ju ho takhreeb anjaam aisi taameer jahan kiun ho

جو ہو تخریب انجام ایسی تعمیر جہاں کیوں ہو 

نہ لرزے جس سے خود بجلی وہ مرا آشیاں کیوں ہو 

ہم ایک دن خود بہ فیض جذب دل منزل کو جالیں گے

کوئی گم کردہ منزل رهنمایے کارواں کیوں ہو 

زمین کی گردشیں بھی جب مٹا سکتی ہیں انسان کو 

بتا اے خالق کونین دور آسمان کیوں ہو 

ہمیں تم کو بے شک جور کے قابل بنایا ہے 

بجا کہتے ہو پھر شکوہ نہ ہو کچھ لب پہ ہاں کیوں ہو 

خجل ہوں ان خیالوں سے جو لب پر لا نہیں سکتا 

نہ ہو جب ازن گویائی تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو 

کہو ذوق دل آزاری تمہارا خیر سے تو ہے 

شمیم خستہ دل پر آج اتنے مہربان کیوں ہو

از قلم زوار حیدر شمیم

junoon ki raah main mushkil tau koi baat nahi

جنوں کی راہ میں مشکل تو کوئی بات نہیں 
شمیم سخت ہے منزل ہے تو کوئی بات نہیں 


فریب راہبراں سے میں دل گرفتہ ہوں 
وگرنہ دوری منزل تو کوئی بات نہیں 


ہزار شکر فضائے چمن نکھر تو چلی 
ہوا ہے خون مرا دل تو کوئی بات نہیں 


یہ دیکھنا ہے کہ طوفان ہے کتنے پانی میں 
حصول دامن ساحل تو کوئی بات نہیں 


خدا کے بندوں پہ ایمان ہے کس قدر یارو 
فقط خدا  کے ہو قائل تو کوئی بات نہیں 


یہ دیکھ شمع میں کتنے سہاگ جلتے ہیں 
نشاط گرمی محفل تو کوئی بات نہیں 


سلام سختی راہ وفا کے غماذو 
سلامت آرزوّے دل تو کوئی بات نہیں 


از قلم زوار حیدر شمیم

saaf na kahiyay dil ki baat

صاف نہ کہئے دل کی بات 

آپ ہمارے ! جھوٹی بات

دکھ دینا نہیں فخر کی بات 

کہہ  نہ سکے اتنی سی بات 

اپنے پرائے سارے خفا ہیں 

بھولے سے کہہ دی سچی بات 

جھوٹ کہا  کہنے والے نے 

آپ اور اتنی اوچھی بات 

ہم اور آپ کے جور کا چرچہ 

یونہی بات سے نکلی بات 

جی نہ سکے تو مر ہی رہیں گے 

عشق سے توبہ جھوٹی بات 

چھپ رہے تو دل جلتا ہے 

اور جو کہہ کر کھوئی بات 

ہم اور آپ کی دل آزاری 

کہہ گئے لب پر آتی  بات 

ہائے وہ لہجے کی شیرینی 

اپنی جیسی پیاری بات 

کون خوشی سے دل دیتا ہے 

ہوگئی ہونے والی بات 

آس کے دیپک رات کے تارے 

سوز مسلسل آج کی بات 

ہاں تمہیں میرے درد سے نسبت 

جاؤ ، سدھارو ، اچھی بات  

از قلم زوار حیدر شمیم

yeh hajoom e rang o nikhat

یہ ہجوم رنگ و نکہت ، تیرے حسین اشارے 

مری سو آرزوئیں کہیں جاگ اٹھیں نہ پیارے 

ہیں بھری بہار میں بھی ، مری زیست کے سہارے 

وہی بھولی بسری یادیں وہی گمشدہ نظارے 

یہ بہار نور و نغمہ ، وہی ہم ، وہی شب غم 

وہی صبح کا تصور ، وہی ڈوبتے ستارے

ہے نوید موسم گل ترا نغمہ تبسم 

تری نبض کی حرارت مری آہ کے شرارے 

مرے دل کی دھڑکنوں کو ابھی رائیگاں نہ سمجھو 

ابھی ہوش میں ہے شبنم ، ابھی جاگتے ہیں تارے 

ہوئے منتشر جو تارے چنے دامن سحر نے 

جو بکھر گئے ہیں سپنے انھیں کون اب سنوارے 

کہیں ہم تو کون مانے کہ ہیں اپنے قاتلوں میں 

وہی حسن و ناز والے وہی مہرباں ہمارے 

از قلم زوار حیدر شمیم

aankh main ansoo la

آنکھ میں آنسو ،لب پہ تبسم 

آنکھ میں آنسو لب پہ تبسم 

اف وہ ترا انداز تکلم 

کتنا ہی بدلے رنگ زمانہ 

ہم ہوں یہی ہم ، تم بھی یہی تم 

اہ تھی لب تک آتے آتے 

دل میں اٹھی تھی موج تبسم 

دل اور ایسی درد کی دنیا 

ایک قطرے میں اتنا تلاطم

کتنا سہانہ موسم آیا 

مست گھٹائیں دل میں تلاطم 

درد کی ماری کوئل کوکی 

سیکھ لیا غنچوں نے تبسم 

نہر کنارے ہولے ہولے 

اٹھلاتی موجوں کا ترنم 

آؤ شمیم اک نغمہ چھیڑیں 

کس عالم میں کھویے سے ہو تم 

آگئی پھر کی یاد کسی کی 

کیوں بیٹھے ہو چپ چپ گم سم 

از قلم زوار حیدر شمیم

mumkin nahi taskeen ay hamdam dil rota hay ro lenay de

ممکن نہیں تسکین اے ہمدم دل روتا ہے رولینے دے

میں زیست کا حاصل کھو ہی چکا اس زیست کو بھی کھو لینے دے

جب درد ہی دل کو بھایا ہو پھر چارہ گری سے کیا حاصل

برباد میں ہوتا جاتا ہوں برباد مجھے ہو لینے دے

وہ احد تمنا ختم ہوا ، یادوں کا سہارا باقی ہے 

اس وادی رنگین میں دل ایک لمحہ سہی کھو لینے دے

دساز ستارے تھک بھی چلے آنکھوں میں اتنی رات کٹی 

اے درد مسلسل تھم بھی سہی کچھ دیر ذرا سولینے دے 

از قلم زوار حیدر شمیم

woh tabasum yaad aaya ro diye

وہ تبسم یاد آیا رودیے

کوئی غنچہ مسکرایا رو دیے

ذہن میں لہرا گئیں  زلفیں تیری 

ابر جب گھر گھر کے آیا رودیے

جسے اپنے غم کا نغمہ مل گیا 

گیت یوں مطرب نے گیا رودیے

درد سا دل میں اٹھا آنکھیں بھر آییں

یاد نے تیری رلایا رو دیے 

شغل یہ ہے فصل گل میں شمیم 

آنکھہ پھڑکی دل بھر آیا رودیے

از قلم زوار حیدر شمیم

phir shagoofay phoot nikle toot ker aaai bahar

حور غم خواری کا جنت دل بہل جانے کا نام

خلد تخیل خرد منداں ہے میے خانے کا نام

ساقیا میے ، رقص اے رندو ترنم مطربو

محتسب کے لب پہ آج آیا ہے پیمانے کا نام

فتنہ ہائے ہوش کا ردعمل دیوانہ پن 

مفت میں بدنام کر رکھا ہے دیوانے کا نام

پھر شگوفے  پھوٹ نکلے ٹوٹ کر آئیی بہار

پھر لیا ہے آپ نے اپنے دیوانے کا نام 

مجھ پہ گزرا ہے کچھ  ایسا عالم تشنہ لبی 

چبھ سا جاتا ہے مرے ہونٹوں میں پیمانے کا نام

میے پیام امن میخانہ بنا دارالسلام 

محتسب کے نام پر رکھا ہے میخانے کا نام

چاک دامان خیر سے چاک جگر سے آملا

یوں  بہارستان ٹھہرا مرے ویرا نے کا نام

داغہائے سینہ پھر لو دے اٹھے ہیں شمیم 

شاعری ٹھہرا جگر کی آگ بھڑکانے کا نام 

از قلم زوار حیدر شمیم

bala say ghair lia andheron bagolon nay

بلا سے گھیر لیا اندھیروں بگولوں نے

مرے جنوں کو ہوا دی ہے چند پھولوں نے

خراب حال ہو تم بھی ، مگر نصیبوں سے

مجھے تو دن یہ دکھایا میرے اصولوں نے

بہار رنگ سمن زار ہے مری منزل

یہ بات الگ ہے کہ الجھا لیا ببولوں نے

بکھر گئی ہیں کیوں یونہی اتنی پنکھڑیاں

بھری بہار کو طعنہ دیا ہے پھولوں نے

چمن تلک تھی سب اہل چمن کی دلداریاں

قفس میں اس بندھائی ہے کچھ بگولوں نے

ہزار اصول ہوئے جذب شوق پر صدقے

ہزار نام دیے شوق کو اصولوں نے

وفا سے مضحکہ اہل جور بھی دیکھا

وفا کے نغمہ سراؤں نے دل ملولوں نے

از قلم زوار حیدر شمیم

niyat ho doobnay ki tau imkaan nayay nayay

نیت ہو ڈوبنے کی ، تو امکان نئے نئے 

اٹھتے ہیں ساحلوں سے بھی طوفان نئے نئے 

وحشت نئی نئی ، کبھی ارماں نئے نئے 

دل ہے تو دل بہلنے کے ساماں نئے نئے 

پیمانے ریزہ ریزہ ، خرابے کھنڈر کھنڈر 

اب ہیں بھری بہار کے عنوان نئے نئے 

ہاں یہ مقام ہے کہ چلیں چارہ گر کے پاس

دل ڈھونڈتا ہے درد کے ساماں نئے نئے 

غیروں کی دشمنی ہے بڑی عامیانہ چیز 

میری خرابیوں کے ہیں عنوان نئے نئے 

پینے کے بعد حضرت واعظ کا زور نطق

جسے ہوئے ہیں آج مسلمان نئے نئے 

ایک ترک  عشق پر ہی نہیں داستاں تمام  

دل ہے تو ٹوٹنے کے بھی امکان نئے نئے 

پھولوں کا شوق اور خار و شرار و برق 

ہمراہ درد آئے ہیں درماں نئے نئے

مستی بھری گھٹا نہ سہی ابر غم سہی

ارماں بہ خیر زیست کے ساماں نئے نئے 

آوارہ نکہتیں کبھی پابند خوش نوا 

کھلتے ہیں گل بنام بہاراں نئے نئے 

دشمن کا دل جلے کہ ہمارا لہو شمیم 

ہم ہیں تو روشنی کے بھی ساماں نئے نئے 

از قلم زوار حیدر شمیم