قسط 56
صبح سورج کی روشنی اسکے چہرے پر پڑنے سے اسکی آنکھ کھلی تھی۔ گلاس ونڈو سے پورا سورج جیسے اسکے کمرے میں جھانک رہا تھا۔اس نے کسمسا کر آنکھیں مسلیں سیدھا ہونا چاہا تو احساس ہوا اس ننھے سے وجود کا جو اسکے پہلو میں بے خبر تھا۔ ذرا سا کروٹ لیکر اس نے دیکھا
بچپن کی میٹھئ نیند ماں سے لپٹ کر بے خبر سوتا صارم۔ اس نے ممتا سے چور انداز میں اسکی پیشانی پر بکھرے بال سمیٹے اور پیشانی چوم لی۔ ذہن مکمل بیدار ہونا شروع ہوا تو ذرا سنبھل کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔ ہاتھ پر لگے کنولے کی جگہ اب بینڈیج لگی تھی مگر پھر بھی درد کی لہر سی اٹھئ ۔ ٹیس سہتے وہ اٹھ کر سیدھی ہو بیٹھی۔ تو خیال آیا یہ اسکا کمرہ تو نہیں تھا پھر۔ اس نے ذہن پر زور دینے کی کوشش کی۔
اٹھ گئیں۔اب کیسی طبیعت ہے۔ ؟
دلاور کی آواز پر وہ بری طرح چونکی تھی۔
وہ اسکے بیڈ کے پیتھیانے اس بڑے سے بنچ نما صوفے پر بیٹھے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ گہری مگر ٹٹولتی نظر سے۔۔
آپ۔۔یہ میں۔۔ کیسے یہاں۔ اسکے منہ سے بے ربط سے لفظ نکلے تھے
تمہاری کل طبیعت خراب ہوگئ تھئ عروج عزہ کے ساتھ وہ تمہیں اسپتال لائی تھیں۔
وہ وہیں بیٹھے بیٹھے جواب دے رہے تھے۔ اسے ان کی نظروں سے کاٹ دینے والا احساس ہو رہا تھا۔۔
اوہ۔ اسکو یاد آیا۔ کیسے وہ گڈو کو دیکھ کر دیوانہ وار بھاگی تھی۔ اور جانے وہ گڈو ہی تھا یا اسکا وہم ۔ ایکدم کیسے اوجھل سا ہو گیا تھا اورپھر جیسے ہفت اقلیم اسکی نگاہوں کے سامنے گھوم گئے۔۔
بھوک لگی ہے ؟ یا گھر جا کے کھائو گی ۔۔
سرد سپاٹ سا انداز ۔ اس نے بہت غور سے انکی شکل دیکھی۔
وہ آپ یہاں ہیں توبچے۔؟ اسے ایکدم پریشانی ہوئئ
واعظہ کے گھر چھوڑ کر آیا تھا۔ ابھی یہیں ناشتہ کروگی یا گھر جا کے۔ ڈاکٹرز نے اجازت دے دی ہے تمہیں گھر جانے کی
اجنبی سا سرد لہجہ۔ اسکی ریڑھ کی ہڈی تک انکے لہجے کی سردی اترتی چلی گئ تھی
گھر چلتے ہیں۔ بچیاں پریشان ہو رہی ہوں گی۔ ۔
وہ فیصلہ کر کے بیڈ پر۔ٹٹول کر اپنا دوپٹہ ڈھونڈنے لگی۔
دلاور اسے دیکھتے رہے پھر صوفے پر تہہ ہوا رکھا اسکا دوپٹہ اٹھا کر اسکے پاس چلے آئے
ناشتہ کر لیتیں بچیاں ابھی سو ہی رہی ہوں گی۔
دلاور نے کہا تو وہ ٹٹولتے ہوئے مصروف سے انداز میں بولی
اچھی بات ہے انکے اٹھنے سے پہلے ہم گھر پہنچ جائیں ورنہ اٹھ کے مزید گھبرا جائیں گی۔ انکےساتھ ہی ناشتہ کریں گے میں صائم کو بھی جگا دیتی ہوں۔
اس نے ٹٹولتے ہوئے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو دلاور کے چہرے پر پھیلی غیر معمولی سنجیدگی ٹھٹکا تو رہی تھی اسے پر اب تو ڈرا بھئ گئ۔
کیا ہوا۔اسکے منہ سے بے ساختہ پھسلاتھا۔
کہیں میں سوتے میں گڈو تو نہیں پکارتی رہی ہوں۔
وہ ڈر سی گئ۔
وہ میری کل۔ اچانک۔ وہ مجھے چکر سا آگیا تھا پھر مجھے ہوش نہیں رہا۔
طوبی نے صفائی دینی چاہی۔
تم نے مجھ سے اتنی بڑی بات کیوں چھپائی ؟
دلاور نے سیدھا سیدھا سوال کر لیا۔۔
طوبی سے جواب نہ بن سکا۔
وہ اتنا اچانک مجھے ۔۔ سمجھ نہ۔آیا۔ میں نے روکنا چاہا مگر وہ
کیا؟ دلاور غم و غصے کے مارے چلا اٹھے
تم اتنا بڑا فیصلہ مجھ سے پوچھے بغیر کیسے کر سکتی ہو۔ ؟
روکنا؟ تم ہمارے آنے والے بچے کو اس دنیا میں آنے سے روکنا چاہتی ہو کیوں؟
نن نہیں۔
طوبی گھبرا سی گئ۔ دلاور سے چھپانے کا ارادہ تو نہ تھا اسکا بس بتانے کا دل نہ چاہا تھا مگر اتنی بڑی غلط فہمی انہیں کیوں۔۔۔
کیا نہیں ؟ تم مجھ سے پوچھے بنا میرے بچے کی زندگی کا فیصلہ کیسے کر سکتی ہو؟ سوچا بھی کیسے تم نے۔ زندگئ دینے کا وسیلہ بنی ہو تم زندگی چھیننے والی کیسے بن گئیں؟
اس بچے کی جان لینا چاہتی ہو جو دنیا میں بھی ابھی نہیں آیا تو یہ جو تین جیتے جاگتے بچے ہیں ہمارے ماردوں انکو بھی؟
سرخ آنکھیں بھینچی بھینچی آواز میں غم و غصے کے مارے وہ چلا بھی نہ پائے تھے۔ غیض و غضب بھاری لہجہ۔
بارہ سال قبل والے دلاور پوری آب و تاب سے جاگے تھے تو اسکے اندر کی بارہ سال قبل والی طوبی بھی پوری طرح اس پر طاری ہو۔چکی تھی۔۔ جسکے پاس انکے ہر سوال کے جواب میں صرف خوف کانپتی آواز اور آنسو ہی ہوا کرتے تھے۔۔
وہ وہیں دبک سی۔گئ تھئ۔ آج تک اسے اپنی۔صفائی دینا نہ آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صارم دلاور کی گود میں اونگھ رہا تھا۔لفٹ کا بٹن دباتے اس نے دزدیدہ نگاہوں سے دلاور کو دیکھا۔ لفٹ کی مختصر سی جگہ میں بھی اجنبی سی شکل بنائے وہ اسے میلوں کے فاصلے پر دکھائی دے رہے تھے۔ لفٹ رکتے ہی وہ بنا ایک لفظ کہے سیدھاتیز قدم اٹھاتے اپارٹمنٹ کی جانب بڑھے تھے۔ وہ انکے جتنی پھرتی دکھا نہیں سکتی تھی۔ مگر پھر بھی اسکے قدم من من بھر کے ہو رہے تھے۔
اندر آکر اس نے دروازہ بند کیا اور سیدھا کچن میں چلی آئی۔
دلاور شائد صارم کو کمرے میں لٹانے چلے گئے تھے۔۔وہ وہیں کچن میں بے دم سی ہوکر کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔ اسکو لگ رہا تھا ٹانگیں کانپ رہی ہیں اسکی۔
تبھئ ڈور بیل کی آواز آئی۔ اس سے قبل کے وہ اٹھتی دلاور کمرے سے نکل آئے اسکی۔جانب نگاہ بھی کیئے بنا دروازہ کھولنے لگے۔ عزہ دونوں بچیوں کے ساتھ ناشتے کی ٹرے لیئے کھڑی تھئ
اسلام و علیکم ۔۔ اس نے سلیقے سے سلام کیا وہ شائد یونورسٹی جانے کیلئے تیار تھی ڈینم عبایا نقاب میں ملبوس۔
انہوں نے سر کے اشارے سے ہی جواب دیا اور راستہ دینے لگے
پاپا مما آگئیں؟ ۔ گڑیا باپ کی ٹانگوں سے لپٹ گئ تھی زینت باپ کے سر ہلانے پر ماما ماما پکارتی دوڑتی اندر چلی آئی۔
عزہ ٹرے اٹھائے اندر ہی چلی آئی انہوں نے ایک۔ طرف ہو۔کر راستہ دیا۔
گڑیا کو گود میں اٹھا ئے کچن میں آئے تو گڑیا زینت کو ماں سے لپٹا دیکھ کر جھٹ انکی گود سے اتر گئ۔سیدھا دوڑ کر ماں سے جا لپٹی۔۔
آرام سے مما کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ ٹرے کچن کائونٹر پر رکھتے عزہ نے دونوں کو ٹوکا
کیا ہوا مما؟ زینت اپنے ننھے ہاتھوں میں اسکا چہرہ تھامے پوچھ رہی تھی
مما بخار ہے آپکو؟ گڑیا نے معصومیت سے پوچھا۔
میں ٹھیک ہوں بیٹا اس نے دونوں کو سینے سے لگا لیا
شکر ہے آپ مجھے بھی اس وقت بہتر لگ رہی ہیں۔ کل تو بالکل پیلی پھٹک ہو گئی تھیں آپ۔ ڈاکٹرز یہی کہہ رہے تھے کمزوری ہے۔ اب آپ آرام کریں خوب سارا کھائیں پئیں۔
عزہ آنکے لیئے پراٹھے او رآملیٹ بنا کر لائی تھی۔ٹرے سے پلیٹیں اٹھا کر میز پر لگانے لگی تو زینت بھی اسکی مدد کرانے لگی
یہ اتنی کیوں زحمت کی صبح صبح اٹھا دیا میری بچیوں نے۔۔ طوبی کو ناشتہ دیکھ کر خالی پیٹ ہونے کا احساس ہوا تھا مگر مروتا کہنا تو چاہیئے تھا
نہیں یہ تو دونوں ہماری وجہ سے اٹھ گئیں۔صبح اتنی لڑکیوں نے اکٹھے جانا ہو تو نا نا کرتے بھی خوب شور مچتا ہے۔۔ عزہ ہنسی۔۔
۔ ان دونوں کو۔تو ناشتہ کرادیا ہے میں نے۔انکے یونیفارم وغیرہ بھی نہیں تھے ورنہ انکو اسکول بھی بھجوا دیتی۔
عزہ نے کہا تو زینت نے جھٹ منہ بنایا
کوئی نہیں۔ خود تو عروج آپی کے ڈانٹنے پر اٹھی ہیں۔ ہمیں کیسے اسکول بھجواتئں۔
اسکے جواب پر۔عزہ نے تنک کر اسکے کان کھینچے
بہت تیز ہوگئ ہو تم۔۔ وہ ہنستے ہوئے کان چھڑانے لگی۔طوبئ مسکرا کر انکی لڑائی سے محظوظ ہو رہی تھی۔
مما آپ ناشتہ کرائیں۔
گود میں چڑھی گڑیا کو خود پر سے ماں کی توجہ ہٹنا گوارا نا ہوا تو دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ تھام کر اپنی جانب موڑتے ضد کرنے لگی۔ طوبی نے اسکو پیار سے گود میں بٹھاتے ناشتے کی ٹرے اپنی جانب کھسکا لی۔ کمرے کے دروازے پر کھڑے خاموشی سے انہیں تکتے دلاور کو لگا انہیں انکے سوال کا جواب مل گیا ہے۔
بچے۔ انکے رشتے کی مضبوط کڑی تھے وہ دونوں تو ایک دوسرے کو کھو بھی نہیں سکتے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس پر سے اتر کر یونیورسٹی تک کا راستہ انکے درمیان مکمل خاموشی سے گزر رہا تھا۔الف اسکے ساتھ چل رہی تھی مگر یوں جیسے بالکل اکیلی آئی ہو۔ عزہ نے گھور کر پہلے اسے پھر عشنا کو جتاتی نظروں سے دیکھا۔
الف ان دونوں سے بے نیاز بالکل مگن چل رہی تھی۔ چلتے چلتے یونیورسٹی کا گیٹ آیا وہ دونوں مڑ گئیں مگر الف سیدھا چلتی گئ۔ عزہ بھنا کر پلٹ آئی
نشہ وشہ تو نہیں کرنے لگ گئ ہو؟
عزہ کے طنزیہ انداز پر اس نے چونک کر گھورا تھا
مطلب؟ اسکی تیوریاں چڑھ گئی تھیں
ذرا اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائو۔۔
عزہ نے طنزیہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر گھورا۔ الف نے طائرانہ نگاہ دوڑائی پھر ذرا سا سٹپٹا گئ۔مگر اس وقت کمزوری دکھانے کا مطلب اپنا خوب مزاق بنوانا تھا
ناشتہ کیئے بنا آئی ہوں پہلے کنوینئنس اسٹور سے کچھ کھانے کو لیتی جبھی سیدھا جا رہی تھی۔ ہر وقت کی پہرے داری ہے ۔۔
ناک چڑھا کر بولتی وہ مڑنے لگی۔
عزہ نے اسکا بازو تھاما
اول تو کنوینئس اسٹور اس طرف ہے اس طرف نہیں۔دوسرا ہماری یونیورسٹی میں کیفے ٹیریا ہے یاد آیا؟ ۔
عزہ کے کہنے پر وہ چڑ کر کچھ کہتے کہتے رک گئ۔
اب کہاں تک وہ اپنی چڑ نکالا کرے دوسروں پر۔ چپکی ہو رہی۔ عزہ بغور اسکے چہرے کے اتار چڑھائو کو دیکھ رہی تھی
ایکسرے کر لیا تو اب میں جائوں؟ الف چڑنا نہیں چاہ رہی تھی مگر چڑ گئ
جائو۔ وہ شرافت سے ایک طرف ہو کر کھڑی ہو گئ۔وہ اسے گھورتی مڑی دو قدم بڑھ کر کچھ سوچ کر پلٹ کر پوچھنے لگی
تم نے نہیں جانا ؟
عزہ کندھے اچکا کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس چندی آنکھوں والی بلا نے اسے پھرکی بنا دیا تھا۔ لی جی کو دیکھنے سے کہیں سے نہیں لگتا تھا اس دبلی سوکھی لڑکی میں جنوں بھوتوں کی طرح سب چٹ کر جانے کی صلاحیت موجود ہے۔ صبح ناشتہ جانے کر کے آئی تھی یا نہیں مگر دس بجے موصوفہ نے بن اور ملک شیک پیا گیارہ بجے فریش جوس چاہیئے تھا وہ بھی موسمی کا۔ اسکے بعد بارہ بجے انکا سپر ٹائم تھا۔ لو فیٹ بسکٹس ایک مگ کافی کے ساتھ ڈکارنے کے بعد ایک۔بجے سے بھوک بھوک کا شور مچا دیا۔ آج شیڈول کے مطابق جاجامیان یعنی سرخ لوبیئے اور نوڈلز منگوائے گئے تھے۔ کھاتے کھاتے بیچ میں اسے چکن فیٹ یاد آگئے۔ وہ جب تک آئے تب تک بلیک بین نوڈلز کھا چکی تھی۔ اسکی ایک ایک فرمائش بنا ماتھے پر بل ڈالے اس نے پوری کئ تھی۔ اس کے جیسے ہی مناظر کی شوٹنگ شروع ہوئئ وہ چپکے سے باہر نکل آئی۔ اب کم از کم گھنٹے دو گھنٹے تک ہدایت کار نے اسکی جان چھڑائے رکھنئ تھئ اس ای جی آ کو مصروف رکھنا تھا۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتئ بس اسٹاپ پر آئی تھی۔ عشنا اسی وقت شائد بس سے اتری تھی اسے دیکھ کر تیز تیز قدم اٹھاتی پاس چلی آئی۔
کرائے پر مل جائیں گے یا خریدنے پڑیں گے؟ واعظہ نے پوچھا۔ تو وہ گڑبڑا سئ گئ
یہ تو وہاں جا کے پتہ چلے گا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بتائو ایسی لڑکی دیکھی نہ سنی۔ جہیز کی چیزیں کھول کر بیٹھ گئی۔اب سسرال میں قسمیں بھی کھائو گی نا تو کسی نا کسی نے طعنہ دے دینا کہ استعمال شدہ ٹی وی لے کر آئی ہیں بنو۔۔
دیسی کمچی کی پہلی قسط سے جو ہیولا بن کر ابیہا کی امی ڈانٹتی آئی تھیں آج حقیقت میں کمر پر ہاتھ رکھے ابیہا پر برس رہی تھیں۔
مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ شام کو فنکشن ہے تم سب صبح صبح تیار ہو کر کیوں بیٹھ گئ ہو ؟ اوپرسے یہ کوئی فلمیں دیکھنے کا وقت یے جو نئی ایل ای ڈی کا ڈبہ کھلوا لیا؟

نیلا گھاگھرا چولی جس پر بڑا گوٹے ستاروں بھرا دوپٹہ اوڑھا آئی لائنر موٹا لگ جانے کی وجہ موڈ خراب تھا مگر باقی میک اپ کافی اچھا کیا تھا اسکی سہیلی نے۔ باقی رہی سہی کثر امی پوری کرنے میں لگی تھیں۔ اسکی سہیلیاں اسکے کہنے پر اٹھ تو گئ تھیں مگر سب کے حالات ماڑے ہی تھے۔ جمائیاں لیتی بیڈ کے ارد گرد کارپٹ پر لڑھک رہی تھیں۔ابیہا کی ڈانٹ ڈپٹ پر کپڑے تو بدل لیئے مگر بھوک لگ رہی تھئ اور نیند بھئ آرہی تھی۔
ابیہا مائکرو ویو بھئ کھلوا لو قسم سے رات کے چاول گرم کرنے کے انتظار میں بیس منٹ تمہارے کچن میں کھڑی رہی تھی مگر بھابی تو اپنے بچوں کی فوج کو ناشتہ کروانے میں ذرا مہلت نہیں دے رہیں کہ مائکرو کر لوں
روبینہ چاولوں کی پلیٹ ہاتھ میں لیئے ادھر چلی آئی۔
ہاں وہ پڑا ہے کھول لو ڈبہ۔
اپنے سر پر پنوں سے دوپٹہ ٹکواتی ابیہا نے فراخ دلی سے کہا۔
خبر دار۔ جو اب مائکرو ویو کھولا۔ ابیہا کی امی تیر کی طرح مڑیں۔کمرے کے ایک کونے میں پڑے چار پانچ الیکٹرونکس کے ڈبوں میں سے ایک مائکرو ویو کا بھی تھا روبینہ اسکی جانب بڑھی تھی کہ آنٹئ نے ہینڈز اپ کر دیا۔ بے چاری ڈر کر پلیٹ ہی چھوڑنے لگی تھئ بچت ہو گئ
غضب خدا کا سارا جہیز شام کو جانا ہے یہ ڈبے کھلوائے جا رہی ہے احمق لڑکی۔ اتنا مہنگا ٹی وی ہے وہ بھی کھلوا لیا
امی نے گویا سر پیٹا
اوہو امئ گھس تھوڑی جائے گا ٹی وی جمال بھائی شام کو اسے اتار کر ایسے ہی ڈبہ بند کرنا ہے ٹھیک ہے۔
ابیہا نے امی کی تسلی کرانے کو جمائیاں لیتے ٹی وی کو اسٹینڈ میں لگا کر سیٹ کرتے جمال بھائی کو ہدایت ٹھونکی جوابا انہوں نے مزید منہ پھاڑ کر جمائی لی۔
لگ گیا۔ اب ویڈیو کال وغیرہ خود سیٹ کر لینا میں چلا۔ خالہ ناشتہ کروادیں نہار منہ اس نے تین چکر لگوائے ہیں میرے بازار کے۔
ابیہا کی امی سے انہوں نے اتنی دلسوزی سے شکایت کی کہ وہ تڑپ تڑپ گئیں۔
بس بیٹا اسکا ایسے ہی دماغ خراب ہے اب جانے صبح صبح دلہن بن کر بیٹھنے میں کیا مصلحت ہے محترمہ کی۔کل مایوں میں ذرا دیر بیٹھنا پڑ گیا تھا وہ دہائیاں مچائیں کہ اسکی ساس تک گھبرا گئیں آدھی رسمیں کرکے اٹھ گئیں
امی کو کل سے غصہ تھا ۔۔ دانت کچکچا کر ڈانٹتی چلی گئئں۔
جب تیار ہو کر بیٹھنے کا وقت تھا تب سو نخرے ہائے میں تھک گئ امی کمر ٹوٹنے لگی ہے میری ہائے سر میں درد اور اب صبح کے گیارہ بجے دلہن بن کے تیار ہو کے بیٹھ گئ۔ یہ جوڑا شام تک پکا اس نے مسکا کے پرانا کر چھوڑنا ہے۔
یا خدا امی یہ میرے لیئے ہی بنوایا تھا یا فریم کرکے دیوار میں لٹکانا تھا؟ اپنی مہندی کیلئے اپنا مہندی کا جوڑا پہننا گناہ ہوگیا کیا۔
ابیہا بھنا گئ۔ بیڈ پر اہتمام سے بیٹھی تھی فوزیہ اسکے کان میں جھمکے ڈال رہی تھی اس سے کان چھڑا کر امی کے پاس آن کھڑی ہوئئ احتجاجا پیر بھی پٹخ لیا۔
نیلے رنگ میں اسکا رنگ کھل رہا تھا۔ گہری سرخ لپ اسٹک گلابی دہکتے گال پیشانی پر ٹکا جھومر کلائیاں بھر بھر چوڑیاں اسکی تو چھب ہی نرالی تھی اتنا روپ ماشا اللہ امی ڈانٹنا بھول گئیں۔جھٹ بلائیں لے لیں۔
ما شااللہ میری بیٹی کیسی پیاری لگ رہی ہے اے ثریا مرچیں لائوں باورچی خانے سے ذرا نظر اتاروں
امی نے اتنئ تیزئ سے پینترا بدلا اور جھٹ پلٹ کر آواز لگا دی۔
امی۔ ا س نے بھئ ساری جھلاہٹ بہا دی انکے کندھے پرجھول گئ
افووہ ہٹو۔ پیچھے ایک تو یہ چمٹنے کا جانے کیا شوق ہے تمہیں ۔۔ اب شادی ہونے لگی ہے تمہاری ذرا سبھائوسے تھم کے رہنا سیکھو۔
لگے ہاتھوں نصیحت بھی ۔
اف خالہ کھانا کھلوا دو قسم سے رات کو بھی اسکی مایوں میں بھوکا کام کرتا رہا ہوں۔
سستئ سے سر میں انگلیاں چلاتے جمال بھائئ بھنائے
ہاں ہاں چلو۔ خالہ نثارہو کر بیٹی کو پرے کرتی بھانجے کے ناشتے کا انتظام کرنے چل دیں۔
وہ اپنی ناقدری پر دانت پیس کر رہ گئ۔ واپس اپنی جگہ آن بیٹھئ۔فوزیہ جھمکا تھامے بیٹھئ تھی جھٹ آگے ہو کر اسکے کان میں ڈالنے لگی۔
ہم بھی نظر آئیں گے ابیہا؟
بیڈ کی پائینتی سے ٹیک لگا کر قالین پر دوزانو بیٹھی اسکی کزن نے جمائی لیتے پوچھا تھا
جو تم لوگوں کا حلیہ ہے نا نا ہی دکھائو دو تو اچھا ہے۔
ابییا جلی۔ اسکی کزن کھسیا سی گئ۔ کپڑے تو سب نے زرق برق پہن لیئے تھے حسب توفیق چہرے پر رگڑے بھی لگا لیئے تھے مگر بنا ناشتے صبح صبح مہندی کا فنکشن کیسے چوکس ہو کر منایا جائے یہ انکو سمجھ نہیں آرہی تھئ
یار بھوک میں کیا تیار ہو کر بیٹھیں۔
روبینہ بھی آہ بھرتی ٹھنڈے چاولوں کے لقمے لیتی اسکے پاس آن بیٹھی۔
تبھئ اسکا موبائل بج اٹھا۔
واعظہ کالنگ
ابیہا ایکدم چوکنا ہو ئئ۔
آگئ کال تم سب تیار ہو جائو۔
اس نے جھٹ پٹ ریموٹ ڈھونڈااسکی پکار پر اسکی سکھی سہیلیاں ڈھیر سارا میک اپ تھوپتے چوکس ہوئیں۔ خوب زرق برق کپڑے پہنے قدرے اتائولی ہوئی وی پچاس انچ اسکرین کی ایل ای ڈی پر نگاہیں گاڑیں۔ابیہا کی مہندی کا فنکشن بس شروع ہوا چاہتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے پہلا جوڑا اٹھایا۔ آتشی گلابی گھاگھرا چولی جسکی چولی بمشکل بالشت بھر کی وہ بھی بیک لیس۔ دوپٹہ خوب لمبا چوڑا آرگنزا کا ۔
واعظہ نے عشنا کو دیکھا عشنا نے واعظہ کو پھر گڑبڑا کر اس سانولی سلونی سیلز گرل کوٹوکا
کوئی اور تھوڑا لمبا سا ڈریس دکھائیں۔
جی یہ تازہ ترین منیش ملہوترا کی کاپی ہے راجستھانی فراک اور چوڑی دار۔
اس نے نارنجئ گلابی اور جامنی رنگوں کی ایک برسات انکی نگاہوں کے سامنے لہرا دی۔ پروفیشنل انداز ڈھیر سارے ملبوسات انکے سامنے وہ ایک کے بعد ایک ڈھیر کر رہی تھی مگر ان دونوں کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ وہ ایک مشہور بھارتی ملبوسات کی دکان میں آئی تو کچھ روائیتی ملبوسات کی خریداری کرنے تھیں مگر یہاں روایتوں کا بلات کار ہو رہا تھا۔۔
منیش ملہوترا کون انکی جانے بلا مگر لباس بے حد خوبصورت تھا۔ واعظہ نے فوراہاتھ بڑھایا مگر ہاتھ خلا میں ہی رک گیا۔
فراک خوب لمبا گھیر دار تھا مگر پیٹ کی جگہ پر مہین ترین کپڑا آر پار بالکل۔ اور فٹنگ اتنئ کہ وہ پانچوں اگلے ایک سال بھوکی پیاسئ رہیں تب جاکے لباس میں گھسنے کے قابل ہو سکیں۔
اور کوئی۔
عشنا واعظہ کی کینہ توز نگاہوں سے گھبرا کر بول پڑی۔
منظر بدلا تھا۔ اس بار وہ پانچوں اس روایتی کوریائی ملبوسات کی دکان میں گھسی تھیں۔ گھویونگ گھوئی گونگ پیلس سے متصل اس دکان میں سے آپ چند گھنٹوں کیلئے اپنا من پسند کوریائی لباس کرائے پر حاصل کرکے پہن کر اس محل میں گوریو کی شہزادی یا شہزادہ بن کے گھومتے پھرتے خوب تصویریں کھنچوانے کے بعد انکو شرافت سے واپس کرکے جا سکتے تھے ۔۔۔
او ریہ۔
چندی آنکھوں والی سیلز گرل نے ایک نہایت خوبصورت گلابی بلائوز جس پر فان اور گلابی دیدہ زیب پھول پتیاں نقش تھے ستاروں بھرا فان لمبا سا اسکرٹ روایتئ ہنبق جس کی کڑھائئ جوزن دور کے نجانے کس نابغہ روزگار کا فن پارہ تھا وہ چندی آنکھوں والی سیلز گرل سب کچھ انہیں بتانے پر تلی تھئ مگر انکا ارادہ نہ تھا۔
گلابئ رنگ۔
عزہ نے جھپٹا مارا تھا۔
یہ والا میں پہنوں گی۔ عزہ کو یقین تھا کہ اس سے ابھی یہ جھپٹ کر چھین لیا جائے گا۔
ارے واہ ایویوں گلابئ میرا پسندیدہ رنگ ہے۔
یہ میں پہنوں گئ۔
الف اور گلابی رنگ کی کوئی چیز چھوڑ دے ناممکن۔ مگر اسکی توقع کے بالکل برعکس کسی نے اس لباس کی۔جانب نگاہ اٹھا کر نہ دیکھا۔ عروج اور فاطمہ نے معنی خیز انداز سے اسکو دیکھا پھر ایک دوسرے کو وہ بے نیاز سی بیٹھی رہی۔
جلدی جلدی چن لو ابیہا انتظار کر رہی ہوگی۔
واعظہ نے کہا تو عروج اور فاطمہ جلدی جلدی ہنبق پسند کرنے لگیں
فاطمہ نے گہرا سرخ بلائوز اٹھایا تو عروج نے مجنٹا ۔۔عشنا کو ہلکا سبز رنگ مختلف سا لگا تھا۔ہلکا آسمانی نیلا اور گہرا نیلا جامنئ کنٹراسٹ پڑا تھا۔
واعظہ کو گہرا نیلا جامنی والا پسند آیا تو اس نے اٹھا لیا۔ الف کو آسمانی رنگ بالکل پسند نہیں تھا۔
الف نے باقی رہ جانے والا اٹھایا تو واعظہ نے اپنا ہنبق اسکی جانب بڑھا دیا
یہ لے لو تم۔
نہیں ٹھیک ہے میں یہ پہن لوں گی وہ تم نے اتنے شوق سے اٹھایا ہے۔
الف نے نرمی سے منع کر دیا۔ انکی باتوں سے انجان سیلز گرل ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی
کوئی اور رنگ ہے آپکے پاس؟
عروج نے سیلز گرل سے کہہ دیا۔
دے۔وہ سر ہلا کر مڑی اور اندر سے ہلکا پیلا سنہری کام والا ہنبق اٹھا لائی
بلا شبہ اتنا دھیما رنگ اس پر اتنی خوبصورت گہرے رنگوں کی کڑھائی یہ اب تک کا سب سے پیارا ہنبق تھا۔
الف کا بے ساختہ ہاتھ بڑھا۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے پیلا رنگ بہت پسند ہےلوگ اکثر میرا مزاق اڑاتے ہیں کہ مجھے بیماروں والا رنگ پسند ہے مگر بچپن سے مجھے پیلا رنگ اچھا لگتا ہے اس رنگ کی خوبی ہے یہ دور سے نمایاں ہوتا ہے اور اسکے ساتھ جو بھئ رنگ ہویہ اس رنگ کو نمایا ں کردیتا ہے۔۔۔
وہ دونوں ریڈیو شو ختم ہونے کے بعد عادتا اکٹھے ہی عمارت سے نکلے تھے۔ خزاں کی آمد تھی سڑک پیلے پتوں سے بھری تھئ۔ ہم قدم پتوں کی چرمراہٹ ژیہانگ کا سرد ہوا سے مزاج خوشگوار ہو چلا تھا شائد۔
مجھے پیلے رنگ سے پیلی ٹیکسی ہی یاد آتی بس۔
الف نے کہا تو چڑانے کو تھا مگر وہ ہنس دیا۔
پیلی صرف ٹیکسی تو نہیں ہوتی۔ پیلی ٹریفک لائٹ ہوتی ہےتھم جانے کا اشارہ ،پیلی سرسوں ہوتی ہے کبھی سرسوں کا کھیت دیکھا ہے ؟ کتنا خوبصورت لگتا ہے پیلی ۔۔۔۔۔۔۔۔،
پیلئ ایمرجنسی سروس والوں کی گاڑی بھی ہوتی ہے۔
الف نے بات کاٹ کے کہا وہ جان بوجھ کے ستا رہی تھی۔ ژیہانگ سمجھ رہا تھا جبھی اسکا انداز ہنوز تھا۔
پتہ ہے ہم چینیوں کو بھی پیلا کہا جاتا ہے۔ ہماری رنگت گلابئ کم پیلئ ذیادہ ہوتی ہے۔ ویسے پیلا رنگ برا تو نہیں
پیلا رنگ قدرت میں دیکھو تو ہر جگہ پیارا لگتا ہے۔ پیلے پھول پیلی دھوپ اور پیلا دوپٹہ۔
روانی میں بولتے بولتے اسکے منہ سے نکلا وہ فورا زبان دانتوں تلے دبا گیا۔
دوپٹہ۔ الف چونکی ۔۔۔ وہ دونوں چلتے ہوئے ذیلی سڑک سے اہم شاہراہ تک آن پہنچے تھے۔ سامنے ٹریفک سگنل تھا جسکی بتی ہری تھی۔ انہیں یہاں انتظار کرنا تھا پیدل چلنے والوں کیلئے اشارے کے کھلنے کا۔
ایک بار یہاں یہاں سگنل پر کھڑا تھااور اچانک بارش شروع ہوگئی تھی ۔۔۔۔ میں نے چھتری نکال کر اپنے اوپر تانی تب یونہی اچانک میری نگاہوں کے سامنے پیلے رنگ کا دوپٹہ لہرا یا تھا۔۔اس دن مجھے پتہ لگا کہ پیلے رنگ کا تو دوپٹہ بھی خوبصورت لگتاہے۔
سگنل کھل گیا تھا ژیہانگ یونہی بولتے ہوئے بڑھا مگر چند قدم آگے بڑھ کر احساس ہوا کہ وہ تو اپنی جگہ سے ہلی بھی نہ تھی۔۔۔۔
اشارہ دوبارہ بند ہونے لگا تھا ژیہانگ اسے پکار رہا تھا مگر۔۔
پیلا دوپٹہ ۔۔۔۔۔الف نے سرعت سے ہاتھ واپس کھینچا
نہیں مجھے یہ بالکل اچھا نہیں لگا میں یہ نیلا ہی لوں گی۔ اس نے آسمانئ والا ہنبق ہی اٹھایا اور تیزی سے چینجنگ روم کی جانب بڑھ گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
خالص کوریائئ ہنبک میں ملبوس وہ خالص دیسی دوشیزائیں تھیں۔عروج اور عزہ نے ہنبق کے ساتھ پرانے زمانے کے میچنگ کوریائی نقاب کے طور پر استعمال ہونے والے ریشمی رومال سے چہرہ ڈھانپ لیا تھا۔ سر پر اسکارف تو انکے اپنے ہی تھے مگر ریشمی بڑے بڑے رومال لیکر انکا فوری اسکارف بنا پہنا تھا جو اتنا جچ رہے تھے جیسے ہنبق کا ہی حصہ ہوں۔ واعظہ فاطمہ الف بھی مکمل کوریائی لباس میں ملبوس تھیں ساتھ ہی واعظہ فاطمہ نے تو کورین روایتی پنیں ٹھنکوا کر جوڑے بھئ بنوائے تھے۔
خوب اچھئ طرح مطمئن ہونے کے بعد واعظہ نے ابیہا کوکال ملائی تھی۔
آننیانگ ہاسے او۔
پچاس انچ کی اسکرین پر جب پانچ دیسی کورین دوشیزائیں نمودار ہو کر جھک کر۔کورنش بجا لائیں تو ابیہا تو ابیہا اسکی سہیلیاں بھئ دنگ رہ گئیں۔
اسلام و علیکم پاکستان یہ ہے کوریا کا مشہور

gyeongghuigung palace
گھویونگ گھوئئ گونگ پیلس۔۔
ان پانچوں نے کورس میں آواز لگائی تھی۔
کوریا میں سہ پہر ڈھل رہی تھی مگر گھویونگ گھوئی گونگ پیلس پر خوب روشنی تھئ۔ قدرتی بھی آرائشی بھی۔
وہ سب اس برآمدے میں کھڑی تھیں جسکے پیچھے بادشاہ کا تخت لگا کرتا تھا اور وہ یہاں سائلوں کی سنوائی کیا کرتا تھا۔
واعظہ نے پچاس وون کی کتاب خریدی تھی اس محل کی تاریخ کے حوالے سے یہیں سے سو اب یہ ساری تفصیل انکے گوش گزار کرنے کے در پر تھی۔
اسکو جاپانیوں نے ایک بار اسکول بھی بنا دیا تھا اسکے اسکول بنائے جانے کی وجہ سے اسکی مرمت وغیرہ اتنی نہیں ہوتی تھی اکثر آثار تو جنگوں کی وجہ سے مٹ بھی گئے مگر جب کورین حکومت نے اس محل کو اپنی تحویل میں لیا تو اسکو اصل کے قریب تر بنانے کی پوری کوشش کرکے اسکو سیاحتی مقام کا درجہ دے دیا۔
یہ وہ تخت ہے جس پر بادشاہ ۔۔۔۔
واعظہ وی لاگنگ کررہی تھی۔ جب محل کے اندر سے تخت دکھانا چاہا تو تخت کے آگے چار لڑکیاں ہنبق پہنے سیلفیاں لیتی دکھائی دیں تخت دکھائی ہی نہ دیا
آگے سے تو ہٹیں۔
مگن دیکھتی روبینہ نے چڑ کر ٹی وی اسکریں کو گھورا۔
ابیہا نے اپنا موبائل کا رخ اسکی جانب کیا
یہاں بولو۔
روبینہ نے بات دہرائی تو واعظہ نے ڈانٹ ڈپٹ کر کوریائی تخت خالی کروایا
دیکھیں آپ لوگ اس زنجیر سے باہر مت جائیں۔
انکو تخت پر آزادانہ گھومتے دیکھ کر وہ سیکیورٹی والا آہجوشی منمنایا
اسکو نہیں پتہ ہم پاکستانی ہیں اور خاص طور پر ایسے تاریخی مقامات پر جا کر تمام اصول توڑ کر تصویریں کھنچوانا ہماری شناختی علامت ہے
عزہ تخت پر سے نقاب کے اندر سے غرائی
اہلکار کی اس جانب نگاہ بھی نہ گئ تھی۔ اتنی تمکنت سے خالص کوریائی حلیئے والی لڑکی جس دبنگ انداز سے ٹوک رہی تھی وہ سٹپٹا سا گیا۔
اترو واپس عزہ کی بچی انہوں نے جرمانہ کردینا ہے فالتو پیسے نہیں میرے پاس
واعظہ گڑگڑائی تو عزہ شان بے نیازی سے اپنا ہنبق سنبھالتی تخت سے اتر آئی۔
عبایا پہننے کا یہ فائدہ ہوا تھا ہنبق میں سہج سہج کر چلنا آسان لگ رہا تھا۔ فاطمہ البتہ اپنے ہی ہنبق میں دو مرتبہ الجھ چکی تھی۔
عجیب ہیں کورین لڑکیاں بھئ کہاں یہ پانچ پانچ تہیں ہنبق کے نام پر پہن کر پھرتی تھیں
کہاں اب ننگی ٹانگیں لیئے سردی میں گھومتی ہیں۔
فاطمہ لباس سنبھالتے جھلائئ۔
ویسے یار یہ ہنبق جانے کس کس نے پہن رکھا ہوگا یہ لوگ دھلواتے ہیں کپڑے؟ ہیں واعظہ۔
عروج کو۔نئی فکر لاحق ہوئئ
نہیں۔ عشنا نے جھٹ سر ہلایا
اتنے فینسی کپڑے دھلتے تو ختم ہو چکے ہوتے
عزہ نے ٹھٹھا لگایا۔
ویسے بدبو تو نہیں آرہی ۔ کورینز کے ویسے بھی پسینے والے ہارمون نہیں ہوتے انکے پسینے سے بدبو نہیں آتی جبھی تو یہاں پرفیوم کا رواج نہیں۔۔
عشنا نے اپنی ساری معلومات جھاڑ دینی چاہی۔۔
مگر کورین تو یہاں آکر یہ لباس پہن کر نہیں گھومتے ہوں گے یہاں جدھر بھئ دیکھو غیر ملکی ہیں۔
عروج محل کی سیڑھیاں اترتے باآواز بلند تبصرہ فرما رہی تھئ۔
ہائے تو یہ ہنبق جانے کس گندے غیر ملکی نے پہنا ہوگا
آخ۔ مجھے تو گھن آرہی ہے۔
عزہ نے ریشمی رومال کے اندر سے ناک پکڑ لی
اوفوہ کیا فضول بحث میں پڑی ہو۔
الف جھلائی
ہاں واقعی شکر کرویہ کورین ہیں چینی نہیں ۔ چینیوں کے پاس سے تو اتنئ بری اسمیل آتی ہے۔ ہماری یونیورسٹی میں چینی ہوتے تھے اتنی۔۔
فاطمہ نے اپنی پاکستان کی یاد داشت کھنگالنی چاہی الف تپ کر ٹوک گئ
کوئی نہیں۔ چینیوں کے پاس سے کوئی بو نہیں آتی۔ ایویں نا الزام لگائو۔
الف کے اتنے غصے سے بولنے پر بجائے چڑنے کے ان سب کی ہنسی نکل گئ
میرے پاس سے اسمیل آرہی ہے مت لڑو تم لوگ۔
واعظہ نے انکی بحث ختم کرانی چاہی۔
یہ بتائو اسکا ذوم آئوٹ کیسے کروں۔۔
اسکی الگ پریشانی تھئ۔ عروج اور عزہ اسکی مدد کو بڑھیں۔
کیمرے میں ذوم کا بٹن دبا چکی تھی اب واپس کرنا نہیں آرہا تھا ۔۔ پیچھے دیوار پر چلتی چھپکلی پچاس انچ کی اسکرین پر جلوہ گر تھئ
کوریا میں اتنئ بڑی چھپکلیاں ہوتی ہیں۔
فوزیہ ابیہا سے آنکھیں پھیلا کر پوچھ رہی تھی
یہ چھپکلی چھوٹی ہے ٹی وی بڑا ہے اسلیئے لگ رہی ہے۔
ابیہا کی بارہ سالہ کزن نے معلومات میں اضافہ کیا
یہ رہا وہ مقام جہاں بادشاہ ہشتم یہ پتہ نہیں کیا گوپنگم کوئی نام ہے اس کی شادی ہوئی تھی۔
واعظہ اب احاطہ دکھا رہی تھی۔چار سو لکڑی کی شہتیروں والی چھتوں بڑے بڑے محرابوں والے آنگنوں کے بیچ کھلا میدان جس پر شام کے دھندلکے چھا رہے تھے۔

یہ پیلس جسے دیکھنا ہے وہ کسی بھی کورین یو ٹیوبر کا وی لاگ دیکھ لے گا۔آج میری مہندی ہے مجھے بور نہ کرو۔
ابیہا کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا تو چلا اٹھی۔
وہ سب ایکدم خاموش ہو کر دیکھنے لگیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سدا خوش رہو ابیہا ۔۔
بڑا سا بینر انہوں نے پیلس کے میدان میں گارڈز کوپکڑوا کر کھڑا کیا ہوا تھا۔
روز یہاں سرکاری سطح پر ایک تقریب ہوتی تھی جس میں روائتی لباس پہنے خوبصورت دوشیزائیں جنگ کا روائتی رقص پیش کرتی تھیں۔ ان کے پاس ڈھول بھی تھے تاشے بھی۔رقص کرنے کے بعد انکو بھی بلا کر دری پر لا بٹھایا تھا۔ اب انکے ڈھول پر مشہور کے پاپ سانگز وہ گلے پھاڑ پھاڑ کر گا رہی تھیں۔ ایک دو بار انہوں نے کہہ سن کر صحیح بول بتانے چاہے مگر فاطمہ اور عزہ سننے کو تیار نہ تھیں۔ عروج عشنا اور واعظہ دف بجا رہی تھیں۔ چار پانچ گانے بی ٹی ایس اور ایکسو کے برباد کرنے کے بعد ڈولی سجا کے رکھنا پر آگئی تھیں۔ یہاں سے عشنا واعظہ اور عروج کی گلوکاری کا امتحان شروع ہوا تھا۔
ٹرائئ پوڈ پر کیمرہ لگا کر موبائل سے اسٹریمنگ کرتے یہ انوکھی محفل کوریا سے کئی سو میل کے فاصلے پر ٹی وی پر براہ راست دیکھتی ابیہا اور سکھیوں نے یہاں گلا پھاڑ پھاڑ کر ڈھول بجا کر اتنا ادھم مچایا تھا جیسے آوازوں سے سب فاصلے سمیٹ لینے کا ارادہ ہو۔
ان چندی آنکھوں والی لڑکیوں کا انکے شغل میلے کا سمجھ ومجھ خاک پتھر نہیں آرہا تھا مگر ساتھ پورا دے رہی تھیں۔
اس دن اس پیلس پر آئے سب غیر ملکی سیاح بس اسی میدان میں تصویریں ویڈیو بنانے میں مصروف رہے انتظامیہ کو اجازت دیتے وقت اندازہ نہ تھا کہ ان دیوانی لڑکیوں کا یہ شغل انکے پیلس کی اتنی مشہوری کردے گا کہ اس ایونٹ کی ویڈیوز یو ٹیوب پر ٹرینڈنگ میں جائیں گی اور لوگ جوق در جوق یہاں تفریح کرنے آنا شروع ہو جائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے لڑکیوں گائو ڈھولک بجائو۔
ابیہا کی امی نے روبینہ کو ٹہوکا دیا جو اسٹیج کے آگے کارپٹ پر سکھیو کے ساتھ بیٹھی ہمت طلب نظروں سے ڈھولک کو دیکھ رہی تھی۔
شام کے آٹھ بجے تھے لڑکے والے مہندی لیکر آچکے تھے مگر لڑکی والیوں کے ہاتھ سن تھے گلے بند تھے ڈھول سامنے پڑا تھا ہمت جواب دے چکی تھی۔۔ لڑکے والوں کی۔جانب سے آئی لڑکیوں نے ہوٹنگ شروع کردی تھی
صبح سے ادھم مچایا ہوا تھا اب کیسے منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھئ ہیں تمہاری سہیلیاں۔
امی نے دانت پیستے دلہن بنی سر جھکائے اسٹیج پر بیٹھی ابیہا کے کان میں سرگوشی کی۔
جوابا گھونگھٹ سے منحنی سی آواز میں ابیہا بولی
امی کمر ٹوٹنے لگی ہے کتنی دیر اور بیٹھنا ہے اف سر پھٹنے لگا ہے میرآ امی میں تو تھک گئ۔۔۔۔

آگے ابیہا کی امی نے ابیہا سے کیا سلوک کیا اب یہ تو اندازہ ہوگیا ہوگا آپکو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *