میرے ہاتھ میں تھا نصیب کا ستارہ۔

میرے ہاتھ میں تھا نصیب کا ستارہ

آسمان سےتھا میں نے خودہی اتارا
ایک ہی جھٹکے میں مرے ہاتھ سے

چھوٹ تھا وہ بھی گیا۔۔

کبھی پلکوں سے میں نے چن تھے جو لیئے۔۔
ان کرچی کرچی خوابوں میں ٹوٹ تھا میں بھی گیا۔۔


آبلہ پائی تھی نری سفر زندگی کہاں سہل گزرا مرا۔۔
کسی نے رک کر احوال بھی پوچھا

ایک زخم میرا یوں پھوٹ بھی گیا۔۔

کہاں گئے وہ میرے زاد راہ۔۔ میرے باوفا آزار۔۔
زخم نئے نہ دیئے مجھے اب کیوں؟

۔۔ میں ان سے یوں روٹھ بھی گیا۔۔

صنم خانے میں ملے مجھے عدو و رقیب اک ملا حبیب پرانا
مجھے پہچان کے وہ ملا گلے اورپھر جاتے ہوئے لوٹ بھی گیا۔۔


اس نے کہا الوداع پھر پلٹ کر بھی نہ دیکھا تھا مجھے۔۔
ایک میں کھڑا وہیں سوچوں ساتھ اسکے

مرا انگ ایک اٹوٹ بھی گیا۔۔

چارہ گری کے واسطے ………طعنے و تشنے دیئے تھے مجھے ۔۔
ہجوم نے کہا تھا میں ساتھ ہوں تیرے

تنہائی میں پکڑا اسکا جھوٹ بھی گیا

az qalam Hajoom e tanhai

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *