Category: Salam Korea

سیول کوریا کی سیر پر مبنی اردو ویب سیر ناول ہے جس میں نا صرف آپ سیول کوریا کی سیر کر سکیں گے بلکہ دونوں ممالک کی ثقافت کا تقابلی جائزہ دلچسپ پیرائے میں پڑھنے کو ملے گا
fb urdu kahanian, urdu kahanian , urdu novels, urdu web travel novels , urdu adab, salam korea, urduz

  • Salam Korea Episode 32

    Salam Korea

    by Vaiza Zaidi

    قسط 32

    kdrama urdu,
Desi kimchi,
Desi kdrama fans,
Urdu kdrama,
Urdu web,
Kdrama maza,
Korean masti,
korean dramas,
kdrama,
k drama,
best korean drama,
korean drama 2020,
korean drama 2021,
kdrama 2021
best kdrama,
korean series,
kdramas to watch,
korean drama website,
kdrama website,
netflix korean drama,
asian drama,
best korean drama 2020,
top korean drama,
new korean drama 2021,
best korean drama 2021,
best kdrama 2020,
best kdrama to watch,
best korean drama on netflix,
best korean series,
best kdrama 2021,
kdrama netflix,
k drama urdu,
www korean drama,
watch korean drama,
best k dramas on netflix,
netflix korean drama 2021,
best kdrama on netflix,
new korean drama,
www kdrama,
k drama 2021,
korean series on netflix,
netflix korean drama 2020,
top 10 korean drama,
top kdrama,
top korean drama 2020,
k dramas to watch,
2021 korean drama,
korean drama series,
best korean series on netflix,
new kdrama 2021,
2020 kdrama,
2020 korean drama,
2021 kdrama,
k drama netflix,
best k drama to watch,
romance kdrama,
k drama 2020,
new korean drama 2020,
latest korean drama 2021,
korean dramas to watch,
top korean drama 2021,
watch kdrama,
korean tv series,
highest rated korean drama,
korean drama in hindi,
korean drama shows,
top kdrama 2021,
new kdrama,
watch asian drama,
popular korean drama,
kdrama online,
latest korean drama,
korean drama online,
korean netflix series,
korean tv shows,
korean shows,
must watch kdrama,
korean shows on netflix,
famous korean dramas,
romance korean drama,
top kdrama 2020,
most popular korean drama,
korean series 2021,
must watch korean drama,
new kdrama 2020,
best romance kdrama,
popular kdrama,
good kdramas,
korean drama in hindi dubbed,
korean series 2020,
kdramas 2020,
best korean shows on netflix,
korean drama 2021 netflix,
top k dramas,
top rated korean drama,
watch kdrama online,
korean romance,
top korean series,
netflix k drama,
good korean dramas,
latest kdrama 2021,
most watched korean drama,
top 10 kdrama,
famous kdrama,
all in korean drama,
best k drama 2020,
urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
pakeeza anchal,
l online reading,
pakeeza anchal novel online reading,
urdu novel bank,
urdu novel platform,
yaar zinda sohbat baqi,
desi story urdu,
    Salam Korea Episode 32

    بے خبر سوتے میں جانے موبائل کو کیا تکلیف پہنچی تھی کہ بجتا چلا گیا۔ہر سام سنگ صارف کی طرح اس مارننگ گلوری کو سن کر اسکو غصہ چڑھا تھا رونا آیا تھا نیند ٹوٹنے پر کوستے ہوئے موبائل اٹھایا اور غصے سے بڑبڑائی

     الارم کیوں بج رہا ہے؟ اس نے بند آنکھوں کو بمشکل تھوڑا سا کھول کر الارم بند کیا۔ ساتھ جانے کیا پیغام جل بجھ کر رہا تھا اس نے پروا نہیں کی۔ کروٹ بدل گئ۔ 

    گوارا نے تقریبا ایک بجے کے قریب اٹھایا تھا اسے

    کیا ہےسونے دو۔ 

    وہ بڑ بڑا کر کروٹ بدل گئ

    دے؟ گوارا کو سمجھ نہ آیا مگر نیند کے خمار میں ڈوبی اریزہ کا ترجمے کا کوئی ارادہ نہیں تھا

    اچھا سنو میں بھی جا رہی ہوں باہر۔ تمہارا ناشتہ کرنے کا بھی ارادہ نہیں کیا؟ ایک بج رہا ہے۔۔ 

    ایک بجنے کا سن کر اس نے پٹ آنکھیں کھول دی تھیں

    کہاں جا رہی ہو؟ 

    وہ اٹھ بیٹھی۔۔ 

    سونا جا رہی ہوں کل پیکنگ پھر پرسوں گائوں ۔اس بار کرسمس گائوں میں ہی کروں گئ ہر سال میری اماں کوستی ہیں مجھے کہ میں ہاتھ نہیں بٹاتی۔ 

    خیر ہے دسمبر ابھی شروع ہی ہوا ہے اور تم کرسمس تک وہاں رہوگئ میں کہا کروں گی اتنے دن یہاں۔۔۔۔

     اس چنڈالنی کے ساتھ۔ اس نے چنڈالنی پرکچھ ذیادہ ہی زور ڈال دیا۔

    واٹ چنڈ۔ 

    گوارا کی زبان بل۔کھا گئ چنڈالنی کہتے۔ 

    سونا کیوں جانا ہے ؟ اس نے حیرانگی سے پوچھا تھا گوارا نے کندھے اچکا دیئے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ٹھٹھرا دینے والی سردی کے برعکس اندر نرم گرم ماحول لوگوں کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ کوئی گرم پانی سے نہا کے آرہا تھا تو کوئی بھاپ اڑاتے کمرے میں پسینے نکال رہا تھا۔ ایک جانب خواتین کا انتظام تھا۔ 

    گوارا باتھ گائون  پہن کر اور اسے زبردستی پہنواکر سونا باتھ میں لے آئی ۔ 

    کمرے میں بھاپ جمع تھی۔ کچھ نوجوان لڑکیاں خوش گپیوں میں مگن تھیں کچھ آنکھیں بند کیئے نیم دراز تھیں۔ 

    اسے کچھ بھی تھا سردی یہاں بہت لگ رہی تھی۔ جبھی اس نرم گرم ماحول میں آکر اسے اچھا لگا تھا۔ 

    آدھا پونا گھنٹہ پسینہ بہا کرشاور لیکر باہر آئیں تو ٹھیک ٹھاک تازہ دم محسوس کر رہی تھیں۔ 

    تواضع کیلئے ابلے انڈے اور قہوہ موجود تھا۔ 

    اس کو ابلے انڈے پسند تھے مگر اکٹھے ایک سے ذیادہ کھانے کا کبھی اتفاق نہ ہوا تھا مگر وہاں سب جیسے انڈے سے پیٹ بھر رہے تھے۔وہ دلچسپی سے سب پر نظر دوڑا رہی تھئ۔ 

    یہاں سب سونا ضرور جاتے ہیں؟ 

    اریزہ کا انداز سوالیہ تھا۔

    ہاں کوریا میں رواج ہے۔ فل باڈی مساج سے ساری تھکن اتر جاتی ہے تم تیار ہی نہیں ہوئیں اب گائوں جا کر آہموجی سے کروائوں گی مساج۔ 

    گوارا کو افسوس ہوا۔ اریزہ کان کھجا کے رہ گئ۔ 

    بھلے خواتین ہی مساج کر رہی تھیں پھر بھی اسے مناسب نہ لگا۔

    ہمارے یہاں رواج نہیں ہے یوں مساج کا۔ اس نے کہہ دیا

    مساج ضروری ہوتا ہے چلو بہت سے ممالک میں رواج نہیں مگر سونا تو تقریبا سب ممالک میں ہوتے ہیں اپنے اپنے انداز کے۔ 

    اریزہ نے کندھے اچکا دیے۔

    تم لوگ نہیں سونا جاتے؟ جانا چاہیئے۔ سردیوں میں تو جلد کے مردہ خلیئے اتارنے ہی چاہیئے۔ یہاں کورینز تو ہر صورت سونا ضرور جاتے ہیں۔ 

    گوارا کی حیرت دیکھنے لائق تھی۔ جیسے پاکستانئ گندے رہتے ہوں۔وہ چڑ کر بولی

    ہم۔نہا ہی اچھی طرح لیتے ہیں۔ الگ سے ایسے صفائی کی ضرورت نہیں ہوتی ہمیں۔

    اس نے چڑایا۔ گوارا برا مانے بغیر بولی

    اچھا یہ بتائو تم لڑکیاں وہاں کیسے وقت گزارتی ہو؟ 

    وہ جو پوچھنا چاہ رہی تھی اریزہ کو بتاتے ہچکچاہٹ سی ہوئی۔ تھوڑی دیر مناسب جواب سوچنے کے بعد بس یہی کہا

    گھر میں۔ 

    وہ تو ظاہرہے۔ میرا مطلب تھا تفریح کیلئے کیا کرتی ہو؟ وہاں کلبز وغیرہ ہیں۔ 

    نہیں۔ اس نے سوچا پھر سچ سچ کہہ دیا۔ 

    پھر؟ گوارا ہمہ تن گوش تھی

    اچھا یہ بتائو تم کیسے وقت گزارتی تھیں وہاں؟ 

    بس صبح یونیورسٹی دوپہر کو گھر آتی تھی نماز وغیرہ پڑھ لی پھر گھر کے کام صفائی کھانا بنانا وغیرہ کبھی بہت دل کیا تو صارم کے ساتھ باہر جا کر آئیسکریم کھا لی۔یا سردیوں میں سوپ پینے چلےگئے۔ سردیوں میں رشتے دار وغیرہ آجاتے ہیں تو انکے ساتھ گھومنے پھرنے کا پروگرام بنا لیتے ہیں۔

    ورنہ گھر میں۔ 

    وہ شرمندہ سے انداز میں بتا رہی تھئ۔ کیا بتاتی وہاں لڑکیوں کی تفریح کا کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔ 

    تمہاری دوستیں ہیں ؟ انکے ساتھ نہیں کہیں جاتیں؟ 

    گوارا بہت سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔ 

    ہیلو ہائے تو بہت سی لڑکیوں سے ہے۔ دوستی بس سنتھیا کے ساتھ تھی۔ اسکے گھر چلی جاتی تھی یا کبھی ہم دونوں مل کر بازا رچلی جاتی تھیں وہ بھی کبھی کبھار ورنہ اپنی شاپنگ کیلئے تو امی کے ساتھ جاتی تھی میں۔ 

    اسے یقین ہوچلاتھا کہ گوارا اسے ٹھیک ٹھاک گیا گزرا سمجھ رہی ہے۔ 

    تم جاب نہیں کرتی تھیں نا وہاں تو پیسے کون دیتا ہے تمہیں شاپنگ کیلئے؟ گوارا کو نہ جانے کیا دلچسپی تھئ

    بابا۔ اس نے مختصرا کہا۔ وہ موضوع بدلنا چاہ رہی تھی

    میں اپنی امی کے ساتھ آخری بار شاپنگ پر سیونتھ کلاس میں گئ تھئ۔ اسکے بعد سے آج تک کبھی موقع نہیں ملا۔ ہائی اسکول سے مختلف جاب کرنا شروع کردی تھیں میں نے۔پڑھائی کاخرچ اٹھانے کے بعد کبھی اتنے پیسے بچے نہیں کہ خوب ساری شاپنگ کر سکوں۔ بس ضرورت کی ایک آدھ چیز لیتی تھی۔ پھر گوشی وون میں رہ رہ کر پیسہ پیسہ جوڑا یونیورسٹی میں ایڈمیشن کیلئے۔ تب خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میرے بابا کا انتقال ہوگیا۔ انکی انشورنس سے خوب پیسہ ملا تو آہموجی نے اپارٹمنٹ لیا مگر وہ اسے کرایے پر چڑھانا چاہتی تھیں۔ میں نے تب ضد کی اور یہاں آگئی۔ ورنہ اسکا کرایہ بھی میری آہموجی نے اپنے نئے بچوں پر خرچ کرنا تھ۔ا۔

    نئے بچوں پر؟ وہ اسکی اصطلاح پر حیران ہوئی

    میرا بس ایک بھائی ہے۔چار سال چھوٹا۔ بس باقی آہموجی نے جب دوسری شادی کی تو آہجوشی سے دو بچے ہوئے انکے ابھی اسکول میں پڑھتے ہیں۔آہجوشی کا ایک بیٹا میرا ہم عمر ہے۔ اپنی ماں کےترکے سے ملنے والا ایک پیسہ اس نے آہموجی کو نہیں دیا۔ اپنا کاروبار کر رہا ہے مگر نا آہجوشی کو ایک پیسہ دیتاہے نا آہموجی کو۔ میرا بھائی آہجوشی کا ہاتھ بٹاتا ہے انکے ریستوران میں مگر اسکی تعلیم کا خرچہ تک وہ نہیں اٹھاتے۔ اسکے لیئے وہ الگ جاب کرتا ہے۔ تو اس فلیٹ کی رقم میں اپنے سوتیلے بہن بھائیوں پر کیوں خرچ کروں؟ یہ بس میرا اور میرے بھائی کا ہے۔ جب اسکی یونیورسٹی کی باری آئے گی وہ یہاں میرے ساتھ رہے گا پڑھے گا۔

    گوارا نے عزم کیا۔ تصویر کا دوسرا رخ دیکھ کر وہ حیران سی رہ گئ تھی۔ 

    اسکی پڑھائی کا۔خرچ؟ اریزہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔ 

    اس نے جمع کیا ہے کچھ ۔ وہ بہت ذہین ہے ٹیوشنز پڑھاتا ہےاور کچھ پیسہ میرے پاس بھی ہے۔ 

    پتہ ہے ماڈلنگ شروع کی تھی میں نے۔ تصویر میں میری ناک اورہونٹ اچھے نہیں آتے تھے۔ اس پر مجھے ایجنسی نے ریجیکٹ کر دیا۔ پورے دو سال پیسے جمع کیئے میں نے کہ آپریشن کروالوں۔ 

    وہ اپنی انتہائی مہنگی ناک چھو کر بولی۔

    ماڈلنگ کا موقع تو دوبارہ ملے توتھوڑا  بھائی کےکام آجائیں گے پیسے۔ ارے تم نے ابھئ تک انڈہ۔ختم نہیں کیا؟ بولتے بولتے اس پر نظر پڑی جو ادھ کھایا انڈہ تھامے بغور اسکی باتیں سن رہی تھی۔

    خود اس نے چار انڈے کھالیئے تھے۔ 

    میں بس یہی ایک کھائوں گئ۔ اس نے کہتے ہوئے باقی ماندہ انڈہ منہ میں رکھ لیا۔

    چلو باہر چل کر گھومتے پھرتے ہیں۔۔ 

    گوارا ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

    گنگنم میں گھومتے باتیں کرتے ٹھیلوں سے کھانا چکھتے وہ دونوں بے فکری سے پھر رہی تھیں۔ 

    گائوں جانے کیلئے وہ کچھ تحفے خریدنا چاہ رہی تھی۔ چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے چاکلیٹس بورڈ گیمز بہن کیلئے گڑیا بھائی کیلئے ریموٹ کنٹرول گاڑی۔ دوسرے بھائی کیلئے خوب پیارا سا ہڈ اور سویٹ سوٹ۔ماں کیلئے اونی لانگ اسکرٹ۔ باپ کیلئے بھی ایک سوئٹر خرید ی۔ 

    تم بھی کچھ لے لو۔ اس نے اریزہ کو آفر کی۔ 

    اس نے سوچا پھر نفی میں سر ہلا دیا۔ گورا نے اسکے اور اپنے لیئے ایک جیسی لانگ فراک لی۔

    کرسمس دور ہے مگر کرسمس تک میں یہاں نہیں ہونگی۔ سو اسلیئے ایڈوانس تحفہ ۔۔ 

    اریزہ کے نہ نہ کرنے پر اس نے اصرار سے تھمایا۔ 

    تم آنا نا گائوں۔ بلکہ میں کرسمس سے پہلے ایک پارٹی رکھوں گئ سب آئیں گے تم بھئ آنا۔ کرسمس میں تو سب اپنے اپنے خاندان کے ساتھ مصروف ہوتے ہیں۔ اسلیئے میرا ارادہ پہلے ہی پارٹی کرنے کا ہے۔ 

    دیکھتے ہیں۔ اس نے ٹالا تھا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح نیند سے بیدار ہوتے ہی مانوس سی خوشبو نے اسکو جگا دیا تھا۔ مسکرا کر بستر سے اٹھتے وہ بنا آہٹ کیئے کچن میں چلا آیا تھا۔ حسب توقع سنتھیا ایپرن باندھے پراٹھا بنا رہی تھی ۔ ایک جانب نان اسٹک پین میں پیاز نرم ہو رہی تھی۔ وہ دبے پائوں اسکے قریب آیا اور اسکو پیچھے سے جا کر بانہوں میں بھر لیا۔ اسکے کندھے پر تھوڑی ٹکادی۔۔ 

    کیا کر رہی ہو میری جان۔ 

    سنتھیا مسکرا دی۔ 

    پراٹھا بنا رہی ہوں۔ پیچھے ہو پراٹھا جل جائے گا۔ اس سے خود کو چھڑاتے وہ جلدی سے آگے بڑھ کر پراٹھا پلٹنے لگی۔ سنہری سنہری گول سا پراٹھا۔ اسکی بھی بھوک چمک اٹھی تھئ۔

    میں آملیٹ بنا دیتا ہوں۔ اس نے آگے بڑھ کر پین تھاما۔ 

    گومو ووئو۔ سنتھیا  شکر گزار ہوئی۔ ایڈون نے بھنوئیں اچکا کر دیکھا تو وہ کھسیا کر ہنس دی ۔ایڈون بھی ہنس دیا

    شکریہ۔۔ ایک تو کورینز نے گومو وویو زبان پر چڑھا دیا ہے۔ ویسے یہاں رہ رہ کر اچھی کورین آجائے گی ہمیں۔

    پراٹھا اتار کر ہاٹ پاٹ میں رکھتے وہ مصروف سے انداز میں بولی۔ 

    تمہیں کورین بولنی آجائے گی اور کورینز کو پراٹھے کھانے آجائیں گے۔ ایڈون نے پہلے سے حل شدہ انڈوں کا آمیزہ فرائی پین میں انڈیلا۔ 

    اس دن گوارا بتا رہی تھی کہ وہ ناشتے میں پراٹھا کھا کے آئی ہے۔ اسے اریزہ نے بنا کر دیا تھا۔ 

    وہ سادہ سے انداز میں بتا رہا تھا۔ سنتھیا کے تاثرات کھردرے سے ہو گئے ۔ ہاٹ پاٹ اٹھا کر وہ میز پر رکھنے لگی۔ پلیٹیں بھاپ اڑاتئ چائے کا کپ ۔۔ ناشتے کے سب لوازم مکمل تھے۔ 

    لو جی آگیا انڈہ۔ میرے ہاتھ کا بنا انڈا کھائو گی کیا یاد کروگی۔ 

    وہ خاصا خوش تھا اپنی کارکردگی پر۔ سنتھیا اسکو دیکھ کر ہنس پڑئ

    زندگئ میں پہلی بار تلا ہے انڈہ اور بالکل صحیح تلا۔ 

    وہ داد چاہ رہا تھا۔ 

    شکریہ جناب میں مشکور ہوں آپ نے اتنی زحمت کی میرےلیئے۔ وہ بھی ہلکے پھلکے انداز میں کہتی اسکے مقابل آ بیٹھی۔ 

    ویسے تمہیں آٹا کہاں سے مل گیا۔ یہاں۔ نوالہ بناتے یونہی ایڈون نے پوچھا۔ 

    یہاں شائد جو پہلے لوگ رہنے آئے تھے انکو بیکنگ کا شوق تھا۔ میدہ کارن فلور ونیلا ایسسنس سب کچھ بچا ہوا تھا کیبنٹ میں پڑا تھا۔  

    اس نے کہا تو ایڈون سر ہلا گیا۔ 

    تم مجھے کسی کا چھوڑا ہوا کھلا رہی ہو۔ وہ مستی میں بول گیا۔ 

    خود بھئ یہی چھوڑا ہوا کھا رہی ہوں۔ سنتھیا نے گھورا۔ 

    مجھے چھوڑا ہوا کھانے کی عادت نہیں ۔۔ ایڈون نے چڑایا

    مجھے بھی چھوڑا ہوا اپنانے کی عادت نہیں تھی۔ سنتھیا نے لمحہ بھر توقف کیئے بنا کہا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمہارے لیئے جان بھی دے دوں تو تم مجھ پر یقین نہیں کروگی ہے نا۔ میں کیا کروں ایسا کہ تمہارا شک دور ہو جائے۔ نام تک نہیں لیتا میں ۔ خود کو اتنا سمجھاتا ہوں۔ مگر اریزہ۔۔ سوری سنتھیا میرے منہ سے نکل گیا نام سوری۔۔۔۔ اس نے سسکیاں بھرنا شروع کردیں۔

    بار کے باہر ایک دکان کے آگے رکھے آرائشی بڑے سے غبارے والے بھالو کے سامنے دو زانو بیٹھا بین کر رہا تھا۔ 

    کم سن نے گھور کر یون بن کو دیکھا۔ 

    مجھے گوارا کے ساتھ ڈنر پر جانا ہے ورنہ یہ کارخیر خود انجام دیتا۔ اسکے گھر کا پتہ بھی نہیں تھا ورنہ ٹیکسی میں بٹھا کے بھیج دیتا۔

    یون بن نے صفائی دی۔ کم سن دانت پیسنے لگا۔

    یہیں پڑا رہنے دیتے جوان آدمی ہے مر تھوڑی جاتا۔ 

    کم سن کے کہنے پر یون بن نے بہت حیرت سے اسکی شکل دیکھی وہ تھوڑا کھسیا گیا۔

    یہ دوست ہے ہمارا۔ 

    اس نے جیسے یاد دلایا۔

    شاہزیب سے دوستی تھئ میری اس سے کبھی نہیں بنی میری اور اب تو۔۔ 

    وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ 

    اچھا میں خود چھوڑ آئوں گا اسے مجھے بتادو اسکا پتہ۔ 

    یون بن خفا تو نہیں ہوا مگر انداز تھوڑا کھردرا ہوگیا تھا۔

    چھیسو(جانے دو)

    تم جائو گوارا ناراض ہو رہی ہوگی دیر ہونے پر۔ میں چھوڑ آتا ہوں اس سوغات کو۔

    اس نے ہونٹ بھینچے۔ پھر اس نے یون بن کو بھیج کر خود بھئ ایک ٹیکسی روکی ۔ ایڈون کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ بٹھایا ۔

    سنتھیا کو میری بالکل پروا نہیں ہے۔ وہ میری گرل فرینڈ نہیں رہی ہے وہ بس اب بچے کی ماں ہے۔اس بچے کے پیچھے مجھ سے بھی ناطہ توڑنے کو تیار ہے۔ بچے تو اور ہو جائیں گے ہے نا۔ مجھ پر اس بچے کو فوقیت دینا غلط ہے نا۔ وہ مجھ سے پیار کرتی ہے ناہے نا 

    ایڈون کم سن کے کندھے پر سر رکھے پوچھ رہا تھا۔ کم سن کی جانے بلا ۔ وہ اپنی بات دہراتا سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھنے لگا۔ 

    ماں تو پھر ایسی ہی ہوتی ہے نا۔ ماں کیلئے سب سے اہم اسکا بچہ ہوتا ہے۔ آپ اپنی گرل فرینڈ کے بچے سے محبت جتائیں وہ یقیناآپ سے خوش ہوجائے گی۔

    اتنی دلگیری سے ڈرائیور نے جواب دیا کہ کم سن چونک کے شکل دیکھنے لگا۔ 

    تمہیں سمجھ آرہی ہے یہ کیا کہہ رہا؟ 

    کم سن کے پوچھنے پر وہ تھوڑا گڑبڑا سا گیا۔ 

    جی وہ چھے سو ہمبندا ( مجھے معاف کیجئے گا) میں حد سے بڑھا۔ 

    شستہ ہنگل میں ڈرائیور نے جواب دیا۔

    اس نے کیا کہا ہے ابھی؟ کم سن نے پوچھا۔

    ڈرائیور سوچ میں پڑا پھر ترجمہ دہرا دیا۔کم سن نے گھور کر ایڈون کو دیکھا۔ 

    کہہ سیکی۔ اسکے منہ سے بے ساختہ ہی گالی نکلی تھی۔

    ڈرائیور کو ہنسی آگئ۔ پھر فورا ہی ہونٹ بھینچ لیئے۔ کم سن نے اسے بھی گھورا۔

    تم پاکستانی ہو؟ 

    میں پاکستانئ ہوں۔ ایڈون کی جانب سے جواب آیا وہ اب دوبارہ اسکے کندھے پر سر رکھ اونگھ رہا تھا۔

    اس نے چڑ کر پرے کیا اسے وہ سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگا۔

    تم بھی پاکستانی ہو ؟ 

    کم سن پھر پوچھ رہا تھا۔

    آنی۔ بیک ویو مرر میں کم سن کو متوجہ دیکھ کر ڈرائیور نے جواب دیا۔

    میں بھارتی ہوں۔ مگر ہندی سمجھ سکتا ہوں۔ یہ پاکستانی ہیں؟ 

    اس نے پوچھا تو کم سن نےسر ہلا دیا۔ 

    آپکے دوست ہیں؟ 

    دے۔ مختصرہی جواب دیا۔

     کیا نام ہے انکا؟ 

    ڈرائیور جتنی دلچسپی سے پوچھ رہا تھا کم سن کو اتنی ہی بیزاری ہو رہی تھی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایڈون۔

    اسکے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ بی پی شائد ہائی ہو گیا تھا۔ رو رو کے سوجی ہوئی آنکھیں اکھڑی سانسیں۔ اسے لگا تھا اسکا آخری وقت قریب آچکا ہے۔وہ ہمتیں مجتمع کرکے اسکے کمرے کے دروازے تک آئی تھئ۔ ہلکا سا تھپتھپا کر اس نے پکارا مگر آواز ڈوب رہی تھی اسکی۔ 

    دو تین دفعہ تھپتھپانے پر بھی دروازہ نہ کھلا تو وہ بے دم سی ہو کر واپسی کو مڑی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شام کو تھکی ہاری وہ اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تھیں۔ ہوپ کہیں تیار ہو کر جا رہی تھی ۔ روز مرہ کی گھسی جینز اور شرٹ کی بجائے کالی لانگ اسکرٹ ٹاپ اور ٹخنوں سے تھوڑا سا اوپر  تک کے کورٹ شوز پہنے چھوٹا سا پرس کندھے پر لٹکائے۔دونوں کا بلا ارادہ منہ کھل سا گیا تھا۔ انکو نظر انداز کرتے اونچی ہیل کو کھٹ کھٹ کرتی وہ انکے پاس سے گزر کر جانے لگی

    کدھر جا رہی ہو؟ 

    اریزہ نے کہنی کمر میں گھسیڑ دی تھی گوارا کے کہ مت پوچھو پھر بھی مجال ہے جو اس نے اثر لیا ہو۔ دھڑلے سے اسے کہنی سے تھام کر روک ڈالا۔ 

    وہیں جہاں اریزہ جا رہی ہے۔ خشک سے انداز میں کہہ کر اس نے جھٹکے سے کہنی چھڑائی تھی۔ ردعمل کے طور پر پوری قوت سے دروازہ بند کرتی گئ۔ 

    ہائش۔ گوارا بھنا کر اسکے پیچھے مارنے کو دوڑی مگر اریزہ نے کھینچ کھانچ لیا۔ 

    کیا کہہ رہی تھی؟ 

    اریزہ کو تجسس بھئ تھا۔ دونوں نے ہنگل میں ہی گفت و شنید کی تھی سو اسکے سر پر سے گزرا 

    اسکا جملہ دہراتے دہراتے گوارا ٹھٹک کر رکی۔ 

    تمہارا ہیون کے ساتھ کانسرٹ میں جانے کا پروگرام تھا نا؟ 

    ہاں وہ تو ہفتے کی رات کو ہے کانسرٹ۔ وہ آرام سے انگڑائی لیتی صوفے پر گری۔ 

    تو؟ آگاشی آج ہفتہ ہی ہے ؟

    کمر پر ہاتھ رکھ کر گوارا نے جتایا تو وہ چونکی۔ 

    ہیں ؟ واقعی؟ 

    وہ اچھل پڑی۔ اپنا موبائل اٹھا کر دیکھا تو ریمائنڈر صبح بجتا رہا تھا۔۔ ساتھ ہیون کی چار مسڈ کالز جو دن بھر میں وقفے وقفے سے تھیں۔ ایک پیغام بھی تھا

    میں پندرہ منٹ میں آرہا ہوں۔ پیغام آئے دس منٹ ہو چکے تھے

    کیا ہوا۔۔ اسکا بھونچکا انداز کافی دیر تلک نہ بدلا تو گوارا بھی تشویش میں مبتلا ہو کر اسکے پاس آبیٹھی اور کندھا ہلانے لگی۔ 

    میرا فون سائلنٹ پر تھا سارا دن ۔۔۔۔ اریزہ روہانسی سی ہوگئ

    تو کیا ہوا؟ میری یون بن سے لڑائی ہوتی ہے تو میں بھی فون سائلنٹ کر دیتی ہوں۔

    گوارا نے اطمینان سے انگڑائی لی۔تبھی آطلاعی گھنٹی گنگنا اٹھی

    ہیون ہوگا۔شٹ میں تو تیار بھی نہیں ہوئی۔ اریزہ جیسے سر پر پائوں رکھ کر اندر کمرے میں بھاگی

    ہیون۔ گوارا نے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھا تبھی دوبارہ گھنٹی بج اٹھی۔ وہ مارے باندھے دروازے پر چلی آئی۔ 

    تھیبا۔ دروازہ کھولتے ہی اسکے منہ سے نکلا تھا۔ 

    جدید ترین رواج کے مطابق اونچے سے برانڈ کے اپر جیکٹ اور جینز میں ملبوس نک سک سے بال درست کیئے خوشبوئوں میں بسا ہوا ہیون اسکے انداز پر خجل سا ہو کر سر پر ہاتھ پھیرنے لگا

    ٹھیک لگ رہا ہوں؟ ۔ اس نے یونہی پوچھا۔ گوارا کچھ کہنے کی بجائے ایک طرف ہوگئ ہیون راستہ پا کر اندر چلا آیا۔

    یون بن کو تم پر ترجیح دینے پر افسوس ہو رہا ہے مجھے۔ 

    گوارا مایوسی سے سر ہلاتی دروازہ بند کرنے لگی۔ 

    انیس بیس ہی ہیں ہم دونوں لوگوں کو ہم ایک شکل کے لگتے ہیں۔ 

    ہیون نے چھیڑا تو گوارا نے برا سا منہ بنایا

    تم پھر بیس ہی ہو نا۔ ویسے انی نے کانسرٹ میں میرا داخلہ بند تو نہیں کیا ہوا ہوگا ہے نا؟ اور اگر دیگر جوڑے جائیں تمہارے ساتھ تو وہ کوئی ہرجانہ بھی نہیں کرنے کاارادہ رکھتی ہوں گی۔ ہے نا؟ ایسے ہی معلومات کیلئے پوچھ رہی ہوں۔ 

    اس نے اطمینان سے چبا چبا کر کہا تھا۔ ہیون کے چہرے پر خفت سی پھیل گئ۔ 

    بیانیئے۔ اس نے سیدھا سیدھا معزرت کی۔ 

    اسکے انداز پر گوارا قہقہہ لگا کر ہنس دی۔ 

    تم بہت پیارے ہو۔ خدا کرے  اریزہ آسانی سے مان جائے۔ آج تو پکا پرپوز کر دینا بہترین موقع ہے۔ 

    وہ اسکی تواضع کے خیال سے کہتی ہوئی کچن میں چلی آئی۔ 

    چونکہ ہنگل میں بات کر رہی تھی لہذا آرام سے بولتی رہی بنا پروا کیئے۔ 

    تمہیں بھی یہی لگتاہے نا کہ وہ انکار کر دے گی۔ 

    ہیون سنجیدہ سا ہو کر اسکے پاس چلا آیا۔ 

    اسکے لیئے کافی میکر میں کافی بناتے اسکے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے تھے۔ 

    اس نے پلٹ کر دیکھا تو کائونٹر ٹیبل سے ٹکا ہیون جیبوں میں ہاتھ ڈالے مضطر سا نظر آیا

    وہ بہت مختلف سی لڑکی ہے۔ جتنا تم دونوں ساتھ پھرتے ہو ساتھ رہتے ہو کوئی اور لڑکی ہوتی تو یقینا اب تک تمہیں یقین ہو چکا ہوتا کہ وہ تم میں دلچسپی لیتی ہے۔مگر اسکے ساتھ چوبیس گھنٹے رہنے کے باوجود میں پر یقین نہیں ہو کر کہہ سکتی کہ وہ تمہیں الگ نظر سے دیکھتی ہے کہ نہیں تم 

    اس نے گہری سانس لیکر بات ادھوری چھوڑ دی۔ 

    میری دعا ہوگی کہ تم دونوں اکٹھے ہو جائو خوش رہو۔ 

    اس نے آگے بڑھ کر اسکا کندھا تھپتھپا کر کہا تو وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دیا

    لیکن تم اسکے مخالف ردعمل کیلئے بھی ذہنی طور پر تیار رہنا۔ 

    اسکی بات نے ہیون کی ہنسی نچوڑ سی لی تھی۔ 

    ہوں۔ اس نے دھیرے سے سر ہلا کر نظر چرا لی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    لمبا سفید انرہائی نیک جو اسکی کمر سے تھوڑا نیچے تک آرہا تھا  پہن کر اوپر سے  بریو ہارٹ کی ٹی شرٹ پہنی۔ جو میڈیم سائز ہونے کے باعث ڈھیلی ڈھالی سی تھی اس پر۔ گلے میں اونی اسکارف ڈالا۔ لانگ بلیک اوورکوٹ بلیک جینز اور بلیک ہی ہیل والے جوتے پہن کر وہ خود کو گھوم گھوم کر ہر زاویئے سے دیکھ رہی تھی۔ کراس باڈی چھوٹا سا فان بیگ جس میں موبائل وغیرہ رکھا تھا۔ ایک چھوٹا سا کارڈ کا بیگ جس میں پلیئر اور لائٹ اسٹک کو بڑے اہتمام سے ڈبے میں بند کرکے رکھا تھا۔ 

    بال برش کرکے چہرے پر کریم لگائی تو مرچیں سی لگنے لگیں۔ ہونٹوں پر گلابی لپ اسٹک لگا کر وہ تیار ہو کر باہر نکلی تو ہیون اور گوارا کچن کائنٹرکے پاس اطمینان سے اسٹول پر  بیٹھے کافی اڑا رہے تھے۔ 

    کیسی لگ رہی ہوں۔ اسکو کمرے سے نکلتے دیکھ کر گوارا فورا متوجہ ہوئی اس نے اسی سے پوچھا

    اچھی لگ رہی ہو مگر کیا بہت سردی لگ رہی ہے تمہیں؟ 

    گوارا نے اچنبھے سے کہا تھا۔۔ وہ اسکے ہائی نیک اور سکارف کو تعجب سے دیکھ رہی تھئ۔ 

    ہاں ۔۔۔۔کیوں؟ وہ گڑبڑائی

    یہ اسکارف بالکل ضروری نہیں۔اور لانگ کوٹ میں شرٹ تو چھپا ہی لی ہے تم نے۔ 

    وہ اسکے پاس آکر اسکے کپڑے ٹھیک کرنے لگی۔ اس نے اسکے گلے سے اسکارف نکال دیا تھا۔۔ اب کوٹ اتروا رہی تھی۔ 

    اوہ خدایا ہائی نیک بھی پہن رکھی ہے۔ وہ بھرپور تعجب کا اظہار کر رہی تھی۔ 

    ٹھہرو میں اپنی جیکٹ لا کر دیتئ ہوں۔ وہ اسکا کوٹ اور اسکارف صوفے پر رکھتی اندر کمرے میں چلی گئ۔ 

    اس کے انداز پر خجل سی ہوتی ہوئی اس نے چہرے پر در آنے والی لٹیں کانوں کے پیچھے اڑسیں۔ یونہی نظر اٹھا کر دیکھا تو ہیون اسی کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اسے دیکھے جا رہا تھا مگرانداز اتنا سادہ سا تھا کہ اسے برا نہ لگا۔ 

    یہ شرٹ ڈھیلی ہے نا تمہیں۔ میں کہہ رہا تھا۔ اس نے جتایا اور مڑ کر کافی ختم کرنے لگا۔ 

    اسکے کہنے پر وہ چونکی۔ اسکارف لانگ کوٹ اتارنے کے بعد اسے خیال ہی نہیں رہا تھا کہ وہ بنا دوپٹے کے کھڑی ہے۔ 

    یہ لو۔ اس نے خوبصورت سا گلابی جیکٹ اسے لا تھمایا تھا فٹنگ والا پتلا سا جو اسکی کمر تک آرہا تھا اوپر فر اور پھلتروں کا دلکش امتزاج تھا۔ کندھے پر ستارے دمک رہے تھے۔ 

    اسکو اسکے ہلکا ہونے پر اعتراض سا ہوا۔ پہنتے ہوئے منمنا کر کہنا چاہا۔ 

    ٹھنڈ لگے گئ۔

    بہت گرم ہے یہ اور آج اتنی ٹھنڈ بھی نہیں پانچ ڈگری ہے بس۔ میں تو بس ہائی نیک پہنتی اسکی ضرورت بھی نہ پڑتی مجھے۔ 

    گوارا نے گھرکتے ہوئے اسے پہنایا۔ 

    پانچ ڈگرئ۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ۔ 

    اتنے میں تو پنڈی میں میں بستر سے نہیں نکلتی دو سوئٹریں چڑھا کر کافی یا سوپ اندر انڈیلتی رہتی تھی۔ تم لوگ اوپر سے کوئی گیںڈے کی کھال لگوا کر اترے ہو۔آج جیسے کینچلی اتر رہی تھی اندازہ ہوا مجھے۔ 

    وہ گوارا کو گھورتے ہوئے بولے جا رہی تھی۔ مگر گوارا نے دھیان نہ دیا۔ کونسا دھیان دینے سے اسکی اردو سمجھ آجانی تھئ۔ 

    دے لو جتنی مرضئ گالیاں مگر پہن کر یہی جائوگی تم۔ 

    گوارا نے کہا تو وہ منہ بنا کر بولی

    گالیاں نہیں دے رہی میں۔ گالیاں نہیں دیتی میں۔ اتنا پتہ نہیں چلا ابھی تک میرے بارے میں۔

    اس نے منہ پھلا کر کہا تھا۔ گوارا اسکے انداز پر ہنس پڑی

    تمہارے میک اپ بگڑنے کا خدشہ نہ ہوتا تو ابھی اس بات پر تمہارے گالوں میں کوچی کوچی کرنا تھا میں نے۔ 

    وہ اسکے گالوں پر اشارے سے چٹکیاں کاٹ رہی تھی

    اچھی بات ہے ہاتھ نہ لگائو۔ مگر میں نے میک اپ کیا نہیں ہے۔ 

    اس نے زبان چڑائی۔ 

    کھوجے ما۔ گوارا نے یقین نہ کرتےہوئے اسکا گال چھوا اور حیران رہ گئ۔ 

    واقعی تم نے میک اپ نہیں کیا؟ اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ 

    تمہارے گال بلش کیوں ہورہے؟ اس نے باقائدہ اسکے گال چھوئے۔ 

    آئی لائنر تک نہیں لگایا۔ 

    وہ جیسے بے ہوش ہونے کو تھی۔ 

    بس لپ اسٹک لگائی ہے۔ مجھے میک اپ کرنا آتا ہی نہیں ہے۔ سنتھیا کبھی کبھی تیار کردیتی تھی مجھے آئی لائنر لگاکر یونی جاتے ہوئے مجھے وہ بھی لگانا نہیں آتا۔ کبھی برابر نہیں لگتا۔ 

    اس نے صاف گوئی سے کہا تھا۔ 

    ہائش میں تو بنا میک اپ گھر سے نکلنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی کیسی لڑکی ہے یہ۔ 

    وہ اب ہنگل میں واویلا کر رہی تھی۔ 

    پیاری ۔

    ہیون مگ رکھ کر اٹھا۔ اسکے کان کے پاس سرگوشی کی۔ اریزہ ان دونوں کو منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ 

    چلیں؟ ۔ اس نے پوچھا۔تو ہیون نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس بڑے سے کمیونیٹی ہال کے سامنے رنگ و روشنیوں کا میلہ سا لگا تھا۔ پارکنگ انکو کافی دور ملی تھی۔ بس حد نگاہ تک گاڑیاں ہی گاڑیاں تھیں۔ 

    اندر شائد کانسرٹ شروع ہوچکا تھا سیٹیوں چیخوں اور موسیقی کا بے ہنگم شور باہر تک سنائی دے رہا تھا۔ 

    ہم بریو ہارٹ سے کانسرٹ سے پہلے ملیں گے یا بعد میں؟ 

    ہیون کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے اس نے پوچھا۔ 

    ہوں۔ وہ جیسے اپنے کسی دھیان سے چونکا۔ 

    کیا ہوا؟ کہاں گم ہو ؟ 

    اسکی غائب دماغی پر وہ ہنس دی

    کہیں نہیں کیا کہہ رہی تھیں؟ 

    اس نے سنبھل کر پوچھا۔۔ 

    میں پوچھ رہی تھی ہم بریو ہارٹ سے کانسرٹ سے پہلے ملیں گے یا بعد میں۔ میرا مطلب ہم کانسرٹ میں اسکو لیکر تو نہیں پھریں گے نا؟ 

    اس نے بیگ لہرایا۔ 

    تمہیں کانسرٹ سننے میں کوئی دلچسپی نہیں؟ 

    ہیون کو اسکے انداز پر واقعی حیرت ہوئی

    بالکل نہیں۔ اس نے بلا توقف سر ہلایا

    کیا فائدہ سننے کا جب سمجھ کچھ نہیں آنا۔ نہ زبان نا کچھ اور۔ہاں دھن اچھی ہوتی ہے اور آوازیں بھی بریو ہارٹ کی اچھی ہیں پر کیا مزا جب سمجھ ہی نہ آئے کیا کہہ رہے ہیں۔ 

    وہ روانی میں کہتی گئ۔ 

    ان آٹھ مہینوں میں تمہیں بالکل بھی ہنگل سمجھ نہیں آنی شروع ہوئی۔؟ لوگ تو روانی سے بولنے لگتے ہیں اتنے عرصے میں تو۔ 

    ہیون نے کہا تو وہ کندھے اچکا گئ

    سیکھیں تب نا۔مجھے نہ ضرورت ہے نا خواہش۔ انٹرنیشنل اسکول میں پڑھ رہی تھی وہاں انگریزی میں ہی پڑھا رہے تھے تو سیکھ کر کیا کرنا تھا۔ 

    سیکھ لو زبان سیکھنا کام آجاتا ہے۔ کسی کی بات سمجھنے کے کسی کو سمجھنے کے۔ 

    اسکا لہجہ جملے کے آخر تک دھیما ہوتا گیا۔ 

    اریزہ نے دھیان نہ دیا۔ سامنے سے کئی ہائی اسکولرز یونیفارم میں شائد اسکول سے واپسی پر بھاگے آرہے تھے سب کے پاس بریو ہارٹس کی لائٹ اسٹکس تھیں 

    بھاگو چلو دیر ہوگئ ہے۔ وہ انکے پاس سے جوش میں ایک دوسرے کو کہتے گزرے 

    وہ ہونٹ بھینچ گیا

    بریو ہارٹ کوریا کے ٹاپ بینڈز میں سے ایک ہیں۔ انکے گانے دنیا بھر میں ٹاپ رینکنگ میں آتے ہیں۔ امریکہ یورپ ہر جگہ انکی۔زبان سمجھ نہ آنے کے باوجود انکے گانے شوق سے سنے جاتے ہیں انکے پچھلے کانسرٹ نے تو امریکہ میں ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انکے ایک ایک رکن کی علیحدہ فین فالوونگ ہے۔ لوگ ایک جھلک دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے کوریا آتے ہیں۔صرف انکو اس چیریٹی کانسرٹ میں ایک گانا گانا تھا اور یہ سب ٹکٹ ہاتھوں ہاتھ بکے ہیں لوگ دوپہر سے یہاں اندر آنا شروع ہوگئےتھے۔ انکی سب سے آخری پرفارمنس ہوگی جو اب سے ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہوگی مگر دیکھو لوگ انکے لیئے کتنے پرجوش ہیں۔ 

    اس نے انہی کی جانب اشارہ کیا تھا۔ 

    اریزہ اسے الجھن سے دیکھ رہی تھی۔ اس بے وقت بریو ہارٹ کی مدح سرائی کی وجہ سمجھ نہیں آئی تھی۔ 

    اور صرف یہی نہیں کورین ڈرامے دنیا بھر میں ذوق و شوق سے دیکھے جاتے ہیں۔ لیجنڈ آف بلو سی دنیا بھر میں کئی زبانوں میں ترجمہ کرکے دیکھایا جا رہا ہے۔ لوگ شوقیہ ہنگل سیکھتے ہیں ان ڈراموں اور گانوں کے پیچھے۔ اور 

    بولتے بولتے وہ یکدم ہی خاموش ہوا  

    اریزہ جز بز سی ہورہی تھی۔ یقینا اسے اسکی بات بری لگ چکی تھی۔ اتنے عرصے میں شائد پہلی بار وہ تھوڑا غصے میں آگیا تھا تب بھئ اسکا انداز بدتمیزانہ نہیں ہوا یقینا اسکا بڑا پن ہے اگر وہ برا مان بھی گیا ہے تو اسے معزرت کر لینی چاہیئے۔ یہی سوچ کر وہ بول اٹھی۔ 

    میں معزرت خواہ ہوں شائد تمہیں میرا یہ کہنا کہ  ہنگل  سیکھنے کی خواہش ہے نا ضرورت برا لگا ہے۔ مگر اس سے میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ ہنگل کوئی بری زبان ہے یا کچھ بے عزتی کرنا مقصود تھا۔ میں تو بس ۔۔ 

    اب دیکھو تم اور میں دونوں ہی ایک تیسری زبان میں آرام سے بات کر لیتے ہیں۔ اب میں تمہیں اردو سیکھنے کو تو نہین کہہ سکتی۔تمہیں کیا ضرورت ہے اردو سیکھنے کی جب تمہارا اردو سے کوئی واسطہ ہی نہیں پڑنا۔ اب اسکا یہ مطلب تھوڑی کے اردو بےکار یا بری زبان ہے بس اسکا مطلب یہ ہے کہ۔ 

    ہیون ہونٹ بھینچے اسے دیکھتا رہا۔ وہ اسے ایک پزل کہ طرح لگی تھی ۔ ایسا لگا تھا کہ جیسے وہ پہلی بار اسے دیکھ رہا ہے۔ 

    مجھے اردو میں دلچسپی ہونے لگی ہے۔ میرا دل کرتا ہے ایکدن میں اس زبان کو سمجھنے لگ جائوں۔ میں سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں تمہارے منہ سے نکلے ایک ایک لفظ کو۔ تمہارا دل نہیں کرتا ؟ کبھی میں کچھ اپنی زبان میں بھی بولوں تو تمہیں سمجھ آجائے۔ 

    اسکی بات پر وہ اسے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہ گئ۔ منہ پھلائے شکوہ کرتا کیا بچوں والا انداز تھا۔ کیا وہ اس بات پر اس سے خفا ہو رہا تھا کہ اسے ہنگل کیوں سمجھ نہیں آتی؟

    تم مجھے ویسے ہی ترجمہ کر دیتے ہو اگر کوئی اور بھی ہنگل بولے تو۔ او رخود تو تمہاری انگریزی اتنی اچھی ہے کہ۔

    اریزہ کئ وضاحت اسے مزید غصہ دلا گئ تھی۔    

    چھیسو۔ (چھوڑو) 

    اس نے تیزی سے کہا اور اپنے قدموں کی رفتار بڑھا لی ۔ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسکے پیچھے لپکی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک لسٹ ہاتھ میں لیئے۔ کانوں میں اییئر پیس لگائے جسکا چھوٹا سا مائک گال تک آرہا تھا۔ وہ ادھر ادھر پھرتی ہدایتیں دے رہی تھی۔ 

    اگلا لائن اپ بریو ہارٹ کا تھا۔ میک اپ روم میں جھانک کر اس نے انکی۔موجودگی کا یقین کرنا چاہا مگر وہاں بس کچھ ڈانسرز موجود تھے۔ 

    بریو ہارٹ چیکڈ ان۔ 

    اسکے کان میں سرگوشی ہوئی وہ چوکنا سی ہو کر لابی میں نکل آئی۔ استقبالیئے کی جانب جاتے ہوئے شیشے کی دیوار سے اسے بریو ہارٹ ایک بڑی سی کالے شیشوں والی وین سے اترتے دکھائئ دیئے۔ اپنے مینجرز اور گارڈز کے ہمراہ شاہانہ انداز میں۔ گنگ شن اور انکی این جی او کے  منتظم اعلی نے خود انکا استقبال کیا تھا اور پھول پیش کیئے تھے۔جسے انکے مینجر نے قبول کرکے فورا ہی ڈرائور کو گاڑی میں تھما دیئے تھے۔ 

    شکریہ آپ کے تعاون کا۔ 

    گنگ شن روایتی انداز میں جھک کر کہہ رہی تھی۔ 

    جوابا انہوں نے بھی انکساری کا مظاہرہ کیا۔ 

    میک اپ روم نمبر 5 خالی کردیا جائے۔ اور بریو ہارٹ کو قہوہ بھی پیش کیا جائے۔ 

    اس نے مائک میں کہا۔ 

    گنگ شن انکو اندر لا رہی تھی۔ اس نے آگے بڑھ کر رہنمائی کی انکو لابی میں روم نمبر پانچ تک پہنچا کر جب انکے گارڈز دروازے پر رکے تو وہ بھی گنگشن کے ساتھ اندر جانے کی۔بجائے وہیں رک گئ۔۔۔اسکا کام یہیں تک تھا۔ اس نے فورا مائک نیچے کیا اور ائیر پیس کان سے نکال کر جیب میں رکھ 

    اسکے سرد سے انداز نے گارڈز کو بھی شائد متاثر کیا تھا۔۔

    ایک نے جھک کر دوسرے کے کان میں سرگوشی کی 

    عجیب خشک سی لڑکی ہے۔بڑی سے بڑی تنظیم کے بھی ملازم ہوں بریو ہارٹ کے پرستار نہ بھی ہوں تو بھی کم از کم انکو دیکھ کر گرم جوشی کا مظاہرہ ضرور کرتے ہیں۔ 

    کم از کم تصویر تو ضرور ہی۔بنواتے ہیں۔ یہ تولکی کے مسکرا کر دیکھنے پر جوابا مسکرائی تک نہیں۔

    ہاں واقعی میں بھی یہی نوٹ کررہا تھا۔ 

    دوسرے نے بھئ ہاں میں ہاں ملائی۔ 

    ان دونوں کی آوازیں اسکے بھی کان میں پڑی تھیں۔ 

    تمتماتے چہرے کے ساتھ فہمائشی مسکراہٹ سجائے گنگ شن انکے کمرے سے نکلیں۔ اسکو دیکھ کر اسکی جانب چلی آئیں۔ 

    ارے میں پکار رہی تھی۔ ائیرپیس کہاں ہے تمہارا۔ 

    انہوں نے پوچھا تو وہ جیب میں سے نکال کر دکھانے لگی۔ 

    ارے ۔۔ یہ دیکھو یوسب کے ساتھ سیلفی لی ہے میں نے کتنی پیاری آئی ہے۔ وہ خوش سی تھیں موبائل سے تصویر نکال کر دکھائی۔ وہ مسکرا دی۔ 

     مائک سے مستقل تمہیں بلا رہی تھی۔ تمہیں تصویر بنوا لیتیں بریو ہارٹ کے ساتھ اسکے بعد تو بہت مصروف ہو جائیں گے۔ موقع نہیں ملنا۔ چلو تمہاری تصویر بنوا دوں۔ 

    وہ اسکا ہاتھ تھام کر مڑنے لگیں ۔ اس نے دھیرے سے ہاتھ چھڑا لیا

    رہنے دیں انی۔ ضرورت نہیں۔ اور۔کوئی کام ہے تو بتا دیں۔

    تم نے آج میرا آدھا کام نپٹا دیا اسکے لیئے میں تمہارا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔بس اب کچھ نہیں۔کانسرٹ سنو اور ہاں ڈنر ساتھ کرنا ہے ہمارے پورے دس بجے ہال نمبر 4 میں آجانا۔ یہ پاس رکھنا اپنے پاس

    انہوں نے اپنے پرس سے ایک پاس نکال کر اسے دیا۔ 

    جائو شاباش موسیقی کا لطف اٹھائو۔ وہ پیار سے اسکا گال چھو کر کہہ رہی تھیں۔ تبھی انکا موبائل بج اٹھا

    ہاں ہیون۔۔۔ وہ کان سے لگا کر یکدم ہی لابی کی۔جانب بڑھ گئیں۔ 

    انی وہ۔  وہ کچھ پوچھنا چاہ رہی۔تھی مگر موقع ہی نہ مل۔سکا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اجنبی زبان مگر دلفریب دھن وہ مارے باندھے آئی تھی اور اس وقت بالکل مگن سن رہی تھی۔ اسٹیج کے بالکل دائیں جانب انتظامیہ کے زیر اہتمام پہلی رو میں لگی نشستیں ۔ 

    وہ انکو بس ایک جانب سے  دیکھ رہی تھی۔ تین طرفہ اسٹیج تھا مگر ساری ہلڑ بازی سامنے تھئ۔ وہاں سب نوجوان لڑکے لڑکیاں کھڑے تھے اچھل رہے تھے شور مچا رہے تھے۔سیٹیں اس تھوڑے سے قطعے سے پیچھے تھیں مگر اب لگتا تھا سب ہی سیٹوں پر بیٹھنے کو تیار نہیں۔ یہ بریو ہارٹ نہیں تھے۔ انکی باری ابھی نہیں آئی تھئ مگر لگتا تھا یہ بھی مشہور ہیں کافی۔ اوپن ائیر نہ ہونے کی وجہ سے وہاں ٹھنڈ بالکل نہیں تھی۔ منک کوٹ اتارنے کا وہ سوچ رہی تھی۔ پسینہ آنے سے جسم میں الگ چن چنئ سی مچ گئ تھی۔ کبھی بازو سہلاتی کبھی گردن۔ مگر اس سب کے باوجود اسے مزا آرہا تھا۔

     گلو کار گاتے گاتے انکے سامنے اکڑوں بیٹھ کر ہاتھ ملانے لگتے تو شور کان پھاڑنے لگتا۔۔۔۔ 

    وہ بہت شوق سے انکی ہلڑ بازی دیکھ رہی تھی۔

    انکی۔جانب سے انتظامیہ کے ارکان اور دیگر ملازمین اور ڈانسر گروپ اکٹھے ہی دوڑے چلے آئے۔ نشستوں کو۔نظر انداز کرکے سب اسٹیج کے قریب ہاہو کار میں مصروف ہو گئے۔۔ اسکو جو تھوڑی بہت ایک رخ کی شکل دیکھنے کو مل رہی تھی وہ بھی ختم۔ اسکو شدید خارش ہو رہی تھی پیٹ میں۔ چپکے سے سہلا کر بازو منک کوٹ کے اوپر سے ہی رگڑ دیا۔ اب سامنے بس پشتیں تھیں ناچتے لوگوں کی۔ 

    اس نے بد مزہ سا ہو کر رخ پھیرا تو احساس ہوا ہیون اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ 

    آئو ادھر چلیں۔ 

    اس نے  اسٹیج کے سامنے والی جانب اشارہ  کیا۔ تو وہ اثبات میں سر ہلا کر اٹھ گئ۔ بےتحاشہ ہجوم میں بھی ہیون راستہ بناتا رہا۔ اسکا لمبا قد اسکی نشانی تھی۔ تبھی اسے دھکا سا لگا۔ سوری۔ مقابل کے کہنے سے پہلے زرا سا سر خم کرکے اس نے معزرت کر ڈالی مگر وہاں پروا کسے تھی۔ جھومتے چلاتے خوشی سے پاگل ہوتے لوگ۔ وہ سرجھٹک کر پرس سنبھالتی سیدھی ہوئی۔ اور ہیون لمحہ بھر میں نگاہوں سے اوجھل۔۔۔ 

    اجنبی زبان اجنبی شکلیں۔ ایکدم سے اسکو لگا جیسے وہ بالکل تنہا سی رہ گئ ہے دنیا میں۔۔ 

    تبھی دھماکا سا ہوا تھا۔۔ اور اسکا دل جیسے تھم سا گیا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آننیانگ۔۔۔ 

    اسٹیج کے قریب ہی دوسری جانب انتظامیہ کے مخصوص لباس میں ملبوس ہوپ نے اسے بھرے مجمعے میں بھی ایک نگاہ میں پہچان لیا تھا۔ جگہ بناتی وہ سیدھی اسکے پاس آئی۔

    آننیانگ۔ وہ چونکا۔ مسکرایا۔ اور بس۔ مڑ کر جانے کیا اچک اچک کر دیکھنے لگا۔ 

    ساری باتیں کہیں کھو گئیں۔ اسکے چہرے پر سایہ سا لہراگیا۔ 

    آنکھیں پانی سے بھر گئیں۔ جھٹکے سے مڑ کر واپس جانے لگی تو اسٹیج کے قریب لگے آرائشی قمقموں کے بکھرے تاروں سے الجھ کر لڑکھڑا گئ۔ گرنے سے بچتے بچتے بھئ  وہ گھٹنے کے بل زمین پر آرہی۔ 

    اسٹیج پر اور اسٹیج کے نیچے دنیا کے لوگ مگن تھے کسی نے غور بھی نہ کیا۔ 

    کین چھنا؟ 

    مانوس آواز۔ اس نے بےدردی سے آنکھیں رگڑلیں۔

    دے۔ سہارے کیلئے بڑھے ہاتھ کو نظر انداز کرتے وہ خود ہی اپنے بل پر اسٹیج کا سہارا لیتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

    اسکے گھٹنے چھل سے گئے تھے۔۔۔ہیون نے اسکی ضبط سے سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھا تو نظر انداز نہ کر پایا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     وہ اسکا ہاتھ تھام کے اندر لے آیا۔ لابی میں لگے صوفے پر بٹھا کر خود اندر داخل ہو گیا۔ 

    گھٹنوں سے خون بہت نہیں بہہ رہا تھا مگر کھال اتر جانے سے مرچیں سی لگ رہی تھیں۔اور یہ مرچیں اس تکلیف کے آگے کچھ نہ تھیں جو اسکی آنکھوں میں آنسو بھر رہی تھی۔ 

    وہ اندر انتظامیہ سے پلاسٹر مانگ کر لایا تھا۔ 

    اسکے سامنے اکڑوں بیٹھ کر اس نے خود اسکے گھٹنے پر پلاسٹر لگایا تھا۔ جانے کیوں اسکا دل خوش فہم سا ہو گیا تھا۔ 

    پلاسٹر لگا کر وہ ایکدم سر اونچا کر کے اسکی نگاہوں میں دیکھ کر مسکرایا تو وہ گڑ بڑا سی گئ

    بہادر لڑکی ہوتم اتنئ معمولی چوٹ پر ایسے روتے نہیں۔ یہ لو۔ 

    جیب سے لالی پاپ نکال کر اسکی جانب بڑھاتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا تھا۔ 

    اسکے لب استعجاب سے نیم وا سے ہوئے۔ 

    لو نا۔ ہیون نے پھر کہا تو اس نے دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر تھام لیا۔ اس نے شائد بچپن میں بھی کبھی لالی پاپ نہ کھایا تھا۔ مگر اس وقت جانے کیوں اسکا دل کیا کھانے کا۔ فورا ریپر اتار کر منہ میں رکھ لیا

    ہیون اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ وہ اسکی جانب دیکھنے سے دانستہ احتراز کر رہی تھی۔ 

    اب درد تو نہیں ہو رہا۔چند ثانیئے بعد اسے پھر مانوس آواز سنائی دی تھئ۔  

    ریسیپشن پر رکھے ٹشو باکس سے کئی ٹشو نکال کر وہ لایا تھا۔ اب اسکی جانب بڑھاتے ہوئے نرمی سے پوچھ رہا تھا

    گوماپسمنبدہ۔( شکریہ) 

    اس نے مسکرا کر تھاما۔۔ 

    تھائینئے تم مسکرادیں۔ میراخیال ہے چوٹ لگنے پر بڑوں کو بھی لالی پاپ دے کر بہلایا جا سکتا ہے۔ شکر ہے جب نرس نے مجھے پلاسٹر کے ساتھ لالی پاپ دیا تو میں نے واپس نہیں کیا۔ وہ سمجھی تھی کہ کسی بچے کو چوٹ لگی ہے۔

    وہ مخصوص نرم سےمگر سرسری سے  انداز میں اسے بتا رہا تھا۔اسکے لالی پاپ کا ذائقہ ایکدم بدل کر تلخ ہونے لگا تھا۔ 

    میں نونا کو بتا دیتا ہوں کہ تم آرام سے بیٹھو وہ کسی اور کو تمہاری ذمہ داری دے دیں گی۔۔ 

    وہ اپنی طرف سے اسکو تسلی دے کر مصروف سے انداز میں کال ملانے لگا تھا۔ 

    آننیانگ۔فون پر بات کرتے کرتے اس نے اخلاقا اسے سر کے اشارے سے خدا حافظ کہا اوراندر بڑھ گیا۔ 

    ٹشو ہاتھ میں ہی تھے۔ اب آنکھوں پر بند باندھنے کی وجہ نہیں رہی تھی سو اس نے اس سیلاب کو بہہ جانے دیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسٹیج کے قریب آرائشی غبارے پھاڑتے ہوئے بریو ہارٹس کے ارکان کا استقبال کیا گیا تھا۔ 

    شور چیخیں بے ہنگم موسیقی اچھلتے کودتے لوگ۔ 

    اسکا ایکدم دم سا گھٹنے لگا تھا۔ ایک اور زور دار پٹاخہ چھوٹا تھا اور گھپ اندھیرا سا چھایا تھا اسکی آنکھوں کے سامنے۔ 

    آگ خون اندھیرا گنگ سی بچی۔۔۔۔۔ وہ ایکدم سے بارہ سال قبل پہنچ چکی تھئ۔ ڈوبتے دل کے ساتھ اسکے قدموں نے اسکا ساتھ دینے سے انکار کیا تھا۔ وہ اکڑوں بیٹھتی چلی گئ نا سمجھ میں آنے والا شور بلند ہوا تھا اسے دھکا لگا تھا وہ توازن برقرار نہ رکھ پائی تھی۔ کسی کے قدموں تلے اسکا ہاتھ آیا تھا۔ ایک سسکاری سی اسکے منہ سے نکلی۔ 

    بند ہوتی آنکھوں کے سامنے اسکا بھائی تھا ملگجے اندھیرے میں مسکراتا آگے بڑھتا اور پھر سب دھواں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ جیسے ہی دوبارہ کانسرٹ کی جانب آیا تب ہی بریو ہارٹ اسٹیج پر آنے لگے تھے۔ ایکدم ہی رونق دس گنا بڑھی تھی۔ اسکو انتظامیہ نے دروازہ استعمال کرنے سے روکنا چاہا تھا مگر وہ انکو پاس دکھاتا اندر آگیا تھا۔رش دگنا ہو چکا تھا مشکل  وہ راستہ بناتا اسٹیج کے قریب جانے لگا۔۔ ایکدم سے اسٹیج کی آرائشی بتی پھٹ گئ تھی۔ شیشے سے اڑ کر آگے کھڑے لوگوں پر آئے تھے۔ لمحہ بھر کو سب گھبرا کر پیچھے ہوئے۔ کچھ گرے کچھ بچے۔ چیخیں شور۔۔۔۔ 

    آگاشئ۔۔ 

    دو تین لڑکیاں تھیں جو چیخ چیخ کر پکار رہی۔تھیں۔ اسکا دل جانے کیوں زور سے دھڑک اٹھا تھاوہ تیزی سے اس جانب بڑھا۔ انتظامیہ کے چند رضا کار سب کو تحمل سے کام لینے کو کہہ رہے تھے۔ 

    اس نے لوگوں کو ہٹا کر جب قریب جا کر دیکھا تو لمبا پھیلا بازو جسکی آستین گلابی منک کوٹ۔ 

    وہ بے تابی سے آگے بڑھا۔۔ وہ اریزہ ہی تھی۔ مکمل بے ہوش منہ کے بل زمین پر گری ہوئی۔ وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اونچائی ذیادہ تو نہیں تھی مگر وہ بھد سے گری تھی۔ گھٹنے سخت زمین پر لگے تھے۔ پائوں مڑ گیا تھا۔ زمین پر۔ خشک گھاس اور سخت زمین۔ اسکی آنکھوں میں آنسو بھر گئے۔ اندر جاتے غیر معمولی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا تو تیزی سے بھاگتا اسکے قریب آیا تھا۔ وہ فورا اٹھ کر کھڑی بھی ہو گئ۔ 

    چوٹ تو نہیں لگی؟ 

    کسی نے اسے شانوں سے تھاما۔  

    مانوس آواز اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ 

    پریشان سا گھبرایا ہوا  مانوس چہرہ۔ 

    ساری بہادری ہوا ہوگئ۔ موٹے موٹے آنسو گالوں پر پھسل آئے۔ وہ بری طرح رودی ۔  

    ارے کہاں چوٹ لگئ ہے دکھائو۔ 

    اس نے گھٹنوں پر سے فراک ہٹائی دونوں گھٹنے چھل گئے تھے پیر بھی مڑ گیا تھا۔ وہ اور زو رسے رو پڑی۔

    بہادر بچے روتے نہیں۔ 

    اسکے آنسو صاف کرتے حماد بھائئ اسے بہلا بھی رہے تھے۔ 

    یہ جیسے ٹانک تھا حماد بھائئ کا۔ وہ فورا سسکیاں دبانے لگی 

    میں رو تو نہیں رہی۔ 

    آٹھ سالہ اریزہ منہ بسورتے کہہ تو رہی تھی مگر آنسو پھسلے چلے آرہے تھے۔ اس نے گود میں اٹھا کر اسے ل

    لان کی کرسی پر لا بٹھایا  اندر سےروئی  پائوڈین لاکر زخم صاف کیا پلاسٹر لگایا ۔

    وہ بہادری سے آنسو ضبط کیئے رہی۔ 

    کیوں چڑھی تھیں درخت پر؟ بلی۔ 

    اب ڈانٹنے کی باری تھی مگر چوٹ کے پیش نظر نرمی سے پوچھا گیا۔ 

    وہ طوطا تھا ۔ اسے پکڑ کر پالنا تھا۔ سنتھیا نے کہا تھا۔

    اس نے اشارہ کرکے بتایا۔ انکےلان میں امرود کا درخت تھا۔ ہزار بار منع کرنے کے باوجود بھی دونوں بچیاں اس پر چڑھنے کی کوشش کرتی پائی جاتی تھیں۔

    سنتھیا کہاں ہے؟ 

    حماد نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا۔ 

    سنتھیا پچھلے صحن کی طرف جاتی راہداری میں سے گرد ن نکال کر۔جھانک رہی تھی۔ 

    وہ آپ سے ڈر کر چھپ گئ۔ اریزہ نے بتایا تو وہ اسکو دیکھ کر رہ گیا۔ 

    ادھر آئو۔ 

    اسکے رعب سے بلانے پر وہ ڈرتی ڈرتی آئی۔ 

    دیکھا نا درخت سے گرنے کتنی چوٹ آتی ہے۔اسلیئے سب بڑے منع کرتے ہیں درخت پر چڑھنے سے۔ مگر تم دونوں بات نہیں سنتی ہو۔ 

    حماد بھائی کا رعب ہی بہت تھا۔ اس نے سر مزید جھکا لیا۔ 

    آئیندہ درخت پر چڑھیں تو دونوں کی پٹائی کروں گا۔ 

    اسکے کہنے پر اریزہ جو ہونٹ بھینچے مسکراہٹ ضبط کر رہی تھی ایکدم زور سے ہنس دی۔ سنتھیا اور حماد نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔ 

    تم کیوں ہنس رہی ہو۔ 

    آپ کبھی نہیں پٹائی کرتے۔ آپ تو اتنا پیار کرتے ہیں امی سے بھی بچاتے ہیں مجھے۔آپ کبھی پٹائی نہیں کرسکتے۔ 

    اس نے یقین سے سر ہلایا۔ 

    اسکی بات پر حماد کو ہنسی آگئ تھی۔ اسے ہنستے دیکھ کر سنتھیا کو بھی شہہ ملی۔ 

    حماد بھائئ طوطا پکڑ دیں وہ ادھر بیٹھا ہوا ہے۔ 

    سنتھیا کے کہنے پر اریزہ بھی اٹھ  کر اسکی ٹانگوں سےلپٹ کر ضد کرنے لگی۔ 

    ارے خوامخواہ۔ حماد نے ڈانٹنا چاہا۔ 

    پلیز پلیز۔ اتنا پیارا طوطا ہے۔

    دونوں ضد کرنے لگیں۔۔ 

    دونوں کا ہاتھ تھام کر انہیں قریبی مارکیٹ لایا تھا۔ 

    طوطا اتنا پیارا پرندہ ہے اڑتا پھرتا ہے اپنی مرضی سے کھاتا ہے پیتا ہے اسے پنجرے میں قید تھوڑی کرنا چاہیئے۔ 

    دونوں کو آئیسکریم تھمانے تک وہ سمجھاتا رہا تھا۔ دونوں نے آئسکریم تھام کر ضد چھوڑ دی تھی۔ مزے لیکر آئیسکریم کھاتے اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو حماد بھائی اسے دور جاتے دکھائی دییے۔ 

    کہاں جا رہے ہیں حماد بھائی۔ وہ بے چینی سے بولی

    مجھے کیا پتہ۔ سنتھیا کا دھیان آئسکریم کی جانب تھا۔ 

    حماد بھائی۔ وہ بے تابی سے پکارتی انکے پیچھے بھاگی۔ 

    جانے وہ تیزی سے کیوں چلے جا رہے تھے۔ 

    حماد بھائی۔ اس نے پوری طاقت لگا کر آواز دی ۔۔ 

    ایک دوسری تیسری اسکی پکار جیسے ان تک پہنچی ہی نہیں۔ اسکی آئسکریم چھوٹ چکی تھی انکے پیچھے بھاگتے بھاگتے انکے دور چلے جانے کے احساس نے اسکو جیسے توڑ دیا وہ بسورنے لگی ۔

    حماد بھائی رک جائیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نامانوس سا احساس۔ سرمیں  شدید درد کی لہر اٹھی۔ اس نے کراہ کر آنکھیں کھولی تھیں۔ تیز چمکتی روشنی نے نگاہیں چندھیا دیں۔ اس نے فورا آنکھیں دوبارہ بند کر لیں۔ گنگ شن کھڑی ملازم کو ہدایتیں دے رہی تھیں جب اس پر نگاہ پڑی تو بات ادھوری چھوڑ کر اسکے پاس چلی آئیں۔

    اریزہ شا۔ نونا اسکا دھیرے دھیرے گال سہلا رہی تھیں۔۔ 

    اسکے حواس بحال ہونا شروع ہوئے۔۔ 

    کین چھنا۔۔ ؟؟؟ وہ پیار سے اسے جگاتے ہوئے پوچھ رہی تھیں 

    نونا انگریزی میں پوچھیں اسے سمجھ نہیں آئی ہوگی بات۔ 

    ہیون کی آواز تھی یہ۔ اس نے پہچان لی تھی۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو انی نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دے کر بیٹھنے میں مدد کی۔ 

    اوہ ہاں۔ آر یو اوکے اریزہ؟ 

    جی۔۔ اس کے منہ سے بلا ارادہ نکلا تھا۔۔۔ 

    انی مسکرا دیں۔ 

    سویٹ جی۔ تھینک گاڈ یو آر اوکے۔ میں پریشان ہو گئ تھی۔ 

    انہوں نے اسکے بال سنوارے۔ اسکے حواس قابو میں آرہے تھے اس نے طائرانہ نگاہ ڈالی تو احساس ہوا وہ اس وقت کسی ہال نما کمرے میں ہے لمبے صوفے پر اسے لٹایا گیا تھا۔ انی دو تین سوٹڈ بوٹڈ این جی او کے ملازم اور ایک سفید اوور آل پہنے اسٹیتھسکوپ گلے میں لٹکائے کھڑا ڈاکٹر جو یقینا اسکے انتظار میں ہی تھا۔ اسے دیکھ کر مطمئن سا ہو کر انی سے ہنگل میں پوچھنے لگا۔ 

    ہیون۔۔ اس نے گردن موڑ کر ڈھونڈنا چاہا وہ اسکے سرہانے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ 

    اریزہ ڈاکٹر صاحب پوچھ رہے ہیں تم اپنا ہاتھ ہلا کر دیکھو انگلیاں بھی۔۔۔۔ 

    اس نے میکا نکی انداز میں ہدایات پر عمل کیا۔ 

    ہلکی سی سسکی سی نکلی تھی۔ اسکی انگلیاں بری طرح چھل گئ تھیں ان پر پائوڈین اور کوئی سفید سی دوا لگائی تھی۔ مگر یقینا انگلیاں فریکچر ہونے سے بچ گئی تھیں۔

    تم پہلے بھی بے ہوش ہوتی رہی ہو کبھی؟ 

    سوال نے اسکو گڑبڑا سا دیا تھا۔

    ایک دو دفعہ۔ اس نے جھوٹ بولا تھا یہ اسکی شکل پر لکھا تھا۔ 

    ابھی تمہارا بی پی چیک کرنا ہوگا۔

    اس نے اثبات میں سر ہلایا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئ۔

      کہیں بہت ذیادہ درد تو نہیں ہو رہا۔ 

    پہلے ڈاکٹر کچھ بولتا پھر گنگ شن دہراتیں۔ اسکا مکمل چیک اپ کرکے نجانے کیا کیا پوچھ کر مطمئن ہو کر ٹلا تھا ڈاکٹر۔ 

    اس طرح بے ہوش ہونا صحیح بات نہیں احتیاطا مکمل چیک اپ کرانا چاہیئے۔ انکے بازو میں بھی سرخ الرجی سی ہے اسکا بھی اثر ہو سکتاہے۔ 

    ڈاکٹر ہدایتیں دیتا چلا گیا۔ 

    گنگ شن نے جھک جھک کر شکریہ ادا کرتے ہوئے رخصت کیا۔ پھر اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔ 

    کیا لڑکی پریشان کرکے رکھ دیا۔ اتنا کور ہو کر آنے کی کیا ضرورت تھی اتنئ سردی تو نہیں تھی۔ ہائی نیک انر اوپر سے منک کوٹ پسینے پسینے ہو رہی تھیں تم جبھی بی پی بھی لو ہوگیا ہوگا تمہارا۔ 

    انی بےتکلفی سے اسکے برابر آکر بیٹھیں تو وہ چونک سی گئ۔ اسکا منک کوٹ اتارا جا چکا تھا بلکہ ٹی شرٹ بھی موٹی ہائی نیک کی آستینیں بھی اوپر تک چڑھائی ہوئی تھیں۔ 

    ڈاکٹر تو کہہ رہا تھا کہ ہائی نیک بھی اتاریں اسکا دم گھٹ رہا ہوگا۔مگر ہیون نے سختی سے منع کیا کہ تم برا مان جائو گی اٹھ کر۔ حالانکہ اس وقت تمہاری جو حالت تھی ہم سب گھبرا گئے تھے۔ 

    انی کے کہنے پر اس نے سر مزید جھکا لیا تھا۔ 

    اور یہ الرجی کیسے ہوئی تمہیں۔ پوری گردن سرخ ہو رہی ہے تمہاری اور بازو بھی۔ 

    وہ تشویش بھرے انداز میں اسکے بازوکو چھو کر دیکھ رہی تھیں۔ 

    میری ایک دوست بہت اچھی ڈرما ٹالوجسٹ ہے میں اس سے اپائنٹمنٹ لے دیتی ہوں تم چیک اپ کروا لو۔ اس طرح کی الرجیز کو ہلکا نہیں لینا چاہیئے۔ 

    وہ بالکل بڑی بہنوں کی طرح اسکی فکر کر رہی تھیں۔ اسکی آنکھیں بھرنے لگی تھیں۔ 

    یہ پی لو۔ 

    ہیون نے انرجی ڈرنک اسکی جانب بڑھایا۔ 

    اس نے بلا تامل تھام کر پینا شروع کردیا۔ حلق ایکدم خشک سا ہو رہا تھا۔۔۔۔ 

    چند گھونٹ پی کر کچھ توانائی بحال ہوتی محسوس ہوئی۔ 

    انی ہم گھر جاتے ہیں آپ اپنا انتظام دیکھ لیں۔ 

    وہ یقینا کافی مصروف ہونگی اریزہ کو ہیون کے کہنے پر شرمندگی سی ہوئی۔ 

    نہیں بس سب ہوگیا۔ آج ہوپ نے بہت مدد کرائی میری ۔اب بس ایک چکر لگائوں گی ڈائننگ ہال کا سب مہمان کھانا تو کھا۔۔ 

    کہتے کہتے خیال آیا تو چونکیں

    ارے تم لوگوں نے کھانا تو کھایا نہیں ہوگا۔میں یہاں بھجواتی ہوں۔ 

    نہیں انی آپ رہنے دیں۔ اریزہ ویسے بھی یہاں کا کھانا نہیں کھائے گی۔ 

    ہیون نےسہولت سے منع کیا۔ دونوں کیا باتیں کر رہے تھے سمجھ تو نہیں آیا اسے مگر اپنے نام پر وہ سر اٹھا کر انہیں دیکھنے لگی تھی۔ 

    انی وہ بریو ہارٹ۔ وہ انکو مجھے کچھ دینا تھا

     اسے یاد آیا تو ادھر ادھر متلا شی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ 

    وہ تو چلے بھی گئے۔ انکے پاس وقت کم تھا ۔ تم بے ہوش رہی ہو۔تو وقت کا اندازہ نہیں ہوا تمہیں۔ 

    ہیونگ سک نے کہا تو وہ مایوس سی ہوگئ۔ 

    کوئی بات نہیں اگلی دفعہ سہی۔ پکا تمہاری سیلفی بنوائوں گی انکے ساتھ۔ وہ تو ہماری این جی او کیلئے بہت فنڈز دیتے ہیں۔ان سے ہمارے کئی کانسرٹس کا کانٹریکٹ ہے۔ تم دل چھوٹا مت کرو پھر ملوادوں گی تمہیں۔

    انی یہی سمجھیں کہ وہ پرستار ہے انکی۔ جبھی باقائدہ کندھا تھپتھپا کر تسلی دینے لگیں۔ 

    اسے خود پر شدید غصہ آرہا تھا۔ شدید ترین۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

    گاڑی رہائشی عمارت کے باہر روکتے ہوئے اس نے گردن موڑ کر اریزہ کو دیکھا ستے ہوئے چہرے کے ساتھ سرنگاہیں جھکائے وہ اتنی گہری سوچ میں تھی کہ منزل پر پہنچ جانے پر بھی نہ چونکی۔ 

    اریزہ شا۔ کچھ کھا لیتیں طبیعت بہتر ہو جاتی۔ 

    اس نے نرمئ سے پھر ٹوکا تو وہ چونک اٹھی۔ 

    سامنے نگاہ پڑی تو جلدی سے اپنی جانب کا دروازہ کھول کر اتر گئ۔ 

    اسکی پھرتی پرہیون دیکھتا ہی رہ گیا۔ 

    گاڑی سے اتر کر ایکدم سے سرد ہوا سر پر لگی تھی۔مگر وہ تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی۔

    چند لمحے اسے دیکھ کر وہ بھی اپنی جانب کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا تھا۔ 

    تیز تیز قدم اٹھا کر اسکے برابر ہوا۔

    مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی۔کل

     اسکے اچانک پاس سے آواز ابھری تو وہ اچھل سی پڑی۔ چونک کر سر اٹھایا تو ہیون جو اسے ہی دیکھ رہا تھاایکدم چپ سا رہ گیا۔ 

    اسکی آنکھوں سے تواتر سے  آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ بے آواز رو رہی تھی زاروقطار۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یوم کشمیر کی تقریب تھی اسکول میں۔ علامتی خون آلود سفید لباس پہنے اسٹیج پر کچھ بچے نظم پڑھ رہے تھے۔  کچھ لاشیں بنے پڑے تھے۔ 

    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایکدن۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    ایک بچی کشمیری لباس پہنے لاشوں کے اوپر بین کرنے کی اداکاری کر رہی تھی۔ 

    منظر دیکھتے ہی دیکھتے بدلا تھا اندھیرے میں ڈوبا تھا خون چیخیں ایمبولنس کے سائرن۔۔ 

    اور پہلی رو میں بیٹھی دسویں جماعت کی طالبہ بے ہوش ہو کر لڑھک گئ تھی۔۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ سب لڑکیاں کالج کے زیر تعمیر ڈیپارٹمنٹ میں بیٹھی موبائل پر کال ملا ئے تھیں۔ بوائے فرینڈ ایک کا تھا کن سوئیاں لینے پانچ اس پر جھکی تھیں۔ہنستی کھیلتی مسکراہٹ دباتی سرگوشیاں کرتی لڑکیاں۔۔

    جلدی بات کرو۔۔ کوئی آنہ جائے ۔۔۔ ایک کو تشویش ہوئی

    آج جمعہ ہے آج تو مزدوروں کی بھی چھٹی ہے کون آئے گا یہاں۔ 

    دوسری نے تسلی دی۔

     تبھی زور دار آواز کیساتھ کوئی بلاک گرا تھا۔۔۔ 

    ہلکی ہلکی سی چیخیں ابھریں۔ سب چونکی سنبھلیں ۔بس ایک طالبہ بے آواز بے ہوش ہو کر پڑی تھی۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ دونوں قریبی کنوینیئس اسٹور پر چلے آئے تھے۔ اسکو بھوک بھی لگ رہی تھی۔ خود تو وہ ریمن لے کر آیا تھا اریزہ کیلئے سینڈوچ لیکر آیا تھا۔ شدید بھوک میں یہ بھی نعمت سے کم نہیں تھا۔سینڈوچ کے ساتھ گرم گرم کافی نے نا صرف گرمائش دی تھی بلکہ تازم دم بھی کر دیا تھا۔ 

    اس نے کھا پی کے منہ صاف کیا۔ تو ہیون جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اسے دیکھ کر مسکرا دی۔ 

    یہ بتائو روئی کیوں تھیں۔۔۔ 

    اس نے فورا سوال کیا تھا۔ وہ بہانہ سوچنے لگی تو اس نے ٹوک دیا

    سوچنے کی ضرورت نہیں کوئی بہانہ سچ بتائو یا کہہ دو میں بتانا نہیں چاہتی۔ 

    اسکے دو ٹوک کہنے پر وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔

    مجھے اپنے آپ پر غصہ آرہا تھا۔ میں اتنی کمزور کیوں ہوں۔ اس بات پر۔ دنیا کی لڑکیاں کیا کیا نہیں کرتیں مائونٹ ایورسٹ سر کر لیتی ہیں اور میں۔ 

    وہ زرا سا استہزائیہ انداز میں ہنسی۔ 

    زرا سا ۔۔۔ وہ رکی۔ ہیون نے چند لمحہ انتظار کیا مگر وہ خاموش ہی رہی۔ 

    تم روئئ کیوں ہو ؟ درد ہو رہا ہے ہاتھ میں؟ 

    ہیون کے پوچھنے پر وہ نفی میں سر ہلا گئ۔ 

    اسکے دائیں ہاتھ کی تینوں انگلیوں پر بینڈج ٹیپ لگی تھی۔ شائد خراشیں گہری تھیں۔

    بے ہوش ہونے پر۔

    اس نے کہہ دیا۔ 

    ہیون نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگا۔

    بے ہوش تم  یقینا پہلی دفعہ نہیں ہوئیں۔ کم از کم میرے سامنے دوسری دفعہ ہوئی ہو۔۔۔  مجھے لگا تھا تمہارا بی پی لو ہوا ہے۔ مگراس وقت تم  اصل میں تم اندھیرے کی وجہ سے گھبرائی تھیں۔ اس بار میں سمجھ نہیں پایا۔ اتنا اندھیرا نہیں تھا وہاں۔ تو یا شائد شور وغل یا گھٹن۔۔اور حماد کون ہے؟ تم بے ہوشی میں کسی کو۔پکار رہی تھیں۔ 

    اسکے دعوے سے کہنے پر وہ ایکدم چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگی تھئ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حماد میرے بھائی کا نام ہے۔ 

    پیدل اسکے ساتھ قدم اٹھاتے وہ اسے بتا رہی تھی۔ 

    مجھے اتنا دردناک حادثہ دیکھنے کی وجہ سے ایک خوف لاحق رہتا ہے۔ میں اندھیرے میں بالکل نہیں رہ پاتی۔ کوئی اچانک پٹاخہ بھی پھوٹ جائے تو میں اس رات اس منظر میں پہنچ جاتی ہوں۔۔ مجھے اپنا بھائی کبھی کبھی اتنا یاد آتا ہے کہ خوابوں میں دیکھتئ ہوں اسے۔ ہنستے کھیلتے باتیں کرتے۔ بچپن کی یادیں۔ اور پھر اچانک سب غائب ہوجاتا ہے۔ 

    اسکی آواز بھرا گئ تھئ۔ وہ بے ربط بول رہی تھی ۔ ہیون بالکل خاموشی سے سن رہا تھا۔

    ایسے کسی خواب سے جاگ کر میں گھنٹوں روتی ہوں۔ 

    میری ذر اسی چوٹ پر تڑپ جانے والا بھائی نظر نہیں آتا مجھے۔میرا دل کرتا ہے۔ 

    آنسوئوں کا گولا سا گلے میں اٹک گیا۔ وہ خاموش ہو گئ۔ اسکے ہمراہ وہ بھی خاموشی سے قدم بڑھاتا رہا ۔ کمپائونڈ میں آنے تک وہ خود پر قابو پاچکی تھی۔ 

    تم اب گھر جائو میں چلی جائوں گی۔ 

    اس نے قصدا مسکرا کر کہا۔ 

    ہیون خاموشی سے اسکا چہرہ دیکھتا رہا۔

    آج میں نے کافی پریشان کیا ہے بیان۔ اور شکریہ ہر چیز ہر بات کیلئے شکریہ۔ گڈ نائٹ۔

    ہیون چند لمحے اسے یونہی گھورتا رہا پھر بنا کچھ کہے پلٹ گیا۔ اریزہ نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سوچا۔

    وہ خواب تھا کہ ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پے در پے فون کالز آرہی تھیں ایڈون کے موبائل میں۔ ایڈون بالکل بے سدھ ہو چکا تھا۔ اسکو کندھے پر لاد کر بمشکل کمرے تک لاتے اسکی کمر ٹوٹنے کی نوبت آگئ تھی۔ شکرہے کمرہ شروع ہی میں تھا۔لاک کھول کر اسے اسکے بیڈ پر لٹا کر وہ کمر سیدھی ہی کر رہا تھا۔جب ڈرائور آکھڑا ہوا دروازے پر۔اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا

    یہ آپکا گاڑی میں رہ گیا تھا۔ 

    وہ اسکا والٹ تھامے تھا۔ 

    کم سن اسے شکر گزار نظروں سے دیکھ کر رہ۔گیا۔ پیمنٹ کرتے شائد اس نے سیٹ پر ہی گرادیا تھا۔ 

    فون بجے جا رہا تھا۔ 

    کم سن نے اسکی جیکٹ ٹٹول کر فون نکالا ۔ 

    اٹھا لیں کیا پتہ کوئی اہم کال ہو۔ 

    ڈرائور نے کہا تو وہ شش و پنج میں پڑ گیا۔ 

    انگریزی میں نام جگمگا تو رہا تھا 

    اٹھا تو لوں مگر مجھے سمجھ کیا آئے گی کیا کہا ہے؟ 

    کم سن کی بات میں دم تھا۔ 

    لائیں میں بات سنتا ہوں۔ ڈرائور نے فون ہاتھ سے لے لیا۔

    ہیلو۔ 

    اسکے ہیلو کہنے پر دوسری جانب سے لگاتار کچھ کہا گیا تھا۔

    دیکھیں یہ جن کا فون ہے وہ اس وقت ہوش میں نہیں ہیں۔ 

    جی۔ نہیں بس انہوں نے پی ذیادہ لی ہے۔ جی۔ کون ؟ کیا ؟ سنتھیا؟ اچھا اسی ڈورم میں ہے؟ اچھا ہم دیکھ لیتے ہیں۔ ٹھیک ہے ہم پولیس کو اطلاع دے دیتے ہیں۔جی بھگوان پر۔بھروسہ رکھیں جی جی۔ ٹھیک ہے۔ آپ یہاں اگر کوئی اور آپکے جاننے والے ہیں انکو بھی اطلاع دے دیں۔ جی۔ ہیلو۔ ہیلو۔ 

    فون بند ہونے تک ڈرائیور ٹھیک ٹھاک پریشان لگنے لگا تھا۔

    نام ادھوری بات۔۔۔۔ کم سن نے بے تابی سے سوال کیا

    کیا ہوا؟ 

    کوئی سنتھیا ہے انکی ماتا جی تھیں کہہ رہی تھیں اسی گوشی وون میں ہیں۔ وہ بھی انہوں نے خود کشی کر لی ہے۔۔۔۔ 

    اسکا جملہ پورا ہونے تک کم سن بجلی کی سی  تیزی سے اسے ایک طرف کرتا کمرے سے نکلا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد 

    جاری ہے۔

    Kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ?

    Rating
    Home » Urdu Novels » Salam Korea » Page 2
  • Salam Korea Episode 31

    salam korea

    by vaiza zaidi

    kdrama urdu,
Desi kimchi,
Desi kdrama fans,
Urdu kdrama,
Urdu web,
Kdrama maza,
Korean masti,
korean dramas,
kdrama,
k drama,
best korean drama,
korean drama 2020,
korean drama 2021,
kdrama 2021
best kdrama,
korean series,
kdramas to watch,
korean drama website,
kdrama website,
netflix korean drama,
asian drama,
best korean drama 2020,
top korean drama,
new korean drama 2021,
best korean drama 2021,
best kdrama 2020,
best kdrama to watch,
best korean drama on netflix,
best korean series,
best kdrama 2021,
kdrama netflix,
k drama urdu,
www korean drama,
watch korean drama,
best k dramas on netflix,
netflix korean drama 2021,
best kdrama on netflix,
new korean drama,
www kdrama,
k drama 2021,
korean series on netflix,
netflix korean drama 2020,
top 10 korean drama,
top kdrama,
top korean drama 2020,
k dramas to watch,
2021 korean drama,
korean drama series,
best korean series on netflix,
new kdrama 2021,
2020 kdrama,
2020 korean drama,
2021 kdrama,
k drama netflix,
best k drama to watch,
romance kdrama,
k drama 2020,
new korean drama 2020,
latest korean drama 2021,
korean dramas to watch,
top korean drama 2021,
watch kdrama,
korean tv series,
highest rated korean drama,
korean drama in hindi,
korean drama shows,
top kdrama 2021,
new kdrama,
watch asian drama,
popular korean drama,
kdrama online,
latest korean drama,
korean drama online,
korean netflix series,
korean tv shows,
korean shows,
must watch kdrama,
korean shows on netflix,
famous korean dramas,
romance korean drama,
top kdrama 2020,
most popular korean drama,
korean series 2021,
must watch korean drama,
new kdrama 2020,
best romance kdrama,
popular kdrama,
good kdramas,
korean drama in hindi dubbed,
korean series 2020,
kdramas 2020,
best korean shows on netflix,
korean drama 2021 netflix,
top k dramas,
top rated korean drama,
watch kdrama online,
korean romance,
top korean series,
netflix k drama,
good korean dramas,
latest kdrama 2021,
most watched korean drama,
top 10 kdrama,
famous kdrama,
all in korean drama,
best k drama 2020,
urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
pakeeza anchal,
l online reading,
pakeeza anchal novel online reading,
urdu novel bank,
urdu novel platform,
yaar zinda sohbat baqi,
desi story urdu,
    salam korea episode 31

    قسط 31

    ایڈون اسکے ساتھ اتنی خاموشی سے قدم بڑھا رہا تھا کہ اسکا دل ڈوبنےلگا تھا۔ وہ یقینا اس وقت غصے میں تھا۔ اور غصہ آنے والی بات بھی تھی۔ مگر اسے بھروسہ تھا خود پر کہ وہ منا لے گی۔ یقینا وہ اسکو سمجھ جائے گا اسکی کیفیت اسکے احساسات سب سمجھ لے گا۔ وہ خفا ہوگا تو وہ اپنی انا پس پشت ڈال کر اسے ہر قیمت پر منا لے۔ سب سن لے گی خاموشی سے بنا برا مانے۔ وہ جو کہے گا جو کرے گا سب سر جھکا کر مانتی جائے گی ۔ رات بھر وہ بس یہی سب سوچتی رہی تھی۔ ایڈون واپس نہیں آیا تھا۔ وہ کتنی دیر انتظار کرتی رہی۔ رات میں کئی بار آنکھ کھلی۔ اس نے اٹھ کر بستر سے اتر کر دیکھا کمرہ بالکل خالی تھا۔جانے کب تک یونہی ٹہلتی رہی ۔ کھانا ٹھنڈا کھالیا۔ صبح کہیں جا کر آنکھ کھلی تو ایڈون کو سامنے صوفے پر محو انتظار پایا تھا۔ اسکی آنکھ کھلتے دیکھ کر وہ فقط اتنا بولا تھا  

    تیار ہو جائو گھر چلیں۔۔ 

    اور وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔ گوشی وون میں آکر جیسے ہی وہ بیڈ پر بیٹھی وہ فورا دروازہ بند کرکے چلا گیا تھا۔ 

    وہ جو اسے پکارنا چاہ رہی تھی ایکدم چپ سی رہ گئ۔ 

    اسے بھوک لگ رہی تھی۔ وقت بے وقت بہت ذیادہ بھوک لگنا شروع ہوچکی تھی۔ اس وقت بھی اسے لگ رہا تھا کہ آنتیں باہر آجائیں گی۔ 

    اس نے بے تابی سے سائیڈ کارنر پر رکھے شاپر کو کھنگالا بمشکل ایک آدھا سیںڈوچ ملا اور سیب۔ اسے خبر ہوتی تو کل کی چیزوں میں سے کچھ بچا لیتی۔ 

    اس نے جلدی جلدی وہ سب کھا لیا سیب کا آخری لقمہ لے رہی تھی جب دروازہ کھول کر ایڈون اندر داخل ہوا۔ اسے یوں تیزی سے کھاتے دیکھ کر لمحہ بھر کو ٹھٹک ہی گیا ۔ وہ ایک بڑا سا کھانے پینے کی چیزوں سے بھرا شاپر تھامے تھا۔ 

    میں یہ کھانا لینے گیا تھا۔ اور کچھ کھانا ہے؟ 

    اس نے شاپر اسکی جانب بڑھاتے ہوئے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلا گئ۔ اس نے خود ہی شاپر کارنس پر ٹکا دیا۔ 

    بلیک اور گرے اپرمیں ملبوس وہ کافی تھکا تھکا دکھائی دے رہا تھا۔دونوں ہاتھ اپر کی جیبوں میں ڈالتے ہوئے وہ گہری سانس لیکر اسکی جانب مڑا۔ وہ جو بے دھیانی میں اسے تکے جا رہی تھی گڑبڑا کر رخ پھیر گئ۔۔ ایڈون چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھرجیسے الفاظ ترتیب دے کر نہایت خشک اور روکھے انداز میں بولا

    مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ سنجیدگی سے بنا جزباتی پن دکھائے اگر تم سننے کو تیار ہو تب ہم بات کریں گے اب مجھے بتائو کب بات کرنا مناسب رہے گا تمہارے لیئے۔ ؟

    اسکے انداز نے حقیقتا اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹیں دوڑا دی تھیں۔وہ سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ دل جیسے سکڑ کر واپس پھیلا تھا۔ 

    اسکی ہراساں سی شکل دیکھ کر بھی اسکے انداز میں کوئی نرمی نہ آسکی تھی۔ وہ سب مروتیں رخصت کر چکا تھا۔ 

    شام کو بات کر لیتے ہیں۔ وہ کہہ کر جانے لگا تو سنتھیا بے اختیار اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

    نن۔ نہیں۔کہو جو کہنا ہے۔ میں تمہاری ہر بات سننے کو تیار ہوں۔مجھے اندازہ ہے تم بہت خفا ہو۔ ہونا بھی چاہیئے۔ میں خود کو تمہاری جگہ رکھ کر دیکھوں تو تم غلط بھئ نہیں لگتے۔ کہو جو کہنا تم نے ۔ میں چپ ہو کر سنوں گی۔ 

    سنتھیا کا انداز بولتے ہوئے ملتجیانہ سا ہوگیا تھا۔ ایڈون نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔ اسکی رنگت کافی مدہم پڑ گئ تھی وہ بیمار ہی لگ رہی تھی۔ چہرہ غیر معمولی سرخ تھا اور انداز پشیمانئ بھرا تھا۔ وہ قابل ترس لگ رہی تھی۔ اسے لیکن کوئی نرم جزبات اسکی شکل دیکھ کر دل میں ابھرتے نہ محسوس ہوئے۔ 

    واقعی؟ اس نے جیسے تصدیق چاہی۔ سنتھیا سر جھکا گئ

    واقعی تم خود کو۔میری جگہ رکھ کر سوچ سکتی ہو؟ کوئی اندازہ ہے تم نے میرے ساتھ کیا کیا ہے؟ کتنا بڑا دھوکا دیا ہے تم نے مجھے؟ 

    وہ آواز دباتے دباتے بھی جیسے غرایا تھا۔ سنتھیا کے قدموں سے جان نکلنے سی لگی وہ دھپ سے بیڈ پر بیٹھ گئ۔ 

    سنتھیا خدا جانتا ہے میں نے اپنی غلطی مانی۔۔۔۔۔ ہے۔۔۔ 

    ایڈون جیسے پھٹ پڑا۔

    سنتھیا مزید سرجھکا گئ۔۔۔ 

    جو ہوا اس میں اپنی زمہ داری سے جان نہیں چھڑائی۔  تمہارا ساتھ دینا چاہا۔ یہ سمجھا کہ جوکچھ بھئ ہوا ہے اس میں میری بھی اتنی ہی غلطی  ہے۔ جبھئ تمہیں اکیلا نہیں چھوڑا۔ تمہیں سمجھایا منایا تم پر زبردستی اپنا فیصلہ نہیں تھوپا۔  اتنے دنوں سے دن رات دیکھے بنا گدھے کی طرح کام کیا پیسہ پیسہ جوڑا اپنے والدین سے مجبوریوں کے رونے رو کر پیسے منگوائے تمہارے والدین کے بھیجے پیسے دانتوں سے پکڑے صرف اسلیئے کہ جو غلطی ہو گئ ہے اسکو سدھار دوں۔ اور تم نے میرے ساتھ کیا کیا؟ 

    وہ چلا اٹھا۔ سنتھیا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ 

    میں سمجھ۔۔ سکتئ۔۔ 

    اس نے کہنا چاہا مگر ایڈون اسکی بات کاٹ کر چلایا۔ 

    تم سمجھ ہی تو نہیں سکتی ہو کچھ بھی۔ کوئی اندازہ تک نہیں ہے تمہیں احساس تک نہیں ہے میرا میرے مستقبل کا میری ان تمام ریاضتوں کا۔ تم نے سب برباد کردیا ہے۔ تم نے مجھے برباد کردیا ہے۔ 

    اسکی بات پر وہ شدتوں سے روپڑی۔ ہچکیاں لیتے بمشکل اپنی صفائی دینی چاہی

    میں نے دیکھا تھا۔ مانیٹر پر۔ وہ کچھ تو ہے   ۔ وہ۔ جو ہے وہ اب ہے ۔ اسکو محسوس کرتی ہوں میں۔  وہ ہے ۔۔۔۔۔ 

    اسکی آنکھوں سے بہتے آنسو بھی ایڈون کا غصہ کم نہ کرسکے۔ ہنوز اسئ انداز میں چلا اٹھا۔ 

    ہاں اسے محسوس کرتئ ہو جو ابھی دنیا میں آیا نہیں اور میں جو جیتا جاگتا کھڑا ہوں میرا کوئی خیال کوئی احساس ہے تمہیں۔

    گن پوائنٹ پر نہیں لیکر گیا تھا اس اسپتال تمہیں۔۔ اپنے ایمان سے بتائو کوئئ کمی آنے دی تمہیں؟ کھانے پینے ہر چیز کا خیال رکھا بہترین کلینک کا انتظام کیا  سب جمع پونجی جمع کروائی تھی ۔او رتم ۔۔۔ 

    وہ تلملا کر پیشانی مسلنے لگا۔۔۔ سنتھیا یونہی روئے جارہی تھئ۔ کتنے لمحے یونہی انکے بیچ دبے پائوں گزرتے گئے۔

    اپنی غلطی سمجھ کر اپنی ذمہ داری سمجھ کر مجھے جو حل نظر آیا وہ میں نے حل نکالنا چاہا تھا۔ مگر تم نے سب برباد کر دیا۔

    وہ خود پر قابو پا کر متوازن مگر بے رحم لہجے میں مخاطب ہوا تھا۔ سنتھیا کی سانس رک سی گئ۔ 

    تم نے مجھے اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ میں تمہاری نظر میں کیا ہوں میری بات کی کتنی اہمیت ہے۔ مجھے نہیں لگتا ہم دونوں مزید اس رشتے کو نبھا سکتے ہیں۔ تم نے مجھ میں اور اس بچے میں اس بچے کو منتخب کیا ہے

    وہ سفاک سے انداز میں بولا۔ سنتھیا رونا بھول کر سراٹھا کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔

    اب تم جانو اور یہ بچہ۔

    اس نے چبا چبا کر کہا تھا۔ 

    میں اس کی ذمہ داری اٹھانے کیلئے تیار نہیں۔ تمہیں ماں بننے کا شوق ہے ماں بن کر پالو اب اسے۔ مجھ سے اب اسکا کوئی تعلق نہیں۔ اب تم فیصلہ کرو کیا کرنا۔ یہاں رہ کر چھوٹئ موٹی جاب کرکے اپنا خرچہ نکالو یا پاکستان واپس چلی جائو تمہاری مرضی۔ ہاں جب تم اپنے والدین کو بتانے لگو گی کہ یہ بچہ کس کا ہے میں مان لوں گا یہ میرا ہی ہے۔۔۔ مگر  اب بس مجھ سے اس سے ذیادہ کسی چیز کی توقع مت رکھنا۔  میں نے جو اور جتنا کرنا تھا کر لیا۔ 

    سنتھیا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی  اتنی گنگ سی ہو کر جیسے اسے بولنا ہی بھول گیا ہو۔ 

    تمہاری امی کا فون آیا تھا۔ دوبارہ بھی آئے گا۔ تم اچھی طرح سوچ لو۔ کیا کرنا تم نے۔ 

    وہ کہہ کر اس پر نگاہ غلط ڈالتا دروازہ کھول کر باہر جانے لگا۔ سنتھیا ساکت سی بیڈ پر بیٹھی کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔ اس نے مڑ کر جیسے آخری تنبیہہ کی۔  

    آخری بات۔ ریفنڈ سے پہلے 48 گھنٹے کا وقت ہے اگر دوبارہ اپائنٹمنٹ لینا ہوا تو بتا دینا۔ میں بھول جائوں گا وہ سب کچھ جو آج میں نے کہا ہے۔۔۔۔ 

    وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔ اس پرنگاہ ڈالتا دروازہ بند کرتا باہر نکل گیا تھا۔ 

    وہ کتنی ہی دیر اپنے لرزتے ہاتھوں پر نگاہ جمائے بیٹھی رہی۔  

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ان سب کیلئے اس نے پراٹھے بنائے تھے۔ ہیون یون بن گوارا اور تو اور ہوپ نے بھی خاموشی سے دیسی ناشتہ ہی کیا تھا۔ 

    ہوپ ناشتہ کرکے فورا اٹھ گئ تھئ۔ اسے شائد آج جلدی جانا تھا۔ البتہ گوارا یون بن اور ہیون آرام سے ناشتہ کرکے یونیورسٹی جانے کیلئے تیار ہوئے۔ 

    تم آج آرام کرلو آج نہ جائو جاب پر۔ 

    ہیون جیکٹ پہنتا اسے مشورہ دے رہا تھا۔ ۔

    گوارا بھی نے تائید کی۔

    ہاں اریزہ آج آرام کرو۔ کل اتنی برفباری کھائی ہے بخار نہ چڑھوا لینا۔ 

    میں بیزار ہو جائوں گی اکیلی گھر میں۔ 

    اریزہ کی اپنی مصیبت تھی۔ 

    اوپر سے ہوپ بھی چلی گئ ہے اکیلے کیسے وقت گزاروں گی ۔ میں گھر میں اکیلی کبھی نہیں رہی۔ 

    اریزہ کے کہنے پر گوارا حیران رہ گئ۔ 

    ہیں ؟ واقعی؟ 

    ہاں مجھے عادت نہیں ہے ۔ اکیلے رہنے کی۔ 

    وہ سر جھکا کے بولی  

    ہیون اسکے بچکانہ انداز پر مسکراہٹ دبا کر بولا 

    اچھا تو پھر چلو یونیورسٹی تم پھر پھرا لینا ہم کلاس لیکر جب فارغ ہونگے تو اکٹھے لنچ کر لیں گے۔ 

    ہیون کے پروگرام بنانے پر گوارا نے بڑی جتانے والی مسکراہٹ سے دیکھتے اسکے کندھے پر ہلکا سا مکا لگا دیا۔ہیون کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئ تھی۔  یون بن خود کو خاصا احمق سمجھ رہا تھا۔ 

    ہاں یہ ٹھیک رہے گا ۔میں دو منٹ میں آئی۔۔ وہ فورا تیار ہونے کمرے کی۔طرف  بھاگی۔

    مجھے لگتا ہے تمہاری مدد مجھے ہی کرنی پڑے گی۔ 

    گوارا کا انداز معنی خیز تھا۔ 

    اگر تمہیں اسکی کسی مدد کی ضرورت ہے تو اپنا کام تمام ہی سمجھو  

    یون بن نے حسب عادت گوارا کو چھیڑنے کی نیت سے کہا تھا مگر گوارا اور ہیون دونوں نے ہی اسے اتنی ملامتی نظروں سے گھورا کہ گڑ بڑا سا گیا۔ 

    ہائیش۔۔ 

    دونوں کھا جانے کو تیار تھے۔ اس نے سٹپٹا کر کان کھجایا۔ 

    مجھے یہ تو نہیں پتہ کیا کام ہے تمہارا مگر جو بھئ ہے ہو جائے خدا کرے ورنہ گوارا مجھے قتل کردے گی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ اسے لان میں چھوڑ کر اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئے تھے۔ موسم خنک تھا ہلکی دھوپ نکلتی اور بادل چھا جاتے وہ وہیں راستے پر ٹہلنے لگی۔ کیمپس دیکھ کر اسکو جانے کیوں اداسی سی محسوس ہورہی تھی  وہی درخت وہی عمارتیں وہ اور سنتھیا گوارا اور جی ہائے کی شکل ہر لڑکی میں دیکھتئ تھیں۔ کیسے جے ہی نے اس سے دوستی بڑھائی کیسے ایکدم اجنبی بن گئ۔۔

    ہیون او رکم سن کو تو دونوں جڑواں بھائی سمجھتی تھیں۔کیسے ہیون اور وہ بھاگے تھے شاہزیب کو پٹنے سے بچانے ۔۔۔اور گوارا کتنی تیز مزاج سخت سی لگتی تھی ۔ وہ سہولت سے ان دنوں کو یاد کررہی تھئ۔ 

    ہم لمحوں کے قیدی ۔۔ 

    جن لمحوں میں ہم خوش ہوئے

    ان لمحوں کی یاد میں۔۔

    جن لمحوں میں اداس ہوئے۔۔

    ان لمحوں کی یاد میں۔۔

    اب ہم ہیں رہتے۔۔۔

    نئی کسی یاد کی جگہ

    اب ان لمحوں کو یاد کرتے ہیں

    ہم جیتے ہیں۔۔ایسے کہ کبھی 

    ہنس لیتے ہیں۔۔تو کبھی۔

    رو پڑتے ہیں۔۔

    ہم قیدی اپنے آپ کے۔۔ 

    اپنے ہی جزبات کے۔۔ 

    لمحوں کو ہی الزام دیتے ہیں۔۔

    اس نے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیوں کی تصویر کھینچئ۔ یہاں بیٹھ کر وہ اور سنتھیا گھنٹوں یہاں پھرتے لوگوں کو دیکھتے وقت گزار لیتی تھیں۔۔۔ مگر آج وہاں کوئی بھی نہیں تھا بلکہ آج یونیورسٹی ہی خالی خالی سی تھی جبھی اسکی یادوں کا جہاں آباد ہوگیا تھا۔۔ 

    بے طرح اداس ہوتے اس نے تصویر کھینچی ڈیپارٹمنٹ کے نام کو دھندلا کرکے اپلوڈ کر دی۔۔ ساتھ یہ نظم بھی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ڈھلتی شام  کو دن کی روشنیاں دکھانے کا مطلب؟

    پہلا کمنٹ۔۔

    اتنی صاف ستھری کونسی یونیورسٹی ہے بھئ؟

    دوسرا کمنٹ۔۔

    مت یاد کرائو یونیورسٹی خدا خدا کر مڈز ختم ہوئے ہیں اب کچھ دن سکون سے رہنے دو 

    تیسرا کمنٹ۔۔۔

    ہائش۔۔ 

    اس نے بے زار ہو کر کہا پھر چونک اٹھئ

    میں کب سے ہائش کہنے لگی کورینز کی طرح۔۔ 

    اس نے ہونٹوں پر ہاتھ ہی رکھ لیا۔۔ 

    اپنی تصویر بھی لے لوں ۔۔ اس نے سوچا پھرکھڑے ہو کر ڈیپارٹمنٹ کی جانب پشت کر کے دو تین سیلفیاں بنا لیں۔۔

    پتہ تو لگے اس یونیورسٹی میں کبھی میں بھی جایا کرتی تھی۔۔ 

    اس نے بڑ بڑاتے ہوئے فیس بک پر شئیر کیں یہ تصویریں

    صارم  نے فورا لائک کی تھیں۔۔ 

    کمنٹ بھی کر دیا مس یو۔۔ 

    اس نے بھی جوابا مسکرا کر می ٹو لکھ دیا۔۔

    کیا کر رہی ہوں میں یہاں۔۔ 

    وہ دونوں بازو پھیلا کر خوب زور کی انگڑائی لیکر بڑ بڑانے لگی۔۔ اکا دکا طلبا وہ بھی کافی فاصلے پر تھے وہ یونہی۔بے زاری سے قدم اٹھانے لگی

    پتہ نہیں مجھے پڑھنے کا شوق تھا بھی کہ نہیں۔ بس شادی سے بھاگ رہی تھی۔ اب تو ٹل گئی۔ ڈگری بھی ٹل گئ ان کی مہربانی سے۔۔ 

    اس نے ڈیپارٹمنٹ کو کینہ توز نظروں سے گھورا۔۔

    اب یہاں رکنے کی کوئی وجہ نہیں ۔۔ لڑکے بھی یہاں نوکری کے چکر میں بھی نہیں رکے سنتھیا بھئ بدل چکی ہے۔  مجھے بھی اب یہاں سے چلے جانا چاہیئے۔ پاپا کہہ تو رہے تھے مجھے ڈگری مکمل کرنے دیں گے۔۔ اس نے گہری سانس لی۔ 

    سورج کی حدت نہ ہونے کے برابر تھی۔ اچانک سرد ہوا کا جھونکا اسے جھر جھری لینے پر مجبور کر گیا۔۔

    ۔ یہاں سردی بھی بہت ذیادہ ہے۔۔ جو مجھے بالکل پسند نہیں۔۔

    مگر میں یہاں سے شائد ابھئ جانا نہیں چاہتی۔۔ 

    وہاں تعلیم مکمل کرکے شادی ہوجائے گئ۔ یہاں تعلیم مکمل کرکے واپس جائوں گی تو بھی شادی ہوجانی ہے۔ 

    اف۔ سوچوں نےسر میں درد کر دیا۔ 

    اللہ میاں۔۔ وہ سر اٹھا کر آسمان کو مدد طلب نظروں سے دیکھنے لگی

    کیا کروں  کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ کیوں ہوں میں یہاں؟؟؟؟؟

    وہ جھلا رہی تھی خود سے الجھ رہی تھی۔۔

    تبھی جوابا اس پر بوندیں آگری تھیں۔ اس نے جیب سے رومال نکال کر چہرہ پونچھا اور بھاگ کر ڈیپارٹمنٹ کی گیلری کے نیچے آکھڑی ہوئی۔ دیکھتے دیکھتے تیز بارش شروع ہوگئ تھی۔۔۔

     ابھئ اگر پنڈی ہوتا تو امی سے پکوڑے بنوا تی کافی پیتی۔ پکوڑے کھائے کتنے دن ہوگئے۔۔ اور امی۔۔ اسکا دل سکڑا 

    اتنی ناراضگی اتنی چڑ کے باوجود ماں کی یاد نے اسے اداس سا کر دیا تھا۔۔۔ وہیں ستون سے سر ٹکا کر کھڑی بارش کا نظارہ کرنے لگی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بلاگ کی اپڈیٹ دیکھ کر اس نے فورا نوٹیفیکیشن کھولاتھا۔کسی یونیورسٹی کی تصویرتھی نام کی جگہ کو جان کر دھندلا کیا تھا۔۔

    اس نے کمنٹ کر کے موبائل جیب میں ڈال لیا۔ گھر جانے کی اسے کوئی جلدی نہیں تھی مگر ایک کام کرنا تھا ہاسٹل میں آکر ایک پیکٹ کسی لڑکی کی امانت اسے دینی تھی۔۔کائنوٹر پر طالبہ کا نام بتا کر امانت دے کر وہ باہر نکلا تو موسم اپنا تیور بدل چلا تھا۔ چھما چھم برستی بارش اور آج تو چھتری بھی نہیں تھی پہلے تو یہی سوچا نکل جائے مگر آج لیپ ٹاپکا بیگ بھی اسکے کندھے پر سوار تھا۔ سو بارش کے رکنے کا انتظار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔۔ وہ سر جھٹکتا بر آمدے کی جانب بڑھ گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسکا موبائل بجا تھا ۔۔ کسی نے اسکی پوسٹ پر کمنٹ کردیا تھا۔۔اس نے پڑھا پھر سوچ میں پڑ گئ۔۔ لکھا تھا۔۔ 

    یادیں جینے کا سہارا ہوتی ہیں۔ ہم یاد بھی نہ رکھیں تو کیا کریں گے جن لمحوں کو گزار چکے جو کبھی واپس بھی نہ آئیں گے چلو کم از کم ہم انہیں یاد ہی کر کے خوش ہو لیں۔۔

    خوبصورت بات۔۔ اسکے دل کو چھو گیا تھا یہ تبصرہ سو جھٹ کمٹ کھول کر جواب لکھا۔۔ 

    اور جب میں یہاں سے جائوں گی تو یقینا میرے پاس یاد کرنے کیلئے سب کچھ اچھا اچھا ہوگا۔۔ 

    لڑاکا سی پل پل بدلتی ہوپ، من موجی مگر دل کی بے حد اچھی گوارا ، جے ہی جس نے میرا بہت ساتھ دیا ، ہیون  اور کم سن جنکی شکلیں اتنی ملتی تھیں کہ ہم دھوکا کھا جاتے تھے، اور گنگ شن انی جنکو دیکھ کر ہی انسان کو خوشگوار احساس ہوتا انکی مسکراہٹ یقینا ہیون کو بات بات پر مسکرانے کی عادت انہی سے پڑی ہے ۔۔۔ ہر وقت مسکراتا رہتا ہے سوتے میں بھی مسکراتا ہوگا ۔۔ وہ سوچ کر ہنس دی۔۔

    اسکی ہنسی سے کسی کے بڑھتے قدم رک گئے تھے زرا کی ذرا مڑ کر دیکھا تو اسکا چہرہ دیکھ کر پہچان کر ملنے چلا  آیا۔۔ 

    آننیانگ۔۔ نرم بھاری آواز پر اس نے سر اٹھایا تو آنکھوں میں شناسائی کی چمک دوڑ گئ۔۔ 

    آننیانگ۔۔ اس نے بہت اخلاق سے مسکرا کر جواب دیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ بار بار گھڑی کی جانب دیکھ رہا تھا۔اسکی بے چینی سداکو سے چھپی نہ رہ سکی اسکی پریزنٹیشن کیلئے نام پکارا گیا تو اٹھ کر بولا۔۔ 

    مجھے تھوڑا سا مزید وقت دیجئے تب تک آپ مجھ سے اگلے طالب علم کی پریزنٹیشن لے لیجیئے۔۔ 

    ہیون نے مشکور نگاہوں سے دیکھا اسے۔پریزنٹیشن دے کر وہ بھاگا بھاگا ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکلا تو بارش زور و شور سے برس رہی تھئ۔۔ 

    وہ اریزہ کے خیال سے بھاگا بھاگا آیا۔ گرائونڈ خالی تھا یقینا وہ بارش سے بچنے اندر ڈیپارٹمنٹ چلی گئ ہوگی اس نے سوچ کر رابطہ کرنے کی غرض سے اسے کال ملانی چاہی تبھی گیلری میں کھڑی اریزہ کی۔جھلک دکھائی دی۔۔ وہ کسی بات پر ہنسی تھی اسکا مخاطب کوئی اونچا لمبا سا مرد تھا۔۔ 

    اسکی مشہور زمانہ مسکراہٹ جانے کیوں سکڑ سی گئ۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپکے کپڑے امانت ہیں میں انکو دھلوا کر آپکو واپس کر دوں گئ ۔۔ 

    اسے اسکئ شکل دیکھ کر فورا یاد آیا تھا۔ علی قہقہہ لگا کر ہنسا۔۔ 

    میں آپ سے کپڑے مانگنے تو نہیں آیا۔ 

    اسکے ہنس کر کہنے پر وہ خجل سی ہوگئ۔ 

    کلاسز ختم ہوگئیں ہیں تمہاری؟۔۔

    علی نے یونہی پوچھا تھا بات برائے بات۔ 

    میں اب یہاں نہیں پڑھتی ہماری ڈگری روک دی گئ ہے۔ اب اگلے سمسٹر سے نئے سرے سے داخلہ لوں گی۔ 

    اریزہ نے گہری سانس بھرتے ہوئے کہا تھا۔۔ 

    اوہ کیوں خیریت؟ علی حیران ہوا۔۔ 

    ہمارا طلبا کا تبادلے کا۔پروگرام تھا مگر لاہور میں کوئی بم دھماکا ہوگیا تو انکے طلبا واپس چلے آئے پھر ہمارے یہاں رہنے کی وجہ نہ رہی۔ اب یہ کہتے ہیں ایک ٹیسٹ پاس کرکے یہاں کئ مساوی سند لے کر ہی ہم آگے یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ 

    اریزہ کا انداز سادہ سا تھا مگر علی کو واقعی افسوس ہوا۔

    اوہ مجھے افسوس ہوا اچھا نہیں ہوا یہ۔ پھر پڑھ رہی ہو؟ دو ہفتے بعد ہی امتحان ہوگا۔سی ای ایس اے ٹی کا۔ 

    علی نے کہا تو وہ پریشان ہی ہوگئ

    ہیں واقعی؟ مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا۔ کب امتحان ہے؟ 

    علی اسکے انداز پر ہنس دیا۔

    میں ایک مقامی اکیڈمی میں اسی امتحان کی تیاری کروا رہا ہوں آج کل میں داخلے بند ہونے والے ہیں اگر تمہارا ارادہ ہو تو میں مدد کر سکتا ہوں۔ 

    ہاں ہے نا میرا ارادہ۔۔ وہ جھٹ بولی۔۔ تم مدد کروگے میری؟

    ہاں کر دوں گا لیکن ہیون  کے ہوتے تمہیں میری مدد کی ضرورت نہیں۔ بہت پڑھاکو اور ذہین ہے۔ہمیشہ سے ٹاپر رہا ہے۔

    اچھا؟ اریزہ حیران ہوئی۔  

    اس نے کبھی بتایا نہیں۔ 

    وہ ایسا ہی ہے۔ اپنی ہر خوبی کو چھپا کر رکھتا ہے۔ انتہائی خیال رکھنے والا اور محبت کرنے والا لڑکا ہے۔ دوستی میں جان دینے والا ایک لڑکی پر اکتفا کرنے والا پیارا سا لڑکا۔  

    علی نے تو تعریفوں کے پل ہی باندھ دیئے۔ 

    اریزہ کا تھوڑا سا منہ حیرت سے کھلا پھر وہ کھل کر ہنس پڑی۔ 

    ویئو؟ (کیا ہوا) علی حیران ہوا

    تم ایسے تعریفیں کر رہے ہو جیسے ہمارے ملک میں رشتہ کرانے والی خواتین لڑکے کی تعریفیں کرتی ہیں۔ کہ بس وہ کہیں تولڑکی والے جھٹ ہاں کر دیں۔  

    وہ ہنسے جارہی تھی۔۔ اسکی بات سے ذیادہ اسکے محظوظ انداز نے علی کو بھی ہنسا دیا۔

    ہنستے ہنستے اسکی آنکھیں لبا لب بھر گئیں۔۔رنگ سرخ پڑ گیا۔ 

    وہ گال تھپتھپاتی اپنے ہینڈ بیگ سے ٹشو نکالنے لگی۔ 

    تبھی اسکے سامنے ٹشو آگیا ۔۔ اس سے پہلے علی نے ٹشونکال کر اسکی جانب بڑھا دیا تھا۔۔ وہ دھیرے سے شکریہ کہتی آنکھیں صاف کرنے لگی۔ 

    ایک تو میں جب ذیادہ ہنستئ ہوں رو پڑتی ہوں۔ 

    اس نے صفائئ پیش کی۔ علی کی مسکراہٹ سکڑسی گئ۔ 

    میں بھئ۔ اس نے دھیرے سے کورین میں ہی کہا تھا۔ اریزہ کا دھیان کہیں او رتھا ورنہ ضرور پوچھتی مطلب۔ 

    اسکا آج کل کا یہی شغل تھا ہر نیا کورین لفظ سیکھنا۔۔

    تمہیں ذیادہ انتظار تو نہیں کرنا پڑا میرا؟ ہیون تیز تیز قدم اٹھاتا آیا تھا۔۔ 

    نہیں میں بارش کے مزے لے رہی تھی۔ 

    آننیانگ۔ علی نے مسکرا کر سلام کیا۔ 

    آننیانگ۔  اس نے زرا سا سر جھکا کر جواب دیا۔ 

    چلیں۔ وہ اب اریزہ سے مخاطب تھا

    علی کو اسکا انداز ہمیشہ سے تھوڑا الگ لگا۔ 

    تیز برستی بارش کو نظر انداز کرتا ہیون لمبے ڈگ بھرتا پارکنگ کی جانب بڑھ گیا۔  اریزہ نے حیران ہو کر دیکھا پھر مڑ کر ٹھیک ہے پھر ملتے ہیں علی۔۔ کہتی مسکرا کر اسے ہاتھ ہلاکراسکے پیچھے لپکی۔ 

    دونوں کو ٹھنڈ نہ لگ جائے بھیگتے جا رہے ہیں۔۔ 

    دونوں ہاتھ کوٹ کی جیب میں ڈال کر علی نے ان کو نظروں میں رکھ کر سوچا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پارکنگ تک آتے وہ دونوں بری طرح بھیگ چکے تھے۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھتے تک ہیون نے اسکو بالکل نظر انداز کیا تھا۔ لانگ کوٹ اتار کروہ  فورا گاڑئ میں گھس گئ۔ وہ جامنی ہائی نیک اور کالی جینز میں ملبوس تھئ۔ لانگ کوٹ کی وجہ سے اسکا سراپا چھپ سا گیا تھا لیکن اب جب بھیگ جانے کی وجہ سے اتارا تو جہاں کوٹ نے اسکے اندرونی کپڑے بچا لیئے تھے وہاں اب جسم سے چپکی ہائی نیک اسے جانے کیوں شرمندگی سی ہونے لگی۔ کوٹ گود میں رکھ کر اس نے دز دیدہ نگاہوں سے  کو دیکھا جو گیلے کپڑوں سے بے نیاز بے حد سنجیدگی سے سامنے دیکھتے ہوئے گاڑی چلا رہا تھا۔ سامنے دیکھتے دیکھتے ہی اس نے ہاتھ بڑھا کر اسکی گود میں رکھا کوٹ اٹھا کر پچھلی نشست پر اچھال دیا۔ 

    کیا فائدہ اسے اتارنے کا جب گیلا گود میں رکھ کر باقی کپڑے بھی گیلے کرنے ہیں۔۔ 

    اس نے اپنے تند انداز کے برعکس کافی نرم سے انداز میں کہا تھا۔ 

    اریزہ ہونٹ کاٹ کر رہ گئ۔ 

    ہیون نے ہیٹر آن کر دیا تھا پھر بھی اسے پے در پے کئی چھینکیں آگئیں۔۔ 

    ہیون نے ہونٹ بھینچ لیئے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستانئ ریستوران کے سامنے گاڑی رکی تو اس نے سوالیہ نگاہ سے اسے دیکھا۔ وہ لاپروا سے انداز میں گاڑی سے اترا اپنا کوٹ بھی اتار کر پچھلی نشست پر ڈال دیا۔  اسے بھی گاڑی سے اترنا پڑا۔ریستوران میں داخل ہوتے ہوئے گلاس ڈور میں اپنے سراپے کو دیکھ کر وہ رک سی گئ۔ 

    اس نے بہت ذیادہ وزن کم کر لیا تھا اپنا۔ بالکل سائز زیرو ہوچکی تھئ۔ 

    اوہ خدایا۔ یہ میں اتنی پتلی کیسے ہوگئ؟

    اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا

    ہیون نے آگے بڑھتے اسکو ہم قدم نہ پایا تو مڑ کر سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ وہ سٹپٹا کر سر جھٹکتی اسکے پیچھے دوڑئ۔۔ 

    بارش کی وجہ سے لوگ بہت کم تھے۔ 

    کھانے کے ساتھ سوپ کا بھی آرڈر دیا تھا ہیون نے

    مگر سوپ پینے کے بعد اسکا پیٹ بھر سا ہی گیا۔ بریانی کی مقدار جوں کی توں دیکھ کر  نے تعجب سے دیکھا 

    کیا ہوا ؟ پسند نہیں آئی۔۔؟

    اچھی ہے مگر سوپ پینے کے بعد اب یہ کھائی نہیں جا رہی۔ 

    اریزہ نے اپنی پلیٹ میں تھوڑے سے ہی چاول نکالے تھے مگر اب وہ بھی نہیں کھائے جا رہے تھے۔ دھیرے دھیرے ٹونگتے اسکے ارادہ پلیٹ صاف کر نے کا۔تھا۔ 

    ہیون مسکرا دیا۔  

    نہ کھا کھا کے تمہاری بھوک بھی کم ہوگئ ہے اور وزن بھی۔ 

    ہیون کی توجہ پوری اپنی پلیٹ پر تھئ۔ اریزہ نے چونک کر سر اٹھایا۔ 

    اس نے شائد دیکھ لیا تھا اسے خود کو آئینے میں دیکھتے۔۔ 

    کھاتی میں پہلے بھی ذیادہ نہیں تھی پھر بھی جانے کیوں گپلو سی تھی۔  شکر ہے تھوڑی اسمارٹ ہوگئ ہوں۔ 

    وہ خجل۔سی ہوئی 

    تم گپلو سی ذیادہ اچھی لگتی ہو۔ تمہیں دوسری لڑکیوں کی طرح ڈھانچہ بننے کی ضرورت نہیں ۔۔ 

    اس کے کہنے پر اریزہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا اسکو نظروں میں رکھے اسکا اندازسادہ تھا

    مجھے سب بہت ٹوکتے تھے کہ میں موٹی ہوں۔ خالہ نے تو شرط ہی رکھ دی تھی کہ وزن کم کروں۔ کیا کیا نہ جتن کیئے میں نے اور صارم نے کہ میرا وزن کم ہو جائے جب سب کچھ چھوڑ دیا تو وزن کم ہو گیا۔۔ 

    وہ وقت اسے آج بھی اداس کر گیا تھا۔ بولتے ہوئے اسکی اداسی لہجے میں بھی اتر آئی تھی

    صارم؟مطلب؟

    ہیون  پوری دلچسپی سے سن رہا تھا

    میرا بھائی۔ ہے تو میری خالہ کا بیٹا ۔۔مگر میرے والدین کا لے پالک بیٹا بھئ ہے۔ خالہ کو کیا کہوں انگریزی میں۔ وہ سوچ میں پڑی۔ 

    یہ وہی بھائی ہے جو بم دھمکے میں بچھڑ گیا تھا؟ 

    ہیون نے پوچھا تووہ تڑپ سی گئ

    خدا نہ کرے۔۔ پھر انگریزی میں بتانے لگی

    وہ میرا اصل بھائی۔تھا حماد۔ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا ۔ ٹھہرو میں دکھاتئ ہوں۔ 

    وہ بڑے شوق سے موبائل  نکال کر اسے حماد کی تصاویر دکھانے لگی۔ 

    حماد کی اسکی بچپن کی بہت تصاویر اس نے موبائل میں رکھی تھیں۔ ہیون بہت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ 

    ایک اسکی اور صارم کے بچپن کی تصویر آئی۔ تو بہت شوق سے اسے دکھانے لگی۔ جھولے پر بیٹھے دو ننھے منے آٹھ دس سال کے بچے دو پونیاں کیئے فراک پہنے بچی اریزہ کا بچپن لگ رہی تھی 

    یہ ہے صارم ۔اریزہ نے دکھایا تو ہیون حیران ہوا 

    یہ  اتنا چھوٹا ہے؟ مجھے لگا تھا تھوڑا بڑا ہوگا تم اسکے ہاتھوں بلنگ کا شکار ہوتئ رہی ہو ؟ ڈانٹ دیتیں مجھے موٹا مت کہا کرو۔

    ہیون کو جیسے غصہ ہی آگیا تھا۔ وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی

    ارے یہ تو پرانی ہے ساتھ میں بیٹھی ہوں ٹھہرو میں نئی کوئی دکھاتی ہوں۔ 

    اس نے آگے کرکے اپنی پچھلی سالگرہ کی۔تصویر اسے دکھائی شرارت سے اسکے سرکے  پیچھے انگلیاں کھڑی کر کے سینگ بناتا صارم اور ہنس کر سیلفی لیتی وہ خود۔

    اس نے صارم کو دیکھا ہی نہیں۔ 

    اسکی تو بہت سی تصویریں ہوتی تھیں میرے پاس مگر یہاں آکر موبائل بدلا توبس کچھ اہم اہم  تصویریں ہی میں نے اس موبایل میں ڈالی۔تھیں

     اس نے جلدی جلدی تصویریں آگے پیچھے کیں آگے بس ایک ہی دو اور تصویریں تھیں۔ ان میں سے ایک پر ہیون  واضح چونکا مگر وہ تب تک سوائپ کر چکی تھی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد وہ کھلی فضا میں باہر صحن میں سیڑھیوں پر آبیٹھا تھا۔ ہلکی ہلکی دھوپ بے حد اچھی لگ رہی تھی وہ بے حد ہلکا پھلکا سا خود کو محسوس کر رہا تھا

    سو تم نے کیا سوچا ۔ امام صاحب اسکے برابرآبیٹھے۔

    علی نے چونک کر انہیں دیکھا وہ جواب طلب نگاہوں سے دیکھ رہےتھےوہ صاف جواب دیتے دیتے رک کر بات پلٹ گیا

    جی ہائے ہاسٹل میں نہیں تھی میں نے ریسیپشن پر آپکا دیا سامان دے دیا تھا۔

    ہاں اسے مل گیا تھا۔ آج کوریئر کے ذریعے اس نے واپس بھی بھجوا دیا۔

    وہ زرا سا ہنسے۔ 

    جب وہ آپ کےتحائف واپس بھجوا دیتی ہے تو آپ کیوں دیتے ہیں؟ وہ بے ساختہ پوچھ بیٹھا۔ امام صاحب مسکرائے۔ 

    وہ بیٹی ہونے کا حق جتاتی ہے ناراض رہ کر میں باپ ہونےکا فرض نبھاتا ہوں اسے منانے کی ہر کوشش کر کے۔

    جانتےہو اسکے سوا میری دو اور بیٹیاں ہیں اب۔ مگر جب جب انکےلیئے کچھ لیتا ہوں یاوہ مجھ سے فرمائش کرتی ہیں میرے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ وہ اداس سے ہو گئے۔ 

    پھر تم نے کیا سوچا۔لیلی کے بارے میں۔ اچھی سمجھدار لڑکی ہے۔ ہاں زبان کا مسلئہ ہو سکتا ہے مگر وہ کورین سیکھ رہی ہے یہاں ہی نوکری کرنی ہے اس نے۔ میری بیوی کی بھانجی ہے سو میں اسکی ہر قسم کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ نماز روزے کی پابند ہے۔کہو تو  بات چلائوں؟ ۔ وہ آج فیصلہ کروا لینا چاہتے تھے اس سے۔ 

    مل سکتا ہوں میں اس سے؟۔ اس نے سادہ سے انداز میں پوچھا وہ بے طرح خوش ہو گئے۔ ہمیشہ کی طرح شادی سے انکار کرنے والا کم از کم ملنے پر تو مانا۔۔

    کیوں نہیں۔ اسکی اجازت تو مذہب بھی دیتا ہے تم مل کر دیکھ بھال کر فیصلہ لو۔ اور ہاں میری گاڑی لے جانا۔۔ بسوں میں دھکے نہ کھاتے جانا خبر دار جو اسکے اپنی یہ تھکی شکل دکھا کر ڈرایا۔۔ 

    وہ آخر میں مسخرے پن سے بولے۔ علی نے سر جھٹکا۔ 

    یہ تھکن مجھ میں سرائیت کر چکی ہے آہجوشی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ لیپ ٹاپ پر انڈین برائڈز کی برائڈ کلیکشن دیکھ رہا تھا۔

    ایک کے بعد ایک سرخ جوڑے میں ملبوس دلہنیں ۔ 

    وہ بے چین سا ہو کر لیپ ٹاپ ایک۔طرف رکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔ چند لمحے یوں ادھر ادھر دیکھتا رہا جیسے سمجھ نہ آیا ہو کیوں اٹھاہے۔ کچھ سوچ کر اس نے جھک کر سائیڈ ٹیبل کی دراز کھولی ۔ اس میں ایک خوبصورت پیکنگ میں ڈیزائنرپائوچ رکھا تھا۔ اس نے اٹھایا پھر دوبارہ واپس رکھ کر دراز ہی بند کردی۔ 

    اتوکے۔ وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھامتا بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھا۔ 

    تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے سنی ہی نہیں۔ 

    نونا ایک اور مرتبہ کھٹکا کر دھیرے سے دروازہ کھولتی اندر چلی آئیں۔ 

    ہیونا وہ انکے قریب آکھڑے ہونے پر بھی نہ چونکا توانہیں پکارنا پڑا۔ 

    دے۔ وہ چونک کر سیدھا ہوا۔

    یہ لو میں پاس دینے آئی تھی۔ 

    انہوں نے ہاتھ میں پکڑا بیگ اسکی جانب بڑھایا۔ 

    وہ یونہی تھام کر اندر کھول کر دیکھنےلگا تو بریو ہارٹ کے کنسرٹ کے وی آئی پی پاسز ساتھ لائٹ اسٹکس بھی تھیں۔

    وہ اب سمجھا تھا نونا نے کیا دیا ہے اسے۔ 

    گوما وویو۔ 

    اسکے چہرے پر تھکی تھکی سی مسکراہٹ در آئی تھی

    کیا ہوا کچھ الجھے سے دکھائی دے رہے ہو۔ 

    نونا تشویش سے پوچھتی اسکے پاس آبیٹھیں۔ 

    آندے۔ بس یونہی۔ 

    اس نے قصدا اپنا انداز بشاشت بھرا بنایا۔ کھسک کر شاپر سائیڈ ٹیبل پر ٹکانے لگا۔

    اریزہ کے ساتھ جائو گے نا۔ انہوں نے اشتیاق سے پوچھا تھا۔اس نے سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا

    کل بہترین موقع ہے کسنرٹ کے بعد کہیں ڈنر کرو اچھا سی رنگ خریدو اور سیدھا سیدھا پرپوز کردو۔ 

    انی ہتھیلی پر سرسوں جمانے پر تلی ہوئی تھیں۔وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دیا۔ 

    اتنئ جلدی کیا ہے ۔۔ 

    ہے نا جلدی۔ گنگشن تیز ہو کر اسکے کندھے پر چپت مار کر بولیں

    یہ چینی ہندوستانی بہت جلدی شادیاں کر لیتے ہیں۔ میری دو تین انڈین فرینڈز ہیں تم سے بھی چھوٹی ہونگی اور سب شادی شدہ یہ پاکستانی بھی تو انکے ہی پڑوسی ہیں شادی جلدی کرتے ہونگے اس سے قبل کہ اسکو کوئی اور پرپوز کرلے تم کرلو۔

    انی کی بات پر وہ خالی خالی سے انداز میں ہی دیکھتا رہ گیا۔ 

    اور اگر وہ شادی شدہ ہوئئ تو؟

    اسکے کہنے پر گنگشن کا جوش دھیما پڑا۔ 

    ایسا کیوں سوچا تم نے؟ اچھا سوچو ۔ کوئی شادی شدہ نہیں ہوگی وہ اور سنگل بھی ہوگئ ورنہ کسی نا کسی کے ساتھ گھومتئ پھرتی نظر آجاتئ تمہیں اتنے مہینوں سے۔۔۔ 

    انی کی بات پر وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔ 

    دیکھو اگر ایسا کچھ ہوا بھی تو کل اس سے پوچھ کر کلیئر کر لینا۔ اور پھر اپنے قدم روک لینا۔ سادہ بات۔ سوچ سوچ کر الٹا پریشان ہونے سے کیا حاصل؟ 

    وہ اسکی گھبراہٹ سمجھ گئ تھیں۔ 

    نونا میں اب قدم روک نہیں پائوں گا۔ میں اسے بہت پسند کرنے لگا ہوں ۔ اور اسکی زندگی میں جو بھی رہا ہو مجھے فرق نہیں پڑتا اب میں بس رہنا چاہتا ہوں۔

    وہ اتنے جزب سے کہہ رہا تھا کہ گنگشن اسے دیکھتی رہ گئیں۔ اسکی آنکھوں میں ستارے سے اتر آئے تھے۔ ویسے ہی جیسے ان سے اظہار محبت کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    وہ دیکھ اسے رہی تھیں نگاہوں میں چہرہ کوئی اور اتر آیا تھا

    میں اب سے ہمیشہ تمہاری زندگی کا حصہ بن کے رہنا چاہتا ہوں۔

    انہوں نے گڑبڑا کر سر جھٹکا۔ 

    ایسا ہی ہوگا۔ انہوں نے پر یقین انداز میں کہا۔ 

    اچھا کل میں صرف خوشخبری ہی سننا چاہتی ہوں سمجھے تم۔

    انہوں نے مان سے کہا تو وہ بھی سر ہلا کر ہنس دیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گوارا اور یون بن  مال میں گھوم رہے تھے۔ دوبارہ ملنے کی خوشی میں یون بن  اسکو خوب شاپنگ کرا رہا تھا۔ہاتھ میں ڈھیروں برانڈ ز کے شاپرپکڑے وہ دونوں اب ایلیویٹر کی جانب بڑھ رہے تھے۔ 

    تم گائوں اتنے دن کیلئے کیوں جا رہی ہو؟ ایک ویک اینڈ گزارنا کافی نہیں؟ پورا سمسٹر بریک گائوں میں گزار کر کیا کروگی۔ 

    یون بن  ہونٹ لٹکا کر بولا تو وہ ہنس دی۔ 

    میری آہموجی کا موسم بدلنے پر سیزن لگتا ہے ہمارے گائوں پر لوگ برسات کی طرح برستے ہیں۔ ایسے موقع پر انکو سنبھالنے میں مدد سے میرا پورا سال بھر کا خرچہ آرام سے نکل آتا ہے اتنا منافع ہوتا ہے ہمیں۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں تم بھی چلو وہاں ۔ 

    گوارا کے کہنے پر وہ منہ بنا گیا۔ وہ دونوں احتیاط سے ایلیویٹر پر چڑھے۔ بیچ دوپہر کا وقت ہونے کے باعث اس وقت لوگ بہت کم تھے۔ سو دونوں آرام سے بحث میں الجھے رہے

    مجھے اگلے سمسٹرکی فیس نکالنی ہے پارٹ ٹائم جابز سے۔سب چھوڑ چھاڑ کر کیسے چلوں۔ 

    اگلے سمسٹر سے یاد آیا میرے بھائی کا بھی اسی یونیورسٹی میں داخلہ کروانا ہے کوئی سفارش کا انتظام کر سکتے ہو؟ جیسے اپنی دفعہ کیا تھا۔ 

    وہ ٹہوکا دے کر بولی تو وہ چڑ گیا۔ 

    میرےاتنے کم مارکس نہیں تھےمیرٹ پرنام آیا تھا۔

    تو تم ایویں اپنے اس پروفیسر خالو کے آگے پیچھے پھرتے رہے انکے پالتو کتے کو ایک مہینے ویٹنری لے جا کر ٹیکے ٹھنکواتے رہے۔ سب فالتوکام ۔۔ 

    وہ اور بھی کہتی مگراتنا بڑا منہ پھول گیا تھا یون بن  کا کہ وہ ہنسی نا روک سکی۔ 

    ہاں تو اب نہیں ہے میرا باپ یونیورسٹی کا ٹرسٹی اچھے نمبروں کے باوجود بھی خواریاں کاٹنی پڑیں مجھے۔ 

    گوارا مڑ کر کچھ کہتی مگر سیڑھیاں ختم ہو گئ تھیں سو اترنا پڑا۔

    ہیون۔۔ سامنے مشہور برانڈ کے جیولری شاپ سے نکلتے ہیون  کو دیکھ کر وہ ٹھٹک سی گئ۔ 

    ہاں اسکے پاپا ٹرسٹی ہیں مگر ہیون کے مارکس تو بہت ہی شاندار تھے اسے تو سفارش کی ضرورت نہیں تھی 

    جونتائی اپنی ہی دھن میں بولتا چلا گیا۔ 

    ہیون۔لمحہ بھر لگایا تھا گوارا نے سوچنے میں پھر اپنی اونچی ہیل میں ہی بھاگ کھڑی ہوئی ہیون تیز قدم اٹھاتا مال سے خروج کے بیرونی دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا

    یون بن  کئ اب اس پر نگاہ پڑی پہلے سوچا پکارے پھر گوارا کو شاپنگ بیگز اٹھائے پھرتی سے تقریبا دوڑ کر سامنے والی دکان کی طرف جاتے دیکھا تو ارادہ ملتوی کرتا ہوا اسکے پیچھے ہو لیا۔ گوارا نے دکان میں داخل ہوتے ہی سیدھا کائونٹر کا رخ کیا تھا۔

    ابھی جو سفید ٹی شرٹ میں لمبا سا  نامجا ( لڑکا)یہاں سے نکلا ہے اس نے انگوٹھی خریدی ہے نا؟ 

    اسکے اتنا وثوق سے آنکھوں میں ہزار دلچسپی کے رنگ لیئے پوچھنے پر وہ گڑبڑا سی گئ۔ 

    دے؟ اسکا انداز استفہامیہ تھا

    ہے نا؟ 

    گوارا نے تصدیق چاہی۔ 

    دے۔ ( ہاں) اس بار جواب اثبات میں تھا۔ 

    گومو ویو۔ وہ اتنا بے ساختہ خوش ہو کر شکریہ ادا کرنے لگی کہ سیلز گرل بھی مسکرا دی

    کونسی خریدی ہے۔ وہ اب کائونٹر پر شیشے میں سجی خیرہ کن ہیرے جڑی انگوٹھیوں کی جانب متوجہ تھی

    یہ۔ سیلز گرل نے ڈسپلے پر سجی نہایت نازک مگر دلکش سی دو برابر لکیر کی شکل میں جڑے ہیروں سے مزین انگوٹھی اسے دکھائی اتنئ نازک بنت تھی کہ جیسے دو الگ راہیں اتفاقیہ آ ملیں انکے ملاپ کو ایک نسبتا بڑے ہیرے نے جوڑا تھا۔ 

    اف کتنئ خوبصورت ہے۔ وہ فدا سی ہوگئ۔

    ہیون کی پسند بہت اچھی ہے۔ وہ بے اختیار کہہ اٹھئ۔ 

    یہ سب سے نیا ڈیزائن ہے آیا ہے ہمارے پاس۔ انکو فورا ہی پسند آگئ تھئ یہ ویسے وہ نامجا۔۔ 

    وہ تھوڑا سا جھجکی 

    آپکا بوائے فرینڈ ہے؟ اس نے ہنس کر اندازہ لگایا

    آندے۔ یون بن  ایکدم آگے ہو کر بولا۔ 

    میں ہوں اسکا بوائے فرینڈ۔ 

    اسکے اس طرح کہنے پر گوارا نے منہ بنا کر اسے دیکھا۔ 

    وہ میری چھنگو کا نامجا چھنگو ہے۔ ہونے والا

    گوارا نے بتایا۔ تو سیلز گرل تو سر ہلا کر انگوٹھی واپس رکھنے لگی مگر یون بن  بھاڑ سا منہ کھول کر رہ گیا۔  

    کیا کس کا۔ 

    اسکے انداز پر گوارا منہ ہی منہ میں بدبدائی۔ مڑ کر الوداعی کلمات کہتی اپنے شاپرز سنبھالتی جونتائی کو بازو سے پکڑ کر باہر نکل آئی۔ یون بن  کے دونوں ہاتھ شاپرز سے بندھے تھے سو احتجاج بھی نہ کر پایا گھسٹتا چلا آیا اسکے ساتھ۔

    سب کہانی اسکو سنانئ تھی کیا۔ ۔

    اس نے گھرکا۔ 

    ہیون انگوٹھی لے رہا کونسی لے رہا کس کیلئے لے رہا یہ سب میں ہی تو پوچھ اور بتا رہا ہوں نا سب کو۔ 

    وہ بھنایا۔ پھر اندازہ لگا کر پوچھا۔

    ویسے تمہاری کونسئ دوست کا نامجا شنگو ہے؟ وہ جی ہائے

    آنی ۔۔ گوارا نے مسکرا کر نفی میں گردن ہلائی۔۔ 

    وہ ہوپ؟ 

     لڑاکو کھنچی ہوئی آنکھوں اور چوڑے ماتھے والی  خدایا اس پر مر مٹنے سے پہلے ہیون مر مٹ کیوں نہ گیا۔ 

    اس نے رونا رویا۔۔۔

    جی نہیں وہ بڑی بڑی آنکھوں گلابی رنگت تھوڑی پر ڈمپل والی میری  سہیلی اریزہ کو پسند کرتا ہے۔ 

    گوارا نے کہہ کر فخریہ سے انداز میں یوں دیکھا اسے جیسے داد چاہ رہی ہو۔ اور یون بن  وہ حیران رہ گیا تھا۔ بے تحاشا حیران۔

    مگر وہ تو۔۔ 

    اسے اریزہ سے اپنی گفتگو یاد آئی۔۔اس نے کان کھجایا۔ 

    وہ تو شادی شدہ ہے۔ 

    اس نے زیر لب کہا تھا۔ 

    گوارا نے مگر پھر بھی سن لیا تھا۔

     تمہیں کیسے پتہ چلی یہ بات؟ 

    اس نے فورا پکڑ لیا تھا۔ 

    اس نے خود بتایا تھا۔ یون بن گڑبڑایا۔

    اس نے مجھے بھی بتایا تھا مگر اتنے مہینوں میں اس نے کبھی اپنے شوہر سے بات نہیں کی۔ گوارا سوچ میں پڑی

    یا تمہارے سامنے بات نہیں کی۔۔ 

    یون بن نے جملہ مکمل کیا تو گوارا چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ سارا دن بستر پر پڑی صرف سوچتی رہی تھی۔ 

    اسکو اپنے جسم میں بالکل توانائی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ بستر سے اترے گی تو چکرا کر گر پڑے گی۔ 

    اس نے کھانا کھا لیا تھا مگر کتنی دیر چلتا اسے  اب بھوک لگ رہی تھی۔ اس نے اٹھ کر شاپر ٹٹولا ۔ سیب کیلا وہ بھی ایک ایک ہی پڑا تھا۔ اس نے اپنا پرس الٹ لیا ۔ بمشکل ایک بڑا نوٹ اور ریز گارئ ملی۔

    تو اب ایڈون اسے بھوک کی مار مار رہا ہے۔ 

    اس نے تلخی سے سوچا۔ 

    پھر دھیرے سے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔ 

    وہ کچھ بھی کر لے مگر اس بچے کی خود جان نہیں لے سکتی تھئ۔ ایک گناہ کے بعد دوسرا بڑا گناہ کرنے کی ہمت نہیں تھی اس میں۔ 

    تمہیں کیا لگتا تم مجھے سپورٹ نہیں کروگے تو کیا میں بھوکی مر جائوں گئ۔ میرے ماں باپ زندہ ہیں۔ 

    اس نےتنفر سے سوچا۔

    اکلوتی بیٹی ہوں میں انکی۔ وہ مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ میں سب خود انہیں بتا دوں گی۔ پھر دیکھتی ہوں تم کیسے مجھ سے دامن چھڑا سکو گے۔ 

    اس نے ایک فیصلہ کرکے اپنا فون اٹھایا اور ماں کو کال ملا لی۔ دوسری ہی بیل پر فون اٹھا لیا گیا تھا۔ وہ اپنا ہر کام چھوڑ کر اس سے بات کرتی تھیں۔ 

    ہیلو ممی۔۔ 

    اسکی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ 

    ہاں بیٹا کیسئ ہو۔ مشفقانہ انداز۔

    آپ جاگ رہی ہیں ابھی تک۔۔ 

    اس نے وقت دیکھا۔ ساڑھے نو ہو رہے تھے یعنی پاکستان میں ڈیڑھ بج رہا ہوگا۔ اسکو شرمندگئ سی ہوئی بنا وقت کا اندازہ لگائے فون کھڑکا دیا۔ 

    ہاں بیٹا بس آج تمہارے ڈیڈا کے دوست کے بیٹے کی منگنی تھئ۔ بارہ تو وہیں بج گئے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گھر پہنچے ہیں تو تمہارے ڈیڈا نے کافی کی فرمائش کردی اب انکو دے کر آئی ہوں کمرے میں تو میری بیٹی کا فون آگیا۔ 

    وہ پیار سے تفصیل بتا رہی تھیں۔ انکا انداز لفظ لفظ محبتوں سے چور تھا۔ اسکا دل ڈوبنے لگا۔ اسکی مسلسل خاموشی پر انہوں نے خود ہی موضوع بدلا

    تم سنائو اریزہ کیسی ہے۔ تم لوگوں کو اکیلے رہتے کوئی مسلئہ تو نہیں ہورہا۔؟ 

    ماں۔ 

    اس نے بلبلا کر ٹوکا۔ 

    مجھے شدید بھوک لگ رہی ہے ممی۔ 

    وہ کہتے ساتھ ہی رو پڑی۔ 

    تو کھانا کھائو نا بیٹا؟ ممی پریشان ہو گئ تھیں۔

    ممی مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ ہے۔ 

    وہ روتے ہوئے بے ربط بول رہی تھی۔ 

    کیا ہوا بیٹا مجھے بتائو میرا دل ہول رہا ہے۔۔ ممی کی پریشانی بھری آواز اسکے الفاظ منہ میں اٹکنے لگے

    میں نے اپنا بہت نقصان کر لیا ہے ممی۔ 

    کتنا بڑا پیسے چاہیئے؟

    انکا ذہن بس اتنے نقصان تک ہی رسائی کر سکا۔ 

     مجھے بتائو کتنے؟ مت فکر کرو ڈیڈا بھجوا دیں گے میری جان روئو مت۔ آج تک کبھی کچھ کہا ہے ہم نے نقصان کرنے پر۔ بتائو کتنے پیسے چاہیئیں؟؟  

    ممی ۔۔ اسکی ہچکیاں بندھ گئیں۔ 

    ممی پیسہ اس نقصان کا مداوا نہیں کرسکتا۔  میں نے خود کو برباد کرلیا ہے ممی۔۔ 

    اسکی بات اسکا بلکنا ممی سناٹے میں آگئ تھیں۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گوارا لدی پھندی داخل ہوئی تھی۔ اریزہ فورا مدد کو آئی تھی۔ اسکا سامان کمرے میں پہنچا نے میں مدد کرانے لگی۔ 

    تم اتنا سامان اٹھا کر کیسے آئی ہو ؟ 

    ہوپ نے ناک چڑھا کر پوچھا تھا۔ 

    یون بن دروازے تک سب سامان رکھ کر گیا ہے۔ نامجا شنگو کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے۔

    گوارا کھلکھلا کر اترائئ۔ اریزہ مسکراہٹ دباتے اسکے شاپروں کو اٹھا کر بیڈ کے ساتھ ٹکانے لگئ۔ 

    سامان ڈھونا جانوروں کا کام ہوتا ہے اور میرے خیال میں ۔ انسان کو اپنا بوجھ اتنا بڑھانا ہی نہیں چاہییے کہ اسے کسی سماجی جانور( انسان) کی مدد لینی پڑے۔ 

    ہوپ اور اپنے بے وقت کے قنوطئ پن سے باز آجائے۔ 

    گوارا نے شاپر اٹھا کر اطمینان سے بیڈ پر نیم دراز ٹیک لگائے بیٹھی ہوپ کے سینے پر دے مارا۔ 

    چپ۔کر بے تکی لڑکی۔ 

    کہہ سیکی۔ 

    گالی دیتی ہوئئ وہ سیدھی ہوئئ۔ 

    شاپر واپس گوارا کو مارنے لگی تو اس نے ہاتھ اٹھا کر روکا

    تمہارے لیئے ہی  ہے وہ سوئٹر۔ 

    ہوپ دانت کچکچاتے ٹھٹکی۔ شاپر کھول کر دیکھا تو سرمئی سے رنگ کی بے حد خوبصورت سوئٹر نکلی۔ 

    وائو بہت پیاری ہے۔ 

    اریزہ نے فورا تعریف کی۔ 

    اور یہ تمہارے لیئے۔ 

    گوارا نے آگے بڑھ کر سب سے بڑا تکیئے جیسا شاپر اسکی جانب بڑھایا۔ 

    یہ کیا تم میرے لیے رضائی لائی ہو۔؟ 

    وہ حقیقتا یہی سمجھی تھی۔ پھر ہوپ کو چڑانے لگی۔

    دیکھ لو تم سے ذیادہ گوارا میری اچھی دوست ہے تمہارے لیئے تو بس ایک سوئٹر آئی ہے میرے لیئے پوری رضائئ۔ 

    بولتے ہوئے اس نے پورا شاپر کھولا پھر ہکا بکا رہ گئ۔ 

    اس کی لن ترانی پر گوارا او رہوپ دونوں ہنس دیں۔

    یہ کیا تم میرے لیئے بھی یہ بھالو والا جیکٹ لے آئیں

    اس نے روہانسا سا ہو کر کھولا  

    وہ بڑا سا موٹا فوم والا گھٹنوں تک کا پیراشوٹ جیکٹ تھا۔ آجکل کوریا میں ہر دوسرا لڑکا لڑکی یہی پہنے پھر رہے تھے وہ بھئ  ہڈ چڑھا کرسر پر  تو بالکل لگتا کہ برفانی کالے بھالو پھر رہے ہیں۔ 

    جی بالکل۔ ہوپ کے پاس بھی یہ جیکٹ ہے اور میرے پاس بھی صرف تمہارے پاس نہیں تھا سو اب ہم تینوں بھالو بن کے سوپ پینے چلیں گے۔ 

    گوارا نے کھڑے کھڑے پروگرام بنایا۔

    کیوں؟ مجھے بالکل اچھے نہیں لگے یہ بندہ موٹا بھی لگتا ہے اور کارٹوں بھی۔ 

    اریزہ نے ناک چڑھائئ

    اور شدید سردی برفباری میں گرم بھی رہتا ہے۔ ہوپ نے جملہ جوڑا۔ 

    تو اور کیا اتنی ٹھنڈ میں مجھے تو یہ خوف ہو رہا تھا کہ کسی دن یہ اکڑی ہوئی واپس آئے گئ۔ 

    گوارا دھپ سے بیڈ پر گری

    بہت تھک گئ میں آج۔اریزہ کافی تو پلوا دو مجھے۔

    تم نے ویسے کیوں تحفہ لیا ہے میرے لیئے۔ 

    ہوپ کی عدالت لگ گئ تھئ۔ گوارا کی جانب رخ کرکے وہ گاڑھئ ہنگل میں بولی۔ اریزہ باہر نکلتے نکلتے واپس پلٹ آئی۔ 

    دونوں جب اپنی مادری زبان میں بات کرنے لگتی تھیں تو اختتام ہمیشہ ہاتھا پائی ہی پر ہوتا تھا۔ 

    گائوں جا رہی ہوں اپنے خاندان والوں کیلئے تحفے لیئے تو دوستوں کیلئے بھئ لے لیئے۔ 

    گوارا نے جان کر انگریزی میں جواب دیا۔ 

    میں دوست کب بنی تمہاری۔۔ 

    ہوپ کہاں باز آنے والی تھی۔ 

    ہوپ کبھی کسی کے پر خلوص انداز میں کوئی مہربانی کرنے پر اسکا صرف احسان مند بھی ہوا جا سکتا ہے ہر تحفےکو سختی سے ٹھکرایا نہیں جاتا ہے۔ 

    اریزہ نے گوارا کو جواب دینے کی زحمت سے بچا لیا تھا۔

    ہوپ چند لمحے دیکھتی رہی۔ پھر دھیرے سے بولی

    شکریہ۔ آج بڑے عرصے بعد کسی نے مجھے اپنا سمجھ کر تحفہ دیا ہے۔ 

    اسکی بات پر اریزہ بھی چپ ہی رہ گئ۔ 

    تم دونوں بیٹھو میں سب کیلئے کافی بنا کر لاتی ہوں۔ 

    چند لمحے لگے تھے وہی ہموار لہجہ اور سپاٹ انداز وہ اپنا چکی تھی۔ 

    میں۔ اریزہ نے کہنا چاہا مگر وہ بجلی کی تیزی سے اسکے پاس سے ہو کر گزرتی چلی گئ۔ 

    اریزہ کندھے اچکا کر گوارا کے پاس بیڈ پر چڑھ کر بیٹھ گئ

    جانے دو اسے ہمارے سامنے رونا نہیں چاہتی وہ۔ 

    گوارا کے کہنے پر وہ سر ہلا گئ۔ 

    تم کب واپس آئوگی۔ اسےسوچ کے اداسی ہو رہی تھی۔ 

    میں کرسمس نیو ائیر سب منا کر واپس آئوں گی۔ گوارا نے انگڑائی لی۔ اریزہ نے اداس سی شکل بنا لی تھی

    کل سے یہ جیکٹ پہن کر جانا یہ نہ ہو کہ اکڑی ہوئی واپس آئو۔ 

    گوارا نے ڈپٹنے والے انداز میں کہا تھا۔ 

    یہ تو مجھے گھٹنوں سے بھی نیچے تک آرہی ہے۔۔ 

    اریزہ پہن کردیکھنے لگئ بیڈ پر کھڑے ہو کر جب دیکھا تو واقعی اسکے گھٹنوں سے بھی نیچے تک آرہا۔تھا جیکٹ

    ہاں تو یہ ہوتا ہی اتنا بڑا ہے تاکہ ٹھنڈ نہ لگے۔ 

    گوارا نے کہا تو وہ اچھل کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کودی۔ بڑے سے آئینے میں وہ واقعی بھالو۔ہی۔لگ رہی تھی۔ 

    کیسی لگ رہی ہوں؟ وہ۔آئینے میں گوارا کے عکس کو دیکھ کر پوچھ رہی تھی جو اسکی پشت پر تھی۔ 

    پیاری۔ 

    میں کیسی لگتی ہوں تمہیں؟ گوارا نے جوابا پوچھا۔ 

    پیاری۔

    اور ہوپ؟ وہ اس سے پے در پے سوال کر رہی تھی

    وہ بھئ۔ 

    اور جی ہائے۔۔ 

    وہ بھی ۔ اس نے روانی میں کہا پھر منہ پھلا کر بولی

    تھوڑی سی بری ہے وہ۔  

    اور کم سن۔۔ سوال ختم نہیں ہوئے تھے۔

    پیارا ۔۔ 

    اور۔یون بن۔ گوارا کے کہنے پر۔وہ مڑ کر۔گھورنے لگی

    تم۔میرے ساتھ ریپڈ فائر کھیل رہی ہو؟

    ہاں ۔گوارا نے آرام سے مان لیا پھر ٹوک دیا

    تم نے ٹیمپو توڑ دیا اب دوبارہ مگر وقت ضائع کیئے بنا جواب دینا۔ 

    اوکے۔ وہ کندھے اچکا کر بیڈ پر چڑھ گئ

    پسندیدہ پھول؟                   ?favourite flower

    گوارا اسے تولتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی

    گلاب۔۔                  Rose

    پھل؟                          ?Fruit 

    آم۔۔                         Mango      

    اریزہ کو۔مزا آرہا تھا اس کھیل میں۔ 

    ایکٹر؟               ? actor   

    فواد خان…..  Fawad Khan

    ملک۔۔                 Country

    پاکستان ۔        Pakistan 

    تمہیں کوریا پسند نہیں؟

    گوارا نے سوال بدلا

     You dont like Korea?

    اچھا ہےکوریا۔                           Korea is good   

     صاف اچھا موسم اچھے لوگ….

      its clean nice people are good    

    Do you like rain? 

    yes

    تمہیں بارش اچھی لگتی ہے؟

    ہاں۔۔۔

    Does it rain in Pindi?

    yeah alot

    پنڈی میں بارش ہوتی ہے؟

    بہت ذیادہ۔۔ 

    Are you sleepy?

    No..

    تمہیں نیند آرہی ہے؟

    نہیں۔۔ 

    Are you hungry?

    yeah little bit

    بھوک لگ رہی ہے؟ 

    ہاں تھوڑی سی۔۔ 

    Are you thirsty?

    yes

    پیاس لگ رہی ہے؟ 

    ہاں۔۔ 

    Are you divorced?

    yes.. 

    تمہیں طلاق ہوگئ ہے؟

    ہاں۔ 

    وہ روانی میں بول کر چونکی۔ ۔

    ہیں کیا؟ 

    گوارا مسکرا دی۔ کمرے میں ٹرے میں کافی بنا کرداخل ہوتی ہوپ کے ہاتھ سے ٹرے دھڑام سے گری تھی۔ تینوں مگ گر کر چکنا چور ہو گئے تھے۔ چھناکے کی آواز پر وہ دونوں چونک کےمتوجہ ہوئیں۔ 

    جلی تو نہیں؟ 

    اریزہ سب سے پہلے بھاگ کے اسکے پاس آئی تھی۔ ہوپ نے کانپتے ہاتھوں کو چھپانے کی سعی کرتے ایکدم سے مگ کے ٹکڑے اٹھانے کیلئے ہاتھ بڑھادیئے۔

    پاگل ہوئی ہو کیا ؟ اریزہ چیخی

    کرچیاں چبھ جائیں گی تم مجھے دکھائو ہاتھ پائوں تو نہیں جلے

    اسکو ٹٹولتی اریزہ فکرمندہ تھی۔ 

    گوارا نے ایک نظر ان دونوں پر ڈالی پھر دانستہ رخ موڑ کر لیٹ گئ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ حسب معمول وقت پورا ہونے پر اپنے گرد لمبےگھٹنوں تک کے پھولے پھولے جیکٹ کو پہنتی باہر نکلی تھی۔ پھر بھی یخ بستہ ہوا نے جھر جھری سی دلا دی تھی۔ 

    ناک چالو ہوئی تو اس نے سرد ہوا کو گھورتے ہوئے کہہ ڈالا

    سنو کوریا تمہاری یہ سردی مجھے بالکل پسند نہیں آئی۔ اچھا۔ تھوڑی کم ٹھنڈ پھیلائو۔ 

    ساتھ سے گزرتی اسی طرح ملفوف سی چندی آنکھوں والی نے حیرت سے اسے ہوا سے لڑتے دیکھا تھا۔ مگر وہ بے نیازی سے لہرا کر آگے بڑھ گئ۔ 

    اسکا ارادہ بس سے جانے کا تھا۔ تھوڑا سا پیچھے اتر کر ایک دو چیزیں خرید لیتی۔ وہ یہی سب منصوبہ بناتی بس اسٹاپ پر چلی آئی۔ 

    وین سے جائوں؟ ہرگز نہیں مجھے چھوڑ کر آئوبائک پرصارم۔ 

    اٹھو۔ 

    وہ کمبل میں گھسے بے خبر سوتے صارم کو مکے لاتیں مار کر اٹھا رہی تھئ۔

    خدا کی قسم مجھے بخار ہو رہا ہے جبھی تو آج میں چھٹی کر رہا ہوں۔ دیکھو۔ 

    اندر سے سرخ چہرے کے ساتھ منمناتی آواز نکلی تھی صارم کی

    آکر سو جانا نا پھر۔ واپسی کا مسلئہ نہیں ایڈون سنتھیا چھوڑ دیں گے ابھی چھوڑ آئو نا اچھے بھائی نہیں۔ میرا آج کوئز ہے ورنہ کبھی نہ کہتی خود بھی چھٹی کر لیتی

    اسکی شکل پر ترس آیا تو اسکا انداز بھی منت بھرا ہو چلا تھا

    تم وین سے کیوں نہیں چلی جاتیں  صرف ایک اسٹاپ دور ہو تم لڑکی۔ کونسا دو ویگنیں بدل کر جانا ہے تمہیں۔ 

    وہ اسکے اصرار پر تھوڑا  چڑا

    تمہیں پتہ ہے نا مجھ سے بسوں ویگنوں کا سفر نہیں ہوتا کہیں کی کہیں پہنچ جائوں گئ۔ اوپر اتنے لوگوں میں بھر کر کیسے جائوں گی۔ 

    اسکی اپنی مجبوری تھئ۔ 

    دو ٹکٹ لینا آگے بٹھائیں گے۔ڈرائور سے کہہ دینا اور کسی کو آگے نہ بٹھائے۔ 

    اس نے کہہ کر کمبل منہ تک تان لیا۔ وہ بے بسی سے چپ چاپ کھڑی رہئ ۔ چند لمحے کوئی سن گن نہ ملی تو اس نے دھیرے سے کمبل سر پر سے نیچے کیا وہ چپ چاپ کھڑی زمین کو جوتے کی نوک سے ہلکے ہلکے کرید رہی تھی۔

    میرا کارپٹ خراب نہ کرو۔ 

    وہ بھناتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ 

    اسکا اترا چہرہ بھی تو نہیں دیکھ سکتا تھا منہ پھلاتا کمبل اتار کر ایک طرف کرتے ہوئے چپل ٹٹولنےلگا۔ اریزہ کھل سی اٹھی

    گاڑی بابا لے جا چکے ورنہ کبھی نہ کہتی تمہیں۔ 

    احسان ماننا بھی تو سرشست میں نہ تھا۔ 

    اس نے گھور کر دیکھا۔ 

    شرٹ پینٹ استری کرکے دو میری بلکہ صرف شرٹ کر دو کل والی  جینز سے ہی کام چلا لوں گا۔ 

    وہ ہدایت دیتا اٹھنے لگا۔ 

    کیوں ٹھیک ہیں کپڑے مجھے اتار کر واپس آکر سونا ہی تو ہے۔ وہ سمجھی نہیں

     اب تمہاری وجہ سے اٹھ کر یونیورسٹی کا منہ دیکھوں تو کلاس بھی نا اٹینڈ کر لوں ۔ قسم سے اتنی طبیعت خراب ہے میری اور۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    تبھئ بس کے زورد ار ہارن سے وہ چونکی۔ یہ اسکی مطلوبہ بس تھی سو بیگ سنبھالتی لپک کر چڑھی۔ 

    بس لبا لب بھری تھئ۔ ترقی یافتہ ملک کے ترقی یافتہ شہریوں میں مرد و زن کی تفریق نہ تھی ۔ کام کاجو نوکری پیشہ طلباء بوڑھے جوان سب ہی کھڑے تھے کوئی نشست خالی نہ تھی۔ وہ ایک لڑکی کے پاس گھس کر کھڑی ہوئی تو آگے پیچھے مرد ہی مرد بھرتے گئے۔ اگلے اسٹاپ پر وہ لڑکی بھی اتر گئ۔ طرح طرح کے لوگ اجنبی بولی اوپر سے سب مردوں میں گھرئ اس نے سمٹ کر اردگرد نگاہ دوڑائئ اسکے بالکل دوتین ہائی اسکول کے طلبا ء تھے ایک شائد ان میں لڑکی بھی تھئ مگر حلیہ سب کا ایک سا تھا بڑی بڑی جیکٹیں وہ آپ میں مگن تھے تو اسکے دائیں جانب ایک ستائیش اٹھائیس سال کا جوان شائد دفتر سے واپس آرہا تھا لیپ ٹاپ کندھے سے لٹکائے مکمل طور پر سامنے کھڑکی سے باہر دیکھتا اسکا لیپ ٹاپ دو ایک بار اسکی کمر سے ٹکرایا تو اس نے بنا اریزہ کے ٹوکے ہی لیپ ٹاپ کو اپنے جسم سے مزید قریب کر لیا تھا۔ موٹئ گھٹنوں تک کی پھولی سی جیکٹ میں وہ کسی بھی طرح کسی سے چھونہیں رہی تھی پھر بھئ عجیب سا احساس دامن گیر تھا۔ وہ لیپ ٹاپ والا لڑکا اگلے اسٹاپ پر اترنے کو جگہ بنانے لگا تو وہ یک قدم پیچھے ہوئی تبھئ اس نے مڑ کر دیکھا تو ادھیڑ عمر وہ بوڑھا شخص مسکرایا۔ اسکی مسکراہٹ اتنئ عجیب لگی اسے کہ اسے اپنے اس احساس کو جھٹلانے کی اب ہمت نہ ہوئی۔ بس دوبارہ چلنےکو تیار تھی کہ۔ وہ بوکھلا کر پکاری۔ 

    اہجوشی۔ 

    اسکی پاٹ دار آواز پر پوری بس متوجہ ہوئی۔ 

    وہ مجھے بھی یہیں اترنا۔ وہ اتنے دنوں میں آتے جاتے اتنا بولنا سیکھ گئ تھئ۔ اسکی بات پر وہ ہائی اسکولر فورا سمٹ کر جگہ بنا گئے تھے۔ وہ بس سے اتنی تیزی سے اتری کہ لڑکھڑا گئ۔ 

    بس اس کے اترتے ہی لمحہ بھر کی دیر کیئے بںا چل پڑی تھی

    وہ چند لمحے اس جاتئ بس کو ہی دیکھتی رہ گئ۔ 

    سب میسر ہے نا جبھی نخرے ہیں جس دن میں نہیں ہونگا نا اس دن ایک وین کیا دس بسیں بدل کر بھی جائو گی۔ 

    صارم بائک چلاتا اسے سنا رہا تھا۔ 

    پھولی سانسوں کو ہموار کرتئ وہ بس پھر اسی سوچ پر اٹک گئ تھئ

    میں آخر یہاں کیا کر رہی ہوں۔  

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں آخر یہاں کیا کر رہا ہوں۔ 

    اس دلکش مراکش حسن کی شاہکار شہد رنگ آنکھوں شہد رنگ بالوں والی لڑکی کو دیکھتے سوچ رہا تھا۔ 

    نہایت پر اعتماد دراز قد تیکھے نقوش سیاہ جینز اور چست مسٹرڈ ہائی نئک میں ملبوس بلیک ہی  لانگ کوٹ جس کے سب بٹن کھلے تھے۔ اسکے سینے پر جھولتی سونے کی موٹی زنجیر ریستوران کی روشنیوں کی جھلملاہٹ منعکس کر رہی تھی۔ اپنے کمر تک آتے لمبے سیدھے بال اس نے کھول رکھے تھے جو اسکے دائیں کندھے پر آبکھرے تھے مگر وہ اس سے بے نیاز کافی کی چسکی لیتے ہوئے اپنی تعلیم و تربیت پر مفصل لیکچر جھاڑ رہی تھی۔ 

    میں نے کبھئ نہیں سوچا کہ ایک لڑکی ہو کر میں یہ کام نہیں کر سکتی وہ کام نہیں کر پائوں گی۔ مجھے خود پر بھروسہ اور یقین ہے جبھئ اس اسکالر شپ کیلئے میں نے جی جان سے محنت کئ۔ جینڈر اسٹڈیز کو عموما لوگ جنسیات سے تعبیر کرتے ۔

    تو جنسیات کیا جینڈر اسٹڈیز کو ہی نہیں کہتے۔ 

    اس نے بات برائے بات کہا تھا۔

    یہی تو مسلئہ ہے۔ ایک مکمل مضمون اور ایک موضوع کو آپ کبھی ایک سا نہیں سمجھ سکتے۔ میرے تحقیقی مقالے کا مقصد اسی فرق کو واضح کرنا ہے اور۔ 

    وہ جانے کیا کیا کہہ رہی تھی۔ وہ غائب دماغی سے سنتا بس کافی ختم کرنے کے بعد اٹھنے کا  کوئی اچھا سا بہانہ سوچ رہا تھا۔ 

    تبھئ ایک پھولی سی گھٹنوں تک کی جیکٹ ریستوران میں داخل ہوئئ۔اسکی توجہ خود بخود اسکی جانب ہوگئ تھی۔ 

    مجھے ایک برگر چاہیے جس میں سبزیاں ہوں بس اس میں کوئی الگ سے ساس بھی مت ڈالیئے گا اور ساتھ کافی۔ 

    وہ آرڈر کرکے اب نگاہ گھما کر خالی جگہ ڈھونڈ رہی تھی۔ 

    اسکے بالکل برابر والی میزخالی تھی وہ سیدھی وہیں آکر بیٹھی گئی۔ اسکے دائیں جانب اسکی موجودگئ سے انجان۔ 

    وہ لڑکی جب اپنی تمام تر قابلیت جھاڑ چکی تب اسے احساس ہوا کہ مخاطب کی توجہ بٹ چکی ہے سو تھک کر کافی کا کپ اٹھا لیا۔ 

    آپ پڑھانے کے سوا کیا کرتے ہیں میں مشغلہ پوچھنا چاہ رہی ہوں۔ 

    اسکا انداز تھوڑا سا خشک ہو چلا تھا۔ 

    علی چونکا۔ 

    کچھ نہیں۔۔جاب ریستوران دونوں کام محنت طلب ہیں نماز وغیرہ کے سوا وقت بچتا نہیں عربی کی آن لائن کلاس لیتا ہوں بس۔ 

    اس نے اس تئیس منٹ کئ ملاقات میں یہ پہلا طویل جملہ بولا تھا۔ مخاطب نے ہوں کہنے پر اکتفا کیا۔ وہ تھوڑی بدمزہ ہوچکی تھی۔ اگر علی کی ظاہری شخصیت پرکشش نہ ہوتی تو شائد وہ اسکی عدم دلچسپی اور کسی حد تک روڈ بدمزاج انداز بھانپ کر دس منٹ میں ہی اٹھ کھڑی ہوتی۔ 

    اس نے اپنے بالوں کو کندھے سے جھٹکا تو وہ بنا سوچے کہہ بیٹھا

    آپ اسکارف نہیں کرتیں۔ 

    نہیں۔ نہ ہی زندگی میں کبھی کرنے کا ارادہ ہے۔وہ اپنا پرس سنبھالتی مسکرا کر کہتی اٹھ کھڑئ ہوئی

    یہ تو لازمئ ہوتا ہے مسلمان لڑکیوں پر۔ ؟ 

    اسکا ارادہ بحث کا نہیں تھا۔ مگر وہ بھڑک کر انگریزی میں چبا چبا کر بولی۔

    آپ کو اس بات پر زیادہ توجہ دینی چاہیئے کہ مسلمان لڑکوں کیلئے کیا لازم و ملزوم ہے لڑکیوں کی قبر انکا اپنا معاملہ ہوگی۔ آپ اپنی آخرت کی فکر کیجئے۔ 

    اسکے تھوڑا اونچی آواز میں کہہ اٹھنے پر اردگرد سے کئی لوگ چونک کر انہیں دیکھنے لگے تھے۔

    آننیانگ۔ وہ جھٹکے سے بیگ کندھے پر ڈالتی ہائی ہیل پر ٹک ٹک کرتی چلی گئ۔

    وہ ان سب کی نگاہوں کا مرکز خود کو محسوس کر رہا تھا۔

    اس میں سبزیاں ہی ہیں نا بس؟   گوشت تو نہیں 

    اٹک اٹک کر ہنگل بولتی اریزہ کی بات پر وہ چونک کر دوبارہ اسکی جانب دیکھنے لگا تھا۔ 

    آندے ۔ وہ ویٹرس سرو کرکے حسب روایت جھک کر سلام کرتی چلی گئ۔ 

    اسے کافئ زور سے بھوک لگ رہی تھی سو سینڈوچ اٹھا کرفورا کھانا شروع کر دیا تھا۔ 

    ہائے۔ ہائو آر یو؟

    وہ اٹھ کر اسکی میز کے سامنے آکھڑا ہوا  

     نوالہ چباتے ہوئے اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو شناسائی کی واضح لہر اسکے چہرے پر دوڑ گئ۔ 

    وہ بہت چھوٹے نوالے لیتی کھا رہی تھی جبھی فورا سر کے اشارے سے جواب دیتی نوالہ جلدی سے چبا کر نگل گئ 

    ہائے آپ کیسے ہیں۔؟ ۔ بیٹھیئے۔ 

    اس نے سینڈوچ پلیٹ میں رکھ لیا تھا ۔ علی اسے بغور دیکھ رہا تھا۔ وہ مکمل غیر ملکی تھی۔ 

    آپ کو لگتا ہے کوریا راس نہیں آیا ابھی تک ۔ وہ خود ایک جیکٹ میں ملبوس اسکے اتنا ملفوف ہونے پر شائد چوٹ کر رہا تھا۔ وہ خفیف سی ہوئی۔ 

    مجھے  اتنی سردی سہنے کی عادت نہیں شائد اسلیئے۔۔ 

    آپ بھی لیجئے۔ اس اخلاقا ایک اسکی جانب پلیٹ کو بڑھا دیا۔ 

    معزرت اس میں جو ساس ڈالی گئ ہے اس میں بڑا حصہ سور کے گوشت کا ہوتا ہے میں نہیں کھا سکتا۔ 

    اس کو عادت ہو چکی تھی تفصیل سے بتانے کی۔ اسکی بات پر اریزہ چونکی

    نہیں بھئ۔ یہ سبزیوں کا سینڈوچ ہے اس میں گوشت نہیں۔ پورک تو میں خود نہیں کھاتی۔ 

    گوشت نہیں مگر اس میونیز کے ساتھ جو مصالحے دار چٹنی ذائقہ بڑھانے کیلئے ڈالی گئ ہے اسکو پورک میں ہی پکایا جاتا ہے۔ 

    اس نے باقائدہ سینڈوچ کھول کر اسے دکھایا۔ 

    لال چٹنی جو ذائقے میں بہت اچھی لگی اس میں سور؟ 

    وہ سینڈوچ پلیٹ میں رکھ کر فورا کھڑی ہو گئ۔ 

    آگاشی ۔ اس نے اسی ویٹرس کو پکارا۔ 

    میں نے کہا بھی تھا مجھے سبزیوں کا سینڈوچ چاہیئے اس میں سور کہاں سے آگیا؟ 

    اسکے قریب آتے ہی وہ مٹھیاں بھینچ کر چلا اٹھی۔ 

    چھے سو ہمنبندا۔ 

    اگلی جھک جھک کر معزرت کرنے لگی۔ 

    میں نے صاف کہا تھا مجھے سبزیوں کا سینڈوچ چاہیئے اس میں گوشت وہ بھی سور کا کیوں ہے؟ 

    اسکے تن بدن میں آگ سی لگ گئ تھی۔ 

    اسکو غصے میں دیکھ کر علی چوکنا سا ہوا۔ 

    آئیم سوری۔ 

    لڑکی کی انگریزی اس لفظ کے بعد ختم ہوگئ تھی۔ وہ۔یقینا کوئی ہائی اسکولر تھی ۔ کم عمر سی سہم سی گئ۔ بات تو انگریزی کی سمجھ گئ مگر جواب دینا نہ آیا۔ تو سر جھکا لیا۔ 

    یہ کہہ رہی ہے اسے سبزیوں کا سینڈوچ چاہیئے آپ نے اسے یہ ساس ڈال کر کیوں دیا؟ 

    علی نے ترجمہ کیا۔ 

    جی وہ اس سبزیوں کے سینڈوچ میں ہم کوئی نہ کوئی ساس استعمال کرتے ہیں ۔ اس وقت بھی میں نے پوچھا تھا لال چٹنی ڈال دوں تو انہوں نے ہامی بھر لی تھی۔ 

    وہ بے چارگی سے صفائی دینے لگی۔ 

    کیا کہہ رہی ہے یہ؟ اریزہ علی کی۔جانب گھومی۔ اس نے اشارے سے تحمل سے کام لینے کو کہا۔ اور اس لڑکی کی۔جانب متوجہ ہوا۔

    مگر یہ چٹنی تو سورکے گوشت کے ساتھ بنتی ہے نا؟ 

    علی نے پوچھا۔ تو وہ سر۔جھکا گئ۔ 

    چھے سو ہمبندا۔ ( معزرت خواہ ہوں)

    مگر اس میں سے گوشت کے ریشے نکال دیئے تھے اور کھمبیاں ڈال دی ہیں ہم نے۔ یہ خاص ساس ہماری پہچان ہے خاص کر اس سینڈوچ اور اس ذائقے کیلئے لوگ دور دور سے ہمارے ریستوران آتے ہیں۔ یقین جانئے یہ کسی بری شے سے نہیں بنی ہے۔ 

    اس نے جھک جھک کرمعزرت کرنے کے بعد تفصیل سے صفائئ پیش کی۔ اسکی ہنگل اریزہ کے سر پر سے گزرتے دیکھ کر علی ہی مدد کو آیا اور ترجمہ کیا۔

    مگر اس ساس میں ڈالا کیا جاتا ہے؟ 

    وہ سر پیٹ لینے کو تھی۔ اپنا۔ 

    لال مرچ ، سویا ساس ، چینی، سرکہ، ہڈیوں کا سوپ۔۔۔

    اجزاء بتاتے ہوئے علی تھما۔ وہ ابھی بھی جانے کیا کیا بتا رہی تھی۔ 

    کس جانور کئ ہڈیوں کا سوپ؟ 

    وہ سر پکڑ گئ 

    سور نہ بھی ہو بکرا، مرغی مچھلئ گائے میں بنا حلال ہوئے کسی جانور کا گوشت نہیں کھا سکتی بھئ۔ 

    اسکا چہرہ دیکھنے والا تھا طیش سے سرخ بے بسی سے مٹھیاں بھینچتی۔ اور شائد رونے کا بھی ارادہ بن رہا تھا۔اگر نہیں بھی تو بھی شکل سے یہی لگ رہا تھا۔ 

    میں بہت معزرت خواہ ہوں آپکےلیئے سادہ چیز سینڈوچ لے آتی ہوں اس کی بے شک آپ ادائیگی بھی واپس لے لیں۔ 

    وہ بچی شائد اریزہ کی طرح ہی رونے کو تیار لگ رہی تھی۔ 

    آپ جائیں۔ علی نے اسے جانے کو کہا تو وہ پھر جھک کر معزرت کرتئ چلی گئ۔ 

    کونسا گوشت تھا اس میں ؟ 

    وہ تفتیشی انداز میں پوچھ رہی تھی۔ علی گہری سانس لیکر رہ گیا۔ 

    مجھے اتنی بھوک لگ رہی تھی کہ اتنا ذیادہ کھا بھی گئ۔ حد ہے۔ 

    وہ بڑ بڑ کر رہی تھی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    اس میں تیرا گھاٹا میرا کچھ نہیں جاتا ذیادہ پیار ہو جاتا تو میں سہہ نہیں پاتا۔ 

    دھیمی بجتی آواز ریستوران کا خوابناک سا ماحول گرم گرم روٹی اور چکن کڑاہی۔ ویٹر نے لا کر ان کی میز پر رکھی تو علی نے اسے شروع کرنے کی دعوت دی۔ 

    میرا واقعی کچھ کھانے کا ارادہ نہیں ہے۔ 

    وہ منہ پھلائے تھئ۔ علی کو ہنسی آگئ۔ اس نے روکنے کی کوشش بھئ نہیں کی۔ 

    تم مزاق اڑا رہے ہو میرا؟ 

    وہ اٹھ کھڑی ہوئئ۔

    اسکے تیور کڑے تھے۔ 

    ہرگز نہیں۔ بیٹھو بیٹھو۔ اسے بھڑکتے دیکھ کر وہ فورا ہنسی روک کر اپنے مخصوص اچھے بچے والے انداز مین واپس آیا۔ وہ خفا خفا سی دوبارہ بیٹھ گئ 

    مجھے بس تمہارے معصوم تاثرات نے ہنسا دیا۔ اتنا غصہ پورک کھا لینے پر یقینا تم جانوروں سے بہت پیار کرتی ہوگئ۔امریکہ میں تو بہت سے لوگ جانوروں کی فارمنگ اور وہاں ہونے والے جانوروں کے ساتھ بہیمانہ سلوک کی وجہ سے سبزی خور ہوجاتے ہیں مجھے نہیں پتہ تھا پاکستانی بھی 

    اس نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تو وہ چٹخ کر بولی

    مجھے ہرگز ایسا کوئی مراق نہیں 

    اچھا غصہ تھوک دو۔ اب یہ پاکستانی ریستوران ہے یہاں چکن ہی ہے سور نہیں کھانے سے کیا ناراضی۔ 

    اس نے صلاح جویانہ انداز میں کہا تو اریزہ کو غصہ تھوکنا پڑا۔ اب تو جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔ پھر علی اسکا کون لگتا تھا جو اسے نخرے دکھاتئ۔ سو دل مار کر کھانا ٹونگنے لگی۔

    کھانے کے بعد میٹھے میں آج کی سگنیچر ڈش رس ملائی تھی۔ سو علی نے وہی منگوا لی۔ رس ملائی ہرگز بھی ذائقے دار نہیں تھی بلکہ منہ میں چبانے لائق سخت تھی۔ اسے ذرا پسند نہیں آئی اسکا برملا اظہار بھی کردیا۔ 

    بالکل مزے کی نہیں اتنی سخت ہے اورمٹھاس بھی کم ہے۔ ایسی رس ملائی کھلائیں گے کورین کو تو وہ پاکستانی کھانے خاک پتھر کھانے آئیں گے۔ 

    وہ بڑ بڑائی تو علی بے ساختہ ہنس دیا۔ 

    یقین کرو کورینز کو نہیں پتہ کہ رس ملائی کو نرم اور ذیادہ میٹھا ہونا چاہیئے ہمیں یہ ایسے بھی پسند آئی ہے۔ 

    اسکے کہنے پر وہ کندھے اچکا کر رہ گئی۔

    واپسی پر علی اسے خود ڈراپ کررہا تھا۔ مکمل سنجیدگی سے سڑک پر نگاہ جمائے ڈرائیو کر رہا تھا۔ اس نے ایک نظر اسے بغور دیکھا۔ تصویر میں وہ جتنا شاندار لگتا تھا اصل میں اس سے کہیں ذیادہ لگ رہا تھا۔ ہلکی ہلکی شیو بڑھی ہوئی تھی جو اسکے گورے چہرے پر بری نہیں لگ رہی تھی البتہ رف اور ٹف سی لک آرہی تھی اسکی۔گول سا بیضوی چہرہ چندی مگر بڑی آنکھیں باریک لب مکمل کوریائی نقوش۔ مگر لہجہ امریکی تھا انگریزی بولنے کا۔ 

    ہیون  کے نقوش تیکھے ہیں۔ آنکھیں کھنچی سی اور چہرہ بھی گول سا نہیں۔ شائد اسکی والدہ کے نقوش ملنے سے۔ وہ بلا ارادہ تفصیلی تقابلی جائزہ لے بیٹھی۔

    میں ہیون کو کہاں سے یاد کرنے بیٹھ گئ۔ 

    خود پر اسکی توجہ محسوس کرکے علی یونہی اسکی جانب دیکھ کر مسکرا دیا۔ تو وہ کھسیا کر رخ بدل گئ۔ 

    مجھے بہت شرمندگی ہورہی ہے میں پہلی دفعہ آپکو جتنی زحمت دے چکی اسکا شکریہ بھی ڈھنگ سے ادا نہیں کر پائی اور مزید احسان چڑھا لیا ہے آپکا۔ 

    ونڈ اسکرین پر نگاہ جمائے وہ صاف گوئئ کہتی گئ۔ 

    ڈونٹ بی سو فارمل۔ تم ہیون کی دوست ہو اور ہیون میرا ۔اس ناطے ہم میں جان پہچان کا رشتہ ہے اور جانے کل کو اس سے گہرا رشتہ بن جائے کیا خبر وقت کا۔ جملے کے آخر تک اسکی آواز دھیمی ہوگئ تھی ۔

    آپکئ انگریزی بہت اچھی ہے۔ لہجہ بالکل امریکی ہے آپکا۔ بات سمجھنا آسان ہو جاتا ہے آپکی بہ نسبت باقی کورینز کے۔ 

    خاموش رہنے کی عادت نہ تھی اسکی بات پر دھیان بھی نہیں دیا تھا کہ چونکتی۔ جھٹ اگلا سوال جڑ دیا۔ 

    میں امریکہ میں رہا ہوں اسکولنگ وہیں کی ہے ہائی اسکول میں تھا جب واپس آیا پھر ہائی اسکول کوریآ سے مکمل کیا پھر دوبارہ امریکہ چلا گیا تھا اپنی فیانسی کے ساتھ شائد اسلیئے۔ 

    اس نے اپنی طرف سےتفصیلی جواب دے کر  اسکا تجسس دور کرنا چاہا۔ 

    وہ مزید کوئی سوال پوچھتی مگر اسکا فون بج اٹھا تھا

     گوارا تھئ پوچھ رہی تھی کہ کہاں ہو کب تک واپسی ہے۔ 

    بس گھر پہنچنے ہی والی ہوں پانچ منٹ میں۔خیریت؟

    ہاں بس کھد بد ہو رہی تھی ۔۔ وہ ہنسی۔۔۔

     تفصیل جاننے کی۔ چلو گھر آئو جلدی۔ 

    اس نے فون بند کر دیا تھا۔ اریزہ جو وجہ پوچھنے والی تھی کندھے اچکا کر رہ گئ۔ 

    عمارت کے قریب گاڑی رکی تھی۔وہ سرعت سے اتر کر ڈرائیونگ سیٹ کے پاس آئی۔۔ 

    شکریہ اور زحمت کیلئے معزرت۔ 

    انتہائی رسمی انداز مگر جھک کر کوریائی انداز میں بولی تھی۔ 

    اسکے منہ سے ہنگل دلچسپ لگتی تھی۔

    وہ ہنس پڑا۔ اس بے موقع ہنسی پر وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔

    آئیندہ کچھ بھئ کھانے لگو تو یہ جملہ بولنا 

    ہیم پیگو چھوسے او۔ اس کا مطلب ہوتا ہے سور نکال کے دو۔ سور ایک اچھا گوشت سمجھا جاتا ہے کوریا میں اور خاص کر غیر ملکیوں کو دیکھ کر مہمان نوازی کے لیئے خاص کر ہیم پیش کیا جاتا ہے یہ انکی جانب سے خلوص کا اظہار تھا۔ ابھی بھی جو سینڈ وچ تم کھا رہی تھیں یہ اس ریستوران کی سگنیچرفوڈ تھئ اور خاص تمہیں خوش کرنے کو مہنگا والا ساس ڈال کر تمہیں دیا گیا تھا۔ اب یہ اس بے چاری کی قسمت کہ تمہیں سور کا ذائقہ نہیں پسند۔ بہر حال ایک کوریائی ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ انکی پوزیشن کلیئئر کر دوں ۔

    اس نے سادہ سے انداز میں وضاحت کی تو وہ مسکرا دی۔ 

    ذائقے کی بات نہیں یہ منع ہے ہمیں کھانا لیکن بہر حال یہ بات سب تو نہیں جانتے۔ خیر شکریہ آئیندہ میں یاد رکھوں گی۔ 

    ہیم پیگو چھوسے او۔۔ 

    اس نے تائید چاہی۔ اور غیر متوقع طور پر درست تلفظ سے کہا۔ 

    دے۔ وہ سر ہلا کر بولا۔ 

    ہیم پیگو چھوسے او۔ اور کچھ ہنگل کا یاد کروں نا کروں یہ پکا یاد کرلوں گی۔ 

    وہ بار بار دہرا رہی تھی۔ 

    اوکے ٹیک کیئر گڈ نائٹ۔وہ مگن سے انداز میں ہاتھ ہلا کر کہتی جواب کا انتظار کیےبنا کمپائونڈ کی جانب بڑھ گئ۔ 

    وہ گڈ بائے کہتا خفیف سا ہو کر چپ ہو گیا۔ 

    ہیم پیگو چھوسے او؟؟؟؟ 

    وہ گاڑی چالو کر رہا تھا جب اس نے پیچھے سے پکار کر ایک بار پھر تصدیق چاہی 

    وہ حیران ہو کر سر ہلا گیا  وہ کمپائونڈ سے پکار کر پوچھ رہی تھی۔ 

    دے۔ جوابا اس نے بھی آواز لگائی۔ 

    میں پکا یاد رکھوں گی اب اسے۔ 

    ہیم پیگو چھوسے او۔ 

    وہ وہیں سے اونچی سی آواز میں کہہ رہی تھی۔ 

    اسے اسکے بچکانہ سے انداز پر ہنسی آگئ 

    اچھی بات ہے گڈ لک۔ اس نے پکار کر کہا تو وہ بھی ہنس کر مڑ گئ  

    دلچسپ لڑکی ہے۔ 

    گاڑی ریورس کرتے ہوئے بھی اسکے چہرے پر محظوظ سی مسکراہٹ تھئ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اریزہ۔ 

    کمپائونڈ میں اندر داخل ہوتے ہوئے اسے مانوس پکار سنائی دی۔

    اس نے مڑ کر دیکھا تو ہیون مسکراتا ہوا اسکے پاس چلا آیا۔ وہ بھئ مسکرا دی۔ جانے کیوں مگر اس وقت اسے دیکھ کر خوشی سی ہوئی تھی۔ 

    جاب سے آرہی ہو؟ کیسا گزرا دن؟ 

    لانگ کوٹ میں ملبوس جیبوں میں ہاتھ ڈالے آج اسکا انداز معمول سے ہٹ کر سنجیدہ سا تھا۔ 

    ہاں ۔ اسے تھوڑی دیر پہلے کی کوفت یاد آئی تو دن کا زکر گول کر ڈالا۔ 

    کہیں باہر ڈنر کریں۔ 

    ہیون کے کہنے پر اس نے کلائی میں بندھی گھڑی پر نگاہ ڈالی ساڑھے آٹھ بج رہے تھے اسکا تو لنچ ڈنر اکٹھے ہو چکا تھا۔ ۔

    میں تو کھانا کھا کر آئی ہوں۔ 

    اسکے جواب پر ہیون نے یوں سر ہلایا جیسے اسکا جواب متوقع ہو اسکے لیئے۔ 

    پھر کافی؟ 

    وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ بھر بھر رس ملائی کھا کر آئی تھی ٹھنڈ میں کافی کی پھر بھی جگہ نہیں تھی مگر وہ صاف انکار نہیں کر سکی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    وہ اسے ایک بڑے سے مال میں بنے بریو ہارٹ کے مرچنڈائز اسٹور لیکر آیا تھا۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تھا اسے۔ 

    اس ویک اینڈ پر بریو ہارٹ کا چیریٹی کنسرٹ ہے ۔ ہم دونوں اسکی پہلی قطار میں ہونگے۔ انکے پرستار پہلی رو کیلئے ایک دوسرے کی جان بھی لے سکتے ہیں۔ اس قطار میں میں اور تم انکی کنسٹمائز مرچنڈایز کے بغیر گئے تو ہمیں گھور گھور کر ہی کھا جائیں گے۔ 

    اس کے الفاظ کے برعکس انداز بے حد سنجیدہ تھا۔ اسے ہنسی آگئی تھی۔ ہیون نے اسکو ہنستے دیکھا تو مسکرا دیا۔ 

    اندر جہاں ہی اور تھا۔ بریو ہارٹ کی ویڈیوز کے مخصوص سیٹ بنے تھے جن پر جا کر انکے ارکان کے مخصوص پوز کے ساتھ پرستار تصویریں بنوا رہے تھے ایک جانب ٹی شرٹس جن پر بریو ہارٹس کے ممبران کی تصاویر لگی تھیں تو دوسری جانب کسٹمائز پوسٹرز جن پر آپ اپنی مرضی کے الفاظ لکھوا کر انکے کنسرٹ میں جھوم جھوم کر لہرا سکتے تھے۔ جھنڈے بیجز اسٹفڈ ٹوائز کی چینز ڈائریز میوزک البمز جن پر انکے اپنے ہاتھوں سے آٹو گراف ہوئے تھے۔ وہ بے حد دلچسپی سے سب چیزیں دیکھ رہی تھی۔ اسکی دلچسپی دیکھ کر وہ تفصیل سے ان چیزوں کے بارے میں لکھے کارڈز جن پر تفصیلات ہنگل میں لکھی تھیں اسے ترجمہ کر کرکے سنانے لگا۔ 

    یہ گٹار وہ ہے جو سائی چھونگ انکا چینی بینڈ ممبر ایک کانسرٹ میں بجا رہا تھا اسکی اسٹرنگ ٹوٹ گئ تھی اور اسکا ہاتھ زخمی ہوگیا تھا۔ اس پر اسکے خون کے قطرے ہیں۔ یہ ایک پرستار نے لاکھوں وون میں خرید کر یہاں رکھوایا ہے تاکہ دیگر پرستار دیکھ سکیں۔ اسلیئے اس پر برائے فروخت کا بورڈ نہیں یہ ایک پرستار کی عقیدت ہے ۔۔ 

    ہیون کے بتانے پر وہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ۔ شیشے کے باکس میں سجا وہ عام سا گٹار تھا مگر اسکی مالیت انمول ہو چکی تھی خون کے زرات کی وجہ سے۔ 

    کہاں ہے خون۔ اس نے دیکھنے کے چکر میں باکس سے ناک چپکا دی۔ 

    یہ یہاں ۔۔ کارڈ پڑھ کر اسٹرنگ کے جوڑ کے پاس اور گٹار کے پیٹ پر ننھے ننھے خون کے ذرات جو بہت غور کرنے پر بھی بمشکل دکھائی دے رہے تھے انگلی کے اشارے سے دکھائے۔ اور بنا اس اشارے کے وہ دیکھ بھی نہ پاتی مگر اب بھورے ہوتے دھبے دکھائی دے گئے تھے۔ 

    واہ۔۔ واقعی خون لگا ہوا ہے ہیون وہ ابھی بھی بے خیالی میں ناک چپکائے بچوں کی طرح خوش ہورہی تھی۔ 

    ہیون اسکو دیکھتے ہنسا پھر ہنسی تھمی دیکھتا ہی رہ گیا۔

    حد ہے گانے سنو بس ۔ اتنا کافی نہیں الٹا یہاں انکے خاندان کا شجرہ تک لکھ ڈالا خون گٹار تصویریں شرٹیں لائٹس سب ہیں ابھی تک البمز نہیں دیکھنے کو ملیں۔ ہم پاکستانی تو بس ذیادہ سے ذیادہ بس البم خریدتے یا کوئی ائک آدھا کنسرٹ ہوا تو جا کر دیکھ لیا بس۔ اب یہ کیا پاگل پن ہوا 

    وہ حسب عادت ناک چڑھا کر بولتی گئ۔ تائید چاہنے والے انداز میں اسکی جانب دیکھا تو اسے بس ہونٹ ہلتے دکھائی دیئے بات سمجھ نہیں آئی۔

    دے؟ وہ سوالیہ ہوا۔ 

    اسکی غائب دماغی محسوس کرکے وہ ہنسی

    تم بھی انکے فین تو نہیں خون دیکھ کر دکھ کے مارے بولتی بند ہوگئ۔ 

    وہ اسے چھیڑ رہی تھی۔ 

    نہیں مجھے سولو سنگرز ذیادہ پسند ہیں۔ اسطرح کے بینڈز میں گانا کم گلوکاروں کا ایکسپوژر ذیادہ رہ جاتا ہے۔ سادہ سا لو سانگ بھی درجن آوازوں کے ساتھ سننے کو ملتا ہے تو اسکا اثرزائل سا ہوتا جاتاہے۔ 

    وہ خلاف عادت آج بے حد سنجیدہ سا تھا۔ہر بات سے اسکا اظہار ہو رہا تھا۔ اس نے کندھے اچکا دیئے۔ 

    میں نے گانے کبھی اتنے غور سے نہیں سنے۔ بس جو اچھا لگا سنا گانے بھی کوئی غور کرنے والی چیز ہیں۔ 

    وہ سرجھٹک رہی تھی۔ ہیون خاموش ہو رہا ۔ 

    لائٹ اسٹکس بینرز اور ٹی شرٹس خرید کر جب کائونٹر پر آئے تو اسکا بل اسکی توقع سے کہیں ذیادہ بن چکا تھا۔ 

    اس نے اپنا پرس کھولا تب تک ہیون کریڈٹ کارڈ سیلز گرل کی جانب بڑھا چکا تھا۔ 

    گھمسامنیدہ۔ 

    سیلز گرل جھک کر شکریہ ادا کر رہی تھی۔ اس نے شاپرز اٹھانے کو ہاتھ بڑھائے تو ہیون نے اسے اٹھانے نہیں دیئے۔ گاڑی میں لا کر سب چیزیں پچھلی سیٹ پر ڈھیر کرکے وہ گاڑی لاک دوبارہ کرکے مڑا۔ 

    ادھر ایک بہت اچھا کیفے ہے چلو اس میں بیٹھ کر کافی پیئیں۔ 

    نہیں۔ اس نے سہولت سے انکار کر دیا۔ مجھے رش سے الجھن آرہی ہے۔ 

    وہ جتنی سنجیدہ نظر آرہی تھی اسے اسکی بات پر یقین کرنا پڑا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گاڑی سے اتر کر ہیون پچھلی سیٹ سے اسکے لیئے خریدئ ٹی شرٹس لائٹس وغیرہ کا شاپر الگ کرکے اسے دینے لگا تو اس نے تھاما ہی نہیں۔ 

    مجھے انکی قیمت بتائو کیا بنی۔ اور اسکی قیمت مجھ سے لینے کا وعدہ کرو تب میں انکو ہاتھ بھی لگائوں گی۔ 

    اسکا انداز بے حد سنجیدہ تھا

    کین چھنا میں بھی تو جا رہا ہوں کانسرٹ میں مجھے۔۔ 

    ہیون نے کہنا چاہا مگر وہ بات کاٹ گئ۔ 

    اسکا مطلب ہے میں انکو نہیں لے سکتی۔ آننیانگ

    وہ جھک کر خدا حافظ کہتی مڑ گئ۔ 

    اریزہ شا۔ 

    وہ اسکے پیچھے بھاگا۔ اسکو آگے آکر جا لیا۔ 

    کیا ہو گیا ہے یہ ہم نے ساتھ جانے کیلئے ہی تو لیئے ہیں اور کیا ہم دوست نہیں ہیں؟ میں تحفہ نہیں دے سکتا تمہیں کیا؟ 

    اسکے انداز میں اپنایئت بھری خفگی تھئ

    دوستی برابری کی سطح پر ہوتی ہے۔ تم مجھے کتنی بار زیر بار کر چکے ہو کبھی لنچ پر مجھے پیسے نہیں دینے دیتے مجھے یہ تحفہ لینا اپنی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کے برابر لگ رہا ہے میں نے تو آج تک کوئی تحفہ نہیں دیا تمہیں۔ 

    اسکا انداز بچکانہ ہو گیا تھا ہیون کھل کر ہنس دیا۔ 

    اتنی سی بات۔ ٹھیک ہے مجھے اب تم سے اچھا سا تحفہ چاہیئے۔ وعدہ کرو۔ مجھے میری سالگرہ پر تحفہ دوگی میری پسند کا۔ 

    اس نے اپنی چھوٹی انگلی اسکی جانب بڑھائی۔ 

    وہ تحیر سے دیکھنے لگی۔ ہیون منتظر تھا۔ 

    ہمارے یہاں جب کٹی کرنی ہوتی ہے تب ایسے انگلی ملاتے ہیں۔ 

    اس نے منہ بنایا۔ 

    کٹئ؟ ۔۔۔ وہ سوالیہ ہوا۔ 

    مطلب تعلقات ختم کرنے کا اعلان ناراضگئ کا اظہار کرنے کیلئے ہم ایسے بچپن میں انگلی ملا کر منہ پھیر لیتے تھے۔ 

    اس نے بتفصیل بتایا 

    ہیں وہ کیوں؟ وہ حیران ہوا۔ اس نے فورا ہاتھ واپس کر لیا۔ 

    عجیب بات ہے۔ اچھا کلچرل شاک دیا۔ ہم کوریا میں پکا وعدہ کرنے کیلئے پنکی پرامس کرتے ہیں۔ مگر چلو میں تمہاری زبان پر اعتبار کرتا ہوں مجھے اچھا سا تحفہ چاہیئے۔ یاد رکھنا۔

    اس نے اپنائیت بھری دھونس کے ساتھ اسکو تھیلے تھمائے۔ 

    کب ہوتی ہے تمہاری سالگرہ۔ ؟

    اس کو اب تحفہ لینے کی فکر ہو گئ تھی۔ 

    بہت جلد ۔ وہ مسکرا دیا۔ 

    آچھا اب اندر جائو تمہیں پہلے ہی ٹھنڈ بہت لگتی ہے۔ 

    اس نے ٹوکا تو اسے بھئ احساس ہوا خنکی کا۔ سر ہلا کر خدا حافظ کہتی تیزی سے اندر بڑھ گئ۔ وہ وہیں کھڑا اسے نظروں سے اوجھل ہونے تک دیکھتا رہا۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لفٹ میں اوپر جانے کا بٹن دبا کر اس نے یونہی موبائل جیب سے نکال کر دیکھا تو پانچ مسڈ کالز اور پندرہ پیغامات پڑے ہوئے تھے سب کے سب گوارا کے۔ 

    کہاں ہوں ابھی تک پہنچیں نہیں؟ 

    پانچ منٹ میں آرہی تھیں؟ 

    کیا جواب دیا تم نے یہ ہی بتا دو؟ 

    اچھا جواب دینے کا وقت بھی نہیں۔ 

    اسکا مطلب ہے خوب مزے کیئے جا رہے ہیں۔ 

    ٹھیک ہے میں سمجھ گئ ہاں ہوگئ۔۔ 

    مبارک ہو ۔میں بہت خوش ہوں تم دونوں کیلئے۔۔۔۔ 

    اسے ان تمام پیغامات کا کوئی سر پیر سمجھ نہیں آیا۔ 

    لگتا ہے پی کے ٹن ہوئی وی ہے۔ 

    اس نے یہی میسج لکھا 

    آر ئو ڈرنک۔ 

    پھر لفٹ کا دروازہ کھلنے پر میسج ڈیلیٹ کردیا۔ اپارٹمنٹ کے سامنے آکر پاسورڈ سے دروازہ کھول کرتھکے تھکے انداز میں  اندر داخل ہوئی تو سامنے لائونج کی دیوار پر لگا وال کلال سوابارہ بجا رہا تھا۔ 

    آہ۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ۔ 

    مجھے صحیح سیول کی ہوا لگ گئ ہے۔ سوا بارہ بجے یہاں میں کیسا آرام سے باہر گھومتی رہی ہوں۔ جبھی تو میرا واپس پاکستان جانے کا دل ہی نہیں کر رہا۔ 

    وہ خود کو ملامت کرنا چاہ رہی تھی مگر سچ تو یہ ہے یہاں رہنے کا مزا بہت آرہا تھا۔ 

    سب خریداری کے تھیلے اٹھا کر وہ دبے قدموں کمرے میں داخل ہوئی احتیاط سے صوفے پر ڈھیر کر کے کمر سیدھی ہی کی تھی کہ ملگجے  اندھیرے میں ایک ہیولہ سا سامنے کھڑانظر آیا۔ 

    ڈر کے مارے چیخ گھٹ ہی گئ سینے میں۔ 

    ہوپ نے آگے بڑھ کر سوئچ آن کرکے کمرے میں روشنی کردی۔ 

    تمہیں کیا ہوا۔ 

    سانس بحال کرتی وہ دل پکڑ کر صوفے پر ہی آن بیٹھی تھی۔ 

    ڈرا دیا تم نے۔ سوئی کیوں نہیں صبح نوکری پر نہیں جانا؟ 

    اسکا لہجہ کڑخت ہو گیا تھا۔ بندہ کب تک ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار بن کے رہ سکتا ہوپ جیسی لڑکی کے ساتھ۔ 

    رات بارہ بجے انجان ملک میں انجان لڑکوں  کے ساتھ گھومتے ڈر نہیں لگا اپنے گھرکے اندھیروں سے خوف آرہا۔ صحیح دوغلی لڑکی ہو۔ 

    اسکا انداز اور الفاظ اتنے سخت تھے کہ اسکے تن بدن میں آگ سی لگ گئ۔ 

    تمہارے ساتھ مسلئہ کیا ہے۔ سیدھے منہ بات کرنے کی۔تمیز نہیں سکھائی کسی نے شمالی کوریا میں؟ 

    وہ بھی اسے آج طعنہ دے ہی گئی۔ ہوپ کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ دوڑ گئ۔ 

    اتنئ زندگی شمالی کوریا میں نہیں گزری جتنی اسکے گرد ممالک میں گزری ہے۔ یہ سب لہجے کی کڑواہٹیں ترقی یافتہ ممالک کے تمیز دار باشندوں کی دین ہیں۔ مگر شمالی کوریا کی ایک تربیت آج تک میرے ساتھ ہے۔ منافقت نہیں ہوتی مجھ سے۔جو کرتی ہوں سینہ ٹھونک کر کرتی ہوں۔ 

    اسکئ یہ سب تقریر کا سیاق و سباق حوالہ متن کچھ بھی تو سمجھ نہ آیا تھا اسے۔ اسکی تحیر سے پھیلی آنکھوں میں طنز سے جھانکتی وہ باتھ روم کی جانب مڑ گئ۔ 

    مطلب کیا ہے تمہارا ۔ بات پوری کرکے جائو۔ 

    وہ پیچھے مٹھیاں بھینچ کر چلائی تھی ہوپ کو اسکے یوں طیش میں آنےسے جانے کیوں ٹھنڈ سی پڑی تھی کلیجے میں۔ پھر بھی باتھ روم کا دروازہ بند کرکے وہ بے آواز رودی تھی۔

    میں بہت نرم انداز سے پیش آتئ رہی ہوں تمہارے ساتھ جسکا تم بہت ناجائز فائدہ اٹھا چکی ہو۔ آئیندہ میرے ساتھ بد تمیزی کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا سمجھیں۔ 

    وہ حلق کے بل چلائی۔ اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتی گوارا کو اسکی طیش بھری آواز نے چونکا دیا۔ ہاتھ میں پکڑے شاپر لیئے وہ بھاگ کر اندر اسکے پاس آئی تھی۔ 

    کیا ہوا۔ 

    یہ ہوپ ۔ میں اسے قتل کردوں گئ کسی دن۔ دیکھنا۔ 

    دانت کچکچا کر کہتی سرخ بھبھوکا چہرے کے ساتھ وہ رو رہی تھئ۔ غصے کی شدت میں مٹھیاں بھینچ کر غصے کے مارے رودے کوئی۔ اس سے ذیادہ معصومانہ غصہ کیا ہو سکتا ہے۔ گوارا کے چہرے پر مسکراہٹ سی آگئ۔ پیار بھری۔ 

    دفع کرو اسے ادھر آئو۔ 

    اسے بچوں کی طرح اپنے ساتھ لگا کر وہ اسے باہر لے آئی۔ 

    اسکا غصہ تم نہیں سمجھ سکتیں ۔اسکو نظر انداز کیا کرو بس۔ اسکے پیچھے اپنا اچھا گزرا دن برباد کرنے کی ضرورت نہیں۔ 

    وہ اسکو سمجھاتئ بجھاتی کچن میں لے آئی۔ شاپرز کچن کائونٹر پر رکھ کر پہلے ٹشو رول لا کر سامنے رکھا۔ وہ سوں سوں کرنے لگی۔ 

    مجھے لگا ہم آج خوب باتیں کریں گے رات کو نیند تمہیں آنی نہیں باتیں سننے کو میں ہی ہوں سو کچھ اچھا کھانے پینے کا انتظام ہونا چاہییے۔ 

    یہ رہے حلال چپس ٹیگ دیکھ کر لائی ہوں ترکی کے بنے ہیں۔ اس نے جھٹ پٹ تیار ہونے والے چپس دکھائے ساتھ اپنی کارکردگی بھئ جتائی۔ 

     ، یہ کریکر تبوکی یہ فرائی چکن اسپیشل ایک پاکستانی ریستوران سے لیکر آئی ہوں۔ میرے لیئے یہ خاص والی کولڈ ڈرنک تمہارے لیئے سفید والی ۔ 

    وہ بول بول کر چیزیں ٹھکانے لگانے لگی۔ اپنے لیئے وہ پورا کریٹ لیکر آئی تھی۔ 

    اریزہ ٹھس سی بیٹھی رہی۔ وہ فریج بند کرکے مڑی تو اسے منہ پھلائے کہنیاں میز پر ٹکائے خفا خفا سے انداز میں میز کو گھورتا پایا۔ 

    اب مجھے دکھائو جو ہیون سک نے دیا ۔۔ وہ مسکرا کر اسٹول کھینچتی اسکے سامنے آبیٹھی۔ 

    مجھے اندازہ نہیں تھا کوریا میں لوگ پاپ موسیقی کو سننے کے ساتھ دیکھنا پہننا بھی پسند کرتے ہیں۔ 

    وہ گہری سانس لیکر سیدھی ہوئی۔ 

    اسکی بے تکئ بات پر گوارا نے اچنبھے سے دیکھا اسے۔ 

    وے؟ آئی میں واٹ۔ 

    اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا پھر فورا انگریزی میں بولی۔ 

    ہیون نے مجھے دو لاکھ وون کے گفٹس دیئے۔۔

    اریزہ نے منہ لٹکایا گوارا کی آنکھیں حیرت سے کھلیں۔

    ارے نہیں۔۔ اس نے کم کرکے بتائی ہوگی کم از کم بھی پانچ لاکھ وون کی تھی۔خیر کیسئ لگی تم نے قبول لیا؟ 

    وہ جانے کیوں پرجوش ہوئی۔ 

     ہاں ظاہر ہے۔ اس نے گہری سانس لی مگر مجھے ہیون  سے اتنا مہنگا تحفہ لینا اچھا نہیں لگا میں نے منع کیا لیکن اب سوچ رہی ہوں اسکا بدلہ مہنگا تحفہ دے کر اتار دوں۔ تم میری مدد کروگی نا اسکے لیئے اچھا سا تحفہ لینے کیلئے؟ اریزہ نے آس سے پوچھا 

    بالکل۔۔۔۔  وہ فورا اثبات میں سر ہلا کر بولی۔ 

    مگر مجھے دکھائو تو کیا دیا اس نے۔اس نے بہت شوق سے پوچھا  اسکا اشتیاق دیکھ کر وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

    لاتی ہوں۔ مگر مجھے لگتا نہیں مجھے فٹ آئے گی۔

    کیوں اتنے تو پیارے ہاتھ ہیں تمہارے۔ 

    گوارا نے کہا تو ہونٹ بھینچتی اٹھ گئ۔ 

    بس ہاتھ ہی پتلے پیارے ہیں۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گوارا بنا پلک جھپکائے اسے دیکھے جا رہی تھی وہ تھوڑی سی گھبرائئ۔ 

    کیا ہوا بہت چپکا ٹائٹ سا لگ رہا ہے نا۔ 

    وہ جانے کیوں جھینپ سی گئ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ٹی شرٹ کے اسٹال میں میں میڈیم سائز نکال کر اس نے دیکھی پھر دوبارہ تہہ کرکے رکھتے بڑا سائز اٹھا لیا۔ 

    ساتھ آئینے میں خود سے لگا کر ابھی دیکھ ہی رہی تھی کہ ہیون نے ٹوک دیا۔ 

    اپنے ساتھ گوارا کو بھی گھسانا ہے اس ٹی شرٹ میں؟ 

    دے؟ اسکی بے سروپا بات پر اس نے حیرانی سے گھورا۔ 

    اس نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اسمال سائز اٹھا کر اسے پکڑایا۔ 

    یہ تمہیں آئے گی۔ 

    آندے۔ وہ بے ساختہ بولی۔ 

    انٹرنیشنل میں تو کبھئ مجھے لارج سے کم نہیں آتا۔ میں یہاں کی لڑکیوں کی طرح ہوا ہوائئ نہیں ہوں۔ 

    وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولی۔ 

    ہیون نے اسکوشرٹ ہاتھ میں تھمائی اور ایک جانب اشارہ کرکے بولا۔

    یہ لو وہاں فٹنگ روم ہے جا کر پہن کر دیکھ لو۔ 

    میں۔۔ یہاں۔ 

    وہ گڑ بڑا سی گئ۔ 

    ہاں ادھر جا کر پہن کر دیکھ لو ٹرسٹ می یہی سائز ہے تمہارا۔

    ہیون کے دعوے سے کہنے پر وہ دانت کچکچا کر رہ گئ

    میں یہاں۔۔ اس نے طائرانہ نگاہ دوڑائی تو کئی لڑکیاں چینجنگ روم میں جا کر ٹی شرٹ بدل چکی تھیں اب انہی ٹی شرٹس میں گلوکاروں کے قد آدم پوسٹرز کے ساتھ تصویریں بنوا رہی تھیں۔ 

    جائو؟ ۔  اسے تزبزب میں پڑا دیکھ کر زور دینے والے انداز میں بولا۔ 

    وہ میں تو کبھی اس طرح باہر چینج نہیں کرتی۔ 

    اس نے جی کڑا کرکے کہہ دیا۔ 

    کیا مطلب تم لوگ فٹنگ دیکھے بنا خرید لیتے ہو کپڑے؟

    وہ اتنا حیران ہوا کہ وہ سٹپٹا گئ۔ 

    نہیں پاکستان میں بھی مالز وغیرہ میں چینجنگ روم ہوتے ہیں۔ اس نے صفائئ دئ۔

    بس میں استعمال نہیں کرتی۔ 

    بالکل ہی گائودی سمجھ رہا ہوگا مجھے۔ وہ دھیرے سے بڑ بڑائی۔ 

    کوریا ایک محفوظ ملک ہے اور یہ ایک مشہور کمپنی کا اپنا آئوٹ لیٹ۔ یہ بالکل محفوظ ہے دیکھو اور لڑکیاں بھی تو جا رہی ہیں۔ 

    وہ جانے کیا سمجھا اسے تسلی دینے لگا۔ 

    جائو یہ دونوں لے جائو۔ 

    وہ کشمکش کا شکار دونوں شرٹس تھام گئ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چینجنگ روم میں خود کو دیکھتے وہ حیران ہی رہ گئ تھی۔ 

    اسمال سائز بالکل جیسے اسکے لیئے بنا تھا۔ 

    اسکا اندازہ کتنا صحیح تھا۔ میں کتنی اسمارٹ ہوگئ ہوں۔ 

    وہ آئینے میں خود کو بے حد خوشی سے دیکھ رہی تھی۔ 

    وائو۔ صارم کیسا مجھے موٹی موٹی کہتا رہتا تھا۔ اور میں یہ تین چیزیں چڑھا کر کیسا گول گپا بن کے پھرتی رہی ہوں یہاں۔ ہا ہا ہا۔ کوئی مجھ سا بھی احمق ہوگا۔ میری تو رخسار کی ہڈی بھی نکل آئی ہے۔ 

    وہ اب اپنا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ 

    وزن کم کرو کسی طرح کے طعنے سننے والی اب سائز زیرو ہو چکی تھی 

    اف ۔ اس نے جھٹ دو تین تصویریں کھینچ ڈالیں۔ 

    اسے گئے کافی دیر ہو چلی تو اس نے دروازے پر آکر دستک دی۔ 

    اریزہ شا۔ 

    دے۔ 

    وہ پوز مارتی سیدھی ہوئی۔ 

    آرہی ہوں۔ 

    خود کو ایک بار پھر آئینے میں دیکھا تو سنجیدہ سی ہوتی گئ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     اسکی تصویر اسکرال کرتے گوارا نے موبائل سے نگاہ اٹھا کر سامنے کھڑی اریزہ کو غور سے دیکھا۔ 

    تصویر کے برعکس اس وقت وہ تھوڑی ڈھیلی شرٹ پہنے تھی۔

    تمہیں یہ اسمال سائز ہی خریدنا چاہیئے تھا۔ یہ والا بڑا ہے۔ 

    گوارا نے کہا تو وہ مسکرا کر اپنی جگہ آ بیٹھی

    یار وہ بہت فٹ ہو جاتا۔ 

    تو اس میں اتنی اچھی لگ رہی تھیں۔ ۔ گوارا نے کہا تو وہ کریکر اٹھا کر منہ میں رکھتے بولی۔

    مجھے اپنا آپ اجنبی سا لگ رہا تھا۔ 

    کیوں؟ گوارا کا سوال حاضر تھا

    کوئی بڑی وجہ نہیں۔ اسکا انداز ٹالنے والا تھا۔ 

    اچھا یہ بتائو ہیون نے کچھ کہا تمہیں؟ 

    گوارا نے بھی اصرار نہیں کیا بات بدل دی۔ 

    ہاں۔ اس نے گردن ہلائی۔ 

    کیا۔۔۔ گوارا کا اشتیاق عروج پر تھا۔

    اس نے کہا ہے کہ وہ میری پڑھائی میں مدد کرے گا۔ اور ہنگل سیکھنے میں بھی۔ پتہ ہے۔ تالی بجا کر خوش ہو کر کہتی وہ نیا کوئی قصہ سنانے لگی تھی۔

    گوارا نے گہری سانس بھر کر اسے دیکھا پھر کین کھول کر شراب نگلتے ہوئے ہمہ تن گوش ہو گئ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم نے کیا سوچا ہے امتحان کی تیاری کے بارے میں۔ 

    ڈرائیو کرتے ہوئے اس نے اچانک پوچھا تھا۔ 

    ہاں۔ کچھ نہیں۔ ایڈون کہہ رہا تھا کہ وہ کسی اکیڈمی سے ہنگل کا کورس کرنے لگا ہے ساتھ امتحان کی تیاری بھی۔وہ اسکے گوشی وون سے قریب ہے اب مجھے تو وہ دور پڑے گا تو سوچ رہی تھی اس ویک اینڈ پر کسی

    وہ دلچسپی سے گاڑی سے باہر دیکھ رہی تھی انداز جتنا سرسری تھا یقینا اس ویک اینڈ پر یہ کام ٹلنے ہی والا تھا۔ 

    سگنل لال ہوا تو اس نے گاڑی روکتے ہوئے باقائدہ جھاڑ پلائی۔ 

    بہت کم وقت ہے یہاں کے بچے سر دھڑ کی بازی لگاتے ہیں تم ذیادہ آسان سمجھ رہی ہو۔ 

    میں پڑھائی سر پر سوار نہیں کرتی ۔

    اس کا انداز لاپروا تھا۔ 

    ہیون نے مڑکر پچھلی نشست سے ایک شاپر نکال کر اسکی جانب بڑھایا۔

    اس میں پراسپیکٹس ہے اور فارم گوارا کی مدد سے بھرنا کل لازمی اسکو جمع کروانا ہے۔ 

    پکڑو۔ اریزہ کو حیران بلکہ بھونچکا بیٹھے دیکھ کر ٹوکا تو اس نے بوکھلا کر تھام لیا۔اور لفافے سے نکال کر دیکھنے لگی 

    فارم ہنگل کے ساتھ انگریزی میں بھی تھا۔ 

    ہیون مزید بھئ کچھ کہہ رہا تھا

    یہ تمہارے اپارٹمنٹ والی ہی روڈ پر پانچ منٹ کی واک پر اکیڈمی ہے۔ ایک غیر ملکی تنظیم کی غیر ملکیوں کی مدد کیلئے بنائی گئ اکیڈمی ہے۔ اس سے تم یہاں کے مروجہ معیار کے مطابق امتحان کو دینے کے قابل ہو سکو گی۔ 

    کل تیار رہنا صبح میں پک کرلوں گا۔ 

    مگر۔ اس نے شکریہ کہنا تھا مگر منہ سے کیا نکلا

    ایڈون خود تیاری کر رہا ہے باقی بھی کر رہے ہوںگے ایک تم ہی سکون سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہو۔ 

    اسکا انداز اپنایئت بھری ڈانٹ۔ وہ چپ ہی رہ گئ۔ ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یون بن اسے حیرت سے دیکھتا رہا۔ 

    ایڈون نے سر جھٹکا پھر ہنکارا بھر کر کلب کی رونقوں پر نگاہ ڈالنےلگا۔ 

    وہ دونوں  ایک کلب میں آئے تھے۔ 

    اور تمہیں لگتا ہے وہ تمہاری اس دھمکی سے ڈر کر ابارشن کروانے پر راضی ہوجائے گی۔ 

    ہاں۔ ایڈون کا جواب مختصر تھا۔ 

    تم اسکو کھانا بھی نہیں دے کر آئے ۔۔

    یون بن کو افسوس بھئ ہوا

    اسکو نوالے بنا بنا کر کھلاتا رہا ہوں جبھی اسے صورت حال کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہورہا ہے۔ ذرا سی بھوک سے مر نہیں جائے گی اتنا خود مختار ہونے کا شوق ہے تو پوری طرح خود مختار ہو میرے کندھے پر بندوق رکھ کر تو نہ چلائے نا۔ میں بھی دیکھتا ہوں کیسے اتنی مشقت برداشت کر پاتی ہے۔۔ پاپا کی پرنسس نے کبھی ہل۔کر پانی نہیں پیا۔۔  بچہ پالیں گی ہونہہ۔ 

    ایڈون کی تقریر کا ایک لفظ اسکے پلے نہیں پڑا تھا۔ ایڈون کو تھوڑی سئ چڑھ گئ تھی۔ اردو میں سب کہہ گیا  یون بن کا یہی خیال تھا کہ یقینا اول فول بک رہا تھا۔۔ لہراتا ہوا وہ۔ڈانس فلو رکی جانب بڑھ گیا تھا۔ گوری چمڑیوں میں وہ دور سے چمک رہا تھا۔ 

    بوتل دور کھسکا کر رکھتے ہوئے اس نے اپنا گلاس اٹھا کر گھونٹ بھرا۔

     ناچتے ہوئے ایڈون کو کسی نے کندھے سے پکڑ کر دھکیلا تھا۔ دھڑام سے وہ فرش پر گرپڑا تھا۔  

    یہ پاکستانئ  صحیح آئوٹ اینڈ آڈ ہیں۔ 

    یون بن  نے ایڈون پر نگاہیں جمائے ہوئے تبصرہ کیا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کمرے میں نائٹ بلب کی مدھم روشنی پھیلی تھی۔ گوارا بے خبر سو رہی تھی۔ ہوپ کے بھی ہلکے ہلکے خراٹے گونج رہے تھے۔ ایک بس وہی جاگ رہی تھی ۔ موبائل میں اوپر نیچے کرتے جب بری طرح تھک گئ تو آہستہ سے اٹھ کر ٹیرس میں چلی آئی۔ سخت سردی نے اسکا استقبال کیا تھا۔۔ وہ جھر جھری سی لیکر رہ گئ۔ مگر اندر جانے کا دل نہ کیا۔ سامنے ایک چمکتا دمکتا سیول تھا۔ رات کے ساڑھے تین بجے بھی ننھے قمقموں کی طرح روشن شہر کی بتیاں۔

    وہ سحر زدہ سی دیکھ رہی تھی۔ 

    موبائل اٹھا کر تصویر بنائی۔ اصل کا عشر عشیر بھی نہ تھا۔ 

    اس نے پھر بھی بلاگ پر لگا دی۔ 

    ہاتھ سے چھٹتے لمحوں کی زنجیر تھامے

    وہ اجنبی شہر میں کھڑی لڑکی

    کیا دیکھتی ہے 

    کوئی بتائے اسے آج تو کل بن جائے گا

    کہ کل تو پھر آجائے گا

    یہ سعی بے کار ٹھہرے گی

    لمحے کہاں قید ہو پاتے ہیں

    ازل سے گزرتے رہے ہیں 

    چھوڑو جانے دو۔۔ 

    اب مٹھی سے خون رسنے لگا ہے۔۔۔ 

    وہ لکھ کر ہنسی تھئ۔ کیا لکھا ہے۔ اتنا قنوطی پن کہاں سے آیا  اسے خود معلوم نہ تھا اسکے بلاگ کے پرستاروں کو بھی معلوم نہ تھا۔ دھڑا دھڑ پیغامات آنےلگے تھے

    پہلا کمنٹ

    کیا ہوا؟ اداس ہو ؟

    دوسرا

    اوئے یہ تو میری پڑوسن نکلی پچھلی چھت پر میں کھڑا ہاتھ ہلا رہا ہوں 

    ہیں۔ 

    اس نے آنکھیں پھاڑیں۔ 

    کونسی چھت اس نے باقائدہ گردن گھما گھما کر دیکھا۔ آگے بس کالونی تھی جن میں سے کسی کی چھت اس دیو ہیکل عمارت کے آس پاس بھی نہ آ سکتی تھی اور دور مین شہر کا نظارہ۔ 

    بس ما ردی چول۔ 

    اس نے یہی جواب لکھا۔ 

    تیسرا 

    اوئے ایڈمن کو فرسٹ ایڈ دو جا کے کوئی۔  زخمی ہوگی ہے بے چاری

    چوتھا 

    اس نےلمحہ لمحہ زنجیر کیا۔۔ زخم اٹھائے

    میں نے لمحہ لمحہ سمندرکیا اوران پر جہاز چلائے۔ 

    آگے ہنستا ہوا اسمائیلی 

    یہ صارم تھا۔ وہ بے ساختہ ہنستی چلی گئ تھی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کچھ سمجھ نہیں آیا اجنبی زبان ہے لیکن جب اداس تھا تو اس بلاگ پر لکھ دیتا تھا اپنا حال آج خوش ہوا ہوں سو میں بھی یہیں لکھ دینا چاہتا ہوں۔ آج میں نے عام انسانوں جیسی زندگی جینی چاہی آج  ڈیٹ پر گیا آج ڈیٹ کو ڈچ کرکے ایک دلچسپ لڑکی سے ملا اسکے ساتھ کھایا ہنسا اس وقت اسکو سوچ رہا ہوں تو اداس نہیں ہوں۔۔۔ 

    اس نے مسکراتے ہوئے لکھا تھا۔ جواب لمحہ بھر کے توقف سے آگیا تھا

    اچھی بات ہے۔  جیتے رہو خوش رہو۔ 

    اسکو یہ دعا اچھی لگی  وہ جواب لکھ کر کروٹ بدل گیا تھا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دراز کھول کر اس نے انگوٹھی کا کیس نکالا۔ 

    کیا کروں کل؟ وہ زیر لب بولا تھا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جواب میں مجھے آپکو بھی یہی کہنا چاہیئے مگر آج نہیں کہوں گا آجکی یہ دعا بس مجھے لگے آمین۔۔ 

    وہ اسکا عجیب سا جواب پڑھ کر ناک چڑھا گئی

    ہاں آپ خوش رہیں میرا کیا۔ مجھے تو میری اماں بھی دعائیں نہ دیتی ہوں گی آپ نے کیا دینی۔  

    اس نے موبائل کا تالہ لگا کر ٹرائوزر کی جیب میں ڈالا اور اندر کی جانب بڑھ گئ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔ ۔۔۔

    ختم شد 

    جاری ہے۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ? Rate us below

    Rating
  • Salam Korea Episode 30

    Salam korea

    by Vaiza Zaidi

    urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

Novel urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list


urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

novel

urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list
urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

Novel urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list


urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

novel

urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list
kdrama urdu,
Desi kimchi,
Desi kdrama fans,
Urdu kdrama,
Urdu web,
Kdrama maza,
Korean masti,
korean dramas,
kdrama,
k drama,
best korean drama,
korean drama 2020,
korean drama 2021,
kdrama 2021
best kdrama,
korean series,
kdramas to watch,
korean drama website,
kdrama website,
netflix korean drama,
asian drama,
best korean drama 2020,
top korean drama,
new korean drama 2021,
best korean drama 2021,
best kdrama 2020,
best kdrama to watch,
best korean drama on netflix,
best korean series,
best kdrama 2021,
kdrama netflix,
k drama urdu,
www korean drama,
watch korean drama,
best k dramas on netflix,
netflix korean drama 2021,
best kdrama on netflix,
new korean drama,
www kdrama,
k drama 2021,
korean series on netflix,
netflix korean drama 2020,
top 10 korean drama,
top kdrama,
top korean drama 2020,
k dramas to watch,
2021 korean drama,
korean drama series,
best korean series on netflix,
new kdrama 2021,
2020 kdrama,
2020 korean drama,
2021 kdrama,
k drama netflix,
best k drama to watch,
romance kdrama,
k drama 2020,
new korean drama 2020,
latest korean drama 2021,
korean dramas to watch,
top korean drama 2021,
watch kdrama,
korean tv series,
highest rated korean drama,
korean drama in hindi,
korean drama shows,
top kdrama 2021,
new kdrama,
watch asian drama,
popular korean drama,
kdrama online,
latest korean drama,
korean drama online,
korean netflix series,
korean tv shows,
korean shows,
must watch kdrama,
korean shows on netflix,
famous korean dramas,
romance korean drama,
top kdrama 2020,
most popular korean drama,
korean series 2021,
must watch korean drama,
new kdrama 2020,
best romance kdrama,
popular kdrama,
good kdramas,
korean drama in hindi dubbed,
korean series 2020,
kdramas 2020,
best korean shows on netflix,
korean drama 2021 netflix,
top k dramas,
top rated korean drama,
watch kdrama online,
korean romance,
top korean series,
netflix k drama,
good korean dramas,
latest kdrama 2021,
most watched korean drama,
top 10 kdrama,
famous kdrama,
all in korean drama,
best k drama 2020,
urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
pakeeza anchal,
l online reading,
pakeeza anchal novel online reading,
urdu novel bank,
urdu novel platform,
yaar zinda sohbat baqi,
desi story urdu,
    salam korea episode 30

    قسط 30

    Surat No 22 : سورة الحج – Ayat No 5 

    یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ  اِنۡ  کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ فَاِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ  ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ  ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ  وَّ غَیۡرِ مُخَلَّقَۃٍ  لِّنُبَیِّنَ لَکُمۡ ؕ وَ نُقِرُّ  فِی الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ  اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ  لِتَبۡلُغُوۡۤا  اَشُدَّکُمۡ ۚ وَ مِنۡکُمۡ  مَّنۡ یُّتَوَفّٰی وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ  اِلٰۤی  اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡلَا یَعۡلَمَ مِنۡۢ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ ہَامِدَۃً  فَاِذَاۤ  اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ   اہۡتَزَّتۡ وَ  رَبَتۡ وَ  اَنۡۢبَتَتۡ مِنۡ  کُلِّ  زَوۡجٍ   ۢ  بَہِیۡجٍ ﴿۵﴾

     لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور وہ بے نقشہ تھا  یہ ہم تم پر ظاہر کر دیتے ہیں  اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں  پھر تمہیں 

    بچپن کی حالت میں دنیا میں لاتے ہیں پھر  تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو ،  تم میں سے بعض تو وہ ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں  اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دئیے جاتے ہیں کہ وہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے  تو دیکھتا ہے کہ زمین (  بنجر اور )  خشک ہے پھر جب ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے  ۔  

    Surat No 23 : سورة المؤمنون – Ayat No 14 

    ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَۃَ عَلَقَۃً  فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَۃَ مُضۡغَۃً فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا ٭ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ ؕ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ  اَحۡسَنُ  الۡخٰلِقِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾

     پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا پھراس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کر دیا پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا ،   پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کر دیا ۔   برکتوں والا ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے  ۔  

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    موسم صبح سے ہی ابر آلود تھا۔ آج شائد پہلی برفباری بھی متوقع تھی۔ مگر وہ موسم کی شدت سے بے نیازقبرستان میں  رچل کی قبرکے پاس گھاس پر بیٹھا تھاقبر بالکل زمین برابر تھی۔ بس کتبے لگے تھے جن پر رچل کا مکمل نام اسکا مختصر تعارف اور اسکے والدین کی جانب سے محبت کے اظہار کے طور پر چند جملے درج تھے۔ جس دن تم ہماری زندگی میں آئی تھیں خوشی کا اصل مطلب ہم نے تب جانا تھا ہم تمہارے جانے کے غم کو مسترد کرکے اسی خوشی میں جی رہے ہیں کہ ہمیں مختصر عرصے کیلئے سہی حقیقی خوشی نصیب ہوئی۔ چین سے رہو ہماری پیاری بیٹی ۔۔

    یہ عبارت وہ ہمیشہ پڑھتا تھا۔ پھر بھی کبھی اکتایا نا تھا مگر آج پڑھ کر کسی کمی کا احساس ہوا اسے۔

    بس۔۔ اسکا ذکر جانے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا یا سہوا غلطی ہوگئ  وہ اسکی بیوی بھی تو تھی۔ وہ اگر لکھواتا تو کیا لکھواتا۔ 

    اس نے سوچنا چاہا۔

    وائس نوٹ کب کا بند ہو چکا تھا۔  

    ۔عبدالھادی نے اسے انسان کی پیدائش اور اسکے دوبارہ اٹھ جانے پر قرآن کا ترجمہ بھیجا تھا۔وائس نوٹ میں۔  

    اس نے گہری سانس لی ائیر پوڈ کانوں سے نکال کر اپنے کوٹ کی جیب میں ڈال لیئے۔ ۔ قبرستان میں اکا دکا لوگ تھے۔ 

    اس نے اپنے لائے ہوئے ٹیولپ کے گلدستےکو اسکے سرہانے رکھا تھا۔ اسکے کتبے کے ساتھ رکھے پھول۔ اس نے سر جھٹکا۔

     تو ہم انسان ایک خون کے لوتھڑے سے بنے ہیں۔ جب ایک قطرہ خون سے ہمیں ہڈیوں گوشت پوست میں ڈھالا جا سکتا ہے تو پھر چاہے ہم زمین کی گود میں گل کر مٹی ہوجائیں یا آگ میں جل کر راکھ ہو جائیں۔ جب کہیں  تھے نہیں بنا دیئے گئے تو جب ایک زندگی گزار کر ختم ہوں گے تو اس اپنے وجود کے اس زندگی میں اپنے نشان چھوڑنے والے کیسے ختم ہو سکتے ہیں۔ بس ایک کن ہوگا اور ہم سب اپنی اصل حالت میں واپس آجائیں گے۔ 

     ایک بار بے چین روتے ہوئے علی کا کندھا تھپکتے عبدالہادی نے تسلی دی تھی۔ 

    او راس نے سر اٹھا کر پوچھا تھا۔ 

    مجھے قیامت کے دن کا اب زندگی بھر انتظار رہے گا جب آپکی بات سچ ہوگی تو میں دیکھوں گا رچل کو 

    واپس پہلے سا ہنستا مسکراتا مگر ایسا نہ ہوا تو؟ 

    قیامت پر یقین ایمان کا حصہ ہے احمق۔جزبات میں بہہ کر اپنے ایمان کو متزلزل نہ کرو۔ 

    انہوں نے اپنے ازلی نرم سے انداز میں گھرکا۔ 

    وہ کپڑے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ دس ہزار بار یہاں آچکا ہوگا مگر کبھی اسے رچل کی قبر دیکھ کر رچل کے وہاں موجود ہونے کا احساس نہیں ملا تھا۔

    زمین کے اوپر چلتا بولتا انسان جتنا حقیقت لگتا ہے زمین کے نیچے دفن انسان خواب تخیل ہی بن کے رہ جاتا ہے۔ یوں جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔کوئی وہم کوئی احساس بس۔ یادیں ۔ایسے انسان کی جسے دوبارہ کبھی دیکھ بھی نہ پائیں گے۔

    اس نے سر اٹھا کر آسمان کے تیور دیکھے تو واپسی کا ارادہ باندھنا ہی پڑا۔ ہوا کی خنکی ایکدم بڑھ گئ تھی۔ وہ مفلر گردن پر درست کرتا ہوا آگے بڑھنے لگا کہ خیال آیا۔ واپس مڑ کر گلدستے سےایک  پھول نکال کر رچل کی قبر پر رکھا۔ پھر اپنے راستے میں آنے والی ہر قبر پر ایک ایک پھول رکھتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ لوگوں نے اچھی طرح سوچ لیا ہے؟ 

    ڈاکٹرنی نے خالص پیشہ ورانہ انداز میں ان دونوں سے 

    سوال کیا تھا۔ اسکی رپورٹس اسکے ہاتھ میں تھیں۔ان پر نظر دوڑاتے جتنا سرسری انداز میں پوچھا تھا اسکا مطلب یہی بنتا تھا کہ یہ صرف ایک فارمیلیٹی تھی۔۔ سنتھیا کے ہاتھ پائوں ٹھنڈے ہونے لگے۔ایڈون اسکے برابر ہی کھڑا تھا۔  ۔ایڈون نے اسکا ہاتھ ہلکے سے دبایا۔ اور مضبوط لہجے میں بولا

    دے۔۔ ( ہاں) 

    ٹھیک ہے آپ یہاں انتظار کیجئے۔ڈاکٹرنی نے اس سے کہا تھا اور سنتھیا کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتی اس کمرے میں گھس گئ۔ ایک دو میڈیکل کی طالبات بھی اسکے ہمراہ تھیں۔ سنتھیا نے گھبرا کر ایڈون کو دیکھا

    میں یہیں باہر انتظار کر رہا ہوں بالکل پاس ہوں تمہارے۔ بالکل گھبرانا نہیں ٹھیک ہے۔ 

    ایڈون نے اسکے یخ ہوتے ہاتھ تھام کر اسکی آنکھوں میں جھانکتے تسلی دی۔ 

    اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ 

    آئی لو یو۔ ایڈون کے کہنے پر وہ ہلکے سے مسکرادی

    آئی لو یو ٹو۔ 

    اب جائو۔ ایڈون نے کہا تو وہ سر ہلاتی اندر کمرے میں داخل ہو گئ۔ سامنے ہی بیڈ سا لگا تھا ۔ ایک نرس فورا 

    اسکی مدد کو آگے بڑھی تھی۔ ڈاکٹرنی ایک بڑی سی اسکرین پر ہونے والے آپریشن کا طریقہ کار ان طالبات کو سمجھا رہی تھی۔ کچھ سلائیڈز تھیں۔ اور ایک اینیمیٹڈ ویڈیو بھی۔ 

    اپنی زبان میں سمجھاتئ اس ڈاکٹرنی کی ایک بات اسکے پلے نہ پڑی تھی۔ وہ دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی بمشکل بیڈ پر نرس کی مدد سے دراز ہوئی۔ نرس نے سب سے پہلے اسکا بلڈ پریشر دیکھا۔ پھر تسلی آمیز انداز میں بولی

    کین چھنا آگاشی۔ 

    اس نے سر ہلایا۔ 

    کیسی ہو لڑکی؟ ڈاکٹرنی مسکرا کر اسکے پاس آئی۔ 

    ٹھیک ہوں۔ اس نے جتنے فق ہوتے چہرے کے ساتھ کہا تھا اس سے وہ ٹھیک بالکل نہیں لگی تھی۔

    میرا نام ڈاکٹر رودا ہے تمہارا کیا نام ہے پیاری لڑکی۔ 

    وہ شستہ انگریزئ میں اس سے باتیں کرتی ہوئی آپریشن کی تیاری کر رہی تھی

    سنتھیا ۔ اسکی آواز مدہم تھی ڈاکٹرگلوز چڑھا کر ان لڑکیوں کی جانب متوجہ ہوئی۔ 

    ہمیں اس آپریشن کیلئے ویڈیو کی اجازت نہیں ملی نہ ہی کسی مرد طالب علم کو اندر آنے کی اجازت ملی ہے۔ 

    اور یہ تم دونوں کیلئے بے حد اچھا ہے کھل کر سوال کر سکتی ہو اور ذیادہ سے ذیادہ سیکھ سکتی ہو۔ 

    وہ روانئ میں ان سے بھئ انگریزئ میں بول گئ  

    بلڈ پریشر جب تک نارمل نہیں ہوگا ہم سن نہیں کریں گے ۔

    میم ابھی تو ابتدائی سطح ہے اس سطح پر بچہ تو نہیں ہے نا مطلب ابھئ تو بس ذیادہ سے زیادہ دل بننا شروع ہوا ہوگا۔ 

    اس طالبہ  نے سوال کیا تھا۔ سنتھیا بھی  مکمل طور پر انکی جانب متوجہ تھی۔

    ڈاکٹرنئ نے آلہ سنتھیا کے پیٹ سے لگا کر انکو مانیٹر میں موجودہ شکل دکھائی  

    ہم اس ابتدائئ شکل کو فیٹس کہتے ہیں۔۔ ابھی شکل تو نہیں بن پائی مگر سلسلہ تو شروع ہو چکا ہے۔ اب اندر ایک نئی زندگئ کی بنیاد پڑ چکی ہے۔یہ ایسا ہی ہے کہ آپ نے بیج بویا اس میں سے کونپل پھوٹ گئ اب اگر آپ اس بیج کو اکھاڑ پھینکیں گے تو وہ پنپنے گا نہیں اور اگر اسے بڑھنے کا موقع دیں گے تو وہ تنا ور درخت بھی بن جائے گا۔ کون جانتا مستقبل۔

    ڈاکٹرنئ مکمل ہنگل میں سب تفصیل بتا رہی تھی۔

    اسکا دھیان ہٹا تھا کہ نرس نے اسکو ٹیکا ٹھونک دیا 

    تھا۔ وہ ایکدم سے اٹھ بیٹھی۔ 

    یہ اسکرین مجھے بھئ دکھائو۔ 

    اس نے بے تابی سے انگریزی میں کہا تھا۔ 

    دے؟ ۔ طالبات حیرانی سے دیکھنے لگی تھیں اسے مگر ڈاکٹر نے شائد اسکا اشارہ سمجھ لیا جبھی مانیٹر کا رخ ترچھا کر کے اسکو دکھایا۔ 

    یہ یہ ابھی تو کچھ بھی نہیں ہے ۔۔ ہے نا۔ 

    اس نے بے تابی سے انگریزی میں پوچھا اسے تسلی درکار تھئ شائد۔  

    ڈاکٹر نے اسے غور سے دیکھا۔ اسے یقینا اب اپنی بات دہرانی پڑنی  تھئ۔۔ اس نے گہری سانس لیکر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔

    یہ ابھی کچھ تو ہے سنتھیا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    موسم کی پہلی برفباری متوقع ہے لڑکیوں۔ پہلے ہی بتا دوں آج خوب سنبھل کر رہنا کسی بھی ایرے غیرے نتھو خیرے سے ٹکرا نا جانا نا فالتو بحث میں پڑنا۔ خاص کر شام چار بجے کے بعد۔

    گوارا ناشتے کی میز پر بیٹھی پراٹھا انڈا اڑاتئ اعلان کر رہی تھی۔ اریزہ نے پراٹھا توے پر ڈالتے ہوئے حیرت سے مڑ کر پوچھا

    کیوں۔۔؟؟

    ایویں ڈرامے۔

    ہوپ نے منہ بنا کر کافی کا مگ منہ سے لگایاوہ ایگ رول چاول اور کمچی کے ساتھ کھا رہی تھی۔ 

     گوارا نے اسکا ایک ایگ رول اچک لیا۔ 

    کیونکہ یہ کوریا کی بہت پرانی ریت ہے اور میرا دل سے اس پر اعتقاد ہے کہ موسم کی پہلی برفباری میں مخالف صنف کے ساتھ ہو تو اس سے محبت ہو جاتی ہے۔ 

    منہ میں ایگ رول بھرے وہ بمشکل بتا پائی۔ 

    اریزہ اپنا ناشتہ لیکر انکے پاس چلی آئی۔ 

    میں تو بھئی آج گھر میں ہی ہوں مگر تم دونوں اونگے بونگے لڑکوں سے نا پٹ جانا ۔ پہلی برفباری خطرناک ہوتی ہے دل والوں کیلئے۔۔ دل کہیں اٹک ہی جاتا ہے۔ 

    وہ آج فل موڈ میں تھی۔ 

    واقعی؟ تو پھر منع کیوں کر رہی ہو۔ اچھا ہے ہوپ کو آج کوئی اچھا سا لڑکا ٹکر جائے۔ اریزہ نے کہا تو حسب توقع ہوپ منہ بنا گئ

    بکواس یے یہ۔ شمالی کوریا میں ہم پہلی برفباری کیا آخری برفباری تک برفباری میں صرف پناہ ڈھونڈتے 

    ہیں محبوب نہیں۔ 

    ہاں تو وہاں نا ۔یہاں کی بات کر رہی ہوں۔ 

    گوارا نے سر جھٹکا۔ 

    کیوں یہاں کی برف گرم ہوتی یے؟ ۔ہوپ نے تمسخر اڑایا۔

    ہائش۔ گوارا نے سر پیٹ لیا جیسے

    اس لڑکی میں کوئی حس چھو کر نہیں گزری۔ بھئ سیدھی بات ایک جنوبی کوریائی ذمہ دار شہری لڑکی ہونے کے ناطے بتانا میرا فرض تھا۔برفباری میں کسی اونگے بونگے سے ٹکر کر محبت نہ کر بیٹھنا ہو جاتی ہے محبت میں زندہ مثال ہوں۔اسکی۔ 

    اس نے بے چاری سی شکل بنائی ۔ ہوپ اور اریزہ دونوں کھانا وانا بھول کر اسکی شکل دیکھنے لگیں۔

    کیسے۔۔

     وہ مزید ترنگ میں آگئ۔ 

    کرسی پیچھے کر کے لہرا لہرا کر بولی

    آج سے چار بلکہ پانچ سال قبل ایک معصوم سیدھی سادی لڑکی جو چپکے چپکے اپنے سن بے کو پسند کرتی تھی اسکول سے واپسی پر اپنے راستے سڑک کنارےسر جھکائے چلتی جا رہی تھی۔۔

    وہ باقائدہ اپنی آگے سے کھلی  سوئٹر کو لپیٹ کر سکڑ 

    کر سر جھکائے چلی۔ اریزہ کی پشت پر آگئ تھی وہ نوالہ پلیٹ میں رکھ کر بھرپور اشتیاق سے مڑ کر دیکھنے لگی۔ 

    یک نہ شد دو شد۔ 

    ہوپ نے تاسف سے اس احمق کو دیکھا جو ایسے متوجہ تھی جیسے گوارا اسے ملک کے اہم راز بتانے والی ہے۔ 

    تھمو ذرا۔ ہوپ نے اپنا سر خود ہی چپت مار کر بجایا

    پکی نارتھ کورین ہوں میں بھی۔ یہاں بھی ملکی راز ہی مثال کے طور پر سوجھے۔ 

    موسم سازش پر اترا تھا۔ پہلی برفباری متوقع تھی۔ لڑکی کو گھر جانے کی جلدی تھئ۔۔ 

    ہاتھوں کے اشارے سے ڈرامہ بازی کرتی گوارا جیسے فل فارم میں تھی۔ 

    پھر۔  

    اریزہ کا اشتیاق دیدنی تھا۔ 

     کہ اچانک کہیں سے ایک اجنبی بندر کی شکل کا ہائی اسکولر چار لڑکوں سے بھاگتا پٹنے سے بچتا اس سے آٹکرایا۔ 

    بیان۔ وہ لڑکی اسکے دھکے سے دھپ سے گھٹنوں کے بل گری۔ لڑکے کے پاس موقع تھا کہ کہہ کر دوبارہ 

    چوتھا گئیر لگاکے بھاگے اور مڑ کر نہ دیکھے۔ 

    مگر۔ 

    گوارا نے ڈرامائئ وقفہ لیا۔ 

    مگر۔۔ اریزہ کی آنکھیں بڑی ہوئیں۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ گھٹنوں کے بل گری تھی۔یون بن گرتے گرتے بچا تھا۔ اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑی تھیں۔ اس نے تھوک نگلتے اس لڑکی سے معزرت کرکے بھاگ جانا چاہا

    بیان۔ 

    اسکے عجلت میں معزرت کرنے پر گھٹنا سہلا کر اٹھنے کی کوشش کرتی گوارا نے خفگی سے سر اٹھا کر گھورا

    سردی سے سرخ ہوتی ناک آنکھوں میں چوٹ لگنے سے پانی اتر آیا تھا چہرے پر اڑتی آوارہ لٹیں اسکے کندھے تک آتے بالوں کی اونچی پونی ہوا سے اڑی تھی اور یون بن کے ہوش اڑے تھے۔ جی نہیں۔ اسکو دیکھ کر نہیں بلکہ لمحہ بہ لمحہ بھاگ کے قریب آتے لڑکوں کو دیکھ کر۔ 

    گوارا کو اس انتہائی نازک صورتحال میں بھی سہارا دینے رکا اسکو ہاتھ پکڑ کر اٹھنے میں مدد کی اور بھاگ کھڑا ہوا مگر افسوس۔ چند قدم ہی آگے بڑھا ہوگا کہ پیچھے سے آتے چار لڑکوں نے اسے گھیر لیا تھا۔ 

    دے مکا وہ لات۔ گوارا ششدر سی اسکی اپنی آنکھوں کے سامنے درگت بنتی دیکھ رہی تھی۔ اسکی ناک سے خون پھوٹا اور سڑک کنارے گزرتی پولیس وین نے آواز لگائئ۔ 

    کیا کر رہے ہو تم لوگ۔ لڑکے اسکو وہیں فٹ پاتھ پر چھوڑ کر بھاگے تھے۔ وہ فٹ پاتھ پر بیٹھا اپنی چوٹیں سہلا رہا تھا جب گوارا انسانی ہمدردی کے تحت اسکے قریب آئی اور اپنا صاف ستھرا رومال اسکی جانب بڑھایایون بن نے حیرت سے دیکھا ۔مگر رومال تھام لیا

    چند لمحوں میں ہی روئی کے گالے ان دونوں پر آن برسے تھے۔ 

    کین چھنا؟ 

    یہ گوارا نے نہیں پولیس والے نے پوچھا تھا۔ گاڑی سے اتر کر اسکے پاس آئے تھے یون بن کو سہارا دے کر کھڑا کیا اور یون بن وہیں چاروں شانے چت ہو گیا تھا۔ 

    شائد گوارا بھی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بات تو پولیس والے نے کی تھی تمہیں اس سے محبت ہونی چاہیئے تھی۔ 

    ہوپ نے اسکی رومانوی کہانی کا کیا انجام کیا تھا۔ گوارا نے دانت کچکچائے۔ 

    عقل کی دشمن۔ جب برف گر رہی تھی تو میں اور یون بن ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ اور تبھی میرا سن بے والا کرش بھاپ بن کے اڑا اور یون بن کی محبت برف بن کر میرے دل پر آجمی۔ 

    اس نے آہ بھر کر دل پر ہاتھ رکھا  

    اریزہ واپس گھوم کر ناشتے کی طرف متوجہ ہو گئ تھی۔

    بہر حال سچ کہتی ہوں اس جادوئی لمحے میں کچھ تھا پہلی برفباری کا اثر ورنہ مجھے یون بن سے تو کبھی محبت نہ ہوتی جتنا دل پھینک اور لفاظ ہے۔ 

    گوارا نے سارا الزام محبت موسم کے سر ڈال کر ہاتھ جھاڑ لیئے۔ 

    شکر ہے ہمارے یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ 

    اریزہ نے کندھے اچکائے۔ 

    محبت نہیں ہوتی؟ گوارا حیران ہوئی

    برفباری نہیں ہوتی۔۔۔ 

    ہوپ نے جملہ مکمل کیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ صوفے پر اسکا جیکٹ پڑا تھا وہ اٹھا کر پہننے لگئ۔ 

    اریزہ نے حیران ہو کر اسکی شکل دیکھی۔ 

    ہوتی ہے پاکستان میں بھی برفباری اریزہ نے خود بتایا تھا ہے نا اریزہ۔۔ 

    گوارا نے کہا تو وہ جز بز سی ہو کر سر ہلانے لگی۔ 

    واقعی؟ ہوپ کو یقین نہ آیا۔ خود اریزہ سے پوچھنے لگی۔ 

    آ۔۔ ہاں۔ وہ گڑبڑا سی گئ۔ 

    تمہیں دیکھ کر لگتا تو نہیں کہ برفباری کی عادی ہو۔۔ برفباری ہونی ہے اور تم یہ تیار ہوئی ہو۔ 

    اس نے اریزہ کئ جانب اشارہ کیا جو اس وقت وولن فراک پہنے بیٹھئ تھئ۔ ساتھ اونی ہی لیگنگ تھا۔ جبکہ ہوپ ہائی نیک کے اوپر گھٹنوں تک کا بڑا سا پیرا شوٹ جیکٹ پہن رہی تھی۔ جسے دیکھ کر اسے پہلا خیال یہی آیا تھا کہ کوئی اسکو بھئ خرید سکتا ہے۔ 

    ہاں اریزہ لانگ کوٹ پہن کر جانا بلکہ ایک سوئیٹر اور پہن لو۔ 

    گوارا فکر مند ہوئی۔ 

    اتنا گرم فراک ہے مجھے ذرا ٹھنڈ نہیں لگ رہی۔ 

    اس نے اطمینان دلانا چاہا۔ 

    بوائلر چل رہا احمق باہر نکل کر دیکھو تو پتہ لگے کتنی ٹھنڈ ہے  

    گوارا نے ڈانٹ دیا۔ 

    باہر نکلتے وقت کوٹ لے لوں گی۔۔  اس نے تسلی کرائی

    کتنی دیر ہے تمہیں اور؟ 

    ہوپ نے کہا تو وہ ناشتہ ختم کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

    چلو خیریت سے جائو دونوں۔ خدا تم دونوں کو اچھے لڑکے ٹکرائے آمین۔ 

    گوارا نے جیسے صدق دل سے دعا دی۔ اس دعا پر اریزہ نے ہنس کر اسکو دیکھا تھا۔ ہوپ کے چہرے پر بھی کوئی بھولی بھٹکی مسکراہٹ در ہی آئی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ حسب معمول آکر اپنا اسٹال سیٹ کر رہی تھی۔ 

    مینجر اسے دیکھ کر بھاگا بھاگا آیا۔ جانے کونسا بے نم کہہ رہا تھا مطلب میڈم محترمہ کہہ کر اسکا احوال انگریزی میں پوچھا۔۔ 

    میں ٹھیک ہوں شکریہ۔ 

    وہ کافی شرمندہ ہو رہی تھی اسکے رویئے سے۔ جوابا مینجر کی ساری انگریزی مک گئ جھک کر سلام کرتا واپس ہواپھر سینڈوچ  اور گرم کافی کا کپ اسکو بھجوا دیا۔

    اس نے سینڈوچ کھول کر دیکھا تو سبزیاں اور ساتھ چکن بھی تھا اس نے احتیاط سے ایک طرف رکھ دیا۔ 

    کیوں آئی ہو آج تم ؟ 

    کم سن کمر پر ہاتھ رکھے کھڑا گھور رہا تھا۔ 

    تاکہ تمہیں میری تنخواہ خود گھر لاکر نہ دینی پڑے۔ 

    اس نے آرام سے کہا۔ کم سن اسے کھڑا گھورتا رہا۔ 

    گردن ٹھیک ہوئی تمہاری؟ 

    اسکے باس کو فکر بھی تھئ اسکی۔ وہ مسکرا دی

    میں بالکل ٹھیک ہوں۔ ذرا سا ہی جلن ہے اب بس۔ 

    اچھی بات ہے۔ اور آرام سے پانچ بجے تک چلی جانا آج برفباری کا امکان ہے۔ 

    کم سن کے کہنے پر اسکے لب وا ہوئے مگر تبھی مینجر کم سن کو بلانے آیا تو وہ چپ ہی کر گئ۔ آج بھی ذیادہ تر مفت ہی کھا پی کے بچے چلے گئے سیلز کا ٹارگٹ پورا نہیں ہوا اسکا۔

    چار  بجے اسکے دوسرے باس سر پر کھڑے تھے۔ 

    چلو گھر چھوڑ دوں تمہیں۔ 

    اسے ہنسئ آگئ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم لوگ پڑھ نہیں رہے ہو ؟

    ہایون اسی بچوں کی اونچی والی کرسی پر بیٹھا کافی کا کپ تھامے منہ پھلائے اسے گھور رہا تھا اس نے اسکا موڈ بدلنے کی خاطر پوچھا تھا۔ 

    امتحان ہو رہے ہیں۔۔ 

    منہ پھلانے کے باوجود اس نے جواب دیا تھا۔

    ہیں۔ اس کو شدید حیرت ہوئی ۔۔ 

    کوئی فکر وکر نہیں پالتے تم لوگ امتحانوں کی؟ مزے سے نیااسٹارٹ اپ شروع کیا جا رہا ہے چھٹیاں کی جا رہی ہیں اور یہاں بیٹھ کر کافی پی جا رہی ہے۔ 

    اس نے گھورا۔ 

    یونیورسٹی امتحانوں کی کیا فکر؟ وہ الٹا اسے حیران ہو کر دیکھنے لگا۔ 

    امتحانوں کی ہی تو فکر ہوتئ یے۔ اچھے گریڈ جی پی اے کیلیئے  پریزنٹیشنز اسائنمنٹس سب مکمل کرنی ہوتی ہیں۔ 

    اس نے کہا تو وہ سر جھٹک کر بولا

    ہائی اسکول تک فکریں پالی ہیں تاکہ اچھی یونیورسٹی میں داخلے کیلئے نام آجائے۔ ہائی اسکولرز یہاں کے فکریں بھی پالتے ہیں۔ فیل ہو جائیں تو خودکشی بھی کر بیٹھتے ہیں مگر تب اتنئ پریشانی اٹھانے اور ذیادہ سے زیادہ ہنر سیکھنے ،  اچھے گریڈ حاصل کرنے کا پھل یونیورسٹی کی سطح پر ملتا ہے۔ اچھا پروفائل بن چکا ہوتا ہے اچھی یونیورسٹی کی سب سہولتیں ملتی ہیں پھر راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔۔۔ 

    تم لوگوں کا کیا حساب ہے؟ اس نے برسبیل تذکرہ 

    پوچھا 

    ہاں۔ وہ چونکی  پھر گڑبڑا سی گئ۔ بے خیالی میں وہ اسکی تھوڑی پر پڑنے والے نیل کو ہی دیکھے گئ تھی۔ اسکے گورے چٹے چہرے پر دور سے دمک رہا تھا۔ اس کو افسوس ہونے لگا تھا  اسکی وجہ سے بے چارہ سنتھیا کے ہاتھوں پٹ گیا۔ بات تو سنی ہی نہیں۔۔ 

    کیا سوچ رہی تھیں۔ 

    وہ اسکی غائب دماغی پر مسکرا کر پوچھنے لگا۔

    ککچھ نہیں۔ وہ کرسی پر سیدھی ہو بیٹھی۔ کافی اسکی ختم ہونے لگی تھی۔ اس نے کپ خالی کرکے میز پر ٹکایا

    چلو تمہیں گھر چھوڑ دوں۔ 

    ہایون اٹھ کھڑا ہوا۔ 

    ابھئ وقت ہے میری چھٹی ہونے میں۔ اریزہ نے سہولت سے انکار کیا  

    میں نےاس دن صرف مزاق کیا تھا۔ میں بہت سنجیدگی سے یہ نوکری کرنا چاہ رہی ہوں۔ مجھے جاننا ہے میں کتنی محنت کر سکتی ہوں مجھ میں کوئی ہنر ہے بھی یا نہیں میں نے خود مختار ہونا ہے ۔ میں اپنی محنت کی تنخواہ لیکر جانا چاہتی ہوں۔ ۔ تم دونوں اگر اسی طرح میرے ساتھ خاص الخاص والا 

    برتائو کروگے تو میں خود کو کیسے آزما پائوں گی۔ 

    اس نے اتنا تفصیلی جواب دیا تھا کہ ہایون چپ ہی ہوگیا۔ 

    اچھا ٹھیک ہے۔ کل سے ہوجانا خود مختار مگر آج طوفان متوقع ہے۔ برفباری ہونے والی ہے اور سب سے بڑھ کر میں آگیا ہوں تمہیں لینے سو آج چلو  ۔ 

    ہایون کے اصرار پر اس نے خفگی سے گھورا۔ 

    وہی مرغے کی ایک ٹانگ۔ 

    اس نے چڑ کر بھالو اٹھا کر اپنی جگہ رکھا۔ 

    بالکل بابا لگ رہے ہو ۔ وہ بھی مجھے مرغی کی طرح پروں میں چھپا کر رکھتے رہے اور مجھ سے توقع یہ رہی کہ میں تیس مار خان بن جائوں۔ 

    اسٹول سمیٹ کر رکھے اسٹال میں۔ اور پٹخ پٹخ کر ڈبے ترتیب دیئے۔ 

    دو درجن لوگ میرا خیال رکھنے میرا لاڈ اٹھانے میرے گرد موجود رہیں گے تو خاک پتھر مجھ میں اعتماد آئے گا۔ پہلے دن مجھے لگا تھا کبھی اکیلے آنے جانے کی ہمت نہیں آئے گی مجھ میں مگر اتنے دنوں سے آرہی ہوں نا اکیلی۔ 

    گندے پیالے ڈسپوز آف کرنے کیلئے اس نے شاپر میں سب کوڑا ڈالا ۔۔ 

    واپسی پر تو خاص طور سے صبح پھر چلو ہوپ ہوتی مگر نہیں۔  کوئی مجھے تناور درخت بننے ہی نہیں دے رہا۔۔ رکھو سب بنا کے مجھے چھوئی موئئ کا پودا۔ پیراسائٹ ۔دوسروں پر انحصار کرنے والا پیراسائٹ۔ کرنے والی پیراسائٹ۔ 

    اردو میں اونچا اونچابڑبڑا کر اس نے سب کام ختم کیئے تھے ۔ موبائل پرس میں رکھا کندھے پر لٹکا کے وہ جانے کو بالکل تیار ہوکر مڑی۔

    انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہی اب خوش چلو مرو  

    تم اردو بولنا یاد کرتی ہو نا۔

    ہایون نے کہا تو وہ ایکدم ٹھنڈی ہوئئ۔ 

    ہاں۔ اس نے بلا توقف سر ہلایا۔ 

    مجھے اجنبئ زبان بول بول کے تھکن ہو جاتی ہے۔ 

    اس نے ناک چڑھائی۔ پھر ہنس کر بولی

    مگر ایک فائدہ ہوتا ہے غصہ آنے پر جتنی بھی بڑ بڑ کرلی  سمجھ ہی نہیں آئی ہوگی تمہیں۔ 

    ہایون چند لمحے اسے دیکھتا ہوا سنجیدہ ہو گیا۔ انتہائی سنجیدگی سے کہہ کر وہ مڑا

    چلیں۔ 

    اسکا انداز۔ وہ ٹھٹکی۔ برا مان گیا کیا یہ

    وہ زیر لب بڑبڑائئ

    اسے کیا لگا میں اسے گالیاں دیتئ رہی ہوں۔ 

    سنو ہایون۔وہ اسکے پیچھے بھاگ کے آئی۔

    گلاس ڈور کھولتے ہی سرد ترین ہوا کا جھونکا اسکی ناک سے ٹکرایا۔ہایون کے ہم قدم ہونے کے چکر میں تیز چلنے سے اسکی سانس پھول گئ ۔ چھے فٹ سے نکلتے قد والا ہایون بڑے قدم اٹھا رہا تھا۔ وہ بھاگ کے اسکے مقابل آگئ۔ ہایون ایکدم رکا 

    ہایون میں تمہیں گالیاں والیاں نہیں دے رہی تھی۔میں دیتی ہی نہیں ہوں غصے میں گالیاں اور بھی کچھ برا نہیں کہہ رہی تھی تمہارے۔  

    بولتے بولتے اسکی ناک پر کوئی چیز آکر گری ہایون  مڑکر اسے کچھ کہنے لگا تھا مگر وہ آنکھیں بھینگی کرکے ناک کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے انگلی کی پور سے ناک پر سے اس روئی کے گالے کو اٹھانا چاہا تو وہ پانی کی بوند سا بن گیا۔ایک کے بعد دوسرا تیسرا 

    سفید سفید روئی کے گالے ان کے گرد بارش کی طرح برس اٹھے تھے۔

    وائو۔ برفباری ہے یہ تو۔ 

    وہ بے طرح خوش ہوگئ تھی دونوں ہاتھ پھیلا کر اس نے برف ہتھیلیوں میں بھر لینا چاہی۔ ۔ ہایون نے گہری سانس لیکر آسمان کو دیکھا۔ 

    اس موسم کی پہلی برفباری وہ اریزہ کے ساتھ دیکھنا چاہتا تھا اور قدرت نے اسکا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ 

    او خدایا۔ وہ بے طرح خوش سی برف کے گالوں کو مٹھی میں بھر رہی تھی۔ وہ ایسے خوش ہو رہی تھی جیسے پہلی بار برفباری دیکھ رہی ہو۔۔ اب تو  سڑک کنارے پر برف کی چادر بچھ جانی تھی اور

    ہوا تیز تھی برفباری رک گئ۔  

    بس ۔ اس کو شدید مایوسی ہوئی

    ہایون ہنس دیا۔ 

    اتنی سی برفباری پر اتراتے ہو تم لوگ۔ ہمارے یہاں برف سے سب ڈھک جاتا یے اتنی ہوتی ہے۔ 

    وہ کمر پر ہاتھ رکھے جتا رہی تھی۔ 

    راولپنڈی میں؟

    ہایون نے پوچھا تو وہ گڑبڑا سی گئ۔ 

    اتنی سی برفباری کو ہوا بنایا ہوا تھا ۔ جائو تم میں آرام سے ڈیوٹئ پوری کرکے چلی جائوں گی خود ہی۔ 

    وہ جان کے ڈپٹ کر بولی تاکہ بات بدل جائے۔

    ہایون نے سر ہلا دیا۔ 

    جیسے تمہاری مرضئ۔ 

    وہ کہہ کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تو وہ سکھ کا سانس لیتی واپس مارٹ کی طرف مڑی

    کچھ ذیادہ ہی دماغ تیز ہے اسکا ۔ سرسری سا نام بتایا تھا اپنے شہر کا ابھی تک یاد رکھے ہوئے ہے۔ اب سینٹڈ scented lake نالہ لئی  نا گوگل کرنے بیٹھ جائے۔ 

    اسے خفت محسوس ہو رہی تھی۔ اور اسکا بہترین حل یہ تھا کہ اب کم از کم ہایون کی آج دوبارہ شکل نہ دیکھی جائے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہایون نے گاڑی میں بیٹھتے ہی سب سے پہلےموبائل نکال کر  راولپنڈی کا درجہ حرارت گوگل کیا تھا۔26 ڈگری تھا۔

    اس نے اگلی تلاش نالہ لئی کی ہی کی تھئ۔ 

    اسکے چہرے کی ہمہ وقت چھائی رہنے والی مسکراہٹ گہری ہوتئ چلی گئ تھی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آج موسم کی پہلی برفباری ہے۔ 

    پردے کھڑکی سے ہٹاتے ہوئےنرس نےاسے اطلاع دی تھی۔ 

    کچھ چاہیئے ہو تو یہ بٹن دبا دینا۔ 

    ٹوٹی پھوٹئ انگریزئ میں وہ اسے سمجھاکر نکل گئ تھئ۔

    وہ پرائیویٹ کمرے میں لیٹی تھی۔ اسکی ڈرپ ختم ہونے میں ایک گھنٹہ تھا۔۔۔

    وہ شیشے کی کھڑکیوں سے باہر برستی سفید بارش کو خالی خالی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ 

     ایڈون بڑا سا شاپر لیئےگھبرایا ہوا داخل ہوا۔ 

    کیا ہوا سب خیریت ہے نا؟ تم یہاں کیوں ہو؟ تم  ٹھیک ہو نا ؟ کوئی گھبرانے والی بات تو نہیں۔۔۔

    اس نے پے در پے کئی سوال کر ڈالے۔ 

    میں ٹھیک ہوں۔ 

    اس نے مہین سی آواز میں کہا تھا۔ 

    شکر ہے  ۔۔ یہ لو میں تمہارے لیئے گائے کے گوشت کا سوپ لایا ہوں۔ کورین بیف ہے یہ۔ کہتے ہیں یہ سب سے بہترین گوشت ہوتا ہے یہاں کا۔ 

    وہ اسکے لیئےمریضوں والی  میز بیڈ کے ساتھ جوڑ رہا تھا۔پھر شاپر سے بھاپ اڑاتا کھانا نکال کر اسکے سامنے رکھنے لگا۔ وہ بمشکل بائیں ہاتھ کے بل پر زور ڈال کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی  

    رکو۔ ایڈون نے اسکو آگے بڑھ کر سہارا دے کر بٹھایا۔ اسکی کمر میں تکیہ بھئ لگا دیا۔ اس نے طائرانہ نگاہ ڈالی میز پر کھانا سج چکا تھا۔

    بھنا ہوا گوشت الگ تھا اور گوشت کاسوپ الگ۔ جس 

    میں نوڈلز بھی تیر رہے تھے ساتھ سیب کے جوس کے ڈبے مکس فروٹ کا کین۔۔ 

    اسے گزشتہ رات یاد آئی تو آنکھ بھر آئی۔ کتنا بد قسمت بچہ تھا یہ۔ کل اسکی ماں اسکا بوجھ اٹھاتئ بھوک سے نڈھال تھی اور آج اس اسکے سامنے طعام سجا تھا۔

    کھائو۔۔ 

    ایڈون نے دانستہ اسکے گالوں پر پھیل آنے والے آنسو کو نظر انداز کیا۔ 

    اس نے اپنا ڈرپ والا داہنا بازو اونچا کیا۔ وہ کیسے کھانا کھا سکتی تھی جب تک ڈرپ لگی تھی۔ 

    میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے کھلاتا ہوں۔ 

    ایڈون نے سمجھ کر کانٹے میں نوڈلز پروئے گوشت کا ٹکڑا پرو کر اسکی جانب بڑھایا۔ اس نے منہ کھولا تو احتیاط سے نوالہ کھلادیا ۔ 

    اب چمچ میں سوپ بھر کر اسکی جانب بڑھا رہا تھا۔

    اس نے سوپ بھی پی لیا مگر چباتے ہوئے اسکی آنکھوں سے مزید آنسو پھسل آئے 

    بس بس رونا نہیں۔ تمہاری طبیعت خراب نہ ہو جائے اب کچھ مت سوچو کھانا کھائو اور آرام کرو ۔ میں اس روم کی بھی ادائگی کردیتا ہوں رات یہیں رکو 

    صبح چلیں گے۔۔

    ایڈون نے اٹھ کر اسکے سائیڈ ٹیبل سے ٹشو بکس سے کئی ٹشو نکال کر احتیاط سے آنسو پونچھے

    وہ اب اسکے سب نخرے اٹھانے کو تیار تھاآخر وہ اسکی گرل فرینڈ تھی۔ہاں اپنے ناجائز بچے کی ماں کی دفعہ اسکی پروا کرنے والی طبیعت بے حسی تلے جا سوئی تھی۔۔

    وہ وہئ سنتھیا تھئ۔ چند گھنٹوں میں سنتھیا بدل تو نہیں گئ تھئ یا واقعی بدل گئ تھئ؟  

    وہ میز پیچھے کرتی بیڈ پر سیدھی لیٹ گئ۔

    اچھا تھوڑی دیر بعد کھا لینا کھانا میں ڈاکٹر سے پوچھ کر آتا ہوں کوئی دوا وغیرہ ابھی تو بس نرس کے بتانے پر کہ تم یہاں ہو سیدھا یہاں چلا آیا۔ 

    ایڈون نے زبردستئ مناسب نہ سمجھی۔ 

    کوئی طاقت کا سیرپ بھی لکھوا لاتا ہوں۔ تمہیں کمزوری محسوس ہو رہی ہوگی۔ 

    وہ چند لمحے رکا رہا تھا شائد وہ جوابا کچھ بولے مگر وہ بالکل خاموش کھڑکی سے پار دیکھ رہی تھی۔ وہ دروازہ بنس کرتا نکل گیا۔۔ باہر رات ہو چکی تھی اور برفباری پورے زور و شور سے جاری تھی۔ طوفان آچکا تھا بس کمرے میں اسکا شور اور ٹھنڈ محسوس نہیں 

    ہو رہی تھی۔ اس نے کمبل اونچا کیا اور اسی طرف کروٹ لے لی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  ۔۔۔ ۔۔۔

    ٹارگٹ سیل کے چارٹ پر اپنی آج کی سیلز کی تعداد لکھتے اس نے آہ سی بھری تھی۔ 

    آج معمول سے بھی کم لوگ تھے۔ اسکی چھٹی تک تو تقریبا سب خالی ہوچکا تھا۔

    وہ پھر بھی اپنا وقت پورا کرکے ہی اٹھی۔ کوٹ کندھے پر درست کیابیگ لٹکایا خراماں خراماں چلتی باہر آئی تو بے ساختہ جھر جھری سی لیکر رہ گئ۔

    اسٹور تو اتنا خنک نہیں تھا مگر باہر بلا کی سرد ہوا تھی۔سات بجے اتنی سنسانئ تھی کہ جیسے دس بج رہے ہوں۔۔اکا دکا دکانیں کھلی تھیں وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھانے لگی بس اسٹاپ بالکل خالی تھا وہ اکیلی ہی تھی بس ۔ سرد ہوا اتنی ٹھٹھرا دینے والی تھی کہ وہ بیٹھتے بیٹھتے رک گئ۔ بس چارٹ کی ایل ای ڈی میں اسکی بس پندرہ منٹ بعد کی تھی۔ اس نے سوچا کیا کرے۔۔ سڑک پر ٹریفک معمول سے کم تھا فٹ پاتھ پر پھر ایک دو لوگ چل رہے تھے۔۔ وہ  دکانوں کے آگے پختہ سروس روڈ پر چلی آئی۔ 

    میٹرو سے چلی جاتی ہوں ۔ میٹرو میں کم ازکم انتظار تک ٹھنڈ تو نہیں کھانی پڑے گی۔ 

    اس نے فیصلہ لیا اور تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔

    روئی کا ٹکڑا اسکے کندھے پر آکر گرا تو اس نے چونک کر جھاڑا۔۔ ایک لانگ کوٹ اندر ہائی نیک نیچے فلیٹ اسکے باوجود سرد ہوا کپکپائے دے رہئ تھی اسے۔۔ وہ اپنے قدموں پر نگاہیں جمائے ارد گرد سے بے نیاز چلے جا رہی تھی۔۔ کورٹ شوز اسے لگ رہا تھا اس نے پہنے ہی نہیں ہیں پائوں یخ ہو رہے تھے

     اس کا برفباری میں یوں باہر اکیلے پھرنے کا پہلا تجربہ تھا۔  برف اتنی تیزی سے گر رہی تھی کہ اسکا کوٹ بھیگ چلا تھا۔۔ اس نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا مارکیٹ پیچھے چھٹ چکی تھی۔ ذیلی سڑک سنسان تھی اب رہائشی علاقہ شروع تھا دونوں اطراف اونچئ عمارتیں گھر بنے تھے سڑک پر اسکے سوا کوئی نہ تھا۔۔ 

    اس پر شدید گھبراہٹ طاری ہونے لگی۔ برفباری خاموشی سردی سنسانی 

    کیا کروں ۔۔ واپس مارکیٹ جائوں۔۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو مارکیٹ سے اتنی دور آچکی تھی کہ وہ اسٹور نظر بھی نہیں آرہا تھا۔۔

    سردی ناقابل برداشت ہوچلی تھی۔ اس نے بیگ میں فون تلاشا

    تبھی بس سڑک سے گزری تھئ۔ 

    شٹ ۔ وہیں رک کر انتظار کر لیتی۔ اسے خود پر غصہ آنے لگا

    ٹیکسی منگوا لیتی ہوں۔ 

    وہ سوچ میں پڑی۔

    برف سر پر پڑ رہی تھی اسکے بال گیلے ہونے لگے تھے۔۔ 

    فون دیکھتے چلتے اسے پتہ ہی نہ لگا کب فٹ پاتھ ختم ہوگیا اسکا پیر پھسلا اور وہ گھٹنے کے بل سڑک پر گری۔ تارے ناچ گئے تھے حقیقتا اسکی آنکھوں کے سامنے۔ 

    امی۔ وہ وہیں گھٹنا پکڑ کر رو پڑی۔ سڑک پر پانی تھا شائد۔ وہ مکمل بھیگ گئ تھئ۔اور موبائل ۔  اس نے تڑپ کر موبائل ڈھونڈا ۔ اسکے برابر ہی پڑا تھا مگر بند ۔

    اس نے بےتابئ سے اٹھایا۔ اسکا آخری سہارا ہچکی لیکر بند ہوگیا تھا۔۔ 

    نہیں۔ پلیز نہیں۔  

    موبائل کی منتوں پر اتر آئی مگر وہ بھی ڈھیٹ تھا آف رہا۔۔ 

    سر پر گرتی برف سائیں سائیں کرتی برفانی ہوا وہ فٹ 

    پاتھ پر ہتھیلی ٹکا کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔ درد کی شدید لہر اٹھی تھی ٹانگ میں۔۔ 

    وہ ٹانگ پکڑ کر دہری ہوگئ۔ 

    جب  کوئی اسکے سامنے آن کھڑا ہوا۔ 

    ڈاکو، چور؟ 

    اس نے خوفزدہ نگاہیں اوپر اٹھا کر دیکھا

    اسٹریٹ لائٹ کی مدھم روشنی میں دمکتا سفید چہرہ چندی آنکھیں اپر کا ہڈ سر پر چڑھائے وہ نامانوس شکل نہیں تھی۔ 

    انسان ۔ نہیں اس وقت تو فرشتہ ہی بن کر آیا تھا۔ 

    کین چھنا۔۔ 

    پھر شائد اسکے اجنبئ نقوش دیکھ کر انگریزئ میں پوچھا گیا۔

    آر یو آل۔رائٹ۔ 

    نرمی سے پوچھا گیا۔ 

    اس نے دھیرے سے نفئ میں سر ہلادیا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بس سے اتر کر وہ اپنی دھن میں چلتاجا رہا تھا جب اس کی نظر اس پر پڑی تھی۔ لانگ کوٹ کورٹ شوز تیز تیز قدم اٹھاتی اس لڑکی کو دیکھ کر اس کو پہلا 

    خیال یہی آیا تھا 

    گیلی سڑک برفباری میں اتنی پھسلن اور ہیل والا جوتا

    پکا گرے گی۔ 

    ابھی اتنا ہی سوچا تھا کہ اس کے سامنے وہ لڑھک گئ۔ 

    اسے بے ساختہ ہنسی آئی ۔ پھر افسوس بھی ہوا 

    اسے لگا تھا وہ کپڑے جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوگی۔ 

    جدید دور کی لڑکی۔ خود اٹھنے سے پہلے موبائل ٹٹول کر دیکھ رہی تھئ کہ ٹانگ بھلے ٹوٹ جائے موبائل کو کچھ نا ہو۔اسکے پاس سے گزر کر وہ سیدھا نکل آیا تھا مگر چند قدم بعد یونہی مڑ کر دیکھا تو وہ گھٹنا سہلاتی سر جھکائے وہیں بیٹھئ تھی۔ شائد اسے ذیادہ چوٹ لگ گئی ہے یہی سوچ کر وہ پلٹ آیا۔ 

    آنکھوں میں آنسو بھرے سرخ آنکھیں سرخ ناک چڑھا کر اس نے گردن ہلا کر جواب دیا تھا۔ 

    اس نے لمحہ بھر سوچا پھر اسکو سہارا دینے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔ مقابل بھی اسی کے قبیل کی تھی۔ ٹھیک ٹھاک وقت لگا کر سوچ سمجھ کر اسکا ہاتھ تھام کر سہارا لیا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پچھلی دفعہ باتھ روم دیکھا اس بار اسکے ساتھ اسکے کمرے کے بیچ کھڑی تھی۔ وہ سہارا دے کر لایا تھا۔  

    اسے بیڈ پر بیٹھنے کا کہہ کر وہ الماری کی جانب بڑھ گیا۔

    آپ تشریف رکھیے۔ 

    اس نے ایک نظر بے داغ سفید براق بچھی چادر کو دیکھا پھر بیٹھنے کا ارادہ ترک کردیا۔ اسکے کپڑے گیلے ہو چکے تھے۔یقینا اسکا بیڈ خراب ہوجاتا۔

    یہ اسپرے کر لیں گھٹنے پر اس سے فوری درد کھنچ جائے گا۔ 

    اس نے ایک اسپرے کین نکال کر اسے دیا۔ 

    ادھر باتھ روم ہے آپ اسے استعمال کر لیجئے گا۔

    اس نے سویٹ شرٹ اور پاجامہ نکال کر بیڈ پر رکھتے ہوئے خاصی تمیز سے کہا تھا۔ 

    اس نے سر ہلا کر شرٹ اٹھائئ۔ عجیب سا احساس ہوا تو پوری تہہ کھول کر دیکھی ۔پھر علی کو دیکھا۔ 

     اس نے خاصی باڈی بنا رکھی تھی۔ اسکی شرٹ اتنی چوڑی تھی کہ اس میں آرام سے دو اریزہ آجاتیں۔اسکے کپڑے اسے کہاں آئیں گے۔ 

    اس کی آنکھیں اصل حجم سے دگنی ہو چلی تھیں۔۔چندی آنکھوں والے نے خاصی دلچسپی سے یہ منظر دیکھا تھا کہاں اس ملک میں حیرت کے اظہار کے طور پر بھی آنکھیں کھل نہیں پاتیں تو کہاں یہ لڑکی اپنی 

    موٹی موٹی آنکھیں پھاڑ کر پانڈا بن چلی تھی۔۔۔۔

    ۔ 

    علی اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھ کر وضاحت کرنے والے انداز میں بولا۔۔ 

    میرے گھر کوئی خاتون نہیں ہیں۔ سو ابھی  آپ یہی پہن لیں میں آپکے کپڑے ڈرائر کردوں گا۔ 

     آپکے کپڑے بالکل بھیگ گئے تھے۔ ۔ آپ کو سردی لگ رہی ہوگی آپ یہ اٹیچ باتھ روم یوز کرلیں۔ 

    اور چینج کر لیں

    وہ نرمی سے کہتا باہر نکل گیا۔۔ 

     اریزہ نے جھر جھری سی لی۔۔ گھن کھا کر نہیں سردی سے۔۔ اسکو ہلکا ہلکا بخار بھی محسوس ہو رہا تھا۔  اس نے جھجکتے ہوئے کپڑے اٹھائے تبھی اسکی نگاہ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھی تصویر پر پڑی۔

    تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر آگے بڑھی۔ تصویر اٹھا کر دیکھنے لگی۔ علی کے ساتھ بے حد خوش شکل چندی آنکھوں والی لڑکی کا کھلکھلاتا ہوا پوز تھا۔ 

    میرے گھر میں کوئی خاتون نہیں تو یہ کون ہے؟ مرد

    اس نے ناک چڑھائی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کپڑے بدل کر فریش ہوکر باہر نکلی تو کمرہ خالی۔تھا۔۔ 

    اس کے کپڑے اسے بہت ڈھیلے نہیں تھے ہاں لمبے تھے ۔۔ اس نے آستینوں اور پائنچوں کو تھوڑا تھوڑا موڑ لیا تھا۔۔ اسکا مفلر بھی نم تھا۔اس نے اسپرے کیا تھا۔ درد میں نمایاں کمی آئی تھئ مگر لنگڑانا ابھی باقی تھا۔ وہ دائیں ٹانگ پر کم بوجھ ڈالتی ہوئی جھجکتی باہر نکل آئی۔۔ وہ تصویر والی باجی اگر واپس آجاتیں تو اپنے ان کے بیڈ روم میں اسے دیکھ کر کچا چبا جاتیں۔ یہی سوچ کر اس نے اسکا انتظار کرنے کی بجائے باہر آنا مناسب سمجھا۔ 

    ایک کمرے اور لائونج پر مشتمل چھوٹا سا اپارٹمنٹ مختصر سامان سے سجا تھا۔ اوپن کچن میں کائونٹر پر بھاپ اڑاتا سوپ رکھا تھا ۔۔لائونج میں سامنے ہی علی کچے چاول ٹرے میں پھیلائے کارپٹ پر اکڑوں بیٹھا انہیں۔ الٹ پلٹ کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر ٹرے وہیں چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔

    آئیے۔۔وہ یقینا اچھا میزبان تھا۔ اسکیلئے کرسی گھسیٹ کر اسکے بیٹھنے کے بعد خود اوون کی جانب بڑھ گیا۔۔   میز پر دو پیالے دھرے تھے۔ چکن سوپ جس میں نوڈلز تیر رہے تھے۔بیف اسٹیک۔ اس نے اوون سے نکال کر گرما گرم سامنے رکھا۔۔پھر معزرت خواہانہ انداز میں بولا۔۔

    معزرت میرے گھر میں پورک نہیں ہوتا ہے۔ مگر مجھے امید ہے آپکو سوپ اور اسٹیک پسند آئے گا۔۔ 

    یوں بن بلائے مہمان بن کر کھانا کھانے بیٹھ جانا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔ 

    وہ میرا خیال ہے مجھے ڈنر گھر جا کر ہی کرنا چاہیئے۔ آپکو پہلے ہی بہت زحمت دے دی ہے میں نے۔۔ 

    لنچ؟ علی مسکرایا۔۔ 

    آپ ڈنر کر لیں کیونکہ باہر جتنی شدید برفباری ہے آپ بریک فاسٹ ہی اب گھر پر کر سکیں گی۔۔ 

    جی؟۔ اریزہ کا منہ کھلا رہ گیا۔ 

    میرے پاس گاڑی نہیں ہے اور ٹیکسی آپکو اس موسم میں ملنا مشکل ہے۔ 

    علی کا انداز سادہ سا تھا۔  اریزہ مرے مرے انداز میں دوبارہ بیٹھ گئ۔ 

    باہر بہت موسم خراب ہے؟ اریزہ نے پوچھا تو وہ سر ہلا کر رہ گیا۔ 

    اسٹیک  کا پیس کرکے چاپ اسٹکس سے اٹھاتے اسکی نظر پڑی تووہ منتظر نظروں سے ہی دیکھ رہی تھی۔ 

    خراب تو نہیں کہہ سکتے معمول کی برفباری ہے مگر سڑک پر برف سے راستہ بند ہے برفباری تھمے گی تو راستہ صاف کیا جائے گا۔ آپ کھانا تو کھائیے

    ۔علی نے ٹوکا تو وہ گہری سانس بھر کر رہ گئ۔  بھوک کا احساس شدید تھا سو وہ مزید بحث میں پڑنے کی بجائے خاموشی سے کھانے لگی۔ 

     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     وقفے وقفے سے وہ اریزہ کو فون کرنے کی کوشش کرتی  رہی  تھی ۔ ایسا تو پہلے کبھی نہ ہوا تھا کہ اسکا فون اتنی دیر تک بند رہے۔۔ وہ اب پریشان ہونے لگی تھی۔۔ کچھ سمجھ نہ آیا توہایون کو کال ملا دی۔ 

    وہ گھر آکر چینج کرکے سکون سے بستر میں گھسا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا جب گوارا کی کال آئی۔ 

    یوبو سیو۔۔

    اس نے مصروف سے انداز میں فون اٹھایا۔

    ہایون اریزہ تمہارے ساتھ ہے؟ 

    گوارا چھوٹتے ہی بولی۔

    آنی۔ ( نہیں ) کیوں کیا ہوا؟  

    گوارا لمحہ بھر کو چپ ہی رہ گئ

    یار وہ اسکا شام  سے کوئی اتا پتہ نہیں ہے۔ مارٹ سے تو سات بجے تک چھٹی ہو جاتئ ہے۔وہ  ابھی تک گھر نہیں آئی دس بج رہے ہیں۔ ۔۔ فون بھی بند جا رہا ہے اسکا۔۔ 

    کیا؟ اور یہ تم اب بتا رہی ہو مجھے تم ۔  تو بتاتی بھی نہ مجھے؟؟؟؟۔ وہ چیخ پڑا تھا

    مجھے لگا تھا تھوڑی دیر تک آجائے گی مگراب دس بجنے کو ہیں وہ ابھی تک نہیں آئی فون بھی بند جا رہا ہے۔۔ ۔۔ گوارا خائف ہو گئ تھی

    اسپتالوں کی ایمرجنسئ سے پتہ کرنا تھا کوئی حادثہ نہ ہوگیا ہو۔۔

    گوارا چپ ہی رہی۔۔ اسے یہ خیال نہ آیا تھا ۔۔  

    ہائش۔۔ ہیونگ سک نے فون بند کردیا۔۔ چند لمحے سوچا پھر اپنا جیکٹ اٹھا کر باہر بھاگا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رات کے گیارہ ہو رہے ہیں۔۔ 

    فون تو کر دیتی جانے کہاں رہ گئ ہے۔ 

    گوارا بے چینی سے ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی۔ 

    ہوپ بیڈ کرائون سے ٹیک لگائےکافی پی رہی تھئ۔  

    فون بھئ کام نہیں کر رہا۔۔ وہ جھلا کر دھپ سے بیڈ پر بیٹھی ہوپ جو اسی وقت گھونٹ بھرنے لگی تھی گرم گرم کافی چھلک کر اسکے ہونٹ جلا گئ۔۔ 

    آہش۔۔ اس نے کپ سائیڈ پر رکھ کر اپنا گریبان جھاڑا۔۔ 

    پھر اسے گھورنے لگی۔ گوارا کو پہلی بار اتنا سنجیدہ اور پریشان دیکھا تھا سو غصہ دبا کر اسے سمجھانے لگی

    بچی تو نہیں ہے برفباری کی وجہ سے کہیں رک گئ ہوگی۔ آجائے گئ۔۔ 

    وہ یہاں کسی کو نہیں جانتی پہلی جاب تھی اسکی وہاں سے سات بجے کی۔نکلی ہے۔ابھی تک گھر نہیں آئئ۔  تم نہیں جانتی ہو وہ تو لوکل سفر بھی کرنے کی عادئ نہیں ہے۔ راستے اسکو نہیں آتے۔ جانے کہاں کس حال میں ہوگی۔ وہ تو یہاں کی زبان بھئ نہیں جانتی انجان ملک ہے اسکیلئے۔۔ 

    گوارا اسکی ماں کی طرح پریشان ہو رہی تھی۔ 

    پھر بھی جو لڑکی دوسرے ملک آکر رہ رہی ہے پڑھ رہی ہے وہ اتنی بے وقوف تو نہیں ہوگی۔ کہ۔۔ ہوپ کو اسکی تشویش جانے کیوں بہت بری لگی۔۔ 

    تمہیں ذرا فکر نہیں ہو رہی اسکی؟ 

    گوارا کو واقعی اسکی سخت دلی پر حیرت ہوئی۔۔ 

    وہ بچی تھوڑی ہے۔۔۔ ہوپ نے بے نیازی سے کافی کا گھونٹ بھرا۔۔

    اتنی شدید برفباری ہورہی ہے باہر مائنس میں ٹمپریچر ہے کوئی آپکے گھر کا فرد گھر سے باہر ہو اس سے رابطہ بھی نہ ہو پارہا ہو تو کیا فکر نہیں ہونی چاہیئے؟ حیرت ہے تم پر۔۔ اتنئ سخت دل کیسے ہو؟ 

    گوارا نے شرمندہ کرنا چاہا جوابا وہ کھل کر ہنستی 

    چلی گئ

    تم جسے بتا رہی ہو اسے اپنے 5 عدد بہن بھائی ماں باپ کا کوئی اتا پتا نہیں ۔۔۔ زندہ ہیں یا مرچکے۔۔ فکر ؟؟؟؟ فکر بس ترقی یافتہ ملکوں کے پیٹ بھر کے تین وقت کھانا کھانے والے باشندوں کا مشغلہ ہے۔۔ ایسی فکریں پیٹ پالنے کی فکریں پالنے والے نہیں پالتے۔۔ وہ ایک ایک جملے پر زور دے کر بولی تھی۔ 

    ہنسنے کے بعد اسکا لہجہ تیز اور تلخ ہوگیا تھا اسکے جملوں میں محسوس کی جانے والی کاٹ تھی۔ 

    گوارا چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھتی رہی۔ 

    یہ منفی 8 ڈگری یہ؟؟؟ اس نے موبائل پر موسم کی اپڈیٹ دیکھ کر طنزیہ موبائل اسکے سامنے لہرایا۔۔ 

    منفی 12 ڈگری میں بس ایک سوئٹر پہن کر جب میں گھر سے نکلی تھی تو ہم چار افراد تھےماں اور ہم تین بہن بھائی۔ برف سے ڈھکی منجمد جھیل پر قدم اٹھاتے تھے تو لگتا تھا اگلا قدم جھیل سے چپکا رہ جائے گا۔۔ پیچھے گولیوں کی بوچھاڑ کرتے سرحد پر تعینات فوجی تھے تو آگے چینی افواج ہمارے قریب آنے پر ہتھکڑیاں لیئے گرفتار کرنے کو موجود تھی۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    برف پوش وادی میں منجمد جھیل پر گرتے پڑتے قدم 

    اٹھاتے چار نفوس نشانہ باندھنے والا بھی رک کر دیکھنے لگا تھا۔۔ 

    ماں اور تین بچے جن میں دو تو شائد دس سال سے بھی کم عمر تھے ایک کو سینے سے چپکائے وہ عورت پوری قوت سے بھاگ رہی تھی جیسے اس ملک سے نکل جانے پر ایک۔خوشحال زندگی اسکی منتظر تھی۔۔ 

    اس نے بندوق نیچے کر لی۔ اسکی دیکھا دیکھی اسکے ماتحت نے بھی۔۔ 

    اتنی مشقت سے اس سردی میں بھاگ رہی ہے وہاں چینی انکو پکڑ کر صبح ہی واپس بھیج دیں گے۔۔ پھر جو انکا حال ہوگا اس سے بہتر ہے ابھی ہی گولی کھا کر مر جائیں۔۔

    ماتحت نے اسے جو کہا یا کہنا چاہا وہ سیاق و سباق کے ساتھ روز اول سے ان سب پر عیاں تھا۔ 

    مرنے والوں کیلئے دعا کی جاتی ہے گولی نہیں ماری جاتی۔۔ 

    اس نے گہری سانس لیکر رخ موڑ کر بیرک کی جانب بڑھنے لگا۔۔ماتحت نے بھی تقلید کی۔۔

    بیٹا مر چکا ہے اسکا۔۔ اسے پھینک دے تو بھاگنا آسان ہوجائے اسکیلئے۔۔ 

    ماتحت نے یونہی تبصرہ کیا تھا۔۔ وہ مزید انکو دیکھتا 

    مگر سردی بہت تھی واپسی ہی مناسب تھی۔۔

    آہمونی۔۔ بھاگتے بھاگتے یو آنہ گرپڑی تھی ۔ برف پر بھاگنا آسان ہوتا ہے بھلا؟۔ مگر موت سے بھاگنا ہو تو انسان کانٹوں پر بھی بھاگ سکتاہے۔یو آنہ کی پکار پر چھوٹے بیٹے کو سینے سے لگائے بھاگتی ماں رکی بھی نہ تھی۔۔

    نونا۔۔ اسکی بہن ماں سے ہاتھ چھڑاتی رک گئ۔ پلٹ کر اسکے پاس آئی۔۔ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اسکو اٹھانے کی کوشش کرتی۔۔  مینا۔

    نیلے پڑے ہاتھ پھٹی فراک اور پھٹا ہوا سوئٹر۔

    اسکا دل کٹ گیا۔۔ بے اختیار اس نے اسے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔ ماں کا پرانا سوئٹر اسے اتنا کھلا تھا کہ با آسانی اسکی آٹھ سالہ بہن اس میں سما گئ۔۔ اسے ساتھ لگا کر اس نے سوئٹر کے بٹن بند کیئے۔  ماں چند قدم دور رکی گود میں لیئے ڈھائی سالہ انکے بھائی کو تکے جا رہی تھی۔ پھر جھک کر اسے برف پر لٹایا۔۔ وہ بڑی سی شال جس میں اس بچے کو لپیٹے تھے اپنے گرد پھیلا کر انہیں بلانے لگی۔۔ 

    یوانہ چیخ پڑی۔۔ 

    آہمونی۔ یہ کیا کیا۔۔ چھوٹے کو بخار تھا اسے برف پر لٹا دیا۔۔ 

    ایکدم سے بھاگ کر اسکے پاس جانا چاہا تو بھول بیٹھی ابھی لاڈ میں بہن کو اپنے ساتھ سوئٹر میں گھسایا تھا۔۔ دونوں بری طرح الٹ کر برف پر گریں۔۔ ماں بھاگتی انکے پاس آئی۔۔ 

    یوآنہ مینا ٹھیک ہو تم لوگ؟ 

    ماں نے جلدی سے یوآنہ کو اٹھایا۔۔ 

    لو یہ چادر تم اوڑھ لو اوراپنا سوئٹر مینا کو دے دو۔۔ 

    ماں جلدی جلدی اسکا سوئٹر اتار کر مینا کو پہنانے لگی۔۔ سردی نے چوٹ کا درد بھی بھلا دیا تھا۔۔ یو آنہ ماں کی بات سنے بغیر بھائی کی جانب بھاگی۔۔ چندی آنکھوں نیلے ہونٹ والا اسکا بھائی ساکت برف پر سیدھا سیدھا لیٹا تھا۔۔ 

    اس نے پیشانی چھوئی ۔۔

    ماں اسکا بخار اتر گیا آہمونی۔۔ 

    ماں نے بے تاثر انداز میں اسکی بہن کا ہاتھ پکڑا اور کھڑئ ہوگئ۔۔ 

    یہ مر بھی گیا ہے یو آنہ۔۔ 

      ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جھیل پار کرتے انہیں صدیاں بیتی تھیں۔۔ برفباری پھر شروع ہو گئ تھی۔۔ پلٹ پلٹ کر دیکھتئ وہ بھائی کی لاش جب تک نظر آتی رہی رک رک کر دیکھتئ رہی۔ 

    پھر برف نے اسکے بھائی کی قبر بنا دی ہوگی اسکا منظر تو طوفانی ہوا اور برف کے بگولے نے دھندلا دیا تھا۔۔ 

    سردی کی شدت انکیلئے اچھی ثابت ہوئی یا بری وہ فیصلہ نہ کر سکیں۔ سردی ان سے انکا بھائی چھین چکی تھی تو بارڈر پر تعینات فوجی بیرکوں میں جا گھسے تھے۔ وہ کب سرحد پار کر گئیں پتہ نہ لگا انہیں۔ چلتے چلتے تھک کر چور ہونے کے باوجود بھی وہ تینوں رکی نہ تھیں۔  نیچے چینی وادی میں بنے گھروں کی چمنیوں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔۔ وہ بس دھوئیں کے تعاقب میں چلتی گئیں۔ صبح کی پیلی دھوپ میں وہ ایک درخت سے کمر ٹکائے سستانے بیٹھیں اور جانے کب سو گئیں۔۔ 

    نامانوس سے احساس نے انہیں بیدار کیا تھا۔۔ 

    آہجومہ۔۔ ایک چندی آنکھوں والا ادھیڑ عمر شخص انکی ہی زبان میں انہیں پکار رہا تھا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کال بیل کی آواز نے اسکی سوچوں کا تسلسل توڑا تھا۔۔ گوارا ہیون  کو کال ملائے بیٹھئ تھی آواز پر دوڑئ دوڑی گئ دروازہ کھولنے ۔۔ سامنے یون بن  کھڑا تھا۔۔ 

    خوشی تو کیا ہونی تھی اسے دیکھ کر الٹا تیوری چڑھ 

    گئ۔ اسے بھی اس استقبال کا اندازہ تھا۔۔۔

    کیوں آئے ہو؟ گوارا کا انداز پھاڑ کھانے والا تھا

    آئی مس یو۔۔ اس نے گہری سانس بھر کر کہا تھا

    وے؟ گوارا کے لیئے خاصا غیر متوقع تھا یہ اظہار۔۔

    دے۔۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا تھا۔۔ 

    یو آنہ نے سخت بد مزا سی شکل بنا کر دیکھا تھا۔۔ وہ گوارا کے پیچھے آئی تھی۔ بہر حال اتنی بھی سخت دل نہیں تھی جتنا سب سمجھ بیٹھے تھے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چائے پیوگی۔۔ 

    وہ خاطر مدارت میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہ رہا تھا۔۔کھانا ختم ہوتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

    اس نے جھٹ اثبات میں سر ہلایا پھر بلا توقف نفی میں۔۔ 

    بنا زبان ہلائئ سرسے جواب دیتی اریزہ کافی دلچسپ لگی تھی اسے۔۔ 

    چائے پی لو سردی کم لگے گئ۔۔ 

    اس نے کوریائی قہوہ ہی ہاتھ میں اٹھا رکھا تھا۔۔ 

    اریزہ کی ناں ہاں میں نہ بدلی۔۔ وہ کھانسی سے مر بھی رہی ہوتی تو کھانسی کا شربت نہیں پیتی تھی کھانسی کے شربت کے ذایقے والا قہوہ چسکے لیکر پینا 

    ناممکن۔۔ 

    اس نے سوچ کر جھر جھری لی ۔۔ مگر چہرے پر پورا جملہ لکھا تھا۔۔اسکے۔۔ 

    علی کو اسکے چہرے میں کوئی اور چہرہ دکھائی دیا۔۔ ایسا آئینے جیسا دل کے جزبات چہرے پر کوئی بھی آرام سے پڑھ لے۔۔ سب لڑکیاں ایک جیسی ہوتی ہیں یا اسکو ہی بس لڑکیوں کی یہی قسم ٹکر جاتی تھئ۔۔ 

    اسے مستقل اپنی جانب دیکھتا پا کر وہ تھوڑی گڑبڑا سی گئ۔ اسکا انداز ٹھرکیاںہ نہیں تھا صاف لگ رہا تھا ذہن کہیں اور ہے۔۔ 

    اس نے کھنکار کر متوجہ کرنا چاہا۔۔ 

    چھوگو۔ ( مرو)  ۔۔ ( چھوگیو : ایکسکیوزمی) 

    وہ فورا سنبھلا۔اور حیران ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگا۔میں نے ایسا کیا کہا جو مرنے کا کہنے لگی۔ 

    ۔ دے۔۔ 

    ۔علی نے سوچا۔۔اسکی ہنگل اسکو ہمیشہ مشکل میں ڈالتی تھئ سو فورا خود ہی بول اٹھا۔

     وہ اگر آپکو اپنے گھر والوں کو کانٹیکٹ کرنا ہو تو لیںڈ لائن وہ رہی۔۔ اس نے شستہ انگریزئ میں کہہ کر لائونج کی جانب اشارہ کیا۔۔ 

    دے۔۔ اریزہ اپنی بات بھول گئ۔ اسکے ہاتھ کے اشارے 

    کے تعقب میں مڑ کر دیکھا تو چاولوں کی ٹرے پر نظر پڑی۔۔ 

    پیلے چاولوں پر کالی کالی سی چیز۔۔ وہ سرعت سے اٹھی۔۔ 

    وہ کالی کالی چیز مانوس سی لگ رہی تھی۔۔ 

    اس نے جھپٹ کر اٹھایا تو اسکا فون تین حصوں میں بٹا پڑا تھا۔۔ فون کور اسکرین پروٹیکٹر چکنا چوراور بیچ میں فون۔۔ 

    یہ۔۔ وہ روہانسی سی ہوگئ۔۔ 

    گرم کھولتا پانی کپ میں ڈال کر قہوہ بناتا علی اسکے پاس ہی چلا آیا ۔ 

    یہ بھیگ گیا تھا۔۔ میں نے فورا آف کردیا تھا تھوڑی دیر ڈرائر سے بھی سوکھایا ہے اب آن کرکے دیکھو انشا اللہ آن ہوجائے گا۔۔ 

    پورے جملے میں اسے بس انشا اللہ سمجھ آیا تھا۔۔ 

    اسکو موبائل کی پڑی تھی۔۔ 

    جلدی سے  آن کیا چند لمحے آن ہو کر بند ہوگیا۔  

    بیٹری ختم ہوگئ تھی۔۔ وہ وہیں کارپٹ پر بیٹھ گئ۔۔ 

    علی تھوڑا سا سٹپٹا سا گیا۔۔ پہلے سوچا جانےدے پھر کہہ ہی بیٹھا۔۔

    وہ آپ اس سے ہٹ کر یہاں بیٹھ جائیں۔۔

    اسکے اشارہ کرکے کہنے پر اس نے مڑ کر دیکھا۔ وہ موٹا سا رگ تھا مگر تھوڑا سا مختلف۔اس پر مسجد بنی تھی۔۔ 

    یہ تو جاء نماز ہے۔۔ ۔ وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ 

    دے؟۔ علی کو اسکی زبان نہ سمجھ آئی۔  

    بیان۔۔ ۔۔ اس نے سوری کہہ دیا۔۔ 

    کوئی بات نہیں۔ آپ نے اگر کسی کو اپنی خیریت کی اطلاع دینی ہے تو دے دیں۔۔

    علی نے کہا تو وہ الجھن بھرے انداز میں دیکھنے لگی۔  

    فارنرز کے لیئے یہاں کے لوگ کافی مشکوک رہتے ہیں خاص کر اگر آپ ہاسٹل یا اپارٹمنٹ کرائے پر لیکر رہیں۔ اگر آپکو اپنی مالک مکان کو گھر والوں  یا کسی دوست کو اطلاع دینی ہے تو یہ لینڈ لائن استعمال کر لیں

    اس نے تفصیل سے دہرایا۔۔تو وہ چپ رہ گئ

    میرے لیئے یہاں کون پریشان ہوگا۔ اس نے سوچا۔  

    گوارا۔ 

    اسکے دماغ کی بتی روشن ہوئی۔ 

    مگر اس سے رابطہ کیسے کروں فون نمبر تو سب فون میں ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ پریشان نہ ہوں تھوڑا سا صبر سے کام لیں۔۔ہم نے پٹرولنگ کو مطلع کر دیا ہے کسی بھی علاقے سے کوئی اطلاع ملتی ہے تو ہم آپکو مطلع کر دیں گے۔۔ 

    وہ اس وقت پولیس اسٹیشن میں بیٹھا تھا ۔آفیسر نے اسکی درخواست پر فوری کام کیا تھا۔۔ اب تسلی دے رہا تھا۔۔

    آپ دیکھیں باہر کتنی شدید برفباری ہے۔ وہ ایک غیرملکی ہے یہاں کے راستے زبان یکسر اجنبی ہیں اسکیلئے وہ اس برفباری میں بھٹک نہ رہی ہو آپ اسے ڈھونڈیے 

    دیکھیں ہم نے ہاسپٹلز میں اطلاع دے دی ہے ایمرجنسی میں فی الحال آپکی بتائی گئ معلومات کے مطابق ایسی کوئی غیر ملکی لڑکی نہیں آئی ہے۔ اور برفباری شدید ہے ایسے میں یقینی طور پر کسی ریستوران ہوٹل یا سرائے میں پناہ لے رکھی ہوگئ ایسے موسم میں رعائیت کر دیتے ہیں خاص کر غیر ملکیوں کے ساتھ۔ آپ اتنے فکر مند نہ ہوں۔

    لب لباب یہ تھا خدارا ہوش کے ناخن لو سر نہ کھائو

    آپ نے سیل فون سے ٹریس کی لوکیشن؟؟؟ 

    اس نے بے تابئ سے سوال کیا۔  

    سیل فون آف ہے آخری بار جس ٹاورسے سگنل ملے ہیں 

    وہ مین کنگنم ہے ۔۔ یہاں سے رہائشی علاقہ قریب ہے۔ یقینا انہوں نے اسی علاقے میں کہیں کسی گھر میں پناہ لے لی ہوگی برف۔۔۔ 

    اسکا جملہ مکمل ہونے سے پہلے بجلی کی تیزی سے ہیونگ سک نے اپنا موبائل اور چابی اٹھائی تھی اور باہر بھاگا تھا۔۔ 

    آفیسر ہکا بکا دیکھتا رہا۔۔ 

    اب اتنی برفباری میں نکلا ہے ایک اور ایکسنڈنٹ کی رپورٹ تیار کرنی پڑ جانی ہے ہمیں۔۔ 

    وہ بڑ بڑا کر رہ گیا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    علی نے اپنا موبائل چارجنگ سے نکال کر چارجر میں اسکا موبائل لگا دیا تھا۔۔ 

     گونو وویو۔۔ 

    اس نے شکریہ ادا کیا تو علی ہنس پڑا۔  

    گومو وویو۔۔ 

    اس نے کوریائی لہجے میں دہرایا۔۔ جوابا اریزہ نے تھوڑا سا برا مانتے ہوئے بالکل صحیح انداز میں لہجے کی نقل کی۔۔ 

    واہ۔۔ تمہارا لہجہ کافی  رواں ہے۔۔ فارنرز کیلئے صحیح ادائیگی مشکل کام ہوتا ہے۔۔۔ علی جانے سچ مچ متاثر 

    ہوا تھا یا یونہی بات بڑھانے کو لگا ہوا تھا۔۔

    آپکی انگریزی رواں ہے ورنہ یہاں کے لوگوں کا لہجہ پینڈو سا ہوتا یے۔۔ 

    وہ بھی روانی میں کہہ گئ۔۔ 

    پینڈو؟؟ اسے سمجھ نہ آیا۔  

    اب پینڈو کو انگریزی میں کیا کہیں گے۔۔ وہ بڑ بڑائی

    نتھنگ۔۔ ذیادہ دماغ پر زور دینا اسے کبھی پسند نہیں رہا تھا۔۔ 

    تم اگر چاہو تو اندر کمرے میں جا کر آرام کر لو۔۔ 

    علی نے کہا تووہ چونکی

    ساڑھے گیارہ بج رہے تھے یقینا یہ اسکے آرام کا وقت تھا۔ وہ شرمندہ ہو گئ  

    آپ آرام کر لیں اپنے کمرے میں جا کر آرام سے میں بس موبائل چارج ہو جائے تو جانا چاہوں گی۔آپ میری وجہ سے اپنی نیند نہ خراب کریں۔ 

    اسے خیال آیا ایک کمرے کے اپارٹمنٹ میں وہ یقینا اسکی وجہ سے بے آرام تھا۔۔ 

    میں انسومینیا کا شکار ہوں میں سوتا نہیں ہوں۔ علی سادہ سے انداز میں بتاتا چائے کا خالی کپ رکھنے اوپن کچن میں چلا گیا۔۔ 

    آپ کیا کرتے ہیں؟؟؟ اس کو خیال آیا۔۔ 

    بزنس ماسٹرز ہوں۔ وہ مسکرایا   

    ساتھ گیسٹ لیکچرر ہوں ایک اکیڈمی میں ساتھ ساتھ ایک ریستوران شروع کیا ہے جس میں حلال کورین  فوڈ پیش کی جاتی ہے۔۔ یہ جو ابھی اسٹیک کھایا ہے آپ نے خالصتا کوریائی ٹچ کے ساتھ میری ذاتی ترکیب سے بنا ہے۔۔

    پھر تو آپکا ریستوران چلتا ہی نہیں ہوگا۔۔ 

    اس نے جھٹ خیال ظاہر کیا

    کیوں؟۔ وہ حیران ہوا۔۔ 

    حلال فوڈ مسلمان ڈھونڈتے ہیں اور یہ ٹھہرا نان مسلم ملک۔۔ مانگ ہی نہیں ہوگی اس طرح کے کھانے کی۔۔

    اس نے وجہ بھی بتادی۔۔ 

    علی نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا وہ۔ کھانے کے برتن سمیٹ رہا تھا ساتھ ساتھ اس سے باتیں بھئ کر رہا تھا۔۔۔ 

    ایسی بات نہیں ہے  خوب چلتا ہے۔دراصل۔ مسلمان حلال کے سوا نہیں کھاتے مگر نان مسلم کو تو حلال حرام سے فرق نہیں پڑتاوہ حلال فوڈ بھی کھا لیتے ہیں بلکہ ۔۔ میرے ریستوران میں تو اکثر وی لاگر حلال فوڈ کھانے آتے ہیں اور انکے ریمارکس پر میرے ریستوران پر کسٹمرز بھئ کافی بڑھے ہیں۔۔

    اچھا بڑی بات ہے۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔

    ایک بار تو مجھے ایک کسٹمر نے آکر حلال پورک اسٹیک کی فرمائش بھئ کی۔۔

    وہ ہنستے ہوئے بتانے لگا۔ 

    اریزہ بھی ہنس پڑی۔۔اسکا موبائل جان پکڑنے لگا تھا۔ اس نے فورا بٹن دبا کر آن کردیا 

    آپ سوچ رہی ہوں گی اسمیں ہنسنے کی کیا بات ۔۔ در اصل مسلمان پورک نہیں کھاتے۔ مکمل منع ہے انکیلئے پورک کھانا۔ حلال فوڈ سے مطلب کوئی نیا فلیور نہیں ہوتا بلکہ جانور کی گردن کی رگیں کاٹ کر اسکی جان لینا وہ بھی اسم الہی کے ساتھ۔۔ اسے حلال کرنا کہتے ہیں۔۔ 

    اس نے تفصیلی جواب دیا تھا۔ 

    میں جانتی ہوں۔۔ میں بھی۔۔ اریزہ نے  بتانا چاہا تبھئ اسکا موبائل بج اٹھا۔۔

    اس نے آگے بڑھ کر نام دیکھا لکھا تھا

    ہیون کالنگ۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آدھے گھنٹے میں وہ اسکے سامنے تھا۔

    تم ٹھیک ہو،؟۔

    وہ فکرمند تھا

    بالکل۔ ان صا حب نے بہت خیال رکھا میرا۔اس کے کہنے پر ہیون کو خیال آیا

     شکریہ یار ۔۔

    بیٹھو کافی پی لو۔۔۔ 

    وہ محظوظ انداز میں اسے دیکھ رہا تھا۔

    پریشان حال بکھرے بال جن پر برف بھی پڑی تھی۔ اتنا اجڑا پجڑا ہیون نامانوس تھا اسکیلیئے۔۔

    نہیں۔ بس اب چلتے ہیں ہم۔ ہیون نے کہا تو اریزہ نے مڑ کر کوریائی انداز میں جھک کر آننیاگ واسے او کہا۔

    علی نےاسے اسی کے انداز میں جواب دے کر ہیون کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور جان کر ہنگل میں بولا۔

    مجھے اندازہ ہوتا تو سب سے پہلے تمہیں اطلاع دیتا۔ پھر بھی تمہیں مجھ سے بات کرکےاطمینان ہوجانا چاہیئے تھا اتنی برفباری میں ڈرائیو کرکے یہاں آئےہو۔ یہ لڑکی دوست سے کچھ ذیادہ ہے ہے نا؟۔۔

    اسکا انداز چھیڑنے والا تھا۔۔ 

    ہیون جھینپ سا گیا۔۔ 

    بہت ذیادہ۔۔ 

    اس نے سچے دل سے کہا تھا۔۔ 

    دونوں ہی ہنس دیئے۔۔ انکے ہنسنے پر اریزہ نے مڑکر 

    دیکھا

    فیس بک پر جانے کس صدی کی تصویر لگائی ہے اصل میں تو ٹھیک ٹھاک وجیہہ اور مہربان سا ہے۔۔۔

    اس نے سوچا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم مجھے کال کر لیتیں ۔۔ آج تو برفباری بھی یکدم سے بہت شدید شروع ہوگئ ہے۔۔ اسکیلئے دروازہ کھولتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔گاڑی میں بیٹھ کر اس نے سب سے پہلے ہیٹر آن کیا تھا۔۔ 

    معزرت۔۔ وہ بس کہہ کر چپ ہوگئ۔۔ 

    بندہ ویدر فارکاسٹ ہی دیکھ لیتا ہے۔گرم کپڑے پہن کر نکلتا ہے۔۔ ابھی سیول میں شدید سردی پڑنی شروع بھی نہیں ہوئئ۔۔ اوپر سے موبائل بند گوارا وہاں الگ پریشان ہو رہی ہے۔۔ ہم سب کو فکر یہ تھی کہ راستے نہیں یاد یہاں کے۔ہنگل بھی نہیں آتی تمہیں۔۔ کسی مصیبت میں نہ پھنس گئ ہو۔۔اور ہمارا اندازہ صحیح نکلا۔ چوٹ اندرونی ہے یا خون بھی نکلا؟

    وہ یقینا کافی پریشان ہوا ہوگا جبھی نان اسٹاپ بولتا گیا۔۔ اسے اپنی غلطئ کا اندازہ تھا

    نہیں خون نہیں نکلا۔ 

    اس نے دھیمی آواز میں جواب دیا

     بہت قسمت اچھی تھی جو جون جے مل گیا۔۔ ایک تو رج کے شریف اوپر سے انگریزی بھی آتی ہے اسے۔۔۔ تم۔۔ 

    بولتے بولتے اسکی نظر اریزہ پر پڑی تو یکدم چپ ہو رہا۔۔ وہ آنکھیں پونچھ رہی تھی۔ ۔ وہ چلا نہیں رہا تھا اسے عادت ہی نہیں تھی پھر جملے بھی سخت نہ تھے اسکا رو پڑنا غیر متوقع تھا۔۔ برفباری کی شدت میں کمی آچکی تھی۔اس نے راستے میں ایک۔طرف کرکے گاڑی روک دی۔۔  آنسو پونچھتے سر اٹھایا تو چونکی۔۔ مڑ کر ہیون کو دیکھنے لگی۔۔ 

    وہ اسکے متوجہ ہونے کا ہی منتظر تھا۔۔ فورا معزرت کرنے لگا۔۔

    بیانیئے۔ میں شائد زیادہ بول گیا۔۔ 

    اریزہ چپ چاپ اسے دیکھتی گئ۔۔ اسکے چہرے پر فکر پریشانی خیال کیا کچھ نہ تھا اسکے لیئے۔۔ اسے تو لگا تھا یہاں اسے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے جبکہ یہاں اسکیلئے پریشان ہونے والا دوست تھا فکر کرنے والی بہن جیسی گوارا بھی تھی۔۔اسکے اپنے دوست سہیلی جانے کہاں تھے کیا کر رہے تھے۔۔اسکی آنکھیں لبا لب بھر گئیں۔۔

    نہیں تمہیں معزرت کرنے کی ضرورت نہیں۔

    وہ اور شرمندہ ہوگئ

     بس وہ مجھے شرمندگی ہورہی ہے میری فالتو سی ضد کی وجہ سے تمہیں اتنی زحمت ہوئی  آئم سوری۔۔

    برفباری سردی تنہائی کیسے انسان کو بےبس کرتی ہے وہ بخوبی جانتا تھا۔۔ وہ  اسی تکلیف میں مبتلا کسی اور کو سہارا دینے کو بڑھا۔۔ اریزہ نے اسی وقت رخ پھیر کر ڈیش بورڈ پر رکھے ٹشو باکس سے دھڑا دھڑ ٹشوز نکال کر آنسو پونچھ ڈالے۔۔ 

    میں سوچ بھئ نہیں سکتی تھی برفباری دیکھنے کا شوق میرا ایسے تکلیف دہ انداز میں پورا ہوگا۔۔ 

    وہ روانی میں چڑی چڑی سی بولی۔۔ 

    ہیون کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔ رخ پھیر کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔۔

    اریزہ کو یاد آئیں اپنی بڑکیں سینٹڈ نالہ برفباری ۔۔ اسے خفت سی محسوس ہوئی۔۔مگر مقابل ہیون تھا ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اریزہ۔۔

    لپٹ کر کہہ رہی تھی۔۔۔یوآنہ کمرے سے اٹھ کر آئی تھی انہیں لائونج میں بخیریت دیکھ کر سر جھٹکتی واپس کمرے میں جا گھسی سر تک کمبل بھی تان لیا۔ 

    تمہیں پتہ ہے کتنا پریشان تھی میں تمہارے لیئے۔۔ 

    سوری۔۔ وہ اور کیا کہتی۔۔ 

    اور یہ کیا پہن رکھا ہے۔ وہ اس سے دور ہو کر جائزہ لینے لگی۔۔ 

    وہ یہ۔۔ اریزہ ایکدم سرخ پڑ گئ۔۔ 

    برفباری سے کپڑے گیلے ہوگئے تھے تو جون جے نے اسے اپنے کپڑے دیئے تھے۔۔ ہیون کی جانب سے جواب آیا تھا۔۔ 

    اور تم تم بھی لے لیتے جون جے سے کپڑے۔ یہ بوتھا کپڑے پہنے بیماری کو دعوت دے رہے ہو۔۔ سچ بتائو اریزہ یہ سڑک پر دیوانہ وار پکارتا تو نہیں پھر رہا تھا تمہیں جو اتنا بھیگا ہوا ہے۔

    گوارا نے اسکو تادیبی نظروں سے دیکھتے بلا لحاظ تبصرہ جڑا تھا۔۔ ہیون ایکدم سرخ پڑا تھا تو یون بن نے منہ پھیر کر مسکراہٹ ضبط کی۔۔ اریزہ نے اب غور کیا تھا۔ اسکی جیکٹ بال سب گیلے تھے۔۔

    ہاں تو تین اسپتالوں کے چکرلگائے پولیس اسٹیشن کا الگ دورہ کیا۔ میرے لیئے کوئی چھتری لیئے اوپا 

    تھوڑی کھڑ ا ہوتا تھا۔۔ 

    ہیون تیز ہو کر بولا تھا۔۔ خفت سے لال چہرے پر بگڑ کر بولتا اسکا بس نہیں تھا گوارا کو کچا چبا جائے۔۔ اریزہ کو بھی بے ساختہ ہنسی آگئ تھی جسے اس نے چھپانے کی کوشش نہ کی۔۔ یون بن  اپنے دوست کی مدد کو آیا۔

    چلو میں اپنے کپڑے دوں تمہیں۔۔ یون بن اسے بازو سے پکڑ کر کھینچ لے گیا۔۔

    یون بن ؟ اریزہ کا چہرہ سوالیہ نشان بنا۔۔ 

    ہم میک اپ بریک اپ کرتے رہتے ہیں۔۔۔ گوارا ہنس دی 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح مطلع صاف تھا۔۔دھوپ نکل آئی تھی۔۔ اسکے سوا سب گہری نیند میں تھے۔ وہ اپنے آپکو بالکل تازہ دم محسوس کر رہی تھی ۔۔ ساری رات اسے بالکل نیند نہ آئی جیسے ہی پو پھٹنے لگی احتیاط سے بیڈ سے اتری اور کمرے سے باہر نکل آئی۔ یون بن  اور ہیون لائونج میں بستر بچھائے بے خبر تھے۔۔ وہ باہر ٹیرس میں چلی آئی۔ سورج نکل رہا تھا۔ وہ بڑے غور سے اسے دیکھنے لگی۔۔  دھلا دھلایا سیول اور نکلتا ہوا نارنجئ سورج ۔۔ اس نے جھٹ تصویر کھینچی۔۔ 

    ہر برفباری کے بعد ایک چمکیلا سورج منتظر ہوتا ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ برفباری سہہ جائیں ۔۔ 

    اس نے لکھ کر تصویر چڑھا دی۔۔ 

    اسکے بلاگ پر اس وقت لوگ نہیں تھے۔۔ 

    اس نے بور سا ہو کر بلاگ بند کر دیا۔ تبھی بلاگ کی اطلاعی گھنٹی بجی تھی۔۔

    موسم باہر کے تو بدلتے رہتے ہیں اندر مگر کوئی موسم ٹھہر جائے توکیا کیا جائے۔۔ ؟؟؟

     علی۔۔۔۔ 

    یہ۔اس وقت جاگ رہا ہے؟ واقعی انسومینیا ہے کیا اسے۔۔ 

    اسے حیرت ہوئی تھی۔

    میرے اندر کا موسم خود اداس سا ہے تمہیں کیا مشورہ دوں۔۔ 

    اس نے گہری سانس لی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ پہلی بار تھا کہ بلاگر نے اسکو جواب نہیں دیا تھا۔۔ علی چند لمحے انتظار کرتا رہا پھر موبائل بیڈ پر رکھتا بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ 

     کمرے کی کھڑکی سے پردےہٹا کر نکلتے سورج کو 

    دیکھنے لگا۔۔ سول کا سورج تصویر سے کہیں ذیادہ دلکش لگ رہا تھا۔۔

    وہ کتنی ہی دیر ابھرتے سورج کو دیکھتا رہا۔۔ سورج کی نرم گرم سی دھوپ اسکے اندر جمی برف پگھلا نے لگی تھی مگر ابھی اسے احساس نہیں ہوا 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔ 

    جاری ہے۔۔ 

    kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ? Rate us below

    Rating
    Home » Urdu Novels » Salam Korea » Page 2
  • Salam Korea Episode 29

    salam korea 

    by vaiza zaidi

    قسط 29

    salam korea episode 29

    آجکا بس کا سفر خوشگوار تھا۔ رش کم تھا یا اسکی قسمت اچھی تھی بیٹھنے کی جگہ مل گئ۔ بس سے اتر کر اس نے سب سے پہلے اپنا کندھا تھپکا

    شاباش اریزہ ۔ تم خود مختار ہو تی جا رہی ہو۔ 

    بس اسٹاپ کی تصویر کھینچی اسی وقت بلاگ پر لگائی

    صبح کا وقت جاب شروع مجھے اچھی سی دعا دو سب کہ آج کا ٹارگٹ میں پورا کر لوں۔ 

    سر جھکائے لکھتے ہوئے چلتے چلتے اپلوڈ کیا سر اٹھایا ٹھک سے مارٹ کی  گلاس وال سے سر لگا کھسیا کر سر سہلاتے وہ خراماں خراماں چلتی اندر داخل ہوئی۔ 

    اپنے اسٹال کو سیٹ کیا سکون سے کھڑی ہوئی پھر اگلے دو تین گھنٹے خاموش یونہی کھڑی رہی مجال ہے جو کوئی آیا ہو سیریل لینے۔ ایک خاتون آئیں بھی تو گھنٹہ اسے یہ سمجھانے میں لگ گیا کہ یہ سیریل ڈائٹ سیریل نہیں بچوں کیلئے ہے۔  

    دے۔۔ اس سے اچھی طرح بات سمجھ کر اپنے بچے کا پرام دھکیلتی آگے بڑھ گئ۔ 

    محترمہ بچے کیلئے تو لے لیں۔ 

    اس نے پکار کر کہا مگر وہ ان سنی کر گئ۔ اسکا منہ بننے لگا۔

    حد ہے ویسے انکو پہلے اشتہار وغیرہ چلانے چاہیئے تھے پھر فری سیمپلنگ کرتے یہاں کی عورتوں کو تو انگریزئ بھی نہیں آتئ ۔ اس نے منہ بنایا۔ 

    تبھی ایک چار پانچ سال کا بچہ اسکے لانگ ٹاپ کے دامن  کو کھینچ کر اسے متوجہ کرنے لگا

    گورا چٹا گول مٹول اس نے بے ساختہ اسکے گال پر چٹکی سی بھر لی۔ 

    یہ کھانا۔ اس نے کچھ اشارے اور ہنگل سے سمجھایا اس نے بھی جھٹ اسے اٹھا کر بچوں والی کھانے کی کرسی پر بٹھایا اور پیالہ بنا کر اسکے آگے رکھا۔ بجائے کھانے کے وہ ٹکر ٹکر دیکھنے لگا۔ 

    کھائو نا۔ 

    اس نے چمکار کر کہا۔ 

    تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔ ایڈون کا میسج تھا مختصر مگر سنجیدگی سے بھرپور

    تمہاری ہر طرح کی مدد کا میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں بہت شکریہ۔ 

    انگریزی میں پیغام تھا۔ اس پر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔ 

    اتنے دنوں سے روز سوچتی تھی کہ سنتھیا سے ملنے جائے مگر اس نوکری کی وجہ سے فرصت کہاں تھی۔ اس نے شرمندگی سے سر کھجایا۔ 

    آج پکا جائوں گی اس سے ملنے۔ اس نے مصمم ارادہ کیا۔ سر اٹھایا تو اس ننھی مخلوق کو بسورتا پایا۔ چمکارا

    کیا ہوا؟ ۔۔ 

    وہ۔۔ اب اس نے انگلی کے اشارے سے کہا تو اس نے اسکی انگلی کی سیدھ میں دیکھنے کو اسکے کندھے پر تھوڑی ٹکائی۔ اس ننھی مخلوق کا اشارہ اس چھوٹے سے ٹیڈی بئیر کی جانب تھا جسے پانچ پیکٹ اکٹھے لینے والی خاتون کو تحفتا دینا تھا۔ ٹیڈی بئیر ابھی تک سب یونہی سجے بیٹھے تھے۔ کسی نے لیا بھی تو ذیادہ سے ذیادہ دو پیک لیئے۔ 

    اس نے گہری سانس بھر کر ٹیڈی بئیر اتار کر اسے تھمایا اس نے نہایت خوشی سے ٹیڈی بئیر تھاما اور پیالہ آگے کھسکا دیا۔ 

    یہ بھی کھا لیتے مزے کا ہے۔ 

    اس نے پیالہ اٹھاتے ہوئے یونہی چمچ بھر کر منہ میں رکھ لیا۔ 

    واقعی مزے کا تھا۔ ہلکا پھلکا سا میٹھا فلیور شائد ونیلا تھا۔ 

    اسکے تاثرات نے بچے کو للچایا جھٹ منہ کھول لیا۔ اپنا چمچہ اس نے لمحہ بھر سوچا پھر ایک طرف رکھ کر نیا چمچ نکال کر اس کو چمچ بھر کر کھلایا ۔ 

    بچے نے اطمینان سے چبایا اور نگل کر روتی صورت بنا لی

    کیا ہوا مجے مجے کا ہے۔۔ 

    اسکے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ 

    جھٹ خود ایک چمچ کھا کر تالی بجائی جیسے کھا کر بہت خوشی ہوئئ ہو۔ 

    مجے مجے کا۔۔ 

    بچے نے دہرایا پھر ہمکنے لگا  

    اب کیا کروں تمہارے ساتھ کھانا وانا ہے نہیں رونے کو تیار بیٹھے ہو۔ چاہ کیا رہے ہو۔ اب یہ ٹیڈی بئیر بھی لے تو لیا۔

    وہ اس سے سنجیدگئ سے پوچھ رہی تھی۔ 

    بچے نے اسکی سب اردو خاموشی سے سنی چمچ بھر کر منہ میں رکھا اور اسے پھر اشارہ کرنے لگا زور زور سے تالی بجا کر

    کیا ؟ میں بھئ بجائوں؟ 

    وہ حیران ہوئی ۔ ہلکی سی تالی بجائی بچے نے خوش ہو کر قلقاری ماری ۔ پھر چمچ بھر کر منہ میں رکھا۔ 

    مجے مجے کا۔ 

    اس کے منہ سے مجے مجے کا اتنا مزے کا لگا کہ اسکی ساری کلفت دور ہوگئ۔ اسکے نوالہ لینے پر اس نے خوش ہو کر تالی بجائئ۔ پھر اس بچے نے پورا پیالہ  ختم کیا اور ہر نوالے پر اس سے تالی بجوائی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ اس کے اسٹال سے کچھ ہی فاصلے پر موجود اسٹاف کے کیبن کی گلاس وال سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ہاتھ میں کین پکڑے وہ پینا بھولے ہوئے تھا۔کم سن اس سے کچھ فاصلے پر اپنی ریوالونگ چئیر پر بیٹھا اسکے دو سینئر افسران سے بریفنگ لے رہا تھا۔ ان دونوں نے بات کے دوران اس کی جانب تھوڑا حیران ہو کر دیکھا تھا۔ اس میٹنگ میں اصل کام ہایون کا ہی تھا مگر وہ یوں بے نیاز کھڑا رہا تھا۔ کم سن نے اسکی جانب دیکھا پھر گہری سانس لیکر ان دونوں کو جانے کا کہہ دیا۔ دونوں جھک جھک کر اس کو سلام کہتے نکل گئے تو وہ دبے قدموں اسکے پاس آیا اور جان کے ایکدم سے اسکے کان کے پاس بولا

    تم پہلے بتاتے تو میں سی سی ٹی وی کی پوری چھے گھنٹے کی ریکارڈنگ بھجوا دیتا بلکہ کہو تو کل سے یہاں کہیں ہڈن کیمرہ لگوا دوں لائیو دیکھ لیا کرنا اسے۔ 

    ہایون اسکے ایکدم سے کان پر بولنے پر کان سہلانے لگا۔ 

    اتنی دیر میں بس ایک بچہ ہی کھا رہا ہے سیریل ۔ یہ سیریل بکتا نظر نہیں آرہا مجھے تمہارا ٹارگٹ اسکی وجہ سے پورا نہیں ہوگا تو میں پیسے نہیں دوں گا۔ 

    نہایت سنجیدگی سے اس نے کہا تو کم سن نے اسکو تادیبی نگاہوں سے گھورا۔ 

    اسکو بکوانا کوئی مسلئہ نہیں مگر یہ بتائو تمہیں میرا ٹارگٹ پورا نہ ہونے کی فکر ہے یا اسکے؟ 

    کم سن بھئ ایک کائیاں تھا۔ 

    تمہارا ٹارگٹ بھئ اسکا ٹارگٹ پورا ہونے سے ہی جڑا ہے۔ 

    ہایون بھی اتنی آسانئ سے ہاتھ آنے والا نہیں تھا۔ 

    کم سن نے شاکی نگاہ ڈالی اور اپنی جیب سے موبائل نکال لیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس بچے کو کھاتے دیکھ کر کئی بچے آجمع ہوئے تھے۔ انکی والدائیں بھی۔ دھڑا دھڑ اسکے ڈبے بکے۔ وہ والا ٹیڈی اس نے خوش ہوکر یونہی اس بچے کو تھما دیا تھا۔ وہ بے تحاشا خوش ہوا تھا۔ اسکی ماں جھک جھک کے گھمسامنیدہ کہتی گئ تھئ۔ پانچ ڈبے رہ گئے تھے بس۔ وہ خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی۔ پہلا دن تھا ٹارگٹ پورا ہونے کا۔ شائد۔ ابھی تین گھنٹے مزید تھے پانچ تو بک ہی جاتے۔ 

    وہ مطمئن ہوگئ ۔ ایک سوچ یہ بھی آئی کہ یہ پانچ خود خرید لے۔کیونکہ۔ اس نے دزدیدہ نگاہوں سے ٹیڈی بئیر کو دیکھا پھر پلاسٹک ریپ سے سجا ٹیڈی بئیر اٹھا لیا۔ 

    یہ بہت ہی پیارا تھا۔ گول مٹول سا بڑی بڑی آنکھیں کھول کر دیکھتا۔ 

    وہ چند لمحے اس کو دیکھتی رہی  پھر واپس رکھ کر مڑی تو سامنے کائونٹر پر نسبتا دو بڑے بچے آبراجمان ہوئے تھے۔ چندی آنکھوں کے ساتھ معصومیت سے تکتے۔ ایک نے بچکانہ آواز میں ہنگل میں فرمائش داغئ

    آہجومہ ہمیں سیریل کھلائو۔ 

    آہجومہ کو خاک سمجھ آئی ہوگی اس سے انگریزی میں بولو۔ 

    ایک نے دوسرے کو ٹوکا۔ تو دوسرے نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا

    آہجومہ پلیز ۔۔ 

    ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا انگریزی میں کہ آہجومہ آگ بگولا ہوگئیں۔

    اس نے دونوں ہاتھ کمر پر ٹکا کردانت کچکچا کر پوچھا۔ 

    آہجومہ کسے بولا؟ 

    وہ لڑنے کیلئے تیار تھی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ابھئ ذیادہ دیر نہیں ہوئی تھی۔ دونوں کے باہمی اجازت نامے کے ساتھ مکمل معائنے کے بعد دو دن بعد کی انکو آپریشن کی تاریخ دے دی گئ تھی۔ نہایت پیشہ ورانہ انداز میں ڈاکٹر نے ان کو سب تفصیل بتائی تھی۔ ایڈون ہر بات پر سر ہلاتارہا تھا۔ وہ اسکو چپ سی دیکھ رہی تھی۔ ایڈون مطمئن بلکہ خوش کہنا مناسب ہوگا لگ رہا تھا۔ کلینک سے نکل کر باہر آتے بس میں بیٹھتے اسکے ایک ایک قدم پر ایڈون نے اسکا خیال رکھا تھا۔ جیسے وہ کانچ کی بنی ہو۔ اسے اسکی یہ توجہ احتیاط خیال کھلا تھا مگر اس نے ظاہر نہ کیا۔ ایڈون پورا راستہ بولتا آیا تھا۔

    آج کی تو چھٹئ ہوگئ اب کل جاکر پرسوں کی چھٹی مانگوں گا تو جانے دیں گے کہ نہیں خیر کوئی نہ کوئی جگاڑ لگا لوں گا۔ تم فکر نہ کرنا میں تمہارے ساتھ ہی آئوں گا۔ 

    وہ ان سنی کرکے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ آج سورج نکلا ہوا تھا نرم گرم سی دھوپ اچھی لگ رہی تھی اسکو نیند سی آنے لگی۔ کہ ایڈون کی اگلی بات نے اسکی آنکھیں پٹ سے کھول دیں۔

    میں نے اریزہ کو شکریہ کہہ دیا تھا۔ میسج پر۔ کال بھی کروں گا۔بلکہ آپریشن کے بعد ہم دونوں اریزہ سے ملنے جائیں گے۔ 

    کیوں؟ اسکا کس بات کا شکریہ؟ 

    وہ فورا مڑ کر پوچھنے لگی۔ 

    اسی کے سمجھانے پر مانی ہو نا میں نے ہی اس سے کہا تھا بات کرے تم سے شائد تمہیں اسکی بات سمجھ آجائے۔  ۔ ورنہ میں تو سمجھا سمجھا کر تھک گیا تھا تم سن ہی نہیں رہی تھیں۔ 

    ایڈون کا انداز سادہ سا تھا۔

    تم نے اریزہ کو سب ۔۔ 

    اس نے تاسف سے دیکھا۔ ایڈون نے اب اگلی بات شروع کردی تھی اس نے رخ موڑ لیا۔ 

    میرے پاس ویسے پیسے تو ہیں مگر آپریشن کے خرچے کے بعد بالکل ختم ہو جائیں گے۔ ایڈوانس لینے کی کوشش کروں گا دیکھو کیا بنتا۔ 

    بس انکے اسٹاپ سے کہیں پہلے رکی تو وہ اٹھ کھڑا ہوا

    سنتھیا حیرت سے اس سے پوچھنے لگی

    یہ ہمارا اسٹاپ تو نہیں ۔ 

    یہاں کچھ کام ہے۔ 

    وہ اسکا ہاتھ تھامنے کو ہاتھ بڑھائے تھا۔ اس نے اسکا سہارا لے لیا۔ ایڈون اسے گنگم کے بازار میں لیکر آیا تھا۔ سوئی سے ہوائی جہاز تک بچوں کے ہی سہی دنیا کی ہر چیز بک رہی تھی۔ وہ بہت اشتیاق سے دیکھتی آئی۔ پورا بازار چلا کر وہ اسے ایک دکان کے پاس لایا تھا۔ نئی پیکنگ میں تھوک کے حساب سے سویٹ پینٹ شرٹس سرما کے جیکٹس اپر ہر قسم اور ڈیزائن کے موجود تھے۔ 

    دو سویٹ سوٹس ایڈون نے خود ہی ڈھیلے ڈھالے اسکے لیئے منتخب کیئے ایک جیکٹ اسے پسند آگئ ۔ 

    یہ کوٹ ذیادہ گرم لگ رہا ہے۔ ایڈون نےکوٹ اٹھا کر اسکے ساتھ لگایا ۔ کوٹ واقعی کافی موٹا اور لانبا تھا گھٹنوں تک آتا۔ 

    اس نے جیکٹ واپس رکھ دی۔ ایڈون  نے دونوں شاپر اٹھا لیئے تھے۔ 

    دکان میں ٹاپس بھی تھے ٹائٹس بھی۔ وہ بس دیکھ کر ایڈون کے ساتھ آگے بڑھ آئی

    اب جوتوں کی باری تھی۔ ایڈون کو جوگرز  پسند آرہے تھے جبکہ اسے کورٹ شوز۔ اس نے جوگرز ہی لے لیئے۔ 

    یہ گرم رہیں گے ۔ ایڈون نے بتایا وہ سر ہلا کر رہ گئ۔ 

    اسکو شدید تھکن ہو رہی تھی۔ سردی بھی لگنے لگی تھی۔ اس وقت وہ جینز اور گرمیوں کے اچھے وقت کے لیئے ٹاپ میں ملبوس تھئ اوپر سے اس نے ایڈون کا جیکٹ پہن رکھا تھا جو اسے اب سردی کیلئے ناکافی لگنے لگا تھا۔ 

    ایڈون کو خود بھئ شائد سردی لگنے لگی تھی۔ 

    سوپ پیوگئ؟ 

    چلتے چلتے اس نے پوچھا اس نے بس سر ہلایا۔ اسکی ناک سرخ ہوگئ تھی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    راستے سے کچھ پھل جیسے د وتین کیلوں اور دو تین سیب کی پیکنگ گلوکوز انرجی ڈرنک دودھ ایک ٹانک بھی ڈاکٹر نے لکھا تھا ۔ سب چیزیں لا کر اس نے اسکے کمرے کی میز پر رکھی تھیں۔ کمرے میں حبس تھا اس نے فورا جیکٹ اتاری اور بیڈ پر بیٹھ گئ۔ 

    اور بھئ کچھ چاہیئے ہو تو بتا دینا۔ 

    اسکی شاپنگ کے بیگز اس نے میز کے نیچے بنی جگہ میں گھسا دیئے تھے۔ پھر ہاتھ جھاڑ کر اپنا اپر اتارا۔ 

    یہ تم رکھ لو رات کو سردی لگے تو پہن لینا۔ اس نے اسکے تکیئے کے پاس رکھتے ہوئے ہدایت کی پھر جیکٹ اٹھا کر نکلنے لگا۔ 

    رات کیلئے کچھ کھانے کو لانا ہوگا بس اب۔ 

    اس نے کہا تو ایڈون نے مڑ کر یوں دیکھا جیسے کہہ رہا ہو اس سب کے بعد رات کو بھی کھانے کی پیٹ میں جگہ ہوگی؟ 

    سات بج تو رہے ہیں کھا کر سوجانا ویسے میں اکیڈمی سے واپسی پر دیکھوں گا کوئی کیک رس وغیرہ لیتا آئوں گا۔ 

    وہ جانے لگا تو اسےپھر خیال آیا۔ 

    سوئٹر تو کوئی لی نہیں۔تم اپر دے جائو گے تو خود کیا کروگے؟  یہاں ٹھنڈ بہت ہے اور بس یہ دو ہی سویٹ سوٹس ہوںگے میرے پاس۔ مجھے ڈریس لینا تھا۔ میں پاپا سے کہتی ہوں اور پیسے بھجوادیں۔ 

    سنتھیا کی بات پر وہ سر کھجا کر رہ گیا۔ 

    ابھی گزارا کر لو۔ انہوں نے شاپنگ کے پیسے جو بھجوائے تھے یہ وہی خرچ ہو رہے ہیں۔ مزید مانگو گی انکو شک ہوگا کیوں چاہیئیں۔ وہ یہی سمجھ رہے ہیں تم فلیٹ لیکر رہ رہی ہو اریزہ کے ساتھ جسکی وہ خاصی رقم بھجوا چکے ہیں۔ 

    تو کیا ہوئی وہ رقم؟ خرچ تو نہیں کی ہے تم نے میری شاپنگ پر۔ 

    وہ ایکدم تیز ہو کر بولی۔

    کتنی دفعہ سمجھائوں یہ جو مصیبت مول لی ہے اس سے چھٹکارے کیلئے بچا رکھے ہیں۔ کوئی اندازہ ہے کتنی ایڈوانس پیمنٹ کی ہے اور کتنے آپریشن میں پیسے لگیں گے؟ 

    وہ جھلا ہی گیا۔ سنتھیا ایکدم چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگی تو اسے اپنے لہجے کا احساس ہوا  خود پر قابو پاتا گھٹنوں کے بل اسکے سامنے آن بیٹھا دھیرے سے اسکا ہاتھ تھام کر سمجھانے والے انداز میں کہنے لگا

    مجھے اندازہ ہے کپڑے سویٹر جیکٹ اس سب کی فوری ضرورت ہے مگر ابھی گزارہ کر لو۔ بس چند دن کی بات ہے۔ تم اسکے بعد پاکستان چلی جانا آرام کرنا جب تک  اگلے سمسٹرکی باری آئے گی تب تک تمہاری صحت بھی بحال ہو جائے گی۔ پھر چاہو وہیں ڈگری مکمل کرلو یا یہاں کی اسکالر شپ کیلئے دوبارہ اپلائی کر دینا۔

    مجھے پاکستان نہیں جانا۔ 

    اس نے ضدی انداز میں کہہ کر ہاتھ چھڑائے۔ 

    یہاں خود تم سے رہا نہیں جا رہا اس لیئے کہہ رہا ہوں۔۔ 

    وہ زچ ہوا مگر انداز ابھئ بھی نرم سا ہی تھا۔ 

    نہ یہاں رہنے سہنےکا آرام ہے نہ کھانے پینے کا اور۔ 

    اس نے بات کاٹ دی۔ 

    تو میں یہاں رہنے کا کہہ بھی نہیں رہی۔ جب میں ابارٹ کروا لوں گئ تو میں بھی کہیں بھئ جاب کر لوں گی ہم اچھی جگہ لیکر رہ سکیں گے اکٹھے۔۔ 

    اس نے اتنا ہی کہا تھا ایڈون بحث بےکار سمجھتے بات ختم کرنے والے انداز میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا

    وہ سب بعد کی بعد میں دیکھیں گے۔ فی الحال بس اپنی صحت پر فوکس کرو اس مصیبت سے جان چھڑائو پھردیکھا جائے گا کیا کرنا ہے۔ 

    مصیبت کونسی  مصیبت۔ اسکی برداشت ایکدم تمام ہوئی

    بچہ ہے یہ ہمارا جسے تم مستقل مصیبت کہے چلے جا رہے ہو۔ 

    وہ طیش میں آکر اسکے مقابل آکھڑی ہوئی۔

    ایڈون نے ہونٹ بھینچ لیئے۔ 

    کھانا کھا لینا میں چلتا ہوں۔ وہ کہہ کر مڑنے لگا سنتھیا نے اسکو کندھے سے کھینچ کر روکا پھر گریبان پکڑ کر بولی۔

    سچ بتانا مجھے اگر میری جگہ یہاں اریزہ کھڑی ہوتی تو کیا تب بھی تم اس بچے  کو مصیبت سمجھتے؟ اس سے جان چھڑانا چاہتے؟ بولو جواب دو۔

    وہ ہذیانی انداز میں اسکا گریبان پکڑکر پوچھ رہی تھی۔ اسکا لال بھبھوکا چہرہ ایڈون نے ضبط سے اپنا گریبان چھڑوانا چاہا۔ 

    فضول باتیں مت سوچا کرو۔ اب کھانا کھائو مجھے جانا ہے مجھے دیر۔۔ 

    ہرگز نہیں مجھے جواب چاہیئے۔ مجھے بتائو اگر یہ میری جگہ اریزہ کا بچہ ہوتا تو کیا کرتے تم ؟

    ایڈون خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اسکی خاموشی اسے مزید مشتعل کر رہی تھئ۔اس پر جیسے جنون طاری ہو گیا۔ 

     بتائو کیا کرتے۔ بتائو مجھے کیا کرتے۔ مصیبت کہتے اسے بھی؟ یوں جان سے مروادیتے؟ بولو بولتے کیوں نہیں۔ مروا دیتے اس کا بچہ؟اریزہ کا بچہ بھی ہوتا مصیبت؟ 

    اسکے حلق میں چلانے سے خراش پڑنے لگی تھی۔ گھٹئ گھٹئ آواز میں وہ جو منہ میں آرہا تھا بولے جا رہی تھی۔بدستور اسکا گریبان اسکے شکنجے میں تھا۔ ایڈون نے خود کو چھڑوانا چاہا تو شرٹ کا بٹن ٹوٹ کر گرگیا۔ 

    طیش کی ایک لہر اسکے رگ و پے میں دوڑ گئ۔ 

    نہیں۔ اس کا قطعی انداز سنتھیا سکتے میں آگئ جیسے۔ 

    اس کے گریبان پر گرفت بھی ڈھیلی پڑ گئ۔ مگر ایڈون کی بات ختم نہیں ہوئی تھی۔ 

    اسکی نوبت ہی نہ آتی وہ کبھی مجھے بنا کسی رشتے اپنے قریب نہ آنے دیتی۔ 

    وہ کہہ کر رکا نہیں دھاڑ سے دروازہ کھولتا باہر نکل گیا تھا۔ اسکی جیکٹ دروازے کے پاس گر گئ تھی۔ اس نے سائیں سائیں ہوتے دماغ سے جھک کر جیکٹ اٹھانی چاہی مگر وہ ہاتھ میں آئی ہی نہیں دروازہ بند کرنا چاہا ہاتھ پائوں کانپ رہے تھے وہ وہیں دروازے کا سہارا لیئے بیٹھتی چلی گئ۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ویسے ہے تو مزے کا ۔۔

    کم سن نے چٹخارہ لیا تھا۔ ہایون بھی مستقل کھاتے ہوئے تائید میں سر ہلا رہا تھا۔ 

    ہے نا ۔ وہ یوں خوش ہوئئ جیسے اسکا سارا کمال ہو۔

    توایسا کرو  تم دونوں دو دو ڈبے لے لو آرام سے گھر جا کر خوب کھانا۔  

    اس نے فوری موقع سے فائدہ اٹھایا۔چٹکی بجا کر بولی۔ 

    بلکہ ہایون تم تین خریدنا۔ 

    کیوں ہایون تین کیوں خریدے؟ کم سن حیران ہوا

    کیونکہ ہایون اچھا لڑکا ہے۔  

    اس نے بے نیازی سے کہا۔ ہایون مسکراہٹ دباتا اٹھ کھڑا ہوا۔ 

    میں بھئ بہت اچھا لڑکا ہوں ۔ کم سن کی ناک پر لڑ گئ۔ 

    مجھے کیا پتہ۔ اس نے معصومیت سے کندھے اچکائے۔ 

    بس پانچ ڈبے رہ گئے ہیں آج کے ٹارگٹ میں اگر ہو جائیں تو میں جلدی چھٹی لیکر کہیں جا سکتی ہوں۔

    یہ بات ہے  چلو میں پانچوں لے لیتا ہوں۔ 

    ہایون نے سرسری سئ نگاہ اسٹال پر ڈالی اور جیب سے بٹوہ  نکالنے لگا۔ 

    دیکھا کتنا اچھا دوست ہے میرا۔ اریزہ کا انداز چڑانے والا تھا۔

    تھیبا زندگی میں پہلی بار میں کسی کو اپنی ہی چیز پیسوں سے لیتے دیکھ رہا ہوں۔ 

    اس نے ہایون کو چڑایا ۔۔ 

    دوستی تو نبھانی پڑے گی نا۔ 

    ہایون نے ہنگل میں ہی جواب دیا۔ اریزہ چڑ گئ۔ ناک چڑھا کر گھورنے لگی دونوں کو۔

    شروع ہوگئے دونوں گٹ پٹ۔اب پکا ہنگل سیکھنی پڑے گی جانے کیا بول رہے۔  

    یہ بات  ہے تو میں بھی بتاتا ہوں کتنا اچھا دوست ہوں میں۔ 

    کم سن بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ اور جیب سے فون نکال کر کال ملا لی۔ 

    ہاں جون ووننا  یہ اس اسٹال پر جو لڑکی ہے یہ ہماری دوست ہے اسکا خوب خیال رکھا کرو اور اسکے اس ہفتے کے سب ٹارگٹ پورے لگا دینا اور آج کیلئے اسکو دو گھنٹے پہلے چھٹی بھی دے دو۔ 

    ہنگل میں کہہ کر وہ یوں اریزہ کی جانب مڑا جیسے داد چاہ رہا ہو ۔۔

    اب خوش؟۔۔ 

    اسکے کہنے پر اریزہ نے منہ  بناکر کندھے اچکا دیئے

    اسکو کیا پتہ تم نے کیا کہا ہے۔ ہایون کو ہنسی آگئ ۔ کم سن بھی کھسیا گیا 

    جون وونا بھاگا بھاگا آیا تھا۔ جھک جھک کے ہایون اور کم سن کو سلام کیا پھر اس کو شستہ انگریزی میں عزت و احترام سے دو گھنٹے قبل جانے کی اجازت بھی دی۔ 

    مس اریزہ آپکا آج کا ٹارگٹ پورا ہو چکا ہے اب آپ چاہیں تو گھر جا سکتئ ہیں۔ ابھئ کچھ کھانا پینا پسند کیجئےگا ؟ 

    اریزہ کا منہ کھلا ۔ گوارا کی پہلے دن اسے یہاں چھوڑنے آنے پر کہی بات ارے یہ تو لی مارٹ ہے۔ لی مارٹ لی ہایون۔ اور یہ کم سن۔ اس نے فون کرکے بلایا وہ کڑیاں ملا رہی تھی۔

    اب بتائو کہاں جانا ہے تمہیں؟ 

    ہایون نے پوچھا تو وہ چونکی۔ 

    سنتھیا سے ملنے۔ 

    سنتھیا سے؟ کم سن چونکا۔ 

    پتہ ہے کہاں رہتی ہے۔ ؟ ہایون نے پوچھا تو اس نے معصومیت سے نفی میں سر ہلایا۔ 

    مجھے پتہ ہے۔

    کم سن نے ہاتھ اٹھا کر بتایا۔ 

    میں لے چلتا ہوں۔ 

    ہایون نے دانت کچکا کر گھورا تو اس نے مزید معصوم سی شکل بنا لی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہایون ڈرائیو کر رہا تھا کم سن اسکے برابر بیٹھا تھا۔جبکہ وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھئ ٹیڈی بئیر کو بانہوں میں لیئے دونوں کو گھور رہی تھی۔ 

    مت گھورو سچی میں نے تمہارے پورے ہفتے کے ٹارگٹ پورے کروائے ہیں۔ پوچھ لو ہایون سے۔ 

    کم سن جیسے اس سے ڈر کر بولا۔ 

    ہاں سچ کہہ رہا ہے۔ ہایون نے بھی تائید کی۔ 

    سی ای او سفارش کر رہا ہے وہ بھی اتنی چھوٹی ملازمت کیلئے ۔ کم از کم بھی ڈبل فگر تنخواہ میں کوئی مینجر وینجر بنانا چاہیئے تھا مجھے۔ 

    اسکو یہ قلق تھا۔ ہایون اور کم سن نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس دیئے۔ 

    کوریا میں بڑے سخت قوانین ہیں سفارش پر قابلیت کے پیمانے کا خون کرکے نوکری ملی ہے اب خوب دل لگا کر کام کرنا۔ 

    کم سن نے  سنجیدگی سے نصیحت کی۔ 

    مگر میں پاکستانئ ہوں۔ اب اتنی تگڑی سفارش کے بعد تو اب مجھ سے کام وام کی امید مت رکھنا۔ کل میں چھٹی کروں گی پرسوں مجھے اس ہفتے کی تنخواہ گھر پہنچا دینا۔ 

    وہ شاہانہ انداز میں کہتی شہزادیوں کی طرح ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئ۔ 

    ہیں؟ کم سن کی آنکھین ابل گئیں۔ 

    مس میں باس ہوں آپکا۔ نکمے پن پر کھڑے کھڑے نوکری سے نکال سکتا ہوں۔۔ 

    کم سن کا انداز ۔۔ اریزہ کہنے لگی تھئ کہ میں مزاق کر رہی تھی کہ ہایون نے ڈرائو کرتے گردن موڑ کر گھورا

    اور میں تمہارا ۔اسکو دھمکی دی تو کانٹریکٹ کینسل سمجھو۔ 

    کم سن ہکا بکا ہوا تھا تو اریزہ محظوظ ہو کر زور سے ہنسی تھی۔ 

    اوکے میم۔ 

    کم سن نے مسمسی سی شکل بنا کر جیسے مہر ثبت کی ۔ 

    گوشی وون آچکا تھا۔ تینوں گاڑی سے اترے تو کم سن اجازت طلب کرنے لگا۔ 

    اس پہلی راہداری میں چوتھا کمرہ ہے ایڈون کا اس سے پوچھ لینا سنتھیا کا کمرہ کونسا ہے۔ اچھا ۔کرم۔میں پہلے جاتا ہوں۔ 

    کہاں۔ ہایون نے ٹوکا۔ 

    یہ دونوں سہیلیاں باتیں کریں گی میں کیا کروں گا میری تو ایڈون سے خاص دوستی بھی نہیں  ؟ میرے ساتھ رہو۔

    تم اسکو واپس بھی چھوڑ کر آئو گے؟ کم سن حیران ہوا۔ 

    ہاں ۔۔۔۔ 

    اسکے کہنے پر کم سن ایک نظر اریزہ پر ڈالی اور سر ہلادیا۔ 

    یقینا مجھ پر کوئی کمنٹ پاس کر رہے ہیں۔ اف آج میں نے چولیاں بھی تو خوب ماری ہیں ہمیشہ بک بک کرنے کے بعد پچھتاتئ ہو تم اریزہ۔ 

    وہ دل ہی دل میں خود کوکوس کررہ گئ  

    چلو اریزہ۔ ہایون کے نرم سے انداز میں کہنے پر وہ چونکی۔ نیم تاریک راہداری ایڈون کے کمرے کا دروازہ کئی بار دستک دینے کے بعد بھی نہ کھلا۔ 

    لگتا ہے کمرے میں ہے نہیں۔ کم سن نے خیال ظاہر کیا۔ 

    میں سنتھیا کو فون کرتی ہوں۔ 

    اریزہ نے کہا تبھئ سامنے سے سنتھیا آتی دکھائی دی۔ سر جھکائے سویٹ پینٹ اور شرٹ میں ملبوس بکھرے بال ہاتھ میں کوئی پیالہ اور کین تھامے ہوئے شائد کچن سے کھانا گرم کرکے لائی تھئ۔ 

    ان سے کچھ فاصلے پر دروازہ کھول رہی تھی۔ 

    سنتھیا ۔۔ اریزہ اسے پکارتی فورا اسکی جانب لپکی۔ سنتھیا نے اسے دیکھا پھر تیزی سے دروازہ کھول کر اندر گھسنے لگی ارادہ اسکے منہ پر دروازہ بند کرنے کا تھا۔

    کیسی ہو۔ اریزہ نے اسے جا لیا۔ دروازہ بند کرنے کیلئے ہاتھ خالی ہونا ضروری تھا۔مجبوری۔۔۔ جواب دینا پڑا 

    ٹھیک ہوں۔ اس نے سرد سے انداز میں کہا۔ 

    مجھے ایڈون نے بتایا تھا تمہاری طبیعت کے بارے میں۔ 

    وہ اسے اندر بلا نہیں رہی تھی دروازے میں جمی کھڑی تھی۔ اریزہ کو عجیب سا لگا۔ 

    تم ایڈون کی جان کیوں نہیں چھوڑتی ہو؟ 

    وہ چٹخ کر بولی جیسے۔ 

    کیا مطلب ہے اس بات سے۔ اریزہ کی پیشانی پر بل پڑا۔  

    تم مجھے اور ایڈون کو ہمارے حال پر چھوڑ کیوں نہیں دیتیں؟ کیوں پیچھے پڑی ہوئی ہو ہمارے۔ اتنا ایڈون کا خیال تھا تو ایک بار مجھے کہا ہوتا میں خود بیچ سے ہٹ جاتی ۔۔ 

    کیا بکواس کر رہی ہو؟ 

    اریزہ ہکا بکا رہ گئ 

    صحیح کہہ رہی ہوں۔ 

    وہ ایکدم چلا اٹھی۔ 

    کتنے ؟ کتنے لڑکے چاہیئے تمہیں آخر۔ شاہزیب سالک ایڈون اور اب یہ دونوں تمہارا دل کیوں۔۔۔ 

    بس کر جائو سنتھیا ۔۔ اریزہ کے صبر کا پیمانہ۔لبریز ہوا۔ 

    تم بس کر جائو اریزہ ۔ جینے دومجھے چین سے۔ کیوں آتی ہو میرے اور ایڈون کے بیچ۔ بند کردو اپنا یہ جھوٹا شرافت کا ناٹک۔ 

    کیا ہوا ۔۔ کم سن اور ہایون بھاگ کر انکے پاس آئے تھے۔ 

    کیا ناٹک کیا ہے میں نے بولو؟ جو منہ میں آرہا ہے بولے جا رہی ہو۔ 

    اریزہ کی طیش کے مارے آواز کانپ رہی تھی۔ 

    ناٹک ہی تو کرتی آئی ہو آج تک تم۔ ہر کسی کو متوجہ کرنے کا فن آتا ہے۔پاکستان میں جینز نہیں پہنتی تھیں تم ؟اور یہاں دوپٹہ لہراتی تھیں  اب کہاں گیا ہےتمہارا دوپٹہ؟ 

    بولو۔ 

    وہ جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھئ اریزہ اس رکیک الزام پر سنٹ سئ کھڑی رہ گئ۔ اس وقت اس نے لانگ کوٹ پہن رکھا تھا مگر جب مال میں کوٹ کی ضرورت نہیں تھی تو ہلکا سا لیلن کا بڑا سا اسکارف اس نے لے رکھا تھا ٹاپ پر بھی اس وقت بھی کوٹ کے اندر وہ اسکی گردن کے گرد لپٹا ہوا تھا۔ 

     ہایون ایکدم سے اریزہ کا ہاتھ تھام کر بولا

    چلو اریزہ ۔۔ 

    یہ۔۔ یہ  کون ہے تمہارا بھائی ؟ کس حیثیت سے تھاما ہے اس نے تمہارا ہاتھ۔؟ تف ہے اریزہ تمہارے دوغلے پن پر۔۔

    وہ اتنا چیخ کر بول رہی تھی کہ لابی میں دروازے کھلنے لگے۔ اریزہ کے جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔

    پھٹئ پھٹی آنکھوں سے زہر اگلتی سنتھیا کو دیکھتے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب رکیک الزامات اسکی بچپن کی بہن جیسی دوست اس پر لگا رہی ہے؟ 

    سنتھیا کام ڈائون۔ اندر چلو۔ بیٹھ کر بات۔۔ 

    کم سن کو سمجھ نہ آیا تو سنتھیا کو ہی روکنے لگا۔ 

    ہاتھ مت لگانا مجھے۔ سنتھیا ںےکہا تو اردو میں تھا وہ نا سمجھ کر بھئ رک ہی گیا۔ 

    اگر تھوڑی سی بھئ غیرت ہو تم میں تو دوبارہ مجھے اپنی شکل نہ دکھانا سمجھیں۔

    اسکی آواز چلانے سے پھٹ سی گئ۔ کم سن کو لگا اسکے کان کا پردہ پھٹا نہیں تو ذرا سا چر ضرور گیا ہے۔

     اب دفع ہو جائو یہاں سے۔ 

    اس نے غصے سے بے قابو ہو ہاتھ میں پکڑا بائول اریزہ کو دے مارا۔ بائول تو ڈس پوز ایبل پیک میں تھا مگر گرم گرم نوڈلز اسکے اوپر آئے تھے۔

    اریزہ ششدر سی اپنی جگہ جم کے رہ گئ تھی۔ اسکی گردن پر جتنا سوپ گرا تھا اس نے جلا دیا تھا مگر اسے اس جلن کا احساس بھی نہ ہوا تھا۔

    چلو نا اریزہ۔ ہایون اسکا ہاتھ تھام کے کھینچ رہا تھا کم سن بے قابو ہوتی سنتھیا کو شانت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    جائو نا جاتئ کیوں نہیں ہو۔ 

    اس نے تلملا کر ہاتھ میں پکڑا کین بھی اسے دے مارا ۔ اریزہ پر سکتہ سا تھا ہایون اسے بچانے کو بیچ میں آیا تو کین سیدھا اسکی تھوڑی بجا گیا تھا۔

    ہایون کو کین لگتے دیکھ کر سنتھیا جیسے ہوش میں آئی۔ ایک۔نظر لابی میں جمع ہوتے مجمعے پر ڈالی۔ 

    یہ کیا ۔۔کچھ سمجھ نہ آیا تو اندر کمرے میں گھس کر دروازہ بند کرلیا۔ 

    اریزہ کو ہایون زبردستی کھینچ کر لے گیا تھا۔ 

    کیا ہوا۔ کون لوگ تھے یہ؟ 

    کم سن ان سب کے سوالوں سے جان چھڑاتا جھک جھک کے معزرت کرتا باہر بھاگا 

    ہایون اریزہ کو لیکر زن سے گاڑی بھگا لے گیا تھا۔ وہ سوچ میں پڑا کہ انکے پیچھے جائے یا واپس 

    پھر سر جھٹک کر دائیں جانب گلی میں مڑ گیا  

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ڈرائی کلینر کو کوٹ دے کر وہ قریبی دکان میں گھس گیا تھا۔ دو کین لیکر واپس گاڑی میں آیا تو فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اریزہ ابھی بھی رو رہی تھی۔ ٹشو سے رگڑ رگڑ کر اس نے اپنی ناک سرخ کرلی تھی۔ آنکھیں سوج گئ تھیں۔ بالکل سرخ سیب بن چکی تھی۔

    تمہیں یقین ہے کہ تمہاری گردن محفوظ رہی ہے کوٹ کی وجہ سے؟ تمہیں جلن نہیں ہورہی؟

    ہایون نے اسے کین تھمایا تو وہ فورا سر ہلانے لگی

    نہیں میں ٹھیک ہوں۔ 

    آواز بھرائی ہوئی تھی۔ 

    دکھائو ۔ اس نے آگے بڑھ کر شائد دیکھنا چاہا تھا 

    نہیں۔ اس نے سختی سے کہہ کر اپنا اسکارف مزید لپیٹ لیا تھا۔ 

    اچھا ٹھیک ہے۔ 

    ہایون نے کندھے اچکا دیئے۔ وہ کین کھول رہی تھی اسکی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ 

    اس نے اپنا کین کھول کر اسکی جانب بڑھا دیا۔ 

    شکریہ۔ مدہم آواز۔ 

    اخلاقیات میں پی ایچ ڈی۔ اتنے تنائو میں بھی اسے شکریہ کہنا یاد رہا۔ مگر اس بات پر اسے غصہ ہی آیا۔ 

    انسان کو اچھا ہونا چاہیئے مگر اتنا اچھا بھی نہیں بننا چاہیئے۔

    انداز خفگئ بھرا تھا۔ 

    ہایون کی بات پر وہ ایکدم چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ 

    کیا یہ بھئ اسکو کوئی طعنہ دینے لگا ہے۔ اسکو پہلا خیال یہی گزرا تھا۔

    اس سے بڑھ کر آپکی کمزوری کیا ہوگی کوئی آپکا سر توڑ دے مگر آپکے ہاتھ کی ہڈی سلامت رہے۔ 

    ہایون نے اسکی آنکھوں میں جھانک کے کہا تھا۔ وہ اس وقت پہیلیاں بجھوا نہیں سکتی تھی یونہی خالی خالی نگاہ سے دیکھتئ رہی۔ 

    کہاوت ہے یہ۔اس نے گہری سانس لیکر سمجھایا۔۔

     اسکا مطلب ہوا کہ انسان اپنا سر بچانے کیلئے اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتا ہے۔ اگلی بندی بولے جا رہی ہے تم چپ سن رہی ہو وہ ہاتھا پائی پر اتر آئی اور تم اس سے پٹ گئیں۔ چوہے کو بھی موت کا ڈر ہوتا ہے تو وہ بلی کو کاٹ لیتا ہے۔۔ مشہور کورین کہاوت ہے۔ یہ اریزہ۔۔ وہ تمہاری دوست نہیں ہے۔ پہلے ہوگی کبھی مگر اب بالکل بھی نہیں یہ بات اب تو سمجھ لو تم۔ 

    اگر میں بیچ میں نہ آتا تو اس نے بھرا ہوا کین پوری طاقت سے تمہارے منہ پر دے مارا تھا۔ 

    وہ دانت کچکچا رہا تھا غصے کے مارے مٹھی بھینچ رہا تھا۔ اس نے اتنے مہینوں میں ہایون کو غصے میں نہیں دیکھا تھا ہلکا پھلکا چڑتا بھئ تھا تو ذیادہ دیر کیلئے نہیں۔ 

    اگر لڑکی نہ ہوتی نا تو میں۔۔۔ 

    بڑبڑاتاہایون اسکی شکل دیکھتے وہ چونکی۔ 

    اسکی تھوڑی پر نیل سا پڑ گیا تھا۔ اسکے گورے چٹے چہرے پر نیلا دھبا۔۔ شائد کٹ بھی پڑا تھا ایک سرخ سا نشان بھئ جیسے خون نکلا ہو۔۔ اس نے شائد ڈس انفیکٹ کیا تھا جبھئ دوا کی خوشبو آرہی تھی

    آئئ ایم سوری۔ 

    اس نے سر جھکا لیا۔ 

    ہر بات کیلئے میں معزرت خواہ ہوں میری وجہ سے آج جو کچھ بھئ تمہیں سہنا پڑا اسکے لیئے بھی میں بہت شرمندہ ہوں۔ واقعی سوری۔ 

    ڈونٹ بی۔ ہایون جز بز سا ہوا۔

    دفع کرو اس سب کو۔ چلو کسی اچھی جگہ ڈنر کرتے ہیں۔ 

    اس نے بات بدلنی چاہی۔ 

    میں اب گھر جائوں گی۔ اریزہ کا انداز قطعی تھا۔ پھر تمام راستہ وہ گا ہے بگا ہے اس پر نگاہ ڈالتا رہا مگر وہ بالکل رخ موڑے کھڑکی سے باہر جھانکتی رہی۔ عمارت کے کمپائونڈ میں گاڑی رکتے ہی وہ بنا ایک لفظ کہے گاڑی سے اتر کر تیز تیز قدم چلتی اندر بڑھ گئ وہ جو اس کو کچھ کہنا چاہ رہا تھا ہونٹ بھینچ کر گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گوارا لائونج میں بیٹھی ڈرامہ دیکھ رہی تھی اسے دیکھ کر فورا ویلکم کیا۔

    آننیانگ ۔۔ مگر اسکی شکل دیکھی تو ریموٹ پھینک کر بھاگ کر اسکے پاس آئی

    کیا ہوا تمہیں۔؟؟؟ 

    کچھ نہیں۔ اس نے مسکرا کر کہنا چاہا مگر ناکامی ہوئی جانے کہاں سے پھر ڈھیروں آنسو پھسل آئے۔ گوارا کے شانے سے سر ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ 

    ہوپ کچن میں کھڑی کافی بنا رہی تھی۔ چھوڑ چھاڑ کر انکے پاس چلی آئی۔ 

    آئو بیٹھو۔ بمشکل اسے سہارا دے کر گوارا نے صوفے پر بٹھایا۔ 

    کیا ہوا؟ 

    ہوپ بے نیازی ظاہر کرنے کے چکر میں نہایت سخت انداز میں پوچھ رہی تھی۔ گوارا نے ناپسندیدہ نگاہ ڈالی۔ 

    پانی لیکر آئو دیکھ نہیں رہیں ہلکان ہو رہی ہے رو رو کے۔ 

    اسکے ڈانٹ کے کہنے پر وہ سچ مچ رعب میں آگئ بھاگ کے میز سے اپنی بوتل سے پانی نکالنے لگی پھر خیال آیا تو وہیں چھوڑ کر فریج سے پانی کی بوتل نکال کر لائی۔

    اریزہ کو گلاس بھرکر تھمایا تو وہ ایک سانس میں پورا پی گئ۔ 

    کیا ہوا؟ پرس چھن گیا ؟ 

    کوئی لفنگا مل گیا ؟

     چھیڑا کسی نے؟

     ٹارگٹ پورا نہیں کیا آج کا؟ 

    گوارا کے ہر انداز پر اس نے بس نفی میں سر ہلایا

    پھر کیا ہوا ایکسیڈنٹ؟

    گوارا نے تشویش ذدہ سا ہو کر اسے ٹٹولا توبے ساختہ اسکی سسکی سی نکل گئ۔ 

    کیا ہوا۔ گوارا اسکا کوٹ اتروانے لگی۔ 

    اسکی گردن سے کندھے تک پوری جلد سرخ سی ہو رہی تھی ہلکے ہلکے آبلے بھی پڑ رہے تھے۔ 

    یہ کیا ہوا ہے؟ 

    اسکی چیخ سی نکل گئ تھی دیکھ کر۔ ہوپ گہری سانس لیکر پلٹ گئ  

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ کمرے میں بیڈ پر بیٹھی تھی کاٹن کی ڈھیلی ڈھالی سی شرٹ پہنے ہاتھ میں جوس کا ڈبہ تھا جس کے اسٹرا سے وہ چسکیاں لے رہی تھی۔ اور حیرت بھری نگاہوں سے ہوپ کو دیکھ رہی تھی جو تندہی سے اسکی گردن سے کندھے تک کسی دیسی چینی دوا کا لیپ کر رہی تھی۔ 

    گوارا اس سے کچھ فاصلے پر مختصر سی جگہ میں چکر پر چکر لگاتی دانت کچکچا رہی تھی۔ 

    اف خدایا تولیہ بن گئ ہے گردن تمہاری مجھ سے تو دیکھی بھی نہیں جا رہی ۔۔ یہ دوست ہے تمہاری؟ کٹنی ہے دشمن ہے۔ دشمن کو بھی جلانے سے پہلے بندہ دو بار تو سوچ لیتا ہے۔ ظالم بے رحم۔  

    چلو کل تم میرے ساتھ سنتھیا کو ایسا سبق سکھائوں گی کہ یاد رکھے گی۔ سمجھا کیا ہوا ہے اس نے خود کو؟ گرم کھولتا سوپ تم پر انڈیل دیا۔ پاگل ہوگئ ہے کیا ؟ 

    اسکے سر پر سوپ الٹ کر آتے ہیں۔۔ 

    بولتے بولتے قریب آکر پھراسکی گردن دیکھی اور  زور و شور سےتلملانے لگی 

     ۔ توبہ مجھ سے تو تمہارے زخم دیکھے بھی نہیں جا رہے۔ ہائش۔ 

    گوارا کا واقعی بس نہیں تھا کہ سنتھیا کا منہ نوچ آئے۔ 

    مجھے اس جلن سے ذیادہ تکلیف اسکے الزامات سے پہنچی ہے۔ اسکے لفظوں کا وار ذیادہ کاری تھا۔ 

    اریزہ کی بات پر گوارا نے آنکھیں پھاڑیں۔ 

    نا کرو بھیگئ تولیہ بن گئ ہے تمہاری جلد یہ بڑے آبلے ذرا آئینے میں دیکھو۔

    آئینہ دیکھنے کے قابل نہیں چھوڑا سنتھیا نے۔ 

    اریزہ اردو میں بولی تھئ۔ 

     ہوپ اطمینان سے دوا کا ڈھکن لگا  کر بولی

    شکر کرو کہ چہرہ بچ گیا ورنہ جلے کا داغ چہرے سے مشکل سے جاتا ہے۔ 

    بڑا تجربہ۔۔ 

    گوارا طنز سے کہتے کہتے رکی۔ ہوپ جھک کر دوا لگا رہی تھی سیدھی ہوئی تو ایکدم گوارا کے سامنے اسکا چہرہ تھا۔ چند لمحے وہ بس اسے دیکھتی رہ گئ۔ 

    پیچھے ہو۔ 

    اسکا ہٹنے کا ارادہ نہ دیکھ کر ہوپ نے چڑ کر کہا تو وہ چپ سی ایکدم سائیڈ پر ہوگئ ۔ ہوپ پیالہ اٹھا کر شائد کچن کی طرف گئ تھی۔ 

    ابھئ بھئ جلن ہو رہی ہے؟ 

    وہ احتیاط سے اسکے برابر بیٹھی۔ 

    ٹھنڈ پڑ گئ ہے۔ یہ جو بھی دوا تھی بہت اچھی تھی۔ ورنہ تو بہت جلن تھی۔ 

    اریزہ کو اسکی فکر پر پیار آگیا دوا اچھی تھی مگر اسکا یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ جلن بالکل نہیں ہو رہی تھی۔ 

    گوارا نے اسکو اپنے ساتھ لگا لیا۔ 

    تم اسکی باتوں پر دکھی مت ہو۔ اسکے کہنے سے کیا ہوتا۔۔ وہ جو چاہے سمجھے جو چاہے کہے۔ اس سے تمہاری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ 

    یہ اسکی پچھلی بات پر دی جانے والی ایک بے حد پر خلوص تسلی تھی۔ 

    ہم اسی لیئے ڈرتے ہیں نا کسی کی الزام تراشی پر کہ لوگ ہمیں غلط سمجھیں گے برا بھلا کہیں گے مگر یہاں کوئی تمہیں جج نہیں کرنے والا ۔ 

    یہ ہوپ تھی۔ ہاتھ دھو کے آئی گیلے ہاتھ جھٹکتی۔ ان دونوں کو ایس اجنبی انداز میں گھور کر اشارے سے ہی الگ ہونے کوکہا۔ دونوں الگ الگ کناروں پر ہو گئیں ۔ وہ ان دونوں کے بیچ سے ہو کر بیڈ پر دراز ہو گئ۔ 

    اریزہ اور سنتھیا نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اشارے سے پوچھنے کو کہا دونوں نے ہونٹ بھینچے پھر پلٹ کر ہوپ کے دائیں بائیں آ لیٹیں۔ 

    ہوپ یہ تمہارے دائیں گال سے گردن تک جو نشان ہے یہ برتھ مارک نہیں؟ 

    اریزہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا۔ 

    نہیں جلنے کا نشان ہے۔ میرے شوہر نے مجھ پر ابلے چاول پھینکے تھے پیچ سمیت۔ 

    ہوپ کو اندازہ تھا کہ دونوں کو شدید کھد بد ہوگئی ہوگی۔ یہ نشان اسکے گال کے بیچ میں نہیں تھا۔ مارنے والے نے چہرے کا نشانہ نہیں لیا تھا۔

    ویسے شوہر کہنا نہیں چاہیئے ۔ وہ صرف خریدار تھا۔ ایک لکھ پتی چینی جس نے شمالی کوریا کی لاچار عورت سے چند یو آن  کے عوض یوآنہ خریدی تھی۔

    اتنے عرصے میں پہلی بار یوآنہ ان پر کھلی تھی اور بس اتنا ہی ۔ اتنا بول کر اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ مطلب سونے دو مجھے تنگ مت کرنا مگر چند ہی لمحوں بعد کھولنی پڑی تھیں۔ اسکے دائیں کندھے پر اریزہ اور بائیں کندھے پر گوارا نے سر رکھ کر اسے سینڈوچ بنا ڈالا تھا ۔ وہ کسمسائی مگر انکی گرفت مضبوط تھی۔ اور یہ صرف چند لمحوں کا جذباتئ دبائو نہیں تھا وہ دونوں اس سے لپٹ کر ہی سوئی تھیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ بے خبر سو رہی تھی حسب عادت کمرہ لاک کیئے بنا۔ وہ چند لمحے اسے یونہی کھڑا دیکھتا رہا پھر اس پر کمبل درست کرتا کھڑکی بند کرکے باہر نکل آیا۔۔۔ 

    ایڈون۔۔ 

    اس نے آواز پر مڑ کر دیکھا تو عمارت کا منتظم کھڑا اسے بلا رہا تھا۔ رات کے بارہ بجے پہلے اس نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی ہی دیکھی تھی۔ 

    ادھر آئو مجھے ضروری بات کرنی ہے۔ 

    وہ اسے اپنے کیبن نما دفتر میں لیکر آیا تھا۔ وہ الجھن میں تھا ا س غیر معمولی رویئے کی وجہ کیا ہے۔ مگر اس نے مزید ایک لفظ کہے بنا ایک ویڈیو لیپ ٹاپ پر لگا کر دکھائی تھی۔ سیکیورٹی فولڈر میں شام کی ویڈیو۔ 

    اسکو ایڈمن نے پورا سی سی ٹی وی فوٹیج دکھایا تھا۔ 

    یہ لڑکی تمہارے ساتھ ہے ۔ ہم نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ شائد ہنگل نہیں جانتی ۔ یہ راہداری یہاں رہنے والے سب لوگوں کی مشترکہ راہداری ہے۔ یہاں ذیادہ تر ایکسچینج اسٹوڈنٹس اورمزدور طبقہ رہتا ہے جنکو اپنے سارے دن کی نہایت تھکا دینے والی مصروفیات کے بعد صرف آرام عزیز ہوتا ہے۔یوں شور ہنگامہ کرکے نا صرف ہمارے مہمانوں کے آرام میں خلل ڈالا گیا ہے بلکہ راہداری میں گندگی بھئ پھیلائی گئ ہے۔ ہم ایسا رویہ بالکل بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔ 

    نہایت کڑخت لہجے میں جس طرح وہ بولا تھا اس سے کسی قسم کی معافی ملنے جیسی اچھی امید رکھنا عبث تھا۔ 

    ایڈون نے گہری سانس لیکر سر جھکا لیا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسے صبح گوارا او رہوپ دونوں نے نہیں جگایا تھا ۔ ان دونوں کے چلے جانے کی اسے خبر بھی نہ ہو سکی تھی۔ آنکھ کھلی تو ڈھائئ بج رہے تھے۔ کسمسا کر آنکھیں کھولیں تو چند لمحے سوچنا پڑا کہ آنکھ کھلی کیوں؟ 

    مستقل تھرتھراہٹ پر۔ وہ ایکدم اٹھ بیٹھی اسکے ادھر ادھر کمبل اتار کر بیڈ پر ہاتھ مار کر ڈھونڈنے لگی تکیئے کے نیچے سے موبائل کی اسکریں جل بجھ کر رہی تھی۔ اس نے ہاتھ مار کر موبائل نکالا تو ہایون کالنگ لکھا آرہا تھا۔ 

    اوہ گاڈ۔ فون ہاتھ میں تھامے وہ سر پکڑے تھی۔ 

    کل پتہ لگا کہ اپنے دوست کے ہاں نوکری کر رہی ہوں اور آج فورا چھٹی کرلی ۔ کیا سوچتا ہوگا کہ پاکستانی واقعی نکمے 

    اس نے سر جھٹکا

    ہیلو۔ 

    اس نے  کال وصول کرکے موبائل کان سے لگایا

    سلام اریزہ  کیسی ہو ؟ ٹھیک ہو؟ فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں؟ 

    ہایون کے انداز سے پریشانی جھلک رہی تھی۔

    آئی ایم سوری وہ میری آنکھ نہیں کھل سکی۔ پکا میں نے آج چھٹی نہیں کرنی تھی جانے گوارا نے مجھے کیوں۔۔ 

    وہ وضاحت دینا چاہ رہی تھی ہایون نے بات کاٹ دی

    میں باہر کھڑا ہوں دروازہ کھولو۔

    اوہ۔ وہ فون رکھ کر فورا اٹھی کہ سامنے سنگھار میز کے آئینے پر نگاہ پڑی۔ ڈھیلی سی کاٹن  ٹی شرٹ اور پاجامہ میں ملبوس۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا پھر اپنا وولن اسکارف اٹھا کر گلے میں ڈالتی باہر آئی ہایون دو مرتبہ مزید اطلاعی گھنٹی بجا چکا تھا۔ 

    اس نے دروازہ کھولا تو وہ کھڑا گھور رہا تھا۔ 

    پندرہ منٹ ہو رہے ہیں مجھے یہاں کھڑے۔ 

    سوری۔ وہ کھسیائی۔ 

    ہایون سر جھٹکتا اندر چلا آیا۔ ہاتھ میں پکڑا بڑا سا شاپر صوفے پر رکھا

    یہ لو تمہارا کوٹ۔ دیکھ کر تسلی کرلو کوئی نشان وغیرہ تو نہیں رہ گیا۔ اور ایک بات بتائو۔ 

     ہایون ۔مڑ کر اسے پھر گھورنے لگا۔ 

    کل پوچھ پوچھ کے تھک گیا تم نے مجھے بتا کر نہیں دیا کہ جلی ہو۔۔۔

    اتنی ذیادہ نہیں جلی۔۔ وہ کہنا چاہ رہی تھی 

    اور یہ کیا کیا ہے؟ 

    اس نے آگے بڑھ کر اسکی گردن سے اسکارف احتیاط سے اتار دیا

    اسکے لیئے اتنا غیر متوقع تھا کہ وہ ششدر سی رہ گئ۔ 

    اسکے برعکس وہ نارمل سے انداز میں اسے ٹوک رہا تھا

    وولن اسکارف جلی ہوئی جلد پر نہیں رکھتے کسی نے اتنا نہیں بتایا کبھی تمہیں۔ سردی لگ رہی ہے تو بوائلر کا ٹمپریچر بڑھا لو۔ 

    اس نے اسکارف صوفے پر اچھال دیا تھا۔ 

    اور یہ کیا لگا رکھا ہے اس پر؟ 

    وہ اب اسکی گردن غور سے دیکھ رہا تھا۔ دوا نے جلد پر گہرا سیاہ رنگ چھوڑا تھا ۔

    میں جلن کیلیے کریم لایا ہوں اسکو صاف کرو اور کریم لگائو ۔۔ پھابو( احمق) نشان رہ جائے گا ان دیسی ٹوٹکوں سے۔ 

    اس نے بڑے سے شاپر میں سے ایک چھوٹا شاپر نکال کر اسے تھمایا۔وہ شش و پنج میں کھڑی شاپر تھام گئ۔  

    میں لگا دوں؟ 

    اس نے اسکی آنکھوں میں جھانکا تو وہ سٹپٹا کر بولی

    آنی۔ میں لگا لوں گی خود ہی دوا۔ 

    جائو شاور لیکر آئو میں انتظار کر رہا ہوں۔ بہتر ہے کسی ڈاکٹر کو دکھا لیا جائے پہلے ۔ 

    اسکی ضرورت نہیں ہے۔ میں ٹھیک ہوں۔

    اریزہ نے کہنا چاہا  

    اب مجھے تمہاری کسی بات کا یقین نہیں جائو میں انتظار کر رہا ہوں۔ ایک گھنٹے بعد کا اپائنٹمنٹ لیا ہے جائو جلدی کرو۔ 

    وہ اطمینان سے گھوم کر صوفے پر آبیٹھا سامنے میز سے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی بھی آن کرلیا۔

    وہ جز بز سی ہوئئ مگر نہانے چلی گئ۔ نہا کردوبارہ کاٹن کی ہی شرٹ نکال کر پہنی۔ ساتھ جینز چڑھائی۔ ہلکی ہلکی سردی محسوس ہو رہی تھی مگر برداشت کی جا سکتی تھی۔ اس نے اپر پہنا اور باہر نکل آئی۔ ہایون اسکا انتظار کرتا اونگھ گیا تھا۔ 

    اس نے ٹی وی کی آواز آہستہ کی اور کچن میں آکر کھانا بنانے لگی۔ گوبھئ پکاکر روٹی ڈال رہی تھی جب شائد اسکی تھپ تھپ سے یا یونہی کافی دیر سونے کے بعد خود ہی ہایون کی آنکھ کھل گئ۔ 

    تم نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں۔ وہ سر کھجاتا خفا ہوتا ہوا اسکے پاس آیا۔ 

    تم اتنی گہری نیند سو رہے تھے اسلیئے۔ 

    وہ روٹی اتار کر رومال میں لپیٹتئ آرام سے بولی۔ 

    اتنی مشکل سے اپائنٹمنٹ لیا تھا پاپا کا ریفرینس استعمال کرکے۔ 

    وہ خفا ہو رہا تھا۔ 

    میں ٹھیک ہوں خوامخواہ پریشان ہو رہے ہو۔ چلو کھانا کھالو صبح کا ناشتہ کیاہوگا۔

    اریزہ کے کہنے پر اسے بھوک کا احساس ہوا تھا۔ گوبھی خالص پاکستانی انداز میں بنی تھئ۔ اسے کوریا میں مصالحے تو نہیں مل سکے تھے من پسند البتہ چکن تکہ مصالحہ مل گیا تھا مشہور پاکستانی برانڈ کا اسی کے ڈبوں کا اسٹاک کر لیا تھا۔ ہر چیز میں یہی مصالحہ حسب ضرورت ڈال دیتی تھی ابھی بھی تکہ مصالحے میں بنی گوبھی ۔پھیکی بنی تھئ۔ 

    ہایون کو منفرد ذائقہ خاصا پسند آیا تھا۔ جبکہ وہ مارے باندھے کھا رہی تھی۔ 

    کافی مزے کی ہے یہ۔ 

    ہایون کے کہنے پر اس نے محض مسکرانے پر اکتفا کیا۔۔ 

    تمہیں کورین کھانے بالکل اچھے نہیں لگتے؟ 

    ہایون کو جانے کیا خیال آیا تھا۔ 

    نہیں۔ وہ بے ساختہ نہیں کہہ گئ پھر خیال آیا تو وضاحت دینے والے انداز میں بولی۔ 

    میں گوشت خور ہوں مجھے سبزیاں ذیادہ پسند ہی نہیں ہیں کم مصالحوں میں پکی تو بالکل پسند نہیں آتیں۔ شائد یہاں جتنی سبزی کھائئ پسند نہیں آئی۔ 

    ہایون نے سر ہلا دیا۔ دونوں نے خاموشی سے کھانا ختم کیا۔ وہ برتن سمیٹنے لگی تو ہایون کافئ بنانے کھڑا ہو گیا۔ 

    وہ سب برتن دھو کر جب تک فارغ ہوئی ہایون اسکے مڑنے پر اسکا کپ اسے تھمانے لگا۔ 

    بن گئ۔ وہ حیران ہوئی۔ 

    کل تیار رہنا میں ری شیڈول کروائوں گا اپائنٹمنٹ۔ 

    ہایون سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔اسے اسکا پھر احسان لینا اچھا نہیں لگا۔ 

    ہایونا بالکل ضرورت نہیں ہے۔ میں ایکدم ٹھیک ہوں واقعی۔ 

    اس نے تو سادہ سے انداز میں کہا تھا مگر ہایون کے چہرے پر یکدم جو مسکراہٹ در آئی اور آنکھوں میں سو واٹ کے بلب روشن ہوئے اس پر وہ حیران سی اسکی شکل دیکھنے لگی۔

    ہایونا۔ اس نے زیر لب دہرایا۔ جیسے محظوظ سا ہوا ہو اپنے کافی کے کپ سے چسکی لیتے اسے لگا اس نے اپنی گہری ہوتی مسکراہٹ کپ کے پیچھے چھپائی ہے۔ 

    سب تم سے مخاطب ہوتے وقت ہایونا ہی کہتے ہیں نا۔تمہارا نام ہایونا ہے نا۔ 

    اس نے تائید چاہی تو وہ ہنس پڑا 

    ہایون لی ہایون نام ہے میرا۔ ن پر ختم ہونے والے ناموں کے ساتھ بے تکلفی سے پکارتے وقت ہم لوگ نا ساتھ لگا دیتے ہیں جیسے سیہونا یوآنا سوہیونا وغیرہ۔ یہ قریبی لوگوں سے قربت جتانے کا ایک انداز ہے  

    معزرت۔ اس نے فورا بیانئے کہا۔ 

    مجھے نہیں پتہ تھا۔ میں نے تو جیسے سب کہتے ویسے ہی نقل کی۔ سوری اگر برا لگا۔ 

     برا کیوں لگے گا مجھے۔ اس نے مان سے ٹوکا۔ 

    سب دوست ایک دوسرے سے بے تکلفانہ انداز میں ہی مخاطب ہوتے ہیں۔ بلکہ مجھے تو اچھا لگا۔ اب ہم پکے دوست بن گئے ہیں۔ ویسے پاکستان میں دوست کیسے پکارتے ہیں ایک دوسرے کو۔۔ 

    وہ آرام سے کچن کارنر میز کی کرسی سنبھالتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔ 

    ہم۔وہ سوچ میں پڑی۔ 

    ( صبح صبح یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہوتے ہی اس نے سنتھیا سے ہاتھ ملاتے ہوئےکہا۔ 

    کیسی ہو کتی؟ 

    اگلی دفعہ وہی منظر اس بار اسے غصہ آیا ہوا تھا۔ 

    سنتھو کی بچی 

    اس سے اگلی دفعہ

    کمینئ سنتھو۔ 

    اس سے اگلی بار سنتھیا نے اسے پکارا تھا۔ وہ کلاس کی طرف جا رہی تھی کسی نے آواز دی۔ 

    اریزووو۔ 

    اس نے سر جھٹکا۔ جانے کون ہے اریزو جس بہری کو بلایا جا رہا ہے۔

    ارییییز ۔۔۔۔۔

    اف بد تمیز لوگ یونیورسٹی میں جاہلوں کی طرح پکارتے۔  

    اس بار دوسری طرف سر جھٹکا گیا۔ 

    آری ۔۔۔۔ 

    اس بار آواز قریب سے آئی تھی۔۔ وہ مگن چلے گئ جب سنتھیا نے جھلا کر کندھے پر مارا 

    ڈوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    ڈوری؟ وہ کندھا سہلاتی مڑی بھاگ کر آنے سے اسکی سانس پھول چکی تھی اور خفگئ سے گھور رہی تھی۔ 

    بہری۔ ڈوری کب سے پکار رہی ہوں تمہیں۔ 

    تم نے کب پکارا؟ ۔ وہ الٹا حیران ہوئی۔ 

    ابھی ۔۔ اف حلق خشک ہو گیا پکار پکار کے۔ 

    سنتھیا سانسیں بحال کرنے میں لگی تھی۔ بمشکل بتایا

    مجھے ایک بار بھی آواز نہیں آئی کسی نے اریزہ کہا ہو۔ 

    وہ حیران تھی۔ 

    پیار سے پکار رہی تھی چار نک نیم دے دیئے تمہیں ۔۔ 

    سنتھیا کے کہنے پر وہ پھیکی سی مسکراہٹ سے بولی

    مجھے تو کوئی نک نئم سے نہیں پکارتا۔ 

    پھر خیال آیا تو مسکراہٹ سمٹ سی گئ۔ 

    ہاں میرے بھائئ اکثر مجھے پیار سے آروووو کہہ دیتے تھے۔۔ )

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آروووو۔ ہوں اچھا نام ہے یہ بھی۔ 

    ہایون نے سر ہلایا۔ 

    ویسے پاکستان میں بھئ لاڈ سے نام کے آخر میں الف یا چھوٹی ی لگا دیتے جیسے کمال سے کمالا رشید سے شیدا  بلال سے بالا یا 

    بلو۔ وائو بھئ لگا دیتے۔

    اسے ادراک ہوا۔

    اور کبھی نام کو بیچ سے آدھا کر دیتے۔ جیسے نعمان سے نومی وقار سے وکی وغیرہ۔ لڑکیوں کے بھی نام بدل دیتے جیسے میری ایک کزن کا نام مہرالنساء ہے اسے ہم مہرو کہتے ہیں ۔۔ایک دفعہ کیا ہوا اسکی ٹیچر نے مجھے بلاکر اسکی شکایت لگائئ آپ مہرالنساء کی کزن ہیں آپکو پتہ ہے اس نے اپنا میتھ ٹیسٹ اپنے والدین کو دکھایا ہی نہیں ۔ 

    میں نے کہا کون مہرالنساء میں کسی مہرالنساء کو نہیں جانتی

    انکو اتنا غصہ آیا اسی وقت مہرو کو بلاکر ڈانٹا کہ تم نے جھوٹ بولا کہ یہ تمہاری کزن ہے اور وہ بے چاری رو پڑی  کہہ رہی کہ تم نے کیسے کہہ دیا کہ میں تمہاری کزن نہیں ۔۔ 

    وہ اپنی دھن میں یادداشت کھنگال رہی تھی کہ خیال آیا تو شرمندہ ہوگئ۔

     ہایون چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ خاموشی سے سن رہا تھا اسے۔ 

    میں بھی کیا کہانیاں سنانے بیٹھ گئ۔ اسے سچ مچ خفت سی ہوئی 

    نہیں مجھے سننے میں مزا آرہا تھا ۔ 

    ہایون نے یقینا اسکا دل رکھا تھا وہ اتنا ہی مہزب تھا۔ یہ خیال قوی تھا اریزہ کیلئے۔ وہ زبان دانتوں تلے دباتی کافی ختم کرنے لگی۔ 

    اچھا سنو کل بھی جاب پر نہیں جانا سمجھیں ۔ اور تیاررہنا۔ ڈاکٹر۔  

    وہ کپ رکھتا جانے کے ارادے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ 

    ہایون مجھے ضرورت ہوگئ تو میں خود چلی جائوں گی ڈاکٹر کے پاس یا گوارا کے ساتھ تمہیں زحمت کرنے کی ضرورت نہیں۔

    اس نے سادہ سے انداز میں ہی کہا تھا مگر ہایون برا مان گیا۔ 

    میں لے جائوں گا تو کیا برا ہوجائے گا؟ 

    اچھا نہیں لگتا مجھے اتنا تم پر انحصار کرنا۔

    اس نے صاف کہہ دیا۔

    پہلے ہی تم میری وجہ سے کافی تکلیف اٹھا چکے ہو۔ میں اور تمہارے اوپر انحصار نہیں کرنا چاہتی۔ خاص کر کل کے بعد۔ کل تم مجھے چھوڑنے گئے تھے اور کین کھا آئے ۔۔۔ 

    کل کیلئے تو میں بہت ذیادہ شرمندہ ہوں۔ بلکہ تم بتائو تم نے ڈاکٹر کو دکھایا تمہارے چہرے پر کہیں نشان نہ رہ جائے۔ 

    اسے جیسے فکر بھی ہو رہی تھی۔ ہایون بنا ایک لفظ کہے اسے دیکھتا رہا۔ پھر گہری سانس لیکر بولا۔ 

    میں دوست نہیں ہوں؟ 

    ہو ۔۔ آف کورس اچھے دوست ہو۔ اسی لیئے میں نہیں چاہتی مزید تمہیں زحمت دینا۔ سو پلیز ذیادہ اصرار نہ کرو۔ 

    اس نے اپنی طرف سے بات ختم کردی تھی۔ مگر ہایون چپ کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ اسے الجھن سی ہوئی۔ 

    کیا ہوا۔  

    وہ چپ ہی رہا۔ اسے لگا اسے مزید وضاحت دینی چاہیئے۔ 

    دیکھو۔ مانا سیول میرے لیئے اجنبی شہر ہے مگر میں یہاں رہ رہی ہوں تو اب اپنا ہر کام مجھے خود ہی کرنا چاہیئے نا ہر وقت میں تم پر اور گوارا پر انحصار کرکے تو نہیں رہ سکتی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ معمولی سی چوٹ ہے۔مجھے نہیں لگتا مجھے ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ میں تو اس سے بڑی چوٹیں سہہ چکی ہوں۔ 

    اس کا مخصوص بلا تکان بولنے والا موڈ پہلی دفعہ سنتھیا اور ایڈون کے سوا کسی کے سامنے آن ہوا تھا۔ وہ انگریزی میں رواں نہیں تھی سو یہاں آکر لمبے جملے بولنا باتیں کرنا اس کیلئے مشکل ہوتا تھا مگر اس وقت تو وہ زبان کا فرق بھلا بیٹھی تھئ۔ 

    میرے تو ایک بار گرم چاولوں کی پیچ پائوں پر گر گئ تھئ۔ 

    اس نے آنکھیں خوب کھول کر واقعے کی سنگینی کا احساس دلانا چاہا تھا 

    ایک میرے ساتھ ذرا سا ڈاکٹر کے پاس جانے سے بچنے کیلئے اتنی لمبی توجیحات۔ تم مجھے دوست سمجھتی ہی نہیں ہو۔ 

    وہ خفا ہو چلا تھا شائد۔ 

    دوست سمجھتی ہوں اسی لیئے زحمت  دینا نہیں چاہتی۔ 

    وہ کہہ کر مسکرا دی تھی۔وہ یونہی اسے دیکھتا رہا۔ 

    اسکی نگاہوں میں خفگی تھی۔ اریزہ جز بز سی ہوئی۔ اب یہ بھی کوئی ناراض ہونے والی بات ہے۔ 

    اوہ وائو۔ کیا منظر ہے۔اریزہ اور ہایون ۔ واہ رومینٹک ڈیٹ چالو ہے بھئ۔ 

    گوارا لاک کھول کر اندر داخل ہوئی تھئ۔ انکو دیکھ کر لمحہ بھر کا بھی وقفہ کیئےبنا جملہ چست کردیا۔ 

    شٹ اپ۔ 

    اریزہ نے اسکی بے وقت کی راگنی پر گھورا 

    جوتے ریک میں اتار کر وہ چپلیں بدلتی کھلکھلاتی ان کے پاس چلی آئی۔ 

    مزاق کر رہی ہوں۔کیسے ہو ہایونا۔ ؟ آج یونی نہیں آئے۔ ؟ 

    وہ ہایون سے مصافحہ کرر ہی تھی۔ 

    ہاں اج چھٹئ کئ تھوڑا کام تھا۔ 

    ہایون نےہنکارا بھرا تو وہ قصدا اسکو کندھا مار کر ہنگل میں بولی

    ہاں دیکھ رہی ہوں کافی اہم کام تھاتمہیں۔ہوا کہ نہیں؟

    گوارا کی شرارتئ نگاہیں اسے کھوج رہی تھیں۔ 

    آنی۔ میں بس جا رہا تھا۔ کرم۔ 

    وہ مزید اسے چھیڑنے کا موقع دیئے بنا جان چھڑا کر باہر نکل گیا۔ گوارا کچن میں دیگچیوں میں جھانک رہی تھی۔ 

    گوبھئ اٹھا کر پوچھنےلگی۔ 

    اریزہ یہ کھالوں ؟ 

    ہاں۔ یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ 

    اریزہ کے کہنے پر وہ چاول نکال کر رائس ککرمیں لگانے لگی۔ اب چاول پکنے تک اس نے  کچھ اسنیکس اڑانے تھے۔ کیبنٹ کھول کر کریکر نکالتی اسکے پاس آن بیٹھی۔ 

    کافی پیوگی بنائوں؟ 

    اریزہ نے پوچھا تو نفی میں سر ہلانےلگی

    ہرگز نہیں۔ بھوک مر جائے گی کھانا کھائوں گی پہلے۔ آج ہوپ نے چاول نہیں بنائے؟ 

    وہ اریزہ سے پوچھ رہی تھی۔ 

    آنی( نہیں )کہاں آئی  ہے وہ ابھی۔ آکرتو سب سے پہلے چاول ہی چڑھاتئ ہے۔ 

    اس نے لاپروائی سے کہہ کر کپ خالی کرنے کی نیت سے بڑا سا گھونٹ بھرا۔ 

    ہیں ؟ وہ نہیں ہے گھر میں یعنی ۔ تم دونوں اکیلے  فلیٹ میں ڈیٹ ہی مار رہے تھے۔ 

    گوارا نے چھیڑنے والے انداز میں ہی کہا تھا۔ اسکا آخری گھونٹ حلق میں اٹک سا گیا۔ بمشکل نگل کر کپ رکھا ۔ اسے اچھو ہوتے ہوتے بچا تھا۔ذرا سا کھانس کر فورا بولی

    ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ وہ آیا تھا کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جائے۔ مگر میں نے منع کردیا ۔ اچھا نہیں لگتا اسکا احسان لینا۔ 

    اسے لیکن اچھا لگا ہوگا تمہارا خیال کرنا جبھئ تو  آج اسائنمنٹ جمع کروانے یونی جانے کی بجائے تمہیں دیکھنے یہاں چلا آیا۔ 

    گوارا اسے کریدنا چاہ رہی تھی۔ اسکی گہری نگاہوں سے وہ تنگ سی ہوئی

    ہی از جسٹ فرینڈ۔ جیسے کل تم فکر مند ہوئیں ویسے ہی وہ بھی ہوا جبھی خیریت پوچھنے چلا آیا ۔تم نےاسکو ڈیٹ بنا دیا۔ 

    اس کو تھوڑا غصہ آرہا تھا۔ گوارا نے گہری سانس لی۔

    تو تمہاری جانب سے ایسی کوئی بات نہیں ہایون صرف دوست ہے۔ اور اگر ہایون تمہیں دوست سے ذیادہ سمجھنے لگے تو ؟

    کیا ہوگیا ہے گوارا۔ وہ جھلا اٹھئ۔ 

    وہ تمہارا بھئ دوست ہے تم سے ملنے نہیں آتا کیا؟ مجھ سے ملنے آگیا تو اسے ڈیٹ بنا دیا تم نے۔ یہ تو منافقت ہوئی

    ریلیکس۔ ایسے ہی کہہ دیا اتنا غصہ آنے کی کیا بات ہے۔ 

    گوارا فورا سیز فائر کرنے لگی۔ 

    ہایون اچھا لڑکا ہے۔ہائی اسکول سے جانتی ہوں اتنا مہذب اور دھیمے مزاج کا وجیہہ لڑکا ہے۔  اگر وہ تم میں دلچسپی لینے لگے تو یہ کوئی بری بات تھوڑی ہے۔ بلکہ اگر وہ تمہیں پرپوز کرے تو سب سے ذیادہ خوشی مجھے ہوگی تم دونوں مجھے دل سے عزیز ہو۔

    گوارا کا انداز اتنا پرخلوص تھا کہ وہ مزید غصہ نہ کر سکی۔ 

    مگر ایسا ہو نہیں سکتا۔

    اسکا انداز قطعی تھا گوارا بے ساختہ چونک کے پوچھنے لگی

    کیوں؟ تم کسی اور سے کمیٹڈ ہو ؟ آئی مین پاکستان میں۔ 

    تم نے تو کہا تھا ڈیورسڈ ہو؟ 

    اف گوارا۔۔ 

    اسے اسکی بے چینی پر ہنسی ہی آگئ۔ کپ اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

    پکی اس وقت تم پاکستانی آنٹی لگی ہو۔اتنی متجسس وہی رہتی ہیں پاکستانی لڑکیوں کی زندگی کے بارے میں۔ شادی ہوئی؟ منگنئ ہوئی کب کرنے کا ارادہ ہے جیسے سوال تو وہ لڑکی کے سلام کے جواب میں پوچھ لیتی ہیں ۔۔ اور المیہ یہ ہے کہ عموما ہمیں جواب دینے بھی پڑتے ہیں۔

    اسکے اتنئ باتیں سنانے پر گوارا بدمزہ نہ ہوئی بلکہ کریکر میں رکھ کر اطمینان سے بولی  

    ایشائی آہجومہ سب ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔ تمہیں کبھی اپنی اماں کی دوستوں سے ملوائوں تو تمہارے ننھیال ددھیال کی بھی سب معلومات اکٹھی کرلیں گی تم سے پہلی ملاقات میں ہی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صبح8 بجے تیار رہنا۔ میں نے کل چھٹی کی بات کر لی ہے۔ رات کو جلدی سو جانا ۔ میں بھئ آکر سو جائوں گا۔ کل کا دن کافی ہیکٹک ہوگا ہمارے لیئے۔ 

    طویل پیغام۔ 

    وہ کنوینئیس اسٹور میں بیٹھئ بیزاری سے اوپر نیچے کرتے جانے کتنی دفعہ اس پیغام کو پڑھ چکی تھی۔ 

    چکن نوڈلز سامنے پڑے ٹھنڈے ہو رہے تھے۔ 

    اسکی پیشانی پر پسینہ آرہا تھا۔ 

    اس نے یو ٹیوب کھولا۔ 

    abortion process

    اس نے کتنی ہی دیر ہوگئ مختلف ویڈیوز دیکھنے میں جانے کتنا وقت بتایا ۔۔ تبھئ اسکے سامنے وہ ویڈیو آئی۔ بنا کسی مکالمے کے صرف ہلکی سی موسیقی کے ساتھ وہ چھوٹی سی ویڈیو تھی 

    اسکی آنکھوں سے کئ آنسو ٹپکے تھے۔ اسکا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔۔ ویڈیو بند ہوگئ تھی اگلی ویڈیو چالو ہو چکی تھی مگر وہ بالکل بے دھیان تھئ  ۔ تبھئ کسی نے میز پر ہلکے سے دستک دی ۔ 

    وہ ایکدم چونک کے سیدھی ہوئی۔ موبائل اسکئ ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا۔ 

    یہ ریمن کی توہین ہے کہ اسکو سامنے رکھ کر کھانا بھول جایا جائے۔ 

    کم سن مسکرا کر کہتے اسکو سوپ نوڈلز کی جانب متوجہ کرنا چاہ رہا تھا مگر اب اسکی شکل دیکھ کر سنجیدہ سا ہو گیا۔ 

    آئیم سوری ۔ وہ بس نوڈلز ۔۔ کرم  

    وہ سٹپٹا سا گیا تھا۔ 

    یہ آپ لینا چاہیں تو لیں لیں میں نے اسکو کھایا نہیں ہے۔ 

    سوپ نوڈلز میں گرم پانی ڈال کر اسکا ڈھکن اس نے بند کر رکھا تھا تاکہ نوڈلز گل جائیں۔ 

    مگر اس وقت وہ کچھ کھانے کے موڈ میں نہیں تھی۔ سو اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

    آنی۔ کم سن نے انکار کرنا چاہاپھر ہنس کر بولا

    انکو اتنی دیر ڈھک کر نہیں رکھا جاتا ہے یہ لجلجے ہو چکے ہوں گے اب کھانے کے قابل نہیں رہے ہوں گے۔ 

    کم سن کے کہنے پر وہ کندھے اچکاکر موبائل اٹھاتئ اسکے برابر سے ہو کر جانے لگی

    دو قدم چلی ہوگی کہ اتنی زور کا چکر آیا کہ فورا سہارے کیلیے اسی میز کو تھامنا پڑگیا۔ 

    کم سن نے فورا کرسی کھینچ کر اسکے آگے کی۔ وہ فورا بیٹھ گئ۔ 

    کھانے سے منہ نہیں موڑنا چاہییے۔ 

    اس نے اسکا نوڈلز کا پیالہ اسکی جانب بڑھا دیا۔ اس نے سر جھکا لیا۔ ڈھکن ہٹا کر ایک دو نوالے لے ہی لیئے۔اسکا بی پی لو ہو رہا تھا۔ پھر بھئ نوڈلز کا ذائقہ اتنا ناگوار لگ رہا تھا کہ اس سے مزید کھایا نہ جا سکا۔ 

    کچھ اور کھائوگی؟ 

    کم سن بھانپ کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اس کنوئینس اسٹور میں ہر طرح کا پراسسڈ کھانا موجود تھا۔ وہ بھاگ کر بن لے آیا جس میں اندر چاکلیٹ بھری ہوئی تھی۔ 

    سنتھیا نے ایک نظر اسکے چہرے پر ڈالی پھر ہونٹ کاٹنے لگی 

    شکریہ۔ اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

    میں آپکو گھر تک چھوڑنے آئوں؟ 

    کم سن اس سے پوچھ رہا تھا۔اس نے ہونٹ بھینچ لیئے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سیول میں رات گہری ہورہی تھی  فضا میں محسوس کی جانے والی خنکی تھی۔۔ لمبا کوٹ تو وہ پہنے ہی تھئ کم سن کا  مفلر لپیٹ کر کم سن کے پیچھے چلتی وہ اسکو بس ایک  موٹا سا ہڈ والے اپر میں ملبوس دیکھ کر رشک بھی کر رہی تھئ تو جھر جھری بھی لے رہی تھی 5 ڈگری میں اسکی جوانی کا عالم یہ تھا کہ بس ایک اپر۔۔ 

    گینڈے کی کھال ہے کیا اسکی ۔ ایک سویٹر میں مزے سے گھوم رہا ادھر میری اس کوٹ میں بھی گگھی بندھ رہی ہے۔ 

    اسکے پیچھے چلتے وہ بڑ بڑا رہی تھی۔

    کھاتے بھی تو کیا کیا عجیب گرم چیزیں ہیں اندر سےگرم رہتے ہیں اوپر سے وہ بدمزہ جنسنگ کا قہوہ۔۔ 

    اسے ایڈون کے ساتھ پیا گیا قہوہ یاد آیا جسے پی کر اسے لگا تھا جو اندر ہے بھی وہ بھی باہر آجائے گا۔۔آنتوں سمیت۔۔ 

    جبھی اتنا سکون سے۔۔ 

    اسکی مستقل بڑ بڑ پر کم سن نے مڑ کر اسے دیکھا تو وہ گڑبڑا کر سر جھکا گئ۔

     وہ اسے ایک درمیانے درجے کے مکان میں لیکر آیا تھا۔ تنگ سی گلی جس کی کم ازکم پندرہ سیڑھیاں چڑھ کر ذیلی گلی میں داخل ہوئے دونوں اطراف پختہ مگر پرانےمکانات تھے۔ اس مکان کا باہر بس داخلی دروازہ تھاجس کو دیکھ کر لگتا تھا بس مرلہ ڈیڑھ کا گھر ہوگا۔۔ کم سن دستک دینے کی بجائے سیدھا دروازہ کھول کر اندر گھس گیا تھا۔ وہ چند لمحے جھجک کر باہر ہی کھڑی رہ گئ۔ اپنے پیچھے اسکی غیر موجودگئ کا احساس ہوتے ہی کم سن پلٹ کر واپس بھی  آیا۔۔

    کم ان۔۔ اس نے کہا تو وہ متزبزب سی اسے دیکھے گئ۔۔ 

    کیا بتائوں اسے اتنا چھوٹا مکان دیکھ کر ہی گھبراہٹ ہو رہی ہے مجھےتو گوشی وون سے جھر جھری آرہی تھی یہ بھئ اتنا ہی بڑا ہوگا ۔۔ وہ سوچ کے رہ گئ 

    ۔۔ کم سن منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا تو اسے قدم بڑھانا پڑا۔

    اسکی توقع کے برعکس دروازے کے اندر داخل ہوتے ہی اچھا خاصا صحن تھا جس کے بیچوں بیچ کوریائی طرز کا تخت رکھا تھا جس پر ڈھیر ساری بند گوبھی پر مصالحہ لگا کر بڑی بڑئ طشتریوں میں پھیلا کر رکھاتھا فضا میں تیز مصالحوں کی مہک رچی تھی۔ ایک جانب باورچی خانہ تھا سامنے برآمدہ سا تھا اور دو کمروں کے بند دروازے نظر آرہے تھے۔ باورچی خانے کی چمنی سے دھواں اٹھ رہا تھا۔  کم سن بے تکلفی سے باورچی خانے میں گھس گیا۔۔ وہ بھی اسکے پیچھے چلی آئی۔۔

    ایک پختہ عمر کی مضبوط جسامت کی خاتون جن کے سر کے سب بال براق سفید تھے زمین پر پٹرے پر بیٹھئ جھک کر اسٹو پر سوپ بنا رہی تھیں۔ کم سن نے اکڑوں بیٹھ کر انکو بانہوں میں لے لیا تو وہ بری طرح چونک کر مڑیں پھر جیسے کم سن کو دیکھ کر نہال ہوگئیں خوشی کا بے ساختہ اظہارکرتے انہوں نے کم کو بھینچ لیا تھا۔۔ 

    اتنے دنوں بعد آئے تم۔۔ انکی پلکیں بھیگ چلی تھیں۔ 

    مصروف تھا مگر بھولا نہیں تھا آپکو۔۔ کم سن کا انداز بھی اسکے معمول کے لیئے دیئے رہنے والے انداز سے یکسر مختلف تھا۔۔ بے حد پیار سے وہ مخاطب تھا۔۔ 

    وہ بوڑھئ خاتون نہال سی اٹھیں 

    چلو اندر چلو میں سوپ لیکر آتی ہوں۔ کم سن کو ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے انکی نگاہ دروازے پر ایستادہ سنتھیا پر پڑی تو حیران سی نظروں سے دیکھنے لگیں۔۔

    اسلام و علیکم۔۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا سر جھکا کر سلام کرتی سنتھیا آہجومہ کو مزید متحیر کر گئ

    اب انکا سلام تو مجھے سیکھ چکے ہونا چاہیئے تھا کچھ ذیادہ ہی احمق ہوں میں۔ 

    اسے انکی حیرانی شرمندہ کر گئ  

    دے۔۔ انکو جواب سمجھ نہ آیا کہ کیا دیں تو بس اسی کی طرح سر جھکا کر دے بول دیا۔۔ 

    کم سن محظوظ انداز میں مسکرادیا تھا۔۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لکڑی کے فرش پر لکڑی کی چھوٹی سی تپائی رکھ کر انہوں نے کھانا پیش کیا تھا۔وہ اور کم سن آمنے سامنے زمین پر آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے اس نے کھانے کا جائزہ لیا۔ سادے ابلے چاول چکن سوپ ساتھ کمچی اور انڈے کے رول۔۔۔ان دونوں کے سامنے کھانا رکھ کر وہ گھٹنوں کے بل شرمندہ شرمندہ سی بیٹھ گئیں۔۔ 

    بیانئیے۔۔( معزرت) کھانے کا وقت تھا اور مجھے خبر نہ تھی تم مہمان کو لے کر آئوگے ورنہ کم از کم گوشت ہی بنا لیتی۔۔ پورک پڑاہوا تو تھا گھر میں۔۔ 

    انکو معزرت خواہانہ انداز میں خود سے مخاطب دیکھ کر سنتھیا نے سوالیہ نگاہوں سے کم سن کو دیکھا۔۔۔ 

    کوئی بات نہیں آہمونی۔ میں ٹھیک ٹھاک کھانا کھائوں گا۔ 

    چھائے موکے سبندا  

    کم۔سن نے سنتھیا کو ترجمہ کرکے بتانے کی بجائے سیدھا آہجومہ کو جواب دیا تھا۔۔اس نے بنا تکلف اپنے پیالے میں سوپ نکالا اور چاول ان میں ڈال کر کھانے لگا۔ 

    آہجومہ اور کم سن خوب آرام سے کھا رہے تھے۔ 

    اتنے دنوں میں اسے یہ تو اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ لوگ سوپ سادے چاولوں کے ساتھ کھا لیتے ہیں مگر سفید سا یہ سوپ دیکھنے میں بالکل بھی خوش رنگ نہیں تھا۔ اسے کہیں کھا کے الٹی نہ آجائے۔ وہ شش و پنج میں تھی۔ 

    اگر الٹی آجائے تو بھاگ کے دروازے تک جانے میں کتنا وقت لگ جائے گا۔ وہ اندازہ لگا رہی تھی۔ 

    کم سن نے اسکا چاولوں کا پیالہ اپنی جانب کھینچا اپنے چمچ سے چاول بھرے سوپ میں ڈبو کر کھا لیا۔ اسکی اس حرکت پر وہ حیران سی اسے دیکھے گئ

    کچھ الگ نہیں ان میں سادہ کھانا ہے اطمینان سے کھا سکتی ہو اب۔ 

    اسکا انداز طنزیہ نہیں تھا۔ سادہ سے انداز میں اسے جو مناسب لگا اس طریقے سے اسکی تسلی کروائی تھی۔ 

    وہ حد درجہ شرمندہ ہوئی۔ ۔

    وہ میں۔ 

    وہ بے خیالی میں اردو میں ہی وضاحت کرنے لگی تھی کہ خیال آیا انگریزی میں کہے۔ یا ۔۔۔ یا پھر جانے دے۔ 

    کورینز جھوٹے ووٹے کا خیال نہیں کرتے آرام سے ایک دوسرے کو انسان سمجھتے انکے کھانے میں حصہ بٹا لیتے بنا گھن کھائے اسکے ساتھ کوئی خاص سلوک نہیں ہوا تھا۔ پھر بھی جھوٹا۔۔ اس نے جھجکتے ہوئے اپنا چمچ اٹھایا۔ کم سن اس پر سے دھیان ہٹائے کھانا کھانے میں مگن تھا۔

    آگاشی۔ کھانا شروع کرو۔ کیا ہوا پسند نہیں آیا کچھ اور بنا لائوں؟ 

    آہجومہ فکرمند ہو رہی تھیں۔ 

    اس نے سوالیہ نگاہوں سے کم سن کو دیکھا۔ 

    تمہیں پراسسڈ فوڈ نہیں کھانی چاہیئے اس حالت میں۔ اس لئےمجھے بہتر یہی لگا تھا کہ تم گھر کا بنا کھانا کھا لو شائد بہتر محسوس کرو۔ بیان ( معزرت) اگر تمہیں کھانا پسند نہیں آرہا ہے تو کوئی بات نہیں۔ میں تمہیں واپس چھوڑ آتا ہوں۔ 

    کم سن کے کہنے پر وہ چونک سی گئ۔ کھانا ناپسند کیسے آتا چکھے بغیر۔ مگر حالت سے اسکی کیا مراد؟ 

    کھانے کی بو حواسوں پر چھا رہی تھی۔ اس نے جھجکتے ہوئے نوالہ بنا ہی لیا  

    یہ کورین نہیں نا تو اسکو شائد ہمارے یہاں کا کھانا پسند نہیں آرہا۔ آپ کھانا سمیٹیئے گا نہیں میں اسکو چھوڑ کر آکر کھانا کھائوں گا۔ 

    کم سن کہہ کر اٹھنے کو تھا کہ آہجومہ نے پیار بھری نظروں سے دیکھتے اس لڑکی کی جانب اشارہ کیا۔ 

    وہ پاکستانی سانولی سی لڑکئ جسے اس نے سوچ سوچ کر کھانا کھاتے دیکھا تھا جب بھی کھاتے دیکھا اس وقت خاصی رغبت اور تیزی سے چاول کھا رہی تھی۔ کورینز کی طرح۔ 

    وہ مسکرا کر اپنے کھانے کی جانب متوجہ ہو گیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ کیا لگتی ہیں تمہاری؟ 

    واپسی پر وہ کم سن سے پوچھ ہی بیٹھئ۔ 

    یہ میری والدہ ہیں۔۔

    اسکا جواب مختصر تھا۔

    سنتھیا کو جھٹکا لگا ۔ 

    واقعی؟ تمہاری والدہ؟۔۔ اسکا مطلب تم بھی یہاں رہتے ہو؟ وہ الجھی۔۔

    انکی انگریزی سمجھنےکی کوشش کرتی ہوئی وہ  سادہ سی دیہاتی کوریائی نقوش کی خاتون کی معمولی سی بھی شباہت کم سن میں نہ تھی۔۔

    نہیں میں اپنے اپارٹمنٹ میں رہتا ہوں۔ یہ اپنی بیٹی کیساتھ رہتی ہیں۔نہ یہ میرے ساتھ رہنے کو تیار ہوتی ہیں نہ میں انکے ساتھ۔۔ 

    کم سن کو اندازہ تھا کہ اب سوالوں کی بوچھاڑ ہوگئ سو اپنی جانب سے تفصیل سے جواب دیا۔۔ 

    یہ کیا بات ہوئی۔ کیسی والدہ ہیں بیٹےکے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں اور تم کیسے بیٹے ہو بہن اور ماں کو ساتھ رکھو۔۔ انکو یہاں اس بڑھاپے میں ایسے چھوٹے گھر میں رکھ چھوڑاہے۔۔ اسکا اندز جھاڑ پلانے والا تھا۔۔ کم سن دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا

    تم سب پاکستانئ ایسے ہوتے ہو۔ بال کی کھال نکالنے والے۔ دوسروں کی زاتی زندگی میں دلچسپی لینے والے انکو یوں ڈانٹ دینے والے ؟؟؟

    سنتھیا کیلئے اسکا ردعمل غیر متوقع تھا بری طرح سٹپٹائی

    اس میں باقی پاکستانیوں کو کیوں لے آئے ؟ 

    وہ میں۔۔ ایسے ہی پوچھ بیٹھئ۔ معزرت۔  

    وہ چڑ گئ۔ آجکل اسے کافی جلدی چڑ چڑھ جاتی تھی۔ 

    ۔۔ نہ بتائو جو مرضی کرو مجھے کیا۔۔ 

    سنتھیا اردو میں بڑ بڑائی۔۔خاموشی سے ہم قدم چلتے

    کم سن نے چند لمحے انتظار کیا کہ وہ ترجمہ کرے مگر اسکا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا۔۔ 

    ویسے اگر تم مجھے ایک ذاتئ سوال کا جواب دو تو میں تمہیں اس بات کا جواب دے سکتا ہوں۔۔ 

    سنتھیا نے حیران ہو کر اسکی شکل دیکھی

    تم پاکستان کیوں نہیں چلی جاتیں؟ 

    کم سن کا انداز سادہ سا تھا۔۔ 

    تم سے مطلب۔۔ حسب توقع وہ چڑ گئ۔۔

    کم سن سر جھٹک کردوبارہ خاموش ہوگیا۔ سیڑھیاں سنتھیا کیلئے کے ٹو کا پہاڑ بن گئیں۔ کئی بار ریلنگ پکڑی ۔ شکر ہے اترائئ تھئ۔ اسکی سانس پھول رہی تھی  پسینے چھوٹ گئے تھے۔ کم سن اسکے برابر بظاہر بے نیازی سے چل رہا تھا مگر درحقیقت اس پر مکمل توجہ تھی۔ سنتھیا نے کن اکھیوں سے اسکو کئئ بار دیکھا۔ ایک ماتھے پر شکن تک نہ تھی۔ وہ دانستہ اسکے ساتھ آہستہ چل رہا تھا 

    یونہی چلتے آخر سفر تمام ہوا تھا۔ گوشی وون کے کمپائونڈ میں آکر اس نے کم سن کا شکریہ ادا کرنا چاہا۔ 

    کھانا بے حد لذیذ تھا۔ آج کافی رغبت سے کھایا میں نے۔ تم اپنی والدہ کا شکریہ ادا کرنا میری جانب سے۔ 

    لیکر میں گیا تھا تمہیں ۔ 

    کم سن نے جتایا

    تمہارا بھی بہت بہت شکریہ۔

    وہ اسکی شرارت سمجھ کر مسکرا دی

    شب بخیر۔ 

    وہ کہہ کر مڑی تو کم سن کو جانے کیا سوجھی ایکدم بولا

    ویسے ایک بات پوچھوں۔ 

    سنتھیا رخ موڑ کر اسے دیکھنے لگی ۔۔ کم سن ایک قدم آگے بڑھ کر اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا

    آج والا سوپ ذیادہ گرم تھا یا کل والا؟ 

    وہ ایکدم سناٹے میں آئی تھی۔ کم سن ہلکے سے مسکرایا پھر ہاتھ ہلا کر شب بخیر کہتا چلا  گیا۔ 

    وہ چند لمحے اسے جاتے دیکھتئ رہی پھر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اسکا دیا مفلر  ابھی بھی اسکی گردن میں ملفوف تھا۔ اس نے اتار کر تکیئے پر اچھال دیا۔ اسکی سائیڈ ٹیبل پر ایک بڑا سا شاپر تھا۔ شائد ایڈون کچھ کھانے پینے کی چیزیں رکھ گیا تھا۔ وہ ان پر نگاہ غلط ڈالتی سیدھا بستر پر لیٹ گئ۔ بہت دنوں بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا اسکو نیند آرہی تھی۔ شدید گہری نیند۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شدید درد سے اسکی پیشانی تر ہوگئ تھی۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا آرہا تھا جب ڈاکٹر نے دھیرے سے اسکے گال تھپتھپا کر اسکو جگایا۔ 

    اٹھ کر دیکھو کتنا پیارا بچہ ہے۔ 

    ڈاکٹر نے اسکو اجنبی زبان میں جانے کیا کہا تھا وہ کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے اٹھ بیٹھی۔ ڈاکٹر نے کمبل میں لپٹا ننھا سا وجود اسکی بانہوں میں تھمایا۔ 

    چھوٹا سا دہانہ میچئ ہوئی آنکھیں گول چہرہ گورا چٹا سا گل گوتھنا سا بچہ ننھئ ننھی مٹھیاں کھولتا بند کرتا غوں غاں کرکے جانے ماں سے کیا راز و نیاز کر رہا تھا۔ ۔ اس نے کمبل پیچھے کرکے اسکی مٹھی میں اپنی انگلی تھمانی چاہی اسکی مٹھی ایکدم سرخ ہو گئ تھی۔ گاڑھا سرخ خون اسکی انگلی تر کرنے لگا اس نے گھبرا کر انگلی چھڑائی بچہ ایکدم سے سرخ سا ہو گیا گہرا گاڑھا خون  بچے کی پیشانی سے پھوٹا۔ اسکا پورا چہرہ رنگین ہوا 

    اس نے گھبرا کر ڈاکٹر کو دیکھا

    یہی چاہتی تھیں نا تم مار دیا ہم نے اسے۔ 

    چندی آنکھوں والی وہ ڈاکٹرنئ اردو میں غرائی تھی اس کے ہاتھ میں ایک بڑی سی آری تھی اس نے تیزی سے ہاتھ اونچا کیا اور اس بچے کے سر کی جانب چلا دی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ ایکدم گھبرا کر اٹھی تھئ۔ آنکھ کھلی تو احساس ہوا کہ اپنے ہی کمرے میں ہے۔ کمرے میں ہلکی روشنی ہو رہی تھی۔ وہ پیشانی مسلتی اٹھ کر بیٹھ گئ۔ چند لمحے تو سانسیں بحال کرنے میں لگ گئے ۔ ایڈون کچھ شاپر اٹھائے اندر داخل ہو رہا تھا۔ 

    اٹھ گئیں تم؟ چلو جلدی سے ناشتہ کرلو ۔ ہلکا پھلکا سا ہی کھانا ہے۔ تاکہ طبیعت خراب نہ ہو۔ 

    وہ بولتا ہوا شاپر سائیڈ ٹیبل پر رکھنے لگا۔ 

    یہ کیا رات کو  کھانا نہیں کھایا تم نے؟ بھئ یہ لاپروائی مت کیا کرو۔ 

    وہ نرمی سے کہتا پلٹ کر اسے دیکھنے لگا تو چونکا۔ 

    کیا ہوا۔ طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟ وہ قریب آکر اسکی پیشانی چھو کر دیکھنے لگا۔

    میں ٹھیک ہوں۔ پانی۔ خشک لبوں پر زبان پھیرتے وہ بمشکل کہہ پائی۔ 

    ایڈون نے فورا گلاس میں پانی بھر کر تھمایا۔ وہ اتنی پیاسی ہو رہی تھی کہ ایک سانس میں پی گئ  

    ایڈون گلاس واپس رکھ کر اسکے برابر بیٹھ گیا۔ اسکو پیار سے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لے لیا۔ 

    مجھے اندازہ ہے تم بے حد گھبرا رہی ہو گی۔ میں نے سب معلومات لے لی ہیں۔ کوئی گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ معمولی سی سرجری ہے بس۔ میں ہر پل تمہارے ساتھ رہوں گا۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں کچھ غلط ہونے نہیں دوں گا آئی پرامس۔ آئی لو یو سنتھیا۔ 

    اسکے سر پر تھوڑی رکھے وہ تسلی دے رہا تھا۔عجیب بات یہ تھی کہ اسکے ان الفاظ سے واقعی اسکا دل ٹھہر سا گیا۔ اس نے گہری سانس خارج کرتے آنکھیں موند لیں۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد

    جاری ہے۔

    Kesi lagi Aapko salam korea ki yeh qist? Rate us below

    Rating
  • Salam Korea Episode 28

    Salam Korea
    by Vaiza Zaidi

    قسط 28
    اسکی صبح خوشگوار ہوئی تھی۔ اتنے دنوں میں پہلی بار اس نے گوارا اور اریزہ سے پہلے بیدار ہو کر ناشتہ بنایا۔۔
    بناتے ہوئے گنگناتی بھی رہی تھی۔ گوارا جمائی لیتی کمرے سے نکلی تو کچن میں اسے دیکھ کر بھونچکا سی رہ گئ آہٹ کیئے بنا واپس دوڑی آنکھیں ملتی اریزہ کو ادھ سوئی کیفیت میں ہی کھینچ کر کچن کے باہر لاکھڑا کیا۔
    اسکی آنکھیں پٹ سے کھلی تھیں تھوڑا تھوڑا منہ بھی۔۔
    آہٹ پر ہوپ نے مڑ کر دیکھا تو دونوں کو ہکا بکا دیکھ کر مسکرا کر بولی
    آجائو میں نے ناشتہ بنا دیا ہے تم دونوں کا آئو مل کر کرتے ہیں ناشتہ۔
    اب دونوں کا منہ بھاڑ سا کھلا رہ گیا تھا۔۔ ہوپ کھسیا کر مسکرا دی
    سنکے ہوئے توس چیز آملیٹ بھاپ اڑاتی کافی کے مگ۔ وہ دونوں ناشتے پر ٹوٹ پڑی تھیں۔
    آج کیسے خیال آگیا تمہیں؟۔ گوارا پوچھے بنا نہ رہ سکی
    آج مجھے تھوڑی دیر سے جانا تھا۔۔ ہوپ نے قصدا لاپروا انداز اپنایا۔۔
    اچھی بات ہے کاش تمہیں روز دیر سے جانا ہوا کرے۔۔
    گوارا کھلکھلائی۔۔
    اریزہ توس کھاتے کسی گہری سوچ میں گم تھی
    گوارا نے ٹہوکا دیا
    کیا سوچ رہی ہو۔۔
    جاب کا سوچ رہی مجھ سے بچے سنبھلتے نہیں اور کل تو ایک بچے نے مجھ پر سو سو بھی کر دیا ۔۔
    اسکے کہنے پر گوارا کو اچھو لگا۔۔
    واقعی ۔۔ وہ بے ساختہ ہنسی تھی۔۔
    اریزہ نے بے چاری سی شکل بنائئ۔۔
    پہلی جاب بہت مشکل ہوتی ہے۔ میری بھی پہلی جاب سیلز گرل کی تھئ اور کبھی ٹارگٹ پورا نہیں کر پائی تھئ۔۔ چینی تو پیسے کے معاملے میں بالکل رعائیت نہیں برتتے۔۔آدھی تنخواہ ملتی تھی مجھے۔۔ ہوپ نے کہا تو وہ دونوں سنجیدہ ہوگئیں
    ہوپ تمہارے گھر والے کہاں ہوتے ہیں؟ اریزہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا
    پتہ نہیں ۔ اب تو زمین کے اوپر ہوتے ہیں یا نیچے یہ بھی معلوم نہیں مجھے۔
    وہ لاپروا سے انداز میں کہتی اٹھ کر برتن سمیٹنے لگی
    کافی دکھی لگتی ہے یہ مجھے۔۔
    گوارا کا انداز ترس کھانے والا تھا
    تمہارے پیرنٹس کہاں ہوتے گوارا؟اریزہ کے پوچھنے پر اسے اچھو سا لگا۔ کافی کا مگ رکھ کر اسے حیرت سے دیکھنے لگی
    تمہیں انکا خیال کیسے آگیا۔ مجھے نہیں آتا۔۔
    وہ ہنسی مگر اریزہ کو جواب طلب نظروں سے دیکھتا پا کر بتانے لگی
    گائوں میں ۔ بلکہ گائوں کم قصبہ ہے بلکہ شہر ہی سمجھ لو وہاں تھوڑی سی زمین پر کاشتکاری کرتے ہیں آہبوجی۔ آہموجی ڈھابہ چلاتی ہیں وہاں۔
    اور بہن بھائی؟ اریزہ فل انٹرویو موڈ میں تھی
    دو بہنیں ایک بھائی ہے سب پڑھ رہے ہیں اسکول میں بھائی اگلے سال یہاں آجائے گا میرے پاس اسکی یونیورسٹی شروع ہو جائے گی۔
    تم تو ان سے ملنے بھی نہیں جاتی ہو۔۔ اریزہ کا انداز حیران ہونے والا تھا
    سمسٹر اینڈ پر جاتی ہوں نا اس بار نہیں گئ اب مڈ بریک ہوگی اگلے ہفتے تو گھر جائوں گی۔
    گوارا کافی ختم کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    ہیں تم چلی جائو گی گھر تو میں کیا کروں گی یہاں اکیلی ۔
    اسے نئی فکر سوار ہوئی۔۔
    اکیلی کیوں میں ہوں نا یہاں۔ ہوپ اسکو کہہ رہی تھی گوارا نے اسے آنکھوں آنکھوں میں ہنس کر میں اشارہ کیا
    اریزہ بمشکل مسکرا کر بڑ بڑائی
    اسی کا تو ڈر ہے۔۔
    مگر یار میں کیسے مارٹ جائوں گئ؟ مجھے تو راستہ بھی یاد نہیں ہوا ہے۔
    اسکی فکر بجا تھی گوارا سوچ میں پڑی۔
    آٹھ بجے ہیں ابھی تمہاری ڈیوٹی ایک کے بعد ہے ابھی سے چھوڑ بھی آئوں تو کیا کروگی چار پانچ گھنٹے۔۔
    میں کسی قریبی پارک میں بیٹھ جائوں گئ۔
    وہ جانے کیلئے تیار تھی۔ گوارا نے اسے دیکھا۔پھر ہوپ سے بولی
    ہوپ تم اریزہ کو ساتھ لے جائو۔ اسکو روٹ سمجھا دینا بس کا۔
    گوارا کے کہنے پر اریزہ کی آنکھیں ابل پڑی تھیں۔ اس سے قبل کہ کچھ کہہ پاتی ہوپ کا جواب اسکی آنکھوں کو مزید کھول گیا تھا مزید آنکھیں نہ کھل سکیں تو تھوڑا سا منہ بھی کھل گیا۔
    وہ کہہ رہی تھی۔
    ہاں کیوں نہیں۔ اکٹھے چلتے ہیں۔ میرا اسٹور مارٹ کے قریب ہی ہے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہوپ اسکے ساتھ ساتھ خاموشی اور لا تعلقی سے چل رہی تھی ۔گوارا کے ساتھ وہ میٹرو ٹرین میں گئ تھی اسکا راستہ مخالف تھا۔ ہوپ اسکو میٹرو اسٹیشن کی جانب رخ کرتے دیکھ کر بس اتنا بولی
    بس سے جانا ذیادہ بہتر رہے گا۔۔
    وہ اسکے ساتھ بس کی جانب بڑھ گئ۔۔ بس کارڈ اسکا بنا ہوا نہیں تھا سو وہ اپنا پرس کھنگالنے لگی۔ اسکے پیچھے رش بننے لگا ہوپ کارڈ کو آٹومیٹک مشین سے لگا کر لمحے بھر میں آگے بڑھ گئ۔
    مس آپ ۔ راستہ چھوڑ دیجئے بعد میں اترتے ہوئے پیسے ڈال دیجئے گا ۔
    نہایت شائستہ انداز میں ڈرائور نے ٹوکا تھا وہ بھی انگریزی میں۔ اس نے چونک کے سر اٹھایا وہ کوئی جوان سا ہی چندی آنکھوں والا آدمی تھا سلیقے سے سنورے بال استری شدہ یونیفارم ۔ سچ پوچھو تو حسن میں کسی کورین اداکار سے کم نہیں تھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ سے اسے کہہ کر وہ اب رخ بدل گیا تھا۔ وہ فورا ایک۔طرف ہوئی۔ ریزگاری وہ ہمیشہ الگ جیب میں رکھتی تھی۔ جب مسافرچڑھ گئے تو وہ آگے بڑھ کر اس صندوق میں پیسے ڈالنے لگی۔
    آہجوشئ میں نے پیسے ڈال دیئے ہیں۔
    اس نے متوجہ کرنا چاہا مگر وہ بس اسٹارٹ کر چکا تھا سو سڑک پر نگاہ جمائے بس اونچی آواز میں بولا
    دے۔
    وہ اسکے اخلاق سے خوامخواہ میں متاثر ہو گئ۔ بس کھچا کھچ بھر گئ تھئ ذیادہ۔تر طلبا ء تھے مخصوص وردی چڑھائے۔ اس نے بےتابی سے ہوپ کو تلاشا۔ پھر اس رش میں بھئ زبردستی سب کو دھکے دے کر جگہ بناتی ہوپ تک پہنچ گئ۔ ہوپ نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی جو اسکے پاس آکر اب مطمئن ہوگئ تگئ۔
    کھچا کھچ بھری بس جس میں سنبھل کر اسے کھڑے ہو کر جانا تھا۔ گو آگے پیچھے طلباء ہی تھے۔ مرد و زن بلا امتیاز کھڑے تھے۔ بس کا اسٹاپ آتا تو خوب دکھم پیل نچا کے اترتے۔مگر چونکہ ذیادہ تر اسکول کے یونیفارم میں تھے لڑکے لڑکیاں وہ ناگواری کے احساس کو جھیل گئ۔ ہوپ بظاہر لاتعلق مگر اس پر گاہے بگاہے نظر رکھے تھے۔ اسکا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔
    ۔ بس نے اسے عین اس مارٹ کے سامنے اتارا تھا۔۔ یہ آسان تھا اسکے لیئے مگر کیا بس میں روز اتنا ہی رش ہوتا ہے یہ سوال اطمینان غارت کیے تھا۔
    بس سے اتر کر قدم بڑھاتے ہوئے وہ یونہی بات برائے بات بولی
    یہ ذیادہ آسان رہا میرے لیئے بس کا نمبر یاد رکھوں گی اب۔
    تمہاری چھٹی کب ہو گی۔ وہ ہوپ سے پوچھ رہی تھی۔
    واپسی پرمیں دوسری جاب پر جائوں گی۔ تم نے نوٹ کرلیا نا بس نمبر اسی میں واپس چلی جانا۔
    ہوپ سمجھ گئ تھی اسکی مشکل۔
    آ۔ اسکا منہ کھلا
    اس نے نوٹ نہیں کیا تھا۔ نا ہی ابھی اسکے ساتھ ساتھ چلتے یہ احساس ہوا تھا کہ جو مارٹ اسے سامنے فورا نظر آگیا تھا اب ہوپ کے ساتھ چلتے چلتے وہ اس سے دور نکل آئی ہے۔
    وہ مجھے واپسی پر تو مدد چاہیئے ہوگی اگر تم ۔۔
    اس کی شکل دیکھ کر بولتے بولتے باقی جملہ منہ میں ہی رہ گیا۔ تو وہ بنا تاثر چہرے پر لائے بولی
    واپسی کی بعد کی بات ہے ابھی بھی تم نے میرے ساتھ جانا ہے کیا؟
    اس نےچند بلاک پیچھے رہ جانے والے مارٹ کی جانب اشارہ کیا۔
    اریزہ خفت زدہ سی ہوکر رک گئ ہوپ سر جھٹک کر تیز تیز قدم اٹھاتی آگے بڑھ گئ۔۔
    اخیر بونگی ہوں میں۔ اندھوں کی طرح چل کر آئی ہوں میں۔
    ۔ وہ دانت کچکچا کر رہ۔گئ تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ریں ریں کرتے بچوں میں وہ پھر گھری کھڑئ تھی۔۔ شکل ایسی بنی ہوئی تھی کہ اب روئی یا تب۔ ہیون اسے دیکھ کر مسکراہٹ ضبط کرتا اسکے پاس چلا آیا

    اآننیانگ۔۔

    اس نے پرتپاک انداز میں بچوں کو مخاطب کیا تھا۔۔ بچے ہم زبان کو دیکھ کر اسکی جانب بھاگے تھے۔ وہ بہت خندہ پیشانی سے انکو جھیلتے ہوئے جانے کیا گٹ پٹ کر رہا تھا۔۔

    پھر وہ اطمینان سے اسٹول پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئ کہنی کائونٹر سے ٹکا کر دلچسپی سے اسے دیکھنے لگی۔ہیون نے پورے بیس ڈبے بکوا دیئے۔ اتنا ہینڈسم لڑکا وہ بھی قیمتی جیکٹ برانڈڈ جینز جوتے پہنے خواتین جوق در جوق اسکے اسٹال پر آئی تھیں۔

    اوپا اوپا کی صدائیں۔ اور ہینڈسم آہجوشی کہہ کہہ کر اسکے بازو سے لٹکی جا رہی تھیں۔

    ایک خاتون نے ہنستے ہنستے ساتھ کھڑے لڑکھڑا کر اسکے کندھے پر سر ہی رکھ دیا۔ وہ ناگواری سے دیکھ کر سیدھی ہوئی۔ بے ساختہ کڑخت سے انداز میں ڈپٹ کر پکار بیٹھی

    آہجومہ۔

    ہنستی آہجومہ ٹھٹک کر اپنے جامے میں واپس آئیں تو ہیون بھی ایکدم تیر کی طرح سیدھا ہوا

    اگر آپ دو ڈبے لیں گی تو آپکو یہ بائول اور اسپون بھی ملے گا۔۔ اس نے دانت کچکچا کر کہا تھا

    دے؟۔ وہ سمجھ نہ پائیں دوبارہ آنکھیں پٹپٹا کر ہیون کو جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگیں۔

    اس نے مسکرا کر ترجمہ کیا۔۔

    وہ خوشی خوشی چار پیکٹ لے گئیں۔

    لو بھئ تمہارا آج کا تو ٹارگٹ پورا ہوگیا۔۔ ہیون نے خوشگوار سے انداز میں اسکے پاس آکر پیسے جمع کرائے

    شکریہ۔ مگر میں خود بھی کر لیتی یہ تمہیں زحمت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔

    اس کے رکھائی سے کہنے پر اسکا روشن چہرہ بجھ گیا۔۔

    ہاں جانتا ہوں۔ وہ سنبھل کر اسکے ساتھ اسٹال سمیٹوانے لگا۔

    اریزہ کو جانے کیوں غصہ آرہا تھا۔

    ساری دنیا کے لڑکے ٹھرکی ہی ہوتے ہیں جتنے بھی شریف دکھائی دے جائیں۔۔ لڑکی گود میں آگرنے کو تیار ہوگی توخود اسکے سامنے لیٹ ہی جائیں گے۔۔

    وہ سوچتے ہوئے چیزیں پٹخ رہی تھی۔ ہیون دھیرے سے ایک جانب ہو گیا وہ اسٹال سمیٹ کر کیش جمع کرانے کائونٹر پر چلی گئ۔۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسٹور میں چیزیں کارٹن سے نکال کر احتیاط سے ریک میں لگاتے یونہی اسکی نگاہ گلاس وال سے باہر پڑی۔ چھے بج رہے تھے۔ آسمان پر بارش کے آثار تھے ہوپ کی آسمان پر نظر پڑی تو فورا خیال آیا۔ جلدی سے سامان وہی چھوڑ کر کائونٹر کے پاس چلی آئی۔ اسٹور کا مالک ٹی وی پر بیس بال کا میچ دیکھنے میں مگن تھا۔
    آہجوشی میں آج جلدی جا سکتی ہوں؟
    اسکی فرمائش اتنی غیر متوقع تھئ کہ وہ حیرت سے دیکھنے لگا۔
    میں جلدی جلدی سب چیزیں ریک میں لگاکر جائوں گی۔
    اس نے تسلی دینی چاہی۔
    آ۔ آنئ۔ ٹھیک ہے جائو تم۔ سامی ( ہیلپر)لگا دے گا باقی کارٹن۔جائو تم سب خیریت ہے نا۔
    آہجوشی پر شفقت انداز میں پوچھ رہے تھے۔
    دے۔ حسب توقع جواب مختصر تھا۔
    نہایت چابک دستی سے کام کرنے والی ایماندار اس لڑکی نے پچھلے چھے مہینوں میں ایک چھٹی نہ کی تھی ابھی بھی شفٹ ختم ہونے میں صرف پینتالیس منٹ ہی باقی تھے اسکو اس نے بخوشی اجازت دی تھی۔
    وہ تیزی سے اپنا بیگ اٹھاتی اسٹور کی جیکٹ او رکیپ کھونٹی پر لٹکاتی باہر آئی تو آہجوشی نے باقاعدہ آواز دے کر روکا۔
    ہوپ شی۔
    وہ مڑ کر سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
    بارش ہونے والی ہے چھتری لے جائو۔
    وہ نئی پیکنگ والی چھتری اسکی جانب بڑھا رہے تھے۔ اسکی آنکھوں میں حیرت اتر آئی تھئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیش جمع کروا کر وہ متلاشی نظروں سے اسٹور میں اسے دیکھنے لگی۔ نظر نہ آیا تو حیران سی اسٹور سے باہر نکل آئی۔ وہ کچھ ہی فاصلے پرچھتری تھامے سڑک کنارے کھڑا زمین کوجوتے کی نوک سے کھود رہا تھا۔۔وہ اسے دیکھتی رہی دیکھتے دیکھتے جانے کیا ہوا بری طرح بوکھلا کر رخ موڑ لیا۔ تبھئ اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی بس اسٹاپ کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔ اسکا حیرت سے منہ کھلا رہ گیا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بارش کی بوندیں تڑا تڑ برسنے لگی تھیں۔تیز تیز قدم اٹھا کر ہوپ مارٹ تک آئی تھی۔ اریزہ شائد ابھی باہر نہیں نکلی تھی۔ وہ وہیں شیڈ میں رک کر انتظار کرنے لگی۔
    اریزہ نکلی تو وہ فورا مستعد ہوئی مگر اریزہ کہیں اور ہی متوجہ تھی۔ اسکی نظروں کا مرکز شخص ابھئ بے نیاز تھا۔ وہ پلٹ کر مخالف سمت جانے لگی
    ہایون کی اریزہ پر نگاہ پڑی تو بھاگ کے اسکی جانب بڑھا۔
    ان دونوں کو دیکھتے ہوئے چھتری کی اوٹ کے باوجود اسکا چہرہ گیلے ہونے لگا تھا۔
    اسکے اندر بھی بارش ہونے لگی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اریزہ۔۔ اسکےپکارنے پر بھی وہ نہ رکی تو وہ برستی بارش میں بھی بھاگ کر اسکے برابر پھر مقابل آن رکا
    کیا ہوا ہے سنائی نہیں دے رہا تھا میں پکار رہا تھا ؟ ساری بھیگ گئیں
    اس نے حیرت بھری خفگی سے اس پر چھتری کی۔ ذرا سی دیرمیں وہ خاصی بھیگ گئ تھی۔ اپنے بیگ کے اسٹریپ کو سختی سے تھامے وہ قصدا نگاہ چرائے تھی۔
    چلو میں گھر ہی جا رہا ہوں تمہیں بھی ڈراپ کردیتا ہوں۔
    ہایون نے کہا تو وہ منع کرگئ
    نہیں کیا ضرورت ہے میں بس سے چلی جائوں گی۔
    وہ بس اسٹاپ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ وہ کہہ کر اسکے برابر سے ہو کر تیزی سے بس اسٹاپ کے شیڈ میں آکھڑی ہوئی۔ بس آ کر رکی تھی۔ اسٹاپ پر بارش کی وجہ سے رش تھا۔ جلدی جلدی کئی سواریاں چڑھ گئیں۔ہایون ہونٹ بھینچے دیکھتا رہا۔جگہ خالی ہونے پر وہ قریبی بنچ پر ٹک گئ
    بس اپنی منزل کی جانب رواں ہو گئ تھی
    وہ گہری سانس بھرتا اسکے برابر آن بیٹھا۔ چھتری بند کرکے نشست سے ٹکائی۔اور اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
    کیا ہوا ہے؟
    کچھ نہیں۔ وہ رخ موڑ گئ۔
    مجھ سے کسی بات سے خفا ہو ؟
    اسکی بات۔ بیگ کے اسٹریپ پر اسکی گرفت مزید سخت سی ہوگئ۔
    کیوں۔خفا ہوں گی۔ ہم میں ایسی تو کوئی بات نہیں ہوئی
    سردی کی وجہ سے شائد اسکی آواز کانپ سی گئ۔ وہ قصدا مسکرا کر اسکی جانب رخ کرکے بولی۔
    اسکے ہونٹ نیلے ہو چلے تھے اور ناک سرخ۔ کندھوں تک آتے بال اونچئ پونی میں قید تھے مگر گہرے سیاہ بالوں پر پانی کے قطرے جیسے جم سے گئے تھے۔
    پھر میرے ساتھ گاڑی میں کیوں نہیں چل رہیں۔ ؟
    اسکا سوال دوٹوک تھا۔
    کیا ضرورت ہے مطلب مجھے روز آنا جانا ہوگا بس میں آتے جاتے عادت ہونی چاہیئے نا ۔ پھر بس اسٹاپ گھر سے بھی قریب ہے بس اسلیئے۔
    اسکی۔لمبی تاویل پر وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا
    کونسی بس پر جائو گی؟
    سامنے سے بس آرہی تھی وہ جواب دینے کی بجائے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    لو بس آگئ۔ اب تم جائو۔ آننیانگ۔
    وہ کہہ کر آگے بڑھنے کو تھی۔ہایون بھی اٹھ کھڑا ہوا۔چھتری کھول کر تانی اسکو اپنے پیچھے آتا محسوس کرکے وہ جھلائی
    تم جائو نا کیوں بارش میں یہاں ٹھنڈکھا رہے ہو۔ ۔
    وہ سٹپٹا رہی تھی۔ بس کا دروازہ کھل چکا تھا۔
    کونسی بس پکڑنی پتہ ہے؟ یہ بس تمہارے گھر سے بالکل مخالف راستے جاتی ہے۔
    ہایون کی بات پر وہ ٹھٹک کر رکی تھی۔
    آگاشی؟ جانا ہے؟
    بس کے کھلے دروازے سے ڈرائیور آواز لگا رہا تھا۔
    آنی۔ معاف کیجئے گا۔
    ہایون نے جھک کر معزرت کرتے ہوئے کہا تھابس آگے بڑھ گئ۔
    چلو میں گھر چھوڑ دوں۔
    وہ نرمی سے بولا۔
    مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا روز روز تمہاری مدد لینا۔ مانا تم امیر ہو اتنی بڑی گاڑی ہے افورڈ کر سکتے ہو مگر مجھے احسان لینا بالکل پسند نہیں۔میں ٹیکسی کر لوں گی تم جائو ۔
    وہ ضدی لڑکی شیڈ سے باہر کھڑی بارش میں بھیگتی بحث کر رہی تھی۔
    کیوں ؟ دوست نہیں ہوں میں کیا ؟ دوستوں کا احسان لینا گناہ ہے کیا ؟
    ہایون نے مان بھرے انداز میں پوچھا۔وہ نہیں کہتے کہتے رک گئ۔
    پھر بھئ۔ مجھے اچھا نہیں لگتا۔
    وہ جانا نہیں چاہ رہی تھی ہایون کئی قدم آگے بڑھ کراسکے قریب چلا آیا۔برستی بارش پر چھتری نے فورا آڑ کی تھی۔ اسکے کلون کی خوشبو محسوس کرکے اسکے دل کی دھڑکن جیسے تھم گئ۔ ہایون کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔
    اس نے اسکا ہاتھ پکڑ کر چھتری تھمائی۔
    میں گاڑی لیکر آتا ہوں ۔ وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔تیز تیز قدم اٹھاتا گاڑی لینے چلا گیا تھا۔
    اس کو جاتے دیکھتے ہوئے اس کی چھتری ہتھیلی سے چھوٹنے لگی تھی۔ ہونٹ بھینچ کر ناک چڑھا کر بولی
    احمق ۔ میں شیڈ میں کھڑی ہو لیتی اب خود بھیگتا جائے گا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سارا دن اکیلے کمرے میں بند رہ رہ کر وہ عاجز آگئ تھئ۔ بیزاری سے اپنے چھوٹے کمرے میں چیزیں ادھر سے ادھر کرنے کے باوجود بھئ جب وقت کٹ کے نا دیا تو وہ اپر پہنتی باہر نکل آئی۔ باہر کمپائونڈ میں آکر احساس ہوا تھا کہ اتنے چھوٹے تنگ کمرے میں وہ باہر کے موسم کی شدت کا ایک فیصد بھئ نہیں پا رہی تھی۔ پوری سڑک گیلی تھی۔ شائد بارش ہو کر رکی تھی ۔اتنی شدید برفانی ہوا چل رہی تھی کہ وہ بے ساختہ جھر جھری سی لیکر رہ گئ۔ ایک پل کو سوچا پلٹ جائے مگر ہمت نہ تھی دوبارہ اس قبر نما کمرے میں جانے کی سو قریبی سیون الیون چلی آئی۔ نوڈلز سوپ بڑے شوق سے بنا کرکھانے بیٹھی ہی تھی کہ ابکائی سی آئی۔پہلی دوسری۔ اس نے سوپ ایک طرف کردیا۔دل بری طرح متلا رہا تھا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسٹور سے نکل کر سیدھا گوشی وون جانا چاہ رہی تھی مگر فاصلہ میلوں پر محیط ہو گیا جیسے۔
    یا خدا۔۔ اسکا سر بری طرح چکرا گیا اس سے قبل کہ وہ چکرا کر وہیں سڑک پر ڈھیر ہو جاتی کسی نے بے حد نرمی سے اسے تھام لیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایڈون اسے سہارا دے کر آسکے کمرے تک لایا تھا۔
    تمہیں کہا تو ہے جو چاہیئے ہوا کرے مجھے بتا دیا کرو۔ ابھی باہر گر جاتیں تو؟ اتفاقا ہی میری نظر پڑ گئ ورنہ۔۔۔
    ایڈون اسے ڈانٹ رہا تھا مگر انداز میں فکر تھی۔اسے ڈورم کی تنگ راہداری مزید تنگ لگنے لگی۔ اگر باہر موسم سرد محسوس ہو رہا تھا تو اندر یہاں گرمی لگنے لگی تھی۔ سر ابھئ بھی چکرا رہا تھا ۔۔
    بیڈ پر بیٹھتے ہی اسے کمرے کی گھٹن اور گرمی بے حد محسوس ہو نے لگی تھی۔
    میرا دم گھٹ رہا ہے مجھے باہر جانا ہے۔
    وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔ ایڈون اسے بس دیکھ کر رہ گیا
    مجھے شدید گرمی لگ رہی ہے۔سانس بھی ٹھیک سے نہیں آرہا۔
    اسے ایڈون کا دیکھنا محسوس ہوا تھا جبھی اپنی کیفیت بتاتے روہانسی سی ہوگئ۔
    باہر اچھی خاصی ٹھنڈ ہے۔ کم از کم کچھ گرم کپڑے تو پہن لو۔
    وہ خود جیکٹ پہنے تھا اسکے کہنے پر اس نے فورا اپنے اٹیچئ کی جانب ہاتھ بڑھایا پھر کچھ سوچ کر رک سی گئ۔
    اسکے پاس گرم کپڑے نہیں تھے۔ ایک آدھ سوئٹر بھی نہیں۔یہی سوچا تھا جب سردیاں آئیں گی تو یہیں سے لے لے گی۔ اسے متذبزب دیکھ کر ایڈون نے گہری سانس بھری۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایڈون اسے قریبی عوامی پارک لیکر آیا تھا۔ اپنی جیکٹ اسے پہنا کر وہ خود اس وقت بس ایک اپر میں ملبوس تھا جو سردی کیلئے ناکافی تھا جبھی ہڈ بھی سر پر چڑھا لیا تھا۔ اسے بھئ جیکٹ پہن کر بھئ سردی لگ رہی تھی ۔ سرد ہوا نے طبیعت پر اچھا اثر ڈالا تھا۔ اسکا موڈ خوشگوار ہونے لگا
    اس اتوار چلنا کچھ گرم کپڑے لے لینا۔یہاں برفباری ہوتی ہے برفبارئ سے قبل کا موسم بھی تمہاری برداشت سے ذیادہ سرد ہوگا۔
    سرخ ہوتی ناک کو ٹشو سے پونچھتے ایڈون نے اسکے چہرے کے خوشگوار تاثرات کو تھوڑا حیرانی سے دیکھا تھا۔
    ایڈون مجھے پینگ دو گے ؟
    جھولے دیکھ کر اسکا بے ساختہ پینگ لینے کو دل کرنے لگا۔ اسکی بات تو شائد اس نے غور سے سنی بھی نہ تھی۔ بچوں کی طرح ٹھنک کر فرمائش کرنے لگی۔
    ایڈون بنا چوں چراں کئے اسکے ساتھ جھولے کی جانب چل پڑا۔ وہ احتیاط سے سنبھل کر بیٹھ گئ تو وہ دھیرے دھیرے پینگ دینے لگا۔
    کتنے عرصے کے بعد جھولے پر بیٹھی ہوں۔نانو کے جھولا جھولا تھا آخرئ بار یاد ہے انہوں نے خاص ہمارے لیئے برآمدے میں جھولا ڈالا تھا۔ میں اور تم تپتی دوپہر میں بھی جھولا جھولتے رہتے تھے۔
    سرد ہوا میں گہری سانس بھر کر وہ خوش سی ہو گئ تھی۔ چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ در آئی ۔۔ بچپن کی یادیں ذہن پر دستک دینے لگیں۔
    ہمم۔۔ ایڈون مختصرا بولا۔
    تم کتنی اونچی پینگ دیتے تھے میری چیخیں نکل جاتی تھیں۔
    مگر مزا بھی بڑا آتا تھا لگتا تھا آسمان چھو لوں گی اتنی اونچی پینگ لی ہے۔۔
    اسے یاد آیا۔
    آسمان؟ ایڈون ہنسا
    تم ڈرپوک ذیادہ تھیں۔ورنہ وہ اس جھولے سے چھوٹا ہی تھا۔
    ایڈون نے جتایا تو وہ خفیف سی ہوگئ
    مگر تم ہمیشہ سے ہی بہادر تھے۔ کھڑے ہو کر جھولا لیتے تھے۔میں سوچتی تھی تم مجھے سے دو سال بڑے ہو نا اسلیئے بہادر ہو۔ میں بھی جب بڑی ہوں گی تو ایسے ہی کھڑے ہو کر جھولا لیا کروں گی اور مجھے ڈر بھی نہیں لگے گا۔
    وہ ہنس پڑی۔
    کبھی کھڑےہو کرپینگ لی بڑے ہونے کے بعد ؟
    وہ اب ایڈون سے پوچھ رہی تھی۔
    نہیں۔ ایڈون کو بہت زور کی جمائی آئی تھی۔
    ہمیں لگتا ہے ہم بڑے ہو کر بہادر ہوجائیں گے جبکہ بڑے ہو کر مزید ڈرپوک ہو جاتے ہیں۔ ویسے تم بچپن میں تو میرے چیخنے منتیں کرنے پر بھی آہستہ پینگ نہیں دیتے تھے اب تو بس ہلا رہے ہو جھولا۔۔
    وہ پیر اونچے کیئے تھک گئ۔تو مڑ کر خفگی بھرے انداز میں بولی
    ابھئ تو الٹی چکر آرہے تھے اب اونچی پینگ چاہیئے۔ اول تو تمہیں جھولا ہی نہیں جھولنا چاہیئے کوئی مزید کھڑاگ نہ کھڑا کردینا۔ آگے ہی پولیس میں تصویر لگوا دی ہے میری کچھ ہو ہوا گیا تو شامت پکی ہے۔۔
    وہ جتانا چاہتا نہیں تھا مگر منہ سے پھسل گیا۔ یہ بھی سچ ہے اسکا دل کافئ دکھا ہوا تھا۔شائد وہ کھل کر معزرت کر لیتی تو دل صاف ہو جاتا ۔
    سنتھیا چپ سی رہ گئی۔ ایڈون کو بھی احساس ہوا کہ ذیادہ بول گیا سو سنبھل کر بات بدلنی چاہی
    اب بہتر ہوگئ ہے طبیعت تو گھر چلومجھے صبح جلدی اٹھ کر انٹرویو دینے جانا ہے ۔۔
    اسکے جملے تیر کی طرح لگے تھے اسے چٹخ کر بولی
    تمہیں لگ رہا میں مکر کر رہی؟ میری واقعی طبیعت خراب تھی۔ میرا سچ مچ دل گھبرا رہا تھا۔
    اب تو ٹھیک ہو گیا نا ؟ اب تو گھر چلو مجھے شدید نیند آرہی ہے صبح آٹھ بجے کا اٹھا ہوا ہوں۔
    ایڈون زچ سا ہو رہا تھا۔وہ ہونٹ بھینچ کر اٹھ کھڑی ہوئی
    چلو۔
    اسکا انداز خفا خفا سا ہی تھا۔ اس وقت منانے کا مطلب اگلا آدھا پونا گھنٹہ مزید یہیں گزرنا تھا سو جان کے نظر انداز کردیا۔ گوشی وون تک وہ بالکل خاموشی سے آئی۔ ایڈون اپنے کمرے کے سامنے رک گیا تھا۔وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلی آئی۔ کمرے میں آکر جیکٹ اتار کر رکھنے لگی تو اتارنے میں جیب میں کوئی ریپر چرمرایا اس نے بے تابی سے جیب میں ہاتھ ڈالا وہ چھوٹی سی چاکلیٹ تھی۔ اس نے نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر جھٹ نکال لی پہلا لقمہ ہی لیا تھا کہ ایڈون نے دروازہ کھول لیا۔
    ابھی بھئ لاک نہیں کیا کمرہ کب۔۔
    وہ بڑبڑاتا داخل ہوا تھا اس پر نگاہ پڑی تو جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
    وہ اپنی جیکٹ لینے آیا تھا۔ وہ مربھکوں کی طرح چاکلیٹ کھا رہی تھئ۔ شرمندہ سئ ہوگئ۔
    وہ مجھے ۔۔ بھ۔ اس سے بھی جملہ مکمل نہ ہوسکا۔سر جھکا لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے انسٹنٹ نوڈلز بھاپ اڑاتے اسکے سامنے لا کر رکھے تھے۔ تین چار سیب کا پیکٹ اور کیک رس۔
    انسٹںٹ نوڈلز کو وہ بے چارگی سے دیکھ کر رہ گئ تھی۔
    ذیادہ اس لیئے نہیں لایا ہوں کہ فریج تو ہے نہیں خراب ہو جائیں گے۔ اس نے ایک جملہ کہنے میں دو بار جمائی لی تھی۔ وہ جو کہنے جا رہی تھی موسم توسرد ہو چکا ہے ایکدم چپ کر گئ۔
    اچھا میں چلتا ہوں لاک کر لینا۔۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھتا مڑ گیا تھا۔ جیکٹ پہنے گرم ٹوپی سر پر ٹکائے۔
    خدا حافظ۔ اس کے منہ سے اتنی مدھم آواز نکلی تھی کہ شائد ایڈون نے سنی بھئ نہ ہو۔ شدید بھوک لگ رہی تھی اور نوڈلز تو اسے کبھی پسند نہ رہے تھے ۔ جب سے کوریا آئی تھی اتنے نوڈلز کھائے کہ مزید ناپسند ہو گئے۔ بھوک لیکن ظالم شے ہے۔ چند لمحے بھاپ اڑاتے نوڈلز کے پیالے کو دیکھتے ہوئے آہ بھر کر نوالہ لینا پڑا۔ بے تابئ سے پیالے سے کئی لقمے لے ڈالے۔۔۔ تبھی کھڑکی کا کھلا پٹ ہوا سے ہلا تھا۔ وہ پیالہ کارنس پر ٹکاتی کھڑکی میں آن کھڑی ہوئی۔ باہر یکا ئک موسم بدلا تھا۔ تیزہوا کے ساتھ بارش کی تیز پھواریں۔ لمحوں میں سڑک جل تھل ہو گئ تھی۔ اسکی آنکھیں بھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے کمپائوںڈ میں ڈراپ کرکے وہ تیزی سے گاڑی نکال لے گیا تھا۔ سارا راستہ ان میں کوئی بات نہ ہوئی تھی۔ وہ تھکے تھکے قدم اٹھاتی اپارٹمنٹ میں آئی تھی۔ گوارا کچن میں کھڑی برتن دھو رہی تھی۔
    ہوپ نہیں آئی؟ گوارا نے اس سے پوچھا تھا۔
    نہیں میں تو ہایون کے ساتھ آئی ہوں۔
    وہ جوتے بدلتی اندر چلی آئی۔
    لو مجھے تو کہہ رہی تھی میں اریزہ کولینے جا رہی ہوں۔ میں نے فون کیا تھا اگر وہ نہ لینے جائے تو میں تمہیں لینے آجائوں۔
    گوارا کی۔بات پر وہ کمرے کا ہینڈل کھولتے کھولتے رکی۔
    کیوں میں چھوٹی بچی ہوں کیا خود نہیں آسکتی ؟
    وہ بلا وجہ چڑی
    تم بچی نہیں ہو مگر بچوں کی طرح راستوں سے بے نیاز میرے ساتھ چلتی ہو اتنے دن میرے ساتھ یونی گئ ہو عادت جان گئ ہوں میں تمہاری شرط لگاکے کہتی ہوں تم اتنے دن جانے کے باجود یونیورسٹی اکیلے میٹرو سے نہیں جا سکتیں تمہیں روٹ ہی یاد نہیں ہوگا۔
    گوارا کا انداز مزاق اڑانے والا نہیں تھا۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کے اسکے پاس چلی آئی۔
    واقعی۔ میں اتنئ احمق کیوں ہوں۔
    احمق نہیں پیمپرڈ ہو۔
    گوارا نے اسکی پیشانی پر ٹھونگا بجایا۔۔
    پھر پریشان ہو کر بولی۔
    یہ کیا تم تو پوری بھیگی ہوئی ہو جائو فورا کپڑے بدلو۔
    مروگی سردی میں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نہا کر کپڑے بدل کر نکلی تو ہوپ بستر پر دراز نظر آئی۔
    کافی پیو گی؟
    اس نے پوچھا مگر ہوپ نے جواب نہ دیا یونہی ساکت پڑی رہی۔ وہ کندھے اچکا کر باہر نکل آئی۔
    گوارا کمچی نکال کر ریمن بنانے لگی تھی۔ وہ انسٹںٹ کافی کا ساشے نکالنے لگی۔
    کھانا نہیں کھائو گی ؟ بریانی رکھی ہے۔
    گوارا کو اب اسکی بھوک کی فکر ہوئی۔
    ایک تو تمہیں نخرے اٹھانے والے فورا مل جاتے ہیں۔ مجھ سے خالو سے تو چلو بنتا یہ سنتھیا او رایڈون تک ماں باپ والا خیال کیوں رکھتے ہیں تمہارا۔
    صارم اسکو کندھا مار کر بولا۔
    جوابا وہ چمک کر بولی۔
    تو تم کیوں جلتے ہو۔چلو ہیں تو سہی میرا خیال رکھنے والے ورنہ تم نے میری اماں پر قبضہ کر رکھا ہے ان سب کی بجائے ایک میری اماں مجھ سے رتی برابر لاڈ کر لیتیں نا تو

    گوارا نے پیچھے سے آکر ہلکی سی دھپ لگائی تھی اسکی پشت پر۔۔
    کھانا کھا لو لڑکی کہاں گم ہو
    ہوں۔ نہیں ابھی بھوک نہیں۔
    وہ چونک کے حال میں واپس آئی اور اپنا کافی کا کپ بنانے لگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ ٹیرس کے شیڈ کے نیچے سکون سے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے بیٹھی سامنے برستی بارش دیکھ رہی تھی۔
    اتنا بھیگ کے آئی ہو اب یہاں سردی میں بارش دیکھنے بیٹھ گئیں۔پکا خودکشی کا پروگرام ہے۔ کہو تو گلا دبا دوں۔۔
    گوارا فل سائز پیالہ بھرے ریمن بنا کر لائی تھی۔ اسے سردی سے ڈراتی خود بھئ اسکے برابر آن بیٹھی تھی۔ پیالہ ایک طرف رکھ کراسکی گردن پر ہیڈ لاک لگا دیا
    چھڑانے کی کوشش کرتی وہ پھڑپھڑا کر رہ گئ پھر جل کر گالی دے دی۔
    کمینی۔
    گوارا جیسے شاد ہوگئ گالی سن کے لہک کے دہرایا
    کمینی۔۔ پھر سر ہلا کر بولی
    پہلا لفظ سیکھنے لگی ہوں اردو کا اور مجھے پکا یقین ہے اسکے معنی اچھے نہیں یہ کوئی گالی ہے ہے نا۔
    وہ تائید چاہنے والے انداز میں پوچھ رہی تھی۔ اریزہ کو ہنسی آگئ۔
    آنی۔ اسکا مطلب ہے اچھی لڑکی۔
    اس نے چکمہ دینا چاہا۔ گوارا حسب عادت سڑک سڑک کر نوڈلز سے منہ بھر چکی تھی۔ چبا کر نگلنے کئ درمیان مشکل سے وقت نکال کر بولی
    اچھی لڑکی کا متضاد کمینی لڑکی۔ تو اس گالی کا مطلب ہے کمینی۔ ہے نا۔
    گوارا کا ذہن بہت چلتا ہے۔ اسے ماننا پڑا۔ ہنس کر سر ہلا گئ۔
    گوارا تکا درست لگنے پر خوش ہوگئ۔
    ایسے ہی تو نہیں میں کہتی گوارا کے جی میں جینیئس کا عنصر ہے۔ میرے نام میں ہی جینئس پن ہے۔
    کب کہتی ہو ایسا۔ اریزہ نے کان سے پکڑا۔
    اکثر اب غور کرنا۔ وہ ڈھٹائی سےآنکھ مار کر ہنسی۔
    اف مجھے بھی بارش بہت پسند ہے۔ پتہ ہے بارش میں میرا دل مچل مچل جاتا ہے نوڈلز کھانے کو اور ساتھ سوجو ہو تو کیا ہی بات۔ مگر بدقسمتی سےسوجو ختم ہے مگر ریمن اف۔۔ اخیر حد کی لذیز ہے زندگی اس وقت میرے لیئے۔
    گوارا کے کہنے پر اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
    مجھے بھئ ۔ سنتھیا تو اتنا مزاق اڑاتی تھی کہتی تھی کیسی لڑکی ہو بارش میں پکوڑے کھائے جاتے ہیں۔
    گلگلے تلے جاتے ہیں او رتم نوڈلز چبانے کی شوقین ہو۔ مجھے کبھی بھی بہت گلے ہوئے نوڈلز نہیں پسند ۔ ربڑ جیسے چبانے پڑیں ویسے پسند ہیں۔
    اریزہ کے کہنے پر گوارا نے حیرت سے دیکھا۔
    میں کبھی ریمن ذیادہ نہیں گلاتی چبانے والے اچھے لگتے ہیں ۔۔
    یہ دیکھو۔ اس نے پیالہ اریزہ کی جانب بڑھایا۔
    وہ بے دھیانی میں اسکی چاپ اسٹکس کی جانب ہاتھ بڑھانے لگی تھئ کہ ایکدم خیال آیا۔ پھر اسکی چاپ اسٹکس سے تھوڑے سے نوڈلز اٹھا کر واپس رکھ کر نارمل سے انداز میں بولی
    ہاں واقعی۔ تمہارے نوڈلز لجلجے (soggy) سے نہیں ہوئے نوڈلز۔
    کھا کر دیکھتیں نا۔ گوارا نے اصرار کیا
    میں کھانا کھا چکی ہوں تم کھائو۔
    اس نے سہولت سے انکار کیا۔ تو گوارا اسے پرسوچ سے انداز میں دیکھنے لگی۔
    تم کبھی ہماری پلیٹ سے کھانا نہیں لیتیں تمہیں لگتا ہم کچھ غلط سلط کھاتے ہیں؟
    اسے شائد برا لگ گیا تھا اریزہ کو اپنی بے اختیاری پر افسوس ہوا۔ انجانے میں اسکا دل دکھا دیا تھا شائد۔
    نہیں یار ایسی بات نہیں۔ بس گوشت حرام ہوتا ہے نا اسلیئے احتیاط کرتی ہوں۔

    مانا سور حرام ہے مگر یہ ریمن چکن فلیور ہے ۔اریزہ یہ تو چکھ سکتی ہو۔ مجھے تمہارے اصول سمجھ نہیں آتے ۔نوڈلز پسند ہیں تمہیں پھر بھی انکو کھانے سے انکار کر رہی ہو۔ حالانکہ چکن فلیور ہے یہ
    گوارا کے کہنے پر وہ چند لمحے اسے دیکھنے لگی۔
    جانے دو ۔
    اس نے سر جھٹکا اورکھانے لگئ۔
    یقینا وہ بھی خفا ہونے لگی تھی۔ اتنی سی بات پر؟ اریزہ کو افسوس ہوا۔
    تمہیں پتہ ہے کوریا میں موسم نے رخ بدلا ہے۔ بارشوں میں سات فیصد تک کمی آئی ہے۔۔ ایسا چلتا رہا تو جانے اگلے چند برسوں میں کتنی موسمیاتی تبدیلی آجائے۔
    وہ فکرمند سے انداز میں کہہ رہی تھی۔ اریزہ نے گردن موڑ کر اسکی شکل دیکھی۔ خفگی کا دور تک شائبہ نہ تھا وہ بالکل آرام سے اگلا موضوع شروع کر چکی تھی۔۔
    ہمارے گائوں میں بارش ہوتی ہے نا تو۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرے شہر میں بارش ہوتی ہے جب بھی۔۔
    میرے شہر میں بارش ہوتی ہے جب بھی۔۔
    میرا تکیہ بھیگ جاتا ہے۔۔۔۔
    سنتھیا اسکے بیڈ پر دراز موبائل استعمال کررہی تھی۔ کہ شعر وارد ہوا جھوم کے شاعرانہ انداز میں تکیہ کھینچ کر اس کو آغوش میں دبوچ کر آنکھیں میچ کر بولی۔
    تو بارش سے قبل بستر اٹھا لیتیں نا پھوہڑ ۔
    اریزہ اپنے کمرے کی بڑی سی فرنچ ونڈو میں بیٹھی ٹیرس کا نظارہ کرتی آنکھیں میچ کر بولی تھی۔ اس کھڑکی میں اس نے بابا سے کہہ کر چبوترہ بنوایا تھا جس پر نرم آرام دہ کائوچ سا بنا ہوا تھا۔ یہ اسکی پسندیدہ جگہ تھی بیٹھنے کی کشن سے کمر ٹکائے وہ دونوں سہیلیاں گھنٹوں یہاں بیٹھ کر باتیں کیا کرتی تھیں۔

    سنتھیا نے اسکے بیڈ پر رکھا کشن اٹھا کر اسے دے مارااور دانت پیس کر بولی۔
    شعر تھا یہ میرا۔۔ ٹانگ توڑ دی میرے شعر کی۔
    بے وزن تھا۔
    کشن کا وار کڑا تھا سیدھا سر پر لگا تھا سو بدلا فرض ٹھہرا گھور کر بے نیازی سے بولی۔
    سارا وزن تمہارے پاس جو ہے میرا شعر تو بھوکا مررہا ہے۔ کوئی پکوڑے شکوڑے ہی بنا دو۔۔بھوک لگ رہی ہے۔
    سنتھیا کونسا کم تھی۔ فورا بدلا لیا۔
    ہاں تو جائو نیچے کچن ہے دل بھر کر پکوڑے بنانا اور میرے لیئے دو نوڈلز کے پیکٹ بھی بنا لانا۔ اور سنو ذیادہ نا گلانا۔ چبانے والے ہوں بس۔
    اریزہ کے حکم شاہی پر اسکی آنکھیں ابل پڑیں ۔
    میں مہمان ہوں تمہارے گھر آئی ہوں شرم کر لو بجائے اسکے کہ میری خاطر مدارت کرو الٹا مجھ سے فرمائشیں کر رہی ہو۔۔
    ہاں تو تمہیں غیر تھوڑی سمجھتی ہوں میں۔ بنا لائو نا نوڈلز بہن نہیں ہو۔ چھوٹی بہن ہو نا میری۔
    اریزہ نے منت بھرے انداز میں کہا تو وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
    ایک پیکٹ بنائوں گئ۔ ایک کافی ہوتا ہے نرا فیٹ ہوتے ہیں نوڈلز۔
    اس نے وارننگ دینے والے انداز میں کہا۔
    اچھا اچھا ایک ہی بنا لائو بارش ختم ہونے سے قبل۔
    اریزہ کی اگلی ہدایت تیار تھئ۔
    دنیا بارش میں پکوڑے کھاتی ہے گلگلے تلتی ہے ایک تم ہو نوڈلز چبانے کی شوقین۔
    ہائے بارش میں نوڈلز کتنا مزا دیتے تم کیا جانو۔ میرا دوسرا پیار ہیں نوڈلز۔۔
    وہ جھوم کر بولی۔ تو سنتھیا جو چپل پہن رہی تھی چونکی
    دوسرا؟ پہلا کون ہے بھئ؟
    میرا پہلا پیار ہیں۔بارشیں دل کرتا بس ہوتی رہیں ہوتی رہیں میں دیکھتئ رہوں ۔۔
    اس نے لمحے بھر کا بھی توقف نہ کیا تھا جواب دینے میں۔
    ایک ہفتے سے تو لگاتار ہو رہی ہیں۔اور کتنی بارشیں کروانی ہیں۔اور ابھئ تو جتنی تیز ہو رہی ہے نا اس سے نالہ لئی ابل جاناہے۔
    سنتھیا کو بھی بارش پسند تھی مگر اریزہ جتنی جنونی نہ تھی۔ ابھئ بھی اسکا مزاق اڑاتی اسکے برابر آن بیٹھی بڑی فکر ہے نالے کی۔ جیسے تم تو نالہ لئ کے اوپر رہتی ہو۔
    اریزہ نے گھورا۔
    ہاں تو اسکے ارد گرد رہنے والے بھی تو میرے تمہارے جیسے انسان ہیں کتنی مصیبت اٹھانی پڑتی ہوگی انہیں۔۔
    سنتھیا نے کہا تو چھیڑنے کیلئے تھا مگر اریزہ سنجیدہ ہوگئ
    واقعی۔۔ یہ تو سوچا ہی نہیں تھا میں نے۔ ۔ بس اب اور بارش نہ ہو اللہ کرے۔
    جھٹ دونوں ہتھیلیاں پھیلا کر دعا مانگنے لگی۔
    کیا چیز ہو تم اریزہ۔ جیسے دعا کرنے سے فورا رک جائے گی۔ ایڈی تسی لاڈلی آسمان والوں کی۔
    سنتھیا کی اسکو دیکھ کر ہنسی چھوٹ گئ۔ وہ اسکا مزاق اڑا رہی تھی۔
    اریزہ ہتھیلیاں نیچے کرکے غور سے باہر جھانکنے لگی۔
    بارش تواتر سے برس رہی تھی۔
    اسکے چہرے پر واضح مایوسی چھانے لگی۔
    واقعی بارش تو رکنے والی نہیں لگ رہی۔نالہ لئی ابل جائے گا۔
    توبہ ہے اریزہ اب اداس نہ ہو جانا ویسے ہی کہا تھا۔ ایک تو تم فورا ہی ایمو ہو جاتی ہو۔
    سنتھیا کو اپنے مزاق پر افسوس ہوا۔ تو آگے ہو کر اسکے گلے میں بانہیں ڈال لیں۔مگر اریزہ کا قنوطی موڈ آن ہوچکا تھا۔ یاسیت سے بولی
    نہیں یار واقعی۔ میں تو یہاں سکون سے گھر میں بیٹھی بارش کے مزے لے رہی جانے کتنے لوگوں کو اس بارش سے یہ پریشانی ہو رہی ہوگی کہ انکے گھر پانی نہ آجائے۔ اور۔
    خدا کا واسطہ ہے۔ ہر چیز کو اتنی گہرائی سے سوچنا چھوڑدو۔ زندگئ ایسے نہیں گزرتی۔ ہر وقت دوسروں کی فکر میں رہو گی تو خود خوش کب ہو پائو گئ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے۔۔
    گوارا نے اسکی بے توجہی محسوس کرکے ہلایا۔تو وہ چونک اٹھی۔
    تم نے نہیں سنا نا میں نے کیا قصہ سنایا ؟
    گوارا کو یقین تھا۔اس نےشرمندگی سے سر ہلایا۔
    بکواس سا ہی قصہ تھا جانے دو۔ تم کس کے بارے میں سوچ رہی تھیں۔
    وہ مائل بہ شرارت ہوئئ۔
    سنتھیا۔ اس نے بلا توقف کہا تھا۔گوارا چپ ہی رہ گئ۔
    مجھے یاد آرہی ہے وہ۔ مگر اسے کیا میں بالکل یاد نہیں آتی؟
    اسے جیسے دکھ ہو رہا تھا۔
    تم مل لو جا کے اس سے ۔ مجھے ویسے حیرت ہورہی ہے وہ لڑکی دیکھتے ہی دیکھتے بدلی ہے۔ کہاں تو تم دونوں میں اتنا پیار تھا کہ میں اور جی ہائے حیران ہوتے تھے اور۔
    گوارا کے کہنے پر وہ بھی جوابا بات کاٹ کے پوچھ بیٹھی۔
    جی ہائے یاد نہیں آتی تمہیں؟
    آتی ہے۔ گوارا نے بھی بلا توقف جواب دیا۔
    تم نے اسے منانے کی کوشش بھی نہ کی ؟
    اریزہ کرید رہی تھئ۔
    کی تھی۔ مگر وہ مجھ سے بات تب کرے گی جب میں تمہیں اس گھر سے نکل جانے کا کہوں گی۔ یہ اس نے شرط رکھی ہے جو ظاہر ہے میں نہیں مانوں گی۔
    اسکا انداز قطعی تھا۔
    تم مجھے چھوڑ سکتی تھیں وہ تمہاری پرانی دوست ہے۔
    اریزہ کے کہنے پر اس نے بغور اسے دیکھا۔ پھر جتا کر بولی۔
    دوست نیا پرانا نہیں پرخلوص ہوتا ہے۔
    گوارا کے کہنے پر وہ چپ سی ہوگئ۔
    ویسے سنتھیا تمہیں کیوں یاد آرہی؟ اس دن ایڈون بھی آیا تھا ملنے سے اس نے کچھ کہا کیا؟
    گوارا کو لگا تھا وہ خود ہی اسے بتا دے گی مگر اس کا ایسا ارادہ نہ تھا شائد جبھی پوچھ لیا۔
    اریزہ برستی بارش پر نگاہیں جمائے بیٹھی تھی۔ وہ خالی پیالہ لیکر اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اندر جانے کو مڑی تب اسے پیچھے سے اریزہ کی آواز آئی۔
    ایڈون چاہتا ہے میں سنتھیا کو منائوں کہ وہ ابارشن کروالے۔
    کیا ؟
    اسکے منہ سے حیرت بھری چیخ سی برآمد ہوئی تھی۔
    کیوں ؟ وے؟
    یہ تو انکا پہلا بچہ ہے نا ؟ کیسے سوچ سکتا ہے وہ ایسا۔۔
    گوارا کے پے در پے سوال وہ حیران ہی تو رہ گئ۔ اسکا ردعمل بالکل غیر متوقع تھا۔
    تمہیں پتہ تھا اس بات کا کیسے؟؟؟
    اریزہ یہیں اٹک گئ۔۔
    گوارا نے کندھے اچکائے۔
    ہاں یون بن نے بتایا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسنوکر لگا ہوا تھا اس نے سیدھا نشانہ لیا تھا۔ سفید بال ہایون کی ہاف بال کو اچھال کر دور کرتی راستہ بناتی سیدھا میز کی جیب میں گئ تھی۔کوئی اور موقع ہوتا تو ہایون نے شور ڈال دینا تھا مگر اس وقت بظاہر میز پر ہی نظر جمائے وہ مکمل طور پر کہیں اور گم تھا
    یون بن نے اسکی بے توجہی محسوس کرکے فورا فائدہ اٹھایا اور اپنی دو تین گیندیں سیدھی غائب کر لیں۔
    تم ہار گئے ہایون۔
    کم سن جو سوجو پیتے ہوئے سکون سے کائوچ پر دراز میچ دیکھ رہا تھا یون بن کی آواز پر چونک کر مڑا۔
    ہیں واقعی؟
    دے ؟ ہایون چونکا پھر مسکرا کر سر ہلاتا ہوا کم سن کے پاس آن بیٹھا۔
    سامنے میز پر سوجو اور ووڈکا رکھے تھے۔ اس نے سوجو بھر کر گلاس منہ کو لگا لیا۔
    تم واقعی ہار گئے؟ یقینا یون بن نے بے ایمانی کی ہوگی۔
    کم سن حیرت کے مارے اٹھ بیٹھا ۔ یون بن دانت نکالتا انکے پاس فلور کشن گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے کندھے اچکا کر بولا
    میں ماہر ہوتا جا رہا ہوں۔ تم یہ بھی کہہ سکتے تھے۔
    نہیں تمہیں میں کبھی یہ نہیں کہہ سکتا۔ بچپن سے آج تک تم کسی چیز میں ماہر نہیں ہو نا بن سکتے ہو کیونکہ تمہیں سوائے لڑکیوں کے کسی چیز میں دل لگانے کی عادت ہی نہیں ہے۔
    کم سن نے ناک چڑھا کر کہا تو یون بن نے کھل کر قہقہہ لگایا۔
    بات تو سچ ہے۔مگر یہ ہمارا چیمپئین کہاں کھوتا جا رہا ہے؟ مجھے لگ رہا ہے اسکو بھی کسی سے پیار ہوتا جا رہا ہے۔
    وہ آنکھیں مٹکا کر قافیہ ملا کر بولا۔
    ہایون نے ایک نظر اسے دیکھا پھر گلاس بھرنے لگا۔
    ڈرائیو کرنا ہے ابھی تمہیں۔
    کم سن نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔ وہ رک بھی گیا۔ ہاتھ میں تھاما جام واپس میز پر رکھ دیا۔
    میں ویسے ہایون پر رشک کرتا ہوں۔ کتنا سیلف کنڑول ہے اس میں۔ کوئی شراب ہاتھ سے رکھ سکتا ہے بھلا وہ بھی کسی کے کہنے پر۔
    یون بن اسکا مزاق اڑا رہا تھا سراسر
    میرے کہنے پر ہر کسی کو یہ اعزاز حاصل بھی نہیں ہو سکتا۔
    کم سن نے جتایا۔
    میں تو گوارا بھئ اگر میرے ہاتھ میں آیا جام واپس رکھنے کو کہے تو نہیں رک سکتا۔ فی الحال اس سے ذیادہ اہم اور محبوب میری زندگی میں اور کوئی نہیں۔
    وہ کندھے اچکا کر اپنے لیئے جام بنانے لگا۔۔
    ایڈون جاب کیلئے کہہ رہا تھا تمہارے دفتر میں کوئی سین بن سکتا ہے اسکا ؟
    یون بن نے کہا تو کم سن سوچ میں پڑا۔
    ہاں چاہیئے تو ہیں۔ اس سے کہنا آکر مل لے۔ وہ کر کیا رہا ہے آجکل۔ ؟
    پھنسا ہوا ہے اپنے مسلئوں میں دو جابز کر رہا ہے مگر پیسے کم پڑ رہے ہیں۔۔
    یون بن سرسری سے انداز میں ذکر کر رہا تھا۔
    ایڈون کو بھی واپس چلا جانا چاہیئے تھا۔ اور ساتھ اسکی منگیتر کو بھی یہاں انکو دوبارہ ایڈمیشن لیکر نئے سرے سے پڑھائی شروع کرنی ہوگی سالک شاہزیب دونوں اسی لیئے رکے نہیں کہ دو سال ضائع ہو جائیں گے۔
    کم سن کے کہنے پر یون بن کچھ کہتے کہتے رکا۔ پھر ہایون کوبغور دیکھتے ہوئے بولا۔
    اریزہ بھی تو نہیں گئ۔ اسے کم از کم ضرور چلے جانا چاہئے۔ بے کار میں یہاں وقت ضائع کر رہی ہے۔
    کم سن فورا بولا
    اریزہ جاب کر رہی ہے ہمارے یہاں۔
    ہایون چپ بیٹھا تھا بے تاثر چہرے کے ساتھ وہ اسکے چہرے سے اندازہ نہ لگا سکا۔
    مجھے تو لگتا ہے اریزہ ایڈون کی وجہ سے نہیں گئ۔
    یون بن کی بات پر ہایون نے چونک کے اسے دیکھا تھا۔
    یون بن نے مسکراہٹ چھپانے کو گلاس منہ سے لگا لیا۔
    کم سن الجھن آمیز انداز میں دیکھنے لگا۔
    کیوں؟ بھلا ۔
    کیونکہ اریزہ اور ایڈون ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔
    یون بن نے جیسے دھماکا کیا تھا۔ہایون کا رنگ واضح طور پر بدلا تھا۔
    کییہہ سوری۔ ( کیا بکواس ہے)
    ہایون تپ کر بولا تھا
    مجھے ایڈون نے خود بتایا ہے۔ نشے میں دھت ہو کر وہ اریزہ کا نام پکار کر رو رہا تھا۔ شاہزیب بھی ساتھ تھا۔ بول تو وہ اپنی زبان رہا تھا مگر جس طرح شاہزیب نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا اور چپ کرادینا چاہا اس سے میں نے اندازہ لگایا اور یہ بالکل غلط اندازہ نہیں ہے۔
    یون بن نے بتایا تو کم سن سر کھجانے لگا۔
    اچھا واقعی حیرت ہے۔ سنتھیا کو نہیں پتہ کیا ؟ اگر ایسی بات ہے تو اسے ان دونوں کے بیچ سے ہٹ جانا چاہیئے۔
    وہ مزید بھی کچھ کہتا مگر خاصی آواز کے ساتھ
    ٹھک کرکے ہایون نے گلاس میز پر خالی کرکے رکھا تھا کہ دونوں خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگے۔
    میں پہلے جاتا ہوں ۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا
    کیا ہوا۔ ہایون؟ چڑھ تو نہیں رہی؟ ڈرائیو کرلوگے؟
    کم سن نے ہاتھ تھام کر روکنا چاہا۔
    کین چھنا ( ٹھیک ہے) وہ ہاتھ چھڑاتا تیز تیز قدم اٹھانا باہر نکل گیا
    اسے کیا ہوا؟ کم سن نے حیران ہو کر یون بن سے پوچھا۔ جوابا وہ بوتل سے اگلا جام بناتے لاپروائئ سے بولا
    پیار۔۔ اسکو اریزہ اور ایڈون والی بات ہضم نہیں ہوئی
    کم سن نے اسے گھور کر دیکھا۔
    یہ جو سب کہانی بنائی ہے خود سے بنائی ہے نا؟
    تھوڑی سئ۔ یون بن نے آنکھ ماری۔
    کیا چیز ہو تم۔ کیا ضرورت تھی۔ ایویں۔ کم سن سر جھٹک کر اپنا جام اٹھا کر منہ سے لگانے لگا۔
    کہانئ میں صرف اتنا میں نے شامل کیا ہے کہ اریزہ بھی ایڈون کو پسند کرتی ہے۔ اریزہ کا پتہ نہیں۔ وہ اگر کرتی بھی ہوگئ تو اپنی سہیلی کے پریگننٹ ہونے کا سن کے پیچھے ہٹ گئ ہوگئ۔ یہ میرا اندازہ۔
    اسکی بات ادھوری رہ گئ تھی کیوںکہ کم سن کو اچنبھے کے مارے اچھو ہوا تھا منہ میں بھری شراب کی پھوار نکلی تھی جو سیدھا اسکے منہ پر آئی تھی۔
    کیا؟
    وہ حیرت کے مارے آنکھیں کھولے گھور رہا تھا۔
    کیا کیا ؟ سارے شاک آج ہی لگنے۔ ساری شراب ضائع کردی۔
    یون بن اپنے چہرے ہر ہاتھ پھیرتے بھنا رہا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پولیس اسٹیشن میں بیٹھے اسے اور کوئی نام ذہن میں نہ آسکا ۔ یون بن کو کال کی تو وہ آدھے گھنٹے میں پہنچ گیا تھا۔ اپنے والد کے اثر رسوخ کا استعمال کرکے وہ اسے چھڑا کر ہی اسٹیشن سے نکلا تھا۔ پولیس نے اسے ہر اسپتال کے چکر لگنے پر رپورٹس کی نقل جمع کروانے کی ہدایت دی تھی۔
    تمہار ابہت بہت شکریہ۔ میرے ذہن میں مدد کیلئے تمہارے سوا کوئی نام نہ ذہن میں آیا۔
    ایڈون کی آواز بھرا رہی تھی۔ یون بن اسے لیکر قریبی کنوینس اسٹور لے آیا تھا۔ اسے باہر کھلی فضا میں بٹھا کر اسکے لیئے سوجو اور ریمن لیکر آیا
    ا س نے بھاپ اڑاتے ریمن کو ایک نظر دیکھا تھا پھر سوجو اٹھا لی تھی۔
    اگر سنتھیا تیار نہیں تو تم ابارشن کروانا کیوں چاہتے ہو۔؟
    یون بن حیران ہوا تھا۔۔
    تم پاکستانی معاشرے کو نہیں جانتے۔ یہ بچہ ہم دونوں کیلئے پاکستان داخلہ بند کروادے گا۔ میرے والدین مجھ سے قطع تعلق کرلیں گے۔ سنتھیا کے والدین اسکو اپنا بھی لیں تو بھی میری شامت آجائے گی۔ سب سے بڑھ کر ابھی میری عمر کیا ہے تعلیم ادھوری ہے میں بچے کا کھڑاگ کیسے پال سکتا ہوں وہ بھی ایسا بچہ۔
    ایڈون جیسے پھٹ پڑا تھا۔ ایک ایک ممکنہ مسلئہ جو وہ سنتھیا کو سناتا رہا سب اسکے گوش گزار کیا وہ بھی خاموشی سے سنتا رہا۔
    کہہ تو صحیح رہے ہو۔ یون بن نے سر ہلایا۔
    بہت جلدی ہے۔ سنتھیا نہیں جانتی کیا اپنے اس فیصلے کےمضمرات۔
    جانتئ کیوں نہیں ہے۔ بس ضد سوار ہے اسے۔ اس بہانے وہ مجھے عاجز کرنا چاہتی ہے بس۔ اپنی زندگی دائو پر لگا رہی ہے ساتھ میری بھی۔۔
    وہ دانت کچکچا رہا تھا۔
    میں اور گوارا ہائی اسکول میں تھے جب ایکدن گوارا نے آکر مجھے بتایا تھا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ میں بالکل ایسے تمہاری طرح گھبرایا تھا پریشان ہوا تھا ۔ پھر جب میں نےگوارا کی شکل دیکھی تو وہ مجھ سے بھی ذیادہ گھبرائی پریشان تھی۔ میرے نزدیک سب سے اہم چیز جانتے ہو کیا بن گئ تھئ؟
    یون بن نے ریمن کا پیالہ گھسیٹ کر اپنی جانب کر لیا تھا۔ ایڈون سوالیہ نگاہ سے دیکھنے لگا
    گوارا کی پریشانئ دور کرنا۔ میں نے اسے گلے لگایا تسلی دلاسے دیئے سمجھایا اتنا کہ وہ مسکرادی۔اسے لگنے لگا اسکی ساری پریشانئ میں نے اپنے سر لے لی ہے۔
    وہ نوڈلز سے منہ بھر کے چبا رہا تھا۔ اچھا خاصا بد تمیزی سے کھاتا یون بن ساتھ بول بھئ رہا تھا۔ ایڈون نے اسے دیکھ کر سرجھٹکا۔
    کروایا تو ابارشن ہی نا بن رہا ہے سادھو۔
    اس نے سوچا تھا۔
    ہم اکٹھے کلینک گئے تھے ٹیسٹ ہوئے اور نتیجہ آنے میں دو دن لگے۔ ہمیں پتہ لگا کہ گوارا کا محض یہ اندازہ تھا اور وہ پریگننٹ نہیں تھی۔
    ہم کافئ احمق تھے چند سال قبل تک۔ وہ ہنسا۔
    ان دو دنوں میں ہم نے اپنے بچے کی شادی تک بھئ سوچ لی تھی اور ابارشن کا فیصلہ بھی لے لیا تھا۔
    ایڈون اس بار چونک کے دیکھنے لگا تھا۔ یون بن مسکرادیا۔
    محبت سے منائو گے تو مان جائے گئ ۔۔
    نہیں اریزہ کبھئ نہیں مانے گی۔ ایڈون روانی میں بولا پھر ٹھٹک کر درستگی گی
    سنتھیا نہیں مان رہی ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایڈون نے گہری سانس لی۔ اور اٹھ بیٹھا۔ چند لمحے سوچنے کے بعد اٹھ گیا۔ رخ سنتھیا کے کمرے کی جانب ہی تھا۔ اس نے ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلتا گیا۔ اس احمق لڑکی نے پھر لاک نہیں کیا تھا۔ کھڑکی کی چوکھٹ پر کہنیاں ٹکائے باہر جھانکتی وہ دھیرے سے دروازہ بند کرتا اسکے پیچھے آن کھڑا ہوا تو احساس ہوا بے آواز رو بھی رہی تھی۔چوکھٹ پر دھرا اسکا سانولا ہاتھ بارش کی پھوار سے نم ہورہا تھا مگر وہ بے حس سی دنیا و مافیہا سے بے خبر کھڑی تھی۔ اسکی آمد کا جانے احساس ہی نہ ہوا تھا یا نظر انداز کر گئ تھی۔ اس نے مگر اسکےلرزتے وجود کو بہت احتیاط سے اپنی بانہوں میں لے لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں زندگئ بھر صبح دوپہر شام بریانی کھا سکتی ہوں۔
    اسے یاد تھا ایک دن ترنگ میں آکر اس نے صارم سے کہا تھا
    اس وقت ناشتے کی میز پر بیٹھی بریانی سے پلیٹ بھرے وہ یہی سوچ رہی تھئ کہ انسان کتنا ناشکرا ہے۔ چار دن لگاتار صبح دوپہر شام بریانی گرم کرکے کھا کھا اسکا دل اوب گیا تھا۔
    پہلا دن بریانی کی پلیٹ ناشتے میں گرم کی چٹخارے لیکر کھائی۔ گھر واپس آکر پھر بریانی کھائی خدا کا شکر ادا کیا۔ رات کو کھائی۔ صبح کھائی۔ اگلے دن دوپہر کو کھائی رات کو کھائی پھر ہوپ کا بنایا ناشتہ کھایا پھر بریانی آج ہوپ گھوڑے بیچ کے سو رہی تھی گوارا جا رہی تھی اسے بریانی کھاتے دیکھ کر بولی۔
    تمہاری تو موج ہوگئ کہو تو اگلے ایک ہفتے کا بھی اسٹاک کردوں بریانی کا ؟
    شرارت سے ہنستی وہ اسکی شکل دیکھتی سراسر مزاق اڑا رہی تھی۔ اس نے جل کر بھر کر چمچ منہ میں رکھ لیا۔ تیار ہو کر بے مقصد پھرتی رہی ہوپ کا اٹھنے کا ارادہ نہیں لگتا تھا۔ ایک دو بار کمرے میں گئ مگر موصوفہ بے سدھ تھیں۔
    آخر جب ساڑھے گیارہ ہونے لگے تو قریب جا کر ہلا بھی دیا۔
    کیا ہوا۔ اس نے اپنی سرخ سرخ آنکھیں اس پر جمائیں۔
    آج نوکری پر نہیں جانا ؟ اریزہ کے پوچھنے پر اس نے بمشکل جواب دیا اور کروٹ بدل لی جواب تھا
    نہیں۔۔
    بتاتو دیتیں۔ وہ روہانسی ہوگئ۔ اتنی دیر سے اسکے اٹھنے کا انتظار کرتے اس نے بے مقصد ٹہلتے وقت گزار دیا۔ اب جانے دیر ہی نہ ہو جائے۔ وہ لشتم پشتم بیگ سنبھالتی اپارٹمنٹ سے نکلی تھی۔
    کاکائو ایپ سے اس نے اپنی منزل کا تعین کیا تھا۔ بس اسٹاپ تک تو آگئ تھی یہاں سے اب بس کونسی پکڑنی تھی ۔ وہ گومگو میں تھی۔ ایک لڑکی شارٹ اسکرٹ پہنے تیار شیار بے نیازی سے کھڑی موبائل استعمال کر رہی تھی۔ اس نے اسی سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔
    چھوگیو( معاف کیجئے گا) یہ اس جگہ پر کونسی بس جائے گی۔
    اس نے ذرا کی ذرا اسکی رواں انگریزی کو دیکھا پھر شستہ انگریزی میں بولی۔
    میں انگریزی نہیں سمجھ سکتی۔
    دے ؟ اسکا منہ کھلا وہ موصوفہ سر جھٹکتی بس میں سوار ہو گئیں۔
    آگاشئ بس میں سوار ہونا ہے؟ ڈرائور پوچھ رہا تھا ۔۔
    اس نے بس نمبر دیکھا پھر نفی میں سر ہلا دیا۔
    بس کا دروازہ بند ہوا اور بس آگے بڑھ گئ۔ ایپ میں صرف ہنگل لکھی تھی ۔
    کیا مصیبت ہے۔ وہ بھنائئ۔
    دھوپ اس وقت تیز تھی کل کے برعکس موسم خشک اور سرد ہو چکا تھا۔۔ اب کیسے جائوں ٹیکسی لوں؟ جانے کتنا کرایہ لگے میرے پاس تو ابھی پیسے بھئ نہیں پاپا نے بھجوائے یا نہیں پتہ نہیں۔
    وہ منہ بناتی اسٹاپ کے شیڈ میں بنچ پر آن بیٹھی۔ لی منہو کی کوئی فین میٹنگ کا اشتہار تھا۔اتنا اصلی دکھائی دے رہا تھا پورے قد کا پوسٹر نہیں تھا۔ پیٹ تک کا تھا مگر انسانی قد کے حساب سے ہی تھا دور سے دیکھو تو لگے کھڑا ہی ہے لی منہو۔ مگر اسکی ٹانگیں نہیں ہیں۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا پھر پوسٹر کے پاس آکھڑی ہوئئ۔ پہلی تصویر ۔۔ناکام کوشش۔۔ ذرا سا زاویہ بدلا دوسری تصویر یہ بھی ناکام۔ غلطی کہاں ہو رہی تھی۔ اب سمجھ آئی۔ ذاویہ دیکھ کر ذرا سا لی منہو کی جانب جھکا کر سیلفی لی تو تصویر اتنی شفاف اور اصلی لگی کہ خود حیران رہ گئ لگ رہا تھا اس نے لی منہو کے ساتھ ہی تصویر کھنچوائی ہے۔
    کراپ کر لوں تو ڈینگئیں مار سکتی ہوں صارم کے آگے۔ وہ سب بھول بھال کے اگلی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ دستی کراپ کی موبائل لاک کرکے ترنگ میں مڑی تو بس سے اترتے کئی لوگوں کو دبی دبی ہنسی اسے دیکھ کر ہنستے پایا۔
    وہ کھسیا گئ۔ بال کان کے پیچھے اڑس کر ایک ہلکی سی چپت بھی لگا لی خود کو۔
    چھٹی کر لیتی ہوں۔ اجنبئ شہر میں اجنبئ بس میں بیٹھ کر اجنبی منزل پر اترنے سے تو بہتر ہے۔
    یہ سوچنا تھا کہ ہلکی پھلکی ہوکر واپسی کیلئے مڑی۔ تو ایکدم ترنگ میں مڑنے سے وہ سامنے سے آتے اس چندی آنکھوں والے سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔
    چھے سو۔۔
    بولتے ہوئے زبان دانتوں تلے دبا لی۔ ایک تو یہ بندہ زندگی بھر جب کبھی کورین میں معزرت کروں گئ یہ بندہ ذہن میں آن وارد ہوگا۔ علی کے چہرے پر اسکا گریز سمجھ کر بے ساختہ مسکراہٹ در آئی۔
    اس دفعہ آپ درست لفظ کا ہی انتخاب کر رہی ہیں۔
    اسکا انداز سادہ تھا مگر وہ ناک چڑھا گئ۔
    سوری۔
    ہے تو لڑکا ہی نامعلوم اسکے نرم رویئے سے کیا مطالب نکال لے۔ یہاں کے تو لڑکے ہیں بھئ ٹھرکی۔ سوچتے ہوئے ذہن میں کل کی ہایون کی حرکت تھی۔
    اٹس اوکے۔ وہ مسکرا دیا۔ وہ اسکے برابر سے ہو کر آگے بڑھ آئی۔
    بس جو کوئی بھی تھی اسکی آنکھوں کے سامنے سے گزر گئ۔ شائد اسے ٹھہرے وقت ہو گیا۔تھا۔
    اس نے بس تو نہیں کل والا ڈرائیور پہچان لیا تھا۔
    آہجوشی۔ وہ پکاری اور بس کے پیچھے تھوڑا سا بھاگی بھی۔ مگر بس کی رفتار بڑھ ہی گئ۔ آگے بڑھتے علی نے حیرت سے اسے دیکھا۔
    شٹ۔ وہ مٹھیاں بھینچ رہی تھی۔
    پانچ منٹ بعد دوسری بس آجائے گئ۔
    اس نے تسلی دینے کو کہا تو وہ جھلا گئ۔
    مگر مجھے کیسے پتہ لگے گا کہ کونسی بس پکڑنی ہے۔ ابھی تو یہ کل والے ہی بھائی میرا مطلب ہے کل والا ہی ڈرائور تھا۔مجھے یہی بس پکڑنئ تھئ۔
    اسکی منطق پر وہ اسے یوں دیکھنے لگا جیسے اسکے سر پر سینگ ہوں۔
    ڈرائور کون یاد رکھتا میرا مطلب بس نمبر یاد کرتے ہیں نا۔
    بھئ مجھے نہیں یاد نا بس نمبر گوارا نے بتایا تھا بھول گئ۔ وہ بچوں کی طرح منہ پھلا کر بولی تھی۔
    کہاں جانا ہے آپکو۔ علی مسکراہٹ دبا کر پوچھنے لگا۔ اس نے لمحہ بھر سوچا پھر موبائل میں بک مارک ہوئی منزل اسے دکھائئ۔
    یہ ۔ یہ جگہ ہے لی شاپنگ کمپلیکس مگر مجھے یہ نہیں پتہ کونسی بس وہاں جائے گئ۔
    علی اسکا موبائل لیکر آگے بڑھ گیا۔ وہ بھاگ کے پیچھے آئی وہ بس اسٹاپ کے شیڈ آکر ایک جانب گلاس وال پر ڈیجیٹل روڈ میپ میں روٹ دیکھ رہا تھا۔ بس کی آمدو رفت کے اوقات بمعہ روٹ ہنگل اور انگریزی دونوں زبانوں میں موجود تھے۔
    یہ دس منٹ بعد بس نمبر 11 آئے گی آپ اس میں سوار ہو جائیئے گا۔ ابھی بس نمبر 15 آنے والی ہے۔
    اس نے انگریزئ میں بتاتے ہوئے موبائل واپس کیا۔ وہ ششدر کھڑی تھی۔ چونکی۔
    گھمسائےو۔۔۔ وہ پھر شائد کچھ غلط بول گئ تھی کیونکہ مخاطب کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ آئی تھی۔ اس نے فورا انگریزی پر تبدیل کیا خود کو
    آنیا۔ ۔شکریہ۔
    ہلکا سر جھکا کے شکریہ کہا ۔
    مائی پلیژر۔کرم۔ اس نے بھی اجازت چاہی۔ کندھے پر لیپ ٹاپ بیگ ٹھیک کرتا وہ پیدل آگے بڑھ گیا تھا۔
    اسے دور جاتے دیکھ کر اس نے گہری سانس لی پھر اس دو بالشت کی اسکرین کو دیکھتے ہوئے بڑبڑائی
    میری آنکھیں واقعی پھٹو ول ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکی کسلمندی سے کروٹ بدلتے آنکھ کھلی تو کھڑکی سے آتی مدہم روشنی میں نک سک سے درست ایڈون شاپر احتیاط سے اسکے سرہانے رکھتا نظر آیا۔
    اٹھ گئیں۔وہ خوشگوار انداز میں مسکرایا۔
    ہمم۔۔ وہ انگڑائی لیتی اٹھ بیٹھئ۔
    تم اتنی صبح صبح کہاں جا رہے ہو۔
    جمائی لیتے ہوئے اس نے پوچھا تو ایڈون ہنس دیا
    صبح؟ بارہ بج رہے۔ آنکھ ہی نہیں کھلی میری صبح ایک جگہ جانا تھا انٹرویو دینےمس ہو گیا اب ڈیوٹی پر۔جا رہا ہوں۔ تم بتائو ٹھیک سے سوئیں۔۔۔
    اسکے پوچھنے پر وہ جھینپ سی گئ۔
    سر ہلا کر جواب دیا۔ اسکے چہرےکی رنگت ایکدم سرخ پڑ گئ تھی۔ ایڈون مسکرا دیا
    اچھا یہ کچھ ناشتے کا سامان ہے ناشتہ کرلینا میں چلتا ہوں۔
    وہ دھیرے سے اسکے سر کے بال بکھیرتا ہوا بولا۔
    ہممم۔ وہ قصدا نگاہ چرا رہی تھی۔
    اوکے خدا حافظ۔ وہ کہتا ہوا احتیاط سے دروازہ بند کرتا چلا گیا تب اس نے سر اٹھایا۔ کمرے میں دھوپ کی روشنی پھیلی تھی۔ وہ کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی۔ کل۔کی نسبت اس وقت طبیعت کی سب کثافت دور تھی۔ بھوک کا احساس بھی ہو رہا تھا۔ وہ یونہی دیکھنے کیلئے کہ ناشتے میں سامان کیا ہے شاپر میں جھا نکنے لگی۔ چیز کیک کریم چیز چیز سینڈوچ دودھ پیکٹ اسے ایکدم بو چڑھی تھی ۔ ابکائی سی آئی۔ وہ فورا پیچھے ہوئی اسکا سب کھایا پیا جیسے باہر آنے کو تھا روکنے کی کوشش کرتی وہ دروازے کی جانب بڑھی مگر الٹی رک نہ سکی۔ دروازہ خراب ہو گیا۔ پے در پے دو الٹیاں۔
    اسکا وجود کانپنے لگا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باتھ روم جا کر چہرے پر چھپاکے مارے تو طبیعت کچھ بحال ہوئی۔ پوچھا لاکر صفائی بھی خود کرنی پڑی۔ کمرے میں ناگوار بو پھیل گئ تھی۔ پنکھا ونکھا تو تھا نہیں اس نے کھڑکی اور دروازہ کھولا خود پوچھا واپس رکھ کر واپس آئی تو لابی سے گزرتے ان دو لڑکیوں کو واضح طور پر اسکے کمرے سے باہر گزرتے ہوئے ناک بند کرتے اور بڑبڑاتے دیکھا۔ کمرے میں آکر والٹ میں پیسے دیکھے۔ یا تو کچھ باہر سے لیکر کھا لیتی یا ؟ اس نے دوسرے آپشن کا سوچا۔ اسٹور جا کر ائئر فریشنر خریدا کمرے میں ڈھیر سارا اسپرے کیا۔ شاپر پر بھئ کر دیا۔ بھوک کے مارے دم نکلنے لگا تھا۔ چیز سینڈوچ کو سانس روک روک کے کھایا مگر دودھ پیتے ہوئے پھر ابکائی سی آنے لگی ۔ اس نے دودھ رکھ دیا۔ اسکی بھوک بھی ختم نہ ہوئی تھی طبیعت بھی بے حد بوجھل ہو رہی تھئ اور جزباتئ طور پر بھی سہارا درکار تھا۔
    وہ وہیں گھٹنوں میں منہ دے کر گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔
    آپ اپنا کھانے پینے کا خوب خیال رکھیں آپ بہت کمزور ہیں۔
    ڈاکٹر کی ہدایت ۔۔۔
    وہ بستر پر گر سی گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میز پر طرح طرح کے کھانے سجے تھے بریانی مٹن کڑاہی نان سلاد شاہی ٹکڑے کسٹرڈ۔وہ ہرپلیٹ سے تھوڑا تھوڑا چکھتی ہوئی بریانی پر رکی۔۔ وہ بریانی پر کسٹرڈ ڈال کر مزے لیکر کر کھا رہی تھی۔
    اس نے کروٹ بدلی۔
    اریزہ اسکے لیئے فروٹ کیک لائی تھی کافی کے ساتھ۔
    چلو ہم کمرشل چلتے ہیں گول گپے کھانے۔
    اس نے پھرکروٹ بدلی۔
    بخار چڑھ چکا تھا اسے سرد ہوا ٹھٹرارہی تھی اس نے جسم سکیڑ کر خود کو گول مول کرلیا تھا۔
    تیسرا خواب تھا۔
    وہ ایک چھوٹا سا بچہ تھا جو اسکی گود میں رو رہا تھا۔اسکے ہاتھ میں فیڈر تھا اس نے اس بچے کو پلانا چاہا مگر بوتل یکا یک خالی ہوگئ۔
    بچہ مزید زور و شور سے رو پڑا۔
    بتائو کہاں سے پورا کروں میں اسکا خرچہ۔ میری بات مان لیتیں تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔
    ایڈون چلا رہا تھا۔
    سنتھیا یہ تم نے کیا کیا تم نے ہمیں کسی کو منہ دکھانے لائق نہ چھوڑا۔ بیٹا۔ میری ایسی تربیت تو نہ تھی۔۔ امی رو رہی تھیں۔
    نہیں امی وہ تڑپ کر انکی جانب بڑھی۔پس پردہ بچے کے رونے کی آواز حاوی تھی۔
    بیٹا ہم نے تو بھروسہ کرکے بھیجا تھا تمہیں۔۔ تم تو میری اچھی بیٹی تھیں۔
    بابا ایکدم بوڑھے لگنے لگے تھے۔
    بابا ایڈون ۔۔ ایڈون بھی تو۔
    اس نے صفائی میں جانے کیا کہنا چاہا تھا۔۔ کیا وہ یہ بتا رہی تھی کہ قصور وار ایڈون بھئ ہے۔۔
    یہ بچہ فساد کی جڑ ہے۔ ایڈون غصے سے بچے کی جانب بڑھا تھا۔
    نہیں ایڈون چھوڑو۔۔۔
    وہ خواب سے حقیقت میں واپس آئی تھی۔اسے روکتے ایک۔جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ پسیینے پسینے ہو رہی تھی کمرے میں ابھی بھی روشنی تھی۔ جانے وہ کتنی دیر سوئی مگر اسکی آنکھیں کھل گئ تھیں۔جن باتوں سے وہ نگاہ چرائے تھی جن حقیقتوں سے قصدا دھیان ہٹا رکھا تھا وہ خواب میں آکر اسے جھنجھوڑ گئ تھیں۔
    اسے نہیں یاد تھا کہ اس نے کبھی لگاتار روزے رکھے ہوں۔ کبھی بہت دیر بھوک برداشت کی ہو۔ وہ تو اریزہ سے ذیادہ کھا جاتی تھی اسے لگتا نہیں تھا اس کا وہ بھرپور فائدہ اٹھاتی تھی۔ اسے سردی کبھی نہیں لگتی تھی اریزہ کو ٹھنڈ ذیادہ لگتی تھی وہ اسکا مزاق اڑاتی تھی مگر یہاں سردی اسکی جان لینے پر تل گئ تھی۔ اس نے کبھی کٹھنائیاں نہیں جھیلی تھیں ہر مسلئے ہر پریشانی کا حل بابا نکالتے تھے ماما لاڈ اٹھاتی تھیں بابا کی تو وہ جان تھی۔ اسکی کبھی کوئی فرمائش نہ ٹالی تھی۔ یہاں تک کے ایڈون کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہونے کے باوجود انہوں نے اسکی خوشی کو مقدم جانتے ہوئے خود بہن سے بات کی تھئ۔ او راس نے کیا کیا تھا۔ انکی تربیت پر سوالیہ نشان لگا دیا؟ انکی محبتوں پر ایک محبت کو حاوی کردیا۔ اپنے لیئے خود مسلئے پیدا کر لیئے تھے۔
    وہ۔گھبرا کر بستر سے اتری۔ کھڑکی سے فراٹے سے ہوا آرہی تھی۔ اس نے پورا زور لگا کر اسے بند کیا۔ کھڑکی کی چوکھٹ پر ہاتھ رکھتے کل کا منظر تاذہ ہوا تھا۔ایڈون اسکے پیچھے آکھڑا ہوا تھا وہ جان کے انجان بنی تھی۔ اس نے رات یہیں گزاری تھی ۔۔۔۔وہ اپنی ماں باپ کی تربیت ایڈون کے پچھلے رویئے سب بھلا گئ تھی۔ یاد تھا تو بس اتنا کہ ایڈون کو نہ کھو دے کہیں۔ مگر کیا اس نے ایڈون کو پا لیا تھا ؟ ایڈون اسکو مستقل ابارشن پر اکسا رہا تھا ناراض ہو رہا تھا غصہ کرتا تھا۔اسے بھی ضد ہوگئ تھی کہ جب قصوروار وہ اکیلی نہیں تو کچھ مضمرات ایڈون بھی بھگتے مگر نقصان میں کون رہا ؟ وہ خود۔ اس وقت وہ اپنی ماں کے پاس ہوتی تو وہ اسے زمین پر پیر نہ رکھنے دیتیں۔۔ وہ اب انکو اپنا چہرہ تک دکھانے جوگی نہ رہی تھی۔
    بھوک کمزوری سردی ایڈون کی سردمہری ان تمام۔محاذوں سے لڑتے وہ پریگننسئ کی سب کٹھنائیاں کیسے جھیلے گی کسی بڑے یا تجربہ کار کی مدد کے بنا ؟

    خود سے لڑتے خود سے سوال کرتے وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھام کے وہیں چکرانے لگی۔ بیڈ تک جانے کی کوشش میں بے خیالی میں اپنے ہی بیگ سے ٹھوکر لگی تھی۔ پائوں کے انگوٹھے کا ناخن شائد ہل گیا ہوگا۔ درد کی شدید لہر نے اسے لپیٹ میں لیا تھا۔بمشکل کارنس کا سہارا لیتی بیڈ تک آئی تو صبح یا پیا آدھا دودھ کا ڈبہ اچھل کر زمین پر آگرا۔ بقیہ بچا دودھ فرش رنگین کر گیا تھا۔ اسے رونا آگیا تھا۔ اس کی صفائی کیلئے بھئ اسے خود ہمت کرنی تھی۔

    میں یہ سب نہیں جھیل سکتی۔ نہیں ۔۔ اس نے بے بسی سے سر ہلایا۔
    بہت مشکل ہے یہ سب۔۔
    میں نہیں کر سکتی یہ۔۔
    اس سے جو فیصلہ ایڈون اتنے دنوں میں نہ کرواسکا وہ اس نے چند لمحوں میں کر لیا تھا۔
    تکیئے کے پاس سے فون اٹھا کر اس نے فوری میسج ٹائپ کیا تھا۔
    ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لے لو میں ابارشن کیلئے تیار ہوں۔۔
    پیغام ایڈون کو جیسے ہی سینڈ ہوا چند لمحوں میں ہی جواب آگیا تھا۔۔
    جواب تھا
    ۔واقعی؟؟؟؟
    موبائل پر اسکی گرفت سخت ہوگئ تھی۔
    ۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔
    جاری ہے۔۔۔

    kesi lagi apko salam korea ki yeh qist? rate us below

    Rating
  • Salam Korea Episode 27

    Salam Korea
    by Vaiza Zaidi


    قسط 27

    صبح اسکی کافی دیر سے آنکھ کھلی تھی۔ اتوار تھا گوارا تو رات آئی ہی نہیں۔کسلمندی سے اس نے کروٹ بدلی حسب معمول ہوپ اٹھ کر بیڈ سے جا چکی تھی۔
    اس لڑکی کو نیند کیوں نہیں آتی۔ اس نے بڑبڑاتے ہوئے دوبارہ کروٹ بدلی اور سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر دیکھنے لگی۔
    ایک عدد پیغام آیا ہوا تھا۔ اس نے کھولا اور پڑھا
    پھر حیرت سے اس پیغام کو دیکھتی رہی۔
    انگریزی پیغام موصول ہوا تھا جس میں خوشخبری دی گئ تھی کہ اسے نوکری پر رکھ لیا گیا ہے۔منگل دوپہر اسے
    ایک بڑے سے سپر اسٹور میں بلایا گیا تھا جہاں اسکو مناسب تفصیل بتا کر ملازمت کے گھنٹے پورے کرنے تھے۔۔
    وہ تحیر سے دیکھتی اٹھ بیٹھئ۔ ۔ اسے یوں بیڈ پر جمے دیکھ کر باتھ روم سے نکلتی ہوپ نے ناک چڑھا کر پوچھا تھا۔
    کیا ہوا؟ کسی لڑکے نے ڈیٹ کی آفر کر دی؟
    دے ؟ وہ چونکی۔
    ہوپ نے ناک چڑھا کر دوبارہ اپنی بات دہرائی
    آنی۔
    اس نے نفی میں سر ہلایا پھر موبائل اسکو دکھایا۔
    یہ دیکھو مجھے جاب مل گئ۔
    ہوپ نے میسج پڑھا پھر ناک چڑھا کر بولی
    اسپیم میسج ہے۔ یونہی کوئی پیغام بھیجے گا جاب ملنے کا اور تم مان لو گی؟ غیر ملکی طلباء کو آف کیمپس نوکری کی اکثر اجازت نہیں ہوتی او راگر یونیورسٹی سے اجازت لے بھی لو تو نوکری کوئی دیتا نہیں ہے۔ سب ان معاملوں میں پڑنے سے گھبراتے ہیں۔
    ہوپ کی طویل توجیح۔ وہ چند لمحے منہ کھولے اسکی شکل دیکھتی رہ گئ۔
    کونسی یونیورسٹئ ؟ میں تو کسی یونیورسٹی کا حصہ نہیں
    اریزہ نے کہا تو وہ مزید ڈرانے لگئ
    پھر تو پکا اسپیم میسج ہے۔ لوگ بڑے بڑے فراڈ کرتے ہیں یوں میسج کرکے بلا کر غائب بھی کر سکتے ہیں اور۔۔

    مگر یہ وہی نمبر ہے جس پر رابطہ کرکے میں انٹرویو دینے گئ تھی۔اس نے بات کاٹی اس کا جوش دھیما پڑچکا تھا۔
    پھر مبارک ہو۔
    ہوپ کا انداز ہنوز تھا۔ٹھس سا۔ لاتعلقی سے کہتے وہ کمرے سے نکل گئ۔
    وہ دوبارہ میسج پڑھنے لگی۔پھر اکتا کر موبائل ایک۔طرف رکھتی فریش ہونے باتھ روم میں گھس گئ۔ نہا دھو کر باہر آئی تو ہوپ کچن کی میز پر بیٹھی اہتمام سے چاول اور سوپ تناول فرما رہی تھی۔
    وہ اسے قصدا نظر انداز کرتی فریج کھولنے لگی۔
    چاول پکے ہوئے ہیں تم کھا لو۔ میں نے ذیادہ پکا لیئے۔
    خاصا غیر متوقع جملہ ہوپ کے منہ سے نکلا تھا۔ وہ باقائدہ مڑ کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ ہوپ کو اندازہ تھا جبھی نگاہ بھی نہ اٹھائی۔
    سادہ ابلے چاول سادہ چکن سوپ ساتھ کمچی۔ ابلے چاول پر کمچی ڈال کر منہ میں رکھتئ اور سوپ کا چمچ منہ میں بھر لیتی۔
    وہ آٹا نکال کر پراٹھا بنانے لگی۔
    چاول سادہ ہیں چکن نہیں ڈالا گیا اس میں۔نا ہی سور کا گوشت ہے۔
    طنز میں ڈوبی آواز اسکی پشت سے ابھری تھی۔
    میں ناشتے میں چاول نہیں کھا سکتی۔ زندگی میں کبھی نہیں کھائے۔ ہمارا ناشتہ الگ ہوتا ہے باقی دن کے کھانوں کا اہتمام بالکل مختلف ۔۔
    اریزہ نے سادہ سے انداز میں وضاحت کی۔
    ناشتہ ، کھانا نہیں ہوتا کیا؟
    ہوپ حیران ہوئی تھی۔
    برصغیر کے لوگوں خاص کر پاکستانیوں کیلئے تو ناشتہ اہتمام پر مشتمل الگ ہی ہوتا ہے دن کے باقی وقت کے کھانوں سے۔
    اریزہ کے کہنے پر ہوپ نے کندھے اچکائے پھر خاموشی سے کھانے میں مگن ہوگئ۔
    اریزہ ناشتہ بنا کر ناشتہ کرنے بیٹھی تو کافی میکر بج اٹھا۔
    ہوپ ناشتہ ختم کرچکی تھی۔ سو فورا اٹھ گئ۔ کافی بنا کر ایک کپ اسکے برابر میں بھی رکھ دیا۔
    اسکو اتنی حیرت ہوئی کہ نوالہ چبانا بھول گئ۔
    ہوپ تھوڑی شرمندہ سی ہوئی۔
    تم مجھے ہمیشہ ناشتے کیلئے دعوت دیتئ ہو سو آج میں نے سوچا احسان اتار دوں۔
    کھردرا انداز وہ چاہ کر بھی بدل نہ پائی تھی۔۔ یہ ہوپ اسے حیران کرنے پر تلی تھی۔ سادہ سے گرے اپر ٹرائوزر میں ملبوس بالوں کا جوڑا سا بنائے میک اپ سے بے نیاز وہ کل کی نسبت اس وقت بالکل سادہ تھی مگر اسے اچھی لگی۔ ہر وقت کا پھولا منہ اس وقت پچکا ہوا تھا شائد اسلیئے۔
    اسکو اپنی اس مثال پر خود ہی ہنسی آگئ۔ جلدی سے سر جھکا لیا۔ نوالہ پھنس پھنس گیا اسے کھانسی سی آگئ۔
    یہ لو۔ ہوپ نے گلاس بھر کر پانی اسکی جانب بڑھایا۔
    آج ہوپ اسے حیران کرنے پر تلی تھی۔
    پانی کا گھونٹ بھرا تو منہ خراب ہوگیا۔
    ایک تو یہ لڑکی سدھر ہی نہیں سکتی۔ چائے سے ذرا سا ہلکا گرم پانی تھا۔ اس نے برا سا منہ بنا کر گلاس رکھا۔ پانی سے ہلکی ہلکی بھاپ اٹھ رہی تھی۔
    کیا ہوا ٹھنڈا ہوگیاپانی؟
    ہوپ نے معصومیت سے پوچھا جوابا وہ چڑ گئ۔
    کسی کو اچھو لگے تو کیا اسے کھولتا پانی پلاتے ہیں۔ جانے تمہیں مجھ سے کیا پرخاش ہے ہر وقت عاجز کرنے پر تلی رہتی ہو۔
    وہ یقینا اتنی متحمل مزاج نہیں تھی جتنا کورینز کے سامنے بنی ہوئی تھی اس وقت کی حرکت نے اسے اتنا تپایا کہ اس نے ساری مروت بالائے طاق رکھ دی۔ اسکے یوں غضب ناک ہونے کی ہوپ کو توقع نہ تھئ۔وہ تھوڑی شرمندہ ہوئی۔
    بیان مگر ہم شمالی کورین تو خاص کر تیز گرم پانی پیتے ہیں۔ یہاں جنوبی کورینز بھی نیم گرم پانی پیتے ہیں ہم لوگ ٹھنڈا پانی کم ہی پیتے ہیں۔ میں نے جلدی میں اپنی بوتل سے پانی دے دیا تھا ۔۔
    اس نے میز پر رکھے اپنے فلاسک نما بوتل کی جانب اشارہ کیا۔ بوتل کا ڈھکن ابھی ہٹا ہوا تھا ہلکی ہلکی بھاپ اٹھ رہی تھی۔
    کیوں؟ ۔اسکا موڈ خراب ہوگیا تھا اب آسانی سے ٹھیک نہ ہونا تھا۔
    کوئی سزا ملی ہوئی ہے کیا۔ ہمیشہ گرم پانی پیو اور جہنم کے مزے لو۔
    اسکا لہجہ خراب تھا۔ہوپ نے اسکی شکل دیکھی اور جواب دیئے بنا اپنا کپ اٹھا کے چلتی بنی۔ اس نے ناک چڑھا کر محترمہ کی بے نیازی ملاحظہ کی۔
    اس لڑکی کو لگتا ہے ٹھیکہ ملا ہوا ہے میرا موڈ برباد کرنے کا۔ جتنی شکل پیاری ہے اسکا آدھا پونا اخلاق بھئ اچھے ہوتے تو کیا بات تھی۔
    اب اس نے بڑ بڑ ہی کرنی تھی ناشتہ کرتے ہوئے۔ نیا نوالہ منہ میں ڈالا ۔۔
    ہمیشہ ٹھنڈے پانی کے فوائد سنے گرم پانی کا تو ہمیشہ سنا جہنمیوں کو پلایا جائے گا کھولتا ہوا پانی۔ ایک تو بندے کو پہلے ہی اعمال کی وجہ سے یقین نہ ہو کہ۔جنت نصیب ہوگی الٹا دنیا میں بھی جہنم کے مزے لوٹنے لگو۔ واہ۔
    وہ سرجھٹک جھٹک کے ناشتہ کر رہی تھی۔
    ہوپ نے لائونج میں صوفے پر دراز ہو کر ٹی وی آن کر لیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ تو لی گروپ کے زیر انتظام سپراسٹور ہے۔
    گوارا اسے پہلے دن خود اسٹور چھوڑنے آئی تھی۔
    کتنا بڑا ہے نا۔اس کو اسٹور پسند آیا تھا۔گوارا اسکا ہاتھ تھامے ڈھونڈ ڈھانڈ کے اس نئے امریکی سیریل کی تشہیر کے لیئے لگائے گئے اسٹال پر لے آئی۔ وہی ادھیڑ عمر انکل کھڑے تھے ساتھ ایک دو اور بھی شائد اسکی طرح کے ملازمین تھے۔
    اوکے ڈئیرفائٹنگ۔
    گوارا نے مٹھی بنا کر اسے دکھایا۔
    لڑوں ؟ ۔ اریزہ حیران رہ گئ۔
    میرا مطلب ہے گڈ لک۔ گوارا نے سرپیٹ لیا۔
    اوہ اچھا۔شکریہ۔
    وہ سنبھلی۔
    اچھا واپسی پر بھی اسی طرح بس میں آجانا ٹھیک اور کوئی بھی مسلہ ہو بتا دینا۔
    وہ اب جانے کی تیاری میں تھی۔ اریزہ نے سر ہلا کر تسلی کرائی وہ اسکے گلے لگتی ہاتھ ہلاتی بھاگ گئ۔
    وہ گہرا سانس لیکر اسٹال کے پاس چلی آئی۔
    چند منٹ کی مختصرسی انکی تربیت کی گئ جس میں انکا کام صرف بچوں کو بلا کر سیریل چکھانے پر مشتمل تھا۔اس بڑے سے مال پلس مارٹ پر کئی منزلیں تھیں۔اسے اسی منزل کے اسٹال کو سونپ دیا گیا تھا۔ یہاں کئی غیر ملکی برانڈز کی دکانیں تھیں۔ ایک لڑکا اسکے ساتھ کھڑا تھا۔ جو دیکھنے میں ہی بمشکل اسکول جانے والا لگتا تھا۔
    آننیانگ۔ اس نے جھک کر بڑی تمیز سے سلام کیا تھا۔
    جوابا وہ بھی ہلکے سے سر جھکا کر مسکرا دی۔
    پھر تمام وقت وہی لڑکا بچوں کو سیریل کھانے پر مائل کرتا رہا اور وہ سیریل کے ڈبے کھول کر دودھ میں گھول گھول کر دیتی رہی۔ چھے گھنٹے کی شفٹ اور اتنا بورنگ کام۔ جمائیاں آنے لگیں اسے تو وہ لڑکا اسکے لیئے کافی لانے کا کہہ کر اٹھ کر چلا گیا۔

    چاکلیٹ ونیلا اور اسٹرابری ۔اتنی پیاری خوشبو آرہی تھی کہ دل کیا ذرا سا چکھ تو کم از کم لے۔ مگر ہاتھ بڑھاتے بڑھاتے رک گئ۔ ایپرن کمپنی کے لوگو والا اس نے پہن رکھا تھا اسٹال اسٹفڈ ٹوائئز اور غباروں سے سجا تھا پھر بھی بچے منہ بنا کر آتے اور کھا کر منہ بنا کر ہی چلے جاتے۔
    نونا کافی۔
    لڑکے نے کافی لا تھمائی۔
    گومو وویو۔
    وہ شکر گزار ہوئی۔
    میرا تو ٹارگٹ پورا ہو گیا ہے اب میں چلتا ہوں ابھی ایک گھنٹہ ہے آپ اپنے پچیس ڈبے پورے سیل کر لیں۔ آل۔رائٹ۔۔۔۔ مجھے امید ہے 25 ڈبوں کا سیل ٹارگٹ پورا کر لیں گی آج آپ۔۔ فائٹنگ۔
    وہ صرف اسی کیلئے کافی لایا تھا۔ مزے سے یہ سب کہتا مسکرا کر یقینا اسکی بے وقوفی کا مزاق اڑا رہا تھا۔
    وہاٹ ؟
    اسے سمجھ نہ آیا۔ یہ کیا کھیل کھیل گیا وہ۔
    ہم دونوں کو پچیس پچیس سیریل کے ڈبے سیل کرنے تھے
    میں نے ستائیس ڈبے بیچ دیئے ہیں میری طرف سے یہ دو سیلز آپ رکھ لیں۔ اچھا میں ذرا کلیئرنس کروا لوں۔
    وہ کہہ کر رکا نہیں الٹے پیروں مینجمنٹ کے دفتر کی جانب بڑھ گیا۔
    اتنے گھنٹوں سے ان بچوں کیلئے سیریل بنا بنا کر اسکے ہاتھ شل ہو گئے تھے اور یہ چپکے چپکے ان سے جانے کیا گٹ پٹ کرتا سب سیلیز اپنے نام کر گیا تھا۔ جتنی دیر میں اسے سارا معاملہ سمجھ آیا وہ رفوچکر ہو چکا تھا۔
    ہمارا ٹارگٹ بھی تھا یہ مجھے پتہ کیوں نہ چلا۔
    وہ روہانسی سئ ہوگئ۔
    یہ سب سیلز اسکی اکیلے کی کیسے بن گئئیں وہ انہی سوچوں میں کلس رہی تھئ کہ دو تین ننھے منے چندی آنکھوں والے بچے اسکے اسٹال پر رکھے بڑے بڑے کارٹونک اسٹینڈز کے شوق میں بھاگے آئے تھے۔۔ اب اچھل اچھل کر اپنی زبان میں جانے کیا کہہ رہے تھے
    اتنے معصوم گورے گورے پیارے بچے۔ اسکا دل موم سا ہوا۔ سب جھٹک کر وہ جی جان سے متوجہ ہوئی۔انکا نام پوچھا سب بٹر بٹر شکل دیکھنے لگے۔۔
    کیسی تعلیم دیتے ہیں بچوں کو ایک لفظ انگریزی کا نہیں آتا۔ خیر اس عمر میں ہمیں بھئ نہیں سمجھ آتا تھا مگر نیم سن کر نام تو بتا ہی دیتے تھے۔
    اسے کوریا کے تعلیمی نظام پر غصہ آیا۔ وہ چھوٹی سی پانچ چھے سال کی بچی اچھل اچھل کر کائونٹر سے سب بائول گرانے پر تلی تھئ۔ اس نے دانت کچکچاتے تحمل سے روکنے کی۔خاطر اس دو پونیوں والی گڑیا کی پونیاں پیار سے چھوئیں جس پر خاصی نفرت سے بچی نے گھورا اور ہونہہ کرتی بھاگ کھڑی ہوئی۔۔
    ارے۔۔ وہ حیران ہی رہ گئ اسکے ردعمل پر۔۔ دوسرے بچے کو کائونٹر سے چمچ چاہیئے تھا۔۔
    میں بنا کر آپکو چکھاتی ہوں۔۔ اریزہ نے تسلی دیتے ہوئے دودھ کا پیکٹ کھولا۔۔اور ایک۔ننھے پیالے میں سیریل گھولنے لگی۔
    ایک تین چار سال کا شیطان کائونڑ پر رکھے ڈبوں کو اچھل اچھل کر ہاتھ مار رہا تھا۔۔ اریزہ نے جھلا کر اسے اسکے اپر سے پکڑ کر اٹھا کر ایک طرف کیا جوابا اس نے غصے میں نہ صرف گھورا بلکہ ریں ریں کرتا ماں کی طرف شکایت لگانے بھاگا۔۔
    شکل کے جتنے پیارے ہیں اتنے ہی آفت کے پرکالہ بچے ہیں۔ کوریا کو بھی چین کی طرز پر ایک بچے کی اجازت والی پالیسی اپنانی چاہیئے۔
    اریزہ نے بڑبڑانے والے انداز میں کہا پھر پھسلا کر بچوں کو چکھانے لگی۔ جتنے شوق سے ہبڑ تبڑ سب چٹ کر گئے اسے لگا یہی بچے اسکا 25 سیلز کا ٹارگٹ پورا کر دیں گے۔
    بیٹا اپنی آہموجی کو بلا کر لائو ۔۔
    اس نے پیار سے کہا تھا جوابا وہ آٹھ نو سالہ بچہ منہ چڑا کر بھاگ اٹھا۔
    کمینہ بچہ۔۔ وہ روہانسی ہو چلی تھی۔ تین اور بچے آن کھڑے ہوئے
    وہ ابھی دو سیریل کے بائول بنا کر سیدھی بھی نہ ہوئی تھی کہ ایک کڑخت سی پینتیس چھتیس سال کی عورت اسی ننھے شیطان کا ہاتھ پکڑے چیختی چنگھاڑتی اس پر چڑھ دوڑی۔۔
    زبان انجان مگر کف اڑاتا انداز۔۔۔
    بلا بلا بلا۔۔
    ایکسکیوز می۔ آئی کانٹ انڈراسٹیںڈ واٹ یو آر سیئنگ۔۔ میم پلیز کام ڈائون۔۔
    اسکی منت سماجت کچھ کام نہ آئی۔۔ آنٹی کا دماغ خراب ہوا وا تھا۔۔
    چند لمحے تو اس نے سنا۔مگر جب ارد گرد سے گزرتے صارفین بھی چسکے لینے کھڑے ہوئے اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔۔ انگریزی گئ بالائے طاق۔۔ اور اردو فر فر نکلی۔۔۔ ایک نہ چھوڑی دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر وہ دوبدو ہوئی
    اوہ محترمہ۔۔ بہت ہوگئ۔ میں چپ ہوں تو بولے چلی جارہی ہو ۔حد ہوگئ زبان ہے یا قینچی کتر کتر چل رہی ہے۔ خود ایسی ہو جبھی بچہ بھی تمہارا بدتمیز ہے ظاہر ہے اس نے تم سے یہی سب سیکھا ہوگا۔ آنکھیں کیوں پھاڑ رہی ہو یہ بنٹوں جیسی آنکھیں باہر گر پڑیں گی اتنا کھلتی ہوتیں تمہاری آنکھیں تو بیٹے کے کان مڑورتیں مجھ پر نہ چڑھ دوڑتیں۔
    آہجومہ کی آنکھوں کے ساتھ منہ بھی کھل چکا تھا۔ انجان زبان میں جانے وہ لڑکی کیا کہے جا رہی تھی۔۔ مگر جو بھی کہہ رہی تھی انداز سے لگ رہا تھا اب کہے گی کم ہاتھ ذیادہ چلائے گی۔۔
    اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ میرے سامنے تم بھی ایسے ہی اپنی زبان میں گٹ پٹ کیئے جا رہی تھیں۔۔اب سنو۔ نہیں سمجھ آرہی نا یہی پچھلے دس منٹ سے کہہ رہی تھی انگریزی بول لو بی بی تمہاری بکواس سمجھ نہیں آرہی مگر نہ جی۔۔ بک بک بک بک دماغ خراب کرکے رکھ دیا میرا
    دے۔۔ کیا کہہ رہی ہو تم؟۔ آہجومہ کی گھن گھرج کم ہوئی۔۔ بھیڑ چھٹنے لگی۔۔ مینجرمنہ کھولے سامنے کھڑا تھا۔۔
    اریزہ نے جھٹ دانتوں تلے زبان دبالی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مارکیٹنگ کا پہلا اصول ہوتا ہے کہ کسٹمر ہمیشہ صحیح ہے۔
    مینجر صاحب اسے لیکچر دے رہے تھے۔
    کسٹمر بھی وہ جو اگر سمجھنے سمجھانے والی عمر میں نہیں۔ بچوں کے ساتھ ہمیں بہت تحمل سے کام لینا پڑتا ہے وہ بات سمجھ نہیں سکتے ہمیں انکو بہلا کر پھسلا کر منانا پڑتا ہے۔ اگر بچے آپ سے ڈریں گے تو آپ انکو اپنی چیز کیسے بیچیں گے؟ جھلاہٹ بے زاری غصہ بچے نہیں سمجھتے۔ اور یہ وہ چیزیں ہیں جو آپ کبھی کسٹمر کو نہیں دکھا سکتے کیونکہ اس سے آپ نے پیسہ نکلوانا ہے۔ پیسہ صرف شیریں لب و لہجے اور تحمل سے ہی آپ کسی کی جیب سے نکلوا سکتے ہیں۔یوں سمجھو ہم وہ ڈاکو ہیں جو گن پوائںٹ کی بجائے مسکراہٹ سے لوگوں کو لوٹتے ہیں۔۔
    کوئی حیرت نہیں آپ ایک ڈبہ بھی نہ بیچ پائیں۔
    ایک تو اس ہائی اسکولر نے چونا لگایا۔ اوپر سے اتنی بے عزتی کے بعد ملنے والے اس لیکچر کی وجہ سے اسکی شکل پر دنیا جہان کی بے چارگئ چھا گئ تھی جبھی بولتے بولتے چارلس نرم پڑا
    آپ ایسا کریں ابھی گھر جا کر آرام کریں۔ کوئی اچھی سی مووی دیکھیں موڈ اچھا کریں کل خوشگوار سےموڈ کے ساتھ آئیے گا۔۔
    یہ اس نے رعائیت کی تھی۔ ورنہ اصولا تو کسٹمر سے بدتمیزی کے نام اسکے مینجر نے اسکو اسٹال اور لڑکی دونوں کو اسٹور سے باہر لے جانے کا حکم سنایا تھا۔ چارلس کہہ سن کر معاملہ دبا کر آیا تھا اریزہ کو یہ لیکچر اسٹور کے باہر کھڑے کھڑے دے کر رخصت کیا خود دوبارہ اسٹورمیں گھس گیا تھا آج کے دن اسےہی مغز کھپائی کرنی تھی یہاں۔۔
    شکریہ۔۔ اریزہ کے منہ سے جب تک یہ لفظ نکلا وہ پلٹ چکا تھا۔۔
    ہاف۔۔ اس نے آہ بھری تھی۔۔ اسٹور تو اتنا خنک نہیں تھا مگر باہر بلا کی سرد ہوا تھی۔سورج کا نام و نشان نہ تھا۔۔اکا دکا دکانیں کھلی تھیں وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھانے لگی۔۔
    کوریا میں جاڑا آچکا تھا۔ ستمبر کی خنکی پاکستان کے دسمبر کے برابر چل رہی تھئ۔
    سڑک پر ٹریفک معمول سے کم تھا فٹ پاتھ پر پھر ایک دو لوگ چل رہے تھے۔۔ وہ البتہ دکانوں کے آگے پختہ سروس روڈ پرمٹر گشت کر رہی تھی۔ پہلی جاب پہلا دن اور پہلی ہی بے عزتی اسے کافی محسوس ہوئی تھی۔۔
    پانی کا قطرہ اسکے کندھے پر آکر گرا تو اس نے چونک کر جھاڑا۔۔ ایک لانگ کوٹ اندر ہائی نیک نیچے فلیٹ شوز اسکے باوجود سرد ہوا کپکپائے دے رہئ تھی اسے۔۔ اسے میٹرو اسٹیشن تک پیدل جانا تھا جو کم از کم بھی پچیس منٹ کی دوری پر تھا۔۔ وہ اپنے قدموں پر نگاہیں جمائے ارد گرد سے بے نیاز چلے جا رہی تھی۔۔
    ایک اور قطرہ اسکے کوٹ پر آٹھہرا تو اس نے چڑ کربمشکل زرا سا سر اٹھا کر اوپر دیکھنا چاہا بادل خوب گھر گھر کر آئے تھے۔ ایکدم چھما چھم برس اٹھے وہ بھاگ کے دکانوں کے باہر شیڈ میں گھسی
    ۔کیا کروں۔ کسے فون کروں۔
    وہ سوچ میں پڑی۔ گوارا تو سورہی ہوگی۔ ایڈون۔
    اس نے جلدی سے ایڈون کو کال ملائی کال جا رہی تھی مگر وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا۔۔
    وہ بھی تو جاب پر ہوگا۔۔ اسے رونا آنے لگا۔
    بارش چھما چھم برس رہی تھی اسکے بال گیلے ہونے لگے تھے۔۔
    اس نے ادھر ادھر دیکھا تو سامنے رہائشئ عمارت نظر آئی۔
    وہ بھاگ کر اس میں گھس گئ۔ گلاس ڈور سختی سے بند تھا تاہم اسے تھوڑا سا شیڈ مل گیا۔۔
    کوئی ہے۔۔ اس نے کھٹکانا چاہا۔ برف ہوئے ہاتھ زور بھی نہ لگا سکے۔ اسکی سانس پھولنے لگی۔۔
    تبھئ بڑے زور سے بجلی کڑکی تھی۔ اور وہ وہیں دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئ۔
    سب ٹھیک ہے۔مجھے ڈر نہیں لگ رہا۔ بارش بالکل ڈرائونی نہیں ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چھتری کے باوجود بارش نے اسے گیلا کردیا تھا۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اپنی رہائشی عمارت کی جانب بڑھا۔ گلاس ڈور کے ساتھ یقینا کوئی ہوم لیس شیڈ بیٹھا تھا بارش سے بچنے کیلئے۔ وہ دھیان دیئے بنا کوڈ دبا کر دروازہ کھولنے لگا اندر آکر دروازہ بند کیا تو عجیب سا احساس ہوااس نے مڑ شیشے کے پار دیکھا۔ کندھوں پر بکھرے بالوں سے اندازہ ہوتا تھا لڑکی ہے۔ کسی بے گھر کے حساب سے اچھے لباس میں ملبوس تھی۔ اکڑوں بیٹھی ہل ہل کر کچھ بڑ بڑا بھی رہی تھی۔ اس نے سوچا مڑ کر چلا جائے مڑ بھی گیا تھا مگر تبھی زور سے بجلی کڑکنے پر اس لڑکی نے جیسے ڈر کر زور زور سے بولنا اور ہلنا شروع کر دیا تھا۔ وہ نظر انداز کر نہ سکا۔
    چھوگیو۔ وہ چھتری دروازے کے پاس اسٹینڈ میں ٹکاتا اسکے پاس چلا آیا۔ قریب آکر نرم سی آواز میں اسے متوجہ کرنا چاہا۔
    نامانوس سی آواز اس نے چونک کر سامنے دیکھا۔۔ چندی آنکھوں والا اجنبی مگر مانوس دکھائی دیتا چہرہ۔
    ارے آپ۔ اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔
    یہ کون ہے اجنبی ۔ ۔۔ نہیں اجنبی نہیں۔۔ کہاں دیکھا ہے اسے۔۔
    اس کی آنکھیں اصل حجم سے دگنی ہو چلی تھیں۔۔چندی آنکھوں والے نے خاصی دلچسپی سے یہ منظر دیکھا تھا کہاں اس ملک میں حیرت کے اظہار کے طور پر بھی آنکھیں کھل نہیں پاتیں تو کہاں یہ لڑکی اپنی موٹی موٹی آنکھیں پھاڑ کر پانڈا بن چلی تھی۔۔۔۔
    وہ سٹپٹا کر جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئئ۔
    سامنے تڑاتڑ برستی بارش تھی۔ اور یہ۔
    آریزہ۔۔ رائٹ آپ اریزہ ہو نا؟
    علی نے پہچان لیا تھا۔ اب خود بھی اٹھ کر اسکے مقابل آن کھڑا ہوا۔
    پرسوں ہی آپ سے ملاقات ہوئی تھی غالبا آپ نے پہچانا نہیں مجھے۔
    اسے حیرت تھئ۔ اسکی شخصیت اتنی غیر متاثر کن تو نہ تھی کہ کوئی لڑکی اس سے پہلی ملاقات میں اچھا تعارف حاصل کرنے کے بعد یوں بھول جائے۔
    کین چھنا۔ آئیے اندر آجائیں۔یہ سامنے میرا فلیٹ ہے۔
    اسکی آنکھوں میں شناسائی کی رمق آہی گئ تھی مگر وہ متذبذب تھی۔۔۔
    ہتھیلیاں مسل کر برستی بارش کو یوں دیکھنے لگی جیسے گزارش کر رہی ہو کہ رک جائو مہربانی ہوگی۔
    علی مسکرا دیا۔
    موسم انسانوں کی گزارش پر بدلا نہیں کرتے۔
    اسکی بات پر اریزہ نے ترچھی سی نگاہ ڈالی اس پر۔
    دو گھنٹے بعد رکے گی بارش۔۔۔۔
    اس نے جتایا۔ اریزہ گہری سانس لیکر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنی میز پر بیٹھا وہ مکمل طور پر مگن تھا تحفہ پیک کرنے میں۔ تحفہ اچھی طرح پیک کرنے کے بعد اس نے دل لگا کر کارڈ لکھا تھا۔ کارڈ کو اس پر چپکایا۔۔۔ بکے اسے راستے سے لینا تھا مگر اس سے قبل۔۔ وہ سوچ میں پڑا کیا چیز رہ گئ۔
    نونا نے پیچھے سے اچانک آکر تحفہ اٹھا لیا۔ ہایون نے سٹپٹا کر انکو دیکھا پھر انکی پھرتی کے آگے ہار مان کر صبر سے انکے ردعمل کا انتظار کرنے لگا۔ وہ دل میں ہی پڑھ رہی تھیں مگر چہرے پر پھیلی حیرت اسکو مسکرانے پر مجبور کر گئ۔ نونا بھی نا ٹھیک ٹھاک شرمندہ کرادیتی ہیں کبھی کبھی۔ وہ نچلا لب دانتوں سے دبائےسوچ رہا تھا۔
    یہ دن یقینا معجزاتی تھا کیونکہ اس دن ایک پری نے دنیا میں آنکھ کھولی۔
    کیا تم جانتی ہو تمہارا ہونا بھی کسی کو خوش کردیتا ہے دوست اور تمہارا خوش ہونا تو خوشی کی انتہائین محسوس کرا دیتا ہے کسی کو۔۔۔۔ اور وہ کسی میں ہوں۔
    میری جانب سے سالگرہ مبارک ہو
    اریزہ۔۔
    وہ نام پڑھ کر واضح طو رپر چونکی تھیں۔
    یہ؟
    وہ جوابا کھل کر مسکرا دیا۔
    تم جس لڑکی کو پسند کرنے لگے ہو وہ اریزہ ہے؟
    وہ شدید حیران تھیں۔
    دے۔ اس نے اعتراف کر لیا تھا۔
    مگر مجھے تو لگا تم یو آنہ۔سے میرا مطلب ہے ہوپ کیلئے تم اتنی محنت کر رہے تھے اور۔۔
    وہ حیرت کے مارے جیسے گنگ سئ ہوگئ تھیں۔
    ہوپ؟ نہیں نونا میں بس اسکی مدد کرناچاہ رہا تھا۔ میں نے اسکو اس نگاہ سے نہیں دیکھا۔
    ہایون کا انداز قطعی تھا
    مگر وہ جو نازک سی لڑکی جسکا سہارا بننے کو دل کرے والا آئیڈیلزم تھا تمہارا وہ تو ہوپ۔۔
    ہا ہا ہا۔ ہایون زور سے ہنسا۔۔
    آئیڈیلزم ۔۔ کیا یاد کرادیا۔ تب میں ایسا ہی سوچتا تھا۔ تب مجھے نہیں معلوم تھا کہ محبت انسان سے ہوتی اسکی شخصیت سے نہیں۔ ہوپ بہت مضبوط شخصیت کی مالک لڑکی ہے اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔
    اور اریزہ ؟ مجھے تو وہ بھی کافی بااعتماد لڑکی لگی تھی۔
    نونا الجھن ذدہ ہوئیں۔
    اریزہ۔ وہ سوچ میں پڑا۔ اسکی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
    یہ وہ انڈین لڑکی ہے نا جس نے مجھے اسکارف دیا تھا
    گنگشن کو یاد آیا۔
    پاکستانئ ۔ ہیونگ سک نے تصحیح کی۔۔
    اسے انڈین کہو تو برا مان جاتی ہے۔۔
    پھر پرپوز کیا اسے؟ گنگشن کے پوچھنے پر وہ منہ لٹکا کر بولا
    ابھی تو نہیں۔ مجھے جاننا ہے وہ بھی کیا میرے بارے میں ایسا ہی سوچتی ہے کہ نہیں۔۔
    ہاف۔۔ گنگشن نے سر تھام لیا۔۔
    اچھا نونا آپ کے بریو ہارٹس کب پرفارم کر رہے میں نے کب سے بکنگ کروائی ہوئی ہے آپ سے ستمبر آ تو گیا ہے

    ستمبر والا سیشن تو ٹل چکا اب اگلے مہینے ہی ہوگا جو بھی ہوگا۔ فنکشن ساتھ تمہاری اسپیشل میٹنگ ہوگی جب ہماری آرگنائزیشن کے ساتھ انکا ڈنر ہوگا تو تمہارا پاس بنوا دوں گی تم بنفس نفیس مل لینا ان سے۔۔
    دو پاس ۔۔ ہیون نے یاد دلایا۔
    ڈن۔۔ گنگشن مسکرائی ۔۔
    ہایون گفٹ اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    وہ نک سک سے تیار تھا انکی لائی وہی والی شرٹ پہنے جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا اپنی پہلی ڈیٹ پر پہننا۔۔

    یوآنہ واقعی بہت بد قسمت ہو تم۔۔
    گنگشن نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سوچا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکے موبائل کی چارجنگ ختم تھی وہ اپنا چارجر اندر سے لے آیا تھا۔ وہ وہیں لابی میں کھڑی اسکا انتظار کرتی رہی ۔
    ہایون کا نمبر ہے ویسے میرے پاس۔
    اس نے پیشکش کی۔
    نہیں میں ٹیکسی بلوا کر چلی جائوں گی۔
    اس نے سہولت سے انکار کیا تھا۔ موبائل کو قریبی کائونٹر پر چارجنگ پر لگا کر موبائل آن کرنے لگی۔
    موبائل چند لمحوں بعد ہی آن ہو گیا تھا۔
    لابی کے ایک کونے میں ملاقاتیوں کیلئے صوفے رکھے تھے۔
    یہاں موسم خاصا خنک تھا۔
    یہ بالکل سامنے میرا فلیٹ ہے آپ چاہیں تو اندر چلیں یہاں موسم کافی سرد ہے۔
    خود وہ اندر سے کپڑے بدل آیا تھا۔ اپر پہنے اسے ٹھنڈ سی لگ رہی تھی۔ اور وہ لڑکی۔ بارش سے بال تھوڑے گیلے ہو چکے تھے
    وہ تیسری دفعہ کہہ رہا تھا مگر وہ اندر آنے کو تیار نہ تھی۔
    نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔ اس نے سہولت سے منع کردیا ۔۔
    ایپ فوری طور پر کھول کر وہ رائڈ ڈالنے لگی کہ خیال آیا۔
    کس علاقے میں کس عمارت کا پتہ ڈالے؟ ۔
    اس نے بلا ارادہ اپنے دائیں ہاتھ کی تیسری انگلی کا ناخن دانتوں تلے کچل دیا۔
    گوارا سے پوچھتی ہوں۔ اس نے فورا گوارا کو کال ملائی ۔
    پہلے کورین میں پھر انگریزی میں آپریٹر بولی
    آپکا ملایا ہوا نمبر دوسری لائن پر مصروف ہے۔
    علی کے دانت بجنے لگے تھے۔ اپنے دونوں بازو سینے پر لپیٹے اس نے ذرا سا سکڑ کر جسم گرم کرنا چاہا۔
    گوارا کے بعد اگلا نام ہایون ہی آیا تھا اسکے ذہن میں۔ جھٹ اسے فون ملا دیا۔ دوسری بیل پر ہی فون اٹھا لیا تھا۔
    اسلام و علیکم۔
    خوشگوار انداز اور اس نے جواب بھی نہ دیا سوال کر ڈالا۔
    وہ مجھے گوارا کے فلیٹ کی لوکشن بتا دو میں نے ٹیکسی منگوانی ہے۔
    کہاں ہو ؟
    میں ؟ وہ مڑ کر علی کودیکھنے لگی۔
    وہ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑ کر گرم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سرخ ناک سرخ ہوتے گال۔
    اسے اسکی شکل دیکھ کر ترس ہی آگیا۔
    بے چارہ مروت میں کھڑا ہے باہر لابی میں۔ ویسے کیوں کھڑا ہے۔ چارجر دے کر چلا جاتا اندر۔ میں جاتے وقت دے جاتی اسکا سونے کا چارجر

    اسے اسکی مروت پر ہنسی ہی آگئ۔ ایک چارجر کے پیچھے کھڑا ٹھٹھر رہا ہے۔
    اسی وقت علی کی اس پر نظر پڑی اس نے فورا مسکراہٹ دبا لی۔
    وہ ہایون پوچھ رہا ہے یہ کونسی جگہ ہے۔
    اریزہ کے کہنے پر وہ دیکھ کر ہی رہ گیا۔
    حد ہےسردی میں یہاں جمتے ہوئے موبائل چارج کر سکتی ہے میرے موبائل سے ہایون کو کال کر لیتی۔
    اس نے دانت پیستے قریب آکر فون لیا اسکے ہاتھ سے۔
    ہایون کو بتا کر اس نے فون بند کر دیا تھا۔۔
    یہ کیا آپ نے فون بند کردیا مجھے رائڈ بک کرنی تھی وہ لوکیشن پوچھ رہا تھا بس۔
    وہ جھنجھلائی
    ہایون کہہ رہا ہے وہ آرہا ہے آپکو لینے۔
    ہایو ۔۔ وہ کہتے کہتے رک گئ۔ اب ظاہر ہے اسے آنے سے روکا نہیں جا سکتا تھا۔
    آپ کا شکریہ کافی زحمت ہوئی آپکو۔ آپ جاسکتے ہیں میں ہایون کا یہیں انتظار کرلوں گئ۔
    اس نے دور پڑے صوفوں پر نگاہ کی۔ اتنی دیر سے چوکنا کھڑی تھی۔ بیٹھنے کا خیال تک نہ آیا اس وقت تو تھکن کے مارے برا حال تھا۔
    ٹھیک ہے۔ علی کی برداشت بھی تمام ہو رہی تھی۔ پھر بھی مسکرا کر الوداعی انداز میں سر جھکاکر کرم کہتا اپنے فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
    اریزہ نے چند لمحے متزبزب سے انداز میں اسکو جاتے دیکھا پھر جب برداشت ختم ہوتی محسوس ہوئی تو آواز دے ڈالی۔
    ایکسکیوز می۔
    وہ فورا رکا تھا اور پلٹ کر دیکھنے لگا۔
    وہ کیا میں آپکا بیت الخلا استعمال کر سکتی ہوں۔
    اس نے کافی جھجک کر پوچھا تھا۔
    ہایون کچھ ہی دیر میں آنے والا تھا یہاں یقینا اب وہ اس کے فلیٹ میں جا سکتی تھی۔ احتیاطی تدابیر مکمل تھیں۔
    اس نے بمشکل اپنی در آنے والی مسکراہٹ روکی۔
    جی ضرور۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دو گھنٹے چھما چھم برس کر سب واپسی کے راستے مسدود کردینے والی بارش ایکدم ہی رک بھی گئ تھی۔ اسکی نوکری کا پہلا دن ہی یادگار بن چکا تھا۔ ہایون اسے جب تک لینے پہنچا تھا تب تک آٹھ بج چکے تھے۔ صبح گیارہ بجے ناشتہ کیا تھا۔ دوپہر سے نوکری شروع تھی۔ اب گیارہ بج چکے تھے۔ اس وقت آنتیں الٹ پلٹ چکی تھیں۔ بھوک سے برا حال تھا۔ مگر کیا ہو سکتا تھا۔ صبر سے چپ کرکے بیٹھی رہی
    اس نے دوسری تیسری دفعہ موبائل اٹھا کر وقت دیکھا۔تو ہایون سے اسکی بے چینی چھپی نہ رہ سکی۔
    کین چھنا۔۔۔۔
    ہایون نے پوچھا تو وہ فورا نفی میں سر ہلاگئ۔
    نہیں کچھ نہیں۔
    سیول کے راستوں کی خبر تو نہ تھی اسے۔ پھر بھی اتنا اندازہ ہو رہا تھا کہ آج گوارا کے گھر کا راستہ کافی دور ہو گیا تھا۔یا اسے لگ رہا تھا۔
    جیسے ہی عمارت کے باہر اس نے گاڑی روکی وہ فورا اتری تھی۔
    اریزہ۔ اسے پھرتی سے اندر جاتے دیکھ کر اس نے آواز لگائی۔
    وہ بنا بولے مڑ کر دیکھنے لگی۔ انداز ایسا تھا کہ بولو پھر میں جائوں۔
    وہ گاڑی سے اتر کر پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولنے لگا۔
    اندر سے ایک چھوٹا سا بکے اور تحفہ نکال کر اسکے پاس چلا آیا۔
    سالگرہ مبارک ہو اریزہ۔ جیو ہزارو سال ہر سال کے دن ہوں ہزار۔
    نا مانوس لہجے میں اٹک اٹک کر اس نے سچ مچ یہی کہا تھا۔ وہ تحیر سے اسے دیکھتی رہ گئ۔
    اتنا حیرت سے کہ وہ سٹپٹا ساگیا۔
    کیا ہوا غلط بول گیا معاف کرنا۔وہ یہ میں نے گوگل سے ڈھونڈ کے جنگل یاد کیا تھا گوگل کے مطابق سالگرہ پر برصغیر کے لوگ یہی گانا گاتے ہیں۔
    وہ صفائئ دینے والے انداز میں بولا۔
    اریزہ نے بکے اور تحفہ تھامنے کیلئے ہاتھ نہیں بڑھایا تھا۔
    ابھی پانچ منٹ ہیں بارہ بجنے میں مگر میں چاہتا تھا آج کے دن کی وش سب سے پہلے میں کروں تمہیں۔ تمہارے سب دوستوں سے پہلے۔
    اسکا ردعمل اسکے کیلئے بالکل غیر متوقع تھا۔ سب جملے سب باتیں جو اس نے سوچیں تھیں اور سوچا تھا اس تحفے کے ساتھ ہی اسے پرپوز کر دے گا سب کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ وہ بالکل ساکت سی کھڑی ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی۔
    اریزہ۔
    وہ سب کہہ سن کے چپ ہو چکا تھا تو پکار بیٹھا۔
    ہوں۔ وہ چونکی۔
    چھوٹا سا بکے اور ایک درمیانے سائز کا تحفے کا باکس لیئے۔وہ منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
    اسکی آنکھیں بھر آئیں۔
    ہونٹ بھینچ کر اس نے امڈنے والے آنسوئوں کو روکنا چاہا۔
    شکریہ۔ اس نے کوریائی انداز میں ذرا سا جھک کر اس سے بکے اور تحفہ تھاما۔
    آر یو آل رائٹ۔
    اسکی ہمیشہ تازہ دم رہنے والی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی۔ خاصی تشویش سے اس نے پوچھا۔
    دے۔۔ وہ قصدا مسکرائی۔
    گھمسامنیدہ۔۔( شکریہ) گھپشیدہ (چلو ساتھ چلیں )

    اتنے دنوں میں الوداعی کلمات تو وہ سیکھ چکی تھی مگر استعمال کم ہی کرتی تھئ۔ اس وقت کہہ کر فورا مڑ گئ تھی۔
    ہایون نے اسے روکنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ضرور مگر پھر واپس کھینچ لیا۔
    چھوگیو۔
    اس نے دھیرے سے کہا تھا جو وہ یقینا سن بھی نہیں پائی تھی۔
    تم نے کہا ہے میرے ساتھ چلو۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تو دونوں شائد سو چکی تھیں۔سب بتیاں بجھا کے۔
    وہ وہیں لائونج میں بتی جلا کے بیٹھ گئ۔
    گلابوں او رنجانے کونسے ہلکے پیلے رنگ کے پھولوں سے سجا وہ سادہ مگر بے حد خوبصورت گلدستہ تھا۔اسے ہر لڑکی کی طرح پھول بے حد بھاتے تھے۔اس وقت بھی یہ بکے دل چھو گیا تھا اسکا۔ اس نے کارڈ اٹھایا۔ چیری بلاسم کے درخت کے نیچے روائتی کورین لباس میں ملبوس وہ لڑکی کوئی روائتی ساز بجا رہی تھی۔ اور دھیرے سے ہوا چلنے پر اس پر چیری بلاسم کی برسات ہوگئ تھی۔ ڈوبتے سورج کا منظر دریا کنارہ۔ اور اس پر لکھی کورین تحریر۔جو یقینا اسکی سمجھ سے بالاتر تھئ۔
    اس نے کارڈ کھولا اندر نہایت خوبصورت لکھائی میں انگریزی متن تحریر تھا۔
    پری۔ اسے ہنسئ آگئ۔
    بچے ایسے کارڈ لکھتے ۔ ایک توکورینز کو انگریزی بھی تو نہیں آتئ۔ گوگل کیا ہوگا ہایون نے۔
    اس نے اندازہ لگایا۔ پھر احتیاط سے تحفہ کھولنے لگی۔ ایک نہایت قیمتی دکھائی دینے والے ڈبے میں کوئی غیر ملکی پرفیوم تھا۔
    اس نے فورا اپنی کلائی پر چھڑکا۔
    نفیس سی خوشبو۔ اسے معطر کر گئ۔
    اسے یہ تحفہ بے حد پسند آیا تھا فورا اس نے خود پر چھڑک لیا۔
    پسند اچھی ہے ہایون کی۔ اسے اتفاق ہوا۔
    تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔
    صارم تھا۔
    اسکے فون اٹھاتے ہی گنگنانے والے انداز میں بولا۔
    ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔ ہیپی برتھ ڈے ڈئیر اریزہ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔
    جیو ہزارو سال ہر سال کے دن ہوں بس تین سو پینسٹھ بھئی۔ اب ہزارو سال کیوں کہوں ہم سب مر جائیں تم اکیلے جی کر کیاکروگئ۔
    وہ مخصوص مسخرے پن سے بولا وہ ہنس دی۔
    واقعی یہ گانا گوگل پر سب سے ذیادہ مشہور ہے کیا؟
    شکریہ۔ تم بھئ جیتے رہو خوش رہو۔
    مختصر جواب دیا گیا۔۔
    ہیں خیریت؟ اتنئ تمیز سے مبارکباد وصول کی شکریہ بولا آج سورج کہاں سے نکلا ہے دیکھو باہر کھڑکی میں جھانک کر۔
    اسکا مسخرا پن جاری تھا وہ منہ بنا کر بولی۔
    کوریائی وقت کے حساب سے رات بارہ بجے کا اندازہ لگاکر وش کرنے تک کا دماغ چلایا تو کیا دماغ بس اتنا چل کر بند ہوگیا تھا ؟ رات بارہ بجے کوریا میں بھی سورج نہیں نکلا ہوتا ہے۔
    ہاں یہ لڑکی اریزہ ہی ہے۔ یقین آگیا ۔ کل بھئ مشرق سے ہی سورج نکلے گا میں وہی حیران اتنی عزت سے بات کر رہی ہے اریزہ ہی ہے یا نہیں۔
    صارم اسکا موڈ اچھا کرنے کو خاص طور پر اسکی سالگرہ والے دن ضرور سب سے ذیادہ مسخرا پن دکھاتا تھا اسے۔
    ویسے سب سے پہلے وش کیا نا میں نے؟ ریمائنڈر لگا رکھا تھا۔ اب ظاہر ہے اتنی اہم تو ہو نہیں جو یاد رکھے تمہیں کوئی۔۔۔۔
    وہ نان اسٹاپ بول رہا تھا۔
    اور تمہاری وہ فارغ سہیلی سے پہلے وش کیا نا؟ پچھلی بار تو ایک گھنٹہ باتیں کرتی رہی تھی تم سے فون پر میں جاگ جاگ کے تھک گیا تھا۔
    اس نے دزدیدہ نگاہوں سے بکے اور تحفے کو دیکھا۔ اسکی زندگی میں اچھا تکون تھا۔ اسکو سالگرہ پر مبارکباد دینے والے بس دو ہی لوگ رہتے تھے ہمیشہ۔ پہلے سنتھیا اور صارم اور اب ہایون اور صارم۔ سنتھیا نے تو شائد بھلا ہی دیا تھا اسے۔
    ہیلو ؟ اسکی مسلسل خاموشی سے تنگ آکر بولا۔
    تم گھر پر نہیں ہو کیا ؟
    اس نے بات بدل دی۔
    ہاں یہاں دیگوں والے کے پاس آیا ہوا ہوں کل کے لیئے ۔۔
    روانی میں بولتے بولتے وہ دانتوں تلے زبان دبا گیا۔
    دیگوں کا آرڈر دینے۔
    اریزہ نے جملہ یوں مکمل کیا جیسے پوچھ رہی ہو۔
    ہاں۔ صارم نے گہری سانس لی۔ کئی آنسو اریزہ کے چہرے پر آن پھیلے۔
    اب اداس مت ہو جانا تم۔ تمہاری سالگرہ کا دن پہلے ہے۔ اور ہر انسان کو اپنی سالگرہ پر خوش ہونے کا پورا حق ہوتا ہے بلکہ میرے حساب سے تو فرض ہے اپنی سالگرہ والے دن خوش ہونا۔۔ کل کیلئے اچھا سا پلان بنائو دوستوں کے ساتھ گھومو پھرو خوش رہنا۔ اور میری طرف سے اپنی پسند کا اچھا سا تحفہ لے لینا سن رہی ہو نا۔۔
    ہوں۔ اسکی آنکھیں رواں ہو چکی تھیں۔ مگر وہ صارم کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
    اچھی بات ہے پورے پانچ روپے بھیجے ہیں میں نے۔
    صارم نے چڑایا۔ کوئی پہچھے سے آکر اس سے شائد کچھ پوچھنے لگا تھا اس نے اجازت چاہی
    اوکے میں کل بات کرتا ہوں پھر اپنا خیال رکھنا سدا خوش رہو خدا حافظ۔ ۔۔
    خدا حافظ۔
    اسکی آواز صارم تک پہنچ بھئ نہ پائی تھی۔ اس نے موبائل ایک طرف رکھا پھر چہرہ ہتھیلیوں سے صاف کرتی اٹھ گئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آہجومہ ۔۔ وہ ننھا سا چھے سات سال کا بچہ اسکا دامن کھینچ رہا تھا۔۔
    اتنا پیارا بچہ تھا وہ اسٹول پر بیٹھی اسکو کافی پیار سے دیکھ رہی تھی بچہ بھی ترنگ میں آکر جانے کیا کیا اسے بتا رہا تھا وہ بس سر ہلا رہی تھی۔ بچہ اسے اپنی شرٹ پکڑ کر جانے کیا بولا۔ وہ بس مسکرا دی بچہ کھلکھلا کر ہنس دیا۔
    کیوٹ۔ اس نے اسکے بھرے بھرے گول گالوں پر چٹکی بھری
    ہنستے ہنستے بچہ سنجیدہ ہوا پھر اس کو جانے کیا اشاروں اور ہنگل میں بتانے لگا
    دے؟۔ وہ اسکی بات سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔
    کھلا تو دیا تھا اسے پورا پیالہ سیریل کا کھا گیا تھا۔ ماں کوئی دس منٹ پہلے اسے ڈھوںڈتی آئی اسے باقائدہ منہ میں چمچ دے نوالے دیتے دیکھ کر اسکو جھک جھک کر سلام کرتی بھاگ گئ۔ یقینا اسے اب اطمینان سے شاپنگ نصیب تھی۔
    مگر اریزہ کا اطمینان رخصت ہوچکا تھا۔ بچے کھانے آتو رہے تھے سیریل مگر ماں کو کھینچ کر خریدوانے ایک۔بھی نہیں آیا تھا۔۔ پچیس دور پانچ پیک بھی نہ بکے تھے۔۔
    اب عجیب سی زبان میں بچہ جانے کیا کہے جا رہا تھا
    اس نے پینٹ کی جانب اشارہ کیا تو اسے کچھ اندازہ ہوا
    آندے۔۔ اس نے جھٹ اسے روکنا چاہا چندی آنکھوں والا گورا چٹا بچہ منہ بسورنےگا۔۔
    ٹوائلٹ۔ ٹوائلٹ گو ٹو ٹوائلٹ
    اس بچے کو اسکی بات سمجھ نہ آئی بھاں بھاں کر کے رونے لگا اسکا گرےلانگ ٹاپ کا دامن کھینچ کر بولتا
    آہجومہ۔۔اور ریں ریں شروع
    کہاں رہ گئ تمہاری ماں۔۔ اس نے بے بسی سے سوچتے ہوئے اسٹول سے اٹھ کر اچک اچک کر پنجوں کے بل اسٹور پر نگاہ دوڑائی اتنا بڑا اسٹور تھا اوپر سے سب کی کم و بیش ایک جیسی شکل ۔ تبھی اس کو ایک مانوس چہرہ نظر آیا۔۔
    اگلا بھی اسٹور میں شائد اسی کو تلاش رہا تھا اسے دیکھ کر اسکی چندی آنکھیں چمکیں اور وہ سیدھا اسکی جانب بڑھتا آیا۔۔
    آننیانگ ۔۔ ہیون نے قریب آکر پرجوش انداز میں سلام کیا۔
    آنناینگ۔۔ شکر ہے خدا کا تم آگئے دیکھو یہ بچہ جانے کیا کہہ رہا ہے۔۔
    اریزہ اسکے رونے پر روہانسی ہوچلی تھی۔۔ اب تو آس پاس سے گزرتے لوگ متوجہ ہونے لگے تھے
    کیا ہوا ننھے ساتھئ۔۔ ہیون نے اکڑوں بیٹھ کر اس سے پوچھا جوابا بچہ جو اریزہ کی ٹانگوں سے چمٹا ہوا تھا اسے بتانے لگا اپنا مسلئہ اور ساتھ ہی مسلئے کا حل بھی نکال لیا۔۔
    بچہ اپنے کپڑے گیلے کر نے لگا تھا۔۔ اریزہ نے احساس ہوتے ہی اسے خود سے جھٹ دور کرنا چاہا مگر وہ چمٹا ہوا تھا اس سے اپنے کارنامے سے اریزہ کے جوتے اور پینٹ کے پانچے بھی خراب کر دہئے۔
    آہش۔۔ اس نے جھلا کر اسے دور کیا۔۔
    ہیون نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ ابھئ تو اتنا پیار کر رہی تھی اب اچانک۔۔
    میرے خدایا۔۔ سارے کپڑے ناپاک کر دیئے اوپر سے یہ جوتے واحد لانگ شوز تھے میرے پاس۔۔ا
    سکے لانگ شوزبھی بمشکل ٹخنے تک کے تھے۔
    جھلا کر مٹھیاں بھینچتے تنتنا کر چیخی تھی۔۔ بچہ سہم کر جا کر ہیون سےلپٹ گیا۔۔
    اب اس سے تو نہ لپٹو۔۔
    اسکی آنکھیں ابل آئی تھیں۔
    کین چھنا۔۔ ہیون نے اسے پیار سے اپنے ساتھ لگا لیا۔
    بچہ سہم کر رونا بھی بھول۔گیا۔۔
    اسکے کپڑے گیلے ہیں ہیون۔۔
    اریزہ نے اسے انگریزی میں بتانا چاہا۔۔
    ہیون اسکو گھن کھاتے دیکھ کر بچے کو اٹھا کر اس سے ہنگل میں ماں کے بارے میں پوچھنے لگا۔۔ بچے نے اشارے سے دور کھڑی کائونٹر پر بل بنواتی عورت کا بتایا تو وہ اریزہ کو انتظار کرو کہہ کر آگے بڑھ گیا۔۔
    اتنا بڑا بچہ ہو کے بھی کہیں بھی۔۔ اوپر سے ہیون نے گود میں اٹھا لیا یاک۔۔
    اس نے جھر جھری سی لی۔۔ کائونٹر کے پاس ٹھیک ٹھاک پانی کھڑا ہو گیا تھا وہ چند لمحے بے بسی سی دیکھتی رہی ڈیوٹی ختم ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔۔
    میں ایک گھنٹہ ایسے کھڑی نہیں رہ سکتی۔
    اس نے سوچ کر فیصلہ لیا اور اسٹال سمیٹنے لگی۔۔
    تبھی ایک آہجومہ بڑا سا پوچھا لیکر صفائی کرنے آگئ۔۔
    اس نے مڑ کر دیکھا تو محترمہ نے اسے ایک۔جانب ہونے کو کہا اور پوچھا پھیر کر پانی پوچھے سے سوتھ دیا۔۔
    پانی نہیں استعمال کریں گی آپ۔۔؟
    اریزہ کو آج شائد سارے ہی کلچرل شاک ( ثقافتی دھچکے)لگنے تھے
    دے؟۔ انمحترمہ کو انگریزی بھی نہیں آتی تھی آنکھیں اور منہ کھول کر دیکھ رہی تھیں
    صاف کر تو دیا ہے تم اپنے جوتے اتارکر یہ جوتے پہن لو۔
    اگر اتنی الجھن ہو رہی ہے ویسے۔ واٹر پروف ہوتے ہیں یہ جوتے۔۔
    ہیون اسکیلئے اسٹور سے سلیپر اٹھا لایا تھا اب مسکرا کر کہہ رہا تھا
    وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوکری تو نوکری ہوتی ہے۔ پیر پٹخ کر ایک گھنٹہ ایسے کھڑے نہ رہنے کا ارادہ کر کے بھی وہ ڈیوٹی پوری کر کے باہر نکلی تھی۔
    سلیپرز شاپر میں ڈال کر وہ انہی شوز میں ہی ہیون کے ساتھ باہر نکلی۔تھی وہ مطمئن سے انداز میں اسکے ساتھ چل رہا تھا جبکہ اسے اس کے کپڑوں سے بھی کراہیت آنے لگی تھی۔۔
    رات کے آٹھ بج رہے تھے سردی بڑھتی جا رہی تھی
    تم نے کھانا نہیں کھایا ہے نا چلو میں آج تمہیں ایک انڈین ریستوران میں لے چلتا ہوں۔۔
    اسکا موڈ خوشگوار تھا۔۔
    آندے میں گھر جائوں گی ۔۔
    اس نے بے ساختہ انکار کیا تھا۔
    کھانا تو کھا لو۔۔ ہیون اسکے انداز پر حیران ہوا
    نہیں مجھ سے کھایا نہیں جائے گا میں پہلے نہائوں گی پھر کچھ اور کروں گی۔ تمہیں بھی نہانا چاہیئے گھر جا کر ۔۔ اس بچے نے سو سو کی تھی اپنی پینٹ میں جسے تم نے مزے سے گود میں اٹھا لیا تھا۔۔
    اس نے صاف کہا تو ہیون حیران سا رہ گیا
    تو کیا ہوا۔ قدرت کا نظام ہے سب سو سو کرتے ہیں وہ تو بچہ تھا تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے وہ بچے سے کچھ گندا جانور بن گیا تھا اپنی پینٹ میں سو سو کر کے۔۔
    ہیون کو اسکے انداز پر ناگواری سی محسوس ہوئی تھی
    یہ بات نہیں ہے۔اریزہ نے صفائی پیش کرنی چاہی جسے اس نے ناگواری سے کاٹ دیا
    ایسی ہی بات ہے تم اس بچے کے سو سو کر دینے پر چراغ پا ہو گئی تھیں اسے اتنی سختی سے خود سے دور کردیا تھا کہ وہ سہم گیا تھا کیا ہوا اگر اس نے کپڑے گیلے کر دیئے بچپن میں ایسا ہو جاتا ہے تم سے بھی ہو ہوگا کبھی۔۔
    ہیون کو اپنی آئیڈیل لڑکی کا ایسا بے رحمانہ انداز برا لگا تھا بلکہ دکھی بھی کر گیا تھا
    مگر سو سو گندی چیز ہے اپنے کپڑے گندگی سے خراب کر لیئے تھے اس نے میرے بھی کپڑے خراب کر دیئے ہیں اور تمہارے بھی۔ خود بھی تو وہ کپڑے بدلے گا نا ہمیں بھی بدلنے چاہیئے۔۔
    اب نجس کا انگریزی میں کیا ترجمہ ہوتا اسکی لغت ہار گئ تھی پھر بھی اس نے اپنا ماضی الضمیر سمجھانے کی پوری کوشش کی۔
    ہیون ہونٹ بھینچ کر دوسری جانب دیکھنے لگا تھا
    اریزہ کو اسکا انداز کافی محسوس ہوا۔ اتنے عرصے میں پہلی۔بار ہیون کی پیشانی پر ناگواری کی ایک شکن آئی تھی۔
    اچھا میں چلتی ہوں۔ وہ آہستہ سے کہہ کر بس اسٹیشن کی جانب رخ موڑ گئ تبھی بے ساختہ ہیون نے اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔
    میرے ساتھ چلو میں ڈراپ کر دوں گا۔۔
    اسکے متوجہ ہوتے ہی لمحہ بھر میں اس نے ہاتھ چھوڑ بھی دیا تھا
    اریزہ نے کچھ کہنا چاہا پر ہونٹ بھینچ گئ۔۔ ہیون کہہ کر رکا بھی نہیں تھا گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے بلڈنگ کے باہر ڈراپ کر کے چلا جائے گا مگر وہ جب اسکے ساتھ لفٹ میں آیا تو وہ سوالیہ۔نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
    گوارا نے کہا ہے اوپر آئو۔
    اس نے جیسے صفائی دی۔ وہ شرمندہ سی ہوگئ۔ ظاہر ہے گوارا کا تو وہ دوست تھا۔اگریہاں اسے چھوڑنے آیا ہے تو اس نے یقینا بلایا ہوگا اوپر۔ ہایون مکمل موبایل میں مگن تھا۔ وہ بھی لاتعلق سی کھڑی رہئ ۔۔ منزل آگئی تھی۔ اسے اپنے آپ سے بھی کراہیت آرہی تھی جبکہ ہایون بالکل مطمئن نظر آتا تھا۔ وہ الجھن بھرے انداز سے اسکو دیکھے جا رہی تھی۔ ہایون کو اسکی نظریں جانے محسوس ہی نہ ہوئیں وہ بالکل بے نیازی سے اسکے ساتھ چلتا آیا۔اریزہ نے آگے بڑھ کرفلیٹ کا لاک کوڈ دبایا۔
    دروازہ کھولتے ہی ایک زور دار نعرے کے ساتھ اسکا گوارا نے استقبال کیا۔
    ہیپی برتھ ڈے ٹو یوہیپی برتھ ڈے ڈئیر اریزہ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔
    وہ گنگنا کر چپ ہوئی۔
    گوارا ہوپ یون بن کم سن سب موجود تھے۔ رنگین ٹوپیاں پہنے غبارے تھامے پارٹی پاپرز بجاتے اسکے کتنے نئے دوست بن چکے تھے اسے آج احساس ہوا۔
    سبھئ نے ہاتھ میں تحفے تھامے ہوئے تھے۔گوارا کے چپ ہونے پر باقی سب نے تان بلند کی تھی۔ لہک لہک کر کورس میں گاتے کورین نغمہ۔
    سینگئ چوکھا ہمبندا سینگی چوکھا ہمبندا سارانگھیئے اوری اریزہ سینگئ چوکھا ہمبندا۔۔
    (سالگرہ مبارک ہو ہمیں تم سے محبت ہے اریزہ )
    جھومتے ہوئے گوارا اسکے قریب آئی تھی اور گلے لگ گئ۔
    تم نے ہمیں کیوں نہیں بتایا آج سالگرہ ہے تمہاری۔ ہم سب ایک دوسرے کی سالگرہ کا خوب اہتمام کرتے ہیں۔
    یون بن ایک تحفہ اسکی جانب بڑھاتے کہہ رہا تھا۔
    گھمسامنیدہ۔
    اتنی محبتیں پاکر اسکی پھر آنکھیں بھر آئی تھیں۔
    ہوپ کم سن نے بھی اسکو تحفے تھمائے۔

    چلو اندر آئو کیک کاٹیں۔
    گوارا اسے اندر آنے کو کہہ رہی تھی۔ اس نے ایکدم سے ہاتھ چھڑایا۔
    میں پہلے فریش ہولوں۔
    کچن کئ کائونٹر ٹیبل پرکیک اور تھوڑا بہت تواضع کا سامان رکھا ہوا تھا مگر وہ اس وقت کسی اور ہی الجھن میں تھئ۔
    ٹھیک ہے ۔۔ گوارا فورا پیچھے ہوگئ۔ وہ تیزی سے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔
    وہ سخت الجھن محسوس کر رہی تھی جبھی سیدھا کمرے میں آئی تھی آکر کپڑے نکالے اور باتھ روم میں گھس گئ
    نہا کر سویٹ پینٹ اور شرٹ پہن کر نکلی تو سب اسکے انتظار میں بیٹھے تھے۔
    آئی ایم سوری۔
    وہ شرمندہ سی ہوگئ۔
    اس وقت اتنی ٹھنڈ میں نہالیا بیمار نہ پڑجانا۔
    گوارا ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔
    بس وہ۔ اس سے جواب نہ بن سکا۔ ہایون اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ خفگئ بھری نظریں۔وہ نگاہ چرا کر میز کی۔جانب بڑھ آئی۔
    یون بن کم سن ہایون ہوپ سب میز کے گرد جمع تھے۔
    اس نے ان سب کی تالیوں اور دعائوں میں کیک کاٹا۔ گوارا نے سب کیلئے پلیٹ میں سرو کیا۔
    اریزہ تحفے دیکھو۔
    گوارا کو جلدی تھئ۔
    اس نے گوارا کا گفٹ سب سے پہلے کھولا۔
    ایک مشہور کورین برانڈ کی میک اپ کٹ تھی پرس میں رکھنے والی دلکش اور نازک سی۔
    شکریہ۔
    وہ میک اپ کی ذیادہ شوقین تو نہ تھی مگر اسکا تحفہ اسے بے حد پسند آیا تھا۔
    کم سن نے چاکلیٹ باکس دیا تھا۔
    اتنی جلدی میں یہی مل سکا تھا۔ دوپہر کو گوارا نے بتایا تھا۔ آئیندہ اچھا تحفہ لینا ہو تو سالگرہ سے ایک آدھ پہلے یاد دہانی کرادینا۔
    اسکا مخصوص انداز تھا سنجیدگی سے مزاق کیئے جانا
    وہ اسکے چہرے پرمزاق کی رمق تلاش کر نے میں ناکام ہوئی۔۔
    دے۔ اس نے سر ہلا دیا۔ اسکی تابعداری پرکم سن بے ساختہ مسکرایا تھا۔۔
    بھئ یہ میک اپ کٹ گوارا نے مجھ سے ہی منگوائی تھی اور میں اور گوارا الگ الگ تھوڑی تو یہ تحفہ مشترکہ سمجھو ہماری طرف سے۔
    یون بن نے ہاتھ جھاڑ کر کہا تھا۔
    کنجوس انسان۔ گوارا نےاپنی پلیٹ ست کیک کا پیس ہی اٹھا کراسے دے مارا جسے اس نے ڈھٹائی سے چہرے پر کھا کرکریم پر انگلی پھیر کر چاٹ لی۔
    ویسے ہی کیک بھی میری طرف سے سمجھو۔
    ہوپ کا تحفہ سب سے مختلف اور منفرد تھا۔
    لکڑی کی کنگھی گول سی جس پرایک کوریائی لڑکی بنی تھی ۔ کنگھئ کے دانے لہریے دار اور قدرے لمبے تھے یوں جیسے اسی لڑکی کے بال بکھر رہے ہوں ہوا سے۔
    اس نے فورا کنگھئ سے اپنے سر پر پھیری۔
    شکریہ ہوپ بہت خوبصورت ہے۔
    اس نے تحفہ دیا تھا یہی بڑی بات تھی۔
    یہ وہی کنگھئ نہیں جو تم استعمال کرتی ہو ؟
    گوارا نے کہا تو ہوپ بھنا گئ۔
    ہرگز نہیں یہ ویسی ضرور ہے۔ مگر میں نے استعمال شدہ چیز نہیں دی اسے۔ کہو تو لا کر دکھا دوں۔
    اسکا غصہ یوں بھی ناک پر۔دھرا رہتا تھا۔
    ہاں جائو۔ گوارا کو بھی اسے تپانے میں الگ مزا آتا تھا۔وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی
    مجھے یقین ہے۔
    اریزہ نے فورا اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔
    ہایون نے تحفہ نہیں دیا۔ یون بن کو یاد آیا۔
    ہایون نے تو رات کو ہی وش کردیا تھا بکے اور فرنچ پرفیوم کے ساتھ۔
    گوارا نے لائونج کی سنٹرل ٹیبل کی جانب اشارہ کیا جہاں اس نے گلدستہ سجا رکھا تھا۔
    اسی کے کارڈ کو پڑھنے سے مجھے پتہ لگا تھا کہ آج اریزہ کی سالگرہ ہے۔ اس نے تو بتایا بھی نہیں تھا ہمیں۔
    گوارا نے کہتے کہتے شاکی انداز سے اسکی جانب دیکھا۔
    ہر کوئی تھوڑی تمہاری طرح اپنی سالگرہ کا اعلان کرتا پھرتا سب سے زبردستی تحفے وصول کرتا ہے
    یون بن نے کہا تو گوارا حسب عادت چڑ گئ۔
    میں نے ایسا کب کیا۔ الٹا تم نے سرپرائز کے چکر میں میرا سالگرہ کا دن میری برسی کا دن بھی بنا دینا تھا۔ الٹے پرینکس سوجھتے بس تمہیں۔
    تم مر کے تو دیکھتیں۔
    یون بن دل پر ہاتھ رکھ کر جیسے آہ بھر رہا تھا۔
    پھر کیا کرتے تم ۔گوارا نے آستین چڑھائی۔
    میں تمہارے مرنے کے بعد تمہاری سالگرہ ہی مناتا۔
    اس نے فورا پینترا بدلا تھا۔
    گوارا دانت پیس کر رہ گئ۔ اسے گوارا کا موڈ ایکدم ٹھیک کرنا آتا تھا۔
    دونوں کی ہنگل کی بحث اسکے سر پر سے گزری تھی۔
    وہ دیکھ تو رہی تھی انہیں مگر صاف نظر آتا تھا ذہن کہیں اور ہے۔
    اریزہ ۔۔کم سن نے پکارا تو وہ ایکدم کسی خیال سے چونکی۔
    ہوں۔۔
    گھر والے یاد آرہے ہیں؟
    کم سن نے نرمی سے پوچھا۔
    تمہاری سالگرہ پر کافی اہتمام ہوتا ہوگا۔ ہم نے پوری کوشش کی کہ تمہیں یہاں تنہائی محسوس نہ ہوسکے۔
    وہ مزید کہہ رہا تھا۔ وہ پھیکی سی مسکراہٹ سے بولی۔
    نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔مجھے اچھا لگا آپ سب کا یہ اہتمام۔
    تمہارے یہاں سالگرہ کیسے مناتے ؟ باقی سب کی طرح کیک کاٹ کر ؟ میرا مطلب کیک کاٹا جاتا ہے دنیا بھر میں پاکستان میں بھی یہی رواج ہے؟
    یون بن بھی متوجہ ہوا۔
    ہاں۔ اسکا جواب مختصر تھا۔
    اریزہ تم تو اکلوتی ہونا سالگرہ پر خوب اہتمام ہوتا ہوگا پارٹی ہوتی ہوگی گفٹس ملتے ہوں گے تمہیں ہے نا؟
    گوارا بھی دلچسپی سے پوچھ رہی تھئ۔
    آنی۔
    اسکا چہرہ پھیکا پڑا۔
    میری سالگرہ پر کوئی اہتمام نہیں ہوتا۔ میں کبھئ سالگرہ نہیں مناتی۔
    چہرہ بے تاثر رکھنے کی بھرپور کوشش بھی اسے ناکام ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سب مکمل طور پراسکی جانب متوجہ اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔
    کیوں؟ یون بن حیران تھا۔
    ہایون نے گہرا سانس لیا۔
    تو یہ وجہ تھی رات اسکی سالگرہ کی مبارکباد کی وصولی پر اسکا رنگ کیوں اڑ گیا تھا۔
    اسکی سالگرہ والے دن ہی تو ۔۔۔۔
    اسے جزئیات سے یاد آیا تھا۔ اتفاق سے اس دن کم سن کے سی وی دکھانے پر اس نے چپکے سے اسکی سالگرہ کا دن نوٹ کر لیا تھا مگر یہ بات اسکو یاد نہ رہی تھی۔۔
    وہ دھیرے سے بتا چکی تھئ سب اپنی اپنی جگہ افسردہ سے ہوگئے تھے۔ ہوپ کو پہلی دفعہ اسکے چہرے کی ویرانی محسوس ہوئی سو اسکے قریب آکر بیٹھ گئ تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پھر ان سب نے اسکو ہنسانے کی خاطر اتنے جتن کیئے تھے۔۔۔
    لائونج میں میز ایک طرف کرکے جگہ بناکر وہ سب بیٹھ گئے تھے۔
    آج ہم سب ایک ایک ایسا کام کریں گے جو اریزہ کو ہمیشہ ہماری یاد دلائے۔
    گوارا نے اعلان کیا تھا۔
    مرجائو پھر۔
    یون بن نے مسخرے پن سے کہا ۔ گوارا نے بنا لحاظ چپت لگائی سر پر اسکے۔
    چونکہ ہنگل میں کہا تھا سو اریزہ ہوپ کا بازو ہلا کر پوچھنے لگی کیا کہا۔
    دعا دی ہے جیو ۔۔
    ہوپ نے جان چھڑائی۔ اریزہ نے لفظ یاد کرلیا تھا اب اسے صرف کسی اچھی جگہ استعمال کرنا تھا۔
    ۔ ہایون اور کم۔سن نے مل کر گانا گایا۔ کورین گانا سمجھ تو نہیں آیا مگر دونوں کی آواز میں سر تھا کم سن میز بھی ساتھ ساتھ بجا رہا تھا۔
    ایک جگہ پر تو یوں لگنے لگا دو کی بجائے بس ایک انسان گا رہا ہے۔
    یون بن اور گوارا نے کپل ڈانس کیا تھا۔ تھک ہار کر کم سن اور یون بن نے اجازت چاہی تھی۔ ہایون نے روکا مگر دونوں رکے نہیں۔
    گوارا برتن سمیٹنے لگی۔ ہوپ لائونج کی حالت درست کرنے میں لگ گئ۔ تبھئ اطلاعی گھنٹی بجی
    ہایون ہی اٹھ کر گیا واپسی پر اسکے ہاتھ میں بڑا سا پیکٹ تھا۔
    بریانی آرڈر کی تھی میں نے۔ ایک پاکستانی ریستوران سے ارادہ تو وہیں جا کر کھانے کا تھا مگر تم تیار نہ ہوئیں۔۔
    وہ اپنے پچھلے موڈ کے برعکس بالکل پہلے کی طرح ازلی مہربان سے انداز میں بول رہا تھا۔۔ شاپر کچن کائونٹر پر رکھا تو گوارا برتن دھوتی بھاگی آئی۔
    چاول شاپر۔کھولتے ہی وہ بے ساختہ خوش ہوئی تھی۔
    اتنے سارے۔
    اس نے سوالیہ۔نگاہوں سے دیکھا۔ہایون نے کندھے اچکا دیئے
    سب کیلئے منگوائے تھے مگر کم سن اور یون بن رکے ہی نہیں۔
    اس نے بھی اسکے سامنے والی کرسی سنبھال لی۔
    گوارا نے ڈسپوزایبل پیک ہی اسکے سامنے کر دیئے۔ ہوپ بھی یہیں چلی آئی۔
    اریزہ نےپیک دیکھا تو چاول اسکی ضرورت سے کافی ذیادہ تھے۔
    وہ پلیٹ لینے اٹھی تو ہایون نے جانے کیا سمجھا وضاحت دینے لگا
    میں نے ہاتھ دھو لیئے تھے اور کھانا شاپر سے نہیں نکالا تھا۔۔
    اریزہ اسکے اس طرح کہنے پر شرمندہ سی ہوگئ۔ یقینا اس نے آج اوور ری ایکٹ کر دیا تھا اتنی بد مزاجی دکھائے بغیر بھی وہ گھر آکر نہا کر پاکیزگی حاصل کر سکتی تھی۔
    وہ زبان دانتوں تلے دباتی ریک سے پلیٹ لیکر آئی
    وہ یہ۔چاول بہت ذیادہ ہیں میں پہلے ہی الگ کر دوں تو کوئی اور بھی کھا لیگا۔۔
    اس نے وضاحت کی۔۔ دیگچی پیالے میں مل کر کھانے والے کورینز کو اسکی کھانا جھوٹا کرنے والی اصطلاح کیا خاک سمجھ آنی تھی۔
    اس نے خاموشی سے پلیٹ خالی کرنی شروع کر دی۔ وہ چمچ استعمال کر رہی تھی جبکہ ہایون ہوپ اور گوارا چاپ اسٹکس سے کھا رہے تھے۔ کھاتے کھاتے ہایون کے کپڑوں پر چاول گرے۔۔ اسکی بلا ارادہ اسی پر توجہ تھی۔
    اریزہ نے بے ساختہ سر جھکا لیا۔ اب اگر وہ ان کپڑوں سے اٹھا کر کھا لیتا تو یقینا اسکا ہی دل برا ہونا تھا۔۔
    ہیون نے ایک نظر اسکے جھکتے سر کو دیکھا پھر کپڑوں پر سے چاول اٹھا کر میز پر رکھ دیئے۔
    میں چلتا ہوں۔
    اس سے مزید کھایا نہیں گیا۔ وہ یکدم ہی اٹھ کھڑا ہوا۔
    کیا ہوا؟ کینچھنا۔۔ گوارا اسکے یوں اٹھنے پر حیران سی ہوئی مگر وہ بیانیئے پھر ملتے ہیں کہتا ہوا اٹھ کر ہی چلا گیا۔۔
    ہوپ بھی ایکدم سے کھانا چھوڑ کر اٹھ گئ۔
    اب اسے کیا ہوا۔ گوارا نے اس سے پوچھا تھا۔
    پتہ نہیں۔۔
    کہتے ہوئے بھی اسے احساس ہوا تھا کہ کہیں نہ کہیں اسے پتہ ہی ہے۔

    خیر تمہارے لیئے تو ہفتے بھر کی بریانی کا انتظام ہوگیا۔
    گوارا شرارت سے کہنی مار کر بولی۔
    پانچ چھے پیکٹ۔ اس نے اس بڑے سے شاپر کو دیکھا
    ہفتہ۔کیا مہینے بھر چل جائیں گے یہ تو۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نماز پڑھ کر دوپٹہ تہہ کرکے الماری میں رکھ کر وہ سیدھا بیڈ پر گری تھی۔۔ کافی تھکن بھرا دن تھا اسکیلئے۔۔ اس نے موبائل اٹھایا 80 فیصد بیٹری۔۔بیڈ پر کمر کے نیچے تکیئے لگئے وہ۔پرسکون سے انداز میں ٹیک لگا ئے بیٹھ گئ
    سارا دن موبائل استعمال نہیں کیا۔۔
    یہ دن بھی آنا تھا ۔۔ اس نے گہری سانس لی۔۔
    اسکرین کا تالا کھولا بابا کا میسج آیا ہوا تھا
    سالگرہ مبارک ہو بیٹا۔ جیتی رہو خوش رہو۔۔
    اسکی آنکھ بھر آئی۔
    زندگئ میں پہلی دفعہ وہ اتنی دور ہوئی تھی کہ انہیں موبائل پر وش کرنا پڑا اور اس نے سارا دن موبائل دیکھا تک نہیں۔۔

    اس وقت کا اندازہ لگایا رات کا آخری پہر ہوگا۔۔ کال نہیں کی جاسکتی تھی۔۔

    سنتھیا نے اسے میسج تک نہ کیا تھا۔
    اتنی کٹھور کیوں ہوگئ ہے وہ۔
    اس نے بلاگ کھول لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی میں آپ اپنا پیدائش کا دن خود منتخب نہیں کر سکتے۔ نا ہی یہ منتخب کر سکتے کہ اس دن آپ ہمیشہ خوشیاں پائیں گے۔ یہ دن ہر اس گزرتے ٹھہرتے دن کی طرح کا عام سا دن ہے۔ کبھی خوشیوں بھرا کبھی اداسی کا سبب۔ اہم ہے بس وہ خالص محبت جو اس دن آپکے قریبی لوگ آپ پر نچھاور کردیں ۔۔۔ اگر کبھئ محبت ملے تو خوش ہو لینا چاہیئے یہ سوچے بغیر کہ آج سے قبل کتنی ملی یا آئیندہ جانے ملے نا ملے۔۔۔
    مجھے آج بہت محبت ملی ہے۔ امید ہے اگلے سال بھی ملے اس سے اگلے سال بھی اس سے اگلے سال بھی۔۔۔۔ آج کسی ذیاں کا حساب نہیں رکھنا۔۔ آج بس میرا خوش ہونے کا دن ہے ۔میں خوش ہوں۔۔ سچی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پہلا کمنٹ
    یوں کہو نا آج سالگرہ ہے۔ سالگرہ مبارک ہو۔۔
    دوسرا کمنٹ۔
    ایڈمن پیدا ہوتے ہی اتنا فلسفہ جھاڑ دیا۔ تمہاری پیدائیش کے دن پر تم تو خوش ہو۔اور کوئی خوش ہوا کبھی؟ ایسے ہی پوچھا۔
    تیسرا کمنٹ۔۔
    مگر میں خوش نہیں ہوں کل بائک چوری ہوگئ میری۔۔
    چوتھا کمنٹ۔
    شاباش لڑکی۔۔ یہی چاہیئے تھا بس ۔۔
    صارم تھا یہ۔۔
    وہ۔مسکرا دی۔ اسی کیلئے یہ بلاگ لکھا تھا شکر ہے پڑھ لیا۔اب یقینا سوجائے گا آرام سے۔
    پانچواں کمنٹ۔۔
    سالگرہ مبارک ہو۔۔ کچھ محبتیں چھن جانے کادکھ سارے جہاں کی خوشیوں پر بھاری ہوتا ہے خدا کرے ایسا دکھ کبھی آپکو نہ ملے۔۔
    علی۔۔
    اس نے گہری سانس لی اور جواب لکھنے لگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہاہ۔ مل چکاہے ۔ مگر جو لوگ آپکو ہرحال میں خوش دیکھنا چاہتے ہیں انکی۔محبتیں چھن جانے والی محبتوں کا متبادل نہ سہی مگر انمول ہوتی ہیں۔ ان محبتوں کی قدر کیجئے جو نصیب ہیں۔ ان پر صبر کریں جو چھن چکی ہیں جینے کا یہی۔طریقہ ہے۔۔
    بلاگر کا جواب غیر متوقع تھا۔
    اس نے دو تین بار پڑھا پھر بلاگ بند کرکے وی چیٹ پر آئے عبدالہادی کے پیغامات دوبارہ پڑھنے لگا۔
    میری خاطر ایک بار مل کر تو دیکھو۔ اچھی لڑکی ہے سمجھدار۔ پیاری۔ بس مل۔لو کوئی زبردستی نہیں
    اس نے چند لمحے سوچا پھر لکھ بھیجا۔
    ٹھیک ہے۔ آپ۔ملاقات کا دن او روقت طے کرکے بتا دیجئے گا۔
    انہوں نے فورا میسج پڑھا تھا۔او رجواب بھیجا۔
    واقعی۔ سچ۔کیسے مان گئے میری بات
    وہ۔بے یقین تھے۔
    کسی نے کنوینس کیا ہے مجھے۔
    وہ ذرا سا ہنسا۔۔
    کس نے؟
    وہ متجسس ہوئے۔۔
    Aree z thoughts
    اس نے بلاگ کا نام ہی لکھ بھیجا۔
    یہ کون ہے ؟
    وہ حیران تھے
    جو بھی ہے مگر اس نے میری الجھن میں ہمیشہ میری مدد کی ہے۔۔ مجھے اسے شکریہ کہنا چاہییے۔۔
    اس نے زیر لب کہا تھا۔ اور بلاگ کھول کر کمنٹ لکھنے لگا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آج سونے کا ارادہ نہیں ہے کیا ؟ محترمہ آپکو نوکری پر جانا ہے کل۔
    گوارا ہاتھ پونچھتی باتھ روم سے نکلی اسکوموبائل میں مگن دیکھ کر شرارتا جملہ چست کر دیا
    وہ بلاگ بند کرکے اب اپنے والدین کی اچھے وقتوں کی کھینچی گئ تصویر دیکھنے میں مگن تھی۔
    ابا یاد آرہے ہیں۔
    اس نے منہ بسور کر موبائل اسکی۔جانب کیا۔
    دکھائو۔۔ وہ بڑے شوق سے تصویر دیکھنے اسکے پاس آبیٹھی
    تم ابا کہتی ہو اپنے آہبوجی کو؟
    آہبوجی؟ ۔۔۔ اریزہ نے سوالیہ انداز میں دیکھا
    والد محترم۔۔ گوارا نے وضاحت کی۔
    ہم لوگ ابو جی کہتے ہیں۔یہ تو ملتا جلتا ہے۔ وہ پر جوش ہو۔کر اٹھ بیٹھی
    ابھی تو ابا کہہ رہی تھیں۔۔
    گوارا اسکے انداز پر۔ہنسی
    ہاں میں پاپا کبھی لاڈ میں بابا اور پیٹھ پیچھے ابا کہہ دیتئ ہوں۔۔
    اریزہ نے کہا تو وہ اسکے ہاتھ سے موبائل لیکر تصویر دیکھنے لگی۔
    یہ تمہاری آہموجی ہیں؟ میرا مطلب والدہ۔۔
    وہ بڑے غور سے دیکھ رہی۔تھی
    ہاں۔۔ اریزہ نے چچ کیا۔ اسی شکل کی جوانی والےدور کی جیتی جاگتی تصویر وہ خود تھئ۔
    کافی ینگ لگتی ہیں نا انکی۔جلدی شادی ہو گئ تھی یہاں میک اپ میں پھر بڑئ لگ رہی ہیں یہ شادی کی تصویر ہے نا آگے کرو انکی عام حلیئے میں تصویر دیکھو تو میری بڑی بہن لگتی ہیں۔۔
    وہ بہت شوق سے بتا رہی تھی۔ گوارا اسکی پرجوش انداز پر باقی تصویریں بھی دیکھنے لگی۔
    رنگوں سے بھرا پس منظر زرق برق لباس مسکراتے چہرے۔۔
    سنتھیا سرخ لباس میں خوب میک اپ کیئے اسکے ساتھ کھڑی تھی ساتھ روائتی انداز میں سرخ جوڑے میں ملبوس لڑکی
    یہ لڑکی تو سنتھیا لگ رہی ہے ساتھ کون ہے؟
    وہ پہچان نہیں پائی۔
    اریزہ کھل کر ہنستی چلی گئ۔ گوارا اسکے انداز پر نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہی
    پہچانا نہیں؟ ہنستے ہنستے وہ محظوظ انداز میں پوچھ رہی تھی
    ہوپ کمرے میں داخل۔ہوئی تو گوارا کو موبائل میں تفتیشی انداز میں جھکی تھی ساتھ بیٹھی اریزہ ہنسے جارہی تھی
    کیا ہوا واٹس سو فنی؟
    وہ حسب عادت سر سری سے انداز میں کہہ کر بیڈ پر چڑھی مقصد صرف اپنی موجودگی کا احساس دلانا تھا کہ جگہ خالی۔کرو میں نے سونا۔ مگر اس وقت گوارا گمبھیر مسلئے میں الجھی تھی وہ دونوں کے درمیان سوتی تھی اور اسوقت دونوں سر جوڑے بیٹھی تھیں۔
    یار کون ہے ؟ یہ تو سنتھیا ہے کوئی انڈین ہیروئن ہے؟ انکو ہی ایسا لباس پہنے دیکھا۔۔
    گوارا ہار ماننے کو تیار نہیں تھی ایک اور غلط اندازہ اریزہ تو لوٹ پوٹ ہوگئ
    انڈین ہیروئن کیوں ہونے لگی ؟ میرے گھر میں ۔۔
    یہ دیکھو ہوپ یہ لڑکی کون ہے؟ یہ ڈریس تو میں نے دیپیکا کو پہنے دیکھا تھا۔۔ گوارا نے موبائل ہوپ کی جانب بڑھایا
    کیا ؟ اریزہ چونک کر سیدھی ہو بیٹھئ
    ہوپ نے ایک۔نگاہ تشویش میں مبتلا اریزہ پر ڈالی دوسری گوارا پر پھر اپنے مخصوص پہیلیاں بجھانے والے انداز میں بولی۔۔۔
    سنتھیا کے ساتھ کون ہوسکتاہے۔؟۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انوشکا ۔ اسکا نام انوشکا شرما ہے۔
    گوارا نے اسے اپنی ویبو آئی ڈی پر کسی بھارتی سہیلی کی ڈی پی پر لگی ہوئی تصویر اسے نکال کر دکھائی۔
    برائڈل میگزین کا کوئی کور تھا ۔۔
    واٹ ایور۔ اتنے مشکل نام۔ہیں توبہ۔ گوارا نے سر جھٹکا
    انوشکا یا دیپیکا اس سےفرق نہیں پڑتا مگر یہ اس ڈیزائنر نے میرے ساتھ دھوکا۔کیا ہے۔۔
    اریزہ سال۔بھر بعد اپنی شادی کا دن یادکرکے روہانسی ہو چلی تھی
    مجھے پانچ لاکھ کا یہ بکواس انوشکا کی اترن لہنگا کاپی کر کے دیاتھا۔ کہتی ہے اس نے خاص میرے لیئے تیار کروایا ہے ایسا دوسرا پیس نہیں دنیا میں جھوٹی دغا باز کہیں کی۔
    وہ مٹھیاں بھینچ رہی تھی
    گوارا اور ہوپ کی آنکھیں اور منہ کھلے کے کھلے رہ گئے
    اتنا مہنگا کام وہ بھی اس نے چوری کیا اسٹائل۔۔
    وہ دانت کچکچا رہی تھی۔
    اتنا مہنگا جوڑا دوست کی شادی کیلئے بنوایا؟ پاگل ہو؟ اتنا تو سنتھیا بھئ تیار نہیں ہوئی وی۔
    گوارا نے کہا تو وہ جھلا کر بولی
    دوست کی تھوڑی اپنی شادی کیلئے بنوایا تھا اف اس وقت
    کیسے اماں ابا کا پیسہ اڑاتے ذرا نہیں سوچا کرتی تھی کہ کمانا کتنا مشکل کام ہے۔۔ آج کمر ٹوٹ گئ کھڑے کھڑے تو
    بولتے بولتے اسکی گوارا پر نظر گئ تو چپ کر گئ
    گوارا کے چہرے پر گہرئ سنجیدگی چھا گئ تھی
    مجھے لگا تھا سنتھیا اور ایڈون کی شادی کی تصویرہے۔ مگر تم۔۔ تم کیا شادی شدہ ہو؟
    گوارا کی الجھن عروج پر تھی
    ہاں۔۔ اریزہ نے گہری سانس لی۔
    یہ میری شادی کی ہی تصویر ہے۔ اور میں پاکستان کی ان 80 فیصد احمق لڑکیوں میں سےایک ہوں جو ایک دن کیلئے ایک۔جوڑے پر کروڑوں بھئ خرچ کر نے کو تیار ہوسکتی ہیں۔ مگر سچ میں پچھتا رہی ہوں۔ اب دوبارہ تو میں یہ کبھی نہیں پہنوں گی۔اور اس سیمز کی تو گردن مروڑوں گئ جا کر۔۔
    وہ۔تصور میں مٹھی میں اسکی گردن ہی پکڑے تھی
    تم ویسے پیاری بہت لگ رہی تھیں اس جوڑے میں
    ہوپ نے دل سے کہا تھا جانے کیسے وہ ایکدم ہلکی پھلکی سی ہو کر بولی تھی وہیں گوارا کے دل پر منوں بوجھ آپڑا تھا۔ ہوپ کے بے ساختہ تعریف کرنے پر اریزہ۔جھینپ۔کر کچھ کہہ رہی تھی تو وہیں ہوپ کا۔انداز بھی سکھی سہیلیوں جیسا ہوچلا تھا اتنے عرصے میں پہلی۔بار ہوپ نے سرد مہری۔کی نادیدہ دیوار ڈھا دی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شاور لیکر وہ آئینے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا
    برش رکھتے اپنے سپید سے ہاتھ پر نگاہ پڑی تو دوپہر کا منظر تازہ ہوچلا
    اس نے بلا ارادہ ہی اریزہ کو ہاتھ پکڑ کر روکا تھا احساس ہونے پر چھوڑ بھئ دیا تھا ہاتھ پھر بھی اریزہ اپنا ہاتھ یوں الگ کیئے بیٹھی تھی گاڑی میں جیسے کسی گندی چیز سے چھو گیا ہو۔۔ اسکے بچے کو دور کر دینے میں جس کراہیت کا دخل تھا وہی کراہیت اسے ہیون کے پاس سے بھی آئی تھی۔۔ اسکے اندر کہیں کچھ ٹوٹا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔

    Kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ?Rate us below

    Rating
  • Salam Korea Episode 26

    Salam Korea
    by Vaiza Zaidi
    قسط 26

    urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

novel

urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list


سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔
اDesi Kimchi seoul korea based Urdu web travel Novel ALL EPISODES LINKS
    salam korea episode 26

    گنگشن نونا اور اسے آج ایڈمن صاحب سب بتا دینا چاہتے تھے۔گنگشن کا ذہن این جی او کے نئے ایونٹ میں الجھا تھا تو وہ کسی اور ہی کے خیال میں الجھا تھا اتنا کہ سامنے سے پیر پٹخ کر آتی اس لڑکی کو دیکھ کر بھی اسے اسی کسی کا ہی خیال ذہن میں کوندا تھا۔ پروٹوکول کی وجہ سے وہ اپنے خیال کئ تصدیق کیلئے جا نہ سکا۔ گنگشن انی اور چار دیگر اسٹاف ارکان کے ساتھ وہ سیدھا اس ایڈور ٹائزنگ کمپنی کے مالک کے دفتر میں آئے تھے۔ انکی کیمپین کو وہ خود ذاتی طور پر دیکھ رہے تھے کیوں؟ وجہ نئی چھوٹی کمپنی۔ اگلا بندہ اٹھ کے سیٹ سے کھڑا ہوگیا تھا۔
    آننیانگ ہاسے او۔ نونا۔۔
    آننیانگ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ یونی کیوں نہیں گئے؟
    حسب عادت نونا نے جھاڑنا شروع کردیا۔ کم سن کان دبا کر مسکراتے ہوئے سب اسٹاف کو جانے کا اشارہ کرتا ہوا انہیں اپنے آفس کے ایک جانب لگے صوفوں کے پاس لے آیا۔

    نونا اب یہ نہیں تعلیم مکمل کرتا آپ کچھ بھی کر لیں۔
    ہایون نے صوفے پر اطمینان سے بیٹھتے ہوئے کہا۔
    آنی ۔۔ نونا میں پڑھوں گا پکا آج کل تو یونیورسٹی میں مڈز کے بعد کی بریک ہے۔ آپ بتائیں کیا پیئیں گی
    نونا مسکرا دیں۔
    کھانا کھاتے ہیں اکٹھے۔ میری لنچ کے بعد میٹنگ ہے سو وقت کم ہے۔۔ جلدی سے آرڈر کرو۔
    دے۔ کم سن فورا سر ہلاتا اٹھا اور اپنے انٹرکام سے آرڈر کرنے لگا۔
    ہایونا تم نے انکی ایڈورٹائزمنٹ کا پروپوزل فائنل کیا تھا نا دیکھ لینا۔ اسکی ٹیم سے بھئ مل لینا۔
    نونا کو کام یاد آنے لگے۔
    جانے دیں۔ یہ اسکا پہلا پراجیکٹ ہے یقینا جان لڑا دے گا مجھے اتنا دماغ لگانے کی کیا ضرورت۔
    ہایون کا جواب نپا تلا تھا۔ کم سن پر نگاہ جمائے وہ بہت پیار سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے اسکی صلاحیتیوں پر پورا یقین ہو۔نونا مسکرا دیں پھر کچھ یاد آیا تو اپنے بیگ سے کچھ نکالنے لگیں۔کم سن فون بند کرکے انکے پاس ہی چلا آیا۔
    کم سنا بہت خوبصورت سیٹ اپ ہے تمہارا۔ تم نے اچھا فیصلہ کیا اپنی آبائئ زمین بیچ کر اس کاروبار کو شروع کرنے کا مگر میرا مشورہ یہی ہے پڑھائی ادھوری نہ چھوڑنا سمجھے۔
    وہ بڑے پن سے نصیحت کر رہی تھیں وہ مسکرا کر سر ہلا کر رہ گیا۔
    اچھا یہ تمہارا کارڈ ۔۔
    انہوں نے نوید مسرت کے الفاظ سے سجا منگنی کی دعوت کا کارڈ نکال کر اسکی جانب بڑھایا
    آپ نے ضائع ہی کیا کارڈ نونا اس نے تو آنا ہی تھاویسے بھی میرے ساتھ۔
    ہایون نے کہا تو نونا ہنس پڑیں۔ پھر شرارت بھرے انداز میں بولیں۔
    ہاں ہے تو گھر کی بات مگر سی ای او صاحب بن چکے ہیں یہ اب انکو پروٹوکول تو دینا پڑے گا۔
    نونا آپکے کے لیئے تو ہمیشہ میں چھوٹا بھائی ہی رہوں گا
    کم سن جھینپ سا گیا۔
    یہ تو ہے۔ ہایون کے سب دوستوں کے کارڈز اپنی نگرانی میں بھجوائے ہیں۔ خاص کراسکی گرل فریںڈ کو تو خود اپنے ہاتھوں سے کارڈ دیا ہے۔
    اسکی بات پر ہائون تو ہایون کم سن بھی آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگا۔
    تم کیا سمجھے مجھے پتہ نہیں میں ۔ نونا محظوظ انداز میں مسکرائیں۔
    اس نے وعدہ بھی کیا ہے کہ آئے گی۔۔۔ بلکہ گوارا سے بھی کہا ہے اسے ضرور لیکر آئے۔ اجنبئ تو نہیں وہ میرے لیئے مگر ۔اپنی گرل فرینڈ کی حیثیت سےاسے ضرور مجھے ملوانا۔ سمجھے
    انکی بات پر ہایون کے چہرے پر واضح خوشی دوڑی تھی۔
    کم سن بھی مسکرا دیا۔
    نونا کا فون آنے لگا تو وہ معزرت کرتی اٹھ گئیں۔کم سن اچھل کر اسکے برابر میں آن بیٹھا۔
    یہ کب ہوا مجھے کیوں نہیں بتایا۔
    کوئی نہیں ہوا ایسے ہی نونا اندازے لگا رہی ہیں۔
    ہایون نے دامن بچانا چاہا
    درست اندازے۔ کم سن نے جتایا تو وہ ہنس دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کھانا وانا کھا کر نونا تو اٹھ کر چلی گئیں یہ دونوں دفتر میں ہی رہے۔کم سن کی ایڈورٹائزنگ کی ٹیم نے اپنا پلان سلائیڈز پر دکھایا جسے کم سن دلچسپی سے جبکہ وہ بیزاری سے دیکھتا رہا۔
    ہم فری سیمپلنگ اور ٹیسٹنگ کا ایونٹ بھی آرگنائز کر رہے ہیں۔ مختلف مارٹس اور شاپنگ سینٹرز میں ایک ایک ٹیم بھیجیں گے۔جو بچوں کو متاثر کرنے کیلئے مختلف چھوٹے چھوٹے گیمز کھلائیں گے انعام میں انکو سیریل کے سیمپلز دیئے جائیں گے۔
    اسکا ٹیم لیڈر بتا رہا تھا۔کم سن نے فورا ٹوکا۔
    اتنی فری سیمپلنگ کریں گے تو لوگوں کو خریدنے پر مجبور کیسے کریں گے۔ اس کا بجٹ کٹ کریں۔مشہور سب مارٹس کی بجائے لی گروپ کے زیر انتظام مارٹس اور مالز کو بس اس میں شامل کریں۔ بلکہ جو آل ریڈی ایونٹ چل رہے ان میں ہی یہ سب ایڈجسٹ کریں۔
    کم سن نے انکی پوری دو سلائیڈ مسترد کی تھیں۔دونوں سٹپٹا کر دیکھنے لگے۔
    ہایون نے گردن گھما کر دیکھا۔
    کیوں منع کر رہا ہے؟ کرنے دے جو کر رہے ہیں۔
    تمہارے باپ کا پیسہ لگارہے ہیں اس لیئے منع کر رہا ہوں جوتمہیں منع کر نا چاہیئے تھا
    ہایون نے گردن کھجائی پھر کندھے اچکا دیے۔ پوری میٹنگ میں وہ مزید کچھ نہ بولا۔
    ابھی سارا سیٹ اپ چھوٹا تھا سو یہ میٹنگ سی ای او صاحب کے کمرے میں ہی ہوئی۔ پراجیکٹر بھی اسی ایک کونے میں لگا تھا۔
    ٹیم لیڈر اٹھ کر گئے تو ایچ آر والا بندہ اٹھ آیا۔ ادھیڑ عمر انکل آتے ہی رونے لگے۔ ہایون نے ناٹ اگین والے انداز میں دیکھا۔
    سر ہمیں اپنی کمپنی کے اشتہارات پر مزید پیسہ خرچنا چاہیئے۔ ٹیم لیڈر نے پروموشنل کیمپین کیلئے 25 افراد مانگے تھے ہمیں سی وی ہی پانچ موصول ہوئے جن میں سے چار کو تو ہم نے رکھ لیا ہے ۔ مگر سر نئی کمپنی پر پارٹ ٹائمر بھی بھروسہ نہیں کر رہے ابھی۔
    خوش شکل اور نوجوان لوگ بھرتی کیئے ہیں نا۔
    کم سن نے سرسری سے انداز میں کہتے فائل تھامی
    وہ چندی آنکھوں والے انکل سر جھکا گئے۔
    اپنی کمپنی کے پارٹ ٹائمرز کی فہرستیں بھجوادیتا ہوں۔ انکو استعمال کرلو۔
    ہایون کا مفت مشورہ۔
    ایم ڈی صاحب آپکے والد آپکی ان نوازشوں کے صلے میں آپکو امریکہ اور میری کمپنی کو پاتال میں بھجوا کر دم لیں گے۔
    کم سن ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر سی ویز الٹنے پلٹںے لگا۔ دو ادھیڑ عمر شکل سے عادی بدمعاش لگتے تھے دو ہائی اسکولر تھے۔
    ریجئکٹ کسے کیا ہے؟
    کم سن نے سرسری سا پوچھا۔
    جب ان سب کو رکھ لیا ہے تو اسے بھی رکھ لینا تھا۔
    انکل نے فائل کے صفحے پلٹ کر آخری سی وی دکھایا
    اب یہ ریکوروٹمنٹ والے کام کیوں کر رہے ہو سی ای او ہو ان آہجوشی پر چھوڑو نا جو جسے رکھیں جسے نکالیں۔ تم ایک ایک سی وی دیکھا کروگے
    ہایون اسکے ساتھ باہر جانا چاہ رہا تھا جبکہ کم سن ایک کے بعد ایک کام نکال کر نمٹانے میں لگا تھا
    ظاہر ہے یہی سب کریں گے مگر تم بھول رہے ہو میری بے بی کمپنی ہے ۔ ایچ آر کا الگ ڈیپارٹمنٹ ہے ہی نہیں میرا ۔ آہجوشی اورمیں ہی ایک ایک بندہ سوچ سمجھ کر رکھ رہے ہیں۔
    ہایون کو بتا کر اس نے آخری سی وی دیکھا پھر ہایون کو۔
    اسکو کیوں نہیں رکھا اتنی تو پیاری سی ہے۔
    کم سن کا انداز واضح بدلا تھا آہجوشی سٹپٹا گئے
    وہ یہ فارن اسٹوڈنٹ ہے انکو آوقات کار او راجازت کا بھی مسلئہ ہوتا ہے اور۔۔
    ہایون اس سی وی کو دیکھو اورتم فیصلہ کرو ہم اسے رکھیں نہ رکھیں۔
    کم سن نے فائل اسکی جانب بڑھا دی۔ہایون حیران ہوا مگر تھام لی۔ سی وی پڑھتے ہی ٹون بدل گئ۔ حاکمانہ انداز میں بولا۔
    جو بھی مسلئہ ہو اسکو رکھیں۔
    مگر سر بہت مسلئے ہوتے ہیں اس طرح کے طلباء کو ہنگل تک تو ڈھنگ سے آتی نہیں ہے۔
    سیکھ لے گی۔کم سن ہائیر ہر۔
    ہایون تیز ہو کر بولا۔
    کم سن نے ٹھنڈی سانس لی۔
    اب تو کلائینٹ کی سفارش ہے پراجیکٹ بھی انکا۔رکھ لیں اسکو۔
    مگر سر۔۔۔ آہجوشی نے پھر کہنا چاہا تو اس بار ہایون ڈپٹ کر بولا۔
    سی ای او کی سفارش ہے آپ ٹال نہیں سکتے۔
    آہجوشی نے گردن جھکا لی اور سلام کرکے نکل گئے نکلتے ہوئے بڑ بڑا رہے تھے۔ سی ای او کی سفارش ہے وہ بھی ایک معمولی سیلز گرل رکھنے کیلئے تھیبا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تھیبا۔۔ تھیبا۔ یہ دیکھو اریزہ
    گوارا بھاگی بھاگی آئی تھی۔ وہ کچن میں کھڑی اپنے لیئے کافی بنا رہی تھی اسکے ایکدم سے پیچھے آکر شور کرنے پر چونک کے مڑی۔
    کیا ہوا ؟ اسکے پوچھنے پر گوارا نے موبائل اسکرین اسکے سامنے کردی۔
    اسکی اور ایڈون کی ریستوران کی ویڈیو چل رہی تھی۔
    یہ ٹرینڈنگ پر نمبر ون چل رہی ہے۔ اور نیچے کمنٹ دیکھو تمہارے اور ایڈون کے کپل کی تعریفوں کے پل باندھ رہے سب۔ اتنی گوری لڑکی اتنے کالے لڑکے کے ساتھ۔ محبت واقعی وجود رکھتی ہے۔ او ریہ کمنٹ دیکھو۔
    وہ جزباتی ہوئی پڑی اسکرال کرکے نیچے دکھا رہی تھی۔ سب ہنگل میں کمنٹس تھے۔ اس نے بیزاری سے پیچھے کیا۔
    میں اور ایڈون کبھی کپل نہیں تھے نا ہوسکتے ہیں کبھی۔
    جانتی ہوں۔گوارا نے منہ بنایا۔۔
    مگر ایڈون سے اس نے جب پوچھا کہ تم اسکے نامجا شنگو ( بوائے فرینڈ کا ہنگل لفظ) ہوتو وہ مسکرا کر دے کہہ رہا ہے۔
    یہ بندہ ٹھیک ہی نہیں ہے جبھی تمہاری سہیلی ہر وقت مرچیں چباتی رہتی ہے۔
    گوارا کا تجزیہ کتنا درست تھا۔ اسے لگتا تھا سنتھئا اور اسکے بئیچ کی سردمہری دوسروں کو اگر محسوس بھی ہوئی ہوگی تو وجہ نہیں پتہ ہوگئ۔ اسکا منہ اتر سا گیا۔
    دفع کرو اسے۔ گوارا اسے اداس دیکھ ہی نہیں سکتی تھی۔
    چلو ہم کپڑے منتخب کریں ہم نونا کی منگنی میں کیا پہنیں ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کچھ بھئ پہن لوں گی نونا کیا ضرورت ہے اس شاپنگ کی۔ نونا نے ایک بے حد خوبصورت آسمانی میکسی ڈریس اس سے لگایا تووہ منت بھرے انداز میں کہہ اٹھی۔
    ہرگز نہیں۔ وہاں ایک سے ایک حسین اور طرحدار لڑکی آئے گی تمہیں ان سے مقابلے پر ہرگز بھی کم نہیں لگنا چاہئے۔ ہر لڑکے کی نظر نہ سہی مگرکم ازکم جس لڑکے کی نظر تم پر ٹھہرے وہ ہٹا نہ پائے۔
    نونا اپنے مخصوص اندا زمیں کہہ کر شرارت سے مسکائیں۔
    تمہارے لیئے لنچ کرتے ہی بھاگم بھاگ آئی ہوں۔ اور تم نخرے کر رہی ہو جائو سیدھی طرح اسکو پہن کر دکھائو مجھے۔
    وہ اب بڑی بہنوں والے رعب سے بولیں۔تو ہوپ کو تھامنا پڑا۔
    جتنی دیر میں وہ تیار ہو کر آئی وہ جلدی جلدی دو تین فون سن چکی تھیں۔ ابھی بھئ بات کر رہی تھیں اسے دیکھا تو بات بھول گئیں ۔ وہ میکسی اسکے جسم پر پوری فٹ تھئ۔ وہ بے حد دبلی ہونے کے باوجود اچھی لگ رہی تھی۔ اسنے بال مخصوص انداز میں جوڑا بنا رکھے تھے جو کام کے دوران اسکے لیئے بہتر رہتے مگر اس وقت وہ جوڑا بھی اچھا لگا
    تھیبا تم تو پری لگ رہی ہو۔ وہ فون پر خدا حافظ کہتی اسکی جانب لپک کر آئیں۔ ہوپ جھینپ کر خود کو آئینے میں دیکھنے لگیں۔قیمتی لباس نے واقعی اسکی شخصیت کو نکھار ڈالا تھا۔
    صحیح کہتے ہیں لباس انسان کے پر ہوتے ہیں۔ اب تم پرواز بھرنے کیلئے بالکل تیار ہو۔
    انہوں نے محبت سے کہتے اسکے بال سنوارے۔
    مگر اڑان بھرنے کیلئے منزل کا تعین بھی تو ضروری ہوتا ہے نا۔ خالی سفر صرف تکان دیتا ہے۔
    اسکا قنوطئ پن باز نہ آیا۔ اسکی اثر انگیز شخصیت کے کسی کونے میں چھپ کر بیٹھا بھی ایکدم پوری شخصیت پر حاوی ہو چلا تھا۔ وہ چپ سی رہ گئیں۔
    ہوپ مسکرا دی۔
    شکریہ انی۔ میں اپکے احسانوں تلے دبتی جا رہی ہوں مگر مجھے۔ وزن بالکل نہیں محسوس ہوتا۔۔ اسکی پیمنٹ میں خود کروں گی۔۔ میرے پاس پیسے ہیں۔
    اس نے کہا تو وہ مزید اصرار ترک کر گئیں۔ وہ مڑی تو انہوں نے گہری سانس لیکر دل سے دعا دی اسے۔
    میری دعا ہے تم اپنی زندگی کا ایک بہتر رخ بھی دیکھنے کے قابل ہو جائو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکا ذہن دھیرے دھیرے بیدار ہوا تھا۔ پپوٹے اتنے بھاری ہو رہے تھے کہ کوشش کرنی پڑی کھولنے کیلئے۔ اس نے کسمسا کر اپنے بھاری ہوتے سر کو تھامنا چاہا تو کسی نے اسکا بازو تھام کر کچھ ٹوکا۔ اجنبی آواز ناقابل فہم الفاظ۔
    اس نے آنکھیں کھولیں تو چندی آنکھوں والی نرس کا مسکراتا چہرہ سامنے تھا۔
    کین چھنا آگاشی؟
    وہ جانے کیا پوچھ رہی تھی۔
    اس نے پھر اٹھنا چاہا۔
    ڈرپ لگی ہوئی ہے لڑکی۔ احتیاط کرو۔ اس بازو کو نہ اٹھائو۔
    اسکا بازو بیڈ سے لگائے اس نے ہنگل میں کہا تھا۔ پھر جب احساس ہوا کہ اسکی بات وہ سمجھ نہیں پارہی تو مڑ کر اسٹول پر بیٹھے اونگھتے ایڈون سے بولی
    محترم انکو اپنئ زبان میں بتائیں۔
    ایڈون آواز پر فورا نیند بھگاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    اسکا ایک بازو نرس کی مضبوط گرفت میں تھا وہ دوسرے بازو سے سہارا لیکر اٹھ بیٹھی۔نرس نے جلدی سے اسکی پشت پر تکیہ لگایا۔
    لیٹی رہو۔ ڈرپ لگی ہوئی ہے تمہیں۔۔
    وہ فورا اٹھ کے اسکے پاس آیا تھا۔
    کیا ہوا مجھے؟
    اسے یاد نہیں آیا وہ یہاں کیسے کیوں آئی ؟
    تمہیں یاد نہیں؟ وہ الٹا پوچھنے لگا۔
    کیسی طبیعت ہے۔ اس کا انداز معمول سے ذیادہ نرم تھا۔
    اس نے سر ہلایا۔
    ٹھیک ہوں میں۔۔۔
    اسکے ہونٹ خشک ہو رہے تھے بمشکل بول پائی۔
    پانی۔
    ایڈون نے سائیڈ ٹیبل سے پانی کی بوتل اٹھاکر دی تو وہ کئی گھوںٹ بنا سانس لیئےحلق میں اتارتی چلی گئ۔ لگ رہا تھا برسوں سے پیاسی ہے۔
    آپ انکو کچھ کھلائیں پلائیں۔ تاکہ ہم مزید دوا دے سکیں۔
    نرس مطمئن ہو کر تاکید کرتی چلی گئ۔
    شکر ہے ۔تم نے تو مجھے ڈرا دیا تھا۔
    ایڈون گہری سانس لیتا اسکے بیڈ پر ٹکتے ہوئے بولا۔
    ساری رات ہوش نہیں آیا تمہیں۔ ان لوگوں نے نیند کی دوا تک نہیں دی پھر بھی تم سوتی رہیں۔ مجھے سخت پریشانی ہورہی تھی۔ کیا۔کھائو گئ؟ سیب کاٹ کر دوں؟
    وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہی پھر ایک خیال سا کوندا۔۔
    تت تم۔ مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟ کیا ہوا مجھے۔۔۔
    ایڈون نے سائیڈ ٹیبل سے چھری اور سیب اٹھایا اور اسکے لیئے کاٹنے لگا۔
    بھول گئ ہو کیا اپنی حالت؟ یہ لو کھائو
    اس نے ایک پھانک اسکی جانب بڑھائی
    اس نے ذہن پر زور دیا تو جو پہلا خیال ذہن میں آیا اتنا روح فرسا تھا کہ وہ وحشت زدہ سی ہوگئ۔
    میں اسپتال میں ہوں۔۔ مم میں کیوں اسپتال میں ہوں۔
    اس نے پریشان سا ہو کر خود کو ٹٹولا۔۔
    ۔ تم نے ۔ مجھے سے پوچھے بنا ہمارا بچہ۔۔۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
    ۔۔ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔ تم نے مار دیا اسے۔۔وہ ایکدم بپھر کر چلائی۔
    اس نے اپنا کنولا لگا ہاتھ بھلا کر ایڈون کا گریبان پکڑ لیا۔
    بولو۔ تم نے ابارشن کروادیا نا۔ کیسے کر سکتے ہو تم ایسا۔ تم نے ۔۔ کیوں کیا۔
    کیا ہوگیا ہے پاگل ہوگئ ہو۔ خون نکل رہا ہے تمہارا
    وہ گھبرا گیا۔ اسکی ڈرپ نکل گئ تھی خون تیزی سے بہہ نکلا تھا مگر اسکو کسی تکلیف کا احساس نہیں تھا جنونی کیفیت میں اسے جھنجھوڑنے لگی۔
    نکلنے دو مجھےتم جواب دوتم کون ہوتے ہو اسے مارنے والے۔ منع کیا تھا نا۔تم نے کیوں کیا ایسا۔
    اس نے دیوانہ وار اس پر ہاتھ چلائے تھے۔
    وہ بے ربط بول رہی تھی اور رو پڑی تھی۔ ایڈون سن سا رہ گیا ۔
    وہ ہاتھا پائی بھی نہ کرسکی ایک زور دار چکر آیا تھا اسے۔
    ہوش کرو سنتھیا۔ وہ اسکی حالت سے خود بری طرح گھبرا گیا۔ اس کے ہاتھ سے چھری چھوٹ گئ۔اسکو تھامنا چاہا اس نے نفرت سے جھٹکا۔
    مر نے دو بلکہ مجھے بھئ مار دو تمہارا مسلئہ میں ہوں۔ یہ بچہ مسلئہ نہیں تھا۔ تم مجھ سے محبت ہی نہیں کرتے تمہیں اس سے بھی محبت نہیں تھی۔ ۔۔ اس نے لپک کر چھری اٹھائی۔ ایڈون نے اسکے دونوں ہاتھ تھام لیئے۔تبھئ شائد شور سن کر دروازہ کھول کر تیزی سے نرس اور ڈاکٹر اندر آئے تھے۔ اندر کا منظر دیکھ کر وہ تیر کی طرح ایڈون کی جانب بڑھے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایڈون اسکو سہارا دے کراسکے کمرے تک لایا تھا۔
    وہ اتنی شرمندہ تھی کہ ایڈون کو دیکھ بھی نہ پا رہی تھی۔۔ اس نے شاپر میز پر رکھا اور خاموشی سے دروازہ کھول کر جانے لگا۔
    ایڈون۔
    اس نے پکار تو لیا وہ رک بھی گیا مگر سمجھ نہ آئی اب کیا کہے۔ معزرت کرے ۔۔
    ایڈون چند لمحے اسکے بولنے کا انتظار کرتا رہا پھر مڑکر دیکھنے لگا وہ اس سے نظر نہ ملا سکی۔
    میں آج چھٹی کروں گا۔ اپنے کمرے میں ہی ہوں تھوڑا آرام کرلوں پھر آئوں گا تم بھی تھوڑا آرام کرلو۔
    اسکی شرٹ خون سے بھری تھی۔۔۔ وہ نظریں جھکا کر سر ہلا کر رہ گئ۔ وہ دروازہ بند کرتا چلا گیا تو گہری سانس لیکر وہ سیدھی لیٹ گئ۔۔
    اسکے ذہن میں رات کا منظرجزئیات سے روشن ہوا تھا۔۔
    ویڈیو دیکھنے کے بعد غصے سے پاگل ہوتے ہوئے وہ چند لمحے خود پر قابو پانے کی کوشش کرتی رہی ۔ پھر فیصلہ کرکے اٹھی ۔۔
    رات کا دوسراپہر شروع ہونے کو تھا یقینا اب تک ایڈون واپس آچکا ہوگا وہ صبح تک کا انتظار نہیں کر سکتی تھی اتنے غصےمیں۔ تن فن کرتی تیزی سے کمرے سے نکلی اور سیدھا جا کر ایڈون کا دروازہ پوری قوت سے بجا دینا چاہا مگر دماغ سائں سائیں کرنے لگا۔ ایک ہلکی دستک سی پڑ سکی۔ اس نے پوری جان لگا کر دروازہ کھٹکایا دو ضرب ہی میں اسکی بس ہونے لگی اسکو یاد نہیں تھا کہ اسکے منہ سے لفظ نکل رہے تھے یا آواز ڈوب گئ تھی۔
    دروازہ کھولو ایڈون۔ ایڈون باہر نک۔۔ لو۔۔
    اسکے ہفت اقلیم نگاہوں کے سامنے گھوم گئے۔ کمرے لیپ ٹاپ پر کام کرتا نامانوس دستک پر منہ بنا کر اٹھا اور دروازہ کھول دیا وہ اسکی نگاہوں کے سامنے ہوش و خرد سے بےگانہ ہو کر گری تھی۔ اسے سنبھالنے کو لپکتے بھی اسکا سر دیوار سے جا لگا تھا۔۔
    آخری منظر جو اسے یاد تھا وہ ایڈون کا دروازہ کھول کر اپنی جانب بڑھتے دیکھا بس۔
    اسکا بئ پی بہت ہائی ہوگیا تھا۔ بروقت اسپتال پہنچنے کی وجہ سے وہ نقصان سے بچ گئ تھی۔۔ اسکے جزباتی پن نے اسکی طبیعت پر تو جو اثر ڈالا سو ڈالا انکوتھانے میں رپورٹ بھی کردیا گیا تھا۔پولیس اہلکار اسکا اسپتال میں بیان لیکر گئے ۔ اب اسکو خراش بھی اگر پہنچتی تو ایڈون دھر لیا جاتا۔ پولیس نے ہزار سوال کرکے مطمئن ہونے کے بعد اسکی جان بخشی کی تھئ۔تو ڈاکٹرنے لمبی چوڑی احتیاط بتائی تھی۔ ساتھ ہی حسب توفیق ایڈون کی کھنچائی بھی کی تھی۔ ایڈون ایک لفظ اپنی صفائئ میں نہیں بولا تھا۔ وہ اتنی شرمندہ تھی کہ معزرت بھئ نہ کرسکی۔
    اس وقت بھی بحر شرمندگی میں غرق لیٹی یہی سب سوچے گئ۔
    اسکا فون بج اٹھا تھا۔ بیڈ کے کنارے پڑا۔ اس نے اٹھا کر دیکھا تو امی کالنگ۔ ماں کی کال اسے نعمت غیر مترقبہ لگی تھی۔ فورا فون اٹھایا اورخود بھی اٹھ بیٹھی
    ہیلو۔ اسکی آواز سنتے ہی وہ بولتی چلی گئیں
    کیسی ہو بیٹا۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔ میرا اتنا دل گھبرا رہا تھا رات سے فون کررہی ہوں۔ ایڈون سے بات کی تو اس نے کہا تم سو رہی ہو طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری۔؟ اتنی دیر سے سو رہی تھیں؟
    سوال پہ سوال بے تابئ پریشانی۔ ماں کا دل تھا خبر ہوگئ تھی شائد۔ اسکی آنکھیں بھرنے لگیں۔
    خوامخواہ فکر کرتی ہیں۔ٹھیک ہوں میں۔ بالکل۔
    کھا پی رہی ہو نا ڈھنگ سے ؟ آواز سے تو ٹھیک نہیں لگ رہیں۔ نزلہ ہورہا ہے؟ آواز بیٹھی بیٹھی لگ رہی ہے۔
    وہ اسکی توجیہہ سے بالکل مطمئن نہ ہوئیں۔
    ہاں تھوڑا موسم بدلا ہے تو شائد۔ تھوڑا گلے میں۔۔
    اسکو دل چاہا وہ ماں کے گلے لگ جائے۔ کئی آنسو اسکے گالوں پر پھیلتے چلے گئے۔ اس سے جملہ مکمل نہ ہوسکا۔
    دیکھا۔ وہ فورا بولیں۔
    ۔ مجھے پتہ تھا۔ آئیسکریم کھائی ہوگی؟ گلا بند ہوگیا نا ؟ فورا ڈاکٹر کو دکھائو بخار ہو جاتا ہے ایک تو تمہیں معمولی۔نزلا زکام میں بھی۔ سوپ بنا کر پیئو۔ تمہارے پاپا بتا رہے تھے وہاں موسم بہت ٹھنڈ ہو چکا ہے۔
    وہاں ٹھنڈ پڑی۔
    بمشکل دھیمی آواز میں وہ بول پائی۔
    کہاں یہاں تو ابھی پنکھے چل رہے ہیں۔ اچھا سنو یخنی پیو خود تو کیا بنائوگئ بازار میں انسٹنٹ ساشے ملتے ہوں گے وہ بنا کر پی لو۔۔ بلکہ اریزہ سے بات کرائو میں اس سے کہتی ہوں تم مت نکلنا ٹھنڈ میں باہر ایڈون سے کہو ڈاکٹر کے ہاں لے جائے
    گئ تھئ ڈاکٹر کے پاس ابھی آئی ہوں۔۔۔۔۔
    اس نے تسلی دینا چاہی۔وہ اور پریشان ہوگئئں۔
    تم تو آسانی سے ڈاکٹر کے پاس جانے کو بھی تیار نہیں ہوتیں
    کیا ہوا ہے ذیادہ طبیعت خراب ہوگئ ہے؟ بخار ہے؟
    امی آپ بہت یاد آرہی ہیں۔۔۔ آئی مس یو امی۔ ۔
    وہ بات کاٹ کر بولی۔ اسکی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ کوئی اور وقت ہوتا تو شائد ڈانٹ پڑ جاتی مگر اس وقت اسکے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ وہ ٹھٹھک گئیں۔
    تم ٹھیک تو ہو نا بیٹا۔ آجائو واپس وہاں اکیلا رہنا مشکل ہو رہا ہے تو۔
    نہیں آسکتی امی۔ وہ سسکیاں لے کر روپڑی۔
    ارے رو کیوں رہی ہو بیٹا۔ اریزہ سے بات کرائو میری وہ بتائے گی تم مجھے نہیں بتا رہی ہو نا اپنی طبیعت۔
    وہ بےتحاشا پریشان ہو گئیں۔وہ چند لمحے بے آواز روئے گئ۔ امی بے قرار سی ہوگئیں۔
    کیا ہوا بیٹا ؟ پریشانی ہے کوئی ؟ کوئی بات ہے تو بتائو ؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟ ایڈون سے جھگڑا ہوا۔
    نہیں امی۔ اسے انکو اطمینان دلانے کیلئے خود پر قابو پانا پڑا
    بس وہ طبیعت خراب تھئ او رآپکا فون آگیا بس تھوڑا جذباتی۔۔
    اس نے سسکی بمشکل روکی۔
    ہاں میرا دل بے چین تھا۔ مستقل تمہاری طرف دھیان جا رہا تھا۔ وہی ہوا طبیعت خراب تھی تمہاری۔۔
    انکو اپنے اندازے کی درستگی پر ناز ہو رہا تھا تو سنتھیا کو حیرت ہورہی تھی۔
    آپ کو میری فکر ہو رہی تھی ۔
    اس کے انداز میں حیرت تھئ امی برا مان گئیں۔
    پریشان تھی میں۔ ماں کے دل کو خبر ہو جاتی ہے جب اسکے بچے پر کوئی پریشانی بیماری آئی ہو تو۔ ماں کے دل کو بے چینی لاحق ہو جاتی ہے جب تم خود ماں بنوگی نا تو پتہ چلے گا۔ایک ماں کے دل کی دھڑکن بچے کے ساتھ ہی جڑی ہوتی ہے۔ ماں ہونا آسان بات تھوڑی ہے۔ اپنی زندگی تو بس عورت ماں بننے سے قبل تک جیتی ہے اسکے بعد تو بس ماں کی زندگی چلتی ہے۔ ماں کی ذمہ داریاں چلتی ہیں۔ ۔ خیر تم ابھی فورا دوائیں کھائو جو ڈاکٹر نے دی ہیں۔ اور خالی پیٹ نہ کھانا ایک تو تم ضدی ہو بیماری میں کھانے پینے سے بھی بھاگتئ ہو۔ اور
    امی۔ آئی لو یو۔
    اس نے پھر بات کاٹ دی۔۔ امی نے حیرت سے فون کو دیکھا۔ سنتھیا ایسے جزباتی اظہار کرنے والوں میں سے نہ تھی۔ شائد پہلی دفعہ کہا تھا اس نے یہ جملہ بھی۔ انکا ذہن بہت تیزی سے تانے بانے بننے لگا تھا ۔ وہ سوچ میں پڑیں پھر سنبھل کر بولیں۔
    آئی لو یو ٹو بیٹا۔ اچھا چلو شاباش کچھ کھائو دوا پیو میں پھر گھنٹے ایک تک کال کروں گی۔ پریشان کردیا ہے تم نے مجھے بیٹا۔
    آپ سو جائیں میں ٹھیک ہوں۔ وہاں تو بہت رات ہو رہی ہوگی۔
    اس نے بے دردی سے چہرہ ہاتھ کی پشت سے پونچھا۔
    ہاں یہاں ڈیڑھ بج رہا یے مگر بیٹا اب نیند تھوڑی آئے گی۔ تم چلو اٹھو شاباش دوا کھائو اور نیند آئے تو سو جانا میں اریزہ کو فون کرلوں گی۔
    نن نہیں۔۔ اس نے فورا کہا پھر احساس ہوا تو بات بنائی
    امی وہ اتنا پریشان رہی ہے میرے ساتھ ۔ اب شائد وہ بھی سونے لگی ہے۔ آپ مجھے ہی فون کر لیجئے گا میں ابھی سوئوں گی نہیں۔
    اچھا چلو ٹھیک ہے اپناخیال رکھنا۔ خدا حافظ۔
    انہوں نے بھئ ذیادہ بحث نہ کی۔ فون رکھ دیا۔ وہ دوبارہ لیٹ گئ۔ اس کا ذہن ماں کی کہی باتوں میں اٹک سا گیا تھا۔
    ماں کے دل کو۔خبر ہو جاتی ہے۔۔۔
    ماں کی زندگی۔۔۔
    ماں بنو گئ تو پتہ لگے گا۔
    اس نے کروٹ بدل لی۔۔ مگر سوچیں کروٹ بدلنے سے بدل تھوڑی جاتی ہیں۔اور وہ سوچ رہی تھی۔
    ایک شادی شدہ جوڑا جو محبت کرتے ہیں ایک دوجے سے انکو اپنی اولاد کا کتنا انتظار ہوتا ہے کتنی محبت پھوٹتی ہے اس بچے کیلئے مگر محبت میں مبتلا جوڑے کو اپنی ہونے والی اولاد سے محبت نفرت سے قبل جو جذبہ محسوس ہوتا ہے وہ خوف کا ہوتا ہے۔ اسکو بھی خوف آیا تھا۔ کیا ردعمل ہوگا دنیا کا گھر والوں کا ایڈون کا ۔۔۔۔۔ پھر ایڈون کو کھودینے کا خوف پر وقت گزرتے اسکے اندرتبدیلی سی آرہی تھی۔ وہ خوف سے بتدریج محبت میں مبتلا ہوتی جا رہی تھی۔۔ماں کا دل بدلتا جا رہا تھا پر باپ کا دل کیوں نہیں بدلا ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اپنے کمرے میں آکر بستر پر گرا تھا۔آج جو کچھ ہوا تھا اس نے اسے اندر سے ہلا دیا تھا۔ کسی چیز کو بنا دیکھے محسوس کیئے اسکی موجودگی سے انکاری ہوجانا آسان ہے مگر۔
    اس نے اپنے اپر کی جیب سے ایک چھوٹی سی تصویر نکالی۔ یہ سنتھیا کا الٹرا سائونڈ تھا۔ اس تصویر میں ڈاکٹر نے مٹر کے دانے جتنا جو گول سا دائرہ دکھایا تھا وہ اسکی اولاد تھا۔ اسکا ہونے والا بچہ۔۔ اس تصویر کو غور سے دیکھتے دیکھتے بھی اسکے دل میں کوئی الگ سا جزبہ پیدا نہ ہوسکا تھا۔ اسکی عمر ذمہ داریاں اٹھانے کی نہ تھی افئیر چلانے کی تھی۔ جتنی آسانی سے اس نے معاشرتی حدود و قیود سے آزادی حاصل کی تھی اتنی آسانی سے وہ اس سزا کو قبول نہیں کر پارہا تھا۔۔ ہاں یہ بچہ اسے اپنی سزا ہی محسوس ہوا تھا۔
    تصویر دیکھتے فلم کی طرح اسکے ذہن میں اسپتال کے مناظر گھوم گئے تھے۔ سنتھیا جانے واقعی اس بچے سے محبت کرنے لگی تھی یا محض اسکو باندھ لینا چاہتی تھی جو ابارشن پر رضامند نہ تھئ۔ایک تیسرا بھی رخ تھا جس پر اسکا دھیان نہ گیا تھا۔
    اس نے تصویر یونہی سائیڈ ٹیبل پر ڈالی۔ وہ اپنے ہلکے وزن سے ٹک نہ سکی نیچے گرگئ۔ اس نے کروٹ بدل لی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوپ جانے کہاں تھی۔ وہ دونوں نک سک سے تیار ہو چکی تھیں۔گوارا نے اسکا اناڑی پن محسوس کرکے خود اسکا میک اپ کر دیا تھا۔ گوارا نے لانگ اسکرٹ اور خوبصورت جھالر والا بلائوز پہنا تھا۔ اس نے بھی گوارا جیسا ہی لباس زیب تن کیا تھا بس رنگ کا فرق تھا۔ اچھے وقت کی کی گئ شاپنگ کام آگئ تھی۔ یون بن گاڑی لے آیا تھا ان دونوں کے انتظار میں بیٹھا لائونج میں مکھیاں مار رہا تھا۔
    کتنا وقت لگائو گی دونوں۔ وہ بور ہو کر آوازیں دے رہا تھا۔
    بس تیار ہوگئے۔گوارا اپنا پرس سنبھالتی آواز لگانے لگی۔
    اریزہ نے بھی اپنا پرس تھاما اور خود پر طائرانہ نگاہ ڈالتی گوارا کے ساتھ باہر نکلی۔
    کیوپتا۔( دلکش) ۔۔ واضح طور پر یون بن ٹھٹکا تھا۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔
    گوارا اترا سی گئ۔ مگر اسکی نظروں کا تعاقب کیاتو یہ بے ساختہ تعریف اریزہ کو دیکھ کر کی گئ تھی۔۔۔ اریزہ جھینپ سی گئ۔ اتنے دن میں اتنی ہنگل سیکھ ہی لی تھی۔
    تم پر تو مغربی لباس کافی جچتا ہے۔ تم ایویں ہی اپنے پرانے روائتی لباس کو ترجیح دیتی ہو ۔ ہے نا گوارا
    اسکا انداز سادہ سا تھا۔ کھلے دل سے سراہتے ہوئے اس نے گوارا سے تائید چاہی تھی۔
    بالکل۔ مگر مجھے یہ اپنے قومی روائتی لباس میں بھی اتنی ہی پیاری لگتی ہے۔ اور یہ اپنے قومی روائتی لباس کو شوق سے پہنتی ہے یہ بات اور اچھی لگتی ہے۔
    گوارا نے پیار سے کہتے اسے ساتھ لگایا۔ اریزہ بلش سی ہوگئ۔ زندگی میں پہلی دفعہ اتنے تعریف سننے کو ملی تھی اسے سمجھ نہ آیا کیا کرے۔ اسکے چہرے پر پھیلتی سرخی کو ان دونوں نے تعجب سے دیکھا تھا پھر اکٹھے ہنس پڑے
    یار یہ کتنی سادہ سی ہے بلش ہوگئ ہے اپنی تعریف سن کے۔۔
    یون بن نے جان کے ہنگل میں کہا تھا۔
    اریزہ بہت مختلف اور اچھی لڑکی ہے۔ زندگی میں پہلی بار میں نے ایک پرخلوص دوست پائئ ہے۔
    گوارا نے کھلے دل سے کہا۔ یون بن نے مسکرا کر اسکو دیکھا
    تھائی نیئے۔(شکر ہے) تمہیں اپنے جیسی لڑکی تو ملی۔ اب اس دوستی کو کھونا مت۔ میں تمہاری سہیلی بنے بنے تھک چکا ہوں ۔۔
    اس نے ہنستے ہوئے کہا تو گوارا مکا دکھانے لگی۔
    یہ ذیادتی ہے تم دونوں میرے سامنے اپنی زبان میں بولےجا رہے ہو جانے کیا کیا۔ یقینا میری برائی ہو رہی ہے ۔۔ یہ گوارا نے میرا تیز میک اپ کر دیا نا۔ میں ابھی منہ دھو کے آتی ہوں۔
    ان دونوں کو اسکو ہی دیکھ دیکھ باتیں کرتے دیکھ کر اسے غلط فہمی ہونی ہی تھی۔ منہ بنا کر پلٹنے لگی تو گوارا نے فورا اسکے بازو میں ہاتھ ڈال کر روکا
    ہم تعریف کر رہے ہیں پھابو۔( پاگل) خبر دار جو میری اتنی محنت برباد کی۔ اتنی پیاری لگ رہی ہو۔ ہے نا یون بن
    اس نے تائید چاہی۔ یون بن نے مسکرا کر سر ہلایا۔ پھر اسکی جانب ذرا سا سرگوشیانہ انداز میں جھک کر بولا
    بالکل۔ مگر۔۔۔۔۔ تم سے کم ۔۔۔۔۔
    گوارا نے حیرت سے اسے دیکھا اسکا چہرہ غماز تھا کہ اس نے دل سے تعریف کی ہے۔
    گوارا مسکرا دی۔
    تم بھی بہت پیارے لگ رہے ہو۔
    پھر اسکو ڈراپ کرکے ہم ڈیٹ پر چلیں۔
    یون بن نے فورا موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا۔
    خیال برا نہیں۔ گوارا فورا مان گئ۔
    ناٹ اگین ۔ اریزہ چڑ گئ۔ بھنا کر پیر پٹخ کر اندر جانے لگی
    گوارا اور یون بن دونوں اسے منانے لپکے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیوٹیشن تنقیدی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ گنگشن ہنس دی
    بہت اچھا میک اپ ہے اب مطمئن ہو جائو میں بھی مطمئن ہوں۔
    وہ پھر برش لیکر اسکی تھوڑی پر پھیرنے کو تھی کہ اس نے ہاتھ تھام لیا۔
    کوریا کے چوٹی کے سیلون کا اسٹاف اسکو تیار کرنے پر معمور تھا۔ گنگشن کےسامنے دیوار گیر آئینہ تھا۔ خود پر سرسری سی نگاہ ڈالتی اٹھی۔ اسکے لیئے خاص کر قد آدم آئینے بھی لگائے گئے تھے۔دو لڑکیاں فورا مستعد ہوئیں وہ ایک آئینے کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔
    اسکا روپ نکھر کر آیا تھا۔ پچھلی منگنی کی دفعہ بھی یہی لوگ تھے جن کے ماہرانہ ہاتھوں نے اسکو تیار کیا تھا اب بھی۔ نہ اس وقت اسے کوئی خوشی کی رمق محسوس ہوئی تھی نا اب۔ ہاں اب اتنا دکھ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ اسے یاد تھا پچھلی دفعہ تیارہو کر آئینہ دیکھتے وہ رو پڑی تھی۔ اتنا ذیادہ کہ اسکا میک اپ دوبارہ کرنا پڑگیا تھا۔ او ر اب۔
    وہ آئینے سے ابھرتے بے تاثر چہرے والے عکس کو دیکھتی رہی۔
    میں وقت کے ساتھ ڈھیٹ ہوتی جا رہی ہوں۔
    اسکے منہ سے بلا ارادہ نکلا تھا
    دے۔؟اسکی مددگار چونکی۔
    آنیا۔ اس نے اپنے کندھے پر بکھرے گھنگھریالے کیئے گئے بال جھٹکے۔ بیچ ویوز کرلز نے ( سمندر کی لہروں جیسے گھنگھریالے ) اسکے چہرے کے نقوش کو نکھار بخشا تھا۔ وہ سر جھٹک کر دوسری جانب تیار ہوتی ہوپ کے پاس چلی آئی اسی ٹیم سے اس نے ہوپ کا بھی میک اپ کروایا تھا۔
    اسکا میک اپ بھی آخری مراحل میں تھا۔اسکی کھنچی ہوئی آنکھوں کو بڑا دکھانے کیلئے آنکھوں کے کنارے پر سایہ ڈالنے کیلئے گہرے رنگوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ جس سے اسکی آنکھیں بڑی بڑی لگنے لگی تھیں۔ وہ معمول سے کہیں ذیادہ مختلف اور اچھی لگ رہی تھی۔
    تھیبا مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا تم اتنی خوبصورت لگ سکتی ہو۔
    گنگشن کی بے ساختہ تعریف بھی اسے خوش نہ کر سکی۔ بمشکل اپنے چہرے کے تاثرات بدل کر مسکرائی
    شکریہ انی۔
    آج تو تم ضرور کسی کی نظروں میں آئوگی۔ڈیٹ کی آفر تو پکا کوئی کرے گا سب کڑوی یادیں بھول کر بس کھلے دل سے قبول کرنا
    وہ پیار سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی تھیں۔ ہوپ انکے انداز پر ہنس پڑی۔
    انی آپ کا پیار اپنی جگہ مگر ہوپ کو جھوٹی ہوپ تو نہ دیں۔۔
    دیکھ لینا۔ انی کو یقین تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کم سن اسکی بےتابی پر مسکراہٹ لبوں میں دبائے محظوظ انداز میں دیکھ رہا تھا۔ لی گروپ کے اگلے مالک کی حیثیت سے اس سے خود آ آکر ملنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد تھی۔ جسے فہمائشی مسکراہٹ سجائے بھگتنا اسکی مجبوری تھی۔ مگر بڑے بڑے صنعتکاروں اداکاروں اور چند ایک پارلیمان کے ارکان کی موجودگئ میں بھی اسے بس ایک فرد کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔ ایک جانب بار کا انتظام تھا۔ جہاں قیمتی سے قیمتی شراب مہمانوں کو پیش کی جا رہی تھی۔ ہلکی موسیقی میں بہت سے لوگ جوڑی بنائے رقص کر رہے تھے۔ اور وہ بے تابی سے مانوس چہرہ کھوج رہا تھا۔ گردن گھما گھما کر۔ کم سن کونے میں بار کے پاس ہی بیٹھا مشروب نوش کر رہا تھا۔ اٹھ کر اسے بازو سے کھینچ لایا۔
    بیٹھ جائو تھک جائوگے۔ جس نے جب آنا ہوگا تب ہی آئے گا تم ٹہل ٹہل کر کسی کو بلا نہیں سکتے۔
    منگنی کی تقریب شروع ہونے والی ہے ابھی تک نہیں آئی گوارا نا ہی یون بن
    وہ جھلایا۔۔ کم سن مسکرا دیا۔
    اتنا انتظار گوارا اور یون بن کا اسے یقینا نہیں تھا۔
    لگتا ہے آنے والوں کو آنے کی جلدی نہیں۔ تمہاری یہ سب بےتابئ یکطرفہ تو نہیں؟
    کم سن نے اسکی دکھتی رگ دبا دی تھی۔ اس نے شاکی نگاہوں سے دیکھا۔
    ابھی کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ نونا کی کال آگئ۔
    دے۔ اس نے کم سن کو گھورتے ہوئے کال اٹھائ ۔ کم سن رخ موڑ کر مسکراتا ہوا گھونٹ بھرنے لگا۔
    سر اٹھا کر سامنے دیکھو ایک زبردست سا سرپرائز ہے۔ تمہارے لیئے۔
    نونا کی دھیمی مگر کھلکھلاتی سی آواز۔ اس نے سر اٹھایا ۔۔نونا اور جون من کے نام نیک خواہشات سے سجا بینر اور گلدستے تھامے دو لڑکیاں جوڑے کے آگے آگے چلتی آرہی تھی۔ جو دلکش لڑکی سب سے نمایاں مسکرا رہی تھی وہ جانی پہچانی تھی۔ بے حد مختلف مگر دلکش۔۔
    وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ گنگشن اور جون من ایک دوجے کا ہاتھ تھامے سہج سہج کر چلتے جب بیچ اسٹیج پر پہنچے تب ان دونوں لڑکیوں نے انکو گلدستے پیش کیئے اوپر سے ہلکے سے پٹاخے کے ساتھ رنگ برنگی پنیوں اور
    پھولوں کی برسات ہوئئ۔
    ایک بے حد رومان پرور ماحول میں جب دلہا اور دلہن کو ایک دوجے کے سوا کسی پر توجہ دینے کا موقع بھی نہیں ملتا نونا گردن گھما کر اسے دیکھ رہی تھیں چہرے پر بڑی شرارتی سی مسکراہٹ تھی۔ اس کی نگاہ ہوپ پر گئ تو وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ شائد پہلی بار مسکرا کر۔۔۔
    آگئ۔ کم سن کی دھیمی سی آواز ۔کم سن کی اسٹیج اورہایون کی جانب پشت تھی۔ وہ سنتے ہی چونک کر فورا سے پیشتر مڑگیا۔ گوارا کے سنگ ہال میں داخل ہوتی اریزہ بہت اشتیاق سے اسٹیج کی جانب دیکھتی کچھ بول بھئ رہی تھی۔ ساتھ یون بن بھئ تھا۔ مگر اسے شائد گوارا بھئ ٹھیک سے نظر نہ آئی۔ ہوپ کی مسکراہٹ واضح طور پر پھیکی پڑ گئی تھئ۔ ہایون کافی عجلت میں اسکی جانب بڑھا تھا۔ اسکا کسی نے ہاتھ تھام لیا۔کوئی پرانا ساتھی اس سے ملنے لگ گیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گلدستے سنبھالتے جیسے ہی وہ ہال میں داخل ہوئے سب بتیاں دھیمی پڑ گئیں
    کیا ہوا لائیٹ چلی گئ؟ یہاں بھی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے؟
    اسے پاکستانی ہونے کے ناطے پہلا خیال یہی آیا۔
    پاور ٹرپ ہوا ہوگا۔
    گوارا نے اندازہ لگایا۔ تو یون بن نے اسکا سر گھمایا اسٹیج کی جانب۔۔ اوراطلاع دی۔
    دلہا دلہن کے استقبال کیلئے بتیاں بجھائی گئ ہیں۔ ۔۔۔
    فلڈ لائٹس کے گول چکر گنگشن نونا اور انکے دلہا کا حصار باندھے تھے۔ اوپر سے گرتی پھولوں کی پتیاں۔ مبہوت کردینے والا منظر تھا۔ بے ساختہ اسکے منہ سے وائو نکلا۔
    پھر گلدستہ گوارا کے کندھے پر مار کر بولی
    دلہا دلہن آگئے گوارا کی بچئ تم نے بکے بنوانے میں اتنا وقت لگوا دیا ہمیں دیرہوگئ۔
    ہال میں نیم اندھیرا کرکے خاص جگمگایا گیا تھا اسٹیج کو۔ سب ادھر ہی متوجہ تھے۔ وہ لوگ بھی اسی جانب بڑھ آئے۔
    دلہا دلہن ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنا رہے تھے۔ ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر ان دونوں کو مائک دیا۔ مختصر جملے۔ ساتھ نبھانے کا عزم کرکے دلہا نھ مسکرا کر بازو لمبا کرتے دلہن کو تکلف سے ساتھ لگایا۔ ۔ اسکے بعد دونوں نے مسکراتے ہوئے جھک کر سب کا شکریہ ادا کیا اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اسٹیج سے نیچے اتر آئے۔ مہمانوں سے ملتے آمد پر شکریہ ادا کرتے اس جوڑے کی منگنی کی تقریب تمام ہوگئ تھی۔۔ ہلکی موسیقی دوبارہ چالو ہو گئ تھئ۔
    ہاہ۔
    اسکا منہ کھلا اور پھر حیرت کے مارے کھلا ہی رہ گیا۔اس نے موبائل میں وقت دیکھا۔ تقریب کا وقت تھا رات نو بجے۔ اس وقت سوا نو ہو رہے تھے۔ اس نے مایوسی سے نظر گھمائی۔ بڑا سا ہال۔ایک جانب ڈانس فلور تھا جو اس وقت تقریبا خالی تھا۔ کچھ اسٹیج کے قریب آن کھڑے ہوئے تھے۔ دلہا دلہن اس ہجوم میں غائب ہو چکے تھے۔ ایک ایک کے پاس خود جا جا کر جھک جھک کے سلام کرتے دلہا دلہن تو۔ دوسری جانب میزیں لگا کر بوفے کا انتظام تھا۔ قطارمیں لمبی لمبی کھانے سے سجی میزوں پر اکا دکا لوگ اپنی پلیٹ میں گنی چنی چیزیں رکھ رہے تھے۔ کوئی جلدی نہیں کوئی ہڑبونگ نہیں سب سوکھے منہ دلہا دلہن کے ساتھ گپوں میں لگے تھے جیسے یہاں کھانے ہی نہیں آئے ہوئے۔
    بس؟ یہ کیا؟ سب ختم ؟۔۔۔۔اتنئ وقت کی پابندی۔ اتنی سادہ رسموں سے پاک تقریب۔ یہ کیسے نان مسلم ہیں۔
    اسے دھچکا لگا۔
    یہ کیا۔؟ اس نے دانت کچکچائے۔۔
    ہم خالی اسٹیج دیکھنے آئے ہیں۔ اس نے برابر کھڑی گوارا کا بازو کھینچا۔
    ایسی ہوتئ ہے منگنی بھلا اس سے ذیادہ رونق اور ہلا گلا میرا پہلا دودھ کا دانت ٹوٹنے پر ۔۔۔۔
    بڑبڑ کرتے کھینچ کر ساتھ لگاتے ہی اسے ایکدم کچھ نامانوس سا احساس ہوا۔ اس نے جلدی میں جوبازو کھینچا وہ خاصا مضبوط تھا اور کوٹ میں ملبوس تھا۔ اس نے سٹپٹا کر نگاہ اٹھائی اپنے برابر کھڑے وجود کو دیکھا۔جو خوب لمبا سا چندی آنکھوں والا تھا۔ بہت حیرانی سے اس بے تکلفانہ مڈبھیڑ کو دیکھ رہا تھا۔
    اوپس۔ سس۔
    اس نے فورا بازو چھوڑا۔ سوری بولتے بولتے خیال آیا کہ ہنگل میں کہنا چاہیئے۔
    چھے۔۔ سو۔
    ( سوری کو کیا کہتے ہنگل میں۔ اس نے ذہن کے گھوڑے دوڑائےبس چھے سو ہی یاد آیا۔ آگے کیا تھا؟ )
    تھیبا۔۔ اس نے گردن جھکا کے کہا۔ مخاطب کی چندی آنکھیں تھوڑی سی کھل گئیں۔
    آنیا۔۔۔۔ اس نے نفئ میں گردن ہلائی۔۔ آنیانگ۔۔دے۔
    ۔ آندے
    ۔ جھنچائے او۔
    اس نے جلدی جلدی سب ہنگل لفظ بول ڈالے جو جو یاد آئے۔
    کیہہ سیکی۔۔
    چندی آنکھیں ابلنے کو تیار ہوئیں۔ اریزہ کو اسکے تاثرات دیکھ کر یاد آیا کہ یہ کوئی اچھا لفظ نہیں تھا۔۔ اس نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا۔
    آنیا ۔۔ ۔۔ اسے یاد آگیا۔سو اس بار قدرے اعتماد سے بولی۔ اور سر جھکانا بھول گئ۔
    سارانگھیئے او۔۔۔۔
    چندی آنکھوں والے کی آنکھوں میں تیرتی حیرت نے رنگ بدلا تھا۔آنکھیں مائل با شرارت ہوئی اور وہ ہنسی روکنے میں ناکام ہوتے ہوئے قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔ وہ حیرت سے اسے ہنستے دیکھ رہی تھی۔
    اسکے قریب آتے دلہا دلہن اور ہایون نےبھی حیرت سے اسکا جملہ بھی سنا تھا اور علی کا ردعمل بھی دیکھا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم تو سمجھے ہم نےاپنی منگنی کی تقریب میں مزید دو دلوں کو ملا دیا ہے مگر افسوس یہ ایک غلط فہمی نکلی۔
    گنگشن اریزہ کا پیش کیا بکے تھامے شرارت سے علی کو کہہ رہی تھئ۔ جوابا وہ بمشکل مسکرایا۔
    ویسے ہم کورینز سوری تھینکس جتنی انگریزی سمجھ لیتے ہیں پھر بھئ مشورہ ہے بنیادی ہنگل سیکھ لو آگاشی۔
    جون من نے ہلکے سے ہنس کر جتایا۔ وہ پزل سی کھڑی ہتھیلیاں مسل رہی تھی۔ اتنی ساری شرمندگی اسکے حصے میں آگئ تھئ
    اریزہ۔ اریزہ نام ہے اسکا۔
    نونا فورا بولیں۔
    اریزہ تم مغربی لباس میں بہت جچ رہی ہو۔ مجھے لگا تھا تم آج کی تقریب میں بھی اپنا روائتی لباس ہی پہن کر آئو گی۔
    نونا نے بہت پیار سے کہا تھا۔ وہ مسکرا دی۔
    یہ گوارا کی ضد تھی۔ ویسے آپ بھی بہت اچھی لگ رہی ہیں۔
    اس نے دل سے تعریف کی تھی۔ نونا اسکو بس جوابی تعریف سمجھیں۔سو دھیان نہ دیا۔
    تم لوگوں نے کھانا کھایا ؟ ہایون اپنے مہمانوں کا خیال رکھنا
    نونا کو اب مہمان نوازی کی فکر تھی۔ ہایون نے اثبات میں سرہلادیا
    ۔ دلہا دلہن کی پکاریں پڑ رہی تھیں۔ دونوں نے اجازت چاہی۔
    علی نے بھئ اب رخصت چاہی ۔
    اوکے اب مجھے بھی چلنا چاہیئے۔ مس اریزہ علی۔ علی نام ہے میرا۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔۔
    علی نے اسکی مشکل سمجھ کر شستہ انگریزی میں بتایا۔
    اریزہ کھسیا سی گئ۔
    آئی ایم سوری۔ اسکے منہ سے ہائے ہیلو کی جگہ پھسلا اور وہ مزید سٹپٹا بھئ گئ۔علی اسکی گھبراہٹ سمجھ کر مسکرا دیا
    دراصل اریزہ کو ہنگل نہیں آتی ہے ابھی اسے کوریا آئے ذیادہ وقت بھی نہیں ہوا۔
    ہایون نے وضاحت دی۔
    میں سمجھ سکتا ہوں۔ اور کیسا لگا کوریا اور کورینز ؟
    اس نے اسکی شرمندگی کم کرنے کیلئے بات بڑھائی
    اچھا ہے۔ خوبصورت ملک ہے ۔کورینز بھئ اچھے ہیں۔
    اس نے نپا تلا ہی جواب دیا۔
    مگر آپکو یہ تقریب پسند نہیں آئی۔
    علی اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا تو وہ تھوڑا اعتماد بحال کرکے بولی۔
    آنیا بس میں حیران ہو رہی تھی۔ ہمارے یہاں منگنی میں بھی لمبی تقریب چلتی ہے۔ رسمیں ہوتی ہیں۔ وغیرہ تویہ سب بہت سادہ تھا میرے لیئے۔
    ہاں میں نے بھئ سنا ہے پاکستانی اور انڈین شادیوں میں بہت ہلہ گلہ ہوتا ہےمگر کبھی اتفاق نہیں ہوا کسی شادی کا حصہ بننے کا۔۔ وہاں کرسچن بھی یہ سب رسومات کرتے ہیں؟
    علی کے سوال پر وہ سوچ میں پڑی۔ سنتھیا اسکی دوست تھی اور کبھی اس نے اسکے خاندان کی کسی شادی میں حصہ نہیں لیا تھا مگر ہاں سنتھیا کی منگنی کی تقریب کا حصہ بنی تھی کم و بیش ایک جیسا ہی ماحول تھا۔ ویسے ہی دیسی لوگ زرق برق لباس۔اور طعام کا اہتمام۔۔۔
    ہاں۔ اس نے سوچ کر سر ہلایا تھا۔
    آپ کیا کرتے ہیں؟
    اس نے یونہی سوال کر لیا تھا۔
    میں نے فنانس میں ماسٹرز کیا ہے۔ آج کل ایک نیم سرکاری ادارے میں پڑھاتا ہوں مختلف مضامین۔ وہیں سے عربی سیکھ رہا ہوں۔۔۔
    فنانس میں ماسٹرز کے بعد ٹیچنگ؟ ۔۔ اریزہ حیران ہوئی تھی۔
    دراصل۔۔ علی نے جانے کیا جواب دیا تھا۔ ان دونوں کو یقینا ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت میں مگن ہوتے اندازہ نہیں ہوا تھا کہ ہایون ان دونوں کو چند لمحے باتیں کرتے دیکھ کر خاموشی سے ان کے درمیان سے ہٹ گیا تھا۔ہوپ کی اس سے توجہ ہٹ نہ سکی تھی۔ اس کو یوں خاموشی سے جگہ چھوڑتے دیکھ کر وہ اسکی جانب بڑھی تھی کہ کسی نے اسکو مخاطب کر لیا۔
    آگاشی آپ ہوپ ہیں نا ؟
    وہ کوئی ادھیڑ عمر چندی آنکھوں والا مرد تھا اس سے نہایت تمیز سے پوچھ رہا تھا۔
    دے۔ وہ سر ہلا کر آگے بڑھنا چاہ۔رہی تھی۔
    آپ کا انٹرویو دیکھا تھا میں نے بہت اچھا بولتی ہیں آپ۔ کیا کر رہی ہیں آپ آجکل؟
    وہ مزید بات بڑھانے کے موڈ میں تھا۔ ہایون کا رخ ہال سے باہر جانے والے دروازے کی۔طرف تھا وہ بے چین سی ہوئی۔
    کچھ خاص نہیں ایکسکیوز۔۔ وہ معزرت کرنا چاہ رہی تھی کہ اس شخص کے اگلے جملے پر۔ٹھٹھک گئ
    وہ کہہ رہا تھا۔
    آپ بہت خوبصورت ہیں۔ آپ میں اعتماد بھی ہے میری ایک ایڈ ایجنسی ہے اس میں آپ ماڈلنگ کرنا چاہیں گی ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اف مجھے افسوس ہو رہا ہے اتنی فلمی سچوایشن مجھ سے مس ہوگئ۔
    گوارا اسکی زبانی ہی احوال سن کے ہنسے جا رہی تھی۔
    پہلی ملاقات اور لڑکی کا اظہار محبت۔ ۔۔
    شٹ اپ۔اریزہ چڑی گوارا اسکے انداز پر اور ذور سے ہنسی

    بوفے اسٹائل تھا ایک کونے سے اس نے اپنی پلیٹ میں جو جو چیزیں بھرتی جا رہی تھی اسکو دیکھ کر اسے الجھن آنے لگی تھی۔ کیکڑے ، چھوٹی چھپکلیوں کی طرح کی مچھلیاں آنکھوں سمیت تلی ہوئی آکٹوپس ، کھانے میں ویج نان ویج سی فوڈ ائیٹمز تھے اور گوارا سی فوڈ کی شوقین۔ سو اسکا ارادہ یہاں سے آگے جانے کا نہ تھا۔
    پہلی ملاقات۔ وہ سوچ میں پڑی تھئ کہ گوارا نے اسکا بازو ہلایا۔
    اریزہ وہاں ویج آئٹمز ہیں۔ تم وہاں سے کچھ لے لو۔
    گوارا کے ہلانے پر وہ چونکی پھر سرہلا کر اس جانب بڑھ گئ۔
    ویجیٹیبل سوپ تھا اشتہا انگیز۔ اس نے وہ لے لیا۔ سبزیوں کا پلائو تھا جس پر مشرومز سجے تھے۔ وہ دھیرے دھیرے بڑھتی گئ۔دو تین طرح کی سلاد تھیں۔ مشروم اسٹیک وائٹ ساس پاستا اور سبزیوں کی بھجیا۔ تھوڑا تھوڑا لیکر وہ گوارا کی جانب پلٹی تو ذہن میں جھماکا ہوا۔
    علی کی شکل جانی پہچانی کیوں لگی ؟ یہ وہی تو تھا جس نے میٹرو اسٹیشن میں اسکی مدد کی تھی۔ جبھی اسے دیکھا دیکھا لگا۔
    میم آپ ادھر آئیے۔
    ایک بیرا مئودب سا اسکے پاس آکر انگریزی میں بولا
    کیوں ؟
    اسکا فون بجنے لگا بیرے نے سہولت سے اسکے ہاتھ سے پلیٹ تھام لی۔ وہ حیران ہوتی اپنے کندھے سے لٹکتے چھوٹے سے پرس سے فون نکالنے لگی۔
    کالر کا نام پڑھ کر وہ چونکی۔ بیرا اسکی پلیٹ پاس سے گزرتے دوسرے بیرے کو تھما چکا تھا جو لیکر آگے بڑھ گیا۔
    ارے؟ میں کھانے جا رہی تھی۔۔ وہ ہکا بکا تھی گھور کر بیرے کو دیکھا وہ جوابا سر جھکا گیا۔ ۔ فون بجے جا رہا تھا اس نے اٹھالیا۔
    بیرا اس سے تھوڑا فاصلے پر ہو کر اسکے فون سے فارغ ہو جانے کا انتظار کرنے لگا۔
    کیسی ہو بیٹا ؟ سنتھیا کی امی بہت پیار سے پوچھ رہی تھیں۔
    ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں؟ اس نے بھی جوابا خوش اخلاقی سے احوال پوچھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیرا اسے ایک فلورنیچے لایا تھا۔ بڑا سا ہال نیم تاریک تھا
    دھیمی چلتی موسیقی سامنے ایک بڑی سی میز پر بس روشنی تھی۔اس روشنی میں دمکتا مانوس چہرہ وہ بلا جھجک اس جانب چلی آئی۔
    ہایون اسکو آتے دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا تھا۔ بیرے نے اسکے لیئے کرسی احتیاط سے کھینچی ۔ وہ حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔
    اب جائو تم۔ ہایون نے بیرے سے کہا وہ دھیرے سے جھک کے پلٹ گیا۔
    یہ۔ اریزہ میز پر نظر دوڑاتی حیران کھڑی تھی
    بیٹھو۔ وہ اسکی حیرانی پر مسکرایا۔
    وہ متعجب سی اسے دیکھتی ٹک گئ۔
    میز اسکے سب پسندیدہ کھانوں سے سجی تھی۔ بریانی مٹن کڑاہی نان چائینئز پلائو کھیر گول گپے دہی بھلے سموسہ۔۔ رس ملائی۔ وہ ابھئ دل بھر کے حیران بھی نہ ہو پائی تھی کہ
    دوبیرے پھر انکے سر پر آن کھڑےہوئے تھے
    ایک تولیہ ہینڈ واش کی بوتل ، منرل واٹر کی بوتل اور دوسرا ایک خوبصورت سی پیتل کی صراحی کی شکل کا کوئی برتن لیئے کھڑا تھا۔
    یہ؟ اس نے حیرانی سے ہایون سے پوچھا
    ہاتھ دھولو۔ ہایون مسکرایا۔
    اس کا منہ بھی کھل گیا تھا۔
    اس نے جھجکتے ہوئے ہینڈ واش ہاتھ میں لیا۔ شہزادیوں کی طرح اسکے ہاتھ اس دھلوائے گئے تھے۔ وہ یقینا یہ خواب دیکھ رہی تھی۔
    مجھے تمہاری پسند کا ذیادہ پتہ تو ہے نہیں۔ یہ پلائو کڑاہی اور بریانی آرڈر دینے کے بعد ریستوران والوں سے کہا جو بھی خاص ہو مینیو میں بھجوا دیں۔ امید کرتا ہوں تمہیں پسند آئے گا۔
    ہایون نے وضاحت کی۔
    یہ بہت سارا کھانا ہے۔۔۔۔ ہایون اور اسکی کیا ضرورت تھی۔ وہ ناراض ہوئئ
    ضرورت کیوں نہیں تھی۔ تم بھوکی رہتیں ؟
    ہایون الٹا اس سے پوچھنے لگا۔
    نہیں پر میں کچھ نہ کچھ کھا لیتی اتنا اہتمام۔
    وہ متذبزب تھی۔ ہایون نے بات کاٹ دی
    تم تو کورین کھانے کھاتی ہی نہیں ہو۔مجھے پتہ ہے یہ بات جبھی تمہاری پسند کے کھانے منگوائے ہیں اب شروع کرو۔۔
    اسکا انداز لاپروا تھا۔ وہ اس سب اہتمام کو معمول کا حصہ قرار دینے پر تلا تھا۔
    اریزہ کو اسکے خلوص پر شبہ نہ تھا سو مسکرا کر سر ہلا دیا۔ یوں دوستوں کو زیر بار کرنا اسکو پسند نہ تھا او ریہ بھی سچ تھا ہایون اگر یہ اہتمام نہ کرتا تو شائد وہ بھوکی رہتی۔
    تمہارا سب سے پسندیدہ پکوان کونسا ہے ؟ وہ بات بدلنے کو پوچھ رہا تھا۔
    یہ۔ کہتے ساتھ ہی
    اس نے سب سے پہلے گول گپے کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا
    ہایون نے اسے کھٹے پانی میں ڈبو کر کھاتے غور سے دیکھا۔ بہت چٹپٹا تھا پانی۔ اسکو خوب مزا آیا مگر مرچوں سے آنکھیں سرخ ہو چلیں۔۔
    اس میں ڈبو کر کھائو ۔۔ وہ اسے سکھا تے سکھاتے ایک اور گول گپا منہ میں بھر چکی تھی۔ چنے چٹنی بھرا بڑا سا گول گپا۔
    ہایون نے جھجکتے ہوئے گول گپا کھانا چاہا وہ پٹاخ سے پانی میں گرا اسکے کوٹ تک پانی کے چھینٹے آئے۔ اسکی خدمت پر معمور بیروں نے بمشکل مسکراہٹ دبائی۔
    گول گپا کئی گول گپوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ اس نے چمچ سے اٹھا کر کھایا تو رات میں تارے بھی دکھائی دیئے اور کائنات کے نئے بلیک ہول بھی
    بری طرح کھانستے ہوئے اسے اچھو ہوچلا تھا
    اریزہ نے جلدی سے رس ملائی ایک پیالے میں نکال کر اسکی جانب بڑھائی۔
    ٹھنڈی میٹھئ رس ملائی منہ میں گھل کر مرچوں کا ذائقہ مندمل کر گئ منہ میں چین پڑا۔
    تم مت کھائو گول گپے تمہارے بس کی بات نہیں۔
    اریزہ نے چھیڑا تھا۔خود وہ گول گپے میں چنے اور چٹنی بھر رہی تھی۔
    ہایون نے ایک نظر اسکو دیکھا پھر اپنے پاس رکھی رس ملائی کو۔ گول گپا اٹھایا اس میں چنے بھرے ایک رس ملائی توڑ کر بھری رس ملائی کے دودھ میں ڈبویا اور منہ میں رکھ لیا۔ اریزہ کا گول گپے سے بھرا منہ تھوڑا سا کھل سا گیا۔
    گول گپے میں رس ملائی بھر کر کھانا ؟ اس ثقافتی جھٹکے نے اسکو ششدر کر دیا۔ ہایون نے مزے لیکر کھایا اور چٹخارا بھرا۔
    ماشیچتا۔ ( مزےدار)
    اریزہ نے بمشکل اپنا گول گپا نگلا۔
    واقعی بہت مزے کا کھانا ہوتا ہے پاکستانی۔ تم لوگ کتنے گول گپے کھاتے ہو؟ ایک وقت میں
    وہ گول گپے کو ایک وقت کا کھانا سمجھا تھا۔
    درجن ایک تو اریزہ جیسی لڑکی بھی بنا ڈکار مارے کھا سکتی تھی ۔ اس نے جواب دینے کی بجائے کھٹا پانی پرے کیا اپنی رس ملائی کا پیالہ اٹھایا ۔گول گپے میں رس ملائی بھری اور منہ میں رکھ لیا۔ زندگی میں پہلی بار گول گپے کو رس ملائی میں ڈبو کر کھایا تھا اور اب سے آئیندہ وہ یہ دونوں چیزیں ملا کر کھانے والی تھی۔
    یہ تو واقعی بہت مزے کا لگ رہا ہے۔
    وہ کہے بنا نہ رہ سکی۔
    کیا مطلب تم لوگ اسکو ملا کر نہیں کھاتے ؟ ہایون کو حیرت ہوئی
    ہرگز نہیں اور کسی پاکستانی کےسامنے دوبارہ یہ کرتب کرنا بھی نا توہین ہے یہ گول گپے کی مگر۔۔
    وہ ڈرامائی انداز میں کہتے کہتے رکی پھر منہ میں گول گپا رکھ کر چٹخارا لیکر بولی
    مزے کی توہین ہے۔
    ہایون اسکے انداز پر ہنس پڑا تھا۔
    اور بتائو اور کونسی چیز تم ملا کر کھائو گے۔ اس نے اکسانے والے انداز میں کہا ہایون بھی دلچسپی سے پکوان کی جانب متوجہ ہوا۔
    یہ پائرامڈ بریانی میں ملا کر کھانا کیسا لگے گا؟
    پائرامڈ؟ وہ ہونق ہوئی۔
    یہ تکونا پائرامڈ کی طرح کا ہے نا۔وہ اب سموسے کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر دکھا رہا تھا۔
    سموسہ کہتے ہیں اسے۔ اس نے بتایا پھر ایکدم پرجوش ہوئی۔
    اس میں بریانی بھرتے ہیں۔ وہ اب سموسے کا پیٹ چاک کرنے لگی۔
    دونوں کھا کم کھیل ذیادہ رہے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ باتوں میں مگن اور خوش نظر آرہے تھے۔ ہال کنارے سیڑھیوں سے اترتے ہی ان پر نظر پڑی تھی اسکی۔ وہ ہایون کا پتہ کرتی ادھرچلی آئی تھئ مگر یہ نہیں پتہ تھا کہ ہایون یہاں اکیلا نہیں تھا۔اریزہ بھی ساتھ تھی۔ جہاں اوپر والی منزل پر رنگ و بو کا سیلاب تھا رونقیں تھی مہمان تھے بڑے بڑے لوگ تھے وہ یہاں تھااس منزل کی سب دلکشیوں سے دور اریزہ کے ساتھ خوش
    کم از کم ہوپ کو تو وہ دونوں اکٹھے مطمئن اور مکمل لگے تھے۔ اس نے اپنے ہاتھ میں تھما کارڈ مسل ڈالا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا گھر نہیں آئی تھی شائد آئے بھی نا۔ ہایون اسے اپارٹمنٹ تک چھوڑ کر گیا تھا۔ وہ جمائی لیتی اندر آئی تھی۔ بیڈروم میں ہوپ سورہی تھی۔ وہ احتیاط سے کپڑے اٹھاتی فریش ہونے باتھ روم گھس گئ۔ نہا کر نکلی تو کافی کی طلب محسوس ہوئی۔ اپنے لیئے کافی کا مگ بنا کر ٹیرس میں چلی آئی۔ خنک ہوا گرم کافی سیول کی روشنیاں اس نے بلاگ اپڈیٹ کرنا شروع کردیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہو آیا آپکے کہنے پر بھائی کی منگنی پر۔ اب خوش۔
    اس نے گھر آتے ہوئے بس میں بیٹھ کر میسج لکھ کر بھیجا
    اچھی بات ہے۔
    فوری جواب آیاتھا۔
    اب دوسری بات کب تک مانوگے؟
    وہ ہار ماننے والے نہیں تھے۔
    آج ایک لڑکی نے مجھے آئی لو یو کہا تو ہے۔۔ اسی سے کرلیتا ہوں شادی۔
    اس نے لکھ کر بھیجا تھا جوابا لمحہ بھر کا ہی توقف ہوا ہوگا کال آگئ۔ انکے جزباتی پن پر اسے ہنسی آگئ تھی۔ فون اٹھاتے ہی بنا سلام دعا انہوں نے پوچھا۔
    واقعی؟ کون ہے کیسی ہے ؟ ہاں کہا اسے؟
    ایک ہی سانس میں وہ سارے سوال کر گئے۔
    شادی میں ملی تھی ۔۔ اس نے جان کے بات ادھوری چھوڑی۔
    آج؟ وہ حیران ہوئے۔
    ہاں۔ آج۔ وہ پوری طرح انکے اتائولے پن سے حظ اٹھا رہا تھا
    اوہ۔ وہ تھوڑا مایوس ہوئے۔مگر امید زندہ تھی ابھی
    تمہیں پسند آئی کیسی لڑکی ہے؟
    ہاں اچھی ہے پیاری ہے۔
    اس نے مختصر ہی جواب دیا
    پھر اس سے ملاقات کرو پرکھو۔ کیا پتہ یہی وہ لڑکی ہو جو۔۔
    وہ کہہ رہے تھے اس نے انکو بریک لگائی۔
    ملاقات کا کوئی چانس نہیں دوبارہ۔
    کیوں نہیں؟ وہ حیران ہوئے
    اس نے آئی لو یو بولا تو یقینا تم اسے پسند آئے ہو جبھی تو بولا نا ؟ یا تم جھوٹ بول رہے ہو۔
    وہ پل میں جان گئے جوابا وہ ہنس دیا
    جھوٹ نہیں بولتا میں۔ جب مسلم نہیں تھا تب بھی کبھی جھوٹ نہیں بولا اب تو نا ممکن ہے۔
    پھر ۔ وہ مصر تھے۔اسے ہنسی مزاق چھوڑ کر حقیقت بتانی پڑی۔
    اس نے واقعی آئی لو یو کہا مگر وہ ایک غلط فہمی تھی۔۔ اسکی ہنگل اچھی نہیں تو معزرت کی جگہ سارانگھیئے کہہ گئ۔
    اوہ۔ انکا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
    کوئی چانس ہے ؟ انہوں نے ہار نہ مانی۔
    میں غیر مسلموں کی منگنی کی تقریب میں گیا تھا وہ لڑکی بھی کرسچن تھی سو نو چانس ایٹ آل۔۔
    اس نے قطیعت سے کہا تو وہ گہری سانس بھر کے بولے
    چلو کم از کم کفر تو ٹوٹا۔۔ پڑ جائے پتھر میں جونک بھی کبھی نہ کبھی۔ ۔۔۔ جوابا وہ خاموش رہا تو وہ بھی بات بدل گیے
    ۔اچھا یہ بتائو کچھ کھایا ہے ؟
    آنیا۔۔ وہاں نان ویج آپشن میں بھی پورک فلیور تھا۔ اب گھر جائوں گا تو کچھ بنا کے کھائوں گا۔
    اس کو بھوک لگ رہی تھئ۔ عبدالہادی کو اندازہ ہوگیا تھا۔
    تو پھر ایسا کرو۔اپنے گھر کے راستے سے ایک اسٹاپ پہلے اتر جائو یہاں آئو ہم نے آج گوشت بھونا ہے۔
    انہوں نے دعوت دی تو اس نے تکلفا بھی انکار نہ۔کیا۔
    دے۔
    کال۔بند کرکے اس نے یونہی سیل فون دیکھا۔ وال پیپر پر اسکی اور رچل کی تصویر تھی۔
    سارانگھیئے او۔
    رچل ہمیشہ اسے پرجوش انداز میں کہا کرتی تھی۔ اور سچ تو یہ تھا اسکے سوا اور کسی کے منہ سے یہ جملہ سننے کی تمنا نہ رہی تھی۔
    سارانگھیئے۔
    اس نے زیر لب دہرایا۔

    تبھی بلاگ اپڈیٹ آئی تھی۔۔ اس نے گرد ونواح میں نگاہ۔کی ابھی اسٹاپ آنے میں وقت تھا بلاگ پڑھا جا سکتا تھااس نے وہی کھول لیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی کڑوےمیٹھے کھٹے پھیکے تھوڑے مرچیلے پکوان سے سجی میز کا نام ہے۔
    آپکا پسندیدہ پکوان بھی کبھی آپکو ناپسندیدہ ذائقے سے نواز سکتاہے اب یہ آپ پر ہے مرچیں لگنے پر سی سی کریں یا کوئی میٹھا ذائقہ زبان پر رکھ کر اس تکلیف کو زائل کر دیں۔
    آپکا ہر حال میں ساتھی پانی ہی ہوتا ہے جو ہر ذائقے کو مندمل کرکے نئے ذائقے چکھنے کیلئے آپکی زبان کو تیار کر دے۔
    آج مجھے بھی میرے پسندیدہ پکوان گول گپے نے زبان کو تیکھے پن سے چھلنی کیا اورپتہ ہے اسی میز پر موجود رس ملائی نے میرے گول گپے کے ساتھ مل کر میری زبان کو مرہم بھی دے دیا۔
    ساتھ ہی رس ملائی بھرے گول گپے کی تصویر تھی جسے چٹکی سے تھاما گیا ہوا تھا۔
    تو حاصل بحث کیا ہوا۔ زندگی کی میز پر سب ذائقے ہیں فرق صرف اپنے پسندیدہ پکوان سے ذرا بھر کو نگاہ ہٹا کر کسی دوسرے ذائقے کو چکھنے پر خود کو آمادہ کرلینا ہی اصل جینا ہے۔۔
    کھاتے پیتے جیو۔
    ۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پہلا کمنٹ۔
    شرم نہیں آتی ہم ہاسٹل باسیوں کو مرغن کھانے دکھاتے؟
    دوسرا کمنٹ
    یہ ڈنر سوٹ میں جو دھندلا پکوان نظر آرہا اسکا کیا نام ہے کبھی پاکستان میں ایسا دکھائی نہ دیا۔
    ہیں۔۔۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ تصویر کو۔ذوم کیا تو میز کے پکوان کی تصویروں میں جو اس نے تقریبا سب ہی اپلوڈ کر دی تھیں پیچھے پس منظر میں آئوٹ آف فوکس بھی پورا ہایون نظر آرہا تھا۔
    کمال کی نگاہ ہے۔ اس نے بے ساختہ داد دی
    تیسرا کمنٹ
    سموسے میں بریانی بھرنا زندگی جینا ہے تو میں پودینے کی چٹنی میں کھیر ڈال کر کھانا بہتر سمجھتا ہوں۔
    سب نے خوب اس کی میز کا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔۔ اسے ہنسی آئی۔
    چوتھا کمنٹ
    سب سے اچھا نیا ملا جلا ذائقہ کس کا بنا سچ بتانا ؟
    اس نے دیانت داری سے ہی جواب دیا۔
    رس ملائی بھرا گول گپا۔۔ یہ یقینا بہترین تجربہ تھا
    پانچواں کمنٹ
    یہی سب کھانا تھا تو کوریا گئے ہی کیوں ہو؟۔۔
    یہ دہائی کسی دکھے دل سے نکلی تھی۔ اسے ہنسی آگئ۔
    چھٹا کمنٹ۔
    یہ جگ میں آپ ہو؟
    ہیں۔ اسے کمنٹ سمجھ نہ آیا۔ غور کیا تصویر کو۔ذوم کیا تو پتہ چلا ہر احتیاط کے باوجود کہ اسکی اپنی کوئی تصویر نہ آنے پائے اس گول گپے کو چٹکی میں بھرنے والی تصویر میں میز پر رکھا جگ اسکا مکمل عکس منعکس کر رہا تھا۔ ہلکا سا دھندلا مگر موبائل اٹھائے ہاتھ اور اسکا چہرہ۔ اب جس نے اسے دیکھا ہوا ہو اس کیلئے پہچاننا آسان تھا ۔ دھندلی تصویر تھی اس نے تصویر ڈیلیٹ کرنے کی بجائے مختصر۔جواب لکھا۔۔
    ہاں۔۔۔
    اور ٹھنڈی ہوتی کافی کی جانب متوجہ ہوگئ۔۔
    کل پکا سنتھیا سے ملنے جائوں گی۔ جانے کتنی بیمار ہوگئ ہے جو آنٹی تشویش ذدہ ہوگئیں۔ اس نے کہیں آنٹی کو بتا تو نہ دیا۔
    سوچ اتنی کٹیلی تھی کہ وہ بے دھیانی میں گرم گھونٹ لے بیٹھی۔۔
    سی کرکے کپ پیچھے کیا۔
    احمق لڑکی۔۔
    وہ بڑبڑاکررہ گئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد
    جاری ہے۔

    Kesi lagi apko Salam Korea ki qist? Rate us below

    Rating

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
    کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
    آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
    دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
    پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

    Desi kimchi seoul korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi
  • URDU WEB TRAVEL NOVEL Salam Korea Episode 25

    Salam Korea
    by vaiza zaidi

    New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea.Salam Korea urdu web travel novel episode 25
    Salam Korea urdu web travel novel episode 25


    قسط 25
    کوریا کے سب سے مہنگے برانڈ کے منگنی کے جوڑے دیکھتی گنگشن کو جون من کے سنگ منگنی کا لباس خریدنے میں نام کا بھی اشتیاق محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ ایک بے حد اکتا دینے والا دن تھا اسکے لیئے۔ انکی ڈیزائنر ہلکان ہو رہی تھی دونوں کیلئے رنگوں کا انتخاب کرنے میں۔ انگوری رنگ کی وہ میکسی جس کی آستینیں اور گلے دلکش کٹ ورک سے سجی تھی اس نے یونہی اٹھا کر منتخب کر لیا تھا۔ جون من سنجیدگی سے اسکی غیر دلچسپی دیکھ رہا تھا۔
    میم یہ ہلکا آسمانی ذیادہ دیدہ زیب ہے اسی انداز میں مگر اس پر موتیوں اورپتھروں کا کام بھاری ہے۔
    ہچکچاتے جھجکتے ہوئے انکی شادی کے انتظامات دیکھنے پر معمور لڑکی بولی تھی۔ ایسا کوئی بھی مشورہ دینے کا مطلب ہوتا تھا ان نک چڑھے پیسے والے لوگوں کی سب توپوں کا رخ اپنی جانب کرنا مگر وہ ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔ جب بجٹ میں کسی قسم کی کوئی قدغن نہ تھی تو اگر کم خاندان کی ناک کٹ پھٹ جاتی اگر انکی ہونے والی بہو ایسے جوڑے کا انتخاب کر لیتی جو پچھلے سال کی بہار کا سب سے ذیادہ مشہور ڈیزائن تھا اور کم و بیش ہرخاص و عام شادی میں دلہنوں کا پہلا انتخاب رہا تھا۔
    ٹھیک ہے وہی کردو۔
    گنگشن نے بڑے آرام سے مان لیا۔کیرل چند لمحے تو بے یقینی سے دیکھتی رہ گئ۔
    آپ اسکو زیب تن کرکے دیکھ لیں تاکہ ناپ وغیرہ کی کمی بیشی دور کروائی جا سکے۔
    وہ آدھی جھک کر کہہ رہی تھی۔
    اچھا۔ وہ بنا چوں چراں کیئے لباس اٹھا کر اندر کمرے میں بدلنے چل دی۔
    جون من نے گہرے نیلے رنگ کے جو کم وبیش کالا ہی دکھائی دیتا تھاڈنر سوٹ کا انتخاب کیا تھا۔۔
    گنگشن لباس بدل کر آئی تھی۔ وہ خود کو آئینے میں ہر انداز سے دیکھ رہا تھا کہ پشت سے اسکا عکس ابھرتا دیکھ کر چونک کے ایک جانب ہوا۔ یہ اسکو آئینہ دیکھنے کا موقع دینے کی نیت سے کیا گیا تھا۔
    کیسا ہے۔؟ گنگشن کا انداز سادہ تھا
    اچھا ہے۔ وہ گڑبڑا کر بولا۔
    گنگشن نے سر ہلایا اور فورا کپڑے بدلنے مڑگئ۔۔۔جیولری جوتوں تک کا انتخاب اس نے فوری او رنپے تلے وقت کے اندر کیا تھا۔ خاموشی سے اکٹھے کھانا کھایا تھا۔ اسکے گھر ڈراپ کیا تو جھک کر سلام کرتی وہ شکریہ ادا کرتی اندر چلی گئ۔
    تو آہبوجی نے ایک اور کامیاب بزنس ڈیل کر لی ہے۔
    اسکو نظروں میں رکھتے ہوئے وہ بڑبڑایا تھا پھر گاڑی اسٹارٹ کر لی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باہر داخلی دروازے پر اطلاعی گھنٹی بج رہی تھی۔ ہوپ بیڈ پر پیر پسارے لیٹی موبائل استعمال کررہی تھی اسکے برابر بیٹھئ
    گوارا اپنے چہرے کو چھو چھو کر دیکھ رہی تھی۔ اسکے نقوش میں نمایاں فرق آچکا تھا۔ اسکے ہونٹوں کے گرد ٹیکے لگا کر پٹھے اکڑا دیئے گئے تھے۔ اب وہ بول رہی تھی تو تھوڑی اور بانچھوں کے گرد کا حصہ ہلنے کو تیار نہ تھا۔ پتلی تماشا میں وہ آسانی سے حصہ لے سکتی تھی ذیادہ محنت بھی نہ کرنی پڑتی۔
    بیڈ سے نیچے کارپٹ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی اریزہ اپنے دھلے ہوئے سوکھے کپڑے تہہ کر رہی تھی اور احتیاط سے ڈھیر لگا رہی تھئ۔ اسے دیکھ کر تاسف سے ٹوکا
    اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ کہتی تھی نا پڑو سرجری کے چکر میں پہلے بہتر شکل تھی تمہاری
    اریزہ نے محاورتا نہیں حقیقتا اس محاورے کا انگریزی ترجمہ کیا تھا۔
    چڑیاں کھیت پورا چاہ کر بھی نہیں کھا سکتیں۔
    گوارا نے پہلا اعتراض یہی جڑا۔
    اور ابھی تو کھیت کو پانی دیا گیا ہے فصل دیکھنا کتنی شاندار ہوگی جب کٹائی کا وقت آئے گا۔ وہ اتراکربولی۔
    تب تک تم بدصورت قراردی جا چکی ہوگی۔۔۔
    اریزہ تمہارا فون کانپے جا رہا ہے۔
    ہوپ نے سائیڈ ٹیبل سے جھر جھر کی آواز نکالتے اسکے فون کو گھورا
    خیر ہے نظر انداز کرو۔
    اریزہ نے مسکرا کر کندھے اچکائے۔
    یار گوارا میری جاب ڈھونڈو نا کچھ کرکے۔
    اریزہ نے کہا تو گوارا نے سر پر ہاتھ مارا
    اوئے ایک ڈھونڈی ہے نا۔ ایک بچوں کے سیریل کی تشہیر کرنی ہے مفت کھلانا ہے اسٹور میں ایک ہفتے کا اسٹال لگنا ہے ٹھہرو میں نے تصویر کھینچئ تھی اشتہار کی بھیجتی ہوں کاکائو آن کرو۔
    گوارا نے موبائل ڈھونڈا تکیئے کے نیچے بیڈ سائیڈ پھر بیڈ کے نیچے جھانکا۔ ہوپ نے منہ بناتے ہوئے کروٹ لی تو کمر میں چبھا جھلا کر گوارا کے پاس پٹخا۔ گوارا نے اس موبائلی توہین پر کچھ کہنا چاہا مگر اریزہ نےآواز نکالنے بنا چمکارا پچکارا۔ چپ برداشت کرو۔۔وہ گھور کر۔رہ۔گئ۔
    اطلاعی گھنٹی پھر بجی
    تم دونوں کے کان بند ہیں کیا گھنٹی کی آواز نہیں آرہی۔
    ہوپ چڑ کر بولی۔
    مکین تم بھی ہو اس گھر کی جا کر دیکھ لو کون آیا ہے۔
    گوارا فورا چڑی۔۔
    مجھ سے ملنے آج تک نہ کوئی آیا ہے نا آئے گا۔ تم دونوں کے ہی ملنے والے آتے ہیں جا کردیکھو بھی تم دونوں ہی۔
    ہوپ کے کہنے پر گوارا تنک کر بولی۔
    جب ہمارے ملنے والے ہیں تو جتنی دیر باہر کھڑے گھنٹی بجاتے رہیں تمہیں کیا۔
    اریزہ چوکنا ہو کر اٹھ بیٹھی۔ دونوں نے اب اسکے بعد ہاتھا پائی ہی شروع کرنی تھی۔ گھنٹئ پھر بجی۔ ہوپ نے کینہ توز نظروں سے گھورتے کان پر ٹونٹیاں چڑھا لیں۔
    اسکا برتائو یقین کرو مجھے جتنئ آگ لگاتا کسی دن میں نے اپنے ساتھ اسکو بھئ جلا مارنا ہے۔
    گوارا نے دانت کچکائے۔
    اے ذیادہ دانت نہ کچکچائوسب فلر بہہ جائیں گے تمہارے یہ نہ ہو ہونٹ بھئ نیچے آن گرے جتنا پھولا ہوا ہے۔
    اریزہ اسے چھیڑتی بیڈ سے کود کر اترتے باہر بھاگی تھی گوارا نے بنا لحاظ پاس پڑا تکیہ مارا تھاا سے جو اگر وہ اتنی پھرتی نہ دکھاتی تو یقینا کمرپر لگتا۔
    وہ منہ چڑاتی ہنسی روکتی دروازہ کھولنے چلی آئی۔ حسب عادت بنا کیمرے میں دیکھے کھولا ۔۔ ایڈون فون کان سے لگائے اسے ہی کال ملائے تھا۔ اسکو دیکھ کر کال بند کرکے مسکرا کر بولا۔
    اسلام و علیکم کیسی ہو۔
    وہ اتنی حیران ہوئی کہ دیکھتی رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ریلنگ سے بازو ٹکائے وہ دونوں ہاتھوں میں پیشانی ٹکائے دھیرے دھیرے انگلیوں سے اپنی کنپٹیاں مسل رہا تھا۔
    اریزہ بھونچکا سی کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
    اب تم ہی بتائو میں کیا غلط کہہ رہا ہوں۔
    وہ اریزہ کی آنکھوں میں دیکھ نہیں پا رہا تھا۔ دانستہ رخ موڑے تھا۔ اس نے یہی کہا تھا کہ ضروری بات کرنی ہے تو اریزہ اسے ٹیرس میں لے آئی تھی اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ضروری بات یہ ہوگئ۔ وہ حیرت کے مارے گنگ سی اسکی شکل دیکھے گئ۔
    اس بچے کا ہمارے معاشرے میں کوئی مقام نہ ہوگا۔ ہم واپس جا کر سب کو کیا جواب دیں گے۔ مگر وہ کچھ سوچنا سمجھنا نہیں چاہتی۔ مجھے کہہ رہی ہے شادی کر لو یہاں۔ میں کر لوں تو گھر کیا بتائوں گا کہ کیوں اتنی عجلت میں شادی کر لی؟ میں سوچ نہیں سکتا تھا وہ اتنی حماقت دکھائے گی۔۔ اسکو ذرا اپنی عزت کا اپنے والدین کی عزت کا خیال نہیں ہے۔
    تمہیں تھا اپنا یا اپنے والدین کی عزت کا خیال۔
    وہ چٹخ کر بولی۔ ایڈون نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔ اسکا منہ بالکل سرخ ہوگیا تھا۔
    جو بھی ہوا ہے اس میں تمہاری برابر کی ذمہ داری بنتی ہے۔ تم سارا قصور اسکے کھاتے میں ڈال کر بری الزمہ نہیں ہو سکتے۔
    میں نے کب انکار کیا ۔ہوئی ہے مجھ سے بھی غلطی۔ تو اس معاملے کا حل بھی تو میں ہی نکال رہا ہوں۔ اسے سمجھائو عقل سجھائو یہ بات اتنی سادہ اور آسان نہیں جتنا وہ سمجھ رہی ہے۔
    اسکے انداز میں بے چارگی تھی۔
    تم اسے قتل کرنے پر مجبور کر رہے ہو۔ اگر یہ بچہ۔ وہ رک سی گئ۔ جتنا بھی روشن خیال بن لے یہ موضوع ۔۔۔۔وہ ایڈون سے کیسے بات کر سکتئ تھی کھل کر۔
    ابھی اتنا وقت نہیں گزرا ہے ۔ وہ اسکی ادھوری بات سمجھ کر بولا۔
    تم چلو ذرا دیکھو اسکی حالت تم خود بھی یہی مشورہ دوگی اسے۔ اسکی طبیعت اسکا مزاج کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔
    وہ رسان سے کہہ رہا تھا۔ اریزہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ عبدالھادی سے ملنے آیا ہوا تھا۔ انکی بیگم کسی سے ملنے گئ ہوئی تھیں دونوں بچیاں گھر میں تھیں سو عبدالہادی انکا خیال رکھنے کو گھر میں ہی تھے۔ اسکو بچیوں کے پاس بٹھا کر خود کچن میں کھانا گرم کررہے تھے۔
    اپنا حق نہ چھوڑو ابھی تم جزباتی ہوئے ہو مگر پیسہ اس دنیا کی اٹل حقیقت ہے۔ وہ گھر تمہارے والدین کے نام ہے تم اس کی وراثت کے حقدار ہو علی۔
    وہ مجھے وراثت کا حق نہیں رہائش کی اجازت دے رہے ہیں۔
    اس نےبلاکس سے ایک اونچی عمارت کھڑی کر دی تھی۔
    دونوں بچیاں بلاکس سے اسکے ساتھ کھیل رہی تھیں۔ بالترتیب چار اور آٹھ سال کی بچیاں خاصی تمیز دار تھیں۔ نقوش چپٹے تھے مگر ناک ماں کی طرح کھڑی کھڑی سی تھی۔عمارت کھڑی ہوئی تو اگلا کھیل اسکے سامنے تھا۔
    جو بھی ہے۔ تم اپنا موجودہ اپارٹمنٹ کرایے پر دے سکتے ہو معقول آمدنی کا انتظام ہو جائے گا۔
    وہ مشورہ دے رہے تھے۔۔ علی استہزائیہ ہنسی ہنس کر رہ گیا
    آپس میں وراثتی لوٹ مار چل رہی ہے۔جو میرے باپ دادا نے اپنے بھائیوں سے چھینا اب انکے بھائی ان سے چھین رہے میں ان کا شریک بن کر اپنے گناہوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔
    ۔اب اسے بچوں کا پزل جوڑنا تھا۔ دونوں تندہی سے لگی ہوئی تھیں۔
    تم پھر بھئ بھائی کی شادی میں ضرور جانا۔وہ تاکید کر رہے تھے
    حرام کھانا ہوگا وہاں شراب کا دور ہوگا غیر مسلموں کی قابل اعتراض محفل میں جائوں۔
    وہ گنوا رہا تھابولتے بولتے ایکدم سے پیچھے ہوا اگر نہ ہوتا تو عین سر پر انکا پھینکا ہوا ربڑکا دستانہ پڑتا۔۔
    ہزار بار سمجھایا ہے حالت جنگ میں نہ ہوں تو غیر مسلموں کی خوشی غمی میں شریک ہونے میں حرج نہیں ہمیں ان سے حسن سلوک سے پیش آنے کی ہدایت ہےتمہیں وہاں حرام کھانے شراب پینے انکی مشابہت اختیار کرنے کی اجازت نہیں پر تمہارے جانے سے اگر وہ خوش ہوتے ہیں تو تمہیں جانا چاہیئے۔ رسول ص کی بیٹی باپردہ ہونے کے باوجود یہودی کی بیٹی کی شادی میں شرکت کرنے گئ تھیں کیونکہ یہودی خود چل کر آیا تھا دعوت دینے۔
    وہ فل آن لیکچر دینے کے موڈ میں تھے۔ علی ہنس دیا۔
    کائونٹر پر کھڑے پیاز بھی اسی تیزی سے کاٹ رہے تھے جتنا تیزی سے اسے لیکچر سنا دیا تھا۔
    وہ لوگ یہودی نہیں ہیں۔ بدھ متی ہیں۔ کسی آسمانی مزہب سے تعلق نہیں انکا۔
    ان دونوں کی بحث میں بچیاں اسکی توجہ بٹتے دیکھ کر اسکا بازو ہلا کر متوجہ کرنے لگیں۔
    تمہارا چچا ذاد ہے۔ تم اسکے کافی قریب تھے وہ اسی مان کے ساتھ بلاوا دینے آیا تھا تمہیں۔ تم بدلے ہو وہ نہیں۔
    عبدالہادی رسان سے کہہ رہے تھے۔اسکی آنکھوں کے سامنے بچپن سے آج تک کی اسکی۔کئی یادیں تازہ ہو گئیں اکٹھے باسکٹ بال کھیلنا سائکلنگ کرنا اسکے امریکہ جانے تک ان دونوں کی دوستی مثالی ہوا کرتی تھی وہ حقیقتا اسکو بڑے بھائیوں والا پیار دیتا تھا۔۔
    جواب دو؟ عبدالہادی کی جھلائی آواز پر وہ چونکا۔
    دے؟ اسکے انجان بننے پر وہ گھور کر رہ گئے۔
    میں پوچھ رہا ہوں تمہاری بات کروں میں آمنہ کی بھانجی سے؟
    کیا بات کرنی ہے۔؟ وہ قطعی نہ سمجھا۔
    شادی کیلئے ملوانا چاہ رہا ہوں بھئ ۔۔ وہ جھلائے
    میں آپکو بتا چکا ہوں میں شادی نہیں کرنا چاہتا رچل کے بعد مجھے دنیا میں کسی لڑکی میں کوئی دلچسپی نہیں رہ گئ ہے۔
    اس نے قدرے سخت انداز اپنایا۔ اور جان کے رخ بدل کر پزل جوڑنے میں جت گیا۔
    دلچسپی پیدا ہو جائے گی۔ مریم سے ملو خوبصورت ہے پڑھی لکھی ہے۔ایک دو بار ملاقات کرو دلچسپی ہوجائے گی تمہیں بھی۔۔ وہ اسے منا لینا چاہتےتھے۔

    آپکو کیا لگتا ہے میں اتنا سطحی لڑکا ہوں کہ دو ایک بار کسی لڑکی سے ملوں گا اور رچل کی جگہ کسی انجان لڑکی کو دے دوں گا۔
    وہ بد لحاظی سے بولا تھا۔ وہ اسکے ضدی انداز پر مسکرا دیئے۔ اوپن کچن سے اپنے کام نپٹاتے وہ اسے دیکھتے گفتگو جاری رکھےتھے۔ لائونج میں بیٹھا علی خفا خفا سا دکھائی دیتا تھا۔
    رچل کی جگہ کسی کو نہ دو کسی اور کیلئے دل میں خود بخود جگہ بن جائے گی۔ اور جس کو تمہاری زندگی میں آنا ہوگا وہ ایک دن میں یہ جگہ بنا لے گی ایک دن میں کئی بار مل کر یا کئی دن میں ایک بارمل کر بھی۔
    انکی بات پر علی کا دل چاہا بد تمیزی سے جتا دے سب آپ جیسے نہیں ہوتے۔ زندہ بیوی بیٹی کے ہوتے ہوئے بھی نئی دنیا بسا لی او رمطمئن بھی رہے۔
    علی کا مزاج بھانپ کر فی الحال انہوں نے اس بات کو یہیں ختم کردیا
    یہ دیکھو بس چار پزل رہ گئے انکو صحیح لگادیں گے تو تصویر مکمل ہو جائے گی۔ مگر باقی پزل ہیں کہاں۔
    آخری پزل کا ٹکڑا لگا کر بھی تصویر مکمل نہ تھی۔
    یہیں ہوگا۔
    دونوں بچیاں آگے پیچھے مڑ کر کھلونوں میں ہاتھ مارنے لگیں
    علی میں ذرا دکان سے دودھ لے آئوں۔ وہ معزرت خواہانہ انداز میں کہتے ہوئے باہر جانے کو تیار کھڑے تھے
    آپ بیٹھیں میں لے آتا ہوں۔ وہ فورا اٹھنے لگا۔
    دونوں بچیوں کا منہ بن گیا۔
    میری بچیوں کا موڈ خراب نہ کرو پزل حل کرو۔
    انہوں نے شفقت بھرے انداز میں کہا تو وہ خجل سا ہوگیا۔
    دے۔ بیٹھیئے۔
    بڑی والی فاطمہ نے باقائدہ اسکا ہاتھ تھام کر واپس بٹھایا۔ سارا اٹھ کر اپنا گھوڑا گھسیٹ لائی۔۔
    یہ دیکھیں میرا گھوڑا
    وہ اتنے شوق سے دکھا رہی تھی اسے اشتیاق جتانا پڑا۔ ناچار واپس بیٹھ گیا۔ پزل بناتے وہ مکمل مگن تھا جب فاطمہ نے اچانک اسکا ہاتھ تھاما وہ چونک کر دیکھنے لگا وہ تھوڑی خوفزدہ سی اسکی پشت کی جانب اوپر سر اٹھا کر دیکھ رہی تھی۔ اس نے حیران ہو کر مڑ کر دیکھا تو چندی آنکھوں والی اس لڑکی کو اس نے کینہ توز نظروں سے گھورتا پایا۔
    سارا بھی اپنے گھوڑے سے اتر اسکے کندھے سے آن لگی۔
    تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟
    دونوں ہاتھ کمر پر رکھے وہ جرح کرنے والے انداز میں پوچھ رہی تھی۔
    وہ بچیوں کا سر تھپکتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    میں یہاں اکثر آتا ہوں۔ آپ بیٹھیں آہجوشی باہر گئے ہیں آتے ہی ہوں گے۔
    کیسے باپ ہیں انجان آدمی کے پاس بچیاں چھوڑ کر چلے گئے۔۔
    اسکا انداز طنز بھرا تھا۔ وہ سلگ کر رہ گیا
    میں انجان نہیں ہوں۔
    باپ توپتہ مجھے انکا کون ہے تم کون ہو پھر کیا ان کی ماں ہو؟
    وہ طنز سے ہنسی۔ وہ کوئی سخت سا جواب دینے لگا تھا کہ داخلی دروازے پر کھٹ پٹ سے توجہ بٹ گئ۔
    کون آیا ہے علی ۔
    عبدالہادی دروازے پر جوتے دیکھ کر پوچھتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ جی ہائے کو دیکھ کر بے ساختہ خوشی انکے چہرے پر پھیل گئ۔
    تم کب آئیں ؟ کیسی ہو بیٹا۔ ؟ وہ فورا اسکے پاس آئے
    ابھی آئی ہوں۔ اس کا انداز لیا دیا تھا۔ ناگواری تھوڑی کم تھی وہ اسی پر خوش ہوگئے
    بیٹھو بہنوں کے پاس میں تمہارے لیئے کچھ کھانے کو لاتا ہوں ۔ وہ خوشی کا اظہار کرتے کچن کی جانب بڑھے۔
    میں بیٹھنے نہیں آئی ہوں۔ مجھے اپنے کمرے سے کچھ لینا تھا۔ وہ بے نیازی سے کہتی ماسٹر بیڈ روم کے مقابل اپنے بیڈروم کی جانب بڑھ گئ۔ عبدالہادی کچھ کہتے کہتے رکے۔ جی ہائے کو دروازہ کھولتے ہی جھٹکا سا لگا تھا۔
    گلابی بنک بیڈ گلابئ دیواریں اسٹفڈ ٹوائز سے سجا وہ کمرہ اب اسکا نہیں رہا تھا۔ عبد الہادی تیزئ سے اسکی۔جانب بڑھے۔ وہ صدمے کی سی حالت میں کھڑی بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔
    بیٹا وہ جگہ کی کمی کے باعث بچیوں کا کمرہ الگ کرنا پڑا تمہاری چیزیں سب اسٹور میں الماری میں احتیاط سے رکھی
    وہ لجاجت سے کہتے اسکا ہاتھ تھامنے لگے اس نے سختی سے جھٹک دیا۔ اور پلٹ کر بجائے اسٹور روم جانے کے سیدھی باہر نکلتی چلی گئ۔
    عبدالہادی اسکے پیچھے لپکے۔ علی کو اپنی موجودگی یہاں کافی عجیب محسوس ہوئی تو اس نے بھی باہر کی راہ لی۔
    چھوٹے سے کمپائونڈ کے آگے ٹیکسی سے اترتی عبایا میں ملبوس آمنہ عبدالہادی کو دیکھ کر وہ لمحہ بھر رکی ۔۔ عبایا کے باوجود بھی اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ انکے یہاں مزید ایک پھول کھلنے کی تیاری ہے۔ اس نے مڑ کر بھرپور شاکی نظر ان پر ڈالی تھی۔
    عبدالہادی مجرم سا خود کو محسوس کرتے نگاہ چرا گئے۔ آمنہ نے کوریائی انداز میں جھکنے کی بجائے ذرا سا سر خم کرتے اسے سلام کیا تھا۔ جوابا وہ انکو مکمل نظر انداز کرتی انکی ہی چھوڑی ہوئی ٹیکسی میں بیٹھ گئ۔
    آئو علی کیسے ہو بڑے دنوں کے بعد آئے۔
    آمنہ خوش دلی سے اس سے مخاطب تھیں۔ وہ سٹپٹا کر عبد الہادی کو دیکھنے لگا جو چند قدم آگے بڑھ کر اس ٹیکسی پر حسرت بھری نگاہ جمائے کھڑے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نہ وہ میرے ساتھ رہنے کو تیار ہوتی ہے نا ماں کے پاس جاتی ہے.جب یہ گھر لیا تھا میں نے بڑے شوق سے اسکے لیئے یہ کمرہ سیٹ کیا تھا کچھ عرصہ رہی بھی میرے ساتھ فاطمہ سے پیار کرتی تھئ پھر سارا پیدا ہوئی تو جانے کیا ہوا کہ الگ رہنے کی ٹھان لی۔۔ میں اسکا کمرہ کسی صورت بھی بچیوں کو نہ دیتا مگر بچیاں بڑی ہو رہی ہیں اور آمنہ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی مجھے مجبورا کمرہ الگ کرنا پڑا۔یقین مانو ایک ایک چیز اسکی احتیاط سے اسٹور روم میں رکھی ہے۔ اور وہ آج بھی یہاں آکر رہنا چاہے تو میں بچیوں کا کمرہ خالی کردوں گا اسکے لیئے۔ پہلی اولاد ہے میری اسکا مقام ہی الگ ہوتا ہے دل میں۔ ہے نا۔
    عبدالہادی دھیمے انداز میں خود کلامی کے سے انداز میں بات کر رہے تھے۔ دونوں بچیاں کمیونٹی پارک میں جھولوں کے پاس دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔ وہ انہی پر نگاہ جمائے تھے۔علی نے خاموشی سے انکی بات کو سنا تھا اور جواب دینے سے احتراظ کیا تھا اسی طرح جیسے سوال بھی نہ کیا تھا کوئی۔
    جب جی ہائے پیدا ہوئی تھی تو میں اور ہانا بہت خوش تھے۔ ہم نے ایک ایک چیز اسکی شوق سے دل سے خریدی تھی۔ ہانا کہتی تھی اسکی شکل مجھ سے ملتی ہے اور میں کہتا تھا ہانا کے بچپن کی ہوبہو تصویر ہے۔اب ہانا اسے دیکھ کر میری بات مان گئ ہوگی بالکل جی ہائے ہانا کی شکل ہے۔
    انہوں نے اپنا پرس نکال کر بڑے اشتیاق سے تصویر پر ہاتھ پھیرا۔چار پانچ سال کی جی ہائے کو گود میں لیئے کھڑے ایک بازو ہانا کے کندھے پر رکھے وہ محبت سے ساتھ لگائے تھے۔ وہ تصویر پر انگوٹھا دھرے تھے جس سے تصویر آدھی چھپ سی گئ تھی اوپر سے تصویر ایک مکمل خوشحال چندی آنکھوں والے گھرانے کی تھی۔ علی نے ایک نظر دیکھا۔۔ انہوں نے انگوٹھا ہٹا دیا تھا۔ اب مکمل تصویر تھی مگر ایسی جیسے دو تصویروں کو اوپر نیچے فریم میں جوڑا گیا ہوا۔ اب جو تصویر تھی اس میں عبایا پہنے ایک عربی نقوش کی خاتون انکے برابر کھڑی تھی۔ ایک چند ماہ کی بچی گود میں لیئے خوش باش سی اور چند سال کی منہ بنا کر رونے کو تیار بچی کو گود میں لیئے خوش باش کھڑے اسی محبت سے اپنی دوسری بیوی کے کندھے پر بازو پھیلائے محبت سے ساتھ لگائے۔ اس نے چونک کر سر اٹھا کر انکی شکل دیکھی پھر کچھ کہتے کہتے رک کر رخ موڑ کر سامنے دیکھنے لگا۔
    تم سوچ رہے ہو کہ میں دوغلا انسان ہوں ۔ دو خاندانوں سے جڑا ہوں پہلی بیوی بچی کی محبت کا دعوی کرنے والا کھوکھلا انسان جو اپنی دوسری بیوی بچوں کے ساتھ بھی خوش باش زندگی گزار رہا ہے۔
    انکی بات پر وہ پلٹ کر انکی شکل دیکھنے لگا۔ اسکے چہرے کی حیرت غماز تھی کہ وہ حرف بہ حرف اسکی سوچ پڑھ گئے ہیں۔ وہ مسکرا دیئے۔
    میں ہانا سے محبت کرتا تھا کرتا ہوں۔ میں نے پوری کوشش کی تھی کہ وہ بھی اسلام قبول کر لے۔ جی ہائے بھی ۔ جی ہائے کر بھی لیتی مگر ہانا کو بالکل گوارا نہیں تھا اس نے خلع مانگ لئ تھی۔ میں روتا تھا راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعا مانگتا تھا کہ اسکا دل بدل جائے وہ بھی مسلمان ہو جائے۔ میرا گھر مجھے بہت عزیز تھا۔ایکدن سجدے میں روتے روتے ایکدم سے میرا دل ٹھہر سا گیا۔ یہی خواہش ہانا کی بھی تو ہوگی۔ تو کیا وہ۔۔۔
    آپکو پھر محبت ہوگئ؟
    وہ بات کاٹ کر بولا۔ عبدالہادی چپ ہوگئے۔
    یہ سوال میں نے بھی کیا تھا عالم دین سے جب ہانا سے طلاق کے بعد میں اس گھر میں اکیلا تنہا رہا ۔ بہت سوچا زندگی میں اب میرے لیئے کوئی خوشی باقی نہ رہی ہے۔ اب میں کبھی خوش نہ ہوپائوں گا۔ جانتے ہو جواب میں انہوں نے کیا کہا تھا مجھے۔
    علی ہمہ تن گوش تھا۔مگر اسکی آنکھوں کی بے چینی ان سے مخفی نہ رہ سکی۔
    شادی کرلو عبدالہادی۔ اللہ کی رضا کیلئے تم نے اپنا پچھلا تعلق ختم کیا ہے اللہ تمہیں نئے رشتوں سے خوشیاں فراہم کردےگا۔ وہ اپنے اوپر کسی کا احسان نہیں رکھتا۔ وہ احسان کرنے والوں میں سے ہے۔
    سننے میں بہت اچھا ہے مگر کیا محبت بھی دوبارہ ہوتی ہے۔
    وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا نے اسے پورا روٹ لکھ کر دیا تھا ایک ایپ بھی انسٹال کروادی تھی جس سے وہ اپنے مطلوبہ مقام تک جانے کیلئے کب کونسی ٹرین کا انتخاب کرنا تھا یہ سب رہنمائی دی جاتی تھی۔ پھر بھی وہ الجھن بھرے انداز میں اسٹیشن پر کھڑی آتے جاتےلوگوں کو اس چار رویہ داخلی راستے سے گزرتے دیکھ رہی تھی۔ چپس یا ٹوکن بھی تھے پلاسٹک کے جو کرائے کی رقم کے بعد ملتے تھے انکو ڈالا جا سکتا تھا یا اسکینر سے کارڈ استعمال کیا جا سکتا اس کارڈ میں پیسے ڈلوا لیتی تھی گوارا۔اسکو بھی بنوا دیا تھا ۔۔۔ بس ایک راڈ تھا جو اسکے راستے کی دیوار بنا تھا۔
    اس نے کارڈ چھوایا۔ عجیب ٹیں ٹیں کرکے رک گیا راڈ ہٹا ہی نہیں۔ اس نے دوسری بارکارڈ چھوایا۔ تیسری بار۔۔
    اس وقت یہاں رش ہو رہا تھا۔ اسکے پیچھے قطار بننے لگی تھی۔ اسے خفت محسوس ہو رہی تھی۔ اسکے پیچھے کھڑی لڑکی نے آہش۔ چچ۔ اور ایک دو مزید بیزارکن آوازیں نکالیں جن کا یقینا ہنگل میں کوئی مطلب تو ہوتا ہوگا۔ پھر پلٹ کر دوسری رو کی جانب بڑھ گئ
    ایک دن تو ساتھ چلی آتی۔ پہلا انٹرویو ہے میراکسی بھی جاب کیلئے ہنگل تک نہیں آتی مجھے۔
    اسے گھبراہٹ کا دورہ بس پڑنے کو ہی تھا۔
    وہ واپس پلٹی۔ اسکے پیچھے ایک چندی آنکھوں والا لڑکا کھڑا یقینا اسکے فارغ ہونے کے انتظار میں تھا۔
    سوری۔ وہ کہتی فورا ہٹ گئ آگے سے۔
    اس نے کارڈ چھوایا راڈ فوری طور پر ہٹ گیا۔ اریزہ آنکھیں پھاڑ کر اس مشین کے اس تعصب کو دیکھنے لگی۔
    مس آپ کا کارڈ ختم ہو چکا ہے۔ آپ ٹکٹ لے سکتی ہیں۔
    وہ چندی آنکھوں والا یقینا نیکی کے موڈ میں تھا۔ خالص امریکی لہجے میں انگریزی ۔ منہ پر کالا ماسک چڑھائے وہ تھا تو چندی آنکھوں والا ۔ اریزہ نے مڑ کر ادھر ادھر دیکھا۔ اسے ٹکٹ کہاں سے بنوائے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ گھبراہٹ اسکے چہرے سے ہویدا تھی ۔ چاروں طرف لوگ ہی لوگ تھے۔ ایک آدمی تو چلتے چلتے اس سے ٹکراتا گزر گیا۔ اسکو زور کا جھٹکا لگا تھا۔ ٹکرانے والے نے محسوس بھئ نہ کیا موبائل پر جھکا آگے کسی اور سے بھی ٹکرایا ہوگا۔۔۔وہ متزبزب ہوئی واپسی کا ارادہ باندھ لے یا یہ کڑوا گھونٹ پی لے۔
    اسے آگے جا کر جانے کیا خیال آیا تو مڑ کر دیکھنے لگا۔۔
    وہ داخلی راستے میں بیچ میں رکی ادھر ادھر شائد ٹکٹ کائو ٹر تلاش رہی تھی۔۔ وہ مڑ کر اسکے پاس چلا آیا۔۔
    ادھر۔ اس نے اشارے سے بتایا۔
    گومو وویو۔۔ کائونٹرسامنے تھا۔۔ وہ۔ہی اندھی ہوئی پڑی تھی۔۔ یا فیصلہ نہ کرپائی تھی۔
    شکریہ۔
    اس نے فیصلہ لے لیا۔ ٹکٹ لے ہی لے۔ کوئی مرد وزن کی تشخیص نہ تھی نہ الگ الگ رو کا کھڑاگ اسکے آگے کھڑے لڑکے اور آدمی نے اپنی باری اسے دینے کی کوشش نہ کی۔ البتہ اپنا ٹکٹ بنواتے فورا جگہ خالی کرتے گئے۔ ترقی یافتہ ملک کے ترقی کی دوڑ میں بھاگتے دوڑتے مصروف لوگ۔۔۔ اسکی باری آگئ کارڈ ریچارج ہوا
    میٹرو تک جانے کیلیئے داخلی راستے پر لوہے کی راڈ لگئ تھی۔۔ اس نے کارڈ چھوایا اس بار تو ٹیں کی آواز بھی نہ آئی۔ مگر راڈ بھی نہ ہٹا۔
    کیا مصیبت ہے۔ وہ جھلانے ہی لگی تھی کہ ایک ہاتھ سامنے آگیا۔۔
    اس نے چونک کر دیکھا وہی لڑکا مسکرا رہا تھا۔۔
    اس نے جھجکتے کارڈا سکے ہاتھ پر رکھابتو اس نے اسکے ابھرے نقش کو مشین سے چھوادیا۔۔وہ اس بار کارڈ ہی الٹا رکھ رہی تھی۔
    اسے خفت سئ محسوس ہوئی ۔ وہ اگر ذرا دھیان دیتی تو خود ہی یہ بات سمجھ آجاتئ۔ ٹن کی آواز سے کھل گیا تھا۔۔
    وہ پار ہوئی تو علی بھی اسکے پیچھے پیچھے ہی آرہا۔۔
    میرے خدا۔ اتنے لوگ۔۔ وہ ٹھٹک سی گئ۔۔ پورا اسٹیشن کسی مچھلی بازار کا نقشہ پیش کر رہا تھا اتنے لوگ۔
    ٹرین آکر رکی۔ سب دوڑ کر چڑھے۔۔ ٹرین بھی اتنی ہی کھچا کھچ بھری تھی۔۔ وہ جھجک کر رک گئ۔۔علی چونکہ پیچھے تھا تو اس نے بھی اگلی ٹرین کا انتظار ہی بہتر سمجھا
    دو منٹ بعد دوسری آئی وہ اس میں بھی سوار نہ ہو سکی۔۔علی لپک کر چڑھا۔ وہ اسکے پیچھے آرہی تھی وہیں رک گئ۔ علی کی یونہی نظر پڑی تو وہ وہیں پیچھے کھڑی دیکھ رہی تھی۔ وہ بھی حیران ہوتا اتر آیا۔
    بہت رش ہے۔۔ وہ جیسے صفائی پیش کرنے لگی۔۔
    اگلی ٹرین بھی خالی نہیں ہوگی۔۔ علی نے جتایا
    وہ ۔۔مجھے اتنے رش کی عادت نہیں۔۔ وہ کھسیا گئ۔۔
    انڈین ہو آپ۔۔ اس نے دلچسپی سے دیکھا۔۔بلیک جینز پر بلیک ہی لانگ ٹاپ اور بلیک اور گرے پرنٹد بڑا سا اسکارف گلے میں ڈالے وہ گول سے چہرے والی لڑکی انڈین کے حساب سے کافی صاف رنگ کی مالک تھی۔
    نہیں۔۔ اس نے تنک کر فورا تردید کی۔۔
    میں پاکستانئ ہوں۔۔
    علی اسکے انداز پر ہنس دیا۔۔
    میں امریکہ میں کافی عرصہ رہا ہوں کسی انڈین کو پاکستانئ سمجھ لو یا پاکستانی کو انڈین برا کیوں مان جاتے۔۔ اس نے لطیف پیرائے میں کہا اریزہ سر جھٹک کر رہ گئ۔۔
    پاکستان میں اتنا رش نہیں ہوتا۔۔ میٹرو میں؟۔
    تیسری ٹرین کا دروازہ بند ہو رہا تھا انکے سامنے۔۔
    اسے حیرانگی ہوئی
    اریزہ چونکی۔۔
    پاکستان میں میٹرو ٹرین ہی نہیں ہوتی۔۔ وہ بڑ بڑائی۔۔
    لاہور میں اب بن جائے شائد۔۔
    اسے اردو میں بڑبڑاتے وہ خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔۔ اسے وضاحت کرنی پڑی۔۔
    ہوتا ہے رش۔۔ مگر عوامی آمدورفت کے زرائع میں خواتین اور حضرات کی نشستین علیحدہ ہوتی ہیں اس طرح تنگ جگہوں پر ٹکرائے بنا جہاں گزارا نہیں اسکی عادت نہیں۔۔
    اس نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا۔۔
    اگلی ٹرین آئی تو اسے بولا۔۔
    میری پیروی کرو۔ وہ تیز قدم اٹھاتا راستہ بناتا رہا وہ اسکے پیچھے پیچھے چڑھ گی ٹرین میں کافی ہجوم تھا اسی نے آگے بڑھ کر کھڑکی کے پاس جگہ بنا کر اسے کھڑا کیا خود پیٹھ موڑ کر دیوار بن کر کھڑا ہو گیا۔ماسک لگائے اس لڑکے کی آنکھیں شہد رنگ کی تھیں۔ ۔اسکے بالوں کا رنگ بھی شہد رنگ ہی تھا۔ خلاف توقع اس لڑکے نے دوبارہ مڑ کر اسے نہ دیکھا۔
    ایپ کے مطابق اب اگلے اسٹیشن پر اسے اترنا تھا۔ وہ اترنے کودروازے کی جانب بڑھی تو اس لمبی مخلوق نے ٹرین کے رکتے ہی اپنے لانبے بازوکا استعمال کرتے پنکھا چلا کر اسکیلئے راستہ بنا دیا تھا یہاں وہ آرام سے اتر گئ۔۔ پھر مڑ کر بولی۔۔
    شکریہ۔۔ پھر خیال آیا۔۔ تھینک یو۔۔
    ٹرین کے بند ہوتے شیشے کےدروازے سے وہ دیکھ رہا تھا۔
    گومو وویو۔۔ اسکو اب خیال آیا تو آدھا جھک کر اسے ہنگل میں کہا۔۔ اسے آواز تو نہ پہنچی ہوگی مگر اس نےسر ہلا دیا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسٹوڈنٹ ویزا ۔۔
    اس چندی آنکھوں والے نے سرتاپا اسے دیکھا تھا وہ سٹپٹا سی گئ۔
    اسٹوڈنٹس کےتو ورکنگ آورز ہوتے ہیں۔ پورا ہفتہ آپ کام نہیں کرسکتیں۔ پھر ضمانت بھئ چاہیئے ہوگی ہمیں آپ کو ہم رکھ بھی لیں تو ہمیں ایک اور ملازم رکھنا پڑے گا۔ ہمیں کسی صورت وارے میں نہیں۔۔ سب سے بڑھ کرہمارا نشانہ بچے اور خواتین ہیں اس سیریل کو خریدنےکیلئے۔ آپ کیسے رضامند کر پائیں گی کورین عوام کو یہ سیریل خریدنے کیلئے جب آپکو ہنگل آتی ہی نہیں ہے۔؟
    اس نے شستہ انگریزی میں تعارف کرایا اپنا تو اس چندی آنکھوں والے نے بدمزہ شکل بنائی تھی اسے تب ہی اندازہ ہوگیا تھاکہ یہاں دال نہیں گلنے والی۔
    آپ اپنا سی وی چھوڑ جائیں اگرکوئی ویکنسی ہوئی ہمارے پاس تو ہم آپکو فون کر لیں گے۔
    انہوں نے چھٹی بھی کردی اسکی۔ادھیڑ عمر اس چندی آنکھوں والے کی بے مروتی عروج پر تھی۔ وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔
    آجکا دن ہی برا ہے۔ وہ یہی سوچ سکی۔ بنا خدا حافظ کہے وہ خاصی چڑی ہوئی کمرے سے نکلی۔راہداری میں چند چندی آنکھوں والے سامنے سے آرہے تھے وہ ان پر نگاہ غلط ڈالے بنا تن فن کرتی باہر نکل گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا کو اسکی شکل دیکھتے ہی پتہ لگ گیا تھا کہ جاب نہیں ملی۔ دروازہ کھولتے ہی اسکےتیور دیکھتی کان دباتی ایک سائیڈ میں ہوگئ تھی۔ وہ حسب عادت اندر داخل ہوگئ تو خیال آیا پلٹی راہداری میں رکھے جوتے کے ریک پر سے جوتے بدلے پھر لائونج میں صوفے پر آکر ڈھیر ہوگئ۔
    تم نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ یہاں جاب حاصل کرنے کیلئے ضمانت بھی چاہیئے ہوگی۔ اور کہاں کیا تعلیم حاصل کر رہی یہ بھی بتانا پڑے گا اورتو اور ہنگل نہیں آتی تو فٹے منہ کہہ کر کھڑے کھڑے نکال بھی دیا کریں گے۔
    گوارا نے پانی کا گلاس لا کر دیا تو وہ تھامتے ہوئے پھٹ پڑی
    ہاں تو یونیورسٹی کارڈ دکھانا تھا نا۔اور ضمانت میں ہوں نا تمہاری
    گوارا ہنسی دباتئ اسکے برابر آن بیٹھی۔
    وہ گھورتئ پانی کا گلاس ختم کرنے لگی۔ ایک سانس میں پی کر سامنے میز پر رکھا تو ایک سوبر سا گرے رنگ کا کارڈ توجہ کھینچ لے گیا اسکی۔
    انگریزی میں دعوت نامہ تھا کسی منگنی کا۔
    یہ کس کا ہے؟ پورا دعوت نامہ پڑھ کر اس نے گوارا سے پوچھا تھا۔
    ہوپ کا ہوگا میرا تو نہیں ہے۔ گوارا نے کندھے اچکائے۔
    وہ ابھی الٹ پلٹ کر دیکھ ہی رہی تھی کہ ہوپ نے جھپٹا سا مارا۔
    یہ میرا کارڈ ہے۔ تم لوگوں کا کارڈ ہایون دے گا۔
    وہ کہہ کر واپس مڑ چکی تھی۔
    ہایون کیوں دے گا ؟ کس کا منگنی کا کارڈ ہے؟
    گوارا پوچھ رہی تھی مگر جواب دینا گوارا نہ کیا ہوپ نے ۔ وہ کمرے میں گھس چکی تھی
    گوارا گھور کے رہ گئ
    میں اسکو کسی دن ٹیرس سے نیچے پھینک دوں گی دیکھنا۔
    گوارا نے دانت کچکچائے۔ اریزہ بھونچکا سی ابھی بھی اپنے ہاتھ پھیلائے بیٹھی تھی جیسے کارڈ ابھی بھی اسکے ہاتھ میں ہو۔
    میں تمہاری مدد کروں گی اس دن۔ اریزہ نے ہونٹ بھینچ کر ہاتھ نیچے کیئے۔۔۔۔
    آج اسے بھی تپا دیا تھا ہوپ نے۔ گوارا نے حیرت سے اسکا جواب سنا پھر مسکراہٹ دباتی اسے کندھا مار۔کر بولی
    اچھا میں آج بلائنڈ ڈیٹ پر جا رہی ہوں چلوگی؟
    گوارا نے کہا تو وہ مڑ کر آنکھیں پھاڑ کر اسے گھورنے لگی۔
    مزاق کر رہی ہو؟
    اسے یقین نہ آیا
    بالکل نہیں سو فیصد سنجیدہ ہوں۔ گوارا کھلکھلائی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گہرے نیلے رنگ کا وہ گھٹنوں تک کا سلیو لیس فراک تھا جس کے ساتھ اس نے بلیک ٹائٹس پہن لی تھیں۔ سلیو لیس میں اسے پردے کی فکر تو جو تھی سو تھی ٹھنڈ بھی لگنی تھی سو گوارا سے بلیک اوپن سوئیٹ بلائوز لے کر پہنا تب بھی مطمئن نہ ہوئی تو اپنا بلیک اسکارف بھی گلے میں ڈال لیا۔
    کہو تو ایک کمبل بھی ساتھ رکھ لوں تمہارے لیئے۔
    بال بناتی گوارا چڑ کر بولی تھی تو وہ معصومیت سے کہنے لگی
    اوپن ائیر میں جانا ہے تو رکھ لو پلیز مجھے سردی لگ رہی ہے پہلے ہی۔
    اسکی بات پر گوارا نے بنا لحاظ اپنے ہاتھ میں پکڑا برش اچھالا۔ سلیکون کا برش ٹھک سے اسکے ماتھے پر لگا تھا اسے چوٹ تو کیا لگنی تھی پرانی یاد تازہ ہوگئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حسب معمول سنتھیا آئی ہوئی تھی اسکے بیڈ پر اوندھی لیٹی میگزین کے ورق پلٹتی ماڈلز پر تبصرے کر رہی تھی۔ وہ سنگھار میز کے سامنے بیٹھی بال بنا رہی تھئ۔
    یار یہ دیکھو پکا کرسمس پر میں نے یہ ڈریس بنوانا ہے۔ ایسا ہی بنوانا ہے
    وہ ایک خوبصورت سے پیچ رنگ کے فراک اور چوڑی دار پر ریجھ چکی تھی۔ وہیں سے میگزین اسے لہرا کر دکھانے لگی۔
    لباس واقعی پیارا تھا ماڈل بھئ ۔ مگر ماڈل نے خاصا گہرا گلا بنا آستین کے ساتھ پہن رکھا تھا۔پیچھے پورا ڈوریوں کا کام تھا۔
    یہ بنوالینا مگر ایسا نہیں۔ اس نے رسان سے کہتے اسکی توجہ قابل اعتراض لباس پر دلائی۔
    کیوں کیا برائی ہے ۔ میں نے ایسا ہی بیک لیس بنانا ہے۔۔۔
    وہ ٹھنک کر بولی پھر اسے چھیڑنے کو ایک آنکھ دبا کر کہا۔ فرنٹ لیس بھی ۔
    ہاں اب یہی گل کھلانے رہ گئے۔خبردا رجو ایسا سوچا بھئ۔ خاک میں ملا دو میری ناک برسوں کی بنی بنائی عزت مٹی میں رول دے گی یہ لڑکی توبہ۔
    اریزہ بھی اسی کی منہ بولی بہن تھی۔ پکا سا منہ بنا کر بین ڈالنے لگی۔سنتھیا نے منہ بنایا پھر چٹخارہ لیکر بولی
    زندگئ میں کبھئ موقع ملا نا تو پکا میں نے بھی گل کھلانا ہے۔
    میں تمہیں کوئی گل کھلانے ہی نہیں دوں گی۔
    اریزہ نے تاک کے نشانہ لیا برش کا سیدھا اسکے سر پر بجا۔ وہ وہیں اپنا سر تھام کے دہری ہوگئ
    ہائے مار ڈالا ظالم۔
    وہ اتنی زور سے دہائی دے رہی تھی کہ وہ سب مستی بھول بھال بھاگ کر اسکے پاس بیڈ پر آگئ جو تڑپ کے اٹھی بیٹھی اب دونوں ہاتھوں میں سر تھامے ہائے ہائے کر رہی تھی۔
    سوری سو سوری۔ زو رسے لگ گیا۔ اسکا سر تھامے وہ شرمندگی سے ڈوب مرنے کو تھی۔
    نہیں گلاب کی پنکھڑی چھوائی ہے تم نے۔ سنتھیا ہاتھ نیچے کرکے گھورنے لگی۔ اسکی پیشانی سرخ ہونے لگی تھی۔
    ایک معصوم سی سلیو لیس پہننے کی خواہش کا اظہار کیا تم نے سر ہی پھوڑ ڈالا میرا۔
    اریزہ کا خفت سے سرخ چہرہ دیکھ کر اسے شرارت سوجھی
    آئیم رئیلی ویری سوری یار۔ وہ آگے بڑھ کر اسکا سر سہلانا چاہ رہی تھی مگر سنتھیا نے دور کردیا
    رہنے دو۔
    زخم دے کر سہلانا دوستوں کی ہے ادا ٹھہری ۔۔ ہمیں عدو ہی بھاتے ہیں ایسے چارہ گر سے۔۔
    وہ لہک لہک کر شعر پڑھ رہی تھی جو شائد کہا بھی موصوفہ نے ابھی ابھی خود ہی تھا۔ اسکے وزن سے اریزہ نے اندازہ لگایا تھا۔
    برش کہاں گیا میرا۔ اریزہ نے ادھر ادھر برش کی تلاش میں ہاتھ مارا
    ہاں برش سنبھال لو میرا سر گیا بھاڑ میں
    اسکی طوطا چشمی پر سنتھئا نے آہ بھری۔ برش اسکے پہلو میں ہی پڑا تھا۔ اریزہ نے جھپٹا اور اچھی خاصی زور سے اپنی پیشانی پر دے مارا۔ سنتھیا کی آنکھیں حیرت سے پھیل سی گئیں۔ اریزہ دوسری بار برش اپنے سر پر مارنے ہی والی تھی کہ اس نے فورا اسکا ہاتھ تھام کر برش لیکر ایک طرف پھینکا۔پھر غصے سے بولی
    پاگل ہوگئ ہو یہ کیا حرکت ہے؟
    میری وجہ سے گومڑا بن گیا ہے تمہارے۔۔ اریزہ نے تاسف سے اسکی پیشانی دیکھی۔
    تو تم میری وجہ سے اپنے سر میں بھئ گومڑا ڈال لوگی؟ سنتھیا چڑی
    ایک تو مجھے مار کر زخمئ کیا اوپر سے اب خود کو تکلیف پہنچا کر مجھے ہی گلٹی کرارہی ہو۔
    وہ بھنا رہی تھی اریزہ ہنس پڑی
    خیر وہ پٹائی تو تم ڈیزرو کرتی تھیں۔ گل جو کھلانے جا رہی تھیں۔ اریزہ کا انداز شرارت بھرا تھا۔
    میں تمہارے ہوتے گل کھلا ہی نہیں پائوں گی۔ سنتھیا کو دکھ ہوا۔
    میں گل کھلانے ہی نہیں دوں گی تمہیں۔ اریزہ نے مزے سے کہا
    پھر بھی کھلایا تو؟ ۔۔۔سنتھیا کو اس بحث میں مزا آرہا تھا اریزہ سوچ میں پڑی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا ہوا زور کا لگ گیا؟ ۔۔۔ پر یہ تو سیلیکون کا ہے۔۔
    گوارا اسکا رنگ اڑتا دیکھ کر گھبرا سی گئی زمین سے اٹھا کر برش اپنی پیشانی پر مار کر دیکھا اریزہ اسکی بات پر اپنی سوچ سے چونکی اسے اپنے ماتھے پر برش مار کر چیک کرنے دیکھا تو ہنسی ہی آگئ۔ اسے ہنستا دیکھ کر گوارا کی تشویش دور ہوئی
    کیا ہوا تھا تمہیں؟ وہی میں کہوں سیلکون برش سے چوٹ کیسے لگ گئ تمہیں۔ ؟ کیا سوچ رہی تھیں؟
    اس نے پکڑ لیا تھا اسے۔ اریزہ قصدا سر جھٹک کر بولی
    کچھ نہیں ایسے ہی سنتھیا یاد آگئ تھی مجھے۔
    ہوں۔گوارا نے ہنکارا بھرا۔
    تم تو اسے یاد کر رہی ہو وہ تو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ تمہیں یاد بھئ نہ کرتی ہوگی۔
    وہ اب ہلکا پھلکا سا میک اپ کر رہی تھی۔
    تمہیں جی ہائے یاد آتی ہے۔۔ اریزہ کو یونہی خیال گزرا۔
    ہاں۔ اس کا انداز سادہ تھا۔
    جی ہائے لوگوں کو زندگئ سے نکال باہر کرنے میں ماہر ہے۔ میری اسکی دو تین سال کی دوستی اسکو بھلانے میں وقت نہیں لگا ہوگا۔ خاصی خود غرض لڑکی ہے۔
    وہ صاف گوئی سے بولی۔
    تمہاری اسکی لڑائی ہوئی ہے کیا ؟ اس دن آئی تھی تو مجھ سے بھی سیدھی طرح بات نہ کی اور اتنے دنوں سے آئی بھی نہیں۔ اریزہ کو اب یاد آیا کہ کافی دن ہوچکے ہیں جی ہائے سے سرے سے ملاقات نہ ہوپائی تھی۔
    کس بات پر لڑائی ہوئی ہے تم دونوں میں؟
    گوارا کا بات ٹال دینے کا ارادہ تھا۔مگر اریزہ نے آگے بڑھ کر کندھا ہلا کر پوچھا تو اسے بتانا پڑا
    کہہ رہی تھی کہ تم سے دوستی چھوڑ دوں۔ یا تم سے دوستی رکھوں یا اس سے۔
    مگر اس نے ایسا کیوں کہا؟ اسے حیرت ہوئی ۔اسکی تو جی ہائے سے کبھی لڑائی بھی نہ ہوئی تھی۔
    کیونکہ تم مسلمان ہو یہ اسے پتہ لگ گیا تھا۔ اور وہ ہر مسلمان سے نفرت کرتی ہے۔۔۔۔
    گوارا بیڈ پر سے بیگ اٹھاتی جانے کو بالکل تیار کھڑی تھی۔
    کیوں؟ اریزہ کی حیرت عروج پر تھی۔
    لمبی کہانی ہے چلو راستے میں بتاتی ہوں۔
    گوارا نے اسے چلنے کا اشارہ دیا تو وہ بھی کندھے پر بیگ درست کرتی اٹھ کھڑی ہوئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس بڑے سے نائیٹ کلب میں داخل ہوتے ہوئے اس نے خاصی بیزاری سے گوارا کو دیکھا جو اسکے تاثرات دیکھ کر ہنس پڑی تھی۔
    ہوپ اپنی دوسری جاب پر جا چکی ہے اکیلی فلیٹ میں تم نے ٹامک ٹوئیاں ہی مارنی تھیں یہاں تھوڑا اچھل کود کرلو انجوائے کرلو۔
    گوارا نے اسکو منانے والے انداز میں کہا تھا۔ پھر اسکا ہاتھ تھام کر اندر لے آئی۔ اندر ڈانس فلور پر خوب رونق لگی تھی۔
    ایڈون اور ہایون سامنے ہی بار کائونٹر کے قریب لگے اونچے اونچے اسٹولز کے قریب کھڑےباتیں کر رہے تھے۔ وہ سیدھا انکے پاس لے آئی تھی۔ ہایون ڈرنک ہی کر رہا تھاانہیں دیکھ کر واضح طور پر اسکے چہرے پر رونق نظر آئی تھی۔ گوارا آگے بڑھ کر اسکے گلے لگتے کان میں بولی
    تمہارا کام پورا کیا جوابا مجھے کیا ملے گا؟
    ہایون ہنس دیا تھا۔ ایڈون اریزہ سے حال احوال پوچھ رہا تھا۔
    کونسا جوس لوگئ۔ ؟ ایڈون نے اریزہ سے پوچھا پھر اسکے لیئے پلٹ کرکائونٹر کی جانب بڑھ کر ویٹر کو آورڈر دینے لگا
    تمہارا سرپرائز تمہارے پیچھے ہے۔
    ہایون نے کہنے پر اس نے الجھن بھرے انداز میں پیچھے دیکھا تو یون بن کھڑا مسکرا رہا تھا۔ اس نے فورا منہ بنایا۔
    بکواس۔۔ وہ منہ بنا کر جانے لگی تو یون بن اسکے سامنے آگیا
    کب تک ناراض رہو گی۔ یون بن مسمسی سی شکل بنائے اسکا راستہ روکے کھڑا تھا
    اگلے جنم تک۔ وہ اتنی آسانی سے ماننے کو تیار نہ تھی۔
    مگر میں تب تک تمہیں ناراض نہیں رکھ سکتا۔
    اس نے اسکو کھینچ کر اپنے قریب کیا اور ایک خوبصورت سی چین لہرائی۔ گوارا کی ناراضگی مدہم پڑنے لگی۔ جی کے نام کا لاکٹ تھا جس کا وایے وہ خود پہنے تھا۔ گوارا کے گلے میں لاکٹ ڈالا تو وہ خود بخود جی سے مقناطیسی کشش کے ذریعے چپک سا گیا۔ گوارا کی آنکھوں میں ستارے سے اتر آئے تھے۔ بس اتنی ہی ناراضگی رہی تھی دونوں میں۔
    انہیں بے دھیانی سے دیکھتی اریزہ کے چہرے پر بھی مسکراہٹ دوڑ گئ۔ سر جھٹک کر رخ موڑا تو بہت دلچسپی سے ہایون کو خود کو تکتا پایا۔ وہ جھینپ سی گئ۔
    یہ دونوں ہائی اسکول سے ایسے ہی ہیں۔ ہر مہینے دو بار بریک اپ ہوتا ہے انکا اور اسی طرح یون بن تحفہ دے کر منا لیتا ہے۔
    ہایون نے بتایا تو وہ سر ہلا گئ۔
    یون بن اور گوارا ڈانس فلور کی جانب بڑھ گئے تھے۔
    ایڈون نے جوس کا گلاس لا کر تھمایا تھا اسے۔ اس نے شکریہ کہہ کر گلاس تھام لیا۔
    سنتھئا کیسی ہے۔ اریزہ نے پوچھا تو ایڈون شکوہ کناں انداز میں بولا
    ایک کام کہا تھا تم سے۔
    اریزہ شرمندہ سی ہوئی
    کل جائوں گئ سنتھئا سے ملنے فکر نہ کرو۔
    یار یہ پاکستان تھوڑی ہے ہزار لیگل کمپلیکیشنز ہیں اور۔ وہ دانستہ زرا سا رخ موڑ کر اور آواز دبا کر بولا تھا۔ دونوں اردو میں بات کرتے مگن ہو چکے تھے۔ ہایون چند لمحے تو دیکھتا رہا پھر پلٹ کر اپنے لیئے ڈرنک بنوانے لگا۔ہوپ نے گہری نگاہ ڈالی تھی اس پر۔
    آننیانگ۔
    آننیانگ۔۔ ہایون کا انداز گرمجوشی سے خالی تھا۔
    تم اب مدہوش ہو جائوگے بہت پی رہے ہو۔
    ہوپ نے جانے کیوں ٹوکا تھا۔
    پیا مدہوش ہونے کیلئے جاتا ہے۔ وہ ہنس کر ٹال گیا تھا۔
    تم سنائو کوئی مسلئہ تو نہیں ہو رہا انکےساتھ رہنے میں۔ گوارا تھوڑی۔ٹیڑھی کھیر ہے ۔۔
    میں اریزہ کے بھی ساتھ رہتی ہوں۔ ہوپ نے جتایا۔
    وہ اسکے لیئے شراب میں سوڈا ملا رہی تھی۔
    اریزہ بہت سادہ سی لڑکی ہے اسکے ساتھ تمہاراآتشیں مزاج
    بھئ پانی ہوجاتا ہوگا۔
    اسکا مشروب بن چکا تھا۔ اس نے اب یہ گلاس اٹھا کر خود بھی اٹھ جانا تھا یہاں سے۔
    پیٹرول بھی دیکھنے میں پانی جیسا ہی ہوتا ہے مگر آگ سے مل کر اسے ٹھنڈا کرنے کی بجائے بھڑکا دیتا ہے۔
    وہ چندی آنکھوں والی لڑکی جانے کیوں زہر خند سی ہوئی تھی۔ ہایون نے چونک کر اسکی شکل دیکھی ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم ویسے یہاں کیسے آگئیں یہ جگہ تمہارے لیئے نہیں ہے۔
    ایڈون نے بات کرتے کرتے ادھر ادھر دیکھ کر ٹوک ہی دیا۔
    اکیلی رہتی پھر اپارٹمنٹ میں ہوپ بھی جاب پر گئ ہوئی تھی گوارا نے یہاں آنا تھا۔ اسی لیئے۔
    اسے صفائی دینے کی ضرورت تو نہ تھی مگر جانے کیوں اسے ان کلبوں وغیرہ میں گھٹن سی محسوس ہوتی تھی۔اس وقت بھی اسے اپنا آپ تیزی موسیقی پر بے ہنگم انداز میں ناچتے لوگوں میں ٹھیک ٹھاک مس فٹ محسوس ہو رہا تھا۔
    آئو باہر چلتے ہیں۔ ایڈون نے کہا تو وہ سر ہلا گئ۔ باہر نکل کر اس نے تازہ فضا میں گہری سانس لی تھی۔ اندر حبس سا تھا باہر کی نسبت یا شائد ماحول کا فرق اسے الجھن میں مبتلا کر رہا تھا اسے باہر آکر سکون سا محسوس ہوا۔
    کھانا کھایا ہے تم نے؟
    وہی اسکا ازلی خیال رکھنے والا انداز۔
    نہیں۔۔ جواب حسب توقع تھا۔ وہ مسکرا دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا نے یونہی ڈانس کرتے ہوئے مڑ کر دیکھا تو ہایون ایک کونے میں اکیلا بیٹھا پی رہا تھا وہ یون بن کو بتاتی بھاگ کر اسکے پاس آئی تھی۔
    تم یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو؟ اریزہ کہاں ہے؟
    اسکی بات پر ہایون پھیکی سی ہنسی ہنس دیا
    ایڈون اور اریزہ باہر چلے گئے ہیں۔
    کیا ؟ وہ چیخ ہی تو پڑی۔
    کیوں جانے دیا اسے؟ تم اب یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو جائو اسکے پیچھے۔
    گوارا کو حیرت ہورہی تھی ہایون نے مزید ایک گھونٹ بھرا۔
    تم مدہوش ہوگئے ہو ؟
    اسکے سنٹ سے انداز پر گوارا کو شک ہوا۔
    ہایون اسے دیکھ کر رہ گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے ایڈون نے جیسے قید تنہائی کی سزا دے ڈالی تھی۔ وہ سارا دن اکیلی کمرے میں پڑی رہتی ۔ایڈون اسکے لیئے باقاعدگی سے کھانا لے آتا تھا۔ مگر وہ یوں تنہارہتے اکیلے پڑے پڑے بے تحاشا ذہنی طور پر تھک سی گئ تھی۔
    ابھی بھی پڑے پڑے اس نے وقت دیکھا تو رات کے نو بج رہے تھے۔ ایڈون اس وقت تک واپس آچکا ہوتا تھا۔ یہی سوچ کر وہ اٹھی۔ بن اور دودھ پڑا ہوا تھا مگر اسکا بالکل کھانے کا دل نہیں کر رہا تھا۔ اس نے دروازہ کھولا تو لابی میں سے خنک ہوا کا جھونکا آیا تھا۔ وہ کچھ بحالی محسوس کر رہی تھی۔ دروازہ احتیاط سے لاک کرکے وہ ایڈون کے کمرے کے پاس آئی۔ کمرہ بند تھا بڑا سا تالہ منہ چڑا رہا تھا۔ وہ بیزار سی ہو کر باہر نکل آئی۔ موسم بدلتا جا رہا تھا۔ اب پہلے سی گرمی نہ تھی ۔ پھر بھی اسکے پسینے چھوٹ رہے تھے۔
    اپنے اندر اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے بھٹی سی جل رہی ہو۔ اسکو بھوک بھی لگ رہی تھی مگر پیسے بھی نہ تھے پاس۔ اس نے موبائل نکال کر ایڈون کو کال ملالی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ ریستوران جانا پہچانا لگ رہا ہے۔
    اریزہ نے گردن گھما گھما کر دیکھا۔
    تمہیں یاد نہیں جب وہ کورین لڑکا ہمیں مارنے دوڑا تھا تب ہم اسی ریستوران میں ہی تو آکر چھپے تھے۔
    ایڈون نے کہا تو اسکے دماغ کی بتی جلی۔
    آہاں۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا تو کچھ فاصلے پر وہ میز تھی جہاں وہ اس دن بیٹھےتھے۔ اس وقت وہاں ایک چندی آنکھوں والا جوڑا بیٹھا تھا۔۔
    یہاں کا مالک مسلمان تھا نا۔ اسے یاد آیا
    ہاں۔ مگر یہاں مینیو میں کھانا سب کورین ہے۔ ایڈون مینیو کھولے بیٹھا تھا۔اسکا فون بار بار تھر تھرا رہا تھا اس نے بیزار ہو کر سائلنٹ کیا اور پلٹ کر رکھ دیا۔ اب اسکرین روشن ہو بھی رہی تھی تو نظر نہیں آرہی تھی۔
    بیف سوپ اسپائیسی چکن فرائئ اور ابلے ہوئے چاول ۔ مکمل کوریائی مینیو۔
    ایڈون نے ہی آرڈر دیا تھا۔ ایک جانب اوپن کچن میں خانساماں کھانا پکاتے دکھائی دے رہے تھے۔
    ہمیں حلال گوشت چاہیئے ہوگا۔
    ایڈون نے تاکید کی تو ویٹر سر ہلاتا چلا گیا۔
    تم نے کیا سوچا ہے آگے پڑھنے کا ؟ ایڈون نے برسبیل تذکرہ پوچھا وہ جواب دینے ہی لگی تھی کہ اچانک زور زور سے کسی کے بولنے کی آواز پر چونک گئ۔ ان سے کچھ فاصلے پر ایک یوٹوبر زور زور سے بولتا ویڈیو بنا رہا تھا۔ شائد فوڈ وی لاگر تھا۔ کھانے پر رواں تبصرہ کرتا وہ ایک ایک میز کے پاس جا کر ان سے رائے طلب کر رہا تھا۔
    کیسا لگا آپکو یہاں کا حلال گوشت؟ وہ پوچھ رہا تھا۔
    ذائقے میں کوئی فرق نہیں حلال گوشت کا ذائقہ بھی عام گوشت جیسا ہی ہوتا ہے۔
    ایک لڑکی بتا رہی تھی
    مجھے تو خالص کورین بیف کا ہی ذائقہ محسوس ہوا۔
    ایک ادھیڑ عمر آدمی انٹرویو دے رہا تھا
    اریزہ دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔
    انکی۔باتیں تو سمجھ نہیں آرہی تھی البتہ انکا انداز بڑا دلچسپ تھا۔پورے جملے میں اسے بس حلال ہی سمجھ آرہا تھا۔ وہ یو ٹیوبر ایک ایک میز کے پاس جا کر ان سے رائے طلب کر رہا تھا۔
    یہ کیا پوچھ رہا ہے؟
    وہ ادھر دیکھتی پوچھ ایڈون سے رہی تھی
    یہ پوچھ رہا ہے حلال گوشت اور عام گوشت میں آپکو ذائقے میں کیا فرق محسوس ہوا؟
    ایڈون نے ترجمہ کردیا۔ تبھی وہ لڑکا مڑا اب اسکا رخ انکی
    جانب تھا۔۔
    بہت فرق ہوتا ہوگا۔ اریزہ کو یقین تھا
    یہ سب کہہ رہے ہیں کوئی فرق نہیں محسوس ہوا۔
    ایڈون ہنسا۔ وہ لڑکا ان سے اگلی میز والوں کا انٹرویو لے رہا تھا۔
    اوہ یہ اب ہمارے پاس آئے گا۔ وہ ایکدم سیدھی ہوئی ۔
    ایڈون دونوں بازو میز پر رکھے اسی کو دیکھ رہا تھا
    آنے دو ہم بھی رائے دے دیں گے کہ حلال گوشت کیسا ہوتا ہے ذائقے میں۔
    ایڈون نہ چونکا نہ گڑبڑایا اطمینان سے بولا۔ اریزہ کی مسکراہٹ سمٹ سی گئ۔ لڑکی اپنے اوپر پڑتی نگاہ پہچان لیتی ہے۔ اسےایڈون کا یوں اس پر نظریں جمانا پسند نہیں آیا تھا۔
    میں ہنگل سیکھ رہا ہوں اس وقت اکیڈمی جاتا ہوں آج چھٹی تھی میری۔ تم بھی سیکھ لو یہاں ہنگل کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔ ایڈون بات بدل گیا تھا۔
    کھانا سرو ہو نےلگا تھا وہ چپ ہی رہی۔ سبزیوں اور گوشت سے بھرا ہوا سوپ ساتھ سادے چاول ۔ اب ان دونوں کا میل ملاپ کیسے کرنا تھا وہ ایڈون کو دیکھنے لگی۔ایڈون سوپ کے پیالے میں چاول ڈال رہا تھا۔اس نے ڈرتے ڈرتے تقلید کی
    سوپ میں چاول ڈال کر کھانا زندگی میں پہلی بار کھانے جا رہی تھی۔ اس نے چمچ بھر کر منہ میں رکھا۔ مختلف مگر خوش ذائقہ تھا سوپ۔ گوشت تھوڑا بساندھ بھرا تھا۔ ہری گوبھی نارنجی گاجر شملہ مرچ ہری پیاز نے گھل مل کر کھانے کا ذائقہ اچھا کر ہی دیا تھا۔
    نوالہ لیکر اس نے جیسے سکھ کی سانس لی۔ اسے پسند آگیا تھا اس نے برملا اظہار کیا
    یہ تو واقعی مزے کا ہے۔
    ایڈون مسکرایا
    تم نہ بھی کہتی تو پتہ چل جاتا تمہارے تاثرات سے۔
    وہ کہہ گیا۔ اریزہ جھینپ گئ۔
    ایک تو جانے کونسے لوگ ہوتے جن کے چہرے کے تاثرات انکے قابو میں ہوتے ہیں ۔مجھ سے تو بالکل تاثرات نہیں چھپائے جاتے اپنے۔ وہ خفا تھی خود سے۔
    خالص ہوتے ہیں وہ لوگ جنکو آپ چہرہ دیکھ کر پڑھ سکیں۔ یہ خوبی ہے تمہاری پاگل
    ایڈون نےٹوکا اسکا انداز اتنا شفقت بھرا تھا جیسے دادا ابا تعریف کر رہے ہوں۔
    جی سمجھ گی داداجان۔ وہ چڑی تھی ایڈون نے کھل کر ہنستے اسکی چڑ پر حظ اٹھایا تھا۔ گلاس وال سے سڑک پر کھڑے ہایون نے ان دونوں کو بہت غور سے دیکھا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایڈون اسکی کال کاٹے گیا تو وہ خود ہی ہمت کرکے اندر آئی اپنے پرس سے کچھ پیسے نکالے اپر پہنا اور قریبی سیون الیون میں چلی آئی۔
    گرمئ میں سوپ نوڈلز کھانا ایک کاردشوار لگا تھا مگر ریمن کے علاوہ وہ اورکیا کھائے پورے کنوینئسن اسٹور میں اسکی مٹھی میں دبے پیسوں کے حساب سے بس ریمن کھانے کی ہی اوقات تھی اسکی۔ اس نے بیزاری سے کپ اٹھایا ریپر اتار کر اس میں ڈسپنسر سے گرم پانی بھرا ساتھ چاپ اسٹکس تھیں چمچ اسے خریدنا پڑتا ۔ سو چاپ اسٹکس اٹھائے ایک کونے والی میز کی جانب بڑھ گئ۔
    کم سن اپنی بھانجی کو گود میں لیئے کنوینیئس اسٹور آیا تھا۔
    اسکوکپ آئیسکریم دلائی۔ بچی فورا کھانے کو مچلی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی بیٹھنے کی جگہ ہو تو اسے بٹھا دے کہ بیزار سی شکل بنائے ایک کونے میں میز کرسی پر بیٹھی سوپ کے اٹھتے دھوئیں پر نگاہ جمایے سنتھئا پر نظر پڑی تو اسکے پاس ہی چلا آیا
    آننیانگ کیسی ہو؟
    وہ اسکے سامنے آن بیٹھا۔ اپنی چھوٹی سی بھانجی کو اس نے سہولت سے میز پر بٹھا دیا تھا۔ بچی نے بلا تاخیر لڈ ہٹا کر آئیس کریم کھانا شروع کردی
    ٹھیک ہوں۔تم کیسے۔ وہ اپنے کسی خیال سے چونکی تھی۔
    سو ذرا سا بیزاری سے ہی جواب دیا تھا۔
    کیا ہوا ہے تمہیں ؟ بیمار ہو؟
    اسکی رنگت اتنی پیلی ہو رہی تھی کہ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا وہ اسکے پوچھنے پر سٹپٹا سی گئ
    نہیں تو۔ کیوں۔
    اسکی گھبراہٹ کو اس نے پوری طرح محسوس کیا تھا۔
    کمزور لگ رہی ہو۔پھر ایڈون سے لڑائی ہوئی ہے؟
    اس نے یونہی پوچھا تھا۔
    نہیں سب ٹھیک ہے۔
    وہ سر ہلا کر کپ نوڈلز پر جھک گئ۔چاپ اسٹکس سے کھولتے ہوئے بھاپ اڑاتے سوپ سے نوڈلز نکال کر کھانے کی کوشش میں اسکے ہونٹ بری طرح جلے تھے۔ وہ ایکدم بلبلا کر سیدھی ہوئی۔ بچی کی اسکی جانب پشت تھی وہ مڑکر اسے غور سے دیکھنے لگی۔ اپنی آئسکریم بھی اسکی جانب بڑھا دی۔ بمشکل سال بھر کی بچی تھی گوری چٹی دو پونیاں بنائے آئسکریم اسکے پورے منہ پر لگی تھی ۔ بہت شوق سے کھا رہی تھی پھر بھی آئسکریم اور چمچ اسکی جانب بڑھا رہی تھی۔
    ہم اسکے ساتھ عموما سوجو پیتے ہیں مگر تم لوگوں کو جانے شراب سے کیا الرجی ہے۔ خیر یہ لو سوڈا۔
    کم سن اٹھ کر کین سوڈا لے آیا تھا لا کر اسکے سامنے رکھا۔ ساتھ ہی پلاسٹک کے کانٹے کا بھی پیکٹ تھا۔ خود اپنے لیئے اس نے سوجو لی تھی۔
    سنتھیا نے فورا کین کھول کر منہ سے لگا لیا تھا۔
    بچی اب کم سن کی جانب آئسکریم بڑھا رہی تھی۔
    کم سن نے ایک چمچ لیکر اس بچی کو چوما تھا۔ سنتھیا کو ایک درد سا اپنے دل میں اٹھتا محسوس ہوا تھا۔
    بچے تو ایسے ہی ہوتے ہیں راہ چلتے ملیں تو پیار آجائے مگرایڈون کے چہرے پر اس ذکر سے کتنی بیزاری اور اکتاہٹ آجاتی ہے۔ کیا صرف اسلیئے کہ وہ اس وقت اس بچے کے لیئے ذہنی طور پر تیار نہیں یا اسے سرے سے میرے اور اس بچے میں دلچسپی نہیں۔۔ نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ اچانک ہوا ہے یہ سب اسلییے وہ ایسے۔۔۔۔۔
    بے خیالی میں کم سن پر نظر جمائے وہ اور ہی سوچوں میں گم تھی۔
    کم سن کی اس پر نظر پڑی تو اسکی غائب دماغی محسوس کر لی۔ کانٹے کا ریپر کھول کر کانٹا اسکی جانب بڑھایا
    یہ لو چاپ اسٹکس سے کھانے میں اور منہ جلالوگی۔
    کم سن کے کہنے پر وہ چونک کے خجل سی ہوئی۔
    شکریہ۔ اس نے کانٹا تھام لیا۔ کانٹے سے چھوٹے چھوٹے لقمے بناتی وہ تیزی سے کھا رہی تھی جیسے بہت بھوک لگی ہو۔ وہ یقینا اس وقت یا تو پریشان تھی یا بھوکی۔ یا دونوں کم سن کا اندازہ تھا۔ خیر دونوں ہی صورتوں میں وہ بالکل اسے منہ لگانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی یہ اندازہ ہوگیا تھا۔
    کرم۔ کہہ کر کم سن اٹھنے لگا۔ بچی کو احتیاط سے گود میں اٹھا کر مڑا جب اسے پیچھے سے سنتھیا کی آواز سنائی دی۔
    یہ بچی کون ہے۔
    اس نے سر اٹھا کر دئکھا تو سامنے جگہ خالی تھی۔ کم سن جانے لگا تھا بتا کر یا بنا بتائے اسے اب احساس ہوا تھا۔ جبکہ وہ جاتے جاتے رک گیا۔
    یہ میرے باپ کی بیوی کی بیٹی کی بیٹی ہے۔
    اسے شرارت سوجھی تھی۔ مسکراہٹ دبا کر اسکی جانب مڑ کر سنجیدگی سے بولا
    سنتھیا واقعی چکرا گئ۔ ذہن میں حساب لگا کر تھوڑا خفگی سے بولی
    تمہاری بھانجی۔ بہن کی بیٹی ہوئی نا۔
    سنتھیا کو اسکے اتنے دور کا رشتہ بتانے پر حیرت ہوئی تھی۔
    کم سن ہنسا۔
    میرے باپ کی بیوی میری ماں نہیں ہے اور بیٹی میرے باپ کی بیٹی نہیں ہے تو یہ میری بہن کی بیٹی تو کہیں سے نہ ہوئی نا۔
    اس نے سمجھایا۔ سنتھیا اسے گھورتی رہی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کھا پی کر اٹھنے ہی لگے تھے جب گوارا کا فون آیا تھا ۔
    کہاں ہو؟ ہم گھر جانے لگے ہیں۔
    وہ چھوٹتے ہی بولی تھی۔
    میں تو پتہ نہیں۔ اس کو سمجھ نہ آیا کیا جگہ بتائے۔
    گوارا لوگ گھر جانے لگے ہیں پوچھ رہی ہے میں کہاں ہوں۔
    کیا بتائوں؟ وہ ایڈون سے پوچھ رہی تھی۔
    گوارا کو بتا دو تمہیں میں گھر چھوڑ دوں گا۔
    ایڈون نیپکن سے منہ پونچھتے اطمینان سے بولا۔
    کہہ تو ایسے رہے ہو جیسے لینڈ کروزر کھڑی ہے باہر تمہاری۔
    اریزہ نے ٹوک دیا۔ واپس لوکل ہی جانا تھا تو بلا وجہ ایڈون کو چکر لگوانے کا فائدہ
    تم نے لینڈ کروزر میں ہی جانا ہے تو ٹھیک ہے ارینج کر لیتے ہیں۔
    وہ کہاں ہاتھ آنے والا تھا۔ اریزہ اسے گھور کر رہ گئ
    گوارا تم جائو میں آجائوں گی گھر۔ اس نے یہی کہہ دیا
    اچھا سنو ہایون وہیں ہوگا اسے کہہ دیتی ہوں تمہیں لے آئے گا۔
    گوارا نے یہی بتانا تھا اسے۔ اسکا جواب سنے بنا کال بند بھی کردی۔
    ارے ۔۔ نہیں۔۔ رہنے دو۔ اریزہ کے کہنے تک کال ختم ہوچکی تھی۔
    چلو چلیں۔ ایڈون اٹھ کھڑا ہوا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکی گلی میں داخل ہونے تک
    کم سن ساری کہانی سناتا آیا تھا۔ وہ اپنے بیزار مزاج کے برعکس اس وقت سب بھول بھال کے دلچسپی سے سنتی آئی تھی۔ بات ختم ہونے پر تاسف سے بولی
    مجھے حیرت نہیں ہوئی۔ ہمارے یہاں بھی سوتیلے بھائیوں کے ایسے ہی خوفناک قصے مشہور ہیں۔جانے لوگ جائداد کے پیچھے اتنے تنگ دل کیوں ہو جاتے ہیں۔
    انسان بنیادی طور پر خود غرض ہوتا ہے۔ شراکت بٹوارا اسکے پسند ہی نہیں بس لوگوں کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں کچھ کے نزدیک زمین جائداد اتنی اہم ہے تو کسی کے نزدیک لوگ ۔
    کم سن رسان سے بولا ۔ اسکی بھانجی اسکے کندھے سے لگی اونگھ رہی تھی وہ قدم اٹھاتے اسے دھیرے دھیرے تھپک رہا تھا۔
    اسکا پہلا تاثر اسے یاد تھا بے نیاز خود میں مگن لاپروا دکھائی دینے والے کم سن کا یہ بھی رخ تھا۔ سچ ہے انسان کے بارے میں درست اندازہ لگانا آسان نہیں۔
    گلی کی اسٹریٹ لائیٹ اتنی کم تھی کہ عجیب پر اسرار سی لگ رہی تھی۔ جاتے وقت تو اسے احساس نہ ہوا مگر اس وقت یہ اندھیرا نظر انداز کرنے والا نہ تھا۔اس نے سوچ کے جھرجھری سی لی۔ اگر کم سن نہ ہوتا تو وہ اکیلی آرہی ہوتی یہاں۔۔
    تمہاری سوتیلی والدہ کا گھر یہاں سے قریب ہے۔
    اس کا گوشی وون آگیا تھا۔ کم سن کا گھر نہیں آیاتھا جبکہ وہ ساتھ یہی کہہ کر آیا تھا کہ اسکا گھر قریب ہے۔
    یہاں سے تو نہیں کنوینئس اسٹور سے قریب تھا۔
    وہ سادگی سے بولا۔
    ہیں تو پھر تم یہاں اس راستے کیوں آگئے؟
    وہ حیران ہو کر بولی۔
    تمہیں چھوڑنے آیا ہوں ۔ کم سن کا جواب مختصر تھا۔ اسکی بھانجی سو چکی تھی۔
    اب تم واپس جائو گے۔ ؟ اسکا انداز جرح کرنے والا تھا
    یہاں سے بھی راستہ ہے آگے سے دوگلیوں بعد تھوڑا لمبا روٹ ہے ۔ کرم
    وہ بچی کی وجہ سے ذرا سا سر جھک کر الوداعیہ کہتا جانے لگا۔
    شکریہ۔ اس نے زور سے کہا۔
    کم سن کے لیئے یہ غیر متوقع تھا سو پلٹ کر حیرت سے دیکھا ۔ وہ مسکرادی۔
    اس نیم تاریک گلی میں اکیلے آنا واقعی مشکل ہوتا میرے لیئے۔ شکریہ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایڈون اسے ٹیکسی میں خود چھوڑنے آیا تھا۔اسکی زحمت پر دل ہی دل میں ممنون ہوئی تھی۔ ٹیکسی کا کرایہ دینے کی کوشش بھی ایڈون نے ناکام کردی۔
    ابھی مجھے بھی واپس جانا ہے اسی ٹیکسی میں۔ ایڈون کا بہانہ بوگس لہجہ اٹل تھا۔ وہ سر ہلاتی گاڑی سے اتر آئی۔ ٹیکسی آگے بڑھ گئ تو پیشانی مسلتی وہ کمپائونڈ کی جانب بڑھی۔
    ہایون کی گاڑی ٹیکسی گزرنے کے بعد وہاں چند لمحے رکی تھی۔ تیز تیز قدم اٹھاتئ اریزہ اندر چلی گئ تو اس نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ بس اسٹاپ سے پیدل آتی تھکے تھکے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوپ کے پاس سے گزرا تھا ہایون اور اسے دیکھا تک نہ تھا۔
    اسکے قدم مزید سست ہوتے گئے۔
    اریزہ پر اسے جی بھر کر رشک آیا تھا۔۔
    کچھ ذیادہ ہی غیر اہم ہوں میں ۔۔ اس نے یاسیت سے سوچا۔
    سست روی سے چلتی جب وہ اوپر پہنچی تب تک اریزہ کپڑے بدل کر کچن میں کھٹر پٹر کر رہی تھی گوارا بھی کچن کائونٹر کے پاس بیٹھی اسے کوئی قصہ سنا رہی تھی ۔ اسے دیکھ کر اریزہ نے خیر سگالی مسکراہٹ دیتے ہوئے پوچھا تھا۔
    کافی پیوگی؟
    نہیں ۔ یہ سونے کا وقت ہے اور تم دونوں بھی پی کر میرے سر پر بک بک کرنے کی بجائے اس وقت کمرے میں آنا جب خاموشی سے سونے کا ارادہ ہو۔
    بے مروتی تو ختم تھی اس وقت تو بدلحاظی بھی عروج پر تھی۔ انہیں باتیں سناتی وہ انکا جواب سننے رکی نہ تھی۔دھاڑ سے دروازہ کھولتی کمرے کے اندر
    اسکو اٹھا کر ٹیرس سے لٹکادوں؟
    گوارا نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔
    تم لٹکانا میں اسکا ہاتھ تھام لوں گی۔ تو تم چھوڑ دینا اسے
    اریزہ نے بھی اتنی ہی سنجیدگی سے اسکی شکل دیکھی۔
    کیوں؟ گوارا حیران ہوئی۔
    کیونکہ پھر اسکا سارا وزن میرے ہاتھ میں ہوگا اور ایک جھٹکے سے میں اپنا ہاتھ چھڑا لوں گی۔
    وہ دانت کچکچا کر بولی گوارا قہقہہ لگا کر ہنسی
    سچی۔ یار پہلے تو اسکے ساتھ ہمدردی ہوئی تھی تھوڑی مجھے مگر یہ بد لحاظ بدتمیز لڑکی کسی اچھے جزبے کے قابل ہی نہیں ہے۔
    اس نے دانت کچکچائے۔ کمرے کا کھلا دروازہ دھاڑ سے بند ہوا تھا۔
    اسکی لن ترانی شاید نہیں یقینا اسکے کانوں تک پہنچ چکی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا اور وہ اسے مزید تنگ کرنے کی بجائے کافی پینے ٹیرس میں چلی آئی تھیں۔ خنک سی ہوا گرم گرم کافی سیول کی جگ مگ روشنی۔ طبیعت پر اچھا اثرڈال رہی تھیں۔
    یار سیول میری جان ہے۔ یہاں کی بات الگ ہی ہے۔
    گوارا نے ریلنگ پر کہنیاں ٹکا کر اس ہوا کو گہری سانس لیکر خود میں سمویا پھر کافی کا گھونٹ بھرنے لگی۔ کم و بیش اسی پوز میں کافی کا مگ تھامے اریزہ نے اسکو یاددلانا ضروری سمجھا
    یہی بات آخری بار اپنے گائوں کے بارے میں کہی تھی تم نے۔
    ہاں تو کیا ہوا۔ گوارا ڈھٹائی سے ہنسی۔۔
    میری جان سیول بھی ہے اور میرا گائوں بھی۔ سچی اریزہ اب جب میں گائوں جائوں نا تم بھی چلنا میرے ساتھ ۔بہت خوبصورت جگہ ہے قسم سے۔۔ اپنا باغ دکھائوں گی۔ ہے تو ویسے ٹھیکےکا مگر ہم اپنے باپ کا ہی سمجھتے ہیں ۔ رضاکارانہ طور پر ایک دن کام کرتے ہیں اور دل بھر کر تازہ پھل توڑ کر کھاتے ہیں۔ نارنگیوں کی کاشت ہوتی ہے وہاں۔ سچی گائوں کی زندگی کا مزا ہی الگ ہے
    گوارا خیالی طور پر اپنے گائوں میں پہنچ چکی تھی۔ چمکتی آنکھیں دبا دبا جوش۔
    ضرور چلوں گئ ۔میں نے آج تک گائوں نہیں دیکھا۔
    اس نے تو یونہی بات کی تھی مگر گوارا حیران رہ گئ
    کیوں پاکستان میں گائوں نہیں؟
    ہیں۔ پاکستانی کی ستر فیصد آبادی گائوں کی رہائشی ہے۔ مگر ہمارے کوئی عزیز وغیرہ بھی گائوں کے رہنے والے نہیں۔ سب شہروں میں بسے ہیں۔
    اس نے وضاحت کی ۔ گوارا سر ہلا کر رہ گئ جغرافیہ میں اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔
    اریزہ نے اسے غور سے دیکھا۔
    گائوں کی گوری کی اصطلاح پر ہرگز بھی گوارا نہیں اترتی تھی۔ کسی طور وہ سیول کی رہائشی شہری لڑکی سے کم نہ تھی۔اسے اپنے گائوں سے تعلق پر کوئی احساس کمتری نہ تھا۔۔ فخر اسکے لہجے سے چھلکتا تھا اپنے گائوں کا حوالہ دینا اسکے لیئے قابل فخر تھا ایک ہم لوگ ہیں ۔ کسی کا گائوں سے تعلق ہے اسے پینڈو کہتے اسکے لہجے کا تمسخر اڑاتے۔اسے افسوس ہوا ۔ ہم لوگ خاصی اخلاقی برائی کا شکار ہیں۔
    اچھا ہاں یاد آیا۔ وہ کافی پیتے پیتے یاد آنے پر چونکی۔۔
    وہ کارڈ گنگشن نونا کی منگنی کا تھا۔ ہوپ کو تو براہ راست انہوں نے کارڈ دیا ہایون نے میرے اور تمہارے لیئے دعوت نامہ دیا ۔ مجھے تو خیر جھونگے میں دیا۔ وہ بلاتا بھی نہ تو میں نے جانا تھا۔ وہ ہنسی۔
    میں نے کہا بھی میں تمہیں بتا کر لے آئوں گی منگنی میں
    خیر تمہارے لیئے بطور خاص کارڈ دیا اس نے اسے لگا تھا کارڈ نہ دیا تو تم جائوگئ نہیں۔ سو باقائدہ دعوت ہے آپکو آنسہ اریزہ ۔۔
    وہ شرارت سے بول رہی تھی اریزہ کھسیا گئ۔ اسکا اندازہ درست تھا۔ چاہے وہ نونا کی منگنی کا ہی کارڈ کیوں نہ ہوتا وہ نہ جاتی یوں منہ اٹھا کے بنا دعوت۔۔
    کب ہے؟ اریزہ نے پوچھا تو وہ سوچ میں پڑی
    تاریخ تو نہیں پتہ مگراسی ہفتے ہے۔ شائد آخرمیں۔
    پتہ ہے مجھے دل سے خوشی ہوئی ہے انکی شادی کا سن کے۔ انکے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔
    کیا ہوا ہے انکے ساتھ؟ اریزہ کو حیرت ہوئئ
    وہ تو خاصی خوش باش نظر آتی ہیں۔
    ہاں ہیں تو وہ بہت مثبت شخصیت کی مالک۔ گوارا نے سر ہلایا۔
    انہوں نے اپنے ساتھ بیتے ماضی کو سر پر سوار نہیں کر رکھا۔
    دراصل یہ گنگشن نونا کی دوسری شادی ہو رہی ہے۔ انکی پہلی شادی جب ہم ہائی اسکول میں تھے تب ہوئی تھی۔
    گوارا بتا رہی تھئ۔۔ اریزہ حیرت سے سن رہی تھی۔ ایسے بھی ہوتا ہے دنیا میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دو گھنٹے قبل۔۔۔

    ایڈون ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔ وہ بیزار سی ہوکر واپس اپنے کمرے میں چلی آئی۔ وقت گزاری کیلئے موبائل آن کر لیا۔ نیٹ فلیکس اچھے وقتوں میں سبسکرائب کیا ہوا تھا
    بیزاری سے اس پر ڈرامہ یا فلم ڈھونڈتی رہی مگر کسی میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے یونہی یو ٹیوب کھول لیا۔ موبائل پر لوکیشن آن تھی۔ سو سارے کوریائی مواد ہی نیوز فیڈ میں آرہے تھے۔
    ایک تو یو ٹیوب کا ملک کیوں بدل گیا۔ ؟ پھر اپڈیٹ آئی ہوگی مصیبت۔
    اس نے جھلا کرویڈیوز اوپر نیچے کیں لائیو ٹرینڈنگ پر ایک ویڈیو چل رہی تھی۔ جو اسکا انگوٹھا لگنے سے چل پڑی۔
    وہ کوئی کورین یوٹیوبر تھا جو ایک ریستوران میں لوگوں سے کھانے پر رائے لے رہا تھا۔ ایک چندی آنکھوں والے کا انٹرویو لیکر وہ مڑا
    یہاں بیٹھا ہے ایک غیر ملکی جوڑا جو مزے لیکر کورین آکس بلڈ سوپ کھا رہا ہے ۔۔

    آئیے ان سے پوچھتے ہیں انکو حلال کھانا کیسا لگا ؟
    مگر پہلے ہم ان سے اجازت لے لیں۔
    کیمرے کا رخ زمین کی جانب تھا ۔
    ہم لائیو جا رہے ہیں موکجا چینل کی۔جانب سے کیا آپ ہماری اس براہ راست ویڈیو کا حصہ بنیں گے؟
    وہ بڑی تمیز سے انگریزی میں پوچھ رہا تھا۔
    اوکے سیمز فائن ٹو می۔
    مانوس آواز ویڈیو پر کانٹے کا بٹن دبا کر بند کرتے کرتے وہ رکی تھی۔ کیمرے کا رخ اب اس غیر ملکی جوڑے کی جانب کر دیا گیا تھا۔
    وہ بے یقینئ سے دیکھتی اٹھ بیٹھئ۔
    دونوں چہرے مانوس تھے۔ اور اکٹھے بھی تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے

    Kesi lagi Apko aaj ki Salam Korea ki qist? Rate us below

    Rating

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
    کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
    آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
    دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
    پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

  • Salam Korea Episode 24

    Salam Korea
    by vaiza zaidi

    seoul korea based urdu web travel novel featuring seoul korea salam korea episode 24 by vaiza zaidi
    Salam Korea Episode 24


    قسط 24
    اسکا فون بجے جا رہا تھا کافی دیر سے۔ گوارا باورچی خانے میں کھڑی کافی بنا رہی تھی جب مسلسل بجتی گھنٹی سے تنگ آکر کمرے میں آئئ۔۔ اریزہ بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھے تھی۔ نگاہیں اپنے سامنے اہتمام سے رکھے فون پر ہی تھیں۔جو بجے جا رہا تھا بجے جا رہا تھا۔
    شاباش اعلی۔ سامنے فون رکھا ہے بج رہا ہے تم بیٹھی دیکھ رہی ہو۔ اٹھائو نا
    وہ جھلائی
    بجنے دو۔ نہیں اٹھانا۔
    وہ منہ پھلا کر بولی۔
    گوارا نے ایک نظر دیکھا اور آگے بڑھ کر اٹھا لیا۔اریزہ ایکدم الرٹ ہوئئ
    خبردار مت اٹھانا۔۔
    اس نے انگلی اٹھا کر دھمکی دینے والے انداز میں کہا۔
    گوارا نے اسے گھور کر دیکھا۔
    فون میں ایک سہولت یہ ہوتی ہے کہ فون کی بیل بند کردی جائے تاکہ فالتو شور نہ ہو دوسری سہولت ناپسندیدہ کال کو نظر انداز کرنے کیلئے اسے بلاک کرنے کی بھی۔
    اس نے اسکا فون سائلنٹ کرکے نگاہوں کے سامنے لہرایا۔
    جانتی ہوں۔ اس نے سر جھکالیا
    مگر بلاک نہیں کر سکتی۔ بھائی ہے اور اٹھا نا بھی نہیں چاہتی کیونکہ اس خبیث بھائی نے رج کے زلیل کیا ہے مجھے۔
    اسے شدید غصہ آیا ہوا تھا۔
    گوارا ہنس پڑی۔
    اچھا چلو آئو ہم مل کر ٹیرس میں گپیں مارتے ہوئے کافی پئیں۔۔۔
    اس کے بہلانے والے انداز پر وہ منہ پھلاتی اٹھ گئ۔تبھی موبائل پھر بج اٹھا تھا۔ اس نے سرسری سی نگاہ ڈالی اس بار پاپا کی کال تھی سو لپک کر فون اٹھا لیا۔
    اب کیوں اٹھا لیا فون ؟ گوارا نے آنکھیں پھاڑیں۔
    پاپا ہیں۔
    اس نے بتا کر فورا فون اٹھا لیا۔
    اسلام و علیکم پاپا کیسے ہیں؟
    اس کے جوش و خروش سے ظاہر تھا وہ کتنا یاد کر رہی تھی باپ کو۔ گوارا کے ساتھ کمرے سے نکل کر اسکا ارادہ لائونج میں بیٹھنے کا تھا وہیں مڑی مگر وہاں صوفے پر ہوپ دراز کوئی ڈرامہ دیکھ رہی تھی سو پھر یو ٹرن لیتی ٹیرس میں آگئ۔
    صارم جلا بھنا بول رہا تھا۔
    پتہ تھا تمہارے ہاتھ میں فون ہوگا پھر بھی نہیں اٹھا رہی تھیں۔
    حد ہوتی ہے اریزہ اتنا کمینہ پن۔۔۔
    اس سے بھی ذیادہ۔ تمہارا فون نہیں اٹھا رہی تھی تو سمجھ نہیں آئی کہ تمہاری منحوس آواز بھی سننا نہیں چاہ رہی ڈھیٹ بن کے پاپا کے نمبر سے بھی فون ملا لیا۔
    اسکی بات کاٹ کر وہ بنا لحاظ بولتی چلی گئ۔
    تم ہوگئ منحوس لڑکی ایک تو سب تمہاری فکر میں پاگل ہو رہے تمہارے مزاج ہی۔۔
    جوابا وہ بھنایا مگر پاپا نے اسکے ہاتھ سے فون لے لیا۔
    اچھا بس میری بیٹئ کو کچھ نہ کہوجائو تم اپنی خالہ سے کہو چائے بنا کر بھیجیں میرے لیئے۔
    اس کو پہلی فرصت میں چلتا کیا وہ انہیں شاکی نظروں سے دیکھتا پیر پٹختا چلا گیا۔
    باپ کی حمایت اسے ڈھیر ساری خوشی دے گئ تھئ اتنی بڑی مسکراہٹ اسکے چہرے پر آگئ تھی۔
    کیسی ہو بیٹا۔۔ اطمینان سے اپنی اسٹڈی روم کی میز پر آک ربیٹھتے وہ فکرمندی سے پوچھ رہے تھے۔
    میں ٹھیک ہوں پاپا۔۔ مس یو سو مچ۔
    وہ اب ٹیرس میں ٹہل ٹہل کر وہ فون پر بات کررہی تھی۔ ہوا میں اچھی خاصی خنکی محسوس ہونے لگی تھئ۔
    مس یو ٹو بیٹا۔ آجائو بیٹا واپس اگلے سمسٹر میں پھر آجانا۔۔
    پاپا سے اس نے کچھ نہیں چھپایا تھا۔۔
    واپس آنا مشکل ہو جائے گا پاپا۔ کیونکہ آئی مس یو ٹو۔۔
    اسکی آواز بھرا گئ۔۔
    تو کوئی بات نہیں یہیں پڑھ لینا بیٹا میں تمہاری ماں کو سمجھادوں گا جب تک میری بیٹی کی تعلیم مکمل نہیں ہوگی اسکی شادی وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ہوگا ۔۔
    وہ اسے منا رہے تھے مان بھی جاتی اگر اسے ایک فیصد بھی اپنی ماں پر بھروسہ ہوتا
    وہ بہت ضدی ہیں آپ انہیں کتنا روکیں گے۔۔۔ پتہ ہے پاپا یہاں میں نے جاب شروع کر دی ہے خود بس سے آتی ہوں جاتی ہوں۔ شاپنگ بھی کر لیتی ہوں اور اب مجھے راتوں کو ڈرائونے خواب بھی نہیں آتے۔ یہاں گھومتے پھرتے یہ ڈربھی نہیں لگتا کہ کہیں کوئی دھماکا ہوجائے گا۔
    بیٹا جاب کی کیا ضرورت پڑ گئ۔ میں اور پیسے بھجوا دیتا ہوں ۔ وہ تڑپ ہی اٹھے۔۔
    پاپا بات ضرورت کی نہیں ہے مجھے چوزہ بن کے زندگی نہیں گزارنی وہاں اکیلے گاڑی میں بھی نکلنے نہیں دیتی تھیں امی میں یہاں سکون سے ہوں پاپا۔ میرا بس چلے تو یہیں رہ جائوں کبھی واپس نہ آئوں۔۔
    اسکے انداز میں جو بے چینی اور بےزاری تھی یقینا انکے غلط رویوں نے ہی پیدا کی تھی وہ اس وقت اسے جتنا بھی بلا لیں وہ آ بھی جائے تو بھئ یقینا دل سے ان سے خفا ہی رہے گی اور وہ اس سے اتنے شرمندہ تھے کہ اسکے دل سے ہلکا سا بھی ملال مٹ جانے تک اسکو چھیڑنا نہیں چاہتے تھے۔۔
    ملنے تو آیا کروگی نا مجھ سے؟ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تواسے بھی احساس ہوا کیا فضول بکے جا رہی ہوں۔
    میں آجاتی ہوں پاپا اگلے سمسٹر کیلئے اپلائی کردوں گی ۔۔
    وہ فورا شرمندہ ہوئی
    اسکے فورا پیترا بدلنے پر وہ ہنس دیئے۔
    اچھا بس اتنئ فرمانبرداری کی ضرورت نہیں۔ یہ بتائو ہاسٹل کب چھوڑنا ہے؟ مائکل کا فون آیا تھا مجھے بتا رہا تھا رہائش الگ کرنی پڑے گی کہہ رہا تھا اریزہ اور سنتھیا اکٹھے رہیں تو اطمینان رہے گا ایڈون کوئی گھر یا اپارٹمنٹ کا انتظام کرے گا تو دونوں بہنیں مل کر رہیں۔ تم دونوں ایک ہی جگہ انتظام کرنا تاکہ مجھے بھی اطمینان رہے اور پیسوں کی فکر مت کرنا جتنے چاہیئے ہوں بتا دینا۔ میں بھجوا دوں گا۔ ٹھیک ہے۔۔ ۔۔۔۔ بولتے بولتے انہیں طویل خاموشی کا احساس ہوا
    ہیلو اریزہ۔۔ وہ سمجھے کال۔کٹ گئ ہے
    جی بابا۔۔ وہ چونکی۔
    کیا ہوا بیٹا چپ کیوں ہو گئیں؟ سب ٹھیک ہے نا؟ کوئی مسلئہ تو نہیں۔ وہ حسب عادت پریشان ہو گئے۔
    نہیں ۔ ٹھیک ہے میں ویسے انتظام کر چکی ہوں۔ میری ایک کورین دوست ہے اسکا اپارٹمنٹ ہے۔ کرایہ بھی مناسب ہے۔ سنتھیا کا مسلئہ نہیں ایڈون ہے اسکے ساتھ۔
    اس نے لمحہ بھر ہی سوچا۔ جتنے مائکل انکل اور بابا کے تعلقات تھے کچھ بعید نہیں تھا وہ سر ہوجاتے جبکہ اب اسے سنتھیا کے ساتھ اپارٹمنٹ شئیر کرنا ناممکن لگ رہا تھا۔
    بیٹا تو سنتھیا کو اپنے ساتھ ایڈجسٹ کر لو نا۔ مائکل کافی فکر مند تھا۔اسے سنتھیا کی فکر ہو رہی تھی۔ لا ابالی سی ہے اریزہ سمجھدار ہے اسکے ساتھ رہے گی تومجھے اطمینان رہے گا میں نے کہا میری یہی رائے اریزہ کے بارے میں ہے سنتھیا سمجھدار بچی ہے اریزہ کے ساتھ رہے گی تو مجھے اطمینان رہے گا۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں ہنس کر بتا رہے اریزہ کا منہ اتر گیا۔
    بابا آپ نے انکو ایسے ہی کہہ دیا۔۔
    اسے برا لگا تھا کم از کم اسکے بارے میں ایسا کسی اور کے سامنے نہیں کہنا چاہیئے تھا۔
    بالکل نہیں۔ وہ مسکرا دیئے۔مزاق کر رہا تھا بیٹا۔
    اسکو کیوں کہتا جبکہ مجھے پتہ ہے میری بیٹی بہت سمجھدار اور ذمہ دار ہے۔ اس پربھروسہ ہے مجھے جبھی تو اتنی دور بھیج دیا ۔ انکے لہجے میں فخر بول رہا تھا۔
    واقعی پاپا آپ ایسا سمجھتے ہیں۔۔ وہ سنجیدہ سی ہوگئی۔۔
    بالکل۔ سو فیصد۔ انکے انداز میں تیقن تھا۔
    میری بیٹی ایک ذہین سمجھدار مضبوط شخصیت کی مالک لڑکی ہے۔ مجھے اس پر فخر ہے۔۔۔
    انکا مضبوط لہجہ تھا۔ جانے وہ اس کو جتا رہے تھے یا سچ مچ ایسا سمجھتے تھے۔ وہ اندازہ نہ لگا پائی۔
    اچھا خیر سنتھیا کو اپنے ساتھ رکھنا مائکل نے بہت تاکید کی ہے مجھے۔
    انہیں خیال آیا تو پھر تاکید کر ڈالی۔
    بابا سنتھیا شائد میرے ساتھ رہنے پر نہ مانے۔ وہ اب کافی بدل گئ ہے پھر اسکا خیال رکھنے کو ایڈون ہے نا۔ وہ اسکو کسی اچھی جگہ۔۔
    اس سے مزید جھوٹ نہ بولا گیا۔ جوابا بابا چپ ہوگئے تھے۔ پھر چند لمحے توقف سے بولے۔
    بیٹا ایڈون اسکا خیال رکھتا ہوگا مگر مائکل نے مجھے خاص تاکید کی ہے۔ وہ اسکا منگیتر ہے خاندان کا لڑکا سہی مگر رشتوں کی نزاکتیں ہوتی ہیں۔۔ اب اس نے مجھے خاص تاکید کی ہے کہ تم سنتھیا کے ساتھ رہو تو کوئی وجہ ہوگی نا۔
    انکی بات پر اسکے ذہن میں پچھلے کئی مہینے کے واقعات گھوم سے گئے۔۔
    تمہاری سہیلی ہے تم بچپن سے واقف ہو اس سے اسکے ساتھ رہنا آسان ہوگا تمہارے لیئے بھی۔ اپنی اس کورین سہیلی سے کہو نا اسکی بھی جگہ بنا لے اپنے گھر میں۔ پیسے کی فکر نہ کرنا بس بیٹا۔۔۔۔
    ٹھیک ہے بابا۔ کہتی ہوں اسے۔
    وہ مزید کیا بحث کرتی۔
    اچھا جاب کہاں کی ہے؟ کیا کام ہے؟
    انہیں خیال آیا۔۔ وہ سٹپٹا سی گئ۔
    بس وہ۔۔ یہ۔ بابا وہ چھوٹی سی جاب ہے۔ ری۔۔ ریسسیپشن پر کھڑا ہونا ہے ایک چھوٹی سی کمپنی ہے۔
    کچھ نہ کچھ سوجھ گیا۔
    اچھا ۔۔ انکو پسند تو نہ آیا مگر قصدا ناگواری کا اظہار نہ کیا
    چلو جب تک فارغ ہو کر لو پھر جیسے ہی پڑھائی شروع ہو چھوڑ دینا۔ ٹھیک ہے خود کو ہلکان کرنے کی ضرورت نہیں۔
    انہیں اب اسکی فکر ہو رہی تھئ۔
    ٹھیک ہے۔ بابا ۔۔ وہ مسکرا دی۔
    اچھا چلو اپنا خیال رکھنا اور صارم سے خفا نہ ہوا کرو تم فون نہیں اٹھا رہی تھیں اتنا پریشان ہوا وا تھا۔ پیار کرتا ہے بھائی بس ایسے ہی چھیڑا کرتے ہیں انکی باتوں کو دل پر نہیں لگاتے۔
    انہوں نے لگے ہاتھوں ہلکی پھلکی کلاس بھی لے لی
    ٹھیک ہے بابا۔ اپنا خیال رکھیئے گا ۔۔ اس نے بھی بحث نہ کی۔
    جی خدا حافظ۔۔۔
    فون بند کرکے دانت کچکچا کر ٹہلنے لگی۔
    کمینہ بابا نے ذکر تک نہیں کیا پلاٹ کا اس کو ذیادہ درد اٹھ رہے تھے۔ مجھے ایویں گلٹی کرا دیا۔ اب تو جھوٹ بھی بول دیا کہ۔جاب کر رہی ہوں۔ اب تو پیسے منگوانے سے بھی گئ۔
    یہاں تو موسم۔۔ اس نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا۔
    بادل چھا رہے تھے۔ خنک سی چبھنے والی ہوا۔
    یہاں تو گرمیاں بھئ سردیوں سے کم نہیں۔ ایک میں گدھی تھوڑا سا جغرافیہ ہی پڑھ آتی کیسا موسم ہوتا کوریا کا دو چار موٹے جوڑے لے آتئ سردیوں کے نہ سہی لان کی بجائے کاٹن کے ہی لے آتی۔
    موبائل ہاتھ میں گھماتئ سست روی سے چکر کاٹ کے مڑی تو گوارا کافی کے مگ تھامے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
    تم بول بول کے سوچتی ہو ؟
    نہیں۔۔ وہ کھسیائئ۔ بس اپنی اردو کوہوا لگا رہی تھی مجھے لگ رہا انگریزی بول بول کے میرا منہ جمتا جا رہا ہے۔۔
    اس نے باقائدہ اپنے گال تھپتھپا کر کہا تھا۔
    تو کورین سیکھو نا۔
    گوارا کا مشورہ وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
    پھر مستقل خراش رہنے لگے گی گلے میں۔ دو تین تو سر نکلتے ہیں سیدھے گلے کے۔ ورنہ مفہوم ہی بدل جاتا ایک ہی لفظ کا۔ قدر کرو پاکستانیو اردو کیسی آرامدہ زبان ہے نہ گلے کی آوازیں الگ الگ نکالنے کی ضرورت نا منہ ٹیڑھا کرنے کی ۔۔
    گوارا نےاس کی خاموشی سے اکتا کر خود ہی کوئی نئی بات شروع کردی۔ ہاں ا س بار یہ سب گفتگو اس نے ذہن میں ہی سوچئ بولنے کی غلطی نہ کی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ بے خبر سو رہا تھا جب مسلسل بجتی گھنٹی کی آواز پر اسکی آنکھ کھلی۔ چند لمحے تو سمجھ بھی نہ آیا کہ کہاں ہے۔ پھر سستی سے سائیڈ ٹیبل کا لیمپ جلاتا اٹھا۔ شام کے آٹھ بج رہے تھے۔ وہ تقریبا چار گھنٹے سے سو رہا تھا۔ مکمل پرسکون نیند نے اچھا خاصا طبیعت کو بشاش کر دیا تھا۔ اپنے بازو کھینچتا وہ باہر آیا اپنے لائونج کی بتی جلائی بالوں میں ہاتھ پھیرتا لابی میں آیا دروازہ کھولا جی مکدر ہوگیا۔
    کم من جون اسکا چچا ذاد بھائی کھڑا مسکرا رہا تھا۔
    آنیانگ۔ اسکے چہرے کے تنے تاثرات سے حظ اٹھاتا وہ اسکی دعوت کا انتظار کیئے بنا بےتکلفی سے اندر چلا آیا۔۔
    اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر دروازہ بند کیا۔ لابی میں رکھے شو ریک سے جوتے بدلتا وہ سیدھا اندر چھوٹے سے لائونج میں چلا آیا تھا۔ تھری پیس سوٹ میں وہ نک سک سے تیار ہو کر یقینا اسکے گھر کا جائزہ لینے نہیں آیا تھا مگر اس وقت طائرانہ نگاہ اسکے پورے گھر پر ڈال رہا تھا
    یہ تو شروع ہوتے ہی ختم ہوگیا۔
    لائونج کے بیچ کھڑا وہ استہزائیہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
    بس یہ لائونج اور ایک کمرہ ۔۔۔ تم رہ لیتے ہو اتنی سی جگہ میں؟
    اسکی حیرت حد سے سوا تھی۔ وہ سامنے کھلے دروازے سے اسے بیڈ روم میں جھانک رہا تھا۔
    ایک ادھربھئ ہے کمرہ۔
    دروازے ساتھ ساتھ ہی تھے جانے تجاہل عارفانہ تھا یا اسے ستانا مقصود۔ وہ بتا کر اوپن کچن میں چلا آیا۔ گھر میں دشمن بھی چلا آئے تو مہمان نوازی فرض ہے۔ وہ فریج سے اورنج جوس نکالنے لگا۔
    ہوں۔ اس نے ہنکارا بھرا۔ دوسرےکمرے کا دروازہ ذرا سا کھول کے جھانکا۔
    خالی ہے یہ تو۔ اسے حیرانگئ ہوئی۔
    علی خاموشی سے کائونٹر ٹیبل پر گلاس میں جوس بھر کر رکھنے لگا۔ وہ اپنا تفتیشی دورہ مکمل کرکے ادھر ہی چلا آیا۔
    بس ایک ہی کمرے میں سامان ہے تمہارے ۔ اور یہ ٹی وی بھی چھوٹا سا ہے۔۔
    من جون کرسی کھینچ کر بیٹھتے بھرپور حیرت کا اظہار کر رہا تھا۔
    ہاں بس اتنے ہی پیسے تھے میرے پاس آہستہ آہستہ دوسرے کمرے کا سامان بھی ڈال دوں گا۔
    علی کے انداز میں بے نیازی تھی۔ اسکے چہرے پر اتنا اطمینان تھا کہ من جون دیکھ کر رہ گیا۔
    تم اپنے کمرے کا سامان لا سکتے ہویہاں۔ تمہارا کمرہ ابھی بھی استعمال نہیں ہوتا لاکڈ ہے۔ تمہاری چیزیں ہیں لے آئو۔
    اسے حقیقتا افسوس ہوا تھا۔ اتنے چھوٹے تو انکے سرونٹ کوارٹرز بھی نہ تھے۔
    چیزیں ہی توہیں۔ ماں کو لا نا سکا اس گھر سے چیزیں کیا کرنی ہیں۔
    علی نے ذرا سا ہنس کر کہا تھا۔ وہ بخوبی طنز سمجھ گیا تھا۔
    میں نے آہبوجی سے کہا تھا کہ تمہاری امی کی میت تمہارے حوالے کردیں۔ مگر وہ مانے نہیں۔ انہیں اپنی ساکھ بہت عزیز ہے۔
    اسکا انداز صفائی دینے والا تھا۔
    اب تو ویسے بھی یادگار گھر میں رکھی ہیں باقیات انکی۔ تم چاہو تو وہاں سے انکی باقیات لیکر دفنا دو جہاں دل چاہے۔ تمہارا قبر بنانے کا خواب بھئ۔۔۔۔۔

    پلیز۔ انکے جلنے کا ذکر مت کرو۔۔ علی نے جیسے اذیت سے آنکھیں میچ لیں اسکی کنپٹی کی رگیں ابھر آئی تھیں۔ وہ سمجھ نہیں سکتا تھا اسکا کرب۔
    اسکے ایکدم ٹوکنے پر خاموش ہوتو گیا مگر دزدیدہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔ علی نے مالٹے کے رس کا گلاس اسکی جانب بڑھا دیا۔ اس نے حیرت سے دیکھا تھا۔ سوجو ، کولڈ ڈرنک یا ہلکی پھلکی کوئی دوسری شراب کی جگہ جوس۔۔۔ وہ بلا ارادہ سوال کر گیا
    تمہارا بالکل ارادہ نہیں ہے واپس اپنے مذہب پر آنے کا؟
    اسکے پوچھنے پر علی نے جواب نہ دیا۔ دوسرا گلاس اٹھا کر اپنے لیئے بھی پیکٹ سے جوس نکالنے لگا۔۔
    کیسے آنا ہوا۔
    وہ اب تھوڑا بے مروت بن کے کہہ رہا تھا۔
    اس نے ایک گھونٹ لیا۔۔
    شادی کا بلاوا دینے آیا ہوں۔
    اس نے جیب سے کارڈ نکال کر سامنے رکھا۔
    علی نے اس سادہ مگر قیمتی گرے کارڈ کو نگاہ بھر کر دیکھا
    گنگشن اچھی لڑکی ہے۔۔تم خوش رہو گے اسکے ساتھ۔ پر کوشش کرنا وہ بھی خوش رہ سکے تمہارے ساتھ۔
    اسکی بات پر جون من نے ابرو اچکا کے دیکھا اسے۔
    تمہارے نئے مذہب میں ادب آداب کی جگہ نہیں؟ تم مجھے ہیونگ کہتے تھے آپ جناب کرکے بات کرتے تھے تین سال بڑا ہونے کا کافی لحاظ تھا تمہیں میرا اب خاصے بے مروت ہو چلے ہو۔
    اس نے ڈانٹ ہی دیا۔
    یہ میری بشری کمزوری ہے اسکو میرے مزہب کی تبدیلی سے نہ جوڑیں۔
    علی جل بھن ہی گیا۔ ایک تو اسکے مزاج کے ہر رخ کو اسکے مزہب سے جوڑا جاتا تھا۔
    رہی بات لحاظ کی تو آپ بہتر جانتے ہیں ادب لحاظ صرف میری بول چال میں تھا میں پہلے ذیادہ بد تمیز اور سر پھرا تھا۔
    اسکی بات پر جون من کو ہنسی سی آگئ۔علی یونہی خفا خفا دیکھتا رہا۔
    خیر۔ اس کی ناراضی محسوس کرکے وہ صلح جویانہ انداز میں بولا۔
    میں نے آہبوجی سے بات کی ہے۔ تم مزہب تو جائداد میں حصہ نہ ملنے کے باوجود بدلنے کو تیار نہیں ہو۔ مگر بہر حال تم میرے بھائئ ہو۔ مجھے تمہارا یوں یہاں ایسے مشکل زندگی گزارنا گوارا نہیں ہے۔ میرے بس میں ہوتا تو تمہارا حصہ پورا تمہیں دلواتا مگر جب تک میرے ابا زندہ ہیں ایسا ناممکن ہے بہر حال تم اپنا گھر لے سکتے ہو۔ وہ میں تمہارے نام کر دیتاہوں۔ چاہو تو بیچ کر اپنا کوئی کام شروع کرلو یا وہیں رہنا شروع کردو مرضی ہے تمہاری۔
    بات ختم کرکے انہوں نے ایک سانس میں جوس پی کر گلاس ایک جانب رکھا۔ علی حیران سا اسکی شکل دیکھ رہا تھا۔
    سوچ لو۔ اسکی حیرانئ پر وہ مسکرا دیا۔
    میں اتنا برا نہیں ہوں جتنا سمجھتے ہو تم مجھے۔
    وہ کہہ ہی گیا۔
    اچھا میں چلتا ہوں۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا
    شادئ اگلے ہفتے ہے۔ آنا ضرور۔۔
    اسکے کہنے پر علی سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    میں چلتا ہوں۔ وہ گہری سانس بھرتا داخلی دروازے کی جانب بڑھا۔ اسکو حقیقتا افسوس ہوا تھا۔ اتنے چھوٹے گھر میں بنا سہولتوں کے رہنا یقینا علی کے لیئے مشکل ہوگا۔ اتنا ضدی ثابت ہوگا وہ اپنے نئے مزہب کیلئے انہوں نے سوچا نہ تھا۔
    ہیونگ۔ ( بھائی )وہ جوتے بدل رہا تھا جب اسے اپنے پیچھے علی کی آواز سنائی دی۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔
    مجھے گھر نہیں چاہیئے۔ گھر لوگوں سے ہوتا ہے۔ مجھے اگر کچھ دینا ہے میرا بھائی دے دیں مجھے۔
    اسکا جملہ ۔۔ جون من اسے چند لمحے حیرانگی سے دیکھتا رہ گیا۔ علی مسکرا دیا تو چونک کر اثبات میں سر ہلا دیا۔
    مگر گھر والی بات پر غور کرنا۔ وہ جاتے جاتے بھئ ایک بار پھر یاد دہانی کر گیا تھا۔ علی بھی مزید بحث کی بجائے خاموشی سے سر ہلا کر رہ گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح اسکی آنکھ کھلی تو چند لمحے سمجھ بھی نہ آ سکا کہاں ہے۔دھیرے دھیرے ذہن بیدار ہونا شروع ہوا تو ایک کراہ سی منہ سے نکل گئ۔ اس نے سائیڈ ٹیبل کا سہارا لیا اٹھ بیٹھی۔ سرہانے پانی کی بوتل اور گلاس رکھا تھا جمائی روکتے ہوئے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا نیند میں تھی یا لاپروائی کر گئ گلاس نیچے گر گیا۔ پلاسٹک کا گلاس اس نے جھک کر اٹھایا تو اٹھاتے ہوئے خیال ہی نہ رہا جگہ تنگ ہے سر سیدھا میز کے کونے سے لگا تارے ناچ سے گئے۔
    آہ۔ وہ گلاس چھوڑ کر سر پکڑ کر بیٹھ گئ۔ موٹے موٹے آنسو جھٹ پٹ آنکھوں میں اتر آئے چند لمحے اپنی بے بسی پر وہ بے آواز روتی رہی پھر ہچکیاں بندھ گئئیں۔ درد سے ذیادہ اپنی حالت زار اسے رلا گئ۔
    تبھئ دروازے پر دستک ہوئئ۔۔ ایک دو۔ اس نے گھٹنوں میں منہ دیا اور گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔
    تبھئ کسی نے ہینڈل گھمایا دروازہ کھلتا چلا گیا۔ ایڈون سر پکڑ کر رہ گیا۔ہاتھ میں پکڑا شاپر میز پر رکھا پھر شروع ہی ہوگیا۔۔
    یہ کیا تم نے دروازہ لاک ہی نہیں کیا ہوا ؟ سنتھیا ہم اب ہاسٹل میں نہیں ہیں ہر قماش کا انسان رہتا ہے یہاں۔ ویسے تو ہاسٹل میں بھی۔ بولتے بولتے اسکی نگاہ اس کے سسکتے وجود پر پڑی تو گھبرا کر پاس آیا۔
    کیا ہوا ؟ رورہی ہو ؟ کیا ہوا سنتھیا؟
    وہ بری طرح پریشان ہو کر اسکے بازو ہٹا کر چہرہ دیکھنے لگا۔ رو رو کے سوجی آنکھیں سرخ چہرہ کیا کیا برے خیال نہ آگئے۔
    بتائو نا سنتھیا کیا ہوا ہے ایسے کیوں رو رہی ہو۔
    اسکی گھبراہٹ کے مارے آواز کانپ گئ۔ رونے دھونے سے فرصت ملی تو سنتھیا کو کلیجے میں ٹھنڈ پڑی محسوس ہوئئ۔ وہ یقینا اکیلی نہیں تھی یہاں۔ایڈون سے سب گلے جاتے رہے اس وقت اسکی پریشان صورت دیکھ کر۔ دل کو تسلی ہوئی تو آنسو پونچھ کر بولی
    اتنا تنگ کمرہ ہے گلاس گر گیا اٹھانے لگی تو پورا میز کا کونہ سر میں گھس گیا۔
    وہ رندھے گلے سے بولی تو وہ بے اختیار ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا۔
    دکھائوکہاں چوٹ لگی۔
    وہ اسکا سر سہلانے لگا۔ سنتھیا کی کراہ سی نکل گئ فورا اسکا ہاتھ ہٹایا
    آہ۔ شائد گومڑا پڑگیا ہے۔ سنتھیا خفت بھرے انداز میں بولی۔
    اچھا چلو اٹھو منہ ہاتھ دھو لو۔ ادھر لابی کے آخر میں واشرومز بنے ہیں۔ میں کچھ ناشتے کا سامان لایا تھا کھالو ۔ دس بج رہے ہیں مجھے گیارہ بجے ڈیوٹی پر پہنچنا ہے مجھے دیر ہو رہی ہے آکر بات کرتا ہوں اور۔۔ اسے خیال آیاتو جیب سے والٹ نکال کر کچھ پیسے نکالے۔
    یہ پیسے رکھو دوپہر میں سامنے سیون الیون ہے وہاں سے کچھ لیکر کھالینا۔ اسکے ہاتھ میں پیسے تھما کر وہ عجلت میں ہی پلٹنے لگا۔
    اوکے بائے
    سنو۔وہ بے تابی سے پکار بیٹھی۔ وہ جوابا بولے بنا مڑ کر دیکھنے لگا۔
    میں سارا دن یہاں ا س کمرے میں اکیلی بیٹھی رہوں گئ؟
    اسے حقیقتا سوچ کے گھبراہٹ ہوئی۔
    سامنے پارک ہے وہاں گھوم آنا اچھا میں چلتا ہوں بائے۔
    وہ مشورہ دیتا ٹھہرا ہی نہیں۔ سنتھیا کے لب نیم وا ہو کے رہ گئے۔
    میں سارا دن یہاں اس کمرے میں اکیلے۔ وہ گھبرا کے اٹھ کھڑی ہوئئ۔
    ہاتھ میں پکڑے پیسے اپنا بیگ اٹھا کر اس میں ڈالے ۔بیگ سے ٹوتھ پیسٹ اور فیس واش لیکر باہر نکل آئی۔ لمبی راہداری کے آخر میں کچھ روشنی دکھائی دے رہی تھی وہ اندازے سے چلتی ادھر چلی آئی۔ یہاں ایک جانب خواتین کے لیئے ٹوائلٹس بنے تھے دوسری جانب مردوں کیلئے۔ اس نے جھجکتے دروازہ کھولا تو اندر بس چار کیبن تھے جن میں بیت الخلا تھا دوسرے چار کیبن غسل خانے کے تھے۔ اسوقت سب خالی ہی تھے۔ یقینا صبح جانے والے تیار ہو کر جا چکے تھے۔الجھن کے مارے کتنے لمحے سوچنے میں گزر گئے۔۔
    منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو راہداری میں کمرے سے کوئی نکل کر جا رہا تھا۔وہ اپنا ٹوتھ پیسٹ اور فیس واش اٹھا لائی تھئ۔ مرے مرے قدموں سے چلتی اپنے کمرے کے قریب آئی تو دروازہ کھلا تھا۔پوری راہداری میں سے بس یہی دروازہ کھلا تھا۔ نکلنے والا یقینا اسکے کمرے سے نکلا تھا۔ اس کے اندر بجلی سی بھرگئ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی تو ایک لمحے کو چکرا گئ۔ اسکا پورا بیگ الٹا پڑا تھا وہ لاکٹ ٹاپس چھوٹی موٹی جیولری ایک چھوٹے سے پائوچ میں اپنے بیگ میں رکھے تھے پاوئچ غائب تھا اسکا والٹ خالی تھا اس نے مڑ کر میز پر دیکھا تو شاپر بھی الٹا ہوا تھا۔لوٹ کر لے جانے والا اسکا ناشتہ بھی لے جا چکا تھا۔
    نہیں۔ اسکی آنتیں بھوک سے پلٹیاں کھا رہی تھیں۔وہ پوری قوت سے دوڑتئ باہر نکلی تھی۔ کمپائونڈ تک مگر کسی زی نفس کا نام و نشان بھئ نہ تھا۔ وہ بے بسی سے سر پکڑ کر رہ گئ ۔۔
    فون کروں ایڈون کو۔ صحیح ناراض ہوگا مجھ سے کہہ کر بھی گیا تھا کمرہ لاک رکھا کرو
    اسکی ذرا سی لاپروائی اسے ٹھیک ٹھاک مہنگی پڑنے والی تھئ۔ کیا کروں اس نے ذہن کے گھوڑے دوڑانے چاہے تو ایک بار پھر ساکت رہ گئ۔
    اسکاچاکلیٹ بن تک چرا لے جانے والا موبائل خدا واسطے تھوڑی چھوڑ کر گیا ہوگا۔
    وہ الٹے پیر واپس آئی اس بار اسکے کمرے کے باہر دو لڑکیاں کھڑی تھیں۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتئ انکے پاس آئی۔
    ہے کیا کررہی ہو یہاں۔
    اس کا لہجہ سخت ہوگیا نا چاہتے ہوئے بھی۔ اسکی انگریزی سن کر دونوں چندی آنکھوں والیاں سٹپٹا سی گئیں۔
    یہ تمہارا کمرہ ہے ؟ ایسے کھول کر مت جایا کرو چوری ہو جائے گئ۔
    ایک نے ہنگل میں اسے سمجھایا اسکے سر پر سے گزرا۔
    کیا ؟ اسکو پہلے ہی جھلاہٹ چڑھ رہی تھی۔
    روم اوپن، ڈینجرش۔ تھیوز ہیئر۔
    دوسری نے اپنی ہائی اسکول کی سیکھی سب انگریزی الٹ دی۔
    اوہ۔ سنتھیا کچھ ٹھنڈی پڑی۔
    دے۔ گھمسامنیدہ۔
    اس نے جھک کر شکریہ ادا کردیا اس مفت مشورے کا۔
    آنیانگ۔ دونوں اب الوداعیہ انداز میں کہہ کر منتظر کھڑی تھیں
    آنیانگ۔ اس نے بھی سر جھکا لیا۔۔ اب جائو بھی۔ اسے الجھن ہوئی انکو یوں کھڑے دیکھ کر۔
    دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر کچھ کہا پھر منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنس دیں۔ سنتھیا نے گھو رکر دیکھا۔
    اندر جائو۔ ان سائئڈ گو۔
    دونوں ہاتھ کے اشارے اور جو جو لفظ سمجھ آرہا تھا بول کے اسے اندر جانے کا کہہ رہی تھیں۔ اوہ۔ اسکے دماغ کی بتی روشن ہوئئ۔
    ظاہر ہے اس تنگ راہداری میں کھڑی وہ انکا راستہ روکے تھی۔
    سوری۔ رئیلی سوری۔
    وہ کھسیا کر فورا کھلے دروازے سے اندر گھسی۔ دونوں لڑکیاں ہنس کر ہاتھ ہلاتی آگے بڑھ گئیں۔ اس نے جھلا کر دروازہ بند کیا۔
    کمرے میں اسکے کپڑوں کے بیگ جوں کے توں ان چھوئے رکھے تھے یقینا اسکو انکو کھولنے کا موقع نہیں ملا تھا۔آہ۔ اسکے منہ سے حقیقتا آہ نکل گئ۔ موبائل ڈھونڈنے کی بھی کوشش نہ بستر پر گر سی گئ
    صبح چوٹ نے رلا دیا اب بھوک کی وجہ سے آنسو آرہے تھے اس نے آنکھوں پر بازو رکھا او رتسلی سے رونے لگئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ گوارا کیلئے ناشتہ بنا رہی تھی۔ کائونٹر ٹیبل پر بیٹھی اورنج جوس کی چسکیاں لیتی اپنے موبائل میں وہ نوٹس پڑھ رہی تھی۔
    سب تمہاری غلطی ہے اچھی بھلی مجھے عادت تھی ناشتہ نہ کرنے کی تم نے ڈال دی۔ ورنہ میں دو وقت کھانے پر چلتی ہوں دوپہر اور رات۔ اب دیکھ لو تمہیں میرے لیئے ناشتہ بنانا پڑ رہا ہے۔ ویسے میں خود بھی بنا سکتی ہوں ناشتہ مگر سختی سے میری ڈرماٹولوجسٹ نے کہا ہے گرمی کے دھوپ کے قریب بھئ نہ جانا۔ جبھی یہ ڈھاٹا خرید کے لائی ہوں۔
    اس نے کرسی پر سے ڈھاٹا اٹھا کر دکھایا۔ کیپ جمع اسکارف تھا بڑا سا جس میں نقاب بھئ بنا ہوا تھا۔ اس نے اکثر لڑکیوں کو یہاں یہ پہنے دیکھا تھا۔ پی کیپ کے اندر فل پردہ جھولتا تھا آگے سے منہ ڈھکتا صرف آنکھیں نظر آتیں اور پیچھے سے بال ڈھکنے کیلئے اسکارف ۔۔
    اسکو ہم ٹوپی والا برقعہ کہتے ہیں بس اندر ٹوپی گول ہیٹ جیسی ہوتی ہے۔
    اریزہ نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا۔
    یہ کوریا کی ایجاد ہے۔ گوارا اترائی۔
    ہم نے بہت سی چیزیں دی ہیں ایشیاء کو۔ لڑکیوں کی جلد نازک ہوتی ہے باہر کے موسم ا س پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ لڑکوں کی سخت جلد کو دھوپ کی سختیاں کملا دیتی ہیں ہم لڑکیوں کو تو اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ منہ بال ڈھک کر نکلنا چاہیئے باہر۔
    گوارا کی بات پر اسے ہنسی ہی آگئ۔۔۔ اچھی تقریر تھی پردے کے حق میں۔
    تھیبا۔ یہ تو ٹاپک میں نے پڑھا ہی آج ہے۔ ڈیفیوژن آف اننوویشن۔ یہ کیا بلا ہے بھئی۔ وہ اب ہنگل میں شروع تھی۔
    دفع دور ۔۔ ویسے بھئ دو چار وائیوا لے کر یونیورسٹی والوں نے کونسا میرا جی پی اے بڑھا دینا ہے ۔
    وہ اب آدھی ہنگل آدھی انگریزئ ملا جلا کر بول رہی تھی۔
    خوامخواہ زحمت کر رہی ہو نیا کچھ پڑھنے کی جو پڑھا ہوا اسی کے نوٹس پر دھیان دو وائیوا کی ہی تیاری ہوجائے۔
    اسکے سامنے پراٹھا آملیٹ رکھتے اریزہ نے کہا تو
    اس نے فورا موبائل ایک طرف رکھ دیا۔ اور رغبت سے ناشتہ کرنے لگی۔
    اریزہ اپنا ناشتہ گرم چائے کا کپ لیکر مقابل آبیٹھی۔ تبھئ تیار ہو کر کمرے سے ہوپ نکلی تھی۔ ان پر نگاہ غلط ڈالتی سیدھا رخ باہر کی جانب تھا۔ وہ داہنے پیر پر ذرا کم وزن ڈال رہی تھی۔ ایک بار کے بعد دوبارہ جانے اس نے خود پٹی کی بھی تھی کہ نہیں۔ افسوس ہوا اسے اپنی لاتعلقی پر
    یونا۔ اریزہ اسے بے اختیار پکار بیٹھی۔ جوابا اس نے ترچھی نگاہ ڈالی پھر جواب نہ ملنے پر مڑ کر کر گھورا
    یونا۔ اریزہ کو توقع نہ تھی کہ۔مڑ کر دیکھے گئ سو خوش ہو کر دعوت دی
    آئو ناشتہ کرکے جائو۔ اب کیسی طبیعت ہے تمہاری۔پائوں ٹھیک ہوا۔؟۔
    ایک تو یہ اریزہ کا سوشل ورک۔ گوارا ہنگل میں بڑبڑائی
    یوآنہ نام ہے میرا اور میرے لیئے ناشتہ مت بنایا کرو کتنی دفعہ کہا ہے تمہیں۔
    وہ جھلائی اور پیر پٹختی سی واپس آئی انکے پاس۔
    بیان۔( معزرت) یوآنہ۔
    اریزہ نے جیسے ڈر کر فورا تصحیح کی۔ اور پلیٹ اسکی جانب کھسکا دی۔ وہ کونسا کورین تھی نام بولنے میں زبان رواں تھئ مگر نام سمجھ بھی تو آئے ۔یوآنہ اس بات پر بھی اس سے لڑ سکتی تھی۔
    یہ پھر وہی بنایا ہے اس دن والا۔۔ یو آنہ کا انداز تفتیشی تھا۔
    اریزہ کچھ نہ بولی۔ گوارا نے گہری نگاہ سے یوآنہ کو دیکھا جو بظاہر جھلائی سی گرم پراٹھے پر آملیٹ پھیلا کر رول بنا رہی تھی۔ رول بنا کر اسکو دیکھ کر بولی
    میرے لیئے زحمت مت کیا کرو مجھے بالکل کسی سے اپنا کام کروانا پسند نہیں۔
    اریزہ نے سر ہلادیا۔ اور چائے کا کپ اٹھا کر گھونٹ بھرنے لگی
    آننیانگ۔۔
    وہ کہہ کر تیز تیز قدم اٹھاتی چلی گئ۔ اریزہ کا پورا پراٹھا لیکر۔
    آ بیل مجھے مار، پائوں پر کلہاڑی مارنا ، حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ۔ اور ناجانے کتنی ضرب المثل اسے یاد آکے رہ گئیں۔
    اور وہ کونسا محاورہ تھا۔ دوستی بھی بری دشمنی بھی۔ مگر کس کی۔
    گوارا نے اپنی پلیٹ اسکی جانب بڑھا دی۔۔آدھا پراٹھا بچا تھا۔
    یہ لو میں کھا چکی۔ وہ ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی
    ارے میں اور بنا لوں گی۔ ا س نے انکار کرنا چاہا وہ سہولت سے منع کر گئ
    اسی کو کھالو مجھے پتہ ہے تم اور نہیں بنائو گی۔
    وہ ہنس کر بولی تو اریزہ کھسیا کر سر ہلا گئ
    اچھا میں چلتی ہوں۔ وہ اپنا بیگ اٹھانے لگی۔ آننیانگ۔
    سارا دن پڑا تھا اسکے پاس کرنے کو کچھ بھی نہ تھا۔ اس نے سستی سے نوالہ توڑا۔
    گوارا جاتے جاتے مڑی ۔۔ اسکی بیزار شکل دیکھی تو خیال آیا
    تم کوئی جاب کیوں نہیں کر لیتیں۔ ؟
    ہاں کرنی ہے نا جاب۔ وہ ایکدم پرجوش ہوئی۔
    بلکہ میں تو کہنے والی تھی مجھے کہیں جاب دلوا دو میں اپنا خرچہ خود اٹھانا چاہتی ہوں۔ اگلے سمسٹر کا۔
    اسکی بات پر گوارا نے اطمینان سے جواب دیا
    ٹھیک ہے کل میری کمپنی میں آجانا میں ایم ڈی رکھ لوں گی تمہیں۔
    کیا؟ اسکا منہ کھلا رہ گیا۔ گوارا زور سےہنس پڑی۔
    مزاق نہ اڑائو۔ اریزہ کو برا لگ گیا۔
    میں تو مشورہ دے رہی تھی میں کونسا ایل جی کی مالک ہوں سہیلی۔ جو جھٹ سے کہیں جاب لگا دوں تمہاری۔
    اس نے آگے بڑھ کر اسکے پھولے گال پر چٹکی بھری
    اریزہ گھور کے رہ گئ۔
    اچھا دیکھتی ہوں کوئی آتے جاتے پارٹ ٹایم جاب کے ایڈز دیکھتی آئوں گئ آتے وقت پریشان نہ ہو مگر بنا ہنگل سیکھے جاب کرنا مشکل ہوگا تمہارے لیے۔۔پہلے بتا دوں۔ یہاں کسی کو ایک لفظ انگریزی نہیں آتی۔
    اس نے ڈرایا۔
    ہمم۔ وہ کیا کہتی آگے سے۔
    اوکے میں کسی ہنگل کلاسز کا بھی پتہ کرتی ہوں تم سارا دن فری ہوگئ جاب کے ساتھ ہنگل بھی سیکھ لینا۔ فکر نہ کرنا۔اوکے بائے۔
    وہ عجلت میں بولتی ڈھاٹہ چڑھاتی خدا حافظ کہتی بھاگ گئ۔
    خدا خدا کرکے تھوڑی انگریزی بہتر ہوئی ہے تو نیا کھڑاگ کورین سیکھو۔
    وہ سوچ کے رہ گئ۔
    اگلا نوالہ ذرا بڑا لیا ۔۔ اب احساس ہوا کہ وہ آدھا پراٹھا اتنی فراخ دلی سے کیسے اسے دے گئ۔ اس کا منہ بنا۔
    نمک آملیٹ میں ذیادہ تھا۔ اپنے لیئے نئے سرے سے ناشتہ کیا بناتئ وہی ختم۔کرنے لگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    روتے روتے آنکھ لگ گئ تھی کہ کیا۔ فون بجنے پر آنکھ کھلی۔
    وہ چند لمحے حواس ہی بحال کرتی رہ گئ۔ پھر اٹھ بیٹھی۔ باہر کھڑکی سے اسٹریٹ لائیٹ کی روشنی اندر آرہی تھی۔
    وہ ہڑبڑا سی گئ۔ جانےوہ اتنا وقت سوتی رہی یا بھوک سے بے ہوش ہو گئ۔ فون لگاتار بجے جا رہا تھا۔ اسکی جیسے جان میں جان آئی۔ادھر ادھر دیکھا بستر تکیہ ہٹا کر دیکھا۔ ٹٹول کر بتی جلائی فون بجنا بند ہو گیا۔
    اف۔
    فون بج رہا تھا یعنی چوری ہونے سے بچ گیا مگر اس چھوٹی سی کٹیا میں جانے کہاں چھپا تھا۔ دوبارہ کچھ وقفے سے بجنا شروع ہوا۔آواز کا منبع اس نے تلاشتے ہوئے نیچے دیکھا تو بیڈ اور میز کے بالکل کنارے اوندھا پڑا تھا۔یقینا رات کو تکیئے کے پاس رکھ کر سوئی اور وہ پھسل کر گر گیا نیچے۔
    اسے جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ جھٹ سینے میں بھینچ لیا۔
    فون ابھئ بھئ بج رہا تھا۔ اس نے خداوند کا شکر ادا کرکے سینے پر صلیب بنائئ اور فون اٹھا لیا۔ بابا تھے۔
    کیسی ہو کہاں تھیں نا کوئی جواب نہ بات دوپہر سے فون کر رہا ہوں ۔۔
    چھوٹتے ہی وہ ڈانٹنے لگے۔
    وہ سو رہی تھی کیسے ہیں آپ۔ وہ بات بدل گئ
    میں ٹھیک ہوں یہ بتائو انتظام کیا ایڈون نے کسی اپارٹمنٹ کا؟ میں نے اریزہ کے پاپا سے بھی بات کر لی ہے تم اور اریزہ مل کر رہنا ایک جگہ۔ اسکے ساتھ ہوگی تو مجھے اطمینان رہے گا۔
    بابا میں بچی تھوڑی ہوں۔ وہ چڑ گئ
    میرے لیئے تو بچی ہی ہو۔ وہ مسکرائے
    اریزہ تو جیسے دادی اماں ہے میری۔ وہ بحث میں لگ گئ
    ایک سے بھلے دو ہوتے ہیں بیٹا۔ وہ اسکی کج بحثی سے تنگ سے ہوئے۔
    اچھا چھوڑو یہ سب یہ بتائوکیا ارادے ہیں اگلے سمسٹرکا بیٹھ کے انتظار کرنے کی بجائے کوئی چھوٹا موٹا کورس کرلو۔
    وقت ضائع نہ کرو۔ ایڈون بتا رہا تھا اس نے کورین سیکھنی شروع کردی ہے تم بھی سیکھو۔
    بابا۔ وہ ایکدم ٹوک کر بولی۔
    ہاں بولو۔ وہ بھی ہمہ تن گوش ہوئے
    بابا وہ ایڈون کا بھی رہائش کا مسلئہ ہے میں اور اریزہ اسکو بھی اپنے فلیٹ میں رکھ لیں۔
    اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔۔
    ایڈون تو بتا رہا تھا کہ اس نے کسی کمرے کا انتظام کر لیا ہے تمہیں نہیں بتایا؟ ویڈیو کال کی تھئ اسے میں نے اس نے دکھایا ٹھیک تھا ایک چھڑے چھانٹ کیلئے کہہ رہا تھا ایسا ہی کمرہ ڈھونڈ دے گا تمہیں میں نے صاف منع کیا۔ اسے۔۔میری بیٹی ایسی فضول سی جگہ نہیں رہ پائے گئ۔
    گوشئ وون کہتے ہیں اسے۔
    اس کے منہ سے بمشکل آواز نکلی۔
    ہاں وہی۔گوشی جو بھی ہے۔ نام جیسا بھی ہو مجھے تو بالکل جگہ پسند نہیں آئی۔ دیکھا نہیں تھا تم نے بالکل چھوٹا سا کمرہ اس سے بڑا تو باتھ روم ہے ہمارا۔۔۔ مجھے پتہ ہے تم اتنے تنگ سے کمرے میں نہیں رہ پائوگئ اسے کہہ دیا میں نے پیسوں کی فکر نہ کرے۔ لڑکوں کا کیا ہے آنکھیں بند کرتے ہیں تو سڑک کنارے بھی سو سکتے ہیں۔ تمہیں ویسے بھئ گرمی ذیادہ ہی لگتی ہے۔
    اسکے بابا کا لہجہ محبتوں سے چور تھا۔ اس نے چور نگاہ اپنے گرد ڈالی اور سر جھکا لیا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ بیزاری سے لائونج میں بیٹھی چینل پر چینل بدل رہی تھی۔ گوارا کا میسج آیا تھا۔ اس نے فون اٹھا کر دیکھا
    میں رات کو دیر سے آئوں گئ۔
    اس نے بنا جواب دیئے فون صوفے پر رکھ دیا۔
    ہوپ بھی دس بجے تک ہی آتی تھی۔ اکیلے ڈھنڈار فلیٹ میں ٹھیک ٹھاک بوریت اور قنوطیت محسوس ہو رہی تھی۔ سو سو کے تھک چکی تھی اس وقت ۔ ٹی وی پر کوئی گیم شو ریپیٹ ٹیلی کاسٹ ہو رہا تھا ہنگل میں مزاق اڑاتے وہ ایک لفظ سمجھے بنا بس دیکھ رہی تھی۔
    میرا تو دن ہی نہیں گزر رہا ۔ اس نے وال کلاک کی جانب دیکھا سات بج رہے تھے۔ صبح کا آدھا پراٹھا کھایا ہوا تھا اس وقت بھوک بھی لگ رہی تھی۔ اس نے ٹی وی بند کیا اور ڈھیلے ڈھیلے قدم اٹھاتئ کچن میں چلی آئی۔
    دالیں لوبیا سب کچھ تھا چاول بھئ تھے۔ مگر ان سب کو پکانے کیلئے کوئی مصالحہ نہ تھا۔
    اس نے ایک دفعہ گوارا سے پوچھا تھا تم مصالحے وغیرہ نہیں خریدتی ہو تو وہ ہنس کر بولی
    کمچی سے لیکر سادے سالن چٹنیاں ہر چیز کے تیار ڈبے ملتے وہ بھئ گوشت کے اضافی ذائقے کے ساتھ ضرورت ہی نہیں ہے الگ سے لینے کی۔
    اس وقت بھی الماری میں قطار سے ڈبے سجے تھے چٹنیوں مربوں کےمگر اسکے لیئے ایکدم بےکار تھے۔
    ٹماٹر ادرک لہسن پیاز بھئ موجود تھا مگر نمک مرچ ہلدی و دیگر مصالحے ندارد تھے۔
    کیا عذاب ہے۔۔۔۔ وہ جھلا کر رہ گئ۔
    رائس ککر میں چاول پکانے چھوڑے۔ مسور کی دال چڑھائی۔
    ساتھ لہسن کی چٹنی بنانے کیلئے لہسن کوٹ لیئے۔ نمک کے نام پر اجینو موتو تھا۔ چمچ بھر کر ڈالتے ڈالتے ہاتھ روک لیا۔
    نمک تو خرید ہی لائو ساتھ ٹماٹر اور جو کوئی مصالحہ ملا۔
    اس نے ارادہ باندھا۔
    وہ سویٹ شرٹ اور ٹرائوزر میں ملبوس تھی۔ اس حلیئے میں باہر جانے کو دل نہیں مانا ۔ اس وقت اہتمام سے اپنا لان کا جوڑا نکالا تیار ہو کر باہر آئی دال کا چولہا بند ہی کردیا۔ اب باہر نکلنا ہی تھا تو گوشت ڈھونڈا جا سکتا تھا وہ بھی حلال۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمارے پاس حلال گوشت نہیں ہوتا۔
    مسکرا کر اس سیون الیون والی لڑکی نے بتایا تھا۔
    ویسے یہ ہوتا کونسا جانور ہے آپ مجھے اسکا ہنگل نام بتائیں تو میں بتا دیتی ہوں ویسے ہمارے پاس خنزیر ، گائے ، بکرے گدھے مرغئ سب کا گوشت موجود ہے۔
    ایک چھوٹا سا پمفلٹ نکال کر اس نے ایک ایک پر انگلی رکھ کر اسے بتایا۔
    گھمسامنیدہ۔۔ اب حلال نامی جانور بتائو اسے۔
    اس نے بس سادہ نمک خریدا اور شکریہ ادا کرکے قیمت اداکرکے نکل آئی۔
    کیسے ناشکرے ہیں ہم یہ نمک کیسا ہم دھڑلے سے استعمال کرتے ہیں فریج سے برف نکالنی ہے نمک چھڑک دو ،چیونٹیان بھگانی نمک چھڑک دو کوئی ناپسندیدہ مہمان آجائے اسکے جاتے وقت چوکھٹ پر چھڑک دو کسی کے زخموں تک پر چھڑکنے کو تیا ررہتے یہاں مٹھی بھر پیسوں میں چٹکی بھر نمک خریدیں نا تو زندگی بھر نمک سوائے کھانے کے کہیں استعمال نہ کریں۔غرارے بھی بس گرم پانی کے کرلیں اتنا مہنگا نمک۔۔ چلتے چلتے ٹھوکر سی لگی۔تو خود کو کوس بھی لیا
    جہنم میں جائو اریزہ۔۔
    ¹وہ سر جھٹکتی سوچتی جا رہی تھی جب کوئی چلتے چلتے اسکے ہم قدم ہوا۔۔
    سلام۔ کیسی ہو۔۔؟۔۔
    وہ چھوٹتے ہی پوچھ رہا تھا۔
    ایک تو یہ ہایون۔۔اردو میں احوال بھی پوچھنا سیکھ لیا۔ ایک میں ہوں نام کی ہنگل نہ سیکھ پائی۔
    اسکی سوچ اسکے چہرے پر لکھی تھی۔
    ٹھیک ہوں۔۔ ۔ تم کیسے ہو۔
    اس نے مروتا پوچھا۔
    تم لگ تو نہیں رہی ہو۔۔ منہ کیوں پھلایا ہوا ہے۔
    وہ دوستانہ انداز میں پوچھنے لگا۔
    میں نے ۔ اس نے فورا منہ پر ہاتھ رکھا۔
    میرا پیدائشئ ہی اتنا ہی بڑا منہ ہے۔
    اچھا۔۔ ویسے چھوٹا ہوا ہے تھوڑا۔ کبھی غور سے آئینہ نہیں دیکھا۔
    اسکا انداز سرسری تھا ۔۔
    اریزہ کا پورا منہ کھلا
    یہ کیا اسے باڈی شیمنگ کی گئ تھئ اور اسے یقینا برا ماننا چاہیئے تھا۔ وہ حیرانی کے مارے سوچتی ہی رہ گئ کیا ردعمل دے۔
    ویسے مجھے یقین تو تھا کہ تم آج کے دن کے حساب سے تیار ہوئی ہوگی جتنے تم سب لوگ جزباتی ہو مگر تم منائوگی کس کے ساتھ۔ تمہارے دوست واپس چلے گئے جو یہاں ہیں وہ تم سے لڑتے ہی رہتے ہیں۔
    وہ چلتے چلتے بائیں جانب گلی میں مڑ گیا۔ وہ بے دھیانی میں اسکے ساتھ ہی مڑ چکی تھی۔
    کون ؟ کون لڑتا رہتا ہے مجھ سے ؟
    اسے حقیقتا سمجھ نہ آیا۔
    تمہاری سہیلی۔ وہ یقینا تمہاری دوست نہیں ہے۔تمہیں اس سے دور رہنا چاہیئے۔ بجائے اسکے کہ رویا کرو اسکی باتوں پر۔
    وہ چلتے چلتے رک کر اسکے مقابل آکر جتانے والے انداز میں بولا۔
    وہ سٹپٹا سی گئ۔ اپنی طرف سے منہ ہاتھ دھو کرواپس آئی تھی میز پر ۔باقی لوگ ہایون کو تنگ کرنے میں مگن تھے ہوٹنگ کر رہے تھے اس نے تو یہی سمجھا تھا کسی نے دھیان بھی نہیں دیا اسکی متورم آنکھوں پر مگر وہاں ہایون ہی اس پر دھیان دیئے تھا۔۔
    ویسے مسلئہ کیا ہے اسکے ساتھ۔ اچانک ہی۔ کہاں تو اتنی شیر و شکر تھیں تم دونوں کہ گمان ہوتا تھا کہ
    وہ اگلوانے کے موڈ میں تھا اس سے قبل اپنی غلط فہمی دوبارہ دہراتا اس نے بات کاٹ دی۔
    ہم لڑتے رہتے ہیں ۔ بچپن کی دوست ہے وہ میری ہمارا تعلق تمہاری سوچ سے ذیادہ گہرا ہے۔
    اسکی بات پر وہ کندھے اچکا کر ایک طرف ہو کر اسکے ہم قدم ہو لیا
    میرا خیال ہے کہ تعلق گہرا ہونے کا تعلق دل سے ہوتا ہے وقت سے نہیں۔ کبھی مختصر عرصے کی رفاقت انسان کو ذیادہ قلبی دوستی سے نواز دیتی ہے کبھی سالوں کے تعلق لمحوں میں ٹوٹ جاتے ہیں۔
    وہ تو یونہی کہہ رہا تھا مگر بات گہری تھی۔ انگریزی میں کوئی بات کہی جائے تو ذیادہ ہی گہری لگتی ہے۔ وہ بات کے فسوں میں کھوئی تھی جب اچانک چلتے چلتے اسکے سامنے گاڑی کا کھلا دروازہ آگیا۔ وہ چونک کے ایک طرف ہوئی۔
    ہایون اس سے ایک قدم آگے ہو کر پنسجر سیٹ کا دروازہ کھولے ہوئے تھا اسکے لیئے۔۔
    وہ حیران سی اسکی شکل دیکھنے لگی تو وہ ہنس کر بولا
    میں تمہارے گھر ہی آنے والا تھا پر تم میرے ساتھ میرے گھر ہی آگئ ہو۔۔۔
    اسکی بات پر چونک کے اس نے اردگرد دیکھا۔ وہ واقعی رہائشی بلاک کی جانب آچکی تھی ہایون کی ہمراہی میں ۔یہاں سے تو واپسی کا راستہ بھی نہیں آتا تھا اسے۔ اسے ٹھیک ٹھاک خفت سئ محسوس ہوئی۔ وہ ہایون کے بنگلے کے سامنے کھڑے تھے۔
    اندر آنے کو کہتا پرتم پورک کھاتی نہیں ہو۔ گھر میں پورک اسٹیک ہی بنا ہوا ہے۔
    وہ بول رہا تھا مگر اسے سنائی نہیں دے رہا تھا اپنی ذہن کم کم چلانے کی عادت پر غصہ ہی بہت تھا
    مر جائو اریزہ۔ اسے شرمندگی سے گڑمرنے کو دل کیا۔
    بیٹھو۔ نا۔ اس نے ٹوکا تو وہ مرے مرے انداز میں گاڑی میں بیٹھ گئ۔ ہایون گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آن بیٹھا
    میں نے چائینیز نہیں کھانا اور میری جانب سے دعوت ہوگی میں پے کروں گی۔
    اریزہ نے گاڑی میں بیٹھ کر شرطیں رکھیں۔۔
    سیٹ بیلٹ باندھ لو۔۔ ہایون نے جیسے سنا ہی نہیں۔۔
    اریزہ نے گھور کر دیکھا۔۔
    ہم پاکستانی ڈرائیونگ کرتے نہیں باندھتے۔ پسنجر سیٹ کو سیٹ بیلٹ بندھوا رہے۔ آئے بڑے۔۔
    وہ بڑ بڑائی۔۔ مگر مڑ کر سیٹ بیلٹ کھینچ لی۔
    وے؟۔۔ وہ پوری طرح متوجہ تھا
    اسے ترجمہ کرکے بتانا پڑا۔۔
    واقعی؟۔۔ وہ حیران پریشان رہ گیا۔۔
    ہاں۔۔ ہم اسلام آباد داخل۔ہوتے ہوئے پھر یاد سے بیلٹ باندھ لیتے مگر پنڈی میں سب چلتا۔۔ اور لڑکی ڈرائیو کر رہی ہو تو بالکل بھی نہیں روکتے جب تک کوئی بڑامسلئہ کھڑا نہ کر لو۔
    وہ مزے لے کر بتا رہی تھی۔
    واقعی۔۔ لڑکیوں کیلیئے کوئی قانون نہیں؟۔ وہ حیران تھا
    اب یہ بھی نہیں۔۔ اریزہ سٹپٹائی۔۔
    جبھی تمہاری ڈرائونگ ٹھیک بھی نہیں
    وہ جیسے نتیجے پر پہنچ گیا۔۔
    اس دن جب ہم واپس آرہے تھے تو مجھے تم سب کا ایک حصے میں گھر پہنچنا مشکل لگ رہا تھا۔۔
    ڈولتی گاڑی کا منظر اسکے زہن کے پردے پر لہرایا۔۔
    اریزہ کھسیائی۔۔
    ایسی بھی کوئی بات نہیں میں بہت اچھی ڈرائونگ کر لیتی ہوں۔۔ اسے برا لگا تھا
    اس دن اگر تم میرے ہی ساتھ نہ ہوتیں تو میں یہی سمجھتا تم پی کر چلا رہی ہو۔۔
    وہ سراسر مزاق اڑا رہا تھا
    پہلی بار بائیں ہاتھ والی ڈرائونگ والی گاڑی چلا رہی تھئ عادت ہی نہیں مجھے اسکی جبھی ایسا ہوا۔ اس نے منہ پھلا کر صفائی پیش کی۔۔
    کیا مطلب ؟۔۔ وہ سمجھا نہیں
    پاکستانی گاڑیوں میں یہ سب کچھ یہاں اس والی نشست پر ہوتا۔ اس نے اشارے سے گئیر اسٹیرنگ سب کو اپنے سامنے رکھا۔۔
    رائٹ ہینڈ ڈرائیو۔۔ وہ سمجھ گیا۔۔
    ہاں۔۔ اریزہ نے سر ہلایا۔۔
    اسے جانے کیوں ہنسی آگئ۔۔ کھل کر ہنستا گیا۔۔ اریزہ اسے حیرانئ سے دیکھ رہی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ریستوران کے باہر کھڑی وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھئ۔ ہایون نے مسکرا کر سر ہلایا۔۔ وہ بے تحاشہ مشکور ہوئی۔۔ہایون کی معیت میں اندر داخل ہوئی۔تو سچ مچ آنکھیں بھر آئیں۔۔
    میز کرسیاں تو عام ریستوران جیسے ہی تھے مگر ایک کونے میں مینار پاکستان کا قد آدم ماڈل رکھا تھا جس سے روشنی پھوٹ رہی تھی کیا خوبصورت لیمپ تھا دوسرے کونے میں فیصل مسجد کے ڈیزان کا لیمپ سجا تھا
    دل سے میں نے دیکھا پاکستان ۔۔ دھیمی آواز میں چل رہا تھا
    پورا ریستوران سبز اور سفید قمقموں غباروں جھنڈیوں اور انہی رنگوں کی آرائشوں سے سجا تھا
    ایک جانب چودہ اگست کی مناسبت سے قمقمون سے جشن آزادی مبارک لکھا تھا
    آج چودہ اگست ہے۔ اسکی آنکھیں بھرا گئیں۔ کیا کیا منصوبے بنائے تھے یوں چودہ اگست منائیں گے سفید لباس زیب تن کریں گے اور جھںڈا گلے میں ڈال کر۔۔۔ اور جب سچ مچ یہ دن آیا تھا تو سب جدا بھئ ہو چکے تھے اور بھول بھی گئے۔
    اسکا دل اداس ہو گیا تھا۔انکے لیئے پہلے سے ریزرویشن ہوئی وی تھی سو سیدھا اسی میز پر لا بٹھایا تھا ہایون نے۔
    اسلام و علیکم۔۔ پاکستانی ویٹر نے جھک کر ان دونوں کو سلام کر کے انکے سامنے میز پر مینیو کارڈ رکھا
    مجھے تو کوئی اندازہ نہیں بس ایک بار یہاں چکن کڑاہی کھائی ہے۔۔ سو تم اپنی پسند سے کچھ بھی منگوا لو مگر۔۔ وہ رکا۔۔
    اریزہ جو سر ہلاتی مینیو کارڈ پر نظر دوڑا رہی تھی۔۔ چونک کر دیکھنے لگی۔۔
    کل دوبارہ اس پر نظر پڑی تھی تو مجھے فورا خیال آیا تمہارا سو یہ دعوت میری جانب سے ہی ہوگی۔۔ منظور۔۔ وہ منوانے والے انداز میں دیکھ رہا تھا۔۔
    وہ مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گئی۔۔
    اس نے چکن کڑاہی اور بریانی ہی آرڈر کی تھی۔۔ ساتھ ایک مختصر سی تاکید بھئ۔
    دل سے میں نے دیکھا پاکستان دوبارہ لگا دیں۔
    ویٹرسر ہلا کر مڑ گیا تھا۔ وہی گانا دوبار لگ گیا تھا۔ وہ بلا ارادہ گنگنا بیٹھی۔ ہایون کے چہرے پر محظوظانہ مسکراہٹ در آئی۔ تو وہ کھسیا کر بولی۔
    یہ گانا بہت پسند ہے مجھے۔
    ہایون نے سر ہلا دیا۔ پھر پورا گانا سن کر ہی خیال آیا کہ ہاتھ دھو لینا چاہیئے۔
    میں ابھی ہاتھ دھو کے آتی ہوں۔۔ وہ بتا کر ریسٹ روم چلی گئ۔۔
    ویٹر کھانا لگا رہا تھا جب اسکی واپسی ہوئی۔۔
    نان کی بجائے اس نے توے والی روٹی منگوائی تھی۔۔ گرم گرم روٹی دسترخوان میں لپٹی کتنے دن بعد نصیب ہوئی تھی۔۔
    ہیون نے دیکھا تو وہ سالن نکال کر روٹی دسترخوان سے نکال رہی تھی۔ ہایون ہاتھ بڑھاتے بڑھاتے رک گیا۔۔
    کیا ہوا۔۔ اریزہ نے پوچھا۔۔
    تمہارے اس کھانے کو تو ہاتھ سے کھانا پڑے گا تو ہاتھ دھلے ہونے چاہیئں۔۔
    اس نے تائد چاہی۔۔
    میں ہاتھ دھونے ہی گئ تھی۔۔ تم نے دھونا تو تم بھی دھو آئو۔۔
    اریزہ نے روٹی دوبارہ لپیٹ کر رکھ دی۔۔ وہ سر ہلاتا اٹھ گیا۔۔ ہاتھ دھو کر آیا تو وہ اسکے انتظار میں ہاتھ روک کر بیٹھی تھی۔۔
    بیانئے ۔۔ اس نے فورا معزرت کی۔۔
    کوئی بات نہیں۔۔ وہ اسکا انتظار ہی کر رہی تھی ہیون نے اپنے لیئے کھانا نکالا تو وہ وہ مزے سے بسم اللہ پڑھ کر شروع ہو گئ تھی۔۔ اسکو نوالا بنانے میں مشکل آرہی تھئ وہ دز دیدہ نظرون سے اریزہ کو دیکھتا۔۔ اریزہ چھوٹے نوالے بنا رہی تھی خوب چبا کر کھا رہی تھی۔۔ ساتھ ساتھ جو ڈش خود اٹھاتی اسکی پلیٹ مین بھی تھوڑا سا ڈال دیتی۔۔
    اس نےبریانی نکالی تو چمچ کی بجائے وہ بھی ہاتھ سے ہی کھانے لگی۔۔ ہایون اسے دلچسپی سے دیکھنے لگا۔۔ وہ بہت نفاست سے نوالا بنا رہی تھی۔۔
    وہ بہت رغبت سے کھا رہی تھئ۔۔
    ۔۔ ہیون کی نظروں کا احساس ہوا تو جھجک کر ہاتھ نیچے کیا۔
    وہ چمچ تھا تو۔۔ وہ کھسیا کر ہاتھ پونچھنے لگی۔
    آنیو۔ ہیون نے فورا روکا۔
    تم جیسے کھاتی ہو ویسے ہی کھائو۔۔ جس میں تمہیں آسانئ ہو۔۔ بلکہ میں بھی کوشش کرتا ہوں۔۔ اس نے بھی چمچ رکھ دیا۔۔
    جس طرح اریزہ کیلیئے چاپ اسٹک سے نوالہ بنانا مشکل ہو رہا تھا اسی طرح ہایون بھی منہ تک لے جانے میں کتنے ہی نوالے گرا چکا تھا۔۔
    ایسے۔۔ اریزہ مسکراہٹ دبا کر اسے نوالہ بنانا سکھانے لگی۔
    بیک گرائونڈ میں وہی ملی نغمہ بجے جا رہا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کھانا کھا کر باہر نکلے تو اسے کون نظر آگئ۔۔
    آئیسکریم کھائیں۔۔ اس نے پوچھا۔۔
    ہیون کون شوق سے نہیں کھاتا تھا یہی بتانے کو منہ کھولا مگر اریزہ نے موقع نہیں دیا۔
    اس بار بھاگ کر گئ۔۔ خود خرید کر لے آئی۔۔
    ہیون اسکی پھرتی دیکھ کر رہ گیا۔۔
    مجھے کون بہت پسند پاپا تو کون کی مشین خریدنے لگے تھے مگر امی آڑے آگئیں۔۔
    اس نے منہ بنا کر بتایا۔۔
    امی۔۔ ہیون پاپا تو سمجھ گیا تھا۔۔
    آہمو جی۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔ اسکی کون پگھلنے کو تھئ۔۔
    اسکو یہاں سے چاٹو۔۔ پگھل رہی ہے ایسے۔۔
    اریزہ نے فورا اسکو توجہ دلائی۔۔
    پھر اپنی کون کو کونے سے زبان لگا کر گویا اسے عملی طور پر سکھایا کیسے کون کھاتے۔۔
    تمہارے آہبو جی تم سے بہت پیار کرتے ؟۔۔ اس نے بات برائے بات پوچھا۔۔
    بہت زیادہ میں لاڈلی ہوں انکی۔ اس نے اترا کر بتایا تھا۔۔
    اور آہمو جی۔۔ ہایون اسکے بچوں جیسے انداز پر مسکرا رہا تھا۔۔
    وہ نہیں کرتیں۔۔ پیار مجھ سے۔ اسکا انداز خفا خفا سا ہوگیا۔
    کیوں۔ ہیون چونکا۔ اریزہ کی ماں بھی کیا اسکی ماں کی طرح سوتیلی ہے۔۔
    انکو بھائی پیارا تھا ۔۔ وہ بھائی کے ذکر پر اداس سی ہوئی۔۔
    بچپن کی کوئی یاد تازہ ہوئی تھی۔۔
    ہائے میرا حماد چلا گیا۔۔ آپا۔
    خالہ سے لپٹ کر بلکتی اسکی ماں وہ خالہ کی آمد کا سن کر بھاگتی آئی تھی ڈرائنگ روم میں ابھی دروازے پر ہی تھئ کہ ماں کے بین سنائی دیئے۔۔
    ایک بیٹا تھا میرا بس آپا۔۔ خدا کو لینا تھا تو بیٹی لے لیتا۔۔ میرا بیٹا کیوں چھین لیا ۔۔ ہمارا اکلوتا سہارا تھا بڑھاپے کا میرا جوان بیٹا چلا گیا آپا۔
    ماں کے بین اسکا دل چیر گئے تھے۔۔ ماں صدمے میں تھی حواس کھو رہی تھی مگر وہ بھی تو ایک بارہ سال کی بچی ہی تھی ان جملوں کو سہہ نہ سکی رو پڑی بھلا نہ سکی آج تک یاد تھے
    پاگل مت بنو صفیہ۔۔ خدا کی امانت تھی اس نے لے لی شکر ادا کرو اریزہ بچ گئ۔۔ وہ بھی تو وہیں تھی۔
    یہی تو کہہ رہی آپا وہ بھی تو وہیں تھی۔۔ میرا حماد کیوں چلا گیا۔۔ میرا ایسا سلجھا ہوا تابعدار بیٹا۔۔
    ماں کے بین نہ تھمے۔۔
    ہوش کر و صفیہ۔۔ مت فضول بکو۔۔ خدا کا لاکھ شکر ہے گود خالی نہ ہوئی تمہاری۔۔بیٹی تو بچ گئ۔۔ اسکی شکل دیکھو حوصلہ پکڑو۔۔ خالہ نے ڈپٹ دیا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکو آئیسکریم کھانے کا طریقہ سکھاتی لڑکی اب اپنے ہاتھ خراب کر چکی تھی سوچوں میں گم ہو کر۔۔
    ہیون اسکی سوچیں تو نہیں پڑھ سکتا تھا مگر سوچیں تکیلف دہ ہی تھیں اتنا تو اسکا چہرہ پڑھ گیا تھا سو بات بدل کر بولا۔۔
    تم نے کبھئ یہ کھیلا ہے۔۔ اس نے تھوڑی دور ایک کائو نٹر کی جانب اشارہ کیا۔۔
    کیا؟۔۔
    اریزہ چونکی۔۔
    ادھر آئو۔۔ وہ اسے کہتا آگے بڑھا اریزہ نے بھی تقلید کی۔۔
    وہ ایک چھوٹا سا کیبن تھا جس میں چھوٹے چھوٹے اٹفڈ ٹوائز گڑیائیں بھالو ، سینڈیز اور چھوٹے موٹے تحائف پڑے تھے۔۔ کیبن شیشے کا تھا اسکے آگے ایک چھوٹا سا ہنڈل بنا ہوا تھا اس ہینڈل سے متصل ایک آہنی پنجہ سا لٹک رہا تھا اس ہینڈل سے وہ پنجا ہلتا جلتا تھا انہیں اپنی مرضی کا تحفہ اٹھا کر باہر نکالنا تھا اس آہنی پنجے کے زریعے۔۔ یہ جتنا آسان لگ رہا تھا اتنا تھا نہیں۔۔ چند سیکنڈ کے بعد پنجا کھل جاتا تھا انکو چاہے وہ راستہ پورا کر چکا ہو یا نہین۔۔ ہیون اسکیلیئے ایک دو پونیوں والی گڑیا اٹھانے کی کو شش کر تا رہا۔۔
    اسے ایک چھوٹا سا گڈا پسند آگیا تھا۔۔
    اس نے ہایون کا خوب مزاق اڑا کر اس سے ہینڈل چھین لیا تھا۔۔ تین ناکام کو ششوں کے بعد چوتھی بار وہ کامیاب ہوئی تھی۔۔ اس نے وہیں اچھلنا شروع کر دیا تھا۔۔ اس نے حقیقتا چڑا چڑا کر اسکی ناک میں دم کر دیا تھا اتراہٹ سے اسکا برا حال تھا۔۔
    پہلی بار کھیلا ہے میں نے۔۔ اس نے جتایا
    تم عظیم ہو بھئی۔۔
    اس نے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔۔
    اریزہ اس گڈے کی مختلف انداز میں تصویریں کھینچ رہی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پورے شہر کی روشنیاں اسکی نگاہوں کے سامنے تھیں۔ دامن کوہ سے کبھی اسلام آباد شہر کا شام میں نظارہ کرو تو لگتا ہے جیسے ایک بڑی سی جھیل میں روشنی کے دیئے تیر رہے ہوں۔ مگر یہاں نام سان ٹاور کے قریب بنے اس بڑے سے پارک کی بالکونی سے سیول شہر کو دیکھتے اسے لگا تھا کہ ستاروں کی بارات اتر آئی ہو اسکے آنگن میں۔ سیول کی فلک بوس عمارتیں اور ان سے پھوٹتی روشنیاں۔ وہ مبہوت سی ہوگئ تھی۔ اوپر ٹاور تک کیبل کار تھی جسکا الگ سے ٹکٹ لینا پڑتا۔ اس نے یہیں کھلی فضا کو ترجیح دی تھی۔ پھر وقت بھی کم تھا کیبل کار بند ہی ہونے والی تھی۔
    تم مجھے بتا دیتیں میں چھٹی لیکر آجاتا۔
    ایڈون نے اسکو کوک تھمائی اس نے چونک کر کین اسکے ہاتھ سے لے لیا۔۔۔
    اسکا جواب سنتھیا دانستہ ٹال گئ۔ اسے ہلکی ہلکی سرد ہوا کو سہتے یہاں ملگجے اندھیرے میں کھڑے ہو کر شہر کی روشنیاں دیکھنا اچھا لگ رہا تھا۔ اس وقت وہ بس اس لمحے میں جینا چاہ رہی تھی۔
    کتنی ہی دیر گزر گئ۔ دونوں خاموشی سے برابر برابر کھڑے بس سامنے دیکھ رہے تھے اپنی اپنی سوچ میں گم۔
    کتنی ہی دیر کے بعد جانے کس تکلیف دہ سوچ کو ٹالنے اس نے سر جھٹک کر دائیں جانب دیکھا تو ایڈون کو بھی کسی گہری سوچ میں گم پایا۔
    کیا سوچ رہے ہو۔
    اس نے پوچھا تو ایڈون نفی میں سر ہلانے لگا۔
    کچھ خاص نہیں۔
    تمہیں پتہ ہے میں کیا سوچ رہی تھی۔
    سنتھیا نے ناز سے کہا تھا۔۔ جوابا ایڈون نے پوچھا ہی۔نہیں چند لمحے انتظارکے بعد وہ خود ہی بولی۔
    میں سوچ رہی تھی کہ آج سے پانچ سات سال بعد بھی ہم دونوں یہاں آئے ہوں یونہی کھڑے اس نظارے کو دیکھ رہے ہوں یہی موسم ہو یہی شہر ہو بس ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ لحظہ بھر رکی۔ پھر ایڈون کو دیکھ کر بولی
    ہم دونوں خاموش نہ ہوں۔۔۔۔
    ایڈون گہری سانس لیکر ریلنگ پر بازو ٹکا کر اپنی پیشانی سہلانے لگا۔
    پانچ سات سال بعد کی بجائے ابھی کا سوچو۔ لگ رہا ہے بارش ہوگی ہمیں اب چلنا چاہیئے۔
    ایڈون آسمان کو دیکھتے ہوئے بولا۔ ہلکے ہلکے بادل چھا رہے تھے۔
    آج چودہ اگست ہے۔ یاد ہے پچھلے سال اس دن ہم پنڈی میں چھت پر سے جھنڈیاں اتار رہے تھے۔ بارش جو شروع ہو گئ تھی۔
    سنتھیا کا دل واپس اسی کٹیا میں جانے کا نہیں کر رہا تھا۔
    سو بات بدل گئ۔
    کتنا مزا آتا تھا جھنڈیاں لگانے کا سب سے بڑا پرچم لگانے کا۔ یہاں تو سب کیلئے عام سا دن ہے۔
    وہ بور سے انداز میں بولی۔
    جھنڈیاں لگانے کونسا ہماری حیثیت بدل جاتی تھی۔ رہتے ہم وہی اقلیت کے اقلیت تھے۔ پوری جھنڈے کا چھوٹا سا حصہ۔ جتنا کھل کے یہاں پھر رہے رات کے دس بج رہے کسی کو جوابدہ نہیں ہم یہاں وہاں آزادی سے اتنی رات کو کسی پبلک پلیس پر گھوم سکتے تھے ہم پاکستان میں ؟
    ایڈون میں اتنی تلخی پاکستان کیلیے پاکستان میں رہتے بھی تھی یا اب اچانک پیدا ہوئی تھی وہ درست اندازہ نہ لگا سکی۔ الجھن بھرے انداز میں پوچھنے لگی
    تمہیں کوریا پاکستان سے ذیادہ پسند ہے؟
    اب میں اس وقت کوریا پاکستان کے موازنے کے موڈ میں نہیں ہوں مگر اتنا کہوں گا پاکستان میں بےجا پابندیاں ہمیں اقلیت ہونے کی وجہ سے سہنی پڑتی ہیں وہ ملک مسلمانوں کیلئے ہی ہے بس۔
    ایڈون نے ہاتھ جھاڑے۔۔۔
    خیر۔۔۔میں بہت تھک گیا ہوں۔ جاب اسکے بعد اکیڈمی اس وقت دل کررہا تھا بس بستر ہو اور میں سوجائوں۔ ہنگل کے سبق روز کے روز ملتے ان مشقوں کو دہرانا اور یاد کرنا پڑتا ہے۔ آج تو وقت نہیں ملنا مجھے۔۔ اسی لیئے یہاں آنے سے منع کر رہا تھا۔
    وہ سرسری سے انداز میں بتا رہا تھا۔ تھکن اسکے انداز سے واضح تھی۔
    مگر تمہیں میری فرمائش پر یہاں آنا پڑگیا۔
    وہ فورا چڑی تھی۔ ایڈون ہونٹ بھینچ کر رخ موڑ گیا۔ اسکی یہ حرکت اسے مزید غصہ دلا گئ۔ وہ پھٹ سی پڑی۔
    کوئی اندازہ ہے تمہیں میں نے سارا دن کیسے گزارا ایک تنگ کوٹھری میں بند۔ بھوک سے آنتیں پلٹ رہی تھیں میری۔ مگر گھٹن کا احساس سب پر حاوی تھا۔ مجھے لگ رہا تھا ساری دیواریں مجھ پر آن گریں گی۔ مجھ سے ایک گھنٹہ اس گوشی وون میں گزارنا مشکل ہے کجا وہاں رہناسانس نہیں آرہی تھی مجھے ۔
    ایڈون یونہی رخ موڑے کھڑا تھا اس نے آگے بڑھ کر اسے کندھے سے پکڑ کر اپنی جانب موڑا۔
    ۔ ایک بات تو بتائو بابا اتنے پیسے بھیج رہے ہیں کہ فلیٹ لیا جاسکے مگر تم منع کیئے چلے جا رہے ہو۔
    اتنا دشوار ہے تمہارے لیئے ایک کمرے کا فلیٹ ارینج کرنا؟ یا تم مجھ سے اتنے عاجز ہو کہ میرے ساتھ رہنا گوارا ہی نہیں ہے۔۔
    مجھ میں اس وقت تم سے لڑنے کی بھی ہمت نہیں ہے سنتھیا۔
    وہ عاجز سا ہو کر بولا۔
    تمہیں احساس کیوں نہیں ہو رہا کہ میں گوشی وون میں نہیں رہ سکتی۔
    وہ بے بسی سے رو پڑی۔ اسے کوئی سخت سا جواب دیتے دیتے رہ گیا ایڈون۔
    میں کچھ پیسے بچانا چاہ رہا تھا۔۔ تم نے فیصلہ کرنا ہے اس بچے کیلئے۔ اگر اس معاملے کو ختم کرنا ہو تو بھی اور اگر تم اسکو ۔۔ وہ بولتے بولتے رک گیا۔ پھر دھیرے سے اسکے کندھے تھام کر اپنے مقابل کرلیا۔ سنتھیا نے آنسوئوں بھری نگاہیں ا س پر جما دیں۔
    ہمیں اسکی پرورش کیلیے بھی پیسے چاہیئے ہوں گے۔ ہم اپنے والدین سے پیسے نہیں مانگ سکتے اس سب کیلئے۔۔۔ تم نے کیا سوچا ہے ؟ کیا کرنا۔
    میرا فیصلہ؟ وہ چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگی۔
    ہاں۔ ایڈون نے تھوک نگلا۔
    تم جو بھئ فیصلہ کروگی مجھے منظور ہوگا۔ اگر تم چاہتی ہو ہم اپنے والدین کو اعتماد میں لے کر یہاں شادی کر لیں تو بھی اور اگر تم چاہو تو ہم اس معاملے کو خاموشی سے ختم کر لیں گے۔
    سنتھیا نے لمحہ بھر سوچا۔
    میں اس بچے کو پیدا کرنا چاہتی ہوں۔
    ایڈون کو لگا کہ پورا سیول لمحہ بھر کیلئے تھم گیا تھا اسکے لیئے۔۔۔۔
    …………………………….
    وہ اسے اپارٹمنٹ کے باہر چھوڑ کر گیا تھا۔ اس نے کہا بھئ کوئی بات نہیں میں چلی جائوں گی۔۔ مگر وہ اسے چھوڑنے اوپر تک آیا تھا۔۔
    گوارا ابھی گھر نہیں لوٹی تھی۔۔ وہ کمرے میں آئی تو ہوپ بیڈ پر بے خبر سو رہی تھی۔۔اس کے پائوں کے زخم پر پپڑی آچکی تھئ مگر اتنی خشک کہ لگتا تھا ابھی خون چھلک پڑے گا۔ اس نے لمحہ بھر سوچا۔ گوارا کے پاس چوٹ پر لگانے والی دوا پڑی تو تھی ۔ اس نے اٹھا کر احتیاط سے ٹیوب سے اسکے زخم پر دوا لگا دی تھی۔ ہوپ ذرا سا کسمسائی وہ فورا پیچھے ہٹی۔کچھ بعید نا تھا کہ یوں دوا لگانے پر لات ہی مار دے۔ اس نے اسکے دوبارہ گہری نیند میں جانے کا انتظار کیا اور ایک رومال لاکر اسکے پائوں کے نیچے بچھا دیا۔ سب کاروائی کرکے فریش ہونے باتھ روم گھس گئ۔ نہا دھو کر تازہ دم ہو کر نکلی تو تھکن سے براحال تھا۔ گوارا کا انتظار کرنے کی بجائے وہ آکر لیٹ گئ۔۔ اب بلاگ اپڈیٹ کرنے کی باری تھی۔۔
    زندگی میں پہلی بار کوئی کھیل کھیلا اور انعام بھی جیتا ہے۔ اس نے یہی عنوان دیا۔۔
    اور اس گڈے کی سب تصویریں لگا دیں۔
    کمنٹ آرہے تھے اس نے کھولا
    پہلا کمنٹ : آج کے دن کے حوالے سے تو کچھ پوسٹ کرتیں تم
    دوسرا کمنٹ: انعام یہ ہے تو کھیل بھی کوئی گھٹیا سا ہوگا
    تیسرا کمنٹ: پاکستانی ہو کر اتنی محنت کی۔ اندر تار ڈال کر نکال لینا تھا۔
    چوتھا کمنٹ : اس مشین پر ایک پتھر مارتیں ایک گڈے کی بجائے سب مل جاتے دکان کھول لیتیں اپنی تم
    پانچوان کمنٹ: بارش شروع ۔ چودہ اگست ہو اور بارش نہ ہو نا ممکن۔
    چھٹا اسی کمنٹ کا جواب کھول کھول کر سب پوچھ رہے تھے کس شہر کی بات کر رہے کہاں ہو رہی ہے بارش۔
    اور ہایون پیغام بھیج کر پوچھ رہا تھا
    کونسا گانا تھا جو وہاں چل رہا تھا سن کے مزے کا لگا تھا۔
    اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ ۔ جھٹ گانا یوٹیوب پر ڈھونڈ کر اسے لنک بھیجا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہیون کو اسکے اتنی جلدی جواب بھیجنے کی توقع نہیں تھئ۔۔
    جلدی جواب دینے والے بھی نعمت دوست ہوتے۔۔ اس نے سوچا۔۔ اسکا بھیجا گانا لگانے لگا پھر خیال آیا۔
    یاہ آئی ایم آلاییو۔۔ مورم اسکول کا او ایس ٹی ۔۔ وہ یہی گانا سن رہا تھا یہی اسے بھی بھیج دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پیغام۔کی گھنٹی بجی۔۔
    اس نے کھول کر دیکھا تو کوئی لنک تھا
    اس نے فورا کھولا جیسے ہی موسیقی کی آواز بلند ہوئی ڈر کر بند کر دیا۔ ہوپ بے خبر سو رہی تھی۔۔ اس نے اٹھ کر سائڈ ٹیبل سے ہنڈز فری نکال کر کانوں میں ٹھونس لی پھر دوبارہ چلایا۔۔
    چند لمحے سن کر وہ لب ہلانے لگی
    یاہ آئی ایم آل رائٹ۔۔ آگے کچھ اور ہی زبان تھی۔۔۔ سمجھ نہیں آرہا تھا مگر سننے میں اچھا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔

    Kesi lagi apko Salam Korea ki aaj ki qist ? Rate us below

    Rating

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
    کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
    آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
    دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
    پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔

  • Salam Korea Episode 23

    Salam Korea
    by vaiza zaidi

    قسط 23
    ڈیڈا مجھے پیسے چاہیئیں نا۔۔
    وہ چڑ کر بولی تھی۔
    وہی تو پوچھ رہا ہوں بیٹا کیوں ؟ ایڈون کو میں اچھے خاصے پیسے بھجوا چکا ہوں تم اس سے لو نا۔
    ڈیڈا کے جواب پر وہ غصے میں بھر گئ۔
    میں آپکی بیٹی ہوں ایڈون نہیں۔ اسے کیوں بھجوائے ہیں۔۔مجھے پیسے چاہیئیں ہیں میں اب کیا ایڈون سے مانگتی پھروں گی؟
    ہاں تو کیا حرج ہے۔ اسکے برعکس وہ رسان سے بولے۔
    ایڈون بتا رہا تھا کہ اسکالر شپ ختم ہو گئ ہے تو میں نے اگلے سمسٹر کے بلکہ اگلے دو سمسٹر کے پیسے تمہارے اورایڈون دونوں کیلئے بھجوائے ہیں اور جیب خرچ بھی بھیجا ہے۔ ایڈون سے پوچھو تو سہئ۔
    اسکے لیئے یہ انکشاف نیا تھا۔
    ایڈون کو آپ نے ۔۔ وہ حیرت کے مارے جملہ بھی پورا نہ کرسکی۔
    ہاں بیٹا۔ اور سنو میں چاہتا ہوں تم اپنی ڈگری مکمل کرو۔۔ بس پڑھائی پر دھیان دو۔ اریزہ کے ساتھ مل کر کوئی فلیٹ لے لو ایڈون کو کہا ہے کوئی فلیٹ ڈھونڈے ۔ تم لوگوں کیلئے۔ بس تم دونوں اکٹھی رہنا مزید کسی کو ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں۔ ٹھیک ہے۔ اور مزید جتنے پیسے چاہیئئے ہوں بتا دینا میں بھجوا دوں گا۔ اچھا ابھئ میری ایک اہم میٹنگ ہے۔۔
    بولتے بولتے انکی نگاہ کلائی میں پہنی گھڑئ پر پڑی تو ایکدم عجلت میں بولے
    ڈیڈا۔ ڈیڈا پلیز مزید پیسے مجھے ڈائریکٹ بھجوائیں مجھے ایڈون سے لینا اچھا نہیں لگتا۔
    اس نے جلدی سے ٹوکا۔
    اچھا اچھا۔ دیکھتے ہیں۔۔ اچھا بیٹا اپنا خیال رکھنا خدا حافظ۔
    وہ جلدی میں تھے جبھئ ٹالنے والے انداز میں ہی بولے اور فون رکھ دیا۔
    وہ اپنے موبائل کو دیکھ کر رہ گئ۔
    اسکا ذہن بری طرح الجھ رہا تھا۔ ایڈون کے پاس اتنے پیسے تھے کہ وہ آرام سے فلیٹ لیکر رہ سکتے تھے پھر بھی۔۔
    اسکی سوچ اس بات پر آکر اٹک سی گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شاہزیب اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔ اتنی حیرانی سے کہ وہ شرمندہ سا ہو کر سر جھکا گیا۔
    مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ ہے۔ وہ بمشکل اتنا ہی کہہ سکا۔۔
    شاہزیب کے ماتھے پر شکنیں سی پڑ گئیں۔
    اب مسلئہ یہ ہے کہ پیسے میرے پاس بس اتنے ہیں کہ میں ابارشن کا خرچہ کر سکتا ہوں مگر اسکے بعد بھی فوری طور پر اسے پاکستان نہیں بھیجا جا سکتا۔ میں یہاں گوشی وون میں رہ رہا ہوں اسکو کہاں رکھوں گا۔۔ بہت مشکل میں ہوں میں یار۔
    وہ دونوں ہاتھوں میں سر دیئے بیٹھا تھا۔ پریشانی اسکی شکل سے ہویدا تھی۔ مگر اس پر رتی برابر بھی شاہزیب کوترس نہ آیا۔ دل کر رہا تھا اس وقت اسکی اتنی ٹھکائی کرے کہ دماغ ٹھکانے پر آجائے۔
    وہ دونوں اس وقت ہاسٹل کے احاطے میں لگے باغیچے میں بنچ پر بیٹھے تھے۔
    کچھ تو بول ۔۔ گالیاں ہی دے دے۔
    اپنے ذہن کی الجھی سوچوں سے گھبرا کر اس نے کہا تھا۔ شاہزیب اسکی پوری بات سن کر بالکل چپ رہ گیا تھا۔ ایک لفظ نہ بولا تھا۔ کچھ کہہ سن لیتا تو شائد اس وقت اسکی جو ذہنی کیفیئت تھی کہ دل کر رہا تھا یہیں گڑ مر جائے تو شائد اسی میں کچھ افاقہ ہوجاتا۔ شاہزیب کی خاموشی تو جیسے سنگسار کر رہی تھی۔
    شاہزیب اسے دیکھ کر رہ گیا۔
    سنتھیا اتنا کوئی ناقابل عمل حل نہیں بتا رہی۔ تم دونوں با شعور ہو۔ بجائے اسکے کہ اتنے کھڑاگ میں پڑو ایک فلیٹ لو اکٹھے رہو یہاں کسی چرچ میں شادی کرلو گھر میں بتا دینا کہ اکٹھے رہنا تھا اسلیئے ایسا کرنا پڑا۔
    شاہزیب بہت سنبھل سنبھل کر بولا تھا۔ ایڈون اسے گھور کر رہ گیا۔
    شادی رچا لوں ؟ گھر والوں کو کیا بتائوں ؟ کہ اب مجھ سے ٹکے کی امید نہ رکھیں میں یہاں شادی کر چکا ہوں اسکو چلانے کیلئے جو بھی چھوٹی موٹی نوکری ملے گی کروں گا بھاڑ میں گئ پڑھائی میری بھاڑ میں گیا کیرئر اب مجھے اپنے بیوی بچے پالنے ہیں بس۔
    وہ اتنا جھلا کر بولا تھا کہ شاہزیب اسکی شکل دیکھنے لگا۔
    یہ سب کرنے سے پہلے سوچنا تھا۔
    اسکا دل چاہا کہہ دے مگر بچپن کی دوستی کا لحاظ کر گیا۔
    عجیب مصیبت میں پھنس گیا ہوں میں۔ الٹا ایک وہ سنتھیاہے۔ نا اپنی عزت کا خیال ہے نا میری۔ بچہ پالنا چاہتی ہے۔ اس کی امیر زندگئ کی وہ فینٹیسی ہے بس کہ بچہ ہمارے پیار کی نشانی ہے ۔ اس بچے کی پیدائش پر جو سوال اٹھیں گے اس کی طرف دھیان نہیں جا رہا اسکا۔ بس شادی شادی کی رٹنی
    بل شٹ۔
    وہ سوجو کے گھونٹ بھر رہا تھا۔ بوتل کیاری میں پھینکتا جیبوں میں ہاتھ ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
    اسکو ابارشن کیلئے الگ منانا ہے۔ سمجھ نہیں آرہی اسے میری ایک بھی بات۔ ایک دل تو کر رہا سیدھا پاکستان بھجوا دوں وہاں جا کر اپنے ماں باپ کو فیس کرے گی نا تو ساری فینٹسی ناک کے راستے نکل جائے گی خود ابارشن پر راضی ہو جائے گی جب احساس ہوگا یہ بچہ نہیں مصیبت گلے پڑ گئ ہے۔
    اریزہ کو پتہ ہے؟ ۔۔۔۔۔ شاہزیب کو خیال آیا۔
    پتہ نہیں۔یار۔ وہ ویسے بھی گوارا کے گھر گئ ہوئی ہے۔ اس سے بھی سنتھیا لڑ کر بیٹھی ہے۔ ہر کسی سے تو لڑ رہی ہے۔ عجیب بدمزاج ہوئی وی ہے۔
    وہ۔بیزاری سے منہ بنا کر بتا رہا تھا۔
    پھر بھی۔ اریزہ اسکی بچپن کی دوست ہے۔ ایسے دوستی تھوڑی ختم ہو جاتی ذراسئ لڑائی سے۔ تم اریزہ سے بات کرلو۔ وہ سنتھیا کو سمجھا سکتی ہے۔
    شاہزیب کی بات میں وزن تھا۔ ایڈون نفی میں سرہلاتے کچھ کہتے کہتے رک سا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سالک نے اپنا سارا سامان سمیٹ لیا تھا۔ ایڈون کمرے میں داخل ہوا تھا تو اسکا حصہ ایکدم خالی سا محسوس ہوا۔
    تم لوگ جلد بازی کر رہے ہو میں پھر کہوں گا۔
    یون بن اور سالک بحث میں الجھے تھے۔
    کوریا کا تعلیمی نظام ایشیا ء کا سب سے بہترین تعلیمی۔نظام ہے۔ ہمارے یہاں تو امریکہ تک سے لوگ پڑھنے آتے ہیں۔ جنوبی ایشائی ممالک کیلئے تو کوریا میں اتنی اسکالر شپس آتی ہیں لوگ یہاں سے تعلیم حاصل کرکے اپنا کیئریر بنا لیتے ہیں۔ چند مہینوں کی تو بات ہے بس۔
    یون بن سمجھا رہا تھا۔ سالک اپنے کپڑے سوٹ کیس میں رکھ کر اسے بند کرتا سیدھا ہوا
    او بھائئ ہم یہاں صفر سے اپنی ڈگری شروع کریں ایسی اسکالر شپ کا انتظار کریں جو ملے نہ ملے چانس کی بات ہے کم ازکم اپنی یونی واپس جائوں گا تو اسی سمسٹر کا امتحان تو دے سکوں گا نہیں تو پچھلے دو سال کے جی پی اے کی بنیاد پر اگلے سمسٹر سے ریگولر ہوجائوں گا۔
    بائیس سال کا ہو رہا ہوں اسی طرح گریجوایشن میں پھنسا رہوں گا تو کب نوکری کروں گا کب گھر کا خرچہ اٹھانے کے قابل ہوئوں گا۔
    سالک نے تفصیل سے بتایا تووہ الٹا حیران ہو گیا۔
    تم کیوں اٹھائو گے؟ تمہارے والدین بہن بھائی کچھ نہیں کرتے؟
    سالک گہری سانس لیکر رہ گیا۔
    ہم پاکستانی ہیں۔ ایک کماتا ہے دس بیٹھ کر صرف کھاتے ہیں۔
    ایڈون نے انکی بات اچک لی تھی۔ اردو میں بولا سالک گھور کر رہ گیا
    مگر وہ ایک کمانے والا اپنی اولادوں کی پڑھائی کا سب خرچ خود اٹھاتا بھئ ہے تو اولاد کا فرض بنتا ہے سود سمیت اپنے والدین کا احسان اتارنا۔ میں اتنا خود غرض نہیں بن سکتا کہ یہاں نئے سرے سے تعلیمی سلسلہ شروع کروں اور انکو دو کی بجائے چار سال مزید انتظار کروائوں۔۔
    سالک کی بات پر ایڈون کے چہرے پر سایہ سا لہرا گیا۔ اس نے تو یونہی بات کی تھی اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا مگر ایڈون کو لگا جیسے اسکے الفاظ اس پر کوڑے کی طرح برس اٹھے ہوں۔۔
    تم آنا کبھی پاکستان پورا پنجاب گھمائوں گا اور کشمیر وغیرہ بھی بہت خوبصورت وادیاں ہیں پاکستان میں منی سوئٹزر لینڈ ہے ہمارا پاکستان۔
    سالک خوش دلی سے یون بن کو دعوت دے رہا تھا
    عجیب بات ہےکبھئ سنا نہیں ایسا۔۔ یون بن کندھے اچکا کر بولا
    چلو تم لوگ اب دو تین دن کے ہی مہمان رہ گئے ہو تو کم از کم سونا تو دیکھ لو ہمارا۔ کل چلتے ہیں سونا خوب مزے کریں گے۔
    یون بن نے اتنے اشتیاق سے کہا تھا کہ وہ انکار نہ کرسکا۔
    ٹھیک ہے کل چلیں گے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تصویر کھنچ گئ تھی گردہ تھوڑی چوری کر لیا تھا میں۔نے۔۔
    اریزہ سخت خفا تھی۔۔بڑ بڑاتے ہوئے چیزیں سمیٹ رہی تھی۔۔ وہ اور گوارا اسکے کمرے میں سامان سمیٹنے آئی تھیں۔۔
    گوارا تو آرام سے سنتھیا کے بیڈ پر پائوں پھیلا کر لیٹ گئ اور موبائل استعمال کرنے لگی اریزہ البتہ اوپر چڑھ گئ تھی۔۔ اسکا لیپ ٹاپ تک یہیں تھا کپڑے ودیگر سامان پر گرد کی تہہ جم رہی تھی۔۔ اسکو بے ساختہ وہ پہلا دن یاد آیا جب وہ اور سنتھیا اس کمرے میں آکر خوشی سے اچھل پڑی تھیں۔ اور گوارا نے ناک چڑھا کر جانے کیا تبصرہ مارا تھا انکے منہ پر۔۔
    اسکے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔۔
    تمہیں پتہ ہے بریو ہارٹ کا لیڈ سنگر تھا وہ جو ہمارے ساتھ جہاز میں بیٹھ کر آیا تھا تبھی تو اسکے استقبال کیلئے اتنے رپورٹر جمع تھے ائر پورٹ پر۔۔
    وہ اوپر گرل سے جھانک کر بڑے شوق سے سنتھیا کو بتا رہی تھی۔۔ سنتھیآ بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی نیل پالش لگاتے بے نیازی سے بولی
    ہوگا سنگر اپنے لیئے ہمارے لیئے تو عام سا چینی تھا ہم کیا جانیں اسے
    کورین۔۔ چینی نہیں ہے وہ بے چارہ۔۔ اریزہ ہنسی
    کیا فرق ہے دونوں کی آنکھیں کھلتی نہیں چاہے چینی ہو یا کورین۔۔ میرئ لیئے تو بڑی آنکھوں والا سلونا سا لڑکا کافی ہے اسکے سوا کسی کو نہیں دیکھنا مجھے۔۔
    وہ ادا سے کہتی لہرائی
    یاک ۔۔ اریزہ نے بے ساختہ الٹی کرنے والے انداز میں ناک چڑھا کر کہا تھا۔۔ زہر لگتی ہو ایسے کہتی
    ہائے بس ایڈون کو پیاری لگوں میں بس باقی دنیا کی خیر ہے۔۔
    وہ لہرا کر بستر پر گر ہی گئ۔۔
    ہاں جی اب ہم کہاں نظر آئیں گے تم پریمیوں کو۔۔
    اریزہ نے آہ بھری
    تم تو نظر آرہی ہو اور بہت ذیادہ نظر آرہی ہو وہ بھی اسکو جسکی آنکھیں نظر نہیں آتیں۔۔ سنتھیا نے چسکے لینے والے انداز میں کہا تو اریزہ نے چونک کر گرل کے دونوں راڈوں کے درمیان سے گردن باہر نکال کر نیچے جھانکا۔۔
    کون ؟ کسے ؟؟
    ہیون کو اور کسے۔۔ ہیون اب اریزسک ہورہا ہے ۔۔۔ خود ہی بتا رہی تھیں اپنی بہن تک سے ملوایا کھانے کھلائے او راس انگریزنی سے بھی لڑا تمہارے لیئے دال میں کچھ کالا تو ہے۔۔
    سنتھیا کھلکھلائی تو اریزہ منہ کھولے سنتی رہ گئ۔
    ارے ارے کیا بکے جا رہی ہو۔۔ اس نے غصے سے جلدی سے مڑ کر اپنے بیڈ سے تکیہ اٹھا کر مارنا چاہا مگر گردن پھنس گئ۔۔
    ہائے اوئی۔۔ اسکی آہ و فغاں اتنی بلند تھی کہ سنتھیا گھبرا کر بیڈ پر کھڑئ ہوگئ اسکی صرف گردن باہر تھی باقی جسم بیڈ پر اتنی مضحکہ خیز لگ رہی تھی کہ سنتھیا کی ہنسی چھوٹ گئ
    ہنسو مت اوپر آکر میری گردن چھڑائو۔۔ اریزہ بلبلائی تو وہ بمشکل ہنسی روکتی اوپر بھاگی آئی جیسے ہی قریب آکر اریزہ کو چھڑانا چاہا اریزہ نے سہولت سے گردن باہر نکال کر اسے گردن سے پکڑ کر بیڈ پر گرلیا۔۔ دونوں کی ہنستے ہنستے تکیوں سے لڑائی ہوئی پھر دونوں ہی اکثر شرارت سے گردن وہاں سے لٹکا کر لیٹ کر ہنستی رہی تھیں۔۔
    ہوگیا ؟ گوارا نے اوپر آکر پوچھا تووہ جو بے خیالی میں ویسے ہی گردن پھنسائے لیٹی تھی اٹھ بیٹھی۔۔۔ اسکا سوٹ کیس بھر چکا تھا لیپ ٹاپ اور دیگر چھوٹا موٹا سامان اس نے سمیٹ کر رکھ لیا تھا۔۔
    ہاں بس کپڑے سمیٹ لیئے میں نے۔ اور۔۔ اسے خیال آیا تو کیبنٹ کھول کر دیکھنے لگی ۔۔ اسکے ذخیرہ کیئے گئے بسکٹ چپس پاپ کارن ویفرز سب وہیں ان چھوئے موجود تھے۔۔۔ وہ گہری سانس بھر کر انہیں بھی نکالنے لگی۔۔
    نیچے تو تمہاری سہیلی نے سب سمیٹ لیا ہے ۔کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ کہاں گئ ہے رہنے ؟۔۔
    گوارا اسکے بیڈ پر اوندھئ لیٹی گرل سے گردن نکالے نیچے جھانک رہی تھی۔۔
    پتہ نہیں۔۔ اس نے باقی چیزیں سوٹ کیس میں رکھ کر اسے بند کیا پھر ایک بڑا سا ویفر کا پیکٹ کھولتی گوارا کے برابر اسی کے انداز میں لیٹ گئ۔۔ گردن اور ہاتھ گرل سے باہر نکال کر اسے ویفر آفر کیا جسے جوابا اس نے بھی گرل سے ہاتھ نکال۔کر قبول لیا۔۔
    تمہاری اسکی دوستی اتنی پکی ہوتی تھی کہ میں اور جی ہائے رشک کرتے تھے۔ ہمیشہ اکٹھے کھاتی پیتی تھیں اتنا وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ نظر نہیں آتی تھی جتنا تمہارے ساتھ۔۔تبھی تو ہیون گے سمجھا تھا تم لوگوں کو۔۔
    مت یاد کرائو مجھے۔۔ اریزہ نے منہ بنایا تو گوارا کھلکھلا کر ہنس دی۔۔
    پتہ ہے ہم دونوں تمہارےاور یون بن کے رشتے پر رشک کرتے تھے۔ایسا خونخوار اور سر پر سوار ہونے والے رویئے کے باوجود وہ کیسا تمہارے آگے پیچھے پھرتا تھا اف رشک آتا تھا۔۔ سنتھیا کی تو تم دونوں کے پیچھے ایڈون سے لڑائی بھی ہوئی کہ تم تو میرا اتنا خیال نہیں رکھتے۔۔ وہ ہنس کر بتا رہی تھی گوارا کی مسکراہٹ دھیمی پڑ گئ
    میں واقعی ڈومینیٹنگ تھی اس رشتے میں۔ اس نے سنجیدگی سے پوچھا تو جوابا اریزہ نے ویفر سے بھرے منہ کے ساتھ زور و شور سے سر اثبات میں ہلایا۔۔
    گوارا ہلکا سا ہنسی۔۔
    چلو یعنی اب وہ کھل کر سانس لے سکتا ہے۔ میرے بعد۔
    مطلب۔۔ اریزہ نے چونک کر دیکھا۔۔
    مطلب ہم دونوں نے رشتہ ختم کر لیا ہے۔۔ گوارا نے بہت آرام سے بتایا۔۔ اریزہ چیخ پڑی سر گرل سے لگا۔۔
    آرام سے۔۔ گوارا نے اسکا ماتھا سہلایا
    کیوں؟؟؟؟؟ کیوں کیا بریک اپ ؟ تم دونوں ساتھ اتنے جچتے تھے۔۔
    اریزہ کو واقعی دکھ ہوا
    اچھا۔۔ گواراکا انداز محظوظانہ تھا۔۔
    اسے لگتا تھا میں اسکے حواسوں پر سوار ہونے کی کوشش کرتی ہوں اور مجھے لگتا تھا وہ مجھ سے چھوٹتا جا رہا ہے اسے تھام کر رکھتے رکھتے تھکنے لگی تھی میں۔۔
    تم محبت نہیں کرتی تھیں اس سے۔۔
    اسکے اطمینان بھرے انداز نے اریزہ کو بہت حیران کیا تھا
    محبت مجھےتو لگتا تھا اسکے دور جانے سے میں مر ہی جائوں گی۔۔ گوارا کے لہجے میں دکھ چھلکا تھا
    پھر ؟؟؟ تم دونوں کی اگر لڑائی ہوئی ہےتو ہم صلح کرادیتے ہیں۔۔
    اریزہ کے کہنے پر گوارا نے بہت غور سے اسکی شکل۔دیکھی۔۔۔
    اسے جی ہائے کا ردعمل یاد آیا تھا جس نے ناک چڑھا کر۔کہا تھا۔۔
    دفع کرو۔کوریا میں لڑکے بھرے پڑے ہیں اس بار کسی اچھی ڈیٹنگ ویب سائٹ کو سرچ کر کے ڈھنگ کا لڑکا ڈھونڈنا۔۔
    اسکے دل پر کیا گزر رہی تھی اسکا اسے ادراک تک نہ ہوا تھا۔۔جبکہ اریزہ ٹھیک ٹھاک سنجیدہ اور پریشان تھی اسکے لیئے۔۔ دوستی یہی تو ہوتی ہے اپنا بن جانا اپنا سمجھنا۔۔
    ہیلو؟۔ اریزہ نے اسے چپ خود کو گھورتے دیکھ کر چٹکی بجا کر متوجہ کیا۔۔
    گوارا نے گہری سانس لی۔۔
    تمہیں پتہ ہے محبت ایسے ہی کسی گرل میں گردن پھنسانے جیسا ہے۔۔ ہمارا سر پھنسا ہوتا خود کو چھڑا نہیں پاتے لگتا ہے کبھئ گردن نکل نہیں پائے گی مگر۔
    ۔ اس نے کہتے کہتے رک کر احتیاط سے سر سکیڑ کر دونوں راڈوں کے درمیان سے گردن نکالی۔۔
    یہ ہمارا گمان ہوتا ہے ۔ہم اپنی گردن آرام سے نکال۔سکتے ہیں۔۔ ایسے۔۔
    وہ سیدھی ہو کر بیٹھ کر ہنسنے لگی۔۔
    ارے۔۔ اریزہ جو بے دھیانی میں گردن موڑے اسے دیکھ رہی تھی بھول گئ کہ کہاں گردن پھنسائی ہوئی ہے ایکدم سے مڑنے سے زور کا جھٹکا لگا۔۔
    آہ۔۔ وہ تڑپ کر وہیں سر گرا گئ۔۔
    کیا ہوا۔۔ گوارا فورا اسکی گردن چھڑانے آئی۔۔
    کبھی کبھئ گردن نکالنا مشکل بھی تو ہو جاتا ہے۔۔
    اریزہ نے منہ بسورا ۔۔گوارا زور سے ہنس پڑی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایڈون کے ساتھ اسی گوشی وون کی عمارت میں داخل ہوتے اسکے قدم من من بھر کے ہو چلے۔ تنگ سی راہداری آج بھی خالی تھی۔اسکا بڑا سا اٹیچی گھسیٹتا اور چھوٹا بیگ کندھے پر لٹکائے ایڈون اس سے چند قدم آگے ہو کر ایک کمرے کا دروازہ کھول کر اند رداخل ہو بھی گیا وہ ابھی اس طویل نیم تاریک راہداری کے آغاز میں ہی کھڑی تھی۔ ایڈون نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بھناتا ہوا کمرے کے دروازے سے سر نکال کر بولا۔
    آئو بھی وہاں کیوں رک گئیں۔۔
    اسکا سخت لہجہ وہ فورا تیز تیز قدم اٹھاتی چلی آئی۔
    وہی چھوٹا سا اسٹور نما کمرہ جس پر بس ایک بنچ نما بیڈ تھا سامنے رائٹنگ ٹیبل کے نام پر دیوار گیر الماری کا ہی ایک سرا تھا ایک چھوٹی سی کھڑکی اور بس ۔
    یہ تمہارا کمرہ تو نہیں ہے۔ اس نے دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا۔
    ایڈون کا کمرہ اتنا خالی نہ تھا۔ اس کمرے میں سوائے بستر تکیئے سب خالی تھا۔
    ہاں تو یہ میں نے کب کہا کہ میرا کمرہ ہے۔ ایڈون اسکا اٹیچی دیوار کی طرف کرکے کمرے کا دروازہ بند کرنے لگا۔۔ میرا کمرہ نمبر 25 ہے تمہارا 17 سب سے قریب ترین یہی کمرہ خالی تھا۔ میں نے کوشش کی کہ اپنے کمرے کے قریب والے کسی کمرے کے مکین کو منا لوں مگر یہاں ذیادہ تر لوگ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں منہ پر دروازہ بند کیا سب نے میرا بس یہ ایک کورین لڑکی جو اس کمرے میں رہتی تھی وہ اتفاق سے کہیں اور منتقل ہو رہی تھی سو یہ کمرہ مل گیا ورنہ اوپر کسی فلور۔۔
    وہ تفصیلا بتاتا بیڈ پر گر سا گیا۔ اسکا بھاری اٹیچی اٹھانا آسان کام نہ تھا۔
    میرا دم گھٹ رہا ہے۔ یہاں تو مجھے سانس بھی نہیں آرہی۔
    سنتھیا نے بے تابی سے اسکی بات کاٹی۔۔ اسکا چہرہ پسینے میں تر ہو چکا تھا۔ کمرے کا دروازہ بند ہونے اور ایک باتھ روم جتنی تنگ سی جگہ میں دو نفوس کی موجودگی اس کی حالت واقعی خراب ہونے لگی تھی۔ ایڈون سرعت سے اٹھا۔ کمرے کی اکلوتی کھڑکی کے پٹ کھولے۔
    میں یہاں ایگزاسٹ فین لگوادیتا ہوں۔۔
    وہ کہتے ہوئے مڑا تو سنتھیا دروازہ پورا کھول کر راہداری میں منہ نکال کر گہری سانس لے رہی تھی۔
    کھول تو دی ہے کھڑکی ادھر آکر بیٹھو۔ ایڈون اسکا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بٹھانا چاہتا تھا مگر اس نے جھٹک دیا۔
    یہ یہ سرنگ۔۔ تمہارا کمرہ پھر راہداری کے شروع میں ہے یہاں تو کوئی ہوا کا گزر بھئ نہیں ہے اتنی سی کھڑکی۔ میرا باتھ روم اس سے بڑا ہوتا تھا۔۔
    سنتھیا کی سانس ابھی بحال ہوئی تھی جبھئ الٹ ہی تو پڑی۔
    مانا عجیب لگتا ہے اتنی چھوٹی جگہ میں رہنا مگر بس ایک دو دن پھر عادت ہو جائے گی۔
    ایڈون نے سبھائو سےسمجھانا چاہا۔
    مجھے عادت نہیں ہو سکتی۔ اس کمرے میں بدبو ہے گھٹن ہے اور یہ جگہ۔ میں یہاں بالکل نہیں رہ سکتی ۔ وہ نفی میں سر ہلاتی کمرے سےباہر نکل آئی۔
    ایڈون ہونٹ بھینچ کر دروازہ برابر کرتا اسکے پیچھے چلا آیا۔وہ تیز قدم اٹھاتئ کمپائونڈ سے بھی باہر آکر لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔
    ایڈون نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اسکے پاس آنے کی بجائے سیدھا سڑک پار کرکے اسٹور میں گھس گیا۔
    وہ حیرت سے اسے دیکھتی کمپائونڈ کے باہر بنے گرین ایریا کی کیاری پر ٹک گئ۔
    چند لمحوں بعد اسکے سامنے منرل واٹر کی بوتل لہرائی تھی۔ اس نے بلا توقف ڈھکن کھول کر بوتل منہ سے لگا لی او رغٹا غٹ چڑھا تی چلی گئ۔
    یہاں کی زندگی اتنی آسان نہیں ہے۔ ہم جیسے طلباء اسی طرح کے گوشی وون یا ہاسٹل وغیرہ میں ہی گزارا کرتے ہیں۔
    ایڈون کا انداز نرم سا تھا۔
    اوپر سے تمہیں کیا لگتا ہم اکٹھے یہاں شادی کرکے رہ بھی لیں تو اس بچے کے سو خرچے ہوں گے تعلیم ہماری ادھوری ہے اسکے دودھ پیمپر وغیرہ کا خرچہ کہاں سے پورا کریں گے؟
    وہ بس اسے دیکھ کر رہ گئ۔
    تمہیں بچے بالکل پسند نہیں۔
    اس کے کہنے پر ایڈون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا
    یہ بات نہیں ہے۔ ابھی نہیں چاہیئے۔ابھی اور بہت کچھ کرنا ہے ابھی سے اس جھنجھٹ میں نہیں پڑ سکتا۔ او رتم خود تم اس وقت ایک بچہ پالنے کی پوزیشن میں ہو؟ سو کام ہوتے ہیں ماں کے۔ اپنی زندگئ اپنی نہیں رہتی بچے کے کھانے پینے ہر ضرورت کا خیال رکھنا پڑتا ہے ایکدم سے وہ پل نہیں جاتا اور اس بچے کو کیری کرنا۔ آٹھ نو مہینے بندھ کر اس بچے کو سینچ ۔۔۔
    بس کرو۔
    وہ جھلا کر ٹوک گئ۔ پانی کی وہ پوری بوتل خالی کرچکی تھی۔ اس وقت یہاں کا موسم بالکل بھی گرم نہیں تھا پاکستان کے مقابلے میں مگر اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ بھٹی میں بیٹھی ہے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ ایڈون مزید کچھ کہتا مگر اس وقت اسکی حالت واقعی قابل رحم تھی۔
    مجھے کسی ہوٹل کسی سونا میں چھوڑ دو۔ میں ابھی یہاں اس دڑبے میں رہنے کیلئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوں۔
    اس نے کہہ ہی دیا۔ ایڈون ہنکارہ بھرتا اٹھ کھڑا ہوا
    میں کسی قریبی ہوٹل کا پتہ کرتا ہوں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یون بن اور کم سن نے حقیقتا دوستی نبھا دی۔ انکو سیول کی خوب سیر کرائی۔ ٹرک آئی میوزیم لے گئے۔ جہاں مختلف نگاہوں کو دھوکا دینے والے سیٹ بنے تھے۔ سیدھے فرش پر کھڑے ہونے کے باوجود یوں لگ رہا تھا کہ وہ چھت سے الٹے لٹکے ہیں۔ ایک سیٹ میں عام سائز کی چھت بھی تصویر میں یوں دکھائی دیتی تھی جیسے وہ کسی چھوٹی نیچی چھت کے نیچے جھکے ہوئے کھڑے ہیں۔
    انکو کوریا کے عجائب خانے میں لے گئے جن میں لگے بتوں کو دیکھ کر سالک اور شاہزیب ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے
    یہ آٹھویں صدی کا بادشاہ تھا۔ کم سن تعارف کرا رہا تھا۔ ساتھ لمبا چوڑا نام بھی بتایا جو انہیں یاد نہ رہا مگر یہ یاد رہا کہ انکے بادشاہوں کے کرتوت بالکل بھی شریفانہ نہ تھے۔ تصاویر میں انکے دور کی جو خوبیاں لکھی تھیں اور جو منظر کشی تھئ دونوں کے چہرے لال ہوگئے۔
    آئو تمہاری تصویر لوں۔
    کم سن ایک بت کے ساتھ خاصی بے تکلفی سے کھڑا ہو کر تصویر بنوا رہا تھا اسکی تصویر لیتے ہوئے یون بن نے شاہزیب کو بھی دعوت دی۔
    نہیں بہت شکریہ میں یہاں فوارے کے ساتھ بنوا لوں گا۔ اس نے سہولت سے منع کردیا۔
    ۔ان برہنہ اسٹیچوز کے ساتھ تصویر بنا بھئ لیتا تو لگاتا کہاں دکھا کسے پاتا۔ الٹا جوتے الگ پڑتے۔
    سالک سر کھجا رہا تھا۔
    یار یہاں لڑکیاں بھی تو آتی ہوں گی انکو شرم نہیں آتی؟
    ان دونوں کے برعکس یون بن اور کم سن خاصے فخریہ انداز میں مسکرا کر تصاویر بنوا رہے تھے۔
    ہمارا ارادہ تم لوگوں کے ساتھ جیجو آئی لینڈ بھی جانے کا تھا سمسٹر بریک میں مگر موقع ہی نہیں رہا۔
    یون بن کو افسوس ہو رہا تھا۔
    کوئی نہیں میں پڑھ لکھ کر افسر بن کر تم لوگوں سے ملنے آئوں گا سیول۔
    سالک نے تسلی دی۔ ان سے ذیادہ خود کو۔ اس وقت تو لگ رہا تھا کہ جیسے دنیا کی سب منحوسیتیں ان سے جڑ گئ ہیں جبھئ پاکستان واپس جانا پڑ رہا ہے۔۔
    آپ لوگ آئیے گا نا پاکستان ہم آپکو پاکستان گھمائیں گے۔ وہاں بھی سب کچھ ہے سیول کی طرح
    شاہزیب نے خوش دلی سے دعوت دی۔
    سوجو ہے ؟
    کم سن نے گھونٹ بھر کر جتانے والے انداز میں پوچھا تھا۔
    سالک اور شاہزیب ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گئے۔
    یار انکو میں نے سونا دکھانا تھا انہوں نے سونا نہیں دیکھا ہوا۔
    یون بن کو خیال آیا تو کم سن فورا ہی تیار ہوگیا
    ایسی بات ہے تو چلو چلیں
    وہ سب ایک ساتھ سونا آئے تھے۔۔ وہاں کا نظام دیکھ کر انکی آنکھیں پھٹنے کو آگئی تھیں۔۔
    ایک قطار سےبنے ہوئے بھاپ والے کمرے نہانے کیلئے گرم حمام ۔۔ کم سن نے بے تکلفی سے کپڑے لٹکا کر ایک جانب لگے سلیب کا رخ کیا تو دونوں سٹپٹا کر سیدھا باہر نکل آئے۔۔
    اوئے آہستہ تولیہ نہ گرا لینا اپنی۔۔ کم سن انکی بوکھلاہٹ پر کھل کر ہنسا تھا۔۔
    ایک بند کمرے میں مختصر تولیہ میں لپٹ کر بھاپ کا غسل لینا۔
    کم سن اور یون بن تو آرام سے بنچ پر اچھی طرح ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر گئے ان دونوں کو پانچ منٹ میں گھبراہٹ ہونا شروع ہوگئ جب ایک ایک مسام سے پسینہ پھوٹ نکلا
    پینے کے لیئے بھاپ اڑاتا چنبیلی کا قہوہ ۔
    یار گرمئ ذیادہ ہے مجھے تو پسینے آگئے ہیں۔
    شاہزیب نے شکایت کی تو یون بن اطمینان سے چسکی لیکر بولا
    اسیلیئے تو یہاں آئے ہیں۔ جسم سے پسینہ بہہ نکلنے کا مطلب جسم سے فاسد مواد کا اخراج ہے۔ اس سے اندرونی تو جو صفائی ہوگی بیرونی طور پر بھی جلد ایسی کھل اٹھے گی کہ پاکستان جا کر بھئ یاد کروگے کہ سونا میں پسینہ بہا کر کتنے تازہ دم ہوئے تھے۔
    ہمیں اتنا پسینہ بہانے کیلیے سونا جانے کی ضرورت نہیں ہم دہی لینے بھی گھر سے نکلتے تو پسینے میں نہا کر واپس آتے ہیں۔
    شاہزیب نے ماتھے سے بہتی دھاریں انگلی سے جھٹکیں۔
    میں چھچھوندر چھچھوندر سا محسوس کر رہا ہوں۔
    سالک گھبرا کر اٹھ ہی گیا۔
    مجھے یہ قہوہ بچا لینا چاہیئے نہا کر جسم پر ملوں گا اتنے پسینے کے بعد صرف صابن مجھ سے دوسروں کو نہ بچا سکے گا۔
    شاہزیب نے قہوہ پینے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔
    میں نہیں مزید جیتے جی جہنم کے مزے لوٹ سکتا۔ سالک کمرے سے ہی نکل گیا۔ مگر الٹے قدموں ہی واپس ہوا۔
    وہ باہر وہ۔
    اسکے منہ سے گھبراہٹ کے مارے لفظ ہی نہ نکل پائے
    کیا ہوا۔
    اسکی گھبراہٹ پر یہ تینوں چونک کے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
    وہ باہر۔۔ باہر سب ۔۔۔ سب نہا رہے ہیں۔
    اٹک اٹک کر جب تک جملہ مکمل کر پایا تینوں جست لگا کر دروازے سے باہر جھانکنے پہنچ چکے تھے۔۔
    شاہزیب کی آنکھیں کھل سی گئیں۔۔
    گائوں میں دوست یار مل کر ٹیوب ویل پر جا کر خوب ادھم مچاتے تھے مگر ان کے ساتھ بھی یوں نہانے کا تصور نہیں تھا۔۔ وہ بھی بچپن کے لنگوٹیا یار تو پھر اکٹھے نیکر پہن کر نہا لیں یوں اچانک پرائے ملک میں انجان لوگوں میں نہانا۔۔
    اجتماعی غسل کیا جا رہا تھا باہر۔ چھوٹے چھوٹے حوض بنے تھے جن میں دو سے تین لوگ اکٹھے پانی میں بیٹھے چنبیلی کا قہوہ پی رہے تھے ان حوض کے باہر چھوٹے چھوٹے تھڑوں پر مختلف عمر کے بوڑھے بچے جوان بیٹھے ایک دوسرے کی پیٹھ مل رہے تھے۔ایک جانب شاور لگے تھے مگر شاور کے باہر کسی قسم کے پردے کا کوئی نظام نہ تھا۔
    ان کے باہر آتے ہی دو نوجوان گھس گئے تھے پانچ شاور تھے اکٹھے۔۔
    کم سن اور یون بن کو کچھ خاص نظر نہ آیا ایک تھڑےکی جانب بڑھتے ہوئے ان دونوں کو بھی ایک دوسرے کی پیٹھ ملنے کا مشورہ دے ڈالا۔
    ہم واپس کمرے میں چلیں ؟
    شاہزیب نے تھوک نگلا۔ سالک گھور کے رہ گیا۔ یہ دونوں ایک کونے میں بیٹھ کر رش کم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ کافی انتظار کے بعد پتہ لگا کہ یہ انتظار لا حاصل تھا۔
    پورا سیول شائد آج ہی یہاں نہانے آن پہنچا تھا۔
    یون بن کم سن نہا کر فارغ ہو آئے یہ دونوں ایک کونے میں بیٹھے رہے۔
    تم لوگ نہا لو ورنہ آج رات میرا اور یون بن کا سونا مشکل ہو جائے گا تم دونوں ہم دونوں کے ہی روم میٹ ہوتے ہو۔
    کم سن نےکہا۔۔
    میں ان سب کے سامنے نہیں نہا سکتا۔ ہاسٹل چلو وہاں چاہے برف والے پانی سے نہانا پڑے مجھے منظور ہے۔
    سالک نے صاف انکار کیا۔
    یون بن نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا پھر کندھے اچکا دیے
    ہم سے شرم آرہی ہے تو میں نہا چکا اب جتنے بھی لوگ ہیں انجان ہیں اندر۔۔ نہا ضرور لو ورنہ جتنا پسینہ نکال کے آئے ہو میں نے اپنے روم میں بنا نہائے تم دونوں کو گھسنے نہیں دینا۔۔
    یون بن کا انداز وارننگ دینے والا تھا۔۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر سر ہلاتے اندر گھس گئے۔۔
    پھر۔جتنی دیر شاور لیا چندی آنکھوں والوں کو آنکھیں پھاڑ کر گھورتے پایا۔۔
    قسم سے مجھے آج سے پہلے نہاتے ہوئے کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میں دیکھا جا رہا ہوں۔۔
    شاہزیب نے آنکھیں بند کر لیں۔
    میں تو جیسے خود پر ٹکٹ لگا کر اسٹیج پر نہانے کا عادی ہوں۔۔
    سالک نے دانت کچکچائے۔۔
    یہ تھا کہ پانی وافر تھا صابن شیمپو بھی جی بھر کر نہائے۔۔
    جب تولیہ لپیٹ کر باہر نکل رہے تھے تو پیچھے کوئی ہنگل میں کسی کو کہہ رہا تھا
    پتہ نہیں کونسے جاہل ملک سے ہیں کپڑے پہنے پہنے نہا لیئے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا کا پہلا سیشن تھا۔ اسکے ساتھ آتے اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وقت کتنا لگے گا۔ اسکوباقائدہ اسٹریچر پر لٹا کے اندر لے جایا گیا تھا۔ جانے کیا کچھ کرنا تھا۔ دو تین ایسے دورے مزید لگنے تھے اسکے بعد آپریشن ہونا تھا۔ایک چندی آنکھوں والی سے فیشل کروا کر اپنی شکل میں کوئی خاص تبدیلی لائے بنا وہ فارغ ہو کر باہر آگئ۔ جانے اسے کتنی دیر لگنی تھئ۔ وہ باہر ریسپیشن کے سامنے بنے انتظار گاہ میں آن بیٹھی۔ اس نے انتظار گاہ میں بیٹھے بیٹھے وہاں موجود آٹھ دس فیشن میگزین کھنگال لیئے کیونکہ ہنگل پڑھ تو سکتی نہ تھی۔ بس ورق پلٹتی رہی۔ اکتا کر سب سمیٹ کر واپس ریک میں رکھنے لگی تو ایک میگزین انگریزی میں دکھائی دیا اس نے غنیمت سمجھ کر اٹھا لیا۔
    یونہی صفحے پلٹتے اسے مانوس چہرے دکھائی دیے۔ یوآنہ اور گنگشن انی کی مسکراتے ہوئے انگلیوں سے وی بنائے ہوئے تصویر۔
    وہ بہت شوق سے اس سے منسلک مضمون پڑھنے لگی۔
    ابھی آدھا ہوا ہوگا کہ فون بج اٹھا ۔
    صارم کالنگ۔
    اس نے خوش ہوکر میگزین ایک طرف رکھ کر فون اٹھایا۔
    ابھی تمہیں ہی یاد کر رہی تھی۔ چھوٹتے ہی بولی۔ صارم پر مطلق اثر نہ ہوا
    جھوٹئ۔ کبھئ تو سچ بولا کرو۔
    ابھی تم مجھے ہی یاد کر رہے تھے۔ اس نے جملہ بدل لیا۔
    ہاں وہ تو میں کر رہا تھا ۔ جبھی تو فون کیا۔ خلاف توقع وہ آرام سے مان گیا۔
    اچھا یہ۔بتائو کیسی ہو؟کہاں ہو؟ہاسٹل میں بیٹھئ مکھیاں مار رہی ہو ہے نا۔
    اسے اپنے اندازے پر یقین تھا۔
    نہیں ایک بیوٹی کلینک آئی ہوئی ہوں۔ اس کے جواب میں فورا اگلا سوال حاضر تھا
    اکیلی؟ وہ حیران ہوا تھا
    نہیں دوست کے ساتھ آئی ہوں اسے ٹریٹمنٹ کروانا تھا۔
    پتہ ہےوہ چہرے کی سرجرئ کراکے نقوش بدلوا رہی ہے اپنے۔۔ وہ تفصیل بتانا چاہ رہی تھی مگر صارم بات بدل گیا
    دفع کرو اسے یہ بتائو پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟ وہ یقینا فرصت سے تھا۔۔
    سب اے ون بہت اچھے پیپرز ہوئے میرے۔
    وہ میگزین ایک جانب رکھ کر پہلو بدل کر بولی۔
    میں سب جانتا ہوں۔ ذیادہ بنو مت۔ اس نے ڈپٹ کر کہا۔
    جب پتہ ہے تو پوچھ کیوں رہے ہو۔ وہ منہ بنا کربولی
    تم نے کیا سوچا ہے ؟ کب واپس آرہی ہو؟
    اس نے بلا تمہید سوال کیا
    میں چاہے مجھے چار سال لگ جائیں ڈگری لیکر ہی واپس آئوں گی۔
    وہ اطمینان سے بولی
    تمہاری جگہ دنیا کی کوئی اور لڑکی کہتی تو یقین آجاتا مگر تم سے نہ ہو پائے گا۔سو شرافت سے ٹکٹ کٹائو واپس آکر ڈگری مکمل کرو۔ سال ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔
    وہ رعب سے بولا تھا مگر وہ پہلے کونسا کبھی اسکے رعب میں آئی تھی جو اب آتئ۔۔
    میرے سال ہیں میری مرضی ضائع کروں یا جو بھی کروں تمہیں کیا۔ وہ ضدی پن سے بولی
    خالہ خالو بہت اکیلے ہوگئے ہیں۔اریزہ ۔۔ وہ ناصحانہ انداز میں ٹوکنے لگا
    اکلوتی اولاد ہو تم بالکل احساس نہیں اپنے والدین کا تمہیں۔ کوئی اندازہ ہے خالہ کتنی کمزو رہو گئ ہیں۔ اکیلی ہو گئی ہیں سارا دن بولائی بولائی پھرتی ہیں۔
    کیوں تم ہو نا کمپنی دیا کروانہیں۔ وہ جتا کر بولی۔
    اور امی مجھےبرابھلا کہنے کیلئے ہی یاد کر رہی ہوں گی کہ کاش یہاں ہوتی تو دو چار صلواتیں سنا کر جی ٹھنڈا کر لیتی اپنا ۔۔
    شرم کرو۔ماں ہیں تمہاری۔ صارم کو تھوڑا غصہ آیا۔
    مجھے افسوس ہے۔ وہ بلا ارادہ کہہ گئ۔
    اریزہ۔ بس کرو۔ بہت ہوگیا ڈرامہ۔ اب سب ٹھیک ہو گیا ہے نا اب تو طنز چھوڑدو۔۔
    صارم نے اچھے خاصے غصے سے ڈانٹ دیا۔ وہ چپ رہی۔۔وہ پھر شروع ہی ہوگیا۔
    بالکل خالہ خالو کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ سکالر شپ ختم ہو چکی ہے اب وہاں رکنے کی کیا تک ہے؟ کوئی اندازہ ہے تمہیں بنا اسکالر شپ کے وہاں رہنا کتنا بڑا خرچہ ہے ہاسٹل کی فیس سمسٹر کی فیس کھانے پینے کا خرچ اوپر سے پچھلے دو مہینے سے تم اتنی بڑی رقمیں مزے سے منگوا رہی ہو کس خوشی میں؟ تمہارے ابا کے پاس کوئی قارون کا خزانہ نہیں ہے۔ انکی حق حلال کی کمائی ہے۔ تمہیں کوئی احساس۔۔
    میرے ابا کی کمائی ہے مجھ پر نہیں خرچ کریں گے تو کس پر خرچ کریں گے؟ تم فکر نہ کرو انکے پاس ابھی بھی اتنا ہے کہ تمہارے خرچے میں کمی نہیں آئے گی میری وجہ سے۔
    وہ سوچ کے کم ہی بولتی تھی صارم کے سامنے تو کبھی بھی زبان اور دماغ کا رابطہ بحال نہ رکھا ابھی بھی چڑی تو ایک نہ رکھی اسکی۔ جوابا وہ خاموش ہوگیا۔
    اتنا خاموش کہ اسے باقائدہ فون کان سے ہٹا کر دیکھنا پڑا کہ آیاکال جاری ہے کہ کٹ گئ۔
    اریزہ۔ میری بات ٹھنڈے دل سے سنو۔
    چند لمحے چپ رہ کر بولا۔
    خالو نے تمہارے نام سے جو پلاٹ بک کروایا تھا اسے بیچنے کا کہا ہے مجھ سے۔ اشد ترین ضرورت میں بھی انہوں نے کبھی اسے نہیں بیچا۔ اب تمہاری پڑھائی اور دیگر اخراجات کیلئے وہ اگر بیچنے لگے ہیں تو تمہیں انکو روکنا چاہیئے۔ واپس آجائو خالو نے وعدہ کیا تو ہے تم سے ڈگری مکمل ہونے سے قبل تمہاری شادی کا سلسلہ نہیں چلائیں گے پھر اب کیا مسلئہ ہے ؟ کیوں ڈر کے کوریا میں چھپی بیٹھی ہو ؟
    اسے خاموشی سے شرافت سے سنتے اسے غلط فہمی ہوئی تھی کہ اسے بات سمجھ آرہی ہے۔
    بول لیا جو بولنا تھا ؟ اب چپ۔کرکے سنو میرے بابا نے میرے لیئے پلاٹ بک کروایا اسے میری خوشی کیلئے بیچ رہے ہیں یہ میرا اور میرے بابا کا معاملہ ہے تم اپنے کام سے کام رکھو سمجھے۔
    وہ بولتے بولتے آخر میں غیر ارادی طور پر کافی زور۔سے کہہ گئ۔ خاموش کاریڈور میں گپ چپ اپنے کام میں مصروف رسیپشنسٹ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی تھی۔ اسکی آواز گونج گئ تھی جبھئ سر کے اشارے سے معزرت کرکے وہ رخ موڑ گئ۔ گلاس وال سے ٹریفک سے رواں دواں سڑک روشنیوں کی جگمگاہٹ مںظر بدلا تو موڈ بھی بدل گیا
    پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ ۔۔ صارم جھلایا
    تمہارا آخر مسلئہ کیا ہے؟ بڑی کوئی طرم خان ہو نا بڑا پڑھنے کا شوق ہے جیسے تمہیں۔
    ہے شوق مجھے تمہیں کیاپتہ ؟ وہ چٹخ کر بولی۔
    او رابا کو پیسوں کا مسلئہ ہے تو ان سے کہو مت بھیجا کریں مجھے پیسے میں یہاں پارٹ ٹایم جاب کرکے خود اپنا خرچہ اٹھا لو ں گئ۔ ان سے نہیں ماںگوں گئ۔ بچا لو تم اپنے خالو کا پلاٹ۔
    جاب کرلوں گی۔ صارم نے نقل اتاری۔ جاب کروگی وہ بھی تم جیسی لڑکی۔ ذرا بتائو اتنے مہینے سے سیول میں ہو اپنی یونیورسٹئ کا راستہ یاد؟ گئ ہو کبھی سیول میں کہیں بھی اکیلے؟ اپنے بل پر یہاں پنڈی میں یونیورسٹی تک اکیلی جا نہیں سکتی ہو اجنبی ملک میں اپنے بل پر جاب کروگی جیسے میں تمہیں جانتا نہیں نا۔۔
    یہ جو کوریا بیٹھی ہو وہ بھئ سنتھیا کے بل پر۔ وہاں کوریا میں بھی سنتھیا گئ ہے تو تم تیار ہوئیں ورنہ سنتھیا کے بنا جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔وہاں بھی مجھے پکا یقین سنتھیا کا بازو پکڑ کر چلتی ہوگی۔مان لو۔ تم ایک بزدل اور بونگی لڑکی ہو۔ دو قدم اپنے بل پر جس سے چلنا محال ہے۔ بڑے بڑے خواب دیکھے ہوں تو شخصیت میں بڑی بڑی تبدیلیاں لانی پڑتئ ہیں۔ تمہارے بارے میں تو مجھے پکا یقین ہے ٹکے کی بھی گرومنگ نہ ہوئی ہوگی تمہاری۔ ابھئ بھی سنتھیا ہے نا بیٹھی تمہارے پاس ۔۔۔اسی کے ساتھ آئی ہو نا۔ کب بڑی ہوگی تم اریزہ؟
    وہ دونوں ایک دوسرے کو اس سے بھی ذیادہ سناتے تھے مگر اس وقت یہ سب سننا اس کا ذہن سن سا ہو گیا۔ آنکھیں پانی سے لبا لب بھر گئیں۔ تو یہ تھی اسکی شخصیت دوسروں کی نظر میں۔ اس پر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔
    بولو ہے نا سنتھیا پاس تمہارے تم اکیلے تو اپنے ہاسٹل سے کلاس روم بھی نہ جاتی ہوگی مجھے پکا یقین ہے۔اچھا بات کرائو میری سنتھیا سے شائد اسکے منہ سےسن کر کوئی میری بات تمہارے دماغ میں گھس جائے۔
    صارم اسے اتنی آسانی سے چھوڑنے والا نہیں تھا۔
    سن۔۔ س۔۔ اس نے بتانا چاہا مگرمنہ سے لفظ کی جگہ سسکی سی نکلی۔ اس نے بے ساختہ منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
    ہیلو اریزہ۔ بات سنو۔ صارم کو بھی شائد احساس ہوا ذیادہ بول گیا ہے۔
    اس نے فون کاٹ دیا۔ دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا۔ یہ حقیقت تھی کہ وہ یہاں اتنے عرصے میں کبھی اکیلے کہیں نہ گئ مگر ایسا بھئ نہ تھا کہ وہ کہیں جا نہ سکتی تھی۔ اسے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کی گوارا کے ساتھ آ جا کے بھی عادت نہ پڑی تھی مگروہ ٹیکسی میں تو گھوم سکتی تھی۔یہ الگ بات کہ کبھی کوشش نہ کی۔ اپنے شہر میں واقعی اس نے کبھی ان تجربوں کو کرنے کا نہ سوچا پر اس لیئے کہ وہاں اسکے منہ سے بات نکالنے کی دیر ہوتی بابا خود اسے پک اینڈ ڈراپ دیتے تھے وہ مصروف ہوں تو لاکھ صارم اسکو نخرے دکھاتا رہے پر خیال بہت رکھتا تھا۔ اسکی کبھی کوئی فرمائش ٹالی نہ تھی۔ اسے احساس نہیں ہوا آنسو تواتر سے اسکے گال پر بہتے چلے گئے تھے۔ ہوا کے جھونکے سے میگزین کا ورق پلٹا تھا۔ اگلے صفحے پر یو آنہ کی بڑی سی تصویر تھی۔ اس نظم کے ساتھ جو اس نے بین القوامی سطح پر ہونے والی اس تقریب میں پڑھی تھی۔ اس نظم کی تعریف کئی بین القوامی سطح پر شہرت رکھنے والے شعرا نے کی تھئ وہی نظم جسے یوآنہ نے اپنے لیئے ہوپ قرار دیتے ہوئے اپنا نام ہوپ رکھ ڈالا تھا۔۔ ۔ وہی نظم جسکا ترجمہ انگریزی میں اسکے پروفیسر نے کیا تھا۔وہی نظم جو اس گڈ فارنتھنگ لڑکی اریزہ نے لکھی تھی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرے خدایا مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا تم اپنا فیشل کروانے کے بعد بھی میرا انتظار کرتی رہو گی تین گھنٹے تک کہا تو تھا کہ چلی جانا واپس۔
    گوارا کلینک میں اسے انتظار میں بیٹھا دیکھ کر حیران رہ گئ تھی۔
    بس تھوڑاسا انتظار کرنا پڑا مجھے خیر ہے۔ اریزہ مسکرا کر اپنا بیگ اٹھاتئ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    ضرورت نہیں تھی نا۔ میں تو اسلیئے لائی تھی کہ میرے پیکج کے ساتھ فیشل مینی کیور پیڈی کیور ایک بندے کا فری تھا تو تمہارا بھلا ہوجائے تمہیں یہاں بے بی سٹنگ کرنے تھوڑی لائی تھی ۔پھابو (احمق )لڑکی
    تو کیا ہوا۔ اگرمیں نے انتظار کر بھی لیا تو۔
    اریزہ چڑ کر بولی۔
    ہوا کچھ نہیں خفا کیوں ہو رہی ہو مجھے شرمندگی ہو رہی تھی کہ میری وجہ سے تمہیں اتنا فالتو بیٹھنا پڑا۔
    اسکا موڈ بگڑتے دیکھ کر گوارا کو حیرانگی ہوئی۔
    مجھے اندازہ نہیں تھا کہ باہر کہاں سے کونسی سواری مل سکے گی۔
    گوارا کو کیا پتہ کہ اسکا دماغ کس بات نے خراب کیا ہے یہی سوچ کر ذرا موڈ بہتر کیا۔ سر جھکا کر من من کرنے لگی ۔ کیلنک سے نکل کر سڑک پر آنے تک اس سے سر اٹھایا نہ جا سکا۔ اپنا آپ دنیا کا احمق ترین انسان لگ رہا تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ خیال ستا رہا تھا کہ یہاں بھی وہ اکیلی آنے جانے لائق نہ تھی۔
    وہاں تو مجھےخود کو یہ مارجن دینے کا موقع مل جاتا تھا کہ زمانہ خراب کوئی لوفر لفنگا نہ ٹکر جائے یہاں تو کوئی سر اٹھا کر دیکھتا بھی نہ تھا۔ پھر بھی۔ دراصل تم واقعی ہی ایک کم ہمت بزدل پیراسائٹ نما لڑکی ہو ورنہ پاکستان میں لڑکیاں کیا اکیلی گھر سے نہیں نکلتیں۔۔وہ یہی سوچتی خود کو کوس رہی تھی۔
    گوارا تیز قدم اٹھا رہی تھی ایکدم رک کر پلٹی تو اریزہ سے ٹکراتے ٹکراتے بال بال بچی۔
    یہ دیکھو سامنے بس اسٹاپ تھا۔۔گوارا نے دائیں جانب تھوڑے ہی فاصلے پر بنا بس اسٹاپ دکھایا۔
    چلو چلیں۔ وہ بولی تو گوارا نے کندھے اچکائے
    ابھی تو ہایون آرہا ہے لینے ان سب کا کسی ہوٹل میں ڈنر کا پروگرام ہے میں نے کہا یہاں سے پک کر لے ہمیں۔۔
    اس نے کہتے ہوئے اپنی گردن سہلائی۔۔
    وہ گوارا کو دیکھ کر رہ گئ۔ ابھی ہی خیال آیا تھا اسے کہ اب پکا بچت کرنی ہے۔
    وہ سر جھکا کر مرے مرے قدم اٹھا رہی تھی تبھی وہ گاڑی اسکے سامنے آن رکی۔۔
    دیکھی دیکھی لگ رہی ہے۔ اس نے گاڑی پہچان کر ڈرائور تلاشا تبھی گاڑی کا شیشہ نیچے ہوا اندر سے چمکتی دمکتی مسکراتی شکل۔۔
    کھا جا۔
    ہایون دروازہ کھول کر باہر نکل آیا تھا۔۔۔۔
    آج پکا میں اپنابل خود دوں گئ۔ اس نے مصمم ارادہ کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایسے پر تعییش ریستوران میں بیٹھ کے بندہ ویسے ہی خود کو غریب غریب سا محسوس کرنے لگتا ہے۔
    یون بن مسخرے پن سے بولا تھا۔ سالک شاہزیب ایڈون اور سنتھیا سب بڑے شوق سے ریستوران کی آرائش کو دیکھ رہے تھے۔
    ہایون کہاں چلا گیا ؟
    کم سن کوئی فون کال سننے اٹھ کر گیا تھا واپس آیا تو ہایون کی غیر موجودگی فورا محسوس کی بیٹھتے ہی پوچھا۔
    گوارا اور اریزہ کو لینے بھیجا ہے اسے۔ ایڈون نے بتایا۔
    یار ویسے ہایون کو ہم نے تو خوار کرکے رکھا ہوا ہی تھا اب پاکستانی بھئ اسکے ساتھ یہی سلوک کرنے نہیں لگے؟
    کم سن نے ہنس کر یون بن سے ہنگل میں کہا۔۔
    جی ہائے کو نہیں بلایا۔
    سنتھیا نے یون بن سے پوچھاتھا۔
    فون کیا تھا مگر اس نے صاف انکار کر دیا۔ یون بن نے کندھے اچکا کر لاپروائئ سے بتایا۔
    یار ویسے یہ والا ریستوران انتہائی لگژرئیس ہونے کے باوجود سرینہ سے چھوٹا ہی ہوگا ۔
    سالک نے گردن گھما کر متاثر نہ ہونے والے انداز میں تاسف سے سر ہلایا۔
    یہ ویسے ہوگا اسی کے لیول کا۔
    ایڈون نے اندازہ لگایا۔
    پھر بھی۔ سرینہ کا تو ہال اس سے بھی دگنا ہوگا یہاں سے وہاں تک نگاہ نہیں ٹھہرتی سرینہ میں برقی قمقمے آرائیش پینٹنگز سب بہت آعلی ہے وہاں کا۔
    سالک نے کہا تو ایڈون پوچھے بنا نہ رہ سکا
    تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے سرینہ میں پل کر بڑے ہوئے ہو۔
    واحد سرینہ ایسا اعلی درجے کا ہوٹل ہے جسکی زیارت سالک کو نصیب ہوئی ہے ایک ایگزیبیشن میں شرکت کا موقع ملا تھا سالک کو زندگی میں اب بقیہ زندگی اسی کا ذکر کرتے گزرے گئ۔
    شاہزیب کے مزاق اڑانے والے انداز پر سالک تپ کر اسکو جملہ ختم ہونے تک کئی دو ہتھڑ لگا چکا تھا مگر وہ ڈھیٹ ہنستے ہنستے جملہ مکمل کرکے ہی چپ ہوا تھا۔
    کیا ہوا ۔۔ کیوں مار رہے ہو
    انکی اردو میں گفتگو میں یون بن کو بھی دلچسپی ہوئی
    کہہ رہا ہے یہ ہوٹل پاکستان کے اعلی درجے کے ہوٹل میں سے تین چار نکل آئے۔
    شاہزیب نے اپنی مرضی کا۔ترجمہ کیا
    واقعی ؟
    یون بن حیران رہ گیا۔
    ہاں ہمارے یہاں زمین بہت ہے خاص کر امیروں کیلئے
    ایڈون منہ بنا کر بولا
    اچھا ویسے کوریائی عموما تعمیرات میں جگہ کم ہی خرچ کرتے ہیں ہمارے تاریخی محلات بھی جگہ کے اعتبار سے بہت بڑے نہیں ہوتے جتنے انڈینز کے ہوتے میں نے ایک شو دیکھا تھا کچھ کوریائی فنکار انڈیا گئے تھے وہاں جو تاج محل تھا اتنا بڑا تھا کہ میں حیران رہ گیا تھا دیکھ کے انڈینز اتنے کھلے محلوں میں رہتے تھے۔
    یون بن نے کہا تو سالک اور شاہزیب تڑپ نہیں گئے
    وہ مسلمانوں کی تعمیرات تھیں۔ اور تاج محل گھر نہیں تھا کسی کا۔۔ شاہزیب اب بر صغیر کی تاریخ یون بن کے گوش گزار کرنے کے موڈ میں تھا۔
    انکی بحث سے اکتا کر سنتھئا نے ایڈون کا بازو ہلایا
    مجھے بھوک بھی نہیں ہے اور یہاں بور بھی ہو رہی ہوں ہم واپس چلیں۔
    پاگل تو نہیں ہو؟ ایڈون نے گھرکا
    میں انکو دعوت دے کر پروگرام بنا کر لایا ہوں اور میں ہی چلا جائوں؟ واپس جا رہے ہیں یہ لوگ کچھ تو کرٹسی نبھائو۔
    ایڈون نے ڈانٹ ہی دیا۔
    اس دعوت کا بل تم دوگے۔ سنتھیا نے کٹیلی نگاہوں سے دیکھا
    ظاہرہے۔ ایڈون لاپروا تھا سنتھیا جل گئ۔
    ہر وقت تو روتے ہو پیسے نہیں ہیں اتنے بڑے ہوٹل کا بل کہاں سے پےکروگے؟
    سنتھیا کے کہنے پر ایڈون نے گھبرا کر سالک شاہزیب کو دیکھا۔
    انہوں نے کہہ کر کانفرنس ارینجمنٹ کروائی تھی یہ وی آئی پی لائونج تھا ۔بڑی سی دو میزوں جتنا گھیر تھا جس پر یون بن کم سن سالک شاہزیب ان سے قدرے فاصلے پر سہی مگر دوسرے کمرے میں تو نہ بیٹھے تھے کہ سن نہ پاتے۔ اس وقت زور و شور سے بحث میں الجھے تھے ورنہ یقینا یہ گوہر افشانئ سن ہی لیتے۔
    کیا ہو گیا کیسی باتیں کرتی ہو اور فکر نہ کرو تمہارے پیسے خرچ نہیں کر رہا اپنی پارٹ ٹائم جاب کی کمائی اڑائوں گا خوش۔
    ایڈون دانت کچکچا کر سخت لہجے میں بولا تھا۔ بس نہیں تھا کہ تنے ابرو اور بدمزہ تاثرات بنائے بیٹھی سنتھئا کا دماغ درست کردے۔
    پھر بھئ یہاں لےکے ہی کیوں آئے ہو یہ دونوں کھا لیں گے حرام کھانا ؟
    اسے اب نئی فکر لاحق تھئ۔
    تمہارا مسلئہ نہیں یہ۔ اس نے بات ہی ختم کردی ۔
    کوئی ایک آدھ تصویر ہی بنا دو میری تاکہ آئیندہ زندگی میں سرینہ کے علاوہ کسی اور ہوٹل کا نام بھی لے سکوں۔
    سالک نے دہائی دی تو شاہزیب یون بن فورا اسکے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے
    ہاں چلو یاد گار رہے گا۔ ایڈون بھی اٹھ گیا۔ سنتھیا کا منہ کھل سا گیا۔ اس نے کچھ کہہ کر روکنا چاہا مگر وہ دانستہ اسے نظر انداز کرگیا۔ سب اٹھ کر ہال کے ایک جانب لگی دیوار گیر پینٹنگ کی طرف بڑھ گئے۔ کم سن موبائل میں لگا ہوا تھا میسج ٹائپ کرکے یونہی اسکی جانب دیکھا تو جانے کیا خیال آیا اپنے اور اسکے بیچ رکھی دوکرسیوں کا فاصلہ ختم کرتا اٹھ کر اسکے دائیں جانب والی کرسی پر آن بیٹھا۔
    اس ہوٹل کا بل ہم نے آج تک پے نہیں کیا ۔ہم ہمیشہ ہایون کی مفت دعوت اڑاتے ہیں۔
    وہ بے دھیانی میں دونوں ہاتھ سینے پر لپیٹے شعلہ بار نگاہوں سے انہیں پوز بناتے دیکھے جا رہی تھی جب اپنے قریب یہ گمبھیر آواز سن کر اچھل پڑی۔ پہلے چونکنا پھر حیرت کے مارے آنکھیں پھاڑ کر دیکھنا۔ کم سن کو اسکے تاثرات پر ہنسی ہی آگئ۔
    تمہیں کیسے پتہ لگا ہم کیا بات کر رہے ہیں؟
    اندازہ لگایا آدھے جملے میں تو انگریزی بولی ہے ہوٹل بل پے تو تکا مار لیا اور نشانے پرلگا۔ ویسے تم لڑکیاں اتنی کنجوس کیوں ہوتی ہو؟
    اس نے چھیڑا تھا وہ چڑ بھی گئ
    کیونکہ ساری کفایت شعاری لڑکے ہمارے سامنے ہی دکھاتے ہیں۔ خود جہاں مرضی خرچ کرلیں۔
    اپنے ہی خرچ کرتے ہیں نا تم اپنے پیسے دل بھر کر جہاں مرضی آئے خرچ کیا کرو
    کم سن نے معاملہ ہی سلجھا دیا۔سنتھیا اسکی بات پر کمر کس کے میدان میں اتر آئی۔۔
    ہم پاکستانئ ہیں یہ میرا تیرا ہمارے یہاں نہیں ہوتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیوں کیا حرج ہے اس میں؟
    ہایون نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔
    حرج ہے نا۔ جب یہ کھانا میرے لیئے میرے نام سے لیا جا رہا ہے تو پے بھئ میں ہی کروں گی مجھے ہی کرنا چاہییے نا۔
    اریزہ ضدی لہجے میں بولی۔
    مگر یہ دعوتی کھانا میرے ہوٹل پر جائے گا میری جانب سے دعوت ہوگئ تو اس میں تمہارے پے کرنے کی کیا تک بنتی ہے۔
    اسے کہنا پڑا۔
    میں آرڈر دےکر گیا تھا کہ واپسی پر پک کرلوں گا۔یہ پانچ لوگوں کا کھانا ہے اچھا خاصا بل ہے۔
    پھر بھی مجھ سے میری پسند پوچھ کر جو بریانی سیخ کباب اور تکے پیک کروائے ہیں انکا بل تو مجھے ہی دینا چاہییے نا۔
    اس نے اپنے فرمائشی پیکٹ والا شاپر علیحدہ کیا۔وہ اس وقت ایک پاکستانئ ریستوران میں کھڑے بحث کر رہے تھے۔
    کائونٹر پر کھڑا وہ انڈین لڑکا ان دونوں کی بحث پر مسکراہٹ دبا رہا تھا۔
    عجیب ضدی ہو۔ ہایون چڑا۔
    ہاں ہوں ضدی۔ اس نےپرس سے کارڈ نکال کر فورا بڑھایا۔
    میرا بل میں خود پے کروں گئ۔۔
    کارڈ سوائپ کرواکے وہ اب خاصی مطمئن تھی۔ ہایون نے گھورتے ہوئے بقیہ بل پے کیا شاپر اٹھانے لگا تو وہ آرام سے اسکے ساتھ مڑ کر جانے لگی۔
    اپنے شاپر تو اٹھا لو۔ اس نے اپنے شاپر بھی نہ اٹھائے تھے۔ ہایون نے ٹوکا تو بے نیازی سے بولی
    ہاں اٹھالائو۔۔ اس دن برا مان گئے تھے نا شاپر کیوں نہیں اٹھوایا تم سے اب اپنا شوق پورا کرلو۔
    ہایون اسے دیکھ کر رہ گیا۔ اسکے دونوں ہاتھوں میں خاصے بڑے پیکٹس تھے۔ اس تیسرے کیلئے اسکو مشکل سے جگہ بنانی پڑی۔ اتنا احسان اریزہ نے کردیا تھا تیز قدم چل کر پہلے ریستوران کا دروازہ اسکے لیئے کھولا پھر پہلے سے پہلے گاڑی کی جانب بڑھ گئ۔ اسے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب جاتے دیکھ کر اس کو بے ساختہ ہنسی آگئ تھی۔ سر جھٹکتا وہ پچھلئ سیٹ کا دروازہ کھول کر گوارا کے برابر میں پیکٹ رکھنے لگا جو اریزہ پر ہنس رہی تھی۔
    تم ہمیشہ بھول جاتی ہو یہاں لیفٹ ہینڈ ڈرائیو ہے۔ اریزہ ناکام ہو کر گھوم کر واپس فرنٹ سیٹ پر آن بیٹھئ۔ اس وقت خفت سے منہ سرخ ہوگیا تھا۔
    ہاں تو کیا کروں ہمیشہ ادھر ہوتی ہے ہمارے یہاں پسنجر سیٹ۔
    وہ منہ پھلا کر بول رہی تھی۔
    ہایون دروازہ بند کرکے گھوم کر آکر ڈرائونگ سیٹ پر آکر بیٹھتے بولا۔۔
    ویسے اب تک تو کوریا کی عادت ہو جانئ چاہیئے اتنا عرصہ ہوگیا ہے۔
    گوارا پیکٹس سے خوشبو سونگھ رہی تھی۔
    پاکستانی جہاں جاتے اپنا اثر چھوڑ آتے ۔۔۔پاکستان گئے بنا بھئ تم ایکدن پسنجر سیٹ پر ڈرائیونگ کرنے بیٹھ سکتے ہو۔۔
    اریزہ کا انداز چیلنج کرنے والا تھا ہایون ہنس کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
    پاکستانی ۔۔اثر۔۔ اسٹرینج۔
    اف ویسے مجھے لگتا ہے اریزہ جاتے جاتے مجھے آدھا پاکستانی کر جائے گی اتنی مزے کی خوشبو آرہی ہے میں نے یہی کھانا ہے میرے لیئے کورین کیوزین آرڈر نہ کرنا۔
    اس نے ایک پیکٹ ذرا سا کھول کر کباب نکال لیا۔
    اور مزے لیکر کھانے لگی۔
    یہ اریزہ کا پیکٹ ہے اسکو نہ کھولو اسکی پیمنٹ بھی اسی نے کی ہے۔
    ہایون نے صرف اسے جتانے کو ٹوکا۔
    ہاں تو دوست بھی تو میری ہے ۔ تم اپنے پیکٹ سنبھال کے رکھو بلکہ گوارا اسے بھی چکھائو اسکو بھی پتہ چلنا چاہیئے دوستوں کی ٹریٹ کا ذائقہ کیا ہوتا ہے۔
    وہ کیوں پیچھے رہتی چڑانے کو بن بن کے بولی پھر مڑ کر گوارا سے کہتے اسے جتانے والی نظروں سے دیکھتے کہنے لگی۔
    پتہ ہے گوارا ابھی مجھے کہہ رہا تھا بل ذیادہ ہے میں دیتا ہوں پیسے۔ آیا بڑا امیرباپ کی اولاد۔
    جملہ تھوڑا بے عزتی والا تھا مگر انگریزی میں اتنا برا نہ لگا۔
    ہاہا ۔۔۔۔وہ کھل کے ہنسی۔۔
    ویسے ہایون چکھ کر دیکھو کیا ذائقہ ہوتا دوستوں کی ٹریٹ کا ورنہ تو بے چارہ ہمیشہ ہمیں ہی کھلاتا آیا ہے۔
    گوارا واقعی اب اریزہ کی سہیلی تھی اسکے ساتھ مل کر چڑانے لگی۔ ہایون انکی باتیں سنتا ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ڈرائونگ پر توجہ مرکوز کیئے تھا۔
    اور خوشبو سونگھو میرے بابا کے پیسوں کی چیز کی ۔۔
    اریزہ نے گوارا کا ہاتھ تھام کر اسکے آس پاس لہرایا۔
    سرموق فرق نہ پڑا تھا ہایون پر۔گوارا ہنس دی
    اسکو کبھی چڑا نہیں سکتے ہم ۔ ہائی اسکول سے دیکھ رہے اسے اسکو غصہ کرتے تو دور چڑتے بھی نہیں دیکھا کبھی۔ اتنا ٹھس انسان کوریا میں بھی نہیں دیکھ پائوگئ اریزہ یہ انمول پیس ہے ہمارا۔
    شکریہ اس تعریف کا۔
    وہی معمول کی مسکراہٹ وہ بے نیازی سے ذرا سا سر جھکا کے کورنش بجا لایا تھا۔
    اریزہ نے غور سے دیکھا۔ واقعی غصہ تو دور ذرا سی جھلاہٹ چڑ تک اسکے چہرے پر نہ آپائی تھی۔ اتنا ٹھنڈا میٹھا مزاج یا تو بے حسی تھئ یا بے نیازی۔ گاڑی سگنل پر رکی تھی۔ اس نے اطمینان سے سر گھما کر اسکی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا
    کیا ہوا۔
    آنیا۔ وہ سر نفی میں ہلا گئ۔
    گوارااب چکھائو مجھے میں بھی چکھوں کسی اور امیر ذادی کے باپ کے پیسے کا ذائقہ۔
    اسے نظروں میں رکھ کر وہ شرارتا گوارا سے مخاطب تھا۔ گوارا نے جھٹ ایک پیس نکال کر اسکی جانب بڑھایا۔
    اس نے چکھا ہھر سر ہلا کر بولا۔
    واقعی اچھا ذائقہ ہے کھا کر مزا آیا۔
    اریزہ سٹپٹا سی گئ۔ سگنل کھل گیا تھا مگر اس نے اطمینان سے پہلے کباب ختم کیا پھر ڈیش بورڈ سے ٹشو کھینچ کر اطمینان سے صاف کرنے لگا۔ پیچھے کھڑی گاڑی ہارن پر ہارن دے رہی تھئ۔
    ہایون گاڑی چلا لو اب اس نے باہر نکل کر مارنا ہے ہمیں۔۔
    گوارا پوری پیچھے مڑ کر ڈرائیور کو اشارے سے صبر کرنے کا کہتی ہایون سے مخاطب تھی۔
    اریزہ نے بھی رخ بدل کر سامنے سڑک پر نگاہ جما دی تھی۔
    میں نے کوئی دل دکھانے والی بات تو نہیں کی تھی۔
    اسکا ذہن کسی کی آنکھوں کی تحریرپڑھنے میں الجھ گیا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سالک شاہزیب کے ساتھ یادگار تصاویر بنواتے اسکی نگاہ سنتھیا اور کم سن پر پڑی تھی۔ دونوں جانے کیا باتیں کر رہے تھے کہ سنتھیا کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔ بہت دنوں کے بعد یہ ہنسی اسکے چہرے پر اتنی کھلی تھی کہ یون بن نے انکو مخاطب کرکے تصویر کھینچ لی اور وہ گردن موڑے سنتھیا کو ہی دیکھ رہا تھا یہی پوز اسکا تصویر میں کھنچ گیا۔
    ہایون کی گاڑی آتے دیکھ کر سیکیورٹئ گارڈز مستعد ہوئے تھے انکو کھانا اندر بھجوانے کی ہدایت کرتا وہ انکو اپنی رہنمائی میں اندر وی آئی لائونج تک لایا تھا۔ یون بن کم سن نے دور سے ہی دیکھ کر ہاتھ ہلا دیا تھا وہ جوابا مسکرا کر وش کرتا انکے پاس چلا آیا۔
    آنیانگ۔ یون بن نے گرم جوشی سے گوارا کو جتانے والے انداز میں سلام کیا جواب اس نے منہ بنا کر ہی دیا تھا۔
    پھر بریک اپ ہوگیا تم دونوں کا۔ کم سن چوکنا ہوا۔
    تمہارا چانس پھر بھی نہیں۔ ہایون نے اسکے برابر بیٹھتے سرگوشی کی تھی۔۔۔
    کم سن نے ذرا برا نہ مانا بلکہ ہنس کر ٹال گیا۔ ہایون نے حیرت سے اسکا ردعمل دیکھا پھر کندھے اچکاگیا۔
    گوارا اور اریزہ سب سے مل ملا رہی تھیں سنتھیا نے اریزہ کے سلام کو قصدا نظر انداز کیا تو گوارا اسکا ہاتھ تھام کے ہایون کے برابر آن بیٹھی۔
    اریزہ کل ہم جا رہے ہیں دوپہر کی فلائٹ سے۔
    سالک نے بطور خاص اطلاع دی۔
    اچھا۔ وہ اداس سی ہوئی۔ مجھے بے حد افسوس ہو رہا ہے کاش ہم سب مل کر یہاں سے ڈگری لیکر ہی جاتے۔
    اس نے یونہی کہا تھا۔
    ہم لیکن کچھ نہ کچھ تو لےکر جارہے ہیں ۔۔ سالک نے کہا
    اچھی یادیں اچھے دوست۔
    ہاں یار ویسے ہم کورینز اتنی آسانی سے گھلتے ملتے نہیں مگر لگتا ہے پاکستانیوں سے ہمارے ڈی این اے میچ ہوتے ہیں۔
    فضا میں ڈی این اے( بی ٹی ایس کا گانا) ہی چل رہا تھا سو یون بن نے اسی کا حوالہ دے ڈالا۔
    تم لوگوں نے آرڈر دے دیا تھا نا ؟
    ہایون کو مہمان نوازی کا خیال آیا۔
    ہاں اب ذرا ہدایت کردو کہ جلدی آجائے۔ کم سن کو بھوک لگی تھی۔ ہایون نے بیرے کو بلانے کا اشارہ کیا مگر انکا آرڈر خو دہی آرہا تھا۔دو بیرے مستعدی سے کھانا لگانے لگے اسٹیک نوڈلز سوپ سادے چاول کمچی فرائیڈ رائس سوشی اور کئی کھانوں کے تو نام بھی ان لوگوں کو نہیں آتے تھے۔ ساتھ چکن بریانی کڑاہی سیخ کباب اور تکے ۔۔ فضا میں کھانے کی خوشبو اتنی تیزی سے پھیلی تھی اور میز سجنے پرایڈون نے تھوک نگلا۔۔
    اتنا سب تو ہم نے آرڈر نہیں کیا تھا۔ سالک حیران تھا
    اس نے اور شاہزیب نے خالص سبزیوں کی ترکاری اور سبزیوں کا ہی پلائو منگوایا تھا۔مگر خالص پاکستانی کھانے دیکھ کر خاصی حیرت ہوئی تھی۔
    یہ ہمارے دوست کی مہربانی ہے کھلا کھائو بنا سوچے اپنے باپ کا ہوٹل سمجھو۔
    یون بن لہرا کر بولا تھا۔
    چھائے موکے سبندا۔
    کم سن نے باتوں کی بجائے سیدھا کھانے کی طرف دھیان دیا۔
    سبزیاں رکھی رہ گئیں کورین اور پاکستانی اپنے اپنے دیس کے کھانوں پر ٹوٹ پڑے۔
    کم سن نے چکن تکے کی جانب چاپ اسٹک بڑھائی تو ایڈون نے پورک اسٹیک اٹھا لیا۔
    اجنبئ گوشت کی کچی پکی بو۔
    سنتھیا کو ابکائی سی آگئ۔۔
    وہ ایکدم کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    کیا ہوا۔ وہ سب خاموش ہو کر دیکھنے لگے۔
    کیا ہوا۔
    مجھے واشروم۔ اس سے بولا بھی نہ گیا۔ ابکائی اتنی شدید تھی کہ فورا منہ پر ہاتھ رکھتی مڑ گئ
    ہایون نے فورا ایک ویٹر کو اسے واشروم کا راستہ دکھانے کی ہدایت کی۔
    سنتھیا نے یونہی ایڈون کو دیکھا اسے لگا تھا شائد وہ پیچھے آئے گا۔مگر ایڈون سر جھکائے مکمل کھانے کی طرف مگن تھا۔
    سنتھیا کو ڈاکٹر کو دکھائو اسکی طبیعت خراب لگ رہی ہے۔ کھانا بھی ڈھنگ سے نہیں کھایا ہے۔
    اسکی پلیٹ میں چاول جوں کے توں تھے۔ جبھی سالک نے ہمدردی سے کہا۔
    کوئی نہیں ٹھیک ہے وہ بالکل۔ ذرا سی بد ہضمی ہوئی ہوگی اسے۔
    ایڈون نے جتنا عجلت میں صفائی دی تھی شاہزیب نے گہری نگاہ ڈالی تھئ اس پر۔
    اریزہ تمہیں جانا چاہیئے تھا اسکے ساتھ۔
    شاہزیب نے کہا تو وہ جز بز سی ہوگئ۔
    اگلی بندی سلام کا جواب تک نہیں دے رہی وہ کہاں تک۔یکطرفہ دوستئ نبھائے
    کوئی ضرورت نہیں آجائے گئ ابھی۔ تم آرام سے کھانا کھائو اریزہ
    ایڈون نے کہا تو وہ جو اٹھنے کا ارادہ۔کرنے ہی۔لگی تھی ترک کردیا۔
    کیوں ضرورت نہیں۔ سہیلی ہے اریزہ اسکی اتنی طبیعت خراب ہو تو اسے پوچھنا چاہیئے۔ چاہے ناراضگی ہی کیوں نہ ہو۔ شاہزیب ڈپٹنے والے انداز میں بولا تھا
    کیا بحث چل پڑی ہے تم لوگوں میں۔
    گوارا نے حیران ہو کر پوچھا تو اریزہ اٹھ ہی گئ
    میں سنتھیا کو دیکھ آئوں۔
    ایڈون سے نوالہ چبانا مشکل ہو گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سنتھیا واشروم میں بیسن میں جھکی تھی۔ اس نے دھیرے سے قریب آکر اسکی پشت سہلائی
    کیا ہوا۔
    سنتھیا فورا بیسن کا نل کھول کر بہانے لگی۔ کھایا پیا تو کچھ خاص تھا نہیں۔ذرا سا انار کا جوس تھا وہ بھی نکل گیا۔ اس وقت تو ناتوانی سے اسے چکر آرہے تھے۔
    کچھ نہیں ٹھیک ہوں میں۔
    بے نیاز کھردرا لہجہ بنانے میں بھی اسکی آواز کانپ سی گئ۔
    تم یہاں کیوں آگئیں۔جائو کھانا کھائو۔
    اجنبی سرد سا انداز۔ اریزہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
    اس نے اریزہ کے پاس سے ہو کر گزر جانا چاہا کہ لہرا گئ اس سے قبل کہ پورے قد سے زمین پر آگرتی اریزہ نے اسے بڑھ کر سنبھال لیا۔
    تم بھی جارہی ہو سالک اور شاہزیب کے ساتھ ؟
    اس نے اتنئ دیر سے ذہن میں مچلتا سوال پوچھ ڈالا۔
    نہیں ۔ سنتھیا نے اپنا آپ چھڑایا۔
    تمہیں کیا لگا تھا میں بھی چلی جائوں گی میں ایڈون کو اکیلا یہاں تمہارے پاس چھوڑ کر کبھی نہیں جائوں گئ۔
    اسکا انداز اتنا ہتک آمیز تھا کہ اریزہ کے تن بدن میں آگ سی لگ گئ
    مطلب کیا ہے تمہارا اس بات سے ؟
    وہی جو تم سمجھی ہو۔
    وہ کہہ کر رکی نہیں۔ تیز تیز قدم اٹھاتئ باہر نکل گئ۔
    کتنا گروگئ اور تم ۔۔۔۔۔۔میری نظروں سے۔
    اریزہ بلبلا کر چلائی تھی۔ اسکی آواز پر لحظہ بھر ہی سنتھیا کے قدم رکے تھے پھر متوازن چال چلتی آگے بڑھ گئ تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سنتھیا کو آتے دیکھ کر ایڈون کی جان میں جان آئی تھی۔ اس وقت اسکی طبیعت بالکل ٹھیک لگ رہی تھی۔ یہ لوگ کھانے پر انتظار کر رہے تھے ۔
    چلو ایڈون چلتے ہیں اب۔
    اس نے قریب آکر کھڑے کھڑے ہی ایڈون سے کہا تھا۔
    ہاں چلتے ہیں کھانا تو کھا لو۔
    ایڈون میزبان تھا یوں اٹھنا اسے اچھا نہ لگا۔
    میں اکیلی چلی جاتی ہوں پھر۔
    اسکی سچ مچ دوبارہ کھانے کی بو سے طبیعت خراب ہو رہی تھی۔ سو کہہ کر رکی نہیں۔
    جائو ایڈون تم ۔۔
    سالک نے اسے کہا تو وہ متذبذب سا اٹھا۔
    میں پھر اپنا کارڈ دے جاتا ہوں۔ وہ اپنا والٹ نکالنے لگا۔
    کیا کر رہے ہو بل کی فکر نہ کرو ہم پے کردیں گے تم جائو سنتھیا کے پاس۔
    شاہزیب نے اپنایئت سے گھرکا
    میری جانب سے دعوت تھئ۔ وہ ابھئ بھی متامل تھا
    ابھئ سنتھیا کے پیچھے جائو اس نے کھانا بھی نہیں کھایا اسے کھلائو بھئ کچھ یہاں کی فکر نہ کرو۔
    شاہزیب نے اٹھ کر زبردستی والٹ واپس رکھوا کر بھیجا اسے۔اسے خود بھی سنتھیا کی فکر ہو رہی تھی سو معزرت کرتا اسکے پیچھے لپکا۔
    ویسے یہ خیال کسکا تھا بریانی لانے کا؟
    سالک نے بریانی سے انصاف کرتے ہوئے یونہی پوچھا
    تم لوگ کہاں کھاتے ہو کورین کھانے اسی لیئے لے آیا۔
    جواب کم سن کی طرف سے آیا تھا۔
    اریزہ تو بالکل بھئ کھانا نہیں کھاتی اس لیئے اسے لینے جاتے ہوئے مجھے خیال آیا۔
    ہایون نے سادگی سے بتایا۔
    ہاں لیکن یوں باہر سے کھانا لانے کی اجازت ہوتی ہے یہاں؟
    شاہزیب نے پوچھا تو یون بن کم سن گوارا نے پہلے ہایون کی شکل دیکھی۔
    آنیا۔ تینوں نے نفی میں گردن ہلائی۔۔
    یہ لا سکتا ہے ۔۔ کم سن نے ہایون کو ٹہوکا دیا۔
    اس نے سب کی نظریں محسوس کرکے کانوں پر ہاتھ رکھ کر سر جھکا لیا۔
    کیونکہ۔ گوارا نے معنی خیزی سے کم سن کی شکل دیکھی۔ پھر تینوں نے ٹائمنگ ملائی۔۔ شاہزیب اور سالک حیرت سے انہیں دیکھ رہے تھے۔
    یہ ہایون کے باپ کا ہوٹل ہے۔۔
    وہ کورس میں کہہ کر ٹھٹھہ مار کر ہنسے تھے۔
    ہایون کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ یہ ان سب کا کورس میں جتانا ہائی اسکول کے ذمانے سے تھا۔ اب تک جتنئ مرتبہ بھی یہاں آیا تھا اس میں نوے فیصد دفعہ تو ان سب نے مل۔کر یہ تان لگائی ہی تھی۔ اور اسکا ہمیشہ یہی ردعمل ہوتا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیسن پر پانی بہا کر اسے صاف کرتے اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ بے آواز کئی آنسو چہرے پر بھی پھسل آئے تھے۔
    کیا گناہ ہے میرا۔ میں نے تو کبھی نہیں چاہا تھا کہ ایڈون مجھے۔۔
    بڑبڑاتے ہوئے بھی اسکے الفاظ آنسوئوں میں گم ہوئے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میٹھا بن اور سوڈا لا کر اس نے سائڈ ٹیبل پر رکھا مگر سنتھیا یونہی کہنی میں منہ ڈھانپے سیدھی لیٹی رہی بیڈ پر۔
    یہ کھڑکی تو کھول لو۔۔ اس نے آگے بڑھ کر کھڑکی کھول دی۔ دروازہ بند کرکے کرسی جو میز کے نیچے اندر گھسی ہوئی تھی کھینچ کر اسکے مقابل بیٹھ گیا۔
    اب اٹھو بھی۔ تمہارا پسندیدہ بن ہے۔ جسکے اندر چاکلیٹ بھری ہوتی ہے۔
    اس نے بچوں کی طرح بہلایا۔
    اس نے کہنئ ہٹا کر اسکی شکل دیکھی۔ پھر بیڈ کا سہارا لیتی اٹھ بیٹھی۔
    بھوک سے اسکا برا حال تھا۔سو ایڈون کے ہاتھ سے بن لیکر اس نے اس نے تیزئ سے کھانا شروع کردیا۔
    ایک بن جانے کہاں گیا۔ وہ احتیاطا دو لایا تھا ۔ دوسرا بھی اسکی جانب بڑھا دیا۔
    دونوں بن ختم کرکے اس نے ایک سانس میں سوڈا چڑھا لیا تھا۔
    تم نے اریزہ کو بتایا اس بارے میں۔
    وہ جتنی جلدی واپس آگئ تھی اسے یقین تھا کہ نہیں بتایا ہوگا پھر بھی تسلی کرنئ چاہی۔
    اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
    ہر گزرتا دن تمہارے لیئے مزید مشکل ہوگا۔ابارشن کے کچھ قوانین ہوتے ہیں ہمارے پاس صرف یہ آخرئ ایک ہفتہ ہے۔ اگر یہ ہفتہ گزر گیا تو ۔۔۔ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ وہ خاصا پریشان دکھائی دیتا تھا۔ اتنے دنوں میں پہلی باراسکا لہجہ اسکے لیئے فکرمند سا لگا۔
    تمہارے لیئے مجھ سے شادی کرنا اتنا بڑا مسلئہ کیوں ہے؟
    ہم اکٹھے رہ سکتے ہیں ہم گھروالوں کو بتا کریہاں شادی کر۔۔۔
    سنتھیا نے اسکو نرم پڑتے دیکھ کر منانا چاہا۔
    پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ؟
    وہ جھلا گیا۔کرسی پیچھے کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    ہم اب شادی کر بھی لیں تو والدین سے کیسے چھپائیں گے کہ یہ جھنجھٹ شادئ کے بعد ہوا ہے؟ اور کس زبان میں سمجھائوں تمہیں کہ اس بچے کا مستقبل کیا ہوگا ؟ لوگ کتنی باتیں بنائیں گے تم فیس کر سکوگئ معاشرے کو؟ یہاں ہمیں ہمارے والدین نے بھروسہ کرکےبھیجا تھا کیا جواب دیں گے ہم انکو۔
    اسکے سوال نہیں پتھر تھے جو اس پر برس رہے تھے۔
    ۔مختصر سے گوشی وون میں ٹہلنے کی بھی جگہ نہ تھی۔ وہ بس کھڑا کھڑا پیرپٹخ سکتا تھا بس۔
    ہم یہیں رہ لیں گے نہ ہمیشہ۔
    اس کی آنکھیں ڈبڈبا سی گئیں کمزور سی آواز نکل پائی
    کب تک یہاں چھپ کر بیٹھیں گے کبھی تو پاکستان جانا ہوگا
    جوابا وہ خاصے زور سے چلایا تھا۔
    ہم کچھ بھی کر لیں ہیں تو پاکستانی۔ اس معاشرے کا حصہ کیسے فیس کریں گے اپنے گھروالوں دوستوں رشتے داروں کو؟ تم اکلوتی ہو میری تو آگے ابھی دو چھوٹی بہنیں بھی ہیں انکا کیا ۔۔۔
    سنتھیا کے لب نیم وا سے ہوئے۔ اسکے پاس دلائل تھے طعنے تھے اپنے حق میں وہ تقریر جھاڑ دیا کرتی تھی وہ تو چپ سہہ جانے والی لڑکی نہ تھئ۔ مگر آج اسے احساس ہوا تھا کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ؟ اس پر فردجرم عائد ہو چکی تھی۔
    مختلف موقعوں پر کہے ایڈون کے جملے کانوں میں گونجے تھے جہاں پاکستان صرف مسلمانوں کا ملک تھا اس معاشرے میں قوانین اسلامی طرز کے تھے جن سے انکا کوئی تعلق نہیں تھا وہ ایک غیر مسلم اکثریتی ملک میں تھے یہاں وہ فضول رواج پابندیاں نبھانےکی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔
    مگر اب سب بدل چکا تھا۔ ” ان “سے غلطی ہوئی تھی اور پاکستانی معاشرے میں غلطی کی ذمہ داری صرف “عورت “کو اٹھانئ پڑتی ہے۔سزا عورت کا مقدر ہوتی ہے۔ چاہے وہ اپنے حق میں تقریر جھاڑے چیخے چلائے یا خاموشی سے سر جھکا کر مان لے۔۔
    اس نے سر جھکا لیا۔ اب سزا ہی اسکو ملنی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایڈون ان دونوں کو ائیر پورٹ چھوڑنے آیا تھا۔ کم سن اور یون بن بھئ ہمراہ تھے۔ ان سب سے گلے ملتے تصویریں بنواتے سالک شاہزیب دونوں آبدیدہ ہو گئے تھے۔
    ہم اگلی گرمیوں میں پاکستان آئیں گے پکا
    یون بن نے سالک کے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا تھا۔
    ہاں ضرور تم لوگوں کو شمالی علاقہ جات دکھائیں گے۔ سالک بھی جوابا گرمجوشی سے بولا۔
    ویسے یار پاکستان میں حالات خراب کیوں ہیں؟
    کم سن نے یونہی پوچھا سالک اسکو جواب دینے لگ گیا
    پھر کیا سوچا؟
    شاہزیب دانستہ ایڈون کا ہاتھ تھام کے ایک۔طرف ہو گیا۔۔ شاہزیب کے اپنائیت سے پوچھنے پر ایڈون ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا۔
    یار ابارشن ہی کروانا ہے۔ شادی کے جھنجھٹ میں نہیں پڑ سکتا۔ مگر سنتھیا کا جانے کیا دماغ خراب ہے اتنی سی بات اسکی عقل میں نہیں گھس رہی
    سارے ششکے شادی والے ہی چاہیئں مگر شادی نہیں کرنی تجھے۔ شاہزیب چڑ کر کہہ ہی گیا۔ ایڈون شاکی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
    ڈر رہی ہو گی۔ وہ بھی۔ اسکا بھی تو پہلا تجربہ ہے۔ تو تو پھر مجھ سے بات کر سکتا ہے وہ تو اریزہ کو بھی سب بتا نہیں سکتی تھوڑا اسکو بھئ سمجھنے کی کوشش کرو۔
    شاہزیب کو اس کی شکل دیکھ کر ترس آگیا۔ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھانے والے انداز میں بولا۔ ایڈون سر ہلا کر رہ گیا۔
    ایک بار دوسرے حل کے بارے میں بھی سوچنا۔ جان لینا گناہ کبیرہ ہے۔ وہ ہے تو تمہارا بچہ۔ اس سے جتنا چڑ رہے ہو ۔۔
    یار۔ ایڈون نے بیزاری سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔
    برسوں کی شادی کے بعد منتوں مرادوں والا بچہ نہیں ہے یہ۔ یہاں یہ سب آسان لگ رہا ہے پاکستان جائوں گا نا تو یہی بچہ میرے گلے کا پھندہ بنا دیا جائے گا۔ میری دو بہنیں ہیں اتنا خود غرض ہو نہیں سکتا میں۔
    شاہزیب نے گہری سانس لی۔ ایڈون رخ موڑے اب سالک وغیرہ کو دیکھ رہا تھا جن کی بحث زور و شور سے جاری تھئ۔
    اور سنتھیا ؟ تیرے ان فیصلوں کو جھیلنا اسے ہے۔
    شاہزیب کی بات پر وہ مڑ کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت نہ کرسکا۔
    تجھے پتہ ہے میرے بابا ہمیشہ مجھے تیری مثال دیتے تھے۔ ایڈون جیسے بنو لائق سمجھدار ذمہ دار۔ ایڈون ایسا بیٹا ہے جس سے باپ اپنا بوجھ بانٹ سکتا ہے۔ او رمیں ہمیشہ کہتا تھا بابا وہ بے حد پرخلوص او رمحبت کرنے والا اچھا دوست بھی ہے۔
    ایڈون مڑ کر اسکی شکل دیکھنے لگا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی۔
    تو واقعی لائق بھی ہے اچھا دوست بھی ہے۔ مگر تیری سمجھداری صرف تیرے اپنے معاملے تک ہے اور ذمہ دارتو تو بالکل بھی نہیں ہے۔ تو بس ایک خود غرض انسان ہے۔ تو اب بھی اپنے آپ کو بچا لے گا۔
    شاہزیب کا چہرہ سپاٹ تھا۔دور کھڑے سالک پر نظر جمائے وہ بے تاثر لہجے میں بولا۔ ایڈون ساکت سا کھڑا اسے سن رہا تھا۔ شاہزیب نے گھڑی دیکھی فلائٹ کا وقت ہونے لگا تھا۔ اس نے اپنا بیگ کندھے پر درست کیا پھراسکی جانب دیکھے بنا ہی بولا
    یقینا تجھے کسی مدد یا مشورے کی ضرورت نہیں ہاں البتہ پھر بھی میری دعائیں تیرے ساتھ ہیں۔۔
    ایڈون کچھ کہنا چاہتا تھا مگر شاہزیب نے موقع نہ دیا اس سے گلے تک نہ لگا رخ پھیر کر سیدھا آگے بڑھ گیا۔ ایڈون سناٹے میں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔

    Kesi lagi apko Salam Korea ki yeh qist ? Rate us

    Rating

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
    کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
    آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
    دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
    پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔