قسط 13
یہ آئی ڈی آپکے گھر سے کھولی گئ ہے جس سے تقریبا 13 لڑکیوں کو ہراساں کیا گیا ہے۔ اس کھاتے سے لڑکیوں کو گھیرا جاتا رہا ہے انکی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر مختلف ویب گاہوں کو بیچا گیا ہے۔جہاں تک مجھے لگتا ہے یقینا اس آئی ڈی کی وجہ سے ہی آپکی اپارٹمنٹ میٹ کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئ تھئ۔
چندی آنکھوں والے اس پولیس افسر نے پیشہ ورانہ سنجیدگی کے ساتھ اسے بے تاثر انداز میں بتایا تھا۔ وہ اور سیہون اس تفصیل پر ہکا بکا ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔
دیکھیں آپکو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میرے ساتھ صرف لڑکیاں رہتی ہیں وہ ایسا کام نہیں کر سکتیں اور ہے جن تو بچہ ہے ہائی اسکول کا وہ کہاں۔
واعظہ کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی اس افسر نے ایک اور کاغذ نکال کر سامنے میز پر رکھ دیا۔
ہم نے جب آپ کے اپارٹمنٹ میں رہنے والی لڑکیوں کے کوائف لیئے تو ان میں سے ایک لڑکی کمپیوٹر سائنس پڑھ رہی ہے۔۔ افسر نے لمحہ بھر کا وقفہ لیا۔ واعظہ کا بس نہیں تھا کہ نور کی پٹائی ہی کر ڈالے۔
۔ نور۔یہ لڑکی ہے۔۔۔ افسر نے تصویر سامنے رکھی۔۔
آج سے ٹھیک مہینہ بھر قبل اس لڑکی نے ایک متاثر لڑکی کو فون کر کے ایک تفریح گاہ میں بلایا تھا جہاں اس لڑکی نے اپنے بلیک میلر کو ایک اور لڑکی کے ساتھ دیکھ کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ پولیس کیس بنا تھا ۔ وہ لڑکا ابھئ بھی زیر حراست ہے اور لڑکی کا بیان یہی تھا کہ اسے ایک لڑکی نے فون کرکے بلایا تھا۔ نور نامی لڑکی نے اس لڑکی کو بلانے سے قبل یہ آئی ڈی کھولی تھی جو اس لڑکے کی ملکیت تھی اور بعد میں وہ لڑکا بھی اس آئی ڈی کو نہیں کھول پایا تھا۔ بہر حال اس آئی ڈی سے نور کا کیا تعلق ہے اور وہ اس گینگ کی رکن ہے یا نہیں اسکا فیصلہ باقی ہے۔ ہم نور کو شامل تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔
مگر دیکھیں آفیسر نور کا اس لڑکے یا گینگ سے کوئی تعلق ہوتا تو وہ اس لڑکی کی مدد کیوں کرتی۔۔۔
سیہون نے کہنا چاہا تو اس چندی آنکھوں والے نے اطمینان سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
آپ نور کو کیسے جانتے ہیں؟ سیہون؟
پولیس والے پھر پولیس والے ہی ہوتے ہیں۔ وہ گڑ بڑا سا گیا۔ وہ کہاں جانتا نام شکل کچھ بھی تو اسے پتہ نہ تھا یہ واعظہ جانے کون کون سی لڑکیاں اپنے اپارٹمنٹ میں بھر کر بیٹھ گئ ہے۔ اس نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا واعظہ کو۔
دیکھیں یہ لڑکی طالبہ ہے کنگ سیوجون انسٹیٹیوٹ کی طالبہ ہے اور۔ وہ ایسی لڑکی نہیں ہے۔واعظہ نے کہنا چاہا تو وہ افسر اسی سرد سے تاثرات کے ساتھ اپنی دراز سے دو تین تصویر نکال کر اسکے سامنے رکھ دی۔
وہ سات طلبا کا گروپ فوٹو تھا جن میں دو لڑکیاں تھیں اور باقی سب چندی آنکھوں والے لڑکے۔ لڑکی ایک تو چندی آنکھوں والی تھی دوسری نقاب پہنے تھی ۔
یہ لڑکی؟ اس نے افسر سے پوچھا۔۔
نور نام ہے اسکا۔ اس نے یونیورسٹی کا ایڈمٹ کارڈ کی نقل سامنے کی جس میں اسکی تصویر بنا نقاب کے تھی۔
یہ نور اور عبایا ۔۔ یہ عبایا تو کل عزہ پہنے تھی۔ تو کیا؟ ۔
وہ چونک سی گئ۔
دیکھیں یہ انکی اسکول کی ہی تصویر رہی ہوگی ۔ اس سے ۔۔۔
اس نے کہنا چاہا مگر افسر بے تاثر چہرے کے ساتھ چندی آنکھیں اس پر جمائےبیٹھا تھا
یہ کیس گنگم پولیس اسٹیشن میں درج تھا وہاں کی تحقیقاتی ٹیم اس لڑکی تک پہنچی ہے۔ یہ سب تفصیل انہوں نے ہمیں دی ہیں۔ وہ اس لڑکی کو حراست میں لیں گے یا نہیں یہ انکا معاملہ ہے۔ مجھے آپ صرف یہ بتائیں کہ ان میں سے کوئی اغواکاروں میں شامل تھا کہ نہیں۔۔
وہ گہری ٹٹولتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ گہری سانس لیکر تصویریں الٹ پلٹ کرنے لگی
دوسری تصویر میں پانچ لڑکے عمر بیس سے تیس کے درمیان ہوگی کسی کلب میں شراب کے گلاس لہراتے ہوئے خوش باش تھے۔ اور ایک تصویر میں وہ لڑکی اور ایک اور لڑکا قابل اعتراض حد تک بے تکلف نظر آرہے تھے۔
ان میں سے یہ لڑکا یہ لڑکی اور یہ کالی چادر میں لپٹی لڑکی ان تینوں کا آپس میں کوئی ربط ضرور ہے باقی ہمیں شبہ ہے یہ پانچوں لڑکے ملے ہوئے ہیں اور اغوا کی کوشش میں ملوث ہیں ان میں سے کسی کو پہچان سکتی ہیں آپ۔
وہ بہت غور سے اسکے تاثرات جانچ رہا تھا۔
واعظہ نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری۔ وہ سب چندی آنکھوں والے یا تو سب اجنبی لگ رہے تھے یا سب مانوس۔

میں نے بتایا میں نہیں دیکھ پائی تھی۔ میں گھبرائی ہوئی تھی میری توجہ بس اپنی سہیلی پر تھی۔
اس نے سوچ کر جواب دیا تھا۔
مجھے حیرت ہے کہ اس لڑکی عزہ کو کیوں اغوا کرنے کی کوشش کی گئ جبکہ نہ وہ بلیک میل ہو رہی تھی نا ہی اسکا کسی طرح کوئی ربط نکل رہا ہے اس معاملے سے۔ پھر انہوں نے اسے اغوا کرنے کی کوشش کیوں کی؟۔۔۔۔
افسر نے پرسوچ انداز میں کہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سوچ نہیں سکتا تھا اتنا کچھ ہو جائے گا اور سب سے آخر میں کسی کو اگر تم بتائو گی تو وہ میں ہوں گا۔۔۔ بس اتنی سی دوستی ہے ہماری؟ میں یاد بھی نہ رہا کہ تم مجھے بتاتیں۔۔ عزہ اسکو تو بہن سمجھا تھا میں نے وہ اغوا ہوتے ہوتے بچی وہ بھی ایک انتہائی بڑے بلیک میلر گروہ کے ہاتھوں واہ واعظہ۔
پولیس اسٹیشن سے نکلتے ہوئے سیہون نے شکوہ کناں انداز میں کہا تھا۔ وہ سر جھکا کر رہ گئ۔
تم سب سے پہلے انسان تھے جس سے رابطہ کرنے کی سوچ آئی تھی مجھے اس مشکل کی۔گھڑی میں۔ مگر میں پہلے ہی تم سے بہت شرمسار ہوں۔ میری ہمت نہیں ہوئی تم سے پھر مدد مانگنے کئ۔
اس نے کہہ ڈالا۔ سیہون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔ وہ دونوں بس اسٹاپ تک پیدل جا رہے تھے۔ سرد ہوا ہلکی دھوپ خوشگوار تاثر ڈالتی مگر دونوں اپنی اپنی جگہ بہت الجھے ہوئے تھے۔
کافی پیوگی۔۔سامنے کافی بار پر نظر پڑی تو وہ اس سے پوچھ بیٹھا۔
چلو۔ واعظہ بھی کہیں بیٹھنا چاہ رہی تھی۔ سو انکار نہیں کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے جن اور عزہ منے صوفے پر بیٹھے تھے الف نور عشنا انکی خاطر مدارت میں لگے ہوئے تھے۔
نور انکے لیئے اسٹاربری شیک بنا کر لائی تھی۔
مگر دونوں پینے میں متامل تھے۔عزہ اسٹاربری شیک کو منع نہیں کر سکتی تھی خود کو حادثے کا مارجن دیا اوپر سے اسکو تو نیند ایسی سوار تھی کہ خود سے اٹھی بھی تو آٹھ بجے تک سحری کا وقت گزر چکا تھا اور ہے جن کو اسکی چوٹوں کے پیش نظر عروج اور واعظہ نے اٹھایا ہی نہیں سحری میں۔جس پر وہ خفا بھی ہوا بعد میں۔
نونا آپ لوگوں کا تو روزہ ہے میں آپکے سامنے کیسے کھا پی سکتا ہوں۔
ہے جن نے کہہ ہی دیا۔ تو نور عشنا اور الف نثار ہی ہوچلیں۔عزہ جو دو تین گھونٹ لے چکی تھی سٹپٹا سی گئ
کوئی بات نہیں بنا کے بھی تو روزے میں لائی ہے اتنا کچا تھوڑی ہوتا روزہ کہ کسی کو کھاتا پیتا دیکھ کر ٹوٹ جائے۔
عزہ نے خفت سی مٹائی خوب تیز ہو کر بولی تھی۔
ہاں ہے جن پیو تمہیں ویسے بھی کمزوری ہو رہی ہوگی۔
عشنا نے پیار سے کہا۔
ویسے یار قسم سے عظیم منظر رہا ہوگا ہم محروم رہ گئے فل ایکشن سین۔ الف نے چٹخارا لیا۔
نور دہل سی گئ۔
خدا کا شکر ادا کرو ایسا ویسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملا جان سولی پر ہوگی اس وقت عزہ کی کیوں عزہ؟ نور نے تائید چاہی عزہ نے گڑبڑا کر سر ہلایا۔ اسکی تو جانے بلا وہ تو آرام سے اچانک سوگئ تھی پھر جب اٹھی تو اسپتال میں چار پریشان شکلیں اس پر جھکی تھیں۔ خیال پوچھتی محبت بھری نظروں سے دیکھتی۔
عزہ تم نے اسپتال میں تو نقاب نہیں کیا ہوا ہوگا ہے نا۔ عشنا کو دور کی سوجھی۔ ان سب کو خود کو۔گھورتا پایا تو وہ سٹپٹا کر وضاحت دینے لگی۔
میرا مطلب تھا کہ وہ اغوا کار تو اسپتال میں بھی پیچھا کر سکتے ہیں نا۔۔۔ تو وہ۔ انکو مسلسل گھورتے دیکھ کر اس نے بات ادھوری ہی چھوڑ دی
نقاب عبایا۔ عزہ کے سر میں سائیں سائیں ہوئی۔
وہ تو اس وقت عروج اور ہے جن کے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھ کر آگئ تھی عبایا تو جانے کہاں رہ گیا۔
عبایا؟ عزہ کا تو عبایا کمرے میں پڑا ہوا ہے ۔۔ نور کو یاد آیا کرسی کے ہتھے سے لٹکتا ۔۔ اور اسکا عبایا۔ ابھی اسکے زہن نے کڑی ملانی شروع کی تھی۔
وہ نہیں آئے ہونگے کیونکہ عزہ نونا کے پیچھے آئے ہی نہیں تھے انکا اصل شکار کوئی اور ہے۔ ہے جن نے تجسس کو اور ہوا دی۔
کیا مطلب۔ وہ سب چونکیں۔
مطلب یہ کہ جب کھینچا تانی میں نونا کا نقاب ہٹا تو وہ چونک گئے تھے وہ نقاب کی وجہ سے نونا کو پہچانے نہیں سچ تو یہ کل نونا نے عبایا بھی بڑا لمبا سا پیچھے سے دم والا پہن رکھا تھا۔ اور اسکا رنگ بھی ڈبل شیڈڈ تھا نونا تو بالکل بلیک والا پہنتی ہے نا۔وہ عزہ سے تائید چاہ رہا تھا اور عزہ گردن ہلائے تو گردن شکنجے میں کسی جائے کے مصداق ساکت بیٹھی تھی
لانگ ٹیل عبایا۔ ڈبل شیڈڈ۔ عزہ تم میرا عبایا پہن گئ تھیں؟
نور کو شدید صدمہ لگا
جی۔ عزہ نے سر جھکا لیا۔
عبایا کہاں ہےمیرا عزہ اب۔؟ نور نے دل پر ہاتھ رکھ کر کڑے تیور سے گھورا
عزہ نے ایک نظر ان سب کو دیکھا پھر سر جھکا لیا۔
میرا اتنا مہنگا خالص عربی اسٹائل کا عبایا جو میری خالہ دبئی سے لیکر آئی تھیں تم نے گما دیا۔
نور دل تھامے ہوئے تھی۔
آئیم سو سوری میرا عبایا میلا تھا توپہن گئ تمہارا اوپر سے اچانک یہ حادثہ مجھے نہیں پتہ ہاسپٹل میں کس نے اتارا کیا کیا اسکا مجھے خیال ہی نہیں آیا کہ میں بنا عبایا گھر آگئ ہوں : عزہ نے صفائی دی مگر نور کو دھچکا لگ چکا تھا۔
تم بنا عبایا کیسے گھر آگئیں۔ میرا عبایا۔واپس کرو وہ غصے سے لال پیلی ہو چلی تھئ۔ الف جھٹ اس سے لپٹ کر روکنے لگی۔
ہم عروج سے پوچھیں گے بلکہ آج عروج پتہ کرلے گی ۔ وہ جلدی جلدی تسلی دے رہی تھئ۔
عروج عروج میرا عبایا چھوڑ آئی ہے یہ عزہ کی۔بچی۔
وہ وہیں سے آوازیں دینے لگی تھئ۔
آپ عروج کو نہ جگائیں وہ جان سے مار دیں گی جس نے انہیں آج اٹھایا اسے۔ یہ کہہ کر سوئی ہیں۔ عشنا منمنائی۔
آئیم سوری ۔ عزہ الف کی وجہ سے بچ رہی تھی۔ البتہ الف کو کئی کراری دھپ لگ چکی تھیں۔
ہائے نور صبر کرو کتنا بھاری ہاتھ ہے۔ وہ بلبلائی۔
نور الف۔ عزہ آگئ کیا؟ طوبئ دروازے سے ہی پکارتی آئی۔ تو لمحہ بھر کو تینوں ساکت سی رہ گئیں۔ جیسے کوئی صور پھونکا گیا نور الف عشنا سب بھول بھال الرٹ سی ہو بھاگم بھاگ کونا کھدرا ڈھونڈنے لگیں۔
کیا ہوا۔ عزہ اور ہے جن آنکھیں پھاڑے انکو کونوں میں چھپتے دیکھ رہےتھے۔ الف کچن کائونٹر کی آڑ میں گھٹنوں میں منہ دے کر بیٹھئ تو عشنا غڑاپ سے اپنے کمرے میں جا گھسی۔ نور اپنے کمرے کی جانب بھاگئ مگر عروج کی وارننگ یاد آئی۔۔
خبردار جو آج کسی نے چوں کی بھی آواز کی کمرے میں میرے۔ اٹھارہ گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد اب اگر کسی نے مجھے وقت سے پہلے جگایا تو آج کو اسکی زندگی کا آخری دن بنادوں گی میں۔
وہ ہینڈل گھماتے گھماتے پلٹ کر آئی اور عزہ اور ہے جن کے صوفے کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئ۔
طوبی جب تک منی راہداری سے منے لائونج تک پہنچی میدان صاف ہو چکا تھا بس عزہ اور ہے جن ہاتھ میں ملک شیک پکڑے ہونق بنے بیٹھے تھے۔ طوبی ایک ہاتھ میں پانی کی بوتل اور دوسرے میں کالی مرغی بغل میں دابے اندر داخل ہوئئ انہیں صحیح سالم دیکھ کر مانو نہال ہوگئ جھٹ مرغی سمیت دونوں کو باری باری گلے لگاکر ماتھا چوما۔ مرغی نے اس زبردستی بغل گیر ہونے پر کٹاک کٹاک کرکے زبردست احتجاج بھی کیا جسے وہ خاطر میں نہ لائی محبت سے ہے جن کے سر پر ہاتھ پھیر کر بولی۔
شکر ہے تم دونوں آگئے۔ بھئ کل سے دل کو پنکھے لگے تھے مجھے رات کو ہرمل اور لوبان کی دھونی دی۔ سب جادو ٹونہ دھرا کا دھرا رہ جائے گا دیکھنا۔اور تم دونوں کئ غائبانہ مرچوں سے نظر اتار کر گئ ہوں ابھی یہ
۔۔۔۔۔۔۔
غائبانہ مرچیں وار دیں غائبانہ تو نماز جنازہ ہی سنا ہے آج تک۔ عزہ بھونچکا رہ گئ۔ ہے جن اسکو کہنی مار کر ترجمہ کرنے کو کہہ رہا تھا۔
میں کہہ رہی ہوں یہ ہرمل اور لوبان۔ طوبی جوش سے بات دہراتے یہیں اٹک گئ۔
ہرمل اور لوبان کو انگریزی میں کیا کہتے؟
پتہ نہیں عزہ نے کندھے اچکائے۔
مگر یہ خالصتا پاکستانی چیزیں آپکو مل کہاں سے گئیں؟
اسکا سوال جائز تھا۔
ارے سب ملتا ہے یہاں ۔ طوبی نے ہے جن کے کندھے پر ہاتھ مار کر ٹھٹھا لگایا۔
یہ کورین بھی بہت جادو ٹونے جیسی چیزوں کے قائل ہیں۔ انکے بدھ متی خوب لوبان جلاتے ہرمل کی دھونی دیتے لیکن یہ پانی تو میں جامع مسجد سے خاص امام صاحب سے دم کروا کر لائی ہوں۔ وہاں خواتین کے درس میں ایک نو مسلم عورت نے مجھے بتایا یہاں لوگ بہت کالا جادو کرواتے ہیں وہ تو کسی بدھ متی پجارن کا بتا رہی تھی مگر مجھے تو سچی بات اعتقاد نہیں سو اپنے ہی مسلمان مولوی صاحب سے دم کروا لیا۔لو پیئو۔
جھٹ ہے جن کی جانب پانی بڑھایا۔
آندے مجھے پیاس نہیں۔ ہے جن ہچکچایا۔
ایک گھونٹ بس منہ نہ لگانا سب نے پینا ہے اسےبلکہ عزہ یہ مرغی پکڑو میں پلاتی ہوں ۔ طوبی نے حسب عادت بنا موقع دیئےعزہ کی گود میں مرغی پٹخ دی ۔ اور خود بوتل کھول کر ہے جن کو پانی پلانے لگئ۔عزہ اس اچانک حملے کیلئے تیار نہیں تھی اسکے منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی اور مرغی کسی گولی کی طرح اڑتی ہوئی صوفے کے پیچھے بیٹھی نور کے سر پر جا بیٹھئ۔ نور اس افتاد پر چیخ مار کر اٹھ کھڑی ہوئی دور دور سے پانی پیتے ہے جن کو اچھو لگا گیا تھا مرغی نور اور عزہ کی شکل دیکھ کر گھبرائی اور واپس طوبی کی جانب لپکی
ہائیں ہائیں کرتی طوبی کھانس کھانس اوندھا ہوا ہے جن انکو تحمل سے کام لینے کو بھی کہنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مرغئ سے ڈر کر چیخیں مارتی عزہ اور نور اور انکی چیخ و پکار سن کر کچن کائونٹر سے نمودار ہوتئ الف بنا صورت حال سے مکمل واقفیت حاصل کیئے کائونٹر سے بیلن اٹھا کر انہیں بچانے دوڑی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سیہون کی آہموجی اس سے پہلے اٹھی ہوئی تھیں۔ کچن میں کھٹ پٹ جاری تھئ۔سحری کے وقت اسے کون جگاتا سو آج وہ سوتی رہ گئ اب گیارہ بجے آنکھ کھلی تو بنا سحری کے ہی روزے کی نیت کرلی۔
آننیانگ ۔۔ انکی اسکی جانب پشت تھی سو اس نے سلام کرکے مخاطب کرنا چاہا۔
اٹھ گئیں تم۔ وہ فورا مڑیں اسے دیکھ کر محبت سے مسکرائیں
ادھر آئو۔ انہوں نے کہنے کے ساتھ زور زور سے اشارہ کیا۔
وہ سمجھ کر انکی جانب بڑھی۔ تو وہ فریج کھول کر دکھانے لگیں۔ نجانے کون کون سی سائیڈ ڈشز۔ کمچی وغیرہ اب ڈبوں میں بند سلیقے سے سجا تھا۔
تم خود بھی آرام سے کھانا اور سیہون کو بھی کھلانا۔ وہ بہت کھانے پینے کا چور ہے جب دیکھتی ہوں پہلے سے کمزور ہوا ہوتا ہے۔
اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر وہ اپنی جانب سے بے تکلفی جتاتے ہوئے جو کہہ رہی تھیں اس میں سے اسے بس سیہون ہی سمجھ آیا۔ ادھر ادھر نظر دوڑا کر اسکی عدم موجودگی محسوس کی پھر پوچھ ہی ڈالا۔
سیہون۔ وئئو؟۔ جانے گرامر درست بنتی تھی یا نہیں ویے کیا کو ہی کہتے یہ تو پتہ تھا مگر سیہون کہاں ہے اسکو کیا کہیں گے اسے نہیں پتہ تھا۔
سیہون اپنی اسی مسلی دوست کے پاس گیا ہے یہ پرچی لگا دی تھی فریج پر۔
انہوں نے اندازہ لگا کر یقینا درست سمجھا۔ برا سا منہ بنا کر فریج کی۔جانب اشارہ کیا۔
وہ تیزی سے فریج کی۔جانب بڑھی اسٹکی نوٹ انگریزی میں لکھا تھا۔
میں واعظہ کے ساتھ پولیس اسٹیشن جا رہا ہوں۔ میری بہن اوزانگ کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔گئ ہے تم بھی اپنےاپارٹمنٹ کا چکر لگا لو۔
وہ چٹ پڑھ کر ہکا بکا سی رہ گئ۔
آپکی بیٹی اغوا ہوتے ہوتے بچی ہے آنٹی۔ آپکو گھر جانا چاہیئے۔ ہڑبڑاہٹ میں وہ اردو میں بولی تھی۔ آنٹی کچھ نہ سمجھتے ہوئے منہ کھول کر دیکھنے لگیں
ویوئو؟ کیا؟
بیٹئ کو کیا کہتے ہنگل میں۔ وہ سوچ میں پڑی ۔
دے ۔ ہاں۔ میں اب نکلتی ہوں بس سے جائوں گی تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی کہ اٹھ جائو۔
وہ اسکے بولنے کی منتظر تھیں مگر پھر اسے مسلسل سوچتے دیکھ کر خود ہی بتانے لگیں۔ انکا چھوٹا سا سفری اٹیچی کیس کائونٹر کے ساتھ ہی تھا اسکی جانب اشارہ کیا۔
دے۔ آپکو جلدی جانا چاہیئے آپکی بیٹی جانے کتنی پریشان ہوگی۔
وہ کہتے ہوئے جلدی جلدی انکا سامان خود اٹھانے لگی۔ وہ آنٹی اب مزید نثار ہو جانے والی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنٹی کو بس اسٹاپ تک خود چھوڑنے آئی تھی۔ وہ بس میں بیٹھ کر کھڑکی سے ہاتھ ہلا رہی تھیں۔ اس نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔ بس ٹرمینل سے نکل گئ تو وہ واپس مڑی۔ سیہون اسکا فون نہیں اٹھا رہا تھا نا ہی واعظہ۔
حد ہے۔ فون اٹھا نہیں سکتے تو رکھتے کیوں ہو۔۔
اسکے اندر کی عمیمہ حلق کے بل چلائی۔
لی من ہو لاک اسکرین پر جلوے بکھیر رہا تھا۔ وہ گہری سانس لیکر ٹیکسی روکنے لگی۔
صرف موبائل واپس نہیں کروں گی عشنا کی خوب خبر لوں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے سامنے رکھے کولڈ کافی کے دو بڑے گلاسوں میں وہ دو اسٹرا ڈالے ہوئے انکو اکٹھے منہ میں رکھے پی رہا تھا۔
تم سے بڑی احمق لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی۔
گھونٹ بھر کر اس نے سر جھٹکا تھا۔ واعظہ نے اس خطاب کو کسی اعزاز کی طرح سر تسلیم خم کرکے قبول لیا۔
مطلب تمہیں کوریا کی چوٹی کی ہدایت کارہ اپنے ڈرامے میں کاسٹ کرنا چاہ رہی ہے اور تم اسکا فون نہیں اٹھا رہی ہو۔
کیا کروں فون اٹھا کر ؟ بلایا تھا آج گیارہ بجے اس نے اور میرا آج سارا دن یہاں لگ گیا ہے تین بج رہے اب ۔ کالز بھی اس نے بارہ بجے کے قریب کی تھیں۔
واعظہ کا انداز ہرگز بھی پچھتانے والا نہیں تھا سیہون کو رشک آیا اس پر۔
تو اٹھا کر کوئی بہانہ بنا دیتیں کوئی نئی اپائنٹمنٹ لے لیتیں۔
سیہون کا سر پیٹنے کو دل چاہا۔ وہ بھی اسکا۔
روزہ تھا جھوٹ بولتی میں روزے میں۔ اس نے آنکھیں پھاڑیں
تو وہ تلملا کر کچھ کہتے کہتے رک سا گیا۔ پھر دوبارہ اسٹرا منہ میں لے لیئے۔ کئی گھونٹ بھر کر سمجھانے والے انداز میں بولا۔
تم کرنا کیا چاہ رہی ہو اپنی زندگی کے ساتھ؟ تعلیم مکمل کرنی نہیں نوکری کوئی ہے نہیں لے دے کے ایک اپارٹمنٹ ہے تو اسکی لیز مکمل ہونے والی کیا کروگی پھر؟
مجھے نہیں پتہ۔ وہ چڑ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لفٹ میں داخل ہوتے ہوئے اسکی سر سری سی نظر پڑی۔ پھر باقائدہ چونک کر اس نے اس آہجوشی کو دیکھا جو اسکے چونک کر دیکھنے پر سٹپٹا کر سر پر ہاتھ پھیرنے لگا تھا۔
عجیب فیشن نکل رہے ہیں بھئی۔ وہ بڑبڑائی ضرور۔
نین نقش سے تو کورین نہیں لگ رہا تھا بندہ مگر پھر بھی فیشن پورے تھے آگے سے بالوں کا ایک گچھا ماتھے تک آرہا تھا باقی سر پر گول مشین پھیری ہوئی تھی۔
فلور نمبر چار پر لفٹ کے رکنے پر اس نے ترچھی نگاہ سے اس آدمی کو دیکھا تھا۔ وہ سٹپٹاتا جلدی سے فاطمہ سے پہلے لفٹ سے باہر نکلا۔
یہ کون ذات شریف ہیں ؟۔ آج سے پہلے تو نہیں دیکھا۔ فاطمہ تفتیشئ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ انکے اپارٹمنٹ کے سامنے والے اپارٹمنٹ کی گھنٹی بجاتے اس آہجوشی نے شائد نظریں محسوس کر کے مڑکر دیکھا۔
کہیں یہ طوبی کے شوہر تو نہیں۔ فاطمہ کے ذہن میں جھماکا ہوا۔۔مگر کیا سوجھی انکو یوں لونڈوں لوفروں کی۔طرح کا ہیئر اسٹائل بنوانے کی۔ وہ سر جھٹکتی اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولنے لگی۔
آہ آہ۔ عزہ کی چیخ الف کی آواز۔ بے ہنگم شور
خدا خیر کرے۔ اس نے گھبرا کر جلدی سے دروازہ کھولا۔ دروازے کی چوکھٹ کے بیچوں بیچ دھاگے سے لٹکتے لیموں کا گچھا سیدھا اسکی آنکھ میں لگا۔
آہ وہ جلدی سے سہلانے لگی۔ چوٹ سے زیادہ اسے اندر مچی چیخ و پکار کی فکر تھئ۔
آپ 119 کو کال کریں جلدی ۔ مڑ کر دلاور کو ہدایت دیتی وہ اندر بھاگئ۔
سچ مچ ایمرجنسی ہے بھی کہ نہیں اپنے منے بالوں کے گچھے پر بلا ارادہ ہاتھ پھیر کر وہ متزبزب ہوئے۔
طوبی اورہےجن اس فتنی مرغی کو پکڑنے میں ہلکان ادھر سے ادھر جست لگا رہے تھے جو گھبرا کر عزہ کو اپنا ہمدرد سمجھ کر اس پر اچھل اچھل کر جا رہی تھی الف اور نور یونہی چیخ چیخ کر ادھر سے ادھر بھاگ رہی تھیں۔فاطمہ ہکا بکا صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
تبھی دروازے پر دستک دیتے انکی چیخ پکار سے متاثر ہوتے دلاور اندر چلے آئے
کیا ہو۔۔۔ انکا جملہ منہ میں ہی تھا کہ بیلن کھٹ سے انکی کنپٹی پر آکر لگا۔ یہ الف تھی جس کے پائوں تلے مرغی آگئ تو دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر چیخیں مارتی بیلن چھوڑ بیٹھی تھی۔۔
نہیں چھوڑوں گی آج۔ آج نہیں بچے گا کوئی مجھ سے۔ جان لے لوں گی میں سب کی۔
دھاڑ سے دروازہ کھولتی عروج بکھرے بالوں سرخ آنکھوں کے ساتھ چلائی ۔ سوج کے چندی ہوئی آنکھوں کے ساتھ جو سر پر دے مارنے کے لیئے ادھر ادھر چیز ڈھونڈی تو ایک نرم سی کالی سی چیز پیروں میں آلپٹی۔ بس سارا غصہ دھرا رہ گیا اب اسکی بھی چیخیں بلند ہوگئ تھیں۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔ جاری ہے۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *