قسط 61
عزہ نے کمبل سے منہ نکال کر بھنا کر دیکھا۔ عشنا بھی کم و بیش بھنا ہی رہی تھی۔ مگر اسے اپنی جھلاہٹ دبانے میں ملکہ حاصل تھا۔۔۔
نہیں آج بس میرا دل ہی نہیں کیا کھانا کھانے کا۔
سرگوشیاںہ آواز مگر اتنی خاموشی میں صاف اور واضح سنائی دی۔
عروج کے جانے کے بعد وہ دونوں ڈبل بیڈ جبکہ الف سنگل بیڈ استعمال کر رہی تھئ۔ کمبل میں اس نے بھئ منہ دیا ہوا تھا۔ بات کس سے کر رہی تھی یہ دونوں جانتی تھیں۔
آج تو کھا ہی لینا چاہیئے تھا۔ کل پرسوں تو چلو دو دن خوشی کے مارے بھوک پیاس اڑی تھی۔ عزہ نے گردن گھما کر اس بیڈ پر کمبل کے ٹیلے کو گھورا
ہاں نا۔ پچھلے پندرہ دن سے کھانا پینا بھولی تھی بتائوں اسے۔ پہلے غم میں اور دو دن سے خوش کے مارے بھوک مرگئ ہے اسکی۔
عزہ کے اس دل جلے انداز پر عشنا کو ہنسی آگئ
بتا دو۔ بے چارہ خوشی سے ہی تھوڑا پھول جائے بالکل پیلا پھٹک چہرہ۔۔۔۔ دھان پان سا ہے۔ ژیہانگ۔
عشنا نے کہا تو الف کے کان کھڑے ہوئے۔
ایک منٹ ٹھہرو۔
کاکائو ٹاک پر بات کر رہے تھے ایک منٹ کیا ایک گھنٹہ انتظار کر سکتا تھا ژیہانگ۔
یہ ژیہانگ کا کیا ذکر۔۔ ٹیلے سے آتش فشاں کی طرح نمودار ہوئئ۔۔
عشنا کہہ رہی تھی کہ ژیہانگ تو دبلا پتلا ہے تم تو بہت موٹی لگو گی اسکے ساتھ۔
عزہ نے مرضی سے بات موڑی۔ عشنا ہکا بکا سی رہ گئی
میں نے کب۔۔ نہیں الف۔ میں نے نہیں کہا ۔۔۔ اسکی صفائیاں جاری تھیں مگر الف منہ لٹکا کر بیٹھ گئ۔
یار یہ تو واقعی مسلئہ ہے لمبا بھی اتنا ہے وہ میں اسکے کندھے تک بمشکل آتی ہوں اور موٹی بھی ہو گئ ہوں میں اس دن عروج کا کارڈیگن مجھے نہیں آرہا تھا۔
الف کے کہنے پر عزہ اچھل کر اٹھ بیٹھی
کیا وہ کارڈیگن تم نے نکالا تھا آخری پیکنگ تک ڈھونڈتی پھری عروج ۔۔
ہاں وہ۔ الف کھسیائئ۔
میں نے دھویا تھا وہ الگنی پر رہ گیا۔ واپس کر دوں گی اسے۔۔
وہ کوریا کارڈیگن لینے آئے گی یا تم امریکہ جائوگی دینے۔
عشنا نے ہمیشہ کی طرح پتے کی بات کی۔ الف اور عزہ نے اکٹھے اسکے چہرے پر مزاق کی رمق تلاشی تھی مگر وہ مکمل سنجیدہ تھی
میں ہی چلی جائوں گئ۔ الف نے عزم کیا
ژیہانگ امریکہ میں ہی تو رہتا ہے۔وہ اترائئ۔۔
آبھی کال پر ہے؟ عزہ نے آستین چڑھائی
آہاں۔ الف کو فورا کال یاد آئئ۔ اتنی دیر سے میوٹ لگا کے بیٹھی تھی۔
بند کرو کال۔ عزہ نے رعب سے کہا
کیوں؟وہ ہونق ہوئئ۔۔۔۔
عزہ نے گھورا پھر اسکے ہاتھ سے فون لیکر کال کاٹ دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے واقعی نہیں پوچھا۔
الف نے بے بسی سے سر ہلایا۔
ہمارے درمیان کوئئ لمبی بات ہی نہیں ہوئی۔ کال کٹ تو گئ تھئ۔
دو دن سے گھنٹوں جو فون پر باتیں کرتے رہے ہو اس میں بھی نہ پوچھا۔
عزہ کو حیرت ہوئئ۔
الف نے نفئ میں سر ہلایا۔
ہم یہاں یہ پلاننگیں کر رہے ہیں کہ کیسے تمہارا مقدمہ لڑیں تمہاری امی کے سامنے کیسے منائیں انکو یہاں تم دونوں نے کوئی بات ہی نہیں کی۔
عزہ نے ہاتھ نچا کر کہا تو عشنا کا منہ کھلا رہ گیا معصومیت سے بولی
پر عزہ ہم تو کوئی پلاننگ نہیں۔۔۔
اوفوہ مثال دے رہی ہوں۔ عزہ نے سر پیٹ لیا۔ الف کوئی پیدائشی فلرٹ توہے نہیں کہ بس ڈیٹنگ کرنے کیلئے رو رو کر حشر کر رکھا ہو اپنا۔جب شادی کرنی ہے تو شادی کی بات کیوں نہ کی؟ گپیں ہانکنے کا کیا فائدہ ؟
گپیں نہیں ہانکتے بس ہم۔الف چڑ گئ
ظاہر ہے میں لڑکی ہوں منہ پھاڑ کے تو نہیں کہہ سکتی۔ مجھ سے شادی کب کروگے۔ دوسرا ابھی گھر بات کہاں کی ہے۔ امی تو ابھئ خفا ہی ہیں انکے لاڈلے بھتیجے سے شادی سے انکار کیا ہے میں نے۔ اوپر سے ۔فائنلز سر پر ہیں وہ الگ مسلئہ۔ ژیہانگ کی کل فلائٹ تھئ جو اس نے مس کردی اب وہ واپس کوریا آرہا ہے اس ہفتے مجھ سے مل کر سب فائنل کرنا چاہتا ہے۔ تو ظاہرہے سب بات کریں گے۔۔
الف نے تفصیل سے کہا۔تو عزہ کچھ ٹھنڈی ہوئی۔
پھر بھی۔ اور یہ ژیہانگ یہ اتنا ہی خوش ہوا تھا تم سے بات کرکے جتنا تم۔لال۔ٹماٹر ہوئی تھیں اسے فون ملا کر۔
عزہ کا انداز جرح کرنے والا تھا الف مسکرا دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے ایک نگاہ اپنے ارد گرد ڈالی۔پھر فون کو دیکھا۔ پھر اسے سائیڈ ٹیبل پر رکھتا پھرتی سے اٹھا۔ اپنے بیڈ پر بکھرے ٹرائوزر شرٹس بنیان تولیہ۔ سب کو جلدی جلدی اٹھا کر گولا بنا کر کھلے اٹیچی کیس پر مارا صوفے پر اسکا لیپ ٹاپ اپنی کیبلز کے ہمراہ استراحت فرما رہا تھا۔ اس نے بیڈ پر بیٹھ کر بہترین ذاویہ دیکھنا چاہا۔ مگر مطمئن نہ ہوا بیڈ کے ساتھ اٹئچ باتھ کا دروازہ تھا اس کو اٹھ کربند کیا۔ واپس آیا۔صوفے پر سے لیپ ٹاپ اپنے چارجر سمیت اٹھا کر بیڈ پر اچھالا۔سامنے سینٹر ٹیبل پر ٹرائی پوڈ لاکر رکھا۔ اس میں موبائل لگایا سیٹ ہو کر بیٹھا۔ کال ابھئ بھی آرہی تھی۔
الف کالنگ۔وہ اٹھاتے اٹھاتے پھر رک گیا۔
اس وقت وہ سفید اسکن ٹائٹ فل سلیوز ٹی شرٹ پر گہری نیلی پرنٹڈ شرٹ پہنے تھا مگر خاصی مسکی ہوئی تھی وہ۔
وہ کال اٹینڈ کرتے کرتے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی لڑکی کے ساتھ تو نہیں۔ عزہ نے کہا تو الف نے گھور کر اسے دیکھا
دیکھ لو تم سے باتوں میں لگا ہوا تھا اور اب ویڈیو کال نہیں اٹھا رہا پکا کسی الٹی سیدھئ جگہ ہے یا کسی لڑکی کے ساتھ ہے
عزہ نے ویڈیو کال کے خیال سے ماسک چڑھا لیا تھا سر پر دوپٹہ بھی لپیٹ لیا مگر اس وقت جزباتی ہو کر ماسک ہٹا کر بولی
مجھے تو لگتا یے وہ اپنی خفیہ جگہ ہے کسی۔ نہیں چاہتا کہ چینی فوج اسکو ڈھونڈتی پہنچ جائے وہاں جبھی کسی محفوظ مقام پر جا کر ہی کال اٹینڈ کرے گا۔
عشنا نے بھی اپنا خیال ظاہر کرنا ضروری سمجھا
وہ اس وقت جاپان کے ہوٹل میں ہے۔ اور فالتو اندازے مت لگائو وہ باتھ روم گیا ہوگا دو گھنٹے سے تو ہم بات کر رہے ہیں۔
الف نے ڈاںٹ دیا۔
تم تو نہ گئیں۔عزہ کے کہنے پر وہ گھور کر رہ گئ۔۔
اور اتنی دیر لگتئ ہے باتھ روم میں؟ ۔ پندرہ منٹ ہو رہے ہیں ویڈیو کال ملاتے اٹھا کیوں نہیں رہا۔ کوئی گڑبڑ ضرور ہے۔۔۔
عزہ پریقین تھئ۔
ہو سکتا ہے وہ امپریشن جمانے کیلئے پنک کلر کی شرٹ پہن رہا ہو۔
عشنا نے کہا تو عزہ نے یوں دیکھا اسے جیسے اسکے سینگ نکل آئے ہوں۔
وہ یا یانگ ہے نا اسکا ڈرامہ دیکھ رہی تھی تو ایسے ہی اچانک ہیروئن اسکے گھر آگئ تو اس نے ڈھونڈ کے پنک شرٹ پہنی تھی ۔۔۔۔۔کیونکہ چینی پیلے رنگ کے ہوتے ہیں نا پنک کلر کی وجہ سے انکا رنگ ذیادہ پیلا نہیں لگتا۔
عشنا نے معلومات میں اضافہ ضروری سمجھا تھا۔ عزہ نے سر پیٹ لیا۔
یہ یانگ یانگ نے سوچا تھا۔؟ عزہ کو۔شک تھا اس بات پر۔بھی
نہیں یہ۔تو میرا خیال ہے۔۔ عشنا فخریہ انداز میں بولی
جتنے بھی چینی ہیرو ہیں جب انکے ڈیٹ کے سین دکھاتے تو پنک شرٹ ہی پہناتے ہیں انہیں۔
میں نے تو غور نہیں کیا۔ عزہ الگ مسلئے میں الجھ گئ
دیکھ لینا تم۔
چلو۔۔ پنک شرٹ پہننے میں بھئ پندرہ منٹ نہیں لگتے ضرور دال میں کچھ پنک ہے۔۔ وہ گڑبڑائئ۔۔ پھر تصحیح بھی کر لی۔۔ اوہو کالا ہے ۔۔
عزہ کے پریقین لہجے نے عشنا کو تو یقین دلا دیا بندہ کوئی پنگا کرکے بیٹھا ہے الف کا البتہ چہرہ سپاٹ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئک شاور لیکر ہلکی گلابی شرٹ پہن کر وہ گیلے بالوں کو جھٹک جھٹک کر جیل لگا کے اچھا سا پف بنا کر چہرے پر آفٹر شیو لوشن مل کر پرفیوم انڈیل کر آکر بیٹھا۔ کال ابھی بھی آرہی تھی اس نے بلو ٹوتھ کانوں پر درست کیا ہلکا سا کھنکارا ۔ اور کان پر سے بلو ٹوتھ چھو کر کال اٹینڈ کر لی۔
اسلام و علیکم۔۔
کہاں چلے گئے تھے؟اتنی دیر کیوں لگی کال اٹینڈ کرنے میں؟ کچھ چھپا رہے ہو مجھ سے؟ دیکھو جو بات ہو ابھئ کلیئر کر لو میں کمزور لڑکی نہیں ہوں بہت مضبوط اعصاب ہیں میرے۔
خوب بڑھ چڑھ کر بولتی عزہ کی آواز اعصاب تک آتے ڈبڈبا گئ۔ عزہ اور عشنا اسکے دائیں بائیں بیٹھی حیرت سے اسکی شکل دیکھ رہی تھیں جو آنسو پونچھ رہی تھی۔
نہیں ۔ وہ۔ میں ذرا۔۔۔ ژیہانگ بری طرح بوکھلا گیا تھا۔الف اب ایک ہاتھ اونچا کیئے موبائل پکڑے گھٹنوں میں بازو میں منہ چھپائے بیٹھئ تھئ۔
کیا ہوا الف ۔۔۔ ۔رو کیوں رہی ہو۔ میں تو بس وہ سامان پھیلا تھا یہاں ۔۔ وہ۔۔سمیٹ رہا تھا۔ژیہانگ کے سپید چہرے پر لالی اتر آئی تھی۔ برئ طرح بوکھلایا صفائئ دے رہا تھا۔
چینی لہجہ مگر خاصی صاف اردو عشنا اور الف نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر گڑ بڑا کر عشنا نے الف کے ہاتھ سے موبائل لے لیا۔ عزہ الف کو ہلانے جلانے لگی۔
وہ دراصل ہم الف کی سہیلیاں ہیں۔ہم آپکو دیکھنا چاہ رہے تھے۔۔ ۔۔
اسکی بات پر عزہ نے گھورا۔۔
تو گڑبڑا کر جملہ بدل گئ۔
میرا مطلب ہے بات کرنا چاہ رہے تھے کہ آپ کس قسم کے انسان ہیں۔
اس بار الف نے سر اٹھا کر گھورا۔
لائو مجھے دو۔ وہ اپنے آنسو پونچھ چکی تھئ
موبائل اسکے ہاتھ سے لیکر اس نے فوری حکم صادر کیا
مجھےاپنے کمرے کا 360 ویو دکھائو چاروں طرف سے۔
اسکے ںادر شاہی حکم پر تینوں بھونچکا رہ گئے
ہیں۔ ژیہانگ سٹپٹایا
کیوں گھبرا کیوں رہے ہو؟ کوئی ہے کیا تمہارے روم میں۔
الف نے جیسے پنجے تیز کیئے۔
ژیہانگ نے کچھ کہنا چاہاپھر ہونٹ بھینچ کر بیک کیمرہ آن کرکے اسے ٹرائئ پوڈ سے اپنا پورا بکھرا ہوا کمرہ دکھایا۔
پورا اینگل دکھا کر اپنی شکل دکھانے کی ہمت نہ رہی تھی۔ سو بیک کیمرے پر ہی چھوڑ کر ٹرائی پوڈ میز پر رکھ دیا
خود تو خوب نک سک سے تیار نہا دھو کے بیٹھے ہو اور کمرے کا کیا حال کیا ہوا ہے۔ اتنا بکھرا۔۔۔ ہوا
الف ڈانٹ رہی تھئ۔ عزہ نے ٹہوکا دیا۔تو چپ کر گئ
ہاں تو اسی لیئے کمرہ نہیں دکھا رہا تھا۔۔ وہ بڑ بڑا بھئ نا سکا سامنے دو عدد سالیاں بھئ تو بیٹھی تھیں۔
نہا رہا تھا جبھئ اتنی دیر لگی۔
عزہ نے الف کے کان میں سرگوشی کی تو وہ بے ساختہ مسکرا دی۔
اچھا اپنی شکل تو دکھائو۔
الف نے کہا تو اس نے پھولے منہ کے ساتھ فرنٹ کیم آن کیا۔
ژیہانگ یہ عزہ ہے اور یہ عشنا۔
الف نے تعارف کرایا تو وہ تھوڑا کنفیوز سا ہوا
آداب۔
زرا سا ہاتھ آگے لا کر ادبی سلام۔عزہ عشنا دم بخود سی رہ گئیں۔
یہ وحید مراد کا فین ہے۔ الف نے انکی معلومات میں اضافہ کیا
آداب۔عشنا اور عزہ کو بھی ادب کے دائرے میں آنا پڑا۔ جھک کرسلام کیا۔
اب ژیہانگ ان تینوں کو اور وہ تینوں ژیہانگ کو دیکھ رہی تھیں۔
پھر حسب عادت عزہ کو ہنسی آگئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوہن بہت اچھا دوست تھا میرا۔ ہماری ٹریننگ میں ہی ہماری بہت اچھئ بانڈنگ بن چکی تھئ۔ ایکسو کا کانٹریکٹ بہت مشکل تھا۔ جبھی لوہن الگ ہوگیا۔ وہ بھی فری سول ہے میری طرح۔ مجھے کہتا تھا مجھے گانا گانا ہے گانا کمانا نہیں ہے۔ میں جو گائوں وہ سب سنیں۔ جو سب سننا چاہتے ہیں وہ میں گانا نہیں چاہتا۔۔۔
ژیہانگ شستہ اردو میں بتا رہا تھا۔وہ تینوں خاموشی سے سن رہی تھیں۔
مجھے خوشی ہے کہ وہ آج ایک کامیاب انسان ہے۔
وہ مضبوط سے انداز میں کہہ کر مسکرایا۔
آپکئ اس سے ملاقات نہیں ہوئی پھر۔
عشنا نے سوال کیا تو اسکے چہرے پر سایہ سا آگیا
صرف ایک وہی نہیں میری تو اپنے سب دوست رشتے داروں سے عرصہ ہواملاقات نہیں ہوئی۔ تبھئ میں نے فیصلہ کیا تھا اب اپنی زندگی میں کسی کو شامل نہیں کروں گا۔
مگر الف نے یہ اصول تڑوا دیا آپ سے۔
عزہ نے جتایا۔ جوابا وہ چپ ہی رہ گیا۔
آپ امریکہ میں کہاں رہتے ہیں؟
الف نے دوسرا سوال داغ دیا۔
کیلی فورنیا میں۔۔ اسکی جگہ جواب الف سے آیا تھا۔ عزہ نے چٹکی کاٹی اسکے بازو میں۔ اشارہ تھا اب منہ بند رکھنا۔۔
آپ الف سے شادی کے بعد کیلی فورنیا میں رہیں گے؟
عزہ نے پوچھا تو وہ سوچ میں پڑ گیا جیسے۔۔
دیکھیں۔ہم چین کو بس آتنا جانتے کہ وہاں چندی آنکھوں والے لوگ رہتے ہیں۔ ہمیں تو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ وہاں مسلمان اکثریتی صوبہ بھئ ہے۔ آپ نا صرف وہاں کے باسی ہیں بلکہ باغئ بھئ ہیں۔ کل کلاں کو آپکو ڈھونڈتے ہوئے چینی فوجی آجائیں تو الف کیا کرے گئ؟ اسے آپکے ساتھ تعلق رکھنے کی سزا بھئ مل سکتی ہے۔ اس بارے میں سوچا ہے آپ نے۔

الف نے بے چین سا ہو کر عزہ کو دیکھا۔ عزہ جان کے اسے نظر انداز کیئے ژیہانگ پر نگاہ جمائے تھی۔جس نے جوابا گہری سانس لیکر سر جھکا لیا تھا۔دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے وہ چند لمحے جیسے خود پر قابو پا رہا تھا۔
کیا باتیں لے بیٹھی ہو۔
الف منمنائئ جوابا عزہ نے گھور کر دیکھا۔تبھئ ژیہانگ نے سر اٹھا کرمضبوط لہجے میں کہا۔
میں الف کو کسی مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتا تھا کبھی بھی۔ آپ لوگوں کو شائد یاد نہ ہو مگر میں نے آپ سب کو پہلی بار گیونگ پوہے بیچ پر دیکھا تھا۔۔ جب امریکیوں سے آپکی لڑائئ۔ہوئی تب بھی بیچ بچائو کرانے والوں میں میں تھا۔
گیونگ پوہے بیچ کی اتفاقیہ ملاقات ہو۔۔۔ یا سر راہ گزرتے یا ایک ساتھ کام کرتے۔ میں نے اپنے آپ کو ہمیشہ روکا اپنی پسندیدگئ کو اپنے تک رکھا۔ ۔ہاں مگر اپنی زندگی کو ایک موقع دینا چاہتا تھا کہ شائد کوئی خوشی میرے لیئے بچی کھچی ہو اس میں۔ جبھی الف کو رابطے کی ایک کڑی دے آیا تھا۔۔۔ ۔
وہ شائد سانس لینے رکا تھا۔وہ تینوں سانس روکے دیکھ رہی تھیں اسے
مجھے بالکل اندازہ ہے۔ میری زندگی آسان نہیں۔ مگر میں اپنی مشکلات میں الف کو حصہ دار کبھی نہیں بنائوں گا۔ میرا امریکہ میں اپنا گھر ہے انشورنس ہے۔ میں الف کو ذکریہ نہیں ژیہانگ کی بیوی کی شناخت دوں گا۔الف امریکہ میں رہ سکتی ہے۔ پاکستان میں رہنا چاہے تو بھئ مجھے اعتراض نہیں۔۔۔میں نے مہینوں سوچ سمجھ کر الف کو پرپوز کیا تھا۔ میں کسی جہادی تنظیم کا حصہ نہیں ہوں کہ میرے پیچھے لوگ پڑے ہوں۔ہاں اپنے والدین کو تلاش رہا ہوں۔ یہ تلاش نہیں چھوڑوں گا۔ پر میں الف سےبھی محبت کرتا ہوں۔۔
اتنئ کہ اس وقت بھی اپنے آپ کو ہمیشہ کیلئے گم کر سکتا ہوں۔اگر الف چاہے۔۔
اس کے ہموار پختہ انداز میں کہنے پر الف سوچ میں پڑ گئ تھئ۔
پھر بھی کیا ضمانت ہےکہ آپ سے شادی کے بعد الف کسی مشکل میں نہیں پھنس جائے گئ۔خدا نخواستہ آپکو کچھ ہوا الف کو تو خبر بھی نہیں ہوگی آپ کہاں کس سے چھپتے پھر رہے ہیں۔
عزہ کا انداز سخت سہی مگر بات غلط نہیں تھی۔ ژیہانگ کے چہرے پرسایہ سا لہرا گیا۔
ایسی کوئی ضمانت توپاکستانی لڑکا بھئ نہیں دے سکتا مجھے عزہ۔۔۔ الف نے ژیہانگ کی شکل دیکھی تو کچھ سوچ کر خود جواب دینے کی ٹھانئ
کون جانے جس سے میری شادی ہو وہ کب کہاں کس مشکل میں پھنس جائے۔ ہمارے یہاں تو دھماکے ہوتے ہیں ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے موبائل چھینتے ہوئے لوگ گولی مار جاتے ہیں ۔ہم پاکستانی تو دوا ئیں تک ملاوٹ ذدہ کھاتے ہیں ہم کیسے کسی سے کوئی ضمانت مانگ سکتے۔ سب سے بڑھ کر ژیہانگ کو میرے جیسی عام سی لڑکی کو دھوکا دے کر کیا ملے گا۔ میرے پاس تو کوئی جائداد تک نہیں۔ جس کا لالچ ہو کسی کو۔
الف کی بات میں وزن تھا عزہ چپ کر گئ۔
تم عام سئ لڑکی نہیں ہو الف۔ میرے لیئے تم بہت خاص اور اہم ہو الف۔ آئی رئیلی لو یو۔۔
ژیہانگ نے اسکی بات کو کسی اور ہی طرح لیا تھا الف اسکے اس اعتراف پر ایکدم سرخ سی پڑ گئ۔ عشنا نے باقائدہ منہ پھیر کر ہنسی روکی تو عزہ کو لگا تھا ماسک کے پیچھے اسکی ہنسی کونسا دکھائی دے گئ یہ سوچے بنا ہنسے گئ کہ اسکی آنکھین کورین مارکہ ہو چلی ہیں او رکھی کھی کرتے جو ہلے جا رہی ہے اس سے اسکے ساتھ بیٹھی الف کو بھئ جھولے مل رہے ہیں جو موبائل اٹھا کر اب اسپیکر میں سرگوشیا ں کر رہی تھئ
کیا کرتے ہو ژیہانگ ۔۔۔ اتنا مزاق اڑائیں گی اب یہ میرا۔اور اوپر سے تمہیں پنک ہی شرٹ ملی تھئ آج پہننے کو۔۔ اور کوئی رنگ کی شرٹ نہیں تمہارے پاس۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین بنکر بیڈز کا وہ ڈورم تھا۔ ایک نارمل سائز کا کمرہ جس میں چار پانچ سیڑھیاں چڑھ کر بیڈ اور اس بیڈ کے نیچے پوری اسٹڈی ٹیبل اپنے ذاتی الگ لیمپ کے ساتھ۔ جہاں ایک چھوٹی سی شیلف میں کتابیں اور میز پر لیپ ٹاپ بھی رکھا تھا۔اسکے علاوہ ایک کونے میں لائن سے الماریاں تھیں تین کے حساب سے دیوارگیر۔ اوپر بیڈ کے گرد ریلنگ سے پردہ لٹک رہا تھا جسے گرایا اور سمیٹا جا سکتا اس پردے سے بیڈ مکمل اندھیرے میں ڈوب جاتا تھا نیچے باقی جتنی مرضی لائٹیں جلا لیں سونے والا آرام سے سوئے۔ ۔
یہ دیکھو پردے گرا دو تو روشنی غائب بالکل۔اور یہ میرے بنکر بیڈ کے ساتھ جو کھڑکی ہے نا اس سے ہمارے کیمپس تک نظر آتا۔ چھوٹا چھوٹا ہی سہی مگر مزے کی بات ہے نا۔
اسکے بنکر بیڈ کے قریب کھڑکی تھی۔ جہاں سے اس وقت بادلوں میں آسمان گھرا ہونے کی وجہ سے ملگجی روشنی آرہی تھی نیچے بڑا سا کمپائونڈ نظر آتا تھا جس میں دونوں اطراف لائیٹنیں تھیں او ردن کا وقت ہونے کے باوجود جل رہی تھیں۔
پیارا ہے نا ۔سچی میں تو جب سے آئی ہوں خوشی سے پھولے نہیں سما رہی۔ میری روم میٹ دونوں ایشین ہیں۔ ایک انڈونیشین ہے ایک چائنیز۔ دونوں نے بڑے اچھے طریقے سے سلام۔دعا کی ابھی کلاس ہے انکی میری تو اگلے ہفتے سے کلاسز شروع ہوں گئ اف میں تو سوچ کے پریشان تھی کہ ماموں کے اس ایک کمرے کے اسٹوڈیو روم میں انکے دو بچوں کے ساتھ کیسے رہوں گی پتہ ہے پہلے دن تو بیڈ دیا مجھے اگلے دن سے بستر زمین پر ڈال دیا۔ بیڈ دیوار سےچپکا کے کھڑا کردیا فولڈنگ بیڈ تھا انکا۔ اف اتنی سی جگہ تھی سب فرش پر بستر کرکے لیٹے۔ اور یہ ہے میرا باتھ روم۔۔۔
کیمرے سے اپنے کمرے کی دیواریں ان پر لٹکتے جالے لیکر زمین پر پڑی مٹی تک دکھائی۔ باتھ روم کھول کر دکھایا۔ چھوٹا سا تھا۔ کموڈ کھول کر دکھاتی مگر بس اسی کام سے گھن آگئی۔
کموڈ بھی کھول کر دکھائو نا پتہ چلے امریکہ کا فلش سسٹم کیسا ہے۔
واعظہ نے جمائئ لیتے ہوئے کیا تو طنز تھا مگر وہ پرجوش او رخوش ہی اتنی تھی کہ سمجھی نہیں۔
ارے پاکستان جیسا ہی ہے۔ بلکہ کوریا جیسا بھی۔ ساری دنیا کا سیوریج سسٹم تو ایک ہی جیسا ہوتا ہے نا۔
اچھی بات ہے۔ اب تم عزہ وغیرہ کو بھی ایسا روم ٹور دینا صبح۔ ابھی میں۔۔
میں کرتی کال انکو مگر وہ سب سو گئ ہوں گی یونی بھی تو جانا ہے نا اور تمہارا تو پتہ ہے مجھے ساری رات جاگتی ہواسلیئے آرام سے کال کر لی تمہیں۔ وہاں تو رات ہی چل رہی ہوگی نا یہاں تو
عروج پھر شروع تھئ۔
ہاں مگر آج میں کافی تھکی ہوئی ہوں۔ اس نے دبے دبے لفظوں میں بتانا چاہا ۔۔۔
اور پتہ ہے۔۔ عروج جانے مزید کیا داستان سنانے لگی تھی
کہ دروازے کی اطلاعی گھنٹئ زور سے بجی
یہ۔کیسی آواز ہے۔ عروج بھئ چونکی
پتہ نہیں شائد دروازے پر۔کوئی ہے۔
واعظہ بھی چونک کر اٹھ بیٹھئ۔۔
ایک۔بار پھر بیل ہوئی ساتھ بے تابانہ دستک بھی تھئ۔
اچھا میں ذرا دیکھوں دروازے پر کون ہے۔ تم سے بعد میں بات کرتی ہوں۔۔
اس نے کال بند کرنا چاہی آگے سے عروج چیخی
نہیں بند نہ کرنا اتنے رات گئے جانے کون ہے دروازے پر میں ساتھ ہوں تمہارے گھبرانا نہیں پہلے کیمرے میں دیکھو باہر کون اور۔کوئی بھی خطرہ ہو مجھے بتایا
کیا کر لوگئ تم؟ واعظہ چڑ گئ
امریکہ میں بیٹھی ہو۔ یاد آیا۔
اسکے جتانے پر۔واقعی یاد آیا۔
ہاں۔۔ مگر مورل سپورٹ تو دے سکتی ہوں بیک کیم کھولو
عروج کا آرڈر تھا اسے تعمیل کرنی تھی۔
اس نے مگر ہدایت پر عمل نہیں کیا جھٹ سیدھا جا کر دروازہ۔کھول۔دیاموبائل ساتھ ساتھ لائیو کوریج کررہا تھا
پریشان سی طوبی کھڑی تھی۔
کیا ہوا طوبی خیریت۔
واعظہ سے پہلے عروج نے پوچھا تھا
دلاور کا کوئی پتہ نہیں چل رہا جانے کہاں ہیں بار بار فون کر رہی ہوں نمبر بھی نہیں مل رہا اتنی رات ہوگئ ہے کیا کروں۔
وہ۔روہانسی ہوئی وی تھئ۔
واعظہ کو یہاں بھی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی
طوبی جی پریشان نہ۔ہوں سمجھدار ہیں دلاور بھائئ۔ موبائل کی بیٹری ختم ہوگئ ہوگئ اندر آئیں آپ۔بیٹھیں۔۔
اسکے کہنے پر واعظہ ایک سائیڈ میں ہوگئ دروازہ پورا کھول دیا
بچے اکیلے ہیں گھر میں میں مجھے سمجھ نہیں آیا کہ کس سے کہوں پتہ کرے تو۔
وہ تھوڑی شرمندہ ہو رہی تھی۔ہاتھ مسلتے شرمندہ سے لہجے میں بولی ظاہر ہے رات کے تین چار بجے تو ان میں سے بھی کوئی باہر جا کر ڈھونڈنے سے رہی۔
میں پتہ کرتی ہوں کچھ۔
واعظہ نے کہا تو جیسے وہ اسے قرار آیا۔ سر ہلاتی متشکر انداز میں دیکھتی اپنے اپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گئ
تم کہاں پتہ کرو گی ۔۔ اب یہ۔مت کہنا تم جوتے موزے چڑھا کر باہر نکلنے لگی ہو۔
عروج کو اس سے یہی خوف محسوس ہوا تھا جبھی ڈانٹنے والے انداز میں بولی
ارے یار۔۔ پاگل تھوڑی ہوں میں۔
واعظہ ہنس دی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جھٹپٹے کا وقت تھا جب وہ اپر کا ہڈ سر پر چڑھائے تیز تیز قدموں سے تقریبا بھاگتے ہوئے ہی اسپتال میں داخل ہوئی تھی۔ ریسیپشن سے معلومات لیکر وہ سیدھا آئی سی یو میں آئی تھی۔ اس وقت ملاقات کا وقت نہیں تھا سو آئی سی یو بند تھا ملاقاتیوں کیلئے۔ اسکے باہر سرد بنچ پر دلاور دونوں ہاتھوں میں سر دیئے بیٹھے تھے۔ انکا کوئی چندی آنکھوں والا کولیگ بھی ہمراہ تھا فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے اسکا رخ دوسری۔جانب تھا۔
دلاو ربھائئ۔ وہ بھاگتی ہوئئ انکے پاس چلی آئی۔ اسکے پکارنے پر انہوں نے ذرا کی ذرا سر اٹھا کر دیکھا تھا۔ ویران سوجی ہوئی آنکھیں۔ستا ہوا چہرہ برسوں کے بیمار لگ رہے تھے۔
وہ کچھ پوچھنا چاہتی تھی مگر انکی حالت کچھ بتانے والی نہیں لگ رہی تھی۔ اس نے تسلی دینے والے انداز میں انکے کندھے پر ہاتھ رکھا
آننیانگ۔ انکا کولیگ فون بند کرکے اسکے پاس چلا آیا۔۔ جھک کر سلام کیا۔
آننیانگ۔ وہ بھی جوابا جھک کر سلام کرنے لگی۔
میں پارک ہوا دول۔ دلاور کا کولیگ ہوں میں۔۔
اس نے شستہ ہنگل میں بتایا۔
دے۔ وہ سر ہلاکر بولی
میں نے ہی فون ملایا تھا آپکودلاور کے کہنے پر۔ آپ نے انکی وائف کو پیغام دے دیا انکی خیریت کا۔۔ اس کے پوچھنے پر اس نے اثبات میں سر ہلادیا
آپ انکی رشتے دار ہیں؟ چھوگئ۔ دلاور کا بی پی ابھی بھی ہائی ہے مگر نہ یہ۔گھر جانے کو۔تیار ہو رہے ہیں نا اپنی وائف کو اطلاع دینے کو۔ انکو اس وقت سخت ذہنی دبائو کا سامنا ہے۔ اوپر سے مریض کی حالت بھی تشویشناک ہے
خون بہت بہہ۔گیا ہے اگلے چوبیس گھنٹوں میں ہوش آنا ضروری ہے ورنہ کومہ میں بھی جا سکتے ہیں۔
وہ اسے یقینا رشتے دار سمجھ کر تفصیل بتا رہا تھا
مریض کون ہے؟ اسے سمجھ نہ آئی آدھی ادھوری بات ہی پہلے بتائی تھئ اسے۔
انکا بھائی جسکو یہ عرصے سے ڈھونڈ رہے تھے۔کل ملا تو انکی شکل دیکھ کر بھاگ اٹھا۔اور گاڑی سے جا ٹکرایا۔۔۔ جتنا برا حادثہ تھا دلاور کا یوں ہوش کھو دینا اچنبھے کی بات نہیں۔۔
وہ تاسف سے دلاو رکو دیکھ رہا تھا۔
بھائئ۔ مریض۔ وہ بھی مڑ کر دلاو رکو دیکھنے لگی۔
آپ بہن ہیں انکی ؟دراصل مجھے بھی گھر کا چکر لگانا ہے اگر آپ یہاں ہیں تو۔۔ وہ شائد نکلنا چاہ۔رہا تھا
اس نے لمحہ بھر کا توقف کیا بس
جی۔ میں بہن ہوں انکی آپ بے فکر ہو کر جائیے ۔آپکا بہت شکریہ آپ نے ہماری بہت مدد کی ۔۔
اسکے پرخلوص انداز میں کہنے پر وہ شرمندہ سا ہوگیا
میں مزید رکتا مگر مجھے تیار ہو کر دفتر بھی جانا ہے یہ سب معاملے کو رپورٹ کرنا ہوگا پھر بھی میں کوشش کروں گا ضرور آئوں وقت ملتے ہی ۔۔
وہ تسلی دلاسا دیتا معزرت کرتا چلا گیا۔ وہ اسے بھیج کر دلاور کے پاس آن بیٹھئ۔
وہ مجھ سے بھی دور بھاگا۔ اب ہمیشہ کیلئے روپوش ہوجانا چاہتا ہے۔ اتنا ناراض ہے وہ ہم سے۔
دلاور خود کلامی کے سے انداز میں بولے تھے۔
پر میں نے تو کسی بات کا یقین نہیں کیا۔تھا شک تک نہ کیا اس پر۔۔ وہ پھر بھئ ناراض ہوگیا ہے مجھ سے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے چوروں کی طرح گھر میں دیوار پھلانگئ ۔۔ اندر داخل ہوکرمحتاط انداز سے ادھر ادھر دیکھا ورانڈے میں چلا آیا۔ فضا میں غیر معمولی خنکی تھی ۔وہ۔کپکپا گیا۔ سب سردی کی وجہ سے کمروں میں سو رہے تھے۔ گائوں میں گیارہ بجے تو آدھی رات سمجھی۔جاتی ہے۔ اسکو آتے دیر ہوچکی تھی سو کھانے کا وقت گزر چکا تھا اس وقت باورچی خانے میں جانا خطرے سے خالی نہ تھا۔ لائٹ جلتے ہی اماں الرٹ ہو۔کر۔آواز لگاتئ تھیں۔ سو وہ سیدھا برآمدے کے ایک کونے میں قطارسے رکھے مٹکوں کے پاس چلا آیا۔ احتیاط سے کٹورا اٹھا کر مٹکے سے پانی لیا۔ ابھی گلاس منہ تک لایا ہی تھا کہ دھپ سے گردن پر چپت پڑی۔۔ چوڑیاں کھنک سی اٹھی تھیں۔ اچھو ہوا سارا پانی اس پر۔آیا۔ سخت سردی میں ٹھنڈا پانی۔ وہ بھنا کر مڑا۔
کیا کرتی ہو بھابی سارا بھیگ گیا میں۔۔ ٹھنڈ لگ جائے گئ اب مجھے
وہ جھلاتا کپڑے جھاڑ رہا تھا جبکہ طوبی اسکی درگت پر ہنس رہی تھئ۔
اچھا ہوا۔ اور رات رات بھر باہر آوارہ گردیاں کرتے ٹھنڈ نہیں لگتی؟
وہ کمر پر ہاتھ رکھے اسکی خبر لے رہی۔تھی
وہ۔کھسیانا سا ہوا
آہستہ بولیں آپکے میاں صاحب جاگ گئے تو اتنی رات گئے آنے پر جوتے سے پٹائی کریں گے میری وہ بھی بھگو بھگو کر ۔۔۔ انکا ہاتھ تو ابا سے بھی ذیادہ بھاری ہے۔ پچھلی مار کے نشان ابھی بھی ہوں گے کمر پررات کو ادھر سے ٹیس اٹھتی ہے۔
اس نے ڈرنے کی اداکاری کی۔ باقائدہ گھوم کر کمر بھی دباتا گیا۔ وہ اسکی سب شرارت سمجھ رہی تھی پھر بھی گھرک کر بولی
ایویں اتنا پیار کرتے ہیں تم سے اور تم۔ ہر وقت برائیاں
مارکھانے والی حرکتیں کروگے تو مار ہی کھائو گے۔ مسلسل سپلی آرہی ہے تمہاری آخری دفعہ ہے اس دفعہ بھی فیل ہوئے تو کھیتوں میں لگا دیں گے پھر لگانا ہل۔۔ بابا ہدایت کے ساتھ
اس نے ڈرایا تو وہ واقعی ڈر گیا۔
اللہ نہ کرے بھابی۔ خالی پیٹ اتنی ڈرائونی باتیں ہضم نہیں ہوتیں۔ رحم کرو۔ وہ پیٹ پر ہاتھ پھیر۔کرمسکینیت سے بولا تو اسکا بھی دل پسیج گیا
ابھی۔تک کھانا نہیں کھایا۔ اس نے اتنے تفکر سے پوچھا کہ جوابا خاو رکو چہرے پر۔مزید مسکینی لانی پڑی
آئو میں نے چاول بنائے تھے نکال۔کر۔دیتی ہوں۔ وہ فورا کچن کی۔جانب مڑگئ
بھابی فکر مند ہوگئ تھئ۔ وہ شرارت بھری مسکراہٹ دباتا پیچھے چل۔پڑا۔
گیس تو آچکی تھی گائوں میں مگر چولہا زمین پر ہی رکھا تھا۔ اس نے چاولوں کی دیگچی اٹھا کر دیکھی مرغی پلائو تھا ۔مگر تھوڑا سا ہی تھا۔اس نے گرم۔کرنے رکھا پھر اس سے پوچھنے لگی
روٹی بھی ڈال دوں ساگ رکھا ہے۔ اسے ساگ پسند تھا بہت جبھئ پوچھا تھا اس نے۔
تھپ تھپ۔روٹی پکائو گی اماں جاگ جائیں گی اور روٹی سے پہلے گالیاں کھانے کو مل جائیں گی۔ وہ برا سامنہ بنا کر بولا
تو اسکو ہنسی آگئ۔۔۔
نا بولا کر ایسے۔ جبھی گالیاں پڑتئ ہیں تجھے۔
اس نے پلیٹ میں چاول نکال کر سامنے رکھے۔ وہ بھوکا ہو رہا تھا جبھی رغبت سے شروع ہو گیا۔ اسکا دل کیا چائے بنا لے مگر دودھ کی دیگچی کی۔طرف ہاتھ بڑھا کر رہ۔گئ
بنا لو چائے بھابی اتنا نا ڈرا کرو۔ کلو بھر دودھ میں سے ایک کپ کم بھی ہوگیا تو اماں کو پتہ نہیں چلنا۔
وہ بھئ ایک کائیاں تھا۔ وہ کھسیا سی گئ۔
ہاتھ واپس کھینچ کر دوپٹے میں چھپا لیا۔
خوامخواہ وہ تو میں ایسے ہی۔ اس نے ڈبے سے کیک رس نکال کر ایسے ہی چبانا شروع کردیا
ہاں بس ڈر ڈر کر رس کھایا کرو۔ کوئی جان نہیں بنتی رس سے۔ اور جو تھوڑی بہت بنتئ ہے وہ بھیا اور اماں سے ڈر ڈر کر جان نکال لیتی ہوں اپنی۔ ایسے رہیں نا تو دو چار سال میں غائب ہو جائو گئ۔
وہ جتنئ تیزی سے کھا رہا تھا اتنی تیزی سے زبان بھی چل۔رہی تھی اسکی۔
اتنی بڑی بڑی باتیں کہاں سے سیکھ کے آتے ہو۔ اس نے بلا۔لحاظ چپت لگا دی سر پر۔ جوابا وہ برا سا منہ بنا کر بولا
سچ بولتا ہوں جبھی گالی بھی کھانے کو ملتی اور مار بھی۔ ابھی کل جو بھائی نے بلا کمر پر دے مارا سچ بتایا تھا پوچھنے پر ہاں کرکٹ کھیل کر آرہا ہوں ورنہ کہنے کو یہ بھی کہہ سکتا تھا مرغیاں اندر کر رہا تھا۔ اماں نے بھائی کو۔آتے دیکھتے ہی مجھے مار سے بچانے کو کہا تھا بلے سے مرغیاں اندر کر لے۔ اب بتائو کوئی بلے سے مرغیاں اندر کرتا ہے بھلا۔ مگر سچ بولنے پر۔کمر پر بلا پڑا۔ جھوٹ بولتا تو بچ جاتا۔ ابھی تک۔درد ہو رہا ہے۔
مانا وہ مارتے ہیں غلط کرتے ہیں مگر خود سوچو میٹرک کیا اب تمہیں انٹر کرلینا چاہیئے ماشا اللہ سے اٹھارہ سال۔کے ہو رہے ہو جب سے بیاہ کر آئی ہوں میٹرک کر رہے ہو تم۔
طوبی نے کہا تو ہنس دیا
مگر تم نے پاس ہو کر کیا اکھاڑ لیاایف اے کرکے یہاں آئیں اب یہاں بیٹھئ ہو گالیاں کھا رہی ہو میں کم از کم میٹرک فیل ہو کر تو گالیاں کھاتا ہوں نا۔
بس بکواس کروالو۔
وہ چڑ گئ۔ اس دفعہ تو پاس ہو جائو۔خدا کا واسطہ ہے پڑھ لیا کرو۔۔
اس دفعہ پاس ہو۔جائوں گا۔
اس نے پلیٹ صاف کرکے رکھتے ہوئے پرعزم انداز میں کہا۔
کیسے؟ وہ مشکوک نظروں سے دیکھنے لگی
بھائئ کی جگہ اس دفعہ فارم خود فل کرکے داخلہ بھیجوں گا
سائنس کی جگہ آرٹس میں۔ مجھ سے یہ فزکس کیمسٹری پڑھے نہیں جاتے بھایا زبردستی کرتے ہیں۔ اگر بات میٹرک کی ہے تو وہ میں کر لوں گا آرٹس میں کروں گا۔۔مجھے ویسے بھی احمد فراز بننا ہے۔
کیا بننا ہے؟ وہ۔حیرانی سے چیخ ہی تو پڑی۔ رسک کترنا بھول گئ۔
آہستہ بولو۔ وہ سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنے لگا
دماغ ٹھیک ہے۔ وہ ابھی تک شاک میں تھی
بالکل ٹھیک ہے۔مجھے ڈاکٹر انجینئر بننے کا کوئی شوق نہیں میں تو بنوں گا ادیب شاعر۔ اس نے فخریہ کالر چڑھائے۔
بھوکے بھی مروگے۔
اس سے سوکھا رس کھایا نہیں گیا ایک طرف رکھ دیا۔
خیر ہے اٹھارہ سال پیٹ بھر کھایا ہے آگے اللہ کی مرضی۔ اس نے مزے سے کہہ کر ادھ کھایا رسک اٹھایا اسے ہنس کر کہتارس کھاتے اٹھ کھڑا ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے خبر نہیں تھی کہ ذرا سے چاول گرم کرکے دینے پر اسکی پیشی لگ جائے گی۔۔ اماں نے صبح صبح ہنگامہ کردیا
رات کو خاص چاول بچا کے رکھے تھے میں نے صبح صبح بھوک لگتی ہے نماز کے بعد تو کھائوں گی کہاں گئے۔ اب آٹھ بجے تک تو بہو رانی اٹھیں گئ نہیں تب تک یہ بڑھیا بھوکی مرے جو کرے کسی کو کیا پروا۔
ٹھیٹھ پنجابی لہجہ تھامگر جان کر اردو میں فضیحتے کر رہی تھیں کہ شہری بہو سب سمجھ لے۔ باورچی خانے میں زور وشور سے برتن پٹخ رہی تھیں۔ اسکی شور سے آنکھ کھلی تھی۔ اٹھتے ہی رنگ بھی فق ہوگیا۔
دوپٹہ اٹھا کر زینت کو تھپکتی احتیاط سے اپنی جگہ لٹا کر اپنی طرف سے وہ دبے پائوں دروازے کی۔جانب بڑھی تھی۔ شائد دلاور کی بھی آنکھ اس شور شرابے سے کھل گئ تھئ۔۔ اٹھتے ہوئے بظاہر سرسری انداز میں سوال کیا۔
تم نے کھائے تھے رات کو چاول۔
جی؟ پہلا جی سوالیہ تھا۔۔ پھر چونک کر سر اثبات میں بھی ہلا دیا۔
جج جئ۔
خاور کا نام لیا تو بے چارے کی صبح صبح شامت آجائے گی۔ وہ انگلیاں مروڑ رہی تھی
ابھی گڑیا چھوٹی ہے بھوک ذیادہ لگتی ہوگی تمہیں میں تمہارے لیئے پھل وغیرہ منگوا دوں گا یہیں کمرے میں رکھ لینا۔
وہ بغور دیکھ رہے تھے اسے ۔۔ اور اسکے پسینے چھوٹے جا رہے تھے۔۔۔
چلو میں بھی چلتا ہوں ساتھ۔ وہ سمجھ رہے تھے اسکا گریز۔اسے تھوڑا اطمینان ہوا۔ یقینا اماں اسکی خبر دلاور کے سامنے نہیں لے سکیں گی۔ یہی سوچ کر وہ خوشی خوشی انکے ہمراہ کمرے سے باہر نکلی۔
باہر اماں اور خاور میں گرم گرم بحث جاری تھی
جھوٹ نا بول اسی نے کھائے ہوں گے آج کل ہر وقت منہ چلتا رہتا ہے اسکا۔ تو بھابی کو بچانے کیلئے اپنے سر لے لیا کر ہر بات۔خوب جانتی ہوں رات کو لیٹ جل۔رہی تھی باورچی خانے کی۔
اماں چائے میں کیک رس ڈبو کر کھا رہی تھیں۔۔
رات کو۔دیر سے آیا تھا تو بھابی نے کھانا گرم کرکے دیا۔۔ وہ تو چائے تک بنانے سے ڈرتی ہیں خالی کیک رس کھانے لگیں وہ۔ بھی نا کھایا گیا ان سے۔ ہروقت نا انکے کھانے پینے کو ٹوکا کرو۔
اسکی بات پر اسکے قدم وہیں رک گئے۔ حسب توقع دلاور بھی رک کر پلٹ کر اسے دیکھنے لگے تھے۔
ایک تو یہ۔لڑکا مجال ہے جو کبھی چپکا رہ جائے۔ اسے شدید غصہ آرہا تھا خاورپر۔
خاور رات کو دیر سے آیا تھا ؟
دلاور کا سوال بھی حسب توقع تھا۔
وہ۔۔ وہ انگلیاں چٹخانے لگی۔
جی بھائی۔ رات کو دیر ہوگئ تھئ آتے وقت گائوں کی سواری نہیں مل رہی تھی تو گھنٹہ بھر اڈے پر کھڑا رہا وہ تو چاچا فضل اپنی موٹر سائکل پر آرہے تھے تو۔۔۔
خاور نے پیچھے سے آکر توجہ اپنی طرف مبذول کرلی۔۔
کونسے اڈے پر ؟ شہر گئے ہوئے تھے؟
دلاور کی جرح شروع تھی۔
جی ملتان ۔۔۔ وہ جاوید۔۔۔
وہ آگے ملتان جانے کی وجہ بتا رہا تھا کہ دلاور تائو کھا گئے انکا ہاتھ اٹھا اور خاور کے گال پر نشان چھوڑ گیا
ان آوارہ۔گردیوں کے لیئے وقت ہے تمہارے پاس۔پڑھائی کا کہو تو جان جانے لگتی ہے تمہاری۔۔۔۔۔
وہ بولے تو بولتے چلے گئے شکر ہے اس وقت بس ایک تھپڑ پر اکتفا کیا۔
اسے اس مارکٹائی والے ماحول کی عادت نہ تھی۔ اس نے تو کبھی اپنے ابا کو بھائی پر ہاتھ اٹھاتے نہ دیکھا تھا۔ کبھی بھائی پر ہاتھ نہ اٹھایا بہنوں کی تو بات ہی نہیں تھی۔ یہاں دلاور اتنے پڑھے لکھے ہو کر بھی۔۔
وہ بے آواز رو رہی تھی۔۔ اسی مار سے بچانے کو جھوٹ بولا تھا۔
تو کیوں ٹسوے بہا رہی ہے کھڑی۔ ساس کی۔نگاہوں سے اسکا بچنا ہمیشہ مشکل ہوتا تھا۔
ماں کے کہنے پر دلاور نے پلٹ کر اسکی شکل۔دیکھی تو اسکے چہرے پر چھایا ہراس انکو جیسے سرد سا کر گیا۔ بولتے بولتے رک کر سر جھٹکا اور باہر نکل گئے۔ پندرہ سالہ راحیلہ اور دس سالہ مانو بھی اٹھ کر باہر آگئ تھیں۔ مانو آکر بھائی سے لپٹ ہی گئ۔
میں ٹھیک ہوں یار ایک دو تھپڑوں سے کچھ نہیں ہوتا میرا۔
وہ پیار سے مانو کے سر پر ہاتھ پھیرتے کہہ رہا تھا مگر مخاطب طوبی ہی تھئ۔۔ وہ دوپٹے سے آنکھیں رگڑتے اندر کمرے کی۔جانب بڑھنے کو تھی کہ آواز آئی
اب اندر کس پیو کو رونے جا رہی ہے جا ناشتہ بنا سب کیلئے دن چڑھ آیا۔ہے۔۔۔
وہ وہیں سے پلٹ کر کچن چلی آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔
جاری ہے۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *