اچانک سے لڑکی کے اپنے ایجاد کردہ فون پہ روشنی جگمگائی، اس نے دیکھا تو اس کے مریخ والے کزن کا میسج تھا، دل میں یکایک ایک انجانی خوشی و مسرت کا احساس ابھرا، اس نے میسج دیکھا “چاند سے پیاری لڑکی کو جشنِ آزادی مبارک”، میسج پڑھ وہ بے اختیار مسکرا اٹھی، اس کے مسکرانے سے ہونٹوں کے درمیان سے اس کے دانتوں کی جھلک نظر آئی، اس جھلک سے اس قدر روشنی پھوٹی کہ یکدم سے اس روشنی سے پورا گاوں جگمگا اٹھا، گاوں کے لوگ سمجھ گئے کہ “جہنمیلا ” مسکرا رہی ہے،
اس نے موبائل جونہی رکھا تو بیٹری لو کی وارننگ آئی، “افففوہ گاوں کا ٹرانسفارمر تو پچھلے چھ دن سے خراب ہے، اب کل چودہ اگست ہے، کس طرح ہوگا سب کچھ”، وہ بہت حساس مزاج کی مالکہ تھی اسے خود سے زیادہ دوسروں کی فکر رہتی تھی، اسی کشمکش میں وہ جمپ لگا کر اٹھی اور بجلی کے مخملی پول پر چڑھ گئی۔ دو گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد اس نے ٹرانسفارمر ٹھیک کر دیا۔ گاوں کی بجلی بحال ہوگئی اس نے گھر آکر شکرانے کے طور پہ 20 منٹ میں 200نفل ادا کئے۔۔ پھر جاکر اس نے اپنا موبائل چارجنگ پہ لگایا، جب تک موبائل چارج ہوتا اس نے سب بہن بھائیوں اور اپنے ابا کے ہرے اور سفید کپڑے سلائی کیے، ۔ اس کی لمبی لمبی مخروطی انگلیوں پہ سلائی جچتی بھی بہت تھی، جونہی سب کے کپڑے اور گاؤں کے ہر گھر کی چھت پہ لہرانے کے لئے جھنڈے سلائی کرکے فارغ ہوئی تو اسے یاد آیا کہ اسے ابا کے سنگ مرمر جیسی ٹنڈ پر مہندی بھی لگانی ہے 😄وہ ایک چھلانگ لگاکر دوڑی اور گاؤں کے پیچھے جنگل سے مہندی کے پتے توڑ کے لائی پتے پراسس سے گُذار کے مہندی تیار کی اور پندرہ منٹ کے اندر پہلے اس نے اپنے ہاتھوں پہ مہندی لگائی، ابا کی ٹنڈ رنگی اور مہندی لگا نے کے بعد اس نے اپنے چھوٹے بھائیوں کے بال کاٹے، وہ پارٹ ٹائم موچی جو تھی، اتنی دیر میں موبائل بھی چارج ہوچکا تھا، اس نے میسج کمپوز میں اپنے مریخ والے کزن کا نمبر لگایا، نمبر دیکھتے ہی اس کے رخساروں پہ حیا کی سرخی دوڑ گئی، میسج کمپوز کرتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔ پھیپھڑے پھولنے لگے۔۔۔، اس نے اپنے کزن کو “خالی میسج” کیا کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ پاکیزہ جذبات کے اظہار میں الفاظ کی کھرچن ضروری نہیں ہوتی۔۔۔۔ اور اسی لئے اپنے مہندی لگے ہاتھوں کی جگہ ابا کی مہندی لگی ٹنڈ کی تصویر کزن کو روانہ کردی کیونکہ کے اسے کامل یقین تھا کہ اسکا دیوانہ اسکے ہاتھوں کی چُمی لیکر اسکی پاکیزہ محبت کو ناپاک کرنے کی کوشش ضرور کریگا جاری ہے۔۔۔۔۔۔
تھوڑا اٹک کر سہی اس نے ہنگل میں پوچھا تھا۔ علی کی مسکراہٹ گہری ہوگئ۔
چھٹیاں گزارنے آیا ہوں۔
ہاں ظاہر ہے۔ اریزہ کھسیائی۔ احمقانہ سوال تھا۔
اس نے فون بند کردیا تھا۔
کھانا کھاچکی ہو؟
وہ اپنے لیئے کھانا لیکر آیا تھا اخلاقا پوچھا۔ وہ سوچ میں پڑگئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریستوران کے اوپر بنے کمروں میں سے ایک میں وہ رہ رہا تھا۔ راستہ ریستوران کے ایک کونے سے اوپر کو جاتا تھا۔ اس نے چابی سے تالہ کھولا اور لائٹ جلا دی۔ ریستوران اس وقت خالئ پڑا ہوا تھا۔ سب سے پہلی قریبی میز پر اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے وہ خود اندر سے پلیٹیں چمچ لیکر آیا تھا۔
اسے کورین بلیک بین نوڈلز کہتے ہیں۔ یہ عموما حلال نہیں ہوتی کیونکہ اس کے ساس میں بھنا ہوا سور شامل ہوتا ہے لیکن میں یہاں قریبئ ڈھابے میں جا کر خود اپنے لیے بنا کر لایا ہوں۔
وہ بات برائے بات بتا رہا تھا۔
اس نے سر ہلا دیا۔ اچھی خاصی مقدار میں کھانا تھا۔اس نے تھوڑا سا اپنی پلیٹ میں نکال لیا۔
کبھئ لال لوبیے کا سالن نوڈلز کے ساتھ نہیں کھایا تھا ہاں چاول کے ساتھ اکثر امی بناتی تھیں خاصا مزے کا بناتئ تھیں۔
وہ بہت مہارت سے چاپ اسٹکس کا استعمال کر رہا تھا۔ وہ کانٹے میں نوڈلز پروتی تو لوبیا بھاگ جاتا۔
اسکی جد و جہد کو دیکھتے علی کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ در آئی تھی۔ جسے وہ خوبی سے چھپا گیا۔
میں نہیں کھا سکتی۔ اس نے پلیٹ پرے کردی۔
مجھے خود سے گھن آرہی ہے۔
اسکی شکل پر حقیقتا بے چارگئ تھئ۔
تم اتنا محسوس کیوں کر رہی ہو؟ تم نے جان بوجھ کر تو نہیں کھایا۔ غلطی ہو جاتی ہے۔اسی وقت الٹی کرلیتیں۔ اتنا وہم ہو رہا تھا تو
علی نے سبھائو سے کہا تو وہ شرمندہ لہجے میں بولی
مجھے خیال نہیں آیا۔ میں نے خود کو یہی سمجھایا غلطی ہوگئ بھوک میں تو مردار بھی حلال ہوجاتا مگر مجھے الٹی کر لینی چاہیئے تھی۔ وہ مایوس نظر آرہی تھی۔ پھر خیال آیا تو جوش سے بولی
اب کرلوں؟
کھانا کھائے کتنا وقت ہوگیا؟
علی سنجیدگئ سے پوچھ رہا تھا۔
دو تین گھنٹے ہوگئے۔
اس نے اندازا سامنے وال کلاک کو دیکھتے بتایا اس وقت رات کے سوا بارہ ہو رہے تھے۔
اسکے چہرے کو دیکھتےعلی کو شرارت سوجھئ۔ چاپ اسٹکس رکھ کر تاسف سے سر ہلاتے بولا۔
کھانا تین گھنٹے میں ہضم ہو جاتا ہے۔ اب تو سور کے اجزاء تمہارے خون تک جا چکے ہوں گے۔ ہر آرگن تک توانائی پہنچ چکی ہوگی۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔
اریزہ کا رنگ واضح طور پر اڑا تھا۔ آنکھوں میں پانی در آیا۔
ہیں ۔۔ یعنئ سور میرے خون میں بھی سرائیت کرچکا ہوگا اب تک؟مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ۔
اس نے میز پر کہنیاں ٹکا کر ہتھیلیوں میں چہرہ چھپا لیا شائد رونے ہی والی تھئ۔ علی بھونچکا سا اسکو دیکھتا رہ گیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے اسکے گرد کا منظر بدلتا گیا۔ گائوں کے عام سے فرنیچر والے معمولی ریستوران کی جگہ سیول کے ایک لگژری ہوٹل نے لے تھی۔ اسکے مقابل اب اریزہ کی جگہ رچل نے لے لی تھی دھیمے بجتے پیانو خوابناک ماحول رچل کا پسندیدہ پاستا اور اسٹیک سامنے سجا تھا جب اس نے ہلکا سا گلا کھنکارا تھا اور اسے کہا تھا۔
رچل ہمارے ساتھ کو پانچ سال مکمل ہوگئے ہیں میں اب یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ میں مزید اب اس طرح تمہارے ساتھ تعلق نہیں نبھا سکتا۔ معزرت رچل۔
رچل کے ہاتھ سے کانٹا چھوٹ کر پلیٹ پر جا گرا تھا۔ اسکی چندی آدھے چاند جیسی آنکھوں میں حیرت امڈ آئی تھی۔
علی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
اتنا عرصہ میرا خیال ہے کافی تھا ہم دونوں کیلئے گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بن کے رہنے کے لیئے ہمیں اب اس رشتے کو سلیقے سے ختم کردینا چاہیئے۔ اور۔
اور۔ رچل کی آواز جیسے کسی کنوئیں سے آئی تھی۔ اسکے چہرے پر زلزلے سی کیفیت تھی۔
علی اٹھ کر اسکے مقابل آگیا تھا۔
رچل کے چہرے سے جیسے کسی نے سب توانائیاں نچوڑ لی تھیں۔
علی کے چہرے کی سنجیدگی اسے معاملے کی سنگینئ محسوس کرا رہی تھی۔
علی اسکے قریب آکر گھٹنے کے بل جھکا تھا
اور ہمیں اب ایک مستحکم رشتے کی بنیاد رکھنی چاہیئے۔ مجھ سے شادی کروگی رچل؟
جیب سے انگوٹھئ نکال کر اسکی جانب بڑھاتے اس نے ڈرامائی انداز سے کہا تھا۔ اسکی آنکھوں میں اب شرارت مچل رہی تھی لبوں پر مسکان دبی تھی۔
رچل اتنی حیران ہوئی تھی کہ ہاتھ بڑھانے کی بجائے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی رہی۔
رچل۔
اسے پکارنا پڑا۔
رچل کو جیسے ہوش آیا۔ کتنے سارے آنسو اسکے چہرے پر پھیلتے چلے گئے۔ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر بلک اٹھئ تھی۔
علی کو لگا تھا ذیادہ سے زیادہ غصہ ہوگی اس شرارت پر مگر اسکا ردعمل اتنا شدید تھا وہ گھبرا کے اٹھ کھڑا ہوا
رچل ۔
اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہ اسے مخاطب کر رہا تھا مگر وہ یونہی دھواں دھار روتی رہی
اسکا سرپرائز اسکے گلے پڑ گیا تھا ریستوران میں موجود سب لوگ اسکو دیکھ رہے تھے وہ کھسیانا سا ہو کر سب سے اشارے میں جھک کے معزرت کرنے لگا۔
روتے روتے اس نے خود ہی اپنی آنکھیں پونچھیں۔ پھر ذرا سا نگاہ اٹھا کے اسے دیکھ کر بولی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ پہلے سور کھاتے تھے؟
اس نے ہنگل میں سوال کیا تھا۔ علی کیلئے اسکا سوال غیر متوقع تھا۔وہ چونک کے حال میں واپس آیا تھا۔ اریزہ سنجیدگی سے اس سے پوچھ رہی تھی۔دونوں ہاتھ میز پر ٹکائے وہ تاسف بھرے تاثرات چہرے پر سجائے یقینا اپنا دھیان بٹانے کو پوچھ رہی تھی۔
ہاں۔ اس نے مختصرا جواب دیاحسب توقع اگلا سوال اسی سے پیوستہ تھا۔
آپکو سور کا گوشت پسند تھا؟ وہ غور سے اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔
ہاں۔۔ اس نے حیرت سے اسکو دیکھا جیسے اس سوال کا مقصد سمجھ نہ آیا ہو
آپکا دل نہیں کرتا اسے دوبارہ کھانے کا؟
اس کے سوال پر اسے ہنسی آگئ تھئ۔ مگر اسکی سنجیدگی دیکھ کر وہ باقائدہ چاپ اسٹکس رکھ کر نپا تلا جواب دینے لگا
اچھا سوال ہے۔ مگر میں بہت سے ایسے کام جو پہلے کرتا تھا اب نہیں کرتا انسان ہوں دھیان جاتا ہے مگر مجھے خود پر قابو رکھنا ہے ۔جب اسلام کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا تو سب سے ذیادہ جس چیز نے متاثر کیا تھا مجھے وہ یہی تھی کہ اسلام آپکو ہر چیز میں ایک حد مقرر کرکے دیتا ہے۔ جس سے باہر نہیں نکلنا۔ خود پر قابو رکھنا ہے اور یقین کرو ان حدوں سے باہر بالکل بھی لطف نہیں بلکہ آپ جب یہ سوچتے ہیں کہ آپکو کبھی کسی معاملے پر رکنا نہیں ہے وہاں سے آپ ہر حد پار کرکے بھی غیر مطمئن ہی رہتے ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں
pleasure seekers always seek pleasure contentment is not for them۔
اس نے کندھے اچکا کر کہا تھا۔ اسکی باتیں دل چھو سی گئی تھیں۔
آپکو روکنا پڑتا ہے خود کو آپکو رکنا ہی پڑتا ہے۔
وہ بےخیالی میں بڑبڑا اٹھئ
وہ اس ایک خیال پر شرمندہ ہو رہی تھی جب یہ معلوم ہو جانے کے بعد بھی وہ متذبذب سی اپنا پیٹ بھر لینا چاہتی تھی کہ کیا ہوا سور ہے بھوک بھی تو بہت ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے دس بج رہے تھے جب اس نے پولیس اسٹیشن میں اپنا بیان رکارڈ کروایا تھا۔ فوری طور پر سیموئیل صاحب کو اطلاع دی گئ تھی اور وہ آدھے گھنٹے کے اندر موجود تھے پولیس اسٹیشن میں۔
کہاں ہے میری بیٹئ۔
پولیس افسر سے انہوں نے بے تابی سے پوچھا تھا ۔
سنتھیا کو انہوں نے کمرے میں بٹھا رکھا تھا ایک پولیس افسر اس سے ہر طرح کا بیان لے چکا تھا اب یقینا اسے باپ سے ملنے کی اجازت تھی۔
پولیس افسر نے جیسے ہی دروازہ کھولا وہ حواس باختہ سے سنتھیا کی جانب بڑھے
سنتھیا؟ تم ٹھیک ہو؟ کہاں تھیں بیٹا۔
اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیکر وہ بے حد فکر مند سے پوچھ رہے تھے۔
پاپا۔ وہ انکا ہاتھ چومتے وہ بلک اٹھی تھی۔ انکے سینے سے لگ کر اس نے سب آنسو بہا ڈالے تھے۔
چٹاخ۔۔
اتنئ زور کا تھپڑ تھا کہ اسکا پورا چہرہ گھوم گیا تھا۔ وہ ایک جھٹکے میں حقیقت کی دنیا میں واپس لا پٹخی گئ تھئ۔
ایک کے بعد دوسرا۔ وہ پہلے جھٹکے سے سنبھلی نہ تھی۔ اسکے برابر ہی بیٹھے کم سن نے اسکو فورا سنبھالا تھا۔ دوسرا تھپڑ بھی پہلے کے ساتھ تھا
تیسرا اس نے ایکدم خود آگے آکر اسے بچاتے خود اپنے کندھے پر کھایا تھا۔ چوتھا پانچواں۔ پولیس افسر نے سیموئل صاحب کو زبردستی پکڑ کر پیچھے کیا تھا۔ وہ چلا رہے تھے اپنی زبان میں۔ برا بھلا کہہ رہے تھے۔ کم سن اور وہ پولیس افسر انکی زبان سے بے بہرہ تھے مگر سنتھیا کے دل میں انکا لفظ لفظ ترازو ہو رہا تھا۔ وہ اتنی ششدر تھئ کہ گال پر ہاتھ تک نہ رکھ سکی بس حیرت سے اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی جس نے کبھی بچپن میں کبھی ہاتھ اٹھانا تو دور جھڑکا تک نہ تھا۔
ٹوں ں ۔۔
اسکا ذہن سائیں سائیں کر رہا تھا
پہلے کیا کیا کہا اسے اسکا ذہن یاد کرنےسے قاصر تھا۔۔ وہ ابھی بھئ چپ نہ ہوئے تھے
اپنی مرضی سے روپوش تھئ یہ کہا ہے تم نے پولیس کو؟ ایڈون کا کوئی قصور نہیں؟ پھر کس کا قصو رہے ہمارا تمہارے ماں باپ کا جنہوں نے تم جیسی اولاد پیدا کی؟
وہ چیختے چیختے بے حال ہو رہے تھے۔
پہلے کم ہماری ناک کٹوائی تھی تم نے؟ اس بد ذات ایڈون کو کیا کہوں میں جب میری بیٹی ہی ایسی ہے۔
وہ سر پر ہاتھ رکھ کر روپڑے تھے۔ پولیس افسر نے انہیں سہارا دے کر کرسی پر بٹھا دیا تھا۔مترجم سے اشارے سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے اس نے سر جھکا لیا۔اب ان باتوں کے کیا ترجمے کیئے جاتے۔
کین چھنا۔ کم سن اسکو کندھوں سے تھامے جھنجھوڑ رہا تھا وہ سکتے کی سی کیفیت میں بیٹھئ زمین تک رہی تھی۔
ہر برا خیال آیا مجھے کہیں اس نے مار تو نہیں دیا کاش مار دیا ہوتا اس رزیل نے میں اسے کوس تو سکتا تھا۔ کاش تو مرجاتی سنتھیا۔
وہ میز پر دونوں کہنیاں ٹکائے سر پکڑے رو رہے تھے۔
اریزہ کے باپ کو کیا کچھ نہیں کہا اس نے کس یقین سے کہا تھا میری بیٹی کبھی کچھ غلط نہیں کر سکتی۔غرور تھا اسے اپنی بیٹی پر میں نہیں کہہ سکتا ایسے میری بیٹی اسکی بیٹی جیسی نہیں ہے۔
وہ سر پیٹ رہے تھے ۔ انکے ساتھ آیا مترجم انکو پانی دے رہا تھا۔ انکا فشار خون اس وقت بلند ہو چکا تھا
سنتھیا کا سانولا چہرہ پہلے سرخ اب سیاہ پڑ چکا تھا۔ کم سن اسکے لیئے پانی لیکر آیا تھا۔ وہ خالی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
ہم قانونی کاروائی مکمل کر لیتے ہیں۔ سیموئل صاحب کا وکیل پراسیکیوٹر کے ہمراہ داخل ہوا تھا۔دونوں نے کئی کاغذات میز پر پھیلا دیئے تھے۔
ہنگل اور اردو میں ہونے والی اس گفتگو کو وہ سن تو رہی تھی مگر ذہن سمجھنے سے قاصر تھا۔
یہ کیا کہہ رہے ہیں کم سن۔
کم سن کی کلائی اپنی کمزور مٹھی میں جکڑ کر وہ پوچھ رہی تھی
یہ کہہ رہے ہیں تم کو فورا سے پیشتر واپس بھجوادیا جائے گا۔
سنتھیا کو ایمبیسیڈر گاڑی میں اسکے والد کے ساتھ بٹھایا گیا تھا۔ آدھے پونے گھنٹے کی کاغذی کاروائئ کے بعد انہوں نے بہت جلدی معاملات طے کیئے تھے۔ اسکی اب یہاں کوئی ضرورت نہیں تھی پھر بھی وہ سنتھیا کے ساتھ کھڑا رہا تھا۔ سنتھیا کے والد نے ناگواری کے اظہار کے طور پر اسے گھورا بھی تھا مگر وہ گیا نہیں۔ وہ الجھے اتنے تھے کہ انہوں نے اسے وہاں سے باہر نکلوانے میں دلچسپی بھی نہیں لی۔ بہر حال رات کے بارہ بجے وہ بالکل فارغ تھا۔ اب یا تو گھر جاتا یا ۔۔ وہ ڈھیلے ڈھیلے قدم اٹھاتا گاڑی کی طرف بڑھتا سوچ رہا تھا۔ سنتھیا کا سوجا چہرہ اسکی نگاہوں سے ہٹ نہیں رہا تھا۔گاڑی اسٹارٹ کرکے مین روڈ تک آتے وہ بہت بوجھل سا محسوس کر رہا تھا۔
اسے بس اتنا سمجھ آیا تھا کہ وہ اسکے بیان پر غصے میں آئے تھے۔ مگر اتنا غصہ۔
وہ سر جھٹکتا پھر اسی کی طرف خیال جاتا۔
بہر حال وہ اسکے باپ ہیں۔ مارا غصے میں ہوگا مگر اب وہ اپنوں کے ہاتھوں میں ہے یقینا اسکا خیال بہتر رکھیں گے۔
وہ خود کو سمجھا رہا تھا۔
کل کال کرکے پوچھوں گا کب جارہی ہے پاکستان۔
اس نے ارادہ کیا تو خیال آیا۔اس کے پاس سنتھیا کا کوئی رابطہ نمبر اب نہیں تھا۔
اس نے سر جھٹکا۔ اب رابطہ کرنے کی ضرورت بھئ نہیں تھی۔ اس نے دوست نہ ہوتے ہوئے بھی جہاں تک جتنی مدد کر سکتا تھا کردی تھی ۔
اس نے اطمینان کی سانس لی۔
یونہی سر گھما کر اپنے برابر خالی نشست کو دیکھا۔ جانے کیا ہوا آگے سے گاڑی یو ٹرن کی طرف موڑ لی تھی۔ پولیس اسٹیشن سے نکلتے اس بار وہ اتنا بے چین سا دکھائی نہیں دے رہا تھا
صبح اسکی بازو سن ہونے سے آنکھ کھلی تھی۔وہ چت پڑا تھا اسکےکندھے پر گھنے بالوں والا سر تھا۔اس نے پہلے تو پلکیں جھپک کر جگہ پہچاننی چاہی۔ مانوس تھئ۔ پھر اپنے شل کندھے کو ہلانا چاہا ۔
اونہوں۔ کم سن کسمساکر مزید اس سے چمٹ گیا۔۔
کم سن۔ اٹھو۔
اس نے کندھا ہلایا وہ ٹس سے مس نہ ہوا
دو تین بار ہلانے پر جاگ کر بھی ڈھٹائی سے پڑا رہا تو اسے قومئ زبان استعمال کرنی پڑی
کمسانا۔ اٹھ۔۔ میرا بازو شل ہو چکا ہے کیہہ سیکی اٹھا جائو اب
اس نے اپنی ساری توانائی لگا کر بمشکل اسے دھکیلا اور بیٹھ کر اپنا کندھا سہلانے لگا۔
اسی کیہہ سیکی سے رات بھر ایسے لپٹ کر سوئے ہو جیسے میں تمہارا یوجا شنگو( گرل فرینڈ) ہوں ۔
کم سن انگڑائی لیکر بیدار ہوتے اسے چھیڑنے لگا۔
میرے بالوں پر ہاتھ پھیر رہے تھے کیا سمجھ رہے تھے مجھے اریزہ؟
اس نے شوخی سے چھیڑا
ہیون کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ در آئی
نہیں اتنا خوش فہم میں نہیں۔خواب بھی ایسا نہیں آتا مجھے۔
اب کیسی ہے طبیعت؟
کم سن نے اسے سنجیدہ ہوتے دیکھ کر موضوع بدلا
کیا ہوا تھا مجھے؟
وہ الٹا اس سے پوچھنے لگا
پی کے تیراکیاں کر رہے تھے فل پارٹی موڈ اون تھا تمہارا پھر جو بخار چڑھا ہے تمہیں۔ صبح کے وقت کہیں جا کر کم ہوا تھا۔تولیا رکھتا رہا ہوں میں رات بھر۔
اس نے بیڈ کے پیتھیانے پڑی باتھ ٹاول کی جانب اشارہ کیا۔ فل سائز باتھ ٹاول تھی جسکو اتنا بھگویا گیا تھا کہ اب وہاں سے بیڈ گیلا بھی ہو رہا تھا۔
ہیون اسے گھور کر رہ گیا۔
شکریہ ۔ اس نے طنزیہ ہی کہا تھا۔ پھر انٹرکام پر صاف تولیئے لانے کا اور ناشتے کا انتظام کرنے کا کہہ کر نہانے گھس گیا۔
نہا کر نکلا تب بھی کم سن بیڈ پر چت لیٹا سوچوں میں گم تھا
کیا سوچ رہے ہو؟
اس نے یونہی پوچھا تھا۔ باتھ گائون پہنے وہ بال جھٹک رہا تھا۔ تبھئ روم سروس پر معمور دو ویٹر اسکی ہدایات کے مطابق صاف تولیئے اور ناشتہ لیکر داخل ہوئے۔
تولیہ لیکر سر جھٹکتے وہ مستقل کم سن کو دیکھ رہا تھا جو ڈھیلے ڈھالے انداز میں اٹھ کر بیٹھا تھا۔ ہیون نے ٹرالی بیڈ کے قریب کی تو اس نے بے دلی سے ایک سلائس اٹھا کر اس پر جیم لگانا شروع کردیا۔
تمہیں کیا ہوا ہے؟ ہیون نے حیرت سے ہلایا اسے۔
میری نگاہوں سے سنتھیا کا چہرہ نہیں ہٹ رہا۔
اس نے مختصرا کہا
کون سنتھیا؟ ہیون نے ذہن پر زور ڈالا
اور کیوں نہیں ہٹ رہا اسکا چہرہ۔؟ وہ اپنے لیئے سلائس اٹھانے لگا تو کم سن نے ٹھںڈی سانس بھرتے سلائس کا بڑا سا لقمہ لیتے اعتراف کیا
مجھے پیار ہو گیا ہے سنتھیا سے۔
کون سنتھیا۔ اب تو ہیون کو دماغ کے گھوڑے دوڑانے پڑے۔اور وہ دوڑتے دوڑتے جہاں رکے وہیں ہیون کے ہاتھ سے سلائس چھوٹ کر ٹرالی پر جا گرا۔
وہ اریزہ کی دوست؟ وہ اچھل پڑا۔
کم سن نے اثبات میں سر ہلایا۔اور باقی ماندہ سلائس بھئ نگل لیا۔
ہیون نے سر تھام لیا۔
یک نہ شد دو شد۔
یہ کیا ماجرا ہے؟ وہ اب اس سے سب اگلوائے بنا رہنے والا نہیں تھا سچ تو یہ ہے کم سن بھی دل ہلکا کردینا چاہتا تھا۔
گوارا کی دفعہ تو تم چھوٹے تھے مجھے بھی لگتا تھا یون بن اور گوارا کا ساتھ بس سال دو سال پر ہی محیط ہوگا۔تو تمہارا چانس بن سکتا تھا مگر دوبارہ بھئ ایسی لڑکی پر ہی دل آیا ہے جو اپنا دل کسی اور کو دے چکی ہے یہ تمہاری منحوسیت ہے یا تم ہو ہی دوسروں کی چیزوں پر نیت لگانے والے انسان۔
گاڑی ڈرائیو کرتے ہیون اسکا صریحا مزاق اڑا رہا تھا۔ہیون کے کہنے پر اس نے بلا تکلف گردن پر لگائی تھی۔
سوچ کے بولو ۔ میں کبھی بھی آوارہ مزاج لڑکا نہیں رہا۔
کم سن نے یاد دلایا
تو منحوس ہو یعنئ۔ ہیون نے سمجھ کر سر ہلایا
تم سے کم منحوس ہوں میں۔ چلو ناکام سہی دوسری بار کوشش کر رہا ہوں تم تو کوشش کیئے بنا ہار مانے ہوئے ہو۔
کم سن نے اسے جوش دلانا چاہا۔
ہیون نے سر جھٹکا۔
جتنا سخت انداز اور سخت الفاظ میں اریزہ اسے وہ سب کچھ کہہ رہی تھی وہ دن بلکہ وہ رات کا وقت وہ یاد بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
کیا کوشش کروں ؟ لیس ہوجائوں اسکے آگے پیچھے پھروں اسکی ناک میں دم کردوں ؟ تاکہ وہ مجھے پیونتی ( ٹھرکی) ثابت کرکے پولیس میں پکڑوا دے۔
ہیون کا انداز بظاہر ہلکا پھلکا تھا
مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ وہ لڑکی تمہیں انکار کیوں کر رہی ہے۔ سچ پوچھو ہم سب کو لگتا تھا تم دونوں کپل ہو اور بس کسی دن ہم سب کے سامنے اعتراف کرلوگے۔
ہیون اسکی بات پر کیا کہتا۔ کتنے لمحے اسکی نگاہوں کے سامنے گزر گئے جب اسے لگا تھا کہ اریزہ بھی اسکی قدر کرتی ہے اسے پسند کرتی ہے مگر اریزہ کے ۔۔
دیکھ کر۔۔
کم سن نے چیخ کر کہا تو جیسے اسے ہوش آیا۔ وہ بے دھیانی میں سرخ اشارے کو پار کرنے چلا تھا جھٹ بریک لگائی۔
یون بن کہاں ہے؟ یہ ڈرائیور ڈیوٹی ہم کیوں کر رہے ہیں؟
ایڈون سے انکی ملاقات کمرے میں کروائئ گئ تھی۔ اسکے ہاتھوں میں ہتھکڑی ابھی بھی تھی
باقائدہ ضمانت اور دیگر قانونی کاروائی تک یون بن انکے وکیل کے ساتھ لگا رہا تھا۔
ایڈون نے جن نظروں سے ماموں کو دیکھا تھا وہ نظر چرا گئے۔
کیسے ہو بیٹا؟
انکے سوال کا جواب وہ مجسم خود تھا جبھی اس نے جواب نہیں دیا آکر کرسی پر بیٹھ گیا تھا
پولیس افسر اسکو بٹھا کر خود باہر نکل گیا تھا
سنتھیا کے دل کو دھکا سا لگا۔ اسکی آنکھوں کے گرد حلقے نمایاں تھے رنگت سیاہی مایل ہورہی تھی وہ پہلے سے کافی کمزور دکھائی دے رہا تھا۔ آنکھوں میں رت جگوں کی سرخی چہرے کی پریشانی سب چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ مجرم وہ ہے۔ اس نے سر جھکا لیا۔
میں ذرا بات کرکے آتاہوں کتنی دیر ہے۔
سیموئل قصدا ان دونوں کو بات کرنے کا موقع دے کر اٹھ کر چلے گئے۔
ایڈون۔ اس نے ہمت کرکے پکارا۔ ایڈون نے اسکے چہرے پر نظریں جما لیں۔
خوش ہو مجھے دیکھ کر؟ یا مزید کوئی چرکے لگے دیکھنے کی خواہش ہے تمہیں؟
وہ زہر خند لہجے میں بولا تھا۔ سنتھیا نے سر جھکا لیا۔
تمہارا باپ مجھے قاتل تک بنا چکا تھا ، سگا بھانجا ہوں میں وہ یہ رشتہ تک بھلا کر میرے ماں باپ تک کو جانے کیا کچھ کہہ چکے ہیں۔ کہ اسپتال میں پڑی ہے ماں میری اور میں یہاں۔۔
اس نے بے بسی سے اپنے ہتھکڑیوں میں جکڑے ہاتھ میز پر مارے۔ سنتھیا کی آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے تھے۔
مجھے نہیں پتہ تھا کہ۔
اس نے صفائی دینی چاہی مگر وہ مزید طیش میں آگیا
کیا نہیں پتہ تھا؟ وہ چلایا نہیں تھا چلانے جتنی توانائی تک باقی نہ تھئ اس میں مگر اسکے لہجے کی سختی گھٹی گھٹی سی آواز سنتھیا کا دل سہمائے دے رہی تھی۔
کیوں کیا تم نے ایسا؟ کیا ملا مجھے برباد کرکے؟ پچھلے پندرہ بیس دن سے میں نہ میں کام پر گیا ہوں نہ اکیڈمی یہاں سے چھوٹ بھی جائوں تو گوشی وون کا کرایہ ڈیو ہے وہ نکال چکے ہوں گے مجھے۔ سڑک پر لا کھڑا کیا ہے تم نے مجھے۔ کوئی اندازہ ہے تمہیں؟ میری بہنیں میری ماں کس اذیت سے گزر رہی ہیں؟ میں نے تو کچھ نہیں بتایا تھا انہیں تمہارے باپ نے دھمکیاں دی تھیں یہ تک کہا کہ میں نے یقینا تمہاری جان لے لی ہے میری ماں کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ڈیم اٹ۔
اسکی آواز پھٹی پھٹی سی تھی۔ جزبات کی شدت سے کانپ رہا تھا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے وہ خود بے خبر تھا۔
مجھے معاف کردو۔
سنتھیا بلک اٹھئ ۔ ہچکیاں لیتے ہوئے صفائی دینے لگی
میں نے صرف اتنا سوچا تھا کہ کچھ دن تم سے دور رہوں گی تو ت۔۔تم شائد۔۔۔۔۔ میری۔۔۔۔۔
وہ جملہ پورا نہ کرسکی۔
کچھ دن دور رہوگی تو وقت گزر جائے گا
اسکا جملہ اچک کر وہ استہزائیہ انداز میں سر جھٹک کر بولا
پھر ابارشن نہیں کروانا پڑے گا۔
اچھا منصوبہ بنایا تم نے مبارک ہوتمہیں۔ تم کامیاب رہیں۔
اپنے ہتھکڑی والے ہاتھوں کو جوڑ کر اس نے تالی بھی بجا ڈالی۔
اب پالو اس بچے کو۔ جیسے تیسے کرکے۔ اب میرے دل میں تمہارے لیئے کوئی جگہ نہیں۔ تم نے مجھ میں اور اس بچے میں اس بچے کو چنا اب یہ بچہ ہی رہے گا بس تمہارے پاس۔ میں نہیں۔۔۔
ایسا مت کہو ایڈون۔ وہ رونا بھول کر گڑگڑائئ
میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔ میں تمہارے بغیر جی نہیں پائوں گی۔ پلیز مجھے معاف کردو۔
اس نے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔
میں ابارشن کرالوں گی پلیز مجھ سے خفا مت ہو۔ میں اس بچے کو ۔۔ آنسوئوں میں اسکا جملہ دب گیا تھا۔
وہ ہونٹ بھینچے اسکی شکل دیکھتا رہا۔ اسکا دل پگھل نہیں رہا تھا۔سنتھیا کی حالت کونسا ٹھیک تھی۔اسکی رنگت بالکل سیاہ پڑی ہوئی تھی وہ بجائے وزن بڑھنے کے وزن گھٹا چکی تھی اپنا۔ مگر اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا سنتھیا کو اسکے چہرے کے پتھریلے تاثرات ڈرا رہے تھے۔ اسکا دل سہما جا رہا تھا۔
اسکا بس نہ چلا تو آئیم سوری ایڈون کہہ کروہ میز پر سر رکھ کر روئے چلی گئ۔
مت روئو سنتھیا۔
ایڈون بولا بھی تو کیا بیزاری سے بھرپور انداز میں ٹوکا تھا اسے۔
ہر دفعہ رو کر تم اپنی سب غلطیاں دھو نہیں سکتیں۔
اسکا انداز اتنا بے رحم تھا کہ سنتھیا کی ہچکیاں تھم سی گئیں۔
تم اور تمہاری وجہ سے تمہارے باپ نے جو کچھ میرے اور میرے ماں باپ کے ساتھ کیا ہے میں اسے کبھی معاف نہیں کرسکتا۔
سنتھیا کی سانسیں تک سینے میں اٹکنے لگی تھیں وہ دم سادھے اسکی شکل دیکھنے لگی۔
سنتھیا تم اب میری کچھ نہیں لگتیں۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔
سنتھیا حق دق اسکی شکل دیکھتی رہ گئ تھئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون اور کم سن انکا پولیس اسٹیشن سے باہر ہی کھڑے انتظار کررہے تھے۔
اتنی دیر؟
یون بن چھوٹتے ہی بولا۔
ہیون اور کم سن گاڑی سے اترنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر یون بن نے موقع نہیں دیا۔کم سن کا دروازہ بند کرتے ہوئے پچھلی سیٹ پر پہلے ایڈون کو بٹھایا پھر خود بیٹھ کر بولا
نفرت آرہی ہے پولیس اسٹیشن سے ہم دونوں کو نکلو یہاں سے بعد میں مل ول لینا
ہیون نے کندھے اچکا کر حسب ہدایت گاڑی چلا دی
کہاں جانا ہے؟ ہیون نے پوچھا
گوشی وون۔
ایڈون کی منحنی سی آواز نکلی تھی۔
کیوں؟ کم سن چونکا
میرا مطلب ہے تم سنتھیا سے نہیں ملنے جارہے؟
نہیں۔ ایڈون کا جواب مختصر ترین تھا۔
اسکے ماموں اور سنتھیا اس سے مل چکے ہیں دونوں اسی ہفتے واپس جا رہے ہیں پاکستان۔
ایڈون کا موڈ سمجھتے ہوئے یون بن نے جواب دیا
مگر کیوں؟ اسکی حالت ٹھیک نہیں وہ سفر کیسے کرے گی؟
کم سن کے منہ سے پھسلا تھا۔
اتنے دنوں سے بھی تو سفر کر رہی تھی آرام سے چھپی بیٹھی تھی۔ اگلوں نے ایڈون کا شجرہ کھنگال لیا پینلٹی پوائنٹس الگ لگ گئے جیل کے۔ اسکا تو کیئریر تباہ ہوگیا ہے۔ اب کیا ایڈمیشن لے گا یہاں۔ اور وہ مزے سے باپ کے ساتھ واپس جا رہی ہے۔ انتہائی خود غرض لڑکی ہے۔
یون بن کو اپنے دوست کی پریشانی کا احساس تھا جبھی غصے سے بولتا گیا۔
قصور ثابت نہیں ہوا اس پر پھر یہ کونسا کورین شہری ہے کچھ نہیں ہوتا۔
ہیون نے تسلی دی۔
ہاں تھائینیئے۔ ( شکر ہے) اس نے بیان ایڈون کے خلاف نہیں دیا ورنہ اسکے باپ کا بس نہیں تھا پھانسی لگوادے ایڈون کو۔۔ مگر بندہ پوچھے غائب ہوئی ہی کیوں؟ کیا ملا یہ سب ڈرامہ کرکے۔۔
ڈرامہ؟ کم سن سے رہا نہ گیا۔
ایک ماں کا اپنے بچے کی زندگی بچانے کیلئے ان لوگوں سے چھپ جانا جو اسکے بچے کی جان لینا چاہتے ہوں ڈرامہ لگ رہا ہے تمہیں؟ کوئی اندازہ ہے وہ پریگننٹ تھئ کہاں کیسے رہ رہی ہوگی خوراک بھی ڈھنگ کی ملی ہوگی کہ نہیں اور یہ سب تکلیفیں کس لیئے جھیلیں اپنے بچے کیلئے۔ صرف اسکا بچہ تو نہیں ہے۔ آخری جملہ اس نے بیک ویو مرر سے لاتعلقی سے کھڑکی سے باہر دیکھتے ایڈون کو گھور کر کہا تھا۔
یون بن اسکے تیز ہو کربولنے پر حیرت سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔
تو اب کونسا بچ جائے گا۔ اسکے والد ایڈون سے پرمیشن لیٹر پر سائن کرواکے گئے ہیں ابارشن کیلئے۔
کیا؟ کم سن کے ساتھ ہیون بھی چلایا تھاپھر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔
یون بن اور ایڈون دونوں کیلئے انکا ردعمل غیر متوقع تھا۔دونوں ہی حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
ایڈون تم ۔۔ کم سن نے دانت پیسے۔
تم ایک بار بھی سنتھیا کیلئے نہیں سوچتےاسکی فکر نہیں تمہیں؟ وہ ۔ وہ۔۔۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ کیسے کہے۔ بس اتنا کہنے پر اکتفا کیا۔
وہ بہت کمزور ہے ۔
اسکے ماں باپ ہیں نا خیال رکھنے کو۔
ایڈون کا انداز۔ کم سن کو طیش آرہا تھا۔
اسکا کیا جس کے باپ ہی تم ہو؟
وہ مر جائے گا۔
وہ بے نیازی سے کہہ کر دوبارہ باہر دیکھنے لگا تھا۔اسکے گوشی وون کے باہر گاڑی رکنے تک وہ چپ ہی رہے تھے۔
تم آرام کرو میں شام میں چکر لگائوں گا۔
یون بن نے اتر کر اسکا کندھا تھپتھپا کر کہا تھا۔ وہ سر ہلا کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اندر بڑھ گیا۔۔
میں سوچ نہیں سکتا تھا یہ اتنا کمینہ انسان ہوگا۔
کم سن اسے جاتے دیکھ کر غصے سے بولا
یون بن پچھلی نشست پر بیٹھتے اسکا جملہ سن کر حیرانی سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔ہیون نے گاڑی ہی آگے بڑھا لی نہ دیکھے نہ غصہ کرے۔
کیہہ سیکی۔ نامرد۔
وہ مزید خراج تحسین پیش کر رہا تھا۔
کیا ہوا بھئ ؟ اتنا غصہ کیوں؟
اسلیئے کہ سنتھیا کو میں ہی اسپتال لیکر گیا تھا اسکی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ابارشن اب قانونی طور پر منع ہے اور پریگننسی جاری رکھنے میں اسکی زندگی کو شدید خطرہ ہے۔ اور اس آدمی کو دیکھو رتی بھر پروا نہیں ہے اسکی۔
ہاں تو صحیح تو کہہ رہا اسکے ماں باپ خیال رکھ لیں گے ہو سکتا ہے پاکستان میں لیگل ابارشن کی معیاد کچھ اورہواور ویسے اب یہ کیا کر سکتا ہے یہاں؟
جاب تک تو رہی نہیں گوشئ وون کے مالک سے منتیں کرکے معیاد بڑھوا کر آیا ہوں اسکا بھی کرایہ نہیں دے سکا ایڈون۔ اس کو تو ان پندرہ بیس دنوں نے کنگال کر چھوڑا ہے۔
یون بن کو ترس آرہا تھا اور کم سن کو غصہ۔
تو کس نے کہا تھا کہ اسے مجبور کرے ابارشن کیلئے؟ نہ یہ مجبور کرتا نہ وہ یہ قدم اٹھاتئ۔ کم سن تیز ہو کر بولا
ہاں تو بے روزگار انسان اپنی گرل فرینڈ کا بچہ کیوں پالے؟ جب یہ فیصلہ دونوں کرتے تو ذمہ داری دونوں کی برابر ہوئی نا۔
یون بن کو اسکا غصہ سمجھ نہ آیا۔
تم بتائو گوارا سے محبت کرتے ہو نا اگر گوارا پریگننٹ ہوتی تو کیا تم بھی اسے مجبور کرتے ؟ چاہے اسکی جان کو خطرہ ہوتا؟
کم سن کا سوال ہیون نے اسکی شکل۔غور سے دیکھی۔
اول تو گوارا خود بہت سمجھدار ہے دوسرا اگر ایسا کچھ ہوتا تو ظاہر ہے میں بھی وہی کرتا جو ایڈون کر رہا ابھی ہماری پڑھائی مکمل نہیں ہے کیریئر نہیں بنا کیسے ہم کوئی نئی ذمہ داری اٹھا سکتے؟
یون بن کا جواب ہیون کو اسکی شکل دیکھنے پر۔مجبور کرگیا۔
حد ہے ۔ گوارا سے محبت کا دعوی کرتے ہو اور پھر بھی۔
کم سن نے شرمندہ کرنا چاہا یون بن نے بات کاٹ دی
ہاں تو میں نے کب انکار کیا۔ محبت الگ چیز ہے بچہ الگ،
کیا بات کر رہے ہو۔۔
کم سن اور یون بن بحث میں الجھ گئے تھے
اور سڑک پر نگاہ جمائے گاڑی دوڑاتے ہیون سوچ رہا تھا اچھی لڑکیاں چاہے کورین ہوں یا پاکستانی غلط لڑکے کا ہی انتخاب کیوں کرتی ہیں؟
ہوپ اور اسے ناشتہ کرتے ہی حکم ملا تھا فورا تیار ہو کر باہر آجائو۔ دونوں حسب ہدایت تیار ہو کر باہر آئیں تو گوارا ایک پاکستانی مہران کے سائز کی مگر مہران سے دس گنا بہتر ڈئزاین کی الیکڑک بلو پیاری سی گاڑی کو کپڑا مار رہی تھی۔
یہ کس کی گاڑی ہے۔
اریزہ نے حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ گوارا کھلکھلائی۔
یون بن کی۔ میں نے اسے کہا تھا فورا یہاں بھجوا دے خود بے شک بعد میں آتا رہے۔ اب ہم یہاں بنا گھومے پھرے کیسے رہ سکتے ہیں۔
وہ معصوم سی شکل بنا کر بولی تھی۔
ابھی پچھلے ہفتے بک کروائی تھی اس نے اور میں نے یہاں کا پتہ لکھوایا تھا۔ وہ مزید اپنی کارگزاری سنا رہی تھی۔
عظیم لڑکی ہو تم۔
اریزہ نے خراج تحسین پیش کیا۔
ہوپ پچھلی سیٹ کی طرف بڑھنے لگی تو گوارا نے اسکو کندھے سے پکڑ کر کھینچا چابی اسکے ہاتھ پر رکھتے بولی
تم کدھر جا رہی ہو؟ گاڑی کون چلائے گا؟
تمہیں گاڑی نہیں چلانی آتی؟ ہوپ کا موڈ نہیں تھا شائد۔
آتی ہے مگر ابھی میرا لائسنس نہیں بنا۔ دوسرا یہاں کی اونچی نیچی سڑکیں نا بابا نا کوئی رسک نہیں۔
وہ مزے سے کہتی خود پیچھے کا دروازہ کھول کر بیٹھ بھئ گئ۔
ہوپ کو چابی تھامنی پڑی تھی۔ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھتی اریزہ نے مسکرا کر سر ہلایا وہ بھی جوابا مسکرا کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے لگی۔
گوارا پیچھے بیٹھ کر بھی آگے ہی سیٹ کے بیچ سے نکل کر بک بک کرتی رہی۔ اسکا گائوں پہاڑ کے دامن میں تھا۔ بے تحاشہ خوبصورت مناظر کہیں کہیں برف پڑی ہوئی سرد ہوا ۔ وہ لوگ پہلے پہاڑ کی چوٹی سے نظارہ کرتی رہیں تبھی چوٹی کے دامن میں اسے وہ بے حد خوبصورت سا لال شہتیروں والا مندر نظر آیا۔
آئو وہاں چلیں۔
اریزہ اتنا پرجوش ہو کر بولی تھی کہ ہوپ اور گوارا دونوں نے چونک کے اسکی شکل دیکھی
پتہ بھی ہے کیا ہے وہ؟ مندر ہے بدھا کا
گوارا نے جتایا
تو؟ اریزہ نےالٹا سوال کیا
تم وہاں جا کر کیا کروگی؟ ہوپ نے بور ہو کر کہا ۔پیچ دار سڑک پر اتنی اونچائئ تک لے کر تو اسے ہی جانا پڑتا
میں دیکھوں گی تم لوگ عبادت کر لینا۔ میں نے آج تک مندر نہیں دیکھا اور بدھا کا تو بالکل بھی نہیں دیکھا پلیز چلو نا میں نے دیکھنا ہے۔
اریزہ بچوں کی طرح ضد کر رہی تھی دونوں نے ٹھنڈئ سانس بھری۔
گاڑی سے اتر کر بھی پیدل چل کر کم ازکم ڈیڑھ سو سیڑھیاں تھیں جنکو چڑھنا پڑا تھا۔ گوارا اور ہوپ کا تو نہیں اریزہ کا برا حال ہوگیا تھا مگر شوق کا کوئی مول نہیں۔ مندر سادہ مگر بے حد خوبصورت تھا۔بڑا سا کھلا دالان جس کے کونوں میں کیاریاں سی بنی ہوئی تھیں بڑی بڑی لکڑی کی بلیوں اور شہتیروں والی چھت سے ڈھکی راہداری سامنے کھلے دروازے سے نظر آتا بدھا کا بڑا سا بت آسن جمائے نظر آتا تھا۔ کئی پجاری اپنے مخصوص معمول کی عبادتوں میں مشغول تھے۔ ایک چھوٹا سا ڈنڈا تھامے جسکے سروں پرچھوٹی سی گول گھنٹیاں سی لگی تھیں۔ دھیمے دھیمے بجاتے جاپ کرتے۔ ماحول پر ہیبت طاری کر رہے تھے۔
گوارا اپنے ہڈی کے اپر سے سر ڈھانکتی اندر گئ پجاری نے گھنٹیاں بجا کر اسکا خیر مقدم کیا۔ دعا دئ گوارا وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر سر زمین سے سجدے کی طرح لگائے مخصوص انداز میں جھکتی اٹھتی دعا کر رہی تھی۔
اریزہ اور ہوپ بھی اندر چلی آئی تھیں۔ مگر گوارا کے برعکس دونوں تمیز سے گھٹنے کے بل بیٹھئ اسکی عبادت مکمل ہونے کا انتظار کررہی تھیں۔
ہم بھی ایسے ہی سجدہ کرتے ہیں۔ گوارا کو جھکتے دیکھ کر اریزہ نے ہوپ کے کان میں سرگوشی کی۔
جانتئ ہوں روز تو عبادت کرتا دیکھتی ہوں تمہیں۔
ہوپ کے جتانے پر کھسیا سی گئ۔ ہوپ سے تو بندہ بات بھئ سوچ سمجھ کر کرے۔ اس نے آئیندہ سوچ سمجھ کر بات کرنے کا عہد کیا۔۔
گوارا دعائیں کرکے پجاری سے سر پر پانی چھڑکوا کر کچھ میٹھی ریوڑیوں جیسی مٹھائئ لیکر باہر آئی تب تک وہ دونوں دالان کی ہر سیڑھی ہر ستون سے ٹک کر تصویر بنا چکی تھیں۔
یہاں آخری بار اپنے ابا کی آخری رسومات کی دعائیں کروانے آئی تھی۔ اور آج تم مجھے یہاں لے آئیں۔ بدھا بھی کہتے ہوں گے کیسی نا شکری اور مطلبی پیروکار ہے میری۔
گوارا بڑبڑ کرتی انکے پاس آئی تھی۔
اریزہ اسکی غبارے جیسی شکل دیکھ کر ہنس پڑی۔
ویسے یہاں ہے بہت سکون ۔ مجھے اچھا لگ رہا ہے یہاں آکر۔
اریزہ نے یونہی کہا تھا۔ گوارا دھپ سے اسکے برابر آن بیٹھی
ہر مقدس مقام پر سکون ہی ہوتا ہے۔ ایسی جگہوں پر پاک روحیں فرشتے ہی آتے ہیں ہمیں دکھائی نہیں دیتے مگر ہمیں دھیرے دھیرے اپنی رحمت کے سائے میں لیتے جاتے ہیں۔ میرا ماننا ہے ہر مذہب کا کوئی نہ کوئی مقدس نا دکھائی دینے والا ربط اوپر سے ہوتا ہے۔
وہ آسمان کی جانب اشارہ کرکے بولی۔
ہوپ نے بلا ارادہ اسکی تقلید میں آسمان تک نگاہ کی تو پلٹی ہی نہیں۔
ضروری نہیں۔
ہوپ نے ناک چڑھائی۔
ہم روز جس بت کو پوجتے تھے اس سے شدید نفرت بھی محسوس کرتے تھے۔ اس بت کے گرد مقدس ہالہ تو دور نفرین و لعنتوں کا جال محسوس ہوتا تھا جس سے دم گھٹتا تھا میرا۔
ہوپ زہر۔خند سے انداز میں کہہ رہی تھی۔
ہیں؟ گوارا کا منہ کھلا رہ گیا۔ہوپ نے سر جھٹکا
جب نفرت تھئ تو پوجتے کیوں تھے بھئ؟
گوارا کے حیرت سے پوچھنے پرہوپ ہونٹ بھینچ کردوسری طرف دیکھنے لگی۔
شمالی کوریا میں مزہبی عبادات پر بین ہے۔ وہاں صرف موجودہ و سابقہ آمروں کے با بجا بت سجے ہیں جن کے آگے عوام کا روز سلامی دینا فرض ہے۔ اور موٹے منہ والے بھالو بندر اس جابر ظالم کم جانگ اون کو دیکھ کر محبت خاک پھوٹنی جس نے پوری قوم کی ہر خوشی سلب کرکے آٹھ آٹھ آنسو رلا رکھا ہے۔
جواب غیر متوقع طور پر اریزہ کی جانب سے آیا تھا۔ گوارا اور ہوپ حیرت سے اسکی شکل دیکھ رہی تھیں۔
تمہیں کیسے پتہ؟ گوارا کا حیرت کے مارے برا حال تھا
تم بھی شمالی کورین تو نہیں۔
اس نے معصوم سئ شکل بنا کر پوچھا اریزہ گھو رکر رہ گئ
ہوپ نے البتہ جاندار قہقہہ لگایا۔
موٹے منہ والے بھالو بندر کم جانگ ہا ہا ہا۔ کاش اسکو یہ کوئی سناتا اسکے منہ کاش سن سکتا وہ یہ ہا ہا۔ پتہ ہے ان جملوں پر سر قلم ہو جاتا تمہارا اگر تم سیول کی جگہ پھیانگ یانگ
میں ہوتیں۔
کیوں ہوتی میں خدا نخواستہ۔ اریزہ نے منہ بنایا
میں تو شمالی کوریا کا سن کر سیول ہی آنے کو تیار نہیں ہورہی تھی ۔ اس اسکالر شپ کی وجہ سے تو مجھے پتہ لگا کہ کوریا کوئی ملک ہے اور اسکے بھی دو حصے ہو چکے ہماری طرح۔پوری طرح اطمینان کیا تھا پھر اپلائی کیا تھا۔
اس نے گوارا کے سوال کا بھی جواب دے دیا۔
گوارا نے سر ہلایا۔
شکر ہے دو حصے ہو چکے ہیں ورنہ ہم بھی پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہوتے۔ گوارا نے جھر جھری لی۔ اریزہ کو ایک بڑا دکھی کردینے والا خیال آیا۔ ہم سے الگ ہونے والے بھی کیا ایسا سوچتے ہوں گے؟
چلو چلیں اب؟ یا ابھئ شیمن سے اپنا مستقبل کا احوال بھی پتہ کروانا ہے؟
ہوپ نے تو یونہی کیا مگر گوارا پرجوش ہوگئ
ہاں یہ صحیح رہے گا مستقبل کا احوال جانتے ہیں تینوں ۔۔۔ یہاں کے شیمن سب صحیح صحیح پیشن گوئیاں کرتے ہیں۔ میرے آہبوجی کے انتقال سے پہلے ہی انہوں نے مجھے بتا دیا تھا میرے پاس ایکدم سے بہت پیسہ آئے گا ۔ انکی پیشن گوئی کے دوسرے ہی ہفتے آہبوجی کا انتقال ہوگیا تھا۔
گوارا متاثر کرنے والے انداز میں بتا رہی تھی۔
ہوپ اور اریزہ دونوں نے اسکی اچنبھے سے شکل دیکھی۔
اس میں تمہارے ان پجاری جی کا کیا کمال؟ اریزہ پوچھے بنا نہ رہ سکی
ہاں تو آہبوجی کے انتقال پر ہی تو مجھے انشورنس کے پیسے ملے انکے جس سے میں نے سیول میں اپارٹمنٹ خریدا ۔
وہ کندھے اچکا کر بولی۔
تم دونوں بھی جاننا چاہوگی اپنی قسمت کا حال ؟
۔ ہوپ نے سر جھٹکا۔
بکواس۔بالکل نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گیرواں لبادہ پہنے بالکل صفا چٹ سر لیئے گلے میں سرخ پٹکا ڈالے وہ پجاری جی ہوپ سے اسکی تاریخ پیدائش پوچھ رہے تھے۔ اسکا جواب سن کر مراقبے میں چلے گئے تھے۔اس چھوٹے سے کمرے میں وہ دھونی رما کے بیٹھے تھے۔ڈھیر ساری اگربتیاں جل رہی تھیں کمرہ خوشبو سے مہک رہا تھا ۔کمرہ رنگ برنگی پینٹنگز سے سجا بلکہ تنا ہوا کہنا چاہیئے۔جا بجا تصویریں جس میں کوریائی ثقافت انکے بادشاہی نظام وغیرہ کی تصاویر تھیں تو کچھ عجیب سی آدھے انسان آدھے کسی جانور کے جسم کے ساتھ بے تکے جوڑ والے قد آدم پوسٹر تھے۔ بدھا کے کئی اسٹیچو تھے کچھ دلہا دلہن کی پینٹنگز اتنے رنگ تھے کمرے میں کہ اسکا دیکھتے دیکھتے ذہن بٹ ہی گیا۔ گوارا نے ٹہوکا دے کر متوجہ کیا۔
ہوپ ہم سے چھے سات سال بڑی ہے۔
گوارا کا منہ کھلا رہ گیا تھا۔ اریزہ کے کان میں گھسی۔ اریزہ نے اسکو ہلکے سے گھورا۔
گوارا اسکی گھرکی پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئ۔ اریزہ نے حقیقتا ہتھیلیاں پھیلا کر پھر خیال آیا تو ذرا مٹھی بند کرکے کہ دعا کا پوز نہ لگے دل سے دعا کی تھئ
یا اللہ یہ آدمی ہوپ کو صرف اچھی اچھی باتیں بتائے۔ کوئی اچھی امید دے دے جینے کی ۔ بہت مایوس ہے کیا پتہ اسکے الفاظ ہی اسے جینے کی نئئ امید دے دیں۔
ہوپ ان سے بےنیاز پجاری صاحب کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے تھے۔ اسے جیسے یقین تھا وہ کوئی نہ کوئی غلطی کریں گے اور وہ گوارا کو جتا سکے گی کہ انکے پاس کوئی روح ووح نہیں جس کو بلا کر اس سے وہ مستقبل کا حال جان سکیں بلکہ ایک اچھے شعبدہ باز ہیں بس۔
ایک مٹی کی چھوٹی سی کھلے منہ کی دیگچی میں چاول اور لال رنگ کا جانے کونسا سفوف ملا کر رکھا تھا۔چٹکی میں بھر کر انہوں نے اپنے سامنے رکھی چھوٹی سی میز پر چھڑکا ایک صندل کی تسبیح مٹھی میں داب رکھی تھی تسبیح کے دانے کم ہی تھے شائد دس بیس ہی ہوں گے ہر دانے پر کچھ چینی زبان کے حرف کھدے تھے۔ انگلئ پر بڑی مہارت سے دانے گھماتے وہ جھوم جھوم کر گھنٹی بجاتے آنکھیں بند کیئے کچھ بڑ بڑا رہے تھے۔ ایکدم جھٹکا کھا کر رکے
تسبیح کے جس دانے پر انگلی رکی تھی اسکو گن کر انہوں نے پانسہ پھینکا۔ چوڑا سا ایک ہتھیلی کے برابر پانسے پر چار اطراف الفاظ کھدے تھے۔ اور اوپر نیچے سیاہ اور سفید رنگ ہوا وا تھا۔ اس نے ایسا پانسہ زندگی میں کبھی نہ دیکھا تھا۔
اسکا دل چاہا کہ اٹھا کر دیکھ لے مگر بمشکل طبیعت پر جبر کرکے روکا۔جانے وہ اس حرکت کو کس معنے میں لیں۔وہ بہر حال انکی مزہبئ روایت کا احترام ہی کر رہی تھی۔
بس کچھ الٹا سیدھا نہ بولیں ہوپ کی زندگی میں پہلے ہی کوئی خوشی نہیں ہے۔
وہ دعا کیئے جا رہی تھی۔
پجاری جی نے آنکھیں کھولیں مگر گردن موڑ کر اریزہ کودیکھا پھر مسکرا دیئے۔ اریزہ ٹھٹھک سی گئ۔ انکی مسکراہٹ ایسی تھی جیسے کوئی کسی بچے کی بات پر اسکی نادانی پر مسکرا دے۔
بدھا کہتے ہیں تین چیزیں ذیادہ دیر تک چھپی نہیں رہ سکتیں۔ سورج ، چاند اور سچائئ۔ ایک نہ ایک وقت انکو ظاہر ہونے پر مجبور کردیتاہے۔سورج چاند پھر کبھی بادل میں چھپ جاتے سچائئ جتنا چھپانا چاہو اتنی ہی مزید ظاہر ہوتی ہے۔
وہ شستہ انگریزی میں اریزہ سے کہہ رہے تھے۔
اریزہ گنگ سئ انکی شکل دیکھنے لگی۔
میں جھوٹ نہیں دے سکتا کسی کو جو مجھے جتنا پتہ ہے وہ میں بتانے کا پابند ہوں۔ میرے پاس دینے کیلئے سوائے سچائی کے اور کوئی تحفہ نہیں۔ سچائی کا تحفہ دوسرے تمام تحائف کو مات دیتا ہے۔ سچائی کا ذائقہ دوسرے تمام ذائقوں کو مات دیتا ہے۔ سچائی کی خوشی دیگر تمام خوشیوں کو مات دیتی ہے، اور خواہش کا خاتمہ تمام دکھوں پر فتح پاتا ہے۔
وہ بولتے بولتے گردن گھما کر ہوپ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اب اسی روانی سے چینی زبان میں بولتے چلے گئے۔
خواہش ختم کردو اگلی زندگئ آسان ہے تمہاری
ماضی میں مت پھنسو، مستقبل کے خواب نہ دیکھو، دماغ کو موجودہ لمحے پر مرکوز رکھو بس۔تمہیں نہیں لگتا تمہاری یہاں موجودگی ان دوبہنوں کا ساتھ تمہارا ماضی تمہارا ہاتھ چھڑا چکا ہے تمہارا اکیلا پن دور ہوچکا ہے یہ سب اسکا ثبوت ہے۔ تمہیں اب زندگی جینا شروع کردینا چاہیئے۔
ہوپ کا منہ کھلا۔ پھر سر جھٹک کر طنزیہ انداز میں بولی
ایک ایک لفظ بدھا کا ہے یہ۔آپ تو خود اپ ایک جملہ بولے ہیں ان دونوں کی شکل دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کیا مشکل ہے کہ یہ احمقیں سچ مچ میری پروا کرتی ہیں ۔
ہوپ چینی زبان میں ہی بولی تھی۔ گوارا نے سخت اکتا کر ان دونوں کی شکل دیکھی
پجاری صاحب ہنس دیئے محظوظ ہو کر جیسے۔۔
بدھا کا بھگت ہوں انکی باتیں نہیں بولوں گا تو پھر کس کی بات کروں گا؟
بات میں وزن تھا۔ ہوپ نے ناگواری سے دیکھا
پھر اگلا سوال چینئ میں ہی داغا۔
میں نے محبت کے بارے میں پوچھا تھا میرے نصیب میں ہے کہ نہیں۔
محبت ہے مگرجس سے تمہیں محبت وہ نہیں۔
وہ دانستہ کہتے ہوئے گردن موڑ کر گوارا کو دیکھنے لگے۔ ہوپ کا چہرہ دھواں دھواں سا ہوا تھا۔ اریزہ نے چیں بہ چیں ہو کر شاکی نگاہوں سے دیکھا۔
ایسے تو بہت پہنچے ہوئے بنتے ہیں اسکی شکل پر لکھا شدید مایوسی و دکھ میں مبتلا ہے کیا تھا ذرا سا خوش کردیتے کچھ اچھا بول کے۔ ایسے تو انگریزی بول رہے تھے ہنگل چھوڑ یہ تو کوئی تیسرئ زبان بولنی شروع کردی جانے کیا کہہ دیا اسے۔
میں باہر انتظار کرتی ہوں تم لوگوں کا۔
ہوپ کو خود کو سنبھالنا مشکل لگا تو نظر چراتے فورا اٹھ گئ۔
آپ مجھے بتائیں کہ میرے پاس پھر کوئی پیسہ آنے کی امید ہے یا نہیں؟
ہوپ کے جاتے ہی گوارا کھسک کر آگے ہوئی۔
پیسہ تو آتا جاتا رہے گا انسان بھی۔ تم کہاں دل لگاتئ ہو یہ دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں ہے بیٹا۔
انکا جواب حسب توقع اور اسکا ردعمل بھی حسب توقع تھا منہ بنا کر رہ گئ
آپ میری دوست کو دیکھیں اسکا کتنا دانہ پانی ہے کوریا ہے؟
گوارا بولی ۔۔
کیا کرنا یہ جان کر۔۔
اریزہ نے سر جھٹکا۔
محبت ملے گی یا نہیں؟
گوارا مزید کہہ رہی تھئ۔
اسکی تو۔ اریزہ ایکدم الرٹ ہوئی۔
سب سے بڑھ کر اسکو محبت ہو۔
گوارا تیز تیز بولی تھی اریزہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا
بس مجھے کچھ نہیں جاننا ۔
کیوں؟ بہت پہنچے ہوئے ہیں یہ سب صحیح بتا دیں گے کچھ نہیں کچھ نہیں پاگل امتحان میں کامیابی ناکامی کا ہی پوچھ لو ۔
گوارا نے اصرار کیا پجاری صاحب مراقبے میں جانے لگے۔
تاریخ پیدائش۔
20 ستمبر 1996
گوارا جھٹ سے بولی۔ اریزہ نے منہ بنا کر دیکھاپھر تصحیح کی۔
1995۔
گوارا نے منہ کھول کر اب اسکی شکل دیکھی۔
ہائش۔ یہ بھی۔
آپ، خود، پوری کائنات میں جتنا کوئی ہے، آپ کی محبت اور پیار کے مستحق ہیں۔خود سے مت بھاگو۔خود کو اپنائو اپنے سوا انسان کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہوتی ہے۔ اپنے سوا کسی میں پناہ گاہ مت تلاش کرو۔ایک بے چین انسان کہیں خوش نہیں رہ سکتا۔
وہ ٹھہر ٹھہر کر بول رہے تھے۔ اریزہ کا دماغ بھک سے اڑا۔
کچھ بھئ بول رہے۔ اسے غصہ آگیا۔گوارا کو اٹھنے کا اشارہ کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔پجاری صاحب کی آنکھیں بند تھیں۔ اتنے پکے ہیں تو پتہ لگے کہ اب انکا سامع کوئی ہے ہی نہیں۔ اسکے دل میں یہی خیال آیا تھا۔ گوارا اسکے تیور دیکھتے خود بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
گوارا کیا پوچھ رہی جواب کیا دے رہے۔
اس نے سر جھٹکا۔
جو تمہیں جاننا ہے میں بس وہی بتا رہا ہوں۔
پجاری صاحب نے جواب دیا تھا وہ کمرے کی چوکھٹ میں کھڑی تھی کہ قدم رک سے گئے۔ گوارا بھی حیرت سے پلٹ کر دیکھنے لگی۔
انہوں نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔
کسی کے دل کا حال کون جان سکتا؟ کون سچا ہے ۔ کون اچھا ہے یہ تو بعد کی بات ہے پہلے خود اپنے آپ کو جانو بیٹا۔ باقی آگے کیا ہوگا زندگی میں انسان کے فیصلے طے کرتے ہیں نا۔
خدا طے کرتا ہے۔ اس نے پلٹ کر انہیں دیکھتے جتایا۔
بے شک۔ ۔۔۔ مگر
خدا آپکی خواہش پر آپکے مانگنے پر عطا کرے گا یا نہیں یہ بھی تو طے کرتا ہے نا۔
وہ مسکرادیئے۔ اریزہ لاجواب سی ہوئی تو رکی نہیں سیدھا ناک کی سیدھ میں بڑھتی گئ۔ گوارا نذرانہ دیتی خدا حافظ کہہ کر جب تک باہر آئی وہ ہوپ کے ساتھ دالان بھی پار کرچکی تھی
ہا ہا۔۔ یہ کیا چل رہا تھا ۔۔ ہوں ۔۔۔ (پھولی سانسیں )تمہارے اور پجاری صاحب کے بیچ۔
وہ اتنئ متجسس تھی کہ بھاگنے سے پھولی سانسیں بھی ہموار نہ کیں آکر ان دونوں کے بیچ میں لینڈ کرتے پوچھا۔
مجھے کیا پتہ۔ اریزہ نے جان چھڑائی
کیا چل رہا تھا۔
ہوپ کو دلچسپی ہوئئ۔
یہ چپ شکل دیکھ رہی تھی پجاری صاحب اسکو ایسے جواب دے رہے تھے جیسے اسکو اسکی باتوں کا جواب دے رہے ہوں۔ اور یہ اسکی شکل دیکھنے والی تھی آپکو کیسے پتہ چلا؟ منہ پر بڑا بڑا لکھا تھا۔
گوارا ہاتھوں کے اشارے کے ساتھ بتا رہی تھی۔ اریزہ سٹپٹا سی گئ۔
کیا واقعی کوئی روح ووح تو نہیں بلا رکھی تھئ انہوں نے۔ جادو وغیرہ کے ماہر ہوتے ہیں یہ شیمن وغیرہ۔
یہ پجاری لوگ سالوں تپسیا کرکے ہیپناٹزم فیس ریڈنگ اور مائنڈ اسسیسمنٹ وغیرہ سیکھتے ہیں۔ ہوپ نے غبارے سے ہوا نکالی جیسے۔
سیڑھیاں اترتے اس نے انکی معلومات میں اضافہ کیا۔
اب میری شکل دیکھ کر نہیں بولے ماضی میں نہ رہو مستقبل کا نہ سوچو حال پر توجہ دو بلا بلا او ریہ دونوں بہنیں ہیں تمہاری۔۔
ہیں یہ کہا انہوں نے؟ گوارا حیرت سے چیخ پڑی۔
سنا نہیں تھا تم نے۔ ہوپ کو اسکی مصنوعی حیرانی پر اکتاہٹ ہوئی
چینی میں بولے تھے تم سے ہمیں کیا پتہ کیا کہا۔ گوارا نے یاد دلایا تو وہ سر ہلانے لگی
ہاں۔ بس یہی کہہ رہے تھے ان دونوں کو دیکھو بہنیں مل گئ ہیں کافی نہیں ماضی بھلانے کو۔
ہوپ نے کہتے ہوئے پلٹ کر دیکھا دوسری بہن کئی سیڑھیاں پیچھے سوچ میں گم اتر رہی تھی۔ گوارا نے بھی اسکی تقلید میں مڑ کر دیکھا تو ٹوکے بنا نہ رہ سکی
کیا ہوا؟ اریزہ جلدی کرو دیر ہورہی ہے ہمیں۔
مغرب سے پہلے واپس پہنچنا ہے ہمیں۔
گوارا کے چلانے پر وہ بری طرح چونکی تھی اتنی کہ لڑکھڑا گئی۔
آرہی ہوں۔ اس نےسنبھل کر تسلی دی اوررفتار بھی بڑھائی۔
ہولا ہاتھ رکھو ڈرا دیا اسے یہاں سے گرتی تو آخری سیڑھی تک جانا تھا اس نے۔
ہوپ نے گوارا کو ڈانٹ ہی دیا۔
گوارا نے بھنا کر کچھ کہنا چاہا پھر خیال آیا تو زبان دانتوں تلے داب لی۔ وہ اسکے لیئے بڑی بہن کے برابر تھی اور وہ بنا لحاظ جانے کیا کیا کہتی آئی تھی اسے۔
تم اب کس مزہب پر ہو، ؟
گوارا نے یونہی سوال کیا اسے گھورتے پایا تو ذرا تمیز کے جامے میں آتے کندھے پر پرس بلا وجہ درست کرتے ہوئے جملہ درست کیا۔
میرا مطلب اب تو آپ شمالی کوریائی نہیں ہیں نا اب تو کوئی مزہب اپنا سکتی ہیں۔
میں کسی مزہب پر نہیں ہوں۔
اس نے مختصر جواب دیا
بدھ سب سے معصوم سادہ سا مزہب ہے اس پر آجائو نہ کوئی روز کی عبادت کی شرط نا ہی کوئی لمبے چوڑے فرائض ۔ بس جیو اور جینے دو کا اصول ہے۔
گوارا یونہی بات برائے بات ہی کہہ رہی تھئ۔
ہوپ نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا ۔ اریزہ انکے قریب آچکی تھی۔ پھولی سانسیں رنگ پھیکاپڑتا
اسکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہئ سفید پڑی گئ ہے یہ۔
ہوپ نے فکر مندی سے اسکی ٹھنڈی پیشانی چھوئئ۔ گوارا کو بھی پریشانی ہوئی
کیاہوا اریزہ تم ٹھیک تو ہو؟
ٹھیک ہوں بس تھک گئ ہوں۔
اس نے تسلی دینے کو کہا تھا۔
بس اب گھر ہی چل رہے ہیں مجھے اندازہ تھا تم سے اتنی اونچائی پر چڑھا نہیں جائے گا آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور تمہیں اتنی ٹھنڈ کہ عادت بھی نہیں۔ پانی پیو گی؟
تم سے چلا نہیں جا رہا تو ہم پگی بیک رائیڈ دے دیتے ہیں تمہیں۔ آدھا راستہ میری پشت پر بقیہ آدھا گوارا کی پشت پر سواری کر لو۔
ہوپ نے آئیڈیا دیا
ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔ گوارا فورا مان گئ
گوارا اور ہوپ کا بس نہیں تھا گود میں اٹھا لیں
اسے ہنسئ آگئ۔
بس کرو اتنی محبت کہاں سمیٹ پائوں گی میں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیڈ پر پڑی وہ چھت پر نگاہ جمائے چت لیٹی تھی۔ گرم بستر گرم کمرہ پیٹ بھر کر کھانا سب ملا تھا۔ مگر محبت چھن جانے کے بعد۔ ایڈون کا چہرہ اسکے کہے جملے اسکے ذہن سے چپک گئے تھے۔ اس وقت تجزیہ کرنے کا موقع نہیں تھا۔ اسکے سرہانے ڈرپ کا اسٹینڈ رکھا تھا جس سے قطرہ قطرہ ڈرپ اسکے سفید پڑے ہاتھ میں سوئی کے ذریعے رگوں میں داخل ہو رہی تھی۔ دوسرا ہاتھ وہ سینے پر رکھے تھی وہی ہاتھ اٹھا کر اس نے اپنی سپید پڑتئ ہتھیلی نگاہوں کے سامنے پھیلائی۔
کیا ملا مجھے۔ میں تو خالی ہاتھ ہی رہ گئ ہوں ۔ اس نے یاسیت سے سوچا۔
چند گھنٹوں قبل ایڈون سے ملاقات کا منظر ابھی بھی نگاہوں میں تھا۔
اسکے قطیعت بھرے انداز میں ہر رشتے کو ختم کرنے کا اعلان سن کر اس کو لگاتھا کہ اسکے جسم سے روح ہی نکل گئ ہے بظاہر وہ خالی خالی نظروں سے دیکھتی رہ گئ تھی ایڈون کا وکیل اندر آکر اسے اپنے ساتھ لے گیا ۔ جانے کتنا وقت گزرا وہ کتنی دیر اکیلی بیٹھی رہی اسے کچھ یاد نہیں تھا۔ڈیڈا اسکو پکارتے ہوئے ہلا رہے تھے وہ بس ساکت بیٹھی رہی تھی۔ اسے پھر نہیں یاد کس نے سہارا دیا اسے فوری طور پراسپتال لے جایا گیا تھا وہ مکمل بےہوش نہیں تھی مگر حواس میں بھئ نہیں تھی۔ فورئ طبی امداد سے کئی گھنٹوں بعد وہ مکمل ہوش میں آئی تھی تو بند آنکھوں سے اس نے ڈاکٹر کو کہتے سنا تھا۔
بہت کمزور ہے ماں۔۔ بچے کی بھی جان کو شدید خطرہ ہے۔ مکمل بستر پر رہے کم ازکم اگلے د ومہینے۔ تھکن بالکل نہیں لینی خوراک کا خاص خیال رکھنا ہے۔ کچھ سپلیمنٹس ہیں انکو مستقل استعمال کرائیں فی الحال کچھ انجیکشن لگنے ضروری ہیں اور فوری توانائی کیلئے ڈرپ لگے گی۔
وہ کوئی ہندوستانی ڈاکٹرنی تھی جس نے اسکا مکمل معائنہ کرتے ہوئے تاکیدوں کے ڈھیر لگا دیئے تھے۔ غنیمت تھا کہ وہ اردو بول رہی تھی ورنہ وہ جس ذہنی کیفیت کا شکار تھی کسی اور زبان کو سمجھنا مشکل تھا اسکے لیئے۔ ایک نہیں دو تین ڈرپیں اسے وقفے وقفے سے لگی تھیں۔ رات کے بارہ بج رہے تھے وہ مکمل بیدار ہو پائی تھئ اب اور لگا تھا کہ جسے چند پل ہی گزرے ہوں گے جب ایڈون ۔۔۔
کمرے کا دروازہ ہلکا سا چرچرایا تھا اس نے بنا ہلے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ یہ یقینا اسکی خدمت پر معمور نرس تھی جسکا کام ہر دو گھنٹے بعد آکر اسے دیکھنا تھا۔۔
اسے سوتا سمجھ کر بے حد احتیاط سے اس نے ڈرپ بند کی تھی اس پر کمبل درست کیا تھا۔ کینولا کے ذریعے ہی ایک ٹیکا لگایا تھا۔
دروازہ بند ہونے کی آواز سن کر بھی چند لمحے اس نے انکے جا چکنے کا یقین کیا تھا پھر آنکھیں کھولی تھیں۔چت لیٹے لیٹے تھکن ہو گئ تھی سو تکیہ درست کرتے وہ بیڈ کا سہارا لیکر نیم دراز ہوگئ ۔ سائیڈ ٹیبل پر شاپر رکھا تھا۔کچھ پھل تھے سوپ ڈھکا رکھا تھا۔ بھوک محسوس ہو رہی تھی اس نے شاپر سے سیب نکال لیا۔ پھلوں کے ایک اور بھی خاکی لفافہ تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل کالیمپ آن کیا میز کا سہارا لیکر اٹھ بیٹھی۔
لفافہ کھولا۔ مختصر سا نوٹ تھا۔
ہو سکے تو مل کر واپس جانا ۔۔ میری دعا ہے جہاں رہو خوش رہو۔
ایک کارڈ تھا۔ نوٹ انگریزئ میں تھا اور کارڈ مکمل ہنگل میں اسے ہنگل پڑھنی نہیں آتی تھی پھر بھی اس نے کارڈ پہچان لیا تھا یقینا یہ کم سن تھا۔
پرسوں صبح کی فلائٹ تھی یہاں سے دبئی کی۔ اسا دانہ پانی کوریا سے اٹھ گیا تھا۔
کیا ملوں گی میں؟ ہاں شکریہ ادا کرنا بنتا ہے۔ اس نے گہری سانس لی۔ اور سیب کھانے لگی
گھر پہنچنے تک اسے بخار چڑھ گیا تھا۔ گوارا کی امی نے اسکے خوب لتے لیئے تھے۔
اتنئ سردی میں اتنی سیڑھیاں کیوں چڑھوائیں؟
اسے یہاں کے موسموں کا کیا پتہ؟
وہ اسکے سرہانے بیٹھ کر سر دباتے ہوئے مستقل گوارا کو ڈانٹ رہی تھیں۔
اسی نے کہا تھا جان کھا لی مندر جانا ورنہ آپکو بھی پتہ ہے مجھے مزہب میں ذیادہ دلچسپی نہیں۔ اسکو مندر دیکھنے کا شوق چڑھ آیا تھا۔
تھوڑی دیر خاموشی سے ڈانٹ کھانے کے بعد وہ بلبلا کر بولی تھی۔
میرے سامنے زبان مت چلایا کرو تمہاری وجہ سے تمہارے باقی بہن بھائئ بھی شیر ہوتے ہیں۔
اب نئئ ڈانٹ پڑ گئ۔
ہوپ مسکراہٹ دبا رہی تھی۔ گوارا چڑ گئ۔آہموجی نےاریزہ کو اپنے ہاتھوں سے سبزیوں کا سوپ بنا کر پلایا۔ قہوہ پلایا۔ جب تک سو نہ گئ وہ اسکے سرہانے بیٹھی رہیں۔ گوارا اور ہوپ وہیں اپنے بستر پر لیٹ گئیں ۔ جب اریزہ نے گہری نیند میں کروٹ بدلی تب جا کے وہ اسکے اوپر کمبل درست کرتی اٹھی تھیں۔ احتیاط سے دروازہ کھول کر باہر آئیں تو یوسب اپنے لیئے کھانا نکال کر باہر لائونج میں بیٹھ رہا تھا
تم کب آئے۔ ؟
وہ حیران ہوئیں
جب آپ اپنی نئی بیٹی کو تھپکیاں دے کر سلارہی تھیں۔
اسکا چڑا ہوا جواب آیا تھا۔ وہ مسکرادیں۔
اسکی طبیعت خراب تھی۔ آہمی آہمی پکار رہی تھی بخار میں ۔ جانے اسکی ماں زندہ ہے یا نہیں مجھ میں اپنی ماں کو ڈھونڈ رہی تھی۔ ترس آیا مجھے ۔ بالکل گوارا لگی مجھے۔ ایسے جتنی زبان چلا لے مگر ذرا سی طبیعت خراب ہو تو مجھے اپنے پاس سے ہلنے نہیں دیتی۔
وہ پیار سے کہہ رہی تھیں
ہاں سب لٹا دی محبت بیٹیوں پر بیٹوں کیلئے کچھ بچا ہی نہیں ہے آپکے پاس وہ چاہے ٹھنڈا کھانا کھائیں یا کھائیں ہی نا۔
وہ منہ بنا کر کہتا ٹی وی آن کر رہا تھا۔
کھانا وہ رات کا انکے ساتھ ہی کھاتا تھا جبھی خفا تھا۔ وہ مسکرادیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرم گرم مٹر پلائو دیکھتے ہی اسے اریزہ یاد آگئ تھی۔ مسکراہٹ دبا کر اس نے چاول کی ڈش اٹھا کر اپنی پلیٹ میں چاول نکالے۔ خالو رات کو چاول نہیں کھاتے تھے سو انکے لیئے قیمہ مٹر بنا تھا۔ خالہ خود بھی چاول شوق سے نہیں کھاتی تھیں سو روٹی کھا رہی تھیں۔
ایک منٹ۔
اس نے فورا محسوس کر لیا۔
خالہ آپ صرف میرے لیئے الگ اہتمام مت کیا کیجئے اب جب مٹر قیمہ تھا تو آپ نے الگ سے پلائو کیوں بنایا میں بھی کھا لیتا یہی ۔
اس کے تکلف پر جبین مسکرا دیں
تو کیا ہوا دو منٹ میں بن جاتا ہے کونسا مشقت کرنی پڑتی ہے پلائو بنانے میں۔ میرا بیٹا شوق سے کھاتا ہے مٹر پلائو تو میں ۔۔
وہ پیار سے کہہ رہی تھیں
ہاں دو ڈشیں بنانے میں کونسا وقت لگ جاتا ہے۔ ہمیشہ ہی تمہاری خالہ سب کی پسند نا پسند کا خیال رکھتی آئی ہیں۔
خالو کا انداز بتاتا تھا وہ کس موڈ میں بولے ہیں۔
پچھلے کچھ عرصے سے وہ رات کو ہی بس کھانے کے وقت گھر آتے تھے اور تقریبا روز ہی انکی کسی نا کسی بات پر نوک جھوک ہوجاتی تھئ۔
آپ تو عورتوں کو بھی مات کرنے لگے ہیں طعنے دینے میں۔
وہ حسب توقع بری طرح چڑ گئیں۔
لو ایک تو تعریف کر رہا ہوں تمہاری۔ بیٹے کی پسند نا پسند کا خیال رکھتی ہو ایک وقت میں دو طرح کے کھانے بنا رکھتی ہو تھکتی بھئ نہیں ہو اب۔
وہ تپا چکے تھے جبھی اب ٹھنڈے میٹھے انداز میں بول رہے تھے۔
جانتی ہوں اس تعریف کا مطلب اچھی طرح۔
وہ بڑبڑا کر رہ گئیں
اریزہ بھی کل مٹر پلائو کھارہی تھی۔ اسکی کورین سہیلی کی ماں نے بنایا تھا۔ کہہ رہی تھی مزے کا ہے۔ مگر انہوں نے اس میں سالن ڈال دیا تھا۔ رونے والئ ہوئی وی تھی۔
اس نے بات بدلنے کی نیت سے قصہ سنایا مگر خیال آیا کہ سور والی بات جانے بتانی چاہییے یا نہیں سو بروقت زبان کو بریک بھی لگالی۔
سالن ڈالنے میں رونے کی کیا بات۔ اکثر لوگ سالن ڈال کر کھاتے ہیں چاول۔
جبین حیران ہو رہی تھیں۔ اس نے وضاحت نہیں کی۔ خالو کا کھانا کھاتے کھاتے دل اچاٹ سا ہوا روٹی ہاٹ پاٹ میں رکھتے اٹھ کھڑے ہوئے۔
اے اب کھانا تو پورا کھا لیں کہاں جا رہے ہیں؟
جبین نے ٹوکا مگر وہ بھوک نہیں ہے کہتے چائے کی فرمائش داغتے کمرے میں چلے گئے۔
وہ بول کے پچھتا رہا تھا کھانے میں اسکی بھی دلچسپی ختم ہو گئ تھی مگر خالہ کی وجہ سے ساتھ دینے کو کھانا زہر مار کرتا رہا۔
اریزہ کی طبیعت ٹھیک ہے؟ سردی سنا ہے کوریا میں سخت پڑتی ہے۔ اسکو تو فورا بخار ہوتا تھا سردی میں۔ بڑی احتیاط کرنی پڑتی تھی مجھے اسکی۔
نوالہ بناتے وہ بظاہر سرسری سے انداز میں پوچھ رہی تھیں حقیقتا رواں رواں کان بنا ہوا تھا۔
ٹھیک ہے۔ آجکل سہیلی کے گھر آئی ہوئی ہے۔ خوب گھوم پھر رہی ہے۔ تصویریں لگا رہی ہے انسٹا پر دکھائوں؟۔
اس نے پوچھنے کے ساتھ ہی موبائل نکال لیا۔ کرسی گھسیٹ کر انکے برابر کرتے ہوئے انکو تصویریں دکھانے لگا۔
بہت کمزور ہوگئ ہے؟ کھاتئ پیتی نہیں ہوگی نا۔ اتنے تو نخرے تھے کھانے میں اسکے۔
ماں نے سب سے پہلے بھانپا تھا کہ اس نے وزن کم کر لیا ہے۔ پرفضا مقام پر پہاڑوں کے درمیان ہنستی مسکراتی اریزہ بے حد خوش دکھائی دے رہی تھی۔
انکی آنکھیں جھلملا سی گئیں۔۔۔
اب بات ہو تو پوچھنا اس سے ۔۔
کہتے کہتے وہ رک سی گئیں۔
کیا ؟ وہ ہمہ تن گوش ہی تو تھا۔
یہی خیریت وغیرہ۔ تم چائے پیوگے؟
وہ ایکدم اٹھ کھڑی ہوئیں۔ پلیٹیں سمیٹتے ہموار لہجہ معمول کا انداز انہیں جیسے دلچسپی ہی نہ تھی تصویروں میں۔ وہ انکے خیال سے اسکی درجنوں تصویریں دکھانے بیٹھا تھا ۔۔
جی۔ صارم مایوس سا ہوا۔
جانے آج دل کیوں بیٹھا جا رہا ہے۔ وہ برتن اٹھاتے بڑبڑائی تھیں۔
آپ بیٹھیں میں سمیٹ دیتا ہوں بلکہ چائے بھی بنا دیتا ہوں۔ وہ فورا اٹھا تھا وہ واپس کرسی پر بیٹھ گئیں۔ مروتا بھی انکار نہیں کیا۔۔۔ دل ہی عجیب سا ہو رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے دفتر میں بیٹھا وہ کچھ ضروری امور دیکھ رہا تھا جب اسکو موبائل پر کال آئی۔ انجان نمبر دیکھ کر اس نے بے دھیانی سے فون اٹھا کر کان سے لگایا
یوبوسیو۔
آنیانگ ہاسے او۔ سنتھیا بات کر رہی ہوں۔
پوری دنیا ختم ہو رہی ہوتی اور سنتھیا اور وہ آخری دنیا میں رہ جانے والے انسان بچتے تب بھی اسے گمان نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ اب اسے کال کرے گی۔
کیسے ہو؟ وہ انگریزی میں احوال پوچھ رہی تھی۔
ٹھیک ہوں تم کیسی ہو طبیعت کیسی ہے؟
اس نے بے تابئ سے پوچھا تھا جوابا وہ چپ سی رہ گئ
ٹھیک ہوں۔ میں آج واپس جا رہی ہوں سوچا تمہیں خدا حافظ کہہ دوں۔ تم نے مجھ پر جتنے احسان کیئے جتنا میرا خیال رکھا اسکا بدلا تو نہیں اتار سکتئ مگر دل سے تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ۔ بہت بہت شکریہ کم سن ۔ تم بہت اچھے انسان ہو خدا تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔
کہاں ہو تم؟
کم سن نے اسکی بات کاٹ کر پوچھا
میں۔ وہ رکی پھر بتا دیا
اسپتال میں ہوں۔
کونسے؟
اس نے وقت ضائع کیئے بنا پوچھا
نام تو مجھے نہیں پتہ۔ اس نے موبائل کان سے لگائے سوالیہ نظروں سے نرس کو دیکھا جو اسکے کمرے کی کھڑکی کے پردے ہٹا رہی تھی۔ اسے اپنی طرف متوجہ ہوتے دیکھ کر مسکرا دی۔
گھنٹے بھر میں وہ اسکے سامنے تھا۔صوفے پر بیٹھا اسکے فارغ ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔
وہ ابھئ ناشتہ کرکے فارغ ہوئی تھی۔ نرس اسکا منہ صاف کروا رہی تھی۔ رات دیر تک جاگی تھی صبح دیر تک سوتی رہی تھی۔ اس وقت کچھ طبیعت پرسکون تھی۔ اسے دیکھ کر خیر مقدمی مسکراہٹ سجا کر وہ بیڈ اونچا کروا کر ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔ نرس اسکا بیڈ اونچا کرکے اسے ذیادہ دیر نہ بیٹھے رہنے کی تاکید کرتی باہر نکل گئ۔ نرس کے جاتے ہی وہ اٹھ کر اسکے قریب آکھڑا ہوا تھا۔
تم نے اچھا کیا تم آگئے۔ میں تمہارا دوبدو شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی۔ تم نے جو میرے لیئے کیا۔
وہ ابھی اتنا ہی کہہ پائی تھی کہ کم سن نے بات کاٹ دی
تم سفر نہیں کر سکتی ہو پھر کل جانے کا مطلب؟
اس نے بلا تمہید سوال کیا تھا۔
میں یہاں رہ نہیں سکتی ۔ ڈیڈا کے ساتھ واپس جانا ہے مجھے۔
اس نے کمزور سی آواز میں کہتے ہوئے سر جھکا لیا۔
کیوں کیا مجبوری ہے؟ تمہاری طبی حالت ایسی ہے کہ آرام سے تم کوریا میں رہ سکتی ہو اس بچے کی پیدائش تک کوئی تمہیں ہوائی سفر پر مجبور نہیں کرسکتا۔
کم سن کا انداز۔ اسکی فکر۔ اس نے کچھ کہنے کیلئے لب کھولے پھر ہونٹ بھینچ لیئے۔ وہ یقینا اچھا انسان تھا جو کسی انجان لڑکی کیلئے اتنا فکر مند تھا لیکن وہ اس کو کیا بتائے کیسے بتایے سب سے بڑھ کر کیوں بتائے اپنی مجبوریوں کی داستان۔
تم بیٹھو تو ۔ یہ میں نے کچھ ریفرشمنٹ بھئ منگوائی تھی معزرت تمہیں خود زحمت کرنی پڑے گی۔ اس نے وزیٹنگ صوفے کے سامنے رکھی سینٹرل ٹیبل کی جانب اشارہ کرتے بات ہی بدل دی۔ اسکو وی آئی روم دیا گیا تھا۔ اسکے بیڈ اور دیگر سہولیات تو جو تھیں ایک حصے میں مہمانوں کیلیئے صوفہ سیٹ بھی لگا ہوا تھا۔ میز پر بڑا سا شاپر بھی رکھا ہوا تھا۔ کم سن بھنا ہی گیا
بات مت بدلو۔وہ ہاتھ اٹھا کر بولا۔
تم پاکستان مت جائو ۔ یہیں رکو۔ تمہارے ڈیڈا اتنا تو خرچہ اٹھا سکتے ہیں تمہارا کہ یہاں کوئی رہائش کا انتظام کر سکیں ۔ یہاں چیریٹئ کے بھئ بہت سے نرسنگ ہومز ہیں ۔ تمہارا یہاں کوئی انتظام کیا جا سکتا ہے اور تم یہاں اکیلی بھی نہیں ہو ایڈون ہےاریزہ ہے ہم سب ہیں ۔
وہ کہنا چاہتا تھا میں ہوں مگر جانے وہ اسکا مطلب کیا لیتی سو اپنی بات کہہ گیا سنتھیا ہنس دی۔
بس ہنس کر چپ ہی رہی۔ کم سن کو اپنا آپ ایکدم چغد سا لگا۔یعنی اسکی بات بچکانہ سمجھ کر ہنس کر ٹال دی گئ تھی۔
سنتھیا میں سنجیدہ ہوں۔
وہ اپنی بات پر زور دے کر بولا۔ سنتھیا مسکرا کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔
تمہارا ایک بار پھر بہت شکریہ تم نے میری جتنی مدد کی جتنی فکر کی میں واقعی احسان مند ہو گئ ہوں تمہاری۔ کوریا کے بارے میں کم ازکم ایک اچھی یاد جڑ گئ ہے میری۔ تمہاری وجہ سے۔
اسکا انداز نپا تلا تھا ۔ وہ بہت سلیقے سے اسے اب جانے کا کہہ رہی تھی۔ کم سن اتنا بے وقوف نہیں تھا کہ سمجھ نہ پاتا ہونٹ بھینچے وہ بلا ارادہ اسے دیکھتا رہ گیا۔بس اتنا ہی تو تعلق تھا ان میں۔ اس نے خدا واسطے ایک انجان ملک کی لڑکی کی مدد کی جوابا وہ شکریہ ادا کررہی تھی مزید اور کیا ۔۔
یہ میں تمہیں دینا چاہتی تھی۔ اسے جیسے کچھ یاد آیا تھا۔ اپنے بیڈ کی سائڈ ٹیبل کی دراز سے اس نے ایک موٹا سا سفید کاغذکا لفافہ نکالا۔اسکی جانب بڑھا کر بولی
یہ امانت تھی تمہاری۔
اس نے میکانکی انداز میں اسکے ہاتھ سے لفافہ لیا۔ کھول کر دیکھا تو وون کے نوٹوں سے بھرا ہوا تھا
مجھے درست اندازہ تو نہیں کہ اسپتال کے اخراجات پر تمہارا کتنا خرچ آیا ہوگا۔ لیکن یہ میری جانب سے شکریے کا نذرانہ ہے۔۔
کم سن کو ہنسی آگئ
مٹھی بھر نوٹ بس۔ اتنی سی قیمت لگی۔
یہ بہت کم ہیں۔ اس نے نوٹ واپس لفافے میں رکھ کر لفافہ اسکی جانب بڑھا دیا
وہ انکار کرے گا لینے سے منع کرے گا وہ تھوڑا اصرار کرکے منا لے گی وہ اتنے خرچے ایک مخلص انسان کے کروا کر پاکستان جا بیٹھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ بہر حال پیسہ ایک حقیقت ہے۔ مگر اس کے سب ردعمل سوچتے اس نے یہ کم از کم نہیں سوچا تھا کہ وہ پیسے واپس کرتے کہے گا یہ کم ہیں۔
اسے ڈیڈا سے مزید رقم کا انتظام کرنے کا کہنا چاہئےتھا اسکا یقینا کافی ذیادہ خرچہ ہوا ہوگا۔
میں ڈیڈا سے مزید وائر کروادیتی ہوں۔ وہ الرٹ سی ہو کر بیٹھی۔ اب تو ڈیجیٹل بھی بھیجا جا سکتا ہے خوامخواہ کیش کی زحمت کی۔
وہ سوچ رہی تھی۔ بیڈ سائیڈ سے فون اٹھا کر ڈیڈا کو کال ملائے۔ ۔کم سن نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام کر روک کر اس پر لفافہ رکھا۔
جو میرا خرچ ہوا ہے وہ وقت تھا جزبے تھے۔ انکی قیمت پیسوں میں تولی نہیں جاسکتی۔ کبھی وقت یا جزبوں سے مول لگا سکو تب رابطہ کرنا۔
سنتھیا کا دیکھتے ہی دیکھتے رنگ بدلا پیشانی پر شکن آگئ۔
کیا مطلب ہے اس بات کا۔ وہ چٹخ کر بولی۔
کم سن گہری سانس لیکر بنا جواب دیے جانے کو مڑا۔ پھر خیال آیا تو رک کر بنا پیچھے مڑ کر دیکھے بولا
بہت طویل عرصہ میں نے گزارا ہے کسی کیلئے یک طرفہ محبت میں جلتے سلگتے۔ ساتھ کھڑے ہونا مگر پس منظر کا حصہ بن جانا۔ اور تمہیں دیکھ کر مجھے خیال آیا تھا یہ بد قسمتی صرف میرے حصے میں نہیں آئی ہے۔ اور بھی لوگ ہیں دنیا میں جو پاس ہو کر بھی نارسائی کی آگ میں جلتے ہیں۔۔ یہ میں جانتا تھا کیونکہ۔۔۔
وہ رکا تھا۔ سانس لی تھئ شائد۔ سنتھیا دم سادھے سن رہی تھی۔
۔۔۔۔دراصل تمہیں دیکھتا تھا میں اتنا دیکھتا تھا کہ۔۔۔
اسکے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ در آئی۔پلٹ کر ناگواری سے گھورتی سنتھیا کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا
تم ایڈون کے سوا کسی کو دیکھتیں تو شائد مجھے تمہیں دیکھتا دیکھ لیتیں۔
سنتھیا بھونچکا سی اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔ وہ کہہ کر رکا نہیں تھا ۔ رک سکتا ہی نہیں تھا آنکھیں ہی بھرآئی تھیں۔ دروازہ کھول کر باہر نکلتے اس نے رفتار بڑھاتے بس یہی سوچا تھا
پھر میں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے
kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ?Rate us below
نجانے اس دن اسکے دل میں کیا سمائی کہ اپنا ماضی روزینہ کے سامنے کھول بیٹھا۔ راحیلہ ایسی تھی یوں کرتی تھی ۔۔۔اس کے ساتھ اچھا وقت گزرا مگر کس طرح اسکے گھر والوں بنا اس سے پوچھے اسکا رشتہ خاندان میں طے کردیاوہ کتنا روئی یہ خود کتنا رویا بے بسی کی انتہائیں خودکشی تک کا سوچا وغیرہ۔ روزینہ عام بیویوں کی طرح اس سے جھگڑنے کی بجائے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سنتی رہی۔خاموشی سے۔۔ اتنا کہ اسکا دل ہلکا پھلکا سا ہو گیا۔ اس نے اس بات کا اقرار بھی کیا۔۔ شکر ہے تم میری بیوی سے ذیادہ میری دوست ہو۔ یہ باتیں میں آج تک کسی دوست سے بھی نہ کہہ پایا۔کجا تم سے کہہ ڈالا۔
روزینہ نے اسی متانت سے سر ہلایا اپنے کام میں مگن ہوگئ۔ پھر تو جیسے اسکے اندر کی گھٹن کو روزن مل گیا۔ پہلا پیار کہاں بھولتا کسی کو۔ اور پہلا پیار کا ذکر کون نہ کرنا چاہے گا۔ پرانی یادیں باتیں قصے۔۔ ۔کیا کچھ وہ دل میں دبائے تھاقسمت سے بیوی اچھی مل گئ جو اسکی نا صرف دل جمعی سے سنتی بلکہ کبھی کبھی لقمہ بھی دے ڈالتی آپ ابھی بھی بہت یاد کرتے ہیں ناراحیلہ کو۔ ہاں۔ وہ صاف گوئی سے کہتا۔ مگر اب سوچتا ہوں وہ مل جاتی تو مجھے تم جیسی شریک حیات کہاں ملتی۔ سچ پوچھو تو مجھے ان تہجد کی نمازوں کا دعائوں کا شکوہ جاتا رہتا یے جو نا مقبول ہوئیں اور مجھے راحیلہ نہ مل سکی۔ مگر اللہ نے اجر کی صورت تم دے دیں مجھے۔۔
روزینہ شرارتی سے انداز میں ہنستی۔۔ یوں کہیں نا تھوڑا سا مجھ سے بھی پیار ہو گیا ہے۔۔ اس دن بھی جب روزینہ خاموشی سے کپڑے تہہ کرتی اسکی سنے جا رہی تھی روزینہ مجھے تم سے بھی پیار ہو چلا ہے۔۔ یکدم ہی اس نے بات بدل کر کہا تو وہ مسکرا دی تھوڑا سا ؟؟؟؟اسکا انداز شرارت بھرا تھا۔۔ وہ بھی ہنسا۔ پھر گنگنانے لگا۔۔ تھوڑا سا پیار ہوا ہے تھوڑا ہے باقی۔۔۔ ویسے روزینہ تھوڑا سا اور پیار ہو جائے نا مجھے تم سے میں راحیلہ کو بھول جائوں گا۔۔ وہ جزباتی سا ہو چلا۔۔ راحیلہ تو آپکا پہلا پیار ہے کیسے بھول سکتے ہیں معاذ آپ۔ وہ رخ پھیر گئ تہہ شدہ کپڑے اٹھا کر الماری میں رکھنے لگی۔ وہ سانس روکے اسے چند لمحے دیکھتا ہی رہ گیا۔ اسکو لگا روزینہ کی آنکھوں میں نمی سی جھلکی ہے۔۔ اتنی صابر محبت کرنے والی بیوی سے تھوڑی سی سہی مگر اسے بھی تو محبت ہو گئ تھی۔ تڑپ ہی تو گیااٹھا اسکے قریب چلا آیا کندھوں پر ہاتھ رکھ کر جزب سے بولا پہلا پیار کبھی بھول نہیں سکتا مگر روزینہ وعدہ ہے تم سے تمہارے سوا اب زندگی میں کوئی نہیں آئے گا۔۔ سچ ۔ روزینہ بھیگی پلکوں کو جھپکتے آس سے دیکھ رہی تھی۔ مچ۔۔ اس نے مسکرا کر سر ہلادیا۔۔ وہ دن آخری دن تھاجب میں نے راحیلہ کا نام لیا۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ مجھے روزینہ سے بھی بہت محبت ہوگئ ہے اتنی کہ میں بس اسکو چاہتا ہوں اتناکہ اسکے دل و دماغ میں بلا شرکت غیرے راج کرنا چاہتا ہوں۔۔ یہ تھی میری کہانی ۔۔ اب میری زندگی کا محور بس میری بیوی ہے اب راحیلہ کا ذکر ہمارے درمیان نہیں ہوتا۔۔ مجھے وہ یاد بھی نہیں آتی۔۔میرا پہلا پیار تو موسم سا تھا اچھا تھا گزر بھی گیا۔میری حقیقت میری بیوی ہے۔۔ میری روزینہ اور روزینہ کا میں۔ صرف میں یعنی ساعد مراد۔
قسط 38 صبح سب سے پہلے گوارا کی آنکھ کھلی تھی۔ آنکھ کھلتے ہی جھلا گئ۔ کیونکہ آنکھ کھلنے کی وجہ تھی مسلسل بجتا موبائل۔ اس نے ہاتھ مار کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا تو دس بج رہے تھے۔ کروٹ بدلی تو ہوپ کا چہرہ سامنے تھا۔ کم چاگیا۔ وہ بے ساختہ ڈر کر پیچھے ہوئی۔ ہوپ نے آنکھیں کھول کر کینہ توز نگاہوں سے گھورا۔ ذیادہ ڈرائونی شکل بنانے کی ضرورت نہیں تم ویسے ہی خوفناک ہو۔ وہ کہاں باز آسکتی تھی۔ فون تو اٹھا لو۔ ہوپ نے دانت کچکچائے۔ میرا نہیں بج رہا۔ وہ خود جھلائی ہوئی تھی۔ اس کے کہنے پر ہوپ نے کروٹ بدل کر پہلو میں بے خبر سوئی اریزہ کو گھورا۔ سر پر بجتے فون سے بے نیاز گہری نیند میں گم۔ اے اریزہ۔ گوارا جھلا کر ہوپ کے کندھے پر تھوڑی ٹکاتی کہنی کے بل اسکے اوپر سے جھانک کر چلائی۔ ہوں۔ وہ کسمسائی۔ فون آرہا ہے تمہارا۔ ہوپ اور گوارا اکٹھے بولی تھیں۔ اس نے مندی مندی آنکھوں سے کروٹ لیکر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا۔ نا واقف نمبر تھا۔ اس نے سائلنٹ کرکے رکھا اور دوبارہ نیند میں گم ہونے کو تھی۔ اٹھو۔ہماری نیندیں اڑا کر تم سکون کی نیند نہیں سو سکتیں۔ ہوپ نے اسکے اوپر سے کمبل کھینچا۔ سونے دو نا پلیز۔ وہ نیند میں ڈوبی آواز میں بولی مگر گوارا اور ہوپ بخشنے کو تیار نہیں تھیں۔ اسے اٹھا کر بٹھا دیا۔ پہلے باتھ روم سے تو فارغ ہو لو۔ وہ دہائی دے رہی تھی۔ ہم قربانئ دے لیں گے پہلے تم جائو۔ گوارا نے حقیقتا قربانئ دی۔ وہ مشکوک نظروں سے دیکھتئ اٹھی باتھ روم میں گھسی۔ منہ ہاتھ دھو کر واپسی ہوئی تو بے ساختہ گوارا کی طرح ہی چلا اٹھی۔دونوں منہ تک کمبل تانے بے خبر سو رہی تھیں بظاہر کم از کم۔ اے ۔۔ےےے ۔ اٹھو دونوں۔ پھر خیال آیا تو انگریزی بولی۔ یا۔۔ کہتے ہیں ۔ آگاشی۔ گوارا کمبل سے سستی سے نمودار ہونا شروع ہوئی۔ ہم اے کہتے ہیں۔ اس نے جتایا۔ اے؟ اور بی کسے کہتے ہیں۔ ہوپ نے شائد مزاق کرنا چاہا تھا۔ بی بڑی بی کو کہتے۔ ہوپ بی اٹھ جائییے آپ کو دیر ہو گئ ہے آہجومہ۔ اریزہ نے گھڑی کی طرف اشارہ کرتے یاد دلایا۔ مجھے نہیں جانا آج میں کل استعفی دے آئی تھی۔ ہوپ سرسری سے انداز میں کہتی کمبل ہٹاتی اٹھ بیٹھئ۔ گوارا اور اریزہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگی۔ ہوپ تمہیں نہیں لگتا تمہیں سیشن لینے چاہیئے تھے۔ خود کشی کی ایک بار سوچ آجائے تو بار بار ذہن ایسے ہی گھمن گھیریاں کھاتا ہے۔ ہر چیز سے دل اٹھتا جاتا ہے او رصرف موت ہی پناہ گاہ گوارا مزید بھی کہتی اس بار اریزہ او رہوپ اکٹھے چلائیں۔ یا۔ منہ بند کرو گوارا۔ اریزہ بھنائی کھوجو۔ ( دفع ہو)۔ ہوپ نے بدمزہ منہ بنایا میں دو نوکریاں کرکے ڈھیروں پیسہ جس مقصد کیلئے جمع کر رہی تھی وہ مقصد ختم ہوچکا تو مجھے اتنی بیگار لینے کی ضرورت نہیں۔ پھر اب کیا کروگی؟ اریزہ ہمدردانہ انداز میں اسکے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی۔ فی الحال سوچا نہیں۔ سوچنے کیلئے وقت ہی نہیں تھا۔ پینٹنگ کو سنجیدگی سے لوں یا۔ اس نے ابھی اتنا ہی کہا گوارا نے ہاتھ اٹھا دیئے کچھ اور سوچو پینٹنگ تمہارے بس کا روگ نہیں۔ اتنا موٹا منہ بناتی ہو عمر میں دس پندرہ سال کا اضافہ ہوجاتا ہے پورٹریٹ مکمل ہوتے تک اوپر سے ۔ وہ مزید بھی خوبیاں گنواتی اریزہ نے بستر سے کشن اٹھا کر اسکے منہ پر مارا۔ گوارا صدمے سے گھورتی رہ گئ۔ بس کرو ۔۔ اریزہ نے آنکھیں دکھائیں۔ تم بے وفا لڑکی۔ تمہاری تو۔ اس نے لپک کر زمین سے کشن اٹھا کر واپس اسے دے مارا وہ تیزی سے پیچھے ہوئی اس بار ہوپ نے بدلہ لیا اور تکیہ اسے دے مارا۔ گوارا اپنے مخالف ٹیم بنتے دیکھ کر خم ٹھونک کر میدان میں اتری۔ ہوپ اور گوارا میں گولا باری شروع ہوئی تو اریزہ کو ہی صلح کا جھنڈا لہرانا پڑا۔ دونوں اپنے اپنے تکیئے تلوار کی طرح چلاتی آگے بڑھیں تو اریزہ رضاکارانہ طور پر بیچ میں آکر وار سہہ گئ۔ بس کرو تکیئے پھٹ جائیں گے۔ اریزہ کے کہنے پر دونوں کو ہاتھ روکنے پڑے۔ بیڈ پر ٹک کر دونوں ہانپنے لگیں۔ اریزہ بھی دھپ سے دونوں کے بیچ آ بیٹھی۔ یاد ہے پہلی دفعہ جب میں آئی تھی تب بھی تم لوگ ایسے ہی تکیوں سے لڑ رہی تھیں۔ تب ایک لڑکی اور تھی ۔ ہوپ کے ذہن میں یاد تازہ ہوئی۔ جی ہائے۔ گوارا نے گہری سانس لی۔ ہاں نام تو نہیں یاد مجھے۔ سچ تو یہ شکل بھی۔ ہوپ یونہی ہنس کر بولی۔ گوارا تم جی ہائے کو یاد نہیں کرتیں؟ اریزہ نے پوچھ لیا۔ گوارا نے کندھے اچکا دیئے۔ مجھے پکا یقین وہ مجھے یاد نہیں کرتی ہوگی۔ یعنی تم کرتی ہو۔ اریزہ نے جیسے راز پالیا۔ تم سنتھیا کو یاد نہیں کرتیں کیا۔ اسکے الٹا سوال کرنے پر وہ چپ ہوگئ یہ سنتھیا اور جی ہائے کون ہیں؟ ہوپ نے انکی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائئ تو دونوں چونک گئیں۔ سنتھیا میری دوست تھی اور جی ہائے اسکی۔ اریزہ نے کہا تو گوارا جملہ مکمل کرتی بولی اور اب نہ سنتھیا اسکی دوست ہے نا جی ہائے میری۔۔ اور اب لگتا ہے اریزہ بھی میری دوست نہیں رہ گئ۔ گوارا منہ لٹکا کر بولی۔ کیوں بھئ اریزہ کیوں؟ ہوپ کا سوال بنتا تھا۔اریزہ بھی سوالیہ ہوئی۔ تمہاری وجہ سے۔ ہر دو دوستوں کے بیچ کوئی تیسرا آجاتا پھوٹ ڈلوانے۔ چار دن گائوں کیا گئ تم دونوں ذیادہ سگی بن گئ ہو مجھے کاٹ کے علیحدہ کردیا ابھی بھی تم دونوں مل کر مجھے مار رہی تھیں۔ ذرا خیال نہ آیا۔۔ اس نے باقائدہ بین کرنے شروع کیئے تو دونوں اکتا کر اٹھ گئیں۔ ہائیش۔۔۔ میرا تو کوئی اپنا نہیں رہا۔وہ ہنگل میں اب شروع ہوگئ۔ سرکتے ہوئے دوبارہ بیڈ پر دراز ہوئی ارادہ کمبل میں گھس کر مزید نیند پوری کرنے کا تھا۔ سچی دوستی و محبت کی کوئی قدر نہیں رہی۔ کوریا مادہ پرست معاشرہ بنتا جا رہا ہے۔ کہتی ہے اس دنیا میں جاپانی دوست بن سکتے ہیں مگرمسلمان نہیں۔ کیوں بھلا؟ اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا ریمائینڈر جگمگا رہا تھا۔ فرینڈیسری ۔ ٹھیک ڈھائی سال قبل اسی دن ان دونوں نے دوستی کا عہد لیا تھا۔ اکٹھے تصویر بنواتے ہوئے دونوں نے مسکرا کر انگلیوں سے دل کی شکل بنا رکھی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم دونوں میرے ساتھ چلو گائوں۔ سچ مچ بہت مزا آئے گا وعدہ تم دونوں کو خوب سیر کرائوں گی۔ میلہ دیکھنا میرے ساتھ کرسمس منانا اور ہم فورا چھٹیاں ختم ہوتے ہی واپس آجائیں گے۔ناشتہ کرتے ہوئے گوارا لالچ دے رہی تھی۔ ہوپ سوچ میں پڑی۔ اریزہ کی نئی فرمائش تھی۔ اب یہی سب ہنگل میں کہو۔ گوارا نے لمحہ ضائع کیے بنا دہرادیا۔ مجال ہے ایک لفظ سمجھ آسکا ہو اس نے منہ لٹکا لیا۔ ہمت نہ ہارو وقت لگے گا ہنگل اتنی مشکل زبان تھوڑی ہے۔ آجائے گئ تمہیں بھی۔ گوارا نے تسلی دی۔ پتہ ہے میں اور جی ہائے ہر سال جاتے تھے جب سے ہماری دوستی ہوئی اسے میرا گائوں اتنا پسند تھا کہ گرمیوں میں ہم ویک اینڈ منانے بھی گائوں جایا کرتے تھے۔ گوارا اریزہ کو بتا رہی تھی۔ میں تیار ہوں۔ ہوپ نے ایکدم سے اسے مخاطب کیا۔ کس لیئے۔ ؟ گوارا بے دھیانی سے پوچھ رہی تھی۔ تم نے چاہے یونہی مروتا پوچھا ہوگا مگر میں جانا چاہتی ہوں ۔ میں دوسری جاب سے کچھ دن کی چھٹیاں لے لیتی ہوں۔ مجھے تبدیلی آب و ہوا کی شدید ضرورت ہے۔میں کافی مددگا رثابت ہو سکتی ہوں تمہاری امی کے ریستوران کیلئے۔ ہوپ کاوہی قنوطی انداز۔ دو سینڈوچ پر مشتمل اسکا ناشتہ ختم ہو چکا تھا۔ اب کافی کا مگ اٹھا کر جانے ہی لگی تھی کہ اریزہ نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔ بیٹھو ابھی ہمارا ناشتہ باقی ہے اور ہم باتیں بھی کر رہے ہیں۔ ہوپ نے اجازت طلب نگاہوں سے گوارا کو دیکھا۔ اس نے اپنے چہرے پر در آنے والی مسکراہٹ فورا کافی کا مگ ہونٹوں سے لگا کر چھپائی۔ ہوپ بیٹھ ہی گئ۔ تم جی ہائے سے بھی پوچھ لو کیا پتہ اب اسکی ناراضگی کم ہوچکی ہو۔ اریزہ نے کہا تو گوارا گہری سانس لیکر سیدھی ہوئی اسکی ناراضگی کی وجہ جانتی ہو۔ اریزہ نے نفی میں سر ہلایا۔ تم ہو۔ گوارا کے کہنے پر وہ چونک سی گئ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلکی سی کھٹر پٹر سے اسکی آنکھ کھلی تھی۔ وہ کسمساتے ہوئے اٹھی تو جی ہائے صوفے کے ساتھ رکھی چھوٹی سی میز پر ناشتے کے باکس رکھےناشتہ کر رہی تھی۔ ایک نظر اسے دیکھ کر دوبارہ ناشتے میں مشغول ہو گئ۔ کم سن اسی وقت بڑے بڑے شاپر اٹھائے اندر داخل ہوا۔ تم ناشتہ کر رہی ہو؟ ابھی تو میں آیا تھا تو سوئی پڑی تھیں میں تمہارے لیئے بھی ناشتہ لے آیا۔ کم سن کی ابھی اس پر نظر نہ پڑی تھی۔ اسکو کھلا دینا ۔ اٹھ گئ ہے یہ۔ وہ ہاتھ جھاڑتے رسان سے بولی۔ اسکا ناشتہ ختم ہو چکا تھا۔ تم اٹھ گئیں۔ لو ناشتہ کرلو۔ تمہیں تو گوشت سے پرابلم نہیں ہے نا؟ میں چکن سوپ لایا ہوں ساتھ ویجی ٹیبل سوپ بھی ہے۔ وہ ایک کونے میں کھڑی مریضوں کی اسٹینڈ والی میز گھسیٹ کر اسکے بیڈ پر ہی ناشتہ لگانے لگا۔جی ہائے جیکٹ پہن کرپرس کندھے پر لاد کر جانے کیلئے تیار ہوگئ۔ میں جا رہی ہوں۔ اب میری تو کوئی ضرورت ہے نہیں۔ باقی اگر پڑے بھئ تو سنتھیا برائے مہربانی مجھے یاد مت کرنا۔ یہ اسکا الوداعیہ تھا۔ کھردرا انداز سخت لہجہ چہرے پر اجنبیت۔ کم سن نے حیرت سے مڑ کر اسکی شکل دیکھی۔ وہ جملہ مکمل کرکے دروازے کی طرف بڑھی جب سنتھیا نے اسے پکارلیا۔ جی ہائے۔ دروازے کی ناب پر اسکا ہاتھ لمحہ بھر کو رکا۔ تم نے مجھ پر بہت احسان کیا ہے میں اسے ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ تمہارا بہت شکریہ۔ میں ویسے کسی قابل تو نہیں مگر کبھی بھی ضرورت پڑے میری تو ۔۔۔ سنتھیا ابھی بول ہی رہی تھی کہ وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گئ۔ اسکی بدتمیزی پر کم سن نے دانت کچکچا کر گھورا۔ سنتھیا دل مسوس کر رہ گئ۔ جانے دو۔اسکا غصہ ایسا ہی ہے۔ تم ناشتہ کرو۔ کم سن نے سر جھٹک کر اسے کہا۔ دو طرح کے سوپ تھے ابلے چاول تھے سبزیوں کی کچومر سی کوئی ترکاری تھی۔ رول آملیٹ تھے۔ سنتھیا ہونٹ کاٹنے لگی۔ کم سن خفت زدہ سا ہوگیا۔ مجھے بالکل اندازہ نہیں کہ پاکستانی ناشتے میں کیا کھاتے ہوں گے۔ گوگل کیا تو جو قریب ترین بھی ناشتہ مل رہا تھا وہ آنے جانے میں گھنٹہ لگا دیتا اور مجھے لگا تمہیں شکریہ۔ بہت بہت شکریہ۔ میں تم لوگوں پر اتنا بوجھ بن گئ ہوں مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا تم جی ہائے تم دونوں نے میرے لیئے جو کیا ہے اسکا میں کبھی بدلہ نہیں اتار سکتی میں چاہوں بھی تو وہ بات کاٹ کر بولتے بولتے روپڑی۔ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر۔ کم سن ہونٹ بھینچ کر اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اسکی دوست نہیں تھی۔ کبھی انکی ذیادہ بات چیت نہ رہی تھی۔اسکو سمجھ نہیں آرہا تھا اسے کیسے چپ کرائے۔ کتنے مناظر اسکی نگاہوں میں گھوم گئے تھے جب اسے ناک چڑھا کر گھورتے دیکھتا تھا۔ایڈون کے سوا کسی کی جانب نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھتے دیکھا تھا۔اریزہ اور وہ کبھی اکیلے بیٹھی بھی نظر آتی تھیں تو تنی گردن اور تیکھی نظروں سے دیکھتی وہ کتنی مغرور لڑکی دکھائی دیتی تھی۔ اس وقت وہ اس لڑکی کا سایہ بھی نہیں لگ رہی تھی۔ چند مہینوں میں کوئی کیسے اتنا بدل سکتا ہے۔ مجھے اسی لیئے محبت سے نفرت ہے۔ محبت کمزور کر دیتی ہے۔ انسان کو بدل دیتی ہے انسان سے وہ کچھ کروا لیتی ہے جو سوائے اس فالتو جزبے کے دنیا کی کوئی طاقت بھی نہ کرواسکے۔محبت کرنی نہیں چاہیئے۔ جی ہائے رواں ہنگل میں چبا چبا کر بولی تھی۔ کم سن اور سنتھیا چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگے۔سنتھیا نے باقی سسکیاں روک کر جلدی سے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ ائیر بڈز رہ گئے تھے میرے یہاں۔ وہ صوفے کی طرف اشارہ کرکے بولی۔پھر آگے بڑھ کر تکیہ ٹٹول کر پینل اٹھانے لگی سنتھیا شکریہ ادا کر رہی تھی تمہارا اور رو پڑی۔ کم سن نے جتایا۔ یعنی یہ فالتو کا لیکچر کس خوشی میں دیا محبت پر۔ سنتھیا کو کہا بھی نہیں میں نے ورنہ ہنگل میں نہیں انگریزی میں کہتی۔ جی ہائے مصروف سے انداز میں بولی۔ پھر کسے کہا۔ کم سن سوالیہ ہوا تمہیں کہا۔ وہ بھنوئیں اچکا کر بولی۔ مجھے؟ وہ ہکا بکا رہ گیا۔ تمہیں پہلے اسکا اپنا درد مشترک لگتا تھا اب مشترکہ کے درد میں ہی مبتلا لگتے ہو۔ اگر وقت ہے تائب ہو جائو ارے کیا مطلب ہوا اس بات کا؟ کم سن سمجھا نہیں۔ ہنگل میں ہی بولا ہے سمجھ کر نہ سمجھو تو الگ بات۔کرم وہ جتا کر ایک نظر اسے او رپھر سنتھیا کو دیکھتی ہوا کے جھونکے کی طرح گزر گئ خوامخواہ۔ کم سن کو ہوش آیا تو جھلائے بنا نہ رہ سکا۔ کچھ بھئ ۔ہائش۔ یہ لڑکی کھسک چکی ہے۔ وہ بڑبڑا رہا تھا کیا ہوا کیا کہہ رہی تھی۔ سنتھیا کو بات تو نہیں انداز سے یہی لگا کہ اسکے بارے میں ہی بات ہو رہی ہے۔ کچھ نہیں۔ تم کھانا کھائو ٹھنڈ اہو رہا ہے۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر اسکا دھیان بٹاگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاسٹل واپس آکر ابھی وہ بیڈ پر آکر بیٹھی ہی تھی کہ اسے گوارا کا میسیج کاکائو ٹاک پر موصول ہوا تھا۔ سال بھر پرانی یاد تازہ کی گئ تھی۔ ایک خوبصورت لمحے کی یاد گارتصویر میں قید تھئ۔ ساتھ لکھا تھا۔ ہم پچھلے سال اکٹھے یہاں یادیں اکٹھی کر رہے تھے۔ میں آج یہاں جاتے سوچ رہی ہوں کہ کیا ایسا دن دوبارہ کبھی آسکے گا۔ نہیں۔ اس نے فورا جواب لکھ کر بھیجا تھا۔ جوابا اس نے میسج دیکھ کر جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ وہ چند لمحے منتظر رہی۔ پھر دوبارہ تصویر کو ذوم کرکے دیکھنے لگی۔ اس دن فارم پر جانے سے پہلے اپنے گھر کے صحن میں یہ تصویر اس نے لی تھی۔ بظاہر سیلفی تھی مگر پس پردہ بھاگتے اسکے تینوں چھوٹے بہن بھائی بھی اس تصویر کا حصہ بن گئے تھے۔ اسے تصویر دیکھ کر وہ دن یاد آگیا تھا۔ اس دن تیز دھوپ نکلی ہوئی تھی ۔ اسکا اور گوارا کا قریبی باغ سے سیب چننے کا ارادہ تھا اس چھوٹے سے باغ سے پھل چننے کی ذمہ داری گوارا نے اٹھا لی تھی وہ اسکا۔چھوٹا بھائی جا رہے تھے تو اس نے بھئ گھر بیٹھ کر بور ہونے سے بہتر یہی سمجھا کہ انکے ساتھ چلی چلے۔ گوارا نا صرف خود فٹا فٹ تیار ہوئی بلکہ اپنے دونوں چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی ہمراہ لے لیا انکو کیوں ٹانگ رہی ہو اپنے ساتھ ہم کام کریں گے یا انکو سنبھالیں گے۔ اس نے سخت ناگواری سے کہا تھا جو شائد ساتھ چلتے سوینگ کو برا لگا تھا جبھی بچوں کو اپنے ساتھ آنے کا کہہ کر رفتار بڑھا لی تھی۔ کیا کہیں گے یہ ہمیں؟ درخت سے پھل توڑنے جتنا قد ہے نہیں انکا فارم ہائوس اتنا بڑا نہیں کہ گم جائیں کھیلتے رہیں گے یہ وہاں ہم اپنا کام کر لیں گے۔گھر میں تو اتنی جگہ ہے نہیں پھر آہمونی انکو وہاں بھاگنے دوڑنے بھی نہیں دیتیں دیکھو کتنے خوش ہیں ۔ اچھلتے کودتے جاتے بہن بھائی کو دیکھ کر گوارا نے پیار بھرے انداز میں اسے بالتفصیل بتایا۔ تم واقعی ان سے پیار کرتی ہو؟ جی ہائے نے حیرت سے سوال کیا تھا۔ میرے بہن بھائئ ہیں سوتیلے ہیں تو کیا ہوا۔ دیکھا جائے تو ان بچوں سے مجھے کیا پرخاش ہو سکتی ہے۔ اسکا انداز سادہ سا تھا۔ مگر جی ہائے چڑ گئ تم مجھے جتا رہئ ہو؟ مگر یہ دیکھو کہ ان کے والد صاحب تمہارا اور تمہارے بڑے بھائی کا خرچہ اٹھانے کو تیار نہیں تمہیں ان کے بچوں پر پیار لٹانے کی کیا ضرورت ہے۔ تم بھی انکو اگنور کرو۔ اگرایسی بات ہے تو تمہارے والد تو تمہارا خرچہ مزید بچوں کے باوجود اٹھاتے ہیں تمہیں تو اپنی بہنوں سے پیار ہونا چاہیئے تھا۔ گوارا نے بنا لحاظ اسے جتایا تھا تم مجھے اب اس بات کا طعنہ دوگی؟ غصے کے مارے اسکی آواز کانپ گئ۔ میں طعنہ نہیں دے رہی سمجھا رہی ہوں۔ اسکو غصے میں آتے دیکھ کر گوارا نے بھی اپنا لہجہ دھیما کیا۔ میرے والدین کی آپس میں نہیں بنی وہ الگ ہوگئے ۔ ہم دونوں بہن بھائی اتنے بڑے تھے کہ اپنا خیال خود رکھ سکتے تھے۔ میں آہجوشی سے امید کیوں رکھوں کہ وہ میرا خیال کریں میرا باپ میرا خیال رکھتا رہا تھا میرے نام سےانشورنس پالیسی بھری ہے اس نے۔ آہجوشی میرے باپ نہیں ہاں میری ماں کیلئے میں اور سوینگ بھی انکی اولاد ہیں اور رودا اور سنگ گون بھی۔ ایک ٹوٹے لڑتے بھڑتے مگر اکٹھے رہنے پر مجبورخاندان سے بہتر دو الگ خوشحال خاندانوں کا حصہ بننا بہتر نہیں؟ میرے تو میرے والد کی بیوی سے بھئ اچھے تعلقات ہیں۔ تم بھی اگر چاہو تو۔۔ تمہارے والدین لڑ کر الگ ہوئے میرے باپ نے میری ماں کو ایک نئے مذہب کے پیچھے چھوڑا۔ میری ماں آخری وقت تک مصالحت چاہتی تھئ میرا باپ اسکو چھوڑ گیا ہمارے حالات ایک جیسے نہیں۔۔ میرے باپ کی بیوی میری ماں کی اور اسکی اولادیں مجھے اپنی ہنستی بستی زندگی اجاڑنے کی ذمہ دار لگتی ہیں جسکے لیئے میں اس بڈھے کو کبھی معاف نہیں کر سکتی۔۔ سمجھیں تم۔ گوارا اسے سمجھانا چاہ رہی تھی مگر جی ہائے کو اتنا غصہ آیا تھا کہ اس پر چلا چلا کر وہیں سے پیر پٹختی واپس ہوئی تھئ۔ اس وقت بھی یہ یاد اسے غصہ ہی دلا گئ تھئ۔ اس نے موبائل بیڈ پر پٹخا اور بازو آنکھوں پر رکھتی وہیں دراز ہوگئ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ اس لڑکی سے کیوں نہیں پتہ کرتے ؟ کیا آپ نہیں جانتے وہ اس وقت کہاں رہ رہی ہے؟ سنتھیا کے والد کا بس نہیں تھا کہ اس ڈیٹیکٹو کا سر بجا دیتے۔اس وقت وہ کمشنر کے دفتر میں بیٹھے تھے۔ انکی بیٹی کی بازیابئ کیلئے جو ٹیم تشکیل دی گئ تھی اسکے ٹیم لیڈر علاقے کا ایس پی اور پاکستانی سفارتخانے کا نمائندہ بھی موجود تھا۔ سیموئل صاحب کا اصرار تھا کہ اریزہ سے تفتیش کی جائے۔۔ گو انکی بات جزئیات کے ساتھ ان سب کو سمجھ آچکی تھی پھر بھی مترجم کے ترجمے کا انتظار کیا۔ ہم اریزہ سے تفتیش کیوں نہیں کر رہے؟ کمشنر بیک نے سوالیہ نگاہوں سے ٹیم کے منتظم کو دیکھا۔ یہ لڑکی اریزہ ، سنتھیا سیموئل کی گمشدگی سے مہینوں قبل سے اپنی سہیلی کے ساتھ اپارٹمنٹ شئیر کر رہی ہے۔ سنتھیا کی گمشدگئ کی اطلاع ملنے پر خود تھانے آکر اس نے بیان بھی ریکارڈ کروایا۔ سیموئیل صاحب کا دعوی ہے کہ یہ لڑکی سنتھیا کے ساتھ رہ رہی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ سنتھیا درمیانے درجے کے ایک گوشی وون میں رہتی تھی۔ اور سی سی ٹی وی کے مطابق وہ خود اپنے ہوش و حواس میں گوشی وون سے نکل کر گئ تھی۔ ٹیم لیڈر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا۔ کیا کہہ رہا ہے یہ ۔ سیموئیل جھلا کر مترجم سے بولے۔ ڈیٹیکٹو نے مترجم کی جانب دیکھا ۔ اس نے گہری سانس لیکر ترجمہ کیا۔ ہاں تو اسکے سوا کوئی دوست نہیں ہے اسکا یہاں اس نے یقینا اسے اطلاع دی ہوگی رابطہ کرنے کی کوشش کی ہوگی۔ کیا کر رہے ہیں یہ لوگ میری بیٹی نا جانے کہاں کس حال میں ہے۔ عجیب نا اہل لوگ ہیں۔ یہاں بیٹھے ہیں ڈھونڈ رہے ہوتے تو مل چکی ہوتی نا وہ۔ سیموئل کا غصہ بڑھ رہا تھا۔ مترجم نے انکی سب باتوں کا ترجمہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے بس اسی بات پر زور دیا کہ وہ دوست ہے کچھ تو جانتی ہوگی۔ ہمارے پاکستان سے تعلقات ہیں یہ دونوں ممالک کے تعلقات کی طرف معاملہ جا سکتا ہے۔ ہم کسی غیر ملکی طالبہ کی گمشدگی کا الزام اپنے سر نہیں لے سکتے۔۔ ہمیں سخت فیصلے لینا ہوں گے۔ کمشنر صاحب نے تنبیہا کہا تھا۔ مگر سر ہم پہلے ہی ایڈون کو تحویل میں لے چکے ہیں۔ اتنی تفتیش کے باوجود وہ لڑکا براہ راست ملوث نہیں لگ رہا ہے۔ ہم ایک اور ملزم حراست میں کیسے لے سکتے۔ ؟ جبکہ وہ لڑکی لی خاندان کی ہونے والی بہو بھی ہے۔ ٹیم لیڈر نے انکو جھجکتے ہوئے یہ اطلاع دی تھی۔ دے؟(کیا۔)؟ کمشنر صاحب کا حیرت سے منہ کھلا رہ گیا۔ کیا کیا کہہ رہے ہیں یہ لوگ۔ ان سب کے تاثرات دیکھ کر سیموئل کو کھد بد ہوئی۔ کیا بکواس ہے یہ؟ عجیب جاہل لوگ ہیں اتنے اونچتے عہدوں پر ہیں پھر بھی کسی کو انگریزی ہی نہیں آتی۔۔ وہ جھلا رہے تھے۔ مترجم نے دھیرے سے ترجمہ کیا تو لمحہ بھر کو وہ سن ہی رہ گئے کیا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا؟ کم سن اسکی شکل دیکھ کر رہ گیا۔ وہ سنجیدہ تھی۔ میرے لیئے نوکری سب سے اہم ہے۔ اگر میں مسلسل نقاب کیئے رکھوں تو میرا پہچانے جانا مشکل ہے۔ میں نے یہاں اکثر لڑکیوں کو ماسک پہنے دیکھا ہے۔ میں اسکارف کر لوں گی۔ رہو گی کہاں؟ کم سن نے جتایا۔ وہ ایکدم کچھ کہتے کہتے رک گئ۔ پھر قصدا رخ بدل کر بولی میں اسکا انتظام کر لوں گی۔ وہ اس وقت ہنگن دریا کنارے کھڑے تھے۔ بیچ دوپہر میں بھی دھوپ میں چبھن نہیں تھی۔ سیول کے باسی ہونے کی وجہ سے وہ ایسی جگہوں کے بارے میں جانتا تھا جو سی سی ٹی وی کیمروں سے اوجھل ہوں۔ اس وقت سنتھیا نے سر پر اسکارف لپیٹا تھا گہرے رنگ کے گاگلز او رماسک بھی پہن رکھا تھا۔ کم سن نے جیکٹ اور ہڈی پہن رکھا تھا۔ پھر بھی سرد ہوا چبھ رہی تھی جبکہ سنتھیا سویٹ سوٹ اور جیکٹ میں ملبوس تھی مگر پیشانی پر پسینے کے قطرے دمک رہے تھے۔ میں خود غرض ہو رہی ہوں ہے نا۔ اسکی خاموشی سے وہ یہی اندازہ لگا پائی۔ کم سن دونوں ہاتھ اپر کی جیبوں میں ڈالے دریا پر نگاہ جمائے تھا۔ بالکل باریک پرت برف کی اس دریا پر جمی تھی۔ جیسے دریا پر شیشے کی تہہ سی ہو۔ یہ اتنی ہی غیر محفوظ تھی جیسے ہلکا سا کانچ ۔ اس پرت پر چلا جاسکتا تھا قسمت پر منحصر تھا یا آپکے وزن پر جتنا یہ برف سہہ جائے ورنہ ایک دراڑ اور گہرا شگاف اور بے رحم سرد دریا کی موجیں۔۔ مجھے لگا تھا میں جب تمہیں بتائوں گا کہ ایڈون جیل میں ہے تو تم فورا اسے چھڑوانے کیلئے بے تاب ہو جائو گی۔ مگر مجھے تمہارا ایسا کوئی ارادہ نہیں لگتا۔ کم سن گہری سانس لیکر بولا ہاں نہیں ہے۔ سنتھیا ضدی سے انداز میں بولی اب تمہیں کوئی ابارشن کیلئے مجبور نہیں کرسکتا۔ کم از کم کوریا میں۔ کم سن نے اسے تسلی دینا چاہی تھی۔ اور اگر مجھے ڈی پورٹ کردیاگیا تو؟ سنتھیا نے تیکھی نگاہ سے دیکھا اسے۔ وہ کہتے کہتے رہ گیا کہ اس سب کے بعد ہوگا تو یہی۔ ایڈون اگر اغوا کار ثابت ہو تا تو شائد پھر اسکی بازیابی کے بعد کیس چلتا مگر جس طرح وہ بنا اطلاع غائب تھی اسکے بعد اسکی غیر ذمہ داری پر سب سے کم سزا یہی ہونی تھی کہ اسے واپس وہیں بھیج دیا جائے جہاں سے آئی ہے۔ اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ایڈون کو بچانے کا مقصد ذہن میں تھا یہ سوچ بھی نہیں آئی کہ سنتھیا کیا چاہتی ہے؟ اسکی بھی تو کوئی مرضی سوچ خواہش ہوگی۔ لڑکی کو سمجھنا ناممکن ہے۔ اسکا ذہن تھک رہا تھا سوچ سوچ کے کہ کیا کرے۔ اس وقت وہ سنتھیا کے ساتھ نیکی کرکے بھی پھنس رہا تھا اور سخت دل بن کے اسکے حال پر بھی چھوڑ نہیں سکتا تھا۔ وہ حقیقتا سر کھجا رہا تھا۔ مستقل تنائو سے تنگ آکر اس نے جیب سے چاکلیٹ نکال کر کھانی شروع کردی۔ ایسے موقع پر جی ہائے ہونا کم سن ہونے سے بہتر ہے۔ اس نے دانت پیسےریپرپھینکا۔ ۔ تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔ ہیون کالنگ۔ اسکو اتنی خوشی ہوئی کہ جھٹ فون اٹھا لیا۔ ہیونگ ( بھائی) میری نوکری دائو پر لگی ہے آکرہیون سر کو سنبھالیں۔ مدہوش ہو چکے ہیں اور پورا سوئیٹ سر پر اٹھایا ہوا ہے۔ ہیون کے کلب کا منتظم تھا گھبرایا ہوا۔ اس وقت؟ بھری دوپہر میں کون کم بخت پی کے ٹن ہوتا ہے۔ وہ جھلا ہی تو گیا۔ برائے مہربانی سر آجائیں ۔ غیر ملکی مہمان ہیں آئے ہوئے ہم ان میں سے کسی کو روک بھی نہیں پائیں گے اگر کسی نے ویڈیو بنا لی تو۔ منتظم رو دینے والا تھا۔ کر کیا رہا ہےدکھائو ۔ اس نے ویڈیو کال پر کلک کیا۔ سامنے جو منظر تھا بے ساختہ ہنسی آگئ اسے۔ سوئم سوٹ میں باتھ گائون پہنے وہ سوئمنگ پول کے کنارے بوتل لہراتا ناچ ناچ کر گا رہا تھا۔ اور اسے ناچنا تو آتا ہی نہیں تھا۔ الٹے سیدھے ہاتھ پائوں مارتا وہ خاصا مضحکہ خیز لگ رہا تھا۔ منتظم کو صحیح ڈر لگا تھا۔ دو تین امریکی لڑکے اور لڑکیاں اسکے ساتھ شغل میں ناچ رہے تھے ہاتھ میں شراب کے گلاس تھامے ۔ ہنسی قہقہے۔ اسکو ناچتا دیکھ کر تالیاں بھی بجا رہے تھے۔ صد شکر فی الحال کوئی ویڈیو بناتا دکھائی نہ دیا۔۔ آتا ہوں۔ اسے تسلئ دے کر فون بند کیا ۔ چہرے پر محظوظ مسکراہٹ تھی۔ لمحہ بھر کو بھول ہی گیا جیسے کہ چند لمحے قبل کس موڈ میں تھا۔ مسکرا کر سر جھٹکتے ہوئے سنتھیا کی جانب رخ کرنا چاہا تو نا صرف مسکراہٹ سکڑ گئ بلکہ دل بھی اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔ سنتھیا جمے ہوئے دریا کی اسی برف کی پتلی دبیز تہہ پر چلتی چلی جا رہی تھی۔ سنتھیا۔ وہ حلق کے بل چلایا تو وہ چونک کے رکی۔ کیا کر رہی ہو۔ واپس آئو۔ آتی ہوں۔۔ وہ اطمینان سے بولی۔ کیا؟ کم سن کو لگا اسکا دماغ چل گیا ہے۔ سنتھیا نے حیرت سے اسے دیکھا۔ دھوپ اس پر پوری طرح پڑ رہی تھی۔ وہ اسی دھوپ میں سینے پر مٹھیاں باندھے عاجزی سے آنکھیں بند کیئے کھڑی تھی تم پاگل تو نہیں ہو گئ ہو؟ کم سن چلایا۔ مت کرو ایسے ڈوب جائو گی بظاہر جما ہوا ہے مگر اس پرت کے نیچے ٹھاٹھے مارتی سرد لہریں ہیں۔ کوئی بچا بھی نہیں سکے گا تمہیں۔ وہ کنارے پر کھڑا چلا چلا کر اسے اسکی حماقت کے مضمرات بتا رہا تھا۔ خدا وند میں یہاں خود کو اس بچے کو تیرے رحم و کرم پر چھوڑتی ہوں۔ کوریا یا پاکستان میرے حق میں جو بہتر ہو مجھے وہاں پناہ دے دے۔ اس نے گہری سانس لیتے ہوئے صلیب کا نشان بنایا۔ آمین۔ آنکھیں بند کر زرا سا کندھے جھکا کر جیسے رب کی رحمت کو محسوس کرنا چاہا۔ واپس آئو پلیز۔ خودکشی کوئی حل نہیں۔ جس بچے کے لیئے لڑ رہی ہو اسے قتل کردوگی؟ اس نےجھلا کر اسے جزباتی جھٹکا دینا چاہا۔وہ بے بسی سے ساحل کنارے پیر پٹخ رہا تھا۔ سر بھی پٹختا تو کم تھا۔ دھوپ تیز تھی اگر برف کی پتلی تہہ ذرا سا بھی پگھل جاتی تو وہ اس وقت اسے بچا بھی نہیں سکتا تھا۔ اسکی بات پر وہ ذرا بھر چونکی۔ پھر جھلائی خود کشی۔۔ میں کیوں خود کشی کروں گی بھلا؟۔ کم سن اسکی بات سن کر لمحہ بھر کو بھونچکا رہ گیا۔ اس نے اشارے سے اسے نیچے دیکھنے کا کہا۔وہ سر جھٹکتی سر جھکا کر دیکھنے لگی تو جیسے قدم وجود کا وزن اٹھانے سے انکاری ہوگئےاپنے گرد کانچ سی زمین کو دیکھتے وہ بری طرح گھبرائی۔ خداوند پر چھوڑا تھا۔ کیا اسے زمین ہی نصیب نہیں ہونی ہے کیا۔ اسے ڈر سا لگا جو اگر یہ برف پگھل گئ تو؟ اسکے قدم لڑکھڑا سے گئے۔ کڑچ کڑچ کانچ کے فرش پر دراڑ سی پڑی۔ وہ تیزی سے کنارے کی جانب بڑھی تو پھسل کر گرتے گرتے بچی ۔۔ پیروں تلے کڑچ کڑچ کی آواز بڑھتی جا رہی تھی۔ اس نے بھاگ کر واپس آنا چاہا تو کم سن کی پریشانی بھری پکار سنائی دی بھاگنا مت۔ وہ موت کے تعاقب سےخوف میں مبتلا ہوئی تھئ سو تیز تیز قدم اٹھاتی واپس آرہی تھی اتنے تیز کہ کڑچ کی آواز بڑھتی چلی گئ وہ ایکدم رک گئ۔ موت سے کہاں کوئی بھاگ سکا ہے۔ اگر ایسے لکھی تو ایسے سہی۔ اس کی ٹانگیں جیسے بے جان سی ہوتئ گئیں وہ وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھتی گئ۔ آوازیں شور سب سکوت طاری تھا برف ٹوٹتی اور وہ سیدھا دریا برد۔ ہائیش۔ کم سن کو اپنی عقل سمجھ بالائے طاق رکھ کر اسکی جانب بڑھنا پڑا۔
دانت کچکچاتے ہوئے وہ تیز تیز قدم اٹھاتااسکے سر پر پہنچا تھا۔کانوں پر ہاتھ رکھے وہ اکڑوں بیٹھی لرز رہی تھی۔ میں آج مرا تو تمہاری ذمہ داری ہوگی۔ وہ خشمگیں نظروں سے گھور رہا تھا۔ مانوس آواز سن کر اس نے سر اٹھایا۔ ارد گرد دریا پر جمی برف سالم تھئ۔ یقینا وہ اسکا وہم تھا وہ شرمندہ سی ہو کر اٹھنے لگی۔ میں آ تو رہی تھی۔ کم سن نے سہارے کیلئے ہاتھ بڑھایا مگر وہ خود ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔ کورٹ شوز میں سٹر پٹر کر رہی تھیں ابھی پھسل جاتیں تو یہیں دفن ہوجانا تھا تم نے۔ اسکے منہ سے فی الحال اچھے الفاظ نکلنا مشکل تھا۔وہ چپ ہی رہی۔ اسے واقعی سوچوں میں گم اندازہ نہ ہوا کہ وہ چلتے ہوئے کدھر نکل آئی اسکے ہم قدم سنبھل سنبھل کر قدم اٹھاتے ایکدم کڑک کی آواز تیز ہوئی۔ اب یقینا اسکا وہم نہیں تھا برف کی پرت پر شگاف پڑا تھا۔۔ سنتھیا بے اختیار کم سن کا سہارا لے بیٹھی۔ کم سن بھی لمحہ بھر کو خوفزدہ ہوا تھا۔ باقائدہ سر گھما گھماکر گرد و نواح کے حالات پر نگاہ ڈالی۔ ارد گرد برف سالم تھی مگر آواز اچھی خاصی تھی۔ پر تھی کس چیز کی۔ کین چھنا۔ اسکا کندھا تھپتھپاتے اس نے منظر سے سب خطرات دیکھ داکھ کر اطمینان دلایا۔ کنارے تک وہ مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھامے رہی تھی۔ کنارے تک کڑچ کڑچ کی آواز مدہم پڑ گئ تھی۔ کسی نہایت بے مروت خود غرض انسان کی طرح کنارے تک پہنچتے ہی سنتھیا نے اسکا نا صرف ہاتھ چھوڑا بلکہ رفتار بھی بڑھا لی۔ تبھی کم سن کی نگاہ اسکے جوتے کے تلے چپکے چاکلیٹ کے ریپر پر پڑی تھی۔بے ساختہ مسکراہٹ اسکے لبوں پر در آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گائوں کی گوری کی طرح وہ ریل گاڑی کی شیشے کی کھڑکی سے ناک چپکائے قدرتی مناظر دیکھ رہی تھئ ۔برف سے ڈھکے کوہساروں میں تیزئ سے دوڑتی اسے ہمیشہ ریل کا سفر کرنے کا شوق ہوتا تھا۔ جتنا اسے شوق تھا اتنا ہی باقی گھر والے ریل کے سفر کو غیر محفوظ وقت کا ضیاع اور غیر آرام دہ قرار دے کر اسے موٹر وے سے سفر کراتے رہے تھے۔ آج برسوں پرانا شوق پورا ہوا بھی تو کوریا میں۔ فلک بوس پہاڑوں اونچے بڑے سے کھمبوں تو کبھئ کسی کھیت میں چرتے جانور ہر منظر کے ساتھ اسکے تاثرات بدل رہے تھےاسکے چہرے پر ان تمام مناظر کو پڑھا جا سکتا تھا۔ ہوپ اور گوارا اسکے مقابل بیٹھی اسکا شوق ملاحظہ کر رہی تھیں۔ پاکستان میں ٹرین نہیں ہوتی کیا۔ ہوپ نے یونہی پوچھا تھا۔ سرچ کرو ذرا۔ گوارا موبائل احتیاط سے تھامنے کہنی ٹکائے ساکت بیٹھئ اریزہ کی ویڈیو بنا رہی تھی۔ غیر اخلاقی حرکت ہے یہ ویسے۔ ہوپ نے منہ بناتے اپنا موبائل نکالا۔ گوارا نے ہونٹ بھینچ کر گھورا۔۔ خود جو تم سوتے میں بناتی رہی ہو اسکی وہ کیا تھا؟ ہوپ نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔ صرف دنیا میں ایک ملک ایسا ہے جہاں ریلوے کا نظام نہیں اور وہ ہے افغانستان۔ ہوپ کی تلاش مکمل ہوئی۔اب اعتراض ہوا پھر اسکو ٹرین کیوں درکار تھی۔ چار گھنٹےلگیں گے بوسان پہنچنے میں ۔ آگے پھر گائوں تک کا سفر الگ بس سے۔ مجھے سوچ کے تھکن ہو رہی۔ ہوپ نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔ اسکا ارادہ سو جانے کا ہی تھا۔ اریزہ ٹرین کی سیر کروگی؟ گوارا نے اس سے پوچھا۔ اریزہ چونکی پھر زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا ہاں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈبے سے جڑا ڈبہ وہ آرام سے ہر ڈبے سے گزرتی پوری ٹرین کا دیدار کراتی اسے ٹرین کے کیفے ٹیریا تک لائی تھی۔ بھانت بھانت کے لوگ مختلف بولیاں الگ منزلیں ایک سفر وہ ٹرین کے ہلکے پھلکے جھٹکوں کا بھی مزا لے رہی تھئ۔ ۔ کیفے ٹیریا تقریبا خالی تھا مگر یہاں نشستیں مختلف طرز کی تھیں ایک دو جوڑے بیٹھے تھے۔ بڑی بڑی کھڑکیاں شفاف شیشے انکے ساتھ لگی بنچ نما فوم کی نشستیں۔ ایک جانب وینڈنگ مشین لگی تھئ۔ وہ تو سیدھا جا کر کھڑکی کے پاس بیٹھ گئ۔ گوارا کم باپ بسکٹ چپس اور کولڈڈرنک لیکر اسکے پاس آبیٹھی۔ سامنے لگے چھوٹے سی دیوار سے جڑی میز پر اسکے لیئے سجا دیا۔ گوما ویو۔ وہ بے ساختہ خوش ہوئی۔ کتنے کا ہے۔ فورا کندھے سے لٹکے اپنے ہینڈ بیگ سے پیسے نکالنے لگی۔ بہت مہنگا ہے تم نہیں دے پائوگی۔ گوارا نے جس طرح کہا تھا وہ چپ ہو کر زپ بند کرنے لگی۔ اس نے کھڑکی سے کہنی ٹکائی ہوئی تھی۔ اسکے زخم پر کھرنڈ آرہا تھا جبھی اس نے بس اوپر سے دوا لگائی ہوئی تھی۔ یہ دوا خشک سی ہوجاتی تھی زخم پر اور ایک تہہ بنا دیتی تھی۔ شائد اسی لیئے زخم مندمل ہورہا تھا۔ اریزہ اسکی نظروں سے بے نیاز باہر کے نظاروں میں گم تھی۔ چپس وہ جتنی تیزی سے کھا رہی تھی یقینا اسے بھوک لگی ہوئی تھی۔ تم سے ایک بات پوچھوں؟ کم باپ کا ریپر اتارتے گوارا سنجیدگی سے بولی۔ پوچھو۔ وہ بے دھیان تھی۔ تم نے ہیون کا پرپوزل قبول کر لیا ہےنا؟ اس نے بنا تمہید باندھے پوچھا تھا۔ اریزہ کا چپس منہ تک لے جاتا ہاتھ رک گیا۔ وہ حیران سی ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ تمہیں ہیون نے کہا ہے؟ تمہارے خیال میں ہیون مجھے یہ کہے گا؟پورا سوشل میڈیا ٹیبلائڈ بھرے پڑے ہیں تمہاری اور ہیون کی تصویروں سے۔ میں نے صبر سے انتظار کیا کہ تم خود مجھے بتائوگی مگر مجھے تمہارا تو ایسا کوئی ارادہ نہیں لگا ۔ دوست نہیں سمجھتی ہو مجھے تم۔ ہے نا۔ گوارا منہ بنا کرکم باپ کھانے لگی۔ ۔ اگرمیں نے ہیون کا پرپوزل قبول کیا ہوتا تو یقینا خود تمہیں بتاتئ مگر یہ ایک غلط فہمی تھی۔مجھے اتنا غصہ آیا تھا کہ بتا نہیں سکتی۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ کوریا میں کسی کی شادی میں دعوت کھانا بھی اسکینڈل بنایا جا سکتا ہے۔اخباروں میں چھپ گیا حد ہے۔کوئی کام نہیں کیا یہاں لوگوں کو۔ وہ بےنیازی سے دوبارہ چپس کھانے لگی۔گوارا کو شدید حیرت ہوئئ۔ مجھے تم حیران کر رہی ہو؟ تم نے۔۔ نہیں ایک سیکنڈ تم اور ہیون ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو نا۔ تم نے اس اسکینڈل کی وجہ سے انکار کردیا اسے؟ گوارا حیرت کے مارے بیہوش ہونے کو تھئ۔ اریزہ نے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔ مجھے اندازہ تو تھا کہ تم نے ہیون کو انکار کردیا ہے مگر اتنی سی بات پر؟ ظاہر ہے وہ کوریا کے ایک اہم خاندان کا فرد ہے اسکی ذاتی زندگی میں رپورٹروں کو دلچسپی ہوتی ہے مگر یہ تو بہت سخت ردعمل ہے تمہیں اتنی سی بات گوارا بولی تو بولتی چلی گئ۔اریزہ کو ہاتھ اٹھا کراسے ٹوکنا پڑا۔ ویٹ۔ تھمو ذرا۔میں نے انکار کرنا ہی تھا میں اور وہ بس اچھے دوست ہیں بس۔ میں اس رشتے کو آگے بڑھانا نہیں چاہتی اتنی سی بات ہے۔ اپنی طرف سے اریزہ نے سبھائو سے بات ختم کردی۔ لیکن کیوں؟ گوارااتنئ حیران ہوئی تھی کہ کم باپ چبانا بھول گئ۔ ہیون تمہیں بہت پسند کرتا ہے تمہیں اندازہ نہیں ہوا کبھی اسکے دل میں تمہارے لیے الگ مقام ہے؟اور تم بھی تو پسند کرتی ہو نا اسے؟ نہیں پسند کرتی میں اسے۔میرا مطلب ہے اس نظر سے نہیں پسند کرتی میں۔ ہم اچھے دوست تھے ہیں اور رہیں گے۔ اریزہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہی تھی۔ گوارا کچھ کہتے کہتے رک کر چپ سی اسکی شکل دیکھنے لگی۔ اتنے غور سے کہ وہ گڑبڑا سی گئ کیا ہوا؟ قصدا اسے ٹوک کر اس نے اپنے کولڈ ڈرنک کا کین اٹھا کر منہ سے لگا لیا۔ مجھے لگتا ہے تمہیں خود کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ گوارا نے گہری سانس لی پھر اپنا بقیہ کم باپ ختم کرنے لگی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جب تک پہنچا ہیون کی سب توانائیاں ختم ہو چکی تھیں۔ وہیں کائوچ پر اوندھا پڑا تھا اسکے ساتھ شغل میں مصروف غیر ملکی سیاح تھک تھکا کر اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔ ہیون ۔۔ اس نے آگے بڑھ کر بمشکل ہیون کو سیدھا کیا۔ پسینے میں تر پیشانی سرخ چہرہ۔ وہ تاسف سے اسکا پسینہ صاف کرنے لگا۔ مینجر پاس آکھڑا ہوا تو اسے ڈانٹے بنا نہ رہ سکا اسکو اندر تو لے جاتے کوئی گرم کپڑا تولیہ ہی ڈال دیتے اسے نمونیا ہوگیا تو کون ذمہ دار ہوگا؟ یہ سریہ گائون یہ تولیہ سب سر نے ابھی اٹھا کے پھینکی ہیں ۔ وہ منمنایا۔ واقعی اسکے کائوچ کے گرد گائون تولیہ کمبل تک پڑا تھا۔ کم سنا۔ کہاں تھے اتنی دیر سے پکار رہا تھا میں۔ ہیون بہکے بہکے انداز میں بول رہا تھا۔ چلو میں تمہیں لینے ہی آیا ہوں۔ اس نے اسکو سہارا دے کر اٹھایا تو وہ بنا چوں چراں کیئے اٹھنے لگا۔ اسکا نشہ مدہوش کر رہا تھا اسے جبھی گرنے ہی لگا جیسے۔ سہارا دو اب اسے۔ اس نے مینجر کو کہا تو ایک طرف سے اس نے سہارا دیا دوسرے سے کم سن نے اسے گھر لے جانے کی بجائے اسکے سوئیٹ لے آیا تھا۔ اسکو لٹا کر کمبل اڑھایا۔اس نے تکیئے پر سر پٹخا۔ کھوجے مار۔۔ ( جھوٹی) مینجر نے چونک کے اسکی شکل دیکھی تھی۔ اس نے اسے جانے کا اشارہ کیا۔ ہیون نے اسکا ہاتھ تھام لیا وہ اب نشے میں بڑبڑا رہا تھا۔ اس کو مجھ سے پیار ہوا ہی نہیں۔۔۔۔ہچکی ۔ کھوجے مار۔۔۔ اسکو ہوا تھا اسکو ہے مجھ سے۔ میں نے دیکھا ہے اسکو پروا تھی میری۔ وہ بس مانتی نہیں۔ وہ مانتی کیوں نہیں۔۔ کم سن نے اسکا ہاتھ تسلی آمیز انداز میں تھپکا۔ وہ بڑبڑا کر کروٹ بدل گیا۔ اس پر کمبل درست کرکے وہ الٹے قدموں واپس ہوا۔ گاڑی میں بیٹھی سنتھیاتھک کر اونگھنے لگی تھی جب وہ واپس آیا۔ بیان مجھے ذیادہ وقت لگ گیا۔ اس نے فورا معزرت کی۔ سنتھیا نے سر ہلا دیا۔اور کر بھی کیا سکتی تھی۔ ضرورت کے وقت دوست ہی دوست کے کام آتا ہے۔ کم سن نے گاڑی روکتے ہوئے اسے مخاطب کیا تھا وہ نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگی پھر گردن گھما کر دیکھا تو وہ گوارا کی بلڈنگ کی پارکنگ میں کھڑے تھے۔ نو نو۔نو وے میں اریزہ کے ساتھ جا کر ہرگزنہیں رہ سکتی۔ اس سے بہتر ہے مجھے پولیس کے حوالے کردو۔ وہ یکدم سمجھ کر بپھر کر بولی پولیس کے حوالے کرنے سے بہتر نہیں کہ تم اریزہ سے مدد لے لو۔ کم سن رسان سے بولا کس منہ سے سامنا کروں گئ میں اسکا تم نہیں جانتے میں نے اسکو کیا کچھ کہا ہے وہ میری شکل بھئ نہیں دیکھنا چاہے گی تھوک دے گی مجھ پر۔ وہ کہتے کہتے روہانسی ہو چلی تھی۔ جہاں تک میں اریزہ کو جانتا ہوں وہ ایسا کچھ نہیں کرے گی۔ اور مجھ سے ذیادہ تو تم اپنی دوست کو جانتی ہوگی ہے نا۔ کم سن کی بات پر وہ چپ ہی رہ گئ۔ وہ اپنی طرف کا دروازہ کھول کر اترا تو سنتھیا کو بھی اترنا پڑا۔ کم سن کے ہمراہ قدم اٹھاتے اسکے قدم من من کے ہو رہے تھے۔۔ اس پر چلاتے ہوئے دھکا دینے سے لیکر اسکے منہ پر حقیقتا سوپ کا پیالہ مارنے تک اپنی ہر بدتمیزی یاد آرہی تھی تواپنے کہے جملوں کی سختی الگ اسے شرمندہ کر رہی تھی۔ ہتھیلیاں مسلتے اسکی بے چینی کم سن کی نگاہوں سے پوشیدہ نہ رہ سکی تھی۔کاش اریزہ اس پر واقعی تھوک دے۔اتنا لڑے کہ وہ اریزہ کے ساتھ کیئے اپنے برے سلوک پر پشیمان ہونے کی بجائے سوچے اس نے صحیح کیا۔ وہ خود کو ہر طرح کی صورتحال کیلئے تیار کر رہی تھی۔ تبھئ اسکی نگاہ سامنے پڑی۔ لفٹ میں لگے دیوارگیر آئینے میں وہ خود کو دیکھ کر حیران رہ گئ تھی۔ اسکا رنگ بالکل سیاہ پڑ چکا تھا۔ وہ برسوں کی بیمار دکھائی دیتی تھی۔ چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔ یہ شکل دیکھ کر اریزہ ترس کھا کر رکھ لے گی۔ خود ترسی کی انتہا پر پہنچتے اس نے سوچا تھا۔ لفٹ رک گئ تھی۔ کم سن اسے مستقل نوٹ کر رہا تھا۔ کاش اریزہ ہو ہی نہ گھر پر۔ یہ آخری سوچ دعا بن گئ تھی ۔ اس نے بہت دل سے دعا کی۔۔ جانتی ہو اریزہ بیمار ہے اسپتال میں داخل تھی وہ پچھلے کئی دنوں سے۔ کم سن نے اسکو بتانا ضروری سمجھا۔ کیوں؟ اس نے لمحہ بھر کے توقف کے بنا پریشان ہو کر پوچھا تھا۔ کم سن کے حسب توقع وہ فکر مند ہوئی تھی۔ اسکو نروس بریک ڈائون ہوا تھا۔ کم سن نے سرسری سے انداز سے کہتے اسکے اپارٹمنٹ کی بیل بجائی تھی۔ کیا؟ کیوں ؟ اب کیسی ہے وہ ٹھیک تو ہے نا؟ وہ بے اختیارئ سے اسکا بازو ہلا کر پوچھ رہی تھی۔ کم سن مسکرا دیا خود پوچھ لینا۔ سنتھیا اسکے انداز پر شرمندہ سی ہوگئ۔ کئی بار بیل بجانے کے بعد بھی دروازہ نہ کھلا تو اس نے گوارا کو کال ملا دی۔ کہاں ہو؟ میں بیل بجا رہا ہوں اپارٹمنٹ کی ۔ آگے سے جو جواب ملا اس پر وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔ کب آئوگی واپس؟ وہ ہنگل میں بات کر رہا تھا اسکے پلے تو نہ پڑا مگر اندازہ ہوا کہ آج اسکی دعائوں کی قبولیت کا دن ہے۔پہلے پتہ ہوتا تو کچھ اور مانگ لیتئ اب بنا سوچے سمجھے مانگنے کا نتیجہ یہ تھا کہ اس شہر میں واحد جگہ جہاں اسے پناہ مل سکتی تھی وہ بھی اب میسر نہیں تھی۔ کم سن کال بند کرکے پیشانی مسلنے لگا۔ پولیس اسٹیشن چلو۔ اب جو ہوگا دیکھ لوں گی میں۔ اس نے ایکدم سے فیصلہ کیا تھا۔ مضبوط انداز میں کہتی سنتھیا کو دیکھ کرکم سن چونکا تھا اسےاتنے دنوں میں پہلی دفعہ اس میں پرانی والی سنتھیا نظر آئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بوسان پہنچ کرانہیں بس پکڑنی پڑی جب اسکے گائوں کے پاس اسٹاپ پر اتریں تو دن ڈھل چکا تھا شام کے سائے پھیل رہے تھے۔ یہاں سے انکو پیدل مزید چلنا تھا۔ انکے سامان کے بیگز میں تو پہیئے تھے پھر بھی اتنے سفر کی تھکن روم روم میں اتر رہی تھی۔ گوارا نے کال کرکے اپنے بھائی کو بلایاہوا تھاوہ کھلے کیبن والی سامان اٹھانے والی پک اپ نما گاڑی لیکرانکے پہنچنے کے دس پندرہ منٹ بعد پہنچا تھا۔بمشکل اٹھارہ انیس سال کا وہ ہائی اسکولر تھا جسے گوارا نے بنا لحاظ دو لگا بھی دی تھیں کہ دس منٹ انتظار کیوں کروایا۔جوابا وہ بس من من کر سکا۔ ان دس پندرہ منٹوں میں کھلی ٹھنڈی ہوا ہڈیوں کو جما رہی تھی اریزہ کی۔ سامان پیچھے رکھ کر گوارا نے خاص طور پر اسے آگے کی نشست پر بٹھایا خود وہ اور ہوپ پیچھے ہی سامان کے ساتھ بیٹھ گئیں۔ میں بھی پیچھے بیٹھ جاتی ۔۔ وہ منمنائی مگر گوارا نے ایک نہ سنی۔ تم سے یہاں کا موسم برداشت نہیں ہوگا بیمار پڑ جائو گئ۔ باہر خالی کھڑے سرد ہوا قلفی بنا رہی تھی یہ دونوں کھلی گاڑی میں جانے کیسے بیٹھی تھیں۔ خدا خدا کرکے گاڑی اونچئ نیچی تنگ سڑکوں سے گزر کر اس چھوٹے سے مگر خوب روشن پرانے کوریائئ طرز کے بنے ریستوران کے آگے جا کر رکی تھی۔ بڑی بڑی شہتیروں والا گھر جس کا ایک حصہ ریستوران بنا دیا تھا باقی رہائشی عمارت ملحقہ ہی تھی۔ اس وقت ریستوران بھرا ہوا تھا ڈھیر ساری چندی آنکھوں والی شکلوں سے۔ خوش گپیوں کی آوازیں گرم تازہ کھانے کی مہک ، شیشے کی دیواروں سے نظر آتی رونق۔ گوارا انکو ریستوران سے ملحق رہائشی عمارت میں لے آئی تھی۔ لکڑی کے فرش کھپچیوں شہتیروں سے سجے ورانڈے سے گزر کر چھوٹا سا پکا مکان تھا۔ اسکا بھائی انکا سامان لا رہا تھا۔ ہوپ اپنا سامان خود اٹھائے تھی مگر گوارا نے حقیقتا اسے گدھا ہی بنا دیا تھا اسکا اریزہ کا بیگ اٹھائے وہ غبارے کی طرح منہ پھلائے تھا۔ اندر لائونج میں ایک سات آٹھ سال کی بچی اور ایک دس بارہ سال کا بچہ کھانا کھاتے ہوئے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ آننیانگ۔ گوارا نے خوشگوار سے انداز میں کہا۔ دونوں کھانا چھوڑ کر بھاگ کر آکر اس سے لپٹ گئے تھے۔ انی۔۔ نونا۔۔۔ ہم آپکو ہی یاد کر رہے تھے۔ آپ اتنی جلدی کیوں واپس چلی گئ تھیں آپ نے وعدہ کیا تھا کرسمس تک یہیں رہیں گی۔ دونوں اکٹھے بول رہے تھے۔حیرت انگیزطور پر اریزہ کو ان بچوں کا لہجہ سمجھ آگیا تھا۔ پوری نہ سہی مگر کرسمس تک رکنے کا وعدہ یاد دلانے والا جملہ پورا سمجھ آگیا تھا۔ تحفے دے کر تو گئ تھئ پھر بھی یاد کررہے تھے مجھے؟ گوارا نے بچے کی ناک کھینچتے چھیڑا ہاں کیونکہ بے وقوف بچے ہیں نا یہ۔ اسکےبھائی نے منہ پھلاکر جتایا اورسامان وہیں ڈھیر کر دیا۔ ارے کمرے تک تو پہنچا دو۔ گوارا نے کہا مگر وہ ان سنی کرتا باہر نکل گیا۔ ہائش۔ وہ گھور کر رہ گئ۔ بچے اسے گھور رہے تھے اب تم لوگوں کو کیا ہوا بھئ؟ وہ حیران ہوئی۔ ہم تحفوں کے بھوکے تھوڑی ہیں خوامخواہ ہی ۔ وہ خفا ہوگیا۔ ایک تو ہم یاد کررہے تھے آپکو نونا۔ دوسری نے بھی ٹھنک کر کہا۔ جانتی ہوں مزاق کر رہی تھی۔ اس نے پیار سے انکو ساتھ لپٹایا پھر ان دونوں کی جانب مڑ کر تعارف کرانے لگی۔ یہ سب میرے سوتیلے بہن بھائی ہیں۔نام بتانے کا فائدہ نہیں یاد نہیں رہے گا یہاں رہوگی تو یاد ہو ہی جائے گا۔ وہ ہنسی۔ یہ کون ہیں انی؟ بچوں کو اسکے نقوش مختلف لگے تھے جبھی خاص اسی کا پوچھا۔ یہ میری دوستیں ہیں انکا تم سب کو خیال رکھنا پڑے گا تھا سمجھے؟ گوارا نےتاکید کی تو وہ سب زور و شور سے سر ہلانے لگے۔ اریزہ کو پھولے پھولے گالوں والی بچی پر اتنا پیار آیا کہ بے ساختہ آگر بڑھ کر اسکے گالوں پر چٹکی بھر لی۔ بچی اس پیار کے مظاہرے پر شرما گئی۔ چلو تم دونوں منہ ہاتھ دھو لو میں کھانا لگواتی ہوں۔ گوارا آگے بڑھ کر بیگ اٹھانے لگی ۔ یہ جوتے بدلے بغیر اندر آگئ ہے۔ اس بچے نے ناگواری سے اسکے جوتوں کی جانب اشارہ کرکے کہا۔ وہ بری طرح شرمندہ ہوگئ۔ ایک اسکے سوا سب عادتا جوتے بدل چکے تھے ہوپ بھی ۔ بیان۔ اس نے فوراجھک کر معزرت کی۔اور جوتے اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیے۔ گوارا انہیں اپنے کمرے میں ہی ٹھہرا رہی تھی۔ اسکا کمرا چھوٹا سا ہی تھا مگر سلیقے سے سامان رکھا سمٹاہوا۔ اٹیچ باتھ روم بھی تھا۔ پرانے طرز کی روائتئ کوریائی طرز تعمیر بس گھر کے باہر تک ہی محدود تھئ اندر سے کافی نئے انداز کا پکا مکان تھا باتھ روم بھی جدید طرز کا تھا۔اتنی سردی میں نہانے کا تو ارادہ نہ بنا منہ ہاتھ دھو کر باہر آئی تو گوارا انکے لئے چھوٹی سی میز پر کھانا رکھ کے اند رہی لے آئی۔ چاول مٹر پکے ہوئے تھے۔ ساتھ چکن ویجی ٹیبل سوپ۔ خاص کر تمہارے لیئے چاولوں میں مٹر ڈلوانے کا کہا تھا آہموجی سے۔مکمل ویج کھانا ہے سکون سے کھائو۔ اس نے تسلی بھی دے دی۔ ہوپ سوپ پی رہی تھی۔ ابلے ہوئے چاول ابلے ہوئے مٹر کے ساتھ پکے ہوئے تھے۔ اس نے ڈرتے ڈرتے منہ میں رکھا نمکین مختلف ذائقہ۔ حیرت انگیز طور پر برا نہیں تھا۔وہ رغبت سے کھا رہی تھی گوارا کی آہمونی ان سے ملنے چلی آئیں۔ روائتی کوریائی نقوش کی گوری چٹی گوارا سے خطرناک مشابہت ۔ نہایت ہی پیاری مسکان سجائے وہ محبت سے ملنے آئی تھیں۔ ہوپ اور اریزہ ان سے ملنے فورا اٹھ کھڑی ہوئیں۔ آنیا آنیا۔ بیٹھو کھانا کھائو۔ دونوں ہاتھ ہلا ہلا کر وہ انکو منع کر رہی تھیں۔ ہوپ نے تو کوریائی انداز سے جھکنےپر اکتفا کیا۔ اریزہ آگے بڑھ کر ان کے گلے لگ گئ۔ یہ انکے لیئے غیر متوقع تھا مگر بہت پیار سے انہوں نے اسے ساتھ لگایا۔ گوارا نے مسکراہٹ دبائی۔ پھر جانے ہنگل میں کیا پوچھنے لگیں۔ آہمونی پوچھ رہی ہیں کھانا کیسا لگا تمہیں؟ گوارا نے ترجمہ کیا۔ ۔ماشیتا۔ ( بہت مزے کا)چھائے موکے سبندا۔ اریزہ نے ساری ہنگل جھاڑی تو وہ خوش ہو کر کچھ بتانے لگیں۔ انکی بات سنتی گوارا چیخ پڑی کیا؟ آپکو منع کیا تھا نا میں نے۔۔ مزے لیکر چاول کھاتی اریزہ حیرت سے اسکا برتائو دیکھنے لگی۔ ایکدم اچانک کیا ہوا۔ ہوپ نے اریزہ کے ہاتھ سے پلیٹ لے لی۔ دونوں ماں بیٹی میں بحث جاری تھی ۔ آہمونی جھک جھک کر معزرت کرنے لگیں۔ کوئی بات نہیں جانے دیں اس بات کو۔ ہوپ نے اخلاقا دخل دیا اور گوارا کو بھی چپ کرایا۔ ہائش۔ گوارا سر پکڑ کر رہ گئ۔ کیا ہوا۔ اریزہ حیران پریشان تھی۔ اب اسے نہ بتا دینا ورنہ یہیں کھانا چھوڑ دے گی۔ گوارا نے ہوپ سے کہا۔ تو جوابا وہ نفی میں سر ہلاگئ نہیں بتانا تو چاہیئے یہ اتنی سخت ہے اپنی مزہبی رسومات میں ہمیں اسے دھوکا نہیں دینا چاہیئے ہوا کیا ہے کچھ مجھے بھئ تو بتائو۔ اریزہ جھلا گئ در اصل آنٹی نے مٹرچاول میں سور کا سالن بھی ڈال دیا تھا۔ گوشت نکال کے۔ ہوپ نے بتایا تو وہ سر ہلا کر بولی۔ اوہ اچھا ۔ پلیٹ دوبارہ اٹھانے لگی تو دماغ میں گھنٹی بجی۔ اتنے مزے لے لے کر وہ آدھی پلیٹ کھا چکی تھی۔ اس نے پلیٹ چھوڑ دی۔ گوارا نے ہوپ کو گھورا دیکھا کہا تھا نا میں نے۔۔ سچ بتانا بھی تو ضروری تھا نا۔ ہوپ بے نیازی سے بولی۔ اریزہ کو نیا غم لاحق ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی ہو نا میں بات کر رہا تھا میری بات کاٹ کر فون بند کردیا کوئی کام پڑتا ہے تو میں فورا یاد آتا ہوں تمہیں۔ صارم کو موقع ملا تھا کیسے نہ بدلہ لیتا۔ اوفوہ ۔ وہ جھلا گئ۔ ایک تو اتنی سردی میں جیکٹ مفلر لپیٹ کر باہرصحن میں آکر اس کو کال ملائی اوپر سے وہ اصل مسلئے کی بجائے اپنی بے پر کی ہانک رہا تھا۔ صارم پلیز میں سنجیدہ ہوں۔ وہ رودینے کو تھی۔ میں بھی سنجیدہ ہوں۔ مجھ سے بدتمیزیاں کرنے سے پہلے سوچتی کیوں نہیں ہو میرے سوا اس دنیا میں تمہارا ہے ہی کون۔ اب منتیں بھی کرلوگی مگر دوبارہ میٹر گھومے گا اور تو کون میں کون ۔ وہ چمک کر بولا۔ صارم کے بچےآٹھ بجے ہیں اندر سب سونے لیٹ گئے ہیں میں اکیلی باہر اتنی سردی میں پھر رہی ہوں بھائی نہیں ہو ؟ ذرا ترس نہیں آرہا تمہیں مجھ پر۔ ہاں تو میں بھی باہر ہی ہوں ٹیرس پر۔یہاں بھی پانچ ڈگری ہو رہا ہے درجہ حرارت۔ وہ ترس کھانے کو تیار نہ تھا۔ میں اس نے موبائل کان سے ہٹا کر ویدر ایپ دیکھی۔ سیول کا ہی درجہ حرارت بتا رہی تھی ابھی لوکیشن اپڈیٹ ہی نہیں کی تھی۔ وہاں تو شائد پھر برفباری ہو رہی تھی سنو بنی آرہی تھی ساتھ منفی تیرہ۔ یہاں منفی تیرہ ہو رہا ہے۔ اس کی بتاتے آواز کانپ کانپ گئ۔ دانت جو بج رہے تھے۔ ہیں؟ وہ پہلی بار چونکا۔ ہاں ۔ وہ کونسا ابھی بوسان کا ویدر دیکھ کر اسے شرمندہ کرے گا۔ اس نے ڈھٹائی سے کہا۔ ٹھہرو میں دیکھتا ہوں اتنی سردی میں تم زندہ کیسے ہو یہاں تو اکتوبر سے دو سوئٹریں چڑھا لیتئ تھیں۔ وہ سچ مچ ویدر نکالنے لگا تھا۔ سو کمینے مرے تھے جو تم پیدا ہوئے۔ وہ غصے میں چلا اٹھی۔ اسکے ایکدم زور سے بولنے پر مین گیٹ سے اندر داخل ہوتے اس شخص کے ہاتھ سے تھیلی چھوٹ کر نیچے گر گئ۔ گرنے کی آواز پر وہ چونک کے مڑی ۔ تیز بلب کی روشنی میں نووارد کا چہرہ واضح تھا۔ اسکے چہرے پر اسکو دیکھ کر خوشگوار حیرت در آئئ تھئ۔ اریزہ بھی اسے دیکھ کر فون کال بھول گئ تھی۔ جھک کر شاپر اٹھاتے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسکے پاس چلا آیا۔ اسلام و علیکم اریزہ ۔کافی خوشگوار سرپرائز ہے ۔ کیا حال ہے تمہارا؟ علی مسکراتے ہوئے اسکا احوال پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد جاری ہے
kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ? rate us below
ایک تھی مچھلی۔ اسکو شیشے کے گھر میں کسی نے کتب خانے میں رکھا ہوا تھا۔ روز لوگوں کو گھنٹوں گردن جھکائے کتابیں پڑھتے دیکھ کر اسے بھی پڑھنے کا شوق ہو گیا۔اپنی محدود جگہ میں تیرتے ہوئے لوگوں کو کتابیں پڑھتے دیکھ دیکھ کر ادھر سے ادھر ہوتی جاتی اور پڑھتی جاتی۔ یوں فلسفہ، تاریخ ، سائنس ، اردو ادب غرض ہر موضوع پر کتابیں پڑھتی گئ۔
یہاں تک کہ اسے ادراک ہوا کہ تعلیم نے اسکی شخصیت بدل کر رکھ دی ہے۔ اب وہ عام مچھلی کی طرح تیرنے اور کھانے کی بجائے سوچوں میں گم
رہتی ۔ ایک دن سوچتے ہوئے مراقبے میں چلی گئ۔
کتب خانے کے ملازم کی صفائی کرتے ہوئے اس پر نظر پڑی سمجھا مر گئ۔ اسے نکال کر میز پر رکھے اخبار پر رکھ دیا کہ صفائی کے بعد پھینک دے گا۔ مچھلی نے پڑھ رکھا تھا کہ ایک عام مچھلی 10 منٹ تک پانی کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے سو اس مہلت کو غنیمت جان کر اس کی علم کی پیاس مزید بھڑک اٹھی۔ اس نے اسی اخبار کو پڑھنا شروع کردیا۔ اخبار پڑھتے اسکی حالت غیرہونے لگی خوف کے مارے اسکی آنکھیں ابل سی پڑیں اس نے بے تابی سے اپنے پر اور سر کو اخبار پر پٹخنا شروع کردیا ۔ اخبار پھڑپھڑا اٹھا۔کتب خانے کی خاموشی کی چادر میں دراڑ پڑی۔ ملازم نے چونک کے اسے پھڑکتے دیکھا تو احتیاط سے اٹھا کر واپس شیشے کے گھر میں ڈال دیا۔ پانی ملا سانس بحال ہوئی سب سکھئ سہیلیاں جو اسکی موت کے غم میں مغموم تھیں آکر خوشی سے اس سے لپٹ گئیں۔ مچھلی تڑپ تڑپ کر رونے لگی۔ سب حیران ہوئیں کیوں روتی ہو؟ مچھلی نے ہچکیاں لیتے ہوئے بتایا جس اخبار پر اسے ملازم لٹا گیا تھا اس اخبار میں کھانا پکانے کی ترکیب درج تھی۔ اسے پڑھ کر رونا آگیا۔ سب مچھلیاں اسکی بیوقوفی پر ہنس پڑیں۔مچھلی نے کچھ کہنا چاہا مگر انکے مطمئن چہرے دیکھ کر ہمت نہ ہوئی لب سی لیئے اور اپنے کونے میں آبیٹھی۔
اسے یاد آیا تھا کہیں پڑھا تھا علم شعور کے دروا کرتا ہے اسے شعور آگیا تھا سو چپ رہنے کا فیصلہ کیا۔
دراصل اس مچھلی نے جو اخبار میں کھانا پکانے کی ترکیب پڑھی تھی وہ ترکیب تلی ہوئی مچھلی بنانے کی ہی تھی۔
نتیجہ: جو جان جاتا ہے وہ یہ بھی جان جاتا ہے کہ جاننا جان لیوا بھی ہوتا ہے۔
Salam Korea: Aik aisi kahani jo aap ko kore ki sair karaye gi.
(Salam Korea: A story that will take you on a tour of Korea.)
by vaiza zaidi
Salam Korea Episode 37
قسط 37 پی اے اسے ایک بڑے سے ہال تک پہنچا گیا تھا۔ جانے کتنے منزلہ ہوٹل تھا یہ۔ یہاں کی دنیا ہی الگ تھی۔ چمچوں کی کھنک خوش گپیوں کی ہلکی سی آوازیں دھیمے بجتے آرکسٹرا مدھم روشنیاں۔ بڑے سے ہال میں ایک بڑی کانفرنس میز پر اس وقت دلہا دلہن کے ساتھ لی اور کم خاندان کے لوگ بیٹھے تھے۔وہ جھجک کر دروازے کے پاس ہی رک گئ۔ سامنے ہی ہیون کے والد اور انکے بائیں جانب والدہ بیٹھی تھیں۔ ہیون کسی لڑکی کے ساتھ کچھ فاصلے پرمیز کرسی پر بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔ اسکی طرف ہیون متوجہ نہیں تھا اسکا بس ایک ہی رخ نظر آرہاتھا اسے۔ کم صاحب سے بات کرتے یونہی ہیون کے والد نے سامنے دیکھا تو سیدھا اسی پر نظر پڑی۔ اسکو دیکھ کر لی بری طرح چونکے تھے۔ گنگشن بھی اسی کانفرنس میز پر ہی بیٹھئ تھیں۔ انکی پی اے نے اسکی آمد کے بارے میں بتایا تو فورا مڑ کر اسے دیکھنے لگیں پھر اسے دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے پاس آئی تھیں۔ آئو اریزہ یہاں کیوں کھڑی ہو۔ قصدا اونچئ آواز میں کہتی وہ اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ ہی لے آئیں۔ ایک لمحے کیلئے سب انکی جانب متوجہ ہوئے تھے۔ انی کے برابر ہی میں انکے شوہر بھی بیٹھے تھے انہوں نے اپنے باپ کی چبھتی نگاہوں کو بالکل نظر انداز کیا اور جیسے بہت اشتیاق سے اسے اپنے شوہر سے ملوانے لگیں۔ یوبو( جان) یہ ہے میری خاص الخاص مہمان اریزہ من جون کھانا کھا رہے تھے اسکے اعزاز میں اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ اس نے دھیرے سے سر جھکا کر آننیانگ کہا تو جوابا وہ بھئ جھک کر سلام کرنے لگے۔ یہ فی الحال تو میری بہن سمجھیں مگر جلد ہی یہ ہمارے خاندان کا اہم حصہ بننے والی ہے۔ ہمارے ہیون کی نسبت سے۔ وہ ٹھیٹھ ہنگل میں بولی تھیں جس طرح سامنے بیٹھے ہیون کی جانب مسکرا کر دیکھ کر کہا تھا سب کو انکی بات سیاق و سباق کے ساتھ سمجھ آگئ تھئ۔ چمچوں چاپ اسٹکس کی آواز واضح طو رپر لمحہ بھر کے لیئے تھمی تھی۔ اریزہ مکمل بات نہ سمجھتے ہوئے بھئ ایکدم چھا جانے والی اس خاموشی کو محسوس کیئے بنا نہ رہ سکی۔ ہیون انی کی آواز پر متوجہ ہوا تھا او راعلان پر اسے کھڑا ہونا پڑا تھا۔ سارا نے خاصا حیران ہو کر اپنے برابر کھڑے ہیون کی شکل دیکھی تھی۔ ہیون کا چہرہ مکمل سپاٹ تھا اسکے چہرے سے اس بات کی سچائی کو ناپنا خاصا مشکل تھا اس وقت۔ کم از کم سارا کیلئے۔ کرے۔ (واقعی) کم صاحب نے سب سے پہلے مسکرا کر خاصی چبھتی نگاہ لی پر ڈالی تھی جو اس وقت خشمگیں نظروں سے گنگشن کو دیکھ رہے تھے۔ آپ بیٹھئے۔ کھانا کھائیے ہمارے ساتھ۔ من جون نے حتی المقدور گرم جوشی کا مظاہر کیا تھا ۔انہوں نے اپنی نشست چھوڑ دی تھی اریزہ سبزی خور ہے۔ انی نے مزید شوشا چھوڑا۔ میں نے ہیون اور اسکے لیئے علیحدہ انتظام کیا ہے۔ وہ ایکدم مڑ کر ہیون کی جانب دیکھتے بولی تھیں۔ ہال میں اور بھی بہت سے لوگ مختلف میزوں پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے ۔سارا انکا ماضی الضمیر سمجھ کر اٹھ کھڑی ہوئی انی مسکرا دیں پھر جیسے کچھ یاد آیا تومن جون کوبتانے لگیں۔ اریزہ کی پسندیدہ ڈش ہے چائنیز فرائیڈ رائس مکمل ویجی ٹیبل آپشنز آپ پوچھ رہے تھے نا یوبو میں نے ویج کیوں منگوایا اپنی اریزہ کیلئے۔ ویٹر ٹرالی بھرے انکے برابر آکھڑا ہوا تو اسے ہیون کی میز کی طرف اشارہ کرکے بولیں۔ اریزہ کیلئے کھانا وہاں لگا دو۔ہیون کے ساتھ۔ سارا کو ہنسی آگئ تھی۔ اس نے مسکرا کر ہیون کو دیکھا۔ تم اب اسکو ہاتھ پکڑ کر یہاں تک نہیں لائوگے۔ ایز یو وش۔ اس نے مسکرا کر کندھے اچکا دیئے۔ اریزہ کے پاس وہ خود چل آکر آیا۔اسوقت دس پندرہ لوگ بیٹھے ہوں گے اس میز پر سب کی نظروں کا وہ مرکز تھی۔ اسکو اپنے ہاتھ پائوں کانپتے محسوس ہورہے تھے۔اسکو آتے دیکھ کر وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ہیون کی معیت میں وہ سارا کے پاس آئی تو میز پر ویٹر طرح طرح کے کھانے سجا رہا تھا۔ سارا نے اسے دیکھتے ہوئے خیر مقدمی مسکراہٹ چہرے پر سجالی۔ ہائے آئیم سارا۔ اس نے بے تکلفی سے ہاتھ بڑھایا۔ اریزہ نے ہاتھ ملایا اسکے ہاتھ کی لرزش سارا سے چھپی نہ رہ سکی۔ تمہاری وجہ سے جو آج مجھے ہتک محسوس ہوئی ہے اسکا بدلہ ادھار رہا۔ میں اپنے والد کو کیا جواب دوں یہ سوچتی ہوں تم مجھے اس سب کی کیا وضاحت دوگے یہ تم سوچ کے رکھنا۔ کرم۔ وہ ہنگل میں مسکرا مسکرا کر کیا بولی تھی۔ ہیون دھیرے سے مسکرا کر سر ہلا گیا۔ ڈیل۔ اس نے ہاتھ ملانے کیلئے بڑھایا۔ سارا نے خاصا زور سے دبا کر چھوڑا۔ تم سے مل کر خوشی ہوئی ۔ وہ یکسر بدلے انداز میں اریزہ سے انگریزی میں مخاطب ہوئئ۔ مجھے بھئ۔ اریزہ اتنا مدہم آواز میں بولی کہ اسکو اپنی آواز نہ آپائی۔ مجھے ایک اہم فون کال کرنی ہے میں آپ سب میں تھوڑی دیر تک شامل ہوتی ہوں۔ سارانے فون اٹھاکرکان سے لگاتے ہوئے سلیقے سے معزرت کی۔ سارا کا باپ اسے خاصی گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے آنکھوں کے اشارے سے انہیں کھانا جاری رکھنے کا کہا۔ وہ مزید رکی نہیں ہال سے بھی باہر چلی گئ اسکو جاتے دیکھ کر انی کو جیسے اپنے شانے پر سے بوجھ ہٹتا محسوس ہوا تھا۔ ایکدم ہلکی پھلکی ہو کر مسکرا دیں۔ من جون نے انکے شاداں وفرحاں انداز کو محسوس کیا ۔ انکی گہری نگاہیں ہیون اور اریزہ پر جا ٹکی تھیں کھانا سرو ہو چکا تھا۔ اس نے اریزہ کیلئے کرسی گھسیٹ کر پہلے اسے بٹھایا پھر خود اسکے مقابل آن بیٹھا۔ بہت پیاری لگ رہی ہو۔ مجھے اندازہ نہیں تھا تم مغربی لباس میں بھی اتنی ہی اچھی لگ سکتی ہو جتنی اپنے مقامی لباس میں لگتی تھیں۔ اس کو گہری نگاہوں میں رکھتے ہوئے ہیون نے کہا تھا۔ دے؟ وہ حیرانی سے اسکی شکل دیکھنے لگی۔ کبھی تم ہنبق پہن کر دکھانا مجھے لگتا وہ بھی بہت جچے گا تم پر۔کسی کوریائی شہزادی جیسا لباس۔اطمینان سے بات مکمل کی تھی اس نے۔ چینئ فرائیڈ رائس اسکے سامنے پیش کر دیئے گئے تھے ساتھ بیکڈ سبزیاں سوپ اور جانے کیا کیا۔ اس کے پاس کوئی چارہ نہ تھا سوائے اسکے کہ تھوڑے سے چاول پلیٹ میں نکال لے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے جو چاول کھائے تھے اس سے ذائقے میں دس گنا بہتر یہ سب چیزیں تھیں ہیون نے اسکی پلیٹ میں خود اپنے ہاتھوں سے اسکی نا نا کے باوجود چیزیں ڈالی تھیں۔
تمہیں بالکل ڈائٹنگ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ خاص طور پر تمہاری پسند کے مطابق بنوائی گئ ہیں۔ ویسے بھی تم کافی دبلی ہوتی جا رہی ہو اور مجھے تم موٹی ہو یا پتلی اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اسکو دیکھتے وہ جو زبان بول رہا تھا وہ نا ہنگل تھی نا انگریزی۔ انتہائئ شستہ دھیمے انداز میں وہ اسکو جزب سے دیکھتا کہہ رہا تھا۔ اسکو اپنے گال تپتے محسوس ہوئے۔ واٹ ڈڈ یو جسٹ سے؟ ( تم نے کیا کہا ابھی) کیا؟ ۔۔۔ہیون زرا سا رخ اسکی جانب جھکایا جیسے کان لگا کر سننا چاہتا ہو۔ اس نے اس پھر دہرایا۔ اسکے منہ سے سرسراتی آواز نکلی تھی۔ اتنی دھیمی کہ ہیون کو بمشکل سنائی دی۔ وہ یوں ذرا سا ہنسا جیسے اس نے کوئی بہت دلچسپ سی بات کی ہو۔ پھر مسکرا کر بولا۔ جانے دو کیا کروگی جان کر چاہے جس بھی وجہ سے سہی مگر آج پہلی بار تم میرے قریب بیٹھی ہو فی الحال یہی بہت ہے میرے لیئے۔ کھانا کھائو۔ عجیب بات ہے مگر میں خوش ہوں۔ وہ اسی زبان میں بولتا گیا۔ اریزہ کی آنکھیں تھوڑی مزید بڑی ہوئیں۔ وہ اب یوں دیکھ رہا تھا جیسے کوئی بات کرنے کے بعد جواب طلب نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ اس نے مسکرا کر رخ سیدھا کیا۔ بنا دیکھے بھی اس وقت اسے اندازہ تھا سب اسے ہی دیکھ رہے ہیں۔ تھوک نگل کر پھر اسی زبان میں بولی جو اسے آتی تھئ۔ کیا کہہ رہے ہو ہیون کے بچے ایک لفظ پلے نہیں پڑ رہا میرے۔۔ اتنا تو پتہ ہے یہ کوئی اور زبان ہے۔ خیر اسوقت تو تم انگریزی بھی بولو تو شائد سمجھ نہ آئے مجھے۔ خدایا کہاں پھنس گئ میں۔ اس نے بات کرنے کے انداز میں بڑبڑا کر پہلا چمچ لیا۔۔ بھرے پیٹ نے دہائی دی تھی۔ مگر ماننے والی بات تھی ذائقہ اچھا تھا۔ پکا صبح پیٹ خراب ہونا میرا۔۔ اس بار وہ قصدا بڑبڑائی تھی تاکہ ہیون کہ سماعتیں محفوظ رہیں ہیون کیلئے اسکی بڑ بڑ نئی نہ تھی مگر اس جواب نے کچھ سمجھ نہ آتے بھی اتنا سمجھا دیا تھا کہ اریزہ کی اور اسکی ذہنی لہریں ایک ہی فریکوئنسی پر کام کرتی ہیں۔ 4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گاڑی پارکنگ سے نکالتے اس نے ایک نظر اس پر ڈالی پھر مسکراہٹ دبا کربولا کین چھنا۔ کین چھنا۔۔ اس نے بھنوئیں اچکائیں۔ پھر ڈولتی آواز میں بولی۔ واٹ کین چھنا۔۔آئی ایم ڈائینگ ایکسٹریم پین ہے۔۔ درد کے مارے انگریزی ختم ہوگئ۔ دنیا گول گھوم رہی ہے میری۔ چاول ناچ رہے ہیں میری آنکھوں کے سامنے۔ ۔ ایکدم کھانسی سی آئی۔ کھانا حلق میں آتے آتے رہ گیا۔ حلق مرچیلا ہوگیا۔ آنکھوں میں مرچوں کے مارے آنسو آگئے۔ نہیں پیٹ میں ہی ناچ رہے ہیں۔ اس نے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔ہیون نے مسکراتی نگاہوں سے دیکھا اسے۔ وہ سیٹ پر بیٹھی نہیں تقریبا دراز ہی تھی۔ پیٹ لگ رہا تھا پھٹ جائے گا۔ اندر سے کوئی تولیہ کی طرح آنتیں مروڑ رہا تھا۔ آہ۔ دوبارہ ایسا ہی محسوس ہوا۔ نیچے رہو۔۔اوپر مت آئو۔کھانے۔ اس نے غصے سے دیکھنا چاہا۔ آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔ اگر میں مر گئ تو انی کو میں معاف نہیں کروں گئ۔ ں زبان دبائی۔ ٹیچر کو کمینہ نہیں کہنا چاہیئے۔۔ اس نے سر کھجایا۔ آہ۔ اس نے کوشش کرکے سیدھا ہونا چاہا۔ درد کی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ سن شیڈ نیچے کرکے اسکے پیچھے لگے آئینے میں خود کو دیکھنے لگی۔ پھر جیسے بے دم ہو کر واپس سیٹ پر گری۔ پوری آستینیں ہیں۔۔ زمین پر گھسیٹتا گائون پہنا ہوا ہے۔۔اور میرے کپڑے ۔۔
بولتے بولتے لگا الٹی آنے لگی تو فورا کھڑکی کھول کر باہر سر نکال دیا۔ ڈرائو کرتے ہیون کی جان نکلنے لگی۔ اریزہ پاگل ہو گئ ہو؟ پیچھے ہو ۔کیا کررہی ہو۔ بند کرو کھڑکی۔ کچھ نہیں۔ وہ نفی میں سر ہلاتی واپس ہوئی۔ کچھ نہیں کر سکی۔آئی نہیں الٹی۔ آہ۔ اس نے ہلکا سا مکا مارا سینے پر۔ کیا بول رہی ہو ؟ کیاہوا ہےاگر تم انگریزی میں بتائو اپنے درد تو شائد میں بانٹ سکوں۔ وہ بے چارگی سے بولا۔ اسکا دبا ہوا غصہ عود کر آیا۔ کیوں بولوں انگریزی۔ اردو میں ہی بولوں گی ۔۔۔۔ پاگل بنایا مجھے۔۔۔۔ہچکی سب میرے سامنے ہنگل بولتے رہے ۔۔۔ چلو وہ تو۔۔۔ہچکی۔ ٹھیک ہے مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی میرا مسلئہ تم کیا بول رہے تھے پکا وہ۔۔۔ ہچکی۔ ۔۔ ہن۔ ہچکی۔ ہنگل۔۔ ہنگل نہیں تھی۔ درد کے مارے انگریزی پہلے ہی بھول گئ تھی۔غصے کے مارے اعلان بھی کردیا انگریزی نہ بولنے کا۔ ہیون کان دبا کر خاموشی سے ڈرائئو کرنے لگا۔ کھڑکی کا شیشہ پھر اوپر ہو گیا تھا۔ہیون نے سکھ کا سانس لیا۔ چند لمحے گزرے پھر کھڑکی کا شیشہ۔۔۔۔ یہ کھڑکی جو بار بار اوپر نیچے کررہی ہو اندر ہیٹر آن ہے۔ وہ جھلایا نہیں تھا رسان سے بتا رہا تھا۔ ہاں تو اچھا ہے سردی لگے۔ گاڑی کے اندر الٹی کردوں۔ وہ جوابا بگڑ کر بولی۔ پھر دانت کچکچا کر مزید گھورا ویسے دل یہی کر رہا ہے ۔ ہیون کو اسکی بات سمجھ نہ آئی تو گہری سانس لیکر ہیٹر بند کردیا۔ شیشہ پھر اوپر ہونے لگا۔ ویسے مجھے لگتا تھا میں بھول چکا ہوں رشین۔ کافی عرصے بعد نکلی میرے منہ سے مگر درست نکلی ہے۔ ہنگل تو تم سیکھنے لگی ہو سورشین اچھا آپشن ہے۔ کبھی تم سے جھگڑا ہوا بھی تو رشین میں جو چاہے کہہ سکتا ہوں۔ یہ بھی کہ میں تم سے واقعی پیار کرنے لگا ہوں۔ تمہیں کبھی مجھ سے ہلکی سی بھی محبت محسوس نہیں ہوئی۔ موڑ کاٹتے اس نے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا۔ پھر شروع۔ اس نے ناک چڑھا کر گھورا۔رخ بدلا آئینے پر نگاہ گئ۔ اتنی پیاری لگ رہی تھی بس جو گھر میں تصویریں لیں بس وہی ہیں۔ جانے گوارا کہاں غائب ہوگئ تھی آہ۔۔ کراہ کر پہلو بدلا۔ نظر لگ گئ سب گھور کم رہے تھے۔ آہ۔۔ امی ہوتیں تو۔ مرچیں وارتیں سات۔ کھڑکی پھر تھوڑی نیچے ہوئی۔ پتہ نہیں کیا معیار ہے اونچا۔ کیا کمی ہے مجھ میں۔شکل و صورت کا بھی ٹھیک ہوں۔ اس نے بیک ویو مرر میں دیکھا۔ اتنا توپاکستانی لڑکیاں آئینہ نہیں دیکھتیں جتنا یہاں کے لڑکے۔ گاڑی کی رفتار کم ہوئی تھی۔اس نے چڑ کر اسے آئینہ دیکھتے دیکھا۔ ظاہر ہے آئینہ فل اسپیڈ میں گاڑئ چلاتے تو نہیں دیکھا جاسکتا تھا۔ ہیون نے ترچھی نگاہ ڈالی تو اس نے نظروں کا ذاویہ بدلا نگاہ اپنے سامنے سن شیڈ کے آئینے میں جھلکتے اپنے عکس پر پڑگئ۔ پاکستانئ ہو یہی تو مسلئہ۔ ملک کے دو بڑے انڈسٹرلیٹس کے ساتھ کھانا تھا کوئی کورین لڑکی ہوتی تو خوشی سے پھولے نہ سماتی۔ ایک ارب پتی گھرانے کی ہونے والی بہو کے طور پر متعارف کرائے جانے پر۔ اور تم۔ وہ دیکھ سامنے رہا تھا بول اس سے رہا تھا۔ پیدل اتر کر چلوں تو جلدی پہنچ جائوں۔ جان کے تپا رہا مجھے۔ اتنا درد ہو رہا۔ امی۔ اسکے درد کے مارے سچ مچ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ مگر تم شائد نہیں جانتیں انکا تعارف تمہارے لیئے تو بس ہیون ہوں میں۔ لیکن ہیون کیا اتنا عام سا ہے کہ۔ اس نےگاڑی گلئ میں موڑی بولتے بولتے جیسے کوئی گھنٹی سی بجی تھی۔ بے ساختہ بریک پر پائوں پڑا۔ گاڑی جھٹکے سے رکی تھی۔اریزہ سیٹ سے نکل کر ڈیش بورڈ سے ٹکراتے بچی۔تھوڑی سی گاڑی کی رفتار مزید تیز ہوتی تو شاید سر لگتا ونڈ اسکرین سے۔ ابھی بھی اتنے زور کے جھٹکے نے اسکی چیخ نکال دی تھی۔۔ کین چھنا؟ تم نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھی تھئ؟ حد ہے یار۔ وہ فکرمندی سے جھلاگیا تھا۔اریزہ نے تنک کر گھورا ان جملوں کا مطلب کس زبان میں مجھے معاف کردو بنتا؟ بیان۔ وہ فورا ہوش میں جیسے آکر معزرت کرنے لگا۔ پیٹ میں اینٹھن ہے میری او رمیں سیٹ بیلٹ لگاتی۔ کیسے بھلا۔ اسے انگریزئ میں بتا کروہ پیٹ پکڑ کر دہری ہوگئ اتنا شدید درد اٹھا تھا۔کہ رو ہی پڑی۔ اریزہ کیا ہوا کین چھنا؟ وہ بری طرح گھبراگیا۔ اس نے چہرہ اٹھا کر دیکھا تو منہ سرخ ہو چکا تھا آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ میں نے کچھ ذیادہ کھا لیا آج۔ اس نے اتنی بے چارگئ سے کہا تھا کہ ہیون کو روکتے روکتے بھی ہنسی آگئ۔ ہاں اور ہنسو۔ ( اردو) اسکا ہنسنا زہر لگا تھا اسے۔وہ خفا ہوگئی تھئ۔ 4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فارمیسی سے دوا لیتے اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ وہ دانت پر سختی سے دانت جمائے تھا۔ کائونٹر پر موجود لڑکے نے ازراہ ہمدردی اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ آپ کی تو کافی طبیعت خراب لگتی ہے۔یہ سلوشن پانی میں حل کرکے فوری پی لیجئے۔۔۔اس سے الٹی ہو جائے گی پھر یہ دوا پی لیجئے گا۔ اس نے دوائیاں اور پانی کی بوتل اسکو تھمائی۔ ہیون نے کارڈ سے پیسے ادا کیئے شکریہ اداکرکے باہر نکل آیا۔ سڑک کے دوسری جانب اس نے گاڑی پارک کی ہوئی تھی۔ اس جانب چوڑا فٹ پاتھ بنا ہوا تھا ساتھ ریلنگ بھی لگی تھی کیونکہ یہاں سے نیچےگلی کا کم از کم پندرہ فٹ کا فاصلہ تھا۔ اریزہ گاڑی سے نکل کر فٹ پاتھ کی جانب بونٹ سے ٹکی ہوئی کھڑی تھی۔ بہت سردی ہے تمہیں باہر نہیں نکلنا چاہیئے تھا۔ وہ ٹوکے بنا نہ رہ سکا۔ وہ صرف میکسی پہنے تھی ساتھ کوئی جرسی سوئٹر وغیرہ نہیں تھا۔ جبکہ اس وقت بھی مائنس میں درجہ حرارت جا رہا تھا۔ خود اس نے تو گرم لانگ جیکٹ پہن رکھا تھا۔ مجھے لگ رہا اندر آگ لگی ہے۔ سردی نہیں لگ رہی۔ اسے سچ مچ پسینے آرہے تھے۔ بمشکل ہانپتے ہوئے جملہ مکمل کیا کیا ہوا ذیادہ طبیعت خراب ہو رہی ہے تو اسپتال چلیں۔ وہ گھبرا گیا۔ دوا لے آئے؟۔ اس نے پوچھا تو وہ سر ہلا کر بونٹ پر شاپر رکھ کر جلدی سے دوا گھول کر بنانے لگا۔ سوڈے کی بوتل کی طرح بلبلے بنے۔ اس نے جلدی سے اسکی جانب بڑھائئ وہ ایک سانس میں پی گئ۔ اس سے ابھی تمہاری طبیعت ٹھیک ہو جائے گی۔ ہیون نے تسلی دی۔ مگر یہ نہیں بتایا کہ کیسے مجھے سانس نہیں آرہی۔ نیا مسلئہ۔ اسے سچ مچ گھبراہٹ ہونے لگی۔ اپنا سینہ مسلتے ہوئے اسے لگ رہا تھا کلیجہ منہ کو آنے لگا ہے ہمم۔ ہیون نے سر ہلا کر دوائیں بونٹ پر رکھیں شاپر خالی کرکےاسکی جانب بڑھانے لگا ۔۔ شاپر اس نے پیچھے کردیا۔ مجھے لگ رہا ہے مجھے۔۔ وہ ایکدم تیر کی طرح دوڑی ریلنگ پر جھکی اور ہیون کا شاپر اسکے ہاتھ میں ہی رہ گیا۔ اریزہ۔ وہ جہاں کا تہاں کھڑا رہ گیا۔ اریزہ ریلنگ پر جھکی الٹی کر رہی تھی۔ ایک کافی زور کی ہائش کی آواز آئی تھی۔ ہیون کا بدترین خوف سچ ہو گیا تھا۔ کین چھنا۔ اسکے منہ سے سرسراتی آواز نکلی تھی۔ ہوں۔ اب بہتر ہوں۔ اف اتنی بڑی الٹی آئی مجھے اب بہتر ہے جیسے بوجھ ہلکا ہوگیا۔ وہ سکون سے کہتی پلٹی۔ اسکی یقینا اب بہتر ہو رہی تھئ طبیعت۔ ہیون نے اسے بے یقینئ سے دیکھا۔ کیہہ سکی۔۔ ہائش۔ یہ آوازیں اسے سنائی نہیں دے رہیں۔ ہیون تیزی سے ریلنگ کی طرف بڑھا جلدی سے موبائل کی ٹارچ آن کرکے نیچے جھانکا۔ گھپ اندھیرا تھا ٹارچ کی روشنی نیچے ڈالی۔ تبھی کسی نے ٹارچ کی روشنی اس پر ڈالی۔ وہ کوئی ادھیڑ عمر آہجوشی تھا جس کی کالی سیاہ جیکٹ پر سفید سفید کچھ گرا تھا۔ اسکے ٹارچ کی روشنی ڈالنے پر اب اسے پتہ لگا تھا کہ کہاں سے کیا آیا ہے ۔بکتا جھکتا اسے صلواتیں سنانے لگا۔ چھے سو ہمبندا۔ وہ یہی کہہ سکتا تھا جھک جھک کر کہا کیا ہوا۔ اسکے معزرت کرنے پراریزہ حیران ہو کر اسکا شانہ ہلا رہی تھی۔ آہجوشی خرافات بکتے تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔یقینا اب اس گلی سے تیزی سے نکل کر اوپر بھی آنے والا تھا۔ شٹ بھاگو۔ وہ اسکا ہاتھ تھام کر گاڑی کی جانب دوڑا۔ کیا ہوا۔ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسکے ساتھ گھسٹتی چلی گئئ۔ اسکو جلدی سے فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر اس نے بھاگ کے آکے گاڑی اسٹارٹ کی آہجوشی سیڑھیاں چڑھ کر بھاگتا اوپر آگیا تھا۔ اس کی گاڑی کی جانب دوڑا اس نے تیزی سے گاڑی یو ٹرن پر لی اس بار جو کثر رہ گئ تھی وہ بونٹ پر رکھی دوائ کی شیشی کے پٹاخ سے زمین پر گرنے اور چھینٹیں اڑانےسے پوری ہوگئ۔ کیہہ سیکی۔۔ تمہارے آبائو اجداد بھی یقینا پیچھے سے سور کی نسل سے ہوں گے۔ غصہ ور انکل اس سے بہتر گالی کیا دیتے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ لفٹ میں اسے اب سوچ سوچ کے شرمندگی ہو رہی تھی۔ مجھے لگا تھا نیچے جھاڑیاں ہوں گی۔ تمہیں مجھے بتانا چاہیئے تھا کہ نیچے گلی ہے۔ بیان۔ ہیون نے مسکرا کر غلطی مان لی۔ ان کے سر پر گری تھی؟ تجسس بھی تھا۔ ہیون کو ہنسی آگئ۔ پوچھنا ہے ان سے واپس لے چلوں انکے پاس۔؟ آنی۔ زور زور سے نفی میں سر ہلاتی ہنس دی۔ ۔رونے سے اسکا میک اپ اتر چکا تھا۔ ٹشو سے رگڑ رگڑ کر اس نے اپنا چہرہ سرخ کرلیا تھا پھر بھی اس وقت آنکھیں پانڈا سی بن چکی تھیں۔ لباس مسک چکا تھا پھربھئ وہ سیدھا جیسے دل میں اترتی جا رہی تھی۔ لفٹ کے فلور بدل رہے تھے وہ خاموشی سے ان نمبروں نگاہ جمائے تھئ اور وہ اس پر۔ مطلوبہ منزل آچکی تھی۔ لفٹ کا دروازہ کھلا تو وہ سرعت سے بنا اسکی جانب دیکھے اپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئ۔ شکریہ۔ فلیٹ کےدروازے پر لاک کھولتے اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے جب اسے پیچھے سے ہیون کی آواز سنائی دی شکریہ؟ وہ سوالیہ نگاہوں سے مڑ کر دیکھنے لگی۔ Thankyou for comming for eating۔۔۔ with me (تمہارا شکریہ آنے کیلئے ساتھ کھانے کے لیئے۔) ود می تک اسکی آواز آہستہ ہوگئ تھی۔ For overeating ذیادہ کھانے کیلئے۔ اس نے تصحیح کی۔پھر خود بھی سوچ سوچ کر بولی شکریہ دوا دلانے کیلئے ، آہجوشی سے بچانے کیلئے بھی۔ اسکے شکریئے پر ہیون کی مسکراہٹ پھیکی پڑتی گئ۔ ہاتھ ہلا کر جانے کو مڑ گیا۔ وہ اسے لفٹ میں جاتا دیکھتی رہی اس نے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو اتنی دیر سے جو خود پرضبط سے قابو پایا ہوا تھا اس کی طنابیں چھوٹنے لگیں۔دونوں بازو مسلتے اسکے جیسے دانت بجنے لگے ۔ جلدی سے لائونج کی بتی جلاتی اندر آئی۔ کمرے کا دروازہ بند تھا اس نے احتیاط سے کھول کر بتی جلائی۔ ڈبل بیڈ پر بس ایک ہی وجود دکھائی دیا۔ سر منہ تک کمبل تانے یقینا وہ ہوپ ہی تھی۔ وہ سی سی کرتی جلدی سے الماری سے اپنے گرم کپڑے لیتی بھاگ کے غسل خانے میں گھس گئ۔ 4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔ مسلسل بجتی فون کی گھنٹی سے صبح اسکی آنکھ کھلی تھی۔ کسلمندی سے ٹٹول کر اس نے تکیئے پر سے فون اٹھایا۔ ہیلو۔ صارم تھا۔ اور جو کچھ کہہ رہا تھا اس سے وہ ایکدم اٹھ کر بیٹھ گئ۔ کیا کیا؟ پھر کہو؟ اسے لگا اسے سننے میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ صارم نے گہری سانس لی سنتھیا کا کچھ پتہ نہیں چل رہا اسکے والد نے ایڈون پر کیس کردیا حبس بے جا کا۔ وہ اس وقت کوریا میں ہیں اور تم سے ملنا چاہتے ہیں۔ تمہارا نیا نمبر انکے پاس نہیں ۔میں نے نمبر نہیں دیا تمہارا مگر وہ ظاہر ہے پولیس کی مدد لیں گے اب بتائو کچھ جانتی ہو کہاں ہے سنتھیا؟ ہاں۔ وہ جھٹ بولی۔ پھر نفی میں سر ہلانے لگی۔ نہیں۔ میرا مطلب ہے ہاں اس نے رابطہ کیا تھا مگر میں نہیں جانتی وہ کہاں ہے بس اتنا پتہ ہے ٹھیک ہے ایڈون کا اس کی گمشدگی میں کوئی ہاتھ نہیں۔ کہاں ہے؟دیکھو اگر تمہیں پتہ ہے تو بتا دو۔ہم خود ان سے بات کر لیں گے۔ وہ جانے کیا کیا کہہ رہے مجھے لگتا ہے تمہیں بالکل ان سے بات نہیں کرنی چاہیئے۔ صارم نے فکر مندی سے کہا۔ کیا کہہ رہے۔ وہ چونکی۔ جانے دو۔ صارم نے سر کھجایا۔ نہیں بتائو نا مجھے۔ انکی بیٹی اپنے منگیتر کے ساتھ جھگڑ کر اپنی مرضی سے غائب ہے اس میں میرا کیا ذکر؟ اسے غصہ آگیا۔ یہی میں بھی کہہ رہا ہوں۔ خالو کو اتنا غصہ آیا تھا کہ ان دونوں میں ہاتھا پائی ہونے لگی تھی کن مشکلوں سے میں نے سنبھالا ہے میں جانتا ہوں۔ تم واپس آجائو کچھ دنوں کیلئے ۔۔ وہ بھڑک ہی اٹھئ۔ ہاں بس یہی آتا ہے۔ میں کیوں واپس آجائوں؟ سنتھیا نہیں مل رہی کوریا میں سو میں واپس آجائوں۔ کوئی رشتہ ڈھونڈ رکھا ہے نا جبھی مطلب کچھ بھی ہو اسکا حل یہی ہے میں واپس آجائوں۔ اوفوہ واپس چلی جانا کچھ دنوں بعد۔ وہ جھلایا۔ تم معاملے کی نزاکت نہیں سمجھ رہی ہو وہ زبردستی تمہیں بھی اس معاملے میں شریک بنا رہے ہیں۔ کوریا میں اکیلی ہو کیسے پولیس وولیس کے چکر سے نکلوگئ۔ یہ کوریا ہے پاکستان نہیں۔ وہ جتا کر بولی۔ پاکستان سے ذیادہ محفوظ ہوں میں یہاں۔ میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں سمجھے۔ میں سنبھال لوں گی سب معاملات اس نے کہہ کر بنا اسکا جواب سنے فون بند کردیا۔ حد ہوگئ ۔ میں کہاں سے آگئ بیچ میں۔ خود بھگتیں اپنی بیٹی کا پھیلایا۔ کھڑاگ۔ سنتھیا تم۔تمہیں خد اپوچھے اسے اتنا شدید غصہ آرہا تھا کہ بس نہیں تھا جا کے سنتھیا کا منہ نوچ لے۔ تکیئے کو نوچ کھسوٹ کر خود کر پرسکون کرتی اٹھنے ہی لگی تھی کہ صارم کا پیغام آگیا۔ سنتھیا کے والد نے بیان دیا ہے سنتھیا تمہارے ساتھ کوریا میں فلیٹ لیکر رہ رہی تھی اور ایڈون کبھی کبھی آیا کرتا تھا۔ ایڈون نے اسے چیٹ کیا ہے تمہارے ساتھ مل کر اور اب غائب کرنے میں تمہارا بھئ ہاتھ ہے۔ یقینا یہ سب اسکا بتانے کا ارادہ نہیں تھا مگر معاملے کی نوعیت سمجھانے کیلیے لکھ بھیجا۔ اس نے جواب نہیں دیا۔ اٹھ کر فریش ہوئی بازو پر روز نئی ڈریسنگ کرنی ہوتی تھی ۔ تین چار دن سے گوارا یہ ذمہ داری نبھا رہی تھی آج نہ گوارا تھی نہ ہوپ ۔ کل خاص کر اسکی جلد سے ملتی جلتی بینڈیج لگائی تھی پیچ جیسا پلاسٹر۔اس وقت اتارا تو تارے نظر آگئے۔ زخم گہرا نہیں تھا چوڑا تھا۔ پھونکیں مار مار کر اس کو صاف کیا۔ پھر اٹھ کر اپنے لیئے سینڈوچ بنایا۔ کافی بنائئ۔ ابھی پہلا لقمہ لینے ہی لگی تھی کہ داخلی دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔ گوارا اسے خیال آیا لیکن گوارا گھنٹی تھوڑی بجاتی۔ اٹھ کر حسب عادت دروازہ کھول دیا ۔ بلیک لانگ کوٹ فان ہائی نیک میں ملبوس نک سک سے درست ہیون کھڑا مسکرا رہا تھا۔ صبح بخیر۔ صبح بخیر۔ وہ اسکو راستہ دیتی اندر چلی آئی۔ کیا ہوا تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں؟ اسے حیرت ہو رہی تھی۔ وہ اطمینان سے میز پر آکر بیٹھ کر سینڈوچ کھانے لگی۔ کیوں؟ اس نے بے دھیانی سے پوچھا۔ پوری پانچ چھٹیاں ہو چکی ہیں محترمہ آپکی۔ اکیڈمی سے نام کٹ جائے گا۔ ہیون کے کہنے پر اسے جیسے کرنٹ سا لگا۔ میں نے تو کوئی اسائنمنٹ بھی تیار نہیں کی۔ اور آج تو ہفتہ ہے۔آج تو ٹیسٹ تھا۔ اسکی پریشانی دیدنی تھی۔ ہاں تو ٹیسٹ تو دو جا کر کم از کم۔ جون جے کو کہہ دینا کہ بہادری دکھاتے زخمی ہوگئ تھی۔ فرسٹ ایڈ باکس سے پائو ڈین اور دوا نکال کر اس نے آگے بڑھ کر احتیاط سے اسکا ہاتھ تھاما۔ اس نے چھڑانا چاہا مگر ہیون کی گرفت مضبوط تھی۔ رکو زرا ۔ وہیں ماربل کائونٹر کے کنارے سے ٹک کراس نے ٹوکا۔۔۔پھر جائزہ لینے لگا۔ ہم ٹھیک ہو رہا ہےاب پلاسٹر نہ لگانا کھرنڈ آرہا ہے۔پلاسٹر اسکو نوچ دے گا۔ وہ مکمل توجہ سے اسکا زخم صاف کرکے دوا لگا رہا تھا۔وہ اب اسکے ہاتھ کی انگلیوں کو دیکھ رہا تھا۔ انگلیوں کے زخم پر کھرنڈ آگئ تھی۔ اس نے دھیرے سے چھوا۔ یہ تو بس اب نشان ہی ہیں۔ اس نے ہاتھ کھینچ لیا۔ ہیون اٹھ کھڑا ہوا۔ چلو دیر ہو رہی ہے تمہیں۔ میں نہیں جا رہی ۔ امتحان دے کر فیل ہو کر مزاق بنوانے کا فائدہ۔ اس نے اطمینان سے کہتے کافی کا گھونٹ بھرا امتحان دینے سے پہلے یہ فیصلہ کیسے کر لیا کہ نتیجہ برا ہی ہوگا۔ ہیون کو حیرت ہوئی انسان کو پتہ ہوتا ہے اپنا۔مجھے پتہ ہے مجھے کچھ نہیں آتا تو امتحان میں کچھ نہیں لکھ پائوں گی۔جب کچھ نہیں لکھ پائوں گی تو نتیجہ اچھا تھوڑی آئے گا۔ اس نے وضاحت دی ہیون ہنس دیا۔ تم ہر معاملےکو حل کرنے سے ذیادہ اس سے بھاگنے کو ترجیح کیوں دیتی ہو؟ اسکی بات گہری انداز اس سے بھی ذیادہ گہرا تھا۔ اس نے تنک کر گھورا۔ جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔ 4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC جلدی جلدی کپڑےبدل کر اسے اسکےساتھ آنا پڑا۔اسکے ساتھ چلتے آج وہ سارا راستہ ذہن نشین کر لینا چاہتی تھی سو گردن گھما گھما کر ارد گرد دیکھ رہی تھی۔ اسکے ساتھ قدم بڑھاتے ایکدم اپنی رفتار تیز کرکے بائیں جانب مڑی۔ اور اپنی یاد داشت پر فاتحانہ انداز میں مسکرائی۔ اتنا تو مجھے یاد ہو گیا ہے۔ پہلا موڑ بائیں جانب لینا ہے۔ دل ہی دل میں اپنی کامیابی پر خوش ہو رہی تھی۔ ہیون نے اسکے تیزی سے اسے پیچھے چھوڑ جانے کے باوجود اپنی رفتار نہیں بڑھائی تھی۔وہ خود ہی اسکے اپنے پاس آنے کا انتظار کرنے لگی۔ اسکے قریب آتے ہی دوبارہ اسکے ہمراہ چلنے لگی۔ کل تم بہت پیاری لگ رہی تھیں۔ وہ لباس تم پر بہت جچا تھا۔ اس نے ترچھی سی نگاہ ڈالی۔ ویسے کافی عجیب لگا تھا کل مجھے خالص نجی محفل تھی تمہارے قریبی رشتے داروں کی اور انی نے مجھے وہاں بلا لیا۔ سب جانے کیا سوچتے ہوں گے۔ تمہارے آہبوجی کافی غصے میں لگ رہے تھے۔ کل کے ذکر پر اسے ذہن میں اپنی کل والی سبکی تازہ ہوگئ۔ انی تو بہت خوش تھیں تمہیں دیکھ کر وہ یاد نہیں۔ ہیون نے ہلکے سے جتانا چاہا۔ وہ تو بہت اچھی ہیں۔بالکل چھوٹی بہنوں کی طرح پیار کرتی ہیں وہ۔ کل جس طرح سب کو مجھ سے ملوا رہی تھی اف شرمندہ ہوگی تھی میں۔ وہ لوگ اگلا موڑ مڑ چکے تھے۔ اریزہ باتوں میں مگن ہوچکی تھی۔ نونا مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں۔ تم میری عزیز دوست ہو اسلیئے وہ تم سے بھی پیار کر رہی تھیں۔ سڑک پر اشارہ بند تھا۔ سو وہ سڑک کنارے ٹریفک رکنے کا انتظار کرنے لگے۔ تم نونا کہتے ہو وہ برا نہیں مانتیں؟ میں نے نونا کہا تو بولیں انی کہو مجھے۔ اسے یاد آیا۔ لڑکے بڑی بہن کو نونا کہتے ہیں لڑکیاں انی۔ ہیون کا دھیان ٹریفک پر تھا۔ ہوں ۔ اس نے پرسوچ انداز میں سر ہلایا۔ اکیڈمی آگئ تھی وہ حسب عادت خدا حافظ کہہ کر جانے لگی۔ تو ہیون نے پیچھے سے آواز دیکر اسے فائٹنگ کا اشارہ کیا۔ وہ منہ بنا کر گھور کر رہ گئ۔ ٹیسٹ سامنے آیا۔ابتدائی ہنگل کے جملے تھے۔ جیسے میں ںے آج کھانا کھایا۔ اس کو ہنگل میں ترجمہ کرنا تھا کچھ الفاظ معنی تھے۔ ایک دو جملے بنانے تھے۔ حسب توقع اسے کچھ نہیں آتا تھا۔ صبح ہیون کا انداز سے پکار کر فائٹنگ کہنا یاد آیا تو قلم مٹھی میں بھینچ کر بولی۔ کیہہ سوری فائٹنگ۔ کھوجو۔ پیپر کو دفع کرکے سیدھی ہو کر بیٹھی تو اپنے کئی ہم جماعتوں کو حیرت سے تکتا پایا۔ ویئے؟ ناک چڑھا کر وہ یہی کہہ سکتی تھی 4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔ عقلمند صورتحال کا تجزیہ کرکے پہلے سے ہی آنے والی مشکل سے نمٹنے کا منصوبہ بنا رکھتے ہیں۔ اور بیوقوف عقلمندوں کو کہتے گھبرائو نہیں سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ریلنگ پر کہنیاں ٹکائے وہ گوگل وائس پر بول رہی تھی۔ تاکہ مکمل جملے کا ترجمہ کرکے بولے۔ دو با رتین بار کوئی پانچ چھے بار سن کر بھی جملہ ٹھیک سے یاد نہیں ہو رہا تھا ۔ ڈھیر ساری لعنت۔ اس نے اب اسکا ترجمہ کیا۔ مانن جھئوجھو۔ دو تین بار میں پکا یاد ہوگیا۔ مانن چھئو جھو۔ اسلام و علیکم۔ شستہ سلام وہ کرنٹ کھا کر جیسے سیدھی ہوئی سامنے علی کھڑا تھا مسکرا کر ادب سے سلام اسکی جانب سے ہی بھیجا گیا تھا دے۔ آننیانگ۔ وہ سٹپٹا کر سر جھکا کر آننیانگ بول گئ۔ کس پر لعنتیں بھیج رہی ہو۔ اس نے مسکرا کر پوچھتے ہوئے اسکی جانب ایک شاپنگ بیگ بڑھایا۔ ایسے ہی بس۔ وہ اب کیا بتاتی۔ شاپر کھول کر دیکھا تو اپنا ہی پل اوور جھانکتا دکھائی دیا ارے میں تو بھول گئ تھی یہ؟ اسکے بے ساختہ حیرت کے اظہا رپر علی نے مسکرا کر وضاحت کی۔ یہ یہیں لٹکا ملا تھا مجھے۔ گوماوویو۔ وہ جھک کر شکریہ ادا کرنے لگی۔ ویسے گوگل ٹرانسلیٹر اچھی چیز ہے۔ اسائنمنٹ بنانے کے کام آسکتا ہے۔ وہ جتا رہا تھا۔وہ کھسیانی سی ہو کر سر کھجانے لگی۔ وہ دراصل بہت مصروف ہفتہ تھا یہ۔بھول گئ پرسوں جمع کرادوں گی۔ جھنچا۔ وہ متاثر کرنے کو انگریزئ کے بیچ بیچ میں کورین کا تڑکا لگاتی تھی۔ پرسوں سے تو سردیوں کے میلے کی چھٹیاں شروع ہو رہی ہیں۔ اس نے یاد کرایا۔ ابھئ پڑھایا ہی کتنا ہے جو چھٹیاں بھی شروع کردیں۔ وہ جیسے خفا ہو گئ تھی۔ جتنا پڑھایا وہ کونسا پڑھ لیا تم نے۔ علی کو حیرت ہوئی اسکے غصے پر جیسے ٹاپر ہو کلاس کی۔ پڑھ رہی ہوں اتنی محنت سے یکسر اجنبی زبان سیکھ رہی ہوں اس نے اپنی کارکردگئ جتائی۔ علی نے اسکا جھوٹ پکڑکر گھورا کیا پڑھا ہے ؟ خالی ٹیسٹ تھما کے آئی ہو مجھے۔۔ اس کی بات پر وہ خفت ذدہ سی ہوئی خاص طور پر اپنے برابر بیٹھے امریکی سے اسکا ٹیسٹ لیکر اپنے ٹیسٹ کے اوپر رکھ کر اسے تھمایا تھا۔ مگر علی بھی ایک کائیاں تھا اسکا ٹیسٹ اسی وقت نیچے سے نکال کر دیکھا تھا۔
رات کو دیر تک پارٹی کروگی تو ٹیسٹ برباد ہی ہوگا۔ لوہا گرم دیکھ کر اس نے ہلکا پھلکا ڈانٹ بھی دیا۔ پارٹی؟ ۔۔ اسے یہ الزام سخت ناگوار گزرا۔ فورا تصحیح کی شادی میں گئ تھی۔ اہم قومی مذہبی فریضہ ہوتا ہے شادی۔ اور ٹیسٹ اچھا دینا اخلاقی تعلیمی تربیتی فریضہ۔ وہ ترکی بہ ترکی بولا۔ آہ۔ اس نے تاسف سے دیکھا۔ اس بندے میں یہ کمال ہے کہ اچھا بھلا موڈ غارت کرکے رکھ دے۔ اس نے گہری سانس لی۔ بیان۔۔ ( معزرت) آئیندہ خوب دل لگا کر پڑھائی کروں گئ۔ جھنچا۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر جیسے حلف دیا۔ گھمسامنیدہ۔ اس نے بھی لطف لیتے ہوئے بظاہر سنجیدگی سے شکریہ ادا کیا مگر شرارت آنکھوں سے عیاں تھی۔اسکی شکل دیکھتے اسکے ذہن میں فورا سوال ابھرا۔ مگر سیدھا سیدھا پوچھتے جھجک گئ۔ آپ سے ایک ذاتی سوال پوچھوں؟ آنی۔ جوابا اس نے بے مروتی سے نفی میں سر ہلایا۔ تمہارا بوائے فرینڈ آگیا ہے۔پھر کبھی پوچھ لینا۔ وہ سادے سے انداز میں کہہ رہا تھا۔ اس نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو ہیون کی گاڑی موڑ مڑتی نظر آگئ۔ ہیون میرا بوائے فرینڈ نہیں ہے۔ اس کو تپ چڑھ گئ۔ کل سے ایک ہی رٹ لگائی ہوئئ۔ ہوں ہاں اب تو فیانسی ہے۔ اس نے آرام سے جیسے تصحیح کرلی۔ واٹ دا ہیل۔ کچھ بھی؟ کل سے کبھی اسے میرا بوائے فرینڈ کہہ رہے کبھی فیانسی۔ ہم صرف دوست ہیں ۔آراسو۔ وہ جس طرح جھلائی تھی علی ٹھٹھک کر اسکی شکل دیکھنے لگا۔ یہ میں نہیں آج چھپنے والا ہر آرٹیکل کہہ رہا ہے۔ اس نے موبائل میں سے ایک آرٹیکل نکال کر اسے دکھایا۔ ہیون سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اس نے جھپٹ کر علی کا موبائل پکڑا ایک نظر شہہ سرخی پر ڈالی۔۔ مشہور لی گروپ کے فرزند ارجمند نے اپنی شریک حیات چن لی۔ کل رات نجی محفل میں ایک پاکستانی نژاد لڑکی آرزا کا لی خاندان سے ہیون کی فیانسی کی حیثیت سے تعارف کرایا گیا۔ جی ہائے بستر پر لیٹی موبائل استعمال کر رہی تھی کہ سامنے ایک مراسلہ آگیا۔۔ تھیبا۔۔وہ ایکدم سے چیخ مارکے اٹھ بیٹھی سنتھیا اچھل سی پڑی۔ کیا ہوا؟ جوابا اس نے وہی مراسلہ اسکی نگاہوں کے سامنے کردیا۔ وہ ہونق سی تصویر دیکھتی رہی جس پر عنوان ہی اصل توجہ کا مرکز تھا۔ تصویر میں ہیون اور اریزہ کا چہرہ واضح تھا کھانا کھاتے ہوئے مسکراتے ہوئے دونوں۔ مگر معاملہ سمجھ نہ آسکا۔ وہ جھنجھلا گئ کیا ہے یہ میں ہنگل تھوڑی سمجھ سکتی ہوں۔ تمہاری سہیلی ہیون سے شادی کر رہی ہے۔ اس نے وضاحت کی تو سنتھیا جیسے بھونچکا سی رہ گئ۔ چند لمحے آنکھیں پھاڑے گھورتی رہی پھر نفی میں سر ہلا کر بولی ناممکن۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ ہے نا مجھے بھئ حیرت ہو رہی۔ دو لوزرز بھی اکٹھے جوڑا بنا سکتے واہ کچھ بھی ممکن ہے دنیا میں۔ صحیح گولڈ ڈگر ہے اریزہ اونچا ہاتھ مارا ہے۔ وہ استہزائیہ انداز میں ہنس رہی تھی۔ مطلب ؟ سنتھیا کو اسکا انداز برا لگا۔ مطلب صاف ہے۔لی گروپ کوریا کے بڑے ترین گروپس میں سے ایک ہے ۔ انکے اکلوتے ناجائز بیٹے کی ہونے والی بیوی ہے۔اونچا ہاتھ مارا ہے بھئی۔ جی ہائے کے انداز میں رشک تمسخر حسد سب تھا۔ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ اریزہ کبھی بھی ایسا نہیں کر سکتی۔ سنتھیا کو ماننے میں تامل تھا۔ جی ہائے نے بھنوئیں اچکا کر دیکھا۔ مجھے تو ایسا ہوتا نظر آرہا تھا۔ ہر وقت تو دونوں ساتھ رہتے تھے سب دوست ایک۔طرف اور یہ دونوں ایک طرف ہوتے تھے اکٹھے گھومتے پھرتے تھے۔ پہلے دن سے ان دونوں کا جھکائو ایک دوسرے کی جانب تھا۔ بس کرو۔ وہ چڑ گئ۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ میری بچپن کی دوست ہے تم سے ذیادہ جانتی ہوں میں اسے۔ وہ کبھی کسی غیر مذہب کے لڑکے سے شادی نہیں کرسکتی۔ اسکے انداز میں تیقن تھا جی ہائے ہنس پڑی غیر مذہب کے لڑکے کے ساتھ گھوم سکتی پھر سکتی اسے ڈیٹ کرسکتی ہے مگر شادی نہیں کر سکتی واہ کیا منافقت ہے کیا ہے یہ؟ وہ تن فن کرتی اسکے پاس پہنچی تھی اور موبائل اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔ مجھے بتائو؟ کیا بکواس ہے یہ؟ یہ کیا ہے کل تم لوگوں نے؟ کیا کہا تھا تم نے نونا کو میرے بارے میں کہ ہم ڈیٹ کر رہے ہیں؟ بولو جواب دو۔بولتے کیوں نہیں اب تم۔ وہ غصے سے بے قابو ہو کر چلائی تھی۔ ہیون کے لیئے غیر متوقع ردعمل تھا وہ ابھی سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ پاس سے گزرتے طلباء میں سے ایک نے آواز لگائی تھیبا یہ تو لی کپل ہے۔ ہیون؟ لی ہیون۔ لوگ انہیں پہچان پہچان کر اکٹھے ہونے لگے تھے۔ یہ جگہ مناسب نہیں چلو کہیں چل کر بات کرتے ہیں۔ لہجہ دھیما رکھتے ہوئے اس نے اسکا ہاتھ تھام کر انتباہ کرنا چاہا وہ غصے سے اپنا ہاتھ چھڑا کر بولی۔ مجھے کوئی بات نہیں کرنی تم سے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم۔ وہ مزید کچھ کہتی مگر ہیون نے اسکا ہاتھ تھام کر تیزی سے اپنی جانب کھینچا اور سیڑھیاں اترنے لگا۔ لوگ مکھیوں کی طرح ان پر جیسے حملہ آور ہوئے تھے۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی اسکے ساتھ گھسٹتی آئی۔ اس نے بھیڑ سے رستہ بناتے اسے گاڑی میں بٹھایا تھا۔ چھوگیو۔ ہیونا۔۔ نا جانے کتنی آوازیں تھیں کتنے کیمرے وہ جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے نکل جانا چاہتا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے ہی زیر تعمیر پلازہ کے قریب لا کر اس نے گاڑی پارک کی تھی۔ میرے ساتھ آئو۔ وہ نرم سے انداز میں اسکی جانب کا دروازہ کھولے کھڑا تھا۔ اس نے ایک نظر گھپ اندھیرے میں ڈوبی اس کثیر منزلہ عمارت پر نگاہ ڈالی پھر اس پروہ اسکے اترنے کا منتظر کھڑا تھا۔۔ دنیا کا کوئی اور انسان ہوتا تو یہاں اترتے وہ سو مرتبہ سوچتی۔ اسکو گھورتے ہوئے وہ اسکے ساتھ اتر آئی۔ وہ موبائل کی ٹارچ آن کرکے اسے سیڑھیوں کے رستے دوسری منزل پر لایا تھا۔ صرف ڈھانچہ کھڑا تھا سامنے کچھ فاصلے دریا کنارہ تھا جہاں کی سڑک کی دو رویہ بتیاں اس وقت قمقموں کی طرح روشن تھیں۔ اس عمارت میں صرف ارد گرد کی روشنیاں ہی اندھیرے گھپ سے بچائے تھیں۔۔ وہ بالکل خاموشی سے کھڑا سامنے نگاہ جمائے تھا۔ اتنا خاموش کہ اسے مزید غصہ آنے لگا۔ یہ کیسی وضاحت ہے؟ ہیون نے رخ موڑ کر اسکی جانب غور سے دیکھا میری جگہ کوئی اور لڑکا ہوتا تو تمہیں یہاں لا کر پرپوز کرتا۔ پھر نہیں۔ وہ بےزاری سے ٹوک گئ۔ تم نے پرپوز کیا میں نے انکار کیا بات ختم ہوگئ ہم اچھے دوست ہیں اور رہیں گے تم اس طرح کی فالتو غلط فہمیاں مت پالو نا افواہیں پھیلائو سمجھے۔ میری بات مکمل طو رپر سمجھ آئی تمہیں ۔۔ وہ ہاتھ اٹھا کر نہایت سخت انداز میں کہہ رہی تھی۔وہ چپ چاپ اسکی شکل دیکھتا رہا۔اتنی خاموشی سے کہ اریزہ کو پہلی بار اسکی نگاہوں میں دیکھنا مشکل لگنے لگا۔ اس سے قبل کہ وہ نگاہ چرا لیتی اس نے گہری سانس لیکر رخ موڑ ا اور سامنے دریا پرنگاہ جما دی یہ کثیر منزلہ عمارت ہے۔ 2023 تک مکمل ہوگی۔ اس میں رہائشی اپارٹمنٹس ہونگے دریا کنارہ بہترئن جگہ بہترین مناظر کے ساتھ جب یہ بن کر تیار ہوگا تو ایک ایک اپارٹمنٹ اپنی طرز کا ایک شاہکار ہوگا۔ اربوں مالیت کا پراجیکٹ ہے یہ۔ مکمل طور پر میرے نام ۔ میری تعلیم مکمل ہونے تک مجھے لی گروپ کا ڈائریکٹر بنا دیا جائے گا۔ اس وقت لی گروپ کوریا کے پانچ بڑے ترین بزنس گروپس میں سے ایک ہے۔ تم مجھے یہ سب کیوں بتا رہے ہو؟ اریزہ حیرت سے ٹوک بیٹھی۔۔ زندگی میں ہمیشہ میں اکیلا رہا ہوں اریزہ۔ یہ حوالہ یہ شناخت یہ پہچان میرے ساتھ اتنا رہی ہے کہ مجھے نفرت ہونے لگی ہے اس حوالے سے۔ مجھ سے سب دوستی کرنا چاہتے تھے۔ کچھ اسلیئے کہ کہہ سکیں کہ لی گروپ کا ولی عہد انکا جاننے والا ہے کچھ اسلیئے کہ میں ان پر کھلے دل سے خرچ کرتا ہوں۔ اور جب میں ان سب کے ساتھ ہوتا تھا تو میں خاموش ہوں میں انکے ساتھ ہوتے ہوئے بھی انکے ساتھ نہیں ہوں۔کبھی کسی کو پتہ نہ لگ سکا۔جب سب ایک دوسرے سے ہنسی مزاق کرتے ایک دوسرے کے ساتھ گپیں ہانکتے میں چپ چاپ کسی کونے میں بیٹھا انہیں دیکھا کرتا تھا۔ کیسے سب ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر ہلہ گلہ کرتے ہیں مگر مجھ سے بات کرتےایک فاصلہ رکھتے ہیں۔ اسکے ذہن میں ایسے ہزاروں واقعات فلم کی طرح چل رہے تھے جہاں وہ سب دوستوں میں ہوتے ہوئے بھی ایک کونے میں اکیلا بیٹھا ہوتا تھا۔ اس کی ٹریٹ پر سب مزے کرتے ہوئے یہ بھول جاتے تھے کہ جب کرائوکے روم اسی نے بک کروایا ہے تو وہ خود گانا کیوں نہیں گاتا۔۔ وہ ماضی کو جیسے دوبارہ جی رہا تھا۔اریزہ کی زبان تالو سے چپک سی گئ۔ کم سن گوارا یون بن کیا یہ سب تمہارے دوست نہیں؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی اس نے مڑ کر اسکی شکل دیکھی۔ کم سن گوارا یون بن جی ہائے سب بہت اچھے دوست ہیں۔۔۔۔۔۔ وہ لحظہ بھر رکا۔ آپس میں۔۔۔ اس نے جملہ مکمل کیا۔ وہی مسکراہٹ دوبارہ اسکے چہرے پر آسجی تھی وہی جسکو دیکھتے اریزہ سوچتی تھی۔ اسکا پورا چہرہ مسکراتا ہے سوائے آنکھوں کے۔ کرائوکے ، کلبنگ ، لانگ ڈرائیو گیمنگ وغیرہ جس میں میری عمر کے لوگ گھنٹوں بتا سکتے ہیں میں بور ہونے لگتا تھا میں اٹھ جاتا تھا باہر نکل آتا تھا کبھی کوئی میرے پیچھے نہیں آیا۔۔۔ ہیون کیا ہوا چلوکہیں اور چلتے ہیں۔ وہ ذرا سا ہنسا۔ اریزہ کی پیشانی پر تفکر کی لکیریں سی بننے لگیں۔ تم نے کبھی نوٹ نہیں کیا تم اور میں ہمیشہ اکٹھے اکیلے کیوں رہ جاتے تھے؟ کیونکہ میں اکیلا ہوتا تھا۔ وہ اسکے اور اپنے درمیان چند قدم کا فاصلہ مٹاتا اسکی نگاہوں میں جھانکتے پوچھ رہا تھا۔ سادہ انگریزی میں کہوں تو میں پش اوور ہوں۔ پیسے والا مگر گھامڑ گھونچو انسان۔ ایسا نہیں ہے۔ بالکل بھی ایسا نہیں ہے۔ سب دوست تم سے محبت کرتے ہیں۔کم سن گوارا میں نے انکو تمہاری فکر کرتے دیکھا ہے۔ اریزہ نے اسکا دل صاف کرنا چاہا مگر اس پر ان جملوں کا مطلق اثر نہیں ہوا۔ میں نے کب کہا کہ وہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ اس نے جیسے مکھی اڑائئ۔ میں اپنی بات کر رہا ہوں۔ میں یہاں کی سوسائٹی کا سونے کا چمچ منہ میں لیکر پیدا ہونے والا گڈ فار نتھنگ انسان تھا۔ اس نے تھا پر زور دیا تھا ۔ اریزہ کو حقیقت میں حیرت ہوئی تھی۔ سمجھ نہ آیا ایسا لڑکا جسے وہ اتنے دنوں میں اتنا مکمل او رمضبوط انسان سمجھ رہی تھی ایسے کامپلیکسز پال کر بیٹھا ہوگا۔ تمہاری شخصیت بہت اچھی ہے بہت اچھی باتیں کرتے ہو تم رحمدل ہو ، سادہ مزاج ہو ،پرخلوص ہو خوش مزاج ہو مجھے ایسا کبھی نہیں لگا۔۔ تم اچھے ہو۔ جھنچا اریزہ نے جھنچا پر زور دے کر کہا۔ ہاں۔ یہ سب تم کہہ رہی ہو۔ آج تک یہ سب صرف تم نے ہی کہا ہے مجھ سے۔ تم نے مجھے احساس دلایا ہے کہ میں مختلف سہی مگر جیسا بھی ہوں برا نہیں ہوں۔ تو جو لڑکی مجھے میں جیسا ہوں ویسا ہی پسند کرتئ ہے کیا اسے ہمیشہ اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی خواہش غلط ہے میری؟ وہ آنکھوں میں ہزاروں امیدوں کے دیئے سجائے بہت آس بہت مان سے پوچھ رہا تھا۔ اریزہ لمحہ بھر کو جیسے سانس لینا ہی بھول گئ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سارا راستہ دونوں بالکل خاموش رہے تھے۔ گاڑی اسکی عمارت کے پارکنگ ایریا میں رکتے ہی وہ جیسے دروازہ کھول کر اترنے لگی تو ہیون دھیرے سے بولا
کل جو کچھ ہوا وہ غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا۔ میں نے نونا کو بتایاتھا کہ میں تمہیں پرپوز کرنے لگا ہوں۔ انکو لگا تھا تم نے حامی بھر لی ہوگی۔ وہ صرف آہبوجی کے سامنے یہ بات بتانا چاہ رہی تھیں بس۔ اگر تمہیں دکھ پہنچا تو بیان۔۔ ( معزرت) بیان تک اسکی آواز ڈول سی گئ تھی۔ سامنے نگاہ جمائے وہ دانستہ اسکی جانب دیکھنے سے احتراز برت رہا تھا۔ اریزہ نے سر ہلایا۔ اور خاموشی سے اتر کر دروازہ بند کردیا۔ وہ بنا اسکی طرف دیکھے گاڑی آگے بڑھا لے گیا تھا۔ جانے آج موقع تھا یا نہیں۔ اس نے سوچنا چاہا۔ ذہن منتشر سا ہو رہا تھا۔ چلتے چلتے خیال ہی نہ رہا کہ ایک سیڑھی اوپر سے احاطہ شروع ہوتا ہے ۔بہت زور سے سیڑھی کا کونہ لگا تھا اسکی ٹانگ پر۔ تکلیف سے دہری ہوتی ٹانگ سہلاتی وہیں بیٹھ گئ۔ اریزہ۔ قدموں کی آہٹ کسی نے اس کے قریب آکر اسے پکارا تھا۔ اس نے آنسو بھری آنکھیں اٹھا کر اوپر دیکھا تو غیر متوقع طور پر سامنے علی کھڑا تھا۔ وہ اتنئ حیران ہوئی کہ دیکھتی رہ گئ ۔ تم ٹھیک ہو۔ وہ اسکی چوٹ کی بابت پوچھ رہا تھا۔ آہ۔۔ دے۔ وہ فورا ٹانگیں سمیٹ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ معمولی چوٹ ہے۔ چہرے پر پھیلے آنسو پونچھتے وہ قصدا مسکرائی۔ علی نے اسکی شکل دیکھی۔ معمولی چوٹ پر یوں پھوٹ پھوٹ کر رونے کا مطلب چوٹ اندر کہیں لگی ہے یہ بہانہ بنا ہے۔ کین چھنا۔ اس نے اپنی جانب سے اطمینان دلانا چاہا۔ تھائینیئے۔وہ سر ہلا کر اسکا یقین کرگیا۔ وہ ہاتھ میں وہی والا شاپنگ بیگ تھامے تھا۔ یقینا وہ یہی واپس کرنے آیا تھا۔ اس وقت وہ اتنا تیزی میں نکلے تھے کہ خیال نہیں رہا۔اس نے اسکی جانب بڑھا دیا۔ آپکو کافی زحمت ہوئی شکریہ۔ اس نے فورا تھام لیا او رجھک کر شکریہ بھی ادا کردیا کرم۔ وہ جانے کو مڑی۔ اریزہ ۔ علی نے پکارا تو وہ مڑ کر یوں دیکھنے لگی جیسے پوچھ رہی ہو اب کیا؟ وہ میرا ہینڈ فون۔۔ اس نے یاد دلایا۔ وہ چند لمحے ناسمجھی سے اسے دیکھتی رہی پھر خیال آیا۔ غصے میں وہ اسکا فون پکڑے پکڑے ہی ہیون کی کلاس لینے آگے بڑھ گئ تھی۔ اس نے بیگ میں فورا فون تلاشا۔ صد شکر دو عد دفون موجود تھے۔ میں بہت معزرت خواہ ہوں آپکو بہت زحمت ہوئی ۔ مجھے بالکل خیال نہیں رہا تھا کہ ۔۔ ایک بار پھر معزرت سوری وہ اتنی شرمندہ ہوئی تھی کہ بس نہیں تھا کہ وہیں گڑ مر جائے۔ ایسا بھی کیا اندھا پن۔ اسکے اتنی مرتبہ معزرت کرنے پر وہ خود بھی شرمندہ سا ہوگیا نہیں۔معزرت مت کیجئے۔ آنیو۔ بس وہ صبح مجھے اس کی ضرورت پڑتی شہر سے باہر جانا ہے اسلیئے بس۔ اسے کہیں نہ بھی جانا ہوتا پھر بھی کون آجکل کے دور میں موبائل کے بغیر رہ سکتا۔ وہ خود کو جتنا ملامت کرتی کم تھا۔ وہ سر ہلا کر رہ گئ ۔۔ کرم۔ وہ سر کے اشارے سے خدا حافظ کہتا جانے لگا کہ خیال آیا۔ ذراسا جھک کر بولا اریزہ۔ آئیم سوری۔ کس لیئے۔ ؟ وہ حیران ہوئی۔ کل کے کیلئے، آج جو کچھ ہوا مجھے لگا ہے کہیں نہ کہیں جو کچھ ہوا اسکے لیئے مجھے معزرت کرنی چاہیئے۔ آئیم سوری اسکو اپنی پوزیشن آکورڈ لگی۔تھئ۔ اریزہ کچھ نہ بولی۔ اپنا خیال رکھنا شب بخیر بائے۔ وہ کہہ کر ہلکے سے سر جھکا کر مخصوص کورین انداز میں کہتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔ وہ بے دھیانئ میں اسے دیکھ رہی تھی کہ خیال آیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ فلیٹ کا دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی تو سامنے ہی گوارا صوفے پر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی وہیں سے پکارنے لگی۔ میری جان میری زندگی یوبو۔ اف کتنا یاد کر رہئ تھی پوچھ لو ہوپ سے مستقل اس سے پوچھے جا رہی ہوں کب آئوگی تم ۔ اریزہ جوابا مسکرا بھی نہ سکی۔ ہوپ کچن میں کافی بنا رہی تھی اس سے بھی پوچھنے لگی کافی پیوگی؟ اس نے بس نفی میں سر ہلایا اور کمرے میں گھس گئ۔ اسکو کیا ہوا؟ گوارا ہوپ سے پوچھ رہی تھی۔ میں کیا جانوں؟ اس نے کندھے اچکا دیئے۔ اریزہ۔۔ گوارا اٹھ کر اسکے پیچھے آئی وہ کمبل منہ تک تانے بتیاں بجھائے یقینا سونے کا ارادہ باندھ چکی تھی۔ وہ آہستگی سے دروازہ بند کرتی واپس چلی گئ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اور یون بن اس سے ملنے آئے تھے۔ ایک ہفتے سے اوپر ہو چکا تھا اسے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ اسکی حالت انکی توقع سے ذیادہ خراب تھئ۔ سوکھ کے جیسے کانٹا ہوا وا تھا۔ آنکھوں کے گرد حلقے تھے انکو دیکھ کر حقیقتا اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ کین چھنا۔ یون بن پوچھ کے پچھتایا۔ وہ سلاخوں سے سر ٹکا کر رو ہی پڑا۔ میں نے کچھ نہیں کیا میں نے سنتھیا کو اغوا نہیں کیا۔ میں کیوں اسکو نقصان پہنچائوں گا ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ یون بن اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تسلی دینے لگا۔۔ ہماری پولیس تھوڑی سست ہے مگر جلد ہی سنتھیا کا پتہ چلا لے گی۔ اسکی حالت ٹھیک نہیں یقینااسے اسپتال کی ضرورت پڑے گی۔وہ ضرور کسی کلینک سے رابطہ کرے گی فورا اسکا پولیس کو پتہ چل جائے گا تم پریشان مت ہو۔ یون بن اسے بچوں کی طرح بہلا رہا تھا۔ کم سن ہونٹ بھینچے بیٹھا رہا تھا۔ ملاقات کا وقت ختم ہونے تک یون بن کی تسلیوں کے باعث اسے کافی بہتر لگ رہا تھا۔ اسکے ہمراہ باہر آتے یون بن کو نیا خیال آیا۔ یار سنتھیا نے کہیں سو سائیڈ تو نہیں کرلی۔ کم سن نے حیرت سے شکل دیکھی تو وضاحت کرنے لگا۔ دیکھو نا سیول میں جا بجا سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں نا ممکن ہے کہ وہ باہر نکلے اور کسی کیمرے کی نظر میں نہ آئے۔ اور باہر کیسے کوئی نہیں نکلے گا؟ کھانا پینا کیسے کر رہی ہوگی وہ بھلا؟ یہاں تو اسکا کوئی دوست بھی نہیں۔ کم سن نے سر کھجایا۔ اس دن سنتھیا جب اس کے پاس انٹرویو دینے آئی تھی تو اس نے جو آپر پہن رکھا تھا اس پر بڑا بڑا یونیورسٹی کے جمناسٹک کلب کا نام لکھا ہوا تھا۔ وہ اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ اسکی مدد کون کر رہا ہے یقینا وہ ہاسٹل میں چھپی ہوگی ۔ اسے باہر نکلنے کی ضرورت ہی نہیں تھی کم ازکم سمسٹر بریک اور کرسمس کی چھٹیوں کے ختم ہونے تک۔۔ ہنگن دریا تو فریز ہوا وا ہے یقینا وہ کچھ کھا کر مر چکی۔ یون بن اپنی دھن میں گاڑی میں بیٹھتے بول رہا تھا اے سوچ کے بولو۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتا کم سن ایکدم اتنی زور سے بھڑک کر بولا کمچاگئا ( ڈرا دیا) وہ بے ساختہ دل پر ہاتھ رکھ کر گھورنے لگا۔ کیا ہوا ہے بس خیال ظاہر کر رہا ہوں۔ ہائش۔ میں کونسا فرشتہ ہوں جو بیٹھا اسکی تقدیر لکھ رہا ہوں۔ اس نے منہ بنا کر گاڑی اسٹارٹ کی۔ پھر بھئ کسی کی زندگی موت کے بارے میں غیر سنجیدگی سے ذکر زیب نہیں دیتا کم سن اس بار لہجہ سنبھال کر بولا تھا۔ غیر سنجیدگی سے نہیں کہہ رہا۔ اسکی حالت ٹھیک نہیں ہوگی۔ اس میں خون کی شدید کمی ہے۔ جو رپورٹس تھیں انکے مطابق اگر وہ اس بچے کو گراتی تو اسکی جان کوخطرہ تھا اور اگر پیدا کرنا چاہتی تو مزید خطرہ تھا۔مکمل بیڈ ریسٹ تجویز کیا تھا ڈاکٹر نے۔ اور وہ احمق لڑکی خود سے کہیں چلی گئ۔ اور سب جانتے بوجھتے ایڈون اسکو ذہنی طور پر مزید پریشان کرتا رہا اسکی مرضی کے خلاف ابارشن پر مجبور کرکے۔ کم سن کو ایڈون پر غصہ آیا تھا۔یون بن نے ایک نظر اسکی جانب دیکھا پھر کندھے اچکا کر بولا۔ ایک بائیس تئیس سالہ لڑکا پڑھائی کرے گا یا بیوی بچے پالے گا؟ مجھے ایڈون اتنا غلط نہیں لگتا۔ کم سن سوچ میں پڑ گیا ذہن میں یون بن کے کہے الفاظ گونج رہے تھے اسکی حالت ٹھیک نہیں ہے یقینا اسے اسپتال کی ضرورت پڑے گئ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ گاڑی لیکر جیسے اڑتا ہوا پہنچا تھا۔ ہاسٹل گیٹ پر ہی اسے جی ہائے مل گئ تھئ۔ چھوٹتے ہی بولی اتنئ دیر؟ سنتھیا کہاں ہے؟ اس نے پوچھا تو وہ اسے اشارے سے خاموش رہنے کا اشارہ کرتی مین گیٹ سے کچھ فاصلے پر ایک درخت کے نیچے لگے بنچ کے پاس لے آئی۔ سنتھیا گھاس پرزمین پر دہری ہوئی لیٹی تھی۔ اس وقت سیکیورٹی گارڈ کی نظروں میں آئے بغیر ہمیں اسے لے جانا ہوگا ورنہ میں بہت بڑی مصیبت میں پڑ جائوں گی۔ جی ہائے کو اس وقت بھئ اپنی فکر پڑی تھی کم سن نے گھورا تو وہ چپ کرگئ۔ اس نے آگے بڑھ کر دیکھا تو اسکا جسم کانپ رہا تھا پسینے چھوٹ رہے تھے۔ وہ بالکل بے دم ہوئی جا رہی تھی یہ یہاں تک کیسے آئی ہے۔ کم سن نے اسکو سیدھا کیا تو جس طرح وہ کراہی وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا۔ چل کر۔ اس وقت چل پا رہی تھی میرا خیال ہے چلنے سے اسکی ذیادہ طبیعت خراب ہوئی ہے۔ جی ہائی کے کہنے پر وہ سوچ میں پڑا پھر جیسے ایک فیصلہ کرکے جیب سے چابی نکال کر اسکی جانب بڑھائی گاڑی کو یونیورسٹی کے گیٹ نمبر 3 کے پاس لیکر آئو۔ مگر وہ تو بند ہوگا اس وقت۔ جی ہائے نے کہا تو وہ ہونٹ بھینچ کر کسی کو کال ملانے لگا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آڈیٹوریم سے وہیل چئیر لا کر وہ سنتھیا کو اس پر بٹھا کر جتنئ تیزی سے ہو سکا گیٹ تک پہنچا تھا۔ گیٹ پر انکا قابل اعتبار سیکیورٹی گارڈ کھڑا تھا۔سنتھیا کو دیکھ کر سٹپٹا گیا دیکھو آدل لڑکوں کا دیر سے ہاسٹل آنے پر گیٹ کھولنا یا بے وقت جانے دینے میں اور یوں کسی لڑکی کے ساتھ جانے دینے میں فرق ہے۔ مجھے معاملہ گڑبڑ لگ رہا ہے ۔ ہاسٹل سے غائب ہونے کیلئے یون بن شاہزیب سالک وغیرہ کے ساتھ وہ اسی گیٹ کا استعمال کرتے تھے اسی چوکیدار کو پیسے دے کر۔ یہاں کا سی سی ٹی وی خراب نہیں تھا مگر اس سے نمٹنا بھی اسی چوکیدار کا کام تھا۔ میں آپکو کسی مشکل میں پھنسا سکتاہوں بھلا۔ اس لڑکی کی طبیعت بہت خراب ہے اسکو اسپتال لے جانا ضروری ہے۔ اس نے منت بھرے انداز میں کہا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر میرے ہی کلینک میں لانا ضروری تھا؟ سن بے ای کوانگ دو جھلارہا تھا۔ وہ سر جھکا گیا۔ بتایا تو ہے سن بے کسی بھی سرکاری اسپتال لے جاتا تو پھنس جاتا پولیس کیس ہے۔ اس نے اتنی معصومیت سے کہا تھا کہ سن بے ( سینئر) کا دل چاہا اسکے سر پراپنا وہی اسٹیتھسکوپ ماردے جسکو سنتھیا کی دھڑکن ماپنے کیلئے استعمال کر رہا تھا۔ فکر کی بات نہیں ہے ۔ یوں طبیعت اوپر نیچے ہونا عام بات ہے۔ بخار ابھی اتر جائے گا تو کچھ کھلا پلا دینا بس۔ اسے گھورنے کے بعد رخ پھیر کر سن بے جی ہائے سے ہی مخاطب تھے۔ وہ سر ہلا کر جمائی روکنے کی کوشش میں لگی تھی۔ میرا کلینک اتنا بڑا نہیں ہے کہ ایمرجنسی کی سہولت موجود ہوتی۔ منہ اٹھا کر یہاں لے آئے اگر سچ مچ حالت بگڑتی تو اسپتال جانے تک یہ اوپر جا چکئ ہوتی۔ سن بے سنتھیا کو ٹیکا لگاتےہوئے اس کو بھی ساتھ ساتھ ٹھونک بجا رہے تھے۔ مجھے پتہ ہے آپ اتنے قابل ڈاکٹر ہیں کہ ایسی کسی بھی مشکل سے با آسانی نمٹ سکتے ہیں جبھی پورے بھروسے کے ساتھ آیا میں۔ وہ مکھن لگا رہا تھا۔ آہیش۔ دانت پیستے اس نے معائنہ مکمل کیا۔ نرس کو ڈرپ تیار کرکے لگانے کا کہتا اسے گھورتا باہر نکل گیا۔ نرس سنتھیا کودیکھ رہی تھی۔ جی ہائے سنتھئا کا ہاتھ سہلا رہی تھی تکلیف میں یقینا کافی کمی آئی تھی۔ سنتھیا بہتر لگ رہی تھی۔ وہ اطمینان کرتا سن بے کے پاس چلا آیا۔وہ اپنے کمرے میں بیٹھا اسی کی رپورٹس اپنے مانیٹر پردیکھ رہا تھا۔وہ چپ چاپ اسکے مقابل آبیٹھا۔ ۔ مسلئہ کیا ہے تم دونوں کے بیچ؟ مانیٹر سے نظر ہٹا کر اس نے گھورا دے؟ وہ سمجھا نہیں۔ تمہاری یوجا شنگو( لڑکی دوست) بہت کمزور ہے۔شدید ذہنی دبائو کی وجہ سے بچے کی جان کو خطرہ ہے۔ اگر یہ بچہ چاہیئے تو اس سے جھگڑنا بند کرو۔ لڑکیاں جزباتی چڑچڑی ہو جاتی ہیں Be A man.. وہ۔ ۔در اصل۔ وہ کہتے کہتے رک گیا۔پھر بات بنا دی۔ یہی میں کہہ رہا ہوں اتنی کمزور ہے بچہ کیسے پالے گی میں تو کہہ رہا ہوں معاملہ ختم کرا دیتے ہیں یہ ضد کر رہی ہے پالنے کی۔ اوں ہوں۔ سن بے نے نفی میں سر ہلایا۔ اب بہت دیر ہوگئ ہے۔ قانونی طور پر بھی اور ابھی جو اس لڑکی کی حالت ہے اب ابارشن کا مطلب اسکو قتل کرنا ہوگا۔ خاص کر اگر وہ اس بچے کیلئے جزباتی کیفیت کا شکار ہے۔ ماں بچے کی خاطر بڑے سے بڑا درد جھیل جاتی ہے۔تھوڑی ہمت وہ کرے تھوڑی برداشت تم دکھائو اس پریگننسئ کو جاری رکھو بس خیال رکھو ہو سکتا ہے وہ ریکور کر جائے۔ ڈاکٹر کے دوٹوک جواب پر وہ سر ہلا کر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کمرے میں آیا تو جی ہائے صوفے پر لیٹ کر سو چکی تھی۔ سنتھیا جاگ رہی تھی مگر رخ دوسری جانب تھا۔ تکیئے سے سر ٹکائے ڈرپ پر نگاہ جمائے تھی۔ وہ دھیرے سے پاس آکر پوچھنے لگا۔ کین چھنا۔ سنتھیا نے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔ فکر چہرے سے عیاں تھی اسکے۔ ابھی ان دو گھنٹوں میں جس طرح اس نے مدد کی تھی۔ کیسے اسے اٹھا کر گاڑی میں بٹھایا تھا وہ اسکی جتنی شکر گزار ہوتی کم تھا اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے شکریہ۔ میں تمہارا احسان نہیں چکا سکتی۔ آنیا۔ وہ بے ساختہ دونوں ہاتھ نفی میں ہلا کر بولا ایسی کوئی بڑی بات نہیں۔ تم بس کچھ مت سوچو آرام کرو۔یہاں کی فکر مت کرو ۔ اسکے کہنے پر وہ خاموشی سے اسکو دیکھتی رہی۔ کچھ چاہیئے؟ پانی پیوگی؟ اسکی نظروں میں جانے کیا تھا وہ گڑبڑا کر بات بدلنے کو بولا۔ اس نے آہستگی سے سر ہلایا۔ اسکے سر ہلانے پر وہ سائیڈ ٹیبل سے منرل واٹر کی بوتل کھول کر اسکی جانب بڑھانے لگا۔ ناتوانی کی وجہ سے وہ خود سے اٹھنے کی کوشش کرتے ہانپ ہانپ گئ ۔ اس نے احتیاط سے اسکو سہارا دے کر بٹھایا۔ جانے کتنی دیر کی پیاسی تھی۔ آدھی بوتل پیتی چلی گئ۔۔ اب سونے کی کوشش کرو۔ اسکو ہدایت دے کر وہ واپس جانے لگا تو سنتھیا نے پکار لیا۔ کم سن۔ مختلف لہجہ غلط تلفظ مگر مانوس انداز۔ وہ مڑ کر سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ وہ اپنے کانوں سے سونے کے ننھے منے سے ٹاپس اتارنے لگی پھر اسکی جانب بڑھا دیئے۔ یہ بہت قیمتی نہیں ہیں مگر کچھ نہ کچھ تو انکا مل جائے گا۔ مجھے اندازہ نہیں اسپتال کے خرچ اس سے پورے ہوں گے یا نہیں مگر میں۔۔ وہ مزید بھی کچھ کہہ رہی تھی اس نے بات کاٹ دی واپس پہن لو مجھے نہیں چاہییے۔ مجھے اچھا نہیں لگ رہا یوں بوجھ بننا برائے مہربانی اسے رکھ لو میرے ضمیر کا بوجھ ہی کم ہوجائے گا۔۔ وہ اصرار کرنے لگی۔ کم سن کے ذہن میں کوئی پرانی یاد تازہ ہوئی ۔بلا ارادہ سوال کر بیٹھا۔ ایک بات پوچھوں؟ ہوں۔ وہ چونکی۔ تم اس بچے سے محبت کرنے لگی ہو؟ سوال عجیب تھا۔ وہ جواب نہ دے پائی۔ محبت کیا اسے محبت ہے؟ یامحبت کو باندھ کر رکھنے کا بہانہ ہے یہ بچہ۔۔ اس نے لمحہ بھر سوچا جواب واضح تھا۔ ہاں۔ مجھے یہ بہت عزیز ہوگیا ہے۔ ایڈون سے ذیادہ؟ کم سن کا اگلا سوال حاضر تھا۔ وہ الجھن بھرے انداز میں دیکھنے لگی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ باہر نکلا تو گھر جانے کی نیت سے تھا مگر برفباری ہو رہی تھی۔ وہ کلینک کا دروازہ بند کرکے اندر سے بلائینڈز گرا کر وہیں لابی میں رکھے سنگل سیٹر صوفے پر آکر بیٹھ گیا۔ برفباری ذیادہ ہے ایسے موسم میں ڈرائیو نہیں کرنا چاہیئے۔ اس نے خود کو خود ہی بتایا پھر گہری سانس لیکر سر صوفے کی پشت سے ٹکا دیا۔ کلینک دو کمروں پر مشتمل تھا اس سے ملحق اوپر اسٹوڈیو میں ہی سن بے رہتے تھے۔ اسے اوپر گیلری سے باہر لابی میں بیٹھے دیکھا تو گہری سانس لیکر اسےاوپر بلا لائے۔ گرم کافی بنا کر اسکی جانب بڑھائی۔کمبل تکیہ لا کر اوپن کچن سے ملحق لائونج میں رکھا۔ یہاں لائونج میں سوجانا۔ دے۔ اس نے سر ہلا دیا۔ وہ کمرے میں واپس جاتے جاتے مڑے۔جانے کیا خیال آیا اسے دیکھ کر بولے۔ یاد رکھنا بچہ پیار کی نشانی ہوتا ہے۔گرل فرینڈ اگر ماں بننا چاہتی ہے تو اسکا صرف ایک مطلب ہوتا ہے وہ اپنے بوائے فرینڈ سے بہت اور سچا پیار کرتی ہے۔ تم سچے پیار کی قدر کرو۔ کم سن کافی کا گھونٹ بھرتے بھرتے رک گیا۔ سن بے نے اسکے ردعمل کا انتظار کیا پھر اسے خاموش بیٹھا دیکھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔ خالی پیٹ کافی۔ اس نے مگ وہیں رکھا اور خود آکر لائونج کے صوفےپر نیم دراز ہوگیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس دن ہوپ نے جانے رات کیسے گزار دی تھی صبح اٹھ کر جانے کی ضد کرنے لگی ۔ ڈاکٹر اسے ابھی انڈر آبزرویشن رکھنا چاہ رہی تھی مگر اسکی ضد۔ چڑ کر ڈاکٹرنی نے اسکو سمجھانے کو کہا۔ اگر وہ جانا چاہتی ہے تو آپ جانے دیں وہ اپنی حالت بہتر جانتی ہے۔ کم سن کا جواب بالکل غیر متوقع تھا ڈاکٹرنی کیلئے۔ وہ تو وہ ہوپ بھی لمحہ بھر اسکی شکل دیکھنے لگی تھئ۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تم لوگوں کا۔ اگر بچوں سے اتنئ چڑ ہوتی ہے تو احتیاط کیوں نہیں برتتے ہو۔ پہلے ابارشن کرکے جان لی۔ اپنی بھی جان خطرے میں ڈالی اور اب اپنا خیال نہ رکھ کر تم آئیندہ کے دروازے بھی بند کردو۔ ہونہہ مجھے کیا۔ وہ چڑ کر بکتی جھکتی چلی گئ۔ ہوپ اپنا پرس اٹھا کر جانے کو تیار ہوگئ۔ میں تمہیں وائر کردوں گئ مگر کل۔ آج ابھی مجھے انتظام۔ کہتے کہتے اسے چکر سا آگیا تھا دھپ سے بیڈ پر بیٹھنا پڑا۔ کل کیوں آج ہی سب پیسے واپس کرو بلکہ ابھی۔ وہ بھنا گیا۔ مسلئہ کیا ہے تمہارے ساتھ۔ ایک تو غلط انسان پر بھروسہ کیا اوپر سے خود کو سزا دے رہی ہو۔ تمہیں لگتا ہے مجھے زندگی نے اتنے خوبصورت دن دکھائے ہیں کہ میں محبت کی نشانی مٹاتی پھری ہوں۔ وہ ایکدم بھڑک کر بولی۔ کم سن ایکدم چپ ہی رہ گیا۔۔وہ تو یہی سمجھا تھا شائد بریک اپ کے بعد اس نے ابارشن کروالیا۔ نا یہ محبت کی نشانی تھی نا کسی ایک شخص کا انعام۔ چین سے شمالی کوریا واپس نہ جانے کا تاوان تھا چین میں رہنے کا ہرجانہ اور جنوبی کوریا کا ٹکٹ تھا۔ وہ ایکدم سے جنونی سی ہو کر چیخ چیخ کربولی۔ اسکی جزباتی کیفیت بالکل بھی نارمل نہیں تھی۔ دوائوں کے زیر اثر وہ ہانپ بھی رہی تھی کانپ بھی۔ چیخنے کی کوشش میں آواز پھٹ سی رہی تھی۔ وہ گھبرا گیا۔ ہوپ پریشان مت ہو۔ خود کو سنبھالو۔ اس نے آگے بڑھ کر اسکو سہارا دینا چاہا اس نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔ نہیں چاہیئے مجھے ایسی کوئی نشانی جو اس بدبودار ماضئ کی یاد دلاتی رہے اسی لیئے اسی لیے میں نے۔ وہ خود پر سے جیسے نادیدہ گندگی جھاڑنے لگی۔ گھن آتئ تھئ مجھے اپنے اندر پلتے اس ناسور سے ۔ گھن آرہی ہے ابھئ بھئ۔۔ مجھے اپنے وجود سے بھی۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی ہے۔ اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اسے روکنے میں وہ ہلکان ہوگیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کروٹ بدلی۔۔۔ اسکا ذہن الجھا ہوا تھا۔ سنتھیا اسکے سوال پر ہنس دی تھی۔ بچپن میں ہمیں بڑے اکثر تنگ کرنے کیلئے پوچھتے تھے کہ ماما سے ذیادہ محبت ہے یا پاپا سے۔ ہم کسی ایک کا نام نہیں لے پاتے تھے دونوں سے ہے کوئی ذیادہ تکرار کرے تو رو دیتےتھے۔ کبھی فیصلہ نہیں کر پائے۔مگر آج جب خود ماں بنی ہوں تو احساس ہورہاہے ماں کیلئے تو فیصلہ مکمل اور یک طرفہ ہوتا ہے۔ بچے کے باپ سے جتنی بھی محبت ہو بچے سے پیاراس محبت سے دگنا ہوتا ہے۔ جی ہائے جانے کب جاگ گئ تھی۔ اسکی جانب سے خاصا غیر متوقع سوال آیا تھا۔ کم سن اور سنتھیا دونوں چونکے تھے۔ کیہہ سوری۔ (یہ کیا فضلہ ہے) کم ذیادہ بھاڑ میں ڈالو یہ بتائو تمہیں ابھی بھی ایڈون سے محبت ہے؟ آہیش۔۔۔ حیرت ہی ہے مجھے۔ اگلے نے تمہیں حقیقتا سڑک پر لا چھوڑا ہے ، ذمہ داریوں سے بھاگنے والے اس بھگوڑے کیہہ سیکی سے اگر اس سب کے بعد بھی محبت ہے نا تو جائو تم اسی کے پاس جان چھڑائو اس سے جو تمہاری محبت میں حائل ہو رہا ہے۔ جی ہائے نے اسے ٹھیک ٹھاک سنا دی۔ سنتھیا کا رنگ زرد پڑگیا تھا۔ جی ہائے۔ کم سن نے اسے گھور کر باز رکھنا چاہا تھا۔مگر جی ہائے رکی نہیں۔ محبت پرفلسفیانہ موڈ رات کے د وبجے ہا ہا۔ آگاشی آپکے بے حد پیار کرنے والدین اور آپکا پیارا پہلا پیار دونوں کو ہی آپکے اس بچے جس سے اب آپکو دنیا میں سب سے ذیادہ پیار ہے بالکل دلچسپی نہیں۔ اب آپ کیا کیجئے گا ؟ وہ صوفے سے اتر کر اسکے سامنے آکھڑی ہوئی سنتھیا بٹر بٹر گم صم سی بیٹھی اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔وہ کچھ غلط نہیں کہہ رہی تھی۔ اگر تم ایڈون سے بریک اپ کرتی ہو میرا وعدہ ہے میں جو ممکن ہو سکا مدد کروں گی تمہاری اور اگر ابھی بھی اس کمینے کیلیئے دل میں نرم گوشہ ہے تو صبح جائو پولیس اسٹیشن بیان دو میرا اور کم سن کا مزید وقت اور پیسہ برباد مت کرو۔ پولیس اسٹیشن کیوں؟ وہ کم سن کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ وہ۔ کم سن نے سر کھجایا۔ جی ہائے نے یہاں بھی اسے جواب کی زحمت سے بچا لیا تمہارے والدین نے اسے تمہاری گمشدگی کا زمہ دار ٹھہرا کر جیل میں بند کروادیا ہے۔ کیا۔ وہ بری طرح متوحش ہوگئی تھی۔ کب سے ؟ ایک ڈیڑھ ہفتہ ہو رہا ہے۔ کم سن نے آہستگی سے بتایا۔ وہ سر پکڑ کر رہ گئ۔ پھر کیا فیصلہ ہے تمہارا ایڈون یا یہ بچہ؟ جی ہائے کو حقیقتا غصہ آرہا تھا۔ اسکے پیچھے وہ کم سن سے لڑی او روہ ابھی بھی ایڈون کے لیئے پریشان ہو رہی تھی۔ ایڈون۔۔۔ اس نے شائد جی ہائے کی بات سنی بھی نہیں تھی۔ ایڈون سے ملاقات ہوئی ہے تمہاری؟ ٹھیک تو ہے وہ؟ وہ فکرمندی سے کم سن سے مخاطب تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کم سن نے پھر کروٹ بدلی۔ پھر چڑ کر کمبل اتارتا اٹھ بیٹھا۔ ہائیش۔ میرے اپنے مسلئے کم پڑ گئے ہیں جو تم دوسروں کے معاملے سلجھانے بیٹھ گئے ہو۔ اس نے اپنے سر پر بنا لحاظ چپیڑ لگا دی۔ او رتھوڑی زو رسے لگا دی جبھی اگلے ہی لمحے اپنا سر پکڑ کر کراہ رہا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد۔ جاری ہے۔
Salam Korea by Vaiza Zaidi قسط 36 ہوپ کوریلنگ کے دوسری جانب کھڑے دیکھ کر اسکی جان نکل گئ تھئ جیسے۔ نہیں۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نہیں پہلے نکلا۔ ہوپ بری طرح چونکی مڑ کر دیکھا تو وہ پاگل لڑکی اندھیرے میں بھاگی چلی آرہی تھی۔ اسے بہت زور کی ٹھوکر لگی تھئ گھٹنوں کے بل گری وہ مارے حیرت کے پورا مڑ گئ۔ نہیں آندے۔ ۔ہوپ۔ آندے۔ ہوپ رک جائو پلیز ایسا مت کرو۔ بھرائے گلے سے بے تابئ سے پکارتی وہ اپنا گھٹنا سہلاتی لڑکھڑاتی جتنی تیزی سے بھاگ سکتی تھی بھاگ کر اسکے پاس آئی۔ وہ حیرت سے منڈیر پر کھڑی اسکو دیکھ رہی تھی۔ ریلنگ کے آگے بھی اتنی کگر تھی کہ ہوپ آرام سے اسکی جانب مڑ کر ریلنگ تھامے کھڑی تھی۔ رک جائو ہوپ۔۔ ہوپ حیرت سے اسکی شکل دیکھ رہی تھی تم یہاں کیا کر رہی ہو۔ اریزہ نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھوں پر ہاتھ رکھے پلیز ہوپ یہ حرکت مت کرو خد اکیلئے ادھر آئو وہ اسکو بازو سے تھام کر روک دینا چاہتی تھی۔ ہوپ نے کسمساکر خود کو چھڑانا چاہا میں نے تمہیں بتایا تو تھا اب میرے پاس جینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ تم نے ناحق زحمت کی۔ جینے کی وجہ یہی کافی ہے کہ تم زندہ ہو۔ پلیز ہم بات کرتے ہیں نا ہوپ۔ وہ روہانسی ہو رہی تھی۔ اب بہت دیر ہو گئ ہے۔ اس نے یکدم اپنے دونوں ہاتھ ریلنگ سے ہٹا دیئے وہ سر کے بل نیچے جانے کو تھی کگر سے اسکا توازن بگڑا اریزہ کے پاس لمحہ بھر تھا فیصلے کو پوری مضبوطی سےآگےبڑھ کر اس نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔ جھٹکا لگا تھا ہوپ کے پیروں تلے سے کگر نکلی تھی اسکا وجود ہوا میں معلق ہوا اریزہ بھی اسکے پورے وزن کے ساتھ نیچے ہوئی ریلنگ اسکی پسلیوں پر کھب رہی تھی ۔ پاگل ہوئی ہو کیا۔ ہوپ چلائی۔ چھوڑو میراہاتھ بے وقوف لڑکی تم بھی گروگی میرے ساتھ۔ نہیں تم میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑو یہ سوچ کر کہ اس وقت اگر تم نے میری مدد نہ کی تو میں بھی تمہارے ساتھ بے موت ماری جائوں گئ۔ تم پاگل ہوگئ ہو۔ ہوپ غصے سے چلائی۔ مگر اریزہ کا ارادہ اٹل تھا وہ اسے چھوڑنے کو تیار نہ تھی۔ تم کیوں اپنی زندگی کی دشمن بنی ہو ؟ تمہارے اپنے ہیں گھر ہے دوست ہیں میرے لیئے خود کو مشکل میں مت ڈالو تم مجھے اب نہیں واپس کھینچ سکتیں۔ ہوپ کا بس نہیں تھا اسکا گلا دبا دے۔ اتنئ بے وقوفی ہاں مگر تمہیں چھوڑوں گی بھی نہیں۔ اسکے انگلیوں پر کھرنڈ تھا اتنی مضبوط گرفت نے زخم تازہ کردیئے تھے۔ ہوپ اپنا ہاتھ اسکے ہاتھوں سے پھسلتا محسوس کر رہی تھی مگر وہ بے وقوف اسے بچانے کو خود بھی آدھی لٹکی ہوئی تھی بائیسویں منزل اوپر ہوا میں معلق وہ جانتی ہوا کا دبائو اسکی اس کوشش کو جلد ناکام بنا دے گا۔ اسکا ہاتھ چھٹ جائے گا مگر اسکا ہاتھ چھٹنے پر وہ خود بھی اپنا توازن کھو بیٹھے گی او رشائد اسکے ساتھ وہ بھی نیچے آرہے۔ مگر احمق اریزہ کو اپنی ذرہ فکر نہ تھی الٹا گڑگڑا رہی تھی۔ ہوپ پلیز دوسرے ہاتھ سے بھی تھامو مجھے خدا کا واسطہ۔ ہوپ کوشش کرو۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکا ہاتھ تھامے تھئ ۔ اسکی آنکھوں سے گرتے آنسو ۔۔ ہوپ کی ساری بے چینی و دکھ کا جیسے مداوا ہورہا تھا۔ ہوپ میں بھی گر جائوں گئ میری خاطر کوشش کرو اوپر آنے کی پلیز۔ وہ منتیں کر رہی تھی۔ ہوپ کو زندگئ میں پہلی بار احساس ہوا تھا ۔انسان انسانوں سے جڑے ہوئے ہیں کسی نہ کسی طرح آپکی زندگی آپ کو دوسرے کسی انسان کی زندگی سے جوڑے ہوئے ہے۔ اسکے خون کے رشتے سب ختم ہوچکے تھے اب یہ اپنائیت دوستی لگائو جو بھی تھا اریزہ سے ایک نیا تعلق جڑ گیا تھا۔ افسوس اس تعلق کا احساس اسے اپنی زندگی کے آخری لمحوں میں ہوا تھا۔ اریزہ کا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھٹ رہا تھا کوئی چپچپاہٹ سی اسکے ہاتھ کو پھسلا رہی تھی۔ اریزہ بری طرح روتے چلاتے اسے پکار رہی تھی ہاتھ پکڑنے کو کہہ رہی تھی ۔ آخری لمحوں کا کتنا پیارا منظر تھا کوئی اسکے لیئے رو رہا تھا خالصتا اسکے لیئےپکار رہا تھا اسکو ۔۔ ہوپ۔۔ اسکا ہاتھ چھوٹ رہا تھا۔ ہوپ اسکے ہاتھوں سے نکلنے لگی تھی ۔۔ اب ہوپ کو مزید زور آزمائی کی بھی ضرورت نہ تھی ۔۔ چند لمحوں میں اریزہ کا ہاتھ ہمیشہ کیلئے چھٹ جاتا۔ اریزہ کو اپنے کندھوں سے بازو کھنچتے محسوس ہو رہے تھے ہوپ پلیز۔ اسکے منہ سے جملے بھی نہیں نکل رہے تھے۔ تبھی کسی نے اسے پیچھے سے آکر بانہوں میں جکڑ لیا تھا۔ہاتھ کی تکلیف ناقابل برداشت ہوتی جا رہی تھی۔ اسکے ہاتھ سے ہوپ کا ہاتھ چھوٹ گیا تھا۔ ۔ اس نے اپنا بازو واپس کھینچا تو درد کی لہر سی دوڑ گئ۔ ایک بھیانک منظر اسکی نگاہوں کے سامنے گزر رہا تھا بائیسویں منزل سے گرتی ہوپ زمین پر پہنچتے اسکے وجود نے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانا تھا ۔ اریزہ کو جھٹکا سا لگا۔ اسے تھامنے والے نے گھسیٹ کر اسے پیچھے کیا اور تیزی سے دوبارہ ریلنگ کی جانب لپکا شائد ہوپ کےگرنے کے آخری لمحات دیکھنا چاہتا ہوگا۔ اریزہ کی آنکھوں کے سامنے ہوپ نیچے گر رہی تھی ۔ اسکا سر کافی دیر بعد زمین کو لگا تھا ۔ اسکے سر سے فوارے کی طرح خون نکلا تھا۔ خون کے دریا میں تیرتی ہوپ کی لاش وہ دیکھ رہی تھی اسے سب دکھائی دیا تھا۔۔ اسکے قدموں سے جان نکلی وہ کھڑے قد سے گری ۔ ہیون فورا الٹے قدموں واپس اسکے پاس آیا تھا۔ اریزہ تم ٹھیک ہو؟ اسکا چہرہ سفید پڑ چکا تھا پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ سامنے دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھ پا رہی تھی۔ اریزہ کین چھنا ۔۔ تم ٹھیک ہونا؟؟ وہ اسکا کندھا ہلا کر پوچھ رہا تھا۔اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لیکر تھپتھپا رہا تھا۔ اریزہ نے اسکا ہاتھ ہٹایا اور کھڑے ہونے کی کوشش کرنے لگی ہو ہو۔ہوپ۔۔ ریلنگ کی طرف اشارہ کرتی وہ کہنا چاہ رہی تھی ہوپ کو دیکھو۔ اٹھنے کی کوشش میں وہ دوبارہ لڑکھڑائی۔ ہیون نے اسے سہارا دیے کر کھڑا کیا۔ سب ٹھیک ہے کین چھنا اریزہ۔ ہیون اسکو تسلی دے رہا تھا مگر اب تسلی کس کام کی تھی۔دوسری موت اسکی نگاہوں کے سامنے ہوئی تھی۔ پہلی دفعہ میں سہم جانے پر وہ چیخ بھی نہیں پائی تھی۔ وہ سب چیخیں جو اسکے اندر گھٹ کر رہ گئ تھیں آج اسکے لبوں سے آزاد ہوگئ تھیں۔وہ یک دم متوحش ہوگئ تھی اس نے چیخنا چاہا تو حلق سے عجیب سی آواز نکل پائی۔ وہ چیخ کیوں نہیں پارہی۔ اس نے اپنی سب توانائیاں جمع کرکے چیخنا چاہا ۔ اس بار وہ چیخ پائی تو پھر رکی نہیں بلا توقف چلائے چلی گئ۔۔ ہیون نے گھبرا کر اسکو جکڑ لیا۔ اریزہ ہوش کرو۔ وہ اسے پکار رہا تھا ۔ اریزہ اپنا آپا کھو بیٹھی تھئ کچھ نا سنتے لگاتار چیخیں۔ اسے شدید قسم کا پینک اٹیک آیا تھا۔ لگا تار چلاتے اسکی سانس بند ہونے لگی تھی۔ ہیون کی بانہوں میں وہ بری طرح مچل رہی تھی ۔۔ کم سن بھی گھبرا کر اسکے پاس دوڑا آیا۔ ریلیکس اریزہ سب ٹھیک ہے۔ کم سن بھی تسلئ دے رہا تھا مگر وہ کچھ سن نہیں پارہی تھی یونہی چیختے ہوئے وہ ہیون کے بازوئوں میں ہی ہوش و خرد سے بےگانہ ہوگئ تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیون اور کم سن اریزہ کے اسٹریچر کے ساتھ ایمبولنس میں بیٹھ کر اسپتال پہنچے تھے۔ اریزہ انکے بار بار پکارنے پر بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھی۔ پیرا میڈیکل اسٹاف نے آکسیجن لگا دی تھی ایک آدھ ٹیکا بھی مگر سب بے سود تھا۔ اسے اسپتال پہنچتے ہی ایمرجنسی میں لے جایا گیا ۔ ہیون کے اپنے اعصاب بالکل شل ہوچکے تھے۔ اسٹریچر کے ساتھ اندر جانے لگا تھا جب ڈاکٹر نے اسے روکا۔ کم سن نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا کر سہار دے کر بنچ پر بٹھایا۔ ہیون کے ذہن میں بار بار وہی منظر آئے جا رہا تھا۔ کم سن اسکے لیئے پانی لیکر آیا بمشکل ایک آدھ گھونٹ بھر کر اس نے اسکا ہاتھ پیچھے کردیا تھا۔ کم سن کے اپنے حواس قابو میں نہیں آرہے تھے۔ کیا بھیانک واقعہ ہوگزرا تھا انکے ساتھ۔ وقت تھا کہ رینگ رینگ کر گزر رہا تھا۔ تبھی گنگشن نونا تقریبا بھاگتی ہوئی ادھر چلی آئیں۔ کیسی ہے اریزہ؟ کچھ پتہ نہیں۔ شائد نروس بریک ڈائون ہوا ہے۔ہوش بھی نہیں آرہا اسے ۔ڈاکٹرز کہہ رہے کہیں برین ہیمریج نہ ہوگیا ہو۔۔۔ کم سن نے وہی بتایا تھا جو ڈاکٹر اسکو بتا کر گیا تھا مگر ہیون نے سر اٹھا کر اسے جن نظروں سے دیکھا تھا وہ شرمندہ سا ہوگیا۔ گنگشن نونا بھی جیسے دل پکڑ کر رہ گئیں۔ ہائش۔ اسکی پینک اٹیک کی ہسٹری بھی ہے۔ اف ۔۔ یا خداوند رحم کرنا۔ انہوں نے تاسف سے اپنے سینے پر کراس بنایا ۔ ہیون نےدوبارہ سر جھکا لیا اسکے دونوں ہاتھوں میں خون کے نشان تھےسفید اپر بھی خون رنگ ہورہا تھا۔۔ نونا کی نظر پڑی تو پریشان ہو کر اسکے پاس آئیں۔ ہیونا یہ خون کیسا ہے تم تو ٹھیک ہو نا۔ وہ گھبرائی سی اسے ٹٹول ٹٹول کر دیکھ رہی تھیں۔ کین چھنا نونا میں ٹھیک ہوں۔ اس نے تسلی دینی چاہی یہ خون کہاں سے نکلا پھر؟ وہ روہانسی ہو رہی تھیں اریزہ کا ہے۔ اسکے ہاتھوں میں ریلنگ کا ٹوٹا سریا کھب گیا تھا۔ کم سن نے بتایا آہیش۔ نونا نے تاسف سے سر جھٹکا۔ ہیون نے آنکھیں میچ لیں۔ چھت پر اندھیرے کی وجہ سے نظر نہ آیا ۔اریزہ کے بیہوش ہونے کے بعد اسکو کم سن اٹھا کر نیچے لایا تو انہیں پتہ لگا ریلنگ کا کوئی کونا ٹوٹا ہوا تھا جس کی راڈ اریزہ کے بازو میں کھب سی گئ تھی۔ ٹھیک ٹھاک خون بہہ رہا تھا۔ ہیون سے ذیادہ تو کم سن کے اوپر خون کے دھبے تھے مگر وہ چونکہ گہرے میرون رنگ کی ہائی نیک اور کالی پینٹ پہنے تھا سو اس پر نونا کا دھیان نہ گیا۔ہیون سفید ہوڈی پہنے تھا تو اس پر خون دو رسے چمک رہا تھا۔ اسکی جیب میں فون بجا تھا۔ اس نے نکال کر نام پڑھا۔۔ مگر کال ریسیو کرنے کی بجائے فون سائلنٹ کر دیا۔ اف یہ والا معاملہ تو ۔۔۔۔۔۔ کیا کروں۔۔۔ کم سن ہونٹ کاٹنے لگا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دھیرے دھیرے اس نے اپنی بوجھل پلکیں کھولی تھیں۔ چند لمحے تعین کرنے میں لگ گئے کہ وہ ہے کہاں پھر ذہن شل سا ہوا دوبارہ آنکھیں بند کیں چند لمحوں کیلئے یا شائد کئی گھنٹوں کے بعد اسکو کوئی جگا رہا تھا۔ بار بار گال پر ہلکے ہلکے سے تھپتھپا کر۔ اریزہ اٹھو۔ جاگو شابآش۔ آواز مانوس تھئ۔کون ہے یہ۔ اسکی آنکھیں کھل نہیں پا رہی تھیں۔ اریزہ شی۔ اٹھ جائو صبح ہوگئ ہے۔ اکیڈمی نہیں جانا تم نے؟ اس بار قدرے زور سے اسکے گالوں پر چپت لگائئ گئ تھی۔ یہ مانوس آواز۔ وہ اس بار پہچان گئ تھی۔ یہ گوارا تھی۔۔ اس کا ذہن دھیرے دھیرے بیدار ہونا شروع ہوا۔ پلکیں جھپکتے اس نے دھندلے منظر کو دیکھنا چاہا آہستہ آہستہ منظر واضح ہونا شروع ہوا۔ گوارا اس پر جھکی ہوئی تھی اسکو آنکھیں کھولتے دیکھ کر ایکدم خوش سی ہوکر پیچھے ہٹی۔ اسکے برابر میں ہی ڈاکٹر کھڑا تھا۔۔ میں نے کہا تھا نا میری آواز سن کر اٹھ جائے گئ۔ گوارا ہنگل میں کہتی کھلکھلائی۔ وہ ایکدم اٹھ کر بیٹھی انداز اضطراری تھا وہ کہیں جانا چاہ رہی تھی۔ ریلیکس اریزہ۔ گوارا نے فورا اسکو کندھوں سے تھام کے روکا۔ گوارا ہو۔۔ ہوپ۔۔ہوپ وہ گر رہی ہے۔ حواس بحال ہوتے ہی وہ اس لمحے میں جا پہنچی تھی جہاں سے ہوش کھوئے تھے نگاہوں کے سامنے ایکدم ہوپ کا خون میں لت پت چہرہ در آیا۔ اسکے اوپر وحشت سی طاری ہوئی۔ وہ اسے بتانا چاہ رہی تھی کہ ہوپ مرگئ ۔مگر لفظ کھو رہے تھے۔ اسے بچا لو۔ اسے صحیح طرح دکھائی نہیں دے رہا تھا سر چکرا رہا تھا مگر وہ پوری کوشش سے اٹھنا چاہ رہی تھی۔ ہوپ وہ ہوپ مر جائے گئ۔ بھاگنے کی کوشش گوارا اور ڈاکٹر نے ناکام بنا دی تھئ وہ متوحش سی جو کچھ کہہ رہی تھی اس میں بس ہوپ ہی انہیں سمجھ آسکا تھا۔ خود کو کوستی شرمندگی کی اتاہ گہرائیوں میں گھرتی وہ ایکدم آگے بڑھی اور اریزہ کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں تھام لیا۔ میں یہاں ہوں اریزہ۔ اسکی بات اریزہ تک نہیں پہنچی وہ بدستور چلا رہی تھی ہوپ کو بچائو۔ ہوپ۔ اریزہ۔۔دیکھو مجھے۔۔ میں ٹھیک ہوں۔ اس نے اس بار اسے ہلکے سے کندھوں سے پکڑ کرجھنجھوڑ دیا۔ وہ ایکدم چپ ہوئی۔ دھندلا منظر واضح ہوا پہچان کے مرحلے طے ہوئے۔ ہوپ کا آنسو بہاتا چہرہ اسکی نگاہوں کے سامنے تھا۔ ہوپ وہ بے یقینی سے پکارتے ہوئے اس سے لپٹ گئ تھی۔ ہوپ نے اسے سینے میں بھینچ لیا ۔ اسکے سر پر تھوڑی رکھتے خود بھی رو دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں۔ آندے۔ ہیون چونک کے مڑا تھا۔ جانے اسے وہم ہوا تھا یا واقعی اریزہ کی آواز تھی۔ اسکی چھٹی حس کچھ کہہ ضرور رہی تھی۔ وہ تیزی سے پلٹا کیا ہوا کہاں جا رہے ہو۔ کم سن اسے عجلت میں بھاگتے دیکھ کر خود بھی اسکے پیچھے بھاگ اٹھا۔ لفٹ کی بجائے ہیون کا رخ چھت کی جانب تھا۔ دونوں آگے پیچھے ہی چھت پر پہنچے تھے مگر وہاں کا منظر اتنا غیر متوقع تھا کہ دونوں ایک لمحے کو تو جم کر ہی رہ گئے۔ اریزہ ریلنگ سے آدھی نیچے آگے کو جھکی جیسے لٹکی تھی اب گری کہ تب۔ اریزہ ۔۔ ہیون دیوانہ وار اسے بچانے بھاگا تھا کم سن نے بھی تقلید کی ۔ پاس جاتے ہی ایک اور دھچکا لگا۔ اریزہ خود کشی نہیں کر رہی تھی بلکہ ہوپ کو گرنے سے بچا رہی تھی ہیون نے اریزہ کو پکڑا کم سن نےہوا کے دوش پر ڈولتی ہوئی ہوپ کا بازو تھاما۔ اسے گرنے سے بچا لیا تھا مگر وہ اکیلا اسے اوپر کھینچ نہیں سکتا تھا۔ ہیون اریزہ کو پیچھے کرنے کے بعد فورا اسکی مد دکو آیا دونوں نے کھینچ کھا نچ کر اسے اوپر اٹھا لیا تھا۔ چند ہلکی پھلکی خراشیں ہی آپائی تھیں ہوپ کو مگر اس حقیقت سے انجان اریزہ پر تب تک پینک اٹیک آچکا تھا۔اسکی حالت دیکھ کر جہاں کم سن اور ہیون اسکے پاس بھاگے تھے وہاں ہوپ سنٹ سی ہوتی وہیں بیٹھتی چلی گئ تھی۔ اسکا پورا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔ہیون کے بازو شل تھے پین کلرز کا اثر ختم ہو رہا تھا۔ اریزہ مکمل بیہوش ہوگئ تھئ اسے اٹھانے کی کوشش کی تو بری طرح ناکام رہا۔کم سن اسے اٹھا کر نیچے کا رخ کیا تب تک ہیون ایمرجنسی سروس کو فون ملا چکا تھا۔ سیڑھیاں اترتے کم سن کو ہی خیال آیا ہوپ۔ ہیون کے ہاتھوں کے طوطے اڑے تھے۔ الٹے قدموں واپس دوڑا تھا مگر خیریت رہی اس بار اس نے موقع غنیمت جان کے دوبارہ کودنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ اکیلی چھت پرمٹھیاں بھینچے بیٹھی بلک رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پورے اڑتالیس گھنٹے بعد مکمل ہوش آیا ہے تمہیں۔ معلوم ہے کتنا پریشان کیا ہے تم نے ہمیں۔ ہوپ کہہ رہی تھئ۔۔۔ میں نے تو اللہ سے بھی دعا کی تھئ۔ گوارا نے لقمہ دیا۔ میں یہی سوچتی رہی کہ میں تمہارا سامنا کیسے کروں گی۔ ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی۔ اریزہ میں سچ میں بہت شرمندہ ہوں اریزہ ۔ مجھے معاف کردو۔ ہوپ نے اسکے آگے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہا۔ آندے۔ اریزہ نے اسکے دونوں ہاتھ تھام لیئے۔ ہوپ نے اسکے ہاتھوں پر سر ٹکا دیا۔ ہاتھ میں کنولا لگا ہوا تھا۔ اتنی دیر میں پہلی بار اسے تکلیف کا احساس ہوا۔ اسکے دائیں بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ شائد کوئی زخم تھا۔ اب غور کیا تو پتہ لگا کہ اٹھ کر بھاگ کیوں نہیں پائی دائیں پیر پر بھی کوئی کارڈ نما چیز لگئ ہوئی تھی۔ سر کندھے کسی نادیدہ۔بوجھ سے شل تھے۔ اس نے اپنی گردن سہلائی۔ آئی ایم جیلس۔۔۔۔ آنکھوں میں آنسو بھرے گوارا ماحول خوشگوار بنانے کیلئے مسکرا کر بولی مجھے لگا تھا میں تمہاری ذیادہ اچھی دوست ہوں مگر لگتا ہے میری غیر موجودگئ میں تم دونوں کی ذیادہ گاڑھی چھننے لگی ہے۔ دونوں چونکی تھیں۔ جھینپ کر ہوپ نے پیچھے ہونا چاہا تو اریزہ نے اسکی گردن میں بازو حمائل کردیا دوسرے بازو سے گوارا کو کھینچ لیا۔ دونوں کو بازوئوں میں بھینچے وہ جیسے دونوں کو کبھی کھونا نہیں چاہتی تھی۔ لگائو کے اس اظہار نے ان دونوں کو موم سا کردیا تھا ڈاکٹر بھی کھڑا مسکرا رہا تھا۔ آپ اسکا معائنہ تو کر لیں۔ ہیون نے کہا تو ڈاکٹر نے اطمینان دلایا سب ٹھیک ہے ہم ہوش ہی دلا رہے تھے۔ ہوش میں آنے کے بعد ردعمل بھی ذیادہ شدید نہیں ہے۔ آپ بس انکو کچھ اچھا کھلائیں پلائیں۔۔۔اور پھر بھی کمزوری محسوس کریں تو ڈرپ لگے گی ۔ ورنہ رہنے دیں ڈرپ۔ کرم ڈاکٹر ہنگل میں بتا رہا تھا مگر کسے۔ اریزہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو آنکھیں کھل سی گئیں۔ کم سن ہیون یون بن گنگ شن انی سب موجود تھے اور صبر سے اسکے متوجہ ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔۔اسکے متوجہ ہونے پر سب نے باقائدہ ہاتھ ہلا کر آننیانگ کہا۔ وہ حیران تھی اسکے چہرے پر لکھا تھا۔پھر وہی حیرانی ایک خوشگوار مسکراہٹ میں بدلتی گئ۔ خوش اس سے بھی ذیادہ تھی۔ اتنے لوگ اس کی فکر کرتے تھے اسکے لیئے پریشان تھے۔ اسکے چہرے پر حیرانی دیکھ کر انی مسکراتے ہوئے آگے بڑھیں۔اسکے چہرے کو پیار سے چھو کر بولیں۔۔۔ پاکستانی لڑکیاں خوبصورت ہوتی ہیں سنا تھا مگر یہ نہیں پتہ تھا پاکستانی لڑکیاں اتنی بہادر بھی ہوتی ہیں۔ انکی محبت پر وہ مسکرا کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوپ اور گوارا حقیقتا اسے زمین پر پائوں نہیں رکھنے دے رہی تھیں۔اسپتال میں وہ مزید رکنے پر تیار نہ ہوئی تھی سو انہیں اسکی ضد کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے۔ اس وقت وہ کمرے میں بیڈ پر ٹھاٹ سے لیٹی تھی ہوپ اور گوارا دونوں اسکی خدمت پر کمر بستہ تھیں۔ گنگ شن انی اسکے لیئے اپنے ہاتھوں سے سوپ بنا کر لائی تھیں۔ چکن کارن سوپ۔ اپنے ہاتھوں سے اسکو چمچ میں بھر کر پلایا۔ وہ شش و پنج میں مبتلا ہوئی۔ وہ اتنے پیار سے بڑھائے تھیں۔انکو صاف انکار کرنے کی ہمت نہ ہوئی انکا دل رکھتے ہوئے دو چمچ پی لیئے۔ اللہ معاف کرے۔۔ دل توڑنا ذیادہ بڑا گناہ ہے۔ اسکے پیش نظر یہی بات تھی۔ نونا آپ کے ہاتھ کا سوپ تو مجھے بھی بہت پسند ہے۔ویسے بھی اسکی خدمت کر کر کے میرا وزن کم ہو گیا ہے۔ گوارا نے انکے ہاتھ سے پیالہ اچک لیا تھا۔ اور یوں جلدی جلدی چمچ لیئے جیسے واقعی وہ سوپ پینے کیلئے مری جا رہی ہو۔ مگر وہ۔۔ انی پریشان سی ہوگئیں کیا کہیں ٹوکیں یا نہیں۔انکی مروت۔ کین چھنا انی۔۔ اس نے پیار سے انکا ہاتھ تھپتھپایا۔ وہ جیسے اسکی ہنگل پر نثار ہوگئیں۔گوارا نے مسکراتی نگاہوں سے اسکو دیکھتے بھنوئیں اچکائیں جیسے جتایاہو احسان چڑھایا ہے میں نے۔اس نے بھی سمجھ کر احسان مندی کے اظہار کیلئے ذرا سا سر خم کردیا اچھا میں اب چلتی ہوں مگر جمعے تک اریزہ تم نے بالکل ٹھیک ہوجانا ہے کیونکہ ہفتے کو میری شادی ہے اور تم نے ضرور آنا ہے۔ انی کی پیار بھری تاکید پر وہ مسکرا کر سر ہلاگئ۔ اچھا گوارا ہوپ اسکو لانا تم دونوں کی ذمہ داری ہے وہ اب ان دونوں کو بھی دعوت دے رہی تھیں۔ دے۔۔ دونوں نے کورس میں کہا تو وہ ہنس دیں۔ کرم۔ انہوں نے اجازت چاہی۔ ہوپ انکو دروازے تک چھوڑنے گئ۔تو گوارا اچھل کر اسکے سامنے بیڈ پر آبیٹھی۔ اور کیا چل رہا ہے اب تمہارے اور ہیون کے درمیان؟ ہیون بہت پریشان تھا تمہارے لیئے۔ ان دو دنوں میں میں نے اسے سوتے نہیں دیکھا۔ وہی تھا جو ہروقت اسپتال میں رہا۔ اسکی شکل دیکھی ہے اتنا سا منہ نکل آیا ہے۔ کیا جادو کیا ہے تم نے اس پر میں نے اسے کبھی کسی لڑکی کے پیچھے اتنا خوار ہوتے نہیں دیکھا۔ وہ اتنے جوش و خروش سے بتا رہی تھی اریزہ کی مسکراہٹ پھیکی سی پڑتی گئ۔ تمہیں کس نے بتایا تھا میری طبیعت کا۔ اس نے بات بدلنی چاہی۔ مجھے کم سن نے بتایا تھا۔ فورا بھاگئ آئی میں۔ تم تو بیہوش تھیں ہوپ کا الگ رو رو کے برا حال تھا خود کو اتنا برا بھلا کہہ رہی تھی۔ انی الگ پریشان۔اور تم اتنا پکارا جھنجھوڑا اٹھ ہی نہیں رہی تھیں۔ مجھے اتنا ڈر لگا تھا کہ ۔۔ وہ جھرجھری سی لیتی بات ادھوری چھوڑ گئ۔ شائد غلطئ سے بھی اپنے خوف کو دہرانا نہیں چاہتی تھی۔ اریزہ نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔ تبھئ ہوپ سٹر پٹر کرتی واپس آئی اسکی آہٹ سن کر ہی گوارا نے ایکدم پینترا بدلا او رناک چڑھا کر بولی میں تمہاری جگہ ہوتی تو ہوپ کو گر ہی جانے دیتی تھوڑا دماغ ٹھکانے پر آجاتا۔ نا بھی آتا ہمارافلیٹ پر سکون ہوجاتا۔ گوارا کی زبان کے آگے خندق تھئ۔اریزہ نے گھورا تو وہ کھلکھلا دی۔ جتنئ دکھی آتما ہوں میں تمہارا فلیٹ آسیب ذدہ کردینا تھا۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر تمہیں میری آہ و بکا سننی پڑتی خاص کر جس دن یون بن آتا رہنے تم دونوں کو ڈرا ڈرا مارتئ میں۔ ہوپ نے ذرا برا نہ مانا ہنس کر بولی اس کی جانب سے اتنا مدلل جواب ۔دونوں آنکھیں پھاڑتئ اسکی جانب مڑیں میں بھئ کسی بدھ متی پجارن کو بلا کر گھنٹیاں بجواتی تمہارے سر پر۔ ہوش ٹھکانے آجاتے۔ بس بس۔۔ پلیز جھگڑنا مت میں تم دونوں کو چھڑا نہیں پائوں گئ۔ اریزہ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر سیز فائر کرایا تبھی ہیون کم سن اور یون بن شور مچاتے ڈھیر ساری کھانے پینے کی چیزیں اٹھا لائے۔ اسکے لیئے خاص طور پر پاکستانی ریستوران کی بریانی لائی گئ تھئ۔ یہ سب کورین لوبیا نوڈلز اور تلے ہوئے مرغی کے پنجے اڑا رہے تھے ۔ سب کیلئے سوجو تھی اسکے لیئے اسپرائٹ۔ اسکو اکیلا نہ چھوڑنا پڑے سو اسی کمرے میں جس کو جہاں جگہ ملی ٹک گیا۔ کم سن ان سب کو اریزہ اور ہوپ کی نقل اتار کر دکھا رہا تھا۔بولتے بولتے سب ہنگل پر اتارو تھے۔ چمچ سے نوالہ لیتے وہ محظوظ سے انداز سے ان سب کی شوخیاں دیکھ رہی تھی۔۔ ایک وقت ہوتا تھا وہ اور سنتھیا دنیا جہان بھول کر یوں ہنستی تھیں کبھی کسی رات سنتھیا اسکے گھر رک جاتی تو رات کے دو تین بجے بھی وہ صارم کو اٹھا کر زبردستی ڈرائور ڈیوٹی پر لگا کر باہر آئسکریم کھانے جاتی تھیں۔وہ ہزار نخرے کرتا اپنی شرطیں منواتا مگر تیار ہوجاتا تھا لے جانے کو۔ لانگ ڈرائو پر پلے لسٹ ہمیشہ اریزہ لگاتی تھی۔ ایک سے ایک اداس روندو گانا صارم ناک چڑھاتا تو سنتھیا باقائدہ رونے کی اداکاری کرتی تھی۔ وہ گانوں سے ذیادہ ان دونوں کی جھلاہٹ سے محظوظ ہوا کرتی تھی۔ کبھی یونیورسٹی سے پروگرام بنتا تو ایڈون ساتھ ہوتا تھا۔ کبھی اسکی زندگئ میں دو سے ذیادہ دوست رہے ہی نہیں تھے۔ کبھی ضرورت ہی نہ پڑی۔ کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ کبھی ایسا وقت بھی آئے گا جب اسکا دامن دوستوں کے خلوص سے بھرا ہوگا مگر سنتھیا نہیں ہوگی ۔ ان سب کے چہروں میں سنتھیا کے خدو خال ڈھونڈتے اسکا دل بھر آیا۔ چمچ منہ تک لے جاتے اسکا ہاتھ رکا۔ چمچ واپس رکھ کر اس نے جلدی سے رخ موڑ کر آنکھوں سے پھسل آنے والے آنسو پونچھنے کیلئے ٹشو تلاشا۔ ہیون اسکے چہرے کے اتار چڑھائو کوبہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ اریزہ نے اپنی پلیٹ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی تو وہ بھی اپنی پلیٹ اٹھائے خاموشی سے کمرہ خالی کرگیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساری رات خواب میں بھی ہوپ کے گرنے ہیون کے بچانے کا منظر ہی چکراتا رہا۔ صبح وہ جب بھرپور نیند لیکر اٹھی تو دھندلے منظر میں دو ہیولے خود پر حاوی ہوتے پائے۔ آنکھیں مسلیں منظر واضح ہوا وہ گھبرا کے اٹھ بیٹھی کیا ہوا۔ ہوپ اور گوارا اسکے دائیں بائیں آلتی پالتی مارے بیٹھئ دونوں مٹھیوں میں چہرہ ٹکائے غور سے دیکھ رہی تھیں ویئو؟؟؟۔ اس نے ذرا بھنا کر پوچھا ہم دیکھ رہے ہیں ہماری نیند اڑا کر تم کیسے سکون سے سولیتئ ہو؟ گوارا نے ناک چڑھائی۔۔ مجھے آج افسوس ہوا ۔ ہوپ نے تاسف سے سرہلایا کس بات کا؟ اریزہ بھونچکا سی اسے دیکھ رہی تھی یہی کہ جب چین میں تھی تو ہماری دکان کا ایک مستقل صارف پاکستانی ہوا کرتا تھا ہمیشہ ہماری دکان سے ہی ڈبل روٹی لیتا تھا۔ تو؟ گوارا کو بھی اس بے تکی راگنی کی سمجھ نہ آئی تو اس سے بنیادی اردو ہی سیکھ لیتی سمجھ تو آتا یہ کیا بڑبڑاتی رہی ہے۔ ہوپ نے وضاحت کی گوارا جہاں کھل کے ہنسی وہاں اریزہ بری طرح کھسیا گئ۔ میں رات کو بولتی رہی نیند میں؟ ریکارڈ کیا ہے میں نے؟ ہوپ نے ویڈیو پلے کرکے اسکی آنکھوں کے سامنے موبائل لہرایا واقعی؟ دکھائو مجھے بھی گوارا کو اشتیاق ہوا ہوپ کی بچی ڈیلیٹ کرو اسے فورا۔۔ اریزہ فورا اسکی طرف لپکی مگر وہ جھکائی دے گئ گوارا اور ہوپ مزے لے لے کر اسکی ویڈیو دیکھ رہی تھیں اریزہ کی آنکھوں میں شرمندگی کے مارے آنسو آنے لگے۔ بیڈ پر سے اچھل اچھل کر پکڑنے کی کوشش کرتی رہی مگر دونوں جھکائی دے جاتی تھیں۔ جوش میں آکر بستر سے اتر کر کھڑی ہوگئ دو قدم ہی چلی ہوگی پیر میں ناقابل برداشت درد اٹھا بیڈ سے ٹھوکر کھاکر سیدھی نیچے آئی۔ گوارا اور ہوپ ویڈیو بھول بھال تڑپ کر اسے سہارا دینے بڑھیں۔ ہٹو دور رہو میرا مزاق اڑاتی ہو دونوں کوئی دوست ووست نہیں ہو دونوں میری۔ ذہن جتنا منتشر تھا نا جانے کیا بک بیٹھی ہوں گی یہ خیال ہی اسے رلانے کو کافی تھا۔پوری فرصت سے وہ بین کرکے رو دی۔ دونوں نے ایک دوسرے کی شکل دیکھی پھر مسکراہٹ دبا کر اسکو سہارا دیکر اٹھانے لگیں کتنا چھوٹا دل ہے تمہارا بات بات پر رو دیتی ہو روندو۔۔ صارم نے اسکو کندھا مارا تھا۔ گوارا اور ہوپ آپس میں ہنگل میں جانے کیا کہہ رہی تھیں اسے یہ کندھا کافی زور کا لگا آنسو جھٹ پونچھ لیئے۔ گوارا اسکا پائوں ہلا جلا کر دیکھ رہی تھی پٹھے کھنچے ہوئے ہیں بس مسل اسپیزم میرے پاس شائد جی ہائے کا پین کلر اسپرے پڑا ہوگا دیکھتی ہوں۔ وہ اسپرے ڈھونڈنے اٹھ گئ الماری کھول کر ڈھونڈنے لگی ہوپ نے اپنا موبائل اسکے حوالے کردیا لو خود ڈیلیٹ کرلو۔ ویڈیو سامنے تھی۔ دونوں یقینا اسے روتا دیکھ کر متاسف ہوئی تھیں اریزہ نے جھٹ موبائل تھام لیا مگر ڈیلیٹ کرنے سے پہلے دیکھنے لگی۔ بے خبر خراٹوں کے بیچ وہ ہوپ کو بچالو کہتی تھی اور کبھی اپنے والدین کو پکارتی تھی۔ ایک جملہ واضح بولا تھا ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔او رآگے بڑبڑاہٹیں تھیں خود کلامی سے قطع نظر وہ بچوں کی طرح سوتی اچھی خاصی معصوم سی لگ رہی تھی۔ ویڈیو اریزہ سنسر بورڈ نے پاس کردی تھی۔ اس نے ڈیلیٹ کرنے کی بجائے ہوپ کو موبائل واپس تھما دیا۔ ہوپ مسکرادی۔ پھر تجسس سے مجبور ہوکرپوچھا۔ تم کہہ کیا رہی تھیں ہوپ کہہ کر؟؟؟ اریزہ نے انگریزی ترجمہ کرکے بتایا۔ اسکی آنکھیں تشکر سے جھلملا گئیں۔ شکریہ اریزہ ہر چیز ہر بات کیلئے شکریہ۔یہ ویڈیو میں ہمیشہ پاس رکھوں گی اپنے۔ لو اسکو یہ دوا لگا دو گوارا اسپرے ڈھونڈ لائی تھی اس نے اسپرے اسکی جانب بڑھایا تم کیوں نہیں لگا رہیں۔؟ اریزہ نے ٹوکا۔ کیونکہ تمہیں یہ چوٹ اسکی وجہ سے لگی ہے تو اس پر فرض ہے اس چوٹ کے مندمل ہونے تک تمہاری کنیز بن کر رہے۔ ہمارے بدھا یہی تعلیم دیتے ہیں ہمیں۔ وہ شاہانہ انداز میں کہتی اسکے برابر میں بیٹھ گئ۔ ہوپ نے قطعی برا نا مانا بلکہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر مہارت سے مساج کرتی اسکے پائوں پر اسپرے کرنے لگی اچھا یہ اصول بدھا کے تم پر لاگو نہیں ہوتے؟ اریزہ کو پرانا قصہ بروقت یاد آیا تھا۔ مجھ پر بھی ہوتے ہیں۔ اس نے آرام سے سر ہلایا تو پھر جب یونی کے پہلے دن تم نے میرے دوپٹے کے سرے باندھے تھے اور میرا گلا گھٹ گیا تھا میری گردن بھی چھل گئ تھی تب کہاں تھا تمہارا یہ اصول؟ اریزہ نے کہا تو گوارا حیرت سے اسے دیکھنے لگی تمہیں لگتا ہے میں نے کی تھی وہ حرکت؟ اریزہ میں کسی کو دشمنی میں بھی نقصان پہنچانے کی خو نہیں رکھتی۔ تو پھر؟ اریزہ حیران رہ گئ وہ اور سنتھیا تو ہمیشہ گوارا کو موردالزام ٹھہراتی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں کس نے کہہ دیا کہ سنتھیا میرے ساتھ ہاسٹل میں رہ رہی ہے۔ جی ہائے کی بے نیازی عروج پر تھی۔ مجھے جیسے بھی پتہ لگا یہ اہم نہیں اہم یہ ہے کہ مجھے سنتھیا سے فوری بات کرنی ہے۔۔۔ تم نے نوکری دی ہے اسے اس نے درخواست فارم میں اپنا مستقل پتہ نہیں لکھا ؟ وہاں جا کر مل لو اس سے۔ اس نے تجاہل عارفانہ سے کام لیا۔کم سن دانت پیسنے لگا پھر خود پر قابو پا کر بولا وہ ابھئ جاب پر نہیں آئی اسکا رابطہ نمبر بند جا رہا ہے میرا اس سے بات کرنا ضروری ہے۔اسکے جاب پر آنے تک کا انتظار نہیں کر سکتا اس سے بہت مسئلہ ہو جائے گا ویئو؟ (کیوں)؟ ۔ جی ہائے نے بھنوئیں اچکا کر دیکھا۔
۔ایڈون کو جیل میں بھیجا جا چکا ہے۔ کم سن نے اپنی طرف سے خاصی سنگین خبر سنائی تھی تم نے تو؟ جتنا ایڈون نے ستایا ہے سنتھیا کو اسکو کم از کم اس بچے کے پیدا ہونے تک تو جیل میں ہی رہنا چاہیئے۔ وہ جم میں کندھوں کی ورزش کر رہی تھی۔ مزید کندھے ہی اچکا کر بولی۔ کم سن ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔ چند ثانیئے خود پر قابو پاکر سخت انداز میں بولا یہ تمہارا خیال ہے اور تمہارے خیال کی ان دونوں کے معاملے میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔تم صرف سنتھیا تک میرا پیغام پہنچائو بلکہ اس سے کہو باہر آئے میں ہاسٹل کے باہر سے اسے پک کرلوں گا۔ ویٹ ۔ جی ہائے مشین چھوڑ کر کندھے پر ٹکائی تولیہ سے پسینہ پونچھنے لگی۔ کم سن اسے گھور رہا تھا مگر اسکے انداز سے صاف لگتا تھا اسکی جوتی کو بھی پروا نہیں۔۔ تمہارا کیا خیال ہے میں سنتھیا کو کہوں گی اور وہ خوشی خوشی چل پڑے گی۔ ایڈون نے اسکے ساتھ جو کیا ہے وہ اسکی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہے گی۔ اور صحیح تو ہے۔ کچھ وقت جیل میں گزارے اپنے برے برتائو پر پشیمان ہو پھر دیکھی جائے گئ۔ اسکا انداز بے نیاز سا تھا وہ دونوں غیر ملکی ہیں۔ تمہیں کیا لگتا ہے پاکستان ایمبیسی اس کیس کی پیروی کررہی ہے سنتھیا کے والد اسکی خیر خبر جاننا چاہتے ہیں وہ ایڈون پر شک کررہے ہیں کہ انکی بیٹی کی گمشدگئ میں ایڈون کا ہاتھ ہے نہایت سنگین الزامات ہیں یہ۔ ایڈون تو ڈی پورٹ ہوگا ہی ساتھ اگر کسی کو بھنک بھی پڑی کہ سنتھیا کو چھپانے میں تمہارا کردار ہے تو تم بھی اپنا کیریئر بھول جانا۔ جی ہائے تولیہ پٹختی اٹھ کھڑی ہوئی۔تن کے کم سن کے سامنے بولی کون بتائے گا؟ تم؟ جائو بتائو۔ اسکا انداز تائو دلانے والا تھا ہاں بتا دوں گا۔ ایک اطلاع دینی ہوگی بس پولیس میں پھر سنبھالتی رہنا ۔ کم سن کا بھی دماغ گھوم گیا۔ دھمکی کسے دے رہے ہو؟ وہ اسکے انداز کو۔خاطر میں نہ لائی۔ جائو یہ شوق بھی پورا کرلو۔۔ تمہارے ہی دفتر میں ملازمت ملی ہے نا؟ پولیس بیان میں بتایا تھا اسے کہ اسکی گمشدگی کے بعد اسے تم نے جاب پر رکھا ہے؟ جی ہائے کا دماغ چلا تھا کیا خوب چلا تھا وہ چکرا گیا۔ دیکھو بات سنو۔ ٹھنڈے دل سے میری بات سنو۔ اسکے نرم لہجے پر بھی وہ بدستور گھورتی رہی کم سن کو پتہ تھا اس وقت اگر اسکو مزید ضد دلائی تو سنتھیا تک پہنچنا مزید مشکل ہوجائے گاسو غصہ دبا کر سبھائو سے بولا دیکھو تم معاملے کی نزاکت کو سمجھ نہیں رہی ہو۔ایڈون جیل میں ہے پولیس پورا شہر کھنگال رہی ہے سنتھیا کو ڈھونڈنے کیلئے۔ کہیں نہ کہیں کسی سی سی ٹی وی کیمرے کی ذد میں آئی ہی ہوگی وہ تمہارے پاس آنے تک ۔ انکو کتنا وقت لگے گا ذیادہ سے ذیادہ؟ وہ ہاسٹل پہنچ گئے تو؟ تم کس خوشی میں مصیبت مول لے رہی ہو دوست تک تو ہے نہیں وہ تمہاری۔ وہ آخر میں جھلا گیا تھا۔ دوست کون ہوتا ہے؟ وہ گوارا جس نے اتنے سالوں کی دوستی بھلا کر مجھ پر اس چار دن سے آئی اریزہ کو چنا؟تم ہو دوست میرے جو کھڑے مجھے دھمکیاں دے رہے ہو۔ میں سنتھیا کو کم ازکم دوست سمجھ کر مدد نہیں کر رہی۔ انسانی ہمدردی سمجھو یا پاگل پن مگر سنتھیا تک پہنچنا ہے تو میری شرط پر ہی پہنچوگے۔ورنہ وہ راستہ ہے۔ اسکا انداز دوٹوک تھا کیسی شرط؟ کم سن نے بے چینی سے بات کاٹی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ گوارا اور ہوپ انی کی شادی میں پہننے کیلئے کپڑے لینے آئی تھیں۔ جرسی کپڑے کے کراپ ٹاپس اسکرٹس اور ون پیس ڈریس بمشکل گھٹنوں تک آتے۔ گوارا اور ہوپ جانے واقعی اسکی پسند سے لینا چاہ رہی تھیں یا اسکو خوش کرنے کیلئے اس سے ہر لباس کے بعد رائے لے رہی تھیں۔شارٹ اسکرٹس ون پیس ڈریس فراکس ۔ وہ مسکرا کر سر ہلاتی مگر اسکے چہرے کے تاثرات واضح تھے۔ سب عام سے لباس تھے۔ جیسے صبح دفتر جاتے اسکول کالج جاتے کوئی لڑکی پہن لے۔ مگر یہاں شائد شوخ اور بھڑکیلے لباس کا رواج نہیں تھا۔ ایک کندھے والی گرے لمبی سی میکسی جس کے گلے پر سلور پٹی کا نگوں کا کام تھا مگر ساتھ ہی ران کے پاس سے بڑا سا چاک کھلا ہوا تھا۔ گوارا پہن کر آئی تو اس نے بے ساختہ موبائل میں موسم کا حال دیکھا۔ باہر اس وقت بھی برفباری ہو رہی تھی۔ اس بار اس نے رسما بھی اریزہ سے نہیں پوچھا تھا۔اسے یقینا یہ بے حد پسند آیا تھا۔ سادہ مگر دلکش رنگ اسے بھی اچھا لگا۔ گوارا خود کو گھوم گھوم کر آئینے میں دیکھ رہی تھی ۔ اسکے پس منظر میں اریزہ بھی اسٹول پر بیٹھی اسے تاک رہی تھی۔ تمہیں سردی نہیں لگے گی؟ اس نے پوچھ ہی لیا۔ گوارا نے حیرت سے مڑ کر اسکی شکل دیکھی جیسے جانچنا چاہ رہی ہو مزاق کر رہی ہے یا سنجیدہ ۔۔ تم مزاق کر رہی ہو نا؟ گوارا کو شک تھا ابھی بھی۔ نہیں ہم یہاں یہ اتنا کچھ لاد کر آئے ہیں کمرہ فل ہیٹڈ ہے یہاں اتنی ٹھنڈ نہیں لگ رہی مگر ہےتو دسمبر نا ۔۔ اریزہ واقعی حیران تھی۔ اپنی بات کی وضاحت دی تو گوارا پہلے تو اسکی شکل۔دیکھتی رہی پھر قہقہہ لگا کر ہنس دی تو ہم کونسا کھلے آسمان کے نیچے ہوں گے پھابو۔ انی کی شادی انکے اپنے ہوٹل میں ہی ہوگی ۔ فل ہیٹڈ ماحول ہوگا تم فکر نہ کرو نہیں ٹھنڈ لگے گی تمہیں بھی۔ وہ اب باقائدہ مزاق اڑا رہی تھی۔ کیا ہوا کیوں ہنس رہے ہو؟ ہوپ نیا لباس پہن کر آئی تو دونوں کو ہنستے دیکھ کر پوچھ لیا دونوں نے مڑ کر دیکھا تو ہنسنا بھول کر آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگیں۔ پیچ اور آف وائیٹ ڈبل شیڈڈ ستاروں اور نگوں سے سجا وہ گھٹنوں تک کا سلیو لیس ون پیس ڈریس فارمل تھا۔ اسکی رنگت جو قریب قریب پیلی لگتی تھی اس لباس میں جیسے اس میں گلابیاں اتر رہی تھیں۔ ہمیشہ کھینچ کر بالوں کی پونی کرنے سے اسکی پیشانی چوڑی لگتی تھی اس وقت بال دونوں کندھوں پر ہموار بکھرے تھے ۔ اس نے آگے سے ترچھی مانگ نکالی ہوئی تھی تو اب اسکی کھنچی ہوئی آنکھیں اس وقت بڑی بڑی لگ رہی تھیں۔ ان دونوں کو ایک ٹک اپنی جانب دیکھتا پا کر وہ خجل سی ہوگئ۔ کیا ہوا اچھی نہیں لگ رہی ؟ میں پھر وہ سفید والا لے لیتئ ہوں۔ وہ فورا بدلنے جانے لگی تو ان دونوں نے اسے دائیں بائیں سے آکر جکڑ لیا خبردار ۔ یہی لو۔ بہت پیاری لگ رہی ہو۔ کیوپتا مجھے نہیں پتہ تھا تم پیاری بھی لگ سکتی ہو دونوں کی جانب سے انگریزی اور ہنگل میں اکٹھے تبصرے موصول ہوئےتھے۔ وہ ہنس دی۔ گوما وویو۔ اس نے انکساری دکھانی چاہی مگر گوارا اور اریزہ کو جانے کیوں ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔ اس نے پہلے تو گھورنا چاہا پھر ہار مان کر خود بھی ہنس دی۔ چلو۔ ہم دونوں کی شاپنگ تو ہوگئ اب اریزہ کا کیا کریں؟ گوارا نے کمر پر ہاتھ رکھ کربوتیک میں قطار میں سجے بچے کھچے لباسوں پر نگاہ دوڑائی۔ میم یہ دیکھیں یہ آپ پر خوب جچے گا۔۔ ٹی پنک میکسی اٹھائے آخرایک مددگار ہی آگے بڑھی۔ اریزہ نے ایک نظر اس میکسی کو دیکھا دوسری ںظر اس سانولی سلونی سی لڑکی پر ڈالی اور مایوسی سے نفی میں سر ہلا کر بولی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آٹھ بجے کے قریب ہاسٹل پہنچی تھی اپنی دھن میں اند رلابی میں جاتے اسکی نظر ریسیپشن پر ایڈمن کے کچھ لوگوں کے ساتھ کھڑے یونیفارم میں موجود پولیس والوں پر پڑی۔ ایک لمحے کو تو اسکی سٹی گم ہوگئ اپنے اپر کا ہڈ سر پر چڑھاتے وہ انجان سی بن کر گزرنے لگی کہ کسی نے اسکا نام لیکر پکارا جی ہائے۔ وہ ٹھٹک کر مڑی تولانڈری روم سے دھلے ہوئے کپڑوں کی ٹوکری اٹھائے مسکراتی ہوئی سنتھیا نکلی۔ اسے پکار کر اب اسکی جانب ہی آرہی تھی۔ وہ۔لابی کے بیچ میں سیڑھیوں کے پاس تھی اسکے دائیں جانب سے سنتھیاآرہی تھی اور بائیں جانب سے وہ پولیس اہلکار نکل رہے تھے۔ ہائش۔ اسکے ہاتھوں سے طوطے اڑے تھے۔ کہاں تھیں تم اتنی دیر سے ۔۔ سنتھیا معمول کے انداز میں انگریزی میں بولتی اسکے پاس آکھڑی ہوئی تھئ۔ آگاشی۔ چھوگئو۔ انہی پولیس اہلکاروں میں سے ایک نے پکارا۔ اسکا انداز اسکی انگریزی پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ وہ کورین نہیں اب یقینا وہ شکل بھی دیکھنے والے تھے۔ دے۔ وہ سنتھیا کو جلدی سے سیڑھیوں کی جانب اشارہ کرکے اوپر جانے کا کہتی مڑی۔ وہ کچھ سمجھتے نا سمجھتے فورا مڑی ابھی پہلا قدم ہی سیڑھی پر رکھا تھا کہ آنی۔۔ آپ نہیں وہ طالبہ۔ پولیس والے نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے سنتھیا کی جانب اشارہ کیا۔ چھوگیو۔ وہ اب براہ راست سنتھیا سے مخاطب تھے۔ بات سنیں ادھر آئیں۔ہنگل میں وہ اسے بلا رہے تھے۔ جی ہائے نے تھوک نگلا سنتھیا کو پلٹنا پڑا ہم ایک غیر ملکی طالبہ کی گمشدگی کی اطلاع ۔۔ پولیس والے نے بتاتے ہوئے سنتھیا کی جانب اسی کی تصویر بڑھائئ۔ فل میک اپ میں شارٹ سے گھٹنوں سے کہیں اونچے گلابی فراک میں ایڈون کے کندھے سے جھولتی وہ یقینا فلٹر کی وجہ سے ٹھیک ٹھاک گوری لگ رہی تھی۔ بالوں کا انداز بھی مختلف تھا۔ یہ انہوں نے یقینا ایڈون کے موبائل سے ہی لی تھی۔ وہ سنٹ سی کھڑی دیکھ رہی تھی۔ جی ہائے نے ایک نگاہ اس پر ڈالی۔ اپر او رٹرائوزر میں ملبوس اس وقت معمول سے ذیادہ کم رنگت اور تھوڑے سے سوجے منہ والی وہی تصویر والی سنتھیا ہے یقینا پہلئ بار اسے دیکھنے والے کیلئے پہچاننا مشکل تھا۔ آنی۔ اس نے تصویر اچک لی۔ یہ لڑکی ہاسٹل میں رہتی ضرور تھی مگر دو مہینے قبل جا چکی ہے۔ اسکا داخلہ ختم ہو گیا تھا نالائق سی تھی کوئی پاکستانی لڑکئ یہ۔ وہ ہنس کر بولی۔ دونوں پولیس اہلکاروں کو شک بھئ نہ گزرا۔ آپ کا نام۔ پولیس والا اب سنتھیا سے مخاطب تھا۔ مشیل۔ یہ میری انڈین دوست ہے۔ جی ہائے کی جانب سے ہی جواب آیا تھا۔دونوں نے سر ہلایا۔ اسے دیکھا پھرکرم کہہ کر حسب روائت جھک کر سلام کرتے چلے گئے۔ سنتھیا نے طویل سانس لی تھی۔جی ہائے نے تھوک نگل کر اسکی شکل دیکھئ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنی احمق ہو تم۔۔مزے سے ہاسٹل میں گھوم رہی تھیں ۔کس نے کہا تھا لانڈری کرنے جانے کو۔ ؟ گنتی کی چار غیر ملکی لڑکیاں ہیں اس وقت یہاں۔کسی نے بھی دیکھ لیا یا کبھی تم سے ہاسٹل کا کارڈ چیک کرلیا تو ؟ خود تو مروگی مجھے بھی مروائوگئ اپنے ساتھ۔ جی ہائے کو غصہ چڑھا تھا اور کیا خوب چڑھا تھا۔کمرے میں ٹہل ٹہل کر وہ غصہ نکال رہی تھئ۔ اسکے کپڑے احتیاط سے تہہ کرتی وہ سر جھکا کر رہ گئ۔ آئی ایم سوری۔ تم خود ہی تو کہہ رہی تھیں کیفے جا سکتی ہوں میں تمہارا کارڈ لیکر تو میں نے سوچافری ہوں تو لانڈری کر دوں مدد ہو جائے گی تمہاری۔ اس نے من من کرتے صفائی دی۔ جی ہائے نے سر پکڑ لیا۔ ہائش۔ کھانا الگ بات ہے۔ کیفے سب ڈیپارٹمنٹس کا مشترکہ ہے وہاں درجنوں غیر ملکی طلباء ہوتے ہیں مگر اس ہاسٹل میں۔۔ ہائش۔ جانے دو۔آئیندہ احتیاط کرو۔ اگر یہ ہاسٹل تک پہنچ گئے ہیں تو تمہیں جلد از جلد یہاں سے نکلنا چاہیئے۔میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں مگر تمہاری مدد کرنے کے چکر میں کسی مشکل میں پھنسنا نہیں چاہتی۔ جی ہائے کی بات پر وہ سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ جی ہائے نے اسکی شکل دیکھی پھر گہری سانس لیکر بولی۔ کم سن آیا تھا آج یونیورسٹی۔ مجھے ملا تھا جم میں بتا رہا تھا تمہارے والدین نے ایڈون پر اغوا او رحبس بیجا کا کیس کیا ہے۔ وہ جیل میں ہے اس وقت۔ کیا۔ وہ جسطرح تڑپ کے اٹھ کھڑی ہوئی۔ جی ہائے نے سخت ناگواری سے گھورا کب کیوں؟ میرا مطلب ہے اسکو کیوں جیل میں ۔ پاپا ایسا کیسے کر سکتے؟ کب سے جیل میں ہے وہ؟ سنتھیا بری طرح گھبرا گئ تھی اپنا دماغ درست کرو۔ یہ کس ایڈون کے لیئے پریشان ہو رہی ہو جس نے تمہیں اس مصیبت میں اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ جی ہائے ڈپٹ کر بولی۔ سنتھیا چپ رہ گئ مجھے کم سن دھمکی دے رہا تھا کہ وہ پولیس کو بتا دے گا تم یہاں ہو اور تمہیں چھپانے میں میرا بھی کردار ہے ۔ ایسا کچھ ہوا تو میرا کیریر ختم۔ اور پولیس یہاں تک پہنچ چکی ہے تمہارے سامنے ہے۔ اب تم خود فیصلہ کرو ۔ گرفتاری دے کر ایڈون کو چھڑانا ہے یا یہاں سے بھاگ کر اس بچے کو بچانا ہے۔۔۔ وہ اطمینان سے اسکی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے بیڈ پر دراز ہوئئ۔ سنتھیا اسکی شکل دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ میں کہاں جائوں؟ اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ گوارا کے فلیٹ جا سکتی ہو۔ وہ تم پر اپنے فلیٹ کا دروازہ بند نہیں کرے گی۔ ہاں اریزہ پولیس کو بتا سکتی ہے کہ تم وہاں ہو۔ جی ہائے موبائل کی سکرین پر نظر دوڑانے کے ساتھ اپنی سوچ کے گھوڑے بھی دوڑا رہی تھی۔۔۔ پھر۔ سنتھیا چیں بہ چیں ہوئی۔ کپڑے تہہ کرتےہوئے ہاتھ رکے۔ جی ہائے نے موبائل سے نگاہ اٹھا کر اسکی جانب دیکھا وہ سب کپڑے تہہ کر چکی تھی۔ انکو سامنے بائیں جانب والی الماری کھول کر رکھ دو۔ جی ہائے کے کہنے پر وہ بے دھیانی میں تیزی سے اٹھ کر الماری کھولنے بڑھی پھر خیال آیا تو مڑ کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ دائیں جانب والی الماری سوہائی کی ہے۔ جی ہائے نے جیسے وضاحت کی ۔ سنتھیا حقیقتا آہ بھرتی اسکے کپڑے ٹھکانے لگانے لگی۔ ویسے فلٹر کونسا استعمال کیا تھا بہت گوری لگ رہی تھیں سچی بات پہلی نظر میں تو میں بھی نہ پہچان پائئ۔ اسکرال کرتے اگلا تبصرہ برآمد ہوا۔ صرف گوری۔۔ اس کا ذہن اسی میں اٹک گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج تو اس ہال کی چھب ہی نرالی تھی۔ قیمتی آرائشی لیمپس سجے تھے قمقموں کی لڑیاں تا حد نگاہ گول میزیں جن پر نہایت ہی قیمتی و نفیس پوشاک میں ملبوس کوریا کے امیر ترین گھرانے براجمان تھے۔ ویٹر مستعد سے ادھر سے ادھر لوگوں کو چیزیں پیش کرتے پھر رہے تھے۔ ایک جانب وائن کا فوارہ نصب تھا۔ قیمتی مشروب کی چسکیاں لیتے خوش گپیوں میں مگن لوگ اور ایک جانب وہ کونے کی الگ تھلگ میز منتخب کرکے خاموشی سے بیٹھا ان سب کو دیکھ رہا تھا۔یہاں اسکے خاندان کے کئی لوگ تھے جنہوں نے اسے بس دور سے دیکھا او رخ موڑ لیا۔ اسکے احباب تھے جنکے لیئے وہ مزید سودمند نہیں تھا۔ سو اس سے ملنے کا انکے پاس وقت نہیں تھا۔۔۔اس محفل میں اسے ادھورے پن کا ذیادہ ہی احساس ہو رہا تھا۔ اپنے نہیں اس محفل کے ۔۔ادھورے کپڑے ادھورے قہقہے ادھورے لوگ۔ سب کچھ آدھا ادھورا اسکا موبائل بجا تھا۔ من جون کا پیغام تھا۔ آرہے ہو؟ اسکا شدید اصرار ہی اسے آج اس شادی میں لایا تھا۔ آچکا ہوں بھائئ۔ اس نے پیغام بھیجا۔ آتا ہوں۔ جواب آیا تھا۔ دولہا بنا اسکا بھائی اسکی فکر میں ہلکان تھا۔ اسکے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔ من جون ہمیشہ سے اسکے ساتھ اتنا ہی کرتا تھا ہاں اب اسے احساس ہوا تھا اسکی بے لوث محبت کا ورنہ پچھلا جون جے ان سب باتوں سے مبرا تھا کون کس طرح پیش آتا ہے اسکے ساتھ اسے پروا نہیں تھی اور خود وہ کیسے دوسروں کے ساتھ پیش آئے یہ اسکے اپنے مزاج پر منحصر تھا۔ وہ گہری سانس لیکر اٹھ کھڑا ہوا ۔ میز پر سے اپنا لایا بکے اورتحفہ اٹھاکرہال پر نگاہ دوڑا کر من جون کو ڈھونڈنے لگا۔من جون ہال کے دوسرے سرے پر تھا۔ کچھ اس نے قدم بڑھائے کچھ وہ فورا اپنے مہمان سے معزرت کرتا اسکی جانب چلا آیا۔ مبارک ہو ہیونگ۔ اس نے تحفہ اسکی جانب بڑھایا۔ اس نے شکریہ کے ساتھ تھام لیا۔ بہت اچھے لگ رہے ہو۔ من جون کی بے ساختہ تعریف اسے خجل کر گئ۔ اسکا پی اے ہمراہ تھا اس نے تحفہ اور بکے اسے تھمایا۔ پھر اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ لیکر ایک نہایت خوبصورت لڑکی کے پاس لا کھڑا کیا۔ وہ لڑکی کسی لڑکے کے ساتھ کھڑی تھئ چونک کےمتوجہ ہوئی۔ سارا اس سے ملو پہچانا اسے؟ علی بھی چونک کے دیکھنے لگا۔ وہ لڑکی اسے دیکھی بھالی لگی تھی۔ جون جے ہے نا۔ وہ لڑکی پہچان کر ایکدم خوش ہوئی تھی جیسے۔علی نے ذہن پر زور ڈالا تو کچھ دھندلی یادیں تازہ ہو ہی گئیں۔ سارا یو سانگ چچا کی بیٹی۔ من جون نے اسکو مشکل سے نکالا۔ وہ مسکرادیا۔ پہچان تو لیا تھا۔ سارا نے تعجب سے اسکو دیکھا۔ کم آن جون جےہم اکٹھے مڈل اسکول تک پڑھتے رہے ہیں پھر میں امریکہ چلی گئ تھئ۔ تم سنائو کیسے ہو جون جے؟ وہ اپنا مرمریں ہاتھ اسکی جانب بڑھائے دوستانہ مسکراہٹ سجائے پوچھ رہی تھی۔ علی۔ علی نام ہے اب میرا۔ اس نے اپنے مخصوص دھیمے انداز میں تصحیح کی۔ سارا حیران سئ کبھی اسکئ شکل دیکھے کبھی من جون کی۔ علی کا جوابا ہاتھ نا ملانے کا ارادہ دیکھ کر سارا کوخفت سے بچانے کیلئے من جون نے سارا کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا۔ ہاں اس نے نام بدل لیا ہے۔ وہ ہلکے سے کھسیانی ہنسی ہنس کر بولے۔ نام بدل لیا کیوں؟ سارا حیران تھئ یہ مت کہنا ستاروں کی چال کی وجہ سے کسی دو نمبر ٹیرو کارڈ ریڈر کے کہنے پر نام بدل لیا۔ علی نے فہمائشی مسکراہٹ سجا کر بھائئ کی جانب دیکھا۔ وہ قصدا نظر چرا گئے۔ اسے اب انکے اتنے اصرار کی وجہ سمجھ آرہی تھی۔ اس نے سر جھٹکا۔ یک نہ شد دو شد۔ ادھر آہجوشی اسکا رشتہ ڈھونڈنے میں مگن ہیں اور ادھر ہیونگ۔ اگر وہ پرانا والا جون جے ہوتا تو خاصا خوش ہوتا۔ سارا کو مڈل اسکول میں کافی لائن بھی مارتا رہا تھا۔مگر اب اسے سارا میں معمولی سی دلچسپی بھئ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ اتنے سالوں میں وہ پہلے سے ذیادہ پر اعتماد اور حسین ہو چکی تھی۔اور باتونی بھی۔ جانے کیا کیا بول رہی تھی۔ اس نے سننا چاہا۔ مگر نگاہ بھٹک کر اسکے برابر کھڑے لڑکے پر پڑی۔ جو ان سب سے انجان کہیں دیکھتے جیسے کھو گیا تھا۔ اس نے اسکی دلچسپی کا محور دیکھا تو فورا مسکراہٹ آگئ چہرے پر۔ بنتا تھا اسکا یوں محو ہوجانا۔ میرے والد کو بھئ تمہارے والد نے نمبرنگ پر لگا دیا ہے۔ آجکل ہم ہر کام آڈ نمبر پر کرتے ہیں۔ من جون نے کہا تو وہ قہقہہ لگا کر ہنسی ہائش۔۔۔ نہ کریں سچ؟ حد ہے۔ آہبوجی حد کرتے ہیں کبھی کبھی۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر ہنسی۔ اب یہی دیکھ لو میں نے آہبوجی کو کہا ایمرلڈ گروپ کی اسپیلنگ بالکل غلط ہیں مگر وہ کہتے ایسے ہی ٹھیک ہے ڈبل ای خوش بخت ہے گروپ کیلئے۔ وہ کافی بے تکلفی سے مخاطب تھی۔ آپ جناب کا تکلف ایک طرف کر رکھا تھا۔ من جون نے محظوظ سے انداز میں اشارہ دیا۔ ہمارے لیئے بھی ۔۔ جبھئ لی گروپ سےجوائنٹ ونچر کر رہے ہیں۔ انکا اشارہ اپنی شادی کی طرف تھا۔ ہمارا گروپ بھی لی گروپ کے ساتھ اہم ڈیل کر رہا ہے۔ اس نے شرارت سے کہہ کر ہیون کے بازو میں ہاتھ ڈال کراس کو دیکھا۔ ہیون انکی گفتگو سے بالکل لاتعلق رخ موڑےدائیں جانب دیکھ رہا تھا اسکے بازو کھینچنے پرچونک کرمتوجہ ہوا۔ دے۔ آہ دے۔ ۔ آننیانگ۔ وہ بری طرح سٹپٹایا۔ اسکا ہونے والا بہنوئی اسکے سامنے کھڑا تھا اور وہ سلام تک کیئے بنا مگن کھڑا تھا۔ آننیانگ۔ من جون نے مسکرا کر جواب دیا۔ انکے برابر کھڑے علی کے چہرے پر محظوظ سی مسکراہٹ تھی۔ اسے دیکھ کر مزید گہری ہوگئ۔وہ اسکی مسکراہٹ پر سٹپٹا سا گیا۔ بڑی جتاتی مسکراہٹ تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہوپ اور گوارا کے ساتھ ہی داخل ہوئی تھی۔ روشنیوں نے حقیقتا لمحہ بھر کو آنکھیں چندھیا دی تھیں۔ اس نے کافی رشک و دلچسپی سے اس رونق کو دیکھا۔ تھیبا۔ گوارا کو اپنے جزبات چھپانے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ بڑا سا منہ کھول کر تھیبا کہا تھا۔ وی آئی پی پروٹوکول ملا تھا۔ ان تینوں کو ریسیو انئ کے ذاتی ملازم نے کیا تھا۔ان کے لائے ہوئے تحفوں اور بکے کو اسی نے وصول کیا تھا۔ پھر انکو اپنے ہمراہ سب سے آگے کی وی آئی پی مہمانوں کیلئے لگائی نشستوں تک لایا تھا۔ نرم میرون صوفے دو رویہ گولائی میں قیمتی سنہری سجاوٹ سے سجے تھے ۔ یہاں ذیادہ تر ادھیڑ عمر انکل آنٹیاں شراب کے جام اٹھائے خوش گپیوں میں مگن تھے۔ بالکل سامنے اسٹیج سجا تھا۔ پھولوں قمقموں کی دلکش سجاوٹ بڑی سی اسکرین۔ کچھ کچھ سینما جیسا منظرلگ رہا تھا آپ لوگ بیٹھیئے میم یہیں آئیں گی پی اے انہیں بتا کرجھک کر اجازت طلب کرتا چلا گیا۔ یہاں مہمانوں سے ویٹر خود آ آکر پوچھ رہے تھے۔ ایک انہیں نشست سنبھالتے دیکھ کر فورا پاس چلا آیا آپ کچھ لینا پسند فرمائیے گا؟ ویٹر ادب سے پوچھ رہا تھا۔ وائن اور کوئی سادہ پھلوں کا جوس۔ گوارا نے تینوں کیلئے آرڈر دیا۔ پہلی بار مجھے ہیون کو نا پٹا سکنے کا دکھ ہو رہا۔اتنا وی آئی پی پروٹوکول تو کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ گوارا ہنسئ۔ ہیون کی وجہ سے نہیں ہمیں نونا کی وجہ سے مل رہا ہے یہ انکا پی اے تھا۔ اریزہ نے تصحیح کی۔ گوارا نے کان پر سے مکھی اڑائی۔ جائو جائو۔ تم نا سمجھ ہو ۔ پھابو۔ ہو۔ انی تو بننے جا رہی ہیں کم گروپ کی بہو یہ سب پروٹوکول ہے لی گروپ کے وارث کا۔ لی ہایون۔کا۔ کیوں ہوپ؟ اس نے ساتھ بیٹھی ہوپ کو ٹہوکا دیا۔ ہوپ اپنی کسی سوچ میں گم خاموشی سے بیٹھئ تھی۔ اسکے ٹہوکے پر چونکی ہمم۔۔ دے؟ ( کیا) کچھ نہیں۔۔ گوارا چڑی۔ ویٹر انکا آرڈر لے آیا تھا۔ دو وائن ایک مالٹے کا جوس۔ ابھی پہلا گھونٹ ہی بھرا ہوگا کہ انی کا بلاوا آگیا۔ اس بار دو خوبصورت سی لڑکیاں انہیں بلانے آئی تھیں۔ آپکو انی اندر بلا رہی ہیں۔ وہ لوگ حیران ہوتی انکے ساتھ چل دیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نسبتا گہرے گلے کی سفید براق سلیو لیس میکسی جس کے گلے پر نفیس سے ننھے نگوں کی ایک تہہ تھی۔۔ آستینیں ہلکے سے آسمانی رنگ کی جھلملاہٹ بھرے اسٹونز کے کام سے سجی تھیں۔ایسی ہی جالی کےکھلے سے گائون نے میکسی کو مرمیڈ اسٹائل دیا تھا۔ ۔سفید ہیرے کے نازک سے ٹاپس لانبی گردن کو مزید نمایاں کر رہےتھے۔ دو موٹی لٹیں انکے گول سے چہرے پر جھول رہی تھیں۔ ہیرے کا ہی لاکٹ پہنے ۔ سر پراونچا سا جوڑا جس پر سفید ہی عیسائی مخصوص دلہنوں والا جالی کا گھونگھٹ ٹکا تھا۔ گنگشن نونا کا میک اپ نہایت ہلکا پھلکا تھا ہلکی گلابی ہی لپ اسٹک میں وہ بے تحاشا حسین لگ رہی تھیں۔ ہلکی فیروزی فراکوں میں ملبوس لڑکیوں کے جلو میں جو یقینا برائڈز میڈز تھیں فو ٹو سیشن کرواتے انکی نظر ان پر پڑی تو کیمرہ مین کو رکنے کا کہہ کر وہ فورا استقبال کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔گوارا اور ہوپ ان سے ملنے آگے بڑھی تھیں تو وہ ٹھٹک کر اپنے ملبوس کو دیکھنے لگی۔ ٹی پنک وہ ٹیل والی میکسی پہلی نظر میں بالکل گنگشن نونا کے شادی کے لباس سے ملتی جلتی لگتی تھی۔بالکل ویسا ہی ستاروں سا جھلملاتا گلا۔ جالی دار آستین جس پر اسٹونز کا کام تھا اسکا رنگ گلابی اور سفید یقینا رنگ کی مناسبت سے مختلف تھا یا انکی میکسی انکے متناسب سراپےپر مکمل فٹ تھی تو اسکی میکسی گھیر دار تھئ۔۔۔ تھیبا۔ تمہارا رنگ صاف ہے تو مجھے لگا تھا یہ رنگ تم پر جچے گا مگر یہ تو بہت اٹھ رہا ہے تم پر۔۔ انی خود اٹھ کر اسکے پاس آئیں۔ پیار سے اسے کندھوں سے تھام کر بولیں۔ بہت بہت پیاری لگ رہی ہو۔ اسکے گال سے گال ملا کر وہ پیار کرتے ہوئے بولیں۔ آئشہ۔ وہ مڑ کر کسی کو پکارنے لگیں۔ کچھ ہی فاصلے پر کھڑی وہ لڑکی فورا انکے پاس چلی آئی۔ آئشہ کمال کردیا تم نے یہ ڈریس سلیو لیس لگ ہی نہیں رہا ۔ میم کو فٹنگ پر بھی اعتراض تھا اور سلیو لیس پر بھی تو میں نے سوچا اسکو سلور کے امتزاج سے ایک نیا انداز بنا دوں۔ بہت اچھا کیا ہے جو بھئ کیا ہے ۔ اریزہ میں اتنی مایوس ہوئی تھی جب آئیشہ نے بتایا تمہیں ڈریس پسند نہیں آیا۔ مگر ماننے والی بات ہے آئیشہ تم کمال کی ڈیزائنر ہو۔ تم نے ڈریس کی لک نہیں بدلی۔ پتہ ہے اریزہ یہ ڈریس اسی نے ڈیزائن کیا ہے۔ کونسی فراک ہے یہ؟ راجستھانئ۔ آئیشہ نے تصحیح کی۔ آئیشہ بہت اچھے اور انوکھے آئیڈیاز لاتی ہے۔۔ مجھے پتہ تھا تمہارے مزاج کو یہ سمجھ جائے گی۔ اسی لیئے خاص طور سے اسی سے ڈریس ڈیزائن کروایا وہ توصیفئ انداز میں بتا رہی تھیں وہ اتنی غائب دماغ تھئ اتنی شاکڈ تھی کہ مسکرا بھی نہ سکی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں یہ نہیں پہن سکتی۔ اریزہ نےصاف انکار کیا تھا۔گوارا حیرت سے دیکھنے لگی کیوں بھئ؟ یہ کلر آپکو پسند نہیں آیا ؟ وہ لڑکی جیسے پریشان ہوگئ۔ نہیں کلر تو بہت اچھا ہے۔مگر مجھے آئے گا ہی نہیں۔ دوسرا اتنا گہرا گلا ہے کہیں اور چلتے ہیں۔ وہ کندھے اچکا کر جانے کو تیار کوئئ۔ خوامخواہ نہیں آئے گا۔پہن کر تو دیکھو۔ گوارا نے اسکا ہاتھ پکڑا یہ اتنا گہرا گلا بنا آستین میں ایسا لباس پہن نہیں سکتی گوارا۔ اسکے کہنے پر گوارا اور وہ بھارتی لڑکی ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔وہ لڑکی کچھ سوچ کر اسکی جانب بڑھئ۔ دراصل میرا نام آئیشہ ہے۔ میں ہی ڈیزائنر ہوں اس ڈریس کی۔ آپ مجھے بتائیں آپکو یہ ڈیزائن پسند آیا؟ آپ کی ناپ لیکر ہم اس میں آپکی مرضی کی تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔ کیوں؟ ۔۔ اریزہ نے کہا نہیں تھا مگر اسکا چہرہ پورے کا پورا سوالیہ نشان بنا تھا۔ دراصل یہ فیوژن ڈریس ہے۔ یہ کام راجستھانی فراک پر ہوتا ہے جو ہم نے اس پر کیا ہے۔ بس اسکو نیچے سے گھیر دینے کی بجائے مغربی طرز پر مرمیڈ اسٹائل دیا ہے۔ یہ انڈین ویسٹرن مکس ڈریس ہے۔ اگر آپ چاہیں تو ہم اس پر اسی طرح کی جالی دار آستین بنا سکتے ہیں ۔ آپ ناپ دے دیں تو گلا بھی ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ آئشہ کے کہنے پر وہ گہری سانس لیکر بولی اور آپ جو اتنی محنت کریں گی میرے لیئے اسکے اضافی کتنے چارجز ہوں گے؟ اس نے سیدھا سوال کیا۔ کوئی نہیں۔ آپ کیلئے ہی تو بنا ہےیہ لباس۔ ہیں۔ وہ حیران ہوئی گوارا ان دونوں کو اردو میں بولتے دیکھ کر بیچ میں کودی۔ کیا ہوا مجھے بھی بتائو۔ آئیشہ نے ہنگل میں اسے بتایا تو گوارا نے سر پیٹ لیا۔ اف ۔ لڑکی اتنا کچھ کرنے کو تیار ہے تمہارے لیئے اور تمہیں میں نے صاف کہا تھا کہ یہ ڈریس میری جانب سے تمہارے غسل صحت کا تحفہ ہے اب بحث بند کرو اور اپنی ناپ دو دو دن ہیں ہمارے پاس دو دن میں یہ ٹھیک ہو جائے گا نا۔ گوارا نے کہا تو آئیشہ سٹپٹا سی گئ بس دو دن میں؟ گوارا نے گھورا تو مسکین سی شکل بنا گئ ہاں ہو جائے گا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے اب خیال آیا تھا۔ وہ بوتیک کیا نام تھا کچھ لی کرکے ہی۔ ۔ انی نے اسے اپنے ساتھ برابر بٹھا کر کئی پوز بنوائے تھے۔ اسکو پھولوں کا گلدستہ تھما کر اپنے ساتھ ساتھ رہنے کی تاکید بھی کی تھی۔ اپنی سہیلیوں سے اپنی چھوٹی بہن کہہ کر تعارف کرایا تھا۔اس حد درجہ پروٹوکول پر سب پر ہی اسکی اہمیت واضح ہو رہی تھی۔ برائیڈ میڈز اسکو الگ خاص اہمیت دے رہی تھیں۔۔ دلہا دلہن کے ساتھ فوٹو سیشن کرنے آیا تو وہ گہما گہمی کا فائدہ اٹھاتی باہر نکل آئی۔ہال میں اب دھیمے سروں کی موسیقی چل رہی تھی۔ ایک کونے میں کپل ڈانس ہو رہا تھا۔ گوارا کی جھلک اسے وہیں یون بن کے ساتھ ڈانس کرتی ہی نظر آئئ۔ ہوپ جانے کہاں چلی گئ تھی۔ اتنے سارے انجان چہروں میں وہ بالکل ہی تنہا رہ گئ۔ گلدستہ سنبھالتی وہ نسبتا کم رونق والی جگہ ڈھونڈنے لگی۔ ہنگامے سے الگ کونے میں لگی میز کرسی دیکھ کر وہ اسی طرف چلی آئی۔ دلہا دلہن کی آمد کا غلغلہ سا مچا۔ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے سہج سہج کر قدم اٹھاتے وہ اسٹیج کی جانب بڑھ رہے تھے۔ اسپاٹ لائٹ کیمرے۔ باقی ہال کی بتیاں دھیمی کر دی گئ تھیں۔اسٹیج پر پادری انکا نکاح پڑھانے کیلئے منتظر کھڑا تھا۔ اس نےموبائل نکال کر وقت دیکھا۔ دس بج رہے تھے۔ آج تک جتنئ بھی شادیاں دیکھی تھیں یہ ان سب سے مختلف تھی۔ نا غیر ضروری رسمیں ۔ دلہا دلہن اسٹیج پر گئےدونوں نے اسکرین پر اپنی زندگی کی کہانی پر مبنی ایک تعارفی ویڈیو دیکھی ۔ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر نکاح کیلئے ہاں کہا۔ بس ختم شادی۔ اب دلہا دلہن کے گھر والے انکے لیئے مختصر پیغامات اسٹیج پر جا کر ریکارڈ کرا رہے تھے۔ اسے حقیقتا جمائی آگئ۔ منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائی روکتے رخ موڑا تو چونک سی گئ۔ اسکے بالکل سامنے والی کرسی پر علی بیٹھا کھانا کھارہا تھا۔ سوری شائد میں نے آپکو ڈرا دیا۔ وہ شستہ انگریزی میں بولا۔ وہ تھوڑا برا مان گئ تھی اگر اسکا استاد نہ ہوتا تو شائد ڈانٹ بھی دیتی ابھی جز بز سی ہو کر اٹھنے لگی۔ میں دراصل یہاں پہلے سے بیٹھا تھا۔ پانی لینے اٹھا تھا واپس آیا توآپ یہاں بیٹھی تھیں۔ اس نے اسکو جانے کےپر تولتے دیکھ کر صفائی پیش کی۔ ویسے اتنا خاموش اور پرسکون گوشہ آپکو اور کہیں نہیں ملے گا۔ اس نے سرسری سے انداز میں کہہ کر اپنے سامنے رکھے وائن گلاس میں سے پانی کا گھونٹ بھرا۔ وہ اٹھتے اٹھتے پھر بیٹھ گئ۔ بات تو صحیح تھی اس وقت اچھی خاصی گہما گہمی نظر آرہی تھی ہال میں۔ لوگ ہی لوگ سر ہی سر۔ تبھئ ویٹر انکے پاس چلا آیا۔ سر آپکو کچھ چاہیئے۔ وہ سرونگ ٹرے تھامے تھا کچھ شراب کے ساتھ کھانے والے روائتی کورین اسنیکس۔ علی کے انکار کرنے پر ویٹر اسکی جانب بڑھا ۔ اسکو ان چھوٹے چھوٹے پیپر کپس میں موجود اسنیکس کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ کیا بلا ہیں سو سہولت سے انکار کردیا۔ وہ موبائل اٹھا کر گوارا کو میسج کرنے لگی۔ کہاں ہو۔ مجھے بھوک لگ رہی ہے اس نے میسج دیکھا بھی نہیں۔ اسے غصہ آنے لگا۔ اسکی بھنوئئیں تن سی گئیں چہرے پر ناگواری چھا گئ۔ علی نے دھیرے سے میز بجا کر اسے متوجہ کیا ۔ ہیون ابھی مصروف ہے۔ وہ حقیقتا منہ کھول کر اس اطلاع کا مقصد سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔ کیوں بتایا جا رہا ہے اسے بھئ؟ وہ وہاں ہے۔ علی نے اسٹیج کی جانب اشارہ کیا۔ وہ بے ساختہ گردن گھما کر دیکھنے لگی ہیون اسٹیج پر کھڑا اپنی بہن کیلئے نیک تمنائوں پر مبنی مختصر سی تقریر کر رہا تھا۔ بلیک ٹائی ڈارک گرے شرٹ اور بلیک ہی قیمتی ڈنر سوٹ میں بالوں کو سلیقے سے ایک جانب سے مانگ نکال کر سمیٹے ہوئے نک سک سے تیار وہ خاصا وجیہہ لگ رہا تھا۔ عام دنوں سے کہیں مختلف۔ کورین لڑکے ویسے خوب ٹیپ ٹاپ سے رہتے ہیں ہیون بھی ایک سے ایک قیمتی اپر کوٹ یا ہڈی پہنے ہوتا تھا مگر آج پہلی بار اس نے اسے یوں تھری پیس سوٹ پہنے دیکھا تھا۔ وہ واقعی بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اسکے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ آگئ تھی۔تیار ہونے کی وجہ سے؟ وہ سوچ میں پڑی۔ اس کی یاد داشت میں ایسا کوئی دن نہیں تھا جب اس نے ہیون کو برے حلیئے میں دیکھا ہو۔ ٹینس کھیلتا ہیون ، چرچ میں دعا مانگتا، کنسرٹ میں بریو ہارٹ کی شرٹ میں ملبوس ہیون ، مسجد اسکے مقابل ٹی پنک شرٹ پہن کرکھڑا ہیون یا ۔۔۔ اریزہ۔ علی کے پکارنے پر وہ سیدھی ہوئئ۔ میں جانے لگا ہوں آپکو کچھ کھانے کیلئے چاہیئے تو سیلف سروس بھی ہے اور آپ ویٹر کو آرڈر بھی کر سکتی ہیں۔ علی جانے کیلئے تیار کھڑا تھا اس کو یقینا مہمان نوازی کے خیال سے مخاطب کیا تھا۔ پ۔ پانی۔۔ اس نے اپنے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری۔ علی نے اسکی میز کے سامنے اوندھے رکھے وائن گلاس کو سیدھا کیا میز پر ڈس پوز ایبل پانی کی بوتل رکھی تھی اس سے بھرا۔ اور اسکی جانب بڑھا دیا۔ وہ دل بھر کر شرمندہ ہوئی۔ میں نے دیکھا نہیں تھا۔ آئیم سوری۔ اٹس اوکے۔ آپ مہمان ہیں ۔۔ علی کا انداز ہمیشہ کا مہربان تھا۔ کچھ کھانا چاہیں تو بھی بتا دیں میں ویٹر کو بلا دیتا ہوں۔ اسکی پیشکش اچھی تھی مگر وہ کیا منگواتئ۔سہولت سے منع کردیا نہیں ٹھیک ہے شکریہ۔ ویج آئٹمز بھی ہیں۔ علی کے کہنے پر وہ سوچ میں پڑی۔
سوال عجیب ہے مگر کیا میں پوچھ سکتی ہوں آپ کیا کھا رہے تھے؟ اسکا سوال واقعی عجیب تھا علی کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئ تھئ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسٹیج سے اتر کر وہ متلاشی نظروں سے اسے ہی ڈھونڈ رہا تھا۔ یون بن گوارا سامنے ہی ڈرنکس کے پاس تھے۔ اس نے فون ملا کر کان سے لگایا ہی تھا کہ اسے کچھ فاصلے پر وہ میز پر بیٹھی نظر آگئ۔ فون کاٹ کر وہ اسی کی جانب بڑھنے لگا ہیون۔ سارا نے اسکا بازو پکڑ کر روکا تھا۔ ہیون آہبوجی پوچھ رہے ہیں تمہیں۔ چہرے پر فہمائشی مسکراہٹ سجائے سارا بہت انداز سے اسکا بازو تھامے تھی۔ فلیش لائٹس چلتے کیمرے یقینا وہ اس وقت بہت سے نظروں کا محور تھے۔ میں آتا ہوں۔ اس نے دھیرے سے کہہ کر بازو چھڑانا چاہا مسکرائو۔ وہ بنا ہونٹ ہلائے دانت کچکچا کر بولی اس نے بھی سنبھل کر مسکان سجا لی۔پھر اسی کے انداز میں بولا میں اس وقت واقعی جلدی میں ہوں۔ میں مشکل میں بھئ ہوں۔ اس نے مسکرا کر اسکی شکل دیکھی مجھے ان پر اور کچھ اور لوگوں پر ثابت کرنا ہے کہ اب میں مزید بلائنڈ ڈیٹس پر نہیں جانے والی۔ سو چھے بال( پلیز) ۔ اب اسکا انداز تھوڑا بدلا تھا۔ منت بھرے انداز میں بولی۔ ہیون کچھ کہنا چاہ رہا تھا کہ آہبوجی کا پی اے اسکے سر پر آکھڑا ہوا۔وہ گہری سانس لیکر اسی گوشے کو دیکھنے لگا۔ وہ اب اکیلی نہیں تھی اور بات اسے مزید فکرمند ہی کرگئ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ایک بڑی سی پلیٹ اٹھائی۔ سادے ابلے چاول لیئے۔ ویجیٹیبل سلاد سے پیاز لوبیا کھیرا اٹھایا چقندر اور بروکلی اٹھاکر سجائے ابلے انڈے کے قتلے ایک ڈش کے اوپر سے اٹھائے ایک پیس تلی ہوئی مچھلی کا رکھا۔ سادہ دہی ڈال کر کالی مرچ چھڑکی سوپ کے ساتھ سجے ساسز میں سے سویا ساس اس پر چھڑکا۔ اولیو آئل ڈالا۔ ہری پیاز اور لوبیئے کی جڑوں سے سجایا۔ پلیٹ بنا کراسکی جانب بڑھائی۔ وہ اتنی حیران ہوئی کہ بس دیکھتی ہی رہ گئ۔ آپ یہ۔۔ پارٹ ٹائم شیف بھی ہوں میں۔ وہ مسکرا کر بتا رہا تھا۔ اس نے واقعی کوئی نئی ڈش ہی بنا دی تھی۔ اسکی گارنشنگ اتنی اچھی کی تھی کہ ایکدم کھانے کو دل کرنے لگے۔ یہ تو دیکھنے میں کوئی نئی ڈش لگ رہی ہے۔ اگر یہ آپ نے میرے سامنے نہ بنائی ہوتی تو میں یہی سمجھتی کہ یہ ڈش بھی یہاں سرو ہوئی ہے۔ اس نے کھلے دل سے تعریف کی۔ پلیٹ تھام کر سلیقے سے گھمسامنیدہ بھی کہہ دیا۔ پلیٹ خاصی بھاری تھی مہنگی طرین کراکری کورین ثقافتی ظروف کا کوئی اعلی نمونہ۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے پلیٹ پکڑی ہوئی تھی۔ علی نے اسکو غور سے دیکھا پھر پوچھنے لگا میٹھا کھاتی ہو؟ ہوں ۔ اس نے یونہی سر ہلایا۔ بھوک اتنی لگ رہی تھی کہ بے دھیانی میں اس نے ابلے انڈے کا ٹکڑا وہیں کھڑے کھڑے منہ میں ڈال لیا تھا۔ چمچ کانٹا پلیٹ میں موجود تھا مگر اس نے چٹکی سے اٹھا کر کھالیا تھا۔۔ یونہی میز تک واپس آنے تک وہ انڈے کے کئی ٹکڑے کھا گئ۔ میز کرسی پر بیٹھ کر اطمینان سے کھانا شروع کیا تو مزید حیرت ہوئی اس نئے بن جانے والے پکوان کا ذائقہ بہت مزے کا تھا۔مچھلئ بھی سینکی ہوئی ذائقے دار تھی۔ اس نے جانے کتنے دنوں بعد شوق سے سیر ہو کر کھانا کھایا۔ علی میٹھے میں فروٹ سیلڈ اور روائتی کورین طرز کی مٹھائیوں اور ڈیزرٹس کی ایک پلیٹ بنا لایا تھا۔ یہ جو بھئ بنا ہے بہت بہت مزے کا بنا ہے۔ علی کو دیکھ کر اس نے دل سے تعریف کی۔ وہ اخلاقا اسکا ساتھ دینے کیلئے اپنے لیئے بھی تھوڑی سی پھلوں کی سلاد لے آیا تھا۔ وہ ہر لقمہ جیسے لطف لیکر کھا رہی تھی۔ساتھ کمنٹری بھی جاری تھی۔ گوبھی مجھے بالکل پسند نہیں رہی مگر بروکلی چاول کے ساتھ اچھی لگ رہی ہے۔ کیسا لگا کوریائی کھانا پھر؟ علی نے یونہی بات برائے بات کہا تھا۔ عجیب بہت عجیب۔ اس نے صاف گوئی سے کہا۔ تم ابھی تو کہہ رہی تھیں کہ پسند آیا ہے تمہیں۔ علی اسکے فوری پینترا بدلنے پر حیران ہوا۔۔ اچھا تو لگ رہا ہے مگر یہ بہت عجیب امتزاج ہےویجی ٹیبل سلاد میں سیب ہے اورفروٹ سلاد میں کھیرا۔ مطلب پاکستان میں ایسا کرنے کا کوئی سوچ نہیں سکتا ۔ کھیرا سبزی ہے اور سیب پھل۔ آپ انکی بے حرمتی نہیں کر سکتے انکی جگہائیں بدل کر۔ گناہ عظیم ہے یہ۔ بے حرمتئ؟ علی کو ہنسی آگئ۔ ہاں تو اور کیا وہ اب میٹھے کی طرف متوجہ تھی۔ یہ کیا ہے بہت مزے کا ہے؟ چھوٹے سے کپ کیک کو بیچ سے دو حصے کیا ہوا تھا جس میں سے سیاہ سیال نکل رہا تھا۔ ذائقہ وہ چاہ کر بھی پہچان نہ سکی۔ یہ لال لوبیے کا ساس ہے۔علی نے بتایا تو اس نے باقائدہ آنکھیں پھاڑیں واقعی؟ لال لوبیا سچی؟ ہمارے یہاں اسکا بس نمکین سالن بنتا ہے۔ تھیبا میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میٹھا لوبیا مزے کا ہوسکتا ہے۔ واہ۔ وہ سر دھن رہی تھی۔ تم اگر ماسٹر شیف کی جج بنتیں تو یقینا ہر امیدوار فائنل تک پہنچتا۔ علی ہنس دیا آپ دیکھتے ہیں ماسٹر شیف؟ اسےجانے کیوں حیرت ہوئی ہاں اب تک کا ہر سیزن دیکھا ہے۔ کورین لیکن۔ اس نے وضاحت بھئ کی۔ ہمم۔ ظاہر ہے۔ اب میں یوکے کا دیکھتی ہوں۔شوق سے مگر مجال ہے کوئی پکوان بنانے کا دل کرجائے۔ پھیکے سیٹھے کچے پکے کھانے اس نے منہ بنایا۔ میں تو اس لیے دیکھتا ہوں کہ ترکیبیں آزما سکوں تم نے جب ترکیبیں ہی نہیں آزمانی تو کیوں دیکھتی ہو؟ علی کا سوال جائز تھا وہ خود بھی سوچ میں پڑی۔ پتہ نہیں۔ ایویں دیکھتی ہوں۔ اس نے ذیادہ ذہن پر زو رنہیں ڈالا۔ میں نے ذیادہ کھالیا آج ۔ آپکا ایک بار پھر شکریہ اس نے ضائع نہ ہو اسلیئے پلیٹ صاف کرلی تھی۔ کھا پی کر کافی توانائی محسوس ہو رہی تھی۔سو اخلاقیات عود عود کر آرہی تھیں۔ تم مچھلی کھا لیتی ہو اکثرسبزی خور تو مچھلی بھی نہیں کھاتے۔۔ علی نے کہا تو وہ تنک کر بولی آپ سے کس نے کہا میں سبزی خور ہوں۔ میں شدید گوشت خور ہوں سبزی بنا گوشت کے کھانا پسند نہیں مجھے اور چکن کی تو دیوانی ہوں میں۔ پھر یہاں سبزی پر اتنا زور کیوں؟ اس دن ہیم کھانے پر غصہ کر رہی تھیں یہاں صرف ویج آپشنز پر دھیان تھا تمہارا۔ علی کو سچ مچ حیرت ہو رہی تھی۔ اریزہ نے گہری سانس لیکر الٹا اس سے سوال کرلیا آپ کیوں صرف سبزیاں کھا رہےتھے یہاں بیٹھ کر؟۔اپنے گھر میں تو چکن بھی بناتے ہیں۔ میں مسلمان ہوں حلال گوشت کھاتا ہوں مسلمان ایک مخصوص طریقے سے ہی کٹنے والا جانور کھا سکتے بس۔ علی نے برا مانے بنا وضاحت کی ہاں تو آپکو کیا پتہ کہ میں بھی مسلمان ہوں ۔ اریزہ نے کہا تو وہ نفی میں سر ہلاگیا نہیں۔ تم مسلمان نہیں ہو اتنا تو پتہ لگ جاتا ہے۔ اسکا انداز تیقن بھرا تھا کیا مطلب کیسے لگ رہا میں مسلمان نہیں ؟ وہ حیران رہ گئ۔ تو کیا تم مسلمان ہو؟ علی کا انداز بے یقینی بھرا تھا۔ ہاں ۔ اسکی پیشانی پر سلوٹ پڑی۔ زور دے کر بولی میں پاکستانی مسلمان لڑکی ہوں۔ واقعی ؟ اسے جیسے ابھی بھی یقین نہیں آیا تھا۔ بالکل۔ آپ نے کیسے اندازہ لگایا کہ میں مسلمان نہیں؟ اسے حیرت ہورہی تھی یہاں تو اسکو لگتا تھا ہر کوئی پہلی ملاقات میں ہی جان جاتا ہے یہ بات۔ مجھے حیرت ہے۔۔ علی نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا۔ تم دیکھنے میں بالکل مسلمان نہیں لگتی ہو۔
کیا مطلب مسلمان لڑکیوں کے سر پر سینگ نکلے ہوتے ہیں؟ اسے غصہ آگیا تھا۔ اسے غصے میں آتے دیکھ کر علی خاموش ہوگیا۔ تم برا مان رہی ہو معزرت مجھے جو لگا میں نے بتا دیا۔ برا ماننے والی بات ہی ہے۔ میں نے کبھی اپنا مزہب اپنی شناخت نہیں چھپائی۔ اریزہ کا انداز مزید سخت ہوگیا تھا۔ تم نے چھپائئ نہیں ہوگی مگر دکھائی بھی نہیں۔ تمہیں دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ تم مسلمان ہوگی۔خود کو دیکھو مسلمان لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں بھلا نا اسکارف نا کوئی دوپٹہ کھانا کھاتے بسم اللہ بھی نہیں پڑھی بوائے فرینڈ کرسچن ہے تمہارا کونسی بات ہے تم میں مسلمانوں والی علی انتہائی تلخ حقیقت اسی رسان بھرے انداز میں بتا رہا تھا۔اور وہ ششدر سی سن رہی تھی۔ یہ سب اسی کے بارے میں کہا جا رہا ہے؟ اسکو یقین نہیں ہو رہا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد
جاری ہے
Kesi lagi apko salam korea ki yeh qist?Rate us below
ڈرائیور کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگا ۔ اس نے تیزی سے جا کر سنتھیا کے کمرے کا دروازہ کھٹکایا . چند دستکوں پر بھی نہ کھلا تو اس نے زور لگا کر کھول دیا تھا۔ کمرے میں تالا نہیں لگا تھا مگر کوئی تھا بھی نہیں۔ کیا ہوا آپ جانتے ہیں کون ہے سنتھیا ؟ ڈرائور نے حیرت سے پوچھا تھا۔اسکے پاس جواب دینے کا وقت نہیں تھا۔ اس نے فورا فون نکال کر کال ملانی چاہی۔ مگر کس کو کال ملائے؟ سنتھیا کا تو نمبر اسکے پاس تھا بھی نہیں۔ ۔ سر جھٹک کر وہ خود ہی ڈھونڈنے کا ارادہ کرتا گوشی وون سے نکلا میں آپکو لے چلتا ہوں جہاں جانا۔ ڈرائیور اسکے پیچھے بھاگا آیا تھا۔ تیزی سے ڈرائئونگ سیٹ کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے کہا تھا۔ کم سن سر ہلاتا ٹیکسی کی جانب بڑھا جب اسے شائبہ سا گزرا ۔ کن اکھیوں سے نظر آتا وجود۔ وہ آیکدم سے رکا۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا ۔ داخلی گلی سے خراماں خراماں چل کر آتی سنتھیا سامنے ہی کھڑی تھی۔ ہاتھ میں کافی کا مگ تھامے۔ اسے دیکھتا پا کرشائد یونہی ٹھٹھک کر رکی تھی۔ ہائیش۔ اس کی جیسے جان میں جان آئی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ سوچا کافی پی لوں تو بہتر محسوس کروں گی۔ یہیں کنوینیئنس اسٹور تک گئ تھی بس۔ گارڈن کے باہر سنگی کیاری سے ٹکے کافی کا گھونٹ بھرتی وہ مضبوط انداز میں بتا رہی تھی۔ کم سن نے گہری سانس لی۔ میں معزرت خواہ ہوں۔ یقینا زبان الگ ہونے کی وجہ سے کوئی غلط فہمی ہوگئ ہوگی۔ میں بنیاد پرست مسیحی ہوں حرام موت مرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اس نے ہنس کر کہا تھا۔ کم سن نے بغور اسکی شکل دیکھی ۔ اتنی بغور کہ وہ تھوڑا جز بز سی ہوگئی۔ چلتا ہوں میں۔ تمہارا بوائے فرینڈ بے ہوش پڑا ہے اپنے کمرے میں۔اسے ہی چھوڑنے آیا تھا میں۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ کیا ہوا اسے؟ وہ گھبرا کے بولی تھی۔ پی کے ٹن ہے۔ اس کا انداز تسلی دلانے والا تھا۔ سنتھیا کچھ کہتے کہتے ہونٹ بھینچ گئ۔ تمہارا نمبر میرے پاس نہیں تھا کہ میں کال کرکے پوچھ لیتا معاملہ۔ کم سن نے کہا تو جوابا اس نے بس سر ہلادیا۔وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔ پھر والٹ سے اپنا کارڈ نکال کر اسکی جانب بڑھا دیا۔ بڑھاتے ہوئے اس نے حسب عادت اپنا دائیں بازو کی کلائی چھو لی تھی۔ میرا نمبر رکھ لو۔ کبھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔کام آئے گا۔ اب وہ اتنی بھئ بد تمیز نہیں تھی۔ ہاتھ بڑھا کر کارڈ لے لیا۔ سیدھا ہاتھ بڑھا کر کارڈ لے لیا۔ کورین ثقافت میں یہ خاصی معیوب حرکت تھی۔ ہمیشہ کورین کسی کو کوئی چیز دیتے یا لیتے وقت اپنا دایاں ہاتھ کلائی سے چھو لیتے ہیں۔یا دونوں ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ سنتھیا جیسے اسکا کارڈ حفظ کر رہی تھی۔ وہ مزید بھئ کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر پھر ہمت نہ ہوئی۔ کرم۔ اس نے اتنا آہستہ سے کہہ کر رخصت چاہی کہ خود بھی بمشکل آواز آئی ۔ دو قدم ہی بڑھائے ہوں گے کہ سنتھیا نے پکار لیا۔ کم سن۔۔ اپنے نام کا اتنا مختلف تلفظ اسکے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا تھا۔ اس نے دباتے ہوئے مڑ کر دیکھا۔ یہ تمہاری کمپنی ہے؟ کوئی جاب ہے ایسی جو میں کر سکتی ہوں اس میں؟ اس نے سیدھا سوال کیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سیدھا اپنے کمرے میں آکر اپنے بستر پر گرا تھا۔ چت لیٹے وہ چند گھنٹوں قبل والے منظر میں ہی اٹکا تھا۔ لوگوں میں سے رستہ بناتے وہ جب اریزہ تک پہنچا تھا تو حقیقتا اسے یوں بے دم سا دیکھ کر ایک لمحے کو اسکے حواس گل ہو گئے تھے۔ اریزہ۔ وہ بے تابی سے پکارتا گھٹنوں کے بل جھکا تھا۔ اسکے گرد لڑکے لڑکیوں نے گھیرا سا بنا دیا تھا تاکہ کوئی آگے نہ آسکے۔ رضاکاروں کے اسے اسٹریچر پر لٹا کر اٹھانے تک وہ اسے پکارتا رہا تھا۔ اور اس نے لمحہ بھر کیلئے آنکھ کھول کر دیکھا تھا۔ ہاتھ بڑھایا تھا۔ اسکی انگلیاں زخمی تھیں مگر اس نے اسکی جیکٹ مٹھی میں پکڑ لی تھی۔ اور کچھ کہنا بھی چاہا تھا۔ اس نے کروٹ لی تو جیکٹ کی جیب میں رکھی انگوٹھی کا کیس کمر میں چبھا تھا۔ اس نے سی کرکے ایکدم سے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے جیب سے کیس نکالا۔ جانے اسکی قسمت کے ستارے گردش میں کیوں تھے۔ اس نے کیس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ تبھی اسکی نگاہ سائیڈ ٹیبل پر رکھے گلابی لفافے پر پڑی۔ اس نے اٹھا کر کھولا۔ بے حد خوبصورت ہلکے گلابی پھولوں کا گلدستہ بنا ہوا تھا جس پر ایک کوریائی نظم لکھی تھی۔ تم جو چاہو سمندر کی گہرائی ماپنا تو تم چاند بنو کہ لہروں میں تلاطم بپا کرسکو جو تم دنیاپر حکومت کی آرزو کرو تو یک جنبش سے موسم بدل سکو یہ میری آرزو ہے تمہاری ہر خواہش کا کئی گنا تمہیں ملے مگر تم نے فقط ستاروں کی چاہ کی ہے۔ تو جان لو یہ تو تمہارے قسمت میں پہلے سے ہی لکھے ہیں مبارک ہو میرے بھائی جو چاہا ملا تمہیں۔ سدا خوش رہو مجھے پتہ ہے تمہیں کوئی لڑکی انکار کر ہی نہیں سکتی ہے۔ یہ کارڈ نونا نے اسکے لیئے لکھا ہوگا۔اسکے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ آئی تھی۔۔ کارڈ دیکھتے وہ دھیرے سے بڑبڑایا۔۔ کتنئ خوش فہمی ہے آپکو میرے بارے میں۔ کیا کہوں اس نے آج پہلی بار میرا ہاتھ تھاما تھا۔ میرا نام بھی لیا تھا۔ مگر۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوپ نے کہا تھا وہ گھر نہیں آئے گی آج جبھی رات کو تمہاری وجہ سے میں واپس آئی ورنہ میرا قطعی ارادہ نہیں تھاواپس آنے کا۔ یون بن تو کہہ رہا تھا کہ میں سامان لیکر ہی چلوں صبح وہ بجائے یہاں آنے کے مجھے سیدھا بس اڈے لے جاتا۔ گوارا اسکے سامنے ٹوسٹ اور ہاف فرائی انڈہ رکھتے کہہ رہی تھی۔ اسکی تین انگلیاں کچلی گئ تھیں شائد کسی کے پائوں کے نیچے آکر ۔ بینڈیج تو اس نے نہیں اتاری تھی مگر ہاتھ پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔ سو وہ الٹے ہاتھ سے ہی ٹوسٹ کا نوالہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔ شکریہ یار تم سراپا پیار ہو۔ اریزہ کے انگریزی میں مکھن لگانے پر وہ ہنس دی۔ پھر ٹوسٹ کا نوالہ بنا کر اسکے منہ میں ڈالا۔ مجھے فکر ہو رہی ہے تمہاری۔ ایسا کرتی ہوں ٹکٹ کینسل کرا دیتی ہوں آج ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔ پراپر چیک اپ کرائو کوئی فریکچر نہ ہوگیا ہو۔ گوارا سچ مچ فکر مند ہو رہی تھی۔ ارے بچی تھوڑی ہوں میں۔ جائو تم میں خود چلی جائوں گی ڈاکٹر کے پاس فکر نہ کرو۔ اریزہ کو اسکا خلوص شرمندہ کر رہا تھا۔ ہاں بچی نہیں ہو جبھی اندھیرے سے ڈرتی ہو اکیلے رہنے سے ڈرتی ہو۔ مجھے حیرت ہے ویسے کیا واقعی کبھی پاکستان میں اکیلی نہیں رہی ہو گھر میں۔میرا مطلب ہے والدین ہر وقت تو ساتھ نہیں ہوتے نا۔ وہ اپنے ماحول کے مطابق کہہ رہی تھی۔ پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔ اسکا جواب مختصر تھا۔ گوارا کندھے اچکا کر رہ گئ۔ اس نے بے دلی سے ناشتہ ختم کیا تھا۔ جائو فریش ہو لو جاتے ہوئے اچھی سی تصویر بنا کر لیکر جائوں گی تمہاری تاکہ سفر اچھا گزرے میرا۔ گوارا نے جیسے اسے پچکارا۔وہ یونہی سستی سے اٹھ کر نہانے گھس گئ۔ اپنے بیگ کو سمیٹ کر وہ بیڈ پر دھپ سےبیٹھی پھر ایکدم اٹھی۔ وہ شائد اریزہ کا موبائل تھا۔ اس نے ایک نظر بند دروازے پر ڈالی پھر اسکا موبائل اٹھا لیا۔ لاک نہیں تھا۔ وہ سہولت سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ اریزہ آئم سوری مگر ہیون کا مسلئہ بھی اہم ہے مجھے ہی تم دونوں کی مدد کرنی پڑے گی۔ وہ سہولت سے اسکے موبائل کی گیلری کھول کر دیکھنے لگی۔سنتھیا اور اریزہ کی تصویروں کا ایک انبار تھا۔بہت اسکرال کرکے نیچے جا کے اسے وہ مطلوبہ تصویریں ملی تھیں۔ لال جوڑا۔ دلہن کا اوتار۔ ساتھ وہ استحقاق سے بیٹھا شخص جو ٹھیک ٹھاک تیار تھا۔دلہن کی ٹکر کا ہی۔ پھر خیال آیا تو اپنا موبائل اٹھا کر تصویر کی تصویر کھینچ لی۔ تبھئ ہیون کالنگ لکھا نظر آیا۔ وہ گڑبڑا سی گئ اسکا موبائل وابریٹ کر رہا تھا اس نے گڑبڑاہٹ میں نو کرکے رکھنا چاہا مگر کال موصول ہوگئ اسلام وعلیکم صبح بخیر۔ ہیون کی پرجوش سی آواز۔ وہ ٹھس سی ہو کر رہ گئ۔ آننیانگ۔ بمشکل منہ سے نکلا تھا گوارا۔ ؟ وہ فورا آواز پہچان گیا دے۔ اس نے سوچ کے جواب دیا تھا اریزہ کہاں ہے؟ وہ جہاں بھئ ہے تم کہاں ہو؟ کیا کر رہے ہو؟ وہ چڑھ دوڑی۔ کیا ہوا گھر میں ہوں تیار ہو رہا ہوں ۔۔ وہ حیران ہوا اسکے انداز پر صبح صبح بلاوجہ بس تیاریاں ہی ختم نہیں ہو رہیں تمہاری۔جانے کس انتظار میں ہو۔ ایک ذرا سا زبان نہیں ہلائی جا رہی ہے تم سے۔ وہ بھنائی۔ تم اگر کورین ڈرامے دیکھنے کے عادی ہوتےتو تمہاری احساس ہوتا سائیڈ ہیرو والی سب غلطیاں دہرارہے ہو تم۔ گوارا کو اتنا غصہ آرہا تھا کہ دل کر رہا تھا فون سے نکل کر کان کھینچ لے اسکے ہیون اسکی بات پر الجھن ذدہ انداز میں فون دیکھنے لگا۔ مطلب۔ وہ واقعی نہیں سمجھا تھا مطلب سادہ سا ہے۔ مواقع بھی اسی کو ملتے ہیں جسکو ان مواقعوں سے فائدہ اٹھانا آتاہو۔ ذرا گنو کتنے مواقع اب تک گنوا چکے ہو ۔ سادہ سا سارانگھیئے کہنے میں اتنا ہچکچا کیوں رہے ہو۔ اریزہ جتنی بھی مختلف لڑکی سہی سر تو نہیں پھاڑ دے گی نا تمہارا آئی لو یو کہنے پر۔ کل بہترین موقع تھا کہتے اسے آئی لو یو مگر نہیں جانے کس کے انتظار میں ہو تم ۔کل کلاں کو کسی اور نے تم سے ذیادہ ہمت دکھا دی تو بیٹھے رہنا سر پر ہاتھ رکھ کر روتے۔ گوارا نے بنا لحاظ ٹھیک ٹھاک سنا دی۔ کل کیسے کہتا ۔۔ وہ چڑ کر کہتے یکدم رکا۔ خیال آیا تو پوچھنےلگا کل اریزہ نے بتایا تمہیں۔ ہاں گر گئ تھی وہ اسکا ہاتھ زخمی ہوگیاہے۔ تم کہاں تھے اس وقت ویسے؟ چوٹ لگنے کیسے دی اسے ؟ گوارا نے کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا اسے۔ اب کیسی ہے وہ؟ وہ احتیاط سے بات کر رہا تھا۔ ہاتھ سوجا ہوا ہے میں اسے کہہ رہی تھی ایکسرے کروائے اور ڈریسنگ بھی دوبارہ کروانی ہوگی اسے۔ کہا تو ہے اس نے آج جائے گی۔ تم لے جائونا اسے۔ وہ جتانے والے انداز میں بولی۔ ہوں اور ہوپ کیسی ہے؟ ہیون نے پوچھا تو وہ الٹا اسے پوچھنے لگی پتہ نہیں رات گھر نہیں آئی تم کیوں پوچھ رہے ہواسکو کیا ہونا؟ ایسے ہی ۔۔ کل وہ بھی آئی تھی کانسرٹ میں۔ وہ ٹال گیا۔ اچھا اور اس ہوپ نے تمہارے منہ پر آکر ٹیپ چپکا دی ہوگی کہ۔خبردار آج اریزہ کو پرپوز نہ کرنا ہیں۔ وہ بھی جوابا تیز ہو کر بولی تو ہیون قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تم بھی نا۔۔۔اچھا اریزہ کو بتا دینا میں آرہا ہوں تیار رہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اتنی اداس سی شکل بنا کر اسے دروازے تک چھوڑنے آئی تھی کہ گوارا دیکھ کر رہ گئ تم میرے ساتھ ہی چلو مجھے پتہ ہے اس ہوپ کے ساتھ رہناکتنا ہوپ لیس ہے۔ گوارا نے کہہ ہی دیا۔ وہ ہنس دی۔ یار میں جاب کرتی ہوں اب اور اب اکیڈمی جوائن کر رہی ہوں ہنگل سیکھوں گی تھوڑا پڑھائی پر دھیان دوں گئ مجھے یہاں سے اب ڈگری لیکر ہی جانا ہے۔ چھٹیوں کا وقت نہیں میرے پاس۔۔۔ اس کا ارادہ مصمم تھا۔ گوارا نے مسکرا کر سر ہلا دیا اچھا سنو وہ ہیون کی کال آئی تھی کہہ رہا تھا تیار رہنا وہ آرہا ہے یاد سے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے تمہیں۔ وہ جاتے جاتے کچھ یاد آنے پر پلٹی۔ تمہیں فون آیا تھا؟ وہ حیران ہوئی نہیں تمہارا فون بج رہا تھا میں نے اٹھا لیا۔ نام ہیون لکھا آرہا تھا انگلش میں تھا تو میں نے پڑھ کر اٹھا لیا۔تم لوگ فون بک میں اپنی زبان میں نام سیو نہیں کرتے؟ گوارا حیران تھی۔ اریزہ نفی میں سر ہلا کر رہ گئ۔ اچھا یار میں نکلتی ہوں یوں بن اب کیا اوپر آئے گا پارکنگ میں ہی رکنے کو کہا ہے میں نے۔ اور تمہیں نیچے تک آنے کی ضرورت نہیں بہت سردی ہے آج۔ اسے گلے لگا کر پیار کرتے ہوئے گوارا نے محبت سے کہا تھا۔ میں بہت یاد کروں گی تمہیں۔ اریزہ نے اسکے کندھے پر تھوڑی رکھ کر دل سے کہا تھا میں بھی۔ گوارا بھی سچ مچ اداس ہو رہی تھی فون کرنا پہنچ کر۔ اسے دروازے سے رخصت کرتے کرتے اس نے یاد دہانی کرائی۔ جوابا گوارا مسکرا کر سر ہلاتے لفٹ کی جانب بڑھ گئ۔ دروازہ بند کرکے اندر آئی تو یکدم ویرانی کا سا احساس ہوا تھا ۔۔ یہ کوریا ہے۔یہاں جن بھوت نہیں ہو سکتے۔ تھوک نگل کر اس نے خود کو یقین دلایا۔ پھر اپارٹمنٹ کی ایک ایک بتی جلادی۔ ٹئ وی بھی آن کر دیا۔ اکیلے کمرے میں رہنا اس نے کس مشکل سے شروع کیا تھا کجا اکیلے گھر میں۔ کچن میں برتن دھونے لگ گئ سب سمیٹا۔۔۔ ایویں ہی بار بار اسے وہم ہو رہا تھا کوئی چل پھر رہا ہےیا اچانک کوئی بھیانک سی شکل والا پیچھے سے آکر کھڑا ہوجائے گا۔ اس نے زو رزور سے آیت الکرسی پڑھ کر خود پر پھونکی۔ اب تھوڑا محفوظ محفوظ محسوس ہورہا تھا۔ مگر یہ احساس وقتی رہا۔ تبھی ٹی وی پر کوئی پر اسرار سی موسیقی چلنے لگی۔ بس اسکی کمی تھی۔ وہ دانت کچکچاتی ٹی وی کے پاس آئی۔ کسی ڈرائونی فلم کا اشتہار تھا ایکدم ہی چیخ اور بھیانک سی شکل ٹی وی پر چھائئ۔۔ اس نے جھٹ چینل بدلا۔ اسکی اپنی آواز گم۔وہیں دھپ سے صوفے پر گر سی گئ۔اب سوجو کا اشتہار چلنے لگا۔ صبح صبح کون ڈرائونی فلم کا اشتہار لگاتا ہے۔ جاہل کورین۔۔ اسکا بس چلتا تو ٹی وی میں سے نکل کر صبح صبح منحوس شکل دکھانے والے کی شکل منحوس کر دیتی مار مار کر۔ مجھے ڈر نہیں لگ رہا ۔۔ سب ٹھیک ہے اس نے بول کر خود کو تسلی کرانی چاہی۔ تبھی اطلاعی گھنٹی بج اٹھئ۔۔ اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ کاش گوارا واپس آگئ ہو۔ یہ امید کرتے ہوئے اسے اس امید کے بودا ہونے کا احساس تھا۔ اطلاعی گھنٹی دوبارہ بجی۔ وہ ہمت کرکے اٹھ ہی گئ۔۔ پہلے کیمرے سے باہر دیکھا تو اطمینان کی لہر سی دوڑ گئ۔ اسلام و علیکم۔ صبح کی طرح تروتازہ مسکراہٹ تازہ دم سا خوشبوئوں میں بسا ہیون ہاتھ میں ایک بڑا سا شاپر لیئےکھڑا تھا۔ وعلیکم السلام۔ وہ خوش دلی سے کہتی ایک جانب ہوگئ۔ مجھے لگا تھا تم تیار ہو کر میرا انتظار کر رہی ہوگی۔ اسے سویٹ پینٹ اور اپر میں ملبوس ملگجے سے حلیے میں کھڑا دیکھ کراندر آتے ہوئے وہ ٹوکے بنا نہ رہ سکا۔ وہ شرمندہ سی ہو کر دروازہ بند کرنے لگی۔ بس پانچ منٹ لگیں گے۔ کافی پیوگے؟ اس نے تسلی دینی چاہی۔ نہیں ابھی پی کر ہی آرہا ہوں۔ وہ سہولت سے صوفے پر بیٹھ کرٹی وی دیکھنے لگا۔ وہ اطمینان سے کمرے میں آکر کپڑے لیکر باتھ روم میں گھس گئ۔ جینز ہائی نیک اور اپر پہن کر وہ اپنے گیلے بال ڈرائر کر رہی تھی جب ہیون نے دروازے پر دستک دی۔۔
گیارہ بجے کلاس ہے تمہاری کتنا وقت لوگی اور؟ اسکے کہنے پر وہ چونکی۔ کونسی کلاس؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کامن سینس ہوتا ہے زخم کو صاف کرنا ۔ وہ خفگئ سے کہہ رہا تھا۔ گوارا کے کچن کی کیبنٹس کھول کھول کر دیکھتے اسے مطلوبہ چیز نظر آہی گئ۔ فرسٹ ایڈ باکس۔ اریزہ تھوڑی ہتھیلی پر جمائے کہنی میز پر ٹکائے ایک ٹک گھور رہی تھی۔ تم کتنے لمبے ہو۔ اس کیبنٹ تک میرا ہاتھ پہنچتا تک نہیں۔ گوارا کو بھی پنجوں کے بل کھڑا ہونا پڑتا ہے اسکو کھولنے کیلئے اور تم ۔۔ وہ سچ مچ یہی سوچ رہی تھی۔ سو کہہ دیا۔ ہیون ہنس دیا۔ میں اسے تعریف کے طور پرلیتا ہوں۔ بس قد ہی اچھا ہئ میرا ہے چلو کم از کم کچھ تو اچھا ہے۔ وہ بے چاری سی شکل بناتا اسکے مقابل آن بیٹھا۔ اسکا ہاتھ تھام کر احتیاط سے بینڈیج اتارنے لگا۔ نہیں تمہارے خد وخال بھی اچھے ہیں بالوں کا رنگ بھی سب سے اچھی بات ہے کہ تم دھیمے مزاج کے ہو ہر وقت مسکراتے رہتے ہو مجھے غصہ ور لوگ۔ اپنی تعریفوں پر ہیون نے یونہی سر اٹھا کر اسے دیکھا اسکے چہرے پر شرارتی سی مسکراہٹ در آئی۔ اریزہ ایکدم گڑبڑا کر چپ ہوئی۔ او رکیا کیا اچھا ہے مجھ میں؟۔ وہ اسکا زخم محلول سے صاف کرتے پوچھ رہا تھا۔ آہ۔ جواب تو کیا دینا تھا لگا تھا آگ ہی لگ گئ ہے ہاتھ میں اس نے تڑپ کر ہاتھ کھینچنا چاہا مگر ہیون کی گرفت مضبوط تھئ۔ بیان۔۔ اس نے فورا معزرت کی وہ ہلکے ہلکے سے پھونکیں بھی مار رہا تھا۔ زخم صاف کرنا ضروری ہے۔ سوری۔ اس نے کہتے ہوئے اسکی شکل دیکھی۔ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھرے وہ ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس نے جلدی سے آئنٹمنٹ کا لیپ کیا۔ اسکی انگلیاں چھپ سی گئیں سفید مادے میں۔ کل ڈاکٹر نے تمہاری انگلیاں دیکھی تو تھیں فریکچر نہیں ہے مگر پھر بھی اکیڈمی سے واپسی پر ہم ڈاکٹر کے پاس چلیں گے۔ ایکسرے کروالینا چاہیئے تسلی کیلئے۔ وہ مزید کہہ رہا تھا۔ اکیڈمی؟ اریزہ نے سوالیہ انداز میں دہرایا تم نے فارم فل کر لیا ہے نا ؟ پرسوں کہا تو تھا کل چلیں گے اکیڈمئ؟ ہیون کے پوچھنے پر وہ گڑ بڑا گئ۔ نہیں وہ۔ تم نے کل کا کہا تھا نا کل تو ہم کانسرٹ گئے تھے۔ اریزہ اور غلطئ مان لے اپنی کبھی۔ کل مطلب اگلا کاروباری دن اتوار کو اکیڈمی بھوتوں سے ملاقات کیلئے جانا تھا ؟ ہیون کی بات پر وہ سر کھجانے لگی۔ ہم لوگ ایسے موقع پر طنز میں کہتے کہ اتوار کو صفائی کرنے جانا تھا کیا۔ وہ ہنسی ہیون مسکرایا تک نہیں تو خجل سی ہو کر اٹھنا پڑا۔ خالی فارم لا کر اسکے سامنے رکھا۔ہیون اسے تاسف سے دیکھ کر رہ گیا۔ زندگئ میں کبھی میں نے کوئی فارم فل نہیں کیا ہمیشہ صارم فل کرتا ہے چاہے اسکول کا ہو کالج کا یا یونیورسٹی کا اور تو اور۔ اسکی لن ترانی سنتے وہ پوری توجہ سے فارم بھرنے لگا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باہر دھوپ نکلی ہوئی تھی پھر بھی اسے سردی محسوس ہو رہی تھی۔ گرم لانگ کوٹ کے نیچے اس نے موٹا سویٹر بھی پہن لیا تھا گلے میں مفلر ڈالا ہوا تھا پھر بھئ ناک سرخ اور ٹھنڈی ہوتی محسوس ہو رہی تھی اسے۔ اتنی سردی ہے نہیں ویسے۔ اسکے قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے ہیون اسکا مزاق اڑا رہا تھا۔اوور کوٹ اس وقت تھوڑا گرم لگ رہا تھا مگر اتنا بھی نہیں۔ میرے لیئے ہے۔اس نے شان سے گردن اٹھا کر کہا تھا۔ تیز دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ مگرخنکی لگ رہی تھی ہم پیدل جائیں گے؟ اس نے یونہی پوچھا تھا ہاں دو گلی۔چھوڑ کر ہی۔ہے۔ ہیون نے اطمینان دلایا۔ یہ وہی گلی ہے نا جس کے بارے میں تم خوفناک کہانی سنا رہے تھے۔ اس نے پہچان لی۔ ہیون محظوظ سے انداز میں سر ہلانے لگا پتہ ہے ہمارے گھر کے قریب بھی ایک گلی کے بارے میں مشہور تھا کہ رات کو وہاں چڑیل پھرتی ہے۔ صارم کو بڑا شوق ہوتا تھا اسے دیکھنے کا۔ اکثر رات کو جب ہم واک کرنے جاتے مجھے اتنا ستاتا تھا ہر بار جس گلی میں مڑتے اسی کے بارے میں کہتا تھا کہ یہ ہے وہ گلی۔ اف بہت ڈرایا ہے اس نے مجھے۔ ایک بار تو رو پڑی تھی میں۔ بس جس دن رو پڑی اسکے بعد اس نے مجھے تنگ نہیں کیا۔ تمہیں ڈرنا نہیں چاہیئے یہ جن بھوت سب بکواس ہے۔ ایویں لوگ کہانیاں بناتے تھے وقت گزاری کیلئے۔ ہیون نے یونہی کہا تھا مگر اریزہ کو ایمان تھا انکے ہونے پر کوئی نہیں ہوتے ہیں۔ ابھئ میں اکیلی تھی نا اپارٹمنٹ میں تو اتنا ڈر بھئ لگا مجھے بلا وجہ آہٹیں ہو رہی تھیں۔ اس نے جھر جھری سی لی۔ تم ڈر رہی تھیں کیوں؟ ہیون رک کر پوچھنے لگا ویسے تو میں نے آیت الکرسی پڑھ لی تھی اگر کوئی چیز تھی بھی تو بھاگ گئ ہوگی مگر میں کبھی اکیلی رہی نہیں ہوں نا تو بلا وجہ وہم ہو رہا تھا شائد۔ اسے خود پر غصہ بھی آرہا تھا۔ گوارا تو چلی گئ ہوگئ ہوپ بھی سارا دن تو گھرمیں نہیں رہا کرے گی تو تم ڈرتی رہو گی؟ ہیون بہت سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا میں جاب پر بھی تو جائوں گی۔ وہ کندھے اچکا گئی۔ ہم ویسے یہاں رک کیوں گئے۔ اس نے یونہی ادھر ادھر دیکھا تو وہ اہم شاہراہ پر آچکے تھے۔ سامنے مارکیٹ تھی کچھ دفتر فوڈ پوائنٹ بھئ ۔۔ ہیون نے اشارہ دکھایا۔ ابھی ٹریفک رواں تھا پیدل چلنے والوں کا اشارہ بند تھآ۔وہ اتنا مگن ساتھ چلتی آئی تھی کہ کب سڑک آگئ اسے پتہ نہ لگا۔ اشارہ کھل گیا تھا ہیون اسکے ساتھ اندر اسکول تک آیا تھا۔ دفتر میں فارم جمع کروا کر اسکی کلاس کی سلپ کارڈ سب کچھ لا کر اسکے ہاتھ میں تھمایا۔ گوماویو۔ اسکے انداز میں لاپروائئ تھی۔ یہ تمہارا بیگ۔ ہیون نے اسکو بیگ تھمایا۔ گرے اور بلیک امتزاج کا جدید فیشن کے مطابق خوبصورت سا کالج بیگ جس میں کئی کتابیں بھی تھیں۔وہ یہی سمجھی تھی کہ ہیون کا اپنا بیگ ہے۔ یہ۔ وہ جھجکی۔۔ میں اس سب کا بل بنا کر اکٹھے وصول لوں گا۔ فی الحال کلاس شروع ہونے والی ہے تمہاری۔ اس نے ذرا ڈپٹ کر کر کہا تو وہ چپ کر گئ۔۔ کرم۔ وہ کہہ کر جانے لگا مگر وہ اپنی جگہ ہی کھڑی تھی۔ نئئ جگہ اجنبئ شکلیں۔وہ یقینا جھجک رہی تھئ۔ وہ کچھ سوچ کر پلٹ آیا پھر ریسیپشن سے معلومات لیکر اسکو کلاس تک بٹھا کر گیا تھا۔ جب فارغ ہو جانا تو مجھے پیغام بھیج دینا میں آجائوں گا۔ اسکے کہنے پر وہ ہچکچا سی گئ۔ تم مت آنا۔ میں خود واپس چلی جائوں گی گھر۔ اسکی بات پر ہیون ایسے مسکرایا جیسے کسی بچے کی بات پر مسکراتے ہیں۔ ویسے تو واکنگ ڈسٹنس ہے مگر کیا تمہیں راستہ آتا ہے۔ ابھی میرے ساتھ آتے ہوئے تم نے اردگرد دیکھا تھا؟ اسکی بات پر زور و شور سے سر ہلاتے ہلاتے وہ رکی تھی۔ ہیون کھل کر ہنسا۔ کرم۔۔ وہ اجازت طلب کرتا چلا گیا۔ وہ اپنا سر تھام کر رہ گئ۔ کچھ ذیادہ ہی پیراسائیٹ بنتی جا رہی ہوں میں۔ اس نے دانت کچکچائے۔ آننیانگ واسے او۔ جماعت میں داخل ہوتے ہوئے انکے استاد نے خوش دلی سے سلام جھاڑا تھا۔ وہ ایکدم چوکنا سی ہو کر بیٹھی۔ سامنے دیکھا اور آنکھیں پھیل سی گئیں۔استاد محترم نے بھی طائرانہ نگاہ جماعت پر ڈالتے ہوئے اسکی موجودگی کو نوٹس کیا اور خوشدلی سے مسکرا دیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کلاس فل ہیٹڈ تھئ۔ جہاں کلاس ختم ہونے پر سب طلبا ء جان چھٹی سو لاکھوں پائے کی مصداق باہر بھاگے تھے وہاں وہ آرام سے ایک کرسی پر بیٹھ کر دوسری پر پائوں رکھ کر سکون سے بیٹھ کر موبائل استعمال کرنے لگی۔وہ اسکو ہی دیکھ رہا تھا سب طلباء اٹھ اٹھ کر نکل گئے اسکا اطمینان قابل دید تھا۔ لانگ کوٹ جینز جوتے گلے میں مفلر وہ ملفوف تھی آج بھئ۔ وہ مسکرا کر سر جھٹکتا اسکے پاس ہی چلا آیا ہیلو۔ اسکے قریب آکر کہنے پر وہ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی ہا۔۔ ہیلو۔ بہر حال وہ اب اسکا استاد تھا وہ مزے سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے نیم دراز بیٹھئ تھی۔ کیسی ہو۔ وہ اطمینان سے اسکے قریب کرسی پر ٹک گیا ٹھیک ہوں آپ کیسے ہو۔ اسے اسکے یوں قریب آ بیٹھنےپر حیرت ہوئی تھی مگر مسکرا کر ہی جواب دیا آپ کی دو تین کلاسز مس ہو چکی ہیں ہنگل کی آج میری چوتھی کلاس تھی۔ آپ تو پیچھے رہ جائیں گی اس طرح۔ اس نے کہا تو وہ لاپروا سے انداز میں بولی عام بول چال میں بالکل کوری نہیں ہوں میں آجکا لیکچر بھی سمجھ آیا ہے مجھے اور ہم جب یہاں آئے تھے سمسٹر کئ آغاز میں تو ہماری ابتدائی ہنگل کی کلاسز یونی میں ہوتی تھیں تھوڑی بہت آتی ہی ہے مجھے۔ علی مسکرا دیا کھانے کا آرڈر کرتے ہوئے کیا جملہ بولنا چاہیے اگر آپ ویجیٹیرین ہوں؟ سادہ سوال۔ ساری ہنگل کے ترمرے سے آنکھوں کے سامنے ناچنے لگے۔۔ پہلا سبق نیا ٹیچر پکا گائودی سمجھے گا۔ اریزہ اپنے زنگ لگے دماغ کو رگڑ لو یہی وقت ہے۔ اس نے اپنے ذہن کے گھوڑے دوڑائے۔ ہیم سونگ چھےاو۔ ۔۔ اس نے چٹکی بجا کر جتانے والے انداز میں کہا۔ علی بے ساختہ ہنستا چلا گیا۔ اریزہ نے خاصئ حیرت سے اسکے ردعمل کو دیکھا۔۔۔ اگر یہ غلط ہے بھی تو آپکو مزاق اڑانے کی بجائے تصحیح کر دینا چاہیئے ۔۔ وہ خفا ہوگئ تھی۔ بیگ اٹھا کر ڈیسک سے اپنی ابتدائی ہنگل کی کتاب سمیٹنے لگی۔ خفا خفا سی منہ پھلائے۔ علی کو اپنی ہنسی کو بریک لگانی پڑی۔ ہیم پیگا چوسے او۔ یہ ہے درست جملہ۔ مطلب سور کا گوشت نکال کے دو۔ علی کا مقصد اسکو خفا کرنا نہیں تھا سو فورا تصحیح بھی کردی۔ اس نے سر ہلادیا۔ اور موبائل اٹھا کے دیکھنے لگی میسج آیا تھا اسے۔ ویٹ۔ اسے اپنے ٹیچر کا مستقل ٹکٹکی جما کے دیکھنا سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔ بھوک بھی لگ رہی تھی اور گھر بھی جانا تھا۔وہ اٹھ کھڑی ہوئئ گھر جا رہی ہو ؟اسکئ ٹیچر کو آج بہت فکر ہو رہی تھی اسکی۔ جی۔وہ کہتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گئ۔علی کی مسکراہٹ گہری ہوگئ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ گیلری سے باہر جھانک رہی تھی۔ نرم گرم دھوپ بیچ دوپہر گیارہ سے تین کلاسز تھیں۔ سو اس وقت وہ دھوپ سینک سکتی تھی۔ اوور کوٹ اس نے گرمی لگنے پر اتار کر ریلنگ پر ٹانگ دیا۔ مگر ہائی نیک پہن رکھی تھی۔ اب اندر اسے پسینے آرہے تھے تمہیں سردی بہت لگتی ہے عادت نہیں ہوئی ابھی؟ اس نے گرم گرم کافی اور چیز سینڈوچ کا شاپر اسے لا تھمایا۔ دے۔۔ وہ بس اتنا ہی کہہ سکی۔ عجیب لگ رہا تھا کہاں وہ اسکا استاد اور اب اس سے کافی اور چیز سینڈوچ کی ٹریٹ لینا۔ شاپر میں دو سینڈوچز تھے یقینا ایک وہ اپنے لیئے لایا تھا۔ اس نے ایک سینڈوچ نکال کر شاپر واپس کردیا۔ چیز سینڈوچ کھا کھا کے نفرت سی ہی ہونے لگی تھی۔ مگر بھوک بھئ لگ رہی تھی۔ اس نے کافی تیزی سے ختم کیا تھا۔ ہیون نہیں آیا ابھئ تک؟ علی نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلادیا۔ آتا ہوگا۔ بہت ذمہ دار لڑکا ہے۔تمہارا انتخاب اچھا ہے۔ اسکی بات پر اس نے ترچھی سی نگاہ ڈالی تو علی نے وضاحت دینے والے انداز میں کہا۔ اچھا لڑکا ہے ہیون۔۔۔ سچ کہوں بہت اچھا ہے۔ علی یقینا رشتہ کرانے والی عورتوں کی طرح دوبارہ تعریفوں کے پل باندھنے لگا ہے ۔ سمجھ کیا رہا ہے یہ۔ اس نے ناک چڑھائئ۔۔ ہیون مجھ سے جونئر ہوتا تھا۔ ہمیشہ سے توجہ کا۔مرکز رہا وہ ۔ ہمارے اسکول کا امیر ترین اور نہایت اچھے مزاج کا متحمل لڑکا۔ایک بار میرا جھگڑا ہوا تھا اسکے دوست سے اپنے دوست کو۔بچانے یہ بیچ میں آگیا تھا پے در پے کئی مکے کھا لیئے اس نے مجھ سے مگر تب بھی پلٹ کر ہاتھ نہیں اٹھایا بس مجھے روکتا رہا۔ بعد میں سب لڑکوں نے مجھے اتنا ڈرایا کہ یقینا اب اسکے ابا مجھے آسکول بدلنے پر مجبور کر دیں گے۔ وہ اسکے برعکس ہلکے پھلکے انداز میں قصہ سناتا چلا گیا ہیون کا ذکروہ بھی اسکی تعریف اسے سننا اچھا لگا تھا وہ بھی کافی دلچسپی سے سنتئ گئ پھر؟ اس کے رکنے پر اریزہ نے فورا پوچھا۔ علی نے اپنی طرف سے بات مکمل کردی تھی مگر اسکے اشتیاق پر ذرا سا ہنس کر مزید بتانے لگا اگلے دن ہیون آیا نہیں اسکول میں نے بھی سوچا جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ دو تین دن بعد آیا چہرے کی سوجن کم ہوچکی تھی اس نے پوری کلاس کو ٹریٹ دی اور میرے لیئے الگ لنچ باکس لیکر آیا۔ سچی بات اسے دیکھ کر مجھے شرمندگی ہوئی بس پھر میں نے معزرت کی اور اسکے لائے رائس کیک کھا لئے۔ علی نے کندھے اچکائے۔ سنہری دھوپ میں اسکی بے تحاشا گوری رنگت چمک رہی تھی۔ پاکستان میں ہوتا تو فئیر اینڈ لولی کی ماڈل ہوتا۔ اریزہ کو سوچ کے ہنسی آگئ۔ کیا ہوا؟ علی نے دلچسپی سے اسکو ہنستے دیکھ کر پوچھا۔ کچھ نہیں۔ اس نے ٹالنا چاہا۔ مگر اسکے اصرار پر۔بتا دیا جوابا اس نے خوب اونچا قہقہہ لگایا پھر تو مجھے فورا پاکستان جانا چاہییے میرا مستقبل کافی روشن ہوگا پاکستان میں۔ علی محظوظ ہوا تھا۔ اریزہ سر کھجا کے رہ گئ۔ یقینا اسکی حس مزاح کافی اچھی تھی۔ ویسے پاکستان میں مسلمان ذیادہ ہیں ہے نا؟ مجھے امریکہ۔میں جتنے بھئ پاکستانی ملے سب مسلمان تھے۔ عیسائی کافی کم ہیں وہاں ۔۔ وہ کافی باتونی تھا یا اس کے ساتھ ہیون کی سہیلی ہونے کی وجہ سے اعزازی توجہ بخشی۔جا رہی تھی۔ ہاں کم ہیں مگر میری پکی سہیلی بھی عیسائی ہے۔ ہم ہمیشہ ساتھ رہتے آئے ہیں میری بہن جیسی ہے وہ۔ بولتے بولتے اسے دور سڑک پار کرتاہیون آتا دکھائی دیا۔ اچھا میں چلتی ہوں۔۔ اس نے کافی کا آخری گھونٹ بھرتے ہوئے بیگ کندھے پر سیدھا کیا۔عجلت میں ٹیک کئیر کہتی سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئ۔ ہیون کی۔نگاہ ٹیرس پر کھڑے علی پر پڑی تو ہاتھ ہلانے لگا۔علی نے بھی خوشدلی سے ہاتھ ہلادیا اریزہ تیز قدم اٹھاتی اسکے پاس پہنچ چکی تھی۔ شائد اسے گھرک رہی تھی کیونکہ ہیون مسکراتے ہوئے کان پکڑ رہا تھا۔مکمل منظر علی نے مسکرا کر سر جھٹکا تو یونہی ریلنگ پر ٹکے اس کوٹ پر نظر پڑی۔ ویٹ۔ہیلو۔ اس نے چونک کر آواز دے کر انہیں پکارنا چاہا مگر دونوں یونہی باتیں کرتے مڑنے لگے۔فاصلہ اتنا ذیادہ نہ تھا مگر دونوں شائد ایک دوسرے کے سوا کسی اور جانب متوجہ ہونا نہیں چاہتے تھے۔ علی نے کوٹ احتیاط سے اٹھا لیا۔ اب اسے کل ہی واپس لیا جا سکتا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چوٹ جتنئ بھی گہری ہو ذیادہ دوا لگانے سے زخم جلدی نہیں بھرتے۔ ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا تھا۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے ہیون کو دیکھا وہ خفت سے سر کھجانے لگا۔ڈاکٹر نے اسکا ہاتھ نرمی سے صاف کرکے کچھ دوائیں لکھ دی تھیں ۔ ایکسرے کروا کر دکھانے کی بھی تاکید کی تھی۔ معانقہ کرکے ہیون اور وہ اکٹھے ہی باہر نکلے تھے۔ اسکا ایکسرے بالکل ٹھیک تھا۔ انگلیاں بس باہر سے ہی زخمی ہوئی تھیں۔ ہڈی محفوظ تھی۔ زخم صاف کروانے کی تاکید ہی اسے دوبارہ ملی۔ اسپتال سے نکلتے شام ہو چکی تھی۔ ہیون کا سارا دن یقینا اسکے ساتھ برباد ہوا تھا۔اسے شرمندگی سی ہورہی تھی۔ ہیون نے اس سے رات کے کھانے کا پوچھا مگر اس نے سہولت سے منع کردیا۔ وہ اب اسے گاڑی میں گھر چھوڑنے جا رہا تھا۔ مکمل طور پر سڑک پر متوجہ ہیون کو دیکھتے اسے پھر شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے آج تمہیں بہت زحمت دی ہے ۔ آئی ایم سوری اس نے کہہ ہی دیا۔ ہیون نے اسے باقائدہ گردن موڑ کر دیکھا۔ شکریہ۔ اسے بھئ احساس ہوا الفاظ غلط استعمال ہو گئے ہیں۔ مجھے بالکل زحمت نہیں محسوس ہوئی۔ اسکا جواب مختصر تھا۔ اریزہ میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ کیا تم کل ڈنر پر چلو گی میرے ساتھ۔ بلا تمہید اس نے سوال کیا تھا۔ آج کیلئے تو وہ سہولت سے منع کر گئ تھی جبھی شائد۔ کیا بات کرنی ہے کرو۔ اس نے تجسس چھپاتے ہوئے کہا تھا۔ کل آٹھ بجے۔ ٹھیک۔۔ ا س نے گاڑی اسکی عمارت کے کمپائونڈ میں روکی تھی۔ ہوں ٹھیک ہے۔ بائے۔ وہ کیا کہتی سر ہلاتی اتر گئ۔ دوسری جانب سےگاڑی کا دروازہ کھول کر ہیون بھی اتر آیا۔ وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ ہوپ اگر نہ واپس آئی ہوئی تو تم ڈروگی۔ اس نے جیسے وضاحت کی۔ وہ یقینا اسکے ساتھ اپارٹمنٹ تک آنے والا تھا۔ ایک اور احسان۔ میں ہوپ سے پوچھ لیتی ہوں وہ آگئ ہوتو۔۔ اس نے کہتے ہوئے بیگ سے فون نکالا نکالتے ہوئے احساس ہوا کبھی اسکے او رہوپ کے درمیان اتنے تعلقات نہیں رہے کہ نمبر کا تبادلہ کرتیں دونوں۔ وہ شش و پنج میں پڑ گئ۔ ہیون نے سمجھ کر خود ہوپ کو فون ملا لیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم پاگل تو نہیں ہو گئ ہو؟ ایڈون نے ایکدم سے پیچھے سے آکر اسکوبازو سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے بھینچی ہوئی آواز میں کہا تھا۔ وہ کنوینیئس اسٹور سے ناشتہ خریدنے آئی تھی پیمنٹ کرکے باہر نکلی ہی تھی کہ اس افتاد نے حقیقتا اسے سہما دیا ۔ اسکا ایک لمحے کو تو لگا دل ہی بند ہو گیا ہے۔ ایڈون کو اسکی حالت دیکھ کر تھوڑا خیال ہوا تو بازو چھوڑ کر دانت کچکچاتے ہوئے بولا تم نے ماموں ممانی کو بتا دیا ؟ کوئی اندازہ ہے تمہیں کتنا بڑا بھونچال آچکا ہے وہاں؟ صبح سے تین فون آچکے ہیں انکے مجھے۔ تو تمہیں احساس ہوا پھر کہ میں لاوارث نہیں ہوں۔ مجھے پوچھنے والے لوگ ہیں جنکو مجھ سے سچ مچ محبت ہے جنکو میری زندگی کی پروا ہے ۔ وہ چٹخ کر بولی تمہاری پروا مجھے بھی ہے جبھی یہاں تمہارے ساتھ خواری کاٹ رہا ہوں احمق لڑکی۔ ۔ ایڈون نے بمشکل اپنے لہجے پر قابو پایا۔گہری سانس لیکر چند لمحے ادھر ادھر دیکھ کر خود کو پرسکون کرنے لگا۔ سنتھیا ایک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ سچ مچ پریشان بلکہ کمزور تھکا تھکا بھی لگا۔ اسکا دل نرم سا پڑا۔۔ دیکھو ۔۔ اس نے کچھ سوچ کر اسکا ہاتھ تھاما۔ تم۔۔ کہتے ہوئے اسکے ہاتھ میں تھامے شاپر پر نگاہ پڑی تو کہنے کا ارادہ ملتوی کیا۔ کنوینئیس اسٹور کے باہر لگی میز کرسی گھسیٹ کر اسے بٹھایا اسکے ہاتھ سے شاپر لیکر ڈبل روٹی مکھن دودھ نکال کر میز پر سجائے۔ پہلے ناشتہ کرلیتے ہیں۔ اس کے کہنے پر سنتھیا بنا کوئی اعتراض کیئے خاموشی سے نشست سنبھالنے لگی۔ ایڈون کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں چہرہ بھی تپا ہوا لگ رہا تھا۔جیسے بخار ہو۔اس نے توس نکال کرڈسپوز ایبل چمچ سے مکھن لگا کر اسکی جانب بڑھایا۔ تم کل دھت تھے نشے میں۔ اس نے جانے پوچھا تھا یا بتایا تھا۔ اس نے توس کی جانب ہاتھ نہیں بڑھایا تو ایڈون نے اسکا ہاتھ تھام کر توس پکڑایا۔ ہاں۔ یون بن کے ساتھ کلب گیا تھا وہاں تھوڑی پی لی تھی۔ وہی مجھے چھوڑ گیا ہوگا۔ اس نے وضاحت کی۔ کم سن آیا تھا چھوڑنے۔ اس نے توس کھانا شروع کیا۔ ایڈون نے سر جھٹکا۔ ہاں کم سن۔ وہ مکمل طور پر کھانے میں مگن تھا اور اسکی جانب دیکھنے سے دانستہ احتراظ کر رہا تھا۔وہ اس پر نگاہ جمائے تھی۔ رات کا منظر اسکی نگاہوں میں تازہ تھا۔ کم سن کے اطمینان دلانے کے باوجود وہ ایڈون کو دیکھنے آئی تھی۔ بیڈ پر اوندھاترچھا گرا تھا۔ کمبل ڈالنا تو دور اسکے جوتے بھئ نہیں اتارے تھے کسی نے۔ موبائل زمین پر شائد اسکی جیب سے پھسل کر گرا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر اسکے جوتے اتارے اسکی ٹانگیں احتیاط سے بیڈ پر کیں سر کے نیچے تکیہ رکھا کمبل کھول کر اڑھایا۔ موبائل تکیے کے پاس رکھا۔ اور ایڈون کا ناشتہ ختم ہو چکا تھا۔ اس نے بھی سلائس ختم کر لیا تھاخاموشی سے واپسی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے وہ بنا تمہید بولا تھا۔ صبح صبح ماموں کا فون آیا تھا مجھے۔ انہوں نے مجھے جو کہا وہ الگ داستان ہے۔ میں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا مجھے وہ غلط نہیں لگے۔ کوئی بھی ہوتا انکی جگہ اسکا یہی ردعمل ہوتا۔بہر حال وہ بھی میرے فیصلے کے حق میں ہیں۔ پہلی فرصت میں ابارشن کروانے کا کہا ہے انہوں نے۔ تم اب بنا کوئی بہانہ بنائے بنا کسی قسم کا مسلئہ کھڑا کیئے خاموشی سے اب وہ ہونے دو جو ہم سب کیلئے اس وقت بہتر ہے۔ چند جملے تھے۔ راستے پر محیط ہو گئے تھے۔ وہ بالکل چپ سی ہو گئ تھی۔ ایڈون جانے مزید کیا کہتا آیا یا شائد چپ ہی رہا تھا اسے یاد نہیں تھا۔ ایڈون کو بھی اندازہ تھا کہ اس وقت وہ یقینا مائوف سے ذہن کے ساتھ چل رہی ہے ۔ جبھی اسکو گوشی وون تک چھوڑنے آیا ۔سامان رکھا۔ اسکو کمرے میں بیڈ پر بٹھا کراسکے سامنے دوزانو بیٹھ کر دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اسکا چہرہ تھام کر بولا۔ میں بہت برا سہی مگر یہ حقیقت ہے تمہارے لیئے برا نہیں ہوں کبھی برا سوچ نہیں سکتا تمہارے لیئے کبھی بھی نہیں۔ کل تمہیں جو کچھ کہا وہ سب غصے میں کہہ گیاتھا۔ اسے بھلا دینا میں اب بھی تمہارے ساتھ ہی اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ آئی لو یو سنتھیا۔ اس نے کہتے ہوئے اٹھ کر اسکی پیشانی چوم لی تھی۔ پھر ایکدم سیدھا ہوا۔ میں ابھی جا رہا ہوں تم آرام کر لو کھانا میں شام کو لیتا آئوں گا اکٹھے کھائیں گے۔ٹھیک ہے؟ ٹھیک ہے۔ اس نے سرموق حرکت نہیں کی تھی جبھی اس نے بات دہرا کر پوچھا جوابا وہ تکیہ سیدھا کرتی بستر پر لیٹ گئ۔ ایڈون چند لمحے اسکے جواب کا انتظار کرتا رہا پھر اس پر کمبل ڈالتا ہوا کمرے کا دروازہ بند کرتا نکل گیا۔رات کے مناظر من و عن تازہ ہوئے تھے ذہن میں۔ سنتھیا کی آنکھیں جلنے لگی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنتھیا یہ کیا کردیا ۔۔ وہ سنتھیا کا اعتراف سن کر ہکا بکا سی رہ گئ تھیں۔ پھر لعن طعن کا طویل سلسلہ تھا۔ انکے کوسنے سنتے وہ چڑ گئ۔ ممی بس کریں میں مر جائوں اس سے آپکو کوئی فرق نہیں پڑے گا؟ بس عزت کی فکر ہے آپکو۔ وہ چلا اٹھئ تھی۔ مر جاتیں تم صبر کر لیتے۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم نے ہمیں کہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا ہے اوپر سے تم واپس آنا چاہ رہی ہو کیا بتائیں گے ہم سب کو کیا کہیں گے پڑھنے بھیجا تھا اور۔۔ سارا سر پر ہاتھ رکھ کر رو پڑی تھیں۔ پہلی بار سنتھیا کا دل سکڑا ممی میں مانتی ہوں مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے مگر ممی کیا بچوں سے غلطیاں نہیں ہوتیں؟ انکو معاف نہیں کیا جا سکتا؟ وہ فون تھامے بلک رہی تھی معاف کریں؟ ہماری کیا مجال ہے سنتھیامگر تم جیتی جاگتی سانس لیتی غلطی کیسے دنیا سے چھپائوگی؟ تم نہیں جانتی ہو زندگی تباہ ہو جائے گی تمہاری میری بچی۔ ماں تھیں بلک اٹھی تھیں اولاد کیلئے ہی۔ ۔۔ ایڈون ۔۔ وہ کیا کہتا ہے؟ ممی ایڈون بہت سنگدل ہے وہ ابارٹ کروادینا چاہتا ہے اسے۔ وہ جانتی تھی کس مشکل سے اس نے یہ الفاظ ادا کیئے تھے۔اسکی آواز ساتھ چھوڑ رہی تھی۔ سارا ماں تھیں یقینا اسکا درد سمجھ سکتی تھیں۔ ہو سکتا ہے ابھی؟ وہ ایکدم چونکیں۔ بولو سنتھیا ہو سکتا ہے ابھی؟ انکے لہجے کی امید سنتھیا سمجھ گئ وہ یہ آخری بازی بھی ہار گئ ہے۔ ممی۔۔ سنتھیا کے منہ سے آواز بھی نہ نکل پائی۔ کروائو فورا پھرابارشن۔ پیسے چاہیئئیں ہم فورا مزید بھجواتے ہیں ۔فکر نہ کرو تم اور دیر نہ کرو میری بچی بہت مشکل ہو جائے گی ورنہ اس بچے کو اس دنیا میں۔۔ بس کریں ممی۔ کیوں کیوں میں ایک جان لینے کا گناہ اپنے سر لوں۔ کیا حرج ہے اگر ہم اسکو دنیا میں آنے دیں ایسا کیا گناہ کیا اس معصوم نے جو سب اسکی زندگی کے دشمن بن گئے ہیں۔ وہ پھٹ پڑی۔ گناہ اس نے نہیں تم نے کیا ہے او ریہی ہوتا ہے ماں باپ کے گناہوں کی سزا انکی اولاد بھگتتی ہے اولاد کے کرنے ماں باپ کو بھگتنے پڑتے۔۔ اب بھگتو تم بھی جیسے ہم ناکردہ گناہ کی سزا بھگت رہے ہیں۔ سارا چٹخ کر بولیں۔ سنتھیا ایکدم آنسو پونچھ کر اٹل سے انداز میں بولی۔ ٹھیک ہے پھر میرا فیصلہ بھی سن لیں۔ اگر اس بچے کو کچھ ہوا تو میں اپنی جان بھی دے دوں گی۔ ٹھیک ہے دے دو جان صبر کر لیں گے ہم کہہ دیں گے مر گئ ۔۔۔۔۔ مر گئ ہو تم ہمارے لیئے سنتھیا ایسی اولاد ہونے سے بہتر تھا ہم بے اولاد رہتے۔ تمکو احساس تک نہیں ہو رہا تم نے ہمارے ساتھ کیا کرڈالا ہے۔ سارا بلک بلک کر کہہ رہی تھیں۔اس نے لعن طعن ڈانٹ ڈپٹ سب برداشت کرنے کا حوصلہ کرکے ماں کو سچائی بتائی تھی۔ یہ سوچ کر کہ شائد ایک ماں ہی ایک ماں کے جزبات سمجھ سکے مگر انکا ردعمل اسکی توقع سے ذیادہ شدید تھا۔ اگر اس بچے کا دنیا میں آنا نہیں لکھا تو صرف ایک ہی صورت ہوگی کہ اسکو دنیا میں لانے والی ہی نہیں رہی۔ آپ صبر کر لیں مجھ پر۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ حقیقتا خود کشی کے ارادے سے ہی نکلی تھی۔ کنوینیئس اسٹور میں چیزیں کھنگالتے آخراسے مطلوبہ چیز مل ہی گئ۔ وہ ایک تیز دھار کی چھری خرید کر نکلی ہی تھی جب اسے چرچ کی صلیب نظر آئی تھی۔ اونچی سی صلیب چرچ کا مینار اسکا دل ایکدم کھنچا تھا۔ اسکو اس علاقے کی ذیادہ پہچان نہ تھی مگر اونچی سی صلیب نیون سائن کی طرح چمک رہی تھی کرسمس قریب تھا سو اس پر برقی قمقمے دور سے بہار دکھا رہے تھے۔ وہ بے اختیار کھنچی گئ۔ اس چرچ تک کونسی گلی جاتی ہے کونسا راستہ وہ اندازے سے بڑھتی گئ دو دفعہ غلط مڑی ایک دفعہ راہ گیر سے پوچھا۔ چرچ کے گیٹ تک پہنچ کر اسے لگا تھا جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ ہے۔ چرچ میں کورس ہنگل میں کوئی نغمہ گنگنا رہے تھے کرسمس کہ تقریبات کیلئے تیاری ہو رہی تھی کچھ لوگ اگلی نشستوں پر بھی بیٹھے تھے وہ سب سے آخری رو کی قریبی نشست پر جا بیٹھی تھی۔ کوئی لمبی چوڑی تمہید نہیں باندھی تھی اس نے آپ جانتے ہیں نا میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ مجھ سے بھول ہوئی ہے مجھے بے شک معاف نہ کریں جو چاہے سزا دے لیں مگر مجھے مزید ایک گناہ کبیرہ کرنے سے بچا لیں۔ اس بچے کی زندگی آپکی ضمانت میں دیتی ہوں بچا لیں اسے۔ کچھ نہ ہونے دیجئے گا اسے۔ پلیز۔آپ تو جانتے ہیں نا؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی خیال آنے پر وہ ایکدم اٹھ بیٹھی۔ اپنے چہرے پر پھسل آنے والے آنسو صاف کرتی وہ اپنے کارڈیگن کی جیبیں ٹٹولنے لگی۔ کنوئنئس اسٹور کی رسیدیں کچھ ریز گاری۔ اور۔ وہ کارڈ۔۔۔ اس نے کارڈ کو مٹھئ میں بھرلیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوپ کا فون آس پاس ہی کہیں بجا تھا۔اس نے چونک کے دیکھا تو وہ کمپائونڈ میں اندر جاتے جاتے رکی تھی۔ وہ رہی میں چلتی ہوں بائے۔ وہ تیزی سے کہتی بھاگ کے ہوپ کی جانب بڑھی تھی۔۔ ہیون نے جواب دینے کیلئے منہ کھولا ہی تھا مگر وہ بھاگ چکی تھی۔ اس نے کال کاٹ کے موبائل جیب میں رکھ لیا اور گہری سانس لیتا واپس مڑ گیا۔ ہوپ موبائل میں مسڈ کال دیکھ رہی تھی۔ شائد کال بیک کرنے لگی تھی اس نے جا لیا۔ پھولی سانس سے بتایا۔ ہیون تھا۔ میں نے کال۔کروائی تھی کہ پوچھ سکوں کتنی دیر ہے۔ لفٹ ابھی آکر رکی تھی۔ ہوپ کو بتا کر وہ تیزی سے لفٹ کی۔جانب لپکی ۔ ہوپ کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے اسکی پیروی کرنے لگی۔ جلدی آئو۔ اسے سست قدم اٹھاتے وہ تھوڑا تپ کر بولی ہوپ ہیون کو کال ملا رہی تھی۔ خاصی ناگواری سے اسے گھورا تھا۔ جبکہ وہ لفٹ کا بٹن دبائے کینہ توز نگاہوں سے گھور رہی تھی۔ کیا جلدی ہے؟ وہ تیورئ چڑھا کر کہتی لفٹ میں داخل ہوئی تھی۔ اس نے جھٹ اپنے فلور کا بٹن دبایا۔ بیل جا رہی تھی ہیون نے دو تین بیلوں کے بعد فون کاٹ دیا تھا۔ ہوپ نے دزدیدہ نگاہوں سے اریزہ کو دیکھا وہ بالکل بھی اسکی جانب متوجہ نہیں تھی بلکہ بے چینی سے لفٹ کے پینل میں فلور گن رہی تھی انکے فلور پر دروازہ کھلتے ہی وہ بجلی کی تیزی سے نکلی تھی۔ بھاگ کرپاسورڈ لگا کر دروازہ کھولا حسب عادت ہاتھ مار کر بند بھی کردیا۔ اپنی جھونک میں آتی ہوپ کے منہ پر دروازہ بند ہوا تھا۔۔ کیہہ سیکی۔ بے ساختہ اسکے منہ سے گالی نکلی تھی۔ دوبارہ پاسورڈ لگا کر اندر داخل ہوئی تو پورا اپارٹمنٹ جگمگا رہا تھا اس نے سوئچ بورڈ کی سب لائٹس جلا دی تھیں۔کمرے کی بھی جل رہی تھی۔ ہوپ متجسس سی اندر داخل ہوئی تو کمرہ خالی تھا باتھ روم کا دروازہ بند تھا ۔ اسکی اتنی تیزی کی وجہ اب اسے سمجھ آگئ تھئ۔ وہ تھکی تھکی سی بیڈ پر گر گئ۔ آج کا دن بہت لمبا تھا اسکے لیئے۔اس وقت بالکل بھی ہمت نہ تھی اٹھ کر کھانا وانا کھانے کی بھی۔ وہیں گول مول سی ہو کر پڑ گئ سو بھئ گئ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے بھر بھر کر چھپاکے منہ پر مارے تھے۔ اس وقت اسکی حالت کافی بری ہو گئی تھی۔ باقائدہ پیٹ میں درد شروع ہو گیا تھا۔ گہری سانس لیکر دروازے کا سہارہ لیتی باہر آئی تھی۔ ہوپ بیڈ پر آڑی۔ترچھی پڑی بے خبر سو رہی تھی۔ چہرے پر تھکن نمایاں تھی۔ اتنی نمایاں کہ وہ بلا ارادہ رک کر دیکھنے لگی۔ اسکے نقوش کافی کھنچے کھنچے تھے۔شائد اسکے بے تحاشا دبلا ہونے کی وجہ سے۔ اس نے ایک جانب تہہ ہوا کمبل اسے پھیلا کر اوڑھایا۔ اور خود باہر نکل آئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پاس چار پیسے آجائیں گے تو کیا تکلیف پہنچے گی۔ وہ چڑی۔ ایک ہاتھ سے فون کان میں لگائے دوسرے ہاتھ سے وہ کٹے ہوئے آلو دھو رہی تھی۔ کیا فائدہ ان چار پیسوں کا مجھے وہ والا آئی پیڈ تو بھیجا نہیں ۔ خرید کر تو بھیجنا دور وہی والا بھجوا دو۔ وہ الٹی سیدھی ہانک رہا تھا تم اچھی طرح جانتے ہو وہ امانت ہے اور میں اسے واپس بھی کرنے والی ہوں۔ گھی گرم ہو چکا تھا اس نے بھر کر آلو اس میں ڈالے۔ ہاں وہ اتنا امیر کبیر فنکار انتظار میں بیٹھا ہوگا نا ابھی تک اس نے نیا خرید لیا ہوگا احمق۔ صارم نے اسکی عقل کا ماتم کیا تم بھی خرید لو نا کس نے روکا۔ وہ بے نیازی سے بولی۔ ایک ہاتھ سے آلو تلتے دوسرے ہاتھ سے فون کان سے لگائے وہ مصروف تھی۔ اچھا یہ بتائو کس نے ایڈمیشن کے پیسے دیئےہیں ؟ صارم سنجیدہ ہوا ہیون نے۔ اس نے تل جانے والے چپس پلیٹ میں نکالے۔ ایک وقت میں ہی کڑاہی بھر کر بنا لیئے تھے چولہا بند کرتے ہوئے وہ پلیٹ اٹھاکر فریج کھولنے بڑھی وہ ہی فارم فل کرواکے مجھے اکیڈمی چھوڑنے بھی گیا ساتھ کورس کی بکس سے بھرا بیگ بھی دیا مجھے ہا ہا ۔ بہت کیئرنگ ہے۔ یہ کس خوشی میں اتنا مہربان ہے تم پر؟ صارم کا انداز ایک ہاتھ میں موبائل تھا دوسرے میں پلیٹ فریج کھولنے کو ہاتھ بڑھاتے وہ ٹھٹھک کر رہ گئ۔ مطلب؟ اس نے مڑ کر پلیٹ میز پر ٹکائی۔ مطلب صاف ہے یہ کیوں اتنا مہربان ہے تم پر؟ ہر وقت تمہارے ساتھ رہتا ہے ہر کام اپنے ذمے لے رکھا ہے؟ کیوں؟ متھے نہ لگ جائے تمہارے یہ۔ صارم کا انداز تفتیشئ تھا۔ اسکے انداز پر وہ چڑ گئ۔ بس پاکستانی ذہنیت آگئ بیچ میں۔ یہ کوریا ہے یہاں لڑکے لڑکیاں ہئوا نہیں ایک دوسرے کیلئے۔ سب دوست کو دوست سمجھتے لڑکا یا لڑکی نہیں۔ یہ پاکستان میں ہی ہوتا ہےلڑکی نے ہنس کے بات کرلی سیدھا پرپوز کرنے لگتے لڑکے۔ ہیون کے ذہن میں بھئ ایسی کوئی بات نہ ہوگی اسکو یہاں کوئی کمی ہے ایک سے ایک حسین لڑکی ہے یہاں۔ وہ سچ مچ ایک پرخلوص اچھا انسان ہے باقی دوستوں کے ساتھ بھی اتنا ہی کرتا ہے وہ۔میں کوئی خاص نہیں ہوں اسکے لیئے۔ اس نے خاصے غصے سے فریج کھول کر کیچ اپ نکالا تھا دھاڑ سے دروازہ بند کیا منہ پھلاتے آکر میز پر بیٹھی۔ اوہو تو ایسی بات ہے۔ تو اس پر تمہیں دکھ کیوں ہو رہا ؟ صارم نے مسکراہٹ دباتے ٹوکا۔ منہ تک چپس لے جاتے اریزہ کا ہاتھ رکا۔ چند ثانیئے چپ رہی پھر جھاڑ دیا۔ بکواس ۔ سو جائو دماغ خراب ہوگیاہے تمہارا۔ اس کے چڑنے پر صارم قہقہہ لگا کر ہنسا۔ ہا ہا ہا۔ تپتی کتنا ہو تم مزاق کر رہا تھا یار۔ تم ویسے ہو لکی یہاں مجھے اپنا ذاتی ملازم بنا رکھا تھا وہاں بھی نخرے اٹھانے والے مل گئے ہیں۔ کبھی اپنے بل پر بھی کچھ کر لیا کرو لڑکی۔ ہاں کوریا میں تو میرا بھوت رہ رہا ہے نا اکیلے۔ یا روز تم آتے ہو مجھے چھوڑنے لے جانے خود ہی کر رہی ہوں نا جاب بھی میں۔تمہاری تو۔ وہ بری طرح چڑ گئ تھی۔ صارم ہنسے گیا۔ پھر پینترا بدل کر بولا۔ اچھا اچھا بس چپس بن گئے نا اب کھائو اور موٹی ہو جائو۔اور جو تصویر بھیجی نا اسکو کم از کم دیکھ لو۔ میرا بچپن کا دوست ہے سگا پھپو کا بیٹا ہے یقین کرو تمہارے لیئے بہترین ہے پیارا بھئ ہے۔ ایک اور پلس۔ بے زاری سے چپس ٹونگتے وہ سر ہلاتی گئ۔ بس اس سے کہو دو سال انتظار کرے اس سے پہلے تو میں چھٹیوں میں بھی نہیں آئوں گی کوئی بھروسہ ہے تم لوگوں کا واپس ہی نہ آنے دو۔ شٹ اپ۔ صارم بھنایا۔ دیکھو۔ بنا دیکھے سوچے پرکھے جھٹ انکار کرنا بند کرو۔ خالہ پریشان ہیں بہت ہر وقت تمہاری۔۔ اوہ پلیز۔ اس نے فورا بات کاٹ دی میں تنگ آگئ ہوں امی پریشان ہیں تو میں شادی کر لوں واہ ۔ اتنی دور تو آچکی ہوں اب بھی پریشان ہیں تو کیا کروں مر جائوں؟ پریشانی ہی ختم ہو جائے انکی۔ چٹخ کر بولی تو صارم کو بھئ غصہ آگیا بکواس بند کرو۔ سوچ کر بولا کرو اتنے محبت کرنے والے لوگ ہیں زندگی میں اسکا شکر ۔۔۔ اسکا یقینا بھاشن جھاڑنے کا پروگرام تھا اس نے موقع نہیں دیا بات کاٹ دی۔ کھانا کھا رہی ہوں میں اور جواب ایڈوانس دے چکی اب دوبارہ ا س پر بات کرنے کیلئے فون نہ کرنا بائے۔ اس نے کہہ کر صارم کا جواب سنے بغیر کال بند کر دی۔ صبح کا ناشتہ کیا ہوا تھا اس وقت زوروں سے بھوک لگ رہی تھی۔ جلدی جلدی چپس کھاتے مکمل پلیٹ کی جانب متوجہ تھی ۔ کچھ خیال آیا تو واٹس ایپ کھول کر تصویر بھی نکال لی۔ اچھا خاصا خوش شکل جوان تھا۔ سجاد کے ساتھ شادی سے پہلے اگر یہ رشتہ آیا ہوتا تو یقینا اس نے بنا سوچے سمجھے ہاں کرنی تھی مگر ابھی اسکو یہ تصویر دیکھ کر نہ خوشی ہوئی نا غصہ آیا بس چند لمحے دیکھنے کے بعد اس نے ایپ بند کردی۔ یونہی سر اٹھایا تو سامنے ہوپ کھڑی تھی۔ اچھل کر پیچھے ہوئئ۔ ہائے اللہ ڈرا دیا مجھے۔ اسکے کہنے پر ہوپ نے سرد سی نگاہ ڈال کر گھونٹ گھونٹ پانی پینا شروع کردیا۔ اسکی گرم پانی کی بوتل جو تھرماس جیسی تھی میز پر ہی رکھی رہتی تھی۔ کھائو گئ؟ اس نے ازراہ مروت اسکی جانب پلیٹ بڑھائی۔ گرم بھاپ اڑاتے چپس کیچ اپ۔ ہوپ نے غیر ارادہ طو رپر ہاتھ بڑھادیا۔ اسکے اپنے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ کھانا کھائے بنا ہی آکر سو گئ تھی اس وقت چپس نعمت غیر مترقبہ لگے تھے۔ اس نے ایک دو کھائے تو احساس ہوا بھوک کافی زو رکی لگی ہوئی ہے۔ ریمن بھی بنا دوں؟ اسکی بھوک کا احساس کرکے اریزہ نے پوچھا جوابا وہ شرمندہ سی ہو کر ہاتھ واپس کھینچ گئ۔ نہیں میں خود بنا لیتی ہوں۔۔۔ وہ فورا کچن کیبنٹ کی جانب بڑھی پھر خیال آیا تو مڑ کر اس سے پوچھنے لگی۔ تم بھئ کھائو گی؟ اریزہ چپس کھارہی تھی اسکے پوچھنے پر حقیقتا ہاتھ سے چپس چھوٹا تھا۔ نہیں ۔ پھر خیال آیا تو نو ۔۔ آں۔ آنی۔ اس نے اچھی خاصی حیرت سے سر نفی میں ہلایا تھا۔ہوپ گھور کر رہ گئ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیول کی روشنیاں مدھم پڑ چکی تھیں۔ شہر میں سونے کا وقت ہو چکا تھا۔صبح کے چار بجے سخت سردی اور وہ دونوں اپارٹمنٹ کے ٹیرس پر کھڑی کافی کی چسکیاں لے رہی تھیں۔ مگر ایک دوسرے سے قطعی مختلف حلیئے میں۔ ہوپ نے ایک نظر اسکو دیکھا۔ گھٹنوں تک والے گوارا کے دیئے رضائی نما جیکٹ میں مفلر لپیٹے خوب گرم والے موٹے گھر میں پہننے والے وولن سوکس اور سلیپر میں وہ سرخ ہوتی ناک کے ساتھ کافی کا مگ تھامے اسکی گرمائش لیتے بھی جھر جھری سی لے رہی تھی۔ خود ہوپ نے گھر کا مخصوص سویٹ سوٹ اور اپر پن رکھا تھا۔ تم بہت کمزور ہو۔ تم بہت مضبوط لڑکی ہو۔ دونوں اکٹھے بولی تھیں انگریزی میں۔ پھر ہنس دیں۔ تم لوگوں کو سردی کیوں نہیں لگتی مائنس میں ہے درجہ حرارت اور تم کتنے اطمینان سے کھڑی ہو۔ اریزہ نے کہا تو وہ ہنس پڑی۔ اوروں کا تو نہیں پتہ مگر شمالی کوریا میں میں بچپن سے برفباری کے دوران امدادی ٹرکوں سے اپنے وزن سے ذیادہ بڑے تھیلے اٹھا کر لانے کی عادی تھی۔ گرم کپڑے ہم سب بہن بھائیوں کے حساب سے کم ہوتے تھے۔ ایک کوٹ ہوتا تھا جو آہمونی نے اپنا پرانا مجھے دیا تھا۔ تب مجھے بڑا ہوتا تھا اور جب وہ چھوٹا ہوا تو اپنا قد بڑھ جانے پر خود پر بہت غصہ آیا تھا مجھے۔ وہ پرسکون سے انداز میں چسکیاں لیتے بتا رہی تھی۔ اریزہ کانپنا بھول۔کر اتنی متاسف سی دیکھ رہی تھی اسے کہ اسے ہنسی آگئ۔ شرارت سے بولی اس بات کو دس پندرہ سال ہو چکے ہیں۔ اتنا دکھی مت ہو۔ تمہاری آہمونی ابھی بھی کوریا میں ہیں؟ اور بہن بھائی ؟ اس نے دلگیری سے پوچھا تھا۔ پتہ نہیں گنگشن نونا کوشش تو کر رہی ہیں پتہ کروانے کی مگر انکا کوئی اتا پتہ نہیں کہ شمالی کوریا میں ہیں چین میں یہاں یا مر کھپ گئے۔ وہ بےدردی سے بولی۔ بس انکی اطلاع کا انتظار کر رہی ہوں جی کر۔ اگر زندہ ہوئے تو انکو بلانے کا خرچہ اٹھانے کیلئے پیسہ پیسہ جوڑ رہی ہوں۔ اور اگر۔ وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر چپ ہوگئ۔ اور اگر؟ اریزہ اسکی جانب مکمل مڑ کر پوچھنے لگی۔ ہوپ نے اسکو ہمہ تن گوش دیکھا تو مسکرا دی۔ اور اگر وہ مر چکے ہوئے تو ایک فلور اوراوپر چڑھوں گئ۔ اس نے اشارے سے اوپر دکھایا۔ انکا فلور آخری تھا اس سے اوپر بس چھت تھی اریزہ اسکی انگلی کے اشارے پر احمقوں کی طرح سر اٹھا کر دیکھنے لگی۔ ہیں کیوں؟ وہ واقعی نہیں سمجھی تھی۔ ہوپ نے ہاتھ سے اچھت سےلیکر نیچے گرائونڈ فلور تک اشارہ کیا۔ اور وہاں سے نیچے۔ ہوپ مسکرائی۔ اریزہ کی گردن اسکے ہاتھ کے ساتھ گھومی تھی۔ یونہی جھک کر نیچے دیکھا تو کمپائونڈ اور لان کی جلتی دیو ہیکل روشنیاں اسے قمقموں سی لگیں۔ اتنی اونچائی اسکی روح تھرا گئ۔ اللہ نہ کرے۔ وہ بے ساختہ بولی۔ اسکی بات نہ سمجھتے ہوپ نے بھنئوں اچکا کر اسے دیکھا جیسے مطلب پوچھ رہی ہوں۔ میرا مطلب ہے خد انہ کرے انکو کچھ ہو اور تم خبردار خودکشی کا سوچنا بھی مت گناہ ہے۔اللہ سے اچھی امید رکھو دیکھنا وہ سب ٹھیک ہوں گے اور تم ایکدن ان سب سے ملوگی بھی انشا اللہ۔ خاص کر اپنی آہمونی سے اس نےمسکرا کر پورے خلوص سے دعا دی تھی۔ میں کوئی چھوٹی بچی نہیں ہوں جسے تم بہلا سکو۔ حقیقت صرف یہ ہے کہ مجھے اندازہ ہے ان میں سے شائد ہی کوئی ایک آدھ زندہ بچا ہو تم نے کورین بیگار کیمپ نہیں دیکھے جبھی۔ اسکے پرخلوص جملوں پر ہوپ کا ردعمل بالکل غیر متوقع تھا۔ سپاٹ سے انداز میں جتا کر بولی۔ اسکی مسکراہٹ دھیمی پڑ گئ۔ تمہارے گھر سے فون تھا۔ ہوپ کو بھی شائد احساس ہوا تھا اپنے قنوطی پن میں وہ خاصی بدلحاظ ہو چلی ہے سو بات بدل دی۔ ہاں۔ اریزہ کا انداز دھیما پڑ گیا تھا کون کون ہے تمہارے گھر میں؟ ہوپ جانے کیوں دلچسپی لے رہی تھی شائد اپنی کج روی کا ازالہ کرر ہی تھئ۔ وہ سوچ میں پڑی ایسے اکیلے پریشان انسان کے آگے کیا اپنے گھر کا ذکر کرے۔ ماں زندہ ہے تمہاری؟ اسے شش و پنج میں دیکھ کر اس نے اگلا سوال داغ دیا ہاں۔ وہ جھٹ سے بولی۔ جتنا ناراض سہی مگر ماں کے ذکر نے جزباتی کردیا تھا میرے گھر میں ماں ہے باپ ہے ایک بھائی ہے ابھی اسی سے بات کر رہی تھی میں۔ کبھئ باپ سے بات کرتی ہو کبھی بھائی سے ماں سے بات کرتے ایک دفعہ نہیں دیکھا میں نے تمہیں۔ ہوپ کا سوال دو ٹوک تھا وہ۔جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ وہ میں ناراض ہوں ان سے اور وہ مجھ سے۔نا وہ مجھ سے بات کرنے پر اصرار کرتی ہیں نہ میں۔بھائی اور پاپا سے خیریت پوچھ لیتی ہوں میں بس۔ اس نے سچ ہی بتادیا۔ ہوپ ہنوز اسے گھورتی رہی کیوں؟ بس ۔ وہ ٹالنا چاہتئ تھی۔ ماں سے کیوں ناراض ہو؟ ماں سے بھی کوئی ناراض ہوتا ہے؟ ابھی میسر ہیں تو قدر نہیں تمہیں؟ انکے بنا زندگی کا تصور بھی کر سکتی ہو تم؟فالتو انا کے زعم میں نہ رہو تم۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے ماں کے بغیر زندگی کیسی ہوتی ہے۔ وہ ڈانٹ رہی تھی اسے۔ کیا؟ اریزہ حیران ہو کر دیکھنے لگی۔پھر قدرے برا مان کر بولی کوئی وجہ ہی ہے جس سے اپنی ماں سے ناراض ہوں۔تم نہیں جانتیں انہوں نے میرے ساتھ کیا کیا ہے۔ اور۔۔ نہیں جانتی۔۔۔ مگر تمہیں بتائوں۔۔۔ ہوپ سکون سے بولی میری ماں نے مجھے بارہ سال کی عمر میں ایک ساٹھ سالہ چینی شخص کو بیچا تھا چند یو آن کے بدلے تاکہ میری چھوٹی بہنوں کو کھانا اور دوا دے سکے۔ اوراگلے آٹھ سال میں نے اس شخص سے پٹتے اسکی خدمت کرتے گزارے میں نے دو وقت کے کھانے کے بدلے۔ اپنی ماں سے مجھے آج تک اتنا سا شکوہ تک نہ ہوسکا۔ وہ انگلی کی پورانگوٹھے سے چھوتی ذرہ برابر کا اشارہ کررہی تھی۔ اریزہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھتی رہ گئ۔ میری ماں کی جگہ خود کو رکھ کر سوچوں تو اس نے میرے حق میں بہتر کیا تھا اسکی باقی دو بیٹیاں جانے بچیں ئا نہیں مگر میں بچ گئ اس ایک فیصلے کی وجہ سے۔ ماں سے ذیادہ کون اولاد کا بہتر سوچ سکتا؟ وہ مسکرائی۔ اسکی مسکراہٹ دیکھ کر اریزہ کا دل چاہا اسے کہے مسکرایا نہ کرے۔ وہ دکھی لگتی ہے دیکھنے میں مگر مسکراتے دیکھو تو ٹوٹی ہوئئ بھی لگتی ہے۔ پھر؟ کیا ہوا میرا مطلب تمہارا شوہروہ کہاں ہے؟ اریزہ نے پوچھا تو وہ مگ ہونٹوں سے لگا کر بچی کھچئ کافی بھی حلق میں انڈیلنے لگی۔ اندر تک سب جلتا گیا تھا حالانکہ کافی اب اتنی گرم نہیں رہی تھی۔ مر گیا۔ شرابی تھا بی پی کا مسلئہ تھا ذیابیطس بھی تھی اس نے آٹھ سال کھینچ لیئے جی کر اسی پر حیرت ہے مجھے۔ وہ تمسخرانہ انداز میں بولی۔ اریزہ جز بز سی ہوئی۔جانے اسے تعزیت کرنی چاہیئے یا مبارکباد دینی چاہیئے۔ اسکی کشمکش چہرے پر واضح تھی۔ ہوپ بغور دیکھنے لگی اسے۔آج تک اسے زندگی میں ایسا کوئی انسان نہیں ملا تھا جو اسکی باتیں سنتے اس حد تک اسکے دکھ کو محسوس کرنے لگا ہو کہ جیسے یہ سب اسکے اپنے ساتھ بیتا ہو۔ تم اتنا دکھی مت ہو اس کو مرے ہوئے بھی سات آٹھ سال ہو رہے ہیں۔ وہ مزاق اڑا رہی تھی۔ اریزہ گہری سانس بھر کے رہ گئ۔ کیوپتا۔ ( کیوٹ) تم بہت ہی پیمپرڈ ہو۔ دوسروں کے دکھ تم محسوس کرنے لگو گی تو خوش رہنا بھول جائوگئ۔ دنیا بہت بری ہے بہت برا کرتی ہے یہ انسانوں کے ساتھ۔ ہوپ کا انداز ہنوز تھا۔ شرارت بھرے آنکھوں میں ہنس رہی تھئ۔ ۔اریزہ کو غصہ ہی آگیا۔ عجیب لڑکی ہے۔ کوئی کل سیدھی نہیں۔ ابھی تمہاری ایج اتنی نہیں۔ وہ مزید بھی کچھ کہنے لگی تھی کہ اریزہ نے چڑ کر بات کاٹ دی اچھا بس۔ مانا بہت تجربہ ہے تمہارا مگر اب ایسی بھی اماں نہیں ہو تم۔ اٹھائیس سال۔ ہوپ نے اسکی بات کاٹ دی اٹھائیس سال کی ہوں میں تم سے پانچ سات سال بڑی ۔ اب تو بنتا ہے نا میرا رعب جھاڑنا؟ وہ اب باقائدہ اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولی۔ اریزہ چپ ہی رہ گئ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دونوں بچیاں تیار ہو چکی تھیں۔ عبدالھادی نے دونوں کے بیگ بھی لا کر اسے تھمائے۔ بہت شکریہ تمہارا۔ ہمیں بالکل مخالف سمت جانا ہے جبھی تمہیں زحمت دے رہے ہیں۔ وہ مشکور و شرمندہ سے لہجے میں بولے تھے۔ کوئی بات نہیں۔۔ علی شرمندہ سا ہوا۔ عبدالہادی کی بیگم انکے ساتھ ہی تیار کھڑی تھیں وہ بھئ معزرت کرنے لگیں۔ تمہیں زحمت ہوگی مگر بچیوں کو وقت سے پہلے اسکول چھوڑنا بھی مناسب نہیں لگا ہمیں۔ تم ناشتہ واشتہ کر لو۔سب تیار ہے۔ آپ بے فکرہو کر جائیں ۔ اس نے اطمینان دلایا دونوں ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے رخصت ہوئے۔ اس نے گہری سانس لی۔ دونوں بچیاں بٹر بٹر اسکی شکل تک رہی تھیں۔ ٹی وی آن کردوں؟ اس نے پوچھا تو دونوں نے اکٹھے گردن ہلائی۔ انکو ٹی وی لگا کر لائونج میں بٹھا کر وہ کچن میں چلا آیا۔ اہتمام سے ناشتہ سجا تھا میز پر جالی سے ڈھکا۔ اس نے کافی میکر میں کافی بننے رکھی اور خود اطمینان سے بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا۔ کافی میکر کا بزر بجا تو اٹھ کر کافی نکالنے لگا کہ پیچھے سے لگا کوئی بہت تیزی سے گزرا ہے۔ اس نے چونک کر مڑ کر دیکھا تو دونوں بچیاں سکون سے کارپٹ پر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔اسکی جانب پشت تھی۔ اس نے کندھے اچکائے اور واپس ناشتہ کرنے بیٹھ گیا۔ کافی کا گھونٹ بھرا تبھی اسے عبدالھادی کے کمرے میں آہٹ سی محسوس ہوئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ الماری کا سیف کھول کراس میں سے چیزیں نکال رہی تھی۔ سیونگ سرٹیفکیٹس ، کیش بنک اسٹیٹمنٹس جیولری۔ اس نے دیکھ دیکھ کر چن چن کر چیزیں نکال کر اپنے بیگ میں ڈالیں اور واپس سب چیزیں انکی جگہ پر رکھ کر سیف لاک کرکےمڑی تو ایکدم بھونچکا سی رہ گئ۔ کم چاگیا۔ دل پر ہاتھ رکھ کر وہ دو قدم پیچھےہوئی تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ فورا ہی وہ اپنے حواس میں آکر غصے سے بولی۔ تم کیا کررہی ہو؟ علی نے اسی کا سوال دہرادیا۔ تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے؟ اور تم کر کیا رہے ہو یہاں؟ گھر کے فرد کے سوا کسی کو اہل خانہ کے کمرے تک رسائئ نہیں ہونی چاہیئے بنیادی اخلاقیات ہیں یہ۔ وہ چبا چبا کر بولی تھی۔ علی اسکا لال بھبھوکا چہرہ دیکھ کر گہری سانس لیکر بولا۔ کیا لے جارہی ہو ؟ آہجوشی کو بتایاہے؟ یہ میرا گھر ہے میرے باپ کا میرا جو مرضی ہو لیکر جائوں گئ تمہیں کیا نکلو یہاں سے ۔ وہ بدلحاظی کی حدوں کو پار کر رہی تھی۔ آگے بڑھ کر باقائدہ دھکا دے دیا۔ علی بنا مزاحمت کیے باہر نکل آیا۔ وہ کینہ توز نگاہوں سے دیکھتی اسکے ساتھ باہر نکلی دروازہ بند کرکے بیگ کندھے پر۔درست کرتی جانے لگی کہ علی نے اسکا بیگ ہی پکڑ کر روکا ۔ آہجوشی کو کیا بتائوں گا اگر کوئی چیز کم ہوئی تو؟ میں نے اپنے سرٹیفیکیٹس اٹھائے ہیں اور اپنا زیور لیا ہے۔۔ جی ہائے ٹھٹھک کر رکی۔پھر بولی بتائوں کیا آہجوشی کو؟ علی کا سوال ہنوز تھا۔ دونوں بچیاں ٹی وی بھول بھال کر انکی جانب متوجہ ہوچکی تھیں شٹ ۔ وہ زیر لب بڑبڑائی تھئ۔جو مرضی آئے۔کہہ دینا۔ وہ کہہ کر بیگ چھڑاتی آگے بڑھی۔ ٹھیک ہےمیں انکو کہوں گا انکی بیٹی آئی تھی اور وہ اپنا حق وصول کرکے گئ ہے۔ جی ہائےایکدم سے جاتے جاتے رکی ہونٹ کچلے۔ وہ خوش ہوں گے سن کر۔ علی نے اضافہ کیا۔ اس نے پلٹ کر علی کو گھورا پھر لائونج میں کھڑی بہنوں کو دونوں بچیاں اسکو تک رہی تھیں۔ اس نے کندھے سے بیگ اتار کر وہیں الٹ دیا۔ علی کیلئے اسکا ردعمل غیر متوقع تھا۔ بیگ الٹ کر وہ رکی نہیں تیزی سے باہر نکلتی چلی گئ۔ ارے رکو سنو۔ وہ فوری بھاگا تھا اسکے پیچھے۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی سیدھا ٹیکسی کی۔جانب بڑھی شائد اس نے ٹیکسی کو۔انتظار کا کہہ رکھا تھا۔ وہ پکارتا بھاگ کر ٹیکسی کے قریب پہنچا مگر وہ رکی نہیں۔دھاڑ سے دروازہ بند کیا اور اسکے کھڑکی بجانے کے باوجود رخ موڑ کر ڈرائور کو گاڑی آگے بڑھانے کا بھی کہہ دیا۔ لمحہ بھر کی تاخیر کیئے بنا گاڑی چل پڑی تھی۔ وہ ہرگز اسے چڑانا نہیں چاہ رہا تھا مگر اسکی اپنی کیا حیثیت رہ جاتئ اگلے اپنا پورا گھر اسکے اوپر کھلا چھوڑ گئے تھے۔ وہ پلٹ کر اندر آیا تو بچیاں اسکی بکھیری چیزوں کو چھیڑ رہی تھی۔ گھڑی لاکٹ چین بریسلٹ اور سیونگ سرٹیفیکیٹس ۔ فاطمہ نے لاکٹ گلے میں ڈال لیا تھا اب اسے دکھا رہئ تھی۔ وہ احتیاط سے اسکے گلے سے لاکٹ اتارنے لگا۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بچیوں کو اسکول گیٹ پر چھوڑ کر وہ اپنی اکیڈمی چلا آیا تھا۔ گتے کا شاپنگ بیگ اٹھائے وہ اندر داخل ہو رہا تھا جب اسکی۔نظر سامنے سے خراماں خراماں چل کر آتے اس جوڑے پر پڑی تھی۔ جانے کونسا قصہ چھڑا تھا۔ لڑکی گھٹنوں تک کا خوب پھولا ہوا جیکٹ پہنے زور و شور سے کچھ بول رہی تھی۔ ساتھ وہ لانبا سا لڑکا ہلکی سی مسکراہٹ سجائے ہمہ تن گوش تھا۔ وہ ان سے سلام دعا کرنے کی خاطر رک گیا۔ لڑکی نے بولتے بولتے رک کر اس لڑکے کو شائد واپس جانے کو کہا تھا۔ وہ سر ہلاتا رک گیا۔ ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کہتی وہ آگے آتی گئ۔ وہ لڑکا مڑا نہیں بلکہ وہیں کھڑا اسے جاتے دیکھتا رہا۔ اسکی نظر سامنے پڑی تو علی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ بلیک ہائئ نیک اور کوٹ پہنے وہ مسکرارہا تھا۔ اسکے چہرے پر خفت ذدہ سی مسکراہٹ در آئی۔پیراشوٹ جیکٹ کا۔ہڈ سر پر ٹکائے اندر مفلر لانگ شوز وہ خجل سی ہوئی۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی ارد گرد جتنی بھی چندی آنکھوں والی مخلوق تھی ان میں وہ حقیقتا سب سے الگ اور مختلف لگ رہی تھئ ضرورت سے ذیادہ ملفوف۔ سر کو دیکھ کر وہ قریب آکر بڑے ادب سے کوریائئ انداز میں سر ہلا کر بولی۔ بیاننگ۔۔۔ جانے اسکا لہجہ ایسا تھا یا اس نے واقعی سٹپٹا کر دو لفظوں کو ملا دیا تھا۔۔ علی خاصئ زور سے ہنسا تھا۔وہ سر کھجا کے رہ گئ۔ اسکی ہنگل سر کے سامنے ضرور اسے شرمندہ کرواتی تھئ۔ ہیون جو اسے اکیڈمی تک پہنچتے دیکھ کر پلٹ رہا تھا تھا اس قہقہے کی گونج اس کو واپس مڑ کر دیکھنے پر مجبور کرگئ تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد
جاری ہے۔
Kesi lagi apko salam korea ki yeh qist? Rate us below
بے خبر سوتے میں جانے موبائل کو کیا تکلیف پہنچی تھی کہ بجتا چلا گیا۔ہر سام سنگ صارف کی طرح اس مارننگ گلوری کو سن کر اسکو غصہ چڑھا تھا رونا آیا تھا نیند ٹوٹنے پر کوستے ہوئے موبائل اٹھایا اور غصے سے بڑبڑائی
الارم کیوں بج رہا ہے؟ اس نے بند آنکھوں کو بمشکل تھوڑا سا کھول کر الارم بند کیا۔ ساتھ جانے کیا پیغام جل بجھ کر رہا تھا اس نے پروا نہیں کی۔ کروٹ بدل گئ۔
گوارا نے تقریبا ایک بجے کے قریب اٹھایا تھا اسے
کیا ہےسونے دو۔
وہ بڑ بڑا کر کروٹ بدل گئ
دے؟ گوارا کو سمجھ نہ آیا مگر نیند کے خمار میں ڈوبی اریزہ کا ترجمے کا کوئی ارادہ نہیں تھا
اچھا سنو میں بھی جا رہی ہوں باہر۔ تمہارا ناشتہ کرنے کا بھی ارادہ نہیں کیا؟ ایک بج رہا ہے۔۔
ایک بجنے کا سن کر اس نے پٹ آنکھیں کھول دی تھیں
کہاں جا رہی ہو؟
وہ اٹھ بیٹھی۔۔
سونا جا رہی ہوں کل پیکنگ پھر پرسوں گائوں ۔اس بار کرسمس گائوں میں ہی کروں گئ ہر سال میری اماں کوستی ہیں مجھے کہ میں ہاتھ نہیں بٹاتی۔
خیر ہے دسمبر ابھی شروع ہی ہوا ہے اور تم کرسمس تک وہاں رہوگئ میں کہا کروں گی اتنے دن یہاں۔۔۔۔
اس چنڈالنی کے ساتھ۔ اس نے چنڈالنی پرکچھ ذیادہ ہی زور ڈال دیا۔
واٹ چنڈ۔
گوارا کی زبان بل۔کھا گئ چنڈالنی کہتے۔
سونا کیوں جانا ہے ؟ اس نے حیرانگی سے پوچھا تھا گوارا نے کندھے اچکا دیئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھٹھرا دینے والی سردی کے برعکس اندر نرم گرم ماحول لوگوں کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ کوئی گرم پانی سے نہا کے آرہا تھا تو کوئی بھاپ اڑاتے کمرے میں پسینے نکال رہا تھا۔ ایک جانب خواتین کا انتظام تھا۔
گوارا باتھ گائون پہن کر اور اسے زبردستی پہنواکر سونا باتھ میں لے آئی ۔
کمرے میں بھاپ جمع تھی۔ کچھ نوجوان لڑکیاں خوش گپیوں میں مگن تھیں کچھ آنکھیں بند کیئے نیم دراز تھیں۔
اسے کچھ بھی تھا سردی یہاں بہت لگ رہی تھی۔ جبھی اس نرم گرم ماحول میں آکر اسے اچھا لگا تھا۔
آدھا پونا گھنٹہ پسینہ بہا کرشاور لیکر باہر آئیں تو ٹھیک ٹھاک تازہ دم محسوس کر رہی تھیں۔
تواضع کیلئے ابلے انڈے اور قہوہ موجود تھا۔
اس کو ابلے انڈے پسند تھے مگر اکٹھے ایک سے ذیادہ کھانے کا کبھی اتفاق نہ ہوا تھا مگر وہاں سب جیسے انڈے سے پیٹ بھر رہے تھے۔وہ دلچسپی سے سب پر نظر دوڑا رہی تھئ۔
یہاں سب سونا ضرور جاتے ہیں؟
اریزہ کا انداز سوالیہ تھا۔
ہاں کوریا میں رواج ہے۔ فل باڈی مساج سے ساری تھکن اتر جاتی ہے تم تیار ہی نہیں ہوئیں اب گائوں جا کر آہموجی سے کروائوں گی مساج۔
گوارا کو افسوس ہوا۔ اریزہ کان کھجا کے رہ گئ۔
بھلے خواتین ہی مساج کر رہی تھیں پھر بھی اسے مناسب نہ لگا۔
ہمارے یہاں رواج نہیں ہے یوں مساج کا۔ اس نے کہہ دیا
مساج ضروری ہوتا ہے چلو بہت سے ممالک میں رواج نہیں مگر سونا تو تقریبا سب ممالک میں ہوتے ہیں اپنے اپنے انداز کے۔
اریزہ نے کندھے اچکا دیے۔
تم لوگ نہیں سونا جاتے؟ جانا چاہیئے۔ سردیوں میں تو جلد کے مردہ خلیئے اتارنے ہی چاہیئے۔ یہاں کورینز تو ہر صورت سونا ضرور جاتے ہیں۔
گوارا کی حیرت دیکھنے لائق تھی۔ جیسے پاکستانئ گندے رہتے ہوں۔وہ چڑ کر بولی
ہم۔نہا ہی اچھی طرح لیتے ہیں۔ الگ سے ایسے صفائی کی ضرورت نہیں ہوتی ہمیں۔
اس نے چڑایا۔ گوارا برا مانے بغیر بولی
اچھا یہ بتائو تم لڑکیاں وہاں کیسے وقت گزارتی ہو؟
وہ جو پوچھنا چاہ رہی تھی اریزہ کو بتاتے ہچکچاہٹ سی ہوئی۔ تھوڑی دیر مناسب جواب سوچنے کے بعد بس یہی کہا
گھر میں۔
وہ تو ظاہرہے۔ میرا مطلب تھا تفریح کیلئے کیا کرتی ہو؟ وہاں کلبز وغیرہ ہیں۔
نہیں۔ اس نے سوچا پھر سچ سچ کہہ دیا۔
پھر؟ گوارا ہمہ تن گوش تھی
اچھا یہ بتائو تم کیسے وقت گزارتی تھیں وہاں؟
بس صبح یونیورسٹی دوپہر کو گھر آتی تھی نماز وغیرہ پڑھ لی پھر گھر کے کام صفائی کھانا بنانا وغیرہ کبھی بہت دل کیا تو صارم کے ساتھ باہر جا کر آئیسکریم کھا لی۔یا سردیوں میں سوپ پینے چلےگئے۔ سردیوں میں رشتے دار وغیرہ آجاتے ہیں تو انکے ساتھ گھومنے پھرنے کا پروگرام بنا لیتے ہیں۔
ورنہ گھر میں۔
وہ شرمندہ سے انداز میں بتا رہی تھئ۔ کیا بتاتی وہاں لڑکیوں کی تفریح کا کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔
تمہاری دوستیں ہیں ؟ انکے ساتھ نہیں کہیں جاتیں؟
گوارا بہت سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔
ہیلو ہائے تو بہت سی لڑکیوں سے ہے۔ دوستی بس سنتھیا کے ساتھ تھی۔ اسکے گھر چلی جاتی تھی یا کبھی ہم دونوں مل کر بازا رچلی جاتی تھیں وہ بھی کبھی کبھار ورنہ اپنی شاپنگ کیلئے تو امی کے ساتھ جاتی تھی میں۔
اسے یقین ہوچلاتھا کہ گوارا اسے ٹھیک ٹھاک گیا گزرا سمجھ رہی ہے۔
تم جاب نہیں کرتی تھیں نا وہاں تو پیسے کون دیتا ہے تمہیں شاپنگ کیلئے؟ گوارا کو نہ جانے کیا دلچسپی تھئ
بابا۔ اس نے مختصرا کہا۔ وہ موضوع بدلنا چاہ رہی تھی
میں اپنی امی کے ساتھ آخری بار شاپنگ پر سیونتھ کلاس میں گئ تھئ۔ اسکے بعد سے آج تک کبھی موقع نہیں ملا۔ ہائی اسکول سے مختلف جاب کرنا شروع کردی تھیں میں نے۔پڑھائی کاخرچ اٹھانے کے بعد کبھی اتنے پیسے بچے نہیں کہ خوب ساری شاپنگ کر سکوں۔ بس ضرورت کی ایک آدھ چیز لیتی تھی۔ پھر گوشی وون میں رہ رہ کر پیسہ پیسہ جوڑا یونیورسٹی میں ایڈمیشن کیلئے۔ تب خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میرے بابا کا انتقال ہوگیا۔ انکی انشورنس سے خوب پیسہ ملا تو آہموجی نے اپارٹمنٹ لیا مگر وہ اسے کرایے پر چڑھانا چاہتی تھیں۔ میں نے تب ضد کی اور یہاں آگئی۔ ورنہ اسکا کرایہ بھی میری آہموجی نے اپنے نئے بچوں پر خرچ کرنا تھ۔ا۔
نئے بچوں پر؟ وہ اسکی اصطلاح پر حیران ہوئی
میرا بس ایک بھائی ہے۔چار سال چھوٹا۔ بس باقی آہموجی نے جب دوسری شادی کی تو آہجوشی سے دو بچے ہوئے انکے ابھی اسکول میں پڑھتے ہیں۔آہجوشی کا ایک بیٹا میرا ہم عمر ہے۔ اپنی ماں کےترکے سے ملنے والا ایک پیسہ اس نے آہموجی کو نہیں دیا۔ اپنا کاروبار کر رہا ہے مگر نا آہجوشی کو ایک پیسہ دیتاہے نا آہموجی کو۔ میرا بھائی آہجوشی کا ہاتھ بٹاتا ہے انکے ریستوران میں مگر اسکی تعلیم کا خرچہ تک وہ نہیں اٹھاتے۔ اسکے لیئے وہ الگ جاب کرتا ہے۔ تو اس فلیٹ کی رقم میں اپنے سوتیلے بہن بھائیوں پر کیوں خرچ کروں؟ یہ بس میرا اور میرے بھائی کا ہے۔ جب اسکی یونیورسٹی کی باری آئے گی وہ یہاں میرے ساتھ رہے گا پڑھے گا۔
گوارا نے عزم کیا۔ تصویر کا دوسرا رخ دیکھ کر وہ حیران سی رہ گئ تھی۔
اسکی پڑھائی کا۔خرچ؟ اریزہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔
اس نے جمع کیا ہے کچھ ۔ وہ بہت ذہین ہے ٹیوشنز پڑھاتا ہےاور کچھ پیسہ میرے پاس بھی ہے۔
پتہ ہے ماڈلنگ شروع کی تھی میں نے۔ تصویر میں میری ناک اورہونٹ اچھے نہیں آتے تھے۔ اس پر مجھے ایجنسی نے ریجیکٹ کر دیا۔ پورے دو سال پیسے جمع کیئے میں نے کہ آپریشن کروالوں۔
وہ اپنی انتہائی مہنگی ناک چھو کر بولی۔
ماڈلنگ کا موقع تو دوبارہ ملے توتھوڑا بھائی کےکام آجائیں گے پیسے۔ ارے تم نے ابھئ تک انڈہ۔ختم نہیں کیا؟ بولتے بولتے اس پر نظر پڑی جو ادھ کھایا انڈہ تھامے بغور اسکی باتیں سن رہی تھی۔
خود اس نے چار انڈے کھالیئے تھے۔
میں بس یہی ایک کھائوں گئ۔ اس نے کہتے ہوئے باقی ماندہ انڈہ منہ میں رکھ لیا۔
چلو باہر چل کر گھومتے پھرتے ہیں۔۔
گوارا ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
گنگنم میں گھومتے باتیں کرتے ٹھیلوں سے کھانا چکھتے وہ دونوں بے فکری سے پھر رہی تھیں۔
گائوں جانے کیلئے وہ کچھ تحفے خریدنا چاہ رہی تھی۔ چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے چاکلیٹس بورڈ گیمز بہن کیلئے گڑیا بھائی کیلئے ریموٹ کنٹرول گاڑی۔ دوسرے بھائی کیلئے خوب پیارا سا ہڈ اور سویٹ سوٹ۔ماں کیلئے اونی لانگ اسکرٹ۔ باپ کیلئے بھی ایک سوئٹر خرید ی۔
تم بھی کچھ لے لو۔ اس نے اریزہ کو آفر کی۔
اس نے سوچا پھر نفی میں سر ہلا دیا۔ گورا نے اسکے اور اپنے لیئے ایک جیسی لانگ فراک لی۔
کرسمس دور ہے مگر کرسمس تک میں یہاں نہیں ہونگی۔ سو اسلیئے ایڈوانس تحفہ ۔۔
اریزہ کے نہ نہ کرنے پر اس نے اصرار سے تھمایا۔
تم آنا نا گائوں۔ بلکہ میں کرسمس سے پہلے ایک پارٹی رکھوں گئ سب آئیں گے تم بھئ آنا۔ کرسمس میں تو سب اپنے اپنے خاندان کے ساتھ مصروف ہوتے ہیں۔ اسلیئے میرا ارادہ پہلے ہی پارٹی کرنے کا ہے۔
صبح نیند سے بیدار ہوتے ہی مانوس سی خوشبو نے اسکو جگا دیا تھا۔ مسکرا کر بستر سے اٹھتے وہ بنا آہٹ کیئے کچن میں چلا آیا تھا۔ حسب توقع سنتھیا ایپرن باندھے پراٹھا بنا رہی تھی ۔ ایک جانب نان اسٹک پین میں پیاز نرم ہو رہی تھی۔ وہ دبے پائوں اسکے قریب آیا اور اسکو پیچھے سے جا کر بانہوں میں بھر لیا۔ اسکے کندھے پر تھوڑی ٹکادی۔۔
کیا کر رہی ہو میری جان۔
سنتھیا مسکرا دی۔
پراٹھا بنا رہی ہوں۔ پیچھے ہو پراٹھا جل جائے گا۔ اس سے خود کو چھڑاتے وہ جلدی سے آگے بڑھ کر پراٹھا پلٹنے لگی۔ سنہری سنہری گول سا پراٹھا۔ اسکی بھی بھوک چمک اٹھی تھئ۔
میں آملیٹ بنا دیتا ہوں۔ اس نے آگے بڑھ کر پین تھاما۔
گومو ووئو۔ سنتھیا شکر گزار ہوئی۔ ایڈون نے بھنوئیں اچکا کر دیکھا تو وہ کھسیا کر ہنس دی ۔ایڈون بھی ہنس دیا
شکریہ۔۔ ایک تو کورینز نے گومو وویو زبان پر چڑھا دیا ہے۔ ویسے یہاں رہ رہ کر اچھی کورین آجائے گی ہمیں۔
پراٹھا اتار کر ہاٹ پاٹ میں رکھتے وہ مصروف سے انداز میں بولی۔
تمہیں کورین بولنی آجائے گی اور کورینز کو پراٹھے کھانے آجائیں گے۔ ایڈون نے پہلے سے حل شدہ انڈوں کا آمیزہ فرائی پین میں انڈیلا۔
اس دن گوارا بتا رہی تھی کہ وہ ناشتے میں پراٹھا کھا کے آئی ہے۔ اسے اریزہ نے بنا کر دیا تھا۔
وہ سادہ سے انداز میں بتا رہا تھا۔ سنتھیا کے تاثرات کھردرے سے ہو گئے ۔ ہاٹ پاٹ اٹھا کر وہ میز پر رکھنے لگی۔ پلیٹیں بھاپ اڑاتئ چائے کا کپ ۔۔ ناشتے کے سب لوازم مکمل تھے۔
لو جی آگیا انڈہ۔ میرے ہاتھ کا بنا انڈا کھائو گی کیا یاد کروگی۔
وہ خاصا خوش تھا اپنی کارکردگی پر۔ سنتھیا اسکو دیکھ کر ہنس پڑئ
زندگئ میں پہلی بار تلا ہے انڈہ اور بالکل صحیح تلا۔
وہ داد چاہ رہا تھا۔
شکریہ جناب میں مشکور ہوں آپ نے اتنی زحمت کی میرےلیئے۔ وہ بھی ہلکے پھلکے انداز میں کہتی اسکے مقابل آ بیٹھی۔
ویسے تمہیں آٹا کہاں سے مل گیا۔ یہاں۔ نوالہ بناتے یونہی ایڈون نے پوچھا۔
یہاں شائد جو پہلے لوگ رہنے آئے تھے انکو بیکنگ کا شوق تھا۔ میدہ کارن فلور ونیلا ایسسنس سب کچھ بچا ہوا تھا کیبنٹ میں پڑا تھا۔
اس نے کہا تو ایڈون سر ہلا گیا۔
تم مجھے کسی کا چھوڑا ہوا کھلا رہی ہو۔ وہ مستی میں بول گیا۔
خود بھئ یہی چھوڑا ہوا کھا رہی ہوں۔ سنتھیا نے گھورا۔
مجھے چھوڑا ہوا کھانے کی عادت نہیں ۔۔ ایڈون نے چڑایا
مجھے بھی چھوڑا ہوا اپنانے کی عادت نہیں تھی۔ سنتھیا نے لمحہ بھر توقف کیئے بنا کہا تھا۔۔
تمہارے لیئے جان بھی دے دوں تو تم مجھ پر یقین نہیں کروگی ہے نا۔ میں کیا کروں ایسا کہ تمہارا شک دور ہو جائے۔ نام تک نہیں لیتا میں ۔ خود کو اتنا سمجھاتا ہوں۔ مگر اریزہ۔۔ سوری سنتھیا میرے منہ سے نکل گیا نام سوری۔۔۔۔ اس نے سسکیاں بھرنا شروع کردیں۔
بار کے باہر ایک دکان کے آگے رکھے آرائشی بڑے سے غبارے والے بھالو کے سامنے دو زانو بیٹھا بین کر رہا تھا۔
کم سن نے گھور کر یون بن کو دیکھا۔
مجھے گوارا کے ساتھ ڈنر پر جانا ہے ورنہ یہ کارخیر خود انجام دیتا۔ اسکے گھر کا پتہ بھی نہیں تھا ورنہ ٹیکسی میں بٹھا کے بھیج دیتا۔
یون بن نے صفائی دی۔ کم سن دانت پیسنے لگا۔
یہیں پڑا رہنے دیتے جوان آدمی ہے مر تھوڑی جاتا۔
کم سن کے کہنے پر یون بن نے بہت حیرت سے اسکی شکل دیکھی وہ تھوڑا کھسیا گیا۔
یہ دوست ہے ہمارا۔
اس نے جیسے یاد دلایا۔
شاہزیب سے دوستی تھئ میری اس سے کبھی نہیں بنی میری اور اب تو۔۔
وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
اچھا میں خود چھوڑ آئوں گا اسے مجھے بتادو اسکا پتہ۔
یون بن خفا تو نہیں ہوا مگر انداز تھوڑا کھردرا ہوگیا تھا۔
چھیسو(جانے دو)
تم جائو گوارا ناراض ہو رہی ہوگی دیر ہونے پر۔ میں چھوڑ آتا ہوں اس سوغات کو۔
اس نے ہونٹ بھینچے۔ پھر اس نے یون بن کو بھیج کر خود بھئ ایک ٹیکسی روکی ۔ ایڈون کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ بٹھایا ۔
سنتھیا کو میری بالکل پروا نہیں ہے۔ وہ میری گرل فرینڈ نہیں رہی ہے وہ بس اب بچے کی ماں ہے۔اس بچے کے پیچھے مجھ سے بھی ناطہ توڑنے کو تیار ہے۔ بچے تو اور ہو جائیں گے ہے نا۔ مجھ پر اس بچے کو فوقیت دینا غلط ہے نا۔ وہ مجھ سے پیار کرتی ہے ناہے نا
ایڈون کم سن کے کندھے پر سر رکھے پوچھ رہا تھا۔ کم سن کی جانے بلا ۔ وہ اپنی بات دہراتا سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھنے لگا۔
ماں تو پھر ایسی ہی ہوتی ہے نا۔ ماں کیلئے سب سے اہم اسکا بچہ ہوتا ہے۔ آپ اپنی گرل فرینڈ کے بچے سے محبت جتائیں وہ یقیناآپ سے خوش ہوجائے گی۔
اتنی دلگیری سے ڈرائیور نے جواب دیا کہ کم سن چونک کے شکل دیکھنے لگا۔
تمہیں سمجھ آرہی ہے یہ کیا کہہ رہا؟
کم سن کے پوچھنے پر وہ تھوڑا گڑبڑا سا گیا۔
جی وہ چھے سو ہمبندا ( مجھے معاف کیجئے گا) میں حد سے بڑھا۔
شستہ ہنگل میں ڈرائیور نے جواب دیا۔
اس نے کیا کہا ہے ابھی؟ کم سن نے پوچھا۔
ڈرائیور سوچ میں پڑا پھر ترجمہ دہرا دیا۔کم سن نے گھور کر ایڈون کو دیکھا۔
کہہ سیکی۔ اسکے منہ سے بے ساختہ ہی گالی نکلی تھی۔
ڈرائیور کو ہنسی آگئ۔ پھر فورا ہی ہونٹ بھینچ لیئے۔ کم سن نے اسے بھی گھورا۔
تم پاکستانی ہو؟
میں پاکستانئ ہوں۔ ایڈون کی جانب سے جواب آیا وہ اب دوبارہ اسکے کندھے پر سر رکھ اونگھ رہا تھا۔
اس نے چڑ کر پرے کیا اسے وہ سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگا۔
تم بھی پاکستانی ہو ؟
کم سن پھر پوچھ رہا تھا۔
آنی۔ بیک ویو مرر میں کم سن کو متوجہ دیکھ کر ڈرائیور نے جواب دیا۔
میں بھارتی ہوں۔ مگر ہندی سمجھ سکتا ہوں۔ یہ پاکستانی ہیں؟
اس نے پوچھا تو کم سن نےسر ہلا دیا۔
آپکے دوست ہیں؟
دے۔ مختصرہی جواب دیا۔
کیا نام ہے انکا؟
ڈرائیور جتنی دلچسپی سے پوچھ رہا تھا کم سن کو اتنی ہی بیزاری ہو رہی تھی۔
اسکے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ بی پی شائد ہائی ہو گیا تھا۔ رو رو کے سوجی ہوئی آنکھیں اکھڑی سانسیں۔ اسے لگا تھا اسکا آخری وقت قریب آچکا ہے۔وہ ہمتیں مجتمع کرکے اسکے کمرے کے دروازے تک آئی تھئ۔ ہلکا سا تھپتھپا کر اس نے پکارا مگر آواز ڈوب رہی تھی اسکی۔
دو تین دفعہ تھپتھپانے پر بھی دروازہ نہ کھلا تو وہ بے دم سی ہو کر واپسی کو مڑی۔
شام کو تھکی ہاری وہ اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تھیں۔ ہوپ کہیں تیار ہو کر جا رہی تھی ۔ روز مرہ کی گھسی جینز اور شرٹ کی بجائے کالی لانگ اسکرٹ ٹاپ اور ٹخنوں سے تھوڑا سا اوپر تک کے کورٹ شوز پہنے چھوٹا سا پرس کندھے پر لٹکائے۔دونوں کا بلا ارادہ منہ کھل سا گیا تھا۔ انکو نظر انداز کرتے اونچی ہیل کو کھٹ کھٹ کرتی وہ انکے پاس سے گزر کر جانے لگی
کدھر جا رہی ہو؟
اریزہ نے کہنی کمر میں گھسیڑ دی تھی گوارا کے کہ مت پوچھو پھر بھی مجال ہے جو اس نے اثر لیا ہو۔ دھڑلے سے اسے کہنی سے تھام کر روک ڈالا۔
وہیں جہاں اریزہ جا رہی ہے۔ خشک سے انداز میں کہہ کر اس نے جھٹکے سے کہنی چھڑائی تھی۔ ردعمل کے طور پر پوری قوت سے دروازہ بند کرتی گئ۔
ہائش۔ گوارا بھنا کر اسکے پیچھے مارنے کو دوڑی مگر اریزہ نے کھینچ کھانچ لیا۔
کیا کہہ رہی تھی؟
اریزہ کو تجسس بھئ تھا۔ دونوں نے ہنگل میں ہی گفت و شنید کی تھی سو اسکے سر پر سے گزرا
اسکا جملہ دہراتے دہراتے گوارا ٹھٹک کر رکی۔
تمہارا ہیون کے ساتھ کانسرٹ میں جانے کا پروگرام تھا نا؟
ہاں وہ تو ہفتے کی رات کو ہے کانسرٹ۔ وہ آرام سے انگڑائی لیتی صوفے پر گری۔
تو؟ آگاشی آج ہفتہ ہی ہے ؟
کمر پر ہاتھ رکھ کر گوارا نے جتایا تو وہ چونکی۔
ہیں ؟ واقعی؟
وہ اچھل پڑی۔ اپنا موبائل اٹھا کر دیکھا تو ریمائنڈر صبح بجتا رہا تھا۔۔ ساتھ ہیون کی چار مسڈ کالز جو دن بھر میں وقفے وقفے سے تھیں۔ ایک پیغام بھی تھا
میں پندرہ منٹ میں آرہا ہوں۔ پیغام آئے دس منٹ ہو چکے تھے
کیا ہوا۔۔ اسکا بھونچکا انداز کافی دیر تلک نہ بدلا تو گوارا بھی تشویش میں مبتلا ہو کر اسکے پاس آبیٹھی اور کندھا ہلانے لگی۔
میرا فون سائلنٹ پر تھا سارا دن ۔۔۔۔ اریزہ روہانسی سی ہوگئ
تو کیا ہوا؟ میری یون بن سے لڑائی ہوتی ہے تو میں بھی فون سائلنٹ کر دیتی ہوں۔
گوارا نے اطمینان سے انگڑائی لی۔تبھی آطلاعی گھنٹی گنگنا اٹھی
ہیون ہوگا۔شٹ میں تو تیار بھی نہیں ہوئی۔ اریزہ جیسے سر پر پائوں رکھ کر اندر کمرے میں بھاگی
ہیون۔ گوارا نے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھا تبھی دوبارہ گھنٹی بج اٹھی۔ وہ مارے باندھے دروازے پر چلی آئی۔
تھیبا۔ دروازہ کھولتے ہی اسکے منہ سے نکلا تھا۔
جدید ترین رواج کے مطابق اونچے سے برانڈ کے اپر جیکٹ اور جینز میں ملبوس نک سک سے بال درست کیئے خوشبوئوں میں بسا ہوا ہیون اسکے انداز پر خجل سا ہو کر سر پر ہاتھ پھیرنے لگا
ٹھیک لگ رہا ہوں؟ ۔ اس نے یونہی پوچھا۔ گوارا کچھ کہنے کی بجائے ایک طرف ہوگئ ہیون راستہ پا کر اندر چلا آیا۔
یون بن کو تم پر ترجیح دینے پر افسوس ہو رہا ہے مجھے۔
گوارا مایوسی سے سر ہلاتی دروازہ بند کرنے لگی۔
انیس بیس ہی ہیں ہم دونوں لوگوں کو ہم ایک شکل کے لگتے ہیں۔
ہیون نے چھیڑا تو گوارا نے برا سا منہ بنایا
تم پھر بیس ہی ہو نا۔ ویسے انی نے کانسرٹ میں میرا داخلہ بند تو نہیں کیا ہوا ہوگا ہے نا؟ اور اگر دیگر جوڑے جائیں تمہارے ساتھ تو وہ کوئی ہرجانہ بھی نہیں کرنے کاارادہ رکھتی ہوں گی۔ ہے نا؟ ایسے ہی معلومات کیلئے پوچھ رہی ہوں۔
اس نے اطمینان سے چبا چبا کر کہا تھا۔ ہیون کے چہرے پر خفت سی پھیل گئ۔
بیانیئے۔ اس نے سیدھا سیدھا معزرت کی۔
اسکے انداز پر گوارا قہقہہ لگا کر ہنس دی۔
تم بہت پیارے ہو۔ خدا کرے اریزہ آسانی سے مان جائے۔ آج تو پکا پرپوز کر دینا بہترین موقع ہے۔
وہ اسکی تواضع کے خیال سے کہتی ہوئی کچن میں چلی آئی۔
چونکہ ہنگل میں بات کر رہی تھی لہذا آرام سے بولتی رہی بنا پروا کیئے۔
تمہیں بھی یہی لگتاہے نا کہ وہ انکار کر دے گی۔
ہیون سنجیدہ سا ہو کر اسکے پاس چلا آیا۔
اسکے لیئے کافی میکر میں کافی بناتے اسکے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے تھے۔
اس نے پلٹ کر دیکھا تو کائونٹر ٹیبل سے ٹکا ہیون جیبوں میں ہاتھ ڈالے مضطر سا نظر آیا
وہ بہت مختلف سی لڑکی ہے۔ جتنا تم دونوں ساتھ پھرتے ہو ساتھ رہتے ہو کوئی اور لڑکی ہوتی تو یقینا اب تک تمہیں یقین ہو چکا ہوتا کہ وہ تم میں دلچسپی لیتی ہے۔مگر اسکے ساتھ چوبیس گھنٹے رہنے کے باوجود میں پر یقین نہیں ہو کر کہہ سکتی کہ وہ تمہیں الگ نظر سے دیکھتی ہے کہ نہیں تم
اس نے گہری سانس لیکر بات ادھوری چھوڑ دی۔
میری دعا ہوگی کہ تم دونوں اکٹھے ہو جائو خوش رہو۔
اس نے آگے بڑھ کر اسکا کندھا تھپتھپا کر کہا تو وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دیا
لیکن تم اسکے مخالف ردعمل کیلئے بھی ذہنی طور پر تیار رہنا۔
لمبا سفید انرہائی نیک جو اسکی کمر سے تھوڑا نیچے تک آرہا تھا پہن کر اوپر سے بریو ہارٹ کی ٹی شرٹ پہنی۔ جو میڈیم سائز ہونے کے باعث ڈھیلی ڈھالی سی تھی اس پر۔ گلے میں اونی اسکارف ڈالا۔ لانگ بلیک اوورکوٹ بلیک جینز اور بلیک ہی ہیل والے جوتے پہن کر وہ خود کو گھوم گھوم کر ہر زاویئے سے دیکھ رہی تھی۔ کراس باڈی چھوٹا سا فان بیگ جس میں موبائل وغیرہ رکھا تھا۔ ایک چھوٹا سا کارڈ کا بیگ جس میں پلیئر اور لائٹ اسٹک کو بڑے اہتمام سے ڈبے میں بند کرکے رکھا تھا۔
بال برش کرکے چہرے پر کریم لگائی تو مرچیں سی لگنے لگیں۔ ہونٹوں پر گلابی لپ اسٹک لگا کر وہ تیار ہو کر باہر نکلی تو ہیون اور گوارا کچن کائنٹرکے پاس اطمینان سے اسٹول پر بیٹھے کافی اڑا رہے تھے۔
کیسی لگ رہی ہوں۔ اسکو کمرے سے نکلتے دیکھ کر گوارا فورا متوجہ ہوئی اس نے اسی سے پوچھا
اچھی لگ رہی ہو مگر کیا بہت سردی لگ رہی ہے تمہیں؟
گوارا نے اچنبھے سے کہا تھا۔۔ وہ اسکے ہائی نیک اور سکارف کو تعجب سے دیکھ رہی تھئ۔
ہاں ۔۔۔۔کیوں؟ وہ گڑبڑائی
یہ اسکارف بالکل ضروری نہیں۔اور لانگ کوٹ میں شرٹ تو چھپا ہی لی ہے تم نے۔
وہ اسکے پاس آکر اسکے کپڑے ٹھیک کرنے لگی۔ اس نے اسکے گلے سے اسکارف نکال دیا تھا۔۔ اب کوٹ اتروا رہی تھی۔
اوہ خدایا ہائی نیک بھی پہن رکھی ہے۔ وہ بھرپور تعجب کا اظہار کر رہی تھی۔
ٹھہرو میں اپنی جیکٹ لا کر دیتئ ہوں۔ وہ اسکا کوٹ اور اسکارف صوفے پر رکھتی اندر کمرے میں چلی گئ۔
اس کے انداز پر خجل سی ہوتی ہوئی اس نے چہرے پر در آنے والی لٹیں کانوں کے پیچھے اڑسیں۔ یونہی نظر اٹھا کر دیکھا تو ہیون اسی کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اسے دیکھے جا رہا تھا مگرانداز اتنا سادہ سا تھا کہ اسے برا نہ لگا۔
یہ شرٹ ڈھیلی ہے نا تمہیں۔ میں کہہ رہا تھا۔ اس نے جتایا اور مڑ کر کافی ختم کرنے لگا۔
اسکے کہنے پر وہ چونکی۔ اسکارف لانگ کوٹ اتارنے کے بعد اسے خیال ہی نہیں رہا تھا کہ وہ بنا دوپٹے کے کھڑی ہے۔
یہ لو۔ اس نے خوبصورت سا گلابی جیکٹ اسے لا تھمایا تھا فٹنگ والا پتلا سا جو اسکی کمر تک آرہا تھا اوپر فر اور پھلتروں کا دلکش امتزاج تھا۔ کندھے پر ستارے دمک رہے تھے۔
اسکو اسکے ہلکا ہونے پر اعتراض سا ہوا۔ پہنتے ہوئے منمنا کر کہنا چاہا۔
ٹھنڈ لگے گئ۔
بہت گرم ہے یہ اور آج اتنی ٹھنڈ بھی نہیں پانچ ڈگری ہے بس۔ میں تو بس ہائی نیک پہنتی اسکی ضرورت بھی نہ پڑتی مجھے۔
گوارا نے گھرکتے ہوئے اسے پہنایا۔
پانچ ڈگرئ۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ۔
اتنے میں تو پنڈی میں میں بستر سے نہیں نکلتی دو سوئٹریں چڑھا کر کافی یا سوپ اندر انڈیلتی رہتی تھی۔ تم لوگ اوپر سے کوئی گیںڈے کی کھال لگوا کر اترے ہو۔آج جیسے کینچلی اتر رہی تھی اندازہ ہوا مجھے۔
وہ گوارا کو گھورتے ہوئے بولے جا رہی تھی۔ مگر گوارا نے دھیان نہ دیا۔ کونسا دھیان دینے سے اسکی اردو سمجھ آجانی تھئ۔
دے لو جتنی مرضئ گالیاں مگر پہن کر یہی جائوگی تم۔
گوارا نے کہا تو وہ منہ بنا کر بولی
گالیاں نہیں دے رہی میں۔ گالیاں نہیں دیتی میں۔ اتنا پتہ نہیں چلا ابھی تک میرے بارے میں۔
اس نے منہ پھلا کر کہا تھا۔ گوارا اسکے انداز پر ہنس پڑی
تمہارے میک اپ بگڑنے کا خدشہ نہ ہوتا تو ابھی اس بات پر تمہارے گالوں میں کوچی کوچی کرنا تھا میں نے۔
وہ اسکے گالوں پر اشارے سے چٹکیاں کاٹ رہی تھی
اچھی بات ہے ہاتھ نہ لگائو۔ مگر میں نے میک اپ کیا نہیں ہے۔
اس نے زبان چڑائی۔
کھوجے ما۔ گوارا نے یقین نہ کرتےہوئے اسکا گال چھوا اور حیران رہ گئ۔
واقعی تم نے میک اپ نہیں کیا؟ اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی۔
تمہارے گال بلش کیوں ہورہے؟ اس نے باقائدہ اسکے گال چھوئے۔
آئی لائنر تک نہیں لگایا۔
وہ جیسے بے ہوش ہونے کو تھی۔
بس لپ اسٹک لگائی ہے۔ مجھے میک اپ کرنا آتا ہی نہیں ہے۔ سنتھیا کبھی کبھی تیار کردیتی تھی مجھے آئی لائنر لگاکر یونی جاتے ہوئے مجھے وہ بھی لگانا نہیں آتا۔ کبھی برابر نہیں لگتا۔
اس نے صاف گوئی سے کہا تھا۔
ہائش میں تو بنا میک اپ گھر سے نکلنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی کیسی لڑکی ہے یہ۔
وہ اب ہنگل میں واویلا کر رہی تھی۔
پیاری ۔
ہیون مگ رکھ کر اٹھا۔ اسکے کان کے پاس سرگوشی کی۔ اریزہ ان دونوں کو منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
چلیں؟ ۔ اس نے پوچھا۔تو ہیون نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
اس بڑے سے کمیونیٹی ہال کے سامنے رنگ و روشنیوں کا میلہ سا لگا تھا۔ پارکنگ انکو کافی دور ملی تھی۔ بس حد نگاہ تک گاڑیاں ہی گاڑیاں تھیں۔
اندر شائد کانسرٹ شروع ہوچکا تھا سیٹیوں چیخوں اور موسیقی کا بے ہنگم شور باہر تک سنائی دے رہا تھا۔
ہم بریو ہارٹ سے کانسرٹ سے پہلے ملیں گے یا بعد میں؟
ہیون کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے اس نے پوچھا۔
ہوں۔ وہ جیسے اپنے کسی دھیان سے چونکا۔
کیا ہوا؟ کہاں گم ہو ؟
اسکی غائب دماغی پر وہ ہنس دی
کہیں نہیں کیا کہہ رہی تھیں؟
اس نے سنبھل کر پوچھا۔۔
میں پوچھ رہی تھی ہم بریو ہارٹ سے کانسرٹ سے پہلے ملیں گے یا بعد میں۔ میرا مطلب ہم کانسرٹ میں اسکو لیکر تو نہیں پھریں گے نا؟
اس نے بیگ لہرایا۔
تمہیں کانسرٹ سننے میں کوئی دلچسپی نہیں؟
ہیون کو اسکے انداز پر واقعی حیرت ہوئی
بالکل نہیں۔ اس نے بلا توقف سر ہلایا
کیا فائدہ سننے کا جب سمجھ کچھ نہیں آنا۔ نہ زبان نا کچھ اور۔ہاں دھن اچھی ہوتی ہے اور آوازیں بھی بریو ہارٹ کی اچھی ہیں پر کیا مزا جب سمجھ ہی نہ آئے کیا کہہ رہے ہیں۔
وہ روانی میں کہتی گئ۔
ان آٹھ مہینوں میں تمہیں بالکل بھی ہنگل سمجھ نہیں آنی شروع ہوئی۔؟ لوگ تو روانی سے بولنے لگتے ہیں اتنے عرصے میں تو۔
ہیون نے کہا تو وہ کندھے اچکا گئ
سیکھیں تب نا۔مجھے نہ ضرورت ہے نا خواہش۔ انٹرنیشنل اسکول میں پڑھ رہی تھی وہاں انگریزی میں ہی پڑھا رہے تھے تو سیکھ کر کیا کرنا تھا۔
سیکھ لو زبان سیکھنا کام آجاتا ہے۔ کسی کی بات سمجھنے کے کسی کو سمجھنے کے۔
اسکا لہجہ جملے کے آخر تک دھیما ہوتا گیا۔
اریزہ نے دھیان نہ دیا۔ سامنے سے کئی ہائی اسکولرز یونیفارم میں شائد اسکول سے واپسی پر بھاگے آرہے تھے سب کے پاس بریو ہارٹس کی لائٹ اسٹکس تھیں
بھاگو چلو دیر ہوگئ ہے۔ وہ انکے پاس سے جوش میں ایک دوسرے کو کہتے گزرے
وہ ہونٹ بھینچ گیا
بریو ہارٹ کوریا کے ٹاپ بینڈز میں سے ایک ہیں۔ انکے گانے دنیا بھر میں ٹاپ رینکنگ میں آتے ہیں۔ امریکہ یورپ ہر جگہ انکی۔زبان سمجھ نہ آنے کے باوجود انکے گانے شوق سے سنے جاتے ہیں انکے پچھلے کانسرٹ نے تو امریکہ میں ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انکے ایک ایک رکن کی علیحدہ فین فالوونگ ہے۔ لوگ ایک جھلک دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے کوریا آتے ہیں۔صرف انکو اس چیریٹی کانسرٹ میں ایک گانا گانا تھا اور یہ سب ٹکٹ ہاتھوں ہاتھ بکے ہیں لوگ دوپہر سے یہاں اندر آنا شروع ہوگئےتھے۔ انکی سب سے آخری پرفارمنس ہوگی جو اب سے ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہوگی مگر دیکھو لوگ انکے لیئے کتنے پرجوش ہیں۔
اس نے انہی کی جانب اشارہ کیا تھا۔
اریزہ اسے الجھن سے دیکھ رہی تھی۔ اس بے وقت بریو ہارٹ کی مدح سرائی کی وجہ سمجھ نہیں آئی تھی۔
اور صرف یہی نہیں کورین ڈرامے دنیا بھر میں ذوق و شوق سے دیکھے جاتے ہیں۔ لیجنڈ آف بلو سی دنیا بھر میں کئی زبانوں میں ترجمہ کرکے دیکھایا جا رہا ہے۔ لوگ شوقیہ ہنگل سیکھتے ہیں ان ڈراموں اور گانوں کے پیچھے۔ اور
بولتے بولتے وہ یکدم ہی خاموش ہوا
اریزہ جز بز سی ہورہی تھی۔ یقینا اسے اسکی بات بری لگ چکی تھی۔ اتنے عرصے میں شائد پہلی بار وہ تھوڑا غصے میں آگیا تھا تب بھئ اسکا انداز بدتمیزانہ نہیں ہوا یقینا اسکا بڑا پن ہے اگر وہ برا مان بھی گیا ہے تو اسے معزرت کر لینی چاہیئے۔ یہی سوچ کر وہ بول اٹھی۔
میں معزرت خواہ ہوں شائد تمہیں میرا یہ کہنا کہ ہنگل سیکھنے کی خواہش ہے نا ضرورت برا لگا ہے۔ مگر اس سے میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ ہنگل کوئی بری زبان ہے یا کچھ بے عزتی کرنا مقصود تھا۔ میں تو بس ۔۔
اب دیکھو تم اور میں دونوں ہی ایک تیسری زبان میں آرام سے بات کر لیتے ہیں۔ اب میں تمہیں اردو سیکھنے کو تو نہین کہہ سکتی۔تمہیں کیا ضرورت ہے اردو سیکھنے کی جب تمہارا اردو سے کوئی واسطہ ہی نہیں پڑنا۔ اب اسکا یہ مطلب تھوڑی کے اردو بےکار یا بری زبان ہے بس اسکا مطلب یہ ہے کہ۔
ہیون ہونٹ بھینچے اسے دیکھتا رہا۔ وہ اسے ایک پزل کہ طرح لگی تھی ۔ ایسا لگا تھا کہ جیسے وہ پہلی بار اسے دیکھ رہا ہے۔
مجھے اردو میں دلچسپی ہونے لگی ہے۔ میرا دل کرتا ہے ایکدن میں اس زبان کو سمجھنے لگ جائوں۔ میں سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں تمہارے منہ سے نکلے ایک ایک لفظ کو۔ تمہارا دل نہیں کرتا ؟ کبھی میں کچھ اپنی زبان میں بھی بولوں تو تمہیں سمجھ آجائے۔
اسکی بات پر وہ اسے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہ گئ۔ منہ پھلائے شکوہ کرتا کیا بچوں والا انداز تھا۔ کیا وہ اس بات پر اس سے خفا ہو رہا تھا کہ اسے ہنگل کیوں سمجھ نہیں آتی؟
تم مجھے ویسے ہی ترجمہ کر دیتے ہو اگر کوئی اور بھی ہنگل بولے تو۔ او رخود تو تمہاری انگریزی اتنی اچھی ہے کہ۔
اریزہ کئ وضاحت اسے مزید غصہ دلا گئ تھی۔
چھیسو۔ (چھوڑو)
اس نے تیزی سے کہا اور اپنے قدموں کی رفتار بڑھا لی ۔ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسکے پیچھے لپکی۔
ایک لسٹ ہاتھ میں لیئے۔ کانوں میں اییئر پیس لگائے جسکا چھوٹا سا مائک گال تک آرہا تھا۔ وہ ادھر ادھر پھرتی ہدایتیں دے رہی تھی۔
اگلا لائن اپ بریو ہارٹ کا تھا۔ میک اپ روم میں جھانک کر اس نے انکی۔موجودگی کا یقین کرنا چاہا مگر وہاں بس کچھ ڈانسرز موجود تھے۔
بریو ہارٹ چیکڈ ان۔
اسکے کان میں سرگوشی ہوئی وہ چوکنا سی ہو کر لابی میں نکل آئی۔ استقبالیئے کی جانب جاتے ہوئے شیشے کی دیوار سے اسے بریو ہارٹ ایک بڑی سی کالے شیشوں والی وین سے اترتے دکھائئ دیئے۔ اپنے مینجرز اور گارڈز کے ہمراہ شاہانہ انداز میں۔ گنگ شن اور انکی این جی او کے منتظم اعلی نے خود انکا استقبال کیا تھا اور پھول پیش کیئے تھے۔جسے انکے مینجر نے قبول کرکے فورا ہی ڈرائور کو گاڑی میں تھما دیئے تھے۔
شکریہ آپ کے تعاون کا۔
گنگ شن روایتی انداز میں جھک کر کہہ رہی تھی۔
جوابا انہوں نے بھی انکساری کا مظاہرہ کیا۔
میک اپ روم نمبر 5 خالی کردیا جائے۔ اور بریو ہارٹ کو قہوہ بھی پیش کیا جائے۔
اس نے مائک میں کہا۔
گنگ شن انکو اندر لا رہی تھی۔ اس نے آگے بڑھ کر رہنمائی کی انکو لابی میں روم نمبر پانچ تک پہنچا کر جب انکے گارڈز دروازے پر رکے تو وہ بھی گنگشن کے ساتھ اندر جانے کی۔بجائے وہیں رک گئ۔۔۔اسکا کام یہیں تک تھا۔ اس نے فورا مائک نیچے کیا اور ائیر پیس کان سے نکال کر جیب میں رکھ
اسکے سرد سے انداز نے گارڈز کو بھی شائد متاثر کیا تھا۔۔
ایک نے جھک کر دوسرے کے کان میں سرگوشی کی
عجیب خشک سی لڑکی ہے۔بڑی سے بڑی تنظیم کے بھی ملازم ہوں بریو ہارٹ کے پرستار نہ بھی ہوں تو بھی کم از کم انکو دیکھ کر گرم جوشی کا مظاہرہ ضرور کرتے ہیں۔
کم از کم تصویر تو ضرور ہی۔بنواتے ہیں۔ یہ تولکی کے مسکرا کر دیکھنے پر جوابا مسکرائی تک نہیں۔
ہاں واقعی میں بھی یہی نوٹ کررہا تھا۔
دوسرے نے بھئ ہاں میں ہاں ملائی۔
ان دونوں کی آوازیں اسکے بھی کان میں پڑی تھیں۔
تمتماتے چہرے کے ساتھ فہمائشی مسکراہٹ سجائے گنگ شن انکے کمرے سے نکلیں۔ اسکو دیکھ کر اسکی جانب چلی آئیں۔
ارے میں پکار رہی تھی۔ ائیرپیس کہاں ہے تمہارا۔
انہوں نے پوچھا تو وہ جیب میں سے نکال کر دکھانے لگی۔
ارے ۔۔ یہ دیکھو یوسب کے ساتھ سیلفی لی ہے میں نے کتنی پیاری آئی ہے۔ وہ خوش سی تھیں موبائل سے تصویر نکال کر دکھائی۔ وہ مسکرا دی۔
مائک سے مستقل تمہیں بلا رہی تھی۔ تمہیں تصویر بنوا لیتیں بریو ہارٹ کے ساتھ اسکے بعد تو بہت مصروف ہو جائیں گے۔ موقع نہیں ملنا۔ چلو تمہاری تصویر بنوا دوں۔
وہ اسکا ہاتھ تھام کر مڑنے لگیں ۔ اس نے دھیرے سے ہاتھ چھڑا لیا
رہنے دیں انی۔ ضرورت نہیں۔ اور۔کوئی کام ہے تو بتا دیں۔
تم نے آج میرا آدھا کام نپٹا دیا اسکے لیئے میں تمہارا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔بس اب کچھ نہیں۔کانسرٹ سنو اور ہاں ڈنر ساتھ کرنا ہے ہمارے پورے دس بجے ہال نمبر 4 میں آجانا۔ یہ پاس رکھنا اپنے پاس
انہوں نے اپنے پرس سے ایک پاس نکال کر اسے دیا۔
جائو شاباش موسیقی کا لطف اٹھائو۔ وہ پیار سے اسکا گال چھو کر کہہ رہی تھیں۔ تبھی انکا موبائل بج اٹھا
ہاں ہیون۔۔۔ وہ کان سے لگا کر یکدم ہی لابی کی۔جانب بڑھ گئیں۔
انی وہ۔ وہ کچھ پوچھنا چاہ رہی۔تھی مگر موقع ہی نہ مل۔سکا۔
اجنبی زبان مگر دلفریب دھن وہ مارے باندھے آئی تھی اور اس وقت بالکل مگن سن رہی تھی۔ اسٹیج کے بالکل دائیں جانب انتظامیہ کے زیر اہتمام پہلی رو میں لگی نشستیں ۔
وہ انکو بس ایک جانب سے دیکھ رہی تھی۔ تین طرفہ اسٹیج تھا مگر ساری ہلڑ بازی سامنے تھئ۔ وہاں سب نوجوان لڑکے لڑکیاں کھڑے تھے اچھل رہے تھے شور مچا رہے تھے۔سیٹیں اس تھوڑے سے قطعے سے پیچھے تھیں مگر اب لگتا تھا سب ہی سیٹوں پر بیٹھنے کو تیار نہیں۔ یہ بریو ہارٹ نہیں تھے۔ انکی باری ابھی نہیں آئی تھئ مگر لگتا تھا یہ بھی مشہور ہیں کافی۔ اوپن ائیر نہ ہونے کی وجہ سے وہاں ٹھنڈ بالکل نہیں تھی۔ منک کوٹ اتارنے کا وہ سوچ رہی تھی۔ پسینہ آنے سے جسم میں الگ چن چنئ سی مچ گئ تھی۔ کبھی بازو سہلاتی کبھی گردن۔ مگر اس سب کے باوجود اسے مزا آرہا تھا۔
گلو کار گاتے گاتے انکے سامنے اکڑوں بیٹھ کر ہاتھ ملانے لگتے تو شور کان پھاڑنے لگتا۔۔۔۔
وہ بہت شوق سے انکی ہلڑ بازی دیکھ رہی تھی۔
انکی۔جانب سے انتظامیہ کے ارکان اور دیگر ملازمین اور ڈانسر گروپ اکٹھے ہی دوڑے چلے آئے۔ نشستوں کو۔نظر انداز کرکے سب اسٹیج کے قریب ہاہو کار میں مصروف ہو گئے۔۔ اسکو جو تھوڑی بہت ایک رخ کی شکل دیکھنے کو مل رہی تھی وہ بھی ختم۔ اسکو شدید خارش ہو رہی تھی پیٹ میں۔ چپکے سے سہلا کر بازو منک کوٹ کے اوپر سے ہی رگڑ دیا۔ اب سامنے بس پشتیں تھیں ناچتے لوگوں کی۔
اس نے بد مزہ سا ہو کر رخ پھیرا تو احساس ہوا ہیون اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
آئو ادھر چلیں۔
اس نے اسٹیج کے سامنے والی جانب اشارہ کیا۔ تو وہ اثبات میں سر ہلا کر اٹھ گئ۔ بےتحاشہ ہجوم میں بھی ہیون راستہ بناتا رہا۔ اسکا لمبا قد اسکی نشانی تھی۔ تبھی اسے دھکا سا لگا۔ سوری۔ مقابل کے کہنے سے پہلے زرا سا سر خم کرکے اس نے معزرت کر ڈالی مگر وہاں پروا کسے تھی۔ جھومتے چلاتے خوشی سے پاگل ہوتے لوگ۔ وہ سرجھٹک کر پرس سنبھالتی سیدھی ہوئی۔ اور ہیون لمحہ بھر میں نگاہوں سے اوجھل۔۔۔
اجنبی زبان اجنبی شکلیں۔ ایکدم سے اسکو لگا جیسے وہ بالکل تنہا سی رہ گئ ہے دنیا میں۔۔
تبھی دھماکا سا ہوا تھا۔۔ اور اسکا دل جیسے تھم سا گیا تھا۔
اسٹیج کے قریب ہی دوسری جانب انتظامیہ کے مخصوص لباس میں ملبوس ہوپ نے اسے بھرے مجمعے میں بھی ایک نگاہ میں پہچان لیا تھا۔ جگہ بناتی وہ سیدھی اسکے پاس آئی۔
آننیانگ۔ وہ چونکا۔ مسکرایا۔ اور بس۔ مڑ کر جانے کیا اچک اچک کر دیکھنے لگا۔
آنکھیں پانی سے بھر گئیں۔ جھٹکے سے مڑ کر واپس جانے لگی تو اسٹیج کے قریب لگے آرائشی قمقموں کے بکھرے تاروں سے الجھ کر لڑکھڑا گئ۔ گرنے سے بچتے بچتے بھئ وہ گھٹنے کے بل زمین پر آرہی۔
اسٹیج پر اور اسٹیج کے نیچے دنیا کے لوگ مگن تھے کسی نے غور بھی نہ کیا۔
کین چھنا؟
مانوس آواز۔ اس نے بےدردی سے آنکھیں رگڑلیں۔
دے۔ سہارے کیلئے بڑھے ہاتھ کو نظر انداز کرتے وہ خود ہی اپنے بل پر اسٹیج کا سہارا لیتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
اسکے گھٹنے چھل سے گئے تھے۔۔۔ہیون نے اسکی ضبط سے سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھا تو نظر انداز نہ کر پایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکا ہاتھ تھام کے اندر لے آیا۔ لابی میں لگے صوفے پر بٹھا کر خود اندر داخل ہو گیا۔
گھٹنوں سے خون بہت نہیں بہہ رہا تھا مگر کھال اتر جانے سے مرچیں سی لگ رہی تھیں۔اور یہ مرچیں اس تکلیف کے آگے کچھ نہ تھیں جو اسکی آنکھوں میں آنسو بھر رہی تھی۔
وہ اندر انتظامیہ سے پلاسٹر مانگ کر لایا تھا۔
اسکے سامنے اکڑوں بیٹھ کر اس نے خود اسکے گھٹنے پر پلاسٹر لگایا تھا۔ جانے کیوں اسکا دل خوش فہم سا ہو گیا تھا۔
پلاسٹر لگا کر وہ ایکدم سر اونچا کر کے اسکی نگاہوں میں دیکھ کر مسکرایا تو وہ گڑ بڑا سی گئ
بہادر لڑکی ہوتم اتنئ معمولی چوٹ پر ایسے روتے نہیں۔ یہ لو۔
جیب سے لالی پاپ نکال کر اسکی جانب بڑھاتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا تھا۔
اسکے لب استعجاب سے نیم وا سے ہوئے۔
لو نا۔ ہیون نے پھر کہا تو اس نے دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر تھام لیا۔ اس نے شائد بچپن میں بھی کبھی لالی پاپ نہ کھایا تھا۔ مگر اس وقت جانے کیوں اسکا دل کیا کھانے کا۔ فورا ریپر اتار کر منہ میں رکھ لیا
ہیون اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ وہ اسکی جانب دیکھنے سے دانستہ احتراز کر رہی تھی۔
اب درد تو نہیں ہو رہا۔چند ثانیئے بعد اسے پھر مانوس آواز سنائی دی تھئ۔
ریسیپشن پر رکھے ٹشو باکس سے کئی ٹشو نکال کر وہ لایا تھا۔ اب اسکی جانب بڑھاتے ہوئے نرمی سے پوچھ رہا تھا
گوماپسمنبدہ۔( شکریہ)
اس نے مسکرا کر تھاما۔۔
تھائینئے تم مسکرادیں۔ میراخیال ہے چوٹ لگنے پر بڑوں کو بھی لالی پاپ دے کر بہلایا جا سکتا ہے۔ شکر ہے جب نرس نے مجھے پلاسٹر کے ساتھ لالی پاپ دیا تو میں نے واپس نہیں کیا۔ وہ سمجھی تھی کہ کسی بچے کو چوٹ لگی ہے۔
وہ مخصوص نرم سےمگر سرسری سے انداز میں اسے بتا رہا تھا۔اسکے لالی پاپ کا ذائقہ ایکدم بدل کر تلخ ہونے لگا تھا۔
میں نونا کو بتا دیتا ہوں کہ تم آرام سے بیٹھو وہ کسی اور کو تمہاری ذمہ داری دے دیں گی۔۔
وہ اپنی طرف سے اسکو تسلی دے کر مصروف سے انداز میں کال ملانے لگا تھا۔
آننیانگ۔فون پر بات کرتے کرتے اس نے اخلاقا اسے سر کے اشارے سے خدا حافظ کہا اوراندر بڑھ گیا۔
ٹشو ہاتھ میں ہی تھے۔ اب آنکھوں پر بند باندھنے کی وجہ نہیں رہی تھی سو اس نے اس سیلاب کو بہہ جانے دیا۔
اسٹیج کے قریب آرائشی غبارے پھاڑتے ہوئے بریو ہارٹس کے ارکان کا استقبال کیا گیا تھا۔
شور چیخیں بے ہنگم موسیقی اچھلتے کودتے لوگ۔
اسکا ایکدم دم سا گھٹنے لگا تھا۔ ایک اور زور دار پٹاخہ چھوٹا تھا اور گھپ اندھیرا سا چھایا تھا اسکی آنکھوں کے سامنے۔
آگ خون اندھیرا گنگ سی بچی۔۔۔۔۔ وہ ایکدم سے بارہ سال قبل پہنچ چکی تھئ۔ ڈوبتے دل کے ساتھ اسکے قدموں نے اسکا ساتھ دینے سے انکار کیا تھا۔ وہ اکڑوں بیٹھتی چلی گئ نا سمجھ میں آنے والا شور بلند ہوا تھا اسے دھکا لگا تھا وہ توازن برقرار نہ رکھ پائی تھی۔ کسی کے قدموں تلے اسکا ہاتھ آیا تھا۔ ایک سسکاری سی اسکے منہ سے نکلی۔
بند ہوتی آنکھوں کے سامنے اسکا بھائی تھا ملگجے اندھیرے میں مسکراتا آگے بڑھتا اور پھر سب دھواں۔
وہ جیسے ہی دوبارہ کانسرٹ کی جانب آیا تب ہی بریو ہارٹ اسٹیج پر آنے لگے تھے۔ ایکدم ہی رونق دس گنا بڑھی تھی۔ اسکو انتظامیہ نے دروازہ استعمال کرنے سے روکنا چاہا تھا مگر وہ انکو پاس دکھاتا اندر آگیا تھا۔رش دگنا ہو چکا تھا مشکل وہ راستہ بناتا اسٹیج کے قریب جانے لگا۔۔ ایکدم سے اسٹیج کی آرائشی بتی پھٹ گئ تھی۔ شیشے سے اڑ کر آگے کھڑے لوگوں پر آئے تھے۔ لمحہ بھر کو سب گھبرا کر پیچھے ہوئے۔ کچھ گرے کچھ بچے۔ چیخیں شور۔۔۔۔
آگاشئ۔۔
دو تین لڑکیاں تھیں جو چیخ چیخ کر پکار رہی۔تھیں۔ اسکا دل جانے کیوں زور سے دھڑک اٹھا تھاوہ تیزی سے اس جانب بڑھا۔ انتظامیہ کے چند رضا کار سب کو تحمل سے کام لینے کو کہہ رہے تھے۔
اس نے لوگوں کو ہٹا کر جب قریب جا کر دیکھا تو لمبا پھیلا بازو جسکی آستین گلابی منک کوٹ۔
وہ بے تابی سے آگے بڑھا۔۔ وہ اریزہ ہی تھی۔ مکمل بے ہوش منہ کے بل زمین پر گری ہوئی۔ وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھا تھا۔
اونچائی ذیادہ تو نہیں تھی مگر وہ بھد سے گری تھی۔ گھٹنے سخت زمین پر لگے تھے۔ پائوں مڑ گیا تھا۔ زمین پر۔ خشک گھاس اور سخت زمین۔ اسکی آنکھوں میں آنسو بھر گئے۔ اندر جاتے غیر معمولی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا تو تیزی سے بھاگتا اسکے قریب آیا تھا۔ وہ فورا اٹھ کر کھڑی بھی ہو گئ۔
چوٹ تو نہیں لگی؟
کسی نے اسے شانوں سے تھاما۔
مانوس آواز اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔
پریشان سا گھبرایا ہوا مانوس چہرہ۔
ساری بہادری ہوا ہوگئ۔ موٹے موٹے آنسو گالوں پر پھسل آئے۔ وہ بری طرح رودی ۔
ارے کہاں چوٹ لگئ ہے دکھائو۔
اس نے گھٹنوں پر سے فراک ہٹائی دونوں گھٹنے چھل گئے تھے پیر بھی مڑ گیا تھا۔ وہ اور زو رسے رو پڑی۔
بہادر بچے روتے نہیں۔
اسکے آنسو صاف کرتے حماد بھائئ اسے بہلا بھی رہے تھے۔
یہ جیسے ٹانک تھا حماد بھائئ کا۔ وہ فورا سسکیاں دبانے لگی
میں رو تو نہیں رہی۔
آٹھ سالہ اریزہ منہ بسورتے کہہ تو رہی تھی مگر آنسو پھسلے چلے آرہے تھے۔ اس نے گود میں اٹھا کر اسے ل
لان کی کرسی پر لا بٹھایا اندر سےروئی پائوڈین لاکر زخم صاف کیا پلاسٹر لگایا ۔
وہ بہادری سے آنسو ضبط کیئے رہی۔
کیوں چڑھی تھیں درخت پر؟ بلی۔
اب ڈانٹنے کی باری تھی مگر چوٹ کے پیش نظر نرمی سے پوچھا گیا۔
وہ طوطا تھا ۔ اسے پکڑ کر پالنا تھا۔ سنتھیا نے کہا تھا۔
اس نے اشارہ کرکے بتایا۔ انکےلان میں امرود کا درخت تھا۔ ہزار بار منع کرنے کے باوجود بھی دونوں بچیاں اس پر چڑھنے کی کوشش کرتی پائی جاتی تھیں۔
سنتھیا کہاں ہے؟
حماد نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا۔
سنتھیا پچھلے صحن کی طرف جاتی راہداری میں سے گرد ن نکال کر۔جھانک رہی تھی۔
وہ آپ سے ڈر کر چھپ گئ۔ اریزہ نے بتایا تو وہ اسکو دیکھ کر رہ گیا۔
ادھر آئو۔
اسکے رعب سے بلانے پر وہ ڈرتی ڈرتی آئی۔
دیکھا نا درخت سے گرنے کتنی چوٹ آتی ہے۔اسلیئے سب بڑے منع کرتے ہیں درخت پر چڑھنے سے۔ مگر تم دونوں بات نہیں سنتی ہو۔
حماد بھائی کا رعب ہی بہت تھا۔ اس نے سر مزید جھکا لیا۔
آئیندہ درخت پر چڑھیں تو دونوں کی پٹائی کروں گا۔
اسکے کہنے پر اریزہ جو ہونٹ بھینچے مسکراہٹ ضبط کر رہی تھی ایکدم زور سے ہنس دی۔ سنتھیا اور حماد نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔
تم کیوں ہنس رہی ہو۔
آپ کبھی نہیں پٹائی کرتے۔ آپ تو اتنا پیار کرتے ہیں امی سے بھی بچاتے ہیں مجھے۔آپ کبھی پٹائی نہیں کرسکتے۔
اس نے یقین سے سر ہلایا۔
اسکی بات پر حماد کو ہنسی آگئ تھی۔ اسے ہنستے دیکھ کر سنتھیا کو بھی شہہ ملی۔
حماد بھائئ طوطا پکڑ دیں وہ ادھر بیٹھا ہوا ہے۔
سنتھیا کے کہنے پر اریزہ بھی اٹھ کر اسکی ٹانگوں سےلپٹ کر ضد کرنے لگی۔
ارے خوامخواہ۔ حماد نے ڈانٹنا چاہا۔
پلیز پلیز۔ اتنا پیارا طوطا ہے۔
دونوں ضد کرنے لگیں۔۔
دونوں کا ہاتھ تھام کر انہیں قریبی مارکیٹ لایا تھا۔
طوطا اتنا پیارا پرندہ ہے اڑتا پھرتا ہے اپنی مرضی سے کھاتا ہے پیتا ہے اسے پنجرے میں قید تھوڑی کرنا چاہیئے۔
دونوں کو آئیسکریم تھمانے تک وہ سمجھاتا رہا تھا۔ دونوں نے آئسکریم تھام کر ضد چھوڑ دی تھی۔ مزے لیکر آئیسکریم کھاتے اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو حماد بھائی اسے دور جاتے دکھائی دییے۔
کہاں جا رہے ہیں حماد بھائی۔ وہ بے چینی سے بولی
مجھے کیا پتہ۔ سنتھیا کا دھیان آئسکریم کی جانب تھا۔
حماد بھائی۔ وہ بے تابی سے پکارتی انکے پیچھے بھاگی۔
جانے وہ تیزی سے کیوں چلے جا رہے تھے۔
حماد بھائی۔ اس نے پوری طاقت لگا کر آواز دی ۔۔
ایک دوسری تیسری اسکی پکار جیسے ان تک پہنچی ہی نہیں۔ اسکی آئسکریم چھوٹ چکی تھی انکے پیچھے بھاگتے بھاگتے انکے دور چلے جانے کے احساس نے اسکو جیسے توڑ دیا وہ بسورنے لگی ۔
حماد بھائی رک جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نامانوس سا احساس۔ سرمیں شدید درد کی لہر اٹھی۔ اس نے کراہ کر آنکھیں کھولی تھیں۔ تیز چمکتی روشنی نے نگاہیں چندھیا دیں۔ اس نے فورا آنکھیں دوبارہ بند کر لیں۔ گنگ شن کھڑی ملازم کو ہدایتیں دے رہی تھیں جب اس پر نگاہ پڑی تو بات ادھوری چھوڑ کر اسکے پاس چلی آئیں۔
کین چھنا۔۔ ؟؟؟ وہ پیار سے اسے جگاتے ہوئے پوچھ رہی تھیں
نونا انگریزی میں پوچھیں اسے سمجھ نہیں آئی ہوگی بات۔
ہیون کی آواز تھی یہ۔ اس نے پہچان لی تھی۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو انی نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دے کر بیٹھنے میں مدد کی۔
اوہ ہاں۔ آر یو اوکے اریزہ؟
جی۔۔ اس کے منہ سے بلا ارادہ نکلا تھا۔۔۔
انی مسکرا دیں۔
سویٹ جی۔ تھینک گاڈ یو آر اوکے۔ میں پریشان ہو گئ تھی۔
انہوں نے اسکے بال سنوارے۔ اسکے حواس قابو میں آرہے تھے اس نے طائرانہ نگاہ ڈالی تو احساس ہوا وہ اس وقت کسی ہال نما کمرے میں ہے لمبے صوفے پر اسے لٹایا گیا تھا۔ انی دو تین سوٹڈ بوٹڈ این جی او کے ملازم اور ایک سفید اوور آل پہنے اسٹیتھسکوپ گلے میں لٹکائے کھڑا ڈاکٹر جو یقینا اسکے انتظار میں ہی تھا۔ اسے دیکھ کر مطمئن سا ہو کر انی سے ہنگل میں پوچھنے لگا۔
ہیون۔۔ اس نے گردن موڑ کر ڈھونڈنا چاہا وہ اسکے سرہانے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اریزہ ڈاکٹر صاحب پوچھ رہے ہیں تم اپنا ہاتھ ہلا کر دیکھو انگلیاں بھی۔۔۔۔
اس نے میکا نکی انداز میں ہدایات پر عمل کیا۔
ہلکی سی سسکی سی نکلی تھی۔ اسکی انگلیاں بری طرح چھل گئ تھیں ان پر پائوڈین اور کوئی سفید سی دوا لگائی تھی۔ مگر یقینا انگلیاں فریکچر ہونے سے بچ گئی تھیں۔
تم پہلے بھی بے ہوش ہوتی رہی ہو کبھی؟
سوال نے اسکو گڑبڑا سا دیا تھا۔
ایک دو دفعہ۔ اس نے جھوٹ بولا تھا یہ اسکی شکل پر لکھا تھا۔
ابھی تمہارا بی پی چیک کرنا ہوگا۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئ۔
کہیں بہت ذیادہ درد تو نہیں ہو رہا۔
پہلے ڈاکٹر کچھ بولتا پھر گنگ شن دہراتیں۔ اسکا مکمل چیک اپ کرکے نجانے کیا کیا پوچھ کر مطمئن ہو کر ٹلا تھا ڈاکٹر۔
اس طرح بے ہوش ہونا صحیح بات نہیں احتیاطا مکمل چیک اپ کرانا چاہیئے۔ انکے بازو میں بھی سرخ الرجی سی ہے اسکا بھی اثر ہو سکتاہے۔
ڈاکٹر ہدایتیں دیتا چلا گیا۔
گنگ شن نے جھک جھک کر شکریہ ادا کرتے ہوئے رخصت کیا۔ پھر اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔
کیا لڑکی پریشان کرکے رکھ دیا۔ اتنا کور ہو کر آنے کی کیا ضرورت تھی اتنئ سردی تو نہیں تھی۔ ہائی نیک انر اوپر سے منک کوٹ پسینے پسینے ہو رہی تھیں تم جبھی بی پی بھی لو ہوگیا ہوگا تمہارا۔
انی بےتکلفی سے اسکے برابر آکر بیٹھیں تو وہ چونک سی گئ۔ اسکا منک کوٹ اتارا جا چکا تھا بلکہ ٹی شرٹ بھی موٹی ہائی نیک کی آستینیں بھی اوپر تک چڑھائی ہوئی تھیں۔
ڈاکٹر تو کہہ رہا تھا کہ ہائی نیک بھی اتاریں اسکا دم گھٹ رہا ہوگا۔مگر ہیون نے سختی سے منع کیا کہ تم برا مان جائو گی اٹھ کر۔ حالانکہ اس وقت تمہاری جو حالت تھی ہم سب گھبرا گئے تھے۔
انی کے کہنے پر اس نے سر مزید جھکا لیا تھا۔
اور یہ الرجی کیسے ہوئی تمہیں۔ پوری گردن سرخ ہو رہی ہے تمہاری اور بازو بھی۔
وہ تشویش بھرے انداز میں اسکے بازوکو چھو کر دیکھ رہی تھیں۔
میری ایک دوست بہت اچھی ڈرما ٹالوجسٹ ہے میں اس سے اپائنٹمنٹ لے دیتی ہوں تم چیک اپ کروا لو۔ اس طرح کی الرجیز کو ہلکا نہیں لینا چاہیئے۔
وہ بالکل بڑی بہنوں کی طرح اسکی فکر کر رہی تھیں۔ اسکی آنکھیں بھرنے لگی تھیں۔
یہ پی لو۔
ہیون نے انرجی ڈرنک اسکی جانب بڑھایا۔
اس نے بلا تامل تھام کر پینا شروع کردیا۔ حلق ایکدم خشک سا ہو رہا تھا۔۔۔۔
چند گھونٹ پی کر کچھ توانائی بحال ہوتی محسوس ہوئی۔
انی ہم گھر جاتے ہیں آپ اپنا انتظام دیکھ لیں۔
وہ یقینا کافی مصروف ہونگی اریزہ کو ہیون کے کہنے پر شرمندگی سی ہوئی۔
نہیں بس سب ہوگیا۔ آج ہوپ نے بہت مدد کرائی میری ۔اب بس ایک چکر لگائوں گی ڈائننگ ہال کا سب مہمان کھانا تو کھا۔۔
کہتے کہتے خیال آیا تو چونکیں
ارے تم لوگوں نے کھانا تو کھایا نہیں ہوگا۔میں یہاں بھجواتی ہوں۔
نہیں انی آپ رہنے دیں۔ اریزہ ویسے بھی یہاں کا کھانا نہیں کھائے گی۔
ہیون نےسہولت سے منع کیا۔ دونوں کیا باتیں کر رہے تھے سمجھ تو نہیں آیا اسے مگر اپنے نام پر وہ سر اٹھا کر انہیں دیکھنے لگی تھی۔
انی وہ بریو ہارٹ۔ وہ انکو مجھے کچھ دینا تھا
اسے یاد آیا تو ادھر ادھر متلا شی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
وہ تو چلے بھی گئے۔ انکے پاس وقت کم تھا ۔ تم بے ہوش رہی ہو۔تو وقت کا اندازہ نہیں ہوا تمہیں۔
ہیونگ سک نے کہا تو وہ مایوس سی ہوگئ۔
کوئی بات نہیں اگلی دفعہ سہی۔ پکا تمہاری سیلفی بنوائوں گی انکے ساتھ۔ وہ تو ہماری این جی او کیلئے بہت فنڈز دیتے ہیں۔ان سے ہمارے کئی کانسرٹس کا کانٹریکٹ ہے۔ تم دل چھوٹا مت کرو پھر ملوادوں گی تمہیں۔
انی یہی سمجھیں کہ وہ پرستار ہے انکی۔ جبھی باقائدہ کندھا تھپتھپا کر تسلی دینے لگیں۔
گاڑی رہائشی عمارت کے باہر روکتے ہوئے اس نے گردن موڑ کر اریزہ کو دیکھا ستے ہوئے چہرے کے ساتھ سرنگاہیں جھکائے وہ اتنی گہری سوچ میں تھی کہ منزل پر پہنچ جانے پر بھی نہ چونکی۔
اریزہ شا۔ کچھ کھا لیتیں طبیعت بہتر ہو جاتی۔
اس نے نرمئ سے پھر ٹوکا تو وہ چونک اٹھی۔
سامنے نگاہ پڑی تو جلدی سے اپنی جانب کا دروازہ کھول کر اتر گئ۔
اسکی پھرتی پرہیون دیکھتا ہی رہ گیا۔
گاڑی سے اتر کر ایکدم سے سرد ہوا سر پر لگی تھی۔مگر وہ تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی۔
چند لمحے اسے دیکھ کر وہ بھی اپنی جانب کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا تھا۔
تیز تیز قدم اٹھا کر اسکے برابر ہوا۔
مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی۔کل
اسکے اچانک پاس سے آواز ابھری تو وہ اچھل سی پڑی۔ چونک کر سر اٹھایا تو ہیون جو اسے ہی دیکھ رہا تھاایکدم چپ سا رہ گیا۔
اسکی آنکھوں سے تواتر سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ بے آواز رو رہی تھی زاروقطار۔
وہ سب لڑکیاں کالج کے زیر تعمیر ڈیپارٹمنٹ میں بیٹھی موبائل پر کال ملا ئے تھیں۔ بوائے فرینڈ ایک کا تھا کن سوئیاں لینے پانچ اس پر جھکی تھیں۔ہنستی کھیلتی مسکراہٹ دباتی سرگوشیاں کرتی لڑکیاں۔۔
جلدی بات کرو۔۔ کوئی آنہ جائے ۔۔۔ ایک کو تشویش ہوئی
آج جمعہ ہے آج تو مزدوروں کی بھی چھٹی ہے کون آئے گا یہاں۔
دوسری نے تسلی دی۔
تبھی زور دار آواز کیساتھ کوئی بلاک گرا تھا۔۔۔
ہلکی ہلکی سی چیخیں ابھریں۔ سب چونکی سنبھلیں ۔بس ایک طالبہ بے آواز بے ہوش ہو کر پڑی تھی۔۔۔
وہ دونوں قریبی کنوینیئس اسٹور پر چلے آئے تھے۔ اسکو بھوک بھی لگ رہی تھی۔ خود تو وہ ریمن لے کر آیا تھا اریزہ کیلئے سینڈوچ لیکر آیا تھا۔ شدید بھوک میں یہ بھی نعمت سے کم نہیں تھا۔سینڈوچ کے ساتھ گرم گرم کافی نے نا صرف گرمائش دی تھی بلکہ تازم دم بھی کر دیا تھا۔
اس نے کھا پی کے منہ صاف کیا۔ تو ہیون جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اسے دیکھ کر مسکرا دی۔
یہ بتائو روئی کیوں تھیں۔۔۔
اس نے فورا سوال کیا تھا۔ وہ بہانہ سوچنے لگی تو اس نے ٹوک دیا
سوچنے کی ضرورت نہیں کوئی بہانہ سچ بتائو یا کہہ دو میں بتانا نہیں چاہتی۔
اسکے دو ٹوک کہنے پر وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔
مجھے اپنے آپ پر غصہ آرہا تھا۔ میں اتنی کمزور کیوں ہوں۔ اس بات پر۔ دنیا کی لڑکیاں کیا کیا نہیں کرتیں مائونٹ ایورسٹ سر کر لیتی ہیں اور میں۔
وہ زرا سا استہزائیہ انداز میں ہنسی۔
زرا سا ۔۔۔ وہ رکی۔ ہیون نے چند لمحہ انتظار کیا مگر وہ خاموش ہی رہی۔
تم روئئ کیوں ہو ؟ درد ہو رہا ہے ہاتھ میں؟
ہیون کے پوچھنے پر وہ نفی میں سر ہلا گئ۔
اسکے دائیں ہاتھ کی تینوں انگلیوں پر بینڈج ٹیپ لگی تھی۔ شائد خراشیں گہری تھیں۔
بے ہوش ہونے پر۔
اس نے کہہ دیا۔
ہیون نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگا۔
بے ہوش تم یقینا پہلی دفعہ نہیں ہوئیں۔ کم از کم میرے سامنے دوسری دفعہ ہوئی ہو۔۔۔ مجھے لگا تھا تمہارا بی پی لو ہوا ہے۔ مگراس وقت تم اصل میں تم اندھیرے کی وجہ سے گھبرائی تھیں۔ اس بار میں سمجھ نہیں پایا۔ اتنا اندھیرا نہیں تھا وہاں۔ تو یا شائد شور وغل یا گھٹن۔۔اور حماد کون ہے؟ تم بے ہوشی میں کسی کو۔پکار رہی تھیں۔
اسکے دعوے سے کہنے پر وہ ایکدم چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگی تھئ۔
مجھے اتنا دردناک حادثہ دیکھنے کی وجہ سے ایک خوف لاحق رہتا ہے۔ میں اندھیرے میں بالکل نہیں رہ پاتی۔ کوئی اچانک پٹاخہ بھی پھوٹ جائے تو میں اس رات اس منظر میں پہنچ جاتی ہوں۔۔ مجھے اپنا بھائی کبھی کبھی اتنا یاد آتا ہے کہ خوابوں میں دیکھتئ ہوں اسے۔ ہنستے کھیلتے باتیں کرتے۔ بچپن کی یادیں۔ اور پھر اچانک سب غائب ہوجاتا ہے۔
اسکی آواز بھرا گئ تھئ۔ وہ بے ربط بول رہی تھی ۔ ہیون بالکل خاموشی سے سن رہا تھا۔
ایسے کسی خواب سے جاگ کر میں گھنٹوں روتی ہوں۔
میری ذر اسی چوٹ پر تڑپ جانے والا بھائی نظر نہیں آتا مجھے۔میرا دل کرتا ہے۔
آنسوئوں کا گولا سا گلے میں اٹک گیا۔ وہ خاموش ہو گئ۔ اسکے ہمراہ وہ بھی خاموشی سے قدم بڑھاتا رہا ۔ کمپائونڈ میں آنے تک وہ خود پر قابو پاچکی تھی۔
تم اب گھر جائو میں چلی جائوں گی۔
اس نے قصدا مسکرا کر کہا۔
ہیون خاموشی سے اسکا چہرہ دیکھتا رہا۔
آج میں نے کافی پریشان کیا ہے بیان۔ اور شکریہ ہر چیز ہر بات کیلئے شکریہ۔ گڈ نائٹ۔
ہیون چند لمحے اسے یونہی گھورتا رہا پھر بنا کچھ کہے پلٹ گیا۔ اریزہ نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سوچا۔
پے در پے فون کالز آرہی تھیں ایڈون کے موبائل میں۔ ایڈون بالکل بے سدھ ہو چکا تھا۔ اسکو کندھے پر لاد کر بمشکل کمرے تک لاتے اسکی کمر ٹوٹنے کی نوبت آگئ تھی۔ شکرہے کمرہ شروع ہی میں تھا۔لاک کھول کر اسے اسکے بیڈ پر لٹا کر وہ کمر سیدھی ہی کر رہا تھا۔جب ڈرائور آکھڑا ہوا دروازے پر۔اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا
یہ آپکا گاڑی میں رہ گیا تھا۔
وہ اسکا والٹ تھامے تھا۔
کم سن اسے شکر گزار نظروں سے دیکھ کر رہ۔گیا۔ پیمنٹ کرتے شائد اس نے سیٹ پر ہی گرادیا تھا۔
فون بجے جا رہا تھا۔
کم سن نے اسکی جیکٹ ٹٹول کر فون نکالا ۔
اٹھا لیں کیا پتہ کوئی اہم کال ہو۔
ڈرائور نے کہا تو وہ شش و پنج میں پڑ گیا۔
انگریزی میں نام جگمگا تو رہا تھا
اٹھا تو لوں مگر مجھے سمجھ کیا آئے گی کیا کہا ہے؟
کم سن کی بات میں دم تھا۔
لائیں میں بات سنتا ہوں۔ ڈرائور نے فون ہاتھ سے لے لیا۔
ہیلو۔
اسکے ہیلو کہنے پر دوسری جانب سے لگاتار کچھ کہا گیا تھا۔
دیکھیں یہ جن کا فون ہے وہ اس وقت ہوش میں نہیں ہیں۔
جی۔ نہیں بس انہوں نے پی ذیادہ لی ہے۔ جی۔ کون ؟ کیا ؟ سنتھیا؟ اچھا اسی ڈورم میں ہے؟ اچھا ہم دیکھ لیتے ہیں۔ ٹھیک ہے ہم پولیس کو اطلاع دے دیتے ہیں۔جی بھگوان پر۔بھروسہ رکھیں جی جی۔ ٹھیک ہے۔ آپ یہاں اگر کوئی اور آپکے جاننے والے ہیں انکو بھی اطلاع دے دیں۔ جی۔ ہیلو۔ ہیلو۔
فون بند ہونے تک ڈرائیور ٹھیک ٹھاک پریشان لگنے لگا تھا۔
نام ادھوری بات۔۔۔۔ کم سن نے بے تابی سے سوال کیا
کیا ہوا؟
کوئی سنتھیا ہے انکی ماتا جی تھیں کہہ رہی تھیں اسی گوشی وون میں ہیں۔ وہ بھی انہوں نے خود کشی کر لی ہے۔۔۔۔
اسکا جملہ پورا ہونے تک کم سن بجلی کی سی تیزی سے اسے ایک طرف کرتا کمرے سے نکلا تھا۔
ایڈون اسکے ساتھ اتنی خاموشی سے قدم بڑھا رہا تھا کہ اسکا دل ڈوبنےلگا تھا۔ وہ یقینا اس وقت غصے میں تھا۔ اور غصہ آنے والی بات بھی تھی۔ مگر اسے بھروسہ تھا خود پر کہ وہ منا لے گی۔ یقینا وہ اسکو سمجھ جائے گا اسکی کیفیت اسکے احساسات سب سمجھ لے گا۔ وہ خفا ہوگا تو وہ اپنی انا پس پشت ڈال کر اسے ہر قیمت پر منا لے۔ سب سن لے گی خاموشی سے بنا برا مانے۔ وہ جو کہے گا جو کرے گا سب سر جھکا کر مانتی جائے گی ۔ رات بھر وہ بس یہی سب سوچتی رہی تھی۔ ایڈون واپس نہیں آیا تھا۔ وہ کتنی دیر انتظار کرتی رہی۔ رات میں کئی بار آنکھ کھلی۔ اس نے اٹھ کر بستر سے اتر کر دیکھا کمرہ بالکل خالی تھا۔جانے کب تک یونہی ٹہلتی رہی ۔ کھانا ٹھنڈا کھالیا۔ صبح کہیں جا کر آنکھ کھلی تو ایڈون کو سامنے صوفے پر محو انتظار پایا تھا۔ اسکی آنکھ کھلتے دیکھ کر وہ فقط اتنا بولا تھا
تیار ہو جائو گھر چلیں۔۔
اور وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔ گوشی وون میں آکر جیسے ہی وہ بیڈ پر بیٹھی وہ فورا دروازہ بند کرکے چلا گیا تھا۔
وہ جو اسے پکارنا چاہ رہی تھی ایکدم چپ سی رہ گئ۔
اسے بھوک لگ رہی تھی۔ وقت بے وقت بہت ذیادہ بھوک لگنا شروع ہوچکی تھی۔ اس وقت بھی اسے لگ رہا تھا کہ آنتیں باہر آجائیں گی۔
اس نے بے تابی سے سائیڈ کارنر پر رکھے شاپر کو کھنگالا بمشکل ایک آدھا سیںڈوچ ملا اور سیب۔ اسے خبر ہوتی تو کل کی چیزوں میں سے کچھ بچا لیتی۔
اس نے جلدی جلدی وہ سب کھا لیا سیب کا آخری لقمہ لے رہی تھی جب دروازہ کھول کر ایڈون اندر داخل ہوا۔ اسے یوں تیزی سے کھاتے دیکھ کر لمحہ بھر کو ٹھٹک ہی گیا ۔ وہ ایک بڑا سا کھانے پینے کی چیزوں سے بھرا شاپر تھامے تھا۔
میں یہ کھانا لینے گیا تھا۔ اور کچھ کھانا ہے؟
اس نے شاپر اسکی جانب بڑھاتے ہوئے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلا گئ۔ اس نے خود ہی شاپر کارنس پر ٹکا دیا۔
بلیک اور گرے اپرمیں ملبوس وہ کافی تھکا تھکا دکھائی دے رہا تھا۔دونوں ہاتھ اپر کی جیبوں میں ڈالتے ہوئے وہ گہری سانس لیکر اسکی جانب مڑا۔ وہ جو بے دھیانی میں اسے تکے جا رہی تھی گڑبڑا کر رخ پھیر گئ۔۔ ایڈون چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھرجیسے الفاظ ترتیب دے کر نہایت خشک اور روکھے انداز میں بولا
مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ سنجیدگی سے بنا جزباتی پن دکھائے اگر تم سننے کو تیار ہو تب ہم بات کریں گے اب مجھے بتائو کب بات کرنا مناسب رہے گا تمہارے لیئے۔ ؟
اسکے انداز نے حقیقتا اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹیں دوڑا دی تھیں۔وہ سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ دل جیسے سکڑ کر واپس پھیلا تھا۔
اسکی ہراساں سی شکل دیکھ کر بھی اسکے انداز میں کوئی نرمی نہ آسکی تھی۔ وہ سب مروتیں رخصت کر چکا تھا۔
شام کو بات کر لیتے ہیں۔ وہ کہہ کر جانے لگا تو سنتھیا بے اختیار اٹھ کھڑی ہوئی۔
نن۔ نہیں۔کہو جو کہنا ہے۔ میں تمہاری ہر بات سننے کو تیار ہوں۔مجھے اندازہ ہے تم بہت خفا ہو۔ ہونا بھی چاہیئے۔ میں خود کو تمہاری جگہ رکھ کر دیکھوں تو تم غلط بھئ نہیں لگتے۔ کہو جو کہنا تم نے ۔ میں چپ ہو کر سنوں گی۔
سنتھیا کا انداز بولتے ہوئے ملتجیانہ سا ہوگیا تھا۔ ایڈون نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔ اسکی رنگت کافی مدہم پڑ گئ تھی وہ بیمار ہی لگ رہی تھی۔ چہرہ غیر معمولی سرخ تھا اور انداز پشیمانئ بھرا تھا۔ وہ قابل ترس لگ رہی تھی۔ اسے لیکن کوئی نرم جزبات اسکی شکل دیکھ کر دل میں ابھرتے نہ محسوس ہوئے۔
واقعی؟ اس نے جیسے تصدیق چاہی۔ سنتھیا سر جھکا گئ
واقعی تم خود کو۔میری جگہ رکھ کر سوچ سکتی ہو؟ کوئی اندازہ ہے تم نے میرے ساتھ کیا کیا ہے؟ کتنا بڑا دھوکا دیا ہے تم نے مجھے؟
وہ آواز دباتے دباتے بھی جیسے غرایا تھا۔ سنتھیا کے قدموں سے جان نکلنے سی لگی وہ دھپ سے بیڈ پر بیٹھ گئ۔
سنتھیا خدا جانتا ہے میں نے اپنی غلطی مانی۔۔۔۔۔ ہے۔۔۔
ایڈون جیسے پھٹ پڑا۔
سنتھیا مزید سرجھکا گئ۔۔۔
جو ہوا اس میں اپنی زمہ داری سے جان نہیں چھڑائی۔ تمہارا ساتھ دینا چاہا۔ یہ سمجھا کہ جوکچھ بھئ ہوا ہے اس میں میری بھی اتنی ہی غلطی ہے۔ جبھئ تمہیں اکیلا نہیں چھوڑا۔ تمہیں سمجھایا منایا تم پر زبردستی اپنا فیصلہ نہیں تھوپا۔ اتنے دنوں سے دن رات دیکھے بنا گدھے کی طرح کام کیا پیسہ پیسہ جوڑا اپنے والدین سے مجبوریوں کے رونے رو کر پیسے منگوائے تمہارے والدین کے بھیجے پیسے دانتوں سے پکڑے صرف اسلیئے کہ جو غلطی ہو گئ ہے اسکو سدھار دوں۔ اور تم نے میرے ساتھ کیا کیا؟
وہ چلا اٹھا۔ سنتھیا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
میں سمجھ۔۔ سکتئ۔۔
اس نے کہنا چاہا مگر ایڈون اسکی بات کاٹ کر چلایا۔
تم سمجھ ہی تو نہیں سکتی ہو کچھ بھی۔ کوئی اندازہ تک نہیں ہے تمہیں احساس تک نہیں ہے میرا میرے مستقبل کا میری ان تمام ریاضتوں کا۔ تم نے سب برباد کردیا ہے۔ تم نے مجھے برباد کردیا ہے۔
اسکی بات پر وہ شدتوں سے روپڑی۔ ہچکیاں لیتے بمشکل اپنی صفائی دینی چاہی
میں نے دیکھا تھا۔ مانیٹر پر۔ وہ کچھ تو ہے ۔ وہ۔ جو ہے وہ اب ہے ۔ اسکو محسوس کرتی ہوں میں۔ وہ ہے ۔۔۔۔۔
اسکی آنکھوں سے بہتے آنسو بھی ایڈون کا غصہ کم نہ کرسکے۔ ہنوز اسئ انداز میں چلا اٹھا۔
ہاں اسے محسوس کرتئ ہو جو ابھی دنیا میں آیا نہیں اور میں جو جیتا جاگتا کھڑا ہوں میرا کوئی خیال کوئی احساس ہے تمہیں۔
گن پوائنٹ پر نہیں لیکر گیا تھا اس اسپتال تمہیں۔۔ اپنے ایمان سے بتائو کوئئ کمی آنے دی تمہیں؟ کھانے پینے ہر چیز کا خیال رکھا بہترین کلینک کا انتظام کیا سب جمع پونجی جمع کروائی تھی ۔او رتم ۔۔۔
وہ تلملا کر پیشانی مسلنے لگا۔۔۔ سنتھیا یونہی روئے جارہی تھئ۔ کتنے لمحے یونہی انکے بیچ دبے پائوں گزرتے گئے۔
اپنی غلطی سمجھ کر اپنی ذمہ داری سمجھ کر مجھے جو حل نظر آیا وہ میں نے حل نکالنا چاہا تھا۔ مگر تم نے سب برباد کر دیا۔
وہ خود پر قابو پا کر متوازن مگر بے رحم لہجے میں مخاطب ہوا تھا۔ سنتھیا کی سانس رک سی گئ۔
تم نے مجھے اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ میں تمہاری نظر میں کیا ہوں میری بات کی کتنی اہمیت ہے۔ مجھے نہیں لگتا ہم دونوں مزید اس رشتے کو نبھا سکتے ہیں۔ تم نے مجھ میں اور اس بچے میں اس بچے کو منتخب کیا ہے
وہ سفاک سے انداز میں بولا۔ سنتھیا رونا بھول کر سراٹھا کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔
اب تم جانو اور یہ بچہ۔
اس نے چبا چبا کر کہا تھا۔
میں اس کی ذمہ داری اٹھانے کیلئے تیار نہیں۔ تمہیں ماں بننے کا شوق ہے ماں بن کر پالو اب اسے۔ مجھ سے اب اسکا کوئی تعلق نہیں۔ اب تم فیصلہ کرو کیا کرنا۔ یہاں رہ کر چھوٹئ موٹی جاب کرکے اپنا خرچہ نکالو یا پاکستان واپس چلی جائو تمہاری مرضی۔ ہاں جب تم اپنے والدین کو بتانے لگو گی کہ یہ بچہ کس کا ہے میں مان لوں گا یہ میرا ہی ہے۔۔۔ مگر اب بس مجھ سے اس سے ذیادہ کسی چیز کی توقع مت رکھنا۔ میں نے جو اور جتنا کرنا تھا کر لیا۔
سنتھیا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی اتنی گنگ سی ہو کر جیسے اسے بولنا ہی بھول گیا ہو۔
تمہاری امی کا فون آیا تھا۔ دوبارہ بھی آئے گا۔ تم اچھی طرح سوچ لو۔ کیا کرنا تم نے۔
وہ کہہ کر اس پر نگاہ غلط ڈالتا دروازہ کھول کر باہر جانے لگا۔ سنتھیا ساکت سی بیڈ پر بیٹھی کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔ اس نے مڑ کر جیسے آخری تنبیہہ کی۔
آخری بات۔ ریفنڈ سے پہلے 48 گھنٹے کا وقت ہے اگر دوبارہ اپائنٹمنٹ لینا ہوا تو بتا دینا۔ میں بھول جائوں گا وہ سب کچھ جو آج میں نے کہا ہے۔۔۔۔
وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔ اس پرنگاہ ڈالتا دروازہ بند کرتا باہر نکل گیا تھا۔
وہ کتنی ہی دیر اپنے لرزتے ہاتھوں پر نگاہ جمائے بیٹھی رہی۔
ان سب کیلئے اس نے پراٹھے بنائے تھے۔ ہیون یون بن گوارا اور تو اور ہوپ نے بھی خاموشی سے دیسی ناشتہ ہی کیا تھا۔
ہوپ ناشتہ کرکے فورا اٹھ گئ تھئ۔ اسے شائد آج جلدی جانا تھا۔ البتہ گوارا یون بن اور ہیون آرام سے ناشتہ کرکے یونیورسٹی جانے کیلئے تیار ہوئے۔
تم آج آرام کرلو آج نہ جائو جاب پر۔
ہیون جیکٹ پہنتا اسے مشورہ دے رہا تھا۔ ۔
گوارا بھی نے تائید کی۔
ہاں اریزہ آج آرام کرو۔ کل اتنی برفباری کھائی ہے بخار نہ چڑھوا لینا۔
میں بیزار ہو جائوں گی اکیلی گھر میں۔
اریزہ کی اپنی مصیبت تھی۔
اوپر سے ہوپ بھی چلی گئ ہے اکیلے کیسے وقت گزاروں گی ۔ میں گھر میں اکیلی کبھی نہیں رہی۔
اریزہ کے کہنے پر گوارا حیران رہ گئ۔
ہیں ؟ واقعی؟
ہاں مجھے عادت نہیں ہے ۔ اکیلے رہنے کی۔
وہ سر جھکا کے بولی
ہیون اسکے بچکانہ انداز پر مسکراہٹ دبا کر بولا
اچھا تو پھر چلو یونیورسٹی تم پھر پھرا لینا ہم کلاس لیکر جب فارغ ہونگے تو اکٹھے لنچ کر لیں گے۔
ہیون کے پروگرام بنانے پر گوارا نے بڑی جتانے والی مسکراہٹ سے دیکھتے اسکے کندھے پر ہلکا سا مکا لگا دیا۔ہیون کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئ تھی۔ یون بن خود کو خاصا احمق سمجھ رہا تھا۔
ہاں یہ ٹھیک رہے گا ۔میں دو منٹ میں آئی۔۔ وہ فورا تیار ہونے کمرے کی۔طرف بھاگی۔
مجھے لگتا ہے تمہاری مدد مجھے ہی کرنی پڑے گی۔
گوارا کا انداز معنی خیز تھا۔
اگر تمہیں اسکی کسی مدد کی ضرورت ہے تو اپنا کام تمام ہی سمجھو
یون بن نے حسب عادت گوارا کو چھیڑنے کی نیت سے کہا تھا مگر گوارا اور ہیون دونوں نے ہی اسے اتنی ملامتی نظروں سے گھورا کہ گڑ بڑا سا گیا۔
ہائیش۔۔
دونوں کھا جانے کو تیار تھے۔ اس نے سٹپٹا کر کان کھجایا۔
مجھے یہ تو نہیں پتہ کیا کام ہے تمہارا مگر جو بھئ ہے ہو جائے خدا کرے ورنہ گوارا مجھے قتل کردے گی۔
وہ اسے لان میں چھوڑ کر اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئے تھے۔ موسم خنک تھا ہلکی دھوپ نکلتی اور بادل چھا جاتے وہ وہیں راستے پر ٹہلنے لگی۔ کیمپس دیکھ کر اسکو جانے کیوں اداسی سی محسوس ہورہی تھی وہی درخت وہی عمارتیں وہ اور سنتھیا گوارا اور جی ہائے کی شکل ہر لڑکی میں دیکھتئ تھیں۔ کیسے جے ہی نے اس سے دوستی بڑھائی کیسے ایکدم اجنبی بن گئ۔۔
ہیون او رکم سن کو تو دونوں جڑواں بھائی سمجھتی تھیں۔کیسے ہیون اور وہ بھاگے تھے شاہزیب کو پٹنے سے بچانے ۔۔۔اور گوارا کتنی تیز مزاج سخت سی لگتی تھی ۔ وہ سہولت سے ان دنوں کو یاد کررہی تھئ۔
ہم لمحوں کے قیدی ۔۔
جن لمحوں میں ہم خوش ہوئے
ان لمحوں کی یاد میں۔۔
جن لمحوں میں اداس ہوئے۔۔
ان لمحوں کی یاد میں۔۔
اب ہم ہیں رہتے۔۔۔
نئی کسی یاد کی جگہ
اب ان لمحوں کو یاد کرتے ہیں
ہم جیتے ہیں۔۔ایسے کہ کبھی
ہنس لیتے ہیں۔۔تو کبھی۔
رو پڑتے ہیں۔۔
ہم قیدی اپنے آپ کے۔۔
اپنے ہی جزبات کے۔۔
لمحوں کو ہی الزام دیتے ہیں۔۔
اس نے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیوں کی تصویر کھینچئ۔ یہاں بیٹھ کر وہ اور سنتھیا گھنٹوں یہاں پھرتے لوگوں کو دیکھتے وقت گزار لیتی تھیں۔۔۔ مگر آج وہاں کوئی بھی نہیں تھا بلکہ آج یونیورسٹی ہی خالی خالی سی تھی جبھی اسکی یادوں کا جہاں آباد ہوگیا تھا۔۔
بے طرح اداس ہوتے اس نے تصویر کھینچی ڈیپارٹمنٹ کے نام کو دھندلا کرکے اپلوڈ کر دی۔۔ ساتھ یہ نظم بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈھلتی شام کو دن کی روشنیاں دکھانے کا مطلب؟
پہلا کمنٹ۔۔
اتنی صاف ستھری کونسی یونیورسٹی ہے بھئ؟
دوسرا کمنٹ۔۔
مت یاد کرائو یونیورسٹی خدا خدا کر مڈز ختم ہوئے ہیں اب کچھ دن سکون سے رہنے دو
تیسرا کمنٹ۔۔۔
ہائش۔۔
اس نے بے زار ہو کر کہا پھر چونک اٹھئ
میں کب سے ہائش کہنے لگی کورینز کی طرح۔۔
اس نے ہونٹوں پر ہاتھ ہی رکھ لیا۔۔
اپنی تصویر بھی لے لوں ۔۔ اس نے سوچا پھرکھڑے ہو کر ڈیپارٹمنٹ کی جانب پشت کر کے دو تین سیلفیاں بنا لیں۔۔
پتہ تو لگے اس یونیورسٹی میں کبھی میں بھی جایا کرتی تھی۔۔
اس نے بڑ بڑاتے ہوئے فیس بک پر شئیر کیں یہ تصویریں
صارم نے فورا لائک کی تھیں۔۔
کمنٹ بھی کر دیا مس یو۔۔
اس نے بھی جوابا مسکرا کر می ٹو لکھ دیا۔۔
کیا کر رہی ہوں میں یہاں۔۔
وہ دونوں بازو پھیلا کر خوب زور کی انگڑائی لیکر بڑ بڑانے لگی۔۔ اکا دکا طلبا وہ بھی کافی فاصلے پر تھے وہ یونہی۔بے زاری سے قدم اٹھانے لگی
پتہ نہیں مجھے پڑھنے کا شوق تھا بھی کہ نہیں۔ بس شادی سے بھاگ رہی تھی۔ اب تو ٹل گئی۔ ڈگری بھی ٹل گئ ان کی مہربانی سے۔۔
اس نے ڈیپارٹمنٹ کو کینہ توز نظروں سے گھورا۔۔
اب یہاں رکنے کی کوئی وجہ نہیں ۔۔ لڑکے بھی یہاں نوکری کے چکر میں بھی نہیں رکے سنتھیا بھئ بدل چکی ہے۔ مجھے بھی اب یہاں سے چلے جانا چاہیئے۔ پاپا کہہ تو رہے تھے مجھے ڈگری مکمل کرنے دیں گے۔۔ اس نے گہری سانس لی۔
سورج کی حدت نہ ہونے کے برابر تھی۔ اچانک سرد ہوا کا جھونکا اسے جھر جھری لینے پر مجبور کر گیا۔۔
۔ یہاں سردی بھی بہت ذیادہ ہے۔۔ جو مجھے بالکل پسند نہیں۔۔
مگر میں یہاں سے شائد ابھئ جانا نہیں چاہتی۔۔
وہاں تعلیم مکمل کرکے شادی ہوجائے گئ۔ یہاں تعلیم مکمل کرکے واپس جائوں گی تو بھی شادی ہوجانی ہے۔
اف۔ سوچوں نےسر میں درد کر دیا۔
اللہ میاں۔۔ وہ سر اٹھا کر آسمان کو مدد طلب نظروں سے دیکھنے لگی
کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ کیوں ہوں میں یہاں؟؟؟؟؟
وہ جھلا رہی تھی خود سے الجھ رہی تھی۔۔
تبھی جوابا اس پر بوندیں آگری تھیں۔ اس نے جیب سے رومال نکال کر چہرہ پونچھا اور بھاگ کر ڈیپارٹمنٹ کی گیلری کے نیچے آکھڑی ہوئی۔ دیکھتے دیکھتے تیز بارش شروع ہوگئ تھی۔۔۔
ابھئ اگر پنڈی ہوتا تو امی سے پکوڑے بنوا تی کافی پیتی۔ پکوڑے کھائے کتنے دن ہوگئے۔۔ اور امی۔۔ اسکا دل سکڑا
اتنی ناراضگی اتنی چڑ کے باوجود ماں کی یاد نے اسے اداس سا کر دیا تھا۔۔۔ وہیں ستون سے سر ٹکا کر کھڑی بارش کا نظارہ کرنے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلاگ کی اپڈیٹ دیکھ کر اس نے فورا نوٹیفیکیشن کھولاتھا۔کسی یونیورسٹی کی تصویرتھی نام کی جگہ کو جان کر دھندلا کیا تھا۔۔
اس نے کمنٹ کر کے موبائل جیب میں ڈال لیا۔ گھر جانے کی اسے کوئی جلدی نہیں تھی مگر ایک کام کرنا تھا ہاسٹل میں آکر ایک پیکٹ کسی لڑکی کی امانت اسے دینی تھی۔۔کائنوٹر پر طالبہ کا نام بتا کر امانت دے کر وہ باہر نکلا تو موسم اپنا تیور بدل چلا تھا۔ چھما چھم برستی بارش اور آج تو چھتری بھی نہیں تھی پہلے تو یہی سوچا نکل جائے مگر آج لیپ ٹاپکا بیگ بھی اسکے کندھے پر سوار تھا۔ سو بارش کے رکنے کا انتظار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔۔ وہ سر جھٹکتا بر آمدے کی جانب بڑھ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا موبائل بجا تھا ۔۔ کسی نے اسکی پوسٹ پر کمنٹ کردیا تھا۔۔اس نے پڑھا پھر سوچ میں پڑ گئ۔۔ لکھا تھا۔۔
یادیں جینے کا سہارا ہوتی ہیں۔ ہم یاد بھی نہ رکھیں تو کیا کریں گے جن لمحوں کو گزار چکے جو کبھی واپس بھی نہ آئیں گے چلو کم از کم ہم انہیں یاد ہی کر کے خوش ہو لیں۔۔
خوبصورت بات۔۔ اسکے دل کو چھو گیا تھا یہ تبصرہ سو جھٹ کمٹ کھول کر جواب لکھا۔۔
اور جب میں یہاں سے جائوں گی تو یقینا میرے پاس یاد کرنے کیلئے سب کچھ اچھا اچھا ہوگا۔۔
لڑاکا سی پل پل بدلتی ہوپ، من موجی مگر دل کی بے حد اچھی گوارا ، جے ہی جس نے میرا بہت ساتھ دیا ، ہیون اور کم سن جنکی شکلیں اتنی ملتی تھیں کہ ہم دھوکا کھا جاتے تھے، اور گنگ شن انی جنکو دیکھ کر ہی انسان کو خوشگوار احساس ہوتا انکی مسکراہٹ یقینا ہیون کو بات بات پر مسکرانے کی عادت انہی سے پڑی ہے ۔۔۔ ہر وقت مسکراتا رہتا ہے سوتے میں بھی مسکراتا ہوگا ۔۔ وہ سوچ کر ہنس دی۔۔
اسکی ہنسی سے کسی کے بڑھتے قدم رک گئے تھے زرا کی ذرا مڑ کر دیکھا تو اسکا چہرہ دیکھ کر پہچان کر ملنے چلا آیا۔۔
آننیانگ۔۔ نرم بھاری آواز پر اس نے سر اٹھایا تو آنکھوں میں شناسائی کی چمک دوڑ گئ۔۔
آننیانگ۔۔ اس نے بہت اخلاق سے مسکرا کر جواب دیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بار بار گھڑی کی جانب دیکھ رہا تھا۔اسکی بے چینی سداکو سے چھپی نہ رہ سکی اسکی پریزنٹیشن کیلئے نام پکارا گیا تو اٹھ کر بولا۔۔
مجھے تھوڑا سا مزید وقت دیجئے تب تک آپ مجھ سے اگلے طالب علم کی پریزنٹیشن لے لیجیئے۔۔
ہیون نے مشکور نگاہوں سے دیکھا اسے۔پریزنٹیشن دے کر وہ بھاگا بھاگا ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکلا تو بارش زور و شور سے برس رہی تھئ۔۔
وہ اریزہ کے خیال سے بھاگا بھاگا آیا۔ گرائونڈ خالی تھا یقینا وہ بارش سے بچنے اندر ڈیپارٹمنٹ چلی گئ ہوگی اس نے سوچ کر رابطہ کرنے کی غرض سے اسے کال ملانی چاہی تبھی گیلری میں کھڑی اریزہ کی۔جھلک دکھائی دی۔۔ وہ کسی بات پر ہنسی تھی اسکا مخاطب کوئی اونچا لمبا سا مرد تھا۔۔
آپکے کپڑے امانت ہیں میں انکو دھلوا کر آپکو واپس کر دوں گئ ۔۔
اسے اسکئ شکل دیکھ کر فورا یاد آیا تھا۔ علی قہقہہ لگا کر ہنسا۔۔
میں آپ سے کپڑے مانگنے تو نہیں آیا۔
اسکے ہنس کر کہنے پر وہ خجل سی ہوگئ۔
کلاسز ختم ہوگئیں ہیں تمہاری؟۔۔
علی نے یونہی پوچھا تھا بات برائے بات۔
میں اب یہاں نہیں پڑھتی ہماری ڈگری روک دی گئ ہے۔ اب اگلے سمسٹر سے نئے سرے سے داخلہ لوں گی۔
اریزہ نے گہری سانس بھرتے ہوئے کہا تھا۔۔
اوہ کیوں خیریت؟ علی حیران ہوا۔۔
ہمارا طلبا کا تبادلے کا۔پروگرام تھا مگر لاہور میں کوئی بم دھماکا ہوگیا تو انکے طلبا واپس چلے آئے پھر ہمارے یہاں رہنے کی وجہ نہ رہی۔ اب یہ کہتے ہیں ایک ٹیسٹ پاس کرکے یہاں کئ مساوی سند لے کر ہی ہم آگے یہاں پڑھ سکتے ہیں۔
اریزہ کا انداز سادہ سا تھا مگر علی کو واقعی افسوس ہوا۔
اوہ مجھے افسوس ہوا اچھا نہیں ہوا یہ۔ پھر پڑھ رہی ہو؟ دو ہفتے بعد ہی امتحان ہوگا۔سی ای ایس اے ٹی کا۔
علی نے کہا تو وہ پریشان ہی ہوگئ
ہیں واقعی؟ مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا۔ کب امتحان ہے؟
علی اسکے انداز پر ہنس دیا۔
میں ایک مقامی اکیڈمی میں اسی امتحان کی تیاری کروا رہا ہوں آج کل میں داخلے بند ہونے والے ہیں اگر تمہارا ارادہ ہو تو میں مدد کر سکتا ہوں۔
ہاں ہے نا میرا ارادہ۔۔ وہ جھٹ بولی۔۔ تم مدد کروگے میری؟
ہاں کر دوں گا لیکن ہیون کے ہوتے تمہیں میری مدد کی ضرورت نہیں۔ بہت پڑھاکو اور ذہین ہے۔ہمیشہ سے ٹاپر رہا ہے۔
اچھا؟ اریزہ حیران ہوئی۔
اس نے کبھی بتایا نہیں۔
وہ ایسا ہی ہے۔ اپنی ہر خوبی کو چھپا کر رکھتا ہے۔ انتہائی خیال رکھنے والا اور محبت کرنے والا لڑکا ہے۔ دوستی میں جان دینے والا ایک لڑکی پر اکتفا کرنے والا پیارا سا لڑکا۔
علی نے تو تعریفوں کے پل ہی باندھ دیئے۔
اریزہ کا تھوڑا سا منہ حیرت سے کھلا پھر وہ کھل کر ہنس پڑی۔
ویئو؟ (کیا ہوا) علی حیران ہوا
تم ایسے تعریفیں کر رہے ہو جیسے ہمارے ملک میں رشتہ کرانے والی خواتین لڑکے کی تعریفیں کرتی ہیں۔ کہ بس وہ کہیں تولڑکی والے جھٹ ہاں کر دیں۔
وہ ہنسے جارہی تھی۔۔ اسکی بات سے ذیادہ اسکے محظوظ انداز نے علی کو بھی ہنسا دیا۔
تبھی اسکے سامنے ٹشو آگیا ۔۔ اس سے پہلے علی نے ٹشونکال کر اسکی جانب بڑھا دیا تھا۔۔ وہ دھیرے سے شکریہ کہتی آنکھیں صاف کرنے لگی۔
ایک تو میں جب ذیادہ ہنستئ ہوں رو پڑتی ہوں۔
اس نے صفائئ پیش کی۔ علی کی مسکراہٹ سکڑسی گئ۔
میں بھئ۔ اس نے دھیرے سے کورین میں ہی کہا تھا۔ اریزہ کا دھیان کہیں او رتھا ورنہ ضرور پوچھتی مطلب۔
اسکا آج کل کا یہی شغل تھا ہر نیا کورین لفظ سیکھنا۔۔
تمہیں ذیادہ انتظار تو نہیں کرنا پڑا میرا؟ ہیون تیز تیز قدم اٹھاتا آیا تھا۔۔
نہیں میں بارش کے مزے لے رہی تھی۔
آننیانگ۔ علی نے مسکرا کر سلام کیا۔
آننیانگ۔ اس نے زرا سا سر جھکا کر جواب دیا۔
چلیں۔ وہ اب اریزہ سے مخاطب تھا
علی کو اسکا انداز ہمیشہ سے تھوڑا الگ لگا۔
تیز برستی بارش کو نظر انداز کرتا ہیون لمبے ڈگ بھرتا پارکنگ کی جانب بڑھ گیا۔ اریزہ نے حیران ہو کر دیکھا پھر مڑ کر ٹھیک ہے پھر ملتے ہیں علی۔۔ کہتی مسکرا کر اسے ہاتھ ہلاکراسکے پیچھے لپکی۔
دونوں کو ٹھنڈ نہ لگ جائے بھیگتے جا رہے ہیں۔۔
دونوں ہاتھ کوٹ کی جیب میں ڈال کر علی نے ان کو نظروں میں رکھ کر سوچا تھا۔
پارکنگ تک آتے وہ دونوں بری طرح بھیگ چکے تھے۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھتے تک ہیون نے اسکو بالکل نظر انداز کیا تھا۔ لانگ کوٹ اتار کروہ فورا گاڑئ میں گھس گئ۔ وہ جامنی ہائی نیک اور کالی جینز میں ملبوس تھئ۔ لانگ کوٹ کی وجہ سے اسکا سراپا چھپ سا گیا تھا لیکن اب جب بھیگ جانے کی وجہ سے اتارا تو جہاں کوٹ نے اسکے اندرونی کپڑے بچا لیئے تھے وہاں اب جسم سے چپکی ہائی نیک اسے جانے کیوں شرمندگی سی ہونے لگی۔ کوٹ گود میں رکھ کر اس نے دز دیدہ نگاہوں سے کو دیکھا جو گیلے کپڑوں سے بے نیاز بے حد سنجیدگی سے سامنے دیکھتے ہوئے گاڑی چلا رہا تھا۔ سامنے دیکھتے دیکھتے ہی اس نے ہاتھ بڑھا کر اسکی گود میں رکھا کوٹ اٹھا کر پچھلی نشست پر اچھال دیا۔
کیا فائدہ اسے اتارنے کا جب گیلا گود میں رکھ کر باقی کپڑے بھی گیلے کرنے ہیں۔۔
اس نے اپنے تند انداز کے برعکس کافی نرم سے انداز میں کہا تھا۔
اریزہ ہونٹ کاٹ کر رہ گئ۔
ہیون نے ہیٹر آن کر دیا تھا پھر بھی اسے پے در پے کئی چھینکیں آگئیں۔۔
پاکستانئ ریستوران کے سامنے گاڑی رکی تو اس نے سوالیہ نگاہ سے اسے دیکھا۔ وہ لاپروا سے انداز میں گاڑی سے اترا اپنا کوٹ بھی اتار کر پچھلی نشست پر ڈال دیا۔ اسے بھی گاڑی سے اترنا پڑا۔ریستوران میں داخل ہوتے ہوئے گلاس ڈور میں اپنے سراپے کو دیکھ کر وہ رک سی گئ۔
اس نے بہت ذیادہ وزن کم کر لیا تھا اپنا۔ بالکل سائز زیرو ہوچکی تھئ۔
اوہ خدایا۔ یہ میں اتنی پتلی کیسے ہوگئ؟
اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا
ہیون نے آگے بڑھتے اسکو ہم قدم نہ پایا تو مڑ کر سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ وہ سٹپٹا کر سر جھٹکتی اسکے پیچھے دوڑئ۔۔
بارش کی وجہ سے لوگ بہت کم تھے۔
کھانے کے ساتھ سوپ کا بھی آرڈر دیا تھا ہیون نے
مگر سوپ پینے کے بعد اسکا پیٹ بھر سا ہی گیا۔ بریانی کی مقدار جوں کی توں دیکھ کر نے تعجب سے دیکھا
کیا ہوا ؟ پسند نہیں آئی۔۔؟
اچھی ہے مگر سوپ پینے کے بعد اب یہ کھائی نہیں جا رہی۔
اریزہ نے اپنی پلیٹ میں تھوڑے سے ہی چاول نکالے تھے مگر اب وہ بھی نہیں کھائے جا رہے تھے۔ دھیرے دھیرے ٹونگتے اسکے ارادہ پلیٹ صاف کر نے کا۔تھا۔
ہیون مسکرا دیا۔
نہ کھا کھا کے تمہاری بھوک بھی کم ہوگئ ہے اور وزن بھی۔
ہیون کی توجہ پوری اپنی پلیٹ پر تھئ۔ اریزہ نے چونک کر سر اٹھایا۔
اس نے شائد دیکھ لیا تھا اسے خود کو آئینے میں دیکھتے۔۔
کھاتی میں پہلے بھی ذیادہ نہیں تھی پھر بھی جانے کیوں گپلو سی تھی۔ شکر ہے تھوڑی اسمارٹ ہوگئ ہوں۔
وہ خجل۔سی ہوئی
تم گپلو سی ذیادہ اچھی لگتی ہو۔ تمہیں دوسری لڑکیوں کی طرح ڈھانچہ بننے کی ضرورت نہیں ۔۔
اس کے کہنے پر اریزہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا اسکو نظروں میں رکھے اسکا اندازسادہ تھا
مجھے سب بہت ٹوکتے تھے کہ میں موٹی ہوں۔ خالہ نے تو شرط ہی رکھ دی تھی کہ وزن کم کروں۔ کیا کیا نہ جتن کیئے میں نے اور صارم نے کہ میرا وزن کم ہو جائے جب سب کچھ چھوڑ دیا تو وزن کم ہو گیا۔۔
وہ وقت اسے آج بھی اداس کر گیا تھا۔ بولتے ہوئے اسکی اداسی لہجے میں بھی اتر آئی تھی
صارم؟مطلب؟
ہیون پوری دلچسپی سے سن رہا تھا
میرا بھائی۔ ہے تو میری خالہ کا بیٹا ۔۔مگر میرے والدین کا لے پالک بیٹا بھئ ہے۔ خالہ کو کیا کہوں انگریزی میں۔ وہ سوچ میں پڑی۔
یہ وہی بھائی ہے جو بم دھمکے میں بچھڑ گیا تھا؟
ہیون نے پوچھا تووہ تڑپ سی گئ
خدا نہ کرے۔۔ پھر انگریزی میں بتانے لگی
وہ میرا اصل بھائی۔تھا حماد۔ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا ۔ ٹھہرو میں دکھاتئ ہوں۔
وہ بڑے شوق سے موبائل نکال کر اسے حماد کی تصاویر دکھانے لگی۔
حماد کی اسکی بچپن کی بہت تصاویر اس نے موبائل میں رکھی تھیں۔ ہیون بہت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
ایک اسکی اور صارم کے بچپن کی تصویر آئی۔ تو بہت شوق سے اسے دکھانے لگی۔ جھولے پر بیٹھے دو ننھے منے آٹھ دس سال کے بچے دو پونیاں کیئے فراک پہنے بچی اریزہ کا بچپن لگ رہی تھی
یہ ہے صارم ۔اریزہ نے دکھایا تو ہیون حیران ہوا
یہ اتنا چھوٹا ہے؟ مجھے لگا تھا تھوڑا بڑا ہوگا تم اسکے ہاتھوں بلنگ کا شکار ہوتئ رہی ہو ؟ ڈانٹ دیتیں مجھے موٹا مت کہا کرو۔
ہیون کو جیسے غصہ ہی آگیا تھا۔ وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی
ارے یہ تو پرانی ہے ساتھ میں بیٹھی ہوں ٹھہرو میں نئی کوئی دکھاتی ہوں۔
اس نے آگے کرکے اپنی پچھلی سالگرہ کی۔تصویر اسے دکھائی شرارت سے اسکے سرکے پیچھے انگلیاں کھڑی کر کے سینگ بناتا صارم اور ہنس کر سیلفی لیتی وہ خود۔
اس نے صارم کو دیکھا ہی نہیں۔
اسکی تو بہت سی تصویریں ہوتی تھیں میرے پاس مگر یہاں آکر موبائل بدلا توبس کچھ اہم اہم تصویریں ہی میں نے اس موبایل میں ڈالی۔تھیں
اس نے جلدی جلدی تصویریں آگے پیچھے کیں آگے بس ایک ہی دو اور تصویریں تھیں۔ ان میں سے ایک پر ہیون واضح چونکا مگر وہ تب تک سوائپ کر چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد وہ کھلی فضا میں باہر صحن میں سیڑھیوں پر آبیٹھا تھا۔ ہلکی ہلکی دھوپ بے حد اچھی لگ رہی تھی وہ بے حد ہلکا پھلکا سا خود کو محسوس کر رہا تھا
سو تم نے کیا سوچا ۔ امام صاحب اسکے برابرآبیٹھے۔
علی نے چونک کر انہیں دیکھا وہ جواب طلب نگاہوں سے دیکھ رہےتھےوہ صاف جواب دیتے دیتے رک کر بات پلٹ گیا
جی ہائے ہاسٹل میں نہیں تھی میں نے ریسیپشن پر آپکا دیا سامان دے دیا تھا۔
ہاں اسے مل گیا تھا۔ آج کوریئر کے ذریعے اس نے واپس بھی بھجوا دیا۔
وہ زرا سا ہنسے۔
جب وہ آپ کےتحائف واپس بھجوا دیتی ہے تو آپ کیوں دیتے ہیں؟ وہ بے ساختہ پوچھ بیٹھا۔ امام صاحب مسکرائے۔
وہ بیٹی ہونے کا حق جتاتی ہے ناراض رہ کر میں باپ ہونےکا فرض نبھاتا ہوں اسے منانے کی ہر کوشش کر کے۔
جانتےہو اسکے سوا میری دو اور بیٹیاں ہیں اب۔ مگر جب جب انکےلیئے کچھ لیتا ہوں یاوہ مجھ سے فرمائش کرتی ہیں میرے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ وہ اداس سے ہو گئے۔
پھر تم نے کیا سوچا۔لیلی کے بارے میں۔ اچھی سمجھدار لڑکی ہے۔ ہاں زبان کا مسلئہ ہو سکتا ہے مگر وہ کورین سیکھ رہی ہے یہاں ہی نوکری کرنی ہے اس نے۔ میری بیوی کی بھانجی ہے سو میں اسکی ہر قسم کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ نماز روزے کی پابند ہے۔کہو تو بات چلائوں؟ ۔ وہ آج فیصلہ کروا لینا چاہتے تھے اس سے۔
مل سکتا ہوں میں اس سے؟۔ اس نے سادہ سے انداز میں پوچھا وہ بے طرح خوش ہو گئے۔ ہمیشہ کی طرح شادی سے انکار کرنے والا کم از کم ملنے پر تو مانا۔۔
کیوں نہیں۔ اسکی اجازت تو مذہب بھی دیتا ہے تم مل کر دیکھ بھال کر فیصلہ لو۔ اور ہاں میری گاڑی لے جانا۔۔ بسوں میں دھکے نہ کھاتے جانا خبر دار جو اسکے اپنی یہ تھکی شکل دکھا کر ڈرایا۔۔
وہ لیپ ٹاپ پر انڈین برائڈز کی برائڈ کلیکشن دیکھ رہا تھا۔
ایک کے بعد ایک سرخ جوڑے میں ملبوس دلہنیں ۔
وہ بے چین سا ہو کر لیپ ٹاپ ایک۔طرف رکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔ چند لمحے یوں ادھر ادھر دیکھتا رہا جیسے سمجھ نہ آیا ہو کیوں اٹھاہے۔ کچھ سوچ کر اس نے جھک کر سائیڈ ٹیبل کی دراز کھولی ۔ اس میں ایک خوبصورت پیکنگ میں ڈیزائنرپائوچ رکھا تھا۔ اس نے اٹھایا پھر دوبارہ واپس رکھ کر دراز ہی بند کردی۔
اتوکے۔ وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھامتا بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھا۔
تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے سنی ہی نہیں۔
نونا ایک اور مرتبہ کھٹکا کر دھیرے سے دروازہ کھولتی اندر چلی آئیں۔
ہیونا وہ انکے قریب آکھڑے ہونے پر بھی نہ چونکا توانہیں پکارنا پڑا۔
دے۔ وہ چونک کر سیدھا ہوا۔
یہ لو میں پاس دینے آئی تھی۔
انہوں نے ہاتھ میں پکڑا بیگ اسکی جانب بڑھایا۔
وہ یونہی تھام کر اندر کھول کر دیکھنےلگا تو بریو ہارٹ کے کنسرٹ کے وی آئی پی پاسز ساتھ لائٹ اسٹکس بھی تھیں۔
وہ اب سمجھا تھا نونا نے کیا دیا ہے اسے۔
گوما وویو۔
اسکے چہرے پر تھکی تھکی سی مسکراہٹ در آئی تھی
کیا ہوا کچھ الجھے سے دکھائی دے رہے ہو۔
نونا تشویش سے پوچھتی اسکے پاس آبیٹھیں۔
آندے۔ بس یونہی۔
اس نے قصدا اپنا انداز بشاشت بھرا بنایا۔ کھسک کر شاپر سائیڈ ٹیبل پر ٹکانے لگا۔
اریزہ کے ساتھ جائو گے نا۔ انہوں نے اشتیاق سے پوچھا تھا۔اس نے سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا
کل بہترین موقع ہے کسنرٹ کے بعد کہیں ڈنر کرو اچھا سی رنگ خریدو اور سیدھا سیدھا پرپوز کردو۔
انی ہتھیلی پر سرسوں جمانے پر تلی ہوئی تھیں۔وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دیا۔
اتنئ جلدی کیا ہے ۔۔
ہے نا جلدی۔ گنگشن تیز ہو کر اسکے کندھے پر چپت مار کر بولیں
یہ چینی ہندوستانی بہت جلدی شادیاں کر لیتے ہیں۔ میری دو تین انڈین فرینڈز ہیں تم سے بھی چھوٹی ہونگی اور سب شادی شدہ یہ پاکستانی بھی تو انکے ہی پڑوسی ہیں شادی جلدی کرتے ہونگے اس سے قبل کہ اسکو کوئی اور پرپوز کرلے تم کرلو۔
انی کی بات پر وہ خالی خالی سے انداز میں ہی دیکھتا رہ گیا۔
اور اگر وہ شادی شدہ ہوئئ تو؟
اسکے کہنے پر گنگشن کا جوش دھیما پڑا۔
ایسا کیوں سوچا تم نے؟ اچھا سوچو ۔ کوئی شادی شدہ نہیں ہوگی وہ اور سنگل بھی ہوگئ ورنہ کسی نا کسی کے ساتھ گھومتئ پھرتی نظر آجاتئ تمہیں اتنے مہینوں سے۔۔۔
انی کی بات پر وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔
دیکھو اگر ایسا کچھ ہوا بھی تو کل اس سے پوچھ کر کلیئر کر لینا۔ اور پھر اپنے قدم روک لینا۔ سادہ بات۔ سوچ سوچ کر الٹا پریشان ہونے سے کیا حاصل؟
وہ اسکی گھبراہٹ سمجھ گئ تھیں۔
نونا میں اب قدم روک نہیں پائوں گا۔ میں اسے بہت پسند کرنے لگا ہوں ۔ اور اسکی زندگی میں جو بھی رہا ہو مجھے فرق نہیں پڑتا اب میں بس رہنا چاہتا ہوں۔
وہ اتنے جزب سے کہہ رہا تھا کہ گنگشن اسے دیکھتی رہ گئیں۔ اسکی آنکھوں میں ستارے سے اتر آئے تھے۔ ویسے ہی جیسے ان سے اظہار محبت کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دیکھ اسے رہی تھیں نگاہوں میں چہرہ کوئی اور اتر آیا تھا
میں اب سے ہمیشہ تمہاری زندگی کا حصہ بن کے رہنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے گڑبڑا کر سر جھٹکا۔
ایسا ہی ہوگا۔ انہوں نے پر یقین انداز میں کہا۔
اچھا کل میں صرف خوشخبری ہی سننا چاہتی ہوں سمجھے تم۔
گوارا اور یون بن مال میں گھوم رہے تھے۔ دوبارہ ملنے کی خوشی میں یون بن اسکو خوب شاپنگ کرا رہا تھا۔ہاتھ میں ڈھیروں برانڈ ز کے شاپرپکڑے وہ دونوں اب ایلیویٹر کی جانب بڑھ رہے تھے۔
تم گائوں اتنے دن کیلئے کیوں جا رہی ہو؟ ایک ویک اینڈ گزارنا کافی نہیں؟ پورا سمسٹر بریک گائوں میں گزار کر کیا کروگی۔
یون بن ہونٹ لٹکا کر بولا تو وہ ہنس دی۔
میری آہموجی کا موسم بدلنے پر سیزن لگتا ہے ہمارے گائوں پر لوگ برسات کی طرح برستے ہیں۔ ایسے موقع پر انکو سنبھالنے میں مدد سے میرا پورا سال بھر کا خرچہ آرام سے نکل آتا ہے اتنا منافع ہوتا ہے ہمیں۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں تم بھی چلو وہاں ۔
گوارا کے کہنے پر وہ منہ بنا گیا۔ وہ دونوں احتیاط سے ایلیویٹر پر چڑھے۔ بیچ دوپہر کا وقت ہونے کے باعث اس وقت لوگ بہت کم تھے۔ سو دونوں آرام سے بحث میں الجھے رہے
مجھے اگلے سمسٹرکی فیس نکالنی ہے پارٹ ٹائم جابز سے۔سب چھوڑ چھاڑ کر کیسے چلوں۔
اگلے سمسٹر سے یاد آیا میرے بھائی کا بھی اسی یونیورسٹی میں داخلہ کروانا ہے کوئی سفارش کا انتظام کر سکتے ہو؟ جیسے اپنی دفعہ کیا تھا۔
وہ ٹہوکا دے کر بولی تو وہ چڑ گیا۔
میرےاتنے کم مارکس نہیں تھےمیرٹ پرنام آیا تھا۔
تو تم ایویں اپنے اس پروفیسر خالو کے آگے پیچھے پھرتے رہے انکے پالتو کتے کو ایک مہینے ویٹنری لے جا کر ٹیکے ٹھنکواتے رہے۔ سب فالتوکام ۔۔
وہ اور بھی کہتی مگراتنا بڑا منہ پھول گیا تھا یون بن کا کہ وہ ہنسی نا روک سکی۔
ہاں تو اب نہیں ہے میرا باپ یونیورسٹی کا ٹرسٹی اچھے نمبروں کے باوجود بھی خواریاں کاٹنی پڑیں مجھے۔
گوارا مڑ کر کچھ کہتی مگر سیڑھیاں ختم ہو گئ تھیں سو اترنا پڑا۔
ہیون۔۔ سامنے مشہور برانڈ کے جیولری شاپ سے نکلتے ہیون کو دیکھ کر وہ ٹھٹک سی گئ۔
ہاں اسکے پاپا ٹرسٹی ہیں مگر ہیون کے مارکس تو بہت ہی شاندار تھے اسے تو سفارش کی ضرورت نہیں تھی
جونتائی اپنی ہی دھن میں بولتا چلا گیا۔
ہیون۔لمحہ بھر لگایا تھا گوارا نے سوچنے میں پھر اپنی اونچی ہیل میں ہی بھاگ کھڑی ہوئی ہیون تیز قدم اٹھاتا مال سے خروج کے بیرونی دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا
یون بن کئ اب اس پر نگاہ پڑی پہلے سوچا پکارے پھر گوارا کو شاپنگ بیگز اٹھائے پھرتی سے تقریبا دوڑ کر سامنے والی دکان کی طرف جاتے دیکھا تو ارادہ ملتوی کرتا ہوا اسکے پیچھے ہو لیا۔ گوارا نے دکان میں داخل ہوتے ہی سیدھا کائونٹر کا رخ کیا تھا۔
ابھی جو سفید ٹی شرٹ میں لمبا سا نامجا ( لڑکا)یہاں سے نکلا ہے اس نے انگوٹھی خریدی ہے نا؟
اسکے اتنا وثوق سے آنکھوں میں ہزار دلچسپی کے رنگ لیئے پوچھنے پر وہ گڑبڑا سی گئ۔
دے؟ اسکا انداز استفہامیہ تھا
ہے نا؟
گوارا نے تصدیق چاہی۔
دے۔ ( ہاں) اس بار جواب اثبات میں تھا۔
گومو ویو۔ وہ اتنا بے ساختہ خوش ہو کر شکریہ ادا کرنے لگی کہ سیلز گرل بھی مسکرا دی
کونسی خریدی ہے۔ وہ اب کائونٹر پر شیشے میں سجی خیرہ کن ہیرے جڑی انگوٹھیوں کی جانب متوجہ تھی
یہ۔ سیلز گرل نے ڈسپلے پر سجی نہایت نازک مگر دلکش سی دو برابر لکیر کی شکل میں جڑے ہیروں سے مزین انگوٹھی اسے دکھائی اتنئ نازک بنت تھی کہ جیسے دو الگ راہیں اتفاقیہ آ ملیں انکے ملاپ کو ایک نسبتا بڑے ہیرے نے جوڑا تھا۔
اف کتنئ خوبصورت ہے۔ وہ فدا سی ہوگئ۔
ہیون کی پسند بہت اچھی ہے۔ وہ بے اختیار کہہ اٹھئ۔
یہ سب سے نیا ڈیزائن ہے آیا ہے ہمارے پاس۔ انکو فورا ہی پسند آگئ تھئ یہ ویسے وہ نامجا۔۔
وہ تھوڑا سا جھجکی
آپکا بوائے فرینڈ ہے؟ اس نے ہنس کر اندازہ لگایا
آندے۔ یون بن ایکدم آگے ہو کر بولا۔
میں ہوں اسکا بوائے فرینڈ۔
اسکے اس طرح کہنے پر گوارا نے منہ بنا کر اسے دیکھا۔
وہ میری چھنگو کا نامجا چھنگو ہے۔ ہونے والا
گوارا نے بتایا۔ تو سیلز گرل تو سر ہلا کر انگوٹھی واپس رکھنے لگی مگر یون بن بھاڑ سا منہ کھول کر رہ گیا۔
کیا کس کا۔
اسکے انداز پر گوارا منہ ہی منہ میں بدبدائی۔ مڑ کر الوداعی کلمات کہتی اپنے شاپرز سنبھالتی جونتائی کو بازو سے پکڑ کر باہر نکل آئی۔ یون بن کے دونوں ہاتھ شاپرز سے بندھے تھے سو احتجاج بھی نہ کر پایا گھسٹتا چلا آیا اسکے ساتھ۔
سب کہانی اسکو سنانئ تھی کیا۔ ۔
اس نے گھرکا۔
ہیون انگوٹھی لے رہا کونسی لے رہا کس کیلئے لے رہا یہ سب میں ہی تو پوچھ اور بتا رہا ہوں نا سب کو۔
وہ بھنایا۔ پھر اندازہ لگا کر پوچھا۔
ویسے تمہاری کونسئ دوست کا نامجا شنگو ہے؟ وہ جی ہائے
آنی ۔۔ گوارا نے مسکرا کر نفی میں گردن ہلائی۔۔
وہ ہوپ؟
لڑاکو کھنچی ہوئی آنکھوں اور چوڑے ماتھے والی خدایا اس پر مر مٹنے سے پہلے ہیون مر مٹ کیوں نہ گیا۔
اس نے رونا رویا۔۔۔
جی نہیں وہ بڑی بڑی آنکھوں گلابی رنگت تھوڑی پر ڈمپل والی میری سہیلی اریزہ کو پسند کرتا ہے۔
گوارا نے کہہ کر فخریہ سے انداز میں یوں دیکھا اسے جیسے داد چاہ رہی ہو۔ اور یون بن وہ حیران رہ گیا تھا۔ بے تحاشا حیران۔
مگر وہ تو۔۔
اسے اریزہ سے اپنی گفتگو یاد آئی۔۔اس نے کان کھجایا۔
وہ تو شادی شدہ ہے۔
اس نے زیر لب کہا تھا۔
گوارا نے مگر پھر بھی سن لیا تھا۔
تمہیں کیسے پتہ چلی یہ بات؟
اس نے فورا پکڑ لیا تھا۔
اس نے خود بتایا تھا۔ یون بن گڑبڑایا۔
اس نے مجھے بھی بتایا تھا مگر اتنے مہینوں میں اس نے کبھی اپنے شوہر سے بات نہیں کی۔ گوارا سوچ میں پڑی
یا تمہارے سامنے بات نہیں کی۔۔
یون بن نے جملہ مکمل کیا تو گوارا چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگی
اسکو اپنے جسم میں بالکل توانائی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ بستر سے اترے گی تو چکرا کر گر پڑے گی۔
اس نے کھانا کھا لیا تھا مگر کتنی دیر چلتا اسے اب بھوک لگ رہی تھی۔ اس نے اٹھ کر شاپر ٹٹولا ۔ سیب کیلا وہ بھی ایک ایک ہی پڑا تھا۔ اس نے اپنا پرس الٹ لیا ۔ بمشکل ایک بڑا نوٹ اور ریز گارئ ملی۔
تو اب ایڈون اسے بھوک کی مار مار رہا ہے۔
اس نے تلخی سے سوچا۔
پھر دھیرے سے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔
وہ کچھ بھی کر لے مگر اس بچے کی خود جان نہیں لے سکتی تھئ۔ ایک گناہ کے بعد دوسرا بڑا گناہ کرنے کی ہمت نہیں تھی اس میں۔
تمہیں کیا لگتا تم مجھے سپورٹ نہیں کروگے تو کیا میں بھوکی مر جائوں گئ۔ میرے ماں باپ زندہ ہیں۔
اس نےتنفر سے سوچا۔
اکلوتی بیٹی ہوں میں انکی۔ وہ مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ میں سب خود انہیں بتا دوں گی۔ پھر دیکھتی ہوں تم کیسے مجھ سے دامن چھڑا سکو گے۔
اس نے ایک فیصلہ کرکے اپنا فون اٹھایا اور ماں کو کال ملا لی۔ دوسری ہی بیل پر فون اٹھا لیا گیا تھا۔ وہ اپنا ہر کام چھوڑ کر اس سے بات کرتی تھیں۔
ہیلو ممی۔۔
اسکی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
ہاں بیٹا کیسئ ہو۔ مشفقانہ انداز۔
آپ جاگ رہی ہیں ابھی تک۔۔
اس نے وقت دیکھا۔ ساڑھے نو ہو رہے تھے یعنی پاکستان میں ڈیڑھ بج رہا ہوگا۔ اسکو شرمندگئ سی ہوئی بنا وقت کا اندازہ لگائے فون کھڑکا دیا۔
ہاں بیٹا بس آج تمہارے ڈیڈا کے دوست کے بیٹے کی منگنی تھئ۔ بارہ تو وہیں بج گئے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گھر پہنچے ہیں تو تمہارے ڈیڈا نے کافی کی فرمائش کردی اب انکو دے کر آئی ہوں کمرے میں تو میری بیٹی کا فون آگیا۔
وہ پیار سے تفصیل بتا رہی تھیں۔ انکا انداز لفظ لفظ محبتوں سے چور تھا۔ اسکا دل ڈوبنے لگا۔ اسکی مسلسل خاموشی پر انہوں نے خود ہی موضوع بدلا
تم سنائو اریزہ کیسی ہے۔ تم لوگوں کو اکیلے رہتے کوئی مسلئہ تو نہیں ہورہا۔؟
ماں۔
اس نے بلبلا کر ٹوکا۔
مجھے شدید بھوک لگ رہی ہے ممی۔
وہ کہتے ساتھ ہی رو پڑی۔
تو کھانا کھائو نا بیٹا؟ ممی پریشان ہو گئ تھیں۔
ممی مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ ہے۔
وہ روتے ہوئے بے ربط بول رہی تھی۔
کیا ہوا بیٹا مجھے بتائو میرا دل ہول رہا ہے۔۔ ممی کی پریشانی بھری آواز اسکے الفاظ منہ میں اٹکنے لگے
میں نے اپنا بہت نقصان کر لیا ہے ممی۔
کتنا بڑا پیسے چاہیئے؟
انکا ذہن بس اتنے نقصان تک ہی رسائی کر سکا۔
مجھے بتائو کتنے؟ مت فکر کرو ڈیڈا بھجوا دیں گے میری جان روئو مت۔ آج تک کبھی کچھ کہا ہے ہم نے نقصان کرنے پر۔ بتائو کتنے پیسے چاہیئیں؟؟
ممی ۔۔ اسکی ہچکیاں بندھ گئیں۔
ممی پیسہ اس نقصان کا مداوا نہیں کرسکتا۔ میں نے خود کو برباد کرلیا ہے ممی۔۔
اسکی بات اسکا بلکنا ممی سناٹے میں آگئ تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا لدی پھندی داخل ہوئی تھی۔ اریزہ فورا مدد کو آئی تھی۔ اسکا سامان کمرے میں پہنچا نے میں مدد کرانے لگی۔
تم اتنا سامان اٹھا کر کیسے آئی ہو ؟
ہوپ نے ناک چڑھا کر پوچھا تھا۔
یون بن دروازے تک سب سامان رکھ کر گیا ہے۔ نامجا شنگو کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے۔
گوارا کھلکھلا کر اترائئ۔ اریزہ مسکراہٹ دباتے اسکے شاپروں کو اٹھا کر بیڈ کے ساتھ ٹکانے لگئ۔
سامان ڈھونا جانوروں کا کام ہوتا ہے اور میرے خیال میں ۔ انسان کو اپنا بوجھ اتنا بڑھانا ہی نہیں چاہییے کہ اسے کسی سماجی جانور( انسان) کی مدد لینی پڑے۔
ہوپ اور اپنے بے وقت کے قنوطئ پن سے باز آجائے۔
گوارا نے شاپر اٹھا کر اطمینان سے بیڈ پر نیم دراز ٹیک لگائے بیٹھی ہوپ کے سینے پر دے مارا۔
چپ۔کر بے تکی لڑکی۔
کہہ سیکی۔
گالی دیتی ہوئئ وہ سیدھی ہوئئ۔
شاپر واپس گوارا کو مارنے لگی تو اس نے ہاتھ اٹھا کر روکا
تمہارے لیئے ہی ہے وہ سوئٹر۔
ہوپ دانت کچکچاتے ٹھٹکی۔ شاپر کھول کر دیکھا تو سرمئی سے رنگ کی بے حد خوبصورت سوئٹر نکلی۔
وائو بہت پیاری ہے۔
اریزہ نے فورا تعریف کی۔
اور یہ تمہارے لیئے۔
گوارا نے آگے بڑھ کر سب سے بڑا تکیئے جیسا شاپر اسکی جانب بڑھایا۔
یہ کیا تم میرے لیے رضائی لائی ہو۔؟
وہ حقیقتا یہی سمجھی تھی۔ پھر ہوپ کو چڑانے لگی۔
دیکھ لو تم سے ذیادہ گوارا میری اچھی دوست ہے تمہارے لیئے تو بس ایک سوئٹر آئی ہے میرے لیئے پوری رضائئ۔
بولتے ہوئے اس نے پورا شاپر کھولا پھر ہکا بکا رہ گئ۔
اس کی لن ترانی پر گوارا او رہوپ دونوں ہنس دیں۔
یہ کیا تم میرے لیئے بھی یہ بھالو والا جیکٹ لے آئیں
اس نے روہانسا سا ہو کر کھولا
وہ بڑا سا موٹا فوم والا گھٹنوں تک کا پیراشوٹ جیکٹ تھا۔ آجکل کوریا میں ہر دوسرا لڑکا لڑکی یہی پہنے پھر رہے تھے وہ بھئ ہڈ چڑھا کرسر پر تو بالکل لگتا کہ برفانی کالے بھالو پھر رہے ہیں۔
جی بالکل۔ ہوپ کے پاس بھی یہ جیکٹ ہے اور میرے پاس بھی صرف تمہارے پاس نہیں تھا سو اب ہم تینوں بھالو بن کے سوپ پینے چلیں گے۔
گوارا نے کھڑے کھڑے پروگرام بنایا۔
کیوں؟ مجھے بالکل اچھے نہیں لگے یہ بندہ موٹا بھی لگتا ہے اور کارٹوں بھی۔
اریزہ نے ناک چڑھائئ
اور شدید سردی برفباری میں گرم بھی رہتا ہے۔ ہوپ نے جملہ جوڑا۔
تو اور کیا اتنی ٹھنڈ میں مجھے تو یہ خوف ہو رہا تھا کہ کسی دن یہ اکڑی ہوئی واپس آئے گئ۔
گوارا دھپ سے بیڈ پر گری
بہت تھک گئ میں آج۔اریزہ کافی تو پلوا دو مجھے۔
تم نے ویسے کیوں تحفہ لیا ہے میرے لیئے۔
ہوپ کی عدالت لگ گئ تھئ۔ گوارا کی جانب رخ کرکے وہ گاڑھئ ہنگل میں بولی۔ اریزہ باہر نکلتے نکلتے واپس پلٹ آئی۔
دونوں جب اپنی مادری زبان میں بات کرنے لگتی تھیں تو اختتام ہمیشہ ہاتھا پائی ہی پر ہوتا تھا۔
گائوں جا رہی ہوں اپنے خاندان والوں کیلئے تحفے لیئے تو دوستوں کیلئے بھئ لے لیئے۔
گوارا نے جان کر انگریزی میں جواب دیا۔
میں دوست کب بنی تمہاری۔۔
ہوپ کہاں باز آنے والی تھی۔
ہوپ کبھی کسی کے پر خلوص انداز میں کوئی مہربانی کرنے پر اسکا صرف احسان مند بھی ہوا جا سکتا ہے ہر تحفےکو سختی سے ٹھکرایا نہیں جاتا ہے۔
اریزہ نے گوارا کو جواب دینے کی زحمت سے بچا لیا تھا۔
ہوپ چند لمحے دیکھتی رہی۔ پھر دھیرے سے بولی
شکریہ۔ آج بڑے عرصے بعد کسی نے مجھے اپنا سمجھ کر تحفہ دیا ہے۔
اسکی بات پر اریزہ بھی چپ ہی رہ گئ۔
تم دونوں بیٹھو میں سب کیلئے کافی بنا کر لاتی ہوں۔
چند لمحے لگے تھے وہی ہموار لہجہ اور سپاٹ انداز وہ اپنا چکی تھی۔
میں۔ اریزہ نے کہنا چاہا مگر وہ بجلی کی تیزی سے اسکے پاس سے ہو کر گزرتی چلی گئ۔
اریزہ کندھے اچکا کر گوارا کے پاس بیڈ پر چڑھ کر بیٹھ گئ
جانے دو اسے ہمارے سامنے رونا نہیں چاہتی وہ۔
گوارا کے کہنے پر وہ سر ہلا گئ۔
تم کب واپس آئوگی۔ اسےسوچ کے اداسی ہو رہی تھی۔
میں کرسمس نیو ائیر سب منا کر واپس آئوں گی۔ گوارا نے انگڑائی لی۔ اریزہ نے اداس سی شکل بنا لی تھی
کل سے یہ جیکٹ پہن کر جانا یہ نہ ہو کہ اکڑی ہوئی واپس آئو۔
گوارا نے ڈپٹنے والے انداز میں کہا تھا۔
یہ تو مجھے گھٹنوں سے بھی نیچے تک آرہی ہے۔۔
اریزہ پہن کردیکھنے لگئ بیڈ پر کھڑے ہو کر جب دیکھا تو واقعی اسکے گھٹنوں سے بھی نیچے تک آرہا۔تھا جیکٹ
ہاں تو یہ ہوتا ہی اتنا بڑا ہے تاکہ ٹھنڈ نہ لگے۔
گوارا نے کہا تو وہ اچھل کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کودی۔ بڑے سے آئینے میں وہ واقعی بھالو۔ہی۔لگ رہی تھی۔
کیسی لگ رہی ہوں؟ وہ۔آئینے میں گوارا کے عکس کو دیکھ کر پوچھ رہی تھی جو اسکی پشت پر تھی۔
پیاری۔
میں کیسی لگتی ہوں تمہیں؟ گوارا نے جوابا پوچھا۔
پیاری۔
اور ہوپ؟ وہ اس سے پے در پے سوال کر رہی تھی
وہ بھئ۔
اور جی ہائے۔۔
وہ بھی ۔ اس نے روانی میں کہا پھر منہ پھلا کر بولی
تھوڑی سی بری ہے وہ۔
اور کم سن۔۔ سوال ختم نہیں ہوئے تھے۔
پیارا ۔۔
اور۔یون بن۔ گوارا کے کہنے پر۔وہ مڑ کر۔گھورنے لگی
تم۔میرے ساتھ ریپڈ فائر کھیل رہی ہو؟
ہاں ۔گوارا نے آرام سے مان لیا پھر ٹوک دیا
تم نے ٹیمپو توڑ دیا اب دوبارہ مگر وقت ضائع کیئے بنا جواب دینا۔
اوکے۔ وہ کندھے اچکا کر بیڈ پر چڑھ گئ
پسندیدہ پھول؟ ?favourite flower
گوارا اسے تولتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی
گلاب۔۔ Rose
پھل؟ ?Fruit
آم۔۔ Mango
اریزہ کو۔مزا آرہا تھا اس کھیل میں۔
ایکٹر؟ ? actor
فواد خان….. Fawad Khan
ملک۔۔ Country
پاکستان ۔ Pakistan
تمہیں کوریا پسند نہیں؟
گوارا نے سوال بدلا
You dont like Korea?
اچھا ہےکوریا۔ Korea is good
صاف اچھا موسم اچھے لوگ….
its clean nice people are good
Do you like rain?
yes
تمہیں بارش اچھی لگتی ہے؟
ہاں۔۔۔
Does it rain in Pindi?
yeah alot
پنڈی میں بارش ہوتی ہے؟
بہت ذیادہ۔۔
Are you sleepy?
No..
تمہیں نیند آرہی ہے؟
نہیں۔۔
Are you hungry?
yeah little bit
بھوک لگ رہی ہے؟
ہاں تھوڑی سی۔۔
Are you thirsty?
yes
پیاس لگ رہی ہے؟
ہاں۔۔
Are you divorced?
yes..
تمہیں طلاق ہوگئ ہے؟
ہاں۔
وہ روانی میں بول کر چونکی۔ ۔
ہیں کیا؟
گوارا مسکرا دی۔ کمرے میں ٹرے میں کافی بنا کرداخل ہوتی ہوپ کے ہاتھ سے ٹرے دھڑام سے گری تھی۔ تینوں مگ گر کر چکنا چور ہو گئے تھے۔ چھناکے کی آواز پر وہ دونوں چونک کےمتوجہ ہوئیں۔
جلی تو نہیں؟
اریزہ سب سے پہلے بھاگ کے اسکے پاس آئی تھی۔ ہوپ نے کانپتے ہاتھوں کو چھپانے کی سعی کرتے ایکدم سے مگ کے ٹکڑے اٹھانے کیلئے ہاتھ بڑھادیئے۔
پاگل ہوئی ہو کیا ؟ اریزہ چیخی
کرچیاں چبھ جائیں گی تم مجھے دکھائو ہاتھ پائوں تو نہیں جلے
اسکو ٹٹولتی اریزہ فکرمندہ تھی۔
گوارا نے ایک نظر ان دونوں پر ڈالی پھر دانستہ رخ موڑ کر لیٹ گئ۔
وہ حسب معمول وقت پورا ہونے پر اپنے گرد لمبےگھٹنوں تک کے پھولے پھولے جیکٹ کو پہنتی باہر نکلی تھی۔ پھر بھی یخ بستہ ہوا نے جھر جھری سی دلا دی تھی۔
ناک چالو ہوئی تو اس نے سرد ہوا کو گھورتے ہوئے کہہ ڈالا
سنو کوریا تمہاری یہ سردی مجھے بالکل پسند نہیں آئی۔ اچھا۔ تھوڑی کم ٹھنڈ پھیلائو۔
ساتھ سے گزرتی اسی طرح ملفوف سی چندی آنکھوں والی نے حیرت سے اسے ہوا سے لڑتے دیکھا تھا۔ مگر وہ بے نیازی سے لہرا کر آگے بڑھ گئ۔
اسکا ارادہ بس سے جانے کا تھا۔ تھوڑا سا پیچھے اتر کر ایک دو چیزیں خرید لیتی۔ وہ یہی سب منصوبہ بناتی بس اسٹاپ پر چلی آئی۔
وین سے جائوں؟ ہرگز نہیں مجھے چھوڑ کر آئوبائک پرصارم۔
اٹھو۔
وہ کمبل میں گھسے بے خبر سوتے صارم کو مکے لاتیں مار کر اٹھا رہی تھئ۔
خدا کی قسم مجھے بخار ہو رہا ہے جبھی تو آج میں چھٹی کر رہا ہوں۔ دیکھو۔
اندر سے سرخ چہرے کے ساتھ منمناتی آواز نکلی تھی صارم کی
آکر سو جانا نا پھر۔ واپسی کا مسلئہ نہیں ایڈون سنتھیا چھوڑ دیں گے ابھی چھوڑ آئو نا اچھے بھائی نہیں۔ میرا آج کوئز ہے ورنہ کبھی نہ کہتی خود بھی چھٹی کر لیتی
اسکی شکل پر ترس آیا تو اسکا انداز بھی منت بھرا ہو چلا تھا
تم وین سے کیوں نہیں چلی جاتیں صرف ایک اسٹاپ دور ہو تم لڑکی۔ کونسا دو ویگنیں بدل کر جانا ہے تمہیں۔
وہ اسکے اصرار پر تھوڑا چڑا
تمہیں پتہ ہے نا مجھ سے بسوں ویگنوں کا سفر نہیں ہوتا کہیں کی کہیں پہنچ جائوں گئ۔ اوپر اتنے لوگوں میں بھر کر کیسے جائوں گی۔
اسکی اپنی مجبوری تھئ۔
دو ٹکٹ لینا آگے بٹھائیں گے۔ڈرائور سے کہہ دینا اور کسی کو آگے نہ بٹھائے۔
اس نے کہہ کر کمبل منہ تک تان لیا۔ وہ بے بسی سے چپ چاپ کھڑی رہئ ۔ چند لمحے کوئی سن گن نہ ملی تو اس نے دھیرے سے کمبل سر پر سے نیچے کیا وہ چپ چاپ کھڑی زمین کو جوتے کی نوک سے ہلکے ہلکے کرید رہی تھی۔
میرا کارپٹ خراب نہ کرو۔
وہ بھناتا ہوا اٹھ بیٹھا۔
اسکا اترا چہرہ بھی تو نہیں دیکھ سکتا تھا منہ پھلاتا کمبل اتار کر ایک طرف کرتے ہوئے چپل ٹٹولنےلگا۔ اریزہ کھل سی اٹھی
گاڑی بابا لے جا چکے ورنہ کبھی نہ کہتی تمہیں۔
احسان ماننا بھی تو سرشست میں نہ تھا۔
اس نے گھور کر دیکھا۔
شرٹ پینٹ استری کرکے دو میری بلکہ صرف شرٹ کر دو کل والی جینز سے ہی کام چلا لوں گا۔
وہ ہدایت دیتا اٹھنے لگا۔
کیوں ٹھیک ہیں کپڑے مجھے اتار کر واپس آکر سونا ہی تو ہے۔ وہ سمجھی نہیں
اب تمہاری وجہ سے اٹھ کر یونیورسٹی کا منہ دیکھوں تو کلاس بھی نا اٹینڈ کر لوں ۔ قسم سے اتنی طبیعت خراب ہے میری اور۔۔۔۔۔۔۔۔
تبھئ بس کے زورد ار ہارن سے وہ چونکی۔ یہ اسکی مطلوبہ بس تھی سو بیگ سنبھالتی لپک کر چڑھی۔
بس لبا لب بھری تھئ۔ ترقی یافتہ ملک کے ترقی یافتہ شہریوں میں مرد و زن کی تفریق نہ تھی ۔ کام کاجو نوکری پیشہ طلباء بوڑھے جوان سب ہی کھڑے تھے کوئی نشست خالی نہ تھی۔ وہ ایک لڑکی کے پاس گھس کر کھڑی ہوئی تو آگے پیچھے مرد ہی مرد بھرتے گئے۔ اگلے اسٹاپ پر وہ لڑکی بھی اتر گئ۔ طرح طرح کے لوگ اجنبی بولی اوپر سے سب مردوں میں گھرئ اس نے سمٹ کر اردگرد نگاہ دوڑائئ اسکے بالکل دوتین ہائی اسکول کے طلبا ء تھے ایک شائد ان میں لڑکی بھی تھئ مگر حلیہ سب کا ایک سا تھا بڑی بڑی جیکٹیں وہ آپ میں مگن تھے تو اسکے دائیں جانب ایک ستائیش اٹھائیس سال کا جوان شائد دفتر سے واپس آرہا تھا لیپ ٹاپ کندھے سے لٹکائے مکمل طور پر سامنے کھڑکی سے باہر دیکھتا اسکا لیپ ٹاپ دو ایک بار اسکی کمر سے ٹکرایا تو اس نے بنا اریزہ کے ٹوکے ہی لیپ ٹاپ کو اپنے جسم سے مزید قریب کر لیا تھا۔ موٹئ گھٹنوں تک کی پھولی سی جیکٹ میں وہ کسی بھی طرح کسی سے چھونہیں رہی تھی پھر بھئ عجیب سا احساس دامن گیر تھا۔ وہ لیپ ٹاپ والا لڑکا اگلے اسٹاپ پر اترنے کو جگہ بنانے لگا تو وہ یک قدم پیچھے ہوئی تبھئ اس نے مڑ کر دیکھا تو ادھیڑ عمر وہ بوڑھا شخص مسکرایا۔ اسکی مسکراہٹ اتنئ عجیب لگی اسے کہ اسے اپنے اس احساس کو جھٹلانے کی اب ہمت نہ ہوئی۔ بس دوبارہ چلنےکو تیار تھی کہ۔ وہ بوکھلا کر پکاری۔
اہجوشی۔
اسکی پاٹ دار آواز پر پوری بس متوجہ ہوئی۔
وہ مجھے بھی یہیں اترنا۔ وہ اتنے دنوں میں آتے جاتے اتنا بولنا سیکھ گئ تھئ۔ اسکی بات پر وہ ہائی اسکولر فورا سمٹ کر جگہ بنا گئے تھے۔ وہ بس سے اتنی تیزی سے اتری کہ لڑکھڑا گئ۔
بس اس کے اترتے ہی لمحہ بھر کی دیر کیئے بںا چل پڑی تھی
وہ چند لمحے اس جاتئ بس کو ہی دیکھتی رہ گئ۔
سب میسر ہے نا جبھی نخرے ہیں جس دن میں نہیں ہونگا نا اس دن ایک وین کیا دس بسیں بدل کر بھی جائو گی۔
صارم بائک چلاتا اسے سنا رہا تھا۔
پھولی سانسوں کو ہموار کرتئ وہ بس پھر اسی سوچ پر اٹک گئ تھئ
اس دلکش مراکش حسن کی شاہکار شہد رنگ آنکھوں شہد رنگ بالوں والی لڑکی کو دیکھتے سوچ رہا تھا۔
نہایت پر اعتماد دراز قد تیکھے نقوش سیاہ جینز اور چست مسٹرڈ ہائی نئک میں ملبوس بلیک ہی لانگ کوٹ جس کے سب بٹن کھلے تھے۔ اسکے سینے پر جھولتی سونے کی موٹی زنجیر ریستوران کی روشنیوں کی جھلملاہٹ منعکس کر رہی تھی۔ اپنے کمر تک آتے لمبے سیدھے بال اس نے کھول رکھے تھے جو اسکے دائیں کندھے پر آبکھرے تھے مگر وہ اس سے بے نیاز کافی کی چسکی لیتے ہوئے اپنی تعلیم و تربیت پر مفصل لیکچر جھاڑ رہی تھی۔
میں نے کبھئ نہیں سوچا کہ ایک لڑکی ہو کر میں یہ کام نہیں کر سکتی وہ کام نہیں کر پائوں گی۔ مجھے خود پر بھروسہ اور یقین ہے جبھئ اس اسکالر شپ کیلئے میں نے جی جان سے محنت کئ۔ جینڈر اسٹڈیز کو عموما لوگ جنسیات سے تعبیر کرتے ۔
تو جنسیات کیا جینڈر اسٹڈیز کو ہی نہیں کہتے۔
اس نے بات برائے بات کہا تھا۔
یہی تو مسلئہ ہے۔ ایک مکمل مضمون اور ایک موضوع کو آپ کبھی ایک سا نہیں سمجھ سکتے۔ میرے تحقیقی مقالے کا مقصد اسی فرق کو واضح کرنا ہے اور۔
وہ جانے کیا کیا کہہ رہی تھی۔ وہ غائب دماغی سے سنتا بس کافی ختم کرنے کے بعد اٹھنے کا کوئی اچھا سا بہانہ سوچ رہا تھا۔
تبھئ ایک پھولی سی گھٹنوں تک کی جیکٹ ریستوران میں داخل ہوئئ۔اسکی توجہ خود بخود اسکی جانب ہوگئ تھی۔
مجھے ایک برگر چاہیے جس میں سبزیاں ہوں بس اس میں کوئی الگ سے ساس بھی مت ڈالیئے گا اور ساتھ کافی۔
وہ آرڈر کرکے اب نگاہ گھما کر خالی جگہ ڈھونڈ رہی تھی۔
اسکے بالکل برابر والی میزخالی تھی وہ سیدھی وہیں آکر بیٹھی گئی۔ اسکے دائیں جانب اسکی موجودگئ سے انجان۔
وہ لڑکی جب اپنی تمام تر قابلیت جھاڑ چکی تب اسے احساس ہوا کہ مخاطب کی توجہ بٹ چکی ہے سو تھک کر کافی کا کپ اٹھا لیا۔
آپ پڑھانے کے سوا کیا کرتے ہیں میں مشغلہ پوچھنا چاہ رہی ہوں۔
اسکا انداز تھوڑا سا خشک ہو چلا تھا۔
علی چونکا۔
کچھ نہیں۔۔جاب ریستوران دونوں کام محنت طلب ہیں نماز وغیرہ کے سوا وقت بچتا نہیں عربی کی آن لائن کلاس لیتا ہوں بس۔
اس نے اس تئیس منٹ کئ ملاقات میں یہ پہلا طویل جملہ بولا تھا۔ مخاطب نے ہوں کہنے پر اکتفا کیا۔ وہ تھوڑی بدمزہ ہوچکی تھی۔ اگر علی کی ظاہری شخصیت پرکشش نہ ہوتی تو شائد وہ اسکی عدم دلچسپی اور کسی حد تک روڈ بدمزاج انداز بھانپ کر دس منٹ میں ہی اٹھ کھڑی ہوتی۔
اس نے اپنے بالوں کو کندھے سے جھٹکا تو وہ بنا سوچے کہہ بیٹھا
آپ اسکارف نہیں کرتیں۔
نہیں۔ نہ ہی زندگی میں کبھی کرنے کا ارادہ ہے۔وہ اپنا پرس سنبھالتی مسکرا کر کہتی اٹھ کھڑئ ہوئی
یہ تو لازمئ ہوتا ہے مسلمان لڑکیوں پر۔ ؟
اسکا ارادہ بحث کا نہیں تھا۔ مگر وہ بھڑک کر انگریزی میں چبا چبا کر بولی۔
آپ کو اس بات پر زیادہ توجہ دینی چاہیئے کہ مسلمان لڑکوں کیلئے کیا لازم و ملزوم ہے لڑکیوں کی قبر انکا اپنا معاملہ ہوگی۔ آپ اپنی آخرت کی فکر کیجئے۔
اسکے تھوڑا اونچی آواز میں کہہ اٹھنے پر اردگرد سے کئی لوگ چونک کر انہیں دیکھنے لگے تھے۔
آننیانگ۔ وہ جھٹکے سے بیگ کندھے پر ڈالتی ہائی ہیل پر ٹک ٹک کرتی چلی گئ۔
وہ ان سب کی نگاہوں کا مرکز خود کو محسوس کر رہا تھا۔
اس میں سبزیاں ہی ہیں نا بس؟ گوشت تو نہیں
اٹک اٹک کر ہنگل بولتی اریزہ کی بات پر وہ چونک کر دوبارہ اسکی جانب دیکھنے لگا تھا۔
آندے ۔ وہ ویٹرس سرو کرکے حسب روایت جھک کر سلام کرتی چلی گئ۔
اسے کافئ زور سے بھوک لگ رہی تھی سو سینڈوچ اٹھا کرفورا کھانا شروع کر دیا تھا۔
ہائے۔ ہائو آر یو؟
وہ اٹھ کر اسکی میز کے سامنے آکھڑا ہوا
نوالہ چباتے ہوئے اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو شناسائی کی واضح لہر اسکے چہرے پر دوڑ گئ۔
وہ بہت چھوٹے نوالے لیتی کھا رہی تھی جبھی فورا سر کے اشارے سے جواب دیتی نوالہ جلدی سے چبا کر نگل گئ
ہائے آپ کیسے ہیں۔؟ ۔ بیٹھیئے۔
اس نے سینڈوچ پلیٹ میں رکھ لیا تھا ۔ علی اسے بغور دیکھ رہا تھا۔ وہ مکمل غیر ملکی تھی۔
آپ کو لگتا ہے کوریا راس نہیں آیا ابھی تک ۔ وہ خود ایک جیکٹ میں ملبوس اسکے اتنا ملفوف ہونے پر شائد چوٹ کر رہا تھا۔ وہ خفیف سی ہوئی۔
مجھے اتنی سردی سہنے کی عادت نہیں شائد اسلیئے۔۔
آپ بھی لیجئے۔ اس اخلاقا ایک اسکی جانب پلیٹ کو بڑھا دیا۔
معزرت اس میں جو ساس ڈالی گئ ہے اس میں بڑا حصہ سور کے گوشت کا ہوتا ہے میں نہیں کھا سکتا۔
اس کو عادت ہو چکی تھی تفصیل سے بتانے کی۔ اسکی بات پر اریزہ چونکی
نہیں بھئ۔ یہ سبزیوں کا سینڈوچ ہے اس میں گوشت نہیں۔ پورک تو میں خود نہیں کھاتی۔
گوشت نہیں مگر اس میونیز کے ساتھ جو مصالحے دار چٹنی ذائقہ بڑھانے کیلئے ڈالی گئ ہے اسکو پورک میں ہی پکایا جاتا ہے۔
اس نے باقائدہ سینڈوچ کھول کر اسے دکھایا۔
لال چٹنی جو ذائقے میں بہت اچھی لگی اس میں سور؟
وہ سینڈوچ پلیٹ میں رکھ کر فورا کھڑی ہو گئ۔
آگاشی ۔ اس نے اسی ویٹرس کو پکارا۔
میں نے کہا بھی تھا مجھے سبزیوں کا سینڈوچ چاہیئے اس میں سور کہاں سے آگیا؟
اسکے قریب آتے ہی وہ مٹھیاں بھینچ کر چلا اٹھی۔
چھے سو ہمنبندا۔
اگلی جھک جھک کر معزرت کرنے لگی۔
میں نے صاف کہا تھا مجھے سبزیوں کا سینڈوچ چاہیئے اس میں گوشت وہ بھی سور کا کیوں ہے؟
اسکے تن بدن میں آگ سی لگ گئ تھی۔
اسکو غصے میں دیکھ کر علی چوکنا سا ہوا۔
آئیم سوری۔
لڑکی کی انگریزی اس لفظ کے بعد ختم ہوگئ تھی۔ وہ۔یقینا کوئی ہائی اسکولر تھی ۔ کم عمر سی سہم سی گئ۔ بات تو انگریزی کی سمجھ گئ مگر جواب دینا نہ آیا۔ تو سر جھکا لیا۔
یہ کہہ رہی ہے اسے سبزیوں کا سینڈوچ چاہیئے آپ نے اسے یہ ساس ڈال کر کیوں دیا؟
علی نے ترجمہ کیا۔
جی وہ اس سبزیوں کے سینڈوچ میں ہم کوئی نہ کوئی ساس استعمال کرتے ہیں ۔ اس وقت بھی میں نے پوچھا تھا لال چٹنی ڈال دوں تو انہوں نے ہامی بھر لی تھی۔
وہ بے چارگی سے صفائی دینے لگی۔
کیا کہہ رہی ہے یہ؟ اریزہ علی کی۔جانب گھومی۔ اس نے اشارے سے تحمل سے کام لینے کو کہا۔ اور اس لڑکی کی۔جانب متوجہ ہوا۔
مگر یہ چٹنی تو سورکے گوشت کے ساتھ بنتی ہے نا؟
علی نے پوچھا۔ تو وہ سر۔جھکا گئ۔
چھے سو ہمبندا۔ ( معزرت خواہ ہوں)
مگر اس میں سے گوشت کے ریشے نکال دیئے تھے اور کھمبیاں ڈال دی ہیں ہم نے۔ یہ خاص ساس ہماری پہچان ہے خاص کر اس سینڈوچ اور اس ذائقے کیلئے لوگ دور دور سے ہمارے ریستوران آتے ہیں۔ یقین جانئے یہ کسی بری شے سے نہیں بنی ہے۔
اس نے جھک جھک کرمعزرت کرنے کے بعد تفصیل سے صفائئ پیش کی۔ اسکی ہنگل اریزہ کے سر پر سے گزرتے دیکھ کر علی ہی مدد کو آیا اور ترجمہ کیا۔
مگر اس ساس میں ڈالا کیا جاتا ہے؟
وہ سر پیٹ لینے کو تھی۔ اپنا۔
لال مرچ ، سویا ساس ، چینی، سرکہ، ہڈیوں کا سوپ۔۔۔
اجزاء بتاتے ہوئے علی تھما۔ وہ ابھی بھی جانے کیا کیا بتا رہی تھی۔
کس جانور کئ ہڈیوں کا سوپ؟
وہ سر پکڑ گئ
سور نہ بھی ہو بکرا، مرغی مچھلئ گائے میں بنا حلال ہوئے کسی جانور کا گوشت نہیں کھا سکتی بھئ۔
اسکا چہرہ دیکھنے والا تھا طیش سے سرخ بے بسی سے مٹھیاں بھینچتی۔ اور شائد رونے کا بھی ارادہ بن رہا تھا۔اگر نہیں بھی تو بھی شکل سے یہی لگ رہا تھا۔
میں بہت معزرت خواہ ہوں آپکےلیئے سادہ چیز سینڈوچ لے آتی ہوں اس کی بے شک آپ ادائیگی بھی واپس لے لیں۔
وہ بچی شائد اریزہ کی طرح ہی رونے کو تیار لگ رہی تھی۔
آپ جائیں۔ علی نے اسے جانے کو کہا تو وہ پھر جھک کر معزرت کرتئ چلی گئ۔
کونسا گوشت تھا اس میں ؟
وہ تفتیشی انداز میں پوچھ رہی تھی۔ علی گہری سانس لیکر رہ گیا۔
مجھے اتنی بھوک لگ رہی تھی کہ اتنا ذیادہ کھا بھی گئ۔ حد ہے۔
اس میں تیرا گھاٹا میرا کچھ نہیں جاتا ذیادہ پیار ہو جاتا تو میں سہہ نہیں پاتا۔
دھیمی بجتی آواز ریستوران کا خوابناک سا ماحول گرم گرم روٹی اور چکن کڑاہی۔ ویٹر نے لا کر ان کی میز پر رکھی تو علی نے اسے شروع کرنے کی دعوت دی۔
میرا واقعی کچھ کھانے کا ارادہ نہیں ہے۔
وہ منہ پھلائے تھئ۔ علی کو ہنسی آگئ۔ اس نے روکنے کی کوشش بھئ نہیں کی۔
تم مزاق اڑا رہے ہو میرا؟
وہ اٹھ کھڑی ہوئئ۔
اسکے تیور کڑے تھے۔
ہرگز نہیں۔ بیٹھو بیٹھو۔ اسے بھڑکتے دیکھ کر وہ فورا ہنسی روک کر اپنے مخصوص اچھے بچے والے انداز مین واپس آیا۔ وہ خفا خفا سی دوبارہ بیٹھ گئ
مجھے بس تمہارے معصوم تاثرات نے ہنسا دیا۔ اتنا غصہ پورک کھا لینے پر یقینا تم جانوروں سے بہت پیار کرتی ہوگئ۔امریکہ میں تو بہت سے لوگ جانوروں کی فارمنگ اور وہاں ہونے والے جانوروں کے ساتھ بہیمانہ سلوک کی وجہ سے سبزی خور ہوجاتے ہیں مجھے نہیں پتہ تھا پاکستانی بھی
اس نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تو وہ چٹخ کر بولی
مجھے ہرگز ایسا کوئی مراق نہیں
اچھا غصہ تھوک دو۔ اب یہ پاکستانی ریستوران ہے یہاں چکن ہی ہے سور نہیں کھانے سے کیا ناراضی۔
اس نے صلاح جویانہ انداز میں کہا تو اریزہ کو غصہ تھوکنا پڑا۔ اب تو جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔ پھر علی اسکا کون لگتا تھا جو اسے نخرے دکھاتئ۔ سو دل مار کر کھانا ٹونگنے لگی۔
کھانے کے بعد میٹھے میں آج کی سگنیچر ڈش رس ملائی تھی۔ سو علی نے وہی منگوا لی۔ رس ملائی ہرگز بھی ذائقے دار نہیں تھی بلکہ منہ میں چبانے لائق سخت تھی۔ اسے ذرا پسند نہیں آئی اسکا برملا اظہار بھی کردیا۔
بالکل مزے کی نہیں اتنی سخت ہے اورمٹھاس بھی کم ہے۔ ایسی رس ملائی کھلائیں گے کورین کو تو وہ پاکستانی کھانے خاک پتھر کھانے آئیں گے۔
وہ بڑ بڑائی تو علی بے ساختہ ہنس دیا۔
یقین کرو کورینز کو نہیں پتہ کہ رس ملائی کو نرم اور ذیادہ میٹھا ہونا چاہیئے ہمیں یہ ایسے بھی پسند آئی ہے۔
اسکے کہنے پر وہ کندھے اچکا کر رہ گئی۔
واپسی پر علی اسے خود ڈراپ کررہا تھا۔ مکمل سنجیدگی سے سڑک پر نگاہ جمائے ڈرائیو کر رہا تھا۔ اس نے ایک نظر اسے بغور دیکھا۔ تصویر میں وہ جتنا شاندار لگتا تھا اصل میں اس سے کہیں ذیادہ لگ رہا تھا۔ ہلکی ہلکی شیو بڑھی ہوئی تھی جو اسکے گورے چہرے پر بری نہیں لگ رہی تھی البتہ رف اور ٹف سی لک آرہی تھی اسکی۔گول سا بیضوی چہرہ چندی مگر بڑی آنکھیں باریک لب مکمل کوریائی نقوش۔ مگر لہجہ امریکی تھا انگریزی بولنے کا۔
ہیون کے نقوش تیکھے ہیں۔ آنکھیں کھنچی سی اور چہرہ بھی گول سا نہیں۔ شائد اسکی والدہ کے نقوش ملنے سے۔ وہ بلا ارادہ تفصیلی تقابلی جائزہ لے بیٹھی۔
میں ہیون کو کہاں سے یاد کرنے بیٹھ گئ۔
خود پر اسکی توجہ محسوس کرکے علی یونہی اسکی جانب دیکھ کر مسکرا دیا۔ تو وہ کھسیا کر رخ بدل گئ۔
مجھے بہت شرمندگی ہورہی ہے میں پہلی دفعہ آپکو جتنی زحمت دے چکی اسکا شکریہ بھی ڈھنگ سے ادا نہیں کر پائی اور مزید احسان چڑھا لیا ہے آپکا۔
ونڈ اسکرین پر نگاہ جمائے وہ صاف گوئئ کہتی گئ۔
ڈونٹ بی سو فارمل۔ تم ہیون کی دوست ہو اور ہیون میرا ۔اس ناطے ہم میں جان پہچان کا رشتہ ہے اور جانے کل کو اس سے گہرا رشتہ بن جائے کیا خبر وقت کا۔ جملے کے آخر تک اسکی آواز دھیمی ہوگئ تھی ۔
آپکئ انگریزی بہت اچھی ہے۔ لہجہ بالکل امریکی ہے آپکا۔ بات سمجھنا آسان ہو جاتا ہے آپکی بہ نسبت باقی کورینز کے۔
خاموش رہنے کی عادت نہ تھی اسکی بات پر دھیان بھی نہیں دیا تھا کہ چونکتی۔ جھٹ اگلا سوال جڑ دیا۔
میں امریکہ میں رہا ہوں اسکولنگ وہیں کی ہے ہائی اسکول میں تھا جب واپس آیا پھر ہائی اسکول کوریآ سے مکمل کیا پھر دوبارہ امریکہ چلا گیا تھا اپنی فیانسی کے ساتھ شائد اسلیئے۔
اس نے اپنی طرف سےتفصیلی جواب دے کر اسکا تجسس دور کرنا چاہا۔
وہ مزید کوئی سوال پوچھتی مگر اسکا فون بج اٹھا تھا
گوارا تھئ پوچھ رہی تھی کہ کہاں ہو کب تک واپسی ہے۔
بس گھر پہنچنے ہی والی ہوں پانچ منٹ میں۔خیریت؟
ہاں بس کھد بد ہو رہی تھی ۔۔ وہ ہنسی۔۔۔
تفصیل جاننے کی۔ چلو گھر آئو جلدی۔
اس نے فون بند کر دیا تھا۔ اریزہ جو وجہ پوچھنے والی تھی کندھے اچکا کر رہ گئ۔
عمارت کے قریب گاڑی رکی تھی۔وہ سرعت سے اتر کر ڈرائیونگ سیٹ کے پاس آئی۔۔
شکریہ اور زحمت کیلئے معزرت۔
انتہائی رسمی انداز مگر جھک کر کوریائی انداز میں بولی تھی۔
اسکے منہ سے ہنگل دلچسپ لگتی تھی۔
وہ ہنس پڑا۔ اس بے موقع ہنسی پر وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
آئیندہ کچھ بھئ کھانے لگو تو یہ جملہ بولنا
ہیم پیگو چھوسے او۔ اس کا مطلب ہوتا ہے سور نکال کے دو۔ سور ایک اچھا گوشت سمجھا جاتا ہے کوریا میں اور خاص کر غیر ملکیوں کو دیکھ کر مہمان نوازی کے لیئے خاص کر ہیم پیش کیا جاتا ہے یہ انکی جانب سے خلوص کا اظہار تھا۔ ابھی بھی جو سینڈ وچ تم کھا رہی تھیں یہ اس ریستوران کی سگنیچرفوڈ تھئ اور خاص تمہیں خوش کرنے کو مہنگا والا ساس ڈال کر تمہیں دیا گیا تھا۔ اب یہ اس بے چاری کی قسمت کہ تمہیں سور کا ذائقہ نہیں پسند۔ بہر حال ایک کوریائی ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ انکی پوزیشن کلیئئر کر دوں ۔
اس نے سادہ سے انداز میں وضاحت کی تو وہ مسکرا دی۔
ذائقے کی بات نہیں یہ منع ہے ہمیں کھانا لیکن بہر حال یہ بات سب تو نہیں جانتے۔ خیر شکریہ آئیندہ میں یاد رکھوں گی۔
ہیم پیگو چھوسے او۔۔
اس نے تائید چاہی۔ اور غیر متوقع طور پر درست تلفظ سے کہا۔
دے۔ وہ سر ہلا کر بولا۔
ہیم پیگو چھوسے او۔ اور کچھ ہنگل کا یاد کروں نا کروں یہ پکا یاد کرلوں گی۔
وہ بار بار دہرا رہی تھی۔
اوکے ٹیک کیئر گڈ نائٹ۔وہ مگن سے انداز میں ہاتھ ہلا کر کہتی جواب کا انتظار کیےبنا کمپائونڈ کی جانب بڑھ گئ۔
وہ گڈ بائے کہتا خفیف سا ہو کر چپ ہو گیا۔
ہیم پیگو چھوسے او؟؟؟؟
وہ گاڑی چالو کر رہا تھا جب اس نے پیچھے سے پکار کر ایک بار پھر تصدیق چاہی
وہ حیران ہو کر سر ہلا گیا وہ کمپائونڈ سے پکار کر پوچھ رہی تھی۔
دے۔ جوابا اس نے بھی آواز لگائی۔
میں پکا یاد رکھوں گی اب اسے۔
ہیم پیگو چھوسے او۔
وہ وہیں سے اونچی سی آواز میں کہہ رہی تھی۔
اسے اسکے بچکانہ سے انداز پر ہنسی آگئ
اچھی بات ہے گڈ لک۔ اس نے پکار کر کہا تو وہ بھی ہنس کر مڑ گئ
دلچسپ لڑکی ہے۔
گاڑی ریورس کرتے ہوئے بھی اسکے چہرے پر محظوظ سی مسکراہٹ تھئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اریزہ۔
کمپائونڈ میں اندر داخل ہوتے ہوئے اسے مانوس پکار سنائی دی۔
اس نے مڑ کر دیکھا تو ہیون مسکراتا ہوا اسکے پاس چلا آیا۔ وہ بھئ مسکرا دی۔ جانے کیوں مگر اس وقت اسے دیکھ کر خوشی سی ہوئی تھی۔
جاب سے آرہی ہو؟ کیسا گزرا دن؟
لانگ کوٹ میں ملبوس جیبوں میں ہاتھ ڈالے آج اسکا انداز معمول سے ہٹ کر سنجیدہ سا تھا۔
ہاں ۔ اسے تھوڑی دیر پہلے کی کوفت یاد آئی تو دن کا زکر گول کر ڈالا۔
کہیں باہر ڈنر کریں۔
ہیون کے کہنے پر اس نے کلائی میں بندھی گھڑی پر نگاہ ڈالی ساڑھے آٹھ بج رہے تھے اسکا تو لنچ ڈنر اکٹھے ہو چکا تھا۔ ۔
میں تو کھانا کھا کر آئی ہوں۔
اسکے جواب پر ہیون نے یوں سر ہلایا جیسے اسکا جواب متوقع ہو اسکے لیئے۔
پھر کافی؟
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ بھر بھر رس ملائی کھا کر آئی تھی ٹھنڈ میں کافی کی پھر بھی جگہ نہیں تھی مگر وہ صاف انکار نہیں کر سکی۔
وہ اسے ایک بڑے سے مال میں بنے بریو ہارٹ کے مرچنڈائز اسٹور لیکر آیا تھا۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تھا اسے۔
اس ویک اینڈ پر بریو ہارٹ کا چیریٹی کنسرٹ ہے ۔ ہم دونوں اسکی پہلی قطار میں ہونگے۔ انکے پرستار پہلی رو کیلئے ایک دوسرے کی جان بھی لے سکتے ہیں۔ اس قطار میں میں اور تم انکی کنسٹمائز مرچنڈایز کے بغیر گئے تو ہمیں گھور گھور کر ہی کھا جائیں گے۔
اس کے الفاظ کے برعکس انداز بے حد سنجیدہ تھا۔ اسے ہنسی آگئی تھی۔ ہیون نے اسکو ہنستے دیکھا تو مسکرا دیا۔
اندر جہاں ہی اور تھا۔ بریو ہارٹ کی ویڈیوز کے مخصوص سیٹ بنے تھے جن پر جا کر انکے ارکان کے مخصوص پوز کے ساتھ پرستار تصویریں بنوا رہے تھے ایک جانب ٹی شرٹس جن پر بریو ہارٹس کے ممبران کی تصاویر لگی تھیں تو دوسری جانب کسٹمائز پوسٹرز جن پر آپ اپنی مرضی کے الفاظ لکھوا کر انکے کنسرٹ میں جھوم جھوم کر لہرا سکتے تھے۔ جھنڈے بیجز اسٹفڈ ٹوائز کی چینز ڈائریز میوزک البمز جن پر انکے اپنے ہاتھوں سے آٹو گراف ہوئے تھے۔ وہ بے حد دلچسپی سے سب چیزیں دیکھ رہی تھی۔ اسکی دلچسپی دیکھ کر وہ تفصیل سے ان چیزوں کے بارے میں لکھے کارڈز جن پر تفصیلات ہنگل میں لکھی تھیں اسے ترجمہ کر کرکے سنانے لگا۔
یہ گٹار وہ ہے جو سائی چھونگ انکا چینی بینڈ ممبر ایک کانسرٹ میں بجا رہا تھا اسکی اسٹرنگ ٹوٹ گئ تھی اور اسکا ہاتھ زخمی ہوگیا تھا۔ اس پر اسکے خون کے قطرے ہیں۔ یہ ایک پرستار نے لاکھوں وون میں خرید کر یہاں رکھوایا ہے تاکہ دیگر پرستار دیکھ سکیں۔ اسلیئے اس پر برائے فروخت کا بورڈ نہیں یہ ایک پرستار کی عقیدت ہے ۔۔
ہیون کے بتانے پر وہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ۔ شیشے کے باکس میں سجا وہ عام سا گٹار تھا مگر اسکی مالیت انمول ہو چکی تھی خون کے زرات کی وجہ سے۔
کہاں ہے خون۔ اس نے دیکھنے کے چکر میں باکس سے ناک چپکا دی۔
یہ یہاں ۔۔ کارڈ پڑھ کر اسٹرنگ کے جوڑ کے پاس اور گٹار کے پیٹ پر ننھے ننھے خون کے ذرات جو بہت غور کرنے پر بھی بمشکل دکھائی دے رہے تھے انگلی کے اشارے سے دکھائے۔ اور بنا اس اشارے کے وہ دیکھ بھی نہ پاتی مگر اب بھورے ہوتے دھبے دکھائی دے گئے تھے۔
واہ۔۔ واقعی خون لگا ہوا ہے ہیون وہ ابھی بھی بے خیالی میں ناک چپکائے بچوں کی طرح خوش ہورہی تھی۔
ہیون اسکو دیکھتے ہنسا پھر ہنسی تھمی دیکھتا ہی رہ گیا۔
حد ہے گانے سنو بس ۔ اتنا کافی نہیں الٹا یہاں انکے خاندان کا شجرہ تک لکھ ڈالا خون گٹار تصویریں شرٹیں لائٹس سب ہیں ابھی تک البمز نہیں دیکھنے کو ملیں۔ ہم پاکستانی تو بس ذیادہ سے ذیادہ بس البم خریدتے یا کوئی ائک آدھا کنسرٹ ہوا تو جا کر دیکھ لیا بس۔ اب یہ کیا پاگل پن ہوا
وہ حسب عادت ناک چڑھا کر بولتی گئ۔ تائید چاہنے والے انداز میں اسکی جانب دیکھا تو اسے بس ہونٹ ہلتے دکھائی دیئے بات سمجھ نہیں آئی۔
دے؟ وہ سوالیہ ہوا۔
اسکی غائب دماغی محسوس کرکے وہ ہنسی
تم بھی انکے فین تو نہیں خون دیکھ کر دکھ کے مارے بولتی بند ہوگئ۔
وہ اسے چھیڑ رہی تھی۔
نہیں مجھے سولو سنگرز ذیادہ پسند ہیں۔ اسطرح کے بینڈز میں گانا کم گلوکاروں کا ایکسپوژر ذیادہ رہ جاتا ہے۔ سادہ سا لو سانگ بھی درجن آوازوں کے ساتھ سننے کو ملتا ہے تو اسکا اثرزائل سا ہوتا جاتاہے۔
وہ خلاف عادت آج بے حد سنجیدہ سا تھا۔ہر بات سے اسکا اظہار ہو رہا تھا۔ اس نے کندھے اچکا دیئے۔
میں نے گانے کبھی اتنے غور سے نہیں سنے۔ بس جو اچھا لگا سنا گانے بھی کوئی غور کرنے والی چیز ہیں۔
وہ سرجھٹک رہی تھی۔ ہیون خاموش ہو رہا ۔
لائٹ اسٹکس بینرز اور ٹی شرٹس خرید کر جب کائونٹر پر آئے تو اسکا بل اسکی توقع سے کہیں ذیادہ بن چکا تھا۔
اس نے اپنا پرس کھولا تب تک ہیون کریڈٹ کارڈ سیلز گرل کی جانب بڑھا چکا تھا۔
گھمسامنیدہ۔
سیلز گرل جھک کر شکریہ ادا کر رہی تھی۔ اس نے شاپرز اٹھانے کو ہاتھ بڑھائے تو ہیون نے اسے اٹھانے نہیں دیئے۔ گاڑی میں لا کر سب چیزیں پچھلی سیٹ پر ڈھیر کرکے وہ گاڑی لاک دوبارہ کرکے مڑا۔
ادھر ایک بہت اچھا کیفے ہے چلو اس میں بیٹھ کر کافی پیئیں۔
نہیں۔ اس نے سہولت سے انکار کر دیا۔ مجھے رش سے الجھن آرہی ہے۔
وہ جتنی سنجیدہ نظر آرہی تھی اسے اسکی بات پر یقین کرنا پڑا۔
گاڑی سے اتر کر ہیون پچھلی سیٹ سے اسکے لیئے خریدئ ٹی شرٹس لائٹس وغیرہ کا شاپر الگ کرکے اسے دینے لگا تو اس نے تھاما ہی نہیں۔
مجھے انکی قیمت بتائو کیا بنی۔ اور اسکی قیمت مجھ سے لینے کا وعدہ کرو تب میں انکو ہاتھ بھی لگائوں گی۔
اسکا انداز بے حد سنجیدہ تھا
کین چھنا میں بھی تو جا رہا ہوں کانسرٹ میں مجھے۔۔
ہیون نے کہنا چاہا مگر وہ بات کاٹ گئ۔
اسکا مطلب ہے میں انکو نہیں لے سکتی۔ آننیانگ
وہ جھک کر خدا حافظ کہتی مڑ گئ۔
اریزہ شا۔
وہ اسکے پیچھے بھاگا۔ اسکو آگے آکر جا لیا۔
کیا ہو گیا ہے یہ ہم نے ساتھ جانے کیلئے ہی تو لیئے ہیں اور کیا ہم دوست نہیں ہیں؟ میں تحفہ نہیں دے سکتا تمہیں کیا؟
اسکے انداز میں اپنایئت بھری خفگی تھئ
دوستی برابری کی سطح پر ہوتی ہے۔ تم مجھے کتنی بار زیر بار کر چکے ہو کبھی لنچ پر مجھے پیسے نہیں دینے دیتے مجھے یہ تحفہ لینا اپنی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کے برابر لگ رہا ہے میں نے تو آج تک کوئی تحفہ نہیں دیا تمہیں۔
اسکا انداز بچکانہ ہو گیا تھا ہیون کھل کر ہنس دیا۔
اتنی سی بات۔ ٹھیک ہے مجھے اب تم سے اچھا سا تحفہ چاہیئے۔ وعدہ کرو۔ مجھے میری سالگرہ پر تحفہ دوگی میری پسند کا۔
اس نے اپنی چھوٹی انگلی اسکی جانب بڑھائی۔
وہ تحیر سے دیکھنے لگی۔ ہیون منتظر تھا۔
ہمارے یہاں جب کٹی کرنی ہوتی ہے تب ایسے انگلی ملاتے ہیں۔
اس نے منہ بنایا۔
کٹئ؟ ۔۔۔ وہ سوالیہ ہوا۔
مطلب تعلقات ختم کرنے کا اعلان ناراضگئ کا اظہار کرنے کیلئے ہم ایسے بچپن میں انگلی ملا کر منہ پھیر لیتے تھے۔
اس نے بتفصیل بتایا
ہیں وہ کیوں؟ وہ حیران ہوا۔ اس نے فورا ہاتھ واپس کر لیا۔
عجیب بات ہے۔ اچھا کلچرل شاک دیا۔ ہم کوریا میں پکا وعدہ کرنے کیلئے پنکی پرامس کرتے ہیں۔ مگر چلو میں تمہاری زبان پر اعتبار کرتا ہوں مجھے اچھا سا تحفہ چاہیئے۔ یاد رکھنا۔
اس نے اپنائیت بھری دھونس کے ساتھ اسکو تھیلے تھمائے۔
کب ہوتی ہے تمہاری سالگرہ۔ ؟
اس کو اب تحفہ لینے کی فکر ہو گئ تھی۔
بہت جلد ۔ وہ مسکرا دیا۔
آچھا اب اندر جائو تمہیں پہلے ہی ٹھنڈ بہت لگتی ہے۔
اس نے ٹوکا تو اسے بھئ احساس ہوا خنکی کا۔ سر ہلا کر خدا حافظ کہتی تیزی سے اندر بڑھ گئ۔ وہ وہیں کھڑا اسے نظروں سے اوجھل ہونے تک دیکھتا رہا۔۔۔
لفٹ میں اوپر جانے کا بٹن دبا کر اس نے یونہی موبائل جیب سے نکال کر دیکھا تو پانچ مسڈ کالز اور پندرہ پیغامات پڑے ہوئے تھے سب کے سب گوارا کے۔
کہاں ہوں ابھی تک پہنچیں نہیں؟
پانچ منٹ میں آرہی تھیں؟
کیا جواب دیا تم نے یہ ہی بتا دو؟
اچھا جواب دینے کا وقت بھی نہیں۔
اسکا مطلب ہے خوب مزے کیئے جا رہے ہیں۔
ٹھیک ہے میں سمجھ گئ ہاں ہوگئ۔۔
مبارک ہو ۔میں بہت خوش ہوں تم دونوں کیلئے۔۔۔۔
اسے ان تمام پیغامات کا کوئی سر پیر سمجھ نہیں آیا۔
لگتا ہے پی کے ٹن ہوئی وی ہے۔
اس نے یہی میسج لکھا
آر ئو ڈرنک۔
پھر لفٹ کا دروازہ کھلنے پر میسج ڈیلیٹ کردیا۔ اپارٹمنٹ کے سامنے آکر پاسورڈ سے دروازہ کھول کرتھکے تھکے انداز میں اندر داخل ہوئی تو سامنے لائونج کی دیوار پر لگا وال کلال سوابارہ بجا رہا تھا۔
آہ۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ۔
مجھے صحیح سیول کی ہوا لگ گئ ہے۔ سوا بارہ بجے یہاں میں کیسا آرام سے باہر گھومتی رہی ہوں۔ جبھی تو میرا واپس پاکستان جانے کا دل ہی نہیں کر رہا۔
وہ خود کو ملامت کرنا چاہ رہی تھی مگر سچ تو یہ ہے یہاں رہنے کا مزا بہت آرہا تھا۔
سب خریداری کے تھیلے اٹھا کر وہ دبے قدموں کمرے میں داخل ہوئی احتیاط سے صوفے پر ڈھیر کر کے کمر سیدھی ہی کی تھی کہ ملگجے اندھیرے میں ایک ہیولہ سا سامنے کھڑانظر آیا۔
ڈر کے مارے چیخ گھٹ ہی گئ سینے میں۔
ہوپ نے آگے بڑھ کر سوئچ آن کرکے کمرے میں روشنی کردی۔
تمہیں کیا ہوا۔
سانس بحال کرتی وہ دل پکڑ کر صوفے پر ہی آن بیٹھی تھی۔
ڈرا دیا تم نے۔ سوئی کیوں نہیں صبح نوکری پر نہیں جانا؟
اسکا لہجہ کڑخت ہو گیا تھا۔ بندہ کب تک ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار بن کے رہ سکتا ہوپ جیسی لڑکی کے ساتھ۔
رات بارہ بجے انجان ملک میں انجان لڑکوں کے ساتھ گھومتے ڈر نہیں لگا اپنے گھرکے اندھیروں سے خوف آرہا۔ صحیح دوغلی لڑکی ہو۔
اسکا انداز اور الفاظ اتنے سخت تھے کہ اسکے تن بدن میں آگ سی لگ گئ۔
تمہارے ساتھ مسلئہ کیا ہے۔ سیدھے منہ بات کرنے کی۔تمیز نہیں سکھائی کسی نے شمالی کوریا میں؟
وہ بھی اسے آج طعنہ دے ہی گئی۔ ہوپ کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ دوڑ گئ۔
اتنئ زندگی شمالی کوریا میں نہیں گزری جتنی اسکے گرد ممالک میں گزری ہے۔ یہ سب لہجے کی کڑواہٹیں ترقی یافتہ ممالک کے تمیز دار باشندوں کی دین ہیں۔ مگر شمالی کوریا کی ایک تربیت آج تک میرے ساتھ ہے۔ منافقت نہیں ہوتی مجھ سے۔جو کرتی ہوں سینہ ٹھونک کر کرتی ہوں۔
اسکئ یہ سب تقریر کا سیاق و سباق حوالہ متن کچھ بھی تو سمجھ نہ آیا تھا اسے۔ اسکی تحیر سے پھیلی آنکھوں میں طنز سے جھانکتی وہ باتھ روم کی جانب مڑ گئ۔
مطلب کیا ہے تمہارا ۔ بات پوری کرکے جائو۔
وہ پیچھے مٹھیاں بھینچ کر چلائی تھی ہوپ کو اسکے یوں طیش میں آنےسے جانے کیوں ٹھنڈ سی پڑی تھی کلیجے میں۔ پھر بھی باتھ روم کا دروازہ بند کرکے وہ بے آواز رودی تھی۔
میں بہت نرم انداز سے پیش آتئ رہی ہوں تمہارے ساتھ جسکا تم بہت ناجائز فائدہ اٹھا چکی ہو۔ آئیندہ میرے ساتھ بد تمیزی کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا سمجھیں۔
وہ حلق کے بل چلائی۔ اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتی گوارا کو اسکی طیش بھری آواز نے چونکا دیا۔ ہاتھ میں پکڑے شاپر لیئے وہ بھاگ کر اندر اسکے پاس آئی تھی۔
کیا ہوا۔
یہ ہوپ ۔ میں اسے قتل کردوں گئ کسی دن۔ دیکھنا۔
دانت کچکچا کر کہتی سرخ بھبھوکا چہرے کے ساتھ وہ رو رہی تھئ۔ غصے کی شدت میں مٹھیاں بھینچ کر غصے کے مارے رودے کوئی۔ اس سے ذیادہ معصومانہ غصہ کیا ہو سکتا ہے۔ گوارا کے چہرے پر مسکراہٹ سی آگئ۔ پیار بھری۔
دفع کرو اسے ادھر آئو۔
اسے بچوں کی طرح اپنے ساتھ لگا کر وہ اسے باہر لے آئی۔
اسکا غصہ تم نہیں سمجھ سکتیں ۔اسکو نظر انداز کیا کرو بس۔ اسکے پیچھے اپنا اچھا گزرا دن برباد کرنے کی ضرورت نہیں۔
وہ اسکو سمجھاتئ بجھاتی کچن میں لے آئی۔ شاپرز کچن کائونٹر پر رکھ کر پہلے ٹشو رول لا کر سامنے رکھا۔ وہ سوں سوں کرنے لگی۔
مجھے لگا ہم آج خوب باتیں کریں گے رات کو نیند تمہیں آنی نہیں باتیں سننے کو میں ہی ہوں سو کچھ اچھا کھانے پینے کا انتظام ہونا چاہییے۔
یہ رہے حلال چپس ٹیگ دیکھ کر لائی ہوں ترکی کے بنے ہیں۔ اس نے جھٹ پٹ تیار ہونے والے چپس دکھائے ساتھ اپنی کارکردگی بھئ جتائی۔
، یہ کریکر تبوکی یہ فرائی چکن اسپیشل ایک پاکستانی ریستوران سے لیکر آئی ہوں۔ میرے لیئے یہ خاص والی کولڈ ڈرنک تمہارے لیئے سفید والی ۔
وہ بول بول کر چیزیں ٹھکانے لگانے لگی۔ اپنے لیئے وہ پورا کریٹ لیکر آئی تھی۔
اریزہ ٹھس سی بیٹھی رہی۔ وہ فریج بند کرکے مڑی تو اسے منہ پھلائے کہنیاں میز پر ٹکائے خفا خفا سے انداز میں میز کو گھورتا پایا۔
اب مجھے دکھائو جو ہیون سک نے دیا ۔۔ وہ مسکرا کر اسٹول کھینچتی اسکے سامنے آبیٹھی۔
مجھے اندازہ نہیں تھا کوریا میں لوگ پاپ موسیقی کو سننے کے ساتھ دیکھنا پہننا بھی پسند کرتے ہیں۔
وہ گہری سانس لیکر سیدھی ہوئی۔
اسکی بے تکئ بات پر گوارا نے اچنبھے سے دیکھا اسے۔
وے؟ آئی میں واٹ۔
اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا پھر فورا انگریزی میں بولی۔
ہیون نے مجھے دو لاکھ وون کے گفٹس دیئے۔۔
اریزہ نے منہ لٹکایا گوارا کی آنکھیں حیرت سے کھلیں۔
ارے نہیں۔۔ اس نے کم کرکے بتائی ہوگی کم از کم بھی پانچ لاکھ وون کی تھی۔خیر کیسئ لگی تم نے قبول لیا؟
وہ جانے کیوں پرجوش ہوئی۔
ہاں ظاہر ہے۔ اس نے گہری سانس لی مگر مجھے ہیون سے اتنا مہنگا تحفہ لینا اچھا نہیں لگا میں نے منع کیا لیکن اب سوچ رہی ہوں اسکا بدلہ مہنگا تحفہ دے کر اتار دوں۔ تم میری مدد کروگی نا اسکے لیئے اچھا سا تحفہ لینے کیلئے؟ اریزہ نے آس سے پوچھا
بالکل۔۔۔۔ وہ فورا اثبات میں سر ہلا کر بولی۔
مگر مجھے دکھائو تو کیا دیا اس نے۔اس نے بہت شوق سے پوچھا اسکا اشتیاق دیکھ کر وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔
لاتی ہوں۔ مگر مجھے لگتا نہیں مجھے فٹ آئے گی۔
کیوں اتنے تو پیارے ہاتھ ہیں تمہارے۔
گوارا نے کہا تو ہونٹ بھینچتی اٹھ گئ۔
بس ہاتھ ہی پتلے پیارے ہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا بنا پلک جھپکائے اسے دیکھے جا رہی تھی وہ تھوڑی سی گھبرائئ۔
کیا ہوا بہت چپکا ٹائٹ سا لگ رہا ہے نا۔
وہ جانے کیوں جھینپ سی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹی شرٹ کے اسٹال میں میں میڈیم سائز نکال کر اس نے دیکھی پھر دوبارہ تہہ کرکے رکھتے بڑا سائز اٹھا لیا۔
ساتھ آئینے میں خود سے لگا کر ابھی دیکھ ہی رہی تھی کہ ہیون نے ٹوک دیا۔
اپنے ساتھ گوارا کو بھی گھسانا ہے اس ٹی شرٹ میں؟
دے؟ اسکی بے سروپا بات پر اس نے حیرانی سے گھورا۔
اس نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اسمال سائز اٹھا کر اسے پکڑایا۔
یہ تمہیں آئے گی۔
آندے۔ وہ بے ساختہ بولی۔
انٹرنیشنل میں تو کبھئ مجھے لارج سے کم نہیں آتا۔ میں یہاں کی لڑکیوں کی طرح ہوا ہوائئ نہیں ہوں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولی۔
ہیون نے اسکوشرٹ ہاتھ میں تھمائی اور ایک جانب اشارہ کرکے بولا۔
یہ لو وہاں فٹنگ روم ہے جا کر پہن کر دیکھ لو۔
میں۔۔ یہاں۔
وہ گڑ بڑا سی گئ۔
ہاں ادھر جا کر پہن کر دیکھ لو ٹرسٹ می یہی سائز ہے تمہارا۔
ہیون کے دعوے سے کہنے پر وہ دانت کچکچا کر رہ گئ
میں یہاں۔۔ اس نے طائرانہ نگاہ دوڑائی تو کئی لڑکیاں چینجنگ روم میں جا کر ٹی شرٹ بدل چکی تھیں اب انہی ٹی شرٹس میں گلوکاروں کے قد آدم پوسٹرز کے ساتھ تصویریں بنوا رہی تھیں۔
جائو؟ ۔ اسے تزبزب میں پڑا دیکھ کر زور دینے والے انداز میں بولا۔
وہ میں تو کبھی اس طرح باہر چینج نہیں کرتی۔
اس نے جی کڑا کرکے کہہ دیا۔
کیا مطلب تم لوگ فٹنگ دیکھے بنا خرید لیتے ہو کپڑے؟
وہ اتنا حیران ہوا کہ وہ سٹپٹا گئ۔
نہیں پاکستان میں بھی مالز وغیرہ میں چینجنگ روم ہوتے ہیں۔ اس نے صفائئ دئ۔
بس میں استعمال نہیں کرتی۔
بالکل ہی گائودی سمجھ رہا ہوگا مجھے۔ وہ دھیرے سے بڑ بڑائی۔
کوریا ایک محفوظ ملک ہے اور یہ ایک مشہور کمپنی کا اپنا آئوٹ لیٹ۔ یہ بالکل محفوظ ہے دیکھو اور لڑکیاں بھی تو جا رہی ہیں۔
چینجنگ روم میں خود کو دیکھتے وہ حیران ہی رہ گئ تھی۔
اسمال سائز بالکل جیسے اسکے لیئے بنا تھا۔
اسکا اندازہ کتنا صحیح تھا۔ میں کتنی اسمارٹ ہوگئ ہوں۔
وہ آئینے میں خود کو بے حد خوشی سے دیکھ رہی تھی۔
وائو۔ صارم کیسا مجھے موٹی موٹی کہتا رہتا تھا۔ اور میں یہ تین چیزیں چڑھا کر کیسا گول گپا بن کے پھرتی رہی ہوں یہاں۔ ہا ہا ہا۔ کوئی مجھ سا بھی احمق ہوگا۔ میری تو رخسار کی ہڈی بھی نکل آئی ہے۔
وہ اب اپنا چہرہ دیکھ رہی تھی۔
وزن کم کرو کسی طرح کے طعنے سننے والی اب سائز زیرو ہو چکی تھی
اف ۔ اس نے جھٹ دو تین تصویریں کھینچ ڈالیں۔
اسے گئے کافی دیر ہو چلی تو اس نے دروازے پر آکر دستک دی۔
اریزہ شا۔
دے۔
وہ پوز مارتی سیدھی ہوئی۔
آرہی ہوں۔
خود کو ایک بار پھر آئینے میں دیکھا تو سنجیدہ سی ہوتی گئ۔
اسکی تصویر اسکرال کرتے گوارا نے موبائل سے نگاہ اٹھا کر سامنے کھڑی اریزہ کو غور سے دیکھا۔
تصویر کے برعکس اس وقت وہ تھوڑی ڈھیلی شرٹ پہنے تھی۔
تمہیں یہ اسمال سائز ہی خریدنا چاہیئے تھا۔ یہ والا بڑا ہے۔
گوارا نے کہا تو وہ مسکرا کر اپنی جگہ آ بیٹھی
یار وہ بہت فٹ ہو جاتا۔
تو اس میں اتنی اچھی لگ رہی تھیں۔ ۔ گوارا نے کہا تو وہ کریکر اٹھا کر منہ میں رکھتے بولی۔
مجھے اپنا آپ اجنبی سا لگ رہا تھا۔
کیوں؟ گوارا کا سوال حاضر تھا
کوئی بڑی وجہ نہیں۔ اسکا انداز ٹالنے والا تھا۔
اچھا یہ بتائو ہیون نے کچھ کہا تمہیں؟
گوارا نے بھی اصرار نہیں کیا بات بدل دی۔
ہاں۔ اس نے گردن ہلائی۔
کیا۔۔۔ گوارا کا اشتیاق عروج پر تھا۔
اس نے کہا ہے کہ وہ میری پڑھائی میں مدد کرے گا۔ اور ہنگل سیکھنے میں بھی۔ پتہ ہے۔ تالی بجا کر خوش ہو کر کہتی وہ نیا کوئی قصہ سنانے لگی تھی۔
گوارا نے گہری سانس بھر کر اسے دیکھا پھر کین کھول کر شراب نگلتے ہوئے ہمہ تن گوش ہو گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے کیا سوچا ہے امتحان کی تیاری کے بارے میں۔
ڈرائیو کرتے ہوئے اس نے اچانک پوچھا تھا۔
ہاں۔ کچھ نہیں۔ ایڈون کہہ رہا تھا کہ وہ کسی اکیڈمی سے ہنگل کا کورس کرنے لگا ہے ساتھ امتحان کی تیاری بھی۔وہ اسکے گوشی وون سے قریب ہے اب مجھے تو وہ دور پڑے گا تو سوچ رہی تھی اس ویک اینڈ پر کسی
وہ دلچسپی سے گاڑی سے باہر دیکھ رہی تھی انداز جتنا سرسری تھا یقینا اس ویک اینڈ پر یہ کام ٹلنے ہی والا تھا۔
سگنل لال ہوا تو اس نے گاڑی روکتے ہوئے باقائدہ جھاڑ پلائی۔
بہت کم وقت ہے یہاں کے بچے سر دھڑ کی بازی لگاتے ہیں تم ذیادہ آسان سمجھ رہی ہو۔
میں پڑھائی سر پر سوار نہیں کرتی ۔
اس کا انداز لاپروا تھا۔
ہیون نے مڑکر پچھلی نشست سے ایک شاپر نکال کر اسکی جانب بڑھایا۔
اس میں پراسپیکٹس ہے اور فارم گوارا کی مدد سے بھرنا کل لازمی اسکو جمع کروانا ہے۔
پکڑو۔ اریزہ کو حیران بلکہ بھونچکا بیٹھے دیکھ کر ٹوکا تو اس نے بوکھلا کر تھام لیا۔اور لفافے سے نکال کر دیکھنے لگی
فارم ہنگل کے ساتھ انگریزی میں بھی تھا۔
ہیون مزید بھئ کچھ کہہ رہا تھا
یہ تمہارے اپارٹمنٹ والی ہی روڈ پر پانچ منٹ کی واک پر اکیڈمی ہے۔ ایک غیر ملکی تنظیم کی غیر ملکیوں کی مدد کیلئے بنائی گئ اکیڈمی ہے۔ اس سے تم یہاں کے مروجہ معیار کے مطابق امتحان کو دینے کے قابل ہو سکو گی۔
کل تیار رہنا صبح میں پک کرلوں گا۔
مگر۔ اس نے شکریہ کہنا تھا مگر منہ سے کیا نکلا
ایڈون خود تیاری کر رہا ہے باقی بھی کر رہے ہوںگے ایک تم ہی سکون سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہو۔
ایڈون نے سر جھٹکا پھر ہنکارا بھر کر کلب کی رونقوں پر نگاہ ڈالنےلگا۔
وہ دونوں ایک کلب میں آئے تھے۔
اور تمہیں لگتا ہے وہ تمہاری اس دھمکی سے ڈر کر ابارشن کروانے پر راضی ہوجائے گی۔
ہاں۔ ایڈون کا جواب مختصر تھا۔
تم اسکو کھانا بھی نہیں دے کر آئے ۔۔
یون بن کو افسوس بھئ ہوا
اسکو نوالے بنا بنا کر کھلاتا رہا ہوں جبھی اسے صورت حال کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہورہا ہے۔ ذرا سی بھوک سے مر نہیں جائے گی اتنا خود مختار ہونے کا شوق ہے تو پوری طرح خود مختار ہو میرے کندھے پر بندوق رکھ کر تو نہ چلائے نا۔ میں بھی دیکھتا ہوں کیسے اتنی مشقت برداشت کر پاتی ہے۔۔ پاپا کی پرنسس نے کبھی ہل۔کر پانی نہیں پیا۔۔ بچہ پالیں گی ہونہہ۔
ایڈون کی تقریر کا ایک لفظ اسکے پلے نہیں پڑا تھا۔ ایڈون کو تھوڑی سئ چڑھ گئ تھی۔ اردو میں سب کہہ گیا یون بن کا یہی خیال تھا کہ یقینا اول فول بک رہا تھا۔۔ لہراتا ہوا وہ۔ڈانس فلو رکی جانب بڑھ گیا تھا۔ گوری چمڑیوں میں وہ دور سے چمک رہا تھا۔
بوتل دور کھسکا کر رکھتے ہوئے اس نے اپنا گلاس اٹھا کر گھونٹ بھرا۔
ناچتے ہوئے ایڈون کو کسی نے کندھے سے پکڑ کر دھکیلا تھا۔ دھڑام سے وہ فرش پر گرپڑا تھا۔
یہ پاکستانئ صحیح آئوٹ اینڈ آڈ ہیں۔
یون بن نے ایڈون پر نگاہیں جمائے ہوئے تبصرہ کیا تھا۔
کمرے میں نائٹ بلب کی مدھم روشنی پھیلی تھی۔ گوارا بے خبر سو رہی تھی۔ ہوپ کے بھی ہلکے ہلکے خراٹے گونج رہے تھے۔ ایک بس وہی جاگ رہی تھی ۔ موبائل میں اوپر نیچے کرتے جب بری طرح تھک گئ تو آہستہ سے اٹھ کر ٹیرس میں چلی آئی۔ سخت سردی نے اسکا استقبال کیا تھا۔۔ وہ جھر جھری سی لیکر رہ گئ۔ مگر اندر جانے کا دل نہ کیا۔ سامنے ایک چمکتا دمکتا سیول تھا۔ رات کے ساڑھے تین بجے بھی ننھے قمقموں کی طرح روشن شہر کی بتیاں۔
وہ سحر زدہ سی دیکھ رہی تھی۔
موبائل اٹھا کر تصویر بنائی۔ اصل کا عشر عشیر بھی نہ تھا۔
اس نے پھر بھی بلاگ پر لگا دی۔
ہاتھ سے چھٹتے لمحوں کی زنجیر تھامے
وہ اجنبی شہر میں کھڑی لڑکی
کیا دیکھتی ہے
کوئی بتائے اسے آج تو کل بن جائے گا
کہ کل تو پھر آجائے گا
یہ سعی بے کار ٹھہرے گی
لمحے کہاں قید ہو پاتے ہیں
ازل سے گزرتے رہے ہیں
چھوڑو جانے دو۔۔
اب مٹھی سے خون رسنے لگا ہے۔۔۔
وہ لکھ کر ہنسی تھئ۔ کیا لکھا ہے۔ اتنا قنوطی پن کہاں سے آیا اسے خود معلوم نہ تھا اسکے بلاگ کے پرستاروں کو بھی معلوم نہ تھا۔ دھڑا دھڑ پیغامات آنےلگے تھے
پہلا کمنٹ
کیا ہوا؟ اداس ہو ؟
دوسرا
اوئے یہ تو میری پڑوسن نکلی پچھلی چھت پر میں کھڑا ہاتھ ہلا رہا ہوں
ہیں۔
اس نے آنکھیں پھاڑیں۔
کونسی چھت اس نے باقائدہ گردن گھما گھما کر دیکھا۔ آگے بس کالونی تھی جن میں سے کسی کی چھت اس دیو ہیکل عمارت کے آس پاس بھی نہ آ سکتی تھی اور دور مین شہر کا نظارہ۔
بس ما ردی چول۔
اس نے یہی جواب لکھا۔
تیسرا
اوئے ایڈمن کو فرسٹ ایڈ دو جا کے کوئی۔ زخمی ہوگی ہے بے چاری
کچھ سمجھ نہیں آیا اجنبی زبان ہے لیکن جب اداس تھا تو اس بلاگ پر لکھ دیتا تھا اپنا حال آج خوش ہوا ہوں سو میں بھی یہیں لکھ دینا چاہتا ہوں۔ آج میں نے عام انسانوں جیسی زندگی جینی چاہی آج ڈیٹ پر گیا آج ڈیٹ کو ڈچ کرکے ایک دلچسپ لڑکی سے ملا اسکے ساتھ کھایا ہنسا اس وقت اسکو سوچ رہا ہوں تو اداس نہیں ہوں۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے لکھا تھا۔ جواب لمحہ بھر کے توقف سے آگیا تھا
اچھی بات ہے۔ جیتے رہو خوش رہو۔
اسکو یہ دعا اچھی لگی وہ جواب لکھ کر کروٹ بدل گیا تھا۔
لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور وہ بے نقشہ تھا یہ ہم تم پر ظاہر کر دیتے ہیں اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں پھر تمہیں
بچپن کی حالت میں دنیا میں لاتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو ، تم میں سے بعض تو وہ ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دئیے جاتے ہیں کہ وہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے تو دیکھتا ہے کہ زمین ( بنجر اور ) خشک ہے پھر جب ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے ۔
پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا پھراس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کر دیا پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا ، پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کر دیا ۔ برکتوں والا ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسم صبح سے ہی ابر آلود تھا۔ آج شائد پہلی برفباری بھی متوقع تھی۔ مگر وہ موسم کی شدت سے بے نیازقبرستان میں رچل کی قبرکے پاس گھاس پر بیٹھا تھاقبر بالکل زمین برابر تھی۔ بس کتبے لگے تھے جن پر رچل کا مکمل نام اسکا مختصر تعارف اور اسکے والدین کی جانب سے محبت کے اظہار کے طور پر چند جملے درج تھے۔ جس دن تم ہماری زندگی میں آئی تھیں خوشی کا اصل مطلب ہم نے تب جانا تھا ہم تمہارے جانے کے غم کو مسترد کرکے اسی خوشی میں جی رہے ہیں کہ ہمیں مختصر عرصے کیلئے سہی حقیقی خوشی نصیب ہوئی۔ چین سے رہو ہماری پیاری بیٹی ۔۔
یہ عبارت وہ ہمیشہ پڑھتا تھا۔ پھر بھی کبھی اکتایا نا تھا مگر آج پڑھ کر کسی کمی کا احساس ہوا اسے۔
بس۔۔ اسکا ذکر جانے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا یا سہوا غلطی ہوگئ وہ اسکی بیوی بھی تو تھی۔ وہ اگر لکھواتا تو کیا لکھواتا۔
اس نے سوچنا چاہا۔
وائس نوٹ کب کا بند ہو چکا تھا۔
۔عبدالھادی نے اسے انسان کی پیدائش اور اسکے دوبارہ اٹھ جانے پر قرآن کا ترجمہ بھیجا تھا۔وائس نوٹ میں۔
اس نے گہری سانس لی ائیر پوڈ کانوں سے نکال کر اپنے کوٹ کی جیب میں ڈال لیئے۔ ۔ قبرستان میں اکا دکا لوگ تھے۔
اس نے اپنے لائے ہوئے ٹیولپ کے گلدستےکو اسکے سرہانے رکھا تھا۔ اسکے کتبے کے ساتھ رکھے پھول۔ اس نے سر جھٹکا۔
تو ہم انسان ایک خون کے لوتھڑے سے بنے ہیں۔ جب ایک قطرہ خون سے ہمیں ہڈیوں گوشت پوست میں ڈھالا جا سکتا ہے تو پھر چاہے ہم زمین کی گود میں گل کر مٹی ہوجائیں یا آگ میں جل کر راکھ ہو جائیں۔ جب کہیں تھے نہیں بنا دیئے گئے تو جب ایک زندگی گزار کر ختم ہوں گے تو اس اپنے وجود کے اس زندگی میں اپنے نشان چھوڑنے والے کیسے ختم ہو سکتے ہیں۔ بس ایک کن ہوگا اور ہم سب اپنی اصل حالت میں واپس آجائیں گے۔
ایک بار بے چین روتے ہوئے علی کا کندھا تھپکتے عبدالہادی نے تسلی دی تھی۔
او راس نے سر اٹھا کر پوچھا تھا۔
مجھے قیامت کے دن کا اب زندگی بھر انتظار رہے گا جب آپکی بات سچ ہوگی تو میں دیکھوں گا رچل کو
واپس پہلے سا ہنستا مسکراتا مگر ایسا نہ ہوا تو؟
قیامت پر یقین ایمان کا حصہ ہے احمق۔جزبات میں بہہ کر اپنے ایمان کو متزلزل نہ کرو۔
انہوں نے اپنے ازلی نرم سے انداز میں گھرکا۔
وہ کپڑے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ دس ہزار بار یہاں آچکا ہوگا مگر کبھی اسے رچل کی قبر دیکھ کر رچل کے وہاں موجود ہونے کا احساس نہیں ملا تھا۔
زمین کے اوپر چلتا بولتا انسان جتنا حقیقت لگتا ہے زمین کے نیچے دفن انسان خواب تخیل ہی بن کے رہ جاتا ہے۔ یوں جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔کوئی وہم کوئی احساس بس۔ یادیں ۔ایسے انسان کی جسے دوبارہ کبھی دیکھ بھی نہ پائیں گے۔
اس نے سر اٹھا کر آسمان کے تیور دیکھے تو واپسی کا ارادہ باندھنا ہی پڑا۔ ہوا کی خنکی ایکدم بڑھ گئ تھی۔ وہ مفلر گردن پر درست کرتا ہوا آگے بڑھنے لگا کہ خیال آیا۔ واپس مڑ کر گلدستے سےایک پھول نکال کر رچل کی قبر پر رکھا۔ پھر اپنے راستے میں آنے والی ہر قبر پر ایک ایک پھول رکھتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ لوگوں نے اچھی طرح سوچ لیا ہے؟
ڈاکٹرنی نے خالص پیشہ ورانہ انداز میں ان دونوں سے
سوال کیا تھا۔ اسکی رپورٹس اسکے ہاتھ میں تھیں۔ان پر نظر دوڑاتے جتنا سرسری انداز میں پوچھا تھا اسکا مطلب یہی بنتا تھا کہ یہ صرف ایک فارمیلیٹی تھی۔۔ سنتھیا کے ہاتھ پائوں ٹھنڈے ہونے لگے۔ایڈون اسکے برابر ہی کھڑا تھا۔ ۔ایڈون نے اسکا ہاتھ ہلکے سے دبایا۔ اور مضبوط لہجے میں بولا
دے۔۔ ( ہاں)
ٹھیک ہے آپ یہاں انتظار کیجئے۔ڈاکٹرنی نے اس سے کہا تھا اور سنتھیا کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتی اس کمرے میں گھس گئ۔ ایک دو میڈیکل کی طالبات بھی اسکے ہمراہ تھیں۔ سنتھیا نے گھبرا کر ایڈون کو دیکھا
میں یہیں باہر انتظار کر رہا ہوں بالکل پاس ہوں تمہارے۔ بالکل گھبرانا نہیں ٹھیک ہے۔
ایڈون نے اسکے یخ ہوتے ہاتھ تھام کر اسکی آنکھوں میں جھانکتے تسلی دی۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
آئی لو یو۔ ایڈون کے کہنے پر وہ ہلکے سے مسکرادی
آئی لو یو ٹو۔
اب جائو۔ ایڈون نے کہا تو وہ سر ہلاتی اندر کمرے میں داخل ہو گئ۔ سامنے ہی بیڈ سا لگا تھا ۔ ایک نرس فورا
اسکی مدد کو آگے بڑھی تھی۔ ڈاکٹرنی ایک بڑی سی اسکرین پر ہونے والے آپریشن کا طریقہ کار ان طالبات کو سمجھا رہی تھی۔ کچھ سلائیڈز تھیں۔ اور ایک اینیمیٹڈ ویڈیو بھی۔
اپنی زبان میں سمجھاتئ اس ڈاکٹرنی کی ایک بات اسکے پلے نہ پڑی تھی۔ وہ دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی بمشکل بیڈ پر نرس کی مدد سے دراز ہوئی۔ نرس نے سب سے پہلے اسکا بلڈ پریشر دیکھا۔ پھر تسلی آمیز انداز میں بولی
کین چھنا آگاشی۔
اس نے سر ہلایا۔
کیسی ہو لڑکی؟ ڈاکٹرنی مسکرا کر اسکے پاس آئی۔
ٹھیک ہوں۔ اس نے جتنے فق ہوتے چہرے کے ساتھ کہا تھا اس سے وہ ٹھیک بالکل نہیں لگی تھی۔
میرا نام ڈاکٹر رودا ہے تمہارا کیا نام ہے پیاری لڑکی۔
وہ شستہ انگریزئ میں اس سے باتیں کرتی ہوئی آپریشن کی تیاری کر رہی تھی
سنتھیا ۔ اسکی آواز مدہم تھی ڈاکٹرگلوز چڑھا کر ان لڑکیوں کی جانب متوجہ ہوئی۔
ہمیں اس آپریشن کیلئے ویڈیو کی اجازت نہیں ملی نہ ہی کسی مرد طالب علم کو اندر آنے کی اجازت ملی ہے۔
اور یہ تم دونوں کیلئے بے حد اچھا ہے کھل کر سوال کر سکتی ہو اور ذیادہ سے ذیادہ سیکھ سکتی ہو۔
وہ روانئ میں ان سے بھئ انگریزئ میں بول گئ
بلڈ پریشر جب تک نارمل نہیں ہوگا ہم سن نہیں کریں گے ۔
میم ابھی تو ابتدائی سطح ہے اس سطح پر بچہ تو نہیں ہے نا مطلب ابھئ تو بس ذیادہ سے زیادہ دل بننا شروع ہوا ہوگا۔
اس طالبہ نے سوال کیا تھا۔ سنتھیا بھی مکمل طور پر انکی جانب متوجہ تھی۔
ڈاکٹرنئ نے آلہ سنتھیا کے پیٹ سے لگا کر انکو مانیٹر میں موجودہ شکل دکھائی
ہم اس ابتدائئ شکل کو فیٹس کہتے ہیں۔۔ ابھی شکل تو نہیں بن پائی مگر سلسلہ تو شروع ہو چکا ہے۔ اب اندر ایک نئی زندگئ کی بنیاد پڑ چکی ہے۔یہ ایسا ہی ہے کہ آپ نے بیج بویا اس میں سے کونپل پھوٹ گئ اب اگر آپ اس بیج کو اکھاڑ پھینکیں گے تو وہ پنپنے گا نہیں اور اگر اسے بڑھنے کا موقع دیں گے تو وہ تنا ور درخت بھی بن جائے گا۔ کون جانتا مستقبل۔
ڈاکٹرنئ مکمل ہنگل میں سب تفصیل بتا رہی تھی۔
اسکا دھیان ہٹا تھا کہ نرس نے اسکو ٹیکا ٹھونک دیا
تھا۔ وہ ایکدم سے اٹھ بیٹھی۔
یہ اسکرین مجھے بھئ دکھائو۔
اس نے بے تابی سے انگریزی میں کہا تھا۔
دے؟ ۔ طالبات حیرانی سے دیکھنے لگی تھیں اسے مگر ڈاکٹر نے شائد اسکا اشارہ سمجھ لیا جبھی مانیٹر کا رخ ترچھا کر کے اسکو دکھایا۔
یہ یہ ابھی تو کچھ بھی نہیں ہے ۔۔ ہے نا۔
اس نے بے تابی سے انگریزی میں پوچھا اسے تسلی درکار تھئ شائد۔
ڈاکٹر نے اسے غور سے دیکھا۔ اسے یقینا اب اپنی بات دہرانی پڑنی تھئ۔۔ اس نے گہری سانس لیکر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔
موسم کی پہلی برفباری متوقع ہے لڑکیوں۔ پہلے ہی بتا دوں آج خوب سنبھل کر رہنا کسی بھی ایرے غیرے نتھو خیرے سے ٹکرا نا جانا نا فالتو بحث میں پڑنا۔ خاص کر شام چار بجے کے بعد۔
گوارا ناشتے کی میز پر بیٹھی پراٹھا انڈا اڑاتئ اعلان کر رہی تھی۔ اریزہ نے پراٹھا توے پر ڈالتے ہوئے حیرت سے مڑ کر پوچھا
کیوں۔۔؟؟
ایویں ڈرامے۔
ہوپ نے منہ بنا کر کافی کا مگ منہ سے لگایاوہ ایگ رول چاول اور کمچی کے ساتھ کھا رہی تھی۔
گوارا نے اسکا ایک ایگ رول اچک لیا۔
کیونکہ یہ کوریا کی بہت پرانی ریت ہے اور میرا دل سے اس پر اعتقاد ہے کہ موسم کی پہلی برفباری میں مخالف صنف کے ساتھ ہو تو اس سے محبت ہو جاتی ہے۔
منہ میں ایگ رول بھرے وہ بمشکل بتا پائی۔
اریزہ اپنا ناشتہ لیکر انکے پاس چلی آئی۔
میں تو بھئی آج گھر میں ہی ہوں مگر تم دونوں اونگے بونگے لڑکوں سے نا پٹ جانا ۔ پہلی برفباری خطرناک ہوتی ہے دل والوں کیلئے۔۔ دل کہیں اٹک ہی جاتا ہے۔
وہ آج فل موڈ میں تھی۔
واقعی؟ تو پھر منع کیوں کر رہی ہو۔ اچھا ہے ہوپ کو آج کوئی اچھا سا لڑکا ٹکر جائے۔ اریزہ نے کہا تو حسب توقع ہوپ منہ بنا گئ
بکواس یے یہ۔ شمالی کوریا میں ہم پہلی برفباری کیا آخری برفباری تک برفباری میں صرف پناہ ڈھونڈتے
ہیں محبوب نہیں۔
ہاں تو وہاں نا ۔یہاں کی بات کر رہی ہوں۔
گوارا نے سر جھٹکا۔
کیوں یہاں کی برف گرم ہوتی یے؟ ۔ہوپ نے تمسخر اڑایا۔
ہائش۔ گوارا نے سر پیٹ لیا جیسے
اس لڑکی میں کوئی حس چھو کر نہیں گزری۔ بھئ سیدھی بات ایک جنوبی کوریائی ذمہ دار شہری لڑکی ہونے کے ناطے بتانا میرا فرض تھا۔برفباری میں کسی اونگے بونگے سے ٹکر کر محبت نہ کر بیٹھنا ہو جاتی ہے محبت میں زندہ مثال ہوں۔اسکی۔
اس نے بے چاری سی شکل بنائی ۔ ہوپ اور اریزہ دونوں کھانا وانا بھول کر اسکی شکل دیکھنے لگیں۔
کیسے۔۔
وہ مزید ترنگ میں آگئ۔
کرسی پیچھے کر کے لہرا لہرا کر بولی
آج سے چار بلکہ پانچ سال قبل ایک معصوم سیدھی سادی لڑکی جو چپکے چپکے اپنے سن بے کو پسند کرتی تھی اسکول سے واپسی پر اپنے راستے سڑک کنارےسر جھکائے چلتی جا رہی تھی۔۔
وہ باقائدہ اپنی آگے سے کھلی سوئٹر کو لپیٹ کر سکڑ
کر سر جھکائے چلی۔ اریزہ کی پشت پر آگئ تھی وہ نوالہ پلیٹ میں رکھ کر بھرپور اشتیاق سے مڑ کر دیکھنے لگی۔
یک نہ شد دو شد۔
ہوپ نے تاسف سے اس احمق کو دیکھا جو ایسے متوجہ تھی جیسے گوارا اسے ملک کے اہم راز بتانے والی ہے۔
تھمو ذرا۔ ہوپ نے اپنا سر خود ہی چپت مار کر بجایا
پکی نارتھ کورین ہوں میں بھی۔ یہاں بھی ملکی راز ہی مثال کے طور پر سوجھے۔
موسم سازش پر اترا تھا۔ پہلی برفباری متوقع تھی۔ لڑکی کو گھر جانے کی جلدی تھئ۔۔
ہاتھوں کے اشارے سے ڈرامہ بازی کرتی گوارا جیسے فل فارم میں تھی۔
پھر۔
اریزہ کا اشتیاق دیدنی تھا۔
کہ اچانک کہیں سے ایک اجنبی بندر کی شکل کا ہائی اسکولر چار لڑکوں سے بھاگتا پٹنے سے بچتا اس سے آٹکرایا۔
بیان۔ وہ لڑکی اسکے دھکے سے دھپ سے گھٹنوں کے بل گری۔ لڑکے کے پاس موقع تھا کہ کہہ کر دوبارہ
وہ گھٹنوں کے بل گری تھی۔یون بن گرتے گرتے بچا تھا۔ اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑی تھیں۔ اس نے تھوک نگلتے اس لڑکی سے معزرت کرکے بھاگ جانا چاہا
بیان۔
اسکے عجلت میں معزرت کرنے پر گھٹنا سہلا کر اٹھنے کی کوشش کرتی گوارا نے خفگی سے سر اٹھا کر گھورا
سردی سے سرخ ہوتی ناک آنکھوں میں چوٹ لگنے سے پانی اتر آیا تھا چہرے پر اڑتی آوارہ لٹیں اسکے کندھے تک آتے بالوں کی اونچی پونی ہوا سے اڑی تھی اور یون بن کے ہوش اڑے تھے۔ جی نہیں۔ اسکو دیکھ کر نہیں بلکہ لمحہ بہ لمحہ بھاگ کے قریب آتے لڑکوں کو دیکھ کر۔
گوارا کو اس انتہائی نازک صورتحال میں بھی سہارا دینے رکا اسکو ہاتھ پکڑ کر اٹھنے میں مدد کی اور بھاگ کھڑا ہوا مگر افسوس۔ چند قدم ہی آگے بڑھا ہوگا کہ پیچھے سے آتے چار لڑکوں نے اسے گھیر لیا تھا۔
دے مکا وہ لات۔ گوارا ششدر سی اسکی اپنی آنکھوں کے سامنے درگت بنتی دیکھ رہی تھی۔ اسکی ناک سے خون پھوٹا اور سڑک کنارے گزرتی پولیس وین نے آواز لگائئ۔
کیا کر رہے ہو تم لوگ۔ لڑکے اسکو وہیں فٹ پاتھ پر چھوڑ کر بھاگے تھے۔ وہ فٹ پاتھ پر بیٹھا اپنی چوٹیں سہلا رہا تھا جب گوارا انسانی ہمدردی کے تحت اسکے قریب آئی اور اپنا صاف ستھرا رومال اسکی جانب بڑھایایون بن نے حیرت سے دیکھا ۔مگر رومال تھام لیا
چند لمحوں میں ہی روئی کے گالے ان دونوں پر آن برسے تھے۔
کین چھنا؟
یہ گوارا نے نہیں پولیس والے نے پوچھا تھا۔ گاڑی سے اتر کر اسکے پاس آئے تھے یون بن کو سہارا دے کر کھڑا کیا اور یون بن وہیں چاروں شانے چت ہو گیا تھا۔
شائد گوارا بھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات تو پولیس والے نے کی تھی تمہیں اس سے محبت ہونی چاہیئے تھی۔
ہوپ نے اسکی رومانوی کہانی کا کیا انجام کیا تھا۔ گوارا نے دانت کچکچائے۔
عقل کی دشمن۔ جب برف گر رہی تھی تو میں اور یون بن ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ اور تبھی میرا سن بے والا کرش بھاپ بن کے اڑا اور یون بن کی محبت برف بن کر میرے دل پر آجمی۔
اس نے آہ بھر کر دل پر ہاتھ رکھا
اریزہ واپس گھوم کر ناشتے کی طرف متوجہ ہو گئ تھی۔
بہر حال سچ کہتی ہوں اس جادوئی لمحے میں کچھ تھا پہلی برفباری کا اثر ورنہ مجھے یون بن سے تو کبھی محبت نہ ہوتی جتنا دل پھینک اور لفاظ ہے۔
گوارا نے سارا الزام محبت موسم کے سر ڈال کر ہاتھ جھاڑ لیئے۔
شکر ہے ہمارے یہاں ایسا نہیں ہوتا۔
اریزہ نے کندھے اچکائے۔
محبت نہیں ہوتی؟ گوارا حیران ہوئی
برفباری نہیں ہوتی۔۔۔
ہوپ نے جملہ مکمل کیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ صوفے پر اسکا جیکٹ پڑا تھا وہ اٹھا کر پہننے لگئ۔
اریزہ نے حیران ہو کر اسکی شکل دیکھی۔
ہوتی ہے پاکستان میں بھی برفباری اریزہ نے خود بتایا تھا ہے نا اریزہ۔۔
گوارا نے کہا تو وہ جز بز سی ہو کر سر ہلانے لگی۔
واقعی؟ ہوپ کو یقین نہ آیا۔ خود اریزہ سے پوچھنے لگی۔
آ۔۔ ہاں۔ وہ گڑبڑا سی گئ۔
تمہیں دیکھ کر لگتا تو نہیں کہ برفباری کی عادی ہو۔۔ برفباری ہونی ہے اور تم یہ تیار ہوئی ہو۔
اس نے اریزہ کئ جانب اشارہ کیا جو اس وقت وولن فراک پہنے بیٹھئ تھئ۔ ساتھ اونی ہی لیگنگ تھا۔ جبکہ ہوپ ہائی نیک کے اوپر گھٹنوں تک کا بڑا سا پیرا شوٹ جیکٹ پہن رہی تھی۔ جسے دیکھ کر اسے پہلا خیال یہی آیا تھا کہ کوئی اسکو بھئ خرید سکتا ہے۔
ہاں اریزہ لانگ کوٹ پہن کر جانا بلکہ ایک سوئیٹر اور پہن لو۔
گوارا فکر مند ہوئی۔
اتنا گرم فراک ہے مجھے ذرا ٹھنڈ نہیں لگ رہی۔
اس نے اطمینان دلانا چاہا۔
بوائلر چل رہا احمق باہر نکل کر دیکھو تو پتہ لگے کتنی ٹھنڈ ہے
گوارا نے ڈانٹ دیا۔
باہر نکلتے وقت کوٹ لے لوں گی۔۔ اس نے تسلی کرائی
کتنی دیر ہے تمہیں اور؟
ہوپ نے کہا تو وہ ناشتہ ختم کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
چلو خیریت سے جائو دونوں۔ خدا تم دونوں کو اچھے لڑکے ٹکرائے آمین۔
گوارا نے جیسے صدق دل سے دعا دی۔ اس دعا پر اریزہ نے ہنس کر اسکو دیکھا تھا۔ ہوپ کے چہرے پر بھی کوئی بھولی بھٹکی مسکراہٹ در ہی آئی
مینجر اسے دیکھ کر بھاگا بھاگا آیا۔ جانے کونسا بے نم کہہ رہا تھا مطلب میڈم محترمہ کہہ کر اسکا احوال انگریزی میں پوچھا۔۔
میں ٹھیک ہوں شکریہ۔
وہ کافی شرمندہ ہو رہی تھی اسکے رویئے سے۔ جوابا مینجر کی ساری انگریزی مک گئ جھک کر سلام کرتا واپس ہواپھر سینڈوچ اور گرم کافی کا کپ اسکو بھجوا دیا۔
اس نے سینڈوچ کھول کر دیکھا تو سبزیاں اور ساتھ چکن بھی تھا اس نے احتیاط سے ایک طرف رکھ دیا۔
کیوں آئی ہو آج تم ؟
کم سن کمر پر ہاتھ رکھے کھڑا گھور رہا تھا۔
تاکہ تمہیں میری تنخواہ خود گھر لاکر نہ دینی پڑے۔
اس نے آرام سے کہا۔ کم سن اسے کھڑا گھورتا رہا۔
گردن ٹھیک ہوئی تمہاری؟
اسکے باس کو فکر بھی تھئ اسکی۔ وہ مسکرا دی
میں بالکل ٹھیک ہوں۔ ذرا سا ہی جلن ہے اب بس۔
اچھی بات ہے۔ اور آرام سے پانچ بجے تک چلی جانا آج برفباری کا امکان ہے۔
کم سن کے کہنے پر اسکے لب وا ہوئے مگر تبھی مینجر کم سن کو بلانے آیا تو وہ چپ ہی کر گئ۔ آج بھی ذیادہ تر مفت ہی کھا پی کے بچے چلے گئے سیلز کا ٹارگٹ پورا نہیں ہوا اسکا۔
ہایون اسی بچوں کی اونچی والی کرسی پر بیٹھا کافی کا کپ تھامے منہ پھلائے اسے گھور رہا تھا اس نے اسکا موڈ بدلنے کی خاطر پوچھا تھا۔
امتحان ہو رہے ہیں۔۔
منہ پھلانے کے باوجود اس نے جواب دیا تھا۔
ہیں۔ اس کو شدید حیرت ہوئی ۔۔
کوئی فکر وکر نہیں پالتے تم لوگ امتحانوں کی؟ مزے سے نیااسٹارٹ اپ شروع کیا جا رہا ہے چھٹیاں کی جا رہی ہیں اور یہاں بیٹھ کر کافی پی جا رہی ہے۔
اس نے گھورا۔
یونیورسٹی امتحانوں کی کیا فکر؟ وہ الٹا اسے حیران ہو کر دیکھنے لگا۔
امتحانوں کی ہی تو فکر ہوتئ یے۔ اچھے گریڈ جی پی اے کیلیئے پریزنٹیشنز اسائنمنٹس سب مکمل کرنی ہوتی ہیں۔
اس نے کہا تو وہ سر جھٹک کر بولا
ہائی اسکول تک فکریں پالی ہیں تاکہ اچھی یونیورسٹی میں داخلے کیلئے نام آجائے۔ ہائی اسکولرز یہاں کے فکریں بھی پالتے ہیں۔ فیل ہو جائیں تو خودکشی بھی کر بیٹھتے ہیں مگر تب اتنئ پریشانی اٹھانے اور ذیادہ سے زیادہ ہنر سیکھنے ، اچھے گریڈ حاصل کرنے کا پھل یونیورسٹی کی سطح پر ملتا ہے۔ اچھا پروفائل بن چکا ہوتا ہے اچھی یونیورسٹی کی سب سہولتیں ملتی ہیں پھر راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔۔۔
تم لوگوں کا کیا حساب ہے؟ اس نے برسبیل تذکرہ
پوچھا
ہاں۔ وہ چونکی پھر گڑبڑا سی گئ۔ بے خیالی میں وہ اسکی تھوڑی پر پڑنے والے نیل کو ہی دیکھے گئ تھی۔ اسکے گورے چٹے چہرے پر دور سے دمک رہا تھا۔ اس کو افسوس ہونے لگا تھا اسکی وجہ سے بے چارہ سنتھیا کے ہاتھوں پٹ گیا۔ بات تو سنی ہی نہیں۔۔
کیا سوچ رہی تھیں۔
وہ اسکی غائب دماغی پر مسکرا کر پوچھنے لگا۔
ککچھ نہیں۔ وہ کرسی پر سیدھی ہو بیٹھی۔ کافی اسکی ختم ہونے لگی تھی۔ اس نے کپ خالی کرکے میز پر ٹکایا
چلو تمہیں گھر چھوڑ دوں۔
ہایون اٹھ کھڑا ہوا۔
ابھئ وقت ہے میری چھٹی ہونے میں۔ اریزہ نے سہولت سے انکار کیا
میں نےاس دن صرف مزاق کیا تھا۔ میں بہت سنجیدگی سے یہ نوکری کرنا چاہ رہی ہوں۔ مجھے جاننا ہے میں کتنی محنت کر سکتی ہوں مجھ میں کوئی ہنر ہے بھی یا نہیں میں نے خود مختار ہونا ہے ۔ میں اپنی محنت کی تنخواہ لیکر جانا چاہتی ہوں۔ ۔ تم دونوں اگر اسی طرح میرے ساتھ خاص الخاص والا
برتائو کروگے تو میں خود کو کیسے آزما پائوں گی۔
اس نے اتنا تفصیلی جواب دیا تھا کہ ہایون چپ ہی ہوگیا۔
اچھا ٹھیک ہے۔ کل سے ہوجانا خود مختار مگر آج طوفان متوقع ہے۔ برفباری ہونے والی ہے اور سب سے بڑھ کر میں آگیا ہوں تمہیں لینے سو آج چلو ۔
ہایون کے اصرار پر اس نے خفگی سے گھورا۔
وہی مرغے کی ایک ٹانگ۔
اس نے چڑ کر بھالو اٹھا کر اپنی جگہ رکھا۔
بالکل بابا لگ رہے ہو ۔ وہ بھی مجھے مرغی کی طرح پروں میں چھپا کر رکھتے رہے اور مجھ سے توقع یہ رہی کہ میں تیس مار خان بن جائوں۔
اسٹول سمیٹ کر رکھے اسٹال میں۔ اور پٹخ پٹخ کر ڈبے ترتیب دیئے۔
دو درجن لوگ میرا خیال رکھنے میرا لاڈ اٹھانے میرے گرد موجود رہیں گے تو خاک پتھر مجھ میں اعتماد آئے گا۔ پہلے دن مجھے لگا تھا کبھی اکیلے آنے جانے کی ہمت نہیں آئے گی مجھ میں مگر اتنے دنوں سے آرہی ہوں نا اکیلی۔
گندے پیالے ڈسپوز آف کرنے کیلئے اس نے شاپر میں سب کوڑا ڈالا ۔۔
واپسی پر تو خاص طور سے صبح پھر چلو ہوپ ہوتی مگر نہیں۔ کوئی مجھے تناور درخت بننے ہی نہیں دے رہا۔۔ رکھو سب بنا کے مجھے چھوئی موئئ کا پودا۔ پیراسائٹ ۔دوسروں پر انحصار کرنے والا پیراسائٹ۔ کرنے والی پیراسائٹ۔
اردو میں اونچا اونچابڑبڑا کر اس نے سب کام ختم کیئے تھے ۔ موبائل پرس میں رکھا کندھے پر لٹکا کے وہ جانے کو بالکل تیار ہوکر مڑی۔
انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہی اب خوش چلو مرو
تم اردو بولنا یاد کرتی ہو نا۔
ہایون نے کہا تو وہ ایکدم ٹھنڈی ہوئئ۔
ہاں۔ اس نے بلا توقف سر ہلایا۔
مجھے اجنبئ زبان بول بول کے تھکن ہو جاتی ہے۔
اس نے ناک چڑھائی۔ پھر ہنس کر بولی
مگر ایک فائدہ ہوتا ہے غصہ آنے پر جتنی بھی بڑ بڑ کرلی سمجھ ہی نہیں آئی ہوگی تمہیں۔
ہایون چند لمحے اسے دیکھتا ہوا سنجیدہ ہو گیا۔ انتہائی سنجیدگی سے کہہ کر وہ مڑا
چلیں۔
اسکا انداز۔ وہ ٹھٹکی۔ برا مان گیا کیا یہ
وہ زیر لب بڑبڑائئ
اسے کیا لگا میں اسے گالیاں دیتئ رہی ہوں۔
سنو ہایون۔وہ اسکے پیچھے بھاگ کے آئی۔
گلاس ڈور کھولتے ہی سرد ترین ہوا کا جھونکا اسکی ناک سے ٹکرایا۔ہایون کے ہم قدم ہونے کے چکر میں تیز چلنے سے اسکی سانس پھول گئ ۔ چھے فٹ سے نکلتے قد والا ہایون بڑے قدم اٹھا رہا تھا۔ وہ بھاگ کے اسکے مقابل آگئ۔ ہایون ایکدم رکا
ہایون میں تمہیں گالیاں والیاں نہیں دے رہی تھی۔میں دیتی ہی نہیں ہوں غصے میں گالیاں اور بھی کچھ برا نہیں کہہ رہی تھی تمہارے۔
بولتے بولتے اسکی ناک پر کوئی چیز آکر گری ہایون مڑکر اسے کچھ کہنے لگا تھا مگر وہ آنکھیں بھینگی کرکے ناک کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے انگلی کی پور سے ناک پر سے اس روئی کے گالے کو اٹھانا چاہا تو وہ پانی کی بوند سا بن گیا۔ایک کے بعد دوسرا تیسرا
سفید سفید روئی کے گالے ان کے گرد بارش کی طرح برس اٹھے تھے۔
وائو۔ برفباری ہے یہ تو۔
وہ بے طرح خوش ہوگئ تھی دونوں ہاتھ پھیلا کر اس نے برف ہتھیلیوں میں بھر لینا چاہی۔ ۔ ہایون نے گہری سانس لیکر آسمان کو دیکھا۔
اس موسم کی پہلی برفباری وہ اریزہ کے ساتھ دیکھنا چاہتا تھا اور قدرت نے اسکا بھرپور ساتھ دیا تھا۔
او خدایا۔ وہ بے طرح خوش سی برف کے گالوں کو مٹھی میں بھر رہی تھی۔ وہ ایسے خوش ہو رہی تھی جیسے پہلی بار برفباری دیکھ رہی ہو۔۔ اب تو سڑک کنارے پر برف کی چادر بچھ جانی تھی اور
ہوا تیز تھی برفباری رک گئ۔
بس ۔ اس کو شدید مایوسی ہوئی
ہایون ہنس دیا۔
اتنی سی برفباری پر اتراتے ہو تم لوگ۔ ہمارے یہاں برف سے سب ڈھک جاتا یے اتنی ہوتی ہے۔
وہ کمر پر ہاتھ رکھے جتا رہی تھی۔
راولپنڈی میں؟
ہایون نے پوچھا تو وہ گڑبڑا سی گئ۔
اتنی سی برفباری کو ہوا بنایا ہوا تھا ۔ جائو تم میں آرام سے ڈیوٹئ پوری کرکے چلی جائوں گی خود ہی۔
وہ جان کے ڈپٹ کر بولی تاکہ بات بدل جائے۔
ہایون نے سر ہلا دیا۔
جیسے تمہاری مرضئ۔
وہ کہہ کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تو وہ سکھ کا سانس لیتی واپس مارٹ کی طرف مڑی
کچھ ذیادہ ہی دماغ تیز ہے اسکا ۔ سرسری سا نام بتایا تھا اپنے شہر کا ابھی تک یاد رکھے ہوئے ہے۔ اب سینٹڈ scented lake نالہ لئی نا گوگل کرنے بیٹھ جائے۔
اسے خفت محسوس ہو رہی تھی۔ اور اسکا بہترین حل یہ تھا کہ اب کم از کم ہایون کی آج دوبارہ شکل نہ دیکھی جائے۔
وہ پرائیویٹ کمرے میں لیٹی تھی۔ اسکی ڈرپ ختم ہونے میں ایک گھنٹہ تھا۔۔۔
وہ شیشے کی کھڑکیوں سے باہر برستی سفید بارش کو خالی خالی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
ایڈون بڑا سا شاپر لیئےگھبرایا ہوا داخل ہوا۔
کیا ہوا سب خیریت ہے نا؟ تم یہاں کیوں ہو؟ تم ٹھیک ہو نا ؟ کوئی گھبرانے والی بات تو نہیں۔۔۔
اس نے پے در پے کئی سوال کر ڈالے۔
میں ٹھیک ہوں۔
اس نے مہین سی آواز میں کہا تھا۔
شکر ہے ۔۔ یہ لو میں تمہارے لیئے گائے کے گوشت کا سوپ لایا ہوں۔ کورین بیف ہے یہ۔ کہتے ہیں یہ سب سے بہترین گوشت ہوتا ہے یہاں کا۔
وہ اسکے لیئےمریضوں والی میز بیڈ کے ساتھ جوڑ رہا تھا۔پھر شاپر سے بھاپ اڑاتا کھانا نکال کر اسکے سامنے رکھنے لگا۔ وہ بمشکل بائیں ہاتھ کے بل پر زور ڈال کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی
رکو۔ ایڈون نے اسکو آگے بڑھ کر سہارا دے کر بٹھایا۔ اسکی کمر میں تکیہ بھئ لگا دیا۔ اس نے طائرانہ نگاہ ڈالی میز پر کھانا سج چکا تھا۔
بھنا ہوا گوشت الگ تھا اور گوشت کاسوپ الگ۔ جس
میں نوڈلز بھی تیر رہے تھے ساتھ سیب کے جوس کے ڈبے مکس فروٹ کا کین۔۔
اسے گزشتہ رات یاد آئی تو آنکھ بھر آئی۔ کتنا بد قسمت بچہ تھا یہ۔ کل اسکی ماں اسکا بوجھ اٹھاتئ بھوک سے نڈھال تھی اور آج اس اسکے سامنے طعام سجا تھا۔
کھائو۔۔
ایڈون نے دانستہ اسکے گالوں پر پھیل آنے والے آنسو کو نظر انداز کیا۔
اس نے اپنا ڈرپ والا داہنا بازو اونچا کیا۔ وہ کیسے کھانا کھا سکتی تھی جب تک ڈرپ لگی تھی۔
میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے کھلاتا ہوں۔
ایڈون نے سمجھ کر کانٹے میں نوڈلز پروئے گوشت کا ٹکڑا پرو کر اسکی جانب بڑھایا۔ اس نے منہ کھولا تو احتیاط سے نوالہ کھلادیا ۔
اب چمچ میں سوپ بھر کر اسکی جانب بڑھا رہا تھا۔
اس نے سوپ بھی پی لیا مگر چباتے ہوئے اسکی آنکھوں سے مزید آنسو پھسل آئے
بس بس رونا نہیں۔ تمہاری طبیعت خراب نہ ہو جائے اب کچھ مت سوچو کھانا کھائو اور آرام کرو ۔ میں اس روم کی بھی ادائگی کردیتا ہوں رات یہیں رکو
صبح چلیں گے۔۔
ایڈون نے اٹھ کر اسکے سائیڈ ٹیبل سے ٹشو بکس سے کئی ٹشو نکال کر احتیاط سے آنسو پونچھے
وہ اب اسکے سب نخرے اٹھانے کو تیار تھاآخر وہ اسکی گرل فرینڈ تھی۔ہاں اپنے ناجائز بچے کی ماں کی دفعہ اسکی پروا کرنے والی طبیعت بے حسی تلے جا سوئی تھی۔۔
وہ وہئ سنتھیا تھئ۔ چند گھنٹوں میں سنتھیا بدل تو نہیں گئ تھئ یا واقعی بدل گئ تھئ؟
وہ میز پیچھے کرتی بیڈ پر سیدھی لیٹ گئ۔
اچھا تھوڑی دیر بعد کھا لینا کھانا میں ڈاکٹر سے پوچھ کر آتا ہوں کوئی دوا وغیرہ ابھی تو بس نرس کے بتانے پر کہ تم یہاں ہو سیدھا یہاں چلا آیا۔
ایڈون نے زبردستئ مناسب نہ سمجھی۔
کوئی طاقت کا سیرپ بھی لکھوا لاتا ہوں۔ تمہیں کمزوری محسوس ہو رہی ہوگی۔
وہ چند لمحے رکا رہا تھا شائد وہ جوابا کچھ بولے مگر وہ بالکل خاموش کھڑکی سے پار دیکھ رہی تھی۔ وہ دروازہ بنس کرتا نکل گیا۔۔ باہر رات ہو چکی تھی اور برفباری پورے زور و شور سے جاری تھی۔ طوفان آچکا تھا بس کمرے میں اسکا شور اور ٹھنڈ محسوس نہیں
ہو رہی تھی۔ اس نے کمبل اونچا کیا اور اسی طرف کروٹ لے لی۔
ٹارگٹ سیل کے چارٹ پر اپنی آج کی سیلز کی تعداد لکھتے اس نے آہ سی بھری تھی۔
آج معمول سے بھی کم لوگ تھے۔ اسکی چھٹی تک تو تقریبا سب خالی ہوچکا تھا۔
وہ پھر بھی اپنا وقت پورا کرکے ہی اٹھی۔ کوٹ کندھے پر درست کیابیگ لٹکایا خراماں خراماں چلتی باہر آئی تو بے ساختہ جھر جھری سی لیکر رہ گئ۔
اسٹور تو اتنا خنک نہیں تھا مگر باہر بلا کی سرد ہوا تھی۔سات بجے اتنی سنسانئ تھی کہ جیسے دس بج رہے ہوں۔۔اکا دکا دکانیں کھلی تھیں وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھانے لگی بس اسٹاپ بالکل خالی تھا وہ اکیلی ہی تھی بس ۔ سرد ہوا اتنی ٹھٹھرا دینے والی تھی کہ وہ بیٹھتے بیٹھتے رک گئ۔ بس چارٹ کی ایل ای ڈی میں اسکی بس پندرہ منٹ بعد کی تھی۔ اس نے سوچا کیا کرے۔۔ سڑک پر ٹریفک معمول سے کم تھا فٹ پاتھ پر پھر ایک دو لوگ چل رہے تھے۔۔ وہ دکانوں کے آگے پختہ سروس روڈ پر چلی آئی۔
میٹرو سے چلی جاتی ہوں ۔ میٹرو میں کم ازکم انتظار تک ٹھنڈ تو نہیں کھانی پڑے گی۔
اس نے فیصلہ لیا اور تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
روئی کا ٹکڑا اسکے کندھے پر آکر گرا تو اس نے چونک کر جھاڑا۔۔ ایک لانگ کوٹ اندر ہائی نیک نیچے فلیٹ اسکے باوجود سرد ہوا کپکپائے دے رہئ تھی اسے۔۔ وہ اپنے قدموں پر نگاہیں جمائے ارد گرد سے بے نیاز چلے جا رہی تھی۔۔ کورٹ شوز اسے لگ رہا تھا اس نے پہنے ہی نہیں ہیں پائوں یخ ہو رہے تھے
اس کا برفباری میں یوں باہر اکیلے پھرنے کا پہلا تجربہ تھا۔ برف اتنی تیزی سے گر رہی تھی کہ اسکا کوٹ بھیگ چلا تھا۔۔ اس نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا مارکیٹ پیچھے چھٹ چکی تھی۔ ذیلی سڑک سنسان تھی اب رہائشی علاقہ شروع تھا دونوں اطراف اونچئ عمارتیں گھر بنے تھے سڑک پر اسکے سوا کوئی نہ تھا۔۔
اس پر شدید گھبراہٹ طاری ہونے لگی۔ برفباری خاموشی سردی سنسانی
کیا کروں ۔۔ واپس مارکیٹ جائوں۔۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو مارکیٹ سے اتنی دور آچکی تھی کہ وہ اسٹور نظر بھی نہیں آرہا تھا۔۔
سردی ناقابل برداشت ہوچلی تھی۔ اس نے بیگ میں فون تلاشا
تبھی بس سڑک سے گزری تھئ۔
شٹ ۔ وہیں رک کر انتظار کر لیتی۔ اسے خود پر غصہ آنے لگا
ٹیکسی منگوا لیتی ہوں۔
وہ سوچ میں پڑی۔
برف سر پر پڑ رہی تھی اسکے بال گیلے ہونے لگے تھے۔۔
فون دیکھتے چلتے اسے پتہ ہی نہ لگا کب فٹ پاتھ ختم ہوگیا اسکا پیر پھسلا اور وہ گھٹنے کے بل سڑک پر گری۔ تارے ناچ گئے تھے حقیقتا اسکی آنکھوں کے سامنے۔
امی۔ وہ وہیں گھٹنا پکڑ کر رو پڑی۔ سڑک پر پانی تھا شائد۔ وہ مکمل بھیگ گئ تھئ۔اور موبائل ۔ اس نے تڑپ کر موبائل ڈھونڈا ۔ اسکے برابر ہی پڑا تھا مگر بند ۔
اس نے بےتابئ سے اٹھایا۔ اسکا آخری سہارا ہچکی لیکر بند ہوگیا تھا۔۔
نہیں۔ پلیز نہیں۔
موبائل کی منتوں پر اتر آئی مگر وہ بھی ڈھیٹ تھا آف رہا۔۔
سر پر گرتی برف سائیں سائیں کرتی برفانی ہوا وہ فٹ
پاتھ پر ہتھیلی ٹکا کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔ درد کی شدید لہر اٹھی تھی ٹانگ میں۔۔
وہ ٹانگ پکڑ کر دہری ہوگئ۔
جب کوئی اسکے سامنے آن کھڑا ہوا۔
ڈاکو، چور؟
اس نے خوفزدہ نگاہیں اوپر اٹھا کر دیکھا
اسٹریٹ لائٹ کی مدھم روشنی میں دمکتا سفید چہرہ چندی آنکھیں اپر کا ہڈ سر پر چڑھائے وہ نامانوس شکل نہیں تھی۔
انسان ۔ نہیں اس وقت تو فرشتہ ہی بن کر آیا تھا۔
کین چھنا۔۔
پھر شائد اسکے اجنبئ نقوش دیکھ کر انگریزئ میں پوچھا گیا۔
بس سے اتر کر وہ اپنی دھن میں چلتاجا رہا تھا جب اس کی نظر اس پر پڑی تھی۔ لانگ کوٹ کورٹ شوز تیز تیز قدم اٹھاتی اس لڑکی کو دیکھ کر اس کو پہلا
خیال یہی آیا تھا
گیلی سڑک برفباری میں اتنی پھسلن اور ہیل والا جوتا
پکا گرے گی۔
ابھی اتنا ہی سوچا تھا کہ اس کے سامنے وہ لڑھک گئ۔
اسے بے ساختہ ہنسی آئی ۔ پھر افسوس بھی ہوا
اسے لگا تھا وہ کپڑے جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوگی۔
جدید دور کی لڑکی۔ خود اٹھنے سے پہلے موبائل ٹٹول کر دیکھ رہی تھئ کہ ٹانگ بھلے ٹوٹ جائے موبائل کو کچھ نا ہو۔اسکے پاس سے گزر کر وہ سیدھا نکل آیا تھا مگر چند قدم بعد یونہی مڑ کر دیکھا تو وہ گھٹنا سہلاتی سر جھکائے وہیں بیٹھئ تھی۔ شائد اسے ذیادہ چوٹ لگ گئی ہے یہی سوچ کر وہ پلٹ آیا۔
آنکھوں میں آنسو بھرے سرخ آنکھیں سرخ ناک چڑھا کر اس نے گردن ہلا کر جواب دیا تھا۔
اس نے لمحہ بھر سوچا پھر اسکو سہارا دینے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔ مقابل بھی اسی کے قبیل کی تھی۔ ٹھیک ٹھاک وقت لگا کر سوچ سمجھ کر اسکا ہاتھ تھام کر سہارا لیا تھا
پچھلی دفعہ باتھ روم دیکھا اس بار اسکے ساتھ اسکے کمرے کے بیچ کھڑی تھی۔ وہ سہارا دے کر لایا تھا۔
اسے بیڈ پر بیٹھنے کا کہہ کر وہ الماری کی جانب بڑھ گیا۔
آپ تشریف رکھیے۔
اس نے ایک نظر بے داغ سفید براق بچھی چادر کو دیکھا پھر بیٹھنے کا ارادہ ترک کردیا۔ اسکے کپڑے گیلے ہو چکے تھے۔یقینا اسکا بیڈ خراب ہوجاتا۔
یہ اسپرے کر لیں گھٹنے پر اس سے فوری درد کھنچ جائے گا۔
اس نے ایک اسپرے کین نکال کر اسے دیا۔
ادھر باتھ روم ہے آپ اسے استعمال کر لیجئے گا۔
اس نے سویٹ شرٹ اور پاجامہ نکال کر بیڈ پر رکھتے ہوئے خاصی تمیز سے کہا تھا۔
اس نے سر ہلا کر شرٹ اٹھائئ۔ عجیب سا احساس ہوا تو پوری تہہ کھول کر دیکھی ۔پھر علی کو دیکھا۔
اس نے خاصی باڈی بنا رکھی تھی۔ اسکی شرٹ اتنی چوڑی تھی کہ اس میں آرام سے دو اریزہ آجاتیں۔اسکے کپڑے اسے کہاں آئیں گے۔
اس کی آنکھیں اصل حجم سے دگنی ہو چلی تھیں۔۔چندی آنکھوں والے نے خاصی دلچسپی سے یہ منظر دیکھا تھا کہاں اس ملک میں حیرت کے اظہار کے طور پر بھی آنکھیں کھل نہیں پاتیں تو کہاں یہ لڑکی اپنی
موٹی موٹی آنکھیں پھاڑ کر پانڈا بن چلی تھی۔۔۔۔
۔
علی اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھ کر وضاحت کرنے والے انداز میں بولا۔۔
میرے گھر کوئی خاتون نہیں ہیں۔ سو ابھی آپ یہی پہن لیں میں آپکے کپڑے ڈرائر کردوں گا۔
آپکے کپڑے بالکل بھیگ گئے تھے۔ ۔ آپ کو سردی لگ رہی ہوگی آپ یہ اٹیچ باتھ روم یوز کرلیں۔
اور چینج کر لیں
وہ نرمی سے کہتا باہر نکل گیا۔۔
اریزہ نے جھر جھری سی لی۔۔ گھن کھا کر نہیں سردی سے۔۔ اسکو ہلکا ہلکا بخار بھی محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے جھجکتے ہوئے کپڑے اٹھائے تبھی اسکی نگاہ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھی تصویر پر پڑی۔
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر آگے بڑھی۔ تصویر اٹھا کر دیکھنے لگی۔ علی کے ساتھ بے حد خوش شکل چندی آنکھوں والی لڑکی کا کھلکھلاتا ہوا پوز تھا۔
کپڑے بدل کر فریش ہوکر باہر نکلی تو کمرہ خالی۔تھا۔۔
اس کے کپڑے اسے بہت ڈھیلے نہیں تھے ہاں لمبے تھے ۔۔ اس نے آستینوں اور پائنچوں کو تھوڑا تھوڑا موڑ لیا تھا۔۔ اسکا مفلر بھی نم تھا۔اس نے اسپرے کیا تھا۔ درد میں نمایاں کمی آئی تھئ مگر لنگڑانا ابھی باقی تھا۔ وہ دائیں ٹانگ پر کم بوجھ ڈالتی ہوئی جھجکتی باہر نکل آئی۔۔ وہ تصویر والی باجی اگر واپس آجاتیں تو اپنے ان کے بیڈ روم میں اسے دیکھ کر کچا چبا جاتیں۔ یہی سوچ کر اس نے اسکا انتظار کرنے کی بجائے باہر آنا مناسب سمجھا۔
ایک کمرے اور لائونج پر مشتمل چھوٹا سا اپارٹمنٹ مختصر سامان سے سجا تھا۔ اوپن کچن میں کائونٹر پر بھاپ اڑاتا سوپ رکھا تھا ۔۔لائونج میں سامنے ہی علی کچے چاول ٹرے میں پھیلائے کارپٹ پر اکڑوں بیٹھا انہیں۔ الٹ پلٹ کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر ٹرے وہیں چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
آئیے۔۔وہ یقینا اچھا میزبان تھا۔ اسکیلئے کرسی گھسیٹ کر اسکے بیٹھنے کے بعد خود اوون کی جانب بڑھ گیا۔۔ میز پر دو پیالے دھرے تھے۔ چکن سوپ جس میں نوڈلز تیر رہے تھے۔بیف اسٹیک۔ اس نے اوون سے نکال کر گرما گرم سامنے رکھا۔۔پھر معزرت خواہانہ انداز میں بولا۔۔
معزرت میرے گھر میں پورک نہیں ہوتا ہے۔ مگر مجھے امید ہے آپکو سوپ اور اسٹیک پسند آئے گا۔۔
یوں بن بلائے مہمان بن کر کھانا کھانے بیٹھ جانا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔
وہ میرا خیال ہے مجھے ڈنر گھر جا کر ہی کرنا چاہیئے۔ آپکو پہلے ہی بہت زحمت دے دی ہے میں نے۔۔
لنچ؟ علی مسکرایا۔۔
آپ ڈنر کر لیں کیونکہ باہر جتنی شدید برفباری ہے آپ بریک فاسٹ ہی اب گھر پر کر سکیں گی۔۔
جی؟۔ اریزہ کا منہ کھلا رہ گیا۔
میرے پاس گاڑی نہیں ہے اور ٹیکسی آپکو اس موسم میں ملنا مشکل ہے۔
علی کا انداز سادہ سا تھا۔ اریزہ مرے مرے انداز میں دوبارہ بیٹھ گئ۔
باہر بہت موسم خراب ہے؟ اریزہ نے پوچھا تو وہ سر ہلا کر رہ گیا۔
اسٹیک کا پیس کرکے چاپ اسٹکس سے اٹھاتے اسکی نظر پڑی تووہ منتظر نظروں سے ہی دیکھ رہی تھی۔
خراب تو نہیں کہہ سکتے معمول کی برفباری ہے مگر سڑک پر برف سے راستہ بند ہے برفباری تھمے گی تو راستہ صاف کیا جائے گا۔ آپ کھانا تو کھائیے
۔علی نے ٹوکا تو وہ گہری سانس بھر کر رہ گئ۔ بھوک کا احساس شدید تھا سو وہ مزید بحث میں پڑنے کی بجائے خاموشی سے کھانے لگی۔
وقفے وقفے سے وہ اریزہ کو فون کرنے کی کوشش کرتی رہی تھی ۔ ایسا تو پہلے کبھی نہ ہوا تھا کہ اسکا فون اتنی دیر تک بند رہے۔۔ وہ اب پریشان ہونے لگی تھی۔۔ کچھ سمجھ نہ آیا توہایون کو کال ملا دی۔
وہ گھر آکر چینج کرکے سکون سے بستر میں گھسا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا جب گوارا کی کال آئی۔
یوبو سیو۔۔
اس نے مصروف سے انداز میں فون اٹھایا۔
ہایون اریزہ تمہارے ساتھ ہے؟
گوارا چھوٹتے ہی بولی۔
آنی۔ ( نہیں ) کیوں کیا ہوا؟
گوارا لمحہ بھر کو چپ ہی رہ گئ
یار وہ اسکا شام سے کوئی اتا پتہ نہیں ہے۔ مارٹ سے تو سات بجے تک چھٹی ہو جاتئ ہے۔وہ ابھی تک گھر نہیں آئی دس بج رہے ہیں۔ ۔۔ فون بھی بند جا رہا ہے اسکا۔۔
کیا؟ اور یہ تم اب بتا رہی ہو مجھے تم ۔ تو بتاتی بھی نہ مجھے؟؟؟؟۔ وہ چیخ پڑا تھا
مجھے لگا تھا تھوڑی دیر تک آجائے گی مگراب دس بجنے کو ہیں وہ ابھی تک نہیں آئی فون بھی بند جا رہا ہے۔۔ ۔۔ گوارا خائف ہو گئ تھی
اسپتالوں کی ایمرجنسئ سے پتہ کرنا تھا کوئی حادثہ نہ ہوگیا ہو۔۔
گوارا چپ ہی رہی۔۔ اسے یہ خیال نہ آیا تھا ۔۔
ہائش۔۔ ہیونگ سک نے فون بند کردیا۔۔ چند لمحے سوچا پھر اپنا جیکٹ اٹھا کر باہر بھاگا تھا۔۔
فون بھئ کام نہیں کر رہا۔۔ وہ جھلا کر دھپ سے بیڈ پر بیٹھی ہوپ جو اسی وقت گھونٹ بھرنے لگی تھی گرم گرم کافی چھلک کر اسکے ہونٹ جلا گئ۔۔
آہش۔۔ اس نے کپ سائیڈ پر رکھ کر اپنا گریبان جھاڑا۔۔
پھر اسے گھورنے لگی۔ گوارا کو پہلی بار اتنا سنجیدہ اور پریشان دیکھا تھا سو غصہ دبا کر اسے سمجھانے لگی
بچی تو نہیں ہے برفباری کی وجہ سے کہیں رک گئ ہوگی۔ آجائے گئ۔۔
وہ یہاں کسی کو نہیں جانتی پہلی جاب تھی اسکی وہاں سے سات بجے کی۔نکلی ہے۔ابھی تک گھر نہیں آئئ۔ تم نہیں جانتی ہو وہ تو لوکل سفر بھی کرنے کی عادئ نہیں ہے۔ راستے اسکو نہیں آتے۔ جانے کہاں کس حال میں ہوگی۔ وہ تو یہاں کی زبان بھئ نہیں جانتی انجان ملک ہے اسکیلئے۔۔
گوارا اسکی ماں کی طرح پریشان ہو رہی تھی۔
پھر بھی جو لڑکی دوسرے ملک آکر رہ رہی ہے پڑھ رہی ہے وہ اتنی بے وقوف تو نہیں ہوگی۔ کہ۔۔ ہوپ کو اسکی تشویش جانے کیوں بہت بری لگی۔۔
تمہیں ذرا فکر نہیں ہو رہی اسکی؟
گوارا کو واقعی اسکی سخت دلی پر حیرت ہوئی۔۔
وہ بچی تھوڑی ہے۔۔۔ ہوپ نے بے نیازی سے کافی کا گھونٹ بھرا۔۔
اتنی شدید برفباری ہورہی ہے باہر مائنس میں ٹمپریچر ہے کوئی آپکے گھر کا فرد گھر سے باہر ہو اس سے رابطہ بھی نہ ہو پارہا ہو تو کیا فکر نہیں ہونی چاہیئے؟ حیرت ہے تم پر۔۔ اتنئ سخت دل کیسے ہو؟
گوارا نے شرمندہ کرنا چاہا جوابا وہ کھل کر ہنستی
چلی گئ
تم جسے بتا رہی ہو اسے اپنے 5 عدد بہن بھائی ماں باپ کا کوئی اتا پتا نہیں ۔۔۔ زندہ ہیں یا مرچکے۔۔ فکر ؟؟؟؟ فکر بس ترقی یافتہ ملکوں کے پیٹ بھر کے تین وقت کھانا کھانے والے باشندوں کا مشغلہ ہے۔۔ ایسی فکریں پیٹ پالنے کی فکریں پالنے والے نہیں پالتے۔۔ وہ ایک ایک جملے پر زور دے کر بولی تھی۔
ہنسنے کے بعد اسکا لہجہ تیز اور تلخ ہوگیا تھا اسکے جملوں میں محسوس کی جانے والی کاٹ تھی۔
گوارا چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھتی رہی۔
یہ منفی 8 ڈگری یہ؟؟؟ اس نے موبائل پر موسم کی اپڈیٹ دیکھ کر طنزیہ موبائل اسکے سامنے لہرایا۔۔
منفی 12 ڈگری میں بس ایک سوئٹر پہن کر جب میں گھر سے نکلی تھی تو ہم چار افراد تھےماں اور ہم تین بہن بھائی۔ برف سے ڈھکی منجمد جھیل پر قدم اٹھاتے تھے تو لگتا تھا اگلا قدم جھیل سے چپکا رہ جائے گا۔۔ پیچھے گولیوں کی بوچھاڑ کرتے سرحد پر تعینات فوجی تھے تو آگے چینی افواج ہمارے قریب آنے پر ہتھکڑیاں لیئے گرفتار کرنے کو موجود تھی۔۔۔
اٹھاتے چار نفوس نشانہ باندھنے والا بھی رک کر دیکھنے لگا تھا۔۔
ماں اور تین بچے جن میں دو تو شائد دس سال سے بھی کم عمر تھے ایک کو سینے سے چپکائے وہ عورت پوری قوت سے بھاگ رہی تھی جیسے اس ملک سے نکل جانے پر ایک۔خوشحال زندگی اسکی منتظر تھی۔۔
اس نے بندوق نیچے کر لی۔ اسکی دیکھا دیکھی اسکے ماتحت نے بھی۔۔
اتنی مشقت سے اس سردی میں بھاگ رہی ہے وہاں چینی انکو پکڑ کر صبح ہی واپس بھیج دیں گے۔۔ پھر جو انکا حال ہوگا اس سے بہتر ہے ابھی ہی گولی کھا کر مر جائیں۔۔
ماتحت نے اسے جو کہا یا کہنا چاہا وہ سیاق و سباق کے ساتھ روز اول سے ان سب پر عیاں تھا۔
مرنے والوں کیلئے دعا کی جاتی ہے گولی نہیں ماری جاتی۔۔
اس نے گہری سانس لیکر رخ موڑ کر بیرک کی جانب بڑھنے لگا۔۔ماتحت نے بھی تقلید کی۔۔
بیٹا مر چکا ہے اسکا۔۔ اسے پھینک دے تو بھاگنا آسان ہوجائے اسکیلئے۔۔
ماتحت نے یونہی تبصرہ کیا تھا۔۔ وہ مزید انکو دیکھتا
مگر سردی بہت تھی واپسی ہی مناسب تھی۔۔
آہمونی۔۔ بھاگتے بھاگتے یو آنہ گرپڑی تھی ۔ برف پر بھاگنا آسان ہوتا ہے بھلا؟۔ مگر موت سے بھاگنا ہو تو انسان کانٹوں پر بھی بھاگ سکتاہے۔یو آنہ کی پکار پر چھوٹے بیٹے کو سینے سے لگائے بھاگتی ماں رکی بھی نہ تھی۔۔
نونا۔۔ اسکی بہن ماں سے ہاتھ چھڑاتی رک گئ۔ پلٹ کر اسکے پاس آئی۔۔ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اسکو اٹھانے کی کوشش کرتی۔۔ مینا۔
نیلے پڑے ہاتھ پھٹی فراک اور پھٹا ہوا سوئٹر۔
اسکا دل کٹ گیا۔۔ بے اختیار اس نے اسے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔ ماں کا پرانا سوئٹر اسے اتنا کھلا تھا کہ با آسانی اسکی آٹھ سالہ بہن اس میں سما گئ۔۔ اسے ساتھ لگا کر اس نے سوئٹر کے بٹن بند کیئے۔ ماں چند قدم دور رکی گود میں لیئے ڈھائی سالہ انکے بھائی کو تکے جا رہی تھی۔ پھر جھک کر اسے برف پر لٹایا۔۔ وہ بڑی سی شال جس میں اس بچے کو لپیٹے تھے اپنے گرد پھیلا کر انہیں بلانے لگی۔۔
یوانہ چیخ پڑی۔۔
آہمونی۔ یہ کیا کیا۔۔ چھوٹے کو بخار تھا اسے برف پر لٹا دیا۔۔
ایکدم سے بھاگ کر اسکے پاس جانا چاہا تو بھول بیٹھی ابھی لاڈ میں بہن کو اپنے ساتھ سوئٹر میں گھسایا تھا۔۔ دونوں بری طرح الٹ کر برف پر گریں۔۔ ماں بھاگتی انکے پاس آئی۔۔
یوآنہ مینا ٹھیک ہو تم لوگ؟
ماں نے جلدی سے یوآنہ کو اٹھایا۔۔
لو یہ چادر تم اوڑھ لو اوراپنا سوئٹر مینا کو دے دو۔۔
ماں جلدی جلدی اسکا سوئٹر اتار کر مینا کو پہنانے لگی۔۔ سردی نے چوٹ کا درد بھی بھلا دیا تھا۔۔ یو آنہ ماں کی بات سنے بغیر بھائی کی جانب بھاگی۔۔ چندی آنکھوں نیلے ہونٹ والا اسکا بھائی ساکت برف پر سیدھا سیدھا لیٹا تھا۔۔
اس نے پیشانی چھوئی ۔۔
ماں اسکا بخار اتر گیا آہمونی۔۔
ماں نے بے تاثر انداز میں اسکی بہن کا ہاتھ پکڑا اور کھڑئ ہوگئ۔۔
جھیل پار کرتے انہیں صدیاں بیتی تھیں۔۔ برفباری پھر شروع ہو گئ تھی۔۔ پلٹ پلٹ کر دیکھتئ وہ بھائی کی لاش جب تک نظر آتی رہی رک رک کر دیکھتئ رہی۔
پھر برف نے اسکے بھائی کی قبر بنا دی ہوگی اسکا منظر تو طوفانی ہوا اور برف کے بگولے نے دھندلا دیا تھا۔۔
سردی کی شدت انکیلئے اچھی ثابت ہوئی یا بری وہ فیصلہ نہ کر سکیں۔ سردی ان سے انکا بھائی چھین چکی تھی تو بارڈر پر تعینات فوجی بیرکوں میں جا گھسے تھے۔ وہ کب سرحد پار کر گئیں پتہ نہ لگا انہیں۔ چلتے چلتے تھک کر چور ہونے کے باوجود بھی وہ تینوں رکی نہ تھیں۔ نیچے چینی وادی میں بنے گھروں کی چمنیوں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔۔ وہ بس دھوئیں کے تعاقب میں چلتی گئیں۔ صبح کی پیلی دھوپ میں وہ ایک درخت سے کمر ٹکائے سستانے بیٹھیں اور جانے کب سو گئیں۔۔
نامانوس سے احساس نے انہیں بیدار کیا تھا۔۔
آہجومہ۔۔ ایک چندی آنکھوں والا ادھیڑ عمر شخص انکی ہی زبان میں انہیں پکار رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کال بیل کی آواز نے اسکی سوچوں کا تسلسل توڑا تھا۔۔ گوارا ہیون کو کال ملائے بیٹھئ تھی آواز پر دوڑئ دوڑی گئ دروازہ کھولنے ۔۔ سامنے یون بن کھڑا تھا۔۔
خوشی تو کیا ہونی تھی اسے دیکھ کر الٹا تیوری چڑھ
گئ۔ اسے بھی اس استقبال کا اندازہ تھا۔۔۔
کیوں آئے ہو؟ گوارا کا انداز پھاڑ کھانے والا تھا
آئی مس یو۔۔ اس نے گہری سانس بھر کر کہا تھا
وے؟ گوارا کے لیئے خاصا غیر متوقع تھا یہ اظہار۔۔
دے۔۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا تھا۔۔
یو آنہ نے سخت بد مزا سی شکل بنا کر دیکھا تھا۔۔ وہ گوارا کے پیچھے آئی تھی۔ بہر حال اتنی بھی سخت دل نہیں تھی جتنا سب سمجھ بیٹھے تھے۔۔
وہ خاطر مدارت میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہ رہا تھا۔۔کھانا ختم ہوتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
اس نے جھٹ اثبات میں سر ہلایا پھر بلا توقف نفی میں۔۔
بنا زبان ہلائئ سرسے جواب دیتی اریزہ کافی دلچسپ لگی تھی اسے۔۔
چائے پی لو سردی کم لگے گئ۔۔
اس نے کوریائی قہوہ ہی ہاتھ میں اٹھا رکھا تھا۔۔
اریزہ کی ناں ہاں میں نہ بدلی۔۔ وہ کھانسی سے مر بھی رہی ہوتی تو کھانسی کا شربت نہیں پیتی تھی کھانسی کے شربت کے ذایقے والا قہوہ چسکے لیکر پینا
ناممکن۔۔
اس نے سوچ کر جھر جھری لی ۔۔ مگر چہرے پر پورا جملہ لکھا تھا۔۔اسکے۔۔
علی کو اسکے چہرے میں کوئی اور چہرہ دکھائی دیا۔۔ ایسا آئینے جیسا دل کے جزبات چہرے پر کوئی بھی آرام سے پڑھ لے۔۔ سب لڑکیاں ایک جیسی ہوتی ہیں یا اسکو ہی بس لڑکیوں کی یہی قسم ٹکر جاتی تھئ۔۔
اسے مستقل اپنی جانب دیکھتا پا کر وہ تھوڑی گڑبڑا سی گئ۔ اسکا انداز ٹھرکیاںہ نہیں تھا صاف لگ رہا تھا ذہن کہیں اور ہے۔۔
اس نے کھنکار کر متوجہ کرنا چاہا۔۔
چھوگو۔ ( مرو) ۔۔ ( چھوگیو : ایکسکیوزمی)
وہ فورا سنبھلا۔اور حیران ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگا۔میں نے ایسا کیا کہا جو مرنے کا کہنے لگی۔
۔ دے۔۔
۔علی نے سوچا۔۔اسکی ہنگل اسکو ہمیشہ مشکل میں ڈالتی تھئ سو فورا خود ہی بول اٹھا۔
وہ اگر آپکو اپنے گھر والوں کو کانٹیکٹ کرنا ہو تو لیںڈ لائن وہ رہی۔۔ اس نے شستہ انگریزئ میں کہہ کر لائونج کی جانب اشارہ کیا۔۔
دے۔۔ اریزہ اپنی بات بھول گئ۔ اسکے ہاتھ کے اشارے
کے تعقب میں مڑ کر دیکھا تو چاولوں کی ٹرے پر نظر پڑی۔۔
پیلے چاولوں پر کالی کالی سی چیز۔۔ وہ سرعت سے اٹھی۔۔
وہ کالی کالی چیز مانوس سی لگ رہی تھی۔۔
اس نے جھپٹ کر اٹھایا تو اسکا فون تین حصوں میں بٹا پڑا تھا۔۔ فون کور اسکرین پروٹیکٹر چکنا چوراور بیچ میں فون۔۔
یہ۔۔ وہ روہانسی سی ہوگئ۔۔
گرم کھولتا پانی کپ میں ڈال کر قہوہ بناتا علی اسکے پاس ہی چلا آیا ۔
یہ بھیگ گیا تھا۔۔ میں نے فورا آف کردیا تھا تھوڑی دیر ڈرائر سے بھی سوکھایا ہے اب آن کرکے دیکھو انشا اللہ آن ہوجائے گا۔۔
پورے جملے میں اسے بس انشا اللہ سمجھ آیا تھا۔۔
اسکو موبائل کی پڑی تھی۔۔
جلدی سے آن کیا چند لمحے آن ہو کر بند ہوگیا۔
بیٹری ختم ہوگئ تھی۔۔ وہ وہیں کارپٹ پر بیٹھ گئ۔۔
علی تھوڑا سا سٹپٹا سا گیا۔۔ پہلے سوچا جانےدے پھر کہہ ہی بیٹھا۔۔
وہ آپ اس سے ہٹ کر یہاں بیٹھ جائیں۔۔
اسکے اشارہ کرکے کہنے پر اس نے مڑ کر دیکھا۔ وہ موٹا سا رگ تھا مگر تھوڑا سا مختلف۔اس پر مسجد بنی تھی۔۔
یہ تو جاء نماز ہے۔۔ ۔ وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
دے؟۔ علی کو اسکی زبان نہ سمجھ آئی۔
بیان۔۔ ۔۔ اس نے سوری کہہ دیا۔۔
کوئی بات نہیں۔ آپ نے اگر کسی کو اپنی خیریت کی اطلاع دینی ہے تو دے دیں۔۔
علی نے کہا تو وہ الجھن بھرے انداز میں دیکھنے لگی۔
فارنرز کے لیئے یہاں کے لوگ کافی مشکوک رہتے ہیں خاص کر اگر آپ ہاسٹل یا اپارٹمنٹ کرائے پر لیکر رہیں۔ اگر آپکو اپنی مالک مکان کو گھر والوں یا کسی دوست کو اطلاع دینی ہے تو یہ لینڈ لائن استعمال کر لیں
اس نے تفصیل سے دہرایا۔۔تو وہ چپ رہ گئ
میرے لیئے یہاں کون پریشان ہوگا۔ اس نے سوچا۔
گوارا۔
اسکے دماغ کی بتی روشن ہوئی۔
مگر اس سے رابطہ کیسے کروں فون نمبر تو سب فون میں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ پریشان نہ ہوں تھوڑا سا صبر سے کام لیں۔۔ہم نے پٹرولنگ کو مطلع کر دیا ہے کسی بھی علاقے سے کوئی اطلاع ملتی ہے تو ہم آپکو مطلع کر دیں گے۔۔
وہ اس وقت پولیس اسٹیشن میں بیٹھا تھا ۔آفیسر نے اسکی درخواست پر فوری کام کیا تھا۔۔ اب تسلی دے رہا تھا۔۔
آپ دیکھیں باہر کتنی شدید برفباری ہے۔ وہ ایک غیرملکی ہے یہاں کے راستے زبان یکسر اجنبی ہیں اسکیلئے وہ اس برفباری میں بھٹک نہ رہی ہو آپ اسے ڈھونڈیے
دیکھیں ہم نے ہاسپٹلز میں اطلاع دے دی ہے ایمرجنسی میں فی الحال آپکی بتائی گئ معلومات کے مطابق ایسی کوئی غیر ملکی لڑکی نہیں آئی ہے۔ اور برفباری شدید ہے ایسے میں یقینی طور پر کسی ریستوران ہوٹل یا سرائے میں پناہ لے رکھی ہوگئ ایسے موسم میں رعائیت کر دیتے ہیں خاص کر غیر ملکیوں کے ساتھ۔ آپ اتنے فکر مند نہ ہوں۔
لب لباب یہ تھا خدارا ہوش کے ناخن لو سر نہ کھائو
آپ نے سیل فون سے ٹریس کی لوکیشن؟؟؟
اس نے بے تابئ سے سوال کیا۔
سیل فون آف ہے آخری بار جس ٹاورسے سگنل ملے ہیں
وہ مین کنگنم ہے ۔۔ یہاں سے رہائشی علاقہ قریب ہے۔ یقینا انہوں نے اسی علاقے میں کہیں کسی گھر میں پناہ لے لی ہوگی برف۔۔۔
اسکا جملہ مکمل ہونے سے پہلے بجلی کی تیزی سے ہیونگ سک نے اپنا موبائل اور چابی اٹھائی تھی اور باہر بھاگا تھا۔۔
آفیسر ہکا بکا دیکھتا رہا۔۔
اب اتنی برفباری میں نکلا ہے ایک اور ایکسنڈنٹ کی رپورٹ تیار کرنی پڑ جانی ہے ہمیں۔۔
وہ بڑ بڑا کر رہ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی نے اپنا موبائل چارجنگ سے نکال کر چارجر میں اسکا موبائل لگا دیا تھا۔۔
گونو وویو۔۔
اس نے شکریہ ادا کیا تو علی ہنس پڑا۔
گومو وویو۔۔
اس نے کوریائی لہجے میں دہرایا۔۔ جوابا اریزہ نے تھوڑا سا برا مانتے ہوئے بالکل صحیح انداز میں لہجے کی نقل کی۔۔
واہ۔۔ تمہارا لہجہ کافی رواں ہے۔۔ فارنرز کیلئے صحیح ادائیگی مشکل کام ہوتا ہے۔۔۔ علی جانے سچ مچ متاثر
ہوا تھا یا یونہی بات بڑھانے کو لگا ہوا تھا۔۔
آپکی انگریزی رواں ہے ورنہ یہاں کے لوگوں کا لہجہ پینڈو سا ہوتا یے۔۔
وہ بھی روانی میں کہہ گئ۔۔
پینڈو؟؟ اسے سمجھ نہ آیا۔
اب پینڈو کو انگریزی میں کیا کہیں گے۔۔ وہ بڑ بڑائی
نتھنگ۔۔ ذیادہ دماغ پر زور دینا اسے کبھی پسند نہیں رہا تھا۔۔
تم اگر چاہو تو اندر کمرے میں جا کر آرام کر لو۔۔
علی نے کہا تووہ چونکی
ساڑھے گیارہ بج رہے تھے یقینا یہ اسکے آرام کا وقت تھا۔ وہ شرمندہ ہو گئ
آپ آرام کر لیں اپنے کمرے میں جا کر آرام سے میں بس موبائل چارج ہو جائے تو جانا چاہوں گی۔آپ میری وجہ سے اپنی نیند نہ خراب کریں۔
اسے خیال آیا ایک کمرے کے اپارٹمنٹ میں وہ یقینا اسکی وجہ سے بے آرام تھا۔۔
میں انسومینیا کا شکار ہوں میں سوتا نہیں ہوں۔ علی سادہ سے انداز میں بتاتا چائے کا خالی کپ رکھنے اوپن کچن میں چلا گیا۔۔
آپ کیا کرتے ہیں؟؟؟ اس کو خیال آیا۔۔
بزنس ماسٹرز ہوں۔ وہ مسکرایا
ساتھ گیسٹ لیکچرر ہوں ایک اکیڈمی میں ساتھ ساتھ ایک ریستوران شروع کیا ہے جس میں حلال کورین فوڈ پیش کی جاتی ہے۔۔ یہ جو ابھی اسٹیک کھایا ہے آپ نے خالصتا کوریائی ٹچ کے ساتھ میری ذاتی ترکیب سے بنا ہے۔۔
پھر تو آپکا ریستوران چلتا ہی نہیں ہوگا۔۔
اس نے جھٹ خیال ظاہر کیا
کیوں؟۔ وہ حیران ہوا۔۔
حلال فوڈ مسلمان ڈھونڈتے ہیں اور یہ ٹھہرا نان مسلم ملک۔۔ مانگ ہی نہیں ہوگی اس طرح کے کھانے کی۔۔
اس نے وجہ بھی بتادی۔۔
علی نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا وہ۔ کھانے کے برتن سمیٹ رہا تھا ساتھ ساتھ اس سے باتیں بھئ کر رہا تھا۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے خوب چلتا ہے۔دراصل۔ مسلمان حلال کے سوا نہیں کھاتے مگر نان مسلم کو تو حلال حرام سے فرق نہیں پڑتاوہ حلال فوڈ بھی کھا لیتے ہیں بلکہ ۔۔ میرے ریستوران میں تو اکثر وی لاگر حلال فوڈ کھانے آتے ہیں اور انکے ریمارکس پر میرے ریستوران پر کسٹمرز بھئ کافی بڑھے ہیں۔۔
اچھا بڑی بات ہے۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔
ایک بار تو مجھے ایک کسٹمر نے آکر حلال پورک اسٹیک کی فرمائش بھئ کی۔۔
وہ ہنستے ہوئے بتانے لگا۔
اریزہ بھی ہنس پڑی۔۔اسکا موبائل جان پکڑنے لگا تھا۔ اس نے فورا بٹن دبا کر آن کردیا
آپ سوچ رہی ہوں گی اسمیں ہنسنے کی کیا بات ۔۔ در اصل مسلمان پورک نہیں کھاتے۔ مکمل منع ہے انکیلئے پورک کھانا۔ حلال فوڈ سے مطلب کوئی نیا فلیور نہیں ہوتا بلکہ جانور کی گردن کی رگیں کاٹ کر اسکی جان لینا وہ بھی اسم الہی کے ساتھ۔۔ اسے حلال کرنا کہتے ہیں۔۔
اس نے تفصیلی جواب دیا تھا۔
میں جانتی ہوں۔۔ میں بھی۔۔ اریزہ نے بتانا چاہا تبھئ اسکا موبائل بج اٹھا۔۔
اس نے آگے بڑھ کر نام دیکھا لکھا تھا
ہیون کالنگ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدھے گھنٹے میں وہ اسکے سامنے تھا۔
تم ٹھیک ہو،؟۔
وہ فکرمند تھا
بالکل۔ ان صا حب نے بہت خیال رکھا میرا۔اس کے کہنے پر ہیون کو خیال آیا
شکریہ یار ۔۔
بیٹھو کافی پی لو۔۔۔
وہ محظوظ انداز میں اسے دیکھ رہا تھا۔
پریشان حال بکھرے بال جن پر برف بھی پڑی تھی۔ اتنا اجڑا پجڑا ہیون نامانوس تھا اسکیلیئے۔۔
نہیں۔ بس اب چلتے ہیں ہم۔ ہیون نے کہا تو اریزہ نے مڑ کر کوریائی انداز میں جھک کر آننیاگ واسے او کہا۔
علی نےاسے اسی کے انداز میں جواب دے کر ہیون کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور جان کر ہنگل میں بولا۔
مجھے اندازہ ہوتا تو سب سے پہلے تمہیں اطلاع دیتا۔ پھر بھی تمہیں مجھ سے بات کرکےاطمینان ہوجانا چاہیئے تھا اتنی برفباری میں ڈرائیو کرکے یہاں آئےہو۔ یہ لڑکی دوست سے کچھ ذیادہ ہے ہے نا؟۔۔
اسکا انداز چھیڑنے والا تھا۔۔
ہیون جھینپ سا گیا۔۔
بہت ذیادہ۔۔
اس نے سچے دل سے کہا تھا۔۔
دونوں ہی ہنس دیئے۔۔ انکے ہنسنے پر اریزہ نے مڑکر
دیکھا
فیس بک پر جانے کس صدی کی تصویر لگائی ہے اصل میں تو ٹھیک ٹھاک وجیہہ اور مہربان سا ہے۔۔۔
اس نے سوچا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم مجھے کال کر لیتیں ۔۔ آج تو برفباری بھی یکدم سے بہت شدید شروع ہوگئ ہے۔۔ اسکیلئے دروازہ کھولتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔گاڑی میں بیٹھ کر اس نے سب سے پہلے ہیٹر آن کیا تھا۔۔
معزرت۔۔ وہ بس کہہ کر چپ ہوگئ۔۔
بندہ ویدر فارکاسٹ ہی دیکھ لیتا ہے۔گرم کپڑے پہن کر نکلتا ہے۔۔ ابھی سیول میں شدید سردی پڑنی شروع بھی نہیں ہوئئ۔۔ اوپر سے موبائل بند گوارا وہاں الگ پریشان ہو رہی ہے۔۔ ہم سب کو فکر یہ تھی کہ راستے نہیں یاد یہاں کے۔ہنگل بھی نہیں آتی تمہیں۔۔ کسی مصیبت میں نہ پھنس گئ ہو۔۔اور ہمارا اندازہ صحیح نکلا۔ چوٹ اندرونی ہے یا خون بھی نکلا؟
وہ یقینا کافی پریشان ہوا ہوگا جبھی نان اسٹاپ بولتا گیا۔۔ اسے اپنی غلطئ کا اندازہ تھا
نہیں خون نہیں نکلا۔
اس نے دھیمی آواز میں جواب دیا
بہت قسمت اچھی تھی جو جون جے مل گیا۔۔ ایک تو رج کے شریف اوپر سے انگریزی بھی آتی ہے اسے۔۔۔ تم۔۔
بولتے بولتے اسکی نظر اریزہ پر پڑی تو یکدم چپ ہو رہا۔۔ وہ آنکھیں پونچھ رہی تھی۔ ۔ وہ چلا نہیں رہا تھا اسے عادت ہی نہیں تھی پھر جملے بھی سخت نہ تھے اسکا رو پڑنا غیر متوقع تھا۔۔ برفباری کی شدت میں کمی آچکی تھی۔اس نے راستے میں ایک۔طرف کرکے گاڑی روک دی۔۔ آنسو پونچھتے سر اٹھایا تو چونکی۔۔ مڑ کر ہیون کو دیکھنے لگی۔۔
وہ اسکے متوجہ ہونے کا ہی منتظر تھا۔۔ فورا معزرت کرنے لگا۔۔
بیانیئے۔ میں شائد زیادہ بول گیا۔۔
اریزہ چپ چاپ اسے دیکھتی گئ۔۔ اسکے چہرے پر فکر پریشانی خیال کیا کچھ نہ تھا اسکے لیئے۔۔ اسے تو لگا تھا یہاں اسے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے جبکہ یہاں اسکیلئے پریشان ہونے والا دوست تھا فکر کرنے والی بہن جیسی گوارا بھی تھی۔۔اسکے اپنے دوست سہیلی جانے کہاں تھے کیا کر رہے تھے۔۔اسکی آنکھیں لبا لب بھر گئیں۔۔
نہیں تمہیں معزرت کرنے کی ضرورت نہیں۔
وہ اور شرمندہ ہوگئ
بس وہ مجھے شرمندگی ہورہی ہے میری فالتو سی ضد کی وجہ سے تمہیں اتنی زحمت ہوئی آئم سوری۔۔
برفباری سردی تنہائی کیسے انسان کو بےبس کرتی ہے وہ بخوبی جانتا تھا۔۔ وہ اسی تکلیف میں مبتلا کسی اور کو سہارا دینے کو بڑھا۔۔ اریزہ نے اسی وقت رخ پھیر کر ڈیش بورڈ پر رکھے ٹشو باکس سے دھڑا دھڑ ٹشوز نکال کر آنسو پونچھ ڈالے۔۔
میں سوچ بھئ نہیں سکتی تھی برفباری دیکھنے کا شوق میرا ایسے تکلیف دہ انداز میں پورا ہوگا۔۔
وہ روانی میں چڑی چڑی سی بولی۔۔
ہیون کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔ رخ پھیر کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔۔
اریزہ کو یاد آئیں اپنی بڑکیں سینٹڈ نالہ برفباری ۔۔ اسے خفت سی محسوس ہوئی۔۔مگر مقابل ہیون تھا ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا۔۔
لپٹ کر کہہ رہی تھی۔۔۔یوآنہ کمرے سے اٹھ کر آئی تھی انہیں لائونج میں بخیریت دیکھ کر سر جھٹکتی واپس کمرے میں جا گھسی سر تک کمبل بھی تان لیا۔
تمہیں پتہ ہے کتنا پریشان تھی میں تمہارے لیئے۔۔
سوری۔۔ وہ اور کیا کہتی۔۔
اور یہ کیا پہن رکھا ہے۔ وہ اس سے دور ہو کر جائزہ لینے لگی۔۔
وہ یہ۔۔ اریزہ ایکدم سرخ پڑ گئ۔۔
برفباری سے کپڑے گیلے ہوگئے تھے تو جون جے نے اسے اپنے کپڑے دیئے تھے۔۔ ہیون کی جانب سے جواب آیا تھا۔۔
اور تم تم بھی لے لیتے جون جے سے کپڑے۔ یہ بوتھا کپڑے پہنے بیماری کو دعوت دے رہے ہو۔۔ سچ بتائو اریزہ یہ سڑک پر دیوانہ وار پکارتا تو نہیں پھر رہا تھا تمہیں جو اتنا بھیگا ہوا ہے۔
گوارا نے اسکو تادیبی نظروں سے دیکھتے بلا لحاظ تبصرہ جڑا تھا۔۔ ہیون ایکدم سرخ پڑا تھا تو یون بن نے منہ پھیر کر مسکراہٹ ضبط کی۔۔ اریزہ نے اب غور کیا تھا۔ اسکی جیکٹ بال سب گیلے تھے۔۔
ہاں تو تین اسپتالوں کے چکرلگائے پولیس اسٹیشن کا الگ دورہ کیا۔ میرے لیئے کوئی چھتری لیئے اوپا
تھوڑی کھڑ ا ہوتا تھا۔۔
ہیون تیز ہو کر بولا تھا۔۔ خفت سے لال چہرے پر بگڑ کر بولتا اسکا بس نہیں تھا گوارا کو کچا چبا جائے۔۔ اریزہ کو بھی بے ساختہ ہنسی آگئ تھی جسے اس نے چھپانے کی کوشش نہ کی۔۔ یون بن اپنے دوست کی مدد کو آیا۔
چلو میں اپنے کپڑے دوں تمہیں۔۔ یون بن اسے بازو سے پکڑ کر کھینچ لے گیا۔۔
صبح مطلع صاف تھا۔۔دھوپ نکل آئی تھی۔۔ اسکے سوا سب گہری نیند میں تھے۔ وہ اپنے آپکو بالکل تازہ دم محسوس کر رہی تھی ۔۔ ساری رات اسے بالکل نیند نہ آئی جیسے ہی پو پھٹنے لگی احتیاط سے بیڈ سے اتری اور کمرے سے باہر نکل آئی۔ یون بن اور ہیون لائونج میں بستر بچھائے بے خبر تھے۔۔ وہ باہر ٹیرس میں چلی آئی۔ سورج نکل رہا تھا۔ وہ بڑے غور سے اسے دیکھنے لگی۔۔ دھلا دھلایا سیول اور نکلتا ہوا نارنجئ سورج ۔۔ اس نے جھٹ تصویر کھینچی۔۔
ہر برفباری کے بعد ایک چمکیلا سورج منتظر ہوتا ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ برفباری سہہ جائیں ۔۔
اس نے لکھ کر تصویر چڑھا دی۔۔
اسکے بلاگ پر اس وقت لوگ نہیں تھے۔۔
اس نے بور سا ہو کر بلاگ بند کر دیا۔ تبھی بلاگ کی اطلاعی گھنٹی بجی تھی۔۔
موسم باہر کے تو بدلتے رہتے ہیں اندر مگر کوئی موسم ٹھہر جائے توکیا کیا جائے۔۔ ؟؟؟
علی۔۔۔۔
یہ۔اس وقت جاگ رہا ہے؟ واقعی انسومینیا ہے کیا اسے۔۔
اسے حیرت ہوئی تھی۔
میرے اندر کا موسم خود اداس سا ہے تمہیں کیا مشورہ دوں۔۔