر رو پڑی تھیں۔
پہلی بار سنتھیا کا دل سکڑا
ممی میں مانتی ہوں مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے مگر ممی کیا بچوں سے غلطیاں نہیں ہوتیں؟ انکو معاف نہیں کیا جا سکتا؟
وہ فون تھامے بلک رہی تھی
معاف کریں؟ ہماری کیا مجال ہے سنتھیامگر تم جیتی جاگتی سانس لیتی غلطی کیسے دنیا سے چھپائوگی؟ تم نہیں جانتی ہو زندگی تباہ ہو جائے گی تمہاری میری بچی۔
ماں تھیں بلک اٹھی تھیں اولاد کیلئے ہی۔ ۔۔ ایڈون ۔۔ وہ کیا کہتا ہے؟
ممی ایڈون بہت سنگدل ہے وہ ابارٹ کروادینا چاہتا ہے اسے۔
وہ جانتی تھی کس مشکل سے اس نے یہ الفاظ ادا کیئے تھے۔اسکی آواز ساتھ چھوڑ رہی تھی۔ سارا ماں تھیں یقینا اسکا درد سمجھ سکتی تھیں۔
ہو سکتا ہے ابھی؟
وہ ایکدم چونکیں۔
بولو سنتھیا ہو سکتا ہے ابھی؟
انکے لہجے کی امید سنتھیا سمجھ گئ وہ یہ آخری بازی بھی ہار گئ ہے۔
ممی۔۔ سنتھیا کے منہ سے آواز بھی نہ نکل پائی۔
کروائو فورا پھرابارشن۔ پیسے چاہیئئیں ہم فورا مزید بھجواتے ہیں ۔فکر نہ کرو تم اور دیر نہ کرو میری بچی بہت مشکل ہو جائے گی ورنہ اس بچے کو اس دنیا
میں۔۔
بس کریں ممی۔ کیوں کیوں میں ایک جان لینے کا گناہ اپنے سر لوں۔ کیا حرج ہے اگر ہم اسکو دنیا میں آنے دیں ایسا کیا گناہ کیا اس معصوم نے جو سب اسکی زندگی کے دشمن بن گئے ہیں۔
وہ پھٹ پڑی۔
گناہ اس نے نہیں تم نے کیا ہے او ریہی ہوتا ہے ماں باپ کے گناہوں کی سزا انکی اولاد بھگتتی ہے اولاد کے کرنے ماں باپ کو بھگتنے پڑتے۔۔ اب بھگتو تم بھی جیسے ہم ناکردہ گناہ کی سزا بھگت رہے ہیں۔
سارا چٹخ کر بولیں۔ سنتھیا ایکدم آنسو پونچھ کر اٹل سے انداز میں بولی۔
ٹھیک ہے پھر میرا فیصلہ بھی سن لیں۔ اگر اس بچے کو کچھ ہوا تو میں اپنی جان بھی دے دوں گی۔
ٹھیک ہے دے دو جان صبر کر لیں گے ہم کہہ دیں گے مر گئ ۔۔۔۔۔ مر گئ ہو تم ہمارے لیئے سنتھیا ایسی اولاد ہونے سے بہتر تھا ہم بے اولاد رہتے۔ تمکو احساس تک نہیں ہو رہا تم نے ہمارے ساتھ کیا کرڈالا ہے۔
سارا بلک بلک کر کہہ رہی تھیں۔اس نے لعن طعن ڈانٹ ڈپٹ سب برداشت کرنے کا حوصلہ کرکے ماں کو سچائی بتائی تھی۔ یہ سوچ کر کہ شائد ایک ماں ہی ایک ماں کے جزبات سمجھ سکے مگر انکا ردعمل اسکی توقع سے ذیادہ شدید تھا۔
اگر اس بچے کا دنیا میں آنا نہیں لکھا تو صرف ایک ہی صورت ہوگی کہ اسکو دنیا میں لانے والی ہی نہیں رہی۔ آپ صبر کر لیں مجھ پر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حقیقتا خود کشی کے ارادے سے ہی نکلی تھی۔ کنوینیئس اسٹور میں چیزیں کھنگالتے آخراسے مطلوبہ چیز مل ہی گئ۔ وہ ایک تیز دھار کی چھری خرید کر نکلی ہی تھی جب اسے چرچ کی صلیب نظر آئی تھی۔ اونچی سی صلیب چرچ کا مینار اسکا دل ایکدم کھنچا تھا۔ اسکو اس علاقے کی ذیادہ پہچان نہ تھی مگر اونچی سی صلیب نیون سائن کی طرح چمک رہی تھی کرسمس قریب تھا سو اس پر برقی قمقمے دور سے بہار دکھا رہے تھے۔ وہ بے اختیار کھنچی گئ۔ اس چرچ تک کونسی گلی جاتی ہے کونسا راستہ وہ اندازے سے بڑھتی گئ دو دفعہ غلط مڑی ایک دفعہ راہ گیر سے پوچھا۔ چرچ کے گیٹ تک پہنچ کر اسے لگا تھا جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ ہے۔ چرچ میں کورس ہنگل میں کوئی نغمہ گنگنا رہے تھے کرسمس کہ تقریبات کیلئے تیاری ہو رہی تھی کچھ لوگ اگلی نشستوں پر بھی بیٹھے تھے وہ سب سے آخری رو کی قریبی نشست پر جا بیٹھی تھی۔
کوئی لمبی چوڑی تمہید نہیں باندھی تھی اس نے
آپ جانتے ہیں نا میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ مجھ سے بھول ہوئی ہے مجھے بے شک معاف نہ کریں جو چاہے سزا دے لیں مگر مجھے مزید ایک گناہ کبیرہ کرنے سے بچا لیں۔ اس بچے کی زندگی آپکی ضمانت میں دیتی ہوں بچا لیں اسے۔ کچھ نہ ہونے دیجئے گا اسے۔
پلیز۔آپ تو جانتے ہیں نا؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی خیال آنے پر وہ ایکدم اٹھ بیٹھی۔ اپنے چہرے پر پھسل آنے والے آنسو صاف کرتی وہ اپنے کارڈیگن کی جیبیں ٹٹولنے لگی۔ کنوئنئس اسٹور کی رسیدیں کچھ ریز گاری۔ اور۔ وہ کارڈ۔۔۔ اس نے کارڈ کو مٹھئ میں بھرلیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوپ کا فون آس پاس ہی کہیں بجا تھا۔اس نے چونک کے دیکھا تو وہ کمپائونڈ میں اندر جاتے جاتے رکی تھی۔
وہ رہی میں چلتی ہوں بائے۔
وہ تیزی سے کہتی بھاگ کے ہوپ کی جانب بڑھی تھی۔۔ ہیون نے جواب دینے کیلئے منہ کھولا ہی تھا مگر وہ بھاگ چکی تھی۔ اس نے کال کاٹ کے موبائل جیب میں رکھ لیا اور گہری سانس لیتا واپس مڑ گیا۔
ہوپ موبائل میں مسڈ کال دیکھ رہی تھی۔ شائد کال بیک کرنے لگی تھی اس نے جا لیا۔ پھولی سانس سے بتایا۔
ہیون تھا۔ میں نے کال۔کروائی تھی کہ پوچھ سکوں کتنی دیر ہے۔
لفٹ ابھی آکر رکی تھی۔ ہوپ کو بتا کر وہ تیزی سے لفٹ کی۔جانب لپکی ۔
ہوپ کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے اسکی پیروی کرنے لگی۔
جلدی آئو۔ اسے سست قدم اٹھاتے وہ تھوڑا تپ کر بولی
ہوپ ہیون کو کال ملا رہی تھی۔ خاصی ناگواری سے اسے گھورا تھا۔ جبکہ وہ لفٹ کا بٹن دبائے کینہ توز نگاہوں سے گھور رہی تھی۔
کیا جلدی ہے؟
وہ تیورئ چڑھا کر کہتی لفٹ میں داخل ہوئی تھی۔ اس نے جھٹ اپنے فلور کا بٹن دبایا۔
بیل جا رہی تھی ہیون نے دو تین بیلوں کے بعد فون کاٹ دیا تھا۔
ہوپ نے دزدیدہ نگاہوں سے اریزہ کو دیکھا وہ بالکل بھی اسکی جانب متوجہ نہیں تھی بلکہ بے چینی سے لفٹ کے پینل میں فلور گن رہی تھی انکے فلور پر دروازہ کھلتے ہی وہ بجلی کی تیزی سے نکلی تھی۔
بھاگ کرپاسورڈ لگا کر دروازہ کھولا حسب عادت ہاتھ مار کر بند بھی کردیا۔ اپنی جھونک میں آتی ہوپ کے منہ پر دروازہ بند ہوا تھا۔۔
کیہہ سیکی۔
بے ساختہ اسکے منہ سے گالی نکلی تھی۔ دوبارہ پاسورڈ لگا کر اندر داخل ہوئی تو پورا اپارٹمنٹ جگمگا رہا تھا اس نے سوئچ بورڈ کی سب لائٹس جلا دی تھیں۔کمرے کی بھی جل رہی تھی۔
ہوپ متجسس سی اندر داخل ہوئی تو کمرہ خالی تھا باتھ روم کا دروازہ بند تھا ۔
اسکی اتنی تیزی کی وجہ اب اسے سمجھ آگئ تھئ۔ وہ تھکی تھکی سی بیڈ پر گر گئ۔ آج کا دن بہت لمبا تھا اسکے لیئے۔اس وقت بالکل بھی ہمت نہ تھی اٹھ کر کھانا وانا کھانے کی بھی۔ وہیں گول مول سی ہو کر پڑ گئ سو بھئ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے بھر بھر کر چھپاکے منہ پر مارے تھے۔ اس وقت اسکی حالت کافی بری ہو گئی تھی۔ باقائدہ پیٹ میں درد شروع ہو گیا تھا۔ گہری سانس لیکر دروازے کا سہارہ لیتی باہر آئی تھی۔ ہوپ بیڈ پر آڑی۔ترچھی پڑی بے خبر سو رہی تھی۔ چہرے پر تھکن نمایاں تھی۔ اتنی نمایاں کہ وہ بلا ارادہ رک کر دیکھنے لگی۔ اسکے نقوش کافی کھنچے کھنچے تھے۔شائد اسکے بے تحاشا دبلا ہونے کی وجہ سے۔ اس نے ایک جانب تہہ ہوا کمبل اسے پھیلا کر اوڑھایا۔ اور خود باہر نکل آئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے پاس چار پیسے آجائیں گے تو کیا تکلیف پہنچے گی۔ وہ چڑی۔ ایک ہاتھ سے فون کان میں لگائے دوسرے ہاتھ سے وہ کٹے ہوئے آلو دھو رہی تھی۔
کیا فائدہ ان چار پیسوں کا مجھے وہ والا آئی پیڈ تو بھیجا نہیں ۔ خرید کر تو بھیجنا دور وہی والا بھجوا دو۔
وہ الٹی سیدھی ہانک رہا تھا
تم اچھی طرح جانتے ہو وہ امانت ہے اور میں اسے واپس بھی کرنے والی ہوں۔
گھی گرم ہو چکا تھا اس نے بھر کر آلو اس میں ڈالے۔
ہاں وہ اتنا امیر کبیر فنکار انتظار میں بیٹھا ہوگا نا ابھی تک اس نے نیا خرید لیا ہوگا احمق۔
صارم نے اسکی عقل کا ماتم کیا
تم بھی خرید لو نا کس نے روکا۔
وہ بے نیازی سے بولی۔ ایک ہاتھ سے آلو تلتے دوسرے ہاتھ سے فون کان سے لگائے وہ مصروف تھی۔
اچھا یہ بتائو کس نے ایڈمیشن کے پیسے دیئےہیں ؟ صارم سنجیدہ ہوا
ہیون نے۔ اس نے تل جانے والے چپس پلیٹ میں نکالے۔ ایک وقت میں ہی کڑاہی بھر کر بنا لیئے تھے چولہا بند کرتے ہوئے وہ پلیٹ اٹھاکر فریج کھولنے بڑھی
وہ ہی فارم فل کرواکے مجھے اکیڈمی چھوڑنے بھی گیا ساتھ کورس کی بکس سے بھرا بیگ بھی دیا مجھے ہا ہا ۔ بہت کیئرنگ ہے۔
یہ کس خوشی میں اتنا مہربان ہے تم پر؟ صارم کا انداز
ایک ہاتھ میں موبائل تھا دوسرے میں پلیٹ فریج کھولنے کو ہاتھ بڑھاتے وہ ٹھٹھک کر رہ گئ۔
مطلب؟
اس نے مڑ کر پلیٹ میز پر ٹکائی۔
مطلب صاف ہے یہ کیوں اتنا مہربان ہے تم پر؟ ہر وقت تمہارے ساتھ رہتا ہے ہر کام اپنے ذمے لے رکھا ہے؟ کیوں؟ متھے نہ لگ جائے تمہارے یہ۔
صارم کا انداز تفتیشئ تھا۔
اسکے انداز پر وہ چڑ گئ۔
بس پاکستانی ذہنیت آگئ بیچ میں۔ یہ کوریا ہے یہاں لڑکے لڑکیاں ہئوا نہیں ایک دوسرے کیلئے۔ سب دوست کو دوست سمجھتے لڑکا یا لڑکی نہیں۔ یہ پاکستان میں ہی ہوتا ہےلڑکی نے ہنس کے بات کرلی سیدھا پرپوز کرنے لگتے لڑکے۔ ہیون کے ذہن میں بھئ ایسی کوئی بات نہ ہوگی اسکو یہاں کوئی کمی ہے ایک سے ایک حسین لڑکی ہے یہاں۔ وہ سچ مچ ایک پرخلوص اچھا انسان ہے باقی دوستوں کے ساتھ بھی اتنا ہی کرتا ہے وہ۔میں کوئی خاص نہیں ہوں اسکے لیئے۔
اس نے خاصے غصے سے فریج کھول کر کیچ اپ نکالا تھا دھاڑ سے دروازہ بند کیا منہ پھلاتے آکر میز پر بیٹھی۔
اوہو تو ایسی بات ہے۔ تو اس پر تمہیں دکھ کیوں ہو رہا ؟ صارم نے مسکراہٹ دباتے ٹوکا۔
منہ تک چپس لے جاتے اریزہ کا ہاتھ رکا۔ چند ثانیئے چپ رہی پھر جھاڑ دیا۔
بکواس ۔ سو جائو دماغ خراب ہوگیاہے تمہارا۔
اس کے چڑنے پر صارم قہقہہ لگا کر ہنسا۔
ہا ہا ہا۔ تپتی کتنا ہو تم مزاق کر رہا تھا یار۔ تم ویسے ہو لکی یہاں مجھے اپنا ذاتی ملازم بنا رکھا تھا وہاں بھی نخرے اٹھانے والے مل گئے ہیں۔ کبھی اپنے بل پر بھی کچھ کر لیا کرو لڑکی۔
ہاں کوریا میں تو میرا بھوت رہ رہا ہے نا اکیلے۔ یا روز تم آتے ہو مجھے چھوڑنے لے جانے خود ہی کر رہی ہوں نا جاب بھی میں۔تمہاری تو۔
وہ بری طرح چڑ گئ تھی۔ صارم ہنسے گیا۔ پھر پینترا بدل کر بولا۔
اچھا اچھا بس چپس بن گئے نا اب کھائو اور موٹی ہو جائو۔اور جو تصویر بھیجی نا اسکو کم از کم دیکھ لو۔ میرا بچپن کا دوست ہے سگا پھپو کا بیٹا ہے یقین کرو تمہارے لیئے بہترین ہے پیارا بھئ ہے۔ ایک اور پلس۔
بے زاری سے چپس ٹونگتے وہ سر ہلاتی گئ۔
بس اس سے کہو دو سال انتظار کرے اس سے پہلے تو میں چھٹیوں میں بھی نہیں آئوں گی کوئی بھروسہ ہے تم لوگوں کا واپس ہی نہ آنے دو۔
شٹ اپ۔ صارم بھنایا۔
دیکھو۔ بنا دیکھے سوچے پرکھے جھٹ انکار کرنا بند کرو۔ خالہ پریشان ہیں بہت ہر وقت تمہاری۔۔
اوہ پلیز۔ اس نے فورا بات کاٹ دی
میں تنگ آگئ ہوں امی پریشان ہیں تو میں شادی کر لوں واہ ۔ اتنی دور تو آچکی ہوں اب بھی پریشان ہیں تو کیا کروں مر جائوں؟ پریشانی ہی ختم ہو جائے انکی۔
چٹخ کر بولی تو صارم کو بھئ غصہ آگیا
بکواس بند کرو۔ سوچ کر بولا کرو اتنے محبت کرنے والے لوگ ہیں زندگی میں اسکا شکر ۔۔۔
اسکا یقینا بھاشن جھاڑنے کا پروگرام تھا اس نے موقع نہیں دیا بات کاٹ دی۔
کھانا کھا رہی ہوں میں اور جواب ایڈوانس دے چکی اب دوبارہ ا س پر بات کرنے کیلئے فون نہ کرنا بائے۔
اس نے کہہ کر صارم کا جواب سنے بغیر کال بند کر دی۔
صبح کا ناشتہ کیا ہوا تھا اس وقت زوروں سے بھوک لگ رہی تھی۔ جلدی جلدی چپس کھاتے مکمل پلیٹ کی جانب متوجہ تھی ۔ کچھ خیال آیا تو واٹس ایپ کھول کر تصویر بھی نکال لی۔
اچھا خاصا خوش شکل جوان تھا۔
سجاد کے ساتھ شادی سے پہلے اگر یہ رشتہ آیا ہوتا تو یقینا اس نے بنا سوچے سمجھے ہاں کرنی تھی مگر ابھی اسکو یہ تصویر دیکھ کر نہ خوشی ہوئی نا غصہ آیا بس چند لمحے دیکھنے کے بعد اس نے ایپ بند کردی۔
یونہی سر اٹھایا تو سامنے ہوپ کھڑی تھی۔ اچھل کر پیچھے ہوئئ۔
ہائے اللہ ڈرا دیا مجھے۔
اسکے کہنے پر ہوپ نے سرد سی نگاہ ڈال کر گھونٹ گھونٹ پانی پینا شروع کردیا۔ اسکی گرم پانی کی بوتل جو تھرماس جیسی تھی میز پر ہی رکھی رہتی تھی۔
کھائو گئ؟ اس نے ازراہ مروت اسکی جانب پلیٹ بڑھائی۔ گرم بھاپ اڑاتے چپس کیچ اپ۔ ہوپ نے غیر ارادہ طو رپر ہاتھ بڑھادیا۔
اسکے اپنے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ کھانا کھائے بنا ہی آکر سو گئ تھی اس وقت چپس نعمت غیر مترقبہ لگے تھے۔ اس نے ایک دو کھائے تو احساس ہوا بھوک کافی زو رکی لگی ہوئی ہے۔
ریمن بھی بنا دوں؟
اسکی بھوک کا احساس کرکے اریزہ نے پوچھا جوابا وہ شرمندہ سی ہو کر ہاتھ واپس کھینچ گئ۔
نہیں میں خود بنا لیتی ہوں۔۔۔ وہ فورا کچن کیبنٹ کی جانب بڑھی پھر خیال آیا تو مڑ کر اس سے پوچھنے لگی۔
تم بھئ کھائو گی؟
اریزہ چپس کھارہی تھی اسکے پوچھنے پر حقیقتا ہاتھ سے چپس چھوٹا تھا۔
نہیں ۔ پھر خیال آیا تو
نو ۔۔ آں۔ آنی۔
اس نے اچھی خاصی حیرت سے سر نفی میں ہلایا تھا۔ہوپ گھور کر رہ گئ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیول کی روشنیاں مدھم پڑ چکی تھیں۔ شہر میں سونے کا وقت ہو چکا تھا۔صبح کے چار بجے سخت سردی اور وہ دونوں اپارٹمنٹ کے ٹیرس پر کھڑی کافی کی چسکیاں لے رہی تھیں۔
مگر ایک دوسرے سے قطعی مختلف حلیئے میں۔
ہوپ نے ایک نظر اسکو دیکھا۔ گھٹنوں تک والے گوارا کے دیئے رضائی نما جیکٹ میں مفلر لپیٹے خوب گرم والے موٹے گھر میں پہننے والے وولن سوکس اور سلیپر میں وہ سرخ ہوتی ناک کے ساتھ کافی کا مگ تھامے اسکی گرمائش لیتے بھی جھر جھری سی لے رہی تھی۔
خود ہوپ نے گھر کا مخصوص سویٹ سوٹ اور اپر پن رکھا تھا۔
تم بہت کمزور ہو۔
تم بہت مضبوط لڑکی ہو۔
دونوں اکٹھے بولی تھیں انگریزی میں۔ پھر ہنس دیں۔
تم لوگوں کو سردی کیوں نہیں لگتی مائنس میں ہے درجہ حرارت اور تم کتنے اطمینان سے کھڑی ہو۔
اریزہ نے کہا تو وہ ہنس پڑی۔
اوروں کا تو نہیں پتہ مگر شمالی کوریا میں میں بچپن سے برفباری کے دوران امدادی ٹرکوں سے اپنے وزن سے ذیادہ بڑے تھیلے اٹھا کر لانے کی عادی تھی۔ گرم کپڑے ہم سب بہن بھائیوں کے حساب سے کم ہوتے تھے۔ ایک کوٹ ہوتا تھا جو آہمونی نے اپنا پرانا مجھے دیا تھا۔ تب مجھے بڑا ہوتا تھا اور جب وہ چھوٹا ہوا تو اپنا قد بڑھ جانے پر خود پر بہت غصہ آیا تھا مجھے۔
وہ پرسکون سے انداز میں چسکیاں لیتے بتا رہی تھی۔ اریزہ کانپنا بھول۔کر اتنی متاسف سی دیکھ رہی تھی اسے کہ اسے ہنسی آگئ۔ شرارت سے بولی
اس بات کو دس پندرہ سال ہو چکے ہیں۔ اتنا دکھی مت ہو۔
تمہاری آہمونی ابھی بھی کوریا میں ہیں؟ اور بہن بھائی ؟
اس نے دلگیری سے پوچھا تھا۔
پتہ نہیں گنگشن نونا کوشش تو کر رہی ہیں پتہ کروانے کی مگر انکا کوئی اتا پتہ نہیں کہ شمالی کوریا میں ہیں چین میں یہاں یا مر کھپ گئے۔
وہ بےدردی سے بولی۔
بس انکی اطلاع کا انتظار کر رہی ہوں جی کر۔ اگر زندہ ہوئے تو انکو بلانے کا خرچہ اٹھانے کیلئے پیسہ پیسہ جوڑ رہی ہوں۔ اور اگر۔
وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر چپ ہوگئ۔
اور اگر؟ اریزہ اسکی جانب مکمل مڑ کر پوچھنے لگی۔
ہوپ نے اسکو ہمہ تن گوش دیکھا تو مسکرا دی۔
اور اگر وہ مر چکے ہوئے تو ایک فلور اوراوپر چڑھوں گئ۔
اس نے اشارے سے اوپر دکھایا۔ انکا فلور آخری تھا اس سے اوپر بس چھت تھی اریزہ اسکی انگلی کے اشارے پر احمقوں کی طرح سر اٹھا کر دیکھنے لگی۔
ہیں کیوں؟ وہ واقعی نہیں سمجھی تھی۔ ہوپ نے ہاتھ سے اچھت سےلیکر نیچے گرائونڈ فلور تک اشارہ کیا۔
اور وہاں سے نیچے۔
ہوپ مسکرائی۔
اریزہ کی گردن اسکے ہاتھ کے ساتھ گھومی تھی۔ یونہی جھک کر نیچے دیکھا تو کمپائونڈ اور لان کی جلتی دیو ہیکل روشنیاں اسے قمقموں سی لگیں۔ اتنی اونچائی اسکی روح تھرا گئ۔
اللہ نہ کرے۔ وہ بے ساختہ بولی۔
اسکی بات نہ سمجھتے ہوپ نے بھنئوں اچکا کر اسے دیکھا جیسے مطلب پوچھ رہی ہوں۔
میرا مطلب ہے خد انہ کرے انکو کچھ ہو اور تم خبردار خودکشی کا سوچنا بھی مت گناہ ہے۔اللہ سے اچھی امید رکھو دیکھنا وہ سب ٹھیک ہوں گے اور تم ایکدن ان سب سے ملوگی بھی انشا اللہ۔ خاص کر اپنی آہمونی سے
اس نےمسکرا کر پورے خلوص سے دعا دی تھی۔
میں کوئی چھوٹی بچی نہیں ہوں جسے تم بہلا سکو۔ حقیقت صرف یہ ہے کہ مجھے اندازہ ہے ان میں سے شائد ہی کوئی ایک آدھ زندہ بچا ہو تم نے کورین بیگار کیمپ نہیں دیکھے جبھی۔
اسکے پرخلوص جملوں پر ہوپ کا ردعمل بالکل غیر متوقع تھا۔ سپاٹ سے انداز میں جتا کر بولی۔ اسکی مسکراہٹ دھیمی پڑ گئ۔
تمہارے گھر سے فون تھا۔
ہوپ کو بھی شائد احساس ہوا تھا اپنے قنوطی پن میں وہ خاصی بدلحاظ ہو چلی ہے سو بات بدل دی۔
ہاں۔ اریزہ کا انداز دھیما پڑ گیا تھا
کون کون ہے تمہارے گھر میں؟
ہوپ جانے کیوں دلچسپی لے رہی تھی شائد اپنی کج روی کا ازالہ کرر ہی تھئ۔
وہ سوچ میں پڑی ایسے اکیلے پریشان انسان کے آگے کیا اپنے گھر کا ذکر کرے۔
ماں زندہ ہے تمہاری؟
اسے شش و پنج میں دیکھ کر اس نے اگلا سوال داغ دیا
ہاں۔ وہ جھٹ سے بولی۔ جتنا ناراض سہی مگر ماں کے ذکر نے جزباتی کردیا تھا
میرے گھر میں ماں ہے باپ ہے ایک بھائی ہے ابھی اسی سے بات کر رہی تھی میں۔
کبھئ باپ سے بات کرتی ہو کبھی بھائی سے ماں سے بات کرتے ایک دفعہ نہیں دیکھا میں نے تمہیں۔
ہوپ کا سوال دو ٹوک تھا وہ۔جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
وہ میں ناراض ہوں ان سے اور وہ مجھ سے۔نا وہ مجھ سے بات کرنے پر اصرار کرتی ہیں نہ میں۔بھائی اور پاپا سے خیریت پوچھ لیتی ہوں میں بس۔
اس نے سچ ہی بتادیا۔ ہوپ ہنوز اسے گھورتی رہی
کیوں؟
بس ۔ وہ ٹالنا چاہتئ تھی۔
ماں سے کیوں ناراض ہو؟ ماں سے بھی کوئی ناراض ہوتا ہے؟ ابھی میسر ہیں تو قدر نہیں تمہیں؟ انکے بنا زندگی کا تصور بھی کر سکتی ہو تم؟فالتو انا کے زعم میں نہ رہو تم۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے ماں کے بغیر زندگی کیسی ہوتی ہے۔
وہ ڈانٹ رہی تھی اسے۔ کیا؟ اریزہ حیران ہو کر دیکھنے لگی۔پھر قدرے برا مان کر بولی
کوئی وجہ ہی ہے جس سے اپنی ماں سے ناراض ہوں۔تم نہیں جانتیں انہوں نے میرے ساتھ کیا کیا ہے۔ اور۔۔
نہیں جانتی۔۔۔ مگر تمہیں بتائوں۔۔۔ ہوپ سکون سے بولی
میری ماں نے مجھے بارہ سال کی عمر میں ایک ساٹھ سالہ چینی شخص کو بیچا تھا چند یو آن کے بدلے تاکہ میری چھوٹی بہنوں کو کھانا اور دوا دے سکے۔ اوراگلے آٹھ سال میں نے اس شخص سے پٹتے اسکی خدمت کرتے گزارے میں نے دو وقت کے کھانے کے بدلے۔
اپنی ماں سے مجھے آج تک اتنا سا شکوہ تک نہ ہوسکا۔
وہ انگلی کی پورانگوٹھے سے چھوتی ذرہ برابر کا اشارہ کررہی تھی۔ اریزہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھتی رہ گئ۔
میری ماں کی جگہ خود کو رکھ کر سوچوں تو اس نے میرے حق میں بہتر کیا تھا اسکی باقی دو بیٹیاں جانے بچیں ئا نہیں مگر میں بچ گئ اس ایک فیصلے کی وجہ سے۔ ماں سے ذیادہ کون اولاد کا بہتر سوچ سکتا؟
وہ مسکرائی۔ اسکی مسکراہٹ دیکھ کر اریزہ کا دل چاہا اسے کہے مسکرایا نہ کرے۔ وہ دکھی لگتی ہے دیکھنے میں مگر مسکراتے دیکھو تو ٹوٹی ہوئئ بھی لگتی ہے۔
پھر؟ کیا ہوا میرا مطلب تمہارا شوہروہ کہاں ہے؟
اریزہ نے پوچھا تو وہ مگ ہونٹوں سے لگا کر بچی کھچئ کافی بھی حلق میں انڈیلنے لگی۔ اندر تک سب جلتا گیا تھا حالانکہ کافی اب اتنی گرم نہیں رہی تھی۔
مر گیا۔ شرابی تھا بی پی کا مسلئہ تھا ذیابیطس بھی تھی اس نے آٹھ سال کھینچ لیئے جی کر اسی پر حیرت ہے مجھے۔
وہ تمسخرانہ انداز میں بولی۔ اریزہ جز بز سی ہوئی۔جانے اسے تعزیت کرنی چاہیئے یا مبارکباد دینی چاہیئے۔ اسکی کشمکش چہرے پر واضح تھی۔ ہوپ بغور دیکھنے لگی اسے۔آج تک اسے زندگی میں ایسا کوئی انسان نہیں ملا تھا جو اسکی باتیں سنتے اس حد تک اسکے دکھ کو محسوس کرنے لگا ہو کہ جیسے یہ سب اسکے اپنے ساتھ بیتا ہو۔
تم اتنا دکھی مت ہو اس کو مرے ہوئے بھی سات آٹھ سال ہو رہے ہیں۔
وہ مزاق اڑا رہی تھی۔ اریزہ گہری سانس بھر کے رہ گئ۔
کیوپتا۔ ( کیوٹ) تم بہت ہی پیمپرڈ ہو۔ دوسروں کے دکھ تم محسوس کرنے لگو گی تو خوش رہنا بھول جائوگئ۔ دنیا بہت بری ہے بہت برا کرتی ہے یہ انسانوں کے ساتھ۔
ہوپ کا انداز ہنوز تھا۔ شرارت بھرے آنکھوں میں ہنس رہی تھئ۔ ۔اریزہ کو غصہ ہی آگیا۔ عجیب لڑکی ہے۔ کوئی کل سیدھی نہیں۔
ابھی تمہاری ایج اتنی نہیں۔ وہ مزید بھی کچھ کہنے لگی تھی کہ اریزہ نے چڑ کر بات کاٹ دی
اچھا بس۔ مانا بہت تجربہ ہے تمہارا مگر اب ایسی بھی اماں نہیں ہو تم۔
اٹھائیس سال۔
ہوپ نے اسکی بات کاٹ دی
اٹھائیس سال کی ہوں میں تم سے پانچ سات سال بڑی ۔ اب تو بنتا ہے نا میرا رعب جھاڑنا؟
وہ اب باقائدہ اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولی۔ اریزہ چپ ہی رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں بچیاں تیار ہو چکی تھیں۔ عبدالھادی نے دونوں کے بیگ بھی لا کر اسے تھمائے۔
بہت شکریہ تمہارا۔ ہمیں بالکل مخالف سمت جانا ہے جبھی تمہیں زحمت دے رہے ہیں۔
وہ مشکور و شرمندہ سے لہجے میں بولے تھے۔
کوئی بات نہیں۔۔
علی شرمندہ سا ہوا۔ عبدالہادی کی بیگم انکے ساتھ ہی تیار کھڑی تھیں وہ بھئ معزرت کرنے لگیں۔
تمہیں زحمت ہوگی مگر بچیوں کو وقت سے پہلے اسکول چھوڑنا بھی مناسب نہیں لگا ہمیں۔ تم ناشتہ واشتہ کر لو۔سب تیار ہے۔
آپ بے فکرہو کر جائیں ۔ اس نے اطمینان دلایا دونوں ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے رخصت ہوئے۔ اس نے گہری سانس لی۔ دونوں بچیاں بٹر بٹر اسکی شکل تک رہی تھیں۔
ٹی وی آن کردوں؟ اس نے پوچھا تو دونوں نے اکٹھے گردن ہلائی۔ انکو ٹی وی لگا کر لائونج میں بٹھا کر وہ کچن میں چلا آیا۔ اہتمام سے ناشتہ سجا تھا میز پر جالی سے ڈھکا۔ اس نے کافی میکر میں کافی بننے رکھی اور خود اطمینان سے بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا۔ کافی میکر کا بزر بجا تو اٹھ کر کافی نکالنے لگا کہ پیچھے سے لگا کوئی بہت تیزی سے گزرا ہے۔ اس نے چونک کر مڑ کر دیکھا تو دونوں بچیاں سکون سے کارپٹ پر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔اسکی جانب پشت تھی۔ اس نے کندھے اچکائے اور واپس ناشتہ کرنے بیٹھ گیا۔ کافی کا گھونٹ بھرا تبھی اسے عبدالھادی کے کمرے میں آہٹ سی محسوس ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ الماری کا سیف کھول کراس میں سے چیزیں نکال رہی تھی۔ سیونگ سرٹیفکیٹس ، کیش بنک اسٹیٹمنٹس جیولری۔ اس نے دیکھ دیکھ کر چن چن کر چیزیں نکال کر اپنے بیگ میں ڈالیں اور واپس سب چیزیں انکی جگہ پر رکھ کر سیف لاک کرکےمڑی تو ایکدم بھونچکا سی رہ گئ۔
کم چاگیا۔ دل پر ہاتھ رکھ کر وہ دو قدم پیچھےہوئی
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
فورا ہی وہ اپنے حواس میں آکر غصے سے بولی۔
تم کیا کررہی ہو؟
علی نے اسی کا سوال دہرادیا۔
تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے؟ اور تم کر کیا رہے ہو یہاں؟ گھر کے فرد کے سوا کسی کو اہل خانہ کے کمرے تک رسائئ نہیں ہونی چاہیئے بنیادی اخلاقیات ہیں یہ۔
وہ چبا چبا کر بولی تھی۔
علی اسکا لال بھبھوکا چہرہ دیکھ کر گہری سانس لیکر بولا۔
کیا لے جارہی ہو ؟ آہجوشی کو بتایاہے؟
یہ میرا گھر ہے میرے باپ کا میرا جو مرضی ہو لیکر جائوں گئ تمہیں کیا نکلو یہاں سے ۔
وہ بدلحاظی کی حدوں کو پار کر رہی تھی۔ آگے بڑھ کر باقائدہ دھکا دے دیا۔ علی بنا مزاحمت کیے باہر نکل آیا۔ وہ کینہ توز نگاہوں سے دیکھتی اسکے ساتھ باہر نکلی دروازہ بند کرکے بیگ کندھے پر۔درست کرتی جانے لگی کہ علی نے اسکا بیگ ہی پکڑ کر روکا ۔
آہجوشی کو کیا بتائوں گا اگر کوئی چیز کم ہوئی تو؟
میں نے اپنے سرٹیفیکیٹس اٹھائے ہیں اور اپنا زیور لیا ہے۔۔
جی ہائے ٹھٹھک کر رکی۔پھر بولی
بتائوں کیا آہجوشی کو؟
علی کا سوال ہنوز تھا۔ دونوں بچیاں ٹی وی بھول بھال کر انکی جانب متوجہ ہوچکی تھیں
شٹ ۔ وہ زیر لب بڑبڑائی تھئ۔جو مرضی آئے۔کہہ دینا۔
وہ کہہ کر بیگ چھڑاتی آگے بڑھی۔
ٹھیک ہےمیں انکو کہوں گا انکی بیٹی آئی تھی اور وہ اپنا حق وصول کرکے گئ ہے۔
جی ہائےایکدم سے جاتے جاتے رکی ہونٹ کچلے۔
وہ خوش ہوں گے سن کر۔ علی نے اضافہ کیا۔
اس نے پلٹ کر علی کو گھورا پھر لائونج میں کھڑی بہنوں کو دونوں بچیاں اسکو تک رہی تھیں۔
اس نے کندھے سے بیگ اتار کر وہیں الٹ دیا۔
علی کیلئے اسکا ردعمل غیر متوقع تھا۔ بیگ الٹ کر وہ رکی نہیں تیزی سے باہر نکلتی چلی گئ۔
ارے رکو سنو۔
وہ فوری بھاگا تھا اسکے پیچھے۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی سیدھا ٹیکسی کی۔جانب بڑھی شائد اس نے ٹیکسی کو۔انتظار کا کہہ رکھا تھا۔ وہ پکارتا بھاگ کر ٹیکسی کے قریب پہنچا مگر وہ رکی نہیں۔دھاڑ سے دروازہ بند کیا اور اسکے کھڑکی بجانے کے باوجود رخ موڑ کر ڈرائور کو گاڑی آگے بڑھانے کا بھی کہہ دیا۔
لمحہ بھر کی تاخیر کیئے بنا گاڑی چل پڑی تھی۔
وہ ہرگز اسے چڑانا نہیں چاہ رہا تھا مگر اسکی اپنی کیا حیثیت رہ جاتئ اگلے اپنا پورا گھر اسکے اوپر کھلا چھوڑ گئے تھے۔ وہ پلٹ کر اندر آیا تو بچیاں اسکی بکھیری چیزوں کو چھیڑ رہی تھی۔ گھڑی لاکٹ چین بریسلٹ اور سیونگ سرٹیفیکیٹس ۔ فاطمہ نے لاکٹ گلے میں ڈال لیا تھا اب اسے دکھا رہئ تھی۔ وہ احتیاط سے اسکے گلے سے لاکٹ اتارنے لگا۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچیوں کو اسکول گیٹ پر چھوڑ کر وہ اپنی اکیڈمی چلا آیا تھا۔ گتے کا شاپنگ بیگ اٹھائے وہ اندر داخل ہو رہا تھا جب اسکی۔نظر سامنے سے خراماں خراماں چل کر آتے اس جوڑے پر پڑی تھی۔ جانے کونسا قصہ چھڑا تھا۔ لڑکی گھٹنوں تک کا خوب پھولا ہوا جیکٹ پہنے زور و شور سے کچھ بول رہی تھی۔ ساتھ وہ لانبا سا لڑکا ہلکی سی مسکراہٹ سجائے ہمہ تن گوش تھا۔
وہ ان سے سلام دعا کرنے کی خاطر رک گیا۔
لڑکی نے بولتے بولتے رک کر اس لڑکے کو شائد واپس جانے کو کہا تھا۔ وہ سر ہلاتا رک گیا۔ ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کہتی وہ آگے آتی گئ۔ وہ لڑکا مڑا نہیں بلکہ وہیں کھڑا اسے جاتے دیکھتا رہا۔
اسکی نظر سامنے پڑی تو علی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ بلیک ہائئ نیک اور کوٹ پہنے وہ مسکرارہا تھا۔ اسکے چہرے پر خفت ذدہ سی مسکراہٹ در آئی۔پیراشوٹ جیکٹ کا۔ہڈ سر پر ٹکائے اندر مفلر لانگ شوز وہ خجل سی ہوئی۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی ارد گرد جتنی بھی چندی آنکھوں والی مخلوق تھی ان میں وہ حقیقتا سب سے الگ اور مختلف لگ رہی تھئ ضرورت سے ذیادہ ملفوف۔ سر کو دیکھ کر وہ قریب آکر بڑے ادب سے کوریائئ انداز میں سر ہلا کر بولی۔
بیاننگ۔۔۔
جانے اسکا لہجہ ایسا تھا یا اس نے واقعی سٹپٹا کر دو لفظوں کو ملا دیا تھا۔۔
علی خاصئ زور سے ہنسا تھا۔وہ سر کھجا کے رہ گئ۔
اسکی ہنگل سر کے سامنے ضرور اسے شرمندہ کرواتی تھئ۔
ہیون جو اسے اکیڈمی تک پہنچتے دیکھ کر پلٹ رہا تھا تھا اس قہقہے کی گونج اس کو واپس مڑ کر دیکھنے پر مجبور کرگئ تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد

جاری ہے۔

Kesi lagi apko salam korea ki yeh qist? Rate us below

Rating
Home » Areeza

Salam Korea Episode 32

Salam Korea

by Vaiza Zaidi

قسط 32

kdrama urdu,
Desi kimchi,
Desi kdrama fans,
Urdu kdrama,
Urdu web,
Kdrama maza,
Korean masti,
korean dramas,
kdrama,
k drama,
best korean drama,
korean drama 2020,
korean drama 2021,
kdrama 2021
best kdrama,
korean series,
kdramas to watch,
korean drama website,
kdrama website,
netflix korean drama,
asian drama,
best korean drama 2020,
top korean drama,
new korean drama 2021,
best korean drama 2021,
best kdrama 2020,
best kdrama to watch,
best korean drama on netflix,
best korean series,
best kdrama 2021,
kdrama netflix,
k drama urdu,
www korean drama,
watch korean drama,
best k dramas on netflix,
netflix korean drama 2021,
best kdrama on netflix,
new korean drama,
www kdrama,
k drama 2021,
korean series on netflix,
netflix korean drama 2020,
top 10 korean drama,
top kdrama,
top korean drama 2020,
k dramas to watch,
2021 korean drama,
korean drama series,
best korean series on netflix,
new kdrama 2021,
2020 kdrama,
2020 korean drama,
2021 kdrama,
k drama netflix,
best k drama to watch,
romance kdrama,
k drama 2020,
new korean drama 2020,
latest korean drama 2021,
korean dramas to watch,
top korean drama 2021,
watch kdrama,
korean tv series,
highest rated korean drama,
korean drama in hindi,
korean drama shows,
top kdrama 2021,
new kdrama,
watch asian drama,
popular korean drama,
kdrama online,
latest korean drama,
korean drama online,
korean netflix series,
korean tv shows,
korean shows,
must watch kdrama,
korean shows on netflix,
famous korean dramas,
romance korean drama,
top kdrama 2020,
most popular korean drama,
korean series 2021,
must watch korean drama,
new kdrama 2020,
best romance kdrama,
popular kdrama,
good kdramas,
korean drama in hindi dubbed,
korean series 2020,
kdramas 2020,
best korean shows on netflix,
korean drama 2021 netflix,
top k dramas,
top rated korean drama,
watch kdrama online,
korean romance,
top korean series,
netflix k drama,
good korean dramas,
latest kdrama 2021,
most watched korean drama,
top 10 kdrama,
famous kdrama,
all in korean drama,
best k drama 2020,
urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
pakeeza anchal,
l online reading,
pakeeza anchal novel online reading,
urdu novel bank,
urdu novel platform,
yaar zinda sohbat baqi,
desi story urdu,
Salam Korea Episode 32

بے خبر سوتے میں جانے موبائل کو کیا تکلیف پہنچی تھی کہ بجتا چلا گیا۔ہر سام سنگ صارف کی طرح اس مارننگ گلوری کو سن کر اسکو غصہ چڑھا تھا رونا آیا تھا نیند ٹوٹنے پر کوستے ہوئے موبائل اٹھایا اور غصے سے بڑبڑائی

 الارم کیوں بج رہا ہے؟ اس نے بند آنکھوں کو بمشکل تھوڑا سا کھول کر الارم بند کیا۔ ساتھ جانے کیا پیغام جل بجھ کر رہا تھا اس نے پروا نہیں کی۔ کروٹ بدل گئ۔ 

گوارا نے تقریبا ایک بجے کے قریب اٹھایا تھا اسے

کیا ہےسونے دو۔ 

وہ بڑ بڑا کر کروٹ بدل گئ

دے؟ گوارا کو سمجھ نہ آیا مگر نیند کے خمار میں ڈوبی اریزہ کا ترجمے کا کوئی ارادہ نہیں تھا

اچھا سنو میں بھی جا رہی ہوں باہر۔ تمہارا ناشتہ کرنے کا بھی ارادہ نہیں کیا؟ ایک بج رہا ہے۔۔ 

ایک بجنے کا سن کر اس نے پٹ آنکھیں کھول دی تھیں

کہاں جا رہی ہو؟ 

وہ اٹھ بیٹھی۔۔ 

سونا جا رہی ہوں کل پیکنگ پھر پرسوں گائوں ۔اس بار کرسمس گائوں میں ہی کروں گئ ہر سال میری اماں کوستی ہیں مجھے کہ میں ہاتھ نہیں بٹاتی۔ 

خیر ہے دسمبر ابھی شروع ہی ہوا ہے اور تم کرسمس تک وہاں رہوگئ میں کہا کروں گی اتنے دن یہاں۔۔۔۔

 اس چنڈالنی کے ساتھ۔ اس نے چنڈالنی پرکچھ ذیادہ ہی زور ڈال دیا۔

واٹ چنڈ۔ 

گوارا کی زبان بل۔کھا گئ چنڈالنی کہتے۔ 

سونا کیوں جانا ہے ؟ اس نے حیرانگی سے پوچھا تھا گوارا نے کندھے اچکا دیئے۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹھٹھرا دینے والی سردی کے برعکس اندر نرم گرم ماحول لوگوں کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ کوئی گرم پانی سے نہا کے آرہا تھا تو کوئی بھاپ اڑاتے کمرے میں پسینے نکال رہا تھا۔ ایک جانب خواتین کا انتظام تھا۔ 

گوارا باتھ گائون  پہن کر اور اسے زبردستی پہنواکر سونا باتھ میں لے آئی ۔ 

کمرے میں بھاپ جمع تھی۔ کچھ نوجوان لڑکیاں خوش گپیوں میں مگن تھیں کچھ آنکھیں بند کیئے نیم دراز تھیں۔ 

اسے کچھ بھی تھا سردی یہاں بہت لگ رہی تھی۔ جبھی اس نرم گرم ماحول میں آکر اسے اچھا لگا تھا۔ 

آدھا پونا گھنٹہ پسینہ بہا کرشاور لیکر باہر آئیں تو ٹھیک ٹھاک تازہ دم محسوس کر رہی تھیں۔ 

تواضع کیلئے ابلے انڈے اور قہوہ موجود تھا۔ 

اس کو ابلے انڈے پسند تھے مگر اکٹھے ایک سے ذیادہ کھانے کا کبھی اتفاق نہ ہوا تھا مگر وہاں سب جیسے انڈے سے پیٹ بھر رہے تھے۔وہ دلچسپی سے سب پر نظر دوڑا رہی تھئ۔ 

یہاں سب سونا ضرور جاتے ہیں؟ 

اریزہ کا انداز سوالیہ تھا۔

ہاں کوریا میں رواج ہے۔ فل باڈی مساج سے ساری تھکن اتر جاتی ہے تم تیار ہی نہیں ہوئیں اب گائوں جا کر آہموجی سے کروائوں گی مساج۔ 

گوارا کو افسوس ہوا۔ اریزہ کان کھجا کے رہ گئ۔ 

بھلے خواتین ہی مساج کر رہی تھیں پھر بھی اسے مناسب نہ لگا۔

ہمارے یہاں رواج نہیں ہے یوں مساج کا۔ اس نے کہہ دیا

مساج ضروری ہوتا ہے چلو بہت سے ممالک میں رواج نہیں مگر سونا تو تقریبا سب ممالک میں ہوتے ہیں اپنے اپنے انداز کے۔ 

اریزہ نے کندھے اچکا دیے۔

تم لوگ نہیں سونا جاتے؟ جانا چاہیئے۔ سردیوں میں تو جلد کے مردہ خلیئے اتارنے ہی چاہیئے۔ یہاں کورینز تو ہر صورت سونا ضرور جاتے ہیں۔ 

گوارا کی حیرت دیکھنے لائق تھی۔ جیسے پاکستانئ گندے رہتے ہوں۔وہ چڑ کر بولی

ہم۔نہا ہی اچھی طرح لیتے ہیں۔ الگ سے ایسے صفائی کی ضرورت نہیں ہوتی ہمیں۔

اس نے چڑایا۔ گوارا برا مانے بغیر بولی

اچھا یہ بتائو تم لڑکیاں وہاں کیسے وقت گزارتی ہو؟ 

وہ جو پوچھنا چاہ رہی تھی اریزہ کو بتاتے ہچکچاہٹ سی ہوئی۔ تھوڑی دیر مناسب جواب سوچنے کے بعد بس یہی کہا

گھر میں۔ 

وہ تو ظاہرہے۔ میرا مطلب تھا تفریح کیلئے کیا کرتی ہو؟ وہاں کلبز وغیرہ ہیں۔ 

نہیں۔ اس نے سوچا پھر سچ سچ کہہ دیا۔ 

پھر؟ گوارا ہمہ تن گوش تھی

اچھا یہ بتائو تم کیسے وقت گزارتی تھیں وہاں؟ 

بس صبح یونیورسٹی دوپہر کو گھر آتی تھی نماز وغیرہ پڑھ لی پھر گھر کے کام صفائی کھانا بنانا وغیرہ کبھی بہت دل کیا تو صارم کے ساتھ باہر جا کر آئیسکریم کھا لی۔یا سردیوں میں سوپ پینے چلےگئے۔ سردیوں میں رشتے دار وغیرہ آجاتے ہیں تو انکے ساتھ گھومنے پھرنے کا پروگرام بنا لیتے ہیں۔

ورنہ گھر میں۔ 

وہ شرمندہ سے انداز میں بتا رہی تھئ۔ کیا بتاتی وہاں لڑکیوں کی تفریح کا کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔ 

تمہاری دوستیں ہیں ؟ انکے ساتھ نہیں کہیں جاتیں؟ 

گوارا بہت سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔ 

ہیلو ہائے تو بہت سی لڑکیوں سے ہے۔ دوستی بس سنتھیا کے ساتھ تھی۔ اسکے گھر چلی جاتی تھی یا کبھی ہم دونوں مل کر بازا رچلی جاتی تھیں وہ بھی کبھی کبھار ورنہ اپنی شاپنگ کیلئے تو امی کے ساتھ جاتی تھی میں۔ 

اسے یقین ہوچلاتھا کہ گوارا اسے ٹھیک ٹھاک گیا گزرا سمجھ رہی ہے۔ 

تم جاب نہیں کرتی تھیں نا وہاں تو پیسے کون دیتا ہے تمہیں شاپنگ کیلئے؟ گوارا کو نہ جانے کیا دلچسپی تھئ

بابا۔ اس نے مختصرا کہا۔ وہ موضوع بدلنا چاہ رہی تھی

میں اپنی امی کے ساتھ آخری بار شاپنگ پر سیونتھ کلاس میں گئ تھئ۔ اسکے بعد سے آج تک کبھی موقع نہیں ملا۔ ہائی اسکول سے مختلف جاب کرنا شروع کردی تھیں میں نے۔پڑھائی کاخرچ اٹھانے کے بعد کبھی اتنے پیسے بچے نہیں کہ خوب ساری شاپنگ کر سکوں۔ بس ضرورت کی ایک آدھ چیز لیتی تھی۔ پھر گوشی وون میں رہ رہ کر پیسہ پیسہ جوڑا یونیورسٹی میں ایڈمیشن کیلئے۔ تب خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میرے بابا کا انتقال ہوگیا۔ انکی انشورنس سے خوب پیسہ ملا تو آہموجی نے اپارٹمنٹ لیا مگر وہ اسے کرایے پر چڑھانا چاہتی تھیں۔ میں نے تب ضد کی اور یہاں آگئی۔ ورنہ اسکا کرایہ بھی میری آہموجی نے اپنے نئے بچوں پر خرچ کرنا تھ۔ا۔

نئے بچوں پر؟ وہ اسکی اصطلاح پر حیران ہوئی

میرا بس ایک بھائی ہے۔چار سال چھوٹا۔ بس باقی آہموجی نے جب دوسری شادی کی تو آہجوشی سے دو بچے ہوئے انکے ابھی اسکول میں پڑھتے ہیں۔آہجوشی کا ایک بیٹا میرا ہم عمر ہے۔ اپنی ماں کےترکے سے ملنے والا ایک پیسہ اس نے آہموجی کو نہیں دیا۔ اپنا کاروبار کر رہا ہے مگر نا آہجوشی کو ایک پیسہ دیتاہے نا آہموجی کو۔ میرا بھائی آہجوشی کا ہاتھ بٹاتا ہے انکے ریستوران میں مگر اسکی تعلیم کا خرچہ تک وہ نہیں اٹھاتے۔ اسکے لیئے وہ الگ جاب کرتا ہے۔ تو اس فلیٹ کی رقم میں اپنے سوتیلے بہن بھائیوں پر کیوں خرچ کروں؟ یہ بس میرا اور میرے بھائی کا ہے۔ جب اسکی یونیورسٹی کی باری آئے گی وہ یہاں میرے ساتھ رہے گا پڑھے گا۔

گوارا نے عزم کیا۔ تصویر کا دوسرا رخ دیکھ کر وہ حیران سی رہ گئ تھی۔ 

اسکی پڑھائی کا۔خرچ؟ اریزہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔ 

اس نے جمع کیا ہے کچھ ۔ وہ بہت ذہین ہے ٹیوشنز پڑھاتا ہےاور کچھ پیسہ میرے پاس بھی ہے۔ 

پتہ ہے ماڈلنگ شروع کی تھی میں نے۔ تصویر میں میری ناک اورہونٹ اچھے نہیں آتے تھے۔ اس پر مجھے ایجنسی نے ریجیکٹ کر دیا۔ پورے دو سال پیسے جمع کیئے میں نے کہ آپریشن کروالوں۔ 

وہ اپنی انتہائی مہنگی ناک چھو کر بولی۔

ماڈلنگ کا موقع تو دوبارہ ملے توتھوڑا  بھائی کےکام آجائیں گے پیسے۔ ارے تم نے ابھئ تک انڈہ۔ختم نہیں کیا؟ بولتے بولتے اس پر نظر پڑی جو ادھ کھایا انڈہ تھامے بغور اسکی باتیں سن رہی تھی۔

خود اس نے چار انڈے کھالیئے تھے۔ 

میں بس یہی ایک کھائوں گئ۔ اس نے کہتے ہوئے باقی ماندہ انڈہ منہ میں رکھ لیا۔

چلو باہر چل کر گھومتے پھرتے ہیں۔۔ 

گوارا ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

گنگنم میں گھومتے باتیں کرتے ٹھیلوں سے کھانا چکھتے وہ دونوں بے فکری سے پھر رہی تھیں۔ 

گائوں جانے کیلئے وہ کچھ تحفے خریدنا چاہ رہی تھی۔ چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے چاکلیٹس بورڈ گیمز بہن کیلئے گڑیا بھائی کیلئے ریموٹ کنٹرول گاڑی۔ دوسرے بھائی کیلئے خوب پیارا سا ہڈ اور سویٹ سوٹ۔ماں کیلئے اونی لانگ اسکرٹ۔ باپ کیلئے بھی ایک سوئٹر خرید ی۔ 

تم بھی کچھ لے لو۔ اس نے اریزہ کو آفر کی۔ 

اس نے سوچا پھر نفی میں سر ہلا دیا۔ گورا نے اسکے اور اپنے لیئے ایک جیسی لانگ فراک لی۔

کرسمس دور ہے مگر کرسمس تک میں یہاں نہیں ہونگی۔ سو اسلیئے ایڈوانس تحفہ ۔۔ 

اریزہ کے نہ نہ کرنے پر اس نے اصرار سے تھمایا۔ 

تم آنا نا گائوں۔ بلکہ میں کرسمس سے پہلے ایک پارٹی رکھوں گئ سب آئیں گے تم بھئ آنا۔ کرسمس میں تو سب اپنے اپنے خاندان کے ساتھ مصروف ہوتے ہیں۔ اسلیئے میرا ارادہ پہلے ہی پارٹی کرنے کا ہے۔ 

دیکھتے ہیں۔ اس نے ٹالا تھا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح نیند سے بیدار ہوتے ہی مانوس سی خوشبو نے اسکو جگا دیا تھا۔ مسکرا کر بستر سے اٹھتے وہ بنا آہٹ کیئے کچن میں چلا آیا تھا۔ حسب توقع سنتھیا ایپرن باندھے پراٹھا بنا رہی تھی ۔ ایک جانب نان اسٹک پین میں پیاز نرم ہو رہی تھی۔ وہ دبے پائوں اسکے قریب آیا اور اسکو پیچھے سے جا کر بانہوں میں بھر لیا۔ اسکے کندھے پر تھوڑی ٹکادی۔۔ 

کیا کر رہی ہو میری جان۔ 

سنتھیا مسکرا دی۔ 

پراٹھا بنا رہی ہوں۔ پیچھے ہو پراٹھا جل جائے گا۔ اس سے خود کو چھڑاتے وہ جلدی سے آگے بڑھ کر پراٹھا پلٹنے لگی۔ سنہری سنہری گول سا پراٹھا۔ اسکی بھی بھوک چمک اٹھی تھئ۔

میں آملیٹ بنا دیتا ہوں۔ اس نے آگے بڑھ کر پین تھاما۔ 

گومو ووئو۔ سنتھیا  شکر گزار ہوئی۔ ایڈون نے بھنوئیں اچکا کر دیکھا تو وہ کھسیا کر ہنس دی ۔ایڈون بھی ہنس دیا

شکریہ۔۔ ایک تو کورینز نے گومو وویو زبان پر چڑھا دیا ہے۔ ویسے یہاں رہ رہ کر اچھی کورین آجائے گی ہمیں۔

پراٹھا اتار کر ہاٹ پاٹ میں رکھتے وہ مصروف سے انداز میں بولی۔ 

تمہیں کورین بولنی آجائے گی اور کورینز کو پراٹھے کھانے آجائیں گے۔ ایڈون نے پہلے سے حل شدہ انڈوں کا آمیزہ فرائی پین میں انڈیلا۔ 

اس دن گوارا بتا رہی تھی کہ وہ ناشتے میں پراٹھا کھا کے آئی ہے۔ اسے اریزہ نے بنا کر دیا تھا۔ 

وہ سادہ سے انداز میں بتا رہا تھا۔ سنتھیا کے تاثرات کھردرے سے ہو گئے ۔ ہاٹ پاٹ اٹھا کر وہ میز پر رکھنے لگی۔ پلیٹیں بھاپ اڑاتئ چائے کا کپ ۔۔ ناشتے کے سب لوازم مکمل تھے۔ 

لو جی آگیا انڈہ۔ میرے ہاتھ کا بنا انڈا کھائو گی کیا یاد کروگی۔ 

وہ خاصا خوش تھا اپنی کارکردگی پر۔ سنتھیا اسکو دیکھ کر ہنس پڑئ

زندگئ میں پہلی بار تلا ہے انڈہ اور بالکل صحیح تلا۔ 

وہ داد چاہ رہا تھا۔ 

شکریہ جناب میں مشکور ہوں آپ نے اتنی زحمت کی میرےلیئے۔ وہ بھی ہلکے پھلکے انداز میں کہتی اسکے مقابل آ بیٹھی۔ 

ویسے تمہیں آٹا کہاں سے مل گیا۔ یہاں۔ نوالہ بناتے یونہی ایڈون نے پوچھا۔ 

یہاں شائد جو پہلے لوگ رہنے آئے تھے انکو بیکنگ کا شوق تھا۔ میدہ کارن فلور ونیلا ایسسنس سب کچھ بچا ہوا تھا کیبنٹ میں پڑا تھا۔  

اس نے کہا تو ایڈون سر ہلا گیا۔ 

تم مجھے کسی کا چھوڑا ہوا کھلا رہی ہو۔ وہ مستی میں بول گیا۔ 

خود بھئ یہی چھوڑا ہوا کھا رہی ہوں۔ سنتھیا نے گھورا۔ 

مجھے چھوڑا ہوا کھانے کی عادت نہیں ۔۔ ایڈون نے چڑایا

مجھے بھی چھوڑا ہوا اپنانے کی عادت نہیں تھی۔ سنتھیا نے لمحہ بھر توقف کیئے بنا کہا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہارے لیئے جان بھی دے دوں تو تم مجھ پر یقین نہیں کروگی ہے نا۔ میں کیا کروں ایسا کہ تمہارا شک دور ہو جائے۔ نام تک نہیں لیتا میں ۔ خود کو اتنا سمجھاتا ہوں۔ مگر اریزہ۔۔ سوری سنتھیا میرے منہ سے نکل گیا نام سوری۔۔۔۔ اس نے سسکیاں بھرنا شروع کردیں۔

بار کے باہر ایک دکان کے آگے رکھے آرائشی بڑے سے غبارے والے بھالو کے سامنے دو زانو بیٹھا بین کر رہا تھا۔ 

کم سن نے گھور کر یون بن کو دیکھا۔ 

مجھے گوارا کے ساتھ ڈنر پر جانا ہے ورنہ یہ کارخیر خود انجام دیتا۔ اسکے گھر کا پتہ بھی نہیں تھا ورنہ ٹیکسی میں بٹھا کے بھیج دیتا۔

یون بن نے صفائی دی۔ کم سن دانت پیسنے لگا۔

یہیں پڑا رہنے دیتے جوان آدمی ہے مر تھوڑی جاتا۔ 

کم سن کے کہنے پر یون بن نے بہت حیرت سے اسکی شکل دیکھی وہ تھوڑا کھسیا گیا۔

یہ دوست ہے ہمارا۔ 

اس نے جیسے یاد دلایا۔

شاہزیب سے دوستی تھئ میری اس سے کبھی نہیں بنی میری اور اب تو۔۔ 

وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ 

اچھا میں خود چھوڑ آئوں گا اسے مجھے بتادو اسکا پتہ۔ 

یون بن خفا تو نہیں ہوا مگر انداز تھوڑا کھردرا ہوگیا تھا۔

چھیسو(جانے دو)

تم جائو گوارا ناراض ہو رہی ہوگی دیر ہونے پر۔ میں چھوڑ آتا ہوں اس سوغات کو۔

اس نے ہونٹ بھینچے۔ پھر اس نے یون بن کو بھیج کر خود بھئ ایک ٹیکسی روکی ۔ ایڈون کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ بٹھایا ۔

سنتھیا کو میری بالکل پروا نہیں ہے۔ وہ میری گرل فرینڈ نہیں رہی ہے وہ بس اب بچے کی ماں ہے۔اس بچے کے پیچھے مجھ سے بھی ناطہ توڑنے کو تیار ہے۔ بچے تو اور ہو جائیں گے ہے نا۔ مجھ پر اس بچے کو فوقیت دینا غلط ہے نا۔ وہ مجھ سے پیار کرتی ہے ناہے نا 

ایڈون کم سن کے کندھے پر سر رکھے پوچھ رہا تھا۔ کم سن کی جانے بلا ۔ وہ اپنی بات دہراتا سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھنے لگا۔ 

ماں تو پھر ایسی ہی ہوتی ہے نا۔ ماں کیلئے سب سے اہم اسکا بچہ ہوتا ہے۔ آپ اپنی گرل فرینڈ کے بچے سے محبت جتائیں وہ یقیناآپ سے خوش ہوجائے گی۔

اتنی دلگیری سے ڈرائیور نے جواب دیا کہ کم سن چونک کے شکل دیکھنے لگا۔ 

تمہیں سمجھ آرہی ہے یہ کیا کہہ رہا؟ 

کم سن کے پوچھنے پر وہ تھوڑا گڑبڑا سا گیا۔ 

جی وہ چھے سو ہمبندا ( مجھے معاف کیجئے گا) میں حد سے بڑھا۔ 

شستہ ہنگل میں ڈرائیور نے جواب دیا۔

اس نے کیا کہا ہے ابھی؟ کم سن نے پوچھا۔

ڈرائیور سوچ میں پڑا پھر ترجمہ دہرا دیا۔کم سن نے گھور کر ایڈون کو دیکھا۔ 

کہہ سیکی۔ اسکے منہ سے بے ساختہ ہی گالی نکلی تھی۔

ڈرائیور کو ہنسی آگئ۔ پھر فورا ہی ہونٹ بھینچ لیئے۔ کم سن نے اسے بھی گھورا۔

تم پاکستانی ہو؟ 

میں پاکستانئ ہوں۔ ایڈون کی جانب سے جواب آیا وہ اب دوبارہ اسکے کندھے پر سر رکھ اونگھ رہا تھا۔

اس نے چڑ کر پرے کیا اسے وہ سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگا۔

تم بھی پاکستانی ہو ؟ 

کم سن پھر پوچھ رہا تھا۔

آنی۔ بیک ویو مرر میں کم سن کو متوجہ دیکھ کر ڈرائیور نے جواب دیا۔

میں بھارتی ہوں۔ مگر ہندی سمجھ سکتا ہوں۔ یہ پاکستانی ہیں؟ 

اس نے پوچھا تو کم سن نےسر ہلا دیا۔ 

آپکے دوست ہیں؟ 

دے۔ مختصرہی جواب دیا۔

 کیا نام ہے انکا؟ 

ڈرائیور جتنی دلچسپی سے پوچھ رہا تھا کم سن کو اتنی ہی بیزاری ہو رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون۔

اسکے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ بی پی شائد ہائی ہو گیا تھا۔ رو رو کے سوجی ہوئی آنکھیں اکھڑی سانسیں۔ اسے لگا تھا اسکا آخری وقت قریب آچکا ہے۔وہ ہمتیں مجتمع کرکے اسکے کمرے کے دروازے تک آئی تھئ۔ ہلکا سا تھپتھپا کر اس نے پکارا مگر آواز ڈوب رہی تھی اسکی۔ 

دو تین دفعہ تھپتھپانے پر بھی دروازہ نہ کھلا تو وہ بے دم سی ہو کر واپسی کو مڑی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کو تھکی ہاری وہ اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تھیں۔ ہوپ کہیں تیار ہو کر جا رہی تھی ۔ روز مرہ کی گھسی جینز اور شرٹ کی بجائے کالی لانگ اسکرٹ ٹاپ اور ٹخنوں سے تھوڑا سا اوپر  تک کے کورٹ شوز پہنے چھوٹا سا پرس کندھے پر لٹکائے۔دونوں کا بلا ارادہ منہ کھل سا گیا تھا۔ انکو نظر انداز کرتے اونچی ہیل کو کھٹ کھٹ کرتی وہ انکے پاس سے گزر کر جانے لگی

کدھر جا رہی ہو؟ 

اریزہ نے کہنی کمر میں گھسیڑ دی تھی گوارا کے کہ مت پوچھو پھر بھی مجال ہے جو اس نے اثر لیا ہو۔ دھڑلے سے اسے کہنی سے تھام کر روک ڈالا۔ 

وہیں جہاں اریزہ جا رہی ہے۔ خشک سے انداز میں کہہ کر اس نے جھٹکے سے کہنی چھڑائی تھی۔ ردعمل کے طور پر پوری قوت سے دروازہ بند کرتی گئ۔ 

ہائش۔ گوارا بھنا کر اسکے پیچھے مارنے کو دوڑی مگر اریزہ نے کھینچ کھانچ لیا۔ 

کیا کہہ رہی تھی؟ 

اریزہ کو تجسس بھئ تھا۔ دونوں نے ہنگل میں ہی گفت و شنید کی تھی سو اسکے سر پر سے گزرا 

اسکا جملہ دہراتے دہراتے گوارا ٹھٹک کر رکی۔ 

تمہارا ہیون کے ساتھ کانسرٹ میں جانے کا پروگرام تھا نا؟ 

ہاں وہ تو ہفتے کی رات کو ہے کانسرٹ۔ وہ آرام سے انگڑائی لیتی صوفے پر گری۔ 

تو؟ آگاشی آج ہفتہ ہی ہے ؟

کمر پر ہاتھ رکھ کر گوارا نے جتایا تو وہ چونکی۔ 

ہیں ؟ واقعی؟ 

وہ اچھل پڑی۔ اپنا موبائل اٹھا کر دیکھا تو ریمائنڈر صبح بجتا رہا تھا۔۔ ساتھ ہیون کی چار مسڈ کالز جو دن بھر میں وقفے وقفے سے تھیں۔ ایک پیغام بھی تھا

میں پندرہ منٹ میں آرہا ہوں۔ پیغام آئے دس منٹ ہو چکے تھے

کیا ہوا۔۔ اسکا بھونچکا انداز کافی دیر تلک نہ بدلا تو گوارا بھی تشویش میں مبتلا ہو کر اسکے پاس آبیٹھی اور کندھا ہلانے لگی۔ 

میرا فون سائلنٹ پر تھا سارا دن ۔۔۔۔ اریزہ روہانسی سی ہوگئ

تو کیا ہوا؟ میری یون بن سے لڑائی ہوتی ہے تو میں بھی فون سائلنٹ کر دیتی ہوں۔

گوارا نے اطمینان سے انگڑائی لی۔تبھی آطلاعی گھنٹی گنگنا اٹھی

ہیون ہوگا۔شٹ میں تو تیار بھی نہیں ہوئی۔ اریزہ جیسے سر پر پائوں رکھ کر اندر کمرے میں بھاگی

ہیون۔ گوارا نے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھا تبھی دوبارہ گھنٹی بج اٹھی۔ وہ مارے باندھے دروازے پر چلی آئی۔ 

تھیبا۔ دروازہ کھولتے ہی اسکے منہ سے نکلا تھا۔ 

جدید ترین رواج کے مطابق اونچے سے برانڈ کے اپر جیکٹ اور جینز میں ملبوس نک سک سے بال درست کیئے خوشبوئوں میں بسا ہوا ہیون اسکے انداز پر خجل سا ہو کر سر پر ہاتھ پھیرنے لگا

ٹھیک لگ رہا ہوں؟ ۔ اس نے یونہی پوچھا۔ گوارا کچھ کہنے کی بجائے ایک طرف ہوگئ ہیون راستہ پا کر اندر چلا آیا۔

یون بن کو تم پر ترجیح دینے پر افسوس ہو رہا ہے مجھے۔ 

گوارا مایوسی سے سر ہلاتی دروازہ بند کرنے لگی۔ 

انیس بیس ہی ہیں ہم دونوں لوگوں کو ہم ایک شکل کے لگتے ہیں۔ 

ہیون نے چھیڑا تو گوارا نے برا سا منہ بنایا

تم پھر بیس ہی ہو نا۔ ویسے انی نے کانسرٹ میں میرا داخلہ بند تو نہیں کیا ہوا ہوگا ہے نا؟ اور اگر دیگر جوڑے جائیں تمہارے ساتھ تو وہ کوئی ہرجانہ بھی نہیں کرنے کاارادہ رکھتی ہوں گی۔ ہے نا؟ ایسے ہی معلومات کیلئے پوچھ رہی ہوں۔ 

اس نے اطمینان سے چبا چبا کر کہا تھا۔ ہیون کے چہرے پر خفت سی پھیل گئ۔ 

بیانیئے۔ اس نے سیدھا سیدھا معزرت کی۔ 

اسکے انداز پر گوارا قہقہہ لگا کر ہنس دی۔ 

تم بہت پیارے ہو۔ خدا کرے  اریزہ آسانی سے مان جائے۔ آج تو پکا پرپوز کر دینا بہترین موقع ہے۔ 

وہ اسکی تواضع کے خیال سے کہتی ہوئی کچن میں چلی آئی۔ 

چونکہ ہنگل میں بات کر رہی تھی لہذا آرام سے بولتی رہی بنا پروا کیئے۔ 

تمہیں بھی یہی لگتاہے نا کہ وہ انکار کر دے گی۔ 

ہیون سنجیدہ سا ہو کر اسکے پاس چلا آیا۔ 

اسکے لیئے کافی میکر میں کافی بناتے اسکے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے تھے۔ 

اس نے پلٹ کر دیکھا تو کائونٹر ٹیبل سے ٹکا ہیون جیبوں میں ہاتھ ڈالے مضطر سا نظر آیا

وہ بہت مختلف سی لڑکی ہے۔ جتنا تم دونوں ساتھ پھرتے ہو ساتھ رہتے ہو کوئی اور لڑکی ہوتی تو یقینا اب تک تمہیں یقین ہو چکا ہوتا کہ وہ تم میں دلچسپی لیتی ہے۔مگر اسکے ساتھ چوبیس گھنٹے رہنے کے باوجود میں پر یقین نہیں ہو کر کہہ سکتی کہ وہ تمہیں الگ نظر سے دیکھتی ہے کہ نہیں تم 

اس نے گہری سانس لیکر بات ادھوری چھوڑ دی۔ 

میری دعا ہوگی کہ تم دونوں اکٹھے ہو جائو خوش رہو۔ 

اس نے آگے بڑھ کر اسکا کندھا تھپتھپا کر کہا تو وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دیا

لیکن تم اسکے مخالف ردعمل کیلئے بھی ذہنی طور پر تیار رہنا۔ 

اسکی بات نے ہیون کی ہنسی نچوڑ سی لی تھی۔ 

ہوں۔ اس نے دھیرے سے سر ہلا کر نظر چرا لی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

لمبا سفید انرہائی نیک جو اسکی کمر سے تھوڑا نیچے تک آرہا تھا  پہن کر اوپر سے  بریو ہارٹ کی ٹی شرٹ پہنی۔ جو میڈیم سائز ہونے کے باعث ڈھیلی ڈھالی سی تھی اس پر۔ گلے میں اونی اسکارف ڈالا۔ لانگ بلیک اوورکوٹ بلیک جینز اور بلیک ہی ہیل والے جوتے پہن کر وہ خود کو گھوم گھوم کر ہر زاویئے سے دیکھ رہی تھی۔ کراس باڈی چھوٹا سا فان بیگ جس میں موبائل وغیرہ رکھا تھا۔ ایک چھوٹا سا کارڈ کا بیگ جس میں پلیئر اور لائٹ اسٹک کو بڑے اہتمام سے ڈبے میں بند کرکے رکھا تھا۔ 

بال برش کرکے چہرے پر کریم لگائی تو مرچیں سی لگنے لگیں۔ ہونٹوں پر گلابی لپ اسٹک لگا کر وہ تیار ہو کر باہر نکلی تو ہیون اور گوارا کچن کائنٹرکے پاس اطمینان سے اسٹول پر  بیٹھے کافی اڑا رہے تھے۔ 

کیسی لگ رہی ہوں۔ اسکو کمرے سے نکلتے دیکھ کر گوارا فورا متوجہ ہوئی اس نے اسی سے پوچھا

اچھی لگ رہی ہو مگر کیا بہت سردی لگ رہی ہے تمہیں؟ 

گوارا نے اچنبھے سے کہا تھا۔۔ وہ اسکے ہائی نیک اور سکارف کو تعجب سے دیکھ رہی تھئ۔ 

ہاں ۔۔۔۔کیوں؟ وہ گڑبڑائی

یہ اسکارف بالکل ضروری نہیں۔اور لانگ کوٹ میں شرٹ تو چھپا ہی لی ہے تم نے۔ 

وہ اسکے پاس آکر اسکے کپڑے ٹھیک کرنے لگی۔ اس نے اسکے گلے سے اسکارف نکال دیا تھا۔۔ اب کوٹ اتروا رہی تھی۔ 

اوہ خدایا ہائی نیک بھی پہن رکھی ہے۔ وہ بھرپور تعجب کا اظہار کر رہی تھی۔ 

ٹھہرو میں اپنی جیکٹ لا کر دیتئ ہوں۔ وہ اسکا کوٹ اور اسکارف صوفے پر رکھتی اندر کمرے میں چلی گئ۔ 

اس کے انداز پر خجل سی ہوتی ہوئی اس نے چہرے پر در آنے والی لٹیں کانوں کے پیچھے اڑسیں۔ یونہی نظر اٹھا کر دیکھا تو ہیون اسی کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اسے دیکھے جا رہا تھا مگرانداز اتنا سادہ سا تھا کہ اسے برا نہ لگا۔ 

یہ شرٹ ڈھیلی ہے نا تمہیں۔ میں کہہ رہا تھا۔ اس نے جتایا اور مڑ کر کافی ختم کرنے لگا۔ 

اسکے کہنے پر وہ چونکی۔ اسکارف لانگ کوٹ اتارنے کے بعد اسے خیال ہی نہیں رہا تھا کہ وہ بنا دوپٹے کے کھڑی ہے۔ 

یہ لو۔ اس نے خوبصورت سا گلابی جیکٹ اسے لا تھمایا تھا فٹنگ والا پتلا سا جو اسکی کمر تک آرہا تھا اوپر فر اور پھلتروں کا دلکش امتزاج تھا۔ کندھے پر ستارے دمک رہے تھے۔ 

اسکو اسکے ہلکا ہونے پر اعتراض سا ہوا۔ پہنتے ہوئے منمنا کر کہنا چاہا۔ 

ٹھنڈ لگے گئ۔

بہت گرم ہے یہ اور آج اتنی ٹھنڈ بھی نہیں پانچ ڈگری ہے بس۔ میں تو بس ہائی نیک پہنتی اسکی ضرورت بھی نہ پڑتی مجھے۔ 

گوارا نے گھرکتے ہوئے اسے پہنایا۔ 

پانچ ڈگرئ۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ۔ 

اتنے میں تو پنڈی میں میں بستر سے نہیں نکلتی دو سوئٹریں چڑھا کر کافی یا سوپ اندر انڈیلتی رہتی تھی۔ تم لوگ اوپر سے کوئی گیںڈے کی کھال لگوا کر اترے ہو۔آج جیسے کینچلی اتر رہی تھی اندازہ ہوا مجھے۔ 

وہ گوارا کو گھورتے ہوئے بولے جا رہی تھی۔ مگر گوارا نے دھیان نہ دیا۔ کونسا دھیان دینے سے اسکی اردو سمجھ آجانی تھئ۔ 

دے لو جتنی مرضئ گالیاں مگر پہن کر یہی جائوگی تم۔ 

گوارا نے کہا تو وہ منہ بنا کر بولی

گالیاں نہیں دے رہی میں۔ گالیاں نہیں دیتی میں۔ اتنا پتہ نہیں چلا ابھی تک میرے بارے میں۔

اس نے منہ پھلا کر کہا تھا۔ گوارا اسکے انداز پر ہنس پڑی

تمہارے میک اپ بگڑنے کا خدشہ نہ ہوتا تو ابھی اس بات پر تمہارے گالوں میں کوچی کوچی کرنا تھا میں نے۔ 

وہ اسکے گالوں پر اشارے سے چٹکیاں کاٹ رہی تھی

اچھی بات ہے ہاتھ نہ لگائو۔ مگر میں نے میک اپ کیا نہیں ہے۔ 

اس نے زبان چڑائی۔ 

کھوجے ما۔ گوارا نے یقین نہ کرتےہوئے اسکا گال چھوا اور حیران رہ گئ۔ 

واقعی تم نے میک اپ نہیں کیا؟ اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ 

تمہارے گال بلش کیوں ہورہے؟ اس نے باقائدہ اسکے گال چھوئے۔ 

آئی لائنر تک نہیں لگایا۔ 

وہ جیسے بے ہوش ہونے کو تھی۔ 

بس لپ اسٹک لگائی ہے۔ مجھے میک اپ کرنا آتا ہی نہیں ہے۔ سنتھیا کبھی کبھی تیار کردیتی تھی مجھے آئی لائنر لگاکر یونی جاتے ہوئے مجھے وہ بھی لگانا نہیں آتا۔ کبھی برابر نہیں لگتا۔ 

اس نے صاف گوئی سے کہا تھا۔ 

ہائش میں تو بنا میک اپ گھر سے نکلنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی کیسی لڑکی ہے یہ۔ 

وہ اب ہنگل میں واویلا کر رہی تھی۔ 

پیاری ۔

ہیون مگ رکھ کر اٹھا۔ اسکے کان کے پاس سرگوشی کی۔ اریزہ ان دونوں کو منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ 

چلیں؟ ۔ اس نے پوچھا۔تو ہیون نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس بڑے سے کمیونیٹی ہال کے سامنے رنگ و روشنیوں کا میلہ سا لگا تھا۔ پارکنگ انکو کافی دور ملی تھی۔ بس حد نگاہ تک گاڑیاں ہی گاڑیاں تھیں۔ 

اندر شائد کانسرٹ شروع ہوچکا تھا سیٹیوں چیخوں اور موسیقی کا بے ہنگم شور باہر تک سنائی دے رہا تھا۔ 

ہم بریو ہارٹ سے کانسرٹ سے پہلے ملیں گے یا بعد میں؟ 

ہیون کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے اس نے پوچھا۔ 

ہوں۔ وہ جیسے اپنے کسی دھیان سے چونکا۔ 

کیا ہوا؟ کہاں گم ہو ؟ 

اسکی غائب دماغی پر وہ ہنس دی

کہیں نہیں کیا کہہ رہی تھیں؟ 

اس نے سنبھل کر پوچھا۔۔ 

میں پوچھ رہی تھی ہم بریو ہارٹ سے کانسرٹ سے پہلے ملیں گے یا بعد میں۔ میرا مطلب ہم کانسرٹ میں اسکو لیکر تو نہیں پھریں گے نا؟ 

اس نے بیگ لہرایا۔ 

تمہیں کانسرٹ سننے میں کوئی دلچسپی نہیں؟ 

ہیون کو اسکے انداز پر واقعی حیرت ہوئی

بالکل نہیں۔ اس نے بلا توقف سر ہلایا

کیا فائدہ سننے کا جب سمجھ کچھ نہیں آنا۔ نہ زبان نا کچھ اور۔ہاں دھن اچھی ہوتی ہے اور آوازیں بھی بریو ہارٹ کی اچھی ہیں پر کیا مزا جب سمجھ ہی نہ آئے کیا کہہ رہے ہیں۔ 

وہ روانی میں کہتی گئ۔ 

ان آٹھ مہینوں میں تمہیں بالکل بھی ہنگل سمجھ نہیں آنی شروع ہوئی۔؟ لوگ تو روانی سے بولنے لگتے ہیں اتنے عرصے میں تو۔ 

ہیون نے کہا تو وہ کندھے اچکا گئ

سیکھیں تب نا۔مجھے نہ ضرورت ہے نا خواہش۔ انٹرنیشنل اسکول میں پڑھ رہی تھی وہاں انگریزی میں ہی پڑھا رہے تھے تو سیکھ کر کیا کرنا تھا۔ 

سیکھ لو زبان سیکھنا کام آجاتا ہے۔ کسی کی بات سمجھنے کے کسی کو سمجھنے کے۔ 

اسکا لہجہ جملے کے آخر تک دھیما ہوتا گیا۔ 

اریزہ نے دھیان نہ دیا۔ سامنے سے کئی ہائی اسکولرز یونیفارم میں شائد اسکول سے واپسی پر بھاگے آرہے تھے سب کے پاس بریو ہارٹس کی لائٹ اسٹکس تھیں 

بھاگو چلو دیر ہوگئ ہے۔ وہ انکے پاس سے جوش میں ایک دوسرے کو کہتے گزرے 

وہ ہونٹ بھینچ گیا

بریو ہارٹ کوریا کے ٹاپ بینڈز میں سے ایک ہیں۔ انکے گانے دنیا بھر میں ٹاپ رینکنگ میں آتے ہیں۔ امریکہ یورپ ہر جگہ انکی۔زبان سمجھ نہ آنے کے باوجود انکے گانے شوق سے سنے جاتے ہیں انکے پچھلے کانسرٹ نے تو امریکہ میں ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انکے ایک ایک رکن کی علیحدہ فین فالوونگ ہے۔ لوگ ایک جھلک دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے کوریا آتے ہیں۔صرف انکو اس چیریٹی کانسرٹ میں ایک گانا گانا تھا اور یہ سب ٹکٹ ہاتھوں ہاتھ بکے ہیں لوگ دوپہر سے یہاں اندر آنا شروع ہوگئےتھے۔ انکی سب سے آخری پرفارمنس ہوگی جو اب سے ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہوگی مگر دیکھو لوگ انکے لیئے کتنے پرجوش ہیں۔ 

اس نے انہی کی جانب اشارہ کیا تھا۔ 

اریزہ اسے الجھن سے دیکھ رہی تھی۔ اس بے وقت بریو ہارٹ کی مدح سرائی کی وجہ سمجھ نہیں آئی تھی۔ 

اور صرف یہی نہیں کورین ڈرامے دنیا بھر میں ذوق و شوق سے دیکھے جاتے ہیں۔ لیجنڈ آف بلو سی دنیا بھر میں کئی زبانوں میں ترجمہ کرکے دیکھایا جا رہا ہے۔ لوگ شوقیہ ہنگل سیکھتے ہیں ان ڈراموں اور گانوں کے پیچھے۔ اور 

بولتے بولتے وہ یکدم ہی خاموش ہوا  

اریزہ جز بز سی ہورہی تھی۔ یقینا اسے اسکی بات بری لگ چکی تھی۔ اتنے عرصے میں شائد پہلی بار وہ تھوڑا غصے میں آگیا تھا تب بھئ اسکا انداز بدتمیزانہ نہیں ہوا یقینا اسکا بڑا پن ہے اگر وہ برا مان بھی گیا ہے تو اسے معزرت کر لینی چاہیئے۔ یہی سوچ کر وہ بول اٹھی۔ 

میں معزرت خواہ ہوں شائد تمہیں میرا یہ کہنا کہ  ہنگل  سیکھنے کی خواہش ہے نا ضرورت برا لگا ہے۔ مگر اس سے میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ ہنگل کوئی بری زبان ہے یا کچھ بے عزتی کرنا مقصود تھا۔ میں تو بس ۔۔ 

اب دیکھو تم اور میں دونوں ہی ایک تیسری زبان میں آرام سے بات کر لیتے ہیں۔ اب میں تمہیں اردو سیکھنے کو تو نہین کہہ سکتی۔تمہیں کیا ضرورت ہے اردو سیکھنے کی جب تمہارا اردو سے کوئی واسطہ ہی نہیں پڑنا۔ اب اسکا یہ مطلب تھوڑی کے اردو بےکار یا بری زبان ہے بس اسکا مطلب یہ ہے کہ۔ 

ہیون ہونٹ بھینچے اسے دیکھتا رہا۔ وہ اسے ایک پزل کہ طرح لگی تھی ۔ ایسا لگا تھا کہ جیسے وہ پہلی بار اسے دیکھ رہا ہے۔ 

مجھے اردو میں دلچسپی ہونے لگی ہے۔ میرا دل کرتا ہے ایکدن میں اس زبان کو سمجھنے لگ جائوں۔ میں سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں تمہارے منہ سے نکلے ایک ایک لفظ کو۔ تمہارا دل نہیں کرتا ؟ کبھی میں کچھ اپنی زبان میں بھی بولوں تو تمہیں سمجھ آجائے۔ 

اسکی بات پر وہ اسے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہ گئ۔ منہ پھلائے شکوہ کرتا کیا بچوں والا انداز تھا۔ کیا وہ اس بات پر اس سے خفا ہو رہا تھا کہ اسے ہنگل کیوں سمجھ نہیں آتی؟

تم مجھے ویسے ہی ترجمہ کر دیتے ہو اگر کوئی اور بھی ہنگل بولے تو۔ او رخود تو تمہاری انگریزی اتنی اچھی ہے کہ۔

اریزہ کئ وضاحت اسے مزید غصہ دلا گئ تھی۔    

چھیسو۔ (چھوڑو) 

اس نے تیزی سے کہا اور اپنے قدموں کی رفتار بڑھا لی ۔ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسکے پیچھے لپکی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک لسٹ ہاتھ میں لیئے۔ کانوں میں اییئر پیس لگائے جسکا چھوٹا سا مائک گال تک آرہا تھا۔ وہ ادھر ادھر پھرتی ہدایتیں دے رہی تھی۔ 

اگلا لائن اپ بریو ہارٹ کا تھا۔ میک اپ روم میں جھانک کر اس نے انکی۔موجودگی کا یقین کرنا چاہا مگر وہاں بس کچھ ڈانسرز موجود تھے۔ 

بریو ہارٹ چیکڈ ان۔ 

اسکے کان میں سرگوشی ہوئی وہ چوکنا سی ہو کر لابی میں نکل آئی۔ استقبالیئے کی جانب جاتے ہوئے شیشے کی دیوار سے اسے بریو ہارٹ ایک بڑی سی کالے شیشوں والی وین سے اترتے دکھائئ دیئے۔ اپنے مینجرز اور گارڈز کے ہمراہ شاہانہ انداز میں۔ گنگ شن اور انکی این جی او کے  منتظم اعلی نے خود انکا استقبال کیا تھا اور پھول پیش کیئے تھے۔جسے انکے مینجر نے قبول کرکے فورا ہی ڈرائور کو گاڑی میں تھما دیئے تھے۔ 

شکریہ آپ کے تعاون کا۔ 

گنگ شن روایتی انداز میں جھک کر کہہ رہی تھی۔ 

جوابا انہوں نے بھی انکساری کا مظاہرہ کیا۔ 

میک اپ روم نمبر 5 خالی کردیا جائے۔ اور بریو ہارٹ کو قہوہ بھی پیش کیا جائے۔ 

اس نے مائک میں کہا۔ 

گنگ شن انکو اندر لا رہی تھی۔ اس نے آگے بڑھ کر رہنمائی کی انکو لابی میں روم نمبر پانچ تک پہنچا کر جب انکے گارڈز دروازے پر رکے تو وہ بھی گنگشن کے ساتھ اندر جانے کی۔بجائے وہیں رک گئ۔۔۔اسکا کام یہیں تک تھا۔ اس نے فورا مائک نیچے کیا اور ائیر پیس کان سے نکال کر جیب میں رکھ 

اسکے سرد سے انداز نے گارڈز کو بھی شائد متاثر کیا تھا۔۔

ایک نے جھک کر دوسرے کے کان میں سرگوشی کی 

عجیب خشک سی لڑکی ہے۔بڑی سے بڑی تنظیم کے بھی ملازم ہوں بریو ہارٹ کے پرستار نہ بھی ہوں تو بھی کم از کم انکو دیکھ کر گرم جوشی کا مظاہرہ ضرور کرتے ہیں۔ 

کم از کم تصویر تو ضرور ہی۔بنواتے ہیں۔ یہ تولکی کے مسکرا کر دیکھنے پر جوابا مسکرائی تک نہیں۔

ہاں واقعی میں بھی یہی نوٹ کررہا تھا۔ 

دوسرے نے بھئ ہاں میں ہاں ملائی۔ 

ان دونوں کی آوازیں اسکے بھی کان میں پڑی تھیں۔ 

تمتماتے چہرے کے ساتھ فہمائشی مسکراہٹ سجائے گنگ شن انکے کمرے سے نکلیں۔ اسکو دیکھ کر اسکی جانب چلی آئیں۔ 

ارے میں پکار رہی تھی۔ ائیرپیس کہاں ہے تمہارا۔ 

انہوں نے پوچھا تو وہ جیب میں سے نکال کر دکھانے لگی۔ 

ارے ۔۔ یہ دیکھو یوسب کے ساتھ سیلفی لی ہے میں نے کتنی پیاری آئی ہے۔ وہ خوش سی تھیں موبائل سے تصویر نکال کر دکھائی۔ وہ مسکرا دی۔ 

 مائک سے مستقل تمہیں بلا رہی تھی۔ تمہیں تصویر بنوا لیتیں بریو ہارٹ کے ساتھ اسکے بعد تو بہت مصروف ہو جائیں گے۔ موقع نہیں ملنا۔ چلو تمہاری تصویر بنوا دوں۔ 

وہ اسکا ہاتھ تھام کر مڑنے لگیں ۔ اس نے دھیرے سے ہاتھ چھڑا لیا

رہنے دیں انی۔ ضرورت نہیں۔ اور۔کوئی کام ہے تو بتا دیں۔

تم نے آج میرا آدھا کام نپٹا دیا اسکے لیئے میں تمہارا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔بس اب کچھ نہیں۔کانسرٹ سنو اور ہاں ڈنر ساتھ کرنا ہے ہمارے پورے دس بجے ہال نمبر 4 میں آجانا۔ یہ پاس رکھنا اپنے پاس

انہوں نے اپنے پرس سے ایک پاس نکال کر اسے دیا۔ 

جائو شاباش موسیقی کا لطف اٹھائو۔ وہ پیار سے اسکا گال چھو کر کہہ رہی تھیں۔ تبھی انکا موبائل بج اٹھا

ہاں ہیون۔۔۔ وہ کان سے لگا کر یکدم ہی لابی کی۔جانب بڑھ گئیں۔ 

انی وہ۔  وہ کچھ پوچھنا چاہ رہی۔تھی مگر موقع ہی نہ مل۔سکا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اجنبی زبان مگر دلفریب دھن وہ مارے باندھے آئی تھی اور اس وقت بالکل مگن سن رہی تھی۔ اسٹیج کے بالکل دائیں جانب انتظامیہ کے زیر اہتمام پہلی رو میں لگی نشستیں ۔ 

وہ انکو بس ایک جانب سے  دیکھ رہی تھی۔ تین طرفہ اسٹیج تھا مگر ساری ہلڑ بازی سامنے تھئ۔ وہاں سب نوجوان لڑکے لڑکیاں کھڑے تھے اچھل رہے تھے شور مچا رہے تھے۔سیٹیں اس تھوڑے سے قطعے سے پیچھے تھیں مگر اب لگتا تھا سب ہی سیٹوں پر بیٹھنے کو تیار نہیں۔ یہ بریو ہارٹ نہیں تھے۔ انکی باری ابھی نہیں آئی تھئ مگر لگتا تھا یہ بھی مشہور ہیں کافی۔ اوپن ائیر نہ ہونے کی وجہ سے وہاں ٹھنڈ بالکل نہیں تھی۔ منک کوٹ اتارنے کا وہ سوچ رہی تھی۔ پسینہ آنے سے جسم میں الگ چن چنئ سی مچ گئ تھی۔ کبھی بازو سہلاتی کبھی گردن۔ مگر اس سب کے باوجود اسے مزا آرہا تھا۔

 گلو کار گاتے گاتے انکے سامنے اکڑوں بیٹھ کر ہاتھ ملانے لگتے تو شور کان پھاڑنے لگتا۔۔۔۔ 

وہ بہت شوق سے انکی ہلڑ بازی دیکھ رہی تھی۔

انکی۔جانب سے انتظامیہ کے ارکان اور دیگر ملازمین اور ڈانسر گروپ اکٹھے ہی دوڑے چلے آئے۔ نشستوں کو۔نظر انداز کرکے سب اسٹیج کے قریب ہاہو کار میں مصروف ہو گئے۔۔ اسکو جو تھوڑی بہت ایک رخ کی شکل دیکھنے کو مل رہی تھی وہ بھی ختم۔ اسکو شدید خارش ہو رہی تھی پیٹ میں۔ چپکے سے سہلا کر بازو منک کوٹ کے اوپر سے ہی رگڑ دیا۔ اب سامنے بس پشتیں تھیں ناچتے لوگوں کی۔ 

اس نے بد مزہ سا ہو کر رخ پھیرا تو احساس ہوا ہیون اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ 

آئو ادھر چلیں۔ 

اس نے  اسٹیج کے سامنے والی جانب اشارہ  کیا۔ تو وہ اثبات میں سر ہلا کر اٹھ گئ۔ بےتحاشہ ہجوم میں بھی ہیون راستہ بناتا رہا۔ اسکا لمبا قد اسکی نشانی تھی۔ تبھی اسے دھکا سا لگا۔ سوری۔ مقابل کے کہنے سے پہلے زرا سا سر خم کرکے اس نے معزرت کر ڈالی مگر وہاں پروا کسے تھی۔ جھومتے چلاتے خوشی سے پاگل ہوتے لوگ۔ وہ سرجھٹک کر پرس سنبھالتی سیدھی ہوئی۔ اور ہیون لمحہ بھر میں نگاہوں سے اوجھل۔۔۔ 

اجنبی زبان اجنبی شکلیں۔ ایکدم سے اسکو لگا جیسے وہ بالکل تنہا سی رہ گئ ہے دنیا میں۔۔ 

تبھی دھماکا سا ہوا تھا۔۔ اور اسکا دل جیسے تھم سا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آننیانگ۔۔۔ 

اسٹیج کے قریب ہی دوسری جانب انتظامیہ کے مخصوص لباس میں ملبوس ہوپ نے اسے بھرے مجمعے میں بھی ایک نگاہ میں پہچان لیا تھا۔ جگہ بناتی وہ سیدھی اسکے پاس آئی۔

آننیانگ۔ وہ چونکا۔ مسکرایا۔ اور بس۔ مڑ کر جانے کیا اچک اچک کر دیکھنے لگا۔ 

ساری باتیں کہیں کھو گئیں۔ اسکے چہرے پر سایہ سا لہراگیا۔ 

آنکھیں پانی سے بھر گئیں۔ جھٹکے سے مڑ کر واپس جانے لگی تو اسٹیج کے قریب لگے آرائشی قمقموں کے بکھرے تاروں سے الجھ کر لڑکھڑا گئ۔ گرنے سے بچتے بچتے بھئ  وہ گھٹنے کے بل زمین پر آرہی۔ 

اسٹیج پر اور اسٹیج کے نیچے دنیا کے لوگ مگن تھے کسی نے غور بھی نہ کیا۔ 

کین چھنا؟ 

مانوس آواز۔ اس نے بےدردی سے آنکھیں رگڑلیں۔

دے۔ سہارے کیلئے بڑھے ہاتھ کو نظر انداز کرتے وہ خود ہی اپنے بل پر اسٹیج کا سہارا لیتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

اسکے گھٹنے چھل سے گئے تھے۔۔۔ہیون نے اسکی ضبط سے سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھا تو نظر انداز نہ کر پایا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 وہ اسکا ہاتھ تھام کے اندر لے آیا۔ لابی میں لگے صوفے پر بٹھا کر خود اندر داخل ہو گیا۔ 

گھٹنوں سے خون بہت نہیں بہہ رہا تھا مگر کھال اتر جانے سے مرچیں سی لگ رہی تھیں۔اور یہ مرچیں اس تکلیف کے آگے کچھ نہ تھیں جو اسکی آنکھوں میں آنسو بھر رہی تھی۔ 

وہ اندر انتظامیہ سے پلاسٹر مانگ کر لایا تھا۔ 

اسکے سامنے اکڑوں بیٹھ کر اس نے خود اسکے گھٹنے پر پلاسٹر لگایا تھا۔ جانے کیوں اسکا دل خوش فہم سا ہو گیا تھا۔ 

پلاسٹر لگا کر وہ ایکدم سر اونچا کر کے اسکی نگاہوں میں دیکھ کر مسکرایا تو وہ گڑ بڑا سی گئ

بہادر لڑکی ہوتم اتنئ معمولی چوٹ پر ایسے روتے نہیں۔ یہ لو۔ 

جیب سے لالی پاپ نکال کر اسکی جانب بڑھاتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا تھا۔ 

اسکے لب استعجاب سے نیم وا سے ہوئے۔ 

لو نا۔ ہیون نے پھر کہا تو اس نے دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر تھام لیا۔ اس نے شائد بچپن میں بھی کبھی لالی پاپ نہ کھایا تھا۔ مگر اس وقت جانے کیوں اسکا دل کیا کھانے کا۔ فورا ریپر اتار کر منہ میں رکھ لیا

ہیون اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ وہ اسکی جانب دیکھنے سے دانستہ احتراز کر رہی تھی۔ 

اب درد تو نہیں ہو رہا۔چند ثانیئے بعد اسے پھر مانوس آواز سنائی دی تھئ۔  

ریسیپشن پر رکھے ٹشو باکس سے کئی ٹشو نکال کر وہ لایا تھا۔ اب اسکی جانب بڑھاتے ہوئے نرمی سے پوچھ رہا تھا

گوماپسمنبدہ۔( شکریہ) 

اس نے مسکرا کر تھاما۔۔ 

تھائینئے تم مسکرادیں۔ میراخیال ہے چوٹ لگنے پر بڑوں کو بھی لالی پاپ دے کر بہلایا جا سکتا ہے۔ شکر ہے جب نرس نے مجھے پلاسٹر کے ساتھ لالی پاپ دیا تو میں نے واپس نہیں کیا۔ وہ سمجھی تھی کہ کسی بچے کو چوٹ لگی ہے۔

وہ مخصوص نرم سےمگر سرسری سے  انداز میں اسے بتا رہا تھا۔اسکے لالی پاپ کا ذائقہ ایکدم بدل کر تلخ ہونے لگا تھا۔ 

میں نونا کو بتا دیتا ہوں کہ تم آرام سے بیٹھو وہ کسی اور کو تمہاری ذمہ داری دے دیں گی۔۔ 

وہ اپنی طرف سے اسکو تسلی دے کر مصروف سے انداز میں کال ملانے لگا تھا۔ 

آننیانگ۔فون پر بات کرتے کرتے اس نے اخلاقا اسے سر کے اشارے سے خدا حافظ کہا اوراندر بڑھ گیا۔ 

ٹشو ہاتھ میں ہی تھے۔ اب آنکھوں پر بند باندھنے کی وجہ نہیں رہی تھی سو اس نے اس سیلاب کو بہہ جانے دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسٹیج کے قریب آرائشی غبارے پھاڑتے ہوئے بریو ہارٹس کے ارکان کا استقبال کیا گیا تھا۔ 

شور چیخیں بے ہنگم موسیقی اچھلتے کودتے لوگ۔ 

اسکا ایکدم دم سا گھٹنے لگا تھا۔ ایک اور زور دار پٹاخہ چھوٹا تھا اور گھپ اندھیرا سا چھایا تھا اسکی آنکھوں کے سامنے۔ 

آگ خون اندھیرا گنگ سی بچی۔۔۔۔۔ وہ ایکدم سے بارہ سال قبل پہنچ چکی تھئ۔ ڈوبتے دل کے ساتھ اسکے قدموں نے اسکا ساتھ دینے سے انکار کیا تھا۔ وہ اکڑوں بیٹھتی چلی گئ نا سمجھ میں آنے والا شور بلند ہوا تھا اسے دھکا لگا تھا وہ توازن برقرار نہ رکھ پائی تھی۔ کسی کے قدموں تلے اسکا ہاتھ آیا تھا۔ ایک سسکاری سی اسکے منہ سے نکلی۔ 

بند ہوتی آنکھوں کے سامنے اسکا بھائی تھا ملگجے اندھیرے میں مسکراتا آگے بڑھتا اور پھر سب دھواں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جیسے ہی دوبارہ کانسرٹ کی جانب آیا تب ہی بریو ہارٹ اسٹیج پر آنے لگے تھے۔ ایکدم ہی رونق دس گنا بڑھی تھی۔ اسکو انتظامیہ نے دروازہ استعمال کرنے سے روکنا چاہا تھا مگر وہ انکو پاس دکھاتا اندر آگیا تھا۔رش دگنا ہو چکا تھا مشکل  وہ راستہ بناتا اسٹیج کے قریب جانے لگا۔۔ ایکدم سے اسٹیج کی آرائشی بتی پھٹ گئ تھی۔ شیشے سے اڑ کر آگے کھڑے لوگوں پر آئے تھے۔ لمحہ بھر کو سب گھبرا کر پیچھے ہوئے۔ کچھ گرے کچھ بچے۔ چیخیں شور۔۔۔۔ 

آگاشئ۔۔ 

دو تین لڑکیاں تھیں جو چیخ چیخ کر پکار رہی۔تھیں۔ اسکا دل جانے کیوں زور سے دھڑک اٹھا تھاوہ تیزی سے اس جانب بڑھا۔ انتظامیہ کے چند رضا کار سب کو تحمل سے کام لینے کو کہہ رہے تھے۔ 

اس نے لوگوں کو ہٹا کر جب قریب جا کر دیکھا تو لمبا پھیلا بازو جسکی آستین گلابی منک کوٹ۔ 

وہ بے تابی سے آگے بڑھا۔۔ وہ اریزہ ہی تھی۔ مکمل بے ہوش منہ کے بل زمین پر گری ہوئی۔ وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اونچائی ذیادہ تو نہیں تھی مگر وہ بھد سے گری تھی۔ گھٹنے سخت زمین پر لگے تھے۔ پائوں مڑ گیا تھا۔ زمین پر۔ خشک گھاس اور سخت زمین۔ اسکی آنکھوں میں آنسو بھر گئے۔ اندر جاتے غیر معمولی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا تو تیزی سے بھاگتا اسکے قریب آیا تھا۔ وہ فورا اٹھ کر کھڑی بھی ہو گئ۔ 

چوٹ تو نہیں لگی؟ 

کسی نے اسے شانوں سے تھاما۔  

مانوس آواز اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ 

پریشان سا گھبرایا ہوا  مانوس چہرہ۔ 

ساری بہادری ہوا ہوگئ۔ موٹے موٹے آنسو گالوں پر پھسل آئے۔ وہ بری طرح رودی ۔  

ارے کہاں چوٹ لگئ ہے دکھائو۔ 

اس نے گھٹنوں پر سے فراک ہٹائی دونوں گھٹنے چھل گئے تھے پیر بھی مڑ گیا تھا۔ وہ اور زو رسے رو پڑی۔

بہادر بچے روتے نہیں۔ 

اسکے آنسو صاف کرتے حماد بھائئ اسے بہلا بھی رہے تھے۔ 

یہ جیسے ٹانک تھا حماد بھائئ کا۔ وہ فورا سسکیاں دبانے لگی 

میں رو تو نہیں رہی۔ 

آٹھ سالہ اریزہ منہ بسورتے کہہ تو رہی تھی مگر آنسو پھسلے چلے آرہے تھے۔ اس نے گود میں اٹھا کر اسے ل

لان کی کرسی پر لا بٹھایا  اندر سےروئی  پائوڈین لاکر زخم صاف کیا پلاسٹر لگایا ۔

وہ بہادری سے آنسو ضبط کیئے رہی۔ 

کیوں چڑھی تھیں درخت پر؟ بلی۔ 

اب ڈانٹنے کی باری تھی مگر چوٹ کے پیش نظر نرمی سے پوچھا گیا۔ 

وہ طوطا تھا ۔ اسے پکڑ کر پالنا تھا۔ سنتھیا نے کہا تھا۔

اس نے اشارہ کرکے بتایا۔ انکےلان میں امرود کا درخت تھا۔ ہزار بار منع کرنے کے باوجود بھی دونوں بچیاں اس پر چڑھنے کی کوشش کرتی پائی جاتی تھیں۔

سنتھیا کہاں ہے؟ 

حماد نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا۔ 

سنتھیا پچھلے صحن کی طرف جاتی راہداری میں سے گرد ن نکال کر۔جھانک رہی تھی۔ 

وہ آپ سے ڈر کر چھپ گئ۔ اریزہ نے بتایا تو وہ اسکو دیکھ کر رہ گیا۔ 

ادھر آئو۔ 

اسکے رعب سے بلانے پر وہ ڈرتی ڈرتی آئی۔ 

دیکھا نا درخت سے گرنے کتنی چوٹ آتی ہے۔اسلیئے سب بڑے منع کرتے ہیں درخت پر چڑھنے سے۔ مگر تم دونوں بات نہیں سنتی ہو۔ 

حماد بھائی کا رعب ہی بہت تھا۔ اس نے سر مزید جھکا لیا۔ 

آئیندہ درخت پر چڑھیں تو دونوں کی پٹائی کروں گا۔ 

اسکے کہنے پر اریزہ جو ہونٹ بھینچے مسکراہٹ ضبط کر رہی تھی ایکدم زور سے ہنس دی۔ سنتھیا اور حماد نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔ 

تم کیوں ہنس رہی ہو۔ 

آپ کبھی نہیں پٹائی کرتے۔ آپ تو اتنا پیار کرتے ہیں امی سے بھی بچاتے ہیں مجھے۔آپ کبھی پٹائی نہیں کرسکتے۔ 

اس نے یقین سے سر ہلایا۔ 

اسکی بات پر حماد کو ہنسی آگئ تھی۔ اسے ہنستے دیکھ کر سنتھیا کو بھی شہہ ملی۔ 

حماد بھائئ طوطا پکڑ دیں وہ ادھر بیٹھا ہوا ہے۔ 

سنتھیا کے کہنے پر اریزہ بھی اٹھ  کر اسکی ٹانگوں سےلپٹ کر ضد کرنے لگی۔ 

ارے خوامخواہ۔ حماد نے ڈانٹنا چاہا۔ 

پلیز پلیز۔ اتنا پیارا طوطا ہے۔

دونوں ضد کرنے لگیں۔۔ 

دونوں کا ہاتھ تھام کر انہیں قریبی مارکیٹ لایا تھا۔ 

طوطا اتنا پیارا پرندہ ہے اڑتا پھرتا ہے اپنی مرضی سے کھاتا ہے پیتا ہے اسے پنجرے میں قید تھوڑی کرنا چاہیئے۔ 

دونوں کو آئیسکریم تھمانے تک وہ سمجھاتا رہا تھا۔ دونوں نے آئسکریم تھام کر ضد چھوڑ دی تھی۔ مزے لیکر آئیسکریم کھاتے اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو حماد بھائی اسے دور جاتے دکھائی دییے۔ 

کہاں جا رہے ہیں حماد بھائی۔ وہ بے چینی سے بولی

مجھے کیا پتہ۔ سنتھیا کا دھیان آئسکریم کی جانب تھا۔ 

حماد بھائی۔ وہ بے تابی سے پکارتی انکے پیچھے بھاگی۔ 

جانے وہ تیزی سے کیوں چلے جا رہے تھے۔ 

حماد بھائی۔ اس نے پوری طاقت لگا کر آواز دی ۔۔ 

ایک دوسری تیسری اسکی پکار جیسے ان تک پہنچی ہی نہیں۔ اسکی آئسکریم چھوٹ چکی تھی انکے پیچھے بھاگتے بھاگتے انکے دور چلے جانے کے احساس نے اسکو جیسے توڑ دیا وہ بسورنے لگی ۔

حماد بھائی رک جائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نامانوس سا احساس۔ سرمیں  شدید درد کی لہر اٹھی۔ اس نے کراہ کر آنکھیں کھولی تھیں۔ تیز چمکتی روشنی نے نگاہیں چندھیا دیں۔ اس نے فورا آنکھیں دوبارہ بند کر لیں۔ گنگ شن کھڑی ملازم کو ہدایتیں دے رہی تھیں جب اس پر نگاہ پڑی تو بات ادھوری چھوڑ کر اسکے پاس چلی آئیں۔

اریزہ شا۔ نونا اسکا دھیرے دھیرے گال سہلا رہی تھیں۔۔ 

اسکے حواس بحال ہونا شروع ہوئے۔۔ 

کین چھنا۔۔ ؟؟؟ وہ پیار سے اسے جگاتے ہوئے پوچھ رہی تھیں 

نونا انگریزی میں پوچھیں اسے سمجھ نہیں آئی ہوگی بات۔ 

ہیون کی آواز تھی یہ۔ اس نے پہچان لی تھی۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو انی نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دے کر بیٹھنے میں مدد کی۔ 

اوہ ہاں۔ آر یو اوکے اریزہ؟ 

جی۔۔ اس کے منہ سے بلا ارادہ نکلا تھا۔۔۔ 

انی مسکرا دیں۔ 

سویٹ جی۔ تھینک گاڈ یو آر اوکے۔ میں پریشان ہو گئ تھی۔ 

انہوں نے اسکے بال سنوارے۔ اسکے حواس قابو میں آرہے تھے اس نے طائرانہ نگاہ ڈالی تو احساس ہوا وہ اس وقت کسی ہال نما کمرے میں ہے لمبے صوفے پر اسے لٹایا گیا تھا۔ انی دو تین سوٹڈ بوٹڈ این جی او کے ملازم اور ایک سفید اوور آل پہنے اسٹیتھسکوپ گلے میں لٹکائے کھڑا ڈاکٹر جو یقینا اسکے انتظار میں ہی تھا۔ اسے دیکھ کر مطمئن سا ہو کر انی سے ہنگل میں پوچھنے لگا۔ 

ہیون۔۔ اس نے گردن موڑ کر ڈھونڈنا چاہا وہ اسکے سرہانے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ 

اریزہ ڈاکٹر صاحب پوچھ رہے ہیں تم اپنا ہاتھ ہلا کر دیکھو انگلیاں بھی۔۔۔۔ 

اس نے میکا نکی انداز میں ہدایات پر عمل کیا۔ 

ہلکی سی سسکی سی نکلی تھی۔ اسکی انگلیاں بری طرح چھل گئ تھیں ان پر پائوڈین اور کوئی سفید سی دوا لگائی تھی۔ مگر یقینا انگلیاں فریکچر ہونے سے بچ گئی تھیں۔

تم پہلے بھی بے ہوش ہوتی رہی ہو کبھی؟ 

سوال نے اسکو گڑبڑا سا دیا تھا۔

ایک دو دفعہ۔ اس نے جھوٹ بولا تھا یہ اسکی شکل پر لکھا تھا۔ 

ابھی تمہارا بی پی چیک کرنا ہوگا۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئ۔

  کہیں بہت ذیادہ درد تو نہیں ہو رہا۔ 

پہلے ڈاکٹر کچھ بولتا پھر گنگ شن دہراتیں۔ اسکا مکمل چیک اپ کرکے نجانے کیا کیا پوچھ کر مطمئن ہو کر ٹلا تھا ڈاکٹر۔ 

اس طرح بے ہوش ہونا صحیح بات نہیں احتیاطا مکمل چیک اپ کرانا چاہیئے۔ انکے بازو میں بھی سرخ الرجی سی ہے اسکا بھی اثر ہو سکتاہے۔ 

ڈاکٹر ہدایتیں دیتا چلا گیا۔ 

گنگ شن نے جھک جھک کر شکریہ ادا کرتے ہوئے رخصت کیا۔ پھر اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔ 

کیا لڑکی پریشان کرکے رکھ دیا۔ اتنا کور ہو کر آنے کی کیا ضرورت تھی اتنئ سردی تو نہیں تھی۔ ہائی نیک انر اوپر سے منک کوٹ پسینے پسینے ہو رہی تھیں تم جبھی بی پی بھی لو ہوگیا ہوگا تمہارا۔ 

انی بےتکلفی سے اسکے برابر آکر بیٹھیں تو وہ چونک سی گئ۔ اسکا منک کوٹ اتارا جا چکا تھا بلکہ ٹی شرٹ بھی موٹی ہائی نیک کی آستینیں بھی اوپر تک چڑھائی ہوئی تھیں۔ 

ڈاکٹر تو کہہ رہا تھا کہ ہائی نیک بھی اتاریں اسکا دم گھٹ رہا ہوگا۔مگر ہیون نے سختی سے منع کیا کہ تم برا مان جائو گی اٹھ کر۔ حالانکہ اس وقت تمہاری جو حالت تھی ہم سب گھبرا گئے تھے۔ 

انی کے کہنے پر اس نے سر مزید جھکا لیا تھا۔ 

اور یہ الرجی کیسے ہوئی تمہیں۔ پوری گردن سرخ ہو رہی ہے تمہاری اور بازو بھی۔ 

وہ تشویش بھرے انداز میں اسکے بازوکو چھو کر دیکھ رہی تھیں۔ 

میری ایک دوست بہت اچھی ڈرما ٹالوجسٹ ہے میں اس سے اپائنٹمنٹ لے دیتی ہوں تم چیک اپ کروا لو۔ اس طرح کی الرجیز کو ہلکا نہیں لینا چاہیئے۔ 

وہ بالکل بڑی بہنوں کی طرح اسکی فکر کر رہی تھیں۔ اسکی آنکھیں بھرنے لگی تھیں۔ 

یہ پی لو۔ 

ہیون نے انرجی ڈرنک اسکی جانب بڑھایا۔ 

اس نے بلا تامل تھام کر پینا شروع کردیا۔ حلق ایکدم خشک سا ہو رہا تھا۔۔۔۔ 

چند گھونٹ پی کر کچھ توانائی بحال ہوتی محسوس ہوئی۔ 

انی ہم گھر جاتے ہیں آپ اپنا انتظام دیکھ لیں۔ 

وہ یقینا کافی مصروف ہونگی اریزہ کو ہیون کے کہنے پر شرمندگی سی ہوئی۔ 

نہیں بس سب ہوگیا۔ آج ہوپ نے بہت مدد کرائی میری ۔اب بس ایک چکر لگائوں گی ڈائننگ ہال کا سب مہمان کھانا تو کھا۔۔ 

کہتے کہتے خیال آیا تو چونکیں

ارے تم لوگوں نے کھانا تو کھایا نہیں ہوگا۔میں یہاں بھجواتی ہوں۔ 

نہیں انی آپ رہنے دیں۔ اریزہ ویسے بھی یہاں کا کھانا نہیں کھائے گی۔ 

ہیون نےسہولت سے منع کیا۔ دونوں کیا باتیں کر رہے تھے سمجھ تو نہیں آیا اسے مگر اپنے نام پر وہ سر اٹھا کر انہیں دیکھنے لگی تھی۔ 

انی وہ بریو ہارٹ۔ وہ انکو مجھے کچھ دینا تھا

 اسے یاد آیا تو ادھر ادھر متلا شی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ 

وہ تو چلے بھی گئے۔ انکے پاس وقت کم تھا ۔ تم بے ہوش رہی ہو۔تو وقت کا اندازہ نہیں ہوا تمہیں۔ 

ہیونگ سک نے کہا تو وہ مایوس سی ہوگئ۔ 

کوئی بات نہیں اگلی دفعہ سہی۔ پکا تمہاری سیلفی بنوائوں گی انکے ساتھ۔ وہ تو ہماری این جی او کیلئے بہت فنڈز دیتے ہیں۔ان سے ہمارے کئی کانسرٹس کا کانٹریکٹ ہے۔ تم دل چھوٹا مت کرو پھر ملوادوں گی تمہیں۔

انی یہی سمجھیں کہ وہ پرستار ہے انکی۔ جبھی باقائدہ کندھا تھپتھپا کر تسلی دینے لگیں۔ 

اسے خود پر شدید غصہ آرہا تھا۔ شدید ترین۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

گاڑی رہائشی عمارت کے باہر روکتے ہوئے اس نے گردن موڑ کر اریزہ کو دیکھا ستے ہوئے چہرے کے ساتھ سرنگاہیں جھکائے وہ اتنی گہری سوچ میں تھی کہ منزل پر پہنچ جانے پر بھی نہ چونکی۔ 

اریزہ شا۔ کچھ کھا لیتیں طبیعت بہتر ہو جاتی۔ 

اس نے نرمئ سے پھر ٹوکا تو وہ چونک اٹھی۔ 

سامنے نگاہ پڑی تو جلدی سے اپنی جانب کا دروازہ کھول کر اتر گئ۔ 

اسکی پھرتی پرہیون دیکھتا ہی رہ گیا۔ 

گاڑی سے اتر کر ایکدم سے سرد ہوا سر پر لگی تھی۔مگر وہ تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی۔

چند لمحے اسے دیکھ کر وہ بھی اپنی جانب کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا تھا۔ 

تیز تیز قدم اٹھا کر اسکے برابر ہوا۔

مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی۔کل

 اسکے اچانک پاس سے آواز ابھری تو وہ اچھل سی پڑی۔ چونک کر سر اٹھایا تو ہیون جو اسے ہی دیکھ رہا تھاایکدم چپ سا رہ گیا۔ 

اسکی آنکھوں سے تواتر سے  آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ بے آواز رو رہی تھی زاروقطار۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یوم کشمیر کی تقریب تھی اسکول میں۔ علامتی خون آلود سفید لباس پہنے اسٹیج پر کچھ بچے نظم پڑھ رہے تھے۔  کچھ لاشیں بنے پڑے تھے۔ 

میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایکدن۔۔۔۔۔۔۔۔ 

ایک بچی کشمیری لباس پہنے لاشوں کے اوپر بین کرنے کی اداکاری کر رہی تھی۔ 

منظر دیکھتے ہی دیکھتے بدلا تھا اندھیرے میں ڈوبا تھا خون چیخیں ایمبولنس کے سائرن۔۔ 

اور پہلی رو میں بیٹھی دسویں جماعت کی طالبہ بے ہوش ہو کر لڑھک گئ تھی۔۔۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سب لڑکیاں کالج کے زیر تعمیر ڈیپارٹمنٹ میں بیٹھی موبائل پر کال ملا ئے تھیں۔ بوائے فرینڈ ایک کا تھا کن سوئیاں لینے پانچ اس پر جھکی تھیں۔ہنستی کھیلتی مسکراہٹ دباتی سرگوشیاں کرتی لڑکیاں۔۔

جلدی بات کرو۔۔ کوئی آنہ جائے ۔۔۔ ایک کو تشویش ہوئی

آج جمعہ ہے آج تو مزدوروں کی بھی چھٹی ہے کون آئے گا یہاں۔ 

دوسری نے تسلی دی۔

 تبھی زور دار آواز کیساتھ کوئی بلاک گرا تھا۔۔۔ 

ہلکی ہلکی سی چیخیں ابھریں۔ سب چونکی سنبھلیں ۔بس ایک طالبہ بے آواز بے ہوش ہو کر پڑی تھی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں قریبی کنوینیئس اسٹور پر چلے آئے تھے۔ اسکو بھوک بھی لگ رہی تھی۔ خود تو وہ ریمن لے کر آیا تھا اریزہ کیلئے سینڈوچ لیکر آیا تھا۔ شدید بھوک میں یہ بھی نعمت سے کم نہیں تھا۔سینڈوچ کے ساتھ گرم گرم کافی نے نا صرف گرمائش دی تھی بلکہ تازم دم بھی کر دیا تھا۔ 

اس نے کھا پی کے منہ صاف کیا۔ تو ہیون جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اسے دیکھ کر مسکرا دی۔ 

یہ بتائو روئی کیوں تھیں۔۔۔ 

اس نے فورا سوال کیا تھا۔ وہ بہانہ سوچنے لگی تو اس نے ٹوک دیا

سوچنے کی ضرورت نہیں کوئی بہانہ سچ بتائو یا کہہ دو میں بتانا نہیں چاہتی۔ 

اسکے دو ٹوک کہنے پر وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔

مجھے اپنے آپ پر غصہ آرہا تھا۔ میں اتنی کمزور کیوں ہوں۔ اس بات پر۔ دنیا کی لڑکیاں کیا کیا نہیں کرتیں مائونٹ ایورسٹ سر کر لیتی ہیں اور میں۔ 

وہ زرا سا استہزائیہ انداز میں ہنسی۔ 

زرا سا ۔۔۔ وہ رکی۔ ہیون نے چند لمحہ انتظار کیا مگر وہ خاموش ہی رہی۔ 

تم روئئ کیوں ہو ؟ درد ہو رہا ہے ہاتھ میں؟ 

ہیون کے پوچھنے پر وہ نفی میں سر ہلا گئ۔ 

اسکے دائیں ہاتھ کی تینوں انگلیوں پر بینڈج ٹیپ لگی تھی۔ شائد خراشیں گہری تھیں۔

بے ہوش ہونے پر۔

اس نے کہہ دیا۔ 

ہیون نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگا۔

بے ہوش تم  یقینا پہلی دفعہ نہیں ہوئیں۔ کم از کم میرے سامنے دوسری دفعہ ہوئی ہو۔۔۔  مجھے لگا تھا تمہارا بی پی لو ہوا ہے۔ مگراس وقت تم  اصل میں تم اندھیرے کی وجہ سے گھبرائی تھیں۔ اس بار میں سمجھ نہیں پایا۔ اتنا اندھیرا نہیں تھا وہاں۔ تو یا شائد شور وغل یا گھٹن۔۔اور حماد کون ہے؟ تم بے ہوشی میں کسی کو۔پکار رہی تھیں۔ 

اسکے دعوے سے کہنے پر وہ ایکدم چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگی تھئ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حماد میرے بھائی کا نام ہے۔ 

پیدل اسکے ساتھ قدم اٹھاتے وہ اسے بتا رہی تھی۔ 

مجھے اتنا دردناک حادثہ دیکھنے کی وجہ سے ایک خوف لاحق رہتا ہے۔ میں اندھیرے میں بالکل نہیں رہ پاتی۔ کوئی اچانک پٹاخہ بھی پھوٹ جائے تو میں اس رات اس منظر میں پہنچ جاتی ہوں۔۔ مجھے اپنا بھائی کبھی کبھی اتنا یاد آتا ہے کہ خوابوں میں دیکھتئ ہوں اسے۔ ہنستے کھیلتے باتیں کرتے۔ بچپن کی یادیں۔ اور پھر اچانک سب غائب ہوجاتا ہے۔ 

اسکی آواز بھرا گئ تھئ۔ وہ بے ربط بول رہی تھی ۔ ہیون بالکل خاموشی سے سن رہا تھا۔

ایسے کسی خواب سے جاگ کر میں گھنٹوں روتی ہوں۔ 

میری ذر اسی چوٹ پر تڑپ جانے والا بھائی نظر نہیں آتا مجھے۔میرا دل کرتا ہے۔ 

آنسوئوں کا گولا سا گلے میں اٹک گیا۔ وہ خاموش ہو گئ۔ اسکے ہمراہ وہ بھی خاموشی سے قدم بڑھاتا رہا ۔ کمپائونڈ میں آنے تک وہ خود پر قابو پاچکی تھی۔ 

تم اب گھر جائو میں چلی جائوں گی۔ 

اس نے قصدا مسکرا کر کہا۔ 

ہیون خاموشی سے اسکا چہرہ دیکھتا رہا۔

آج میں نے کافی پریشان کیا ہے بیان۔ اور شکریہ ہر چیز ہر بات کیلئے شکریہ۔ گڈ نائٹ۔

ہیون چند لمحے اسے یونہی گھورتا رہا پھر بنا کچھ کہے پلٹ گیا۔ اریزہ نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سوچا۔

وہ خواب تھا کہ ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پے در پے فون کالز آرہی تھیں ایڈون کے موبائل میں۔ ایڈون بالکل بے سدھ ہو چکا تھا۔ اسکو کندھے پر لاد کر بمشکل کمرے تک لاتے اسکی کمر ٹوٹنے کی نوبت آگئ تھی۔ شکرہے کمرہ شروع ہی میں تھا۔لاک کھول کر اسے اسکے بیڈ پر لٹا کر وہ کمر سیدھی ہی کر رہا تھا۔جب ڈرائور آکھڑا ہوا دروازے پر۔اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا

یہ آپکا گاڑی میں رہ گیا تھا۔ 

وہ اسکا والٹ تھامے تھا۔ 

کم سن اسے شکر گزار نظروں سے دیکھ کر رہ۔گیا۔ پیمنٹ کرتے شائد اس نے سیٹ پر ہی گرادیا تھا۔ 

فون بجے جا رہا تھا۔ 

کم سن نے اسکی جیکٹ ٹٹول کر فون نکالا ۔ 

اٹھا لیں کیا پتہ کوئی اہم کال ہو۔ 

ڈرائور نے کہا تو وہ شش و پنج میں پڑ گیا۔ 

انگریزی میں نام جگمگا تو رہا تھا 

اٹھا تو لوں مگر مجھے سمجھ کیا آئے گی کیا کہا ہے؟ 

کم سن کی بات میں دم تھا۔ 

لائیں میں بات سنتا ہوں۔ ڈرائور نے فون ہاتھ سے لے لیا۔

ہیلو۔ 

اسکے ہیلو کہنے پر دوسری جانب سے لگاتار کچھ کہا گیا تھا۔

دیکھیں یہ جن کا فون ہے وہ اس وقت ہوش میں نہیں ہیں۔ 

جی۔ نہیں بس انہوں نے پی ذیادہ لی ہے۔ جی۔ کون ؟ کیا ؟ سنتھیا؟ اچھا اسی ڈورم میں ہے؟ اچھا ہم دیکھ لیتے ہیں۔ ٹھیک ہے ہم پولیس کو اطلاع دے دیتے ہیں۔جی بھگوان پر۔بھروسہ رکھیں جی جی۔ ٹھیک ہے۔ آپ یہاں اگر کوئی اور آپکے جاننے والے ہیں انکو بھی اطلاع دے دیں۔ جی۔ ہیلو۔ ہیلو۔ 

فون بند ہونے تک ڈرائیور ٹھیک ٹھاک پریشان لگنے لگا تھا۔

نام ادھوری بات۔۔۔۔ کم سن نے بے تابی سے سوال کیا

کیا ہوا؟ 

کوئی سنتھیا ہے انکی ماتا جی تھیں کہہ رہی تھیں اسی گوشی وون میں ہیں۔ وہ بھی انہوں نے خود کشی کر لی ہے۔۔۔۔ 

اسکا جملہ پورا ہونے تک کم سن بجلی کی سی  تیزی سے اسے ایک طرف کرتا کمرے سے نکلا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد 

جاری ہے۔

Kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ?

Rating
Home » Areeza

Salam Korea Episode 31

salam korea

by vaiza zaidi

kdrama urdu,
Desi kimchi,
Desi kdrama fans,
Urdu kdrama,
Urdu web,
Kdrama maza,
Korean masti,
korean dramas,
kdrama,
k drama,
best korean drama,
korean drama 2020,
korean drama 2021,
kdrama 2021
best kdrama,
korean series,
kdramas to watch,
korean drama website,
kdrama website,
netflix korean drama,
asian drama,
best korean drama 2020,
top korean drama,
new korean drama 2021,
best korean drama 2021,
best kdrama 2020,
best kdrama to watch,
best korean drama on netflix,
best korean series,
best kdrama 2021,
kdrama netflix,
k drama urdu,
www korean drama,
watch korean drama,
best k dramas on netflix,
netflix korean drama 2021,
best kdrama on netflix,
new korean drama,
www kdrama,
k drama 2021,
korean series on netflix,
netflix korean drama 2020,
top 10 korean drama,
top kdrama,
top korean drama 2020,
k dramas to watch,
2021 korean drama,
korean drama series,
best korean series on netflix,
new kdrama 2021,
2020 kdrama,
2020 korean drama,
2021 kdrama,
k drama netflix,
best k drama to watch,
romance kdrama,
k drama 2020,
new korean drama 2020,
latest korean drama 2021,
korean dramas to watch,
top korean drama 2021,
watch kdrama,
korean tv series,
highest rated korean drama,
korean drama in hindi,
korean drama shows,
top kdrama 2021,
new kdrama,
watch asian drama,
popular korean drama,
kdrama online,
latest korean drama,
korean drama online,
korean netflix series,
korean tv shows,
korean shows,
must watch kdrama,
korean shows on netflix,
famous korean dramas,
romance korean drama,
top kdrama 2020,
most popular korean drama,
korean series 2021,
must watch korean drama,
new kdrama 2020,
best romance kdrama,
popular kdrama,
good kdramas,
korean drama in hindi dubbed,
korean series 2020,
kdramas 2020,
best korean shows on netflix,
korean drama 2021 netflix,
top k dramas,
top rated korean drama,
watch kdrama online,
korean romance,
top korean series,
netflix k drama,
good korean dramas,
latest kdrama 2021,
most watched korean drama,
top 10 kdrama,
famous kdrama,
all in korean drama,
best k drama 2020,
urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
pakeeza anchal,
l online reading,
pakeeza anchal novel online reading,
urdu novel bank,
urdu novel platform,
yaar zinda sohbat baqi,
desi story urdu,
salam korea episode 31

قسط 31

ایڈون اسکے ساتھ اتنی خاموشی سے قدم بڑھا رہا تھا کہ اسکا دل ڈوبنےلگا تھا۔ وہ یقینا اس وقت غصے میں تھا۔ اور غصہ آنے والی بات بھی تھی۔ مگر اسے بھروسہ تھا خود پر کہ وہ منا لے گی۔ یقینا وہ اسکو سمجھ جائے گا اسکی کیفیت اسکے احساسات سب سمجھ لے گا۔ وہ خفا ہوگا تو وہ اپنی انا پس پشت ڈال کر اسے ہر قیمت پر منا لے۔ سب سن لے گی خاموشی سے بنا برا مانے۔ وہ جو کہے گا جو کرے گا سب سر جھکا کر مانتی جائے گی ۔ رات بھر وہ بس یہی سب سوچتی رہی تھی۔ ایڈون واپس نہیں آیا تھا۔ وہ کتنی دیر انتظار کرتی رہی۔ رات میں کئی بار آنکھ کھلی۔ اس نے اٹھ کر بستر سے اتر کر دیکھا کمرہ بالکل خالی تھا۔جانے کب تک یونہی ٹہلتی رہی ۔ کھانا ٹھنڈا کھالیا۔ صبح کہیں جا کر آنکھ کھلی تو ایڈون کو سامنے صوفے پر محو انتظار پایا تھا۔ اسکی آنکھ کھلتے دیکھ کر وہ فقط اتنا بولا تھا  

تیار ہو جائو گھر چلیں۔۔ 

اور وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔ گوشی وون میں آکر جیسے ہی وہ بیڈ پر بیٹھی وہ فورا دروازہ بند کرکے چلا گیا تھا۔ 

وہ جو اسے پکارنا چاہ رہی تھی ایکدم چپ سی رہ گئ۔ 

اسے بھوک لگ رہی تھی۔ وقت بے وقت بہت ذیادہ بھوک لگنا شروع ہوچکی تھی۔ اس وقت بھی اسے لگ رہا تھا کہ آنتیں باہر آجائیں گی۔ 

اس نے بے تابی سے سائیڈ کارنر پر رکھے شاپر کو کھنگالا بمشکل ایک آدھا سیںڈوچ ملا اور سیب۔ اسے خبر ہوتی تو کل کی چیزوں میں سے کچھ بچا لیتی۔ 

اس نے جلدی جلدی وہ سب کھا لیا سیب کا آخری لقمہ لے رہی تھی جب دروازہ کھول کر ایڈون اندر داخل ہوا۔ اسے یوں تیزی سے کھاتے دیکھ کر لمحہ بھر کو ٹھٹک ہی گیا ۔ وہ ایک بڑا سا کھانے پینے کی چیزوں سے بھرا شاپر تھامے تھا۔ 

میں یہ کھانا لینے گیا تھا۔ اور کچھ کھانا ہے؟ 

اس نے شاپر اسکی جانب بڑھاتے ہوئے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلا گئ۔ اس نے خود ہی شاپر کارنس پر ٹکا دیا۔ 

بلیک اور گرے اپرمیں ملبوس وہ کافی تھکا تھکا دکھائی دے رہا تھا۔دونوں ہاتھ اپر کی جیبوں میں ڈالتے ہوئے وہ گہری سانس لیکر اسکی جانب مڑا۔ وہ جو بے دھیانی میں اسے تکے جا رہی تھی گڑبڑا کر رخ پھیر گئ۔۔ ایڈون چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھرجیسے الفاظ ترتیب دے کر نہایت خشک اور روکھے انداز میں بولا

مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ سنجیدگی سے بنا جزباتی پن دکھائے اگر تم سننے کو تیار ہو تب ہم بات کریں گے اب مجھے بتائو کب بات کرنا مناسب رہے گا تمہارے لیئے۔ ؟

اسکے انداز نے حقیقتا اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹیں دوڑا دی تھیں۔وہ سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ دل جیسے سکڑ کر واپس پھیلا تھا۔ 

اسکی ہراساں سی شکل دیکھ کر بھی اسکے انداز میں کوئی نرمی نہ آسکی تھی۔ وہ سب مروتیں رخصت کر چکا تھا۔ 

شام کو بات کر لیتے ہیں۔ وہ کہہ کر جانے لگا تو سنتھیا بے اختیار اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

نن۔ نہیں۔کہو جو کہنا ہے۔ میں تمہاری ہر بات سننے کو تیار ہوں۔مجھے اندازہ ہے تم بہت خفا ہو۔ ہونا بھی چاہیئے۔ میں خود کو تمہاری جگہ رکھ کر دیکھوں تو تم غلط بھئ نہیں لگتے۔ کہو جو کہنا تم نے ۔ میں چپ ہو کر سنوں گی۔ 

سنتھیا کا انداز بولتے ہوئے ملتجیانہ سا ہوگیا تھا۔ ایڈون نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔ اسکی رنگت کافی مدہم پڑ گئ تھی وہ بیمار ہی لگ رہی تھی۔ چہرہ غیر معمولی سرخ تھا اور انداز پشیمانئ بھرا تھا۔ وہ قابل ترس لگ رہی تھی۔ اسے لیکن کوئی نرم جزبات اسکی شکل دیکھ کر دل میں ابھرتے نہ محسوس ہوئے۔ 

واقعی؟ اس نے جیسے تصدیق چاہی۔ سنتھیا سر جھکا گئ

واقعی تم خود کو۔میری جگہ رکھ کر سوچ سکتی ہو؟ کوئی اندازہ ہے تم نے میرے ساتھ کیا کیا ہے؟ کتنا بڑا دھوکا دیا ہے تم نے مجھے؟ 

وہ آواز دباتے دباتے بھی جیسے غرایا تھا۔ سنتھیا کے قدموں سے جان نکلنے سی لگی وہ دھپ سے بیڈ پر بیٹھ گئ۔ 

سنتھیا خدا جانتا ہے میں نے اپنی غلطی مانی۔۔۔۔۔ ہے۔۔۔ 

ایڈون جیسے پھٹ پڑا۔

سنتھیا مزید سرجھکا گئ۔۔۔ 

جو ہوا اس میں اپنی زمہ داری سے جان نہیں چھڑائی۔  تمہارا ساتھ دینا چاہا۔ یہ سمجھا کہ جوکچھ بھئ ہوا ہے اس میں میری بھی اتنی ہی غلطی  ہے۔ جبھئ تمہیں اکیلا نہیں چھوڑا۔ تمہیں سمجھایا منایا تم پر زبردستی اپنا فیصلہ نہیں تھوپا۔  اتنے دنوں سے دن رات دیکھے بنا گدھے کی طرح کام کیا پیسہ پیسہ جوڑا اپنے والدین سے مجبوریوں کے رونے رو کر پیسے منگوائے تمہارے والدین کے بھیجے پیسے دانتوں سے پکڑے صرف اسلیئے کہ جو غلطی ہو گئ ہے اسکو سدھار دوں۔ اور تم نے میرے ساتھ کیا کیا؟ 

وہ چلا اٹھا۔ سنتھیا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ 

میں سمجھ۔۔ سکتئ۔۔ 

اس نے کہنا چاہا مگر ایڈون اسکی بات کاٹ کر چلایا۔ 

تم سمجھ ہی تو نہیں سکتی ہو کچھ بھی۔ کوئی اندازہ تک نہیں ہے تمہیں احساس تک نہیں ہے میرا میرے مستقبل کا میری ان تمام ریاضتوں کا۔ تم نے سب برباد کردیا ہے۔ تم نے مجھے برباد کردیا ہے۔ 

اسکی بات پر وہ شدتوں سے روپڑی۔ ہچکیاں لیتے بمشکل اپنی صفائی دینی چاہی

میں نے دیکھا تھا۔ مانیٹر پر۔ وہ کچھ تو ہے   ۔ وہ۔ جو ہے وہ اب ہے ۔ اسکو محسوس کرتی ہوں میں۔  وہ ہے ۔۔۔۔۔ 

اسکی آنکھوں سے بہتے آنسو بھی ایڈون کا غصہ کم نہ کرسکے۔ ہنوز اسئ انداز میں چلا اٹھا۔ 

ہاں اسے محسوس کرتئ ہو جو ابھی دنیا میں آیا نہیں اور میں جو جیتا جاگتا کھڑا ہوں میرا کوئی خیال کوئی احساس ہے تمہیں۔

گن پوائنٹ پر نہیں لیکر گیا تھا اس اسپتال تمہیں۔۔ اپنے ایمان سے بتائو کوئئ کمی آنے دی تمہیں؟ کھانے پینے ہر چیز کا خیال رکھا بہترین کلینک کا انتظام کیا  سب جمع پونجی جمع کروائی تھی ۔او رتم ۔۔۔ 

وہ تلملا کر پیشانی مسلنے لگا۔۔۔ سنتھیا یونہی روئے جارہی تھئ۔ کتنے لمحے یونہی انکے بیچ دبے پائوں گزرتے گئے۔

اپنی غلطی سمجھ کر اپنی ذمہ داری سمجھ کر مجھے جو حل نظر آیا وہ میں نے حل نکالنا چاہا تھا۔ مگر تم نے سب برباد کر دیا۔

وہ خود پر قابو پا کر متوازن مگر بے رحم لہجے میں مخاطب ہوا تھا۔ سنتھیا کی سانس رک سی گئ۔ 

تم نے مجھے اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ میں تمہاری نظر میں کیا ہوں میری بات کی کتنی اہمیت ہے۔ مجھے نہیں لگتا ہم دونوں مزید اس رشتے کو نبھا سکتے ہیں۔ تم نے مجھ میں اور اس بچے میں اس بچے کو منتخب کیا ہے

وہ سفاک سے انداز میں بولا۔ سنتھیا رونا بھول کر سراٹھا کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔

اب تم جانو اور یہ بچہ۔

اس نے چبا چبا کر کہا تھا۔ 

میں اس کی ذمہ داری اٹھانے کیلئے تیار نہیں۔ تمہیں ماں بننے کا شوق ہے ماں بن کر پالو اب اسے۔ مجھ سے اب اسکا کوئی تعلق نہیں۔ اب تم فیصلہ کرو کیا کرنا۔ یہاں رہ کر چھوٹئ موٹی جاب کرکے اپنا خرچہ نکالو یا پاکستان واپس چلی جائو تمہاری مرضی۔ ہاں جب تم اپنے والدین کو بتانے لگو گی کہ یہ بچہ کس کا ہے میں مان لوں گا یہ میرا ہی ہے۔۔۔ مگر  اب بس مجھ سے اس سے ذیادہ کسی چیز کی توقع مت رکھنا۔  میں نے جو اور جتنا کرنا تھا کر لیا۔ 

سنتھیا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی  اتنی گنگ سی ہو کر جیسے اسے بولنا ہی بھول گیا ہو۔ 

تمہاری امی کا فون آیا تھا۔ دوبارہ بھی آئے گا۔ تم اچھی طرح سوچ لو۔ کیا کرنا تم نے۔ 

وہ کہہ کر اس پر نگاہ غلط ڈالتا دروازہ کھول کر باہر جانے لگا۔ سنتھیا ساکت سی بیڈ پر بیٹھی کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔ اس نے مڑ کر جیسے آخری تنبیہہ کی۔  

آخری بات۔ ریفنڈ سے پہلے 48 گھنٹے کا وقت ہے اگر دوبارہ اپائنٹمنٹ لینا ہوا تو بتا دینا۔ میں بھول جائوں گا وہ سب کچھ جو آج میں نے کہا ہے۔۔۔۔ 

وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔ اس پرنگاہ ڈالتا دروازہ بند کرتا باہر نکل گیا تھا۔ 

وہ کتنی ہی دیر اپنے لرزتے ہاتھوں پر نگاہ جمائے بیٹھی رہی۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان سب کیلئے اس نے پراٹھے بنائے تھے۔ ہیون یون بن گوارا اور تو اور ہوپ نے بھی خاموشی سے دیسی ناشتہ ہی کیا تھا۔ 

ہوپ ناشتہ کرکے فورا اٹھ گئ تھئ۔ اسے شائد آج جلدی جانا تھا۔ البتہ گوارا یون بن اور ہیون آرام سے ناشتہ کرکے یونیورسٹی جانے کیلئے تیار ہوئے۔ 

تم آج آرام کرلو آج نہ جائو جاب پر۔ 

ہیون جیکٹ پہنتا اسے مشورہ دے رہا تھا۔ ۔

گوارا بھی نے تائید کی۔

ہاں اریزہ آج آرام کرو۔ کل اتنی برفباری کھائی ہے بخار نہ چڑھوا لینا۔ 

میں بیزار ہو جائوں گی اکیلی گھر میں۔ 

اریزہ کی اپنی مصیبت تھی۔ 

اوپر سے ہوپ بھی چلی گئ ہے اکیلے کیسے وقت گزاروں گی ۔ میں گھر میں اکیلی کبھی نہیں رہی۔ 

اریزہ کے کہنے پر گوارا حیران رہ گئ۔ 

ہیں ؟ واقعی؟ 

ہاں مجھے عادت نہیں ہے ۔ اکیلے رہنے کی۔ 

وہ سر جھکا کے بولی  

ہیون اسکے بچکانہ انداز پر مسکراہٹ دبا کر بولا 

اچھا تو پھر چلو یونیورسٹی تم پھر پھرا لینا ہم کلاس لیکر جب فارغ ہونگے تو اکٹھے لنچ کر لیں گے۔ 

ہیون کے پروگرام بنانے پر گوارا نے بڑی جتانے والی مسکراہٹ سے دیکھتے اسکے کندھے پر ہلکا سا مکا لگا دیا۔ہیون کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئ تھی۔  یون بن خود کو خاصا احمق سمجھ رہا تھا۔ 

ہاں یہ ٹھیک رہے گا ۔میں دو منٹ میں آئی۔۔ وہ فورا تیار ہونے کمرے کی۔طرف  بھاگی۔

مجھے لگتا ہے تمہاری مدد مجھے ہی کرنی پڑے گی۔ 

گوارا کا انداز معنی خیز تھا۔ 

اگر تمہیں اسکی کسی مدد کی ضرورت ہے تو اپنا کام تمام ہی سمجھو  

یون بن نے حسب عادت گوارا کو چھیڑنے کی نیت سے کہا تھا مگر گوارا اور ہیون دونوں نے ہی اسے اتنی ملامتی نظروں سے گھورا کہ گڑ بڑا سا گیا۔ 

ہائیش۔۔ 

دونوں کھا جانے کو تیار تھے۔ اس نے سٹپٹا کر کان کھجایا۔ 

مجھے یہ تو نہیں پتہ کیا کام ہے تمہارا مگر جو بھئ ہے ہو جائے خدا کرے ورنہ گوارا مجھے قتل کردے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اسے لان میں چھوڑ کر اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئے تھے۔ موسم خنک تھا ہلکی دھوپ نکلتی اور بادل چھا جاتے وہ وہیں راستے پر ٹہلنے لگی۔ کیمپس دیکھ کر اسکو جانے کیوں اداسی سی محسوس ہورہی تھی  وہی درخت وہی عمارتیں وہ اور سنتھیا گوارا اور جی ہائے کی شکل ہر لڑکی میں دیکھتئ تھیں۔ کیسے جے ہی نے اس سے دوستی بڑھائی کیسے ایکدم اجنبی بن گئ۔۔

ہیون او رکم سن کو تو دونوں جڑواں بھائی سمجھتی تھیں۔کیسے ہیون اور وہ بھاگے تھے شاہزیب کو پٹنے سے بچانے ۔۔۔اور گوارا کتنی تیز مزاج سخت سی لگتی تھی ۔ وہ سہولت سے ان دنوں کو یاد کررہی تھئ۔ 

ہم لمحوں کے قیدی ۔۔ 

جن لمحوں میں ہم خوش ہوئے

ان لمحوں کی یاد میں۔۔

جن لمحوں میں اداس ہوئے۔۔

ان لمحوں کی یاد میں۔۔

اب ہم ہیں رہتے۔۔۔

نئی کسی یاد کی جگہ

اب ان لمحوں کو یاد کرتے ہیں

ہم جیتے ہیں۔۔ایسے کہ کبھی 

ہنس لیتے ہیں۔۔تو کبھی۔

رو پڑتے ہیں۔۔

ہم قیدی اپنے آپ کے۔۔ 

اپنے ہی جزبات کے۔۔ 

لمحوں کو ہی الزام دیتے ہیں۔۔

اس نے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیوں کی تصویر کھینچئ۔ یہاں بیٹھ کر وہ اور سنتھیا گھنٹوں یہاں پھرتے لوگوں کو دیکھتے وقت گزار لیتی تھیں۔۔۔ مگر آج وہاں کوئی بھی نہیں تھا بلکہ آج یونیورسٹی ہی خالی خالی سی تھی جبھی اسکی یادوں کا جہاں آباد ہوگیا تھا۔۔ 

بے طرح اداس ہوتے اس نے تصویر کھینچی ڈیپارٹمنٹ کے نام کو دھندلا کرکے اپلوڈ کر دی۔۔ ساتھ یہ نظم بھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈھلتی شام  کو دن کی روشنیاں دکھانے کا مطلب؟

پہلا کمنٹ۔۔

اتنی صاف ستھری کونسی یونیورسٹی ہے بھئ؟

دوسرا کمنٹ۔۔

مت یاد کرائو یونیورسٹی خدا خدا کر مڈز ختم ہوئے ہیں اب کچھ دن سکون سے رہنے دو 

تیسرا کمنٹ۔۔۔

ہائش۔۔ 

اس نے بے زار ہو کر کہا پھر چونک اٹھئ

میں کب سے ہائش کہنے لگی کورینز کی طرح۔۔ 

اس نے ہونٹوں پر ہاتھ ہی رکھ لیا۔۔ 

اپنی تصویر بھی لے لوں ۔۔ اس نے سوچا پھرکھڑے ہو کر ڈیپارٹمنٹ کی جانب پشت کر کے دو تین سیلفیاں بنا لیں۔۔

پتہ تو لگے اس یونیورسٹی میں کبھی میں بھی جایا کرتی تھی۔۔ 

اس نے بڑ بڑاتے ہوئے فیس بک پر شئیر کیں یہ تصویریں

صارم  نے فورا لائک کی تھیں۔۔ 

کمنٹ بھی کر دیا مس یو۔۔ 

اس نے بھی جوابا مسکرا کر می ٹو لکھ دیا۔۔

کیا کر رہی ہوں میں یہاں۔۔ 

وہ دونوں بازو پھیلا کر خوب زور کی انگڑائی لیکر بڑ بڑانے لگی۔۔ اکا دکا طلبا وہ بھی کافی فاصلے پر تھے وہ یونہی۔بے زاری سے قدم اٹھانے لگی

پتہ نہیں مجھے پڑھنے کا شوق تھا بھی کہ نہیں۔ بس شادی سے بھاگ رہی تھی۔ اب تو ٹل گئی۔ ڈگری بھی ٹل گئ ان کی مہربانی سے۔۔ 

اس نے ڈیپارٹمنٹ کو کینہ توز نظروں سے گھورا۔۔

اب یہاں رکنے کی کوئی وجہ نہیں ۔۔ لڑکے بھی یہاں نوکری کے چکر میں بھی نہیں رکے سنتھیا بھئ بدل چکی ہے۔  مجھے بھی اب یہاں سے چلے جانا چاہیئے۔ پاپا کہہ تو رہے تھے مجھے ڈگری مکمل کرنے دیں گے۔۔ اس نے گہری سانس لی۔ 

سورج کی حدت نہ ہونے کے برابر تھی۔ اچانک سرد ہوا کا جھونکا اسے جھر جھری لینے پر مجبور کر گیا۔۔

۔ یہاں سردی بھی بہت ذیادہ ہے۔۔ جو مجھے بالکل پسند نہیں۔۔

مگر میں یہاں سے شائد ابھئ جانا نہیں چاہتی۔۔ 

وہاں تعلیم مکمل کرکے شادی ہوجائے گئ۔ یہاں تعلیم مکمل کرکے واپس جائوں گی تو بھی شادی ہوجانی ہے۔ 

اف۔ سوچوں نےسر میں درد کر دیا۔ 

اللہ میاں۔۔ وہ سر اٹھا کر آسمان کو مدد طلب نظروں سے دیکھنے لگی

کیا کروں  کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ کیوں ہوں میں یہاں؟؟؟؟؟

وہ جھلا رہی تھی خود سے الجھ رہی تھی۔۔

تبھی جوابا اس پر بوندیں آگری تھیں۔ اس نے جیب سے رومال نکال کر چہرہ پونچھا اور بھاگ کر ڈیپارٹمنٹ کی گیلری کے نیچے آکھڑی ہوئی۔ دیکھتے دیکھتے تیز بارش شروع ہوگئ تھی۔۔۔

 ابھئ اگر پنڈی ہوتا تو امی سے پکوڑے بنوا تی کافی پیتی۔ پکوڑے کھائے کتنے دن ہوگئے۔۔ اور امی۔۔ اسکا دل سکڑا 

اتنی ناراضگی اتنی چڑ کے باوجود ماں کی یاد نے اسے اداس سا کر دیا تھا۔۔۔ وہیں ستون سے سر ٹکا کر کھڑی بارش کا نظارہ کرنے لگی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بلاگ کی اپڈیٹ دیکھ کر اس نے فورا نوٹیفیکیشن کھولاتھا۔کسی یونیورسٹی کی تصویرتھی نام کی جگہ کو جان کر دھندلا کیا تھا۔۔

اس نے کمنٹ کر کے موبائل جیب میں ڈال لیا۔ گھر جانے کی اسے کوئی جلدی نہیں تھی مگر ایک کام کرنا تھا ہاسٹل میں آکر ایک پیکٹ کسی لڑکی کی امانت اسے دینی تھی۔۔کائنوٹر پر طالبہ کا نام بتا کر امانت دے کر وہ باہر نکلا تو موسم اپنا تیور بدل چلا تھا۔ چھما چھم برستی بارش اور آج تو چھتری بھی نہیں تھی پہلے تو یہی سوچا نکل جائے مگر آج لیپ ٹاپکا بیگ بھی اسکے کندھے پر سوار تھا۔ سو بارش کے رکنے کا انتظار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔۔ وہ سر جھٹکتا بر آمدے کی جانب بڑھ گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکا موبائل بجا تھا ۔۔ کسی نے اسکی پوسٹ پر کمنٹ کردیا تھا۔۔اس نے پڑھا پھر سوچ میں پڑ گئ۔۔ لکھا تھا۔۔ 

یادیں جینے کا سہارا ہوتی ہیں۔ ہم یاد بھی نہ رکھیں تو کیا کریں گے جن لمحوں کو گزار چکے جو کبھی واپس بھی نہ آئیں گے چلو کم از کم ہم انہیں یاد ہی کر کے خوش ہو لیں۔۔

خوبصورت بات۔۔ اسکے دل کو چھو گیا تھا یہ تبصرہ سو جھٹ کمٹ کھول کر جواب لکھا۔۔ 

اور جب میں یہاں سے جائوں گی تو یقینا میرے پاس یاد کرنے کیلئے سب کچھ اچھا اچھا ہوگا۔۔ 

لڑاکا سی پل پل بدلتی ہوپ، من موجی مگر دل کی بے حد اچھی گوارا ، جے ہی جس نے میرا بہت ساتھ دیا ، ہیون  اور کم سن جنکی شکلیں اتنی ملتی تھیں کہ ہم دھوکا کھا جاتے تھے، اور گنگ شن انی جنکو دیکھ کر ہی انسان کو خوشگوار احساس ہوتا انکی مسکراہٹ یقینا ہیون کو بات بات پر مسکرانے کی عادت انہی سے پڑی ہے ۔۔۔ ہر وقت مسکراتا رہتا ہے سوتے میں بھی مسکراتا ہوگا ۔۔ وہ سوچ کر ہنس دی۔۔

اسکی ہنسی سے کسی کے بڑھتے قدم رک گئے تھے زرا کی ذرا مڑ کر دیکھا تو اسکا چہرہ دیکھ کر پہچان کر ملنے چلا  آیا۔۔ 

آننیانگ۔۔ نرم بھاری آواز پر اس نے سر اٹھایا تو آنکھوں میں شناسائی کی چمک دوڑ گئ۔۔ 

آننیانگ۔۔ اس نے بہت اخلاق سے مسکرا کر جواب دیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بار بار گھڑی کی جانب دیکھ رہا تھا۔اسکی بے چینی سداکو سے چھپی نہ رہ سکی اسکی پریزنٹیشن کیلئے نام پکارا گیا تو اٹھ کر بولا۔۔ 

مجھے تھوڑا سا مزید وقت دیجئے تب تک آپ مجھ سے اگلے طالب علم کی پریزنٹیشن لے لیجیئے۔۔ 

ہیون نے مشکور نگاہوں سے دیکھا اسے۔پریزنٹیشن دے کر وہ بھاگا بھاگا ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکلا تو بارش زور و شور سے برس رہی تھئ۔۔ 

وہ اریزہ کے خیال سے بھاگا بھاگا آیا۔ گرائونڈ خالی تھا یقینا وہ بارش سے بچنے اندر ڈیپارٹمنٹ چلی گئ ہوگی اس نے سوچ کر رابطہ کرنے کی غرض سے اسے کال ملانی چاہی تبھی گیلری میں کھڑی اریزہ کی۔جھلک دکھائی دی۔۔ وہ کسی بات پر ہنسی تھی اسکا مخاطب کوئی اونچا لمبا سا مرد تھا۔۔ 

اسکی مشہور زمانہ مسکراہٹ جانے کیوں سکڑ سی گئ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپکے کپڑے امانت ہیں میں انکو دھلوا کر آپکو واپس کر دوں گئ ۔۔ 

اسے اسکئ شکل دیکھ کر فورا یاد آیا تھا۔ علی قہقہہ لگا کر ہنسا۔۔ 

میں آپ سے کپڑے مانگنے تو نہیں آیا۔ 

اسکے ہنس کر کہنے پر وہ خجل سی ہوگئ۔ 

کلاسز ختم ہوگئیں ہیں تمہاری؟۔۔

علی نے یونہی پوچھا تھا بات برائے بات۔ 

میں اب یہاں نہیں پڑھتی ہماری ڈگری روک دی گئ ہے۔ اب اگلے سمسٹر سے نئے سرے سے داخلہ لوں گی۔ 

اریزہ نے گہری سانس بھرتے ہوئے کہا تھا۔۔ 

اوہ کیوں خیریت؟ علی حیران ہوا۔۔ 

ہمارا طلبا کا تبادلے کا۔پروگرام تھا مگر لاہور میں کوئی بم دھماکا ہوگیا تو انکے طلبا واپس چلے آئے پھر ہمارے یہاں رہنے کی وجہ نہ رہی۔ اب یہ کہتے ہیں ایک ٹیسٹ پاس کرکے یہاں کئ مساوی سند لے کر ہی ہم آگے یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ 

اریزہ کا انداز سادہ سا تھا مگر علی کو واقعی افسوس ہوا۔

اوہ مجھے افسوس ہوا اچھا نہیں ہوا یہ۔ پھر پڑھ رہی ہو؟ دو ہفتے بعد ہی امتحان ہوگا۔سی ای ایس اے ٹی کا۔ 

علی نے کہا تو وہ پریشان ہی ہوگئ

ہیں واقعی؟ مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا۔ کب امتحان ہے؟ 

علی اسکے انداز پر ہنس دیا۔

میں ایک مقامی اکیڈمی میں اسی امتحان کی تیاری کروا رہا ہوں آج کل میں داخلے بند ہونے والے ہیں اگر تمہارا ارادہ ہو تو میں مدد کر سکتا ہوں۔ 

ہاں ہے نا میرا ارادہ۔۔ وہ جھٹ بولی۔۔ تم مدد کروگے میری؟

ہاں کر دوں گا لیکن ہیون  کے ہوتے تمہیں میری مدد کی ضرورت نہیں۔ بہت پڑھاکو اور ذہین ہے۔ہمیشہ سے ٹاپر رہا ہے۔

اچھا؟ اریزہ حیران ہوئی۔  

اس نے کبھی بتایا نہیں۔ 

وہ ایسا ہی ہے۔ اپنی ہر خوبی کو چھپا کر رکھتا ہے۔ انتہائی خیال رکھنے والا اور محبت کرنے والا لڑکا ہے۔ دوستی میں جان دینے والا ایک لڑکی پر اکتفا کرنے والا پیارا سا لڑکا۔  

علی نے تو تعریفوں کے پل ہی باندھ دیئے۔ 

اریزہ کا تھوڑا سا منہ حیرت سے کھلا پھر وہ کھل کر ہنس پڑی۔ 

ویئو؟ (کیا ہوا) علی حیران ہوا

تم ایسے تعریفیں کر رہے ہو جیسے ہمارے ملک میں رشتہ کرانے والی خواتین لڑکے کی تعریفیں کرتی ہیں۔ کہ بس وہ کہیں تولڑکی والے جھٹ ہاں کر دیں۔  

وہ ہنسے جارہی تھی۔۔ اسکی بات سے ذیادہ اسکے محظوظ انداز نے علی کو بھی ہنسا دیا۔

ہنستے ہنستے اسکی آنکھیں لبا لب بھر گئیں۔۔رنگ سرخ پڑ گیا۔ 

وہ گال تھپتھپاتی اپنے ہینڈ بیگ سے ٹشو نکالنے لگی۔ 

تبھی اسکے سامنے ٹشو آگیا ۔۔ اس سے پہلے علی نے ٹشونکال کر اسکی جانب بڑھا دیا تھا۔۔ وہ دھیرے سے شکریہ کہتی آنکھیں صاف کرنے لگی۔ 

ایک تو میں جب ذیادہ ہنستئ ہوں رو پڑتی ہوں۔ 

اس نے صفائئ پیش کی۔ علی کی مسکراہٹ سکڑسی گئ۔ 

میں بھئ۔ اس نے دھیرے سے کورین میں ہی کہا تھا۔ اریزہ کا دھیان کہیں او رتھا ورنہ ضرور پوچھتی مطلب۔ 

اسکا آج کل کا یہی شغل تھا ہر نیا کورین لفظ سیکھنا۔۔

تمہیں ذیادہ انتظار تو نہیں کرنا پڑا میرا؟ ہیون تیز تیز قدم اٹھاتا آیا تھا۔۔ 

نہیں میں بارش کے مزے لے رہی تھی۔ 

آننیانگ۔ علی نے مسکرا کر سلام کیا۔ 

آننیانگ۔  اس نے زرا سا سر جھکا کر جواب دیا۔ 

چلیں۔ وہ اب اریزہ سے مخاطب تھا

علی کو اسکا انداز ہمیشہ سے تھوڑا الگ لگا۔ 

تیز برستی بارش کو نظر انداز کرتا ہیون لمبے ڈگ بھرتا پارکنگ کی جانب بڑھ گیا۔  اریزہ نے حیران ہو کر دیکھا پھر مڑ کر ٹھیک ہے پھر ملتے ہیں علی۔۔ کہتی مسکرا کر اسے ہاتھ ہلاکراسکے پیچھے لپکی۔ 

دونوں کو ٹھنڈ نہ لگ جائے بھیگتے جا رہے ہیں۔۔ 

دونوں ہاتھ کوٹ کی جیب میں ڈال کر علی نے ان کو نظروں میں رکھ کر سوچا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پارکنگ تک آتے وہ دونوں بری طرح بھیگ چکے تھے۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھتے تک ہیون نے اسکو بالکل نظر انداز کیا تھا۔ لانگ کوٹ اتار کروہ  فورا گاڑئ میں گھس گئ۔ وہ جامنی ہائی نیک اور کالی جینز میں ملبوس تھئ۔ لانگ کوٹ کی وجہ سے اسکا سراپا چھپ سا گیا تھا لیکن اب جب بھیگ جانے کی وجہ سے اتارا تو جہاں کوٹ نے اسکے اندرونی کپڑے بچا لیئے تھے وہاں اب جسم سے چپکی ہائی نیک اسے جانے کیوں شرمندگی سی ہونے لگی۔ کوٹ گود میں رکھ کر اس نے دز دیدہ نگاہوں سے  کو دیکھا جو گیلے کپڑوں سے بے نیاز بے حد سنجیدگی سے سامنے دیکھتے ہوئے گاڑی چلا رہا تھا۔ سامنے دیکھتے دیکھتے ہی اس نے ہاتھ بڑھا کر اسکی گود میں رکھا کوٹ اٹھا کر پچھلی نشست پر اچھال دیا۔ 

کیا فائدہ اسے اتارنے کا جب گیلا گود میں رکھ کر باقی کپڑے بھی گیلے کرنے ہیں۔۔ 

اس نے اپنے تند انداز کے برعکس کافی نرم سے انداز میں کہا تھا۔ 

اریزہ ہونٹ کاٹ کر رہ گئ۔ 

ہیون نے ہیٹر آن کر دیا تھا پھر بھی اسے پے در پے کئی چھینکیں آگئیں۔۔ 

ہیون نے ہونٹ بھینچ لیئے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستانئ ریستوران کے سامنے گاڑی رکی تو اس نے سوالیہ نگاہ سے اسے دیکھا۔ وہ لاپروا سے انداز میں گاڑی سے اترا اپنا کوٹ بھی اتار کر پچھلی نشست پر ڈال دیا۔  اسے بھی گاڑی سے اترنا پڑا۔ریستوران میں داخل ہوتے ہوئے گلاس ڈور میں اپنے سراپے کو دیکھ کر وہ رک سی گئ۔ 

اس نے بہت ذیادہ وزن کم کر لیا تھا اپنا۔ بالکل سائز زیرو ہوچکی تھئ۔ 

اوہ خدایا۔ یہ میں اتنی پتلی کیسے ہوگئ؟

اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا

ہیون نے آگے بڑھتے اسکو ہم قدم نہ پایا تو مڑ کر سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ وہ سٹپٹا کر سر جھٹکتی اسکے پیچھے دوڑئ۔۔ 

بارش کی وجہ سے لوگ بہت کم تھے۔ 

کھانے کے ساتھ سوپ کا بھی آرڈر دیا تھا ہیون نے

مگر سوپ پینے کے بعد اسکا پیٹ بھر سا ہی گیا۔ بریانی کی مقدار جوں کی توں دیکھ کر  نے تعجب سے دیکھا 

کیا ہوا ؟ پسند نہیں آئی۔۔؟

اچھی ہے مگر سوپ پینے کے بعد اب یہ کھائی نہیں جا رہی۔ 

اریزہ نے اپنی پلیٹ میں تھوڑے سے ہی چاول نکالے تھے مگر اب وہ بھی نہیں کھائے جا رہے تھے۔ دھیرے دھیرے ٹونگتے اسکے ارادہ پلیٹ صاف کر نے کا۔تھا۔ 

ہیون مسکرا دیا۔  

نہ کھا کھا کے تمہاری بھوک بھی کم ہوگئ ہے اور وزن بھی۔ 

ہیون کی توجہ پوری اپنی پلیٹ پر تھئ۔ اریزہ نے چونک کر سر اٹھایا۔ 

اس نے شائد دیکھ لیا تھا اسے خود کو آئینے میں دیکھتے۔۔ 

کھاتی میں پہلے بھی ذیادہ نہیں تھی پھر بھی جانے کیوں گپلو سی تھی۔  شکر ہے تھوڑی اسمارٹ ہوگئ ہوں۔ 

وہ خجل۔سی ہوئی 

تم گپلو سی ذیادہ اچھی لگتی ہو۔ تمہیں دوسری لڑکیوں کی طرح ڈھانچہ بننے کی ضرورت نہیں ۔۔ 

اس کے کہنے پر اریزہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا اسکو نظروں میں رکھے اسکا اندازسادہ تھا

مجھے سب بہت ٹوکتے تھے کہ میں موٹی ہوں۔ خالہ نے تو شرط ہی رکھ دی تھی کہ وزن کم کروں۔ کیا کیا نہ جتن کیئے میں نے اور صارم نے کہ میرا وزن کم ہو جائے جب سب کچھ چھوڑ دیا تو وزن کم ہو گیا۔۔ 

وہ وقت اسے آج بھی اداس کر گیا تھا۔ بولتے ہوئے اسکی اداسی لہجے میں بھی اتر آئی تھی

صارم؟مطلب؟

ہیون  پوری دلچسپی سے سن رہا تھا

میرا بھائی۔ ہے تو میری خالہ کا بیٹا ۔۔مگر میرے والدین کا لے پالک بیٹا بھئ ہے۔ خالہ کو کیا کہوں انگریزی میں۔ وہ سوچ میں پڑی۔ 

یہ وہی بھائی ہے جو بم دھمکے میں بچھڑ گیا تھا؟ 

ہیون نے پوچھا تووہ تڑپ سی گئ

خدا نہ کرے۔۔ پھر انگریزی میں بتانے لگی

وہ میرا اصل بھائی۔تھا حماد۔ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا ۔ ٹھہرو میں دکھاتئ ہوں۔ 

وہ بڑے شوق سے موبائل  نکال کر اسے حماد کی تصاویر دکھانے لگی۔ 

حماد کی اسکی بچپن کی بہت تصاویر اس نے موبائل میں رکھی تھیں۔ ہیون بہت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ 

ایک اسکی اور صارم کے بچپن کی تصویر آئی۔ تو بہت شوق سے اسے دکھانے لگی۔ جھولے پر بیٹھے دو ننھے منے آٹھ دس سال کے بچے دو پونیاں کیئے فراک پہنے بچی اریزہ کا بچپن لگ رہی تھی 

یہ ہے صارم ۔اریزہ نے دکھایا تو ہیون حیران ہوا 

یہ  اتنا چھوٹا ہے؟ مجھے لگا تھا تھوڑا بڑا ہوگا تم اسکے ہاتھوں بلنگ کا شکار ہوتئ رہی ہو ؟ ڈانٹ دیتیں مجھے موٹا مت کہا کرو۔

ہیون کو جیسے غصہ ہی آگیا تھا۔ وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی

ارے یہ تو پرانی ہے ساتھ میں بیٹھی ہوں ٹھہرو میں نئی کوئی دکھاتی ہوں۔ 

اس نے آگے کرکے اپنی پچھلی سالگرہ کی۔تصویر اسے دکھائی شرارت سے اسکے سرکے  پیچھے انگلیاں کھڑی کر کے سینگ بناتا صارم اور ہنس کر سیلفی لیتی وہ خود۔

اس نے صارم کو دیکھا ہی نہیں۔ 

اسکی تو بہت سی تصویریں ہوتی تھیں میرے پاس مگر یہاں آکر موبائل بدلا توبس کچھ اہم اہم  تصویریں ہی میں نے اس موبایل میں ڈالی۔تھیں

 اس نے جلدی جلدی تصویریں آگے پیچھے کیں آگے بس ایک ہی دو اور تصویریں تھیں۔ ان میں سے ایک پر ہیون  واضح چونکا مگر وہ تب تک سوائپ کر چکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد وہ کھلی فضا میں باہر صحن میں سیڑھیوں پر آبیٹھا تھا۔ ہلکی ہلکی دھوپ بے حد اچھی لگ رہی تھی وہ بے حد ہلکا پھلکا سا خود کو محسوس کر رہا تھا

سو تم نے کیا سوچا ۔ امام صاحب اسکے برابرآبیٹھے۔

علی نے چونک کر انہیں دیکھا وہ جواب طلب نگاہوں سے دیکھ رہےتھےوہ صاف جواب دیتے دیتے رک کر بات پلٹ گیا

جی ہائے ہاسٹل میں نہیں تھی میں نے ریسیپشن پر آپکا دیا سامان دے دیا تھا۔

ہاں اسے مل گیا تھا۔ آج کوریئر کے ذریعے اس نے واپس بھی بھجوا دیا۔

وہ زرا سا ہنسے۔ 

جب وہ آپ کےتحائف واپس بھجوا دیتی ہے تو آپ کیوں دیتے ہیں؟ وہ بے ساختہ پوچھ بیٹھا۔ امام صاحب مسکرائے۔ 

وہ بیٹی ہونے کا حق جتاتی ہے ناراض رہ کر میں باپ ہونےکا فرض نبھاتا ہوں اسے منانے کی ہر کوشش کر کے۔

جانتےہو اسکے سوا میری دو اور بیٹیاں ہیں اب۔ مگر جب جب انکےلیئے کچھ لیتا ہوں یاوہ مجھ سے فرمائش کرتی ہیں میرے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ وہ اداس سے ہو گئے۔ 

پھر تم نے کیا سوچا۔لیلی کے بارے میں۔ اچھی سمجھدار لڑکی ہے۔ ہاں زبان کا مسلئہ ہو سکتا ہے مگر وہ کورین سیکھ رہی ہے یہاں ہی نوکری کرنی ہے اس نے۔ میری بیوی کی بھانجی ہے سو میں اسکی ہر قسم کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ نماز روزے کی پابند ہے۔کہو تو  بات چلائوں؟ ۔ وہ آج فیصلہ کروا لینا چاہتے تھے اس سے۔ 

مل سکتا ہوں میں اس سے؟۔ اس نے سادہ سے انداز میں پوچھا وہ بے طرح خوش ہو گئے۔ ہمیشہ کی طرح شادی سے انکار کرنے والا کم از کم ملنے پر تو مانا۔۔

کیوں نہیں۔ اسکی اجازت تو مذہب بھی دیتا ہے تم مل کر دیکھ بھال کر فیصلہ لو۔ اور ہاں میری گاڑی لے جانا۔۔ بسوں میں دھکے نہ کھاتے جانا خبر دار جو اسکے اپنی یہ تھکی شکل دکھا کر ڈرایا۔۔ 

وہ آخر میں مسخرے پن سے بولے۔ علی نے سر جھٹکا۔ 

یہ تھکن مجھ میں سرائیت کر چکی ہے آہجوشی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ لیپ ٹاپ پر انڈین برائڈز کی برائڈ کلیکشن دیکھ رہا تھا۔

ایک کے بعد ایک سرخ جوڑے میں ملبوس دلہنیں ۔ 

وہ بے چین سا ہو کر لیپ ٹاپ ایک۔طرف رکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔ چند لمحے یوں ادھر ادھر دیکھتا رہا جیسے سمجھ نہ آیا ہو کیوں اٹھاہے۔ کچھ سوچ کر اس نے جھک کر سائیڈ ٹیبل کی دراز کھولی ۔ اس میں ایک خوبصورت پیکنگ میں ڈیزائنرپائوچ رکھا تھا۔ اس نے اٹھایا پھر دوبارہ واپس رکھ کر دراز ہی بند کردی۔ 

اتوکے۔ وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھامتا بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھا۔ 

تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے سنی ہی نہیں۔ 

نونا ایک اور مرتبہ کھٹکا کر دھیرے سے دروازہ کھولتی اندر چلی آئیں۔ 

ہیونا وہ انکے قریب آکھڑے ہونے پر بھی نہ چونکا توانہیں پکارنا پڑا۔ 

دے۔ وہ چونک کر سیدھا ہوا۔

یہ لو میں پاس دینے آئی تھی۔ 

انہوں نے ہاتھ میں پکڑا بیگ اسکی جانب بڑھایا۔ 

وہ یونہی تھام کر اندر کھول کر دیکھنےلگا تو بریو ہارٹ کے کنسرٹ کے وی آئی پی پاسز ساتھ لائٹ اسٹکس بھی تھیں۔

وہ اب سمجھا تھا نونا نے کیا دیا ہے اسے۔ 

گوما وویو۔ 

اسکے چہرے پر تھکی تھکی سی مسکراہٹ در آئی تھی

کیا ہوا کچھ الجھے سے دکھائی دے رہے ہو۔ 

نونا تشویش سے پوچھتی اسکے پاس آبیٹھیں۔ 

آندے۔ بس یونہی۔ 

اس نے قصدا اپنا انداز بشاشت بھرا بنایا۔ کھسک کر شاپر سائیڈ ٹیبل پر ٹکانے لگا۔

اریزہ کے ساتھ جائو گے نا۔ انہوں نے اشتیاق سے پوچھا تھا۔اس نے سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا

کل بہترین موقع ہے کسنرٹ کے بعد کہیں ڈنر کرو اچھا سی رنگ خریدو اور سیدھا سیدھا پرپوز کردو۔ 

انی ہتھیلی پر سرسوں جمانے پر تلی ہوئی تھیں۔وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دیا۔ 

اتنئ جلدی کیا ہے ۔۔ 

ہے نا جلدی۔ گنگشن تیز ہو کر اسکے کندھے پر چپت مار کر بولیں

یہ چینی ہندوستانی بہت جلدی شادیاں کر لیتے ہیں۔ میری دو تین انڈین فرینڈز ہیں تم سے بھی چھوٹی ہونگی اور سب شادی شدہ یہ پاکستانی بھی تو انکے ہی پڑوسی ہیں شادی جلدی کرتے ہونگے اس سے قبل کہ اسکو کوئی اور پرپوز کرلے تم کرلو۔

انی کی بات پر وہ خالی خالی سے انداز میں ہی دیکھتا رہ گیا۔ 

اور اگر وہ شادی شدہ ہوئئ تو؟

اسکے کہنے پر گنگشن کا جوش دھیما پڑا۔ 

ایسا کیوں سوچا تم نے؟ اچھا سوچو ۔ کوئی شادی شدہ نہیں ہوگی وہ اور سنگل بھی ہوگئ ورنہ کسی نا کسی کے ساتھ گھومتئ پھرتی نظر آجاتئ تمہیں اتنے مہینوں سے۔۔۔ 

انی کی بات پر وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔ 

دیکھو اگر ایسا کچھ ہوا بھی تو کل اس سے پوچھ کر کلیئر کر لینا۔ اور پھر اپنے قدم روک لینا۔ سادہ بات۔ سوچ سوچ کر الٹا پریشان ہونے سے کیا حاصل؟ 

وہ اسکی گھبراہٹ سمجھ گئ تھیں۔ 

نونا میں اب قدم روک نہیں پائوں گا۔ میں اسے بہت پسند کرنے لگا ہوں ۔ اور اسکی زندگی میں جو بھی رہا ہو مجھے فرق نہیں پڑتا اب میں بس رہنا چاہتا ہوں۔

وہ اتنے جزب سے کہہ رہا تھا کہ گنگشن اسے دیکھتی رہ گئیں۔ اسکی آنکھوں میں ستارے سے اتر آئے تھے۔ ویسے ہی جیسے ان سے اظہار محبت کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

وہ دیکھ اسے رہی تھیں نگاہوں میں چہرہ کوئی اور اتر آیا تھا

میں اب سے ہمیشہ تمہاری زندگی کا حصہ بن کے رہنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے گڑبڑا کر سر جھٹکا۔ 

ایسا ہی ہوگا۔ انہوں نے پر یقین انداز میں کہا۔ 

اچھا کل میں صرف خوشخبری ہی سننا چاہتی ہوں سمجھے تم۔

انہوں نے مان سے کہا تو وہ بھی سر ہلا کر ہنس دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گوارا اور یون بن  مال میں گھوم رہے تھے۔ دوبارہ ملنے کی خوشی میں یون بن  اسکو خوب شاپنگ کرا رہا تھا۔ہاتھ میں ڈھیروں برانڈ ز کے شاپرپکڑے وہ دونوں اب ایلیویٹر کی جانب بڑھ رہے تھے۔ 

تم گائوں اتنے دن کیلئے کیوں جا رہی ہو؟ ایک ویک اینڈ گزارنا کافی نہیں؟ پورا سمسٹر بریک گائوں میں گزار کر کیا کروگی۔ 

یون بن  ہونٹ لٹکا کر بولا تو وہ ہنس دی۔ 

میری آہموجی کا موسم بدلنے پر سیزن لگتا ہے ہمارے گائوں پر لوگ برسات کی طرح برستے ہیں۔ ایسے موقع پر انکو سنبھالنے میں مدد سے میرا پورا سال بھر کا خرچہ آرام سے نکل آتا ہے اتنا منافع ہوتا ہے ہمیں۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں تم بھی چلو وہاں ۔ 

گوارا کے کہنے پر وہ منہ بنا گیا۔ وہ دونوں احتیاط سے ایلیویٹر پر چڑھے۔ بیچ دوپہر کا وقت ہونے کے باعث اس وقت لوگ بہت کم تھے۔ سو دونوں آرام سے بحث میں الجھے رہے

مجھے اگلے سمسٹرکی فیس نکالنی ہے پارٹ ٹائم جابز سے۔سب چھوڑ چھاڑ کر کیسے چلوں۔ 

اگلے سمسٹر سے یاد آیا میرے بھائی کا بھی اسی یونیورسٹی میں داخلہ کروانا ہے کوئی سفارش کا انتظام کر سکتے ہو؟ جیسے اپنی دفعہ کیا تھا۔ 

وہ ٹہوکا دے کر بولی تو وہ چڑ گیا۔ 

میرےاتنے کم مارکس نہیں تھےمیرٹ پرنام آیا تھا۔

تو تم ایویں اپنے اس پروفیسر خالو کے آگے پیچھے پھرتے رہے انکے پالتو کتے کو ایک مہینے ویٹنری لے جا کر ٹیکے ٹھنکواتے رہے۔ سب فالتوکام ۔۔ 

وہ اور بھی کہتی مگراتنا بڑا منہ پھول گیا تھا یون بن  کا کہ وہ ہنسی نا روک سکی۔ 

ہاں تو اب نہیں ہے میرا باپ یونیورسٹی کا ٹرسٹی اچھے نمبروں کے باوجود بھی خواریاں کاٹنی پڑیں مجھے۔ 

گوارا مڑ کر کچھ کہتی مگر سیڑھیاں ختم ہو گئ تھیں سو اترنا پڑا۔

ہیون۔۔ سامنے مشہور برانڈ کے جیولری شاپ سے نکلتے ہیون  کو دیکھ کر وہ ٹھٹک سی گئ۔ 

ہاں اسکے پاپا ٹرسٹی ہیں مگر ہیون کے مارکس تو بہت ہی شاندار تھے اسے تو سفارش کی ضرورت نہیں تھی 

جونتائی اپنی ہی دھن میں بولتا چلا گیا۔ 

ہیون۔لمحہ بھر لگایا تھا گوارا نے سوچنے میں پھر اپنی اونچی ہیل میں ہی بھاگ کھڑی ہوئی ہیون تیز قدم اٹھاتا مال سے خروج کے بیرونی دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا

یون بن  کئ اب اس پر نگاہ پڑی پہلے سوچا پکارے پھر گوارا کو شاپنگ بیگز اٹھائے پھرتی سے تقریبا دوڑ کر سامنے والی دکان کی طرف جاتے دیکھا تو ارادہ ملتوی کرتا ہوا اسکے پیچھے ہو لیا۔ گوارا نے دکان میں داخل ہوتے ہی سیدھا کائونٹر کا رخ کیا تھا۔

ابھی جو سفید ٹی شرٹ میں لمبا سا  نامجا ( لڑکا)یہاں سے نکلا ہے اس نے انگوٹھی خریدی ہے نا؟ 

اسکے اتنا وثوق سے آنکھوں میں ہزار دلچسپی کے رنگ لیئے پوچھنے پر وہ گڑبڑا سی گئ۔ 

دے؟ اسکا انداز استفہامیہ تھا

ہے نا؟ 

گوارا نے تصدیق چاہی۔ 

دے۔ ( ہاں) اس بار جواب اثبات میں تھا۔ 

گومو ویو۔ وہ اتنا بے ساختہ خوش ہو کر شکریہ ادا کرنے لگی کہ سیلز گرل بھی مسکرا دی

کونسی خریدی ہے۔ وہ اب کائونٹر پر شیشے میں سجی خیرہ کن ہیرے جڑی انگوٹھیوں کی جانب متوجہ تھی

یہ۔ سیلز گرل نے ڈسپلے پر سجی نہایت نازک مگر دلکش سی دو برابر لکیر کی شکل میں جڑے ہیروں سے مزین انگوٹھی اسے دکھائی اتنئ نازک بنت تھی کہ جیسے دو الگ راہیں اتفاقیہ آ ملیں انکے ملاپ کو ایک نسبتا بڑے ہیرے نے جوڑا تھا۔ 

اف کتنئ خوبصورت ہے۔ وہ فدا سی ہوگئ۔

ہیون کی پسند بہت اچھی ہے۔ وہ بے اختیار کہہ اٹھئ۔ 

یہ سب سے نیا ڈیزائن ہے آیا ہے ہمارے پاس۔ انکو فورا ہی پسند آگئ تھئ یہ ویسے وہ نامجا۔۔ 

وہ تھوڑا سا جھجکی 

آپکا بوائے فرینڈ ہے؟ اس نے ہنس کر اندازہ لگایا

آندے۔ یون بن  ایکدم آگے ہو کر بولا۔ 

میں ہوں اسکا بوائے فرینڈ۔ 

اسکے اس طرح کہنے پر گوارا نے منہ بنا کر اسے دیکھا۔ 

وہ میری چھنگو کا نامجا چھنگو ہے۔ ہونے والا

گوارا نے بتایا۔ تو سیلز گرل تو سر ہلا کر انگوٹھی واپس رکھنے لگی مگر یون بن  بھاڑ سا منہ کھول کر رہ گیا۔  

کیا کس کا۔ 

اسکے انداز پر گوارا منہ ہی منہ میں بدبدائی۔ مڑ کر الوداعی کلمات کہتی اپنے شاپرز سنبھالتی جونتائی کو بازو سے پکڑ کر باہر نکل آئی۔ یون بن  کے دونوں ہاتھ شاپرز سے بندھے تھے سو احتجاج بھی نہ کر پایا گھسٹتا چلا آیا اسکے ساتھ۔

سب کہانی اسکو سنانئ تھی کیا۔ ۔

اس نے گھرکا۔ 

ہیون انگوٹھی لے رہا کونسی لے رہا کس کیلئے لے رہا یہ سب میں ہی تو پوچھ اور بتا رہا ہوں نا سب کو۔ 

وہ بھنایا۔ پھر اندازہ لگا کر پوچھا۔

ویسے تمہاری کونسئ دوست کا نامجا شنگو ہے؟ وہ جی ہائے

آنی ۔۔ گوارا نے مسکرا کر نفی میں گردن ہلائی۔۔ 

وہ ہوپ؟ 

 لڑاکو کھنچی ہوئی آنکھوں اور چوڑے ماتھے والی  خدایا اس پر مر مٹنے سے پہلے ہیون مر مٹ کیوں نہ گیا۔ 

اس نے رونا رویا۔۔۔

جی نہیں وہ بڑی بڑی آنکھوں گلابی رنگت تھوڑی پر ڈمپل والی میری  سہیلی اریزہ کو پسند کرتا ہے۔ 

گوارا نے کہہ کر فخریہ سے انداز میں یوں دیکھا اسے جیسے داد چاہ رہی ہو۔ اور یون بن  وہ حیران رہ گیا تھا۔ بے تحاشا حیران۔

مگر وہ تو۔۔ 

اسے اریزہ سے اپنی گفتگو یاد آئی۔۔اس نے کان کھجایا۔ 

وہ تو شادی شدہ ہے۔ 

اس نے زیر لب کہا تھا۔ 

گوارا نے مگر پھر بھی سن لیا تھا۔

 تمہیں کیسے پتہ چلی یہ بات؟ 

اس نے فورا پکڑ لیا تھا۔ 

اس نے خود بتایا تھا۔ یون بن گڑبڑایا۔

اس نے مجھے بھی بتایا تھا مگر اتنے مہینوں میں اس نے کبھی اپنے شوہر سے بات نہیں کی۔ گوارا سوچ میں پڑی

یا تمہارے سامنے بات نہیں کی۔۔ 

یون بن نے جملہ مکمل کیا تو گوارا چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سارا دن بستر پر پڑی صرف سوچتی رہی تھی۔ 

اسکو اپنے جسم میں بالکل توانائی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ بستر سے اترے گی تو چکرا کر گر پڑے گی۔ 

اس نے کھانا کھا لیا تھا مگر کتنی دیر چلتا اسے  اب بھوک لگ رہی تھی۔ اس نے اٹھ کر شاپر ٹٹولا ۔ سیب کیلا وہ بھی ایک ایک ہی پڑا تھا۔ اس نے اپنا پرس الٹ لیا ۔ بمشکل ایک بڑا نوٹ اور ریز گارئ ملی۔

تو اب ایڈون اسے بھوک کی مار مار رہا ہے۔ 

اس نے تلخی سے سوچا۔ 

پھر دھیرے سے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔ 

وہ کچھ بھی کر لے مگر اس بچے کی خود جان نہیں لے سکتی تھئ۔ ایک گناہ کے بعد دوسرا بڑا گناہ کرنے کی ہمت نہیں تھی اس میں۔ 

تمہیں کیا لگتا تم مجھے سپورٹ نہیں کروگے تو کیا میں بھوکی مر جائوں گئ۔ میرے ماں باپ زندہ ہیں۔ 

اس نےتنفر سے سوچا۔

اکلوتی بیٹی ہوں میں انکی۔ وہ مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ میں سب خود انہیں بتا دوں گی۔ پھر دیکھتی ہوں تم کیسے مجھ سے دامن چھڑا سکو گے۔ 

اس نے ایک فیصلہ کرکے اپنا فون اٹھایا اور ماں کو کال ملا لی۔ دوسری ہی بیل پر فون اٹھا لیا گیا تھا۔ وہ اپنا ہر کام چھوڑ کر اس سے بات کرتی تھیں۔ 

ہیلو ممی۔۔ 

اسکی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ 

ہاں بیٹا کیسئ ہو۔ مشفقانہ انداز۔

آپ جاگ رہی ہیں ابھی تک۔۔ 

اس نے وقت دیکھا۔ ساڑھے نو ہو رہے تھے یعنی پاکستان میں ڈیڑھ بج رہا ہوگا۔ اسکو شرمندگئ سی ہوئی بنا وقت کا اندازہ لگائے فون کھڑکا دیا۔ 

ہاں بیٹا بس آج تمہارے ڈیڈا کے دوست کے بیٹے کی منگنی تھئ۔ بارہ تو وہیں بج گئے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گھر پہنچے ہیں تو تمہارے ڈیڈا نے کافی کی فرمائش کردی اب انکو دے کر آئی ہوں کمرے میں تو میری بیٹی کا فون آگیا۔ 

وہ پیار سے تفصیل بتا رہی تھیں۔ انکا انداز لفظ لفظ محبتوں سے چور تھا۔ اسکا دل ڈوبنے لگا۔ اسکی مسلسل خاموشی پر انہوں نے خود ہی موضوع بدلا

تم سنائو اریزہ کیسی ہے۔ تم لوگوں کو اکیلے رہتے کوئی مسلئہ تو نہیں ہورہا۔؟ 

ماں۔ 

اس نے بلبلا کر ٹوکا۔ 

مجھے شدید بھوک لگ رہی ہے ممی۔ 

وہ کہتے ساتھ ہی رو پڑی۔ 

تو کھانا کھائو نا بیٹا؟ ممی پریشان ہو گئ تھیں۔

ممی مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ ہے۔ 

وہ روتے ہوئے بے ربط بول رہی تھی۔ 

کیا ہوا بیٹا مجھے بتائو میرا دل ہول رہا ہے۔۔ ممی کی پریشانی بھری آواز اسکے الفاظ منہ میں اٹکنے لگے

میں نے اپنا بہت نقصان کر لیا ہے ممی۔ 

کتنا بڑا پیسے چاہیئے؟

انکا ذہن بس اتنے نقصان تک ہی رسائی کر سکا۔ 

 مجھے بتائو کتنے؟ مت فکر کرو ڈیڈا بھجوا دیں گے میری جان روئو مت۔ آج تک کبھی کچھ کہا ہے ہم نے نقصان کرنے پر۔ بتائو کتنے پیسے چاہیئیں؟؟  

ممی ۔۔ اسکی ہچکیاں بندھ گئیں۔ 

ممی پیسہ اس نقصان کا مداوا نہیں کرسکتا۔  میں نے خود کو برباد کرلیا ہے ممی۔۔ 

اسکی بات اسکا بلکنا ممی سناٹے میں آگئ تھیں۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گوارا لدی پھندی داخل ہوئی تھی۔ اریزہ فورا مدد کو آئی تھی۔ اسکا سامان کمرے میں پہنچا نے میں مدد کرانے لگی۔ 

تم اتنا سامان اٹھا کر کیسے آئی ہو ؟ 

ہوپ نے ناک چڑھا کر پوچھا تھا۔ 

یون بن دروازے تک سب سامان رکھ کر گیا ہے۔ نامجا شنگو کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے۔

گوارا کھلکھلا کر اترائئ۔ اریزہ مسکراہٹ دباتے اسکے شاپروں کو اٹھا کر بیڈ کے ساتھ ٹکانے لگئ۔ 

سامان ڈھونا جانوروں کا کام ہوتا ہے اور میرے خیال میں ۔ انسان کو اپنا بوجھ اتنا بڑھانا ہی نہیں چاہییے کہ اسے کسی سماجی جانور( انسان) کی مدد لینی پڑے۔ 

ہوپ اور اپنے بے وقت کے قنوطئ پن سے باز آجائے۔ 

گوارا نے شاپر اٹھا کر اطمینان سے بیڈ پر نیم دراز ٹیک لگائے بیٹھی ہوپ کے سینے پر دے مارا۔ 

چپ۔کر بے تکی لڑکی۔ 

کہہ سیکی۔ 

گالی دیتی ہوئئ وہ سیدھی ہوئئ۔ 

شاپر واپس گوارا کو مارنے لگی تو اس نے ہاتھ اٹھا کر روکا

تمہارے لیئے ہی  ہے وہ سوئٹر۔ 

ہوپ دانت کچکچاتے ٹھٹکی۔ شاپر کھول کر دیکھا تو سرمئی سے رنگ کی بے حد خوبصورت سوئٹر نکلی۔ 

وائو بہت پیاری ہے۔ 

اریزہ نے فورا تعریف کی۔ 

اور یہ تمہارے لیئے۔ 

گوارا نے آگے بڑھ کر سب سے بڑا تکیئے جیسا شاپر اسکی جانب بڑھایا۔ 

یہ کیا تم میرے لیے رضائی لائی ہو۔؟ 

وہ حقیقتا یہی سمجھی تھی۔ پھر ہوپ کو چڑانے لگی۔

دیکھ لو تم سے ذیادہ گوارا میری اچھی دوست ہے تمہارے لیئے تو بس ایک سوئٹر آئی ہے میرے لیئے پوری رضائئ۔ 

بولتے ہوئے اس نے پورا شاپر کھولا پھر ہکا بکا رہ گئ۔ 

اس کی لن ترانی پر گوارا او رہوپ دونوں ہنس دیں۔

یہ کیا تم میرے لیئے بھی یہ بھالو والا جیکٹ لے آئیں

اس نے روہانسا سا ہو کر کھولا  

وہ بڑا سا موٹا فوم والا گھٹنوں تک کا پیراشوٹ جیکٹ تھا۔ آجکل کوریا میں ہر دوسرا لڑکا لڑکی یہی پہنے پھر رہے تھے وہ بھئ  ہڈ چڑھا کرسر پر  تو بالکل لگتا کہ برفانی کالے بھالو پھر رہے ہیں۔ 

جی بالکل۔ ہوپ کے پاس بھی یہ جیکٹ ہے اور میرے پاس بھی صرف تمہارے پاس نہیں تھا سو اب ہم تینوں بھالو بن کے سوپ پینے چلیں گے۔ 

گوارا نے کھڑے کھڑے پروگرام بنایا۔

کیوں؟ مجھے بالکل اچھے نہیں لگے یہ بندہ موٹا بھی لگتا ہے اور کارٹوں بھی۔ 

اریزہ نے ناک چڑھائئ

اور شدید سردی برفباری میں گرم بھی رہتا ہے۔ ہوپ نے جملہ جوڑا۔ 

تو اور کیا اتنی ٹھنڈ میں مجھے تو یہ خوف ہو رہا تھا کہ کسی دن یہ اکڑی ہوئی واپس آئے گئ۔ 

گوارا دھپ سے بیڈ پر گری

بہت تھک گئ میں آج۔اریزہ کافی تو پلوا دو مجھے۔

تم نے ویسے کیوں تحفہ لیا ہے میرے لیئے۔ 

ہوپ کی عدالت لگ گئ تھئ۔ گوارا کی جانب رخ کرکے وہ گاڑھئ ہنگل میں بولی۔ اریزہ باہر نکلتے نکلتے واپس پلٹ آئی۔ 

دونوں جب اپنی مادری زبان میں بات کرنے لگتی تھیں تو اختتام ہمیشہ ہاتھا پائی ہی پر ہوتا تھا۔ 

گائوں جا رہی ہوں اپنے خاندان والوں کیلئے تحفے لیئے تو دوستوں کیلئے بھئ لے لیئے۔ 

گوارا نے جان کر انگریزی میں جواب دیا۔ 

میں دوست کب بنی تمہاری۔۔ 

ہوپ کہاں باز آنے والی تھی۔ 

ہوپ کبھی کسی کے پر خلوص انداز میں کوئی مہربانی کرنے پر اسکا صرف احسان مند بھی ہوا جا سکتا ہے ہر تحفےکو سختی سے ٹھکرایا نہیں جاتا ہے۔ 

اریزہ نے گوارا کو جواب دینے کی زحمت سے بچا لیا تھا۔

ہوپ چند لمحے دیکھتی رہی۔ پھر دھیرے سے بولی

شکریہ۔ آج بڑے عرصے بعد کسی نے مجھے اپنا سمجھ کر تحفہ دیا ہے۔ 

اسکی بات پر اریزہ بھی چپ ہی رہ گئ۔ 

تم دونوں بیٹھو میں سب کیلئے کافی بنا کر لاتی ہوں۔ 

چند لمحے لگے تھے وہی ہموار لہجہ اور سپاٹ انداز وہ اپنا چکی تھی۔ 

میں۔ اریزہ نے کہنا چاہا مگر وہ بجلی کی تیزی سے اسکے پاس سے ہو کر گزرتی چلی گئ۔ 

اریزہ کندھے اچکا کر گوارا کے پاس بیڈ پر چڑھ کر بیٹھ گئ

جانے دو اسے ہمارے سامنے رونا نہیں چاہتی وہ۔ 

گوارا کے کہنے پر وہ سر ہلا گئ۔ 

تم کب واپس آئوگی۔ اسےسوچ کے اداسی ہو رہی تھی۔ 

میں کرسمس نیو ائیر سب منا کر واپس آئوں گی۔ گوارا نے انگڑائی لی۔ اریزہ نے اداس سی شکل بنا لی تھی

کل سے یہ جیکٹ پہن کر جانا یہ نہ ہو کہ اکڑی ہوئی واپس آئو۔ 

گوارا نے ڈپٹنے والے انداز میں کہا تھا۔ 

یہ تو مجھے گھٹنوں سے بھی نیچے تک آرہی ہے۔۔ 

اریزہ پہن کردیکھنے لگئ بیڈ پر کھڑے ہو کر جب دیکھا تو واقعی اسکے گھٹنوں سے بھی نیچے تک آرہا۔تھا جیکٹ

ہاں تو یہ ہوتا ہی اتنا بڑا ہے تاکہ ٹھنڈ نہ لگے۔ 

گوارا نے کہا تو وہ اچھل کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کودی۔ بڑے سے آئینے میں وہ واقعی بھالو۔ہی۔لگ رہی تھی۔ 

کیسی لگ رہی ہوں؟ وہ۔آئینے میں گوارا کے عکس کو دیکھ کر پوچھ رہی تھی جو اسکی پشت پر تھی۔ 

پیاری۔ 

میں کیسی لگتی ہوں تمہیں؟ گوارا نے جوابا پوچھا۔ 

پیاری۔

اور ہوپ؟ وہ اس سے پے در پے سوال کر رہی تھی

وہ بھئ۔ 

اور جی ہائے۔۔ 

وہ بھی ۔ اس نے روانی میں کہا پھر منہ پھلا کر بولی

تھوڑی سی بری ہے وہ۔  

اور کم سن۔۔ سوال ختم نہیں ہوئے تھے۔

پیارا ۔۔ 

اور۔یون بن۔ گوارا کے کہنے پر۔وہ مڑ کر۔گھورنے لگی

تم۔میرے ساتھ ریپڈ فائر کھیل رہی ہو؟

ہاں ۔گوارا نے آرام سے مان لیا پھر ٹوک دیا

تم نے ٹیمپو توڑ دیا اب دوبارہ مگر وقت ضائع کیئے بنا جواب دینا۔ 

اوکے۔ وہ کندھے اچکا کر بیڈ پر چڑھ گئ

پسندیدہ پھول؟                   ?favourite flower

گوارا اسے تولتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی

گلاب۔۔                  Rose

پھل؟                          ?Fruit 

آم۔۔                         Mango      

اریزہ کو۔مزا آرہا تھا اس کھیل میں۔ 

ایکٹر؟               ? actor   

فواد خان…..  Fawad Khan

ملک۔۔                 Country

پاکستان ۔        Pakistan 

تمہیں کوریا پسند نہیں؟

گوارا نے سوال بدلا

 You dont like Korea?

اچھا ہےکوریا۔                           Korea is good   

 صاف اچھا موسم اچھے لوگ….

  its clean nice people are good    

Do you like rain? 

yes

تمہیں بارش اچھی لگتی ہے؟

ہاں۔۔۔

Does it rain in Pindi?

yeah alot

پنڈی میں بارش ہوتی ہے؟

بہت ذیادہ۔۔ 

Are you sleepy?

No..

تمہیں نیند آرہی ہے؟

نہیں۔۔ 

Are you hungry?

yeah little bit

بھوک لگ رہی ہے؟ 

ہاں تھوڑی سی۔۔ 

Are you thirsty?

yes

پیاس لگ رہی ہے؟ 

ہاں۔۔ 

Are you divorced?

yes.. 

تمہیں طلاق ہوگئ ہے؟

ہاں۔ 

وہ روانی میں بول کر چونکی۔ ۔

ہیں کیا؟ 

گوارا مسکرا دی۔ کمرے میں ٹرے میں کافی بنا کرداخل ہوتی ہوپ کے ہاتھ سے ٹرے دھڑام سے گری تھی۔ تینوں مگ گر کر چکنا چور ہو گئے تھے۔ چھناکے کی آواز پر وہ دونوں چونک کےمتوجہ ہوئیں۔ 

جلی تو نہیں؟ 

اریزہ سب سے پہلے بھاگ کے اسکے پاس آئی تھی۔ ہوپ نے کانپتے ہاتھوں کو چھپانے کی سعی کرتے ایکدم سے مگ کے ٹکڑے اٹھانے کیلئے ہاتھ بڑھادیئے۔

پاگل ہوئی ہو کیا ؟ اریزہ چیخی

کرچیاں چبھ جائیں گی تم مجھے دکھائو ہاتھ پائوں تو نہیں جلے

اسکو ٹٹولتی اریزہ فکرمندہ تھی۔ 

گوارا نے ایک نظر ان دونوں پر ڈالی پھر دانستہ رخ موڑ کر لیٹ گئ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ حسب معمول وقت پورا ہونے پر اپنے گرد لمبےگھٹنوں تک کے پھولے پھولے جیکٹ کو پہنتی باہر نکلی تھی۔ پھر بھی یخ بستہ ہوا نے جھر جھری سی دلا دی تھی۔ 

ناک چالو ہوئی تو اس نے سرد ہوا کو گھورتے ہوئے کہہ ڈالا

سنو کوریا تمہاری یہ سردی مجھے بالکل پسند نہیں آئی۔ اچھا۔ تھوڑی کم ٹھنڈ پھیلائو۔ 

ساتھ سے گزرتی اسی طرح ملفوف سی چندی آنکھوں والی نے حیرت سے اسے ہوا سے لڑتے دیکھا تھا۔ مگر وہ بے نیازی سے لہرا کر آگے بڑھ گئ۔ 

اسکا ارادہ بس سے جانے کا تھا۔ تھوڑا سا پیچھے اتر کر ایک دو چیزیں خرید لیتی۔ وہ یہی سب منصوبہ بناتی بس اسٹاپ پر چلی آئی۔ 

وین سے جائوں؟ ہرگز نہیں مجھے چھوڑ کر آئوبائک پرصارم۔ 

اٹھو۔ 

وہ کمبل میں گھسے بے خبر سوتے صارم کو مکے لاتیں مار کر اٹھا رہی تھئ۔

خدا کی قسم مجھے بخار ہو رہا ہے جبھی تو آج میں چھٹی کر رہا ہوں۔ دیکھو۔ 

اندر سے سرخ چہرے کے ساتھ منمناتی آواز نکلی تھی صارم کی

آکر سو جانا نا پھر۔ واپسی کا مسلئہ نہیں ایڈون سنتھیا چھوڑ دیں گے ابھی چھوڑ آئو نا اچھے بھائی نہیں۔ میرا آج کوئز ہے ورنہ کبھی نہ کہتی خود بھی چھٹی کر لیتی

اسکی شکل پر ترس آیا تو اسکا انداز بھی منت بھرا ہو چلا تھا

تم وین سے کیوں نہیں چلی جاتیں  صرف ایک اسٹاپ دور ہو تم لڑکی۔ کونسا دو ویگنیں بدل کر جانا ہے تمہیں۔ 

وہ اسکے اصرار پر تھوڑا  چڑا

تمہیں پتہ ہے نا مجھ سے بسوں ویگنوں کا سفر نہیں ہوتا کہیں کی کہیں پہنچ جائوں گئ۔ اوپر اتنے لوگوں میں بھر کر کیسے جائوں گی۔ 

اسکی اپنی مجبوری تھئ۔ 

دو ٹکٹ لینا آگے بٹھائیں گے۔ڈرائور سے کہہ دینا اور کسی کو آگے نہ بٹھائے۔ 

اس نے کہہ کر کمبل منہ تک تان لیا۔ وہ بے بسی سے چپ چاپ کھڑی رہئ ۔ چند لمحے کوئی سن گن نہ ملی تو اس نے دھیرے سے کمبل سر پر سے نیچے کیا وہ چپ چاپ کھڑی زمین کو جوتے کی نوک سے ہلکے ہلکے کرید رہی تھی۔

میرا کارپٹ خراب نہ کرو۔ 

وہ بھناتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ 

اسکا اترا چہرہ بھی تو نہیں دیکھ سکتا تھا منہ پھلاتا کمبل اتار کر ایک طرف کرتے ہوئے چپل ٹٹولنےلگا۔ اریزہ کھل سی اٹھی

گاڑی بابا لے جا چکے ورنہ کبھی نہ کہتی تمہیں۔ 

احسان ماننا بھی تو سرشست میں نہ تھا۔ 

اس نے گھور کر دیکھا۔ 

شرٹ پینٹ استری کرکے دو میری بلکہ صرف شرٹ کر دو کل والی  جینز سے ہی کام چلا لوں گا۔ 

وہ ہدایت دیتا اٹھنے لگا۔ 

کیوں ٹھیک ہیں کپڑے مجھے اتار کر واپس آکر سونا ہی تو ہے۔ وہ سمجھی نہیں

 اب تمہاری وجہ سے اٹھ کر یونیورسٹی کا منہ دیکھوں تو کلاس بھی نا اٹینڈ کر لوں ۔ قسم سے اتنی طبیعت خراب ہے میری اور۔۔۔۔۔۔۔۔ 

تبھئ بس کے زورد ار ہارن سے وہ چونکی۔ یہ اسکی مطلوبہ بس تھی سو بیگ سنبھالتی لپک کر چڑھی۔ 

بس لبا لب بھری تھئ۔ ترقی یافتہ ملک کے ترقی یافتہ شہریوں میں مرد و زن کی تفریق نہ تھی ۔ کام کاجو نوکری پیشہ طلباء بوڑھے جوان سب ہی کھڑے تھے کوئی نشست خالی نہ تھی۔ وہ ایک لڑکی کے پاس گھس کر کھڑی ہوئی تو آگے پیچھے مرد ہی مرد بھرتے گئے۔ اگلے اسٹاپ پر وہ لڑکی بھی اتر گئ۔ طرح طرح کے لوگ اجنبی بولی اوپر سے سب مردوں میں گھرئ اس نے سمٹ کر اردگرد نگاہ دوڑائئ اسکے بالکل دوتین ہائی اسکول کے طلبا ء تھے ایک شائد ان میں لڑکی بھی تھئ مگر حلیہ سب کا ایک سا تھا بڑی بڑی جیکٹیں وہ آپ میں مگن تھے تو اسکے دائیں جانب ایک ستائیش اٹھائیس سال کا جوان شائد دفتر سے واپس آرہا تھا لیپ ٹاپ کندھے سے لٹکائے مکمل طور پر سامنے کھڑکی سے باہر دیکھتا اسکا لیپ ٹاپ دو ایک بار اسکی کمر سے ٹکرایا تو اس نے بنا اریزہ کے ٹوکے ہی لیپ ٹاپ کو اپنے جسم سے مزید قریب کر لیا تھا۔ موٹئ گھٹنوں تک کی پھولی سی جیکٹ میں وہ کسی بھی طرح کسی سے چھونہیں رہی تھی پھر بھئ عجیب سا احساس دامن گیر تھا۔ وہ لیپ ٹاپ والا لڑکا اگلے اسٹاپ پر اترنے کو جگہ بنانے لگا تو وہ یک قدم پیچھے ہوئی تبھئ اس نے مڑ کر دیکھا تو ادھیڑ عمر وہ بوڑھا شخص مسکرایا۔ اسکی مسکراہٹ اتنئ عجیب لگی اسے کہ اسے اپنے اس احساس کو جھٹلانے کی اب ہمت نہ ہوئی۔ بس دوبارہ چلنےکو تیار تھی کہ۔ وہ بوکھلا کر پکاری۔ 

اہجوشی۔ 

اسکی پاٹ دار آواز پر پوری بس متوجہ ہوئی۔ 

وہ مجھے بھی یہیں اترنا۔ وہ اتنے دنوں میں آتے جاتے اتنا بولنا سیکھ گئ تھئ۔ اسکی بات پر وہ ہائی اسکولر فورا سمٹ کر جگہ بنا گئے تھے۔ وہ بس سے اتنی تیزی سے اتری کہ لڑکھڑا گئ۔ 

بس اس کے اترتے ہی لمحہ بھر کی دیر کیئے بںا چل پڑی تھی

وہ چند لمحے اس جاتئ بس کو ہی دیکھتی رہ گئ۔ 

سب میسر ہے نا جبھی نخرے ہیں جس دن میں نہیں ہونگا نا اس دن ایک وین کیا دس بسیں بدل کر بھی جائو گی۔ 

صارم بائک چلاتا اسے سنا رہا تھا۔ 

پھولی سانسوں کو ہموار کرتئ وہ بس پھر اسی سوچ پر اٹک گئ تھئ

میں آخر یہاں کیا کر رہی ہوں۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں آخر یہاں کیا کر رہا ہوں۔ 

اس دلکش مراکش حسن کی شاہکار شہد رنگ آنکھوں شہد رنگ بالوں والی لڑکی کو دیکھتے سوچ رہا تھا۔ 

نہایت پر اعتماد دراز قد تیکھے نقوش سیاہ جینز اور چست مسٹرڈ ہائی نئک میں ملبوس بلیک ہی  لانگ کوٹ جس کے سب بٹن کھلے تھے۔ اسکے سینے پر جھولتی سونے کی موٹی زنجیر ریستوران کی روشنیوں کی جھلملاہٹ منعکس کر رہی تھی۔ اپنے کمر تک آتے لمبے سیدھے بال اس نے کھول رکھے تھے جو اسکے دائیں کندھے پر آبکھرے تھے مگر وہ اس سے بے نیاز کافی کی چسکی لیتے ہوئے اپنی تعلیم و تربیت پر مفصل لیکچر جھاڑ رہی تھی۔ 

میں نے کبھئ نہیں سوچا کہ ایک لڑکی ہو کر میں یہ کام نہیں کر سکتی وہ کام نہیں کر پائوں گی۔ مجھے خود پر بھروسہ اور یقین ہے جبھئ اس اسکالر شپ کیلئے میں نے جی جان سے محنت کئ۔ جینڈر اسٹڈیز کو عموما لوگ جنسیات سے تعبیر کرتے ۔

تو جنسیات کیا جینڈر اسٹڈیز کو ہی نہیں کہتے۔ 

اس نے بات برائے بات کہا تھا۔

یہی تو مسلئہ ہے۔ ایک مکمل مضمون اور ایک موضوع کو آپ کبھی ایک سا نہیں سمجھ سکتے۔ میرے تحقیقی مقالے کا مقصد اسی فرق کو واضح کرنا ہے اور۔ 

وہ جانے کیا کیا کہہ رہی تھی۔ وہ غائب دماغی سے سنتا بس کافی ختم کرنے کے بعد اٹھنے کا  کوئی اچھا سا بہانہ سوچ رہا تھا۔ 

تبھئ ایک پھولی سی گھٹنوں تک کی جیکٹ ریستوران میں داخل ہوئئ۔اسکی توجہ خود بخود اسکی جانب ہوگئ تھی۔ 

مجھے ایک برگر چاہیے جس میں سبزیاں ہوں بس اس میں کوئی الگ سے ساس بھی مت ڈالیئے گا اور ساتھ کافی۔ 

وہ آرڈر کرکے اب نگاہ گھما کر خالی جگہ ڈھونڈ رہی تھی۔ 

اسکے بالکل برابر والی میزخالی تھی وہ سیدھی وہیں آکر بیٹھی گئی۔ اسکے دائیں جانب اسکی موجودگئ سے انجان۔ 

وہ لڑکی جب اپنی تمام تر قابلیت جھاڑ چکی تب اسے احساس ہوا کہ مخاطب کی توجہ بٹ چکی ہے سو تھک کر کافی کا کپ اٹھا لیا۔ 

آپ پڑھانے کے سوا کیا کرتے ہیں میں مشغلہ پوچھنا چاہ رہی ہوں۔ 

اسکا انداز تھوڑا سا خشک ہو چلا تھا۔ 

علی چونکا۔ 

کچھ نہیں۔۔جاب ریستوران دونوں کام محنت طلب ہیں نماز وغیرہ کے سوا وقت بچتا نہیں عربی کی آن لائن کلاس لیتا ہوں بس۔ 

اس نے اس تئیس منٹ کئ ملاقات میں یہ پہلا طویل جملہ بولا تھا۔ مخاطب نے ہوں کہنے پر اکتفا کیا۔ وہ تھوڑی بدمزہ ہوچکی تھی۔ اگر علی کی ظاہری شخصیت پرکشش نہ ہوتی تو شائد وہ اسکی عدم دلچسپی اور کسی حد تک روڈ بدمزاج انداز بھانپ کر دس منٹ میں ہی اٹھ کھڑی ہوتی۔ 

اس نے اپنے بالوں کو کندھے سے جھٹکا تو وہ بنا سوچے کہہ بیٹھا

آپ اسکارف نہیں کرتیں۔ 

نہیں۔ نہ ہی زندگی میں کبھی کرنے کا ارادہ ہے۔وہ اپنا پرس سنبھالتی مسکرا کر کہتی اٹھ کھڑئ ہوئی

یہ تو لازمئ ہوتا ہے مسلمان لڑکیوں پر۔ ؟ 

اسکا ارادہ بحث کا نہیں تھا۔ مگر وہ بھڑک کر انگریزی میں چبا چبا کر بولی۔

آپ کو اس بات پر زیادہ توجہ دینی چاہیئے کہ مسلمان لڑکوں کیلئے کیا لازم و ملزوم ہے لڑکیوں کی قبر انکا اپنا معاملہ ہوگی۔ آپ اپنی آخرت کی فکر کیجئے۔ 

اسکے تھوڑا اونچی آواز میں کہہ اٹھنے پر اردگرد سے کئی لوگ چونک کر انہیں دیکھنے لگے تھے۔

آننیانگ۔ وہ جھٹکے سے بیگ کندھے پر ڈالتی ہائی ہیل پر ٹک ٹک کرتی چلی گئ۔

وہ ان سب کی نگاہوں کا مرکز خود کو محسوس کر رہا تھا۔

اس میں سبزیاں ہی ہیں نا بس؟   گوشت تو نہیں 

اٹک اٹک کر ہنگل بولتی اریزہ کی بات پر وہ چونک کر دوبارہ اسکی جانب دیکھنے لگا تھا۔ 

آندے ۔ وہ ویٹرس سرو کرکے حسب روایت جھک کر سلام کرتی چلی گئ۔ 

اسے کافئ زور سے بھوک لگ رہی تھی سو سینڈوچ اٹھا کرفورا کھانا شروع کر دیا تھا۔ 

ہائے۔ ہائو آر یو؟

وہ اٹھ کر اسکی میز کے سامنے آکھڑا ہوا  

 نوالہ چباتے ہوئے اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو شناسائی کی واضح لہر اسکے چہرے پر دوڑ گئ۔ 

وہ بہت چھوٹے نوالے لیتی کھا رہی تھی جبھی فورا سر کے اشارے سے جواب دیتی نوالہ جلدی سے چبا کر نگل گئ 

ہائے آپ کیسے ہیں۔؟ ۔ بیٹھیئے۔ 

اس نے سینڈوچ پلیٹ میں رکھ لیا تھا ۔ علی اسے بغور دیکھ رہا تھا۔ وہ مکمل غیر ملکی تھی۔ 

آپ کو لگتا ہے کوریا راس نہیں آیا ابھی تک ۔ وہ خود ایک جیکٹ میں ملبوس اسکے اتنا ملفوف ہونے پر شائد چوٹ کر رہا تھا۔ وہ خفیف سی ہوئی۔ 

مجھے  اتنی سردی سہنے کی عادت نہیں شائد اسلیئے۔۔ 

آپ بھی لیجئے۔ اس اخلاقا ایک اسکی جانب پلیٹ کو بڑھا دیا۔ 

معزرت اس میں جو ساس ڈالی گئ ہے اس میں بڑا حصہ سور کے گوشت کا ہوتا ہے میں نہیں کھا سکتا۔ 

اس کو عادت ہو چکی تھی تفصیل سے بتانے کی۔ اسکی بات پر اریزہ چونکی

نہیں بھئ۔ یہ سبزیوں کا سینڈوچ ہے اس میں گوشت نہیں۔ پورک تو میں خود نہیں کھاتی۔ 

گوشت نہیں مگر اس میونیز کے ساتھ جو مصالحے دار چٹنی ذائقہ بڑھانے کیلئے ڈالی گئ ہے اسکو پورک میں ہی پکایا جاتا ہے۔ 

اس نے باقائدہ سینڈوچ کھول کر اسے دکھایا۔ 

لال چٹنی جو ذائقے میں بہت اچھی لگی اس میں سور؟ 

وہ سینڈوچ پلیٹ میں رکھ کر فورا کھڑی ہو گئ۔ 

آگاشی ۔ اس نے اسی ویٹرس کو پکارا۔ 

میں نے کہا بھی تھا مجھے سبزیوں کا سینڈوچ چاہیئے اس میں سور کہاں سے آگیا؟ 

اسکے قریب آتے ہی وہ مٹھیاں بھینچ کر چلا اٹھی۔ 

چھے سو ہمنبندا۔ 

اگلی جھک جھک کر معزرت کرنے لگی۔ 

میں نے صاف کہا تھا مجھے سبزیوں کا سینڈوچ چاہیئے اس میں گوشت وہ بھی سور کا کیوں ہے؟ 

اسکے تن بدن میں آگ سی لگ گئ تھی۔ 

اسکو غصے میں دیکھ کر علی چوکنا سا ہوا۔ 

آئیم سوری۔ 

لڑکی کی انگریزی اس لفظ کے بعد ختم ہوگئ تھی۔ وہ۔یقینا کوئی ہائی اسکولر تھی ۔ کم عمر سی سہم سی گئ۔ بات تو انگریزی کی سمجھ گئ مگر جواب دینا نہ آیا۔ تو سر جھکا لیا۔ 

یہ کہہ رہی ہے اسے سبزیوں کا سینڈوچ چاہیئے آپ نے اسے یہ ساس ڈال کر کیوں دیا؟ 

علی نے ترجمہ کیا۔ 

جی وہ اس سبزیوں کے سینڈوچ میں ہم کوئی نہ کوئی ساس استعمال کرتے ہیں ۔ اس وقت بھی میں نے پوچھا تھا لال چٹنی ڈال دوں تو انہوں نے ہامی بھر لی تھی۔ 

وہ بے چارگی سے صفائی دینے لگی۔ 

کیا کہہ رہی ہے یہ؟ اریزہ علی کی۔جانب گھومی۔ اس نے اشارے سے تحمل سے کام لینے کو کہا۔ اور اس لڑکی کی۔جانب متوجہ ہوا۔

مگر یہ چٹنی تو سورکے گوشت کے ساتھ بنتی ہے نا؟ 

علی نے پوچھا۔ تو وہ سر۔جھکا گئ۔ 

چھے سو ہمبندا۔ ( معزرت خواہ ہوں)

مگر اس میں سے گوشت کے ریشے نکال دیئے تھے اور کھمبیاں ڈال دی ہیں ہم نے۔ یہ خاص ساس ہماری پہچان ہے خاص کر اس سینڈوچ اور اس ذائقے کیلئے لوگ دور دور سے ہمارے ریستوران آتے ہیں۔ یقین جانئے یہ کسی بری شے سے نہیں بنی ہے۔ 

اس نے جھک جھک کرمعزرت کرنے کے بعد تفصیل سے صفائئ پیش کی۔ اسکی ہنگل اریزہ کے سر پر سے گزرتے دیکھ کر علی ہی مدد کو آیا اور ترجمہ کیا۔

مگر اس ساس میں ڈالا کیا جاتا ہے؟ 

وہ سر پیٹ لینے کو تھی۔ اپنا۔ 

لال مرچ ، سویا ساس ، چینی، سرکہ، ہڈیوں کا سوپ۔۔۔

اجزاء بتاتے ہوئے علی تھما۔ وہ ابھی بھی جانے کیا کیا بتا رہی تھی۔ 

کس جانور کئ ہڈیوں کا سوپ؟ 

وہ سر پکڑ گئ 

سور نہ بھی ہو بکرا، مرغی مچھلئ گائے میں بنا حلال ہوئے کسی جانور کا گوشت نہیں کھا سکتی بھئ۔ 

اسکا چہرہ دیکھنے والا تھا طیش سے سرخ بے بسی سے مٹھیاں بھینچتی۔ اور شائد رونے کا بھی ارادہ بن رہا تھا۔اگر نہیں بھی تو بھی شکل سے یہی لگ رہا تھا۔ 

میں بہت معزرت خواہ ہوں آپکےلیئے سادہ چیز سینڈوچ لے آتی ہوں اس کی بے شک آپ ادائیگی بھی واپس لے لیں۔ 

وہ بچی شائد اریزہ کی طرح ہی رونے کو تیار لگ رہی تھی۔ 

آپ جائیں۔ علی نے اسے جانے کو کہا تو وہ پھر جھک کر معزرت کرتئ چلی گئ۔ 

کونسا گوشت تھا اس میں ؟ 

وہ تفتیشی انداز میں پوچھ رہی تھی۔ علی گہری سانس لیکر رہ گیا۔ 

مجھے اتنی بھوک لگ رہی تھی کہ اتنا ذیادہ کھا بھی گئ۔ حد ہے۔ 

وہ بڑ بڑ کر رہی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

اس میں تیرا گھاٹا میرا کچھ نہیں جاتا ذیادہ پیار ہو جاتا تو میں سہہ نہیں پاتا۔ 

دھیمی بجتی آواز ریستوران کا خوابناک سا ماحول گرم گرم روٹی اور چکن کڑاہی۔ ویٹر نے لا کر ان کی میز پر رکھی تو علی نے اسے شروع کرنے کی دعوت دی۔ 

میرا واقعی کچھ کھانے کا ارادہ نہیں ہے۔ 

وہ منہ پھلائے تھئ۔ علی کو ہنسی آگئ۔ اس نے روکنے کی کوشش بھئ نہیں کی۔ 

تم مزاق اڑا رہے ہو میرا؟ 

وہ اٹھ کھڑی ہوئئ۔

اسکے تیور کڑے تھے۔ 

ہرگز نہیں۔ بیٹھو بیٹھو۔ اسے بھڑکتے دیکھ کر وہ فورا ہنسی روک کر اپنے مخصوص اچھے بچے والے انداز مین واپس آیا۔ وہ خفا خفا سی دوبارہ بیٹھ گئ 

مجھے بس تمہارے معصوم تاثرات نے ہنسا دیا۔ اتنا غصہ پورک کھا لینے پر یقینا تم جانوروں سے بہت پیار کرتی ہوگئ۔امریکہ میں تو بہت سے لوگ جانوروں کی فارمنگ اور وہاں ہونے والے جانوروں کے ساتھ بہیمانہ سلوک کی وجہ سے سبزی خور ہوجاتے ہیں مجھے نہیں پتہ تھا پاکستانی بھی 

اس نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تو وہ چٹخ کر بولی

مجھے ہرگز ایسا کوئی مراق نہیں 

اچھا غصہ تھوک دو۔ اب یہ پاکستانی ریستوران ہے یہاں چکن ہی ہے سور نہیں کھانے سے کیا ناراضی۔ 

اس نے صلاح جویانہ انداز میں کہا تو اریزہ کو غصہ تھوکنا پڑا۔ اب تو جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔ پھر علی اسکا کون لگتا تھا جو اسے نخرے دکھاتئ۔ سو دل مار کر کھانا ٹونگنے لگی۔

کھانے کے بعد میٹھے میں آج کی سگنیچر ڈش رس ملائی تھی۔ سو علی نے وہی منگوا لی۔ رس ملائی ہرگز بھی ذائقے دار نہیں تھی بلکہ منہ میں چبانے لائق سخت تھی۔ اسے ذرا پسند نہیں آئی اسکا برملا اظہار بھی کردیا۔ 

بالکل مزے کی نہیں اتنی سخت ہے اورمٹھاس بھی کم ہے۔ ایسی رس ملائی کھلائیں گے کورین کو تو وہ پاکستانی کھانے خاک پتھر کھانے آئیں گے۔ 

وہ بڑ بڑائی تو علی بے ساختہ ہنس دیا۔ 

یقین کرو کورینز کو نہیں پتہ کہ رس ملائی کو نرم اور ذیادہ میٹھا ہونا چاہیئے ہمیں یہ ایسے بھی پسند آئی ہے۔ 

اسکے کہنے پر وہ کندھے اچکا کر رہ گئی۔

واپسی پر علی اسے خود ڈراپ کررہا تھا۔ مکمل سنجیدگی سے سڑک پر نگاہ جمائے ڈرائیو کر رہا تھا۔ اس نے ایک نظر اسے بغور دیکھا۔ تصویر میں وہ جتنا شاندار لگتا تھا اصل میں اس سے کہیں ذیادہ لگ رہا تھا۔ ہلکی ہلکی شیو بڑھی ہوئی تھی جو اسکے گورے چہرے پر بری نہیں لگ رہی تھی البتہ رف اور ٹف سی لک آرہی تھی اسکی۔گول سا بیضوی چہرہ چندی مگر بڑی آنکھیں باریک لب مکمل کوریائی نقوش۔ مگر لہجہ امریکی تھا انگریزی بولنے کا۔ 

ہیون  کے نقوش تیکھے ہیں۔ آنکھیں کھنچی سی اور چہرہ بھی گول سا نہیں۔ شائد اسکی والدہ کے نقوش ملنے سے۔ وہ بلا ارادہ تفصیلی تقابلی جائزہ لے بیٹھی۔

میں ہیون کو کہاں سے یاد کرنے بیٹھ گئ۔ 

خود پر اسکی توجہ محسوس کرکے علی یونہی اسکی جانب دیکھ کر مسکرا دیا۔ تو وہ کھسیا کر رخ بدل گئ۔ 

مجھے بہت شرمندگی ہورہی ہے میں پہلی دفعہ آپکو جتنی زحمت دے چکی اسکا شکریہ بھی ڈھنگ سے ادا نہیں کر پائی اور مزید احسان چڑھا لیا ہے آپکا۔ 

ونڈ اسکرین پر نگاہ جمائے وہ صاف گوئئ کہتی گئ۔ 

ڈونٹ بی سو فارمل۔ تم ہیون کی دوست ہو اور ہیون میرا ۔اس ناطے ہم میں جان پہچان کا رشتہ ہے اور جانے کل کو اس سے گہرا رشتہ بن جائے کیا خبر وقت کا۔ جملے کے آخر تک اسکی آواز دھیمی ہوگئ تھی ۔

آپکئ انگریزی بہت اچھی ہے۔ لہجہ بالکل امریکی ہے آپکا۔ بات سمجھنا آسان ہو جاتا ہے آپکی بہ نسبت باقی کورینز کے۔ 

خاموش رہنے کی عادت نہ تھی اسکی بات پر دھیان بھی نہیں دیا تھا کہ چونکتی۔ جھٹ اگلا سوال جڑ دیا۔ 

میں امریکہ میں رہا ہوں اسکولنگ وہیں کی ہے ہائی اسکول میں تھا جب واپس آیا پھر ہائی اسکول کوریآ سے مکمل کیا پھر دوبارہ امریکہ چلا گیا تھا اپنی فیانسی کے ساتھ شائد اسلیئے۔ 

اس نے اپنی طرف سےتفصیلی جواب دے کر  اسکا تجسس دور کرنا چاہا۔ 

وہ مزید کوئی سوال پوچھتی مگر اسکا فون بج اٹھا تھا

 گوارا تھئ پوچھ رہی تھی کہ کہاں ہو کب تک واپسی ہے۔ 

بس گھر پہنچنے ہی والی ہوں پانچ منٹ میں۔خیریت؟

ہاں بس کھد بد ہو رہی تھی ۔۔ وہ ہنسی۔۔۔

 تفصیل جاننے کی۔ چلو گھر آئو جلدی۔ 

اس نے فون بند کر دیا تھا۔ اریزہ جو وجہ پوچھنے والی تھی کندھے اچکا کر رہ گئ۔ 

عمارت کے قریب گاڑی رکی تھی۔وہ سرعت سے اتر کر ڈرائیونگ سیٹ کے پاس آئی۔۔ 

شکریہ اور زحمت کیلئے معزرت۔ 

انتہائی رسمی انداز مگر جھک کر کوریائی انداز میں بولی تھی۔ 

اسکے منہ سے ہنگل دلچسپ لگتی تھی۔

وہ ہنس پڑا۔ اس بے موقع ہنسی پر وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔

آئیندہ کچھ بھئ کھانے لگو تو یہ جملہ بولنا 

ہیم پیگو چھوسے او۔ اس کا مطلب ہوتا ہے سور نکال کے دو۔ سور ایک اچھا گوشت سمجھا جاتا ہے کوریا میں اور خاص کر غیر ملکیوں کو دیکھ کر مہمان نوازی کے لیئے خاص کر ہیم پیش کیا جاتا ہے یہ انکی جانب سے خلوص کا اظہار تھا۔ ابھی بھی جو سینڈ وچ تم کھا رہی تھیں یہ اس ریستوران کی سگنیچرفوڈ تھئ اور خاص تمہیں خوش کرنے کو مہنگا والا ساس ڈال کر تمہیں دیا گیا تھا۔ اب یہ اس بے چاری کی قسمت کہ تمہیں سور کا ذائقہ نہیں پسند۔ بہر حال ایک کوریائی ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ انکی پوزیشن کلیئئر کر دوں ۔

اس نے سادہ سے انداز میں وضاحت کی تو وہ مسکرا دی۔ 

ذائقے کی بات نہیں یہ منع ہے ہمیں کھانا لیکن بہر حال یہ بات سب تو نہیں جانتے۔ خیر شکریہ آئیندہ میں یاد رکھوں گی۔ 

ہیم پیگو چھوسے او۔۔ 

اس نے تائید چاہی۔ اور غیر متوقع طور پر درست تلفظ سے کہا۔ 

دے۔ وہ سر ہلا کر بولا۔ 

ہیم پیگو چھوسے او۔ اور کچھ ہنگل کا یاد کروں نا کروں یہ پکا یاد کرلوں گی۔ 

وہ بار بار دہرا رہی تھی۔ 

اوکے ٹیک کیئر گڈ نائٹ۔وہ مگن سے انداز میں ہاتھ ہلا کر کہتی جواب کا انتظار کیےبنا کمپائونڈ کی جانب بڑھ گئ۔ 

وہ گڈ بائے کہتا خفیف سا ہو کر چپ ہو گیا۔ 

ہیم پیگو چھوسے او؟؟؟؟ 

وہ گاڑی چالو کر رہا تھا جب اس نے پیچھے سے پکار کر ایک بار پھر تصدیق چاہی 

وہ حیران ہو کر سر ہلا گیا  وہ کمپائونڈ سے پکار کر پوچھ رہی تھی۔ 

دے۔ جوابا اس نے بھی آواز لگائی۔ 

میں پکا یاد رکھوں گی اب اسے۔ 

ہیم پیگو چھوسے او۔ 

وہ وہیں سے اونچی سی آواز میں کہہ رہی تھی۔ 

اسے اسکے بچکانہ سے انداز پر ہنسی آگئ 

اچھی بات ہے گڈ لک۔ اس نے پکار کر کہا تو وہ بھی ہنس کر مڑ گئ  

دلچسپ لڑکی ہے۔ 

گاڑی ریورس کرتے ہوئے بھی اسکے چہرے پر محظوظ سی مسکراہٹ تھئ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اریزہ۔ 

کمپائونڈ میں اندر داخل ہوتے ہوئے اسے مانوس پکار سنائی دی۔

اس نے مڑ کر دیکھا تو ہیون مسکراتا ہوا اسکے پاس چلا آیا۔ وہ بھئ مسکرا دی۔ جانے کیوں مگر اس وقت اسے دیکھ کر خوشی سی ہوئی تھی۔ 

جاب سے آرہی ہو؟ کیسا گزرا دن؟ 

لانگ کوٹ میں ملبوس جیبوں میں ہاتھ ڈالے آج اسکا انداز معمول سے ہٹ کر سنجیدہ سا تھا۔ 

ہاں ۔ اسے تھوڑی دیر پہلے کی کوفت یاد آئی تو دن کا زکر گول کر ڈالا۔ 

کہیں باہر ڈنر کریں۔ 

ہیون کے کہنے پر اس نے کلائی میں بندھی گھڑی پر نگاہ ڈالی ساڑھے آٹھ بج رہے تھے اسکا تو لنچ ڈنر اکٹھے ہو چکا تھا۔ ۔

میں تو کھانا کھا کر آئی ہوں۔ 

اسکے جواب پر ہیون نے یوں سر ہلایا جیسے اسکا جواب متوقع ہو اسکے لیئے۔ 

پھر کافی؟ 

وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ بھر بھر رس ملائی کھا کر آئی تھی ٹھنڈ میں کافی کی پھر بھی جگہ نہیں تھی مگر وہ صاف انکار نہیں کر سکی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

وہ اسے ایک بڑے سے مال میں بنے بریو ہارٹ کے مرچنڈائز اسٹور لیکر آیا تھا۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تھا اسے۔ 

اس ویک اینڈ پر بریو ہارٹ کا چیریٹی کنسرٹ ہے ۔ ہم دونوں اسکی پہلی قطار میں ہونگے۔ انکے پرستار پہلی رو کیلئے ایک دوسرے کی جان بھی لے سکتے ہیں۔ اس قطار میں میں اور تم انکی کنسٹمائز مرچنڈایز کے بغیر گئے تو ہمیں گھور گھور کر ہی کھا جائیں گے۔ 

اس کے الفاظ کے برعکس انداز بے حد سنجیدہ تھا۔ اسے ہنسی آگئی تھی۔ ہیون نے اسکو ہنستے دیکھا تو مسکرا دیا۔ 

اندر جہاں ہی اور تھا۔ بریو ہارٹ کی ویڈیوز کے مخصوص سیٹ بنے تھے جن پر جا کر انکے ارکان کے مخصوص پوز کے ساتھ پرستار تصویریں بنوا رہے تھے ایک جانب ٹی شرٹس جن پر بریو ہارٹس کے ممبران کی تصاویر لگی تھیں تو دوسری جانب کسٹمائز پوسٹرز جن پر آپ اپنی مرضی کے الفاظ لکھوا کر انکے کنسرٹ میں جھوم جھوم کر لہرا سکتے تھے۔ جھنڈے بیجز اسٹفڈ ٹوائز کی چینز ڈائریز میوزک البمز جن پر انکے اپنے ہاتھوں سے آٹو گراف ہوئے تھے۔ وہ بے حد دلچسپی سے سب چیزیں دیکھ رہی تھی۔ اسکی دلچسپی دیکھ کر وہ تفصیل سے ان چیزوں کے بارے میں لکھے کارڈز جن پر تفصیلات ہنگل میں لکھی تھیں اسے ترجمہ کر کرکے سنانے لگا۔ 

یہ گٹار وہ ہے جو سائی چھونگ انکا چینی بینڈ ممبر ایک کانسرٹ میں بجا رہا تھا اسکی اسٹرنگ ٹوٹ گئ تھی اور اسکا ہاتھ زخمی ہوگیا تھا۔ اس پر اسکے خون کے قطرے ہیں۔ یہ ایک پرستار نے لاکھوں وون میں خرید کر یہاں رکھوایا ہے تاکہ دیگر پرستار دیکھ سکیں۔ اسلیئے اس پر برائے فروخت کا بورڈ نہیں یہ ایک پرستار کی عقیدت ہے ۔۔ 

ہیون کے بتانے پر وہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ۔ شیشے کے باکس میں سجا وہ عام سا گٹار تھا مگر اسکی مالیت انمول ہو چکی تھی خون کے زرات کی وجہ سے۔ 

کہاں ہے خون۔ اس نے دیکھنے کے چکر میں باکس سے ناک چپکا دی۔ 

یہ یہاں ۔۔ کارڈ پڑھ کر اسٹرنگ کے جوڑ کے پاس اور گٹار کے پیٹ پر ننھے ننھے خون کے ذرات جو بہت غور کرنے پر بھی بمشکل دکھائی دے رہے تھے انگلی کے اشارے سے دکھائے۔ اور بنا اس اشارے کے وہ دیکھ بھی نہ پاتی مگر اب بھورے ہوتے دھبے دکھائی دے گئے تھے۔ 

واہ۔۔ واقعی خون لگا ہوا ہے ہیون وہ ابھی بھی بے خیالی میں ناک چپکائے بچوں کی طرح خوش ہورہی تھی۔ 

ہیون اسکو دیکھتے ہنسا پھر ہنسی تھمی دیکھتا ہی رہ گیا۔

حد ہے گانے سنو بس ۔ اتنا کافی نہیں الٹا یہاں انکے خاندان کا شجرہ تک لکھ ڈالا خون گٹار تصویریں شرٹیں لائٹس سب ہیں ابھی تک البمز نہیں دیکھنے کو ملیں۔ ہم پاکستانی تو بس ذیادہ سے ذیادہ بس البم خریدتے یا کوئی ائک آدھا کنسرٹ ہوا تو جا کر دیکھ لیا بس۔ اب یہ کیا پاگل پن ہوا 

وہ حسب عادت ناک چڑھا کر بولتی گئ۔ تائید چاہنے والے انداز میں اسکی جانب دیکھا تو اسے بس ہونٹ ہلتے دکھائی دیئے بات سمجھ نہیں آئی۔

دے؟ وہ سوالیہ ہوا۔ 

اسکی غائب دماغی محسوس کرکے وہ ہنسی

تم بھی انکے فین تو نہیں خون دیکھ کر دکھ کے مارے بولتی بند ہوگئ۔ 

وہ اسے چھیڑ رہی تھی۔ 

نہیں مجھے سولو سنگرز ذیادہ پسند ہیں۔ اسطرح کے بینڈز میں گانا کم گلوکاروں کا ایکسپوژر ذیادہ رہ جاتا ہے۔ سادہ سا لو سانگ بھی درجن آوازوں کے ساتھ سننے کو ملتا ہے تو اسکا اثرزائل سا ہوتا جاتاہے۔ 

وہ خلاف عادت آج بے حد سنجیدہ سا تھا۔ہر بات سے اسکا اظہار ہو رہا تھا۔ اس نے کندھے اچکا دیئے۔ 

میں نے گانے کبھی اتنے غور سے نہیں سنے۔ بس جو اچھا لگا سنا گانے بھی کوئی غور کرنے والی چیز ہیں۔ 

وہ سرجھٹک رہی تھی۔ ہیون خاموش ہو رہا ۔ 

لائٹ اسٹکس بینرز اور ٹی شرٹس خرید کر جب کائونٹر پر آئے تو اسکا بل اسکی توقع سے کہیں ذیادہ بن چکا تھا۔ 

اس نے اپنا پرس کھولا تب تک ہیون کریڈٹ کارڈ سیلز گرل کی جانب بڑھا چکا تھا۔ 

گھمسامنیدہ۔ 

سیلز گرل جھک کر شکریہ ادا کر رہی تھی۔ اس نے شاپرز اٹھانے کو ہاتھ بڑھائے تو ہیون نے اسے اٹھانے نہیں دیئے۔ گاڑی میں لا کر سب چیزیں پچھلی سیٹ پر ڈھیر کرکے وہ گاڑی لاک دوبارہ کرکے مڑا۔ 

ادھر ایک بہت اچھا کیفے ہے چلو اس میں بیٹھ کر کافی پیئیں۔ 

نہیں۔ اس نے سہولت سے انکار کر دیا۔ مجھے رش سے الجھن آرہی ہے۔ 

وہ جتنی سنجیدہ نظر آرہی تھی اسے اسکی بات پر یقین کرنا پڑا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گاڑی سے اتر کر ہیون پچھلی سیٹ سے اسکے لیئے خریدئ ٹی شرٹس لائٹس وغیرہ کا شاپر الگ کرکے اسے دینے لگا تو اس نے تھاما ہی نہیں۔ 

مجھے انکی قیمت بتائو کیا بنی۔ اور اسکی قیمت مجھ سے لینے کا وعدہ کرو تب میں انکو ہاتھ بھی لگائوں گی۔ 

اسکا انداز بے حد سنجیدہ تھا

کین چھنا میں بھی تو جا رہا ہوں کانسرٹ میں مجھے۔۔ 

ہیون نے کہنا چاہا مگر وہ بات کاٹ گئ۔ 

اسکا مطلب ہے میں انکو نہیں لے سکتی۔ آننیانگ

وہ جھک کر خدا حافظ کہتی مڑ گئ۔ 

اریزہ شا۔ 

وہ اسکے پیچھے بھاگا۔ اسکو آگے آکر جا لیا۔ 

کیا ہو گیا ہے یہ ہم نے ساتھ جانے کیلئے ہی تو لیئے ہیں اور کیا ہم دوست نہیں ہیں؟ میں تحفہ نہیں دے سکتا تمہیں کیا؟ 

اسکے انداز میں اپنایئت بھری خفگی تھئ

دوستی برابری کی سطح پر ہوتی ہے۔ تم مجھے کتنی بار زیر بار کر چکے ہو کبھی لنچ پر مجھے پیسے نہیں دینے دیتے مجھے یہ تحفہ لینا اپنی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کے برابر لگ رہا ہے میں نے تو آج تک کوئی تحفہ نہیں دیا تمہیں۔ 

اسکا انداز بچکانہ ہو گیا تھا ہیون کھل کر ہنس دیا۔ 

اتنی سی بات۔ ٹھیک ہے مجھے اب تم سے اچھا سا تحفہ چاہیئے۔ وعدہ کرو۔ مجھے میری سالگرہ پر تحفہ دوگی میری پسند کا۔ 

اس نے اپنی چھوٹی انگلی اسکی جانب بڑھائی۔ 

وہ تحیر سے دیکھنے لگی۔ ہیون منتظر تھا۔ 

ہمارے یہاں جب کٹی کرنی ہوتی ہے تب ایسے انگلی ملاتے ہیں۔ 

اس نے منہ بنایا۔ 

کٹئ؟ ۔۔۔ وہ سوالیہ ہوا۔ 

مطلب تعلقات ختم کرنے کا اعلان ناراضگئ کا اظہار کرنے کیلئے ہم ایسے بچپن میں انگلی ملا کر منہ پھیر لیتے تھے۔ 

اس نے بتفصیل بتایا 

ہیں وہ کیوں؟ وہ حیران ہوا۔ اس نے فورا ہاتھ واپس کر لیا۔ 

عجیب بات ہے۔ اچھا کلچرل شاک دیا۔ ہم کوریا میں پکا وعدہ کرنے کیلئے پنکی پرامس کرتے ہیں۔ مگر چلو میں تمہاری زبان پر اعتبار کرتا ہوں مجھے اچھا سا تحفہ چاہیئے۔ یاد رکھنا۔

اس نے اپنائیت بھری دھونس کے ساتھ اسکو تھیلے تھمائے۔ 

کب ہوتی ہے تمہاری سالگرہ۔ ؟

اس کو اب تحفہ لینے کی فکر ہو گئ تھی۔ 

بہت جلد ۔ وہ مسکرا دیا۔ 

آچھا اب اندر جائو تمہیں پہلے ہی ٹھنڈ بہت لگتی ہے۔ 

اس نے ٹوکا تو اسے بھئ احساس ہوا خنکی کا۔ سر ہلا کر خدا حافظ کہتی تیزی سے اندر بڑھ گئ۔ وہ وہیں کھڑا اسے نظروں سے اوجھل ہونے تک دیکھتا رہا۔۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لفٹ میں اوپر جانے کا بٹن دبا کر اس نے یونہی موبائل جیب سے نکال کر دیکھا تو پانچ مسڈ کالز اور پندرہ پیغامات پڑے ہوئے تھے سب کے سب گوارا کے۔ 

کہاں ہوں ابھی تک پہنچیں نہیں؟ 

پانچ منٹ میں آرہی تھیں؟ 

کیا جواب دیا تم نے یہ ہی بتا دو؟ 

اچھا جواب دینے کا وقت بھی نہیں۔ 

اسکا مطلب ہے خوب مزے کیئے جا رہے ہیں۔ 

ٹھیک ہے میں سمجھ گئ ہاں ہوگئ۔۔ 

مبارک ہو ۔میں بہت خوش ہوں تم دونوں کیلئے۔۔۔۔ 

اسے ان تمام پیغامات کا کوئی سر پیر سمجھ نہیں آیا۔ 

لگتا ہے پی کے ٹن ہوئی وی ہے۔ 

اس نے یہی میسج لکھا 

آر ئو ڈرنک۔ 

پھر لفٹ کا دروازہ کھلنے پر میسج ڈیلیٹ کردیا۔ اپارٹمنٹ کے سامنے آکر پاسورڈ سے دروازہ کھول کرتھکے تھکے انداز میں  اندر داخل ہوئی تو سامنے لائونج کی دیوار پر لگا وال کلال سوابارہ بجا رہا تھا۔ 

آہ۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ۔ 

مجھے صحیح سیول کی ہوا لگ گئ ہے۔ سوا بارہ بجے یہاں میں کیسا آرام سے باہر گھومتی رہی ہوں۔ جبھی تو میرا واپس پاکستان جانے کا دل ہی نہیں کر رہا۔ 

وہ خود کو ملامت کرنا چاہ رہی تھی مگر سچ تو یہ ہے یہاں رہنے کا مزا بہت آرہا تھا۔ 

سب خریداری کے تھیلے اٹھا کر وہ دبے قدموں کمرے میں داخل ہوئی احتیاط سے صوفے پر ڈھیر کر کے کمر سیدھی ہی کی تھی کہ ملگجے  اندھیرے میں ایک ہیولہ سا سامنے کھڑانظر آیا۔ 

ڈر کے مارے چیخ گھٹ ہی گئ سینے میں۔ 

ہوپ نے آگے بڑھ کر سوئچ آن کرکے کمرے میں روشنی کردی۔ 

تمہیں کیا ہوا۔ 

سانس بحال کرتی وہ دل پکڑ کر صوفے پر ہی آن بیٹھی تھی۔ 

ڈرا دیا تم نے۔ سوئی کیوں نہیں صبح نوکری پر نہیں جانا؟ 

اسکا لہجہ کڑخت ہو گیا تھا۔ بندہ کب تک ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار بن کے رہ سکتا ہوپ جیسی لڑکی کے ساتھ۔ 

رات بارہ بجے انجان ملک میں انجان لڑکوں  کے ساتھ گھومتے ڈر نہیں لگا اپنے گھرکے اندھیروں سے خوف آرہا۔ صحیح دوغلی لڑکی ہو۔ 

اسکا انداز اور الفاظ اتنے سخت تھے کہ اسکے تن بدن میں آگ سی لگ گئ۔ 

تمہارے ساتھ مسلئہ کیا ہے۔ سیدھے منہ بات کرنے کی۔تمیز نہیں سکھائی کسی نے شمالی کوریا میں؟ 

وہ بھی اسے آج طعنہ دے ہی گئی۔ ہوپ کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ دوڑ گئ۔ 

اتنئ زندگی شمالی کوریا میں نہیں گزری جتنی اسکے گرد ممالک میں گزری ہے۔ یہ سب لہجے کی کڑواہٹیں ترقی یافتہ ممالک کے تمیز دار باشندوں کی دین ہیں۔ مگر شمالی کوریا کی ایک تربیت آج تک میرے ساتھ ہے۔ منافقت نہیں ہوتی مجھ سے۔جو کرتی ہوں سینہ ٹھونک کر کرتی ہوں۔ 

اسکئ یہ سب تقریر کا سیاق و سباق حوالہ متن کچھ بھی تو سمجھ نہ آیا تھا اسے۔ اسکی تحیر سے پھیلی آنکھوں میں طنز سے جھانکتی وہ باتھ روم کی جانب مڑ گئ۔ 

مطلب کیا ہے تمہارا ۔ بات پوری کرکے جائو۔ 

وہ پیچھے مٹھیاں بھینچ کر چلائی تھی ہوپ کو اسکے یوں طیش میں آنےسے جانے کیوں ٹھنڈ سی پڑی تھی کلیجے میں۔ پھر بھی باتھ روم کا دروازہ بند کرکے وہ بے آواز رودی تھی۔

میں بہت نرم انداز سے پیش آتئ رہی ہوں تمہارے ساتھ جسکا تم بہت ناجائز فائدہ اٹھا چکی ہو۔ آئیندہ میرے ساتھ بد تمیزی کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا سمجھیں۔ 

وہ حلق کے بل چلائی۔ اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتی گوارا کو اسکی طیش بھری آواز نے چونکا دیا۔ ہاتھ میں پکڑے شاپر لیئے وہ بھاگ کر اندر اسکے پاس آئی تھی۔ 

کیا ہوا۔ 

یہ ہوپ ۔ میں اسے قتل کردوں گئ کسی دن۔ دیکھنا۔ 

دانت کچکچا کر کہتی سرخ بھبھوکا چہرے کے ساتھ وہ رو رہی تھئ۔ غصے کی شدت میں مٹھیاں بھینچ کر غصے کے مارے رودے کوئی۔ اس سے ذیادہ معصومانہ غصہ کیا ہو سکتا ہے۔ گوارا کے چہرے پر مسکراہٹ سی آگئ۔ پیار بھری۔ 

دفع کرو اسے ادھر آئو۔ 

اسے بچوں کی طرح اپنے ساتھ لگا کر وہ اسے باہر لے آئی۔ 

اسکا غصہ تم نہیں سمجھ سکتیں ۔اسکو نظر انداز کیا کرو بس۔ اسکے پیچھے اپنا اچھا گزرا دن برباد کرنے کی ضرورت نہیں۔ 

وہ اسکو سمجھاتئ بجھاتی کچن میں لے آئی۔ شاپرز کچن کائونٹر پر رکھ کر پہلے ٹشو رول لا کر سامنے رکھا۔ وہ سوں سوں کرنے لگی۔ 

مجھے لگا ہم آج خوب باتیں کریں گے رات کو نیند تمہیں آنی نہیں باتیں سننے کو میں ہی ہوں سو کچھ اچھا کھانے پینے کا انتظام ہونا چاہییے۔ 

یہ رہے حلال چپس ٹیگ دیکھ کر لائی ہوں ترکی کے بنے ہیں۔ اس نے جھٹ پٹ تیار ہونے والے چپس دکھائے ساتھ اپنی کارکردگی بھئ جتائی۔ 

 ، یہ کریکر تبوکی یہ فرائی چکن اسپیشل ایک پاکستانی ریستوران سے لیکر آئی ہوں۔ میرے لیئے یہ خاص والی کولڈ ڈرنک تمہارے لیئے سفید والی ۔ 

وہ بول بول کر چیزیں ٹھکانے لگانے لگی۔ اپنے لیئے وہ پورا کریٹ لیکر آئی تھی۔ 

اریزہ ٹھس سی بیٹھی رہی۔ وہ فریج بند کرکے مڑی تو اسے منہ پھلائے کہنیاں میز پر ٹکائے خفا خفا سے انداز میں میز کو گھورتا پایا۔ 

اب مجھے دکھائو جو ہیون سک نے دیا ۔۔ وہ مسکرا کر اسٹول کھینچتی اسکے سامنے آبیٹھی۔ 

مجھے اندازہ نہیں تھا کوریا میں لوگ پاپ موسیقی کو سننے کے ساتھ دیکھنا پہننا بھی پسند کرتے ہیں۔ 

وہ گہری سانس لیکر سیدھی ہوئی۔ 

اسکی بے تکئ بات پر گوارا نے اچنبھے سے دیکھا اسے۔ 

وے؟ آئی میں واٹ۔ 

اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا پھر فورا انگریزی میں بولی۔ 

ہیون نے مجھے دو لاکھ وون کے گفٹس دیئے۔۔

اریزہ نے منہ لٹکایا گوارا کی آنکھیں حیرت سے کھلیں۔

ارے نہیں۔۔ اس نے کم کرکے بتائی ہوگی کم از کم بھی پانچ لاکھ وون کی تھی۔خیر کیسئ لگی تم نے قبول لیا؟ 

وہ جانے کیوں پرجوش ہوئی۔ 

 ہاں ظاہر ہے۔ اس نے گہری سانس لی مگر مجھے ہیون  سے اتنا مہنگا تحفہ لینا اچھا نہیں لگا میں نے منع کیا لیکن اب سوچ رہی ہوں اسکا بدلہ مہنگا تحفہ دے کر اتار دوں۔ تم میری مدد کروگی نا اسکے لیئے اچھا سا تحفہ لینے کیلئے؟ اریزہ نے آس سے پوچھا 

بالکل۔۔۔۔  وہ فورا اثبات میں سر ہلا کر بولی۔ 

مگر مجھے دکھائو تو کیا دیا اس نے۔اس نے بہت شوق سے پوچھا  اسکا اشتیاق دیکھ کر وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

لاتی ہوں۔ مگر مجھے لگتا نہیں مجھے فٹ آئے گی۔

کیوں اتنے تو پیارے ہاتھ ہیں تمہارے۔ 

گوارا نے کہا تو ہونٹ بھینچتی اٹھ گئ۔ 

بس ہاتھ ہی پتلے پیارے ہیں۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گوارا بنا پلک جھپکائے اسے دیکھے جا رہی تھی وہ تھوڑی سی گھبرائئ۔ 

کیا ہوا بہت چپکا ٹائٹ سا لگ رہا ہے نا۔ 

وہ جانے کیوں جھینپ سی گئ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹی شرٹ کے اسٹال میں میں میڈیم سائز نکال کر اس نے دیکھی پھر دوبارہ تہہ کرکے رکھتے بڑا سائز اٹھا لیا۔ 

ساتھ آئینے میں خود سے لگا کر ابھی دیکھ ہی رہی تھی کہ ہیون نے ٹوک دیا۔ 

اپنے ساتھ گوارا کو بھی گھسانا ہے اس ٹی شرٹ میں؟ 

دے؟ اسکی بے سروپا بات پر اس نے حیرانی سے گھورا۔ 

اس نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اسمال سائز اٹھا کر اسے پکڑایا۔ 

یہ تمہیں آئے گی۔ 

آندے۔ وہ بے ساختہ بولی۔ 

انٹرنیشنل میں تو کبھئ مجھے لارج سے کم نہیں آتا۔ میں یہاں کی لڑکیوں کی طرح ہوا ہوائئ نہیں ہوں۔ 

وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولی۔ 

ہیون نے اسکوشرٹ ہاتھ میں تھمائی اور ایک جانب اشارہ کرکے بولا۔

یہ لو وہاں فٹنگ روم ہے جا کر پہن کر دیکھ لو۔ 

میں۔۔ یہاں۔ 

وہ گڑ بڑا سی گئ۔ 

ہاں ادھر جا کر پہن کر دیکھ لو ٹرسٹ می یہی سائز ہے تمہارا۔

ہیون کے دعوے سے کہنے پر وہ دانت کچکچا کر رہ گئ

میں یہاں۔۔ اس نے طائرانہ نگاہ دوڑائی تو کئی لڑکیاں چینجنگ روم میں جا کر ٹی شرٹ بدل چکی تھیں اب انہی ٹی شرٹس میں گلوکاروں کے قد آدم پوسٹرز کے ساتھ تصویریں بنوا رہی تھیں۔ 

جائو؟ ۔  اسے تزبزب میں پڑا دیکھ کر زور دینے والے انداز میں بولا۔ 

وہ میں تو کبھی اس طرح باہر چینج نہیں کرتی۔ 

اس نے جی کڑا کرکے کہہ دیا۔ 

کیا مطلب تم لوگ فٹنگ دیکھے بنا خرید لیتے ہو کپڑے؟

وہ اتنا حیران ہوا کہ وہ سٹپٹا گئ۔ 

نہیں پاکستان میں بھی مالز وغیرہ میں چینجنگ روم ہوتے ہیں۔ اس نے صفائئ دئ۔

بس میں استعمال نہیں کرتی۔ 

بالکل ہی گائودی سمجھ رہا ہوگا مجھے۔ وہ دھیرے سے بڑ بڑائی۔ 

کوریا ایک محفوظ ملک ہے اور یہ ایک مشہور کمپنی کا اپنا آئوٹ لیٹ۔ یہ بالکل محفوظ ہے دیکھو اور لڑکیاں بھی تو جا رہی ہیں۔ 

وہ جانے کیا سمجھا اسے تسلی دینے لگا۔ 

جائو یہ دونوں لے جائو۔ 

وہ کشمکش کا شکار دونوں شرٹس تھام گئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چینجنگ روم میں خود کو دیکھتے وہ حیران ہی رہ گئ تھی۔ 

اسمال سائز بالکل جیسے اسکے لیئے بنا تھا۔ 

اسکا اندازہ کتنا صحیح تھا۔ میں کتنی اسمارٹ ہوگئ ہوں۔ 

وہ آئینے میں خود کو بے حد خوشی سے دیکھ رہی تھی۔ 

وائو۔ صارم کیسا مجھے موٹی موٹی کہتا رہتا تھا۔ اور میں یہ تین چیزیں چڑھا کر کیسا گول گپا بن کے پھرتی رہی ہوں یہاں۔ ہا ہا ہا۔ کوئی مجھ سا بھی احمق ہوگا۔ میری تو رخسار کی ہڈی بھی نکل آئی ہے۔ 

وہ اب اپنا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ 

وزن کم کرو کسی طرح کے طعنے سننے والی اب سائز زیرو ہو چکی تھی 

اف ۔ اس نے جھٹ دو تین تصویریں کھینچ ڈالیں۔ 

اسے گئے کافی دیر ہو چلی تو اس نے دروازے پر آکر دستک دی۔ 

اریزہ شا۔ 

دے۔ 

وہ پوز مارتی سیدھی ہوئی۔ 

آرہی ہوں۔ 

خود کو ایک بار پھر آئینے میں دیکھا تو سنجیدہ سی ہوتی گئ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اسکی تصویر اسکرال کرتے گوارا نے موبائل سے نگاہ اٹھا کر سامنے کھڑی اریزہ کو غور سے دیکھا۔ 

تصویر کے برعکس اس وقت وہ تھوڑی ڈھیلی شرٹ پہنے تھی۔

تمہیں یہ اسمال سائز ہی خریدنا چاہیئے تھا۔ یہ والا بڑا ہے۔ 

گوارا نے کہا تو وہ مسکرا کر اپنی جگہ آ بیٹھی

یار وہ بہت فٹ ہو جاتا۔ 

تو اس میں اتنی اچھی لگ رہی تھیں۔ ۔ گوارا نے کہا تو وہ کریکر اٹھا کر منہ میں رکھتے بولی۔

مجھے اپنا آپ اجنبی سا لگ رہا تھا۔ 

کیوں؟ گوارا کا سوال حاضر تھا

کوئی بڑی وجہ نہیں۔ اسکا انداز ٹالنے والا تھا۔ 

اچھا یہ بتائو ہیون نے کچھ کہا تمہیں؟ 

گوارا نے بھی اصرار نہیں کیا بات بدل دی۔ 

ہاں۔ اس نے گردن ہلائی۔ 

کیا۔۔۔ گوارا کا اشتیاق عروج پر تھا۔

اس نے کہا ہے کہ وہ میری پڑھائی میں مدد کرے گا۔ اور ہنگل سیکھنے میں بھی۔ پتہ ہے۔ تالی بجا کر خوش ہو کر کہتی وہ نیا کوئی قصہ سنانے لگی تھی۔

گوارا نے گہری سانس بھر کر اسے دیکھا پھر کین کھول کر شراب نگلتے ہوئے ہمہ تن گوش ہو گئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم نے کیا سوچا ہے امتحان کی تیاری کے بارے میں۔ 

ڈرائیو کرتے ہوئے اس نے اچانک پوچھا تھا۔ 

ہاں۔ کچھ نہیں۔ ایڈون کہہ رہا تھا کہ وہ کسی اکیڈمی سے ہنگل کا کورس کرنے لگا ہے ساتھ امتحان کی تیاری بھی۔وہ اسکے گوشی وون سے قریب ہے اب مجھے تو وہ دور پڑے گا تو سوچ رہی تھی اس ویک اینڈ پر کسی

وہ دلچسپی سے گاڑی سے باہر دیکھ رہی تھی انداز جتنا سرسری تھا یقینا اس ویک اینڈ پر یہ کام ٹلنے ہی والا تھا۔ 

سگنل لال ہوا تو اس نے گاڑی روکتے ہوئے باقائدہ جھاڑ پلائی۔ 

بہت کم وقت ہے یہاں کے بچے سر دھڑ کی بازی لگاتے ہیں تم ذیادہ آسان سمجھ رہی ہو۔ 

میں پڑھائی سر پر سوار نہیں کرتی ۔

اس کا انداز لاپروا تھا۔ 

ہیون نے مڑکر پچھلی نشست سے ایک شاپر نکال کر اسکی جانب بڑھایا۔

اس میں پراسپیکٹس ہے اور فارم گوارا کی مدد سے بھرنا کل لازمی اسکو جمع کروانا ہے۔ 

پکڑو۔ اریزہ کو حیران بلکہ بھونچکا بیٹھے دیکھ کر ٹوکا تو اس نے بوکھلا کر تھام لیا۔اور لفافے سے نکال کر دیکھنے لگی 

فارم ہنگل کے ساتھ انگریزی میں بھی تھا۔ 

ہیون مزید بھئ کچھ کہہ رہا تھا

یہ تمہارے اپارٹمنٹ والی ہی روڈ پر پانچ منٹ کی واک پر اکیڈمی ہے۔ ایک غیر ملکی تنظیم کی غیر ملکیوں کی مدد کیلئے بنائی گئ اکیڈمی ہے۔ اس سے تم یہاں کے مروجہ معیار کے مطابق امتحان کو دینے کے قابل ہو سکو گی۔ 

کل تیار رہنا صبح میں پک کرلوں گا۔ 

مگر۔ اس نے شکریہ کہنا تھا مگر منہ سے کیا نکلا

ایڈون خود تیاری کر رہا ہے باقی بھی کر رہے ہوںگے ایک تم ہی سکون سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہو۔ 

اسکا انداز اپنایئت بھری ڈانٹ۔ وہ چپ ہی رہ گئ۔ ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یون بن اسے حیرت سے دیکھتا رہا۔ 

ایڈون نے سر جھٹکا پھر ہنکارا بھر کر کلب کی رونقوں پر نگاہ ڈالنےلگا۔ 

وہ دونوں  ایک کلب میں آئے تھے۔ 

اور تمہیں لگتا ہے وہ تمہاری اس دھمکی سے ڈر کر ابارشن کروانے پر راضی ہوجائے گی۔ 

ہاں۔ ایڈون کا جواب مختصر تھا۔ 

تم اسکو کھانا بھی نہیں دے کر آئے ۔۔

یون بن کو افسوس بھئ ہوا

اسکو نوالے بنا بنا کر کھلاتا رہا ہوں جبھی اسے صورت حال کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہورہا ہے۔ ذرا سی بھوک سے مر نہیں جائے گی اتنا خود مختار ہونے کا شوق ہے تو پوری طرح خود مختار ہو میرے کندھے پر بندوق رکھ کر تو نہ چلائے نا۔ میں بھی دیکھتا ہوں کیسے اتنی مشقت برداشت کر پاتی ہے۔۔ پاپا کی پرنسس نے کبھی ہل۔کر پانی نہیں پیا۔۔  بچہ پالیں گی ہونہہ۔ 

ایڈون کی تقریر کا ایک لفظ اسکے پلے نہیں پڑا تھا۔ ایڈون کو تھوڑی سئ چڑھ گئ تھی۔ اردو میں سب کہہ گیا  یون بن کا یہی خیال تھا کہ یقینا اول فول بک رہا تھا۔۔ لہراتا ہوا وہ۔ڈانس فلو رکی جانب بڑھ گیا تھا۔ گوری چمڑیوں میں وہ دور سے چمک رہا تھا۔ 

بوتل دور کھسکا کر رکھتے ہوئے اس نے اپنا گلاس اٹھا کر گھونٹ بھرا۔

 ناچتے ہوئے ایڈون کو کسی نے کندھے سے پکڑ کر دھکیلا تھا۔ دھڑام سے وہ فرش پر گرپڑا تھا۔  

یہ پاکستانئ  صحیح آئوٹ اینڈ آڈ ہیں۔ 

یون بن  نے ایڈون پر نگاہیں جمائے ہوئے تبصرہ کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کمرے میں نائٹ بلب کی مدھم روشنی پھیلی تھی۔ گوارا بے خبر سو رہی تھی۔ ہوپ کے بھی ہلکے ہلکے خراٹے گونج رہے تھے۔ ایک بس وہی جاگ رہی تھی ۔ موبائل میں اوپر نیچے کرتے جب بری طرح تھک گئ تو آہستہ سے اٹھ کر ٹیرس میں چلی آئی۔ سخت سردی نے اسکا استقبال کیا تھا۔۔ وہ جھر جھری سی لیکر رہ گئ۔ مگر اندر جانے کا دل نہ کیا۔ سامنے ایک چمکتا دمکتا سیول تھا۔ رات کے ساڑھے تین بجے بھی ننھے قمقموں کی طرح روشن شہر کی بتیاں۔

وہ سحر زدہ سی دیکھ رہی تھی۔ 

موبائل اٹھا کر تصویر بنائی۔ اصل کا عشر عشیر بھی نہ تھا۔ 

اس نے پھر بھی بلاگ پر لگا دی۔ 

ہاتھ سے چھٹتے لمحوں کی زنجیر تھامے

وہ اجنبی شہر میں کھڑی لڑکی

کیا دیکھتی ہے 

کوئی بتائے اسے آج تو کل بن جائے گا

کہ کل تو پھر آجائے گا

یہ سعی بے کار ٹھہرے گی

لمحے کہاں قید ہو پاتے ہیں

ازل سے گزرتے رہے ہیں 

چھوڑو جانے دو۔۔ 

اب مٹھی سے خون رسنے لگا ہے۔۔۔ 

وہ لکھ کر ہنسی تھئ۔ کیا لکھا ہے۔ اتنا قنوطی پن کہاں سے آیا  اسے خود معلوم نہ تھا اسکے بلاگ کے پرستاروں کو بھی معلوم نہ تھا۔ دھڑا دھڑ پیغامات آنےلگے تھے

پہلا کمنٹ

کیا ہوا؟ اداس ہو ؟

دوسرا

اوئے یہ تو میری پڑوسن نکلی پچھلی چھت پر میں کھڑا ہاتھ ہلا رہا ہوں 

ہیں۔ 

اس نے آنکھیں پھاڑیں۔ 

کونسی چھت اس نے باقائدہ گردن گھما گھما کر دیکھا۔ آگے بس کالونی تھی جن میں سے کسی کی چھت اس دیو ہیکل عمارت کے آس پاس بھی نہ آ سکتی تھی اور دور مین شہر کا نظارہ۔ 

بس ما ردی چول۔ 

اس نے یہی جواب لکھا۔ 

تیسرا 

اوئے ایڈمن کو فرسٹ ایڈ دو جا کے کوئی۔  زخمی ہوگی ہے بے چاری

چوتھا 

اس نےلمحہ لمحہ زنجیر کیا۔۔ زخم اٹھائے

میں نے لمحہ لمحہ سمندرکیا اوران پر جہاز چلائے۔ 

آگے ہنستا ہوا اسمائیلی 

یہ صارم تھا۔ وہ بے ساختہ ہنستی چلی گئ تھی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ سمجھ نہیں آیا اجنبی زبان ہے لیکن جب اداس تھا تو اس بلاگ پر لکھ دیتا تھا اپنا حال آج خوش ہوا ہوں سو میں بھی یہیں لکھ دینا چاہتا ہوں۔ آج میں نے عام انسانوں جیسی زندگی جینی چاہی آج  ڈیٹ پر گیا آج ڈیٹ کو ڈچ کرکے ایک دلچسپ لڑکی سے ملا اسکے ساتھ کھایا ہنسا اس وقت اسکو سوچ رہا ہوں تو اداس نہیں ہوں۔۔۔ 

اس نے مسکراتے ہوئے لکھا تھا۔ جواب لمحہ بھر کے توقف سے آگیا تھا

اچھی بات ہے۔  جیتے رہو خوش رہو۔ 

اسکو یہ دعا اچھی لگی  وہ جواب لکھ کر کروٹ بدل گیا تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دراز کھول کر اس نے انگوٹھی کا کیس نکالا۔ 

کیا کروں کل؟ وہ زیر لب بولا تھا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب میں مجھے آپکو بھی یہی کہنا چاہیئے مگر آج نہیں کہوں گا آجکی یہ دعا بس مجھے لگے آمین۔۔ 

وہ اسکا عجیب سا جواب پڑھ کر ناک چڑھا گئی

ہاں آپ خوش رہیں میرا کیا۔ مجھے تو میری اماں بھی دعائیں نہ دیتی ہوں گی آپ نے کیا دینی۔  

اس نے موبائل کا تالہ لگا کر ٹرائوزر کی جیب میں ڈالا اور اندر کی جانب بڑھ گئ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔ ۔۔۔

ختم شد 

جاری ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ? Rate us below

Rating

Salam Korea Episode 30

Salam korea

by Vaiza Zaidi

urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

Novel urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list


urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

novel

urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list
urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

Novel urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list


urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

novel

urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list
kdrama urdu,
Desi kimchi,
Desi kdrama fans,
Urdu kdrama,
Urdu web,
Kdrama maza,
Korean masti,
korean dramas,
kdrama,
k drama,
best korean drama,
korean drama 2020,
korean drama 2021,
kdrama 2021
best kdrama,
korean series,
kdramas to watch,
korean drama website,
kdrama website,
netflix korean drama,
asian drama,
best korean drama 2020,
top korean drama,
new korean drama 2021,
best korean drama 2021,
best kdrama 2020,
best kdrama to watch,
best korean drama on netflix,
best korean series,
best kdrama 2021,
kdrama netflix,
k drama urdu,
www korean drama,
watch korean drama,
best k dramas on netflix,
netflix korean drama 2021,
best kdrama on netflix,
new korean drama,
www kdrama,
k drama 2021,
korean series on netflix,
netflix korean drama 2020,
top 10 korean drama,
top kdrama,
top korean drama 2020,
k dramas to watch,
2021 korean drama,
korean drama series,
best korean series on netflix,
new kdrama 2021,
2020 kdrama,
2020 korean drama,
2021 kdrama,
k drama netflix,
best k drama to watch,
romance kdrama,
k drama 2020,
new korean drama 2020,
latest korean drama 2021,
korean dramas to watch,
top korean drama 2021,
watch kdrama,
korean tv series,
highest rated korean drama,
korean drama in hindi,
korean drama shows,
top kdrama 2021,
new kdrama,
watch asian drama,
popular korean drama,
kdrama online,
latest korean drama,
korean drama online,
korean netflix series,
korean tv shows,
korean shows,
must watch kdrama,
korean shows on netflix,
famous korean dramas,
romance korean drama,
top kdrama 2020,
most popular korean drama,
korean series 2021,
must watch korean drama,
new kdrama 2020,
best romance kdrama,
popular kdrama,
good kdramas,
korean drama in hindi dubbed,
korean series 2020,
kdramas 2020,
best korean shows on netflix,
korean drama 2021 netflix,
top k dramas,
top rated korean drama,
watch kdrama online,
korean romance,
top korean series,
netflix k drama,
good korean dramas,
latest kdrama 2021,
most watched korean drama,
top 10 kdrama,
famous kdrama,
all in korean drama,
best k drama 2020,
urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
pakeeza anchal,
l online reading,
pakeeza anchal novel online reading,
urdu novel bank,
urdu novel platform,
yaar zinda sohbat baqi,
desi story urdu,
salam korea episode 30

قسط 30

Surat No 22 : سورة الحج – Ayat No 5 

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ  اِنۡ  کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ فَاِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ  ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ  ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ  وَّ غَیۡرِ مُخَلَّقَۃٍ  لِّنُبَیِّنَ لَکُمۡ ؕ وَ نُقِرُّ  فِی الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ  اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ  لِتَبۡلُغُوۡۤا  اَشُدَّکُمۡ ۚ وَ مِنۡکُمۡ  مَّنۡ یُّتَوَفّٰی وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ  اِلٰۤی  اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡلَا یَعۡلَمَ مِنۡۢ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ ہَامِدَۃً  فَاِذَاۤ  اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ   اہۡتَزَّتۡ وَ  رَبَتۡ وَ  اَنۡۢبَتَتۡ مِنۡ  کُلِّ  زَوۡجٍ   ۢ  بَہِیۡجٍ ﴿۵﴾

 لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور وہ بے نقشہ تھا  یہ ہم تم پر ظاہر کر دیتے ہیں  اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں  پھر تمہیں 

بچپن کی حالت میں دنیا میں لاتے ہیں پھر  تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو ،  تم میں سے بعض تو وہ ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں  اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دئیے جاتے ہیں کہ وہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے  تو دیکھتا ہے کہ زمین (  بنجر اور )  خشک ہے پھر جب ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے  ۔  

Surat No 23 : سورة المؤمنون – Ayat No 14 

ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَۃَ عَلَقَۃً  فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَۃَ مُضۡغَۃً فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا ٭ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ ؕ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ  اَحۡسَنُ  الۡخٰلِقِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾

 پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا پھراس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کر دیا پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا ،   پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کر دیا ۔   برکتوں والا ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے  ۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موسم صبح سے ہی ابر آلود تھا۔ آج شائد پہلی برفباری بھی متوقع تھی۔ مگر وہ موسم کی شدت سے بے نیازقبرستان میں  رچل کی قبرکے پاس گھاس پر بیٹھا تھاقبر بالکل زمین برابر تھی۔ بس کتبے لگے تھے جن پر رچل کا مکمل نام اسکا مختصر تعارف اور اسکے والدین کی جانب سے محبت کے اظہار کے طور پر چند جملے درج تھے۔ جس دن تم ہماری زندگی میں آئی تھیں خوشی کا اصل مطلب ہم نے تب جانا تھا ہم تمہارے جانے کے غم کو مسترد کرکے اسی خوشی میں جی رہے ہیں کہ ہمیں مختصر عرصے کیلئے سہی حقیقی خوشی نصیب ہوئی۔ چین سے رہو ہماری پیاری بیٹی ۔۔

یہ عبارت وہ ہمیشہ پڑھتا تھا۔ پھر بھی کبھی اکتایا نا تھا مگر آج پڑھ کر کسی کمی کا احساس ہوا اسے۔

بس۔۔ اسکا ذکر جانے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا یا سہوا غلطی ہوگئ  وہ اسکی بیوی بھی تو تھی۔ وہ اگر لکھواتا تو کیا لکھواتا۔ 

اس نے سوچنا چاہا۔

وائس نوٹ کب کا بند ہو چکا تھا۔  

۔عبدالھادی نے اسے انسان کی پیدائش اور اسکے دوبارہ اٹھ جانے پر قرآن کا ترجمہ بھیجا تھا۔وائس نوٹ میں۔  

اس نے گہری سانس لی ائیر پوڈ کانوں سے نکال کر اپنے کوٹ کی جیب میں ڈال لیئے۔ ۔ قبرستان میں اکا دکا لوگ تھے۔ 

اس نے اپنے لائے ہوئے ٹیولپ کے گلدستےکو اسکے سرہانے رکھا تھا۔ اسکے کتبے کے ساتھ رکھے پھول۔ اس نے سر جھٹکا۔

 تو ہم انسان ایک خون کے لوتھڑے سے بنے ہیں۔ جب ایک قطرہ خون سے ہمیں ہڈیوں گوشت پوست میں ڈھالا جا سکتا ہے تو پھر چاہے ہم زمین کی گود میں گل کر مٹی ہوجائیں یا آگ میں جل کر راکھ ہو جائیں۔ جب کہیں  تھے نہیں بنا دیئے گئے تو جب ایک زندگی گزار کر ختم ہوں گے تو اس اپنے وجود کے اس زندگی میں اپنے نشان چھوڑنے والے کیسے ختم ہو سکتے ہیں۔ بس ایک کن ہوگا اور ہم سب اپنی اصل حالت میں واپس آجائیں گے۔ 

 ایک بار بے چین روتے ہوئے علی کا کندھا تھپکتے عبدالہادی نے تسلی دی تھی۔ 

او راس نے سر اٹھا کر پوچھا تھا۔ 

مجھے قیامت کے دن کا اب زندگی بھر انتظار رہے گا جب آپکی بات سچ ہوگی تو میں دیکھوں گا رچل کو 

واپس پہلے سا ہنستا مسکراتا مگر ایسا نہ ہوا تو؟ 

قیامت پر یقین ایمان کا حصہ ہے احمق۔جزبات میں بہہ کر اپنے ایمان کو متزلزل نہ کرو۔ 

انہوں نے اپنے ازلی نرم سے انداز میں گھرکا۔ 

وہ کپڑے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ دس ہزار بار یہاں آچکا ہوگا مگر کبھی اسے رچل کی قبر دیکھ کر رچل کے وہاں موجود ہونے کا احساس نہیں ملا تھا۔

زمین کے اوپر چلتا بولتا انسان جتنا حقیقت لگتا ہے زمین کے نیچے دفن انسان خواب تخیل ہی بن کے رہ جاتا ہے۔ یوں جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔کوئی وہم کوئی احساس بس۔ یادیں ۔ایسے انسان کی جسے دوبارہ کبھی دیکھ بھی نہ پائیں گے۔

اس نے سر اٹھا کر آسمان کے تیور دیکھے تو واپسی کا ارادہ باندھنا ہی پڑا۔ ہوا کی خنکی ایکدم بڑھ گئ تھی۔ وہ مفلر گردن پر درست کرتا ہوا آگے بڑھنے لگا کہ خیال آیا۔ واپس مڑ کر گلدستے سےایک  پھول نکال کر رچل کی قبر پر رکھا۔ پھر اپنے راستے میں آنے والی ہر قبر پر ایک ایک پھول رکھتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ لوگوں نے اچھی طرح سوچ لیا ہے؟ 

ڈاکٹرنی نے خالص پیشہ ورانہ انداز میں ان دونوں سے 

سوال کیا تھا۔ اسکی رپورٹس اسکے ہاتھ میں تھیں۔ان پر نظر دوڑاتے جتنا سرسری انداز میں پوچھا تھا اسکا مطلب یہی بنتا تھا کہ یہ صرف ایک فارمیلیٹی تھی۔۔ سنتھیا کے ہاتھ پائوں ٹھنڈے ہونے لگے۔ایڈون اسکے برابر ہی کھڑا تھا۔  ۔ایڈون نے اسکا ہاتھ ہلکے سے دبایا۔ اور مضبوط لہجے میں بولا

دے۔۔ ( ہاں) 

ٹھیک ہے آپ یہاں انتظار کیجئے۔ڈاکٹرنی نے اس سے کہا تھا اور سنتھیا کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتی اس کمرے میں گھس گئ۔ ایک دو میڈیکل کی طالبات بھی اسکے ہمراہ تھیں۔ سنتھیا نے گھبرا کر ایڈون کو دیکھا

میں یہیں باہر انتظار کر رہا ہوں بالکل پاس ہوں تمہارے۔ بالکل گھبرانا نہیں ٹھیک ہے۔ 

ایڈون نے اسکے یخ ہوتے ہاتھ تھام کر اسکی آنکھوں میں جھانکتے تسلی دی۔ 

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ 

آئی لو یو۔ ایڈون کے کہنے پر وہ ہلکے سے مسکرادی

آئی لو یو ٹو۔ 

اب جائو۔ ایڈون نے کہا تو وہ سر ہلاتی اندر کمرے میں داخل ہو گئ۔ سامنے ہی بیڈ سا لگا تھا ۔ ایک نرس فورا 

اسکی مدد کو آگے بڑھی تھی۔ ڈاکٹرنی ایک بڑی سی اسکرین پر ہونے والے آپریشن کا طریقہ کار ان طالبات کو سمجھا رہی تھی۔ کچھ سلائیڈز تھیں۔ اور ایک اینیمیٹڈ ویڈیو بھی۔ 

اپنی زبان میں سمجھاتئ اس ڈاکٹرنی کی ایک بات اسکے پلے نہ پڑی تھی۔ وہ دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی بمشکل بیڈ پر نرس کی مدد سے دراز ہوئی۔ نرس نے سب سے پہلے اسکا بلڈ پریشر دیکھا۔ پھر تسلی آمیز انداز میں بولی

کین چھنا آگاشی۔ 

اس نے سر ہلایا۔ 

کیسی ہو لڑکی؟ ڈاکٹرنی مسکرا کر اسکے پاس آئی۔ 

ٹھیک ہوں۔ اس نے جتنے فق ہوتے چہرے کے ساتھ کہا تھا اس سے وہ ٹھیک بالکل نہیں لگی تھی۔

میرا نام ڈاکٹر رودا ہے تمہارا کیا نام ہے پیاری لڑکی۔ 

وہ شستہ انگریزئ میں اس سے باتیں کرتی ہوئی آپریشن کی تیاری کر رہی تھی

سنتھیا ۔ اسکی آواز مدہم تھی ڈاکٹرگلوز چڑھا کر ان لڑکیوں کی جانب متوجہ ہوئی۔ 

ہمیں اس آپریشن کیلئے ویڈیو کی اجازت نہیں ملی نہ ہی کسی مرد طالب علم کو اندر آنے کی اجازت ملی ہے۔ 

اور یہ تم دونوں کیلئے بے حد اچھا ہے کھل کر سوال کر سکتی ہو اور ذیادہ سے ذیادہ سیکھ سکتی ہو۔ 

وہ روانئ میں ان سے بھئ انگریزئ میں بول گئ  

بلڈ پریشر جب تک نارمل نہیں ہوگا ہم سن نہیں کریں گے ۔

میم ابھی تو ابتدائی سطح ہے اس سطح پر بچہ تو نہیں ہے نا مطلب ابھئ تو بس ذیادہ سے زیادہ دل بننا شروع ہوا ہوگا۔ 

اس طالبہ  نے سوال کیا تھا۔ سنتھیا بھی  مکمل طور پر انکی جانب متوجہ تھی۔

ڈاکٹرنئ نے آلہ سنتھیا کے پیٹ سے لگا کر انکو مانیٹر میں موجودہ شکل دکھائی  

ہم اس ابتدائئ شکل کو فیٹس کہتے ہیں۔۔ ابھی شکل تو نہیں بن پائی مگر سلسلہ تو شروع ہو چکا ہے۔ اب اندر ایک نئی زندگئ کی بنیاد پڑ چکی ہے۔یہ ایسا ہی ہے کہ آپ نے بیج بویا اس میں سے کونپل پھوٹ گئ اب اگر آپ اس بیج کو اکھاڑ پھینکیں گے تو وہ پنپنے گا نہیں اور اگر اسے بڑھنے کا موقع دیں گے تو وہ تنا ور درخت بھی بن جائے گا۔ کون جانتا مستقبل۔

ڈاکٹرنئ مکمل ہنگل میں سب تفصیل بتا رہی تھی۔

اسکا دھیان ہٹا تھا کہ نرس نے اسکو ٹیکا ٹھونک دیا 

تھا۔ وہ ایکدم سے اٹھ بیٹھی۔ 

یہ اسکرین مجھے بھئ دکھائو۔ 

اس نے بے تابی سے انگریزی میں کہا تھا۔ 

دے؟ ۔ طالبات حیرانی سے دیکھنے لگی تھیں اسے مگر ڈاکٹر نے شائد اسکا اشارہ سمجھ لیا جبھی مانیٹر کا رخ ترچھا کر کے اسکو دکھایا۔ 

یہ یہ ابھی تو کچھ بھی نہیں ہے ۔۔ ہے نا۔ 

اس نے بے تابی سے انگریزی میں پوچھا اسے تسلی درکار تھئ شائد۔  

ڈاکٹر نے اسے غور سے دیکھا۔ اسے یقینا اب اپنی بات دہرانی پڑنی  تھئ۔۔ اس نے گہری سانس لیکر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔

یہ ابھی کچھ تو ہے سنتھیا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موسم کی پہلی برفباری متوقع ہے لڑکیوں۔ پہلے ہی بتا دوں آج خوب سنبھل کر رہنا کسی بھی ایرے غیرے نتھو خیرے سے ٹکرا نا جانا نا فالتو بحث میں پڑنا۔ خاص کر شام چار بجے کے بعد۔

گوارا ناشتے کی میز پر بیٹھی پراٹھا انڈا اڑاتئ اعلان کر رہی تھی۔ اریزہ نے پراٹھا توے پر ڈالتے ہوئے حیرت سے مڑ کر پوچھا

کیوں۔۔؟؟

ایویں ڈرامے۔

ہوپ نے منہ بنا کر کافی کا مگ منہ سے لگایاوہ ایگ رول چاول اور کمچی کے ساتھ کھا رہی تھی۔ 

 گوارا نے اسکا ایک ایگ رول اچک لیا۔ 

کیونکہ یہ کوریا کی بہت پرانی ریت ہے اور میرا دل سے اس پر اعتقاد ہے کہ موسم کی پہلی برفباری میں مخالف صنف کے ساتھ ہو تو اس سے محبت ہو جاتی ہے۔ 

منہ میں ایگ رول بھرے وہ بمشکل بتا پائی۔ 

اریزہ اپنا ناشتہ لیکر انکے پاس چلی آئی۔ 

میں تو بھئی آج گھر میں ہی ہوں مگر تم دونوں اونگے بونگے لڑکوں سے نا پٹ جانا ۔ پہلی برفباری خطرناک ہوتی ہے دل والوں کیلئے۔۔ دل کہیں اٹک ہی جاتا ہے۔ 

وہ آج فل موڈ میں تھی۔ 

واقعی؟ تو پھر منع کیوں کر رہی ہو۔ اچھا ہے ہوپ کو آج کوئی اچھا سا لڑکا ٹکر جائے۔ اریزہ نے کہا تو حسب توقع ہوپ منہ بنا گئ

بکواس یے یہ۔ شمالی کوریا میں ہم پہلی برفباری کیا آخری برفباری تک برفباری میں صرف پناہ ڈھونڈتے 

ہیں محبوب نہیں۔ 

ہاں تو وہاں نا ۔یہاں کی بات کر رہی ہوں۔ 

گوارا نے سر جھٹکا۔ 

کیوں یہاں کی برف گرم ہوتی یے؟ ۔ہوپ نے تمسخر اڑایا۔

ہائش۔ گوارا نے سر پیٹ لیا جیسے

اس لڑکی میں کوئی حس چھو کر نہیں گزری۔ بھئ سیدھی بات ایک جنوبی کوریائی ذمہ دار شہری لڑکی ہونے کے ناطے بتانا میرا فرض تھا۔برفباری میں کسی اونگے بونگے سے ٹکر کر محبت نہ کر بیٹھنا ہو جاتی ہے محبت میں زندہ مثال ہوں۔اسکی۔ 

اس نے بے چاری سی شکل بنائی ۔ ہوپ اور اریزہ دونوں کھانا وانا بھول کر اسکی شکل دیکھنے لگیں۔

کیسے۔۔

 وہ مزید ترنگ میں آگئ۔ 

کرسی پیچھے کر کے لہرا لہرا کر بولی

آج سے چار بلکہ پانچ سال قبل ایک معصوم سیدھی سادی لڑکی جو چپکے چپکے اپنے سن بے کو پسند کرتی تھی اسکول سے واپسی پر اپنے راستے سڑک کنارےسر جھکائے چلتی جا رہی تھی۔۔

وہ باقائدہ اپنی آگے سے کھلی  سوئٹر کو لپیٹ کر سکڑ 

کر سر جھکائے چلی۔ اریزہ کی پشت پر آگئ تھی وہ نوالہ پلیٹ میں رکھ کر بھرپور اشتیاق سے مڑ کر دیکھنے لگی۔ 

یک نہ شد دو شد۔ 

ہوپ نے تاسف سے اس احمق کو دیکھا جو ایسے متوجہ تھی جیسے گوارا اسے ملک کے اہم راز بتانے والی ہے۔ 

تھمو ذرا۔ ہوپ نے اپنا سر خود ہی چپت مار کر بجایا

پکی نارتھ کورین ہوں میں بھی۔ یہاں بھی ملکی راز ہی مثال کے طور پر سوجھے۔ 

موسم سازش پر اترا تھا۔ پہلی برفباری متوقع تھی۔ لڑکی کو گھر جانے کی جلدی تھئ۔۔ 

ہاتھوں کے اشارے سے ڈرامہ بازی کرتی گوارا جیسے فل فارم میں تھی۔ 

پھر۔  

اریزہ کا اشتیاق دیدنی تھا۔ 

 کہ اچانک کہیں سے ایک اجنبی بندر کی شکل کا ہائی اسکولر چار لڑکوں سے بھاگتا پٹنے سے بچتا اس سے آٹکرایا۔ 

بیان۔ وہ لڑکی اسکے دھکے سے دھپ سے گھٹنوں کے بل گری۔ لڑکے کے پاس موقع تھا کہ کہہ کر دوبارہ 

چوتھا گئیر لگاکے بھاگے اور مڑ کر نہ دیکھے۔ 

مگر۔ 

گوارا نے ڈرامائئ وقفہ لیا۔ 

مگر۔۔ اریزہ کی آنکھیں بڑی ہوئیں۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ گھٹنوں کے بل گری تھی۔یون بن گرتے گرتے بچا تھا۔ اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑی تھیں۔ اس نے تھوک نگلتے اس لڑکی سے معزرت کرکے بھاگ جانا چاہا

بیان۔ 

اسکے عجلت میں معزرت کرنے پر گھٹنا سہلا کر اٹھنے کی کوشش کرتی گوارا نے خفگی سے سر اٹھا کر گھورا

سردی سے سرخ ہوتی ناک آنکھوں میں چوٹ لگنے سے پانی اتر آیا تھا چہرے پر اڑتی آوارہ لٹیں اسکے کندھے تک آتے بالوں کی اونچی پونی ہوا سے اڑی تھی اور یون بن کے ہوش اڑے تھے۔ جی نہیں۔ اسکو دیکھ کر نہیں بلکہ لمحہ بہ لمحہ بھاگ کے قریب آتے لڑکوں کو دیکھ کر۔ 

گوارا کو اس انتہائی نازک صورتحال میں بھی سہارا دینے رکا اسکو ہاتھ پکڑ کر اٹھنے میں مدد کی اور بھاگ کھڑا ہوا مگر افسوس۔ چند قدم ہی آگے بڑھا ہوگا کہ پیچھے سے آتے چار لڑکوں نے اسے گھیر لیا تھا۔ 

دے مکا وہ لات۔ گوارا ششدر سی اسکی اپنی آنکھوں کے سامنے درگت بنتی دیکھ رہی تھی۔ اسکی ناک سے خون پھوٹا اور سڑک کنارے گزرتی پولیس وین نے آواز لگائئ۔ 

کیا کر رہے ہو تم لوگ۔ لڑکے اسکو وہیں فٹ پاتھ پر چھوڑ کر بھاگے تھے۔ وہ فٹ پاتھ پر بیٹھا اپنی چوٹیں سہلا رہا تھا جب گوارا انسانی ہمدردی کے تحت اسکے قریب آئی اور اپنا صاف ستھرا رومال اسکی جانب بڑھایایون بن نے حیرت سے دیکھا ۔مگر رومال تھام لیا

چند لمحوں میں ہی روئی کے گالے ان دونوں پر آن برسے تھے۔ 

کین چھنا؟ 

یہ گوارا نے نہیں پولیس والے نے پوچھا تھا۔ گاڑی سے اتر کر اسکے پاس آئے تھے یون بن کو سہارا دے کر کھڑا کیا اور یون بن وہیں چاروں شانے چت ہو گیا تھا۔ 

شائد گوارا بھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بات تو پولیس والے نے کی تھی تمہیں اس سے محبت ہونی چاہیئے تھی۔ 

ہوپ نے اسکی رومانوی کہانی کا کیا انجام کیا تھا۔ گوارا نے دانت کچکچائے۔ 

عقل کی دشمن۔ جب برف گر رہی تھی تو میں اور یون بن ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ اور تبھی میرا سن بے والا کرش بھاپ بن کے اڑا اور یون بن کی محبت برف بن کر میرے دل پر آجمی۔ 

اس نے آہ بھر کر دل پر ہاتھ رکھا  

اریزہ واپس گھوم کر ناشتے کی طرف متوجہ ہو گئ تھی۔

بہر حال سچ کہتی ہوں اس جادوئی لمحے میں کچھ تھا پہلی برفباری کا اثر ورنہ مجھے یون بن سے تو کبھی محبت نہ ہوتی جتنا دل پھینک اور لفاظ ہے۔ 

گوارا نے سارا الزام محبت موسم کے سر ڈال کر ہاتھ جھاڑ لیئے۔ 

شکر ہے ہمارے یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ 

اریزہ نے کندھے اچکائے۔ 

محبت نہیں ہوتی؟ گوارا حیران ہوئی

برفباری نہیں ہوتی۔۔۔ 

ہوپ نے جملہ مکمل کیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ صوفے پر اسکا جیکٹ پڑا تھا وہ اٹھا کر پہننے لگئ۔ 

اریزہ نے حیران ہو کر اسکی شکل دیکھی۔ 

ہوتی ہے پاکستان میں بھی برفباری اریزہ نے خود بتایا تھا ہے نا اریزہ۔۔ 

گوارا نے کہا تو وہ جز بز سی ہو کر سر ہلانے لگی۔ 

واقعی؟ ہوپ کو یقین نہ آیا۔ خود اریزہ سے پوچھنے لگی۔ 

آ۔۔ ہاں۔ وہ گڑبڑا سی گئ۔ 

تمہیں دیکھ کر لگتا تو نہیں کہ برفباری کی عادی ہو۔۔ برفباری ہونی ہے اور تم یہ تیار ہوئی ہو۔ 

اس نے اریزہ کئ جانب اشارہ کیا جو اس وقت وولن فراک پہنے بیٹھئ تھئ۔ ساتھ اونی ہی لیگنگ تھا۔ جبکہ ہوپ ہائی نیک کے اوپر گھٹنوں تک کا بڑا سا پیرا شوٹ جیکٹ پہن رہی تھی۔ جسے دیکھ کر اسے پہلا خیال یہی آیا تھا کہ کوئی اسکو بھئ خرید سکتا ہے۔ 

ہاں اریزہ لانگ کوٹ پہن کر جانا بلکہ ایک سوئیٹر اور پہن لو۔ 

گوارا فکر مند ہوئی۔ 

اتنا گرم فراک ہے مجھے ذرا ٹھنڈ نہیں لگ رہی۔ 

اس نے اطمینان دلانا چاہا۔ 

بوائلر چل رہا احمق باہر نکل کر دیکھو تو پتہ لگے کتنی ٹھنڈ ہے  

گوارا نے ڈانٹ دیا۔ 

باہر نکلتے وقت کوٹ لے لوں گی۔۔  اس نے تسلی کرائی

کتنی دیر ہے تمہیں اور؟ 

ہوپ نے کہا تو وہ ناشتہ ختم کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

چلو خیریت سے جائو دونوں۔ خدا تم دونوں کو اچھے لڑکے ٹکرائے آمین۔ 

گوارا نے جیسے صدق دل سے دعا دی۔ اس دعا پر اریزہ نے ہنس کر اسکو دیکھا تھا۔ ہوپ کے چہرے پر بھی کوئی بھولی بھٹکی مسکراہٹ در ہی آئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ حسب معمول آکر اپنا اسٹال سیٹ کر رہی تھی۔ 

مینجر اسے دیکھ کر بھاگا بھاگا آیا۔ جانے کونسا بے نم کہہ رہا تھا مطلب میڈم محترمہ کہہ کر اسکا احوال انگریزی میں پوچھا۔۔ 

میں ٹھیک ہوں شکریہ۔ 

وہ کافی شرمندہ ہو رہی تھی اسکے رویئے سے۔ جوابا مینجر کی ساری انگریزی مک گئ جھک کر سلام کرتا واپس ہواپھر سینڈوچ  اور گرم کافی کا کپ اسکو بھجوا دیا۔

اس نے سینڈوچ کھول کر دیکھا تو سبزیاں اور ساتھ چکن بھی تھا اس نے احتیاط سے ایک طرف رکھ دیا۔ 

کیوں آئی ہو آج تم ؟ 

کم سن کمر پر ہاتھ رکھے کھڑا گھور رہا تھا۔ 

تاکہ تمہیں میری تنخواہ خود گھر لاکر نہ دینی پڑے۔ 

اس نے آرام سے کہا۔ کم سن اسے کھڑا گھورتا رہا۔ 

گردن ٹھیک ہوئی تمہاری؟ 

اسکے باس کو فکر بھی تھئ اسکی۔ وہ مسکرا دی

میں بالکل ٹھیک ہوں۔ ذرا سا ہی جلن ہے اب بس۔ 

اچھی بات ہے۔ اور آرام سے پانچ بجے تک چلی جانا آج برفباری کا امکان ہے۔ 

کم سن کے کہنے پر اسکے لب وا ہوئے مگر تبھی مینجر کم سن کو بلانے آیا تو وہ چپ ہی کر گئ۔ آج بھی ذیادہ تر مفت ہی کھا پی کے بچے چلے گئے سیلز کا ٹارگٹ پورا نہیں ہوا اسکا۔

چار  بجے اسکے دوسرے باس سر پر کھڑے تھے۔ 

چلو گھر چھوڑ دوں تمہیں۔ 

اسے ہنسئ آگئ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم لوگ پڑھ نہیں رہے ہو ؟

ہایون اسی بچوں کی اونچی والی کرسی پر بیٹھا کافی کا کپ تھامے منہ پھلائے اسے گھور رہا تھا اس نے اسکا موڈ بدلنے کی خاطر پوچھا تھا۔ 

امتحان ہو رہے ہیں۔۔ 

منہ پھلانے کے باوجود اس نے جواب دیا تھا۔

ہیں۔ اس کو شدید حیرت ہوئی ۔۔ 

کوئی فکر وکر نہیں پالتے تم لوگ امتحانوں کی؟ مزے سے نیااسٹارٹ اپ شروع کیا جا رہا ہے چھٹیاں کی جا رہی ہیں اور یہاں بیٹھ کر کافی پی جا رہی ہے۔ 

اس نے گھورا۔ 

یونیورسٹی امتحانوں کی کیا فکر؟ وہ الٹا اسے حیران ہو کر دیکھنے لگا۔ 

امتحانوں کی ہی تو فکر ہوتئ یے۔ اچھے گریڈ جی پی اے کیلیئے  پریزنٹیشنز اسائنمنٹس سب مکمل کرنی ہوتی ہیں۔ 

اس نے کہا تو وہ سر جھٹک کر بولا

ہائی اسکول تک فکریں پالی ہیں تاکہ اچھی یونیورسٹی میں داخلے کیلئے نام آجائے۔ ہائی اسکولرز یہاں کے فکریں بھی پالتے ہیں۔ فیل ہو جائیں تو خودکشی بھی کر بیٹھتے ہیں مگر تب اتنئ پریشانی اٹھانے اور ذیادہ سے زیادہ ہنر سیکھنے ،  اچھے گریڈ حاصل کرنے کا پھل یونیورسٹی کی سطح پر ملتا ہے۔ اچھا پروفائل بن چکا ہوتا ہے اچھی یونیورسٹی کی سب سہولتیں ملتی ہیں پھر راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔۔۔ 

تم لوگوں کا کیا حساب ہے؟ اس نے برسبیل تذکرہ 

پوچھا 

ہاں۔ وہ چونکی  پھر گڑبڑا سی گئ۔ بے خیالی میں وہ اسکی تھوڑی پر پڑنے والے نیل کو ہی دیکھے گئ تھی۔ اسکے گورے چٹے چہرے پر دور سے دمک رہا تھا۔ اس کو افسوس ہونے لگا تھا  اسکی وجہ سے بے چارہ سنتھیا کے ہاتھوں پٹ گیا۔ بات تو سنی ہی نہیں۔۔ 

کیا سوچ رہی تھیں۔ 

وہ اسکی غائب دماغی پر مسکرا کر پوچھنے لگا۔

ککچھ نہیں۔ وہ کرسی پر سیدھی ہو بیٹھی۔ کافی اسکی ختم ہونے لگی تھی۔ اس نے کپ خالی کرکے میز پر ٹکایا

چلو تمہیں گھر چھوڑ دوں۔ 

ہایون اٹھ کھڑا ہوا۔ 

ابھئ وقت ہے میری چھٹی ہونے میں۔ اریزہ نے سہولت سے انکار کیا  

میں نےاس دن صرف مزاق کیا تھا۔ میں بہت سنجیدگی سے یہ نوکری کرنا چاہ رہی ہوں۔ مجھے جاننا ہے میں کتنی محنت کر سکتی ہوں مجھ میں کوئی ہنر ہے بھی یا نہیں میں نے خود مختار ہونا ہے ۔ میں اپنی محنت کی تنخواہ لیکر جانا چاہتی ہوں۔ ۔ تم دونوں اگر اسی طرح میرے ساتھ خاص الخاص والا 

برتائو کروگے تو میں خود کو کیسے آزما پائوں گی۔ 

اس نے اتنا تفصیلی جواب دیا تھا کہ ہایون چپ ہی ہوگیا۔ 

اچھا ٹھیک ہے۔ کل سے ہوجانا خود مختار مگر آج طوفان متوقع ہے۔ برفباری ہونے والی ہے اور سب سے بڑھ کر میں آگیا ہوں تمہیں لینے سو آج چلو  ۔ 

ہایون کے اصرار پر اس نے خفگی سے گھورا۔ 

وہی مرغے کی ایک ٹانگ۔ 

اس نے چڑ کر بھالو اٹھا کر اپنی جگہ رکھا۔ 

بالکل بابا لگ رہے ہو ۔ وہ بھی مجھے مرغی کی طرح پروں میں چھپا کر رکھتے رہے اور مجھ سے توقع یہ رہی کہ میں تیس مار خان بن جائوں۔ 

اسٹول سمیٹ کر رکھے اسٹال میں۔ اور پٹخ پٹخ کر ڈبے ترتیب دیئے۔ 

دو درجن لوگ میرا خیال رکھنے میرا لاڈ اٹھانے میرے گرد موجود رہیں گے تو خاک پتھر مجھ میں اعتماد آئے گا۔ پہلے دن مجھے لگا تھا کبھی اکیلے آنے جانے کی ہمت نہیں آئے گی مجھ میں مگر اتنے دنوں سے آرہی ہوں نا اکیلی۔ 

گندے پیالے ڈسپوز آف کرنے کیلئے اس نے شاپر میں سب کوڑا ڈالا ۔۔ 

واپسی پر تو خاص طور سے صبح پھر چلو ہوپ ہوتی مگر نہیں۔  کوئی مجھے تناور درخت بننے ہی نہیں دے رہا۔۔ رکھو سب بنا کے مجھے چھوئی موئئ کا پودا۔ پیراسائٹ ۔دوسروں پر انحصار کرنے والا پیراسائٹ۔ کرنے والی پیراسائٹ۔ 

اردو میں اونچا اونچابڑبڑا کر اس نے سب کام ختم کیئے تھے ۔ موبائل پرس میں رکھا کندھے پر لٹکا کے وہ جانے کو بالکل تیار ہوکر مڑی۔

انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہی اب خوش چلو مرو  

تم اردو بولنا یاد کرتی ہو نا۔

ہایون نے کہا تو وہ ایکدم ٹھنڈی ہوئئ۔ 

ہاں۔ اس نے بلا توقف سر ہلایا۔ 

مجھے اجنبئ زبان بول بول کے تھکن ہو جاتی ہے۔ 

اس نے ناک چڑھائی۔ پھر ہنس کر بولی

مگر ایک فائدہ ہوتا ہے غصہ آنے پر جتنی بھی بڑ بڑ کرلی  سمجھ ہی نہیں آئی ہوگی تمہیں۔ 

ہایون چند لمحے اسے دیکھتا ہوا سنجیدہ ہو گیا۔ انتہائی سنجیدگی سے کہہ کر وہ مڑا

چلیں۔ 

اسکا انداز۔ وہ ٹھٹکی۔ برا مان گیا کیا یہ

وہ زیر لب بڑبڑائئ

اسے کیا لگا میں اسے گالیاں دیتئ رہی ہوں۔ 

سنو ہایون۔وہ اسکے پیچھے بھاگ کے آئی۔

گلاس ڈور کھولتے ہی سرد ترین ہوا کا جھونکا اسکی ناک سے ٹکرایا۔ہایون کے ہم قدم ہونے کے چکر میں تیز چلنے سے اسکی سانس پھول گئ ۔ چھے فٹ سے نکلتے قد والا ہایون بڑے قدم اٹھا رہا تھا۔ وہ بھاگ کے اسکے مقابل آگئ۔ ہایون ایکدم رکا 

ہایون میں تمہیں گالیاں والیاں نہیں دے رہی تھی۔میں دیتی ہی نہیں ہوں غصے میں گالیاں اور بھی کچھ برا نہیں کہہ رہی تھی تمہارے۔  

بولتے بولتے اسکی ناک پر کوئی چیز آکر گری ہایون  مڑکر اسے کچھ کہنے لگا تھا مگر وہ آنکھیں بھینگی کرکے ناک کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے انگلی کی پور سے ناک پر سے اس روئی کے گالے کو اٹھانا چاہا تو وہ پانی کی بوند سا بن گیا۔ایک کے بعد دوسرا تیسرا 

سفید سفید روئی کے گالے ان کے گرد بارش کی طرح برس اٹھے تھے۔

وائو۔ برفباری ہے یہ تو۔ 

وہ بے طرح خوش ہوگئ تھی دونوں ہاتھ پھیلا کر اس نے برف ہتھیلیوں میں بھر لینا چاہی۔ ۔ ہایون نے گہری سانس لیکر آسمان کو دیکھا۔ 

اس موسم کی پہلی برفباری وہ اریزہ کے ساتھ دیکھنا چاہتا تھا اور قدرت نے اسکا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ 

او خدایا۔ وہ بے طرح خوش سی برف کے گالوں کو مٹھی میں بھر رہی تھی۔ وہ ایسے خوش ہو رہی تھی جیسے پہلی بار برفباری دیکھ رہی ہو۔۔ اب تو  سڑک کنارے پر برف کی چادر بچھ جانی تھی اور

ہوا تیز تھی برفباری رک گئ۔  

بس ۔ اس کو شدید مایوسی ہوئی

ہایون ہنس دیا۔ 

اتنی سی برفباری پر اتراتے ہو تم لوگ۔ ہمارے یہاں برف سے سب ڈھک جاتا یے اتنی ہوتی ہے۔ 

وہ کمر پر ہاتھ رکھے جتا رہی تھی۔ 

راولپنڈی میں؟

ہایون نے پوچھا تو وہ گڑبڑا سی گئ۔ 

اتنی سی برفباری کو ہوا بنایا ہوا تھا ۔ جائو تم میں آرام سے ڈیوٹئ پوری کرکے چلی جائوں گی خود ہی۔ 

وہ جان کے ڈپٹ کر بولی تاکہ بات بدل جائے۔

ہایون نے سر ہلا دیا۔ 

جیسے تمہاری مرضئ۔ 

وہ کہہ کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تو وہ سکھ کا سانس لیتی واپس مارٹ کی طرف مڑی

کچھ ذیادہ ہی دماغ تیز ہے اسکا ۔ سرسری سا نام بتایا تھا اپنے شہر کا ابھی تک یاد رکھے ہوئے ہے۔ اب سینٹڈ scented lake نالہ لئی  نا گوگل کرنے بیٹھ جائے۔ 

اسے خفت محسوس ہو رہی تھی۔ اور اسکا بہترین حل یہ تھا کہ اب کم از کم ہایون کی آج دوبارہ شکل نہ دیکھی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہایون نے گاڑی میں بیٹھتے ہی سب سے پہلےموبائل نکال کر  راولپنڈی کا درجہ حرارت گوگل کیا تھا۔26 ڈگری تھا۔

اس نے اگلی تلاش نالہ لئی کی ہی کی تھئ۔ 

اسکے چہرے کی ہمہ وقت چھائی رہنے والی مسکراہٹ گہری ہوتئ چلی گئ تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج موسم کی پہلی برفباری ہے۔ 

پردے کھڑکی سے ہٹاتے ہوئےنرس نےاسے اطلاع دی تھی۔ 

کچھ چاہیئے ہو تو یہ بٹن دبا دینا۔ 

ٹوٹی پھوٹئ انگریزئ میں وہ اسے سمجھاکر نکل گئ تھئ۔

وہ پرائیویٹ کمرے میں لیٹی تھی۔ اسکی ڈرپ ختم ہونے میں ایک گھنٹہ تھا۔۔۔

وہ شیشے کی کھڑکیوں سے باہر برستی سفید بارش کو خالی خالی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ 

 ایڈون بڑا سا شاپر لیئےگھبرایا ہوا داخل ہوا۔ 

کیا ہوا سب خیریت ہے نا؟ تم یہاں کیوں ہو؟ تم  ٹھیک ہو نا ؟ کوئی گھبرانے والی بات تو نہیں۔۔۔

اس نے پے در پے کئی سوال کر ڈالے۔ 

میں ٹھیک ہوں۔ 

اس نے مہین سی آواز میں کہا تھا۔ 

شکر ہے  ۔۔ یہ لو میں تمہارے لیئے گائے کے گوشت کا سوپ لایا ہوں۔ کورین بیف ہے یہ۔ کہتے ہیں یہ سب سے بہترین گوشت ہوتا ہے یہاں کا۔ 

وہ اسکے لیئےمریضوں والی  میز بیڈ کے ساتھ جوڑ رہا تھا۔پھر شاپر سے بھاپ اڑاتا کھانا نکال کر اسکے سامنے رکھنے لگا۔ وہ بمشکل بائیں ہاتھ کے بل پر زور ڈال کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی  

رکو۔ ایڈون نے اسکو آگے بڑھ کر سہارا دے کر بٹھایا۔ اسکی کمر میں تکیہ بھئ لگا دیا۔ اس نے طائرانہ نگاہ ڈالی میز پر کھانا سج چکا تھا۔

بھنا ہوا گوشت الگ تھا اور گوشت کاسوپ الگ۔ جس 

میں نوڈلز بھی تیر رہے تھے ساتھ سیب کے جوس کے ڈبے مکس فروٹ کا کین۔۔ 

اسے گزشتہ رات یاد آئی تو آنکھ بھر آئی۔ کتنا بد قسمت بچہ تھا یہ۔ کل اسکی ماں اسکا بوجھ اٹھاتئ بھوک سے نڈھال تھی اور آج اس اسکے سامنے طعام سجا تھا۔

کھائو۔۔ 

ایڈون نے دانستہ اسکے گالوں پر پھیل آنے والے آنسو کو نظر انداز کیا۔ 

اس نے اپنا ڈرپ والا داہنا بازو اونچا کیا۔ وہ کیسے کھانا کھا سکتی تھی جب تک ڈرپ لگی تھی۔ 

میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے کھلاتا ہوں۔ 

ایڈون نے سمجھ کر کانٹے میں نوڈلز پروئے گوشت کا ٹکڑا پرو کر اسکی جانب بڑھایا۔ اس نے منہ کھولا تو احتیاط سے نوالہ کھلادیا ۔ 

اب چمچ میں سوپ بھر کر اسکی جانب بڑھا رہا تھا۔

اس نے سوپ بھی پی لیا مگر چباتے ہوئے اسکی آنکھوں سے مزید آنسو پھسل آئے 

بس بس رونا نہیں۔ تمہاری طبیعت خراب نہ ہو جائے اب کچھ مت سوچو کھانا کھائو اور آرام کرو ۔ میں اس روم کی بھی ادائگی کردیتا ہوں رات یہیں رکو 

صبح چلیں گے۔۔

ایڈون نے اٹھ کر اسکے سائیڈ ٹیبل سے ٹشو بکس سے کئی ٹشو نکال کر احتیاط سے آنسو پونچھے

وہ اب اسکے سب نخرے اٹھانے کو تیار تھاآخر وہ اسکی گرل فرینڈ تھی۔ہاں اپنے ناجائز بچے کی ماں کی دفعہ اسکی پروا کرنے والی طبیعت بے حسی تلے جا سوئی تھی۔۔

وہ وہئ سنتھیا تھئ۔ چند گھنٹوں میں سنتھیا بدل تو نہیں گئ تھئ یا واقعی بدل گئ تھئ؟  

وہ میز پیچھے کرتی بیڈ پر سیدھی لیٹ گئ۔

اچھا تھوڑی دیر بعد کھا لینا کھانا میں ڈاکٹر سے پوچھ کر آتا ہوں کوئی دوا وغیرہ ابھی تو بس نرس کے بتانے پر کہ تم یہاں ہو سیدھا یہاں چلا آیا۔ 

ایڈون نے زبردستئ مناسب نہ سمجھی۔ 

کوئی طاقت کا سیرپ بھی لکھوا لاتا ہوں۔ تمہیں کمزوری محسوس ہو رہی ہوگی۔ 

وہ چند لمحے رکا رہا تھا شائد وہ جوابا کچھ بولے مگر وہ بالکل خاموش کھڑکی سے پار دیکھ رہی تھی۔ وہ دروازہ بنس کرتا نکل گیا۔۔ باہر رات ہو چکی تھی اور برفباری پورے زور و شور سے جاری تھی۔ طوفان آچکا تھا بس کمرے میں اسکا شور اور ٹھنڈ محسوس نہیں 

ہو رہی تھی۔ اس نے کمبل اونچا کیا اور اسی طرف کروٹ لے لی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  ۔۔۔ ۔۔۔

ٹارگٹ سیل کے چارٹ پر اپنی آج کی سیلز کی تعداد لکھتے اس نے آہ سی بھری تھی۔ 

آج معمول سے بھی کم لوگ تھے۔ اسکی چھٹی تک تو تقریبا سب خالی ہوچکا تھا۔

وہ پھر بھی اپنا وقت پورا کرکے ہی اٹھی۔ کوٹ کندھے پر درست کیابیگ لٹکایا خراماں خراماں چلتی باہر آئی تو بے ساختہ جھر جھری سی لیکر رہ گئ۔

اسٹور تو اتنا خنک نہیں تھا مگر باہر بلا کی سرد ہوا تھی۔سات بجے اتنی سنسانئ تھی کہ جیسے دس بج رہے ہوں۔۔اکا دکا دکانیں کھلی تھیں وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھانے لگی بس اسٹاپ بالکل خالی تھا وہ اکیلی ہی تھی بس ۔ سرد ہوا اتنی ٹھٹھرا دینے والی تھی کہ وہ بیٹھتے بیٹھتے رک گئ۔ بس چارٹ کی ایل ای ڈی میں اسکی بس پندرہ منٹ بعد کی تھی۔ اس نے سوچا کیا کرے۔۔ سڑک پر ٹریفک معمول سے کم تھا فٹ پاتھ پر پھر ایک دو لوگ چل رہے تھے۔۔ وہ  دکانوں کے آگے پختہ سروس روڈ پر چلی آئی۔ 

میٹرو سے چلی جاتی ہوں ۔ میٹرو میں کم ازکم انتظار تک ٹھنڈ تو نہیں کھانی پڑے گی۔ 

اس نے فیصلہ لیا اور تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔

روئی کا ٹکڑا اسکے کندھے پر آکر گرا تو اس نے چونک کر جھاڑا۔۔ ایک لانگ کوٹ اندر ہائی نیک نیچے فلیٹ اسکے باوجود سرد ہوا کپکپائے دے رہئ تھی اسے۔۔ وہ اپنے قدموں پر نگاہیں جمائے ارد گرد سے بے نیاز چلے جا رہی تھی۔۔ کورٹ شوز اسے لگ رہا تھا اس نے پہنے ہی نہیں ہیں پائوں یخ ہو رہے تھے

 اس کا برفباری میں یوں باہر اکیلے پھرنے کا پہلا تجربہ تھا۔  برف اتنی تیزی سے گر رہی تھی کہ اسکا کوٹ بھیگ چلا تھا۔۔ اس نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا مارکیٹ پیچھے چھٹ چکی تھی۔ ذیلی سڑک سنسان تھی اب رہائشی علاقہ شروع تھا دونوں اطراف اونچئ عمارتیں گھر بنے تھے سڑک پر اسکے سوا کوئی نہ تھا۔۔ 

اس پر شدید گھبراہٹ طاری ہونے لگی۔ برفباری خاموشی سردی سنسانی 

کیا کروں ۔۔ واپس مارکیٹ جائوں۔۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو مارکیٹ سے اتنی دور آچکی تھی کہ وہ اسٹور نظر بھی نہیں آرہا تھا۔۔

سردی ناقابل برداشت ہوچلی تھی۔ اس نے بیگ میں فون تلاشا

تبھی بس سڑک سے گزری تھئ۔ 

شٹ ۔ وہیں رک کر انتظار کر لیتی۔ اسے خود پر غصہ آنے لگا

ٹیکسی منگوا لیتی ہوں۔ 

وہ سوچ میں پڑی۔

برف سر پر پڑ رہی تھی اسکے بال گیلے ہونے لگے تھے۔۔ 

فون دیکھتے چلتے اسے پتہ ہی نہ لگا کب فٹ پاتھ ختم ہوگیا اسکا پیر پھسلا اور وہ گھٹنے کے بل سڑک پر گری۔ تارے ناچ گئے تھے حقیقتا اسکی آنکھوں کے سامنے۔ 

امی۔ وہ وہیں گھٹنا پکڑ کر رو پڑی۔ سڑک پر پانی تھا شائد۔ وہ مکمل بھیگ گئ تھئ۔اور موبائل ۔  اس نے تڑپ کر موبائل ڈھونڈا ۔ اسکے برابر ہی پڑا تھا مگر بند ۔

اس نے بےتابئ سے اٹھایا۔ اسکا آخری سہارا ہچکی لیکر بند ہوگیا تھا۔۔ 

نہیں۔ پلیز نہیں۔  

موبائل کی منتوں پر اتر آئی مگر وہ بھی ڈھیٹ تھا آف رہا۔۔ 

سر پر گرتی برف سائیں سائیں کرتی برفانی ہوا وہ فٹ 

پاتھ پر ہتھیلی ٹکا کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔ درد کی شدید لہر اٹھی تھی ٹانگ میں۔۔ 

وہ ٹانگ پکڑ کر دہری ہوگئ۔ 

جب  کوئی اسکے سامنے آن کھڑا ہوا۔ 

ڈاکو، چور؟ 

اس نے خوفزدہ نگاہیں اوپر اٹھا کر دیکھا

اسٹریٹ لائٹ کی مدھم روشنی میں دمکتا سفید چہرہ چندی آنکھیں اپر کا ہڈ سر پر چڑھائے وہ نامانوس شکل نہیں تھی۔ 

انسان ۔ نہیں اس وقت تو فرشتہ ہی بن کر آیا تھا۔ 

کین چھنا۔۔ 

پھر شائد اسکے اجنبئ نقوش دیکھ کر انگریزئ میں پوچھا گیا۔

آر یو آل۔رائٹ۔ 

نرمی سے پوچھا گیا۔ 

اس نے دھیرے سے نفئ میں سر ہلادیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بس سے اتر کر وہ اپنی دھن میں چلتاجا رہا تھا جب اس کی نظر اس پر پڑی تھی۔ لانگ کوٹ کورٹ شوز تیز تیز قدم اٹھاتی اس لڑکی کو دیکھ کر اس کو پہلا 

خیال یہی آیا تھا 

گیلی سڑک برفباری میں اتنی پھسلن اور ہیل والا جوتا

پکا گرے گی۔ 

ابھی اتنا ہی سوچا تھا کہ اس کے سامنے وہ لڑھک گئ۔ 

اسے بے ساختہ ہنسی آئی ۔ پھر افسوس بھی ہوا 

اسے لگا تھا وہ کپڑے جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوگی۔ 

جدید دور کی لڑکی۔ خود اٹھنے سے پہلے موبائل ٹٹول کر دیکھ رہی تھئ کہ ٹانگ بھلے ٹوٹ جائے موبائل کو کچھ نا ہو۔اسکے پاس سے گزر کر وہ سیدھا نکل آیا تھا مگر چند قدم بعد یونہی مڑ کر دیکھا تو وہ گھٹنا سہلاتی سر جھکائے وہیں بیٹھئ تھی۔ شائد اسے ذیادہ چوٹ لگ گئی ہے یہی سوچ کر وہ پلٹ آیا۔ 

آنکھوں میں آنسو بھرے سرخ آنکھیں سرخ ناک چڑھا کر اس نے گردن ہلا کر جواب دیا تھا۔ 

اس نے لمحہ بھر سوچا پھر اسکو سہارا دینے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔ مقابل بھی اسی کے قبیل کی تھی۔ ٹھیک ٹھاک وقت لگا کر سوچ سمجھ کر اسکا ہاتھ تھام کر سہارا لیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پچھلی دفعہ باتھ روم دیکھا اس بار اسکے ساتھ اسکے کمرے کے بیچ کھڑی تھی۔ وہ سہارا دے کر لایا تھا۔  

اسے بیڈ پر بیٹھنے کا کہہ کر وہ الماری کی جانب بڑھ گیا۔

آپ تشریف رکھیے۔ 

اس نے ایک نظر بے داغ سفید براق بچھی چادر کو دیکھا پھر بیٹھنے کا ارادہ ترک کردیا۔ اسکے کپڑے گیلے ہو چکے تھے۔یقینا اسکا بیڈ خراب ہوجاتا۔

یہ اسپرے کر لیں گھٹنے پر اس سے فوری درد کھنچ جائے گا۔ 

اس نے ایک اسپرے کین نکال کر اسے دیا۔ 

ادھر باتھ روم ہے آپ اسے استعمال کر لیجئے گا۔

اس نے سویٹ شرٹ اور پاجامہ نکال کر بیڈ پر رکھتے ہوئے خاصی تمیز سے کہا تھا۔ 

اس نے سر ہلا کر شرٹ اٹھائئ۔ عجیب سا احساس ہوا تو پوری تہہ کھول کر دیکھی ۔پھر علی کو دیکھا۔ 

 اس نے خاصی باڈی بنا رکھی تھی۔ اسکی شرٹ اتنی چوڑی تھی کہ اس میں آرام سے دو اریزہ آجاتیں۔اسکے کپڑے اسے کہاں آئیں گے۔ 

اس کی آنکھیں اصل حجم سے دگنی ہو چلی تھیں۔۔چندی آنکھوں والے نے خاصی دلچسپی سے یہ منظر دیکھا تھا کہاں اس ملک میں حیرت کے اظہار کے طور پر بھی آنکھیں کھل نہیں پاتیں تو کہاں یہ لڑکی اپنی 

موٹی موٹی آنکھیں پھاڑ کر پانڈا بن چلی تھی۔۔۔۔

۔ 

علی اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھ کر وضاحت کرنے والے انداز میں بولا۔۔ 

میرے گھر کوئی خاتون نہیں ہیں۔ سو ابھی  آپ یہی پہن لیں میں آپکے کپڑے ڈرائر کردوں گا۔ 

 آپکے کپڑے بالکل بھیگ گئے تھے۔ ۔ آپ کو سردی لگ رہی ہوگی آپ یہ اٹیچ باتھ روم یوز کرلیں۔ 

اور چینج کر لیں

وہ نرمی سے کہتا باہر نکل گیا۔۔ 

 اریزہ نے جھر جھری سی لی۔۔ گھن کھا کر نہیں سردی سے۔۔ اسکو ہلکا ہلکا بخار بھی محسوس ہو رہا تھا۔  اس نے جھجکتے ہوئے کپڑے اٹھائے تبھی اسکی نگاہ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھی تصویر پر پڑی۔

تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر آگے بڑھی۔ تصویر اٹھا کر دیکھنے لگی۔ علی کے ساتھ بے حد خوش شکل چندی آنکھوں والی لڑکی کا کھلکھلاتا ہوا پوز تھا۔ 

میرے گھر میں کوئی خاتون نہیں تو یہ کون ہے؟ مرد

اس نے ناک چڑھائی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کپڑے بدل کر فریش ہوکر باہر نکلی تو کمرہ خالی۔تھا۔۔ 

اس کے کپڑے اسے بہت ڈھیلے نہیں تھے ہاں لمبے تھے ۔۔ اس نے آستینوں اور پائنچوں کو تھوڑا تھوڑا موڑ لیا تھا۔۔ اسکا مفلر بھی نم تھا۔اس نے اسپرے کیا تھا۔ درد میں نمایاں کمی آئی تھئ مگر لنگڑانا ابھی باقی تھا۔ وہ دائیں ٹانگ پر کم بوجھ ڈالتی ہوئی جھجکتی باہر نکل آئی۔۔ وہ تصویر والی باجی اگر واپس آجاتیں تو اپنے ان کے بیڈ روم میں اسے دیکھ کر کچا چبا جاتیں۔ یہی سوچ کر اس نے اسکا انتظار کرنے کی بجائے باہر آنا مناسب سمجھا۔ 

ایک کمرے اور لائونج پر مشتمل چھوٹا سا اپارٹمنٹ مختصر سامان سے سجا تھا۔ اوپن کچن میں کائونٹر پر بھاپ اڑاتا سوپ رکھا تھا ۔۔لائونج میں سامنے ہی علی کچے چاول ٹرے میں پھیلائے کارپٹ پر اکڑوں بیٹھا انہیں۔ الٹ پلٹ کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر ٹرے وہیں چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔

آئیے۔۔وہ یقینا اچھا میزبان تھا۔ اسکیلئے کرسی گھسیٹ کر اسکے بیٹھنے کے بعد خود اوون کی جانب بڑھ گیا۔۔   میز پر دو پیالے دھرے تھے۔ چکن سوپ جس میں نوڈلز تیر رہے تھے۔بیف اسٹیک۔ اس نے اوون سے نکال کر گرما گرم سامنے رکھا۔۔پھر معزرت خواہانہ انداز میں بولا۔۔

معزرت میرے گھر میں پورک نہیں ہوتا ہے۔ مگر مجھے امید ہے آپکو سوپ اور اسٹیک پسند آئے گا۔۔ 

یوں بن بلائے مہمان بن کر کھانا کھانے بیٹھ جانا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔ 

وہ میرا خیال ہے مجھے ڈنر گھر جا کر ہی کرنا چاہیئے۔ آپکو پہلے ہی بہت زحمت دے دی ہے میں نے۔۔ 

لنچ؟ علی مسکرایا۔۔ 

آپ ڈنر کر لیں کیونکہ باہر جتنی شدید برفباری ہے آپ بریک فاسٹ ہی اب گھر پر کر سکیں گی۔۔ 

جی؟۔ اریزہ کا منہ کھلا رہ گیا۔ 

میرے پاس گاڑی نہیں ہے اور ٹیکسی آپکو اس موسم میں ملنا مشکل ہے۔ 

علی کا انداز سادہ سا تھا۔  اریزہ مرے مرے انداز میں دوبارہ بیٹھ گئ۔ 

باہر بہت موسم خراب ہے؟ اریزہ نے پوچھا تو وہ سر ہلا کر رہ گیا۔ 

اسٹیک  کا پیس کرکے چاپ اسٹکس سے اٹھاتے اسکی نظر پڑی تووہ منتظر نظروں سے ہی دیکھ رہی تھی۔ 

خراب تو نہیں کہہ سکتے معمول کی برفباری ہے مگر سڑک پر برف سے راستہ بند ہے برفباری تھمے گی تو راستہ صاف کیا جائے گا۔ آپ کھانا تو کھائیے

۔علی نے ٹوکا تو وہ گہری سانس بھر کر رہ گئ۔  بھوک کا احساس شدید تھا سو وہ مزید بحث میں پڑنے کی بجائے خاموشی سے کھانے لگی۔ 

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 وقفے وقفے سے وہ اریزہ کو فون کرنے کی کوشش کرتی  رہی  تھی ۔ ایسا تو پہلے کبھی نہ ہوا تھا کہ اسکا فون اتنی دیر تک بند رہے۔۔ وہ اب پریشان ہونے لگی تھی۔۔ کچھ سمجھ نہ آیا توہایون کو کال ملا دی۔ 

وہ گھر آکر چینج کرکے سکون سے بستر میں گھسا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا جب گوارا کی کال آئی۔ 

یوبو سیو۔۔

اس نے مصروف سے انداز میں فون اٹھایا۔

ہایون اریزہ تمہارے ساتھ ہے؟ 

گوارا چھوٹتے ہی بولی۔

آنی۔ ( نہیں ) کیوں کیا ہوا؟  

گوارا لمحہ بھر کو چپ ہی رہ گئ

یار وہ اسکا شام  سے کوئی اتا پتہ نہیں ہے۔ مارٹ سے تو سات بجے تک چھٹی ہو جاتئ ہے۔وہ  ابھی تک گھر نہیں آئی دس بج رہے ہیں۔ ۔۔ فون بھی بند جا رہا ہے اسکا۔۔ 

کیا؟ اور یہ تم اب بتا رہی ہو مجھے تم ۔  تو بتاتی بھی نہ مجھے؟؟؟؟۔ وہ چیخ پڑا تھا

مجھے لگا تھا تھوڑی دیر تک آجائے گی مگراب دس بجنے کو ہیں وہ ابھی تک نہیں آئی فون بھی بند جا رہا ہے۔۔ ۔۔ گوارا خائف ہو گئ تھی

اسپتالوں کی ایمرجنسئ سے پتہ کرنا تھا کوئی حادثہ نہ ہوگیا ہو۔۔

گوارا چپ ہی رہی۔۔ اسے یہ خیال نہ آیا تھا ۔۔  

ہائش۔۔ ہیونگ سک نے فون بند کردیا۔۔ چند لمحے سوچا پھر اپنا جیکٹ اٹھا کر باہر بھاگا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے گیارہ ہو رہے ہیں۔۔ 

فون تو کر دیتی جانے کہاں رہ گئ ہے۔ 

گوارا بے چینی سے ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی۔ 

ہوپ بیڈ کرائون سے ٹیک لگائےکافی پی رہی تھئ۔  

فون بھئ کام نہیں کر رہا۔۔ وہ جھلا کر دھپ سے بیڈ پر بیٹھی ہوپ جو اسی وقت گھونٹ بھرنے لگی تھی گرم گرم کافی چھلک کر اسکے ہونٹ جلا گئ۔۔ 

آہش۔۔ اس نے کپ سائیڈ پر رکھ کر اپنا گریبان جھاڑا۔۔ 

پھر اسے گھورنے لگی۔ گوارا کو پہلی بار اتنا سنجیدہ اور پریشان دیکھا تھا سو غصہ دبا کر اسے سمجھانے لگی

بچی تو نہیں ہے برفباری کی وجہ سے کہیں رک گئ ہوگی۔ آجائے گئ۔۔ 

وہ یہاں کسی کو نہیں جانتی پہلی جاب تھی اسکی وہاں سے سات بجے کی۔نکلی ہے۔ابھی تک گھر نہیں آئئ۔  تم نہیں جانتی ہو وہ تو لوکل سفر بھی کرنے کی عادئ نہیں ہے۔ راستے اسکو نہیں آتے۔ جانے کہاں کس حال میں ہوگی۔ وہ تو یہاں کی زبان بھئ نہیں جانتی انجان ملک ہے اسکیلئے۔۔ 

گوارا اسکی ماں کی طرح پریشان ہو رہی تھی۔ 

پھر بھی جو لڑکی دوسرے ملک آکر رہ رہی ہے پڑھ رہی ہے وہ اتنی بے وقوف تو نہیں ہوگی۔ کہ۔۔ ہوپ کو اسکی تشویش جانے کیوں بہت بری لگی۔۔ 

تمہیں ذرا فکر نہیں ہو رہی اسکی؟ 

گوارا کو واقعی اسکی سخت دلی پر حیرت ہوئی۔۔ 

وہ بچی تھوڑی ہے۔۔۔ ہوپ نے بے نیازی سے کافی کا گھونٹ بھرا۔۔

اتنی شدید برفباری ہورہی ہے باہر مائنس میں ٹمپریچر ہے کوئی آپکے گھر کا فرد گھر سے باہر ہو اس سے رابطہ بھی نہ ہو پارہا ہو تو کیا فکر نہیں ہونی چاہیئے؟ حیرت ہے تم پر۔۔ اتنئ سخت دل کیسے ہو؟ 

گوارا نے شرمندہ کرنا چاہا جوابا وہ کھل کر ہنستی 

چلی گئ

تم جسے بتا رہی ہو اسے اپنے 5 عدد بہن بھائی ماں باپ کا کوئی اتا پتا نہیں ۔۔۔ زندہ ہیں یا مرچکے۔۔ فکر ؟؟؟؟ فکر بس ترقی یافتہ ملکوں کے پیٹ بھر کے تین وقت کھانا کھانے والے باشندوں کا مشغلہ ہے۔۔ ایسی فکریں پیٹ پالنے کی فکریں پالنے والے نہیں پالتے۔۔ وہ ایک ایک جملے پر زور دے کر بولی تھی۔ 

ہنسنے کے بعد اسکا لہجہ تیز اور تلخ ہوگیا تھا اسکے جملوں میں محسوس کی جانے والی کاٹ تھی۔ 

گوارا چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھتی رہی۔ 

یہ منفی 8 ڈگری یہ؟؟؟ اس نے موبائل پر موسم کی اپڈیٹ دیکھ کر طنزیہ موبائل اسکے سامنے لہرایا۔۔ 

منفی 12 ڈگری میں بس ایک سوئٹر پہن کر جب میں گھر سے نکلی تھی تو ہم چار افراد تھےماں اور ہم تین بہن بھائی۔ برف سے ڈھکی منجمد جھیل پر قدم اٹھاتے تھے تو لگتا تھا اگلا قدم جھیل سے چپکا رہ جائے گا۔۔ پیچھے گولیوں کی بوچھاڑ کرتے سرحد پر تعینات فوجی تھے تو آگے چینی افواج ہمارے قریب آنے پر ہتھکڑیاں لیئے گرفتار کرنے کو موجود تھی۔۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برف پوش وادی میں منجمد جھیل پر گرتے پڑتے قدم 

اٹھاتے چار نفوس نشانہ باندھنے والا بھی رک کر دیکھنے لگا تھا۔۔ 

ماں اور تین بچے جن میں دو تو شائد دس سال سے بھی کم عمر تھے ایک کو سینے سے چپکائے وہ عورت پوری قوت سے بھاگ رہی تھی جیسے اس ملک سے نکل جانے پر ایک۔خوشحال زندگی اسکی منتظر تھی۔۔ 

اس نے بندوق نیچے کر لی۔ اسکی دیکھا دیکھی اسکے ماتحت نے بھی۔۔ 

اتنی مشقت سے اس سردی میں بھاگ رہی ہے وہاں چینی انکو پکڑ کر صبح ہی واپس بھیج دیں گے۔۔ پھر جو انکا حال ہوگا اس سے بہتر ہے ابھی ہی گولی کھا کر مر جائیں۔۔

ماتحت نے اسے جو کہا یا کہنا چاہا وہ سیاق و سباق کے ساتھ روز اول سے ان سب پر عیاں تھا۔ 

مرنے والوں کیلئے دعا کی جاتی ہے گولی نہیں ماری جاتی۔۔ 

اس نے گہری سانس لیکر رخ موڑ کر بیرک کی جانب بڑھنے لگا۔۔ماتحت نے بھی تقلید کی۔۔

بیٹا مر چکا ہے اسکا۔۔ اسے پھینک دے تو بھاگنا آسان ہوجائے اسکیلئے۔۔ 

ماتحت نے یونہی تبصرہ کیا تھا۔۔ وہ مزید انکو دیکھتا 

مگر سردی بہت تھی واپسی ہی مناسب تھی۔۔

آہمونی۔۔ بھاگتے بھاگتے یو آنہ گرپڑی تھی ۔ برف پر بھاگنا آسان ہوتا ہے بھلا؟۔ مگر موت سے بھاگنا ہو تو انسان کانٹوں پر بھی بھاگ سکتاہے۔یو آنہ کی پکار پر چھوٹے بیٹے کو سینے سے لگائے بھاگتی ماں رکی بھی نہ تھی۔۔

نونا۔۔ اسکی بہن ماں سے ہاتھ چھڑاتی رک گئ۔ پلٹ کر اسکے پاس آئی۔۔ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اسکو اٹھانے کی کوشش کرتی۔۔  مینا۔

نیلے پڑے ہاتھ پھٹی فراک اور پھٹا ہوا سوئٹر۔

اسکا دل کٹ گیا۔۔ بے اختیار اس نے اسے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔ ماں کا پرانا سوئٹر اسے اتنا کھلا تھا کہ با آسانی اسکی آٹھ سالہ بہن اس میں سما گئ۔۔ اسے ساتھ لگا کر اس نے سوئٹر کے بٹن بند کیئے۔  ماں چند قدم دور رکی گود میں لیئے ڈھائی سالہ انکے بھائی کو تکے جا رہی تھی۔ پھر جھک کر اسے برف پر لٹایا۔۔ وہ بڑی سی شال جس میں اس بچے کو لپیٹے تھے اپنے گرد پھیلا کر انہیں بلانے لگی۔۔ 

یوانہ چیخ پڑی۔۔ 

آہمونی۔ یہ کیا کیا۔۔ چھوٹے کو بخار تھا اسے برف پر لٹا دیا۔۔ 

ایکدم سے بھاگ کر اسکے پاس جانا چاہا تو بھول بیٹھی ابھی لاڈ میں بہن کو اپنے ساتھ سوئٹر میں گھسایا تھا۔۔ دونوں بری طرح الٹ کر برف پر گریں۔۔ ماں بھاگتی انکے پاس آئی۔۔ 

یوآنہ مینا ٹھیک ہو تم لوگ؟ 

ماں نے جلدی سے یوآنہ کو اٹھایا۔۔ 

لو یہ چادر تم اوڑھ لو اوراپنا سوئٹر مینا کو دے دو۔۔ 

ماں جلدی جلدی اسکا سوئٹر اتار کر مینا کو پہنانے لگی۔۔ سردی نے چوٹ کا درد بھی بھلا دیا تھا۔۔ یو آنہ ماں کی بات سنے بغیر بھائی کی جانب بھاگی۔۔ چندی آنکھوں نیلے ہونٹ والا اسکا بھائی ساکت برف پر سیدھا سیدھا لیٹا تھا۔۔ 

اس نے پیشانی چھوئی ۔۔

ماں اسکا بخار اتر گیا آہمونی۔۔ 

ماں نے بے تاثر انداز میں اسکی بہن کا ہاتھ پکڑا اور کھڑئ ہوگئ۔۔ 

یہ مر بھی گیا ہے یو آنہ۔۔ 

  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جھیل پار کرتے انہیں صدیاں بیتی تھیں۔۔ برفباری پھر شروع ہو گئ تھی۔۔ پلٹ پلٹ کر دیکھتئ وہ بھائی کی لاش جب تک نظر آتی رہی رک رک کر دیکھتئ رہی۔ 

پھر برف نے اسکے بھائی کی قبر بنا دی ہوگی اسکا منظر تو طوفانی ہوا اور برف کے بگولے نے دھندلا دیا تھا۔۔ 

سردی کی شدت انکیلئے اچھی ثابت ہوئی یا بری وہ فیصلہ نہ کر سکیں۔ سردی ان سے انکا بھائی چھین چکی تھی تو بارڈر پر تعینات فوجی بیرکوں میں جا گھسے تھے۔ وہ کب سرحد پار کر گئیں پتہ نہ لگا انہیں۔ چلتے چلتے تھک کر چور ہونے کے باوجود بھی وہ تینوں رکی نہ تھیں۔  نیچے چینی وادی میں بنے گھروں کی چمنیوں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔۔ وہ بس دھوئیں کے تعاقب میں چلتی گئیں۔ صبح کی پیلی دھوپ میں وہ ایک درخت سے کمر ٹکائے سستانے بیٹھیں اور جانے کب سو گئیں۔۔ 

نامانوس سے احساس نے انہیں بیدار کیا تھا۔۔ 

آہجومہ۔۔ ایک چندی آنکھوں والا ادھیڑ عمر شخص انکی ہی زبان میں انہیں پکار رہا تھا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کال بیل کی آواز نے اسکی سوچوں کا تسلسل توڑا تھا۔۔ گوارا ہیون  کو کال ملائے بیٹھئ تھی آواز پر دوڑئ دوڑی گئ دروازہ کھولنے ۔۔ سامنے یون بن  کھڑا تھا۔۔ 

خوشی تو کیا ہونی تھی اسے دیکھ کر الٹا تیوری چڑھ 

گئ۔ اسے بھی اس استقبال کا اندازہ تھا۔۔۔

کیوں آئے ہو؟ گوارا کا انداز پھاڑ کھانے والا تھا

آئی مس یو۔۔ اس نے گہری سانس بھر کر کہا تھا

وے؟ گوارا کے لیئے خاصا غیر متوقع تھا یہ اظہار۔۔

دے۔۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا تھا۔۔ 

یو آنہ نے سخت بد مزا سی شکل بنا کر دیکھا تھا۔۔ وہ گوارا کے پیچھے آئی تھی۔ بہر حال اتنی بھی سخت دل نہیں تھی جتنا سب سمجھ بیٹھے تھے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چائے پیوگی۔۔ 

وہ خاطر مدارت میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہ رہا تھا۔۔کھانا ختم ہوتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

اس نے جھٹ اثبات میں سر ہلایا پھر بلا توقف نفی میں۔۔ 

بنا زبان ہلائئ سرسے جواب دیتی اریزہ کافی دلچسپ لگی تھی اسے۔۔ 

چائے پی لو سردی کم لگے گئ۔۔ 

اس نے کوریائی قہوہ ہی ہاتھ میں اٹھا رکھا تھا۔۔ 

اریزہ کی ناں ہاں میں نہ بدلی۔۔ وہ کھانسی سے مر بھی رہی ہوتی تو کھانسی کا شربت نہیں پیتی تھی کھانسی کے شربت کے ذایقے والا قہوہ چسکے لیکر پینا 

ناممکن۔۔ 

اس نے سوچ کر جھر جھری لی ۔۔ مگر چہرے پر پورا جملہ لکھا تھا۔۔اسکے۔۔ 

علی کو اسکے چہرے میں کوئی اور چہرہ دکھائی دیا۔۔ ایسا آئینے جیسا دل کے جزبات چہرے پر کوئی بھی آرام سے پڑھ لے۔۔ سب لڑکیاں ایک جیسی ہوتی ہیں یا اسکو ہی بس لڑکیوں کی یہی قسم ٹکر جاتی تھئ۔۔ 

اسے مستقل اپنی جانب دیکھتا پا کر وہ تھوڑی گڑبڑا سی گئ۔ اسکا انداز ٹھرکیاںہ نہیں تھا صاف لگ رہا تھا ذہن کہیں اور ہے۔۔ 

اس نے کھنکار کر متوجہ کرنا چاہا۔۔ 

چھوگو۔ ( مرو)  ۔۔ ( چھوگیو : ایکسکیوزمی) 

وہ فورا سنبھلا۔اور حیران ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگا۔میں نے ایسا کیا کہا جو مرنے کا کہنے لگی۔ 

۔ دے۔۔ 

۔علی نے سوچا۔۔اسکی ہنگل اسکو ہمیشہ مشکل میں ڈالتی تھئ سو فورا خود ہی بول اٹھا۔

 وہ اگر آپکو اپنے گھر والوں کو کانٹیکٹ کرنا ہو تو لیںڈ لائن وہ رہی۔۔ اس نے شستہ انگریزئ میں کہہ کر لائونج کی جانب اشارہ کیا۔۔ 

دے۔۔ اریزہ اپنی بات بھول گئ۔ اسکے ہاتھ کے اشارے 

کے تعقب میں مڑ کر دیکھا تو چاولوں کی ٹرے پر نظر پڑی۔۔ 

پیلے چاولوں پر کالی کالی سی چیز۔۔ وہ سرعت سے اٹھی۔۔ 

وہ کالی کالی چیز مانوس سی لگ رہی تھی۔۔ 

اس نے جھپٹ کر اٹھایا تو اسکا فون تین حصوں میں بٹا پڑا تھا۔۔ فون کور اسکرین پروٹیکٹر چکنا چوراور بیچ میں فون۔۔ 

یہ۔۔ وہ روہانسی سی ہوگئ۔۔ 

گرم کھولتا پانی کپ میں ڈال کر قہوہ بناتا علی اسکے پاس ہی چلا آیا ۔ 

یہ بھیگ گیا تھا۔۔ میں نے فورا آف کردیا تھا تھوڑی دیر ڈرائر سے بھی سوکھایا ہے اب آن کرکے دیکھو انشا اللہ آن ہوجائے گا۔۔ 

پورے جملے میں اسے بس انشا اللہ سمجھ آیا تھا۔۔ 

اسکو موبائل کی پڑی تھی۔۔ 

جلدی سے  آن کیا چند لمحے آن ہو کر بند ہوگیا۔  

بیٹری ختم ہوگئ تھی۔۔ وہ وہیں کارپٹ پر بیٹھ گئ۔۔ 

علی تھوڑا سا سٹپٹا سا گیا۔۔ پہلے سوچا جانےدے پھر کہہ ہی بیٹھا۔۔

وہ آپ اس سے ہٹ کر یہاں بیٹھ جائیں۔۔

اسکے اشارہ کرکے کہنے پر اس نے مڑ کر دیکھا۔ وہ موٹا سا رگ تھا مگر تھوڑا سا مختلف۔اس پر مسجد بنی تھی۔۔ 

یہ تو جاء نماز ہے۔۔ ۔ وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ 

دے؟۔ علی کو اسکی زبان نہ سمجھ آئی۔  

بیان۔۔ ۔۔ اس نے سوری کہہ دیا۔۔ 

کوئی بات نہیں۔ آپ نے اگر کسی کو اپنی خیریت کی اطلاع دینی ہے تو دے دیں۔۔

علی نے کہا تو وہ الجھن بھرے انداز میں دیکھنے لگی۔  

فارنرز کے لیئے یہاں کے لوگ کافی مشکوک رہتے ہیں خاص کر اگر آپ ہاسٹل یا اپارٹمنٹ کرائے پر لیکر رہیں۔ اگر آپکو اپنی مالک مکان کو گھر والوں  یا کسی دوست کو اطلاع دینی ہے تو یہ لینڈ لائن استعمال کر لیں

اس نے تفصیل سے دہرایا۔۔تو وہ چپ رہ گئ

میرے لیئے یہاں کون پریشان ہوگا۔ اس نے سوچا۔  

گوارا۔ 

اسکے دماغ کی بتی روشن ہوئی۔ 

مگر اس سے رابطہ کیسے کروں فون نمبر تو سب فون میں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ پریشان نہ ہوں تھوڑا سا صبر سے کام لیں۔۔ہم نے پٹرولنگ کو مطلع کر دیا ہے کسی بھی علاقے سے کوئی اطلاع ملتی ہے تو ہم آپکو مطلع کر دیں گے۔۔ 

وہ اس وقت پولیس اسٹیشن میں بیٹھا تھا ۔آفیسر نے اسکی درخواست پر فوری کام کیا تھا۔۔ اب تسلی دے رہا تھا۔۔

آپ دیکھیں باہر کتنی شدید برفباری ہے۔ وہ ایک غیرملکی ہے یہاں کے راستے زبان یکسر اجنبی ہیں اسکیلئے وہ اس برفباری میں بھٹک نہ رہی ہو آپ اسے ڈھونڈیے 

دیکھیں ہم نے ہاسپٹلز میں اطلاع دے دی ہے ایمرجنسی میں فی الحال آپکی بتائی گئ معلومات کے مطابق ایسی کوئی غیر ملکی لڑکی نہیں آئی ہے۔ اور برفباری شدید ہے ایسے میں یقینی طور پر کسی ریستوران ہوٹل یا سرائے میں پناہ لے رکھی ہوگئ ایسے موسم میں رعائیت کر دیتے ہیں خاص کر غیر ملکیوں کے ساتھ۔ آپ اتنے فکر مند نہ ہوں۔

لب لباب یہ تھا خدارا ہوش کے ناخن لو سر نہ کھائو

آپ نے سیل فون سے ٹریس کی لوکیشن؟؟؟ 

اس نے بے تابئ سے سوال کیا۔  

سیل فون آف ہے آخری بار جس ٹاورسے سگنل ملے ہیں 

وہ مین کنگنم ہے ۔۔ یہاں سے رہائشی علاقہ قریب ہے۔ یقینا انہوں نے اسی علاقے میں کہیں کسی گھر میں پناہ لے لی ہوگی برف۔۔۔ 

اسکا جملہ مکمل ہونے سے پہلے بجلی کی تیزی سے ہیونگ سک نے اپنا موبائل اور چابی اٹھائی تھی اور باہر بھاگا تھا۔۔ 

آفیسر ہکا بکا دیکھتا رہا۔۔ 

اب اتنی برفباری میں نکلا ہے ایک اور ایکسنڈنٹ کی رپورٹ تیار کرنی پڑ جانی ہے ہمیں۔۔ 

وہ بڑ بڑا کر رہ گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علی نے اپنا موبائل چارجنگ سے نکال کر چارجر میں اسکا موبائل لگا دیا تھا۔۔ 

 گونو وویو۔۔ 

اس نے شکریہ ادا کیا تو علی ہنس پڑا۔  

گومو وویو۔۔ 

اس نے کوریائی لہجے میں دہرایا۔۔ جوابا اریزہ نے تھوڑا سا برا مانتے ہوئے بالکل صحیح انداز میں لہجے کی نقل کی۔۔ 

واہ۔۔ تمہارا لہجہ کافی  رواں ہے۔۔ فارنرز کیلئے صحیح ادائیگی مشکل کام ہوتا ہے۔۔۔ علی جانے سچ مچ متاثر 

ہوا تھا یا یونہی بات بڑھانے کو لگا ہوا تھا۔۔

آپکی انگریزی رواں ہے ورنہ یہاں کے لوگوں کا لہجہ پینڈو سا ہوتا یے۔۔ 

وہ بھی روانی میں کہہ گئ۔۔ 

پینڈو؟؟ اسے سمجھ نہ آیا۔  

اب پینڈو کو انگریزی میں کیا کہیں گے۔۔ وہ بڑ بڑائی

نتھنگ۔۔ ذیادہ دماغ پر زور دینا اسے کبھی پسند نہیں رہا تھا۔۔ 

تم اگر چاہو تو اندر کمرے میں جا کر آرام کر لو۔۔ 

علی نے کہا تووہ چونکی

ساڑھے گیارہ بج رہے تھے یقینا یہ اسکے آرام کا وقت تھا۔ وہ شرمندہ ہو گئ  

آپ آرام کر لیں اپنے کمرے میں جا کر آرام سے میں بس موبائل چارج ہو جائے تو جانا چاہوں گی۔آپ میری وجہ سے اپنی نیند نہ خراب کریں۔ 

اسے خیال آیا ایک کمرے کے اپارٹمنٹ میں وہ یقینا اسکی وجہ سے بے آرام تھا۔۔ 

میں انسومینیا کا شکار ہوں میں سوتا نہیں ہوں۔ علی سادہ سے انداز میں بتاتا چائے کا خالی کپ رکھنے اوپن کچن میں چلا گیا۔۔ 

آپ کیا کرتے ہیں؟؟؟ اس کو خیال آیا۔۔ 

بزنس ماسٹرز ہوں۔ وہ مسکرایا   

ساتھ گیسٹ لیکچرر ہوں ایک اکیڈمی میں ساتھ ساتھ ایک ریستوران شروع کیا ہے جس میں حلال کورین  فوڈ پیش کی جاتی ہے۔۔ یہ جو ابھی اسٹیک کھایا ہے آپ نے خالصتا کوریائی ٹچ کے ساتھ میری ذاتی ترکیب سے بنا ہے۔۔

پھر تو آپکا ریستوران چلتا ہی نہیں ہوگا۔۔ 

اس نے جھٹ خیال ظاہر کیا

کیوں؟۔ وہ حیران ہوا۔۔ 

حلال فوڈ مسلمان ڈھونڈتے ہیں اور یہ ٹھہرا نان مسلم ملک۔۔ مانگ ہی نہیں ہوگی اس طرح کے کھانے کی۔۔

اس نے وجہ بھی بتادی۔۔ 

علی نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا وہ۔ کھانے کے برتن سمیٹ رہا تھا ساتھ ساتھ اس سے باتیں بھئ کر رہا تھا۔۔۔ 

ایسی بات نہیں ہے  خوب چلتا ہے۔دراصل۔ مسلمان حلال کے سوا نہیں کھاتے مگر نان مسلم کو تو حلال حرام سے فرق نہیں پڑتاوہ حلال فوڈ بھی کھا لیتے ہیں بلکہ ۔۔ میرے ریستوران میں تو اکثر وی لاگر حلال فوڈ کھانے آتے ہیں اور انکے ریمارکس پر میرے ریستوران پر کسٹمرز بھئ کافی بڑھے ہیں۔۔

اچھا بڑی بات ہے۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔

ایک بار تو مجھے ایک کسٹمر نے آکر حلال پورک اسٹیک کی فرمائش بھئ کی۔۔

وہ ہنستے ہوئے بتانے لگا۔ 

اریزہ بھی ہنس پڑی۔۔اسکا موبائل جان پکڑنے لگا تھا۔ اس نے فورا بٹن دبا کر آن کردیا 

آپ سوچ رہی ہوں گی اسمیں ہنسنے کی کیا بات ۔۔ در اصل مسلمان پورک نہیں کھاتے۔ مکمل منع ہے انکیلئے پورک کھانا۔ حلال فوڈ سے مطلب کوئی نیا فلیور نہیں ہوتا بلکہ جانور کی گردن کی رگیں کاٹ کر اسکی جان لینا وہ بھی اسم الہی کے ساتھ۔۔ اسے حلال کرنا کہتے ہیں۔۔ 

اس نے تفصیلی جواب دیا تھا۔ 

میں جانتی ہوں۔۔ میں بھی۔۔ اریزہ نے  بتانا چاہا تبھئ اسکا موبائل بج اٹھا۔۔

اس نے آگے بڑھ کر نام دیکھا لکھا تھا

ہیون کالنگ۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدھے گھنٹے میں وہ اسکے سامنے تھا۔

تم ٹھیک ہو،؟۔

وہ فکرمند تھا

بالکل۔ ان صا حب نے بہت خیال رکھا میرا۔اس کے کہنے پر ہیون کو خیال آیا

 شکریہ یار ۔۔

بیٹھو کافی پی لو۔۔۔ 

وہ محظوظ انداز میں اسے دیکھ رہا تھا۔

پریشان حال بکھرے بال جن پر برف بھی پڑی تھی۔ اتنا اجڑا پجڑا ہیون نامانوس تھا اسکیلیئے۔۔

نہیں۔ بس اب چلتے ہیں ہم۔ ہیون نے کہا تو اریزہ نے مڑ کر کوریائی انداز میں جھک کر آننیاگ واسے او کہا۔

علی نےاسے اسی کے انداز میں جواب دے کر ہیون کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور جان کر ہنگل میں بولا۔

مجھے اندازہ ہوتا تو سب سے پہلے تمہیں اطلاع دیتا۔ پھر بھی تمہیں مجھ سے بات کرکےاطمینان ہوجانا چاہیئے تھا اتنی برفباری میں ڈرائیو کرکے یہاں آئےہو۔ یہ لڑکی دوست سے کچھ ذیادہ ہے ہے نا؟۔۔

اسکا انداز چھیڑنے والا تھا۔۔ 

ہیون جھینپ سا گیا۔۔ 

بہت ذیادہ۔۔ 

اس نے سچے دل سے کہا تھا۔۔ 

دونوں ہی ہنس دیئے۔۔ انکے ہنسنے پر اریزہ نے مڑکر 

دیکھا

فیس بک پر جانے کس صدی کی تصویر لگائی ہے اصل میں تو ٹھیک ٹھاک وجیہہ اور مہربان سا ہے۔۔۔

اس نے سوچا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم مجھے کال کر لیتیں ۔۔ آج تو برفباری بھی یکدم سے بہت شدید شروع ہوگئ ہے۔۔ اسکیلئے دروازہ کھولتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔گاڑی میں بیٹھ کر اس نے سب سے پہلے ہیٹر آن کیا تھا۔۔ 

معزرت۔۔ وہ بس کہہ کر چپ ہوگئ۔۔ 

بندہ ویدر فارکاسٹ ہی دیکھ لیتا ہے۔گرم کپڑے پہن کر نکلتا ہے۔۔ ابھی سیول میں شدید سردی پڑنی شروع بھی نہیں ہوئئ۔۔ اوپر سے موبائل بند گوارا وہاں الگ پریشان ہو رہی ہے۔۔ ہم سب کو فکر یہ تھی کہ راستے نہیں یاد یہاں کے۔ہنگل بھی نہیں آتی تمہیں۔۔ کسی مصیبت میں نہ پھنس گئ ہو۔۔اور ہمارا اندازہ صحیح نکلا۔ چوٹ اندرونی ہے یا خون بھی نکلا؟

وہ یقینا کافی پریشان ہوا ہوگا جبھی نان اسٹاپ بولتا گیا۔۔ اسے اپنی غلطئ کا اندازہ تھا

نہیں خون نہیں نکلا۔ 

اس نے دھیمی آواز میں جواب دیا

 بہت قسمت اچھی تھی جو جون جے مل گیا۔۔ ایک تو رج کے شریف اوپر سے انگریزی بھی آتی ہے اسے۔۔۔ تم۔۔ 

بولتے بولتے اسکی نظر اریزہ پر پڑی تو یکدم چپ ہو رہا۔۔ وہ آنکھیں پونچھ رہی تھی۔ ۔ وہ چلا نہیں رہا تھا اسے عادت ہی نہیں تھی پھر جملے بھی سخت نہ تھے اسکا رو پڑنا غیر متوقع تھا۔۔ برفباری کی شدت میں کمی آچکی تھی۔اس نے راستے میں ایک۔طرف کرکے گاڑی روک دی۔۔  آنسو پونچھتے سر اٹھایا تو چونکی۔۔ مڑ کر ہیون کو دیکھنے لگی۔۔ 

وہ اسکے متوجہ ہونے کا ہی منتظر تھا۔۔ فورا معزرت کرنے لگا۔۔

بیانیئے۔ میں شائد زیادہ بول گیا۔۔ 

اریزہ چپ چاپ اسے دیکھتی گئ۔۔ اسکے چہرے پر فکر پریشانی خیال کیا کچھ نہ تھا اسکے لیئے۔۔ اسے تو لگا تھا یہاں اسے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے جبکہ یہاں اسکیلئے پریشان ہونے والا دوست تھا فکر کرنے والی بہن جیسی گوارا بھی تھی۔۔اسکے اپنے دوست سہیلی جانے کہاں تھے کیا کر رہے تھے۔۔اسکی آنکھیں لبا لب بھر گئیں۔۔

نہیں تمہیں معزرت کرنے کی ضرورت نہیں۔

وہ اور شرمندہ ہوگئ

 بس وہ مجھے شرمندگی ہورہی ہے میری فالتو سی ضد کی وجہ سے تمہیں اتنی زحمت ہوئی  آئم سوری۔۔

برفباری سردی تنہائی کیسے انسان کو بےبس کرتی ہے وہ بخوبی جانتا تھا۔۔ وہ  اسی تکلیف میں مبتلا کسی اور کو سہارا دینے کو بڑھا۔۔ اریزہ نے اسی وقت رخ پھیر کر ڈیش بورڈ پر رکھے ٹشو باکس سے دھڑا دھڑ ٹشوز نکال کر آنسو پونچھ ڈالے۔۔ 

میں سوچ بھئ نہیں سکتی تھی برفباری دیکھنے کا شوق میرا ایسے تکلیف دہ انداز میں پورا ہوگا۔۔ 

وہ روانی میں چڑی چڑی سی بولی۔۔ 

ہیون کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔ رخ پھیر کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔۔

اریزہ کو یاد آئیں اپنی بڑکیں سینٹڈ نالہ برفباری ۔۔ اسے خفت سی محسوس ہوئی۔۔مگر مقابل ہیون تھا ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اریزہ۔۔

لپٹ کر کہہ رہی تھی۔۔۔یوآنہ کمرے سے اٹھ کر آئی تھی انہیں لائونج میں بخیریت دیکھ کر سر جھٹکتی واپس کمرے میں جا گھسی سر تک کمبل بھی تان لیا۔ 

تمہیں پتہ ہے کتنا پریشان تھی میں تمہارے لیئے۔۔ 

سوری۔۔ وہ اور کیا کہتی۔۔ 

اور یہ کیا پہن رکھا ہے۔ وہ اس سے دور ہو کر جائزہ لینے لگی۔۔ 

وہ یہ۔۔ اریزہ ایکدم سرخ پڑ گئ۔۔ 

برفباری سے کپڑے گیلے ہوگئے تھے تو جون جے نے اسے اپنے کپڑے دیئے تھے۔۔ ہیون کی جانب سے جواب آیا تھا۔۔ 

اور تم تم بھی لے لیتے جون جے سے کپڑے۔ یہ بوتھا کپڑے پہنے بیماری کو دعوت دے رہے ہو۔۔ سچ بتائو اریزہ یہ سڑک پر دیوانہ وار پکارتا تو نہیں پھر رہا تھا تمہیں جو اتنا بھیگا ہوا ہے۔

گوارا نے اسکو تادیبی نظروں سے دیکھتے بلا لحاظ تبصرہ جڑا تھا۔۔ ہیون ایکدم سرخ پڑا تھا تو یون بن نے منہ پھیر کر مسکراہٹ ضبط کی۔۔ اریزہ نے اب غور کیا تھا۔ اسکی جیکٹ بال سب گیلے تھے۔۔

ہاں تو تین اسپتالوں کے چکرلگائے پولیس اسٹیشن کا الگ دورہ کیا۔ میرے لیئے کوئی چھتری لیئے اوپا 

تھوڑی کھڑ ا ہوتا تھا۔۔ 

ہیون تیز ہو کر بولا تھا۔۔ خفت سے لال چہرے پر بگڑ کر بولتا اسکا بس نہیں تھا گوارا کو کچا چبا جائے۔۔ اریزہ کو بھی بے ساختہ ہنسی آگئ تھی جسے اس نے چھپانے کی کوشش نہ کی۔۔ یون بن  اپنے دوست کی مدد کو آیا۔

چلو میں اپنے کپڑے دوں تمہیں۔۔ یون بن اسے بازو سے پکڑ کر کھینچ لے گیا۔۔

یون بن ؟ اریزہ کا چہرہ سوالیہ نشان بنا۔۔ 

ہم میک اپ بریک اپ کرتے رہتے ہیں۔۔۔ گوارا ہنس دی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح مطلع صاف تھا۔۔دھوپ نکل آئی تھی۔۔ اسکے سوا سب گہری نیند میں تھے۔ وہ اپنے آپکو بالکل تازہ دم محسوس کر رہی تھی ۔۔ ساری رات اسے بالکل نیند نہ آئی جیسے ہی پو پھٹنے لگی احتیاط سے بیڈ سے اتری اور کمرے سے باہر نکل آئی۔ یون بن  اور ہیون لائونج میں بستر بچھائے بے خبر تھے۔۔ وہ باہر ٹیرس میں چلی آئی۔ سورج نکل رہا تھا۔ وہ بڑے غور سے اسے دیکھنے لگی۔۔  دھلا دھلایا سیول اور نکلتا ہوا نارنجئ سورج ۔۔ اس نے جھٹ تصویر کھینچی۔۔ 

ہر برفباری کے بعد ایک چمکیلا سورج منتظر ہوتا ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ برفباری سہہ جائیں ۔۔ 

اس نے لکھ کر تصویر چڑھا دی۔۔ 

اسکے بلاگ پر اس وقت لوگ نہیں تھے۔۔ 

اس نے بور سا ہو کر بلاگ بند کر دیا۔ تبھی بلاگ کی اطلاعی گھنٹی بجی تھی۔۔

موسم باہر کے تو بدلتے رہتے ہیں اندر مگر کوئی موسم ٹھہر جائے توکیا کیا جائے۔۔ ؟؟؟

 علی۔۔۔۔ 

یہ۔اس وقت جاگ رہا ہے؟ واقعی انسومینیا ہے کیا اسے۔۔ 

اسے حیرت ہوئی تھی۔

میرے اندر کا موسم خود اداس سا ہے تمہیں کیا مشورہ دوں۔۔ 

اس نے گہری سانس لی۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ پہلی بار تھا کہ بلاگر نے اسکو جواب نہیں دیا تھا۔۔ علی چند لمحے انتظار کرتا رہا پھر موبائل بیڈ پر رکھتا بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ 

 کمرے کی کھڑکی سے پردےہٹا کر نکلتے سورج کو 

دیکھنے لگا۔۔ سول کا سورج تصویر سے کہیں ذیادہ دلکش لگ رہا تھا۔۔

وہ کتنی ہی دیر ابھرتے سورج کو دیکھتا رہا۔۔ سورج کی نرم گرم سی دھوپ اسکے اندر جمی برف پگھلا نے لگی تھی مگر ابھی اسے احساس نہیں ہوا 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد۔ 

جاری ہے۔۔ 

kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ? Rate us below

Rating
Home » Areeza

Salam Korea Episode 29

salam korea 

by vaiza zaidi

قسط 29

salam korea episode 29

آجکا بس کا سفر خوشگوار تھا۔ رش کم تھا یا اسکی قسمت اچھی تھی بیٹھنے کی جگہ مل گئ۔ بس سے اتر کر اس نے سب سے پہلے اپنا کندھا تھپکا

شاباش اریزہ ۔ تم خود مختار ہو تی جا رہی ہو۔ 

بس اسٹاپ کی تصویر کھینچی اسی وقت بلاگ پر لگائی

صبح کا وقت جاب شروع مجھے اچھی سی دعا دو سب کہ آج کا ٹارگٹ میں پورا کر لوں۔ 

سر جھکائے لکھتے ہوئے چلتے چلتے اپلوڈ کیا سر اٹھایا ٹھک سے مارٹ کی  گلاس وال سے سر لگا کھسیا کر سر سہلاتے وہ خراماں خراماں چلتی اندر داخل ہوئی۔ 

اپنے اسٹال کو سیٹ کیا سکون سے کھڑی ہوئی پھر اگلے دو تین گھنٹے خاموش یونہی کھڑی رہی مجال ہے جو کوئی آیا ہو سیریل لینے۔ ایک خاتون آئیں بھی تو گھنٹہ اسے یہ سمجھانے میں لگ گیا کہ یہ سیریل ڈائٹ سیریل نہیں بچوں کیلئے ہے۔  

دے۔۔ اس سے اچھی طرح بات سمجھ کر اپنے بچے کا پرام دھکیلتی آگے بڑھ گئ۔ 

محترمہ بچے کیلئے تو لے لیں۔ 

اس نے پکار کر کہا مگر وہ ان سنی کر گئ۔ اسکا منہ بننے لگا۔

حد ہے ویسے انکو پہلے اشتہار وغیرہ چلانے چاہیئے تھے پھر فری سیمپلنگ کرتے یہاں کی عورتوں کو تو انگریزئ بھی نہیں آتئ ۔ اس نے منہ بنایا۔ 

تبھی ایک چار پانچ سال کا بچہ اسکے لانگ ٹاپ کے دامن  کو کھینچ کر اسے متوجہ کرنے لگا

گورا چٹا گول مٹول اس نے بے ساختہ اسکے گال پر چٹکی سی بھر لی۔ 

یہ کھانا۔ اس نے کچھ اشارے اور ہنگل سے سمجھایا اس نے بھی جھٹ اسے اٹھا کر بچوں والی کھانے کی کرسی پر بٹھایا اور پیالہ بنا کر اسکے آگے رکھا۔ بجائے کھانے کے وہ ٹکر ٹکر دیکھنے لگا۔ 

کھائو نا۔ 

اس نے چمکار کر کہا۔ 

تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔ ایڈون کا میسج تھا مختصر مگر سنجیدگی سے بھرپور

تمہاری ہر طرح کی مدد کا میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں بہت شکریہ۔ 

انگریزی میں پیغام تھا۔ اس پر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔ 

اتنے دنوں سے روز سوچتی تھی کہ سنتھیا سے ملنے جائے مگر اس نوکری کی وجہ سے فرصت کہاں تھی۔ اس نے شرمندگی سے سر کھجایا۔ 

آج پکا جائوں گی اس سے ملنے۔ اس نے مصمم ارادہ کیا۔ سر اٹھایا تو اس ننھی مخلوق کو بسورتا پایا۔ چمکارا

کیا ہوا؟ ۔۔ 

وہ۔۔ اب اس نے انگلی کے اشارے سے کہا تو اس نے اسکی انگلی کی سیدھ میں دیکھنے کو اسکے کندھے پر تھوڑی ٹکائی۔ اس ننھی مخلوق کا اشارہ اس چھوٹے سے ٹیڈی بئیر کی جانب تھا جسے پانچ پیکٹ اکٹھے لینے والی خاتون کو تحفتا دینا تھا۔ ٹیڈی بئیر ابھی تک سب یونہی سجے بیٹھے تھے۔ کسی نے لیا بھی تو ذیادہ سے ذیادہ دو پیک لیئے۔ 

اس نے گہری سانس بھر کر ٹیڈی بئیر اتار کر اسے تھمایا اس نے نہایت خوشی سے ٹیڈی بئیر تھاما اور پیالہ آگے کھسکا دیا۔ 

یہ بھی کھا لیتے مزے کا ہے۔ 

اس نے پیالہ اٹھاتے ہوئے یونہی چمچ بھر کر منہ میں رکھ لیا۔ 

واقعی مزے کا تھا۔ ہلکا پھلکا سا میٹھا فلیور شائد ونیلا تھا۔ 

اسکے تاثرات نے بچے کو للچایا جھٹ منہ کھول لیا۔ اپنا چمچہ اس نے لمحہ بھر سوچا پھر ایک طرف رکھ کر نیا چمچ نکال کر اس کو چمچ بھر کر کھلایا ۔ 

بچے نے اطمینان سے چبایا اور نگل کر روتی صورت بنا لی

کیا ہوا مجے مجے کا ہے۔۔ 

اسکے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ 

جھٹ خود ایک چمچ کھا کر تالی بجائی جیسے کھا کر بہت خوشی ہوئئ ہو۔ 

مجے مجے کا۔۔ 

بچے نے دہرایا پھر ہمکنے لگا  

اب کیا کروں تمہارے ساتھ کھانا وانا ہے نہیں رونے کو تیار بیٹھے ہو۔ چاہ کیا رہے ہو۔ اب یہ ٹیڈی بئیر بھی لے تو لیا۔

وہ اس سے سنجیدگئ سے پوچھ رہی تھی۔ 

بچے نے اسکی سب اردو خاموشی سے سنی چمچ بھر کر منہ میں رکھا اور اسے پھر اشارہ کرنے لگا زور زور سے تالی بجا کر

کیا ؟ میں بھئ بجائوں؟ 

وہ حیران ہوئی ۔ ہلکی سی تالی بجائی بچے نے خوش ہو کر قلقاری ماری ۔ پھر چمچ بھر کر منہ میں رکھا۔ 

مجے مجے کا۔ 

اس کے منہ سے مجے مجے کا اتنا مزے کا لگا کہ اسکی ساری کلفت دور ہوگئ۔ اسکے نوالہ لینے پر اس نے خوش ہو کر تالی بجائئ۔ پھر اس بچے نے پورا پیالہ  ختم کیا اور ہر نوالے پر اس سے تالی بجوائی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس کے اسٹال سے کچھ ہی فاصلے پر موجود اسٹاف کے کیبن کی گلاس وال سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ہاتھ میں کین پکڑے وہ پینا بھولے ہوئے تھا۔کم سن اس سے کچھ فاصلے پر اپنی ریوالونگ چئیر پر بیٹھا اسکے دو سینئر افسران سے بریفنگ لے رہا تھا۔ ان دونوں نے بات کے دوران اس کی جانب تھوڑا حیران ہو کر دیکھا تھا۔ اس میٹنگ میں اصل کام ہایون کا ہی تھا مگر وہ یوں بے نیاز کھڑا رہا تھا۔ کم سن نے اسکی جانب دیکھا پھر گہری سانس لیکر ان دونوں کو جانے کا کہہ دیا۔ دونوں جھک جھک کر اس کو سلام کہتے نکل گئے تو وہ دبے قدموں اسکے پاس آیا اور جان کے ایکدم سے اسکے کان کے پاس بولا

تم پہلے بتاتے تو میں سی سی ٹی وی کی پوری چھے گھنٹے کی ریکارڈنگ بھجوا دیتا بلکہ کہو تو کل سے یہاں کہیں ہڈن کیمرہ لگوا دوں لائیو دیکھ لیا کرنا اسے۔ 

ہایون اسکے ایکدم سے کان پر بولنے پر کان سہلانے لگا۔ 

اتنی دیر میں بس ایک بچہ ہی کھا رہا ہے سیریل ۔ یہ سیریل بکتا نظر نہیں آرہا مجھے تمہارا ٹارگٹ اسکی وجہ سے پورا نہیں ہوگا تو میں پیسے نہیں دوں گا۔ 

نہایت سنجیدگی سے اس نے کہا تو کم سن نے اسکو تادیبی نگاہوں سے گھورا۔ 

اسکو بکوانا کوئی مسلئہ نہیں مگر یہ بتائو تمہیں میرا ٹارگٹ پورا نہ ہونے کی فکر ہے یا اسکے؟ 

کم سن بھئ ایک کائیاں تھا۔ 

تمہارا ٹارگٹ بھئ اسکا ٹارگٹ پورا ہونے سے ہی جڑا ہے۔ 

ہایون بھی اتنی آسانئ سے ہاتھ آنے والا نہیں تھا۔ 

کم سن نے شاکی نگاہ ڈالی اور اپنی جیب سے موبائل نکال لیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس بچے کو کھاتے دیکھ کر کئی بچے آجمع ہوئے تھے۔ انکی والدائیں بھی۔ دھڑا دھڑ اسکے ڈبے بکے۔ وہ والا ٹیڈی اس نے خوش ہوکر یونہی اس بچے کو تھما دیا تھا۔ وہ بے تحاشا خوش ہوا تھا۔ اسکی ماں جھک جھک کے گھمسامنیدہ کہتی گئ تھئ۔ پانچ ڈبے رہ گئے تھے بس۔ وہ خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی۔ پہلا دن تھا ٹارگٹ پورا ہونے کا۔ شائد۔ ابھی تین گھنٹے مزید تھے پانچ تو بک ہی جاتے۔ 

وہ مطمئن ہوگئ ۔ ایک سوچ یہ بھی آئی کہ یہ پانچ خود خرید لے۔کیونکہ۔ اس نے دزدیدہ نگاہوں سے ٹیڈی بئیر کو دیکھا پھر پلاسٹک ریپ سے سجا ٹیڈی بئیر اٹھا لیا۔ 

یہ بہت ہی پیارا تھا۔ گول مٹول سا بڑی بڑی آنکھیں کھول کر دیکھتا۔ 

وہ چند لمحے اس کو دیکھتی رہی  پھر واپس رکھ کر مڑی تو سامنے کائونٹر پر نسبتا دو بڑے بچے آبراجمان ہوئے تھے۔ چندی آنکھوں کے ساتھ معصومیت سے تکتے۔ ایک نے بچکانہ آواز میں ہنگل میں فرمائش داغئ

آہجومہ ہمیں سیریل کھلائو۔ 

آہجومہ کو خاک سمجھ آئی ہوگی اس سے انگریزی میں بولو۔ 

ایک نے دوسرے کو ٹوکا۔ تو دوسرے نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا

آہجومہ پلیز ۔۔ 

ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا انگریزی میں کہ آہجومہ آگ بگولا ہوگئیں۔

اس نے دونوں ہاتھ کمر پر ٹکا کردانت کچکچا کر پوچھا۔ 

آہجومہ کسے بولا؟ 

وہ لڑنے کیلئے تیار تھی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھئ ذیادہ دیر نہیں ہوئی تھی۔ دونوں کے باہمی اجازت نامے کے ساتھ مکمل معائنے کے بعد دو دن بعد کی انکو آپریشن کی تاریخ دے دی گئ تھی۔ نہایت پیشہ ورانہ انداز میں ڈاکٹر نے ان کو سب تفصیل بتائی تھی۔ ایڈون ہر بات پر سر ہلاتارہا تھا۔ وہ اسکو چپ سی دیکھ رہی تھی۔ ایڈون مطمئن بلکہ خوش کہنا مناسب ہوگا لگ رہا تھا۔ کلینک سے نکل کر باہر آتے بس میں بیٹھتے اسکے ایک ایک قدم پر ایڈون نے اسکا خیال رکھا تھا۔ جیسے وہ کانچ کی بنی ہو۔ اسے اسکی یہ توجہ احتیاط خیال کھلا تھا مگر اس نے ظاہر نہ کیا۔ ایڈون پورا راستہ بولتا آیا تھا۔

آج کی تو چھٹئ ہوگئ اب کل جاکر پرسوں کی چھٹی مانگوں گا تو جانے دیں گے کہ نہیں خیر کوئی نہ کوئی جگاڑ لگا لوں گا۔ تم فکر نہ کرنا میں تمہارے ساتھ ہی آئوں گا۔ 

وہ ان سنی کرکے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ آج سورج نکلا ہوا تھا نرم گرم سی دھوپ اچھی لگ رہی تھی اسکو نیند سی آنے لگی۔ کہ ایڈون کی اگلی بات نے اسکی آنکھیں پٹ سے کھول دیں۔

میں نے اریزہ کو شکریہ کہہ دیا تھا۔ میسج پر۔ کال بھی کروں گا۔بلکہ آپریشن کے بعد ہم دونوں اریزہ سے ملنے جائیں گے۔ 

کیوں؟ اسکا کس بات کا شکریہ؟ 

وہ فورا مڑ کر پوچھنے لگی۔ 

اسی کے سمجھانے پر مانی ہو نا میں نے ہی اس سے کہا تھا بات کرے تم سے شائد تمہیں اسکی بات سمجھ آجائے۔  ۔ ورنہ میں تو سمجھا سمجھا کر تھک گیا تھا تم سن ہی نہیں رہی تھیں۔ 

ایڈون کا انداز سادہ سا تھا۔

تم نے اریزہ کو سب ۔۔ 

اس نے تاسف سے دیکھا۔ ایڈون نے اب اگلی بات شروع کردی تھی اس نے رخ موڑ لیا۔ 

میرے پاس ویسے پیسے تو ہیں مگر آپریشن کے خرچے کے بعد بالکل ختم ہو جائیں گے۔ ایڈوانس لینے کی کوشش کروں گا دیکھو کیا بنتا۔ 

بس انکے اسٹاپ سے کہیں پہلے رکی تو وہ اٹھ کھڑا ہوا

سنتھیا حیرت سے اس سے پوچھنے لگی

یہ ہمارا اسٹاپ تو نہیں ۔ 

یہاں کچھ کام ہے۔ 

وہ اسکا ہاتھ تھامنے کو ہاتھ بڑھائے تھا۔ اس نے اسکا سہارا لے لیا۔ ایڈون اسے گنگم کے بازار میں لیکر آیا تھا۔ سوئی سے ہوائی جہاز تک بچوں کے ہی سہی دنیا کی ہر چیز بک رہی تھی۔ وہ بہت اشتیاق سے دیکھتی آئی۔ پورا بازار چلا کر وہ اسے ایک دکان کے پاس لایا تھا۔ نئی پیکنگ میں تھوک کے حساب سے سویٹ پینٹ شرٹس سرما کے جیکٹس اپر ہر قسم اور ڈیزائن کے موجود تھے۔ 

دو سویٹ سوٹس ایڈون نے خود ہی ڈھیلے ڈھالے اسکے لیئے منتخب کیئے ایک جیکٹ اسے پسند آگئ ۔ 

یہ کوٹ ذیادہ گرم لگ رہا ہے۔ ایڈون نےکوٹ اٹھا کر اسکے ساتھ لگایا ۔ کوٹ واقعی کافی موٹا اور لانبا تھا گھٹنوں تک آتا۔ 

اس نے جیکٹ واپس رکھ دی۔ ایڈون  نے دونوں شاپر اٹھا لیئے تھے۔ 

دکان میں ٹاپس بھی تھے ٹائٹس بھی۔ وہ بس دیکھ کر ایڈون کے ساتھ آگے بڑھ آئی

اب جوتوں کی باری تھی۔ ایڈون کو جوگرز  پسند آرہے تھے جبکہ اسے کورٹ شوز۔ اس نے جوگرز ہی لے لیئے۔ 

یہ گرم رہیں گے ۔ ایڈون نے بتایا وہ سر ہلا کر رہ گئ۔ 

اسکو شدید تھکن ہو رہی تھی۔ سردی بھی لگنے لگی تھی۔ اس وقت وہ جینز اور گرمیوں کے اچھے وقت کے لیئے ٹاپ میں ملبوس تھئ اوپر سے اس نے ایڈون کا جیکٹ پہن رکھا تھا جو اسے اب سردی کیلئے ناکافی لگنے لگا تھا۔ 

ایڈون کو خود بھئ شائد سردی لگنے لگی تھی۔ 

سوپ پیوگئ؟ 

چلتے چلتے اس نے پوچھا اس نے بس سر ہلایا۔ اسکی ناک سرخ ہوگئ تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راستے سے کچھ پھل جیسے د وتین کیلوں اور دو تین سیب کی پیکنگ گلوکوز انرجی ڈرنک دودھ ایک ٹانک بھی ڈاکٹر نے لکھا تھا ۔ سب چیزیں لا کر اس نے اسکے کمرے کی میز پر رکھی تھیں۔ کمرے میں حبس تھا اس نے فورا جیکٹ اتاری اور بیڈ پر بیٹھ گئ۔ 

اور بھئ کچھ چاہیئے ہو تو بتا دینا۔ 

اسکی شاپنگ کے بیگز اس نے میز کے نیچے بنی جگہ میں گھسا دیئے تھے۔ پھر ہاتھ جھاڑ کر اپنا اپر اتارا۔ 

یہ تم رکھ لو رات کو سردی لگے تو پہن لینا۔ اس نے اسکے تکیئے کے پاس رکھتے ہوئے ہدایت کی پھر جیکٹ اٹھا کر نکلنے لگا۔ 

رات کیلئے کچھ کھانے کو لانا ہوگا بس اب۔ 

اس نے کہا تو ایڈون نے مڑ کر یوں دیکھا جیسے کہہ رہا ہو اس سب کے بعد رات کو بھی کھانے کی پیٹ میں جگہ ہوگی؟ 

سات بج تو رہے ہیں کھا کر سوجانا ویسے میں اکیڈمی سے واپسی پر دیکھوں گا کوئی کیک رس وغیرہ لیتا آئوں گا۔ 

وہ جانے لگا تو اسےپھر خیال آیا۔ 

سوئٹر تو کوئی لی نہیں۔تم اپر دے جائو گے تو خود کیا کروگے؟  یہاں ٹھنڈ بہت ہے اور بس یہ دو ہی سویٹ سوٹس ہوںگے میرے پاس۔ مجھے ڈریس لینا تھا۔ میں پاپا سے کہتی ہوں اور پیسے بھجوادیں۔ 

سنتھیا کی بات پر وہ سر کھجا کر رہ گیا۔ 

ابھی گزارا کر لو۔ انہوں نے شاپنگ کے پیسے جو بھجوائے تھے یہ وہی خرچ ہو رہے ہیں۔ مزید مانگو گی انکو شک ہوگا کیوں چاہیئیں۔ وہ یہی سمجھ رہے ہیں تم فلیٹ لیکر رہ رہی ہو اریزہ کے ساتھ جسکی وہ خاصی رقم بھجوا چکے ہیں۔ 

تو کیا ہوئی وہ رقم؟ خرچ تو نہیں کی ہے تم نے میری شاپنگ پر۔ 

وہ ایکدم تیز ہو کر بولی۔

کتنی دفعہ سمجھائوں یہ جو مصیبت مول لی ہے اس سے چھٹکارے کیلئے بچا رکھے ہیں۔ کوئی اندازہ ہے کتنی ایڈوانس پیمنٹ کی ہے اور کتنے آپریشن میں پیسے لگیں گے؟ 

وہ جھلا ہی گیا۔ سنتھیا ایکدم چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگی تو اسے اپنے لہجے کا احساس ہوا  خود پر قابو پاتا گھٹنوں کے بل اسکے سامنے آن بیٹھا دھیرے سے اسکا ہاتھ تھام کر سمجھانے والے انداز میں کہنے لگا

مجھے اندازہ ہے کپڑے سویٹر جیکٹ اس سب کی فوری ضرورت ہے مگر ابھی گزارہ کر لو۔ بس چند دن کی بات ہے۔ تم اسکے بعد پاکستان چلی جانا آرام کرنا جب تک  اگلے سمسٹرکی باری آئے گی تب تک تمہاری صحت بھی بحال ہو جائے گی۔ پھر چاہو وہیں ڈگری مکمل کرلو یا یہاں کی اسکالر شپ کیلئے دوبارہ اپلائی کر دینا۔

مجھے پاکستان نہیں جانا۔ 

اس نے ضدی انداز میں کہہ کر ہاتھ چھڑائے۔ 

یہاں خود تم سے رہا نہیں جا رہا اس لیئے کہہ رہا ہوں۔۔ 

وہ زچ ہوا مگر انداز ابھئ بھی نرم سا ہی تھا۔ 

نہ یہاں رہنے سہنےکا آرام ہے نہ کھانے پینے کا اور۔ 

اس نے بات کاٹ دی۔ 

تو میں یہاں رہنے کا کہہ بھی نہیں رہی۔ جب میں ابارٹ کروا لوں گئ تو میں بھی کہیں بھئ جاب کر لوں گی ہم اچھی جگہ لیکر رہ سکیں گے اکٹھے۔۔ 

اس نے اتنا ہی کہا تھا ایڈون بحث بےکار سمجھتے بات ختم کرنے والے انداز میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا

وہ سب بعد کی بعد میں دیکھیں گے۔ فی الحال بس اپنی صحت پر فوکس کرو اس مصیبت سے جان چھڑائو پھردیکھا جائے گا کیا کرنا ہے۔ 

مصیبت کونسی  مصیبت۔ اسکی برداشت ایکدم تمام ہوئی

بچہ ہے یہ ہمارا جسے تم مستقل مصیبت کہے چلے جا رہے ہو۔ 

وہ طیش میں آکر اسکے مقابل آکھڑی ہوئی۔

ایڈون نے ہونٹ بھینچ لیئے۔ 

کھانا کھا لینا میں چلتا ہوں۔ وہ کہہ کر مڑنے لگا سنتھیا نے اسکو کندھے سے کھینچ کر روکا پھر گریبان پکڑ کر بولی۔

سچ بتانا مجھے اگر میری جگہ یہاں اریزہ کھڑی ہوتی تو کیا تب بھی تم اس بچے  کو مصیبت سمجھتے؟ اس سے جان چھڑانا چاہتے؟ بولو جواب دو۔

وہ ہذیانی انداز میں اسکا گریبان پکڑکر پوچھ رہی تھی۔ اسکا لال بھبھوکا چہرہ ایڈون نے ضبط سے اپنا گریبان چھڑوانا چاہا۔ 

فضول باتیں مت سوچا کرو۔ اب کھانا کھائو مجھے جانا ہے مجھے دیر۔۔ 

ہرگز نہیں مجھے جواب چاہیئے۔ مجھے بتائو اگر یہ میری جگہ اریزہ کا بچہ ہوتا تو کیا کرتے تم ؟

ایڈون خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اسکی خاموشی اسے مزید مشتعل کر رہی تھئ۔اس پر جیسے جنون طاری ہو گیا۔ 

 بتائو کیا کرتے۔ بتائو مجھے کیا کرتے۔ مصیبت کہتے اسے بھی؟ یوں جان سے مروادیتے؟ بولو بولتے کیوں نہیں۔ مروا دیتے اس کا بچہ؟اریزہ کا بچہ بھی ہوتا مصیبت؟ 

اسکے حلق میں چلانے سے خراش پڑنے لگی تھی۔ گھٹئ گھٹئ آواز میں وہ جو منہ میں آرہا تھا بولے جا رہی تھی۔بدستور اسکا گریبان اسکے شکنجے میں تھا۔ ایڈون نے خود کو چھڑوانا چاہا تو شرٹ کا بٹن ٹوٹ کر گرگیا۔ 

طیش کی ایک لہر اسکے رگ و پے میں دوڑ گئ۔ 

نہیں۔ اس کا قطعی انداز سنتھیا سکتے میں آگئ جیسے۔ 

اس کے گریبان پر گرفت بھی ڈھیلی پڑ گئ۔ مگر ایڈون کی بات ختم نہیں ہوئی تھی۔ 

اسکی نوبت ہی نہ آتی وہ کبھی مجھے بنا کسی رشتے اپنے قریب نہ آنے دیتی۔ 

وہ کہہ کر رکا نہیں دھاڑ سے دروازہ کھولتا باہر نکل گیا تھا۔ اسکی جیکٹ دروازے کے پاس گر گئ تھی۔ اس نے سائیں سائیں ہوتے دماغ سے جھک کر جیکٹ اٹھانی چاہی مگر وہ ہاتھ میں آئی ہی نہیں دروازہ بند کرنا چاہا ہاتھ پائوں کانپ رہے تھے وہ وہیں دروازے کا سہارا لیئے بیٹھتی چلی گئ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ویسے ہے تو مزے کا ۔۔

کم سن نے چٹخارہ لیا تھا۔ ہایون بھی مستقل کھاتے ہوئے تائید میں سر ہلا رہا تھا۔ 

ہے نا ۔ وہ یوں خوش ہوئئ جیسے اسکا سارا کمال ہو۔

توایسا کرو  تم دونوں دو دو ڈبے لے لو آرام سے گھر جا کر خوب کھانا۔  

اس نے فوری موقع سے فائدہ اٹھایا۔چٹکی بجا کر بولی۔ 

بلکہ ہایون تم تین خریدنا۔ 

کیوں ہایون تین کیوں خریدے؟ کم سن حیران ہوا

کیونکہ ہایون اچھا لڑکا ہے۔  

اس نے بے نیازی سے کہا۔ ہایون مسکراہٹ دباتا اٹھ کھڑا ہوا۔ 

میں بھئ بہت اچھا لڑکا ہوں ۔ کم سن کی ناک پر لڑ گئ۔ 

مجھے کیا پتہ۔ اس نے معصومیت سے کندھے اچکائے۔ 

بس پانچ ڈبے رہ گئے ہیں آج کے ٹارگٹ میں اگر ہو جائیں تو میں جلدی چھٹی لیکر کہیں جا سکتی ہوں۔

یہ بات ہے  چلو میں پانچوں لے لیتا ہوں۔ 

ہایون نے سرسری سئ نگاہ اسٹال پر ڈالی اور جیب سے بٹوہ  نکالنے لگا۔ 

دیکھا کتنا اچھا دوست ہے میرا۔ اریزہ کا انداز چڑانے والا تھا۔

تھیبا زندگی میں پہلی بار میں کسی کو اپنی ہی چیز پیسوں سے لیتے دیکھ رہا ہوں۔ 

اس نے ہایون کو چڑایا ۔۔ 

دوستی تو نبھانی پڑے گی نا۔ 

ہایون نے ہنگل میں ہی جواب دیا۔ اریزہ چڑ گئ۔ ناک چڑھا کر گھورنے لگی دونوں کو۔

شروع ہوگئے دونوں گٹ پٹ۔اب پکا ہنگل سیکھنی پڑے گی جانے کیا بول رہے۔  

یہ بات  ہے تو میں بھی بتاتا ہوں کتنا اچھا دوست ہوں میں۔ 

کم سن بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ اور جیب سے فون نکال کر کال ملا لی۔ 

ہاں جون ووننا  یہ اس اسٹال پر جو لڑکی ہے یہ ہماری دوست ہے اسکا خوب خیال رکھا کرو اور اسکے اس ہفتے کے سب ٹارگٹ پورے لگا دینا اور آج کیلئے اسکو دو گھنٹے پہلے چھٹی بھی دے دو۔ 

ہنگل میں کہہ کر وہ یوں اریزہ کی جانب مڑا جیسے داد چاہ رہا ہو ۔۔

اب خوش؟۔۔ 

اسکے کہنے پر اریزہ نے منہ  بناکر کندھے اچکا دیئے

اسکو کیا پتہ تم نے کیا کہا ہے۔ ہایون کو ہنسی آگئ ۔ کم سن بھی کھسیا گیا 

جون وونا بھاگا بھاگا آیا تھا۔ جھک جھک کے ہایون اور کم سن کو سلام کیا پھر اس کو شستہ انگریزی میں عزت و احترام سے دو گھنٹے قبل جانے کی اجازت بھی دی۔ 

مس اریزہ آپکا آج کا ٹارگٹ پورا ہو چکا ہے اب آپ چاہیں تو گھر جا سکتئ ہیں۔ ابھئ کچھ کھانا پینا پسند کیجئےگا ؟ 

اریزہ کا منہ کھلا ۔ گوارا کی پہلے دن اسے یہاں چھوڑنے آنے پر کہی بات ارے یہ تو لی مارٹ ہے۔ لی مارٹ لی ہایون۔ اور یہ کم سن۔ اس نے فون کرکے بلایا وہ کڑیاں ملا رہی تھی۔

اب بتائو کہاں جانا ہے تمہیں؟ 

ہایون نے پوچھا تو وہ چونکی۔ 

سنتھیا سے ملنے۔ 

سنتھیا سے؟ کم سن چونکا۔ 

پتہ ہے کہاں رہتی ہے۔ ؟ ہایون نے پوچھا تو اس نے معصومیت سے نفی میں سر ہلایا۔ 

مجھے پتہ ہے۔

کم سن نے ہاتھ اٹھا کر بتایا۔ 

میں لے چلتا ہوں۔ 

ہایون نے دانت کچکا کر گھورا تو اس نے مزید معصوم سی شکل بنا لی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہایون ڈرائیو کر رہا تھا کم سن اسکے برابر بیٹھا تھا۔جبکہ وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھئ ٹیڈی بئیر کو بانہوں میں لیئے دونوں کو گھور رہی تھی۔ 

مت گھورو سچی میں نے تمہارے پورے ہفتے کے ٹارگٹ پورے کروائے ہیں۔ پوچھ لو ہایون سے۔ 

کم سن جیسے اس سے ڈر کر بولا۔ 

ہاں سچ کہہ رہا ہے۔ ہایون نے بھی تائید کی۔ 

سی ای او سفارش کر رہا ہے وہ بھی اتنی چھوٹی ملازمت کیلئے ۔ کم از کم بھی ڈبل فگر تنخواہ میں کوئی مینجر وینجر بنانا چاہیئے تھا مجھے۔ 

اسکو یہ قلق تھا۔ ہایون اور کم سن نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس دیئے۔ 

کوریا میں بڑے سخت قوانین ہیں سفارش پر قابلیت کے پیمانے کا خون کرکے نوکری ملی ہے اب خوب دل لگا کر کام کرنا۔ 

کم سن نے  سنجیدگی سے نصیحت کی۔ 

مگر میں پاکستانئ ہوں۔ اب اتنی تگڑی سفارش کے بعد تو اب مجھ سے کام وام کی امید مت رکھنا۔ کل میں چھٹی کروں گی پرسوں مجھے اس ہفتے کی تنخواہ گھر پہنچا دینا۔ 

وہ شاہانہ انداز میں کہتی شہزادیوں کی طرح ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئ۔ 

ہیں؟ کم سن کی آنکھین ابل گئیں۔ 

مس میں باس ہوں آپکا۔ نکمے پن پر کھڑے کھڑے نوکری سے نکال سکتا ہوں۔۔ 

کم سن کا انداز ۔۔ اریزہ کہنے لگی تھئ کہ میں مزاق کر رہی تھی کہ ہایون نے ڈرائو کرتے گردن موڑ کر گھورا

اور میں تمہارا ۔اسکو دھمکی دی تو کانٹریکٹ کینسل سمجھو۔ 

کم سن ہکا بکا ہوا تھا تو اریزہ محظوظ ہو کر زور سے ہنسی تھی۔ 

اوکے میم۔ 

کم سن نے مسمسی سی شکل بنا کر جیسے مہر ثبت کی ۔ 

گوشی وون آچکا تھا۔ تینوں گاڑی سے اترے تو کم سن اجازت طلب کرنے لگا۔ 

اس پہلی راہداری میں چوتھا کمرہ ہے ایڈون کا اس سے پوچھ لینا سنتھیا کا کمرہ کونسا ہے۔ اچھا ۔کرم۔میں پہلے جاتا ہوں۔ 

کہاں۔ ہایون نے ٹوکا۔ 

یہ دونوں سہیلیاں باتیں کریں گی میں کیا کروں گا میری تو ایڈون سے خاص دوستی بھی نہیں  ؟ میرے ساتھ رہو۔

تم اسکو واپس بھی چھوڑ کر آئو گے؟ کم سن حیران ہوا۔ 

ہاں ۔۔۔۔ 

اسکے کہنے پر کم سن ایک نظر اریزہ پر ڈالی اور سر ہلادیا۔ 

یقینا مجھ پر کوئی کمنٹ پاس کر رہے ہیں۔ اف آج میں نے چولیاں بھی تو خوب ماری ہیں ہمیشہ بک بک کرنے کے بعد پچھتاتئ ہو تم اریزہ۔ 

وہ دل ہی دل میں خود کوکوس کررہ گئ  

چلو اریزہ۔ ہایون کے نرم سے انداز میں کہنے پر وہ چونکی۔ نیم تاریک راہداری ایڈون کے کمرے کا دروازہ کئی بار دستک دینے کے بعد بھی نہ کھلا۔ 

لگتا ہے کمرے میں ہے نہیں۔ کم سن نے خیال ظاہر کیا۔ 

میں سنتھیا کو فون کرتی ہوں۔ 

اریزہ نے کہا تبھئ سامنے سے سنتھیا آتی دکھائی دی۔ سر جھکائے سویٹ پینٹ اور شرٹ میں ملبوس بکھرے بال ہاتھ میں کوئی پیالہ اور کین تھامے ہوئے شائد کچن سے کھانا گرم کرکے لائی تھئ۔ 

ان سے کچھ فاصلے پر دروازہ کھول رہی تھی۔ 

سنتھیا ۔۔ اریزہ اسے پکارتی فورا اسکی جانب لپکی۔ سنتھیا نے اسے دیکھا پھر تیزی سے دروازہ کھول کر اندر گھسنے لگی ارادہ اسکے منہ پر دروازہ بند کرنے کا تھا۔

کیسی ہو۔ اریزہ نے اسے جا لیا۔ دروازہ بند کرنے کیلئے ہاتھ خالی ہونا ضروری تھا۔مجبوری۔۔۔ جواب دینا پڑا 

ٹھیک ہوں۔ اس نے سرد سے انداز میں کہا۔ 

مجھے ایڈون نے بتایا تھا تمہاری طبیعت کے بارے میں۔ 

وہ اسے اندر بلا نہیں رہی تھی دروازے میں جمی کھڑی تھی۔ اریزہ کو عجیب سا لگا۔ 

تم ایڈون کی جان کیوں نہیں چھوڑتی ہو؟ 

وہ چٹخ کر بولی جیسے۔ 

کیا مطلب ہے اس بات سے۔ اریزہ کی پیشانی پر بل پڑا۔  

تم مجھے اور ایڈون کو ہمارے حال پر چھوڑ کیوں نہیں دیتیں؟ کیوں پیچھے پڑی ہوئی ہو ہمارے۔ اتنا ایڈون کا خیال تھا تو ایک بار مجھے کہا ہوتا میں خود بیچ سے ہٹ جاتی ۔۔ 

کیا بکواس کر رہی ہو؟ 

اریزہ ہکا بکا رہ گئ 

صحیح کہہ رہی ہوں۔ 

وہ ایکدم چلا اٹھی۔ 

کتنے ؟ کتنے لڑکے چاہیئے تمہیں آخر۔ شاہزیب سالک ایڈون اور اب یہ دونوں تمہارا دل کیوں۔۔۔ 

بس کر جائو سنتھیا ۔۔ اریزہ کے صبر کا پیمانہ۔لبریز ہوا۔ 

تم بس کر جائو اریزہ ۔ جینے دومجھے چین سے۔ کیوں آتی ہو میرے اور ایڈون کے بیچ۔ بند کردو اپنا یہ جھوٹا شرافت کا ناٹک۔ 

کیا ہوا ۔۔ کم سن اور ہایون بھاگ کر انکے پاس آئے تھے۔ 

کیا ناٹک کیا ہے میں نے بولو؟ جو منہ میں آرہا ہے بولے جا رہی ہو۔ 

اریزہ کی طیش کے مارے آواز کانپ رہی تھی۔ 

ناٹک ہی تو کرتی آئی ہو آج تک تم۔ ہر کسی کو متوجہ کرنے کا فن آتا ہے۔پاکستان میں جینز نہیں پہنتی تھیں تم ؟اور یہاں دوپٹہ لہراتی تھیں  اب کہاں گیا ہےتمہارا دوپٹہ؟ 

بولو۔ 

وہ جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھئ اریزہ اس رکیک الزام پر سنٹ سئ کھڑی رہ گئ۔ اس وقت اس نے لانگ کوٹ پہن رکھا تھا مگر جب مال میں کوٹ کی ضرورت نہیں تھی تو ہلکا سا لیلن کا بڑا سا اسکارف اس نے لے رکھا تھا ٹاپ پر بھی اس وقت بھی کوٹ کے اندر وہ اسکی گردن کے گرد لپٹا ہوا تھا۔ 

 ہایون ایکدم سے اریزہ کا ہاتھ تھام کر بولا

چلو اریزہ ۔۔ 

یہ۔۔ یہ  کون ہے تمہارا بھائی ؟ کس حیثیت سے تھاما ہے اس نے تمہارا ہاتھ۔؟ تف ہے اریزہ تمہارے دوغلے پن پر۔۔

وہ اتنا چیخ کر بول رہی تھی کہ لابی میں دروازے کھلنے لگے۔ اریزہ کے جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔

پھٹئ پھٹی آنکھوں سے زہر اگلتی سنتھیا کو دیکھتے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب رکیک الزامات اسکی بچپن کی بہن جیسی دوست اس پر لگا رہی ہے؟ 

سنتھیا کام ڈائون۔ اندر چلو۔ بیٹھ کر بات۔۔ 

کم سن کو سمجھ نہ آیا تو سنتھیا کو ہی روکنے لگا۔ 

ہاتھ مت لگانا مجھے۔ سنتھیا ںےکہا تو اردو میں تھا وہ نا سمجھ کر بھئ رک ہی گیا۔ 

اگر تھوڑی سی بھئ غیرت ہو تم میں تو دوبارہ مجھے اپنی شکل نہ دکھانا سمجھیں۔

اسکی آواز چلانے سے پھٹ سی گئ۔ کم سن کو لگا اسکے کان کا پردہ پھٹا نہیں تو ذرا سا چر ضرور گیا ہے۔

 اب دفع ہو جائو یہاں سے۔ 

اس نے غصے سے بے قابو ہو ہاتھ میں پکڑا بائول اریزہ کو دے مارا۔ بائول تو ڈس پوز ایبل پیک میں تھا مگر گرم گرم نوڈلز اسکے اوپر آئے تھے۔

اریزہ ششدر سی اپنی جگہ جم کے رہ گئ تھی۔ اسکی گردن پر جتنا سوپ گرا تھا اس نے جلا دیا تھا مگر اسے اس جلن کا احساس بھی نہ ہوا تھا۔

چلو نا اریزہ۔ ہایون اسکا ہاتھ تھام کے کھینچ رہا تھا کم سن بے قابو ہوتی سنتھیا کو شانت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

جائو نا جاتئ کیوں نہیں ہو۔ 

اس نے تلملا کر ہاتھ میں پکڑا کین بھی اسے دے مارا ۔ اریزہ پر سکتہ سا تھا ہایون اسے بچانے کو بیچ میں آیا تو کین سیدھا اسکی تھوڑی بجا گیا تھا۔

ہایون کو کین لگتے دیکھ کر سنتھیا جیسے ہوش میں آئی۔ ایک۔نظر لابی میں جمع ہوتے مجمعے پر ڈالی۔ 

یہ کیا ۔۔کچھ سمجھ نہ آیا تو اندر کمرے میں گھس کر دروازہ بند کرلیا۔ 

اریزہ کو ہایون زبردستی کھینچ کر لے گیا تھا۔ 

کیا ہوا۔ کون لوگ تھے یہ؟ 

کم سن ان سب کے سوالوں سے جان چھڑاتا جھک جھک کے معزرت کرتا باہر بھاگا 

ہایون اریزہ کو لیکر زن سے گاڑی بھگا لے گیا تھا۔ وہ سوچ میں پڑا کہ انکے پیچھے جائے یا واپس 

پھر سر جھٹک کر دائیں جانب گلی میں مڑ گیا  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈرائی کلینر کو کوٹ دے کر وہ قریبی دکان میں گھس گیا تھا۔ دو کین لیکر واپس گاڑی میں آیا تو فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اریزہ ابھی بھی رو رہی تھی۔ ٹشو سے رگڑ رگڑ کر اس نے اپنی ناک سرخ کرلی تھی۔ آنکھیں سوج گئ تھیں۔ بالکل سرخ سیب بن چکی تھی۔

تمہیں یقین ہے کہ تمہاری گردن محفوظ رہی ہے کوٹ کی وجہ سے؟ تمہیں جلن نہیں ہورہی؟

ہایون نے اسے کین تھمایا تو وہ فورا سر ہلانے لگی

نہیں میں ٹھیک ہوں۔ 

آواز بھرائی ہوئی تھی۔ 

دکھائو ۔ اس نے آگے بڑھ کر شائد دیکھنا چاہا تھا 

نہیں۔ اس نے سختی سے کہہ کر اپنا اسکارف مزید لپیٹ لیا تھا۔ 

اچھا ٹھیک ہے۔ 

ہایون نے کندھے اچکا دیئے۔ وہ کین کھول رہی تھی اسکی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ 

اس نے اپنا کین کھول کر اسکی جانب بڑھا دیا۔ 

شکریہ۔ مدہم آواز۔ 

اخلاقیات میں پی ایچ ڈی۔ اتنے تنائو میں بھی اسے شکریہ کہنا یاد رہا۔ مگر اس بات پر اسے غصہ ہی آیا۔ 

انسان کو اچھا ہونا چاہیئے مگر اتنا اچھا بھی نہیں بننا چاہیئے۔

انداز خفگئ بھرا تھا۔ 

ہایون کی بات پر وہ ایکدم چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ 

کیا یہ بھئ اسکو کوئی طعنہ دینے لگا ہے۔ اسکو پہلا خیال یہی گزرا تھا۔

اس سے بڑھ کر آپکی کمزوری کیا ہوگی کوئی آپکا سر توڑ دے مگر آپکے ہاتھ کی ہڈی سلامت رہے۔ 

ہایون نے اسکی آنکھوں میں جھانک کے کہا تھا۔ وہ اس وقت پہیلیاں بجھوا نہیں سکتی تھی یونہی خالی خالی نگاہ سے دیکھتئ رہی۔ 

کہاوت ہے یہ۔اس نے گہری سانس لیکر سمجھایا۔۔

 اسکا مطلب ہوا کہ انسان اپنا سر بچانے کیلئے اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتا ہے۔ اگلی بندی بولے جا رہی ہے تم چپ سن رہی ہو وہ ہاتھا پائی پر اتر آئی اور تم اس سے پٹ گئیں۔ چوہے کو بھی موت کا ڈر ہوتا ہے تو وہ بلی کو کاٹ لیتا ہے۔۔ مشہور کورین کہاوت ہے۔ یہ اریزہ۔۔ وہ تمہاری دوست نہیں ہے۔ پہلے ہوگی کبھی مگر اب بالکل بھی نہیں یہ بات اب تو سمجھ لو تم۔ 

اگر میں بیچ میں نہ آتا تو اس نے بھرا ہوا کین پوری طاقت سے تمہارے منہ پر دے مارا تھا۔ 

وہ دانت کچکچا رہا تھا غصے کے مارے مٹھی بھینچ رہا تھا۔ اس نے اتنے مہینوں میں ہایون کو غصے میں نہیں دیکھا تھا ہلکا پھلکا چڑتا بھئ تھا تو ذیادہ دیر کیلئے نہیں۔ 

اگر لڑکی نہ ہوتی نا تو میں۔۔۔ 

بڑبڑاتاہایون اسکی شکل دیکھتے وہ چونکی۔ 

اسکی تھوڑی پر نیل سا پڑ گیا تھا۔ اسکے گورے چٹے چہرے پر نیلا دھبا۔۔ شائد کٹ بھی پڑا تھا ایک سرخ سا نشان بھئ جیسے خون نکلا ہو۔۔ اس نے شائد ڈس انفیکٹ کیا تھا جبھئ دوا کی خوشبو آرہی تھی

آئئ ایم سوری۔ 

اس نے سر جھکا لیا۔ 

ہر بات کیلئے میں معزرت خواہ ہوں میری وجہ سے آج جو کچھ بھئ تمہیں سہنا پڑا اسکے لیئے بھی میں بہت شرمندہ ہوں۔ واقعی سوری۔ 

ڈونٹ بی۔ ہایون جز بز سا ہوا۔

دفع کرو اس سب کو۔ چلو کسی اچھی جگہ ڈنر کرتے ہیں۔ 

اس نے بات بدلنی چاہی۔ 

میں اب گھر جائوں گی۔ اریزہ کا انداز قطعی تھا۔ پھر تمام راستہ وہ گا ہے بگا ہے اس پر نگاہ ڈالتا رہا مگر وہ بالکل رخ موڑے کھڑکی سے باہر جھانکتی رہی۔ عمارت کے کمپائونڈ میں گاڑی رکتے ہی وہ بنا ایک لفظ کہے گاڑی سے اتر کر تیز تیز قدم چلتی اندر بڑھ گئ وہ جو اس کو کچھ کہنا چاہ رہا تھا ہونٹ بھینچ کر گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گوارا لائونج میں بیٹھی ڈرامہ دیکھ رہی تھی اسے دیکھ کر فورا ویلکم کیا۔

آننیانگ ۔۔ مگر اسکی شکل دیکھی تو ریموٹ پھینک کر بھاگ کر اسکے پاس آئی

کیا ہوا تمہیں۔؟؟؟ 

کچھ نہیں۔ اس نے مسکرا کر کہنا چاہا مگر ناکامی ہوئی جانے کہاں سے پھر ڈھیروں آنسو پھسل آئے۔ گوارا کے شانے سے سر ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ 

ہوپ کچن میں کھڑی کافی بنا رہی تھی۔ چھوڑ چھاڑ کر انکے پاس چلی آئی۔ 

آئو بیٹھو۔ بمشکل اسے سہارا دے کر گوارا نے صوفے پر بٹھایا۔ 

کیا ہوا؟ 

ہوپ بے نیازی ظاہر کرنے کے چکر میں نہایت سخت انداز میں پوچھ رہی تھی۔ گوارا نے ناپسندیدہ نگاہ ڈالی۔ 

پانی لیکر آئو دیکھ نہیں رہیں ہلکان ہو رہی ہے رو رو کے۔ 

اسکے ڈانٹ کے کہنے پر وہ سچ مچ رعب میں آگئ بھاگ کے میز سے اپنی بوتل سے پانی نکالنے لگی پھر خیال آیا تو وہیں چھوڑ کر فریج سے پانی کی بوتل نکال کر لائی۔

اریزہ کو گلاس بھرکر تھمایا تو وہ ایک سانس میں پورا پی گئ۔ 

کیا ہوا؟ پرس چھن گیا ؟ 

کوئی لفنگا مل گیا ؟

 چھیڑا کسی نے؟

 ٹارگٹ پورا نہیں کیا آج کا؟ 

گوارا کے ہر انداز پر اس نے بس نفی میں سر ہلایا

پھر کیا ہوا ایکسیڈنٹ؟

گوارا نے تشویش ذدہ سا ہو کر اسے ٹٹولا توبے ساختہ اسکی سسکی سی نکل گئ۔ 

کیا ہوا۔ گوارا اسکا کوٹ اتروانے لگی۔ 

اسکی گردن سے کندھے تک پوری جلد سرخ سی ہو رہی تھی ہلکے ہلکے آبلے بھی پڑ رہے تھے۔ 

یہ کیا ہوا ہے؟ 

اسکی چیخ سی نکل گئ تھی دیکھ کر۔ ہوپ گہری سانس لیکر پلٹ گئ  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کمرے میں بیڈ پر بیٹھی تھی کاٹن کی ڈھیلی ڈھالی سی شرٹ پہنے ہاتھ میں جوس کا ڈبہ تھا جس کے اسٹرا سے وہ چسکیاں لے رہی تھی۔ اور حیرت بھری نگاہوں سے ہوپ کو دیکھ رہی تھی جو تندہی سے اسکی گردن سے کندھے تک کسی دیسی چینی دوا کا لیپ کر رہی تھی۔ 

گوارا اس سے کچھ فاصلے پر مختصر سی جگہ میں چکر پر چکر لگاتی دانت کچکچا رہی تھی۔ 

اف خدایا تولیہ بن گئ ہے گردن تمہاری مجھ سے تو دیکھی بھی نہیں جا رہی ۔۔ یہ دوست ہے تمہاری؟ کٹنی ہے دشمن ہے۔ دشمن کو بھی جلانے سے پہلے بندہ دو بار تو سوچ لیتا ہے۔ ظالم بے رحم۔  

چلو کل تم میرے ساتھ سنتھیا کو ایسا سبق سکھائوں گی کہ یاد رکھے گی۔ سمجھا کیا ہوا ہے اس نے خود کو؟ گرم کھولتا سوپ تم پر انڈیل دیا۔ پاگل ہوگئ ہے کیا ؟ 

اسکے سر پر سوپ الٹ کر آتے ہیں۔۔ 

بولتے بولتے قریب آکر پھراسکی گردن دیکھی اور  زور و شور سےتلملانے لگی 

 ۔ توبہ مجھ سے تو تمہارے زخم دیکھے بھی نہیں جا رہے۔ ہائش۔ 

گوارا کا واقعی بس نہیں تھا کہ سنتھیا کا منہ نوچ آئے۔ 

مجھے اس جلن سے ذیادہ تکلیف اسکے الزامات سے پہنچی ہے۔ اسکے لفظوں کا وار ذیادہ کاری تھا۔ 

اریزہ کی بات پر گوارا نے آنکھیں پھاڑیں۔ 

نا کرو بھیگئ تولیہ بن گئ ہے تمہاری جلد یہ بڑے آبلے ذرا آئینے میں دیکھو۔

آئینہ دیکھنے کے قابل نہیں چھوڑا سنتھیا نے۔ 

اریزہ اردو میں بولی تھئ۔ 

 ہوپ اطمینان سے دوا کا ڈھکن لگا  کر بولی

شکر کرو کہ چہرہ بچ گیا ورنہ جلے کا داغ چہرے سے مشکل سے جاتا ہے۔ 

بڑا تجربہ۔۔ 

گوارا طنز سے کہتے کہتے رکی۔ ہوپ جھک کر دوا لگا رہی تھی سیدھی ہوئی تو ایکدم گوارا کے سامنے اسکا چہرہ تھا۔ چند لمحے وہ بس اسے دیکھتی رہ گئ۔ 

پیچھے ہو۔ 

اسکا ہٹنے کا ارادہ نہ دیکھ کر ہوپ نے چڑ کر کہا تو وہ چپ سی ایکدم سائیڈ پر ہوگئ ۔ ہوپ پیالہ اٹھا کر شائد کچن کی طرف گئ تھی۔ 

ابھئ بھئ جلن ہو رہی ہے؟ 

وہ احتیاط سے اسکے برابر بیٹھی۔ 

ٹھنڈ پڑ گئ ہے۔ یہ جو بھی دوا تھی بہت اچھی تھی۔ ورنہ تو بہت جلن تھی۔ 

اریزہ کو اسکی فکر پر پیار آگیا دوا اچھی تھی مگر اسکا یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ جلن بالکل نہیں ہو رہی تھی۔ 

گوارا نے اسکو اپنے ساتھ لگا لیا۔ 

تم اسکی باتوں پر دکھی مت ہو۔ اسکے کہنے سے کیا ہوتا۔۔ وہ جو چاہے سمجھے جو چاہے کہے۔ اس سے تمہاری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ 

یہ اسکی پچھلی بات پر دی جانے والی ایک بے حد پر خلوص تسلی تھی۔ 

ہم اسی لیئے ڈرتے ہیں نا کسی کی الزام تراشی پر کہ لوگ ہمیں غلط سمجھیں گے برا بھلا کہیں گے مگر یہاں کوئی تمہیں جج نہیں کرنے والا ۔ 

یہ ہوپ تھی۔ ہاتھ دھو کے آئی گیلے ہاتھ جھٹکتی۔ ان دونوں کو ایس اجنبی انداز میں گھور کر اشارے سے ہی الگ ہونے کوکہا۔ دونوں الگ الگ کناروں پر ہو گئیں ۔ وہ ان دونوں کے بیچ سے ہو کر بیڈ پر دراز ہو گئ۔ 

اریزہ اور سنتھیا نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اشارے سے پوچھنے کو کہا دونوں نے ہونٹ بھینچے پھر پلٹ کر ہوپ کے دائیں بائیں آ لیٹیں۔ 

ہوپ یہ تمہارے دائیں گال سے گردن تک جو نشان ہے یہ برتھ مارک نہیں؟ 

اریزہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا۔ 

نہیں جلنے کا نشان ہے۔ میرے شوہر نے مجھ پر ابلے چاول پھینکے تھے پیچ سمیت۔ 

ہوپ کو اندازہ تھا کہ دونوں کو شدید کھد بد ہوگئی ہوگی۔ یہ نشان اسکے گال کے بیچ میں نہیں تھا۔ مارنے والے نے چہرے کا نشانہ نہیں لیا تھا۔

ویسے شوہر کہنا نہیں چاہیئے ۔ وہ صرف خریدار تھا۔ ایک لکھ پتی چینی جس نے شمالی کوریا کی لاچار عورت سے چند یو آن  کے عوض یوآنہ خریدی تھی۔

اتنے عرصے میں پہلی بار یوآنہ ان پر کھلی تھی اور بس اتنا ہی ۔ اتنا بول کر اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ مطلب سونے دو مجھے تنگ مت کرنا مگر چند ہی لمحوں بعد کھولنی پڑی تھیں۔ اسکے دائیں کندھے پر اریزہ اور بائیں کندھے پر گوارا نے سر رکھ کر اسے سینڈوچ بنا ڈالا تھا ۔ وہ کسمسائی مگر انکی گرفت مضبوط تھی۔ اور یہ صرف چند لمحوں کا جذباتئ دبائو نہیں تھا وہ دونوں اس سے لپٹ کر ہی سوئی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بے خبر سو رہی تھی حسب عادت کمرہ لاک کیئے بنا۔ وہ چند لمحے اسے یونہی کھڑا دیکھتا رہا پھر اس پر کمبل درست کرتا کھڑکی بند کرکے باہر نکل آیا۔۔۔ 

ایڈون۔۔ 

اس نے آواز پر مڑ کر دیکھا تو عمارت کا منتظم کھڑا اسے بلا رہا تھا۔ رات کے بارہ بجے پہلے اس نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی ہی دیکھی تھی۔ 

ادھر آئو مجھے ضروری بات کرنی ہے۔ 

وہ اسے اپنے کیبن نما دفتر میں لیکر آیا تھا۔ وہ الجھن میں تھا ا س غیر معمولی رویئے کی وجہ کیا ہے۔ مگر اس نے مزید ایک لفظ کہے بنا ایک ویڈیو لیپ ٹاپ پر لگا کر دکھائی تھی۔ سیکیورٹی فولڈر میں شام کی ویڈیو۔ 

اسکو ایڈمن نے پورا سی سی ٹی وی فوٹیج دکھایا تھا۔ 

یہ لڑکی تمہارے ساتھ ہے ۔ ہم نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ شائد ہنگل نہیں جانتی ۔ یہ راہداری یہاں رہنے والے سب لوگوں کی مشترکہ راہداری ہے۔ یہاں ذیادہ تر ایکسچینج اسٹوڈنٹس اورمزدور طبقہ رہتا ہے جنکو اپنے سارے دن کی نہایت تھکا دینے والی مصروفیات کے بعد صرف آرام عزیز ہوتا ہے۔یوں شور ہنگامہ کرکے نا صرف ہمارے مہمانوں کے آرام میں خلل ڈالا گیا ہے بلکہ راہداری میں گندگی بھئ پھیلائی گئ ہے۔ ہم ایسا رویہ بالکل بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔ 

نہایت کڑخت لہجے میں جس طرح وہ بولا تھا اس سے کسی قسم کی معافی ملنے جیسی اچھی امید رکھنا عبث تھا۔ 

ایڈون نے گہری سانس لیکر سر جھکا لیا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے صبح گوارا او رہوپ دونوں نے نہیں جگایا تھا ۔ ان دونوں کے چلے جانے کی اسے خبر بھی نہ ہو سکی تھی۔ آنکھ کھلی تو ڈھائئ بج رہے تھے۔ کسمسا کر آنکھیں کھولیں تو چند لمحے سوچنا پڑا کہ آنکھ کھلی کیوں؟ 

مستقل تھرتھراہٹ پر۔ وہ ایکدم اٹھ بیٹھی اسکے ادھر ادھر کمبل اتار کر بیڈ پر ہاتھ مار کر ڈھونڈنے لگی تکیئے کے نیچے سے موبائل کی اسکریں جل بجھ کر رہی تھی۔ اس نے ہاتھ مار کر موبائل نکالا تو ہایون کالنگ لکھا آرہا تھا۔ 

اوہ گاڈ۔ فون ہاتھ میں تھامے وہ سر پکڑے تھی۔ 

کل پتہ لگا کہ اپنے دوست کے ہاں نوکری کر رہی ہوں اور آج فورا چھٹی کرلی ۔ کیا سوچتا ہوگا کہ پاکستانی واقعی نکمے 

اس نے سر جھٹکا

ہیلو۔ 

اس نے  کال وصول کرکے موبائل کان سے لگایا

سلام اریزہ  کیسی ہو ؟ ٹھیک ہو؟ فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں؟ 

ہایون کے انداز سے پریشانی جھلک رہی تھی۔

آئی ایم سوری وہ میری آنکھ نہیں کھل سکی۔ پکا میں نے آج چھٹی نہیں کرنی تھی جانے گوارا نے مجھے کیوں۔۔ 

وہ وضاحت دینا چاہ رہی تھی ہایون نے بات کاٹ دی

میں باہر کھڑا ہوں دروازہ کھولو۔

اوہ۔ وہ فون رکھ کر فورا اٹھی کہ سامنے سنگھار میز کے آئینے پر نگاہ پڑی۔ ڈھیلی سی کاٹن  ٹی شرٹ اور پاجامہ میں ملبوس۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا پھر اپنا وولن اسکارف اٹھا کر گلے میں ڈالتی باہر آئی ہایون دو مرتبہ مزید اطلاعی گھنٹی بجا چکا تھا۔ 

اس نے دروازہ کھولا تو وہ کھڑا گھور رہا تھا۔ 

پندرہ منٹ ہو رہے ہیں مجھے یہاں کھڑے۔ 

سوری۔ وہ کھسیائی۔ 

ہایون سر جھٹکتا اندر چلا آیا۔ ہاتھ میں پکڑا بڑا سا شاپر صوفے پر رکھا

یہ لو تمہارا کوٹ۔ دیکھ کر تسلی کرلو کوئی نشان وغیرہ تو نہیں رہ گیا۔ اور ایک بات بتائو۔ 

 ہایون ۔مڑ کر اسے پھر گھورنے لگا۔ 

کل پوچھ پوچھ کے تھک گیا تم نے مجھے بتا کر نہیں دیا کہ جلی ہو۔۔۔

اتنی ذیادہ نہیں جلی۔۔ وہ کہنا چاہ رہی تھی 

اور یہ کیا کیا ہے؟ 

اس نے آگے بڑھ کر اسکی گردن سے اسکارف احتیاط سے اتار دیا

اسکے لیئے اتنا غیر متوقع تھا کہ وہ ششدر سی رہ گئ۔ 

اسکے برعکس وہ نارمل سے انداز میں اسے ٹوک رہا تھا

وولن اسکارف جلی ہوئی جلد پر نہیں رکھتے کسی نے اتنا نہیں بتایا کبھی تمہیں۔ سردی لگ رہی ہے تو بوائلر کا ٹمپریچر بڑھا لو۔ 

اس نے اسکارف صوفے پر اچھال دیا تھا۔ 

اور یہ کیا لگا رکھا ہے اس پر؟ 

وہ اب اسکی گردن غور سے دیکھ رہا تھا۔ دوا نے جلد پر گہرا سیاہ رنگ چھوڑا تھا ۔

میں جلن کیلیے کریم لایا ہوں اسکو صاف کرو اور کریم لگائو ۔۔ پھابو( احمق) نشان رہ جائے گا ان دیسی ٹوٹکوں سے۔ 

اس نے بڑے سے شاپر میں سے ایک چھوٹا شاپر نکال کر اسے تھمایا۔وہ شش و پنج میں کھڑی شاپر تھام گئ۔  

میں لگا دوں؟ 

اس نے اسکی آنکھوں میں جھانکا تو وہ سٹپٹا کر بولی

آنی۔ میں لگا لوں گی خود ہی دوا۔ 

جائو شاور لیکر آئو میں انتظار کر رہا ہوں۔ بہتر ہے کسی ڈاکٹر کو دکھا لیا جائے پہلے ۔ 

اسکی ضرورت نہیں ہے۔ میں ٹھیک ہوں۔

اریزہ نے کہنا چاہا  

اب مجھے تمہاری کسی بات کا یقین نہیں جائو میں انتظار کر رہا ہوں۔ ایک گھنٹے بعد کا اپائنٹمنٹ لیا ہے جائو جلدی کرو۔ 

وہ اطمینان سے گھوم کر صوفے پر آبیٹھا سامنے میز سے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی بھی آن کرلیا۔

وہ جز بز سی ہوئئ مگر نہانے چلی گئ۔ نہا کردوبارہ کاٹن کی ہی شرٹ نکال کر پہنی۔ ساتھ جینز چڑھائی۔ ہلکی ہلکی سردی محسوس ہو رہی تھی مگر برداشت کی جا سکتی تھی۔ اس نے اپر پہنا اور باہر نکل آئی۔ ہایون اسکا انتظار کرتا اونگھ گیا تھا۔ 

اس نے ٹی وی کی آواز آہستہ کی اور کچن میں آکر کھانا بنانے لگی۔ گوبھئ پکاکر روٹی ڈال رہی تھی جب شائد اسکی تھپ تھپ سے یا یونہی کافی دیر سونے کے بعد خود ہی ہایون کی آنکھ کھل گئ۔ 

تم نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں۔ وہ سر کھجاتا خفا ہوتا ہوا اسکے پاس آیا۔ 

تم اتنی گہری نیند سو رہے تھے اسلیئے۔ 

وہ روٹی اتار کر رومال میں لپیٹتئ آرام سے بولی۔ 

اتنی مشکل سے اپائنٹمنٹ لیا تھا پاپا کا ریفرینس استعمال کرکے۔ 

وہ خفا ہو رہا تھا۔ 

میں ٹھیک ہوں خوامخواہ پریشان ہو رہے ہو۔ چلو کھانا کھالو صبح کا ناشتہ کیاہوگا۔

اریزہ کے کہنے پر اسے بھوک کا احساس ہوا تھا۔ گوبھی خالص پاکستانی انداز میں بنی تھئ۔ اسے کوریا میں مصالحے تو نہیں مل سکے تھے من پسند البتہ چکن تکہ مصالحہ مل گیا تھا مشہور پاکستانی برانڈ کا اسی کے ڈبوں کا اسٹاک کر لیا تھا۔ ہر چیز میں یہی مصالحہ حسب ضرورت ڈال دیتی تھی ابھی بھی تکہ مصالحے میں بنی گوبھی ۔پھیکی بنی تھئ۔ 

ہایون کو منفرد ذائقہ خاصا پسند آیا تھا۔ جبکہ وہ مارے باندھے کھا رہی تھی۔ 

کافی مزے کی ہے یہ۔ 

ہایون کے کہنے پر اس نے محض مسکرانے پر اکتفا کیا۔۔ 

تمہیں کورین کھانے بالکل اچھے نہیں لگتے؟ 

ہایون کو جانے کیا خیال آیا تھا۔ 

نہیں۔ وہ بے ساختہ نہیں کہہ گئ پھر خیال آیا تو وضاحت دینے والے انداز میں بولی۔ 

میں گوشت خور ہوں مجھے سبزیاں ذیادہ پسند ہی نہیں ہیں کم مصالحوں میں پکی تو بالکل پسند نہیں آتیں۔ شائد یہاں جتنی سبزی کھائئ پسند نہیں آئی۔ 

ہایون نے سر ہلا دیا۔ دونوں نے خاموشی سے کھانا ختم کیا۔ وہ برتن سمیٹنے لگی تو ہایون کافئ بنانے کھڑا ہو گیا۔ 

وہ سب برتن دھو کر جب تک فارغ ہوئی ہایون اسکے مڑنے پر اسکا کپ اسے تھمانے لگا۔ 

بن گئ۔ وہ حیران ہوئی۔ 

کل تیار رہنا میں ری شیڈول کروائوں گا اپائنٹمنٹ۔ 

ہایون سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔اسے اسکا پھر احسان لینا اچھا نہیں لگا۔ 

ہایونا بالکل ضرورت نہیں ہے۔ میں ایکدم ٹھیک ہوں واقعی۔ 

اس نے تو سادہ سے انداز میں کہا تھا مگر ہایون کے چہرے پر یکدم جو مسکراہٹ در آئی اور آنکھوں میں سو واٹ کے بلب روشن ہوئے اس پر وہ حیران سی اسکی شکل دیکھنے لگی۔

ہایونا۔ اس نے زیر لب دہرایا۔ جیسے محظوظ سا ہوا ہو اپنے کافی کے کپ سے چسکی لیتے اسے لگا اس نے اپنی گہری ہوتی مسکراہٹ کپ کے پیچھے چھپائی ہے۔ 

سب تم سے مخاطب ہوتے وقت ہایونا ہی کہتے ہیں نا۔تمہارا نام ہایونا ہے نا۔ 

اس نے تائید چاہی تو وہ ہنس پڑا 

ہایون لی ہایون نام ہے میرا۔ ن پر ختم ہونے والے ناموں کے ساتھ بے تکلفی سے پکارتے وقت ہم لوگ نا ساتھ لگا دیتے ہیں جیسے سیہونا یوآنا سوہیونا وغیرہ۔ یہ قریبی لوگوں سے قربت جتانے کا ایک انداز ہے  

معزرت۔ اس نے فورا بیانئے کہا۔ 

مجھے نہیں پتہ تھا۔ میں نے تو جیسے سب کہتے ویسے ہی نقل کی۔ سوری اگر برا لگا۔ 

 برا کیوں لگے گا مجھے۔ اس نے مان سے ٹوکا۔ 

سب دوست ایک دوسرے سے بے تکلفانہ انداز میں ہی مخاطب ہوتے ہیں۔ بلکہ مجھے تو اچھا لگا۔ اب ہم پکے دوست بن گئے ہیں۔ ویسے پاکستان میں دوست کیسے پکارتے ہیں ایک دوسرے کو۔۔ 

وہ آرام سے کچن کارنر میز کی کرسی سنبھالتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔ 

ہم۔وہ سوچ میں پڑی۔ 

( صبح صبح یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہوتے ہی اس نے سنتھیا سے ہاتھ ملاتے ہوئےکہا۔ 

کیسی ہو کتی؟ 

اگلی دفعہ وہی منظر اس بار اسے غصہ آیا ہوا تھا۔ 

سنتھو کی بچی 

اس سے اگلی دفعہ

کمینئ سنتھو۔ 

اس سے اگلی بار سنتھیا نے اسے پکارا تھا۔ وہ کلاس کی طرف جا رہی تھی کسی نے آواز دی۔ 

اریزووو۔ 

اس نے سر جھٹکا۔ جانے کون ہے اریزو جس بہری کو بلایا جا رہا ہے۔

ارییییز ۔۔۔۔۔

اف بد تمیز لوگ یونیورسٹی میں جاہلوں کی طرح پکارتے۔  

اس بار دوسری طرف سر جھٹکا گیا۔ 

آری ۔۔۔۔ 

اس بار آواز قریب سے آئی تھی۔۔ وہ مگن چلے گئ جب سنتھیا نے جھلا کر کندھے پر مارا 

ڈوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

ڈوری؟ وہ کندھا سہلاتی مڑی بھاگ کر آنے سے اسکی سانس پھول چکی تھی اور خفگئ سے گھور رہی تھی۔ 

بہری۔ ڈوری کب سے پکار رہی ہوں تمہیں۔ 

تم نے کب پکارا؟ ۔ وہ الٹا حیران ہوئی۔ 

ابھی ۔۔ اف حلق خشک ہو گیا پکار پکار کے۔ 

سنتھیا سانسیں بحال کرنے میں لگی تھی۔ بمشکل بتایا

مجھے ایک بار بھی آواز نہیں آئی کسی نے اریزہ کہا ہو۔ 

وہ حیران تھی۔ 

پیار سے پکار رہی تھی چار نک نیم دے دیئے تمہیں ۔۔ 

سنتھیا کے کہنے پر وہ پھیکی سی مسکراہٹ سے بولی

مجھے تو کوئی نک نئم سے نہیں پکارتا۔ 

پھر خیال آیا تو مسکراہٹ سمٹ سی گئ۔ 

ہاں میرے بھائئ اکثر مجھے پیار سے آروووو کہہ دیتے تھے۔۔ )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آروووو۔ ہوں اچھا نام ہے یہ بھی۔ 

ہایون نے سر ہلایا۔ 

ویسے پاکستان میں بھئ لاڈ سے نام کے آخر میں الف یا چھوٹی ی لگا دیتے جیسے کمال سے کمالا رشید سے شیدا  بلال سے بالا یا 

بلو۔ وائو بھئ لگا دیتے۔

اسے ادراک ہوا۔

اور کبھی نام کو بیچ سے آدھا کر دیتے۔ جیسے نعمان سے نومی وقار سے وکی وغیرہ۔ لڑکیوں کے بھی نام بدل دیتے جیسے میری ایک کزن کا نام مہرالنساء ہے اسے ہم مہرو کہتے ہیں ۔۔ایک دفعہ کیا ہوا اسکی ٹیچر نے مجھے بلاکر اسکی شکایت لگائئ آپ مہرالنساء کی کزن ہیں آپکو پتہ ہے اس نے اپنا میتھ ٹیسٹ اپنے والدین کو دکھایا ہی نہیں ۔ 

میں نے کہا کون مہرالنساء میں کسی مہرالنساء کو نہیں جانتی

انکو اتنا غصہ آیا اسی وقت مہرو کو بلاکر ڈانٹا کہ تم نے جھوٹ بولا کہ یہ تمہاری کزن ہے اور وہ بے چاری رو پڑی  کہہ رہی کہ تم نے کیسے کہہ دیا کہ میں تمہاری کزن نہیں ۔۔ 

وہ اپنی دھن میں یادداشت کھنگال رہی تھی کہ خیال آیا تو شرمندہ ہوگئ۔

 ہایون چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ خاموشی سے سن رہا تھا اسے۔ 

میں بھی کیا کہانیاں سنانے بیٹھ گئ۔ اسے سچ مچ خفت سی ہوئی 

نہیں مجھے سننے میں مزا آرہا تھا ۔ 

ہایون نے یقینا اسکا دل رکھا تھا وہ اتنا ہی مہزب تھا۔ یہ خیال قوی تھا اریزہ کیلئے۔ وہ زبان دانتوں تلے دباتی کافی ختم کرنے لگی۔ 

اچھا سنو کل بھی جاب پر نہیں جانا سمجھیں ۔ اور تیاررہنا۔ ڈاکٹر۔  

وہ کپ رکھتا جانے کے ارادے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ 

ہایون مجھے ضرورت ہوگئ تو میں خود چلی جائوں گی ڈاکٹر کے پاس یا گوارا کے ساتھ تمہیں زحمت کرنے کی ضرورت نہیں۔

اس نے سادہ سے انداز میں ہی کہا تھا مگر ہایون برا مان گیا۔ 

میں لے جائوں گا تو کیا برا ہوجائے گا؟ 

اچھا نہیں لگتا مجھے اتنا تم پر انحصار کرنا۔

اس نے صاف کہہ دیا۔

پہلے ہی تم میری وجہ سے کافی تکلیف اٹھا چکے ہو۔ میں اور تمہارے اوپر انحصار نہیں کرنا چاہتی۔ خاص کر کل کے بعد۔ کل تم مجھے چھوڑنے گئے تھے اور کین کھا آئے ۔۔۔ 

کل کیلئے تو میں بہت ذیادہ شرمندہ ہوں۔ بلکہ تم بتائو تم نے ڈاکٹر کو دکھایا تمہارے چہرے پر کہیں نشان نہ رہ جائے۔ 

اسے جیسے فکر بھی ہو رہی تھی۔ ہایون بنا ایک لفظ کہے اسے دیکھتا رہا۔ پھر گہری سانس لیکر بولا۔ 

میں دوست نہیں ہوں؟ 

ہو ۔۔ آف کورس اچھے دوست ہو۔ اسی لیئے میں نہیں چاہتی مزید تمہیں زحمت دینا۔ سو پلیز ذیادہ اصرار نہ کرو۔ 

اس نے اپنی طرف سے بات ختم کردی تھی۔ مگر ہایون چپ کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ اسے الجھن سی ہوئی۔ 

کیا ہوا۔  

وہ چپ ہی رہا۔ اسے لگا اسے مزید وضاحت دینی چاہیئے۔ 

دیکھو۔ مانا سیول میرے لیئے اجنبی شہر ہے مگر میں یہاں رہ رہی ہوں تو اب اپنا ہر کام مجھے خود ہی کرنا چاہیئے نا ہر وقت میں تم پر اور گوارا پر انحصار کرکے تو نہیں رہ سکتی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ معمولی سی چوٹ ہے۔مجھے نہیں لگتا مجھے ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ میں تو اس سے بڑی چوٹیں سہہ چکی ہوں۔ 

اس کا مخصوص بلا تکان بولنے والا موڈ پہلی دفعہ سنتھیا اور ایڈون کے سوا کسی کے سامنے آن ہوا تھا۔ وہ انگریزی میں رواں نہیں تھی سو یہاں آکر لمبے جملے بولنا باتیں کرنا اس کیلئے مشکل ہوتا تھا مگر اس وقت تو وہ زبان کا فرق بھلا بیٹھی تھئ۔ 

میرے تو ایک بار گرم چاولوں کی پیچ پائوں پر گر گئ تھئ۔ 

اس نے آنکھیں خوب کھول کر واقعے کی سنگینی کا احساس دلانا چاہا تھا 

ایک میرے ساتھ ذرا سا ڈاکٹر کے پاس جانے سے بچنے کیلئے اتنی لمبی توجیحات۔ تم مجھے دوست سمجھتی ہی نہیں ہو۔ 

وہ خفا ہو چلا تھا شائد۔ 

دوست سمجھتی ہوں اسی لیئے زحمت  دینا نہیں چاہتی۔ 

وہ کہہ کر مسکرا دی تھی۔وہ یونہی اسے دیکھتا رہا۔ 

اسکی نگاہوں میں خفگی تھی۔ اریزہ جز بز سی ہوئی۔ اب یہ بھی کوئی ناراض ہونے والی بات ہے۔ 

اوہ وائو۔ کیا منظر ہے۔اریزہ اور ہایون ۔ واہ رومینٹک ڈیٹ چالو ہے بھئ۔ 

گوارا لاک کھول کر اندر داخل ہوئی تھئ۔ انکو دیکھ کر لمحہ بھر کا بھی وقفہ کیئےبنا جملہ چست کردیا۔ 

شٹ اپ۔ 

اریزہ نے اسکی بے وقت کی راگنی پر گھورا 

جوتے ریک میں اتار کر وہ چپلیں بدلتی کھلکھلاتی ان کے پاس چلی آئی۔ 

مزاق کر رہی ہوں۔کیسے ہو ہایونا۔ ؟ آج یونی نہیں آئے۔ ؟ 

وہ ہایون سے مصافحہ کرر ہی تھی۔ 

ہاں اج چھٹئ کئ تھوڑا کام تھا۔ 

ہایون نےہنکارا بھرا تو وہ قصدا اسکو کندھا مار کر ہنگل میں بولی

ہاں دیکھ رہی ہوں کافی اہم کام تھاتمہیں۔ہوا کہ نہیں؟

گوارا کی شرارتئ نگاہیں اسے کھوج رہی تھیں۔ 

آنی۔ میں بس جا رہا تھا۔ کرم۔ 

وہ مزید اسے چھیڑنے کا موقع دیئے بنا جان چھڑا کر باہر نکل گیا۔ گوارا کچن میں دیگچیوں میں جھانک رہی تھی۔ 

گوبھئ اٹھا کر پوچھنےلگی۔ 

اریزہ یہ کھالوں ؟ 

ہاں۔ یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ 

اریزہ کے کہنے پر وہ چاول نکال کر رائس ککرمیں لگانے لگی۔ اب چاول پکنے تک اس نے  کچھ اسنیکس اڑانے تھے۔ کیبنٹ کھول کر کریکر نکالتی اسکے پاس آن بیٹھی۔ 

کافی پیوگی بنائوں؟ 

اریزہ نے پوچھا تو نفی میں سر ہلانےلگی

ہرگز نہیں۔ بھوک مر جائے گی کھانا کھائوں گی پہلے۔ آج ہوپ نے چاول نہیں بنائے؟ 

وہ اریزہ سے پوچھ رہی تھی۔ 

آنی( نہیں )کہاں آئی  ہے وہ ابھی۔ آکرتو سب سے پہلے چاول ہی چڑھاتئ ہے۔ 

اس نے لاپروائی سے کہہ کر کپ خالی کرنے کی نیت سے بڑا سا گھونٹ بھرا۔ 

ہیں ؟ وہ نہیں ہے گھر میں یعنی ۔ تم دونوں اکیلے  فلیٹ میں ڈیٹ ہی مار رہے تھے۔ 

گوارا نے چھیڑنے والے انداز میں ہی کہا تھا۔ اسکا آخری گھونٹ حلق میں اٹک سا گیا۔ بمشکل نگل کر کپ رکھا ۔ اسے اچھو ہوتے ہوتے بچا تھا۔ذرا سا کھانس کر فورا بولی

ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ وہ آیا تھا کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جائے۔ مگر میں نے منع کردیا ۔ اچھا نہیں لگتا اسکا احسان لینا۔ 

اسے لیکن اچھا لگا ہوگا تمہارا خیال کرنا جبھئ تو  آج اسائنمنٹ جمع کروانے یونی جانے کی بجائے تمہیں دیکھنے یہاں چلا آیا۔ 

گوارا اسے کریدنا چاہ رہی تھی۔ اسکی گہری نگاہوں سے وہ تنگ سی ہوئی

ہی از جسٹ فرینڈ۔ جیسے کل تم فکر مند ہوئیں ویسے ہی وہ بھی ہوا جبھی خیریت پوچھنے چلا آیا ۔تم نےاسکو ڈیٹ بنا دیا۔ 

اس کو تھوڑا غصہ آرہا تھا۔ گوارا نے گہری سانس لی۔

تو تمہاری جانب سے ایسی کوئی بات نہیں ہایون صرف دوست ہے۔ اور اگر ہایون تمہیں دوست سے ذیادہ سمجھنے لگے تو ؟

کیا ہوگیا ہے گوارا۔ وہ جھلا اٹھئ۔ 

وہ تمہارا بھئ دوست ہے تم سے ملنے نہیں آتا کیا؟ مجھ سے ملنے آگیا تو اسے ڈیٹ بنا دیا تم نے۔ یہ تو منافقت ہوئی

ریلیکس۔ ایسے ہی کہہ دیا اتنا غصہ آنے کی کیا بات ہے۔ 

گوارا فورا سیز فائر کرنے لگی۔ 

ہایون اچھا لڑکا ہے۔ہائی اسکول سے جانتی ہوں اتنا مہذب اور دھیمے مزاج کا وجیہہ لڑکا ہے۔  اگر وہ تم میں دلچسپی لینے لگے تو یہ کوئی بری بات تھوڑی ہے۔ بلکہ اگر وہ تمہیں پرپوز کرے تو سب سے ذیادہ خوشی مجھے ہوگی تم دونوں مجھے دل سے عزیز ہو۔

گوارا کا انداز اتنا پرخلوص تھا کہ وہ مزید غصہ نہ کر سکی۔ 

مگر ایسا ہو نہیں سکتا۔

اسکا انداز قطعی تھا گوارا بے ساختہ چونک کے پوچھنے لگی

کیوں؟ تم کسی اور سے کمیٹڈ ہو ؟ آئی مین پاکستان میں۔ 

تم نے تو کہا تھا ڈیورسڈ ہو؟ 

اف گوارا۔۔ 

اسے اسکی بے چینی پر ہنسی ہی آگئ۔ کپ اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

پکی اس وقت تم پاکستانی آنٹی لگی ہو۔اتنی متجسس وہی رہتی ہیں پاکستانی لڑکیوں کی زندگی کے بارے میں۔ شادی ہوئی؟ منگنئ ہوئی کب کرنے کا ارادہ ہے جیسے سوال تو وہ لڑکی کے سلام کے جواب میں پوچھ لیتی ہیں ۔۔ اور المیہ یہ ہے کہ عموما ہمیں جواب دینے بھی پڑتے ہیں۔

اسکے اتنئ باتیں سنانے پر گوارا بدمزہ نہ ہوئی بلکہ کریکر میں رکھ کر اطمینان سے بولی  

ایشائی آہجومہ سب ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔ تمہیں کبھی اپنی اماں کی دوستوں سے ملوائوں تو تمہارے ننھیال ددھیال کی بھی سب معلومات اکٹھی کرلیں گی تم سے پہلی ملاقات میں ہی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح8 بجے تیار رہنا۔ میں نے کل چھٹی کی بات کر لی ہے۔ رات کو جلدی سو جانا ۔ میں بھئ آکر سو جائوں گا۔ کل کا دن کافی ہیکٹک ہوگا ہمارے لیئے۔ 

طویل پیغام۔ 

وہ کنوینئیس اسٹور میں بیٹھئ بیزاری سے اوپر نیچے کرتے جانے کتنی دفعہ اس پیغام کو پڑھ چکی تھی۔ 

چکن نوڈلز سامنے پڑے ٹھنڈے ہو رہے تھے۔ 

اسکی پیشانی پر پسینہ آرہا تھا۔ 

اس نے یو ٹیوب کھولا۔ 

abortion process

اس نے کتنی ہی دیر ہوگئ مختلف ویڈیوز دیکھنے میں جانے کتنا وقت بتایا ۔۔ تبھئ اسکے سامنے وہ ویڈیو آئی۔ بنا کسی مکالمے کے صرف ہلکی سی موسیقی کے ساتھ وہ چھوٹی سی ویڈیو تھی 

اسکی آنکھوں سے کئ آنسو ٹپکے تھے۔ اسکا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔۔ ویڈیو بند ہوگئ تھی اگلی ویڈیو چالو ہو چکی تھی مگر وہ بالکل بے دھیان تھئ  ۔ تبھئ کسی نے میز پر ہلکے سے دستک دی ۔ 

وہ ایکدم چونک کے سیدھی ہوئی۔ موبائل اسکئ ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا۔ 

یہ ریمن کی توہین ہے کہ اسکو سامنے رکھ کر کھانا بھول جایا جائے۔ 

کم سن مسکرا کر کہتے اسکو سوپ نوڈلز کی جانب متوجہ کرنا چاہ رہا تھا مگر اب اسکی شکل دیکھ کر سنجیدہ سا ہو گیا۔ 

آئیم سوری ۔ وہ بس نوڈلز ۔۔ کرم  

وہ سٹپٹا سا گیا تھا۔ 

یہ آپ لینا چاہیں تو لیں لیں میں نے اسکو کھایا نہیں ہے۔ 

سوپ نوڈلز میں گرم پانی ڈال کر اسکا ڈھکن اس نے بند کر رکھا تھا تاکہ نوڈلز گل جائیں۔ 

مگر اس وقت وہ کچھ کھانے کے موڈ میں نہیں تھی۔ سو اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

آنی۔ کم سن نے انکار کرنا چاہاپھر ہنس کر بولا

انکو اتنی دیر ڈھک کر نہیں رکھا جاتا ہے یہ لجلجے ہو چکے ہوں گے اب کھانے کے قابل نہیں رہے ہوں گے۔ 

کم سن کے کہنے پر وہ کندھے اچکاکر موبائل اٹھاتئ اسکے برابر سے ہو کر جانے لگی

دو قدم چلی ہوگی کہ اتنی زور کا چکر آیا کہ فورا سہارے کیلیے اسی میز کو تھامنا پڑگیا۔ 

کم سن نے فورا کرسی کھینچ کر اسکے آگے کی۔ وہ فورا بیٹھ گئ۔ 

کھانے سے منہ نہیں موڑنا چاہییے۔ 

اس نے اسکا نوڈلز کا پیالہ اسکی جانب بڑھا دیا۔ اس نے سر جھکا لیا۔ ڈھکن ہٹا کر ایک دو نوالے لے ہی لیئے۔اسکا بی پی لو ہو رہا تھا۔ پھر بھئ نوڈلز کا ذائقہ اتنا ناگوار لگ رہا تھا کہ اس سے مزید کھایا نہ جا سکا۔ 

کچھ اور کھائوگی؟ 

کم سن بھانپ کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اس کنوئینس اسٹور میں ہر طرح کا پراسسڈ کھانا موجود تھا۔ وہ بھاگ کر بن لے آیا جس میں اندر چاکلیٹ بھری ہوئی تھی۔ 

سنتھیا نے ایک نظر اسکے چہرے پر ڈالی پھر ہونٹ کاٹنے لگی 

شکریہ۔ اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

میں آپکو گھر تک چھوڑنے آئوں؟ 

کم سن اس سے پوچھ رہا تھا۔اس نے ہونٹ بھینچ لیئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیول میں رات گہری ہورہی تھی  فضا میں محسوس کی جانے والی خنکی تھی۔۔ لمبا کوٹ تو وہ پہنے ہی تھئ کم سن کا  مفلر لپیٹ کر کم سن کے پیچھے چلتی وہ اسکو بس ایک  موٹا سا ہڈ والے اپر میں ملبوس دیکھ کر رشک بھی کر رہی تھئ تو جھر جھری بھی لے رہی تھی 5 ڈگری میں اسکی جوانی کا عالم یہ تھا کہ بس ایک اپر۔۔ 

گینڈے کی کھال ہے کیا اسکی ۔ ایک سویٹر میں مزے سے گھوم رہا ادھر میری اس کوٹ میں بھی گگھی بندھ رہی ہے۔ 

اسکے پیچھے چلتے وہ بڑ بڑا رہی تھی۔

کھاتے بھی تو کیا کیا عجیب گرم چیزیں ہیں اندر سےگرم رہتے ہیں اوپر سے وہ بدمزہ جنسنگ کا قہوہ۔۔ 

اسے ایڈون کے ساتھ پیا گیا قہوہ یاد آیا جسے پی کر اسے لگا تھا جو اندر ہے بھی وہ بھی باہر آجائے گا۔۔آنتوں سمیت۔۔ 

جبھی اتنا سکون سے۔۔ 

اسکی مستقل بڑ بڑ پر کم سن نے مڑ کر اسے دیکھا تو وہ گڑبڑا کر سر جھکا گئ۔

 وہ اسے ایک درمیانے درجے کے مکان میں لیکر آیا تھا۔ تنگ سی گلی جس کی کم ازکم پندرہ سیڑھیاں چڑھ کر ذیلی گلی میں داخل ہوئے دونوں اطراف پختہ مگر پرانےمکانات تھے۔ اس مکان کا باہر بس داخلی دروازہ تھاجس کو دیکھ کر لگتا تھا بس مرلہ ڈیڑھ کا گھر ہوگا۔۔ کم سن دستک دینے کی بجائے سیدھا دروازہ کھول کر اندر گھس گیا تھا۔ وہ چند لمحے جھجک کر باہر ہی کھڑی رہ گئ۔ اپنے پیچھے اسکی غیر موجودگئ کا احساس ہوتے ہی کم سن پلٹ کر واپس بھی  آیا۔۔

کم ان۔۔ اس نے کہا تو وہ متزبزب سی اسے دیکھے گئ۔۔ 

کیا بتائوں اسے اتنا چھوٹا مکان دیکھ کر ہی گھبراہٹ ہو رہی ہے مجھےتو گوشی وون سے جھر جھری آرہی تھی یہ بھئ اتنا ہی بڑا ہوگا ۔۔ وہ سوچ کے رہ گئ 

۔۔ کم سن منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا تو اسے قدم بڑھانا پڑا۔

اسکی توقع کے برعکس دروازے کے اندر داخل ہوتے ہی اچھا خاصا صحن تھا جس کے بیچوں بیچ کوریائی طرز کا تخت رکھا تھا جس پر ڈھیر ساری بند گوبھی پر مصالحہ لگا کر بڑی بڑئ طشتریوں میں پھیلا کر رکھاتھا فضا میں تیز مصالحوں کی مہک رچی تھی۔ ایک جانب باورچی خانہ تھا سامنے برآمدہ سا تھا اور دو کمروں کے بند دروازے نظر آرہے تھے۔ باورچی خانے کی چمنی سے دھواں اٹھ رہا تھا۔  کم سن بے تکلفی سے باورچی خانے میں گھس گیا۔۔ وہ بھی اسکے پیچھے چلی آئی۔۔

ایک پختہ عمر کی مضبوط جسامت کی خاتون جن کے سر کے سب بال براق سفید تھے زمین پر پٹرے پر بیٹھئ جھک کر اسٹو پر سوپ بنا رہی تھیں۔ کم سن نے اکڑوں بیٹھ کر انکو بانہوں میں لے لیا تو وہ بری طرح چونک کر مڑیں پھر جیسے کم سن کو دیکھ کر نہال ہوگئیں خوشی کا بے ساختہ اظہارکرتے انہوں نے کم کو بھینچ لیا تھا۔۔ 

اتنے دنوں بعد آئے تم۔۔ انکی پلکیں بھیگ چلی تھیں۔ 

مصروف تھا مگر بھولا نہیں تھا آپکو۔۔ کم سن کا انداز بھی اسکے معمول کے لیئے دیئے رہنے والے انداز سے یکسر مختلف تھا۔۔ بے حد پیار سے وہ مخاطب تھا۔۔ 

وہ بوڑھئ خاتون نہال سی اٹھیں 

چلو اندر چلو میں سوپ لیکر آتی ہوں۔ کم سن کو ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے انکی نگاہ دروازے پر ایستادہ سنتھیا پر پڑی تو حیران سی نظروں سے دیکھنے لگیں۔۔

اسلام و علیکم۔۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا سر جھکا کر سلام کرتی سنتھیا آہجومہ کو مزید متحیر کر گئ

اب انکا سلام تو مجھے سیکھ چکے ہونا چاہیئے تھا کچھ ذیادہ ہی احمق ہوں میں۔ 

اسے انکی حیرانی شرمندہ کر گئ  

دے۔۔ انکو جواب سمجھ نہ آیا کہ کیا دیں تو بس اسی کی طرح سر جھکا کر دے بول دیا۔۔ 

کم سن محظوظ انداز میں مسکرادیا تھا۔۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لکڑی کے فرش پر لکڑی کی چھوٹی سی تپائی رکھ کر انہوں نے کھانا پیش کیا تھا۔وہ اور کم سن آمنے سامنے زمین پر آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے اس نے کھانے کا جائزہ لیا۔ سادے ابلے چاول چکن سوپ ساتھ کمچی اور انڈے کے رول۔۔۔ان دونوں کے سامنے کھانا رکھ کر وہ گھٹنوں کے بل شرمندہ شرمندہ سی بیٹھ گئیں۔۔ 

بیانئیے۔۔( معزرت) کھانے کا وقت تھا اور مجھے خبر نہ تھی تم مہمان کو لے کر آئوگے ورنہ کم از کم گوشت ہی بنا لیتی۔۔ پورک پڑاہوا تو تھا گھر میں۔۔ 

انکو معزرت خواہانہ انداز میں خود سے مخاطب دیکھ کر سنتھیا نے سوالیہ نگاہوں سے کم سن کو دیکھا۔۔۔ 

کوئی بات نہیں آہمونی۔ میں ٹھیک ٹھاک کھانا کھائوں گا۔ 

چھائے موکے سبندا  

کم۔سن نے سنتھیا کو ترجمہ کرکے بتانے کی بجائے سیدھا آہجومہ کو جواب دیا تھا۔۔اس نے بنا تکلف اپنے پیالے میں سوپ نکالا اور چاول ان میں ڈال کر کھانے لگا۔ 

آہجومہ اور کم سن خوب آرام سے کھا رہے تھے۔ 

اتنے دنوں میں اسے یہ تو اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ لوگ سوپ سادے چاولوں کے ساتھ کھا لیتے ہیں مگر سفید سا یہ سوپ دیکھنے میں بالکل بھی خوش رنگ نہیں تھا۔ اسے کہیں کھا کے الٹی نہ آجائے۔ وہ شش و پنج میں تھی۔ 

اگر الٹی آجائے تو بھاگ کے دروازے تک جانے میں کتنا وقت لگ جائے گا۔ وہ اندازہ لگا رہی تھی۔ 

کم سن نے اسکا چاولوں کا پیالہ اپنی جانب کھینچا اپنے چمچ سے چاول بھرے سوپ میں ڈبو کر کھا لیا۔ اسکی اس حرکت پر وہ حیران سی اسے دیکھے گئ

کچھ الگ نہیں ان میں سادہ کھانا ہے اطمینان سے کھا سکتی ہو اب۔ 

اسکا انداز طنزیہ نہیں تھا۔ سادہ سے انداز میں اسے جو مناسب لگا اس طریقے سے اسکی تسلی کروائی تھی۔ 

وہ حد درجہ شرمندہ ہوئی۔ ۔

وہ میں۔ 

وہ بے خیالی میں اردو میں ہی وضاحت کرنے لگی تھی کہ خیال آیا انگریزی میں کہے۔ یا ۔۔۔ یا پھر جانے دے۔ 

کورینز جھوٹے ووٹے کا خیال نہیں کرتے آرام سے ایک دوسرے کو انسان سمجھتے انکے کھانے میں حصہ بٹا لیتے بنا گھن کھائے اسکے ساتھ کوئی خاص سلوک نہیں ہوا تھا۔ پھر بھی جھوٹا۔۔ اس نے جھجکتے ہوئے اپنا چمچ اٹھایا۔ کم سن اس پر سے دھیان ہٹائے کھانا کھانے میں مگن تھا۔

آگاشی۔ کھانا شروع کرو۔ کیا ہوا پسند نہیں آیا کچھ اور بنا لائوں؟ 

آہجومہ فکرمند ہو رہی تھیں۔ 

اس نے سوالیہ نگاہوں سے کم سن کو دیکھا۔ 

تمہیں پراسسڈ فوڈ نہیں کھانی چاہیئے اس حالت میں۔ اس لئےمجھے بہتر یہی لگا تھا کہ تم گھر کا بنا کھانا کھا لو شائد بہتر محسوس کرو۔ بیان ( معزرت) اگر تمہیں کھانا پسند نہیں آرہا ہے تو کوئی بات نہیں۔ میں تمہیں واپس چھوڑ آتا ہوں۔ 

کم سن کے کہنے پر وہ چونک سی گئ۔ کھانا ناپسند کیسے آتا چکھے بغیر۔ مگر حالت سے اسکی کیا مراد؟ 

کھانے کی بو حواسوں پر چھا رہی تھی۔ اس نے جھجکتے ہوئے نوالہ بنا ہی لیا  

یہ کورین نہیں نا تو اسکو شائد ہمارے یہاں کا کھانا پسند نہیں آرہا۔ آپ کھانا سمیٹیئے گا نہیں میں اسکو چھوڑ کر آکر کھانا کھائوں گا۔ 

کم سن کہہ کر اٹھنے کو تھا کہ آہجومہ نے پیار بھری نظروں سے دیکھتے اس لڑکی کی جانب اشارہ کیا۔ 

وہ پاکستانی سانولی سی لڑکئ جسے اس نے سوچ سوچ کر کھانا کھاتے دیکھا تھا جب بھی کھاتے دیکھا اس وقت خاصی رغبت اور تیزی سے چاول کھا رہی تھی۔ کورینز کی طرح۔ 

وہ مسکرا کر اپنے کھانے کی جانب متوجہ ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کیا لگتی ہیں تمہاری؟ 

واپسی پر وہ کم سن سے پوچھ ہی بیٹھئ۔ 

یہ میری والدہ ہیں۔۔

اسکا جواب مختصر تھا۔

سنتھیا کو جھٹکا لگا ۔ 

واقعی؟ تمہاری والدہ؟۔۔ اسکا مطلب تم بھی یہاں رہتے ہو؟ وہ الجھی۔۔

انکی انگریزی سمجھنےکی کوشش کرتی ہوئی وہ  سادہ سی دیہاتی کوریائی نقوش کی خاتون کی معمولی سی بھی شباہت کم سن میں نہ تھی۔۔

نہیں میں اپنے اپارٹمنٹ میں رہتا ہوں۔ یہ اپنی بیٹی کیساتھ رہتی ہیں۔نہ یہ میرے ساتھ رہنے کو تیار ہوتی ہیں نہ میں انکے ساتھ۔۔ 

کم سن کو اندازہ تھا کہ اب سوالوں کی بوچھاڑ ہوگئ سو اپنی جانب سے تفصیل سے جواب دیا۔۔ 

یہ کیا بات ہوئی۔ کیسی والدہ ہیں بیٹےکے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں اور تم کیسے بیٹے ہو بہن اور ماں کو ساتھ رکھو۔۔ انکو یہاں اس بڑھاپے میں ایسے چھوٹے گھر میں رکھ چھوڑاہے۔۔ اسکا اندز جھاڑ پلانے والا تھا۔۔ کم سن دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا

تم سب پاکستانئ ایسے ہوتے ہو۔ بال کی کھال نکالنے والے۔ دوسروں کی زاتی زندگی میں دلچسپی لینے والے انکو یوں ڈانٹ دینے والے ؟؟؟

سنتھیا کیلئے اسکا ردعمل غیر متوقع تھا بری طرح سٹپٹائی

اس میں باقی پاکستانیوں کو کیوں لے آئے ؟ 

وہ میں۔۔ ایسے ہی پوچھ بیٹھئ۔ معزرت۔  

وہ چڑ گئ۔ آجکل اسے کافی جلدی چڑ چڑھ جاتی تھی۔ 

۔۔ نہ بتائو جو مرضی کرو مجھے کیا۔۔ 

سنتھیا اردو میں بڑ بڑائی۔۔خاموشی سے ہم قدم چلتے

کم سن نے چند لمحے انتظار کیا کہ وہ ترجمہ کرے مگر اسکا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا۔۔ 

ویسے اگر تم مجھے ایک ذاتئ سوال کا جواب دو تو میں تمہیں اس بات کا جواب دے سکتا ہوں۔۔ 

سنتھیا نے حیران ہو کر اسکی شکل دیکھی

تم پاکستان کیوں نہیں چلی جاتیں؟ 

کم سن کا انداز سادہ سا تھا۔۔ 

تم سے مطلب۔۔ حسب توقع وہ چڑ گئ۔۔

کم سن سر جھٹک کردوبارہ خاموش ہوگیا۔ سیڑھیاں سنتھیا کیلئے کے ٹو کا پہاڑ بن گئیں۔ کئی بار ریلنگ پکڑی ۔ شکر ہے اترائئ تھئ۔ اسکی سانس پھول رہی تھی  پسینے چھوٹ گئے تھے۔ کم سن اسکے برابر بظاہر بے نیازی سے چل رہا تھا مگر درحقیقت اس پر مکمل توجہ تھی۔ سنتھیا نے کن اکھیوں سے اسکو کئئ بار دیکھا۔ ایک ماتھے پر شکن تک نہ تھی۔ وہ دانستہ اسکے ساتھ آہستہ چل رہا تھا 

یونہی چلتے آخر سفر تمام ہوا تھا۔ گوشی وون کے کمپائونڈ میں آکر اس نے کم سن کا شکریہ ادا کرنا چاہا۔ 

کھانا بے حد لذیذ تھا۔ آج کافی رغبت سے کھایا میں نے۔ تم اپنی والدہ کا شکریہ ادا کرنا میری جانب سے۔ 

لیکر میں گیا تھا تمہیں ۔ 

کم سن نے جتایا

تمہارا بھی بہت بہت شکریہ۔

وہ اسکی شرارت سمجھ کر مسکرا دی

شب بخیر۔ 

وہ کہہ کر مڑی تو کم سن کو جانے کیا سوجھی ایکدم بولا

ویسے ایک بات پوچھوں۔ 

سنتھیا رخ موڑ کر اسے دیکھنے لگی ۔۔ کم سن ایک قدم آگے بڑھ کر اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا

آج والا سوپ ذیادہ گرم تھا یا کل والا؟ 

وہ ایکدم سناٹے میں آئی تھی۔ کم سن ہلکے سے مسکرایا پھر ہاتھ ہلا کر شب بخیر کہتا چلا  گیا۔ 

وہ چند لمحے اسے جاتے دیکھتئ رہی پھر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اسکا دیا مفلر  ابھی بھی اسکی گردن میں ملفوف تھا۔ اس نے اتار کر تکیئے پر اچھال دیا۔ اسکی سائیڈ ٹیبل پر ایک بڑا سا شاپر تھا۔ شائد ایڈون کچھ کھانے پینے کی چیزیں رکھ گیا تھا۔ وہ ان پر نگاہ غلط ڈالتی سیدھا بستر پر لیٹ گئ۔ بہت دنوں بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا اسکو نیند آرہی تھی۔ شدید گہری نیند۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شدید درد سے اسکی پیشانی تر ہوگئ تھی۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا آرہا تھا جب ڈاکٹر نے دھیرے سے اسکے گال تھپتھپا کر اسکو جگایا۔ 

اٹھ کر دیکھو کتنا پیارا بچہ ہے۔ 

ڈاکٹر نے اسکو اجنبی زبان میں جانے کیا کہا تھا وہ کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے اٹھ بیٹھی۔ ڈاکٹر نے کمبل میں لپٹا ننھا سا وجود اسکی بانہوں میں تھمایا۔ 

چھوٹا سا دہانہ میچئ ہوئی آنکھیں گول چہرہ گورا چٹا سا گل گوتھنا سا بچہ ننھئ ننھی مٹھیاں کھولتا بند کرتا غوں غاں کرکے جانے ماں سے کیا راز و نیاز کر رہا تھا۔ ۔ اس نے کمبل پیچھے کرکے اسکی مٹھی میں اپنی انگلی تھمانی چاہی اسکی مٹھی ایکدم سرخ ہو گئ تھی۔ گاڑھا سرخ خون اسکی انگلی تر کرنے لگا اس نے گھبرا کر انگلی چھڑائی بچہ ایکدم سے سرخ سا ہو گیا گہرا گاڑھا خون  بچے کی پیشانی سے پھوٹا۔ اسکا پورا چہرہ رنگین ہوا 

اس نے گھبرا کر ڈاکٹر کو دیکھا

یہی چاہتی تھیں نا تم مار دیا ہم نے اسے۔ 

چندی آنکھوں والی وہ ڈاکٹرنئ اردو میں غرائی تھی اس کے ہاتھ میں ایک بڑی سی آری تھی اس نے تیزی سے ہاتھ اونچا کیا اور اس بچے کے سر کی جانب چلا دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ایکدم گھبرا کر اٹھی تھئ۔ آنکھ کھلی تو احساس ہوا کہ اپنے ہی کمرے میں ہے۔ کمرے میں ہلکی روشنی ہو رہی تھی۔ وہ پیشانی مسلتی اٹھ کر بیٹھ گئ۔ چند لمحے تو سانسیں بحال کرنے میں لگ گئے ۔ ایڈون کچھ شاپر اٹھائے اندر داخل ہو رہا تھا۔ 

اٹھ گئیں تم؟ چلو جلدی سے ناشتہ کرلو ۔ ہلکا پھلکا سا ہی کھانا ہے۔ تاکہ طبیعت خراب نہ ہو۔ 

وہ بولتا ہوا شاپر سائیڈ ٹیبل پر رکھنے لگا۔ 

یہ کیا رات کو  کھانا نہیں کھایا تم نے؟ بھئ یہ لاپروائی مت کیا کرو۔ 

وہ نرمی سے کہتا پلٹ کر اسے دیکھنے لگا تو چونکا۔ 

کیا ہوا۔ طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟ وہ قریب آکر اسکی پیشانی چھو کر دیکھنے لگا۔

میں ٹھیک ہوں۔ پانی۔ خشک لبوں پر زبان پھیرتے وہ بمشکل کہہ پائی۔ 

ایڈون نے فورا گلاس میں پانی بھر کر تھمایا۔ وہ اتنی پیاسی ہو رہی تھی کہ ایک سانس میں پی گئ  

ایڈون گلاس واپس رکھ کر اسکے برابر بیٹھ گیا۔ اسکو پیار سے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لے لیا۔ 

مجھے اندازہ ہے تم بے حد گھبرا رہی ہو گی۔ میں نے سب معلومات لے لی ہیں۔ کوئی گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ معمولی سی سرجری ہے بس۔ میں ہر پل تمہارے ساتھ رہوں گا۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں کچھ غلط ہونے نہیں دوں گا آئی پرامس۔ آئی لو یو سنتھیا۔ 

اسکے سر پر تھوڑی رکھے وہ تسلی دے رہا تھا۔عجیب بات یہ تھی کہ اسکے ان الفاظ سے واقعی اسکا دل ٹھہر سا گیا۔ اس نے گہری سانس خارج کرتے آنکھیں موند لیں۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد

جاری ہے۔

Kesi lagi Aapko salam korea ki yeh qist? Rate us below

Rating

Salam Korea Episode 28

Salam Korea
by Vaiza Zaidi

قسط 28
اسکی صبح خوشگوار ہوئی تھی۔ اتنے دنوں میں پہلی بار اس نے گوارا اور اریزہ سے پہلے بیدار ہو کر ناشتہ بنایا۔۔
بناتے ہوئے گنگناتی بھی رہی تھی۔ گوارا جمائی لیتی کمرے سے نکلی تو کچن میں اسے دیکھ کر بھونچکا سی رہ گئ آہٹ کیئے بنا واپس دوڑی آنکھیں ملتی اریزہ کو ادھ سوئی کیفیت میں ہی کھینچ کر کچن کے باہر لاکھڑا کیا۔
اسکی آنکھیں پٹ سے کھلی تھیں تھوڑا تھوڑا منہ بھی۔۔
آہٹ پر ہوپ نے مڑ کر دیکھا تو دونوں کو ہکا بکا دیکھ کر مسکرا کر بولی
آجائو میں نے ناشتہ بنا دیا ہے تم دونوں کا آئو مل کر کرتے ہیں ناشتہ۔
اب دونوں کا منہ بھاڑ سا کھلا رہ گیا تھا۔۔ ہوپ کھسیا کر مسکرا دی
سنکے ہوئے توس چیز آملیٹ بھاپ اڑاتی کافی کے مگ۔ وہ دونوں ناشتے پر ٹوٹ پڑی تھیں۔
آج کیسے خیال آگیا تمہیں؟۔ گوارا پوچھے بنا نہ رہ سکی
آج مجھے تھوڑی دیر سے جانا تھا۔۔ ہوپ نے قصدا لاپروا انداز اپنایا۔۔
اچھی بات ہے کاش تمہیں روز دیر سے جانا ہوا کرے۔۔
گوارا کھلکھلائی۔۔
اریزہ توس کھاتے کسی گہری سوچ میں گم تھی
گوارا نے ٹہوکا دیا
کیا سوچ رہی ہو۔۔
جاب کا سوچ رہی مجھ سے بچے سنبھلتے نہیں اور کل تو ایک بچے نے مجھ پر سو سو بھی کر دیا ۔۔
اسکے کہنے پر گوارا کو اچھو لگا۔۔
واقعی ۔۔ وہ بے ساختہ ہنسی تھی۔۔
اریزہ نے بے چاری سی شکل بنائئ۔۔
پہلی جاب بہت مشکل ہوتی ہے۔ میری بھی پہلی جاب سیلز گرل کی تھئ اور کبھی ٹارگٹ پورا نہیں کر پائی تھئ۔۔ چینی تو پیسے کے معاملے میں بالکل رعائیت نہیں برتتے۔۔آدھی تنخواہ ملتی تھی مجھے۔۔ ہوپ نے کہا تو وہ دونوں سنجیدہ ہوگئیں
ہوپ تمہارے گھر والے کہاں ہوتے ہیں؟ اریزہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا
پتہ نہیں ۔ اب تو زمین کے اوپر ہوتے ہیں یا نیچے یہ بھی معلوم نہیں مجھے۔
وہ لاپروا سے انداز میں کہتی اٹھ کر برتن سمیٹنے لگی
کافی دکھی لگتی ہے یہ مجھے۔۔
گوارا کا انداز ترس کھانے والا تھا
تمہارے پیرنٹس کہاں ہوتے گوارا؟اریزہ کے پوچھنے پر اسے اچھو سا لگا۔ کافی کا مگ رکھ کر اسے حیرت سے دیکھنے لگی
تمہیں انکا خیال کیسے آگیا۔ مجھے نہیں آتا۔۔
وہ ہنسی مگر اریزہ کو جواب طلب نظروں سے دیکھتا پا کر بتانے لگی
گائوں میں ۔ بلکہ گائوں کم قصبہ ہے بلکہ شہر ہی سمجھ لو وہاں تھوڑی سی زمین پر کاشتکاری کرتے ہیں آہبوجی۔ آہموجی ڈھابہ چلاتی ہیں وہاں۔
اور بہن بھائی؟ اریزہ فل انٹرویو موڈ میں تھی
دو بہنیں ایک بھائی ہے سب پڑھ رہے ہیں اسکول میں بھائی اگلے سال یہاں آجائے گا میرے پاس اسکی یونیورسٹی شروع ہو جائے گی۔
تم تو ان سے ملنے بھی نہیں جاتی ہو۔۔ اریزہ کا انداز حیران ہونے والا تھا
سمسٹر اینڈ پر جاتی ہوں نا اس بار نہیں گئ اب مڈ بریک ہوگی اگلے ہفتے تو گھر جائوں گی۔
گوارا کافی ختم کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ہیں تم چلی جائو گی گھر تو میں کیا کروں گی یہاں اکیلی ۔
اسے نئی فکر سوار ہوئی۔۔
اکیلی کیوں میں ہوں نا یہاں۔ ہوپ اسکو کہہ رہی تھی گوارا نے اسے آنکھوں آنکھوں میں ہنس کر میں اشارہ کیا
اریزہ بمشکل مسکرا کر بڑ بڑائی
اسی کا تو ڈر ہے۔۔
مگر یار میں کیسے مارٹ جائوں گئ؟ مجھے تو راستہ بھی یاد نہیں ہوا ہے۔
اسکی فکر بجا تھی گوارا سوچ میں پڑی۔
آٹھ بجے ہیں ابھی تمہاری ڈیوٹی ایک کے بعد ہے ابھی سے چھوڑ بھی آئوں تو کیا کروگی چار پانچ گھنٹے۔۔
میں کسی قریبی پارک میں بیٹھ جائوں گئ۔
وہ جانے کیلئے تیار تھی۔ گوارا نے اسے دیکھا۔پھر ہوپ سے بولی
ہوپ تم اریزہ کو ساتھ لے جائو۔ اسکو روٹ سمجھا دینا بس کا۔
گوارا کے کہنے پر اریزہ کی آنکھیں ابل پڑی تھیں۔ اس سے قبل کہ کچھ کہہ پاتی ہوپ کا جواب اسکی آنکھوں کو مزید کھول گیا تھا مزید آنکھیں نہ کھل سکیں تو تھوڑا سا منہ بھی کھل گیا۔
وہ کہہ رہی تھی۔
ہاں کیوں نہیں۔ اکٹھے چلتے ہیں۔ میرا اسٹور مارٹ کے قریب ہی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوپ اسکے ساتھ ساتھ خاموشی اور لا تعلقی سے چل رہی تھی ۔گوارا کے ساتھ وہ میٹرو ٹرین میں گئ تھی اسکا راستہ مخالف تھا۔ ہوپ اسکو میٹرو اسٹیشن کی جانب رخ کرتے دیکھ کر بس اتنا بولی
بس سے جانا ذیادہ بہتر رہے گا۔۔
وہ اسکے ساتھ بس کی جانب بڑھ گئ۔۔ بس کارڈ اسکا بنا ہوا نہیں تھا سو وہ اپنا پرس کھنگالنے لگی۔ اسکے پیچھے رش بننے لگا ہوپ کارڈ کو آٹومیٹک مشین سے لگا کر لمحے بھر میں آگے بڑھ گئ۔
مس آپ ۔ راستہ چھوڑ دیجئے بعد میں اترتے ہوئے پیسے ڈال دیجئے گا ۔
نہایت شائستہ انداز میں ڈرائور نے ٹوکا تھا وہ بھی انگریزی میں۔ اس نے چونک کے سر اٹھایا وہ کوئی جوان سا ہی چندی آنکھوں والا آدمی تھا سلیقے سے سنورے بال استری شدہ یونیفارم ۔ سچ پوچھو تو حسن میں کسی کورین اداکار سے کم نہیں تھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ سے اسے کہہ کر وہ اب رخ بدل گیا تھا۔ وہ فورا ایک۔طرف ہوئی۔ ریزگاری وہ ہمیشہ الگ جیب میں رکھتی تھی۔ جب مسافرچڑھ گئے تو وہ آگے بڑھ کر اس صندوق میں پیسے ڈالنے لگی۔
آہجوشئ میں نے پیسے ڈال دیئے ہیں۔
اس نے متوجہ کرنا چاہا مگر وہ بس اسٹارٹ کر چکا تھا سو سڑک پر نگاہ جمائے بس اونچی آواز میں بولا
دے۔
وہ اسکے اخلاق سے خوامخواہ میں متاثر ہو گئ۔ بس کھچا کھچ بھر گئ تھئ ذیادہ۔تر طلبا ء تھے مخصوص وردی چڑھائے۔ اس نے بےتابی سے ہوپ کو تلاشا۔ پھر اس رش میں بھئ زبردستی سب کو دھکے دے کر جگہ بناتی ہوپ تک پہنچ گئ۔ ہوپ نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی جو اسکے پاس آکر اب مطمئن ہوگئ تگئ۔
کھچا کھچ بھری بس جس میں سنبھل کر اسے کھڑے ہو کر جانا تھا۔ گو آگے پیچھے طلباء ہی تھے۔ مرد و زن بلا امتیاز کھڑے تھے۔ بس کا اسٹاپ آتا تو خوب دکھم پیل نچا کے اترتے۔مگر چونکہ ذیادہ تر اسکول کے یونیفارم میں تھے لڑکے لڑکیاں وہ ناگواری کے احساس کو جھیل گئ۔ ہوپ بظاہر لاتعلق مگر اس پر گاہے بگاہے نظر رکھے تھے۔ اسکا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔
۔ بس نے اسے عین اس مارٹ کے سامنے اتارا تھا۔۔ یہ آسان تھا اسکے لیئے مگر کیا بس میں روز اتنا ہی رش ہوتا ہے یہ سوال اطمینان غارت کیے تھا۔
بس سے اتر کر قدم بڑھاتے ہوئے وہ یونہی بات برائے بات بولی
یہ ذیادہ آسان رہا میرے لیئے بس کا نمبر یاد رکھوں گی اب۔
تمہاری چھٹی کب ہو گی۔ وہ ہوپ سے پوچھ رہی تھی۔
واپسی پرمیں دوسری جاب پر جائوں گی۔ تم نے نوٹ کرلیا نا بس نمبر اسی میں واپس چلی جانا۔
ہوپ سمجھ گئ تھی اسکی مشکل۔
آ۔ اسکا منہ کھلا
اس نے نوٹ نہیں کیا تھا۔ نا ہی ابھی اسکے ساتھ ساتھ چلتے یہ احساس ہوا تھا کہ جو مارٹ اسے سامنے فورا نظر آگیا تھا اب ہوپ کے ساتھ چلتے چلتے وہ اس سے دور نکل آئی ہے۔
وہ مجھے واپسی پر تو مدد چاہیئے ہوگی اگر تم ۔۔
اس کی شکل دیکھ کر بولتے بولتے باقی جملہ منہ میں ہی رہ گیا۔ تو وہ بنا تاثر چہرے پر لائے بولی
واپسی کی بعد کی بات ہے ابھی بھی تم نے میرے ساتھ جانا ہے کیا؟
اس نےچند بلاک پیچھے رہ جانے والے مارٹ کی جانب اشارہ کیا۔
اریزہ خفت زدہ سی ہوکر رک گئ ہوپ سر جھٹک کر تیز تیز قدم اٹھاتی آگے بڑھ گئ۔۔
اخیر بونگی ہوں میں۔ اندھوں کی طرح چل کر آئی ہوں میں۔
۔ وہ دانت کچکچا کر رہ۔گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریں ریں کرتے بچوں میں وہ پھر گھری کھڑئ تھی۔۔ شکل ایسی بنی ہوئی تھی کہ اب روئی یا تب۔ ہیون اسے دیکھ کر مسکراہٹ ضبط کرتا اسکے پاس چلا آیا

اآننیانگ۔۔

اس نے پرتپاک انداز میں بچوں کو مخاطب کیا تھا۔۔ بچے ہم زبان کو دیکھ کر اسکی جانب بھاگے تھے۔ وہ بہت خندہ پیشانی سے انکو جھیلتے ہوئے جانے کیا گٹ پٹ کر رہا تھا۔۔

پھر وہ اطمینان سے اسٹول پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئ کہنی کائونٹر سے ٹکا کر دلچسپی سے اسے دیکھنے لگی۔ہیون نے پورے بیس ڈبے بکوا دیئے۔ اتنا ہینڈسم لڑکا وہ بھی قیمتی جیکٹ برانڈڈ جینز جوتے پہنے خواتین جوق در جوق اسکے اسٹال پر آئی تھیں۔

اوپا اوپا کی صدائیں۔ اور ہینڈسم آہجوشی کہہ کہہ کر اسکے بازو سے لٹکی جا رہی تھیں۔

ایک خاتون نے ہنستے ہنستے ساتھ کھڑے لڑکھڑا کر اسکے کندھے پر سر ہی رکھ دیا۔ وہ ناگواری سے دیکھ کر سیدھی ہوئی۔ بے ساختہ کڑخت سے انداز میں ڈپٹ کر پکار بیٹھی

آہجومہ۔

ہنستی آہجومہ ٹھٹک کر اپنے جامے میں واپس آئیں تو ہیون بھی ایکدم تیر کی طرح سیدھا ہوا

اگر آپ دو ڈبے لیں گی تو آپکو یہ بائول اور اسپون بھی ملے گا۔۔ اس نے دانت کچکچا کر کہا تھا

دے؟۔ وہ سمجھ نہ پائیں دوبارہ آنکھیں پٹپٹا کر ہیون کو جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگیں۔

اس نے مسکرا کر ترجمہ کیا۔۔

وہ خوشی خوشی چار پیکٹ لے گئیں۔

لو بھئ تمہارا آج کا تو ٹارگٹ پورا ہوگیا۔۔ ہیون نے خوشگوار سے انداز میں اسکے پاس آکر پیسے جمع کرائے

شکریہ۔ مگر میں خود بھی کر لیتی یہ تمہیں زحمت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔

اس کے رکھائی سے کہنے پر اسکا روشن چہرہ بجھ گیا۔۔

ہاں جانتا ہوں۔ وہ سنبھل کر اسکے ساتھ اسٹال سمیٹوانے لگا۔

اریزہ کو جانے کیوں غصہ آرہا تھا۔

ساری دنیا کے لڑکے ٹھرکی ہی ہوتے ہیں جتنے بھی شریف دکھائی دے جائیں۔۔ لڑکی گود میں آگرنے کو تیار ہوگی توخود اسکے سامنے لیٹ ہی جائیں گے۔۔

وہ سوچتے ہوئے چیزیں پٹخ رہی تھی۔ ہیون دھیرے سے ایک جانب ہو گیا وہ اسٹال سمیٹ کر کیش جمع کرانے کائونٹر پر چلی گئ۔۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسٹور میں چیزیں کارٹن سے نکال کر احتیاط سے ریک میں لگاتے یونہی اسکی نگاہ گلاس وال سے باہر پڑی۔ چھے بج رہے تھے۔ آسمان پر بارش کے آثار تھے ہوپ کی آسمان پر نظر پڑی تو فورا خیال آیا۔ جلدی سے سامان وہی چھوڑ کر کائونٹر کے پاس چلی آئی۔ اسٹور کا مالک ٹی وی پر بیس بال کا میچ دیکھنے میں مگن تھا۔
آہجوشی میں آج جلدی جا سکتی ہوں؟
اسکی فرمائش اتنی غیر متوقع تھئ کہ وہ حیرت سے دیکھنے لگا۔
میں جلدی جلدی سب چیزیں ریک میں لگاکر جائوں گی۔
اس نے تسلی دینی چاہی۔
آ۔ آنئ۔ ٹھیک ہے جائو تم۔ سامی ( ہیلپر)لگا دے گا باقی کارٹن۔جائو تم سب خیریت ہے نا۔
آہجوشی پر شفقت انداز میں پوچھ رہے تھے۔
دے۔ حسب توقع جواب مختصر تھا۔
نہایت چابک دستی سے کام کرنے والی ایماندار اس لڑکی نے پچھلے چھے مہینوں میں ایک چھٹی نہ کی تھی ابھی بھی شفٹ ختم ہونے میں صرف پینتالیس منٹ ہی باقی تھے اسکو اس نے بخوشی اجازت دی تھی۔
وہ تیزی سے اپنا بیگ اٹھاتی اسٹور کی جیکٹ او رکیپ کھونٹی پر لٹکاتی باہر آئی تو آہجوشی نے باقاعدہ آواز دے کر روکا۔
ہوپ شی۔
وہ مڑ کر سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
بارش ہونے والی ہے چھتری لے جائو۔
وہ نئی پیکنگ والی چھتری اسکی جانب بڑھا رہے تھے۔ اسکی آنکھوں میں حیرت اتر آئی تھئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیش جمع کروا کر وہ متلاشی نظروں سے اسٹور میں اسے دیکھنے لگی۔ نظر نہ آیا تو حیران سی اسٹور سے باہر نکل آئی۔ وہ کچھ ہی فاصلے پرچھتری تھامے سڑک کنارے کھڑا زمین کوجوتے کی نوک سے کھود رہا تھا۔۔وہ اسے دیکھتی رہی دیکھتے دیکھتے جانے کیا ہوا بری طرح بوکھلا کر رخ موڑ لیا۔ تبھئ اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی بس اسٹاپ کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔ اسکا حیرت سے منہ کھلا رہ گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارش کی بوندیں تڑا تڑ برسنے لگی تھیں۔تیز تیز قدم اٹھا کر ہوپ مارٹ تک آئی تھی۔ اریزہ شائد ابھی باہر نہیں نکلی تھی۔ وہ وہیں شیڈ میں رک کر انتظار کرنے لگی۔
اریزہ نکلی تو وہ فورا مستعد ہوئی مگر اریزہ کہیں اور ہی متوجہ تھی۔ اسکی نظروں کا مرکز شخص ابھئ بے نیاز تھا۔ وہ پلٹ کر مخالف سمت جانے لگی
ہایون کی اریزہ پر نگاہ پڑی تو بھاگ کے اسکی جانب بڑھا۔
ان دونوں کو دیکھتے ہوئے چھتری کی اوٹ کے باوجود اسکا چہرہ گیلے ہونے لگا تھا۔
اسکے اندر بھی بارش ہونے لگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اریزہ۔۔ اسکےپکارنے پر بھی وہ نہ رکی تو وہ برستی بارش میں بھی بھاگ کر اسکے برابر پھر مقابل آن رکا
کیا ہوا ہے سنائی نہیں دے رہا تھا میں پکار رہا تھا ؟ ساری بھیگ گئیں
اس نے حیرت بھری خفگی سے اس پر چھتری کی۔ ذرا سی دیرمیں وہ خاصی بھیگ گئ تھی۔ اپنے بیگ کے اسٹریپ کو سختی سے تھامے وہ قصدا نگاہ چرائے تھی۔
چلو میں گھر ہی جا رہا ہوں تمہیں بھی ڈراپ کردیتا ہوں۔
ہایون نے کہا تو وہ منع کرگئ
نہیں کیا ضرورت ہے میں بس سے چلی جائوں گی۔
وہ بس اسٹاپ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ وہ کہہ کر اسکے برابر سے ہو کر تیزی سے بس اسٹاپ کے شیڈ میں آکھڑی ہوئی۔ بس آ کر رکی تھی۔ اسٹاپ پر بارش کی وجہ سے رش تھا۔ جلدی جلدی کئی سواریاں چڑھ گئیں۔ہایون ہونٹ بھینچے دیکھتا رہا۔جگہ خالی ہونے پر وہ قریبی بنچ پر ٹک گئ
بس اپنی منزل کی جانب رواں ہو گئ تھی
وہ گہری سانس بھرتا اسکے برابر آن بیٹھا۔ چھتری بند کرکے نشست سے ٹکائی۔اور اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
کیا ہوا ہے؟
کچھ نہیں۔ وہ رخ موڑ گئ۔
مجھ سے کسی بات سے خفا ہو ؟
اسکی بات۔ بیگ کے اسٹریپ پر اسکی گرفت مزید سخت سی ہوگئ۔
کیوں۔خفا ہوں گی۔ ہم میں ایسی تو کوئی بات نہیں ہوئی
سردی کی وجہ سے شائد اسکی آواز کانپ سی گئ۔ وہ قصدا مسکرا کر اسکی جانب رخ کرکے بولی۔
اسکے ہونٹ نیلے ہو چلے تھے اور ناک سرخ۔ کندھوں تک آتے بال اونچئ پونی میں قید تھے مگر گہرے سیاہ بالوں پر پانی کے قطرے جیسے جم سے گئے تھے۔
پھر میرے ساتھ گاڑی میں کیوں نہیں چل رہیں۔ ؟
اسکا سوال دوٹوک تھا۔
کیا ضرورت ہے مطلب مجھے روز آنا جانا ہوگا بس میں آتے جاتے عادت ہونی چاہیئے نا ۔ پھر بس اسٹاپ گھر سے بھی قریب ہے بس اسلیئے۔
اسکی۔لمبی تاویل پر وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا
کونسی بس پر جائو گی؟
سامنے سے بس آرہی تھی وہ جواب دینے کی بجائے اٹھ کھڑی ہوئی۔
لو بس آگئ۔ اب تم جائو۔ آننیانگ۔
وہ کہہ کر آگے بڑھنے کو تھی۔ہایون بھی اٹھ کھڑا ہوا۔چھتری کھول کر تانی اسکو اپنے پیچھے آتا محسوس کرکے وہ جھلائی
تم جائو نا کیوں بارش میں یہاں ٹھنڈکھا رہے ہو۔ ۔
وہ سٹپٹا رہی تھی۔ بس کا دروازہ کھل چکا تھا۔
کونسی بس پکڑنی پتہ ہے؟ یہ بس تمہارے گھر سے بالکل مخالف راستے جاتی ہے۔
ہایون کی بات پر وہ ٹھٹک کر رکی تھی۔
آگاشی؟ جانا ہے؟
بس کے کھلے دروازے سے ڈرائیور آواز لگا رہا تھا۔
آنی۔ معاف کیجئے گا۔
ہایون نے جھک کر معزرت کرتے ہوئے کہا تھابس آگے بڑھ گئ۔
چلو میں گھر چھوڑ دوں۔
وہ نرمی سے بولا۔
مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا روز روز تمہاری مدد لینا۔ مانا تم امیر ہو اتنی بڑی گاڑی ہے افورڈ کر سکتے ہو مگر مجھے احسان لینا بالکل پسند نہیں۔میں ٹیکسی کر لوں گی تم جائو ۔
وہ ضدی لڑکی شیڈ سے باہر کھڑی بارش میں بھیگتی بحث کر رہی تھی۔
کیوں ؟ دوست نہیں ہوں میں کیا ؟ دوستوں کا احسان لینا گناہ ہے کیا ؟
ہایون نے مان بھرے انداز میں پوچھا۔وہ نہیں کہتے کہتے رک گئ۔
پھر بھئ۔ مجھے اچھا نہیں لگتا۔
وہ جانا نہیں چاہ رہی تھی ہایون کئی قدم آگے بڑھ کراسکے قریب چلا آیا۔برستی بارش پر چھتری نے فورا آڑ کی تھی۔ اسکے کلون کی خوشبو محسوس کرکے اسکے دل کی دھڑکن جیسے تھم گئ۔ ہایون کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔
اس نے اسکا ہاتھ پکڑ کر چھتری تھمائی۔
میں گاڑی لیکر آتا ہوں ۔ وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔تیز تیز قدم اٹھاتا گاڑی لینے چلا گیا تھا۔
اس کو جاتے دیکھتے ہوئے اس کی چھتری ہتھیلی سے چھوٹنے لگی تھی۔ ہونٹ بھینچ کر ناک چڑھا کر بولی
احمق ۔ میں شیڈ میں کھڑی ہو لیتی اب خود بھیگتا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سارا دن اکیلے کمرے میں بند رہ رہ کر وہ عاجز آگئ تھئ۔ بیزاری سے اپنے چھوٹے کمرے میں چیزیں ادھر سے ادھر کرنے کے باوجود بھئ جب وقت کٹ کے نا دیا تو وہ اپر پہنتی باہر نکل آئی۔ باہر کمپائونڈ میں آکر احساس ہوا تھا کہ اتنے چھوٹے تنگ کمرے میں وہ باہر کے موسم کی شدت کا ایک فیصد بھئ نہیں پا رہی تھی۔ پوری سڑک گیلی تھی۔ شائد بارش ہو کر رکی تھی ۔اتنی شدید برفانی ہوا چل رہی تھی کہ وہ بے ساختہ جھر جھری سی لیکر رہ گئ۔ ایک پل کو سوچا پلٹ جائے مگر ہمت نہ تھی دوبارہ اس قبر نما کمرے میں جانے کی سو قریبی سیون الیون چلی آئی۔ نوڈلز سوپ بڑے شوق سے بنا کرکھانے بیٹھی ہی تھی کہ ابکائی سی آئی۔پہلی دوسری۔ اس نے سوپ ایک طرف کردیا۔دل بری طرح متلا رہا تھا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسٹور سے نکل کر سیدھا گوشی وون جانا چاہ رہی تھی مگر فاصلہ میلوں پر محیط ہو گیا جیسے۔
یا خدا۔۔ اسکا سر بری طرح چکرا گیا اس سے قبل کہ وہ چکرا کر وہیں سڑک پر ڈھیر ہو جاتی کسی نے بے حد نرمی سے اسے تھام لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون اسے سہارا دے کر آسکے کمرے تک لایا تھا۔
تمہیں کہا تو ہے جو چاہیئے ہوا کرے مجھے بتا دیا کرو۔ ابھی باہر گر جاتیں تو؟ اتفاقا ہی میری نظر پڑ گئ ورنہ۔۔۔
ایڈون اسے ڈانٹ رہا تھا مگر انداز میں فکر تھی۔اسے ڈورم کی تنگ راہداری مزید تنگ لگنے لگی۔ اگر باہر موسم سرد محسوس ہو رہا تھا تو اندر یہاں گرمی لگنے لگی تھی۔ سر ابھئ بھی چکرا رہا تھا ۔۔
بیڈ پر بیٹھتے ہی اسے کمرے کی گھٹن اور گرمی بے حد محسوس ہو نے لگی تھی۔
میرا دم گھٹ رہا ہے مجھے باہر جانا ہے۔
وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔ ایڈون اسے بس دیکھ کر رہ گیا
مجھے شدید گرمی لگ رہی ہے۔سانس بھی ٹھیک سے نہیں آرہا۔
اسے ایڈون کا دیکھنا محسوس ہوا تھا جبھی اپنی کیفیت بتاتے روہانسی سی ہوگئ۔
باہر اچھی خاصی ٹھنڈ ہے۔ کم از کم کچھ گرم کپڑے تو پہن لو۔
وہ خود جیکٹ پہنے تھا اسکے کہنے پر اس نے فورا اپنے اٹیچئ کی جانب ہاتھ بڑھایا پھر کچھ سوچ کر رک سی گئ۔
اسکے پاس گرم کپڑے نہیں تھے۔ ایک آدھ سوئٹر بھی نہیں۔یہی سوچا تھا جب سردیاں آئیں گی تو یہیں سے لے لے گی۔ اسے متذبزب دیکھ کر ایڈون نے گہری سانس بھری۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون اسے قریبی عوامی پارک لیکر آیا تھا۔ اپنی جیکٹ اسے پہنا کر وہ خود اس وقت بس ایک اپر میں ملبوس تھا جو سردی کیلئے ناکافی تھا جبھی ہڈ بھی سر پر چڑھا لیا تھا۔ اسے بھئ جیکٹ پہن کر بھئ سردی لگ رہی تھی ۔ سرد ہوا نے طبیعت پر اچھا اثر ڈالا تھا۔ اسکا موڈ خوشگوار ہونے لگا
اس اتوار چلنا کچھ گرم کپڑے لے لینا۔یہاں برفباری ہوتی ہے برفبارئ سے قبل کا موسم بھی تمہاری برداشت سے ذیادہ سرد ہوگا۔
سرخ ہوتی ناک کو ٹشو سے پونچھتے ایڈون نے اسکے چہرے کے خوشگوار تاثرات کو تھوڑا حیرانی سے دیکھا تھا۔
ایڈون مجھے پینگ دو گے ؟
جھولے دیکھ کر اسکا بے ساختہ پینگ لینے کو دل کرنے لگا۔ اسکی بات تو شائد اس نے غور سے سنی بھی نہ تھی۔ بچوں کی طرح ٹھنک کر فرمائش کرنے لگی۔
ایڈون بنا چوں چراں کئے اسکے ساتھ جھولے کی جانب چل پڑا۔ وہ احتیاط سے سنبھل کر بیٹھ گئ تو وہ دھیرے دھیرے پینگ دینے لگا۔
کتنے عرصے کے بعد جھولے پر بیٹھی ہوں۔نانو کے جھولا جھولا تھا آخرئ بار یاد ہے انہوں نے خاص ہمارے لیئے برآمدے میں جھولا ڈالا تھا۔ میں اور تم تپتی دوپہر میں بھی جھولا جھولتے رہتے تھے۔
سرد ہوا میں گہری سانس بھر کر وہ خوش سی ہو گئ تھی۔ چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ در آئی ۔۔ بچپن کی یادیں ذہن پر دستک دینے لگیں۔
ہمم۔۔ ایڈون مختصرا بولا۔
تم کتنی اونچی پینگ دیتے تھے میری چیخیں نکل جاتی تھیں۔
مگر مزا بھی بڑا آتا تھا لگتا تھا آسمان چھو لوں گی اتنی اونچی پینگ لی ہے۔۔
اسے یاد آیا۔
آسمان؟ ایڈون ہنسا
تم ڈرپوک ذیادہ تھیں۔ورنہ وہ اس جھولے سے چھوٹا ہی تھا۔
ایڈون نے جتایا تو وہ خفیف سی ہوگئ
مگر تم ہمیشہ سے ہی بہادر تھے۔ کھڑے ہو کر جھولا لیتے تھے۔میں سوچتی تھی تم مجھے سے دو سال بڑے ہو نا اسلیئے بہادر ہو۔ میں بھی جب بڑی ہوں گی تو ایسے ہی کھڑے ہو کر جھولا لیا کروں گی اور مجھے ڈر بھی نہیں لگے گا۔
وہ ہنس پڑی۔
کبھی کھڑےہو کرپینگ لی بڑے ہونے کے بعد ؟
وہ اب ایڈون سے پوچھ رہی تھی۔
نہیں۔ ایڈون کو بہت زور کی جمائی آئی تھی۔
ہمیں لگتا ہے ہم بڑے ہو کر بہادر ہوجائیں گے جبکہ بڑے ہو کر مزید ڈرپوک ہو جاتے ہیں۔ ویسے تم بچپن میں تو میرے چیخنے منتیں کرنے پر بھی آہستہ پینگ نہیں دیتے تھے اب تو بس ہلا رہے ہو جھولا۔۔
وہ پیر اونچے کیئے تھک گئ۔تو مڑ کر خفگی بھرے انداز میں بولی
ابھئ تو الٹی چکر آرہے تھے اب اونچی پینگ چاہیئے۔ اول تو تمہیں جھولا ہی نہیں جھولنا چاہیئے کوئی مزید کھڑاگ نہ کھڑا کردینا۔ آگے ہی پولیس میں تصویر لگوا دی ہے میری کچھ ہو ہوا گیا تو شامت پکی ہے۔۔
وہ جتانا چاہتا نہیں تھا مگر منہ سے پھسل گیا۔ یہ بھی سچ ہے اسکا دل کافئ دکھا ہوا تھا۔شائد وہ کھل کر معزرت کر لیتی تو دل صاف ہو جاتا ۔
سنتھیا چپ سی رہ گئی۔ ایڈون کو بھی احساس ہوا کہ ذیادہ بول گیا سو سنبھل کر بات بدلنی چاہی
اب بہتر ہوگئ ہے طبیعت تو گھر چلومجھے صبح جلدی اٹھ کر انٹرویو دینے جانا ہے ۔۔
اسکے جملے تیر کی طرح لگے تھے اسے چٹخ کر بولی
تمہیں لگ رہا میں مکر کر رہی؟ میری واقعی طبیعت خراب تھی۔ میرا سچ مچ دل گھبرا رہا تھا۔
اب تو ٹھیک ہو گیا نا ؟ اب تو گھر چلو مجھے شدید نیند آرہی ہے صبح آٹھ بجے کا اٹھا ہوا ہوں۔
ایڈون زچ سا ہو رہا تھا۔وہ ہونٹ بھینچ کر اٹھ کھڑی ہوئی
چلو۔
اسکا انداز خفا خفا سا ہی تھا۔ اس وقت منانے کا مطلب اگلا آدھا پونا گھنٹہ مزید یہیں گزرنا تھا سو جان کے نظر انداز کردیا۔ گوشی وون تک وہ بالکل خاموشی سے آئی۔ ایڈون اپنے کمرے کے سامنے رک گیا تھا۔وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلی آئی۔ کمرے میں آکر جیکٹ اتار کر رکھنے لگی تو اتارنے میں جیب میں کوئی ریپر چرمرایا اس نے بے تابی سے جیب میں ہاتھ ڈالا وہ چھوٹی سی چاکلیٹ تھی۔ اس نے نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر جھٹ نکال لی پہلا لقمہ ہی لیا تھا کہ ایڈون نے دروازہ کھول لیا۔
ابھی بھئ لاک نہیں کیا کمرہ کب۔۔
وہ بڑبڑاتا داخل ہوا تھا اس پر نگاہ پڑی تو جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
وہ اپنی جیکٹ لینے آیا تھا۔ وہ مربھکوں کی طرح چاکلیٹ کھا رہی تھئ۔ شرمندہ سئ ہوگئ۔
وہ مجھے ۔۔ بھ۔ اس سے بھی جملہ مکمل نہ ہوسکا۔سر جھکا لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے انسٹنٹ نوڈلز بھاپ اڑاتے اسکے سامنے لا کر رکھے تھے۔ تین چار سیب کا پیکٹ اور کیک رس۔
انسٹںٹ نوڈلز کو وہ بے چارگی سے دیکھ کر رہ گئ تھی۔
ذیادہ اس لیئے نہیں لایا ہوں کہ فریج تو ہے نہیں خراب ہو جائیں گے۔ اس نے ایک جملہ کہنے میں دو بار جمائی لی تھی۔ وہ جو کہنے جا رہی تھی موسم توسرد ہو چکا ہے ایکدم چپ کر گئ۔
اچھا میں چلتا ہوں لاک کر لینا۔۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھتا مڑ گیا تھا۔ جیکٹ پہنے گرم ٹوپی سر پر ٹکائے۔
خدا حافظ۔ اس کے منہ سے اتنی مدھم آواز نکلی تھی کہ شائد ایڈون نے سنی بھئ نہ ہو۔ شدید بھوک لگ رہی تھی اور نوڈلز تو اسے کبھی پسند نہ رہے تھے ۔ جب سے کوریا آئی تھی اتنے نوڈلز کھائے کہ مزید ناپسند ہو گئے۔ بھوک لیکن ظالم شے ہے۔ چند لمحے بھاپ اڑاتے نوڈلز کے پیالے کو دیکھتے ہوئے آہ بھر کر نوالہ لینا پڑا۔ بے تابئ سے پیالے سے کئی لقمے لے ڈالے۔۔۔ تبھی کھڑکی کا کھلا پٹ ہوا سے ہلا تھا۔ وہ پیالہ کارنس پر ٹکاتی کھڑکی میں آن کھڑی ہوئی۔ باہر یکا ئک موسم بدلا تھا۔ تیزہوا کے ساتھ بارش کی تیز پھواریں۔ لمحوں میں سڑک جل تھل ہو گئ تھی۔ اسکی آنکھیں بھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے کمپائوںڈ میں ڈراپ کرکے وہ تیزی سے گاڑی نکال لے گیا تھا۔ سارا راستہ ان میں کوئی بات نہ ہوئی تھی۔ وہ تھکے تھکے قدم اٹھاتی اپارٹمنٹ میں آئی تھی۔ گوارا کچن میں کھڑی برتن دھو رہی تھی۔
ہوپ نہیں آئی؟ گوارا نے اس سے پوچھا تھا۔
نہیں میں تو ہایون کے ساتھ آئی ہوں۔
وہ جوتے بدلتی اندر چلی آئی۔
لو مجھے تو کہہ رہی تھی میں اریزہ کولینے جا رہی ہوں۔ میں نے فون کیا تھا اگر وہ نہ لینے جائے تو میں تمہیں لینے آجائوں۔
گوارا کی۔بات پر وہ کمرے کا ہینڈل کھولتے کھولتے رکی۔
کیوں میں چھوٹی بچی ہوں کیا خود نہیں آسکتی ؟
وہ بلا وجہ چڑی
تم بچی نہیں ہو مگر بچوں کی طرح راستوں سے بے نیاز میرے ساتھ چلتی ہو اتنے دن میرے ساتھ یونی گئ ہو عادت جان گئ ہوں میں تمہاری شرط لگاکے کہتی ہوں تم اتنے دن جانے کے باجود یونیورسٹی اکیلے میٹرو سے نہیں جا سکتیں تمہیں روٹ ہی یاد نہیں ہوگا۔
گوارا کا انداز مزاق اڑانے والا نہیں تھا۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کے اسکے پاس چلی آئی۔
واقعی۔ میں اتنئ احمق کیوں ہوں۔
احمق نہیں پیمپرڈ ہو۔
گوارا نے اسکی پیشانی پر ٹھونگا بجایا۔۔
پھر پریشان ہو کر بولی۔
یہ کیا تم تو پوری بھیگی ہوئی ہو جائو فورا کپڑے بدلو۔
مروگی سردی میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہا کر کپڑے بدل کر نکلی تو ہوپ بستر پر دراز نظر آئی۔
کافی پیو گی؟
اس نے پوچھا مگر ہوپ نے جواب نہ دیا یونہی ساکت پڑی رہی۔ وہ کندھے اچکا کر باہر نکل آئی۔
گوارا کمچی نکال کر ریمن بنانے لگی تھی۔ وہ انسٹںٹ کافی کا ساشے نکالنے لگی۔
کھانا نہیں کھائو گی ؟ بریانی رکھی ہے۔
گوارا کو اب اسکی بھوک کی فکر ہوئی۔
ایک تو تمہیں نخرے اٹھانے والے فورا مل جاتے ہیں۔ مجھ سے خالو سے تو چلو بنتا یہ سنتھیا او رایڈون تک ماں باپ والا خیال کیوں رکھتے ہیں تمہارا۔
صارم اسکو کندھا مار کر بولا۔
جوابا وہ چمک کر بولی۔
تو تم کیوں جلتے ہو۔چلو ہیں تو سہی میرا خیال رکھنے والے ورنہ تم نے میری اماں پر قبضہ کر رکھا ہے ان سب کی بجائے ایک میری اماں مجھ سے رتی برابر لاڈ کر لیتیں نا تو

گوارا نے پیچھے سے آکر ہلکی سی دھپ لگائی تھی اسکی پشت پر۔۔
کھانا کھا لو لڑکی کہاں گم ہو
ہوں۔ نہیں ابھی بھوک نہیں۔
وہ چونک کے حال میں واپس آئی اور اپنا کافی کا کپ بنانے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ٹیرس کے شیڈ کے نیچے سکون سے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے بیٹھی سامنے برستی بارش دیکھ رہی تھی۔
اتنا بھیگ کے آئی ہو اب یہاں سردی میں بارش دیکھنے بیٹھ گئیں۔پکا خودکشی کا پروگرام ہے۔ کہو تو گلا دبا دوں۔۔
گوارا فل سائز پیالہ بھرے ریمن بنا کر لائی تھی۔ اسے سردی سے ڈراتی خود بھئ اسکے برابر آن بیٹھی تھی۔ پیالہ ایک طرف رکھ کراسکی گردن پر ہیڈ لاک لگا دیا
چھڑانے کی کوشش کرتی وہ پھڑپھڑا کر رہ گئ پھر جل کر گالی دے دی۔
کمینی۔
گوارا جیسے شاد ہوگئ گالی سن کے لہک کے دہرایا
کمینی۔۔ پھر سر ہلا کر بولی
پہلا لفظ سیکھنے لگی ہوں اردو کا اور مجھے پکا یقین ہے اسکے معنی اچھے نہیں یہ کوئی گالی ہے ہے نا۔
وہ تائید چاہنے والے انداز میں پوچھ رہی تھی۔ اریزہ کو ہنسی آگئ۔
آنی۔ اسکا مطلب ہے اچھی لڑکی۔
اس نے چکمہ دینا چاہا۔ گوارا حسب عادت سڑک سڑک کر نوڈلز سے منہ بھر چکی تھی۔ چبا کر نگلنے کئ درمیان مشکل سے وقت نکال کر بولی
اچھی لڑکی کا متضاد کمینی لڑکی۔ تو اس گالی کا مطلب ہے کمینی۔ ہے نا۔
گوارا کا ذہن بہت چلتا ہے۔ اسے ماننا پڑا۔ ہنس کر سر ہلا گئ۔
گوارا تکا درست لگنے پر خوش ہوگئ۔
ایسے ہی تو نہیں میں کہتی گوارا کے جی میں جینیئس کا عنصر ہے۔ میرے نام میں ہی جینئس پن ہے۔
کب کہتی ہو ایسا۔ اریزہ نے کان سے پکڑا۔
اکثر اب غور کرنا۔ وہ ڈھٹائی سےآنکھ مار کر ہنسی۔
اف مجھے بھی بارش بہت پسند ہے۔ پتہ ہے بارش میں میرا دل مچل مچل جاتا ہے نوڈلز کھانے کو اور ساتھ سوجو ہو تو کیا ہی بات۔ مگر بدقسمتی سےسوجو ختم ہے مگر ریمن اف۔۔ اخیر حد کی لذیز ہے زندگی اس وقت میرے لیئے۔
گوارا کے کہنے پر اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
مجھے بھئ ۔ سنتھیا تو اتنا مزاق اڑاتی تھی کہتی تھی کیسی لڑکی ہو بارش میں پکوڑے کھائے جاتے ہیں۔
گلگلے تلے جاتے ہیں او رتم نوڈلز چبانے کی شوقین ہو۔ مجھے کبھی بھی بہت گلے ہوئے نوڈلز نہیں پسند ۔ ربڑ جیسے چبانے پڑیں ویسے پسند ہیں۔
اریزہ کے کہنے پر گوارا نے حیرت سے دیکھا۔
میں کبھی ریمن ذیادہ نہیں گلاتی چبانے والے اچھے لگتے ہیں ۔۔
یہ دیکھو۔ اس نے پیالہ اریزہ کی جانب بڑھایا۔
وہ بے دھیانی میں اسکی چاپ اسٹکس کی جانب ہاتھ بڑھانے لگی تھئ کہ ایکدم خیال آیا۔ پھر اسکی چاپ اسٹکس سے تھوڑے سے نوڈلز اٹھا کر واپس رکھ کر نارمل سے انداز میں بولی
ہاں واقعی۔ تمہارے نوڈلز لجلجے (soggy) سے نہیں ہوئے نوڈلز۔
کھا کر دیکھتیں نا۔ گوارا نے اصرار کیا
میں کھانا کھا چکی ہوں تم کھائو۔
اس نے سہولت سے انکار کیا۔ تو گوارا اسے پرسوچ سے انداز میں دیکھنے لگی۔
تم کبھی ہماری پلیٹ سے کھانا نہیں لیتیں تمہیں لگتا ہم کچھ غلط سلط کھاتے ہیں؟
اسے شائد برا لگ گیا تھا اریزہ کو اپنی بے اختیاری پر افسوس ہوا۔ انجانے میں اسکا دل دکھا دیا تھا شائد۔
نہیں یار ایسی بات نہیں۔ بس گوشت حرام ہوتا ہے نا اسلیئے احتیاط کرتی ہوں۔

مانا سور حرام ہے مگر یہ ریمن چکن فلیور ہے ۔اریزہ یہ تو چکھ سکتی ہو۔ مجھے تمہارے اصول سمجھ نہیں آتے ۔نوڈلز پسند ہیں تمہیں پھر بھی انکو کھانے سے انکار کر رہی ہو۔ حالانکہ چکن فلیور ہے یہ
گوارا کے کہنے پر وہ چند لمحے اسے دیکھنے لگی۔
جانے دو ۔
اس نے سر جھٹکا اورکھانے لگئ۔
یقینا وہ بھی خفا ہونے لگی تھی۔ اتنی سی بات پر؟ اریزہ کو افسوس ہوا۔
تمہیں پتہ ہے کوریا میں موسم نے رخ بدلا ہے۔ بارشوں میں سات فیصد تک کمی آئی ہے۔۔ ایسا چلتا رہا تو جانے اگلے چند برسوں میں کتنی موسمیاتی تبدیلی آجائے۔
وہ فکرمند سے انداز میں کہہ رہی تھی۔ اریزہ نے گردن موڑ کر اسکی شکل دیکھی۔ خفگی کا دور تک شائبہ نہ تھا وہ بالکل آرام سے اگلا موضوع شروع کر چکی تھی۔۔
ہمارے گائوں میں بارش ہوتی ہے نا تو۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے شہر میں بارش ہوتی ہے جب بھی۔۔
میرے شہر میں بارش ہوتی ہے جب بھی۔۔
میرا تکیہ بھیگ جاتا ہے۔۔۔۔
سنتھیا اسکے بیڈ پر دراز موبائل استعمال کررہی تھی۔ کہ شعر وارد ہوا جھوم کے شاعرانہ انداز میں تکیہ کھینچ کر اس کو آغوش میں دبوچ کر آنکھیں میچ کر بولی۔
تو بارش سے قبل بستر اٹھا لیتیں نا پھوہڑ ۔
اریزہ اپنے کمرے کی بڑی سی فرنچ ونڈو میں بیٹھی ٹیرس کا نظارہ کرتی آنکھیں میچ کر بولی تھی۔ اس کھڑکی میں اس نے بابا سے کہہ کر چبوترہ بنوایا تھا جس پر نرم آرام دہ کائوچ سا بنا ہوا تھا۔ یہ اسکی پسندیدہ جگہ تھی بیٹھنے کی کشن سے کمر ٹکائے وہ دونوں سہیلیاں گھنٹوں یہاں بیٹھ کر باتیں کیا کرتی تھیں۔

سنتھیا نے اسکے بیڈ پر رکھا کشن اٹھا کر اسے دے مارااور دانت پیس کر بولی۔
شعر تھا یہ میرا۔۔ ٹانگ توڑ دی میرے شعر کی۔
بے وزن تھا۔
کشن کا وار کڑا تھا سیدھا سر پر لگا تھا سو بدلا فرض ٹھہرا گھور کر بے نیازی سے بولی۔
سارا وزن تمہارے پاس جو ہے میرا شعر تو بھوکا مررہا ہے۔ کوئی پکوڑے شکوڑے ہی بنا دو۔۔بھوک لگ رہی ہے۔
سنتھیا کونسا کم تھی۔ فورا بدلا لیا۔
ہاں تو جائو نیچے کچن ہے دل بھر کر پکوڑے بنانا اور میرے لیئے دو نوڈلز کے پیکٹ بھی بنا لانا۔ اور سنو ذیادہ نا گلانا۔ چبانے والے ہوں بس۔
اریزہ کے حکم شاہی پر اسکی آنکھیں ابل پڑیں ۔
میں مہمان ہوں تمہارے گھر آئی ہوں شرم کر لو بجائے اسکے کہ میری خاطر مدارت کرو الٹا مجھ سے فرمائشیں کر رہی ہو۔۔
ہاں تو تمہیں غیر تھوڑی سمجھتی ہوں میں۔ بنا لائو نا نوڈلز بہن نہیں ہو۔ چھوٹی بہن ہو نا میری۔
اریزہ نے منت بھرے انداز میں کہا تو وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
ایک پیکٹ بنائوں گئ۔ ایک کافی ہوتا ہے نرا فیٹ ہوتے ہیں نوڈلز۔
اس نے وارننگ دینے والے انداز میں کہا۔
اچھا اچھا ایک ہی بنا لائو بارش ختم ہونے سے قبل۔
اریزہ کی اگلی ہدایت تیار تھئ۔
دنیا بارش میں پکوڑے کھاتی ہے گلگلے تلتی ہے ایک تم ہو نوڈلز چبانے کی شوقین۔
ہائے بارش میں نوڈلز کتنا مزا دیتے تم کیا جانو۔ میرا دوسرا پیار ہیں نوڈلز۔۔
وہ جھوم کر بولی۔ تو سنتھیا جو چپل پہن رہی تھی چونکی
دوسرا؟ پہلا کون ہے بھئ؟
میرا پہلا پیار ہیں۔بارشیں دل کرتا بس ہوتی رہیں ہوتی رہیں میں دیکھتئ رہوں ۔۔
اس نے لمحے بھر کا بھی توقف نہ کیا تھا جواب دینے میں۔
ایک ہفتے سے تو لگاتار ہو رہی ہیں۔اور کتنی بارشیں کروانی ہیں۔اور ابھئ تو جتنی تیز ہو رہی ہے نا اس سے نالہ لئی ابل جاناہے۔
سنتھیا کو بھی بارش پسند تھی مگر اریزہ جتنی جنونی نہ تھی۔ ابھئ بھی اسکا مزاق اڑاتی اسکے برابر آن بیٹھی بڑی فکر ہے نالے کی۔ جیسے تم تو نالہ لئ کے اوپر رہتی ہو۔
اریزہ نے گھورا۔
ہاں تو اسکے ارد گرد رہنے والے بھی تو میرے تمہارے جیسے انسان ہیں کتنی مصیبت اٹھانی پڑتی ہوگی انہیں۔۔
سنتھیا نے کہا تو چھیڑنے کیلئے تھا مگر اریزہ سنجیدہ ہوگئ
واقعی۔۔ یہ تو سوچا ہی نہیں تھا میں نے۔ ۔ بس اب اور بارش نہ ہو اللہ کرے۔
جھٹ دونوں ہتھیلیاں پھیلا کر دعا مانگنے لگی۔
کیا چیز ہو تم اریزہ۔ جیسے دعا کرنے سے فورا رک جائے گی۔ ایڈی تسی لاڈلی آسمان والوں کی۔
سنتھیا کی اسکو دیکھ کر ہنسی چھوٹ گئ۔ وہ اسکا مزاق اڑا رہی تھی۔
اریزہ ہتھیلیاں نیچے کرکے غور سے باہر جھانکنے لگی۔
بارش تواتر سے برس رہی تھی۔
اسکے چہرے پر واضح مایوسی چھانے لگی۔
واقعی بارش تو رکنے والی نہیں لگ رہی۔نالہ لئی ابل جائے گا۔
توبہ ہے اریزہ اب اداس نہ ہو جانا ویسے ہی کہا تھا۔ ایک تو تم فورا ہی ایمو ہو جاتی ہو۔
سنتھیا کو اپنے مزاق پر افسوس ہوا۔ تو آگے ہو کر اسکے گلے میں بانہیں ڈال لیں۔مگر اریزہ کا قنوطی موڈ آن ہوچکا تھا۔ یاسیت سے بولی
نہیں یار واقعی۔ میں تو یہاں سکون سے گھر میں بیٹھی بارش کے مزے لے رہی جانے کتنے لوگوں کو اس بارش سے یہ پریشانی ہو رہی ہوگی کہ انکے گھر پانی نہ آجائے۔ اور۔
خدا کا واسطہ ہے۔ ہر چیز کو اتنی گہرائی سے سوچنا چھوڑدو۔ زندگئ ایسے نہیں گزرتی۔ ہر وقت دوسروں کی فکر میں رہو گی تو خود خوش کب ہو پائو گئ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے۔۔
گوارا نے اسکی بے توجہی محسوس کرکے ہلایا۔تو وہ چونک اٹھی۔
تم نے نہیں سنا نا میں نے کیا قصہ سنایا ؟
گوارا کو یقین تھا۔اس نےشرمندگی سے سر ہلایا۔
بکواس سا ہی قصہ تھا جانے دو۔ تم کس کے بارے میں سوچ رہی تھیں۔
وہ مائل بہ شرارت ہوئئ۔
سنتھیا۔ اس نے بلا توقف کہا تھا۔گوارا چپ ہی رہ گئ۔
مجھے یاد آرہی ہے وہ۔ مگر اسے کیا میں بالکل یاد نہیں آتی؟
اسے جیسے دکھ ہو رہا تھا۔
تم مل لو جا کے اس سے ۔ مجھے ویسے حیرت ہورہی ہے وہ لڑکی دیکھتے ہی دیکھتے بدلی ہے۔ کہاں تو تم دونوں میں اتنا پیار تھا کہ میں اور جی ہائے حیران ہوتے تھے اور۔
گوارا کے کہنے پر وہ بھی جوابا بات کاٹ کے پوچھ بیٹھی۔
جی ہائے یاد نہیں آتی تمہیں؟
آتی ہے۔ گوارا نے بھی بلا توقف جواب دیا۔
تم نے اسے منانے کی کوشش بھی نہ کی ؟
اریزہ کرید رہی تھئ۔
کی تھی۔ مگر وہ مجھ سے بات تب کرے گی جب میں تمہیں اس گھر سے نکل جانے کا کہوں گی۔ یہ اس نے شرط رکھی ہے جو ظاہر ہے میں نہیں مانوں گی۔
اسکا انداز قطعی تھا۔
تم مجھے چھوڑ سکتی تھیں وہ تمہاری پرانی دوست ہے۔
اریزہ کے کہنے پر اس نے بغور اسے دیکھا۔ پھر جتا کر بولی۔
دوست نیا پرانا نہیں پرخلوص ہوتا ہے۔
گوارا کے کہنے پر وہ چپ سی ہوگئ۔
ویسے سنتھیا تمہیں کیوں یاد آرہی؟ اس دن ایڈون بھی آیا تھا ملنے سے اس نے کچھ کہا کیا؟
گوارا کو لگا تھا وہ خود ہی اسے بتا دے گی مگر اس کا ایسا ارادہ نہ تھا شائد جبھی پوچھ لیا۔
اریزہ برستی بارش پر نگاہیں جمائے بیٹھی تھی۔ وہ خالی پیالہ لیکر اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اندر جانے کو مڑی تب اسے پیچھے سے اریزہ کی آواز آئی۔
ایڈون چاہتا ہے میں سنتھیا کو منائوں کہ وہ ابارشن کروالے۔
کیا ؟
اسکے منہ سے حیرت بھری چیخ سی برآمد ہوئی تھی۔
کیوں ؟ وے؟
یہ تو انکا پہلا بچہ ہے نا ؟ کیسے سوچ سکتا ہے وہ ایسا۔۔
گوارا کے پے در پے سوال وہ حیران ہی تو رہ گئ۔ اسکا ردعمل بالکل غیر متوقع تھا۔
تمہیں پتہ تھا اس بات کا کیسے؟؟؟
اریزہ یہیں اٹک گئ۔۔
گوارا نے کندھے اچکائے۔
ہاں یون بن نے بتایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنوکر لگا ہوا تھا اس نے سیدھا نشانہ لیا تھا۔ سفید بال ہایون کی ہاف بال کو اچھال کر دور کرتی راستہ بناتی سیدھا میز کی جیب میں گئ تھی۔کوئی اور موقع ہوتا تو ہایون نے شور ڈال دینا تھا مگر اس وقت بظاہر میز پر ہی نظر جمائے وہ مکمل طور پر کہیں اور گم تھا
یون بن نے اسکی بے توجہی محسوس کرکے فورا فائدہ اٹھایا اور اپنی دو تین گیندیں سیدھی غائب کر لیں۔
تم ہار گئے ہایون۔
کم سن جو سوجو پیتے ہوئے سکون سے کائوچ پر دراز میچ دیکھ رہا تھا یون بن کی آواز پر چونک کر مڑا۔
ہیں واقعی؟
دے ؟ ہایون چونکا پھر مسکرا کر سر ہلاتا ہوا کم سن کے پاس آن بیٹھا۔
سامنے میز پر سوجو اور ووڈکا رکھے تھے۔ اس نے سوجو بھر کر گلاس منہ کو لگا لیا۔
تم واقعی ہار گئے؟ یقینا یون بن نے بے ایمانی کی ہوگی۔
کم سن حیرت کے مارے اٹھ بیٹھا ۔ یون بن دانت نکالتا انکے پاس فلور کشن گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے کندھے اچکا کر بولا
میں ماہر ہوتا جا رہا ہوں۔ تم یہ بھی کہہ سکتے تھے۔
نہیں تمہیں میں کبھی یہ نہیں کہہ سکتا۔ بچپن سے آج تک تم کسی چیز میں ماہر نہیں ہو نا بن سکتے ہو کیونکہ تمہیں سوائے لڑکیوں کے کسی چیز میں دل لگانے کی عادت ہی نہیں ہے۔
کم سن نے ناک چڑھا کر کہا تو یون بن نے کھل کر قہقہہ لگایا۔
بات تو سچ ہے۔مگر یہ ہمارا چیمپئین کہاں کھوتا جا رہا ہے؟ مجھے لگ رہا ہے اسکو بھی کسی سے پیار ہوتا جا رہا ہے۔
وہ آنکھیں مٹکا کر قافیہ ملا کر بولا۔
ہایون نے ایک نظر اسے دیکھا پھر گلاس بھرنے لگا۔
ڈرائیو کرنا ہے ابھی تمہیں۔
کم سن نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔ وہ رک بھی گیا۔ ہاتھ میں تھاما جام واپس میز پر رکھ دیا۔
میں ویسے ہایون پر رشک کرتا ہوں۔ کتنا سیلف کنڑول ہے اس میں۔ کوئی شراب ہاتھ سے رکھ سکتا ہے بھلا وہ بھی کسی کے کہنے پر۔
یون بن اسکا مزاق اڑا رہا تھا سراسر
میرے کہنے پر ہر کسی کو یہ اعزاز حاصل بھی نہیں ہو سکتا۔
کم سن نے جتایا۔
میں تو گوارا بھئ اگر میرے ہاتھ میں آیا جام واپس رکھنے کو کہے تو نہیں رک سکتا۔ فی الحال اس سے ذیادہ اہم اور محبوب میری زندگی میں اور کوئی نہیں۔
وہ کندھے اچکا کر اپنے لیئے جام بنانے لگا۔۔
ایڈون جاب کیلئے کہہ رہا تھا تمہارے دفتر میں کوئی سین بن سکتا ہے اسکا ؟
یون بن نے کہا تو کم سن سوچ میں پڑا۔
ہاں چاہیئے تو ہیں۔ اس سے کہنا آکر مل لے۔ وہ کر کیا رہا ہے آجکل۔ ؟
پھنسا ہوا ہے اپنے مسلئوں میں دو جابز کر رہا ہے مگر پیسے کم پڑ رہے ہیں۔۔
یون بن سرسری سے انداز میں ذکر کر رہا تھا۔
ایڈون کو بھی واپس چلا جانا چاہیئے تھا۔ اور ساتھ اسکی منگیتر کو بھی یہاں انکو دوبارہ ایڈمیشن لیکر نئے سرے سے پڑھائی شروع کرنی ہوگی سالک شاہزیب دونوں اسی لیئے رکے نہیں کہ دو سال ضائع ہو جائیں گے۔
کم سن کے کہنے پر یون بن کچھ کہتے کہتے رکا۔ پھر ہایون کوبغور دیکھتے ہوئے بولا۔
اریزہ بھی تو نہیں گئ۔ اسے کم از کم ضرور چلے جانا چاہئے۔ بے کار میں یہاں وقت ضائع کر رہی ہے۔
کم سن فورا بولا
اریزہ جاب کر رہی ہے ہمارے یہاں۔
ہایون چپ بیٹھا تھا بے تاثر چہرے کے ساتھ وہ اسکے چہرے سے اندازہ نہ لگا سکا۔
مجھے تو لگتا ہے اریزہ ایڈون کی وجہ سے نہیں گئ۔
یون بن کی بات پر ہایون نے چونک کے اسے دیکھا تھا۔
یون بن نے مسکراہٹ چھپانے کو گلاس منہ سے لگا لیا۔
کم سن الجھن آمیز انداز میں دیکھنے لگا۔
کیوں؟ بھلا ۔
کیونکہ اریزہ اور ایڈون ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔
یون بن نے جیسے دھماکا کیا تھا۔ہایون کا رنگ واضح طور پر بدلا تھا۔
کییہہ سوری۔ ( کیا بکواس ہے)
ہایون تپ کر بولا تھا
مجھے ایڈون نے خود بتایا ہے۔ نشے میں دھت ہو کر وہ اریزہ کا نام پکار کر رو رہا تھا۔ شاہزیب بھی ساتھ تھا۔ بول تو وہ اپنی زبان رہا تھا مگر جس طرح شاہزیب نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا اور چپ کرادینا چاہا اس سے میں نے اندازہ لگایا اور یہ بالکل غلط اندازہ نہیں ہے۔
یون بن نے بتایا تو کم سن سر کھجانے لگا۔
اچھا واقعی حیرت ہے۔ سنتھیا کو نہیں پتہ کیا ؟ اگر ایسی بات ہے تو اسے ان دونوں کے بیچ سے ہٹ جانا چاہیئے۔
وہ مزید بھی کچھ کہتا مگر خاصی آواز کے ساتھ
ٹھک کرکے ہایون نے گلاس میز پر خالی کرکے رکھا تھا کہ دونوں خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگے۔
میں پہلے جاتا ہوں ۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا
کیا ہوا۔ ہایون؟ چڑھ تو نہیں رہی؟ ڈرائیو کرلوگے؟
کم سن نے ہاتھ تھام کر روکنا چاہا۔
کین چھنا ( ٹھیک ہے) وہ ہاتھ چھڑاتا تیز تیز قدم اٹھانا باہر نکل گیا
اسے کیا ہوا؟ کم سن نے حیران ہو کر یون بن سے پوچھا۔ جوابا وہ بوتل سے اگلا جام بناتے لاپروائئ سے بولا
پیار۔۔ اسکو اریزہ اور ایڈون والی بات ہضم نہیں ہوئی
کم سن نے اسے گھور کر دیکھا۔
یہ جو سب کہانی بنائی ہے خود سے بنائی ہے نا؟
تھوڑی سئ۔ یون بن نے آنکھ ماری۔
کیا چیز ہو تم۔ کیا ضرورت تھی۔ ایویں۔ کم سن سر جھٹک کر اپنا جام اٹھا کر منہ سے لگانے لگا۔
کہانئ میں صرف اتنا میں نے شامل کیا ہے کہ اریزہ بھی ایڈون کو پسند کرتی ہے۔ اریزہ کا پتہ نہیں۔ وہ اگر کرتی بھی ہوگئ تو اپنی سہیلی کے پریگننٹ ہونے کا سن کے پیچھے ہٹ گئ ہوگئ۔ یہ میرا اندازہ۔
اسکی بات ادھوری رہ گئ تھی کیوںکہ کم سن کو اچنبھے کے مارے اچھو ہوا تھا منہ میں بھری شراب کی پھوار نکلی تھی جو سیدھا اسکے منہ پر آئی تھی۔
کیا؟
وہ حیرت کے مارے آنکھیں کھولے گھور رہا تھا۔
کیا کیا ؟ سارے شاک آج ہی لگنے۔ ساری شراب ضائع کردی۔
یون بن اپنے چہرے ہر ہاتھ پھیرتے بھنا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پولیس اسٹیشن میں بیٹھے اسے اور کوئی نام ذہن میں نہ آسکا ۔ یون بن کو کال کی تو وہ آدھے گھنٹے میں پہنچ گیا تھا۔ اپنے والد کے اثر رسوخ کا استعمال کرکے وہ اسے چھڑا کر ہی اسٹیشن سے نکلا تھا۔ پولیس نے اسے ہر اسپتال کے چکر لگنے پر رپورٹس کی نقل جمع کروانے کی ہدایت دی تھی۔
تمہار ابہت بہت شکریہ۔ میرے ذہن میں مدد کیلئے تمہارے سوا کوئی نام نہ ذہن میں آیا۔
ایڈون کی آواز بھرا رہی تھی۔ یون بن اسے لیکر قریبی کنوینس اسٹور لے آیا تھا۔ اسے باہر کھلی فضا میں بٹھا کر اسکے لیئے سوجو اور ریمن لیکر آیا
ا س نے بھاپ اڑاتے ریمن کو ایک نظر دیکھا تھا پھر سوجو اٹھا لی تھی۔
اگر سنتھیا تیار نہیں تو تم ابارشن کروانا کیوں چاہتے ہو۔؟
یون بن حیران ہوا تھا۔۔
تم پاکستانی معاشرے کو نہیں جانتے۔ یہ بچہ ہم دونوں کیلئے پاکستان داخلہ بند کروادے گا۔ میرے والدین مجھ سے قطع تعلق کرلیں گے۔ سنتھیا کے والدین اسکو اپنا بھی لیں تو بھی میری شامت آجائے گی۔ سب سے بڑھ کر ابھی میری عمر کیا ہے تعلیم ادھوری ہے میں بچے کا کھڑاگ کیسے پال سکتا ہوں وہ بھی ایسا بچہ۔
ایڈون جیسے پھٹ پڑا تھا۔ ایک ایک ممکنہ مسلئہ جو وہ سنتھیا کو سناتا رہا سب اسکے گوش گزار کیا وہ بھی خاموشی سے سنتا رہا۔
کہہ تو صحیح رہے ہو۔ یون بن نے سر ہلایا۔
بہت جلدی ہے۔ سنتھیا نہیں جانتی کیا اپنے اس فیصلے کےمضمرات۔
جانتئ کیوں نہیں ہے۔ بس ضد سوار ہے اسے۔ اس بہانے وہ مجھے عاجز کرنا چاہتی ہے بس۔ اپنی زندگی دائو پر لگا رہی ہے ساتھ میری بھی۔۔
وہ دانت کچکچا رہا تھا۔
میں اور گوارا ہائی اسکول میں تھے جب ایکدن گوارا نے آکر مجھے بتایا تھا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ میں بالکل ایسے تمہاری طرح گھبرایا تھا پریشان ہوا تھا ۔ پھر جب میں نےگوارا کی شکل دیکھی تو وہ مجھ سے بھی ذیادہ گھبرائی پریشان تھی۔ میرے نزدیک سب سے اہم چیز جانتے ہو کیا بن گئ تھئ؟
یون بن نے ریمن کا پیالہ گھسیٹ کر اپنی جانب کر لیا تھا۔ ایڈون سوالیہ نگاہ سے دیکھنے لگا
گوارا کی پریشانئ دور کرنا۔ میں نے اسے گلے لگایا تسلی دلاسے دیئے سمجھایا اتنا کہ وہ مسکرادی۔اسے لگنے لگا اسکی ساری پریشانئ میں نے اپنے سر لے لی ہے۔
وہ نوڈلز سے منہ بھر کے چبا رہا تھا۔ اچھا خاصا بد تمیزی سے کھاتا یون بن ساتھ بول بھئ رہا تھا۔ ایڈون نے اسے دیکھ کر سرجھٹکا۔
کروایا تو ابارشن ہی نا بن رہا ہے سادھو۔
اس نے سوچا تھا۔
ہم اکٹھے کلینک گئے تھے ٹیسٹ ہوئے اور نتیجہ آنے میں دو دن لگے۔ ہمیں پتہ لگا کہ گوارا کا محض یہ اندازہ تھا اور وہ پریگننٹ نہیں تھی۔
ہم کافئ احمق تھے چند سال قبل تک۔ وہ ہنسا۔
ان دو دنوں میں ہم نے اپنے بچے کی شادی تک بھئ سوچ لی تھی اور ابارشن کا فیصلہ بھی لے لیا تھا۔
ایڈون اس بار چونک کے دیکھنے لگا تھا۔ یون بن مسکرادیا۔
محبت سے منائو گے تو مان جائے گئ ۔۔
نہیں اریزہ کبھئ نہیں مانے گی۔ ایڈون روانی میں بولا پھر ٹھٹک کر درستگی گی
سنتھیا نہیں مان رہی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون نے گہری سانس لی۔ اور اٹھ بیٹھا۔ چند لمحے سوچنے کے بعد اٹھ گیا۔ رخ سنتھیا کے کمرے کی جانب ہی تھا۔ اس نے ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلتا گیا۔ اس احمق لڑکی نے پھر لاک نہیں کیا تھا۔ کھڑکی کی چوکھٹ پر کہنیاں ٹکائے باہر جھانکتی وہ دھیرے سے دروازہ بند کرتا اسکے پیچھے آن کھڑا ہوا تو احساس ہوا بے آواز رو بھی رہی تھی۔چوکھٹ پر دھرا اسکا سانولا ہاتھ بارش کی پھوار سے نم ہورہا تھا مگر وہ بے حس سی دنیا و مافیہا سے بے خبر کھڑی تھی۔ اسکی آمد کا جانے احساس ہی نہ ہوا تھا یا نظر انداز کر گئ تھی۔ اس نے مگر اسکےلرزتے وجود کو بہت احتیاط سے اپنی بانہوں میں لے لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں زندگئ بھر صبح دوپہر شام بریانی کھا سکتی ہوں۔
اسے یاد تھا ایک دن ترنگ میں آکر اس نے صارم سے کہا تھا
اس وقت ناشتے کی میز پر بیٹھی بریانی سے پلیٹ بھرے وہ یہی سوچ رہی تھئ کہ انسان کتنا ناشکرا ہے۔ چار دن لگاتار صبح دوپہر شام بریانی گرم کرکے کھا کھا اسکا دل اوب گیا تھا۔
پہلا دن بریانی کی پلیٹ ناشتے میں گرم کی چٹخارے لیکر کھائی۔ گھر واپس آکر پھر بریانی کھائی خدا کا شکر ادا کیا۔ رات کو کھائی۔ صبح کھائی۔ اگلے دن دوپہر کو کھائی رات کو کھائی پھر ہوپ کا بنایا ناشتہ کھایا پھر بریانی آج ہوپ گھوڑے بیچ کے سو رہی تھی گوارا جا رہی تھی اسے بریانی کھاتے دیکھ کر بولی۔
تمہاری تو موج ہوگئ کہو تو اگلے ایک ہفتے کا بھی اسٹاک کردوں بریانی کا ؟
شرارت سے ہنستی وہ اسکی شکل دیکھتی سراسر مزاق اڑا رہی تھی۔ اس نے جل کر بھر کر چمچ منہ میں رکھ لیا۔ تیار ہو کر بے مقصد پھرتی رہی ہوپ کا اٹھنے کا ارادہ نہیں لگتا تھا۔ ایک دو بار کمرے میں گئ مگر موصوفہ بے سدھ تھیں۔
آخر جب ساڑھے گیارہ ہونے لگے تو قریب جا کر ہلا بھی دیا۔
کیا ہوا۔ اس نے اپنی سرخ سرخ آنکھیں اس پر جمائیں۔
آج نوکری پر نہیں جانا ؟ اریزہ کے پوچھنے پر اس نے بمشکل جواب دیا اور کروٹ بدل لی جواب تھا
نہیں۔۔
بتاتو دیتیں۔ وہ روہانسی ہوگئ۔ اتنی دیر سے اسکے اٹھنے کا انتظار کرتے اس نے بے مقصد ٹہلتے وقت گزار دیا۔ اب جانے دیر ہی نہ ہو جائے۔ وہ لشتم پشتم بیگ سنبھالتی اپارٹمنٹ سے نکلی تھی۔
کاکائو ایپ سے اس نے اپنی منزل کا تعین کیا تھا۔ بس اسٹاپ تک تو آگئ تھی یہاں سے اب بس کونسی پکڑنی تھی ۔ وہ گومگو میں تھی۔ ایک لڑکی شارٹ اسکرٹ پہنے تیار شیار بے نیازی سے کھڑی موبائل استعمال کر رہی تھی۔ اس نے اسی سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔
چھوگیو( معاف کیجئے گا) یہ اس جگہ پر کونسی بس جائے گی۔
اس نے ذرا کی ذرا اسکی رواں انگریزی کو دیکھا پھر شستہ انگریزی میں بولی۔
میں انگریزی نہیں سمجھ سکتی۔
دے ؟ اسکا منہ کھلا وہ موصوفہ سر جھٹکتی بس میں سوار ہو گئیں۔
آگاشئ بس میں سوار ہونا ہے؟ ڈرائور پوچھ رہا تھا ۔۔
اس نے بس نمبر دیکھا پھر نفی میں سر ہلا دیا۔
بس کا دروازہ بند ہوا اور بس آگے بڑھ گئ۔ ایپ میں صرف ہنگل لکھی تھی ۔
کیا مصیبت ہے۔ وہ بھنائئ۔
دھوپ اس وقت تیز تھی کل کے برعکس موسم خشک اور سرد ہو چکا تھا۔۔ اب کیسے جائوں ٹیکسی لوں؟ جانے کتنا کرایہ لگے میرے پاس تو ابھی پیسے بھئ نہیں پاپا نے بھجوائے یا نہیں پتہ نہیں۔
وہ منہ بناتی اسٹاپ کے شیڈ میں بنچ پر آن بیٹھی۔ لی منہو کی کوئی فین میٹنگ کا اشتہار تھا۔اتنا اصلی دکھائی دے رہا تھا پورے قد کا پوسٹر نہیں تھا۔ پیٹ تک کا تھا مگر انسانی قد کے حساب سے ہی تھا دور سے دیکھو تو لگے کھڑا ہی ہے لی منہو۔ مگر اسکی ٹانگیں نہیں ہیں۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا پھر پوسٹر کے پاس آکھڑی ہوئئ۔ پہلی تصویر ۔۔ناکام کوشش۔۔ ذرا سا زاویہ بدلا دوسری تصویر یہ بھی ناکام۔ غلطی کہاں ہو رہی تھی۔ اب سمجھ آئی۔ ذاویہ دیکھ کر ذرا سا لی منہو کی جانب جھکا کر سیلفی لی تو تصویر اتنی شفاف اور اصلی لگی کہ خود حیران رہ گئ لگ رہا تھا اس نے لی منہو کے ساتھ ہی تصویر کھنچوائی ہے۔
کراپ کر لوں تو ڈینگئیں مار سکتی ہوں صارم کے آگے۔ وہ سب بھول بھال کے اگلی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ دستی کراپ کی موبائل لاک کرکے ترنگ میں مڑی تو بس سے اترتے کئی لوگوں کو دبی دبی ہنسی اسے دیکھ کر ہنستے پایا۔
وہ کھسیا گئ۔ بال کان کے پیچھے اڑس کر ایک ہلکی سی چپت بھی لگا لی خود کو۔
چھٹی کر لیتی ہوں۔ اجنبئ شہر میں اجنبئ بس میں بیٹھ کر اجنبی منزل پر اترنے سے تو بہتر ہے۔
یہ سوچنا تھا کہ ہلکی پھلکی ہوکر واپسی کیلئے مڑی۔ تو ایکدم ترنگ میں مڑنے سے وہ سامنے سے آتے اس چندی آنکھوں والے سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔
چھے سو۔۔
بولتے ہوئے زبان دانتوں تلے دبا لی۔ ایک تو یہ بندہ زندگی بھر جب کبھی کورین میں معزرت کروں گئ یہ بندہ ذہن میں آن وارد ہوگا۔ علی کے چہرے پر اسکا گریز سمجھ کر بے ساختہ مسکراہٹ در آئی۔
اس دفعہ آپ درست لفظ کا ہی انتخاب کر رہی ہیں۔
اسکا انداز سادہ تھا مگر وہ ناک چڑھا گئ۔
سوری۔
ہے تو لڑکا ہی نامعلوم اسکے نرم رویئے سے کیا مطالب نکال لے۔ یہاں کے تو لڑکے ہیں بھئ ٹھرکی۔ سوچتے ہوئے ذہن میں کل کی ہایون کی حرکت تھی۔
اٹس اوکے۔ وہ مسکرا دیا۔ وہ اسکے برابر سے ہو کر آگے بڑھ آئی۔
بس جو کوئی بھی تھی اسکی آنکھوں کے سامنے سے گزر گئ۔ شائد اسے ٹھہرے وقت ہو گیا۔تھا۔
اس نے بس تو نہیں کل والا ڈرائیور پہچان لیا تھا۔
آہجوشی۔ وہ پکاری اور بس کے پیچھے تھوڑا سا بھاگی بھی۔ مگر بس کی رفتار بڑھ ہی گئ۔ آگے بڑھتے علی نے حیرت سے اسے دیکھا۔
شٹ۔ وہ مٹھیاں بھینچ رہی تھی۔
پانچ منٹ بعد دوسری بس آجائے گئ۔
اس نے تسلی دینے کو کہا تو وہ جھلا گئ۔
مگر مجھے کیسے پتہ لگے گا کہ کونسی بس پکڑنی ہے۔ ابھی تو یہ کل والے ہی بھائی میرا مطلب ہے کل والا ہی ڈرائور تھا۔مجھے یہی بس پکڑنئ تھئ۔
اسکی منطق پر وہ اسے یوں دیکھنے لگا جیسے اسکے سر پر سینگ ہوں۔
ڈرائور کون یاد رکھتا میرا مطلب بس نمبر یاد کرتے ہیں نا۔
بھئ مجھے نہیں یاد نا بس نمبر گوارا نے بتایا تھا بھول گئ۔ وہ بچوں کی طرح منہ پھلا کر بولی تھی۔
کہاں جانا ہے آپکو۔ علی مسکراہٹ دبا کر پوچھنے لگا۔ اس نے لمحہ بھر سوچا پھر موبائل میں بک مارک ہوئی منزل اسے دکھائئ۔
یہ ۔ یہ جگہ ہے لی شاپنگ کمپلیکس مگر مجھے یہ نہیں پتہ کونسی بس وہاں جائے گئ۔
علی اسکا موبائل لیکر آگے بڑھ گیا۔ وہ بھاگ کے پیچھے آئی وہ بس اسٹاپ کے شیڈ آکر ایک جانب گلاس وال پر ڈیجیٹل روڈ میپ میں روٹ دیکھ رہا تھا۔ بس کی آمدو رفت کے اوقات بمعہ روٹ ہنگل اور انگریزی دونوں زبانوں میں موجود تھے۔
یہ دس منٹ بعد بس نمبر 11 آئے گی آپ اس میں سوار ہو جائیئے گا۔ ابھی بس نمبر 15 آنے والی ہے۔
اس نے انگریزئ میں بتاتے ہوئے موبائل واپس کیا۔ وہ ششدر کھڑی تھی۔ چونکی۔
گھمسائےو۔۔۔ وہ پھر شائد کچھ غلط بول گئ تھی کیونکہ مخاطب کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ آئی تھی۔ اس نے فورا انگریزی پر تبدیل کیا خود کو
آنیا۔ ۔شکریہ۔
ہلکا سر جھکا کے شکریہ کہا ۔
مائی پلیژر۔کرم۔ اس نے بھی اجازت چاہی۔ کندھے پر لیپ ٹاپ بیگ ٹھیک کرتا وہ پیدل آگے بڑھ گیا تھا۔
اسے دور جاتے دیکھ کر اس نے گہری سانس لی پھر اس دو بالشت کی اسکرین کو دیکھتے ہوئے بڑبڑائی
میری آنکھیں واقعی پھٹو ول ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی کسلمندی سے کروٹ بدلتے آنکھ کھلی تو کھڑکی سے آتی مدہم روشنی میں نک سک سے درست ایڈون شاپر احتیاط سے اسکے سرہانے رکھتا نظر آیا۔
اٹھ گئیں۔وہ خوشگوار انداز میں مسکرایا۔
ہمم۔۔ وہ انگڑائی لیتی اٹھ بیٹھئ۔
تم اتنی صبح صبح کہاں جا رہے ہو۔
جمائی لیتے ہوئے اس نے پوچھا تو ایڈون ہنس دیا
صبح؟ بارہ بج رہے۔ آنکھ ہی نہیں کھلی میری صبح ایک جگہ جانا تھا انٹرویو دینےمس ہو گیا اب ڈیوٹی پر۔جا رہا ہوں۔ تم بتائو ٹھیک سے سوئیں۔۔۔
اسکے پوچھنے پر وہ جھینپ سی گئ۔
سر ہلا کر جواب دیا۔ اسکے چہرےکی رنگت ایکدم سرخ پڑ گئ تھی۔ ایڈون مسکرا دیا
اچھا یہ کچھ ناشتے کا سامان ہے ناشتہ کرلینا میں چلتا ہوں۔
وہ دھیرے سے اسکے سر کے بال بکھیرتا ہوا بولا۔
ہممم۔ وہ قصدا نگاہ چرا رہی تھی۔
اوکے خدا حافظ۔ وہ کہتا ہوا احتیاط سے دروازہ بند کرتا چلا گیا تب اس نے سر اٹھایا۔ کمرے میں دھوپ کی روشنی پھیلی تھی۔ وہ کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی۔ کل۔کی نسبت اس وقت طبیعت کی سب کثافت دور تھی۔ بھوک کا احساس بھی ہو رہا تھا۔ وہ یونہی دیکھنے کیلئے کہ ناشتے میں سامان کیا ہے شاپر میں جھا نکنے لگی۔ چیز کیک کریم چیز چیز سینڈوچ دودھ پیکٹ اسے ایکدم بو چڑھی تھی ۔ ابکائی سی آئی۔ وہ فورا پیچھے ہوئی اسکا سب کھایا پیا جیسے باہر آنے کو تھا روکنے کی کوشش کرتی وہ دروازے کی جانب بڑھی مگر الٹی رک نہ سکی۔ دروازہ خراب ہو گیا۔ پے در پے دو الٹیاں۔
اسکا وجود کانپنے لگا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باتھ روم جا کر چہرے پر چھپاکے مارے تو طبیعت کچھ بحال ہوئی۔ پوچھا لاکر صفائی بھی خود کرنی پڑی۔ کمرے میں ناگوار بو پھیل گئ تھی۔ پنکھا ونکھا تو تھا نہیں اس نے کھڑکی اور دروازہ کھولا خود پوچھا واپس رکھ کر واپس آئی تو لابی سے گزرتے ان دو لڑکیوں کو واضح طور پر اسکے کمرے سے باہر گزرتے ہوئے ناک بند کرتے اور بڑبڑاتے دیکھا۔ کمرے میں آکر والٹ میں پیسے دیکھے۔ یا تو کچھ باہر سے لیکر کھا لیتی یا ؟ اس نے دوسرے آپشن کا سوچا۔ اسٹور جا کر ائئر فریشنر خریدا کمرے میں ڈھیر سارا اسپرے کیا۔ شاپر پر بھئ کر دیا۔ بھوک کے مارے دم نکلنے لگا تھا۔ چیز سینڈوچ کو سانس روک روک کے کھایا مگر دودھ پیتے ہوئے پھر ابکائی سی آنے لگی ۔ اس نے دودھ رکھ دیا۔ اسکی بھوک بھی ختم نہ ہوئی تھی طبیعت بھی بے حد بوجھل ہو رہی تھئ اور جزباتئ طور پر بھی سہارا درکار تھا۔
وہ وہیں گھٹنوں میں منہ دے کر گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔
آپ اپنا کھانے پینے کا خوب خیال رکھیں آپ بہت کمزور ہیں۔
ڈاکٹر کی ہدایت ۔۔۔
وہ بستر پر گر سی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میز پر طرح طرح کے کھانے سجے تھے بریانی مٹن کڑاہی نان سلاد شاہی ٹکڑے کسٹرڈ۔وہ ہرپلیٹ سے تھوڑا تھوڑا چکھتی ہوئی بریانی پر رکی۔۔ وہ بریانی پر کسٹرڈ ڈال کر مزے لیکر کر کھا رہی تھی۔
اس نے کروٹ بدلی۔
اریزہ اسکے لیئے فروٹ کیک لائی تھی کافی کے ساتھ۔
چلو ہم کمرشل چلتے ہیں گول گپے کھانے۔
اس نے پھرکروٹ بدلی۔
بخار چڑھ چکا تھا اسے سرد ہوا ٹھٹرارہی تھی اس نے جسم سکیڑ کر خود کو گول مول کرلیا تھا۔
تیسرا خواب تھا۔
وہ ایک چھوٹا سا بچہ تھا جو اسکی گود میں رو رہا تھا۔اسکے ہاتھ میں فیڈر تھا اس نے اس بچے کو پلانا چاہا مگر بوتل یکا یک خالی ہوگئ۔
بچہ مزید زور و شور سے رو پڑا۔
بتائو کہاں سے پورا کروں میں اسکا خرچہ۔ میری بات مان لیتیں تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔
ایڈون چلا رہا تھا۔
سنتھیا یہ تم نے کیا کیا تم نے ہمیں کسی کو منہ دکھانے لائق نہ چھوڑا۔ بیٹا۔ میری ایسی تربیت تو نہ تھی۔۔ امی رو رہی تھیں۔
نہیں امی وہ تڑپ کر انکی جانب بڑھی۔پس پردہ بچے کے رونے کی آواز حاوی تھی۔
بیٹا ہم نے تو بھروسہ کرکے بھیجا تھا تمہیں۔۔ تم تو میری اچھی بیٹی تھیں۔
بابا ایکدم بوڑھے لگنے لگے تھے۔
بابا ایڈون ۔۔ ایڈون بھی تو۔
اس نے صفائی میں جانے کیا کہنا چاہا تھا۔۔ کیا وہ یہ بتا رہی تھی کہ قصور وار ایڈون بھئ ہے۔۔
یہ بچہ فساد کی جڑ ہے۔ ایڈون غصے سے بچے کی جانب بڑھا تھا۔
نہیں ایڈون چھوڑو۔۔۔
وہ خواب سے حقیقت میں واپس آئی تھی۔اسے روکتے ایک۔جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ پسیینے پسینے ہو رہی تھی کمرے میں ابھی بھی روشنی تھی۔ جانے وہ کتنی دیر سوئی مگر اسکی آنکھیں کھل گئ تھیں۔جن باتوں سے وہ نگاہ چرائے تھی جن حقیقتوں سے قصدا دھیان ہٹا رکھا تھا وہ خواب میں آکر اسے جھنجھوڑ گئ تھیں۔
اسے نہیں یاد تھا کہ اس نے کبھی لگاتار روزے رکھے ہوں۔ کبھی بہت دیر بھوک برداشت کی ہو۔ وہ تو اریزہ سے ذیادہ کھا جاتی تھی اسے لگتا نہیں تھا اس کا وہ بھرپور فائدہ اٹھاتی تھی۔ اسے سردی کبھی نہیں لگتی تھی اریزہ کو ٹھنڈ ذیادہ لگتی تھی وہ اسکا مزاق اڑاتی تھی مگر یہاں سردی اسکی جان لینے پر تل گئ تھی۔ اس نے کبھی کٹھنائیاں نہیں جھیلی تھیں ہر مسلئے ہر پریشانی کا حل بابا نکالتے تھے ماما لاڈ اٹھاتی تھیں بابا کی تو وہ جان تھی۔ اسکی کبھی کوئی فرمائش نہ ٹالی تھی۔ یہاں تک کے ایڈون کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہونے کے باوجود انہوں نے اسکی خوشی کو مقدم جانتے ہوئے خود بہن سے بات کی تھئ۔ او راس نے کیا کیا تھا۔ انکی تربیت پر سوالیہ نشان لگا دیا؟ انکی محبتوں پر ایک محبت کو حاوی کردیا۔ اپنے لیئے خود مسلئے پیدا کر لیئے تھے۔
وہ۔گھبرا کر بستر سے اتری۔ کھڑکی سے فراٹے سے ہوا آرہی تھی۔ اس نے پورا زور لگا کر اسے بند کیا۔ کھڑکی کی چوکھٹ پر ہاتھ رکھتے کل کا منظر تاذہ ہوا تھا۔ایڈون اسکے پیچھے آکھڑا ہوا تھا وہ جان کے انجان بنی تھی۔ اس نے رات یہیں گزاری تھی ۔۔۔۔وہ اپنی ماں باپ کی تربیت ایڈون کے پچھلے رویئے سب بھلا گئ تھی۔ یاد تھا تو بس اتنا کہ ایڈون کو نہ کھو دے کہیں۔ مگر کیا اس نے ایڈون کو پا لیا تھا ؟ ایڈون اسکو مستقل ابارشن پر اکسا رہا تھا ناراض ہو رہا تھا غصہ کرتا تھا۔اسے بھی ضد ہوگئ تھی کہ جب قصوروار وہ اکیلی نہیں تو کچھ مضمرات ایڈون بھی بھگتے مگر نقصان میں کون رہا ؟ وہ خود۔ اس وقت وہ اپنی ماں کے پاس ہوتی تو وہ اسے زمین پر پیر نہ رکھنے دیتیں۔۔ وہ اب انکو اپنا چہرہ تک دکھانے جوگی نہ رہی تھی۔
بھوک کمزوری سردی ایڈون کی سردمہری ان تمام۔محاذوں سے لڑتے وہ پریگننسئ کی سب کٹھنائیاں کیسے جھیلے گی کسی بڑے یا تجربہ کار کی مدد کے بنا ؟

خود سے لڑتے خود سے سوال کرتے وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھام کے وہیں چکرانے لگی۔ بیڈ تک جانے کی کوشش میں بے خیالی میں اپنے ہی بیگ سے ٹھوکر لگی تھی۔ پائوں کے انگوٹھے کا ناخن شائد ہل گیا ہوگا۔ درد کی شدید لہر نے اسے لپیٹ میں لیا تھا۔بمشکل کارنس کا سہارا لیتی بیڈ تک آئی تو صبح یا پیا آدھا دودھ کا ڈبہ اچھل کر زمین پر آگرا۔ بقیہ بچا دودھ فرش رنگین کر گیا تھا۔ اسے رونا آگیا تھا۔ اس کی صفائی کیلئے بھئ اسے خود ہمت کرنی تھی۔

میں یہ سب نہیں جھیل سکتی۔ نہیں ۔۔ اس نے بے بسی سے سر ہلایا۔
بہت مشکل ہے یہ سب۔۔
میں نہیں کر سکتی یہ۔۔
اس سے جو فیصلہ ایڈون اتنے دنوں میں نہ کرواسکا وہ اس نے چند لمحوں میں کر لیا تھا۔
تکیئے کے پاس سے فون اٹھا کر اس نے فوری میسج ٹائپ کیا تھا۔
ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لے لو میں ابارشن کیلئے تیار ہوں۔۔
پیغام ایڈون کو جیسے ہی سینڈ ہوا چند لمحوں میں ہی جواب آگیا تھا۔۔
جواب تھا
۔واقعی؟؟؟؟
موبائل پر اسکی گرفت سخت ہوگئ تھی۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔
جاری ہے۔۔۔

kesi lagi apko salam korea ki yeh qist? rate us below

Rating

Salam Korea Episode 27

Salam Korea
by Vaiza Zaidi


قسط 27

صبح اسکی کافی دیر سے آنکھ کھلی تھی۔ اتوار تھا گوارا تو رات آئی ہی نہیں۔کسلمندی سے اس نے کروٹ بدلی حسب معمول ہوپ اٹھ کر بیڈ سے جا چکی تھی۔
اس لڑکی کو نیند کیوں نہیں آتی۔ اس نے بڑبڑاتے ہوئے دوبارہ کروٹ بدلی اور سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر دیکھنے لگی۔
ایک عدد پیغام آیا ہوا تھا۔ اس نے کھولا اور پڑھا
پھر حیرت سے اس پیغام کو دیکھتی رہی۔
انگریزی پیغام موصول ہوا تھا جس میں خوشخبری دی گئ تھی کہ اسے نوکری پر رکھ لیا گیا ہے۔منگل دوپہر اسے
ایک بڑے سے سپر اسٹور میں بلایا گیا تھا جہاں اسکو مناسب تفصیل بتا کر ملازمت کے گھنٹے پورے کرنے تھے۔۔
وہ تحیر سے دیکھتی اٹھ بیٹھئ۔ ۔ اسے یوں بیڈ پر جمے دیکھ کر باتھ روم سے نکلتی ہوپ نے ناک چڑھا کر پوچھا تھا۔
کیا ہوا؟ کسی لڑکے نے ڈیٹ کی آفر کر دی؟
دے ؟ وہ چونکی۔
ہوپ نے ناک چڑھا کر دوبارہ اپنی بات دہرائی
آنی۔
اس نے نفی میں سر ہلایا پھر موبائل اسکو دکھایا۔
یہ دیکھو مجھے جاب مل گئ۔
ہوپ نے میسج پڑھا پھر ناک چڑھا کر بولی
اسپیم میسج ہے۔ یونہی کوئی پیغام بھیجے گا جاب ملنے کا اور تم مان لو گی؟ غیر ملکی طلباء کو آف کیمپس نوکری کی اکثر اجازت نہیں ہوتی او راگر یونیورسٹی سے اجازت لے بھی لو تو نوکری کوئی دیتا نہیں ہے۔ سب ان معاملوں میں پڑنے سے گھبراتے ہیں۔
ہوپ کی طویل توجیح۔ وہ چند لمحے منہ کھولے اسکی شکل دیکھتی رہ گئ۔
کونسی یونیورسٹئ ؟ میں تو کسی یونیورسٹی کا حصہ نہیں
اریزہ نے کہا تو وہ مزید ڈرانے لگئ
پھر تو پکا اسپیم میسج ہے۔ لوگ بڑے بڑے فراڈ کرتے ہیں یوں میسج کرکے بلا کر غائب بھی کر سکتے ہیں اور۔۔

مگر یہ وہی نمبر ہے جس پر رابطہ کرکے میں انٹرویو دینے گئ تھی۔اس نے بات کاٹی اس کا جوش دھیما پڑچکا تھا۔
پھر مبارک ہو۔
ہوپ کا انداز ہنوز تھا۔ٹھس سا۔ لاتعلقی سے کہتے وہ کمرے سے نکل گئ۔
وہ دوبارہ میسج پڑھنے لگی۔پھر اکتا کر موبائل ایک۔طرف رکھتی فریش ہونے باتھ روم میں گھس گئ۔ نہا دھو کر باہر آئی تو ہوپ کچن کی میز پر بیٹھی اہتمام سے چاول اور سوپ تناول فرما رہی تھی۔
وہ اسے قصدا نظر انداز کرتی فریج کھولنے لگی۔
چاول پکے ہوئے ہیں تم کھا لو۔ میں نے ذیادہ پکا لیئے۔
خاصا غیر متوقع جملہ ہوپ کے منہ سے نکلا تھا۔ وہ باقائدہ مڑ کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ ہوپ کو اندازہ تھا جبھی نگاہ بھی نہ اٹھائی۔
سادہ ابلے چاول سادہ چکن سوپ ساتھ کمچی۔ ابلے چاول پر کمچی ڈال کر منہ میں رکھتئ اور سوپ کا چمچ منہ میں بھر لیتی۔
وہ آٹا نکال کر پراٹھا بنانے لگی۔
چاول سادہ ہیں چکن نہیں ڈالا گیا اس میں۔نا ہی سور کا گوشت ہے۔
طنز میں ڈوبی آواز اسکی پشت سے ابھری تھی۔
میں ناشتے میں چاول نہیں کھا سکتی۔ زندگی میں کبھی نہیں کھائے۔ ہمارا ناشتہ الگ ہوتا ہے باقی دن کے کھانوں کا اہتمام بالکل مختلف ۔۔
اریزہ نے سادہ سے انداز میں وضاحت کی۔
ناشتہ ، کھانا نہیں ہوتا کیا؟
ہوپ حیران ہوئی تھی۔
برصغیر کے لوگوں خاص کر پاکستانیوں کیلئے تو ناشتہ اہتمام پر مشتمل الگ ہی ہوتا ہے دن کے باقی وقت کے کھانوں سے۔
اریزہ کے کہنے پر ہوپ نے کندھے اچکائے پھر خاموشی سے کھانے میں مگن ہوگئ۔
اریزہ ناشتہ بنا کر ناشتہ کرنے بیٹھی تو کافی میکر بج اٹھا۔
ہوپ ناشتہ ختم کرچکی تھی۔ سو فورا اٹھ گئ۔ کافی بنا کر ایک کپ اسکے برابر میں بھی رکھ دیا۔
اسکو اتنی حیرت ہوئی کہ نوالہ چبانا بھول گئ۔
ہوپ تھوڑی شرمندہ سی ہوئی۔
تم مجھے ہمیشہ ناشتے کیلئے دعوت دیتئ ہو سو آج میں نے سوچا احسان اتار دوں۔
کھردرا انداز وہ چاہ کر بھی بدل نہ پائی تھی۔۔ یہ ہوپ اسے حیران کرنے پر تلی تھی۔ سادہ سے گرے اپر ٹرائوزر میں ملبوس بالوں کا جوڑا سا بنائے میک اپ سے بے نیاز وہ کل کی نسبت اس وقت بالکل سادہ تھی مگر اسے اچھی لگی۔ ہر وقت کا پھولا منہ اس وقت پچکا ہوا تھا شائد اسلیئے۔
اسکو اپنی اس مثال پر خود ہی ہنسی آگئ۔ جلدی سے سر جھکا لیا۔ نوالہ پھنس پھنس گیا اسے کھانسی سی آگئ۔
یہ لو۔ ہوپ نے گلاس بھر کر پانی اسکی جانب بڑھایا۔
آج ہوپ اسے حیران کرنے پر تلی تھی۔
پانی کا گھونٹ بھرا تو منہ خراب ہوگیا۔
ایک تو یہ لڑکی سدھر ہی نہیں سکتی۔ چائے سے ذرا سا ہلکا گرم پانی تھا۔ اس نے برا سا منہ بنا کر گلاس رکھا۔ پانی سے ہلکی ہلکی بھاپ اٹھ رہی تھی۔
کیا ہوا ٹھنڈا ہوگیاپانی؟
ہوپ نے معصومیت سے پوچھا جوابا وہ چڑ گئ۔
کسی کو اچھو لگے تو کیا اسے کھولتا پانی پلاتے ہیں۔ جانے تمہیں مجھ سے کیا پرخاش ہے ہر وقت عاجز کرنے پر تلی رہتی ہو۔
وہ یقینا اتنی متحمل مزاج نہیں تھی جتنا کورینز کے سامنے بنی ہوئی تھی اس وقت کی حرکت نے اسے اتنا تپایا کہ اس نے ساری مروت بالائے طاق رکھ دی۔ اسکے یوں غضب ناک ہونے کی ہوپ کو توقع نہ تھئ۔وہ تھوڑی شرمندہ ہوئی۔
بیان مگر ہم شمالی کورین تو خاص کر تیز گرم پانی پیتے ہیں۔ یہاں جنوبی کورینز بھی نیم گرم پانی پیتے ہیں ہم لوگ ٹھنڈا پانی کم ہی پیتے ہیں۔ میں نے جلدی میں اپنی بوتل سے پانی دے دیا تھا ۔۔
اس نے میز پر رکھے اپنے فلاسک نما بوتل کی جانب اشارہ کیا۔ بوتل کا ڈھکن ابھی ہٹا ہوا تھا ہلکی ہلکی بھاپ اٹھ رہی تھی۔
کیوں؟ ۔اسکا موڈ خراب ہوگیا تھا اب آسانی سے ٹھیک نہ ہونا تھا۔
کوئی سزا ملی ہوئی ہے کیا۔ ہمیشہ گرم پانی پیو اور جہنم کے مزے لو۔
اسکا لہجہ خراب تھا۔ہوپ نے اسکی شکل دیکھی اور جواب دیئے بنا اپنا کپ اٹھا کے چلتی بنی۔ اس نے ناک چڑھا کر محترمہ کی بے نیازی ملاحظہ کی۔
اس لڑکی کو لگتا ہے ٹھیکہ ملا ہوا ہے میرا موڈ برباد کرنے کا۔ جتنی شکل پیاری ہے اسکا آدھا پونا اخلاق بھئ اچھے ہوتے تو کیا بات تھی۔
اب اس نے بڑ بڑ ہی کرنی تھی ناشتہ کرتے ہوئے۔ نیا نوالہ منہ میں ڈالا ۔۔
ہمیشہ ٹھنڈے پانی کے فوائد سنے گرم پانی کا تو ہمیشہ سنا جہنمیوں کو پلایا جائے گا کھولتا ہوا پانی۔ ایک تو بندے کو پہلے ہی اعمال کی وجہ سے یقین نہ ہو کہ۔جنت نصیب ہوگی الٹا دنیا میں بھی جہنم کے مزے لوٹنے لگو۔ واہ۔
وہ سرجھٹک جھٹک کے ناشتہ کر رہی تھی۔
ہوپ نے لائونج میں صوفے پر دراز ہو کر ٹی وی آن کر لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو لی گروپ کے زیر انتظام سپراسٹور ہے۔
گوارا اسے پہلے دن خود اسٹور چھوڑنے آئی تھی۔
کتنا بڑا ہے نا۔اس کو اسٹور پسند آیا تھا۔گوارا اسکا ہاتھ تھامے ڈھونڈ ڈھانڈ کے اس نئے امریکی سیریل کی تشہیر کے لیئے لگائے گئے اسٹال پر لے آئی۔ وہی ادھیڑ عمر انکل کھڑے تھے ساتھ ایک دو اور بھی شائد اسکی طرح کے ملازمین تھے۔
اوکے ڈئیرفائٹنگ۔
گوارا نے مٹھی بنا کر اسے دکھایا۔
لڑوں ؟ ۔ اریزہ حیران رہ گئ۔
میرا مطلب ہے گڈ لک۔ گوارا نے سرپیٹ لیا۔
اوہ اچھا۔شکریہ۔
وہ سنبھلی۔
اچھا واپسی پر بھی اسی طرح بس میں آجانا ٹھیک اور کوئی بھی مسلہ ہو بتا دینا۔
وہ اب جانے کی تیاری میں تھی۔ اریزہ نے سر ہلا کر تسلی کرائی وہ اسکے گلے لگتی ہاتھ ہلاتی بھاگ گئ۔
وہ گہرا سانس لیکر اسٹال کے پاس چلی آئی۔
چند منٹ کی مختصرسی انکی تربیت کی گئ جس میں انکا کام صرف بچوں کو بلا کر سیریل چکھانے پر مشتمل تھا۔اس بڑے سے مال پلس مارٹ پر کئی منزلیں تھیں۔اسے اسی منزل کے اسٹال کو سونپ دیا گیا تھا۔ یہاں کئی غیر ملکی برانڈز کی دکانیں تھیں۔ ایک لڑکا اسکے ساتھ کھڑا تھا۔ جو دیکھنے میں ہی بمشکل اسکول جانے والا لگتا تھا۔
آننیانگ۔ اس نے جھک کر بڑی تمیز سے سلام کیا تھا۔
جوابا وہ بھی ہلکے سے سر جھکا کر مسکرا دی۔
پھر تمام وقت وہی لڑکا بچوں کو سیریل کھانے پر مائل کرتا رہا اور وہ سیریل کے ڈبے کھول کر دودھ میں گھول گھول کر دیتی رہی۔ چھے گھنٹے کی شفٹ اور اتنا بورنگ کام۔ جمائیاں آنے لگیں اسے تو وہ لڑکا اسکے لیئے کافی لانے کا کہہ کر اٹھ کر چلا گیا۔

چاکلیٹ ونیلا اور اسٹرابری ۔اتنی پیاری خوشبو آرہی تھی کہ دل کیا ذرا سا چکھ تو کم از کم لے۔ مگر ہاتھ بڑھاتے بڑھاتے رک گئ۔ ایپرن کمپنی کے لوگو والا اس نے پہن رکھا تھا اسٹال اسٹفڈ ٹوائئز اور غباروں سے سجا تھا پھر بھی بچے منہ بنا کر آتے اور کھا کر منہ بنا کر ہی چلے جاتے۔
نونا کافی۔
لڑکے نے کافی لا تھمائی۔
گومو وویو۔
وہ شکر گزار ہوئی۔
میرا تو ٹارگٹ پورا ہو گیا ہے اب میں چلتا ہوں ابھی ایک گھنٹہ ہے آپ اپنے پچیس ڈبے پورے سیل کر لیں۔ آل۔رائٹ۔۔۔۔ مجھے امید ہے 25 ڈبوں کا سیل ٹارگٹ پورا کر لیں گی آج آپ۔۔ فائٹنگ۔
وہ صرف اسی کیلئے کافی لایا تھا۔ مزے سے یہ سب کہتا مسکرا کر یقینا اسکی بے وقوفی کا مزاق اڑا رہا تھا۔
وہاٹ ؟
اسے سمجھ نہ آیا۔ یہ کیا کھیل کھیل گیا وہ۔
ہم دونوں کو پچیس پچیس سیریل کے ڈبے سیل کرنے تھے
میں نے ستائیس ڈبے بیچ دیئے ہیں میری طرف سے یہ دو سیلز آپ رکھ لیں۔ اچھا میں ذرا کلیئرنس کروا لوں۔
وہ کہہ کر رکا نہیں الٹے پیروں مینجمنٹ کے دفتر کی جانب بڑھ گیا۔
اتنے گھنٹوں سے ان بچوں کیلئے سیریل بنا بنا کر اسکے ہاتھ شل ہو گئے تھے اور یہ چپکے چپکے ان سے جانے کیا گٹ پٹ کرتا سب سیلیز اپنے نام کر گیا تھا۔ جتنی دیر میں اسے سارا معاملہ سمجھ آیا وہ رفوچکر ہو چکا تھا۔
ہمارا ٹارگٹ بھی تھا یہ مجھے پتہ کیوں نہ چلا۔
وہ روہانسی سئ ہوگئ۔
یہ سب سیلز اسکی اکیلے کی کیسے بن گئئیں وہ انہی سوچوں میں کلس رہی تھئ کہ دو تین ننھے منے چندی آنکھوں والے بچے اسکے اسٹال پر رکھے بڑے بڑے کارٹونک اسٹینڈز کے شوق میں بھاگے آئے تھے۔۔ اب اچھل اچھل کر اپنی زبان میں جانے کیا کہہ رہے تھے
اتنے معصوم گورے گورے پیارے بچے۔ اسکا دل موم سا ہوا۔ سب جھٹک کر وہ جی جان سے متوجہ ہوئی۔انکا نام پوچھا سب بٹر بٹر شکل دیکھنے لگے۔۔
کیسی تعلیم دیتے ہیں بچوں کو ایک لفظ انگریزی کا نہیں آتا۔ خیر اس عمر میں ہمیں بھئ نہیں سمجھ آتا تھا مگر نیم سن کر نام تو بتا ہی دیتے تھے۔
اسے کوریا کے تعلیمی نظام پر غصہ آیا۔ وہ چھوٹی سی پانچ چھے سال کی بچی اچھل اچھل کر کائونٹر سے سب بائول گرانے پر تلی تھئ۔ اس نے دانت کچکچاتے تحمل سے روکنے کی۔خاطر اس دو پونیوں والی گڑیا کی پونیاں پیار سے چھوئیں جس پر خاصی نفرت سے بچی نے گھورا اور ہونہہ کرتی بھاگ کھڑی ہوئی۔۔
ارے۔۔ وہ حیران ہی رہ گئ اسکے ردعمل پر۔۔ دوسرے بچے کو کائونٹر سے چمچ چاہیئے تھا۔۔
میں بنا کر آپکو چکھاتی ہوں۔۔ اریزہ نے تسلی دیتے ہوئے دودھ کا پیکٹ کھولا۔۔اور ایک۔ننھے پیالے میں سیریل گھولنے لگی۔
ایک تین چار سال کا شیطان کائونڑ پر رکھے ڈبوں کو اچھل اچھل کر ہاتھ مار رہا تھا۔۔ اریزہ نے جھلا کر اسے اسکے اپر سے پکڑ کر اٹھا کر ایک طرف کیا جوابا اس نے غصے میں نہ صرف گھورا بلکہ ریں ریں کرتا ماں کی طرف شکایت لگانے بھاگا۔۔
شکل کے جتنے پیارے ہیں اتنے ہی آفت کے پرکالہ بچے ہیں۔ کوریا کو بھی چین کی طرز پر ایک بچے کی اجازت والی پالیسی اپنانی چاہیئے۔
اریزہ نے بڑبڑانے والے انداز میں کہا پھر پھسلا کر بچوں کو چکھانے لگی۔ جتنے شوق سے ہبڑ تبڑ سب چٹ کر گئے اسے لگا یہی بچے اسکا 25 سیلز کا ٹارگٹ پورا کر دیں گے۔
بیٹا اپنی آہموجی کو بلا کر لائو ۔۔
اس نے پیار سے کہا تھا جوابا وہ آٹھ نو سالہ بچہ منہ چڑا کر بھاگ اٹھا۔
کمینہ بچہ۔۔ وہ روہانسی ہو چلی تھی۔ تین اور بچے آن کھڑے ہوئے
وہ ابھی دو سیریل کے بائول بنا کر سیدھی بھی نہ ہوئی تھی کہ ایک کڑخت سی پینتیس چھتیس سال کی عورت اسی ننھے شیطان کا ہاتھ پکڑے چیختی چنگھاڑتی اس پر چڑھ دوڑی۔۔
زبان انجان مگر کف اڑاتا انداز۔۔۔
بلا بلا بلا۔۔
ایکسکیوز می۔ آئی کانٹ انڈراسٹیںڈ واٹ یو آر سیئنگ۔۔ میم پلیز کام ڈائون۔۔
اسکی منت سماجت کچھ کام نہ آئی۔۔ آنٹی کا دماغ خراب ہوا وا تھا۔۔
چند لمحے تو اس نے سنا۔مگر جب ارد گرد سے گزرتے صارفین بھی چسکے لینے کھڑے ہوئے اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔۔ انگریزی گئ بالائے طاق۔۔ اور اردو فر فر نکلی۔۔۔ ایک نہ چھوڑی دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر وہ دوبدو ہوئی
اوہ محترمہ۔۔ بہت ہوگئ۔ میں چپ ہوں تو بولے چلی جارہی ہو ۔حد ہوگئ زبان ہے یا قینچی کتر کتر چل رہی ہے۔ خود ایسی ہو جبھی بچہ بھی تمہارا بدتمیز ہے ظاہر ہے اس نے تم سے یہی سب سیکھا ہوگا۔ آنکھیں کیوں پھاڑ رہی ہو یہ بنٹوں جیسی آنکھیں باہر گر پڑیں گی اتنا کھلتی ہوتیں تمہاری آنکھیں تو بیٹے کے کان مڑورتیں مجھ پر نہ چڑھ دوڑتیں۔
آہجومہ کی آنکھوں کے ساتھ منہ بھی کھل چکا تھا۔ انجان زبان میں جانے وہ لڑکی کیا کہے جا رہی تھی۔۔ مگر جو بھی کہہ رہی تھی انداز سے لگ رہا تھا اب کہے گی کم ہاتھ ذیادہ چلائے گی۔۔
اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ میرے سامنے تم بھی ایسے ہی اپنی زبان میں گٹ پٹ کیئے جا رہی تھیں۔۔اب سنو۔ نہیں سمجھ آرہی نا یہی پچھلے دس منٹ سے کہہ رہی تھی انگریزی بول لو بی بی تمہاری بکواس سمجھ نہیں آرہی مگر نہ جی۔۔ بک بک بک بک دماغ خراب کرکے رکھ دیا میرا
دے۔۔ کیا کہہ رہی ہو تم؟۔ آہجومہ کی گھن گھرج کم ہوئی۔۔ بھیڑ چھٹنے لگی۔۔ مینجرمنہ کھولے سامنے کھڑا تھا۔۔
اریزہ نے جھٹ دانتوں تلے زبان دبالی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مارکیٹنگ کا پہلا اصول ہوتا ہے کہ کسٹمر ہمیشہ صحیح ہے۔
مینجر صاحب اسے لیکچر دے رہے تھے۔
کسٹمر بھی وہ جو اگر سمجھنے سمجھانے والی عمر میں نہیں۔ بچوں کے ساتھ ہمیں بہت تحمل سے کام لینا پڑتا ہے وہ بات سمجھ نہیں سکتے ہمیں انکو بہلا کر پھسلا کر منانا پڑتا ہے۔ اگر بچے آپ سے ڈریں گے تو آپ انکو اپنی چیز کیسے بیچیں گے؟ جھلاہٹ بے زاری غصہ بچے نہیں سمجھتے۔ اور یہ وہ چیزیں ہیں جو آپ کبھی کسٹمر کو نہیں دکھا سکتے کیونکہ اس سے آپ نے پیسہ نکلوانا ہے۔ پیسہ صرف شیریں لب و لہجے اور تحمل سے ہی آپ کسی کی جیب سے نکلوا سکتے ہیں۔یوں سمجھو ہم وہ ڈاکو ہیں جو گن پوائںٹ کی بجائے مسکراہٹ سے لوگوں کو لوٹتے ہیں۔۔
کوئی حیرت نہیں آپ ایک ڈبہ بھی نہ بیچ پائیں۔
ایک تو اس ہائی اسکولر نے چونا لگایا۔ اوپر سے اتنی بے عزتی کے بعد ملنے والے اس لیکچر کی وجہ سے اسکی شکل پر دنیا جہان کی بے چارگئ چھا گئ تھی جبھی بولتے بولتے چارلس نرم پڑا
آپ ایسا کریں ابھی گھر جا کر آرام کریں۔ کوئی اچھی سی مووی دیکھیں موڈ اچھا کریں کل خوشگوار سےموڈ کے ساتھ آئیے گا۔۔
یہ اس نے رعائیت کی تھی۔ ورنہ اصولا تو کسٹمر سے بدتمیزی کے نام اسکے مینجر نے اسکو اسٹال اور لڑکی دونوں کو اسٹور سے باہر لے جانے کا حکم سنایا تھا۔ چارلس کہہ سن کر معاملہ دبا کر آیا تھا اریزہ کو یہ لیکچر اسٹور کے باہر کھڑے کھڑے دے کر رخصت کیا خود دوبارہ اسٹورمیں گھس گیا تھا آج کے دن اسےہی مغز کھپائی کرنی تھی یہاں۔۔
شکریہ۔۔ اریزہ کے منہ سے جب تک یہ لفظ نکلا وہ پلٹ چکا تھا۔۔
ہاف۔۔ اس نے آہ بھری تھی۔۔ اسٹور تو اتنا خنک نہیں تھا مگر باہر بلا کی سرد ہوا تھی۔سورج کا نام و نشان نہ تھا۔۔اکا دکا دکانیں کھلی تھیں وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھانے لگی۔۔
کوریا میں جاڑا آچکا تھا۔ ستمبر کی خنکی پاکستان کے دسمبر کے برابر چل رہی تھئ۔
سڑک پر ٹریفک معمول سے کم تھا فٹ پاتھ پر پھر ایک دو لوگ چل رہے تھے۔۔ وہ البتہ دکانوں کے آگے پختہ سروس روڈ پرمٹر گشت کر رہی تھی۔ پہلی جاب پہلا دن اور پہلی ہی بے عزتی اسے کافی محسوس ہوئی تھی۔۔
پانی کا قطرہ اسکے کندھے پر آکر گرا تو اس نے چونک کر جھاڑا۔۔ ایک لانگ کوٹ اندر ہائی نیک نیچے فلیٹ شوز اسکے باوجود سرد ہوا کپکپائے دے رہئ تھی اسے۔۔ اسے میٹرو اسٹیشن تک پیدل جانا تھا جو کم از کم بھی پچیس منٹ کی دوری پر تھا۔۔ وہ اپنے قدموں پر نگاہیں جمائے ارد گرد سے بے نیاز چلے جا رہی تھی۔۔
ایک اور قطرہ اسکے کوٹ پر آٹھہرا تو اس نے چڑ کربمشکل زرا سا سر اٹھا کر اوپر دیکھنا چاہا بادل خوب گھر گھر کر آئے تھے۔ ایکدم چھما چھم برس اٹھے وہ بھاگ کے دکانوں کے باہر شیڈ میں گھسی
۔کیا کروں۔ کسے فون کروں۔
وہ سوچ میں پڑی۔ گوارا تو سورہی ہوگی۔ ایڈون۔
اس نے جلدی سے ایڈون کو کال ملائی کال جا رہی تھی مگر وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا۔۔
وہ بھی تو جاب پر ہوگا۔۔ اسے رونا آنے لگا۔
بارش چھما چھم برس رہی تھی اسکے بال گیلے ہونے لگے تھے۔۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا تو سامنے رہائشئ عمارت نظر آئی۔
وہ بھاگ کر اس میں گھس گئ۔ گلاس ڈور سختی سے بند تھا تاہم اسے تھوڑا سا شیڈ مل گیا۔۔
کوئی ہے۔۔ اس نے کھٹکانا چاہا۔ برف ہوئے ہاتھ زور بھی نہ لگا سکے۔ اسکی سانس پھولنے لگی۔۔
تبھئ بڑے زور سے بجلی کڑکی تھی۔ اور وہ وہیں دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئ۔
سب ٹھیک ہے۔مجھے ڈر نہیں لگ رہا۔ بارش بالکل ڈرائونی نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھتری کے باوجود بارش نے اسے گیلا کردیا تھا۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اپنی رہائشی عمارت کی جانب بڑھا۔ گلاس ڈور کے ساتھ یقینا کوئی ہوم لیس شیڈ بیٹھا تھا بارش سے بچنے کیلئے۔ وہ دھیان دیئے بنا کوڈ دبا کر دروازہ کھولنے لگا اندر آکر دروازہ بند کیا تو عجیب سا احساس ہوااس نے مڑ شیشے کے پار دیکھا۔ کندھوں پر بکھرے بالوں سے اندازہ ہوتا تھا لڑکی ہے۔ کسی بے گھر کے حساب سے اچھے لباس میں ملبوس تھی۔ اکڑوں بیٹھی ہل ہل کر کچھ بڑ بڑا بھی رہی تھی۔ اس نے سوچا مڑ کر چلا جائے مڑ بھی گیا تھا مگر تبھی زور سے بجلی کڑکنے پر اس لڑکی نے جیسے ڈر کر زور زور سے بولنا اور ہلنا شروع کر دیا تھا۔ وہ نظر انداز کر نہ سکا۔
چھوگیو۔ وہ چھتری دروازے کے پاس اسٹینڈ میں ٹکاتا اسکے پاس چلا آیا۔ قریب آکر نرم سی آواز میں اسے متوجہ کرنا چاہا۔
نامانوس سی آواز اس نے چونک کر سامنے دیکھا۔۔ چندی آنکھوں والا اجنبی مگر مانوس دکھائی دیتا چہرہ۔
ارے آپ۔ اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔
یہ کون ہے اجنبی ۔ ۔۔ نہیں اجنبی نہیں۔۔ کہاں دیکھا ہے اسے۔۔
اس کی آنکھیں اصل حجم سے دگنی ہو چلی تھیں۔۔چندی آنکھوں والے نے خاصی دلچسپی سے یہ منظر دیکھا تھا کہاں اس ملک میں حیرت کے اظہار کے طور پر بھی آنکھیں کھل نہیں پاتیں تو کہاں یہ لڑکی اپنی موٹی موٹی آنکھیں پھاڑ کر پانڈا بن چلی تھی۔۔۔۔
وہ سٹپٹا کر جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئئ۔
سامنے تڑاتڑ برستی بارش تھی۔ اور یہ۔
آریزہ۔۔ رائٹ آپ اریزہ ہو نا؟
علی نے پہچان لیا تھا۔ اب خود بھی اٹھ کر اسکے مقابل آن کھڑا ہوا۔
پرسوں ہی آپ سے ملاقات ہوئی تھی غالبا آپ نے پہچانا نہیں مجھے۔
اسے حیرت تھئ۔ اسکی شخصیت اتنی غیر متاثر کن تو نہ تھی کہ کوئی لڑکی اس سے پہلی ملاقات میں اچھا تعارف حاصل کرنے کے بعد یوں بھول جائے۔
کین چھنا۔ آئیے اندر آجائیں۔یہ سامنے میرا فلیٹ ہے۔
اسکی آنکھوں میں شناسائی کی رمق آہی گئ تھی مگر وہ متذبذب تھی۔۔۔
ہتھیلیاں مسل کر برستی بارش کو یوں دیکھنے لگی جیسے گزارش کر رہی ہو کہ رک جائو مہربانی ہوگی۔
علی مسکرا دیا۔
موسم انسانوں کی گزارش پر بدلا نہیں کرتے۔
اسکی بات پر اریزہ نے ترچھی سی نگاہ ڈالی اس پر۔
دو گھنٹے بعد رکے گی بارش۔۔۔۔
اس نے جتایا۔ اریزہ گہری سانس لیکر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی میز پر بیٹھا وہ مکمل طور پر مگن تھا تحفہ پیک کرنے میں۔ تحفہ اچھی طرح پیک کرنے کے بعد اس نے دل لگا کر کارڈ لکھا تھا۔ کارڈ کو اس پر چپکایا۔۔۔ بکے اسے راستے سے لینا تھا مگر اس سے قبل۔۔ وہ سوچ میں پڑا کیا چیز رہ گئ۔
نونا نے پیچھے سے اچانک آکر تحفہ اٹھا لیا۔ ہایون نے سٹپٹا کر انکو دیکھا پھر انکی پھرتی کے آگے ہار مان کر صبر سے انکے ردعمل کا انتظار کرنے لگا۔ وہ دل میں ہی پڑھ رہی تھیں مگر چہرے پر پھیلی حیرت اسکو مسکرانے پر مجبور کر گئ۔ نونا بھی نا ٹھیک ٹھاک شرمندہ کرادیتی ہیں کبھی کبھی۔ وہ نچلا لب دانتوں سے دبائےسوچ رہا تھا۔
یہ دن یقینا معجزاتی تھا کیونکہ اس دن ایک پری نے دنیا میں آنکھ کھولی۔
کیا تم جانتی ہو تمہارا ہونا بھی کسی کو خوش کردیتا ہے دوست اور تمہارا خوش ہونا تو خوشی کی انتہائین محسوس کرا دیتا ہے کسی کو۔۔۔۔ اور وہ کسی میں ہوں۔
میری جانب سے سالگرہ مبارک ہو
اریزہ۔۔
وہ نام پڑھ کر واضح طو رپر چونکی تھیں۔
یہ؟
وہ جوابا کھل کر مسکرا دیا۔
تم جس لڑکی کو پسند کرنے لگے ہو وہ اریزہ ہے؟
وہ شدید حیران تھیں۔
دے۔ اس نے اعتراف کر لیا تھا۔
مگر مجھے تو لگا تم یو آنہ۔سے میرا مطلب ہے ہوپ کیلئے تم اتنی محنت کر رہے تھے اور۔۔
وہ حیرت کے مارے جیسے گنگ سئ ہوگئ تھیں۔
ہوپ؟ نہیں نونا میں بس اسکی مدد کرناچاہ رہا تھا۔ میں نے اسکو اس نگاہ سے نہیں دیکھا۔
ہایون کا انداز قطعی تھا
مگر وہ جو نازک سی لڑکی جسکا سہارا بننے کو دل کرے والا آئیڈیلزم تھا تمہارا وہ تو ہوپ۔۔
ہا ہا ہا۔ ہایون زور سے ہنسا۔۔
آئیڈیلزم ۔۔ کیا یاد کرادیا۔ تب میں ایسا ہی سوچتا تھا۔ تب مجھے نہیں معلوم تھا کہ محبت انسان سے ہوتی اسکی شخصیت سے نہیں۔ ہوپ بہت مضبوط شخصیت کی مالک لڑکی ہے اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔
اور اریزہ ؟ مجھے تو وہ بھی کافی بااعتماد لڑکی لگی تھی۔
نونا الجھن ذدہ ہوئیں۔
اریزہ۔ وہ سوچ میں پڑا۔ اسکی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
یہ وہ انڈین لڑکی ہے نا جس نے مجھے اسکارف دیا تھا
گنگشن کو یاد آیا۔
پاکستانئ ۔ ہیونگ سک نے تصحیح کی۔۔
اسے انڈین کہو تو برا مان جاتی ہے۔۔
پھر پرپوز کیا اسے؟ گنگشن کے پوچھنے پر وہ منہ لٹکا کر بولا
ابھی تو نہیں۔ مجھے جاننا ہے وہ بھی کیا میرے بارے میں ایسا ہی سوچتی ہے کہ نہیں۔۔
ہاف۔۔ گنگشن نے سر تھام لیا۔۔
اچھا نونا آپ کے بریو ہارٹس کب پرفارم کر رہے میں نے کب سے بکنگ کروائی ہوئی ہے آپ سے ستمبر آ تو گیا ہے

ستمبر والا سیشن تو ٹل چکا اب اگلے مہینے ہی ہوگا جو بھی ہوگا۔ فنکشن ساتھ تمہاری اسپیشل میٹنگ ہوگی جب ہماری آرگنائزیشن کے ساتھ انکا ڈنر ہوگا تو تمہارا پاس بنوا دوں گی تم بنفس نفیس مل لینا ان سے۔۔
دو پاس ۔۔ ہیون نے یاد دلایا۔
ڈن۔۔ گنگشن مسکرائی ۔۔
ہایون گفٹ اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
وہ نک سک سے تیار تھا انکی لائی وہی والی شرٹ پہنے جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا اپنی پہلی ڈیٹ پر پہننا۔۔

یوآنہ واقعی بہت بد قسمت ہو تم۔۔
گنگشن نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سوچا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے موبائل کی چارجنگ ختم تھی وہ اپنا چارجر اندر سے لے آیا تھا۔ وہ وہیں لابی میں کھڑی اسکا انتظار کرتی رہی ۔
ہایون کا نمبر ہے ویسے میرے پاس۔
اس نے پیشکش کی۔
نہیں میں ٹیکسی بلوا کر چلی جائوں گی۔
اس نے سہولت سے انکار کیا تھا۔ موبائل کو قریبی کائونٹر پر چارجنگ پر لگا کر موبائل آن کرنے لگی۔
موبائل چند لمحوں بعد ہی آن ہو گیا تھا۔
لابی کے ایک کونے میں ملاقاتیوں کیلئے صوفے رکھے تھے۔
یہاں موسم خاصا خنک تھا۔
یہ بالکل سامنے میرا فلیٹ ہے آپ چاہیں تو اندر چلیں یہاں موسم کافی سرد ہے۔
خود وہ اندر سے کپڑے بدل آیا تھا۔ اپر پہنے اسے ٹھنڈ سی لگ رہی تھی۔ اور وہ لڑکی۔ بارش سے بال تھوڑے گیلے ہو چکے تھے
وہ تیسری دفعہ کہہ رہا تھا مگر وہ اندر آنے کو تیار نہ تھی۔
نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔ اس نے سہولت سے منع کردیا ۔۔
ایپ فوری طور پر کھول کر وہ رائڈ ڈالنے لگی کہ خیال آیا۔
کس علاقے میں کس عمارت کا پتہ ڈالے؟ ۔
اس نے بلا ارادہ اپنے دائیں ہاتھ کی تیسری انگلی کا ناخن دانتوں تلے کچل دیا۔
گوارا سے پوچھتی ہوں۔ اس نے فورا گوارا کو کال ملائی ۔
پہلے کورین میں پھر انگریزی میں آپریٹر بولی
آپکا ملایا ہوا نمبر دوسری لائن پر مصروف ہے۔
علی کے دانت بجنے لگے تھے۔ اپنے دونوں بازو سینے پر لپیٹے اس نے ذرا سا سکڑ کر جسم گرم کرنا چاہا۔
گوارا کے بعد اگلا نام ہایون ہی آیا تھا اسکے ذہن میں۔ جھٹ اسے فون ملا دیا۔ دوسری بیل پر ہی فون اٹھا لیا تھا۔
اسلام و علیکم۔
خوشگوار انداز اور اس نے جواب بھی نہ دیا سوال کر ڈالا۔
وہ مجھے گوارا کے فلیٹ کی لوکشن بتا دو میں نے ٹیکسی منگوانی ہے۔
کہاں ہو ؟
میں ؟ وہ مڑ کر علی کودیکھنے لگی۔
وہ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑ کر گرم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سرخ ناک سرخ ہوتے گال۔
اسے اسکی شکل دیکھ کر ترس ہی آگیا۔
بے چارہ مروت میں کھڑا ہے باہر لابی میں۔ ویسے کیوں کھڑا ہے۔ چارجر دے کر چلا جاتا اندر۔ میں جاتے وقت دے جاتی اسکا سونے کا چارجر

اسے اسکی مروت پر ہنسی ہی آگئ۔ ایک چارجر کے پیچھے کھڑا ٹھٹھر رہا ہے۔
اسی وقت علی کی اس پر نظر پڑی اس نے فورا مسکراہٹ دبا لی۔
وہ ہایون پوچھ رہا ہے یہ کونسی جگہ ہے۔
اریزہ کے کہنے پر وہ دیکھ کر ہی رہ گیا۔
حد ہےسردی میں یہاں جمتے ہوئے موبائل چارج کر سکتی ہے میرے موبائل سے ہایون کو کال کر لیتی۔
اس نے دانت پیستے قریب آکر فون لیا اسکے ہاتھ سے۔
ہایون کو بتا کر اس نے فون بند کر دیا تھا۔۔
یہ کیا آپ نے فون بند کردیا مجھے رائڈ بک کرنی تھی وہ لوکیشن پوچھ رہا تھا بس۔
وہ جھنجھلائی
ہایون کہہ رہا ہے وہ آرہا ہے آپکو لینے۔
ہایو ۔۔ وہ کہتے کہتے رک گئ۔ اب ظاہر ہے اسے آنے سے روکا نہیں جا سکتا تھا۔
آپ کا شکریہ کافی زحمت ہوئی آپکو۔ آپ جاسکتے ہیں میں ہایون کا یہیں انتظار کرلوں گئ۔
اس نے دور پڑے صوفوں پر نگاہ کی۔ اتنی دیر سے چوکنا کھڑی تھی۔ بیٹھنے کا خیال تک نہ آیا اس وقت تو تھکن کے مارے برا حال تھا۔
ٹھیک ہے۔ علی کی برداشت بھی تمام ہو رہی تھی۔ پھر بھی مسکرا کر الوداعی انداز میں سر جھکاکر کرم کہتا اپنے فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
اریزہ نے چند لمحے متزبزب سے انداز میں اسکو جاتے دیکھا پھر جب برداشت ختم ہوتی محسوس ہوئی تو آواز دے ڈالی۔
ایکسکیوز می۔
وہ فورا رکا تھا اور پلٹ کر دیکھنے لگا۔
وہ کیا میں آپکا بیت الخلا استعمال کر سکتی ہوں۔
اس نے کافی جھجک کر پوچھا تھا۔
ہایون کچھ ہی دیر میں آنے والا تھا یہاں یقینا اب وہ اس کے فلیٹ میں جا سکتی تھی۔ احتیاطی تدابیر مکمل تھیں۔
اس نے بمشکل اپنی در آنے والی مسکراہٹ روکی۔
جی ضرور۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو گھنٹے چھما چھم برس کر سب واپسی کے راستے مسدود کردینے والی بارش ایکدم ہی رک بھی گئ تھی۔ اسکی نوکری کا پہلا دن ہی یادگار بن چکا تھا۔ ہایون اسے جب تک لینے پہنچا تھا تب تک آٹھ بج چکے تھے۔ صبح گیارہ بجے ناشتہ کیا تھا۔ دوپہر سے نوکری شروع تھی۔ اب گیارہ بج چکے تھے۔ اس وقت آنتیں الٹ پلٹ چکی تھیں۔ بھوک سے برا حال تھا۔ مگر کیا ہو سکتا تھا۔ صبر سے چپ کرکے بیٹھی رہی
اس نے دوسری تیسری دفعہ موبائل اٹھا کر وقت دیکھا۔تو ہایون سے اسکی بے چینی چھپی نہ رہ سکی۔
کین چھنا۔۔۔۔
ہایون نے پوچھا تو وہ فورا نفی میں سر ہلاگئ۔
نہیں کچھ نہیں۔
سیول کے راستوں کی خبر تو نہ تھی اسے۔ پھر بھی اتنا اندازہ ہو رہا تھا کہ آج گوارا کے گھر کا راستہ کافی دور ہو گیا تھا۔یا اسے لگ رہا تھا۔
جیسے ہی عمارت کے باہر اس نے گاڑی روکی وہ فورا اتری تھی۔
اریزہ۔ اسے پھرتی سے اندر جاتے دیکھ کر اس نے آواز لگائی۔
وہ بنا بولے مڑ کر دیکھنے لگی۔ انداز ایسا تھا کہ بولو پھر میں جائوں۔
وہ گاڑی سے اتر کر پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولنے لگا۔
اندر سے ایک چھوٹا سا بکے اور تحفہ نکال کر اسکے پاس چلا آیا۔
سالگرہ مبارک ہو اریزہ۔ جیو ہزارو سال ہر سال کے دن ہوں ہزار۔
نا مانوس لہجے میں اٹک اٹک کر اس نے سچ مچ یہی کہا تھا۔ وہ تحیر سے اسے دیکھتی رہ گئ۔
اتنا حیرت سے کہ وہ سٹپٹا ساگیا۔
کیا ہوا غلط بول گیا معاف کرنا۔وہ یہ میں نے گوگل سے ڈھونڈ کے جنگل یاد کیا تھا گوگل کے مطابق سالگرہ پر برصغیر کے لوگ یہی گانا گاتے ہیں۔
وہ صفائئ دینے والے انداز میں بولا۔
اریزہ نے بکے اور تحفہ تھامنے کیلئے ہاتھ نہیں بڑھایا تھا۔
ابھی پانچ منٹ ہیں بارہ بجنے میں مگر میں چاہتا تھا آج کے دن کی وش سب سے پہلے میں کروں تمہیں۔ تمہارے سب دوستوں سے پہلے۔
اسکا ردعمل اسکے کیلئے بالکل غیر متوقع تھا۔ سب جملے سب باتیں جو اس نے سوچیں تھیں اور سوچا تھا اس تحفے کے ساتھ ہی اسے پرپوز کر دے گا سب کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ وہ بالکل ساکت سی کھڑی ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی۔
اریزہ۔
وہ سب کہہ سن کے چپ ہو چکا تھا تو پکار بیٹھا۔
ہوں۔ وہ چونکی۔
چھوٹا سا بکے اور ایک درمیانے سائز کا تحفے کا باکس لیئے۔وہ منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
اسکی آنکھیں بھر آئیں۔
ہونٹ بھینچ کر اس نے امڈنے والے آنسوئوں کو روکنا چاہا۔
شکریہ۔ اس نے کوریائی انداز میں ذرا سا جھک کر اس سے بکے اور تحفہ تھاما۔
آر یو آل رائٹ۔
اسکی ہمیشہ تازہ دم رہنے والی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی۔ خاصی تشویش سے اس نے پوچھا۔
دے۔۔ وہ قصدا مسکرائی۔
گھمسامنیدہ۔۔( شکریہ) گھپشیدہ (چلو ساتھ چلیں )

اتنے دنوں میں الوداعی کلمات تو وہ سیکھ چکی تھی مگر استعمال کم ہی کرتی تھئ۔ اس وقت کہہ کر فورا مڑ گئ تھی۔
ہایون نے اسے روکنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ضرور مگر پھر واپس کھینچ لیا۔
چھوگیو۔
اس نے دھیرے سے کہا تھا جو وہ یقینا سن بھی نہیں پائی تھی۔
تم نے کہا ہے میرے ساتھ چلو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تو دونوں شائد سو چکی تھیں۔سب بتیاں بجھا کے۔
وہ وہیں لائونج میں بتی جلا کے بیٹھ گئ۔
گلابوں او رنجانے کونسے ہلکے پیلے رنگ کے پھولوں سے سجا وہ سادہ مگر بے حد خوبصورت گلدستہ تھا۔اسے ہر لڑکی کی طرح پھول بے حد بھاتے تھے۔اس وقت بھی یہ بکے دل چھو گیا تھا اسکا۔ اس نے کارڈ اٹھایا۔ چیری بلاسم کے درخت کے نیچے روائتی کورین لباس میں ملبوس وہ لڑکی کوئی روائتی ساز بجا رہی تھی۔ اور دھیرے سے ہوا چلنے پر اس پر چیری بلاسم کی برسات ہوگئ تھی۔ ڈوبتے سورج کا منظر دریا کنارہ۔ اور اس پر لکھی کورین تحریر۔جو یقینا اسکی سمجھ سے بالاتر تھئ۔
اس نے کارڈ کھولا اندر نہایت خوبصورت لکھائی میں انگریزی متن تحریر تھا۔
پری۔ اسے ہنسئ آگئ۔
بچے ایسے کارڈ لکھتے ۔ ایک توکورینز کو انگریزی بھی تو نہیں آتئ۔ گوگل کیا ہوگا ہایون نے۔
اس نے اندازہ لگایا۔ پھر احتیاط سے تحفہ کھولنے لگی۔ ایک نہایت قیمتی دکھائی دینے والے ڈبے میں کوئی غیر ملکی پرفیوم تھا۔
اس نے فورا اپنی کلائی پر چھڑکا۔
نفیس سی خوشبو۔ اسے معطر کر گئ۔
اسے یہ تحفہ بے حد پسند آیا تھا فورا اس نے خود پر چھڑک لیا۔
پسند اچھی ہے ہایون کی۔ اسے اتفاق ہوا۔
تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔
صارم تھا۔
اسکے فون اٹھاتے ہی گنگنانے والے انداز میں بولا۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔ ہیپی برتھ ڈے ڈئیر اریزہ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔
جیو ہزارو سال ہر سال کے دن ہوں بس تین سو پینسٹھ بھئی۔ اب ہزارو سال کیوں کہوں ہم سب مر جائیں تم اکیلے جی کر کیاکروگئ۔
وہ مخصوص مسخرے پن سے بولا وہ ہنس دی۔
واقعی یہ گانا گوگل پر سب سے ذیادہ مشہور ہے کیا؟
شکریہ۔ تم بھئ جیتے رہو خوش رہو۔
مختصر جواب دیا گیا۔۔
ہیں خیریت؟ اتنئ تمیز سے مبارکباد وصول کی شکریہ بولا آج سورج کہاں سے نکلا ہے دیکھو باہر کھڑکی میں جھانک کر۔
اسکا مسخرا پن جاری تھا وہ منہ بنا کر بولی۔
کوریائی وقت کے حساب سے رات بارہ بجے کا اندازہ لگاکر وش کرنے تک کا دماغ چلایا تو کیا دماغ بس اتنا چل کر بند ہوگیا تھا ؟ رات بارہ بجے کوریا میں بھی سورج نہیں نکلا ہوتا ہے۔
ہاں یہ لڑکی اریزہ ہی ہے۔ یقین آگیا ۔ کل بھئ مشرق سے ہی سورج نکلے گا میں وہی حیران اتنی عزت سے بات کر رہی ہے اریزہ ہی ہے یا نہیں۔
صارم اسکا موڈ اچھا کرنے کو خاص طور پر اسکی سالگرہ والے دن ضرور سب سے ذیادہ مسخرا پن دکھاتا تھا اسے۔
ویسے سب سے پہلے وش کیا نا میں نے؟ ریمائنڈر لگا رکھا تھا۔ اب ظاہر ہے اتنی اہم تو ہو نہیں جو یاد رکھے تمہیں کوئی۔۔۔۔
وہ نان اسٹاپ بول رہا تھا۔
اور تمہاری وہ فارغ سہیلی سے پہلے وش کیا نا؟ پچھلی بار تو ایک گھنٹہ باتیں کرتی رہی تھی تم سے فون پر میں جاگ جاگ کے تھک گیا تھا۔
اس نے دزدیدہ نگاہوں سے بکے اور تحفے کو دیکھا۔ اسکی زندگی میں اچھا تکون تھا۔ اسکو سالگرہ پر مبارکباد دینے والے بس دو ہی لوگ رہتے تھے ہمیشہ۔ پہلے سنتھیا اور صارم اور اب ہایون اور صارم۔ سنتھیا نے تو شائد بھلا ہی دیا تھا اسے۔
ہیلو ؟ اسکی مسلسل خاموشی سے تنگ آکر بولا۔
تم گھر پر نہیں ہو کیا ؟
اس نے بات بدل دی۔
ہاں یہاں دیگوں والے کے پاس آیا ہوا ہوں کل کے لیئے ۔۔
روانی میں بولتے بولتے وہ دانتوں تلے زبان دبا گیا۔
دیگوں کا آرڈر دینے۔
اریزہ نے جملہ یوں مکمل کیا جیسے پوچھ رہی ہو۔
ہاں۔ صارم نے گہری سانس لی۔ کئی آنسو اریزہ کے چہرے پر آن پھیلے۔
اب اداس مت ہو جانا تم۔ تمہاری سالگرہ کا دن پہلے ہے۔ اور ہر انسان کو اپنی سالگرہ پر خوش ہونے کا پورا حق ہوتا ہے بلکہ میرے حساب سے تو فرض ہے اپنی سالگرہ والے دن خوش ہونا۔۔ کل کیلئے اچھا سا پلان بنائو دوستوں کے ساتھ گھومو پھرو خوش رہنا۔ اور میری طرف سے اپنی پسند کا اچھا سا تحفہ لے لینا سن رہی ہو نا۔۔
ہوں۔ اسکی آنکھیں رواں ہو چکی تھیں۔ مگر وہ صارم کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اچھی بات ہے پورے پانچ روپے بھیجے ہیں میں نے۔
صارم نے چڑایا۔ کوئی پہچھے سے آکر اس سے شائد کچھ پوچھنے لگا تھا اس نے اجازت چاہی
اوکے میں کل بات کرتا ہوں پھر اپنا خیال رکھنا سدا خوش رہو خدا حافظ۔ ۔۔
خدا حافظ۔
اسکی آواز صارم تک پہنچ بھئ نہ پائی تھی۔ اس نے موبائل ایک طرف رکھا پھر چہرہ ہتھیلیوں سے صاف کرتی اٹھ گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہجومہ ۔۔ وہ ننھا سا چھے سات سال کا بچہ اسکا دامن کھینچ رہا تھا۔۔
اتنا پیارا بچہ تھا وہ اسٹول پر بیٹھی اسکو کافی پیار سے دیکھ رہی تھی بچہ بھی ترنگ میں آکر جانے کیا کیا اسے بتا رہا تھا وہ بس سر ہلا رہی تھی۔ بچہ اسے اپنی شرٹ پکڑ کر جانے کیا بولا۔ وہ بس مسکرا دی بچہ کھلکھلا کر ہنس دیا۔
کیوٹ۔ اس نے اسکے بھرے بھرے گول گالوں پر چٹکی بھری
ہنستے ہنستے بچہ سنجیدہ ہوا پھر اس کو جانے کیا اشاروں اور ہنگل میں بتانے لگا
دے؟۔ وہ اسکی بات سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔
کھلا تو دیا تھا اسے پورا پیالہ سیریل کا کھا گیا تھا۔ ماں کوئی دس منٹ پہلے اسے ڈھوںڈتی آئی اسے باقائدہ منہ میں چمچ دے نوالے دیتے دیکھ کر اسکو جھک جھک کر سلام کرتی بھاگ گئ۔ یقینا اسے اب اطمینان سے شاپنگ نصیب تھی۔
مگر اریزہ کا اطمینان رخصت ہوچکا تھا۔ بچے کھانے آتو رہے تھے سیریل مگر ماں کو کھینچ کر خریدوانے ایک۔بھی نہیں آیا تھا۔۔ پچیس دور پانچ پیک بھی نہ بکے تھے۔۔
اب عجیب سی زبان میں بچہ جانے کیا کہے جا رہا تھا
اس نے پینٹ کی جانب اشارہ کیا تو اسے کچھ اندازہ ہوا
آندے۔۔ اس نے جھٹ اسے روکنا چاہا چندی آنکھوں والا گورا چٹا بچہ منہ بسورنےگا۔۔
ٹوائلٹ۔ ٹوائلٹ گو ٹو ٹوائلٹ
اس بچے کو اسکی بات سمجھ نہ آئی بھاں بھاں کر کے رونے لگا اسکا گرےلانگ ٹاپ کا دامن کھینچ کر بولتا
آہجومہ۔۔اور ریں ریں شروع
کہاں رہ گئ تمہاری ماں۔۔ اس نے بے بسی سے سوچتے ہوئے اسٹول سے اٹھ کر اچک اچک کر پنجوں کے بل اسٹور پر نگاہ دوڑائی اتنا بڑا اسٹور تھا اوپر سے سب کی کم و بیش ایک جیسی شکل ۔ تبھی اس کو ایک مانوس چہرہ نظر آیا۔۔
اگلا بھی اسٹور میں شائد اسی کو تلاش رہا تھا اسے دیکھ کر اسکی چندی آنکھیں چمکیں اور وہ سیدھا اسکی جانب بڑھتا آیا۔۔
آننیانگ ۔۔ ہیون نے قریب آکر پرجوش انداز میں سلام کیا۔
آنناینگ۔۔ شکر ہے خدا کا تم آگئے دیکھو یہ بچہ جانے کیا کہہ رہا ہے۔۔
اریزہ اسکے رونے پر روہانسی ہوچلی تھی۔۔ اب تو آس پاس سے گزرتے لوگ متوجہ ہونے لگے تھے
کیا ہوا ننھے ساتھئ۔۔ ہیون نے اکڑوں بیٹھ کر اس سے پوچھا جوابا بچہ جو اریزہ کی ٹانگوں سے چمٹا ہوا تھا اسے بتانے لگا اپنا مسلئہ اور ساتھ ہی مسلئے کا حل بھی نکال لیا۔۔
بچہ اپنے کپڑے گیلے کر نے لگا تھا۔۔ اریزہ نے احساس ہوتے ہی اسے خود سے جھٹ دور کرنا چاہا مگر وہ چمٹا ہوا تھا اس سے اپنے کارنامے سے اریزہ کے جوتے اور پینٹ کے پانچے بھی خراب کر دہئے۔
آہش۔۔ اس نے جھلا کر اسے دور کیا۔۔
ہیون نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ ابھئ تو اتنا پیار کر رہی تھی اب اچانک۔۔
میرے خدایا۔۔ سارے کپڑے ناپاک کر دیئے اوپر سے یہ جوتے واحد لانگ شوز تھے میرے پاس۔۔ا
سکے لانگ شوزبھی بمشکل ٹخنے تک کے تھے۔
جھلا کر مٹھیاں بھینچتے تنتنا کر چیخی تھی۔۔ بچہ سہم کر جا کر ہیون سےلپٹ گیا۔۔
اب اس سے تو نہ لپٹو۔۔
اسکی آنکھیں ابل آئی تھیں۔
کین چھنا۔۔ ہیون نے اسے پیار سے اپنے ساتھ لگا لیا۔
بچہ سہم کر رونا بھی بھول۔گیا۔۔
اسکے کپڑے گیلے ہیں ہیون۔۔
اریزہ نے اسے انگریزی میں بتانا چاہا۔۔
ہیون اسکو گھن کھاتے دیکھ کر بچے کو اٹھا کر اس سے ہنگل میں ماں کے بارے میں پوچھنے لگا۔۔ بچے نے اشارے سے دور کھڑی کائونٹر پر بل بنواتی عورت کا بتایا تو وہ اریزہ کو انتظار کرو کہہ کر آگے بڑھ گیا۔۔
اتنا بڑا بچہ ہو کے بھی کہیں بھی۔۔ اوپر سے ہیون نے گود میں اٹھا لیا یاک۔۔
اس نے جھر جھری سی لی۔۔ کائونٹر کے پاس ٹھیک ٹھاک پانی کھڑا ہو گیا تھا وہ چند لمحے بے بسی سی دیکھتی رہی ڈیوٹی ختم ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔۔
میں ایک گھنٹہ ایسے کھڑی نہیں رہ سکتی۔
اس نے سوچ کر فیصلہ لیا اور اسٹال سمیٹنے لگی۔۔
تبھی ایک آہجومہ بڑا سا پوچھا لیکر صفائی کرنے آگئ۔۔
اس نے مڑ کر دیکھا تو محترمہ نے اسے ایک۔جانب ہونے کو کہا اور پوچھا پھیر کر پانی پوچھے سے سوتھ دیا۔۔
پانی نہیں استعمال کریں گی آپ۔۔؟
اریزہ کو آج شائد سارے ہی کلچرل شاک ( ثقافتی دھچکے)لگنے تھے
دے؟۔ انمحترمہ کو انگریزی بھی نہیں آتی تھی آنکھیں اور منہ کھول کر دیکھ رہی تھیں
صاف کر تو دیا ہے تم اپنے جوتے اتارکر یہ جوتے پہن لو۔
اگر اتنی الجھن ہو رہی ہے ویسے۔ واٹر پروف ہوتے ہیں یہ جوتے۔۔
ہیون اسکیلئے اسٹور سے سلیپر اٹھا لایا تھا اب مسکرا کر کہہ رہا تھا
وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوکری تو نوکری ہوتی ہے۔ پیر پٹخ کر ایک گھنٹہ ایسے کھڑے نہ رہنے کا ارادہ کر کے بھی وہ ڈیوٹی پوری کر کے باہر نکلی تھی۔
سلیپرز شاپر میں ڈال کر وہ انہی شوز میں ہی ہیون کے ساتھ باہر نکلی۔تھی وہ مطمئن سے انداز میں اسکے ساتھ چل رہا تھا جبکہ اسے اس کے کپڑوں سے بھی کراہیت آنے لگی تھی۔۔
رات کے آٹھ بج رہے تھے سردی بڑھتی جا رہی تھی
تم نے کھانا نہیں کھایا ہے نا چلو میں آج تمہیں ایک انڈین ریستوران میں لے چلتا ہوں۔۔
اسکا موڈ خوشگوار تھا۔۔
آندے میں گھر جائوں گی ۔۔
اس نے بے ساختہ انکار کیا تھا۔
کھانا تو کھا لو۔۔ ہیون اسکے انداز پر حیران ہوا
نہیں مجھ سے کھایا نہیں جائے گا میں پہلے نہائوں گی پھر کچھ اور کروں گی۔ تمہیں بھی نہانا چاہیئے گھر جا کر ۔۔ اس بچے نے سو سو کی تھی اپنی پینٹ میں جسے تم نے مزے سے گود میں اٹھا لیا تھا۔۔
اس نے صاف کہا تو ہیون حیران سا رہ گیا
تو کیا ہوا۔ قدرت کا نظام ہے سب سو سو کرتے ہیں وہ تو بچہ تھا تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے وہ بچے سے کچھ گندا جانور بن گیا تھا اپنی پینٹ میں سو سو کر کے۔۔
ہیون کو اسکے انداز پر ناگواری سی محسوس ہوئی تھی
یہ بات نہیں ہے۔اریزہ نے صفائی پیش کرنی چاہی جسے اس نے ناگواری سے کاٹ دیا
ایسی ہی بات ہے تم اس بچے کے سو سو کر دینے پر چراغ پا ہو گئی تھیں اسے اتنی سختی سے خود سے دور کردیا تھا کہ وہ سہم گیا تھا کیا ہوا اگر اس نے کپڑے گیلے کر دیئے بچپن میں ایسا ہو جاتا ہے تم سے بھی ہو ہوگا کبھی۔۔
ہیون کو اپنی آئیڈیل لڑکی کا ایسا بے رحمانہ انداز برا لگا تھا بلکہ دکھی بھی کر گیا تھا
مگر سو سو گندی چیز ہے اپنے کپڑے گندگی سے خراب کر لیئے تھے اس نے میرے بھی کپڑے خراب کر دیئے ہیں اور تمہارے بھی۔ خود بھی تو وہ کپڑے بدلے گا نا ہمیں بھی بدلنے چاہیئے۔۔
اب نجس کا انگریزی میں کیا ترجمہ ہوتا اسکی لغت ہار گئ تھی پھر بھی اس نے اپنا ماضی الضمیر سمجھانے کی پوری کوشش کی۔
ہیون ہونٹ بھینچ کر دوسری جانب دیکھنے لگا تھا
اریزہ کو اسکا انداز کافی محسوس ہوا۔ اتنے عرصے میں پہلی۔بار ہیون کی پیشانی پر ناگواری کی ایک شکن آئی تھی۔
اچھا میں چلتی ہوں۔ وہ آہستہ سے کہہ کر بس اسٹیشن کی جانب رخ موڑ گئ تبھی بے ساختہ ہیون نے اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔
میرے ساتھ چلو میں ڈراپ کر دوں گا۔۔
اسکے متوجہ ہوتے ہی لمحہ بھر میں اس نے ہاتھ چھوڑ بھی دیا تھا
اریزہ نے کچھ کہنا چاہا پر ہونٹ بھینچ گئ۔۔ ہیون کہہ کر رکا بھی نہیں تھا گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے بلڈنگ کے باہر ڈراپ کر کے چلا جائے گا مگر وہ جب اسکے ساتھ لفٹ میں آیا تو وہ سوالیہ۔نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
گوارا نے کہا ہے اوپر آئو۔
اس نے جیسے صفائی دی۔ وہ شرمندہ سی ہوگئ۔ ظاہر ہے گوارا کا تو وہ دوست تھا۔اگریہاں اسے چھوڑنے آیا ہے تو اس نے یقینا بلایا ہوگا اوپر۔ ہایون مکمل موبایل میں مگن تھا۔ وہ بھی لاتعلق سی کھڑی رہئ ۔۔ منزل آگئی تھی۔ اسے اپنے آپ سے بھی کراہیت آرہی تھی جبکہ ہایون بالکل مطمئن نظر آتا تھا۔ وہ الجھن بھرے انداز سے اسکو دیکھے جا رہی تھی۔ ہایون کو اسکی نظریں جانے محسوس ہی نہ ہوئیں وہ بالکل بے نیازی سے اسکے ساتھ چلتا آیا۔اریزہ نے آگے بڑھ کرفلیٹ کا لاک کوڈ دبایا۔
دروازہ کھولتے ہی ایک زور دار نعرے کے ساتھ اسکا گوارا نے استقبال کیا۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یوہیپی برتھ ڈے ڈئیر اریزہ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔
وہ گنگنا کر چپ ہوئی۔
گوارا ہوپ یون بن کم سن سب موجود تھے۔ رنگین ٹوپیاں پہنے غبارے تھامے پارٹی پاپرز بجاتے اسکے کتنے نئے دوست بن چکے تھے اسے آج احساس ہوا۔
سبھئ نے ہاتھ میں تحفے تھامے ہوئے تھے۔گوارا کے چپ ہونے پر باقی سب نے تان بلند کی تھی۔ لہک لہک کر کورس میں گاتے کورین نغمہ۔
سینگئ چوکھا ہمبندا سینگی چوکھا ہمبندا سارانگھیئے اوری اریزہ سینگئ چوکھا ہمبندا۔۔
(سالگرہ مبارک ہو ہمیں تم سے محبت ہے اریزہ )
جھومتے ہوئے گوارا اسکے قریب آئی تھی اور گلے لگ گئ۔
تم نے ہمیں کیوں نہیں بتایا آج سالگرہ ہے تمہاری۔ ہم سب ایک دوسرے کی سالگرہ کا خوب اہتمام کرتے ہیں۔
یون بن ایک تحفہ اسکی جانب بڑھاتے کہہ رہا تھا۔
گھمسامنیدہ۔
اتنی محبتیں پاکر اسکی پھر آنکھیں بھر آئی تھیں۔
ہوپ کم سن نے بھی اسکو تحفے تھمائے۔

چلو اندر آئو کیک کاٹیں۔
گوارا اسے اندر آنے کو کہہ رہی تھی۔ اس نے ایکدم سے ہاتھ چھڑایا۔
میں پہلے فریش ہولوں۔
کچن کئ کائونٹر ٹیبل پرکیک اور تھوڑا بہت تواضع کا سامان رکھا ہوا تھا مگر وہ اس وقت کسی اور ہی الجھن میں تھئ۔
ٹھیک ہے ۔۔ گوارا فورا پیچھے ہوگئ۔ وہ تیزی سے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔
وہ سخت الجھن محسوس کر رہی تھی جبھی سیدھا کمرے میں آئی تھی آکر کپڑے نکالے اور باتھ روم میں گھس گئ
نہا کر سویٹ پینٹ اور شرٹ پہن کر نکلی تو سب اسکے انتظار میں بیٹھے تھے۔
آئی ایم سوری۔
وہ شرمندہ سی ہوگئ۔
اس وقت اتنی ٹھنڈ میں نہالیا بیمار نہ پڑجانا۔
گوارا ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔
بس وہ۔ اس سے جواب نہ بن سکا۔ ہایون اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ خفگئ بھری نظریں۔وہ نگاہ چرا کر میز کی۔جانب بڑھ آئی۔
یون بن کم سن ہایون ہوپ سب میز کے گرد جمع تھے۔
اس نے ان سب کی تالیوں اور دعائوں میں کیک کاٹا۔ گوارا نے سب کیلئے پلیٹ میں سرو کیا۔
اریزہ تحفے دیکھو۔
گوارا کو جلدی تھئ۔
اس نے گوارا کا گفٹ سب سے پہلے کھولا۔
ایک مشہور کورین برانڈ کی میک اپ کٹ تھی پرس میں رکھنے والی دلکش اور نازک سی۔
شکریہ۔
وہ میک اپ کی ذیادہ شوقین تو نہ تھی مگر اسکا تحفہ اسے بے حد پسند آیا تھا۔
کم سن نے چاکلیٹ باکس دیا تھا۔
اتنی جلدی میں یہی مل سکا تھا۔ دوپہر کو گوارا نے بتایا تھا۔ آئیندہ اچھا تحفہ لینا ہو تو سالگرہ سے ایک آدھ پہلے یاد دہانی کرادینا۔
اسکا مخصوص انداز تھا سنجیدگی سے مزاق کیئے جانا
وہ اسکے چہرے پرمزاق کی رمق تلاش کر نے میں ناکام ہوئی۔۔
دے۔ اس نے سر ہلا دیا۔ اسکی تابعداری پرکم سن بے ساختہ مسکرایا تھا۔۔
بھئ یہ میک اپ کٹ گوارا نے مجھ سے ہی منگوائی تھی اور میں اور گوارا الگ الگ تھوڑی تو یہ تحفہ مشترکہ سمجھو ہماری طرف سے۔
یون بن نے ہاتھ جھاڑ کر کہا تھا۔
کنجوس انسان۔ گوارا نےاپنی پلیٹ ست کیک کا پیس ہی اٹھا کراسے دے مارا جسے اس نے ڈھٹائی سے چہرے پر کھا کرکریم پر انگلی پھیر کر چاٹ لی۔
ویسے ہی کیک بھی میری طرف سے سمجھو۔
ہوپ کا تحفہ سب سے مختلف اور منفرد تھا۔
لکڑی کی کنگھی گول سی جس پرایک کوریائی لڑکی بنی تھی ۔ کنگھئ کے دانے لہریے دار اور قدرے لمبے تھے یوں جیسے اسی لڑکی کے بال بکھر رہے ہوں ہوا سے۔
اس نے فورا کنگھئ سے اپنے سر پر پھیری۔
شکریہ ہوپ بہت خوبصورت ہے۔
اس نے تحفہ دیا تھا یہی بڑی بات تھی۔
یہ وہی کنگھئ نہیں جو تم استعمال کرتی ہو ؟
گوارا نے کہا تو ہوپ بھنا گئ۔
ہرگز نہیں یہ ویسی ضرور ہے۔ مگر میں نے استعمال شدہ چیز نہیں دی اسے۔ کہو تو لا کر دکھا دوں۔
اسکا غصہ یوں بھی ناک پر۔دھرا رہتا تھا۔
ہاں جائو۔ گوارا کو بھی اسے تپانے میں الگ مزا آتا تھا۔وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی
مجھے یقین ہے۔
اریزہ نے فورا اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔
ہایون نے تحفہ نہیں دیا۔ یون بن کو یاد آیا۔
ہایون نے تو رات کو ہی وش کردیا تھا بکے اور فرنچ پرفیوم کے ساتھ۔
گوارا نے لائونج کی سنٹرل ٹیبل کی جانب اشارہ کیا جہاں اس نے گلدستہ سجا رکھا تھا۔
اسی کے کارڈ کو پڑھنے سے مجھے پتہ لگا تھا کہ آج اریزہ کی سالگرہ ہے۔ اس نے تو بتایا بھی نہیں تھا ہمیں۔
گوارا نے کہتے کہتے شاکی انداز سے اسکی جانب دیکھا۔
ہر کوئی تھوڑی تمہاری طرح اپنی سالگرہ کا اعلان کرتا پھرتا سب سے زبردستی تحفے وصول کرتا ہے
یون بن نے کہا تو گوارا حسب عادت چڑ گئ۔
میں نے ایسا کب کیا۔ الٹا تم نے سرپرائز کے چکر میں میرا سالگرہ کا دن میری برسی کا دن بھی بنا دینا تھا۔ الٹے پرینکس سوجھتے بس تمہیں۔
تم مر کے تو دیکھتیں۔
یون بن دل پر ہاتھ رکھ کر جیسے آہ بھر رہا تھا۔
پھر کیا کرتے تم ۔گوارا نے آستین چڑھائی۔
میں تمہارے مرنے کے بعد تمہاری سالگرہ ہی مناتا۔
اس نے فورا پینترا بدلا تھا۔
گوارا دانت پیس کر رہ گئ۔ اسے گوارا کا موڈ ایکدم ٹھیک کرنا آتا تھا۔
دونوں کی ہنگل کی بحث اسکے سر پر سے گزری تھی۔
وہ دیکھ تو رہی تھی انہیں مگر صاف نظر آتا تھا ذہن کہیں اور ہے۔
اریزہ ۔۔کم سن نے پکارا تو وہ ایکدم کسی خیال سے چونکی۔
ہوں۔۔
گھر والے یاد آرہے ہیں؟
کم سن نے نرمی سے پوچھا۔
تمہاری سالگرہ پر کافی اہتمام ہوتا ہوگا۔ ہم نے پوری کوشش کی کہ تمہیں یہاں تنہائی محسوس نہ ہوسکے۔
وہ مزید کہہ رہا تھا۔ وہ پھیکی سی مسکراہٹ سے بولی۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔مجھے اچھا لگا آپ سب کا یہ اہتمام۔
تمہارے یہاں سالگرہ کیسے مناتے ؟ باقی سب کی طرح کیک کاٹ کر ؟ میرا مطلب کیک کاٹا جاتا ہے دنیا بھر میں پاکستان میں بھی یہی رواج ہے؟
یون بن بھی متوجہ ہوا۔
ہاں۔ اسکا جواب مختصر تھا۔
اریزہ تم تو اکلوتی ہونا سالگرہ پر خوب اہتمام ہوتا ہوگا پارٹی ہوتی ہوگی گفٹس ملتے ہوں گے تمہیں ہے نا؟
گوارا بھی دلچسپی سے پوچھ رہی تھئ۔
آنی۔
اسکا چہرہ پھیکا پڑا۔
میری سالگرہ پر کوئی اہتمام نہیں ہوتا۔ میں کبھئ سالگرہ نہیں مناتی۔
چہرہ بے تاثر رکھنے کی بھرپور کوشش بھی اسے ناکام ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سب مکمل طور پراسکی جانب متوجہ اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔
کیوں؟ یون بن حیران تھا۔
ہایون نے گہرا سانس لیا۔
تو یہ وجہ تھی رات اسکی سالگرہ کی مبارکباد کی وصولی پر اسکا رنگ کیوں اڑ گیا تھا۔
اسکی سالگرہ والے دن ہی تو ۔۔۔۔
اسے جزئیات سے یاد آیا تھا۔ اتفاق سے اس دن کم سن کے سی وی دکھانے پر اس نے چپکے سے اسکی سالگرہ کا دن نوٹ کر لیا تھا مگر یہ بات اسکو یاد نہ رہی تھی۔۔
وہ دھیرے سے بتا چکی تھئ سب اپنی اپنی جگہ افسردہ سے ہوگئے تھے۔ ہوپ کو پہلی دفعہ اسکے چہرے کی ویرانی محسوس ہوئی سو اسکے قریب آکر بیٹھ گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر ان سب نے اسکو ہنسانے کی خاطر اتنے جتن کیئے تھے۔۔۔
لائونج میں میز ایک طرف کرکے جگہ بناکر وہ سب بیٹھ گئے تھے۔
آج ہم سب ایک ایک ایسا کام کریں گے جو اریزہ کو ہمیشہ ہماری یاد دلائے۔
گوارا نے اعلان کیا تھا۔
مرجائو پھر۔
یون بن نے مسخرے پن سے کہا ۔ گوارا نے بنا لحاظ چپت لگائی سر پر اسکے۔
چونکہ ہنگل میں کہا تھا سو اریزہ ہوپ کا بازو ہلا کر پوچھنے لگی کیا کہا۔
دعا دی ہے جیو ۔۔
ہوپ نے جان چھڑائی۔ اریزہ نے لفظ یاد کرلیا تھا اب اسے صرف کسی اچھی جگہ استعمال کرنا تھا۔
۔ ہایون اور کم۔سن نے مل کر گانا گایا۔ کورین گانا سمجھ تو نہیں آیا مگر دونوں کی آواز میں سر تھا کم سن میز بھی ساتھ ساتھ بجا رہا تھا۔
ایک جگہ پر تو یوں لگنے لگا دو کی بجائے بس ایک انسان گا رہا ہے۔
یون بن اور گوارا نے کپل ڈانس کیا تھا۔ تھک ہار کر کم سن اور یون بن نے اجازت چاہی تھی۔ ہایون نے روکا مگر دونوں رکے نہیں۔
گوارا برتن سمیٹنے لگی۔ ہوپ لائونج کی حالت درست کرنے میں لگ گئ۔ تبھئ اطلاعی گھنٹی بجی
ہایون ہی اٹھ کر گیا واپسی پر اسکے ہاتھ میں بڑا سا پیکٹ تھا۔
بریانی آرڈر کی تھی میں نے۔ ایک پاکستانی ریستوران سے ارادہ تو وہیں جا کر کھانے کا تھا مگر تم تیار نہ ہوئیں۔۔
وہ اپنے پچھلے موڈ کے برعکس بالکل پہلے کی طرح ازلی مہربان سے انداز میں بول رہا تھا۔۔ شاپر کچن کائونٹر پر رکھا تو گوارا برتن دھوتی بھاگی آئی۔
چاول شاپر۔کھولتے ہی وہ بے ساختہ خوش ہوئی تھی۔
اتنے سارے۔
اس نے سوالیہ۔نگاہوں سے دیکھا۔ہایون نے کندھے اچکا دیئے
سب کیلئے منگوائے تھے مگر کم سن اور یون بن رکے ہی نہیں۔
اس نے بھی اسکے سامنے والی کرسی سنبھال لی۔
گوارا نے ڈسپوزایبل پیک ہی اسکے سامنے کر دیئے۔ ہوپ بھی یہیں چلی آئی۔
اریزہ نےپیک دیکھا تو چاول اسکی ضرورت سے کافی ذیادہ تھے۔
وہ پلیٹ لینے اٹھی تو ہایون نے جانے کیا سمجھا وضاحت دینے لگا
میں نے ہاتھ دھو لیئے تھے اور کھانا شاپر سے نہیں نکالا تھا۔۔
اریزہ اسکے اس طرح کہنے پر شرمندہ سی ہوگئ۔ یقینا اس نے آج اوور ری ایکٹ کر دیا تھا اتنی بد مزاجی دکھائے بغیر بھی وہ گھر آکر نہا کر پاکیزگی حاصل کر سکتی تھی۔
وہ زبان دانتوں تلے دباتی ریک سے پلیٹ لیکر آئی
وہ یہ۔چاول بہت ذیادہ ہیں میں پہلے ہی الگ کر دوں تو کوئی اور بھی کھا لیگا۔۔
اس نے وضاحت کی۔۔ دیگچی پیالے میں مل کر کھانے والے کورینز کو اسکی کھانا جھوٹا کرنے والی اصطلاح کیا خاک سمجھ آنی تھی۔
اس نے خاموشی سے پلیٹ خالی کرنی شروع کر دی۔ وہ چمچ استعمال کر رہی تھی جبکہ ہایون ہوپ اور گوارا چاپ اسٹکس سے کھا رہے تھے۔ کھاتے کھاتے ہایون کے کپڑوں پر چاول گرے۔۔ اسکی بلا ارادہ اسی پر توجہ تھی۔
اریزہ نے بے ساختہ سر جھکا لیا۔ اب اگر وہ ان کپڑوں سے اٹھا کر کھا لیتا تو یقینا اسکا ہی دل برا ہونا تھا۔۔
ہیون نے ایک نظر اسکے جھکتے سر کو دیکھا پھر کپڑوں پر سے چاول اٹھا کر میز پر رکھ دیئے۔
میں چلتا ہوں۔
اس سے مزید کھایا نہیں گیا۔ وہ یکدم ہی اٹھ کھڑا ہوا۔
کیا ہوا؟ کینچھنا۔۔ گوارا اسکے یوں اٹھنے پر حیران سی ہوئی مگر وہ بیانیئے پھر ملتے ہیں کہتا ہوا اٹھ کر ہی چلا گیا۔۔
ہوپ بھی ایکدم سے کھانا چھوڑ کر اٹھ گئ۔
اب اسے کیا ہوا۔ گوارا نے اس سے پوچھا تھا۔
پتہ نہیں۔۔
کہتے ہوئے بھی اسے احساس ہوا تھا کہ کہیں نہ کہیں اسے پتہ ہی ہے۔

خیر تمہارے لیئے تو ہفتے بھر کی بریانی کا انتظام ہوگیا۔
گوارا شرارت سے کہنی مار کر بولی۔
پانچ چھے پیکٹ۔ اس نے اس بڑے سے شاپر کو دیکھا
ہفتہ۔کیا مہینے بھر چل جائیں گے یہ تو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نماز پڑھ کر دوپٹہ تہہ کرکے الماری میں رکھ کر وہ سیدھا بیڈ پر گری تھی۔۔ کافی تھکن بھرا دن تھا اسکیلئے۔۔ اس نے موبائل اٹھایا 80 فیصد بیٹری۔۔بیڈ پر کمر کے نیچے تکیئے لگئے وہ۔پرسکون سے انداز میں ٹیک لگا ئے بیٹھ گئ
سارا دن موبائل استعمال نہیں کیا۔۔
یہ دن بھی آنا تھا ۔۔ اس نے گہری سانس لی۔۔
اسکرین کا تالا کھولا بابا کا میسج آیا ہوا تھا
سالگرہ مبارک ہو بیٹا۔ جیتی رہو خوش رہو۔۔
اسکی آنکھ بھر آئی۔
زندگئ میں پہلی دفعہ وہ اتنی دور ہوئی تھی کہ انہیں موبائل پر وش کرنا پڑا اور اس نے سارا دن موبائل دیکھا تک نہیں۔۔

اس وقت کا اندازہ لگایا رات کا آخری پہر ہوگا۔۔ کال نہیں کی جاسکتی تھی۔۔

سنتھیا نے اسے میسج تک نہ کیا تھا۔
اتنی کٹھور کیوں ہوگئ ہے وہ۔
اس نے بلاگ کھول لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی میں آپ اپنا پیدائش کا دن خود منتخب نہیں کر سکتے۔ نا ہی یہ منتخب کر سکتے کہ اس دن آپ ہمیشہ خوشیاں پائیں گے۔ یہ دن ہر اس گزرتے ٹھہرتے دن کی طرح کا عام سا دن ہے۔ کبھی خوشیوں بھرا کبھی اداسی کا سبب۔ اہم ہے بس وہ خالص محبت جو اس دن آپکے قریبی لوگ آپ پر نچھاور کردیں ۔۔۔ اگر کبھئ محبت ملے تو خوش ہو لینا چاہیئے یہ سوچے بغیر کہ آج سے قبل کتنی ملی یا آئیندہ جانے ملے نا ملے۔۔۔
مجھے آج بہت محبت ملی ہے۔ امید ہے اگلے سال بھی ملے اس سے اگلے سال بھی اس سے اگلے سال بھی۔۔۔۔ آج کسی ذیاں کا حساب نہیں رکھنا۔۔ آج بس میرا خوش ہونے کا دن ہے ۔میں خوش ہوں۔۔ سچی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا کمنٹ
یوں کہو نا آج سالگرہ ہے۔ سالگرہ مبارک ہو۔۔
دوسرا کمنٹ۔
ایڈمن پیدا ہوتے ہی اتنا فلسفہ جھاڑ دیا۔ تمہاری پیدائیش کے دن پر تم تو خوش ہو۔اور کوئی خوش ہوا کبھی؟ ایسے ہی پوچھا۔
تیسرا کمنٹ۔۔
مگر میں خوش نہیں ہوں کل بائک چوری ہوگئ میری۔۔
چوتھا کمنٹ۔
شاباش لڑکی۔۔ یہی چاہیئے تھا بس ۔۔
صارم تھا یہ۔۔
وہ۔مسکرا دی۔ اسی کیلئے یہ بلاگ لکھا تھا شکر ہے پڑھ لیا۔اب یقینا سوجائے گا آرام سے۔
پانچواں کمنٹ۔۔
سالگرہ مبارک ہو۔۔ کچھ محبتیں چھن جانے کادکھ سارے جہاں کی خوشیوں پر بھاری ہوتا ہے خدا کرے ایسا دکھ کبھی آپکو نہ ملے۔۔
علی۔۔
اس نے گہری سانس لی اور جواب لکھنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاہ۔ مل چکاہے ۔ مگر جو لوگ آپکو ہرحال میں خوش دیکھنا چاہتے ہیں انکی۔محبتیں چھن جانے والی محبتوں کا متبادل نہ سہی مگر انمول ہوتی ہیں۔ ان محبتوں کی قدر کیجئے جو نصیب ہیں۔ ان پر صبر کریں جو چھن چکی ہیں جینے کا یہی۔طریقہ ہے۔۔
بلاگر کا جواب غیر متوقع تھا۔
اس نے دو تین بار پڑھا پھر بلاگ بند کرکے وی چیٹ پر آئے عبدالہادی کے پیغامات دوبارہ پڑھنے لگا۔
میری خاطر ایک بار مل کر تو دیکھو۔ اچھی لڑکی ہے سمجھدار۔ پیاری۔ بس مل۔لو کوئی زبردستی نہیں
اس نے چند لمحے سوچا پھر لکھ بھیجا۔
ٹھیک ہے۔ آپ۔ملاقات کا دن او روقت طے کرکے بتا دیجئے گا۔
انہوں نے فورا میسج پڑھا تھا۔او رجواب بھیجا۔
واقعی۔ سچ۔کیسے مان گئے میری بات
وہ۔بے یقین تھے۔
کسی نے کنوینس کیا ہے مجھے۔
وہ ذرا سا ہنسا۔۔
کس نے؟
وہ متجسس ہوئے۔۔
Aree z thoughts
اس نے بلاگ کا نام ہی لکھ بھیجا۔
یہ کون ہے ؟
وہ حیران تھے
جو بھی ہے مگر اس نے میری الجھن میں ہمیشہ میری مدد کی ہے۔۔ مجھے اسے شکریہ کہنا چاہییے۔۔
اس نے زیر لب کہا تھا۔ اور بلاگ کھول کر کمنٹ لکھنے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سونے کا ارادہ نہیں ہے کیا ؟ محترمہ آپکو نوکری پر جانا ہے کل۔
گوارا ہاتھ پونچھتی باتھ روم سے نکلی اسکوموبائل میں مگن دیکھ کر شرارتا جملہ چست کر دیا
وہ بلاگ بند کرکے اب اپنے والدین کی اچھے وقتوں کی کھینچی گئ تصویر دیکھنے میں مگن تھی۔
ابا یاد آرہے ہیں۔
اس نے منہ بسور کر موبائل اسکی۔جانب کیا۔
دکھائو۔۔ وہ بڑے شوق سے تصویر دیکھنے اسکے پاس آبیٹھی
تم ابا کہتی ہو اپنے آہبوجی کو؟
آہبوجی؟ ۔۔۔ اریزہ نے سوالیہ انداز میں دیکھا
والد محترم۔۔ گوارا نے وضاحت کی۔
ہم لوگ ابو جی کہتے ہیں۔یہ تو ملتا جلتا ہے۔ وہ پر جوش ہو۔کر اٹھ بیٹھی
ابھی تو ابا کہہ رہی تھیں۔۔
گوارا اسکے انداز پر۔ہنسی
ہاں میں پاپا کبھی لاڈ میں بابا اور پیٹھ پیچھے ابا کہہ دیتئ ہوں۔۔
اریزہ نے کہا تو وہ اسکے ہاتھ سے موبائل لیکر تصویر دیکھنے لگی۔
یہ تمہاری آہموجی ہیں؟ میرا مطلب والدہ۔۔
وہ بڑے غور سے دیکھ رہی۔تھی
ہاں۔۔ اریزہ نے چچ کیا۔ اسی شکل کی جوانی والےدور کی جیتی جاگتی تصویر وہ خود تھئ۔
کافی ینگ لگتی ہیں نا انکی۔جلدی شادی ہو گئ تھی یہاں میک اپ میں پھر بڑئ لگ رہی ہیں یہ شادی کی تصویر ہے نا آگے کرو انکی عام حلیئے میں تصویر دیکھو تو میری بڑی بہن لگتی ہیں۔۔
وہ بہت شوق سے بتا رہی تھی۔ گوارا اسکی پرجوش انداز پر باقی تصویریں بھی دیکھنے لگی۔
رنگوں سے بھرا پس منظر زرق برق لباس مسکراتے چہرے۔۔
سنتھیا سرخ لباس میں خوب میک اپ کیئے اسکے ساتھ کھڑی تھی ساتھ روائتی انداز میں سرخ جوڑے میں ملبوس لڑکی
یہ لڑکی تو سنتھیا لگ رہی ہے ساتھ کون ہے؟
وہ پہچان نہیں پائی۔
اریزہ کھل کر ہنستی چلی گئ۔ گوارا اسکے انداز پر نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہی
پہچانا نہیں؟ ہنستے ہنستے وہ محظوظ انداز میں پوچھ رہی تھی
ہوپ کمرے میں داخل۔ہوئی تو گوارا کو موبائل میں تفتیشی انداز میں جھکی تھی ساتھ بیٹھی اریزہ ہنسے جارہی تھی
کیا ہوا واٹس سو فنی؟
وہ حسب عادت سر سری سے انداز میں کہہ کر بیڈ پر چڑھی مقصد صرف اپنی موجودگی کا احساس دلانا تھا کہ جگہ خالی۔کرو میں نے سونا۔ مگر اس وقت گوارا گمبھیر مسلئے میں الجھی تھی وہ دونوں کے درمیان سوتی تھی اور اسوقت دونوں سر جوڑے بیٹھی تھیں۔
یار کون ہے ؟ یہ تو سنتھیا ہے کوئی انڈین ہیروئن ہے؟ انکو ہی ایسا لباس پہنے دیکھا۔۔
گوارا ہار ماننے کو تیار نہیں تھی ایک اور غلط اندازہ اریزہ تو لوٹ پوٹ ہوگئ
انڈین ہیروئن کیوں ہونے لگی ؟ میرے گھر میں ۔۔
یہ دیکھو ہوپ یہ لڑکی کون ہے؟ یہ ڈریس تو میں نے دیپیکا کو پہنے دیکھا تھا۔۔ گوارا نے موبائل ہوپ کی جانب بڑھایا
کیا ؟ اریزہ چونک کر سیدھی ہو بیٹھئ
ہوپ نے ایک۔نگاہ تشویش میں مبتلا اریزہ پر ڈالی دوسری گوارا پر پھر اپنے مخصوص پہیلیاں بجھانے والے انداز میں بولی۔۔۔
سنتھیا کے ساتھ کون ہوسکتاہے۔؟۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انوشکا ۔ اسکا نام انوشکا شرما ہے۔
گوارا نے اسے اپنی ویبو آئی ڈی پر کسی بھارتی سہیلی کی ڈی پی پر لگی ہوئی تصویر اسے نکال کر دکھائی۔
برائڈل میگزین کا کوئی کور تھا ۔۔
واٹ ایور۔ اتنے مشکل نام۔ہیں توبہ۔ گوارا نے سر جھٹکا
انوشکا یا دیپیکا اس سےفرق نہیں پڑتا مگر یہ اس ڈیزائنر نے میرے ساتھ دھوکا۔کیا ہے۔۔
اریزہ سال۔بھر بعد اپنی شادی کا دن یادکرکے روہانسی ہو چلی تھی
مجھے پانچ لاکھ کا یہ بکواس انوشکا کی اترن لہنگا کاپی کر کے دیاتھا۔ کہتی ہے اس نے خاص میرے لیئے تیار کروایا ہے ایسا دوسرا پیس نہیں دنیا میں جھوٹی دغا باز کہیں کی۔
وہ مٹھیاں بھینچ رہی تھی
گوارا اور ہوپ کی آنکھیں اور منہ کھلے کے کھلے رہ گئے
اتنا مہنگا کام وہ بھی اس نے چوری کیا اسٹائل۔۔
وہ دانت کچکچا رہی تھی۔
اتنا مہنگا جوڑا دوست کی شادی کیلئے بنوایا؟ پاگل ہو؟ اتنا تو سنتھیا بھئ تیار نہیں ہوئی وی۔
گوارا نے کہا تو وہ جھلا کر بولی
دوست کی تھوڑی اپنی شادی کیلئے بنوایا تھا اف اس وقت
کیسے اماں ابا کا پیسہ اڑاتے ذرا نہیں سوچا کرتی تھی کہ کمانا کتنا مشکل کام ہے۔۔ آج کمر ٹوٹ گئ کھڑے کھڑے تو
بولتے بولتے اسکی گوارا پر نظر گئ تو چپ کر گئ
گوارا کے چہرے پر گہرئ سنجیدگی چھا گئ تھی
مجھے لگا تھا سنتھیا اور ایڈون کی شادی کی تصویرہے۔ مگر تم۔۔ تم کیا شادی شدہ ہو؟
گوارا کی الجھن عروج پر تھی
ہاں۔۔ اریزہ نے گہری سانس لی۔
یہ میری شادی کی ہی تصویر ہے۔ اور میں پاکستان کی ان 80 فیصد احمق لڑکیوں میں سےایک ہوں جو ایک دن کیلئے ایک۔جوڑے پر کروڑوں بھئ خرچ کر نے کو تیار ہوسکتی ہیں۔ مگر سچ میں پچھتا رہی ہوں۔ اب دوبارہ تو میں یہ کبھی نہیں پہنوں گی۔اور اس سیمز کی تو گردن مروڑوں گئ جا کر۔۔
وہ۔تصور میں مٹھی میں اسکی گردن ہی پکڑے تھی
تم ویسے پیاری بہت لگ رہی تھیں اس جوڑے میں
ہوپ نے دل سے کہا تھا جانے کیسے وہ ایکدم ہلکی پھلکی سی ہو کر بولی تھی وہیں گوارا کے دل پر منوں بوجھ آپڑا تھا۔ ہوپ کے بے ساختہ تعریف کرنے پر اریزہ۔جھینپ۔کر کچھ کہہ رہی تھی تو وہیں ہوپ کا۔انداز بھی سکھی سہیلیوں جیسا ہوچلا تھا اتنے عرصے میں پہلی۔بار ہوپ نے سرد مہری۔کی نادیدہ دیوار ڈھا دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاور لیکر وہ آئینے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا
برش رکھتے اپنے سپید سے ہاتھ پر نگاہ پڑی تو دوپہر کا منظر تازہ ہوچلا
اس نے بلا ارادہ ہی اریزہ کو ہاتھ پکڑ کر روکا تھا احساس ہونے پر چھوڑ بھئ دیا تھا ہاتھ پھر بھی اریزہ اپنا ہاتھ یوں الگ کیئے بیٹھی تھی گاڑی میں جیسے کسی گندی چیز سے چھو گیا ہو۔۔ اسکے بچے کو دور کر دینے میں جس کراہیت کا دخل تھا وہی کراہیت اسے ہیون کے پاس سے بھی آئی تھی۔۔ اسکے اندر کہیں کچھ ٹوٹا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔

Kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ?Rate us below

Rating

Salam Korea Episode 26

Salam Korea
by Vaiza Zaidi
قسط 26

urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

novel

urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list


سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔
اDesi Kimchi seoul korea based Urdu web travel Novel ALL EPISODES LINKS
salam korea episode 26

گنگشن نونا اور اسے آج ایڈمن صاحب سب بتا دینا چاہتے تھے۔گنگشن کا ذہن این جی او کے نئے ایونٹ میں الجھا تھا تو وہ کسی اور ہی کے خیال میں الجھا تھا اتنا کہ سامنے سے پیر پٹخ کر آتی اس لڑکی کو دیکھ کر بھی اسے اسی کسی کا ہی خیال ذہن میں کوندا تھا۔ پروٹوکول کی وجہ سے وہ اپنے خیال کئ تصدیق کیلئے جا نہ سکا۔ گنگشن انی اور چار دیگر اسٹاف ارکان کے ساتھ وہ سیدھا اس ایڈور ٹائزنگ کمپنی کے مالک کے دفتر میں آئے تھے۔ انکی کیمپین کو وہ خود ذاتی طور پر دیکھ رہے تھے کیوں؟ وجہ نئی چھوٹی کمپنی۔ اگلا بندہ اٹھ کے سیٹ سے کھڑا ہوگیا تھا۔
آننیانگ ہاسے او۔ نونا۔۔
آننیانگ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ یونی کیوں نہیں گئے؟
حسب عادت نونا نے جھاڑنا شروع کردیا۔ کم سن کان دبا کر مسکراتے ہوئے سب اسٹاف کو جانے کا اشارہ کرتا ہوا انہیں اپنے آفس کے ایک جانب لگے صوفوں کے پاس لے آیا۔

نونا اب یہ نہیں تعلیم مکمل کرتا آپ کچھ بھی کر لیں۔
ہایون نے صوفے پر اطمینان سے بیٹھتے ہوئے کہا۔
آنی ۔۔ نونا میں پڑھوں گا پکا آج کل تو یونیورسٹی میں مڈز کے بعد کی بریک ہے۔ آپ بتائیں کیا پیئیں گی
نونا مسکرا دیں۔
کھانا کھاتے ہیں اکٹھے۔ میری لنچ کے بعد میٹنگ ہے سو وقت کم ہے۔۔ جلدی سے آرڈر کرو۔
دے۔ کم سن فورا سر ہلاتا اٹھا اور اپنے انٹرکام سے آرڈر کرنے لگا۔
ہایونا تم نے انکی ایڈورٹائزمنٹ کا پروپوزل فائنل کیا تھا نا دیکھ لینا۔ اسکی ٹیم سے بھئ مل لینا۔
نونا کو کام یاد آنے لگے۔
جانے دیں۔ یہ اسکا پہلا پراجیکٹ ہے یقینا جان لڑا دے گا مجھے اتنا دماغ لگانے کی کیا ضرورت۔
ہایون کا جواب نپا تلا تھا۔ کم سن پر نگاہ جمائے وہ بہت پیار سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے اسکی صلاحیتیوں پر پورا یقین ہو۔نونا مسکرا دیں پھر کچھ یاد آیا تو اپنے بیگ سے کچھ نکالنے لگیں۔کم سن فون بند کرکے انکے پاس ہی چلا آیا۔
کم سنا بہت خوبصورت سیٹ اپ ہے تمہارا۔ تم نے اچھا فیصلہ کیا اپنی آبائئ زمین بیچ کر اس کاروبار کو شروع کرنے کا مگر میرا مشورہ یہی ہے پڑھائی ادھوری نہ چھوڑنا سمجھے۔
وہ بڑے پن سے نصیحت کر رہی تھیں وہ مسکرا کر سر ہلا کر رہ گیا۔
اچھا یہ تمہارا کارڈ ۔۔
انہوں نے نوید مسرت کے الفاظ سے سجا منگنی کی دعوت کا کارڈ نکال کر اسکی جانب بڑھایا
آپ نے ضائع ہی کیا کارڈ نونا اس نے تو آنا ہی تھاویسے بھی میرے ساتھ۔
ہایون نے کہا تو نونا ہنس پڑیں۔ پھر شرارت بھرے انداز میں بولیں۔
ہاں ہے تو گھر کی بات مگر سی ای او صاحب بن چکے ہیں یہ اب انکو پروٹوکول تو دینا پڑے گا۔
نونا آپکے کے لیئے تو ہمیشہ میں چھوٹا بھائی ہی رہوں گا
کم سن جھینپ سا گیا۔
یہ تو ہے۔ ہایون کے سب دوستوں کے کارڈز اپنی نگرانی میں بھجوائے ہیں۔ خاص کراسکی گرل فریںڈ کو تو خود اپنے ہاتھوں سے کارڈ دیا ہے۔
اسکی بات پر ہائون تو ہایون کم سن بھی آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگا۔
تم کیا سمجھے مجھے پتہ نہیں میں ۔ نونا محظوظ انداز میں مسکرائیں۔
اس نے وعدہ بھی کیا ہے کہ آئے گی۔۔۔ بلکہ گوارا سے بھی کہا ہے اسے ضرور لیکر آئے۔ اجنبئ تو نہیں وہ میرے لیئے مگر ۔اپنی گرل فرینڈ کی حیثیت سےاسے ضرور مجھے ملوانا۔ سمجھے
انکی بات پر ہایون کے چہرے پر واضح خوشی دوڑی تھی۔
کم سن بھی مسکرا دیا۔
نونا کا فون آنے لگا تو وہ معزرت کرتی اٹھ گئیں۔کم سن اچھل کر اسکے برابر میں آن بیٹھا۔
یہ کب ہوا مجھے کیوں نہیں بتایا۔
کوئی نہیں ہوا ایسے ہی نونا اندازے لگا رہی ہیں۔
ہایون نے دامن بچانا چاہا
درست اندازے۔ کم سن نے جتایا تو وہ ہنس دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانا وانا کھا کر نونا تو اٹھ کر چلی گئیں یہ دونوں دفتر میں ہی رہے۔کم سن کی ایڈورٹائزنگ کی ٹیم نے اپنا پلان سلائیڈز پر دکھایا جسے کم سن دلچسپی سے جبکہ وہ بیزاری سے دیکھتا رہا۔
ہم فری سیمپلنگ اور ٹیسٹنگ کا ایونٹ بھی آرگنائز کر رہے ہیں۔ مختلف مارٹس اور شاپنگ سینٹرز میں ایک ایک ٹیم بھیجیں گے۔جو بچوں کو متاثر کرنے کیلئے مختلف چھوٹے چھوٹے گیمز کھلائیں گے انعام میں انکو سیریل کے سیمپلز دیئے جائیں گے۔
اسکا ٹیم لیڈر بتا رہا تھا۔کم سن نے فورا ٹوکا۔
اتنی فری سیمپلنگ کریں گے تو لوگوں کو خریدنے پر مجبور کیسے کریں گے۔ اس کا بجٹ کٹ کریں۔مشہور سب مارٹس کی بجائے لی گروپ کے زیر انتظام مارٹس اور مالز کو بس اس میں شامل کریں۔ بلکہ جو آل ریڈی ایونٹ چل رہے ان میں ہی یہ سب ایڈجسٹ کریں۔
کم سن نے انکی پوری دو سلائیڈ مسترد کی تھیں۔دونوں سٹپٹا کر دیکھنے لگے۔
ہایون نے گردن گھما کر دیکھا۔
کیوں منع کر رہا ہے؟ کرنے دے جو کر رہے ہیں۔
تمہارے باپ کا پیسہ لگارہے ہیں اس لیئے منع کر رہا ہوں جوتمہیں منع کر نا چاہیئے تھا
ہایون نے گردن کھجائی پھر کندھے اچکا دیے۔ پوری میٹنگ میں وہ مزید کچھ نہ بولا۔
ابھی سارا سیٹ اپ چھوٹا تھا سو یہ میٹنگ سی ای او صاحب کے کمرے میں ہی ہوئی۔ پراجیکٹر بھی اسی ایک کونے میں لگا تھا۔
ٹیم لیڈر اٹھ کر گئے تو ایچ آر والا بندہ اٹھ آیا۔ ادھیڑ عمر انکل آتے ہی رونے لگے۔ ہایون نے ناٹ اگین والے انداز میں دیکھا۔
سر ہمیں اپنی کمپنی کے اشتہارات پر مزید پیسہ خرچنا چاہیئے۔ ٹیم لیڈر نے پروموشنل کیمپین کیلئے 25 افراد مانگے تھے ہمیں سی وی ہی پانچ موصول ہوئے جن میں سے چار کو تو ہم نے رکھ لیا ہے ۔ مگر سر نئی کمپنی پر پارٹ ٹائمر بھی بھروسہ نہیں کر رہے ابھی۔
خوش شکل اور نوجوان لوگ بھرتی کیئے ہیں نا۔
کم سن نے سرسری سے انداز میں کہتے فائل تھامی
وہ چندی آنکھوں والے انکل سر جھکا گئے۔
اپنی کمپنی کے پارٹ ٹائمرز کی فہرستیں بھجوادیتا ہوں۔ انکو استعمال کرلو۔
ہایون کا مفت مشورہ۔
ایم ڈی صاحب آپکے والد آپکی ان نوازشوں کے صلے میں آپکو امریکہ اور میری کمپنی کو پاتال میں بھجوا کر دم لیں گے۔
کم سن ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر سی ویز الٹنے پلٹںے لگا۔ دو ادھیڑ عمر شکل سے عادی بدمعاش لگتے تھے دو ہائی اسکولر تھے۔
ریجئکٹ کسے کیا ہے؟
کم سن نے سرسری سا پوچھا۔
جب ان سب کو رکھ لیا ہے تو اسے بھی رکھ لینا تھا۔
انکل نے فائل کے صفحے پلٹ کر آخری سی وی دکھایا
اب یہ ریکوروٹمنٹ والے کام کیوں کر رہے ہو سی ای او ہو ان آہجوشی پر چھوڑو نا جو جسے رکھیں جسے نکالیں۔ تم ایک ایک سی وی دیکھا کروگے
ہایون اسکے ساتھ باہر جانا چاہ رہا تھا جبکہ کم سن ایک کے بعد ایک کام نکال کر نمٹانے میں لگا تھا
ظاہر ہے یہی سب کریں گے مگر تم بھول رہے ہو میری بے بی کمپنی ہے ۔ ایچ آر کا الگ ڈیپارٹمنٹ ہے ہی نہیں میرا ۔ آہجوشی اورمیں ہی ایک ایک بندہ سوچ سمجھ کر رکھ رہے ہیں۔
ہایون کو بتا کر اس نے آخری سی وی دیکھا پھر ہایون کو۔
اسکو کیوں نہیں رکھا اتنی تو پیاری سی ہے۔
کم سن کا انداز واضح بدلا تھا آہجوشی سٹپٹا گئے
وہ یہ فارن اسٹوڈنٹ ہے انکو آوقات کار او راجازت کا بھی مسلئہ ہوتا ہے اور۔۔
ہایون اس سی وی کو دیکھو اورتم فیصلہ کرو ہم اسے رکھیں نہ رکھیں۔
کم سن نے فائل اسکی جانب بڑھا دی۔ہایون حیران ہوا مگر تھام لی۔ سی وی پڑھتے ہی ٹون بدل گئ۔ حاکمانہ انداز میں بولا۔
جو بھی مسلئہ ہو اسکو رکھیں۔
مگر سر بہت مسلئے ہوتے ہیں اس طرح کے طلباء کو ہنگل تک تو ڈھنگ سے آتی نہیں ہے۔
سیکھ لے گی۔کم سن ہائیر ہر۔
ہایون تیز ہو کر بولا۔
کم سن نے ٹھنڈی سانس لی۔
اب تو کلائینٹ کی سفارش ہے پراجیکٹ بھی انکا۔رکھ لیں اسکو۔
مگر سر۔۔۔ آہجوشی نے پھر کہنا چاہا تو اس بار ہایون ڈپٹ کر بولا۔
سی ای او کی سفارش ہے آپ ٹال نہیں سکتے۔
آہجوشی نے گردن جھکا لی اور سلام کرکے نکل گئے نکلتے ہوئے بڑ بڑا رہے تھے۔ سی ای او کی سفارش ہے وہ بھی ایک معمولی سیلز گرل رکھنے کیلئے تھیبا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھیبا۔۔ تھیبا۔ یہ دیکھو اریزہ
گوارا بھاگی بھاگی آئی تھی۔ وہ کچن میں کھڑی اپنے لیئے کافی بنا رہی تھی اسکے ایکدم سے پیچھے آکر شور کرنے پر چونک کے مڑی۔
کیا ہوا ؟ اسکے پوچھنے پر گوارا نے موبائل اسکرین اسکے سامنے کردی۔
اسکی اور ایڈون کی ریستوران کی ویڈیو چل رہی تھی۔
یہ ٹرینڈنگ پر نمبر ون چل رہی ہے۔ اور نیچے کمنٹ دیکھو تمہارے اور ایڈون کے کپل کی تعریفوں کے پل باندھ رہے سب۔ اتنی گوری لڑکی اتنے کالے لڑکے کے ساتھ۔ محبت واقعی وجود رکھتی ہے۔ او ریہ کمنٹ دیکھو۔
وہ جزباتی ہوئی پڑی اسکرال کرکے نیچے دکھا رہی تھی۔ سب ہنگل میں کمنٹس تھے۔ اس نے بیزاری سے پیچھے کیا۔
میں اور ایڈون کبھی کپل نہیں تھے نا ہوسکتے ہیں کبھی۔
جانتی ہوں۔گوارا نے منہ بنایا۔۔
مگر ایڈون سے اس نے جب پوچھا کہ تم اسکے نامجا شنگو ( بوائے فرینڈ کا ہنگل لفظ) ہوتو وہ مسکرا کر دے کہہ رہا ہے۔
یہ بندہ ٹھیک ہی نہیں ہے جبھی تمہاری سہیلی ہر وقت مرچیں چباتی رہتی ہے۔
گوارا کا تجزیہ کتنا درست تھا۔ اسے لگتا تھا سنتھئا اور اسکے بئیچ کی سردمہری دوسروں کو اگر محسوس بھی ہوئی ہوگی تو وجہ نہیں پتہ ہوگئ۔ اسکا منہ اتر سا گیا۔
دفع کرو اسے۔ گوارا اسے اداس دیکھ ہی نہیں سکتی تھی۔
چلو ہم کپڑے منتخب کریں ہم نونا کی منگنی میں کیا پہنیں ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ بھئ پہن لوں گی نونا کیا ضرورت ہے اس شاپنگ کی۔ نونا نے ایک بے حد خوبصورت آسمانی میکسی ڈریس اس سے لگایا تووہ منت بھرے انداز میں کہہ اٹھی۔
ہرگز نہیں۔ وہاں ایک سے ایک حسین اور طرحدار لڑکی آئے گی تمہیں ان سے مقابلے پر ہرگز بھی کم نہیں لگنا چاہئے۔ ہر لڑکے کی نظر نہ سہی مگرکم ازکم جس لڑکے کی نظر تم پر ٹھہرے وہ ہٹا نہ پائے۔
نونا اپنے مخصوص اندا زمیں کہہ کر شرارت سے مسکائیں۔
تمہارے لیئے لنچ کرتے ہی بھاگم بھاگ آئی ہوں۔ اور تم نخرے کر رہی ہو جائو سیدھی طرح اسکو پہن کر دکھائو مجھے۔
وہ اب بڑی بہنوں والے رعب سے بولیں۔تو ہوپ کو تھامنا پڑا۔
جتنی دیر میں وہ تیار ہو کر آئی وہ جلدی جلدی دو تین فون سن چکی تھیں۔ ابھی بھئ بات کر رہی تھیں اسے دیکھا تو بات بھول گئیں ۔ وہ میکسی اسکے جسم پر پوری فٹ تھئ۔ وہ بے حد دبلی ہونے کے باوجود اچھی لگ رہی تھی۔ اسنے بال مخصوص انداز میں جوڑا بنا رکھے تھے جو کام کے دوران اسکے لیئے بہتر رہتے مگر اس وقت وہ جوڑا بھی اچھا لگا
تھیبا تم تو پری لگ رہی ہو۔ وہ فون پر خدا حافظ کہتی اسکی جانب لپک کر آئیں۔ ہوپ جھینپ کر خود کو آئینے میں دیکھنے لگیں۔قیمتی لباس نے واقعی اسکی شخصیت کو نکھار ڈالا تھا۔
صحیح کہتے ہیں لباس انسان کے پر ہوتے ہیں۔ اب تم پرواز بھرنے کیلئے بالکل تیار ہو۔
انہوں نے محبت سے کہتے اسکے بال سنوارے۔
مگر اڑان بھرنے کیلئے منزل کا تعین بھی تو ضروری ہوتا ہے نا۔ خالی سفر صرف تکان دیتا ہے۔
اسکا قنوطئ پن باز نہ آیا۔ اسکی اثر انگیز شخصیت کے کسی کونے میں چھپ کر بیٹھا بھی ایکدم پوری شخصیت پر حاوی ہو چلا تھا۔ وہ چپ سی رہ گئیں۔
ہوپ مسکرا دی۔
شکریہ انی۔ میں اپکے احسانوں تلے دبتی جا رہی ہوں مگر مجھے۔ وزن بالکل نہیں محسوس ہوتا۔۔ اسکی پیمنٹ میں خود کروں گی۔۔ میرے پاس پیسے ہیں۔
اس نے کہا تو وہ مزید اصرار ترک کر گئیں۔ وہ مڑی تو انہوں نے گہری سانس لیکر دل سے دعا دی اسے۔
میری دعا ہے تم اپنی زندگی کا ایک بہتر رخ بھی دیکھنے کے قابل ہو جائو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا ذہن دھیرے دھیرے بیدار ہوا تھا۔ پپوٹے اتنے بھاری ہو رہے تھے کہ کوشش کرنی پڑی کھولنے کیلئے۔ اس نے کسمسا کر اپنے بھاری ہوتے سر کو تھامنا چاہا تو کسی نے اسکا بازو تھام کر کچھ ٹوکا۔ اجنبی آواز ناقابل فہم الفاظ۔
اس نے آنکھیں کھولیں تو چندی آنکھوں والی نرس کا مسکراتا چہرہ سامنے تھا۔
کین چھنا آگاشی؟
وہ جانے کیا پوچھ رہی تھی۔
اس نے پھر اٹھنا چاہا۔
ڈرپ لگی ہوئی ہے لڑکی۔ احتیاط کرو۔ اس بازو کو نہ اٹھائو۔
اسکا بازو بیڈ سے لگائے اس نے ہنگل میں کہا تھا۔ پھر جب احساس ہوا کہ اسکی بات وہ سمجھ نہیں پارہی تو مڑ کر اسٹول پر بیٹھے اونگھتے ایڈون سے بولی
محترم انکو اپنئ زبان میں بتائیں۔
ایڈون آواز پر فورا نیند بھگاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
اسکا ایک بازو نرس کی مضبوط گرفت میں تھا وہ دوسرے بازو سے سہارا لیکر اٹھ بیٹھی۔نرس نے جلدی سے اسکی پشت پر تکیہ لگایا۔
لیٹی رہو۔ ڈرپ لگی ہوئی ہے تمہیں۔۔
وہ فورا اٹھ کے اسکے پاس آیا تھا۔
کیا ہوا مجھے؟
اسے یاد نہیں آیا وہ یہاں کیسے کیوں آئی ؟
تمہیں یاد نہیں؟ وہ الٹا پوچھنے لگا۔
کیسی طبیعت ہے۔ اس کا انداز معمول سے ذیادہ نرم تھا۔
اس نے سر ہلایا۔
ٹھیک ہوں میں۔۔۔
اسکے ہونٹ خشک ہو رہے تھے بمشکل بول پائی۔
پانی۔
ایڈون نے سائیڈ ٹیبل سے پانی کی بوتل اٹھاکر دی تو وہ کئی گھوںٹ بنا سانس لیئےحلق میں اتارتی چلی گئ۔ لگ رہا تھا برسوں سے پیاسی ہے۔
آپ انکو کچھ کھلائیں پلائیں۔ تاکہ ہم مزید دوا دے سکیں۔
نرس مطمئن ہو کر تاکید کرتی چلی گئ۔
شکر ہے ۔تم نے تو مجھے ڈرا دیا تھا۔
ایڈون گہری سانس لیتا اسکے بیڈ پر ٹکتے ہوئے بولا۔
ساری رات ہوش نہیں آیا تمہیں۔ ان لوگوں نے نیند کی دوا تک نہیں دی پھر بھی تم سوتی رہیں۔ مجھے سخت پریشانی ہورہی تھی۔ کیا۔کھائو گئ؟ سیب کاٹ کر دوں؟
وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہی پھر ایک خیال سا کوندا۔۔
تت تم۔ مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟ کیا ہوا مجھے۔۔۔
ایڈون نے سائیڈ ٹیبل سے چھری اور سیب اٹھایا اور اسکے لیئے کاٹنے لگا۔
بھول گئ ہو کیا اپنی حالت؟ یہ لو کھائو
اس نے ایک پھانک اسکی جانب بڑھائی
اس نے ذہن پر زور دیا تو جو پہلا خیال ذہن میں آیا اتنا روح فرسا تھا کہ وہ وحشت زدہ سی ہوگئ۔
میں اسپتال میں ہوں۔۔ مم میں کیوں اسپتال میں ہوں۔
اس نے پریشان سا ہو کر خود کو ٹٹولا۔۔
۔ تم نے ۔ مجھے سے پوچھے بنا ہمارا بچہ۔۔۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
۔۔ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔ تم نے مار دیا اسے۔۔وہ ایکدم بپھر کر چلائی۔
اس نے اپنا کنولا لگا ہاتھ بھلا کر ایڈون کا گریبان پکڑ لیا۔
بولو۔ تم نے ابارشن کروادیا نا۔ کیسے کر سکتے ہو تم ایسا۔ تم نے ۔۔ کیوں کیا۔
کیا ہوگیا ہے پاگل ہوگئ ہو۔ خون نکل رہا ہے تمہارا
وہ گھبرا گیا۔ اسکی ڈرپ نکل گئ تھی خون تیزی سے بہہ نکلا تھا مگر اسکو کسی تکلیف کا احساس نہیں تھا جنونی کیفیت میں اسے جھنجھوڑنے لگی۔
نکلنے دو مجھےتم جواب دوتم کون ہوتے ہو اسے مارنے والے۔ منع کیا تھا نا۔تم نے کیوں کیا ایسا۔
اس نے دیوانہ وار اس پر ہاتھ چلائے تھے۔
وہ بے ربط بول رہی تھی اور رو پڑی تھی۔ ایڈون سن سا رہ گیا ۔
وہ ہاتھا پائی بھی نہ کرسکی ایک زور دار چکر آیا تھا اسے۔
ہوش کرو سنتھیا۔ وہ اسکی حالت سے خود بری طرح گھبرا گیا۔ اس کے ہاتھ سے چھری چھوٹ گئ۔اسکو تھامنا چاہا اس نے نفرت سے جھٹکا۔
مر نے دو بلکہ مجھے بھئ مار دو تمہارا مسلئہ میں ہوں۔ یہ بچہ مسلئہ نہیں تھا۔ تم مجھ سے محبت ہی نہیں کرتے تمہیں اس سے بھی محبت نہیں تھی۔ ۔۔ اس نے لپک کر چھری اٹھائی۔ ایڈون نے اسکے دونوں ہاتھ تھام لیئے۔تبھئ شائد شور سن کر دروازہ کھول کر تیزی سے نرس اور ڈاکٹر اندر آئے تھے۔ اندر کا منظر دیکھ کر وہ تیر کی طرح ایڈون کی جانب بڑھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون اسکو سہارا دے کراسکے کمرے تک لایا تھا۔
وہ اتنی شرمندہ تھی کہ ایڈون کو دیکھ بھی نہ پا رہی تھی۔۔ اس نے شاپر میز پر رکھا اور خاموشی سے دروازہ کھول کر جانے لگا۔
ایڈون۔
اس نے پکار تو لیا وہ رک بھی گیا مگر سمجھ نہ آئی اب کیا کہے۔ معزرت کرے ۔۔
ایڈون چند لمحے اسکے بولنے کا انتظار کرتا رہا پھر مڑکر دیکھنے لگا وہ اس سے نظر نہ ملا سکی۔
میں آج چھٹی کروں گا۔ اپنے کمرے میں ہی ہوں تھوڑا آرام کرلوں پھر آئوں گا تم بھی تھوڑا آرام کرلو۔
اسکی شرٹ خون سے بھری تھی۔۔۔ وہ نظریں جھکا کر سر ہلا کر رہ گئ۔ وہ دروازہ بند کرتا چلا گیا تو گہری سانس لیکر وہ سیدھی لیٹ گئ۔۔
اسکے ذہن میں رات کا منظرجزئیات سے روشن ہوا تھا۔۔
ویڈیو دیکھنے کے بعد غصے سے پاگل ہوتے ہوئے وہ چند لمحے خود پر قابو پانے کی کوشش کرتی رہی ۔ پھر فیصلہ کرکے اٹھی ۔۔
رات کا دوسراپہر شروع ہونے کو تھا یقینا اب تک ایڈون واپس آچکا ہوگا وہ صبح تک کا انتظار نہیں کر سکتی تھی اتنے غصےمیں۔ تن فن کرتی تیزی سے کمرے سے نکلی اور سیدھا جا کر ایڈون کا دروازہ پوری قوت سے بجا دینا چاہا مگر دماغ سائں سائیں کرنے لگا۔ ایک ہلکی دستک سی پڑ سکی۔ اس نے پوری جان لگا کر دروازہ کھٹکایا دو ضرب ہی میں اسکی بس ہونے لگی اسکو یاد نہیں تھا کہ اسکے منہ سے لفظ نکل رہے تھے یا آواز ڈوب گئ تھی۔
دروازہ کھولو ایڈون۔ ایڈون باہر نک۔۔ لو۔۔
اسکے ہفت اقلیم نگاہوں کے سامنے گھوم گئے۔ کمرے لیپ ٹاپ پر کام کرتا نامانوس دستک پر منہ بنا کر اٹھا اور دروازہ کھول دیا وہ اسکی نگاہوں کے سامنے ہوش و خرد سے بےگانہ ہو کر گری تھی۔ اسے سنبھالنے کو لپکتے بھی اسکا سر دیوار سے جا لگا تھا۔۔
آخری منظر جو اسے یاد تھا وہ ایڈون کا دروازہ کھول کر اپنی جانب بڑھتے دیکھا بس۔
اسکا بئ پی بہت ہائی ہوگیا تھا۔ بروقت اسپتال پہنچنے کی وجہ سے وہ نقصان سے بچ گئ تھی۔۔ اسکے جزباتی پن نے اسکی طبیعت پر تو جو اثر ڈالا سو ڈالا انکوتھانے میں رپورٹ بھی کردیا گیا تھا۔پولیس اہلکار اسکا اسپتال میں بیان لیکر گئے ۔ اب اسکو خراش بھی اگر پہنچتی تو ایڈون دھر لیا جاتا۔ پولیس نے ہزار سوال کرکے مطمئن ہونے کے بعد اسکی جان بخشی کی تھئ۔تو ڈاکٹرنے لمبی چوڑی احتیاط بتائی تھی۔ ساتھ ہی حسب توفیق ایڈون کی کھنچائی بھی کی تھی۔ ایڈون ایک لفظ اپنی صفائئ میں نہیں بولا تھا۔ وہ اتنی شرمندہ تھی کہ معزرت بھئ نہ کرسکی۔
اس وقت بھی بحر شرمندگی میں غرق لیٹی یہی سب سوچے گئ۔
اسکا فون بج اٹھا تھا۔ بیڈ کے کنارے پڑا۔ اس نے اٹھا کر دیکھا تو امی کالنگ۔ ماں کی کال اسے نعمت غیر مترقبہ لگی تھی۔ فورا فون اٹھایا اورخود بھی اٹھ بیٹھی
ہیلو۔ اسکی آواز سنتے ہی وہ بولتی چلی گئیں
کیسی ہو بیٹا۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔ میرا اتنا دل گھبرا رہا تھا رات سے فون کررہی ہوں۔ ایڈون سے بات کی تو اس نے کہا تم سو رہی ہو طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری۔؟ اتنی دیر سے سو رہی تھیں؟
سوال پہ سوال بے تابئ پریشانی۔ ماں کا دل تھا خبر ہوگئ تھی شائد۔ اسکی آنکھیں بھرنے لگیں۔
خوامخواہ فکر کرتی ہیں۔ٹھیک ہوں میں۔ بالکل۔
کھا پی رہی ہو نا ڈھنگ سے ؟ آواز سے تو ٹھیک نہیں لگ رہیں۔ نزلہ ہورہا ہے؟ آواز بیٹھی بیٹھی لگ رہی ہے۔
وہ اسکی توجیہہ سے بالکل مطمئن نہ ہوئیں۔
ہاں تھوڑا موسم بدلا ہے تو شائد۔ تھوڑا گلے میں۔۔
اسکو دل چاہا وہ ماں کے گلے لگ جائے۔ کئی آنسو اسکے گالوں پر پھیلتے چلے گئے۔ اس سے جملہ مکمل نہ ہوسکا۔
دیکھا۔ وہ فورا بولیں۔
۔ مجھے پتہ تھا۔ آئیسکریم کھائی ہوگی؟ گلا بند ہوگیا نا ؟ فورا ڈاکٹر کو دکھائو بخار ہو جاتا ہے ایک تو تمہیں معمولی۔نزلا زکام میں بھی۔ سوپ بنا کر پیئو۔ تمہارے پاپا بتا رہے تھے وہاں موسم بہت ٹھنڈ ہو چکا ہے۔
وہاں ٹھنڈ پڑی۔
بمشکل دھیمی آواز میں وہ بول پائی۔
کہاں یہاں تو ابھی پنکھے چل رہے ہیں۔ اچھا سنو یخنی پیو خود تو کیا بنائوگئ بازار میں انسٹنٹ ساشے ملتے ہوں گے وہ بنا کر پی لو۔۔ بلکہ اریزہ سے بات کرائو میں اس سے کہتی ہوں تم مت نکلنا ٹھنڈ میں باہر ایڈون سے کہو ڈاکٹر کے ہاں لے جائے
گئ تھئ ڈاکٹر کے پاس ابھی آئی ہوں۔۔۔۔۔
اس نے تسلی دینا چاہی۔وہ اور پریشان ہوگئئں۔
تم تو آسانی سے ڈاکٹر کے پاس جانے کو بھی تیار نہیں ہوتیں
کیا ہوا ہے ذیادہ طبیعت خراب ہوگئ ہے؟ بخار ہے؟
امی آپ بہت یاد آرہی ہیں۔۔۔ آئی مس یو امی۔ ۔
وہ بات کاٹ کر بولی۔ اسکی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ کوئی اور وقت ہوتا تو شائد ڈانٹ پڑ جاتی مگر اس وقت اسکے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ وہ ٹھٹھک گئیں۔
تم ٹھیک تو ہو نا بیٹا۔ آجائو واپس وہاں اکیلا رہنا مشکل ہو رہا ہے تو۔
نہیں آسکتی امی۔ وہ سسکیاں لے کر روپڑی۔
ارے رو کیوں رہی ہو بیٹا۔ اریزہ سے بات کرائو میری وہ بتائے گی تم مجھے نہیں بتا رہی ہو نا اپنی طبیعت۔
وہ بےتحاشا پریشان ہو گئیں۔وہ چند لمحے بے آواز روئے گئ۔ امی بے قرار سی ہوگئیں۔
کیا ہوا بیٹا ؟ پریشانی ہے کوئی ؟ کوئی بات ہے تو بتائو ؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟ ایڈون سے جھگڑا ہوا۔
نہیں امی۔ اسے انکو اطمینان دلانے کیلئے خود پر قابو پانا پڑا
بس وہ طبیعت خراب تھئ او رآپکا فون آگیا بس تھوڑا جذباتی۔۔
اس نے سسکی بمشکل روکی۔
ہاں میرا دل بے چین تھا۔ مستقل تمہاری طرف دھیان جا رہا تھا۔ وہی ہوا طبیعت خراب تھی تمہاری۔۔
انکو اپنے اندازے کی درستگی پر ناز ہو رہا تھا تو سنتھیا کو حیرت ہورہی تھی۔
آپ کو میری فکر ہو رہی تھی ۔
اس کے انداز میں حیرت تھئ امی برا مان گئیں۔
پریشان تھی میں۔ ماں کے دل کو خبر ہو جاتی ہے جب اسکے بچے پر کوئی پریشانی بیماری آئی ہو تو۔ ماں کے دل کو بے چینی لاحق ہو جاتی ہے جب تم خود ماں بنوگی نا تو پتہ چلے گا۔ایک ماں کے دل کی دھڑکن بچے کے ساتھ ہی جڑی ہوتی ہے۔ ماں ہونا آسان بات تھوڑی ہے۔ اپنی زندگی تو بس عورت ماں بننے سے قبل تک جیتی ہے اسکے بعد تو بس ماں کی زندگی چلتی ہے۔ ماں کی ذمہ داریاں چلتی ہیں۔ ۔ خیر تم ابھی فورا دوائیں کھائو جو ڈاکٹر نے دی ہیں۔ اور خالی پیٹ نہ کھانا ایک تو تم ضدی ہو بیماری میں کھانے پینے سے بھی بھاگتئ ہو۔ اور
امی۔ آئی لو یو۔
اس نے پھر بات کاٹ دی۔۔ امی نے حیرت سے فون کو دیکھا۔ سنتھیا ایسے جزباتی اظہار کرنے والوں میں سے نہ تھی۔ شائد پہلی دفعہ کہا تھا اس نے یہ جملہ بھی۔ انکا ذہن بہت تیزی سے تانے بانے بننے لگا تھا ۔ وہ سوچ میں پڑیں پھر سنبھل کر بولیں۔
آئی لو یو ٹو بیٹا۔ اچھا چلو شاباش کچھ کھائو دوا پیو میں پھر گھنٹے ایک تک کال کروں گی۔ پریشان کردیا ہے تم نے مجھے بیٹا۔
آپ سو جائیں میں ٹھیک ہوں۔ وہاں تو بہت رات ہو رہی ہوگی۔
اس نے بے دردی سے چہرہ ہاتھ کی پشت سے پونچھا۔
ہاں یہاں ڈیڑھ بج رہا یے مگر بیٹا اب نیند تھوڑی آئے گی۔ تم چلو اٹھو شاباش دوا کھائو اور نیند آئے تو سو جانا میں اریزہ کو فون کرلوں گی۔
نن نہیں۔۔ اس نے فورا کہا پھر احساس ہوا تو بات بنائی
امی وہ اتنا پریشان رہی ہے میرے ساتھ ۔ اب شائد وہ بھی سونے لگی ہے۔ آپ مجھے ہی فون کر لیجئے گا میں ابھی سوئوں گی نہیں۔
اچھا چلو ٹھیک ہے اپناخیال رکھنا۔ خدا حافظ۔
انہوں نے بھئ ذیادہ بحث نہ کی۔ فون رکھ دیا۔ وہ دوبارہ لیٹ گئ۔ اس کا ذہن ماں کی کہی باتوں میں اٹک سا گیا تھا۔
ماں کے دل کو۔خبر ہو جاتی ہے۔۔۔
ماں کی زندگی۔۔۔
ماں بنو گئ تو پتہ لگے گا۔
اس نے کروٹ بدل لی۔۔ مگر سوچیں کروٹ بدلنے سے بدل تھوڑی جاتی ہیں۔اور وہ سوچ رہی تھی۔
ایک شادی شدہ جوڑا جو محبت کرتے ہیں ایک دوجے سے انکو اپنی اولاد کا کتنا انتظار ہوتا ہے کتنی محبت پھوٹتی ہے اس بچے کیلئے مگر محبت میں مبتلا جوڑے کو اپنی ہونے والی اولاد سے محبت نفرت سے قبل جو جذبہ محسوس ہوتا ہے وہ خوف کا ہوتا ہے۔ اسکو بھی خوف آیا تھا۔ کیا ردعمل ہوگا دنیا کا گھر والوں کا ایڈون کا ۔۔۔۔۔ پھر ایڈون کو کھودینے کا خوف پر وقت گزرتے اسکے اندرتبدیلی سی آرہی تھی۔ وہ خوف سے بتدریج محبت میں مبتلا ہوتی جا رہی تھی۔۔ماں کا دل بدلتا جا رہا تھا پر باپ کا دل کیوں نہیں بدلا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں آکر بستر پر گرا تھا۔آج جو کچھ ہوا تھا اس نے اسے اندر سے ہلا دیا تھا۔ کسی چیز کو بنا دیکھے محسوس کیئے اسکی موجودگی سے انکاری ہوجانا آسان ہے مگر۔
اس نے اپنے اپر کی جیب سے ایک چھوٹی سی تصویر نکالی۔ یہ سنتھیا کا الٹرا سائونڈ تھا۔ اس تصویر میں ڈاکٹر نے مٹر کے دانے جتنا جو گول سا دائرہ دکھایا تھا وہ اسکی اولاد تھا۔ اسکا ہونے والا بچہ۔۔ اس تصویر کو غور سے دیکھتے دیکھتے بھی اسکے دل میں کوئی الگ سا جزبہ پیدا نہ ہوسکا تھا۔ اسکی عمر ذمہ داریاں اٹھانے کی نہ تھی افئیر چلانے کی تھی۔ جتنی آسانی سے اس نے معاشرتی حدود و قیود سے آزادی حاصل کی تھی اتنی آسانی سے وہ اس سزا کو قبول نہیں کر پارہا تھا۔۔ ہاں یہ بچہ اسے اپنی سزا ہی محسوس ہوا تھا۔
تصویر دیکھتے فلم کی طرح اسکے ذہن میں اسپتال کے مناظر گھوم گئے تھے۔ سنتھیا جانے واقعی اس بچے سے محبت کرنے لگی تھی یا محض اسکو باندھ لینا چاہتی تھی جو ابارشن پر رضامند نہ تھئ۔ایک تیسرا بھی رخ تھا جس پر اسکا دھیان نہ گیا تھا۔
اس نے تصویر یونہی سائیڈ ٹیبل پر ڈالی۔ وہ اپنے ہلکے وزن سے ٹک نہ سکی نیچے گرگئ۔ اس نے کروٹ بدل لی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوپ جانے کہاں تھی۔ وہ دونوں نک سک سے تیار ہو چکی تھیں۔گوارا نے اسکا اناڑی پن محسوس کرکے خود اسکا میک اپ کر دیا تھا۔ گوارا نے لانگ اسکرٹ اور خوبصورت جھالر والا بلائوز پہنا تھا۔ اس نے بھی گوارا جیسا ہی لباس زیب تن کیا تھا بس رنگ کا فرق تھا۔ اچھے وقت کی کی گئ شاپنگ کام آگئ تھی۔ یون بن گاڑی لے آیا تھا ان دونوں کے انتظار میں بیٹھا لائونج میں مکھیاں مار رہا تھا۔
کتنا وقت لگائو گی دونوں۔ وہ بور ہو کر آوازیں دے رہا تھا۔
بس تیار ہوگئے۔گوارا اپنا پرس سنبھالتی آواز لگانے لگی۔
اریزہ نے بھی اپنا پرس تھاما اور خود پر طائرانہ نگاہ ڈالتی گوارا کے ساتھ باہر نکلی۔
کیوپتا۔( دلکش) ۔۔ واضح طور پر یون بن ٹھٹکا تھا۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔
گوارا اترا سی گئ۔ مگر اسکی نظروں کا تعاقب کیاتو یہ بے ساختہ تعریف اریزہ کو دیکھ کر کی گئ تھی۔۔۔ اریزہ جھینپ سی گئ۔ اتنے دن میں اتنی ہنگل سیکھ ہی لی تھی۔
تم پر تو مغربی لباس کافی جچتا ہے۔ تم ایویں ہی اپنے پرانے روائتی لباس کو ترجیح دیتی ہو ۔ ہے نا گوارا
اسکا انداز سادہ سا تھا۔ کھلے دل سے سراہتے ہوئے اس نے گوارا سے تائید چاہی تھی۔
بالکل۔ مگر مجھے یہ اپنے قومی روائتی لباس میں بھی اتنی ہی پیاری لگتی ہے۔ اور یہ اپنے قومی روائتی لباس کو شوق سے پہنتی ہے یہ بات اور اچھی لگتی ہے۔
گوارا نے پیار سے کہتے اسے ساتھ لگایا۔ اریزہ بلش سی ہوگئ۔ زندگی میں پہلی دفعہ اتنے تعریف سننے کو ملی تھی اسے سمجھ نہ آیا کیا کرے۔ اسکے چہرے پر پھیلتی سرخی کو ان دونوں نے تعجب سے دیکھا تھا پھر اکٹھے ہنس پڑے
یار یہ کتنی سادہ سی ہے بلش ہوگئ ہے اپنی تعریف سن کے۔۔
یون بن نے جان کے ہنگل میں کہا تھا۔
اریزہ بہت مختلف اور اچھی لڑکی ہے۔ زندگی میں پہلی بار میں نے ایک پرخلوص دوست پائئ ہے۔
گوارا نے کھلے دل سے کہا۔ یون بن نے مسکرا کر اسکو دیکھا
تھائی نیئے۔(شکر ہے) تمہیں اپنے جیسی لڑکی تو ملی۔ اب اس دوستی کو کھونا مت۔ میں تمہاری سہیلی بنے بنے تھک چکا ہوں ۔۔
اس نے ہنستے ہوئے کہا تو گوارا مکا دکھانے لگی۔
یہ ذیادتی ہے تم دونوں میرے سامنے اپنی زبان میں بولےجا رہے ہو جانے کیا کیا۔ یقینا میری برائی ہو رہی ہے ۔۔ یہ گوارا نے میرا تیز میک اپ کر دیا نا۔ میں ابھی منہ دھو کے آتی ہوں۔
ان دونوں کو اسکو ہی دیکھ دیکھ باتیں کرتے دیکھ کر اسے غلط فہمی ہونی ہی تھی۔ منہ بنا کر پلٹنے لگی تو گوارا نے فورا اسکے بازو میں ہاتھ ڈال کر روکا
ہم تعریف کر رہے ہیں پھابو۔( پاگل) خبر دار جو میری اتنی محنت برباد کی۔ اتنی پیاری لگ رہی ہو۔ ہے نا یون بن
اس نے تائید چاہی۔ یون بن نے مسکرا کر سر ہلایا۔ پھر اسکی جانب ذرا سا سرگوشیانہ انداز میں جھک کر بولا
بالکل۔ مگر۔۔۔۔۔ تم سے کم ۔۔۔۔۔
گوارا نے حیرت سے اسے دیکھا اسکا چہرہ غماز تھا کہ اس نے دل سے تعریف کی ہے۔
گوارا مسکرا دی۔
تم بھی بہت پیارے لگ رہے ہو۔
پھر اسکو ڈراپ کرکے ہم ڈیٹ پر چلیں۔
یون بن نے فورا موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا۔
خیال برا نہیں۔ گوارا فورا مان گئ۔
ناٹ اگین ۔ اریزہ چڑ گئ۔ بھنا کر پیر پٹخ کر اندر جانے لگی
گوارا اور یون بن دونوں اسے منانے لپکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیوٹیشن تنقیدی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ گنگشن ہنس دی
بہت اچھا میک اپ ہے اب مطمئن ہو جائو میں بھی مطمئن ہوں۔
وہ پھر برش لیکر اسکی تھوڑی پر پھیرنے کو تھی کہ اس نے ہاتھ تھام لیا۔
کوریا کے چوٹی کے سیلون کا اسٹاف اسکو تیار کرنے پر معمور تھا۔ گنگشن کےسامنے دیوار گیر آئینہ تھا۔ خود پر سرسری سی نگاہ ڈالتی اٹھی۔ اسکے لیئے خاص کر قد آدم آئینے بھی لگائے گئے تھے۔دو لڑکیاں فورا مستعد ہوئیں وہ ایک آئینے کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔
اسکا روپ نکھر کر آیا تھا۔ پچھلی منگنی کی دفعہ بھی یہی لوگ تھے جن کے ماہرانہ ہاتھوں نے اسکو تیار کیا تھا اب بھی۔ نہ اس وقت اسے کوئی خوشی کی رمق محسوس ہوئی تھی نا اب۔ ہاں اب اتنا دکھ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ اسے یاد تھا پچھلی دفعہ تیارہو کر آئینہ دیکھتے وہ رو پڑی تھی۔ اتنا ذیادہ کہ اسکا میک اپ دوبارہ کرنا پڑگیا تھا۔ او ر اب۔
وہ آئینے سے ابھرتے بے تاثر چہرے والے عکس کو دیکھتی رہی۔
میں وقت کے ساتھ ڈھیٹ ہوتی جا رہی ہوں۔
اسکے منہ سے بلا ارادہ نکلا تھا
دے۔؟اسکی مددگار چونکی۔
آنیا۔ اس نے اپنے کندھے پر بکھرے گھنگھریالے کیئے گئے بال جھٹکے۔ بیچ ویوز کرلز نے ( سمندر کی لہروں جیسے گھنگھریالے ) اسکے چہرے کے نقوش کو نکھار بخشا تھا۔ وہ سر جھٹک کر دوسری جانب تیار ہوتی ہوپ کے پاس چلی آئی اسی ٹیم سے اس نے ہوپ کا بھی میک اپ کروایا تھا۔
اسکا میک اپ بھی آخری مراحل میں تھا۔اسکی کھنچی ہوئی آنکھوں کو بڑا دکھانے کیلئے آنکھوں کے کنارے پر سایہ ڈالنے کیلئے گہرے رنگوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ جس سے اسکی آنکھیں بڑی بڑی لگنے لگی تھیں۔ وہ معمول سے کہیں ذیادہ مختلف اور اچھی لگ رہی تھی۔
تھیبا مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا تم اتنی خوبصورت لگ سکتی ہو۔
گنگشن کی بے ساختہ تعریف بھی اسے خوش نہ کر سکی۔ بمشکل اپنے چہرے کے تاثرات بدل کر مسکرائی
شکریہ انی۔
آج تو تم ضرور کسی کی نظروں میں آئوگی۔ڈیٹ کی آفر تو پکا کوئی کرے گا سب کڑوی یادیں بھول کر بس کھلے دل سے قبول کرنا
وہ پیار سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی تھیں۔ ہوپ انکے انداز پر ہنس پڑی۔
انی آپ کا پیار اپنی جگہ مگر ہوپ کو جھوٹی ہوپ تو نہ دیں۔۔
دیکھ لینا۔ انی کو یقین تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن اسکی بےتابی پر مسکراہٹ لبوں میں دبائے محظوظ انداز میں دیکھ رہا تھا۔ لی گروپ کے اگلے مالک کی حیثیت سے اس سے خود آ آکر ملنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد تھی۔ جسے فہمائشی مسکراہٹ سجائے بھگتنا اسکی مجبوری تھی۔ مگر بڑے بڑے صنعتکاروں اداکاروں اور چند ایک پارلیمان کے ارکان کی موجودگئ میں بھی اسے بس ایک فرد کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔ ایک جانب بار کا انتظام تھا۔ جہاں قیمتی سے قیمتی شراب مہمانوں کو پیش کی جا رہی تھی۔ ہلکی موسیقی میں بہت سے لوگ جوڑی بنائے رقص کر رہے تھے۔ اور وہ بے تابی سے مانوس چہرہ کھوج رہا تھا۔ گردن گھما گھما کر۔ کم سن کونے میں بار کے پاس ہی بیٹھا مشروب نوش کر رہا تھا۔ اٹھ کر اسے بازو سے کھینچ لایا۔
بیٹھ جائو تھک جائوگے۔ جس نے جب آنا ہوگا تب ہی آئے گا تم ٹہل ٹہل کر کسی کو بلا نہیں سکتے۔
منگنی کی تقریب شروع ہونے والی ہے ابھی تک نہیں آئی گوارا نا ہی یون بن
وہ جھلایا۔۔ کم سن مسکرا دیا۔
اتنا انتظار گوارا اور یون بن کا اسے یقینا نہیں تھا۔
لگتا ہے آنے والوں کو آنے کی جلدی نہیں۔ تمہاری یہ سب بےتابئ یکطرفہ تو نہیں؟
کم سن نے اسکی دکھتی رگ دبا دی تھی۔ اس نے شاکی نگاہوں سے دیکھا۔
ابھی کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ نونا کی کال آگئ۔
دے۔ اس نے کم سن کو گھورتے ہوئے کال اٹھائ ۔ کم سن رخ موڑ کر مسکراتا ہوا گھونٹ بھرنے لگا۔
سر اٹھا کر سامنے دیکھو ایک زبردست سا سرپرائز ہے۔ تمہارے لیئے۔
نونا کی دھیمی مگر کھلکھلاتی سی آواز۔ اس نے سر اٹھایا ۔۔نونا اور جون من کے نام نیک خواہشات سے سجا بینر اور گلدستے تھامے دو لڑکیاں جوڑے کے آگے آگے چلتی آرہی تھی۔ جو دلکش لڑکی سب سے نمایاں مسکرا رہی تھی وہ جانی پہچانی تھی۔ بے حد مختلف مگر دلکش۔۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ گنگشن اور جون من ایک دوجے کا ہاتھ تھامے سہج سہج کر چلتے جب بیچ اسٹیج پر پہنچے تب ان دونوں لڑکیوں نے انکو گلدستے پیش کیئے اوپر سے ہلکے سے پٹاخے کے ساتھ رنگ برنگی پنیوں اور
پھولوں کی برسات ہوئئ۔
ایک بے حد رومان پرور ماحول میں جب دلہا اور دلہن کو ایک دوجے کے سوا کسی پر توجہ دینے کا موقع بھی نہیں ملتا نونا گردن گھما کر اسے دیکھ رہی تھیں چہرے پر بڑی شرارتی سی مسکراہٹ تھی۔ اس کی نگاہ ہوپ پر گئ تو وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ شائد پہلی بار مسکرا کر۔۔۔
آگئ۔ کم سن کی دھیمی سی آواز ۔کم سن کی اسٹیج اورہایون کی جانب پشت تھی۔ وہ سنتے ہی چونک کر فورا سے پیشتر مڑگیا۔ گوارا کے سنگ ہال میں داخل ہوتی اریزہ بہت اشتیاق سے اسٹیج کی جانب دیکھتی کچھ بول بھئ رہی تھی۔ ساتھ یون بن بھئ تھا۔ مگر اسے شائد گوارا بھئ ٹھیک سے نظر نہ آئی۔ ہوپ کی مسکراہٹ واضح طور پر پھیکی پڑ گئی تھئ۔ ہایون کافی عجلت میں اسکی جانب بڑھا تھا۔ اسکا کسی نے ہاتھ تھام لیا۔کوئی پرانا ساتھی اس سے ملنے لگ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گلدستے سنبھالتے جیسے ہی وہ ہال میں داخل ہوئے سب بتیاں دھیمی پڑ گئیں
کیا ہوا لائیٹ چلی گئ؟ یہاں بھی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے؟
اسے پاکستانی ہونے کے ناطے پہلا خیال یہی آیا۔
پاور ٹرپ ہوا ہوگا۔
گوارا نے اندازہ لگایا۔ تو یون بن نے اسکا سر گھمایا اسٹیج کی جانب۔۔ اوراطلاع دی۔
دلہا دلہن کے استقبال کیلئے بتیاں بجھائی گئ ہیں۔ ۔۔۔
فلڈ لائٹس کے گول چکر گنگشن نونا اور انکے دلہا کا حصار باندھے تھے۔ اوپر سے گرتی پھولوں کی پتیاں۔ مبہوت کردینے والا منظر تھا۔ بے ساختہ اسکے منہ سے وائو نکلا۔
پھر گلدستہ گوارا کے کندھے پر مار کر بولی
دلہا دلہن آگئے گوارا کی بچئ تم نے بکے بنوانے میں اتنا وقت لگوا دیا ہمیں دیرہوگئ۔
ہال میں نیم اندھیرا کرکے خاص جگمگایا گیا تھا اسٹیج کو۔ سب ادھر ہی متوجہ تھے۔ وہ لوگ بھی اسی جانب بڑھ آئے۔
دلہا دلہن ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنا رہے تھے۔ ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر ان دونوں کو مائک دیا۔ مختصر جملے۔ ساتھ نبھانے کا عزم کرکے دلہا نھ مسکرا کر بازو لمبا کرتے دلہن کو تکلف سے ساتھ لگایا۔ ۔ اسکے بعد دونوں نے مسکراتے ہوئے جھک کر سب کا شکریہ ادا کیا اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اسٹیج سے نیچے اتر آئے۔ مہمانوں سے ملتے آمد پر شکریہ ادا کرتے اس جوڑے کی منگنی کی تقریب تمام ہوگئ تھی۔۔ ہلکی موسیقی دوبارہ چالو ہو گئ تھئ۔
ہاہ۔
اسکا منہ کھلا اور پھر حیرت کے مارے کھلا ہی رہ گیا۔اس نے موبائل میں وقت دیکھا۔ تقریب کا وقت تھا رات نو بجے۔ اس وقت سوا نو ہو رہے تھے۔ اس نے مایوسی سے نظر گھمائی۔ بڑا سا ہال۔ایک جانب ڈانس فلور تھا جو اس وقت تقریبا خالی تھا۔ کچھ اسٹیج کے قریب آن کھڑے ہوئے تھے۔ دلہا دلہن اس ہجوم میں غائب ہو چکے تھے۔ ایک ایک کے پاس خود جا جا کر جھک جھک کے سلام کرتے دلہا دلہن تو۔ دوسری جانب میزیں لگا کر بوفے کا انتظام تھا۔ قطارمیں لمبی لمبی کھانے سے سجی میزوں پر اکا دکا لوگ اپنی پلیٹ میں گنی چنی چیزیں رکھ رہے تھے۔ کوئی جلدی نہیں کوئی ہڑبونگ نہیں سب سوکھے منہ دلہا دلہن کے ساتھ گپوں میں لگے تھے جیسے یہاں کھانے ہی نہیں آئے ہوئے۔
بس؟ یہ کیا؟ سب ختم ؟۔۔۔۔اتنئ وقت کی پابندی۔ اتنی سادہ رسموں سے پاک تقریب۔ یہ کیسے نان مسلم ہیں۔
اسے دھچکا لگا۔
یہ کیا۔؟ اس نے دانت کچکچائے۔۔
ہم خالی اسٹیج دیکھنے آئے ہیں۔ اس نے برابر کھڑی گوارا کا بازو کھینچا۔
ایسی ہوتئ ہے منگنی بھلا اس سے ذیادہ رونق اور ہلا گلا میرا پہلا دودھ کا دانت ٹوٹنے پر ۔۔۔۔
بڑبڑ کرتے کھینچ کر ساتھ لگاتے ہی اسے ایکدم کچھ نامانوس سا احساس ہوا۔ اس نے جلدی میں جوبازو کھینچا وہ خاصا مضبوط تھا اور کوٹ میں ملبوس تھا۔ اس نے سٹپٹا کر نگاہ اٹھائی اپنے برابر کھڑے وجود کو دیکھا۔جو خوب لمبا سا چندی آنکھوں والا تھا۔ بہت حیرانی سے اس بے تکلفانہ مڈبھیڑ کو دیکھ رہا تھا۔
اوپس۔ سس۔
اس نے فورا بازو چھوڑا۔ سوری بولتے بولتے خیال آیا کہ ہنگل میں کہنا چاہیئے۔
چھے۔۔ سو۔
( سوری کو کیا کہتے ہنگل میں۔ اس نے ذہن کے گھوڑے دوڑائےبس چھے سو ہی یاد آیا۔ آگے کیا تھا؟ )
تھیبا۔۔ اس نے گردن جھکا کے کہا۔ مخاطب کی چندی آنکھیں تھوڑی سی کھل گئیں۔
آنیا۔۔۔۔ اس نے نفئ میں گردن ہلائی۔۔ آنیانگ۔۔دے۔
۔ آندے
۔ جھنچائے او۔
اس نے جلدی جلدی سب ہنگل لفظ بول ڈالے جو جو یاد آئے۔
کیہہ سیکی۔۔
چندی آنکھیں ابلنے کو تیار ہوئیں۔ اریزہ کو اسکے تاثرات دیکھ کر یاد آیا کہ یہ کوئی اچھا لفظ نہیں تھا۔۔ اس نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا۔
آنیا ۔۔ ۔۔ اسے یاد آگیا۔سو اس بار قدرے اعتماد سے بولی۔ اور سر جھکانا بھول گئ۔
سارانگھیئے او۔۔۔۔
چندی آنکھوں والے کی آنکھوں میں تیرتی حیرت نے رنگ بدلا تھا۔آنکھیں مائل با شرارت ہوئی اور وہ ہنسی روکنے میں ناکام ہوتے ہوئے قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔ وہ حیرت سے اسے ہنستے دیکھ رہی تھی۔
اسکے قریب آتے دلہا دلہن اور ہایون نےبھی حیرت سے اسکا جملہ بھی سنا تھا اور علی کا ردعمل بھی دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم تو سمجھے ہم نےاپنی منگنی کی تقریب میں مزید دو دلوں کو ملا دیا ہے مگر افسوس یہ ایک غلط فہمی نکلی۔
گنگشن اریزہ کا پیش کیا بکے تھامے شرارت سے علی کو کہہ رہی تھئ۔ جوابا وہ بمشکل مسکرایا۔
ویسے ہم کورینز سوری تھینکس جتنی انگریزی سمجھ لیتے ہیں پھر بھئ مشورہ ہے بنیادی ہنگل سیکھ لو آگاشی۔
جون من نے ہلکے سے ہنس کر جتایا۔ وہ پزل سی کھڑی ہتھیلیاں مسل رہی تھی۔ اتنی ساری شرمندگی اسکے حصے میں آگئ تھئ
اریزہ۔ اریزہ نام ہے اسکا۔
نونا فورا بولیں۔
اریزہ تم مغربی لباس میں بہت جچ رہی ہو۔ مجھے لگا تھا تم آج کی تقریب میں بھی اپنا روائتی لباس ہی پہن کر آئو گی۔
نونا نے بہت پیار سے کہا تھا۔ وہ مسکرا دی۔
یہ گوارا کی ضد تھی۔ ویسے آپ بھی بہت اچھی لگ رہی ہیں۔
اس نے دل سے تعریف کی تھی۔ نونا اسکو بس جوابی تعریف سمجھیں۔سو دھیان نہ دیا۔
تم لوگوں نے کھانا کھایا ؟ ہایون اپنے مہمانوں کا خیال رکھنا
نونا کو اب مہمان نوازی کی فکر تھی۔ ہایون نے اثبات میں سرہلادیا
۔ دلہا دلہن کی پکاریں پڑ رہی تھیں۔ دونوں نے اجازت چاہی۔
علی نے بھئ اب رخصت چاہی ۔
اوکے اب مجھے بھی چلنا چاہیئے۔ مس اریزہ علی۔ علی نام ہے میرا۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔۔
علی نے اسکی مشکل سمجھ کر شستہ انگریزی میں بتایا۔
اریزہ کھسیا سی گئ۔
آئی ایم سوری۔ اسکے منہ سے ہائے ہیلو کی جگہ پھسلا اور وہ مزید سٹپٹا بھئ گئ۔علی اسکی گھبراہٹ سمجھ کر مسکرا دیا
دراصل اریزہ کو ہنگل نہیں آتی ہے ابھی اسے کوریا آئے ذیادہ وقت بھی نہیں ہوا۔
ہایون نے وضاحت دی۔
میں سمجھ سکتا ہوں۔ اور کیسا لگا کوریا اور کورینز ؟
اس نے اسکی شرمندگی کم کرنے کیلئے بات بڑھائی
اچھا ہے۔ خوبصورت ملک ہے ۔کورینز بھئ اچھے ہیں۔
اس نے نپا تلا ہی جواب دیا۔
مگر آپکو یہ تقریب پسند نہیں آئی۔
علی اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا تو وہ تھوڑا اعتماد بحال کرکے بولی۔
آنیا بس میں حیران ہو رہی تھی۔ ہمارے یہاں منگنی میں بھی لمبی تقریب چلتی ہے۔ رسمیں ہوتی ہیں۔ وغیرہ تویہ سب بہت سادہ تھا میرے لیئے۔
ہاں میں نے بھئ سنا ہے پاکستانی اور انڈین شادیوں میں بہت ہلہ گلہ ہوتا ہےمگر کبھی اتفاق نہیں ہوا کسی شادی کا حصہ بننے کا۔۔ وہاں کرسچن بھی یہ سب رسومات کرتے ہیں؟
علی کے سوال پر وہ سوچ میں پڑی۔ سنتھیا اسکی دوست تھی اور کبھی اس نے اسکے خاندان کی کسی شادی میں حصہ نہیں لیا تھا مگر ہاں سنتھیا کی منگنی کی تقریب کا حصہ بنی تھی کم و بیش ایک جیسا ہی ماحول تھا۔ ویسے ہی دیسی لوگ زرق برق لباس۔اور طعام کا اہتمام۔۔۔
ہاں۔ اس نے سوچ کر سر ہلایا تھا۔
آپ کیا کرتے ہیں؟
اس نے یونہی سوال کر لیا تھا۔
میں نے فنانس میں ماسٹرز کیا ہے۔ آج کل ایک نیم سرکاری ادارے میں پڑھاتا ہوں مختلف مضامین۔ وہیں سے عربی سیکھ رہا ہوں۔۔۔
فنانس میں ماسٹرز کے بعد ٹیچنگ؟ ۔۔ اریزہ حیران ہوئی تھی۔
دراصل۔۔ علی نے جانے کیا جواب دیا تھا۔ ان دونوں کو یقینا ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت میں مگن ہوتے اندازہ نہیں ہوا تھا کہ ہایون ان دونوں کو چند لمحے باتیں کرتے دیکھ کر خاموشی سے ان کے درمیان سے ہٹ گیا تھا۔ہوپ کی اس سے توجہ ہٹ نہ سکی تھی۔ اس کو یوں خاموشی سے جگہ چھوڑتے دیکھ کر وہ اسکی جانب بڑھی تھی کہ کسی نے اسکو مخاطب کر لیا۔
آگاشی آپ ہوپ ہیں نا ؟
وہ کوئی ادھیڑ عمر چندی آنکھوں والا مرد تھا اس سے نہایت تمیز سے پوچھ رہا تھا۔
دے۔ وہ سر ہلا کر آگے بڑھنا چاہ۔رہی تھی۔
آپ کا انٹرویو دیکھا تھا میں نے بہت اچھا بولتی ہیں آپ۔ کیا کر رہی ہیں آپ آجکل؟
وہ مزید بات بڑھانے کے موڈ میں تھا۔ ہایون کا رخ ہال سے باہر جانے والے دروازے کی۔طرف تھا وہ بے چین سی ہوئی۔
کچھ خاص نہیں ایکسکیوز۔۔ وہ معزرت کرنا چاہ رہی تھی کہ اس شخص کے اگلے جملے پر۔ٹھٹھک گئ
وہ کہہ رہا تھا۔
آپ بہت خوبصورت ہیں۔ آپ میں اعتماد بھی ہے میری ایک ایڈ ایجنسی ہے اس میں آپ ماڈلنگ کرنا چاہیں گی ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اف مجھے افسوس ہو رہا ہے اتنی فلمی سچوایشن مجھ سے مس ہوگئ۔
گوارا اسکی زبانی ہی احوال سن کے ہنسے جا رہی تھی۔
پہلی ملاقات اور لڑکی کا اظہار محبت۔ ۔۔
شٹ اپ۔اریزہ چڑی گوارا اسکے انداز پر اور ذور سے ہنسی

بوفے اسٹائل تھا ایک کونے سے اس نے اپنی پلیٹ میں جو جو چیزیں بھرتی جا رہی تھی اسکو دیکھ کر اسے الجھن آنے لگی تھی۔ کیکڑے ، چھوٹی چھپکلیوں کی طرح کی مچھلیاں آنکھوں سمیت تلی ہوئی آکٹوپس ، کھانے میں ویج نان ویج سی فوڈ ائیٹمز تھے اور گوارا سی فوڈ کی شوقین۔ سو اسکا ارادہ یہاں سے آگے جانے کا نہ تھا۔
پہلی ملاقات۔ وہ سوچ میں پڑی تھئ کہ گوارا نے اسکا بازو ہلایا۔
اریزہ وہاں ویج آئٹمز ہیں۔ تم وہاں سے کچھ لے لو۔
گوارا کے ہلانے پر وہ چونکی پھر سرہلا کر اس جانب بڑھ گئ۔
ویجیٹیبل سوپ تھا اشتہا انگیز۔ اس نے وہ لے لیا۔ سبزیوں کا پلائو تھا جس پر مشرومز سجے تھے۔ وہ دھیرے دھیرے بڑھتی گئ۔دو تین طرح کی سلاد تھیں۔ مشروم اسٹیک وائٹ ساس پاستا اور سبزیوں کی بھجیا۔ تھوڑا تھوڑا لیکر وہ گوارا کی جانب پلٹی تو ذہن میں جھماکا ہوا۔
علی کی شکل جانی پہچانی کیوں لگی ؟ یہ وہی تو تھا جس نے میٹرو اسٹیشن میں اسکی مدد کی تھی۔ جبھی اسے دیکھا دیکھا لگا۔
میم آپ ادھر آئیے۔
ایک بیرا مئودب سا اسکے پاس آکر انگریزی میں بولا
کیوں ؟
اسکا فون بجنے لگا بیرے نے سہولت سے اسکے ہاتھ سے پلیٹ تھام لی۔ وہ حیران ہوتی اپنے کندھے سے لٹکتے چھوٹے سے پرس سے فون نکالنے لگی۔
کالر کا نام پڑھ کر وہ چونکی۔ بیرا اسکی پلیٹ پاس سے گزرتے دوسرے بیرے کو تھما چکا تھا جو لیکر آگے بڑھ گیا۔
ارے؟ میں کھانے جا رہی تھی۔۔ وہ ہکا بکا تھی گھور کر بیرے کو دیکھا وہ جوابا سر جھکا گیا۔ ۔ فون بجے جا رہا تھا اس نے اٹھالیا۔
بیرا اس سے تھوڑا فاصلے پر ہو کر اسکے فون سے فارغ ہو جانے کا انتظار کرنے لگا۔
کیسی ہو بیٹا ؟ سنتھیا کی امی بہت پیار سے پوچھ رہی تھیں۔
ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں؟ اس نے بھی جوابا خوش اخلاقی سے احوال پوچھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیرا اسے ایک فلورنیچے لایا تھا۔ بڑا سا ہال نیم تاریک تھا
دھیمی چلتی موسیقی سامنے ایک بڑی سی میز پر بس روشنی تھی۔اس روشنی میں دمکتا مانوس چہرہ وہ بلا جھجک اس جانب چلی آئی۔
ہایون اسکو آتے دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا تھا۔ بیرے نے اسکے لیئے کرسی احتیاط سے کھینچی ۔ وہ حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔
اب جائو تم۔ ہایون نے بیرے سے کہا وہ دھیرے سے جھک کے پلٹ گیا۔
یہ۔ اریزہ میز پر نظر دوڑاتی حیران کھڑی تھی
بیٹھو۔ وہ اسکی حیرانی پر مسکرایا۔
وہ متعجب سی اسے دیکھتی ٹک گئ۔
میز اسکے سب پسندیدہ کھانوں سے سجی تھی۔ بریانی مٹن کڑاہی نان چائینئز پلائو کھیر گول گپے دہی بھلے سموسہ۔۔ رس ملائی۔ وہ ابھئ دل بھر کے حیران بھی نہ ہو پائی تھی کہ
دوبیرے پھر انکے سر پر آن کھڑےہوئے تھے
ایک تولیہ ہینڈ واش کی بوتل ، منرل واٹر کی بوتل اور دوسرا ایک خوبصورت سی پیتل کی صراحی کی شکل کا کوئی برتن لیئے کھڑا تھا۔
یہ؟ اس نے حیرانی سے ہایون سے پوچھا
ہاتھ دھولو۔ ہایون مسکرایا۔
اس کا منہ بھی کھل گیا تھا۔
اس نے جھجکتے ہوئے ہینڈ واش ہاتھ میں لیا۔ شہزادیوں کی طرح اسکے ہاتھ اس دھلوائے گئے تھے۔ وہ یقینا یہ خواب دیکھ رہی تھی۔
مجھے تمہاری پسند کا ذیادہ پتہ تو ہے نہیں۔ یہ پلائو کڑاہی اور بریانی آرڈر دینے کے بعد ریستوران والوں سے کہا جو بھی خاص ہو مینیو میں بھجوا دیں۔ امید کرتا ہوں تمہیں پسند آئے گا۔
ہایون نے وضاحت کی۔
یہ بہت سارا کھانا ہے۔۔۔۔ ہایون اور اسکی کیا ضرورت تھی۔ وہ ناراض ہوئئ
ضرورت کیوں نہیں تھی۔ تم بھوکی رہتیں ؟
ہایون الٹا اس سے پوچھنے لگا۔
نہیں پر میں کچھ نہ کچھ کھا لیتی اتنا اہتمام۔
وہ متذبزب تھی۔ ہایون نے بات کاٹ دی
تم تو کورین کھانے کھاتی ہی نہیں ہو۔مجھے پتہ ہے یہ بات جبھی تمہاری پسند کے کھانے منگوائے ہیں اب شروع کرو۔۔
اسکا انداز لاپروا تھا۔ وہ اس سب اہتمام کو معمول کا حصہ قرار دینے پر تلا تھا۔
اریزہ کو اسکے خلوص پر شبہ نہ تھا سو مسکرا کر سر ہلا دیا۔ یوں دوستوں کو زیر بار کرنا اسکو پسند نہ تھا او ریہ بھی سچ تھا ہایون اگر یہ اہتمام نہ کرتا تو شائد وہ بھوکی رہتی۔
تمہارا سب سے پسندیدہ پکوان کونسا ہے ؟ وہ بات بدلنے کو پوچھ رہا تھا۔
یہ۔ کہتے ساتھ ہی
اس نے سب سے پہلے گول گپے کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا
ہایون نے اسے کھٹے پانی میں ڈبو کر کھاتے غور سے دیکھا۔ بہت چٹپٹا تھا پانی۔ اسکو خوب مزا آیا مگر مرچوں سے آنکھیں سرخ ہو چلیں۔۔
اس میں ڈبو کر کھائو ۔۔ وہ اسے سکھا تے سکھاتے ایک اور گول گپا منہ میں بھر چکی تھی۔ چنے چٹنی بھرا بڑا سا گول گپا۔
ہایون نے جھجکتے ہوئے گول گپا کھانا چاہا وہ پٹاخ سے پانی میں گرا اسکے کوٹ تک پانی کے چھینٹے آئے۔ اسکی خدمت پر معمور بیروں نے بمشکل مسکراہٹ دبائی۔
گول گپا کئی گول گپوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ اس نے چمچ سے اٹھا کر کھایا تو رات میں تارے بھی دکھائی دیئے اور کائنات کے نئے بلیک ہول بھی
بری طرح کھانستے ہوئے اسے اچھو ہوچلا تھا
اریزہ نے جلدی سے رس ملائی ایک پیالے میں نکال کر اسکی جانب بڑھائی۔
ٹھنڈی میٹھئ رس ملائی منہ میں گھل کر مرچوں کا ذائقہ مندمل کر گئ منہ میں چین پڑا۔
تم مت کھائو گول گپے تمہارے بس کی بات نہیں۔
اریزہ نے چھیڑا تھا۔خود وہ گول گپے میں چنے اور چٹنی بھر رہی تھی۔
ہایون نے ایک نظر اسکو دیکھا پھر اپنے پاس رکھی رس ملائی کو۔ گول گپا اٹھایا اس میں چنے بھرے ایک رس ملائی توڑ کر بھری رس ملائی کے دودھ میں ڈبویا اور منہ میں رکھ لیا۔ اریزہ کا گول گپے سے بھرا منہ تھوڑا سا کھل سا گیا۔
گول گپے میں رس ملائی بھر کر کھانا ؟ اس ثقافتی جھٹکے نے اسکو ششدر کر دیا۔ ہایون نے مزے لیکر کھایا اور چٹخارا بھرا۔
ماشیچتا۔ ( مزےدار)
اریزہ نے بمشکل اپنا گول گپا نگلا۔
واقعی بہت مزے کا کھانا ہوتا ہے پاکستانی۔ تم لوگ کتنے گول گپے کھاتے ہو؟ ایک وقت میں
وہ گول گپے کو ایک وقت کا کھانا سمجھا تھا۔
درجن ایک تو اریزہ جیسی لڑکی بھی بنا ڈکار مارے کھا سکتی تھی ۔ اس نے جواب دینے کی بجائے کھٹا پانی پرے کیا اپنی رس ملائی کا پیالہ اٹھایا ۔گول گپے میں رس ملائی بھری اور منہ میں رکھ لیا۔ زندگی میں پہلی بار گول گپے کو رس ملائی میں ڈبو کر کھایا تھا اور اب سے آئیندہ وہ یہ دونوں چیزیں ملا کر کھانے والی تھی۔
یہ تو واقعی بہت مزے کا لگ رہا ہے۔
وہ کہے بنا نہ رہ سکی۔
کیا مطلب تم لوگ اسکو ملا کر نہیں کھاتے ؟ ہایون کو حیرت ہوئی
ہرگز نہیں اور کسی پاکستانی کےسامنے دوبارہ یہ کرتب کرنا بھی نا توہین ہے یہ گول گپے کی مگر۔۔
وہ ڈرامائی انداز میں کہتے کہتے رکی پھر منہ میں گول گپا رکھ کر چٹخارا لیکر بولی
مزے کی توہین ہے۔
ہایون اسکے انداز پر ہنس پڑا تھا۔
اور بتائو اور کونسی چیز تم ملا کر کھائو گے۔ اس نے اکسانے والے انداز میں کہا ہایون بھی دلچسپی سے پکوان کی جانب متوجہ ہوا۔
یہ پائرامڈ بریانی میں ملا کر کھانا کیسا لگے گا؟
پائرامڈ؟ وہ ہونق ہوئی۔
یہ تکونا پائرامڈ کی طرح کا ہے نا۔وہ اب سموسے کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر دکھا رہا تھا۔
سموسہ کہتے ہیں اسے۔ اس نے بتایا پھر ایکدم پرجوش ہوئی۔
اس میں بریانی بھرتے ہیں۔ وہ اب سموسے کا پیٹ چاک کرنے لگی۔
دونوں کھا کم کھیل ذیادہ رہے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ باتوں میں مگن اور خوش نظر آرہے تھے۔ ہال کنارے سیڑھیوں سے اترتے ہی ان پر نظر پڑی تھی اسکی۔ وہ ہایون کا پتہ کرتی ادھرچلی آئی تھئ مگر یہ نہیں پتہ تھا کہ ہایون یہاں اکیلا نہیں تھا۔اریزہ بھی ساتھ تھی۔ جہاں اوپر والی منزل پر رنگ و بو کا سیلاب تھا رونقیں تھی مہمان تھے بڑے بڑے لوگ تھے وہ یہاں تھااس منزل کی سب دلکشیوں سے دور اریزہ کے ساتھ خوش
کم از کم ہوپ کو تو وہ دونوں اکٹھے مطمئن اور مکمل لگے تھے۔ اس نے اپنے ہاتھ میں تھما کارڈ مسل ڈالا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا گھر نہیں آئی تھی شائد آئے بھی نا۔ ہایون اسے اپارٹمنٹ تک چھوڑ کر گیا تھا۔ وہ جمائی لیتی اندر آئی تھی۔ بیڈروم میں ہوپ سورہی تھی۔ وہ احتیاط سے کپڑے اٹھاتی فریش ہونے باتھ روم گھس گئ۔ نہا کر نکلی تو کافی کی طلب محسوس ہوئی۔ اپنے لیئے کافی کا مگ بنا کر ٹیرس میں چلی آئی۔ خنک ہوا گرم کافی سیول کی روشنیاں اس نے بلاگ اپڈیٹ کرنا شروع کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہو آیا آپکے کہنے پر بھائی کی منگنی پر۔ اب خوش۔
اس نے گھر آتے ہوئے بس میں بیٹھ کر میسج لکھ کر بھیجا
اچھی بات ہے۔
فوری جواب آیاتھا۔
اب دوسری بات کب تک مانوگے؟
وہ ہار ماننے والے نہیں تھے۔
آج ایک لڑکی نے مجھے آئی لو یو کہا تو ہے۔۔ اسی سے کرلیتا ہوں شادی۔
اس نے لکھ کر بھیجا تھا جوابا لمحہ بھر کا ہی توقف ہوا ہوگا کال آگئ۔ انکے جزباتی پن پر اسے ہنسی آگئ تھی۔ فون اٹھاتے ہی بنا سلام دعا انہوں نے پوچھا۔
واقعی؟ کون ہے کیسی ہے ؟ ہاں کہا اسے؟
ایک ہی سانس میں وہ سارے سوال کر گئے۔
شادی میں ملی تھی ۔۔ اس نے جان کے بات ادھوری چھوڑی۔
آج؟ وہ حیران ہوئے۔
ہاں۔ آج۔ وہ پوری طرح انکے اتائولے پن سے حظ اٹھا رہا تھا
اوہ۔ وہ تھوڑا مایوس ہوئے۔مگر امید زندہ تھی ابھی
تمہیں پسند آئی کیسی لڑکی ہے؟
ہاں اچھی ہے پیاری ہے۔
اس نے مختصر ہی جواب دیا
پھر اس سے ملاقات کرو پرکھو۔ کیا پتہ یہی وہ لڑکی ہو جو۔۔
وہ کہہ رہے تھے اس نے انکو بریک لگائی۔
ملاقات کا کوئی چانس نہیں دوبارہ۔
کیوں نہیں؟ وہ حیران ہوئے
اس نے آئی لو یو بولا تو یقینا تم اسے پسند آئے ہو جبھی تو بولا نا ؟ یا تم جھوٹ بول رہے ہو۔
وہ پل میں جان گئے جوابا وہ ہنس دیا
جھوٹ نہیں بولتا میں۔ جب مسلم نہیں تھا تب بھی کبھی جھوٹ نہیں بولا اب تو نا ممکن ہے۔
پھر ۔ وہ مصر تھے۔اسے ہنسی مزاق چھوڑ کر حقیقت بتانی پڑی۔
اس نے واقعی آئی لو یو کہا مگر وہ ایک غلط فہمی تھی۔۔ اسکی ہنگل اچھی نہیں تو معزرت کی جگہ سارانگھیئے کہہ گئ۔
اوہ۔ انکا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
کوئی چانس ہے ؟ انہوں نے ہار نہ مانی۔
میں غیر مسلموں کی منگنی کی تقریب میں گیا تھا وہ لڑکی بھی کرسچن تھی سو نو چانس ایٹ آل۔۔
اس نے قطیعت سے کہا تو وہ گہری سانس بھر کے بولے
چلو کم از کم کفر تو ٹوٹا۔۔ پڑ جائے پتھر میں جونک بھی کبھی نہ کبھی۔ ۔۔۔ جوابا وہ خاموش رہا تو وہ بھی بات بدل گیے
۔اچھا یہ بتائو کچھ کھایا ہے ؟
آنیا۔۔ وہاں نان ویج آپشن میں بھی پورک فلیور تھا۔ اب گھر جائوں گا تو کچھ بنا کے کھائوں گا۔
اس کو بھوک لگ رہی تھئ۔ عبدالہادی کو اندازہ ہوگیا تھا۔
تو پھر ایسا کرو۔اپنے گھر کے راستے سے ایک اسٹاپ پہلے اتر جائو یہاں آئو ہم نے آج گوشت بھونا ہے۔
انہوں نے دعوت دی تو اس نے تکلفا بھی انکار نہ۔کیا۔
دے۔
کال۔بند کرکے اس نے یونہی سیل فون دیکھا۔ وال پیپر پر اسکی اور رچل کی تصویر تھی۔
سارانگھیئے او۔
رچل ہمیشہ اسے پرجوش انداز میں کہا کرتی تھی۔ اور سچ تو یہ تھا اسکے سوا اور کسی کے منہ سے یہ جملہ سننے کی تمنا نہ رہی تھی۔
سارانگھیئے۔
اس نے زیر لب دہرایا۔

تبھی بلاگ اپڈیٹ آئی تھی۔۔ اس نے گرد ونواح میں نگاہ۔کی ابھی اسٹاپ آنے میں وقت تھا بلاگ پڑھا جا سکتا تھااس نے وہی کھول لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی کڑوےمیٹھے کھٹے پھیکے تھوڑے مرچیلے پکوان سے سجی میز کا نام ہے۔
آپکا پسندیدہ پکوان بھی کبھی آپکو ناپسندیدہ ذائقے سے نواز سکتاہے اب یہ آپ پر ہے مرچیں لگنے پر سی سی کریں یا کوئی میٹھا ذائقہ زبان پر رکھ کر اس تکلیف کو زائل کر دیں۔
آپکا ہر حال میں ساتھی پانی ہی ہوتا ہے جو ہر ذائقے کو مندمل کرکے نئے ذائقے چکھنے کیلئے آپکی زبان کو تیار کر دے۔
آج مجھے بھی میرے پسندیدہ پکوان گول گپے نے زبان کو تیکھے پن سے چھلنی کیا اورپتہ ہے اسی میز پر موجود رس ملائی نے میرے گول گپے کے ساتھ مل کر میری زبان کو مرہم بھی دے دیا۔
ساتھ ہی رس ملائی بھرے گول گپے کی تصویر تھی جسے چٹکی سے تھاما گیا ہوا تھا۔
تو حاصل بحث کیا ہوا۔ زندگی کی میز پر سب ذائقے ہیں فرق صرف اپنے پسندیدہ پکوان سے ذرا بھر کو نگاہ ہٹا کر کسی دوسرے ذائقے کو چکھنے پر خود کو آمادہ کرلینا ہی اصل جینا ہے۔۔
کھاتے پیتے جیو۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلا کمنٹ۔
شرم نہیں آتی ہم ہاسٹل باسیوں کو مرغن کھانے دکھاتے؟
دوسرا کمنٹ
یہ ڈنر سوٹ میں جو دھندلا پکوان نظر آرہا اسکا کیا نام ہے کبھی پاکستان میں ایسا دکھائی نہ دیا۔
ہیں۔۔۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ تصویر کو۔ذوم کیا تو میز کے پکوان کی تصویروں میں جو اس نے تقریبا سب ہی اپلوڈ کر دی تھیں پیچھے پس منظر میں آئوٹ آف فوکس بھی پورا ہایون نظر آرہا تھا۔
کمال کی نگاہ ہے۔ اس نے بے ساختہ داد دی
تیسرا کمنٹ
سموسے میں بریانی بھرنا زندگی جینا ہے تو میں پودینے کی چٹنی میں کھیر ڈال کر کھانا بہتر سمجھتا ہوں۔
سب نے خوب اس کی میز کا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔۔ اسے ہنسی آئی۔
چوتھا کمنٹ
سب سے اچھا نیا ملا جلا ذائقہ کس کا بنا سچ بتانا ؟
اس نے دیانت داری سے ہی جواب دیا۔
رس ملائی بھرا گول گپا۔۔ یہ یقینا بہترین تجربہ تھا
پانچواں کمنٹ
یہی سب کھانا تھا تو کوریا گئے ہی کیوں ہو؟۔۔
یہ دہائی کسی دکھے دل سے نکلی تھی۔ اسے ہنسی آگئ۔
چھٹا کمنٹ۔
یہ جگ میں آپ ہو؟
ہیں۔ اسے کمنٹ سمجھ نہ آیا۔ غور کیا تصویر کو۔ذوم کیا تو پتہ چلا ہر احتیاط کے باوجود کہ اسکی اپنی کوئی تصویر نہ آنے پائے اس گول گپے کو چٹکی میں بھرنے والی تصویر میں میز پر رکھا جگ اسکا مکمل عکس منعکس کر رہا تھا۔ ہلکا سا دھندلا مگر موبائل اٹھائے ہاتھ اور اسکا چہرہ۔ اب جس نے اسے دیکھا ہوا ہو اس کیلئے پہچاننا آسان تھا ۔ دھندلی تصویر تھی اس نے تصویر ڈیلیٹ کرنے کی بجائے مختصر۔جواب لکھا۔۔
ہاں۔۔۔
اور ٹھنڈی ہوتی کافی کی جانب متوجہ ہوگئ۔۔
کل پکا سنتھیا سے ملنے جائوں گی۔ جانے کتنی بیمار ہوگئ ہے جو آنٹی تشویش ذدہ ہوگئیں۔ اس نے کہیں آنٹی کو بتا تو نہ دیا۔
سوچ اتنی کٹیلی تھی کہ وہ بے دھیانی میں گرم گھونٹ لے بیٹھی۔۔
سی کرکے کپ پیچھے کیا۔
احمق لڑکی۔۔
وہ بڑبڑاکررہ گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد
جاری ہے۔

Kesi lagi apko Salam Korea ki qist? Rate us below

Rating

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

Desi kimchi seoul korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi